FavoriteLoadingپسندیدہ کتابوں میں شامل کریں

 

 

 

 

فہرست مضامین

فراقؔ  گورکھپوری کے یادگار انٹرویو ، خطوط اور  منتخب نثری تخلیقات

 

 

یہ ای بک   اصل کتاب ’ فراق گورکھپوری: شخصیت، شاعری اور شناخت‘ کا چھٹا حصہ ہے

 

                مرتبہ: عزیز نبیلؔ

 

 

 

شاعری کو میں روح کا سانس لینا سمجھتا ہوں …جس طرح جسم کے سانس لینے سے تندرستی بنی رہتی ہے دماغ کے سانس لینے سے علوم کی ترقی ہوتی ہے، اسی طرح وجدان کے سانس لینے سے شاعری وجود میں آتی ہے۔

 

فراقؔ گورکھپوری

 

 

 

 

فراقؔ  گورکھپوری سے انٹرویو ۔ ۱

 

شاعری کیا ہے ؟

 

                 شریکِ گ

شاعری کیا ہے ؟ 2

فراقؔ  گورکھپوری سے انٹرویو ۔ ۲. 12

فراقؔ  گورکھپوری سے انٹرویو ۔ ۳. 19

لسانی بدتمیزی. 19

فراقؔ  گورکھپوری سے انٹرویو ۔ ۴. 31

فراقؔ  گورکھپوری سے انٹرویو ۔ ۵. 41

اردو سے ہمارا رشتہ.. 50

حسرتؔ موہانی بنام فراقؔ گورکھپوری. 58

مولانا ماہرؔ القادری بنام فراقؔ. 70

یگانہؔ چنگیزی بنام فراقؔ. 71

فراقؔ بنام مولانا مومنؔ (مدیر حرم، لکھنو) 72

فراقؔ بنام جوشؔ ملیح آبادی. 74

فراقؔ بنام محمد طفیل (مدیر نقوش) 76

فراقؔ بنام محمد طفیل (مدیر نقوش) 77

فراقؔ بنام محمد طفیل (مدیر نقوش) 80

خود نوشت… 86

جدید اردو غزل کا مستقبل…… 90

اردو کی عشقیہ شاعری کی پرکھ. 105

غالبؔ پھر اِس دنیا میں… 112

سچ کیا ہے ؟ (افسانہ) 119

                فتگو: سمت پرکاش شوقؔ

 

شوقؔ : فراق صاحب! آج کی ملاقات میں آپ سے میں یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ آپ کے نزدیک شاعری کیا ہے ؟

فراقؔ صاحب: کائنات و حیات کے اجمال و تفصیل کا ایک ایسا احساس شاعری کی روحِ دروں ہے جو وجد آفریں ہے۔ یہی کیف و وجد اس کے احساس میں وہ تحریک پیدا کر دیتا ہے یا وہ لے پیدا کر دیتا ہے جو اپنے آپ کو کلامِ موزوں کی شکل میں شاعر سے کہلواتا ہے۔

شوقؔ : لیکن کائنات و حیات میں ہزارہا ایسی حقیقتیں بھی ہوتی ہیں جو کیف و وجد کی بجائے غم و غصہ پیدا کرتی ہیں مثلاً انتہائی تکلیف دینے والے لاعلاج امراض، طاقتور قوموں کا کمزور قوموں پر ظلم، ہزارہا دیگر مظالم اور نا انصافیاں، قتل و غارت گری، فاقہ اور انسانوں کی طرف سے ہونے والے نہایت ناپسندیدہ اعمال، بدنصیب بچوں اور بیکسوں کے حالات کیا ہم ان چیزوں کا کیف آور یا وجد آفریں احساس کر سکتے ہیں ؟

فراقؔ صاحب: یہ سوال بہت بنیادی سوال ہے۔ شاعری کے لئے بھی اور انسانی فطرت کے لئے بھی۔ یہ چیزیں ہمیں دکھ درد میں ڈبو دیتی ہیں یا پھر ہمیں آمادۂ عمل کرتی ہیں لیکن فی نفسہہ اور براہ راست یہ حقیقتیں وجد آفریں نہیں کہی جا سکتیں۔ اور شاعر کی راہ میں رکاوٹ معلوم ہوتی ہیں یا شاعری کش معلوم ہوتی ہیں لیکن ان حقیقتوں سے پیدا ہونے والے تکلیف وہ احساسات ہماری شرافت اور جذبات کے حامل ہیں اور انسان دوستی یا زندگی سے پیا رکے جذبات کو اکساتے ہیں۔ یہ شرافت اور حیات دوسری یا جیون پریم ضرور انتہائی حد تک وجد آفریں و

شعر آفریں ہوتے ہیں۔ دکھ وجد آفریں نہیں ہے۔ لیکن مہاتما گوتم بدھ کا احساسِ کرب یا احساس غم مذہب و تاریخ کے دیگر اکابر کا ردِّ عمل عام انسان کا ان حقیقتوں کو محسوس کر کے غم و غصہ کا ردِّ عمل انتہائی حد تک وجد آفریں ہے۔

شوقؔ : اس روشنی میں انسان کا تصور تو وجد آفریں ثابت ہو گیا لیکن کائنات کا تصور کیسے وجد آفریں ہو سکتا ہے۔ کائنات میں تکلیف دینے والی حقیقتوں کا انبار لگا ہوا ہے۔ ہم ایسی کائنات کو ایک وجد اور کائنات کیسے مان سکتے ہیں ؟

فراقؔ صاحب:جو کائنات ان مکروہات کی حامل ہے اس کائنات کا جزو لا ینفک انسان بھی ہے۔ یہ اور بات ہے کہ کائنات ہمارے احساسات بذاتِ خود ایک متضاد اور متصادم یا مناقص شکل میں ظاہر ہوتی ہے یعنی کائنات یا مادر گیتی اپنی ہی اولاد ہیں اپنی ہی بہت سی حقیقتوں کے خلاف ایک شدید ردِّ عمل پیدا کر دیتی ہے۔ شریفانہ جذبات و محرکات بھی کائنات کے جزو لاینفک ہیں۔ کائنات ہی کا ایک جز یا عنصر جس کا نام انسان ہے کائنات کی ان حقیقتوں کے خلاف جنگ کرتا ہے اور یہ جنگ اور اس جنگ کا تصور یا احساس بھی جزو کائنات ہے اور یہ جنگ اپنے اندر بے شمار اور نہایت دور رس وجدانی امکانات رکھتی ہے۔ اس کے علاوہ تکلیف دہ حقیقتوں کے ساتھ ساتھ کائنات کے انتہائی خوشگوار پہلو بھی ہیں۔ مثلاً مناظرِ فطرت کی دلکشی، قوت، زندگی کی ہزاروں چھوٹی چھوٹی باتیں، زندگی کے کئی دکھ سکھ، یہاں تک کہ زندگی کی معصوم نادانیاں سبھی ہمارے لئے کیف آورد وجد آفریں ہیں۔ ہم کائنات بنام کائنات کے تصور سے بھی خوشگوار انداز میں متاثر ہوتے ہیں۔ کائنات و حیات کی جدلیت ایک بہت تشفی بخش حقیقت ہے۔ ہم زندگی کی آزمائشوں کے بغیر زندگی کر ناقابلِ قدر نہ پائیں گے۔ ایک ایسی کائنات و حیات جس کی قسمت میں چین ہی چین لکھا ہو آسودہ نہیں ہوتی۔ اسی سے غالبؔ اور دوسرے شعرا نے ایک ایسی جنت کا مضحکہ اڑایا ہے جہاں زندگی ایک آرام دہ اور نہ بدلنے والی نیم خوابی کا نمونہ پیش کرتی ہے۔ اقبال کہتے ہی ؎

یہ کائنات ابھی ناتمام ہے شاید

کہ آ رہی ہے دما دم صدائے کن فیکون

مجھے ایک اپنا شعر بھی یاد آ گیا ؎

می زنم بہ ہر نفسم نغہائے کن فیکون

در برم نہاں دارم صد جہان و من تنہا

غم کی آمیزش شاعرانہ کیفیت کے لئے اور شاعرانہ احساس حیات و کائنات کے لئے لازمی ہے۔ انگلستان کا شاعرِ اعظم ورڈزورتھ تھے کہتا :

(In the soothing thoughts that spring out of human suffering)

لاطینی شاعر ورجل کے ایک مصرع کا ترجمہ میتھوآرنلڈ نے یوں کیا ہے :

(The Sense of Tears in Things Human)

مشہور مزاحیہ اداکار چارلی چپلن نے اپنی خود نوشت سوانح عمری میں لکھا ہے کہ بڑے ادیب وہ ہیں :

(Who Tell the Truth About Life with Tears in Their Eyes) انہوں نے یہ بتایا ہے کہ ایک غزل یا نظم کیا ہے۔ کہتے ہیں : (A poem is a love Letter To the Word)ہم اس نتیجہ پر پہنچے کہ سچا شاعر وہ نہیں ہے جو دنیا کی انتہائی تکلیف دہ حقیقتوں سے اپنی آنکھیں بند کر لے لیکن اس کے ساتھ ہی ساتھ ان حقیقتوں سے جو شریفانہ جذبات و محرکات پیدا ہوتے ہیں ان سے بھی تو وہ آنکھیں بند نہیں کر سکتا اور یہی جذبات و محرکات جانِ شاعری ہیں۔

شوقؔ :  کیا اس معیارِ شاعری پر ہر طرح کی شاعری یا تمام شاعری سچی اترتی ہے ؟

فراقؔ صاحب: جتنی یا جیسی بو قلمونی اور رنگارنگی ہم کائنات و حیات میں پاتے ہیں وہی بوقلمونی و رنگارنگی ہمیں شاعری میں بھی ملتی ہے۔ مثلاً دنیا کے بڑے سے بڑے شعرا کو لے لیجئے جو آپس میں کچھ کچھ مشابہ بھی ہیں لیکن بہت کچھ مختلف بھی ہیں۔ ہر بڑے شاعر کا ایک انفرادی مزاج و مذاق ہوتا ہے، زاویۂ نگاہ ہوتا ہے، اپنا رنگ ہوتا ہے لیکن چونکہ ان سب کی شاعری ہمیں آفاق کا مختلف اندازوں اور زاویوں سے احساس کراتی ہے، مختلف رنگوں کے آئینہ میں آفاق کی جھلکیاں دکھاتی ہے اس لئے ہم ان سب کو آفاقی شاعر مانتے ہیں۔ شاعری میں چھوٹے اور بڑے یا مدارج حیثیت کا فیصلہ کرنے کے لئے ہمیں یہ دیکھنا چاہئے کہ جو محسوسات ہمیں کسی شاعر کے کلام سے حاصل ہوتے ہیں، جو نغمے اس کے حلق یا اس کے قلم سے پھوٹتے ہیں ان میں کس قدر کائنات و حیات یا پورے آفاق کا وجدانی تصور ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ بسا اوقات شعرا کی قدر و قیمت آنکنے میں وقت کا بھی ہاتھ ہوتا ہے۔ غالبؔ کی شاعری ان کے مرنے کی نصف صدی بعد اچھی طرح پہچانی جا سکی۔ نظیرؔ آبادی کی شاعری سے شیفتہؔ، غالبؔ، ذوقؔ، مومنؔ اور بہت سے غزل کے رسیا آسودہ نہیں تھے لیکن بعد کو نظیرؔ کے کلام نے اپنے آپ کو منوانا شروع کیا۔ نظیرؔ میری رائے میں اپنی رنگا رنگی اور خارجی جز رسی کے لحاظ سے بہت بڑا شاعر ہے البتہ حیات کا مرکزی سوو ساز اور اس کی گہرائیاں ہمیں نظیرؔ کے ہاں کم ملتی ہیں۔ ان کی شاعری میں جو واقفیت ہے وہ اپنی جگہ بڑی سچی چیز ہے لیکن اس واقعیت میں وہ ماورائے واقعیت گہرائیاں نہیں ہیں جو دنیا کے عظیم ترین شعرا کے کلام میں ہمیں ملتی ہیں۔ پھر بڑے سے بڑے شاعروں کا بھی جہاں تک تعلق ہے ان کے کلام کا ہر حصہ یا ان کا ہر شعر عظیم ترین نہیں ہوتا۔ شعور و وجدان میں بھی جزر و مد کا قانون کارفرما نظر آتا ہے۔ چڑھاؤ اور اتار کی مختلف منزلوں سے بڑے سے بڑے شاعر کی آوازیں گزرتی ہیں۔ بڑی شاعری کے لئے یا امر شاعری کے لئے داخلی و خارجی ہمہ گیری اور دور رسی (Universality and Inwardness) کی ضرورت ہوتی ہے لیکن معمولی اور چھوٹے اشعار کبھی کبھی اتنے رچے ہوئے اور خوبصورت ہوتے ہیں اور ان میں وہ جادو ہوتا ہے کہ ان کا قائل ہو جانا پڑتا ہے۔ مثلاً میر مجروحؔ کا یہ شعر ؎

اب اَن بن ہو گئی ہے باغباں سے

مجھے نکلا ہی سمجھو گلستاں سے

یا حالیؔ کا یہ شعر ؎

دکھانا پڑے گا ہمیں زخمِ دل

اگر تیر اس کا خطا ہو گیا

یا حضرت استاد جرأت کا یہ شعر ؎

بہاریں ہم کو بھولیں یاد اتنا ہے کہ گلشن میں

گریباں چاک کرنے کا بھی اک ہنگام آیا تھا

یا کسی عورت کا یہ شعر ؎

ترے عشق کی بن گئی ہوں کہانی

کہی جا رہی ہوں سنی جا رہی ہوں

یا ایک دوسری عورت کا یہ شعر ؎

بے تمہارے میں جی گئی اب تک

تم کو کیا خود مجھے یقین نہیں

اور اسی طرح کے ہزارہا اشعار جو دنیا کی عظیم ترین شاعری تو نہیں کہی جا سکتی لیکن جن کی انتہائی دلکشی سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا۔ جس طرح کائنات و حیات میں ہمیں مدارجِ حسن و عظمت ملتے ہیں اسی طرح شاعری میں بھی ہمیں یہ مدارج ملتے ہیں۔ جیسے نظامِ شمسی کا حسن اور ایک ستارے کا حسن، مہاتما  بدھ کی عظمت اور ایک معمولی انسان کی معصومی، تاج محل اور ایک خوبصورت جھونپڑی، تاریخِ انسانی کی عظمت اور ایک معمولی انسان یا ایک پیارے بچہ کی زندگی ع

جو ذرّہ جس جگہ ہے وہیں آفتاب ہے

شوقؔ : اچھا فراقؔ صاحب یہ بتائیے شاعری سے زندگی اور تہذیب کی کون کون سی اہم ضرورتیں پوری ہوتی ہیں ؟

فراقؔ صاحب:ہم جب زندگی کی ضرورتوں کا جائزہ لیتے ہیں تو سب سے پہلے ہمارے سامنے زندگی کی مادّی ضرورتیں آتی ہے۔ یعنی روٹی کپڑا، پھر ایسی ضرورتیں جیسے سماج کا ایسا نظام سیاسی اقتصادی تعلیمی اخلاق جو زندگی کی سہولتیں ہمیں ہم پہچا سکیں۔ ان ضرورتوں کے پورا ہونے کے بعد دوسری بھوکیں اور پیاسیں بھی زندگی کو نکلتی ہیں۔ اور ان سبھی بھوکوں اور پیاسوں میں زندگی کا وہ وجد آفریں و کیف اور احساس بھی ہے جو ہمیں شاعری اور دیگر فنون لطیف سے حاصل ہوتا ہے۔ اگر یہ احساس ہم کو حاصل نہ ہو تو ہمارے پاس سب کچھ ہوتے ہوئے بھی ہماری زندگی نا آسودہ رہ جاتی ہے۔ ہم زندگی کی ضروریات کو پانا بھی چاہتے ہیں اور زندگی کے گیت گانا اور سننا بھی چاہتے ہیں شاعری نہ ہو تو زندگی کی ٹھوس چیزیں پا کر بھی ہم محسوس کریں گے کہ زندگی کھوکھلی ہے۔

شوقؔ : شاعری میں مخصوص نظریات کا کیا مقام ہے ؟

فراقؔ صاحب:جو لوگ مثلاًکسی نظریات کے قائل ہیں انھیں بھی تسلیم کرنا پڑے گا کہ زندگی کے بہت سے نظریے یا اقدار عام یا انسانیت گیر ہوتے ہیں۔ مثلاً حسن و عشق کے محرکات کے اقدار، مناظر فطرت کے محاسن کا احساس، گھریلو زندگی کے دلکش پہلو، سماجی زندگی اور انسانوں کے باہمی تعلقات کی دلکشی اور ایسے ہی بہت سے نہایت اہم دیگر اقدارِ زندگی۔ یہ اقدار مارکسی یا غیر مارکسی فکریات دونوں پر یکساں مہادی ہیں۔ ہاں جب شاعر کا موضوع ہی سیاسی یا فلسفیانہ فکریات ہو براہ راست یا کچھ عقائد اس کے موضوع ہوں اس وقت البتہ ہم شاعری کے دیگر محاسن سے قطع نظر شاعر کے عقائد کا جائزہ لیں گے۔ اچھی سے اچھی شاعری کے پیش نظر ہمیشہ عملی مقاصد یا سیاسی فکریات نہیں ہوتے۔ لیکن یہ مقاصد اور یہ فکریات کبھی کبھی شاعری کے مقاصد ہو سکتے ہیں اور یہ نہایت شاندار شاعری کو جنم دے سکتے ہیں۔ شاعری انسانی زندگی کی ایک بنیادی ضرورت ہے جو ہمہ گیر بھی ہے مثلاً کالیداس اور شیکسپیئر ایسے شاعر ہیں جن سے مارکسی اور غیر مارکسی نظریہ رکھنے والے یکساں متاثر ہو سکتے ہیں۔ نثری ادب پر بھی یہی بات صادق آتی ہے۔ الف لیلیٰ کی کہانیاں بلا لحاظ فکریات و عقائد پوری انسانیت کی وراثت ہیں۔ ڈکنز کے ناول، ٹالسٹائی کے ناول، ترگنیف کے ناول مارکسی فکریات کے حامل نہیں لیکن اشترا کی روس میں ان ناولوں پر کروڑوں لوگ جان چھڑکتے ہیں۔ اسی طرح حال میں شولو خوف جو ایک مارکسیفکریات کا علمبردار ہے اس کے ناول پر نوبل انعام ان لوگوں نے دیا جو مارکسی مقاصد و فکریات کے قائل نہیں ہیں۔ اس سلسلے میں یہ بات بھی ذہن نشین کر لینا چاہئے کہ سائنسی دریافت و نظریات یا سماجی سیاسی دریافت و نظریات تو بدلتی رہنے والی چیزیں ہیں لیکن رگ وید سے آج تک ہر دور میں ہر طرح کے مقاصد و فکریات کے دور میں ایسا ادب پیدا ہوتا رہا ہے جسے دنیا نے زندۂ جاوید مانا ہے۔ دنیا کے سب لوگ عیسائی نہیں لیکن انجیل کے ادبی محاسن غیر عیسائیوں کو بھی مسحور کر لیتے ہیں۔ نظریاتی و  فکریاتی اختلافات کے باوجود بڑا اور پر اثر ادب اپنا لوہا منوا لیتا ہے لیکن جیسا میں کہہ چکا ہوں جب شاعر یا ادیب کا موضوع ہی مخصوص فکریات و مقاصد ہو تو ہمیں ان فکریات و مقاصد کی جانچ کرنی ہو گی۔

اس بحث کا ایک اور بھی دلچسپ پہلو ہے۔ ہم فرض کر لیں کہ موجودہ ہندوستان کے نظام سے نا آسودہ ہو کر ایک طرف تو فرقہ وارانہ خیالات رکھنے والا کوئی شاعر یا ادیب اظہار آسودگی کر رہا ہے دوسری طرف یہی کام ایک مارکسی عقائد رکھنے والا شاعر یا ادیب کر رہا ہے۔ اکثر ایسا ہو گا کہ دونوں ایک ہی طرح کی یا ایک ہی باتیں کہتے ہوئے سنائی دیں گے۔ اور اس امر کا فرق کرنا دشوار ہو جائے گا کہ اس میں کون شاعر فرقہ وارانہ نظریات کا قائل ہے اور کون مارکسی نظریات کا۔

آخر میں یہ عرض کروں گا کہ ادب یا شاعری کو تو صرف یا محض اچھی خاصی مخصوص صلاحیت رکھنے والے جنم دے سکتے ہیں اور دیتے رہے ہیں لیکن پر عظمت شاعری ادب کا اکا دکا آدمی ہی غیر معمولی یا اوسط درجہ سے بڑا دل دماغ رکھنے والا ہی جنم دے سکا ہے۔ ایسی ہستیاں عالمگیر انسانی اقدار پر ایمان رکھتی ہیں۔ یہ ہستیاں بلند معنوں میں انسان دوست ہوتی ہیں۔ البتہ یہ ضروری نہیں کہ یہ مارکسی یا غیر مارکسی نظریات کی ترجمانی کٹر طریقہ پر کریں یا تعصب کے ساتھ کریں۔ کہا گیا ہے کہ فطرت کا ایک ہلکا سانس بھی تمام دنیا کو متحد کر دیتا ہے۔

One Touch of Nature Makes the Whole World kin

یہی حال حقیقی ادب کا ہے۔ لیکن فکریاتی نقطۂ نظر سے شعر و ادب کا جائزہ لینا، ایک ذمہ دار قاری کا صرف پیدائشی حق ہی نہیں سمجھتے بلکہ اس کا اعلیٰ ترین فرض بھی سمجھتے ہیں۔

میں نے آپ کے سوالوں کے جواب میں جو کچھ بھی کہا ہے اس کا لُبّ لباب یہ ہے کہ تفصیلی اور اجمالی ہر حیثیت سے سوز و سازِ وجود کا احساس ہی شاعری کی روح رواں ہے۔ یہی احساس حقیقی شاعری کا محرک ہے۔ اس احساس سے کسی دوسرے احساسِ کائنات کو بڑا یا زیادہ

قیمتی نہیں مانا جا سکتا۔ دنیا کی خدمت اور دنیا کی اصلاح کی کوششیں اپنی جگہ بہت قابل قدر ہیں لیکن بسا اوقات یہ کوششیں دنیا کا وجدانی احساس یعنی سوز و سازِ وجود کا احساس ہم سے چھین لیتی ہیں۔ ایسی ہر خدمت کسی ایسے ڈاکٹر یا سرجن کی خدمت بن جاتی ہے جو مریض کی قدر نہ سمجھے۔

شوقؔ : وجود کے تصور میں سوز و ساز یا سوز و گداز کا احساس کیوں پیدا ہوتا ہے ؟

فراقؔ صاحب: یہ ایک بہت لطیف نکتہ ہے اور فلسفۂ جمالیات کے لئے اس نکتہ کی بنیادی اور مرکزی اہمیت ہے۔ آپ کے سوال کا ایک جواب تو یہ ہے کہ ع

آفتاب آمد دلیلِ آفتاب

یعنی ہمارے وجدان کے لئے یا احساسِ جمال کے لئے اس سوز و ساز یا سوز و گداز کا شعور ناگزیر ہے لیکن جن لوگوں نے اس کے لئے دلیلیں تلاش کی ہیں وہ اس امر یا حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ نشاطِ حیات میں ایک ماورائی غم کے عناصر موجود ہیں۔ غم کی پختگی، احساس وجود کی اہم ترین کیفیت، اسی سے شیکسپیئر نے کہا ہے کہ پختگی ہی سب کچھ ہے۔

یہ دلیل بھی دی جاتی ہے کہ عالم ظاہر یا دنیائے زمان و مکاں حقیقت کا اپنے آپ سے جدا ہونے کا نام ہے۔ یہی احساس جدائی اور ساتھ ہی ساتھ حقیقت سے احساس وحدت، سوز و سازِ وجود کا کارن ہے۔ یہ سوز و ساز لامحدود ڈرامائی کیفیت اپنے اندر رکھتا ہے۔ ہمارا ہی ایک حصہ ہم سے جدا ہو کر ہماری اولاد بن جاتا ہے جس کے لئے ہمارا پیا، چمکاروں اور آنسوؤں کی شکل میں ہمارے اندر گونجتا اور جھلملاتا ہے۔ فن شاعری حقیقتاً کائنات سے فنِ عاشقی کا نام ہے جو بے انتہا نشاط اور سوز و ساز کا حامل ہے۔ حال ہی میں اپنے دو اشعار میں میں نے اسطرف اشارہ کیا ہے۔

سازِ سخن و اقرب ہم یک پیامِ تنہائی

آرے آرے می شدہ جانِ جاں و من تنہا

ہر بہار رنگ رنگ ماتم جدائی ہا

از کنارِ گل خیزد خوشبوئے چمن تنہا

سخن اقرب کے باوجود ہماری حقیقت سے جدائی اور بہار رنگا رنگ کے باوجود کنارِ گل سے خوشبوئے چمن کی جدائی کا احساس ہی سوز و سازِ وجود کا احساس ہے، اسی وحدت وجدانی کا احساس شاعری کے نغموں کو جنم دیتا ہے۔

٭٭٭

 

 

 

 

 

 

فراقؔ  گورکھپوری سے انٹرویو ۔ ۲

 

                 شریکِ گفتگو: سمت پرکاش شوقؔ

 

اردو کے نقاد شاعر حضرت فراقؔ گورکھپوری حال ہی الہ آباد سے ایک مشاعرہ میں شرکت کرنے کے لئے دلّی تشریف لائے تھے۔ دلّی میں تین چار روز قیام کے دوران مجھے بھی ان سے ملاقات کرنے کا موقع ملا۔ ذیل میں حاصل ملاقات درج کر رہا ہوں۔ شوقؔ

 

شوقؔ : فراقؔ صاحب! زندگی کی قدریں دائمی ہوتی ہیں یا بدلتی رہتی ہیں۔ آج کی ملاقات میں اس بارے میں کچھ فرمائیے گا؟

فراقؔ صاحب: اس سوال میں قابلِ توجہ لفظ دائمی ہے۔ اگر دائمی سے زمانی دائمیت یا ہمیشگی مراد لی جائے تو آفتاب، نظام شمسی، کائنات، کوئی چیز بھی دائمی نہیں مانی جاتی۔ صرف مادے کو کہا جاتا ہے کہ اسے دوام حاصل ہے لیکن مادہ سے بنی ہوئی کسی چیز کو دوام حاصل نہیں۔ یوں تو ڈاکٹر اقبال نے بھی کہا ہے ع

ثبات ایک تغیر کو ہے زمانے میں

تو اس سوال کو ہم یوں کیوں نہ پیش کریں کہ زندگی کی قدریں بے بدلے جوں کی توں صدہا بلکہ ہزارہا برس تک قائم رہتی ہیں یا عہد بہ عہد بدلتی رہتی ہیں ؟ عہد بہ عہد سے مراد سماج کے نشو  و نما کی منزلیں یا تاریخی عہد و ادوار لیے جائیں اس سلسلہ میں میرا ہی نہیں دنیا بھر کی مہذب قوموں کا یہ عقیدہ ہے کہ چند بنیادی اور مرکزی قدریں اس وقت تک نہیں مٹ سکتیں جب تک تہذیب و تمدن دنیا میں قائم ہے مثلاً دوسروں کے ساتھ ہمدردی اور مساوات کے جذبات، کائنات سے محبت اور ہم آہنگی کے جذبات، مرد اور عورت کے درمیان لطیف اور پاکیزہ محبت کے جذبات، بچوں سے والہانہ محبت اور پیار کے رجحانات و جذبات پر جو اقدار قائم ہیں علم و حقیقت کی تلاش سے متعلق جو اقدار پیدا ہو چکی ہیں بہت سے امور حسن و قبیح سے متعلق احساسات فطرت اور رنگ و بو کی دنیا سے دھرتی سے وحش و طیور سے انسان کی محبت وہم آہنگی اور بنیادی طور یکسانیت کے جذبات، ان تمام امورسے متعلق جو اقدار ہیں وہ تو اس وقت تک قائم رہیں گی اور انھیں قائم رہنا چاہئے جب تک دنیا اور انسانی تہذیب و تمدن قائم ہے۔

البتہ نظام انسانی میں تبدیلیاں آتی رہی ہیں اور آتی رہیں گی۔ اس امر میں بھی غالباً اب سے چند صدیوں کے بعد انسانی تمدن اور نظام اس منزل پر پہنچ جائیں گے جس کے بعد کوئی نمایاں تبدیلی انسانی نظام میں سوچی نہیں جا سکتی۔

شوقؔ : تو کیا انسان کی بدلتی ہوئی تاریخ ایک منزل پر آ کر ٹھہر جائے گی اور اس کے بعد جب تک دنیا مٹ نہ جائے انسانی سماج ایک ہی عالم میں پڑا رہے گا؟

فراقؔ صاحب:خارجی طور پر میں نظامِ زندگی کے ہمیشہ بدلتے رہنے کا قائل نہیں البتہ داخلی طور پر ارتقاء اور تبدیلی کا عمل اس وقت تک جاری رہے گا جب تک دنیا قائم ہے۔ ایک مثال سے ایک مفہوم واضح کر دوں۔ میری یا آپ کی مادّی اور خارجی زندگی سن بلوغ سے ہماری موتوں تک بالکل یکساں رہ سکتی ہے لیکن ہمارے خیالات، محسوسات تجربات، ہمارا وجدان، ہم پر گزرنے والی کیفیتیں، مطالعہ و مشاہدہ، غور و فکر کے نتیجہ کے طور پر ہماری داخلی دنیا بدلتی رہتی ہے۔ انھیں ہم شاید اقدار کا بدلنا نہیں کہہ سکتے بلکہ مسلمہ اقدار کے زیر اثر ہم اپنے انفرادی نشو و نما سے اس تبدیلی کو تعبیر کر سکتے ہیں۔

شوقؔ : ادب اور دیگر فنونِ لطیفہ میں تبدیلیوں کے آپ قائل ہیں یا نہیں ؟

فراقؔ صاحب:تخلیقی عمل کے ارتقا کا تو میں قائل ہوں مگر اس ارتقا کو میں تبدیلی اقدار ہر گز نہیں کہوں گا۔ اگر میں نے چالیس اور پچاس سال کی عمر کے درمیان کچھ شعری یا ادبی کارناموں کو پیش کیا اور پچاس سال کی عمر کے بعد سے چوتھائی صدی تک انکار ناموں میں اضافہ کرتا رہا تو اسے اور جو کچھ بھی کہا جائے یہ قدروں کی تبدیلی نہیں بلکہ یہ ارتقاء تخلیقی عمل ہے۔ تبدیلی کا یہ مفہوم مجھے سخت ناپسند ہے کہ کل تک جو کچھ ہوا وہ آج سب منسوخ کر دیا جائے یا آج سب بیکار ہو گیا یا ردّی کی ٹوکری میں ڈالنے کے قابل ہو گیا جیسا شیکپسیئر نے کہا ہے (Pipeness is All) یعنی پختہ سے پختہ تر ہو جانے کا عمل ہی زندگی کا مقصد ہے۔

شوقؔ : فراق صاحب! یہ باتیں بڑی گہری ہیں لیکن کیا پختگی کا عمل یا اس کے مدارج کسی منزل پر آ کر یک لخت رک نہیں جائیں گے ؟

فراقؔ صاحب:میرے وجدان کی آواز یہ کہتی ہے کہ پختگی ایک منزل یا ایک سطح پر پہنچ کر بھی اپنا تنوع، اپنی اپج، اپنی زرخیزی نہیں کھوتی، جمالیاتی قدریں اگر منطقی لحاظ سے نہ بھی بدلیں یا وہی رہیں جو وہ بن چکی ہیں تو بھی بے شمار طریقوں پر یہ قدریں اپنے اظہار کی صورتیں پیدا کرتی رہیں گی۔ مثلاً غالبؔ سے جو قدریں غزلیں کہلواتی تھیں ان قدروں میں کوئی تبدیلی نہیں آئی لیکن غالب کی ہر غزل ایک نئی جمالیاتی کائنات پیش کرتی ہے۔ صورت یا ہیئت کی تبدیلی قدروں کی تبدیلی نہیں ہے۔ جن اقدار کا میں قائل ہوں اور غالباً وہی اقدار ہیں جن کے بہت سے دوسرے لوگ بھی قائل ہیں۔ میرے ہاں یہی قدریں میری شاعری کی شکل اختیار کرتی ہیں۔ پریم چند کے افسانوں کی شکل اختیار کرتی ہیں۔ ٹیگور کے تخلیقی کارناموں کی شکل اختیار کرتی ہیں۔ شری جواہر لعل نہرو کے سیاسی کارناموں کی شکل اختیار کرتی ہیں اور اردو اور دوسری زبانوں کی رنگارنگ نظم و نثر کی شکل اختیار کرتی ہیں جسے ہم تنوع، بوقلمونی یا رنگارنگی کہتے ہیں وہ ایک ہی قسم کی قدروں کی اپج ہے۔ یکسانیت تنوع کی دشمن نہیں ہے بلکہ تنوع کی جان ہے۔

ہم جان گئے اس کو وہ جس رنگ میں آئے

سوال قدروں کے بدلنے یا نہ بدلنے کا نہیں ہے بلکہ قدروں کو تدریجی طور پر ہضم کرنے کا ہے اور انھیں ہضم کرتے ہوئے رنگا رنگ تخلیقی عمل کو قائم رکھنے کا ہے۔

قدروں کے بدلتے رہنے پر ہمارے کمیونسٹ یا اشتراکی احباب میری رائے میں ضرورت سے زیادہ زور دیا کرتے ہیں۔ معلوم ہوتا تنسیخ اور تبدیلی کے الفاظ ان کے معشوق ہیں تبدیلی، انقلاب، تنسیخ، ردّی کی ٹوکری میں ڈالنا، ٹھکرا دینا، مٹا دینا، ماضی پر تھوک دینا، اِن تصورات سے یاروں کی باچھیں کھل جاتی ہیں اور کیوں نہ ہو، آغازِ تہذیب سے اب تک یا انقلاب روس تک جو کچھ ہوا ہے اس کی عظمت کو محسوس کیسے بغیر بادل ناخواستہ اس کی مودبانہ سرپرستی کر کے یہ حضرات بہت خوش ہو جاتے ہیں۔ سر پرستی بجا لیکن کیا یہ حضرات ماضی کے کارناموں کو اسی طرح سمجھ بھی سکے ہیں جس طرح مشہور عالم نقاد ان فن و ادب نے ماضی کو سمجھا ہے۔ مجھے تو دنیا بھر میں کوئی ایسا کمیونسٹ نقاد کسی زبان میں نہیں ملا جس کا نام ہم مشہور نقادانِ فن و ادب کے ساتھ گستاخی کیے بغیر لے سکیں۔ اگر میں نام گنوانا شروع کر دوں تو یہ انٹرویو بہت طویل ہو جائے گا۔ دلوں کا چور چھپائے نہیں چھپتا، ہاں لگے ہاتھوں یہ بھی گزارش کر دوں کہ کسی فنکار کے شعوری یا تحت الشعوری، سماجی سیاسی عقائد کی شرح و تفسیر یا جائزہ و تنقید ادب ہی میں ہے اور نہ ہم اسے ادبی اقدار کا سمجھنا کہہ سکتے ہیں البتہ اسے جھک مارنا کہہ سکتے ہیں۔

شوقؔ : ہندوستان کی ہر زبان اور اس زبان کے ادب سے آپ کو دلچسپی رہی ہے۔ ان زبانوں اور ان کے ادب سے اردو کا موازنہ آپ کس طرح کریں گے ؟

فراقؔ صاحب:میں نے بنگالی بول چال اور بنگالی ادب کو اپنے کانوں سے سنا ہے۔ اسی طرح کچھ نہ کچھ مرہٹی، گجراتی، سندھی، تامل اور تیلگو اور دیگر زبانوں کے صوتیات سے اپنے کانوں کے پردوں کو آشنا کیا ہے اور میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ ہندوستان کی ہر زبان اپنے محاسن کے باوجود مندرجہ ذیل امور میں اردو کا مقابلہ نہیں کر سکتی یعنی بحیثیت مجموعی نہیں کر سکتی:

(۱)    صوتیاتی محاسن۔

(۲)    محاورہ بندی اور روز مرّہ۔

(۳)   ٹھیٹ سے ٹھیٹ اور معمولی سے معمولی عوامی لفظ میں تاثیر پیدا کر دینا یعنی انتہائی سادگی میں بلاغت پیدا کر دینا۔ فصاحت میں بھی اردو کا مقابلہ ہندوستان کی شاید کوئی اور زبان نہیں کر سکتی۔ البتہ انگریزی زبان مندرجہ بالا تمام لحاظ سے اور بحیثیت مجموعی اردو سے بڑھی ہوئی ہے۔

اردو ہی کے ڈھانچہ پر کوئی کھڑی بولی ہندی یا جدید ہندی کو اردو سے مختلف کر کے بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے لیکن جو باتیں میں نے اوپر گنوائی ہیں انھیں سامنے رکھتے ہوئے میں جدید کھڑی بولی ہندی کو اردو کا کامیاب مد مقابل نہیں سمجھتا اس سلسلہ میں ایک دلچسپ بات کا ذکر کرنا چاہتا ہوں، پریم چند کی اردو نثر کا مقابلہ پریم چند کی ہندی نثر نہیں کر پائی۔ ایک اور بات قابل ذکر ہے۔ اسلوب بیان یا سٹائل کی رنگا رنگی اور بوقلمونی اور مختلف سطحیں جتنی اردو میں ملتی ہیں وہ جدید ہندی میں ہمیں نہیں ملتیں۔ اور خوبی یہ ہے کہ اردو میں کثیر ا لتعداد اسالیب بیان یکساں مقبول ہیں۔ اگر میں اپنی ناچیز کوششوں کا ذکر کروں تو یہ کہوں گا کہ میری غزلوں رباعیوں اور نظموں میں مختلف اسالیب بیان کام میں لائے گئے ہیں۔ میں نے جدید ہندی کے ان مصنفوں کی کتابوں کے بھی اوراق الٹے ہیں جنھیں ساہتیہ اکادمی انعام یا دوسرے انعامات دیے جا چکے ہیں اور انھیں پڑھ کر مجھے سخت نا آسودگی ہوئی ہے۔ جہاں تک جدید ہندی کا تعلق ہے مجھے اس امر کا رونا ہے کہ جدید ہندی ان لوگوں کے ہاتھوں نہیں بن رہی جنھیں کھڑی بولی پر پوری قدرت ہو یا کھڑی بولی کے ساتھ کھیل سکیں۔ یا جو کھڑی بولی کے کرتب دکھا سکیں یا جو کھڑی بولی کا جادو جگا سکیں یا اسلوبِ بیان میں جو میرؔ، سوداؔ، غالبؔ، ذوقؔ، نظیر اکبر آبادی، آتشؔ، نسیمؔ، انیسؔ، اقبالؔ، اکبرؔ، چکبستؔ، حالیؔ، سرشارؔ اور صدہا دوسرے ماہرین اسلوب و زبان کا مقابلہ کر سکیں۔ میرے ہندی نواز یا ہندی پرست دوست مجھ سے اکثر کہتے ہیں کہ ابھی تو ہندی کا آغاز ہے۔ یہ حضرات اس بات کو نہیں جانتے کہ میرؔ کے کلام میں بھی اردو کا آغاز تھا۔ چاسر بھی انگریزی کے آغاز کی مثالیں پیش کرتا ہے ملک محمد جائسی کے یہاں بھی اودھی زبان کا آغاز ہے۔ میں ہندی پرستوں سے کہوں گا کہ جدید ہندی کا آغاز ہی تو جدید ہندی کے مستقبل یا انجام کے لئے ایک خطرہ ہے۔ یہ ایسا آغاز ہے جس کی بدولت ہندی کی گاڑی رک جائے گی بلکہ رک گئی ہے۔ ایک غلط خراب حال، صحیح یا اچھے مسقبل کو جنم نہیں دے سکتا۔ ایک بچہ اپنے جنم دن ہی سے اپنے مستقبل کی نشاندہی کر لیتا ہے، ہونہار بروا کے چکنے چکنے پات ہوتے ہیں نہ کہ ٹیڑھے میڑھے کھردرے اور مرجھائے ہوئے پات۔ دوسرا رونا مجھے اس امر کا ہے کہ انگریزی کی بلند ترین تعلیم کے بغیر ہندی ادیب بڑا نہیں بن سکتا اور نہ اتنا بڑا دماغ اسے میسر آ سکتا ہے جتنا بڑا دماغ زندگی کے دوسرے شعبوں میں گوکھلے یا تلک یا پنڈت نہرو کا تھا، جگدیش چندر بوس کا تھا، لاجپت رائے کا تھا رام کرشن بھنڈار کرکا تھا۔ اور ہندوستان کے دیگر مشاہیر کا تھا۔ چھوٹا دماغ بڑا ادب نہیں پیدا کر سکتا۔ ہم ایک طرف تو اپنے طلبا کو تمام مغربی ادب، فلسفہ سائنس اور دیگر علوم پڑھاتے ہیں، انگریزی ادب میں شیکپسیئر کی کارلائل، اور رسکن پڑھاتے ہیں اور نہی طالب علموں کو دوسری طرف راشٹر بھاشا کے نام پر شری میتھلی شرن گپت، جے شنکر پرساد، نرالاؔ اور پنتؔ کی لکھی ہوئی چیزیں پڑھاتے ہیں۔ ہمارے طالب علموں کے دماغ جب دنیا کے مشہور لکھنے والوں سے ان ہندی والوں کا اپنے دل و دماغ میں مقابلہ کرتے ہوں گے تو ان پر کیا اثر ہوتا ہو گا۔ ہم افلاطون، شوپنہار، اور شیکسپیئر کو سمجھتے ہوئے اور ان کی قدر کرتے ہوئے غالبؔ، میرؔ، انیسؔ اور دیگر مشاہیر اردو کی قدر کر سکتے ہیں لیکن جدید ہندی کے مشاہیر کی قدر نہیں کر سکتے۔ ہم بہترین کھانا کھا چکنے کے بعد بھی قدر نہیں کر سکتے۔ خود اردو کا ہر نمک حلال پرستار دل سے اس بات کا قائل ہے کہ اگرچہ اردو میں زبان واسلوب کی کمی بالکل نہیں ہیں اور اس میں بہت سی خوبیاں ہیں پھر بھی اردو کو انگریزی ادب کے دوش بدوش کھڑے ہونا ہے اردو میں جو خوبیاں ہیں انھیں کی بنا پر مالویہ جی، لاجپت رائے، سوامی رام تیرتھ، سرتیج بہادر سپرو، سر عبدالقادر، جواہر لال نہرو اردو کی قدر کرتے تھے مگر ان بزرگوں کے برابر کا دماغ رکھنے والا ہندوستان کا کوئی مشہور آدمی جدید ہندی کے نام نہاد مشاہیر کے کارناموں کا قائل نہیں ہوتا۔ مثلاً اگر ٹیگور، جے سی بوس، تلک، گوکھلے، گاندھی جی، اچھی طرح کھڑی بولی جانتے تو جن نام نہاد ہندی مشاہیر کا نام میں نے گنوایا ہے ان کے کلام کے وہ ہرگز قائل نہ ہوتے۔ جدید ہندی جب تک بڑے دماغ والوں کو اپنا گرویدہ نہیں بنائے گی وہ ہماری زندگی میں کوئی جگہ حاصل نہیں کر سکتی اور عوام ہی کو اس نے کہاں اپنا گرویدہ بنایا ہے۔ لوگوں کو اگر محبت ہے تو ہندی کے نام سے، ہندی کی چیزوں سے نہیں، ایک بار کلکتہ میں اردو مشاعرہ ہوا۔ ہزارہا کی تعداد میں بنگالی جو ایک حرف اردو نہیں سمجھے رات بھر مشاعرہ سنتے رہے اور صبح کو انھوں نے اخبارات میں اپنا بیان شائع کرایا کہ ہم اردو شاعری سمجھ نہیں سکے لیکن ہم پر یہ مستقل اثر ہوا، صرف شاعری کی صوتیات سے کہ یہ زبان ہماری مادری زبان ہے زیادہ متمدن اور زیادہ ترقّی یافتہ ہے۔

یہ سب کچھ کہنے کا مطلب صرف یہی ہے کہ ہندی کو اردو کے بہت قریب آنا ہے۔ پہلے اردو کو ہندی اپنائے اس کے بعد اس میں ایسے اضافے اور تبدیلیاں کرے اور ایسی نئی نئی

چیزیں لائے جو اس کے ڈھانچہ کو صدمہ نہ پہنچائیں۔ کرنا تو کھری بولی کی خدمت اور کھڑی بولی ہی سے بالکل ناواقف ہونا یہ ایک عجیب گڑبڑ جھالا ہے آج ہندی کے قریب قریب سبھی نئے لکھنے والے اردو کے قریب آنے کی کوشش کر ہے ہیں ہمیں ان کی ہمت افزائی کرنی چاہئے اور جہاں جہاں ان کا قلم چوکے ان کی اصلاح بھی کرنی چاہئے۔ ناگری حروف میں اردو ادب کو پیش کر کے ہندی کی بہت بڑی خدمت انجام دی جا رہی ہے۔ میں یہ نہیں کہتا کہ اردو ادب میں کوئی کمی نہیں یا کبھی کبھی اس میں غلط رجحانات کار فرما نہیں رہے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ چند تبدیلیوں اور اصلاحوں کو خاطر ہم اردو ہی کو جڑ سے اکھاڑ کر پھینک دیں۔ یہ بڑی اچھی علامت ہے کہ آج کے ہندی پرست نوجوان مشاہیر اردو کو اپنا رہنما اور گورو مان رہے ہیں۔ اگر یہ عمل جاری رہا تو ہندی اور اردو کا وہ سنگم جلد پیدا ہو جائے گا جس کا خواب ہماری تاریخ دیکھ رہی ہے۔

٭٭٭

 

 

 

فراقؔ  گورکھپوری سے انٹرویو ۔ ۳

 

لسانی بدتمیزی

 

                 شریکِ گفتگو: سمت پرکاش شوقؔ

 

شوقؔ : فراق صاحب! ادھر حال ہی میں موجود ہندی ادب و شاعری کے خلاف آپ نے انگریزی رسائل میں مضامین کی بھرمار کر دی ہے، اس موضوع پر کچھ اور روشنی ڈالئے گا۔

فراقؔ صاحب: جی ہاں ! غلط فہمی کا شکار ہو کر میرے ان مضامین سے غالباً بہت سے ہندی پریمی مجھ سے بد 0ظن ہو گئے ہیں۔ میں ہندی سے والہانہ محبت رکھتا ہوں اور اردو کو بھی ہندی ہی کا ایک دوسرا نام سمجھتا ہوں لیکن اس کے یہ معنی تو نہیں کہ ہندی میں جو کچھ گزشتہ نصف صدی سے لکھا گیا ہے اس کی بھی قصیدہ خوانی کر دوں۔ اردو ہو یا ہندی، غالبؔ ہوں یا بھارتیندو ہریش چند، محمد حسین آزاد ہوں یا مہابیر پرساد ویدی، بنیادی طور پر ہندی اور اردو کی زبان ایک ہی ہے۔ جس مائی کے لال کو اردو سے نفرت ہوئی اور جس نے وہ کھڑی بولی جانے بغیر جسے کروڑوں بھارت واسی بولتے ہیں صرف قلم دوات کے بوتے پر پھوہڑ گوئی شروع کر دی اور لسانی بدتمیزی کا ثبوت دیا وہ ہندی ادیب بن بیٹھا، کھڑی بولی پر قدرت رکھنا کوئی معمولی بات نہیں ہے۔ یہ قدرت صرف اردو ادب پر قدرت رکھنے والوں کو حاصل ہے۔ اردو، صرف اردو، صرف اردو اور صرف اردو کھڑی بولی کی مثالیں پیش کرتی ہے۔ جو لوگ اردو نہیں جانتے اور صرف نگری لپی جانتے ہیں ان کو میں گنوار سمجھتا ہوں۔ پہلے اردو جان لو، اردو پر پوری قدرت حاصل کر لو اسی حالت میں تمہیں کھڑی بولی آئے گی۔ جب یہ کر لو تو کھڑی بولی میں دو ڈھائی فیصدی سنسکرت الفاظ ہندی اور فارسی کے ساتھ ملا کر لکھو۔ صرف ایسی ہندی قابل قبول ہو سکتی ہے۔ تھوڑے سے سنسکرت الفاظ رَٹ لینے سے اور کھڑی بولی ہندی کو جاہلانہ ڈھنگ سے استعمال کر کے دیو ناگری رسم الخط میں ادب کی تخلیق کرنے والوں کو نہ سماج میں کوئی جگہ دی جا سکتی ہے نہ ادب میں۔ ہندی پریم کرنا اور ہندی کے ’’مان نہ مان میں ترا مہمان‘‘ قسم کے ادیبوں کو پروان چڑھانا میں جہالت سمجھتا ہوں۔ یہی باتیں میں نے اپنے انگریزی مضامین میں کہی ہیں۔

شوق صاحب! اچھا آپ ہی بتائیے میں ہندی سے محبت کروں یا ان گنواروں سے محبت کروں جو ہندی کے لیکھک بن بیٹھے ہیں۔ عوام سے بے تعلقی اور نفرت، عوامی زبان سے بے تعلقی اور نفرت، روایتی دیہاتی پن اور پھوہڑ پن پر ادب کی بنیاد رکھنا اگر ہندی کا مقصد ہے تو ایسی ہندی کو دور سے سلام۔ ہندی تحریک نے اس جرم اور بدتمیزی کا ثبوت دیا ہے جس نے ہمارے کروڑوں بچوں کو اس کھڑی بولی یا پچھانہی ہندی سے محروم کر دیا جو میرؔ، نظیر اکبر آبادی، سوداؔ، غالبؔ، انیسؔ، حالیؔ، اکبرؔ الہ آبادی اور صدہا اردو کے نثر و نظم نگاروں نے بھارت ماتا کی خدمت میں پیش کی تھی۔ اردو کو بدلا جا سکتا ہے یا اردو کے علاوہ ایک ہندی سنسکرت آمیز زبان کو بھی فروغ دیا جا سکتا ہے لیکن اردو کو بگاڑ کر اور کھڑی بولی کے محاسن کو جوتے مار کر کوئی ادب پیدا نہیں کیا جا سکتا۔

شوقؔ : گزشتہ کئی مہینوں سے انگریزی کے مشہور اور بڑے سے بڑے اخباروں میں موجود ہندی زبان، ہندی ادب، ہندی کے مشہور ترین شاعروں کی تصنیفوں اور کتابوں کو آپ نے انتہائی حد تک غلط اور خراب بتایا ہے۔ خالی ہندی پڑھنے والوں ہی کی تعداد آج ملک میں ڈھائی تین کروڑ تک ہو گی۔ ان میں لاکھوں ایسے ہوں گے جو صرف ہندی داں یا ہندی خواں نہیں ہیں بلکہ ہندی سے جنہیں انتہائی پریم ہے۔ کیا اتنے بڑے اور با اثر حلقے میں شدید ناراضگی ونا خوشگواری بلکہ انتہائی دشمنی کے جذبات آپ کے مضامین سے پیدا نہیں ہو جائیں گے اور اتنے اور ایسے لوگوں کے دشمن بن جانے سے خود اردو کو بڑا نقصان نہیں پہنچے گا؟

فراقؔ صاحب:آج سے اندازاً پچیس برس پہلے کی بات ہے کہ الہ آباد سے ایک ہندی ماہانہ رسالہ ’’تُرن‘‘ کے نام سے شائع ہوا کرتا تھا اس رسالہ کے متعدد شماروں میں ۱۹۴۲ء میں سنسنی پیدا کر دینے والے میرے کئی مضامین شائع ہوئے تھے جن میں سمترا نندن پنت، میتھلی شرن گپت، نرالا اور عام ہندی لکھنے والوں کے خلاف میں نے سخت ترین باتیں کہی تھیں اور میرے مضامین سے ہندی کے حلقوں میں ایک کھلبلی سی مچ گئی تھی یہاں تک کہ میرے نام کچھ گمنام خط آئے اور کچھ ایسے بھی خط آئے جو گمنام نہیں تھے جن میں مجھے مار ڈالنے کی دھمکی دی گئی تھی۔ میرے مضامین کے کچھ جواب بھی شائع کیے گئے تھے جن میں صرف مجھے گالیاں دی گئی تھیں اور جلے دل کے پھپھولے پھوڑے گئے تھے۔ میرے دلائل کا کوئی جواب نہیں دیا جا سکتا تھا۔ اب سے اندازاً پانچ برس پہلے ہندوستان ٹائمز میں ’’URDU WITHOUT PREJUDICE‘‘ کے عنوان سے میرا یک مضمون شائع ہوا تھا جس میں اردو سے متعلق اور ہماری ہندو مسلم مشترکہ زندگی میں بلکہ کئی لحاظ سے صرف ہندوؤں کی زندگی میں اردو کی ثقافتی، لسانی ادبی اہمیت بتائی گئی تھی اور کھڑی بولی ہندی ادب اور زبان کے چیتھڑے اڑا کر رکھ دیئے گئے تھے۔ گزشتہ ۸، ۹ مہینوں کے اندر ہندوستان ٹائمز، پیٹریٹ (PATRIOT) انڈین ایکسپریس اور انگریزی کے دوسرے اخباروں میں میں نے پھر سے کھڑی بولی ہندی کے ادب اور ادیبوں پر شدید حملے کئے جس سے یقیناً بہت سے لوگوں کے دل آزاری ہوئی ہو گئی۔ ممکن ہے مجھے اردو کا نمائندہ سمجھ کر بہت سے لوگ اردو ہی کے خلاف ہو گئے ہوں یا اگر پہلے سے خلاف تھے تو اور زیادہ خلاف ہو گئے ہوں۔ اس بحث میں ہندوستان کے مشہور لیڈر جو کبھی اتر پردیش کے چیف منسٹر تھے اور جواب راجستھان کے گورنر ہیں یعنی ڈاکٹر سمپورنانند نے بھی حصہ لیا اور میرے متعلق اچھے الفاظ استعمال کرتے ہوئے بغیر کسی دشمنی کا اظہار کیے ہوئے انہوں نے ہندی کی حمایت کی اور اردو کے خلاف بھی بہت کچھ باتیں کہیں جن کا نکتہ بہ نکتہ اور دلیل بہ دلیل جواب بھی میں نے شائع کر دیا۔ یہ ہے مختصر داستان میرے ان تحریروں کی جنہیں ہندی دشمنی پر مبنی کہا جا رہا ہے۔

میں پوری ایک چوتھائی صدی سے ایسا کیوں کرتا آ رہا ہوں۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ ہندوستان کی خدمت کے لئے میں اپنے آپ کو مٹا چکا ہوں بلکہ بول چال کی زبان میں اپنا گھر بلکہ اپنا سب کچھ پھونک چکا ہوں۔ دھن دولت، بڑا عہدہ، اولاد اور خاندان اور دنیاوی زندگی کو خاک میں ملا چکا ہوں۔ میری ایک ایک سانس ہندوستان کی بہتری کے لئے وقف ہو چکی ہے خاص کر ہندوستان کی لسانی اور ثقافتی ترقی و بہبودی کے لیے، دوسری بات یہ ہے کہ مسلسل ۳۵ برس تک کالجوں اور یونیورسٹیوں میں ایک معلّم کی حیثیت سے علم کی خدمت میں نے انجام دی ہے۔ مجھے اردو سے کوئی متعصبانہ محبت نہیں ہے۔ اگر محبت ہے تو ہندوستان کی موجودہ نسل سے اور آنے والی نسلوں سے۔ ان کی زبان ٹیڑھی میڑھی نہ ہونے پائے اور ان کی سوچنے سمجھنے کی قوتیں سلب نہ ہو جائیں۔ یہی میری زندگی کا عمر بھر مقصد رہا ہے۔ ہندوستان کو آزاد کرانا تو کروڑوں آدمیوں کی زندگی کا مقصد رہا ہے اور اس بارے میں میں اپنے لیے کسی خصوصیت یا امتیاز کا دعویٰ نہیں کر سکتا۔ لیکن وہ ۱۸، ۲۰ کروڑ ہندوستانی جن کی زبان اور جن کی ذہنی نشو و نما کا تنہا ذریعہ وہ زبان ہے جسے ہم کبھی ہندی، کبھی اردو، کبھی ہندوستانی کہتے ہیں اور جسے پچھانہی ہندی یا دلی کی زبان یا کھڑی بولی کہتے ہیں اگر اس کی پھوہڑ شکلیں، جاہلانہ استعمال، غیر فطری استعمال، ٹیڑھا میڑھا استعمال، مہمل اور بے معنی استعمال ہم اپنے کروڑوں بچوں کو سکھائیں گے تو یہ قریب قریب آدھے ہندوستان کی ذہنی ترقی یا نشو و نما کو مٹی میں ملا دے گا اور اگر ہندوستان کے ان تمام حصوں میں بھی جہاں دوسری زبانیں بولی جاتی ہیں، بگڑی ہوئی کھڑی بولی کے نمونے راشٹر بھاشا کے نام پر رائج کئے گئے تو اس سے اتنا بڑا نقصان ہو گا جو اس نقصان سے ہرگز کم نہ ہو گا جو غلامی سے پیدا ہوتا ہے۔ بدیسی حکومت کی لعنت سے کہیں زیادہ خطرناک وہ لعنت ہو گی جو ہم ذہنی اور دماغی ترقی کے ترقی کے ذریعے یعنی زبان کو بگاڑ کر مول لیں گے۔ اگر مجھ سے پوچھا جائے کہ ہندوستان یا کسی ملک کو دیگر تمام ذریعوں سے جو نقصان اور خطرہ ہو گا وہ بڑا خطرہ ہو گایا جو زبان یا ادب کو بگاڑ کر خطرہ پیدا ہو گا وہ بڑا ہو گا؟ تو میں کہوں گا کہ زبان کو بگاڑ دینے سے جو خطرہ پیدا ہو گا وہ دوسرے خطروں سے کہیں زیادہ خطرناک ہو گا۔ اتنی بڑی بات کہتے ہوئے میرے ذہن میں اردو کا وجود تک نہیں۔ میں اس کے لئے تیار ہو سکتا ہوں کہ اردو زبان بالکل مٹ جائے اور تمام اردو ادب نیست و نابود ہو جائے بشرطیکہ ہندوستان کی دوسری زبانوں مثلاً مرہٹی، بنگالی، گجراتی، دکنی زبانوں میں سے کوئی ایک زبان اردو کی جگہ لے لے اور تمام ہندی اور اردو خطّہ کی زبان بن جائے مگر میں اس کے لیے ہرگز تیار نہیں کہ زبان یا زبان کے نام پر جو نمونے میتھلی شرن گپت، پرسادؔ، نرالاؔ اور ان ہی کی طرح کے زبان بگاڑ لوگوں کی تحریریں اور تصنیفیں ہندوستان میں رائج کی گئیں جیسا کہ ہو رہا ہے تو ہمارے کروڑوں بچے نہ شاعری اور لٹریچر کی دوسری شکلیں حاصل کر سکیں گے اور نہ تاریخ، جغرافیہ، سیاسیات، اقتصادیات، فلسفہ، قانون، منطق، سائنس اور اس کی صدہا شاخوں کا علم یا کسی قسم کا علم یا گیان حاصل کر سکیں گے۔ کھڑی بولی ہندی کی زبان کو جس طرح بگاڑا جا رہا ہے ہم اس کو اردو کے مقابلہ میں ہرگز کوئی دوسری زبان نہیں کہتے بلکہ ایک ایسی چیز کہتے ہیں، ایک ایسی لعنت کہتے ہیں جس پر زبان یا بولی یا ذریعۂ علم یا ذریعۂ کاروبار ہونے کا اطلاق ہی نہیں کیا جا سکتا، جسے ہم صرف پاگل خانوں کی زبان کہہ سکتے ہیں۔ کھڑی بولی ہندی کی نام نہاد ادبی یا علمی تصنیفوں کو ہم محض ایک مختلف یا گھٹیا زبان نہیں کہتے بلکہ ایک اسی چیز کہتے ہیں جو کوئی زبان ہے ہی نہیں اور کسی کی زبان نہیں ہے۔ یہ زبان جاہلوں کے دماغ کی اُپج ہے۔ فطری کھڑی بولی کو جو لوگ جانتے ہیں خواہ وہ اردو کو پسند کریں یا ناپسند کریں ان کی بھی زبان پنتؔ، نرالاؔ، پرسادؔ اور گپتؔ کی زبان نہیں ہے یا ان کے ہم نواؤں کی زبان نہیں ہے اور کھڑی بولی ہندی کے نمائندوں کی زبان نہ فطری ہوتی ہے اور نہ عموماً اس کا کوئی مفہوم ہوتا ہے۔

معلمی میرا پیشہ رہا ہے۔ اردو شاعری میرا پیشہ کبھی نہیں رہا۔ میں اچھی طرح جانتا ہوں کہ جو ہندی نثر و نظم آج کروڑوں بچوں کو پڑھائی جا رہی ہے یا سکھائی جا رہی ہے اور جسے پڑھانے اور سکھانے کے لیے غالباً لاکھ دو لاکھ مدرّس و معلم رکھے گئے ہیں وہ زبان نہ کروڑوں بچوں کے پلّے پڑتی ہے اور نہ معلموں اور مدرّسوں کے پلّے پڑتی ہے۔ ودّیارتھی اور پڑھانے والے دونوں اپنا منہ پیٹ کر رہ جاتے ہیں۔ اس نام نہاد زبان میں جو کوئی زبان ہے ہی نہیں سرکاری اعلان شائع ہوتے ہیں، محکموں کے قاعدے قانون بنائے جاتے ہیں، ہزاروں طرح کے اعلان چھاپے جاتے ہیں جن میں کسی جملے یا فقرے کو کائی مفہوم نہیں ہوتا، جو سراسر مہمل ہوتے ہیں، جن کو کوئی سمجھ ہی نہیں سکتا اور یہ ہمارے ملک کے لیے معمولی خطرہ نہیں ہے۔ موجودہ کھڑی بولی ہندی زبان و ادب کو سکولوں و کالجوں میں لازمی مضمون قرار دیا گیا ہے اور اسے دیکھ اور پڑھ کر طالب علموں اور معلموں میں صرف غصہ و نفرت کا جذبہ پیدا ہوتا ہے۔ پنتؔ، نرالاؔ، مہادیویؔ، پرسادؔ اور گپتؔ کے کلام کا جب کوئی لڑکا مطلب پوچھتا ہے تو معلم کو جھوٹے معنی بتانے پڑتے ہیں۔ کئی بار معلموں نے صاف صاف کہہ دیا کہ اس شاعری کا کوئی مطلب ہو تب تو ہم سمجھائیں۔ جب اس کا کچھ مطلب ہے ہی نہیں تو ہم سمجھائیں کیا۔

ہماری تعلیم، ہمارے محکموں کی کاروائیاں سب ایک فرضی چیز بن کر رہ گئی ہیں اور تمام کام اٹکل پچو سے ہو رہا ہے مجھ سے بڑے بڑے امتحانوں کے ممتحنوں نے کہا کہ ہم امتحان دینے والوں کو پاس کریں یا فیل کریں کچھ سمجھ میں نہیں آتا کہ کیا کریں، کیونکہ امتحان کی کاپیوں کے جملوں یا جوابوں کا مطلب نہ صحیح ہوتا ہے نہ غلط ہوتا ہے بلکہ یہ ہوتا ہے کہ ان جملوں اور جوابوں کا کوئی مطلب ہی نہیں ہوتا۔ اگر ہم ایمانداری سے نمبر دیں تو سو میں سے نوے امتحان دینے والے صفر پائیں گے لیکن اگر ہم ایسی ایمانداری برتیں تو محکمہ تعلیم میں قیامت آ جائے گی۔ اب تو ہندی پڑھنے والے بسا اوقات اپنے ہم وطنوں سے یا یوں کہئے کہ ایک ہندی والا دوسرے ہندی والے سے بات چیت تک نہیں کر پاتا۔ معمولی سے معمولی بات نہیں کر پاتا، معمولی سے معمولی سوال کا جواب نہیں دے پاتا اور معمولی سے معمولی سوال کر نہیں پاتا۔ قوم کی قوم گوں گی بن رہی ہے۔ ہر کام اندازے سے کیا جا رہا ہے اور ہزارہا کاموں میں اتنی رکاوٹیں پیدا ہو گئی ہیں کہ زندگی کے کاروبار کی رفتار اس قدر سست ہو گئی ہے یا اس قدر بے جان ہو گئی ہے گویا پوری قوم پر فالج گر پڑا ہے۔ بابا اردو سے مختلف ہی رکھو ہندی کو، اردو کو مٹا کر کوئی دوسری ہندی بنا لو وہ مجھے پسند آئے یا نہ آئے اسکی فکر نہ کرو لیکن خدا کے لیے ایسا تو کرو کہ تمہاری بنائی ہوئی زبان میں کچھ سوچنا اور سمجھنا ممکن رہے، علم حاصل کرنا ممکن ہو، راج پاٹ اور زندگی کا کام چلانا ممکن ہو، تمہاری زبان بولنے اور سننے والے آپس میں کچھ کہہ سکیں اور آپس کی باتیں سمجھ سکیں اور اس زبان میں مطالب ادا ہو سکیں۔

یہ خرابی سورؔ داس کی زبان میں نہیں ہے، تلسیؔ داس کی زبان میں نہیں ہے، کبیرؔ داس کی زبان میں نہیں ہے، گوروؔ نانک کی زبان میں نہیں ہے، قدیم ہندی کے ہزارہا لکھنے والوں کی زبان میں نہیں ہے، دنیا کی کسی زبان میں یہ خرابی نہیں ہے اور اس کا رونا پنڈت جواہر لال نہرو روتے تھے اور آج لاکھوں ہمارے ہم وطن بھی اسی کا رونا رو رہے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ اب سے دو سو برس پہلے جب دلی اجڑ رہی تھی اس وقت اردو ہی کا نہیں سارے ہندوستان کا سب سے بڑا شاعر میرؔ روزگار کی تلاش میں دلی سے لکھنو کے لئے روانہ ہوا اور ڈاک گاڑی میں (ریل اس وقت ہندوستان میں نہیں تھی) ایک سیٹ پر بیٹھ کر لکھنؤ جا رہا تھا، ایک نواب صاحب بھی اسی ڈاک گاڑی سے لکھنؤ کی طرف جا رہے تھے۔ وہ میرؔ کے پاس بیٹھ کر بہت خوش ہوئے لیکن میرؔ ان سے کھل کر بات چیت کر ہی نہیں رہے تھے جس پر انہوں نے کہا کہ میں نے تو سمجھا تھا کہ ہندوستان کے سب سے بڑے شاعر کی ہمراہی میں راستہ اچھی طرح کٹے گا۔ میرؔ نے جواب دیا کہ آپ کا تو راستہ اچھی طرح کٹے گا لیکن آپ سے باتیں کر کے میری زبان خراب ہو جائے گی اور میں اپنی زبان بھول جاؤں گا۔ جب ہندوستان کے سب سے بڑے شاعر کا یہ حال ہو تو ان کروڑوں بچوں کی بدنصیبی کا آپ اندازہ لگا لیجئے جنہیں ہندی کے نام پر ایسے جملے پڑھنے پڑتے ہیں، ایسی شاعری پڑھنی پڑتی ہے، ایسی کتابیں پڑھی پڑتی ہیں جن کی زبان ایک گنوار سے گنوار آدمی کے لیے بھی باعث شرم ہے اور جن کی زبان میں نہ کوئی مطلب ادا ہوا ہے اور نہ ادا ہو سکتا ہے۔ اب ہمارے ہم وطن بتائیں کہ میں ہندوستان کے کروڑوں آدمیوں اور بچوں اور آئندہ نسلوں سے محبت کروں یا پنتؔ، نرالاؔ، گپتؔ اور پرسادؔ کی جناتی زبان سے محبت کروں، کبھی کبھی تو ایسا محسوس کرتا ہوں کہ ہندوستان سے اگر کسی کو سچی محبت ہے، ہندو تہذیب سے اگر کسی کو سچی محبت ہے، قدیم سنسکرت ادب کے لیے اگر کسی کے دل میں احترام ہے تو اس کا پاکیزہ ذھن یہ ہو جائے گا کہ موجودہ ہندی زبان و ادب سے اسے نفرت پیدا ہو جائے گی۔ ہم اپنے دیس کو صرف دشمنی کر کے مٹا نہیں سکتے، دوستی اور خدمت کے کام پر بھی ہم اپنے دیس کو مٹا سکتے ہیں۔ اگر میرے مضامین اور میرے رویے کا یہ نتیجہ ہونے والا ہے کہ لوگ اردو کے دشمن ہو جائیں گے تو اردو کے دشمن ہو جائیں اور سمپورنانند ایسے لوگ چاہیں تو اردو کو مٹا کر رکھ دیں لیکن میں اپنی جد و جہد جاری،رکھوں گا اور نئی ہندی شاعری تو کسی کام کی نہیں ہوئی لیکن نثر کی کچھ ایسی کتابیں ضرور لکھی گئی ہیں جو ہندی میں ہیں اردو میں نہیں ہیں اور جن کی زبان و بیان سے مجھے کوئی لڑائی نہیں کیونکہ ایسی کتابوں کے کچھ معنی و مفہوم تو ہوتے ہیں۔ ان سے ہماری معلومات میں کچھ اضافہ ہوتا ہے۔ ان سے ہم کچھ سوچنا اور سمجھنا سیکھ سکتے ہیں لیکن اس بے ضر ر ہندی میں حسن بیان کی خوبیاں نہیں ہیں۔ پھر بھی یہ غنیمت ہے کہ ادبی خوبیوں سے محروم رہ کر ان ہندی کتابوں کا مطلب سمجھ میں آ جاتا ہے۔ اب میں یہ فیصلہ اپنے ہم وطنوں پر چھوڑتا ہوں کہ مجھے ایک ایسا آدمی سمجھا جائے یا نہ سمجھا جائے جو زبردستی ہندوستان پر اردو کو لادنا چاہتا ہے یا جو اردو سے مختلف لیکن معقول اور با معنی ہندی کا دشمن ہے یا نہیں ہے۔ زندگی میں مصلحت شناسی اور مصلحت کوشی کا ایک اہم مقام ہے لیکن کبھی کبھی مصلحت اندیشی سے کام نہیں چلتا اور اسی سے بامعنی ہندی لکھنے والوں کو میں خادمِ وطن سمجھتا ہوں۔ وہ خادمِ اردو ہوں یا نہ ہوں لیکن مہمل لکھنے والوں کو میں دشمن وطن سمجھتا ہوں۔ میرا عقیدہ ہے کہ یہ بڑا بھاری اندھیر ہو رہا ہے کہ پنتؔ، پرسادؔ، گپتؔ، نرالاؔ، وغیرہ کی مہمل تصنیفیں اور زیادہ تر پھوہڑ تصنیفیں نصابوں میں داخل کر دی گئی ہیں اور ان حضرات کو ہندی پریم کے نشہ میں بڑے بڑے لقب دیئے جا رہے ہیں اور انہیں اچھالا جا رہا ہے۔ خود مجھے اتنی شہرت اور مقبولیت حاصل ہو چکی ہے کہ جو جھوٹی عزتیں ان ہندی شاعروں کو دی جا رہی ہیں انہیں دیکھ کر میرے دل میں رشک وحسد کا جذبہ پیدا ہو ہی نہیں سکتا یا کوئی ذاتی لاگ ڈاٹ کا جذبہ پیدا ہو ہی نہیں سکتا۔ اسی لیے میں ان شاعروں کو جن میں ہر ایک کو میں اپنا دوست سمجھتا ہوں اور جن میں سے ہر ایک کے ساتھ مجھے پر خلوص ذاتی محبت ہے، جہاں تک تخلیق ادب کا تعلق ہے میں انہیں سراہ نہیں سکتا، میں سب کو یقین دلانا چاہتا ہوں کہ چھوٹے پن، رشک، حسد، لاگ ڈاٹ یا ذاتی دشمنی یا کمینہ پن کا کوئی جذبہ ان شاعروں کے خلاف میرے دل میں نہیں ہے اور نہ ایسی ہندی کے خلاف کوئی جذبہ میرے اندر ہے جو فطری ہو اور جس کے معنی و مفہوم ہوں اور میں ایسی ہندی کو اردو سے بھی کہیں زیادہ عزیز رکھتا ہوں۔ میری رگوں میں بھی ہندو خون ہے اور میرے پورے خاندان کا گہرا سمبندھ (تعلق) آریہ سماج سے رہا ہے۔

شوقؔ : ہم لوگوں کو یہ جاننے کا بڑا اشتیاق ہے کہ آپ کو کن ہندی لکھنے والوں کی زبان اور خیالات زیادہ سے زیادہ پسند آئے اور زیادہ سے زیادہ اچھے معلوم ہوئے۔ ابھی تک تو آپ نے آج کے انٹرویو میں بھی اور اپنے بہت سے مضامین میں بھی چند ایسے ہندی ادیبوں اور شاعروں کے ہی نام گنوائے ہیں جن کی تصنیفیں آپ کو بے حد ناپسند ہیں۔

فراقؔ صاحب: سب سے پہلے میں مہرشی دیانند سرسوتی کا نام لوں گا، سوامی کی مادری زبان گجراتی تھی لیکن وہ اتنے بڑے مہاتما اور مہاپرش تھے اور سنسکرت کے تو وہ اپرم پار سمندر تھے کہ وہ ٹیڑھی ہندی لکھ ہی نہیں سکتے تھے۔ ان کی ودّیا نے ان کی ہندی کو نہایت دلکش بنا دیا ہے۔ پھر میں نے سوامی شردھانند کی بھی کچھ تحریریں دیکھی ہیں جو بہت جاندار ہیں۔ اندر ودّیا واچسپتی (INDER VIDYA VACHISPATI) نپولین اور بسمارک (BISMARK) نے جو سوانح عمریاں لکھی ہیں اگر اتنی شاندار ہندی سب ہندی والے لکھتے تو ہندی کا بھی اور ہمارے دیش اور ہماری سنسکرتی کا بھی بڑا کلیان ہوتا اور ہماری زبان اور خیالات کی سطح نہایت اونچی ہو جاتی۔ اندر ودّیا اچسپتی کی ادارت میں سدّھ دھرم پرچارک نام کے ہندی اخبار کی زبان نے میرے دل پر گہرے نقوش چھوڑے ہیں۔ لالہ لا جپت رائے کے بہت سے مضامین اگرچہ میں نے اردو رسم الخط میں پڑھے ہیں لیکن ان کی زبان بھی نہایت خوبصورت ہندی کا نہایت خوبصورت نمونہ ہوتی تھی۔ سوامی ستیہ دیو پری براجک (PRE-BRAJAK) کی ہندی کتابوں میں بھی میں بڑی دلکشی پاتا تھا۔ میں نے آریہ سماج کے سیکڑوں ادھی ویشنوں (Sessions) میں حصہ لیا ہے۔ ایسے موقعوں پر اُپدیشکوں اور سنیاسیوں یاودوانوں کی تقریریں نہایت پاکیزہ ہندی نمونے کی مثالیں پیش کرتی تھیں۔ گوروکل کے بہت سے سناتک (Sanatak) میرے گھر مہمان رہ چکے ہیں اور ان کی تصنیفوں کو میں نے غور سے پڑھا ہے۔ کسی کو ہندی سیکھنا ہو تو ان سناتکوں کی تصنیفیں پڑھے۔ پنڈت ماکھن لال چترویدی کی ہندی شاعری میں تو بندش کی چُستی اور حُسنِ بیان مجھے زیادہ نہیں ملا لیکن ان کی ہندی نثر پر میں اردو نثر کے بہت سے اچھے نمونوں کو قربان کرنے کو تیار ہوں۔ گنیش شنکر ودیارتھی جو کانپور کے ہندو مسلم فسادات میں شہید ہوئے نہایت جاندار ہندی لکھتے تھے۔ پنڈت پدم سنگھ شرما کی ہندی پر بھی میں بارہا وجد کر چکا ہوں۔ آج کل کے لکھنے والوں میں ورندا بن لعل، ناگرجی، ہزاری پرساد  دویدی اور بہت سے دوسرے ہندی لکھنے والوں نے ہندی نثر کے نہایت اچھے نمونے پیش کئے ہیں۔ خود میری ہندی نثر کو کئی ہندی پریمیوں نے از راہِ عنایت کانی سراہا ہے جس سے میری حوصلہ افزائی ہوئی۔ میں نے اچھی ہندی لکھنے والوں کی بہت نامکمل فہرست پیش کی ہے لیکن مجھے اس سلسلہ میں مندرجہ ذیل باتیں کہنے کی سخت ضروری محسوس ہوتی ہے۔

(۱)    ہندی نثر لکھنے والوں کی تعداد اگر ہم کم و بیش ایک ہزار رکھیں تو ان میں پچاس ساٹھ ہی ایسی نثر لکھتے ہیں جسے ہم خوبصورت ہندی کا نمونہ کہہ سکتے ہیں۔ باقی ساڑھے نو سو لکھنے والے نہایت سڑی گلی ہندی لکھتے ہیں۔ اُردو میں یہ بات نہیں۔ اردو لکھنے والے شاذ و نادر ہی خراب زبان لکھتے ہیں۔ یہ اور بات ہے کہ ہر اردو لکھنے والا یا زیادہ تر اردو لکھنے والے کوئی بہت بڑی بات نہ کہتے ہوں۔ اردو سیکھنے والے اچھی زبان لکھنا سیکھ جاتے ہیں لیکن جیسا میں پہلے کہہ چکا ہوں گزشتہ پچیس تیس برسوں سے ہمارے ہزارہا اسکولوں اور کالجوں میں بہت بڑی تعداد ایسے معلموں کی آ گئی ہے جو اچھی زبان استعمال کرنا نہیں جانتے اور ہمارے ہندی کے طالب علموں کو بھی نصابی کتابوں میں عموماً بڑی خراب ہندی پڑھنی پڑتی ہے۔

(۲)    گمبھیر اور سنجیدہ زبان تو اچھی ہندی لکھنے والے لکھ لیتے ہیں لیکن ہلکی پھلکی، رواں دواں، ٹکسالی اور بول چالی کی زبان کے جو نمونے ہمیں اردو نثر میں ملتے ہیں ایسے نمونے ہندی نثر میں ہمیں نہیں ملتے۔ آخر ہر چیز تو فلسفہ دھرم شاستر یا اپدیش نہیں ہو سکتی۔ ناولوں، کہانیوں، ناٹکوں اور اسی طرح کی بہت سی اصنافِ نثر ہیں جن میں عموماً سنسکرت آمیز طرز بیان بھاری پن کا احساس پیدا کر دیں گے۔ خود پریم چند کے اردو افسانے اور ناول جب ہندی میں منتقل کئے گئے تو ان کی زبان اور ان کا اسلوب اوقات کسی قدر بگڑ گیا ہے۔ خاص کر مزاح و ظرافت اور طنزیہ تحریروں کے اچھے نمونے ہندی نثر میں ہمیں نہیں ملتے۔

(۳)   کھڑی بولی ہندی میں جیسا کہ میں ابھی ابھی بتا چکا ہوں اچھی نثر کے تو ہمیں ہزارہا صفحات مل جاتے ہیں لیکن جہاں ہندی کی گاڑی بالکل رک جاتی ہے وہ ہے کھڑی بولی ہندی شاعری کا میدان اور ہندی پر ہندی سے محبت نے جو حملے کرنے پر مجبور کیا ہے (محبت نے نفرت نے نہیں ) وہ کھڑی بولی ہندی شاعری ہے۔ نثر میں تو بڑے بڑے سنسکرت الفاظ اگر سلیقے سے لائیں تو کبھی کبھی کام چل جاتا ہے لیکن ہر موقع پر نثر میں بھی سنسکرت الفاظ کی آمیزش سے کام نہیں چلتا۔ شاعری میں سنسکرت الفاظ کو ہندی الفاظ سے ملا کر کامیاب نمونے کوئی نہیں پیش کر سکا ہے۔ اسی سے جب ناگری حروف میں اردو شاعری چھپتی ہے تو ہندی پڑھنے والوں میں ہندی شاعری کو پسند کرنے والوں کے مقابلہ میں اردو شاعری کا لطف اٹھانے والوں کی تعداد سیکڑوں گنا زیادہ ہو جاتی ہے۔

شوقؔ : فراقؔ صاحب! ہندی سے محبت کرنے والے ہمارے لاکھوں ہم وطن بھی آپ کے خیالات کی صداقت کو محسوس کرتے ہیں لیکن اس تمام خرابی کا علاج آپ کیا تجویز کرتے ہیں ؟

فراقؔ صاحب:ان خرابیوں کا علاج یہ ہرگز نہیں کہ ہندی کو مٹا دیا جائے اور صرف اردو ہی کا راگ الاپتے رہیں۔ میں ہندی کو پھلتا پھولتا دیکھنا چاہتا ہوں لیکن ہمارے سکولوں اور کالجوں میں ہندی زبان میں اور ہندی زبان کے ذریعہ سے بھیانک حد تک جتنی اور جیسی خراب تعلیم دی جا رہی ہے اس سے وحشت زدہ ہو کر آج معمولی حیثیت تک کے ہزارہا لوگ اپنے بچوں کو ان سکولوں میں بھیج رہے ہیں جہاں تعلیم کا خرچ کئی گنا زیادہ ہے لیکن جہاں تعلیم کا انتظام انگریزوں کے ہاتھ میں ہے یا طرز تعلیم یورپ کے نمونے پر جاری کی گئی ہے۔ لوگوں کو احساس ہو چکا ہے کہ ہندی جاننے والے ماسٹر یا معلم ہزاروں کی تعداد میں نہایت گنوار لوگ رکھے گئے ہیں۔ ایسے لوگ انگریزی کو بھی نہایت پھوہڑ کر دیتے ہیں اور اس سے زیادہ پھوہڑ ہندی کو کر دیتے ہیں۔ لوگ سوچتے ہیں کہ ہندی کے نام نہادی طور پر ہندی داں ماسٹروں کو سونپ کر اپنے بچوں کو کون گنوار اور جاہل بنائے۔

شوقؔ : (قطع کلام معاف) لیکن اس کا کوئی علاج۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

فراقؔ صاحب: ایک علاج میری سمجھ میں آیا ہے، وہ یہ ہے کہ جس طرح لگ بھگ ۱۵۰ برس پہلے تک اردو ادیبوں اور شاعروں کو اردو کے علاوہ اچھی طرح نہایت محنت کے ساتھ فارسی سیکھنا پڑتی تھی جس کے نتیجہ میں یہ لوگ خوبصورت اردو لکھتے تھے اسی طرح جب تک کوئی شخص سنسکرت میں ایم۔ اے پاس نہ کرے اسے ہندی کا ماسٹر یا معلم یا مستند مصنف نہ مقر ر کیا جائے نہ مانا جائے۔ دوسرا علاج یہ ہے کہ زیادہ سے زیادہ ہندی پڑھانے والوں اور لکھنے والوں کو اردو سے اچھی طرح واقف کرا دیا جائے بلکہ اردو کے امتحانات پاس کرنے پر مجبور کیا جائے۔ کیونکہ اس طرح ہزارہا ہندی الفاظ محاورے اور زبان کے ٹکڑے جو مطلق فارسی یا عربی آمیز نہیں ہیں بلکہ ٹکسالی ہندی کے بہترین نمونے ہیں ہندی والے سیکھ لیں گئے اور انہیں کھڑی بولی پر قدرت حاصل ہو جائے گی۔ ایک لمبی مدت سے ہندی کے بڑے بڑے علمبردار یہ محسوس کرنے لگے ہیں کہ بغیر اچھی طرح اردو جانے کوئی کھڑی بولی ہندی بھی نہیں جان سکتا۔ ایک اور علاج بھی میں تجویز کروں گا۔ جس طرح انگلستان میں ہر پرکاشک یا پبلشر بڑی بڑی رقمیں دے کر اپنی شائع ہونے والی کتابوں کے مسودّے کو مشہور ادیبوں کو دکھا دیتا ہے، یہی کام ہمارے ہندی کے پرکاشک بھی کریں۔ خاص کر چھوٹے درجے سے لے کر ایم۔ اے تک کی نصابی کتابوں کو نہ مصنف کے رحم و کرم پر چھوڑا جائے نہ پبلشر کے رحم و کرم پر چھوڑا جائے بلکہ مناسب لوگوں کی کمیٹیاں بنا دی جائیں یا ریڈر مقر ر کئے جائیں جو کافی معاوضہ پا کر پہلے مسودوں کو پڑھیں اور تب وہ مسودے چھپنے پائیں۔ اردو نے بہت پاپڑ بیلے ہیں تب کسی قابل ہوئی ہے۔ ہندی پریمیوں کو تن آسانی، سہل پسندی، کاہل وجودی، سہل انگاری، لاپروائی اور جلد بازی سے کام نہیں لینا چاہئے۔ یہ بھی نہایت ضروری ہے کہ ہندی کے کاروبار میں ۹۵ یا ۹۸ فیصد حصہ دار (Senior Partner) ہندی کو بنایا جائے، خوبصورت، خوش آئند اور ٹکسالی ہندی کو (جیسا اردو میں کیا گیا ہے ) سنسکرت کو بڑا حصہ دار ہندی میں نہ بنایا جائے۔ آج ہندی کی بہت سی تحریروں میں غلط سلط طریقہ پر لائے ہوئے سنسکرت الفاظ کو و وہ جگہ دی گئی ہے جو ہم برہمنوں کو دیتے ہیں اور ہندی الفاظ کو وہ جگہ دی گئی ہے جو ہم شودروں کو دیتے ہیں۔ ہندی والے اردو سے نفرت کرتے کرتے خود ہندی سے نفرت کرنے لگے ہیں۔ یہ رجحان ہندی کو مٹا کے رکھ دے گا۔ بڑی مصیبت تو یہ ہے کہ جس اردو میں ہم غیر ملکی عناصر کو غالب سمجھتے ہیں اسی اردو میں ہندی کے مقابلہ میں زیادہ ہندی الفاظ آتے ہیں۔ اردو کا حسن کبھی کبھی فارسی یا عربی الفاظ پر منحصر ہوتا ہے اور زیادہ سے زیادہ موقعوں پر ٹھیٹ ہندی الفاظ پر منحصر ہوتا ہے۔ ہندی والوں کا یہ اچھا ہندی پریم ہے کہ ہندی کا ڈھنڈو رہ بھی پیٹیں اور ہندی سے نفرت بھی کریں۔ اس سلسلہ میں یہ بھی بتا دوں کہ عربی فارسی کے وہ الفاظ جو اَن پڑھ لوگوں سے لے کر بڑے بڑے پنڈت بھی بے تکلف بولتے ہیں اور سمجھتے ہیں ان کا بائیکاٹ ہندی میں نہ کیا جائے۔ انگریزوں نے ہندی اور اردو کو لڑا کر ہندوؤں اور مسلمانوں کو لڑا دیا اور جو تہذیبی سنگم قائم ہو رہا تھا اسے ترقی کرنے سے روکا۔ للو لال نے ’’سکھ ساگر‘‘ کے دیباچہ میں لکھا ہے کہ گلکرائسٹ صاحب بہادر کے آدیش سے میں ان شبدوں کا بہشکار کر رہا ہوں۔ اس آدیش کو ہم شہد اور امرت سمجھ کر نگل گئے لیکن یہ آدیش زہر تھا۔ جو علاج میں نے تجویز کیے ہیں وہ ہندی کو ہندوستان کی سب سے بڑی زبان بنا دیں گے۔ اگر ان علاجوں کو ہم کام میں نہ لائے تو ہندی ہندوستان کی سب سے خراب اور کمزور زبان ہو کر رہ جائے گی۔ اب آپ مجھے چاہیں تو ہندی کا دشمن سمجھیں اور چاہیں تو ہندی کا دوست!

٭٭٭

 

 

 

 

فراقؔ  گورکھپوری سے انٹرویو ۔ ۴

 

                 شریکِ گفتگو:بلونت سنگھ

 

بلونت سنگھ: اردو شاعری میں غزل کو اتنی اہمیت کیوں حاصل ہے ؟ یہاں تک کہ اردو کا تقریباً ہر شاعر غزل پر طبع آزمائی ضرور کرتا ہے ؟

فراقؔ گورکھپوری: حقیقی شاعری خواہ غزل کی شکل اختیار کرے یا دیگر اصناف سخن کی مثالیں پیش کرے اس میں غزلیت کا ہونا لازمی ہے۔ غزل ایک مخصوص صنف سخن ضرور ہے، لیکن غزلیت حقیقی معنوں میں جوہرِ شاعری ہے۔ مخصوص موضوعات پر اشعار اور نظمیں کہیں جا سکتی ہیں اور کہی گئی ہیں، لیکن شاعری کا اہم ترین اور دائمی موضوع، حیات و کائنات کے مرکزی حقائق ہیں۔ غزل کا سب سے اہم موضوع جنسی یا رومانی تعلقات کے رموز و کنایات اور اس کے مختلف پہلو ہیں۔ ایسا اس لیے ہے کہ اگر ہم جنسی تعلقات کو محض ایک اتفاقی، میکانیکی، افادی، حیثیت دیں اور ساری اہمیت سیاسی، اخلاقی، اقتصادی، اور علمی امور کو دیں تو ہمارا تصور زندگی ایک کھوکھلی اور بے معنی چیز ہو کر رہ جائے گا۔ زندگی کی تمام کوششیں، تمام فکریات اور تمام تگ و دو برائے عمل نہیں ہے، بلکہ ہمارا عمل عشق کے لیے ہے۔ سیاسی زندگی، عشقیہ زندگی اور گھریلو زندگی کی لونڈی ہے۔ غزل کی شاعری اس عشقیہ زندگی اور نجی زندگی کے جمالیات کو پیش کرتی ہے اور اس کی معنویت سے ہمیں روشناس کرتی ہے۔

بلونت سنگھ: (Allen Taler کے الفاظ ہیں 🙂

In a manner of speaking the poem is its own knower, neither poet nor reader knowing anything that the poem says apart from the words of poem.

فراقؔ گورکھپوری: ہر حقیقی شعر یا نظم کو ہم ایک علمِ راز کہہ سکتے ہیں، جو اپنی صوتیات و مفہوم سے ماورا ہوتی ہے۔ لیکن یہ کہنا کسی قدر زیادتی ہے کہ وجدانِ سلیم رکھنے والا کوئی شخص شعر کے صوتیات و مفہوم کے پس پردہ حقائق کو محسوس نہیں کر سکتا۔ حقیقی شعر کا مقصد ایسے محسوسات اور نیم محسوسات دینا ہے جہاں وضاحت و تشریح کام نہیں آ سکتی۔ اگر ہم مفہوم و الفاظ کی منزلوں سے آگے نہیں گذر سکتے تو ہم کہیں پہنچ ہی نہیں سکتے بلکہ یوں کہیں کہ یہ شعر کی نغمگی اور اس کے لغوی مفہوم سے ہمیں بہت دور لے جاتا ہے۔

بلونت سنگھ: کیا آپ وجدان کو بھی اکتساب علم کا ذریعہ تسلیم کرتے ہیں۔

Today we lack very much a whole view of poetry and have many one sided view of poetry which have a advertised as the only aims which poets should attempt.

فراقؔ گورکھپوری: سرمایہ دارانہ نظام آج بے مقصدیت کے مسئلے سے دوچار ہے اور اشتراکی نظام کی مقصدیت میں کوئی صحت مندانہ اور داخلی طور پر ہمہ گیری یا وجدانی مقصدیت نہیں ہے۔ بڑی مصیبت یہ رہی ہے کہ ہم دنیا میں اب تک جتنے بڑے شاعر گزرے ہیں انہیں کسی خاص سیاسی و اقتصادی فکریات و نظام کا محض علمبردار سمجھتے رہے ہیں۔ ہم ان کی اس ہمہ گیر آفاقیت کو نظر انداز کر دیتے ہیں جو عقائد، تصورات اور فکریات سے بالاتر ہے۔ ٹھنڈے دل سے یا مشتعل ہو کر کوئی بڑا شاعر اگر کچھ عقائد کو مانتا ہے تو ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ اس کا بلند ترین شاعرانہ کارنامہ خود اس کے عقائد اور فکریات سے زیادہ قیمتی اور زیادہ بڑی چیز ہے۔ ایک شاعر کا وجدان اس کے عقائد و فکریات سے زیادہ اہم ہے۔ آج کے شعراء کے پاس سب کچھ ہے لیکن وہ وجدان نہیں ہے جو شاعری کو ہمہ گیر اور بھرپور بناتا ہے۔ ہم شاید اشتراکیت کو قبول کر لیں لیکن اشتراکی ادیبوں کے محسوسات اور وجدان کے مقابلے میں ایسے محسوسات اور وجدان کو اپنائیں گے جو قدیم ادوار کے بلند ترین شاعروں کا وجدان رہا ہے۔ روس اور چین کے بلند ترین ادیب بھی وجدان کے معاملے میں ان ادیبوں سے کم تر ہیں جن کو دنیا نے بالاتفاق چوٹی کے ادیب مانا ہے، خواہ ان کے عقائد اور فکریات میں کتنا ہی نقص ہو، خود مارکس اور لینن ترقی پسند ادیبوں کے مقابلے میں بینتھون اور شیکسپیئر سے کہیں زیادہ متاثر تھے۔

بلونت سنگھ: پھر Allen Taler کے الفاظ میں :

Serious poetry deals with the fundamental conflicts that can not be logically resolved: we can state the conflicts rationally but reason not relieve us of them, their only final coherence is the formal recreation of art which “freezes” the experience as permanently as a logical formula, but without, like the formula, leaving all but thelosic out.

فراقؔ گورکھپوری: کسی زمانے میں ایک مشہور رسالہ London Mercury کے نام سے کئی برس تک جاری رہا۔ مجھے یاد آتا ہے کہ غالب J.C.Squire(جو اپنے دور کے بہت بڑے ادیب تھے اور رسالے کے مدیر اعلیٰ بھی تھے ) نے لکھا تھا کہ شاعری کے دو ہی موضوع ہیں یعنی انسان بنام انسان یا انسان بنام کائنات۔ انگریزی کی ایک دوسری کتاب کا نام ہے The English Poetic Mind جس میں اس حقیقت کی وضاحت کی گئی ہے کہ ہر بڑے شاعر کے کلام سے ایک نقادنے اپنی نا آسودگی کا اظہار ان الفاظ میں کیا کہ اس شخص کی زندگی میں وہ انتشار نہیں جو حقیقی شاعری کو جنم دیتی ہے نطشے نے کہا تھا کہ Out of chaos a dancing star is born میں اسے یوں کہنا چاہتا ہوں کہ All literature is a problem literature ان تمام با توں کا نتیجہ نکلتا ہے کہ کہیں نہ کہیں تناقص اور تصادم کے کچے مال سے ہم آہنگی پیدا کرنا ہی حقیقی ادب کا مقصد ہے۔ بیدار سے بیدار شعور زندگی میں کسی کمی، کسی خرابی، کسی تضاد و تصادم کا احساس کرتا ہے لیکن فنون لطیفہ کا منصب اعلیٰ یہ ہے کہ منطقی طور پر اگرچہ ہم ان خرابیوں، تناقصوں اور تضادوں کو ماننے پر مجبور نہیں لیکن وجدانی اور جمالیاتی طور پر ہم آہنگ بنا سکتے ہیں۔ یہ ہے فنونِ لطیفہ کی جمالیاتی حقیقت۔ جان اسٹیورٹ مل نے اپنی خود نوشت سوانح عمری میں لکھا ہے کہ ایک بار میری زندگی میں ایک ایسا دور آیا جب میں نے اپنے آپ سے یہ پوچھا کہ وہ تمام مقاصد جن کا میں دلدادہ ہوں اگر پایہ تکمیل کو پہنچ جائیں تو کیا مجھ کو بڑی خوشی ہو گی۔ اور میری روح سے آواز آئی کہ ہر گز نہیں۔ اس بھیانک جواب کا اثر مجھ پر یہ ہوا کہ میں خودکشی کی سوچنے لگا۔ عین اسی بحرانی عالم میں ورڈ زورتھ کی نظموں کا مجموعہ میرے ہاتھ آ گیا۔ یہ نظمیں پڑھ کر زندگی پر ایمان پھر سے قائم ہو گیا اور میں خودکشی کرنے سے بچ گیا۔ ایک لطیفہ یاد آتا ہے ایک کھلنڈرے لڑکے سے اس کے چچا کہنے لگے کہ تم کھیل کود میں اپنا تمام وقت ضائع کرتے ہو بھلا پتنگ لڑانے سے کیا فائدہ، تاش کھیلنے سے کیا فائدہ، مٹر گشتی کرنے سے کیا فائدہ، لڑکے نے جواب دیا کہ چچا فائدے سے کیا فائدہ۔ میرے پروفیسر S.G. Dunn نے ورڈ زورتھ کی نظموں پر مقدمہ لکھتے ہوئے کہا تھا کہ اگر دنیا میں شاعری نہ ہوتی تو صرف ایک ہی جوگ یا روحانی عمل انسان کے لیے ممکن تھا، اور وہ جو لوگ یا عمل خودکشی ہوتا۔ ہاں تو شاعری کا مقصد اعلیٰ صرف یہ ہے کہ اس پر تضاد، پر نقائص، پر تصادم کائنات کا ایسا جمالیاتی شعر ہمیں حاصل ہو جو نا آسودگی کو آسودگی میں بدل دے اور نا ہم آہنگی کو ہم آہنگی میں بدل دے، بلکہ معاملہ یہاں تک پہنچ جاتا ہے کہ غم، ناکامی بربادی اور دکھ کے اظہار کا المیہ ادب ہمیں ایک غیر متوقع لیکن مسلم سکون عطا کرتا ہے۔ ناقابل قبول کی قبولیت کا ماورائے منطق احساس پیدا کرنا بلکہ غم کو تہذیب غم میں تبدیل کرنا ادب کا سب سے بڑا منصب ہے۔

بلونت سنگھ: ادب ایک قسم کے Neorosis کی پیداوار ہے اور کیا یہ محض یہی ہے ؟

فراقؔ گورکھپوری:دنیا میں جتنی بری چیزیں ہیں اس کی کچھ بلند شکلیں بھی ہیں۔ چھوٹے آدمی کا Neorosis ایک چھوٹی چیز ہے لیکن گوتم بدھ کو قریب قریب جس اعصابی بحران کا سامنا کرنا پڑا ہے، اسے ہم چٹکیوں میں نہیں اڑا سکتے حضرت محمدﷺ کو اہلِ عرب کی گری ہوئی زندگی کے احساس نے جس قدر بے چین بنا دیا تھا اس میں کم از مجھے الوہیت کی جھلک نظر آتی ہے۔ جتنا دکھ ہندوستان کی حالت سے مہاتما گاندھی کو ہوا تھا وہ Neorosis سے بہت مختلف نہیں ہے اور یہی بات مارکس اور لینن کے بارے میں کہہ سکتے ہیں۔ ہر بڑی شخصیت ایک قابل احترام معنوں میں بیمار شخصیت ہوتی ہے۔ میرے پروفیسر S.G.Dunn نے اب سے تقریباً پینتیس برس پہلے ایک مقالہ پڑھا تھا جس کا عنوان تھا Genius and clinical thermometer جو بیمار نہیں ہے وہ صحت مند نہیں ہے۔ چنانچہ ہمیں Neorosis کے لفظ سے ڈرنا نہیں چاہئے۔ کچھ حالات اگر ہمیں بے اختیار نہیں کر دیں تو ہم ترقی نہیں کر سکتے۔ اس اعصابی اذیت اور خرابی میں بہت سی خلاقانہ صلاحیتیں اور امکانات مضمر ہیں۔ سب سے بڑا سکون وہ سکون ہے جس میں کرب و درد کی تھرتھراہٹیں توازن حاصل کر لیتی ہیں اور شیو کے تانڈ و رقص میں ضدین کی اسی ہم آہنگی کو مجسم کر دیا گیا ہے۔

جب منطق ہمیں یہ ماننے پر مجبور کرتا ہے کہ وجود بجائے خود ایک متصادم حقیقت ہے، تو وجود کی ہم آہنگی کا احساس کیا ایک دھوکا اور بھرم نہیں ہے۔ کیا ایسا احساس ایک Wishful Thinking نہیں ہے۔ اسی نازک موقع پر عشق کا لفظ آڑے آتا ہے۔ کوئی شخص یہ ثابت نہیں کر سکتا کہ وہ جس محبوب سے محبت کرتا ہے وہ دنیا کی سب سے بڑی ہستی ہے یا اس کے ماں باپ، بھائی بہن اور اس کی اولاد دنیا کے عظیم ترین یا بہترین انسان ہیں، یا اس کا ملک اور اس کے مناظر، اس کا گھر اس کا پڑوس اور ماحول اس کے دوست ساری دنیا کی سب سے بڑی حقیقتیں ہیں۔ پھر بھی وہ ان سب پر اپنی جان چھڑکتا ہے۔ ان حقائق سے یہ ثابت ہوا کہ جہاں منطق بہت کچھ ہے، عقلیت بھی بہت کچھ ہے وہاں ایک جذبات کی منطق ہوتی ہے۔ اور ماورائے عقلیت ایک عقلیت ہوئی جس کو ہم عام طور پر وحدانیت کہتے ہیں یا چاہیں تو انسانیت کہہ سکتے ہیں۔ انسان کو حیوان ناطق کہا گیا ہے لیکن اس فقرے میں ہم لفظ ناطق کو ضرورت سے زیادہ اہمیت دے دیتے ہیں۔ انسان ( ذی حیات) پہلے ہے، ناطق بعد کو ہے، بلکہ بہت بعد کو۔ جب ہم ایک بچے کو پیار کرتے ہیں تو اس کی زندگی کی افادیت کو جو فی الحال ایک صفر سے زیادہ نہیں ہے خاطر میں نہیں لاتے۔ قوسِ قزح سے دنیا کا کوئی فائدہ نہیں لیکن اسے دیکھ کر ہمارا دل اچھلنے لگتا ہے۔ مناظر قدرت اگر روس اور امریکہ کی فیکٹریوں کی طرح نظر آئیں تو منطقی لحاظ سے دیا کا کوئی نقصان نہیں، لیکن خدا نہ کرے ایسا ہو۔ اسی لیے مفکر نے کہا تھا All art is useless فن برائے فن بہت بلند آدرش ہے لیکن اس کا مطلب امانتؔ لکھنوی یا نوحؔ ناردی والی شاعر نہیں ہے۔ اس پر عظمت فقرے کا مطلب یہ ہے کہ ہم مثال کے طور پر کوہ ہمالیہ پر ایسی مصوری کریں کہ اس کا کوئی افادی پہلو نہ ہو لیکن روح میں بالیدگی پیدا ہو۔ برنارڈ شاہ نے ایک جگہ لکھا ہے کہ عشق میں چاہنے کے تصور کو کوئی جگہ نہیں ہے۔

بلونت سنگھ: اردو شاعری میں امرد پرستی کیوں آ گئی ہے۔ امرد پرستی دیگر زبانوں کے ادب میں بھی موجود ہے، کیا آپ اس پر کچھ روشنی ڈالنے کی زحمت کریں گے۔

فراقؔ گورکھپوری: مذکر کا صیغہ مؤنث کا محض الٹا نہیں ہے یا محض اس کی ضد نہیں ہے۔ غزل میں عشق کا ذکر ہوتا ہے، فلاں نام والے مرد کا فلاں نام والی عورت سے عشق کا ذکر نہیں ہوتا۔ لکھنؤ کی عورتیں اس بات سے بہت بچتی ہیں کہ اپنے متعلق مؤنث کا صیغہ لائیں۔ وہ ایسے فقرے نہیں بولتیں کہ ’’میں آئی‘‘ بلکہ کہتی ہیں کہ ’’ہم آئے ‘‘ کسی دوسرے شاعر کا نہیں بلکہ حالیؔ پانی پتی کا یہ شعر لیجئے جسے اردو غزل سے بہت شکایتیں تھی۔ کہتے ہیں :

بگڑیں نہ بات بات پہ کیوں، جانتے ہیں وہ

ہم وہ نہیں کہ جس کو منایا نہ جائے گا

’جانتے ہیں ‘کہ ٹکڑے کو ’جانتی ہیں ‘ کر دیجئے تو شعر کتنا پھوہڑ ہو جائے گا۔ ایسا کیوں ہے ؟ا س لیے کہ ہم مذکر کے صیغے کو مؤنث کے لئے پردہ بنا سکتے ہیں، لیکن مؤنث کے صیغے کو مؤنث کے لیے پردہ نہیں بنا سکتے۔ فانیؔ کا شعر لیجئے :

بجلیاں ٹوٹ پڑیں جو وہ مقابل سے اٹھا

مل کے پلٹی تھیں نگاہیں کہ دھواں دل سے اٹھا

پہلے مصرعہ میں اٹھا کو اٹھی یا اٹھیں کر دیجئے اور دیکھئے شعر کی کیا گت بنتی ہے۔ ایسا سمجھنا بالکل غلط ہے کہ اردو شاعری امرد پرست تھی لیکن غزل اتنی پاکیزہ صنف ہے کہ یہاں محبوب کے جنس کی تخصیص کرنا بدتمیزی سمجھی جائے گی۔ مثنویوں میں یا گر اصناف سخن میں مشکل ہی سے کبھی امرد معشوق کا ذکر آتا ہے۔ کھلم کھلا عورتوں سے عشق کا اظہار کیا گیا ہے، رہی بات دوسری زبانوں کے ادب میں اظہار امرد پرستی کی اس کی مثالیں افلاطون کے وقت سے آج تک کے ادب میں ملتی ہیں۔ بات یہ ہے کہ عاشق مزاج شخصیتوں میں دو ایک فیصد ہی ایسی ہستیاں گذری ہیں جنھوں نے اپنی زندگی کو عملی طور پر وقف امرد پرستی کر رکھا ہو۔ اسی لیے دنیا کا عشقیہ ادب بہت کم امرد پرست جذبات کا حامل رہا ہے۔ ہمیں امرد پرستی کو قابل لعنت بتانے کے بدلے اس جذبے اور عمل کے ساتھ سمجھوتہ کر لینا چاہئے کہ امرد پرستی ایک وبا کی طرح سماج میں نہ پھیلے اور جو لوگ خلوص قلب سے اور اپنی تقاضائے فطرت سے اس کی طرف مائل ہوں ہم انھیں بھی سماج کا فرد قبول کر لیں۔ اب وہ وقت آ چکا ہے بلکہ اس سے بہت پہلے آ چکا تھا کہ ہم اس حقیقت کو تسلیم کر لیں کہ جنسیت کا بھی ہمارے تمدن میں ایک اہم مقام ہے۔ امرد سے محبت ہو یا عورت سے محبت ہو، دونوں قسم کی محبتیں ہمیں بہت نیچے بھی گرا سکتی ہیں اور بہت اونچا بھی اٹھا سکتی ہیں بقول داغؔ :

عشق بازی کو ہے سلیقہ شرط

یہ گنہ بھی ہے ثواب بھی

بلونت سنگھ: تقسیم ہند سے پہلے اردو شاعری کے پس منظر میں اس براعظم کا اجتماعی شعور کام کر رہا تھا۔ تقسیم کے بعد پاکستان کے شاعر کی دنیا پہلے کی نسبت خاصی محدود ہو گئی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ادھر بھارت میں یہ خیال ابھر رہا ہے کہ مسلمانوں کے ساتھ اردو نے علیحدگی اختیار کی ہے۔ ان حالات میں شاعر کا رول پاکستان اور بھارت میں کیا ہے۔ اردو شاعری کا مستقبل کیا ہو گا؟

فراقؔ گورکھپوری: موجودہ زمانے میں محض گھریلو یا سماجی یا ذاتی زندگی پر ادب کا دارومدار نہیں ہو سکتا بلکہ اسکولوں اور کالجوں میں زبان و ادب کی جیسی تعلیم دی جائے گی اسی پر ادب کی تعمیر ہو سکے گی۔ میں محض شاعر نہیں رہا ہوں بلکہ ایک معلم بھی رہا ہوں اور جس طرح تعلیم کو روز بروز پستی کی طرف ہم لے جا رہے ہیں اسی پستی کی طرف ہمارا ادب بھی جائے گا۔ میں اسے مدتوں سے محسوس کرتا رہا ہوں کہ اردو کے کامیاب ادیب بھی وجدان اور شعور کی وہ سنجیدگی حاصل کرنے سے محروم رکھے گئے ہیں جسے صرف گہرا مطالعہ اور بلند تعلیم ہی ہمارے نوجوانوں کو دے سکتی ہے۔ مرزا غالبؔ کی فلم کو لے لیجیے جسے دو مشہور ادیبوں نے بنایا ہے۔ دونوں نے موضوع اسے پیش کرنے کے طریقے کو کافی نیچے گرا دیا ہے۔ جس ہندی کو بظاہر اتنا اچھالا جا رہا ہے آج اس کی تعلیم بھی مٹی میں ملادی گئی ہے۔ ہندوستان کو آج ایک تعلیمی انقلاب کی ضرورت ہے۔ کہا نہیں جا سکتا کہ یہ انقلاب کب آئے گا۔ یہ بھی نہیں کہا جا سکتا کہ یہ انقلاب کبھی آئے گا یا نہیں۔ اس لیے اردو یا ہندوستان کی کوئی اور زبان ہو اس کے ادب کے مستقبل کا خدا ہی حافظ ہے۔ آج جاہل سے جاہل آدمی، جو ایک پوسٹ کارڈ صحیح نہیں لکھ سکتے، پارلیمنٹ کے ممبر ہو رہے ہیں۔ منتری ہو رہے ہیں، گورنر ہو رہے ہیں، اور ہزارہا کی تعداد میں بڑے بڑے افسر ہو رہے ہیں، حد تو یہ ہے کہ ایسے جاہل لوگ یونین اور صوبہ جاتی پبلک سروس کمیشن کے ممبر ہو رہے ہیں، پروفیسر ہو رہے ہیں، ہائی کورٹ کے جج ہو رہے ہیں۔ا یسی صورت حال میں ادب کا خدا حافظ۔

بلونت سنگھ: اردو ادب میں ہندو، مسلمان، سکھ اور ہندوستان کے دوسرے لوگ جس مشترکہ تہذیب کی نمائندگی کریں گے اس کے متعلق آپ کا کیا خیال ہے ؟

فراقؔ گورکھپوری:اس امر میں میری گذارش یہ ہے کہ تعصب سے پاک رہتے ہوئے بھی مسلمان مسئلے کی تہہ تک نہیں پہنچے، اردو کے مسلمان ادیبوں کے فرائض ان فرائض سے کچھ مختلف ہیں جنھیں میرؔ و غالبؔ، آتشؔ و ناسخؔ، انیسؔ و دیبرؔ، حالیؔ واقبالؔ نے پورا کیا۔ ہندوستان ہمیشہ بدلتا رہتا ہے لیکن یہ ناقابل انکار حقیقت ہے کہ ہماری تہذیب اور ثقافت و ادب کی جڑیں اگر سنسکرت ادب میں اور ادب سے نہیں پھوٹتیں تو ہندوستان کی زندگی میں اوپر سے نہیں پھوٹتیں۔ ادب کا سب سے بڑا کام قومی مزاج کی تخلیق کرنا ہے۔ جو مزاج موجودہ دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہوتا ہو وہی مزاج ہو گا جو ویدوں، اپنشدوں، پرانوں، مہابھارت، رامائن، کالی داس اور دیگر ان شاہکاروں اور شاعروں کا مزاج ہے جو ہندو تہذیب کے معمار ہیں۔ ثقافتی، وجدانی اور تہذیبی طور پر ہر غیر ہندو کو ہندو بننا ہے۔ اس کے بغیر کوئی چارہ نہیں ہے۔ اس امر سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ مسلمانوں میں ہندوستان سے مغائرت کا جذبہ کار فرما رہا ہے۔ مسلمانوں نے ہندوستان کی بڑی خدمتیں انجام دی ہیں۔ لیکن ہندوستان کے تہذیبی ورثہ کے ثمام اہم عناصر کو وہ اپنا نہیں سکتے۔ اس تہذیبی ورثے کو اپنا اور اس ورثے سے اپنے آپ کو مالا مال کرنا اور تمام ہندو اور غیر ہندو ادبا اردو کا اہم ترین فریضہ ہے۔

بلونت سنگھ: شعر کہنے کے لیے آپ کیسا ماحول پسند کرتے ہیں ؟

فراقؔ گورکھپوری: ماحول کا لفظ بہت سی غلط فہمیاں پیدا کر سکتا ہے۔ ماحول کا سب سے اہم حصہ وہ ہے جس کا تعلق ماضی سے ہے۔ ہندوستان میں اردو ادب کے ادیب کی شخصیت میں ہندوستان کی قدیم ترین تاریخ سے لے کر آج تک کی تہذیبی قدریں کار فرما ہیں۔ محض سطحی اور انفرادی، نیکی، شرافت طباعی اور فنی صلاحیت سے بڑا ادب پیدا نہیں ہوتا۔ ہم دور نہ جائیں پریم چند کو لے لیں۔ پریم چند بہت بڑے ادیب تھے، لیکن ان کی شخصیت میں وہ قدریں کار فرما نہیں آئیں جو شکنتلا ایسے شاہکار کو جنم دے سکیں۔ ہم جب شکنتلا پڑھتے ہیں تو شکنتلا کے مقابلے میں ان دیگر بڑے ادیبوں کے کارناموں میں ایک کمی محسوس ہوتی ہے۔ تہذیب کے سمندر سے بڑے اقدار کا نکالنا سمندر منتھن کی قسم کا کام ہے۔ ٹالسٹائی کوئی معمولی ادیب نہیں لیکن محض ادبی اور فنی لحاظ سے نہیں بلکہ اخلاقی وجدان کے لحاظ سے وہ شیکسپیئر کے مقابلے میں ایک گرا ہوا آدمی ہے، حالانکہ اپنی ہر تحریر میں گھگی باندھ کر اس نے صرف اخلاق کی دہائی دی ہے۔ ٹالسٹائی کا عظیم ترین کارنامہ شیکسپیئر کے معمولی ناٹک جولیئس سیزر کی انسانیت اور شرافت کو چھو نہیں پاتا۔ ٹالسٹائی کی کوئی کتاب اس عظمت کو چھو نہیں سکتی جو ہم Vicar of Wakefield Silas Marniar میں پاتے ہیں۔ ٹالسٹائی کے فرشتے بھی ڈیوڈ کو پر فیلڈ ہیں لکھ سکتے۔

بلونت سنگھ: ادب کے متعلق ہم آپ کے کچھ اور اہم خیالات جاننا چاہتے ہیں ؟

فراقؔ گورکھپوری: ادب زندگی کے واقعات کی مصوری نہیں ہے۔ ان بلند مقاصد کی مصوری ہے جن کا تعلق دنیا سے غلط نظام، بے انصافی، ظلم اور جہالت کو دور کرنا ہے۔ یہ کام بہت اہم ہے اور بڑے بڑے لیڈر انھیں انجام دیتے ہیں، عظیم ادیب، سیاسی لیڈروں کا حاشیہ بردار نہیں ہوتا۔ وہ ادب کے ذریعے سے وہی نتائج پیدا کرنا نہیں چاہتا جو سیاسی جد و جہد سے گاندھی یا لینن پیدا کرنا چاہتے تھے۔ ادیب تحریک سیاست کا رضا کار نہیں ہے۔ ادیب کا صرف ایک کام ہے۔ جب اور لوگ اور ان کی کوششیں دنیا کو سب کچھ دے چکیں تو ان کے بعد یا ان سے علیحدہ رہ کر ادیب دنیا کو وہ چیزیں دے جو رامائن، مہابھارت، الیٹ اور اوڈیسی کے شعرا یا دیگر مشاہیر شعر و ادب دنیا کو دے سکے۔ میں کسی بڑے فنکار کے مقابلے کسی دوسرے بڑے آدمی کو جگہ دینے کو تیار نہیں ہوں۔ اگر یہ کہا جائے کہ یہ بڑے لوگ اگر اپنا کام سرانجام نہ دیتے، تو ادیب یا شاعر یہ کام کر سکتا تھا، تو اس کا جواب یہ ہے کہ اگر مہتر ہڑتال کر دیں تو وہ لوگ یہ کام نہیں کر سکتے جو مہتر نہیں ہیں۔ عمل کے سورما تاریخ کے مہتر ہیں اور فنون لطیفہ کے سورما تاریخ کے عطار ہیں۔ کیا اس لیے مہتر کا پیشہ دنیا کا بلند ترین پیشہ مانا جائے گا۔ کسی کام کا لازمی یا ناگزیر ہونا اس کام کی داخلی اہمیت کی دلیل نہیں ہے۔ زندگی کے مقاصد وہ چیزیں نہیں جنھیں ہم مقاصد سمجھتے ہیں بلکہ وجدانی احساسات اور تجربات حاصل کرنا یا غیر مقصدی اور غیر افادی تجربات سے اپنے کو شرابور کرنا بلکہ یوں کہئے کہ غیر مقصدیت سے زندگی کو مالا مال کرنا زندگی کا سب سے بڑا مقصد ہے۔ زندگی کا مقصد وہ مشقت نہیں ہے جس سے تاج محل کی تعمیر ہوتی ہے بلکہ اس جمالیاتی شعور کو حاصل کرنا ہے جس نے تاج محل کے خواب کو جنم دیا اور جو تاج محل کو دیکھ کر ہمارے اندر پیدا ہوتا ہے۔ افادی عمل ایک غیر ضروری اور نہایت گری ہوئی چیز ہے۔ ہونا، کرنے سے بہتر بڑی بات ہے۔

بلونت سنگھ: آزادی ملنے کے بعد ہم تہذیبی ترقی کے کچھ منازل طے کر سکتے ہیں یا نہیں ؟

فراقؔ گورکھپوری: حصول آزادی ہم کو ایک ایسے آدمی کی رہبری سے نصیب ہوئی جو کئی لحاظ سے بہت بڑا آدمی تھا اور کئی لحاظ سے بہت چھوٹا آدمی تھا یعنی مہاتما گاندھی۔ ۔ ۔ ۔ اس شخص کا شعور اور اس کا پورا وجود اس قابل تھے ہی نہیں کہ فن تعمیر، فن مصوری، فنِ رقص، فن موسیقی، فن ادب، علوم اور بلند تعلیم و تربیت یافتہ دماغ کے مفہوم کو کچھ بھی سمجھ سکے۔ مہاتما گاندھی کی عظمت ایک المیہ تھی جس نے ہندوستان کو آزاد بھی کیا اور مستقل طور پر ان عظمتوں کی قدر شناسی سے ہمیں محروم کر دیا جن کا ذکر اوپر آیا ہے۔ مارکس اور لینن ایسے سورماؤں اور دلدادگان عمل کے متعلق ایسی خبری ہم تک پہنچی ہیں کہ صدہا ادیبوں اور فنکاروں کے کارناموں پر یہ جھومے تھے۔ لیکن ہائے ہائے ایک تھے مہاتما گاندھی جو کئی الفاظ زندگی میں بولے لیکن اینجلاء شکنتلا، خسرو، تان سین، جے سی بوس اور آفاقی تہذیب کے دیگر پائندہ ہستیوں اور کارناموں کے لیے اٹھتر برس کی لمبی چوڑی زندگی میں پانچ سات لفظ بھی نہیں بول سکے، بلکہ سرجے سی بوس کی شان میں انھوں نے یہ گستاخی کی کہ ایک پبلک جلسے میں کہہ دیا کہ جے سی بوس کی دریافتوں سے عوام کو کیا فائدہ۔ واہ رے عوام، واہ رے فائدہ، بوجھیں تو لال بجھکڑ اور نہ بوجھے کوئے۔ اس شخص کی روح محض انگریزی حکومت ہی سے نہیں لڑتی بلکہ علم و ادب سے بھی لڑتی تھی اور تہذیب کی بلند قدروں کو سمجھنے سے بالکل معذور تھی۔ مہاتما گاندھی عمر بھر اگر کبھی اس موضوع پر کوئی مضمون لکھنا چاہتے کہ ہندوستان کا روشن ترین دماغ کن کن صلاحیتوں کا حامل ہو تو وہ مضمون نہایت سڑا ہوتا۔ اس شخص نے ثقافتی اور تہذیبی لحاظ سے ہمیں بھک منگا بنا دیا۔ یہ سب عام طور پر کہہ چکنے کے بعد ہم بھی کہیں گے کہ مہاتما گاندھی کی جے !

جاہل ہوتے ہوئے بھی یہ شخص ہمیں بہت کچھ دے گیا ہے۔ زندگی کی بہت سی قدریں جو علم ہی نہیں بلکہ فنون لطیفہ سے بھی بے نیاز ہیں۔ عدم تشدد کا سبق، جرأت اور ہمت کا سبق، مادی طاقت کے آگے سرنہ جھکانے کا سبق، نہتوں کو مسلح قوتوں سے لڑنے کا سبق، زندگی میں ایک شاندار تیور پیدا کرنے کا سبق، دنیا کی سب سے چالاک اور تجربہ کار قوم کے تمام ہتھکنڈوں کو بے کار کر دینے کا سبق جو ہمیں مہاتما گاندھی نے دیا، وہ کوئی نہیں دے سکتا۔ مہاتما گاندھی اور ان کے اثرات ہماری غلامی کے لیے کار آمد تھے۔ لیکن ہماری آزادی کے لیے گاندھیت یا تو بالکل بے کار چیز ہے۔ یا بہت کم کار آمد ہے۔ جنگ آزادی میں ہم بدیسی حکومت کو مٹا دینا ہی اپنا سب کچھ سمجھ بیٹھے تھے۔ آزادی حاصل ہونے کے بعد ہم کیا کریں اس سوال کا جواب دینا مہاتما گاندھی کے بس کا کام نہیں تھا، اسی لیے یہ خطرناک اور کار آمد آدمی، یہ بڑے کام کا اور نکما آدمی ہمیشہ سوراج کے لیے لڑتا رہا اور سوراج کے لوازمات بتانے سے ہمیشہ دامن بھی کتراتا رہا، ایک بار یہ حضرت یعنی مہاتما گاندھی میسور سینٹرل کالج الہ آباد میں تشریف لائے۔ ان دنوں میں پنڈت امرناتھ جھا، کپل دیو مالویہ اور پرکاش نرائن سپرو سب میسور کالج کے طالب علم تھے۔ پرکاش نرائن نے مہاتما گاندھی سے سوال کیا کم سے کم کتنی (رقم) یا مالی حیثیت رکھنے کی اجازت آپ کسی کو دیں گے جس کا جواب مہاتما گاندھی نے یہ دیا کہ کچھ نہیں۔ ایسے ہی موقع کے لیے سعدی نے لکھا تھا:

بریں عقل و دانش بہ بباید گریست

٭٭٭

 

 

فراقؔ  گورکھپوری سے انٹرویو ۔ ۵

 

                 شریکِ گفتگو:نریش کمار شادؔ

 

فراقؔ صاحب اس شام بجھے بجھے سے بیٹھے تھے۔ میں نے آداب بجا لانے کے بعد جب صحت کے متعلق دریافت کیا تو اور بھی بجھ گئے اور بڑی بے دلی سے کہنے لگے۔

’’اب صحت کیا ٹھیک ہو گی۔ گرتی ہوئی دیوار ہوں۔ دونوں ہاتھ میں ہر وقت درد رہتا ہے اور یہ درد بعض اوقات تو ناقابلِ برداشت ہو جاتا ہے۔ ‘‘ اس کے بعد وہ درد سے کراہنے لگے۔ پھر کچھ رسمی سی بات چیت ہوئی، جس سے مجھے اندازہ ہوا کہ آج اس گل افشانی گفتار کے پیکر کا جلال میں آنا محال ہے۔ بہرحال میں نے اس محال کو ممکن بنانے کے لئے خواہ مخواہ جوشؔ ملیح آبادی کا ذکر چھیڑ تے ہوئے کہا۔

’’جوش صاحب کے متعلق پاکستان کے کسی جریدے میں آپ نے لکھا ہے کہ جوشؔ نے بہت سے نا خوشگوار اثرات مجھ پر پیدا کر دیئے ہیں۔ یہ اثرات ہیں کیا؟‘‘

فراقؔ صاحب نے مجھ پر ایک گہر نظر ڈالتے ہوئے کہنا شروع کیا۔

’’جوشؔ میرے جگری دوست ہیں۔ میں انھیں شاعر اعظم مانتا ہوں۔ وہ ہفتوں بلکہ مہینوں میرے گھر میں گھر کا ایک فرد بن کر رہ چکے ہیں۔ میں ان کی شخصیت سے بہت متاثر ہوں۔ لیکن ان کی شخصیت کے ڈیڑھ دو فیصدی ناخوشگوار اثرات بھی مجھ پر ہیں۔ انھوں نے ایک خیالی خواب دیکھ کر ہندوستان کو چھوڑا جس کی وجہ سے ہندوستانی مسلمانوں میں بہت غم پیدا ہوا۔ میرا ما تھا اگرچہ اس وقت بھی ٹھنکا تھا لیکن ان سے قدرے نا آسودگی اور بیزاری کے میرے جذبے کا ان کے و ہاں چلے جانے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ یوں تو کئی سال پہلے میری ان سے ان بن ہو گئی تھی۔ بعد میں اپنی رباعیات کے مجموعے ’’روپ‘‘ کا ان کے نام انتساب کرتے ہوئے میں نے اس ان بن کی طرف اشارہ بھی کیا ہے۔ لیکن مجھے یہ اعتراف ہے کہ جوشؔ صاحب کا دل بھی میرے دل کی طرف صاف ہے۔ وہ میرے لئے بدی کا لفظ کبھی نہیں بولے اور نہایت خلوص سے میری شاعری کے معتقد ہیں۔ ‘‘

فراقؔ صاحب جذبات کی رو میں بہے جا رہے تھے۔ میں نے انھیں چونکاتے ہوئے کہا ’’یہ سب ٹھیک ہے حضرت لیکن میں تو ان ناخوشگوار اثرات کی بات کر رہا تھا۔ ‘‘

’’ہاں۔ ناخوشگوار اثرات۔ ‘‘ فراقؔ صاحب واقعی چونکتے ہوئے بولے۔ ’’ارے کچھ ایسے ناخوشگوار بھی نہیں میرے یہ ڈیڑھ دو لفظ جنھیں آپ مہمل بھی کہہ سکتے ہیں محضاس احساس کی پیداوار ہیں کہ جوشؔ صاحب صرف مخدوم ہو کر رہ گئے، وہ خراجِ عقیدت لیتے تو ہیں مگر دیتے نہیں۔ یوں تو میرے اپنے کردار میں بھی بہت سی خرابیاں ہیں۔ جنسی زندگی جو ایک انسان کی پرائیوٹ ملکیت ہوتی ہے، میرے یہاں کچھ زیادہ خوشگوار نہیں ہے۔ لیکن جوشؔ صاحب کی نا آسودہ کرنے والی باتیں۔ ‘‘ اور اس کے بعد مسکراتے ہوئے کہنے لگے۔ ’’اب جوشؔ صاحب کو اگر ’’آپ۔ پونا سے کب آئے۔ ‘‘ میں ’’پونے سے کب‘‘ کی بجائے ’’پونہ سے کب‘‘ بالکل ایسا ہی معلوم ہوتا ہے جیسے کوئی ’’گھوڑا کی دُم‘‘ کہے تو جوشؔ صاحب کی ایسی با توں پر غصہ نہیں پیار آنا چاہئے۔ یہ تو ان کے حسین نخرے ہیں۔ ‘‘

میں نے فراقؔ صاحب کے چہرے پر ہلکی سی برہمی کی پرچھائیں پڑی اور انھوں نے کہا۔ ’’مثلاً بعض لوگوں کا کہنا کہ جوشؔ، نہرو، آزاد اور شنکر لال سے اپنے اثرات سے کچھ کام کرالیتے تھے، اس میں ان کا رویہ ایسا ہوتا تھا کہ وہ دوسروں کا فائدہ کراتے کراتے اپنا بھی فائدہ کر لیتے تھے۔ ‘‘

’’تو اس میں کسی کا کیا نقصان ہوتا ہے ؟‘‘

’’جی نہیں !‘‘ فراقؔ صاحب نے میری تائید کی اور چند لمحوں کی خاموشی کے بعد ذرا جھنجھلا کر بولے۔ ’’جوشؔ صاحب سے میری نا آسودگی، محبت کی نا آسودگی ہے۔ جوشؔ صاحب کی عظمت کو دیکھتے ہوئے ان کے بارے میں ایسی باتیں سننا بھی اچھا نہیں لگتا۔ ایک بات اور کہہ دوں کہ میں پروفیسر آدمی ہوں۔ معاملے کا آدمی نہیں، اس لئے ایسے معاملات میں اپنی رائے پر اعتماد بھی نہیں کرتا۔ ‘‘ اور پھر بہت ہمدردانہ لہجہ میں کہنے لگے۔ ’’جوشؔ کے ساتھ کچھ مجبوریاں بھی ہیں، بے چارے کا بیٹا لائق نہیں ہوا۔ داماد بھی، جب تک یہاں تھے تو اعلیٰ سے اعلیٰ تعلیم پانے کے باوجود کچھ نہیں کرتے تھے۔ جوشؔ پر متعلقین کا بوجھ بہت زیادہ ہے ایسے عالم میں ہماری تو کمر خم ہو جاتی جناب!‘‘ ’’جناب‘‘ کا لفظ فراقؔ صاحب نے اپنے خاص انداز میں لمبا کر کے ادا کیا۔

میں ناخوشگوار اثرات کے سلسلے میں تو فراقؔ کے جوب سے مطمئن نہ ہو سکا لیکن یہ امر میرے لئے تسلی بخش تھا کہ جوشؔ صاحب کے ذکر خیر نے فراقؔ کی رگِ تکلم کو چھیڑ دیا ہے۔

فراقؔ صاحب! پچھلے دنوں جب جوشؔ صاحب یہاں تشریف لائے تھے تو۔

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ‘‘ میں نے ارادتاً جوشؔ صاحب کے ذکر کو طویل دیتے ہوئے کہا۔ ’’میں نے ان سے پوچھا تھا کہ‘‘ اردو کے جدید ترین شاعروں کے متعلق آپ کی کیا رائے ہے۔ تو اس کے جواب میں انھوں نے کہا تھا کہ میری رائے کچھ زیادہ اچھی نہیں ہے۔ کیا آپ بھی ان شاعروں کے بارے میں یہی رائے رکھتے ہیں ؟

’’نہیں بھائی! میں ایک ڈنڈے سے سب کو نہیں ہانکوں گا۔ ‘‘ فراقؔ صاحب کی طبعی شگفتگی عود کر آئی۔ ’’میں محسوس کرتا ہوں کہ یورپ کے ادیبوں میں مطالعے کی روایات ہم سے زیادہ مضبوط ہیں۔ آج کل کے اردو شاعروں کو خال خال اردو کتابوں کا مطالعہ اتنا فائدہ نہیں پہنچا سکتا جتنا انگریزی کتابوں کا۔ لیکن ہمارے ہاں سماجی اور اقتصادی حالات کچھ ایسے ناہموار ہیں کہ ہمارا نیا شاعر ذاتی طباعی کو مطالعے سے زرخیز نہیں بنا سکتا اور پھر زمانہ انتشار کا زمانہ ہے جو شاعری کے لئے زیادہ سازگار نہیں۔ آج شاعری پوری دنیا میں ایک بحرانی دور سے گذر رہی ہے۔ ہمارے وہ شاعر جن کی عمر پچاس سال سے کم اور تیس سال سے زیادہ ہے، ان میں سے بعض کی شاعری اچھی خاصی تو ہے لیکن عظمت نہیں۔ جدید شاعری میں کچھ حسین آوازیں تو بے شک سنائی دیتی ہیں، لیکن کوئی بڑی آواز سنائی نہیں دیتی۔ لیکن نئے شاعروں کی طرف سے جو تجربے کئے جارے ہیں وہ سب کے سب ایسے نہیں ہیں جنھیں لغو قرار دے دیا جائے۔

’’جدید شاعروں کے کماں دار فیض احمد فیضؔ کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے ؟‘‘

فراقؔ صاحب کچھ سوچتے ہوئے رک رک کر بولے۔ دست صبا میں اور اس کے بعد سے فیضؔ نہ جانے کیوں زبان کی صحت سے بے پروا ہوا گئے ہیں۔ پھر بھی وہ کبھی کبھی مجھے بہت اچھے لگتے ہیں۔ لیکن ان کے کلام کی اشاریت میرے لئے ناقابل فہم ہے۔ ‘‘

میں نے محسوس کیا کہ طبیعت کی ناسازی کے باوجود فراقؔ صاحب اپنی افتادِ طبع سے مجبور ہو کر باتیں کرنے کے موڈ میں آ گئے ہیں۔

’’فراقؔ صاحب! کیوں نہ اس پر لطف گفتگو کو باقاعدہ انٹرویو کی شکل دے دی جائے۔ ‘‘ اور ان کے جواب کا انتظار کئے بغیر میں نے سوال کر دیا۔ ‘‘ آپ عالمِ وجود میں کب آئے قبلہ!‘‘

’’۲۸؍ اگست ۱۸۹۶ء بروز جمعہ بوقت دوپہر۔ ‘‘

’’خوب۔ اور شاعری کا آغاز کب ہوا۔ ؟ ‘‘

’’والد محترم حضرت عبرتؔ بھی شاعر تھے۔ بچپن میں ان سے شعر سن کر متاثر ہوتا تھا۔ ۲۲، ۱۹۹۲۱ء میں ڈرتے ڈرتے خود بھی کچھ شعر موزوں کئے۔ ‘‘

’’اپنے ابتدائی کلام پر اصلاح کس سے لی؟‘‘

’’والد کو کچھ اشعار ضرور دکھائے، لیکن ان کے انتقال کے بعد کسی سے اصلاح نہیں لی، ویسے میرے چند مصرعوں میں پروفیسر مہدی حسن ناصری اور امیرؔ مینائی کے شاگرد و سیمؔ خیر آبادی نے بھی ترمیم کی، ریاضؔ خیر آبادی نے بھی دو ایک مصرعے دیکھے تھے۔ لیکن حقیقت میں میرا مطالعہ ہی میرا استاد ثابت ہوا۔ ‘‘

’’کس کس شاعر سے آپ غیر معمولی طور پر متاثر ہیں ؟‘‘

’’۲۴۔ ۱۹۲۳ء میں امیر مینائی کی شگفتہ بیانی سے بہت متاثر تھا۔ لیکن جلد ہی اردو شاعری سے نا آسودہ ہونے لگا۔ اس میں لفاظی اور سطحیت کی بہتات اور رمزیت کی کمی محسوس ہونے لگی۔ اس وقت اپنے آپ کو مطمئن کرنے میں میرؔ نے میری بہت امداد کی۔ میرؔ کے علاوہ اردو میں غالبؔ، آتشؔ، انگریزی میں ورڈزورتھ اور کیٹس اور ہندی میں تلسی داس سے بھی متاثر ہوں۔ ‘‘

’’کیا آپ اس کلیے سے اتفاق کرتے ہیں کہ اچھا شاعر اچھا انسان بھی ہوتا ہے ؟‘‘

فراقؔ صاحب نے سگریٹ کا ایک طویل کش لگاتے ہوئے جواب دیا۔ ’’ایک آدمی کے کردار کی ساخت میں مختلف قوتیں کار فرما رہتی ہیں۔ جیسے والدین کا خون، گھریلو زندگی، سماجی روایات۔ میں جس زمانے میں پیدا ہوا اس زمانے کے حالات اور تعلیم و تربیت اور پھر اچھے آدمی کا معیار بھی ہر ماحول میں علیحدہ ہوتا ہے۔ لیکن یہ بات ضرور ہے کہ جو اچھا شاعر ہو گا وہ کسی بھی ماحول میں بری زندگی کا معاون نہیں ہو سکتا۔ وہ ظلم اور بے دردی کی کبھی حمایت نہیں کر سکتا۔ ‘‘ بولتے بولتے فراقؔ صاحب کھوسے گئے۔ اور چند لمحوں تک چپ چاپ کچھ سوچتے رہنے کے بعد بولے۔ ’’ایک اچھے شاعر میں جنسی کمزوریاں ہو سکتی ہیں۔ اس کی زندگی غیر متوازن ہو سکتی ہے۔ وہ شراب کا عادی بن سکتا ہے۔ نیک نیتی کے باوجود اس سے کسی غلطی کا ارتکاب ہو سکتا ہے۔ یعنی وہ خلوص کے ساتھ کسی مسئلے میں غلطی کر سکتا ہے لیکن شاعری میں اور دیگر فنون لطیفہ کا مقصد ہی نیکی کی قوتوں کو مدد پہچانا ہے اس لئے سماج کی بہبودی کے لئے ایک اچھا شاعر بہرصورت معاون ثابت ہو گا۔ ‘‘

فراقؔ صاحب کی زبان سے شراب کا ذکر سن کر میں نے اگلا سوال شراب ہی کے متعلق کیا۔ ’’کیا شعر و شراب لازم و ملزوم ہیں ؟‘‘

فراقؔ صاحب نے ایک دم تردید کرتے ہوئے کہنا شروع کیا۔ ’’جوشؔ، جگرؔ اور میں اپنے اپنے طور پر الگ الگ شراب کے سلسلے میں اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ شعر کا کوئی تعلق شراب سے نہیں ہے۔ کسی نشے باز فنکار نے نشے کے زیر اثر کبھی کوئی شاہکار نہیں لکھا۔ ٹیگور کو دیکھئے، وہ کبھی شراب نہیں پیتے تھے۔ اقبالؔ نے بھی جوانی میں ضرور پی، لیکن بعد ازاں اسے مطلق ہاتھ نہیں لگایا۔ داغؔ نے اتنی چلبلی اور رنگین شاعری کرنے کے باوجود شراب کو چھوا تک نہیں۔ چکبستؔ، انیسؔ، اور نظیرؔ کے بارے میں بھی کسی نے نہیں سنا کہ وہ پیتے تھے۔ یہ صحیح ہے کہ ایک آدھ پیگ پی لینے کے بعد شاعر باتیں بہت اچھی کر سکتا ہے لیکن شعر نہیں کہہ سکتا۔ اور زیادہ پینے کے بعد تو ظاہر ہے وہ سوہی جائے گا۔ اور شراب کا نشہ اترنے کے بعد اس سے اچھی تخلیق کی توقع لا حاصل ہے۔ ‘‘

’’تو پھر فرمائیے کہ آپ کیوں پیتے ہیں ؟‘‘

فراقؔ صاحب کچھ غمگین ہو کر کہنے لگے۔ ’’میری ازدواجی زندگی جہنم کی طرح اذیت ناک رہی ہے۔ میری شادی غلط ہو گئی تھی۔ گھر کی برکتوں کو کھو کر دولت اور شہرت حاصل کرنے کے باوجود میرے دل کی ہائے ہائے نہیں مٹ سکتی تھی، حالانکہ میں چغم آدمی ہوں۔ ‘‘

’’چغم؟‘‘ میں سوالیہ نظروں سے فراقؔ صاحب کی طرف دیکھنے لگا۔

’’جی ہاں چغم۔ یہ ہمارے علاقے کی بولی ہے۔ غالباً آپ کے پنجاب میں یہ لفظ نہیں بولا جاتا۔ چغم یعنی چہ غم۔ ‘‘ اور پھر اپنی بات کو مکمل کرتے ہوئے فراقؔ صاحب نے کہنا شروع کیا۔ ’’ہاں تومیں یہ کہہ رہا تھا کہ گھریلو زندگی کی تلخی نے مجھے شراب کی تلخی کا عادی بنا دیا۔ ۴۲ سال کی عمر کے بعد سے اسے روزانہ پی رہا ہوں۔ اب تو دوسرے عادی شراب نوشوں کی طرح نیند کے لئے بھی اس کا پینا میرے لئے ضروری ہو گیا ہے۔ لیکن میں یہ مانتا ہوں کہ بحیثیت مجموعی کردار پر شراب کا اثر کچھ اچھا ثابت نہیں ہوتا۔ ‘‘

’’پھر تو اس کا مطلب ہے کہ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ‘‘ میں نے مسکراتے ہوئے کہا۔ ’’آپ حکومت کی امتناع شراب کے بھی حامی ہوں گے ؟‘‘

’’بڑے شریر ہیں آپ۔ ‘‘ فراقؔ صاحب بہت سنجیدگی سے کہنے لگے۔ ’’قانون بنا کر شراب نوشی کی ممانعت نہیں کرنی چاہئے۔ سماج کو ایسی  فضا پیدا کرنی چاہئے کہ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ‘‘

’’سماج کو ایسی فضا کیونکر پیدا کرنی چاہئے۔ ‘‘ میں نے فراقؔ صاحب کی بات کاٹتے ہوئے کہا۔

’’یہ سوال آپ نے بہت اہم کیا ہے۔ ‘‘ فراقؔ صاحب اپنی آنکھیں مٹکاتے ہوئے بولے۔ ’’خاندانی روایتوں کے اثر سے مزاج ہی ایسا بنا دینا چاہئے کہ انسان شراب سے دور رہے۔ جیسے ہندو گائے کا یا مسلمان شور کا گوشت نہیں کھاتے۔ لیکن ایسا کرنے کی راہ میں دقتیں بہت ہیں۔ بہرکیف دنیا بھر کے مفکروں کے لئے یہ مسئلہ خاصا پریشان کن ہے۔ بھئی سچی بات تو یہ ہے کہ شراب نوشی سے اگر ایک فیصدی یا نصف فیصدی لوگ بھی برباد ہو جاتے ہیں تو یہ بہت بڑے سماجی نقصان کا باعث ہے۔ ‘‘

’’فراقؔ صاحب ایک نہایت عام سا سوال پوچھنے کی اجازت چاہتا ہوں۔ ‘‘ میں نے بہت انکسار سے کہا۔ ’’وہ یہ کہ آپ شعر کیونکر کہتے ہیں ؟‘‘

’’شعر کیونکہ کہتا ہوں !‘‘ فراقؔ صاحب نے آہستہ سے کہا۔ جیسے خود اپنے آپ سے یہ پوچھ رہے ہوں اور پھر کہنے لگے۔ ’’ہوتا یہ ہے کہ کوئی ایک مصرعہ اچانک کوندتا ہوا تحت الشعور سے شعور میں آ جاتا ہے اور پھر یہی مصرعہ بعد میں یکسوئی کے ساتھ پوری غزل کہلانے کا محرک بنتا ہے لیکن یہاں اس بات کا خیال رکھئے کہ مختلف شاعروں کے ذہن میں ان کی وجدانی کیفیت کے مطابق مصرعے ذہن میں آتے ہیں۔ مثلاً داغؔ کے ذہن میں چھیڑ چھاڑ کے مصرعے آتے ہوں گے۔ لیکن میرے یہاں مصرعے کیفیت، اثر، نرمی اور گھلاوٹ لے کر آتے ہیں۔ ‘‘

’’گستاخی معاف! آپ اتنی لمبی لمبی غزلیں کیوں کہتے ہیں ؟‘‘

’’اس کی دو وجہیں ہیں۔ ‘‘ فراقؔ صاحب نے بلاتا مل بہت تحمل کے ساتھ جواب دیا۔ ’’میں نے جوانی میں لکھنؤ کے شاعروں کے دیوان پہلے دیکھے اور دہلوی شاعروں کے بعد ہیں۔ امیرؔ اوروزیرؔ وغیرہ اکثر سہ غزلہ اور چہار غزلہ تک کہتے تھے۔ انہی کی تقلید میں لمبی لمبی غزلیں کہنے کا میں بھی عادی ہو گیا۔ اور دوسری وجہ جو اس سے زیادہ اہم ہے وہ یہ ہے کہ میں جب فکرِ سخن کرتا ہوں تو روایتی انداز میں شعر نہیں کہتا ہوں۔ میرے ذہن پر ایک موڈ طاری ہو جاتا ہے۔ کائنات حسن وعشق اور زندگی کی معنویت مجھ پر چھا جاتی ہے۔ میرا ہر شعر حسن، عشق اور زندگی کی کسی خاص کیفیت کا ایک تھرتھراتا ہوا لبریز پیالہ ہوتا ہے۔ میرے دوست مجنوںؔ  گورکھپوری نے میرے متعلق بہت اچھی بات کہی ہے کہ میں مزاجاً نظم کو تھا لیکن طبیعت میں انتشار کی وجہ سے غزل کہنے لگا۔ میں منطقی تسلسل سے شعر نہیں کہتا۔ ایک خاص عالم میں ڈوب کر اس کی مختلف کیفیتوں کو نظم کرنے پر مجبور ہوتا ہوں۔ میں شعر پر مسلط نہیں ہوتا، شعر مجھ پر مسلط ہوتا ہے۔ اس اعتبار سے میں قادر الکلام نہیں بلکہ عاجز الکلام ہوں۔ عام شاعر موزوں کلام میں نثر کہتے ہیں۔ لیکن میں جمالیاتی حقائق پر نظر رکھتا ہوں۔ ‘‘

’’بیشک بیشک۔ ‘‘ بے اختیار میرے زیان سے نکلا۔

’’اور سنئے۔ ‘‘ فراقؔ صاحب نے اپنی بات آگے بڑھاتے ہوئے کہا۔ ’’میں بیدلؔ کی طرز میں بھی شاعری نہیں کرتا جو غریب غالبؔ تک کے لئے مصیبت کا موجب تھی ؎

طرز بیدلؔ میں شاعری کرنا

اسداللہ خاں قیامت ہے

میرے اچھے اشعار اسرار حیات کے مظہر ہیں۔ اس کے باوجود ایک بہت پڑھے لکھے آدمی اور ایک معمولی آدمی کو یکساں طور پر متاثر کرتے ہیں، جیسے میرا یہ شعر سن کر ؎

زندگی کیا ہے آج اسے اے دوست

سوچ لیں اور اداس ہو جائیں

ایک عام آدمی بھی اسی طرح اداس ہو جاتا ہے جس طرح کوئی خاص با ذوق آدمی۔ ’’اور اتنا کہتے کہتے فراقؔ صاحب پھر اپنے ہاتھوں میں تکلیف محسوس کرنے لگے اور اس کے ساتھ ہی سردی بھی۔ اور انھوں نے اپنے آپ کو ایک کمبل میں لپیٹ لیا۔

’’فراقؔ صاحب اب آپ کو آرام کی ضرورت ہے۔

’’ہاں بھئی۔ ‘‘ فراقؔ صاحب نے بہت حسرت ناک لہجے میں میری تائید کرتے ہوئے یہ مصرعہ پڑھ دیا:

اب عناصر میں اعتدال کہاں

’’پوچھنا تو بہت کچھ چاہتا تھا، لیکن اس انٹرویو کے سلسلے کو ختم کرنے سے پہلے اتنا بتانے کی تکلیف ضرور گوارا فرمائیے کہ آپ کے نزدیک ہندوستان میں اردو کا مستقبل کیا ہے؟‘‘

فراقؔ صاحب نے سچ مچ کسی قدر نہیں بلکہ بہت حد تک تکلیف سے کہنا شروع کیا۔ ’’جو ہندی ادب بنایا جا رہا ہے، کروڑوں آدمیوں کی بول چال سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہے اور اس ادب کا جس سے ہماری بولی کا کچھ تعلق ہے وہ بھی ہماری بولی کے نہایت کھردرے، کمزور اور بے جان نمونے پیش کرتا ہے۔ ہماری بولی کبھی موجودہ ہندی ادب کے مطابق نہ ہو گی۔ عام لوگ آج کا ہندی ادب پڑھ کر جھوم نہیں سکتے۔ حسین شکل میں جو بولی آج مستعمل ہے وہ صرف اردو ہے۔ ‘‘

’’لیکن فراقؔ صاحب ہماری نئی نسل تو اردو سے ناواقف ہے۔ اردو کا مستقبل تو آخر اسی سے وابستہ ہے ؟‘‘ میں نے کہا۔

فراقؔ صاحب پر اعتماد لہجے میں بولے۔ ’’ اس کے باوجود میں اردو کے مستقبل سے مایوس نہیں ہوں، یہ درست ہے کہ اردو کے ادبی ارتقاء کی رفتار کم ہو جائے گی۔ لیکن ہماری بولی ہندی کے موجودہ ادب کے مطابق تو کبھی نہ ہو گی۔ اردو کے ساتھ یہ بے انصافی دیر تک نہیں ہو سکتی۔ سات آٹھ برس کے بعد یا زیادہ سے زیادہ دس پندرہ برس کے بعد اردو سے انصاف ضرور ہو گا۔ ‘‘

’’تیری آواز مکے اور مدینے۔ ‘‘ میں نے ہنستے ہوئے یہ مصرعہ پڑھا اور فراقؔ صاحب کو خدا حافظ کہنے کے بعد وہاں سے چلا آیا۔

٭٭٭

 

 

اردو سے ہمارا رشتہ

 

فراقؔ گورکھپوری کی ایک یادگار تقریر

 

                رتن سنگھ

 

’’بات ہے لکھنؤ کی، غیر مسلم اردو ادیبوں کی کانفرنس کے آخری اجلاس کی، فراقؔ صاحب نے ’اردو سے ہمارا رشتہ‘ کے عنوان سے بولنا شروع کیا گفتگو کا آغاز ہی اس طرح کیا کہ میں اپنی نئی نسل کے چہرے پر گنوارپن نہیں دیکھنا چاہتا اس لئے چاہتا ہوں کہ وہ اردو زبان اور ادب کی تہذیب سے فیض پائیں۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ جس طرح ہوائی جہاز یا بجلی کی ایجاد غیر ممالک میں اور ہم سے مختلف عقائد رکھنے والوں کے ہاتھوں ہونے کی وجہ سے ہم ان ایجادات کو برتنے سے پرہیز نہیں کرتے اسی طرح اردو بھی ایک اعلیٰ تہذیبی وراثت ہے جسے ہمیں قومی وراثت کا ترقی یافتہ حصہ سمجھ کر قبول کرنا چاہئے کیونکہ اردو زبان کے مانجھنے اور سنوارنے میں ہندوستانیوں کی صدیوں کی کوششوں کو دخل ہے اور اس کی جڑیں کتابوں اور لغات میں نہیں عام بول چال کی زبان میں پیوست ہیں اس کی مثال انھوں نے ڈپٹی نذیر احمد سے دی‘‘ (محمد حسن)

ڈپٹی نذیر احمد اپنا ناول اپنی بہو بیٹیوں کو سناتے تھے کہ ’بیٹی ٹوک دینا‘‘ انھوں نے کہا ’’آپ شمس العلماء اور ہم جاہل عورتیں ‘‘ کہا ’’بھیا! میں بجنور کا ہوں تم دہلی کی‘‘۔ میر انیس مرثیہ ختم کرتے ہیں، یہ مصرعہ اخیر شعر کا ایک مصرعہ بن گیا۔ ؎

یارب رسول پاک کی کھیتی ہری رہے

اب دوسرا مصرعہ ہی نہیں لگ رہا ہے ان سے۔ اندر گئے، ناشتہ کرنے، عورتوں نے کہا ’’آج فلاں نواب صاحب کی عورتیں آئی تھیں بہت تحفہ تحائف دے گئی ہیں، ہم لوگوں پر بڑی مہربان ہیں۔ خدا ان کی گود بھری رکھے اور ان کی مانگ بھری رکھے۔ ‘‘ بھاگ آئے وہاں سے (مصرعہ لگ گیا)

صندل سے مانگ پھولوں سے گودی بھری رہے

یارب رسول پاک کی کھیتی ہری رہے

تو اس میں ہماری عورتوں کا (بڑا دخل ہے )

اپنی ماں کی بولی مجھے یاد ہے کبھی کبھی چونکہ مسلمان محلے کی تھیں وہ (ایڈیم) (محاورہ) بہت اچھا بول جاتی تھیں لیکن وہ کچھ گورکھپوری پُٹ رہتی تھی ان کی بولی میں۔ مسلمان عورتیں جو تھیں وہ دہقانی بولی نہیں بولتی تھیں اور دیکھئے نا۔ دلی میں مسلمانوں کی زندگی کا ایک پہلو اور سوچ لیجئے۔ ہر بیس گز پر نان بائی کی دکان ہے چنانچہ مسلمان عورتوں کو چولہے میں اپنا وقت زیادہ نہیں لگانا پڑتا تھا نہ برتن مانجھنے میں، کشیدہ کاری، شعر و شاعری، قرآن، نماز، میزس (آداب) ایسی چیزوں میں لگتی رہتی تھیں۔

تو اردو اور ہندی کو جب میں سامنے رکھتا ہوں تو دیکھتا ہوں کہ کم سے کم پچاس ساٹھ صیغے ایسے آ گئے اردو میں جو کسی ہندی رائٹر کے وہاں نہیں ہیں ان میں سے ایک ایک صیغہ ایسا ہے جو کئی صیغوں کو اپ نے اندر داخل ہوئے ہے جیسے DIFFERENTIAL VERB کا جس کے بغیر آج ہندی والا بھی جی نہیں سکتا۔ تلسی داس کو اگر کہنا ہو یا سور داس کو کہنا ہو ’کرتے ہیں ‘ تو کہیں گے ’کرت‘۔

ٹھمک چلت رام چندر باجت تئے جینا

اب ’’چل رہے ہیں ‘‘ ’’چلتے ہیں ‘‘ ’’بج رہی ہے ‘‘ یہ پہلے پہل اردو لائی۔

میرا مصرعہ ہے :

چاند اور سورج کی کرنوں سے چادر بن کر رکھ دیتے ہیں

پانچ VERB فعل لگا دیئے۔ بن، کر، رکھ، دیتے ہیں۔

اسی ہتھوڑے کی چوٹوں سے لوہا دھن کے رکھ دیتے ہیں۔

تو یہ آپ دیکھئے کہ یہ جو صیغے بنے۔ آئیں گے، جائیں گے، آ رہے ہیں، جا رہے ہیں یہ دلی کی بول چال تھی جس کی لیڈر شپ مسلم مڈل کلاس کے ہاتھ میں تھی، ہاں ہندو بھی تھے ان میں انھیں کی طرح بولنے لگتے تھے۔

میں نے بچن جی سے پوچھا ’’صاحب! آپ لوگ رات لکھتے ہیں، راتیں کیوں نہیں لکھتے ؟ باتیں کیوں نہیں لکھتے ؟‘‘ سوچا انھوں نے کہنے لگے ’’فراقؔ صاحب! آپ ٹھیک کہتے ہیں ہم لوگوں کو PLURAL لکھنا نہیں آتا۔ ’’کیوں کہ پلورل جو گاؤں کا تھا وہ تھا لڑکا سے لڑکن، رتبن۔

اچھا، جب پہنچتی ہے چیز خسرو کے وہاں تو ملا کے انکھیاں، بنا کے بتیاں، اب آنکھیں اور باتیں۔

اچھا، اب آپ لیجئے کاماینی، سمترانندن پنت جی کی کویتائیں، مہا دیوی ورما کی کویتائیں، آنکھیں کا لفظ نہیں ملے گا آپ کو، اتنا عجز بیان ہے، کہیں نہیں ملے گا، محاورے، نور اللغات میرے پاس ہے اس میں عربی اور فارسی الفاظ کو چھوڑ کر ٹھیٹھ ہندی الفاظ جو ہیں وہ شبدساگر سے بیس گنا زیادہ ہیں۔ پانی، ہاتھ ہاں آپ ایک لفظ لے لیجئے۔

یہ نہ تھی ہماری قسمت کہ وصال یار ہوتا

اور

بس نہیں چلتا کہ پھر خنجر کف قاتل میں ہے

دو طرح کے ’کہ‘ ہوئے۔ اچھا تو یہ چیزیں یہ پَر پُرزے جو کھڑی بولی میں جڑے ہوئے ہیں ان سے اس بات کے ماننے میں کوئی رکاوٹ نہیں ہونی چاہئے کہ کھڑی بولی کو مانجھنے اور سنوارنے میں مسلم مڈل کلاس کا بہت بڑا حصہ ہے۔ اب ہمارا کام یہ ہے کہ ہم مسلمان سے اچھا لکھ کے دکھاویں جو پریم چند نے کیا۔ پریم چند کی اردو پڑھ کے مولانا شبلی کہتے تھے کہ ساٹھ کروڑ مسلمانوں میں ایسی اردو کوئی لکھتا ہی نہیں۔ چکبست کی زبان، درگا سہائے سرورؔ کی زبان، سرشارؔ کی زبان۔ (مجمع سے ایک آواز! اور فراقؔ صاحب کی زبان؟)

ہماری زبان ذرا گڑبڑ ہے اس لئے کہ انگریزی کا بھی اس پر اثر پڑ گیا ہے خیر اب آپ یہ دیکھئے کہ دو ایک واقعے سنا دوں۔ کہ اب اردو سے کیا، یہ ہندوستان میں جتنے اور شعبے ترقی کرتے رہے ہیں تو محض ایک مختلف شعبہ نہیں بن گیا بلکہ ایک DYNAMIC, MORE GROWING شعبہ بنا یہ ایک چیز یاد رکھئے گا۔

میں نے ابھی ابھی بی۔ اے کا زبانی امتحان لیا لڑکوں کا، تو سب لڑکے ہندی کے تھے۔ ہم نے کہا ’’اردو ہندی کا فرق سمجھتے ہو؟‘‘

صاحب، ایک ایک نے کہا ’’ SWEETER ہے زیادہ REFINED ہے۔ بہت جلدی یاد ہو جاتی ہے زبان پر چڑھ جاتی ہے۔ ‘‘ یہ ہندی کا لڑکا کہہ رہا ہے۔

اچھا، اب رہا یہ سوال کہ اس میں عربی، فارسی، ترکی کے لفظ کیوں ہیں پہلی بات تو یہ ہے کہ وہ آٹھ چھ فیصدی ہیں کل لغت میں۔ اس سے زیادہ تو گجراتی میں ہیں، مراٹھی میں ہیں، دس دس ہزار ہیں، بنگلہ میں ہیں اور بے تعصب لکھی ہوئی ہندی میں ہیں۔

اچھا دیکھئے ٹیگور ایک کہانی لکھتے ہیں جس کا نام ہے The Great News بوڑوکھو بور، بوڑو سما چار، کیونکہ خبر اور سماچار میں فرق ہے۔ کہنے کو تو کہہ لو اخبار اور سماچار پتر، خبر میں جہاں چونکا دینے والی بات ہے سماچار میں نہیں ہے۔ اچھا اگر ہم مان بھی لیں۔ اچھا اب کہنا ہے ’’وہ بے خبر سو رہا ہے ‘‘ تو کیا یہ کہیں کہ وہ ’’بے سماچار سو رہا ہے ‘‘۔

’’تمہیں کچھ خبر بھی ہے ‘‘ کی جگہ کہیں ’’تمہیں کچھ سماچار بھی ہے۔ ‘‘

تو آپ یہ پائیے گا کہ یہ سب چیزیں جنھیں پنڈت جواہر لعل نہرو NUANCES کہتے تھے SHADES میں آ گئی ہیں۔

چونکہ انگریزی نے بجلی کا پنکھا نکالا تو کیا ہم اس لئے ہم کہیں کہ ہم اسے نہیں چلائیں گے۔ ریل بیل گاڑی سے مختلف ہے ہم کہیں کہ ہم ریل پر نہیں چڑھیں گے و یہ چیز غلط ہے۔ یہ انگریزوں نے ہم کو لڑانے کے گل کرسٹ نے اور دوسروں نے کیا تھا اور ہم ان کے چکمے میں آ گئے۔

اب رہی ہندی بہرکیف، آپ لکھنؤ کیا بنارس جائیے جو ہندو دھرم کا گڑھ ہے اور متھرا کے بازار میں جائیے اور ٹیپ ریکارڈ لے جائیے تو ہندی لفظوں کے ساتھ سنسکرت کا آدھا لفظ نہیں بولے گا کوئی۔ پندرہ فیصدی دس فیصدی ہندی پلس پرشین (+ فارسی)

میں نے ایک مضمون لکھا تھا اس موضوع پر، تو تین ہزار عربی فارسی لفظ میں یکجا کئے تھے جو ان پڑھ جانتا بولتا اور سمجھتا ہے اور ایم۔ اے سنسکرت کے لڑکے سے پوچھا کہ آپ کتنے لفظ سنسکرت کے جانتے ہیں ؟ تو اس نے کہا کہ ’’صاحب چودہ پندرہ سو۔ ‘‘ تو سرایت کر چکی ہے کہاں تک اس کو توڑا جائے گا ہوا، بستر، تکیہ، بینک، کمرہ، دوست، دشمن، مدعی، بخار، بیمار، لفظوں کو کوئی حد نہیں ہے کہ جس کو آٹھ برس کا بچہ نہ جانتا ہو۔

تو ہم اس لئے اردو کے طرفدار ہیں کہ ہم اپنی تاریخ سے نہیں لڑنا چاہتے، تاریخ سے لڑنا اپنے آپ کو مٹانا ہے اور ہماری یہ تاریخ جو ہے نہ تو ہمارے ہندو دھرم کو کمزور بناتی ہے نہ ہندو فیلنگ (جذبے ) کو کمزور کرتی ہے نہ شرافت کو مٹاتی ہے نہ سنسکرتی کے کسی حصے کو نقصان پہنچاتی ہے۔ مجھ سے بڑے بڑے پنڈت ملے، مہاتما ملے، آج ایک یورپین مہاتما ملے جہاں ہم ٹھہرے ہوئے ہیں (وہیں ملے ) تو وہ کہتے تھے کہ ہندو ازم کو کوئی ہندو پنڈت اتنی اچھی طرح پیش نہیں کر سکتا جیسا فراقؔ پیش کرتا ہے اور غالب پڑھ کر میرؔ پڑھ کر وغیرہ وغیرہ۔

تو جب مراٹھی مہاراشٹر میں فارسی لفظ نہیں نکال رہی ہے تو ہندی میں ہم ایسا کیوں کریں۔ مہاتما گاندھی مولانا محمد علی کو بہت CONFIDENCE میں لے کے کہتے تھے ’’دیکھو ہمارا گجراتی کا کیا اچھا لفظ ہے ‘‘ تو مولانا مسکراتے تھے وہ فارسی کا لفظ ہوتا تھا گاندھی جی کو پتہ ہی نہیں۔ اب بتائیے صاحب، بازار کی ہندی کیا ہے، دوکان کی ہندی کیا ہے، مال کی ہندی کیا ہے، ہزاروں ایسے لفظ ہیں۔ تو ایک شرارت شروع ہو گئی۔ اپنی کتاب ان لفظوں کو کام میں لائے بغیر لکھ ڈالئے۔ یہ تو بڑی مصیبت ہے۔

خیر، میں گورکھپور کی بولی بولتے بولتے میرے منھ سے نکل گیا گورکھپور کی ٹھیٹھ زبان میں اچھی مگر فصیح نہیں کہ ’’بیٹی! اس کو کھوج رہے ہیں ‘‘ تو یہ رمیش جو بیٹھے ہیں ان کی اتی بڑی لڑکی تھی۔ ہم سے کہتی ہے ’’بابا، ڈھونڈ رہے ہیں کہئے ‘‘ اچھا اب جناب یہ دیکھئے ہندی کی MOVEMENT سے اور اردو سے نفرت کرنے کا نتیجہ کیا ہوا۔ ہندی بگڑ گئی، ہندی بگڑ گئی۔

اب یہ دیکھئے کہ یہ ماسٹر پوئٹ (شاعر اعظم) مانے جاتے ہیں، کیا نام ہے پرساد جی، بنارس کے۔ ایک ٹکڑا ہے ان کی نظم کا مہا کاویہ کا۔

کچھ دھندلا کچھ اندھکار سا

ایک تو ADJECTIVE اور ایک NOUN اور دھندلا اور اندھکار کا فرق آپ کیا مانتے ہیں بھی۔ یہاں کچھ دھندلا ہے وہاں کچھ اندھکار سا ہے۔ یہ کون زبان ہے۔

اچھا پنت جی ماسٹر پوئٹ (شاعر اعظم) WITHIN INVERTED COMMAS اب ان کا کیا حال ہے کہتے ہیں :

بسنت کی دیوی چڑھ رہی ہے تو چنچل پگ۔ دیپ شکھا کے دھر۔ چچا سے پوچھئے کہ مطلب کیا ہے ؟ اور اس کو خوب پڑھاتے ہیں لوگ مست ہو ہو کے۔ میں نے کہا ’’حضور، دیپ شکھا کے سے پگ ہوتے ہیں کہ نہیں اور یہ عیب بنگلہ سے آیا ہے ان کے وہاں دیکھئے تیرے گالوں کے گلاب صحیح زبان ہے۔ مگر گلاب کے گال، یہ کیا ہوا؟ دیپ شکھا کے سے پگ۔

اچھا اسی طرح سے جو میں نے DIFFERENTIAL VERB یا COMPOUND VERB کا ذکر کیا اس کے نہ آنے سے یہ کہتے ہیں :

ٹھمک ٹھمک چلت رام چندر باجت پے جنیا

چل رہے ہیں، بج رہی ہے نہیں کہیں گے۔

اسی طرح پنت جی کہتے ہیں :

مجھے بلاتا کون

(کہنا چاہتے ہیں کہ مجھے کون بلا رہا ہے ) مگر اس میں تین VERB آئے تو پنت جی لکھتے ہیں :

مجھ کو نمن تِرِت کرتا کون

تو میں نے کہا پنت جی اس کا مطلب یہ نکلتا ہے کہ آپ اس قابل نہیں تھے کہ بلائے جائیں۔

(اس تقریر کا متن رتن سنگھ صاحب (آل انڈیا ریڈیو، لکھنو کے لئے )کے ٹیپ ریکارڈ سے حاصل کیا گیا۔ ابتدائی اور آخری حصے ٹیپ سے نقل نہیں ہو سکے )

٭٭٭

 

فراقؔ کے کچھ اہم اور تاریخی خطوط

 

 

 

 

شام ہی سے گوش بر آواز ہے بزمِ سخن

کچھ فراق اپنی سناؤ کچھ زمانے کی کہو

فراقؔ گورکھپوری

 

 

 

 

(۱)

حسرتؔ موہانی بنام فراقؔ گورکھپوری

(۲)

جگرؔ مراد آبادی بنام جوشؔ ملیح آبادی

(خط کا عکس)

(۳)

رشید احمد صدّیقی بنام فراقؔ گورکھپوری

(خط کا عکس)

(۴)

احسان دانش بنام فراقؔ گورکھپوری

(خط کا عکس)

(۵)

جوشؔ ملیح آبادی بنام فراقؔ گورکھپوری

(خط کا عکس)

 

                (۶)

فراقؔ بنام جوشؔ ملیح آبادی

 

پیارے جوش(ملیح آبادی) ! سلامِ شوق

تمہارا جو ایک خفیہ انٹرویو تھا یعنی اس کو تمہارے مرنے کے بعد شائع ہونا چاہئے تھا مگر تمہارے حاشیہ برداروں نے اس کو قبل از وقت شائع کر کے راز فاش کر دِیا  اور تمہارے اوپر عتاب نازل ہونے لگے۔ میرے نزدیک یہ تمہاری غلطی تھی۔ پاکستان میں رہ کر اقبال کی مخالفت دانشمندی نہیں اور صحیح بات تو یہ ہے کہ تم اقبال کو سمجھ بھی نہیں سکتے۔ کیونکہ اقبال نے دین اسلام کا گہرا مطالعہ کیا ہے اور اس کی افادیت میں اعلیٰ پیمانے کی گہر افشانی کی ہے۔ ان کا علم اس معاملے میں مکمل ہے۔ تمہارا علم اس کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں۔ تم دین سے واقف ہی نہیں اور دین کی گہرائیوں کا مطالعہ کرنے کے لیے علم کم ہے اور اس پر طرہ یہ کہ تم دہریئے بھی ہو۔

’’ تم آفاق کے کفر میں گم

اقبال دین کی ہمیشگی سے لبریز‘‘

تمہاری شاعری اس لئے نہیں مانی جا سکتی کہ دونوں میں تضاد ہے۔ میں نے جو اقبال پر اعتراض کئے ہیں اس کی نوعیت الگ ہے۔ یعنی وہ ملت کی شاعری اگر نہ کرتے تو عظیم شاعر ہوتے لیکن ملت کی شاعری پر میں نے تنقید نہیں کی۔ کیونکہ میں اسلامی مسائل سے نابلد ہوں۔ اور اگر واقف بھی ہوتا تو مجھے اس کا حق نہیں کہ کسی کے دِینی معاملات میں دخل دوں۔ ملت کی شاعری کے علاوہ جو کچھ اقبال نے کہا ہے کہ وہ بھی بہت کچھ ہے۔ تمہاری تنقید اقبال پر ہر اعتبار سے غیر معتبر ہے۔ کیونکہ کہیں پر تم دہریئے بن جاتے ہو اور کہیں پر مرثیے میں  اپنے جوہر دینی طور پر دِکھانے لگتے ہو۔ اورحسین کی مدح میں یہاں تک کہہ گئے۔

انسان کو بیدار تو ہو لینے دو

ہر قوم پکارے گی ہمارے ہیں حسین

تم نے مذہب کی تبدیلی بھی ادبی فائدے کے لیے کی تھی جب اس سے کچھ حاصل نہ ہوا تو علما کے خلاف لکھنا شروع کر دیا۔

عمامہ بروسر مسواک در جیب

اُٹنگا پائجامہ دلق و دبر

وہی ہوں گے جو فردوسِ بریں میں

خدا کے فضل سے حوروں کے شوہر

جبیں کا داغ اک دہکی ہوئی آگ

کمر کا گھیر، اک سمٹا سمندر

اور یہاں تک کہہ دیا ’’خونِ اہل بیت سے لقمے کو تر کرتا ہے تو ‘‘ سمجھ میں بات یہ نہیں آتی کہ اگر عالِم تعریفِ حسین کرے تو اس پر اعتراض اور تم حسین کی مدح سرائی کرو تو سب سردُھنیں۔ تم نے حسین کی تعریف یہ کہہ کر کی کہ میں حسین کو الگ سے ایک عظیم انسان مانتا ہوں۔ میرے پیارے !تم تک حسین کی عظمت اور کردار کیسے پہنچا، تم تو کربلا میں موجود نہ تھے، ہاں تاریخ کے صفحات ہی اس حقیقت پر روشنی ڈالتے ہیں۔ لیکن جن صفحات میں حسین کی تعریف ہے اس میں یہ بھی موجود ہے کہ حسین رسول کے نواسے تھے اور اپنے نانا کی پیروی سے آخر دَم تک غافل نہیں ہوئے۔ یعنی کربلا میں بیعت کے سوال کو ٹھکرا دیا۔ اور عالمِ سجدہ میں شہید ہو گئے۔ تم نے ان سب با توں کو نظر انداز کر کے حسین کو عظیم مان لیا۔ یہ تمہاری فرضی اُپج کے سوا کچھ بھی نہیں، جس کو کوئی بھی ذِی فہم تسلیم نہیں کرے گا۔ ایک طرف تو خدا سے انکار اور بے یقینی اور مزید یہ کہ علما سے خطاب :

’’خدا کو اور نہ پہچانیں یہ حضرت

خدا کے ساتھ کے کھیلے ہوئے ہیں ‘‘

تمہارے عقیدے کے لحاظ سے بھی تمہارا مرثیہ بارگاہ حسین میں اسلئے پیش نہیں ہو سکتا کہ تم نے خدا اور علماء کی بھی توہین کی ہے۔ حسین خدا کے ماننے والے اور نبی کے نواسے تھے اور خدا ہی کی راہ میں شہید ہوئے۔ اسلئے شاعر نے ان کو یہاں تک مان لیا :

’’ دیں ہست حسین دیں پناہ ہست حسین ‘‘

اس لحاظ سے تم نہ پکے دہریئے ہوئے اور نہ حسین کے شیدا، اس کی سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ تمہارے والد کو جب تمہاری مذہبی تبدیلی کا یقین ہو گیا تو اُنہوں نے اپنی تمام جائیداد سے محروم کر دیا اور صرف سو روپئے ماہانہ گزارنے کے لیے لکھ دِیئے۔ یہ تمہارا ذاتی بیان ’’یادوں کی برات ‘‘ میں ہے لیکن اس پر تم اپنی ضد پر اڑے رہے اوراسی دوران بقول تمہارے تم نے ایک خواب دیکھا کہ ایک جلوس جا رہا ہے جو اتنا پاکیزہ اور با رونق تھا کہ تمہارے ہوش اُڑ گئے اور اسی عالم حیرانی میں کسی نے تمہاری پیٹھ پر ہاتھ رکھا اور وہ تھے جناب ابوذر غفاری۔ انہوں نے بتایا کہ اس جلوس میں پیغمبر اسلام اور مشکل کشا حضرت علی تھے جو آگے جا کر تمہیں ملیں گے۔ یہ سن کر تم پیچھے پیچھے وہیں پہنچ گئے اور تمہیں دیکھ کر پیغمبر اسلام نے علی مرتضی ٰسے کچھ فرمایا، جسے تم سن نہ سکے لیکن علی مرتضی بنفس نفیس تمہارے پاس آئے اور ارشاد فرمایا: ’’جو ہم سے محبت کرتا ہے نہ تو اس کی دنیا خراب ہوتی ہے اور نہ عقبیٰ۔ جاؤ جوش بلندیاں تمہارا اِنتظار کر رہی ہیں ‘‘۔

پیارے جوش! حضرت علی نے صرف تمہاری بلندیوں کے بارے میں فرمایا لیکن دین کی راہ پر چلنے کی کوئی تلقین نہیں فرمائی، نہ شراب نوشی سے منع کیا، نہ نماز پڑھنے کی ہدایت فرمائی۔ طاعت و زہد کی طرف بھی کوئی اشارہ نہیں کیا۔ گویا ان تمام دینی لوازمات سے تمہیں بری کر دِیا اور حیرت ہے کہ یہ بھی نہیں فرمایا کہ اے جوش! تم نے یہ جو بکا ہے کہ( شبیرحسن خاں، سے بھی چھوٹا ہے خدا) جبکہ خدا کو پہچنوانے کے لیے پیغمبراسلام تشریف لائے تھے اور کافروں سے یہاں تک کہہ دیا کہ اگر تم میرے ایک ہاتھ پر سورج اور دوسرے ہاتھ پر چاند بھی رکھ دو تب بھی میں وحدانیت کا پرچار کرنے سے گریز نہ کروں گا اور حضرت علی بھی اسی راہ پر گامزن تھے۔ ایک قوم نصیری تھی جو حضرت علی کو خدا مانتی تھی لیکن حضرت علی نے وحدانیت میں فرق ڈالنے والے کو منکر خدا ہی کہا ہے کہ اس لئے حضرت علی سے یہ کہاں امید کی جا سکتی ہے کہ تم جو منکرِ خدا بھی ہو حضرت علی تمہیں بلندیوں پر سر فراز ہونے کی خوشخبری دیں۔ خلافِ عقل اور مذہب اسلام کے منافی ہے۔ اگر حضرت علی ایسے سنگین گنہ گار اور منکر خدا کو اپنی محبت اور عنایات فراواں سے نواز سکتے ہیں تو میں بھی دنیا و آخرت میں ان کی کرم نوائیوں کا اُمید وار ہو سکتا ہوں۔ اب تم یہ کہو گے کہ میں ہند و ہوں اور ہندو ایسے خواب سے سرفراز نہیں ہو سکتے، تو میں یہ کہوں گا کہ منکروں کے لئے یہ سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ ایسے خوابوں کو خواب پریشان ہی کیا جا سکتا ہے۔ اس کے سوا اور کوئی دلیل بھی نہیں دِی جا سکتی۔

مجھے اس سلسلے میں ایک کہانی یاد آ گئی۔ ایک بادشاہ نے اپنے درباری علما سے کہا کہ نماز کے سلسلے میں بادشاہوں کے لیے نماز نہ پڑھنے میں کوئی رعایت ہے کہ نہیں ؟ ایک موقع پرست عالم نے مختلف دلائل سے دو وقت کی نماز نہ پڑھنے کا جواز پیش کر دیا۔ بادشاہ نے اسے انعام سے نوازا۔ کچھ ہی دنوں بعد بادشاہ نے اور نمازوں کے بارے میں وہی سوال کیا۔ اس مرتبہ دوسرے عالم نے یہ موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیا اور مختلف دلائل سے دو وقت کی نماز کی بھی مثالیں پیش کر دیں۔ بادشاہ بہت خوش ہوا کہ چار وقت کی نماز سے تو نجات ملی۔ لیکن تھوڑے ہی عرصے بعد بادشاہ نے پھراسی سوال کو دُہرایا تاکہ آخری نماز کا بھی کوئی جواز نکل آئے لیکن اس مرتبہ سب عالم خاموش بیٹھے رہے اور کسی کو بھی ہمت نہ ہوئی کہ کوئی جواز پیش کرے۔ بادشاہ کو تردد میں دیکھ کر ایک عالم کھڑے ہوئے۔ بادشاہ نے ان کی طرف بڑے اشتیاق اوراعتماد سے دیکھا۔ دیگر علما یہ سوچنے لگے کہ آخری بازی یہ لے گئے لیکن کوئی یہ نہ سمجھا کہ جھوٹوں اور مصلحت پسندوں کے درمیان سچے بھی ہوتے ہیں جن کو اپنی سچائی پر یقین کامل ہوتا ہے۔ ان کے سرکسی کے سامنے خم نہیں ہوتے۔ بادشاہ یہ سکوت کا عالم دیکھ کر ان عالم سے خود ہی مخاطب ہوا کہ مجھے یقین تھا کہ آپ کی نگاہ بلند اور آپ کا علم عمیق ہے۔ آپ کے مقابل میرے دربار میں کوئی عالم نہیں ہے۔ عالم نے بادشاہ کے حضور میں دست بستہ عرض کیا کہ عالی جاہ !میں نے آپ کے لیے وہ راستہ نکالا ہے کہ اس پر کسی کی نگاہ جاہی نہیں سکتی۔

کیونکہ سب کی آنکھوں پر مصلحت پسندی اور خود غرضی کے حسین پردے پڑے ہوئے ہیں۔ اگر عالی جاہ کسی وقت کی بھی نماز نہ پڑھیں تو اس کے لیے کسی دلیل کی ضرورت نہیں۔ میری ناچیز رائے تو یہ ہے کہ حضور! آپ مذہب اسلام سے انکار فرما دیں۔ ان جملوں کو سنتے ہی دربار میں سناٹا چھا گیا۔ پیارے جوش !تمہاری حالت بھی کچھ ایسی ہے۔ تم نے جو خواب دیکھا تھا اس کا قدرتی اثر بقول تمہارے یہ ہوا یعنی اس خواب کی تعبیر یہ ہوئی کہ جس جائیداد سے تمہارے والد نے تمہیں محروم کر دِیا تھا دوبارہ تمہارے والد نے تمہارے حق میں بحال کر دیا۔

اب تمہیں بتاؤ کہ یہ خواب تم نے گھڑا ہے یا سچا ہے۔ تم نے یہ خواب شیعہ قوم کو بے وقوف بنانے کے لیے تراشا ہے۔ اگر اس خواب کو تم سچا سمجھتے تو یقیناً دہریت سے توبہ کر لیتے۔ بھئی ایسا خواب میں نے اگر دیکھا ہوتا تو میں نے اپنی دُنیا ہی بدل دی ہوتی۔ اب تم یہ کہو گے کہ میں ہندو ہوں۔ مجھے یہ پاک ہستیاں خواب میں نظر آ ہی نہیں سکتیں۔ بھئی اس موقع پر میرے خیال میں ہندو مسلمان کا سوال ہی نہیں ہوتا کیونکہ جو منکر خدا ہے وہ مسلمان ہو ہی نہیں سکتا اور جب مسلمان ہونا تسلیم نہیں ہوا تو یہ خواب بھی خواب پریشان کے سوا کچھ بھی نہیں۔ اوّل تو تم نے اس خواب میں حضرت علی کے لیے جو الفاظ اور جس بد تہذیبی کا مظاہرہ کیا ہے وہ سراسر غلط ہے۔ یعنی حضرت علی بہ نفسِ نفیس تمہارے پاس آئے۔ خادم مخدوم کے پاس جاتا ہے، مخدوم کے آنے سے توہین کا پہلو نمایاں ہوتا ہے۔ چونکہ یہ خواب جھوٹا ہے اسلئے تم نے تحریر پر غور نہیں کیا۔ جھوٹ میں یہ غلطیاں عام طور پر ہو جاتی ہیں۔ بہرحال تم اس خواب کے بعد کم سے کم پیغمبر اسلام اور حضرت علی کے تو صحیح پر ستار ہو جاتے، نعت یا منقبت سے کچھ نہیں ہوتا۔

’’ دِل سے جو بات نکلتی ہے اثر رکھتی ہے ‘‘

مگر تم نے ایسا نہیں کیا، کیونکہ ان کی پیروی میں خدا کو بھی ماننا پڑتا۔ اسی لئے میں نے ’’ یادوں کی برات ‘‘ کو جھوٹ کا پلندا کہا ہے۔ میں میر انیس، محسن کاکوروی، تلسی داس وغیرہ کو اس لئے نہیں مانتا ہوں کہ وہ مذہبی شاعر تھے بلکہ اُن کی فنکارانہ صلاحیتیں ادبی دُنیا کا عظیم ذخیرہ ہیں۔ اقبال کی شاعری میں جو تضاد ہے وہ بھی عقل و دانش کا پہلو لئے ہے۔ تمہاری شاعری کا بنیادی تضاد مشق سخن پر دلالت کرتا ہے۔ مذہبی داو پیچ، سیاسی جوڑ توڑ یہ سب شاعری مینا بھرنے کے لیے ہیں۔ یہ بات ضرور ہے کہ تم نے بندشِ الفاظ کی نئی راہیں نکالیں، تراکیب کا بہترین سرمایہ گھن گرج کے ساتھ ادب کو دِیا ہے، شاعری میں جو مقام تم نے حاصل کر لیا ہے اس کو کم نہ سمجھو۔ میری ذاتی رائے ہے کہ آنے والا زمانہ اور تاریخ ادب تمہیں فراموش نہیں کر سکتی۔ تم زندہ ہو اور زندہ رہو گے، کیونکہ ادب میں نئی اورحسین تراکیب کے تم شہنشاہ ہو۔

تم اقبال کو برا کہہ کر اقبال سے بلند ہونے کی کوشش نہ کرو۔ کیونکہ یہ گناہ، گنا ہِ عظیم ہے۔ وقت کی کسوٹی نے جتنا کھرا تم کو مان لیا ہے اس کو کھوٹا نہ کرو۔ پچھلے حالات و خیالات کی تلافی اس صورت سے ہو سکتی ہے کہ یا تو تم توبہ کر لو یا پھر خدائی کا دعویٰ کر دو۔

تمہارا فراق

۲۰ جنوری ۱۹۷۵ء، الہ آباد

 

 

                (۷)

مولانا ماہرؔ القادری بنام فراقؔ

 

جناب فراق صاحب

آداب، مزاج گرامی

آپ کی رباعیات پڑھیں اور اس کا انتساب بھی پڑھا جوشؔ کے نام ہے۔ جوشؔ سے آپ کی رسم و راہ اپنی جگہ مسلّم لیکن ادبی تقاضوں کے تحت آپ نے جو تنقیدی خط جوشؔ صاحب کو لکھا تھا وہ کسی صورت سے اخبار میں شائع ہو گیا، تعجب اس بات پر ہے کہ نجی خط اخبار تک کیسے پہنچا۔ لیکن یہ بھی اچّھا ہی ہوا کہ وہ خط منظرِ عام پر آ گیا جس سے یہ بات واضح ہو گئی کہ آپ کے مزاج میں دیانت داری ہے۔ جوش کی محبت کے باوجود آپ نے جوش کے خواب پر جو تبصرہ فرمایا ہے۔ اس کا عنوان بھی مجھے پسند آیا۔ ’ جھوٹ کا پلندہ‘، میں نے یادوں کی برات پر بہت سے اعتراضات کئے۔ لیکن میری نگاہ اس جھوٹ تک نہیں گئی جیسا آپ کی دیانت نے جادو گری کے ساتھ حصار بندی کی ہے۔ یعنی خواب میں حضرت علی کو دیکھنا اور پھر خود حضرت علی کا بہ نفس نفیس جوش کے پاس تشریف لا کر یہ فرمانا۔ کہ جاؤ ترقیاں تمہارے قدم چوم رہی ہیں۔ جو ہم سے محبت کرتا ہے۔ اس کی دنیا و عقبہ دونوں سنور جاتی ہیں۔ اول تو آپ نے توہین حضرت علی میں اس جملہ کی گرفت کی۔ کہ حضرت علی جوش کے پاس خود آئے۔ یعنی مخدوم کا خادم کے پاس آنا۔ مخدوم کی توہین ہے اور پھر حضرت علی نے یہ بھی نہیں کہا۔ کہ جوش شراب نہ پیو۔ جوش خدا کا مذاق نہ اڑاؤ (اور یہ مصرعہ کہ شبیر حسن خاں سے بھی چھوٹا ہے خدا ) اس ضمن میں کوئی بھی تلقین نہیں فرمائی اور حضرت علی نے ترقی کی دعاؤں سے سرفراز فرمایا۔ قابل تعریف ہے جو آپ نے جھوٹ کی گرفت کی ہے بس یہیں انسانی ذہانت کی جداگانہ نوعیت کا پتہ چلتا ہے۔

ماہر القادری

 

                (۸)

یگانہؔ چنگیزی بنام فراقؔ

 

پیارے فراق، جیو

تم نے مجھے لکھا ہے کہ میں اپنی شاعری پر خود تبصرہ کروں۔ ہر چند خودستائی کا قائل نہیں ہوں۔ میری فکر کی بنیاد رمزیت اور ایمائیت پر زیادہ منحصر ہے۔ میں وہم و خیال کے پردے میں زندگی اور اس کے منشا کا ترجمان ہوں۔ ہر چند میرے الفاظ تو سادہ ہوتے ہیں لیکن مفاہیم عمیق اور پھیلاؤ کے ساتھ ہوتے ہیں۔ میں کوشش کرتا ہوں کہ ہر فکر نو میں روحِ دوراں کروٹیں لیتی نظر آئے۔ فن شعر گوئی جب تک کسی نئی سمت کا تعین نہیں کرتا اس کی راہیں کسی منزل سے وابستہ نہیں ہوتیں۔ میری اس جد و جہد کا اعتراف دوست و دشمن سب ہی نے کیا ہے۔ میں نے شراب کہنے کے لئے نئے ساغر کا اہتمام کیا ہے اس لئے میخانۂ فکر جھوم رہا ہے۔ متوازن انداز اور اسلوب کو زیادہ اہمیت دیتا ہوں۔ شعر زیادہ کہنا کوئی تعریف نہیں ہے۔ اور شعر کم کہنا کوئی برائی نہیں بلکہ زندگی اور اس کے اہم تقاضوں کو پورا کرنا شاعر کا فرض اولین ہے۔ اگر اچھا شاعر مذہبی ر نگ میں الجھ گیا تو شاعری فروعی ہو کر رہ جائے گی۔ کیونکہ مذہبی شاعری صرف اہل مذہب کے لئے ضروری ہے۔ میں اسی لئے اقبال کی شاعری کو ناپسند کرتا ہوں مذہب سے ہٹ کر جو بھی انھوں نے کہا ہے وہی کلام زندہ رہے گا۔ میں الجھے ہوئے اشعار کو بھی غلط گوئی سے تعبیر کرتا ہوں۔ جیسا کہ غالبؔ نے چیستاں پیش کیا ہے۔ اور لوگوں نے اپنے نام و نمود کی خاطرفلسفہ گڑھ دیا۔ یعنی اچھے اشعار کی بھی مٹی پلید کر دی علامت اور اشاروں کی شاعری بھی زیادہ دن تک زندہ نہیں رہتی اس لئے شعر صاف اور انداز بیان لطیف ہونا چاہئے۔

یگانہ

نومبر ۱۹۵۰ ء

 

                (۹)

 

فراقؔ بنام مولانا مومنؔ (مدیر حرم، لکھنو)

 

۴/۸ بینک روڈ، الہ آباد

آپ کا گرامی نامہ ملا۔ جواب ذرا دیر سے دے رہا ہوں۔ آپ نے حرم کے لئے مجھ سے کچھ لکھنے کے لئے فرمایا ہے۔ لیکن اس کو میں اپنی بدقسمتی کہوں یا خوش قسمتی کہ ابھی تک حرم و دیر سے واقف ہی نہیں ہوا۔ بقول، غالبؔ

جانتا ہوں ثوابِ طاعت و زہد

پر طبیعت ادھر نہیں آتی

میں عام طور پر مذہبی شاعری کو پسند نہیں کرتا لیکن اس سے یہ مطلب بھی نہیں کہ دنیا کی عظیم انسانوں کی قدر سے گریز کروں میں پیغمبر اسلام کو دنیا کا سب سے بڑا جینیس مانتا ہوں ان کے اخلاقِ حمیدہ، اوصاف باطنی اور اوصاف ظاہری روح انسانی میں سرائت کئے ہوئے ہیں، ان کی تعریف کرنا صرف مسلمانوں ہی پر فرض نہیں بلکہ دنیا کے ہر انسان پر فرض ہے۔ جہاں تک میں نے تاریخ عالم کا مطالعہ کیا ہے، اس میں دیگر اقوام کے مفکرین بھی آپ کے مداح ہیں۔ سرولیم سور جس نے پیغمبر اسلام کی سوانح عمری مخالفانہ نقطۂ نگاہ سے لکھی ہے مگر وہ بھی یہ تسلیم کرتا ہے کہ جوانی میں بھی آپ کا چال چلن پاک اور بے عیب تھا ’’مسٹر ہربرٹ وائل، یورپ کے منصف مزاج محقق ہیں اپنی کتاب ’’گریٹ ٹیچر‘‘ میں تحریر کرتے ہیں کہ حضرت مسیح علیہ السلام سے چھ سو برس بعد جب عرب کی حالت نہایت ابتر تھی۔ ۲؍اپریل ۵۷۰ ء کو محمدﷺ پیدا ہوئے جنھوں نے عرب کے وحشیوں کو نہایت متمدن اور تہذیب یافتہ بنایا تمام لوگ ان کی دیانتداری اور سچائی کے سبب ان کو الامیں کے لقب سے پکارتے تھے۔ ’’ماسٹر بارکس ڈاڈ‘‘ اپنی تحقیقی کتاب، بعد بدھ مسیح میں لکھتے ہیں حضرت محمدﷺ کا اخلاق نہایت اعلیٰ تھا آپ امیر و غریب کے ساتھ یکساں سلوک کرتے تھے آپ کی ذات سر چشمۂ خیر و برکت تھی آپ نہایت صابر و شاکر اور انکسار پسند تھے ’’مسٹرڈ بلیو اٹرونگ‘‘ جو یورپ کے مشہور محقق و مورخ ہیں لکھتے ہیں آخری پیغمبر نہایت سادہ مزاج اور بے مثل تھے آپ کے دماغی اوصاف غیر معمولی اور آپ کی قوت اعلیٰ درجہ کی تھی۔ بہت تیز فہم، طبیعت انکسا رپسند، گفتگو نہایت سنجیدہ اور مختصر الفاظ کے ساتھ کثیر المعانی ہوتی تھی، بڑے پرہیزگار اور نیک انسان تھے۔ آپ اپنی وفات کے وقت تک مذہبی سرگرمی اور گمراہوں کو ہدایت کرتے رہے۔ ڈاکٹر لیبان فرانسیسی محقق لکھتے ہیں حضرت محمدﷺ کو اپنے نفس پر بے انتہا قدرت حاصل تھی آپ کی سادگی اورمنکسر المزاجی قابل تعریف ہے۔ آپ بے انتہا صائب الرائے تھے۔ دور اندیشی آپ میں زیادہ تھی آپ نے وحشی اقوام کی زبردست اصلاح کی۔ بلا طرفداریِ اسلام یہ کہا جا سکتا ہے کہ ان مقولوں سے بہتر کوئی دستور العمل انسان کو بدی سے دور، رکھنے کے لئے نہیں ہو سکتا۔ ’’مسٹر ٹامس کارلائل‘‘ انگلستان کا مشہور اہل قلم ہے وہ لکھتا ہے کہ حضرت محمدﷺ کا قلب نہایت صاف و شفاف اور ان کے خیالات ہواؤ ہوس سے بے لوث تھے۔ وہ نہایت خدا پرست تھے۔ آج بھی محمدﷺ کی صداقت کامیاب ہے۔ مسٹرگن لکھتے ہیں ہر انصاف پسند شخص یقین کرنے پر مجبور ہے کہ محمدﷺ کی تبلیغ و ہدایت، خالص سچائی تھی۔ بہرحال ایک رباعی حاضر ہے۔

فراق

انوارِ بے شمار، معدود نہیں

رحمت کی شاہراہ، مسدود نہیں

معلوم ہے کچھ تم کو محمد کا مقام

وہ امّتِ اسلام میں محدود نہیں

 

 

 

 

                (۱۰ )

فراقؔ بنام جوشؔ ملیح آبادی

 

۴/۸ بینک روڈ، الہ آباد

بھائی جوش سلام شوق

پاکستان سے ایک شاعر آئے تھے جو تمہارے عزیز تھے پورا نام تو یاد نہیں رہا۔ شایدساحل قزلباش تھا۔ اپنی کتاب پر لکھوانے کے لئے آئے تھے میں نے وقتی طور پر تو لکھ دیا۔ لیکن مطرب صاحب نے کچھ تفصیلی طور پر ان کے کلام پر ان کے جانے کے بعد بھی لکھوا لیا ہے۔ ان کے تعارف میں تمہارا توسل ہی کافی تھا۔ ان سے میری دعائیں کہنا۔ مجھے انھیں سے تمہاری خیریت معلوم ہو کر بہت افسوس ہوا کہ تم گراں گوش ہونے کے علاوہ بوجہ رعشہ، لکھنے سے بھی معذور ہو گئے ہو۔ آج کل ہم اور تم ایک ہی راہ پر گامزن ہیں۔ اپنا تقریباً یہی حال ہے لکھنے پڑھنے کا سب کام بالکل ترک ہو گیا ہے۔ آج تمہاری ’نظم فاختہ کی آواز‘ جناب مطرب صاحب نے اپنے مخصوص ترنم اور حسین لہجے میں سنائی۔ کچھ ترنم کی سحر آفرینی اور کچھ نظم کی وارفتگی ایسی تھی کہ کچھ دیر کے لئے بس اپنے میں کھو گیا نہ جانے ماضی کے کتنے لمحے اور کتنی یادیں سمٹ کر سامنے آ گئیں۔

تمہاری اس نظم میں شعور اور مشاہدے کی بیباک نقش آرائی ملتی ہے۔

انوکھے قسم کی تصویر کشی ہے جیسے چغتائی آرٹ ہو۔

اس کے ہر شعر میں اقتضاء کی مناسبت سے رنگ آمیزی بھی کی ہے اور پرکار لفظوں سے ابہام کی لکیروں تک بہ عنوان دگر رنگوں کی مصوری بھی۔

تمہاری شاعری کا کنیوس بڑا حسین اور طلمسی ہے

تشبیہ اور علامت کی جو منظر کشی ہے وہ خاص طور پر آواز کی وضاحت اور اشارات کا انوکھا انداز ہے۔

تلخ محرکات کو خارجی پیکر میں رونما کیا ہے

جذباتی الفاظ اور آواز کے اشتراک سے فاختہ کی آواز میں ڈوب کر اس نظم میں پیکریت کا حسن اور نئی عکاسی کی ہے۔ یہ نظم تمہاری شاعری کا بے ساختہ نمونہ ہے۔

پیارے اس کے علاوہ تمہیں اور کیا لکھوں یہ خط بھی مطرب صاحب سے لکھوا کر بھیج رہا ہوں۔ جو صاحب خط لے کر جا رہے ہیں اب یہ ان کی ذمہ داری ہے کہ تم تک پہنچا دیں۔ بھائی کسی صورت سے اپنی خیریت لکھو۔

شاید تمہیں اب نہ دیکھ سکوں۔

تمہارا فراق

 

 

                (۱۱)

فراقؔ بنام محمد طفیل (مدیر نقوش)

 

۴/۸ بینک روڈ، الہ آباد

۱۲؍جون ۱۹۵۴ ء

برادرم، تسلیم

آپ نے یہ خط بڑے دنوں کے بعد لکھا اور عذر یہ کیا کہ بڑا مصروف رہا۔ مصروف کون نہیں ہوتا، مصروف تو وہ بھی ہوتا ہے۔ جسے دنیا کا کوئی کام نہیں ہوتا۔ میں نے جو آپ کے خطوں کے جواب میں اتنے اتنے لمبے خط لکھے، تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ میں بالکل ہی بیکار تھا۔

پہلے تو آپ کا خیال یہ تھا کہ میرے جوابات کی روشنی میں مجھ پر لکھیں گے اب آپ کا یہ کہنا کہ اگر اجازت ہو تو ان خطوط کوہو بہو چھاپ دوں، میری طرف سے تو ان کی اشاعت کی اجازت ہے، اس دریافت کا بھی شکریہ کہ ان خطوں میں تاریخی مواد ہے اور انھیں حرف بہ حرف چھپنا چاہئے، آپ کو یاد ہو گا کہ دو ایک بار آپ نے لکھا تھا کہ میں نے بعض جگہوں پر بڑی رواداری میں لکھا ہے بس ان با توں کا خیال رکھ لیجئے۔ لیکن یہ مت کیجئے گا کہ آپ مجھے انسان بھی نہ بننے دیں۔ میری کمزوریوں کا بھی اظہار ہونا ہی چاہئے۔ اگر مجھے پہلے علم ہوتا کہ آپ میرے ہی خط چھاپیں گے، تو میں صرف اپنی کمزوریاں ہی کمزوریاں بیان کرتا۔ اس لیے کہ لوگ صرف اپنی خوبیاں ہی خوبیاں بیان کرتے ہیں۔ اگر آپ انڈیا آ رہے ہیں تو اس سے بڑھ کر اور کیا خوشی ہو گی، لیکن الہ آباد کا نام انڈیا نہیں ہے، اور یہ آپ نے لکھا نہیں کہ الہ آباد بھی آؤں گا۔ مجھے اپنے پروگرام سے مطلع کیجئے گا۔

آپ کا

فراقؔ

 

                (۱۲)

فراقؔ بنام محمد طفیل (مدیر نقوش)

 

۴/۸ بینک روڈ، الہ آباد

۱۵؍دسمبر ۱۹۵۵ ء

برادرم، تسلیم

آپ کے یہاں سے جانے کے بعد صرف دو مختصر سے خط ملے تھے۔ جن کا میں نے بھی دو لفظی جواب بھیج دیا تھا۔ تفصیلی بات چیت کے لیے تفصیلی خط لکھا کریں۔ لیجئے میں اس کی ابتدا کرتا ہوں۔

ادب سے متعلق بہت سے خیالات و سوالات اس وقت سے میرے ذہن میں اٹھتے رہے ہیں جب سے میں نے ہوش سنبھالا۔ اس باب میں میری تین حیثیتیں ہیں۔ طالب علم ادب، عملی ادیب اور معلم ادب۔ میرے ذہن میں جہاں ادب سے متعلق اور بہت سے سوال اٹھتے ہیں۔ ایک یہ سوال بھی بار بار اٹھتا ہے کہ انگریزی شاعری اور انگریزی نثر کے سینکڑوں محاسن ہمارے اردو ادب میں کیوں نہیں آ سکے۔ اور قریب قریب ہر لحاظ سے ہمارا اردو ادب انگریزی ادب سے کیوں کمتر ہے ؟ اس کی ایک نہیں پچاسوں وجہیں گنائی جا سکتی ہیں۔ صرف شاعری کو لے لیں۔ اقبالؔ، جوشؔ، اور فیضؔ تک کے یہاں وہ کئی محاسن نہیں ملتے جو منجملہ دیگر اکابر سخن کے مثلاً ٹینی سن، سون برنؔ، شیلےؔ  بلکہ میں تو یہ کہوں گا کہ دوئم و سوئم صف کے انگریزی شعرا کے کلام میں جلوہ گر ہیں جیسے کنگسلےؔ، والٹر سکاٹؔ، ڈرائیڈن، فرانسسؔ  ٹامن، میتھیوارنلڈ یا پالگریوؔ کے خزانۂ زرین (Golden Treasury) کے درجنوں وہ شعرا جو صف اول کے شاعر نہیں لیکن جن کی نظموں کو کئی لحاظ سے ہماری نظمیں نہیں چھو سکتی ہیں خاص کر صوتی لحاظ سے۔

گذشتہ نصف صدی سے ہمارے کئی شاعر انگریزی ادب کا مطالعہ کرتے رہے ہیں اور اس سے متاثر و فیض یاب بھی ہوتے رہے ہیں۔ پھر یہ کمی ہماری شاعری میں کیوں رہ جاتی ہے ؟ شاید ایک وجہ تو یہ رہی ہے کہ مقفّیٰ شاعری میں ہم میکانکی طور پر قدیم اصناف سخن کی پابندی کرتے چلے آئے ہیں۔ انگریزی کے اشکالی سیٹنزا (Stanza Forms) قافیوں کی نئی

خوش آئند ترتیبوں (Phymes Chemes) کو ہم بہت کم اپنا سکے ہیں۔ تخلیق فقرہ، تخلیق اضافت (Epithet) اور (Phrasing) میں بھی یا بیان میں نئی تعبیروں کے معاملہ میں، ایسے اسالیب کی تخلیق کے معاملہ میں جن میں ہماری زبان یا بولی کے نئے تابناک اور اعلیٰ امکانات جلوہ گر ہوں۔ ہم یورپ کے شاعروں سے بہت پیچھے رہ گئے ہیں۔ ہماری شاعری کی زبان میں کچھ دائمی اور ناقابل ترمیم و تبدیل عناصر (Constants) پیدا ہو گئے ہیں۔ بیان کے روایتی و رسمی ٹکڑے بار بار ہماری شاعری میں آ جایا کرتے ہیں ہمارے اسلوب شاعری کے کچھ معمولات بن گئے ہیں۔

دوسری وجہ اس کمی کی یہ ہے کہ خصوصاً غیر مقفیٰ شاعری میں ہم انگریزی بلینک ورس کے اکابر کی ان تکنیکوں پر عبور حاصل نہیں کر سکے، جن سے لمبے یا طولانی جملے اس طرح اُگتے ہیں جیسے کوئی سڈول متناسب جسم نشو و نما حاصل کرتا ہے۔ پورے کس بل اور تناؤ کے ساتھ ایسے جملے جو کسی قدر طویل بحر میں مسلسل متعدد مصرعوں کے ذریعہ تکمیل پا سکیں۔ ابھی ہماری غیر مقفیٰ شاعری میں بہت کم آ سکے ہیں۔ جاندار بلینک ورس محض عدم قافیہ سے نہیں پیدا ہوتا بلکہ اس کا داخلی عمل اُس پران ایام (Breath Control) کی صفت رکھنے والی محویت سے پیدا ہوتا ہے جس میں شاعر کا خیال مصرعوں کے زیر و بم میں منڈلاتا ہوا دکھائی اور سنائی دے ابھی ہماری بلینک ورس کو جملوں کے مختلف پیمانے ڈھالنا اور سمندری جوار بھاٹوں کی شان پیدا کرنا لمبے جملوں کا فن تخلیق (The Art of Long Sentence) سیکھتا ہے، ایک نیا علم بیان حاصل کرنا ہے۔ فقروں کے زنجیرے باندھنا سیکھنا ہے۔ شاندار پارہ ہائے نظم (Vetsporas) کا فن ابھی ہمیں بہت کم آ سکا ہے، تیسری وجہ مذکورہ بالا دوسری وجہ سے گہرا تعلق رکھتی ہے۔ ہماری مقفیٰ اور غیر مقفیٰ دونوں طرح کی نظمیں اکثر محض غزل کی تلبیس ہوتی ہیں۔ ان خیال کا تدریجی اگاؤ یا ترقی (Development of Idea) یا مکمل کائنات خیال بہت کم ہوتا ہے۔ وہ کاوے کاٹتی ہیں آگے نہیں بڑھاتیں ہم حلقوں یا دائروں میں لکھتے ہیں (Writing in Circle) یا (Areuing in Acicle) مختلف تشبیہوں سے ہم ایک ہی خیال کو ظاہر کرتے ہیں، مختلف خیالوں سے ایک بڑے خیال کی بڑی اکائی ہم تیار نہیں کر پاتے جسے تعمیری صلاحیت یا (Architectonics) کہا گیا ہے۔

یہ تمام صلاحیتیں حاصل کرنے کی طرف ہمارے شعرا کو توجہ کرنا چاہئے، ہمیں انگریزی شاعری کے غائر مطالعہ سے رہنمائی حاصل کرنا ہے۔ بلینک ورس یا نئی مقفیٰ نظمیں ہم کہنے تو لگے ہیں لیکن وہ بلند تر سنجیدگی (The Higher Seriousness) ہماری نئی تخلیقوں میں خال خال ہی نظر آتی ہے۔ جس کے بغیر ہماری شاعری بلند مغربی شاعری کی ہم پلہ وہم مرتبہ نہیں ہو سکتی۔ بس آج اتنا ہی۔

اندازے پر نظر ثانی کر کے آپ کے پاس جلد ہی بھیجوں گا۔ زیادہ تاکید نہ کریں۔ ورنہ مجھے نادم ہونا پڑے گا۔ جوشؔ کے پاکستان چلے جانے پر تو ہندوستان و پاکستان کے اخبارات بری گلفشانیاں کر رہے ہیں۔ میں تو یہی کہوں گا کہ میاں جہاں رہو خوش رہو۔

آگے پیچھے بیخودؔ دہلوی، ہوشؔ بلگرامی اور مجازؔ کے اٹھ جانے سے ایک خلا محسوس کر رہا ہوں۔ ابھی چراغ حسن حسرتؔ اور منٹوؔ کے داغ تازہ تھے۔ اب تو جینے سے میرا جی بھر گیا ہے۔

اے موت کی نیند ہم بھی جاگے ہیں بہت

اپنا بھی تو آفتاب آئے لبِ بام

آپ کا

فراق گورکھپوری

 

                 (۱۳)

فراقؔ بنام محمد طفیل (مدیر نقوش)

 

۴/۸ بینک روڈ، الہ آباد

۲۷؍دسمبر ۱۹۵۵ ء

برادرم، تسلیم

نقوش ہی کے صفحات میں ہم لوگوں نے اسلامی ادب کی بحث چھیڑ دی تھی کہ

یہ شرارت صرف آپ کی تھی اس سے کچھ لوگوں نے یہ سمجھ لیا تھا کہ میں اسلامی عناصر کو ادب میں جگہ دینے کے خلاف ہوں۔ آئیے آج پھر اسلامی ادب کے فقرے کوسمجھنے کا جتن کریں۔ کیا اسے یوں سمجھا جائے کہ سرمہ، حج، جشن عید، کباب و کوفتے، ترکی ٹوپی کا ذکر ادب میں آئے تو وہ اسلامی ادب ہو گا؟ جہاں تک ترکی ٹوپی کا تعلق ہے وہ بنتی لندن میں تھی، پہنی جاتی تھی ترکستان میں اور تقلیداً پان اسلام ازم کے طفیل میں ہندوستانی مسلمانوں کے ایک طبقے میں۔ پیغمبر و اکابرِ اسلام سے اس ٹوپی کا کوئی تعلق نہیں البتہ اس سے کون انکار کر سکتا ہے کہ سر سید کی زینت فرق ترکی ٹوپی تھی لیکن سر سید کے چیلے حالیؔ نے حدّ ادب سمجھ کر اپنے پیر و مرشد کی نقل نہیں کی۔ اس لطیفے کا مطلب صرف اتنا ہے کہ جن ملکوں کی آبادی قریب قریب سوفی صدی مسلمان ہے وہاں کی ہر چیز اور ہر بات کو ہم اسلامی سمجھ بیٹھتے ہیں اور یہ بھول جاتے ہیں کہ ان ملکوں کی تہذیب میں بہت سے غیر اسلامی عناصر شامل ہیں۔

جب اپنی کئی تحریروں میں، میں نے اس بات پر زور دینا شروع کیا کہ اردو ادب میں ہندوستان کی تہذیب و زندگی کو زیادہ سے زیادہ اور بہتر سے بہتر جلوہ گر ہونا چاہئے تو پاکستان کے کچھ دوستوں نے یہ آواز اٹھائی کہ پاکستان کے ادب کو صرف پاکستانی ادب نہیں بلکہ اسلامی ادب ہونا چاہئے شاید اس لئے کہ مشرقی پاکستان میں ایک کروڑ کے قریب ہندو ہیں اور وہاں کے مسلمان بھی رہن سہن اور زندگی کی پچانوے فی صد با توں میں وہاں کے ہندوؤں کے جتنے قریب ہیں مغربی پاکستان کے مسلمانوں سے اتنے قریب نہیں اور خود مغربی پاکستان میں پٹھانوں، پنجابیوں اورسندھیوں کی زندگی میں بہت کم مماثلت ہے۔ اسلامی ادب کے فقرے میں لفظِ اسلامی کو ایک ایسا معجزہ سمجھا گیا جونسلی و مقامی یا جنم بھومی کی خصوصیتوں کو مٹا کر رنگا رنگ زندگی کو ایک رنگ میں رنگ دے گا۔ شاید میرے عزیز دوست حسن عسکری اور آفتاب احمد صاحب کا بھی کچھ ایسا ہی خیال و گمان رہا ہے۔

اسلام ایک بہت بڑی حقیقت، بہت بڑی قوت اور بہت بڑا انقلاب رہا ہے۔ عربی، فارسی، ترکی اور اردو ادب اسلام کی روایات سے معمور ہیں، اور شاید اس حد تک معمور ہیں کہ اب انھیں غیر اسلامی عناصر سے مزید نشو و نما حاصل کرنا ضروری ہے۔ اور یہی ہو بھی رہا ہے۔ میں یہ نہیں کہتا کہ اسلام کے وہ عناصر جواب تک اردو ادب میں نہیں آ سکے یا اچھی شکل میں نہیں آ سکے آئندہ نہ لائے جائیں۔ ایسے عناصر فلسفیانہ مفکرانہ اور اخلاقی ہوں گے۔ رہن سہن یا خارجی زندگی کے جزویات سے ان کا تعلق زیادہ نہیں ہو گا۔ اور یہ جزویات جیسے اور جتنے آ سکتے تھے۔ آ بھی چکے ہیں۔ رہے مناظرِ قدرت سو وہ مقامی یا جغرافیائی ہوتے ہیں اسلامی نہیں ہوتے۔ پاکستان کے مسلمانوں کی زندگی کے مسائل اسلامی کم ہیں انسانی اور اقتصادی زیادہ ہیں۔ وہاں کے لوگوں کی منظم کوششیں یا جد و جہد سیاسی، اقتصادی، صنعتی حرفتی، علمی ہوں گی نہ کہ اسلامی، اس لیے اگر یہ مان بھی لیا جائے کہ ابھی بہت سی قیمتی چیزیں اسلام اردو ادب کو دے سکتا ہے تو بھی پاکستان کے اردو ادب میں مقامی اور عالمی عناصر مکانی و زمانی یا عصری عناصر کو اسلامی عناصر سے کہیں زیادہ اہمیت ہو گی اور یہ اہمیت پاکستان اردو ادب کو مل رہی ہے اور ملتی جائے گی۔ ہندوستان کا حقیقی جدید اردو ادب بہت حد تک یا اکثر سوفی صد تک پاکستانی ادب ہو گا اور پاکستان کا اردو ادب ہندوستانی ادب ہو گا۔ بقول پاکستان ہی کے ایک شاعر کہ۔

دوستو ہاتھ بڑھاؤ کہ ہیں ہم آج بھی ایک

کون کر سکتا ہے تقسیم ادب کی جاگیر

پاکستان کے مناظر سے موہنجو داڑو اور ہڑپا سے، پاکستان کے شہروں سے وہاں کی صنعت و حرفت سے اتنا ہی لگاؤ ہندوستانی کو ہو گا جتنا پاکستانی کو۔ دنیا اب ایک عالمی حکومت کی طرف گامزن ہے۔ ہماری جنگ آزادی سوشلسٹ انقلاب کی شکل نہیں اختیار کر سکی۔ اسی سے ایک قوم اور ایک ملک دو حصوں میں بٹ گیا۔ اب لوگ ایک زبان و ادب کو بھی دو ٹکڑے کر کے دیکھنا چاہتے ہیں۔ لوگ بھول جاتے ہیں کہ حالیؔ و اقبالؔ ہندوؤں کی بھی ملکیت ہیں۔ ٹیگور اور پریم چندمسلمانوں کی بھی ملکیت ہیں۔

اب ہندوستان کی زندگی کے مختلف پہلوؤں اور کیفیتوں کو اردو ادب میں زیادہ سے زیادہ جگہ دینے کی ضرورت کو لیجئے۔ اس سلسلے میں تین نام ذہن میں لائیے۔ نظیر اکبر آبادی، پریم

چند اور راقم الحروف، ہندوؤں اور مسلمانوں کے کئی اور نام بھی لیے جا سکتے ہیں۔ ہم لوگوں کی کوششیں ہندوستانی زندگی کو اردو ادب میں زیادہ سے زیادہ اجاگر کرنے اور ابھارنے کی رہی ہیں۔ البتہ ایسا ہونے میں ہندوؤں کی زندگی کے مخصوص جلوے زیادہ نظر آئیں گے اس لیے ہر گز ہرگز نہیں کہ ہندو اکثریت میں ہیں بلکہ اس لیے کہ کئی لحاظ سے ہندو زندگی زیادہ رنگا رنگ اور پہلو دار ہے۔ خارجی اور داخلی دونوں لحاظ سے یہ رنگا رنگی اور پہلو داری اردو ادب میں اسی طرح آ جانا چاہئے۔ جس طرح وہ سنسکرت، پالی، بنگالی، ہندی، ماگدھی، اڑیا، پنجابی، مرہٹی، گجراتی اور جنوبی ہند کی زبانوں میں ملتی ہے۔ ہندو زندگی جذباتی رشتوں (Associations) سے مالامال ہے۔ ان (Associations) کو اپنا لینے سے مسلمان بہترمسلمان بن جائے گا۔ گھٹیا مسلمان نہیں بنے گا۔ اسلام کے یا جذباتی رشتوں کو اپنا کر ہندو بہتر ہندو بنے گا۔ گھٹیا ہندو نہیں بنے گا۔ میری نظم جگنو، نقوش ہی میں شائع ہوئی تھی۔ ہنڈولا سیارہ میں شائع ہوا تھا۔ روپ کتابی شکل میں شائع ہو چکی ہے۔ ان سب میں جذباتی رشتوں کا اظہار ہوا ہے جو ہندو زندگی کی رنگارنگی اور پہلو داری کو آئینہ دکھاتے ہیں۔ لیکن جومسلمانوں کو بھی وجد میں لاتے ہیں۔ ہمارا خون ایک ہے مغائرت کہاں تک ممکن ہے ؟

ہمارا ملک ہندوؤں کی ملکیت نہیں ہے نہ مسلمانوں کی۔ یہ ملک بنی نوع آدم کی مادرِ وطن ہے۔ آج بھی ہمارے سینوں میں تہذیب کی پہلی صبحیں سانس لے رہی ہیں۔ ہمارے شعور پر خلقت کی دائمی ازلیت آج بھی منڈلا رہی ہے۔ ہمارا کفر ایمان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال دیتا ہے۔ کائنات و انسانیت کی وحدت کے تصور سے آج بھی ہماری پلکیں نم ہو جاتی ہیں۔ بدھ کے چکر، کرشن کی بنسی، مندروں کے گھنٹوں کی آواز اور اذان کی آواز سے ہمارے ملک کی فضا گونجی ہوئی ہے۔ زندگی ریاستی یا سیاسی جھگڑوں سے بڑیء حقیقت ہے اور ادب بھی دو قوموں کی تھیوری سے بڑی چیز ہے۔

البتہ ہندوستان یا پاکستان کے ادب کو ہم غلطی سے ہندو ادب یا اسلامی ادب بتانے اور بنانے کی کوشش کریں تو کم از کم ایک غلطی نہ کریں۔ یعنی اس ادب کو باہم رجز خوانی کا آلہ یا حربہ نہ بنائیں۔ اس ادب کے ذریعے سے دوسری قوموں کو چیلنج یا چنوتی نہ دیں اور اس ادب کو کاغذ یا دفتی کا ایسا پردہ نہ بنائیں کہ ہم وطنوں، پڑوسیوں اور دنیا کی زندگی کو دیکھنے جاننے اور اپنانے کا امکان ہی مٹ جائے۔ بڑا ادب کسی قوم کے اپنی کھال میں مست رہنے کا ادب نہیں ہوتا۔ اس میں آفاقیت و مقامیت کا سنگم ہوتا ہے۔ علیحدگی پسند (Separatist)قوموں، تہذیبی اور فنون کے لیے موت کا باعث بن جاتی ہے۔ ہم ہندوستانی ضرور ہیں لیکن کرۂ ارض یا کائنات کے بھی شہری ہیں۔

یہ خط کا ہے کو ہوا یہ اک وعظ بن گیا۔ یہ سوچ کر کچھ شرم سی محسوس ہونے لگی کہ میں دوسروں کا ناصح مشفق بننے والا کون یا مانی جانی ہوئی حقیقتوں کو ایجاد بندہ کر کے پیش کرنا کہاں کی عقل مندی ہے ! اس لیے معذرت کے ساتھ اجازت چاہوں گا۔

آپ کا خط مل گیا ہے بعض باتیں غور طلب ہیں۔ کہئے تو غور کر لوں۔

آپ کا

فراقؔ

٭٭٭

 

 

 

 

 

فراقؔ کی نثری تحریروں کا انتخاب

 

 

ہر حقیقی شعر یا نظم کو ہم ایک علمِ راز کہہ سکتے ہیں، جو اپنی صوتیات و مفہوم سے ماورا ہوتی ہے۔ لیکن یہ کہنا کسی قدر زیادتی ہے کہ وجدانِ سلیم رکھنے والا کوئی شخص شعر کے صوتیات و مفہوم کے پس پردہ حقائق کو محسوس نہیں کر سکتا۔ حقیقی شعر کا مقصد ایسے محسوسات اور نیم محسوسات دینا ہے جہاں وضاحت و تشریح کام نہیں آ سکتی۔ اگر ہم مفہوم و الفاظ کی منزلوں سے آگے نہیں گذر سکتے تو ہم کہیں پہنچ ہی نہیں سکتے بلکہ یوں کہیں کہ یہ شعر کی نغمگی اور اس کے لغوی مفہوم سے ہمیں بہت دور لے جاتا ہے۔

فراقؔ گورکھپوری

 

 

 

خود نوشت

 

                ………فراقؔ گورکھپوری

 

۱۸۹۶ ء میں شہر گورکھپور میں پیدا ہوا، یہ سری داستو کایستھوں کا خاندان پورے چار سو برس سے ضلع گورکھپور میں آباد ہے میرے بزرگوں کو پانچ گاؤں شیر شاہ کے دئے ہوئے اسی ضلع میں آباد ہیں اور ہم لوگ پنچگاواں کے کایستھ کہلاتے ہیں۔ میرے والد منشی گورکھ پرشاد عبرتؔ چوٹی کے وکیلوں میں تھے اور ان کا نام حالیؔ اور آزادؔ کے ساتھ ساتھ جدید اردو شاعری کی تاریخ میں لیا جاتا تھا۔ میری تعلیم گھر پر شروع ہوئی۔ والد مرحوم کی تعلیم تو عربی اور فارسی کے باقاعدہ اکتساب سے شروع ہوئی تھی اور جب ان زبانوں میں دسترس ہو گئی تب وہ انگریزی اور وکالت کی طرف مائل ہوئے لیکن اب زمانہ بدل چکا تھا، اردو کی دو تین کتابیں ختم کرنے کے بعد ہی انگریزی کی باقاعدہ تعلیم شروع ہو گئی۔ ایف۔ اے کا امتحان فارسی کے ساتھ دیا لیکن بی۔ اے میں فارسی چھوڑ دی۔ غرضیکہ جہاں تک اسکول اور کالج کے باقاعدہ یا بے قاعدہ تعلیم کا تعلق ہے انگریزی زبان اور مغربی علوم ہی کو اہمیت رہی۔ مگر دل و دماغ کی تہیں اور گہرائیاں انگریزی زبان اور مغربی علوم سے کب آسودہ ہو سکتی تھیں۔ جب تک کوئی حقیقت، شعر و نغمہ یا حُسن کی شکل میں شعور میں نہ اتر جائے مجھے تشفی نہیں ہوتی تھی۔ اس لئے انگریزی تعلیم تو زندگی کے اسٹیج کا ایک پردہ تھا باوجود اپنے تمام آب و تاب کے۔ پس پردہ جو محرکات کارگر تھے انھیں کوئی اور الفاظ ہاتھ نہ آنے کی وجہ سے حُسن و عشق ہی کہہ لیجئے۔ بچپن ہی سے خوش قسمتی یا بد قسمتی سے طبیعت بہت حساس تھی اپنے ہم عمروں اور جماعتوں میں سات ہی آٹھ سال کی عمر سے جس سے یگانگت یا دوستی ہو گئی اسے اٹھا کر کلیجے میں رکھ لینے کا جی چاہتا تھا۔ گانے اور نغمے اسی عمر سے اس طرح متاثر کرتے تھے کہ ان گُنگ کیفیتوں کی یاد سے اب بھی گھبرا جاتا ہوں ایک بچے کی نرم قویٰ، شدید تاثرات کے آسانی سے حامل نہیں ہو سکے۔ سور داسؔ کے نغمے اور دیگر ہندی نغمے تلسی داسؔ کی رامائن کا ترنم خاص طور سے متاثر کرتے رہے جو اردو اشعار یا نظمیں درسی کتابوں یا دوسری کتابوں میں یا لوگوں کی زبانی سننے کے موقعے ملتے تھے وہ بہت کچھ تو خشک اور کرخت اور بے رس چیزیں معلوم ہوتی تھیں۔ لیکن ان میں جو اشعار مترنم ہوتے تھے وہ دل میں ڈوب جاتے تھے اور چونکہ ہماری روز مرہ کی بولی میں ہوتے تھے اس لئے ایسے اشعار کا اثر بہت ہوتا تھا۔ کچھ نظمیں اور غزلیں والد مرحوم کی بچپن ہی سے ورد زبان رہتی تھیں اور کچھ دوسروں کی۔ اس کے ساتھ ہی ساتھ وہ کہانیاں وہ واقعے وہ مناظر بہت متاثر کرتے تھے جن میں میری بچپن کی ذہنیت کوئی بات پاتی تھی۔ انسانی حُسن کا اثر تو یہ ہوتا تھا کہ بیک وقت موت اور زندگی کا گویا سامنا ہو جاتا تھا۔ اس کے ساتھ ساتھ غصہ اور نفرت بھی کچھ لوگوں سے اور کچھ با توں سے میرے لئے ناقابلِ برداشت اور بے مفر چیزیں تھیں جتنی شدید محبت تھی اتنی ہی شدید نفرت بھی یا جتنا تیز حسن کا احساس تھا اتنا ہی تیز قبح کا احساس تھا۔ مگر بہ حیثیت مجموعی حیات اور کائنات کے لئے ہم آہنگی محبت و احترام کے جذبے اور تحیر کی کیفیت میری زندگی اور میرے وجدان کے خاص عناصر تھے۔ ان کے تصور سے گویا میری آنکھوں میں آنسو بھر آتے تھے اور اسی مرکزی مستقل جذبے کی تشفی مغربی علوم سے نثر کی کتابوں سے اور تمام دیگر ذرائع سے ہوتی رہی۔ گھبراہٹ اور بے صبری اور تنہائی کا احساس بھی شروع ہی سے اتنا تیز تھا کہ اب تک فیصلہ نہ کر سکا کہ اس کو کیا کہوں۔ قریب قریب پینتیس برس کے مجموعی تاثرات شاید میرے ان دو چار اشعار میں کچھ ظاہر ہو گئے ہوں :

اسی دل کی قسمت میں تنہائیاں تھیں

کبھی جس نے اپنا پرایا نہ جانا

ہزار غم ہو نہیں چاہتا کوئی لیکن

کہ اس کے بدلے کوئی اور زندگی ہوتی

اے ساکنانِ دہر یہ کیا اضطراب ہے

اتنا کہاں خراب جہاں خراب ہے

ترکِ محبت کرنے والو کون بڑا جگ جیت لیا

عشق سے پہلے کے دن سوچو کون ایسا سکھ ہوتا تھا

بہرحال یہ سب باتیں پس پردہ ہوتی رہیں اور رسمی تعلیم جاری رہی اور دبے پاؤں زندگی نما موت یعنی جوانی بھی آ گئی۔ شادی بھی ہو گئی اور ازدواجی زندگی اتنی ناخوشگوار ثابت ہوئی کہ میں یہ کہہ نہیں سکتا کہ اس نے مجھے بگاڑ دیا یا بنا دیا شاید دونوں حالتوں میں زیادہ فرق نہیں۔ اس کے بعد بی۔ اے ہوئے، نوکر ہوئے (لیکن ابھی) پنشن (نہیں ) ملی اور (نہ ابھی) مر گئے۔ بی۔ اے کے امتحان کے بعد ہی والد مرحوم کا سایہ سر سے اٹھ گیا اور غمِ روز گار کا بار سر پر پڑ گیا۔ ڈپٹی کلکٹری کی ملازمت اور یونیورسٹی کی پروفیسری بی۔ اے کے بعد ہی مل گئی تھی اور آئی سی ایس کے لئے گورنر نے نامزد کر دیا تھا لیکن ازدواجی زندگی کی تلخی نے اتنا بیدل کر دیا تھا کہ حب وطن یا جھوٹی سچی خدمت وطن میں پناہ لینا چاہی۔ تمام ملازمتوں سے انکار کر کے کانگریس میں شامل ہو گیا اور قید فرنگ کی سیر بھی کی۔ یہ ۱۹۲۷ء تک کا ذکر ہے اس کے بعد لکھنؤ کرسچین کالج میں پھر کانپور، سناتن دھرم کالج اور اب الہ آباد یونیورسٹی میں انگریزی کا لکچرار ہوں۔ بدنصیبوں میں تقدیر کی یہ بھی ستم ظریفی ذرا قابلِ ذکر ہے کہ ہر امتحان میں چوٹی کی کامیابی حاصل ہوتی رہی۔ لیکن خوش ہونے کی نوبت نہیں آتی تھی۔ مجھ سے زیادہ خوش وہ ہوتے تھے جو صرف تھرڈ ڈویزن میں کامیاب ہوتے رہے۔ میرے لئے آج تک کامیابی اور خوشی ایک چیز نہ ہو سکیں۔

اچھا اب لگے ہاتھوں اپنی شاعری کے بارے میں کچھ گزارش کر دوں۔ جی تو بچپن ہی سے شعر کہنے کو چاہتا تھا لی بچپن کی صلاحیتیں یہ بار برداشت نہ کر سکتی تھیں میرے والد امیر مینائیؔ کی شاعری سے متاثر نہ تھے لیکن میرے پھوپھی زاد بھائی منشی راج کشور لال سحرؔ جو مجھ سے محبت کرتے تھے امیرؔ مینائی کی شاعری کے بہت دلدادہ تھے۔ اب میں جو غور کرتا ہوں تو بچپن سے امیرؔ مینائی کی شاعری سے لگاؤ کا یہ سبب پاتا ہوں کہ امیرؔ کے کلام میں۔ ان کی لے میں ٹھہراؤ اور بہاؤ کا ایک ایسا امتزاج ہے جو غیر شعوری طور پر مجھے اس سے ہم آہنگ کر دیتا تھا۔ شاید یہ اثر ان کے کلام میں غیر شعوری طور پر مصحفیؔ کے کلام کے مطالعہ سے پیدا ہو گیا ہے۔ بہرحال خود تو شعر کہنے کے لئے جھک مارا کرتا تھا اور ایک مصرع بھی مجھ سے نہ ہوتا تھا۔ لیکن بی۔ اے کلاس تک امیرؔ مینائی ہی کی شاعری اور لب و لہجہ یا یوں کہئے کہ ان کے اشعار میں جو آواز تحت الشعر تھی۔ اسی سے متاثر ہوتا رہا۔ پھر عزیزؔ لکھنوی، شادؔ عظیم آبادی اور ناصریؔ مرحوم کی صحبت کے اثر سے میرؔ، دردؔ، غالبؔ کی آوازیں میرے دل میں اترتی گئیں۔ حسرتؔ، اصغرؔ، یگانہؔ، اقبالؔ کے کلام سے بھی فیضیاب ہوتا رہا ہوں۔ اور فارسی شعرا سے بھی۔ ساتھ ہی ساتھ انگریزی ادب کو بھی اپنے اندر یوں تحلیل کرتا رہا کہ اس کی آواز اپنی آواز میں ڈھلتی جائے۔ جب کہیں جا کر بی۔ اے میں پہلی غزل کہی۔ یہ ۱۹۱۶ء کی بات ہے۔ دو چار غزلیں ناصریؔ مرحوم نے دیکھیں بعد کو دو چار غزلیں حضرت وسیمؔ خیر آبادی کو دکھائیں۔ پھر کسی سے اصلاح کی نوبت نہ آئی۔ بلکہ شاعروں کے بدلے مجنوںؔ  گورکھپوری، پریم چند آنجہانی اور حضرت نیازؔ فتح پوری نثر نگار حضرات کی صحبتوں کا زیادہ اثر میری ادبی زندگی پر رہا۔ ہاں جوانی اور تنہائی اور گناہ عشق کا بھی ساتھ رہا اور اس کے جو نتائج ہو سکتے تھے وہ بھی ہوتے رہے۔ سچ پوچھئے تو شعر کہنے کا شروع میں تو ممکن ہے شوق ہی رہا ہو۔ لیکن جب سے جواں ہو کر زندگی کی تلخیوں کو یعنی لہو کے گھونٹ کو شیر و شکر کر کے اتارنا پڑا قلب سے شاعری گویا زندگی کی تلاش کا ایک ذریعہ بن گئی۔ شاید زندگی کو شعر میں تحلیل کرنا اور شعر کو زندگی کا آئینہ بنانا مقصدِ زندگی ہو۔ کون جانے۔

میرے چند احباب شروع ہی سے میری شاعری کی ایک خصوصیت اتحادؔ اور اجتماع ضدین بتاتے ہیں۔ میں پہلے عرض کر چکا ہوں کہ نفرت و محبت حسن و قبح کا شدید ترین احساس کرتے ہوئے حیات اور کائنات پر میرا ایمان قائم رہا۔ کفر اور ایمان دونوں لحاظ سے وحدتِ وجود کا قابل رہا۔ پھر تلخی ناکامی حسرتوں کا خون ہونا اور جدلیت پذیر وحدت کا احساس اتحاد ضدین کی صفت میرے وجدان اور میری شاعری میں کیوں نہ پیدا کر دیتی۔ مجھے تو زخم ہی کا مراہم بنانا تھا۔ پھر کیا کرتا۔ اگر درد بھری آواز میں سکون نہیں تو وہ نغمہ کہاں، چیخ ہو گئی۔ میں شاعری میں لہجہ کو سب سے ضروری چیز سمجھتا ہوں۔ اسی لہجہ میں شاعر کی شخصیت چھپی ہوئی ہوتی ہے۔ شاعری تمام عالم کے دکھ درد کے احساس کو بغیر کم کئے ہوئے اگر اس میں نرمی اور جزوِ برکت سمو سکے تو اس میں قوت شفا (Healing Power) آ جاتی ہے اور شاید یہی چیز شاعری کو عظمت دے سکتی ہے۔

٭٭٭

 

 

جدید اردو غزل کا مستقبل

 

                ………فراقؔ گورکھپوری

 

شاعر کا مذہب کیا ہے۔ نہ وہ ہندو ہوتا ہے نہ مسلمان نہ عیسائی نہ یہودی نہ پارسی نہ بودھ۔ آپ کہیں گے یہ غلط ہے۔ تلسی داس اور سور داس ہندو تھے، ایک رام کا پوجنے والا، دوسرا کرشن کا، ہاں کبیر البتہ اپنا پتہ نہیں دیتے۔ ملٹن اور ڈانٹے عیسائی تھے، ہومر

٭٭ند اور ورجل کے بارے میں جو کچھ کہہ لیجئے لیکن شیلی منکر تھا۔ ایک ورڈ سورتھ تو انگریزی چرچ سے صلح کر کے مرا۔ فردوسیؔ، سعدیؔ، حافظؔ پر بھی کفر کا فتویٰ نہ لگائیے۔ رہے عمر خیام تو کون جانے اس شخص کا کیا مذہب تھا، انیسؔ اور دبیرؔ تو اپنے بارے میں کہہ ہی گئے کہ ’’پانچویں پشت ہے شبیر کی مداحی میں۔ ‘‘ یہ صحیح ہے لیکن اردو کے غزل گو شعراء ان کا مذہب جو کچھ بھی رہا ہو اپنے کو وہ کافر ہی بتاتے ہیں۔

میرؔ کے دین و مذہب کو کیا پوچھو ہو تم، ان نے تو

قشقہ کھنچا، دیر میں بیٹھا، کب کا ترک سلام کیا

یہ سب جانتے ہوئے بھی کہوں گا کہ شاعر کا کوئی مذہب نہیں ہوتا۔ ہاں مذہب اور لا مذہبیت دونوں کا شاعرانہ احساس مس کر سکتا ہے، دونوں کو شاعرانہ وجدان اپنے حریمِ راز میں باریاب کر سکتا ہے۔

شاعری کائنات کو یا یوں کہئے کہ کائنات کے ان حصّوں کو جن سے شاعر کے وجدان کو لگاؤ ہوتا ہے، حسن پاتی ہے اور حسین بناتی ہے۔ پس اگر شاعر کا کوئی مذہب ہے۔ اگر شاعر کو کسی چیز کی تلاش ہے تو وہ حسن ہے ممکن ہے بعض لوگ یہ کہیں کیا خوب حسن سے تو ہم کو لگاؤ ہے لیکن ہم شاعر نہیں ہیں۔ آپ سچ کہتے ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ شاعری حسن کی تلاش میں یا حسن کا سامنا کرنے میں کچھ آپ کی مدد کرتی ہے یا نہیں۔ یوں تو دنیا میں کیا نہیں، کیسی کیسی صورتیں موجود ہیں لیکن ہم آپ پھر بھی شاعر کے دستِ نگر رہتے ہیں۔ بات یہ ہے کہ دنیا اور دنیا کے حسین افراد و مناظر ہر وقت ہمارے سامنے تو رہتے نہیں اور یوں بھی عملی طور پر دنیا کا ترجمہ محض ایک بے حِس احساس ہوتا ہے اور اس بے حس احساس کا بھی زندہ احساس نہیں ہوتا۔ بہرحال یہ نفسیات کے راز ہیں اور انہیں راز ہی رہنے دیجئے ہاں فنونِ لطیفہ، شاعری ہمارے وجدان کو جمود کی حالت سے چونکا دیتے ہیں۔ حسن کا ایک نیا احساس ہونے لگتا ہے جسے ہم تخیئلی احساس کہہ سکتے ہیں۔ یوں تو روزانہ زندگی میں بھی ہم کو نیکی بدی، خوبصورتی بدصورتی، لطافت اور کثافت کا احساس ہوتا ہے لیکن یہ احساس ملا جلا سا ہوتا ہے۔ زندگی کے عملی رجحانات اس احساس کو مخلوط، کمزور اور دھندلا بنا دیتے ہیں۔ پھر بھی اسی ملے جلے ہوئے احساس میں تخیل اور وجدان کے سامان موجود ہوتے ہیں جب ہمارے احساس سے زندگی کا عملی رجحان اور اضطراب نما جمود دور ہو جاتا ہے اس وقت ہمارے معمولی احساس نئی زندگی پاتے ہیں اور شاعرانہ احساس بن جاتے ہیں اور اس شاعرانہ احساس کے بھی منازل اور مقامات ہیں اور آخری مقام احساس کا کیف و اثر سے گزر کر احساس محض یا احساسِ کل تک پہنچ جاتا ہے۔ صرف نستی حیثیت سے عام انسانوں کے احساس پریشان پر شاعر کا احساس فوقیت رکھتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ شاعر کائنات کو اس نظر سے دیکھتی ہے، جس نظر سے کائنات کو خدا دیکھتا ہے۔ لیکن کسی شاعر کا بھی ذوق و شعور مکمل شاعرانہ نہیں ہوتا ؎

ہے غیب غیب جس کو سمجھتے ہیں ہم شہود

ہیں خواب میں ہنوز جو جاگے ہیں خواب میں

ہاں اہلِ طلب کون سنے طعنۂ نا یافت

جب پا نہ سکے اس کو تو آپ اپنے کو کھو آئے

ہم وہاں ہیں جہاں سے ہم کو بھی

کچھ ہماری خبر نہیں آتی

آخری شعر میں اس نے استغراق و مراقبہ کے راز کو بھی طشت از بام کر دیا ہے۔ تاہم شاعرانہ احساس بہت کچھ معمولی زندگی کی آلودگیوں سے پاک ہوتا ہے شاعرانہ احساس حقیقت نہ سہی حقیقت نما ضرور ہے۔

گرد و غبار ہستی فانی اڑا دیا

اے کیمیائے عشق مجھے کیا بنا دیا

اہل دل آ کے کریں مملکتِ عشق کی سیر

کہ ہر اک ذرہ یہاں روئے نما ہوتا ہے

اک جلوۂ حق نما کو دیکھا

تم کو دیکھا خدا کو دیکھا

کیا یہ اشعار شاعری و تصوف کے لطیف ربط کا پتہ نہیں دے رہے ہیں، چسٹرٹن کا قول ہے کہ ہر فن لطیف میں تصوف کا عنصر و انداز ہوتا ہے۔ یوں تو کنجوس کی دولت پرستی میں، دنیا دار کی دنیا پرستی میں اور عام انسانوں کی بوالہوسی میں جو کشش کام کر رہی ہے یہ سب حسن کے کرشمے ہیں اورحسن کی جہاں اور صفات ہیں ان میں ایک صفت یہ بھی ہے کہ وہ لامحدود معلوم ہو، سوامی رام تیرتھ نے گناہ کی تعریف کی ہے کہ سورج کی روشنی کو براہِ راست دیکھنے کے بجائے اس کی چمک گندے پانی یا کیچڑ میں دیکھنا اور خوش ہونا گناہ اور لذتِ گناہ ہے، مگر ہے بہرحال وہ سورج ہی کی روشنی۔

شاعری زندگی کے ہر منظر میں ایک ماورائی یا روحانی لامحدود ماہیت کا احساس کرتی ہے اور اسی کو جمالیات کے نام سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ ہر شئے بیک وقت لطیف بھی ہے اور کثیف بھی، محدود بھی ہے اور غیر محدود بھی، مادی بھی ہے اور روحانی بھی، اصل بھی ہے اور خواب بھی، موجود بھی ہے اور معدوم بھی، کثرت کی بھی مثال ہے اور وحدت کی بھی، درس نیاز بھی ہے اور درس بے نیازی بھی، الغرض فضائے عالم میں ایک ماوراء عالم کی حقیقت ضرور پائی جاتی ہے اور شاعر کا مذہب اسی عالمگیر حقیقت کا احساس ہے کبھی وہ اسے حسن کہتا ہے اور کبھی عشق کہہ دیتا ہے۔

کافرِ عشقم مسلمانی مرا درکار نیست

جس طرح طبیعات میں مابعد الطبیعات کے جراثیم موجود ہوتے ہیں۔ اور جس طرح اخلاقیات میں فقر اور الوہیت کے عناصر موجود ہوتے ہیں اسی طرح شاعرانہ کیفیت یا حسن کے تخئیلی احساس میں وہ نوا ہائے سرمدی پنہاں ہوتے ہیں جو تصور کے رمز و کنایات کے حامل ہیں اور شاعری و تصوف میں وہی تعلق ہے جو اضطراب موسیٰ اور برق طور میں ہے۔

میں نے تصوف کے مرکزی اصول پر غور کیا ہے اور ان اصول و حقائق کا مجمل ذکر بھی بہت وقت چاہتا ہے۔ فی الحال صرف چند اصول کو لے لیجئے۔ وحدتِ وجود یا ہر ہستی کا لامحدود ہونا یا حقیقت کا زماں و مکاں سبب و علت سے معرا ہونا، اس کا شریعت و ملت بلکہ نیکی وبدی سے بے نیاز ہونا اور باوجود اس بے نیازی کے بھی ہستی مطلق کا خیر محض ہونا ان سب کو جو نسبت شاعری سے ہے اس پر غور کیجئے، حسن کا تصور آپ محدود طریقہ پر کر ہی نہیں سکتے، کیونکہ یہاں مقداری تصور کا گزر نہیں، کتنا اور کس قدر کا مفہوم حسن سے متعلق نہیں کر سکتے، حسن کا تیز احساس ہمیں لامحدود کی طرف لے جاتا ہے جتنا ہی یہ احساس تیز ہوتا جائے گا، حسن اتنا ہی ہمہ گیر نظر آئے گا۔ یہاں تک کہ تمام کائنات میں ایک ہی حسن کا لطیف اور شدید احساس اسے زماں و مکاں، سبب و علت اور تمام نفسیات سے معرا کر کے خیر محض یا عین رحمت کی شکل میں پیش کرتا ہے۔ میر کا یہ شعر سنیے ؎

جفائیں دیکھ لیاں کج ادائیاں دیکھیں

بھلا ہوا کہ تری سب برائیاں دیکھیں

یوں تو بظاہر اول سے آخر تک اس شعر میں حسن کی جفاؤں، کج ادائیوں اور برائیوں کا ذکر ہے لیکن اگر شعر کا مفہوم اس کا نغمہ ہے The music is the meaning اگر میر کے ترنم احساس تک آپ پہنچ سکتے ہیں، تو اس شعر سے جو دھڑکن آپ کے دل میں پیدا ہوتی ہے وہ خود بتا دے گی کہ ان جفاؤں، کج ادائیوں اور برائیوں کا مفہوم خیر محض ہے اور اس لب و لہجہ میں کسی کو کوسا نہیں جاتا۔

یوں تو اردو غزل میں جب تصوف کا نام آتا ہے تو ہم کو غالب یاد آتے ہیں۔ مگر اس بات پر دھیان بھی نہیں جاتا کہ غالب کا تخیل بہت خود غرض تخیل ہے اور غالب کا وجدان خود پرست وجدان ہے۔ غالب نے کسی ماورائی حقیقت سے کبھی بحث نہیں کی۔ غیب و شہود، قطرہ، دجلہ، جز و کل، ہستی و نیستی، حق و باطل، نوا ہائے راز، پردۂ ساز وغیرہ کی جو کچھ اور جیسی کچھ ترجمانی کی ہو لیکن یہ تعینات کی حدود سے آگے نہیں بڑھتی۔ غالب کے وجدان و تخئیل میں نہ سپردگی تھی اور نہ وہ گداز جس کی بدولت مجاز میں حقیقت کا چٹیلا احساس ممکن ہوتا ہے۔ غالب کا شعر ہے ؎

دہر جز جلوۂ یکتائی معشوق نہیں

ہم کہاں ہوتے اگر حسن نہ ہوتا خود بیں

اس شعر کا کہنا لیکن اس میں وہ والہانہ سپردگی کہاں، وہ مانوس و معصوم احساس کہاں، جو تصوف و تغزل کو ایک کر دیں۔ غالب نے کیا نہیں کہا۔ لیکن ایسے شعر کبھی نہیں کہے۔

پرستش کی اے بت یہاں تک تری

نظر میں سبھوں کی خدا کر چکے

(میر)

داغ دیکھے تھا کھڑا لالۂ صحرائی کا

زور عالم نظر آیا ترے سودائی کا

(غالباً مصحفی)

غالب نے صرف ایک غزل اس رنگ میں لکھی ہے جس کا مطلع ہے۔

دل ناداں تجھے ہوا کیا ہے

آخر اس درد کی دوا کیا ہے

اس غزل کے آخر میں چند اشعار جو قطعہ بند ہو گئے ہیں البتہ اس معصوم تخئیل کا پتہ دیتے ہیں، جہاں تصوف و تغزل ایک ہو گئے ہیں۔ غالب بڑا کامیاب شاعر ہے لیکن غالب کو اس کامیابی کی بڑی مہنگی قیمت ادا کرنی پڑی ہے تبھی تو وہ میر کے اشعار پر اپنا مفرورسر دھنتا تھا۔ میں بچپن ہی سے اس بدعت کے خلاف بغاوت کرتا ہوں، جو عاشقانہ اشعار کو کھینچ تان کر معرفت اور عشقِ حقیقی بتا دیا کرتی ہے۔ لیکن شروع ہی سے مجھے کو وجدا نیات و جمالیات میں وہ معنویت ملتی رہی ہے جہاں مجاز اور حقیقت ایک ہو جاتے ہیں۔ ناسخ کو تصوف سے کیا غرض لیکن اس شعر کی کیفیات کو اپنی روح میں ڈوبنے دیجئے اور پھر سوچئے کہ آپ کہاں ہیں۔

جنوں پسند مجھے چھاؤں ہے ببولوں کی

عجب بہار ہے ان زرد زرد پھولوں کی

بغیر معرفت و حقیقت، اور ازل و ابد وغیرہ کے ذکر کے ایک خاص محویت اور روحانی کیفیت اس شعر سے پیدا ہوتی ہے۔

حافظ میں مجاز کا رنگ کتنا تیز ہے۔ پھر بھی وہ لسان الغیب کہلاتا ہے۔

اب چند اشعار سنئے جن میں بے واسطہ یا بالواسطہ دونوں طرح تصوف پایا جاتا ہے۔

برسوں لگی تھیں آنکھیں دروازۂ حرم سے

پردہ اٹھا تو لڑیا آنکھیں ہماری ہم سے

کیفیت چشم اس کی مجھے یاد ہے سودا

ساغر کو مرے ہاتھ سے لینا کہ چلا میں

بے نمو اور نمودار کہیں دیکھا ہے

اس قدر سادہ و پرکار کہیں دیکھا ہے

ظاہر میں تو ہیں مگر نہیں ہم

دریائے رواں نہ ہوں کہیں ہم

دکھلا دیئے لے جا کے تجھے مصر کا بازار

گاہک نہیں واں کوئی مگر جنس گراں کا

تم مرے پاس ہوتے ہو گویا

جب کوئی دوسرا نہیں ہوتا

بشر جو اس تیرہ خاکداں میں پڑا یہ اس کی فروتنی ہے

وگر نہ قندیلِ عرش میں بھی اسی کے جلوہ کی روشنی ہے

کیا فرض ہے کہ سب کو ملے ایک سا جواب

آؤ نہ ہم بھی سیر کریں کوہِ طور کی

بت کو بت اور خدا کو جو خدا کہتے ہیں

ہم بھی دیکھیں کہ تجھے دیکھ کے کیا کہتے ہیں

وہی ہے اک شعلۂ تجلی رہا جو ایمن میں سنگ ہو کر

جب اس نے اپنی نمود چاہی کھلا حسینوں پہ رنگ ہو کر

میں ترا عکس تھا اس آئینہ ہستی میں

تو نے کیا پھیر لیا منہ کہ کیا گم مجھ کو

کتنے کعبے ملے رستے میں کئی طور ملے

ان مقامات سے ہم کو وہ بہت دور ملے

اگر وہ غزل کبر سے منسوب کی جاتی ہے اور جس کا پہلا مصرعہ یہ ہے۔

ہمن ہے عشق مستانہ ہمن دنیا سے یاری کیا

اردو کی پہلی غزل ہے تو ماننا پڑے گا کہ اردو غزل کا آغاز تصوف سے ہوا۔ دکن کے شعراء نے بھی تصوف ہی سے غزل کا آغاز کیا۔ جب شاعرانہ احساس اور قوت اظہار میں خود اعتمادی پیدا ہو چلی تو اس کی ضرورت نہ رہی کہ بالارادہ معرفت کے مضامین لکھے جائیں بلکہ کفریات اور خمریات، ساقی اور شراب، زلف و رخ، یہاں تک کہ غزل کی تمام اصطلاحات میں اکثر روحانیت و معنویت کا پہلو نظر آنے لگا اور عاشقانہ اور عارفانہ شاعری کی آوازیں مل گئیں۔

اردو کے جن غزل گو شعراء میں تصوف کا عنصر تیز رہا ہے یا جنہوں نے تصوف کے قابل توجہ اشعار کہے ہیں۔ وہ میرؔ اور دردؔ، غالبؔ، آتشؔ، آسیؔ غازیپوری اور اصغر ہیں۔ تصوف سے اردو غزل کو جو کچھ نقصان ہوا یا وہ تصوف جو غزل میں محض برائے بیت رہا ہے، اس سے بحث نہیں لیکن انسان کی عظمت کا احساس، عرفان نفس اور کائنات کے روحانی پہلو کا احساس، یہ تمام باتیں غزل میں تصوف ہی کے لگاؤ سے آتی ہے۔ اقبال سے پہلے ہمارے غزل گو شعراء کے تصوف میں ایک چیز کی کمی تھی وہ یہ کہ اجتماعی زندگی، فلسفہ تاریخ اور خلقت کے ارتقاء پر تصوف کی روشنی نہیں ڈالی گئی تھی۔ اقبال نے اس کا آغاز کیا۔ کہتے ہیں ؎

باغ بہشت سے مجھے حکمِ سفر دیا تھا کیوں

کارِ جہاں دراز ہے اب میرا انتظار کر

اقبال کے متعدد اشعار واقعیت اور روحانیت کے اس امتزاج کا پیش خیمہ ہیں جس لئے انسانیت آج گوش بر آواز ہے۔

کسی کا قول ہے کہ رائے دماغ کے لئے افیون ہے Opinion is the opium of mind

اردو غزل پر جب رائے زنی کی جاتی ہے تو اکثر اس قول کی تصدیق ہوتی ہے۔ اس افیون کا اثر اس وقت اور بھی تیز ہو جاتا ہے جب کسی رائے میں سچائی سے بھی لوگ یہ کہہ کر اپنے دل و دماغ کی تشفی کر لیا کرتے ہیں کہ غزل میں ایک ہی قسم کی دقیانوسی باتیں شروع سے اب تک دہرائی جا رہی ہیں۔ وہی حسن و عشق، گل و بلبل، ساقی و صہبا، رقیب و قاصد، ہوش و جنون، دیر و حرم اور تصوف وغیرہ کی باتیں وہی مصرعہ طرح اور وہی ردیف وقافیہ مطلع و مقطع وغیرہ غرضکہ فرسودہ و پامال جھوٹے اور مبالغہ آمیز خیالات ان کے سوا ہوتا ہی کیا ہے۔

جو لوگ غزل کے متعلق رائے دینے میں اپنے دل و دماغ کی خلش ایسی آسانی سے دور کرتے ہیں۔ ان سے اگر اس بات کا مطالبہ کیا جائے کہ وہ غزل پر رائے زنی کرنے میں ذرا احتیاط سے کام لیں تو بگڑ جائیں گے۔ ایسے حضرات سے پوچھنا چاہئے کہ مثلاً دیوان غالب میں عام موضوع کے لحاظ سے حسن و عشق، قاتل وبسمل، گل و بلبل، وصل و ہجر، صحرا و زندان اور خمریات و کفریات کے علاوہ کیا ہے۔ لیکن پھر بھی دیوان غالب پر جان دیتے ہیں اس کے اشعار پر سر دھنتے ہیں، اس کے علاوہ میر، سودا، درد، جرأت، مصحفی، آتش، داغ اور اقبال وغیرہ کے اشعار نہیں ہیں لیکن ان کو سن کر کیا ہم بغیر متاثر ہوئے رہ سکتے ہیں۔

محبت میں اک ایسا وقت بھی آتا ہے انسان پر

ستاروں کی چمک سے چوٹ لگتی ہے رگ جاں پر

یہ گمراہی یہ خود نا آگہی اچھی نہیں غافل

کسی وادی میں کھو جا اور اپنی جستجو کر لے

رنج و غم ہجر کے گزر بھی گئے

اب تو وہ دھیان سے اتر بھی گئے

بہاریں ہم کو بھولیں یاد اتنا ہے کہ گلشن میں

گریباں چاک کرنے کا بھی اک ہنگام آیا تھا

جھٹپٹا وقت ہے بہتا ہوا دریا ٹھہرا

صبح سے شام ہوئی دل نہ ہمارا ٹھہرا

حسن کا زور طلب ہے کہ بھری محفل میں

ہم سے چھینے لئے جاتا ہے ہمیں کو کوئی

یہ سب اشعار غزلوں سے لئے گئے ہیں اور میر و غالب کے ایسے اساتذہ کے نہیں ہیں۔ لیکن ان میں حقیقی شاعری نہیں ہے۔ ناگزیر تاثرات سے انکار اور اپنے وجدان سے لڑنا نہ داد سخن ہے نہ سخن فہمی۔ میں نے خود دیکھا ہے کہ جن لوگوں نے یہ ثابت کرنے یا محض دہرانے میں دفتر کے دفتر سیاہ کر دئے ہیں کہ غزل میں محض جھوٹ اور نقالی ہے۔ جب غزل کے کچھ اشعار سنتے ہیں تو تلملا اٹھتے ہیں۔ ایک قابل غور امر یہ ہے کہ غزل کو محض نقالی بتانے والے سب سے کم اس بات کی صلاحیت رکھتے ہیں کہ وہ کسی اچھے غزل گو کے کلام کا سر چشمہ یا اس کا ماخذ بتا سکیں۔ مثلاً میں کہتا ہوں کہ حالی کی غزل گوئی جرأت سے ماخوذ ہے اور حالی کے کچھ خاص اشعار جرأت کے اشعار کی بدلی ہوئی شکلیں ہیں تو بہت سے لوگ چونک پڑیں گے اور کیا عجب کہ حالی خود چونک پڑتے، لیکن ذرا ٹھہرئیے حالی، شیفتہ کی تقلید بھی کرتے تھے اور شیفتہ کے شاگرد بھی تھے اور شیفتہ، مومن کے شاگرد رشید تھے اور مومن نے جرأت کے رنگ کی تقلید کرتے ہوئے اسے اور لطیف اور پر معنیٰ بنا دیا ہے۔ ان تاریخی واقعات کو نہ بھولئے۔ اب دیکھئے کہ جرأت کی معاملہ بندی لطیف سے لطیف تر ہو کر حالی کے ان اشعار میں دوسرا جنم لیتی ہے یا نہیں ؎

جس کو غصے میں لگاوٹ کی ادا یاد رہے

آج دل لے گا اگر کل نہ لیا یاد رہے

یارب اس اختلاط کا انجام ہو بخیر

تھا ان کو مجھ سے ربط مگر اس قدر کہاں

بیقراری تھی سب امید ملاقات کے ساتھ

اب وہ اگلی سی درازی شب ہجراں میں نہیں

کر دیا خوگر جفا تو نے

خوب ڈالی تھی ابتدا تو نے

مجھ کو کس سے خفا کیا اے رشک

ایک عالم کو خوش کیا تو نے

عشق کہتے ہیں جسے سب وہ یہی ہے شاید

خود بخود دل میں ہے اک شخص سمایا جاتا

اب وہ اگلا سا التفات نہیں

جس پہ بھولے تھے ہم وہ بات نہیں

اس کے جاتے ہی ہوئی کیا مرے گھر کی صورت

اب وہ دیوار کی صورت ہے نہ در کی صورت

لسان الغیب کا یہ مصرعہ تو سیکڑوں برس سے ہم آپ سنتے آ رہے ہیں کہ ’’ببیں تفاوت رہ از کجاست تابہ کجا۔ ‘‘میں کہوں گا کہ تفاوت رہ کے ساتھ ساتھ تسلی رہ کو بھی دیکھئے۔ لٹریچر آواز ہائے باز گشت کے سلسلوں کا نام ہے Literature is a series of echoes

اردو غزل میں الفاظ اور معنی کی تکرار جسے نقالی کہتے ہیں، تکرار خلاقانہ کا تسلسل ہے اور تکرار میں تجدید کا راز پنہاں ہے۔

غرض کہ اردو غزل گوئی پر جو مختلف دور گزرے ہیں وہ ایک معنوی حقیقت اور ایک معنوی رتقاء کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ ولی دکنی کا دور، میر اور سودا سے پہلے کا دور، میر اور سودا، درد اور سوز کا دور، جرأت، انشاء اور مصحفی کا دور، غالب اور مومن اور ذوق کا دور، ناسخ اور آتش کا دور، امیر اور داغ کا دور، ریاض اور جلیل کا دور، حالی اور شاد عظیم آبادی کا دور، عزیز، صفی، محشر کا دور اور حسرت، اصغر، جگر، فانی اور اقبال کا دور محض زبان اور محاورہ کی چیزیں نہیں ہیں۔ روح تغزل کا انقلاب اس سے بھی زیادہ گہرا رہا ہے اور متاخرین یا دور حاضر کے شعراء کے کچھ اشعار پچھلی صدیوں کی آواز بازگشت معلوم ہوتے ہیں۔ مثلاً ایک قدیم شاعر کا یہ شعر لیجئے۔

ناحق ہم مجبوروں پر یہ تہمت ہے مختاری کی

جا چاہیں ہیں سو آپ کریں ہیں ہم کو عبث بدنام کیا

لیکن کیا فانی کے یہ اشعار بیسویں صدی کے پہلے ممکن تھے۔

فانی ترے عمل ہمہ تن جبر ہی سہی

سانچے میں اختیار کے ڈھالے ہوئے تو ہیں

جسم آزادی میں پھونکی تو نے مجبوری کی روح

خیر جو چاہا کیا اب یہ بتا ہم کیا کریں

حالی کی سلامت روی صرف اس لطیف شوخ اور سنجیدہ معنویت تک رہتی ہے کہ:

کاش اک جام بھی سالک کو پلایا ہوتا

اک چراغ اور سر راہ جلایا جاتا

اقبال کہتے ہیں :

ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں

ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں

کارواں تھک کر فضا کے پیچ و خم میں رہ گیا

مہر و ماہ مشتری کو ہم عناں سمجھا تھا میں

پہلے کا شاعر کہہ گیا ہے :

زمانہ کے ہاتھوں سے چارہ نہیں ہے

زمانہ ہمارا تمہارا نہیں ہے

اقبال کہتے ہیں :

’’زمانہ با تو نہ ساز و تو با زمانہ سیتز‘‘ بہرحال اس مجمل اور مختصر بحث میں زیادہ مثالوں کی گنجائش نہیں۔

دور حاضر کی غزل گوئی پر جب نظر پڑتی ہے۔ تو پہلے مجمل طور پر یہ خیال ہوتا ہے کہ اب سے پہلے اردو غزل میں عام طور پر جو رونا دھونا رہا ہے اس کی جگہ ہمت افزا اور نشاط افزا جذبات لیتے جا رہے ہیں اور غزل ’’نواسنج فغاں ‘‘ ہونے کے بدلے اب خوشی کا ترانہ بن گئی ہے مگر میں یہ کہوں گا کہ پچھلی غزل گوئی اور اب کی غزل گوئی میں بھی غم و خوشی، افسردگی و شگفتگی، نشاط ویاس دونوں کے عناصر کافی موجود ہیں۔ مثلاً بحیثیت مجموعی دہلی کی غزل گوئی غم انگیز اور لکھنؤ کی نشاط انگیز ہے۔ خود دہلی میں میر و سودا، غالب و ذوق، ظفر و داغ کے رنگ کلام اور رنگ طبیعت میں فرق ہے اور لکھنؤ میں جرأت، آتش، انشاء ایک طرف ہیں تو مصحفی اور جذباتی اسکول کے شعراء مثلاً عزیز اور محشر دوسری طرف ہیں۔ اگر یہ ہے تو آج کی غزل گوئی اور پچھلی غزل گوئی میں فرق کیا ہے۔ یہ فرق صرف غم و خوشی کا فرق نہیں ہے بلکہ ایک جدید معنویت، نفسیاتی اورفلسفیانہ دقت نظر اور ایک نئی ذہنیت کا سوال ہے۔ غم و خوشی یاس و نشاط، عاشقانہ احساسات، تصوف اور حیات کے عالمگیر مسئلے پہلے بھی غزل کے عناصر تھے اور اب بھی ہیں لیکن ان سب کا ایک نیا شور دور خاص کی غزل میں پایا جا رہا ہے۔

غزل کیا اک شرارِ معنوی گردش میں ہے اصغر

یہاں افسوس گنجائش نہیں فریاد و ماتم کی

شاعری کا مطلب یہ نہیں کہ فریاد و ماتم غزل میں نہ ہو بلکہ محض رسمی سینہ کوبی اور رونے دھونے کی گنجائش نہیں اسی طرح تصوف اور فلسفہ میں، عشق و حسن کی شاعری میں اور ٹھیٹھ زندگی کی شاعری میں پرانی انفرادیت کی جگہ ایک نئی انفرادیت اور اجتماعی زندگی کے پرانے احساس کی جگہ ایک نیا احساس آج کل کے غزل گو شعراء کو ہو رہا ہے۔ بہرحال واقعیت ہو یا حقیقت، ظاہری زندگی ہو یا معنوی، مجہولیت ہو یا عملیت اردو غزل میں ان میں سے ہر ایک جا جنم ہو رہا ہے اور نئے رنگ روپ سے نشو و نما ہو رہا ہے۔ رسمیت مٹ رہی، سچی کاوش و تلاش اور زندگی کے نئے احساس اور وجدان اور جمالیات کی ایک نئی غرض و غایت کا پتہ موجودہ اردو غزل سے مل رہا ہے۔ سماجی اور سیاسی زندگی میں جو تبدیلیاں ہو رہی ہیں، عقلیت اور وجدانیت میں جو تبدیلیاں ہو رہی ہیں، نئی انسانیت کی جو اسپرٹ رونما ہو رہی ہے، کائنات اور حیات کے پرانے احساس جن عنوانوں سے نئے احساس بنتے جا رہے ہیں۔ سائنس، جدید سوشیالوجی، جدید فلسفہ، جدید فضا اور ماحول مغرب اور مشرق کا تصادم اور ان کا امتزاج جس طرح غزل میں رونما ہوا ہے اس کی نمایاں مثال اقبال کی غزلیں ہیں اور یہ اثر بال جبرئیل اور ضرب کلیم میں اتنا تیز نمایاں ہے کہ اقبال کی غزلیں اردو شاعری میں انقلاب کا حکم رکھتی ہیں اور یوں تو دور حاضر کی غزلوں میں روح اور مزاج اس قدر بدلے ہوئے ہیں کہ فوراً پتہ چل جاتا ہے کہ یہ غزلیں آج کی ہیں کل کی نہیں۔ آئندہ کی غزلوں میں یہ ضروری نہیں کہ اقبال یا کسی بڑے شاعر کی اندھی تقلید ہو لیکن اثر ان کا ضرور رہے گا اور قوتِ ارادی کے ساتھ جذبات کا ایک ایسا حیرت انگیز اتحاد ہو گا کہ آج ہم اس کا پورا اندازہ نہیں کر سکتے۔ یہ کہنا کافی نہیں کہ آئندہ کی غزل میں ہولناک جذبات نہ ہوں گے یا معاملہ بندی نہ ہو گی یا غزل مجلسی چیز ہونے کے بجائے عملی چیز بن جائے گی۔ میرا خیال ہے کہ ایک طرف تو آئندہ کی غزل میں سیکڑوں نئے عنوانات سے حیات اور کائنات پر تبصرہ ہو گا اور دوسری طرف صوفیانہ عاشقانہ اور عارفانہ غزل کے پرانے موضوعات آئندہ کی ذہنیت سے ہم آہنگ ہو کر نئے انداز سے غزل میں آئیں گے۔

اس میں شک نہیں کہ مسلسل نظمیں مختلف اصولوں سے اردو شاعری میں داخل ہو جائیں گی۔ اردو شاعری محض غزل پرستی تک محدود نہ رہے گی لیکن غزل جب قدیم لفظ پرستی اور سہل پسندی سے آگے بڑھ کر ایک نئی جذباتی اور داخلی زندگی کا ترجمانی کرے گی تو اردو غزل ان نوا ہائے سرمدی سے حیات انسانی مرتعش کر دے گی جو ابھی پردہ ساز میں ہے۔ غزل کی چاہت اس کا اختصار اس کی نغمگی اس کی مرکزیت غزل کے روشن مستقبل کی خبر دیتے ہیں۔ یہ صحیح ہے کہ اب تک عالم گیر شہرت مسلسل نظموں کی ہوتی ہے۔ مثلاً ہومر، ورجل، ڈانٹے، و المیک، ویاس اور فردوسی کی نظموں کو لیکن ہم یہ کیوں بھول جائیں کہ وید مقدس انجیل اور قرآن پاک کا اسلوب نظموں کی بہ نسبت غزلوں سے زیادہ قریب ہے۔ مستقبل میں جس مقام پر نظموں کی آواز ختم ہو گی اسی مقام سے غزل کے سرمدی نغمے شروع ہوں گے۔ بڑی بات ہمیشہ طویل اور مسلسل نہیں ہوتی۔ اور جس طرح غزل بدل جائے گی اسی طرح سننے والوں اور سمجھنے والوں کا مذاق بھی لطیف اور بلند ہو جائے گا، غزل کا مستقبل اس سے زیادہ واضح طور پر اگر ہم جاننے کی کوشش کریں گے تو ہماری حالت اس مؤذن کی سی ہو گی جو اذان دیتا ہوا ایک طرف کو بھاگا جا رہا تھا۔ یہ دیکھنے کے لئے کہ اس کی آواز کتنی دور پہنچتی ہے۔

٭٭٭

 

 

اردو کی عشقیہ شاعری کی پرکھ

 

                ………فراقؔ گورکھپوری

 

جنسی یا شہوانی محرکات کے شعر میں اظہار کو عموماً عشقیہ شاعری سمجھا جاتا ہے۔ لیکن جس طرح کوئلے کو ہیرا نہیں سمجھا جاتا (اگرچہ کوئلہ ہی مدّت دراز میں آفتاب کی تابندگی اپنے اندر جذب کر کے ہیرا بن جاتا ہے ) اسی طرح شہوانی یا جنسی جذبہ جب تک وہ عشق کے عناصر اپنے اندر جذب نہ کرے عشقیہ جذبہ نہیں کہلا سکتا۔ اسی طرح محض جنسی یا شہوانی محرکات کا شعر کے سانچے میں ڈھل جانا عشقیہ شاعری نہیں ہے۔ شہوانی یا جنسی اشعار اور عشقیہ اشعار میں تمیز کر سکنا، تنقید کا بڑا نازک و اہم مسئلہ ہے۔ اگر کوئی مجھ سے پوچھے کہ یہ فرق کہاں موجود ہوتا ہے تو میں کہوں گا کہ بسا اوقات یہ فرق شعر کے لہجہ میں یا شعر کے صوتی فضا میں موجود ہوتا ہے۔ مثلاً غالبؔ کا یہ شعر بادی النظر میں عشقیہ شعر سمجھا جائے گا۔

ابن مریم ہوا کرے کوئی

میرے دکھ کی دوا کرے کوئی

لیکن غالب کے اس شعر کا لہجہ حقیقی معنی میں عشقیہ شعر کا لہجہ نہیں ہے۔ غالب کا شعر تیز و طرار قسم کا شعر ہے۔ اس کے مقابلے میں اس مضمون کو جب یوں ادا کیا جائے :

اک چیز ہے دنیا میں تقدیر محبت بھی

سب کہنے کی باتیں ہیں اعجاز ومسیحائی

تو شعر کی فضا عشقیہ شاعری کی فضا ہو جاتی ہے۔ یا غالب کی اسی غزل کا یہ شعر ہے۔

چال جیسے کڑی کمان کا تیر

دل میں ایسے کہ جا کرے کوئی

حقیقی عشقیہ شاعری کا شعر نہیں ہے، اور اس کے مقابلہ میں میرؔ کا یہ شعر۔

کوئی نا امیدانہ کرتے نگاہ

سو تم ہم سے منھ ہی چھپا کر چلے

حقیقی عشقیہ شاعری ہے۔ کسی کا شعر!

ادھر آؤ زلفوں کے لٹکانے والے

مرے دل کو گلیوں میں اٹکانے والے

لیکن اس مضمون کا یا اسی موضوع پر اگر آپ کو عشقیہ شعر کی تلاش ہے تو ہم آپ کو غالب کا یہ شعر سنائیں گے۔

تو اور آرائشِ خمِ کاکل

میں اور اندیشہ ہائے دور دراز

داغؔ کا یہ شعر بھی غالب کے مندرجہ بالا شعر کے مقابلے میں عشقیہ شعر کہلانے کا مستحق نہیں۔

تم کو آشفتہ مزاجوں کی خبر سے کیا کام

تم سنوارا کرو بیٹھے ہوئے گیسو اپنا

حسرتؔ موہانی کے یہ اشعار۔

اے عشق کی بیباکی کیا تو نے کیا ان سے

جن پر انہیں غصہ ہے، انکار بھی حیرت بھی

خود عشق کی گستاخی سب تجھ کو سکھا لے گی

اے حسنِ حیا پرور، شوخی بھی شرارت بھی

عشقیہ اشعار ہیں لیکن بلند نہیں۔

معاملہ بندی اور ادا بندی کی شاعری ہوتی ہے بہت دلکش لیکن آفاقی وسعتیں اس میں نہیں ہوتیں۔ دنیا کے بڑے عشقیہ شاعروں کے یہاں معاملہ بندی اور ادا بندی کے اشعار ان کے کلام کے اہم ترین اجزا نہیں ہیں۔ اب سے تیس برس پہلے کی بات ہے۔ ابھی میں سنِ شعور کو پہنچا ہی تھا کہ نہایت شد و مد کے ساتھ کچھ لوگوں نے نظام رامپوری کا یہ مشہور عالم شعر مجھے سنایا۔

انگڑائی بھی وہ لینے نہ پائے اٹھا کے ہاتھ

دیکھا جو مجھ کو چھوڑ دئے مسکرا کے ہاتھ

اور انورؔ دہلوی کا یہ شعر بھی مندرجہ بالا شعر سے کم مشہور نہیں۔

نہ ہم سمجھے نہ آپ آئے کہیں سے

پسینہ پوچھئے اپنی جبیں سے

اور ایک مدت تک میں بھی ان اشعار کا کلمہ پڑھتا رہا۔ لیکن میرے دل میں ان اشعار کے متعلق ایک دبا دبا چور تھا۔ میرا وجدان ان اشعار سے جہاں ایک طرف متکیف ہوتا تھا وہاں دوسری طرف کچھ مجروح بھی ہوتا تھا۔ لیکن اس نا آسودگی کا سبب ذرا بعد میں سمجھ میں آیا کہ دونوں اشعار میں ان کے محاسن کے باوجود کچھ کمی بھی تھی اور وہ یہ کہ معشوق اور معشوق کی حالت سے ہمدردی وہم آہنگی کا جذبہ یا احساس ان اشعار میں نہیں ہے، بلکہ ہجوِ ملیح اور خفیف سا انداز واسوخت کا پیدا ہو گیا ہے جہاں تک پہلے شعر کا تعلق ہے میں ایک بات اور بھی کہہ دوں اور وہ یہ معشوق کے لئے ضمیر صیغہ غائب کو جمع میں لانا معشوق سے مغائرت یا غیریت کا اظہار ہے۔ یہ طرز بیان اہل لکھنؤ کی چیز ہے اور میری نظر میں پسندیدہ نہیں۔

میر کے بہترین عشقیہ اشعار کا تصور کیجئے اور غالب و مومن کے بھی ان اشعار کا تصور کیجئے جو ان کے کلام میں عشقیہ شاعری کے شہ پارے ہیں۔ اس کے ذرا متوازن دل و دماغ سے آتش کے بہترین عشقیہ اشعار یاد کیجئے۔ اس کی

تارِ تارِ پیرہن سے آ رہی ہے بوئے دوست

والی غزل یا نکل چلی ہے بہت پیرہن سے بو تیری

والی غزل یا آئینہ سینۂ صاحب نظراں ہے کہ جو تھا

والی غزل کو سامنے رکھئے تو معلوم ہو گا کہ اگر آتش نے اپنے بہترین رنگ کی عشقیہ شاعری کے امکانات کو کچھ اور چمکایا ہوتا اور اپنے رنگ میں ساٹھ ستر بہترین عشقیہ غزلیں کہہ ڈالتا تو بلند تنقید کی نظر میں غالباً آتش، غالب اور مومن بلکہ میرؔ سے بھی بڑا عشقیہ شاعر کہلائے جانے کا مستحق ہو جاتا۔

میرؔ و مومنؔ کی عشقیہ شاعری کی عظمتیں مسلّم، لیکن دونوں کے کلام میں مفکرانہ اور رچے ہوئے سوز و سازِ نشاط کا فقدان ہے۔ غالب کے یہاں نشاط کا عنصر کہیں کہیں جگمگاتا ہوا ضرور نظر آتا ہے۔ اور ’’مدت ہوئی ہے یار کو مہماں کئے ہوئے ‘‘ والی لافانی غزل کے انداز میں غالب سے اگر تیس چالیس غزلیں اور ہو گئی ہوتیں تو اردو کی عشقیہ شاعری نہ جانے کہاں پہنچ گئی ہوتی۔ یہ غزل اردو ’’ختم ہے الفت کی تجھ پر پردہ داری ہائے ہائے ‘‘ والی غزل غالب کی عشقیہ شاعری کے بہترین شاہکار ہیں۔ ان میں ایک نشاطیہ رنگ کا شاہکار ہے اور دوسری المیہ رنگ کا۔ غالب کی ہر دلعزیزی اور اس کی مسلمہ مقبولیت، سدا بہار چیزیں ہیں۔ لیکن خالص عشقیہ شاعری کا بہت بڑا شاعر غالب نہیں ہے۔ غالب کے یہاں معیاری نظر سے دیکھنے پر کئی چیزوں کی کمی نظر آئے گی۔ اگرچہ ایسا کہتے ہوئے دکھ ہوتا ہے۔ لیکن تنقید کو کبھی کبھی شاعر اور نقاد دونوں کے ساتھ بیدردی برتنی پڑتی ہے کہ عموماً محبوب کے متعلق غالب کا لہجہ غیریت اور استہزا کے عیب سے پاک نہیں رہ سکا ہے، کسی اچھے سے اچھے مذاق رکھنے والے آدمی سے آپ غالبؔ کی شاعری کے بارے میں رائے پوچھیں تو وہ وجد آفریں لہجے میں غالب کا ذکر کرے گا اور ایسا کرنے میں حق بجانب ہو گا۔ لیکن اگر اسی شخص سے آپ اردو کے بلند ترین اور بہترین عشقیہ اشعار سنانے کو کہیں تو وہ میرؔ ومومنؔ کے اشعار سنانے لگتا ہے اور ممکن ہے کہ غالبؔ کے صرف دو ہی تین اشعار پر اکتفا کرے اور اس کا بھی احتمال ہے کہ غالب کا ایک شعر بھی نہ سنائے۔

عشقیہ شاعری کے معاملے میں آفاقی کلچر کی نظر بہت بلند ہوتی ہے اور آفاقی کلچر کے مطالبے بڑے مطالبے ہوتے ہیں۔ نظم کی عشقیہ شاعری ہو یا غزل کی، آفاقی کلچر کی کھوٹی پر بالکل بالکل ناقص تو ثابت نہ ہو گی لیکن بلند ترین چیز بھی ثابت نہ ہو گی جو لوگ اردو سے دلچسپی رکھتے ہیں اور عشقیہ شاعری کے تمام ضروری محاسن کو جانیں۔ یہ بھی عجیب بات ہے کہ ہماری تمام شاعری کا نوے فی صد جنسی، شہوانی یا عشقیہ ہے۔ اور انگریزی، فرانس اور جرمنی کی شاعری کا صرف دسواں حصہ جنسی یا عشقیہ ہے۔ انگریزی زبان کے کئی چوٹی کے شاعروں نے عشقیہ شاعری بہت ہی کم کی ہے پھر بھی یہ حقیقت ہمیں بے چین کر دینے کے لئے کافی ہے کہ بحیثیت مجموعی مغرب بلند ترین عشقیہ شاعری اردو کی بہترین عشقیہ شاعری سے بہت اعلی و ارفع ہے۔

اردو شاعری نے ہندوستان میں جنم لیا ہے، یہیں پنپی اور یہیں پروان چڑھی لیکن کالی داس، بھربھوئی، بھرتھری اور دوسرے سنسکرت شعراء کی عشقیہ شاعری نے جن کے مذاقوں کو رچایا ہے، ودیا پتی اور ہندوستان کی دیگر زبانوں کے شعرا کی عشقیہ شاعری، ٹیگور کی عشقیہ شاعری نے جن کے وجدان کو متاثر کیا ہے، شیا، ساوتری، شکنتلا، ومینتی، رادھا، تارا، سلوچنا، پاروتی کے جگمگاتے ہوئے تصورات نے جن کے دل و دماغ کو منور کیا ہے، جنہوں نے ہندوستان کی عشقیہ شاعری میں سؤرگ کے سنگیت سنے ہیں، ان کے سامنے ہم اردو کی بہترین عشقیہ شاعری پیش کرتے ہوئے ہچکچاہٹ محسوس کرتے ہیں۔ ایسا کیوں ہے ؟ یہاں نقاد کا فرض محض ادبیت یا لوازمِ فن سے گزر کر زندگی کے ان مسلمات سے اپنے آپ کو روشناس کرنا ہوتا ہے جن کے بغیر بنیادی تنقید ممکن نہیں۔

جنسی کشش اور جنسی رجحانات میں جب تک جذبۂ پائندگی جذباتی سوز و ساز، نرمی، مانوسیت اور معصومیت، حیرت واستعجاب، سپردگی، وجدانی محویت اور ایک احساس طہارت کے عناصر گھل مل نہیں جائیں گے اس وقت تک تخیل میں جلاوت اور وہ عنصری طہارت پیدا نہیں ہو گی جو بلند پایہ عشقیہ شاعری کو جنم دیتی ہے اور غم و محبت کی کسکس میں خیر و برکت کی وہ صفت بھی پیدا ہو گی جس کے بغیر رس جس یا پرسادگن، پایا جائے گا، جہاں غم و نشاط کا اتحاد ہوتا ہے اور جو دنیا کی بلند پایہ عشقیہ شاعری کی روح رواں ہے۔

ہندوستان کی روح نے صدیوں کی ریاضت کے بعد وہ خلاقانہ نری اور تصور کو، اس کی دیویت کو اس کی انسانیت کو جنم دیا۔ ہندوستان کے عشقیہ کلچر کی معراج گھر کے اس تصور میں نظر آتی ہے جہاں عورت گھر کی لکشمی ہے۔ اس سے عورت کے تصور میں جو ٹھنڈک اور جگمگاہٹ ہے وہ دنیا بھر کی عشقیہ شاعری میں نہیں ملتی۔ محبوب کے ایک معیاری اور عینی تصور سے اردو کی بہترین عشقیہ شاعری یکسر مجروح نہیں لیکن اردو شاعری کے کلچری پس منظر اور کلچری روایات میں وہ نرمی، وہ پاکیزگی، وہ رچاؤ، وہ دوشیزگی اور پختگی نہیں ہے جو سنسکرت ادب کے پس منظر اور کلچری رایتوں میں نظر آتی ہے۔ جو ہندو شعراء اردو غزل یا اردو نظم کہنے کی طرف مائل ہوئے وہ ہندو کلچری روایات اور ان روایات کی معنویت سے بہت کچھ بے بہرہ تھے۔ اور اگرچہ اردو کے ہندو شعرا کے کلام میں باوجود تمام خرابیوں اور خامیوں کے ایک سنجیدگی ہمیں ضرور ملتی ہے۔ لیکن اردو کے یہ ہندو شعرا اردو شاعری ہی کے کلچری پس منظر اور کلچری روایات کو اختیار کر چکے تھے اور اس لئے اردو کی عشقیہ شاعری میں ان ہندو شعرا نے کوئی ایسی خلاقانہ آواز نہیں بھری، جو ہزار برس سے سنسکرت ادب میں اور ایک حد تک ہندی شاعری میں گونجی ہوئی تھی۔ ورنہ مجھے یہ کہنے میں تامل نہیں کہ اردو نظم و غزل میں ہندو شاعر وہ نوائے سرمدی پیدا کر دیتاکہ غالب و میر بھی چونک پڑتے۔ ہاں تو اردو شاعری میں گھر کا تصور اور عورت کا تصور بلکہ کائنات و حیات کا تصور کمزور اور ناقص ہونے کے سبب سے اردو کی عشقیہ شاعری بہت کچھ ہوتے ہوئے بھی اپنے اندر بہت کچھ کمی رکھتی ہے۔ ایک وجدانی و جمالیاتی احساس کبھی کبھی خوش نصیب لمحوں میں اردو شاعروں کو ضرور ہاتھ آ جاتا تھا لیکن مناظر قدرت مادی اور عنصری کائنات، گھریلو اور سماجی زندگی کی جزئیات زندگی کے بھرپور اور ٹھوس حصوں اور پہلوؤں کو یہ وجدانی احساس بہت کم چھوتا ہے اور بسا اوقات ایک متصوفانہ حال و قال کی چیز ہو کر رہ جاتا ہے۔ جس نرم معجزہ سے رابندر ناتھ ٹیگور‘‘، ’’ پنگھٹ‘‘، ’’آنگن‘‘، ’’ گھر کے چراغ‘‘ اور زندگی کی چھوٹی چھوٹی تفصیلات کو عشقیہ جذبات سے مملو کر دیتے ہیں، جو نرم پنکھڑیاں ان کے ہر مصرع میں کھلتی ہوئی نظر آتی ہیں، یہ باتیں ہندوستان کی عشقیہ شاعری کی پرانی روایتوں کی طرف اور اردو عشقیہ شاعری کے نئے امکانات کی طرف اشارہ کرتی ہیں، گذشتہ دو تین برسوں کے اندر اردو کی عشقیہ نظموں اور غزلوں میں ہندوستان کی روح مجھے سرایت کرتی ہوئی نظر آتی ہے اور اگر اردو کی عشقیہ شاعری میں اس کیمیائی کا عمل کا سلسلہ جاری رہا تو اس بات کا بہت امکان ہے کہ رچے ہوئے دل و دماغ کے ہندو جو اب تک اردو کی عشقیہ شاعری میں نمایاں حصہ نہیں لے سکے تھے وہ اپنی پوری اکثریت کے ساتھ اپنے مسلمان ہمنواؤں کی آواز پر آوازیں دینے لگیں گے اور اس طرح اردو کی عشقیہ شاعری میں ایک ایسے دور کا آغاز ہو گا جس پر رحمت کے فرشتے سدا بہار بھولیں برسائیں گے۔

اب اردو کی عشقیہ شاعری سے معشوق کے متعلق ایک انتقامی جذبے، مغائرت کے لہجے اور واسوخت کے انداز کا دور ختم ہو رہا ہے۔ امرد پرستانہ محبت بھی مستقبل کی اردو شاعری میں کرختگی کے بجائے جیوں ساتھی کا نرم تصور پیدا کرتی جائے گی۔ لیکن اردو کی عشقیہ شاعری کے محرک صرف امرد پرستانہ جذبات ہی رہیں گے۔ عورتوں کا پردہ اٹھنے دیجئے، صحیح تربیت کے ساتھ مہذب فضا میں عورتوں اور مردوں کو ملنے دیجئے بہت سے غلط سماجی بندھن ٹوٹنے دیجئے، شادی بیاہ معاملے میں اور گھر میں داخلی اور خارجی رکاوٹوں کو دور ہونے دیجئے جب ہم یہ کہہ سکیں گے کہ ہم ماضی کے نہیں ہیں لیکن ماضی ہمارا ہے۔ المیہ اور طربیہ کے بڑے تصورات کو ہمارے شعرا کے وجدان میں آنکھیں کھولنے دیجئے۔ اس وقت اردو کی نئی عشقیہ شاعری کی آواز میں وہ نرم دمک پیدا ہو جائے گی جو شبنم سے دھلی ہوئی صبح میں ہوتی ہے اور جو گھر کی لکشمی کے ہاتھوں جلائے ہوئے گھر کے چراغ میں ہوتی ہے۔ عشقیہ شاعری کی پرکھ میں ان نازک صفات کی تلاش شامل ہے۔ اردو کی قدم عشقیہ شاعری کہیں کہیں اور کبھی کبھی ان صفات کی جھلک دیتی ہے لیکن بہت کم، اردو کی عشقیہ شاعری کی قدیم روایتوں سے محض بغاوت کر لینا نئے دور کی عشقیہ شاعری کے لئے کافی نہیں ہے۔ ہمیں جمالیات کی نئی اثباتی قدروں کو دریافت کرنا ہے اور اس کے لئے آفاقی ادب، آفاقی کلچر، تاریخ انسانی کی حیات اور روایات۔

٭٭٭

 

 

غالبؔ پھر اِس دنیا میں

 

                ………فراقؔ گو رکھپوری

 

جب میں اس دنیا میں تھا تو بے چین ہو کر ایک بار میں نے کہا تھا:

موت کا ایک دن مقر ر ہے

نیند کیوں رات بھر نہیں آتی

آج موت کی گہری نیند پھر اچٹ گئی۔ کیا نیند، کیا موت، دونوں میں کسی کا اعتبار نہیں۔ جب زندہ تھے تو زندگی کا رونا تھا اور موت کی تمنا تھی۔ میں نے کہا تھا:

غمِ ہستی کا اسدؔ کس سے ہو جز مرگ علاج

شمع ہر رنگ میں جلتی ہے سحر ہونے تک

شمع اور سحر کا ذکر، میں نے تو کھلی کھلی بات یوں کہی ہے۔

کس سے محرومیِ قسمت کی شکایت کیجیے

ہم نے چاہا تھا کہ مر جائیں سو وہ بھی نہ ہوا

لیکن ذوق نے اس سے بھی زیادہ لگتی ہوئی بات کہی تھی۔ وہ نہ جانے یہ شعر کیسے کہہ گئے تھے۔

اب تو گھبرا کے یہ کہتے ہیں کہ مر جائیں گے

مر کے بھی چین نہ پایا تو کدھر جائیں گے

ہاں تو میں کہاں ہوں۔ ابھی میرے حواس درست نہیں۔ لیکن یہ زمیں اور یہ آسمان تو کچھ جانے پہچانے معلوم ہوتے ہیں۔ لوگوں کو کسی طرف بڑھتا ہوا دیکھ رہا ہوں میں بھی انھیں کے ساتھ ہو لوں ؎

’’پہچانتا نہیں ہوں ابھی راہبر کو میں ‘‘

اب ان راستوں پر پالکیاں جاتی ہوئی نظر نہیں آتیں۔ گھوڑوں کی گاڑیاں چل رہی ہیں۔ لیکن ان کی شکل و صورت بالکل بدلی ہوئی ہے آنکھوں کے سامنے بیسیوں ایسی گاڑیاں بھی گزر گئیں جن میں کوئی جانور جتا ہوا نہیں تھا۔ سن رہا ہوں کہ لوگ انھیں موٹر کار کہتے ہیں۔ ان کل پرزوں سے چلنے والی گاڑیوں میں تیزی اور بھڑک تو بہت ہے لیکن پرانی سواریوں کی بات ان میں کہاں۔ خیر یہ تو ہونا تھا۔ آج سے نہ جانے کتنے برس پہلے جب میں اس دنیا میں تھا زمانہ کروٹ بدل چکا تھا۔ یہ کایا پلٹ آنکھوں کے لئے نئی چیز ہو اور دل و دماغ کو بھی حیرت میں ڈال دے لیکن میری آنکھوں نے تو اسی وقت جب پچھلی زندگی پائی تھی وہ وہ انقلاب دیکھے تھے کہ اب کیا کہوں، حیرت کیا کروں اور کس بات پر کروں۔ بچپن اور جوانی میں قلعہ کے رنگ ڈھنگ کو دیکھا تھا۔ مغل دربار کی جھلملاتی ہوئی ؎

داغِ فراق صحبتِ شب کی جلی ہوئی

شمع پھر بھی ایک نیا رنگ پیدا کر رہی تھی۔ شہر کے شریفوں اور رئیسوں کی زندگیاں دیکھی تھیں۔ دور دور تک کا سفر گھوڑوں پر، بہلیوں پر، پالکیوں پر اور ڈاک گاڑیوں پر طے کیا تھا۔ پھر ۱۸۵۷ء کا غدر ہوا، غدر کیا ہوا قیامت آ گئی۔ اس کے بعد پچھلی ہی زندگی میں ریل کی سواری پر دلی سے کلکتہ کا لمبا سفر طے کیا۔ معلوم نہیں کلکتہ کی شان اب کہاں سے کہاں پہنچ گئی ہو گی۔ اسی وقت یہ شہر دولہن بنا ہوا تھا۔ جس کی یاد سے اب بھی تڑپ اٹھتا ہوں۔

کلکتہ کا جو ذکر کیا تو نے ہم نشیں

ایک تیر میرے سینے پہ مارا کہ ہائے ہائے

اور یوں تو نہ کچھ رونق میں رکھا ہے نہ اجڑی حالت میں رکھا ہے۔ نہ صرف آبادی میں نہ ویرانے میں پھر بھی جو کچھ ہے اور جیسا کچھ ہے غنیمت ہے۔

نغمہ ہائے غم کو بھی اے دل غنیمت جانئے

بے صدا ہو جائے گا یہ ساز ہستی ایک دن

انسان جب زندگی کی مصیبتوں سے پریشان ہو جاتا ہے تو اسے دنیا چھوڑنے کی سوجھتی ہے۔ اپنے کو دھوکا دینے اور غلط راستہ پر چلنے کو اکثر لوگ خدا کی تلاش یا سچائی کا پا جانا سمجھتے ہیں لیکن اس حقیقت کی بھی حقیقت مجھے معلوم ہے۔

ہاں اہلِ طلب کون سنے طعنۂ نا یافت

جب پا نہ سکے اس کو تو آپ اپنے کو کھو آئے

دنیا کو چھوڑ کر تو پیغمبر بھی کچھ نہیں ہوتا۔

وہ زندہ ہم ہیں کہ ہیں روشناس خلق اے خضر

نہ تم کو چور بنے عمرِ جاوداں کے لئے

میں اپنے خیالات کی دھن میں کہاں نکل آیا۔ یہ تمام چیزیں یہ مکانات یہ آبادی نئی بھی معلوم ہوتی ہیں اور پرانی بھی۔ اجنبی بھی اور مانوس بھی۔ وہ سامنے دھندلکے میں لال قلعہ میں نظر آ رہا ہے کچھ دور جامع مسجد کے برج اور مینار نظر آ رہے ہیں۔ میں دلی ہی میں ہوں۔ ہائے دلی! وائے دلی!!

اس بازار کی شان تو دیکھنے کی چیز ہے۔ چاندنی چوک!! اچھا یہ وہی پرانا چاندنی چوک ہے جو بار بار الٹا اور بار بار آباد ہوا۔ اجڑا اور بسا۔ اس کا نام تک نہیں بدلا۔ یہاں تو نئی زندگی کے شور و پکار میں بھی یہاں کی نئی آوازوں میں بھی پرانے نام کان میں پڑ رہے ہیں۔ کوچہ چیلان کوچہ بلی ماران ان دو محلوں میں برسوں میرا قیام رہا ہے۔ بہار آتی ہے اور چلی جاتی ہے لیکن باغ وہی رہتا ہے۔

اس بازار میں اس دوسری دنیا سے پلٹ کر کیا خریدیں۔ جب زندہ تھے تبھی یہ حال تھا کہ۔

درم و دام اپنے پاس کہاں

چیل کے گھونسلے میں مانس کہاں

لیکن اس طرف کچھ کتاب بیچنے والوں کی دوکانیں ہیں۔ کتابوں کی دنیا مردوں اور زندوں دونوں کے بیچ کی دنیا ہے۔ یہاں ہر شخص کہہ سکتا ہے کہ ’’ہم بھی اک اپنی ہوا باندھتے ہیں ‘‘ چلیں ذرا کتابوں کی اس خیالی دنیا کی سیر کریں۔ وہ ایک طرف الماری میں کوئی نہایت اچھی اور قیمتی کتاب رکھی ہوئی ہے۔ جلد تو دیکھو کیسی خوبصورت ہے۔ سنہرے حرفوں سے کچھ لکھا ہوا بھی ہے۔ اس کے برابر چھوٹی چھوٹی کتابیں دیکھنے میں نہایت نظر فریب معلوم ہوتی ہیں ’’ارے بھئی ذرا یہ سامنے لگی ہوئی کتابیں اٹھا دینا وہی جو سامنے کے تختے پر الماری میں لگی ہوئی ہیں۔ چھپائی اور لکھائی کے یہ کھیل پہلے کبھی نہیں دیکھے تھے۔ دیوان غالبؔ، دیوان غالبؔ، دیوان غالبؔ، مرقع چغتائی!! میری آنکھیں کیا دیکھ رہی ہیں۔ برلنؔ اور ہندوستان کے کئی شہروں سے یہ کتابیں نکلی ہیں۔ کیوں بھئی ذوقؔ اور مومنؔ، ناسخؔ، اور آتشؔ، میرؔ اور سوداؔ یہ سب کے سب غالبؔ سے زیادہ مشہور تھے ان کے کلام تو اور ٹھاٹ سے چھپے ہوں گے۔ ذرا انھیں بھی دیکھو کیا کہا؟ صرف غالبؔ کے دیوان اس اہتمام سے نکلے ہیں۔ پھر کیا کہا؟ آج غالبؔ کے نام کاسارے ہندوستان میں شور ہے غالبؔ پر کتابیں اور غالبؔ پر مضامین کثرت سے نکل رہے ہیں۔ اچھا یہ کہنا بھی کسی ڈاکٹر بجنوری کا ملک میں مشہور ہے کہ ہندوستان کی الہامی کتابیں دو ہیں، ایک ویدؔ مقدس اور دوسری دیوان غالبؔ، تو صرف رہنا سہنا ہی اس ملک کا نہیں بدلا ہے بلکہ مذاق شاعری کی بھی کایا پلٹ گئی ہے۔ ہاں اب آپ دوسرے گاہکوں کی طرف متوجہ ہوں۔ شکریہ۔ اب میں اپنے اس شعر کو کیا کہوں۔

ہوں خفائی کے مقابل میں ظہوریؔ غالبؔ

میرے دعوے پہ یہ حجت ہے کہ مشہور نہیں

پہلی زندگی میں دوسروں کی شہرت کے کھیل دیکھے تھے۔ مرنے کے بعد اپنی شہرت کے کھیل دیکھ رہا ہوں وہ زندگی کی ستم ظریفی تھی یہ موت کی چھیڑ ہے۔

پوچھتے ہیں وہ کہ غالبؔ کون ہے

کوئی بتلاؤ کہ ہم بتلائیں کیا

ہم نے مانا کہ کچھ نہیں غالبؔ

مفت ہاتھ آئے تو برا کیا ہے

اس مرقع چغتائی کو کیا کہوں۔ اگر میرے اشعار تصویر کے نیچے نہ لکھے ہوتے تو میں بھی ان تصویروں کو نہ سمجھتا۔ خیر تو ان لکیروں اور رنگوں سے میرے شعروں کا مطلب سمجھایا گیا ہے۔ نہ دیوانہ غالبؔ ہوتا نہ تصویر بنانے والا اپنا یہ کمال دکھا سکتا۔

کھلتا کسی پہ کیوں مرے دل کا معاملہ

شعروں کے انتخاب نے رسوا کیا مجھے

بہرحال غزل کے مطلب کو تصویر کے پردوں سے ظاہر کرنے کی ادا کو میں کچھ سمجھا کچھ نہیں سمجھا۔ زیادہ تر تصویریں بے لباس ہیں۔

شوق ہر نگ رقیب سر و ساماں نکلا

قیس تصویر کے پردے میں بھی عریاں نکلا

خیر اتنا تو ہوا کہ ’’چند تصویر بتاں چند حسینوں کے خطوط‘‘ ایک جگہ کر دئے گئے۔ حسینوں کے خط یعنی ان کی شوخ طبیعت ان کے چنچل مزاج کی وہ تصویریں جو میرے اشعار میں اکثر دکھائی دیتی ہیں اور یوں تو حسینوں کے خطوط بھی معلوم۔

قاصد کے آتے خط اک اور لکھ رکھوں

میں جانتا ہوں جو وہ لکھیں گے جواب میں

خیر مشہور ہوئے تو کیا اور نہ ہوئے تو کیا۔ میرا وہ فارسی کلام جس کا ہندوستان میں جواب نہیں تھا وہ اس دوکان میں نظر نہیں آتا۔ میرے چند اشعار سے اگلے وقتوں کے لوگوں کو اور ممکن ہے آج کل کے لوگوں کو بھی یہ دھوکا ہو کہ میں نے اپنی شہرت کی ساری وجہ اپنے فارسی کلام کو جانا تھا اور اردو کی قدر و اہمیت کو میں نہیں سمجھتا تھا۔ یہ ایک مزے دار دھوکا ہے۔ اردو آگے بڑھ کر کیا کچھ ہونے وا لی تھی۔ اسی کی جھلک میں دیکھ چکا تھا۔ میرے اردو کلام کے چند شعر جن میں فارسی زیادہ تھی۔ لوگ لے اڑے تھے اور یہ نہ دیکھ سکے تھے کہ میں نے اردو غزل کو کتنی چنچل، کتنی ٹکسالی، کتنی چٹیلی، کتنی جیتی جاگتی، بولتی چالتی چیز بنا دی تھی۔ اگر میں اردو کی اہمیت کو نہ سمجھتا تو اپنے ان خطوط کو جن میں میں نے مراسلے کو مکالمہ بنا دیا تھا اس احتیاط اور اس اہتمام سے بچا کر نہ رکھتا۔ قریب قریب سب سے چھوٹا اردو دیوان میں نے چھوڑا تھا اور مجھے یقین تھا کہ سب سے زیادہ میرے ہی اشعار لوگوں کی زبان پر ہوں گے۔

اب یہاں مجھے بہت دیر ہو چکی۔ کتاب بیچنے والا بھی اپنے دل میں کیا کہتا ہو گا۔ یہ ایک اخبار رکھا ہوا ہے۔ یوں بھئی اس پر آج ہی کی تاریخ ہے نا؟ اچھا تو آج ۲۳؍جون ۳۸  ء ہے مجھے کچھ یاد آتا ہے کہ میں ۱۸۶۸ ء تک زندہ تھا۔ اس کے بعد دوسری دنیا کی زندگی تھی اور اس میں ماہ و سال کہاں، آج اس دنیا سے گئے ہوئے ستر برس ہونے کو آئے۔ اتنے بڑے عرصہ میں، میں محض اپنی شہرت اور کامیابی کا حال جان کر خیر ایک طرح خوش ہوں۔ لیکن یہ جاننے کے لئے بے چین ہوں کہ ہندوستان میں اب کیسی شاعری ہو رہی ہے۔ کوئی کتب خانہ تو پاس ہو گا۔ لوگ کسی ہارڈنگ لائبریری کا پتہ دے رہے ہیں۔ اچھا دیکھوں یہاں کیا ہے۔ داغؔ، امیرؔ، حالیؔ، اکبرؔ، اقبالؔ، حسرتؔ موہانی، جگرؔ، اصغرؔ، شادؔ عظیم آبادی، عزیزؔ، جوشؔ، اور دوسرے شعرا کے مجموعے یہاں نظر آ رہے ہیں، ان میں داغؔ، امیرؔ، کو تو میں پچھلی زندگی ہی میں جانتا تھا۔ حالیؔ تو میرے سب سے ہونہار شاگردوں میں تھے اکبرؔ سے بیسیوں برس پہلے اس دوسری دنیا میں ملا تھا جہاں سے خود آیا ہوں اور جہاں تمام مرے ہوئے شعرا کے ساتھ یہ سب بزم سخن کی رونق بن گئے ہیں۔ وہاں اکبرؔ کا ساتھ چھوڑنے کو توجہ نہیں چاہتا تھا اوراقبالؔ تو ابھی ابھی وہاں پہنچے ہیں۔ اس شخص کی شہرت وہاں برسوں پہلے پہنچ چکی تھی اور فرشتوں کی زبانوں پر اقبالؔ کے نغمے برسوں پہلے سے تھے میں نے اردو میں جس طرح کی شاعری کی داغ بیل ڈالی تھی، شاعری کو جو عظمت دینا چاہتا تھا۔ میری یہ کوشش اقبالؔ ہی کے ہاتھوں پروان چڑھی۔ حسرتؔ موہانی کا کلام دیکھا۔ مومنؔ، جرأتؔ، مصحفی کا نام اس کلام سے چمک گیا۔ جگرؔ، اصغرؔ، شادؔ، عزیز، چکبستؔ اور سرورؔ جہان آبادی ان سب کی شاعری اپنی اپنی جگہ اونچی ہے لیکن کہیں کہیں روک تھام اور گہری نظر کی ضرورت معلوم ہوتی ہے۔ دیکھوں یہ یاس یگانہ کون شخص ہے اور اس کی آیات وجدانی میں کیا ہے۔ شعر تو جاندار ہیں بیان کا طریقہ بھی کہیں کہیں استادانہ ہے۔ آتشؔ کی گرما گرمی اور تیزی بھی مل جاتی ہے لیکن غالبؔ کا نام اس شخص پر بھوت کی طرح سوار ہے۔ خیر ’’وہ کہیں اور سنا کرے کوئی‘‘ مرزا قتیلؔ کی یاد تازہ ہو گئی۔ غالبؔ نہ جانے کتنے شاعروں کی دکھتی ہوئی رگ ہے۔ میں اردو میں مسلسل نظم کی ترقی دیکھ کر خوش ہوں۔

بقدرِ شوق نہیں ظرف تنگناے غزل

کچھ اور چاہئے وسعت مرے بیاں کے لئے

غزل ہو یا نظم سنجیدگی، مذاق کی پاکیزگی، معنی آفرینی اور پست خیالی سے بچنا وہ خوبیاں ہیں جو شاعری کو پیغمبری کا درجہ دیتی ہیں ہاں کچھ عجیب اور غلط باتیں بھی میرے بعد کی شاعری میں نظر آتی ہیں۔ ایک صاحب غالبؔ کی جانشینی کا دعویٰ یوں کرتے ہیں کہ جس طرح میرؔ کے ستاسی برس بعد غالبؔ کا زمانہ آیا اسی طرح غالبؔ کے ستاسی برس بعد بیوقوف دنیا میں پیدا ہو سکتے ہیں اپنے کچھ اچھے کچھ برے اشعار کو لوگ الہام بھی بتانے لگے ہیں۔ اپنی غلط اور بے ڈھنگی نقالی بھی دیکھتا ہوں بہت ہو رہی ہے۔ مہمل فارسی ترکیبیں ایک رسمی قسم کی مشکل پسندی، لفظ پرستی اور شعریت سے معرا بلند آہنگی اور اظہار علمیت یہاں تک کہ غیر موزوں کلام کو بھی شاعری بتانا یہ سب باتیں بھی آج کل کے شعراء میں آ گئی ہیں۔ میں اردو نثر اور اردو رسالوں اور اخباروں کی کثرت اور آب و تاب دیکھ کر بھی خوش ہوں۔ رقعات غالبؔ گویا اس بات کی پیشین گوئی تھے۔ یہ سب صحیح، لیکن دلی کی پچھلی صحبتیں یاد آ گئیں اور دل کو تڑپا گئیں۔ اب نہ ذوقؔ ہیں نہ مومنؔ و شیفتہؔ نہ حالیؔ نہ داغؔ نہ مجروحؔ نہ انورؔ اور نہ میں۔ خیر شعر و شاعری ہی تو ساری زندگی نہیں ہے۔ میں دیکھ رہا ہوں کہ یہ ملک پھر بیدار ہو رہا ہے۔ اس کی تمام قوتیں مل کر ایک نئی زندگی پیدا کرنے کی کوشش میں ہیں۔ اپنا شعر مجھے یاد آیا۔

ہم موحد ہیں ہمارا کیش ہے ترکِ رسوم

ملتیں جب مٹ گئیں اجزائے ایماں ہو گئیں

میری نظریں یہ بھی دیکھ کر خوش ہیں کہ انگریزوں کی تہذیب ان کے علم و فن سے فائدہ اٹھاتے ہوئے بھی ہندوستان اپنی تہذیب کی نشاۃ ثانیہ پھر سے چاہتا ہے۔

لازم نہیں کہ خضر کی ہم پیروی کریں

مانا کہ اک بزرگ ہمیں ہم سفر ملے

٭٭٭

 

 

 

سچ کیا ہے ؟ (افسانہ)

 

                ………فراقؔ گورکھپوری

 

(۱)

پٹنے میں بابو نہال چند کا طوطی بولتا تھا۔ وہ ضلع کی جان تھے، سارا ضلع ان پر مٹتا تھا، رعایا کی خدمت کے معاملے میں زبانی جمع خرچ والے اور بات کے دھنی بہت تھے لیکن کام کا دھنی کوئی نہ تھا۔ بھوکی ننگی، بے بس رعایا کو اپنے پیروں پر کھڑا کرنے والا کوئی تھا تو نہال چند تھے۔ انہیں بڑا بول نہیں آتا تھا۔ سبھاؤں میں وہ تقریر نہیں کر سکتے تھے۔ کچھ ایسے پڑھے لکھے بھی نہ تھے دو تین سال فیل ہونے کے بعد بڑی بات ہوئی کہ انہوں نے کسی طرح انٹر نس پاس کر لیا، ایف اے میں لگاتار پانچ سال فیل ہوئے پھر امتحان دینے کی ہمت نہ پڑی، گھر میں لین دین کا کام ہوتا تھا باپ کے اکلوتے بیٹے تھے، زمینداری نام کو تھی، باپ کے مرنے کے بعد سے گھر کا سارا کار و بار نہال چند کے اوپر آ پڑا تھا۔

سبودھ رائے سے ان کی گاڑھی دوستی تھی۔ اسکول میں دونوں ہم جماعت رہ چکے تھے۔ سبودھ رائے معمولی ذہانت کے طالب علم نہ تھے۔ سرسوتی (علم و فنون کی دیوی) ان کی جیبھ پر باس کرتی تھی۔ ایم۔ اے تک برابر اوّل آتے رہے۔ فلسفہ اور عمرانیات میں سبودھ رائے کی قابلیت حیرت انگیز تھی۔ وہ پٹنہ کالج میں چار سال ان علوم کے پروفیسر اور صدر شعبہ رہے بعد کو بہار کی سب سے بڑی ریاست سلیم پور راج کے چیف منیجر ہو گئے تھے۔ سات سال پہلے ہی انہوں نے نہال چند کو کسان بینک کھولنے کی رائے دی تھی، اور اس کی پوری اسکیم تیار کر دی تھی۔ نہال چند کو سبو دھ رائے نے اس کام کے لئے آمادہ کر لیا۔ سات سال پہلے جب کسان بینک کھولنے کا خیال ان دونوں کے دلوں میں پیدا ہوا تھا، ضلع کے کسانوں کی دشا بہت بری تھی۔ قرض اور مفلسی کے چنگل چھاتی پھاڑ کر محنت کرنے والے کسانوں کے گلے گھونٹ رہے تھے۔ ان کی زندگی ویران تھی۔ مہاجن زمیندار، پولیس، پٹواری، جہالت، گند گی، بیماری ان کی مصیبتوں کی فہرست بہت لمبی تھی۔ سبودھ رائے نے پہلے پہل نہال چند کا دھیان اس طرف کھینچا، نہال چند سے کسان بینک قائم کرایا۔

سات سال میں کسان بینک نے دن دونی رات چوگنی ترقی کی۔ ضلع کی ہر تحصیل ہر پرگنے میں کسان بینک کی شاخیں کھل گئی تھی۔ نہال چند نے بیس لاکھ روپے کی اپنی ساری پونجی اس میں لگا رکھی تھی۔ ضلع کے چھوٹے بڑے سب کسانوں نے جو لاکھوں کی تعداد میں تھے اپنی چھوتی چھوتی پونجیاں کسان بینک میں لگا دی تھی۔ کئی چھوٹے چھوٹے زمیندار، کئی اچھے خاصے زمیندار، ایک آدھ بڑے زمیندار بھی بینک کے ساجھی دار تھے۔ سات سال میں بینک کا کاروبار دس کروڑ روپے ہو گیا تھا۔ شہر میں بھی کئی گرہستیوں، بڑھیوں، بیواؤں، نوکروں، مزدوروں اور بہت سے معمولی حیثیت یا چھوٹی اوقات کے آدمیوں نے اپنی معمولی بچت بلکہ گھر کے سامان اور گہنے تک بیچ کر روپے کسان بینک میں جمع کر دئے تھے۔ بہتوں کی زندگی کا تنہا سہارا ہی بینک سے ملنے والا سود یا منافع تھا۔ کسانوں کو اس بینک سے برائے نام سود پرگھر کے یا کھیتی کے کام کے لئے قرضے ملتے تھے۔ بینک کی طرف سے کئی کار خانے بھی کھلے ہوئے تھے، جن سے ہزاروں کی روزیاں چلتی تھیں۔ مدرسے، پاٹھ شالے، کنیا اسکول، دواخانے، کتب خانے بازار، پنچائتیں، کھاد، بیج، کھیتی کے ضروری سامانوں کے بھنڈار، چھاپے خانے بینک کے منافعے سے قائم کئے گئے تھے۔ یہ سب بابو نہال چند کی کوششوں کا نتیجہ تھا اس عظیم خدمت کی بدولت بابو نہال چند کو سارا ضلع پوجنے لگا تھا۔ کسان بینک انہوں نے کیا کھولا پرجا کے لئے کلب بر کچھ (نخل مراد) لگا دیا۔

 

(۲)

کسان بینک پر مصیبت اور بربادی کے بادل منڈلا رہے تھے۔ تین سال پہلے ضلع کے دو(۲)بگڑے رئیس، جن کی دھاک اب بھی ضلع میں بندھی ہوئی تھی بابو نہال چند کے پاس بینک سے قرض لینے آئے۔ ان کی ساری جائیداد پر قرض پہلے ہی سے لدا ہوا تھا۔ کل ریاست نیلام پر چڑھنے والی تھی۔ انہوں نے نہال چند سے کہا:-

’’لاکھوں کو آپ نے مہاجنوں کے چنگل سے بچا لیا ہے ہم لوگوں کو بھی آپ ہی رکھیے گا تو رہیں گے، نہیں تو بک جائیں گے ہم اجڑ جائیں گے۔ ‘‘ نہال چند کو ان پر ترس آ گیا۔ اسی اسی(۸۰ ) پچاسی(۸۵)لاکھ روپیوں کا معاملہ تھا، لاکھ دو لاکھ کا نہیں۔ دیا کے جو بھاؤ نہال چند سے اتنا بڑا کام کرا چکے تھے جس سے لاکھوں آدمیوں کی زندگی بن گئی تھی وہی رحم کے جذبات نہال چند کی سب سے بڑی کمزوری اور ان کے سب کے لیئے سب سے خطرناک چیز ثابت ہوئے۔ بینک کے کام اور سخاوت میں اندھیرے اجالے کا، زندگی اور موت کا فرق ہے۔ دیا دھرم والا بھی اگر موقع پر کڑا نہ پڑے، اگر اس کا دل ایک ہی سمے پانی اور پتھر نہ ہو تو غضب ہو جائے۔ نہال چند روپے دلانے پر راضی ہو گئے۔ بینک کے دو پرانے کار پرداز ٹھیک کئے گئے۔ انہوں نے ان بگڑے رئیسوں کی جائیداد کے کاغذ پتر دیکھنا شروع کیا۔ موٹی رشوت دے کر ان رئیسوں نے ان کا ر پردازوں کو ملا لیا۔ جائیداد کی مالیت کئی گنا بڑھا کر بتائی گئی۔ قرضہ دے دیا گیا بینک کو سود ملتا رہا، کچھ دن بیت گئے۔

اپریل ۱۹۱۸ء کا زمانہ تھا، پہلی جنگ عظیم کے شعلے کچھ دنوں کے لئے بجھنے والے تھے جنگ کا آخری دور تھا۔ یہ زمانہ دنیا بھر کے بینکوں کے لئے زلزلہ خیز تھا۔ دنیا بھر کے بینکوں پر ان لوگوں نے ہلہ بول دیا جن کے روپے بینک میں جمع تھے۔ لڑائی ختم ہو کر رنگ لانے والی تھی۔ لڑائی کے بعد لڑائی کا جو مزہ دنیا کو ملنے والا تھا، لڑائی کی بھیتری چوٹیں جو ابھرنے ولی تھیں، بینکوں پر یہ ہلہ ان کی بانگی تھا۔ جب دنیا ہل چکی تھی تو کسان بینک میں روپیہ جمع کرنے والے، بینک کے حصے دار سب ٹوٹ پڑے، بینک ڈگمگانے لگا۔ کتنے لوگوں نے اپنا سب کچھ بینک میں ڈال دیا تھا۔ ضلع بھر میں سنسنی پھیل چلی۔ لوگ اپنا روپیہ بینک سے واپس لینے لگے۔ تقاضے داروں کا یہ ریلا بینک نہ سنبھال سکھا۔ پھر لگ بھگ پچاسی(۸۵)لاکھ کا غلط قرضہ ان بگڑے رئیسوں کو بینک دے چکا تھا۔ اگر دو برس کا موقع بھی بینک کو مل جاتا تو بینک سنبھل جاتا۔ لیکن اس آشوب میں روپہ بینک سے اس طرح نکلنے لگا کہ ؎

بھونچال میں جیسے کوئی گھر چھوڑ کے بھاگے

نہال چند کا برا حال تھا۔ ایک تو لاکھوں گھروں کی بربادی کے ساتھ اپنی بدنامی کا ڈر اور شرمندگی دوسرے اپنی زندگی کا کارنامہ کسان بینک کے ٹوٹ جانے کے خیال سے وہ اتھاہ غم کے سمندر میں ڈوب جاتے تھے۔ غم اور شرمندگی، نیکی اور بدنامی نہ جیتے بنتا تھا نہ مرتے بنتا تھا۔ نہ روتے بنتا تھا نہ چپ رہتے بنتا تھا۔ کیا سوچیں ؟ کیا کریں ؟ غم روز گار غم عشق سے بھی زیادہ جان لیوا ہوتا ہے۔ نہال چند دیکھ رہے تھے کہ اب تب میں مصیبت کا پہاڑ پھٹ پڑنے والا ہے اور ان کی نا امیدانہ نگاہیں اس بلائے نا گہانی کو روک نہیں سکتی تھیں۔ رہ رہ کر یہی کہتے تھے۔ ‘‘ اب کیا ہو گا؟‘‘

اس اندھیرے گھپ میں امید کی ایک جھلک نظر آئی لیکن کیسی جھلک؟ اندھیری رات میں ڈس کے الٹ جانے والی ناگن کے اجلے پیٹ کی جھلک کی طرح یہ جھلک تھی۔ سبودھ رائے نے ایک صورت نکالی تھی۔ وہ صرف اتنا چاہتے تھے کہ نہال چند بس چپ رہیں۔ بینک کی نازک حالت کی خبر پا کر وہ سلیم پور سے بھاگے ہوئے پٹنے آئے تھے۔ نہال چند سے ان کی تجویز یہ تھی کہ سلیم پور راج میں وہ لاٹری پڑوائیں گے۔ پہلا انعام بیس لاکھ روپے کا ہو گا۔ کسان بینک کو مل گیا تو بینک تقاضے داروں کا پہلا جھٹکا سنبھال لے گا پھر اس کے بعد بینک کو وصولی اور ادائیگی کا وقت مل جائے گا اور بینک پھر سنبھل جائے گا۔ لاٹری کے ٹکٹ ہندستان بھر میں دھڑ دھڑ بک رہے تھے۔ سبودھ رائے بس اتنا ہی چاہتے تھے کہ نہال چند اس لاٹری میں ایک ٹکٹ لے لیں۔

نہال چند:- اگر میں ٹکٹ لے بھی لوں تو اس کا کیا ٹھیک کہ انعام مجھے ہی ملے گا؟ سبودھ رائے :- تم ٹکٹ لے لو باقی ذمہ داری میرا رہا۔

نہال چند: -کیسے ؟

سبودھ رائے :- بیس لاکھ کا انعام تمہارے نام نکلے گا۔ ریاست کا معاملہ ہے سب کچھ میرے ہاتھ میں ہے۔ پہلا انعام اور تمہارا نام دونوں ساتھ نکلیں گے۔ ایک ایسا باریک نشان دونوں پر لگا رہے گا کہ اس ملی بھگت کا پتہ بھی نہ چلے گا اور اٹھانے والا دونوں ٹکٹ ساتھ اٹھائے گا۔ میں نے یہ سب ٹھیک کر لیا ہے۔

نہال چند:- سبودھ رائے تم کیا کر رہے ہو، لاکھوں آدمیوں نے ٹکٹ خریدے ہیں۔ ان سب کے ساتھ اتنا بڑا بسواس گھات تم کسیے کرو گے ؟یاد رکھو سب کو تم پر بسواس ہے۔ اسی بسواس پر سب نے ٹکٹ لیا ہے۔

سبودھ رائے :-لاٹری جوا ہے۔ شہر کے رہنے والے مرکھ، مفت خور،جواری،  گھر بیٹھے بے ہاتھ پاؤں مارے امیر بننے کا خواب دیکھنے ولے،د س روپے میں لکھ پتی بننے والے آنکھ کے اندھے گانٹھ کے پورے اور ان میں کئی ایسے بھی کہ منہ پر رام بغل میں چھرا۔ یہی تو وہ لوگ ہیں جنہوں نے دس دس روپے کے ٹکٹ خریدے ہیں ؟ ایسوں کے ساتھ بسواس گھات کر کے ان لوگوں کو بچا لینا عین ثواب ہے جنھوں نے اپنی گاڑھی کمائی کا روپیہ بینک میں جمع کیا ہے۔ لاٹری کا ٹکٹ خرید نے والے اخلاقی مریض ہیں، رو گی کو یہ بسواس دلا کر کہ اس کا پھوڑا صرف دھویا جا رہا ہے، نشتر نہ دیا جائے گا۔ پھر سچ مچ نشتر دینا البتہ بسواس گھات ہو گا۔ اس حساب سے سبھی ڈاکٹر بسواس گھات کرتے ہیں۔ مریض سے کہتے کچھ ہیں اور کرتے کچھ ہیں۔

جس طرح ڈاکٹر دوا یا نشتر سے مریض کے جسم سے خون فاس نکال دیتا ہے۔ اسی طرح مفت خوروں کو اس جوئے کی دوا یا نشتر سے لاکھوں کسانوں بلکہ پورے سماج کے بچانے کا ذریعہ بنانا عین ثواب ہے۔ الفاظ کی بھول بھلیاں میں نہ پھنسو، بسواس گھات جوا، یہ سب چیزیں اپنی اپنی جگہ اور ضرور پر کار آمد اور فائدہ مند ہیں۔

نہال چند: -یہ تمہاری زبردستی ہے۔

سبودھ رائے :-کسانوں کے ساتھ مجھے ہمدردی ہے۔ ان کی بربادی کا خیال کر کے جو مجھے ان پر دیا آتی ہے وہی مجھ سے یہ زبردستی کروا رہی ہے۔ اگر تمہارے کہے کے مطابق یہ لاٹری ایمانداری یعنی رسمی ایمانداری سے نکالی گئی اور پہلا انعام کسی ایک امیر یا غریب کو مل گیا تو ایسی ایمانداری سے دنیا کا کون بڑا بھلا ہو جائے گا۔ لاٹری اگر جوا ہے جس کے ذمہ دار نہ ہم نہ تم تو پھر اس جوئے کو لاکھوں بے قصوروں کے فائدے میں کیوں نہ بدل دیا جائے۔ ایک کہاوت ہے کہ گندگی سادے کا غلط جگہ پر موجود ہوتا ہے۔ دولت کو غلط لوگوں کے ہاتھوں میں جانے دینا ایمانداری نہیں بلکہ گندگی پھیلانا ہے۔ نشتر دیتے وقت خون کی کچھ چھینٹیں ڈاکٹر کے اوپر بھی پڑ جاتی ہیں۔ بلا ہاتھ کچھ گندا کئے ہوئے گند گی دور نہیں کی جا سکتی۔ تم کتنے دقیانوسی خیالوں میں پڑے ہو، ٹکٹ خرید و۔

نہال چند:-بھائی میں جھوٹ سے گھبراتا ہوں۔

سبودھ رائے :-دنیا میں سچائی کہاں ہے ؟ سنو نہال نقالی کو سچائی نہیں کہتے۔ روایتی سچائی بازار والے رسم و رواج میں جکڑے ہوئے دماغ جسے سچائی سمجھتے اور کہتے ہیں وہ سچائی ہے کب ؟ روشن خیال ہستیاں بلند مقصدوں کی تکمیل ہی کو سچائی مانتی ہیں۔

کرشن نے مہابھارت میں ایک ہاتھی مروا کے درونا چار یہ کے لڑکے سو تھاما کے مرنے کی جھوٹی خبر پھیلوائی تھی۔ سدرشن چکر چلاتے وقت کرشن نے اپنا عہد توڑ دیا تھا۔ سچائی کیا ہے اور کہاں ہے ؟ اسے کون جانتا ہے ؟ اگر ہمارے دماغ کی بناوٹ ذرا مختلف ہوتی تو ہم دو اور دو کو چار سمجھنے کے بدلے شاید تین یا پانچ سمجھتے۔ ہیومؔ اور برکلے نے لا جواب کر دینے والے فلسفیانہ دلائل سے ثابت کر دیا کہ ہمارے خیالات و محسوسات حقیقت نہیں ہیں۔ رسمی سچائی کو دنیا نے اتنی اہمیت اس لئے دے رکھی ہے کہ عام طور پر عام انسانوں کے لئے آئے دن کے معاملات میں رسمی سچائی ہے آسانی پیدا ہو جاتی ہے اور بس رسمی سچائی کو الہامی حیثیت نہ دو۔ منوؔ تک نے اپنے دھرم شاستر میں ان موقعوں کا ذکر کیا ہے جہاں جھوٹ بول جانا دھرم ہے۔ ہر برٹ اسپنسر افلاطون، آٹنسٹائن، برگساں، گیتا، مہابھارت، گلستاں، بوستاں امل اور کانٹ، ہیگل کن کن کتابوں اور مفکروں کا حوالہ دوں۔ سب کے سب رسمی اور فرسودہ اور بازاروں یا دماغوں کے چو را ہے والی سچائی کو نازک وقتوں میں بے کار بلکہ خطر ناک چیز بتاتے ہیں۔ سورج کو زمیں سے کئی لاکھ گنا بڑا مانا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ وہ چھوٹا اس لئے نظر آتا ہے کہ ہم سے بہت دور ہے لیکن اگر سورج قریب سے بڑا نظر آئے تو کیا کیوں نہ سمجھا جائے کہ ہے تو سورج چھوٹا لیکن بہت قریب ہونے کی وجہ سے اتنا بڑا لگ رہا ہے۔ جیسے پلک پر کوئی بہت چھوٹی چیز بہت بڑی نظر آتی ہے یا کھڑی چارپائی کی بناوٹ کے چھید چار پائی میں آنکھ گڑا کر دیکھنے سے بہت بڑے بڑے

نظر آتے ہیں یا سنیما میں ہزاروں ٹھہری ہوئی تصویریں ایک متحرک تصوری نظر آتی ہے۔ تم کہو گے یہ میز یہ دیوار، چٹان اور پہاڑ ٹھوس چیزیں ہیں۔ کسی سائنس داں یا فلسفی سے پوچھو تو یہ بھید کھل جائے گا کہ یہ ٹھوس چیزیں پرچھائیاں، بادل، روشنی، ہوا، بھاپ اور ایتھر سے زیادہ لطیف اور نازک ہیں۔ یہ سب مادی قوت کی برقی لہریں ہیں جسے وزن یا بھاری پن کہتے ہیں۔ وہ صرف ایک داخلی کشش یا کھچاوٹ ہے۔ پتھر اور پھول کا اصلی روپ ایک ہے۔ جس طرح ان کا ٹھوس بن ہمارے دماغ کی ایجاد ہے اسی طرح رسمی سچائی اور اس کی اہمیت بھی سماج کے دماغ کی ایجاد ہے۔ اس عالم اعتبار میں سچائی کہاں ہے ؟

نہال چند:-تم اسکول ہی کے زمانے سے بہت بڑے مقر ر تھے۔ پھر فلسفہ کے مطالعہ اور کالج کی اعلیٰ تعلیم نے اس صفت میں چار چاند لگا دئے تم نے مجھے لا جواب تو کر دیا لیکن جب سب کچھ جھوٹ ہی ہے توجو کچھ تم کرنے جا رہے ہو وہ بھی تو جھوٹ ہی ہوتا۔ پھر اس جھوٹ کو اتنے طمطراق سے کیوں پیش کر رہے ہو؟

سبودھ رائے :- مجھے کب دعوا ہے کہ میں سچائی کا پرچار کر رہا ہوں۔ میرا اصول، میرا عقیدہ تو یہ ہے کہ سچائی بجائے خود کوئی ایسی قابل قدر چیز نہیں کہ اس کے لئے لوگوں کا نقصان ہونے دیا جائے۔ مریض سے پاگل سے کبھی کبھی بچوں سے دشمن سے بیوقوفوں سے بد اخلاقوں سے سچ نہیں بولا جاتا ہیں لفظوں کا پجاری نہیں ہوں میں سماج کی دلیرانہ اور پر خلوص سیوا سماج کی حفاظت کو سچائی سمجھتا ہوں۔ الفاظ کو سچائی نہیں سمجھتا، رسم پرستی کو سچائی نہیں سمجھتا، رائے عامہ کو سچائی نہیں سمجھتا، سچائی کے جو معنی چار آنے کی لغت میں دیئے ہوئے ہیں اسے سچائی نہیں سمجھتا زندگی اور زندگی کی حفاظت کے علاوہ میں کسی سچائی کا قائل نہیں اور جنگ میں تو پہلی گولی سچائی کو لگتی ہے۔ جھوٹ سے ایسے وقت میں ڈرنا جب اس سے بہت بڑا کام سماج یا دنیا کا ہونے والا ہو سچائی نہیں ہے بزدلی ہے۔

نہال چند:- اس لئے کہ روایتوں اور رسموں نے تمہاری شخصیت کی کل رگوں کو جکڑ رکھا ہے، سوچ لو، تم سچ سچ کی رٹ لگاؤ گے یا لاکھوں ایماندار سچے کسانوں، مزدوروں، بیواؤں اور غریبوں کو برباد ہونے سے بچاؤ گے۔ دوست اسی اپنے لئے بلکہ تمہارے لئے بھی نہیں کہتا، میں ان لاکھوں کسانوں اور غریبوں کے لئے کہہ رہا ہوں جنھوں نے پیٹ کاٹ کاٹ کے ایک ایک پیسہ جوڑا اور اپنا سب کچھ کسان بینک میں جمع کر دیا۔ واہ رے سچ ! جو لاکھوں کو ایک اندھے عقیدے کے لئے جہنم میں بھیج دے۔

نہال چند:- میں جیل جانے کے لئے تیار ہوں میری غلطی سے اسی(۸۰ ) لاکھ کا غلط قرضہ بینک نے بگڑے رئیسوں کو دیا۔

سبودھ رائے :- آپ کے جیل جانے سے برباد ہو جانے والے لاکھوں آدمیوں کا گویا بڑا فائدہ ہو گا۔ گویا اس طرح ان کی کمائی انہیں واپس مل جائے گی، گویا اس طرح آپ ان کا نقصان پورا کر دیں گے، بڑے مہنگے دام اپنے جیل جانے کے لگا رہے ہو۔ جیل جانا تو کچھ نہیں تمہاری موت بھی تو ان لوگوں کے آڑے نہیں آ سکتی جو بینک ٹوٹنے سے مٹ جائیں گے، ان کی مصیبتیں تمہاری موت کی مصیبت سے کہیں زیادہ درد ناک اور برباد کن ہوں گی جن کی جمع لٹ جائے گی صرف نہ وہی بے ٹھکانے نہیں ہو جائیں گے بلکہ ان لاکھوں آدمیوں کا بھی آسرا ٹوٹ جائے گا جو بینک کے کار آمد اداروں سے، اسکولوں، شفا خانوں، کھاد اور بیج کی آڑھتوں برائے نام سود پر قرض پانے سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ پھر بنئے، مہمان، زمیندار، پولیس، بھوک، دلدر، بیروزگاری کی وبائیں ہمیشہ ضلع بھر میں پھیل جائیں گی۔

نہال چند:- اف! کیا کروں، کیا ہو گا؟

سبود ھ رائے :- کچھ نہ کرو، میرا کہنا مان جاؤ۔

نہال چندلا جواب ہو گئے سبودھ رائے اٹھ کر چلے آئے۔

 

(۳)

کسان بینک کے حصے داروں کی سبھا ہو رہی تھی۔ بینک کے بیچ والا بڑا ہال حصے داروں، روپیہ جمع کرنے والوں اور تماشہ دیکھنے والوں کی بھیڑ کھچا کھچ بھرا ہوتا تھا، سبھا بھر میں سناٹا چھایا ہوا تھا۔ پہلے آہستہ آہستہ آوازیں اٹھنے لگی، بپھری ہوئی سبھا میں کچھ لوگوں نے نہال چند کو کوسنا اور گالیاں دینا شروع کیں۔ آج نہال چند وہ نہال چند نہیں رہے جن کا نام خیرو برکت کا منتر سمجھا جاتا تھا۔ آج ان کے ماتھے پر کلنک کا ٹیکا لگا ہوا تھا۔ لوگ لہک لہک کے انہیں کوسنے دے رہے تھے۔

’’بے ایمان بینک کی بدولت سیٹھ بنا پھرتا تھا۔ ‘‘

’’انگریزی عملداری نہ ہوتی تو ان ہتیاروں (بینک کے ڈائرکٹروں ) کا خون کر ڈالتے۔ ‘‘

’’جیسے ہمارا ناس ہوا ہے ویسے ہی نہال چند کا بھی ستیا ناس ہو۔ ‘‘

’’ہم نے گھر کے گہنے برتن بیچ کے بینک میں روپے جمع کئے تھے، جو عذاب گھر میں آگ لگانے والے پر پڑتا ہے وہی عذاب اس پر پڑے۔ ‘‘

’’اجی صاحب ضروری یہ رشوت لیتا تھا نہیں تو دیوالئے رئیسوں کو بینک کے روپے سے کوئی قرض دیتا ہے ؟‘‘

’’بی بی کے لئے لاکھوں کا زیور بنوا لیا، گھر بھر لیا۔ ‘‘

’’میں تو بھائی لٹ گیا۔ ‘‘

’’مجھے تین فاقے ہو چکے ہیں، بینک کے بیاج سے گزر ہوتا تھا۔ ‘‘

’’بڑھاپے میں بھیک بھی تو نہیں مانگ سکتے۔ ‘‘

’’اس کا منہ نہ دیکھنا چاہئے۔ ‘‘

’’بچہ بارہ سال سے کم کے لئے نہ جائیں گے۔ ‘‘

’’تب مزہ ملے گا۔ ‘‘

’’ہتیارا کہیں کا۔ ‘‘

نہال چند پر یہ بوچھاریں ہو رہی تھیں۔ اگر غصے کی نگاہوں میں جلا دینے کی صلاحیت ہوتی تو نہال چند کب کے خاک ہو چکے ہوتے۔ غصہ، نفرت اور لعنت کی فضا کتنی زہر ملی ہوتی ہے اس کا تلخ احساس آج نہال چند کو ہو رہا تھا۔ لیکن یہ بوچھاریں شہر والے ہی کر رہے تھے۔ دیہاتی کسان من مسوسے چپ چاپ نراس بیٹھے ہوئے تھے۔ وہ گالیاں اور بد دعائیں دینے اور لعنت بھیجنے میں شریک نہیں تھے۔ بینک کے بند کئے جانے کا بینک کے ٹوٹ جانے کا اعلان ہونے والا تھا۔ فضا کانپ رہی تھی۔ ڈائرکٹروں کے منہ پر ہوائیاں اڑ رہی تھیں۔ نہال چند اس طرح سرجھکائے کرسی پر بیٹھے تھے گویا زمیں پر رہتے ہوئے بھی وہ پاتال میں سما گئے ہیں۔

اتنے میں بینک کے پھاٹک میں ایک موٹر داخل ہوئی۔ سبودھ رائے مسکراتے ہوئے موٹر سے اترے اور بینک میں پہنچ گئے۔ ہزاروں آدمیوں کی بھیڑ کو انہوں نے اس طرح مخاطب کیا۔

’’بھائیو! بینک نہیں ٹوٹے گا۔ بابو نہال چند کے نام بیس (۲۰ ) لاکھ کی لاٹری پڑی ہے۔ نہال چند جیسے دھر ماتما تھے بھگوان نے ویسے ہی ان کی بات رکھ لی اور ضلع کو بھگوان نے برباد ہونے بچا لیا۔ بینک دیوالہ ضرور ہونے والا تھا لیکن اس میں نہال چند یا ڈائرکٹروں کا کوئی دوش نہ تھا۔ بینک کے دو کار پرداز جو اس وقت بھاگے ہوئے ہیں یہ سب آفت ان کی لائی ہوئی ہے۔ انہوں نے رشوت لے کر دو(۲) دیوالیوں کو قرضہ دلا دیا تھا۔ پولیس ان کی تلاش میں ہے۔ بابونہال چند کی طرف سے میں یہ اعلان کرنے آیا ہوں کہ لاٹری میں ملا ہوا بیس لاکھ کا انعام نہال چند نے بینک کو دے دیا۔ بینک بچ گیا۔ اس سال کوئی منافع حصہ داروں کو نہ دیا جائے گا اور پچاس لاکھ کا منافع بھی قرض خواہوں کا روپیہ چکانے میں لگا دیا جائے گا۔ بینک بچ گیا بلکہ پہلے سے بھی زیادہ خوشحال ہو گیا۔ ‘‘

سبھا میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ نعرے بلند ہو گئے۔ ‘‘بابو نہال چند کے جے ! بابو نہال چند کی جے ! ‘‘ کسان اپنی خوشی کو ضبط کئے ہوئے چپ چاپ بیٹھے رہے لیکن شہر والے کب ماننے والے تھے۔ ان کا غصہ مجنونا نہ خوشی میں بدل گیا۔ نا امیدی کے اندھیرے کا اجالا یہ اعلان تھا۔ لوگ اچھل پڑے، آپے سے باہر ہو گئے، آپس میں لوگ گلے ملنے لگے۔ ایک دوسرے کو گود میں اٹھانے لگے۔ نہال چند کو محبت بھری نگاہیں ڈھونڈنے لگیں۔ اس بھیڑ بھڑکے میں ان کا کہیں پتہ نہ تھا۔ کچھ دیر بعد بھیڑ بھاڑ تے ہوئے وہ سبھا کے سامنے آنے اور کچھ کہنا چاہتے تھے۔ سبودھ رائے بھانپ گئے کہ دھرم اور سچائی پر یہ کچھ اٹانگ پٹانگ بکیں گے اور لاٹری کا انعام لینے سے انکار کر دیں گے اور اس طرح بنا بنایا کام بگڑ جائے گا۔ وہ فوراً چلا اٹھے۔

’’بولو بابو نہال چند کی جے ! بابو نہال چند زندہ باد!‘‘ سبھا جے کار کے نعروں سے گونج اٹھی۔ بیچارے نہال چند کچھ بولنے ہی نہیں پائے۔ ان کی بانہہ پکڑے ہوئے سبودھ رائے انہیں اپنی موٹر پر گھسیٹ لائے لوگوں سے پھر وہی نعرے لگوا کر نہال چند کے گلے میں ہار پہنا کر موٹر بڑھا دی۔

جنتا کا کیا پوچھنا۔ شہر والے پہلے گالی دینے میں بعد کو دعا ء دینے میں ضبط و تحمل کے تمام بندھن توڑ رہے تھے، اور آسمان سر پر اٹھا لیا تھا۔ دیہات کی گنوار بے پڑھی لکھی جنتا کے چہرے پر خاموش اطمینان جھلک رہا تھا۔ لیکن یہ جنتا اچھل کود نہیں رہی تھی۔ شہر والوں میں طرح طرح کی باتیں ہو رہی تھیں۔

’’میں تو پہلے ہی سے کہتا تھا کہ بابو نہال چند کا کوئی قصور نہیں ہے۔ ‘‘

’’بھائی دھوکا کس کاروبار میں نہیں ہوتا؟‘‘

’’نہال چند ہی ایسا آدمی تھا کہ بیس لاکھ کا ذاتی انعام اٹھا کے بینک کو دے دے۔ ‘‘

’’آخر نہ دیتے تو بھی ان کا کوئی کیا کر لیتا۔ بینک والوں پر جب مقدمہ چلتا تو وہ بے آنچ نکل جاتے۔ ان کی بے ایمانی یا قاعدے کے خلاف کوئی ان کی کار روائی ثابت نہ ہوتی۔ ‘‘

’’نہال چند آدمی نہیں دیوتا ہیں ‘‘

’’سنا ہے نہال چند کو اس سال ’’سر‘‘ کا خطاب ملنے والا ہے۔ ‘‘

’’یار بڑی خیر ہوئی، بینک ٹوٹ جاتا تو غضب ہو جاتا، بال بال بچے۔ ‘‘

اسی قسم کی باتیں کرتے لوگ اپنے اپنے گھر جا رہے تھے۔

 

(۴)

موٹر چل پڑی، بھیڑ پیچھے چھوٹ گئی

نہال چند:- ’’یار تم نے کیا غضب کیا۔ ‘‘

سبودھ رائے :- غضب و ضب کچھ نہیں بلکہ غضب ہوتے ہوتے رہ گیا۔ بینک بچ گیا، ضلع بچ گیا، تم سچ جھوٹ کی بحث لئے بیٹھے رہ جاتے اور ضلع کا وار نیارا ہو جاتا…… (ڈرائیور سے ) موٹر کسمبھی کی طرف لے چلو۔ ‘‘

جب سبودھ رائے اور نہال چند کسمبھی گاؤں میں موٹر سے اترے تو دن ڈوب رہا تھا۔ سیر کرتے کرتے دونوں ایک کسان کے جھونپڑے کے سامنے آ نکلے۔ ایک بوڑھا کسان برآمدے میں اداس بیٹھا تھا۔ آنکھیں زمیں پہ گڑی تھیں۔ سبودھ رائے نے اس کا یہ حال دیکھ کر پوچھا کیا معاملہ ہے۔ اتنے میں اس کی بوڑھی بی بی جھونپڑے سے نکلی سبودھ رائے اور نہال چند سے ایک چٹائی پر بیٹھ جانے کو کہا پھر بولی۔

’’بابو! آج ہم لوگ اس گاؤں سے اجڑ گئے۔ تین بیگھے کھیتی تھی، باپ دادا کے موروثی تھی، زمیندار کی نیت پھر گئی۔ پٹواری کو کچھ لے دے کر کھیوٹ میں کھیت اپنے نام لکھواتا رہا۔ دو برس ایسا کر کے اس نے ہم لوگوں پر سر سری کر دی۔ ہم بے پڑھے لکھے غریب لوگ ٹھہرے کیا جانیں پٹواری کیا لکھ رہا ہے۔ جنم بھر کی کمائی تھوڑے سے روپے بینک میں جمع تھے پار سال نتنی کا بیاہ کیا اور بینک کا روپیہ بیاہ میں لگ گیا۔ لڑکی دیوی مائی (چیچک) اٹھا لے گئیں ادھر زمیندار کی طرف سے بے دخلی کا مقدمہ دائر ہو گیا۔ گہنا گریا برتن بیچ کر مقدمے کی پیروی کی۔ مقدمہ ہار گئے۔ پیسہ کوڑی، کھیت سب ہاتھ سے نکل گیا۔ آج اس گاؤں سے ہم لوگ اجڑ گئے آج ہی فیصلہ سنایا گیا ہے بابو اسی سے سے یہ اتنے اداس بیٹھے ہیں۔ ‘‘

یہ کہانی سن کر نہال چند اور سبودھ رائے دھک سے رہ گئے۔ دیکھتے ہی دیکھتے بڈھے کو غشی سی آ گئی۔ بڑھیا گھبرا کر اٹھی اور بڈھے کو سنبھالا۔ بڑھیا نے کہا۔

’’دھیرج دھرو جود بدا تھا وہ ہوا۔ اپنا جی چھوٹا نہ کرو، ابھی میں زمیندار کے یہاں کوٹ پیس سکتی ہوں۔ چار چوائے (مویشی) ہیں تم انہیں چرا سکتے ہو اب ہم لوگوں کو جینا ہی کتنے دن اور ہے۔ ‘‘

’’جب تک ہاتھ پاؤں چلیں گے محنت مزدوری کر کے جی لیں گے پھر بھگوان اٹھا لیں گے۔ لڑکوں کو بھگوان نے جوانی میں اٹھا لیا۔ ایک بیٹے کی اولاد ایک اندھی لڑکی ہے۔ جسے اپنا پیٹ پالیں گے اس کا پیٹ بھی پالیں گے، بوڑھو جی چھوٹا نہ کرو۔ ‘‘

یہ کہتے کہتے بڑھیا کی آنکھ بھر آئی پھر بھی اپنے کو سنبھالے وہ بڈھے کو ڈھارس دیتی رہی۔ نہال چند اور سبودھ رائے کا دل بھر آیا۔ انہوں نے بڑھیا کو کچھ خیرات دینا چاہا۔ بڑھیا نے کہا۔

’’بابو جنم بھر بھیک نہیں مانگی۔ ابھی ہم لوگ کچھ کرنے دھرنے کے لائق ہیں۔ آپ بڑے دھرماتما ہیں لیکن ہم بھیک نہیں لے سکتے۔ ‘‘

نہال چند اور سبودھ رائے کی آنکھیں کھل گئیں۔ تھوڑی دیر بعد دونوں ہمدردی کے کچھ ٹوٹے پھوٹے فقرے کہتے ہوئے چپ چاپ اٹھ آئے۔

جب موٹر شہر کو واپس ہوئی تو نہال چند نے ایک ٹھنڈی سانس بھری، سبودھ رائے سے بولے۔

’’سبود ھ رائے تمہارے سوال کا جواب مل گیا۔ تم بار بار پوچھتے تھے سچ کہاں ہے ؟ آج اس کا جواب مل گیا کہ سچ یا سچائی کہاں ہے ؟

’’سنو !سچ یا سچائی اس بڑھیا کی آتما میں ہے جس نے جنم بھر اتنی مصیبتیں جھیلیں اور اس بڑھاپے میں جو اس طرح اجاڑی جائے اس میں یہ دھیرج، یہ خود داری، یہ استقلال اور یہ خود اعتمادی جس زمیندار نے آج انہیں اجاڑ دیا اسے بغیر کو سنے یا گالیاں دیئے اسی کے یہاں محبت مزدوری کر کے عزت سے جینے کا خیال۔ سچ یہاں ہے، فلسفہ، مذہب، سیاست کی کتابوں میں جو سچائی ہے دلیلوں سے اس کی کاٹ ممکن ہے لیکن ایسوں کے ارادوں میں جو سچائی ہے اس کی کاٹ نہ دلائل کے پاس ہے نہ مصیبت کی تلواروں کی دھار اس سچائی کو کاٹ سکتی ہے۔ جہاں ایسے کسان یا مزدور دنیا میں سر اٹھا کر نکل جائیں گے ان کے سامنے پہاڑ سر جھکا دیں گے۔ تاج شاہی ان کے قدموں پر آ رہیں گے اور فتحیابی اور نیک نامی خیر و برکت بلکہ تقدیر میں اور مشیتیں بڑھ کر ان برہنہ پا اور خاک بسر ہستیوں کے قدم لیں گی تاریخ و تہذیب کی منزلیں ان کی ٹھوکروں میں ہیں۔ بینک ٹوٹ سکتے ہیں لیکن ان کے ارادے نہیں ٹوٹ سکے ؟ تمہاری دلیلیں مجھ جیسوں کو لاجواب کر سکتی ہیں لیکن ایسوں کو نہیں۔ سبودھ سچائی اس بڑھیا کی آتما میں ہے۔ یاد رکھو کہ جس دن ان کا صبر و تحمل عتاب و بغاوت میں بدل جائے گا اس دن انقلاب کے وہ شعلے دہک اٹھیں گے، جو حکومتوں کو جلا کر خاک کر دیں گے۔ اس زمیں و آسمان کے وارث یہی لوگ ہیں۔ ‘‘

سبودھ رائے :- نہال چند تم سچ کہتے ہو۔ انہیں ہستیوں کے بل بوتے پر دنیا کا نظام قائم ہے۔

سرنگوں رہتی ہیں ان سے قوتیں تخریب کی

ان کے بوتے پر لچکتی ہے کمر تہذیب کی

٭٭٭

تشکر عزیز نبیلؔ جنہوں نے مکمل کتاب ’’ فراق گورکھپوری: شخصیت، شاعری اور شناخت‘‘ کی فائل فراہم کی

تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید