FavoriteLoadingپسندیدہ کتابوں میں شامل کریں

  یہ حصہ چوتھے اور پانچویں دور پر مشتمل ہے بقیہ حصے

حصہ اوّل

حصہ دوّم

چوتھا دَور

تمہید

قہقہوں کی آوازیں آتی ہیں، دیکھنا اہل مشاعرہ آن پہنچے۔ یہ کچھ اور لوگ ہیں۔

ان کا آنا غضب کا آنا ہے

ایسے زندہ دل اور شوخ طبع ہوں گے کہ جن کی شوخی اور طراری طبع بار متانت سے ذرا نہ دبے گی۔ یہ اتنا ہنسیں اور ہنسائیں گے کہ منھ تھک جائیں گے مگر نہ ترقی کے قدم بڑھائیں گے نہ اگلی عمارتوں کو بلند اٹھائیں گے۔ انھیں کوٹھوں پر کودتے پھاندتے پھریں گے۔ ایک مکان کو دوسرے مکان سے سجائیں گے اور ہر شے کو رنگ بدل بدل کر دکھائیں گے۔ وہی پھول عطر میں بسائیں گے، کبھی ہار بنائیں گے کبھی طّرے سجائیں گے۔ کبھی انھیں کو پھولوں کی گیندیں بنا لائیں گے۔ اور وہ گل بازی کریں گے کہ ہولی کے جلسے گرد ہو جائیں گے۔ ان خوش نصیبوں کو زمانہ بھی اچھا ملے گا۔ ایسے قدر داں ہاتھ آئیں گے کہ ایک ایک پھول ان کا چمن زعفران کے مول بکے گا۔

اس دوران میں میاں رنگینؔ سب سے نئے گلدستے بنا کر لائے اور اہل جلسہ کے سامنے سجائے یعنی ریختہ میں سیختی نکالی۔ ہم ضرور کہتے کہ ہندوستان کی عاشقانہ شاعری نے اپنے اسل پر رجوع کی، لیکن چونکہ پہلے کلام کی بنیاد اصلیت پر تھی اور اس کی بنیاد فقط یاروں کے ہنسنے ہنسانے پر ہے اس لئے سوائے تمسخر کے اور کچھ نہیں کہہ سکتے۔ بلکہ اگر لکھنؤ کے قیصر باغ اور وہاں کے معاملات کی تخم ریزی دیوان رنگینؔ اور دیوان سید انشاء کو کہیں تو کچھ بدگمانی یا تہمت میں داخل نہیں، اگرچہ اصل ایجاد میاں رنگین کا ہے۔ مگر سید انشاء نے بھی ان سے کچھ زیادہ ہی سگھڑاپا دکھایا ہے۔

اِن صاحب کمالوں کے عہد میں صدہا باتیں بزرگوں کی متروک ہو گئیں، پھر بھی جس قدر باقی ہیں وہ اشعار مفصلہ ذیل سے معلوم ہوں گی۔ البتہ شیخ مصحفی کے بعض الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ انھیں بزرگوں کی میراث سے محبت زیادہ ہے۔ سید انشاؔء اور جرأتؔ نے ان میں سے بہت کچھ چھوڑ دیا مگر نت، ٹک، انکھڑیاں، زور (یعنی بہت) بے تکلف بولتے ہیں۔ اور داچھڑؔے، بھلّہ رےؔ، جھکڑا، اجی، سید موصوف کا انداز خاص ہے۔ ہاں انھوں نے کلام کا انداز ایسا رکھا ہے، کہ جو چاہتے ہیں، سو کہہ جاتے ہیں۔ نہیں معلوم ہوتا کہ ان کا روزمرہ یہی ہے یا مسخرا پن کرتے ہیں۔  بہر حال چند شعر لکھتا ہوں، جن سے معلوم ہو کہ اس وقت تک کیا قدیمی محاورے باقی تھے جو اب متروک ہیں اور باقی الفاظ ان بزرگوں کی غزلوں سے معلوم ہوں گے جو ان کے حال کے بعد لکھی گئی ہیں۔ چنانچہ شیخ مصحفی کہتے ہیں۔

او دامن اٹھا کے جانے والے

ٹک ہم کو بھی خاک سے اٹھا لے

تربت پہ میری پائے حجائی نہ رکھ میاں

کر رحم اب تو قبر میں آتش فشاں نہ ہو

شب ہجر صحرائے ظلمت سے نکلی

میں جب آنکھ کھولی بہت رات نکلی

تو اے مصحفیؔ اب تو گرمِ سخن ہو

شب آئین دراز اور بہت رات نکلی

دل مرے سوگ میں مت کر تو برادر میلا

یاں سمجھ جاتے ہیں ہوتا ہے جو تیور میلا

لے لطفِ سیر شب ماہ ان حسینوں میں

جنھوں کے رہتی ہے افشاں چنی جبینوں میں

انھوں کو صاحبِ خرمن سبھی سمجھتے ہیں

جو مصحفیؔ کے ہیں کہلاتے خوشہ چینوں میں

*-*-*-*-*-*

باغباں ہے مجھے کیا کام ترے گلشن سے

ہرتے پھرتے کبھی ایدھر بھی میں آ جاتا ہوں

ہوں تو گٹھری پون کی مثلِ حباب

لیکن آب و ہوا کے ہاتھ میں ہوں

تم جو پوچھو ہو سدا حال رقیباں ہم سے

یہ ہنسی خوب نہیں اے گل خنداں ہم سے

حیران سی نگاہیں رہ جاتیاں ہیں تیری

کیا آنکھیں آرسی سے شرط بتاں ہیں تیری

اِس گل کی باغ میں جو حنا نے چلائی (*) بات

غنچہ نے مسکرا کے کہا ہم نے پائی بات

* بات چلائی وہی امروہہ والی بات ہے۔

شہرت بزیر آساں رکھتی تھی حاتم کی سخا

اسکا نہیں ملتا نشاں کیا جائے وہ کیدھر گئی

تن کے نشیمن سے سفر دشوار اسے آیا نظر

سو بار جانِ مضطرب ایدھر گئی اودھر گئی

ناسور داغ سینہ کو ماء الحیات اپنا سمجھ

تن خاک کا پھر ڈھیر ہے کجلا جو یہ اخگر گئی

گویا زمیں کربلا تھی قتل گاہِ عاشقاں

جو بدلی آئی اس طرف یاراں بچشم تر گئی

بکھیر دے جو وہ زلفوں کو اپنے مکھڑے پر

تو مارے شرم کے آئی ہوئی گھٹا پھر جائے

مصحفیؔ نظم غزل میں ہے یہ کس کا مقدور

جو جو طرزیں کہ ہم ایجاد کیا کرتے ہیں

نرگس نے گل کی دید کو آنکھیں جو کھولیاں

کچھ جی میں جو سمجھ گئیں کلیاں نہ بولیاں

میں ہی جانوں ہوں جو کچھ مجھ سے ادائیں کی ہیں

تیری آنکھوں نے جفائیں سی جفائیں کی ہیں

کیا روٹھ گیا مجھ سے مرا یار الہٰی

کیوں آنکھ ملاتا وہ نہیں کچھ تو سبب ہے

نہ ترے حسن کے دن اور نہ بہاریں وہ رہیں

نہ وہ جالی نہ وہ محرم نہ ازاریں وہ رہیں

منھ نہ کھولے کبھی گھر آ کے مرے حوروں نے

جب تلک بیٹھی رہیں رونٹ ہی مارے وہ رہیں

تیرے بن ہم نے نہ دیکھا کبھی پریوں کی طرف

گو خط و خال کو نت اپنے سنوارے وہ رہیں

دم شماری ہے اب انجام ریاکاری شیخ

نہ وہ تسبیح کے دانے نہ شماریں وہ رہیں

مل گئے خاک میں کیا کیا نہ دفینانِ بزرگ

نہ وہ لوحیں نہ محجر نہ مزاریں وہ رہیں

اے خوشا حال انھوں کا کہ جو کوچہ میں ترے

خاک پنڈے پہ ملے بیٹھے ہیں آسن مارے

اور سید انشاء اللہ خاں کہتے ہیں :

دشتِ جنوں میں اے وائے ویلا

سونے نہ پائے ٹک پاؤں پھیلا

انکھڑیاں سُرخ ہو گئیں جب سے

دیکھ لیجیئے کمال بوسہ کا

ٹک آنکھ ملاتے ہی کیا کام ہمارا

تسپر یہ غضب پوچھتے ہو نام ہمارا

ایک چھوڑا و زندہ جان تو نے

ٹھور رکھا سبھوں کو ہاں تو نے

بھل رہے یہ دماغ سمجھا ہے

آپ کو شاخِ زعفراں تو نے

جو ہاتھ اپنے سبزہ کا گھوڑا لگا

تو سلفے کا اور اس پر کوڑا لگا

اجی چشمِ بد دور نامِ خدا

تمھیں کیا بھلا سُرخ جوڑا لگا

چہرہ مریض غم کا ترے زرد ہے سو ہے

عیسیٰ کنے دوا نہ رہی درد ہے سو ہے

نکل کے وادی وحشت سے دیکھ اے مجنوں

کہ زور دھوم سے آتا ہے ناقہ لیلیٰ

ہے نام خدا داچھڑے کچھ اور تماشا

یہ آپ کی رنگت

گات ایسی غضب قہر پھبن اور جھمکڑا

اللہ کی قدرت

اور جرأتؔ کہتے ہیں :

نالہ موزوں سے مصرع آہ کا چسپاں ہوا

زُور یہ مطلع مرا سرِ دفتر دیوان ہوا

جنھوں کے نامے پہنچتے ہیں یار تک دن رات

انھیں کا کاش کہ جرأت بھی نامہ بر ہوتا

وہ ایک تو ہے بھبھوکا سا تس پہ اے جرأتؔ

اکٹر تکڑ ہے قیامت ہے بانکپن کی سی

دیکھنا ٹک یاد ہیں ہم کو بھی کیا عیاریاں

تیری خاطر کرتے ہیں غیروں کی خاطر داریاں

بہہ گیا جوں شمع تن سارا اگر اچھا ہوا

نت کے رونے سے چھٹی اے چشم تر اچھا ہوا

سبھی انعام نت پاتے ہیں اے شیریں دہن تجھ سے

کبھی تو ایک بوسہ سے ہمارا منھ بھی میٹھا کر

خبر اس کو نہیں کرتا کوئی

کہ میاں مفت ہے مرتا کوئی

کسی گل کے لئے تم آپ گل ہو گل نہ کھاؤ جی

ابھی ننھا کلیجہ ہے نہ داغ اس کو لگاؤ جی

آتش عشق کو سینے میں عبث بھڑکایا

اب کہو کھینچوں ہوں میں آہِ شرر بار کہ تو

کل واقف کار اپنے سے کہتا تھا وہ یہ بات

جرأت کے جو گھر رات کو مہمان گئے ہم

کیا جانئے کم بخت نے کیا ہم پہ کیا سحر

جو بات نہ تھی ماننے کی مان گئے ہم

تم اور کسی شہر چلے ہو تو بس اپنے

عالم ہی وہ نظروں میں نہیں سارے نگر کا

یا ہم ہی نہیں ہیں یا نہیں غیر

اودھر کو جو تو نظر کرے گا

ہر دم جو اپنے سامنے وہ گلعذار ہے

جیدھر کو آنکھ اٹھاتے ہیں باغ و بہار ہے

کھینچ کر آہ جو میں ہاتھ جگر پر رکھا

دامن اس نے بھی اٹھا دیدہ تر پر رکھا

تھی مری شکل کل اُس بن یہ گلستان کے بیچ

جیے بیٹھے خفقانی کوئی زندان کے بیچ

لے چلے غیر کو گھر اپنے بلا سین سے تم

انکھڑیوں سے کبھی یوں ہم کو اشارہ نہ ہوا

جس پہ نت تیغ کھچے اور سدا جور رہے

تو ہی انصاف کر اب کیونکہ نہ وہ ٹھور رہے

جرأتؔ یہ غزل سُن کے بہ تغئیر قوافی

تکلیف سخن گوئی کی دی پھیر کسی نے

اس غزل میں اک غزل تو اور جرأتؔ پڑھ سُنا

زور ہی لذّت ہمیں تو دی ترے اشعار نے

یار کا آستان پایا ہے

زور دل نے مکان پایا ہے

*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*

 

 

شیخ قلندر بخش جرأتؔ

جرأت تخلص، شیخ قلندر بخش مشہور، اصلی نام یحییٰ امان تھا۔ اکبر آبادی مشہور ہیں۔ مگر باپ ان کے حافظ امان خاص دلی کے رہنے والے تھے۔ ہر تذکرہ میں لکھا ہے کہ ان کے خاندان کا سلسلہ (رائے امان کا کوچہ دلی کے چاندنی چوک میں ان ہی کے نام سے مشہور ہوا۔) رائے امان شاہی سے ملتا ہے اور امان کا لفظ اکبری زمانہ سے ان کے ناموں کا خلعت چلا آتا ہے۔  حکیم قدرت اللہ خاں قاسم فرماتے ہیں کہ ان کے بزرگ دربار شاہی میں دربانی کی خدمت رکھتے تھے۔

لطیفہ : بزرگوں کا قول سچ ہے کہ اگر کسی کے والدین اور بزرگوں کی لیاقت اور حیثیت دریافت کرنی ہو تو اس کے نام کو دیکھ لو، یعنی جیسی لیاقت ہو گی ویسا ہی نام رکھیں گے۔ حقیقت حال یہ ہے کہ رائے امان محمد شاہی عہد میں دربان تھے۔ اگرچہ اس زمانہ کے دربان بھی آج کل بڑے بڑے عہدہ داروں سے بہتر ہوتے تھے۔ مگر زیادہ تر وجہ شہرت یہ ہوئی کہ جس وقت نادر شاہ نے قتل عام کا حکم دیا تو بعض اشخاص نے ننگ و ناموس کا پاس کر کے جان کا خیال نہ کیا اور اپنے اپنے گھر کا بندوبست رکھا۔ نادر شاہ کے سپاہی جب وہاں پہنچے تو تلوار کا جواب تلوار سے دیا۔ اس میں طرفین کی جانیں ضائع ہوئیں۔ امن کے بعد جب نادری مقتولوں کی اور ان کے اسباب قتل کی تحقیقات ہوئی تو وہ لوگ پکڑ کے آئے، ان میں رائے امان بھی تھا۔ چنانچہ شال پٹکوں سے ان کے گلے گھونٹے اور مار ڈالا۔ (دیکھو نادر نامہ عبد الکریم)۔

جرأت میاں جعفر علی حسرتؔ (حسرت بھی  نامی شاعر تھے، مگر اصلی پیشہ عطاری تھا۔ دیوان موجود ہے پھیکے شربت کا مزہ آتا ہے۔ مرزا رفیع نے انھیں کی شان میں غزل کہی ہے جس کا مطلع یہ ہے :

بہدا نہ کا آندھی سے اڑا ڈھیر ہوا پر

ہر مرغ اُسے کھا کے ہوا سیر ہوا پر

اسی طرح ہجو کی آندھی میں ساری دوکان کا خاکہ اڑا دیا ہے۔ دیکھو صفحہ) کے شاگرد تھے۔ علاوہ فنِ شاعری کے نجوم میں ماہر تھے اور موسیقی کا بھی شوق رکھتے تھے۔ چنانچہ ستار خوب بجاتے تھے۔ اوّل نواب محبت خاں خلف حافظ رحمت خاں نواب بریلی کی سرکار میں نوکر ہوئے۔

میر انشاء اللہ خاں کی اور ان کی صحبتیں بہت گرم رہتی تھیں، چنانچہ حسب حال یہ شعر کہا تھا :

بسکہ گلچیں تھے سدا عشق کے ہم بستاں کے

ہوئے نوکر بھی تو نواب محبت خاں کے

۱۲۱۵ھ میں لکھنؤ پہنچے اور مرزا سلیمان شکوہ کی سرکار میں ملازم ہوئے۔ ایک دفعہ تنخواہ میں دیر ہوئی، حین طلب میں ایک غزل کا مطلع لکھا :

جرأت اب بند ہے تنخواہ تو کہتے ہیں یہ ہم

کہ خدا دیوے نہ جب تک تو سلیماں کب دے

فارسی کی ضرب المثل ہے “تا خدا نہ دہد سلیماں کے دہد” میاں جرأت کے حال میں بلکہ ساری کتاب میں افسوس کی بات تو یہ ہے کہ عین جوانی میں آنکھوں سے معذور ہو گئے۔ بعض کہتے ہیں کہ حادثہ چیچک سے ہوا۔ استاد مرحوم نے ایک دفعہ فرمایا کہ بھئی زمانہ کی دو آنکھیں ہیں۔ نیکی کی آنکھ نے ان کے کمال کو بڑی قدر دانی سے دیکھا۔ بدی کی آنکھ نہ دیکھ سکی۔ اور ایک بدنما داغ ان کے دامن پر دکھایا۔ مشہور کرتے ہیں کہ پہلے وہ اصلی اندھے نہ تھے۔ بعض ضرورتوں سے کہ شوخی عمر کا مقتضیٰ ہے، خود اندھے بنے۔ رفتہ رفتہ اندھے ہی ہو گئے۔

بزرگوں کا قول ہے کہ شرافت و نجابت غریبی پر عاشق ہے۔ دولت اور نجابت آپس میں سوکن ہے، یہ حق ہے اور سبب اس کا یہ ہے کہ شرافت کے اصول و آئیں غریبوں ہی سے خوب نبھتے ہیں۔ امارت آئی قیامت آئی دولت آئی شامت آئی۔ میاں جرأت کی خوش مزاجی، لطیفہ گوئی، مسخرا پن حد سے زیادہ گزرا ہوا تھا۔اور ہندوستان کے امیروں کو نہ اس سے ضروری اور ہندوستان کے امیروں کو نہ اس سے ضروری کوئی کام نہ اس سے زیادہ کوئی نعمت ہے۔ کہتے ہیں، مرزا قتل، سید انشاء کا اور ان کا یہ حال تھا کہ گھر میں رہنے نہ پاتے تھے۔ آج ایک امیر کے ہاں گئے، دوسرے دن دوسرے امیر آئے سوار کیا اور ساتھ لے گئے۔ چار پانچ دن وہاں رہے کوئی اور نواب آئے، وہاں سے وہ لے گئے۔ جہاں جائیں آرام و آسائش سے زیادہ عیش کے سامان موجود۔ رات دن قہقہے اور چہچہے ایک  بیگم صاحب نے گھر میں ان کے چٹکلے اور نقلیں سنیں۔ بہت خوش ہوئیں اور نواب صاحب سے کہا کہ ہم بھی باتیں سنیں گے۔ گھر میں لا کر کھانا کھلاؤ، پردے یا چلمنیں چھٹ گئیں، اندر وہ بیٹھیں، باہر یہ بیٹھے۔ چند روز کے بعد خاص خاص بیبیوں کا برائے نام پردہ رہا۔ باقی گھر والے سامنے پھرنے لگے۔ رفتہ رفتہ یگانگی کی یہ نوبت ہوئی کہ آپ بھی باتیں کرنے لگیں۔ گھر میں کوئی دادا، نانا، کوئی ماموں، چچا کہتا، شیخ صاحب کی آنکھیں دکھنے آئیں، چند روز ضعفِ بصر کا بہانہ کر کے ظاہر کیا کہ آنکھیں معذور ہو گئیں۔ مطلب یہ تھا کہ اہل حُسن کے دیدار سے آنکھیں سکھ پائیں، چنانچہ بے تکلف گھروں میں جانے لگے۔ اب پردہ کی ضرورت کیا؟ یہ بھی قاعدہ ہے کہ میاں بیوی جس مہمان کی بہت خاطر کرتے ہیں، نوکر اس سے جلنے لگتے ہیں۔ ایک دن دوپہر کو سو کر اٹھے، شیخ صاحب نے لونڈی سے کہا کہ بڑے آفتابے میں پانی بھر لا۔ لونڈی نہ بولی۔ انھوں نے پھر پکارا، اس نے کہا کہ بیوی جائے ضرور میں لے گئی ہیں۔ ان کے منہ سے نکل گیا کہ غیبانی دوانی ہوئی ہے سامنے تو رکھا ہے۔ دیتی کیوں نہیں۔ بیوی دوسرے دالان میں تھیں۔ لونڈی گئی اور کہا کہ اوئی بیوی یہ موا کہتا ہے کہ وہ بندہ اندھا ہے۔ یہ تو خاصا اچھا ہے۔ ابھی میرے ساتھ یہ واردات گزری۔ اس وقت یہ راز کھلا۔ مگر اس میں شبہ نہیں کہ آخر آنکھوں کو رو بیٹھے۔

مزن فال بد کا درد حالِ بد

مبادا کسے کو زند فال بد

اگرچہ علوم تحصیلی میں ناتمام تھے۔ بلکہ عربی زبان سے ناواقف تھے لیکن اس کوچہ کے رستوں سے خوب واقف تھے اور طبع موزوں طوطی و بلبل کیطرح ساتھ لائے تھے۔ آخر عمر تک  لکھنؤ میں رہے اور وہیں ۱۲۲۵ھ میں فوت ہوئے۔ شیخ ناسخ نے تاریخ کہی :

جب میاں جرأت کا باغِ دہر سے

گلشنِ فردوس کو جانا ہوا

مصرع تاریخ ناسخ نے کہا

ہائے ہندوستان کا شاعر موا

کلام ہر جگہ زبان پر ہے۔ دیوان تلاش سے مل جاتا ہے۔ اس میں ہر طرح کی غزلیں ہیں، رباعیاں، چند مخمس، واسوخت، چند ہجوئیں اور تاریخیں ہیں۔ دیوان میں رطب و یابس بہت نہیں ہے، معلوم ہوتا ہے کہ جو استادوں کے طریقے پائے ہیں، انھیں سلیقہ سے کام میں لائے ہیں۔ اس پر کثرتِ مشق نے صفائی کا رنگ دیا ہے کہ سب کوتاہیوں کا پردہ ہو گیا۔ اور انھیں خود صاحب طرز مشہور کر دیا۔ ان کی نکتہ یابی اور سخن فہمی کی بڑی دلیل یہ ہے کہ قصیدہ وغیرہ اقسام شعر پر ہاتھ نہ ڈالا۔ بلکہ زبان فارسی کی طرف خیال بھی نہیں کیا، مناسب طبع دیکھ کر غزل کو اختیار کیا۔ اور امراء اور ارباب نشاط کی صحبت نے اسے اور بھی چمکایا۔ انھوں نے بالکل میرؔ کے طریقے کو لیا۔ مگر اس کی فصاحت و سادگی پر ایک شوخی اور بانکپن کا انداز ایسا بڑھایا جس سے پسند عام نے شہرت دوام کا فرمان دیا۔ عوام میں کمال کی دھوم مچ گئی۔ اور خواص حیران رہ گئے۔ ان کی طرز انھیں کا ایجاد ہے اور آج تک انھیں کے لئے خاص ہے۔ جیسی اس وقت مقبول خلائق تھی آج تک ویسی ہی چلی آتی ہے۔ خصوصیت اس میں یہ ہے کہ فصاحت اور محاورہ کی جان ہے۔ فقط حسن و عشق کے معاملات ہیں اور عاشق و معشوق کے خیالات گویا اس میں شراب ناب کا شروع پید کرتے ہیں۔ ان کی طبیعت غزل کے لئے عین مناسب واقع ہوئی تھی۔ حریف، ظریف، کوش طبع، عاشق مزاج تھے۔ البتہ استعداد علمی اور کاوش فکری شاعری کا جز اعظم ہے، ان کی طبیعت بجائے محنت پسند ہونے کے عشرت پسند تھی، تعجب یہ ہے کہ زمانے نے شکر خورے کو شکر دے کر تمام عمر قدردان اور ناز بردار امیروں میں بسر کر دی۔ جہاں رات دن اس کے سوا اور چرچا ہی نہ تھا۔ اگر ان کی طبیعت میں یہ باتیں نہ ہوتیں اور وہ استعداد علمی سے طبیعت میں زور اور فکر میں قوتِ غور پیدا کرتے تو اتنا ضرور ہے کہ اصنافِ سخن پر قادر ہو جاتے۔ مگر پھر یہ لطف اور شوخیاں کہاں بلبل میں شوریدہ مزاجی نہ ہوتی، تو یہ چہچہے کب ہوتے۔ یہ بات ہے کہ طبیعت میں تیزی اور طراری تھی۔ مگر نزلے کا زور اور طرف جا کر گِرا تھا۔ یہی سبب ہے کہ کلام میں بلند پردازی، لفظوں میں شان و شکوہ، اور معنوں میں دِقَت نہیں۔ جس نے قصیدہ تک نہ پہونچنے دیا اور غزل کے کوچہ میں لا ڈالا۔ اس عالم میں جو جو باتیں ان پر اور ان کے دل پر گذرتی تھیں سو کہہ دیتے تھے۔ مگر ایسی کہتے تھے کہ اب تک دل پھڑک اٹھتے ہیں۔ مشاعرے میں غزل پڑھتے، جلسے کے جلسے لوٹ جاتے تھے۔ سید انشاء باہمہ فضل و کمال رنگا رنگ کے بہروپ بدل کر مشاعرہ میں دھوم دھام کرتے تھے، وہ شخص فقط اپنی سیدھی سادی غزل میں وہ بات حاصل کر لیتا تھا۔

مرزا محمد تقی خاں ترقی کے مکان پر مشاعرہ ہوتا تھا اور تمام امرائے نامی و شعرائے گرامی جمع ہوتے تھے۔ میر  تقی مرحوم بھی آتے تھے۔ ایک دفعہ جرأت نے غزل پڑھی اور غزل وہ ہوئی کہ تعریفوں کے غل سے شعر تک سنائی نہ دیئے۔ میاں جرأت یا تو اس جوش سرور میں جو کہ اس حالت میں انسان کو سرشار کر دیتا ہے، یا شوخی مزاج سے میر صاحب کے چھیڑنے کے ارادہ سے ایک شاگرد کا ہاتھ پکڑ کر ان کے پاس آ بیٹھے۔ اور کہا کہ حضرت اگرچہ آپ کے سامنے غزل پڑھنی بے ادبی اور بے حیائی ہے۔ مگر خیر اس بیہودہ گو نے جو یاوہ گوئی کی آپ نے نے سماعت فرمائی؟ میر صاحب تیوری چڑھا کر چپکے ہو رہے۔ جرأت نے پھر کہا میر صاحب کچھ ہوں ہاں کر کے پھر ٹال گئے۔ جب انھوں نے بہ تکرار کہا تو میر صاحب نے جو الفاظ فرمائے وہ یہ ہیں (دیکھو تذکرہ حکیم قدرت اللہ خاں قاسم)۔ کیفیت اس کی یہ ہے کہ تم شعر تو کہنا نہیں جانتے ہو اپنی چوما چاٹی کہہ لیا کرو۔” میر صاحب  مرحوم شاعروں کے ابو الآبا تھے، کیسے ہی الفاظ میں فرمائیں مگر جوہری کامل تھے۔ جواہر کو خوب پرکھا۔ اس میں کچھ شبہ نہیں کہ عاشق و معشوق کے راز و نیاز اور حُسن کے معاملوں کو جس شوخی اور چونچلے سے انھوں نے برتا ہے وہ انھیں کا حصہ تھا۔ آج تک دوسرے کو نصیب نہیں ہوا۔

میرؔ اور سوداؔ کی غزلوں پر اکثر غزلیں لکھی ہیں۔ ان کے کلام  ملوک الکلام تھے مگر یہ اپنی شوخی سے جو لطف پید کر جاتے ہیں، تڑپا جاتے ہیں۔

برقع کو اٹھا چہرہ سے وہ بت اگر آئے

اللہ کی قدرت کا تماشا نظر آئے

(میر)

اس دل کو تفِ آہ سے کب شعلہ بر آئے

بجلی کو دم سرد سے جس کے حذر آئے

(سودا)

ہر گز نہ مرادِ دل معشوق بر آئے

یا رب نہ شبِ وصل کے پیچھے سحر آئے

(مصحفی)

اس پردہ نشیں سے کوئی کس طرح بر آئے

جو خواب میں بھی آئے تو منھ ڈھانک کر آئے

(جرأت)

ناقص کا صفا کیش سے مطلب نہ بر آئے

جو کور ہو عینک سے اُسے کیا نظر آئے

(ذوق)

فردوس میں ذکر اس لبِ شیریں کا گر آئے

پانی دہن چشمہ کوثر میں بھر آئے

(بعالم جوانی)

اب کر کے فراموش تو ناشاد کرو گے

پر ہم جو نہ ہوں گے تو بہت یاد کرو گے

(میر)

جس روز کسی اور پہ بیداد کرو گے

یہ یاد رہے ہم کو بہت یاد کرو گے

(سودا)

ہے کس کا جگر جس پہ یہ بیداد کرو گے

لو ہم تمھیں دل دیتے ہیں کیا یاد کرو گے

(جرأت)

مدعی مجھ کو کھڑے صاف بُرا کہتے ہیں

چپکے تم سنتے ہو بیٹھے اسے کیا کہتے ہیں

(میر)

تو نے سودا کے تئیں قتل کیا کہتے ہیں

یہ اگر سچ ہے تو ظالم اسے کیا کہتے ہیں

(سودا)

آئینہ رُخ کو ترے اہل صفا کہتے ہیں

اسپہ دل اٹکے ہے میرا اسے کیا کہتے ہیں

(جرأت)

سوداؔ کا ایک مطلع مشہور (میرے شفیق قدیم حافظ ویران فرماتے ہیں۔) ہے۔ استاد مرحوم اس پر جرأت کا مطلع پڑھا کرتے تھے۔ ایک مصرع یاد ہے دوسرا بھُول گیا، اب سارا دیوان چھان مارا نہیں ملتا، معلوم ہوتا ہے کہ زبان بزبان یہاں تک آ پہونچا وہاں دیوان میں نہ درج ہوا، ناسخؔ اور آتش کے اکثر اشعار کا یہی حال ہے۔ معتبر اشخاص کی زبانی سن چکا ہوں جو کہ خود ان کے مشاعروں میں شامل ہوتے تھے مگر اب دیوانوں میں وہ اشعار نہیں ملتے۔ استاد مرحوم کے صدہا شعروں کا حال راقم آثم جانتا ہے کہ خود یاد ہیں یا ایک دو زبانوں پر ہیں۔ کار ساز کریم ان کے مجموعہ کو بھی تکمیل کو پہنچائے۔ سودا کا مطلع ہے :

کہہ دیکھ تو رستم سے سر تیغ تلے دھر دے

پیار سے یہ ہمیں سے ہو ہرکارے و ہزمردے

(سودا)

پہلا مصرع یاد نہیں دوسرا حاضر ہے

ہر شہرے و ہر رسمے، ہرکارے و ہر مردے

(جرأت)

ہمارے آگے ترا جب کسی نے نام لیا

دل ستم زدہ کو ہم نے تھام تھام لیا

(میر)

چمن میں صبح جو اس جنگ جو کا نام لیا

صبا نے تیغ کا موج رواں سے کام لیا

(سودا)

پاس جا بیٹھا جو میں کل اک ترے ہمنام کے

رہ گیا بس نام سنتے ہی کلیجہ تھام کے

(جرأت)

چمن میں گل نے جو کل دعویٰ جمال کیا

جمال یار نے منھ اس کا خوب لال کیا

(میر)

برابری کا تری گل نے جب خیال کیا

صبا نے مار تھپیڑے منھ اس کا لال کیا

(سوداؔ)

جو تیغ یار نے کوں ریزی کا خیال کیا

تو عاشقوں نے بھی  منھ اس کا خوب لال کیا

(جرأت)

طائر شہرت نے ابھی پر پرواز نہ نکالے تھے جو مرزا رفیع اور میر سوزؔ جلسہ میں ایک لطیفہ ہوا، دیکھو صفحہ ، سچ ہے شاعر اپنی شاعری  ماں کے پیٹ سے لے کر نکلتا ہے۔ ان کے کلام میں بعض نکتے ایسے بھی ہیں کہ جن پر خاص لوگوں کی نظریں اٹکتی ہیں۔ مثلاً :

ہو کے آزردہ جو وہ ہم سے پرے پھرتے ہیں

ہاتھ ہم اپنے کلیجے پہ دھرے پھرتے ہیں

مصرع گرم ہے۔ لیکن پرے پرے پھرتے ہیں۔ کہتے تو محاورہ پورا ہو جاتا۔

کبھی وہ چاند کا ٹکڑا ادھر بھی آ نکلے

ذرا تو دیکھ منجّم مرے ستاروں کے دن

دکھا دے شکل کہ دیوار و در سے سر اپنا

کہاں تلک کوئی تیرے قرار پر مارے

ہجوم داغ نے یہ کی ہے تن پہ گلکاری

کہ پہنے ہوں تن عریاں لباس پھلکاری

ظہور اللہ خاں نواؔ سے کسی معاملے میں بگاڑ ہو گیا تھا۔ انھوں نے ان کی ہجو میں ایک ترجیع بند کہا اور حقیقت میں بہت خوب کہا۔ جس کا شعر ترجیع یہ ہے :

ظہور حشر نہ ہو کیوں کہ کلچڑی گنجی

حضور بلبل بستاں کرے نوا سنجی

خان (ظہور اللہ خاں نوا ۱۲۴۰ھ میں مر گئے۔) موصوف نے بھی بہت کہا کہا۔ اس نے شہرت نہیں پائی۔ چنانچہ ان کے ترجیع بند کا فی الحال یہی ایک شعر یاد ہے۔

رات کو کہنے لگا جو رو کے منھ پر ہاتھ پھیر

قدرتِ حق سے لگی ہے ہاتھ اندھے کے بٹیر

کریلا – (عہد محمد شاہی اور اسی پس و پیش کا زمانہ خوشحالی کے لحاظ سے بہشتی زمانہ تھا۔ دربار سے جو امیر کس طرف جاتا تھا وہ ضروری چیزیں اور کاروبار کے آدمی دلّی سے اپنے ساتھ لے جاتا تھا تاکہ ہر کام ہر رسم ہر بات اور کارخانہ کا محاورہ وہ ہو جو دارالخلافہ کا ہے۔ نواب سراج الدولہ مرشد آباد کے صوبیدار ہر کر گئے تو علاوہ منصب داروں اور ملازموں کے کئی بھانڈ اور دو تین گوئیے، دو تین رنڈیاں اور دو بھگتنے، دو تین نانبائی، ایک دو کنجڑے اور بھڑبھونجے تک بھی ساتھ لے گئے اور وہ ایسا وقت تھا کہ دلّی کا بھڑبھونجا بھی دس (۱۰) بارہ روپے مہینے بغیر دلّی سے نہ نکلتا تھا۔ یہ شعر شاہ مبارک آبرو کا ہے۔)  ایک پراتم بھانڈ دلّی کا رہنے والا، نواب شجاع الدولہ کے ساتھ گیا تھا۔ اور اپنے فن میں صاحب کمال تھا۔ ایک دن کسی محفل میں اس کا طائفہ حاضر تھا۔ شیخ جرأت بھی وہاں موجود تھے۔ اس نے نقل کی۔ ایک ہاتھ میں لکڑی لے کر دوسرا ہاتھ اندھوں کی طرح بڑھایا۔ ٹٹول کر پھرنے لگا اور کہنے لگا کہ حضور شاعر بھی اندھا شعر بھی اندھا :

صنم سنتے ہیں تیرے بھی کمر ہے

کہاں ہے کس طرف کو ہے کدھر ہے

شیخ صاحب بہت خفا ہوئے۔ مگر یہ بھی سید انشاء اور مرزا قتیلؔ کے جتھے کے جزو اعظم تھے۔ گھر آ کر انھوں نے اس کی ہجو کہہ دی اور خاک اڑائی۔ اُسے سن کر کریلا بہت کڑوایا۔ چنانچہ دوسرے جلسہ میں پھر اندھے کی نقل کی۔ اسی طرح لاٹھی لے کر پھرنے لگا۔ ان کی ایک غزل ہے :

امشب تری زلفوں کی حکایات ہے واللہ

کیا رات ہے، کیا رات ہے، کیا رات ہے واللہ

ہر رات کے لفظ پر لکڑی کا سہارا بدلتا تھا۔ کیا رات ہے، کیا رات ہے،  کیا رات ہے واللہ، اس غزل کے ہر شعر کا دوسرا مصرع ایک ہی ڈھنگ پر ہے۔ چنانچہ ساری غزل کو اسی طرح محفل میں پڑھتا پھرا۔ شیخ صاحب اور بھی غصہ ہوئے اور پھر آ کر ایک ہجو کہی۔ ترجیع بند تھا :

اگلا جھولے بگلا جھولے ساون اس کریلا پھُولے

اس کو بھی خبر ہوئی، بہت بھنایا۔ پھر کسی محفل میں ایک زچّہ کا سوانگ بَھرا اور ظاہر کیا کہ اس کے پیٹ میں بھُتنا گھس گیا ہے۔ خود مُلّا بن کر بیٹھا اور جس طرح جنّات اور سیانوں میں لڑائی ہوتی ہے۔ اسی طرح جھگڑتے جھگڑتے بولا کہ ارے نامراد کیوں غریب ماں کی جان کا لاگو ہوا ہے۔ جرأت ہے تو باہر نکال آ کہ ابھی جلا کر خاک کروں، آخر اب کی دفعہ انھوں نے ایسی خبر لی کہ کریلا خدمت میں حاضر ہوا، خطا معاف کروائی اور کہا کہ میں اگر آسمان کے تارے توڑ لاؤں گا تو بھی اس کا چرچا وہیں تک رہے گا، جہاں تک دائرہ محفل ہے۔ آپ کا کلام منھ سے نکلتے ہیں عالم میں مشہور ہو جائے گا۔ اور پتھر کی لکیر ہو گا کہ قیامت تک نہ مٹے گا۔ بس اب میری خطا معاف فرمائیے۔

اگرچہ روایت کہن سال لوگوں سے سنی ہے، مگر کئی نسخے کلیات کے نظر سے گذرے جو ہجو اس میں ہے وہ ایسی نہیں ہے، جس پر ایک بھانڈ اس قدر گھبرا جائے کہ آ کر خطا معاف کروائے۔

لطیفہ : ایک دن میر انشاء اللہ خاں جرأت کی ملاقات کو آئے، دیکھا تو سر جھکائے بیٹھے کچھ سوچ رہے ہیں۔ انھوں نے پوچھا کہ کس فکر میں بیٹھے ہو؟ جرأت نے کہا کہ ایک مصرع خیال میں آیا ہے۔ چاہتا ہوں کہ مطلع ہو جائے۔ انھوں نے پوچھا کہ کیا ہے ؟ جرأت نے کہا کہ خوب مصرع ہے مگر جب تک دوسرا مصرع نہ ہو گا، تب تک نہ سناؤں گا، نہیں تو تم مصرع لگا کر اسے بھی چھین لو گے۔ سید انشاء نے بہت اصرار کیا، آخر جرأتؔ نے پڑھ دیا :

اس زلف پہ پھبتی شب دیجور کی سُوجھی

سید انشاء نے فوراً کہا :

اندھے کو اندھیرے میں بہت دُور کی سُوجھی

جرأتؔ ہنس پڑے اور اپنی لکڑی اٹھا کر مارنے دوڑے۔ دیر تک سید انشاء آگے آگے بھاگتے پھرے اور یہ پیچھے پیچھے ٹٹولتے پھرے۔ اللہ اکبر! کیا شگفتہ مزاج لوگ تھے۔ کیا خوش دلی اور فارغ البالی کے زمانے تھے۔

سیّد انشاء نے ان کے نام کا معمہ کہا تھا، سرمونڈی  نگوڑی گجرأتن۔ لطیفہ اس میں یہ تھا کہ گجرأتن ان کی ماں کا نام تھا۔

نواب محبت خاں کے مختار نے ایک دفعہ جاڑے میں معمولی پوشاک دینے میں کچھ دیر کی۔ جرأتؔ نے رباعی کہہ کر کھڑے کھڑے خلعت حاصل کیا۔

مختاری پہ آپ نہ کیجیے گا گھمنڈ

کہتے ہیں جسے نوکری ہے بیخ ارنڈ

سرمائی دلائیے ہماری ورنہ

تم کھاؤ گے گالیاں جو ہم کھائیں گے ٹھنڈ

غزل

لگ جا گلے سے بات اب اے نازنیں نہیں

ہے ہے خدا کے واسطے مت کر نہیں نہیں

کیا رک کے وہ کہے ہے جو ٹک اس سے لگ چلوں

بس بس پرے ہو شوق یہ اپنے تئیں نہیں

پہلو میں کیا کہیں جگر و دل کا کیا ہے رنگ

کس روز اشکِ خونی سے تر آستیں نہیں

فرصت جو پا کے کہنے کبھو درد دل سو ہائے

وہ بدگماں کہے ہے کہ ہم کو یقیں نہیں

آتش سی پھُنک رہی ہے مرے تن بدن میں آہ

جب سے کہ روبرو وہ رُخ آتشیں نہیں

اُس بن جہان کچھ نظر آتا ہے اور ہی

گویا وہ آسمان نہیں، وہ زمیں نہیں

کیا جانے کیا وہ اس میں ہے لوٹے ہے جس پہ دل

یوں اور کیا جہاں میں کوئی حسیں نہیں

سنتا ہے کون کس سے کہوں درد بے کسی

ہمدم نہیں ہے کوئی مرا ہم نشیں نہیں

ہر چند یہ لطف شب ماہ سیر باغ

اندھیر پر یہی ہے کہ وہ مہ جبیں نہیں

آنکھوں کی راہ نکلے ہے کیا حسرتوں سے جی

وہ روبرو جو اپنے دمِ واپسیں نہیں

طوفانِ گریہ کیا کہیں کس وقت ہم نشیں

موج سر شک، تا فلک ہفتمیں نہیں

حیرت ہے مجھ کو کیونکہ وہ جرأت ہے چین سے

جس بن قرار جی کو ہمارے کہیں نہیں

*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*

امشب کسی کاکل کی حکایات  ہے واللہ

کیا رات ہے، کیا رات ہے، کیا رات ہے واللہ

دل چھین لیا اس نے کہا دستِ حنائی

کیا بات ہے، کیا بات ہے، کیا بات ہے واللہ

عالم ہے جوانی کا جو اُبھرا ہوا سینہ

کیا گات ہے، کیا گات ہے، کیا گات ہے واللہ

دشنام کا پایا جو مزہ اس کے لبوں سے

صلٰوت ہے، صلٰوت ہے، صلٰوت ہے واللہ

جرأت کی غزل جس نے سُنی اس نے کہا واہ

کیا بات ہے، کیا بات ہے، کیا بات ہے واللہ

*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*

طرح مشاعرہ کی مستزاد ہے، مصحفی اور سید انشاء نے بھی طبع آزمائی کی ہے۔ ہر ایک کے حال میں دیکھ کر مقابلہ کرو، انھوں نے سراپا باندھا ہے۔

جادو ہے نگہ، چھب  ہے غضب، قہر ہے مکھڑا        اور قد ہے قیامت

غارت گر دیں وہ بت کافر ہے سراپا        اللہ کی قدرت

اٹھکیلی  ہے رفتار میں، گفتار کی کیا بات    ہر بات جگت ہے

اور رنگِ رخ یار ہے گویا کہ بَھبھُوکا       پھر تس پہ ملاحت

ہیں بال یہ بکھرے ہوئے مکھڑے دھواں دھار     جوں دود بہ شعلہ

حُسنِ بُتِ کافر ہے خدائی کا جھمکڑا           ٹک دیکھیو صورت

ابرو فنِ خونریزی میں اس کے ہیں غضب طاق      شمشیر برہنہ

آنکھوں کا یہ عالم ہے کہ آنکھوں سے نہ دیکھا        افسوں نے اشارت

کان ایسے کہ کانوں سے سُنے ویسے نہ اب تک        نے آنکھوں سے دیکھے

بالے کے تصور میں مجھے گھیرے ہے گویا اک حلقہ حیرت

بینی یہ خوش اسلوب کہ نتھنوں کی پھڑک دیکھ       تڑپے ہے دو عالم

ہے اس کو لب یار کے بوسہ کی تمنا          ارمان ہے حسرت

دانتوں کی صفا کیا کہوں موتی کی لڑی ہے   لب لعل کے ٹکڑے

مِسّی ہے بلا تس پہ رکھے پان کا بیڑا        سو شوخی کی رنگت

دل خون کرے وہ دستِ حنا بستہ پھر اس میں         سمرن کی پھبن ہائے

ہے وضع تو سادی سی پہ کیا کیا نہیں پیدا                شوخی و شرارت

اس اُبھرے ہوئے گات کی کیا بات جسے دیکھ        سب ہاتھ ملے ہیں

اور ہائے رے ہر بات میں گردن کا وہ ڈورا            ہے دامِ محبت

گلشن میں پھرے ٹک تو وہیں آتشِ گل کی            گرمی سے عرق آئے

ہر گام پہ چلنے میں کمر کھائے ہے لچکا        اللہ رے نزاکت

ہیں قہر سریں گول وہ اور ہائے کہوں کیا               رانوں کی گدازی

فرق اس میں نہیں فرق سے لے تا بہ کفِ پا          ہے طرفہ لطافت

ہے عشوہ و انداز و ادا ناز و کرشمہ           اور گرمی و شوخی

ہر عضو پہ آنکھ اٹکے وہ کافر ہے سراپا       ایک موہنی مورت

بھُولے سے جو ہم نام لیں تو رک کے کہے یوں         اس نام کو کم لو

پھر اس میں جو رک جائیے تو جھٹ سے یہ کہنا        بس دیکھ لی چاہت

جرأت یہ غزل گرچہ کہی ایسی ہے تو نے    ہے خوب سراپا

پر کہہ کے وہ اشعار کر اب اس کو دو غزلہ ہو جس سے کہ وحشت

جز بے کسی و یاس نہیں ہے کوئی جس جا                ہے اپنی وہ تربت

افسوس کرے کون بجز دستِ تمنا         ہوں کشتہ حیرت

جو میں نے کہا اس سے دکھا مجھ کو رُخ اپنا  بس دے نہ اذّیت

تو کیا کہوں کس شکل سے جھنجھلا کے وہ بولا            تو دیکھے گا صورت

یہ راہ تکی اس کی کہ بس چھا گئی اک بار                 آنکھوں میں سپیدی

پیمان گسل آیا نہ وہ دے وعدہ فردا         تا صبح قیامت

سودائے محبت جو نہیں ہے تجھے اے دل              تو پھر مجھے بتلا

کیوں چاک کئے اپنے گریباں کو ہے پھرتا آنکھوں پہ ہے وحشت

سو بار زباں گرچہ مری کٹ گئی جوں شمع  اور پھر ہوئی پیدا

پر محفل قاتل میں مرے منھ سے نہ نکلا              یک حرف شکایت

اب گھر میں بلانے سے اگر آتی ہیں سو سوچ          بدنام سمجھ کر

آواز ہی تو در پہ مجھے آ کے سُنا جا از راہ مروّت

آلودہ ہوا خون سے دلا دامن قاتل       ٍبسمل ہو جو تڑپا

افسوس صد افسوس کہ یہ تو نے کیا کیا؟    اے ننگِ محبت

جو ولولہ شوق سے ہو مضطر وہ بیتاب       نکلا ہی پڑے دل

کیا قہر ہے، کیا ظلم ہے محبوب گر اس کا     ہو صاحب عصمت

کیا خاک رہیں چین سے بےچینی کے مارے           بس ہے یہ پریکھا

ہم ہو گئے جس کے وہ ہوا ہائے نہ اپنا       کیا کیجیئے قسمت

چپ ان دنوں رہتا ہے جو وہ صورتِ تصویر          کچھ اور ہے خفقان

لگ جائے پھر اس سے مرے کیوں دل کو نہ دھڑکن            ہے موجب حیرت

دل دے کے عجب ہم تو مصیبت میں پھنسے ہیں        اک پردہ نشین کو

نے جانے کا گھر اس کے ہے مقدور ہمارا               نے رہنے کی طاقت

یا مجھ کو بلاتا تھا وہ یا آئے تھا مجھ پاس       صحبت کی تھی گرمی

اب اس کو خدا جانے دیا کس نے یہ بھڑکا جو ایسی ہے نفرت

لے نام مرا کوئی تو دے سینکڑوں دشنام               گِن گِن کے وہ قاتل

بے رحمی و بے دردی سے پروا ہو نہ اصلا   سُن مرگ کی حالت

آنا مرا سُن در پہ کہیں گھر سے چلا جائے     دیکھوں تو نہ دیکھے

اور کوئی سفارش جو کرے میری تو کیا کیا   کھینچے وہ ندامت

گر خواب میں دیکھے مجھے تو چونک اٹھے اور           پھر موندے نہ آنکھیں

آواز جو میری سی سُنے تو وہیں گھبرا         کھانے لگے دہشت

افسوس کہ گردوں نے عجب رنگ دکھایا نقشہ ہی وہ بدلا

لے جان مری! خانہ تن سے تو نِکل جا                 ہو جائے فراغت

کس منھ سے کروں عشوہ گری اس کی بیاں میں       اللہ رے ادائیں

مل بیٹھے ہیں ہم اور وہ قسمت سے جو یا جا   طرفہ ہوئی صحبت

بیتاب ہو لگ چلنے کا جو میں کیا عزم         دے بیٹھے وہ گالی

کچھ اور کیا قصد تو ناز سے بولا                بل بے تری جرأتؔ

*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*

اجل گر اپنی خیال جمال یار میں آئے

تو پھر بجائے فرشتہ پری مزار میں آئے

بھلا پھر اس کے اٹھانے میں کیوں نہ دیر لگے

کسی کی موت کسی کے جو انتظار میں آئے

بیک کرشمہ جو بے اختیار کر ڈالے

وہ عشوہ ساز کسی کے کب اختیار میں آئے

پس از فنا جو ترے دل جلے کی خاک اڑے

تو مضطرب سا دھواں اک نظر اغیار میں آئے

خراب کیونکہ نہ ہو شہر دل کی آبادی

ہمیشہ لوٹنے والے ہی اس دیار میں آئے

فغاں پھر اس کی ہو لبریز یاس کیونکہ نہ آہ

بہ زیر دام جو مرغِ چمن بہار میں آئے

بلائیں لے لے جو ہونے لگوں نثار تو بس

کہے ہے ہنس کے وہ ایسے جی اب  پیار میں آئے

نہ پوچھ مجھ سے وہ عالم کہ صبح نیند سے اُٹھ

جب انکھڑیوں کو وہ ملتے ہوئے خمار میں آئے

نہ کیونکہ حد سے فزوں تر ہو رتبہ گریا

کہ اب تو حضرتِ دل چشم اشکبار میں آئے

ٹلیں نہ واں سے اگر ہم کو گالیاں لاکھوں

وہ دینے غیرتِ گل ایک کیا ہزار میں آئے

مگر نہ کہیے کہ مضطر ہو تو نہ کیونکہ بھلا

وہ دوڑ دوڑ تمھارے نہ رہگزار میں آئے

اٹھے جہان سے جرأت اٹھا کے درد فراق

الہٰی موت بھی آئے تو وصل یار میں آئے

(کس دھوم دھام کی غزل تھی مگر “آئے ” کہیں واحد ہے کہیں جمع ہو گیا ہے۔)

*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*

یاد آتا ہے تو کیا پھرتا ہوں گھبرایا ہوا

چنپئی رنگ اس کا اور جوبن وہ گدرایا ہوا

بات ہی اول تو وہ کرتا نہیں مجھ سے کبھی

اور جو بولے بھی ہے کچھ منھ سے تو شرمایا ہوا

جا کے پھر آؤں نہ جاؤں اس گلی میں دوڑ دوڑ

پر کروں کیا میں نہیں پھرتا ہے دل آیا ہوا

بے سبب جو مجھ سے ہے وہ شعلہ خو سر گرم جنگ

میں تو ہوں حیراں کہ یہ کس کا ہے بھڑکایا ہوا

وہ کرے عزم سفر تو کیجیئے دنیا سے کوچ

ہے ارادہ دل میں مُدّت سے یہ ٹھہرایا ہوا

نوکِ مژگاں پر دل پژمردہ ہے یوں سرنگوں

شاخ پر جھک آئے ہے جوں پھول مرجھایا ہوا

جاؤں جاؤں کیا لگایا ہے اجی بیٹھے رہو

ہوں میں اپنی زیست سے آگے ہی اکتایا ہوا

تیری دُوری سے یہ حالت ہو گئی اپنی کہ آہ

عنقریب مرگ ہر ایک اپنا ہمسایا ہوا

کیا کہیں اب عشق کیا کیا ہم سے کرتا ہے سلوک

دل پہ بیتابی کا اک پُتلا ہے بٹھلایا ہوا

ہے قلق سے دل کی یہ حالت مری اب تو کہ میں

چار سو پھرتا ہوں اپنے گھر میں گھبرایا ہوا

حکم بارِ مجلس اب جرأت کو بھی ہو جائے جی

یہ بچارا کب سے دروازہ پہ ہے آیا ہوا

*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*

نہ جواب لے کے قاصد جو پھرا شتاب اُلٹا

میں زمیں پہ ہاتھ مارا بصد اضطراب اُلٹا

دمِ وصل اس نے رخ سے جو نہ ٹک نقاب اُلٹا

ہمیں لگ گیا دم اُس دم بصد اضطراب اُلٹا

ترے دَور میں ہو میکش کوئی کیا فلک کہ تیری

وہ ہے شکل جوں دھرا ہو قدح شراب اُلٹا

یہ وفا کی میں نے تس پر مجھے کہتے بے وفا ہو

مری بندگی ہے صاحب یہ ملا خطاب اُلٹا

مرے بخت ہیں وہ روکش کہ وہ دے جو وعدہ شب

تو پہنچ کے تا بہ مغرب پھرے آفتاب اُلٹا

کسی نسخہ میں پڑھے تھا وہ مقام دل نوازی

مجھے آتے جو ہی دیکھا ورقِ کتاب اُلٹا

وہ بہا کے کاسہ سر میرے خوں مین شکل  کشی

کہے ہے کہ دیکھو نِکلا یہ موا حباب اُلٹا

مرے دل نے داغ کھایا جو یہ بوئے سوختہ سے

یہ جلا بس ایک پہلو نہ کیا کباب اُلٹا

غزل اور پڑھ تو جرأتؔ کہ گیا جو یاں سے گھر کو

تو کلام سُنتے تیرا میں پھرا شتاب اُلٹا

میں تڑپ کے سنگِ تربت بصد اضطراب اُلٹا

مری قبر پر وہ آ کر جو پھرا شتاب اُلٹا

مرے سو سوال سن کر وہ رہا خموش بیٹھا

نہیں یہ بھی کہنے کی جا کہ ملا جواب اُلٹا

جو رکھے ہے بخت واژوں وہ ٹنی سے مل ہو مفلس

کہ رہے یہ آب دریا قدح حباب اُلٹا

شب وصل یہ قلق تھا پہ وہ سو گیا تو منھ سے

نہ ذرہ بھی میں (*) دوپٹہ زرہِ حجاب اُلٹا

(* دیکھو یہاں بھی علامتِ فاعلیت ہے محذوف ہے اور یہ پرانا جوہر ہے۔)

ہمیں ہے خیال اس کا کہ جو آیا خواب میں وہ

تو زباں پہ اس کی ڈر سے نہ وہ ہم نے خواب اُلٹا

اسی در تک آؤں گا میں کہ نہیں ہے دل کہے میں

پچھے پھیرتے عبث ہو زرہِ عتاب اُلٹا

طلب اس سے کل جو مے کی تو بھرا ہوا زمن پر

مجھے شوخ نے دکھا کر قدحِ شراب اُلٹا

جو کنار مقصد اپنی لگے بہہ کے ناؤ گاہے

تو ہوا تھپڑ مارے لگے بہنے آب اُلٹا

کسی تذکرہ میں پڑھنے مرے شعر جو لگا وہ

تو ہوا نے ودں ہی جرأتؔ ورق کتاب اُلٹا

*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*

اس ڈھب سے کیا کیجیئے ملاقات کہیں اور

دن کو تو ملو ہم سے رہو رات کہیں اور

کیا بات کوئی اس بُتِ عیّار کی سمجھے

بولے ہے جو ہم سے تو اشارات کہیں اور

اس ابر میں پاؤں میں کہاں دختر رز کو

رہتی ہے مدام اب تو وہ بد ذات کہیں اور

جس رنگ مری چشم سے برے ہے پڑا خوں

اس رنگ کی دیکھی نہیں برسات کہیں اور

گھر اُس کو بلا نذر کیا دل تو وہ جرأتؔ

بولا کہ یہ بس کیجئے مدارات کہیں اور

*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*

جب یہ سنتے ہیں کہ ہمسایہ میں آپ آئے ہوئے

کیا در و بام پہ ہم پھرتے ہیں گھبرائے ہوئے

آپ سے میں تو نہ جاؤں پر کروں کیا کہ وہیں

دل بیتاب لئے جائے ہے دوڑائے ہوئے

گھر میں بے یار ہے شکل اپنی یہ دل کے ہمراہ

دہ گنہگار ہوں جوں قید میں بٹھلائے ہوئے

آئے جب دست بقبضہ ہو تو پھر دیر ہے کیا

سر تسلیم کو ہم بیٹھے ہیں نہڑائے ہوئے

آج بھی اس کے جو آنے کہ نہ ٹھہری تو بس آہ

ہم وہ کر بیٹھیں گے جو دل میں ہیں ٹھہرائے ہوئے

پیرہن چاک ترے در پہ جو کل کرتا تھا

آج لوگ اس کو لئے جاتے ہیں کفنائے ہوئے

مُردنی بھر گئی منھ پر مرے جن کی خاطر

رنگ و رو کیا وہ پڑے پھرتے ہیں چمکائے ہوئے

ابر تصویر کی مانند ہم اس محفل میں

رد نہیں سکتے پہ آنکھوں میں ہیں اشک آئے ہوئے

لوگ گر ہم سے یہ کہتے ہیں کہ چلتے ہو جی واں

اپنے بیگانے سب اس بزم میں ہیں آئے ہوئے

دل میں تب سوچ کے اس بات کو رو دیتے ہیں

کیا کہیں اُن سے کہ ہیں ہم تو نکلوائے ہوئے

کر کے موزوں انھیں جرأتؔ غزل اک اور بھی پڑھ

دل میں جو تازہ مضامین ہوں ٹھہرائے ہوئے

*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*

خوف کچھ کھاتے ہی بیدار ہم اے وائے ہوئے

شب کو تم خواب میں پھر آئے تو گھبرائے ہوئے

بے خودی پر نہ ہماری متحیر ہو کوئی

آئیں کیا آپ میں جی ہم ہیں کہیں آئے ہوئے

رنگ اور اس میں نظر آئے ہے کچھ حضرتِ دل

اشک سُرخ آنکھوں میں پھرتے ہو چمکائے ہوئے

رشک کی جا ہے غرض شہر خموشاں بھی کہ واں

سوتے کیا چین سے ہم پاؤں کو پھیلائے ہوئے

دیکھو شوخی کہ کوچے میں دِل عاشق کو

کیسی اٹکھیلی سے جاتا ہے وہ ٹھکرائے ہوئے

جوشِ وحشت سے گریبان کو کر چاک ہم آہ

سُرخ آنکھیں کئے کیا بیٹھے ہیں جھنجھلائے ہوئے

جام دیتے نہیں مجھ کو جو دمِ بادہ کشی

یہ تو فرماؤ کہ تم کس کے ہو بہکائے ہوئے

حسرت اے ہم نفساں سیر چمن مفت گئی

نخل بستاں سے قفس ہیں کئی لٹکائے ہوئے

دور چھوڑا ہمیں گلشن سے یہ رونے کی ہے جا

کہ سزاوارِ اسیری بھی نہ ہم ہائے ہوئے

دم رخصت کہے جرأتؔ کوئی اس کافر سے

اک مسلمان کو کیوں جاتے ہو تڑپائے ہوئے

*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*

 

 

میر حسنؔ

حسن تخلص میر غلام حسن نام خاص دہلوی تھے۔ پرانی دلّی میں سّید واڑہ ایک محلہ تھا، وہاں پیدا ہوئے تھے۔ عالم شباب میں والد کے ساتھ فیض آباد (پلے فیض آباد حاکم نشین شہر تھا۔ لکھنؤ ایک قصبہ تھا۔ آصف الدولہ مرحوم کو اس کے آباد کرنے کا شوق ہوا۔ زیادہ تر یہاں رہنے لگے۔ ان کے سبب سے امراء کو بھی یہاں رہنا پڑا۔ اور عمارات کا تعمیر کرنا واجب ہوا۔ مگر دو گھرے تھے ایک قدم یہاں رہتا تھا اور ایک قدم وہاں۔) گئے۔اور نواب سرفراز جنگ خلف نواب سالار جنگ کی سرکار میں ملازم ہوئے۔ کچھ مُدت مقام مذکور میں رہے۔ پھر لکھنؤ میں آ گئے۔ خندہ جبیں، شگفتہ مزاج ظریف طبع تھے اور اس میں تہذیب و شائستگی کو کبھی ہاتھ سے نہ جانے دیتے تھے، میانہ قد، خوش اندام، گورا رنگ، جملہ قوانین شرافت اور آئین خاندان میں اپنے والد کے پابند تھے، اتنا تھا کہ ڈاڑھی منڈاتے تھے۔ اللہ اللہ عہد جوانی بھی ایک عالم رکھتا ہے۔ مصرعہ :

جوانی کجائی کہ یادت بخیر

سر پر بانکی ٹوپی، تن میں تن زیب کا انگرکھا، پھنسی ہوئی آستینیں، کمر سے دوپٹہ بندھا :

رہے اک بانکپن بھی بے دماغی میں تو زیبا ہے

بڑھا دو چین ابرو پر ادائے کج کلاہی کا

جب تک دلّی میں رہے، پہلے اپنے والد سے پھر خواجہ میر درد سے اصلاح لیتے رہے، اودھ میں جا کر میر ضیاء الدین ضیاؔ کے شاگرد ہوئے۔ اور مرزا رفیع سودا کو بھی غزل دکھائی، لکھنؤ میں آ کر ان کے کلام نے شہرت کا رنگ اڑایا۔ اِن کے اشعار غزل کے اصول میں گلاب کے پھول ہیں اور محاورات کی خوش بیانی مضامین عاشقانہ کے رنگ میں ڈوبی ہوئی ہے۔ میر سوزؔ کا انداز بہت ملتا ہے۔ اہل تذکرہ کہتے ہیں کہ قصیدہ اس رتبہ پر نہ تھا اور کچھ اس کا تعجب نہیں، کیوں کہ دونوں کوچوں میں مسافت بعید کا فاصلہ ہے۔

حقیقت میں سحر البیان بے نظیر اور بدر منیر کا قصہ بے نظیر لکھا اور اس مثنوی کا نام سحر البیان رکھا ہے۔ زمانہ نے اس کی سحر البیانی پر تمام شعراء اور تذکرہ نویسوں سے محضر شہادت لکھوایا۔ اس کی صفائی بیان اور لطافت محاورہ اور شوخی مضمون طرز ادا اور ادا کی نزاکت اور جواب سوال کی نوک جھونک حدِ توصیف سے باہر ہے۔ اس کی فصاحت کے کانوں میں قدرت نے کیسی سناوٹ رکھی تھی کہ اُسے سو برس آگے والوں کی باتیں سنائی دیتی تھیں ؟ کہ جو کچھ اس وقت کہا صاف وہی محاورا اور وہی گفتگو ہے، جو آج ہیں تم بول رہے ہیں۔ اس عہد کے شعراء کا کلام دیکھو! ہر صفحہ میں بہت سے الفاظ اور ترکیبیں ایسی ہیں کہ آج متروک اور مکروہ سمجھی جاتی ہیں۔ اس کا کلام (سوا چند الفاظ کے ) جیسا جب تھا، ویسا ہی آج دلپذیر و دل کش ہے۔ کہا کہتا ہوں ؟ آج کس کا منھ ہے جو ان خوبیوں کے ساتھ پانچ شعر بھی موزوں کر سکے، خصوصاً ضرب المثل، کہاوت، کو اس خوبصورتی سے شعر میں مسلسل کر جاتے ہیں کہ زبان چٹخارے بھرتی ہے اور نہیں کہہ سکتی کہ کیا میوہ ہے۔ عالم سخن کے جگت گرد مرزا رفیع سودا اور شاعروں کے سرتاج میر تقی میر نے بھی کئی کئی مثنویاں لکھیں۔ فصاحت کے کتب خانہ میں اس کی الماری پر جگہ نہ پائی۔ کتاب مذکور ہر گھر ہر دوکان بلکہ اس کے اشعار ہر زبان پر جاری ہیں، اس لئے یہاں درج کرنے کی ضرورت نہیں۔

ہمارے ملک سخن میں سیکڑوں مثنویاں لکھی گئیں۔ مگر ان میں فقط دو نسخے ایسے نکلے جنھوں نے طبیعت کی موافقت سے قبول عام کی سند پائی۔ ایک سحر البیان دوسرے گلزار نسیم اور تعجب یہ کے دونوں کے رستے بالکل الگ ہیں۔ اس واسطے آزاد کو واجب ہے کہ کچھ لکھے اور اہل سخن سے اپنی رائے کی صحت و سقم کا حال پوچھے۔ مثنوی حقیقت میں ایک سرگذشت یا بیان ماجرا ہے جسے تاریخ کا شعبہ سمجھنا چاہیے، اس واسطے اس کے اصول میں لکھا ہے کہ چاہیے نہایت سلیس گفتگو میں ہو جس طرح ہم تم باتیں کرتے ہیں۔

میر حسن مرحوم نے اُسے لکھا اور ایسی صاف زبان فصیح محاورے اور میٹھی گفتگو میں، اور اس کیفیت کے ساتھ ادا کیا، جیسے آبِ رواں اصل واقعہ کا نقشہ آنکھوں میں کھنچ گیا۔ اور اُن ہی باتوں کی آوازیں کانوں میں آنے لگیں، جو اس وقت وہاں ہو رہی تھیں، باوجود اس کے اُصول فن سے بال بھر اِدھر یا اُدھر نہ گرے قبول عام نے اسے ہاتھوں میں لے کر آنکھوں پر رکھا اور آنکھوں نے دل و زبان کے حوالے کیا۔ اس نے خواص اہل سخن کی تعریف پر قناعت نہ کی بلکہ عوام جو حروف تہجی بھی نہ پہچانتے تھے وظیفوں کی طرح حفظ کرنے لگے۔ ارباب نشاط نے محفلوں میں اس کی نغمہ سرائی کر کے لوگوں کو لٹایا اور رُلایا۔

پنڈت دیا شنکر نے گلزار نسیم لکھی۔ اور بہت خوب لکھی۔ اس کا رستہ اس سے بالکل الگ تھا۔ کیونکہ پنڈت صاحب نے ہر مضمون کو تشبیہ کے پردہ اور استعارہ کے پیچ میں ادا کیا۔ اور وہ ادا معشوقانہ خود ادائی نظر آئی۔ اس کے پیچ وہی بانکپن کی ٹرو رہیں۔ جو پری زادیں بانکا دوپٹا اوڑھ کر دکھاتی ہیں اور اکثر مطالب کو بھی اشاروں اور کنایوں کے رنگ میں دکھایا۔ باوجود اس کے زبان فصیح، کلام شستہ اور پاک ہے۔ اختصار بھی اس مثنوی کا ایک خاص وصف ہے جس کا ذکر کرنا واجب ہے۔ کیونکہ ہر معاملہ کو اس قدر مختصر کر کے ادا کیا ہے جس سے زیادہ ہو نہیں سکتا اور ایک شعر بیچ میں سے نکال لو، داستان برہم ہو جاتی ہے۔ ان باتوں کے لحاظ سے واجب تھا کہ کتاب خاص پسند ہوتی، باوجود اس کے عام و خاص سب میں شہرت پائی۔ اس کے نکتوں اور باریکیوں کو سمجھیں یا نہ سمجھیں، مگر سب لیتے ہیں اور پڑھتے ہیں، جتنی سمجھ میں آتی ہے، اسی پر خوش ہوتے ہیں اور لوٹے جاتے ہیں۔ مثنوی مذکور جب پہلے انھوں نے لکھی تو بہت بڑی تھی۔ خواجہ آتش اپنے استاد کے پاس اصلاح کو لے گئے۔ انھوں نے کہا، بھیا اتنی بڑی کتاب کو دیکھے گا کون؟ وہ اپنا وہ یک کا قانون یہاں بھی جاری کرو (اس کنایہ میں اشارہ تھا کہ پنڈت صاحب فوج شاہی میں منشی تھے۔ اور بموجب حکومت کے سب کی تنخواہوں میں سے وہ یکی کاٹ لیتے تھے۔ گھر گھر میں اس شکایت کا چرچا تھا۔ یہ مثنوی مذکور لے گئے اور اختصار کیا تو ایسا نچوڑا کہ عطر نکال لیا۔) اسی موقع پر میرنؔ مرحوم کا سفر شاہ مدار کی چھڑیوں کے ساتھ مطابق پڑا۔ چنانچہ سفر مذکور کا حال ایک مثنوی کے قالب میں ڈھالا ہے۔ اس میں فیض آباد کی تعریف اور لکھنؤ کی ہجو کی ہے۔ (فی الحقیقت اس وقت لکھنؤ ایسی ہی حالت میں تھا۔) اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اس عورتوں کی پوشاک وہاں کیا تھی اور چھڑیوں کے اور جانے والوں کی جزئیات رسوم کیا کیا تھے۔ میں نے یہ مثنوی دلّی کی تباہی سے پہلے دیکھی تھی، اب نہیں ملتی۔ لوگ بہت تعریف لکھتے ہیں۔ مگر حق یہ ہے کہ بدر منیر کو نہیں پہنچتی۔ تیسری مثنوی اور بھی تھی مگر مشہور نہ ہوئی۔

دیوان اب نہیں ملتا۔ حکیم قدرت اللہ خاں قاسم فرماتے ہیں کہ انواع سخن سے لبریز ہے۔ صاحب گلزار ابراہیمی ۱۱۹۶؁ھ میں کہتے ہیں کہ سیّد صاحب موصوف نے کلام مجھے بھیجا ہے اور جو خط لکھا ہے، اس کی اصل عبارت یہ ہے۔ “از سائر اقسام اشعار ابیات مّدد نہ من ہشت ہزار بیت است تذکرہ و ریختہ ہم نوشتہ و اصلاح سخن از میر صبا گرفتہ ام۔ مُد تسیت کہ از دہلی دارد لکھنؤ گشتہ بانواب سالار جنگ و خلف ایشاں ملقب بہ نوازش علیخاں سرفراز جنگ بہادر میگذراتم۔” افسوس خدا نے رشید اولاد دی۔ مگر کسی نے اپنے بزرگ کے نام کو روشن کرنے کا خیال نہ کیا۔ اس کے کئی سبب ہوئے۔ بیٹوں کو نہ زمانے نے وسعت دی، نہ حصول ثواب نے فرصت دی۔ اور اس وقت چھاپہ بھی کلکتہ سے اس طرف نہ آیا تھا۔ پوتے میر انیسؔ وغیرہ ہوئے، انھیں ان کے پاک اعتقاد اور حسنِ نیّت نے مبارک زمانہ دیا اور زمانے نے ایسے بلند درجہ پر بٹھایا، جہاں سے دادا کا کمال بہت چھوٹا نظر آیا۔ وہ یہ بھی سمجھتے تھے کہ ہمارا ذاتی کمال دادا کی شہرت اور تعریف سے بے نیاز ہے۔ یہ سب درست لیکن موجودہ نسل چند روز کے بعد، اور آئندہ نسلیں مدت تک افسوس کریں گی۔ زمانہ بدل گیا اور بدلتا جاتا ہے۔ وقت تو گیا، پھر یہ وقت بھی نہ پائیں گے۔ آج یہ نوبت ہے کہ پانچ غزلیں تھی پوری نہ ملیں، جو اس کتاب میں درج کرتا۔ خلاصہ کلام کا یہ کہ ۱۳۰۰؁ھ اول محرم کو دار فانی سے رحلت کی۔ مفتی گنج میں نواب قاسم علی خاں کے باغ کے پچھواڑے دفن ہوئے۔ عمر کا حال نہ کھلا۔ لکھتے ہیں کہ ۵۰ برس سے زیادہ عمر پائی۔ دو صاحبزادوں نے نام پایا۔ میر خلیقؔ۔ میر خلقؔ۔ شیخ مصحفی نے تاریخ کہہ کر حق آشنائی ادا کیا۔

چوں حسن آں بلبل خوش داستاں

روز ازیں گلزارِ رنگ و بو بتافت

بسکہ شیریں بود نطقش مصحفی

شاعرِ شیریں بیاں تاریخ یافت

۱۴۱۱ ھ

غزل

جو چاہے آپ کو تو اُسے کیا نہ چاہیے

انصاف کر تو چاہیے پھر یا نہ چاہیے

مجھ ایسا تجھ کو چاہے نہ چاہے عجب نہیں

تجھ سا جو چاہے مجھ کو تو پھر کیا نہ چاہیے

کس کو سنا کے کہتے ہو میں چاہتا نہیں

اب کیوں جی ہم برے ہوئے اچھا نہ چاہیے

گر پاس تیرے بیٹھوں تو معذور رکھ مجھے

جس جا پہ شمع ہوئے تو پروانہ چاہیے

عیش و وصال و صحبت یاراں فراغ دل

اِسی ایک جان کے لئے کیا کیا نہ چاہیے

دیتے ہو تم دکھائی جو ہمراہ غیر کے

اس طرح سے غرض تمھیں دیکھا نہ چاہیے

اب جیسے اک حسنؔ سے ہنسے تھے تو ہنس لئے

پر اس طرح ہر ایک سے ٹھٹھا نہ چاہیے

*-*-*-*-*-*-*-*-*

یہ طرفہ ترکہ تیرے سنبھلتی نہیں زباں

اور تیرے سامنے مری چلتی نہیں زباں

میرا تو دل جلا تری باتوں سے شمع رُو

تو بھی تو دیکھ کیا تری چلتی نہیں زباں

کل عہد کچھ کیا تھا، دیا قول آج کچھ

پھر کہیو تو کہ میری بدلتی نہیں زباں

سرگرم سوزِ عشق رہے ہے یہ مثل شمع

تن گھل گیا ہے اور پگھلتی نہیں زباں

سو سو طرح سے کرتا ہوں تقریر میں حسنؔ

عہدہ سے حال دل کے نکلتی نہیں زباں

*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*

وہ جب تک کہ زلفیں سنورا کیا

کھڑا اس پہ میں جان وارا کیا

ابھی دل کو لے کر گیا میرے آہ

وہ چلتا رہا میں پکارا کیا

قمارِ محبت میں بازی سدا

وہ جیتا کیا اور میں ہارا کیا

کیا قتل اور جان بخشی بھی کی

حسن اس نے احساں دوبارا کیا

*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*

 

 

سیّد انشاء اللہ خاں

انشاءؔؔ تخلص سید انشاء اللہ خاں نام، بیٹے حکیم میر ماشاء اللہ خاں کے تھے۔ اگرچہ خاندان کے اعتبار سے بھی نامی گرامی شخص تھے، مگر ان کی اپنی ناموری نے باپ کے نام کو بلکہ تمام خاندان کو نئی شہرت سے جلوہ دیا۔ (مصدر تخلص کرتے تھے۔ مصدر اور انشاء کی مناسبت قدرتی واقع ہوئی۔ مصدر بدیہہ گوئی میں مشہور تھے۔ ایک شعر ان کا بھی یاد رکھنا چاہیے۔

خدا کرے کہ مِرا مجھ سے مہرباں نہ پھرے

جہاں پھرے تو پھرے پر وہ جانِ جان نہ پھرے

اخلاق، مروت، سخاوت میں آشنا و بیگانہ کے ساتھ برابر تھے۔ امیر الامراء نواب ذوالفقار خاں کے عہد میں دلّی آئے تھے۔ اس وقت سامان امارت کے ساتھ دو ہاتھی بھی تھے۔ مرشد آباد میں نواب سراج الدولہ کی رفاقت میں تھے تو ۱۸ ہاتھی دروازے پر جھومتے تھے۔ سید انشاء وہیں پیدا ہوئے تھے۔) بزرگ ان کے نجف اشرف سے آئے تھے۔ اور بعض کہتے ہیں کہ خطہ کشمیر کے سادات صحیح النسب سے ہیں۔ وہ کسی زمانہ میں سمرقند سے آئے تھے۔ پھر دلی میں آ کر رفتہ رفتہ امرائے شاہی میں داخل ہوئے۔ اور بعض ان میں طبل و نقارہ سے بلند آواز ہوئے۔ بموجب پیشہ خاندانی کے میر ماشاء اللہ خاں دربار شاہی میں طبیب تھے۔ اور زمرہ امراء میں داخل تھے۔ ان کے خاندان کی خوبیوں اور گھر کے چال چلن کو دلی اور لکھنؤ کے شرفاء سب مانتے تھے۔ ادنی نمونہ یہ ہے کہ ان کی عورتوں کے پوشاک گھر میں دھلتے تھے۔ یا جلا دیتے تھے کہ نامحرم کے ہاتھ میں عورتوں کا لباس نہ جائے۔

غرض سلطنت چغتائیہ کے صنف میں میر ماشاء اللہ خاں کو مرشد آباد جانا پڑا۔ وہاں بھی اعزاز و اکرام سے رہے اور جس طرح اگلے وقتوں میں خاندانی امیر زادے تعلیم پاتے تھے، اسی طرح سید انشاء کو سب ضروری علوم و فنون سے ماہر کیا۔ باپ کے لیے مثال دے سکتے ہیں، کہ عزیز بیٹے کو اس خوبصورتی سے تعلیم کیا  مگر جو جوہر دار طبیعت اپنے ساتھ لایا تھا، اس کی کوئی مثال نہیں ہے۔ سبب یہ ہونہار نونہال تعلم کے چمن سے نکلا تو ہر ریشہ میں کونپل، پتے، پھول پھل کی قوائے مختلفہ موجود تھیں۔ اس طرح کہ جس زمین پر لگے وہیں کی آب و ہوا کے بموجب بہار دکھلانے لگے۔ ایسا طباع اور عالی دماغ آدمی ہندوستان میں کم پیدا ہو گا۔ وہ اگر علوم میں سے کسی ایک فن کی طرف متوجہ ہوتے تو صدہا سال تک وحید عصر گنے جاتے۔ طبیعت ایک ہیولے تھی کہ ہر قسم کی صورت پکڑ سکتی تھی۔  باوجود اس کے شوخی (لڑکپن میں طالب علمی کرتے تھے مگر ساتھ ہی گانے کا بھی شوق تھا۔ کافیہ حفظ کرتے تھے اور ستار خوب بجاتے تھے۔  انکَلِمتہُ لَفظُ کَلِمتہ لَفظُ وضع لمعنی مفردادوُ) اس قدر کہ سیماب کی طرح ایک جا قرار نہ تھا چنانچہ کلیات ان سب مراتب کے لیے محضر شہادت ہے۔ ان کی طبیعت جو شیر کی طرح کسی کا جھوٹا شکار نہ کھاتی تھی، پیشہ آبائی پر مائل نہ ہوئی۔ لیکن چونکہ ایسے رنگا رنگ خیالات کا سوائے شاعری کے اور جن میں گذارہ نہیں، اس لئے شاعری کی طرف جھکے جس سے انھیں ربط خداداد تھا، اس کوچہ میں بھی اپنا راستہ سب سے جُدا نکال کر داخل ہوئے۔

انھوں نے کسی سے اصلاح نہیں لی۔ والد کو ابتدا میں کلام دکھایا۔ حق یہ ہے کہ شعر شاعری کا کوچہ جہاں سے نرالا ہے۔ جو لوگ ذہن کے بھدے ہیں ان کے لئے تو استاد کی محنت ہی برباد ہے۔ مگر یاد رہے کہ جس قدر مبتدی زیادہ تیز و طباع ہو اتنا ہی زیادہ استاد کا محتاج ہے جیسے ہونہار بچھیرا کہ اچھے چابک سوار کے کوڑے تلے نکلتا ہے۔ جب ہی جوہر نکلتا ہے۔ نہیں تو بے ڈھنگے ہاتھ پاؤں مارتا ہے بلکہ بد ہو جاتا ہے۔ اسی طرح تیز اور نوجوان طبیعت زبردست استاد کے قلم کے نیچے نہ نکلے تو گمراہ ہو جاتی ہے۔ چنانچہ پرکھنے والوں نے عرفی کے کلام میں یہی کھوٹ نکالی ہے۔ الغرض جب ہندوستان میں تباہی عام ہوئی تو سید انشاء مرشد آباد سے دلّی آئے۔ اس دلّی کا دربار ایک ٹوٹی پھوٹی درگاہ اور سجادہ نشین اس کے شاہ عالم بادشاہ تھے۔ شاہ موصوف نے کہ خود بھی شاعر تھے خواہ قدردانی شاعرانہ سے خواہ اس نظر شفقت سے جو بادشاہوں کو اپنے خانہ زادوں سے چاہیے (اور یہ خاندان تیموریہ کا خاصہ تھا) اِس نوجوان پر خلعت عزّت کے ساتھ شفقت کا دامن اڑھایا، سیّد انشاء اہل دربار میں داخل ہوئے، چنانچہ اپنے اشعار کے ساتھ لطائف و ظرائف سے کہ ایک چمن زعفران تھا، گل افشانی کر کے محفل کو لٹا لٹا دیتے تھے اور یہ عالم ہوا کہ شاہ عالم کو ایکدم کی جدائی ان کی ناگوار ہو گئی۔

دلّی میں اس وقت سوداؔ اور میرؔ جیسے لوگ نہ تھے۔ مگر بڈھے بڈھے شوقین تھے کہ ان ہی بزرگوں کے نام لینے والے تھے۔ مثلاً حکیم ثناء اللہ خاں فراقؔ شاگرد میر دردؔ، حکیم قدرت اللہ خاں قاسم شاگرد خواجہ میر درد، شاہ ہدایت میاں شکیبا شاگرد میرؔ، مرزا عظیم بیت شاگرد سودا، میر قمر الدین منّت والد میر ممنون سونی پت، شیخ ولی اللہ محب (سودا کے شاگرد تھے اقسام سخن سے دیوان آراستہ کیا تھا۔ مرزا سلیمان شکوہ کی غزل بنایا کرتے تھے، وہ لکھنؤ گئے تو چند روز بعد یہ بھی گئے اور وہیں دُنیا سے گئے۔)وغیرہ حضرات تھے کہ دربار شاہی سے خاندانی اعزاز رکھتے تھے۔ اور خاص و عام انھیں چشم ادب سے دیکھتے تھے۔ اگرچہ یہ لوگ نوشت و خواند میں پختہ اور بعض ان میں سے اپنے اپنے فن میں بھی کامل ہوں، مگر وہ جامعیت کہاں، اور جامعیت بھی ہو تو وہ بے چارے بڈھے پراتم پرانی لکیروں کے فقیر، یہ طبیعت کی شوخی، زبان کی طراری، تراشوں کی نئی پھبن، ایجادوں کا بانکپن کہاں سے لائیں، غرض رشک تلامیذ رحمانی کا خاصہ ہے یا غریب الوطن نوجوان کو بے رفیق و بے یار سمجھ کر کہن سال کا مشاقوں نے کچھ تعریفیں کیں، یا یہ کہ مشاعرہ میں اس بلند نظر کے حسب دلخواہ اس کلام کی عزت نہ ہوئی بہت حال سید انشاؔ کو شبہ ہوا کہ میری مخالفت پر سب دلی والے موافق ہو گئے۔

اگرچہ یہ بزرگ بھی پرانے مشاق تھے۔ مگر وہ نوجوان شہباز جس کے سینہ میں علوم و فنون کے زور بھرے تھے، طراری اور براقی کے بازو اڑائے لئے جاتے تھے۔ کسی کو خاطر میں کب لاتا تھا۔ خدا جانے طرفین نے زبان سے کیا کچھ کہا ہو گا۔ مگر غزلوں کے مقطع میں فخریہ چشمکیں ہونے لگیں اور ساتھ ہی نکتہ چینی کی عینکیں لگ گئیں۔ ان میں مرزا عظیم بیگ تھے کہ سودا کے دعوی شاگردی اور پرانی مشق کے گھمنڈ نے ان کا دماغ بہت بلند کر دیا تھا۔ وہ فقط شد بود کا علم رکھتے تھے، مگر اپنے تئیں ہندوستان کا صائب کہتے تھے۔ اور خصوصاً ان معرکوں میں سب سے بڑھ کر قدم مارتے تھے۔ چنانچہ وہ ایک دن میر ماشاء اللہ خاں کے پاس آئے اور غزل سنائی کہ بحر رجز میں تھی، مگر ناواقفیت سے کچھ شعر رمل میں جا پڑے تھے، سید انشاء بھی موجود تھے، تاڑ گئے۔ حد سے زیادہ تعریف کی اور اصرار سے کہا کہ میرزا صاحب اسے آپ مشاعرہ (نواب امین الدولہ معین الملک ناصر جنگ عرف مرزا میڈھو میر تخلص خلف وزیر الممالک نواب شجاع الدولہ چند روز دلّی میں آ کر رہے تھے، اخلاق، مروت، سخاوت میں ایسے تھے جیسا کہ وزیروں کو ہونا چاہیے۔ مشاعرہ میں شعراء اور اکثر امراء و شرفاء کی ضیافت بھی کیا کرتے تھے، ان ہی کے ہاں یہ معرکہ ہوا تھا۔) میں ضرور پڑھیں، مدعی کمال کہ مغز سخن سے بے خبر تھا، اس نے مشاعرہ عام میں غزل پڑھ دی۔ سید انشاء نے وہیں تقطیع کی فرمائش کی۔ اس وقت اس غریب پر جو کچھ گذری سو گذری، مگر سید انشاؔء نے اس کے ساتھ سب کو لے ڈالا اور کوئی دم نہ مارا۔ بلکہ ایک مخمس بھی پڑھا جس کا مطلع یہ ہے۔

گر تو مشاعرہ میں صبا آج کل چلے

کہیو عظیم سے کہ ذرا وہ سنبھل چلے

اتنا بھی حد سے اپنی نہ باہر نکل چلے

پڑھنے کو شب جو یار غزل در غزل چلے

بحر رجز میں ڈال کے بحر رمل چلے

اگرچہ مرزا عظیم بیگ نے بھی گھر جا کر اسی مخمس کی طرح میں اپنی بساط بموجب دل کا بخار نکالا، مگر وہ مشت بعد از جنگ تھی۔ چند بند اس کے انتخاباً  لکھتا ہوں، کیوں کہ اور بند بہ سبب بے لطفی اور نا درستی کے قابل تحریر بھی نہیں۔ مرزا عظیم بیگ کہتے ہیں :

وہ فاضل زمانہ ہو تم جامع علوم

تحصیل صرف و نحو سے جن کی مچی ہے دھوم

رمل و ریاضی حکمت و ہیئت جفر نجوم

منطق بیان معانی کہیں سب زمیں کو چوم

تیری زباں کے آگے نہ دہقاں کا ہل چلے

اِک دو غزل کے کہنے سے بن بیٹھے ایسے طاق

دیوان شاعروں کی نظر سے رہے بہ طاق

ناصر علی نظیری کی طاقت ہوئی ہے طاق

ہر چند ابھی نہ آئی ہے فہمید جفت و طاق

ٹنگری تلے سے عرفی و قدسی نکل چلے

تھا روز فکر میں کہ کہوں معنی و مثال

تجنیس و ہم رعایت لفظی و ہم خیال

فرق رجز رمل نہ لیا میں نے گو سنبھال

نادانی کا مرے نہ ہو دانا کو احتمال

گو تم بقدر فکر یہی کر عمل چلے

نزدیک اپنے آپ کو کتنا ہی سمجھو دُسر

پر خوب جانتے ہیں مجھے جو ہیں ذی شعور

وہ بحر کونسی نہیں ہے جس پہ یاں عبور

کب میری شاعری میں پڑے شبہ سے قصور

بن کر قمل (جوں ) نکالنے کو تم خلل چلے

موزونی و معانی میں پایا نہ تم نے فرق

تبدیل بحر سے ہوئے بحر خوشی میں غرق

روشن ہے مثل نہر یہ از غرب تابہ شرق

شہ زور اپنے زور میں گرتا ہے مثل برق

وہ طفل کیا گرے گا جو گھٹنوں کے بل چلے

کم ظرفی سے تمھیں تو یہی آئی ہے اُمنگ

کیجیے نمود و خلق میں اب کر سخن کی جنگ

اپنے تئیں تو بحثنے آتا ہے یار ننگ

اتنا بھی رکھے حوصلہ فوارہ ساں نہ تنگ

چلو ہی بھر جو پانی میں گز بھر اچھل چلے

کیوں جنگ گفتگو کو تم اٹھ دوڑے اس قماش

کرتے جو بھاری پانچہ ہوتا نہ پردہ فاش

پر سمجھیں کب یہ بات جو کندے ہوں نا تراش

تیغ زباں کو میان میں رکھتے تم اپنے کاش

ناحق جو تم ازار سے باہر نکل چلے

اب سید انشاء کے طائر فخر کی بلند پروازی اور بھی زیادہ ہوئی۔ ہر غزل میں مضامین فخریہ کا جوش ہونے لگا (پھر تو مرزا کا یہ عالم ہو گیا کہ حکیم صاحب کے سنائے بغیر مصرع کسی کے سامنے نہ پڑھتے، سناتے وقت کہتے بابا دیوار گوش دارد۔ چپکے چپکے پڑھا کرتے۔) یہاں تک کہا کہ میرا اور ان لوگوں کا کلام ایسا ہے جیسے کلام الہٰی اور مسلمہ کذّاب کا الفیل۔ مالفیل۔

مشاعرہ میں بادشاہ بھی اپنی غزل بھیجا کرتے تھے اور بادشاہوں کا کلام جیسا ہوتا ہے وہ ظاہر ہے۔ سید انشاء نے حضور میں عرض کی کہ فلاں فلاں اشخاص حضور کی غزل پر تمسخر اور مضحکہ کرتے ہیں۔ بادشاہ اگرچہ اُن خانہ زادانِ قدیم پر ہر طرح قدرت رکھتے تھے، مگر اتنا کیا کہ مشاعرہ میں غزل بھیجنی موقوف کر دی۔ یاروں کو بھی خبر لگ گئی۔ نہایت رنج ہوا۔ چنانچہ بعد اس کے جو مشاعرہ ہوا (یہ مشاعرہ ایک خطرناک معرکہ تھا۔ حریفوں نے تیغ و تفنگ اور اسلحہ جنگ سنبھالے تھے۔ بھائی بند اور دوستوں کو ساتھ لیا تھا۔ بعض کو اِدھر اُدھر لگا رکھا تھا۔ اور بزرگانِ دین کی نیازیں مان مان کر مشاعرہ میں گئے تھے۔) تو اس میں کمر باندھ باندھ کر آئے، اور ولی اللہ محب نے یہ قطعہ پڑھا :

مجلس میں چکے چاہیے جھگڑا شعراء کا

ایسے ہی کسی صاحب توقیر کے آگے

یہ بھی کوئی دانش ہے کہ پہنچے یہ قضایا

اکبر تئیں یا شاہ جہانگیر کے آگے

مرزا عظیم بیگ نے کہا بابا میں نے اپنی عرض حال میں اپنے اُستاد کے ایک شعر پر قناعت کی ہے کہ ابھی تضمین ہو گیا۔

عظیم اب گو ہمیشہ سے ہے یہ شعر کہنا شعار اپنا

طرف ہر ایک سے ہو بحث کرنا نہیں ہے کچھ افتخار اپنا

کئی سکھن باز گھنڈ گو یوں ہو نہ ہو اعتبار اپنا

جنھوں کی نظروں میں ہم سبک ہیں دیا  انہی کو وقار اپنا

عجب طرح کی ہوئی فراغت گدھوں پہ ڈالا جو بار اپنا

دریائے مواج کے آگے گھاس پھوس کی کیا حقیقت تھی۔ سیَّد انشاء غزل فخریہ کہہ کر لائے تھے۔ وہ پڑھی جس کا ہر شعر دلوں پر توپ کے گولہ کا کام کرتا تھا۔

اِک طفلِ دبستاں ہے فلاطوں مرے آگے

کیا منھ ہے ارسطو جو کرے چوں مرے آگے

کیا مال بھلا قصر فریدوں مرے آگے

کانپے ہے پڑا گنبد گردوں مرے آگے

مرغانِ اولی اجنحہ مانند کبوتر!

کرتے ہیں سدا عجز سے غوں غوں مرے آگے

منھ دیکھو تو نقارچی پیلِ فلک بھی

نقارے بجا کر کہے دوں دوں مرے آگے

ہوں وہ جبروتی کہ گروہِ حکماء سب

چڑیوں کی طرح کرتے ہیں چوں چوں مرے آگے

بولے ہے یہی خامہ کہ کس کس کو میں باندھوں

بادل سے چلے آتے ہیں مضموں مرے آگے

مُجرے کو مرے خسرو پرویز ہو حاضر

شیریں بھی کہے آ گے بلا لوں مرے آگے

کیا آ کے ڈراوے مجھے زلفِ شب یلدا

ہے دیو سفید سحری جوں مرے آگے

وہ مارِ فلک کاہکشاں نام ہے جس کا

کیا دخل جو بل کھا کے کرے فوں مرے آگے بعد ان کے حکیم میر قدرت اللہ خاں قاسمؔ کے سامنے شمع آئی۔ انھوں نے اتنا کہا کہ سید صاحب ذرا الفیل مالفیل کو بھی ملاحظہ فرمائیے۔ میر مشاعرہ  (نواب کے اخلاق کا یہ عالم تھا کہ پہلے مسند تکیہ لگا کر جلسہ میں بیٹھا کرتے تھے۔ مرزا عظیم بیگ نے اپنے دوستوں سے کہا کہ ہمیں کیا غرض ہے جو مسند نشینوں کے جلسوں میں جا کر حاشیہ نشین بنیں۔ نواب نے بہت عذر سے کہلا بھینا کہ آپ صاحب تشریف لائیں کچھ مضائقہ نہیں۔ میں بھی احباب کے ساتھ چاندنی پر بیٹھوں گا۔ اس دن سے مسند اُٹھا ڈالی۔ ہر چند اکثر اعزہ و شرفاء نے کہا، ہرگز نہ مانا، سب کے برابر بیٹھے۔) کو خیال ہوا کہ سیَّد انشاء نے ہجو کہی ہو گی۔ مبادا شرفاء میں بے لطفی حد سے بڑھ جائے، اسی وقت اٹھے کہ دونوں میں صلح کروا دی۔ سیّد انشاء نے بھی شرافت خاندانی اور علّوِ حوصلہ کا کام کیا۔ اٹھ کر حکیم صاحب کے گلے لپٹ گئے اور کہا کہ حضرت حکیم صاحب آپ میرے ابن عم اسپر صاحبِ فضل، خاک بدہنم بھلا آپ پر طنز کروں گا۔ البتہ مرزا عظیم بیگ سے شکایت ہے کہ وہ خواہ مخواہ بد دماغی کرتے ہیں۔ اور داد دینی تو درکنار شعر پر سر تک نہیں ہلاتے۔ آخر کس برتے پر، غرض کہ سب کی صلح پر خاتمہ ہو گیا۔

دلّی میں اگرچہ بادشاہ اس وقت فقط بادشاہ شطرنج تھا، یہاں تک کہ مال و دولت کے ساتھ غلام قادر نقد بصارت تک بھی لے گیا تھا، مگر یہ اپنا مطلب ہزار طرح سے نکال لیتے تھے۔ مثلاً جمعرات کا دن ہوتا تو باتیں کرتے کرتے دفعتہً خاموش ہوتے اور کہتے کہ پیر و مرشد غلام کو اجازت ہے۔ بادشاہ کہتے خیر باشد۔ کہاں ؟ کہاں ؟ یہ کہتے۔ حضور آج جمعرات ہے۔ غلام بنی کریم جائے۔ شاہ دین و دنیا کا دربار ہے۔ کچھ عرض کرے،شاہ عالم بہ ادب کہتے کہ ہاں بھئی ضرور جانا چاہیے۔ انشاء اللہ خاں ہمارے لئے بھی کچھ عرض کرنا۔ یہ عرض کرتے کہ حضور! غلام کی اور آرزو کونسی ہے۔ یہی دین کی آرزو یہی دنیا کی مراد، یہ کہہ کر پھر خاموش ہوتے۔ بادشاہ کچھ اور بات کرنے لگتے۔ ایک لمحہ کے بعد پھر یہ کہتے کہ پیر و مرشد! پھر غلام کو اجازت ہو۔ بادشاہ کہتے ہیں اے بھئی میر انشاء اللہ خاں ابھی تم گئے نہیں ؟ یہ کہتے حضور بادشاہ عالی جاہ کے دربار میں غلام خالی ہاتھ کیوں کر جائے۔ کچھ نذر و نیاز، کچھ چراغی کو تو مرحمت ہو! بادشاہ کہتے ہاں بھئی درست، درست۔ مجھے تو خیال نہیں رہا۔ جیب میں ہاتھ ڈالتے اور کچھ روپیہ نکال کر دیتے۔ میر انشاء لیتے اور ایک دو فقرے دعائیہ کہہ کر پھر کہتے کہ حضور دوسری جیب میں دست مبارک جائے تو فدوی کا کام چلے۔ کیوں کہ وہاں سے پھر کر بھی تو آنا ہے۔ بادشاہ کہتے ہیں کہ ہاں بھائی سچ ہے۔ سچ ہے۔ بھلا وہاں سے دو دو کھجوریں تو لا کر کسی کو دو۔ بال بچے کیا جانیں گے کہ تم آج کہاں گئے تھے۔ اگرچہ ان فقروں سے یہ کام نکال لیتے تھے، لیکن پھر کب تک؟ آخر دلّی سے دل اچاٹ ہوا۔ لکھنؤ میں آصف الدولہ کی سخاوتوں نے حاتم کے نام کا خاتمہ کر دیا تھا۔ اور لوگ بھی کمال کے ایسے جویا تھے کہ جو دلّی سے گیا پھر نہ آیا۔ اس لئے اِدھر کا رُخ کیا۔ جاتے ہی علم و فضل کے زور اور کمال کے شور سے توپ خانے لگا دیئے۔ کہ تمام مشاعرے گونج اٹھے۔ اور اسی نمک خواری قدیم کے سلسلہ سے مرزا سلیمان شکوہ کی سرکار میں پہونچے۔ وہ شاہ عالم کے بیٹے تھے۔ باپ دادا کے خانہ زادوں پر شفقت واجب تھی۔ اس کے علاوہ شاعر بھی تھے۔ چنانچہ عام اہلِ دہلی کے علاوہ شعراء کا مجمع دونوں وقت ان کے ہاں رہتا تھا۔ سوداؔ، میر ضاحک، میر سوز وغیرہ کا ورق زمانہ اُلٹ چکا تھا۔ مصحفیؔ، جرأتؔ، مرزا قتیل وغیرہ شاعروں اور شعر فہموں کے جلسے رہتے تھے۔ جو محفل ایسے گلشن فصاحت کے گلدستوں سے سجائی جاوے وہاں کی رنگینیاں کیا کچھ ہوں گی۔ جی چاہتا تھا کہ ان کی باتوں سے گلزار کھلا دوں۔ مگر اکثر پھُول ایسے فحش کانٹوں میں اُلجھے ہوئے ہیں کہ کاغذ کے پُرزے ہوئے جاتے ہیں۔ اس لئے صفحہ پھیلاتے ہوئے ڈر لگتا ہے۔

پہلے مرزا سلیمان شکوہ مصحفی سے اصلاح لیا کرتے تھے۔ جب سیّد انشاء پہونچے تو مصحفی کا مصحف طاق پر رکھا گیا۔ بزرگوں سے سُنا اور طرزِ کلام سے بھی معلوم ہوتا ہے۔ کہ شہزادہ موصوف کے سر دیوان کی غزل اور اکثر غزلیں بھی سیّد ممدوح کی اصلاح کی ہوئی یا کہی ہوئی ہیں، چنانچہ پہلا ہی مطلع اس مطلب کو روشن کرتا ہے :

دل اب تو عشق کے دریا میں ڈالا

تَوکَّلتُ عَلیٰ اللہِ تعَالیٰ

کیونکہ سیّد انشاء ایسی تضمینوں کے بادشاہ تھے۔

(بلکہ وزیر علی خاں کی مسند نشینی میں ان کی مختاری داخل تھی۔ پھر وزیر علی کا اخراج اور سعادت علی خاں کی مسند نشینی بھی ان ہی کی حسن تدبیر سے ہوئی تھی۔ انھوں نے انگریزی اور لاطینی زبان بھی سیکھی تھی۔ نیوٹن صاحب کے ڈفرنشل وغیرہ کا ترجمہ فارسی میں کیا تھا اور کئی دفعہ کلکتہ گئے تھے۔)

سید انشاء اگرچہ شہزادہ موصوف اور تمام امراء و روسا کے درباروں میں معّزز و مکرم تھے۔ مگر ہمّت عالی کا عقاب ہمیشہ اپنے پروں کو دیکھتا رہتا ہے، وہاں تفضل حسین خاں ایک شخص تھے کہ بعد ابو الفضل اور سعد اللہ خاں (یہ چہنٹ کے رہنے والے اور عبد الحکیم سیالکوٹ کے رہنے والے تھے۔ دونوں گمنام گھروں کے لڑکے تھے اور ساتھ ہی پڑھتے تھے۔ عبد الحکیم اوّل سبق میں پیش قدم تھے مگر قسمت کے بھی پیش قدم نکلے۔ یہاں تک کہ پڑھتے پڑھتے شاہجہاں کے وزیر ہو گئے اور علامہ کا خطاب علم و فضل کی شہرت پر طرہ ہوا۔ سوائے نام کے کوئی تصنیف کا نشان نہیں چھوڑا۔ البتہ شاہجہاں نامہ میں ایک مراسلہ ان کا لکھا ہوا ہے۔ مگر علامہ ابو الفضل کے کام سے نسبت بھی نہیں۔ چہنٹ میں ایک مسجد ہے۔ اس کے مینار ہلاتے سے ہلتے ہیں کہ سنگ لرزاں کے ہیں۔) شاہجہانی کے علامہ کا خطاب اگر ہوا تو ان کے لئے تسلیم ہوا ہے۔ وہ اپنے علم اور حُسن تدبیر سے ادھر معتمد سرکار انگریزی کے اُدھر رُکن سلطنت لکھنؤی کے اور مشیر تدبیر سعادت علی خاں کے تھے۔ ان کی صحبت ایک مجموعہ فضل و کمال کا تھا۔ وہاں سیّد انشاء بھی جایا کرتے تھے۔ وہ بھی ان کی لیاقت اور خاندان کے لحاظ سے پہلوئے عزّت میں جگہ دیتے تھے اور فکر میں تھے کہ کوئی مناسب صورت حال نکالیں۔ ایک دن جوش تقریر میں سیّد انشاء ایک لفظ بول گئے۔ اس کے دو معنی تھے مگر اُردو میں جو معنی ہیں وہ اس قابل نہیں کہ ایسے جلسوں میں ذکر آئے۔ چونکہ یہ خود بھی مزاج شناسی کے ارسطو تھے اس لئے کہنے کو تو کہہ گئے۔ مگر خان علامہ کی نظر تاڑ کر بولے کہ زبان مارواڑی میں بیوقوف کو کہتے ہیں۔ انھوں نے کچھ سوچ کر کہا کہ خیر خاں صاحب! انداز معلوم ہو گیا۔ جلد کوئی صورت ہو جائے گی۔ انشاء اللہ تعالیٰ دوسرے ہی دن سعادت علی خاں سے ان کی بزرگی اور ان کے ذاتی کمالات کا ذکر کر کے کہا کہ آپ کی صحبت میں ان کا ہونا شغل صغریٰ اور کبریٰ سے بہتر ہو گا۔ وہ سن کر مشتاق ہوئے۔ دوسرے دن خاں صاحب سید انشاء کو لے گئے اور ملازمت ہوتے ہی ایسے شیر و شکر ہوئے کہ پھر نواب کو ان کے سوا کسی کی بات میں مزا ہی نہیں آتا تھا۔

اس میں شک نہیں کہ تہذیب طبعی کی آگ اور شوق انتظام نے نواب کے دماغ کو خشک کر دیا تھا۔ مگر جیتی جان کے لئے شگفتگی کا بھی ایک وقت ضرور ہوتا ہے۔ اور سید انشاء تو وہ شخص تھے کہ ہر بزم میں گلدستہ اور ہر چمن میں پھول، چنانچہ کوئی خاص خدمت نہیں حاصل مگر دربار داری کے ساتھ ہر دم کی مصاحبت تھی۔ اس عالم میں انھوں نے عامہ خلایق  خصوصاً اہل کمال اور اہل خاندان کی کار براری سے نیکی اور نیک نامی کی دولت کمائی کہ جس سے زیادہ کوئی خزانہ نہیں ہو سکتا۔ ہزاروں کو مراتب اعلیٰ پر پہنچا دیا۔ مگر آپ شاعر ہی رہے۔ چنانچہ عن قریب ان کے حال سے کچھ اشارے معلوم ہوں گے۔

زمانہ کا دستور ہے کہ صحت میں سے بیماری اور زندگی میں سے موت پیدا کر دیتا ہے۔ اسی مصاحبت سے ہنسی ہنسی میں مخالفت پیدا ہو گئی۔ جس کا انجام یہ ہوا کہ وہ چہکتا ہوا بلبل اپنے گھر کے پنجرے میں بند کیا گیا۔ اور وہاں سے

(قتیل کے رقعوں سے معلوم ہوتا ہے کہ ۱۲۲۹ھ میں وہ موقوف ہو کر خانہ نشین ہوئے تھے مگر معلوم نہیں کہ یہی آخری خانہ نشینی تھی یا بعد اس کے پھر بحال ہو گئے۔)اس گمنامی کے ساتھ زمین کا پیوند ہوا کہ کسی کو خبر نہ ہوئی۔ بسنت سنگھ نشاط کی تاریخ سے معلوم ہوتا ہے کہ ۱۲۳۳ھ میں فوت ہوئے۔

خبر انتقال میر انشاء

دلِ غم دیدہ تا نشاط شقت

سال تاریخِ اُو زجان اجل

عرفی وقت بود انشاء گفت

(۱۲۳۳ھ)

ان کے حالات سے معلوم ہوتا ہے کہ تصنیفات کا ذخیرہ بہت کچھ ہو گا۔  مگر جو کچھ میری نظر سے گزرا ہے، ان میں ایک کلیات ہے اس میں (۱) اردو غزلوں کا دیوان تمام و کمال (۲) دیوان ریختی اور ریختی میں پہلیاں اور مستزاد طلسمات کے نسخے قواعد پشتو (۳) قصائد اردو، حمد، نعت، مدح بزرگان دین، مدح بادشاہ دہلی اور تعریف امراء میں (۴) قصائد بزبان فارسی (۵) دیوان غزل ہائے فارسی تمام ہے۔ مگر مختصر ہے (۶) مثنوی شیر برنج فارسی میں (۷) مثنوی فارسی بے نقط۔ اس کی سرخیوں کے مصرع بھی بے نقط ہیں۔ (۸) شکار نامہ نواب سعادت علی خاں کا بزبان فارسی، ہجوئیں، گرمی، بھڑوں، کھٹملوں مکھیّوں، پسوؤں وغیرہ کی شکایت میں اور متفرق اشخاص کی ہجوئیں۔ (۱۰) مثنوی عاشقانہ (۱۱) ہاتھی اور چنچل پیاری ہتھنی کی شادی (۱۴) متفرق اشعار تھے۔ رباعیاں قطعے فارسی اُردو وغیرہ، تاریخیں۔ جن میں اکثر مادے قابل یاد رکھنے کے ہیں پہیلیاں، چیستانیں (۱۳) دیوان بے نقط (۱۴) مائتہ عامل زبان عربی کی فارسی میں (۱۵) مرغ نامہ اردو میں مرغ بازی کے قواعد مثنوی کے طور پر لکھے ہیں۔ مگر جو اپنے تمسخر کے قواعد ہیں وہ اس میں نہیں بھولے۔

۲ – دریائے لطافت – قواعد اردو۔ منطق، معانی وغیرہ ہیں۔

۳ – ایک داستان۔ نثر اُردو میں ایسی لکھی ہے کہ ایک لفظ بھی عربی فارسی کا نہیں آنے دیا۔ باوجود اس کے اُردو کے رتبہ سے کلام نہیں گرا۔ وہاں وہی چونچلے، وہی چہلیں۔ اس میں بھی چلی جاتی ہیں۔ مقدار میں ۵۰ صفحے کی ہو گی، تھوڑی عبارت نمونہ کے طور پر لکھتا ہوں۔

اب یہاں سے کہنے والا یوں کہتا ہے۔ ایک دن بیٹھے بیٹھے یہ بات اپنے دھیان چڑھی کوئی کہانی ایسی کہیے جس میں ہندی چھٹ اور کسی بولی کی پُٹ نہ ملے۔ باہر کی بولی اور گنواری کچھ اس کے بیچ میں نہ ہو۔ تب میرا جی پھول کر کلی کے روپ میں کھلے۔ اپنے ملنے والوں میں سے ایک کوئی بڑے پڑھے لکھے پُرانے دھرانے، ٹھاگ بڑے دھاگ پہ کھڑاگ لائے۔ سر ہلا کر منہ تھتھا کر، ناک بھوں چڑھا کر گلا پھلا کر، لال لال آنکھیں پتھرا کر کہنے لگے۔ یہ بات ہوتی دکھائی نہیں دیتی۔ ہندوی پن بھی نہ نکلے اور بھا کھا پن بھی نہ تھس جائے جیسے بھلے مانس اچھوں سے اچھے لوگ آپس میں بولتے جاتے ہیں جوں کا توں وہی سب ڈول رہے۔ اور چھاؤں کسی کی نہ پڑے۔ یہ نہیں ہونے کا۔ میں نے ان کی ٹھنڈی سانس کی پھانس کا ٹہوکا کھا کر جھنجھلا کر کہا۔ میں کچھ ایسا بڑا بول بولا نہیں جو رائی کو پربت کر کھاؤں اور جھوٹ سچ بول کر انگلیاں نچاؤں اور بے سری بے ٹھکانے کی الجھی سلجھی تانیں لئے جاؤں۔ مجھ سے نہ ہو سکتا تو بھلا منہ سے کیوں نکالتا۔ جس ڈھب سے ہوتا، اس بکھیڑے کو ٹالتا۔ اب اس کہانی کا کہنے والا آپ کو جتاتا ہے اور جیسا کچھ لوگ اسے پکارتے ہیں کہہ سناتا ہے۔ اپنا ہاتھ منہ پر پھیر کر مونچھوں کو تاؤ دیتا ہوں۔ اور آپ کو جتاتا ہوں۔ جو میرے داتا نے چاہا تو وہ تاؤ بھاؤ اور راؤ چاؤ اور کود پھاند اور لپٹ جھپٹ دکھاؤں آپ کے دھیان کا گھوڑا جو بجلی سے بھی بہت چنچل اچپلاہٹ میں ہے۔ دیکھتے ہی ہرن کے روپ اپنی چوکڑی بھُول جائے چونکا

گھوڑے پہ اپنے چڑھ کے آتا ہوں میں

کرتب جو جو ہیں سب دکھاتا ہوں میں

اس چاہنے والے نے جو چاہا تو ابھی

کہتا جو کچھ ہوں کر دکھاتا ہوں میں

غزلوں کا دیوان۔ عجب طلسمات کا عالم ہے۔زبان پر قدرتِ کامل بیان کا لطف محاوروں کی نمکینی، ترکیبوں کی خوش نما تراشیں دیکھنے کے قابل ہیں مگر یہ عالم ہے کہ ابھی کچھ ہیں، ابھی کچھ ہیں، جو غزلیں یا غزلوں میں اشعار با اصول ہو گئے۔ وہ ایسے ہیں کہ جواب نہیں اور جہاں طبیعت اور طرف جا پڑی وہاں ٹھکانا نہیں۔ غزلوں میں غزلیت کے اصول کی پابندی نہیں۔ سبب یہ ہے کہ وہ سخن آفریں ایک ذخیرہ وافر مضامین و الفاظ کا اپنے پاس رکھتا تھا۔ اس سے جو قسم کی مخلوق چاہتا تھا، پیدا کر لیتا تھا۔ جس مشاعرہ میں انھوں نے یہ غزل طرح کی پڑھی ہے :

لگا کے برف میں ساقی صراحی مے لا

جگر کی آگ بجھے جلد جس سے وہ شے لا

کل پانچ شعر کی غزل تھی۔ جرأتؔ اور مصحفی تک سب موجود تھے۔ مگر سب نے غزلیں ہاتھ سے رکھ دیں کہ اب پڑھنا بے حاصل ہے۔ ایک مستزاد کی طرح میں جب انھوں نے مسلسل تین غزلیں پڑھیں تو مشاعرہ میں ایک قیامت برپا ہو گئی تھی۔ مصحفیؔ و جرأتؔ جب بھی موجود تھے اور غزلیں اب بھی حاضر ہیں۔ یہ عالم ہے جیسے مرصع زیور کے سامنے تنکوں کا کھیل۔ جرأتؔ ایک موقع پر کہتے ہیں :

اب تلک آنکھوں میں ساقی ہے نشہ چھایا ہوا

چنپئی رنگ اس کا اور جوبن وہ گدرایا ہوا

اور سید انشاءؔ کہتے ہیں :

برق چشمک زن ہے ساقی ابر ہے آیا ہوا

جام مے دے تو کدھر جاتا ہے مچلایا ہوا

(مقطع نے تو خاتمہ کر دیا :

دل لگایا ہے کہیں انشاء نے شاید دوستو

ان دنوں آتا نظر ہے سخت گھبرایا ہوا

ریختی کا شوخ رنگ سعادت یار خاں رنگین کا ایجاد ہے۔ مگر سید انشاء کی طبع رنگین نے بھی موجد سے کم سگھڑاپا نہیں دکھایا، یہ ظاہر ہے کہ عیش و نشاط اور صحبتِ اربابِ نشاط ایسی پلید باتوں کے حق میں وہ تاثیر رکھتی ہے جو نباتات کے حق میں کھاد اثر کرتی ہے۔ چنانچہ دلّی کے فاقہ مستوں میں کم اور لکھنؤ میں قرار واقعی ترقی اس کی ہوئی۔ قطع نظر وضع اور لباس کے، جان صاحب کا دیوان اس کا نمونہ موجود ہے۔ اس صورت میں زنانہ مزاجی اور بے ہمتی اور بزدلی جو عام لوگوں میں پیدا ہوئی اس کا ایک محرک اسی ایجاد کو سمجھنا چاہیے۔ اس انداز میں جو پہیلیاں اور طلسمات کے نسخے لکھے ہیں اُن کا انداز بیان عجب لُطف دکھاتا ہے۔

ہندوستان کی مختلف زبانیں اُن کے گھر کی لونڈی ہیں۔ ابھی پنجاب میں کھڑے ہیں۔ ابھی یورپ میں بیٹھے باتیں کرتے ہیں۔ ابھی برج بھاشا میں، ابھی مرہٹے، ابھی کشمیری۔  ابھی افغان، سب زبانوں میں کچھ نہ کچھ کہا ہے، یہاں پوربی کے دو شعر ہیں وہ لکھتا ہوں کہ قریب الفہم ہیں۔ مطلع و مقطع پوربی زبان میں :

متپھکری میں پھکر بھئی مپھت آئے کے

جھاؤ میاں کو بھُویں پہ جو ٹپکس گھمائے کے

اِنسالہ کھاں میاں بڑے پھاجل جبین ہیں

صدرہ پڑھیں ہیں جن سیتی طلبلم آئے کے

ان کی الفاظ جو موتی کی طرح ریشم پر ڈھلکتے آتے ہیں۔ اس کا سبب یہی کہہ سکتے ہیں کہ قدرتی فصاحت اور صفائی کلام کے سبب سے ہے اور کلام کا بندوبست جو ارگن باجے کی کساوٹ رکھتا ہے یہ بندش کی چُستی اور استخواں بندی الفاظ کی کوبی ہے مگر عجیب بات یہ ہے کہ ان کی زبان جو فصاحت کا سانچہ ہے اس سے اگر بے معنی الفاظ بھی ترکیب کھا کر نکلتے ہیں تو مزا ہی دیتے ہیں۔ یہ زیادہ تر ان ہجوؤں سے ثابت ہوتا ہے، جو شیخ مصحفی کے معرکوں میں لکھیں۔اور یہاں شدّتِ فحش کے سبب سے قلم انداز ہوئیں۔

قصائد بڑی دھوم دھام کے ہیں۔ الفاظ کی شکوہ طبیعت کی بلند پروازی کی کوئی حد نہیں۔ مگر سیدھے چلتے چلتے ایک ایسی چال بدلتے ہیں کہ انسان حیران رہ جاتا ہے۔ وہ یہی بات ہے کہ اپنی زبان دانی کے جوش اور قوتِ بیاں کے مزے میں آ کر کبھی کوئی شوخ مضمون، کبھی کوئی خوش آئند ترکیب اور نئی تراش ایسی سوجھ جاتی ہے کہ اسے باندھے بغیر نہیں رہ سکتے اور وہاں قصیدہ کی متانت اور وقار کے اصول ہاتھ سے جاتے رہتے ہیں۔ اس میں کبھی تو کلام میں شوخی اور ایک قسم کا بانکپن پیدا ہو جاتا ہے، اور کبھی مبتذل ہو جاتا ہے۔ مگر پھر لطف یہ ہے کہ قدرتی لذت جو زبان میں ہے۔ وہ کلام کو بدمزہ نہیں ہونے دیتی۔ اور اسی واسطے جس دربار یا جلسہ میں قصیدہ پڑھتے تھے۔ سبحان اللہ اور واہ وا کہنے کے سوا سننے والوں کو ہوش نہ ہوتا تھا۔ اس بے اعتدالی کا سبب یہ تھا کہ طبیعت میں بہت طاقت تھی مگر اس پر قابو نہ تھا۔ ان قصیدوں میں مزہ وہاں آتا ہے جہاں ممدوح کی تعریف کرتے کرتے دفعتہً کہتے کہ دارائے ایران تجھے ایران میں بیٹھا کہہ رہا ہے۔ اور جھٹ چند شعر فارسی کے اس طرح کہہ جاتے ہیں، گویا ایک آغائے تازہ ولایت آیا اور اپنی چنیں و چناں کے ساتھ شیرہ شیراز کے دو دو گھونٹ سب کو پلا گیا۔ اِس کے برابر گویا ایک عرب العربا جبّہ پہنے عبا اور عمامہ سجے سامنے آ کھڑا ہوتا ہے۔ پھر شاہ بخار اترکستان سے ترکی میں آواز دیتا ہے اور ساتھ ہی عالی جاہ کابل اپنی افغانی میں یہ کہتا ہے۔ اور برج کی گوپیاں یوں یوں کہتی ہیں اور پنجاب میں جھنگ سیالے کی جٹیاں یوں کہتی ہیں۔ وغیرہ وغیرہ۔ غرض اس بیان کی کیفیت اِن کے دیوان کے دیکھنے سے معلوم ہوتی ہے۔ فارسی میں انتہائی درجے کی قدرت رکھتے تھے۔ اس میں جب نظم یا نثر کہتے تو یہی معلوم ہوتا تھا گویا بلبل شیراز سامنے بول رہا ہے۔ مگر قباحت مذکورہ کا پردہ یہاں زیادہ تر کھلتا ہے۔ کیونکہ لفاظی کا لشکر ان کے آگے مسلح حاضر ہے۔ مضمون چاہیں تو آسمان سے تارے اتار لائیں مگر فارسی قصائد میں بھی طبیعت کو روکتے نہیں، قصیدہ کے اصول کو کھول کر محاورہ کی نمکینی اور بول چال کی شوخی سے کلام میں مزہ پیدا کرتے ہیں اور بے شک اس مطلب میں کامیاب ہوتے ہیں۔ کیوں کہ ادائے مطلب اور فصاحت کلام کے لحاظ سے اس زبان پر بھی قدرت کامل رکھتے تھے۔ ایک قسیدہ بے نقط کو بہت سی صنعتوں سے مرصع کر کے زور طبع دکھایا ہے بلکہ بڑی فخر کے ساتھ اس کا نام طور الکلام رکھا ہے اور اسپر انھیں خود بھی بڑا ناز ہے۔

دیوان فارسی کا یہی حال ہے۔ باتوں ہی باتوں کا مزہ ہے۔ جس غزل کو دیکھو گویا دو ایرانی ہیں کہ کھڑے باتیں کر رہے ہیں اور فقط مسخرا پن۔ مضمون کو دیکھو تو کچھ بھی نہیں یہ سب کچھ ہے۔ مگر لطفِ زبان اور خوبی بیان کی تعریف نہیں ہو سکتی اور اس میں کچھ شبہ نہیں کہ اگر چند ساعت کے لئے اپنے رفیق طبعی یعنی تمسخر سے جُدا ہوتے اور ذرا زبان کو قابو میں رکھتے تو خدا جانے اپنے زمانے کے خاقانیؔ و انوریؔ ہوتے یا سعدی و خسرو، چنانچہ ایک ایرانی تازہ وارد کو کسی موقع پر نظم میں رقعہ لکھ کر بھیجا ہے۔ اس سے قدرت زبان اور لطف بیان کے ساتھ یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت گھر سے نکلنا بند تھا۔ رقعہ منظوم :

تو اے نسیم سحر گہ زجانب انشاء

برو بخدمت حاجب علی شیرازی

سلام شوق رساں و بگو بعجز و نیاز

کہ مے ہنر و بکمالِ تو ہر قدر نازی

بلے زنفخہ روح القدس مدد داری

ازاں مسیح زمان و سراسر اعجازی

ہمائے عالمِ قدسی سہیم تو عنقاست

چو طائرانِ بہشت بریں خوش آوازی

قصیدہ و غزل فی البدیہہ ات دیدم

علّو مرتبہ داری بلند پروازی !

کسے بہ پیش تو دیگرچہ لافِ شعر زند

بفکر سعدی شیراز را تو انبازی

بسان رستم دستانی اے نکو کردار

بہ ہر طرف کہ کنی قصدِ رخش مے تازی

ہنوز قید نہ داری چوسرد آزادی

بہر کجا کہ دلت مے کشد سر افرازی

تو سر بمہر و ہمچو نہ نامہ شاہاں !

اگرچہ فقرہ مخصوصِ مطلب زاری

بایں جریمہ کہ حاضرِ بخمت نشدم

توقع اینکہ زچشم خودم نیندازی

بدون حکمِ وزیر المملک اے آغا

چساں کنم حرکت نوکری ست یا بازی

نماز و روزہ معاف است عذر اگر باشد

بگو برائے چہ دیگر بشکوہ پردازی

بعید نیست پے سیر اگر نجانہ من

قدم گذاری و گاہے ز لطف بنوازی

عربی میں بھی وہ خاموش نہ تھے، چنانچہ یہ قطعے نمونہ دکھاتے ہیں۔

سَکَت ُ الحبیب متانۃً

بقئ التلذذُ سَارِیَا

جُلسائۃ یستحسِنُون

وَیَزعمُونَ محا کِیَا

ربّ علیٰ رَحمَتِک الوافیہ

اسئلک الصحۃ والعافیہ

انت مخیثُ الفقرا ھب لنا

عافیۃُ کافیۃ شافیہ

عربی فقرے اس خوبصورتی سے تضمین کرتے ہیں جیسے انگوٹھی پر نگینہ، چنانچہ سر دیوان غزل کا مطلع  ہے :

ضما برب کریم یاں وہ ہر ایک تیرا ہے مبتلا

کہ اگر آلستُ بِرَبکّمُ تو کہے تو کہہ دیں ابھی بلیٰ

اے عشق مجھے شاہد اصلی دکھا

قعہ خذ بیدی  وفقک اللہ تعالیٰ

مجھے کیا ملائک عرش سے مجھے عشق تیرا ہے اے خدا

بہت ان کو لکھوں تو السّٰلام علی ان اتبع الھدی

بھاتا ہے یہ بھوک پیاس سب کچھ سہنا

اور روزوں میں انتظارِ مغرب رہنا

آپس میں سحر گہی کی چہلیں اور پھر

با الصُّو، غَدا توَیتُ اُن کا کہنا

آرام و نشاط و عیش کردند ہجوم

ایجاب و قبول  جملگی شد معلوم!

با دختر رز پیر مغاں عقدم بست

قَد قُلت قِبَلتُ بالصّدّاق المعلوم

میں کوچہ عشق کی جو کرتا ہوں سیر

آرام میں اور اس میں تو ذاتی ہے بیر

ہر گام مری زباں پہ ہے جاری انشاء

ربّ یسّر ہے اور تمّمِ بالخیر

مثنوی شیر برنج فارسی زبان میں مولانا روم کی طرز میں لکھی ہے۔ مگر نہیں معلوم ہوتا کہ تمسخر کرتے ہیں تتبع کرتے ہیں۔ کیونکہ زباں کہیں فقط روزمرہ ہے۔ کہیں عالمِ جبروت و لاہوت سے پرے کے الفاظ لفاظی کرتے ہیں اور جا بجا عربی زبان کہیں شعر کہیں مصرعے ہوتے جاتے ہیں۔ مضامین فقط ظرافت کی باتیں اور حکایاتیں ہیں۔ انھیں نظم کر کے معرفت و طریقت میں لاتے ہیں۔

غرض کھیر میں لُون ڈال کر تصوف کو تمسخر کر دیا ہے۔ مگر یہ بچپن کا کلام معلوم ہوتا ہے۔ شکار نامہ سعادت علی خاں کا فارسی میں ہے۔ زبان کی شیرینی اور ترکیب کی چستی اور اس میں طبیعت کی شوخیوں نے جو لطف پیدا کیا ہے دیکھنے سے تعلق ہے۔ اس مقام پر چند شعر لکھے بغیر نہیں رہ سکتا۔

شکار نامہ

اینکہ کنوں مے گذرد در شمار

بست فزوں از دو صد و یک ہزار

ساختہ در خامہ انشاء وطن

چند ہزار آہوئے مشک ختن

یہ کہ کنوں صید مضامین کنم

بارگئ ناطقہ را زیں کنم

در تمہید کلام

از مدد شیر خدائے و دود

صورتِ عنقائے طرب پرکشود

ذہن و ذکا رقص چو طاؤس کرد

مست شدہ آہوئے صحرا نورد

طائر اقبال بہ نشو و نما

فصلِ گل و باد بہاری و زید

در تعریف حضور پر نور

اشرف خیل و ز رائے زماں

ناظم ملک ہمسر ہندوستاں

صفدر و منصور و سخی و شجاع

بست کمر از پئے قتل سباع

تاختہ از خانہ بعزمِ شکار

کرد برد برج اسدؔ جاں نثار

در تعریف خیمہ و خرگاہ نوبت و نقارہ و مایغلق بذالِکَ

تا کہ بر و خیمہ زریں طناب

آمدہ در برج حملِ آفتاب

گشت ز نقارہ صدائے بلند

زندہ بماں زندہ بماض بے گزند

دزُ و ہلِ نقرہ بر آمد بجوش

تابتواں، تابتواں، ہاں خروش

حلّت صید است در آئین من

دین من و دین من و دین من

داشدہ زیں ساں دہنِ کرّنا!

با دیدہ بادیدہ بادُعا

دشمنِ ایں خانہ جگر خوں بود

دوں بود و دوں بود و دوں بود

عیش بروں از حد و اندازہ شد

رسم کہن از سر نو تازہ شد

غلغلہ کوس بہ کیواں رسید

آب شدہ زہرہ و یوسفید

کوہ چو غرّ یدن پیلش شنید

صورتِ خرطوم دے از دو روید

گفت بروں آمدہ از زیر ابر

صور سرافیل پے صید بیر

وقت ہما نست کہ سیمرغ قاف

بگذر و از قِلّہ لاف و گذاف

آنچہ ندیدست فریدوں نجواب

جملہ مہیاست و را در رکاب

چونکہ بد ید ایں ہمہ عزم و شکوہ

لرزہ بر افتاد بر اندام کوہ

تاریخ

فوج ظفر موج بایں عزّ و جاہ

گر در سا نید چو برادجِ ماہ

شو کتش انشاء بخط زر نوشت

فقرہ تاریخ مظفر نوشت

تعریف اسپ

خود چو بر اسپِ عربی برنشست

آمدہ بر فوج غزالاں شکست

اسب چہ اسپ اشہبِ باد صبا

اسپ مگوشہ رخ گلگوں قبا

اسپ بایں شوخی دل چسپ کو

حور بگو اسبِ مگو، اسپ کو

اسپ مداں لمعہ شرق است ایں

اسپ کجا چشمک برق است ایں

پیش ردِ جودتِ طبع سلیم

گام نہد بر برد دوشِ نسیم

زیب دہ کوہ و بیابانِ نجد

قیس اگر بنگر و آید بہ وجد

سیرتِ لیلیٰ رسدش در خیال

باہمہ چالاکی و حُسن و جمال

بیندش از نادر کشورستاں

وصف کند باہمہ ایرانیاں

آگے نادر کی زبانی جو اشعار ہیں وہ ترکی میں کہے ہیں اور پھر مطلب شروع کیا ہے۔ ہجوئیں اُردو میں ہیں۔ خیال کر لینا چاہیے کہ جنھیں بانکپن غزل اور قصیدے میں سیدھا سیدھا نہیں چلنے دیتا۔ انھوں نے وہاں کیسا کچھ رنگ اڑایا ہو گا۔

مثنوی عاشقانہ مختصر ہے اور کوئی بات اس کی قابل اظہار نہیں۔ ایک ہاتھی اور چنچل پیاری بھتنی کی حکایت کہیں انگریزی سے اُن کے ہاتھ آ گئی ہے۔ نظر باز آنکھ خود ایسے مضامین کی تاک میں رہتی تھی یہ تو تیار مال تھا۔ غرض اس کی شادی جس سامان سے کی ہے وہ تماشا دیکھنے کے قابل ہے۔

متفرق اشعار قطعے، خطوط منظوم، رباعیاں، پہیلیاں چیستانیں، لطائف سے دیوان مالا مال ہیں۔ مگر بنیاد سب کی تمسخر پر ہے۔ طالب علم کو بہت کچھ سمجھ لینا چاہیے کہ بہت کچھ اس میں قابل لینے کے ہے۔ اور بہت کچھ مہملات۔

دیوان بے نقط ایک معمولی طبّع آزمائی ہے۔ اس میں کوئی بات قابل تحریر نہیں۔ مثنوی ماتہ عامل زبان عربی کی نظم فارسی میں ہے۔ اگرچہ وہ بڈھے ہو کر بھی بچّوں کے آگے دوڑتے تھے مگر یہ بھی اوائل عمر کی معلوم ہوتی ہے۔ (ایک مختصر مثنوی میں پشتوں زبان کے قواعد نظم کئے ہیں۔)

دریائے لطافت قواعد اردو میں ہے۔ اس کتاب میں بھی اگرچہ انداز کلام میں وہی تمسخر اور شوخی ہے۔ مگر یہ پہلی کتاب قواعد اُردو کی ہے جو ہمارے اہل زبان نے اردو میں لکھی ہے۔ اس میں اوّل اردو بولنے والوں کی مختلف فرقوں کی زبانوں کے نمونے دکھائے ہیں اور ان میں حق زبان دانی اور سخن فہمی کا ادا کیا ہے۔ پھر قواعد بیان کئے ہیں۔ اور ظرافت سے لے کر فحش تک کوئی بات باقی نہیں چھوڑی۔ لیکن طالب فن اس میں سے بھی اکثر نکتے ایسے حاصِل کر سکتا ہے کہ چند روز کے بعد ڈھونڈھے گا اور نہ پائے گا۔

بعد اس کے کئی بابوں میں عروض قافیہ، منطق، معانی، بیان وغیرہ فروعِ بلاغت کو زبانِ اردو میں لائے ہیں۔ یہ مرزا قتل کی تصنیف ہے مگر اس حمام میں سب ننگے تھے۔ ان کے ہاں بھی سوائے شہدپن کے دوسری بات نہیں پھر بھی حق یہی ہے کہ کہ جو کچھ ہے لطف سے خالی نہیں ہے۔عروض میں ان کے اصول اور قواعد لکھے ہیں مگر تقطیع میں مفاعیلن، مفاعیلن کی جگہ کہتے ہیں۔ پری خانم، پری خانم، پری خانم، اور فاعلن، فاعلن فاعلن، چت لگن، چت لگن، چت لگن،  چت لگن اور

مفعول، مفاعیلن، مفعول، مفاعیلن

بی جان پری خانم، بی جان پری خانم

اور فاعلن، مفاعیلن، فاعلن مفاعیلن

چت لگن پری خانم، چت لگن پری خانم

اصطلاحیں بھی نئی نئی رکھی ہیں۔ چنانچہ نظم کی قسموں میں مثلث کا نام ٹکڑا اور مُربعّ کا نام چوکڑا رکھا ہے وغیرہ وغیرہ۔ منطق میں بھی اپنی اصلاحیں الگ نکالی ہیں، چنانچہ :

علم — گیان

نسبت ثبوتہ — مان لینا

علم حصول — پر دھیان

نسبت سلبی — پورا توڑ

علم حضوری — آپ گیان

بدیہی — پرگھٹ

قصور — دھیان

نظری — گپت

تصدیق — جون کا توں

تسلسل — الجھا سُوت

موضوع — بول

دور — ہیر پھیر

محمول — بھرپور

مطابقت — ٹھیک ٹھیک

رابطہ — جوڑ

تضمنی — کہسر

نسبت — ملاپ

التزامی — اوپری لگاؤ

قضیہ — بات

اسی طرح معانی بیان وغیرہ میں۔

ہندی اور ملکی خصوصیتوں کے مضامین کو سوداؔ نے بہت اچھی طرح سے باندھا ہے مگر سید انشاء نے بھی اچھلتے کودتے خوب قدم مارے ہیں اور یہ بات لطف سے خالی نہیں کیونکہ اپنے ملک کے ہوتے، عرب سے نجد، ایران سے بے ستون اور قصر شیریں توران سے جیجون سیحون کو ہندوستان میں لانا کیا ضرور ہے۔ ایسی باتوں سے فصاحت میں دشواری اور اشکال پیدا ہوتے ہیں۔ چنانچہ سید موصوف کہتے ہیں :

لیا گر عقل نے منھ میں دل بیتاب کا گٹکا

تو جوگی جی دھرا رہ جائے گا سیماب کا گٹکا

صنم خانہ میں جب دیکھا بہت و ناقوس کا جوڑا

لگا ٹھاکر کے آگے ناچنے طاؤس کا جوڑا

لے پارے سے جو ہڑتال کر کے راکھ کا جوڑا

تو نابنے سُرجی اگلیں کوئی نّوے لاکھ کا جوڑا

نہیں کچھ بھید سے خالی یہ تلسی داس جی صاحب

لگایا ہے جو اک بھونرے سے تم نے آنکھ کا جوڑا

لپٹ کر کرشن جی سے رادھکا ہنس کر لگیں کہنے

ملا ہے چاند سے اے لو اندھیرے ماگھ کا جوڑا

یہ سچ سمجھو کہ انشاء ہے جگت سیٹھ اس زمانہ کا

نہیں شعر و سخن میں کوئی اس کے راکھ کا جوڑا

اے عشق اجی آؤ مہاراجوں کے راجہ ڈنڈوت ہے تم کو!

کر بیٹھے ہو تم لاکھوں کروڑوں ہے کے سر چٹ اک آن میں چٹ پٹ

یہ جو مہنت بیٹھے ہیں رادھا کے کنڈ پر

اوتار بن کے گرتے ہیں پریوں کے جھنڈ پر

ہے نور بصر مردمک دیدہ میں پنہاں مانند کنہیا

سو اشک کے قطروں سے پڑا کھیلے ہے جھرمٹ اور آنکھیں ہیں پنگھٹ

دل ستم زدہ بیتابیوں نے لوٹ لیا

ہمارے قبلہ کو وہابیوں نے لوٹ لیا

سُنایا رات کو قصہ جو ہیر رانجھے کا

تو اہل درد کو پنجابیوں نے لوٹ لیا

یوں چلے مژگاں سے اشک خونفشاں کی میدنی

جیسے بہرائچ چلے بالے میاں کی میدنی

اور مقطع کی اکڑ تکڑ دیکھنے کے قابل ہے۔

رسّمانہ دیکھ انشاء کو قشوں شاہ میں

سب یہ کہتے ہیں کہ آئی سیستاں کی میدنی

پھبن، اکڑ، چھب، نگاہ، سج دھج، جمال و طرز خرام آٹھوں

نہ ہوویں اس بُت کے گر پجاری تو کیوں ہو میلے کا نام آٹھوں

غرض کل تصنیفات کی ہیئت مجموعی دیکھ کر معلوم ہوتا ہے کہ نئے نئے تصرف اور ایجادوں کے لحاظ سے سید انشاء فن انشاء کی قلمرو میں بادشاہ علی الاطلاق تھے اور اس اعتبار سے انھیں اردو کا امیر خسرو کہیں تو بے نہیں بلکہ قصیدہ طور الکلام میں جہا صنائع مختلفہ کی ذیل میں انھوں نے ایک مصرع لکھا ہے کہ تین زبانوں میں پڑھا جاتا ہے، وہاں فخر کی مونچھوں پر خوب تاؤ دیئے ہیں اور کہا ہے کہ امیر خسرو نے تین لفظ کا ایک جملہ ایسا لکھا تھا اور فخر کیا تھا۔ مجھے ایسا پورا مصرع ہاتھ آیا، یہ فقط ممدوح کی مدح کی برکت ہے۔ اگرچہ آج یہ صنعتیں بے کار ہیں۔ مگر اس احسان کا شکریہ کس زبان سے ہو کہ ہمارے زبان میں نئی نئی تشبیہیں، شگفتہ استعماروں  کے رستے کھولے۔ اس سے بڑھ کر یہ کہ ان میں فارسی اضافت کی گرہ کو نہایت خوبصورتی کے ساتھ کھولا ہے۔ غزلوں میں اس کے اشارے معلوم ہوں گے۔

اس میں کچھ کلام نہیں کہ جو جو تصرف یا ایجاد کئے ان میں بعض جگہ سینہ زوری بھی ہے۔ مگر خوش نمائی اور خوش ادائی میں کچھ شبہ نہیں۔ درحقیقت ان کی تیزی طبع نے عالمِ وجود میں آنے کے لئے بھی تیزی دکھائی۔ اگر وہ سو برس بعد پیدا ہوتے تو ہمارے زبان کا فیشن نہایت خوبصورتی سے بدلتے۔ دیکھو وہ قصیدہ جو انھوں نے جارج سوم کی تہنیت جشن میں کہا ہے۔

قصیدہ در تہنیت جشن

بگیاں پھولوں کی تیار کرائے بوئے سمن

کہ ہوا کھانے کو نکلیں گے جوانانِ چمن

عالم اطفال نباتات پہ ہو گا کچھ اور

گورے کالے سبھی بیٹھیں گے نئے کپڑے پہن

کوئی شبنم سے چھڑک بالوں پہ اپنے پوڈر

کُرسی ناز پہ جلوہ کی دکھا دے گا پھبن

شاخِ نازک سے کوئی ہاتھ میں لے کر اک گیت

ہو الگ سب سے نکالے گا نرالا جو بن

نسترن بھی نئی صورت کا دکھا دے گا رنگ

کوچ پر ناز کی جب پاؤں رکھے گا بن ٹھن

اپنے گیلاس شگوفہ بھی کریں گے حاضر

آ کے جب غنچہ گل کھولیں گے بوتل کے دہن

اہلِ نظارہ کی آنکھوں میں نظر آویں گے

باغ میں نرگش شہلا کے ہوائے چتون

اور ہی جلوے نگاہوں کے لگیں گے دینے

اودی بانات کی کُرسی سے شکوہِ سوسن

پتے مِل مِل کے بجاویں گے فرنگی طنبور

لالہ لاوے گا سلامی کو بنا کر پلٹن

کھینچ کر تار رگِ ابر بہاری سے کئی

خود نسیم سحر آوے گی بجاتی ارگن !

اپنی سنگینیں چمکتی ہوئی دکھلا دیں گے

آ پرے گی جو کہیں نہر پہ سورج کی کرن

نے نوازی کے لئے کھول کر اپنی منقار

آ کے دکھلا دے گی بلبل بھی جو ہے اس کا فن

اردلی کے جو گراں ڈیل ہیں سب ہوں گے جمع

آن کر اپنا بگل پھونکے گا جب سکھدرشن

آئے گا نذر کو شیشہ کی گھڑی لے کے حباب

یاسمیں پتوں کی سپنیں میں چلے گی بن ٹھن

نکہت آوے گی نِکل کھول کلی کا کمرا

ساتھ ہوئے گی نزاکت بھی جو ہے اس کی بہن

حوض صندوق فرنگی سے مشابہ ہوں گے

اس میں ہوویں گے پریزاد بھی سب عکس فگن

ایک جگہ گھوڑے کی تعریف میں کہتے ہیں۔

ہے اس آفت کا سبک سیر کہ راکب اسکا

حاضری کھائے جو کلکتہ تو لنڈن میں ٹفن

ان کا پڑھنا بھی ایک انداز خاص رکھتا تھا۔ جس سے شعر کی شان اور لطفِ کلام دوبالا ہو جاتا تھا۔ یہاں تک کہ اکثر اشخاص مشاعرہ میں اپنی غزل اُن سے پڑھوایا کرتے تھے۔ کیوں کہ اُن کی زبان آتش تاثیر کی چقماق تھی۔ اس سے نکل کر گرمی سخن ایک سے دو چند بلکہ وہ چند ہو جاتی تھی۔ بے شک انھیں میر و مرزا کے صاف کئے ہوئے رستے ہاتھ آئے مگر ان رستوں میں اُچھلتے کودتے ایسے بے باک اور بے لاگ جاتے ہیں، جیسے کوئی اچھا پھکیت منجھے ہوئے ہاتھ تلوار کے پھینکتا جاتا ہے۔

دیوان دیکھنے سے اِن کے حالات و عادات کی تصویر سامنے کھینچ جاتی ہے۔ جبکہ وہ مشاعرہ میں آتے تھے، یا دربار کو جاتے تھے، ایک طرف آداب معقولیت سے سلام کیا۔ ایک طرف مسکرا دیا۔ ایک طرف منھ کو چڑھا دیا۔ کبھی مقطّع مرد معقول، کبھی دلی کے بانکے، کبھی آدھی داڑھی اڑا دی۔کبھی چار ابرو کی صفائی بنا دی۔

کلیات کو دیکھو تو یہی حالت اشعار کی ہے اور اس میں شک نہیں کہ تفریح و تضحیک کے اعتبار سے کسی جلسہ میں ان کا آنا بھانڈ کے آنے سے کم نہ تھا۔ پس مصحفی نے ان کی ہجویات کے ضمن میں کچھ جھوٹ نہیں کہا۔

مصرعہ : واللہ کہ شاعر نہیں تو بھانڈ ہے بھڑوے

اگرچہ جس محدود دائرہ میں ہمارے فارس و ہند کے شعراء پا بہ زنجیر پھر رہے ہیں، یہ بے چارے بھی دوڑتے پھرتے ہیں۔ پھر بھی وہ شعرائے رائج الوقت کے اصول مفروضہ میں عاشقانہ مضامین کے پابند نہیں۔ اس کا ایک سبب یہ بھی تھا کہ اوّل تو اکثر غزلیں اور قصائد ان کے سنگلاخ زمین میں ہوتے تھے۔ پھر اس میں قافئے ایسے کڈھب لیتے تھے کہ عاشقانہ مضمون کم آ سکتے تھے۔ اسی واسطے قانون کلام یہ رکھا تھا کہ کیسا ہی قافیہ ہو اور کیسا ہی مضمون جس برجستہ پہلو سے بندھ جائے چھوڑنا نہیں چاہیے۔ ساتھ اس کے یہ ہے کہ شاعر کو زیادہ تر کام عوام سے ہوتا ہے جنھیں مضامین عشقیہ کے بعد کچھ لطف ہے تو ظرافت میں ہے۔ اس لئے ان کی طبیعت جو اسی آسمان کی زہر ہ ہے ہر آن نیا جلوہ دیتی ہے۔ چنانچہ پابند اُن رسوم و قیود کے اپنے گھر بیٹھ کر جا چاہیں سو کہیں۔ وہ جب یاروں کے جلسہ میں یا مشاعرہ کے معرکے میں آ کر فانوس جادو روشن کرتے تھے تو تحسین اور واہ وا سے دھواں دھار ہو کر محفل بے لون ہو جاتی تھی۔ حق یہ ہے کہ وہ اپنی طرز کے آپ بانی تھے۔ اور آپ ہی اس کا خاتمہ کر گئے۔

لوگ کہتے ہیں کہ سیّد انشاء کا کلام ہر ایک مقام پر قابل سند نہیں۔ یہ بات درست ہے مگر ان کی بے اعتدالیاں کچھ جہالت کے سبب سے نہ تھیں۔ بلکہ عمداً تھیں۔ یا بے پروائی کے سبب سے تھیں کہ اپنی طبع وقار اور جامعیتِ استعداد کے سامنے تو قواعد اور اہلِ قواعد کو خاطر میں نہ لاتے تھے۔ سچ ہے کہ ان کے جوش کمال نے تیز کے تیز آب سے اصول اور قواعد کو پانی پانی کر دیا۔ الفاظ اور محاورات میں بہت سے تصرف کئے۔ یہ تصّرف اگر صرف محدود مقاموں میں ہوتے تو شکایتیں نہ ہوتیں۔ کیوں کہ اس زبان آور سے زیادہ قادر زبان اور زبان داں کون ہے۔ خصوصاً جب کہ استعداد علمی سے مسلح ہو۔ لیکن افراط نے ہمیں بھی خاموش کر دیا ہے، اور وہ نشہ کمال کا مست کسی کے کہنے کی پرواہ بھی نہ کرتا تھا۔ بلکہ جب کوئی شامت کا مارا اگر گرفت کر بیٹھتا تھا تو کبھی سند سے کبھی دلائل جا و بے جا سے اور ساتھ ہجوؤں کے توپ خانوں سے چاند ماری کا نشانہ بن جاتا تھا۔ بہر حال ان کے کلام سے واقف حال اور طالبِ کمال بہت کچھ فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ اکثر اچھوتے ایجاد ہیں کہ گل نو بہار کی طرح سر پر رکھنے کے قابل ہیں۔ بہت سی تھوڑی تبدیلی یا تراش سے انوکھے ہو جاتے ہیں، بہت سے وہ ہیں جن پر سوا اس کے کچھ نہیں کہہ سکتے کہ

مصرعہ :خطائے بزرگاں گرفتن خطا است

لوگ کہتے ہیں کہ سید انشاء کا کلام رندانہ (اس کا سبب یہ تھا کہ ان کے بزرگوں کو سرکار سے شہدوں کی تقسیم و وظائف کی خدمت سپرد تھی۔ ان کے بھائی صاحب دلّی میں آئے تو وہ بھی ایک پارے کا کنٹھا گلے میں پہنتے تھے اور وضع بھی اسی قسم کی رکھتے تھے، چنانچہ میر انشاء اللہ خاں نے آزادوں کے انداز میں ایک مستزاد کہہ کر دادِ زباندانی کی دی ہے اور غزلوں میں اسی طرز کا پرتو دکھایا ہے۔ دریائے لطافت میں شہدے کی تحقیق سید انشاء خود فرماتے ہیں۔ شہدہ شخصے راگویند کہ از برہنگی سروپا کشیدہ بر دیگر بر دوش و سر خطاب ہائے او ابے اوبے، بچا۔ ایسے تیسے چند الفاظ فحش لکھے ہیں وغیرہ وغیرہ عارنداشتہ باشدد، گر لک روپیہ یا اشرفی یا قطعہ ہائے جواہر در مکانے گذاشتہ باشد و شہدہ دراں تنہا بر دو نگہبانے ہم بناشد ہرگز دست بہیچ چیز نخواہد بردو انبوہ ایں فرقہ متصل مسجد جامع دارالخلافہ خصوصاً چاوڑی یافتہ می شود۔ بلکہ کمال شہدہ ہمیں است کہ اور اشہدہ جما مسجدگویند برائے شہدہ ہانا مہائے عجیب و لہجہ غریب بود۔ گرگج جّما بدھوا ملوا۔ روسن، چراگ و ہموا، راجے خاں، نہال بیگ میر آسوری عینی میر عاشوری۔ بڑے خوجی شیخ رانجھے ابو المالی یعنی ابو المعالی دھول حمد کیئو خاں، ایں است اسما کے متبرک حالا طرز گفتار باید شنید” چونکہ ان کی گفتگو فحش تھی اس لئے احتراز کیا گیا۔ غرض شہدے بھی عجیب چیز ہیں، ذرا ان کا نام آ گیا تھا، دیکھئے ۵ صفحے خراب ہو گئے۔)ہے اور جو اس میں ہزل ہے نہ بقدر نمک ہے بلکہ غذا کی مقدار سے بڑھی ہوئی ہے۔ یہ بات بھی درست ہے۔ مگر اس کا سبب یہ ہے کہ وقت حاکم جابر ہے اور پسند عام اس کا واضح قانون ہے۔ اس وقت شاہ و امراء سے لے کر گدا اور غربا تک انھیں باتوں سے خوش ہوتے تھے اور قدر دانی یہ کہ ادنیٰ ادنیٰ (ایک شعر پر سیّد انشاء اور شیخ مصحفی میں شکر رنجی ہو گئی اور طبیعتوں کی شوخی نے زبانوں کی بیباکی کے ساتھ مل کر بڑے بڑے معرکے کئے۔ اس وقت آصف الدولہ شکار میں تھے چنانچہ انھوں نے اپنے لکھنؤ میں نہ ہونے پر ہزاروں افسوس کئے اور بڑے اشتیاق سے ان ہجوؤں کو منگا کر سُنا اور انعام بھیجے۔ فی الحقیقۃ ایک ایک مصرع ان کا ہنسی اور قہقہوں کی منتر ہے لیکن آج اگر انھیں کوئی لکھ بھی دے تو عدالت یا انصاف میں مجرم ہو کر جوابدہی کرنا پڑتی ہے۔) نظموں پر وہ کچھ دیتے تھے۔ جو آجکل کے مصنفوں کی کتابوں پر نصیب نہیں ہوتا۔ سید انشاء اگر یہ نہ کرتے تو کیا کرتے۔ پیٹ کو کاٹ کر کہاں پھینک دیتے۔ ہنگامہ ہستی کے جوانمرد اسے بھی ایک قسم کا کمال سمجھتے ہیں کہ کسی رستہ میں درماندہ نہ رہیں۔ جو پتھر سدّ راہ ہو اسے ٹھوکر مار کر ہٹائیں۔ اور آگے نکل جائیں۔ انصاف کی آنکھیں دیکھ رہی ہیں کہ جو کچھ اکمل ہزار فن کر گیا ہے۔ ہر ایک کا کام نہ تھا۔ نواب مصطفیٰ خاں شیفتہ کا گلشن بے خار جب دیکھتا ہوں تو خار نہیں۔ کٹار کا زخم دل پر لگتا ہے۔ سید موصوف کے حال میں لکھتے ہیں “ہیچ صنف رابطریقہ راسخہ شعرانہ گفتہ” یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ انھوں نے اس رستوں میں قدم کیوں رکھا۔ جو ایسے کیچڑ میں دامن آلودہ ہوئے لیکن شہرستان تجارب کے سیر کرنے والے جانتے ہیں کہ جب رواج عام کا راجہ ہولی کھیلتا ہے تو بڑے بڑے معقول وضعدار اشخاص اس کی چھینٹیں فخر سمجھ کر سر و دستار پر لیتے ہیں۔ پس وہ اور ان کے معاصر ملک چھوڑ کر کہاں نکل جاتے ؟ یہیں رہنا تھا اور انھیں لوگوں سے لے کر گزران کرنی تھی اور لطف یہ تھا کہ اس میں بھی آن بان اور عظمت خاندان قائم تھی۔ اُن کے آقا بھی اُن سے اپنایت کے طریقے سے پیش آتے تھے اور انہی چہیتے چاہنے والوں کی فرمائشیں ہوتی تھیں، جو نہ دھری جاتی تھیں اور نہ اُٹھائی جاتی تھیں۔ اور وہ کچھ چھوٹے لوگ نہ تھے جو سمجھائے سے سمجھ جائیں یا ٹالے سے ٹل جائیں۔ کبھی تو شاہ عالم بادشاہ دہلی تھے۔ کبھی مرزا سلیمان شکوہ تھے۔ کبھی سعادت علی خاں والیِ اودھ وغیرہ وغیرہ چنانچہ اکثر غزلیں ہیں، جن سے معلوم ہوتا ہے کہ کسی عالم میں سعادت علی خاں کی زبان سے ایک مصرع نکل گیا، اس کی غزل کا پورا کرنا ان کا کام تھا۔ ایک دفعہ کسی شخص کی پگڑی بے ڈھنگی بندھی تھی، سعادت علی خاں نے کہا کہ

مصرعہ : پگڑی تو نہیں ہے یہ فراسیس کی ٹوپی

(تمام غزل دیکھو ان کی غزلوں میں )

سعادت علی خاں نواڑے میں لیٹے ہوئے میر انشاء اللہ خاں کی گود میں سر دھرا ہوا سرور کے عالم میں دریا کی سیر کرتے چلے جاتے تھے۔ لبِ دریا ایک حویلی پر لکھا دیکھا۔ حویلی علی نقی بہادر کی۔ کہا کہ انشاء دیکھو۔ کسی نے تاریخ کہی مگر نظم نہ کر سکا۔ بھئی تم نے دیکھا بہت خوب مادہ ہے۔ اسے رُباعی کر دو۔ اسی وقت عرض کی۔

نہ عربی نہ فارسی نہ ترکی

نہ سم کی نہ تال کی نہ سُر کی

یہ تاریخ کہی ہے کسی لُر کی

حویلی علی نقی خاں بہادر کی

تائید اس کی اس روایت سے ہوتی ہے کہ جب شاہ نصیر دہلوی لکھنؤ میں گئے۔ اور زمین سنگلاخ میں گلزار لگا کر مشاعروں کو رونق دی تو سید انشاء سے بھی ملے جو کہ دلّی والوں کے رواج کار کا بیڑا اُٹھائے بیٹھے تھے اور کہا کہ بھئی انشاء اللہ خاں میں فقط تمہارے خیال سے یہاں آیا ہوں ورنہ لکھنؤ میں میرا کون بیٹھا ہے جس کے پاس میں آتا۔ اس وقت بہت رات گئی تھی۔ میر انشاء اللہ خاں نے کہا کہ شاہ صاحب یہاں کے دربار کا عالم کچھ اور ہے کیا کہوں لوگ جانتے ہیں کہ میں شاعری کر کے نوکری بجا لاتا ہوں مگر میں خود نہیں جانتا کہ کیا کر رہا ہوں ؟ دیکھو صبح کا گیا گیا شام کو آیا تھا، کمر کھول رہا تھا، جو چوبدار آیا کہ جناب عالی پھر یاد فرماتے ہیں۔ گیا تو دیکھتا ہوں کہ کوٹھے پر فرش ہے چاندنی رات ہے۔پہئے دار چھپر کھٹ میں آپ بیٹھے ہیں، پھولوں کا گہنا سامنے دھرا ہے۔ ایک گجرا ہاتھ میں ہے اسے اچھالتے ہیں اور پاؤں کے اشارے سے چھپرکھٹ آگے بڑھتا جاتا ہے، میں نے سلام کیا۔ حکم ہوا کہ انشاء کوئی شعر تو پڑھو۔ اب فرمائیے ایسی حالت میں کہ اپنا ہی قافیہ تنگ ہو۔ شعر کیا خاک یاد آئے۔ خیر اس وقت یہی سمجھ میں آیا، وہیں کہہ کر پڑھ دیا۔

لگا چھپرکھٹ میں چار پہیّے اُچھالا تو نے جو لے کے گجرا

تو موج دریائے چاندنی میں وہ ایسا چلتا تھا جیسے بجرا

یہی مطلع سُن کر خوش ہو گئے۔ فرمائیے اسے شاعری کہتے ہیں ؟ اسی طرح کی اور تقریبیں انھیں پیش آتی تھیں کہ بیان آئندہ سے واضح ہو گا۔ غرض اس معاملہ میں میاں بے تاب کا قول لکھ رکھنے کے قابل ہے۔ کہ سیّد انشاء کے فضل و کمال کو شاعری نے کھویا۔ اور شاعری کو سعادت علی خاں کی مصاحبت نے ڈبویا۔

ایک دن نواب صاحب کے ساتھ بیٹھے کھانا کھا رہے تھے۔ اور گرمی سے گھبرا کر دستار سر سے رکھ دی تھی۔ منڈا ہوا سر دیکھ کر نواب کی طبیعت میں چہل آئی۔ ہاتھ بڑھا کر پیچھے سے ایک دھول ماری۔ آپ نے جلدی سے ٹوپی سر پر رکھ لی۔ اور کہا، سبحان اللہ، بچپن میں بزرگ سمجھایا کرتے تھے وہ بات سچ ہے کہ ننگے سر کھانا کھاتے ہیں تو شیطان دھولیں مارا کرتا ہے۔

سعادت علی خاں کہ ہر امر میں سلیقہ اور صفائی کا پابند تھا اس نے حکم دیا کہ اہلِ دفتر خوش خط لکھیں۔ اور فی غلطی ایک روپیہ جُرمانہ۔ اتفاقاً اعلیٰ درجے کے اہل انشاء میں ایک مولوی صاحب تھے۔ انھوں نے فرد حساب میں اجناس کو اجنا لکھ دیا۔ سعادت علی خاں تو ہر شے پر خود نظر رکھتے تھے۔ ان کی بھی نگاہ پڑ گئی۔ مولویوں کو جواب دینے میں کمال ہوتا ہے۔ انھوں نے کچھ قاموس، کچھ صراح سے اجنا کے معنی بتائے، کچھ قواعد نحو سے ترخیم میں لے گئے۔ نواب نے انھیں اشارہ کیا۔ انھوں نے مارے رباعیوں اور قطعوں کے اُتّو کر دیا۔

اجناس کی فرد پہ اجنا کیسا؟

یاں ابرِ لغات کا گرجنا کیسا؟

گو ہوں اجنا کے معنی جو چیز اُگے

لیکن یہ نئی اُپچ اپجنا کیسا؟

اُن مولوی صاحب کا نام مولوی سجن تھا۔ چنانچہ اس کا اشارہ کرتے ہیں۔

ترخیم کے قاعدے سے سجنا لکھیئے

اور لفظ خر و جنا کو خجنا لکھیئے

گر ہم کو اجی نہ لکھئے ہووے لکھنا

تو کر کے مرخم اس کو اجنا لکھئے

اجناس کے بدلے لکھئے اجنا کیا خوب

قاموس کی رعد کا گرجنا کیا خوب

ازروئے لغت نئی اپج کی لی ہے

اس تان کے بیج کا اپجنا کیا خوب

پوربی لہجہ میں

اجناس کا موقعن میں اجنا آیا

سلمائے علوم کا یہ سجنا آیا

اجنا چیزیست کاں برویدز زمیں

یہ تخم لغت کا لوُ اپجنا آیا

رات بہت گئی تھی۔ اور ان کے لطائف و ظرافت کی آتشبازی چھٹ رہی تھی۔ یہ رخصت چاہتے تھے۔ اور موقع نہ پاتے تھے۔ نواب کے ایک مصاحب باہرے کے رہنے والے اکثر اہلِ شہر کی باتوں پر طعن کیا کرتے تھے اور نواب صاحب سے کہا کرتے تھے کہ آپ خواہ مخواہ سید انشاء کے کمال کر بڑھاتے چڑھاتے ہیں، حقیقت میں وہ اتنے نہیں۔ اس وقت انھوں نے بقاؔ کا یہ مطلع نہایت تعریف کے ساتھ پڑھا :-

دیکھ آئینہ جو کہتا ہے کہ اللہ رے میں

اس کا میں دیکھنے والا ہوں بقاؔ واہ رے میں

سب نے تعریف کی۔ نواب نے بھی پسند کیا۔ انھوں نے کہا کہ حضور سید انشاء سے اس مطلع کو کہوائیں۔ نواب نے ان کی طرف دیکھا۔ مطلع حقیقت میں لاجواب تھا۔ انھوں نے بھی ذہن لڑایا، فکر نہ کام نہ کیا۔ انھوں نے پھر تقاضا کیا۔ سید موصوف نے فوراً عرض کی کہ جناب عالی مطلع تو نہیں ہوا، مگر شعر حسب حال ہو گیا ہے، حکم ہو تو عرض کروں۔

ایک ملکی کھڑا دروازہ پہ کہتا تھا یہ رات

آپ تو بہتیرے جا پاڑہ رہے باہرے میں

بہت سے لطائف اِن کے بباعث شدت بے اعتدالی کے قلم انداز کرنے پڑے جو کچھ کہ لکھتا ہوں، یہ بھی لائق تحریر نہیں سمجھتا۔ لیکن اس نظر سے بے جا نہیں کہ جو لوگ خار حنظل سے گلِ عبرت چنتے ہیں۔ انھیں اس میں سے ایک مشہور مصنف کی شوخیِ طبع کا نمونہ معلوم ہو گا۔ اور دیکھیں گے کہ اس صاحبِ کمال کو زمانہ شناسی اور اہل زمانہ سے مطلب برآری کا کیسا ڈھب تھا۔ ایک دن نواب نے روزہ رکھا اور حکم دیا، کوئی آنے نہ پائے۔ سید انشاء کو ضروری کام تھا۔ یہ پہنچے، پہرہ دار نے کہا کہ آج حکم نہیں، آگے آپ مالک ہیں۔ باوجود انتہائے مرحمت کے یہ بھی مزاج سے ہشیار رہتے تھے۔ تھوڑی دیر تامل کیا، آخر کمر کھول دستار سر سے بڑھا قُبا اتار ڈالی اور دوپٹہ عورتوں کی طرح سے اوڑھ کر ایک ناز و انداز کے ساتھ سامنے جا کھڑے ہوئے۔ جونہی اُن کی نظر پڑی، آپ انگلی ناک پر دھر کر بولے۔

میں ترے صدقے نہ رکھ اے مری پیاری روزہ

بندی رکھ لے گی ترے بدلے ہزاری روزہ

نواب بے اختیار ہنس پڑے، جو کچھ کہنا سننا تھا وہ کہا اور ہنستے چلے آئے۔

اِن کے حالات سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ انھوں نے عامہ خلائق خصوصاً اہل دہلی کی رفاقت اور رواج کار کا بیڑا اٹھا رکھا تھا۔ چنانچہ لکھنؤ میں میر علی صاحب ایک مرثیہ خوان تھے کہ علم موسیقی میں انھوں نے حکماء کا مرتبہ حاصل کیا تھا۔ مگر اپنے گھر ہی میں مجلس کر کے پڑھتے تھے۔ کہیں جا کر نہ پڑھتے تھے۔ نواب نے ان کے شہرہ کمال سے مشتاق ہو کر طلب کیا۔ انھوں نے انکار کیا اور کئی بار پیغام سلام کے بعد یہ بھی کہا کہ اگر وہ حاکم وقت ہیں تو میں بھی سیادت کے اعتبار سے شہزادہ ہوں۔ انھیں میرے ہاں آنے سے عذر کیا ہے ؟ نواب نے کہا کہ سیَّد میرے ہاں ہزاروں سے زیادہ ہیں، میر صاحب نے اگر فخر پیدا کیا تو یہی کہ سید تھے اب ڈوم بھی ہو گئے خیر انھیں اختیار ہے۔ میر علی صاحب نے یہ سُن کر خیالات چند در چند سے فوراً دکن کا ارادہ کیا۔ سید انشاء جو شام کو گھر آئے تو دیکھا کچھ سامانِ سفر ہو رہا ہے۔ سبب پوچھا تو معلوم ہوا کہ میر علی صاحب لکھنؤ سے جاتے ہیں۔ چونکہ اپ کے بھتیجے بھانجے بھی ان کے شاگرد ہیں وہ بھی استاد کی رفاقت کرتے ہیں۔ میر علی صاحب کے جانے کا سبب پوچھا تو یہ معلوم ہوا۔ اسی وقت کمر باندھ کر پہنچے۔ سعادت علی خاں نے متحیر ہو کر پوچھا کہ خیر باشد! پھر کیوں آئے؟  انھوں نے ایک غزل پڑھی جس کا ایک شعر یہ ہے۔

دولت بنی ہے اور سعادت علی بنا

یارب بنا بنی میں ہمیشہ بنی رہے

پھر کہا حضور! غلام جو اس وقت رخصت ہو کر چلا تو دل نے کہا کہ اپنے دولھا کی دلھن (عروس سلطنت) کو ذرا دیکھوں ! حضور! واقعی کہ بارہ ابھرن سولہ سنگار سے سجی تھی۔ سر پر جھُومر۔ وہ کون؟ مولوی دلدار علی صاحب، کانوں میں جھمکے۔ وہ کون؟ دونوں صاحبزادے، گلے میں نو لکھا ہار، وہ کون؟ خان علامہ، غرض اسی طرح چند زیوروں کے نام لے کر کہا کہ حضور غور جو کرتا ہوں تو ناک میں نتھ نہیں دل دھک سے ہو گیا کہ اللہ سہاگ کو قائم رکھے، یہ کیا نواب نے پوچھا کہ پھر وہ کون؟ کہا حضور نتھ امیر علی صاحب! بعد اس کے کیفیت مفصل بیان کی۔ نواب نے ہنس کر کہا کہ ان کی دُور اندیشیاں بے جا ہیں۔ میں ایسے صاحبِ کمال کو فخر لکھنؤ سمجھتا ہوں، غرض اس شہرت بے اصل کے لئے ترقی کا پروانہ اور ۵۰۰ روپیہ کا خلعت لے کر وہاں سے پھرے۔

جان بیلی صاحب کہ اس عہد میں ریزیڈنٹ اودھ تھے۔ اگرچہ سیّد انشاء کا نام اور شہرہ عام سنتے تھے۔ مگر دیکھا نہ تھا۔ جب سید انشاء نواب سعادت علی خاں کے پاس ملازم ہوئے تو ایک دن صاحب کے آنے کی خبر ہوئی۔ نواب نے کہا انشاء آج تمہیں بھی صاحب سے ملائیں گے۔ عرض کی حضور کی ہر طرح پرورش ہے مگر فدوی کے باب میں کچھ تقریب ملاقات کی ضرورت نہیں۔ غرض جس وقت صاحب ممدوح آئے، نواب اور وہ آمنے سامنے کرسیوں پر بیٹھے، سیّد انشاء نواب کے پیچھے کھڑے ہو کر رومال ہلاتے تھے۔ باتیں کرتے کرتے صاحب نے ان کی طرف دیکھا۔ انھوں نے ایک چہرہ کی لی۔ انھوں نے آنکھیں نیچی کر لیں۔ مگر دل میں حیران ہوئے کہ اس آدمی کی کیسی صورت ہے ؟ یہ خیال کرتے ہیں پھر نظر پری۔ اب کی دفعہ انھوں نے ایسا چہرہ بدلا کہ اس سے بھی عجیب وہ شرما کر اور طرف دیکھنے لگے، پھر جو دیکھا تو انھوں نے ایسا منھ بنایا کہ اس سے بھی الگ تھا۔ آخر نواب سے پوچھا کہ یہ مصاحب آپ کے پاس کب ملازمت میں آئے، میں نے آج ہی انھیں دیکھا ہے۔ نواب نے کہا کہ ہاں آپ نے نہیں دیکھا۔ سید انشاء اللہ خاں یہی ہیں۔ جان بیلی صاحب بہت ہنسے۔ ان سے ملاقات کی۔ پھر ان کی جادو بیانی نے ایسا تسخیر کیا کہ جب آتے پہلے پوچھتے کہ سیّد انشاء کجا است؟ جان بیلی صاحب کے ساتھ علی نقی خاں میر منشی ریذیڈنسی بھی آیا کرتے تھے۔ ان کی عجیب لطف کی چوٹیں ہوتی تھیں۔ ایک دن اثنائے گفتگو میں کسی کی زبان سے نکلا۔

مصرعہ : شاید کہ پلنگ خفیہ باشد

انھوں نے کہا کہ گلستاں کے ہر شعر میں مختلف روایتیں ہیں، اور لطف یہ ہے کہ کوئی کیفیت سے خالی نہیں، چنانچہ ہو سکتا ہے۔

مصرعہ : شاید کہ پلنگ خفیہ باشد

سعادت علی خاں نے سیّد انشاء کی طرف دیکھا۔ انھوں نے ہاتھ باندھ کر عرض کی کہ حضور! میر منشی صاحب بجا فرماتے ہیں۔ غلام نے بھی ایک نسخہ گلستاں میں یہی دیکھا تھا۔

تامرد سخن نگفیہ باشد

عیب و ہنرش نہفیہ باشد

در بیشہ گمال مبر کہ خالی ست

شاید کہ پلنگ خفیہ باشد

بلکہ وہ نسخہ بہت صحیح اور محشی تھا اور اس میں گفیہ اور نہفیہ کے کچھ معنی بھی لکھے تھے میر منشی صاحب! آپ کو یاد ہیں ؟ وہ نہایت شرمندہ ہوئے۔ جب وہ رخصت ہوتے تو سیّد انشاء کہا کرتے، میر منشی صاحب کا اللہ بیلی۔

ایک دن اسی جلسہ میں کچھ ایسا تذکرہ آیا۔ سعادت علی خاں نے کہا، ہجر بالفتح بھی درست ہے۔ جان بیلی صاحب نے کہا کہ خلاف محاورہ ہے۔ سعادت علی خاں بولے کہ خیر لغت کے اعتبار سے جب درست ہے تو استعمال میں کیا مضائقہ، اتنے میں سید انشاء آ گئے۔ جان بیلی صاحب نے کہا کہ کیوں سید انشاء ہجر اور ہجر میں تم کیا کہتے ہو۔ انھیں یہاں کی کبر نہ تھی، بے ساختہ کہہ بیٹھے کہ ہجر بالکسر! مگر سعادت علی خاں کی تیوری تاڑ گئے۔ اور فوراً بولے کہ حضور جب ہی تو جامی فرماتے ہیں۔

شب وصل است و طے شد نامہ ہجر

سَلَامُ ھِییٰ حَتّے مَطلعِ الفَجر

یہ سنتے ہی سعادت علی خاں شگفتہ ہو گئے اور اہلِ دربار ہنس پڑے۔ مرزا سلیمان شکوہ کا مکان لب دریا تھا، معلوم ہوا کہ کل یہاں ایک اشنان کا میلہ ہے۔ سید انشاء نے کہ رنگت کے گورے، بدن کے فربہ، صورت کے جامہ زیب تھے۔ پنڈتان کشمیر کا لباس درست کر کے سب سامان پوجا پاٹ کا تیار کیا۔ صبح کو سب سے پہلے دریا کے کنارے ایک مہنت دھرم مورت بن کر جا بیٹھے اور خوب زور شور سے اشلوک پڑھنے اور منتر چلنے شروع کر دیئے۔ لوگ اشنان کے لئے آنے لگے۔ مگر عورت مرد، بچہ، بوڑھا جو آتا، الفربہ خواہ مخواہ مرد آدمی دیکھ کر انھیں کی طرف جھکتا۔ یہ انھیں پوجا کرواتے تھے۔ تلک لگاتے تھے۔ جن دوستوں سے یہ راز کہہ رکھا تھا۔ انھوں نے مرزا سلیمان شکوہ کو خبر کی۔ وہ مع جلسہ اسی وقت لبِ بام آئے دیکھا تو فی الحقیقت اناج، آٹا، پیسے، کوڑیوں کے ڈھیر لگے ہیں۔ وہ بھی اس قدر کہ سب سے زیادہ۔ اس میں تفریح طبع یا لیاقت ہر فن کے اظہار کے ساتھ یہ نکتہ تھا کہ حضور خانہ زاد کو وبال دوش نہ سمجھیں، نہ اس شاعری کا پابند جانیں، جس کوچہ میں جائے گا۔ اوروں سے کچھ اچھا ہی نکلے گا۔ فائق تخلص ایک فلک زدہ شاعر تھا۔ خدا جانے کس بات پر خفا ہوا کہ ان کی ہجو کہی اور خود لا کر سنائی۔ انھوں نے بہت تعریف کی، بہت اُچھلے،بہت کودے اور پانچ روپے بھی دئے۔ جب وہ چلا تو بولے ذرا ٹھہرئیے گا۔ ابھی آپ کا حق باقی ہے۔ قلم اُٹھا کر یہ قطعہ لکھا اور حوالہ کیا۔

فائق بے حیا چو ہجوم گفت

دل من سوخت سوخت سوختہ بہ

سلہ اش پنچ روپیہ دادم

دہن سگ بہ لقمہ دوختہ بہ

دلّی میں حافظ احمد یارؔ ایک معقول صحبت یافتہ نامور حافظ تھے اور سرکار شاہی میں حافظان قرآن میں نوکر تھے۔ اگرچہ دنیا میں ایسا کون تھا جسے سے سید انشاء یارانہ نہ برتیں، مگر حافظ احمد یار کے بڑے یار تھے۔ ان کا سجع کہا تھا۔ مصرعہ “اللہ حافظ احمد یار” حافظ صاحب ایک دن ملنے گئے۔ رستہ میں مینھ آ گیا اور وہاں پہنچتے تک موسلا دھار برسنے لگا، یہ جا کر بیٹھے ہی تھے جو حرم سرا سے ننگے مننگے ایک کھاروے کی لنگی باندھے آپ دوڑے آئے۔ انھیں دیکھتے ہی اُچھلنے لگے۔ ہاتھ پھیلا کر گرد پھرتے تھے اور کہتے جاتے تھے۔

بھر بھرچھاجوں برست نُور

رد بَلیَّاں دُسمن دور

حافظ مذکور جب رخصت ہوتے تھے تو ہمیشہ کہا کرتے تھے۔ مصرعہ “اللہ حافظ احمد یار”۔ ایسے ایسے معاملے ہزاروں تھے کہ دن رات بات بات میں ہوتے رہتے تھے۔

نہایت افسوس کے قابل یہ بات ہے کہ سعادت علی خاں کے ہاتھوں سید انشاء کا انجام اچھا نہ ہوا۔ اس کے مختلف سبب ہیں۔ اوَّل تو یہ کہ اگرچہ اپنی ہمہ رنگ طبیعت کے زور سے انھوں نے انھیں پرچا لیا تھا۔ مگر درحقیقت ان کے اور ان کے معاملہ کا مصداق اِن کا مطلع تھا۔

رات وہ بولے مجھے سے ہنس کر چاہ میاں کچھ کھیل نہیں

میں ہوں ہنسوڑ اور تو ہے مقطع میرا تیرا میل نہیں

مثلاً اکثر میلوں تماشوں میں چلنے کے لئے کچھ احباب کا تقاضا کچھ ان کی طبیعت اصلی کا تقاضا، غرض انھیں جانا ضرور، اور سعادت علی خاں کی طبع کے بالکل مخالف۔ اکثر ایسا ہوا کہ وہ اپنے کاغذات دیکھ رہے ہیں۔ مصاحبوں کے ساتھ یہ بھی حاضر ہیں۔ اس میں ایک آدھ لطیفہ بھی ہوتا جاتا ہے، انھوں نے عرض کی حضور غلام کو اجازت ہے ؟ وہ بولے کہ ہوں ! کہاں ؟ انھوں نے کہا کہ حضور آج آٹھوں کا میلہ ہے، انھوں نے کہا لاحول ولاقوۃ۔ سید انشاءؔ بولے کہ مناسب تو یہ تھا کہ حضور بھی تشریف لے چلتے۔ نواب نے کہا انشاء ایسے ناروا مقاموں میں جانا تمھیں کس نے بتایا ہے ! عرض کی، حضور وہاں تو جانا ایک اعتبار سے فرض عین ہے۔ اور ایک نظر سے واجب کفائی ہے۔ ایک لحاظ سے سنت ہے۔ پھر سب کی توجیہیں الگ الگ بیان کیں۔ آخر اسی عالم مصروفیت میں سنتے سنتے دق ہو کر نواب نے کہہ دیا۔ قصہ مختصر کرو اور جلدی سدھارو۔ اسی وقت مونچھوں پر تاؤ دیکر بولے کون ہے آج سوا سید انشاء کے جو کچھ کہے۔ اُسے عقل سے نقل سے آیت سے روایت سے ثابت کر دے۔ ایسی باتیں بعض موقع پر نواب کو موجب تفریح ہوتی تھیں۔ بعض دفعہ بمقتضائے طبیعت اصلی مکدر ہو جاتے تھے۔ خصوصاً جب کہ رخصت کے وقت خرچ مانگتے تھے۔ کیونکہ وہ شاہ عالم نہ تھا۔ سعادت علی خاں تھا۔

گر جاں طلبی مضائقہ نیست

زر مے طلبی سخن دریں است

غضب یہ ہوا کہ ایک دن سرور بار بعض شرفائے خاندانی کی شرافت و نجابت کے تذکرے ہو رہے تھے۔ سعادت علی خاں نے کہا کہ کیوں بھئی ہم بھی نجیب الطرفین ہیں۔ اسے اتفاق وقت کہو یا یاوہ گوئی کا ثمرہ سمجھو۔ سیّد انشاء بول اٹھے کہ حضور بلکہ انجب، سعادت علی خاں حرم کے شکم سے تھے وہ چپ اور تمام دربار درہم برہم ہو گیا۔ اگرچہ انھوں نے پھر اور (معتبر لوگوں کی زبانی معلوم ہوا کہ جب گُنّا بیگم دختر قزلباش خاں امید کے حسن و جمال، سلیقے، سگھڑاپے، حاضر جوابی اور موزونی طبع کی شہرت ہوئی تو نواب شجاع الدولہ نوجوان تھے، اسی سے شادی کرنی چاہی۔ بزرگوں نے حسبِ آئین بادشاہ سے اجازت مانگی۔ فرمایا کہ اس کے لئے ہماری تجویز کی ہوئی ہے۔ ایک خاندانی سید زادی لڑکی کو حضور نے بہ نظر ثواب خود بیٹی کر کے پالا تھا، اس کے ساتھ شادی کی۔ اور اس دھوم دھام سے کہ شاید کسی شہزادی کی ہوئی ہو، یہی سبب تھا کہ شجاع الدولہ اور تمام خاندان ان کی بڑی عظمت کرتے تھے۔ دلہن بیگم صاحبہ ان کا نام تھا اور آصف الدولہ کی والدہ تھیں۔ سعادت علی خاں کو بچپن میں منگلو کہتے تھے کہ منگل کو پیدا ہوئے تھے۔ بیگم کے دل میں جو خیالات ان کے باب میں تھے اکثر ظاہر بھی ہو ہی جاتے تھے، مگر زیرکی اور دانائی کے آثار بچپن ہی سے عیاں تھے۔ نواب شجاع الدولہ کہا کرتے تھے کہ بیگم اگر منگلو کے سر پر تم ہاتھ رکھو گی تو تمہارے دوپٹہ کا پھریرا لگائے گا۔ اور نربدا کے اس پار گاڑے گا۔)باتیں بنا بنا کر بات کو مٹانا چاہا۔ مگر کمانِ تقدیر سے تیر نکل چکا تھا، وہ کھٹک دل سے نہ نکلی کہ اب نواب کے انداز بدلنے لگے اور اس فکر میں رہنے لگے کہ کوئی بہانہ ان کی سخت گیری کے لئے ہاتھ آئے۔ یہ بھی انواع و اقسام کے چٹکلوں سے ان کے آئینہ عنایت کو چمکاتے۔ مگر دل کی کدورت صفائی کی صورت نہ بننے دیتی تھی۔ ایک دن سید انشاء نے بہت ہی گرم لطیفہ سنایا، سعادت علی خاں نے کہا کہ انشاء جب کہتا ہے ایسی بات کہتا ہے کہ نہ دیکھی ہو نہ سنی ہو، یہ مونچھوں پر تاؤ دے کر بولے کہ حضور کے اقبال سے قیامت تک ایسے ہی کہے جاؤں گا کہ نہ دیکھی ہو نہ سنی ہو۔ نواب تو تاک میں تھے۔ چیں بچیں ہو کر بولے کہ بھلا زیادہ نہیں فقط دو لطیفے روز سنا دیا کیجیے۔ مگر شرط یہی ہے کہ نہ دیکھے ہوں نہ سنے ہوں۔ نہیں تو خیر نہ ہو گی۔ سیّد انشاء سمجھ گئے کہ یہ انداز کچھ اور ہیں۔ خیر اس دن سے دو لطیفے روز تو انھوں نے سنانے شروع کر دیئے مگر چند روز میں یہ عالم ہو گیا کہ دربار کو جانے لگتے تو جو پاس بیٹھا ہوتا اسی سے کہتے کہ کوئی نقل کوئی چٹکلا یاد ہو تو بتاؤ، نواب کو سنائیں۔ وہ کہتا کہ جناب بھلا آپ کے سامنے اور ہم چٹکلے کہیں۔ یہ کہتے کہ میاں کوئی بات چڑیا کی چڑنگل کی جو تمھیں یاد ہو کہہ دو، میں نون مرچ لگا کر اسے خوش کر لوں گا۔ اسی اثناء میں ایک دن ایسا ہوا کہ سعادت علی خاں نے انھیں بلا بھیجا۔ یہ کسی اور امیر کے ہاں گئے ہوئے تھے۔ چوبدار نے آ کر عرض کی کہ گھر نہیں ملے۔ خفا ہو کر حکم دیا کہ ہمارے سوا کسی اور کے ہاں نہ جایا کرو۔ اس قید بے زنجیر نے انھیں بہت دق کیا۔ زیادہ مصیبت یہ ہوئی کہ تعالی اللہ خاں نوجوان بیٹا مر گیا۔ اس صدمہ سے حواس میں فرق آ گیا۔ یہاں تک کہ ایک دن سعادت علی خاں کی سواری ان کے مکان کی طرف سے نکلی، کچھ غم و غصہ کچھ دل بے قابو۔ غرض سر راہ کھڑے ہو کر سخت و سُست کہا۔ سعادت علی خاں نے جا کر تنخواہ بند کر دی، اب جنون میں کیا کسر رہی۔

سعادت یار خاں رنگین اس کے بڑے یار تھے اور دستار بدل بھائی تھے۔ چنانچہ سیّد انشاء خود کہتے ہیں۔

عجب رنگینیاں ہوتی ہیں کچھ باتوں میں اے انشاء

بہم مل بیٹھتے ہیں جب سعادت یار خاں اور ہم

خاں موصوف کہا کرتے تھے کہ لکھنؤ میں سید انشاء کے وہ رنگ دیکھے جن کا خیال کر کے دُنیا سے جی بیزار ہوتا ہے۔ ایک تو وہ اوج کا زمانہ تھا کہ سعادت علی خاں کی ناک کے بال تھے۔ اپنی کمال لیاقت اور شگفتہ مزاجی کے سبب سے مرجع خلائق تھے، دروازے پر گھوڑے، ہاتھی، پالکی نالکی کے ہجوم سے رستہ نہ ملتا تھا۔ دوسری وہ حالت کہ پھر جو میں لکھنؤ گیا تو دیکھا کہ ظاہر درست تھا مگر درخت اقبال کی جڑ کو دیمک لگ گئی تھی۔ میں ایک شخص کی ملاقات کو گیا۔ وہ اثنائے گفتگو میں دوستان دنیا کی ناآشنائی اور بے وفائی کی شکایت کرنے لگے۔ میں نے کہا، البتہ ایسا ہے، مگر پھر بھی زمانہ خالی نہیں۔ انھوں نے زیادہ مبالغہ کیا۔ میں نے کہا کہ ایک ہمارا دوست انشاء ہے کہ دوست کے نام پر جان دینے کو موجود ہے۔

وہ خاموش ہوئے اور کہا کہ اچھا زیادہ نہیں۔ آج آپ ان کے پاس جائیے اور کہیے ہمیں ایک تربوز بازار سے لا کر کھلا دو۔ موسم کا میوہ ہے، کچھ بڑی بات بھی نہیں ہے، میں نے کہا کہ بھلا یہ بھی فرمائش ہے۔ وہ بولے بس یہی فرمائش ہے۔ مگر شرط یہ ہے کہ وہ خود لا کر کھلائیں بلکہ چار آنے کے پیسے بھی آپ مجھ سے لے جائیں۔ میں اسی وقت اُٹھ کر پہنچا۔ انشاء عادت قدیم کے بموجب دیکھتے ہی دوڑے صدقہ قربان گئے۔ جم جم آئیے۔ نِت نِت آئیے۔ بلائیں لینے لگے۔ میں نے کہا یہ ناز و انداز ذرا طاق میں رکھو۔ پہلے ایک تربوز تو لا کر کھلاؤ۔ گرمی نے مجھے جلا دیا۔ انھوں نے آدمی کو پکارا۔ میں نے کہا کہ آدمی کی سہی نہیں۔ تم آپ جاؤ اور ایک اچھا سا شہدی تربوز دیکھ کر لاؤ۔ انھوں نے کہا کہ نہیں آدمی معقول ہے۔ اچھا ہی لائے گا۔ ———————————————————————— میں نے کہا نہیں کھاؤں گا تو تمہارا ہی لایا ہوا کھاؤں گا۔ انھوں نے کہا تو دیوانہ ہوا ہے ! یہ بات کیا ہے۔ تب میں نے داستان سُنائی، اس وقت انھوں نے ایک ٹھنڈی سانس بھری اور کہا بھائی وہ شخص سچا اور ہم تم دونوں جھوٹے، کیا کروں ؟ ظالم کی قید میں ہوں سِوا دربار کے گھر سے نکلنے کا حکم نہیں۔ تیسرا رنگ میاں رنگین بیان کرتے ہیں کہ میں سوداگری کے لئے گھوڑے لر کر لکھنؤ گیا اور سرا میں اُترا۔ شام ہوئی تو معلوم ہوا کہ قریب ہی مشاعرہ ہوتا ہے۔ کھانا کھا کر میں بھی جلسہ میں پہنچا۔ ابھی دو تین سو آدمی آئے تھے۔ لوگ بیٹھے باتیں کر رہے تھے۔ حقے پی رہے تھے۔ میں بھی بیٹھا ہوں، دیکھتا ہوں کہ ایک شخص میلی کچیلی روئی دار مرزئی پہنے، سر پر ایک میلا سا پھنٹیا، گھٹنا پاؤں میں، گلے میں پیکوں کا توبڑا ڈالے ایک ککڑ کا حقہ ہاتھ میں لئے آیا اور سلام علیکم کہہ کر بیٹھ گیا۔ کسی کسی نے اس سے مزاج پرسی بھی کی۔ اس نے تو اپنے توبڑے میں ہاتھ ڈال کر تمباکو نکالا اور اپنی چلم پر سُلفا جما کر کہا، کہ بھئی ذرا سی آگ ہو تو اس پر رکھ دینا۔ اسی وقت آوازیں بلند ہوئیں، اور گڑگڑی سٹک پیچوان سے لوگ تواضع کرنے لگے۔ وہ بے دماغ ہر کو بولا کہ صاحب! ہمیں ہمارے حال پر رہنے دو۔ نہیں تو ہم جاتے ہیں۔ سب نے اس کی بات کے لئے تسلیم اور تعمیل کی۔ دم بھر کے بعد پھر بولا کہ کیوں صاحب ابھی مشاعرہ شروع نہیں ہوا۔لوگوں نے کہا، جناب لوگ جمع ہوتے جاتے ہیں، سب صاحب آ جائیں تو شروع ہو۔ وہ بولا کہ صاحب ہم تو اپنی غزل پڑھے دیتے ہیں۔ یہ کہہ کر توبڑے میں سے ایک کاغذ نکالا اور غزل پڑھنی شروع کر دی۔

کمر باندھے ہوئے چلنے کو یاں سب یار بیٹھے ہیں

بہت آگے گئے باقی جو ہیں تیار بیٹھے ہیں

نہ چھیڑ اے نکہت بادِ بہاری راہ لگ اپنی

تجھے اٹکھیلیاں سوجھی ہیں ہم بیزار بیٹھے ہیں

تصّور عرش پر ہے اور سر ہے پائے ساقی پر

غرض کچھ زور دھن میں اس گھڑی میخوار بیٹھے ہیں

بسان نقشِ پائے رہرواں کوئے تمنّا میں

نہیں اٹھنے کی طاقت کیا کریں لاچار بیٹھے ہیں

یہ اپنی چال ہے افتادگی سے اب کہ پہروں تک

نظر آیا جہاں سے سایہ دیوار بیٹھے ہیں

کہاں صبر و تحمل آہ ننگ و نام کیا شے ہے

میاں رو پیٹ کر ان سب کو ہم بیکار بیٹھے ہیں

بھلا گردش فلک کی چین دیتی ہے کسے انشاء

غنیمت ہے کہ ہم صورت یہاں دو چار بیٹھے ہیں

وہ تو غزل پڑھ، کاغذ پھینک سلام علیک کہہ کر چلے گئے۔ مگر زمین و آسمان میں سناٹا ہو گیا اور دیر تک دلوں پر ایک عالم رہا۔ جس کی کیفیت بیان نہیں ہو سکتی۔ غزل پڑھتے میں میں نے بھی پہچانا۔ حال معلوم کیا تو بہت رنج ہوا۔ اور گھر پر جا کر پھر ملاقات کی۔ چوتھی دفعہ لکھنؤ گیا تو پوچھتا ہوا گھر پہونچا۔ افسوس جس دروازے پر ہاتھی جھُومتے تھے وہاں دیکھا کہ خاک اڑتی ہے اور کُتّے لوٹتے ہیں۔ ڈیوڑھی پر دستک دی، اندر سے کسی بڑھیا نے پوچھا کہ کون ہے بھائی؟ (وہ ان کی بی بی تھیں ) میں نے کہا کہ سعادت یار خاں دلّی سے آیا ہے۔ چونکہ سید انشاء سے انتہائی درجہ کا اتحاد تھا۔ اس عفیفہ نے پہچانا۔ دروازہ پر آ کر بہت روئیں اور کہا کہ بھیّا ان کی تو عجب حالت ہے۔ اے لو میں ہٹ جاتی ہوں۔ تم اندر آؤ اور دیکھ لو۔ میں اندر گیا دیکھا کہ ایک کونے میں بیٹھے ہیں۔ تن برہنہ ہے۔ دونوں زانوؤں پر سر دھرا ہے۔ آگے راکھ کے ڈھیر ہیں۔ ایک ٹوٹا سا حقہ پاس رکھا ہے، یا تو وہ شان و شوکت کے جمگھٹ دیکھے تھے۔ وہ گرم جوشی اور چہلوں کی ملاقاتیں ہوتی تھیں یا یہ حالت دیکھی، بے اختیار دل بھر آیا۔ میں بھی وہیں پر بیٹھ گیا۔ اور دیر تک رویا۔ جب جی ہلکا ہوا تو میں نے پکارا کہ سید انشاء، سر اٹھا کر اس نظرِ حسرت سے دیکھا جو کہتی تھی کیا کروں، آنکھوں میں آنسو نہیں، میں نے کہا، کیا حال ہے، ایک ٹھنڈی سانس بھر کر کہا کہ شکر ہے، پھر اسی طرح سر کو گھٹنوں پر رکھ لیا کہ نہ اُٹھایا۔

بعض فلاسفہ یونان کا قول ہے کہ مدّتِ حیات ہر انسان کی سانسوں کے شمار پر ہے۔ میں کہتا ہوں کہ ہر شخص جس قدر سانس یا جتنا رزق اپنا حصّہ لایا ہے۔ اسی طرح ہر شے کہ جس میں خوشی کی مقدار اور ہنسی کا اندازہ بھی داخل ہے وہ لکھوا کر لایا ہے۔ سید موصوف نے اس ہنسی کی مقدار کو جو عمر بھر کے لئے تھی، تھوڑے وقت میں صرف کر دیا۔ باقی یا تو خالی رہا یا غم کا حصہ ہو گیا۔

غزلیات

جھڑکی سہی ادا سہی چین جبیں سہی

یہ سب سہی پر ایک نہیں کی نہیں سہی

مرنا مرا جو چاہے تو لگ جا گلے سے ٹک

اٹکا ہے دم مرا یہ دم واپسیں سہی

گر نازنین کے کہنے سے مانا بُرا ہو کچھ

میری طرف تو دیکھیے میں نازنین سہی

آگے بڑھے جو جاتے ہو کیوں کون ہے یہاں

جو بات ہم کو کہنی ہے تم سے نہیں سہی

منظور دوستی جو تمھیں ہے ہر ایک سے

اچھا تو کیا مضائقہ انشاء سے کیں سہی

*-*-*-*-*

یہ نہیں برق اک فرنگی ہے

رعد و باراں قشون جنگی ہے

کوئی دُنیا سے کیا بھلا مانگے

وہ تو بے چاری آپ ننگی ہے

واہ دلّی کی مسجد جامع

جس میں براق فرش سنگی ہے

حوسلہ ہے فراخ رندوں کا

خرچ کی پر بہت سی تنگی ہے

لگ گئے عیب سارے اس کے ساتھ

یوں کہا جس کر مردِ بنگی ہے

ڈر و  دہشت کی دھوم دھام سے تم

وہ تو اک دیونی و بنگی ہے

جوگی جی صاحب آپ کی بھی واہ

دھرم مورت عجب کو ڈھنگی ہے

آپ ہی آپ ہے پکار اُٹھتا

دل بھی جیسے گھڑی فرنگی ہے

چشم بد دُور شیخ جی صاحب

کیا ازار آپ کی اوٹنگی ہے

شیخ سعدیِ وقت ہے اِنشاء

تو ابوبکر سعدِ زنگی ہے

*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*

خیال کیجئے کیا آج کام میں نے کیا

جب ان نے دی مجھے گالی سلام میں نے کیا

کہا یہ صبر نے دل سے کہ لو خدا حافظ

کہ حق بندگی اپنا تمام میں نے کیا

جنوں یہ آپ کی دولت ہوئی نصیب مجھے

کہ ننگ و نام کر چھوڑا یہ نام میں نے کیا

لگا یہ کہنے کہ خیر، اختلاط کی کوبی

حوالے یار کے خالی جو جام میں نے کیا

جھڑک کے کہنے لگے لگ چلے بہت اب تم

کبھی جو بھُول کے ان سے کلام میں نے کیا

کیا زبانی دل کر بیاں، کہ کہتا ہے

صنم کو اپنے غرض اب تو رام میں نے کیا

کہیں نہ مانیو، بہتان ہے یہ سب اِس پر

ہنسی کے واسطے یہ اتہام میں نے کیا

تمہارے واسطے تم اپنے دل میں غور کرو

کبھی کسی سے نہ ہو جو مدام میں نے کیا

مقیم کعبہ دل جب ہوا تو زاہد کو

روانہ جانب بیت الحرام میں نے کیا

مزا یہ دیکھیے گا شیخ جی رُکے اُلٹے

جو ان کا بزم میں کل اِحترام میں نے کیا

عجب طرح کے مزے چاندنی میں دیکھ رات

قرار جا کے جو بر پشتِ بام میں نے کیا

ہوس یہ رہ گئی صاحب نے پر کبھی نہ کہا

کہ آج سے تجھے انشاء غلام میں نے کیا

دیوار پھاندنے میں دیکھو گے کام میرا

جب دھم سے آ کہوں گا صاحب سلام میرا

ہمسایہ آپ کے میں لیتا ہوں اک حویلی

اس شہر میں ہو اگر چندے مقام میرا

جو کچھ کہ عرض کی ہے سو کر دکھاؤں گا میں

واہی نہ آپ سمجھیں یونہی کلام میرا

اچھا مجھے ستاؤ جتنا کہ چاہو میں بھی

سمجھوں گا گر ہے انشاء اللہ نام میرا

میں غش ہوا کہا جو ساقی نے مجھ سے ہنس کر

یہ سبز جام تیرا اور سُرخ جام میرا

پوچھا کِسی نے مجھ کو اُن سے کہ کون ہے یہ

تو بولے ہنس کے یہ بھی ہے اِک غلام میرا

محشر کی تشنگی سے کیا خوف سیّد انشاء

کوثر کا جام دے گا مجھ کو امام میرا

*-*-*-*-*-*-*-*

ہیں زور حُسن سے وہ نہایت گھمنڈ پر

نامِ خدا نگاہ پڑے کیوں نہ ڈنڈ پر

تعویذ لعل ہی کے نہ پھریئے گھمنڈ پر

اک نیلا ڈورا باندھیے اس گورے ڈنڈ پر

یا رب سدا سہاگ کی مہندی رچا کرے

پتے نچیں۔ رہے آفت ارنڈ پر

دو تین دن تو ہو چکے اب پھر چلو وہیں

فیروز شہ کی لاٹھ کے اس چوتھے کھنڈ پر

وہ پہلوان سادہ لب جو پہ ڈنڈ پیل

بولا کہ کوئی غش ہو تو ایسے بھنڈ پر

گلبرگ تر سمجھ کے لگا بیٹھی ایک چونچ

بلبل ہمارے زخم جگر کے کھرنڈ پر

انشاءؔ بدل کے قافیئے رکھ چھیڑ چھاڑ کے

چڑھ بیٹھ ایک اور بچھڑے اکنڈ پر

*-*-*-*-*-*-*-*

یہ جو مہنت بیٹھے ہیں رادھا کے کنڈ پر

اوتار بن کے گرتے ہیں پریوں کے جھنڈ پر

اے موسمِ خزاں لگے آنے کو تیرے آگ

بلبل اداس بیٹھی ہے اک سوکھے ٹنڈ پر

شیو کے گلے سے پاربتّی جی لپٹ گئیں

کیا ہی بہار آج ہے  برہما کے رنڈ پر

راجہ جی ایک جوگی کے چیلے پہ غش ہیں آپ

عاشق ہوئے ہیں واہ عجب لنڈ منڈ پر

انشاء نے سن کے قصّہ فرہاد یوں کہا

کرتا ہے عشق چوٹ تو ایسے ہی منڈ پر

غزل آزادوں کے لہجہ میں

جو چاہے تو مجھ سے ہنسوڑے کی خیر

تو یوں دیکھ اس گھوڑے جوڑے کی خیر

کدا دے نشہ کے مرے رخش کو

میاں ساقی اس سلفے کوڑے کی خیر

دکھائی مجھے سیر باغِ ارم

الٰہی ہو اس سبزہ گھوڑے کی خیر

ہنسایا جو میں نے تو بولے نہیں

نظر آتی کچھ اس نگوڑے کی خیر

لگا بیٹھ انشاء کو ٹھوکر تو ایک

ارے اپنے سونے کے توڑے کی خیر

مستزاد

کو صُولت اسکندر و کُو حشمتِ دارا          اے صاحب فطرت

پڑھ فَاعتَبرُو بَاُولِی الاَبصَار کا آیا تا ہو تجھے عبرت

مستانہ جو میں نے قدح بھنگ چڑھایا       در عالمِ وحشت

تب خضر پکارا کہ ھنیاً و مَرّیاً      اب دیکھ حلاوت

ہے جی میں فقیروں کی طرح کھینچ لنگوٹا                اور باندھ کے ہمّت

جا کنج خرابات میں ٹک گھونٹیے سبزا        یوں کیجیے عبادت

اے حضرتِ عشق آئیے سائیں اجی مولا              یاں کیجیے عنایت

مرشد مرے مالک مرے ہادی مرے داتا           دیجیے مجھے نعمت

ماتھے پہ مرے خطِ الفت اللہ کا کھینچو       سونپو مجھے بستر

تم مونڈ گرہ پیر، یہ بندہ ہوا چیلا            جی سے کرے خدمت

میں خاک نشیں ہوں  گا گروہِ فقراء سے کیا سمجھے ہو مجھ کو

رومال چھڑی لے کے جو ٹک کھینچوں ادا               دکھلاؤں کرامت

گر سیر کناں دیر میں جا نکلوں تو بولوں     ناقوس کو سُن کر

ہاں برہمن بتکدہ عشق است صدارا       ہے تجھ سے بھی الفت

خوش رہتے ہیں چار ابرو کی بتلا کے صفائی   مانند قلندر

نہ ہم کو غم و زد نہ اندیشہ کالا     ہے خوب فراغت

درویش بلا نوش بلا چٹ ہیں میاں دوست پینک میں جو آویں

افعی کو سہل کر کریں افیون کا گھولا          ہیں ایسے ہی آفت

گاڑھے ہیں ہم اس سے بھی کہ خشکے کو ہلا کر          للکارے تھا یوہیں

دیتا ہوں ہلا کنگرہ عرش معّلیٰ               رکھتا ہوں یہ طاقت

آزادوں کے لہجہ میں غزل تو نے سُنائی                 از بہر تفنن

اب اپنی تو بولی کے کچھ اشعار کہہ انشاء                 ہو جس میں ظرافت

ہے نام خدا واچھڑے کچھ زور تماشا        یہ آپ کی رنگت

گات ایسی غضب قہر پھبن اور جھمکڑا     اللہ کی قدرت

میں نے جو کہا ہوں میں ترا عاشق شیدا                 اے کانِ ملاحت

فرمانے لگے ہنّس کے سُنو اور تماشا         یہ شکل یہ صورت

الحاد و تصوف میں جو تھا فرق بہم یاں        اصلا نہ رہا کچھ

پردہ جو تعین کو محبت نے اٹھایا !            کثرت ہوئی وحدت

تاثیر ہے کیا خاک میں اس نجد کی کہہ دے           تو مجھ کو تو بارے

ہر پھر کے جو آ نکلے ہے یاں ناقہ لیلیٰ         اے جذب محبت

کعبہ کا کروں طوف کہ بت خانہ کو جاؤں   کیا حکم ہے مجھ کو

ارشاد مرے حق میں بھی کچھ ہووے گا آیا          اے پیر طریقت

ہوں پرتوِ روح القدس اس عہد میں میں بھی          عیسیٰ کی طرح سے

یوں چاہیے بے ساختہ رہبانِ کلیسا         میری کرے بیعت

آئے جو مرے گھر میں وہ شب راہ کرم سے           میں مونددی کنڈی

منھ پھیر لگے کہنے تعجب سے کہ یہ کیا؟                 ایں تیری یہ طاقت

لوٹا کریں اس طور مزے غیر ہمیشہ        ٹک سوچو تو دل میں

ترسا کرے ہر وقت یہ بندہ ہی تمہارا       اللہ کی قدرت

دیوار چمن پھاند کے پہنچے جو ہم اُن تک                اک تاک کی اوجھل

ترسا ہوں یہ فرمانے لگے کوٹ کے ماتھا               اے وائے فضیحت

خورشید چھپا شام ہوئی شیخ جی صاحب       اب دیکھتے کیا ہو

چڑیوں نے لیا آ کے درختوں پہ بسیرا      چوں چوں کرو حضرت

بے برق کی زنجیر کو ٹک سونڈ میں اپنی     ے ابر کے ہاتھی

سیندورا لگا ماتھے پہ اس رنگ شفق کا        با عظمت و شوکت

چل آٹھوں کے میلے کی ذرا دید کریں ہم  ہے سیر کی جاگہ

سم بیٹھ چڑھا یاروں کے پھر میل رکددا    مت رعد کی سن دھت

شب محفل ہولی میں جو وارد ہوا زاہد       رندوں نے لپٹ کر

داڑھی کو دیا اس کی لگا بذر فطونا اور بجنے لگی گت

تب مغبچے کہنے لگے ٹک پر بلونا چو           رکھ ناک پر اُنگلی

اور آئے جی آئے سے بُرا مانے سو بھڑوا              ہے موسمِ عشرت

کشمیری معلم کو جو اک طفل نے ناگہ      انگور کے دانے

لا کر دیئے اور اُن سے کہا کھایئے میوا     ہے قسم ولایت

لہجہ میں تکشمر کے مقطع ہو یہ بولے          شاگرد سے اپنے

چل سامنے سے میرے اٹھا کر انہیں لے جا           ان میں نہیں لذّت

میسیاتھ انگر ناک ہے بر رو جسے تجھ کو       سو کوڑی کے دس ہیں

بابا یہ بتا کیا ہے چھٹا دانت ہے اس کا        کانا نہ لیے مت

اب اور ردیف اور قوافی میں غزل پڑھ   لیکن اسی ڈھب سے

تا شاعروں کے آگے ہو اس بزم میں انشاء            ظاہر تری شوکت

لینے جو بلائیں لگے ہم آپ کی چٹ پٹ                تو بول اٹھے جھٹ

چل جا اے رے واؤ زیر رو سے پرے ہٹ           ہے یہ بھی بناوٹ

اِن آنکھوں کو میں حلقہ زنجیر کروں گا    ایسا ہی بلا ہوں

چھوڑوں ہوں کوئی اپ کے دروازہ کی چوکھٹ       جب تک نہ کھلے پٹ

مر جائے لہو چھانٹ نہ گونگا ہو وہ کیونکر    جو شخص کہ دیکھے

سُرخی تری آنکھوں کی اور ابرو کی کھچاوٹ            سرمہ کی گھلاوٹ

ہے معدنِ انوار الٰہی دلِ عاشق سوچو تو عزیزو

اس چھوٹی سی جاگہ میں یہ وسعت یہ سماوٹ          اللہ رے جمگھٹ

کیا پھبتی ہے اے نامِ خدا چھڑے آہا      ہونٹوں پہ تمہارے

اک بوسہ کے صدمے سے دھواں دھار نلاہٹ     مسی کی ادواہٹ

میں روپ بدل اور ہی چپکے سے جو پہنچا                 بیٹھے تھے جہاں وہ

سُن کہنے لگے میرے دبے پاؤں کی آہٹ ہے ایک تو نٹ کھٹ

تھی گرم یہ کچھ مجلس مے رات کہ ساقی   سب کہتے تھے زاہد

ہے توبہ شکن آج صراحی کی غٹاغٹ       بھلّہ رے جماوٹ

اے وائے رے بالیدگی اور چنپئی رنگت یہ گات یہ سج دھج

اور جامہ شبنم کی وہ چولی کی پھساوٹ       بازو کی گلاوٹ

مت چھیڑو مجھے دیکھو ابھی کہنے لگو گے     اچھا کیا تم نے

چولی مری ٹکڑے ہوئی دامن بھی گیا پھٹ           لگ جائے گی یہ رٹ

ہے نور بصر مردمک دیدہ میں پنہاں        یوں جیسے کنہیا

سو اشک کے قطروں سے پڑا کھیلے ہے جھرمٹ      اور آنکھیں ہیں پنگھٹ

اے عشق اجی آؤ مہاراجوں کے راجہ     ڈنڈوٹ ہے تم کو

کر بیٹھے ہو تم لاکھوں کروڑوں ہی کے سر چٹ       اک آن میں جھٹ پٹ

پھرتا ہے سماں آنکھوں میں اب تک وہی انشاء       ہے ظالم ارے کیوں

باہم وہ لپٹ سونے میں آ جانی رکاوٹ                 وہ پیار کی کروٹ

وہ سیج بھری پھولوں کی مخمل کے وہ تکیئے   کمخواب کی پوشش

پردے وہ تمامی کے وہ سونے کا چھپرکھٹ            اور اس کی سجاوٹ

*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*

ہے یہ اس مہ جبین کی تصویر

یا کسی حُورِ عین کی تصویر

بن گئی دُودِ آہِ مجنوں میں

ایک محمل نشین کی تصویر

اپنے داغ جگر میں سُوجھی ہے

مجھ کو اس نازنین کی تصویر

دیکھ لے اس کی چین پیشانی

ہے یہ خاقان چین کی تصویر

نظر آتی ہے اشک انشاء میں

جبرئیلِ امین کی تصویر

*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*

مل گئے سینے سے سینے پھر یہ کیسا اضطراب

مر مٹے پر بھی گیا اپنے نہ دل کا اضطراب

کیوں پڑی چھلکیں نہ آنکھیں آنسوؤں کے بوجھ سے

ہے دلِ صد پارہ کو سیماب کا سا اضطراب

روح کا یہ حال ہے یاں قافلہ سے پڑ کے دُور

کر رہی ہو جس طرح محمل میں لیلیٰ اضطراب

پوچھتے کیا ہو کہ تیرے دل میں کیا ہے مجھے سے پوچھ

اور کیا یاں خاک ہو گی جوش ہے یا اضطراب

دم لگا گھٹنے اجی میں کیا کہوں کل رات کو

تم نہ آئے تو کیا یاں جی کیا کیا اضطراب

کیا غضب تھا پھاند کر دیوار آدھی رات کو

دھم سے میرا کودنا اور وہ تمہارا اضطراب

تھا وہ دھڑکا پر مزے کے ساتھ صدقے اس کے جی

پھر کرے اپنے نصیب اللہ ویسا اضطراب

اسکی چاہت میں جوانی اپنی جو تھی چل بسی

ہے پر اب تک جی کو اک جیسے کا تیسا اضطراب

پیر و مرشد کا یہ مصرع حسب حال انشاء کے ہے

مر مٹے پر بھی گیا اپنے نہ دل کا اضطراب

پگڑی تو نہیں ہے یہ فراسیس کی ٹوپی

یاں وقت سلام اُترے ہے ابلیس کی ٹوپی

ہے شیخ کے سر ایسی ہے تلبیس کی ٹوپی

جس سے کہ پڑی کانپے ہے ابلیس کی ٹوپی

دیتے ہیں کلہ اپنے مریدوں کو جا صوفی

کہتے ہیں یہی تھی سر جرجیس کی ٹوپی

سو چکٹی ہوئی ہے یہ مُتعفِّن کہ جہاں میں

ایسی تو نہ ہو گی کِسی سائیس کی ٹوپی

ہُد ہُد کو کوشی تب ہوئی جس دم نظر آئی

ہاتھوں میں سلیمان کے بلقیس کی ٹوپی

کل سوزنِ عیسیٰ میں پر و خطّ شعاعی

خورشید نے سی حضرتِ ادریس کی ٹوپی

کیوں واسطے جراب کے میری نہ ہو حاضر

غلماں کی اور حورِ فراویس کی ٹوپی

پریوں کے گھروں میں وہی چوری کے مزے لیں

جن پاس ہو جنّوں کی جواسیس کی ٹوپی

ممکن ہو تو دھر دیجیے بنا کر ترے سر پر

زربفت مہ و زہرہ و برجیس کی ٹوپی

انگریز کے اقبال کی ہے ایسی ہی رسّی

آویختہ ہے جس میں فراسیس کی ٹوپی

انشاء مرے آغا کی سلامی کو جھکے ہے

سکانِ سرا پردہ تقدیس کی ٹوپی

*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*

مجھے کیوں نہ آوے ساقی نظر آفتاب اُلٹا

کہ پڑا ہے آج خم میں قدحِ شراب اُلٹا

عجب الٹے ملک کے ہیں اجی آپ بھی کہ تم سے

کبھی بات کی جو سیدھی تو ملا جواب اُلٹا

چلے تھے حرم کو رہ میں ہوے اک صنم کے عاشق

نہ ہوا ثواب حاصل یہ مِلا عذاب اُلٹا

یہ شبِ گذشتہ دیکھا وہ خفا سے کچھ ہیں گویا

کہیں حق کرے کہ ہووے یہ ہمارا خواب اُلٹا

ابھی جھڑ لگا دے بارش کوئی مست بھر کے نعرہ

جو زمیں پہ پھینک مارے قدحِ شراب اُلٹا

یہ عجیب ماجرا ہے کہ بروز عید قرباں

وہی ذبح بھی کرے ہے وہی لے ثواب اُلٹا

ہوئے وعدہ پر جو جھوٹے تو نہیں ملاتے تیور

اے لو دیکھا کچھ تماشا یہ سنو عتاب اُلٹا

کھڑے چُپ ہو دیکھتے کیا مرے دل اُجڑ گئے کو

وہ گنہ تو کہہ دو جس سے یہ دہِ خراب اُلٹا

غزل اور قافیوں میں نہ کہے سو کیونکہ انشاءؔ

کہ ہوا نے خود بخود آ ورقِ کتاب اُلٹا

*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*

مجھے چھیڑنے کو ساقی نے دیا جو جام اُلٹا

تو کیا بہک کے میں نے اسے اک سلام اُلٹا

سحر ایک ماش پھینکا جو مجھے دکھا کے اُن نے

تو اشارہ میں نے تاڑا کہ ہے لفظ شام اُلٹا

یہ بلا دھواں نشہ ہے مجھے اس گھڑی تو ساقی

کہ نظر پڑے ہے سارا در و صحن و بام اُلٹا

بڑھوں اس گلی سے کیونکر کہ وہاں تو میرے دلکو

کوئی کھینچتا ہے ایسا کہ پڑے ہے گام اُلٹا

در میکدہ سے آئی مہک ایسی ہی مزے کی

کہ پچھاڑ کھا گرا واں دل تشنہ کام اُلٹا

نہیں اب جو دیتے بوسہ تو سلام کیوں لیا تھا

مجھے آپ پھیر دیجیے وہ مرا سلام اُلٹا

لگے کہنے اب مولّع تجھے ہم کہا کریں گے

کہیں ان کے گھر سے بڑھ کر جو پھرا غلام اُلٹا

مجھے کیوں نہ مار ڈالے تری زلف الٹ کے کافر

کہ سکھا رکھا ہے تو نے اسے لفظ رام اُلٹا

نرے سیدھے سادے ہم تو بھلے آدمی ہیں یارو

ہمیں کج جو سمجھے سو خود ولد الحرام اُلٹا

تو جو باتوں میں رکے گا تو یہ جانوں گا کہ سمجھا

مرے جان و دل کے مالک نے مرا کلام اُلٹا

فقط اس لفافہ پر ہے کہ خط آشنا کو پہنچے

تو لکھا ہے اس نے انشاء یہ ترا ہی نام اُلٹا

*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*

پر تو سے چاندنی کے ہے صحنِ باغ ٹھنڈا

پھولوں کی سیج پر آ کر دے چراغ ٹھنڈا

شفقت سے ہاتھ تو دھر ٹک میرے دل پہ تا ہو

یہ آگ سا دہکتا سینہ کا داغ ٹھنڈا

مے کی صراحی ایسی لا برق میں لگا کر

جس کے دھوئیں سے ساقی ہووے دماغ ٹھنڈا

تجنیس جس دنی کی ہو جوشِ چشم یارو

ہم نے مدام پایا اس کا اوجاغ ٹھنڈا

ہیں ایک شخص لاتے خس کی شراب انشاء

دھو دھا گلاب سے تو کر رکھ ایاغ ٹھنڈا

 

شیخ غلام ہَمدانی مصحفیؔ

مصحفی تخلص، غلام ہمدانی نام، باپ کا نام ولی محمد۔ امروہہ کے رہنے والے تھے۔ آغاز جوانی تھا جو دلّی میں آ کر رہے۔ طالب علمی کی طبیعت میں موزونیت خداداد تھی۔ اس میں قوت بہم پہونچائی۔ ابتدا سے غربت اور مسکینی اور ادب کی پابندی طبیعت میں تھی۔ ساتھ اس کے خوش خلقی اور خوش مزاجی تھی۔ جس نے بزرگان دہلی کی صحبتوں تک رسائی دی تھی۔ مشاعرہ بھی کیا کرتے تھے۔ انہی سامانوں کا سبب تھا کہ سب شاعر اور معزز اشخاص اس میں شامل ہوتے تھے۔ دلی کا اس وقت یہ عالم تھا کہ خود وہاں کے گھرانے گھر چھوڑ چھوڑ کر نکلے جاتے تھے اس لئے انھیں بھی شہر چھوڑنا پڑا۔ یہاں وطن نہ تھا۔ مگر دلی میں خدا جانے کیا ہے کہ خود کہتے ہیں۔

دلّی کہیں ہیں جس کو زمانہ میں مصحفی

میں رہنے والا ہوں اُسی اجڑے دیار کا

اسی طرح اپنے کلام میں اکثر جگہ دلّی کے رہنے کا فخر کیا کرتے ہیں۔ غرض آصف الدولہ کا زمانہ تھا کہ لکھنؤ پہونچے اور مرزا سلیمان شکوہ کی سرکار میں (جو دلّی والوں کا معمولی ٹھکانا تھا) ملازم ہوئے چنانچہ اکثر غزلوں میں بھی اس کے اشارے ہیں۔ ایک شعر اُن میں سے ہے۔

تخت طاؤس پہ جب ہووے سلیماں کا جلوس

مورچھل ہاتھ میں ہیں بالِ ہما کا لے لوں

غرض وہاں کثرتِ مشق سے اپنی اُستادی کو خاص و عام میں مسلم الثبوت کیا۔ علمیت کا حال معلوم نہیں۔ مگر تذکروں سے اور خود ان کے دیوانوں سے ثابت ہے کہ زبان فارسی اور ضروریات شعری سے باخبر تھے۔ اور نظم و نثر کی کتابوں کو اچھی طرح دیکھ کر معلومات وسیع اور نظر بلند حاصل کی تھی۔

شوق کمال کا یہ حال تھا کہ لکھنؤ میں ایک شخص کے پاس کلیات نظیری تھا۔ اس زمانہ میں کتاب کی قدر بہت تھی۔ مالک اس کا بہ سبب نایابی کے کسی کو عاریتًہ بھی نہ دیتا تھا۔ اُن سے اتنی بات پر راضی ہوا کہ خود آ کر ایک جزو لے جایا کرو وہ دیکھ لو تو واپس کر کے اور لے جایا کرو۔ ان کا گھر شہر کے اس کنارہ پر تھا ور وہ اس کنارہ پر۔ چنانچہ معمول تھا کہ ایک دن درمیان وہاں جاتے اور جزو بدل کر لے آتے۔ ایک دفعہ جب وہاں سے لاتے تو پڑھتے آتے، گھر پر آ کر نقل یا خلاصہ کرتے اور جاتے ہوئے پھر پڑھتے جاتے۔ ہو لوگوں کے حال پر افسوس ہے کہ آج چھاپہ کی بدولت وہ کتابیں دوکانوں پر پڑی ہیں، جو ایک زمانے میں دیکھنے کو نصیب نہ ہوتی تھی۔ مگر بے پروائی ہمیں آنکھ اُٹھا کر نہیں دیکھنے دیتی۔ تعجب ہے ان لوگوں سے جو شکایت کرتے ہیں کہ پہلے بزرگوں کی طرح اَب یہ لوگ صاحبِ کمال نہیں ہوتے، پہلے جو لوگ کتاب دیکھتے تھے تو اس کے مضمون کو اس طرح دل و دماغ میں لیتے تھے جس سے اس کے اثر دلوں میں نقش ہوتے تھے، آج کل کے لوگ پڑھتے بھی ہیں تو اس طرح صفحوں سے عبور کر جاتے ہیں گویا بکریاں ہیں کہ باغ میں گھس گئی ہیں، جہاں منھ پڑ گیا ایک ایک بکٹّا بھی بھر لیا۔ باقی کچھ خبر نہیں۔ ہوس کا چرواہا اِن کی گردن پر سوار ہے اور دبائے لئے جاتا ہے۔ یعنی امتحان پاس کر کے ایک سند لو اور کوئی نوکری لے کر بیٹھ رہو اور افسوس یہ ہے کہ نوکری بھی نصیب نہیں۔

محاورات قدیم میں انھیں میر سوزؔ، سودا اور میرؔ کا ایک آخری ہم زبان سمجھنا چاہیے۔ وہ سید انشاءؔ اور جرأت کی نسبت دیرینہ سال تھے یا تو بڑھاپے نے پرواز کی باز و ضعیف کر دئے تھے یا قدامت کی محّبت نئی شے کے حُسن کو حسین کر کے نہ دکھاتی تھی۔ جیسے آزاد ناقابل کہ ہزار طرح چاہتا ہے۔ مگر اس کا دل نئی شائستگی سے کسی عنوان اثر پذیر نہیں ہوتا۔ شیخ موصوف نے لکھنؤ میں صدہا شاعر شاگرد کئے مگر یہ اب تک کسی تذکرہ سے ثابت نہیں ہوا کہ وہ خود کس کے شاگرد تھے (سراپا سخن میں لکھا ہے کہ امانی کے شاگرد تھے )۔ انھوں نے بڑی عمر پائی (بڑھاپے نے بہرا بھی کر دیا تھا، چنانچہ ساتویں دیوان میں ہے “مصحفی آپ کو دانستہ بنایا ہے اصم۔ رنج نا مجھ نہ پہنچے سخن بدگو سے۔ عمر نے جب عشرہ ہشتم میں رکھا ہے قدم، مصحفی کیا ہو سکے گا مجھ ناتواں درار سے۔ آٹھواں دیوان اس کے بعد لکھا تو ۸۰ کے قریب مرے ہوں گے۔) اور اپنے کلام میں اشارے بھی کئے ہیں۔ بڑھاپے میں پھر شادی کی تھی۔ طبیعت کی رنگینی نے مسّی کی مدد سے دانتوں کو رنگین کیا تھا۔ چنانچہ سید انشاء نے ان کی ہجو میں سب اشارے کئے ہیں۔ غرض جب تک زندہ رہے لکھنؤ میں رہے، اور وہیں ۱۲۴۰ھ میں فوت ہوئے۔ سید انشاء، جرأت، میر حسن وغیرہ شعراء اور ان کے ہمعصروں کے۔

عام تذکرے گواہی دیتے ہیں کہ ان کی تصنیفات میں چھ دیوان اُردو کے تمام و کمال ہیں، جن میں ہزاروں غزلیں اور بہت سے قصیدے اور ابیات اور رباعیاں اور معمولی تضمینیں ہیں، چنانچہ ایک قصیدے کے دعائیہ میں کہتے ہیں۔

مصحفی آج دُعا مانگے ہے تجھ سے یارب

ایکہ ہے ذات تری سب پہ غفور اور رحیم

یہ جو دیوان چھپوں اس کے ہیں مانند سہیل

بزم شاہاں میں لباس ان کا رہے جلد ادیم

دو (۲) تذکرے شعرائے اردو کے، ایک تذکرہ فارسی کا، اور ایک دیوان فارسی لکھا مگر راقم کے پاس جو ان کے دیوان ہیں، ان میں سے ایک پر دیوان ہفتم لکھا ہے۔ اور ایک دیوان اور ہے۔ اس میں سید انشاء کے جھگڑے بھی ہیں۔ یہ آٹھواں ہو گا کہ سب سے اخیر ہے۔

دیوان ان کی استادی کو مسلم الثبوت کرتے ہیں۔ انواع و اقسام کی صدہا غزلیں نہایت سنگلاخ زمینوں میں لکھی ہیں۔ ان سے معلوم ہوتا ہے۔ کہ کثرت مشق سے کلام پر قدرت کامل پائی ہے۔ الفاظ کو پس و پیش اور مضمون کو کم و بیش کر کے اس در و بست کے ساتھ شعر میں کھپایا ہے کہ جو حق اُستادی کا ہے ادا ہو گیا ہے۔ ساتھ اس کے اصلی محاورہ کو بھی ہاتھ سے نہیں جانے دیتے۔ ایسے موقع پر کچھ کچھ سوداؔ کا سایہ پڑتا ہے۔ جہاں سادگی ہے۔ وہاں ایسا معلوم ہوتا ہے کہ میر سوزؔ کے انداز پر چلتے ہیں۔ اسی کوچہ میں اکثر شعر میر صاحب کی بھی جھلک دکھاتے ہیں۔ مگر جو ان کے جوہر ہیں وہ انہی کے ساتھ ہیں۔ یہ اس ڈھنگ میں کہتے ہیں تو پھسینڈے ہو جاتے ہیں۔ بات یہ ہے کہ طبیعت رواں تھی۔ پر گوئی کے سبب سے وہ لطف کلام پیدا نہ ہوا۔ غزلوں میں سب رنگ کے شعر ہوتے تھے۔ کسی طرز خاص کی خصوصیت نہیں۔ بعض تو صفائی اور برجستگی میں لاجواب ہیں۔ بعض میں یہی معمولی باتیں ہیں جنھیں ڈھیلی ڈھالی بندشوں میں باندھ کر پھُسر پھُسر برابر کہتے چلے گئے ہیں۔ اس کا سبب یا تو پُر گوئی ہے جس کی تفصیل آگے آتی ہے، یا دلّی اور امروہہ کا فرق ہے۔

قصیدے خوب ہیں، اور اکثر ان میں نہایت مشکل زمینوں میں ہیں، کچھ حمد و نعت، کچھ مرزا سلیمان شکوہ اور حکام لکھنؤ کی شان میں ہیں۔ ان میں بڑے بڑے الفاظ بلند مضمون، فارسی کی عمدہ ترکیبیں، ان کی درست نشستیں جو جو اس کے لوازم ہیں، سب موجود ہیں۔ البتہ بندشوں کی چُستی اور جوش و خروش کی تاثیر کم ہے، شاید کثرت کلام نے اُسے دھیما کر دیا۔ کیوں کہ دریا کا پانی دو پہاڑوں کے بیچ میں گھٹ کر بہتا ہے تو بڑے زور شور سے بہتا ہے۔ جہاں پھیل کر بہتا ہے وہاں زور کچھ نہیں رہتا، یا شاید ضروری فرمائشیں اتنی مہلت نہ دیتی ہوں گی کہ طبیعت کو روک کر غور سے کام سرانجام کریں۔

فارسی دیوان ہند کے شعرائے رائج الوقت سے کچھ زیادہ نہیں۔تذکرے خوب لکھے ہیں اور چونکہ استادوں کے زمانے سے قریب تھے اور سن رسیدہ لوگوں کی صحبت کے مواقع حاصل تھے۔ اس لئے اچھے اچھے حالات بہم پہنچائے ہیں اور ان میں سے اپنے کل شاگردوں کی بھی فہرست دی ہے۔ اکثر واقعات کی تاریخیں لکھی ہیں اور خوب لکھی ہیں۔

غرض شعر کی ہر شاخ کو لیا ہے اور جو قواعد و ضوابط اس کے اُستادوں نے باندھے ہیں، اُن کا حق حرف بحرف بلکہ لفظ بلفظ پورا ادا کیا ہے۔ ہاں اپنے ہم عصروں کی طرح طبیعت میں چلبلاہٹ اور بات میں شوخی نہیں پائی جاتی، کہ یہ کچھ اپنے اختیار میں نہیں، خداداد بات ہے، سیّد انشاء ہمیشہ قواعد کے رستہ سے ترچھے ہو کر چلتے ہیں۔ مگر وہ ان کا ترچھا پن بھی عجب بانکپن دکھاتا ہے، یہ بھی مطلب کو بہت خوبی اور خوش اسلوبی سے ادا کرتے ہیں۔ مگر کیا کریں کہ وہ امروہہ پن نہیں جاتا، ذرا اکڑ کر چلتے ہیں تو ان کی شوخی بڑھاپے کا ناز بے نمک معلوم ہوتا ہے۔ سید انشاء سیدھی سادی باتیں بھی کہتے ہیں تو اس انداز سے کرتے ہیں کہ کہتا اور سنتا گھڑیوں رقص کرتا ہے اور چٹخارے بھرتا ہے۔ ان کا یہ حال ہے کہ اُصول سے ناپ کر اور قواعد سے تول کر بات کہتے ہیں۔ پھر بھی دیکھو تو کہیں پھیکے ہیں، اور کہیں سیٹھے ہیں۔ سچ کہا ہے کہنے والے نے کہ فصاحت اور بلاغت کے لئے کوئی قاعدہ نہیں، جس کی زبان میں خدا مزہ دے دے۔ ہزار اُصول و قواعد کی کتابیں اس پر قربان ہیں۔

شعر میگویم بہ از آبِ حیات

من ندا نم فاعلاتن فاعلات

ایک سقنی کو دیکھ کر شیخ صاحب کی شوخی کے منھ میں پانی بھر آیا ہے۔ اس غزل کے چند شعر کہ ظریفانہ انداز میں ہیں ملاحظہ فرمائیے۔

پانی بھرے ہے یارو یاں قرمزی دو شالا

لنگی کی سج دکھا کر سقنی نے مار ڈالا

کاندھے پہ مشک لے کر جب قد کو خم کرے ہے

کافر کا نشہ حسن ہو جائے ہے دوبالا

دریائے خون میں کیونکر ہم نیم قد نہ ڈوبیں

لنگی کے رنگ ہی سے جب تا کمر ہو لا لا (*)

(*) عبرۃ اگرچہ غزل مذکور ہزل ہے مگر قابل عبرۃ یہ امر ہے کہ نامی آدمی کے ساتھ لگ کر گمنامی بھی نام پاتی ہے۔ چنانچہ جب تک شیخ مصحفیؔ کا نشان ناموری بلند رہے گا اسی میں کھاردے کی لنگی کا پھریرا بھی لہراتا رہے گا۔)

یہ سب کچھ صحیح ہے مگر جس شخص کا قلم آٹھ دیوان لکھ کر ڈال دے، اس کی استادی میں کلام کرنا انصاف کی جان پر ستم کرنا ہے۔

اِن کی مشاقی اور پُر گوئی کو سب تذکروں میں تسلیم کیا گیا ہے۔ سن رسیدہ لوگوں کی زبانی سنا کہ دو تین تختیاں پاس دھری رہتی تھیں۔ جب مشاعرہ قریب ہوتا تو ان پر اور مختلف کاغذوں پر طرح مشاعرہ میں شعر لکھنے شروع کرتے تھے اور برابر لکھے جاتے تھے۔ لکھنؤ شہر تھا، عین مشاعرہ کے دن لوگ آتے، ۸ سے عِ تک اور جہاں تک کسی کا شوق مدد کرتا وہ دیتا۔ یہ اس میں سے ۹، ۱۱، ۲۱ شعر کی غزل نکال کر حوالہ کر دیتے تھے۔ ان کے نام کا مقطع کر دیتے تھے اور اصل سبب کمزوری کا یہ تھا کہ بڑھاپے میں شادی بھی کی تھی، چنانچہ سب سے پہلے تو ایک سالا تھا وہ شعر چن کر لے لیتا۔ پھر سب کو دے لے کر جو بچتا وہ خود لیتے اور ان میں لون مرچ لگا کر مشاعرہ میں پڑھ دیتے۔ وہی غزلیں دیوانوں میں لکھی چلی آتی ہیں۔ بلکہ ایک مشاعرہ میں جب شعروں پر بالکل تعریف نہ ہوئی تو انھوں نے تنگ ہو کر غزل زمین پر دے مارے اور کہا کہ روئے فلاکت سیاہ جس کی بدولت کلام کی یہ نوبت پہنچی ہے کہ اب کوئی سنتا بھی نہیں۔ اس بات کا چرچا ہوا تو یہ عقدہ کھلا کہ ان کی غزلیں بکتی ہیں۔ اچھے شعر تو لوگ مول لے جاتے ہیں جو رہ جاتے ہیں وہ ان کے حصہ میں آتے ہیں۔

پانی پت کے ایک شخص اس زمانہ میں چکلہ داری کے سبب سے لکھنؤ میں رہتے تھے۔ ان کے ہاں شیخ مصحفی بھی آیا کرتے تھے، ایک دن کاغذ کا جزو ہاتھ میں لئے آئے اور الگ بیٹھ کر کہنے لگے۔ سامنے ایک ورق رکھا تھا۔ اسے دیکھ دیکھ کر اس طرح لکھتے جاتے تھے جیسے کوئی نقل کرتا ہے۔ ایک شخص نے پوچھا کہ حضرت یہ کیا ہے۔ جس کی آپ نقل کر رہے ہیں، لائیے میں لکھ دوں۔ انھوں نے کہا کہ ایک شخص نے کچھ مضمون مثنوی میں لکھوانے کے لئے فرمائش کی تھی، اس کا تقاضا مدت سے تھا، کچھ تو مجھے یاد نہ رہتا تھا، کچھ فرصت نہ ہوتی تھی۔ آج اس نے بہت شکایت کی اور مطلب لکھ کر دے دیا۔ وہ نظم کر رہا ہوں۔ اس سے روانی طبع اور مشقِ سخن کو قیاس کرنا چاہیے۔

ایک مشاعرہ میں میر تقی مرحوم بھی موجود تھے۔ شیخ مصحفی نے غزل پڑھی۔

تنہا وہ ہاتھوں کی حنا لے گئی دل کو

مکھڑے کے چھپانے کی ادا لے گئی دل کو

جب یہ شعر پڑھا۔

یاں لعل فسوں ساز نے باتوں میں لگایا

دے پیچ اُدھر زلف اڑا لے گئی دل کو

تو میر صاحب قبلہ نے بھی فرمایا کہ بھئی ذرا اس شعر کو پھر پڑھنا۔ اِن کا اتنا کہنا ہزار تعریفوں کے برابر تھا۔ شیخ موصوف اس قدر الفاظ کو تمغا اپنے کمال کا سمجھے بلکہ کئی دفعہ اٹھ اٹھ کر سلام کئے اور کہا کہ میں اس شعر پر اپنے دیوان میں ضرور لکھوں گا کہ حضرت نے دوبارہ پڑھوایا تھا۔ وہ اپنی غزلوں میں ملکی خصوصیتوں کے مضمون بھی لیتے ہیں۔ مگر نہ اپنے ہمعصر سید انشاء کی طرح بہتات سے نہ جرأتؔ کی طرح کمی سے۔ چنانچہ کہتے ہیں۔

دیکھا نہ میں نے ہند میں جب خشکہ پیشاوری

لینے برنج اے مصحفیؔ روح اپنی پیشاور گئی

نہ کیونکہ سیر کرے شہر دو کے سینوں میں

جو خال چشم کہ برسوں رہا ہو مینوں میں

کیوں نہ دل نظارگی کا جائے لوٹ

لکھنؤ میں حُسن کی بندھتی ہے پوٹ

تختہ آبِ چمن کیوں نہ نظر آئے سپاٹ

یاد آئے مجھے جس دم وہ نگنبور کا گھاٹ

بعض جگہ اپنے وطن کا محاورہ یاد آ جاتا ہے اور کہہ دیتے ہیں۔

تیغ نے اس کی کلیجا کھا لیا

اس نے آتے ہی مجھے منگوا لیا

چمن میں چل کے کر اے مصحفی تو نالہ و آہ

جو جی چلا ہو ترا امتحان بلبل کو

نہ میں صحرا میں نہ گلشن میں نکل جاؤں گا

خوگر  شہر ہوں یا خاک میں رل جاؤں گا

انھیں عادت تھی اکثر جگہ معاصرین پر چوٹ کر جاتے ہیں۔ چنانچہ کہا ہے۔

کچھ میں جرأت نہیں ہوں مصحفی سحر بیاں

میر و مرزا سے لڑانے یہ غزل جاؤں گا

اور تو ثانی کوئی اس کا نہیں

مصحفی کا ہے قتیل البتہ چوٹ

اکثر غزلوں کے مقطع میں اپنے فخر اور ملکِ سخن کی بادشاہی کا دعویٰ اور مشاعرے کا اپنے دم قدم سے قائم ہونا اور سب شعراء کو اپنا خوشہ چیں کہہ دینا ایک بات تھی۔ اور یہ دعوے ٰ کچھ بے جا بھی نہ تھا۔ مگر سیّد انشاء اور جرأت وہاں پہنچے تو نتیجہ بہت بُرا ظاہر ہوا، چنانچہ ان معرکوں کے بعض حالات مناسب حال لکھتا ہوں۔ اگرچہ ان میں بھی اکثر باتیں خلاف تہذیب ہیں۔ مگر فن زبان کے طلبگاروں کا خیال اس معاملہ میں کچھ اور ہے۔ وہ خوب سمجھتے ہیں کہ نظم اردو میں چند خیالات معمولی ہیں اور بس۔ عام مطالب کے ادا کرنے میں قوت بیانیہ کا اثر نہایت ضعیف ہے۔ ہاں ہجو کا کوچہ ہے کہ اس میں چٹیک جو شاعر کے دل کو لگی ہوتی ہے تو وہ تاثیر کلام سے مل کر سوتے دلوں کی بغل میں فوراً گدگدی کر جاتی ہے۔ بیان میں صفائی اور زبان میں گرمی و طراری پیدا کرنی چاہو تو ایسے کلاموں کا پڑھنا ایک عمدہ اوزار زبان کے تیز کرنے کا ہے۔ مرزا رفیع کی ہجوئیں ان کی کلیات میں موجود ہیں۔ مگر شیخ مصحفی و سیّد انشاء کی ہجوئیں فقط چند بڈھوں کی زبان پر رہ گئی ہیں۔ جن کی نظم حیات عنقریب نثر ہوا چاہتی ہے۔ علاوہ برآں اس صورتِ حال کا حال دکھانا بھی واجب ہے کہ وہ کیا موقع ہوتے تھے جو انھیں ایسی حرکاتِ ناروا پر مجبور کرتے تھے۔ یہ روایتیں بھی مختلف ہیں اور مختلف زبانوں پر پریشان ہیں لیکن افسوس یہ ہے کہ انھوں نے ان ہجوؤں فحش اور گالیوں سے انتہائے درجہ کی کثافتیں بھری ہیں۔ خیر ہمیں چاہیے کہ تھوڑی دیر کے لئے شہد کی مکھی بن جائیں۔ جہاں رسیلا پھول دیکھیں جا بیٹھیں۔ جالے اور میلے میلے پتوں سے بچیں۔ جب رس لے چکیں فوراً اڑ جائیں۔ اب ان کے اور سید انشاء کے معرکوں کا تماشا دیکھو۔ واضح ہو کہ اول تو مرزا سلیمان شکوہ کی غزل کو مصحفی بنایا کرتے تھے۔ جب سیّد انشا پہنچے تو ان کے کلام کے سامنے ان کے شعر کب مزا دیتے تھے۔ غزل سیّد موصوف کے پاس آنے لگی۔ چند روز کے بعد شیخ صاحب کی تنخواہ میں تخفیف ہوئی۔ اس وقت انھوں نے کہا۔

چالیس برس کا ہی ہے چالیس کے لائق

تھا مرد معّمر کہیں دس بیس کے لائق

اے وائے کہ پچیس سے اب پانچ ہیں اپنے

ہم بھی تھے کنہی روزوں میں پچیس کے لائق

استاد کا کرتے ہیں امیر اب کے مقرر

ہوتا ہے جو درماہ کہ سائیس کے لائق

چارہ کے لگانے سے ہوا دو کا اضافہ

پھر وہ نہ جلے جی میں کہ ہو تیس کے لائق

پھر بھی آمد و رفت جاری تھی، اکثر غزلوں میں دونوں با کمال طبع آزمائی کرتے تھے اور کچھ چھیڑ چھاڑ ہوتی رہتی تھی۔ مگر اس طرح کہ کوئی سمجھے کوئی نہ سمجھے۔ ایک دن شیخ مصحفی نے مرزا سلیمان شکوہ کے جلسہ میں یہ غزل پڑھی۔

زہرہ کی جو آئی کفِ ہاروت میں انگلی

کی رشک نے جا دیدہ ماروت میں اُنگلی

بن دودھ انگوٹھے کیطرح چوسے ہے کودک

رکھتی ہے تصرف عجب اک قوت میں اُنگلی

غرفہ کے ترے حال پہ از بہرِ تاسف

ہر موج سے تھی کل دہن حوت میں اُنگلی

مہندی کے یہ چھّلے نہیں پوروں پہ بنائے

ہے اس کی ہر اک حلقہ یاقوت میں اُنگلی

—————————–

ناچی ہے تری عالمِ لاہوت میں اُنگلی

شہتوت ہے یا صانع عالم نے لگا دی

شیریں کی یہ شاخ شجر توت میں اُنگلی

—————————–

حائک کی گرفتار ہوں جوں سوت میں اُنگلی

تھا مصحفیؔ مائل گریہ کہ پس از مرگ

تھی اس کی دھری چشم پہ تابوت میں اُنگلی

اسی طرح میں سیّد انشاء کی غزل کا مطلع تھا۔

دیکھ اس کی پڑی خاتمِ یاقوت میں اُنگلی

ہاروت نے کی دیدہ ماروت میں اُنگلی

اور بعض اور شخصوں کی بھی غزلیں تھیں۔ چنانچہ جب مصحفی چلے گئے تو یاروں میں ان کے بعض اشعار پر بہت چرچے ہوئے اور غزل کو اُلٹ کر بڈھے بیچارے کے کلام کو خراب کیا۔ چند شعر اس کے خیال میں ہیں جو فحش قبیح کے سبب سے خیال میں رکھنے کے قابل بھی نہیں۔ مقطع البتہ صاف ہے، اس لیے لکھتا ہوں۔

تھا مصحفی کانا جو چھپانے کو پس از مرگ

رکھے ہوئے تھا آنکھ پہ تابوت میں انگلی

یہیں سے فساد کی بنیاد قائم ہوئی اور طرفین سے ہجوئیں ہو کر وہ خاکہ اڑا کہ شائستگی نے کبھی آنکھیں بند کر لیں اور کبھی کانوں میں انگلیاں دے لیں۔

غرض اس غزل کی خبر شیخ مصحفیؔ کو پہنچی، وہ پرانا مشاق، لکھنؤ بھر کا استاد کچھ چھوٹا آدمی نہ تھا۔ باوجود بڑھاپے کے بگڑ کھڑا ہوا اور غزل فخریہ کہی۔ اب خواہ اسے بڑھاپے کی سستی کہو، خواہ طبیعت کا امروہا پن کہو، خواہ آئیں متانت کی پابندی سمجھو، غرض اپنی وضع کو ہاتھ سے نہ دیا اور اپنے انداز میں خوب کہا۔ غزل فخریہ :

مُدت سے ہوں میں سر خوش صہبائے شاعری

ناداں ہے جسکو مجھ سے ہے دعوائے شاعری

میں لکھنؤ میں زمزمہ سبحانِ شعر کو

برسوں دکھا چکا ہوں تماشائے شاعری

بھپتا نہیں ہے بزم امیرانِ دہر میں

شاعر کو میرے سامنے غوغائے شاعری

اک طرفہ خر سے کام پڑا ہے مجھے کہ ہائے

سمجھے ہے اپ کو وہ مسیحائے شاعری

ہے شاعروں کی اب کے زمانے کی یہ مواش

پھرتے ہیں بیچتے ہوئے کالائے شاعری

لیتا نہیں جو مول کوئی مفت بھی اسے

خفّت اٹھا کے آتے ہیں گھر وائے شاعری

اے مصحفیؔ زگوشہ خلوت بروں خرام

خالی ست از برائے تو خود جائے شاعری

ہر سفلہ رازبان و بیان تو کہ رسد

آرے توئی فغانی و بابائے شاعری

مجنوں منم چراد گرے رنج مے برد

در حصَّہ من آمدہ لیلائے شاعری

اس کے علاوہ اور غزلیں بھی کہیں کہ جن میں اس قسم کے اشارے کنائے ہیں۔ چونکہ سید انشاء صاحب عالم کے ہاں ہر صحبت میں صدر نشین تھے، انھیں خیال ہوا کہ مصحفی میرا بھی یار ہے۔ مبادا اُسے کچھ خیال ہو، خود پالکی میں سوار ہو کر پہنچے اور کہا کہ جلسہ میں اس طرح گفتگو ہوئی ہے۔ بھئی تمھیں میری طرف سے کچھ ملال نہ ہو۔ شیخ مصحفی نے نہایت بے پروائی سے کہا کہ نہیں بھئی مجھے ایسی باتوں کا خیال بھی نہیں۔ اور اگر تم کہتے تو کیا تھا۔ اخیر کا فقرہ سیّد انشاء کو کھٹکا، آتے ہی یاروں کو اور بھی چمکا دیا۔ ادھر سے انھوں نے کچھ اور کہا۔ ادھر سید انشاء نے بحر طویل میں یہ شعر کہے :-

ہجو در بحرِ طویل

بخداوندی ذاتے کہ رحیم است و کریم است و علیم است و حلیم است و حکیم است و عظیم است و سلیم است و قدیم است و شریف است و لطیف است و خبیر است و بصیر است و نصیر است و کبیر است و رؤف است و غفور است و شکور است و دود است و مراخلق نمود است و بود خالق آفاق، قسم میخورم اکنوں کہ مرا ہیچ زہجو تو سروکار بنود است ولے از طرفت گشت۔ شروع اینہمہ اوقل مزخرف شنوائے مردک ناداں اندروہنت شاشہ عالم غزل، پوچ تو مثنوی ہرزہ کہ مجموعہ دشنامِ غلاظ است و شداد است گذشت از

نظرآں لحظہ بنا چار ترا ہجو نمودم کہ ولم خون شد و جوشیدو بلرزیدویہ پیچید و طپید و جگر آتش شدہ درسینہ سوزانِ من خستہ دل مضطر و حیراں۔ اندر و ہنت شاشہ عالم اگراز نطفہ ابلیس۔ نباشی دل ہمچومن سید نخراشی کہ از اولادِ حسین است و نجیب الطرفین است و شریف است و نظیف است و لطیف است و فصیح است و بلیغ است و بود محسنِ برحق کہ بجز لطف و کرم بخشی و تعریف کمال وصف پیش کسے گاہ بیان ہیچ نکردہ است و ترابود ثنا خواں الخ

انہی دنوں میں مشاعرہ میں غزل کی طرح ہوئی۔ اس میں ان سب صاحبوں نے غزلیں کہیں، مصحفیؔ نے بھی آٹھ شعر کی غزل لکھی۔

سر مشک کا ہے تیرا تو کافور کی گردن

نے موے پری ایسے نہ یہ حور کی گردن

مچھلی نہیں ساعد میں ترے بلکہ نہاں ہے

دو ہاتھ میں ماہی سقنقور کی گردن

یوں مرغ دل اس زلف کے پھندے میں پھنسا ہے

جوں رشتہ صیاد میں عصفور کی گردن

دل کیوں کہ پری حور کا پھر اس پہ نہ پھیلے

صانع نے بنائی تری بلّور کی گردن

اک ہاتھ میں گردن ہو صراحی کی مزا ہے

اور دوسرے میں ساقی مخمور کی گردن

ہر چند میں جھک جھک کے کئے سیکڑوں مجرے

پر خم نہ ہوئی اس بتِ مغرور کی گردن

کیا جانئے کیا حال ہوا صبح کو اُس کا

ڈھلکی ہوئی تھی شب ترے رنجور کی گردن

یوں زُلف کے حلقے میں پھنسا مصحفی اے وائے

جوں طوق میں ہووے کسی مجبُور کی گردن

سید انشاءؔ نے اس غزل پر اعتراض کئے اور ایک قطعہ بھی نظم کیا۔ ان کی غزل اور قطعہ درج ہوتا ہے۔

سیّد انشاء کی غزل جواب میں

توڑ دوں گا خم بادہ انگور کی گردن

رکھ دوں گا وہاں کاٹ کے اک حور کی گردن

خود دار کی بن شکل الفہائے انالحق

نت چاہتے ہیں اک نئی منصور کی گردن

کیوں ساقی خورشید جبیں کیا ہی نشے ہوں

سب یونہی چڑھا جاؤں مے نور کی گردن

اچھلی ہوئی ورزش سے تری ڈنڈ پہ مچھلی

ہے نامِ خدا جیسے شقنقور کی گردن

تھا شخص جو گردن زدنی اس سے یہ بولے

اب دیجیے جو دینی ہے منظور کی گردن

آئینہ کی گر سیر کرے شیخ تو دیکھے

سرخرس کا منھ خوک کا لنگور کی گردن

یوں پنجہ مژگاں میں پڑا ہے یہ مرا دل

جوں چنگلِ شہباز میں عصفور کی گردن

تب عالم مستی کا مزا ہے کہ پڑی ہو

گردن پہ مری اس بت مخمور کی گردن

بیٹھا ہو جہاں پاس سلیماں کے آصف

واں کیوں نہ جھکے قیصر و فغفور کی گردن

بھینچے ہے بغل اپنی میں اس زور سے جو عشق

تو توڑنے پر ہے کسی مجبُور کی گردن

اے مست یہ کیا قہر ہے خشتِ سرخم سے

کیوں تو نے صراحی کی بھلا چور کی گردن

محفل میں تری شمع بنی موم کی مریم

پگھلی پڑی ہے اس کی وہ کافور کی گردن

اے دیو سفید سحری کاش تو توڑے

اک مُکّے سے خور کے شبِ دیجور کی گردن

جب کشتہ الفت کو اٹھایا تو الم سے

بس ہل گئی اُس قاتل مغرور کی گردن

بے ساختہ بولا کہ ارے ہاتھ تو ٹک دو

ڈھلکے نہ مرے عاشق مغفور کی گردن

حاسد تو ہے کیا چیز کرے قصد جو انشاء

تو توڑ دے جھٹ بلعم باعور کی گردن

قطعہ در ہجو مشتمل بر اعتراضات

سُن لیجئے گوشِ دل سے مرے مشفقا یہ عرض

مانند بید غصّہ سے مت تھر تھرائیے

بلّور گو درست ہو، لیکن ضرور کیا

خواہی نخواہی اس کو غزل میں کھپائیے

دستور و نور و طور یہ ہیں قافیے بہت

اس میں جو چاہیے تو قصیدہ سنائیے

یہ تو غضب ہے کہیے غزل آٹھ بیت کی

اور اس میں روپ ایسے انوکھے دکھائیے

کیا لطف ہے کہ گردن کافور باندھ کر

مردے کی باس زندوں کو لا کر سنگھائیے

یوں خاطر شریف میں گزرا کہ بزم میں

کچلا ہوا شریفہ غزل کو بنائیے

ایسے نجس کثیف قوافی سے نظم میں

دندان ریختہ پہ پھپھوندی جمائیے

(مصحفیؔ مسی ملا کرتے تھے اس لئے دانت سیاہ تھے۔ وہ بھی کچھ ہلتے تھے، کچھ گر پڑے تھے اور بڑھاپے نے اور بھی شکل بگاڑ دی تھی۔ اُسے انھوں نے خراب کیا ہے۔)

بخرے میں آپ ہی کے یہ آئی ہے شاعری

بس منھ ہی منھ میں رکھئے اسے مت سرائیے

گردن کا دخل کیا ہے سقنقور میں بھلا

سانڈے کی طرح آپ نہ گردن ہلائیے

مشفق کڑی کمان کو کرڑی نہ بولئے

چّلا کے مفت تیر ملامت نہ کھائیے

اردو کی بولی ہے یہ بھلا کھائیے قسم

اس بات پر اب آپ ہی مصحف اٹھائیے

استاد گرچہ ٹھہرے ہیں صاحب یونہی سہی

لیکن ڈھکی ہی رکھئے بس اس کو چھپائیے

جھٹ لکھئے روپ رام کٹارا کو ایک خط

بھّلو کی مہر سے سند اس کی منگائیے

اپنی کمک کے واسطے جا بھرت پور میں

رنجیت سنگھ جاٹ کو ہمراہ لائیے

یا گرد و پیش کے قصباتی جو لوگ ہیں

اک پلوا باندھئے انھیں جلدی بلائیے

مخلص کا التماس پذیرا ہو سوچ کر

کہنے سے ایسے ریختہ کے باز آئیے

سرکار کی یہاں نہیں گلنے کی دال کچھ

روٹی جو کھانی ہووے تو پنجاب جائیے

ستلج بیاس راوی و جہلم کی سیر کر

چناب والے لوگوں کو یہ کچھ سنائیے

خشکا گدھے کو دیجیے لوزینہ گاؤ کو

واں جا کے بین بھینس کے آگے بجائیے

اس رمز کا یہاں شنوا کون ہے بھلا

اب بھیرویں کا پٹہ کوئی آپ گائیے

مصحفی نے اس کا جواب اس غزل کی طرح میں دیا۔

قطعہ جواب شیخ مصحفی کی طرف سے

اے آنکہ معارض ہو مری تیغ زباں سے

تو نے سپر غدر میں مستور کی گردن

ہے آدم کاکی کہ بنا خاک کا پتلا

گر نور کا سر ہووے تو ہو نور کی گردن

میں لفظ سقنقور مجرد نہیں دیکھا

ایجاد ہے تیرا یہ شقنقور کی گردن

لنگور کو شاعر تو نہ باندھے گا غزل میں

کس واسطے باندھے کوئی لنگور کی گردن

گردن تو صراحی کے لئے وضع ہے نادان

بے جا ہے خم بادہ انگور کی گردن

اس سے بھی میں گزرا غلطی اور یہ سنیئے

باندھے ہے کوئی خوشہ انگور کی گردن

کافور سے مطلب ہے مرا اس کی سفیدی

ٹھنڈی تو میں باندھی نہیں کافور کی گردن

یہ لفظ مشدّد بھی درست آیا ہے تجھ سے

خم ہوتی ہے کوئی مری بلّور کی گردن

اتنی نہ تمیز آئی تجھے ربط بھی کچھ ہے

ہر قافیہ میں تو نے جو منظور کی گردن

یوں سینکڑوں گردن تو گیا باندھ تو کیا ہے

سُوجھی نہ تجھے حیف کہ مزدور کی گردن

جو گردنیں میں باندھی ہیں لا تجھ کو دکھا دوں

تو مجھ دکھا دے شبِ دیجور کی گردن

گردن کے تئیں چاہیے اک شکل کشیدہ

خم کر کے سمجھ ٹک سرِ مغرور کی گردن

مضمون تو میرا ہی ہے گو اور طرح سے

باندھے تو گماں اپنے میں رنجور کی گردن

گر قافیہ پیمائی ہی منظور تھی تجھ کو

تو باندھی نہ کس واسطے مقدور کی گردن

لاکھوں ہی معانی کو کیا قتل پر افسوس

سوجھی نہ تجھے دشنہ و ساطور کی گردن

منصف ہو تو پھر نام لے دعوی کا ہرگز

یہ بوجھ اٹھا سکتی نہیں مور کی گردن

منظور ہی کی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تو باللہ

باندھی نہ گر اب خانہ زنبور کی گردن

ٹوٹے ہوئے نیچے کی طرح میرے قلم سے

جاتی ہے پچک شاعر مغرور کی گردن

انصاف تو کر دل میں کہ اک تیغ میں کیسے

میں کاٹ دی دعوے کی ترے زور کی گردن

کھٹراگ پہ گایا پہ ترے ہاتھ نہ آئی

افسوس کہ اس تان پر طنبور کی گردن

سوجھا نہ تجھے ورنہ بناتا تو اسی دم

ناسور کی پتی کو بھی ناسور کی گردن

انصاف کیا اس کا میں اب شہہ کے حوالے

جھکتی ہے جہاں مار سے لے مور کی گردن

وہ شاہِ سلیماں کہ اگر تیغ عدالت

ٹک کھینچیں تو دو ہوں وہیں فغفور کی گردن

جس سر پہ ٹک اپنا وہ رکھے دستِ نوازش

اُس سر کے لئے تکیہ ہو پھر حور کی گردن

اس در کا جو سجدہ انھیں منظور نہ ہوتا

ملٹی نہ فرشتوں کو کبھی نور کی گردن

اے مصحفیؔ خامش سخن طول نہ کھچ جائے

سیاں کو نہ ہی بہتر سرِ پُر شور کی گردن

ان دونوں قطعوں کے پڑھنے سے معلوم ہو گا کہ دونوں با کمال ادائے مطلب پر کس قدر قدرت رکھتے تھے۔ بے شک عام لطفِ بیان اور خاص طنزوں کے نشتر سیّد انشاء کی ترجیح کے لئے سفارش کریں گے۔مگر بڈھے دیرینہ سال نے جو اسی غزل کی زمین میں مطالب مطلوبہ کو ادا کر دیا یہ قدرت کلام شاید اسے پیچھے نہ رہنے دے۔

شیخ مصحفی کے شاگردوں میں منتظر اور گرم دو بڑے چلتے طپنچے تھے۔ وہ نواب صاحب کی سرکار میں توپ خانہ وغیرہ کی خدمت رکھتے تھے۔ انھوں نے زبان سے تدبیروں سے، معرکوں سے استاد کی استادی کے مورچے باندھے۔ ایک مثنوی لکھ کر گرم طمانچہ نام رکھا۔ میر انشاء اللہ خاں نے جب مشاعرہ میں یہ گردن کی غزل پڑھی اور اس میں یہ شعر پڑھا۔

آئینہ کی گر سیر کرے شیخ تو دیکھے

سرخرش کا منھ خوک کا لنگور کی گردن

مقطع میں بلعم یا عور کا اشارہ بھی اُن کی کہن سالی پر چوٹ کرتا ہے، کیونکہ وہ حضرتِ موسیٰ کے عہد میں ایک عابد تھا جو بڑھاپے اور ریاضت سے اس قدر تحلیل ہو گیا تھا کہ شاگرد پوٹلی میں باندھ کر کبھی بغل میں مارے پھرتے تھے، کبھی کندھے پر ڈال لیتے تھے اور جہاں چاہتے تھے لے جاتے تھے۔ منتظر نے بھی اپنی غزل میں سید موصوف پر چوٹیں کیں۔ ان میں سے ایک مصرع یاد ہے۔

مصرعہ : باندھی دُمِ لنگور میں لنگور کی گردن

کیوں کہ سید انشاء اکثر دوپٹا گلے میں ڈالے رہتے تھے۔ اس طرح کہ ایک سرا آگے اور دوسرا سرا پیچھے پڑا رہتا تھا، چنانچہ سید انشاء نے اسی وقت ایک شعر اور کہا۔

سفرہ پہ ظرافت کے ذرا شیخ کو دیکھو

سر لُون کا منھ پیاز کا امچور کی گردن

بڈھے بے چارے کا سر بھی سفید ہو گیا تھا۔ گوری رنگت بڑھاپے میں خون جم کر سرخ ہو گیا تھا۔ اس کے علاوہ بہت جواب و سوال زبانی بھی طے ہوئے۔ مگر ان کا اب پتہ لگنا ممکن نہیں۔ استاد مرحوم فرماتے تھے کہ منجملہ اور اعتراضوں کے مصحفی کی غزل میں ماہی سقنقور میں جوی بہ تشدید پڑھی جاتی ہے۔ سید انشاء نے اس پر بھی تمسخر کیا اور شیخ مصحفی نے یہ شعر سند میں دیا کہ۔

مائیم و فقیری و سئیہ روئی کونین

رخسار سفید امرارانہ شناسیم

سید انشاءؔ پر جو اعتراض ہے کہ فقط سقنقور کیوں کہا؟ شیخ مصحفیؔ کا کہنا بیجا ہے، کیوں کہ سقنقور ایک جانور کا نام ہے اور یہ لفظ اصل میں یونانی ہے۔ مچھلی کو اس سے کچھ خصوصیت نہیں۔

سید انشاء کی طبیعت کی شوخی اور زبان کی بے باکی محتاج بیان نہیں چنانچہ بہت سی زٹل اور فحش ہجوئیں کہیں کہ جن کا ایک مصرع ہزار قمچی اور چابک کا طراقا  تھا۔ بڈھا بے چارا بھی اپنی شیخی کی جریب اور عصائے غرور کے سہارے سے کھڑا ہو کر جتنا کمر میں بوتا تھا مقابلہ کرتا۔ جب نوبت حد سے گزر گئی تو اس کے شاگردوں سے بھی لکھنؤ بھرا پڑا تھا۔ منتظر اور گرم سب کو لے کر اٹھ کھڑے ہوئے اور جو کچھ ہو سکا، شاگردوں کو حق ادا کیا۔ ایک دن سب اکٹھے ہوئے، شہدوں کا سوانگ بھرا اور ایک ہجو کہہ کر اس کے اشعار پڑھتے ہوئے سیّد انشاؔ کی طرف روانہ ہوئے اور مستعد تھے کہ زد و کشت سے بھی دریغ نہ ہو، سیّد انشاء کو ایک دن پہلے خبر لگ گئی۔ اب ان کی طبع رنگین کی شوخی دیکھئے کہ مکان کو فرش فروش جھاڑ فانوس سے سجایا، اور امرائے شہر اور یاروں کو بلایا۔ بہت سی شیرینی منگا کر خوان لگائے، کشتیوں میں گلوریاں چنگیزوں میں پھولوں کے ہار سب تیار کئے۔ جب سنا کہ حریف کا مجمع قریب آ پہونچا۔ اس وقت یہاں سے سب کو لے کر استقبال کو چلے، ساتھ خود تعریفیں کرتے۔ سبحان اللہ واہ وا سے داد دیتے اپنے مکان پر لائے، سب کو بٹھایا اور خود دوبارہ پڑھوایا، آپ بھی بہت اُچھلے کودے، شیرینیاں کھلائیں، شربت پلائے، پان کھلائے، ہار پہنائے، ہنس بول کر عزّت و احترام سے رخصت کیا۔

لیکن سیّد انشاء نے جو اس کا جواب حاضر کیا وہ قیامت تھا، یعنی ایک انبوہ کثیر برات کے سامان سے ترتیب دیا۔ اور عجیب و غریب ہجوئیں تیار کر کے لوگوں کو دیں۔ کچھ ڈنڈوں پر پڑھتے جاتے تھے، کچھ ہاتھیوں پر بیٹھے تھے، ایک ہاتھ میں گڈا، ایک میں گڑیا، دونوں کو لڑاتے تھے، زبانی ہجو پڑھتے جاتے تھے جس کا ایک شعر یہ ہے۔

سوانگ نیا لایا ہے دیکھنا چرخ کہن

لڑتے ہوئے آئے ہیں مصحفی و مصحفن

ان معرکوں میں مرزا سلیمان شکوہ بلکہ اکثر امراء نے سید انشا کا ساتھ دیا۔ حریف کے سوانگ کو کوتوال سے کہہ کر ایک دفعہ رکوا دیا۔ اس بات نے شیخ مصحفی کو بہت شکستہ خاطر کر دیا۔ چنانچہ اکثر غزلوں میں رنگ جھلکتا ہے۔ ان میں سے ایک غزل کا مقطع و مطلع لکھتا ہوں۔

جاتا ہوں ترے در سے کہ توقیر نہیں یاں

کچھ اس کے سوا اب مری تدبیر نہیں یاں

اے مصحفی بے لطف ہے اس شہر میں رہنا

سچ ہے کہ کچھ انسان کی توقیر نہیں یاں

ان جھگڑوں میں بعض شعروں پر مرزا سلیمان شکوہ کو شبہ ہوا کہ ہم پر بھی شیخ مصھفی نے چوٹ کی۔ اس کے عذر میں انھوں نے کہا۔

قصِیدہ در معذرت اتہام انشاءؔ بجناب مرشد زادہ شہزادہ مرزا سلیمان شکوہ بہادر

قسم بذات خدائے کہ ہے سمیع و بصیر

کہ مجھ سے حضرتِ شہ میں ہوئی نہیں تقصیر

سوائے اس کے کہ حال اپنا کچھ کیا تھا میں عرض

سو وہ بطور شکایت تھی اند کے تقریر

گر اس سے خاطر اقدس پہ کچھ ملال آیا

اور اس گنہ سے ہوا بندہ واجب التعزیر

عوض روپوں کے ملیں مجھ کو گالیاں لاکھوں

عوض دو شالہ کے خلعت بشکل نقش حریر

سلف میں تھا کوئی شاعر نواز ایسا کب؟

جو ہے تو شاہ سلیمان شکوہ  عرش سریر

مزاج میں یہ صفائی کہ کر لیا باور

کسی کے حق میں کسی نے جو کچھ کہ کی تقریر

مصاحب ایسے اگر کچھ کسی سے لغزش ہو

تو اس کے رفع کی ہرگز نہ کر سکیں تدبیر

وگر کریں تو پھر ایسی کہ نارِ طیش و غضب

مزاج شاہ میں ہو مشتعل بصد تشویر

سو تابِ ذرہ کہاں ! نورِ آفتاب کہاں

کہاں وہ سطوت شاہی کہاں غرور فقیر

مقابلہ جو برابر کا ہو تو کچھ کہیے

کہاں و بہقی و دیبا کہاں پلاس و حصیر

میں ایک فقیر غریب الوطن مسافر نام

رہے ہے آٹھ پرہ جس کو قوت کی تدبیر

مرا دہن ہے کہ مدح حضور اقدس کو

اُلٹ کے پھیر بحرفِ ذمیمہ دوں تفسیر

یہ افترا ہے بنایا ہوا سب انشاءؔ کا

کہ بزم و رزم میں ہے پائے تخت کا وہ مشیر

مزاج شاہ ہو یوں منحرف تو مجھ کو بھی

یہ چاہیے کہ کروں شکوہ اس کا پیش وزیر

اگر وزیر بھی بولے نہ کچھ خدا لگتی

تو جاؤں پیش محمد کہ ہے بشیر و نذیر

شفیعِ روزِ جزا پادشاہ اَداد نے

نہ کردہ جرم پہ جس نے نہیں لکھی تقدیر

کہوں یہ اس سے کہ اے جرم بخش پُر گنہاں

تری غلامی میں آیا ہے داد خواہ فقیر

خطا ہو میری جو پہلے تو کر اسیر مجھے

وگر عدو کی پنہا اس کو طوق اور زنجیر

اگرچہ بازی انشائے بے حمیت کو

رہا خموش سمجھ کر میں بازی تقدیر

ولے غضب ہے بڑا یہ کہ اب وہ چاہے ہے

خیال میں بھی نہ کھینچوں میں ہجو کی تصویر

سو میں ملک نہیں ایسا بشر ہوں تا کے چند

کہے سے اس کے کروں گا نہ ماجرا تحریر

کیا میں فرض کہ میں آپ اس سے درگزرا

پھرے گا مجھ کوئی گرم و منتظر کا ضمیر

اور ان پہ بھی جو کیا میں نے تازیانہ منع

تو ہو سکے ہے کوئی ان کی وضع کی تدبیر

ہزار شہدوں میں بیٹھیں ہزار جا پہ ملیں

پھریں ہمیشہ نئے جمع ساتھ اپنے کثیر

نہ مانیں تیغ سیاست، نہ قہر سلطانی

نہ سمجھیں قتل کا وعدہ نہ ضربت شمشیر

مزاج ان کا ٹھٹول اس قدر پڑا ہے کہ وہ

ہنسی سمجھتے ہیں اس بات کو نہ جرم کبیر

پھر اس پہ یہ بھی ہے یعنی کہ اس مقام کے بیچ

جو ہووے منشی تو کچھ نثر میں کرے تسطیر

فکیف جن کو خدا نے کیا ہو موزوں طبع

اور اپنے فضل سے بخشی ہو شعر میں توقیر

یہ کوئی بات ہے سو سن کے وہ خموش رہیں

ہوا ہے مصلحتًہ گو کہ تصفیہ یہ اخیر

مگر یہ بات میں مانی کہ سوانگ کا بانی

اگر میں ہوں تو مجھے دیجیے بدترین تعزیر

میں آپ فاقہ کش اتنا مجھے کہاں مقدور

کہ فکر اور کروں کچھ بغیر آشِ شعیر

مرے حواس پریشاں بایں پریشانی

ہو جیسے لشکر بشکستہ کی خراب میسیر

گر اس پہ صلح کی ٹھہری رہے تو صلح سہی

اگر ہو پھیر شرارت بشر ہوں میں بھی شریر

جو اب ایک کے یاں دس ہیں اور دس کے سو ۱۰۰

نگاہ کرتے تھے اوّل بایں قلیل و کثیر

حصول یہ ہے کہ جب کوتوال تک قضیا

گیا ہو از پے تہدید شاعران شریر

تو کوتوال ہی بس ان سے اب سمجھ لے گا

یہ دم بدم کی شکایت کی ہے عبث تحریر

یہ وہ مثل ہے کہ جس طرح سارے شہر کے بیچ

بلند قامتی اپنی سے مہتم ہو بعیر

سو مُتہم مجھے ناداں نے ہجو شہ سے کیا

قباحت اس کی جو شہ سمجھے اس کو دے تعزیر

ولے مزاج مقدس جو لا اُبالی ہے

نہیں خیال میں آتا خیال حرف حقیر

جو کچھ ہوا سو ہوا مصحفیؔ بس اب چپ رہ

زیادہ کر نہ صداقت کا ماجرا تحریر

خدا پہ چھوڑ دے اس بات کو وہ مالک ہے

کرے جو چاہے، جو چاہا کیا بہ حکم قدیر

سیّد انشاء پھرتے چلتے دلّی میں آئے تھے اور کچھ عرصہ رہے تھے اور جو لوگ ان معرکوں میں ان کے فریق تھے ان میں سے اکثروں نے دلّی کی شکل بھی نہیں دیکھی تھی۔ چنانچہ ایک موقع پر شیخ مصحفی نے یہ قطعہ کہا جس کے چند شعر ساتویں دیوان میں ہیں۔

بعضوں کا گماں یہ ہے کہ ہم اہل زباں ہیں

دلّی نہیں دیکھی ہے زباں داں یہ کہاں ہیں

پھر تس پہ ستم اور یہ دیکھو کہ عروضی

کہتے ہیں سدا آپ کو اور لاف زناں ہیں

سیفی کے رسالہ پہ بنا ان کی ہے ساری

سو اس کے بھی گھر بیٹھے وہ آپ ہی نگراں ہیں

اک ڈیڑھ ورق پڑھ کے وہ جامی کا رسالہ

کرتے ہیں گھمنڈ اپنا کہ ہم قافیہ داں ہیں

نہ (۹) حرف جو وہ قافیہ کے لکھتے ہیں اس میں

دانا جو انھیں سُنتے ہیں یہ کہتے ہیں ہاں ہیں

تعقید سے واقف نہ تنافر سے ہیں آگاہ

نہ (۹) حرف یہی قافیہ کے در و زباں ہیں

کرتے ہیں کبھی ذکر وہ ایطائے خفی کا

ایطائے جلی سے کبھی پھر حرف زناں ہیں

اوّل تو ہے کیا شعر میں ان باتوں سے حاصل

بالفرض جو کچھ ہو بھی تو یہ سب پہ عیاں ہیں

حاصل ہے زمانہ میں جنھیں نظم طبیعی

نظم ان کی کے اشعار بہ از آبِ روا ں ہیں

پرواہ انھیں کب ہے ردیف اور روی کی

کب قافیہ کی قید میں آتش نفساں ہیں

مجھ کو تو عروض آتی ہے نہ قافیہ چنداں

اک شعر سے گرویدہ مرے پیرو جواں ہیں

اس قطعہ کے مطلع پر خیال کرو کہ دلّی اس وقت کیا شے تھی۔ چند روز وہاں رہ جانا گویا زبان دانی کا سرٹیفکٹ ہوتا تھا۔ خیر اب شیخ صاحب کے اقسام سخن سے لطف حاصل کرنا چاہیے۔ باوجودیکہ شیخ مصحفیؔ بہت سن رسیدہ تھے۔ مگر سید انشاء کے مرنے کا انھیں افسوس کرنا پڑا۔ چنانچہ ایک غزل کے مقطع میں کہا ہے۔

مصحفی کس زندگانی پر بھلا میں شاد ہوں

یاد ہے مرگِ قتیلؔ و مردن انشاؔ مجھے

کیا کیا فساد کیا کیا شور و شر ہوئے

کیسے کیسے خاکے ڈرے انجام یہ کہ خاک

شیخ مصحفی کا قصیدہ نعت میں

حنا سے ہے یہ تری سُرخ اے نگار انگشت

کہ ہو نہ پنجہ مرجاں کہ نینہار انگشت

ضعیف اتنا ہوا ہوں کہ میرے ہاتھوں میں

نہیں یہ پنجہ طاقت سے بھلہ دار انگشت

ہلال و بدر ہوں یک جا عرق فشانی کو

رکھے جبیں پہ جو تو کر کے تابدار انگشت

فراق ہو کراں سے میں یہ ہوا باریک

کہ ہو گئیں مری سوزن صفت ہزار انگشت

زبسکہ زشت ہے دنیا میں ہاتھ پھیلانا

رکھے ہے سمٹی ہوئی اپنی پشت خار انگشت

وہ جب لگائے ہے فندق تو دیکھ دیکھ مجھے

رکھے ہے منھ میں تاسف کی روزگار انگشت

شمار داغ سے کب اتنی مجھ کو فرصت ہے

کہ رکھ سکوں بسر و چشم اشکبار انگشت

چند شعر کے بعد گریز کرتے ہیں۔

بیاں ضرور ہے اب دست و تیغ کا اس کی

نکل گئی سپرِ مہ سے جس کی پار انگشت

محمد صلی اللہ علیہ و سلم عربی معجزوں کا جس کے کبھی

نہ کر سکے فلکِ پیر کا شمار انگشت

چمن میں اس کی رسالت کا جب کچھ آئے ہے ذکر

علم کرے ہے شہادت کی شاخسار انگشت

وظیفہ جس کا پڑھے ہے یہ دانہ شبنم

دعا میں جس کی کھولے ہوئے چنار انگشت

اگر ہو مہرہ گہوارہ سنگ فرش اس کا

نہ چوسے اپنی کبھی طفل شیر خوار انگشت

اٹھا دے گر کفِ افسوس ملنے کی وہ رسم

نہ ہووے پھر کبھی انگشت سے دو چار انگشت

کرے جو وصف وہ اس تاج انبیا کے رقم

قلم کی جوں نے نرگس ہو تاجدار انگشت

غزلیات

دن جوانی کے گئے موسمِ پیری آیا

آبرو خواب ہے اب وقت حقیری آیا

تابہ و طاقت رہے کیا خاک کے اعضا کے تئیں

حاکمِ ضعف سے فرمان تغیری آیا

سبق نالہ تو بلبل نے پڑھا مجھ سے ولے

نہ اُسے قاعدہ تازہ صفیری آیا

شاعری پر کبھی اپنی جو گئی اپنی نظر

نہ ضمیر اپنے میں اس وقت ضمیری آیا

درد پڑھنے جو اٹھا صبح کو سب سے پہلے

مکتبِ عشق میں ہونے کو وہ میری آیا

اسکے در پر میں گیا سوانگ بنائے تو کہا

چل بے چل دور ہو کیا لے کے فقیری آیا

پوچھ مت معرکہ عشق کا ہنگامہ کہ واں

قیس مارا گیا وامق باسیری آیا

اے سلیماں ہو مبارک تجھے یہ شاہی تخت

تیرا آصف بھی بسامان وزیری آیا

چشم کم سے نہ نظر مصحفی خستہ پہ کر

وہ اگر آیا تو مجلس میں نظیری آیا

غزل مذکورہ ذیل سید انشاء کی غزل پر ہے۔

پیری سے ہو گیا یوں اس دل کا داغ ٹھنڈا

جس طرح صبح ہوتے کر دیں چراغ ٹھنڈا

سیر گرم سیر گلشن کیا خاک ہوں کہ اپنا

نزلہ سے ہو رہا ہے آپ ہی دماغ ٹھنڈا

بلبل کے گرم نالے جب سے سنے ہیں اس نے

دیوار گلستاں پر بولے ہے زاغ ٹھنڈا

کیا کیا خوشامدی نِت پنکھا لگے ہلانے

کشتی سے جب ہوا وہ کر کے فراغ ٹھنڈا

صرصر سے کم نہیں کچھ وہ تیغ تیز جس نے

لاکھوں کا کر دیا ہے دم میں چراغ ٹھنڈا

کشمیری ٹولے میں ہم جاتے تھے روز لیکن

جی آج ٹک ہوا ہے کر کے سراغ ٹھنڈا

گرمی کی رُت ہے ساقی اور اشک بلبلوں نے

چھڑکاؤ سے کیا ہے سب صحن باغ ٹھنڈا

ایسے میں اک صراحی شورے لگی منگا کر

لبریز کر کے مجھ کو بھر دے ایاغ ٹھنڈا

کیا ہم ٹکڑ گدا ہیں جو مصحفیؔ یہ سوچیں

ہے گرم اس کا چولھا اس کا اجاغ ٹھنڈا

جرأت اور سیّد انشاء کے مستزاد بھی دیکھو کہ مشاعرہ کے معرکے میں پڑھے گئے تھے۔

غزل مستزاد

خوشبوئی سے جن کی ہو خجل عنبر سارا      ہم مشک کی نگہت

بال اُلجھے ہوئے ہیں وکہ ریشم کا ہے لچّھا   اللہ ری نزاکت

پاؤں میں کفک اور لگے ہاتھوں میں مہندی           از خونِ مُحبّان

چہرہ وہ پری کہئے جسے نُور کا بقعہ رنگ آگ کی صورت

تلوار لئے ابروئے کج قتل پہ مائل         لب خون کے پیاسے

پھولوں کی چھڑی ہاتھ میں اور کان میں بالا           چتون میں شرارت

مسّی کی دھڑی اک تو جمی ہونٹوں پہ کافر              اور ترشی سے پونچھے

پھر تس پہ ستم ان کا وہ پاؤں کا مکھوڑا       جوں خون کی ہو رنگت

پاؤں میں انی دار پڑی کفش زری کی       دل جس سے ہو زخمی

اور سر پر شرارت سے بندھا بالوں کا جوڑا سچ دھج سو اک آفت

خونخوار نگہ عربدہ جو آپ سو کیفی          سرشار نشہ میں

اک ہاتھ میں ساغر تو پھر اک ہاتھ میں مینا مستوں کی سی حالت

آیا مرے گھروی مرے دروازہ پہ دستک میں گھر سے نکل کر

دیکھوں تو سرِ کوچہ اک آشوب ہے پیدا              آئی ہے قیامت

تب میں نے کہا اس سے کہ اے مایہ خوبی کیا جی میں یہ آیا

اس وقت جو آیا تو مرے پاس اکیلا         سمجھا نہ قباحت

تو سُن کے لگا کہنے کہ اے مصحفیؔ سُن بات  گھر سے مرے مجھ کو

لایا ہے ترا جاذبہ ہی کھینچ کے اِس جا         تھی کس کو یہ قدرت

*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*

سر شام اس نے منھ سے جو رُخِ نقاب اُلٹا

نہ غروب ہونے پایا وہیں آفتاب اُلٹا

جو کسی نے دیکھنے کو اسے لا کے دی مصّور

نہ حیا کے مارے اُس نے ورقِ کتاب اُلٹا

میں حساب بوسہ جی میں کہیں اپنے کر رہا تھا

وہ لگا مجھے سے کرنے طلب اور حساب اُلٹا

مہ چار دہ کا عالم میں دکھاؤں گا فلک کو

اگر اس نے پردہ منھ سے شبِ ماہتاب اُلٹا

جو خفا ہوا میں جی میں کسی بات پر شبِ وصل

سحر اٹھ کے میرے آگے وہی اُس نے خواب اُلٹا

بسوال بوسہ اُس نے مجھے روک کے دی جو گالی

میں ادب کے مارے اس کو نہ دیا جواب اُلٹا

کہیں چشم مہر اس پر تو نہ پڑ گئی ہو یارب

جو نکلتے صبح گھر سے وہ پھرا شتاب اُلٹا

میں ہوا ہوں جس پر عاشق یہ شنگرف ماجرا ہے

کہ مرے عوض لگا ہے اُسے اضطراب اُلٹا

کسی مست کی لگی ہے مگر اس کے سر کو ٹھوکر

جو پڑا ہے میکدہ میں یہ خمِ شراب اُلٹا

یہ مقامِ آفریں ہے کہ بزور مصحفیؔ نے

انہی قافیوں کو پھر بھی بصد آب و تاب اُلٹا

*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*

جو پھرا کے اس نے منھ کو بقضا نقاب اُلٹا

اِدھر آسمان اُلٹا اُدھر آفتاب اُلٹا

نہ قفس میں ایسے مجھ کو تو اسیر کیجو صیاد

کہ گھڑی گھڑی وہ ہووے دمِ اضطراب اُلٹا

مرے حال پر مغاں نے یہ کرم کیا کہ سُن سُن

مرے پی کے سر پہ رکھا قدح شراب اُلٹا

ترا تشنہ لب جہاں سے جو گیا لحد پہ اسکی

پس مرگ بھی کسی نے نہ سبوئے آب اُلٹا

مری آہ نے جو کھولی بعبوق آہ کی برق

وہیں برق رعد لے علم سحاب اُلٹا

جو خیال میں کسو کے شبِ ہجر سو گیا ہو

نہ ہو صبح کو الٰہی کبھی اس کا خواب اُلٹا

مرے دم الٹنے کی جو خبر اس کو دی کسی نے

وہیں نیم رہ سے قاصد بصد اضطراب اُلٹا

جو علی کا حکم نافذ نہ فلک پہ تھا تو پھر کیوں

بگہ غروب آیا نکل آفتاب اُلٹا

اب اسی میں توسہِ غزلہ جو کہے تو کام بھی ہے

نہیں مصحفی مزا کیا جو دور و کتاب اُلٹا

*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*

یہ دم اس کے وقت رخصت بصد اضطراب اُلٹا

کہ بسوئے دل مژہ سے وہیں خونِ ناب اُلٹا

سر لوح اس کی صورت کہیں لکھ گیا تھا مانی

اُسے دیکھ کر نہ میں نے ورق کتاب اُلٹا

میں عجب یہ رسم دیکھی مجھے روزِ عید قربان

وہی ذبح بھی کرے ہے وہی لے ثواب اُلٹا

یہ عجب ہے مری قسمت کہ جو دل کسی کو دوں میں

وہ مرے ہی سر سے مارے اسے کر خراب اُلٹا

یہ نقاب پوش قاتل کوئی زور ہے کہ جس نے

کئے خون سینکڑوں اور نہ ذرا نقاب اُلٹا

جو بوقت غسل اپنا وہ پھرا لے واں سے منھ کو

تو پھراتے ہی منھ اس کے لگے بہنے آب اُلٹا

میں لکھا ہے خط تو قاصد پہ یہ ہو گا  مجھ پہ احساں

انھیں پاؤں پھر کے تو آ جو ملے جواب اُلٹا

ترے آگے مہر تاباں ہے زمیں پہ سر بسجدہ

یہ ورق ہے گنجفہ کا نہیں آفتاب اُلٹا

نہیں جائے شکوہ اس سے ہمیں مصحفیؔ ہمیشہ

کہ زمانہ کا رہا ہے یونہی انقلاب اُلٹا

غزل ہائے مرقومہ ذیل پر شاہ نصیر کی بھی غزل دیکھو۔

صاف چولی سے عیاں ہے بدن سُرخ ترا

نہیں چھُپتا تہِ شبنم چمن سُرخ ترا

یہی عالم ہے اگر اس کا تو دکھلا دے گا

بارشِ خوں کا سماں پیرہن سُرخ ترا

وائے ناکامی کہ عاشق کو ترے موت آئی

قابل بوسہ ہوا جب دہن سُرخ ترا

تا کمر خون شہیدوں کے بہے گلیوں میں

جب سے پاجامہ بنا گلبدن سُرخ ترا

خون سے آلودہ ہو آتا ہے تو اے اشک سفید

نام ہم کیوں نہ رکھیں یاسمن سُرخ ترا

آتشِ تیز میں ٹھہرا ہے کہیں یوں بھی سپند

کہہ رہا ہے یہی خالِ ذقن سُرخ ترا

مصحفی خوش ہو کہ مانگے گا ترے قاتل سے

خوں بہا روز قیامت کفن سُرخ ترا

*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*

کیسہ مالی سے ہوا گل بدن سُرخ ترا

طالب آب نہ ہو کیوں چمنِ سُرخ ترا

یہی پوشاک کا ہے رنگ تو اے گل ہو گا

تشنہ خون چمن پیرہن سُرخ ترا

کیوں نہ ہو مردہ ہوس زندہ بنے جب اے شوخ

پان سے بیر بُہیٹّی دہن سُرخ ترا

مجھ سے انکار ستم فائدہ اے گرگ فلک

واں ہے بچہ خوری پر دہن سُرخ ترا

کاش اے کشتہ تو محشر میں اُٹھے ہو کے فقیر

گیروا مٹی میں ہووے کفن سُرخ ترا

لب پاں خوردہ کی اس گل کے جو سرخی دیکھی

رنگ اڑ جائے گا اے ناردن سُرخ ترا

سر پہ تابش میں تو رکھے تو دِل عاشق میں

آگ بھڑکائے نہ کیوں بادزن سُرخ ترا

مصحفیؔ چاہیے کیا اس کو دلیلِ قاطع

سبز ہے خود بہ تخلص سخن سُرخ ترا

*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*

اک تو تھا آتشِ سوزاں بدن سُرخ ترا

شعلہ بر شعلہ ہوا پیرہن سُرخ ترا

پان کھانے کی ادا یہ ہے تو ایک عالم ہے

خوں رُلا دے گا مری جاں دہن سُرخ ترا

گوئے خورشید شفق رنگ کو دیتا ہے فشار

پنجہ رشک سے سیب ذقن سُرخ ترا

شمع گلگوں غمِ پروانہ میں خوں اتنا نہ رو

طشتِ آتش تو بنا ہے لگن سُرخ ترا

سُرخ عیار سے تو کم نہیں اے دُزدِ حنا

کفِ رنگین بتاں ہے دہن سُرخ ترا

یونہی اے کشتہ جو آیا تو صفِ محشر میں

آگ دیوے گا لگا واں کفن سُرخ ترا

تو اگر ناقہ آہو ہے تو عقدہ زلف

ہے وہ رخسارہ رنگیں ختن سُرخ ترا

اُسکے موباف سے بھی شانہ نے شب پوچھا تھا

دام شب رنگ ہے کیوں اے رسن سُرخ ترا

ہر پری چہرہ ہے پوشیدہ لباس گلگوں

میں تو دیوانہ ہوں اے انجمن سُرخ ترا

مصحفیؔ زخم ہے تیشہ کا ترے ہر مُو پر

نام ہم کیوں نہ رکھیں کوہکن سُرخ ترا

*-*-*-*-*

رنگ پان سے جو ہوا گل دہن سُرخ ترا

مر گئی دیکھ کے بلبل دہن سُرخ ترا

پان کھا کر جو مسی زیب کئے تو نے دو لب

بن گیا مزرع سنبل دہن سُرخ ترا

سُرخ تو تھا ہی ولے اور ہوا گلناری

پی کے اے گل قدح مُل دہن سُرخ ترا

تب ہو عاشق کی شب وصل تسلی اے گُل

مصرفِ بوسہ ہو جب گل دہن سُرخ ترا

غنچہ ساں وا نہ ہوا عالمِ مے نوشی میں

سُن کے شیشہ کی بھی قلقل دہن سُرخ ترا

شانہ کرتے جو سرِ جعد تو دانتوں میں رکھے

ہو نہ خونخوارہ کاکل دہن سُرخ ترا

تیغ مریخ پہ چھٹتی ہے ہوائی اب تک

کہیں دیکھا تھا سرِ پل دہن سُرخ ترا

مصحفیؔ تو نے زبس گل کے لئے ہیں بوسے

رشک سے دیکھے ہے بلبل دہنِ سُرخ ترا

*-*-*-*-*-*-*-*

جو گستاخانہ کچھ اس سے میں بولا

تو بس ابرو نے تیغا دو ہیں تولا

چُنے عاشق نہ کیوں اس کے ممولے

کہ چشم شوخ ہے اس کی ممولا

جزاک اللہ بنایا تو نے صیّاد

قفس میں از پئے بلبل ہنڈولا

نہ مارے دست و پا تا اس کا بسمل

الٰہی مار جاوے اس کو جھولا

لب اس گل کے ہیں جام بادہ لعل

مسی نے اُن میں آ کر زہر گھولا

یہ وہ گلشن ہے جس میں غم کے مارے

تبسّم سے کلی نے مجھ نہ کھولا

مری پتلی نے اشک خیرہ سر کو

بنایا ہے ہتھیلی کا پھپھولا

کہیں ملتے ہیں ایسے مصحفیؔ یار

نہ آوے دل کے مرنے کا ممولا

آتش کی غزل کو بھی دیکھنا۔

نگاہِ لطف کے کرتے ہی رنگ انجمن بگڑا

محبت میں تری ہم سے ہر اک اہل وطن بگڑا

کچھ اس کی وضع بگڑی کچھ ہے وہ پیمان شکن بگڑا

یہ سج دھج ہے تو دیکھو کے زمانہ کا چلن بگڑا

خدا کہتا تھا روزِ محشر میں تجھ سے سمجھ لوں گو

ترے تیشہ سے گر شیریں کا نقش اے کوہکن بگڑا

میں سمجھا گریہ سے تاثیر اُس دم سمع مجلس کی

یہ موتی اشک کا جاتے ہوئے جب تا لگن بگڑا

جو چنگ نالہ کو ہن نے اُڑایا ہجر کی شب میں

کہیں گے سب کہ تیرا کھیل اب چرخ کہن بگڑا

جسے سب بانکے اور ٹیڑھے کریں تھے دور سے مُجرا

وہی رستہ میں آخر ہم سے کر کے بانکپن بگڑا

تری مژگاں کی راوت چڑھ گئی جب ان پہ لڑنے کو

پڑی پونہ کے اندر کھلبلی سارا دکن بگڑا

بُری صورت سے رہنا ننگ ہے دنیا میں انساں کو

وہ گڑ جاتا ہے خود جیتا جو کوڑھی کا بدن بگڑا

ہمیشہ شعر کہنا کام تھا والا نژادوں کا

سفیہوں نے دیا ہے دخل جب سے بس یہ فن بگڑا

مکان تنگ میں پائی نہ جا کلکِ تخیل نے

بنا سب خال و خط مانی سے اس کا پر دہن بگڑا

نہیں تقصیر کچھ درزی کی اس میں مصحفیؔ ہر گز

ہماری نادرستی سے بدن کی پیرہن بگڑا

*-*-*-*-*-*-*-*-*

دُعا دینے سے میرے شب وہ ترکِ تیغ زن بگڑا

سپاہی زادوں کا بھی دیکھوں ہوں میں کچھ چلن بگڑا

سخن سیدھی طرح اور وضع سادی بے مسی دنداں

بھلا کتنا لگے ہے مجھ کو اس کا سادہ پن بگڑا

کیا تاراج یوں پیری نے حُسن نوجوانی کو

بوقتِ صبح آرائش کا ہووے جوں چمن بگڑا

سوئی جس کو لگائی زید کی معشوقہ نے اپنی

سبھی سنوری وہی مجنوں کا بس اک پیرہن بگڑا

کمال حسن خالق نے دیا ہے اس پری رو کو

نہ چتون کج ہوئی اس کی نہ گاتے میں دہن بگڑا

یہ تصویر میں عجب نواب نے کوٹھی میں بنوائیں

کسی کی ہے پھری ٹھوڑی کسی کا ہے دہن بگڑا

نہ مارے حق کسی کو کر کے مفلس وائے رسوائی

جہاں کو تہ ہوا کپڑا کفن کا وہ کفن بگڑا

رواج اُس نے نہ پایا بسکہ عہدِ زلف مشکیں میں

دھرا نافہ میں جو برسوں رہا مشک ختن بگڑا

عجائب اور غرائب باتیں اب سننے میں آئی ہیں

خم نیلی ترا شاید کہ اے چرخِ کہن بگڑا

خلل انداز جو لکنت ہوئی اس کی فصاحت میں

زباں پر اس بُتِ الکن کی آیا جو سخن بگڑا

ہمیں تکلیف نظم شعر کی دینے سے کیا حاصل

زمانہ ہم سے ان روزوں ہے یاران وطن بگڑا

بہ ہمت جس سے شکلِ کافر شیریں بنائی تھی

اُسی تیشہ سے پھر آخر کو کار کوہکن بگڑا

رہی اے مصحفیؔ تا صبح اس کی اُس پہ جھنجھلاہٹ

بنانے میں جو مشاطہ سے شب حال ذقن بگڑا

*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*

نہ گیا کوئی عدم کو دلِ شاداں لے کر

یاں سے کیا کیا نہ گئے حسرت و ارماں لے کر

جی ہی جی بیج بہت شاد ہوا کرتی ہیں

تیری عارض کی بلائیں تیری مژگاں لے کر

کیا خطا مجھ سے ہوئی رات کہ اس کافر کا

میں نے خود چھوڑ دیا ہاتھ میں داماں لے کر

باغ وہ دشتِ جنوں تھا کہ کبھی جس میں سے

لالہ و گل گئے ثابت نہ گریباں لے کر

طُرفہ سوجھی یہ جنوں کو ترے دیوانے کی

راہ میں پھینک دیئے خار مغیلاں لے کر

زلف و رخسار کا عالم ہے غضب ہے اس کے

شاد ہو کیوں نہ دل گبرو مسلماں لے کر

پردہ خاک میں سُو سُو رہے جا کر افسوس

پردہ رخسار پہ کیا کیا مہ تاباں لے کر

ابر کی طرح سے کر دیویں گے عالم کو نہال

ہم جدھر جاویں گے یہ دیدہ گریاں لے کر

پھر گئی سوئے اسیرانِ قفس بادِ صبا

خبر آمدِ ایّام بہاراں لے کر

دوستی تھی مجھے ہر اک سے گئے تا در قبر

دوش پر نعش مری گبرو مسلماں لے کر

رنج پہ رنج جو دینے کی ہے خو قاتل کو

ساتھ آیا ہے بہم تیغ و نمکداں لے کر

مصحفیؔ گوشہ عزلت کو سمجھ تخت شہی

کیا کرے گا تو عبث ملک سلیماں لے کر

یار بن باغ سے ہم آتے ہیں دُکھ پائے ہوئے

اشک آنکھوں میں بھرے ہاتھ میں گل کھائے ہوئے

آنکھ سیدھی نہیں کرتا کہ مقابل ہو نگاہ

آرسی ناز سے وہ دیکھے ہے شرمائے ہوئے

کس کے آنے کی خبر ہے جو چمن میں گلچیں

جوں صبا چار طرف پھرتے ہیں گھبرائے ہوئے

ہم تو ترسے ہیں صنم اک نگہِ دُور کو بھی

بخت ان کے ہیں جو ہر دم تیرے ہمسائے ہوئے

حُسن خجلت زدہ کیا ر نگ دکھاتا ہے نئے

آرسی بھی اسے اب دیکھے ہے للچائے ہوئے

اس کے کوچہ سے جو اُٹھ آتے ہیں ہم دیوانے

پھر انھیں پاؤں چلے جاتے ہیں بورائے ہوئے

مصحفیؔ کیونکہ عناں گیر ہو اس کا جوں برق

تو سنِ ناز کو جب جائے وہ چمکائے ہوئے

*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*

خامش ہیں ارسطو و فلاطوں مرے آگے

دعویٰ نہیں کرتا کوئی موزوں مرے آگے

دانش پہ گھمنڈ اپنی جو کرتا ہے بشدّت

واللہ کہ وہ شخص ہے مجنوں مرے آگے

لاتا نہیں خاطر میں سخن بیہودہ گو کا

اعجاز مسیحا بھی ہے افسوں مرے آگے

دشوار ہے رتبہ کو پیمبر کے پہنچنا

ہے موسیٰ عمران بھی ہاروں مرے آگے

باندھے ہوئے ہاتھوں کو بامید اجابت

رہتے ہیں کھڑے سیکڑوں مضموں مرے آگے

جب موج پہ آ جائے ہے دریائے طبیعت

قطرے سے بھی کم ٹھہرے ہے جیجوں مرے آگے

بد بینی پہ آؤں تو سبھی اہل صفا کے

ہو جاویں شبہ سب درِ مکنوں مرے آگے

اُستاد ہوں میں مصحفیؔ حکمت کے بھی فن میں

ہے کودکِ نو درس فلاطوں مرے آگے

*-*-*-*-*

ہے جام طرب ساغرِ پُر خوں مرے آگے

ساقی تو دلانا سے گلگوں مرے آگے

ٹک لب کے ہلا دینے میں حسان عجم کا

ہو جاوے ہے احوال دگرگوں مرے آگے

سمجھوں ہوں اسے مہرہ بازیچہ طفلاں

کس کام کا ہے گنبد گردوں مرے آگے

جب تیزی پہ آتا ہے مرا تو سنِ خامہ

بن جاوے ہیں تب کوہ بھی ہاموں مرے آگے

میں گوز سمجھتا ہوں سدا اس کی صدا کو

گو بول اُٹھے ادھی کی چوں چوں مرے آگے

سب خوشہ ربا ہیں مرے خرمن کے جہاں میں

کیا شعر پڑھے گا کوئی موزوں مرے آگے

قدرت ہے خدا کی کہ ہوئے آج وہ شاعر

طفلی میں جو کل کرتے تھے غاں غوں مرے آگے

موسیٰ کا عصا مصحفیؔ ہے خامہ مرا بھی

گو خصم بنے اسودِ افیوں مرے آگے

خاتمہ

اے فلک نہ یہ جلسہ برہم ہونے کے قابل تھا، نہ آج رات کا سماں صبح ہونے کے قابل تھا۔ پھر ایسے لوگ کہاں ! اور ایسے زمانے کہاں ! سیّد انشاء اور جرأت جیسے زندہ دل شوخ طبع با کمال کہاں سے آئیں گے۔ شیخ مصحفیؔ جیسے مشاق کیوں کر زندہ ہو جائیں گے۔ اور آئیں تو ایسے قدر داں کہاں ! اچھے لوگ تھے کہ اچھا زمانہ پایا، اور اچھی گزار گئے۔ وہ جوش و خروش، وہ شوخیاں وہ چہلیں اب کہاں ؟

گیا حُسن خوبان دل خواہ کا

ہمیشہ رہے نام اللہ کا

میرا دل خدا جانے کس مٹی کا بنا ہے۔ کسی کی جدائی کا نام لیا یہ پگھل گیا، کسی عزیز کا ذکر کیا اس سے خون ٹپک پڑا اور سخت جانی دیکھو کہ نہ پانی ہو کر بہہ جاتا ہے نہ خاک ہو کر رہ جاتا ہے۔ تماشا یہ ہے کہ کتنے کتنے صدمے اٹھا چکا ہے، پھر بھی ہر داغ نیا ہی صدمہ دیتا ہے، مگر انصاف کرو۔ وہ عزیز بھی تو دیکھو، کیسے تھے  اور کون تھے۔ عالم کے عزیز تھے۔ اور دل کے عزیز تھے۔ اپنی باتوں سے عزیز تھے۔ آزاد! بس رونا دھونا موقوف، اب آنسو پونچھ ڈالو، ادب کی آنکھیں کھولو اور سامنے نگاہ کرو۔

*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*

 

 

 

پانچواں دَور

تمہید

دیکھنا! وہ لالٹینیں جگمگانے لگیں۔ اٹھو اٹھو استقبال کر کے لاؤ۔ اس مشاعرہ میں وہ بزرگ آتے ہیں جن کے دیدار ہماری آنکھوں کا سُرمہ ہوئے، اس میں دو قسم کے با کمال نظر آئیں گے، ایک وہ کہ جنھوں نے اپنے بزرگوں کی پیروی کر دین آئین سمجھا۔ یہ اُن کے باغوں میں پھریں گے۔ پرانی شاخیں زرد پتے کاٹیں بھاٹیں گے۔ اور نئے رنگ نئے ڈھنگ کے گلدستے بنا بنا کر گلدانوں سے طاق و ایوان سجائیں گے۔ دوسرے وہ عالی دماغ جو فکر کے دخان سے ایجاد کی ہوائیں اڑائیں گے، اور برج آتشبازی کی طرح اس سے رتبہ عالی پائیں گے۔ انھوں نے اس ہوا سے بڑے بڑے کام لئے۔ مگر یہ غضب کیا کہ گرد و پیش جو وسعت بے انتہا پڑی تھی اس میں سے کسی جانب میں نہ گئے۔ بالاخانوں میں سے بالا بالا اڑ گئے چنانچہ تم دیکھو گے کہ بعض بلند پرواز ایسے اوج پر جائیں گے جہاں آفتاب تارا ہو جائے گا۔ اور بعض ایسے اڑیں گے کہ اڑ ہی جائیں گے۔ وہ اپنے آئین کا نام خیال بندی اور نازک خیالی رکھیں گے۔ مگر حق یہ ہے کہ شاعری ان کی ساحری اور خود اپنے وقت کے سامری ہوں گے۔ ساتھ اس کے صاحبِ اقبال ایسے ہوں گے کہ انھیں پرستش کرنے والے بھی ایسے ہی ہاتھ آئیں گے۔ ان بزرگوں کی نازک خیالی میں کچھ کلام نہیں لیکن اتنا ہے کہ اب تک مضمون کا پھول اپنے حسن خداداد کے جوبن سے فصاحت کے چمن میں لہلہاتا تھا۔ یہ اس کی پنکھڑیاں لیں گے اور اُن پر موقلم سے ایسی نقاشی کریں گے کہ بے عینک کے نہ دکھائی دے گی۔ اس خیال بندی میں یہ صاحب کمال اس قدرتی لطافت کی بھی پروا نہ کریں گے جسے تم حسنِ خداداد سمجھتے ہو، کیوں کہ ان کی صنعت بے اس کے اپنا رنگ نہیں دکھا سکتی۔

پہلے بزرگ گرد و پیش کے باغوں کا پتّا پتّا کام میں لا چکے تھے۔ اب نئے پھول کہاں سے لاتے، آگے جانے کی سڑک نہ تھی اور سڑک نکالنے کے سامان نہ تھے۔ ناچار اِس طرح اُستادی کا نقارہ بجایا۔ اور ہمعصروں میں تاج افتخار پایا۔ یہ آخری دور کی مصیبت کچھ ہماری ہی زبان پر نہیں پڑی۔ فارسی کے متقدمین کو اس کے متاخرین سے مطابق کر لو۔ شعرائے جاہلیت کا متاخرین عرب سے مقابلہ کرو۔ انگریزی اگرچہ میں نہی ں جانتا۔ مگر اتنا جانتا ہوں کہ اس کے متاخرین بھی اس درد سے نالاں ہیں۔ پس معلوم ہوا کہ زبان جب تک عالمِ طفولیت میں رہتی ہے تبھی تک شیر و شربت کے پیالے لنڈھاتی ہے۔ جب پختہ سال ہوتی ہے تو خوشبو عرق اس میں ملاتی ہے۔ تکلف کے عطر ڈھونڈھ کر لاتی ہے پھر سادگی اور شیریں ادائی تو خاک میں مل جاتی ہے۔ ہاں دواؤں کے پیالے ہوتے ہیں۔ جس کا جی چاہے پیا کرے۔

اِس موقع پر یہ کہنا واجب ہے کہ ان سے پہلے جو صاحب کمال لکھنؤ میں تھے وہ دلی کے خانہ برباد تھے۔ وہ یا ان کی اولادیں اس وقت تک دلّی کو اپنا وطن سمجھتے تھے اور اہل لکھنؤ ان کی تقلید کو فخر سمجھتے تھے نہ کہ عیب۔ کیوں کہ وہاں اب تک کوئی صاحب کمال اس درجہ کا پیدا نہ ہوا تھا، اب وہ زمانہ آتا ہے کہ انھیں خود صاحب زبانی کا دعویٰ ہو گا اور زیبا ہو گا۔ اور جب ان کے اور دلی کے محاورہ میں اختلاف ہو گا تو اپنے محاورے کی فصاحت اور دلّی کے اہل انصاف بھی تسلیم کریں گے۔ بلکہ انہی کے بعض بعض نکتوں کو دلّی کے اہل انصاف بھی تسلیم کریں۔ ان بزرگوں نے بہت قدیمی الفاظ چھوڑ دیئے۔ جن کی کچھ تفصیل چوتھے دیباچہ میں لکھی گئی اور اب جو زبان دلّی اور لکھنؤ میں بولی جاتی ہے وہ گویا انہی کی زبان ہے۔ البتہ شیخ ناسخؔ کے دیوان میں ایک جگہ زور کا لفظ بہت کے معنوں میں دیکھا گیا۔ شاید یہ استاد کا کلام ہو۔

عابد و زاہد چلے آتے ہیں پینا ہے شراب

اب تو ناسخؔ زور رندِ لا اُبالی ہو گیا

اساتذہ دہلی کے کلام میں آئے ہے، اور جائے ہے، اکثر ہے مگر اخیر کی غزلوں میں انھوں نے بھی بچاؤ کیا ہے۔

شاہ نصیر مرحوم سن رسیدہ شخص تھے، آغاز شاعری کا کفارہ جرأت اور سید انشا سے مِلا ہوا تھا اور انجام کی سرحد ناسخؔ، آتشؔ اور ذوقؔ میں واقع ہوئی تھی، اس لئے ابتدائی غزلوں میں کہیں کہیں ٹک بول جاتے ہیں اور جس طرح جمع مؤنث کے فعلوں کو الف نون کے ساتھ چوتھے طبقہ میں بے تکلف بولتے تھے۔ اِن کی ابتدائی غزلوں میں کہیں کہیں ہے، چنانچہ میر کی غزل مطلع ہے۔

جفائیں دیکھ لیاں بیوفائیاں دیکھیں

بھلا ہوا کہ تری سب برائیاں دیکھیں

کبھی نہ اُس رُخ روشن پہ جھائیاں دیکھیں

گھٹائیں چاند پہ سو بار آئیاں دیکھیں

اسی طرح موصوف جمع ہو اور صفت لفظ ہندی ہو تو اب موصوف کی مطابقت کے لیے صفت کو جمع بولنا خلاف فصاحت سمجھتے ہیں، مگر خواجہ صاحب فرماتے ہیں :-

عہد طفلی میں بھی تھا میں بسکہ سودائی مزاج

بیڑیاں منّت کی بھی پہنی تو میں نے بھاریاں

تمہید شیخ امام بخش ناسخ کے حال کی

بزرگان قدیم کی عمدہ یادگار مخدومی مولوی محمد عظیم اللہ صاحب ایک صاحب فضل و عاشق کمال غازی پور زمینہ (زمانیہ) کے رئیس ہیں۔ اگرچہ بزرگوں کا حال بہ تفصیل معلوم نہیں مگر اتنا جانتا ہوں کہ قاضی القضاۃ مفتی اسد اللہ صاحب کی ہمشیرہ یعنی شاہ اجمل صاحب کی نواسی سے ان کی شادی ہوئی۔ مولوی صاحب موصوف کے والد کی شیخ امام بخش ناسخؔ سے نہایت دوستی تھی۔ میرے دوستو! اگلے وقتوں کی دوستیاں کچھ اور دوستیاں تھیں۔ آج تمھارے روشنی کے زمانہ میں ان کی کیفیت بیان کرنے کو لفظ نہیں ملتے جن سے ان کے خیالوں کا دلوں میں عکس جماؤں۔ ہائے اُستاد ذوقؔ

اب زبان پر بھی نہیں آتا کہیں الفت کا نام

اگلے مکتبوں میں کچھ رسم کتابت ہو تو ہو

غرض جذب جنسیت اور اتحاد طبیعت ہمیشہ مولوی صاحب کے والد کو غازی پور سے لکھنؤ کھینچ کر لے جاتا تھا۔ مہینوں وہیں رہتے تھے۔ مولوی صاحب کا پانچ برس کا سِن تھا۔ یہ بھی والد کے ساتھ ہوتے تھے۔ اس وقت سے شیخ ناسخؔ کی خدمت میں رہے اور سالہا سال فیض حضوری سے بہرہ یاب ہوئے۔ رغمی تخلص انھیں نے عنایت فرمایا۔ جس سے ۱۲۵۰ھ سال تلمذ نکلتے ہیں۔ عربی، فارسی کی کتب تحصیلی الہ آباد اور لکھنؤ میں حاصل کیں۔ اُردو فارسی کی انشاء پردازی میں کئی مجلد لکھ کر چھوڑے ہیں۔ جانتے ہیں کہ ان کی فصل اب بالکل نئی نکل گئی۔ ہوا مخالف ہے، اس لئے آپ گوشہ عافیت سے نکلتے ہیں۔ نہ انھیں نکالتے ہیں، عہد جوانی میں سرکار سے بھی با اقتدار اور معزز عہدے حاصِل کئے۔ اب بڑھاپے نے پنشن خوار بنا کر خانہ نشین کر دیا ہے، بندہ  آزاد کو اسی آب حیات کی بدولت اُن کی خدمت میں نیاز حاصل ہوا۔ انھوں نے بہت حالات شیخ موصوف کے لکھ کر گرانبار احسان فرمایا جو کہ اب طبع ثانی میں درج ہوتے ہیں۔ آزادؔ ان کا صدق دل سے ممنون احسان ہمیشہ عنایت ناموں سے ممنون فرماتے رہتے ہیں جن کے حرف حرف سے محبت کے آب حیات ٹپکتے ہیں۔ بات یہ ہے کہ ہم لوگ اس زمانہ کے لیے بالکل اجنبی ہیں، نئی روشنی والے کہتے ہیں کہ روشن ای نہیں، روشنی نہیں، جناب رغمیؔ اور بندہ آزادؔ کی آنکھوں سے کوئی دیکھے کہ دُنیا اندھیر ہے۔

سراغ یک نگاہِ  آشنا ازکس نمے یا بم

جہاں چوں نرگستاں بے تو شہر کورمے باشد

اب تک زیارت نہیں ہوئی۔ (رغمی سلمہ اللہ فرماتے ہیں ان کے والد لاہور گئے تھے۔ بنفشہ اور زعفران وغیرہ اشیائے قیمتی کابل و کشمیر کی تجارت کرتے تھے۔ شیخ مرحوم بعالم خورد سالی ہمراہ تھے۔) مگر یہ معلوم ہوتا ہے کہ جیسے کوئی انجان آدمی ایک نئے ملک میں جا پڑے، جہاں وہ نہ کسی کی سمجھے نہ کوئی اس اور وہ ہکّا بکّا ایک ایک کا منھ دیکھے۔ اسی طرح وہ بھی آج کل کے لوگوں کا منھ دیکھ رہے ہیں۔ کجا ناسخّ و آتش کے مشاعرے اور کجا کمیٹیوں کے جلسے شیخ صاحب اور خواجہ صاحب کے حالات جو انھوں نے لکھ کر بھیجے ہیں معلوم ہوتا ہے کہ آنکھوں کے آنسو تھے۔ حرفوں کے رنگ میں بہہ نکلے ہیں، یہ درد کوئی آزادؔ کے دل سے پوچھے کہ جب شیخ ابراہیم ذوقؔ کا نام آتا ہے چھاتی پر سانپ لوٹ جاتا ہے۔

بنال بلبل اگر بامنت سر یاری ست

کہ مدح و عاشقِ زا ریم کار ما زاری ست

شیخ ناسخؔ کا حال لکھتے لکھتے کہتے ہیں “کیا کہوں کہ میرے حال پر کیسی شفقت فرماتے تھے۔ دو دیوان کود لکھ کر مجھے دیئے، ایک مہر عقیق پر کھدوا کر مجھے دی، اب تک موجود ہے۔ رغمی سلمہ اللہ نے جونپور اور غازی پور وغیرہ کے حالات بھی بھیجے ہیں۔ جن کی بدولت دربار اکبری ہمیشہ شکر گزار رہے گا۔ خدا کرے کہ جلد وہ مرقع سج کر اہل نظر کی پیش گاہ میں جلوہ گر ہو۔

شیخ امام بخش ناسخؔ کا حال شیخ صاحب کی شاعری کا وطن لکھنؤ ہے۔ مگر کمال سے لاہور کو فخر کرنا چاہیے، جو ان کے والد کا وطن تھا۔ خاندان کے باب میں فقط اس قدر کہہ سکتے ہیں کہ خدا بخش خیمہ دوز کے بیٹے تھے۔ اور بعض اشخاص کہتے ہیں کہ اس دولت مند لا ولد نے متنبیٰ کیا تھا۔ اصلی والد عالم غربت میں مغرب سے مشرق کو گئے۔ فیض آباد میں ان کی قسمت سے یہ ستارہ چمکا کہ فلکِ نظم کا آفتاب ہوا۔

خدا کی دین کا موسیٰ سے پوچھئے احوال

کہ آگ لینے کو جائیں پیمبری مل جائے

غریب باپ سے صاحب نصیب بیٹھے کے سوا وہاں بھی نصیبہ نے رفاقت نہ کی، مگر اس دولت مند سوداگر نے کہ لا ولد تھا بلند اقبال لڑکے کو فرزندی میں لے کر ایسا تعلیم و تربیت کیا کہ بڑے ہو کر شیخ امام بخش ناسخؔ ہو گئے اور اس مجازی باپ کی بدولت دُنیا کی ضروریات سے بے نیاز رہے، تو مر گیا تو اس کے بھائیوں نے دعوے ٰ کیا، انھوں نے کہا کہ مجھے مال و دولت سے کچھ غرض نہیں، جس طرح ان کو باپ سمجھتا تھا، آپ کو سمجھتا ہوں کہ جس طرح وہ میری ضروریات کی خبرگیری کرتے تھے اس طرح آپ فرمائیے، انھوں نے قبول کیا۔

ناسخؔ فساد خون کے سبب سے ایک موقع پر فقط بیسنی روٹی گھی میں چور کر کھایا کرتے تھے۔ بدنیت چچا نے اس میں زہر دیا۔ لوگوں نے یہ مصالح لگایا کہ ایک جن ان کا دوست ہے۔ ان نے آگاہ کیا (حکایت عنقریب روایت کی جاتی ہے ) بہرحال کسی قرینہ سے انھیں معلوم ہو گیا، اسی وقت چند دوستوں کو بلا کر ان کے سامنے ٹکڑا کتّے کو دیا۔ آخر ثابت ہوا کہ فی الحقیقت اس میں زہر تھا۔ چند روز کے بعد وراثت کا جھگڑا عدالت شاہی تک پہونچا، جس کا فیصلہ شیخ مرحوم کی جیت پر ہوا۔ اس وقت انھوں نے چند رباعیاں کہہ کر دل خالی کیا۔ دو ان میں سے یہ ہیں۔

مشہور ہے گرچہ افترائے اعمام

پر کرتے نہیں غور خواص اور عوام

وارث ہونا دلیل فرزندی ہے

میراث نہ پا سکا کبھی کوئی غلام

کہتے رہے اعمام عداوت سے غلام

میراث پدر پائی مگر میں نے تمام

اس دعویٰ باطل سے ستمگاروں کو

حاصل یہ ہوا کر گئے مجھ کو بدنام

غور کرو تو متنبیٰ ہونا کچھ عیب کی بات نہیں۔ دنیا کی غریبی، امیری، جاڑے اور گرمی کی طرح بدلتی رہتی ہے۔ ایک امیر الامراء کو صرف چند پشت کے اندر دیکھو تو ممکن نہیں کہ ایک وقت اس کے گھر میں افلاس کا گزر نہ ہوا ہو، البتہ وہ بے استقلال قابل ملامت ہے کہ اس عالم میں رحمتِ الہٰی کا انتظار نہ کر سکے اور ایسے کام کر گزرے جو نام پر داغ دے جائیں۔ غرض شیخ صاحب کے اس معاملہ کو حریفوں نے بد رنگ لباسوں میں دکھایا ہے جس کا ذکر عنقریب آتا ہے، وہ فیض آباد میں تھے۔ لکھنؤ کے دارالخلافہ ہو جانے سے وہاں آئے اور وہیں عمر بسر کی۔ ٹکسال ایک محلہ مشہور ہے، اس میں بیٹھ کر شعر کے چاندی سونے پر سکّہ لگاتے تھے۔ اور کھوٹے کھرے مضمون کر پرکھتے تھے۔

فارسی کی کتابیں حافظ وارث علی لکھنؤ سے پڑھی تھیں، اور علمائے فرنگی محل سے بھی تحصیلی کتابیں حاصل کی تھیں۔ اگرچہ عربی استعداد فاضلانہ نہ تھی مگر رواج علمی اور صحبت کی برکت سے فن شاعری کی ضروریات سے پوری واقفیت تھی اور نظم سخن میں ان کی نہایت پابندی کرتے تھے۔

شاعری میں کسی کے شاگرد نہ تھے۔ مگر ابتدا سے شعر کا عشق تھا (مولانا  رغمی) فرماتے ہیں مجھ سے خود شیخ صاحب نے آغاز شاعری کا حال نقل فرمایا کہ میر تقی مرحوم ابھی زندہ تھے۔ جو مجھے ذوق سخن نے بے اختیار کیا۔ ایک دن اغیار کی نظر بچا کر کئی غزلیں خدمت میں لے گیا۔ انھوں نے اصلاح دی (انکی طبیعت اور زبان دونوں ان سے میل کھانے والی تھیں اور بے دماغی اسپر طرہ، افسوس میر صاحب نے جو الفاظ فرمائے ہوں گے سننے کے قابل ہوں گے مگر شیخ صاحب نے وہ کسی کو کب سنائے ہوں گے۔)، میں دل شکستہ ہو کر چلا آیا، اور کہا، میرؔ صاحب بھی آخر آدمی ہیں۔ فرشتہ تو نہیں، اپنے کام کو آپ ہی اصلاح دوں گا۔ چنانچہ کہتا تھا اور کہہ چھوڑتا تھا، چند روز کے بعد پھر دیکھتا، جو سمجھ میں آتا اصلاح کرتا اور رکھ دیتا، کچھ عرصہ کے بعد پھر فرصت میں نظر ثانی کرتا اور بناتا۔ غرض مشق کے سلسلہ برابر جاری تھا۔ لیکن کسی کو سناتا نہ تھا جب تک خوب اطمینان نہ ہوتا، مشاعرہ میں غزل نہ پڑھی، نہ کسی کو سنائی۔ مرزا حاجی صاحب (رقعات مرزا قتیل میں ان کا ذکر اکثر آتا ہے۔ نہایت رسا اور صاحب عقل اور با تدبیر شخص تھے۔ نواب سعادت علی خاں اور صاحب رزیڈنٹ کے درمیان میں واسطہ ہو کر مقدمات سلطنت کو رو براہ کرتے تھے۔ لاکھوں روپے کی املاک بہم پہنچائی تھی۔ اپنے گھر میں بیٹھے ہوئے اہل عالم کو امیرانہ شان دکھاتے تھے۔ علم و فضل اور شعر و سخن کا شوق تھا۔ اس لئے اکثر اہل کمال ان کے مکان پر جمع ہوتے تھے۔ )کے مکان پر مشاعرہ ہوتا تھا، سید انشاءؔ، مرزا قتیل، جرأتؔ، مصحفیؔ وغیرہ سب شعراء جمع ہوتے تھے۔ میں جاتا تھا، سب کو سنتا تھا مگر وہاں کچھ نہ کہتا تھا۔ ان لوگوں میں جو لون مرچ سید انشاء اور جرأت کے کلام میں ہوتا تھا، وہ کسی زبان میں نہ تھا۔ غرض سید انشاءؔ اور مصحفی کے معرکے بھی ہو چکے۔ جرأت اور ظہور اللہ خاں نواؔ کے ہنگامے بھی طے ہو گئے۔

جب زمانہ سارے ورق اُلٹ چکا اور میدان صاف ہو گیا تو میں نے غزل پڑہنی شروع کی۔ اس موقع پر مرزا حاجی صاحب، مرزا قتیل اور حاجی محمد صادق اختر (اختر اپنے زمانہ کے ایک جامع الکمالات شخص تھے اور اکثر شاعرانہ اور عالمانہ تنازعہ ان کے سامنے آ کر فصیل ہوتے تھے۔) نے بڑی قدردانی کی۔ اور ان کے دل بڑھانے سے کلام نے روز بروز رنگ پکڑنا شروع کیا۔ لوگوں کے دلوں میں بھی یہاں تک  شوق پیدا ہوا کہ چو غزلہ کہہ کر پڑھتا تھا۔ پھر بھی مشتاق رہ جاتے تھے منتظرؔ اور گرمؔ (منتظرؔ اور گرمؔ شیخ مصحفیؔ کے نامور شاگرد تھے۔)کے موت نے ٹھنڈا کیا۔ خواجہ حیدر علی آتشؔ، شیخ مصحفی کے ارشد تلامذہ نے محاورہ بندی میں نام نکالا۔ ایک دفعہ کئی مہینے بعد فیض آباد سے آئے۔ مشاعرہ میں جو میری غزلیں سنیں تو سانپ کی طرح پیچ و تاب کھایا اور اسی دن سے بگاڑ شروع ہوا، انھوں نے آتش رشک کی جلن میں اس جانکاہی اور سینہ خراشی سے غزلیں کہیں کہ سینہ سے خون آنے لگا۔

غرض شیخ صاحب کا شوق ہمیشہ مشاعرہ میں لے جا کر دل میں اُمنگ اور طبیعت میں جوش بڑھاتا تھا، اور آسودہ حالی اکثر شعراء، اہل فہم اور اہل کمال کو ان کے گھر کھینچ لاتی تھی۔ ان کی صحبتوں میں طبیعت خود بخود اصلاح پاتی گئی۔ رفتہ رفتہ خود اصلاحیں دینے لگے۔ بعض سنِ رسیدہ اشخاص سے سنا گیا کہ ابتدا میں شیخ مصحفیؔ سے اصلاح لیتے تھے۔ مگر کسی شعر پر ایسی تکرار ہوئی کہ انھوں نے ان کا آنا بند کر دیا۔ یہ بطور خود غزلیں کہتے رہے اور تنہاؔ تخلص ایک شخص تھے اِن سے تنہائی میں مشورت کرتے رہے، جب اطمینان ہوا تو مشاعروں میں غزل پڑھنے لگے۔ لیکن مصحفیؔ والی روایت قابل اعتبار نہیں، کیوں کہ انھوں نے اپنے تذکرہ میں تمام شاگردوں کے نام لکھ دیئے ہیں۔ ان کا نام نہیں ہے (مولانا رغمی فرماتے ہیں ) :-

پہلوان سخن کو ابتدائے عمر سے ورزش کا شوق تھا۔ خود ورزش کرتے تھے بلکہ احباب کے نوجوانوں میں جو حاضر خدمت ہوتے اور ان میں سے کسی ہونہار کو ورزش کا شوق دیکھتے تو خوش ہوتے اور چونپ دلاتے۔ ۱۲۹۷ دنٹر کا معمول تھا کہ یا غفور کے عدد ہیں۔ یہ وظیفہ قضا نہ ہوتا تھا، البتہ موقع اور موسم پر زیادہ ہو جاتے تھے۔ انھیں جیسا ریاضت کا شوق تھا ویسا ہی ڈیل بھی لائے تھے۔ بلند بالا، فراخ سینہ، مُنڈا ہوا سر، کھاردے کا لنگ باندھے بیٹھے رہتے تھے جیسے شیر بیٹھا ہے۔ جاڑے میں تن زیب کا کرتہ، بہت ہوا تو لکھنؤ کی چھیٹ کا دوہرا کرتا پہن لیا۔

دن رات میں ایک دفعہ کھانا کھاتے تھے۔ ظُہر کے وقت دسترخوان پر بیٹھتے تھے، اور کئی وقتوں کی کسر نکال لیتے تھے۔ پان سیر پختہ وزن شاہجہانی کی خوراک تھی، خاص خاص میووں کی فصل ہوتی تو جس دن کسی میوہ کو جی چاہتا اس دن کھانا موقوف، مثلاً جامنوں  کو جی چاہا، لگن اور سینیاں بھر کر بیٹھ گئے، ۴، ۵ سیر وہی کھا ڈالیں۔ آموں کا موسم ہے تو ایک دن کئی ٹوکرے منگا کر سامنے رکھ لیے، ناندوں میں پانی ڈلوایا، ان میں بھرے اور خالی کر کے اُٹھ کھڑے ہوئے، بھّٹے کھانے بیٹھے تو گٹھلیوں کے ڈھیر لگا دیئے اور یہ اکثر کھایا کرتے تھے۔ دودھیا بھٹے چُنے جاتے، چاقو سے دانوں پر خط ڈال کر لون مرچ لگتا، سامنے بھُنتے ہیں، لیمو چھڑکتے ہیں، اور کھاتے جاتے ہیں۔ میوہ خوری ہر فصل میں دو تین دفعہ بس اور اس میں دو (۲) چار دوست بھی شامل ہو جاتے تھے۔

کھانا اکثر تخلیہ میں کھاتے تھے، سب کو وقت معلوم تھا، جب ظہر کا وقت قریب ہوتا تھا تو رخصت ہو جاتے تھے (رغمیؔ سلمہ اللہ فرماتے ہیں ) مجھے چند مرتبہ ان کے ساتھ کھانے کا اتفاق ہوا، اس دن نہاری اور نان تافتان بھی بازار سے منگائی تھی۔ پانچ، چار پیالوں میں قورمہ، کباب، ایک میں کسی پرندہ کا قورمہ تھا، شلغم تھے، چقندر تھے۔ ارہر کی دال، دھوئی ماش کی دال تھی۔ اور وہ دسترخوان کا شیر اکیلا تھا۔ مگر سب کو فنا کر دیا، یہ بھی قاعدہ تھا کہ ایک پیالہ میں سے جتنا کھانا ہے خوب کھا لو اسے خدمتگار اٹھا لے گا دوسرا سامنے کر دے گا۔ یہ نہ ہو سکتا تھا کہ ایک نوالہ کو دو سالنوں میں ڈال کر کھا لو، کہا کرتے تھے کہ مِلا جلا کر کھانے میں چیز کا مزہ جاتا رہتا ہے۔ اخیر میں پلاؤ چلاؤ یا خشک کھاتے تھے۔ پھر دال اور ۵-۶ نوالوں کے بعد ایک نوالہ چٹنی، اچار یا مربے کا، کہا کرتے تھے کہ تم جوانوں سے تو میں بڈھا ہی اچھا کھاتا ہوں۔ دسترخوان اٹھتا تھا، تو دو خوان فقط خالی باسنوں کے بھرے اٹھتے تھے، قوی ہیکل بلونت جوان تھے، ان کی صورت دیکھ کر معلوم ہوتا تھا کہ ۴، ۵ سیر کھانا ان کے لئے کیا کمال ہے۔

زمانہ کی زبان کون پکڑ سکتا ہے، بے ادب، گُستاخ، دم کٹے بھینسے کی پھبتی کہا کرتے تھے۔ اسی رنگ و روغن کی رعایت سے خواجہ صاحب نے چوٹ کی۔

رُو سیہ دشمن کا یوں پاپوش سے کیجئے فگار

جیسے سلہٹ کی سپر پر زخم ہو شمشیر کا

شیخ صاحب نے خود بھی اس کا عذر کیا ہے اور شاگرد بھی روغن قاز مل مل کر اُستاد کے رنگ کو چمکاتے تھے، اور حریف کے رنگ کو مٹاتے تھے۔ فقیر محمد خاں گویاؔ نے کہا تھا :-

ہے یقیں گل ہو جو دیکھے گیسوئے دلبر چراغ

آگے کالے کے بھلا روشن رہے کیونکر چراغ

میں گو کہ حُسن سے ظاہر میں مثل ماہ نہیں

ہزار شکر کہ باطن مرا سیاہ نہیں

فروغِ حسن پہ کب زور زلف چلتا ہے

یہ وہ چراغ ہے کالے کے آگے جلتا ہے

پہلوانِ سخن زور آزمائی کے چرچے اور ورزش کی باتوں سے بہت خوش ہوتے تھے۔ رغمی سلمہ اللہ کے والد بھی اِس میدان کے جوان مرد تھے، رغبتوں کے اتحاد ہمیشہ موافقت صحبت کے لئے سبب ہوتے ہیں۔ اس لیے محبت کے ہنگامے گرم رہتے تھے۔

آغا کلب حسین خاں مرحوم انھیں اکثر بلایا کرتے تھے۔ اور مہینوں مہمان رکھتے تھے۔ ان سے بھی فقط ذوقِ شعر کا تعلق نہ تھا۔ وہ بھی ایک شہ زور شہسوار ورزشی جوان تھے۔ سامان امیرانہ اور مزاج دوستانہ رکھتے تھے، چنانچہ ایک موقع پر کہ آغاؔ صاحب سورام سرحد نوابی پر تحصیل دار ہو کر آئے، شیخ صاحب کو بلا بھیجا کہ چند روز سبزہ و صحرا کی سیر سے طبیعت کو سیرا ب  فرمائیے، ایک دن بعض اقسام کے کھانے خاص شیخ صاحب کی نیت سے پکوائے تھے اس لیے وقت معمول سے کچھ دیر ہو گئی۔ شیخ صاحب نے دیکھا کہ حرم سرا کی ڈیوڑھی سے نوکر اپنے اپنے کھانے لے کر نکلے، بلا کر پوچھا کہ یہ کس کے لیے ہے ؟ عرض کی ہمارا کھانا ہے۔ فرمایا اِدھر لاؤ۔ ان میں سے ۴، ۵ کا کھانا سامنے رکھوا لیا۔ چاٹ پونچھ کر باسن حوالے کئے اور کہا ہمارا کھانا آئے گا تو تم کھا لینا۔ آغا صاحب کو خبر جا پہنچی، اتنے میں آئے، یہاں کام ختم ہو چکا تھا۔

جناب مخدوم و مکرم آغا کلب عابد خاں صاحب (مرزا محمد تقی خاں اور محمد شفیع خاں دو بھائی نادر شاہ کے مصاحب تھے۔ ان میں سے محمد تقی خاں ان کے دادا تھے۔ شاہ مذکور کا قہر و غضب عالم پر روشن ہے۔ محمد شفیع کو زندہ آگ میں جلوا دیا۔ یہ دل برداشتہ ہو کر ہندوستان میں آئے۔ نواب منصور علی خاں صفدر جنگ کے بزرگوں سے اور ان کے بزرگوں سے ایران میں اتحاد تھا چنانچہ اسی سلسلہ سے یہاں ملاقات ہوئی۔ نواب صاحب کمال محبت سے پیش آئے اور بادشاہ دہلی کے دربار سے کچھ خدمت دلوانی چاہی۔ جب انھوں نے منظور نہ کی تو علاقہ اودھ سے دس ہزار روپیہ کی جاگیر کر دی۔ شیخ علی حزیں بنارس میں تھے۔ ان سے اور اُن سے وطن میں بہت دوستی تھی۔ اس لئے بنارس میں جا کر رہے۔ شیخ مرحوم ابھی زندہ تھے کہ انھوں نے انتقال کیا۔ شیخ نے جو سروایہ اپنے لئے بنوایا تھا اس کے پہلو میں دفن کیا اور بہت سے اپنے شعر قبر پر لکھے کہ اب تک قائم ہیں۔ ان کے بیٹے کلب علی خاں مرحوم نے سرکار انگریزی میں بزرگوں کی عزت کو روشن کیا۔ راجہ بنارس خورد سال تھے۔ان کے علاقہ کا کام سپرد ہوا۔ چنانچہ چار علاقے جن کی آمدنی ۴۹ لاکھ روپیہ تھی ان کے مالئے اور فوجداری کے کل اختیارات ان کے ہاتھ میں تھے۔ ان کے بیٹے ڈپٹی کلب حسین خانصاحب ہوئے۔ ان کے بیٹے آغا کلب عابد خاں صاحب ہیں جو فی الحال امرت سر میں درجہ اول کے اکسٹرا اسسٹنٹ ہیں، قابلیت، متانت اور مروّت اور وضعداری میں ایک سندی یادگار بزرگان سلف کی ہیں۔) نے بھی اس حکایت کی تصدیق فرمائی اور کہا کہ ان کے مزاج میں شوریدگی ضرور تھی، اگرچہ ان دنوں خورد سال تھا، مگر ان کا بارہا آنا اور رہنا اور ان صحبتوں کی شعر خوانیاں خصوصاً مقام سورام کی کیفیتیں سب ہو بہو پیش نظر ہیں۔ انھیں بالا خانہ پر اتارا تھا، بعض دفعہ ایسا بھی ہوا کہ بیٹھے ہیں، کھاتے کھاتے سالن کا پیالہ اٹھایا اور کھڑکی میں سے پھینک کر مارا کہ وہ جا پڑا، سبب دیکھا تو کچھ نہ تھا۔

یہ بھی معمول تھا کہ پہر رات رہے سے ورزش شروع کرتے تھے۔ صبح تک اس سے فارغ ہوتے تھے۔ مکان مردانہ تھا، عیال کا جنجال رکھا ہی نہ تھا، اول نہائے اور پھر صحن میں کہ صفائی سے آئینہ رہنا تھا۔ مونڈھے بچھے ہیں۔ اندر ہیں تو فرش اور سامان آرائش سے آراستہ ہے، صبح سے احباب اور شاگرد آنے شروع ہوتے تھے۔ دوپہر کو سب رخصت اور دروازہ بند حضرت دسترخوان پر بیٹھے، یہ بڑا کام تھا۔ چنانچہ اس بھاری بوجھ کو اٹھا کر آرام فرمایا۔ عصر سے پھر آمد شروع ہوئی، مغرب کے وقت سب رخصت، دروازہ بند، خدمتگار کر بھی باہر کیا اور اندر سے قفل جڑ دیا۔ کوٹھے پر ایک کمرہ خلوت کا تھا۔ وہاں گئے کچھ دیر سو رہے اور تھوڑی دیر بعد اٹھ کر فکر سخن میں مصروف ہوئے۔ عالم خواب غفلت میں پڑا تھا اور وہ خواب راحت کے عوض کاغذ پر خون جگر ٹپکاتے تھے (اُستاد مرحوم کا ایک مطلع یاد آ گیا، جس کا مصرعہ آخر اِس پر نگینہ ہو گیا)۔

میر اگر یہ ترے رُخسار کو چمکاتا ہے

تیل اِس آگ پہ تل آنکھ کا ٹپکاتا ہے

شاگرد جو غزلیں اصلاح کو دیتے تھے۔ نوکر انھیں ایک کھاردے کی تھیلی میں بھر کر پہلو میں رکھ دیتا تھا، وہ بنایا کرتے تھے، جب پچھلا پہر ہوا تو کاغذ تہ ہوئے اور پھر وہی ورزش۔

حقّہ کا بہت شوق تھا۔ عمدہ عمدہ حقّے منگاتے تھے۔ تحفوں میں آتے تھے۔ انہیں موزوں نیچوں سے سجاتے تھے۔ کلیاں، گڑگڑیاں، سٹک، پیچوان چوگانی، مدرے وغیرہ وغیرہ ایک کوٹھری بھرے ہوئے تھی۔ یہ نہ تھا کہ جلسہ میں دو حقے ہیں وہ دورہ کرتے ہیں۔ ہر ایک کے موافق طبع الگ اس کے سامنے آتا تھا، ان صحبتوں میں بھی شاگردوں کے لئے اصلاح اور افادہ ہو جاتا تھا۔

آداب محفل کا بہت خیال تھا، آپ تکیہ سے لگے بیٹھے رہتے تھے، شاگرد جن میں اکثر امیر زادے شرفا ہوتے تھے، با ادب بچھونے کے حاشیہ پر بیٹھتے جاتے، دم  مارنے کی مجال نہ تھی۔ شیخ صاحب کچھ سوچتے، کچھ لکھتے جب کاغذ ہاتھ سے رکھتے تو کہتے ہوں ! ایک شخص غزل سنانی شروع کرتا، کسی شعر میں کوئی لفظ قابل تبدیل ہوتا یا پس و پیش کے تغیر سے کام نکلتا تو اصلاح فرماتے، نہیں تو کہہ دیتے یہ کچھ نہیں نکال ڈالو، یا اس کا پہلا یا دوسرا مصرعہ اچھا نہیں، اسے بدلو، یہ قافیہ خوب ہے مگر اچھے پہلو سے نہیں بندھا۔ طبیعت پر زور ڈال کر کہو، جب وہ شخص پڑھ چکتا تو دوسرا پڑھتا اور کوئی بول نہ سکتا تھا۔لکھنؤ کے امیر زادے جنھیں کھانے کے ہضم کرنے سے زیادہ کوئی کام دشوار نہیں ہوتا، ان کے وقت گزارنے کے لیے مصاحبوں نے ایک عجیب چورن تیار کیا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ شیخ صاحب سے ایک جن کو محبت تھی۔ ان کا معمول تھا ورزش کے بعد صبح کو ایک سینی پراٹھا گھی میں ترتراتا کھایا کرتے تھے۔ اول اول ایسا ہوتا رہا، جب کھانے بیٹھتے، پراٹھا برابر غائب ہوتا چلا جاتا، یہ سوچتے مگر کوئی بات سمجھ میں نہ آتی، بالا خانہ میں دروازہ بند کر کے اکیلے ورزش کیا کرتے تھے، ایک دن مگدر ہلا رہے تھے دیکھتے کیا ہیں ایک شخص اور سامنے کھڑا مگدر ہلا رہا ہے۔ حیران ہوئے بدن میں جوانی اور پہلوانی کا بل تھا، لپٹ گئے، تھوڑی دیر زور ہوتا رہا، اسی عالم میں پوچھا کہ تو کون ہے۔ ان نے کہا تمھاری ورزش کا انداز پسند آیا ہے اس لئے کبھی کبھی اِدھر آ نکلتا ہوں، اکثر کھانے میں بھی شریک ہوتا ہوں، مگر بغیر اظہار کے محبت کا مزا نہیں آتا۔ آج ظاہر کیا، اس دن سے ان کی راہ ہو گئی۔ اسی نے ظاہر کے راز سے بھی آگاہ کیا تھا۔ بعض اشخاص کہتے ہیں پُر خوری کے سبب سے لوگ کہتے تھے کہ ان کے پیٹ میں جن ہے۔

کسی کی نوکری نہیں کی۔ سرمایہ خداداد اور جوہر شناسوں کی قدردانی سے نہایت خوش حالی کے ساتھ زندگی بسر کی۔ پہلی دفعہ الہ آباد میں آئے ہوئے تھے جو راجہ چندو لال نے ۱۲ ہزار روپے بھیج کر بلا بھیجا۔ انھوں نے لکھا کہ اب میں نے سیّد کا دامن پکڑا ہے اسے چھوڑ نہیں سکتا۔ یہاں سے جاؤں گا تو لکھنؤ جاؤں گا، راجہ موصوف نے پھر خط لکھا بلکہ پندرہ ہزار روپے بھیج کر بڑے اصرار سے کہا کہ یہاں تشریف لائیے گا تو ملک الشعراء خطاب دلواؤں گا، حاضری دربار کی قید نہ ہو گی، ملاقات آپ کی خوشی پر رہے گی۔ انھوں نے منظور نہ کیا اور روپے آغا کلب حسین خاں کے پاس رکھوا دیے، جب ضرورت ہوتی منگا لیتے اور ان پر کیا منحصر ہے، نواب معتمد الدولہ اور ان کے بیٹے ہمیشہ خدمت کو حاضر تھے۔ تحفے نذرانے جا بجا سے آتے رہتے تھے۔ یہ بھی کھاتے اور کھلاتے ہی رہتے تھے۔ سادات، اہل حج، اہل زیارت کو دیتے تھے اور آزادی کے عالم میں جہاں جی چاہتا وہاں جا بیٹھتے۔ جس کے ہاں جاتے وہ اپنا فخر سمجھتا تھا۔

سیّاحی کی مسافت فیض آباد سے لکھنؤ اور وہاں سے الہ آباد بنارس عظیم آباد، پٹنہ تک رہی، چاہا تھا کہ شیخ علی حزیںؔ کی طرح بنارس میں بیٹھ جائیں۔ چنانچہ الہ آباد سے وہیں گئے مگر اپنی ملّت کے لوگ نہ پائے اس لئے دل برداشتہ ہو کر عظیم آباد گئے۔ وہاں کے لوگ نہایت مروّت اور عظمت سے  پیش آئے مگر ان کا جی نہ لگا، گھبرا کر بھاگے اور کہا یہاں میری زبان خراب ہو جائے گی۔ الہ آباد آئے۔ پھر شاہ اجمل کے دائرہ میں مرکز پکڑا اور کہا۔

ہر پھر کے دائرہ ہی میں رکھتا ہوں میں قدم

آئی کہاں سے گردش پرکار پاؤں میں

لکھنؤ سے نکلنے کا سبب یہ ہوا تھا کہ غازی الدین حیدر کے عہد میں جب ان کی تعریفوں کی آوازیں بہت بلند ہوئیں تو انھوں نے نواب معتمد الدولہ آغا میر اپنے وزیر سے کہا کہ اگر شیخ ناسخؔ ہمارے دربار میں آئیں اور قصیدہ سنائیں تو ہم انھیں ملک الشعراء کا خطاب دیں۔ معتمد الدولہ ان کے با اخلاص شاگرد تھے۔ جب یہ پیغام پہنچایا تو انھوں نے بگڑ کر جواب دیا کہ مرزا سلیمان شکوہ (مرزا سلیمان شکوہ اکبر شاہ کے بھائی تھے۔ دلّی چھوڑ کر لکھنؤ جا رہے تھے۔ سرکار لکھنؤ کی بدولت شکوہ و شان کی زندگی بسر کرتے تھے۔) بادشاہ ہو جائیں تو وہ خطاب دیں۔ یا گورنمنٹ انگلشیہ خطاب دے، ان کا خطاب لے کر میں کیا کروں گا۔ نواب مے مزاج میں کچھ وحشت بھی تھی۔ حسب الحکم شیخ صاحب کو نکلنا پڑا اور چند روز الہ آباد میں جا کر رہے۔ نواب مر گئے تو پھر لکھنؤ میں آئے، چند روز کے بعد حکیم مہدی جن کے بزرگ کشمیری تھے شاہ اودھ کی سرکار میں مختار تھے وہ ایک بدگمانی میں معزول ہو کر نکلے، چونکہ وہ نواب آغا میر کے رقیب تھے، شیخ صاحب نے تاریخ کہی، جس کا مادہ ہے۔

مصرعہ : کاشو برائے پختن شلغم گریختہ

مشکل یہ کہ چند روز کے بعد وہ پھر بحال ہو کر آ گئے۔ شاعر نے الہ آباد کو گریز کی۔ لیکن اکثر غزلوں سے معلوم ہوتا ہے کہ جب لکھنؤ سے جدا ہوئے تڑپتے اور دن ہی گنتے رہے (ایک شعر میں بھی لکھا ہے )۔

دشت سے کب وطن کو پہنچوں گا

کہ چھٹا اب تو سال آ پہنچا

حکیم مہدی کو دوبارہ زوال ہوا تو انھوں نے پھر تاریخ کہی، نیا انداز ہے اس لئے لکھتا ہوں :

از جائے حکیم ہشت برگیر

سہ مرتبہ نصف نصف کم کن

(۱۲۴۸ھ)

اب کی دفعہ جو آئے تو ایسے گھر میں بیٹھے کہ مر کر بھی نہ اُٹھے، گھر ہی میں دفن ہوئے۔ میر علی اوسط رشکؔ ان کے شاگرد رشید نے تاریخ کہی۔

مصرعہ : ولا شعر گوئی اٹھی لکھنؤ سے (۱۲۵۴ھ)

لوگ کہتے ہیں ۶۴، ۶۵ برس کی عمر تھی۔ مگر رغمی سلمہ اللہ لکھتے ہیں کہ تقریباً سو برس کی عمر ہو گی، اکثر عہد سلف کے معرکے اور نواب شجاع الدولہ کی باتیں آنکھوں سے دیکھی بیان کرتے تھے۔

دیوان تین ہیں مگر دو (۲) مشہور ہیں۔ ایک الہ آباد میں مرتب کیا تھا۔ بے وطنی کا عالم، دل پریشان، غزلیں خاطر خواہ بہم نہ پہونچیں، اس لیئے دفتر پریشان نام رکھا۔ ان میں غزلوں، رباعیوں اور تاریخوں کے سوا اور قسم کی نظم نہیں۔ قصائد کا شوق نہ تھا چنانچہ نواب لکھنؤ کی تاریخ و تہنیت میں بھی کبھی کچھ کہا ہے تو “لور قطعہ ہے ہجو کے کانٹوں سے ان کا باغ پاک ہے۔ ایک مثنوی حدیث مفصل کا ترجمہ ہے۔ میر علی اوسط رشک نے اسے ترتیب دیا اور اس کا تاریخی نام نظم سراج بھی رکھا ہے اور ایک مولود شریف بھی شیخ صاحب کی تصنیف ہے۔ عموماً کلام ان کا شاعری کے ظاہری عیبوں اور لفظی سقموں سے بہت پاک ہے، اور اس امر میں انھیں اتنی کوشش ہے کہ اگرچہ ترکیب کی چُستی یا کلام کی گرمی میں فرق آ جائے۔ مگر اُصول ہاتھ سے نہیں جانے دیتے اور بہ سلامت روی قرین مصلحت ہے کیونکہ نئے تصرف اور ایجاد انسان کو اکثر ایسے اعتراضوں کے نشانے پر لا ڈالتے ہیں جہاں سے سرکنا بھی مشکل ہو جاتا ہے۔

غزلوں میں شوکت الفاظ اور بلند پروازی اور نازک خیالی بہت ہے اور تاثیر کم، صائب کی تشبیہ و تمثیل کو اپنی صنعت میں ترکیب دے کر ایسی دستکاری اور مینا نگاری فرمائی کہ بعض موقع پر بیدلؔ اور ناصر علی حد میں جا پڑے اور اُردو میں وہ اس سے صاحب طرز قرار پائے۔ انھیں ناسخؔ کہنا بجا ہے، کیوں کہ طرز قدیم کو نسخ کیا، جس کا خود بھی انھیں فکر تھا۔

دیوان کے اخیر میں بہت سی تاریخیں ہیں، اور اکثروں میں نہایت عمدہ اور برجستہ مادے نکالے ہیں۔ شوکت الفاظ کہتی ہے کہ اگر وہ قصیدہ کہتے تو خوب کہتے، مگر افسوس کہ اس طرف توجہ نہ کی۔ (اُردوئے معلیٰ میں غالبؔ مرحوم کا ایک خط مرزا حاتم علی مہرؔ کے نام ہے۔ اس میں لکھا ہے ناسخ مرحوم جو تمھارے استاد تھے اور میرے بھی دوست صادق الودود تھے مگر ایک فنی تھے صرف غزل کہتے تھے۔ قصیدہ اور مثنوی میں انہیں کچھ علاقہ نہ تھا۔ اسی کتاب میں چودھری عبد الغفور کے خط میں چند شعر منتخب اساتذہ متقدمین کے لکھ کر تحریر کیا ہے۔ ناسخ کے ہاں کمتر اور آتش کے ہاں بیشتر یہ تیز نشتر ہیں۔)

نظمِ سراج کی نظم و گوں کی رائے میں ان کے رتبہ عالی سے گرمی ہوئی ہے اور چونکہ یا بندی ترجمہ حدیث کی ہے، اس لئے اس پر گرفت بے جا ہے۔ چند شعر نمونے کے طور پر ہیں۔

کی خدا نے جو یہ زبان عطا

ہے بلا شک عطیہ عظمیٰ

اس سے ہے مختلف مزوں کی تمیز

اس سے پاتے ہیں لذّتِ ہر چیز

کوئی کڑوی ہے کوئی ہے میٹھی

کوئی نمکین، کوئی کھٹ مِٹھی

کوئی اچھی ہے کوئی زشت و زبوں

مزے سب چیزوں کے ہیں گونا گوں

سب مزوں سے زبان واقف ہے

نہیں اسرار کی یہ کاشف ہے

جو نہ ہو یہ تو کچھ نہ ہو معلوم

نہ ہو کوئی مزا کبھی مفہوم

اور بھی ہوتے ہیں زبان سے کام

ہے ممد وقت بلع آب و طعام

اس سے احکام بہر دنداں ہے

قوتِ تام بہر دنداں ہے

کوئی ناواقف شخص شائق کلام آتا تو چند بے معنی غزلیں بنا رکھی تھیں۔ ان میں کوئی شعر پڑھتے یا اسی وقت چند بے ربط الفاظ جوڑ کر موزوں کر لیتے اور سناتے۔ اگر ہو سوچ میں جاتا اور چپ رہ جاتا تو سمجھتے تھے کہ کچھ سمجھتا ہے۔ اُسے اور سناتے تھے اور اگر اس نے بے تحاشا تعریف کرنی شروع کر دی تو اسی طرح کے ایک دو شعر پڑھ کر چپکے ہو رہتے تھے۔ مثلاً :

آدمی مخمل میں دیکھے مورچے بادام میں

ٹوٹی دریا کی کلائی زلف اُلجھی بام میں

تو نے ناسخؔ وہ غزل آج لکھی ہے کہ ہوا

سب کو مشکل ید بیضا میں سخن داں ہونا

بلکہ اکثر خود سناتے بھی نہ تھے۔ جب کوئی آتا اور شعر کی فرمائش کرتا تو دیوان اٹھا کر سامنے رکھ دیتے تھے کہ اس میں سے دیکھ لیجیے۔ دو تین خوش نویس کاتب بھی نوکر رہتے تھے۔ دیوان کی نقلیں جاری تھیں۔ جس دوست یا شاگرد کو لائق اور شائق دیکھتے اسے عنایت فرماتے تھے۔

انھوں نے اور ان کے ہمعصر خواجہ حیدر علی آتشؔ نے خوبی اقبال سے ایسا زمانہ پایا جس نے ان کے نقش و نگار کو تصاویر مانی و بہزاد کا جلوہ دیا، ہزاروں صاحبِ فہم دونوں کے طرفدار ہو گئے، اور طرفین کو چمکا چمکا کر تماشے دیکھنے لگے، لیکن حق پوچھو تو ان فتنہ انگیزوں کا احسان مند ہونا چاہیے۔ کیوں کہ روشنی طبع کو اشتعالک دیتے تھے۔

ان دونوں صاحبوں کے طریقوں میں بالکل اختلاف ہے۔ شیخ صاحب کے پیر و مضمون دقیق ڈھونڈھتے ہیں، خواجہ صاحب کے معتقد محاورہ کی صفائی کلام کی سادگی کے بندے ہیں اور شعر کی تڑپ اور کلام کی تاثیر پر جان قربان کرتے ہیں۔ ان لوگوں کو شیخ صاحب کے کلام پر چند قسم کے اعتراض ہیں۔ اگرچہ ان میں سے بعض باتوں میں سینہ زوری اور شدت ہے، لیکن مورخ کو ہر امر کا اظہار واجب ہے۔ اس لیے قلم انداز بھی نہیں ہو سکتا۔

اوّل کہتے ہیں کہ شیخ صاحب کی اکثر نازک خیالیاں ایسی ہیں کہ کوہ کندن و کاہ بر آوردن، چنانچہ اشعار مفصلہ ذیل نمونہ نازک خیالی ہیں۔

میری آنکھوں نے تجھے دیکھ کے وہ کچھ دیکھا

کہ زبانِ مژہ پر شکوہ ہے بینائی کا

کھل گیا ہم پر عناصر جب ہوئے بے اعتدال

رابطہ واجب سے ممکن دوست دشمن میں نہیں

کی خدا نے کافروں پر اے صنم جنت حرام

درد کس کی آنکھ پڑتی تیرے ہوتے حُور پر

کوئے جاناں میں ہوں پر محروم ہوں دیدار سے

پائے خفتہ کندہ زن ہیں دیدہ بیدار پر

وہ آفتاب نہ ہو کس طرح سے  لیے سایہ

ہوا نہ سر سے کبھی سایہ سحاب جُدا

خواجہ صاحب کے معتقد کہتے ہیں کہ جن لوگوں نے غزل کے اصول کو سمجھا ہے یعنی فارسی میں خواجہ حافظؔ اور شیخ سعدیؔ اور اُردو میں سوزؔ، میرؔ اور جرأتؔ سے سند پائی وہ اسے غزل نہ کہیں گے، مگر یہ بات ایسی گرفت کے قابل نہیں، کیوں کہ فارسی میں بھی جلاؔ، اسیر، قاسمؔ مشہدی، بیدلؔ اور ناصر علی وغیرہ استاد ہو گزرے ہیں، جنھوں نے اپنے نازک خیالوں کی بدولت خیال بند اور معنی یاب لقب حاصل کیا ہے۔ شیخ صاحب نے ان کی طرز اختیار کی تو کیا  بُرا ہے۔ یہ بھی واضح ہو کہ جن لوگوں کی طبیعت میں ایسی خیال بندیوں کا انداز پیدا ہوا ہے، اس کے کئی سبب ہوئے ہیں، اول یہ کہ بعض طبیعتیں ابتدا ہی سے پُر زور ہوتی ہیں۔ فکر ان کے تیز اور خیالات بلند ہوتے ہیں۔ مگر اُستاد نہیں ہوتا جو اس ہونہار بچھڑے کو روک کر نکالے اور اُصول کی باگوں پر لگائے، پھر اس خود سری کو ان کی آسودہ حالی اور بے احتیاطی زیادہ قوت دیتی ہے، جو کسی جوہر شناس یا سخن فہم کی پرواہ نہیں رکھتی وہ اپنی تصویریں آپ کھینچتے ہیں اور آپ ان پر قربان ہوتے ہیں بلکہ شوقین داد دینے والے جو کھوٹے کھرے کے پرکھنے والے ہیں۔ اور حقیقت میں پسند عام کے وکیل بھی وہی ہیں، ان نازک خیالوں کو ان کی بھی ضرورت نہیں ہوتی کیونکہ ان کی دولت مندی اپنے گھر پر اپنا دربار الگ لگاتی ہے۔ جس میں بعض اشخاص وقت پسندی اور باریک بینی میں ان کے ہم مزاج ہوتے ہیں۔ بعض فقط باتوں ہی باتوں میں خوش کر دینے کا شوق رکھتے ہیں۔ بعض کو اپنی گرہ کی عقل نہیں ہوتی۔ جس طرف لوگوں کو دوڑتے دیکھا آپ بھی دوڑنے لگتے ہیں، غرض ایسے ایسے سبب ہوتے ہیں جو بھلے چنگے آدمی کی آنکھوں پر پتی باندھ کر خود پسندی کے ناہموار میدانوں میں ڈھکیل دیتے ہیں۔دوسرا اعتراض اِن کے حریفوں کا اُن سخت اور سنگین الفاظ پر ہے جن کے بھاری وزن کا بوجھ غزل کی نزاکت و لطافت ہرگز برداشت نہیں کر سکتی اور کام بھّدا ہو جاتا ہے۔ چنانچہ کچھ اشعار اِس قبیل کے بھی لکھے جاتے ہیں۔

بے خطر یوں ہاتھ دوڑاتا ہوں زلفِ یار پر

دوڑتا تھا جس طرح ثعبان موسیٰ مار پر

تو وہ خورشید ہے اُلٹے جو گلستاں میں نقاب

چہرہ گل میں تلّون ہو وہیں حِربا کا

برنگِ گل جگر ہوتا ہے ٹکڑے سیر گلشن میں

ہوا ہے تیغ غم بے یار نظارہ سپر غم کا

آگے مجھ کامل کے ناقص ہے کمالِ مدّعی

درمیاں ہے فرق اسّد راج اور اعجاز کا

مِل گیا ہے عشق کا آزار قسمت سے مجھے

ہوں جو عیسیٰ بھی ارادہ ہو نہ استعلاج کا

انڈا کھٹک کے نکلی ہے باہر تو کیا ہوا

بلبل کو جسم بیضۂ فولاد ہو گیا

ناسخؔ تمام رجس تناسخ سے پاک ہے

وہ شمع ہو گیا تو وہ پروانہ ہو گیا

قمر ہی کیا ترے آگے محاق میں آیا

کہ آفتاب بھی تو احتراق میں آیا

سوئے کعبہ تیرے عاشق سجدہ کرتے ہیں کوئی

تیرے ابرو کی طرف قبلہ محّول ہو گیا

باعثِ گریہ ہوئی فرقت میں مجھ کو مے کشی

ساقیا اشکوں سے مے کا استحالہ ہو گیا

بڑا اکال ہے ناسخؔ غمِ عالم فراہم کر

ارادہ ہے اگر اے چرخ اس کی مہمانی کا

نہ باطل خشک زاہد ہے نہ عاطل رند تر دامن

خدا نے اپنی حکمت سے کیا ہے خشک و تر پیدا

کسی حالت میں مجھے ہوش سے کچھ کام نہیں

چڑھ گئے انجرے نشہ کے جو سودا ترا

آغازِ خط میں اژدر فرعون ہے جو زلف

افسونِ خطِ مار ہی افسانہ ہو گیا

غیر کوثر کسی دریا کا میں سیّاح نہیں

بیشۂ  شیر خدا بن کہیں سیّاح نہیں

ہے ہوس ہم سے ملے یار کرے غیر کو ترک

مطلب اپنا وہ ہے جو قابل انجاح نہیں

ظلم طولِ شب فرقت کے تطاول نے کہا

داد رس کوئی بجز خالق الاصباح نہیں

روشنائی سے ہوئی روشنیِ خلوتِ فکر

جزم قلم اور مری بزم میں مصباح نہیں

بال توڑے تری زلفوں کے نہ بیدردی سے

حس مرے ہاتھ کی مانند ہو گر شانہ میں

خیال بند طبائع اور مشکل پسند لوگ اگرچہ اپنے خیالوں میں مست رہتے ہیں مگر چونکہ فیض سخن کالی نہیں جاتا اور مشق کو بڑی تاثیر ہے، اس لیے مشکل کلام میں بھی ایک لطف پیدا ہو جاتا ہے، جس سے ان کے اور ان کے طرفداروں کے دعووں کی بنیاد قائم ہو جاتی ہے۔

ان کے حریف کہتے ہیں کہ شیخ صاحب بھی خیال بندی اور دشوار پسندی کی قباحت کو سمجھ گئے تھے۔ اور اخیر کو اس کوچہ میں آنے کا ارادہ کرتے تھے۔ انہی دنوں کا ایک مطلع شیخ صاحب کا ہے، خواجہ صاحب کے سامنے کسی نے پڑھا اور انھوں نے لطف زبان کی تعریف کی۔

جنوں پسند ہے مجھ کو ہوا ببولوں کی

عجب بہار ہے ان زرد زرد پھُولوں کی

مگر اول تو طبیعت کی مناسبت دوسرے عمر بھر کی وہی مشق تھی، اس لئے جب محاورہ کے کوچہ میں آ کر صاف صاف کہنا چاہتے تھے تو پھُس پھُس بندش اور پھسنڈے الفاظ بولنے لگتے تھے، چنانچہ اس کی سند میں اکثر اشعار پیش کرتے ہیں، جن میں سے چند شعر یہ ہیں۔

ناک رگڑے ہر گھڑی کیونکر نہ اس کے سامنے

بدلے نتھنی کے سلیماں کی ہے خاتم ناک میں

رنگ لالہ میں اگر ہے تو نہیں نام کو بُو

یاسمن میں ترے پنڈے سی ہے بو رنگ نہیں

ساقی بغیر مے یہ لہو تھوکتا نہیں

منھ سے شراب وصل نکلتی ہے ہجر میں

کیا ہی حسد ہے فلک جس نے کہ نوبت پائی

دم میں مانندِ حباب اس نے نقارہ توڑا

اِن کے حریفوں کو اس لفظ پر بھی اعتراض ہے کیونکہ نقّارہ مشدّد ہے تخفیف کے ساتھ نہیں آیا، اور جب ان سے کہا گیا کہ نظّارہ بھی بہ تشدید ہے مگر تخفیف کے ساتھ فارسی اور ریختہ میں آیا ہے تو انھوں نے کہا کہ غیر زبان کے لفظ میں قیاس نہیں چل سکتا۔ اہل  زبان کی سند دینی چاہیے۔ مُنصفوں کے نزدیک یہ بھی ان کی سینہ زوری ہے۔ نظامیؔ۔

بذوقِ جشنِ نوروزی نقارہ

گلوئے خویش کر دو پارہ پارہ

مجھ سے رہتا ہے رسیدہ وہ غزالِ شہری

صاف سیکھا ہے چلن آہوئے صحرائی کا

غزال شہری کے لیے فارسی کی سند چاہیے۔ کیونکہ وحشی کے مقابل میں اہلی بولتے ہیں شہری نہیں بولتے۔ مگر اسے فارسی کے کوچہ میں نہیں ڈالنا چاہیے بلکہ اردو کے قادر الکلام کا تصرف سمجھنا چاہیے۔

ذبح وہ کرتا تو ہے پر چاہیے اے مرغِ دل

دم پھڑک جائے تڑپنا دیکھ کر صیّاد کا

یہ تعقید نہایت بے طور واقع ہوئی ہے۔ ان کے حریف اس قسم کے اشعار اور بھی بہت پڑھتے ہیں۔ مگر اِن جزوی باتوں پر توجہ بے حاصل ہے۔ اس لئے اشعار مذکور قلم انداز کئے گئے۔

اِن کے کلام میں تصوف بھی ہے۔ مگر اس کا رستہ کچھ اور ہے۔ جس سے وہ واقف نہیں۔

تو بھی آغوشِ تصّور سے جدا ہوتا نہیں

اے صنم جس طرح دُور اک دم خدا ہوتا نہیں

بحر وحدت میں ہوں میں، گو سر گیا مثلِ حباب

چوب کیا تلوار سے پانی جدا ہوتا نہیں

نشہ عرفاں نہیں جب تک دلاہے قیل و قال

تا نہ ہو لبریز ساغر بے صدا ہوتا نہیں

اسرار نہاں آتے ہیں سینہ سے زباں پر

اب سدِّ سکندر کروں تعمیر گلے میں

ہے یہ وہ راہ کہ تا عرش پہنچتا ہے بشر

دل میں دروازہ ہے اس گنبدِ مینائی کا

عارفوں کو ہر در و دیوار ادب آموز ہے

مانع گردن کشی ہے انحنا محراب کا

مظہر وہ بُت ہے نور خدا کے ظہور کا

نقشِ قدم سے سنگ کو رُتبہ ہے در کا

حریف یہ بھی حرف رکھتے ہیں کہ شیخ ناسخؔ مخلوق فارسی کو تناسخ  دے کر اُردو کی زندگی دیتے تھے۔

مسی آلودہ لب پر رنگِ پاں ہے

تماشا ہے تہِ آتش دھواں ہے

مسی آلودہ بر لب رنگ پان است

تماشا کن تہِ آتش دخاں است

(بیدلؔ)

ناتوانی سے گراں سُرمہ ہے چشم یار کو

جس طرح ہو رات بھاری مردمِ بیمار کو

(شیخ صاحب)

گویند کہ شب بر سر بیمار گراں است

گر سرمہ بچشم تو گراں است ازاں است

(ناصر علی)

سیہ بختی میں کب کوئی کسی کا ساتھ دیتا ہے

کہ تاریکی میں سایہ بھی جدا ہوتا ہے انساں سے

کسی اُستاد کا شعر فارسی میں ہے۔

بروز بیکسی کس نیست غیر از سایہ یار من

مگر آنہم ندارد طاقتِ شبہائے تارِ من

فرق ہے شاہ و گدا میں قول شاعر سے یہی

شیرِ قالیں اور ہے شیر نیستاں اور ہے

(ناسخؔ)

بوریا جائے من دجائے تونگر قالیں

شیر قالیں دگر و شیر نیستاں دگر است

(حزیں )

میر تقی مرحوم اور بقاؔ میں دوآبے کے مضمون پر جو دو دو لطیفے ہوئے، میر صاحب کے حال میں لکھے گئے۔ میں سمجھتا تھا کہ شیخ ناسخؔ نے الہ آباد میں بیٹھ کر اس میں سے یہ مضمون تراشا ہو گا۔

ایک تربینی ہے دو آنکھیں مری

اب الہ آباد بھی پنجاب ہے

لیکن غیاث الدین بلبن بادشاہ دہلی کا بیٹا یعنی محمد سلطان جب لاہور کے باہر راوی کے کنارے پر ترکان تاتاری کی لڑائی میں مارا گیا تو امیر خسروؔ نے اِس کا مرثیہ ترکیب بند میں لکھا ہے۔ اس میں کہتے ہیں۔

بسکہ آب چشم حلقے شد رواں در چار سو

پنچ آبے دیگر اندر مولتاں آمد پدید

کہتے ہیں کہ خواجہ صاحب نے انہیں باتوں پر چوٹ کر کے کہا ہے :

مضمون کا چور ہوتا ہے رسوا جہان میں

چکھی خراب کرتی ہے مالِ حرام کی

اگرچہ اس طرح کے چند اشعار اور بھی سُنے جاتے ہیں۔ مگر ایسا صاحب کمال جس کی تصنیفات کمال نازک خیالی اور مضامین حالی کے ساتھ ایک مجلّد ضخیم موجود ہے۔ اس پر سرقہ کا الزام لگانا انصاف کی آنکھوں میں خاک ڈالنی ہے۔ سوداؔ اور میرؔ کے اشعار جن استادوں کے اشعار سے لڑ گئے ہیں وہ لکھے گئے ہیں، جو اُن کی طرف سے جواب ہے۔ وہی ان کی طرف سے سمجھیں۔ میری رائے میں یہ دونوں حریف اور اُن کے طرف دار کوئی ملزم نہیں۔ کیونکہ دونوں طرفوں میں کوئی کمال سے خالی نہیں تھا، البتہ طبیعتیں مختلف ہوتی ہیں۔ اس لئے پسند میں اختلاف ہے، کہنے والے جو چاہیں سو کہے جائیں۔

انہی نازک خیالیوں میں جو صاف شعر بھی زبان سے نکل گیا ہے ایک تیر ہے کہ نشانہ کے پار جا کر اڑا ہے، اٹک کر ترازو بھی نہیں ہوا۔

سیکڑوں آہیں کروں پر دخل کیا آواز کا

تیر جو دیوے صدا ہے نقص تیر انداز کا

ترچھی نظروں سے نہ دیکھو عاشقِ دلگیر کو

کیسے تیر انداز ہو سیدھا تو کر لو تیر کو

اس انداز کے شعر بھی ان کے دیوانوں میں ڈھونڈو تو بہت ہوں گے۔

شیخ صاحب کے کلام میں نمک ظرافت کا چٹخارا کم ہے، چنانچہ زاہد اور ناصح جو شعرائے اردو فارسی کے لئے ہر جگہ رونق محفل ہیں، یہ اُن سے بھی ہنس کر دل نہیں بہلاتے اور اگر اتفاقاً ہے تو ایسا ہے کہ وہ ہنسنا زہر خند معلوم ہوتا ہے۔

حرص سے زاہد یہ کہتا ہے جو گر جائیں گے دانت

کیا کشادہ بہر رزق اپنا وہاں ہو جائے گا

دیکھیو ناسخؔ سر شیخ معمر کی طرف

کیا کلس مسواک کا ہے گنبدِ دستار کا

سوداؔ کی غزل ہے، جرس ہووے اگر ہووے – قفس ہووے اگر ہووے

اُس کا شعر دیکھو کہ وہ اسی بات کو کس چونچلے سے کہتا ہے۔

نہیں شایان زیب گنبدِ دستار کچھ زاہد

مگر مسواک ہی اسپر کلس ہووے اگر ہووے

(سوداؔ)

زاہد ابکی رمضان میں میں پڑھوں خاک نماز

سوئے قبلہ تو خنازیر کھڑے رہتے ہیں

(ناسخؔ)

واہ کیا پیر مغاں کا ہے تصرف مے کشو

محتسب کا اب سخن تکیہ ہے مُل مل ہو گیا

عابد و زاہد چلے جاتے ہیں پیتا ہے شراب

اب تو ناسخؔ زور رند لا اُبالی ہو گیا

اہل تزوید سے اس درجہ ہے نفرت مجھ کو

کہ مجھے قافیہ زور ہے کچھ کام نہیں

شیخ صاحب کا مذہب پہلے سنت جماعت تھا، پھر مذہب شیعہ اختیار کیا۔ وہ اکثر غزلوں میں مذہبی تعریفیں کرتے تھے اور یہ شاعر یا عام مصنف کے لئے نازیبا ہیں۔ ہاں کوئی اپنے تائید مذہب میں کتاب لکھے تو اس میں دلائل و براہین کے قبیل سے جو چاہے کہے مضائقہ نہیں۔

وہ بہت خوش اخلاق تھے، مگر اپنے خیالات میں ایسے محو رہتے تھے کہ ناواقف شخص خشک مزاج یا بد دماغ سمجھتا تھا، سید مہدی حسن فراغؔ مرحوم (دیکھو صفحہ) میاں بے تاب کے شاگرد تھے، اور زبان ریختہ کے کہن سال مشاق تھے، نقل فرماتے تھے کہ ایک دن میں شیخ صاحب کی خدمت میں گیا، دیکھا کہ چوکی پر بیٹھے نہا رہے ہیں، آس پاس چند احباب موڈھوں پر بیٹھے ہیں۔ میں سامنے جا کر کھڑا ہوا، اور سلام کیا، انھوں نے ایک آواز سے کہ جو ان کے بدن سے بھی فربہ تھی۔ فرمایا کہ کیوں صاحب کس طرح تشریف لانا ہوا۔ میں نے کہا کہ ایک فارسی کا شعر کسی استاد کا ہے۔ اس کے معنی سمجھ میں نہیں آتے۔ فرمایا میں فارسی کا شاعر نہیں۔ اتنا کہہ کر اور شخص سے باتیں کرنے لگے۔ میں اپنے جانے پر بہت پچھتایا اور اپنے تئیں ملامت کرتا چلا آیا۔

ایک دن کوئی شخص ملاقات کو آئے، یہ اس وقت چند دوستوں کو لیے انگنائی میں کرسیوں پر بیٹھے تھے۔ شیخ مذکور کے ہاتھ میں چھڑی تھی اور اتفاقاً پاؤں کے آگے مٹی کا ایک ڈھیلا پڑا تھا۔ وہ شغل بے کاری کے طور پر جیسے کہ اکثر اشخاص کو عادت ہوتی ہے، آہستہ آہستہ لکڑی کی نوک سے ڈھیلے کو توڑنے لگے، شیخ صاحب نے نوکر کو آواز دی، سامنے حاضر ہوا، فرمایا کہ میاں ایک ٹوکری مٹی کے ڈھیلوں کی بھر کر ان کے سامنے رکھ دو، دل لگا کر شوق پورا کریں۔

لطیفہ : شاہ غلام اعظم افضل (شاہ محمد اجمل کے پوتے شاہ ابو العالی تھے، ان کے بیٹے شاہ غلام اعظم افضل تخلص ہوئے۔) ان کے شاگرد اکثر حاضر خدمت ہوتے تھے۔

ایک دن آپ تخت پر بیٹھے تھے اس پر سیتل پاٹی کا بوریا بچھا تھا۔ افضل آئے، وہ بھی اسی پر بیٹھ گئے۔ اس پر سیتل پاٹی کا ایک تنکا توڑ کر چٹکی سے توڑنے اور مڑوڑنے لگے۔ شیخ صاحب نے آدمی کو بلا کر کہا کہ بھائی وہ جو آج نئی جھاڑو تم بازار سے لائے ہو ذرا لے آؤ۔ اس نے حاضر کی، خود لے کر شاہ صاحب کے سامنے رکھ دی اور کہا، صاحبزادے ! اس سے شغل فرمائیے، فقیر کا بوریا آپ کے تھوڑے سے التفات میں برباد ہو جائے گا، پھر اور سیتل پاٹی اس شہر میں کہاں ڈھونڈتا پھرے گا۔ وہ بیچارے شرمندہ ہو کر رہ گئے۔

لطیفہ : آغا کلب عابد خاں صاحب فرماتے ہیں، کہ ایک دفعہ شیخ صاحب کے واسطے کسی شخص نے دو تین چمچے بطریق تحفہ بھیجے جو شیشے کے تھے۔اِن دنوں میں نیا ایجاد سمجھے جاتے تھے، ایک امیر صاحبزادے آئے، اس طرف دیکھا، پوچھا کہ حضرت یہ چمچے کہاں سے خریدے اور کس قیمت کو خریدے۔ شیخ صاحب نے حال بیان کیا، انھوں نے ہاتھ بڑھا کر ایک چمچہ اٹھا لیا۔ دیکھ کر تعریف کی، پھر باتیں چیتیں کرتے رہے اور چمچہ سے زمین پر کھٹکا دے کر شغلِ بے شغلی فرماتے رہے۔ شیشہ کی بساط کیا تھی، ٹھیس زیادہ لگی جھٹ سے دو ٹکڑے۔ شیخ صاحب نے دوسرا چمچہ اٹھا کر سامنے رکھ دیا اور کہا اب اس سے شغل فرمائیے۔

لطیفہ : ایک دن اپنے خانہ باغ کے بنگلہ میں بیٹھے تھے اور فکرِ مضمون میں غرق تھے، ایک شخص آ کر بیٹھے، ان کی طبیعت پریشان ہوئی، اٹھ کر ٹہلنے لگے کہ یہ اٹھ جائیں، ناچار پھر آ بیٹھے، مگر وہ نہ اُٹھے، کسی ضرورت کے بہانے سے پھر گئے کہ یہ سمجھ جائیں گے، وہ پھر بھی نہ سمجھے، انھوں نے چلم میں سے چنگاری اُٹھا کر بنگلہ کی ٹٹی میں رکھ دی اور آپ لکھنے لگے۔ ٹٹی جلنی شروع ہوئی، وہ شخص گھبرا کر اُٹھے اور کہا کہ شیخ صاحب آپ دیکھتے ہیں ؟ یہ کیا ہو رہا ہے، انھوں نے ان کا ہاتھ پکڑ لیا کہ جاتے کہاں ہو، اب تو مجھے اور تمہیں مل کر راکھ کا ڈھیر ہونا ہے۔ تم نے میرے مضامین کو خاک میں ملایا ہے، میرے دل کو جلا کر خاک کیا ہے، اب کیا تمھیں جانے دوں گا۔

لطیفہ : اسی طرح ایک شخص نے بیٹھ کر انھیں تنگ کیا۔ نوکر کو بلا کر صندوقچہ منگایا، اس میں سے مکان کے قبالے نکال کر ان کے سامنے دھر دیئے اور نوکر سے کہا کہ بھائی مزدوروں کو بلاؤ اور اسباب اٹھا کر لے چلو، ادھر وہ شخص حیران ان کا منھ دیکھے، اُدھر نوکر حیران، آپ نے کہا دیکھتے کیا ہو، مکان پر تو یہ قبضہ کر چکے، ایسا نہ ہو کہ اسباب بھی ہاتھ سے جاتا رہے۔

شیخ صاحب کے مزاج میں یہ صفتیں تھیں مگر بنیاد ان کی فقط نازک مزاجی پر تھی۔ نہ غرور یا بدنیتی پر جس کا انجام بدی تک پہونچے۔ نازک مقام آ پڑتا تو اس طرح تحمل کر کے ٹال جاتے تھے کہ اوروں سے ہونا مشکل ہے۔

نقل : ایک نواب صاحب کے ہاں مشاعرہ تھا وہ ان کے معتقد تھے، انھوں نے ارادہ کیا کہ شیخ صاحب جب غزل پڑھ چکیں تو انھیں سرِ مشاعرہ خلعت دین، یار لوگوں نے خواجہ صاحب کے پاس مصرعہ طرح نہ بھیجا۔ انھیں اس وقت مصرع پہنچا جب ایک دن مشاعرہ میں باقی تھا۔ خواجہ صاحب بہت خفا ہوئے اور کہا کہ اب لکھنؤ رہنے کا مقام نہیں، ہم نہ رہیں گے۔ شاگرد جمع ہوئے اور کہا کہ آپ کچھ خیال نہ فرمائیں۔ نیاز مند حاضر ہیں، دو (۲) دو (۲) شعر کہیں گے تو صدہا شعر ہو جائیں گے، وہ بہت تند مزاج تھے۔ اُن سے بھی ویسے ہی تقرس کرتے رہے۔ شہر کے باہر چلے گئے۔ پھرتے پھرتے ایک مسجد میں جا بیٹھے، وہاں سے غزل کہہ کر لائے اور مشاعرے میں گئے تو ایک قرابین بھی بھر کر لیتے گئے۔ بیٹھے ایسے موقع پر تھے کہ عین مقابل شیخ صاحب کے تھے۔ اوّل تو آپ کا انداز ہی بانکے سپاہیوں کا تھا، اس پر قرابین بھری سامنے رکھی تھی اور معلوم ہوتا تھا کہ خود بھی بھرے بیٹھے ہیں۔ بار بار قرابین اٹھاتے تھے اور رکھ دیتے تھے، جب سامنے شمع آئی تو سنبھل کر ہو بیٹھے اور شیخ صاحب کی طرف اشارہ کر کے پڑھا۔

سُن تو سہی جہاں میں ہے تیرا فسانہ کیا

کہتی ہے تجھ کو خلق خدا غائبانہ کیا

اس ساری غزل میں کہیں ان کے لے پالک ہونے پر، کہیں ذخیرہ دولت پر، کہیں ان کے سامان امارت پر، غرض کچھ نہ کچھ چوٹ ضرور ہے۔ شیخ صاحب بے چارے دم بخود بیٹھے رہے، نواب صاحب ڈرے کہ خدا جانے یہ ان پر قرابین خالی کریں یا میرے پیٹ میں آگ بھر دیں، اسی وقت دروغہ کو اشارہ کیا کہ دوسرا خلعت خواجہ صاحب کے لئے تیار کرو، غرض دونوں صاحبوں کو برابر خلعت دے کر رخصت کیا۔

رغمی سلمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مدتوں لکھنؤ میں رہنا ہوا، میں نے کبھی چاند اور سورج کا طلوع ایک مطلع میں سے نہ دیکھا۔ ہمیشہ مشاعرہ میں پہلو بچاتے تھے۔ خواجہ صاحب نواب سید محمد خاں رندؔ اور صاحب مرزا شناورؔ کے مشاعرہ میں جایا کرتے تھے۔ ادھر مرزا محمد رضا برقؔ کے ہاں مشاعرہ ہوتا تھا۔ شیخ صاحب اپنی غزل بھیج دیتے تھے۔ جب جلسہ جمتا، برقؔ کے شاگرد میاں طورؔ سب سے پہلے غزل مذکور کو لے کر کہتے، صاحبو! ہمہ تن گوش باشید، یہ غزل استاد الاستاد شیخ ناسخؔ کی ہے۔ تمام اہل مشاعرہ چپ چاپ ہو کر متوجہ ہو جاتے۔ ان کی غزل کے بعد اور شعراء پڑھتے تھے۔

بر خلاف عادت شعراء کے ان کی طبیعت میں سلامت روی کا جوہر تھا۔ چنانچہ ایک دفعہ سید محمد خاں رندؔ کی اپنے استاد خواجہ حیدر علی آتش سے شکر رنجی ہو گئی، چاہا کہ ناسخؔ کی شاگردی سے استاد سابق کے تعلق کو فسخ کریں۔ مرزا محمد رضا برقؔ کے ساتھ شیخ صاحب کے پاس آئے، مرزا صاحب نے اظہار مطلب کیا۔ شیخ صاحب نے تامل کے بعد کہا کہ نواب صاحب دس  برس سے خواجہ صاحب سے اصلاح لیتے ہیں، آج اُن سے یہ حال ہے تو کل مجھے ان سے کیا اُمید ہے۔ علاوہ برآں آپ خواجہ صاحب سے کچھ سلوک بھی کرتے ہیں، وہ سلسلہ قطع ہو جائے گا، اس کا وبال کدھر پڑے گا اور مجھے اُن سے یہ تمنا نہیں، میری دانست میں بہتر ہے کہ آپ ہی دونوں صاحبوں میں صلح کروا دیں، اور اس امر میں اس قدر تاکید کی کہ پھر آپس میں صفائی ہو گئی

اگرچہ ان کے کلاموں اور حکایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ طبیعت میں شوخی اور رنگینی نہ تھی، مگر شاعری کا وہ نشہ ہے کہ اپنے رنگ پر لے ہی آتا ہے، چنانچہ میر گھسیٹا ایک شخص مر گئے تو شیخ صاحب نے تاریخ فرمائی۔

جب مر گئے ہائے میر گھسیٹا

ہر ایک نے اپنے منھ کو پیٹا

ناسخ نے کہی یہ سن کے تاریخ

افسوس کہ موت نے گھسیٹا

اِن کے مزاج میں منصفی اور حق شناسی کا اثر ضرور تھا، چنانچہ الہ آباد میں ایک دن مشاعرہ تھا، سب موزوں طبع طرحی غزلیں کہہ کر لائے۔ شیخ صاحب نے غزل پڑھی، مطلع تھا۔

دل اب محوِ ترسا ہوا چاہتا ہے

یہ کعبہ کلیسا ہوا چاہتا ہے

ایک لڑکے نے صف کے پیچھے سے سر نکالا، بھولی بھالی صورت سے معلوم ہوتا تھا کہ معرکہ میں غزل پڑہتے ہوئے ڈرتا ہے۔ لوگوں کی دلدہی نے اس کی ہمت باندھی، پہلا ہی مطلع تھا۔

دل اس بُت پہ شیدا ہوا چاہتا ہے

خدا جانے اب کیا ہوا چاہتا ہے

محفل میں دھوم مچ گئی، شیخ ناسخؔ نے بھی تعریف کر کے لڑکے کا دِل بڑھایا اور کہا بھائی یہ فیضانِ الہٰی ہے۔ اس میں استادی کا زور نہیں چلتا۔ تمہارا مطلع مطلع آفتاب ہے۔ میں اپنا پہلا مصرع غزل سے نکال ڈالوں گا۔

شاہ نصیر کا مطلع ہمیشہ پڑھا کرتے تھے اور کہتے تھے نصیرؔ تخلص نہ ہوتا تو یہ مطلع نصیب نہ ہوتا۔

خیال زلفِ دوتا میں نصیر پیٹا کر

گیا ہے سانپ نِکل اب لکیر پیٹا کر

ایک دن کسی سوداگر کی کوٹھی میں گئے۔ سوداگر بچّہ کہ دولتِ حسن کا بھی سرمایہ دار تھا، سامنے لیٹا تھا مگر کچھ سوتا کچھ جاگتا تھا، آپ نے دیکھ کر فرمایا۔

مصرعہ : ہے چشم نیم باز عجب خواب ناز ہے

یہ مصرع تو ہو گیا مگر دوسرا مصرع جیسا جی چاہتا تھا ویسا نہ ہوتا تھا۔ گھر آئے اسی فکر میں غرق تھے کہ خواجہ وزیر آ گئے، انھوں نے خاموشی کا سبب پوچھا، شیخ صاحب نے بیان فرمایا، اتفاق ہے کہ اُن کی طبیعت لڑ گئی۔

ہے چشم نیم باز عجب خواب ناز ہے

فتنہ تو سو رہا ہے در فتنہ باز ہے

شیخ صاحب بہت خوش ہوئے۔

ایک دن وزیر اپنے شاہِ سخن کی خدمت میں حاضر ہوئے، مزاج پُرسی فرما کر عنایت و محبّت کی باتیں کرنے لگے اور کہا کہ آج کل کچھ فکر کیا؟ عرض کی کہ درود وظیفہ سے فرصت نہیں ہوئی، آپ نے پھر ارشاد فرمایا، انھوں نے یہ مطلع پڑھا۔

وہ زلف لیتی ہے تاب دل و تواں اپنا

اندھیری رات میں لٹتا ہے کارواں اپنا

بہت خوش ہوئے، اس وقت ایک عمدہ تسبیح عقیق البحر کی ہاتھ میں تھی وہ عنایت فرمائی، خواجہ وزیر پر بری عنایت تھی اور قدر و منزلت فرماتے تھے۔ سب شاگردوں میں ان کا نمبر اول تھا، پھر برقؔ، رشک وغیرہ وغیرہ۔ تاریخ کلیات سے معلوم ہوتا ہے کہ آٹھ پہر اسی فکر میں غلطاں و پیچاں رہتے تھے، چنانچہ جن دنوں شاہ اجمل کے دائرہ میں تشریف رکھتے تھے تو وہاں تین گھرانے بابرکت اور صاحب دستگاہ تھے۔ تینوں جگہ سے وقت معمول پر کھانا آتا تھا، ایک خوان بلکہ دسترخوان شاہ ابو المعالی کی سرکار سے آتا تھا۔ اس میں ہر قسم کے امیرانہ اور عمدہ کھانے موجود ہوتے تھے، ایک خوان سید علی جعفر کے ہاں سے آتا تھا کہ شاہ ابو المعالی کی بہن اِن سے منسوب تھیں، ایک خوان شاہ غلام حیدر صاحب کے ہاں سے آتا تھا، اس پر بھی اپنا باورچی خانہ الگ گرم ہوتا تھا، جس چیز کو جی چاہتا تھا پکواتے تھے، دسترخوان پر وہ بھی شامل ہو جاتا تھا، ایک دن باورچی سے خاگینہ کی فرمائش فرمائی تھی، اس میں کوئی سنپولیا گرا ہو گا۔ چونکہ دوبارہ یہ حرکت کی تھی۔ آپ نے تاریخ کہہ دی۔

جاں بلب آمد مرا از غفلتِ طباخ آہ

مے پزد خاگینہ با مار کریہہ از ہرمن

چوں دگر بارہ خطا بنمو و سال عیسوی

گفت دل مارِ سیہ پخت ایں سفینہ از بہر من

۱۸۳۱ء میں معتمد الدولہ آغا میر نے جو سوا لاکھ روپیہ قصیدہ کا صلہ دیا تھا انھوں نے مرزائی صاحب کے حوالہ کر دیا تھا۔ لوگوں نے جانا کہ ان کے گھر ہی میں ہے، چور نے یہ جان کر رات میں نقب لگائی اور ناکام رہ گیا۔ آپ نے فرمایا۔

دزد در خانہ راسخ چو زدہ نقب امشب

نہ زر و سیم نہ بُد مس، خجل آمد بیرون

بہر تاریخ مسیحی چو بریدم سر دزد

ذر دا زخانہ مفلس، خجل امد بیرون

بات بات پر تاریخ کہتے تھے۔ بخار سے صحت پائی تاریخ کہی، رفت تپ توبہ مَن (۱۲۳۵ھ) غسل صحت کیا تو کہا۔ مصرعہ “شود صحت ہمایوں و مبارک” (۱۲۳۵ھ)، ایک موقع پر قتل ہوتے ہوتے بچ گئے۔ کہا۔ “کنم شکرِ خدا” (۱۲۳۵ھ، الہ آباد میں دائرہ کے پھاٹک میں بیٹھے تھے، چھت میں سے سانپ گرا، اس کی تاریخ کہی، مصرعہ “سیہ مار از فلک برمن نفیتاد”)، حریفوں نے نظر بند کروا دیا تو کہا۔ مصرعہ “ہے ہے افسوس خانہ زنداں گردید”۔ جس بزرگ کی سفارش سے چھوٹے، اس کا تاریخی شکریہ کہا۔ مصرعہ ” رہانیدی مراز دستِ گرگے “۔ کسی نے خطوط چُرا لئے تو کہا، مصرعہ “سیاہ ہمچو قلم باد روئے حاسد من۔” پھر چار خط جاتے رہے تاریخ کہی۔ ع “صد حیف تلف چہار نامہ” پیارے شاگرد خواجہ وزیرؔ کا بیا ہوا تو فرمایا۔ ع “شدہ نوشہ وزیر من امروز”، پھر ان کے ہاں لڑکا پیدا ہوا تو صبح کا وقت تھا، فرمایا۔ ع “صبح طالع شد بر آمد آفتاب”۔

لطیفہ : ایک مشاعرہ میں خواجہ صاحب نے مطلع پڑھا۔

سُرمہ منظورِ نظر ٹھہرا ہے چشم یار میں

نیل کا گنڈا پنہا یا مردمِ بیمار میں

شیخ صاحب نے کہا، سبحان اللہ، خواجہ صاحب نے کیا خوب فرمایا ہے۔

یوں نزاکت سے گراں ہے سرمہ چشم یار میں

جس طرح ہو رات بھاری مردم بیمار میں

خواجہ صاحب نے اُٹھ کر سلام کیا اور کہا “جائے استاد خالیست”۔ آزاد کی سمجھ میں نہیں آتا کہ مردم بیمار میں گنڈا کیونکر پہناتے ہیں، گنڈا بیمار کو پنہایا کرتے ہیں۔ اور اس سے زیادہ تعجب شیخ صاحب کے مطلع کا ہے کہ فرماتے ہیں۔

یوں نزاکت سے گراں ہے سُرمہ چشم یار میں

جس  طرح ہو رات بھاری مردم بیمار میں

یہاں بھی مَیں بے معنی ہے، پر ہوؔ تو ٹھیک ہے۔

لطیفہ : ایک مشاعرہ میں ایسے وقت پہونچے کہ جلسہ ختم ہو چکا تھا مگر خواجہ حیدر علی آتشؔ وغیرہ چند شعراء ابھی موجود تھے، یہ جا کر  بیٹھے، تعظیم رسمی اور مزاج پرسی کے بعد کہا کہ جناب خواجہ صاحب مشاعرہ ہو چکا، انھوں نے کہا کہ سب کو آپ کا اشتیاق رہا۔ شیخ صاحب نے یہ مطلع پڑھا :

جو خاص ہیں وہ شریک گروہِ عام نہیں

شمار دانہ تسبیح میں امام نہیں

چونکہ نام بھی امام بخش تھا، اس لئے تمام اہل جلسہ نے نہایت تعریف کی۔ خواجہ صاحب نے یہ مطلع پڑھا۔

یہ بزم وہ ہے کہ لاخیر کا مقام نہیں

ہمارے گنجفہ میں بازئ غلام نہیں

بعض اشخاص کی روایت ہے کہ یہ مطلع آتشؔ کے شاگرد کا ہے، ناسخؔ کے شاگردوں کی طرف سے اس کا جواب ہے اور حقیقت یہ ہے کہ لاجواب ہے۔

جو خاص بندہ ہیں وہ بندہ عوام نہیں

ہزار بار جو یوسف بِکے غلام نہیں

عوام میں یہ روایت اس طرح مشہور ہے مگر دیرینہ سال لوگ جو اس زمانہ کی صحبتوں میں شریک تھے۔ اُن سے یہ تحقیق ہوا کہ پہلا مطلع آتشؔ نے حقیقت میں طالب علی خاں عیشیٰ (طالب علی خاں عیشیؔ ولد علی بخش خاں لکھنؤی ایک عالم فاضل شخص تھے اور کمالات علمی کے ساتھ شعر بھی خوب کہا کرتے تھے مگر شاعری پیشہ نہ تھے۔ دیوان فارسی مع قصائد و دیوان ریختہ، مجموعہ نثر، مثنوی سرد چراغاں اور اکثر اقسام سخن ان کے یادگار ہیں۔ سعادت علی خاں جیسے نکتہ شناس کے سامنے بیٹھ کر انھوں نے فرمائش ہائے شاعرانہ کا سر انجام کیا تھا اور مورد تحسین و آفریں ہوئے تھے۔ خان موصوف خواجہ صاحب کی شاعری کو خاطر میں نہ لاتے تھے۔ اس پر انھوں نے بگڑ کر ان کا ذاتی دھبّہ دکھایا تھا اور مطلع مذکور کہا تھا۔) کے حق میں کہا تھا، یار لوگوں نے صفت مشترک پیدا کر کے شیخ صاحب کے ذمّہ لگا دیا۔

طبع اوّل کی ترویج میں اس کتاب کو دیکھ کر میرے شفیق ولی سید احمد صاحب ڈکشنیری نے کسی کی زبانی بیان کیا کہ شیخ ناسخؔ ایک دن نواب نصیر الدین حیدر کے حضور میں حاضر تھے، حقہ سامنے تھا، فرمایا کہ شیخ صاحب اس پر کچھ کہیے۔ انھوں نے اسی وقت کہا :-

حقّہ جو ہے حضور معلیٰ کے ہاتھ میں

گویا کہ کہکشاں ہے ثریّا کے ہاتھ میں

ناسخؔ یہ سب بجا ہے ولیکن تو عرض کر

بے جان بولتا ہے مسیحا کے ہاتھ میں

بعض احباب کہتے ہیں کہ ظاہر الفاظ میں حقّہ کہکشاں ہے اور ممدوح ثریّا لیکن ایسے ممدوحوں کو چاند سورج بلکہ باعتبار قدر و منزلت کے فلک بھی کہہ دیا، ثریّا سے آج تک کسی نے تشبیہ نہیں دی، شیخ ناسخؔ کلام کی گرمی، شوخی، چُستی اور ترکیب سے دست بردار ہوئے، مگر اُصولِ فن کو نہیں جانے دیا، ان کی طرف یہ قطعہ منسوب کرنا چاند پر داغ لگانا ہے، لیکن چونکہ فی البدیہہ کہا ہے اس لئے اس قدر سخت گیری بھی جائز نہیں۔

ایک غزل شیخ صاحب کی ہے جس کا مطلع ہے :-

دل لیتی ہے وہ زلفِ سیاہ فام ہمارا

بُجھتا ہے چراغ آج سرِ شام ہمارا

وہی مرزائی صاحب جن کے پاس شیخ صاحب کے روپے امانت رہے تھے، ایک امیر شرفائے لکھنؤ میں سے تھے اور شیخ صاحب کے بہت دوست تھے، انھوں نے ایک عمدہ فیروزہ پر آپ کا نام نامی کھدوا کر انگوٹھی بنوا کر دیا۔ اکثر پہنے رہتے تھے، کبھی اُتار کر رکھ بھی دیتے تھے۔ وہ کسی نے چُرا لی یا کھو گئی، اس پر فرمایا۔

ہم سا کوئی گم نام زمانہ میں نہ ہو گا

گم ہو وہ نگیں جس پہ کھُدے نام ہمارا

اس عہد تک لکھنؤ بھی آج کا لکھنؤ نہ تھا، شیخ ابراہیم ذوقؔ کا یہ مطلع جب وہاں پڑھا گیا۔

خبر کر جنگ نوفل کی تو مجنوں اہل ہاموں کو

کبادہ تا صبا کھچوائے شاخ بید مجنوں کو

سب نے اُسے بے معنی کہا۔ شیخ صاحب نے جنگ نوفل کا واقعہ اور کبادہ کھینچنے کی اصطلاح بتائی، پھر سب نے تسلیم کیا، لیکن یہ امر نہ کچھ دلّی والوں کے لیے موجبِ فخر ہے نہ لکھنؤ والوں کے لیے باعثِ رنجش، آخر دلی بھی ایک دن میں شاہجہاں آباد نہیں ہو گئی تھی۔ میر تقی اور مرزا رفیع پیدا ہوتے ہی میرؔ اور سوداؔ نہیں ہو گئے۔ جب کلام کا سِلسلہ یہاں تک پہنچا تو اس قدر کہنا واجب ہے کہ اس عہد تک شعرائے لکھنؤ ان استادوں کے شاگرد تھے۔ جن کا دریائے کمال دلّی کے سرچشمہ سے نکلا تھا۔ اور فصحائے لکھنؤ بھی ہر محاورہ کے لیے دلّی ہی کو فخر سمجھے تھے، کیوں کہ وہ اکثر انہی بزرگوں کے فرزند تھے جنھیں زمانہ کی گردش نے اُڑا کر وہاں پھینک دیا تھا پس شیخ صاحب اور خواجہ حیدر علی آتشؔ کے کمال نے لکھنؤ کو دلّأ کی قید و پابندی سے آزاد کر کے استقلال کی سند دی اور وہی مستند ہوئی، اب جو چاہیں سو کہیں ہم نہیں روک سکتے۔ چنانچہ شیخ صاحب فرماتے ہیں۔

شہسواری کا جو اس چاند کے ٹکڑے کو ہے شوق

چاندنی نام ہے شبدیز کی اندھیاری کا

اے خط اس کے گورے گالوں پر یہ تو نے کیا کیا

چاندنی راتیں یکایک ہو گئیں اندھیاں ریاں

اللہ رے روشنی مرے سینہ کے داغ کی

اندھیاری رات میں نہیں حاجت چراغ کی

نام سنتا ہوں جو میں گور کی اندھیاری کا

دل دھڑکتا ہے جدائی کی شبِ تار نہ ہو

اگرچہ دلّی میں بچے سے بوڑھے تک اندھیری رات کہتے ہیں مگر لکھنؤ والوں کو ٹوکنے کا منھ نہیں، کیوں کہ جس خاک سے ایسے ایسے صاحب کمال اُٹھیں، وہاں کی زبان کود سند ہے، بکاؤلی میں نسیم کہتے ہیں۔ مصرعہ “گھوما مانند نرد گھر گھر۔” دلّی والوں کی زبان سے گھومتا ممکن نہیں، اہل لکھنؤ ملائی کو بالائی کہتے ہیں۔ پینے کا ہو تو تمباکو، پان میں کھانے کا ہو تو تماکو کہتے ہیں، دلی والے پینے کا ہو تو تمباکو، کھانے کا ہو تو زردہ کہتے ہیں۔

یوں تو شیخ صاحب کا ایک زمانہ معتقد ہوا۔ اور سب نے ان کی شاگردی کو فخر سمجھا مگر چند شاگرد بڑے بڑے دیوانوں کے ایک ہوئے۔

(۱)  خواجہ وزیر جو آتشؔ کے شاگرد تھے،  پھر ناسخؔ کے شاگرد ہوئے اور اسی پر فخر کرتے کرتے مر گئے۔ جیسے نازک خیال تھے ویسی ہی زبان پر قدرت رکھتے تھے۔ شیخ صاحب بھی ان کی بڑی خاطر کرتے اور اوّل درجہ کی شفقت مبذول فرماتے تھے۔

(۲)  مرزا محمد رضا خاں برقؔ بعض بعض غزلوں سے اور واجد علی شاہ بادشاہ کی مصاحبت سے مشہور عالم ہوئے ان کا دیوان چھپا ہوا بِکتا ہے۔

(۳)  والا جاہ میر علی اوسط رشکؔ، جن کی طبیعت کی آمد ضخیم اور جسیم دیوانوں میں نہیں سماتی اور شاعری کی سرکار سے تاریخیں کہنے کا ٹھیکہ ملا۔

 (۴)  شیخ امداد علی بحر ہر چند زمانہ نے غریبی کی خاک سے سر اُٹھانے نہیں دیا مگر طبیعت بڑھاپے میں جوانی کی اکڑ تکڑ دکھاتی رہی۔ آخر میں آ کر اقبال نے رفاقت کی، نواب صاحب رام پور کی سرکار میں آ کر چند سال آرام سے بسر ہوئے۔ حقیقت میں وہی ایک شاگرد تھے، جو اب اُستاد کے لیے باعثِ فخر تھے۔

(۵)  سیّد اسمٰعیل حسین منیرؔ شکوہ آبادی کہن سال مشاق تھے، پہلے نواب باندہ کی سرکار میں تھے۔ 1857ٰء کے مفسدہ کے بعد چند روز بہت تکلیف اٹھائی، پھر نواب صاحب رام پور نے قدردانی فرمائی، چند سال عمر کے باقی تھے۔ اچھی طرح بسر کئے اور عالم آخرت کا سفر کیا۔

(۶)  آغا کلب حسین خان نادرؔ سب سے آخیر میں ہیں۔ مگر افراط شوق اور آمد مضامین اور کثرتِ تصانیف اور پابندی اصول میں سب سے اوّل ہیں۔ تمام عمر انھوں نے ڈپٹی کلکٹری کی اور حکومت کے شغلوں میں گرفتار رہے۔ مگر فکر شعر سے کبھی غافل نہ ہوئے۔ جس ضلع میں گئے مشاعرہ کو اپنے ساتھ لیتے گئے۔ شعراء کے ساتھ خواہ سرکاری نوکریوں سے خواہ اپنے پاس سے ہمیشہ سلوک کرتے رہے اور اسی عالم میں یہ بھی کہا۔

لوگ کہتے ہیں کہ فنِ شاعری منحوس ہے

شعر کہتے کہتے میں ڈپٹی کلکٹر ہو گیا

ان کے کئی ضخیم دیوان غزلوں، قصیدوں، سلاموں اور مرثیوں کے ہیں۔ کئی کتابیں اور رسائل ہیں جن سے طالب زبان بہت کچھ فائدے حاصل کر سکتا ہے۔ ایک کتاب فن زراعت میں لکھی، اس میں ہندوستان کے میووں اور ترکاریوں کی مفصل تحقیقات ہے، بسبب دیرینہ سالی کے سرکار سے پنشن لے لی تھی، پھر بھی شاعری کا فرض اسی طرف ادا کئے جاتے تھے، خوش اعتقادی اُن کی قابل رشک تھی۔ یعنی وصیت کی تھی کہ بعد وفات میرے ایک ہاتھ میں سلاموں اور مرثیوں کا دیوان دینا اور دوسرے ہاتھ میں قصائد کا دیوان رکھ دینا جو بزرگان دین کی مدح میں کہے ہیں۔

ان لوگوں نے اور ان کے بعض ہمعصروں نے زبان کے باب میں اکثر قیدیں واجب سمجھیں کہ دلّی کے مستند لوگوں نے بھی ان میں سے بعض بعض باتوں کی رعایت اختیار کی اور بعض میں اختلاف کرتے تھے اور عام لوگ خیال بھی نہ کرتے تھے مگر اصل واضع ان قوانین کے میر علی اوسط رشک تھے۔ چنانچہ کچھ الفاظ نمونے کے طور پر لکھنے ہیں مثلاً فرماتے تھے۔

یہاں، وہاں، بر وزن جاں نہ ہو، بر وزن جہاں ہو، لیکن تعجب یہ ہے کہ شیخ صاحب اور خواجہ صاحب کوئی اس کے پابند نہ تھے۔

پہ                            اور          پر                                             پر کو وجوباً اختیار کیا

رکھا                                       رکھا                 میں                      رکھا                                           ایضاً

تلک                        اور          تک                 میں                      تک                                           “

بٹھانا                                       پنھانا                 میں                      بیٹھانا۔ پہنانا                                  “

کبھو                         اور          کبھی                 میں                      کبھی                                           “

ایجاد اور کلام                            مذکّر                                          (بعض مؤنث کہتے ہیں )                    “

طرز                                      مؤنث                                        مذکّر بولتے ہیں

صُلح ہو گئی                                                                                 صلح ہو گئی

میں، اس بارہ میں غدر سے پہلے دلّی میں نہ بولتے تھے۔ اب سب بولنے لگے، آئے ہے، جائے ہے کی جگہ آتا ہے، جاتا ہے، اب دلّی والے بھی یہی کہنے لگے۔ صورت سے جیسے چودھویں کا چاند، جانے چودھویں کا چاند ہے، فسانہ عجائب میں ہے شعلہ، وغیرہ کو دربا اور صحرا کا قافیہ نہیں باندھتے۔

غزلیات

پونچھتا اشک اگر گوشہ داماں ہوتا

چاک کرتا میں جنوں میں جو گریباں ہوتا

مال ملتا جو فلک سے ضرر جاں ہوتا

سر نہ ہوتا جو میسّر مجھے ساماں ہوتا

منھ کو دامن سے چھپا کر جو وہ رقصاں ہوتا

شعلہ حُسن چراغِ تہِ داماں ہوتا

اپنے ہونٹوں سے جو اک بار لگا لتا وہ

ہے یقیں ساغرِ مے چشمہ حیواں ہوتا

اُسترا منھ پہ جو پھرنے نہیں دیتا ہے بجا

محو دیں دار سے کیونکر خط قراں ہوتا

نازک ایسا ہے وہ کافر وہیں ہوتا بدمست

گذر اس کا جو کبھی زیر مغیلاں ہوتا

سنگِ چقماق بھی بنتا تو مرا ضبط یہ ہے

نہ مری قبر کا پتّھر شرر افشاں ہوتا

ہوں وہ وحشی کہ اگر دشت میں پھرتا شب کو

آگے مشعلچی وہی غول بیاباں ہوتا

نگہتِ کاکلِ پیچاں سے جو دیتے تشبیہ

عطر مجموعے کا ہر جزو پریشاں ہوتا

کی مکافاتِ شب وصل خدا نے ورنہ

کس لئے مجھ پر عذابِ شب ہجراں ہوتا

اپنی صورت کا وہ دیوانہ نہ ہوتا تو کیوں

پاؤں میں سلسلہ گیسوئے پیچاں ہوتا

ایک دم یار کو بوسوں سے نہ ملتی فرصت

گر دہن دیدہ عالم سے نہ پنہاں ہوتا

کیسی پریاں ؟ شہِ جنات کو بھی آٹھ پہر

ہے یہ حسرت کہ سگِ کوچہ جاناں ہوتا

خوں رُلاتا وہیں ناسور بنا کر گردوں

زخم بھی گر مرے تن پر کبھی خنداں ہوتا

اب اجل ایک دن آخر تجھے آنا ہے ولے

آج آتی شب فرقت میں تو احساں ہوتا

کون ہے جو نہیں مرتا ہے تری قامت پر

کیوں نہ ہر سروِ چمن قالب بے جاں ہوتا

کیا قوی ہے یہ دلیل اس کی پری زادی کی

ربط انسان سے کرتا جو وہ انساں ہوتا

اے بتو! ہوتی اگر مہر و محبت تم میں

کوئی کافر بھی نہ واللہ مسلماں ہوتا

حسرتِ دل نہیں دیتا ہے نکلنے ناسخؔ

ہاتھ شل ہوتے میسّر جو گریباں ہوتا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

دم بلبل اسیر کا تن سے نکل گیا

جھونکا نسیم کا جو ہیں سَن سے نِکل گیا

لایا وہ ساتھ غیر کو میرے جنازہ پر

شعلہ سا ایک جیبِ کفن سے نکل گیا

ساقی بغیر شب جو پیا آب آتشیں

شعلہ وہ بن کے میرے دہن سے نکل گیا

اب کی بہار میں یہ ہوا جوش اے جنوں

سارا لہو ہمارے بدن سے نکل گیا

اس رشکِ گل کے جاتے ہی بس آ گئی خزاں

ہر گل بھی ساتھ بو کے  چمن سے نکل گیا

اہلِ زمیں نے کیا سِتم نو کیا کوئی؟

نالہ جو آسمانِ کہن سے نکل گیا

سنسان مثل وادی غربت ہے لکھنؤ

شاید کہ ناسخؔ آج وطن سے نکل گیا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

واعظا مسجد سے اب جاتے ہیں میخانے کو ہم

پھینک کر ظرفِ وضو لیتے ہیں پیمانے کو ہم

کیا مگس بیٹھے بھلا اس شعلہ رُو کے جسم پر

اپنے داغوں سے جلا دیتے ہیں پروانے کو ہم

تیرے آگے کہتے ہیں گل کھول کر بازوئے برگ

گلشنِ عالم سے ہیں تیار اڑ جانے کو ہم

کون کرتا ہے بتوں کے آگے سجدہ زاہدا

سر کو دے دے مار کر توڑینگے بتخانے کو ہم

جب غزالوں کی نظر آ جاتی ہیں چشم سیاہ

دشت میں کرتے ہیں یاد اپنے سیہ خانے کو ہم

بوسہ خال زنخداں سے شفا ہو گی ہمیں

کیا کریں گے اے طبیب اس تیرے بہلانے کو ہم

باندھتے ہیں  اپنے دل میں زلفِ جاناں کا خیال

اس طرح زنجیر پہناتے ہیں دیوانے کو ہم

پنجہ وحشت سے ہوتا ہے گریباں تار تار

دیکھتے ہیں کاکلِ جاناں میں جب شانے کو ہم

عقل کھو دی تھی جو اے ناسخؔ جنونِ عشق نے

آشنا سمجھا کئے اک عمر بیگانے کو ہم

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

چوٹ دل کو جو لگے آہِ رسا پیدا ہو

صدمہ شیشہ کو جو پہونچے تو صدا پیدا ہو

کشتہ تیغ جدائی ہوں یقیں ہے مجھ کو

عضو سے عضو قیامت بھی جدا پیدا ہو

ہم ہیں بیمارِ محبت یہ دُعا مانگتے ہیں

مثل اکسیر نہ دُنیا میں دوا پیدا ہو

کہہ رہا ہے جرسِ قلب بآوازِ بلند

گم ہو رہبر تو ابھی راہِ خدا پیدا ہو

کس کو پہنچا نہیں اے جان ترا فیضِ قدم

سنگ پر کیوں نہ نشانِ کفِ پا پیدا ہو

مل گیا خاک میں پس پس کے حسینوں پر میں

قبر پر بوئیں کوئی چیز حنا پیدا ہو

اشک تھم جائیں جو فرقت میں تو آہیں نکلیں

خشک ہو جائے جو پانی تو ہوا پیدا ہو

یاں کچھ اسباب کے ہم بندے ہی محتاج نہیں

نہ زباں ہو تو کہاں نامِ خدا پیدا ہو

گل تجھے دیکھ کے گلشن میں کہیں عمر دراز

شاخ کے بدلے وہیں دست دعا پیدا ہو

بوسہ مانگا جو دہن کا تو وہ کیا کہنے لگے

تو بھی مانند دہن اب کہیں نا پیدا ہو

نہ سرِ زلف ہلاہل بے درازی تیری

رشتہ طول اہل کا بھی سرا پیدا ہو

کس طرح سچ ہے نہ خورشید کو رجعت ہو جائے

تجھ سا آفاق میں جب ماہِ لقا پیدا ہو

کیا مبارک ہے مرا دشتِ جنوں اے ناسخؔ

بیضہ بوم بھی ٹوٹے تو ہما پیدا ہو

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جو اس پری سے شبِ وصل میں رکاوٹ ہو

مجھے بھی ایک جنازہ ہو یا چھپر کھٹ ہو

محالِ خواب لحد سے ہے گرچہ بیداری

میں چونک اٹھوں اگر اس کے قدم کی آہٹ ہو

نہ میرے پاؤں ہوں زنجیر کے کبھی شاکی

جو اس کے کاکلِ پیچاں کی ہاتھ میں لٹ ہو

کبود رنگ ہے مسّی کا تیرے ہونٹ ہیں لال

ملیں جو دونوں تو پیدا نہ کیوں اُداہٹ ہو

مجال کیا کہ ترے گھر میں پاؤں میں رکھوں

یہ آرزو ہے مرا سر ہو تیری چوکھٹ ہو

ہجوم رکھتے ہیں جانبازیاں ترے آگے

جواریوں کا دوالی کو جیسے جمگھٹ ہو

لپٹ کے یار سے سوتا ہوں مانگتا ہوں دُعا

تمام عمر بسر یارب ایک کروٹ ہو

نسیم آہ کے جھوکے سے کھول دوں دم میں

بھڑا ہوا ترے دروازے کا اگر پٹ ہو

جلاؤ غیروں کو مجھ سے جو گرمیاں کرتے

تمہارے کوچے میں تیار ایک مرگھٹ ہو

نہ لگ چلوں میں یہی اپنے دل میں ٹھانی ہے

تِری طرف سے ہزار اے پری لگاوٹ ہو

وہ منھ چھپاتے ہیں جب تک حجاب سے شبِ وصل

عذارِ صبح سے شب کا نہ دور گھونگھٹ ہو

تری بلائیں مری طرح وہ بھی لیتا ہے

نہ کیونکر آگ میں اسپند کی یہ چٹ پٹ ہو

میں جاں بلب ہوں گلا کاٹو یا گلے سے لگو

جو اس میں آپ کو منظور ہو سو جھٹ پٹ ہو

کرے وہ ذکرِ خدا اے صنم بھلا کس وقت

جسے کہ آٹھ پہر تیرے نام کی رٹ ہو

جو دل کو دیتے ہو ناسخؔ تو کچھ سمجھ کر دو

کہیں یہ مفت میں دیکھو نہ مال تلپٹ ہو

خاک میں مل جائیے ایسا اکھاڑہ چاہیے

لڑکے کُشتی دیو ہستی کو پچھاڑا چاہیے

وہ سہی قد کر کے ورزش خوب زوروں پر چڑھا

کہہ رہا ہے سرو کو جڑ سے اکھاڑا چاہیے

کیوں نہ روئیں پھوٹ کر ہم قصر جاناں کے تلے

دیدہ تر اپنے دریا میں کڑاڑا چاہیے

اور تختوں کی ہماری قبر میں حاجت نہیں

خانہ محبوب کا کوئی کواڑا چاہیے

(دلّی والے کواڑ کہتے ہیں )

ہے شبِ مہتاب فرقت میں تقاضائے جنوں

چادرِ محبوب کو بھی آج پھاڑا چاہیے

انتہائے لاغری سے جب نظر آیا نہ میں

ہنس کے وہ کہنے لگے بستر کو جھاڑا چاہیے

کر چکی ہے تیری رفتار ایک عالم کو خراب

شہرِ خاموشاں کو بھی چل کر اُجاڑا چاہیے

منھ بنائے کیوں ہے قاتل پاس ہے تیغ نگاہ

باغ میں ہنستے ہیں گل تو منھ بگاڑا چاہیے

کوئی سیدھی بات صاحب کی نظر آتی نہیں

آپ کی پوشاک کو کپڑا بھی آڑا چاہیے

تنگ اس وحشت کدہ میں ہوں میں اے جوشِ جنوں

عرش کی سقف محّدب کو لتاڑا چاہیے

آنسوؤں سے ہجر میں برسات رکھیے سال بھر

ہم کو گرمی چاہیے ہرگز نہ جاڑا چاہیے

آج اس محبوب کے دل کو مسخّر کیجیے

عرشِ اعظم پر نشاں نالے کا گاڑا چاہیے

مر گیا ہوں حسرتِ نظارہ ابرو میں مَیں

عین کعبہ میں مرے لاشے کو گاڑا چاہیے

محتسب کو ہو گیا آسیب جو توڑا ہے خم

جوتیوں سے مے کشو جن آج جھاڑا چاہیے

جلد رنگ اے دیدہ خونبار اب تاز نِگاہ

ہے محّرم اس پری پیکر کو ناڑا چاہیے

لڑتے ہیں پریوں سے کشتی پہلوانِ عشق میں

ہم کو ناسخؔ راکپ اندر کا اکھاڑا چاہیے

 

 

مِیر مستحسن۔ خلیقؔ

میر حسن کے صاحبزادے، حُسنِ اخلاق اور اوصاف کی بزرگی میں بزرگوں کے فرزند رشید تھے، متانت، سلامت روی اور مسکینی ان کی سیادت کے لئے محضر شہادت دیتے تھے۔ فیض آباد اور لکھنؤ میں تعلیم و تربیت پائی تھی، 16 برس کی عمر مشقِ سخن شروع کی اور خلق حسن کی مناسبت سے خلیقؔ تخلص اختیار کیا۔ ابتدا میں غزلیں بہت کہتے تھے اور والد بزرگوار سے اصلاح لیتے تھے۔ جب شیخ مصحفیؔ لکھنؤ میں پہونچے تو میر حسنؔ ان دنوں بدر منیر لکھ رہے تھے، اور میر خلیق کی آمد کا یہ عالم کہ مارے غزلوں کے دم نہ لیتے تھے، شفیق باپ کو اپنے فکر سے فرصت نہ دیتے تھے۔ بیٹے کو ساتھ لے گئے اپنی کم فرصتی کا حال بیان کیا اور اصلاح کے لئے شیخ موصوف کے سپرد کر دیا، ہونہار جوان کی جوان طبیعت نے رنگ نکالا تھا کہ قدردانی نے اس کا ہاتھ پکڑا اور نیشا پوری خاندان میں پندرہ روپیہ مہینے کا نوکر رکھوا دیا۔ انہی دنوں میں مرزا تقی ترقی (مرزا تقی ترقی خاندان مذکور میں ایک عالی ہمت امیر تھے اور سرکار اودھ میں جاگیردار تھے۔) نے چاہا کہ فیض آباد میں شعر و سخن کا چریا ہو۔ مشاعرہ قائم کیا اور خواجہ حیدر علی آتش کو لکھنؤ سے بلایا، تجویز یہ تھی کہ انھیں وہیں رکھیں۔ پہلے  ہی جلسہ میں جو میر خلیقؔ نے غزل پڑھی۔ اُس کا مطلع تھا۔

رشکِ آئینہ ہے اس رشکِ قمر کا پہلو

صاف ادھر سے نظر آتا ہے اُدھر کا پہلو

آتش نے اپنی غزل پھاڑ ڈالی اور کہا کہ جب ایسا شخص یہاں موجود ہے تو میری کیا ضرورت ہے۔

میر خلیقؔ نازک خیالیوں میں ذہن لڑا رہے تھے کہ باپ کی موت نے شیشہ پر پتھر مارا، عیال کا بوجھ پہاڑ ہو کر سر پر گرا، جس نے آمد کے چشمے خاک ریز کر دیئے۔ مگر ہمّت کی پیشانی پر ذرا بل نہ آیا۔ اکثر فیض آباد میں رہتے تھے، لکھنؤ آتے تھے تو پیر بخارا میں ٹھہرا کرتے تھے۔ پر گوئی کا یہ حال تھا کہ مثلاً ایک لڑکا آیا۔ اس نے کہا میر صاحب! آٹھوں کا میلہ ہے ہم جائیں گے ایک غزل کہہ دیجیے۔ اچھا بھئی کہہ دیں گے، میر صاحب! میلہ تو کل ہے، ہم کل جائیں گے ابھی کہہ دیجیے۔ اسی وقت غزل لکھ دی، اس نے کہا، یاد بھی کرا دیجیے۔ میر صاحب اسے یاد کروا رہے ہیں، اُن دنوں میں غزلیں بِکا کرتی تھیں۔ میاں مصحفیؔ تک اپنا کلام بیچتے تھے، یہ بھی غزلیں کہہ کر فروخت کرتے تھے۔

ایک دن ایک خریدار آیا اور اپنا تخلص ڈلوا کر شیخ ناسخؔ کے پاس پہونچا کہ اصلاح دے دیجیے۔ شیخ صاحب نے غزل پڑھ کر اس کی طرف دیکھا اور بگڑ کر کہا، ابے تیرا منھ ہے جو یہ غزل کہے گا،  ہم زبان پہچانتے ہیں۔ یہ وہی پیر بخارا والا ہے۔

میر خلیقؔ صاحبِ دیوان تھے۔ مگر اُسے رواج نہیں دیا۔ نقد سخن اور سرمایہ مضامین جو بزرگوں ے ورثہ پہونچا تھا اُسے زاد آخرت میں صرف کیا اور ہمیشہ مرثیے کہتے رہے، اسی میں نام اور زمانہ کا کام چلتا رہا۔آپ ہی کہتے تھے اور آپ ہی مجلسوں میں پڑہتے تھے۔ قدر دان آنکھوں سے لگا لگا کر لے جاتے تھے۔

سید انشاء دریائے لطافت میں جہاں شرفائے دہلی کے رسوم و رواج بیان کرتے ہیں، وہاں کہتے ہیں کہ مرثیہ خوانی کے پیشہ کو لوگ کم نظر سے دیکھتے ہیں۔اور غور سے دیکھو تو اب بھی یہی حال ہے۔ مرثیہ گوئی کی یہ صورت رہی کہ سوداؔ اور میرؔ کے زمانے میں میاں سکندرؔ، میاں گداؔ، میاں مسکینؔ، افسردہؔ وغیرہ مرثیے کہتے تھے، تصنیفات مذکورہ کو دیکھو تو فقط تبرک ہیں، کیونکہ اِن بزرگوں کو نظم مذکور سے فقط گریہ و بکا اور حصولِ ثواب مقصود تھا، اور اس میں شک نہیں کہ وہ نیک نیت لوگ حُسنِ تاثیر سے اپنے مقصد میں کامیاب تھے، شاعری اور صنائع انشاء پردازی سے کچھ غرض نہ تھی۔ میر خلیقؔ اور اس عہد کے چند اشخاص تھے، جنھوں نے کدورت ہائے مذکورہ کو دھو کر مرثیوں کو ایسا چمکا دیا کہ جس نظر سے اساتذہ شعراء کے کلام دیکھے جاتے تھے، اسی نظر سے لوگ انھیں بھی دیکھنے لگے اور پہلے مرثیے سُوز میں پڑھے جاتے تھے۔ پھر تحت لفظ بھی پڑہنے لگے۔

مرثیہ گو اور مرثیہ خوانی کے میدان میں جو ہوا بدلی وہ میر خلیقؔ کے زمانہ سے بدلی۔ پہلے اکثر جو مصرع ہوتے تھے، ہر  چار مصرعے کے بعد قافیہ وہ انداز موقوف ہوا، ایک سلام غزل کے انداز میں اور مرثیہ کے لئے مسّدس کا طریقہ آئین ہو گیا، وہ سوز اور تحت لفظ دونوں طرح سے پڑھا جاتا تھا، اور جو کچھ اَوّل مستزاد کے اُصول پر کہتے تھے وہ نوحہ کہلاتا تھا، اُسے سوز ہی میں پڑہتے تھے اور یہی طریقہ اب تک جاری ہے، میر موصوف اور ان کے بعض ہم عہد سلام یا مرثیے وغیرہ کہتے تھے، ان میں مصائب اور ماجرائے شہادت ساتھ اس کے فضائل اور معجزات کی روایتیں اس سلاست اور سادگی اور صفائی کے ساتھ نظم کرتے تھے کہ واقعات کی صورت سامنے تصویر ہو جاتی تھی اور دل کا درد آنکھوں سے آنسو ہو کر ٹپک پڑتا۔

اس زمانہ میں میر ضمیر ایک مرثیہ گو اور مرثیہ خواں تھے کہ طبع شعر کے ساتھ عربی، فارسی وغیرہ علوم رسمی میں استعداد کامل رکھتے تھے، اور نہایت متقی و پرہیز گار شخص تھے، تعجب یہ ہے کہ ساتھ اس کے طبیعت میں شوخی اور ظرافت بھی اتنی رکھتے تھے گویا سوداؔ کی روح نے حلول کیا۔ انھوں نے بھی اپنی دنیا کو آخرت کے ہاتھ بیچ ڈالا تھا اور غزل وغیرہ سے دست بردار ہو گئے تھے، لوگوں نے ان دونوں بزرگوں کو نقطہ مقابل کر کے تعریفیں شروع کر دیں۔ طبیعتیں ایک دوسرے کی چوٹ پر زور آزمائی کر کے نئے نئے ایجاد پیدا کرنے لگیں۔

مرثیہ اس وقت تک 30 سے 45 حد، 50 بند تک ہوتا تھا، میر ضمیر مرحوم نے ایک مرثیہ لکھا۔ مصرعہ : “کس نور کی مجلس میں مری جلوہ گری ہے ” اس  میں شہزاد علی اکبر کی شہادت کا بیان ہے، پہلے ایک تمہید سے مرثیہ کا چہرہ باندھا پھر سراپا لکھا۔ پھر میدانِ جنگ کا نقشہ دکھایا اور بیان شہادت پر خاتمہ کر دیا چونکہ پہلا ایجاد تھا۔ اس لئے تعریف کی آوازیں دُور دُور تک پہنچیں، تمام شہر میں شہرہ ہو گیا، اور اطراف سے طلب میں فرمائشیں آئیں۔ یہ ایجاد مرثیہ گوئی کے عالم میں انقلاب تھا کہ پہلی روش متروک ہو گئی، باوجودیکہ انھوں نے مقطع میں کہہ دیا تھا۔

دس میں کہوں سو (۱۰۰) میں کہوں یہ درد ہے میرا

اس طرز میں جو کہوے سو شاگرد ہے میرا

پھر بھی سب اس کی پیروی کرنے لگے، یہاں تک پہلے امانت نے پھر اور شاعروں نے واسوخت میں سراپا کو داخل کیا۔

عہد مذکور میں چار مرثیہ گو نامی تھے۔ میر ضمیر، میر خلیقؔ، میاں دلگیر (میاں دلگیر شیخ ناسخ کے شاگرد تھے، مرزا فصیح میاں دلگر سے اور شیخ ناسخ سے )، میاں فصیح، میاں دلگیر کی زبان میں لکنت تھی، اس لئے مرثیہ خوانی نہ کرتے تھے، تصنیف میں بھی انھوں نے مرثیت کے دائرہ سے قدم نہیں بڑھایا۔ مرزا فصیحؔ حج و زیارات کو گئے اور وہیں سکونت پذیر ہوئے۔ میر ضمیرؔ اور میر خلیقؔ کے لئے میدان خالی رہا کہ جولانیاں دکھائیں دُنیا کے تماشائی جنہیں تیر طبیعتوں کے اڑانے میں مزا آتا ہے، دونوں اُستادوں کو تعریفیں کر کے لڑاتے تھے اور دل بہلاتے تھے اور اس سے اُن کے ذہن کو کمال کی ورزش اور اپنے دلوں کو چاشنی ذوق کی لذت دیتے تھے۔

اظہار کمال میں دونوں اُستادوں کی رفتار الگ الگ تھی۔ کیونکہ میر ضمیرؔ استعداد علمی اور زور طبع کے بازوؤں سے بہت بلند پرواز کرتے تھے اور پورے اترتے تھے۔ میر خلیقؔ مرثیت کے کوچہ سے اتفاقاً ہی قدم آگے بڑھاتے تھے، وہ مضمون آفرینی کی ہوس کم کرتے تھے اور ہمیشہ محاورہ اور لطف زبان کو خیالات درد انگیز کے ساتھ ترکیب دے کر مطلب حاصل کرتے تھے، اور یہ جوہر اس آئینہ کا کافی اور خاندانی وصف تھا، ان کا کلام بہ نسبت سبحان اللہ واہ واہ کے نالہ و آہ کا زیادہ طلبگار تھا، لڑنے والے ہر وقت اپنے کام میں مصروف تھے۔ مگر دونوں صاحب اخلاق اور سلامت روی کے قانون داں تھے، کبھی ایک جلسہ میں جمع نہ ہوتے تھے۔

آخر ایک شوقین نیک نیت نے روپیہ کے زور اور حکمت عملی کی مدد سے قانون کو توڑا، وہ بھی فقط ایک دفعہ، صورت یہ کہ نواب شرف الدولہ مرحوم نے ھ اپنے مکان پر مجلس قرار دے کر سب خاص و عام کو اطلاع دی اور مجلس سے ایک دن پہلے میر ضمیرؔ مرحوم کے مکان پر گئے۔ گفتگوئے معمولی کے بعد پانچ سو روپیہ کا توڑا سامنے رکھ دیا۔ اور کہا کہ “کل مجلس ہے مرثیہ آپ پڑھیے گا۔” بعد اس کے میر خلیقؔ کے ہاں گئے، اُن سے بھی وہی مضمون ادا کیا اور ایک دوسرے کے حال سے آگاہ نہ کیا۔ لکھنؤ شہر میں روز معین پر ہزاروں آدمی جمع ہوئے، ایک بچے کے بعد میر ضمیر منبر پر تشریف لے گئے اور مرثیہ پڑھنا شروع کیا، ان کا پڑھنا سبحان اللہ، مرثیہ نظم اور اس پر نثر کے حاشیے، کبھی رُلاتے تھے اور کبھی تحسین و آفرین کا غل مچواتے تھے کہ میر خلیقؔ بھی پہونچے اور حالت موجودہ دیکھ کر حیران رہ گئے اور دل میں کہا کہ آج کی شرم بھی خدا کے ہاتھ ہے۔ میر ضمیرؔ نے جب انھیں دیکھا تو زیادہ پھیلے اور مرثیہ کو اتنا طول دیا کہ آنکھوں میں آنسو اور لبوں پر تحسین بلکہ وقت میں گنجائش بھی نہ چھوڑی، آفتاب یوں ہی سا جھلکتا رہ گیا۔وہ  ابھی منبر سے اُترے ہی تھے کہ چوبدار ان کے پاس آیا اور کہا کہ نواب صاحب فرماتے ہیں، آپ بھی حاضرین کو داخل حسنات فرمائیں۔ اس وقت ان کے طرفداروں کی بالکل صلاح نہ تھی۔ مگر یہ توکّل بخدا کھڑے ہوئے اور منبر پر جا کر بیٹھے، چند ساعت توقف کیا۔ آنکھیں بند کئے خاموش بیٹھے رہے، ان کی گوری رنگت، جسم نحیف و ناتواں نہیں معلوم ہوتا تھا کہ بدن میں لہو کی بوند ہے یا نہیں۔ جب انھوں نے رباعی پڑھی تو اہل مجلس کو پوری آواز بھی نہیں سنائی دی۔ مرثیے کے چند بند بھی اس حالت میں گزر گئے۔ دفعتہً  باکمال نے رنگ بدلا اور اس کے ساتھ ہی محفل کا بھی رنگ بدلا، آہوں کا دھواں ابر کی طرح چھا گیا اور نالہ و زاری نے آنسو برسانے شروع کئے۔ 15، 20 بند پڑھے تھے کہ ایک کو دوسرے کا ہوش نہ رہا، 25 یا 40 بند پڑھ کر اُتر آئے۔ اہل مجلس اکثر ایسی حالت میں تھے کہ جب آنکھ اُٹھا کر دیکھا تو منبر خالی تھا۔ نہ معلوم ہوا کہ میر خلیقؔ صاحب کس وقت منبر سے اُتر آئے۔ دونوں کے کمال پر صاد ہوا اور طرفین کے طرفدار سرخرو گھروں کو پھرے۔

روایت مندرجہ بالا میر مہدی حسن فراغؔ کی زبانی سنی تھی لیکن میر علی حسنؔ اشکؔ  تخلص کہ میر عماد خوشنویس کی اولاد میں ہیں، خود ناسخؔ کے شاگرد اور صاحب دیوان ہیں۔ ان کے والد جنتیؔ تخلص فقط مرثیہ کہتے تھے اور میاں دلگیرؔ کے شاگرد تھے۔ میر اشک اب بھی حیدر آباد میں بزمرہ منصب داران ملازم ہیں، ان کی زبانی مولوی شریف حسین خاں صاحب نے بیان کیا کہ لکھنؤ میں ایک غریب خوش اعتقاد شخص بڑے شوق سے مجلس کیا کرتا تھا اور اسی رعایت سے ہر ایک نامی مرثیہ خواں اور لکھنؤ کے خاص و عام اس کے ہاں حاضر ہوتے تھے۔ یہ معرکہ اس کے مکان پر ہوا تھا، اور میر ضمیرؔ کے اشارے سے ہوا تھا۔ میر اشک فرماتے تھے کہ میر خلیق نے اپنے والد کے بعد چند روز بہت سختی سے زندگی بسر کی۔ عیال فیض آباد میں تھے، آصف الّدولہ لکھنؤ میں ان کے سبب سے تمام اُمراء یہیں رہنے لگے۔ میر موصوف لکھنؤ میں آتے تھے، سال بھر میں تین چار سو روپے حاصل کر کے لے  جاتا تھا، اور جو کچھ اَوّل مشجاتے تھے اور پرورش عیال میں صرف کرتے تھے، صورت حال یہ تھی کہ مرثیوں کا جزدان بغل میں لے لیا اور لکھنؤ چلے آئے، یہاں ایک ٹوٹی پھوٹی عمارت خالی پڑی رہتی تھی۔ اس میں آ کر اترتے تھے۔ ایک دفعہ وہ آئے، بستر رکھ کر آگ سلگائی تھی، آٹا گوندھ رہے تھے کہ شخص مذکور ہاتھ جوڑ کر سامنے آ کھڑا ہوا۔ اور کہا کہ حضور! مجلس تیار ہے۔ میری خوش نصیبی سے آپ کا تشریف لانا ہوا ہے چل کر مرثیہ پڑھ دیجیے۔ یہ اسی وقت اُٹھ کھڑے ہوئے اور ہاتھ دھو جزدان لے اس کے ساتھ ہو لئے، وہاں جا کر دیکھا تو میر ضمیرؔ،منبر پر بیٹھے ہوئے ہیں۔ وہیں یہ واقع ہوا اور اسی دن سے میر خلیقؔ نے مرثیہ خوانی میں شہرت پائی۔

میر خلیقؔ کے کلام کا اندازہ اور خوبی محاورہ اور لطف زبان یہی سمجھ لو جو آج میر انیسؔ کے مرثیوں میں دیکھتے ہو، فرق اتنا ہے کہ ان کے ہاں مرثیت اور صورت حال کا بیان درد انگیز تھا۔ ان کے مرثیوں میں تمہیدیں اور سامان اور سخن پردازی بہت بڑھی ہوئی ہے۔اُن کے ادائے کلام اور پڑھنے کی خوبی دیکھنے اور سننے کے قابل تھی۔ اعضا کی حرکت سے بالکل کام نہ لیتے تھے۔ فقط نشست کا انداز اور آنکھ کی گردش تھی۔ اسی میں سب کچھ ختم کر دیتے تھے، میر انیسؔ مرحوم کو بھی میں نے پڑھتے ہوئے دیکھا کہیں اتفاقاً ہی ہاتھ اُٹھ جاتا تھا، یا گردن کی ایک جنبش یا آنکھ کی گردش تھی کہ کام کر جاتی تھی، ورنہ کلام ہی سارے مطالب کے حق پورے پورے ادا کر دیتا تھا۔

میر خلیقؔ نے اپنے بڑھاپے کے سبب سے، اخیر عمر میں مرثیہ پڑھنا چھوڑ دیا تھا۔ شعراء شاگردان الہی ہیں، ان کی طبیعت میں غیر اور جوش اوروں سے بہت زیادہ بلند ہوتا ہے، میر انیسؔ کی مرثیہ خوانی مشرق سے طلوع ہونے لگی تھی، جب کوئی آ کر تعریف کرتا کہ آج فلاں مجلس میں کیا خوب پڑھے ہیں، یا فلاں نواب کے ہاں تمام مجلس کو لٹا دیا، تو انھیں خوش نہ آتا تھا، کئی دفعہ ایسا ہوا کہ اسی عالم ناتوانی میں منبر پر جا بیٹھے، اور مرثیہ پڑھا، اس سے مطلب یہ تھا کہ اس گئی گزری حالت میں بھی ہمیں درماندہ نہ سمجھنا۔

میر خلیق صاحب نے پیرانہ سالی کی تکلیف اُٹھا کر دُنیا سے انتقال کیا۔ میں ان دنوں خورد سال تھا۔ مگر اچھی طرح یاد ہے، جب ان کا کلام دلّی میں پہنچا وہ سالِ اخیر کی تصنیف تھا۔

مجرائی طبع کند ہے، لطفِ بیاں گیا

دنداں گئے کہ جوہرِ تیغ زباں گیا

ایک دو شعر ضعف پیری کی شکایت میں اور بھی تھے اور مقطع تھا۔

گزری بہار عمر خلیقؔ اب کہیں گے سب

باغ جہاں سے بلبلِ ہندوستاں گیا

اخیر عمر میں ضعف کے سبب سے مرثیہ نہ پڑھتے تھے، لیکن قدرتی شاعر کی زبان کب بند رہتی ہے، بی بی کے مرنے سے گھر کا دروازہ بند کر دیا تھا، تین صاحبزادے تھے،  انیسؔ، مونسؔ، اُنس، میر خلیق ہمیشہ دورہ میں رہتے تنھے۔ دس دس، پندرہ پندرہ دن ہر ایک کے ہاں بسر کر دیتے تھے کہیں جاتے آتے بھی نہ تھے۔ پلنگ پر بیٹھے رہتے تھے اور لکھے جاتے تھے، کوئی شگفتہ زمین خیال میں آئی، اس میں سلام کہنے لگے، دل لگ گیا تو پورا کیا، نہیں تو چند شعر کہے اور چھوڑ دیئے، کوئی تمہید سو بھی، مرثیہ کا چہرہ باندھا، جتنا ہوا اُتناہوا، جو رہ گیا، کوئی روایت نظم کرنی شروع کر دی۔ گھوڑے کا مضمون خیال میں آیا وہی کہتے چلے گئے، کبھی طبیعت لڑ گئی تلوار کی تعریف کرنے لگے، وغیرہ وغیرہ، یہ بھی قاعدہ تھا کہ جو کچھ جس کے گھرمیں کہتے تھے وہ اسی کے گھر چھوڑ کر پہلے آتے تھے، یہ سرمایہ میر انیسؔ کے پاس سب سے زیادہ رہا کہ ان کے گھر میں زیادہ رہتے تھے کیونکہ ان کی بی بی کھانوں اور آرام و آسائش کے سامانوں سے اپنے ضعیف العمر بزرگ کو بہت اچھی طرح رکھتی تھیں۔

ان کی بلکہ ان کے گھرانے کی زبان محاورہ کے لحاظ سے سب کے نزدیک سندھی تھی، شیخ ناسخؔ کی منصفی اور حق پرستی پر رحمت و آفریں کے سہرے چڑھائیے، اپنے شاگردوں کو کہا کرتے تھے کہ بھئی زبان سیکھنی ہے تو میر خلیقؔ کے ہاں جایا کرو، اور اس کے علاوہ بھی اُن کے کمال کو فروغ دیتے رہتے تھے اور کہا کرتے تھے کہ تینوں بیٹے ہونہار ہیں۔ دیکھنا خوب ہوں گے، میر خلیقؔ محاورے کے اس قدر پابند تھے کہ ان کے محضر کمال پر بجائے مُہر کے بعض لوگوں نے کم علمی کا داغ لگایا۔ انھوں نے شہزادہ علی اصغر کے حال میں ایک جگہ لکھا کہ عالم بے آبی میں پیاس کی شدّت سے غش آ گیا، آنکھ کھولی تو مادر مقدسہ نے، مصرعہ “لیلاف پڑھی اور اسے دودھ پلایا” حریف آٹھ پہر تاک میں تھے، کسی نے یہ مصرع ناسخؔ کے سامنے جا کر پڑھا۔ انھوں نے کہا کہ نہیں، یوں کہا ہو گا۔ مصرعہ “پڑھ  پڑھ کے لایلاف اُسے دودھ پلایا۔”

میر انیسؔ فرماتے تھے کہ والد میرے گھر میں تشریف رکھتے تھے۔ میں ایک مرثیہ میں وہ روایت نظم کر رہا تھا کہ جناب امام حسین علیہ السلام عالمِ طفولیت میں سواری کے لئے ضد کر رہے تھے، جناب آنحضرت تشریف لائے اور فرطِ شفقت سے خود جھک گئے کہ آؤ سوار ہو جاؤ۔ تاکہ پیارے نواسے کا دل آزردہ نہ ہو، اس موقع پر ٹیپ کا دوسرا مصرعہ کہہ لیا تھا۔ اچھا سوار ہو جیئے ہم اونٹ بنتے ہیں۔ پہلے مصرعہ کے لئے اُلٹ پلٹ کرتا تھا، جیسا کہ دل چاہتا تھا ویسا برجستہ نہ بیٹھتا تھا، والد نے مجھے غور میں غرق دیکھ کر پوچھا، کیا سوچ رہے ہو؟ میں نے مضمون بیان کیا اور مصرعے جو خیال میں آئے تھے پڑھے، فرمایا یہ مصرع لگا دو (ذرا زبان کی لطافت تو دیکھو)۔

جب آپ روٹھتے ہیں تو مشکل سے منتے ہیں

اچھا سوار ہو جئے ہم اُونٹ بنتے ہیں

افسوس کہ ان کی کوئی پوری غزل ہاتھ نہ آئی، دو شعر یاد ہیں وہی  لکھ دیتا ہوں۔

اشک جو چشم خوں فشاں سے گرا

تھا ستارہ کہ آسماں سے گرا

ہنس دیا یار نے جو رات خلیقؔ

کھا کے ٹھوکر اس آستاں سے گرا

*******************************************

 

 

خواجہ حیدر علی آتشؔ

آتشؔ تخلص، خواجہ حیدر علی نام، باپ دلّی کے رہنے والے تھے۔ لکھنؤ میں جا کر سکونت اختیار کی، خواجہ زادوں کا خاندان تھا، جس میں مسند فقیری بھی قائم تھی اور سلسلہ پیری مریدی کا بھی تھا۔ مگر شاعری اختیار کی اور خاندانی طریقہ کو سلام کر کے اس میں فقط آزادی و بے پروائی کو رفاقت میں لیا۔ مصحفیؔ کے شاگرد تھے اور حق یہ ہے کہ ان کی آتش بیانی نے استاد کے نام کو روشن کیا۔ بلکہ کلام کی گرمی اور چمک کی دمک نے اُستاد شاگرد کے کلام میں اندھیرے اُجالے کا امتیاز دکھایا۔

خواجہ صاحب کی ابتدائی عمر تھی اور استعداد علمی تکمیل کو نہ پہونچی تھی کہ طبیعت مشاعروں میں کمال دکھانے لگی۔ اس وقت دوستوں کی تاکید سے درسی کتابیں دیکھیں، باوجود اس کے عربی میں کافیہ کو کافی سمجھ کر آگے پڑھنا فضول سمجھا، مشق سے کلام کو قوت دیتے رہے یہاں تک کہ اپنے زمانہ میں مسلم الثبوت استاد ہو گئے اور سینکڑوں شاگرد دامنِ تربیت میں پرورش پا کر استاد کہلائے۔

چھریرہ بدن، کشیدہ قامت، سیدھے سادے بھولے بھالے آدمی تھے۔ سپاہیانہ رندانہ اور آزادانہ وضع رکھتے تھے اور اس لئے کہ خاندان کا تمغہ بھی قائم رہے، کچھ رنگ فقیری کا بھی تھا، ساتھ اس کے بڑھاپے تک تلوار باندھ کر سپاہیانہ بانکپن نباہے جاتے تھے۔ سر پر ایک زلف اور کبھی حیدری چٹیا کہ یہ بھی محمد شاہی بانکوں کا سکّہ ہے، اسی میں ایک طرّہ سبزی کا بھی لگائے رہتے تھے اور بے تکلفانہ رہتے تے اور ایک بانکی ٹوپی بھوں پر دھرے جدھر چاہتے تھے، چلے جاتے تھے۔ معالی خاں کی سرا میں ایک پُرانا سا مکان تھا، وہاں سکونت تھی۔ اس محّلے کے ایک طرف ان کے دل بہلانے کا جنگل تھا، بلکہ ویرانوں اور شہر کے باہر جنگلوں میں اکثر پھرتے رہتے تھے۔ اسی (80) روپیہ مہینہ بادشاہ لکھنؤ کے ہاں سے ملتا تھا، پندرہ روپے گھر میں دیتے تھے، باقی غربا اور اہل ضرورت کو کھلا پلا کر مہینے سے پہلے ہی فیصلہ کر دیتے تھے۔ پھر توکل پر گزارہ تھا۔ مگر شاگردوں یا مرائے شہر میں سے کوئی سلوک کرتا تھا تو اس سے انکار نہ تھا۔ باوجود اس کے ایک گھوڑا بھی ضرور بندھا رہتا تھا، اسی عالم میں کبھی آسودہ حال رہتے تھے، کبھی ایک آدھ فاقہ بھی گزر جاتا تھا، جب شاگردوں کو خبر ہوتی ہر ایک کچھ نہ کچھ لے کر حاضر ہوتا اور کہتا کہ آپ ہم کو اپنا نہیں سمجھتے کہ کبھی اظہار حال نہیں فرماتے۔ جواب میں کہتے کہ تم لوگوں نے کھِلا کھِلا کر ہمارے نفسِ حریص کو فربہ کر دیا ہے، میر دوست علی خلیلؔ کو یہ سعادت اکثر نصیب ہوتی تھی، فقیر محمد خاں گویا خواجہ وزیر یعنی شیخ صاحب کے شاگرد کے شاگرد تھے مگر پچیس روپیہ مہینہ دیتے تھے، سید محمد خاں رندؔ کی طرف سے بھی معمولی نذرانہ پہنچتا تھا۔

زمانہ نے ان کی تصاویر مضمون کی قدر ہی نہیں بلکہ پرستش کی، مگر انھوں نے اس کی جاہ و حشمت سے ظاہر آرائی نہ چاہی۔ نہ امیروں کے درباروں میں جا کر غزلیں سنائیں نہ ان کی تعریفوں میں قصیدے کہے۔ ایک ٹوٹے پھوٹے مکان میں جس پر کچھ چھت کچھ چھپّر سایہ کئے تھے۔ بوریا بچھا رہتا تھا اسی پر ایک لنگ باندھے صبر و قناعت کے ساتھ بیٹھے رہے اور عمر چند روزہ کو اس طرح گزرا دیا جیسے کوئی بے نمازی و بے پروا فقیر تکیہ میں بیٹھا ہوتا ہے، کوئی متوسط الحال اشراف یا کوئی غریب آتا تو متوجہ ہو کر باتیں بھی کرتے تھے۔ امیر آتا تو دھتکار دیتے تھے۔ وہ سلام کر کے کھڑا رہتا کہ آپ فرمائیں تو بیٹھے۔ یہ کہتے ہوں، کیوں صاحب! بوریے کو دیکھتے ہو کپڑے خراب ہو جائیں گے۔ یہ فقیر کا تکیہ ہے، یہاں مسند تکیہ کہاں اور یہ حالت شیخ صاحب کی شان و شکوہ کے بالکل برخلاف ہے۔ نتیجہ اس کا یہ ہوا کہ عالم میں مقبول خلائق ہوئے۔ علم والے شاعروں سے پہلو بہ پہلو رہے امیر سے غریب تک اسی فقیرانہ تکیہ میں آ کر سلام کر گئے۔

اے ہما پیش فقیری سلطنت کیا مال ہے

بادشاہ آتے ہیں پابوس گدا کے واسطے

1263ھ میں ایک دن بھلے چنگے بیٹھے تھے۔ یکایک ایسا موت کا جھونکا آیا کہ شعلہ کی طرح بُجھ کر رہ گئے، آتشؔ کے گھر میں راکھ کے ڈھیر کے سوا اور کیا ہونا تھا، میر دوست علی خلیلؔ نے تجہیز و تکفین کی اور رسوم ماتم بھی بہت اچھی طرح ادا کیں، بی بی اور ایک لڑکا لڑکی خورد سال تھے۔ ان کی بھی سرپرستی وہی کرتے رہے۔ میر اوسط علی رشکؔ نے تاریخ کہی۔

مصرعہ : “خواجہ حیدر علی اے وائے مُردند”

تمام عمر کی کمائی جسے حیات جاودانی کا مول کہنا چاہیے۔ ایک دیوان غزلوں کا ہے جو ان کے سامنے رائج ہو گیا تھا، دوسرا تتمہ ہے کہ پیچھے مرتب ہوا جو کلام ان کا ہے حقیقت میں محاورہ اردو کا دستور العمل ہے اور انشاء پردازی ہند کا اعلیٰ نمونہ، شرفائے لکھنؤ کی بول چال کا انداز اس سے معلوم ہوتا ہے جس طرح لوگ باتیں کرتے ہیں، اِسی طرح انھوں نے شعر کہہ دیئے ہیں، اُن کے کلام نے پسند خاص اور قبول عام کی سند حاصل کی اور نہ فقط اپنے شاگردوں میں بلکہ بے غرض اہل انصاف کے نزدیک بھی مقبول اور قابل تعریف ہوئے۔ دلیل اس کی اس سے زیادہ نہیں ہو سکتی کہ بار بار چھپ جاتا ہے اور بِک جاتا ہے۔ اہل سخن کے جلسوں میں پڑھا جاتا ہے اور عاشقانہ غزلیں موسیقی کی تاثیر کو چمکا کر محفلوں کو گرماتی ہیں۔

وہ شیخ امام بخش ناسخؔ کے ہمعصر تھے۔ مشاعروں میں اور گھر بیٹھے روز مقابلے رہتے تھے۔ دونوں کے معتقد انبوہ در انبوہ تھے۔ جلسوں کے معرکے اور معرکوں کو ہنگامے بنانے تھے۔ مگر دونوں بزرگوں پر صد رحم ہے کہ مرزا رفیعؔ اور سید انشاءؔ کی طرح دست و گریباں نہ ہوتے تھے کبھی کبھی نوکا  نوکی ہو جاتی تھی کہ وہ قابل اعتنا نہیں، چنانچہ خواجہ صاحب نے جب شیخ صاحب کی غزلوں پر متواتر غزلیں لکھیں تو انھوں نے کہا۔

ایک جاہل کہہ رہا تھا میرے دیواں کا جواب

بومسلیم نے لکھا تھا جیسے قرآں کا جواب

کیوں نہ دے ہر مومن اس ملحد کے دیواں کا جواب

جس نے دیواں اپنا ٹھہرایا ہے قرآں کا جواب

خواجہ صاحب کے کلام میں بول چال اور محاورے اور روزمرّہ کا بہت لطف ہے جو کہ شیخ صاحب کے کلام میں اس درجہ پر نہیں۔ شیخ صاحب کے معتقد اس معاملے کو ایک اور قالب میں ڈھال کر کہتے ہیں کہ ان کے ہاں فقط باتیں ہی باتیں ہیں۔ کلام میں ریختہ کی پختگی، ترکیب میں متانت اور اشعار میں عالی مضامین نہیں اور اس سے نتیجہ ان کی بے استعدادی کا نکالتے ہیں، مگر یہ ویسا ہی ظلم ہے جیسا ان کے معتقدان پر کرتے ہیں کہ شیخ صاحب کے شعروں کو اکثر بے معنی اور مہمل سمجھتے ہیں۔ میں نے خو دیوان آتش کو دیکھا۔ کلام مضامین بلند سے خالی نہیں، ہاں طرز بیان صاف ہے، سیدھی سی بات کو پیچ نہیں دیتے۔ ترکیبوں میں استعارے اور تشبیہیں فارسیت کی بھی موجود ہیں مگر قریب الفہم اور ساتھ ہی اس کے اپنے محاورے کے زیادہ پابند ہیں۔ یہ درحقیقت ایک وصف خداداد ہے کہ رقابت اسے عیب کا لباس پہنا کر سامنے لاتی ہے۔ کلام کو رنگینی اور استعارہ و تشبیہ سے بلند کر دکھانا آسان ہے۔ مگر زبان اور روزمرہ کے محاورہ میں صاف صاف مطلب اس طرح ادا کرنا جس سے سننے والے کے دل پر اثر ہو یہ بات بہت مشکل ہے شیخ سعدی کی گلستاں کچھ چھپی ہوئی نہیں ہے۔ نہ اس میں نازک خیالات ہیں، نہ کچھ عالی مضامین ہیں نہ پیچیدہ تشبیہیں ہیں، نہ استعارہ در استعارہ فقرے ہیں، چھوٹی چھوٹی کہانیاں ہیں صاف صاف باتیں ہیں اس پر آج تک اس کا جواب نہیں، مینا بازار اور پنج رقعہ کے انداز میں صدہا کتابیں موجود ہیں۔ اس معاملہ میں غور کے بعد یہ معلوم ہوا کہ جو بزرگ خیال بندی اور نازک خیالی کے چمن میں ہوا کھاتے ہیں اول ان کا مطلب ہوتا ہے کہ ایسے نئے مضمون نکالیں جو اب تک کسی نے نہ باندھے ہوں لیکن جب متقدمین کے اشعار سے کوئی بات بچی ہوئی نہیں دیکھتے تو ناچار انہی کے مضامین میں باریکیاں نکال کر موشگافیاں کرتے ہیں، اور ایسی ایسی لطافتیں اور نزاکتیں نکالتے ہیں کہ غور سے خیال کریں تو نہایت لطف حاصل ہوتا ہے۔ پھولوں کو پھینک کر فقط رنگِ بے گل سے کام لیتے ہیں۔ آئینہ سے صفائی اتار لیتے ہیں۔ تصویر آئینہ میں سے حیرت نکال لیتے ہیں اور آئینہ پھینک دیتے ہیں۔ نگاہ سرمگیں سے عرف بے آواز کے ساتھ گفتگو کرتے ہیں۔ فی الحقیقت اِن مضامین سے کلاموں میں خیالی نزاکت اور لطافت سے تازگی پیدا ہو جاتی ہے اور لوگ بھی تحسین اور آفرین کے لئے مستعد ہو جاتے ہیں مگر مشکل یہ ہے کہ ان کے ادا کرنے کو الفاظ ایسے نہیں بہم پہنچتے کہ کہنے والا کہے اور سمجھنے والا صاف سمجھ جائے۔ اس لئے ایسے کلام پر اثر اور ناخن بر جگہ نہیں ہوتے۔ بڑا افسوس یہ ہے کہ اس انداز میں عمومی مطالب ادا نہیں ہو سکتے۔ بے شک بہت مشکل کام ہے۔ مگر اس کی مثال ایسی ہے گویا چنے کی دال پر  مصّور نے ایک شکار گاہ کی تصویر کھینچ دی یا چاول پر خوشنویس نے قل ھو اللہ لکھ دیا۔ فائدہ دیکھو تو کچھ بھی نہیں، اسی واسطے جو فہمیدہ لوگ ہیں وہ ادائے مطلب اور طرز کلام میں صفائی پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس میں کوئی نئی بات نکل آئی تو ایسے اونچے نہ جائیں گے کہ بالکل غائب ہو جائیں اور سننے والے منھ دیکھتے رہ جائیں۔ البتہ کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ ان ترکیبوں کی پیچیدگی اور لفظوں کی باریکی و تاریکی میں جواہرات معنی کا بھرم ہوتا ہے اور اندر سے دیکھتے ہیں تو سیدھی سی بات ہوتی ہے جسے ان کے حریف کوہ کندن اور کاہ بر آوردن کہتے ہیں مگر انصاف یہ ہے کہ دونوں لطف سے خالی نہیں۔

گلہائے رنگ رنگ سے ہے زینت چمن

اے ذوقؔ اس جہاں کو ہے زیب اختلاف سے

شیخ صاحب کے معتقد خواجہ صاحب کے  بعض الفاظ پر بھی گفتگو کرتے ہیں، چنانچہ کہتے ہیں کہ جب انہوں نے یہ شعر پڑھا۔

دختر رز مری مونس ہے مری ہمدم ہے

میں جہانگیر ہوں وہ نور جہاں بیگم ہے

لوگوں نے کہا، حضور! بیگم ترکی لفظ ہے، اہل زبان گاف پر پیش بولتے ہیں اور زبان فارسی کا قاعدہ بھی یہی چاہتا ہے۔ یہ اس وقت بھنگیائے ہوئے بیٹھے تھے کہا کہ ہونہہ ہم ترکی نہیں بولتے۔ ترکی بولیں گے تو بیگم کہیں گے۔ اسی طرح جب انہوں نے یہ مصرع کہا۔

مصرعہ : اس خوان کی نمش کفِ مار سیاہ ہے

لوگوں نے کہا، قبلہ! یہ لفظ فارسی اور اصل میں نمشک ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب فارس جائیں گے تو ہم بھی نمشک کہیں گے، یہاں سب نمش کہتے ہیں تو نمش ہی شعر میں باندھنا چاہیے۔

پیشگی دل کو جو دے لے وہ اسے تحصیلے

ساری سرکاروں سے ہی عشق کی سرکار جدا

حریفوں نے کہا کہ پیشگی ترکیب فارسی سے ہے۔ مگر فارسی والوں کے استعمال میں نہیں، انھوں نے کہا کہ یہ ہمارا محاورہ ہے۔

یہاں تک تو درست ہے مگر بعض مواقع پر جوان کے حریف کہتے ہیں تو ہمیں بھی لاجواب ہونا پڑتا ہے چنانچہ دیوان میں ایک غزل ہے، صاف ہوا۔ معاف ہوا، غلاف ہوا۔ اس میں فرماتے ہیں۔

زہر پرہیز ہو گیا مجھکو

درہ درماں سے المضاف ہوا

اس ٹھوکر کھانے کا سبب یہ معلوم ہوتا ہے کہ عوام کے تلفظ میں المضاعف جو المضاف بولا جاتا ہے وہ اس کی اصلیت کے دھوکے ہیں رہی۔

خواجہ صاحب شاید حلوا کو حلوہ سمجھتے تھے جو فرماتے ہیں۔

لعلِ شکر بار کا بوسہ میں کیوں کر نہ لوں

کوئی نہیں چھوڑتا حلوہ بے دود کو

کفار کو بھی عوام بے تشدید بولتے ہیں چنانچہ خواجہ صاحب نے بھی کہہ دیا۔

رنگ زرد و لب خشک و مژہ خوں آلود

کشتہ عشق ہیں ہم، ہے یہ کفارہ اپنا

لکھے ہیں سرگذشتِ دل کے مضموں  با قلم اس میں

تماشہ قتل گہ کا ہے مطالعہ میرے دیواں کا

کشاکش دم کی مارِ آستیں کا کام کرتی ہے

دل بیتاب کو پہلو میں اک گرگِ بغل پایا

مخالف کہتے ہیں کہ بغلی گھونسہ اردو کا محاورہ ہے۔ مار آستیں فارسی کا محاورہ گرگ بغل کے لئے فارسی کی سند چاہیے۔ بے سند صحیح نہیں۔

چار ابرو میں تری حیراں ہیں سارے خوشنویس

کس قلم کا قطعہ ہے یہ کاتب تقدیر کا

یہاں چار ابرو بمعنی چہرہ لیا ہے، محاورہ میں چار ابرو کا لفظ بغیر صفائی کے نہیں آتا جس سے مراد یہ ہے کہ ابرو اور ریش و بروت کو چٹ کر دیں۔ وہ بے نواؤں اور قلندروں کے لئے خاص ہے نہ کہ معشوق کے لئے۔ سید انشاء نے کیا خوب کہا ہے۔

اک نے نوا کے لڑکے پہ مرتے ہیں شیخ جی

عاشق ہوئے ہیں واہ عجب لنڈمنڈ پر

بہار گلستاں کی ہے آمد آمد

خوشی پھرتے ہیں باغباں کیسے کیسے

خوش پھرتے ہیں، چاہیے۔

لعب بازی کی حسرت نہ رہے اے آتش

میرے اللہ نے بازیچہ، تن مجھ کو دیا

بھلا دیکھیں تو گو بازی میں سبقت کون کرتا ہے

اِدھر ہم بھی ہیں تو سن پر اُدھر تم بھی ہو تو سن پر

ابروئے یار کا ہے سر میں جنھوں کے سودا

رقص وہ لوگ کیا کرتے ہیں تلواروں پر

نہیں غم تیغ ابروئے صنم سے قتل ہونے کا

شہادت بھی بمنزل فتح کے ہے مرد غازی کو

سودائی جان کر تری چشم سیاہ کا

ڈھیلے لگاتے ہیں مجھے دیدے غزال کے

اس صنعت مراعات النظیر کو تکلیف زائد سمجھتے ہیں۔

حریف بعض اور قسم کے جزئیات پر بھی اعتراض کرتے ہیں۔ مثلاً خواجہ صاحب فرماتے ہیں۔

قدرت حق ہے صباحت سے تماشا ہے وہ رُخ

خالِ مشکیں دل فرعون ید بیضا ہے وہ رُخ

کانپتا ہے آہ سے میری رقیت روسیاہ

اژدہا فرعون کو موسیٰ کا عصا معلوم ہو

چکھ کے یاقوتی لب کو تری بیخود ہوئے ہم

نشہ معجوں میں مئے ہوش ربا کا نکا

حال مستقبل نجومی اس سے کرتے ہیں بیاں

زائچہ بھی نقل ہے پیشانی تحریر کا

جو کہ قسمت میں لکھا ہے جان ہووے گا وہی

پھر عبث کاہے کو طالع آزمائی کیجیے

رات بھر آنکھوں کو اس امید پر رکھتا ہوں بند

خواب میں شاید کہ دیکھوں طالع بیدار کو

(آتشؔ)

بند آنکھیں کئے رہتا ہوں پڑا

خواب میں آئے نظر تا کوئی

(جرأتؔ)

دولت عشق کا گنجینہ وہی سینہ ہے

داغ دل زخم جگر مہر و نشاں ہے کہ جو تھا

(آتشؔ)

گوہر مخزن اسرار ہما نست کہ بود

حصہ مہربداں مہر و نشانست کہ بود

(خواجہ حافظؔ)

آنکھیں نہیں ہیں چہرہ پہ تیرے فقیر کے

دو ٹھیکرے ہیں بھیک کے دیدار کے لئے

(میرؔ صاحب)

کاسہ چشم لے کے جوں نرگس

ہم نے دیدار کی گدائی کی

ان کے کلام میں بھی بعض الفاظ ایسے ہیں جو دلّی اور لکھنؤ کی زبان میں یورپ پچھم کا فرق دکھاتے ہیں۔ دلّی والے اندھیری کہتے ہیں اور انہوں نے اندھیاری باندھا ہے چنانچہ کئی شعر ناسخ کے حال میں لکھے گئے۔

خواجہ صاحب فرماتے ہیں۔

بلند و پست عالم کا بیاں تحریر کرتا ہے

قلم ہے شاعروں کا یا کوئی رہرو ہے بیہڑ کا

بہیڑ کا لفظ دلی میں مستعمل نہیں۔ بل بے دلّی کے شعرا باندھتے تھے۔ آج کل کے لوگ اس کو بھی متروک سمجھتے ہیں، مگر خواجہ صاحب فرماتے ہیں۔

خانہ خراب نالوں کی بل بے شرارتیں

بہتی ہیں پانی ہو ہو کے سنگیں عمارتیں

متاخرین لکھنؤ اور دہلی کے فارسی جمع کہ بے اضافت یا صفت کے نہیں لاتے۔ مگر یہ اکثر باندھتے ہیں۔ دیکھو اشعار مفصلہ ذیل :

رفتگاں کا بھی خیال اے اہل عالم چاہیے

عالم ارواح سے صحبت کوئی دم چاہیے

رہگذر میں دفن کرنا اے عزیزاں تم مجھے

شاید آ جائے کسی کے مرا مدفن زیر پا

بھاگو نہ مجھ کو دیکھ کے بے اختیار دور

اے کو دکاں ابھی تو ہے فصل بہار دور

کیا نفاق انگیز ہمہنباں ہوائے دہر ہے

نیند اڑ جاتی ہے سننے سے جو نفیر خواب کو

روز و شب رویا میں آتشؔ رفتگاں کی یاد میں

عمر بھر آنکھیں نہ بھولیں صورت احباب کو

عہد طفلی میں بھی تھا میں بسکہ سودائی مزاج

بیڑیاں منت کی بھی پہنیں تو میں نے بھاریاں

اے خط اس کے گورے گالوں پر یہ تو نے کیا کیا

چاندنی راتیں یکایک ہو گئیں اندھیاریاں

صفت کو اس طرح موصوف کی مطابقت کے لئے جمع کرنا اب خلاف فصاحت سمجھتے ہیں۔ ایک دفعہ میر تقی کے ہاں مشاعرہ میں خواجہ صاحب نے غزل پڑھی کہ شکم کے مضمون میں موج بحر کافور، باندھا تھا طالب علی خاں عیشیؔ نے وہیں ٹوکا، انہوں نے جواب دیا کہ میاں ابھی مدت چاہیے۔ دیکھو تو سہی جامیؔ کیا کہتا ہے۔

ووپتانش بہم چوں قبر نور

حبابے خواستہ از بحر کافور

ساتھ ہی میر مشاعرہ سے کہا کہ اب کی دفعہ یہی طرح ہو

یہ بزم وہ ہے کہ لا خیر کا مقام نہیں

ہمارے گنجفہ میں بازی غلام نہیں

وہ بچارے بھی کسی کے متنبیٰ تھے۔ اسی مطلع کو یار لوگوں نے شیخ ناسخ کے گلے باندھا۔ کتب تواریخ سے معلوم ہوتا ہے کہ شعرا جو شاگردان الٰہی ہیں، مجازی استادوں کے ساتھ ان کی بگڑتی چلی آئی ہے۔ چنانچہ ان کا بھی استاد سے بگا ڑ ہوا۔ خدا جانے بنیاد کن کن جزئیات پر قائم ہوئی ہو گی۔اور ان میں حق کس کی طرف تھا، آج اصل حقیقت دور کے بیٹھنے والوں  پر کھُلنی مشکل ہے مگر جہاں سے کھلم کھلّا بگڑی، اس کی حکایت یہ سنی گئی کہ شیخ مصحفیؔ ابھی زندہ تھے۔ اور خواجہ صاحب کی طبیعت بھی اپنی گرمیاں دکھانے لگی۔ جو مشاعرے میں طرح ہوئی۔۔ دہن بگڑا۔۔ یاسمن بگڑا۔ اس میں سب نے غزلیں کہیں۔ خواجہ صاحب نے غزل لکھ کر شیخ مصحفی، اپنے استاد کو سنائی اور جب یہ شعر سنائے۔

امانت کی طرح رکھا شمیں نے روزِ محشر تک

نہ اک موٗ کم ہوا اپنا، نہ اک تارِ کفن بگڑا

لگے منہ بھی چڑانے دیتے دیتے گالیاں صاحب

زباں بگڑی تو بگڑی تھی، خبر لیجے دہن بگڑا

نشہ کے سرور میں آ کر کہا کہ استاد! اس ردیف قافئے میں کوئی یہ شعر نکالے تو کلیجہ نکل پڑتا ہے۔ انہوں نے ہنس کر کہا کہ یاں میاںً سچ کہتے ہو اب تو کسی سے ایسے شعر نہیں ہو سکتے۔بعد اس کے شاگردوں میں سے ایک نو مشق لڑکے کی غزل کو توجہ سے بنایا اور اس میں انہیں دو قافیوں کو اس طرح باندھا

(حاشیہ: بعض لوگوں کی زبانی سنا گیا کہ شیخ مصحفی نے پنڈت دیا شنکر مصنف گلزارِ نسیم  کو یہ شعر کہہ کر دئے جو انہیں کے شاگرد تھے، مگر یہ شرت قابلِ اعتنا نہیں)

لکھا ہے خاکِ کوئے یار سے اے دیدۂ گریاں

قیامت میں کروں گا گر کوئی حرف کفن بگڑا

نہ ہو محسوس جو شے کس طرح نقشہ میں ٹھیک اترے

شبیہ یار کھنچوائی۔۔ کمر بگڑی دہن بگڑا

اگرچہ اُن شعروں اور اِن شعروں میں جو نسبت ہے وہ ان جواہرات کے پرکھنے والے ہی جانتے ہیں لیکن مشاعرے میں بہت  کھلتے نہ تھے اس لئے تاڑنے والے تاڑ گئے کہ استاد کی استادی ہے۔ خواجہ صاحب اسی وقت اٹھ کر مصحفی کے پاس جا بیٹھے، اور غزل ہاتھ سے پھینک کر کہا کہ یہ آپ ہمارے کلیجے میں چھریاں مارتے ہیں نہیں تو اس لونڈے کا کیا منہ تھا جو اِن قافیوں میں شعر نکال لیتا۔ خیر اس قسم کی باتیں استاد کے ساتھ بچوں کی شوخیاں اور لڑکپن کے ناز ہیں جو کہ سننے والوں کو اچھے معلوم ہوتے ہیں اور طبیعتوں میں جوش ترقی پیدا کرتے ہیں، لیکن سعادت مند شاگرد استاد کوے مرتبے اور اپنی حد کا اندازہ رکھنا واجب ہے۔ تاکہ خاقانیؔ اور ابولعلاسیؔگنجوی کی طرح دونوں طرف سے کثیف اور غلیظ ہجووں تک نوبت پہنچے۔ نہیں تو قیامت تک دونوں رسوائے عالم ہوتے رہیں گے۔چنانچہ خواجہ صاحب کی شرافت و نجابت جس نے انہیں اس آئین کا پابند رکھا، اس معاملے میں قابلِ تعریف ہے۔

میر مہدی حسن فراغ سے ان کے نہایت گرم و پسندیدہ اشعار ایسے بھی سنے گئے (حاشیہ: بعض عمدہ اشعار تھے کہ کلیات میں نہیں) جو کلیات مروجہ میں نہیں ہیں۔ سبب یہ معلوم ہوا کہ ایک صاحب اس زمانہ میں نہایت خوش مذاق اور صاحب فہم تھے، جو خود شاعر تھے اور ان کے ہاں بڑی دھوم دھام سے مشاعرہ ہوتا تھا۔ خواجہ صاحب بھی جاتے تھے اور مشاعرہ میں غزل پڑھ کر وہیں دے آتے تھے۔ بعد انتقال کے جب شاگرد دیوان مرتب کرنے لگے تو بہت سی غزلیں انھیں میر مشاعرہ سے حاصل ہوئیں۔ خدا جانے عمداً یا ان کی بے اعتنائی سے بعض اشعار دیوان میں نہ آئے۔ لیکن چونکہ وہ شاگرد شیخ ناسخؔ کے تھے اس لیئے بدگمانی لوگوں کو گنہگار کرتی ہے۔

جب شیخ ناسخؔ کا انتقال ہوا تو خواجہ صاحب نے ان کی تاریخ کہی اور اس دن سے شعر کہنا چھوڑ دیا کہ کہنے کا لطف سننے اور سنانے کے ساتھ ہے۔ جس شخص سے سنانے کا لطف تھا جب وہ نہ رہا تو اب شعر کہنا نہیں بکواس ہے۔

حالات سے معلوم ہوتا ہے کہ طبیعت کی آزادی اور کلام کے کمال نے ظاہر آرائی کے ذوق و شوق سے بے پرواہ کر دیا تھا مگر مزاج میں ظرافت ایسی تھی کہ ہر قسم کا خیال لطائف و ظرائف ہی میں ادا ہوتا تھا۔

لطیفہ : ایک شاگرد اکثر بے روزگاری کی شکایت سے سفر کا ارادہ ظاہر کیا کرتے تھے اور خواجہ صاحب اپنی آزاد مزاجی سے کہا کرتے تھے کہ میاں کہاں جاؤ گے ؟ دو گھڑی مل بیٹھنے کو غنیمت سمجھو، اور جو خدا دیتا ہے اس پر صبر کرو، ایک دن وہ آئے اور کہا کہ حضرت! رخصت کو آیا ہوں۔

فرمایا خیر باشد کہاں ؟ انھوں نے کہا کل بنارس کو روانہ ہوں گا۔ کچھ فرمائش ہو تو فرما دیجیے۔ آپ ہنس کر بولے اتنا کام کرنا کہ وہاں کے خدا کو ہمارا سلام کہہ دینا۔ وہ حیران ہو کر بولے کہ حضرت! یہاں اور وہاں کا خدا کوئی جدا ہے ؟ فرمایا کہ شاید یہاں کا خدا بخیل ہے وہاں کا کچھ سخی ہو۔ انھوں نے کہا معاذ اللہ آپ کے فرمانے کی یہ بات ہے ؛ خواجہ صاحب نے کہا بھلا سنو تو سہی، جب خدا وہاں یہاں ایک ہے تو پھر ہمیں کیوں چھوڑتے ہو۔ جس طرح اس سے وہاں جا کر مانگو گے اسی طرح یہاں مانگو۔ جو وہاں دے گا تو یہاں بھی دے گا۔ اس بات نے ان کے دل پر ایسا اثر کیا کہ سفر کا ارادہ موقوف کیا اور خاطر جمعی سے بیٹھ گئے۔

خواجہ صاحب کی سیدھی سادی طبیعت اور بھولی بھالی باتوں کے ذکر میں میر انیسؔ مرحوم نے فرمایا کہ ایک دن آپ کو نماز کا خیال آیا، کسی شاگرد سے کہا بھئی ہمیں نماز تو سکھاؤ، وہ اتفاقاً فرقہ سنت جماعت سے تھا۔ اس نے ویسی ہی نماز سکھا دی اور یہ کہہ دیا کہ استاد! عباد الٰہی جتنی پوشیدہ ہو اتنی ہی اچھی ہوتی ہے جب نماز کا وقت ہوتا تو حجرہ میں جاتے یا گھر کا دروازہ بند کر کے اسی طرح نماز پڑھا کرتے۔ میر دوست علی خلیل ان کے شاگرد خاص اور جلوت و خلوت کے حاضر باش تھے ایک دن انھوں نے بھی دیکھ لیا، بہت حیران ہوئے۔ یہ نماز پڑھ چکے تو انھوں نے کہا کہ استاد! آپ کا مذہب کیا ہے ؟ فرمایا شیعہ ہیں ! یہ کیا پوچھتے ہو، انھوں نے کہا کہ نماز سنیوں کی؟ فرمایا بھئی میں کیا جانوں، فلاں شخص سے میں نے کہا تھا، اس نے جو سکھا دی سو پڑھتا ہوں مجھے کیا خبر کہ ایک خدا کی دو دو نمازیں ہیں۔ اس دن سے شیعوں کی طرح نماز پڑھنے لگے۔ جتنے شاگرد، انھوں نے پائے کسی استاد کو نصیب نہیں ہوئے۔ ان میں سے سید محمد خاں زندؔ، میر وزیر علی صبا، میر دوست علی خلیلؔ، ہدایت علی جلیلؔ، صاحب مرزا ثناورؔ، مرزا عنایت علی بسملؔ، نادر مرزا فیض آبادی نامور شاگرد تھے کہ رتبہ استادی رکھتے تھے۔

غزل

سن تو سہی جہاں میں ہے تیرا فسانہ کیا

کہتی ہے تجھ کو خلق خدا غائبانہ کیا

کیا کیا الجھتا ہے تیری زلفوں کے تار سے

بخیہ طلب ہے سینہ صد چاک شانہ کیا

زیر زمیں سے آتا ہے جو گل سوز بکف

قاعدوں نے راستہ میں لٹایا خزانہ کیا

اڑتا ہے شوقِ راحت منزل سے اسپ عمر

مہمیز کس کو کہتے ہیں اور تازیانہ کیا

زینہ صبا کو ڈھونڈتی ہے اپنی مشت خاک

بام بلند یار کا ہے آستانہ کیا

چاروں طرف سے صورت جاناں ہو جلوہ گر

دل صاف ہو ترا تو ہے آئینہ خانہ کیا

صیاد اسیرِ دام رگ گل ہے عندلیب

دکھلا رہا ہے چھپ کے اسے آب و دانہ کیا

طبل و علم ہی پاس ہے اپنے نہ ملک و مال

ہم سے خلاف ہو کے کرے گا زمانہ کیا

آتی ہے کس طرح سے مری قبض روح کو

دیکھوں تو موت ڈھونڈ رہی ہے بہانہ کیا

ہوتا ہے زر و سن کے جو نا مرد مدعی

رستم کی داستاں ہے ہمارا فسانہ کیا

بے یار ساز گار نہ ہو گا وہ گوش کو

مطرب ہمیں سناتا ہے اپنا ترانہ کیا

صیاد گل غدار دکھاتا ہے سیرِ باغ

بلبل قفس میں یاد کرے آشیانہ کیا

ترچھی نظر سے طائرِ دل ہو چکا شکار

جب تیر کج پڑے گا اڑے گا نشانہ کیا

بیتاب ہے کمال ہمارا دل حزیں

مہماں، سرائے جسم کا ہو گا ردانہ کیا

یاں مدعی حسد سے نہ دے داد تو نہ نہ دے

آتشؔ غزل یہ تو نے کہی عاشقانہ کیا

(غزل لاجواب ہے مگر مقطع میں جو کیا کیا پہلو رکھا ہے اس کی جگہ یہ نہیں۔ انصاف اس کا میر انیسؔ مرحوم کے خاندان کی زبان پر ہے۔)

*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*

خانہ خراب نالوں کی بل بے شرارتیں

بہتی ہیں پانی ہو ہو کے سنگیں عمارتیں

سر کونسا ہے جس میں کہ سودا ترا نہیں

ہوتی ہیں تیرے نقش قدم کی زیارتیں

خانہ ہے گنجفہ کا ہر اک قصرِ شہر عشق

گھر گھر میں بادشاہیاں گھر گھر وزارتیں

دیدار یار برق تجّلیٰ سے کم نہیں

بند آنکھیں ہوں گی دیں گی دعائیں بصارتیں

آنکھوں میں اپنی دولت بیدار ہیں وہ خواب

ہوتی ہیں تیرے وصل کی جن میں بشارتیں

کہتے ہیں مادر و پدر مہرباں کو بد

کرتے ہیں وہ جو ارض و سما کی حقارتیں

گویا زبان ہو تو کرے شکر آدمی

سمجھے جو تو، تو کرتے ہیں یہ گنگ اشارتیں

زیر زمیں بھی یاد ہیں ہفت آسماں کے ظلم

بھولا نہیں میں سنگ دلوں کی شرارتیں

خضر و مسیح کاٹتے ہیں رشک سے گلا

تو بھی تو کر شہیدوں کی اپنے زیارتیں

عالم کو لوٹ کھایا ہے اک پیٹ کے لئے

اس غار میں گئی ہیں ہزاروں ہی غارتیں

باقی رہے گا نام ہمارا نشاں کے ساتھ

اپنی بھی چند بیتیں ہیں اپنی عمارتیں

اہل جہاں کا حال ہے کیا ہم سے کیا کہیں

بدگوئیاں ہیں پیچھے تو منھ پر اشارتیں

نقش و نگار حسنِ بتاں کا نہ کھا فریب

مطلب سے خالی جان لے تو یہ عبارتیں

عاشق ہیں، ہم کو مد نظر کرئے یا رہے

کعبہ کے حاجیوں کو مبارک، زیارتیں

ایسی خلاف ہم سے ہوئی ہے ہوائے دہر

کافور کھائیے تو ہوں پیدا حرارتیں

آتش یہ شش جہت ہے مگر کوچہ یار کا

چاروں طرف سے ہوتی ہیں ہم پر اشارتیں

*-*-*-*-*-*-*

باغباں انصاف پر بلبل سے آیا چاہیے

پنیہنی اس کو زر گل کی پنہایا چاہیے

پان بھی کھاؤ جمائی ہے جو مسّی کی دھڑی

شام تو دیکھی شفق کو بھی دکھایا چاہیے

آئینے میں خطِ نورس کا نظارہ کیجیے

آہوانِ چشم کو ریحاں چرایا چاہیے

بوسہ اس لب کا ہے قوت بخش روحِ ناتواں

ایسی یاقوتی میسر ہو تو کھایا چاہیے

عشق میں حد ادب سے آگے رہتا ہے قدم

شاخ گلبن پر سے بلبل کو اڑایا چاہیے

دیکھئے کرتا ہے کیونکر یار سے گستاخیاں

شوق کے بھی حوصلے کو آزمایا چاہیے

ہو گیا ہے ایک مدت سے دِل نالاں خموش

باغ میں چل کر اسے بلبل سنایا چاہیے

فصل گل ہے چار دن ساقی تکلف ہے ضرور

پر جواہر کے بطِ مے کو لگایا چاہیے

فرش گل بلبل کی نیت سے بچھایا چاہیے

شمع پروانوں کی خاطر سے جلایا چاہیے

خم میں جوش مے سے مجھ کو یہ صدا ہے آ رہی

ظرفِ مستی ہو تو کیفیت اٹھایا چاہیے

حال دل کچھ کچھ کہا میں نے تو بولا سن کے یار

بس عبارت ہو چکی مطلب پہ آیا چاہیے

شیر سے خالی نہیں رہتا نیستاں زینہار

بوریائے فقر بچّھا چھوڑ جایا چاہیے

رنگ زرد و چشم تر سے کیجیے دعوائے عشق

دو گواہ حال اس قضیے کے لایا چاہیے

رام ہوتے ہی نہیں وحشی مزاجی ہے سو ہے

ان سیہ چشموں کو چو پہرہ جگایا چاہیے

دیکھ کر خلوت سرائے یار کہتے ہیں فقیر

عود کی مانند یاں دھونی رمانا چاہیے

خاطر آتشؔ سے کہیے چند جزو شعر اور بھی

بے نشاں کا نام باقی چھوڑ جایا چاہیے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

فریبِ حسن سے  گبرو مسلماں کا چلن بگڑا

خدا کی یاد بھولا شیخ بت سے برہمن بگڑا

قبائے گل کو پھاڑا جب مرا گل پیرہن بگڑا

بن آئی کچھ نہ غنچے سے جو وہ غنچہ دہن بگڑا

نہیں بے وجہ ہنسنا اس قدر زخم شہیداں کا

تری تلوار کا منھ کچھ نہ کچھ اے تیغ زن بگڑا

تکلف کیا جو کھوئی جان شیریں پھوڑ کر سر کو

جو غیرت تھی تو پھر خسرو سے ہوتا کوہکن بگڑا

کسی چشم سیہ کا جب ہوا ثابت میں دیوانہ

تو مجھ سے مست ہاتھی کی طرح جنگلی ہرن بگڑا

اثر اکسیر کا من قدم سے تیرے پایا ہے

جذامی خاک رہ مل کر بناتے ہیں بدن بگڑا

تری تقلید سے کبک دری نے ٹھوکریں کھائیں

چلا جب جانور انساں کی چال اس کا چلن بگڑا

زوال حسن کھلواتا ہے میوے کی قسم مجھ سے

لگایا داغ خط نے  آن کر سیب ذقن بگڑا

رخ سادہ نہیں اس شوخ کا نقش عداوت ہے

نظر آتے ہی آپس میں ہر اہل انجمن بگڑا

وہ بد خو طفل اشک اے  چشم تر ہیں دیکھنا اک دن

گھروندے کی طرح سے گنبد چرخ کہن بگڑا

صف مژگاں کی جنبش کا کیا اقبال نے کشتہ

شہدون کے ہوئے سالار جب ہم سے تمن بگڑا

کسی کی جب کوئی تقلید کرتا ہے میں روتا ہوں

ہنسا گل کی طرح غنچہ جہاں اس کا دہن بگڑا

کمال دوستی اندیشہ دشمن نہیں رکھتا

کسی بھونرے سے کس دن کوئی رشک یاسمن بگڑا

رہی نفرت ہمیشہ داغ عریانی کو پھاہے سے

ہوا جب قطع جامہ پر ہمارے پیرہن بگڑا

رگڑوائیں یہ مجھ سے ایڑیاں غربت میں وحشت نے

ہوا مسدود رستہ جادہ راہ وطن بگڑا

کہا بلبل نے جو توڑا گل سوسن کو گلچیں نے

الٰہی خیر کیجو نیلِ رخسار چمن بگڑا

ارادہ میرے کھانے کا نہ اے زاغ و زغن کیجیو

وہ کشتہ ہوں جسے سونگھے سے کتوں کا بدن بگڑا

امانت کی طرح رکھا زمین نے روز محشر تک

نہ اک مو کم ہوا اپنا نہ اک تار کفن بگڑا

جہاں خالی نہیں رہتا کبھی ایذا و ہندی سے

ہوا ناسور نو پیدا اگر زخم کہن بگڑا

تونگر تھا بنی تھی جب تک اس محبوب عالم سے

میں مفلس ہو گیا جس روز سے  وہ سیم تن بگڑا

لگے منھ بھی چڑھانے دیتے دیتے گالیاں صاحب

زبان بگڑی تو بگڑی تھی خبر لیجئے دہن بگڑا

بناوٹ کیف مے سے کھل گئی اس شوخ کی آتشؔ

لگا کر منھ سے پیمانے کو وہ پیماں شکن بگڑا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

 

شاہ نصیرؔ

نصیرؔ تخلص نصیر الدین نام تھا، مگر چونکہ رنگت کے سیاہ فام تھے، اس لئے گھرانے کے لوگ میاں کلّو کہتے تھے۔ وطن ان کا خاص دھلی تھا۔ والد شاہ غریب نام ایک بزرگ تھے کہ اپنی غربت طبع اور خاکساری مزاج کی بدولت اسم با مسمیٰ غریب تھے۔ نیک نیتی کا ثمرہ تھا کہ نام کی غریبی کو امیری میں بسر کرتے تھے۔ شہر کے رئیس اور امیر سب ادب کرتے تھے مگر وہ گوشہ عافیت میں بیٹھے اپنے معتقد مریدوں کو ہدایت کرتے رہتے تھے، ان بزرگوں کے نام چند گاؤں دربار شاہی سے آل تمغا معاف تھے۔ ملا ماجراؔ اور ہرسانہؔ علاقہ سونی پت میں سلیم پور علاقہ غازی آباد میں، وزیر آباد، شہر دہلی کے پاس جہاں مخدوم شاہ عالم کی درگاہ ہے اور اب تک 7 جمادی الاول کو وہاں عرس ہوتا ہے۔ اب فقط مولر بن ایک گاؤں بلب گڑھ کے علاقہ میں سید عبد اللہ شادان کے سجادہ نشین کے نام پر واگذاشت ہے غرض کہ شاہ غریب مرحوم نے اس اکلوتے بیٹھے کو بڑی ناز و نعمت سے پالا تھا اور استاد و ادیب نوکر رکھ کر تعلیم کیا تھا۔

عجیب اتفاق ہے کہ وہ کتابی علم میں کما حقہ کامیاب نہ ہوئے، البتہ نتیجہ اس کا اہل علم سے بہتر حاصل ہے، کیونکہ جو وہ کہتے تھے اسے عالم کان لگا کر سنتے تھے جو لکھتے تھے اس پر فاضل سر دھنتے تھے، ان کی طبیعت شعر سے ایسی مناسب واقع ہوئی تھی کہ بڑے بڑے ذی استعداد اور مشاق شاعر مشاعروں میں منھ دیکھتے رہ جاتے تھے۔ سلسلہ تلمذ دو واسطہ سے سوداؔ اور دردؔ تک پہونچتا ہے کیونکہ یہ شاہ محمدی مائل کے شاگرد تھے اور وہ قیام الدین قائم کے قائم نے سوداؔ سے بھی اصلاح لی اور خواجہ میر دردؔ سے بھی انھوں نے انگریزی عملداری میں زندگی بسر کی لیکن شاہ عالم کے زمانہ میں شاعری جوہر دکھانے لگی تھی اور خاندانی عصمت نے ذاتی کمال کی سفارش سے دربار تک پہونچا دیا تھا۔ دربار کے اہل کمال کو عیدوں اور جشنوں کے علاوہ ہر فصل اور موسم پر سامان مناسب انعام ہوتے تھے۔ شعراء کو دیر ہوتی تو تقاضے سے بھی وصول کر لیتے تھے۔ ایک قطعہ بطور حسن طلب جاڑے کے موسم میں انھوں نے کہہ کر دیا تھا، اور صلہ حاصل کیا تھا۔ اس کے دو شعر مجھے یاد ہیں۔

بچا ے گا تو ہی اے میرے اللہ

کہ جاڑے سے پڑا بے ڈھب ہے پالا

پناہ آفتاب اب مجھ کو بس ہے

کہ وہ مجھ کو اڑھا دے گا دو شالا

اس میں لطف یہ ہے کہ آفتاب شاہ عالم بادشاہ کا تخلص تھا۔

سیاحی کی دولت میں سے جو سرمایہ انھیں حاصل ہوا، وہ بھی شاعری کی برکت سے تھا، جس کی مسافت جنوب میں حیدر آباد تک اور مشرق میں لکھنؤ  تک پہونچی۔ اگرچہ دربار کے علاوہ تمام شہر میں بھی ان کی قدر اور عزت ہوتی تھی۔ مگر جن لوگوں کی عادتیں ایسے درباروں میں بگڑی ہوتی ہیں۔ ان کے دل تعلیم یافتہ حکومتوں میں نہیں لگتے اسی واسطے جب انگریزی عملداری ہوئی تو انھیں دکن کا سفر کرنا پڑا۔

دکن میں دیوان چند دلال کا دور تھا۔ اگرچہ کمال کی قدر دانی اور سخاوت ان کی عام تھی۔ مگر دلی والوں پر نظر پرورش خاص رکھتے تھے۔ اور بہت عزت سے پیش آتے تھے۔ بڑی خوش نصیبی یہ تھی کہ وہ شعر و سخن کی مذاق رکھتے تھے۔ غرض وہاں شاہ صاحب کے جواہرات نے خاطر خواہ قیمت پائی۔ دلّی کا چٹخارا ابھی ایسا نہیں کہ انسان بھول جائے۔ اس لئے انعام و اکرام سے مالا مال ہو کر پھر دلّی آئے اور تین دفعہ پھر گئے۔

دکن میں ان کے لئے فقط دولت کے فرشتے نے ضیافت نہ کی بلکہ حسن شاعری کی زہرہ آسمان سے اتری، اور شمس دلی کے عہد کا پرتو پھر دلوں پر ڈالا۔ شعر گوئی کے شوق جو برسوں سے بجھے چراغوں کی طرح طاقوں میں پڑے تھے۔ دل دل میں روشن ہو گئے اور ماحول کی محنتیں اس تیل ٹپکانے لگیں۔ اب بھی کوئ دلی سے دکن جائے تو شاہ صاحب کے شاگردوں کے نام اتنے سنے گا کہ دلّی کی کثرت تلامذہ کو بھول جائے گا۔

شاہ صاحب دو دفعہ لکھنؤ بھی گئے مگر افسوس ہے آج دہلی یا لکھنؤ میں کوئی اتنی بات کا بتانے والا نہ رہا کہ کس کس سنہ میں کہاں کہاں گئے تھے یا یہ کہ کس کس مشاعرہ میں اور کس کے مقابلہ میں کون کون سی غزل ہوئی تھی۔ اس میں شک نے کہ پہلی دفعہ جب گئے ہیں تو سید انشاء اور مصحفیؔ اور جرأتؔ وغیرہ سب موجود تھے اور بعض غزلیں جو ان معرکوں سے منسوب اور مشہور ہیں وہ مصحفیؔ کے دیوان میں بھی موجود ہیں، دیکھو صفحہ   دہن سرخ ترا، چمن سرخ ترا۔

یہ وہ زمانہ تھا کہ لکھنؤ میں بزرگان باخلاق اور امرائے رتبہ شناس موجود تھے۔ وہ جوہر کو پہچانتے تھے اور صاحب جوہر کا حق مانتے تھے۔ جو جاتا تھا عزت پاتا تھا اور شکر گزار آتا لیکن دوسری دفعہ جو گئے تو رنگ پلٹا ہوا تھا۔ شیخ ناسخؔ کے زمانے کے عہد قدیم کو مسخ کر دیا تھا اور خواجہ آتشؔ کے کمال نے دماغوں کو گرما رکھا تھا۔ جوانوں کی طبیعتیں زور پر تھیں۔ نئی نئی شوخیاں انداز دکھاتی تھیں، انوکھی تراشیں پرانے  سادہ پن پر مسکراتی تھیں، چنانچہ جس حریف کا افشان منزلوں کے فاصلہ سے دکھائی دیتا تھا، جب پاس آیا تو سب گردنیں ابھار ابھار دیکھنے لگے۔

یہ زبردست شاعر کہن سال مشاق، جس کا بڑھاپا جوانی کے زوروں کو چٹکیوں میں اڑاتا تھا، جس دن وہاں پہونچا تو مشاعروں میں شاید دو (۲) تین دن باقی تھے ہر استاد نے ایک دو دو مصرع کے بھیجے ادھر انھیں درد گردہ عارض ہوا مگر وہ درد کے ٹھہرتے ہی اٹھ بیٹھے اور آٹھ غزلیں تیار کر کے مشاعرہ میں آ پہنچے، پھر اور مشکل مشکل طرحیں مشاعرہ کے شاعروں نے بھیجیں اور یہ بھی بے تکلف غزلیں لے کر پہونچے، مگر وہاں کے صاحب کمال خود نہ آئے۔ جب دو تین جلسے اور اس طرح گزرے تو ایک شخص نے سر مشاعرہ مصرع طرح دیا وہ مصرع شیخ صاحب کا تھا اس وقت شاہ صاحب سے ضبط نہ ہو سکا۔ مصرع تو لے لیا مگر اتنا کہا کہ ان سے کہنا چکس پر گلدم لڑانے کی صحیح تو نہیں ہے۔ پالی میں آئیے کہ۔ دیکھنے والوں کو بھی مزا آئے، افسوس ہے کہ اس موقع پر بعض جہلاء نے جن سے کوئی زمانہ اور کوئی جگہ خالی نہیں اپنی یاوہ گوئی سے اہل لکھنؤ کی عالی ہمتی اور مہمان نوازی کو داغ لگایا چنانچہ ایک معرکہ کے مشاعرہ میں شاہ صاحب نے آٹھ غزلیں فرمائش کی کہہ کر پڑھی تھیں۔ ایک غزل اپنی طرح کی کہی ہوئی بھی پڑھی جس کی ردیف و قافیہ عشل کی مکھی اور نحل کی مکھی  تھا، اس پر بعض اشخاص نے طنز کی، کسی شعر پر سبحان اللہ کیا خوب مکھی بیٹھی ہے، کسی نے کہا حضور! یہ مکھی تو نہ بیٹھی ایک شخص نے یہ بھی کہا کہ قبلہ! غزل تو خوب ہے مگر ردیف سے جی متلانے لگا۔ شاہ صاحب نے اسی وقت کہا کہ جنھیں چاشنی سخن کا مذاق ہے وہ تو لطف ہی اٹھاتے ہیں، ہاں جنھیں صفرائے حسد کا زور ہے ان کا جی متلائے گا۔ان جلسوں میں استاد مسلم الثبوت نے علم استادی بے لاگ بلند کر دیا تھا، مگر بعض لغزشوں نے قباحت کی جن سے کوئی بشر خالی نہیں رہ سکتا چنانچہ ایک جگہ تظلم بجائے ظلم باندھ دیا تھا اسی پر سر مشاعرہ گرفت ہوئی اور غضب یہ ہوا کہ انھوں نے سند میں یہ شعر محتشم کاشیؔ کا پڑھا :

آل نبی چو دستِ تظلم بر آورند

ارکانِ عرش را بہ تزلزل در آورند

ایسی بھول چوک سے کوئی استاد خالی نہیں اور اتنی بات ان کے کمال میں کچھ رخنہ بھی نہیں ڈال سکتی، چنانچہ زور کلام نے وہیں بیسوں اشخاص ان کے شاگرد کر لئے۔ منشی کرامت علی اظہرؔ کہ اول اول لکھنؤ کی تمام کتب مطبوعہ پر انھیں کی تاریخیں ہوتی تھیں۔ ہمیشہ شاہ صاحب کی شاگردی کا دم بھرتے تھے۔

شاہ صاحب چوتھی دفعہ پھر دکن گئے، مگر اس دفعہ ایسے گئے کہ پھر نہ آئے۔ استاد مرحوم کہ شاہ صاحب کی استادی کو ہمیشہ زبان ادب سے یاد کرتے تھے۔ اکثر افسوس سے کہا کرتے تھے کہ چوتھی دفعہ ادھر کا قصد تھا جو ہر ماہ مجھ سے ملاقات ہو گئی۔ میں نے کہا کہ اب آپ کا سن ایسے دور دراز سفر کے قابل نہیں، فرمایا میاں ابراہیم! وہ بہشت ہے، بہشت میں جاتا ہوں، چلو تم بھی چلو، استاد مرحوم  عالم تاسف میں اکثر یہ بھی کہا کرتے تھے ان کا ہی مطلع ان کے حسب حال ہوا۔

بیاباں مرگ ہے مجنونِ خاک آلودہ تن کس کا

سنے ہے سوزنِ خار مغیلاں تو کفن کس کا

آخر حیدر آباد میں جہان فانی سے رحلت ہوئی اور قاضی مخدوم موسیٰ کی خانقاہ میں دفن ہوئے۔ شاگرد نے چراغ گل کے الفاظ سے سن کی تاریخ (1254ھ) نکالی۔ دیوان اپنا مرتب نہیں کیا، جو غزلیں کہتے تھے ایک جگہ رکھتے تھے۔ جب بہت سی جمع ہو جاتیں تو تکیہ کی طرح ایک تھیلے میں بھرتے تھے، گھر میں دے دیتے تھے اور کہتے تھے احتیاط سے رکھ چھوڑو، متفرق غزلیں ایک دو مختصر جلدوں میں تھیں کہ اور بہت سا سرمایہ دکن ہی میں رہا، یہاں ان کی اولاد میں زمانہ کی گردش نے کسی کو سر نہ اٹھانے دیا جو کل کلام کی تہذیب اور ترتیب کرتا شاگردوں کے پاس بہت سی متفرق غزلیں ہیں، مگر کسی نے سب کو جمع نہیں کیا۔ ان کے دیوان کی ہر شخص کو تلاش ہے، چنانچہ دہلی میں میر حسین تسکین (وہی تسکینؔ شاگرد رشید مومنؔ کے ) ایک طباع اور نازک خیال شاعر تھے، ان کے بیٹھے سید عبد الرحمن بھی صاحب ذوق اور سخن فہم شخص تھے۔ انھوں نے بڑی محنت سے ایک مجموعہ ایسا جمع کیا کہ غالباً اس سے زیادہ ایک جگہ شاہ صاحب کا کلام جمع نہ ہو گا۔ نواب صاحب رامپور نے کہ نہایت قدر داں سخن ہیں ایک رقم معقول دے کر وہ نسخہ منگا لیا، غزلیں اکثر جگہ بکثرت پائی جاتی ہیں،مگر قصیدے نہیں ملتے کہ وہ بھی بہت تھے، حق یہ ہے کہ غزل کا انداز بھی قصیدے کا زور دکھاتا ہے۔

کلام کو اچھی طرح دیکھا گیا، زبان شکوہ الفاظ چستی ترکیب میں سوداؔ کی زبان تھی اور گرمی و لذت اس میں خداداد تھی، انھیں اپنی تشبیہوں اور استعاروں کا دعویٰ تھا، اور یہ دعویٰ بجا تھا۔ نئی نئی زمینیں نہایت برجستہ اور پسندیدہ نکالتے تھے، مگر ایسی سنگلاخ ہوتی تھیں جن میں بڑے بڑے شہسوار قدم نہ مار سکتے تھے، تشبیہ اور استعارہ کر لیا ہے، اور نہایت آسانی سے برتا ہے، جسے اکثر زبردست انشاپرداز ناپسند کر کے کم استعدادی کا نتیجہ نکالتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ تشبیہ یا استعارہ شاعرانہ  نہیں پھبتی ہے۔ لیکن یہ ان کی غلطی ہے اگر وہ ایسا نہ کہتے تو کلام سریع الفہم کیونکر ہوتا اور ہم ایسی سنگلاخ زمینوں میں گرم گرم شعر کیوں کر سنتے، پھر وہ ہزاروں شاعروں میں خاص و عام کے منھ سے واہ وا کیونکر لیتے۔ بعض الفاظ ٹک، وا چھڑے، تس پر وغیرہ جو کہ سید انشاءؔ اور جرأتؔ تک باقی تھے، وہ انھوں نے ترک کئے۔ مگر آئے ہے اور جائے ہے وغیرہ افعال انھوں نے بھی استعمال کئے، علم کے دعویدار شاعر ان کے کلام کی دھوم دھام کو ہمیشہ کن انکھیوں سے دیکھتے تھے اور آپس میں کانا پھوسیاں بھی کرتے تھے، پھر بھی ان کے زور کلام کو دبا نہ سکتے تھے، وجہ اس کی یہ ہے کہ زور  طبع ان کا کسی کے بس کا نہ تھا۔ جن سنگلاخ زمینوں میں گرمی کلام سے وہ مشاعرہ کو تڑپا دیتے تھے۔ اوروں کو غزل پوری کرنی مشکل ہوتی تھے، اکثر بزرگ پرانے پرانے مشاق کہ علوم تحصیلی میں ماہر کامل تھے، مثل حکیم ثناء اللہ خاں فراقؔ حکیم قدرت اللہ خاں قاسمؔ شاگرد خواجہ میر دردؔ میاں شکیباؔ شاگرد میر مرزا عظیم بیگ اور شیخ ولی اللہ محبؔ شاگرد سوداؔ، حافظ عبدالرحمٰن خاں احسان وغیرہ موجود تھے، سب ان کے دعوے سنتے تھے۔ اور بعض موقع پر اپنی بزرگی سے ان کی طنزوں کو برداشت کرتے تھے، مگر خاموش نہ کر سکتے تھے۔

حکیم قدرت اللہ خاں قاسمؔ سے ایک خاص معاملہ درمیان آیا بلکہ ایک دفعہ مشاعرہ میں طرح ہوئی، یار شتاب اور تلوار شتاب، شاہ نصیرؔ نے جو غزل کہہ کر پڑھی تو اس میں قطعہ تھا کہ :-

رخ انور کا ترے وصف لکھا جب ہم نے

انوری نے دیا دیواں الٹ اے یار شتاب

پھر پڑھا ہم نے جو مضمون بیاض گردن

اس اسے ہو گیا چپ قاسم انوار شتاب

حکیم صاحب مرحوم خاص و عام میں واجب التعظیم تھے۔ اس کے علاوہ فضیلت علمی کے ساتھ فن شعر کے مشاق تھے اور فقط موزونی طبع اور زور کلام کو خاطر میں نہ لاتے تھے، چونکہ خود قاسمؔ تخلص کرتے تھے۔ اس لئے قاسم انوار کا لفظ ناگوار ہوا، چنانچہ دوسرے مشاعرہ کی غزل میں قطعہ لکھا۔

واسطے انسان کے انسانیت اول ہے شرط

میرؔ ہو یا مرزا ہو، خان ہو یا نواب ہو

آدمی تو کیا خدا کو بھی نہ ہم سجدہ کریں

گر نہ خم تعظیم کو پہلے سر محراب ہو

شاہ صاحب کی بدیہہ گوئی اور طبع حاضر نے خاص و عام سے تصدیق و تسلیم کی سند لی تھی اور وہ ایک جوش تھا کہ کسی طرح فرو ہوتا معلوم نہ ہوتا تھا، شعر کہنے سے کبھی نہ تھکتے تھے، اور کلام کی چستی میں سستی نہ آتی تھی۔ اکثر مشاعروں میں اوروں کی غزل پڑھتے پڑھتے اشعار برجستہ موزوں کر کے غزل میں داخل کر لیتے تھے۔ طبع موزوں گویا ایک درخت تھا کہ جب اس کی ٹہنی ہلاؤ فوراً پھل جھڑ پڑیں گے۔ وہ نہایت جلد اصلاح دیتے تھے اور برجستہ اصلاح دیتے تھے، طبیعت میں تیزی بھی غضب کی تھی، عین مشاعرہ میں کسی کا شعر سنتے اور وہیں بول اٹھتے کہ یوں کہو! کہنے والا سن کر منھ دیکھتا رہ جاتا۔ یہی سبب ہے کہ پرانے پرانے مشاق جھپکتے رہتے تھے۔

پڑھنے کا انداز بھی سب سے الگ تھا اور نہایت مطبوع تھا۔ ان کے پڑھنے سے زور کلام دوچند بلکہ دہ چند ہو جاتا تھا کیونکہ زبان نے بھی زور طبعی سے زور اور دل کے جوش سے اثر حاصل کیا تھا، ان کی آواز میں بڑھاپے تک بھی جوانی کی کڑک دمک تھی۔ جب مشاعرہ میں غزل پڑھتے تو ساری محفل پر چھا جاتے تھے اور اپنا کلام انھیں بے اختیار کر دیتا تھا۔ ایک مشاعرہ میں غزل پڑھی، اس میں جب قطعہ مذکورہ ذیل پر پہنچے تو شعر پڑھتے تھے اور مارے خوشی کے کھڑے ہوئے جاتے تھے۔

یہ مجنوں ہے نہیں آہوئے لیلیٰ

پہن کر پوستین نکلا ہے گھر سے

جنھیں وہ سینگ سمجھے ہے یہ ہیں خار

لگے ہیں پاؤں نکلے ہیں یہ سر سے

ان کا مذہب سنت جماعت تھا۔ مگر اس میں کچھ متشدد نہ تھا۔ کئی ترجیع بند اور مناقب جناب امیر علیہ السلام کی شان میں موجود ہیں، ان سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ جو کچھ انھوں نے کہا ہے وہ زور طبع دکھانے کو یا تحسین و آفریں کے طرے زیب دستار کرنے کو نہیں کہا، بلکہ دلی محبت اور اصلی اعتقاد سے کہا ہے۔ ان کی خوش اعتقادی کا یہ حال تھا کہ گلی کوچہ میں راہ چلتے ہوئے اگر کسی طاق پر تین لڑی کا سہرا یا کوئی موکھا لپا ہوا اس میں پانچ پھول پڑے دیکھتے تو جوتیوں کے اوپر پا برہنہ کھڑے ہو جاتے تھے اور دونوں ہاتھ باندھ کر فاتحہ پڑھتے۔ بعض شاگرد کہ (ہمیشہ چار پانچ ساتھ ہی رہتے تھے ) ان سے پوچھتے کہ استاد کس کی درگاہ ہے ؟ فرماتے کہ خدا جانے کس بزرگ کا گزر ہے۔ وہ کہتے کہ حضرت! آپ نے بے تحقیق کیوں فاتحہ پڑھ دی؟ فرماتے کہ بھائی! آخر کسی نے پھول چڑھائے، سہرا باندھا تو یوں ہی باندھ دیا۔ کچھ سمجھ کر ہی باندھا ہو گا۔ نوبت یہاں تک پہونچی کہ بعض دفعہ کسی شاگرد کو معلوم تھا اسی نے کہا کہ استاد میں جانتا ہوں یہ سامنے حلال خور کا گھر ہے اور اس نے اپنے لال بیگ کا طاق بنا رکھا ہے اس وقت خود بھی ہنس دیتے تھے اور کہتے کہ نیر میں نے کلام خدا پڑھا ہے اس کی برکت ہوائی تو نہیں جا سکتی جہاں ٹھکانا ہے وہاں پہونچے گی۔ میرا ثواب کہیں گیا نہیں۔

شاہ صاحب نہایت نفیس طبع اور لطیف مزاج تھے، خوش پوشاک، خوش لباس رہتے تھے اور اس میں ہمیشہ ایک وضع کے پابند تھے، جو کہ دہلی کے قدیم خاندانوں کا قانون ہے، ان کی وضع ایسی تھی کہ ہر شخص کی نظروں میں عظمت اور ادب پیدا کرتی تھی۔ وہ اگرچہ رنگت کے گورے نہ تھے مگر نور معنی صر سے پاؤں تک چھایا ہوا تھا، بدن چھریا اور کشیدہ قامت تھے، جس قدر ریش مبارک مختصر اور وجاہت ظاہری کم تھی،اس سے ہزار درجہ زیادہ خلعت کمال نے شان و شوکت بڑھائی تھی، بعض معرکوں یا بعض شعروں میں وہ اس بات پر اشارہ کرتے تھے تو ہزار حسنِ فرمان ہوتے تھے۔ بعض لطائف میں اس کا لطف حاصل ہو گا۔

شاہ صاحب باوجودیکہ اس قدر صاحب کمال تھے اور محفلوں میں اعزاز و اکرام کے صدر نشیں تھے، اس پر نہایت خوش مزاج اور یار باش تھے۔ بوڑھوں میں بوڑھے اور بچوں میں بچے بن جاتے تھے اور ہر ایک میلے میں جا کر تلاش مضامین کرتے تھے اور فکر سخن سے جو دل کھلا جاتا ہے اسے تر و تازہ اور شاداب کرتے تھے۔

لطیفہ : استاد مرحوم فرماتے تھے، ایک دفعہ بھولو شاہ کی بسنت میں شاہ صاحب آئے، چند شاگرد ساتھ تھے، انھیں لے کر تیس (۳۰) ہزاری باغ کی دیوار پر بیٹھے اور تماشا دیکھنے لگے، کسی رنڈی نے بہت سا روپیہ لگا کر نہایت زرق برق کے ساتھ ایک کار چوبی رتھ بنوائی تھی۔ شہر میں جا بجا اس کا چرچا ہو رہا تھا۔ رنڈی رتھ میں بیٹھی چھم چھم کرتی سامنے سے نکلی، ایک شاگرد نے کہا کہ استاد اس پر کوئی شعر ہو۔ اسی وقت فرمایا۔

اس کی رتھ کا کلس طلائی دیکھ

شب کہا ماہ سے یہ پروین نے

بہر پرواز یہ نکالی ہے

چونچ بیضہ سے مرغ زرین نے

لطیفہ : ایک ایسے ہی موقع پر کوئی رنڈی سامنے سے نکلی۔ اس کے سر پر اودی رضائی تھی اور وسمہ کی چمک عجیب لطف دکھاتی تھی، ایک شاگرد نے پر فرمائش کی۔ انھوں نے فرمایا۔

اُودی وسمہ کی نہیں تیری رضائی سر پر

مہ جبیں رات ہے تاروں بھری چھائی سر پر

اگرچہ شاہ صاحب کے لئے اقبال نے فارغ البالی کا میدان وسیع رکھا تھا مگر ان کی عادت تھی کہ ہر ایک شاگرد سے کچھ نہ کچھ فرمائش بھی ضرور کر دیتے تھے۔ مثلاً غزل کو اصلاح دینے لگے، قلمدان سے قلم اٹھاتے اور کہتے، میاں کشمیر کے قلمدان کیا کیا خوب آیا کرتے تھے۔ خدا جانے کیا ہو گیا۔ اب تو آتے ہی نہیں۔ بھلا کوئی نظر چڑھ جائے تو لانا۔ اسی طرح کسی ایک سے چاقو کی فرمائش کبھی کبھی کوئی آسودہ حال شاگرد ہوتا اور آپ کپڑے پہننے لگتے تو کہتے کہ ڈھاکے کی ململ جو پہلے آتی تھی، وہ اب دکھائی ہی نہیں دیتی صاحب! ہمیں تو یہ انگریزی ململ نہیں بھاتی۔ میاں کوئی تھان نظر چڑھے تو دیکھنا۔

بعض دوستوں نے تعجباً پوچھا کہ یہ کیا بات ہے ؟ فرمایا کہ روز واہیات بکواسیں کاغذ پر لکھتے ہیں اور آ کر میری چھاتی  سوار ہو جاتے ہیں، اس فرمائش کا اتنا فائدہ ہوتا ہے کہ روز کے آنے والے چوتھے دن غزل لاتے ہیں۔ اس کے علاوہ جس کام کو انسان کچھ خرچ کر کے سیکھتا ہے،اس کی قدر بھی ہوتی ہے اور شوق بھی پکّا ہوتا ہے، اور جو کچھ لکھتا ہے جانکاہی سے لکھتا ہے، اس کا تو ادھر وہ فائدہ ہوا، میرا یہ فائدہ ہوا لے آیا تو چیز آ گئی نہ لایا تو میرا پیچھا چھوٹا، جب کوئی واقعہ (شاہ نظام الدین کی سترھویں میں مر گئے، میر باقر علی صاحب ایک سید خاندانی ولی کے تھے شہر سے درگاہ کو چلے راہ میں کسی نے مار ڈالا۔ درگاہ میں خبر پہنچی تو ان کی جوانی اور مرگ ناگہانی پر سب افسوس کیا، شاہ صاحب نے اسی وقت تاریخ کہی، کیا بے عدیل تخرجہ ہے۔ قطعہ تاریخ :

بہ شب عرس حضرت محبوب

میر باقر علی چوگشت شہید

بے شش و پنچ گفتم ایں تاریخ

ہر کہ اور ایکشت بود یزید

شہرت پاتا تو اس پر بھی شاہ صاحب کچھ نہ کچھ ضرور کہا کرتے تھے۔ چنانچہ مولوی اسمٰعیل صاحب نے جب جہاد میں شکست کھائی اور دلی میں خبر آئی تو انھوں نے اس موقع پر ایک طولانی قصیدہ کہا، تین شعر اس میں سے اس وقت یاد ہیں :

کلام اللہ کی صورت ہوا دل ان کا سیپارہ

نہ یاد آئی حدیث ان کو نہ کوئی نصّ قرآنی

ہرن کی طرح میدان دغا میں چوکڑی بھولے

اگرچہ تھے دم شملہ سے وہ شیر نیستانی

مولوی صاحب کے طرفدار مجاہدوں کا دلّی میں لشکر تھا۔ بہت سے بہادروں نے آ کر شاہ صاحب کا گھر گھیر لیا، مرزا خانی کوتوال شہر تھے وہ سنتے ہی دوڑے اور آ کر بچایا، شاہ صاحب نے اشعار مذکور کو قصیدہ کر دیا اور کوتوال صاحب کا بہت شکریہ ادا کیا، ایک شعر اس میں کا بھی خیال میں ہے :

نصیر الدین بے چارہ تو رستہ طوس کا لیتا

نہ ہوتے شحنہ دہلی اگر یاں میرزا خانی

لطیفہ : ایک دفعہ کئی بادشاہی گاؤں سرکش ہو گئے۔ شاہ نظام الدین کہ شاہ جی مشہور تھے اور دربار میں مختار تھے، فوج لے کر گئے اور ناکام پھرے۔ ان کی نوکری میں بادشاہی نوکروں نے تکلیف پائی تھی، اس پر بھی شاہ نصیر نے ایک نظم لکھی، جس کا مطلع یہ تھا۔

کیا پوچھتے ہو یارو بیٹھے تھے زہر کھائے

شکر خدا کے بارے پھر شاہ صاحب آئے

لطیفہ : دلی میں ایک منشی ہندو تھے۔ نجیا نام رنڈی پر مسلمان ہو گئے۔ شاہ صاحب نے فرمایا :

جس طرف تو نے کیا  ایک اشارہ نہ جیا

نجیا آہ تری چشم کا مارا نہ جیا

لطیفہ : عیسیٰ خاں اور موسیٰ خاں دو بھائی دلّی میں تھے (ذات کے جلاہے تھے )، مال و دولت کی بابت دونوں میں جھگڑا ہوا۔ عیسیٰ خاں ناکام ہوئے۔ موسیٰ خاں نے کچھ عدالت کے زور سے کچھ حکمت عملی سے سارا مال مار لیا۔ شاہ صاحب نے بطور ظرافت چند شعر کا قطعہ کہا۔ ایک مصرع یاد ہے اور وہی قطعہ کی جان ہے۔

مصرعہ : ہوئی آفاق میں شہرت کہ عیسیٰ خاں کا گھر موسا

لطف یہ کہ دونوں بھائی شاعر تھے۔ ایک کا تخلص آفاق دوسرے کا شہرت تھا، ان میں سے کسے بے مغزے نے کچھ واہیات بکا تھا، شاہ صاحب کے بزرگوں کی خوبیاں بیا کر کے خود ان کی شکایت کی تھی، اور چانکہ روشن پورہ میں رہتے تھے، اس کا اشارہ کر کے کہا تھا۔

بعد ان سب کے شاہ صاحب نے

خوب روشن پورہ کیا روشن

مرزا مغل بیگ نے خدمت وزارت میں نوخوان شاہی کو ناخوش کیا۔ اس موقع پر ہر ایک شخص نے اپنے اپنے حوصلہ کے بموجب دل کا بخار نکالا۔ ایک صاحب نے تاریخ کہی۔

ہنس کے ہاتف نے کہا اس کو کہ واہ

کیا ہی آنٹی میں وزارت آ گئی

شاہ صاحب نے بھی ایک قطعہ کہا۔ اس کے دو شعر یاد ہیں۔

تانے بانے پر نہ کر دنیا کے ہرگز اعتبار

غور کر چشم حقیقت سے کہ سر پر کوچ ہے

توڑ کر تو اسطرف سے اسطرف کو جوڑ لے

تو تو مومن ہے وگرنہ مومنوں کی پوچ ہے

شاہ نصیرؔ مرحوم اور شیخ ابراہیم ذوقؔ سے بھی معرکے ہوئے ہیں۔ دیکھو ان کے حال میں۔

لطیفہ : دکن کی سرکار میں دستور تھا کہ دن رات برابر کاروبار جاری رہتے تھے۔ مختلف کاموں کے وقت مقرر تھے۔ جس صیغہ کا دربار ہو چکا، اس کے متعلق لوگ رخصت ہوئے، دوسرے صیغہ کے آن حاضر ہوئے۔ اسی میں صاحب دربار نے اٹھ کر ذرا آرام لے لیا۔ ضروریات سے فارغ ہوئے اور پھر آن بیٹھے، چنانچہ مشاعرہ اور متاثرہ کا دربار رات کے پچھلے پہر ہوتا تھا، ایک موقع پر کہ نہایت دھوم دھام کا جلسہ تھا۔ تمام با کمال اہل دکن اور اکثر اہل ایران موجود تھے۔ سب کی طبیعتوں نے اپنے اپنے جوہر دکھائے۔ خصوصاً چند شعرائے ایران نے ایسے ایسے قصائد سنائے کہ لب و دہن پر حرف آفریں نہ چھوڑا۔ شاہ نصیرؔ کی حسن رسائی اور اخلاق نے دربار کے چھوٹے بڑے سب تسخیر کر لئے تھے۔ چنانچہ شمع قریب پہنچی تو ایک خواص نے سونے کا عصا ہاتھ میں، ہزار بار، سو کا دوشالہ کندھے پر ڈالے کھڑا تھا، کان میں جھک کر کہا کہ آج آپ غزل نہ پڑھیں تو بہتر ہے۔ آپ وہیں بگڑ کر بولے کہ کیوں ؟ اس نے کہا کہ ہوا تیز ہو گئی۔ (یعنی کلام کا سرسبز ہونا مشکل ہے )۔ یہ خفگی سے ٹھوڑی پر ہاتھ پھیر کر بولے کہ ایسا تو میں خوبصورت بھی نہیں کہ کوئی صورت دیکھنے کو نوکر رکھے تا، یہ نہیں تو پھر میں ہوں کس کام کا، اس قیل و قال میں شمع بھی سامنے آ گئی، پھر جو غزل سنائی تو سب کو لٹا دیا۔

لطیفہ : قطع نظر اس سے کہ شعر کے باب میں طبع حاضر رکھتے تھے، حاضر جوابی میں برق تھے، چنانچہ ایک دن سلطان جی کی سترھویں میں گئے اور باؤلی میں جا کر ایک طاق میں بیٹھ گئے۔ حقّہ پی رہے تھے کہ اتفاقاً ایک نواب آ نکلے۔ شاہ صاحب سے صاحب سلامت ہوئی، وہیں بہت سی ارباب نشاط بھی حاضر تھیں اور ناچ ہو رہا تھا، اس عالم زرق برق پر اشارہ کر کے نواب صاحب نے فرمایا کہ استاد آج آپ بھی بالائے طاق ہیں۔ بولے جی ہاں جفت ہونے کو بیٹھا ہوں، آئیے تشریف لائیے۔

لطیفہ : ایک دن دکن کو چلے، نواب جھجھّر مدت سے بلاتے تھے۔ اب چونکہ مقام مذکورہ سرراہ تھا، اور گرمی شدت سے پڑتی تھی، برابر سفر بھی مشکل تھا، اس لئے وہاں گئے اور کئی دن مقام کیا، جب چلنے لگے تو رخصت کی ملاقات کو گئے، نواب نے کہا کہ گرمی کے دن ہیں، دکن کا سفر دور دراز کا سفر ہے۔ خدا پھر خیر و عافیت سے لائے مگر وعدہ فرمائیے کہ اب جھجھّر میں کب آئیے گا، ہنس کر بولے کہ جھجھّر کی چاہ تو وہی گرمی میں۔

شاہ صاحب کا ایک مشہور شعر ہے۔

چرائی چادر مہتاب شب میکش نے جیحوں پر

کٹورا صبح دوڑانے لگی خورشید گردوں پر

نواب سعادت یار خاں رنگینؔ، مجالس رنگین میں فرماتے ہیں کہ ایک جلسہ میں اس شعر کی بڑی تعریف ہو رہی تھی، میں نے اس میں اصلاح دی کہ

مصرعہ :چرائی چادر مہتاب شب بادل نے جیحوں پر

ہو تو اچھا ہے، سبب یہ کہ جب بادل چاند پر آتا ہے تو چادر مہتاب نہیں رہتی ہے گویا چوری ہو جاتی ہے، یہاں چور تو زمین پر ہے اور مضمون عالم بالا پر، قصہ زمین برسر زمین ہوتا ہے، عالم بالا کے لئے چور بھی آسمانی ہی چاہیے، کسی شخص نے شاہ صاحب سے بھی جا کر کہا، وہ بہت خفا ہوئے اور کہا کہ نواب زادہ ہونا اور بات ہے اور شاعری اور بات ہے۔ خاں صاحب یہ خبر سن کر شاہ صاحب کے پاس گئے اور معذرت کی۔

مگر میرے نزدیک شاہ صاحب نے کچھ نامناسب نہیں کہا، چاند آسمان پر ہوتا ہے، چاندنی زمین پر ہوتی ہے اور چاندنی کا لطف میکش اڑاتا ہے، بادل کیا اڑائے گا اور میکش نہ ہو گا تو شعر غزلیت کے رتبہ سے گر جائے گا۔

لطیفہ : دیہاتی جاگیر کے تعلق سے ایک تحصیلدار صوفی پت کے پاس ملاقات کو گئے اور کچھ رنگترے دلی سے بطور سوغات ساتھ لے گئے۔ تحصیلدار نے کہا کہ جناب شاہ صاحب رنگتروں کی تکلیف کیا ضرور تھی۔ آپ کی طرف سے بڑا تحفہ آپ کا کلام ہے، ان رنگتروں کی حسن تشبیہ میں کوئی شعر ارشاد فرمائیے۔ اسی وقت رباعی کہی اور سنائی۔

اے ببر برج آسمان اقبال

ان رنگتروں پر غور سے کیجیے گا خیال

یہ نذر حقیر ہو قبول خاطر

پردے میں شفق کے ہیں گرہ بند ہلال

غزلیں

زیب تن گرچہ ہے گل پیرہن سرخ ترا

لیکن انجام یہ ہو گا کفن سرخ ترا

مجھ کو کہتا ہے وہ نکلا ہے شفق میں یہ ہلال

یا نمودار ہے زخم کہن سرخ ترا

دسترس  پاؤں تک اس شوخ کے تجھ کو ہی یہاں

کیونکہ رتبہ نہ ہو اے گلبدن سرخ ترا

شیشہ بادہ گلرنگ ٹپک دے ساقی

جامہ سبز میں دیکھے جو تن سرخ ترا

آستین سے یہ لگا کہنے وہ تلوار کو پونچھ

بن گیا سورج یم خون شکن سرخ ترا

رنگ نیلم ہی نہیں رنگ مسی کی یہ نمود

لب بھی ہے غیرت لعل یمن سرخ ترا

سچ بتا تو مجھے سوفار خد تگ قاتل

لہو کس کس کا پیے گا دہن سرخ ترا

خاک باہم ہو شرارت سے ہم آغوش نصیرؔ

صاف ہے شعلہ آتش بدن سرخ ترا

*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*

خال پشت لب شیریں ہے عسل کی مکھّی

روح فرہاد لپٹ بن کے جبل کی مکھّی

سنگ و خشت در و دیوار افتادہ کو نہ دیکھ

ہاتھ ملتی ہے پتھوڑا کے محل کی مکھّی

بن گیا ہوں میں خیال کمر یار میں بور

نہ ترے زور کی طاقت ہے نہ بل کی مکھّی

تیرہ بختانِ ازل کا کبھی دیکھا نہ فروغ

شب کو جگنو کی طرح اڑ کے نہ جھلکی مکھّی

بیٹھنے سے ترے ہم سمجھے لب یار کر قند

بات مشکل تھی مگر تو لے یہ حل کی مکھّی

ان کو کیا کام توکل سے جو بن جاتے ہیں

قاب بریانی پہ ہر اہل دول کی مکھّی

ہو گیا ہے یہ تری چشم کا بیمار نحیف

نہ اڑا سکتا ہے منھ کہ نہ بغل کی مکھّی

ریس پروانہ جانسوز کی کرتی تو ہے، پر

نگہ شمع میں ہو جائے گی ہلکی مکھّی

صنعت لعبت چیں دیکھ دلا جو کر تو

دیکھنی گر تجھے منظور ہے کل کی مکھّی

دلربا قہر فسوں ساز ہیں بنگالہ کے

آدمی کو وہ بناتے ہیں عسل کی مکھّی

سخن اپنا جو شکر ریز معانی ہے نصیرؔ

ہے ردیف اس لئے اس شعر و غزل کی مکھّی

*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*

سدا ہے اس آہ و چشم تر سے فلک پہ بجلی زمیں پہ باراں

نکل کے دیکھو ٹک اپنے گھر سے، فلک پہ بجلی زمین پہ باراں

وہ شعلہ رو ہے سوار تو سن اور اس کا تو سن عرق فشاں ہے

عجب ہے ایک سیر دوپہر سے فلک پہ بجلی زمین پہ باراں

ہنسے ہے کوٹھے پہ یوسف اپنا میں زیر دیوار رو رہا ہوں

عزیز دیکھو مری نظر سے فلک پہ بجلی زمین پہ باراں

پتنگ کیوں کر نہ ہووے حیران کہ شمع سب کو دکھا رہی ہے

بچشم گریان و تاج زر سے فلک پہ بجلی زمین پہ باراں

نہا کے افشاں چنو جبیں پر نچوڑو زلفوں کو بعد اس کے

دکھاؤ عاشق کو اس ہنر سے فلک پہ بجلی زمین پہ باراں

کہاں ہے جوں شعلہ شاخ پر گل کدھر ہے فصل بہار شبنم

نیا ہے اعجاز طرفہ ترسے فلک پہ بجلی زمین پہ باراں

کرو نہ دریا پہ مے کشی تم ادھر کو آؤ تو میں دکھاؤں

سر شک و ہر نالہ جگر سے فلک پہ بجلی زمین پہ باراں

کدھر کو جاؤں نکل کے یارب کہ گرم و سرد زمانہ مجھ کو

دکھائے ہے شام تک سحر سے فلک پہ بجلی زمین پہ باراں

وہ تیغ کھینچے ہوئے ہے سر پر میں سر جھکائے ہوں اشک ریزاں

دکھاؤں اے دل تجھے کدھر سے فلک پہ بجلی زمین پہ باراں

غضب ہے چیں بر جبیں وہ کیا بدن سے ٹپکے بھی ہے پسینہ

عیاں ہے یارو نئے ہنر سے فلک پہ بجلی زمین پہ باراں

نصیر لکھی ہے کیا غزل یہ کہ دل تڑپتا ہے سن کے جس کو

بندھے ہے کب یوں کسی بشر سے فلک پہ بجلی زمین پہ باراں

نہاں ہے کب چشم ہر بشر سے فلک پہ بجلی زمین پہ باراں

ہے اس نگہ سے اس اشک تر سے فلک پہ بجلی زمین پہ باراں

دکھا کے تم شہ نشیں پہ جلوہ جو دیکھو فوارہ کا تماشا

تو یہ صدا آئے بام و در سے فلک پہ بجلی زمین پہ باراں

وہ مہروش پشت فیل پر ہے اور اس کی خرطوم آب افشاں

عجب ہے تشبیہ جلوہ گر سے فلک پہ بجلی زمین پہ باراں

وہ طفل ترسا جبیں پہ قشقہ جو کھینچ سورج کو دیوے پانی

تو کیوں نہ دل دیکھنے کو ترسے فلک پہ بجلی زمین پہ باراں

دوپٹہ سر پر ہے بادلے کا گلاب پاش اس کے ہاتھ میں ہے

نہ کیونکر چمکے نہ کیونکر برسے فلک پہ بجلی زمین پہ باراں

تو اپنی پگڑی پہ رکھ کے طرہ جو کھیلے پچکاریوں سے ہولی

عیاں ہو نیرنگی دگر سے فلک پہ بجلی زمین پہ باراں

وہاں وہ غرفہ میں تاب رخ ہے یہاں یہ ابر مژہ پہ نم ہے

یہ حسن الفت کے ہے ثمر سے فلک پہ بجلی زمین پہ باراں

عجب ہے کچھ ماجرا یہ ساقی کہ غل مچایا ہے میکشوں نے

مدام یاں دیکھ ابر ترسے فلک پہ بجلی زمین پہ باراں

وہ شوخ جھرنے کی سیر کر کے پھسلنے پتھر پر جا کے بیٹھا

پکاری خلقت ادھر ادھر سے فلک پہ بجلی زمین پہ باراں

نصیر صد آفریں ہے تجھ کو کہ اہل معنی پکارتے ہیں

عجب ہے مضمون تازہ تر سے فلک پہ بجلی زمین پہ باراں

*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*

لو لگ رہی ہے جس سے وہ شمع رو نہ آیا

بل بے تری شرارت یاں تک کبھو نہ آیا

ہو اس دہن سے روکش سیلی صبا کی کھائی

غنچہ کے آہ منھ سے کس دن لہو نہ آیا

دنداں دکھا کے مت ہنس اے بخیہ گریباں

چاک جگر کا ہم کو طور رفو نہ آیا

کیا جانے یہ گیا تھا کس منھ سے روکشی کو

آئینہ واں ہے لے کر خاک آبرو نہ آیا

برگشتہ بخت ہم وہ اس دور میں ساقی

لب تک کبھو ہمارے جام و سبو نہ آیا

موج سرشک سے ہے رونق قبائے تن کی

کیونکر کہوں کہ اس کو کار رفو نہ آیا

آخر کو کہکشاں ہے یکسر وہ مانگ نکلی

اس باب میں ہماری فرق ایک مو نہ آیا

کشتی دل تو دائم موج خطر میں ڈوبی

چیں بر جبیں ہو کس دن وہ روبرو نہ آیا

کیونکر یہ ہاتھ اپنا پہنچے گا تا گریباں

دست خیال جس کے دامن کو چھو نہ آیا

اپنی بھی بعد مجنوں یارو ہوا بندھی ہے

لے گرد باد خیمہ کب کو بکو نہ آیا

نا محرموں سے تم نے کھلوائے بند محرم

میں تو بھی آہ لے کر کچھ آرزو نہ آیا

ہر دم نصیرؔ رہ تو امید وار رحمت

تیری زباں پہ کس دن لَا تَقنَطُوا نہ آیا

*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*

اے اشک رواں ساتھ لے آہ جگری کو

عاشق کہیں بے فوج علم اٹھ نہیں سکتا

سقف فلک کہنہ میں کیا خاک لگاؤں

اے ضعف دل اس آہ کا تھم اٹھ نہیں سکتا

سِر معرکہ عشق میں آساں نہیں دینا

گاڑے ہے جہاں شمع قدم اٹھ نہیں سکتا

ہے جنبش مژگاں کا کسی کی جو تصور

دِل سے خلش خار الم اٹھ نہیں سکتا

دل پر ہے مرے خیمہ ہر آبلہ استاد

کیا کیجئے کہ یہ لشکر غم اٹھ نہیں سکتا

ہر جا متجلّی ہے وہی پردہ غفلت

اے معتکف دیر و حرم اٹھ نہیں سکتا

یوں اشک زمین پر ہیں کہ منزل کو پہنچ کر

جوں قافلہ ملک عدم اٹھ نہیں سکتا

*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*

شب کو کیونکر تجھ کو ہے پھبتا سر پر طرہ ہار گلے میں

جوں پرویں و ہالہ مہ تھا سر پر طرہ ہار گلے میں

رونق سریاں داغ جنوں ہے اشک مسلسل زیب گلو ہے

چاہیے تجھ کو غیرت لیلا سر پر طرہ ہار گلے میں

شعلہ کہاں آنسو ہیں کدھر شب شمع رکھی تھی محض میں

تاج اور زر اور موتیوں کا سا سر پر طرہ ہار گلے میں

بال پریشاں ہیں کاکل کے پیچ گلے میں پگڑی کے

یوں رکھتا ہے وہ متوالا سر پر طرہ ہار گلے میں

حق میں ہے میرے طائروں کے باز کا چنگل دام کا حلقا

اے بت کافر مجھ کو دکھلا سر پر طرہ ہار گلے میں

شملے اور تسبیح کے بدلے شیخ جی صاحب رکھنے لگے ہیں

کیونکہ نہ دیکھیں رند تماشا سر پر طرہ ہار گلے میں

رشک چمن تو سیر کرے گا جبکہ کنار حوض و لب جو

فوارہ اور پھول رکھے گا سر پر طرہ ہار گلے میں

عکس شعاع جہر نہیں یہ بیل چنبیلی لپٹی ہے

سرو چمن نے کیا ہے پیدا سر پر طرہ ہار گلے میں

کیفیت کیا ہو بن ساقی سوئے چمن طاؤس اور قمری

ابر و ہوا میں رکھیں تنہا سر پر طرہ ہار گلے میں

ہے یہ تمنا میرے جی میں یوں تجھے دیکھوں بادہ کشتی میں

ہاتھ میں ساغر بر میں مینا سر پر طرہ ہار گلے میں

اور بدل کے ردیف و قوافی لکھئے غزل اس بحر میں جلدی

تم نے نصیرؔ اب خوب نبھایا سر پر طرہ ہار گلے میں

*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*

وقت نماز ان کا قامت گاہ خدنگ و گاہ کمال

بن جاتے ہیں اہل عبادت گاہ خدنگ و گاہ کمال

مرد جوانی میں تو ہے سیدھا پیری میں جھک جاتا ہے

قوت و ضعف کی ہے یہ علامت گاہ خدنگ و گاہ کمال

بادہ کشی کے سکھلاتے ہیں کیا ہی قرینے ساون بھادوں

کیفیت کے ہم نے جو دیکھا دو ہیں مہینے ساون بھادوں

چھوٹتے ہیں فوارہ مژگان روز و شب ان آنکھوں سے

یوں نہ برستے دیکھے ہوں گے مل کے کسی نے ساون بھادوں

ٹانکنے کو پھرتی ہے بجلی اس میں گوٹ تمامی کی

دامن ابر کے ٹکڑوں کو جب لگتے ہیں سینے ساون بھادوں

بھولے دم کی آمد و شد ہم یاد کر اس جھولے کی پینگیں

سوجھے ہے بے یار نہ دیں گے آہ یہ جینے ساون بھادوں

کیونکہ نہ یہ دریائے تگرگ اے بادہ پرستو برسائیں

کان گہر چھٹ زر کے رکھتے ہیں گنجینے ساون بھادوں

کان جواہر کیونکہ نہ سمجھے کھیت کو دہقان اولوں سے

برساتے ہیں موتیوں میں ہیرے کے نگینے ساون بھادوں

ابر سیہ میں دیکھی تھی بگلوں کی قطار اس شکل سے ہم نے

یاد دلائے پھر کے ترے دنداں مسّی نے ساون بھادوں

 

 

 

مومِن خاں صاحب مومنؔ

تمہید

پہلی دفعہ اس نسخہ میں مومنؔ خاں صاحب کا حال نہ لکھا گیا۔ وجہ یہ تھی کہ دور پنجم جس سے ان کا تعلق ہے بلکہ دور سوم و چہارم کو بھی اہل نظر دیکھیں کہ جو اہل کمال اس میں بیٹھے ہیں کس لباس و سامان کے ساتھ ہیں۔ کسی مجلس میں بیٹھا ہوا انسان جبھی زیب دیتا ہے کہ اسی سامان و شان اور وضع و لباس کے ساتھ ہو، جو اہل محفل کے لئے حاصل ہے۔ نہ ہو تو ناموزوں معلوم ہوتا ہے۔ خان موصوف کے کمال سے مجھے انکار نہیں۔ اپنے وقت کے اہل کمال کا شمار بڑھا کر اور ان کے کمالات دکھا کر ضرور چہرہ فخر کا رنگ چمکاتا، لیکن میں نے ترتیب کتاب کے دنوں میں اکثر اہل وطن کو خطوط لکھوائے اور لکھے، وہاں سے جواب صاف آیا وہ خط بھی موجود ہیں۔ مجبوراً ان کا حال قلم انداز کیا۔ دنیا کے لوگوں نے اپنے اپنے حوصلہ کے بموجب جو چاہا سو کہا۔ آزاد نے سب کی عنایتوں کو شکریہ کا دامن پھیلا کر لے لیا۔ ذوقؔ :

وہ گالیاں کہ بوسہ خوشی پر ہے آپ کی

رکھتے فقیر کام نہیں رد و کد سے ہیں

البتہ افسوس اس بات کا ہے کہ بعض اشخاص جنھوں نے میرے حال پر عنایت کر کے حالات مذکورہ کی طلب و تلاش میں خطوط لکھے اور سعی ان کی ناکام رہی انھوں نے بھی کتاب مذکور پر ریویو لکھا مگر اصل حال نہ لکھا، کچھ نہ کچھ اور ہی لکھ دیا۔ میں نے اسی وقت دہلی اور اطراف دہلی میں ان اشخاص کو خطوط لکھنے شروع کر دے جو خان موصوف کے خیالات سے دل گلزار رکھتے ہیں، اب طبع ثانی سے چند مہینے پہلے تاکید و التجا کے نیاز ناموں کو جولانی دی۔ انہی میں سے ایک صاحب کے الطاف و کرم کا شکر گذار ہوں جنھوں نے باتفاق احباب اور اصلاح ہو کر جزئیات احوال فراہم کر کے چند ورق مرتب کئے اور عین حالت طبع میں کہ کتاب مذکور قریب الاختتام ہے مع ایک مراسلہ کے عنایت فرمائیے بلکہ اس میں کم و بیش کی بھی اجازت دی۔ میں نے فقط بعض روایتیں اور بہت سی روایتیں مختصر کر دیں یا چھوڑ دیں، جن سے ان کے نفس شاعری کو تعلق نہ تھا، باقی اصل کو بجنسہ لکھ دیا۔ آپ ہر گز دخل و تصرف نہیں کیا، ہاں کچھ کہنا ہوا تو حاشیہ پر خط وجدانی میں لکھ دیا جو احباب پہلے شاکی تھے امید ہے کہ اس فرو گذاشت کو معاف فرمائیں گے۔

مومنؔ خاں صاحب کا حال – ان کے والد حکیم نبی خاں ولد حکیم نامدار خاں شہر کے شرفاء میں سے تھے، جن کی اصل بخبائے کشمیر سے تھی۔ اول حکیم نامدار خاں اور حکیم کامدار خاں دو بھائی سلطنت مغلیہ کے آخری دور میں آ کر بادشاہی طبیبوں میں داخل ہوئے۔ شاہ عالم کے زمانہ میں موضع بلابہ وغیرہ پرگنہ نارنول میں جاگیر پائی۔ جب سرکار انگریزی نے جھجھر کی ریاست نواب فیض طلب خاں کو عطا فرمائی تو پرگنہ نارنول بھی اسمیں شامل تھا، رئیسں مذکور نے ان کی جاگیر ضبط کر کے ہزار روپیہ سالانہ پنشن ورثہ حکیم نامدار خاں کے نام مقرر کی دی، پنشن مذکور میں سے حکیم غلام نبی خاں صاحب نے اپنا حصہ لیا اور اس میں سے حکیم مومنؔ خاں نے اپنا حق پایا، اس کے علاوہ ان کے خاندان کے چار طبیبوں کے نام پر سو (۱۰۰) روپیہ ماہوار پنشن سرکار انگریزی سے بھی ملتی تھی، اس میں سے ایک چوتھائی ان کے والد کو اور ان کے بعد اس میں سے ان کو حصہ ملتا۔

ان کی ولادت ۱۲۱۵ھ میں واقع ہوئی، بزرگ جب دلی میں آئے تو چیلوں کے کوچہ میں رہے تھے۔ وہیں خاندان کی سکونت رہی۔ شاہ عبد العزیز صاحب کا مدرسہ وہاں سے بہت قریب تھا۔ ان کے والد کو شاہ صاحب سے کمال عقیدت تھی، جب یہ پیدا ہوئے تو حضرت ہی نے آ کر ان میں اذان دی اور مومن خاں نام رکھا۔ گھر والوں نے اس نام کو ناپسند کیا اور حبیب اللہ نام رکھنا چاہا، لیکن شاہ صاحب ہی کے نام سے نام پایا۔

بچپن کی معمولی تعلیم کے بعد جب ذرا ہوش سنبھالا تو والد نے شاہ عبد القادر صاحب کی خدمت میں پہنچایا، ان سے عربی کی ابتدائی کتابیں پڑھتے رہے، حافظہ کا یہ حال تھا کہ جو بات شاہ صاحب سے سنتے تھے فوراً یاد کر لیتے تھے، اکثر شاہ عبد العزیز صاحب کا وعظ ایک دفعہ سن کر بعینہ اسی طرح ادا کر دیتے تھے، جب عربی میں کسی قدر استعداد ہو گئی تو والد اور چچا حکیم غلام حیدر خاں اور حکیم غلام حسن سے طب کی کتابیں پڑھیں اور انھیں کے مطب میں نسخہ نویسی کرتے رہے۔

تیز طبیعت کا خاصہ ہے کہ ایک فن پر دل نہیں جمتا۔ اس نے بزرگوں کے علم یعنی طبابت پر تھمنے نہ دیا، دل میں طرح طرح کے شوق پیدا کئے۔ شاعری کے علاوہ نجوم کا خیال آیا، اس کو اہل کمال سے حاصل کیا اور مہارت بہم پہنچائی، ان کو نجوم سے قدرتی مناسبت تھی، ایسا ملکہ بہم پہونچایا تھا کہ احکام سن سن کر بڑے بڑے منجم حیران رہ جاتے تھے، سال بھر میں ایک بار تقویم دیکھتے تھے، پھر برس دن تک تمام ستاروں کے مقام اور ان کی حرکات کیفیت ذہن میں رہتی تھی۔ جب کوئی سوال پیش کرتا، نہ زائچہ کھینچتے نہ تقویم دیکھتے، پوچھنے والے سے کہتے کہ تم خاموش رہو جو میں کہتا جاؤں اس کا جواب دیتے جاؤ، پھر مختلف باتیں پوچھتے تھے، اور سائل اکثر تسلیم کرتا جاتا تھا۔

ایک دن ایک غریب ہندو نہایت بے قرار اور پریشان آیا۔ ان کے بیس (۲۰) برس کے رفیق قدیم شیخ عبد الکریم اس وقت موجود تھے۔ خاں صاحب نے اسے دیکھ کر کہا کہ تمھارا کچھ مال جاتا رہا ہے ؟ اس نے کہا میں لٹ گیا۔ کہا کہ خاموش رہو۔ جو میں کہوں اسے سنتے جاؤ، جو بات غلط ہو، اس کا انکار کر دینا، پھر پوچھا کیا زیور کی قسم سے تھا؟ صاحب ہاں وہی عمر بھر کی کمائی تھی، کہا تم نے لیا ہے یا تمہاری بیوی نے، کوئی غیر چرانے نہیں آیا۔ ان نے کہا میرا مال تھا اور بیوی کے پہننے کا زیور تھا، ہم کیوں چراتے، ہنس کر فرمایا، کہیں رکھ کر بھول گئے ہو گے۔ مال کہیں باہر نہیں گیا۔ اس نے کہا، صاحب سارا گھر ڈھونڈھ مارا، کوئی جگہ باقی نہ رہی، فرمایا پھر دیکھو، گیا اور سارے گھر میں اچھی طرح دیکھا، پھر آ کر کہا، صاحب میرا چھوٹا سا گھر ہے، ایک ایک کونہ دیکھ لیا، کہیں پتہ نہ لگا۔ خاں صاحب نے کہا، اسی گھر میں ہے، تم غلط کہتے ہو، کہا آپ چل کر تلاشی لے لیجئے، میں تو ڈھونڈھ چکا، فرمایا میں یہیں سے بتاتا ہوں۔ یہ کہہ کر ان کے سارے گھر کا نقشہ بیان کرنا شروع کیا۔ وہ سب باتوں کو تسلیم کرتا جاتا تھا، پھر کہا، اس گھر میں جنوب کے رخ ایک کوٹھری ہے اور اس میں شمال کی جانب ایک لکڑی کا مچان ہے اس کے اوپر مال موجود ہے۔ جا کر لے لو،  اس نے کہا مچان کو تین دفعہ چھان مارا وہاں نہیں، فرمایا اسی کے ایک کونے میں پڑا ہے، غرض وہ گیا اور جب روشنی کر کے دیکھا تو ڈبّا اور اس میں سارا زیور جوں کا توں وہیں سے مل گیا۔

ایک صاحب کا مراسلہ اسی تحریر کے ساتھ مسلسل پہنچا ہے جس میں اور قسم کے اسرار نجومی ستاروں کی طرح چمک رہے ہیں اور ان کے شاگردوں کی تفصیل بھی لکھی ہے۔ آزاد ان کے درج کرنے میں قاصر ہے۔ معاف فرمائیں، زمانہ ایک طرح کا ہے لوگ کہیں گے تذکرہ شعراء لکھنے بیٹھا اور نجومیوں کا تذکرہ لکھنے لگا۔

خاں صاحب نے اپنی نجوم دانی کو ایک غزل کے شعر میں خوبی سے ظاہر کیا ہے۔

ان نصیبوں نے کیا اختر شناس

آسمان بھی ہے ستم ایجاد

شطرنج سے بھی ان کو کمال مناسبت تھی۔ جب کھیلنے بیٹھتے تھے تو دنیا و مافیہا کی خبر نہ رہتی تھی اور گھر کے نہایت ضروری کام بھی بھول جاتے تھے۔ دلی کے مشہور شاطر کرامت علی خاں سے قرابت قریبہ رکھتے تھے اور شہر کے ایک دو مشہور شاطروں کے سوا کسی سے کم نہ تھے۔

شعر و سخن سے انھیں طبعی مناسبت تھی، اور عاشق مزاجی نے اسے اور بھی چمکا دیا تھا۔ انھوں نے ابتداء میں شاہ نصیر مرحوم کو اپنا کلام دکھایا مگر چند روز کے بعد ان سے اصلاح لینی چھوڑ دی۔ اور پھر کسی کو استاد نہیں بنایا۔

ان کے نامی شاگرد نواب مصطفیٰ خاں شیفتہ صاحب تذکرہ گلشنِ مے خار خلف نواب اعظم الدولہ سرفراز الملک مرتضی خاں مظفر جنگ بہادر رئیس پلول اور ان کے چھوٹے بھائی نواب اکبر خاں کہ ۴ برس ہوئے راولپنڈی میں دنیا سے انتقال کیا، میر حسین تسکینؔ کہ نہایت ذکی الطبع شاعر تھے، سید غلام خاں وحشتؔ۔ غلام ضامن کرمؔ۔ نواب اصغر علی خاں کہ پہلے اصغرؔ تخلص کرتے تھے، پھر نسیمؔ تخلص اختیار کیا اور مرزا خدا بخش قیصر شہزادے وغیرہ تھے۔

رنگین طبع، رنگین مزاج، خوش وضع، خوش لباس، کشیدہ قامت سبزہ رنگ، سر پر لمبے لمبے گھونگھر والے بال اور ہر وقت انگلیوں سے ان میں کنگھی کرتے رہتے تھے، ململ کا انگرکھا، ڈھیلے ڈھیلے پائنچے، اس میں لال نیفہ بھی ہوتا تھا، میں نے انھیں نواب اصغر علی خاں اور مرزا خدا بخش قیصر کے مشاعروں میں غزل پڑھتے ہوئے سنا تھا۔ ایدی درد ناک آواز سے دلپذیر ترنم کے ساتھ پڑھتے تھے کہ مشاعرہ وجد کرتا۔ اللہ اللہ اب تک وہ عالم آنکھوں کے سامنے ہے، باتیں کہانیاں ہو گئیں۔ باوجود اس کے نیک خیالوں سے بھی ان کا دل خالی نہ تھا، نوجوانی ہی میں مولانا سید احمد صاحب بریلوی کے مرید ہوئے کہ مولوی اسمٰعیل صاحب کے پیر تھے، خاں صاحب ان ہی کے عقائد کے بھی قائل رہے۔

انھوں نے کسی کی تعریف میں قصیدہ نہیں کہا، ہاں راجہ اجیت سنگھ برادر راجہ کرم سنگھ رئیس پٹیالہ جو دہلی میں رہتے تھے، اور ان کی سخاوتیں شہر میں مشہور تھیں، وہ ایک دن مصاحبوں کے ساتھ سر راہ اپنے کوٹھے پر بیٹھے تھے خاں صاحب کا ادھر سے گزر ہوا، لوگوں نے کہا مومن خاں شاعر یہی ہیں، راجہ صاحب نے آدمی بھیج کر بلوایا، عزت و تعظیم سے بٹھایا (کچھ نجوم کچھ شعر و سخن کی باتیں کیں ) اور حکم دیا کہ ہتنی کس کر لاؤ، ہتنی حاضر ہوئی وہ خاں صاحب کو عنایت کی۔ انھوں نے کہا کہ مہاراج میں غریب آدمی ہوں اسے کہاں سے کھلاؤں گا اور کیونکر رکھوں گا، کہا کہ سو (۱۰۰) روپیہ اور دو۔ خاں صاحب اسی پر سوار ہو کر گھر آئے اور پہلے اس سے کہ ہتنی روپے کھائے، اسے بیچ کر فیصلہ کیا (اسی موقع پر اوجؔ نے کہا تھا دیکھو صفحہ) پھر خاں صاحب نے ایک قصیدہ مدحیہ شکریہ میں کہہ کر راجہ صاحب کو دیا جس کا مطلع ہے :

صبح ہوئی تو کیا ہوا، ہے وہی تیرہ اختری

کثرت دود سے سیاہ شعلہ شمع خاوری

سوا اس قصیدہ کے اور کوئی مدح کسی دنیا دار کے صلہ و انعام کی توقع پر نہیں لکھی۔ وہ اس قدر غیور تھے کہ کسی عزیز یا دوست کا ادنیٰ احسان بھی گوارہ نہ کرتے تھے۔

راجہ کپورتھلہ نے انھیں ساڑھے تین سو روپیہ مہینہ کر کے بلایا اور ہزار روپیہ خرچ سفر بھیجا، وہ بھی تیار ہوئے، مگر معلوم ہوا کہ وہاں ایک گوئیے کی بھی یہی تنخواہ ہے، کہا کہ جہاں میری اور ایک گوئیے کی برابر تنخواہ ہو میں نہیں جاتا۔

جس طرح شاعری کے ذریعہ سے انھوں نے روپیہ نہیں پیدا کیا اسی طرح نجومؔ، رملؔ اور طبابت کو بھی معاش کا ذریعہ نہیں کیا۔ جس طرح شطرنج ان کی ایک دل لگی کی چیز تھی، اسی طرح نجوم رمل اور شاعری کو بھی ایک بہلاوا دل کا سمجھتے تھے۔

خاں صاحب پانچ چار دفعہ دہلی سے باہر گئے۔ اول رامپور اور وہاں جا کر کہا۔

دلی سے رام پور میں لایا جنوں کا شوق

ویرانہ چھوڑ آئے ہیں ویرانہ تر میں ہم

دوسری دفعہ سہسواں گئے، وہاں فرماتے ہیں۔

چھوڑ دلی کو سہسواں آیا

ہرزہ گردی میں مبتلا ہوں میں

جہانگیر آباد میں نواب مصطفیٰ خاں کے ساتھ کئی دفعہ گئے۔

ایک دفعہ نواب شائستہ خاں کے ساتھ سہارنپور گئے۔ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ دلی میں جو میسر تھا اسی پر قانع تھے، درست ہے۔ تصدیق اس کی دیکھو غالبؔ مرحوم کے حال میں۔

ان کی تیزی ذہن اور ذکاوت طبع کی تعریف نہیں ہو سکتی۔ وہ خود بھی ذہانت میں دو شخصوں کے سوا کسی ہمعصر کو تسلیم نہ کرتے تھے۔ ایک مولوی اسمٰعیل صاحب دوسرے خواجہ محمد نصیر صاحب کہ ان کے پیر اور خواجہ میر دردؔ کے نواسے تھے۔

اسی سلسلہ میں نواب مصطفیٰ خاں کی ایک وسیع تقریر ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ ایسا ذکی الطبع آج تک نہیں دیکھا۔ ان کے ذہن میں بجلی کی سی سرعت تھی وغیرہ وغیرہ۔ ساتھ اس کے مراسلت میں بعض اور معاملے منقول ہیں۔ مگر ان میں بھی واردات کی بنیاد نہیں لکھی۔ مثلاً یہ کہ مولا بخش قلقؔ مولوی امام بخش صہبائی کے شاگرد دیوان نظیریؔ پڑھتے تھے۔ ایک دن خاں صاحب کے پاس آئے اور ایک شعر کے معنی پوچھے۔ انھوں نے ایسے نازک معنی اور نادر مطلب بیان فرمائے کہ قلقؔ معتقد ہو گئے۔ اور انہوں نے کہا کہ مولوی صاحب نے جو معنی بتائے ہیں وہ اس سے کچھ بھی نسبت نہیں رکھتے۔ ایسی باتوں کو آزادؔ نے افسوس کے ساتھ ترک کر دیا ہے۔ شفیق مکرم معاف فرمائیں۔

ان کی عالی دماغی اور بلند خیالی شعرائے متقدمین و متاخرین میں سے کسی کی فصاحت یا بلاغت کو خاطر میں نہیں لاتی تھی۔ یہ قول ان کا مشہور تھا کہ گلستانِ سعدی کی تعریف میں لوگوں کے دم چڑھے جاتے ہیں، اس میں ہے کیا؟ گفت گفت گفتہ اند کہتا چلا جاتا ہے۔ اگر ان لفظوں کو کاٹ دو تو کچھ نہیں رہتا۔ ایک دن مفتی صدر الدین خاں مرحوم کے مکان پر یہی تقریر کی۔ مولوی احمد الدین کرسانوالہ، مولوی فضل حق صاحب کے شاگرد بیٹھے تھے۔ انھوں نے کہا کہ قرآن شریف میں کیا فصاحت ہے۔ جا بجا قالَ قالَ قالوا قالوا ہے۔

ان کے کسی شاگرد نے غزل میں یہ شعر لکھا تھا۔

ہجر میں کیوں کر پھروں ہر سو نہ گھبرایا ہوا

وصل کی شب کا سماں آنکھوں میں ہے چھایا ہوا

خاں صاحب نے پہلے مصرع کو یوں بدل دیا۔

مصرعہ :اس طرف کو دیکھتا بھی ہے تو شرمایا ہوا

اہل مذاق جانتے ہیں کہ اب شعر کہاں سے کہاں پہنچ گیا۔

ایک اور شخص نے الہٰی بخش کا سجع لکھا تھا۔

مصرعہ :”میں گنہگار ہوں الہٰی بخش”

تاریخیں (ان تاریخوں کے لطف و نزاکت میں کلام نہیں لیکن اصول فن کے بموجب ۹ سے زیادہ کمی و بیشی جائز نہیں۔ اس انداز کے ایجاد داخل معّما ہیں۔) : تاریخ میں ہمیشہ تعمیہ اور تخرجہ معیوب سمجھا جاتا ہے۔ مگر ان کی طبع رسا نے اسے محسنات تاریخ میں داخل کر دیا۔ چنانچہ اپنے والد کی تاریخ وفات کہی۔

بہ من الہام گشت سال وفات

کہ غلام نبی بہ حق پیوست

غلام نبی کے اعداد کے ساتھ حق ملائیں تو پورے پورے سنہ فوت نکل آتے ہیں۔

اپنی صغیر سن بیٹی کی تاریخ وفات کہی۔

خاک بر فرق دولت دنیا

من فشاندم خزانہ برسرِ خاک

خزانہ کے اعداد، سرِ خاک یعنی “خ” کے ساتھ ملانے سے ۱۳۶۳ھ ہوتے ہیں۔

تاریخ چاہ :

مصرعہ : آب لذت فزا بجام ہکَبیر

آب لذت فزا کے اعداد، جام کے اعداد میں ڈالو تو ۱۳۶۵ھ حاصل ہوئے۔

ایک شخص زین خاں نامی حج کو گیا۔ رستہ میں سے پھر آیا۔ خاں صاحب  نے کہا۔

مصرعہ : “چوں بیائد ہنوز خر باشد” (۱۳۶۵ھ)

شاہ محمد اسحاق صاحب نے دلّی سے ہجرت کی، خان صاحب نے کہا۔

گفتم وحید عصر اسحاق

برحکم شہنشہ دو عالم

بگذاشتہ دار حرب امسال

جا کر وہ بہ مَکۃ مُعظَم

وحید عصر اسحاق کے اعداد مکہ معظم کے اعداد کے ساتھ ملاؤ اور دار حرب کے اعداد اس میں سے تفریق کرو تو ۱۲۶۰ھ تاریخ ہجرت نکلتی ہے۔

ایک شخص قلعہ دلّی سے نکالا گیا تو انہوں نے تاریخ کہی۔

مصرعہ :”از باغ خلد بیروں شیطان بے حیا شد”

باغ خلد کے اعداد میں سے شیطان بے حیا کے عدد نکال ڈالیں تو ۱۲۶۳ھ رہتے ہیں۔ سادی تاریخیں بھی عمدہ ہیں چنانچہ خلیل خاں کے ختنہ کی تاریخ کہی۔

“سنّت خلیل اللہ” اپنی عمّہ کے مرنے کی تاریخ کہی۔ لَھَا اَجرُ عَظیمُ۔

اپنے والد کی وفات کی تاریخ کہی۔ وَقَد فَاز فَوراً عَظیماً۔

اپنی بیٹی کی ولادت کی تاریخ کہی۔

نال کٹنے کے ساتھ ہاتف نے

کہی تاریخ دخترِ مومنؔ

دختر مومنؔ کے اعداد میں سے نال کے اعداد کو اخراج کیا ہے۔

شاہ عبد العزیز صاحب کی وفات کی تاریخ۔

دستِ بے داد اجل سے بے سر و پا ہو گئے

فقر و دیں، فضل و ہنر، لطف و کرم، علم و عمل

الفاظ مصرع آخر کے اول و آخر کو گرا دو بیچ کے حرفوں کے عدد لے لو تو ۱۲۳۹ھ رہتے ہیں۔ ان کے معمے بھی متعدد ہیں، مگر ایک  لاجواب ہے ایسا نہیں سنا گیا۔

بنے کیونکر کہ ہے سب کار الٹا

ہم الٹے، بات الٹی، یار (یعنی مہتاب رائے ) الٹا

پہیلیاں بھی کہیں، ایک یہاں لکھی جاتی ہے کہ گھڑیال پر ہے۔

نہ بولے وہ جب تک کہ کوئی بلائے

نہ لفظ اور معنی سمجھ میں کچھ آئے

نہیں چور پر وہ لٹکتا رہے

زمانہ کا احوال بکتا رہے

شب و روز غوغا مچایا کرے

اسی طرح سے مار کھایا کرے

کوٹھے سے گرنے کے بعد انہوں نے حکم لگایا تھا کہ ۵ دن یا ۵ مہینے، یا ۵ برس میں مر جاؤں گا، چنانچہ ۵ مہینے کے بعد مر گئے۔ گرنے کی تاریخ خود ہی کہی تھی۔ “دست و بازو بشکست” مرنے کی تاریخ ایک شاگرد نے کہی۔ “ماتم مومن” دلی دروازہ کے باہر میدھیوں کے جانب غرب زیر دیوار احاطہ مدفون ہوئے۔ شاہ عبد العزیز کا خاندان بھی یہیں مدفون ہے۔

روایت : مرنے کے بعد لوگوں نے عجیب عجیب طرح سے خواب میں دیکھا، ایک خواب نہایت سچّا اور حیرت انگیز ہے، نواب مصطفیٰ ٰ خاں نے دو برس بعد خواب میں دیکھا کہ ایک قاصد نے آ کر خط دیا کہ مومنؔ مرحوم کا خط ہے۔ انھوں نے لفافہ کھولا تو اس کے خاتمہ پر ایک مہر ثبت تھی جس میں مومنؔ جنتیؔ لکھا تھا، اور خط کا مضمون یہ تھی کہ آج کل میرے عیال پر مکان کی طرف سے بہت تکلیف ہے۔ تم ان کی خبر لو۔ صبح کو نواب صاحب نے دو سو روپے ان کے گھر بھیجے اور خواب کا مضمون بھی کہلا بھیجا، ان کے صاحبزادے احمد نصیر خاں سلمہ اللہ کا بیان ہے کہ فی الواقع ان دنوں میں ہم پر مکان کی نہایت تکلیف تھی، برسات کا موسم تھا اور مکان ٹپکتا تھا۔

اپنے شفیق مکرم کے الطاف و کرم کا شکر گذار ہوں کہ انہوں نے یہ حالات مرتب کر کے عنایت فرمائے لیکن کلام پر رائے نہ لکھی اور باوجود التجا مکرر کے انکار کیا۔ اس لئے بندہ آزاد اپنے فہم قاصر کے بموجب لکھتا ہے۔

غزلوں میں ان کے خیالات نہایت نازک اور مضامین عالی ہیں اور استعارہ اور تشبیہ کے زور نے اور بھی اعلیٰ درجہ پر پہنچایا ہے۔ ان میں معاملات عاشقانہ عجیب مزے سے ادا کئے ہیں۔ اسی واسطے جو شعر صاف ہوتا ہے اس کا انداز جرأت سے ملتا ہے اور اس پر وہ خود بھی نازاں تھے۔ اشعار مذکورہ میں فارسی کی عمدہ ترکیبیں اور دل کش تراشیں ہیں کہ اردو کی سلاست میں اشکال پیدا کرتی ہیں۔ ان کی زبان میں چند وصف خاص ہیں جن کا جتانا لطف سے خالی نہیں۔ اکثر اشعار میں ایک شے کو کسی صفت خاص کے لحاظ سے ذات شے کی طرف نسبت کرتے ہیں اور اس ہیر پھیر سے شعر (بعض اشعار پر لوگوں کے اعتراض ہیں۔ ان کی تفصیل و تحریر ایک معمولی بات ہے۔ مثلاً شمر با تسکین ہے اور اسے شہر نصیحتیں باندھا ہے۔ مصرعہ : دل ایسے شوخ کو مومنؔ نے دے دیا کہ جو بے پہ محب مسکین اور دل رکھے شِمر کا سا — یا نوحہ مومنؔ کی نئی ترکیب ہے، اور ایسے ایجادات کے کلام میں اکثر ہیں۔ ) میں عجیب لطف بلکہ معانی پنہانی پیدا کرتے ہیں۔ مثلاً

موئے نہ عشق میں جب تک وہ مہرباں نہ ہوا

بلائے جاں ہے وہ دل جو بلائے جاں نہ ہوا

محو مجھ سا دمِ نظارہ جاناں ہو گا

آئینہ آئینہ دیکھے گا تو حیراں ہو گا

کیا رم نہ کرو گے اگر ابرام نہ ہو گا

الزام سے حاصل بجز الزام نہ ہو گا

روز جزا جو قاتلِ دل جو خطاب تھا

میرا سوال ہی مرے خوں کا جواب تھا

پسِ شکستن خم زجر محتسب معقول

گناہگار نے سمجھا گناہگار مجھے

نقد جاں تھا نہ سزائے دیت عاشق صد حیف

خون فرہاد سرِ گردن فرہاد مجھے

اکثر عمدہ ترکیبیں اور نادر تراشیں فارسی کی اور استعارے و اضافتیں اردو میں استعمال کر کے کلام کو نمکین کرتے ہیں۔ مثلاً :

گر وہاں ہے یہ خموشی اثر افغاں ہو گا

حشر میں کون مرے حال کو پرساں ہو گا

یعنی فغانے کہ اثرش خموشی است۔

بیمار اجل چارہ کو گر حضرت عیسیٰ

اچھا نہ کریں گے تو کچھ اچھا نہ کریں گے

یعنی۔ بیارے کہ چارہ اش اجل است

وفائے غیرت شکر جفا نے کام کیا

کہ اب ہوس سے بھی اعدائے بوالہوس گزرے

ستم اے شور بختی میری ہڈی کیوں ہما کھاتا

سگ لیلیٰ ادا کو گر نہ ظالم بدمزہ لگتی

اکثر اہل اردو یہ طرز پسند نہیں کرتے لیکن اپنا اپنا مذاق ہے۔ ناسخؔ اور آتشؔ کے حال میں اس تقریر کو بہت طول دے چکا ہوں اور دوبارہ لکھنا فضول ہے۔

قصائد : اپنے درجہ میں عالی رتبہ رکھتے ہیں اور زبان کا انداز وہی ہے۔

مثنویاں : نہایت درد انگیز ہیں۔ کیوں کہ درد خیز دل سے نکلی ہیں۔ زبان کے لحاظ سے جو غزلوں کا انداز ہے وہی ان کا ہے۔

غزلیں

غیروں پہ کھل نہ جائے کہیں راز دیکھنا

میری طرف بھی غمزہ غماز دیکھنا

اڑتے ہی رنگ رُخ مرا نظروں سے تھا نہاں

اس مرغ پر شکستہ کی پرواز دیکھنا

دشنام یار طبع حزیں پر گراں نہیں

اے ہم نفس نزاکت آواز دیکھنا

دیکھ اپنا حال ذرا منجم ہوا رقیب

تھا ساز گار طالع ناساز دیکھنا

بد کام کا مآل برا ہے جزا کے دن

حال سپر تفرقہ انداز دیکھنا

مت رکھیو گرد تارک عشاق پر قدم

پامال ہو نے جائے سر افراز دیکھنا

کشتہ ہوں اس کی چشم فسوں گر کا اے مسیح

کرنا سمجھ کے دعوئے اعجاز دیکھنا

میری نگاہ خیرہ دکھاتے ہیں غیر کو

بے طاقتی پہ سرزشِ ناز دیکھنا

ترک صنم بھی کم نہیں سوز جحیم سے

مومنؔ غمِ مآل کا آغاز دیکھنا

*-*-*-*-*

اشک و اژد نہ اثر باعثِ صد جوش ہوا

ہچکیوں سے میں یہ سمجھا کہ فراموش ہوا

جلوہ افروزی رخ کے لئے مے نوش ہوا

میں کبھی آپ میں آیا تو وہ بے ہوش ہوا

کیا یہ پیغامبرِ غیر ہے، اے مرغِ چمن

خندہ زن باد بہاری سے وہ گلگوش ہوا

ہے یہ غم گور میں رنج شب اجل سے فزوں

کہ وہ مہ رو مرے ماتم میں سیہ پوش ہوا

مجھ پہ شمشیر نگہ خود بخود آ پڑتی ہے

عاجز احوالِ زبوں سے وہ ستم کوش ہوا

آفریں دل میں رہی خنجر دشمن کے سبب

اپنے قاتل سے خفا تھا کہ میں خاموش ہوا

درد شانہ سے ترا محو نزاکت خوش ہے

کہ میں ہمدوش ہوں گر غیر بھی ہمدوش ہوا

وہ ہے خالی تو یہ خالی یہ بھری تو وہ بھری

کاسۂ عمر عدد حلقہ آغوش ہوا

تو نے جو قہر خدا یاد دلایا مومنؔ

شکوہ جور بتاں دل سے فراموش ہوا

*-*-*-*-*-*

گئے وہ خواب سے اٹھ غیر کے گھر آخر شب

اپنے نالہ نے دکھایا یہ اثر آخر شب

صبح دم وصل کا وعدہ تھا یہ حسرت دیکھو

مر گئے ہم دم آغاز سحر آخر شب

شعلہ آہ فلک رتبہ کا اعجاز تو دیکھ

اول ماہ میں چاند آئے نظر آخر شب

سوز دل سے گئی جاں بخت چمکنے کے قریب

کرتے ہیں موسم گرما میں سفر آخر شب

ملتے ہو غیر سے بے پردہ تم انکار کے بعد

جلوہ خورشید کا سا تھا کچھ ادھر آخر شب

صبح دم آنے کو وہ تھا کہ گواہی دیدے

رجعت قہقہری چرخ و قمر آخر شب

غیر نکلا ترے گھر سے گئی اس وہم میں جاں

غل ہوئے چور کے اس کوچے میں گر آخر شب

دی تسلی تو وہ ایسی کہ تسلی نہ ہوئی

خواب میں تو مرے آئے وہ مگر آخر شب

مو سفیدی کے قریب اور ہے غفلت مومنؔ

نیند آتی ہے بہ آرام دِگر آخر شب

*-*-*-*-*-*-*-*

آنکھوں سے حیا ٹپکے ہے انداز تو دیکھو

ہے بو الہوسوں پر بھی ستم ناز تو دیکھو

اس بت کے لئے میں ہوس حور سے گزرا

اس عشق خوش انجام کا آغاز تو دیکھو

چشمک مری وحشت ہے یہ کیا حضرت ناصح

طرز نگہِ چشم فسوں ساز تو دیکھو

اربابِ ہوس ہار کے بھی جان پہ کھیلے

کم طالعی عاشق جانباز تو دیکھو

مجلس میں مرے ذکر کے آتے ہی اٹھے وہ

بدنامی عشاق کا اعزاز تو دیکھو

محفل میں تم اغیار کے دزدیدہ نظر سے

منظور ہے پنہاں نہ رہے ساز تو دیکھو

اس غیرت ناہید کی ہر تان ہے دیپک

شعلہ سا چمک جائے ہے آواز تو دیکھو

دیں پاکی دامن کی گواہی مرے آنسو

اس یوسف بے درد کا اعجاز تو دیکھو

جنت میں بھی مومنؔ نہ ملا ہائے بتوں سے

جورِ اجل تفرقہ پرواز تو دیکھو

*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*

دفن جب خاک میں ہم سوختہ ساماں ہوں گے

فلس ماہی کے گل شمع شبستاں ہوں گے

ناوک انداز جدھر دیدہ جاناں ہوں گے

نیم بسمل کئی ہوں گے کئی بے جاں ہوں گے

تاب نظارہ نہیں آئینہ کیا دیکھنے دوں

اور بن جائیں گے تصویر جو حیراں ہوں گے

تو کہاں جائے گی کچھ اپنا ٹھکانہ کر لے

ہم تو کل خواب عدم میں شب ہجراں ہوں گے

ناصحا دل میں تو اتنا تو سمجھ اپنے کہ ہم

لاکھ ناداں ہوئے کیا تجھ سے بھی ناداں ہوں گے

کر کے زخمی مجھے نادم ہوں یہ ممکن ہی نہیں

گر وہ ہوں گے بھی تو بے وقت پشیماں ہوں گے

ایک ہم ہیں کہ ہوئے ایسے پشیمان کہ بس

ایک وہ ہیں کہ جنہیں چاہ کے ارماں ہوں گے

ہم نکالیں گے سن اے موج صبا بل تیرے

اس کی زلفوں کے اگر بال پریشاں ہوں گے

صبر یا رب مری وحشت کا پڑے گا کہ نہیں

چارہ فرما بھی کبھی قیدی زنداں ہوں گے

منت حضرت عیسیٰ نہ اٹھائیں گے کبھی

زندگی کے لئے شرمندہ احساں ہوں گے

تیرے دل تفتہ کی تربت پہ عدو جھوٹا ہے

گُل نہ ہوں گے شرر آتش سوزاں ہوں گے

غور سے دیکھتے ہیں طوف کو آہوئے حرم

کیا کہیں اس کے سگِ کوچہ کے قرباں ہوں گے

داغ دل نکلیں گے تربت سے مری جوں لالہ

یہ وہ اخگر نہیں جو خاک میں پنہاں ہوں گے

چاک پردے سے یہ غمزے ہیں تو اے پردہ نشیں

ایک میں کیا کہ سبھی چاک گریباں ہوں گے

پھر بہار آئی وہی دشت نوردی ہو گی

پھر وہی پاؤں وہی خار مغیلاں ہوں گے

سنگ اور ہاتھ وہی وہ ہی سر و داغ جنوں

وہی ہم ہوں گے وہی دشت و بیاباں ہوں گے

عمر ساری تو کٹی عشق بتاں میں مومنؔ

آخری وقت میں کیا خاک مسلماں ہوں گے

*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*

خوشی نہ ہو مجھے کیونکر قضا کے آنے کی

خبر ہے لاش پہ اس بے وفا کے آنے کی

ہے ایک خلق کا خوں سر پہ اشک خوں کے مرے

سکھائی طرز اُسے دامن اٹھا کے آنے کی

سمجھ کے اور ہی کچھ مر چلا میں اے ناصح

کہا جو تو نے نہیں جاں جا کے آنے کی

امید سرمہ میں تکتے ہیں راہ دیدۂ زخم

شمیم سلسلہ مشکا کے آنے کی

چلی ہے جان، نہیں تو کوئی نکالو راہ

تم اپنے پاس تک اس مبتلا کے آنے کی

نہ آئے کیوں دلِ مرغ چمن کہ سیکھ گئی

بہار وضع ترے مسکرا کے آنے کی

مشام غیر میں پہنچی ہے نگہت گل و داغ

یہ بے سبب نہیں بندی ہوا کے آنے کی

جو بے حجاب نہ ہو گی تو جان جائے گی

کہ راہ دیکھی ہے اس نے حیا کے آنے کی

پھر اب کے لا ترے قربان جاؤں جذبہ دل

گئے ہیں یاں سے وہ سوگند کھا  کے آنے کی

خیالِ زلف میں خود رفتگی نے قہر کیا

امید تھی مجھے کیا کیا بلا کے آنے کی

کروں میں وعدہ خلافی کا شکوہ کس کس سے

اجل بھی رہ گئی ظالم سُنا کے آنے کی

کہاں ہے ناقہ ترے کان بجتے ہیں مجنوں

قسم ہے مجھ کو صدائے درا کے آنے کی

مرے جنازہ پہ آنے کا ہے ارادہ تو آ

کہ دیر اٹھانے میں کیا ہے صبا کے آنے کی

مجھے یہ ڈر ہے کہ مومنؔ کہیں نہ کہتا ہو

مری تسلی کو روز جزا کے آنے کی

از بس جنوں جدائی گل پیرہن سے ہے

دل چاک چاک نغمہ مرغِ چمن سے ہے

سرگرم مدحِ غیر دمِ شعلہ زن سے ہے

دوزخ کو کیا جلن مرے دل کی جلن سے ہے

روز جزا نہ دے جو مرے قتل کا جواب

وہم سخن رقیب کو اس کم سخن سے ہے

یاد آ گیا زبس کوئی مہروئے مہر وش

امید داغ تازہ سپہر کہن سے ہے

کچھ بھی کیا نہ یار کی سنگیں دلی کا پاس

سب کاوش رقیب دل کوہکن سے ہے

ان کو گمان ہے گلہ چین زلف کا

خوشبو دہانِ زخم جو مشک ختن سے ہے

میں کیا کہ مرگ غیر پہ دامانِ تر نہ ہو

وہ اشک ریز خندہ چاک کفن سے ہے

کیونکر نجات آتش ہجراں سے ہو کہ مرگ

آئی تو دور ہی تب و تاب بدن سے ہے

خود رفتگی میں چین وہ پایا کہ کیا کہوں

غربت جو مجھ سے پوچھو تو بہتر وطن سے ہے

رشک پری کہے سے عدو کے یہ وحشتیں

نفرت بلا تمھیں مرے دیوانہ پن سے ہے

داغ جنوں کو دیتے ہیں گل سے زبس مثال

میں کیا کہ عندلیب کو وحشت چمن سے ہے

کیوں یار نوحہ زن ہیں کہاں مرگ مجھکو تو

لب بستگی تصورِ بوس دہن سے ہے

کیا کیا جواب شکوہ میں باتیں بنا گیا

لو اب بھی دل درست اسی دلشکن سے ہے

اپنا شریک بھی نہ گوارا کرے بتو

مومنؔ کو ضد یہ کیسی ید برہمن سے ہے

*-*-*-*-*-*-*-*-*-*

دعا بلا تھی شب غم سکون جاں کے لئے

سخن بہا نہ ہوا مرگ ناگہاں کے لئے

نہ پائے یار کے بوسے نہ آستاں کے لئے

عبث میں خاک ہوا میں آسماں کے لئے

خلاف وعدہ فردا کی ہم کو تاب کہاں

امید یکشیہ ہے پاس جاوداں کے لئے

سنیں نہ آپ تو ہم بوالہوس سے حال کہیں

کہ سخت چاہیے دل اپنے راز داں کے لئے

حجاب چرخ بلا ہے ہوا کرے بیتاب

فغاں اثر کے لئے اور اثر فغاں کے لئے

ہے اعتماد مرے بخت خفتہ پر کیا کیا

وگرنہ خواب کہاں چشم پاسباں کے لئے

مزا یہ شکوے میں آیا کے بے مزا ہوئے وہ

میں تلخ کام رہا لذت زباں کے لئے

کیا ہے دل کے عوض جان دے رقیب تو دوں

میں اور آپ کی سوداگری زباں کے لئے

وہ لعل روح فزا دے کہاں تلک بوسے

کہ جو ہے کم ہے یہاں شوق جانفشاں کے لئے

ملے رقیب سے وہ جب سے وصال ہوا

دریغ جان گئی ایسے بدگماں کے لئے

کہاں وہ عیش اسیری کہاں وہ دام قفس

ہے بیم برق بلا روز آشیاں کے لئے

جنونِ عشق ازل کیوں نہ خاک اڑائیں کہ ہم

جہاں میں آئے ہیں ویرانی جہاں کے لئے

بھلا ہوا کہ وفا آزما ستم سے ہوئے

ہمیں بھی دینی تھی جاں اس کے امتحاں کے لئے

زواں فزائی سحر حلال مومنؔ ہے

رہا نہ معجزہ باقی لب بتاں کے لئے

*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*

 

 

ملک الشعراء خاقانی ہند شیخ ابراہیم ذوق

جب وہ صاحب کمال عالم ارواح سے کشور اجسام کی طرف چلا تو فصاحت کے فرشتوں نے باغ قدس کے پھولوں کا تاج سجایا جن کی خوشبو شہر عام بن کر جہاں میں پھیلی اور رنگ نے بقائے دوام سے آنکھوں کو طراوت بخشی۔ وہ تاج سر پر رکھا گیا تو آب حیات اس پر شبنم ہو کر برسا کہ شادابی کو کمہلاہٹ کا اثر نہ پہنچے۔ ملک الشعرانی کا سِکہ اس کے نام سے موزوں ہوا اور اس کے طغرائے شاہی میں یہ نقش ہوا کہ اس پہ نظم اردو کا خاتمہ کیا گیا۔ چناں چہ اب ہرگز امید نہیں کہ ایسا قادر الکلام پھر ہندوستان میں پیدا ہو۔ سبب اس کا یہ ہے کہ جس باغ کا بلبل تھا وہ باغ برباد ہو گیا نہ ہم صفیر رہے نہ ہم دوستاں رہے، نہ اس بولی کے سمجھنے والے رہے جو خراب آباد اس زبان کے لئے ٹکسال تھے وہاں بھانت بھانت کا جانور بولتا ہے، شہر چھاونی سے بدتر ہو گیا۔ امراء کے گھرانے تباہ ہو گئے، گھرانوں کے وارث علم و کمال کے ساتھ روٹی سے محروم ہو کر حواس کھو بیٹھے، وہ جادو کار طبیعتیں کہاں سے آئیں جو بات بات میں دل پسند انداز اور عمدہ تراشیں نکالتی تھیں، آج جن لوگوں کو زمانہ کی فارغ البالی نے اس قسم کے ایجاد و اختراع کی فرصتیں دی ہیں وہ اور اصل کی شاخیں۔ انھوں نے اور پانی سے نشو و نما پائی ہے۔ وہ اور ہی ہواؤں میں اڑ رہے ہیں۔ پھر اس زبان کی ترقی کا کیا بھروسہ۔ کیسا مبارک زمانہ ہو گا جب کہ شیخ مرحوم اور میرے والد مغفور ہم عمر ہوں گے۔ تحصیل علمی ان کی عمروں کی طرح حالت طفولیت میں ہو گی۔ صرف و نحو کی کتابیں ہاتھوں میں ہوں گی اور ایک استاد کے دامن شفقت میں تعلیم پاتے ہوں گے۔ ان نیک نیت لوگوں کی ہر ایک بات استقلال کی بنیاد پر قائم ہوتی تھی، وہ رابطہ ان کا عمروں کے ساتھ ساتھ بڑھتا گیا اور اخیر وقت تک ایسا نبھ گیا کہ قرابت سے بھی زیادہ تھا۔ ان کے تحریر حالات بعض باتوں کے لکھنے کو لوگ فضول سمجھیں گے مگر کیا کروں جی یہی چاہتا ہے کہ کوئی حرف اس گراں بہا داستان کا نہ چھوڑوں۔ پہ اس سبب سے کہ اپنے پیارے اور پیار کرنے والے بزرگ کی ہر بات پیاری ہوتی ہے،لیکن نہیں ! اس شعر کے تیلے کا ایک رونگٹا بھی بیکار نہ تھا۔ ایک صنعت کار کی  کل میں کون سے پرزے کہ کہہ سکتے ہیں کہ نکال ڈالو۔  یہ کام کا نہیں اور کون سی حرکت اس کی ہے جس سے حکمت انگیز فائدہ نہیں پہنچتا ہے۔ اسی واسطے میں لکھوں گا اور سب کچھ لکھوں گا، جو بات ان کے سلسلہ حالات میں مسلسل ہو سکے گی ایک حرف نہ چھوڑوں گا۔ شیخ مرحوم کے والد شیخ محمد رمضان ایک غریب سپاہی تھے، مگر زمانہ کے تجربہ اور بزرگوں کی صحبت نے انھیں حالات زمانہ سے ایسا باخبر کیا تھا کہ ان کی زبانی باتیں کتب تاریخ کے قیمتی سرمائے تھے۔ وہ دلّی میں کابلی دروازہ کے پاس رہتے تھے اور نواب لطف علی خاں نے انھیں معتبر اور با لیاقت شخص سمجھ کر اپنی حرم سرا کے کاروبار سپرد کر رکھے تھے۔ شیخ علیہ الرحمۃ ان کے اکلوتے بیٹے تھے کہ ۱۲۰۴ ہجری میں پیدا ہوئے۔ اس وقت کسے خبر ہو گی کہ اس رمضان سے وہ چاند نکلے گا جو آسمانِ سخن پر عید کا چاند ہو کر چمکے گا۔ جب پڑھنے کے قابل ہوئے تو حافظ غلام رسول نامی ایک شخص بادشاہی حافظ ان کے گھر کے پاس رہتے تھے۔ محلے کے اکثر لڑکے انہی کے پاس پڑھتے تھے۔ انھیں بھی وہیں بٹھا دیا۔حافظ غلام رسول شاعر بھی تھے، شوق تخلص کرتے تھے۔ نمونہ کلام یہ ہے :

مزا انگور کا ہے رنگترے میں

عسل زنبور کا ہے رنگترے میں

ہیں اثماء ہلالی اس کی پھانکیں

یہ مضموں دور کا ہے رنگترے میں

نہیں ہے اس کی پھانکوں میں یہ زیرا

یہ لشکر مور کا ہے رنگترے میں

ہے گلگونِ مجسم یا بھرا خون

کسی مہجور کا ہے رنگترے میں

مزاج اب جس کا صفراوی ہے اے شوقؔ

دل اس رنجور کا ہے رنگترے میں

*-*-*-*-*-*-*

لکھا ہوا ہے تھا یہ اس مہ جبیں کے پردے پر

نہیں ہے کوئی اب ایسا زمیں کے پردے پر

کزلکِ مژگاں چشم ستمگر آ کے جگر میں کھُوپ چلی

آہ کی ہمدم ساتھ ادھر سے جنگ کو اپنے دھوپ چلی

وعدہ کیا تھا شام کا مجھ سے شوقؔ جنہوں نے کل دن کا

آج وہ آئے پاس مرے جب ڈیڑھ پہر کی توپ چلی

فاقے مست عدوے بد ایسا ہی چھٹی کا راجا ہے

نانی جس کی آئی چھٹی میں دھوم سے لے کر گھی کھچڑی

شیخ بگھارے شیخی اپنی مفت کے لقمے کھاتا ہے

دودھ ملیدا کھاتے ہیں یا مست قلندر گھی کھچڑی

اگلے وقتوں کے لوگ جیسے شعر کہتے ہیں ویسے شعر کہتے تھے، محلہ کے شوقین نوجوان دلوں کی امنگ میں ان سے کچھ نہ کچھ کہلوا لے جایا کرتے تھے۔ اکثر اصلاح بھی لیا کرتے تھے۔ غرض ہر وقت ان کے ہاں یہی چرچا رہتا تھا، شیخ مرحوم خود فرماتے تھے کہ وہاں سنتے سنتے مجھے بہت شعر یاد ہو گئے۔ نظم کے پڑھنے اور سننے میں دل کو ایک روحانی لذت حاصل ہوتی تھی اور ہمیشہ اشعار پڑھتا پھرا کرتا تھا، دل میں شوق تھا اور خدا سے دعائیں مانگتا تھا کہ الہٰی مجھے شعر کہنا آ جائے۔ ایک دن خوشی میں آ کر خود بخود میری زبان سے دو شعر نکلے اور یہ فقط حسن اتفاق تھا کہ ایک حمد میں تھا، ایک نعت میں۔ اس عمر میں مجھے اتنا ہوش تو کہاں تھا کہ اس مبارک مہم کو خود اس طرح سمجھ کر مشروع کرتا کہ پہلا حمد میں ہو، دوسرا نعت میں ہو۔ جب یہ بھی خیال نہ تھا کہ اس قدرتی اتفاق کو مبارک فال سمجھوں۔ مگر اُن دو شعروں کے موزوں ہو جانے سے جو خوشی دل کو ہوئی، اُس کا مزہ اب تک نہیں بھولتا۔ انھیں کہیں اپنی کتاب میں کہیں جا بجا کاغذوں پر رنگ برنگ کی روشنائیوں سے لکھتا تھا۔ ایک ایک کو سُناتا تھا اور خوشی کے مارے پھولوں نہ سماتا تھا، غرض کہ اسی عالم میں کچھ نہ کچھ کہتا رہا اور حافظ جی سے اصلاح لیتا رہا۔

اسی محلہ میں میر کاظم حسین نامی ایک ان کے ہم سن ہم سبق تھے کہ نواب سید رضی خاں مرحوم کے بھانجے تھے۔ بے قرارؔ تخلص کرتے تھے اور حافظ غلام رسول ہی سے اصلاح لیتے تھے، مگر ذہن کے جودت اور طبیعت کی براقی کا یہ عالم تھا کہ کبھی برق تھے اور کبھی باد و باراں، انھیں اپنے بزرگوں کی صحبت میں تحصیل کمال کے لئے اچھے اچھے موقع ملتے تھے۔ شیخ مرحوم اور وہ اتحاد طبعی کے سبب سے اکثر ساتھ رہتے تھے اور مشق کے میدان میں ساتھ ہی گھوڑے دوڑاتے تھے، انھیں دنوں کا شیخ مرحوم کا ایک مطلع ہے کہ نمونہ تیزی طبع کا دکھاتا ہے :

ماتھے پہ تیرے جھمکے ہے جھومر کا بڑا چاند

لا بوسہ چڑھے چاند کا وعدہ تھا چڑھا چاند

ایک دن میر کاظم حسین نے غزل لا کر سُنائی، شیخ مرحوم نے پوچھا، یہ غزل کب کہی، خوب گرم شعر نکالے ہیں، انھوں نے کہا ہم تو شاہ نصیرؔ کے شاگرد ہو گئے، انھیں سے یہ اصلاح لی ہے۔ شیخ مرحوم کو بھی شوق پیدا ہوا، اور ان کے ساتھ جا کر شاگرد ہو گئے۔

سلسلے اصلاح کے جاری تھے، مشاعروں میں غزلیں پڑھی جاتی تھیں۔ لوگوں کی واہ وا طبیعتوں کو بلند پروازیوں کے پر لگاتی تھی کہ رشک جو تلامیذ الرحمٰن کے آئینوں کا جوہر ہے، استاد شاگردوں کو چمکانے لگا۔ بعض موقعوں پر ایسا ہوا کہ شاہ صاحب نے ان کی غزل کو بے اصلاح پھیر دیا اور کہا طبیعت پر زور ڈال کر کہو، کبھی کہہ دیا کہ یہ کچھ نہیں، پھر سوچ کر کہو، بعض غزلوں کو جو اصلاح دی تو اس سے بے پروائی پائی گئی۔ ادھر انھیں کچھ تو یاروں نے چمکا دیا، کچھ اپنی غریب حالت نے یہ آزردگی پیدا کی کہ شاہ صاحب اصلاح میں بے توجہی یا پہلو تہی کرتے ہیں چنانچہ اس طرح کئ دفعہ غزلیں پھیریں، بہت سے شعر کٹ گئے، زیادہ تر قباحت نہ ہوئی کہ شاہ صاحب کے صاحب زادے شاہ وحید الدین منیرؔ تھے، جو براقی طبع میں اپنے والد کے خلف الرشید تھے، ان کی غزلوں میں توارد سے یا خدا جانے کسی اتفاق سے وہی مضمون پائے گئے، اس لئے انھیں زیادہ رنج ہوا۔

منیرؔ مرحوم کو جس قدر دعوے ٰ تھے اُس سے زیادہ طبیعت میں نوجوانی کے زور بھرے ہوئے تھے، وہ کسی شاعر کو خاطر میں نہ لاتے تھے، اور کہتے تھے کہ جس غزل پر ہم قلم اُٹھائیں اس زمین پر کون قدم رکھ سکتا ہے۔ مشکل سے مشکل طرحیں کرتے تھے اور کہتے تھے کہ کون پہلوان ہے جو اس نال کو اُٹھا سکے۔ غرض اُن سے اور شیخ مرحوم سے بمقتضائے سنِ اکثر تکرار ہو جاتی تھی اور مباحثے ہوتے تھے، ایک دفعہ یہاں تک نوبت پہونچی کہ شیخ علیہ الرحمۃ نے فرمایا کہ گھر کے کہے ہوئے شعر صحیح نہیں۔ شاید آپ اُستاد کہلوا لاتے ہوں گے، ہاں ایک جلسہ میں بیٹھ کر ہم اور آپ غزل کہیں، چنانچہ اس معرکہ کی منیر مرحوم کی غزل نہیں ملی، شیخ علیہ الرحمۃ کی غزل کا مطلع مجھے یاد ہے :

یاں کے آنے کا مقرر قاصد! وہ دن کرے

تو جو مانگے گا وہی دوں گا خدا وہ دن کرے

اگرچہ اُن کی طبیعت حاضر و فکر رساء بندش چست اس پر کلام میں زور سب کچھ تھا مگر چونکہ یہ ایک غریب سپاہی کے بیٹے تھے نہ دنیا کے معاملات کا تجربہ تھا نہ کوئی ان کا دوست و ہمدرد تھا، اس لئے رنج اور دل شکستگی حد سے زیادہ ہوتی تھی، اسی قیل و قال میں ایک دن سوداؔ کی غزل پر غزل کہی، دوش نقش پا، شاہ صاحب کے پاس لے گئے، انھوں نے خفا ہو کر غزل پھینک دی کہ اُستاد کی غزل پر غزل کہتا ہے ؟ اب تو مرزا رفیع سے بھی اونچا اُڑنے لگا۔ ان دنوں ایک جگہ مشاعرہ ہوتا تھا، اشتیاق نے بے قرار ہو کر گھر سے نکالا، مگر غزل بے اصلاح تھی، دل کے ہراس نے روک لیا کہ ابتدائے کار ہے، احتیاط شرط ہے، قریب شام افسردگی اور مایوسی کے عالم میں جامع مسجد میں آ نکلے، آثار شریعت میں فاتحہ پڑھی، حوض پر آئے، وہاں میر کلّو حقیرؔ بیٹھے تھے، چونکہ مشاعرہ کی گرم غزلوں نے روشناس کر دیا تھا، اور سنِ رسیدہ اشخاص شفقت کرنے لگے تھے، میر صاحب نے انھیں پاس بٹھایا اور کہا کہ کیوں میاں ابراہیم؟ آج کچھ مکدّر معلوم ہوتے ہو، خیر ہے ؟ جو کچھ ملال دل پر تھا، انھوں نے بیان کیا، میر صاحب نے کہا کہ بھلا وہ غزلیں ہمیں سناؤ؟ انھوں نے غزل سنائی،  میر صاحب کو اُن کے معاملہ پر درد آیا کہا کہ جاؤ بے تامل غزل پڑھ دو کوئی اعتراض کرے گا تو جواب ہمارے ذمہ ہے اور ہاتھ اُٹھا کر دیر تک اُن کے لئے دعا کرتے رہے، اگرچہ میر صاحب کا قدیمانہ انداز تھا، مگر وہ ایک کُہن سال شخص تھے، بڑے بڑے با کمال شاعروں کو دیکھا تھا اور مکتب پڑھایا کرتے تھے، اس لئے شیخ مرحوم کی خاطر جمع ہوئی اور مشاعرہ میں جا کر غزل پڑھی۔ وہاں بہت تعریف ہوئی، چنانچہ غزل مذکور یہ ہے :

رکھتا بہر قدم ہے وہ یہ ہوش نقشِ پا

ہو خاکِ عاشقاں نہ ہم آغوش نقشِ پا

اُفتادگاں کو بے سرو ساماں نہ جانیو

دامانِ خاک ہوتا ہے روپوشِ نقشِ پا

اعجاز پا سے تیرے عجب کیا کہ راہ میں

بول اُٹھے منھ سے ہر لب خاموش نقشِ پا

اس رو گذر میں کس کو ہوئی فرصت مقام

بیٹھے ہے نقش و پا یہ سر دوس نقشِ پا

جسمِ نزار خاک نشینان کوئے عشق

یوں ہے زمیں پہ جیسے تن و توشِ نقشِ پا

فیض برہنہ پائی مجنوں سے دشت میں

ہر آبلہ بنے ہے دُرِ گوشِ نقشِ پا

پابوس درکنار کہ اپنی تو خاک بھی

پہونچی نہ ذوقؔ اس کے بہ آغوشِ نقشِ پا

اُس دن سے جرأت زیادہ ہوئی اور بے اصلاح مشاعرہ میں غزل پڑھنے لگے۔ اب کلام کا چرچا زیادہ تر ہوا، طبیعت کی شوخی اور شعر کی گرمی سننے والوں کے دلوں میں اثر برقی کی طرح دوڑنے لگی، اس زمانہ کے لوگ منصف ہوتے تھے، بزرگان پاک طینت جو اساتذہ سلف کی یادگار باقی تھے مشاعرہ میں دیکھتے تو شفقت سے تعریفیں کر کے دل بڑھاتے بلکہ غزل پڑھنے کے بعد آتے تو دوبارہ پڑھوا کر سُنتے، غزلیں اربابِ نشاط کی زبانوں سے نکل کر کوچہ و بازار میں رنگ اُڑانے لگیں۔

اکبر بادشاہ بادشاہ تھے، اُنھیں تو شعر سے کچھ رغبت نہ تھی مگر مرزا ابو ظفر ولی عہد کہ بادشاہ ہو کر بہادر شاہ ہوئے، شعر کے عاشق شیدا تھے اور ظفر تخلص سے ملک شہرت کو تسخیر کیا تھا اس لئے دربار شاہی میں جو جو کُہنہ مشق شاعر تھے مثلاً حکیم ثناء اللہ کاں فراقؔ، میر غالب علی خاں سیدؔ عبد الرحمٰن خاں، احسانؔ  برہان الدین خاں زارؔ، حکیم قدرت اللہ خاں قاسمؔ، ان کے صاحبزادے حکیم عزت اللہ خاں عشقؔ، میاں شکیباؔ شاگرد میر تقی مرحوم، مرزا عظیم بیگ عظیم شاگرد سوداؔ، میر قمر الدین منتؔ۔ ان کے صاحبزادے میر نظام الدین ممنون وغیرہ سب شاعر ہیں، آ کر جمع ہوتے تھے، اپنے اپنے کلام سُناتے تھے۔ مطلع اور مصرع جلسہ میں ڈالتے تھے۔ ہر شخص مطلع پر مطلع کہتا تھا، مصرع پر مصرع لگا کر طبع آزمائی کرتا تھا، میر کاظم حسین بیقرارؔ، ولی عہد موصوف کے ملازم خاص تھے، اکثر ان صحبتوں میں شامل ہوتے تھے، شیخ مرحوم کو خیال ہوا کہ اس جلسہ میں طبع آزمائی ہوا کرے تو قوت فکر کی خوب بلند پروازی ہو۔ لیکن اس عہد میں کسی امیر کی ضمانت کے بعد بادشاہی اجازت ہوا کرتی تھی جب کوئی قلعہ میں جانے پاتا تھا۔ چنانچہ میر کاظم حسین کی وساطت سے یہ قلعہ میں پہونچے اور اکثر دربار ولی عہدی میں جانے لگے۔

شاہ نصیر مرحوم کہ ولی عہد کی غزل کو اصلاح دیا کرتے تھے۔ میر کاظم حسین ان کی غزل بنانے لگے، انھیں دنوں میں جان الفنسٹن صاحب شکار پور سندھ وغیرہ سرحدات سے لے کر کابل تک عہد نامے کرنے کو چلے، انھیں ایک میر منشی کی ضرورت ہوئی کہ قابلیت و علمیت کے ساتھ امارت خاندانی کا جوہر بھی رکھتا ہو، میر کاظم حسین نے اس عہدہ پر سفارش کے لئے ولی عہد سے شقّہ چاہا۔ مرزا مغل بیگ ان دنوں میں مختار کل تھے اور وہ ہمیشہ اس تاک میں رہتے تھے کہ جس پر ولی عہد کی زیادہ نظر عنایت ہو اُسے کسی طرح سامنے سے سرکاتے رہیں۔ اس قدرتی پیچ سے میر کاظم حسین کو شقّہ سفارش بآسانی  حاصل ہو گیا اور وہ چلے گئے۔

چند روز کے بعد ایک دن شیخ مرحوم جو ولی عہد کے یہاں گئے تو دیکھا کہ تیر اندازی کی مشق کر رہے ہیں، انھیں دیکھتے ہی شکایت کرنے لگے میاں ابراہیم اُستاد تو دکن گئے۔ میر کاظم حسین اُدھر چلے گئے۔ تم نے بھی ہمیں چھوڑ دیا؟ غرض اسی وقت ایک غزل جیب سے نکال کر دی کہ ذرا اسے بنا دو، یہ وہیں بیٹھ گئے اور غزل بنا کر سُنائی۔ ولی عہد بہادر بہت خوش ہوئے اور کہا کہ کبھی کبھی تم آ کر ہماری غزل بنا جایا کرو، یہ زمانہ وہ تھا کہ ممتاز محل کی خاطر سے اکبر شاہ کبھی مرزا سلیمؔ کبھی مرزا جہانگیر وغیرہ شاہزادوں کی ولی عہدی کے لئے کوششیں کرتے تھے، اور کہتے تھے کہ مرزا ابو ظفر میرے بیٹے ہی نہیں، مقدمہ اس گورنمنٹ میں دائر تھا اور ولیعہد کو بجائے ۵ ہزار روپیہ کے فقط ۵ سو روپیہ مہینہ ملتا تھا، غرض چند روز اصلاح جاری رہی، اور آخر کار سرکار ولی عہدی سے ۴ روپیہ مہینہ بھی ہو گیا۔ اس وقت لوگوں کے دلوں میں بادشاہ کا رعب و داب کچھ اور تھا چنانچہ کچھ ولی عہدی کے مقدمہ پر خیال کر کے کچھ تنخواہ کی کمی پر نظر کر کے باپ نے اکلوتے بیٹے کو اس نوکری سے روکا، لیکن ادھر تو شاعروں کے ے جمگھٹ کی دل لگی نے ادھر کھینچا، اُدھر قسمت نے آواز دی کہ چار روپیہ نہ سمجھنا، یہ ایوانِ ملک الشعراء کے چار ستون قائم ہوئے ہیں، موقع کو ہاتھ سے نہ جانے دینا، چنانچہ شیخ مرحوم ولیعہد کے استاد ہو گئے۔

دلی میں نواب الہی بخش خاں معروف (بخارا میں خواجہ عبد الرحمٰن بسویؔ ایک رئیس عالی خاندان خواجہ احمد بسوی کی اولاد میں تھے، اتفاق زمانہ سے وطن چھوڑ کر بلخ میں آئے اور یہیں خانہ دار ہوئے۔ خدا نے تین فرزند رشید عطا کئے۔ قاسم جان، عالم جان، عارف جان، جوانوں کی ہمت مردانہ نے گھر میں بیٹھنا گوارا نہ کیا۔ ایک جمعیت سوار و پیادہ ترکان ازبک وغیرہ کی لے کر ہندوستان آئے۔ پنجاب میں معین الملک عرف میر مُنّو خلف نواب قمر الدین خاں وزیر محمد شاہی حاکم تھے۔ ان رئیس زادوں کو اپنی رفاقت میں۔ خاک پنجاب میں سکھوں کی قوم سبزہ خودرو کی طرح جوش مار رہی تھی، اُن کے زمانہ میں اِن کی تگ و تاز نے ہمت کے گھوڑے دوڑا کر نام پیدا کیا۔ چند روز میں میر منور مر گئے، بادشاہی زور کو سکھوں نے دبانا شروع کیا، انھوں نے امرائے بادشاہ کی نا اہلی اور بے لیاقتی سے شکستہ ہو کر دربار کا رُخ کیا۔ وقت وہ تھا کہ شاہ عالم بادشاہ تھے اور میرن کے مقابلہ پر بنگالہ میں جوج لئے پڑے تھے، یہ بھی وہیں پہونچے اور دلاوری کے ساتھ ایسی جانفشانی دکھائی کہ نواب قاسم جان کو ہفت ہزاری منصب اور شرف الدولہ سہراب جنگ خطاب عطا ہوا۔ جب بادشاہ وہاں سے پھرے تو تینوں بھائی دلی میں آئے اور یہیں سکونت اختیار کی۔ لڑائیوں میں ہمیشہ اپنی ہمت کے ساتھ ذوالفقار الدولہ نواب نجف خاں سپہ سالار کے لئے قوت بازو رہے۔ نواب عارف جان دیہات، جاگیر وغیرہ کا انتظام کرتے تھے۔ انھوں نے وفات میں بھی اپنے برادر ارجمند نواب قاسم جان کا ساتھ دیا اور چار بیٹے چھوڑے، نبی بخش خاں، احمد بخش خاں، محمد علی خاں، الٰہی بخش خاں، نواب احمد بخش خاں راؤ راجہ بختاور سنگھ والی الور کی طرف سے معتمد اور وکیل ہو کر لارڈ لیک صاحب بہادر کے ساتھ ہندوستان کی مہمات میں شامل رہے اور اپنی ذات سے بھی رسالہ رکھ کر خدمت گورنمنٹ بجا لاتے رہے۔ اس کے صلہ میں فیروز پور جھرکہ وغیرہ جاگیر سرکار سے عنایت ہوئی اور بادشاہی سے خطاب فخر الدولہ دلاور الملک رستم جنگ بہ وسیلہ ریزیڈنٹ دہلی عطا ہوا۔ ان کے بڑے بیٹے نواب شمس الدین خاں جانشین ہوئے مگر زمانہ نے اس کا ورق اس طرح اُلٹا کہ نام و نشان تک نہ رہا، فخر الدولہ مرحوم نواب امین الدین خاں و نواب ضیاء الدین خاں کو جدا جاگیر دے گئے تھے کہ لوہارو مشہور ہے۔ نواب امین الدین خاں مسند نشین ریاست رہے، ان کے بعد ان کے بیٹے نواب علاء الدین خاں مسند نشین ہوئے کہ علوم مشرقی کے ساتھ زبان انگریزی مہارت کامل رکھتے تھے۔ علائی تخلص کرتے ہیں اور غالب مرحوم کے شاگرد ہیں، نواب ضیاء الدین خاں بہادر کو علوم ضروری سے فارغ ہو کر فن شعرا اور مطالعہ کتب کا ایسا شوق ہوا کہ دنیا کی کوئی دولت اور لذت نظر میں نہ آئی۔ اب تک اسی میں محو ہیں۔ غالبؔ مرحوم کے شاگرد ہیں۔ فارسی میں نیّر تخلص کرتے۔ احباب کی فرمائش سے کبھی اُردو میں بھی کہہ دیتے ہیں اور اس میں رخشاںؔ تخلص کرتے ہیں۔ فقیر آزاد کے حال پر شفقت بزرگانہ فرماتے ہیں۔ خدا دونوں کے کمال کا سایہ اہل دہلی کے سر پر رکھے۔ ان ہی لوگوں سے دلّی دلی ہے، ورنہ اینٹ پتھر میں کیا دھرا ہے ؟

ہم تبرک ہیں بس اب کر لے زیارت مجنوں

سر پہ پھرتا ہے لئے آبلہ پا ہم کو

 ایک عالی خاندان امیر تھے۔ علوم ضروری سے باخبر تھے اور شاعری کے کہنہ مشاق، مگر اس فن سے ایسا عشق رکھتے تھے کہ فنا فی الشعر کا مرتبہ اسی کو کہتے ہیں، چونکہ لطفِ کلام کے عاشق تھے، اس لئے جہاں متاع نیک دیکھتے تھے نہ چھوڑتے تھے۔ زمانہ کہ درازی نے سات شاعروں کی نظر سے ان کا کلام گزرانا تھا، چنانچہ ابتداء میں شاہ نصیرؔ مرحوم سے اصلاح لیتے رہے اور سید علی خاں غمگینؔ وغیرہ وغیرہ اُستادوں سے بھی مشورہ ہوتا رہا، جب شیخ مرحوم کا شہرہ ہوا تو انھیں بھی اشتیاق ہوا، یہ موقع وہ تھا کہ نواب موصوف نے اہل فقر کی برکت صحبت سے ترک دنیا کر کے گھر سے نکلنا بھی چھوڑ دیا تھا، چنانچہ اُستاد مرحوم فرماتے تھے کہ میری ۱۹ – ۲۰ برس کی عمر تھی۔ گھر کے قریب ایک قدیمی مسجد تھی، ظہر کے بعد وہاں بیٹھ کر میں وظیفہ پڑھ رہا تھا، ایک چوبدار آیا۔ اس نے سلام کیا اور کچھ چیز رومال میں لپٹی ہوئی میرے سامنے رکھ کر الگ بیٹھ گیا، وظیفہ سے فارغ ہو کر اُسے دیکھا تو اس میں ایک خوشہ انگور کا تھا، ساتھ ہی چوبدار نے کہا کہ نواب صاحب نے دعا فرمائی ہے، یہ بھیجا ہے اور فرمایا ہے کہ آپ کا کلام تو پہونچا ہے، مگر آپ کی زبان سے سننے کو جی چاہتا ہے، شیخ مرحوم نے وعدہ کیا اور تیسرے دن تشریف لے گئے۔

وہ بہت اخلاق سے ملے اور بعد گفتگوئے معمولی کے شعر کی فرمائش کی۔ انھوں نے ایک غزل کہنی شروع کی تھی۔ اس کا مطلع پڑھا :

نگہ کا وار تھا دل پر پھڑکنے جان لگی

چلی تھی برچھی کسی پر کسی کے آن لگی

سُن کر بہت خوش ہوئے اور کہا کہ خیر حال تو پہلے ہی معلوم ہو گیا تھا، مگر تمھاری زبان سے سُن کر اور لطف حاصل ہوا۔ اِدھر اُدھر کی باتیں ہونے لگیں، عجیب اتفاق یہ کہ حافظ غلام رسول شوقؔ (حافظ غلام رسول کے سامنے ہی شیخ مرحوم کا انتقال ہو گیا، چنانچہ کئی دفعہ ایسا ہوا کہ گلی میں ٹہل رہے تھے میں بھی ساتھ تھا، حافظ غلام رسول صاحب سامنے آ گئے چنانچہ شیخ مرحوم نے اسی آداب سے جس طرح بچپن میں سلام کرتے تھے انھیں سلام کیا، انھوں نے جواب دیا مگر اس تُرش روئی سے گویا سو ۱۰۰ شیشہ سرکہ کے بہا دیئے۔ جب وہ بازار میں نکلتے تو لوگ آپس میں اشارے کر کے دکھاتے کہ دیکھو میاں وہ اُستاد ذوق کے اُستاد جا رہے ہیں۔) یعنی اُستاد مرحوم کے قدیمی اُستاد اُسی وقت آ نکلے، نواب انھیں دیکھ کر مسکرائے اور شیخ مرحوم نے اُسی طرح سلام کیا جو سعادت مند شاگردوں کا فرض ہے۔ وہ اِن سے خفا رہتے تھے کہ شاگرد میرا اور مجھے غزل نہیں دکھاتا اور مشاعروں میں میرے ساتھ نہیں چلتا، غرض اُنھوں نے اپنے شعر پڑھنے شروع کر دیئے۔ شیخ مرحوم نے وہاں ٹھہرنا مناسب نہ سمجھا اور رخصت چاہی، چونکہ نواب مرحوم کے برابر بیٹھے ہوئے تھے، نواب نے چپکے سے کہا، کان بدمزہ ہو گئے۔ کوئی شعر اپنا سناتے جاؤ، اُستاد مرحوم نے اُنھیں دنوں میں ایک غزل کہی تھی۔

دو (۲) مطلع اس کے پڑھے :

جینا نظر اپنا ہمیں اصلا نہیں آتا

گر آج بھی وہ رشکِ مسیحا نہیں آتا

مذکور تری بزم میں کس کا نہیں آتا

پر ذکر ہمارا نہیں آتا، نہیں آتا

اُس دن سے معمول ہو گیا کہ ہفتہ میں دو دن جایا کرتے اور غزل بنا آیا کرتے تھے۔ چنانچہ جو دیوان معروف اب رائج ہے، وہ تمام و کمال انہی کا اصلاح کیا ہوا ہے، نواب مرحوم اگرچہ ضعف پیری کے سبب سے خود کاوش کر کے مضمون کو لفظوں میں بٹھا نہیں سکتے تھے، مگر اس کے حقائق و دقائق کو ایسا پہونچے تھے کہ جو حق ہے اس عالم میں اُستاد مرحوم کی جوان طبیعت اور ذہن کی کاوش ان کی فرمائش کے نکتے نکتے کا حق ادا کرتی تھی، شیخ مرحوم کہا کرتے تھے کہ اگرچہ بڑی بڑی کاہشیں اُٹھانی پڑیں، مگر اُن کی غزل بنانے میں ہم آپ بن گئے۔

فرماتے تھے کہ اپنی مدت شوق میں وہ بھی کبھی جرأتؔ، کبھی سوداؔ، کبھی میرؔ کے انداز میں غزلیں لکھتے رہے۔ مگر اخیر میں کچھ بمقتضائے سن، کچھ اس سبب سے کہ صاحبِ دل اور صاحبِ نسبت تھے، خواجہ میر دردؔ کی طرز میں آ گئے تھے، یہ بھی آپ ہی کہتے تھے کہ ان دنوں میں ہمارا عالم ہی اور تھا۔ جوانی دوانی، ہم کبھی جرأتؔ کے رنگ میں، کبھی سوداؔ کے انداز میں، اور وہ روکتے تھے، آج الٰہی بخش خاں مرحوم ہوتے تو ہم کہہ کر دکھاتے اب ان کا دیوان ویسا ہی بنا دیتے جیسا اُن کا جی چاہتا تھا، ان کی باتیں کرتے اور بار بار افسوس کرتے اور کہتے ہائے الٰہی بخش خاں اُن کا نام ادب سے لیتے تھے اور اس طرح ذکر کرتے تھے، جیسے کوئی با اعتقاد اپنے مرشد کا ذکر کرتا ہے، اُن کی سیکڑوں باتیں بیان کیا کرتے تھے، جو دین دنیا کے کاموں کا دستور العمل ہیں۔

یہ بھی فرماتے تھے کہ ایسا سخی میں نے آج تک نہیں دیکھا جو آتا تھا امیر، فقیر، بچہ بوڑھا اسے دیئے نہ رہتے تھے، اور دینا بھی وہی کہ جو اس کے مناسب حال ہو۔ کوئی سوداگر نہ تھا کہ آئے اور خالی پھر جائے۔ انھیں اس بات کی بڑی خوشی تھی کہ ہماری غزل ہمارے پاس بیٹھ کر بناتے جاؤ، سُناتے جاؤ، میں نے اس باب میں پہلو بچایا تھا، مگر ان کی خوشی اسی میں دیکھی تو مجبور ہوا، اور یہی خوب ہوا، ایک دن میں ان کی غزل بنا رہا تھا، اس کا مقطع تھا۔

اک غزل پُر درد سی معروف لکھ اس طرح میں

ذوق ہے دل کو نہایت درد کے اشعار سے

کون روتا ہے یہ لگ کر باغ کی دیوار سے

جانور گرنے لگے جائے ثمر اشجار سے

سوداگر آیا اور اپنی چیزیں دکھانے لگا۔ ان میں ایک اصفہانی تلوار تھی تھی۔ وہ پسند آئی، خم دم آبدار سی اور جوہر دیکھ کر تعریف کی، اور میری طرف دیکھ کر کہا۔

مصرعہ : “اس ضعیفی میں یہاں تک شوق ہے تلوار سے “

میں نے اسی وقت دوسرا مصرع لگا کر داخل غزل کیا، بہت خوش ہوئے۔

سر لگا دیں ابروئے خمدار کی قیمت میں آج

اس ضعیفی میں یہاں تک شوق ہے تلوار سے

خیر اور چیزوں کے ساتھ وہ تلوار بھی لے لی، میں حیران ہوا کہ یہ تو ان کے معاملات و حالات سے کچھ بھی تعلق نہیں رکھتی اسے کیا کریں گے۔ خدا کی قدرت دو تین ہی دن کے بعد بڑے صاحب (فریزیر صاحب ریذیڈنٹ دہلی) ایک اور صاحب کو اپنے ساتھ لے کر نواب احمد بخش خاں مرحوم کی ملاقات کو آئے، وہاں سے ان کے پاس آ بیٹھے، باتیں چیتیں ہوئیں، جو صاحب ساتھ تھے، ان سے ملاقات کروائی۔ جب چلنے لگے تو انھوں نے وہی تلوار منگوا کر صاحب کے ہمراہی کی کمر سے بندھوائی اور کہا :

برگِ سبز است تحفہ درویش

چہ کند بے نوا ہمیں دارد

اُن کے ساتھ میم صاحب بھی تھیں، ایک ارگن باجا نہایت عمدہ کسی رومی سوداگر سے لیا تھا وہ انھیں دیا۔

اُن کے اشعار کا ایک سلسلہ ہے جس میں ردیف دارا ۱۰ مطلع ہیں اور کوئی سبزی کے مضمون سے خالی نہیں۔ اسی رعایت سے اس کا نام تسبیح زمرد رکھا تھا۔ یہ تسبیح بھی اُستاد مرحوم نے پروئی تھی اور آخر میں ایک تاریخ فارسی زبان میں اپنے نام سے کہہ کر لگائی تھی۔ جن دنوں ان کے دانے پروئے تھے تو نواب صاحب مرحوم کی سب پر فرمائش تھی کہ کوئی مثل، کوئی محاورہ سبزی کا بتاؤ، ان کا بذل و کرم اور حسنِ اخلاق اور علو رتبہ کے سبب سے اکثر شرفاء خصوصاً شعراء آ کر جمع ہوتے تھے اور اشعار سنتے سُناتے تھے، ان دنوں میں اِن کے شوق سے اوروں پر بھی سبز رنگ چھایا ہوا تھا، بھورے خاں آشفتہ ایک پُرانے شاعر شاہ محمدی مائل کے شاگرد اور ان کے مرید تھے اور پانچ روپے وظیفہ بھی پاتے تھے، اُن کے شعر میں ہری چُگ (ہری چُگ، بیوفا ہرجائی کو کہتے ہیں، گویا وہ ایک جانور ہے کہ جہاں ہری گھانس پاتا ہے چرتا ہے، جب وہ نہ رہے تو جہاں اور ہری گھاس دیکھتا ہے آ موجود ہوتا ہے۔) کا لفظ آیا ہے کہ ان کے ہاں ابھی تک نہ بندھا تھا، ان سے وہ شعر لے لیا اور اپنے انداز سے سجایا :

آج یہاں کل وہاں گزرے یونہی جگ ہمیں

کہتے ہیں سب سبزہ رنگ اس سے ہری چگ ہمیں

انھیں سو روپے ایک رومال میں باندھ کر دے دیئے کہ تمھاری کاوش کیوں خالی جائے، افسوس ہے کہ اخیر میں کمبخت بھورے خاں نے روسیاہی کمائی اور سب تعلقات پر خاک ڈال کر اُن کی ہجو کہی، لطف یہ کہ دریا دل نواب طبیعت پر اصلا میل نہ لائے، لیکن ان نا اہل کو آزردہ ہی کرنا منظور تھا، جب دیکھا کہ انھیں کچھ رنج نہیں تو نواب حسام الدین حیدر خاں نامی کی ہجو کہی۔ نامی مرحوم سے انھیں ایسی محبت تھی کہ وہ خود بھی کہتے تھے اور لوگ بھی کہتے تھے کہ ان دونوں بزرگوں میں محبت نہیں عشق ہے (اگلے زمانہ کی دوستیاں ایسی ہی ہوتی تھیں ) ان کی تعریف میں غزلیں کہہ کر داخل دیوان کی تھیں، ایک مطلع یاد ہے :

جو آؤ تم مرے مہمان حسام الدین حیدر خاں

کروں دل نذر، جاں قرباں حسام الدین حیدر خاں

جب ان کی ہجو کہی تو انھیں سخت رنج ہوا، اس پر بھی اتنا کہا کہ ہمارے سامنے نہ آیا کرو۔ وہ بھی سمجھ گیا۔ عذر میں کہا کہ لوگ ناحق بدنام کرتے ہیں۔ میں نے تو نہیں کہی، کہا بس آگے نہ بولو۔ اتنی مدت ہم نے زمین سخن کی خاک اُڑائی، کیا تمھاری زبان بھی نہیں پہچانتے ؟ میں تو اس سے بدتر ہوں جو کچھ تم نے کہا، مگر میرے لئے تم میرے دوستوں کو خراب کرنے لگے، بھئی مجھ سے نہیں دیکھا جاتا، پھر جیتے جی بھورے خاں کی صورت نہ دیکھی۔ اُستاد مرحوم فرماتے تھے کہ دالان میں ایک جانماز بچھی رہتی تھی، جب میں رخصت ہوتا تو آٹھویں، دسویں دن فرماتے، بھئی میاں ابراہیم! ذرا ہماری جانماز کے نیچے دیکھنا۔ پہلے دن تو تو دیکھ کر حیران ہوا کہ ایک پڑیا میں روپے دھرے تھے۔ آپ نے سامنے سے مسکرا کر فرمایا۔

مصرعہ  “خدا دیوے تو بندہ کیوں نہ لیوے “

اس میں لطیفہ یہ تھا کہ ہم کس قابل ہیں، جو کچھ دیں، جس سے ہم مانگتے ہیں یہ وہی تمھیں دیتا ہے۔

ایک دفعہ اُستاد بیمار ہوئے اور کچھ عرصہ کے بعد گئے۔ ضعف تھا اور کچھ کچھ شکایتیں باقی تھیں، فرمایا کہ حقہ پیا کرو۔ عرض کی بہت خوب، اب وہ حقہ پلوائیں تو خالی حقہ پلوائیں۔ ایک چاندی کی گڑگڑی، چلم اور چنبل، مغرق نیچہ مرصع مہنال تیار کروا کر سامنے رکھ دیا۔

خلیفہ صاحب (میاں محمد اسمٰعیل) چھوٹے سے تھے۔ ایک دن اُستاد کے ساتھ چلے گئے۔ رخصت ہوئے تو ایک چھوٹا سا ٹانگن اصطبل سے منگایا، زین زریں کیا ہوا، اُس پر سوار کر کے رخصت کیا کہ یہ بچہ ہے، کیا جانے گا میں کس کے پاس گیا تھا۔

کسی کھانے کو جی چاہتا تو آپ نے کھاتے، بہت سا پکواتے، لوگوں کو بلاتے، آپ کھڑے رہتے، انھیں کھلواتے، خوش ہوتے اور کہتے کہ دل سیر ہو گیا۔ یہ ساری سخاوتیں اسی سعادت مند بھائی کی بدولت تھیں، جو دن بھر سر انجام مہمان میں جان کھپاتا تھا، راتوں سوچ میں گھلتا تھا اور خاندان کے نام کو زندہ کرتا تھا اور ان سے فقط دعا کی التجا رکھتا تھا۔

اُستاد مرحوم فرماتے تھے کہ ایک دن میں بیٹھا غزل بنا رہا تھا کہ نواب احمد بخش خاں آئے، آداب معمولی کے بعد باتوں باتوں میں کہنے لگے کہ فلاں انگریز کی ضیافت کی اتنا روپیہ اس میں صرف ہوا، فلانی گھوڑ دوڑ میں ایک چائے پانی دیا تھا، یہ خرچ ہو گیا۔ وہ صاحب آئے تھے، اصطبل کی سیر دکھائی۔ کاٹھیاواڑ کے گھوڑوں کی جوڑی کھڑی تھی، انھوں نے تعریف کی میں نے بگھی میں جڑوائی۔ اور اسی پر سوار کر کے اُنھیں رخصت کیا وغیرہ وغیرہ کیا کروں، خالی ملنا، خالی رخصت کرنا مجھ سے نہیں ہو سکتا۔ یہاں امیروں کو امارت کے بڑے بڑے دعوے ہیں (جس طرح بچے بزرگوں سے بگڑ بگڑ کر باتیں کرتے ہیں، چیں بہ چیں ہوتے تھے اور کہتے تھے ) فیل خانہ میں گیا تھا وہاں یہ بندوبست کر آیا ہوں۔ گھوڑیاں آج سب علاقہ بھجوا دیں۔ حضرت کیا کروں۔ شہر میں اس گلہ کا گزارہ نہیں، یہ لوگ اس خرچ کا بوجھ اُٹھائیں تو چھاتی تڑق جائے، الٰہی بخش خاں مرحوم بھی ادا شناسی میں کمال ہی رکھتے تھے، تاڑ گئے، چپکے بیٹھے سنتے تھے اور مسکراتے تھے، جب اُن کی زبان سے نکلا کہ چھاتی تڑق جائے، آپ مسکرا کر بولے، بال تو آپ کی چھاتی میں بھی آیا ہو گا، شرما کر آنکھیں نیچی کر لیں، پھر انھوں نے فرمایا، آخر امیر زادے ہو، خاندان کا نام ہے، یہی کرتے ہیں، مگر اس طرح نہیں کہا کرتے، نواب احمد بخش خاں نے کہا، حضرت پھر آپ سے بھی نہ کہوں ؟ فرمایا خدا سے کہا، وہ بولے کہ مجھے آپ دکھائی دیتے ہیں۔ آپ ہی سے کہتا ہوں۔ آپ خدا سے کہیے۔ فرمایا کہ اچھا ہم تم مل کر کہیں۔ تمھیں بھی کہنا چاہیے۔ نواب احمد بخش خاں بھی جانتے تھے کہ جو سخاوت ادھر ہوتی ہے عین بجا ہے، اور اسی کی ساری برکت ہے۔

ایک دن نواب احمد بخش خاں آئے، لیکن افسردہ اور برآشفتہ، الٰہی بخش خاں مرحوم سمجھ جاتے تھے کہ کچھ نہ کچھ آج ہے جو اس طرح آئے ہیں۔ پوچھا  آج کچھ خفا ہو؟ کہا نہیں حضرت۔ فیروز پور جھرکے جاتا ہوں، پوچھا کیوں ؟ کہا بڑے صاحب (صاحب ریذیڈنٹ) نے حکم دیا ہے کہ جس کو ملنا ہو بدھ کو ملاقات کرے، حضرت آپ جانتے ہیں مجھے ہفتہ میں دس دفعہ کام پڑتے ہیں، جب جی چاہا گیا، جو ضرورت ہوئی کہہ سُن آیا۔ مجھ سے یہ پابندیاں نہیں اُٹھتیں۔ میں یہاں رہتا ہی نہیں ؟ فرمایا کہ تم کہا ہے ؟ کہا مجھ سے تو نہیں کہا، سُنا ہے بعض رؤسا گئے بھی تھے۔ اُن سے ملاقات نہ کی۔ یہی کہلا بھیجا کہ بدھ کو ملئے۔ فرمایا کہ تمھارے واسطے نہیں، اوروں کے لئے ہو گا، احمد بخش خاں نے کہا نہیں حضرت یہ اہل فرنگ ہیں، ان کا قانون عام ہوتا ہے جو سب کے لئے ہے وہی میرے لئے ہو گا۔ فرمایا کہ بھلا تو جاؤ، تم ابھی جاؤ، دیکھو تو کیا ہوتا ہے۔ انھوں نے کہا، بہت خوب جاؤں گا، فرمایا کہ جاؤں گا، نہیں اُٹھئے بس اب جائیے، نواب نے کہا کہ نہیں، میں نے عرض کیا، ضرور جاؤں گا، بگڑ کر بولے کہ عرض ورض نہیں، بس شرط یہ ہے کہ اسی وقت جائیے اور سیدھے وہیں جائیے گا۔ احمد بخش خاں بھی انداز دیکھ کر خاموش ہوئے اور اُٹھ کر چلے۔ انھوں نے فرمایا کہ وہیں جانا اور مجھے پریشان تو کیا ہے، ذرا پھرتے ہوئے ادھر ہی کو آنا۔ اُستاد کہتے تھے کہ وہ تو گئے مگر ان کو دیکھتا ہوں کہ چپ اور چہرہ پر اضطراب، کوئی دو گھڑی ہوئی تھی ابھی میں بیٹھا غزل بنا رہا ہوں کہ دیکھتا ہوں۔ نواب سامنے سے چلے اے ہیں۔ خوش خوش، لبوں پر تبسم، آ کر سلام کیا اور بیٹھ گئے۔ انھوں نے دیکھتے ہی کہا، کیوں صاحب؟ نواب بولے گیا تھا، وہ اطلاع ہوتے ہی خود نکل آئے اور پوچھا ہیں نواب! اس وقت خلاف عادت؟ میں نے کہا بھئی میں نے سنا تم نے حکم دیا ہے کہ جو ہم سے ملے بدھ کو ملے۔ ابھی میں تقریر تمام بھی نہ کی تھی کہ وہ بولے نہیں نہیں نواب صاحب! آپ کے واسطے یہ حکم نہیں۔ آپ ان لوگوں میں نہیں ہیں۔ آپ جس وقت چاہے چلے آئیں۔ میں نے کہا، بھائی تم جانتے ہو، ریاست کے جھگڑے ہیں خفقانی دیوانہ کوئی بات کہنی ہے، کوئی سننی ہے، بس میرے کام تو بند ہوئے۔ بھائی میں تو رخصت کو آیا تھا کہ فیروز پور چلا جاؤں گا، اب یہاں رہ کر کیا کروں۔ انھوں نے پھر وہی کلمات ادا کئے اور کہا، دن رات میں جب جی چاہے، میں نے کہا، خیر تو خاطر جمع ہو گئی۔ اب میں جاتا ہوں۔ الٰہی بخش خاں مرحوم بھی شگفتہ ہو گئے اور کہا بس اب جائیے آرا م کیجئے۔ آزاد جو خدا کے لئے دنیا کو چھوڑ بیٹھے ہیں، خدا بھی انھیں نہیں چھوڑتا۔

ساتھ ہی اُستاد مرحوم یہ بھی کہتے تھے اور یہ بات بھی لکھنے کے قابل ہے کہ زبان سے الٰہی بخش خاں مرحوم نے کبھی نہیں کہا۔ مگر میں جانتا ہوں انھیں آرزو بھی کہ علی بخش خاں (ایک ہی بیٹا تھا) بذات خود صاحب منصب اور صاحب امارت ہو، چچا کا اور اس کی اولاد کا دستِ نگر نہ ہو، ساز و سامان کر کے ریاستوں میں بھی بھیجا۔ صاحب لوگوں کے ہاں بھی بندوبست گئے، ظاہری و باطنی ساری کوششیں کیں، یہی بات نصیب نہ ہوئی، مشیت اللہ مشیت اللہ اور وہ خود بھی اخیر میں سمجھ گئے تھے۔ ایک دن انھیں باتوں میں اُستاد نے فرمایا کہ علی بخش خاں بھی خوبصورت اور شاندار امیر زادہ تھا، میں نے عرض کی کہ حضرت کئی دفعہ بعض مجلسوں میں، بعض درباروں میں میں نے دیکھا ایسے تو نہیں، افسردہ ہو کر کہا، کیا کہتے ہو ذکر جوانی اور پیری اور ذکر امیری اور فقیری کس کو یقین آیا ہے۔

لطیفہ : استاد مرحوم نے فرمایا کہ اُن دنوں مرزا خاں کوتوال تھے۔ مرزا قتیل کے شاگرد، فارسی نگاری اور انشاء پردازی کے ساتھ سخن فہمی کے دعوے رکھتے تھے۔ منشی محمد منن خاں میر منشی تھے اور فی الحقیقت نہایت خوش صحت خوش اخلاق با مروت لوگ تھے۔ ایک روز دونوں صاحب الہی بخش خاں مرحوم کی ملاقات کو آئے اور تعارف رسمی کے بعد شعر کی فرمائش کی، انھیں اور لوگوں کی طرح یہ عادت نہ تھی، کہ خواہ مخواہ جو آئے اُسے اپنے شعر سنانے لگیں، اگر کوئی فرمائش کرتا تھا تو بات کو ٹال کر پہلے اُس کا کلام سُن لیتے تھے۔ شاعر نہ ہوتا تو کہتے کہ کسی اور اُستاد کے دو چار شعر پڑھئے جو آپ کو پسند ہوں، جب اس کی طبیعت معلوم کر لیتے، تو اسی رنگ کا شعر اپنے اشعار میں سُناتے، اسی بنیاد پر ان سے کہا کہ آپ دونوں صاحب کُچھ کچھ اشعار سنائیے۔ انھوں نے کچھ شعر پڑھے، بعد اس کے الٰہی بخش خاں مرحوم نے دو تین شعر وہ بھی ان کے اصرار سے پڑھے اور اِدھر اُدھر کی باتوں میں ٹال گئے۔ جب وہ چلے گئے تو مجھ سے کہنے لگے۔ میاں ابراہیم! تم نے دیکھا؟ اور ان کے شعر بھی سُنے ! عجیب مجہول الکیفیت ہیں، کچھ حال ہی نہیں کھُلتا کہ ہیں کیا؟ یہی مرزا خاں اور منشی صاحب ہیں جن کی سخن پردازی کی اور نکتہ یابی کی اتنی دھوم ہے اور اس پر تماش بینی کے بھی دعوے ہیں۔ رنڈی تو ان کے منھ پر دو جوتیاں بھی نہ مارتی ہو گی۔ بھلا یہ کیا کہیں گے اور کیا سمجھیں گے، آزاد ملک سخن اور شاعری کا عالم، عالم گوناگوں ہے، ہمہ گیر ذہن اور کیفیت سے لطف اُٹھانے والی طبیعت اس کے لئے لازم ہے، الٰہی بخش خاں مرحوم صاحبِ دل، پاکیزہ نفس، روشن ضمیر تھے، مگر ہر بات کو جانتے تھے اور جاننے والے جانتے ہیں کہ بات کا جاننا اور چیز ہے اور کرنا اور چیز ہے۔ طبیعتیں ہیں کہ نہیں کرتیں اور سب کچھ جانتی ہیں اور ایسی بھی ہیں کہ سب کچھ کرتی ہیں اور کچھ نہیں جانتیں، خوشا نصیب اُن لوگوں جنھیں خدا اثر پذیر دل اور کیفیت کے پانے والی طبیعت عنایت کرے کہ عجب دولت ہے۔

اِدھر ولی عہد بہادر کی فرمائشیں اُدھر نواب مرحوم کی غزلوں پر طبیعت کی آزمائشیں تھیں کہ کئی برس کے بعد شاہ نصیر مرحوم دکن سے پھرے اور اپنا معمولی مشاعرہ جاری کیا۔ شیخ علیہ الرحمۃ کی مشقیں خوب زوروں پر چڑھ گئی تھیں، انھوں نے بھی مشاعرہ میں جا کر غزل پڑھی، شاہ صاحب نے دکن میں کسی کی فرمائش سے ۹ شعر کی ایک غزل کہی تھی، جس کی ردیف تھی آتش و آب و خاک و باد، وہ غزل مشاعرہ میں سنائی اور کہا اِس طرح جو غزل لکھے، اُسے میں اُستاد مانتا ہوں (یہ طنز ہے شیخ مرحوم پر کہ ولیعہد بہادر اور نواب الٰہی بخش خاں کی غزل بناتے تھے اور اُستاد کہلاتے تھے )۔ دوسرے مشاعرہ میں انھوں نے اس پر غزل پڑھی، شاہ صاحب کی طرف سے بجائے خود اس پر کچھ اعتراض ہوئے۔ جشن قریب تھا شیخ علیہ الرحمۃ نے بادشاہ کی تعریف میں ایک قصیدہ اسی طرح میں لکھا۔ مگر پہلے مولوی شاہ عبد العزیز صاحب کے پاس لے گئے کہ اس کے صحت و سقم سے آگاہ فرمائیں۔ انھوں نے سُن کر پڑھنے کی اجازت دی کہ ولی عہد بہادر نے اپنے شقہ کے ساتھ اُسے پھر شاہ صاحب کے پاس بھیجا، انھوں نے جو کچھ کہا تھا وہی جواب میں لکھ دیا اور یہ شعر بھی لکھ دیا۔

بود بگفتہ من حرف اعتراض چناں

کسے بدیدہ بینا فرد برو انگشت

شیخ صاحب کا دل اور بھی قوی ہو گیا اور دربار شاہی میں جا کر قصیدہ سُنایا، اس کے بڑے بڑے چرچے ہوئے اور کئی دن کے بعد سُنا کہ اس پر اعتراض لکھے گئے ہیں۔

شیخ مرحوم قصیدہ مذکور کو مشاعرہ میں لے گئے کہ وہاں پڑھیں اور روبرو برسر معرکہ فیصلہ ہو جائے، چنانچہ قصیدہ پڑھا گیا، شاہ نصیر مرحوم نے ایک مستعد طالب علم کو کہ کتب تحصیلی اُسے خوب رواں تھیں، جلسہ میں پیش کر کے فرمایا کہ انھوں نے اس پر کچھ اعتراض لکھے ہیں، شیخ علیہ الرحمۃ نے عرض کی کہ میں آپ کا شاگرد ہوں اور اپنے تئیں اس قابل نہیں سمجھتا کہ آپ کے اعتراضوں کے لئے قابل خطاب ہوں، انھوں نے کہا مجھ سے کچھ تعلق نہیں، انھوں نے کچھ لکھا ہے، شیخ مرحوم نے کہا خیر تحریر تو اسی وقت تک ہے کہ فاصلہ دوری درمیان ہو، جب آمنے سامنے موجود ہیں تو تقریر فرمائیے، قصیدہ کا مطلع تھا :

کوہ اور آندھی میں ہوں گر آتش و آب و خاک و باد

آج نہ چل سکیں گے پر آتش و آب و خاک و باد

معترض نے اعتراض کیا کہ سنگ میں آتش کے چلنے کا ثبوت چاہیے انھوں نے کہا کہ جب پہاڑ کو بڑھنے کے سبب سے حرکت ہے تو اس میں آگ کو بھی حرکت ہو گی، معترض نے کہا کہ سنگ میں آتش کا ثبوت چاہیے، انھوں نے کہا کہ مشاہدہ! اس نے کہا کتابی سند دو، انھوں نے کہا تاریخ سے ثابت ہے کہ ہوشنگ کے وقت میں آگ نکلی۔ اس نے کہا کہ شاعری میں شعر کی سند درکار ہے۔ تاریخ شعر میں نہیں چلتی، حاضرین مشاعرہ اِن جواب و سوال کی اُلٹ پلٹ کے تماشے دیکھ رہے تھے اور اعتراض پر حیران تھے کہ دفعتہً شیخ علیہ الرحمۃ نے یہ شعر محسن تاثیر کا پڑھا :

پیش از ظہور جلوہ جانانہ سوختیم

آتش بہ سنگ بود کہ ماخانہ سوختیم

سُنتے ہیں کہ مشاعرہ میں غل سے ایک ولولہ پیدا ہوا اور ساتھ ہی سوداؔ کا مصرع گزرانا :

مصرعہ “ہر سنگ میں شرار ہے تیرے ظہور کا”

اسی طرح اکثر سوال و جواب ہوئے، شاہ صاحب بھی بیچ میں کچھ دخل دیتے جاتے تھے، اخیر میں ایک شعر پر انھوں نے یہ اعتراض کیا کہ اس میں ثبوت روانی کا نہیں ہے، شیخ علیہ الرحمۃ نے کہا یہاں تغلیب ہے، اس وقت خود شاہ صاحب نے فرمایا کہ یہ تغلیب کہیں آئی نہیں۔ انھوں نے کہا کہ تغلیب کا قاعدہ ہے، انھوں نے کہا کہ جب تک کسی اُستاد کے کلام میں نہ ہو جائز نہیں ہو سکتی۔ شیخ علیہ الرحمۃ نے کہا کہ اپ نے نو شعر کی غزل پڑھ کر فرمایا تھا کہ اس طرح میں کوئی غزل کہے تو ہم اسے استاد جانیں، میں نے تو ایک غزل اور تین قصیدے لکھے اب بھی اُستاد نہ ہوا، معترض نے کہا کہ اس وقت مجھ سے اعتراضوں کا پورا سر انجام نہیں ہو سکتا، کل پر منحصر رکھنا چاہیے اور جلسہ برخاست ہوا۔

اُسی دن سے اُنھیں تکمیل علوم اور سیر کتب کا شغل واجب ہوا، قدرتی سامان  اس کا یہ ہوا کہ راجہ صاحب رام جو املاک شاہ اودھ کے مختار تھے، انھیں یہ شوق ہوا کہ اپنے بیٹے کو کتب علمی کی تحصیل تمام کروائیں۔ مولوی عبد الرزاق کہ شیخ مرحوم کے قدیمی اُستاد تھے، وہی ان کے پڑھانے پر مقرر ہوئے، اتفاقاً ایک دن یہ بھی مولوی صاحب کے ساتھ گئے، چونکہ اِن کی تیزیِ طبع کا شہرہ ہو گیا تھا، راجہ صاحب رام نے اُن سے کہا کہ میاں ابراہیم! تم ہمیشہ درس میں شریک رہو، چنانچہ نوبت یہ ہو گئی کہ اگر یہ کبھی شغل یا ضرورت کے سبب وہاں نہ جاتے تو راجہ صاحب رام کا آدمی انھیں ڈھونڈھ کر لاتا اور نہیں تو ان کا سبق ملتوی رہتا۔

کہا کرتے تھے کہ جب بادشاہ عالم ولی عہدی میں تھے تو مرزا سلیم کے بیاہ کی تہنیت میں ایک مثنوی ہم نے لکھی، اس کی بحر، مثنوی کی بحروں سے الگ تھی، لوگوں نے چرچا کیا کہ جائز نہیں، میر نجات کی گل کشتی ہماری دیکھی ہوئی تھی، مگر حکیم مرزا محمد صاحب رحمۃ اللہ (حکیم مرزا محمد صاحب علم و فضل کے خاندان سے ایک فاضل کامل اور جامع الکمالات تھے، طب میں حکیم محمد شریف خاں مرحوم کے شاگرد تھے جو حکیم محمود خاں کے دادا تھے۔ حکیم مرزا محمد صاحب خود بھی شاعر تھے اور ان کے والد بھی صاحب علم و فضل شاعر تھے۔ کاملؔ تخلص کرتے تھے اور میر شمس الدین فقیرؔ مصنف حدائق البلاغت کے شاگرد تھے۔ ان کا ایک مسبوط رسالہ “علم قوافی” میں نے دیکھا ہے ۔ انھوں نے تحفہ اثنا عشریہ کا جواب لکھا تھا، اخیر کے تین باب باقی تھے جو دنیا سے انتقال کیا۔ اکثر علما نے کتاب مذکورہ کے جواب لکھے ہیں مگر متانت اور جامعیت اور اختصار کے ساتھ انھوں نے لکھا ہے کسی نے نہیں لکھا۔) زندہ تھے اور میرے والد مرحوم انھیں کا علاج کرتے تھے۔ وسعتِ معلومات اور حصولِ تحقیقات کی نظر سے ہم نے ان سے جا کر پوچھا، انھوں نے فرمایا کہ رواج انفاقی ہے جو مثنوی انہی آٹھ بحروں میں منحصر ہو گئی ہے ورنہ طبع سلیم پر کون حاکم ہے جو روکے، جس بحر میں چاہو لکھو۔ اُستاد کے مسودوں میں ایک پرچہ پر چند شعر اس کے نکلے تھے۔ ان میں ساچق کا مضمون تھا۔ دو شعر اب تک یاد ہیں :

ٹھلیاں تو نہ تھیں وہ مئے عشرت کے سُبو تھے

یا قُلزم مستی کے حبابِ لبِ جو تھے

لازم تھا کہ لکھ باندھتے یہ اُن کے گلو میں

ہے بند کیا عیش کے دریا کو سُبو میں

چند سال کے بعد انھوں نے ایک قصیدہ اکبر شاہ کے دربار میں کہہ کر سُنایا کہ جس کے مختلف شعروں میں انواع و اقسام کے صنائع و بدائع صرف کئے تھے، اس کے علاوہ ایک ایک زبان میں جو ایک ایک شعر تھا ان کی تعداد اٹھارہ تھی۔ مطلع اس کا یہ ہے :

جبکہ سرطان و اسد مہر کا ٹھہرا مسکن

آب و ایلولہ ہوئے نشو نمائے گلشن

اس پر بادشاہ نے خاقانی ہند کا خطاب عطا کیا۔ اس وقت شیخ مرحوم کی عمر ۱۹ برس کی تھی۔

حافظ احمد یار (دیکھو صفحہ ، حافظ احمد یار سید انشاء کے یار ہیں۔ یہ عجیب شگفتہ مزاج، خوش طبع سخن فہم شخص تھے۔ باوجودیکہ استاد جوان تھے وہ بڈھے تھے مگر یاروں کی طرح ملتے تھے۔ حافظ مرحوم ان ہی مولوی صاحب کے داماد تھے۔ جنھوں نے حلّت زاغ کا فتویٰ دیا تھا اور سوداؔ نے ان کی ہجو کہی تھی۔ ترجیع بند مخمس میں۔ ع

زاغ  –  ” ایک مسخرہ یہ کہتا ہے کوّا حلال ہے “

نے چند روز پہلے خواب میں دیکھا کہ ایک جنازہ رکھا ہے بہت سے لوگ گرد جمع ہیں، وہاں حافظ عبد الرحیم کہ حافظ احمد یار کے والد تھے، ایک کھیر کا پیالہ لئے کھرے ہیں، اور شیخ علیہ الرحمۃ کو اس میں چمچے بھر بھر دیتے جاتے تھے، حافظ موصوف نے اُن سے پوچھا کہ یہ کیا معرکہ ہے اور جنازہ کس کا ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ یہ مرزا رفیعؔ کا جنازہ ہے اور میاں ابراہیم ان کے قائم مقام مقرر ہوئے ہیں۔ خاقانی ہند کے خطاب پر لوگوں نے بڑے چرچے کئے کہ بادشاہ نے یہ کیا کیا، کہن سال اور نامی شاعروں کے ہوتے ایک نوجوان کو ملک الشعراء بنایا اور ایسا عالی درجہ کا خطاب دیا۔ ایک جلسہ میں یہی گفتگو ہو رہی تھی، کسی نے کہا کہ جس قصیدہ پر یہ خطاب عطا ہوا ہے اُسے بھی تو دیکھنا چاہیے۔ چنانچہ قصیدہ مذکور لا کر پڑھا گیا، میر کلّو حقیر کہ شاعر سن رسیدہ اور شعرائے قدیم کے صحبت یافتہ تھے، سُن کر بولے کہ بھئی انصاف شرط ہے، کلام کو بھی تو دیکھو، ایسے شخص کو بادشاہ نے خاقانیِ ہند کے خطاب سے ملک الشعراء بنایا تو کیا بُرا کیا۔ مجھے یاد ہے جب اُستاد مرحوم نے یہ حال بیان کیا، اس وقت بھی کہا تھا اور جب میں ارباب زمانہ کی بے انصافی یا اُن کی بے خبری اور بے صبری سے دق ہو کر کچھ کہتا تو فرماتے تھے کہ بے انصافوں ہی میں سے با انصاف بھی بول اُٹھتا ہے، بے خبروں میں باخبر بھی نکل آتا ہے۔ اپنا کام کئے جاؤ، ۳۶ برس کی عمر تھی جبکہ جملہ منہیات سے توبہ کی اور اس کی تاریخ کہی۔ ع

“اے ذوقؔ بگو سہ (۳) بار توبہ”

مرزا ابو ظفر بادشاہ ہو کر بہادر شاہ ہوئے تو انھوں نے پہلے یہ قصیدہ گزرانا :

روکش ترے رُخ سے ہو کیا نور سحر رنگ شفق

ہر ذرّہ تیرا پرتوِ نور سحر رنگِ شفق

اگرچہ مرزا ابو ظفر ہمیشہ انھیں دل سے عزیز رکھتے تھے اور دلی رازوں کے لئے مخزن اعتبار سمجھتے تھے، مگر ولی عہدی میں مرزا مغل بیگ مختار تھے، جب کبھی بڑی سے بڑی ترقی یا انعام کے موقعے آئے تو اُستاد کے لئے یہ ہوا کہ ۴ روپیہ مہینہ سے ۵ روپیہ ہو گئے، ۵ روپیہ سے ۷ روپیہ ہو گئے۔ جب جب بادشاہ  ہوئے اور مرزا مغل بیگ وزیر ہوئے تو وزیر شاہی کا سارا کُنبہ قلعہ میں بھر گیا، مگر اُستاد شاہی کو ۳۰ روپیہ مہینہ! پھر بھی انھوں نے حضور میں اپنی زبان سے ترقی کے لئے عرض نہیں کی، ان کی عادت تھی کہ فکرِ سخن میں ٹہلا کرتے تھے اور شعر موزوں کیا کرتے تھے، چنانچہ ان دونوں میں جب کوئی عالی مضمون چُستی اور دُرستی کے ساتھ موزوں ہوتا، تو اس کے سرور میں آسمان کی طرف دیکھتے اور کہتے پھرتے :

یوں پھریں اہلِ کمال آشفتہ حال افسوس ہے

اے کمال افسوس ہے تجھ پر کمال افسوس ہے

یہاں عبد العزیز خاں صاحب (فراش خانہ کی کھڑکی میں رہتے تھے ) ایک مرد بزرگ صاحب نسبت فقیر تھے، شیخ مرحوم بھی اُن سے بہت اعتقاد رکھتے تھے، اس عالم میں ایک دن اُن کے پاس گئے اور کہا کہ تخت نشینی سے پہلے حضور کے بڑے بڑے وعدے تھے، لیکن اب یہ عالم ہے کہ الف کے نام ب نہیں جانتے، زبان تک درست نہیں، مگر جو کچھ ہیں مرزا مغل بیگ ہیں۔ انھوں نے کہا کہ خدائی کے کارخانے میں اگرچہ عقل ظاہر میں کام نہیں کرتی، مگر یہ دیکھو کہ جو دولت تم کو دی ہے وہ اس کو بھی تو نہیں دی ہے، جس دعویٰ سے تم دربار میں کھڑے ہو کر اپنا کلام پڑھتے ہو، اس دعوے سے وہ اپنی وزارت کے مقام پر کب کھڑا ہو سکتا ہو گا، ادنیٰ ادنیٰ منشی متصدی اس کے لکھتے پڑھتے ہوں گے، وہ کیسا ترستا ہو گا کہ زیادہ کے لکھنے کو سمجھ سکتا ہے، نہ ان کا جھوٹ سچ معلوم کر سکتا ہے، شیخ مرحوم نے اُن کی ہدایت کو تسلیم کیا، اور پھر کبھی شکایت نہ کی۔

چند روز کے بعد مرزا مغل بیگ کی تُرکی تمام ہو گئی۔ تمام کُنبہ قلعہ سے نکالا گیا، نواب حامد علی خاں مرحوم مختار ہو گئے، جب اُستاد شاہی کا سو (۱۰۰) روپیہ مہینہ ہوا، ہمیشہ عیدوں اور نوروزوں کے جشنوں میں قصیدے مبارکباد کے پڑھتے تھے اور خلعت سے اعزاز پاتے تھے۔

اواخر ایّام میں ایک دفعہ بادشاہ بیمار ہوئے، جب شفا پائی، اور انھوں نے ایک قصیدہ غرّا کہہ کر گزرانا تو خلعت کے علاوہ خطاب خان بہادر اور ایک ہاتھی معہ حوضہ نقرئی انعام ہوا۔

پھر ایک بڑے زور شور کا قصیدہ کہہ کر گزرانا، جس کا مطلع ہے۔ ع

شب کو میں اپنے سرِ بسترِ خواب رات

اس پر ایک گاؤں جاگیر عطا ہوا۔

جس رات کی صبح ہوتے انتقال ہوا، قریب شام میں بھی موجود تھا کہ انھیں پیشاب کی حاجت معلوم ہوئی۔ خلیفہ صاحب نے اُٹھایا، چوکی پائینتی لگی ہوئی تھی، ہاتھ کا سہارا دیا اور انھوں نے کھسک کر آگے بڑھنا چاہا، طاقت نے یاری نہ دی تو کہا، آہ ناتوانی، خلیفہ صاحب نے فرمایا، شاعروں ہی کا ضعف ہو گیا، حافظ ویران بھی بیٹھے تھے، وہ بولے کہ آپ نے بھی ضعف کے بڑے بڑے مضمون باندھے ہیں، مسکرا کر فرمایا کہ اب تو کچھ اس سے بھی زیادہ ہے۔ میں نے کہا سبحان اللہ! اس عالم میں بھی مبالغہ قائم ہے۔ خدا اسی مبالغہ کے ساتھ توانائی دے۔ میں رخصت ہوا۔ رات اسی حالت سے گزری۔ صبح ہوتے کہ ۲۴ صفر ۱۲۷۱ھ جمعرات کا دن تھا، ۱۷ دن بیمار رہ کر وفات پائی، مرنے سے ۳ گھنٹے پہلے یہ شعر کہا تھا۔

کہتے ہیں آج ذوق جہاں سے گذر گیا

کیا خوب آدمی تھی خدا مغفرت کرے

شعرائے ہند نے جس قدر تاریخیں اُن کی کہیں، آج تک کسی بادشاہ یا صاحب کمال کو نصیب نہیں ہوئیں۔

اُردو اخبار ان دنوں دہلی میں جاری تھے، برس دن تک کوئی اخبار ایسا نہ تھا جس میں ہر ہفتہ کئی کئی تاریخیں نہ چھپی ہوں۔

خاص حالات اور طبعی عادات

شیخ مرحوم قد و قامت میں متوسط اندام تھے، چنانچہ خود فرماتے ہیں :

آدمیت سے ہے بالا آدمی کا مرتبہ

پست ہمت یہ نہ ہوئے پست قامت ہو تو ہو

رنگ سانولا، چیچک کے داغ بہت تھے، کہتے تھے کہ ۹ دفعہ چیچک نکلی تھی مگر رنگت اور وہ داغ کچھ ایسے مناسب و موزوں واقع ہوئے تھے کہ چمکتے تھے اور اب بھلے معلوم ہوتے ہیں، آنکھیں روشن اور نگاہیں تیز تھیں، چہرہ کا نقشہ کھڑا تھا اور بدن میں پھرتی پائی جاتی تھی، بہت جلد چلتے تھے، اکثر مفید کپڑے پہنتے تھے اور وہ اُن کو نہایت زیب دیتے تھے، آواز بلند اور خوش آیند، جب مشاعرہ میں پڑھتے تھے تو محفل گونج اُٹھتی تھی۔ اُن کے پڑھنے کی طرز اُن کے کلام کی تاثیر کو زیادہ زور دیتی تھی، اپنی غزل آپ ہی پڑھتے تھے، کسی اور سے ہرگز نہ پڑھواتے تھے۔

صنائع قدرت جنھیں صاحب کمال کرتا ہے انھیں اکثر صفتیں دیتا ہے۔ جن میں وہ ابنائے جنس سے صاف الگ نظر آتے ہیں، چنانچہ ان کی تیزی ذہن اور براقی طبع کا حال تو اب بھی اُن کے کلام سے ثابت ہے مگر قوت حافظہ کے باب میں ایک ماجرا عالم شیر خواری کا انھوں نے بیان کیا، جسے سُن کر سب تعجب کریں گے۔ کہتے تھے مجھے اب تک یاد ہے کہ اس عالم میں ایک دن مجھے بخار تھا، والدہ نے پلنگ پر لٹا کر لحاف اوڑھا دیا، اور آپ کسی کام کو چلی گئیں، ایک بلی لحاف میں گھُس آئی، مجھے اس سے اور اس کی خُر خُر کی آواز سے نہایت تکلیف معلوم ہونے لگی۔ لیکن نہ ہاتھ سے ہٹا سکتا تھا نہ زبان سے پکار سکتا تھا، گھبراتا تھا اور رہ جاتا تھا۔ تھوڑی دیر میں والدہ آ گئیں، انھوں نے اُسے ہٹایا تو مجھے غنیمت معلوم ہوا اور وہ دونوں کیفیتیں اب تک یاد ہیں۔ چنانچہ میں جب بڑا ہوا تو میں والدہ سے پوچھا انھوں نے یاد کر کے اس واقعہ کی تصدیق کی، اور کہا فی الحقیقت اُس وقت تیری عمر برس دن سے کچھ کم تھی۔

صلاحیت کے باب میں خدا کا شکر کیا کرتے تھے اور کہتے تھے کہ ایک دن املی کے درخت میں کنکوا اٹک گیا، میں اُتارنے کو اوپر چڑھ گیا اور ایک ٹہنی کو سہارے کے قابل سمجھ کر پاؤں رکھا، وہ ٹوٹ گئی میں نیچے آ پڑا۔ بہت چوٹ لگی۔ مگر خدا نے ایسی توفیق دی کہ پھر نہ کنکوا اُڑایا نہ درخت پر چڑھا۔

عمر بھر اپنے ہاتھ سے جانور ذبح نہیں کیا، عالم جوانی کا ذکر کرتے تھے کہ یاروں نے ایک مجرب نسخہ قوت باہ کا بڑی کوششوں سے ہاتھ آیا، شریک ہو کر اُس کے بنانے کی صلاح ٹھہری۔ ایک ایک جزو کا بہم پہنچانا ایک ایک شخص کے ذمہ ہوا۔ چنانچہ ۴۰ چڑوں کا مغز ہمارے سر ہوا۔ ہم نے گھر آ کر اُن کے پکڑنے کے سامان پھیلا دیئے اور دو تین چڑے پکڑ کر ایک پنجرے میں ڈالے۔ ان کا پھڑکنا دیکھ کر خیال آیا کہ ابراہیم ایک پل کے مزے کے لئے ۴۰ بے گناہوں کا مارنا کیا انسانیت ہے، یہ بھی تو آخر جان رکھتے ہیں۔ اور اپنی پیاری زندگی کے لئے ہر قسم کی لذتیں رکھتے ہیں، اسی وقت اٹھا، انھیں چھوڑ دیا اور سب سامان توڑ پھوڑ کر یاروں میں جا کر کہہ دیا کہ بھئی ہم اس نسخہ میں شریک نہیں ہوتے۔

ان کی عادت تھی کہ ٹہلتے بہت تھے۔ دروازہ کے آگے لمبی گلی تھی۔ اکثر اس میں پھرا کرتے تھے، رات کے وقت ٹہلتے ٹہلتے آئے اور کہنے لگے کہ میاں ایک سانپ گلی میں چلا جاتا تھا، حافظ غلام رسول ویران شاگرد رشید بھی بیٹھے تھے انھوں نے کہا کہ حضرت آپ نے اسے مارا نہیں ؟ کسی کو آواز دی ہوتی، فرمایا کہ خیال تو مجھے بھی آیا تھا۔ مگر پھر میں نے کہا کہ ابراہیم آخر یہ بھی تو جان رکھتا ہے تجھے کَے رکعت کا ثواب ہو گا، پھر یہ قطعہ پڑھا۔

چہ خوش گفت فردوسیِ پاک زاد

کہ رحمت برآں تربتِ پاک داد

میازاء مورے کہ دانہ کش است

کہ جان داردس دو جان شیریں خوش است

ایک دفعہ برسات کا موسم تھا، بادشاہ قطب میں تھے، یہ ہمیشہ ساتھ ہوتے تھے۔ اس وقت قصیدہ لکھ رہے تھے۔

شب کو میں اپنے سر بستر خواب راحت

چڑیاں سائبان میں تنکے رکھ کر گھونسلا بنا رہی تھیں اور ان کے تِنکے جو گرتے تھے انھیں لینے کو بار بار ان کے آس پاس آ بیٹھتی تھیں، یہ عالم محویت میں بیٹھے تھے۔ ایک چڑیا سر پر آن بیٹھی۔ انھوں نے ہاتھ سے اُڑا دیا۔ تھوڑی دیر میں پھر آن بیٹھی انھوں نے پھر اُڑا دیا، جب کئی دفعہ ایسا ہوا، تو ہنس کر کہا اس غیبانی نے میرے سر کر کبوتروں کی چھتری بنایا ہے۔ایک طرف میں بیٹھا تھا، ایک طرف حافظ ویرانؔ بیٹھے تھے، وہ نابینا ہیں، انھوں نے پوچھا کہ حضرت کیا؟ میں نے حال بیان کیا۔ ویران بولے کہ ہمارے سر پر تو نہیں بیٹھتی۔ استاد نے کہا کہ بیٹھے کیوں کر جانتی ہے کہ یہ ملا ہے، عالم ہے، حافظ ہے، ابھی اُحِلَّ لکُما رصَّیدُ کی آیت پڑھ کر کُلوُ وَشربُو بسمِ اللہ اللہ اکبرَ کر دے گا، دیوانی ہے ؟ جو تمھارے سر پر آئے۔

فرماتے تھے کہ میں نے ساڑھے تین سو دیوان اساتذہ سلف کے دیکھے اور ان کا خلاصہ کیا، خان آرزو کی تصنیفات اور ٹیک چند بہار کی تحقیقات اور اس قسم کی اور کتابیں گویا ان کی زبان پر تھیں۔ مگر مجھے اس کا تعجب نہیں، اگر شعرائے عجم کے ہزاروں شعر انھیں یاد تھے تو مجھے حیرت نہیں۔ گفتگو کے وقت جس تڑاتے سے وہ شعر سند میں دیتے تھے، مجھے اس کا بھی خیال نہیں کیونکہ جس فن کو وہ لئے بیٹھے تھے یہ سب اس کے لوازمات ہیں، ہاں تعجب یہ ہے کہ تاریخ کا ذکر ائے تو وہ ایک صاحبِ نظر مؤرخ تھے، تفسیر کا ذکر آئے تو ایسا معلوم ہوتا، گویا تفسیر کبیر دیکھ کر اٹھے ہیں، خصوصاً تصوّف میں ایک عالم خاص تھا، جب تقریر کرتے یہ معلوم ہوتا تھا کہ شیخ شبلی ہیں یا بایزید بسطامی بول رہے ہیں، کہ وحدتِ وجود اور وحدت شہود میں علم اشراق کا پرتو دے کر کبھی ابو سعید ابو الخیر تھے، کبھی محی الدین عربی، پھر جو کہتے تھے ایسے کانٹے کی تول کہتے تھے کہ دل پر نقش ہو جاتا تھا اور جو کچھ ان سے لیا ہے، آج تک دل پر نقش ہے، رمل و نجوم کا ذکر آئے تو وہ نجومی تھے، خواب کی تعبیر میں انھیں خدا نے ایک ملکہ راسخہ دیا تھا اور لطف یہ کہ احکام اکثر مطابق واقع ہوتے تھے۔ اگرچہ مجھے اس قدر وسعت نظر بہم پہنچانے کا تعجب ہے مگر اس سے زیادہ تعجب یہ ہے کہ ان کے حافظہ میں اس قدر مضامین محفوظ کیونکر رہے۔

وہ کہتے تھے کہ اگرچہ شعر کا مجھے بچپن سے عشق ہے مگر ابتدا میں دنیا کی شہرت اور ناموری اور تفریح طبع نے مجھے مختلف کمالوں کے رستے دکھائے۔ چند روز موسیقی کا شوق ہوا اور کچھ حاصل بھی کیا مگر خاندیش سے ایک صاحبِ کمال گوّیا آیا۔ اس سے ملاقات کی۔ باتوں باتوں میں اس نے کہا کہ جو گانے کا شوق کرے اس کے لئے تین سو برس کی عمر چاہیے۔ سو (۱۰۰) برس  سیکھے،  سو (۱۰۰) برس سنتا پھرے  اور جو سیکھا ہے اسے مطابق کرے پھر سو (۱۰۰) برس بیٹھ کر اوروں کو بھی سنائے اور اس کا لطف اٹھائے۔ یہ سن کر دل برداشتہ ہو گیا اور یہ بھی خیال آیا کہ ابراہیم اگر بڑا کمال پیدا کیا تو ایک ڈوم ہو گئے، اس پر بھی جو کلاونت ہو گا وہ ناک چڑھا کر یہی کہے گا کہ اتائی ہیں۔ سپاہی زادے سے ڈوم بننا کیا ضرور۔

نجوم و رمل کا بھی شوق کیا، اس میں دستگاہ پیدا کی، نجوم کا ایک صاحب کمال مغل پورہ میں رہتا تھا، اس سے نجوم کے مسائل حل کیا کرتے تھے۔ ایک دن کسی سوال کا نہایت درست جواب اس نے دیا اور گفتگو ہوتے ہوتے یہ بھی کہا کہ ایک ستارہ کا حال اور اس کے خواص معلوم کرنے کے لئے ۷۷ برس چاہیے ہیں۔ سن کر اس سے بھی دل برداشتہ ہو گئے۔ طب کو چند روز کیا، اس میں خونِ ناحق نظر آنے لگے، آخر جو طبیعت خدا نے دی تھی، وہی خوبی قسمت کا سامان بنی۔

مکھن لال کے گنج میں ایک جوتشی پنڈت تلسی رام نابینا تھے، ایک مرد دیرینہ سال منشی درگا پرشاد کہ شیخ مرحوم کے قدیمی دوست تھے اور جوتشی صاحب کے پاس بھی جایا کرتے تھے، انھوں نے جوتشی صاحب کی بہت تعریف کی، اور ایک دن قرار پا کر یہ بھی ان کے پاس گئے۔ کئی دل چسپ سلسلے گفتگوؤں کے ہوئے، بعد اذاں انھوں نے بے اظہار نام اپنے زائچہ کی صورت حال بیان کی۔ جوتشی صاحب نے کہا وہ شخص صاحب کمال ہو اور غالباً کمال اس کا کسی ایسے فن میں ہو کہ باعث تفریح ہو۔ اس کا کمال رواج خوب پاوے، اس کے حریف بھی بہت ہوں مگر کوئی سامنے نہ ہو سکے۔ وہ اسی قسم کی باتیں کہتے جاتے تھے، جو شیخ مرحوم نے پوچھا کہ اس کی عمر کیا ہو۔ انھوں نے کہا کہ ۶۷، ۶۸ حد ۶۹۔ یہ سن کر شیخ مرحوم کے چہرہ پر آثار ملال ظاہر ہوئے اور خدا کی قدرت ۶۸ برس کی عمر میں انتقال ہوا۔ اگرچہ عقلاً اور نقلاً احکام نجوم پر اعتقاد نہ کرنا چاہیے، لیکن واقعہ پیش نظر گذرا تھا، اس لئے واقعہ نگاری کا حق ادا کیا۔ میں بھی دیکھتا تھا کہ انھیں آخر عمر میں مرنے کا خیال اکثر رہتا تھا، ایک دفعہ بادشاہ بیمار ہو کر اچھے ہوئے، غسل صحت کا جشن قریب تھا، انھوں نے مبارکباد کا قصیدہ کہا، میں حسبِ معمول خدمت میں حاضر ہوا، اور وہ اس وقت قصیدہ ہی لکھ رہے تھے، چنانچہ کچھ اشعار اس کے سنانے لگے، مطلع تھا۔

زہے نشاط کہ گر کیجئے اسے تحریر

عیاں ہو خامہ سے تحریر نغمہ جائے سریر

اس کے آگے شعر سناتے جاتے تھے، میں تعریف کرتا جاتا تھا وہ مسکراتے جاتے تھے اور پڑھتے جاتے تھے۔

ہوا پہ دوڑتا ہے اس طرح سے ابرِ سیاہ

کہ جیسے جائے کوئی فیلِ مست بے زنجیر

بے اختیار میری زبان سے نکلا کہ سبحان اللہ، رنگینی اور یہ زور ظہوری کا ساقی نامہ ہو گیا۔ چپ ہو گئے اور کہا کہ اس میں زور آتا جاتا ہے۔ اس کی جوانی ہے اور میرا بڑھاپا ہے۔ حافظ ویران سلمہ اللہ نے بیان کیا، اشعار بہاریہ کے سے ہیں۔ دو تین دفعہ فرمایا خواجہ حافظ کا شعر بھی اس میں موقع سے تضمین کریں گے۔

مے دو سالہ و محبوب چاردہ سالہ

ہمیں بس است مرا صحبتِ صغیر و کبیر

ایک دن جو میں گیا تو جو شعر پرچوں پر پریشان تھے، انھیں ترتیب دیا تھا، چنانچہ سناتے سناتے پھر شعر مذکور پڑھا۔ بعد اس کے قطعہ پڑھا کہ خود کہا تھا۔

ہوا ہے مدرسہ بھی درسگاہِ عیش و نشاط

کہ شمس بازغہ کی جا پڑھیں ہیں بدر منیر

اگر پیالہ ہے صغرا تو ہے سبُو کبرا

نتیجہ یہ ہے کہ سرمست ہیں صغیر و کبیر

میری طرف دیکھ کر فرمایا، اب بھی! میں نے عرض کی، سبحان اللہ اب اس کی کیا ضرورت رہی، آنکھیں بند کر کے فرمایا، ادھر ہی فیضان ہے۔

دلی میں نواب زینت محل کا مکان لال کنوئیں کے پاس اب بھی موجود ہے۔ بادشاہ نے وہیں دربار کر کے یہ قصیدہ سنا تھا، اس برس ایک شادی کی تقریب میں مجھے دلی جانا ہوا، اسی مکان میں برات ٹھہری تھی، فتح دہلی کے بعد گورنمنٹ نے وہ سرکار پٹیالہ کو دے دیا ہے، بند پڑا رہتا ہے۔ اب اتنے ہی کام کا ہے کہ ادھر کے ضلع میں کوئی برات یا شادی کا جلسہ ہوتا ہے تو داروغہ سے اجازت لے کر وہاں آن بیٹھتے ہیں، واہ

کشتوں کا تیری چشم سیہ مست کے مزار

ہو گا خراب بھی تو خرابات ہوئے گا

وہ زمانہ اور آج کی حالت دیکھ کر خدا یاد آتا ہے۔ ان کی طبیعت کو خدا تعالیٰ نے شعر سے ایسی مناسبت دی تھی کہ رات دن اس کے سوا کچھ خیال نہ تھا اور اسی میں خوش تھے۔ ایک تنگ و تاریک مکان تھا جس کی انگنائی اس قدر تھی کہ ایک چھوٹی سے چارپائی ایک طرف بچھتی تھے، دو طرف اتنا راستہ رہتا تھا کہ ایک آدمی چل سکے، حقہ منھ میں لگا رہتا تھا، کھّری چارپائی پر بیٹھے رہتے تھے۔ لکھے جاتے تھے یا کتاب دیکھے جاتے تھے۔ گرمی جاڑہ برسات تینوں موسموں کی بہاریں وہیں بیٹھے گزر جاتی تھیں۔ انھیں کچھ خبر نہ ہوتی تھی، کوئی میلہ، کوئی عید اور کوئی موسم بلکہ دنیا کے شادی و غم سے انھیں سروکار نہ تھا، جہاں اول روز بیٹھے وہیں بیٹھے اور جبھی اٹھے کہ دنیا سے اٹھے۔

نماز عصر کے وقت میں ہمیشہ حاضر خدمت ہوتا تھا۔ نہا کر وضو کرتے تھے اور ایک لوٹے سے برابر کلیاں کئے جاتے تھے، ایک دن میں نے سبب پوچھا۔ متاسفانہ طور سے بولے کہ خدا جانے کہ کیا ہزلیات زبان سے نکلتے ہیں، خیر یہ بھی ایک ہے، پھر ذرا تامل کر کے ایک ٹھنڈی سانس بھری اور یہ مطلع اسی وقت کہہ کر پڑھا۔

پاک رکھ اپنا وہاں ذکر خدائے پاک سے

کم نہیں ہرگز زباں منھ میں ترے مسواک ہے

ان کا معمول تھا کہ رات کو کھانے سے فارغ ہو کر بادشاہ کی غزل کہتے تھے، آدھی بجے تک اس سے فراغت ہوتی تھی، پھر وضو کرتے اور وہی ایک لوٹے پانی سے کلّیاں کر کے نماز پڑھتے، پھر وظیفہ شروع ہوتا۔ زیر آسمان کبھی ٹہلتے جاتے کبھی قبلہ رو ٹھہر جاتے، اگرچہ آہستہ آہستہ پڑھتے تھے، مگر اکثر اوقات اس جوشِ دل سے پڑھتے تھے کہ معلوم ہوتا گویا سینہ پھٹ جائے گا۔

وظیفہ پڑھ کر دعائیں شروع ہوتی تھیں، یہ گویا ایک نمونہ تھا ان کی طبیعت کی نیکی اور عام نیک خواہی کا۔ اس میں سب سے پہلے یہ دعا تھی الٰہی ایمان کی سلامتی، بدن کی صحت، دنیا کی عزت و حرمت، پھر الٰہی میرے بادشاہ کو با دولت، با اقبال، صحیح و سالم رکھ، اس کے دشمن رد ہوں  وغیرہ وغیرہ، پھر میاں اسمٰعیل یعنی اپنے بیٹھے کے لئے پھر اپنے عیال اور خاص خاص دوستوں کے لئے یا جو کسی دوست کے لئے خاص مشکل درپیش ہو، وغیرہ وغیرہ، ایک شب اس موقع پر میرے والد مرحوم انہی کے ہاں تھے۔ ساری دعائیں سنا کئے۔ چنانچہ ان کے دروازے کے سامنے محلہ کا حلال خور رہتا تھا۔ ان دنوں میں اس کا بیل بیمار تھا۔ دعائیں مانگتے مانگتے وہ بھی یاد آ گیا، کہا کہ الٰہی جمّا حلال کور کا بیل بیمار ہے، اسے بھی شفا دے، بیچارہ بڑا غریب ہے، بیل مر جائے گا تو یہ بھی مر جائے گا۔ والد نے جب یہ سنا تو بے اختیار ہنس پڑے، فقرا اور بزرگان دین کے ساتھ انھیں ایسا دلی اعتقاد تھا کہ اس کی کیفیت بیان نہیں ہو سکتی۔ علماء اور اساتذہ سلف کو ہمیشہ با ادب یاد کرتے تھے اور کبھی ان پر طعن و تشنیع نہ کرتے تھے اس واسطے ان کے مذہب کا حال کسی پر نہ کھلا۔

اس میں کسی کو کلام نہیں کہ انھوں نے فکر سخن اور کثرت مشق میں فنا فی الشعر کا مرتبہ حاصل کیا ور انشا پردازی ہند کی روح کو شگفتہ کیا مگر فصاحت کا دل کمھلا جاتا ہو گا جب ان کے دیوان مختصر پر نگاہ پڑتی ہو گی، اس کے سبب کا بیان کرنا ایک سخت مصیبت کا افسانہ ہے، اور اس کی مرثیہ خوانی کرنی میرا فرض ہے۔ ان کی وفات کے چند روز بعد میں نے اور خلیفہ اسمٰعیل مرحوم نے کہ وہ بھی باپ کی طرح اکلوتے بیٹے تھے چاہا کہ کلام کو ترتیب دیں۔ متفرق غزلوں کے بستے اور بڑی بڑی پوٹیں تھیں۔ بہت سی تھیلیاں اور مٹکے تھے کہ جو کچھ کہتے تھے، گویا بڑی احتیاط سے ان میں بھرتے جاتے تھے، ترتیب اس کی پسینہ کی جگہ خون بہاتی تھی، کیونکہ بچپن سے لے کر دم واپسیں تک کا کلام انھیں میں تھا، بہت سی متفرق غزلیں بادشاہ کی بہتیری غزلیں شاگردوں کی بھی ملی تھیں۔

چنانچہ اول ان کی غزلیں اور قصائد انتخاب کر لیے۔ یہ کام کئی مہینے میں ختم ہوا، غرض پہلے غزلیں صاف کرنی شروع کیں، اس خطا کا مجھے اقرار ہے کہ کام میں نے جاری کیا مگر باطمینان کیا۔ مجھے کیا معلوم تھا کہ اس طرح یکایک زمانہ کا ورق الٹ جائے گا، عالم تہ و بالا ہو جائے گا۔ حسرتوں کے خون بہہ جائیں گے، دل کے ارمان دل ہی میں رہ جائیں گے۔ دفعتہً ۱۸۵۷ء کا غدر ہو گیا۔ کسی کو کسی کا ہوش نہ رہا۔ چنانچہ افسوس ہے کہ خلیفہ محمد اسمٰعیل ان کے فرزند جسمانی کے ساتھ ہی ان کے فرزند روحانی بھی دنیا سے رحلت کر گئے۔ میرا یہ حال ہوا کہ فتحیاب لشکر کے بہادر دفعتہً گھر میں گھس آئے اور بندوقیں دکھائیں کہ جلد یہاں سے نکلو، دنیا آنکھوں میں اندھیر تھی، بھرا ہوا گھر سامنے تھا اور میں حیران کھڑا تھا کہ کیا کیا کچھ اٹھا کر لے چلوں۔ ان کی غزلوں کی چُنگ پر نظر پڑی۔ یہی خیال آیا کہ محمد حسین! اگر خدا نے کرم کیا اور زندگی باقی ہے تو سب کچھ ہو جائے گا مگر استاد کہاں سے پیدا ہوں گے جو یہ غزلیں پھر آ کر کہیں گے۔ اب ان کے نام کی زندگی ہے اور ہے تو ان پر منحصر ہے۔ یہ ہیں تو وہ مر کر بھی زندہ ہیں، یہ گئیں تو نام بھی نہ رہے گا، وہی چُنگ اٹھا بغل میں مارا، سجے سجائے گھر کو چھوڑ بائیس نیم جانوں کے ساتھ گھر سے بلکہ شہر سے نکلا، ساتھ ہی زبان سے نکلا کہ حضرت آدم بہشت سے نکلے تھے۔ دلّی بھی ایک بہشت ہے، انہی کا پوتا ہوں، دہلی سے کیوں نہ نکلوں، غرض میں تو آوارہ ہو کر خدا جانے کہاں کا کہاں نکل آیا، مگر حافظ غلام رسول ویرانؔ کہ محبت کے لحاظ سے میری شفیق دوست اور حضرت مرحوم کی شاگردی کے رشتہ سے روحانی بھائی ہیں، انھوں نے شیخ مرحوم کے بعض اور درد خواہ دوستوں سے ذکر کیا کہ سودوں کا سَرمایہ تو سب دلی کے ساتھ برباد ہوا اس وقت یہ زخم تازہ ہے، اگر اب دیوان مرتب نہ ہوا تو کبھی نہ ہو گا، حافظ موصوف کو خود بھی حضرت مرحوم کا کلام بہت کچھ یاد ہے، اور خدا نے ان کی بصیرت کی آنکھیں ایسی روشن کی ہیں کہ بصارت کی آنکھوں کے محتاج نہیں، ان لئے لکھنے کی سخت مشکل ہوئی، غرض کہ ایک مشکل میں کئی کئی مشکلیں تھیں، انھوں نے اس مہم کو سر انجام کیا اور اپنی یاد کے علاوہ نزدیک بلکہ دور دور سے بہت کچھ بہم پہونچایا۔ سب کو سمیٹ کر ۱۲۷۹ھ میں ایک مجموعہ جس میں اکثر غزلیں تمام اور اکثر ناتمام، بہت سے متفرق اشعار اور چند قصیدے ہیں، چھاپ کر نکالا مگر دردمندی کا دل پانی پانی ہو گیا اور عبرت کی آنکھوں سے لہو ٹپکا کیونکہ جس شخص نے دنیا کی لذتیں، عمر کے مختلف موسم، اور موسموں کی بہاریں، دن کی عیدیں،  رات کی شب براتیں، بدن کے آرام، دل کی خوشیاں، طبیعت کی امنگیں سب چھوڑ دیں اور ایک شعر کو لیا، جس کی انتہائے تمنا یہی ہو گی کہ اس کی بدولت نام نیک باقی رہے گا۔ تباہ کار زمانہ کے ہاتھوں آج اس عمر بھر کی محنت نے یہ سرمایہ دیا اور جس نے ادنیٰ ٰ ادنیٰ  شاگردوں کو صاحبِ دیوان کر دیا، اس کو یہ دیوان نصیب ہوا۔ خیر ع

یوں ہی خدا جو چاہے تو بندہ کی کیا چلے

میرے پاس بعض قصیدے ہیں، اکثر غزلیں ہیں، داخل ہو جائیں گی یا ناتمام غزلیں پوری ہو جائیں گی، مگر تصنیف کے دریا میں سے پیاس بھر پانی بھی نہیں۔ چنانچہ یہ تذکرہ چھپ لے تو اس پر توجہ کروں۔ مسبب الاسباب سر انجام کے اسباب عنایت فرمائے۔

جو غزلیں اپنے تخلص سے کہی تھیں اگر جمع کی جاتیں تو بادشاہ کے چاروں دیوانوں کے برابر ہوتیں، غزلوں کے دیوان دیکھ کر معلوم ہوتا ہے کہ عام جوہر ان کے کلام کی تازگی، مضمون، صفائی کلام، چستی ترکیب، خوبی محاورہ اور عام فہمی ہے۔ مگر حقیقت میں رنگ مختلف وقتوں میں مختلف رہا۔ ابتدا میں مرزا رفیعؔ کا انداز تھا، شاہ نصیر سے ان دنوں معرکے ہو رہے تھے، ان کا ڈھنگ وہی تھا، اس لئے انھوں نے بھی وہی اختیار کیا۔ اس کے علاوہ مرزا کی طرز پر جلسہ کو گرمانے میں اور لوگوں کے لب و دہن سے واہ وا کے نکال لینے میں ایک عجیب جادو کا اثر ہے، چنانچہ وہی مشکل طرحیں، چست بندشیں، برجستہ ترکیبیں، معانی کی بلندی، الفاظ کی شکوہیں، ان کے ہاں بھی پائی جاتی ہیں، چند روز کے بعد الٰہی بخش خاں معروفؔ کی خدمت میں اور ولیعہد کے دربار میں پہنچے، معروفؔ ایک دیرینہ سال مشاق اور فقیر مزاج شخص تھے۔ ان کی پسند طبع کے بموجب انھیں بھی تصوف اور عرفان اور درد دلی کی طرف خیالات کو مائل کرنا پڑا۔ نوجوان ولی عہد طبیعت کے بادشاہ تھے۔ ادھر یہ بھی جوان اور ان کی طبیعت بھی جوان تھی، وہ جرأتؔ کے انداز کو پسند کرتے تھے اور جرأتؔ سیّد انشاءؔ و مصحفیؔ کے مطلع اور اشعار بھی لکھنؤ سے اکثر آتے رہتے تھے۔ ان کی غزلیں ان ہی کے انداز میں بناتے تھے۔ نتیجہ اس کا یہ ہوا کہ ان کی غزلیں اخیر کو ایک گلدستہ گلہائے رنگا رنگ کا ہوتی تھی، دو تین شعر بلند خیالی کے، ایک دو تصوف کے، دو تین معاملہ کے اور پیچ اس میں یہ ہوتا تھا کہ ہر قافیہ بھی ایک خاص انداز کے ساتھ خصوصیت رکھتا ہے کہ اسی میں بندھے تو لطف دے، نہیں تو پھیکا رہے، پس وہ مشاق با کمال اس بات کو پورا پورا سمجھے ہوئے تھا، اور جس قافیہ کو جس پہلو سے مناسب دیکھتا تھا اسی میں باندھ دیتا تھا اور اس طرح باندھتا تھا کہ اور پہلو نظر نہ آتا تھا۔ ساتھ اس کے صفائی اور محاورہ کو ہاتھ سے نہ جانے دیتے تھے اور انہی اصول کے لحاظ سے میرؔ، مرزاؔ، دردؔ، مصحفیؔ، سید انشاءؔ، جرأتؔ بلکہ تمام شعرائے متقدمین کو اس ادب سے یاد کرتے تھے۔ گویا انھیں کے شاگرد ہیں، ایک ایک کے چیدہ اشعار اس محبت سے پڑھتے تھے گویا اسی دستور العمل سے انہوں نے تہذیب پائی ہے اور فی الحقیقت سب کے انداز کو اپنے اپنے موقع پر پورا پورا کام میں لاتے تھے، پھر بھی جاننے والے جانتے ہیں کہ اصلی میلان ان کی طبیعت کا سوداؔ کے انداز پر زیادہ تھا۔ نظم اردو کی نقاشی میں مرزائے موصوف نے قصیدہ پر دستکاری کا حق ادا کر دیا ہے۔ ان کے بعد شیخ مرحوم کے سوا کسی نے اس پر قلم نہیں اٹھایا اور انھوں نے مرقع کو ایسی اونچی محراب پر سجایا کہ جہاں کسی کا ہاتھ نہیں پہنچا۔ انوریؔ، ظہیرؔ، ظہوریؔ، نظیریؔ، عرفیؔ فارسی کے آسمان پر بجلی ہو کر چمکے ہیں، لیکن ان کے قصیدوں نے اپنی کڑک دمک سے ہند کی زمین کو آسمان کر دکھایا۔ ہر جشن میں ایک قصیدہ کہتے تھے اور خاص خاص تقریبیں جو پیش آتی تھیں، وہ الگ تھیں۔ اس لئے اگر جمع ہوتے تو خاقانیِ ہند کے قصائد خاقانی شروانی سے دوچند تک ہوتے جب تک اکبر شاہ زندہ تھے تب تک ان کا دستور تھا کہ قصیدہ کہہ کر لے جاتے اور اپنے آقا یعنی ولیعہد بہادر کو سناتے۔ دوسرے دن ولی عہد ممدوح اس میں اپنی جگہ بادشاہ کا نام ڈلوا کر لے جاتے اور دربار شاہی میں سنواتے، افسوس یہ ہے کہ عالم جوانی کی طبع آزمائی سب برباد ہوئی۔ جو کچھ ہیں وہ چند قصیدے ہیں کہ بڑھاپے کی ہمت کی برکت ہے۔

نواب حامد علی خاں مرحوم نے نہایت شوق سے ایک عاشقانہ خط لکھنے کی انھیں فرمائش کی تھی، بادشاہ کی متواتر فرمائشیں یہاں ایسے کاموں کے لئے کب فرصت دیتی تھیں، مگر اتفاق کہ انہی دنوں میں رمضان آ گیا اور اتفاق پر اتفاق یہ کہ بادشاہ نے روزے رکھنے شروع کر دیے، اس سبب سے غزل کہنی موقوف کر دی۔ خیر ان کی زبان کب رک سکتی تھی۔ اس کے علاوہ اس نئے چمن کی ہوا کھانے کو اپنا بھی جی چاہتا تھا۔ انھوں نے وہ نامہ لکھنا شروع کیا۔ اس نے ایسا طول کھینچا کہ تخمیناً تین سو شعر اس کے ہو گئے۔ اس عرصہ میں تین تختیاں سیاہ ہوئی تھیں، مگر ادھر رمضان ہو چکا، بادشاہ کی غزلیں بھی شروع ہو گئیں۔ مثنوی وہیں رہ گئی، بیچ میں کبھی کبھی پھر بھی طبیعت میں امنگ اٹھی، مگر کبھی ایک دن کبھی دو دن ۲۰، ۲۵ شعر ہوئے پھر رہ گئے۔ میں نے جب ہوش سنبھالا اور ہر وقت پاس رہنے لگا تو کئی دفعہ اس کے مختلف ذکر کرتے اور جا بجا کے شعر پڑھا کرتے تھے۔ ایک دن وہ تختیاں اور کاغذی سودے نکلوائے، بہت کم تھا جو کچھ کہ پڑھا جاتا تھا، آخر فرصت نکال نکال کر ان سے پڑھواتا گیا اور آپ لکھتا گیا۔ کل ۵۰۰ شعر سے زیادہ نہ ہوئے، اگرچہ نامہ ناتمام تھا، مگر ایک ایک مصرع سونے کے پانی سے لکھنے کے لائق تھا، میرے صاف کئے ہوئے مسودے بھی انہی متفرق غزلوں میں تھے، جو میں خلیفہ صاحب کے پاس جا کر صاف کیا کرتا تھا چنانچہ ان کے ساتھ ہی وہ بھی گئے، اس کا نام نامہ جانسوز تھا، اول حمد و نعت تھی، پھر ساقی نامہ پھر القاب معشوق، اسی میں اس کا سراپا، اس کے بعد یاد ایام، اس میں چاروں موسموں کی بہار، مگر اس کے معنوں کی نزاکت لفظوں کی لطافت ترکیبوں کی خوبیاں، اندازوں کی شوخیاں، کیا کہوں ! سامری کے جادو اور جادو کے طلسم اس کے آگے دھواں ہو کر اڑ جاتے۔

کئی مخمس تھے، کئی رباعیاں تھیں صدہا تاریخیں تھیں مگر تاریخوں کی کمائی بادشاہ کے حصہ میں آئی، کیونکہ بہت بلکہ کل تاریخیں انہی کی فرمائش سے ہوئیں اور انہی کے نام سے ہوئیں۔ مرثیہ سلام کہنے کا انھیں موقع نہ ملا۔ بادشاہ کا قاعدہ تھا کہ شاہ عالم اور اکبر شاہ کی طرح محرم میں کم سے کم ایک سلام ضرور کہتے تھے۔ شیخ مرحوم بھی اسی کو اپنی سعادت اور عبادت سمجھتے تھے، ہزاروں گیت، ٹپّے، ٹھمریاں ہولیاں کہیں، وہ بادشاہ کے نام سے عالم میں مشہور ہوئیں اور ان باتوں میں اپنی شہرت چاہتے بھی نہ تھے۔ میرے نزدیک ان کے اور ان کے دیکھنے والوں کے لئے بڑے فخر کی بات یہ ہے کہ خدا نے کمال شاعری اور ایسا اعلیٰ درجہ قادر الکلامی انھیں دیا اور ہزاروں آدمیوں سے انھیں ناراضی یا رنج پہنچا ہو گا، مگر انھوں نے تمام عمر میں ایک شعر بھی ہجو میں نہ کہا۔ خدا ہر شخص کو اس کی نیت کا پھل دیتا ہے۔ اس کی شان دیکھو کہ ۶۸ برس کی عمر پائی مگر خدا نے ان کی ہجو بھی کسی کے منھ سے نہ نکلوائی۔

اکثر ایجاد و اختراع ان کے ارادے میں تھے اور بعض بعض ارادے شروع ہوئے مگر ناتمام رہے کیونکہ بادشاہ کی فرمائشیں دم لینے کی مہلت نہ دیتی تھی اور تماشا یہ کہ بادشاہ بھی ایجاد کا بادشاہ تھا، اتنا تھا کہ بات نکالتا مگر اسے سمیٹ نہ سکتا تھا، اس کا کیا ہوا، انھیں سنبھالنا پڑتا تھا۔

وہ اپنی غزل بادشاہ کو سناتے نہ تھے۔ اگر کسی طرح اس تک پہونچ جاتی تو وہ اسی غزل پر خود غزل کہتا تھا۔ اب اگر نئی غزل کر دیں، اور وہ اپنی غزل سے پست ہو تو بادشاہ بھی بچہ نہ تھا۔ ستّر برس کا سخن فہم تھا، اگر اس سے چست کہیں تو اپنے کہے کو آپ مٹانا بھی کچھ آسان کام نہیں۔ ناچار اپنی غزل میں ان کا تخلص ڈال کر دے دیتے تھے۔ بادشاہ کو بڑا خیال رہتا تھا کہ وہ اپنی کسی چیز پر زور طبع نہ خرچ کریں۔ جب ان کے شوق طبع کو کسی طرف متوجہ دیکھتا تو برابر غزلوں کا تار باندھ دیتا کہ جو کچھ جوش طبع ہو ادھر ہی آ جائے۔

عموماً انداز کلام

کلام کو دیکھ کر معلوم ہوتا ہے کہ مضامین کے ستارے آسمان سے اتارے ہیں۔ مگر اپنے لفظوں کی ترکیب سے انھیں ایسی شان و شکوہ کی کرسیوں پر بٹھایا ہے کہ پہلے سے بھی اونچے نظر آتے ہیں۔ انھیں قادر الکلامی کے دربار سے ملک سخن پر حکومت مل گئی ہے کہ ہر قسم کے خیال کو جس رنگ سے چاہتے ہیں کہہ جاتے ہیں، کبھی تشبیہ کے رنگ سے سجا کر استعارہ کی بو سے بساتے ہیں، کبھی بالکل سادے لباس میں جلوہ دکھاتے ہیں، مگر ایسا کچھ کہہ جاتے ہیں کہ دل میں نشتر سا کھٹک جاتا ہے اور منھ سے کبھی واہ نکلتی ہے اور کبھی آہ نکلتی ہے، معلوم ہوتا ہے کہ ان کے ہونٹوں میں شستہ اور برجستہ لفظوں کے خزانے بھرے ہیں اور ترکیب الفاظ کے ہزاروں رنگ ہیں مگر جسے جہاں سجتا دیکھتے ہیں وہ گویا وہیں کے لئے ہوتا ہے، وہ طبیعت کامل کی طرح ہر مضمون کی طبیعت کو پہچانتے کہ کون سا ہے کہ سادگی میں رنگ دے جائے گا، اور کون سا رنگینی میں کامل مصور کی تیزی قلم کو اس کے رنگوں کی شوخی روشن کرتی ہے۔ اس طرح ان کے مضمون کی باریکی کو ان کے الفاظ کی لطافت جلوہ دیتی ہے۔ انھیں اس بات کا کمال تھا کہ باریک سے باریک مطلب اور پیچیدہ سے پیچیدہ مضمون کو اس صفائی سے ادا کر جاتے تھے گویا ایک شربت کا گھونٹ تھا کہ کانوں کے رستے سے پلا دیا، اسی وصف نے نادانوں کو غلطی میں ڈالا ہے جو کہتے ہیں کہ ان کے ہاں حالی مضامین نہیں، بلکہ سیدھی باتیں اور صاف صاف خیالات ہوتے ہیں، وہ نہیں جانتے کہ ان ہونٹوں کو خدا نے عجیب تاثیر دی ہے کہ جو لفظ ان سے ترکیب پا کر نکلے ہیں خود بخود زبانوں پر ڈھلکتے آتے ہیں، جیسے ریشم پر موتی۔ خدا جانے زبان نے کسی آئینہ کی صفائی اڑائی ہے۔ یا انھوں نے الفاظ کے نگینوں پر کیوں کر جلا کی ہے جس سے کلام میں یہ بات پیدا ہو گئی ہے۔ حقیقت میں اس کا سبب یہ ہے کہ قدرت کلام ان کے ہر ایک نازک اور باریک خیال کو محاورہ اور ضرب المثل میں اس طرح ترکیب دیتی ہے جیسے آئینہ گر شیشہ کو قلعی سے ترکیب دے کر آئینہ بناتا ہے، اسی واسطے ہر ایک شخص کی سمجھ میں آتا ہے اور دل پر اثر بھی کرتا ہے۔

ان کے کلام میں یہ بھی خصوصیت ہے کہ شعر کا کوئی لفظ بھول جائے تو جب تک وہی لفظ اس کی جگہ نہ رکھا جائے، شعر مزا نہیں دیتا چناں چہ لکھنؤ میں میر انیسؔ مرحوم کے سامنے سلسلہ تقریر میں ایک دن میں نے ان کا مطلع پڑھا۔

کوئی آوارہ تیرے نیچے اے گردوں نہ ٹھہرے گا

ولیکن تو بھی گر چاہے کہ میں ٹھہروں نہ ٹھہرے گا

انھوں نے پوچھا کہ یہ شعر کس کا ہے ؟ میں نے کہا شیخ مرحوم کا ہے۔ دو چار باتیں کر کے انھوں نے پھر فرمایا کہ ذرا وہ شعر پڑھیئے گا۔ میں نے پھر پڑھا، انھوں نے دو بار خود اپنی زبان سے پڑھا، پھر باتیں ہونے لگیں۔ چلتے ہوئے پھر کہا ذرا وہ شعر پڑھتے جائیے گا اور ساتھ اس کے یہ بھی کہا کہ صاحب کمال کی یہ بات ہے کہ جو لفظ جس مقام پر اس نے بٹھا دیا ہے اسی طرح پڑھا جاوے تو ٹھیک ہوتا ہے نہیں تو شعر رتبہ سے گر جاتا ہے۔

ان کا مضمون جس طرح دل کو بھلا معلوم ہوتا ہے، اسی طرح پڑھنے میں زبان کو مزہ آتا ہے۔ ان کے لفظوں کی ترکیب میں ایک خداداد چستی ہے جو کلام میں زور پیدا کرتی ہے۔ وہ لفظ فقط ان کے دل کا جوش ہی نہیں ظاہر کرتا بلکہ سننے والے کے دل میں ایک خروش پیدا کرتا ہے اور یہی قدرتی رنگ ہے جو ان کے کلام پر سوداؔ کی تقلید کا پرتو ڈالتا ہے۔

ان کے دیوان کو جب نظرِ غور سے دیکھا جاتا ہے تو اس سے رنگا رنگ کے زمزمے اور بوقلموں آوازیں آتی ہیں، ہر رنگ کے انداز موجود ہیں۔ یہی سبب ہے کہ ان کے دیکھنے سے دل اکتا نہیں جاتا، وہ لفظ لفظ کی نبض پہچانتے تھے اور مضامین کے طبیب تھے، جس طرح برجستہ بیٹھتا دیکھتے تھے  اسی طرح باندھ دیتے تھے، خیال بندی ہو یا عاشقانہ تصوف ان کے سینے میں جو دل تھا گویا ایک آدمی کا دل نہ تھا ہزاروں آدمیوں کے دل تھے۔ اس واسطے کلام ان کا مقناطیس کی طرح قبول عام کھینچتا ہے۔ دل دل کے خیال باندھتے اور اس طرح باندھتے تھے گویا اپنے ہی دل پر گزر رہی ہے۔

اعتراض

ان کے کلام پر لوگ اعتراض بھی کرتے رہے ہیں۔ چنانچہ ایک پرانی غزل کا شعر ہے۔

سر بوقت ذبح اپنا اس کے زیر پائے ہے

یہ نصیب اللہ اکبر! لوٹنے کی جائے ہے

لوگوں نے کہا کہ بے اضافی یا صفتی ترکیب کے اس میں ی زیادہ کرنی جائز نہیں مگر یہ اعتراض ان کی کم نظری کے سبب سے تھے۔

درختے کہ اکنوں گرفت است پائے

یہ نیروئے مردے بر آید زجائے

اے زوہ برتر از گماں دامن کبریائے را

دست بتو کجا رسد عقلِ شکستہ پائے را

ایک پرانی غزل شاہ نصیر کے مشاعرہ میں طرح ہوئی تھی۔

دانہ خرمن ہے ہمیں قطرہ ہے دریا ہم کو

آئے ہے جز میں نظر کل کا تماشا ہم کو

اس پر اعتراض ہوا کہ اصل لفظ جزو مع واؤ کے ہے۔ فقط جز صحیح نہیں۔ اس کا بھی وہی حال تھا۔ امیر خسرو فرماتے ہیں۔

ہر چند کند و رجز و در کل اثر

کلّی و جز ئیش بودزاں خبر

اور میرؔتقی فرماتے ہیں۔

جز مرتبہ کل کو حاصل کرے ہے آخر

اک قطرہ نہ دیکھا جو دریا نہ ہوا ہو گا

ایک دن میں اوج سے ملا اور استاد مرحوم کے مطلع کا ذکر کیا۔  (اوجؔ کا حال دیکھو ۶۴۴ پر)

مقابل اس رخِ روشن کے شمع گر ہو جائے

صبا وہ دھول لگائے کہ بس سحر ہو جائے

کئی دن کے بعد جو راستے میں ملے تو دیکھتے ہی کھڑے ہو گئے اور کہا۔

یاں جو برگِ گل خورشید کا کھڑکا ہو جائے

دھول دستار فلک پر لگے تڑکا ہو جائے

اور کہا، دیکھا! محاورہ یوں باندھا کرتے ہیں۔ میں سمجھ گیا کہ یہ طنز کرتے ہیں کہ سحر ہو جائے جو استاد نے باندھا ہے یہ جائز نہیں، مگر تجاہل کر کے میں نے کہا کہ وہاں حقیقت میں پات کے کھڑکے کا آپ نے خوب ترجمہ کیا اور استعارہ میں لا کر میری طرف دیکھ کر ہنسے اور کہا کہ بھئی واہ آخر شاگرد تھے۔ہماری بات ہی بگاڑ دی۔

دوسرے دن میں استاد مرحوم کی خدمت میں گیا اور یہ ماجرا بیان کیا۔ فرمایا کہ شمع کو صبح ہوتے ہاتھ مار کر بجھا دیتے ہیں۔ میرا مطلب یہ ہے کہ شمع اگر مقابلہ کرے تو اس گستاخی کی سزا میں صبا اسے ایسی دھول مارے کہ وہ بجھ جائے اور ایسی بجھے کہ وہی اس کے حق میں سحر ہو جائے۔ یعنی روشنی نصیب نہ ہو، کبھی دوسری تیسری رات ہوئی، ہوئی نہ ہوئی نہ ہوئی، وہ اور بات ہے۔ اب یہ ایک حسن اتفاق ہے کہ ہماری زبان میں اس کے مقابل ایک محاورہ بھی موجود ہے کہ ایسی دھول لگی کہ تڑکا ہو گیا۔ خیر اگر ہوا تو کچھ لطف ہی پیدا ہوا بلکہ طرز بیان میں ایک وسعت کا قدم آگے بڑھا۔ قباحت کیا ہوئی اور یہ بھی دیکھو وہ محاورہ تو کیا تھا، مبتذل عامیانہ، اب ثقہ متین اور شریفانہ ہے۔ آزاد، ایک شعر ناسخؔ کا بھی اسی ترکیب کا ہے۔

جو ستمگر ہیں کبھی وہ پھولتے پھلتے نہیں

سبز ہوتے کھیت دیکھا ہے کہیں شمشیر کا

محاورہ میں تلوار کا کھیت کہتے ہیں، شمشیر کا کھیت نہیں ہے۔

ان کی ایک غزل کا ایک شعر ہے :

منھ اٹھائے ہوئے جاتا ہے کہاں تو کہ تجھے

ہے ترا نقش قدم چشم نمائی کرتا

نواب کلب حسین خاں نادرؔ، تخلیص معّلیٰ میں فرماتے ہیں (تجھے ) دوسرے مصرع کا حق ہے۔ پہلے مصرع میں نہیں لانا چاہیے۔ اس کا جواب مجھے نہیں آتا۔

ایک دفعہ طبع موزوں نے نیا گل کھلایا، یہ اصلاح بند ہو گئی تھی۔ مگر آمد و رفت جاری تھی۔ شاہ صاحب کو جا کر غزل سنائی، انھوں نے تعریف کی اور کہا کہ مشاعرہ میں ضرور پڑھنا، اتفاقاً مطلع کے سرے ہی پر سبب خفیف کی کمی تھی، جب وہاں غزل پڑھی تو شاہ صاحب نے آواز دی کہ بھئی میاں ابراہیم واہ مطلع تو خوب کہا، شیخ مرحوم فرماتے تھے کہ اسی وقت مجھے کھٹکا ہوا اور ہی لفظ بھی سوجھا۔ دوبارہ میں نے پڑھا۔

جس ہاتھ میں خاتم لعل کی ہے گر اس میں زلفِ سرکش ہو

پھر زلف بنے وہ دستِ موسیٰ جس میں اخگر آتش ہو

اس پر اس قدر حیرت ہوئی کہ انھوں نے جانا شائد پہلے عمداً یہ لفظ چھوڑ دیا تھا۔ مگر پھر اعتراض ہوا کہ یہ بحر ناجائز ہے۔ کسی استاد نے اس پر غزل نہیں کہی، شیخ مرحوم نے جواب دیا کہ ۱۹ بحریں آسمان سے نازل ہوئیں، طبائع موزوں نے وقت بوقت گل کھلائے ہیں، یہ تقریر مقبول نہ ہوئی مگر پھر منیر مرحوم نے اس پر غزل کہی، ایک دفعہ شیخ مرحوم نے مشاعرہ میں غزل پڑھی، مطلع تھا :

نرگس کے پھول بھیجے ہیں بٹوے میں ڈال کر

ایما یہ ہے کہ بھیج دے آنکھیں نکال کر

شاہ صاحب نے کہا کہ میاں ابراہیم پھول بٹوے میں نہیں ہوتے۔ یہ کہو۔ ع

“نرگس کے پھول بھیجے ہیں دونے میں ڈال کر”

انہوں نے کہا کہ دونے میں رکھنا ہوتا ہے، ڈالنا نہیں ہوتا۔ یوں کہیے کہ :

بادام یہ جو بھیجے ہیں بٹوے میں ڈال کر

ایما یہ ہے کہ بھیج دے آنکھیں نکال کر

نقل : شاہ نصیر مرحوم کے ہاں سال بسال عرس ہوا کرتا تھا، اس مین بعد فاتحہ کے کھچڑی کھلایا کرتے تھے، حسب معمول استاد بھی گئے۔ فاتحہ کے بعد سب کھانا کھانے بیٹھے۔ شاہ صاحب ایک ہاتھ میں چمچہ دوسرے میں ایک بادیہ لئے ہوئے آئے۔ اس میں دہی تھا کہ خاص خاص اشخاص کے سامنے ڈالتے آتے تھے۔ ان کے سامنے آ کر کھڑے ہوئے اور چمچہ بھرا، انھیں ریزش ہو رہی تھی، پرہیز کے خیال سے پوچھا کہ یہ کیا ہے ؟ شاہ صاحب نے کہا سنکھیا ہے سنکھیا۔ دیکھو کھاؤ گے تو مر جاؤ گے۔ استاد نے ہنس کر فرمایا۔ کہا ع

بھلا تم زہر دے دیکھو اثر ہووے تو میں جانوں

اگرچہ یہ مصرع قدیمی میاں مجذوب (دیکھو صفحہ) کا ہے، مگر چونکہ کھانے کا موقع تھا اس لئے سب کو بہت مزا دیا۔

جن دنوں شاہ صاحب سے معرکے ہو رہے تھے، منشی فیض پارساؔ دہلی کالج میں مدرس حساب تھے، اور ان دنوں جوانی کے عالم میں شاعری کے جوش و خروش میں تھے، انھوں نے مدرسہ میں بڑی دھوم دھام سے مشاعرہ قائم کیا اور اسے انشاء اردو کی ترقی کا جزو اعظم ٹھہرا کر صاحب پرنسپل سے مدد لی۔ ان دنوں میں مدرسہ اجمیری دروازہ کے باہر تھا، شہر کے دروازے ۹ بجے بند ہو جاتے تھے، گڑھ کپتان نے اجازت لی کہ مشاعرہ کے دن ۲ بجے تک اجمیری دروازہ کھلا رہا کرے۔ غرض مشاعرہ مذکور میں رؤسا اور تمام نامی شاعر موجود ہوتے تھے مگر سب کی نگاہیں شاہ صاحب اور شیخ صاحب کی طرف ہوتی تھیں۔ چنانچہ ایک مشاعرہ میں شاہ صاحب نے غزل قفس کی تیلیاں، خس کی تیلیاں پڑھی، دوسرے مشاعرہ میں یہی طرح ہو گئی، سب غزلیں کہہ کر لائے، شیخ مرحوم نے دو غزلہ لکھا اور اس پر کچھ تکرار ہوئی۔ اس پر جوش میں آ کر فرمایا کہ برس دن تک جو مشاعرہ ہو اس میں سوائے غزل طرحی کے ایک غزل اس زمین میں ہوا کرے چنانچہ دو مشاعروں میں ایسا ہوا۔ ایسے معرکوں میں عوام الناس بھی شامل ہوتے ہیں۔ تیسرے جلسہ میں جب انھوں نے غزل پڑھی تو بعض شخصوں نے کچھ کچھ چوٹیں کیں۔ جنھیں شیخ صاحب کے طرفدار سمجھے کہ شاہ صاحب کے اشارے سے ہوئیں۔ زیادہ تر یہ کہ شاہ وجیہ الدین منیر (بعض بزرگوں سے سنا کہ لالہ گھنشیام داس عاصیؔ نے پڑھا تھا۔ وہ بھی شاہ نصیر کے شاگرد تھے اور ان دنوں میں نوجوان لڑکے تھے۔ میں نے انھیں دلّی میں حکیم سکھا نند مرحوم کے مکان پر دیکھا تھا۔ بڈھے ہو گئے تھے مگر طبیعت میں نوجوانوں کی سی شوخی تھی۔ اس وقت کی باتیں اس طرح سناتے تھے جیسے کوئی کہانیاں کہتا ہے۔) یعنی شاہ صاحب کے صاحبزادے نے یہ شعر بھی پڑھ دیا۔

گرچہ قندیل سخن کو منڈھ لیا تو کیا ہوا

ڈھانچ میں تو ہیں وہی اگلے برس کی تیلیاں

اس پر تکرار زیادہ ہوئی اور مشاعرہ بند کر دیا گیا کہ مبادہ زیادہ بے لطفی ہو جائے۔

انہی دنوں میں ایک دفعہ محمد خاں اعظم الدولہ (نواب اصغر علی خاں اصغرؔ، شاگرد مومنؔ، جنھوں نے پھر فہیم تخلص کیا، یہ ان کے والد تھے۔)  نے کہا کہ سرورؔ تخلص کرتے تھے اور پرانے شاعر تھے، ایک تذکرہ شعرائے اردو کا لکھا، استاد مرحوم اتفاقاً ان کے بالا خانے کے سامنے سے گزرے۔ انھوں نے بلایا اور مزاج پرسی کے بعد کہا کہ ہمارا تذکرہ تمام ہو گیا، اس کی تاریخ تو کہہ دو۔ انھوں نے کہا کہ اچھا فکر کروں گا۔ انھوں نے کہا کہ فکر کی سہی نہیں، ابھی کہہ دو۔ فرماتے تھے کہ خدا کی قدرت ان کے خطاب اور تخلص کے لحاظ سے خیال گزرا، دریائے اعظم دل میں حساب کیا تو عدد برابر تھے، میں نے جھٹ کہہ دیا۔ حاضرین جلسہ حیران رہ گئے۔

شہیدی مرحوم دلی میں آئے، امرائے شہر سے ملاقاتیں ہوئیں، نواب عبد اللہ خاں صدر الصدور شعر کے عاشق تھے، ان میں سے ایک جلسہ میں میاں شہیدی نے کہا کہ آج ہندوستان میں تین شخص ہیں، لکھنؤ میں ناسخؔ، دلّی میں ذوقؔ دکن میں حفیظ، انھوں نے کہا کہ ناسخؔ کی اولیت کا سبب میاں شہیدی نے چمن کی شاخ یاسمن کی شاخ کی غزل پڑھی، خان موصوف نے استاد مرحوم سے کہا انھوں نے اس غزل پر ایک بڑی سیر قوافی غزل کہی اور یہ بھی کہا کہ اب جو کوئی اس طرح میں غزل کہے گا، ہر ایک قافیہ کو جس جس پہلو سے میں نے باندھ دیا ہے اسے الگ کر کر کے نہ باندھ سکے گا۔ نواب عبد اللہ خاں کی فرمائش سے غزل اور انھیں کی وساطت سے یہ گفتگوئیں ہوئی تھیں، انھوں نے تجویز کی کہ مشاعرہ میں برسر معرکہ غزلیں پڑھی جائیں مگر شہیدی مرحوم بے اطلاع چلے گئے۔ نواب نے پیچھے آدمی دوڑایا، اس نے بریلی میں جا پکڑا، مگر وہ تشریف نہ لائے۔ غزل مذکور انشاء اللہ شائقان سخن کے ملاحظہ سے گزرے گی، خدا دیوان پورا کرے۔

ایک دن حسبِ معمول بادشاہ کے پاس گئے۔ ان دنوں میں مرزا شاہ رخ ایک بیٹے بادشاہ کے تھے کہ انھوں نے بہت سی خدمتیں کاروبار کی قبضہ میں کر رکھی تھیں اور اکثر حاضر رہا کرتے تھے، وہ اس وقت موجود تھے۔ انھیں دیکھتے ہی بولے کہ لیجیے وہ بھی آ پہنچے۔ معلوم ہوا کہ بادشاہ کی ایک غزل ہے۔ اس کے ہر شعر میں ایک ایک مصرع پیوند کر کے مثلث کرنا چاہتے ہیں۔ مگر ایجاد یہ ہے کہ مصرع جو لگے بموجب رواج قدیم کے اوپر نہ لگے بلکہ ہر شعر کے نیچے ایک ایک مصرع لگے کہ جس سے گویا ہر بند میں ایک ایک مطلع پیدا ہوتا جائے۔ غرض بادشاہ نے غزل انھیں دی کہ استاد اس پر مصرع لگا دو، انھوں نے قلم اٹھا کر ایک شعر پر نظر کی اور فوراً مصرع لگا دیا۔ اسی طرح دوسرے میں تیسرے میں مسلسل غزل تمام کر کے جتنی دیر میں نظر ڈالی بے تامّل ساتھ ہی مصرع لکھتے گئے اور اسی وقت پڑھ کر سنائی۔ سب حیران ہو گئے بلکہ مرزا شاہ رخ نے کہا کہ استاد آپ گھر سے کہہ کر لائے تھے۔ بادشاہ بولے، بھلا انھیں کیا خبر تھی کہ یہاں کیا ہو رہا ہے، خصوصاً جس حال میں ایجاد بھی ایسا نیا ہو (دیکھو صفحہ)۔

نقل : برسات کا موسم تھا، بادشاہ بموجب معمول کے قطب صاحب گئے ہوئے تھے۔ مرزا فخرو بادشاہ کے صاحبزادے کہ اخیر کو ولی عہد بھی ہو گئے تھے ایک دن وہاں چاندنی رات میں تلاؤ کے کنارے چاندنی کی بہار دیکھ رہے تھے، استاد مرحوم پاس کھڑے تھے۔ انھیں بھی شعر کا شوق تھا اور استاد کے شاگرد تھے۔ ان کی زبان سے یہ مصرع نکلا۔ ع

“چاندنی دیکھے اگر وہ مہ جبیں تالاب پر”

ان سے کہا کہ استاد اس پر مصرع لگائیے۔ انہوں نے فوراً کہا۔ ع

“تابِ عکسِ رخ سے پانی پھیر دے مہتاب پر”

نواب حامد علی خاں کے خسر نواب فضل علی خاں مرحوم بھی محبت و اخلاق سے ملا کرتے تھے۔ ایک دن دیوان خاص میں کھڑے ہوئے شعر سنتے سناتے تھے۔ نواب موصوف نے خواجہ وزیر کا مطلع پڑھا۔

جانور جو ترے صدقہ میں رہا ہوتا ہے

اے شہ حسن وہ چھٹتے ہی ہما ہوتا ہے

استاد مرحوم نے کہا کہ صدقہ میں اکثر کوا چھڑواتے ہیں اس لئے زیادہ تر یہ مناسب ہے۔

زاغ بھی گر ترے صدقہ میں رہا ہوتا ہے

اے شہ حسن وہ چھٹتے ہی ہما ہوتا ہے

(ایسی بہت سے اصلاحیں روز ہوتی تھیں، لکھی جائیں تو ایک کتاب بن جائے۔)

ایک دفعہ قلعہ میں مشاعرہ تھا، حکیم آغا جان عیش (حکیم آغا جان صاحب عیش بادشاہی اور خاندانی طبیب تھے، زیور علم اور لباس کمال سے آراستہ صاحب اخلاق، خوش مذاق، شیریں کلام، شگفتہ مزاج جب دیکھو یہی معلوم ہوتا تھا کہ مسکرا رہے ہیں۔ ساتھ ہی اس کے شعر کا عشق تھا۔ طبیعت ایسی ظریف و لطیف اور لطیفہ سنج پائی تھی کہ جسے شاعری کی جان کہتے ہیں، غزل صفائی کلام شوخی مضامین اور حسن محاورہ سے پھولوں کی چھڑی معلوم ہوتی تھی اور زبان گویا لطائف و ظرائف کی پھل چڑی۔ میں نے دو دفعہ استاد کے ساتھ مشاعرہ میں دیکھا تھا، ہائے افسوس اس وقت کی تصویر آنکھوں میں پھر گئی، قد میانہ، خوش اندام، سر پر ایک ایک انگل بال سفید، ایسی ہی داڑھی، اس گوری سرخ و سفید رنگت پر کیا بھلی معلوم ہوتی تھی۔ گلے میں ململ کا کرتہ جیسے چنبیلی کا ڈھیر پڑا ہنس رہا ہے۔ میں ان دنوں دہلی کالج میں پڑھتا تھا، استاد مرحوم کے بعد ذوق سخن اور ان کے کمال کی کشش نے کھینچ کر ان کی خدمت میں بھی پہنچایا۔ اب ان صورتوں کو آنکھیں ترستی ہیں اور نہیں پاتیں۔ ۱۸۵۷ء کے غدر کے چند روز بعد دنیا سے انتقال کیا، خدا مغفرت کرے۔ ہدہد الشعراء  ۔ایک شخص عبد الرحمٰن نامی پورب کی طرف سے دلی میں آئے اور حکیم صاحب کے پاس ایک مکان میں مکتب تھا اسمیں لڑکے پڑھانے لگے۔ حکیم صاحب کے خویش و اقارب میں سے بھی لڑکے وہاں پڑھتے تھے۔ ان میں سے ایک لڑکا سکندر نامہ پڑھا کرتا تھا۔ حکیم صاحب کا معمول تھا آٹھویں ساتویں دن رات کو ہر ایک لڑکے کا سبق سنا کرتے تھے۔ سکندر نامہ کا سبق جو سنا تو عجائب و غرائب مضامین سننے میں آئے، فرمایا کہ اپنے مولوی صاحب کو کسی وقت ہمارے پاس بھیجنا۔ وہ دوسرے ہی دن تشریف لائے۔ حکیم صاحب آخر حکیم تھے، ملاقات ہوئی تو اول قیافہ سے پھر گفتگو  نبض دیکھی، معلوم ہوا کہ شدید سے زیادہ مادّہ نہیں مگر یہ طرفہ معجون انسان تھوڑی سی ترکیب میں رونق محفل ہو سکتا ہے، پوچھا کہ آپ کچھ شعر کا بھی شوق رکھتے ہیں ؟ مولوی صاحب نے کہا کہ کیا مشکل بات ہے ! ہو سکتا ہے، حکیم صاحب نے کہا کہ ایک جگہ مشاعرہ ہوتا ہے، ۸، ۹ دن باقی ہیں۔ یہ طرح مصرع ہے، آپ بھی غزل کہیے تو مشاعرہ میں لے چلیں۔ وہ مشاعرے کو بھی نہ جانتے تھے۔ اس کی صورت بیان کی۔ مولوی صاحب نے کہا کہ اس عرصہ میں بہت کچھ ہو سکتا ہے۔ غزل کہہ کر لائے تو سبحان اللہ اور مولوی صاحب ہی تخلص رکھا۔ حکیم صاحب کی طبع ظریف کے مشغلہ کو ایسا  الّو خدا دے، بہت تعریف کی۔ غزل کی جا بجا اصلاحیں دے کر خوب نون مرچ چھڑکا۔ مولوی صاحب بہت خوش ہوئے۔ یہ دیکھ کر حکیم صاحب کو اطمینان ہوا۔ مولوی صاحب کی چگی داڑھی اس پر لمبی اور نکیلی سَر منڈا ہوا اس پر نکّو عمامہ، فقط کٹ بڑھی نظر آتے تھے۔ حکیم صاحب نے کہا کہ شعراء کو تخلص بھی ایسا چاہیے کہ ظریفانہ و لطیفانہ ہو اور خوشنما ہو اور شان و شکوہ کی عظمت سے تاجدار ہو۔ بہتر ہے کہ آپ ہدہد تخلص کریں۔ حضرت سلیمان کا راز دار تھا اور قاصد خجستہ کام تھا وغیرہ وغیرہ، پنیں و پنہاں مولوی صاحب نے بہت خوشی سے منظور فرمایا۔ مشاعرے کے دن جلسہ میں گئے۔ جب ان کے سامنے شمع آئی تو حکیم صاحب نے ان کی تعریف میں چند فقرے مناسب وقت فرمائے۔ سب متوجہ ہوئے۔ جب انہوں نے غزل پڑھی تو تمسخر نے تالیاں بجائیں، ظرافت نے ٹوپیاں اچھالیں اور قہقہوں نے اتنا شور و غل مچایا کہ کسی غزل اتنی تعریف کا جوش نہ ہوا تھا۔ مولوی صاحب بہت خوش ہوئے۔ چند روز اس طرح مشاعرہ کو اور بعض امرا کے جلسوں کو رونق دیتے رہے مگر مکتب کے کام سے جاتے رہے۔ حکیم صاحب نے سوچا کہ ان کے گزارے کے لئے کوئی نسخہ ضرور تجویز کرنا چاہیے۔ ان سے کہا کہ بادشاہ کی تعریف میں ایک قصیدہ کہو، تمھیں ایک دن دربار میں لے چلیں۔ دیکھو رزاق مطلق کیا سامان کرتا ہے۔ قصیدہ تیار ہوا اور حکیم صاحب نے ہدہد کو اڑا کر دربار میں پہنچا دیا۔ افسوس کہ اب نہیں مل سکتا۔ ۴ شعر یاد ہیں۔ شتے نمونہ از خردارے تحفہ احباب کرتا ہوں۔

جو تیری مدح میں میں چونچ اپنی وا کر دوں

تو رشک باغ ارم اپنا گھونسلا کر دوں

جو آ کے ریز کرے میرے آگے مسیقار

تو ایسے کان مردڑوں کہ بے سرا کر دوں

جو سرکشی کرے آگے مرے ہُما آ کر

تو اس کے نوچ کے پر شکل نیولا کر دوں

میں کھانے والا ہوں نعمت کا اور میرے لئے

فلک کہے ہے مقرر میں یا برا کر دوں

بادشاہوں اور امیروں کو مسخرا پن بلکہ زمانہ کی طبیعت کو غذا موافق ہے۔ ظفرؔ تو خود شاعر تھے۔ خطاب عطا فرمایا۔ طائر الارکین شہپر الملک ہدہد الشعراء ، منقار جنگ بہادر اور معہ ۷ روپیہ مہینہ بھی عطا کر دیا کہ ان کی شاعری کی بنیاد قائم ہو گئی۔ پھر تو سر پر لمبے لمبے بال ہو گئے، ان میں چنبیلی کا تیل پڑنے لگا۔ داڑھی دو شاخہ ہو کر کانوں سے باتیں کرنے لگی۔

ایک برسات نے ان کا مکان گرا دیا۔ گھونسلے کی تلاش میں بھٹکتے پھرے، مکان ہاتھ نہ آیا۔ حکیم صاحب سے شکایت کی، فرمایا کہ بادشاہی مکانات شہر میں بہتیرے پڑے ہیں، کیا ہدہد کے گھونسلے کو بھی ان میں جگہ نہ ملے گی۔ دیکھو بندوبست کرتے ہیں۔ جھٹ عرضی موزوں ہوئی۔ چند متفرق اشعار اس کے یاد ہیں۔

جز ترے شاہنشہا کہہ کس کے آگے روئیے

کس کو کہیے جا کے یہ غم کو ہمارے کھوئیے

تجھ کو ہے حق نے کیا ملک سخن کا شہسوار

ہیں بجا کرنے سمند طبع کو یاں پوئیے

حیف آتا ہے کہ فن شعر میں کیوں کھوئی عمر

کاش کہ ہم سیکھتے اس سے بنانے بورئیے

سنگلاخ ایسی زمیں ہے سوچ اے دل تا کجا

فکر کیجیے صرف اس میں اور پتھر ڈھوئیے

رشتہ عمر شہنشاہ جہاں ہووے دراز

یا خدا کھلتے رہیں دنیا میں جب تک سوئیے

دیدے اس کو بھی زمیں تھوڑی کہ بن گھر گھونسلے

مارتا پھرتا ترا ہدہد ہے ٹاپک ٹوئیے

ایک سال سرکار شاہی کو تنخواہ میں دیر لگی۔ ہدہد نے حکیم صاحب سے شکایت کی۔ یہاں جس طرح امراض شکم کے لئے علاج تھے ہی، اسی طرح بھوک کے تدارک کا بھی نسخہ تیار تھا۔ ایک قطعہ راجہ دیبی سنگھ کی مدح میں تیار ہوا کہ انھیں دنوں میں خانسامانی کی تنخواہ انھیں سپرد ہوئی تھی۔ ۴ شعر اس وقت یاد ہیں، وہی لکھتا ہوں۔

جہاں میں آج دیبی سنگھ تو راجوں کا راجہ ہے

خدا کا فضل ہے جو قلعہ میں تو آ براجا ہے

سلیماں نے ہے تیرے ہاتھ میں دی رزق کی کنجی

تو سرداروں کا سردار اور مہاراجوں کا راجا ہے

شکم اہل جہاں کے سب ہیں شکرانہ بجا لاتے

دمامہ تیرا جا کر گنبد گردوں پہ باجا ہے

کسی کو دے نہ دے تنخواہ تو مختار ہے اس کا

مگر ہدہد کو دیدے کیوں ؟ یہی ہدہد کا کھاجا ہے

حکیم صاحب ہمیشہ فکر سخن میں رہتے تھے۔ اس میں جو ظرافت کے مضامین خیال میں آتے انھیں موزوں کر کے ہدہد کی چونچ میں دیتے تھے، وہ ان کے بلکہ دو چار اور جانوروں کے لئے بھی بہت ہے، چند شعر یاد ہیں، تفریح طبع کے لئے لکھتا ہوں :

ہدہد کا مذاق ہے نرالا سب سے

انداز ہے اک نیا نکالا سب سے

سر دفترِ لشکر سلیماں ہے یہ

اڑتا بھی  ہے دیکھو بالا بالا سب سے

راست آئینوں کو نفرت ہے کج آئینوں سے

تیر نکلا جو کمان سے تو گریزاں نکلا

آشیاں سے جو غزل پڑھنے کو ہدہدؔ آیا

خل پڑا پیشرو ملک سلیماں نکلا

حکیم صاحب کے اشارے پر ہدہد بلبلان سخن کو ٹھونگیں بھی مارتا تھا چنانچہ بعض غزلیں سر مشاعرہ پڑھتا تھا جس کے الفاظ نہایت شستہ اور رنگین، لیکن شعر بالکل بے معنی اور کہہ دیتا تھا کہ یہ غالبؔ کے انداز میں غزل لکھی ہے۔ ایک مطلع یاد ہے۔

مرکزِ محور گردوں بہ لبِ آب نہیں

ناخن قوس و قزح شبہ مضراب نہیں

غالبؔ مرحوم تو بہتے دریا تھے، سنتے تھے اور ہنستے تھے۔ مومنؔ خاں وغیرہ نے ہدہد کے شکار کو ایک باز تیار کیا۔ انھوں نے اس کے بھی پر نوچے۔ مشاعرہ میں خوب خوب جھپتے ہوئے مگر اس کے شعر مشہور نہیں ہوئے۔ ہدہد کے کئی شعر یاد ہیں۔ پہلا مطلع بھول گیا۔

جسے کہتے ہیں ہدہدؔ وہ تو نر شیروں کا دادا ہے

مقابل تیرے کیا ہو تو تو اک جرہ کی مادہ ہے

گر اب کے بازڑی میداں میں آئی سامنے میرے

تو دُم میں پَر نہ چھوڑوں گا یہی میرا ارادہ ہے

مقرر باز جو اپنا تخلص ہے کیا تو نے

ہوا معلوم یہ اس سے کہ گھر تیرا کشادہ ہے

ادب اے بے ادب اب تک نہیں تجھ کو خبر اس کی

کہ ہدہد سب جہاں کے طائروں کا پیرزادہ ہے

چند روز بعد باز اڑ گیا۔ یاروں نے ایک کوّا تیار کیا۔ زاغؔ تخلص رکھا، انھوں نے اس کی بھی خوب خبر لی۔ وہ بھی چند روز میں آندھی کا کوا ہو کر غائب غلہ ہو گیا۔

جون آیا ہے بدل اب کی عدو کوّے کی

اس کی ہے پاؤں سے تا سر وہی خو کوّے کی

وہی کاں کاں وہی کیں کیں وہی ٹاں ٹاں اسکی

بات چھوڑی نہیں ہاں اک سرمو کوّے کی

پہلے جانا تھا یہی سب نے کہ کوّا ہو گا

پھر یہ معلوم کیا، ہے یہ سو کوّے کی

بن کے کوا جو یہ آیا ہے تو اے ہدہد شاہ

دم کتر دینے کو کچھ کم نہیں تو کوّے کی

جو جانور ہدہد کے مقابل ہوتے تھے، انھیں استقلال نہ تھا۔ چند روز میں ہوا ہو جاتے تھے۔ کیونکہ پالنے والوں کی طبیعتوں میں استقلال اور مادہ نہ تھا۔ ہمیشہ ان کے ڈھب کی غزل کہہ کر مشغلہ جاری رکھنا اور مشاعرے کی غزل کا حسب حال تیار کرنا کچھ آسان کام نہیں ہے۔ سب سے بڑی بات یہ تھی کہ ان کے آزوقہ کو استقلال نہ تھا۔ ان کا آزوقہ سرکار بادشاہی سے تو مقرر ہی تھا اور ادھر ادھر سے چرچگ کر جو مار لاتے تھے وہ ان کی چاٹ تھی۔) کہ کہن سال مشاق  اور نہایت زندہ دل شاعر تھے۔ استاد کے قریب ہی بیٹھتے تھے، زمین غزل،  یار دے، بہار دے، روزگار دے، حکیم آغا جان عیشؔ نے ایک شعر اپنی غزل میں پڑھا۔

اے شمع صبح ہوتی ہے روتی ہے کس لئے

تھوڑی سی رہ گئی ہے اسے بھی گزار دے

ان کے ہاں بھی اس مضمون کا ایک شعر تھا، باوجود اس رتبہ کے لحاظ اور پاس مروت حد سے زیادہ تھا۔ میرے والد مرحوم پہلو میں بیٹھے تھے، ان سے کہنے لگے کہ مضمون لڑ گیا۔ اب میں وہ شعر نہ پڑھوں گا۔ انھوں نے کہا کہ کیوں نہ پڑھو، پہلے سے انھوں نے آپ کا مضمون سنا تھا نہ آپ نے ان کا، ضرور پڑھنا چاہیے۔ اس سے بھی طبیعتوں کا اندازہ معلوم ہوتا ہے کہ ایک منزل پر دونوں صاحب فکر پہنچے، مگر کس کس انداز سے پہنچے، چناں چہ حکیم صاحب مرحوم کے بعد ہی ان کے آگے شمع آئی۔ انھوں نے پڑھا۔

اے شمع تیری عمر طبیعی ہے ایک رات

رو کر گزار یا اسے ہنس کر گزار دے

ایک دن معمولی دربار تھا، استاد بھی حاضر تھے۔ ایک مرشد زادے تشریف لائے وہ شاید کسی اور مرشد زادی یا بیگمات میں سے کسی بیگم صاحب کی طرف سے کچھ عرض لے کر آئے تھے، انھوں نے آہستہ آہستہ بادشاہ سے کچھ کہا اور رخصت ہوئے۔ حکیم احسن اللہ خاں بھی موجود تھے۔ انھوں نے عرض کی، صاحب عالم اس قدر جلدی یہ آنا کیا تھا اور یہ تشریف لے جانا کیا تھا۔ صاحب عالم کی زبان سے اس وقت نکلا کہ “اپنی کوشی نہ نہ اپنی خوشی چلے ” بادشاہ نے استاد کی طرف دیکھ کر فرمایا کہ استاد دیکھنا کیا صاف مصرع ہوا ہے۔ استاد نے بے توقف عرض کی کہ حضور :

لائی حیات آئے، قضا لے چلی چلے

اپنی خوشی نہ آئے، نہ اپنی خوشی چلے

یہ اواخر عمر کی غزل ہے۔ اس کے دو تین برس بعد انتقال ہو گیا۔

ایک دن دربار سے آ کر بیٹھے، میں جو پہنچا افسردہ ہو کر کہنے لگے کہ آج عجیب ماجرا گزرا۔ میں جو حضور میں گیا تو محل میں تھے۔ وہیں بلا لیا اور مجھے دیکھتے ہی کہنے لگے استاد آج مجھے دیر تک ایک بات کا افسوس رہا۔ میں نے حال پوچھا، کہا کہ جو قصیدہ تم نے ہمارے لئے کہا تھا اس کے وہ اشارے آج مجھے یاد آ گئے۔ ان کے خیالات سے طبیعت کو عجب لطف حاصل ہوا۔ ساتھ ہی خیال آیا کہ اب تم یہ قصیدے ہمارے لئے کہتے ہو، ہم مر جائیں گے تو جو تخت پر بیٹھے گا اس کے لئے کہو گے، میں نے عرض کی کہ حضور کچھ تردد نہ فرمائیں، خیمہ پیچھے گرتا ہے، میخیں اور طنابیں پہلے ہی اکھڑ جاتی ہیں، ہم حضور سے پہلے ہی اٹھ جائیں گے۔ اور حضور خیال فرمائیں کہ عرش آرامگاہ کے دربار کے لوگ حضور کے دربار میں کہاں تھے ؟ فردوس منزل کے امراء ان کے عہد میں کہاں تھے، عرش منزل کے فردوس منزل کے دربار میں کہاں تھے ؟ فردوس منزل کے امیر عرش آرامگاہ کے دربار میں کہاں تھے ؟ عرش آرامگاہ کے امرا آج حضور کے دربار میں کہاں ہیں، بس یہی خیال فرما لیجیے جو جس کے ساتھ ہوتے ہیں وہ اسی کے ساتھ جاتے ہیں۔ نیا میر مجلس نئی مجلس جماتا ہے اور اپنا سامانِ مجلس بھی اپنے ہی ساتھ لاتا ہے۔ یہ سن کر حضور بھی آبدیدہ ہوئے میں بھی آبدیدہ ہوا مگر خیال مجھے یہ آیا کہ دیکھو ہم ہمیشہ نماز کے بعد حضور کی سلامتی کی دعائیں مانگتے ہیں، خدا شاہد ہے اپنا خیال اس طرح آج تک کبھی نہیں آیا، حضور کو ہمارا خیال بھی نہیں میاں ! دنیا میں کوئی کسی کا نہیں ہے۔

شیخ مرحوم ضعف جسمانی کے سبب سے روزے نہ رکھتے تھے مگر اس پر بھی کسی کے سامنے کھاتے پیتے نہ تھے، کبھی دوا یا شربت یا پانی بھی پینا ہوتا، کوٹھے پر جا کر یا گھر میں جا کر پی آتے، ایک دفعہ میں نے پوچھا، کہا میاں خدا کے گناہگار ہیں وہ عالم نہاں و آشکار کا ہے۔ اس کی تو شرم نہیں بھلا بندے کی شرم تو رہے۔

رمضان کا مہینہ تھا، گرمی کی شدّت، عصر کا وقت، نوکر نے شربت نیلوفر کٹورے میں گھول کر کوٹھے پر تیار کیا اور کہا کہ ذرا اوپر تشریف لے چلئے، چونکہ وہ اس وقت کچھ لکھوا رہے تھے، مصروفیت کے سبب سے نہ سمجھے اور سبب پوچھا، اس نے اشارہ کیا، فرمایا کہ لے آ یہیں، یہ ہمارے یار ہیں، ان سے کیا چھپانا۔ جب اس نے کٹورہ لا کر دیا، تو یہ مطلع کہا کہ فی البدیہہ یہ واقع ہوا تھا۔

پلا مے آشکارا ہم کو کس کی ساقیا چوری

خدا کی جب نہیں چوری تو پھر بندہ کی کیا چوری

محبوب علی خاں خواجہ سرا سرکار بادشاہی میں مختار تھے اور کیا محل کیا دربار دونوں جگہ اختیار قطعی رکھتے تھے مگر بشدت جوا کھیلتے تھے۔ کسی بات پر ناخوشی ہوئی، میاں صاحب نے حج کا ارادہ کیا۔ ایک دن میں استاد مرحوم کے پاس بیٹھا تھا کہ کسی شخص نے آ کر کہا، میاں صاحب کعبۃ اللہ جاتے ہیں۔ آپ ذرا تامل کر کے مسکرائے اور یہ مطلع پڑھا۔

جو دل قمار خانہ میں بت سے لگا چکے

وہ کعبتین چھوڑ کے کعبہ کو جا چکے

والد مرحوم نے بہ نیت وقف امامباڑہ تعمیر کیا۔ ایک دن تشریف لائے، ان سے تاریخ کے لئے کہا۔ اسی وقت تامل کر کے کہا۔ تعزیت گاہ امام پوری تاریخ ہے۔ حکیم میر فیض علی مرحوم ان کے استاد بھی تھے اور انھی کا آپ علاج بھی کیا کرتے تھے۔ ایک دن میں بھی موجود تھا۔ نوکر نے آ کر کہا کہ آج میر فیض علی کا انتقال ہوا۔ بار بار پوچھا اور ایسا اضطراب ہوا کہ اٹھ کر ٹہلنے لگے۔ کچھ سوچ کر دفعتہً بولے کہ “ہائے میر فیض علی” مجھ سے کہا کہ دیکھو تو یہی تاریخ ہے ؟ حساب کیا تو عدد برابر تھے۔

ایک شخص نے آ کر کہا کہ میرے دوست کا نام غلام علی ہے اور باپ کا نام غلام محمد ہے۔ اس نے نہایت تاکید سے فرمائش لکھی ہے کہ حضرت سے ایسا بحع کہلوا دو کہ جس میں دونوں نام آ جائیں۔ آپ نے سن کر وعدہ کیا اور کہا کہ دو تین دن میں آپ آئیے گا۔ انشاء اللہ ہو جاوے گا۔ وہ رخصت ہو کر چلے، ڈیوڑھی کے باہر نکلے ہوں گے جو نوکر سے کہا کہ محمد بخش کو بلانا انھیں لینا لینا۔ خوب ہوا ان کے تقاضے سے جلدی مخلصی ہو گئی۔ مجھ سے مخاطب ہو کر کہا۔ ع

پدر غلام محمد پسر غلام علی

دیوان چند دلال نے ان کلام سن کر مصرع طرح بھیجا اور بلا بھیجا۔ غزل کہہ کر بھیجی اور مقطع میں لکھا۔

آج کل گرچہ دکن میں ہے بڑی قدر سخن

کون جائے ذوقؔ پر دلی کی گلیاں چھوڑ کر

انھوں نے خلعت اور پانسو روپئے بھیجے، مگر یہ نہ گئے۔ ایک دن میں نے نہ جانے کا سبب پوچھا، فرمایا۔

نقل : کوئی دلی میں مہینہ بیس (۲۰) دن رہ کر چلا۔ یہاں ایک کتا ہل گیا تھا۔ وہ وفا کا مارا ساتھ ہو لیا۔ شاہدہ پہنچ کر دلّی یاد آئی اور رہ گیا۔ وہاں کتوں کو دیکھا، گردنیں فربہ، بدن تیار، چکنی چکنی پشم، ایک کتا انھیں دیکھ کر خوش ہوا اور دلی کا سمجھ کر بہت خاطر کی۔ وہاں کی بازار میں لے گیا۔ حلوائی کی دوکان سے ایک بالو شاہی اڑا کر سامنے رکھا، بھٹیارہ کے دوکان سے ایک کلہ جھپٹا، یہ ضیافتیں کھاتے اور دلی کی باتیں سناتے رہے۔ تیسرے دن رخصت مانگی۔ اس نے روکا۔ انھوں نے دلی کے سیر تماشے اور خوبیوں کے ذکر کئے۔ آخر چلے اور دوست کو بھی دلّی آنے کی تاکید کر آئے۔ اسے بھی خیال رہا اور ایک دن دلی کا رخ کیا۔ پہلے ہی مرگھٹ کے کتے مردار خوار، خونی آنکھیں، کالے کالے منھ نظر آئے۔ یہ لڑتے بھرتے نکلے، دریا ملا، دیر تک کنارہ پر پھرے، آخر کود پڑے، مر کھپ کے پار پہنچے، شام ہو گئی تھی۔ شہر میں گلی کوچوں کے کتوں سے بچ بچا کر ڈیڑھ پہر رات گئی تھی جو دوست سے ملاقات ہوئی۔ یہ بیچارے اپنی حالت پر شرمائے، بظاہر خوش ہوئے اور کہا اوہو اس وقت تم کہاں ؟ دل میں کہتے تھے رات نے پردہ رکھا، ورنہ دن کو یہاں کیا دھرا تھا؟ اسے لے کر اِدھر اُدھر پھرنے لگے، یہ چاندنی چوک ہے، یہ دریبہ ہے، یہ جامع ہے۔ مہمان نے کہا یار بھوک کے مارے جان نکلی جاتی ہے، سیر پھر ہو جائے گی، کچھ کھلواؤ تو سہی۔ انھوں نے کہا عجب وقت تم آئے ہو۔ اب کیا کروں ؟ بارے جامع مسجد کی سیڑھیوں پر جانی کبابی مرچوں کی ہانڈی بھول گئے تھے۔ انھوں نے کہا۔ “لو یار بڑے قسمت والے ہو” وہ دن بھر کا بھوکا تھا، منھ پھاڑ کر گرا اور ساتھ ہی منھ سے مغز تک گویا بارود اڑ گئی، چھینک کر پیچھے ہٹا اور جل کر کہا واہ یہی دلّی ہے۔ انھوں نے کہا اس چٹخارہ کے مارے تو پڑے ہیں۔

عادت تھی کہ سات آٹھ بجے مکان ضرور جاتے تھے اور تین چار چلمیں حقہ کی وہاں پیتے تھے۔ میں چھٹی کے دن اس وقت جایا کرتا تھا اور دن بھر وہیں رہتا تھا۔ مکان ضرور ڈیوڑھی میں تھا۔ پاؤں کی آہٹ پہچانتے تھے۔ پوچھتے تھے، میں تسلیم عرض کرتا، چھوٹی سی انگنائی تھی، پاس ہی چارپائی تھی بیٹھ جاتا۔ فرماتے اجی ہمارا وہ شعر اس دن تم نے کیا پڑھا تھا؟ ایک دو لفظ اس کے پڑھتے، میں سارا شعر عرض کرتا، فرماتے ہاں اب اسے یوں بنا لو۔ ایک دن ہنستے ہوئے پائخانے سے نکلے، فرمایا کہ لو جی ۳۳ برس کے بعد آج اصلاح دینی آئی ہے۔ حافظ ویران نے کہا، حضرت کیونکر؟ فرمایا ایک دن شاہ نصیرؔ مرحوم کسی شاگرد کو اصلاح دے رہے تھے۔ اس میں مصرع تھا۔ ع

“کھاتی کمر ہے تین بل ایک گدگدی کے ساتھ”

ابتدائے مشق تھی، اتنا خیال میں آیا کہ یہاں کچھ اور ہونا چاہیے اور جب سے اکثر یہ مصرع کھٹکتا رہتا تھا۔ آج وہ نکتہ حل ہوا، عرض کی حضرت پھر کیا؟ فرمایا۔ ع

“کھاتی ہے تین تین بل اک گدگدی کے ساتھ”

کمر کو اوپر ڈال دو، عرض کی پھر وہ کیونکر، ۳، ۴ مصرعے الٹ پلٹ گئے تھے، ایک اس وقت خیال میں ہے۔

بل بے کمر کہ زلف مسلسل کے پیچ میں

کھاتی ہے تین تین بل اک گدگدی کے ساتھ

کابلی دروازہ پاس ہی تھا، شام کو باہر نکل کر گھنٹوں ٹہلتے تھے۔ میں اکثر ہوتا تھا، مضامین کتابی، خیالات علمی افادہ فرماتے، شعر کہتے۔ ایک دن بادشاہ کی غزل کہہ رہے تھے، تیر ہمیشہ، تصویر ہمیشہ، سوچتے سوچتے کہنے لگے، تم بھی تو کچھ کہو، میں نے کہا، کیا عرض کروں، فرمایا میاں اسی طرح آتا ہے، ہوں ہاں، غوں غاں، کچھ تو کہو، کوئی مصرع ہی سہی، میں نے کہا۔ ع

سینہ سے لگائے تری تصویر ہمیشہ

ذرا تامل کر کے کہا ہاں درست ہے۔

آ جائے اگر ہاتھ تو کیا چین سے رہیے

سینہ سے لگائے تری تصویر ہمیشہ

اب جو کبھی دلّی جانا ہوتا ہے اور اس مقام پر گزر ہوتا ہے تو آنسو نکل پڑتے ہیں۔ اس مطلع پر حضور نے کئی دفعہ جال مارے مگر یہ ٹال گئے۔ مضمون آ نہ سکا۔ مطلع انھوں نے دیا۔

کیا کہوں اس ابروئے پیوستہ کے دل بس میں ہے

اک طعمہ، مچھلیاں دو، کش مکش آپس میں ہے

بادشاہ کے چار دیوان ہیں، پہلے کچھ غزلیں، شاہ نصیرؔ کی اصلاحی ہیں، کچھ میر کاظم حسین بیقرارؔ کی ہیں۔ غرض پہلا دیوان نصف سے زیادہ اور باقی دیوان سرتاپا حضرت مرحوم کے ہیں۔ جن سنگلاخ زمینوں میں قلم چلنا مشکل ہے ان کا نظام و سرانجام اس خوبصورتی سے کیا ہے کہ دل شگفتہ ہوتے ہیں۔ والد مرحوم کہا کرتے تھے کہ بادشاہ تمہارا زمین کا بادشاہ ہے، طرحیں خوب نکالتا ہے۔ مگر تم سرسبز کرتے ہو ورنہ شور زار ہو جائے۔ مسودہ خاص میں کوئی شعر پورا، کوئی ڈیڑھ مصرع کوئی ایک کوئی آدھا مصرع، فقط بحر اور ردیف قافیہ معلوم ہو جاتا تھا، باقی بخیر یہ ان ہڈیوں پر گوشت پوست چڑھا کر حسن و عشق کی پتلیاں بنا دیتے تھے۔ ایجادی فرمائشوں کی حد نہ تھی، چند شعر اس غزل کے لکھتا ہوں، جس کے ہر شعر کے نیچے مصرع لگایا ہے۔

یا تو افسر مرا شاہانہ بنایا ہوتا

یا مرا تاج گدایانہ بنایا ہوتا

ورنہ ایسا جو بنایا نہ بنایا ہوتا

نشہ عشق کا گر ذوقؔ دیا تھا مجھکو

عمر کا تنگ نہ پیمانہ بنایا ہوتا

دل کو میرے خم و خمخانہ بنایا ہوتا

اس خرد نے مجھے سرگشتہ و حیران کیا

کیوں خرد مند بنایا نہ بنایا ہوتا

تو نے اپنا مجھے دیوانہ بنایا ہوتا

روز معمورہ دنیا میں خرابی ہے ظفر

ایسی بستی سے تو ویرانہ بنایا ہوتا

بلکہ بہتر تو یہی تھا نہ بنایا ہوتا

ایک بڈھا چورن مرچن کی پڑیاں بیچتا پھرتا تھا اور آواز دیتا تھا۔

“نرے من چلے کا سودا ہے کھٹا اور میٹھا

حضور نے سنا۔ ایک دو مصرعے اس پر لگا کر استاد کو بھیج دیئے۔ انھوں نے دس دہرے لگا دیئے۔ حضور نے لے رکھی ہے کئی کنچنیاں ملازم تھیں، انھیں یاد کرا دیئے۔ دوسرے دن بچہ بچہ کی زبان پر تھے۔ دو بند یاد رہ گئے۔

لے ترے من چلے کا سودا ہے کھٹا اور میٹھا

کنجڑے کی سی باٹ ہے دنیا جنس ہے ساری اکٹھی

میٹھی چاہے میٹھی لے لے، کھٹی چاہے کھٹی

لے ترے من چلے کا سودا ہے کھٹا اور میٹھا

روپ رنگ پر پھول نہ دل میں دیکھ عقل کے بیری

اوپر میٹھی، نیچے کھٹی، انبوا کی سی کیری

لے ترے من چلے کا سودا ہے کھٹا اور میٹھا

ایک فقیر صدا کہتا “کچھ راہ خدا دے جا، جا تیرا بھلا ہو گا” حضور کو پسند آئی۔ ان سے کہا، انھوں نے بارہ دہرے اس پر لگا دیئے۔ مدتوں تک گھر گھر سے اسی کے گانے کی آواز آتی تھی اور گلی گلی لوگ گاتے پھرتے تھے۔ حافظ ویران کو خدا سلامت رکھے، انہی نے یہ شعر بھی لکھوائے۔

کچھ راہ خدا دے جا، جا تیرا بھلا ہو گا

محتاج خراباتی یا پاک نمازی ہے

کچھ کر نہ نظر اس پر، واں نکتہ نوازی ہے

کچھ راہ خدا دے جا، جا تیرا بھلا ہو گا

دنیا کے کیا کرتا ہے سینکڑوں تو دھندے

پر کام خدارا بھی کر لے کوئی یاں بندے

کچھ راہ خدا دے جا، جا تیرا بھلا ہو گا

جو رب نے دیا تجھ کو تو نام پہ رب کے دے

گریاں رو دیا تو نے، واں دیوے گا کیا بندے

کچھ راہ خدا دے جا، جا تیرا بھلا ہو گا

دیوے گا اسی کو تو وہ جس کو ہے دلواتا

پر ہے یہ ظفر تجھ کو آواز سنا جاتا

کچھ راہ خدا دے جا، جا تیرا بھلا ہو گا

دنیا ہے سرا اس میں تو بیٹھا مسافر ہے

اور جانتا ہے یاں سے جانا تجھے آخر ہے

کچھ راہ خدا دے جا، جا تیرا بھلا ہو گا

اسی طرح کی ہزاروں چیزیں تھیں، ٹپے، ٹھمریاں، پہلیاں، سیٹھنیاں، کہاں تک لکھوں، ایک دن ٹہل رہے تھے، حافظ ویران ساتھ تھے۔ بتقاضائے استنجا بیٹھ گئے اور وقت معین سے زیادہ دیر ہوئی۔ انھوں نے قریب جا کر خیال کیا تو کچھ گنگنا رہے ہیں اور چٹکی سے جوتی پر کھٹ کھٹ کرتے جاتے ہیں، پوچھا کہ ابھی آپ فارغ نہیں ہوئے، فرمایا کہ حضور نے چلتے ہوئے ایک ٹھمری کے دو تین انترے سنائے تھے کہ اسے پورا کر دینا۔ اس وقت اس کا خیال آ گیا۔ پوچھا کہ یہ جوتی پر آپ چٹکی کیوں مارتے تھے، فرمایا کہ دیکھتا تھا کہ اس کے لفظ تال پر ٹھیک بیٹھتے ہیں یا نہیں ؟

حافظ ویران کہتے ہیں، کہ ایک دن عجب تماشہ ہوا، آپ بادشاہ کی غزل کہہ رہے تھے، مطلع ہوا کہ :

ابرو کی اس کے بات ذرا چل کے تھم گئی

تلوار آج ماہ لقا چل کے تھم گئی

دو تین شعر ہوئے تھے کہ خلیفہ اسمٰعیل دربار سے پھر کر آئے اور کہا کہ اس وقت عجب معرکہ دیکھا، استاد مرحوم متوجہ ہوئے، انھوں نے کہا کہ جب میں بھوانی شنکر کے چھتے کے پاس پہنچا تو کھاری باؤلی کے رخ  پر دیکھا کہ دو تین آدمی کھڑے ہیں اور آپس میں تکرار کر رہے ہیں، باتوں باتوں میں ایسی بگڑی کہ تلوار کھچ گئی اور تین آدمی زخمی بھی ہوئے۔ یہاں چونکہ غزل کے شعر حافظ ویران سن رہے تھے، ہنس کر بولے کہ حضرت آپ کیا وہاں موجود تھے، آہستہ آہستہ سے فرمایا کہ یہیں بیٹھے بیٹھے سب کچھ ہو جاتا ہے، اس سے میرا مطلب یہ نہیں کہ انھیں کرامات تھی یا وہ غیب داں تھے، ایک حسن اتفاق تھا، اہل ذوق کے لطف طبع کے لئے لکھ دیا۔ اس سے بڑھ کر یہ ہے کہ ایک دن حضور میں غزل ہوئی جس کا مطلع تھا :

آج ابرو کی ترے تصویر کھنچ کر رہ گئی

سنتے ہیں بھوپال میں شمشیر کھنچ کر رہ گئی

پھر معلوم ہوا کہ اسی دن بھوپال میں تلوار چلی تھی۔ ایسے معاملے کتب تاریخ اور تذکروں میں اکثر منقول ہیں، طول کلام کے خیال سے قلم انداز کرتا ہوں۔ایک دفعہ دوپہر کا وقت تھا، باتیں کرتے کرتے سو گئے، آنکھ کھُلی تو فرمایا کہ ابھی خواب میں دیکھا کہیں آگ لگی ہے۔ اتنے میں خلیفہ صاحب آئے اور کہا کہ پیر بخش سوداگر کی کوٹھی میں آگ لگ گئی تھی، بڑی خیر ہوئی کہ کچھ نقصان نہیں ہوا۔

ایک شب والد مرحوم کے پاس آ کر بیٹھے، کہا کہ بادشاہ کی غزل کہنی ہے، لاؤ یہیں کہہ لیں، کئی فرمائشیں تھیں، ان میں سے یہ طرح کہنی شروع کی۔ “محبت ہے، صورت ہے، مصیبت ہے ” میں نے کہا حضرت زمین شگفتہ نہیں، سکوت کر کے فرمایا “کہنے والے شگفتہ کر ہی لیا کرتے ہیں۔ پھر یہ دو مطلع پڑھے۔

نہ بھول اے آرسی گر یار کو تجھ سے محبت ہے

نہیں ہے اعتبار اس کا یہ منھ دیکھ کی الفت ہے

بگولے سے جسے آسیب اور صرصر سے رحمت ہے

ہماری خاک یوں برباد ہو اے ابر رحمت ہے

اتفاق : فرماتے تھے کہ ایک دن بادشاہ نے غزل کا مسودہ دیا اور فرمایا کہ اسے ابھی درست کر کے دے جانا، موسم برسات کا تھا، ابر آ رہا تھا، دریا چڑھاؤ پر تھا، میں دیوان خاص میں جا کر اسی رخ میں ایک طرف بیٹھ گیا اور غزل لکھنے لگا۔ تھوڑی دیر کے بعد پاؤں کی آہٹ معلوم ہوئی، دیکھا تو پشت پر ایک صاحب دانائے فرنگ کھڑے ہیں، مجھ سے کہا، آپ کیا لکھتا ہے ؟ میں نے کہا غزل ہے۔ پوچھا آپ کون ہے ؟ میں نے کہا کہ نظم میں حضور کی دعا گوئی کیا کرتا ہوں، فرمایا کس زبان میں ؟ میں نے کہا اردو میں۔ پوچھا آپ کیا کیا زبانیں جانتا ہے ؟ میں نے کہا کہ فارسی عربی بھی جانتا ہوں۔ فرمایا ان زبانوں میں بھی کہتا ہے، میں نے کہا کوئی خاص موقعہ ہو تو اس میں بھی کہنا پڑتا ہے، ورنہ اردو ہی میں کہتا ہوں کہ یہ میرے اپنی زبان ہے۔ جو کچھ انسان اپنی زبان میں کر سکتا ہے غیر کی زبان میں نہیں کر سکتا، پوچھا آپ انگریزی جانتا ہے، میں کہا نہیں، فرمایا کیوں نہیں پڑھا؟ میں نے کہا ہمارا لب و لہجہ اس سے موافق نہیں، وہ ہمیں آتی نہیں ہے۔ صاحب نے کہا، ول یہ کیا بات ہے، دیکھئے ہم آپ کا زبان بولتے ہیں۔ میں نے کہا، پختہ سالی میں غیر زبان نہیں آ سکتی، بہت مشکل معاملہ ہے۔ انھوں نے پھر کہا، ول، ہم آپ کی تین زبان ہندوستان میں آ کر سیکھا۔ آپ ہمارا ایک زبان نہیں سیکھ سکتے، یہ کیا بات ہے ؟ اور تقریر کو طول دیا۔ میں نے کہا صاحب ہم زبان کا سیکھنا اسے کہتے ہیں کہ اس میں بات چیت، ہر قسم کی تحریر تقریر اس طرح کریں، جس طرح خود اہل زبان کرتے ہیں، آپ فرماتے ہیں، ام آپ کا تین زبان سیکھ لیا، بھلا یہ کیا زبان ہے اور کیا سیکھنا ہے، اسے زبان کا سیکھنا اور بولنا نہیں کہتے، اسے تو زبان کا خراب کرنا کہتے ہیں۔

غزلیں

مرے سینہ سے تیرا تیر جب اے جنگجو نکلا

وہاں زخم سے خون دہو کے حرف آرزو نکلا

مرا گھر تیرا منزل گاہ ہو ایسے کہاں طالع

خدا جانے کدھر کا چاند آج اے ماہرو نکلا

پھر اگر آسمان تو شوق میں تیرے ہی سرگرداں

اگر خورشید نکلا تیرا گرم جستجو نکلا

مئے عشرت طلب کرتے تھے ناحق آسماں سے ہم

کہ آخر جب اسے دیکھا فقط کالی سبو نکلا

ترے آتے ہی آتے کام آخر ہو گیا میرا

رہی حسرت کہ دم میرا نہ تیرے روبرو نکلا

کہیں تجھ کو نہ پایا گرچہ ہم نے اک جہاں ڈھونڈا

پھر آخر دل ہی میں دیکھا بغل ہی میں تو نکلا

خجل اپنے گناہوں سے ہوں میں یاں تک کہ جب رویا

تو جو آنسو مری آنکھوں سے نکلا سرخرو نکلا

گھسے سب ناخن تدبیر اور ٹوٹا سر سوزن

مگر تھا دل میں جو کانٹا نہ وہ ہرگز کبھو نکلا

اسے عیار پایا یار سمجھے ذوقؔ ہم جس کو

جسے یاں دوست اپنا ہم نے جانا وہ عدو نہ نکلا

*-*-*-*-*-*

لکھے اسے خط میں کہ ستم اٹھ نہیں سکتا

پر ضعف سے ہاتھوں میں قلم اٹھ نہیں سکتا

بیمار ترا صورت تصویر نہالی

کیا اٹھے سر بستر غم اٹھ نہیں سکتا

آتی ہے صدائے جرس ناقہ لیلیٰ

پر حیف کہ مجنوں کا قدم اٹھ نہیں سکتا

جوں دانہ روئیدہ تہ خاک ہمارا

سر زیر گرانبار الم اٹھ نہیں سکتا

ہر داغ معاصی مرا اس دامن تر سے

جوں حرف سر کاغذ نم اٹھ نہیں سکتا

اتنا ہوں تری تیغ کا شرمندہ احسان

سر میرا ترے سر کی قسم اٹھ نہیں سکتا

پردہ در کعبہ سے اٹھانا تو ہے آسان

پر پردہ رخسار صنم اٹھ نہیں سکتا

کیوں اتنا گرانبار ہے جو رکت سفر بھی

اے راہرو ملک عدم اٹھ نہیں سکتا

دنیا کا زر و مال کیا جمع تو کیا ذوقؔ

کچھ فائدہ بے دستِ کرم اٹھ نہیں سکتا

*-*-*-*-*-*-*

اس پر شاہ نصیر مرحوم کی غزل بھی دیکھو۔

الہٰی کس بے گنہ کو مارا سمجھ کے قاتل نے کشتنی ہے

کہ آج کوچہ میں اس کے شور باَیِّ ذَنب قَتَلتَّنِی ہے

زمین پر نور قمر کے گرنے سے صاف اظہار روشنی ہے

کہ جو ہیں روشن ضمیر ان کو فروغ ان کی فروتنی ہے

غم جدائی میں تیرے ظالم، کہوں میں کیا مجھ پہ کیا بنی ہے

جگر گدازی ہے سینہ کادی ہے، دلخراش ہے، جانکنی ہے

بشر جو اس تیرہ خاکدان میں پڑا یہ اس کی فروتنی ہے

وگرنہ قندیل عرش میں بھی اسی کے جلوہ کی روشنی ہے

ہوئے ہیں اس اپنی سادگی سے ہم آشنا جنگ و آشتی سے

اگر نہ ہو یہ تو پھر کسی سے نہ دوستی ہے نہ دشمنی ہے

کوئی ہے کافر، کوئی مسلمان، جدا ہر اک کی ہے راہ ایمان

جو اس کے نزدیک رہبری ہے وہ اس کے نزدیک رہزنی ہے

ہوئے ہیں تر گریہ ندامت سے اسقدر آستین و دامن

کہ میری تر دامنی کے آگے عرق عرق پاکدامنی ہے

نہیں ہے قانع کو خواہش زر، وہ مفلسی میں بھی ہے توانگر

جہاں میں مانند کیمیا گر ہمیشہ محتاج دل غنی ہے

لگا نہ اس بت کدہ میں تو دل، یہ ہے طلسم شکست غافل

کہ کوئی کیسا ہی خوش شمائل صنم ہے آخر شکستنی ہے

تکلفِ منزلِ محبت نہ کر چلا چل تو بے تکلف

کہ جا بجا خار زار وحشت سے زیر پا فرشِ سوزنی ہے

خدنگ مژگان سے ذوقؔ اس کے دل اپنا سینہ سپر ہے جب سے

مثال آئینہ سخت جانی سے سینہ دیوار آہنی ہے

*-*-*-*-*-*-*

دریائے اشک چشم سے جس آن بہہ گیا

سن لیجیو کہ عرش کا ایوان بہہ گیا

بل بے گداز عشق کا خون ہو کے دل کے ساتھ

سینہ سے تیرے تیر کا پیکان بہہ گیا

زاہد شراب پینے سے کافر ہوا میں کیوں

کیا ڈیڑھ چلو پانی سے ایمان بہہ گیا

ہے موج بحر عشق وہ طوفاں کہ الحفیظ

بیچارہ مشت خاک تھا انسان بہہ گیا

دریائے عشق میں دم تحریر حال و دل

کشتی کی طرح میرا قلمدان بہہ گیا

یہ روئے پھوٹ پھوٹ کے پاؤں کے آبلے

نالہ سا ایک سوئے بیابان بہہ گیا

تھا تو بہا میں بیش پر اس لب کے سامنے

سب مول تیرا لعل بدخشان بہہ گیا

کشتی سوار عمر ہے بحر فنا میں جسم

جس دم بہا کے لے گیا طوفان بہہ گیا

پنجاب میں بھی وہ نہ رہی آب و تاب حسن

اے ذوقؔ پانی اب تو وہ ملتان بہہ گیا

*-*-*-*-*-*-*-*

پاک رکھ اپنا وہاں ذکر خدائے پاک سے

کم نہیں ہرگز زباں منھ میں ترے مسواک سے

جب بنی تیر حوادث کی کماں افلاک سے

خاک کا تو وہ بنا انسان کی مشت خاک سے

جس طرح دیکھے قفس سے باغ کو مرغ اسیر

جھانکتا ہے یوں تجھے دل سینہ صدر چاک سے

تیرے صد نیم جاں کی جاں نکلتی ہی نہیں

باندھ رکھا ہے اسے بھی تو نے کیا فتراک سے

مجھ کو دوزخ، رشک جنت ہو اگر میرے لئے

واں بھی آتش ہو کسی کے روئے آتش ناک سے

آفتاب حشر ہے یارب کہ نکلا گرم گرم

کوئی آنسو دل جلوں کے دیدہ نمناک سے

چشم بے پردہ کو ہو کس طرح نظارہ نصیب

جبکہ وہ پردہ نشیں پردہ کرے ادراک سے

بیت ساقی نامہ کی لکھو کوئی جائے دعا

مے پرستوں کے کفن پر چوب کلک تاک سے

عیب ذاتی کو کوئی کہتا ہے حسن عارضی

زیب بد اندام کو ہو ذوقؔ کیا پوشاک سے

*-*-*-*-*-*-*-*-*

جینا ہمیں اصلا نظر اپنا نہیں آتا

گر آج بھی وہ رشک مسیحا نہیں آتا

مذکور تری بزم میں کس کا نہیں آتا

پر ذکر ہمارا نہیں آتا نہیں آتا

دیتا دل مضطر کو تری کچھ تو نشانی

پر خط بھی ترے ہاتھ کا لکھا نہیں آتا

کیا جانے اسے وہم ہے کیا میری طرف سے

جو خواب میں بھی رات کو تنہا نہیں آتا

آیا ہے دم آنکھوں میں دم حسرتِ دیدار

پر لب پہ کبھی حرف تمنا نہیں آتا

کس دم نہیں ہوتا قلق ہجر ہے مجھ کو

کس وقت میرے منھ کو کلیجا نہیں آتا

میں جاتا جہاں سے ہوں تو آتا نہیں یاں تک

کافر تجھے کچھ خوف خدا کا نہیں آتا

ہم رونے پہ آ جائیں تو دریا ہی بہائیں

شبنم کی طرح سے ہمیں رونا نہیں آتا

ہستی سے زیادہ ہے کچھ آرام عدم میں

جو جاتا ہے یاں سے وہ دوبارہ نہیں آتا

آنا ہے تو آ جا کہ کوئی دم کی ہے فرصت

پھر دیکھئے آتا بھی ہے دم یا نہیں آتا

غافل ہے بہار چمن عمر جوانی

کر سیر کہ موسم یہ دوبارہ نہیں آتا

ساتھ ان کے ہیں ہم سایہ کی مانند ولیکن

اس پر بھی جدا ہیں کہ لپٹنا نہیں آتا

دنیا ہے وہ صیاد کہ سب دام میں اس کے

آ جاتے ہیں لیکن کوئی دانا نہیں آتا

دل مانگنا مفت اور پھر اس پہ تقاضا

کچھ قرض تو بندہ پہ تمہارا نہیں آتا

بجا ہے ولا اس کے نہ آنے کی شکایت

کیا کیجئے گا فرمائیے اچھا نہیں آتا

جاتی رہے زلفوں کی لٹک دل سے ہمارے

افسوس کچھ ایسا ہمیں لٹکا نہیں آتا

جو کوچہ قاتل میں گیا پھر وہ نہ آیا

کیا جانے مزا کیا ہے کہ جینا نہیں آتا

آئے تو کہاں جائے، نہ تا جی سے کوئی جائے

جب تک اسے غصہ نہیں آتا نہیں آتا

قسمت سے ہی لاچار ہوں اے ذوقؔ وگرنہ

سب فن میں ہوں میں طاق مجھے کیا نہیں آتا

*-*-*-*-*-*-*-*-*-*

مزے یہ دل کے لئے تھے نہ تھے زبان کے لئے

سو ہم نے دل میں مزے سوزش نہاں کے لئے

نہیں ثبات بلندی عز و شان کے لئے

کہ ساتھ اوج کے پستی ہے آسمان کے لئے

ہزار لفظ ہیں جو ہر ستم میں جان کے لئے

ستم شریک ہوا کون آسمان کے لئے

فروغ عشق سے ہے روشنی جہاں کے لئے

یہی چراغ ہے اس تیرہ خاکدان کے لئے

صبا جو آئے خس و خار گلستان کے لئے

قفس میں کیونکہ نہ پھڑکے دل آشیاں کے لئے

دم عروج ہے کیا فکر نردباں کے لئے

کمند آہ تو ہے بام آسماں کے لئے

سدا تپش پہ تپش ہے دل تپاں کے لئے

ہمیشہ غم پہ ہے غم جان ناتواں کے لئے

حجر کے چومنے ہی پر ہو حج کعبہ اگر

تو بوسے ہم نے بھی اس سنگ آستاں کے لئے

نہ چھوڑ تو کسی عالم میں راستی کہ یہ شے

عصا ہے پیر کو اور سیف ہے جواں کے لئے

جو پاس مہر و محبت یہاں کہیں بکتا

تو ہم بھی لیتے کسی اپنے مہرباں کے لئے

خلش سے عشق کی ہے خار پیرہن تن زار

ہمیشہ اس ترے مجنونِ ناتواں کے لئے

تپش سے عشق کی یہ حال ہے مرا گویا

بجائے مغز ہے رباب استخواں کے لئے

مرے مزار پہ کس وجہ سے نہ برسے نور

کہ جان دی ترے روئے عرق فشاں کے لئے

الہٰی کان میں کیا اس صنم نے پھونک دیا

کہ ہاتھ رکھتے ہیں کانوں پہ سب اذاں کے لئے

نہیں ہے خانہ بدوشوں کو حاجت ساماں

اثاثہ چاہیے کیا خانہ کمال کے لئے

نہ دل رہا نہ جگر دونوں جل کے خاک ہوئے

رہا ہے سینہ میں کیا چشم خون فشاں کے لئے

نہ لوح گور پہ ستوں کے ہو نہ ہو تعویذ

جو ہو تو خشت خم مے کوئی نشاں کے لئے

اگر امید نہ ہمسایہ ہو تو خانہ یاس

بہشت ہے ہمیں آرام جاوداں کے لئے

وہ مول لیتے ہیں جسدم کوئی نئی تلوار

لگاتے پہلے مجھی پر ہیں امتحان کے لئے

صریح چشم سخن گو تری کہے نہ کہے

جواب صاف ہے پر طاقت و تواں کے لئے

رہے ہے ہول کہ برہم نہ ہو مزاج کہیں

بجا ہے ہول دل ان کے مزاج داں کے لئے

شال نے ہے مرا جب تلک کہ دم میں دم

فغاں ہے میرے لئے اور میں فغاں کے لئے

بلند ہووے اگر کوئی میرا شعلہ آہ

تو ایک اور ہو خورشید آسمان کے لئے

چلیں ہیں دیر کو مدت میں خانقاہ سے ہم

شکست توبہ لئے ارمغان مغاں کے لئے

وبال دوش ہے اس ناتواں کو سر لیکن

لگا رکھا ہے ترے خنجر وسناں کے لئے

بیان درد محبت جو ہو تو کیوں کر ہو

زباں نہ دل کے لئے ہے نہ دل زباں کے لئے

اشارہ چشم کا تیرے یکایک اے قاتل

ہوا بہانہ مری مرگ ناگہاں کے لئے

بنایا آدمی کو ذوقؔ ایک جزو ضعیف

اور اس ضعیف سے کل کام دو جہاں کے لئے

نواب اصغر علی خاں نسیمؔ کے مشاعرہ میں غزل مذکورہ بالا طرح ہوئی تھی اور مومن صاحب کہ ان کے استاد تھے، استاد مرحوم کی خدمت میں آئے اور بڑے اصرار سے لے گئے۔ یہ پہلا مشاعرہ تھا جو بندہ آزاد نے دیدہ شوق سے دیکھا، غالبؔ مرحوم تشریف نہیں لائے مگر غزل لکھی تھی، ان دونوں استادوں کی غزلیں بھی لکھ دی ہیں۔ اہل نظر لطف حاصل کریں۔

*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-

نجم الدولہ دبیر الملک مرزا اسد اللہ خاں غالبؔ

مرزا صاحب کو اصلی شوق فارسی کی نظم و نثر کا تھا اور اسی کمال کو اپنا فخر سمجھتے تھے، لیکن چونکہ تصانیف ان کی اردو میں بھی چھپی ہیں، اور جس طرح امراؤ رؤسائے اکبر آباد میں علو خاندان سے نامی اور میرزائے فارسی ہیں اُسی طرح اُردوئے معلیٰ کے مالک ہیں۔ اس لئے واجب ہوا کہ ان کا ذکر اس تذکرہ میں ضرور کیا جائے۔ نام اسد اللہ تھا۔ پہلے اسدؔ تخلص کرتے تھے، جھجر میں کوئی فرومایہ سا شخص اسدؔ تخلص کرتا تھا، ایک دن اُس کا مطلع کسی نے پڑھا :

اسدؔ تم نے بنائی یہ غزل خوب

ارے او شیر رحمت ہے خدا کی

سنتے ہی اس تخلص سے جی بیزار ہو گیا، کیونکہ ان کا ایک یہ بھی قاعدہ (دیوان فارسی میں ۲۰، ۲۵ شعر کا ایک قطعہ لکھا ہے، بعض اشخاص کا قول ہے کہ ذوق کی طرف چشمک ہے، غرض کہ اس میں کا ایک شعر ہے۔

راست میگویم من و از راست سرنتواں کشید

ہرچہ در گفتار فخر تست آں ننگِ من است

تھا کہ عوام الناس کے ساتھ مشترک حال ہونے کو نہایت مکروہ سمجھتے تھے، چنانچہ ۱۳۴۵ھ و ۱۸۲۸ء میں اسد اللہ الغالب کی رعایت سے غالبؔ تخلص اختیار کیا۔ لیکن جن غزلوں میں اسدؔ تخلص تھا اُنھیں اُسی طرح رہنے دیا۔

خاندان کا سلسلہ افراسیاب بادشاہِ توران سے ملتا ہے، جب تورانیوں کا چراغ کیانیوں کی ہوائے اقبال سے گل ہوا تو غریب خانہ برباد جنگلوں پہاڑوں میں چلے گئے، مگر جوہر کی کشش نے تلوار ہاتھ سے نہ چھوڑی۔ سپہ گری ہمت کی بدولت روٹی پیدا کرنے لگی۔ سینکڑوں برس کے بعد پھر اقبال ادھر جھکا اور تلوار سے تاج نصیب ہوا چنانچہ سلجوقی خاندان کی بنیاد انھیں میں قائم ہو گئی مگر اقبال کا جھکنا جھوکا ہوا کا ہے، کئی پشتوں کے بعد اُس نے پھر رُخ پلٹا، اور سمرقند میں جس طرح اور شرفاء تھے اسی طرح سلجوقی شہزادوں کو بھی گھروں میں بٹھا دیا۔

مرزا صاحب کے دادا گھر چھوڑ کر نکلے، شاہ عالم کا زمانہ تھا کہ دہلی میں آئے۔ یہاں بھی سلطنت میں کچھ نہ رہا تھا، صرف پچاس گھوڑے اور نقارہ و نشان سے شاہی دربار میں عزت پائی اور اپنی لیاقت اور خاندان کے نام سے پہاسو کا ایک پرگنہ سیر حاصل ذات اور رسالے کی تنخواہ میں لیا، شاہ عالم کے بعد طوائف الملوکی کا ہنگامہ گرم ہوا، وہ بھی نہ رہا، اُن کے والد عبد اللہ بیگ خاں لکھنو جا کر نواب آصف الدولہ مرحوم کے دربار میں پہنچے، چند روز بعد حیدر آباد میں جا کر نواب نظام علی خان بہادر کی سرکار میں تین سو سوار کی جمعیت سے ملازم رہے، کئی برس بعد ایک خانہ جنگی کے بکھیڑے میں یہ صورت بھی بگڑی، وہاں سے گھر آئے اور الور میں راجہ بختاور سنگھ کی ملازمت اختیار کی، یہاں کسی لڑائی میں مارے گئے۔ اُس وقت مرزا کی پانچ برس کی عمر تھی۔

نصر اللہ بیگ خاں حقیقی چچا مرہٹوں  کی طرف سے اکبر آباد کے صوبیدار تھے، انھوں نے در یتیم کو دامن میں لے لیا۔ ۱۸۰۶ء میں جرنیل لیک صاحب کا عمل ہوا تو صوبہ داری کمشنری ہو گئی۔ ان کے چچا کو سواروں کی بھرتی کا حکم ہوا اور چار سو سوار کے افسر ہوئے۔ سترہ سو روپیہ مہینہ ذات کا اور لاکھ ڈیڑھ لاکھ روپیہ سال کی جاگیر سونگ سون کے پرگنہ پرحین حیات مقرر ہو گئی۔

مرزا چچا کے سایہ میں پرورش پاتے تھے۔ مگر اتفاق یہ کہ مرگِ ناگہانی میں وہ مر گئے۔ رسالہ برطرف ہو گیا۔ جاگیر ضبط ہو گئی، بزرگوں نے لاکھوں روپیہ کی جائداد چھوڑی تھی، قسمت سے کس کا زور چل سکتا ہے۔ وہ امیرزادہ جو شاہانہ دل و دماغ لے کر آیا تھا، اُسے ملک سخن کی حکومت اور مضامین کی دولت پر قناعت کر کے غریبانہ حال سے زندگی بسر کرنی پڑی۔ بہت تدبیریں اور وسیلے درمیان آئے مگر سب کھیل بن بن کر بگڑ گئے، چنانچہ اخیر (اصل حال یہ ہے کہ جب مرزا نے اپنا دعویٰ کلکتہ میں پیش کیا تو سرکار نے اس کا فیصلہ سرجان مالکھم صاحب گورنر بمبئی کے سپرد کیا۔ کیونکہ جب جاگیروں کی سندیں لکھی گئی تھیں تو لارڈ لیک صاحب کمانڈر انچیف ہندوستان کے سکریٹری تھے اور انھیں کے دستخط سے اسناد جاری ہوئے تھے۔جب ان کے پاس یہ مقدمہ اور اس کے کاغذات پہنچے تو انھوں نے لکھا کہ مدعی غلط کہتا ہے۔ نواب احمد بخش خاں ہمارا قدیمی دوست تھا اور بڑا راستباز تھا۔ اس پر یہ اتہام ضد سے کیا گیا ہے۔ ہم نے پانچ ہزار روپے سالانہ لکھا تھا جس میں سے ۳ ہزار مدعی اور اس کے متوسیلین کے لئے تھے اور دو ہزار خواجہ حاجی اور اس کے وارثوں کے نام تھے۔ پھر مرزا صاحب نے ولایت میں مرافعہ کیا وہاں بھی کچھ نہ ہوا بموجب تحقیق نواب ضیاء الدین خان بہادر دام ظلہم العالی کے تحریر ہوا۔)میں کسی دوست نے انھیں لکھا کہ نظام دکن کے لئے قصیدہ کہہ کر فلاں ذریعہ سے بھیجو، اُس کے جواب میں آپ فرماتے ہیں، ۵ برس کا تھا کہ میرا باپ مرا، ۹ برس کا تھا کہ چچا مرا، اس کی جاگیر کے عوض میرے اور میرے شرکائے حقیقی کے واسطے شامل جاگیر نواب احمد بخش خاں دس ہزار روپیہ سال مقرر ہوئے۔ انھوں نے نہ دیئے، مگر تین ہزار روپیہ سال ان میں سے خاص میری ذات کا حصہ ساڑھے سات سو روپیہ سال فقط میں نے سرکار انگریزی میں غبن ظاہر کیا، کولبرک صاحب بہادر رزیڈنٹ دہلی اور استرلنگ صاحب بہادر سکرتر گورنمنٹ کلکتہ متفق ہوئے، میرا حق دلانے پر رزیڈنٹ معزول ہو گئے، سکرتر گورنمنٹ بمرگ ناگاہ مر گئے، بعد ایک زمانہ کے بادشاہ دہلی نے پچاس روپیہ مہینہ مقرر کیا، ان کے ولی عہد اس تقرر کے دو برس بعد مر گئے۔ واجد علی شاہ اودھ کی سرکار سے بہ صلہ مدح گستری ۵۰۰ روپیہ سال مقرر ہوئے، وہ بھی دو برس سے زیادہ نہ جئے، یعنی اگرچہ اب تک جیتے ہیں مگر سلطنت جاتی رہی اور تباہی سلطنت دو ہی برس میں ہوئی۔ دلی کی سلطنت کچھ سخت جان تھی، ۷ برس مجھ کو روٹی دے کر بگڑی، ایسے طالع مربی کش اور محسن سوز کہاں پیدا ہوتے ہیں، اب جو میں والی دکن کی طرف رجوع کرو، یاد رہے کہ متوسط یا مر جائے گا یا معزول ہو جائے گا اور اگر یہ دونوں امر واقع نہ ہوئے تو کوشش اس کی ضائع ہو جائے گی۔ والی شہر مجھ کو کچھ نہ دے گا اور احیاناً اگر اُس نے سلوک کیا تو ریاست خاک میں مل جائے گی۔ ملک میں گدھے کے ہل پھر جائیں گے۔

غرض کہ نواب احمد بخش خاں بہادر کی تقسیم سے مرزائے مرحوم نالاں ہو کر ۱۸۳۰ء میں کلکتہ گئے اور گورنر جنرل سے ملنا چاہا۔ وہاں دفتر دیکھا گیا، اس میں سے ایسا کچھ معلوم ہوا کہ اعزازِ خاندانی کے ساتھ ملازمت ہو جائے اور ۷ پارچہ خلعت، معہ رقم جیفہ، مرصع مالائے مروارید ریاست دودمانی رعایت سے مقرر ہوا۔

غرض مرزا کلکتہ سے ناکام پھرے اور ایام جوانی ابھی پورے نہ ہوئے تھے کہ بزرگوں کا سرمایہ تمام کر کے دلّی میں آئے، یہاں اگرچہ گزر اُن کا امیرانہ شان سے تھا، اور امیروں سے امیرانہ ملاقات تھی، مگر اپنے علو حوصلہ اور بلند نظری کے ہاتھوں تنگ رہتے تھے، پھر بھی طبیعت ایسی شگفتہ پائی تھی کہ ان وقتوں کو خاطر میں نہ لاتے تھے۔ ہمیشہ ہنس کھیل کر غم غلط کر دیتے تھے۔ کیا خوب فرمایا ہے :

مے سے غرض نشاط ہے کس رو سیاہ کو

یک گونہ بیخودی مجھے دن رات چاہیے

جب دلی تباہ ہوئی تو زیادہ تر مصیبت پڑی، ادھر قلعہ کی تنخواہ جاتی رہی، اُدھر پنشن بند ہو گئی اور انھیں رام پور جانا پڑا۔ نواب صاحب سے ۲۰، ۲۵ برس کا تعارف تھا یعنی ۱۸۵۵ء میں ان کے شاگرد ہوئے تھے اور ناظمؔ تخلص قرار پایا تھا، وہ گاہے گاہے غزل بھیج دیتے تھے کبھی روپیہ بھی آتا تھا۔اس وقت قلعہ کی تنخواہ جاری، سرکاری پنشن کھلی ہوئی تھی، ان کی عنایت فتوحِ غیبی گنی جاتی تھی۔ جب دلی کی صورت بگڑی تو زندگی کا مدار اس پر ہو گیا، نواب صاحب نے ۱۸۵۹ء سے سو روپیہ مہینہ کر دیا اور انھیں بڑی تاکید سے بلایا، یہ گئے تو تعظیم خاندانی کے ساتھ دوستانہ و شاگردانہ بغل گیر ہو کر ملاقات کی اور جب تک رکھا کمال عزت کے ساتھ رکھا۔ بلکہ سو روپیہ مہینہ ضیافت کا زیادہ کر دیا، مرزا کو دلّی کے بغیر چین کہاں ؟ چند روز کے بعد رخصت ہو کر پھر وہیں چلے آئے چونکہ سرکاری پنشن بھی جاری ہو گئی تھی، اس لئے چند سال زندگی بسر کی۔

آخر عمر میں بڑھاپے نے بہت عاجز کیا، کانوں سے سنائی نہ دیتا تھا۔ نقشِ تصویر کی طرح لیٹے رہتے تھے، کسی کو کچھ کہنا ہوتا تھا تو لکھ کر رکھ دیتا تھا وہ دیکھ کر جواب دے دیتے تھے، خوراک دو تین برس سے یہ رہ گئی تھی کہ صبح کو پانچ سات بادام کا شیرہ، ۱۲ بجے آب گوشت، شام کو ۴ کباب تلے ہوئے، آخر ۷۳ برس کی عمر ۱۸۶۹ء ۱۲۸۵ھ میں جہان فانی سے انتقال فرمایا اور بندہ آثم نے تاریخ لکھی۔ “آہ غالب بمرد” مرنے سے چند روز پہلے یہ شعر کہا تھا اور اکثر یہی پڑھتے رہتے تھے۔

دمِ واپسیں بر سر راہ ہے

عزیزو اب اللہ ہی اللہ ہے

مرزا صاحب کے حالات اور طبعی عادات

اس میں کچھ شک نہیں کہ مرزا اہل ہند میں فارسی کے با کمال شاعر تھے مگر علوم درسی کی تحصیل طالب علمانہ طور سے نہیں کی اور حق پوچھو تو یہ بڑے فخر کی بات ہے کہ ایک امیرزادہ کے سر سے بچپن میں بزرگوں کی تربیت کا ہاتھ اٹھ جائے اور وہ نقطہ طبعی ذوق سے اپنے تئیں اس درجہ کمال تک پہنچائے۔ وہ کیسی طبع لایا ہو گا جس نے اس کے فکر میں بلند پروازی دماغ میں یہ معنی آفرینی، خیالات میں ایسا انداز، لفظوں میں نئی تراش اور ترکیب میں انوکھی روش پیدا کی۔جا بجا خود ان کا قول ہے اور حقیقت میں لطف سے خالی نہیں کہ زبان فارسی سے مجھے مناسبت ازلی ہے، ایک اور جگہ فرماتے ہیں کہ میری طبیعت کو اس زبان سے ایک قدرتی لگاؤ ہے، میر مفتی عباس صاحب کو قاطع برہان بھیج کر خط لکھا ہے۔ اس میں فرماتے ہیں دیباچہ اور خاتمہ میں جو کچھ لکھ آیا ہوں سب سچ ہے۔ کلام کی حقیقت کی داد جدا چاہتا ہوں۔ نگارش لطافت سے خالی نہ ہو گی، علم و ہنر سے عاری ہوں لیکن پچپن برس سے محوِ سخن گزاری ہوں۔ مبدء فیاض کا مجھ پر احسانِ عظیم ہے، ماخذ میرا صحیح اور طبع میری سلیم ہے،  فارسی کے ساتھ ایک مناسبت ازلی اور سرمدی لایا ہوں، مطابق اہل پارس کے منطق کا مزہ بھی ابدی لایا ہوں۔

ہرمزد نام ایک پارسی ژوند پاژند کا عالم تھا، اس نے اسلام اختیار کیا اور عبد الصمد اپنا نام رکھا۔ ایام سیاحت میں ہندوستان کی طرف آ نکلا اور مرزا سے بھی ملاقات ہوئی، اگرچہ ان کی عمر اس وقت ۱۴ برس کی تھی مگر مناسبتِ ازلی طبیعت میں تھی جس نے اُسے کھینچا۔ اور دو برس تک گھر مہمان رکھ کر اکتسابِ کمال کیا۔ اس روشن ضمیر کے فیضان صحبت کا انھیں فخر تھا اور حقیقت میں یہ امر فخر کے قابل ہے۔

میں نے چاہا کہ مرزا صاحب کی تصویر الفاظ و معانی سے کھینچوں۔ مگر یاد آیا کہ انھوں نے ایک جگہ اسی رنگ و روغن سے اپنی تصویر آپ کھینچی ہے، میں اس سے زیادہ کیا کر لوں گا۔ اس کی نقل کافی ہے، مگر اول اتنا سن لو کہ مرزا حاتم علی مہرؔ ایک شخص آگرہ میں تھے، مرزا کے اور آخر عمر میں اس ہموطن بھائی سے خط و کتابت جاری ہوئی، وہ ایک وجیہ اور طرحدار جوان تھے۔ ان سے ان کی دید وادید نہ ہوئی، لیکن کسی زمانہ کی ہم وطنی، شعر گوئی، ہم مذہبی اور اتحاد خیالات کے تعلق سے شاید کسی جلسہ میں مرزا نے کہا کہ مرزا حاتم علی مہرؔ کو سنتا ہوں کہ طرحدار آدمی ہیں، دیکھنے کو جی چاہتا ہے۔ اُنھیں جو یہ خبر پہنچی تو مرزا کو خط لکھا اور اپنا حلیہ بھی لکھا۔ اب اس کے جواب میں جو مرزا آپ ہی اپنی تصویر کھینچتے ہیں اُسے دیکھنا چاہیے “بھائی تمھاری طرحداری کا ذکر میں نے مغل جان سے سنا تھا جس زمانہ میں کہ وہ حامد علی خاں کی نوکر تھی اور اُس میں مجھ میں بے تکلفانہ ربط تھا تو اکثر مغل جان سے پہروں اختلاط ہوا کرتے تھے، اُس نے تمھارے شعر اپنی تعریف کے بھی مجھ کو دکھائے، بہر حال تمھارا حلیہ دیکھ کر تمھارے کشیدہ قامت ہونے کا مجھے رشک نہ آیا، کس واسطے کہ میرا قد بھی درازی میں انگشت نما ہے، تمھارے گندمی رنگ پر رشک نہ آیا، کس واسطے کہ جب میں نیتا تھا تو میرا رنگ چنپئی تھا اور دیدہ در لوگ اس کی ستائش کیا کرتے تھے، اب جو کبھی مجھ کو وہ اپنا رنگ یاد آتا ہے تو چھاتی پر سانپ سا پھر جاتا ہے۔ ہاں مجھ کو رشک آیا اور میں نے خونِ جگر کھایا تو اس بات پر کہ (تمھاری) ڈاڑھی خوب گھٹی ہوئی ہے، وہ مزے یاد آ گئے کیا کہوں جی پر کیا گزری، بقول شیخ علی حزیں :

تا دستر سم بود زوم چاک گریباں

شرمندگی از خرقہ پشمینہ ندارم

جب ڈاڑھی موچھ میں بال سفید آ گئے، تیسرے دن چیونٹی کے انڈے گالوں پر نظر آنے لگے۔ اس سے بڑھ کر یہ ہوا کہ آگے کے دو دانت ٹوٹ گئے، ناچار (میں نے ) مسّی بھی چھوڑ دی اور ڈاڑھی بھی، مگر یہ یاد رکھیے کہ اس بھونڈے شہر (یعنی دہلی میں ) ایک دردی ہے عام، مُلّا، حافظ بساطی، نیچہ بند، دھوبی، سقہ، بھٹیارہ، جلاہا، کنجڑہ، منھ پر ڈاڑھی، سر پر بال، میں نے جس دن ڈاڑھی رکھی اُسی دن سر منڈایا۔ اس فقرہ سے معلوم ہوا کہ اپنا انداز سب سے الگ رکھنا چاہیے تھے۔ لباس ان کا اکثر اہل ولایت کا ہوتا تھا، سر پر اگرچہ کلاہ پاپاخ نہ تھی، مگر لمبی ٹوپی سیاہ پوستین کی ہوتی تھی اور ایسا ضرور چاہیے تھا۔ کیونکہ وہ فارسی نویسی کو نہ فقط ذوق بلکہ عشق دلی کے ساتھ نباہتے تھے اور لباس و گفتار کی کچھ خصوصیت نہیں، وہ اپنی قدامت کی ہر بات سے محبت رکھتے تھے، خصوصاً خاندان کے اعزازوں کو ہمیشہ جانکاہ عرق ریزیوں کے ساتھ بچاتے رہے، اس اعزاز کو کہ جو اُن کے پاس باقی تھے۔ دو دفعہ آسمانی صدمے پہنچے، اول جب کہ چچا کا انتقال ہوا، دوسرے جب ۱۸۵۸ء میں ناکردہ گناہ بغاوت کے جرم میں پنشن کے ساتھ کرسی دربار اور خلعت بند ہوا۔ اُردوئے معلیٰ میں بیسوں دوستوں کے نام خط ہیں، کوئی اس کے ماتم سے خالی نہیں۔ اُن کے لفظوں سے اس غم میں خون ٹپکتا ہے اور دل پر جو گزرتی ہو گی، وہ تو خدا ہی کو خبر ہے، آخر پھر ان کی جگہ اور اپنا حق لیا اور بزرگوں کے نام کو قائم رکھا۔

۱۸۴۲ء میں گورنمنٹ انگلشیہ کو دہلی کالج کا انتظام از سرِ نو منظور ہوا۔ ٹامسن صاحب جو کئی سال تک اضلاعِ شمال و مغرب کے لفٹنٹ گورنر بھی رہے، اس وقت سکریٹری تھے، وہ مدرسین کے امتحان کے لئے دلی آئے اور چاہا کہ جس طرح سو روپیہ مہینہ کا ایک مدرس عربی ہے ایسا ہی ایک فارسی کا بھی ہو، لوگوں نے چند کاملوں کے نام بتائے، ان میں مرزا کا نام بھی آیا، مرزا صاحب حسب الطلب تشریف لائے، صاحب کو اطلاع ہوئی مگر یہ پالکی سے اتر کر اس انتظار میں ٹھہرے کہ حسبِ دستور قدیم صاحب سکریٹری استقبال کو تشریف لائیں گے، جب کہ نہ وہ ادھر سے نہ یہ ادھر سے گئے، دیر ہوئی تو صاحب سکریٹری نے جمعدار سے پوچھا، وہ پھر باہر آیا کہ آپ کیوں نہیں چلتے، انھوں نے کہا کہ صاحب استقبال کو تشریف نہیں لائے میں کیونکر جاتا، جمعدار نے جا کر پھر عرض کی، صاحب باہر آئے اور کہا جب آپ دربار گورنری میں بہ حیثیت ریاست تشریف لائیں گے تو آپ کی وہ تعظیم ہو گی لیکن اس وقت آپ نوکری کے لئے آئے ہیں، اس تعظیم کے مستحق نہیں، مرزا صاحب نے فرمایا کہ گورنمنٹ کی ملازمت باعثِ زیادتی اعزاز سمجھتا ہوں، نہ یہ کہ بزرگوں کے اعزاز کو بھی گنوا بیٹھوں، صاحب نے فرمایا کہ ہم آئین سے مجبور ہیں۔ مرزا صاحب رخصت ہو کر چلے آئے۔ صاحب موصوف نے مومن خاں صاحب کو بلایا، ان سے کتاب پڑھوا کر سُنی اور زبانی باتیں کر کے اسی (۸۰) روپے تنخواہ قرار دی۔ انھوں نے سو روپے سے کم منظور نہ کئے، صاحب نے کہا سو (۱۰۰) روپے لو تو ہمارے ساتھ چلو، ان کے دل نے نہ مانا کہ دلّی کو ایسا سستا بیچ ڈالیں۔ مرزا کے کھلے ہوئے دل اور کھلے ہوئے ہاتھ نے ہمیشہ مرزا کو تنگ رکھا، مگر اس تنگ دستی میں بھی امارت کے تمغے قائم تھے، چنانچہ اردوئے معلیٰ کے اکثر خطوط سے یہ آئینہ ہے۔ مرزا تفتہ (مرزا صاحب سے بھی عمر میں بڑے معلوم ہوتے تھے، فارسی کے عاشق تھے، اس لئے باوجود ہندو ہونے کے مرزا تفتہ کے نام سے بڑے خوش ہوتے تھے، دیوانِ قصائد اور دیوان غزلیات چھپوا دیا تھا، فارسی میں شعر کہتے تھے۔) اپنے شاگرد رشید کو ایک خط میں لکھتے ہیں۔ سو روپیہ کی ہنڈی وصول کر لی۔ ۲۴ روپیہ داروغہ کی معرفت اٹھے تھے وہ دیے، ۵۰ روپیہ محل میں دیے۔ ۲۶ باقی رہے وہ بکس میں رکھ لیے۔ کلیان سودا لینے بازار گیا ہے، جلد آ گیا تو آج ورنہ کل یہ خط ڈاک میں بھیج دوں گا۔ خدا تم کو جیتا رکھے اور اجر دے، بھائی بُری آ بنی ہے، انجام اچھا نظر نہیں آتا۔ قصّہ مختصر یہ کہ قصہ تمام ہوا۔

کیدار ناتھ آپ کا دیوان تھا، اسی عالم میں آ کر ماہ بماہ چٹھا بانٹ دیتا تھا۔ آپ کہیں سفر میں گئے ہیں تو اس کے لئے بار بار خطوط میں احکام بھیجتے ہیں، چنانچہ ایک خط میں لکھتے ہیں “ہنڈی میں ۱۲ دن کی میعاد تھی، ۶ دن گزر گئے تھے، ۶ دن باقی تھے، مجھ کو صبر کہا، مسّی کاٹ کر روپے لے لئے۔ قرض متفرق سب ادا ہوا، بہت سبک دوش ہو گیا۔ آج میرے پاس ۴۷ روپے نقد بکس میں ہیں اور ۴ بوتل شراب کی اور ۳ شیشے گلاب کے توشہ خانہ میں موجود ہیں، الحمد للہ علیٰ احسانہ”

ایک اور جگہ اپنی بیماری کا حال کسی کو لکھتے ہیں، محل سرا اگرچہ دیوان خانہ کے بہت قریب ہے پر کیا امکان جو چل سکوں، صبح کو ۹ بجے کھانا یہیں آ جاتا ہے۔ پلنگ پر سے کھل پڑا، ہاتھ منھ دھو کر کھانا کھایا، پھر ہاتھ دھوئے، کلی کی، پلنگ پر جا پڑا۔ پلنگ کے پاس حاجتی لگی رہتی تھی اٹھا اور حاجتی میں پیشاب کر لیا اور پڑ رہا۔

نواب الٰہی بخش خاں مرحوم کی صاحبزادی سے مرزا صاحب کی شادی ہوئی اور اُس وقت ۱۳ برس کی عمر تھی۔ باوجودیکہ اوضاع و اطوار آزادانہ رکھتے تھے لیکن آخر صاحبِ خاندان تھے، گھرانے کی لاج پر خیال کر کے بی بی کے پاس خاطر بہت مدِّ نظر رکھتے تھے، پھر بھی اس قید سے کہ خلاف طبع تھی، جب بہت دق ہوتے تھے تو ہنسی میں ٹال دیتے تھے۔ چنانچہ دوستوں کی زبانی بعض نقلیں بھی نہیں، اور ان کے خطوط سے بھی اکثر جگہ پایا جاتا ہے۔ ایک قدیمی شاگرد سے ایسے معاملات میں بے تکلفی تھی۔ اس نے امراؤ سنگھ نام ایک اور شاگرد کی بی بی کے مرنے کا حال مرزا صاحب کو لکھا اور یہ بھی لکھا کہ ننھے ننھے بچے ہیں، اور اب شادی نہ کرے تو کیا کرے ؟ پھر بچے کون پانے ؟ اُس شخص کی ایک بی بی پہلے مر چکی تھی اور یہ دوسری بی بی مری تھی۔ اب حضرت اُس کے جواب میں تحریر فرماتے ہیں، امراؤ سنگھ کے حال پر اُس کے واسطے رحم اور اپنے واسطے رشک آتا ہے، اللہ اللہ ایک وہ ہیں کہ دو بار بیڑیاں کٹ چکی ہیں اور ایک ہم ہیں کہ ایک اوپر پچاس برس سے جو پھانسی کا پھندا گلے میں پڑا ہے تو نہ پھندا ہی ٹوٹتا ہے نہ دم ہی نکلتا ہے۔ اس کو سمجھاؤ کہ بھائی تیرے بچّوں کو میں پال لوں گا، تو کیوں بلا میں پھنستا ہے۔” جب ان کی پنشن کھلی تو ایک اور شخص کو لکھتے ہیں۔ “تجھ کو میری جان کی قسم اگر میں تنہا ہوتا تو اس قلیل آمدنی میں کیسا فارغ البال و خوش حال رہتا۔” مرزا صاحب نے فرزندانِ روحانی یعنی پاک خیالات اور عالی مضامین کا ایک انبوہ بے شمار اپنی نسل میں یادگار چھوڑا، مگر افسوس کہ جس قدر ادھر خوش نصیب ہوئے، اسی قدر فرزندانِ ظاہری کی طرف سے بے نصیب ہوئے، چنانچہ ایک جگہ فرماتے ہیں “سات بچے ہوئے مگر برس برس دن کے پس و پیش میں سب ملکِ عدم کو چلے گئے۔” اُن کی بی بی کے بھانجے الٰہی بخش مرحوم کے نواسے زین العابدین خاں تھے۔ وہ بھی شعر کہا کرتے تھے اور عارف تخلص کرتے تھے، عارف جوان مر گئے اور دو ننھے ننھے بچے یادگار چھوڑے، بی بی ان بچوں کو بہت چاہتی تھیں، اس لئے مرزا نے انھیں اپنے بچوں کی طرح پالا، بڑھاپے میں انھیں اپنے گلے کا ہار کئے پھرتے تھے، جہاں جاتے وہ پالکی میں ہوتے تھے، اُن کے آرام کے لئے آپ بے آرام ہوتے تھے، اُن کی فرمائشیں پوری کرتے تھے۔ افسوس کے مرزا کے بعد دونوں جوان مر گئے۔ نواب احمد بخش خاں مرحوم کے رشید فرزند مرزا صاحب کی تکلیف نہ دیکھ سکتے تھے۔ کمال کی دولت ان سے لیتے تھے۔ دنیا کی ضرورتوں میں انھیں آرام دیتے تھے۔ چنانچہ نواب ضیاء الدین خاں صاحب شاگرد ہیں۔ نواب امین الدین خاں مرحوم لوہارو بھی آداب خوردانہ کے ساتھ خدمت کرتے تھے۔ نواب علاؤ الدین خاں وائی حال اس وقت ولی عہد تھے۔ بچپن سے شاگرد ہیں چنانچہ مرزا صاحب نواب علاؤ الدین خاں صاحب کو لکھتے ہیں۔ “میاں بڑی مصیبت میں ہوں، محلسرا کی دیواریں گر گئی ہیں، پاخانہ ڈھ گیا۔ چھتیں ٹپک رہی ہیں۔ تمھاری پھوپھی (نواب الٰہی بخش خاں مرحوم کی بیٹی، نواب احمد بخش خاں مرحوم کی حقیقی بھتیجی ہوئیں، وہ ان کی بی بی تھیں۔) کہتی ہیں “ہائے دبی مری، دیوان خانہ کا حال محل سرا سے بدتر ہے، مرنے سے نہیں ڈرتا، فقدانِ راحت سے گھبرا گیا ہوں۔ چھت چھلنی ہے، ابر دو گھنٹے برسے تو چھت چار گھنٹے برستی ہے۔ مالک اگر چاہے کہ مرمت کرے تو کیونکر کرے۔ مینھ کھلے تو سب کچھ ہو اور پھر اثنائے مرمت میں میں بیٹھا کس طرح رہوں۔ اگر تم سے ہو سکے تو برسات تک بھائی سے وہ حویلی جس میں میر حسن رہتے تھے اپنی پھوپھی کے رہنے کو اور کوٹھی میں سے وہ بالا خانہ مع دالان زیریں جو الہی بخش خاں مرحوم کا مسکن تھا، میرے رہنے کو دلوا دو، برسات گزر جائے گی، مرمت ہو جائے گی پھر صاحب  اور میم اور بابا لوگ (چونکہ کوٹھے کا مکان رہنے کو مانگا ہے اس لئے اپنے تئیں صاحب اور بی بی صاحبہ اور بچوں کو بابا لوگ بنایا۔) اپنے قدیم مسکن میں آ رہیں گے۔ تمھارے والد کے ایثار و عطا کے جہاں مجھ پر احسان ہیں، ایک یہ مروت کا احسان میرے پایان عمر میں اور بھی سہی۔ غالبؔ”

مرزا کثیر الاحباب تھے، دوستوں سے دوستی کو ایسا نباہتے تھے کہ اپنایت سے زیادہ ان کی دوست پرستی خوش مزاجی کے ساتھ فریق ہو کر ہر وقت ایک دائرہ شرفا اور رئیس زادوں کا ان کے گرد دکھاتی تھی، انہی سے غم غلط ہوتا تھا اور اسی میں ان کی زندگی تھی۔ لطف یہ کہ دوستوں کے لڑکوں سے بھی وہی باتیں کرتے تھے، جو دوستوں سے۔ ادھر ہونہار جوانوں کا مؤدب بیٹھنا، ادھر سے بزرگانہ لطیفوں کا پھول برسانا، ادھر سعادت مندوں کا چپ مسکرانا اور بولنا تو حد ادب سے قدم نہ بڑھانا، ادھر پھر بھی شوخی طبع سے باز نہ آنا، ایک عجیب کیفیت رکھتا تھا، بہرحال انہی لطافتوں اور ظرافتوں میں زمانے کی مصیبتوں کو ٹالا اور ناگوار کو گوارا کر کے ہنستے کھیلتے چلے گئے، چنانچہ میر مہدی، میر سرفراز حسین، نواب یوسف مرزا وغیرہ اکثر شریف زادوں کے لئے خطوط اردوئے معلیٰ میں ہیں، جو کہ ان جلسوں کے فوٹو گراف دکھاتے ہیں۔

زمانہ کی بے وفائی نے مرزا کو وہ فارغ البالی نصیب نہ کی جو ان کے خاندان اور کماں کے لئے شایاں تھی، اور انہی دو باتوں کا مرزا کو بہت خیال تھا، لیکن اس کے لئے وہ اپنے جی کو جلا کر دل تنگ بھی نہ ہوتے تھے بلکہ ہنسی میں اڑا دیتے تھے۔ ان دونوں باتوں کی سند میں دو خط نقل کرتا ہوں (دیکھو اردوئے معلیٰ کے خطوط)۔ ایک خط میر مہدی صاحب کے نام ہے کہ ایک شریف عالی خاندان ہیں اور اُن کے رشید شاگرد ہیں، دوسرا خط منشی ہر گوپال صاحب تفتہؔ کے نام ہے، جن کا ذکر مجملاً پہلے کیا گیا ہے۔

میر مہدی تم میری عادات کو بھول گئے، ماہ مبارک رمضان میں کبھی مسجد جامع کی تراویح ناغہ ہوئی ہے ؟ میں اس مہینہ میں رام پور کیونکر رہتا، نواب صاحب مانع رہے اور بہت منع کرتے رہے، برسات کے آموں کا لالچ دیتے رہے، مگر بھائی میں ایسے انداز سے چلا کہ چاند رات کے دن یہاں آ پہنچا، یک شنبہ کو غرّہ ماہ مقدس ہوا۔ اسی دن سے ہر صبح کو حامد علی خاں کی مسجد میں جا کر جناب مولوی جعفر علی صاحب سے قرآن سنتا ہوں، شب کو جامع مسجد میں جا کر تراویح پڑھتا ہوں، کبھی جو جی میں آتی ہے تو وقتِ صوم مہتاب باغ میں جا کر روزہ کھولتا ہوں، اور سرد پانی پیتا ہوں، واہ واہ کیا اچھی عمر بسر ہوتی ہے (غرہ رمضان سے لے کر یہاں تک فقط شوخی طبع ہے کیوں کہ جو جو باتیں ان فقروں میں ہیں مرزا ان سے کوسوں بھاگتے تھے، یہ خط غدر کے بعد کا ہے، اس وقت یہ باتیں دلی میں خواب و خیال ہو گئی تھیں۔) اب اصل حقیقت سنو، لڑکوں کو ساتھ لے گیا تھا، وہاں انھوں نے میرا ناک میں دم کر دیا، تنہا بھیج دینے میں وہم آیا کہ خدا جانے اگر کوئی امر حادث ہو تو بدنامی عمر بھر رہے، اس سبب سے جلد چلا آیا، ورنہ گرمی، برسات وہیں کاٹتا۔ اب بشرطِ حیاتِ جریدہ بعد برسات جاؤں گا اور بہت دنوں تک یہاں نہ آؤں گا۔ قرار داد یہ ہے کہ نواب صاحب جولائی ۱۸۵۹ء سے کہ جس کو یہ دسواں مہینہ ہے، سو روپے مجھے ماہ بماہ بھیجتے ہیں۔ اب میں جو وہاں گیا تو سو روپیہ مہینہ بنامِ دعوت اور دیا، یعنی رامپور رہوں تو دو سو روپیہ پاؤں اور دلی رہوں تو سو روپے۔ بھائی! سو دو سو میں کلام نہیں۔ کلام اس میں ہے کہ نواب صاحب دوستانہ و شاگردانہ دیتے ہیں، مجھے نوکر نہیں سمجھتے ہیں۔ ملاقات بھی دوستانہ رہی، معانقہ و تعظیم جس طرح احباب میں رسم ہے، وہ صورت ملاقات کی ہے، لڑکوں سے میں نے نذر دلوائی تھی بس بہرحال غنیمت ہے۔ رزق کے اچھی طرح ملنے کا شکر چاہیے۔ کمی کا شکوہ کیا؟ انگریز سرکار سے دس ہزار روپیہ سال ٹھہرے، اس میں مجھ کو ملے ساڑھے سات سو روپیہ سال، ایک صاحب نہ نہ دیئے۔ مگر تین ہزار روپیہ سال، عزت میں وہ پایہ، جو رئیس زادوں کے واسطے ہوتا ہے، بنا رہا۔ خاں صاحب بسیار مہربان دوستان القاب، خلعت سات پارچہ اور جیغہ و سرپیچ و مالائے مروارید۔ بادشاہ اپنے فرزندوں کے برابر پیار کرتے تھے۔ بخشی، ناظر، حکیم، کسی سے توقیر کم نہیں۔ مگر فائدہ وہی قلیل، سو میری جان! یہاں بھی وہی نقشہ ہے، کوٹھری مین بیٹھا ہوں، ٹٹی لگی ہوئی ہے، ہوا آ رہی ہے، پانی کا جھجرا دھرا ہوا ہے۔ حقہ پی رہا ہوں۔

یہ خط لکھ رہا ہوں، تم سے باتیں کرنے کو جی چاہا، یہ باتیں کر لیں۔

خط بنام منشی ہر گوپال تفتہ – بس اب تم سکندر آباد میں رہے، کہیں اور کیوں جاؤ گے، بنک گھر کا روپیہ اٹھا چکے ہو، اب کہاں سے کھاؤ گے میاں ! نہ میرے سمجھانے کو دخل ہے نہ تمھارے سمجھنے کی جگہ ہے۔ ایک چرخ ہے کہ وہ چلا جاتا ہے، جو ہونا ہے وہ ہوا جاتا ہے، اختیار ہو تو کچھ کیا جائے۔ کہنے کی بات ہو تو کہا جائے، مرزا عبد القادر بیدلؔ کہتا ہے :

رغبت جاہ چہ و نفرتِ اسباب کدام

زیں ہو سہا بگزر یا نگزر ہیگزرد

مجھ کو دیکھو کہ نہ آزاد ہوں نہ مقید، نہ رنجور ہوں نہ تندرست نہ خوش ہوں نہ ناخوش نہ مردہ ہوں نہ زندہ، جئے جاتا ہوں، باتیں کئے جاتا ہوں۔ روٹی روز کھاتا ہوں، شراب گاہ بگاہ پئے جاتا ہوں۔ جب موت آئے گی مر بھی رہوں گا۔ نہ شکر ہے نہ شکایت ہے، جو تقریر بہ سبیل حکایت ہے۔

مرزا کے تمام خاندان کا اور بزرگوں کا مذہب سنت و جماعت تھا مگر اہلِ راز اور تصنیفات سے بھی ثابت ہے کہ ان کا مذہب شیعہ تھا اور لطف یہ تھا کہ ظہور اس کا جوشِ محبت میں تھا نہ کہ تبّرا اور تکرار میں، چنانچہ اکثر لوگ انھیں نصیری کہتے تھے اور وہ سُن کر خوش ہوتے تھے۔ ایک اور جگہ کہتے ہیں :

منصور فرقہ علی اللہیاں منم

آوازہ انا اسد اللہ برافگنم

تمام اقربا اور حقیقی دوست سنت و جماعت تھے لیکن اُن کی اپنایت میں کسی طرح کی دوئی نہ معلوم ہوتی تھی۔ مولٰنا فخر الدین کے خاندان کے مرید بھی تھے۔ دربار اور اہل دربار میں کبھی اس معاملہ کو نہیں کھولتے تھے اور یہ طریقہ دہلی کے اکثر خاندانوں کا تھا۔ تصنیفات اردو میں ۱۸۰۰ شعر کا ایک دیوانِ انتخابی ہے کہ ۱۸۴۹ء میں مرتب ہو کر چھپا۔ اس میں کچھ تمام اور کچھ ناتمام غزلیں ہیں، اور کچھ متفرق اشعار ہیں۔ غزلوں کے تخمیناً ۱۵۰۰ شعر، قصیدوں کے ۱۶۲۰ شعر، مثنوی ۳۳ شعر، متفرقات قطعوں کے ۱۱۱ شعر رباعیاں ۱۶، دو تاریخیں جن کے ۴ شعر، جسقدر عالم میں مرزا کا نام بلند ہے۔ اس سے ہزار درجہ معنی میں کلام بلند ہے۔ بلکہ اکثر شعر ایسے اعلیٰ درجہ رفعت پر واقع ہوئے ہیں کہ ہمارے نارسا ذہن وہاں تک نہیں پہنچ سکتے۔ جب ان شکایتوں کے چرچے زیادہ ہوئے تو اس ملک بے نیازی کے بادشاہ نے کہ اقلیم سخن کا بھی بادشاہ تھا، اپنی غزل کے ایک شعر سے سب کو جواب دے دیا۔

نہ ستائش کی تمنا نہ صلہ کی پروا

نہ سہی گر مرے اشعار میں معنی نہ سہی

ایک اور رباعی بھی کہی :

مشکل ہے زبس کلام میرا اے دل

سُن سُن کے اُسے سخنورانِ کامل

آساں کہنے کی کرتے ہیں فرمائش

گویم مشکل وگرنہ گویم مشکل

ایک دن اُستاد مرحوم سے مرزا صاحب کے اندازِ نازک خیالی کا اور فارسی ترکیبوں کا اور لوگوں کی مختلف طبیعتوں کا ذکر تھا، میں نے کہا بعض شعر صاف بھی نکل جاتا ہے تو قیامت ہی کر جاتا ہے۔ فرمایا، خوب! پھر کہا کہ جو مرزا کا شعر ہوتا ہے اُس کی لوگوں کو خبر بھی نہیں ہوتی، شعر اُن کے میں تمھیں سناتا ہوں، کئی متفرق شعر پڑھے تھے، ایک اب تک خیال

دریائے معاصی تنک آبی سے ہوا خشک

میرا سرِ دامن بھی ابھی تر نہ ہوا تھا

اس میں کلام نہیں کہ وہ اپنے نام کی تاثیر سے مضامین و معانی کے ہمیشہ کے شیر تھے، دو باتیں ان کے انداز کے ساتھ خصوصیت رکھتی ہیں، اول یہ کہ معنی آفرینی اور نازک خیال اُن کا شیوہ خاص تھا۔ دوسرے چونکہ فارسی کی مشق زیادہ تھی اور اس سے انھیں طبعی تعلق تھا، اس لیئے اکثر الفاظ اس طرح ترکیب دے جاتے تھے کہ بول چال میں اُس طرح بولتے نہیں لیکن جو شعر صاف صاف نکل گئے ہیں وہ ایسے ہیں کہ جواب نہیں رکھتے، اہل ظرافت بھی اپنی نوک جھوک سے چوکتے نہ تھے، چنانچہ ایک دفعہ مرزا بھی مشاعرہ میں تشریف لے گئے، حکیم آغا جان عیشؔ ایک خوش طبع شگفتہ مزاج شخص تھے، دیکھو صفحہ ، غزل طرحی میں یہ قطعہ پڑھا۔

اگر اپنا کہا تم آپ ہی سمجھے تو کیا سمجھے

مزا کہنے کا جب ہے اک کہے اور دوسرا سمجھے

کلامِ میرؔ سمجھے اور زبانِ میرزا سمجھ

مگر ان کا کہا یہ آپ سمجھیں یا خدا سمجھے

اسی واسطے اور آخر عمر میں نازک خیالی کے طریقہ کو بالکل ترک کر دیا تھا۔ چنانچہ دیکھو اخیر کی غزلیں صاف صاف ہیں، دونوں کی کیفیت جو کچھ ہے معلوم ہو جائے گی۔ سن رسیدہ اور معتبر لوگوں سے معلوم ہوا کہ حقیقت میں ان کا دیوان بہت بڑا تھا، یہ منتخب ہے، مولوی فضل حق صاحب فاضل بے عدیل تھے۔ ایک زمانہ میں دہلی کی عدالت ضلع میں سررشتہ دار مرزا قتیل صاحب کے شاگرد تھے، نظم و نثر فارسی اچھی لکھتے تھے، غرض کہ یہ دونوں با کمال مرزا صاحب کے دلی دوست تھے۔ ہمیشہ باہم دوستانہ جلسے اور شعر و سخن کے چرچے رہتے تھے، انھوں نے اکثر غزلوں کو سُنا اور دیوان کو دیکھا تو مرزا صاحب کو سمجھایا کہ یہ شعر عام لوگوں کی سمجھ میں نہ آئیں گے، مرزا نے کہا اتنا کچھ کہہ چکا، اب تدارک کیا ہو سکتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ خیر ہوا سو ہوا، انتخاب کرو، اور مشکل شعر نکال ڈالو، مرزا صاحب نے دیوان حوالہ کر دیا۔ دونوں صاحبوں نے دیکھ کر انتخاب کیا۔ یہی وہ دیوان ہے جو کہ آج ہم عینک کی طرح آنکھوں سے لگائے پھرتے ہیں۔

عود ہندی : کچھ تقریظیں کچھ اور نثریں اور خطوط ہیں۔ اکثر خطوں میں ان لوگوں کے جواب ہیں، جنھوں نے کسی مشکل شعر کے معنی پوچھے یا کوئی امر تحقیق طلب فارسی یا اردو کا دریافت کیا۔

اردوئے معلیٰ : ۱۲۸۵ھ  ۱۸۶۹ء – چند شاگردوں اور دوستوں نے جس قدر اردو کے خطوط ان کے ہاتھ آئے ایک جگہ ترتیب دیئے اور اس مجموعہ کا نام مرزا نے خود اُردوئے معلیٰ رکھا، ان خطوط کی عبارت ایسی ہے گویا آپ سامنے بیٹھے گل افشانی کر رہے ہیں، مگر کیا کریں کہ ان کی باتیں بھی خاص فارسی کی خوش نما تراشوں اور عمدہ ترکیبوں سے مرصع ہوتی تھیں۔ بعض فقرے کم استعداد ہندوستانیوں کے کانوں کو نئے معلوم ہوں تو وہ جانیں، یہ علم کم کم رواجی کا سبب ہے۔ چنانچہ فرماتے ہیں “کیا جگر خون کُن اتفاق اب و رنگ درزی کی تقصیر معاف کیجیے۔ پس چاہیے کوئل کی ارامش کا ترک کرنا، اور خواہی نخواہی بابو صاحب کے ہمراہ رہنا، یہ رتبہ میری ارزش کے فوق ہے۔ سرمایہ نازش قلمرو ہندوستان ہو۔” بعض جگہ خاص محاورہ فارسی ترجمہ کیا ہے۔ جیسے میرؔ اور سودا وغیرہ استادوں کے کلام میں لکھا گیا ہے۔ چنانچہ انہی خطوں میں فرماتے ہیں۔ “اس قدر عذر چاہتے ہو۔” یہ لفظ اُن کے قلم سے اس واسطے نکلا کہ عذر خواستن جو فارسی کا محاورہ ہے وہ اس با کمال کی زبان پر چڑھا ہوا ہے، ہندوستانی عذر کرنا یا عذر معذرت کرنی بولتے ہیں۔ نظر اس دستور پر اگر کر دیکھو تو مجھے اس شخص سے خس برابر علاقہ عزیز داری کا نہیں، یہ بھی ترجمہ بریں ضابطہ کا ہے۔ منشی نبی بخش تمھارے خط نہ لکھنے کا گلہ رکھتے ہیں۔ گلہ ہا دارندو شکوہ ہا دارندفارسی کا محاورہ ہے۔ کیوں مہاراج کول میں آنا، منشی نبی بخش کے ساتھ غزل خوانی کرنا ! اور ہم کو یاد نہ لانا! یاد آوردن خالص ایران کا سکہ ہے، ہندوستانی یاد کرنا بولتے ہیں۔ جو آپ پر معلوم ہے، وہ مجھ پر مجہول در ہے، ہرچہ برشما منکشف است برمن مخفی نماند۔

ان خطوں کی طرز عبارت بھی ایک خاص قسم کی ہے کہ ظرافت کے چٹکلے اور لطافت کی شوخیاں اُس میں خوب ادا ہو سکتی ہیں، یہ انہی کا ایجاد تھا کہ آپ مزا لے لیا اور اوروں کو لطف دے گئے۔ دوسرے کا کام نہیں۔ اگر کوئی چاہے کہ ایک تاریخی حال یا اخلاقی خیال یا علمی مطالب یا دنیا کے معاملاتِ خاص میں مراسلے لکھے تو اس انداز میں ممکن نہیں۔ اس کتاب میں چونکہ اصلی خط لکھے ہیں، اس لئے وہ ان کی ظاہر و باطن کی حالت کا آئینہ ہے، اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ دنیا کے غم و الم ہمیشہ انھیں بتاتے تھے، اور وہ علّو حوصلہ سے ہنسی ہی میں اڑاتے تھے۔ پورا لطف ان تحریروں کا اُس شخص کو آتا ہے کہ جو خود اُن کے حال سے اور مکتوب الیہوں کی چال ڈھال سے اور طرفین کے ذاتی معاملات سے بخوبی واقف ہو۔ غیر آدمی کی سمجھ میں نہیں آتیں۔ اس لئے اگر ناواقف اور بے خبر لوگوں کو اس میں مزہ نہ آئے تو کچھ تعجب نہیں۔

اس کتاب میں قلم، التماس کو مؤنث، پنشن، بیداد، بارک کو مذکر فرمایا ہے۔ ایک جگہ فرماتے ہیں “میرا اردو بہ نسبت اوروں کے فصیح ہو گا۔”

لطائف غیبی : اس رسالہ میں منشی سعادت علی کی طرف روئے سخن ہے۔ اگرچہ اس کے دیباچہ میں سیف الحق کا نام لکھا ہے۔ مگر اندازِ عبارت اور عبارت کے چٹکلے صاف کہتے ہیں کہ مرزا ہیں، وہ درحقیقت وہی میاں داد خاں ہیں جن کے نام چند رقعے مرزا صاحب کے اردوئے معلیٰ میں ہیں۔ چنانچہ ایک رقعہ میں انھیں فرماتے ہیں کہ صاحب میں نے تم کو سیف الحق کا خطاب دیا” تم میری فوج کے سپہ سالار ہو۔

تیغ تیز : مولوی احمد علی پروفیسر مدرسہ ہگئی نے قاطع برہان کے جواب میں موید البرہان لکھی تھی، اس کے بعض مراتب کا جواب مرزا صاحب نے تحریر فرما کر تیغ تیز نام رکھا۔

ساطع برہان کے اخیر میں چند ورق سید عبد اللہ کے نام سے ہیں وہ بھی مرزا صاحب کے ہیں۔ (اوجؔ تخلص، عبد اللہ خاں نام، ۴۰، ۵۰ برس کے مشاق تھے۔ ایسے بلند مضمون اور نازک خیال پیدا کرتے تھے کہ قابو میں نہ لا سکتے تھے اور انھیں عمدہ الفاظ میں ایسی چستی اور درستی سے باندھتے تھے کہ وہ مضمون سما بھی نہیں سکتا تھا، اسلئے کبھی تو مطلب کچھ کا کچھ ہو جاتا تھا اور کبھی کچھ بھی نہ رہتا تھا۔ سنگلاخ اور مشکل زمینوں میں غزل کہتے تھے۔ فکر مضامین اور تلاش الفاظ میں تن بدن کا ہوش نہ تھا۔ غور کے ساتھ کاوش کرتے تھے اور آپ ہی آپ مزے لیتے تھے۔ ہونٹ چباتے چباتے ایک طرف سے سفید ہو گیا تھا۔  بعض شعر پڑھ کر کہتے تھے کہ آنکھوں سے لہو ٹپک پڑا تھا۔ جب یہ شعر کہا تھا۔ بعض یہ کہتے تھے کہ ۶ مہینے تک برابر پڑھتے رہے، پڑھتے اس زور شور سے تھے کہ دیکھنے سے تعلق رکھتا تھا۔ مشاعروں میں غزل سناتے تھے تو صف مجلس سے گرگز بھر آگے نکل جاتے تھے۔ بعض اشخاص شہر کے اور قلعہ میں اکثر مرشد زادے (شہزادے ) شاگرد تھے مگر استاد سب کہتے تھے۔ شعرائے با کمال کو جا کر سناتے تھے اور واہ واہ کی چیخیں اور تعریفوں کے فغان و فریاد لے کے چھوڑتے تھے کیونکہ اسے اپنا حق سمجھتے تھے۔ ذوقؔ مرحوم باوجود کم سخنی اور عادت خاموشی کے خوب خوب اور بہت خوب کہتے اور مکرر پڑھواتے تھے، مسکراتے اور چہرے پر سرور ظاہر کرتے گویا شعر کی کیفیت میں بیٹھے ہیں اور مرزا تو ایسے دل لگی کے مصالح ڈھونڈھتے رہتے ہیں، یہ نعمت خدا دے، شعر سنتے اور کہتے تھے کہ یہ سب کافر ہیں جو تمھیں استاد کہتے ہیں، شعر کے خدا ہو خدا، سجدہ کا اشارہ کرتے اور کہتے سبحان اللہ، سبحان اللہ، میں ان دنوں میں مبتدی شوقین تھا۔ اپنا مشتاق سمجھ کر مجھ سے بہت خوش ہوتے تھے اور کہتے تھے کہ بس تم ہمارے کلام کو سمجھتے ہو، رستہ میں مل جاتے تو دس قدم دور سے دیکھ کر کھڑے ہو جاتے اور جو نیا شعر کہا ہوتا اُسے وہیں سے اکڑ کر پڑھتے، پھر شعر سنتے سناتے چلتے۔ قلعہ کے نیچے میدان میں گھنٹوں ٹہلتے اور شعر پڑھتے رہتے۔ غریب خانہ پر بھی تشریف لاتے اور پہر بھر سے کم نہ بیٹھتے۔ ایک دن راستہ میں ملے، دیکھتے ہی کہنے لگے، آج گیا تھا اُنھیں بھی سُنا آیا۔ میں کہا کیا؟ کڑک کر کہا :

ڈیڑھ جز پر بھی تو ہے مطلع و مقطع غائب

غالبؔ آسان نہیں صاحب دیوان ہونا

پھر بیان کیا کہ ایک جلسہ میں مومن خاں بھی موجود تھے۔ مجھ سے سب نے شعر کی فرمائش کی۔ میں نے ناسخؔ کی غزل پر غزل کہی تھی، وہ سنائی، مقطع پر بہت حیران ہوئے۔ ع : کہ” جس کو کہتے ہیں چرخ ہفتم ورق ہے دیوان ہفت میں کا” پوچھنے لگے کہ کیا آپ ساتواں دیوان لکھتے ہیں، میں نے کہا کہ ہاں اب تو آٹھواں دیوان ہے، چپ ہو گئے۔

عمومی واقعات پر اکثر شعر کہا کرتے تھے۔ مومن خاں کو  کنور اجیت سنگھ نے ہتنی دی۔  (دیکھو صفحہ) آپ نے کہا۔

جہنموں میں وہ مومنؔ مکان لیتا ہے

نجومی بن کے جو ہتنی کا دان لیتا ہے

دلی میں شیریں ایک بڑی نامی رنڈی تھی، وہ حج کو چلی، آپ نے کہا :

بجا ہے شیریں اگر چھوڑ دلی حج کو چلی

مثل ہے نو سو چوہے کھا کے بلّی حج کو چلی

۲۰، ۳۰ برس ہو گئے، وہ چرچے نہ رہے، اکثر شعر یاد تھے، حافظہ نے بے وفائی کی، شاید حروف و کاغذ وفا کریں، جو یاد ہے لکھ دیتا ہوں اور اُن کی جاں خراشی اور بربادی کا افسوس کرتا ہوں۔

ہیں مچھلیاں بھووں کی چیں پر شکن کے اندر

اُلٹی ہے بہتی گنگا مچھلی بھون کے اندر

دنیائے منقلب کا اُلٹا ہے کارخانہ

ہے مہر شمع و اژوں، اس انجمن کے اندر

میں وہ ہوں نخل جوئے سلسبیل دریائی

ہے میری کشتی گل نارجیل دریائی

مجھے اُترتی ہے گرداب آسماں سے وحی

ہے راہبر خضر جبرئیل دریائی

میں کالا پانی پڑا ناپتا ہوں روز و شب

زمیں کا گز ہے مرا کلکِ میں دریائی

بنا ہے کنگرہ خارد، ملک دشت حصار

مرا ہے آبلہ بُرجِ فصیل دریائی

ہے آبشاری کی مضمونِ آبدار کو دہت

ہمارا خامہ ہے خرطوم فیل دریائی

جہاز ہے مرا اک تار لنگرِ دم پر

مرے عمل میں ہے جر ثقیل دریائی

میں اپنے کوچ کی ہوں موج میں بہا جاتا

حباب دار ہوں کوسِ رحیل دریائی

ہماری موج تلاطم سے آشنائی ہے

یہ آب شور ہے دیتا رفیل دریائی

ہے اوجِ مردمکِ دیدہ، مردم آبی

نکال دیدہ تر سے سبیل دریائی

وحشت مجھے زنجیر پہناتی ہی تھی اکثر

طفلی میں بھی ہنسلی مری جاتی ہی تھی اکثر

جب تھا زر گل کیسئہ غنچہ کی گرد میں

بلبل پڑی گلچھّرے اڑاتی ہی تھی اکثر

دم کا جو دمدمہ یہ باندھے خیال اپنا

بے پل صراط اتریں، یہ ہے کمال اپنا

طفلی ہی سے ہے مجھ کو وحشت سرا سے الفت

سم میں گڑا ہوا ہے آہو کے نال اپنا

کسب شہادت اپنا ہے یاد کس کو قاتل

سانچے میں تیغ کے سر لیتے ہیں ڈھال اپنا

بھاتا ہے جوش عشقِ شیریں وشوں میں رونا

ہے آب شور گریہ آب زلال اپنا

چیچک کے آبلوں کی میں باگ موڑتا ہوں

———————————–

تصنیفات فارسی

فارسی کی تصنیفات کی حقیقت حال کا لکھنا اور اُن پر رائے لکھنی اُردو کے تذکرہ نویس کا کام نہیں ہے، اس لئے فقط فہرست لکھتا ہوں۔

قصائد؛ حمد و نعت ائمہ معصومین کی مدح میں، بادشاہ دہلی، شاہ اودھ، گورنروں اور بعض صاحبان عالیشان کی تعریف میں ہیں۔

غزلوں کا دیوان۔ مع دیوان قصائد کے ۳۳ و ۳۵ء میں مرتب ہو کر نقلوں کے ذریعہ اہل ذوق میں پھیلا، اور اب تک کئی دفعہ چھپ چکا ہے۔

پنج آہنگ : اس میں پانچ آہنگ کے پانچ باب فارسی کے انشا پردازوں کے لئے جو کہ ان کے انداز میں لکھنا چاہیں ایک عمدہ تصنیف ہے۔

۱۸۶۲ء میں قاطع برہان چھپی، بعد کچھ تبدیلی کے اسی کو پھر چھپوایا اور درفش کادیانی نام رکھا، برہان قاطع کی غلطیاں نکالی ہیں مگر پر فارسی کے دعویداروں سخت حملوں کے ساتھ مخالفت کی۔

نامہ غالبؔ : قاطع برہان کے کئی شخصوں نے جواب لکھے ہیں۔ چنانچہ میرٹھ میں حافظ عبد الرحیم نام ایک معلم نابینا تھے، انھوں نے اس کا جواب ساطع برہان لکھا، مرزا صاحب نے خط کے عنوان میں حافظ صاحب موصوف کو بطور جواب کے چند ورق لکھے اور ان کا نام نامہ غالب رکھا۔

مہر نیمروز : حکیم احس اللہ خاں طبیب خاص بادشاہ کے تھے۔ انھیں تاریخ کا شوق تھا۔ اور اہلِ کمال کے ساتھ عموماً تعلق خاطر رکھتے تھے۔ مرزا نے ان کے ایما سے اول کتاب مذکور کا ایک حصہ لکھا۔ اسی کے ذریعہ سے ۱۸۵۰ء میں باریاب حضور ہو کر خدمت تاریخ نویسی پر مامور ہوئے اور نجم الدولہ دبیر الملک مرزا اسد اللہ خاں غالبؔ بہادر نظامِ جنگ خطاب ہوا، چنانچہ پہلی جلدیں امیر تیمور سے ہمایوں تک کا حال بیان کر کے مہرنیمروز نام رکھا۔ ارادہ تھا کہ اکبر سے لے کر بہادر شاہ تک کا حال لکھیں اور ماہ نیم ماہ نام رکھیں کہ غدر ہو گیا۔

دستنبو : ۱۱ مئی ۱۸۵۷ء سے یکم جولائی ۱۸۵۸ ء تک حال بغاوت، روداد تباہی شہر، اپنی سرگزشت، غرض کل ۱۵ مہینے کا حال لکھا۔

سید چیں : دو تین قصیدے، چند قطعے، چند خطوط فارسی کے اس میں ہیں کہ دیوان میں درج نہ ہوئے تھے۔

اواخر عمر میں اپنا کلام اپنے پاس نہ رکھتے تھے، اردو کی تصنیفات، نواب حسین مرزا صاحب کے پاس رہتی تھیں اور ترتیب کرتے جاتے تھے۔ فارسی نواب ضیاء الدین  احمد صاحب کو بھیج دیتے تھے کہ انھیں نیّر رخشاں تخلص کر کے اپنا شاگرد رشید اور خلیفہ اول قرار دیا تھا، خلیفہ دوم، نواب علاؤ الدین خاں صاحب تھے۔

ان کے خطوں سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ اپنی انشا پردازی کے شوق کو بڑی کاوش اور عرق ریزی سے نباہتے تھے، اسی واسطے مرنے سے ۱۰، ۱۵ برس پہلے ان کی تحریریں اردو میں ہوتی تھیں، چنانچہ ایک دوست کے خط میں خود فرماتے ہیں۔

بندہ نواز! زبان فارسی میں خطوں کا لکھنا پہلے سے متروک ہے، پیرانہ سری اور ضعف کے صدموں سے محنت پژدہی اور جگر کادی کی قوت  مجھ میں نہیں رہی۔ جرأت عزیزی کو زوال ہے اور یہ حال ہے کہ :

مضمحل ہو گئے قویٰ غالبؔ

وہ عناصر میں اعتدال کہاں

کچھ آپ ہی کی تخصیص نہیں، سب دوستوں کو جن سے کتابت رہتی ہے، اردو ہی میں نیاز نامے لکھا کرتا ہوں۔ جن جن صاحبوں کی خدمت میں آگے میں نے فارسی زبان میں خطوط لکھے اور بھیجے تھے، ان میں سے الی الآن موجود ہیں، اُن سے بھی عند الضرورت اسی زبان مروج میں مکاتیب مراسلت کا اتفاق ہوا کرتا ہے۔

اردوئے معلیٰ میں مرزا حاتم علی مہرؔ کو تحریر فرماتے ہیں “میرا ایک قطعہ ہے کہ وہ میں نے کلکتہ میں کہا تھا، تقریب یہ کہ مولوی کرم حسین ایک میرے دوست تھے، انھوں نے ایک مجلس میں چکنی ڈلی بہت پاکیزہ اور بے ریشہ اپنے کف دست پر رکھ کر مجھ سے کہا کہ اس کی تشبیہات نظم کیجئے، میں نے بیٹھے بیٹھے نو، دس شعر کا قطعہ لکھ کر ان کو دیا اور صلہ میں وہ ڈلی اُن سے لی۔

قطعہ

ہے جو صاحب کے کفِ دست پہ یہ چکنی ڈلی

زیب دیتا ہے اُسے جس قدر اچھا کہیے

خامہ انگشت بدنداں کہ اسے کیا کہیے

ناطقہ سر بہ گریباں کہ اسے کیا کہیے

اخترِ سوختہ قیس سے نسبت دیجیے

خالِ مشکینِ رُخِ دلکش لیلے ٰ کہیے

حجر الاسود و دیوارِ حرم  کیجئے فرض

نافہ آہوئے بیابان ختن کا کہیے

صومعہ میں اسے ٹھہرائیے گر مُہرِ نماز

میکدہ میں اسے خشتِ خم صہبا کہیے

مسی آلودہ سرانگشت حسینان لکھیئے

سر پستانِ پریزاد سے مانا کہیے

اپنے حضرت کے کفِ دست کو دل کیجئے فرض

اور اس چکنی سپاری کو سویدا کہیے

غرضیکہ بیس بائیس پھبتیاں ہیں، اشعار سب کب یاد آتے ہیں، بھول  گیا۔

نواب زینت محل کو بادشاہ کے مزاج میں بہت دخل تھا، مرزا جواں بخت اُن کے بیٹے تھے اور باوجودیکہ بہت مرشد زادوں سے چھوٹے تھے، مگر بادشاہ انہی کی ولی عہدی کے لئے کوشش کر رہے تھے، جب اُن کی شادی کا موقع آیا تو بڑی دھوم کے سامان ہوئے۔ مرزا نے یہ سہرا کہہ کر حضور میں گزرانا۔

سہرا

خوش ہو اے بخت کہ ہے آج ترے سر سہرا

باندھ شہزادہ جواں بخت کے سر پر سہرا

کیا ہی اس چاند سے مکھڑے پہ بھلا لگتا ہے

ہے ترے حسنِ دل افروز کا زیور سہرا

سر پر چڑھنا تجھے پھبتا ہے پر اے طرف کلاہ

مجھ کو ڈر ہے کہ نہ چھینے ترا لمبر سہرا

ناؤ بھر کر ہی پروئے گئے ہوں گے موتی

ورنہ کیوں لائے ہیں کشتی میں لگا کر سہرا

سات دریا کے فراہم کئے ہوں گے موتی

تب بنا ہو گا اس انداز کا گز بھر سہرا

رُخ پہ دولھا کے جو گرمی سے پسینہ ٹپکا

ہے رگ ابر گہر بار سراسر سہرا

یہ بھی اک بے ادبی تھی قبا سے بڑھ جائے

رہ گیا آن کے دامن کے برابر سہرا

جی میں اترائیں نہ موتی کہ ہمیں ہیں اک چیز

چاہیے پھولوں کا بھی ایک مقرر سہرا

جبکہ اپنے میں سماویں خوشی کے مارے

گوندھے پھولوں کا بھلا پھر کوئی کیونکر سہرا

رُخِ روشن کی مدگ گوہر غلطاں کی چمک

کیوں نہ دکھلائے فروغِ مہ و اختر سہرا

تار ریشم کا نہیں ہے یہ رگِ ابر بہار

لائے گا تاب گرانباری گوہر سہرا

ہم سخن فہم ہیں غالبؔ کے طرفدار نہیں

دیکھیں اس سہرے سے کہہ دے کوئی بہتر سہرا

مقطع کو سُن کر حضور کو خیال ہوا کہ اس میں ہم پر چشمک ہے، گویا اس کے معنی یہ ہوئے کہ اس کے سہرے کے برابر کوئی سہرا کہنے والا نہیں۔ ہم نے شیخ ابراہیم ذوقؔ کو استاد اور ملک الشعرا بنایا ہے، یہ سخن فہمی سے بعید ہے بلکہ طرفداری ہے، چنانچہ اُسی دن استاد مرحوم جس حسبِ معمول حضور میں گئے تو بادشاہ نے وہ سہرا دکھایا کہ استاد دیکھیے، انھوں نے پڑھا اور بموجب عادت کے عرض کی، پیر و مرشد درست، بادشاہ نے کہا کہ اُستاد! تم بھی ایک سہرا کہہ دو، عرض کی، بہت خوب، پھر فرمایا کہ ابھی لکھ دو، اور ذرا مقطع پر بھی نظر رکھنا، استاد مرحوم وہیں بیٹھ گئے۔ اور عرض کیا۔

سہرا

اے جواں بخت مبارک تجھے سر پر سہرا

آج ہے یمن و سعادت کا ترے سر سہرا

آج وہ دن ہے کہ لائے درِ انجم سے فلک

کشتی زر میں مہِ نو کی لگا کر سہرا

یہ کہے صلّ علیٰ وہ کہے سبحان اللہ

دیکھے مکھڑے پہ جو تیرے مہ و اختر سہرا

تا بنی اور بنے میں رہے اخلاص بہم

گوندھیے سورۃ اخلاص کو پڑھ کر سہرا

دھوم ہے گلشن آفاق میں اس سہریکی

گائیں مرغانِ نواسنج نہ کیونکر سہرا

روئے فرخ پہ جو ہیں تیرے برستے انوار

تار بارش سے بنا ایک سراسر سہرا

تابشِ حُسن سے مانند شعاعِ خورشید

رُخِ پر نور پہ ہے تیرے منّور سہرا

ایک کو ایک پہ تزئیں ہے دمِ آرائش

سر پر دستار ہے دستار کے اوپر سہرا

اک گہر بھی نہیں صد کان گہر میں چھوڑا

تیرا بنوایا ہے لے لے کے جو گوہر سہرا

پھرتی خوشبو سے ہے اتراتی ہوئی باد بہار

اللہ اللہ رے پھولوں کا معطر سہرا

سر پہ طرّہ ہے مزین تو گلے میں بدّھی

کنگنا ہاتھ میں زیبا ہے تو منھ پر سہرا

رونمائی میں تجھے دے مہِ خورشید فلک

کھول دے رُخ کو جو تو منھ سے اٹھا کر سہرا

کثرتِ تار نظر سے ہے تماشائیوں کے

دمِ نظارہ ترے روئے نکو پر سہرا

درِّ خوش آب مضامیں سے بنا کر لایا

واسطے تیرے ترا ذوقؔ شناگر سہرا

جس کو دعویٰ ہے سخن کا یہ سنا دے اس کو

دیکھ اس طرح سے کہتے ہیں سخنور سہرا

اربابِ نشاط حضور میں ملازم تھیں، اسی وقت انھیں ملا، شام تک شہر کی گلی گلی، کوچہ کوچہ میں پھیل گیا، دوسرے ہی دن اخباروں میں مشتہر ہو گیا۔ مرزا بھی بڑے ادا شناس اور سخن فہم تھے، سمجھے تھے کچھ اور ہو گیا کچھ اور، یہ قطعہ حضور میں گزرانا :

قطعہ در معذرت

منظور ہے گزارشِ احوالِ واقعی

اپنا بیانِ حُسنِ طبیعت نہیں مجھے

سو (۱۰۰) سے ہے پیشہ آبا سپہگری

کچھ شاعری ذریعہ عزت نہیں مجھے

آزادہ رو ہوں اور مرا مسلک ہے صلح کل

ہرگز کبھی کسی سے عداوت نہیں مجھے

کیا کم ہے یہ شرف کہ ظفر کا غلام ہوں

مانا کہ جاہ و منصب و ثروت نہیں مجھے

اُستاد شہ سے ہو مجھے پرخاش کا خیال

یہ تاب یہ مجال یہ طاقت نہیں مجھے

جامِ جہاں نما ہے شہنشاہ کا ضمیر

سوگند اور گواہ کی حاجت نہیں مجھے

میں کون ہوں اور ریختہ، ہاں اس سے مُدّعا

جز انبساط خاطِر حضرت نہیں مجھے

سہرا لکھا گیا زرہِ امتشالِ امر

دیکھا کہ چارہ غیر اطاعت نہیں مجھے

مقطع میں آ پڑی ہے سخن گسترانہ بات

مقصود اس سے قطعِ محبت نہیں مجھے

روئے سخن کسی کی طرف ہو تو رو سیاہ

سودا نہیں، جنوں نہیں، وحشت نہیں مجھے

صادق ہوں اپنے قول کا غالبؔ خدا گواہ

کہتا ہوں سچ کہ جھوٹ کی عادت نہیں مجھے

کلکتہ میں بہت سے اہل ایران اور بڑے بڑے علما و فضلا موجود تھے۔ مگر افسوس ہے کہ وہاں مرزا کے کمال کے لئے ایسی عظمت نہ ہوئی جیسی کہ ان کی شان کے لئے شایاں تھی، حقیقت میں ان کی عظمت ہونی چاہیے تھی، اور ضرور ہوتی، مگر ایک اتفاقی پیچ پڑ گیا۔ اس کی داستان یہ ہے کہ مرزا نے کسی جلسہ میں ایک فارسی غزل پڑھی، اس میں ایک لفظ پر بعض اشخاص نے اعتراض کیا، اور اعتراض بموجب اس قاعدہ کے تھا جو مرزا قتیل نے ایک اپنے رسالہ میں لکھا ہے۔ مرزا نے سن کہا کہ قتیل کون ہوتا ہے ؟ اور مجھے مرزا قتیل سے کام کیا؟ ایک فرید آباد کا کھتری تھا، میں اہل زبان کے سوا کسی کو نہیں سمجھتا، وہ لوگ اکثر مرزا قتیل کے شاگرد تھے، اس لئے آئین مہمان نوازی سے آنکھیں بند کر لیں اور جوش و خروش خاص و عام میں پیدا ہوا۔ مرزا کو تعجب ہوا۔ اور اس خیال سے کہ یہ فتنہ کسی طرح فرو ہو جائے، سلامت روی کا طریقہ اختیار کر کے ایک مثنوی لکھی اور اس میں کچھ شک نہیں کہ داد سخن دری کی دی ہے، معرکہ کا سارا ماجرا نہایت خوبی کے ساتھ نظم میں ادا کیا، اعتراض کو سند سے دفع کیا، اپنی طرف انکسار مناسب کے ساتھ معذرت کا حق پورا کیا، لیکن زیادہ افسوس یہ ہے کہ جب مثنوی حریفوں کے جلسہ میں پڑھی گئی تو بجائے اس کے کمال کو تسلیم کرتے یا مہمان سے اپنی زیادتیوں کا عذر کرتے، ایک نے عمداً کہا کہ اس مثنوی کا نام کیا ہے ؟ معلوم ہوا کہ باد مخالف، دوسرے نے گلستاں کا فقرہ پڑھا یکے از صلحا را باد مخالف در شکم پیچیدا اور سب نے ہنس دیا۔

لطیفہ : دلی میں مشاعرہ تھا، مرزا نے اپنی فارسی غزل پڑھی، مفتی صدر الدین خاں صاحب اور مولوی امام بخش صہبائی جلسہ میں موجود تھے، مرزا صاحب نے جس وقت یہ مصرع پڑھا۔

ع : بوادی کہ دراں خضر را عصا خفت است

مولوی صہبائی کی تحریک سے مفتی صاحب نے فرمایا کہ عصا خفت است میں کلام ہے۔ مرزا صاحب نے کہا کہ حضرت! میں ہندی نژاد ہوں، میرا عصا پکڑ لیا، اس شیرازی کا عصا نہ پکڑا گیا۔

ع: دے بجملہ اول عصائے شیخ بہ خُفت

انھوں نے کہا کہ اصل محاورہ میں کلام نہیں، کلام اس میں ہے کہ مناسب مقام ہے یا نہیں۔

لطیفہ : ایک دفعہ مرزا بہت قرض دار ہو گئے۔ قرض خواہوں نے نالش کر دی، جوابدہی میں طلب ہوئے، مفتی صاحب کی عدالت تھی، جس وقت پیشی میں گئے، یہ شعر پڑھا۔

قرض کی پیتے تھے مے لیکن سمجھتے تھے کہ ہاں

رنگ لائے گی ہماری فاقہ مستی ایک دن

مرزا صاحب کو ایک آفت ناگہانی کے سبب سے چند روز جیل خانہ میں اس طرح رہنا پڑا کہ جیسے حضرت یوسف کو زندان مصر میں، کپڑے میلے ہو گئے، جوئیں پڑ گئی تھیں، ایک دن بیٹھے ان میں سے جوئیں چُن رہے تھے، ایک رئیس وہیں عیادت کو پہونچے۔ پوچھا کیا حال ہے، آپ نے یہ شعر پڑھا :

ہم غمزدہ جس دن سے گرفتار بلا ہیں

کپڑوں میں جوئیں بخیوں کے ٹانکوں سے سوا ہیں

جس دن وہاں سے نکلنے لگے اور لباس تبدیل کرنے کا موقع آیا تو وہاں کا کرتہ وہیں پھاڑ کر پھینکا اور یہ شعر پڑھا۔

ہائے اس چارہ گر کپڑے کی قسمت غالبؔ

جس کی قسمت میں ہو عاشق کا گریباں ہونا

حسین علی خاں چھوٹا لڑکا ایک دن کھیلتا کھیلتا آیا کہ دادا جان مٹھائی منگا دو۔ آپ نے فرمایا کہ پیسے نہیں، وہ صندوقچہ کھول کر اِدھر اُدھر پیسے ٹٹولنے لگا، آپ نے فرمایا۔

درم دوام اپنے پاس کہاں

چیل کے گھونسلے میں ماس کہاں

پنشن سرکار سے ماہ بماہ ملتی تھی، بغاوت دہلی کے بعد حکم ہوا کہ ششماہی ملا کرے، اس موقع پر ایک دوست کو لکھتے ہیں۔

سِم ہے مردہ کی چھ ماہی ایک

خلق کا ہے اس چلن پہ مدار

مجھکو دیکھو کہ ہوں بقید حیات

اور چھ ماہی ہو سال میں دو بار

مگر یہ دو شعر حقیقت میں ایک قصیدے کے ہیں، جس کی بدولت بادشاہ دہلی دربار ششماہی تنخواہ کے لئے ماہواری کا حکم حاصل کیا تھا۔ فارسی کے قصائد میں بھی اس قسم کے عزل و نصب انھوں نے اکثر کئے ہیں اور یہ کچھ عجیب بات نہیں، انوری وغیرہ اکثر شعرا نے ایسا کیا ہے۔

لطیفہ : مولوی فضل حق صاحب مرزا کے بڑے دوست تھے، ایک دن مرزا ان کی ملاقات کو گئے، اُن کی عادت تھی کہ جب کوئی بے تکلف دوست آیا کرتا تو خالق باری کا یہ مصرع پڑھا کرتے تھے۔

ع : “بیا برادر آؤ رے بھائی”

چنانچہ مرزا صاحب کی تعظیم کو اُٹھ کھڑے ہوئے اور یہی مصرع کہہ کر بٹھایا، ابھی بیٹھے ہی تھے کہ مولوی صاحب کی رنڈی بھی دوسرے دالان سے اُٹھ کر پاس آن بیٹھی، مرزا نے فرمایا، ہاں صاحب وہ دوسرا مصرع بھی فرما دیجیئے۔

ع “بننشیں مادر بیٹھ ری مائی”

لطیفہ : مرزا کی قاطع برہان کے بہت شخصوں نے جواب لکھے ہیں، اور بہت زبان درازیاں کی ہیں۔ کسی نے کہا کہ حضرت آپ نے فلاں شخص کی کتاب کا جواب نہ لکھا، فرمایا بھائی اگر کوئی گدھا تمھارے لات مارے تو تم اس کا کیا جواب دو گے ؟

لطیفہ : بہن بیمار تھیں، آپ عیادت کو گئے۔ پوچھا کیا حال ہے۔ وہ بولیں مرتی ہوں، قرض کی فکر ہے کہ گردن پر لئے جاتی ہوں۔ آپ نے کہا کہ بُوا! بھلا یہ کیا فکر ہے ! خدا کے ہاں کیا مفتی صدر الدین خاں بیٹھے ہیں جو ڈگری کر کے پکڑوا بلائیں گے۔

لطیفہ : ایک دن مرزا کے شاگرد رشید نے آ کر کہا کہ حضرت آج میں خسرو کی قبر پر گیا، مزار پر کھرنی کا درخت ہے۔ اس کی کھرنیاں میں نے خوب کھائیں۔ کھرنیوں کا کھانا تھا، کہ گویا فصاحت و بلاغت کا دروازہ کھل گیا، دیکھئے تو میں کیسا فصیح ہو گیا۔ مرزا نے کہا کہ ارے میاں تین کوس کیوں گئے، میرے پچھواڑے کے پیپل کی پیپلیاں کیوں نہ کھا لیں، چودہ طبق روشن ہو جاتے۔

لطیفہ : بعض بعض (یہ لطیفہ کئی شاعروں کی طرف منسوب ہے ) شاگردوں نے مرزا سے کہا کہ آپ نے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی مدح میں بہت قصیدے اور بڑے بڑے  زور کے قصیدے کہے، صحابہ میں سے کسی کی تعریف میں کچھ نہ کہا؟ مرزا نے ذرا تامل کر کے کہا کہ اُن میں کوئی ایسا دکھا دیجیے تو اس کی تعریف بھی کہہ دوں۔ مرزا صاحب کی شوخی طبع ہمیشہ اُنھیں اُس رنگ میں شور بور رکھتی تھی، جس سے ناواقف لوگ انھیں الحاد کی تہمت لگائیں اور چونکہ یہ رنگ ان کی شکل و شان پر عجب معلوم ہوتا تھا، اس لئے اُن کے دوست ایسی باتوں کو سُن کر چونکتے تھے، جوں جوں وہ چونکتے تھے وہ اور بھی زیادہ چھینٹے اُڑاتے تھے۔ ان کی طبیعت سرور شراب کی عادی تھی، لیکن اسے گناہ الہٰی سمجھتے تھے اور یہ بھی عہد تھا کہ محرم میں ہرگز نہ پیتے تھے۔

لطیفہ : غدر کے چند روز بعد پنڈت موتی لال کہ ان دنوں میں مترجم گورنمنٹ پنجاب کے تھے، صاحب چیف کمشنر پنجاب کے ساتھ دلی گئے۔ اور حُّب الوطن اور محبت فن کے سبب سے مرزا صاحب سے ملاقات کی۔ اُن دنوں میں پنشن بند تھی۔ دربار کی اجازت نہ تھی۔ مرزا بہ سبب دل شکستگی کے شکوہ شکایت سے لبریز ہو رہے تھے۔ اثنائے گفتگو میں کہنے لگے کہ عمر بھر ایک دن شراب نہ پی ہو تو کافر اور ایک دفعہ بھی نماز پڑھی ہو تو مسلمان نہیں۔ پھر میں نہیں جانتا کہ مجھے سرکار نے باغی مسلمانوں میں کس طرح شامل سمجھا۔

لطیفہ : بھوپال سے ایک شخص دلی کی سیر کو آئے۔ مرزا صاحب کے بھی مشتاق ملاقات تھے، چنانچہ ایک دن ملنے کو تشریف لائے۔ وضع سے معلوم ہوتا تھا کہ نہایت پرہیزگار اور پارسا شخص ہیں، اُن سے بہ کمال اخلاق پیش آئے مگر معمولی وقت تھا، بیٹھے سرور کر رہے تھے، گلاس اور شراب کا شیشہ آگے رکھا تھا، اُس بے چارہ کو خبر نہ تھی کہ آپ کو یہ شوق بھی ہے۔ انھوں نے کسی شربت کا شیشہ خیال کر کے ہاتھ میں اُٹھا لیا۔ کوئی شخص پاس سے بولا کہ جناب یہ شراب ہے۔ بھوپالی صاحب نے جھٹ شیشہ ہاتھ سے رکھ دیا اور کہا میں نے تو شربت کے دھوکے میں اُٹھایا تھا۔ مرزا نے مسکرا کر ان کی طرف دیکھا اور فرمایا کہ زہے نصیب دھوکے میں نجات ہو گئی۔

لطیفہ : ایک دفعہ رات کو انگنائی میں بیٹھے تھے، چاندنی رات تھی۔ تارے چھٹکے ہوئے تھے۔ آپ آسمان دیکھ کر فرمانے لگے کہ جو کام بے صلاح و مشورہ ہوتا ہے بے ڈھنگا ہوتا ہے۔ خدا نے ستارے آسمان پر کسی سے مشورہ کر کے نہیں بنائے، جبھی بکھرے ہوئے ہیں، نہ کوئی سلسلہ نہ زنجیر نہ بیل نہ بوٹہ۔

لطیفہ : ایک مولوی صاحب جن کا مذہب سنت جماعت تھا۔ رمضان کے دنوں میں ملاقات کو آئے۔ عصر کی نماز ہو چکی تھی، مرزا نے خدمتگار سے پانی مانگا، مولوی صاحب نے کہا، حضرت غضب کرتے ہیں۔ رمضان میں روزے نہیں رکھتے، مرزا نے کہا، سُنّی مسلمان ہوں چار گھڑی دن سے روزہ کھول لیا کرتا ہوں۔

لطیفہ : رمضان کا مہینہ تھا، آپ نواب حسین مرزا کے ہاں بیٹھے تھے، پان منگا کر کھایا، ایک صاحب (مرزا صفدر علی صاحب مرحوم مرزا عسکری مرحوم کے پوتے تھے جن کا امامباڑہ ابھی تک نٹوں کے کوچہ میں کھنڈر پڑا ہے ؟) فرشتہ سیرت نہایت متقی و پرہیز گار اس وقت حاضر تھے، انھوں نے متعجب ہو کر پوچھا کہ قبلہ آپ روزہ نہیں رکھتے، مسکرا کر بولے، شیطان غالب ہے۔

یہ لطیفہ اہل ظرافت میں پہلے سے بھی مشہور ہے کہ عالمگیر کا مزاج سرمد سے مکدر تھا، اس لئے ہمیشہ اس کا خیال رکھتے تھے، چنانچہ قاضی قوی جو اس عہد میں قاضی شہر تھا، اس نے ایک موقع پر سرمد کو بھنگ پیتے ہوئے جا پکڑا، اول بہت سے لطائف و ظرافت کے ساتھ جواب سوال ہوئے، آخر جب قاضی نے کہا کہ نہیں ! شرع کا حکم اسی طرح ہے کیوں حکیم الہٰی کے برخلاف باتیں بناتا ہے، اس نے کہا کہ کیا کروں شیطان قوی ہے۔

لطیفہ : جاڑے کا موسم تھا۔ ایک دن نواب مصطفیٰ خاں صاحب مرزا کے گھر آئے، آپ نے ان کے آگے شراب کا گلاس بھر کر رکھ دیا، وہ ان کا منھ دیکھنے لگے۔ آپ نے فرمایا لیجئے، چونکہ وہ تائب ہو چکے تھے، انھوں نے کہا کہ میں نے تو توبہ کی، آپ متعجب ہو کر بولے کہ ہیں جاڑے میں بھی؟

لطیفہ : ایک صاحب نے اُن کے سنانے کو کہا کہ شراب پینا سخت گناہ ہے، آپ نے ہنس کر کہا بھلا جو پئے تو کیا ہوتا ہے، انھوں نے کہا کہ ادنیٰ بات یہ ہے کہ دعا نہیں قبول ہوتی۔ مرزا نے کہا کہ آپ جانتے ہیں شراب پیتا کون ہے ؟ اول تو وہ کہ ایک بوتل اولڈ ٹام کی، باسامان سامنے حاضر ہو، دوسرے بے فکری، تیسرے صحت، آپ فرمائیے کہ جسے یہ سب کچھ حاصل ہو اُسے اور چاہیے کیا، جس کے لئے دعا کرے۔

مرزا صاحب کو مرنے سے ۲۰ برس پہلے اپنی تاریخ فوت کا ایک مادہ ہاتھ آیا، وہ بہت بھایا اور اُسے موزوں فرمایا۔

تاریخ فوت

منکہ ہاشم کہ جاوداں ہاشم

چوں نظیری نماند طالب مُرد

در بپر سند در کدا میں سال

مرد غالب، بگو کہ غالب مُرد

اس حساب سے ۱۲۷۷ھ میں مرنا چاہیے تھا، اسی سال شہر میں سخت وبا آئی، ہزاروں آدمی مر گئے، ان دنوں دلی کی بربادی کا غم تازہ تھا، چنانچہ میر مہدی صاحب کے جواب میں آپ فرماتے ہیں، وبا کو کیا پوچھتے ہو، قدر انداز قضا کے ترکش میں یہی ایک تیر باقی تھا، قتل ایسا عام لوٹ ایسی سخت، کال ایسا پڑا، وبا کیوں نہ ہو۔ لسان الغیب نے دس (۱۰) برس پہلے فرمایا ہے۔

ہو چکیں غالبؔ بلائیں سب تمام

ایک مرگ ناگہانی اور ہے

(اپنے تئیں لسان الغیب قرار دیا۔)

میاں ! ۱۲۷۷ھ کی بات غلط نہ تھی، مگر میں نے وبائے عام میں مرنا اپنے لائق نہ سمجھا، واقعی اس میں میری کسر شان تھی، بعد رفع فساد سمجھ لیا جائے گا!

غزلیں

شمار سجہ مرغوب بت مشکل پسند آیا

تماشائے بیک کف برون صد دل پسند آیا

بہ فیض بیدلی نومیدی جاوید آساں ہے

کشائش کو ہمارا عقدہ مشکل پسند آیا

ہوائے سبز گل آئینہ بے مہری قاتل

کہ انداز بخوں غلطیدنِ بسمل پسند آیا

*-*-*-*-*-*-*-*-*-*

دہر میں نقش وفا وجہ تسلّی نہ ہوا

ہے یہ وہ لفظ کہ شرمندہ معنی نہ ہوا

سبزہ خط سے ترا کاکل سرکش نہ دبا

یہ زمرد بھی حریفِ دمِ افعی نہ ہوا

میں نے چاہا تھا کہ اندوہ وفا سے چھوٹوں

وہ ستمگرمرے مرنے پہ بھی راضی نہ ہوا

دل گزرگاہ خیال مے و ساغر ہی سہی

گر نفس جادہ سر منزلِ تقویٰ نہ ہوا

ہوں ترے وعدہ نہ کرنے میں بھی راضی کہ کبھی

گوش منت کش گلبانگ تسلی نہ ہوا

کس سے محرومی قسمت کی شکایت کیجیے

ہم نے چاہا تھا کہ مر جائیں سو وہ بھی نہ ہوا

مر گیا صدمہ یک جنبش لب سے غالبؔ

ناتوانی سے حریف دمِ عیسیٰ نہ ہوا

*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*

کل کے لئے کر آج نہ خست شراب میں

یہ سوئے ظن ہے ساقی کوثر کے باب میں

ہیں آج کیوں ذلیل کہ کل تک نہ تھی پسند

گستاخیِ فرشتہ ہماری جناب میں

جان کیوں نکلنے لگتی ہے تن سے دم سماع

گر وہ صدا سمائی ہے چنگ و رباب میں

رو میں ہے رخشِ عمر کہاں دیکھئے تھمے

نے ہاتھ باگ پر ہے نہ پا ہے رکاب میں

اتنا ہی مجھکو اپنی حقیقت سے بعد ہے

جتنا کہ وہم غیر سے ہوں پیچ و تاب میں

اصل شہود و شاہد و مشہود ایک ہے

حیران ہوں پھر مشاہدہ ہے کس حساب میں

ہے مشتمل نمود صور پر وجود سحر

یاں کیا دھرا ہے قطرہ و موج و حباب میں

شرم اک ادائے ناز ہے اپنے ہی سے سہی

ہیں کتنے بے حجاب کہ ہیں یوں حجاب میں

آرائش جمال سے فارغ نہیں ہنوز

پیش نظر ہے آئینہ دائم نقاب میں

ہیں غیب غیب جس کو سمجھتے ہیں ہم شہود

ہیں خراب میں ہنوز جو جاگے ہیں خواب میں

غالبؔ ندیم دوست سے آتی ہے بوئے دوست

مشغول حق ہوں بندگیِ بوتراب میں

*-*-*-*-*-*-*-*-*-*

آہ کو چاہیے اِک عمر اثر ہونے تک

کون جیتا ہے تری زلف کے سر ہونے تک

دامِ ہر حلقہ میں ہے حلقہ صد کام نہنگ

دیکھیں کیا گزرے ہے قطرے پہ گہر ہونے تک

عاشقی صبر طلب، اور تمنا بیتاب

دل کا کیا رنگ کروں خونِ جگر ہونے تک

ہم نے مانا کہ تغافل نہ کرو گے لیکن

خاک ہو جائیں گے ہم تم کو خبر ہونے تک

پرتوِ خور سے ہے شبنم کو فنا کی تعلیم

میں بھی ہوں ایک عنایت کی نظر ہونے تک

یک نظر بیش نہیں فرصتِ ہستی غافل

گرمی بزم ہے اک رقصِ شرر ہونے تک

غم ہستی کا اسدؔ کس سے ہو جز مرگ علاج

شمع ہر رنگ میں جلتی ہے سحر ہونے تک

*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*

یہ نہ تھی ہماری قسمت کہ وصال یار ہوتا

اگر اور جیتے رہتے یہی انتظار ہوتا

ترے وعدہ پہ جئے ہم تو یہ جان جھوٹ جانا

کہ خوشی سے مر نہ جاتے اگر اعتبار ہوتا

تری نازکی سے جانا کہ بندھا تھا عہد بودا

کبھی تو نہ توڑ سکتا اگر استوار ہوتا

کوئی میرے دل سے پوچھے تری تیر نیم کش کو

یہ خلش کہاں سے ہوتی جو جگر کے پار ہوتا

یہ کہاں کی دوستی ہے کہ بنے ہیں دوست ناصح

کوئی چارہ ساز ہوتا کوئی غم گسار ہوتا

رگِ سنگ سے ٹپکتا وہ لہو کہ پھر نہ تھمتا

جسے غم سمجھ رہے ہو یہ اگر شرار ہوتا

کہوں کس سے میں کہ کیا ہے شب غم بُری بلا ہے

مجھے بُرا تھا مرنا اگر ایک بار ہوتا

غم اگرچہ جاں گسل ہے پہ کہاں بچیں کہ دل ہے

غمِ عشق گر نہ ہوتا غمِ روزگار ہوتا

ہوئے مر کے ہم جو رُسوا ہوئے کیوں نہ غرق دریا

نہ کبھی جنازہ اُٹھتا نہ کہیں مزار ہوتا

اُسے کون دیکھ سکتا کہ یگانہ ہے وہ یکتا

جو دوئی کی بو بھی ہوتی تو کہیں دوچار ہوتا

یہ مسائل تصوف یہ ترا بیان غالبؔ

تجھے ہم ولی سمجھتے جو نہ بادہ خوار ہوتا

*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*

درد منت کشِ دوا نہ ہوا

میں نہ اچھا ہوا بُرا نہ ہوا

جمع کرتے ہو کیوں رقیبوں کو

اک تماشا ہوا گِلا نہ ہوا

ہم کہاں قسمت آزمانے جائیں

تو ہی جب خنجر آزما نہ ہوا

کتنے شیریں ہے تیرے لب کہ رقیب

گالیاں کھا کے بے مزا نہ ہوا

ہے خبر گم اُن کے آنے کی

آج ہی گھر میں بوریا نہ ہوا

کیا وہ نمرود کی خدائی تھی

بندگی میں مرا بھلا نہ ہوا

جان دی، دی ہوئی اسی کی تھی

حق تو یوں ہے کہ حق ادا نہ ہوا

زخم گر دب گیا لہو نہ تھما

کام گر رک گیا روا نہ ہوا

رہزنی ہے کہ دل ستانی ہے

لے کے دل دلستاں روا نہ ہوا

کچھ تو کہئے کہ لوگ کہتے ہیں

آج غالبؔ غزل سرا نہ ہوا

*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*

کوئی اُمید بر نہیں آتی

کوئی صورت نظر نہیں آتی

موت کا ایک دن معین ہے

نیند کیوں رات بھر نہیں آتی

آگے آتی تھی حال دل پہ ہنسی

اب کسی بات پر نہیں آتی

جانتا ہوں ثواب طاعت و زہد

پر طبیعت ادھر نہیں آتی

ہے کچھ ایسی ہی بات جو چپ ہوں

ورنہ کیا بات کر نہیں آتی

کیوں نہ چیخوں کہ یاد کرتے ہیں

میری آواز گھر نہیں آتی

داغ دل گر نظر نہیں آتا

بو بھی اے چارہ گر نہیں آتی

ہم وہاں ہیں جہاں سے ہم کو بھی

کچھ ہماری خبر نہیں آتی

مرتے ہیں آرزو میں مرنے کی

موت آتی ہے پر نہیں آتی

کعبہ کس منہ سے جاؤ گے غالبؔ

شرم تم کو مگر نہیں آتی

*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*

حسن مہ گرچہ بہ ہنگام کمال اچھا ہے

اس سے میرا مہ خورشید جمال اچھا ہے

بوسہ دیتے نہیں اور دل پہ ہے ہر لحظہ نگاہ

جی میں کہتے ہیں کہ مفت آئے تو مال اچھا ہے

اور بازار سے لے آئے اگر ٹوٹ گیا

جام جم سے یہ مرا جام سفال اچھا ہے

بے طلب دیں تو مزا اس میں سوا ملتا ہے

وہ گدا جس کو نہ ہو خوئے سوال اچھا ہے

انکے دیکھے سے جو آ جاتی ہے مجھ پر رونق

وہ سمجھتے ہیں کہ بیمار کا حال اچھا ہے

دیکھئے پاتے ہیں عشاق بتوں سے کیا فیض

اک برہمن نے کہا ہے کہ یہ سال اچھا ہے

ہم سخن تیشہ نے فرہاد کو شیریں سے کیا

جس طرح کا کہ کسی میں ہو کمال اچھا ہے

قطرہ دریا میں جو مل جائے تو دریا ہو جائے

کام اچھا ہے وہ جس کا کہ مآل اچھا ہے

خضر سلطان کو رکھے خالق اکبر سرسبز

شاہ کے باغ میں یہ تازہ نہال اچھا ہے

ہم کو معلوم ہے جنت کی حقیقت لیکن

دل کے بہلانے کو غالبؔ یہ خیال اچھا ہے

*-*-*-*-*-*-*-*-*-*

منظور تھی یہ شکل تجلی کو نور کی

قسمت کھُلی ترے قد و رُخ کے ظہور کی

اک خونچکاں کفن میں کروڑوں بناؤ ہیں

پڑتی ہے آنکھ تیرے شہیدوں پہ حُور کی

واعظ نہ تم پیو نہ کسی کو پلا سکو

کیا بات ہے تمھاری شرابِ طہور کی

لڑتا ہے مجھ سے حشر میں قاتل کہ کیوں اُٹھا

گویا ابھی سُنی نہیں آواز صُور کی

آمد بہار کی ہے جو بلبل ہے نغمہ سنج

اُڑتی سی اک خبر ہے زبانی طیور کی

گو واں نہیں پہ واں کے نکالے ہوئے تو ہیں

کعبہ سے ان بتوں کو بھی نسبت ہے دور کی

کیا فرض ہے کہ سب کو ملے ایک سا جواب

آؤ نہ ہم بھی سیر کریں کوہ طور کی

گرمی سہی کلام میں لیکن نہ اس قدر

کی جس سے بات اُس نے شکایت ضرور کی

غالبؔ گر اس سفر میں مجھے ساتھ لے چلیں

حج کا ثواب نذر کروں گا حضور کی

*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*

نوید امن ہے بیداد دوست جاں کے لئے

رہے نہ طرز ستم کوئی آسماں کے لئے

بلا سے گر مژہ یار تشنہ خوں ہے

رکھوں کچھ اپنی بھی مژگاں خونفشاں کے لئے

وہ مردہ ہم میں کہ ہیں روشناس خلق اے خضر

نہ تم کہ چور بنے عمر جاوداں کے لئے

رہا بلا میں بھی میں مبتلائے آفت رشک

بلائے جاں ہے ادا تیری اک جہاں کے لئے

فلک نہ دور رکھ اس سے مجھے کہ میں ہی نہیں

دراز دستی قاتل کے امتحاں کے لئے

سنال یہ مری کوشش کی ہے کہ مرغ اسیر

کرے قفس میں فراہم خس آشیاں کے لئے

گدا سمجھ وہ چپ تھا مری جو شامت آئے

اُٹھا اور اُٹھ کے قدم میں نے پاسباں کے لئے

بقدر شوق نہیں ظرف تنگنائے غزل

کچھ اور چاہیے وسعت مرے بیاں کے لئے

دیا ہے خلق کو بھی تا اُسے نظر نہ لگے

بنا ہے عیش تجمل حسین خاں کے لئے

زباں پہ بارِ خدایا یہ کس کا نام آیا

کہ میرے نطق نے بوسے مری زباں کے لئے

نصیر دولت و دیں اور معین ملت و ملک

بنا ہے چرخِ بریں جس کی آستاں کے لئے

زمانہ عہد میں اُس کی ہے محوِ آرائش

بنیں گے اور ستارے اب آسماں کے لئے

ورق تمام ہوا اور مدح باقی ہے

سفینہ چاہیے اس بحر بیکراں کے لئے

ادائے خاص سے غالبؔ ہوا ہے نکتہ سرا

صلائے عام ہے یارانِ نکتہ داں کے لئے

*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*

 

 

مِرزا سَلامَت علی دبیرؔ

خاندانی شاعر (تذکرہ سراپا سخن میں لکھا ہے کہ اُن کے والد مرزا آغا جان کاغذ فروش تھے، پھر ایک جگہ اس کتاب میں لکھتے ہیں دبیر ولد غلام حسین متعلقان مرزا آغا جان کاغذ فروش سے ہیں مصنف موصوف کو شوق ہے کہ ہر شخص کے باب میں کچھ نہ کچھ نکتہ طنز نکال لیتے ہیں، اسی لئے خاندان کے باب میں نہ یقین ہے نہ شک۔) نہ تھے۔ لڑکپن میں مرثیہ پڑھتے تھے۔ اس شوق نے منبر کی سیڑھی سے مرثیہ گوئی کے عرش الکمال پر پہونچا دیا، میر مظفر حسین صغیر کے شاگرد ہوئے اور جو کچھ اُستاد سے پایا اُسے بہت بلند اور روشن کر کے دکھایا۔ تمام عمر کسی اتفاقی سبب سے کوئی غزل یا شعر کہا ہو ورنہ مرثیہ گوئی کے فن کو لیا اور اس درجہ تک پہونچا دیا جس کے آگے ترقی کا راستہ بند ہو گیا۔ ابتدا سے اس شغل کو زاد آخرت کا سامان سمجھا، اور نیک نیتی سے اس کا ثمرہ لیا۔ طبیعت بھی ایسی گداز پائی تھی جو کہ اس فن کے لئے نہایت موزوں اور مناسب تھی، ان کی سلامت روی، پرہیز گاری، مسافر نوازی اور سخاوت نے صفتِ کمال کو زیادہ تر رونق دی تھی۔

شاگردانِ الہٰی کی طبیعت بھی جذبہ الہٰی کا شوق رکھتی ہے۔ بچپن سے دل چونچال تھا، ابتدائے مشق میں کسی لفظ پر اُستاد کی اصلاح پسند نہ آئی۔ شیخ ناسخ زندہ تھے، مگر بوڑھے ہو گئے تھے۔ ان کے پاس چلے گئے، وہ اس وقت گھر کے صحن میں مونڈھے بچھائے جلسہ جمائے بیٹھے تھے۔ انھوں نے عرض کی کہ حضرت! اس شعر میں میں نے تو یہ کہا ہے اور اُستاد نے یہ اصلاح دی ہے، انھوں نے فرمایا کہ اُستاد نے ٹھیک اصلاح دی ہے۔ انھوں نے پھر کہا کہ حضرت کتابوں میں تو اس طرح آیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ نہیں، جو تمھارے اُستاد نے بنایا ہے وہی درست ہے۔ انھوں نے پھر عرض کی کہ حضرت آپ کتاب کو ملاحظہ تو فرمائیں، شیخ صاحب نے جھنجھلا کر کہا ارے تو کتاب کو کیا جائے ! ہمارے سامنے کتاب کا نام لیتا ہے ! ہم کتابیں دیکھتے دیکھتے خود کتاب بن گئے ہیں۔ ایسے غصّے ہوئے کہ لکڑی سامنے رکھی تھی وہ لے کر اُٹھے، یہ بھاگے، انھیں بھی ایسا جوش تھا کہ دروازہ تک ان کا تعاقب کیا۔

لکھنؤ کے لڑانے اور چمکانے والے غضب تھے۔ آخر مرزا کا عالم شباب تھا اور کمال بھی عین شباب پر تھا کہ جوانی کا بڑھاپے سے معرکہ ہوا، نواب شرف الدولہ میر ضمیر کے بڑی قدردان تھے، اُن سے ہزاروں روپے کے سلوک کرتے تھے، ابتدا میں اُن کے سبب سے اور پھر مرزا کے جوہر کمال کے باعث سے اُن کی بھی قدردانی کرتے تھے۔ ان کی مجلس میں اول مرزا، بعد اُن کے میر ضمیر پڑھا کرتے تھے۔

ایک موقع پر مرزا نے ایک مرثیہ لکھا، جس کا مطلع ہے۔

ع “دستِ خدا کا قوتِ بازو حسین ہے “

میر ضمیرؔ کے سامنے جب اصلاح کے لئے پیش کیا تو انھیں اس کے نئے خیالات اور طرز بیان اور ترتیب مضامین پسند آئی۔ اسے توجہ سے بنایا اور اسی اثناء میں نواب کے ہاں ایک مجلس ہونے والی تھی۔ رشید شاگرد سے کہا کہ بھئی اس مرثیہ کو ہم اس مجلس میں پڑھیں گے۔ تعظیم کر کے تسلیم بجا لائے اور مرثیہ انھیں کو دے دیا۔

گھر میں آئے تو بعض احباب سے حال بیان کیا، مسودہ پاس تھا، وہ بھی سنایا، کچھ تو یاروں کا چمکانا، کچھ اس سبب سے کہ ذوق و شوق کے پھول ہمیشہ شبنم تعریف کے پیاسے ہیں اور نواب کو خبر پہونچ گئی تھی۔ ادھر کے اشاروں میں انعام کی ہوا آئی، غرض انجام یہ ہوا کہ اُستاد مرثیہ صاف کر کے لے گئے کہ وہی پڑھیں گے۔

بموجب معمول کے اول مرزا صاحب منبر پر گئے اور وہی مرثیہ پڑھا۔ بڑی تعریفیں ہوئیں اور مرثیہ خوب سرسبز ہوا۔ اُستاد کہ ہمیشہ شاگرد کے پڑھنے پر باغ باغ ہوا کرتے تھے اور تعریفیں کر کے دل بڑھاتے تھے، اب خاموش بیٹھے ہیں، کچھ غصّہ، کچھ بیوفائی زمانہ کا خیال، کچھ اپنی محنتوں کا افسوس اور فکر یہ کہ اب میں پڑھوں گا، اور اس سے بڑھ کر کیا پڑھوں گا، جس میں اُستادی کا رتبہ بڑھے نہیں تو اپنے درجہ سے گرے بھی تو نہیں۔ غرض ان کے بعد یہ پڑھے اور کمال کی دستار صحیح و سلامت لے کر منبر سے اُترے، لیکن اس دن سے دل پھر گیا۔ یار لوگوں نے شاگرد کو نقطہ مقابل کر کے بجائے خود اُستاد بنایا، اور وہی صورت ہو گئی کہ ایک مجلس میں دونوں کا اجتماع موقوف ہو گیا، زمانے نے اپنے قاعدہ کے بموجب چند روز مقابلوں سے شاگرد کا دل بڑھایا اور آخر بڑھاپے کی سفارش سے اُستاد کو آرام کی اجازت دی، وہ اپنے حریف میر خلیق کے سامنے گوشہ عزلت کا مقابلہ کرنے لگے اور یہاں میر انیسؔ اور مرزا دبیرؔ کے معرکے گرم ہو گئے۔

دونوں کے کمال نے سخن شناسوں کے ہجوم کو دو حصوں میں بانٹ لیا۔ آدھے انیسئے ہو گئے، آدھے دبیریئے، ان کے کلام میں محاکمہ کرنے کا لطف جب ہے کہ ہر اُستاد کے ۴، ۴، ۵، ۵، سو مرثیے بجائے خود پڑھو اور پھر مجلسوں میں سُن کر دیکھو کہ ہر ایک کا کلام اہل مجلس پر کس قدر کامیاب یا ناکام رہا، بے اس کے مزہ نہیں، میں اس نکتہ پر میر انیسؔ صاحب صفائی، لطف زبان، چاشنی محاورہ، خوبی بندش، حسن اسلوب مناسبت مقام، طرز ادا اور سلسلہ کی ترتیب میں جواب نہیں رکھتے اور یہی رعایتیں ان کی کم گوئی کا سبب تھیں، مرزا دبیر صاحب شوکت الفاظ، مضامین کی آمد اس میں جا بجا غم انگیز اشارے، درد خیز کنائے، المناک اور دل گداز انداز جو مرثیہ کی غرض اصلی ہے۔ ان وصفوں میں بادشاہ تھے۔ یہ اعتراض حریفوں کا درست ہے کہ بعض ضعیف روایتیں اور دل خراش مضامین ایسے نظم ہو گئے ہیں جو مناسب نہ تھے، لیکن انسان کی طبیعت ایسی واقع ہوئی ہے کہ جب ایک مقصود کو مد نظر رکھ کر اس پر متوجہ ہوتا ہے تو اور پہلوؤں کا خیال بہت کم رہتا ہے، انھیں ایسی مجلسوں میں پڑھنا ہوتا تھا، جہاں ہزارہا آدمی دوست دشمن جمع ہوتا تھا، تعریف کی بنیاد گریہ و بکا اور لطف سخن اور ایجاد مضامین پر ہوتی تھی۔ کمال یہ تھا کہ سب کو رُلانا اور سب کے منھ سے تحسین کا نکالنا، اس شوق کے جذبے اور فکر ایجاد کی محویت میں جو قلم سے نکالا جائے، تعجب نہیں نکتہ چینی ایک چھوٹی سی بات ہے، جہاں چاہا دو حرف لکھ دیئے، جب انسان تمام عمر اس میں کھپا دے، تب معلوم ہوتا ہے کہ کتنا کہا اور کیسا کہا۔ ایجاد و اختراع کے لفظ پر ایک لطیفہ یاد آیا کہ اصولِ فن سے متعلق ہے۔ اہل ذوق کے ملاحظہ کے لئے لکھتا ہوں۔

آتشی لطیفہ : مرزا دبیر کی جوانی تھی اور شاعری بھی عین جوانی پر تھی کہ ایک دھوم دھام کا مرثیہ لکھا، اس کا نمودار تمہید سے چہرہ باندھا، رزمیہ و بزمیہ مضامین پر خوب زور طبع دکھایا، تازہ ایجاد یہ کیا کہ لشکر شام سے ایک بہادر پہلوان تیار کر کے میدان میں لائے، اس کی ہیبت ناک صورت بد مہورت آمد کی آن بان، اس کے اسلحہ جنگ ان کے خلاف قیاس مقاویر وزن سے طوفان باندھے، پہلے اس سے کہ یہ مرثیہ پڑھا جائے، شہر میں شہرہ ہو گیا، ایک مجلس قرار پائی، اس میں علاوہ معمولی سامعین کے سخن فہم اور اہل کمال اشخاص کو خاص طور پر بھی اطلاع دی گئی۔ روز معہود پر ہجوم خاص و عام ہوا، طلب کی تحریکیں اس اسلوب سے ہوئی تھیں کہ خواجہ آتش باوجود پیری و آزاری کے تشریف لائے، مرثیہ شروع ہوا، سب لوگ بموجب عادت کے تعریفوں کے غل مچاتے رہے، گریہ و بکا بھی خوب ہوا، خواجہ صاحب خاموش سر جھکائے دو زانو بیٹھے جھومتے رہے، مرزا صاحب مرثیہ پڑھ کر منبر سے اُترے، جب دلوں کے جوش دھیمے ہوئے تو خواجہ صاحب کے پاس جا بیٹھے اور کہا کہ حضرت جو کچھ میں نے عرض کیا آپ نے سُنا، فرمایا، ہوں، بھئی سُنا، انھیں اتنی بات پر قناعت کب تھی؟ پھر کہا، آپ کے سامنے پڑھنا گستاخی ہے لیکن آپ نے ملاحظہ فرمایا، انھوں نے فرمایا بھئی سُنا تو سہی مگر میں سوچتا یہ ہوں کہ یہ مرثیہ تھا یا لندھورین  (ملک لندھور کی خلاف عقل طاقتیں اور فوق العادت گاؤزوریاں، امیر حمزہ کے قصہ کی شان و شکوہ اس طرح بڑھاتی ہیں کہ رستم و اسفند یار شاہناموں کے صفحوں میں منھ چھپا لیتے ہیں۔) سعدان کی داستان تھی (واہ رے اُستاد کامل اتنے سے فقرہ میں عمر بھر کے لئے اصلاح دے گیا)۔

مرزا صاحب نے ۲۹ محرم ۱۲۹۲ھ کو ۷۲ برس کی عمر میں انتقال کیا۔ اس مدت میں کم سے کم ۳ ہزار مرثیہ لکھا ہو گا، سلاموں، نوحوں اور رباعیوں کا کچھ شمار نہیں، ایک مرثیہ بے نقط لکھا ہے جس کا مطلع ہے۔ ع :

ہم طالعِ ہما مرا وہم رسا ہوا

اس میں اپنا تخلص بجائے دبیر کے عطارد لکھا ہے، اور کچھ شک نہیں کہ اُن کے ساتھ ہندوستان میں مرثیہ گوئی کا خاتمہ ہو گیا، نہ اب ویسا زمانہ آئے گا اور نہ ویسے صاحبِ کمال پیدا ہوں گے۔

 

 

مِیر بَبر علی انیسؔ

لکھنؤ میں تعلیم و تربیت (مولوی حیدر علی صاحب منتہی الکلام انہی کے محلہ میں رہتے تھے اور پڑھایا کرتے تھے۔ میر انیسؔ مرحوم فرماتے تھے کہ ابتدائی کتابیں میں نے انھیں سے پڑھی تھیں۔) پائی اور ضروریاتِ فن سے آگاہی حاصل کی۔ اپنے خاندانی کمال میں باپ کے شاگرد تھے۔ اور جس طرح عمر میں دونوں بھائیوں سے بڑے تھے، اسی طرح کمال میں بھی فائق تھے، ابتدا میں اُنھیں بھی غزل کا شوق تھا، ایک موقع پر کہیں مشاعرہ میں گئے اور غزل پڑھی، وہاں بڑی تعریف ہوئی۔ شفیق باپ خبر سُن کر دل میں باغ باغ ہوا، مگر ہونہار فرزند سے پوچھا کہ کل رات کو کہاں گئے تھے ؟ انھوں نے حال بیان کیا، غزل سنی، اور فرمایا کہ بھائی! اب اس غزل کو سلام کرو اور اس شغل میں زور طبع کو صرف کرو جو دین و دنیا کا سرمایہ ہے، سعادت مند بیٹے نے اُسی دن سے اُدھر سے قطع نظر کی۔ غزل مذکور کی طرح میں سلام لکھا، دنیا کو چھوڑ کر دین کے دائرہ میں آ گئے اور تمام عمر اسی میں صرف کر دی۔نیک نیتی کی برکت نے اسی میں دین بھی دیا اور دنیا بھی۔ اس وقت تک یہ اور ان کے ہم عصر اپنے اُستادوں کی اطاعت کو اطاعت سمجھتے تھے، سلام، مرثیے، نوحے، رباعیاں کہتے تھے اور مرثیہ کی مقدار ۳۵، ۴۰ اور ۵۰ بند تک تھی۔

زمانہ کی خاصیت طبعی ہے کہ جب نباتات پرانے ہو جاتے ہیں تو اُنھیں نکال کر پھینک دیتا ہے اور نئے پودے لگاتا ہے۔ میر ضمیرؔ اور میر خلیقؔ کو بڑھاپے کے پلنگ پر بٹھایا، میر انیسؔ کو باپ کی جگہ منبر پر ترقی دی، ادھر سے مرزا دبیر اُن کے مقابلے کے لئے نکلے، یہ خاندانی شاعر نہ تھے، مگر ضمیرؔ کے شاگرد رشید تھے، جب دونوں نوجوان میدان مجالس میں جولانیاں کرنے لگے تو فن مذکور کی ترقی کے بادل گرجتے اور برستے اُٹھے اور نئے اختراع اور ایجادوں کے مینھ برسنے لگے۔ بڑی بات یہ تھی کہ بادشاہ سے لے کر امراء اور غرباء تک شیعہ مذہب رکھتے تھے۔ نوجوانوں کے کمال کو خوش اعتقاد قدردان ملے، وہ بزرگوں کے شمار سے زیادہ اور وزن میں بہت بھاری تھے۔ کلام نے وہ قدر پیدا کی کہ اس سے زیادہ بہشت ہی میں ہو تو ہو! قدردانی بھی فقط زبانی تعریف اور تعظیم و تکریم میں ختم نہ ہو جاتی تھی بلکہ نقد و جسن کے گراں بہا انعام تحائف اور نذرانوں کے رنگ میں پیش ہوتے تھے، ان ترغیبوں کی بدولت فکروں کی پرواز اور ذہنوں کی رسائی سے اُمید زیادہ بڑھ گئی۔ دونوں با کمالوں نے ثابت کر دیا کہ حقیقی اور تحقیقی شاعر ہم ہیں۔ اور ہم ہیں کہ ہر رنگ کے مضمون، ہر قسم کے خیال، ہر ایک حال کا اپنے الفاظ کے جوڑ بند سے ایسا طلسم باندھ دیتے ہیں کہ چاہیں رُلا دیں چاہیں ہنسا دیں، چاہیں تو حیرت کی مورت بنا دیں۔یہ دعوے بالکل درست تھے۔ کیونکہ مشاہدہ ان کی تصدیق کو ہر وقت حاضر رہتا تھا۔ دلیل کی حاجت نہ تھی، سکندر نامہ جس کی تعریف میں لوگوں کے لب خشک ہیں۔ اس میں چند میدان جنگ ہیں۔ رزم زنگبار، جنگ دارا، جنگ روس، جنگ فور، جنگ فغور، اسی طرح بزم کی چند تمہیدیں اور جشن میں شاہنامہ کے ۶۰ ہزار شعر فردوسی کی عمر بھر کی کمائی ہیں۔ انھوں نے ایجاد مضامین کے دریا بہا دیئے، ایک مقرری مضمون کو سیکڑوں نہیں ہزاروں رنگ سے ادا کیا۔ ہر مرثیہ کا چہرہ نیا، آمد نئی، رزم جدا، بزم جدا اور ہر میدان میں مضمون اچھوتا۔ تلوار نئی، نیزہ نیا، گھوڑا نیا، انداز نیا، مقابلہ نیا، اور اس پر کیا منحصر ہے، صبح کا عالم دیکھو تو سبحان اللہ، رات کی رخصت، سیاہی کا پھٹنا، نور کا ظہور، آفتاب کا طلوع، مرغزار کی بہار، شام ہے تو شام غریباں کی اُداسی، کبھی رات کا سنّاٹا، کبھی تاروں کی چھاؤں کو چاندنی اور اور اندھیرے کے ساتھ رنگ رنگ سے دکھایا ہے، غرض جس حالت کو لیا ہے، اس سماں باندھ دیا ہے، آمد مضامین کی بھی انتہا نہ رہی، جن مرثیوں کے بند ۴۰، ۵۰ سے زیادہ نہ ہوتے تھے وہ ایک سو پچاس (۱۵۰) سے گزر کر دو سو (۲۰۰) سے بھی نکل گئے۔ میر صاحب مرحوم نے کم سے کم دس ہزار مرثیہ ضرور کہا ہو گا اور سلاموں کا کیا شمار ہے، رباعیاں تو باتیں تھیں۔

دونوں اُستادوں  کے ساتھ طرفداروں کے دو (۲) جتھے ہو گئے، ایک انیسئے کہلاتے تھے، ایک دبیرئیے، اگرچہ ان کے فضول فقروں اور اعتراضوں نے بے جا تکراریں اور جھگڑے پیدا کئے، مگر بہ نسبت نقصان کے فائدہ زیادہ ہوا، کیونکہ بے حد تعریفوں نے دونوں اُستادوں کے فکروں کو شوق ایجاد اور مشق پرواز میں عرش سے بھی اونچا اُچھال دیا۔ دونوں امتیں جو اپنے دعووں پر دلیلیں پیش کرتی تھیں، کوئی وزن میں زیادہ ہوتی تھیں، کوئی مساحت میں۔ اس لئے یک طرفی فیصلہ نہ ہوتا تھا۔

انیسی اُمّت : اپنے سخن آفریں کی صفائی کلام، حسن بیان اور لطف محاورہ پیش کر کے نظیر کی طلبگار ہوتی تھی۔

دبیری اُمّت : شوکتِ الفاظ، بلند پروازی اور تازگیِ مضامین کو مقابلہ میں حاضر کرتی تھی۔

انیسی اُمت کہتی تھی کہ جسے تم فخر کا سرمایہ سمجھتے ہو، یہ باتیں دربارِ فصاحت میں نا مقبول ہو کر خارج ہو چکی ہیں کہ فقط کوہ کندن اور کاہ برآوردن ہے۔ دبیری اُمت کہتی تھی کہ تم اسے دشواری کہتے ہو، یہ علم کے جوہر ہیں، اسے بلاغت کہتے ہیں۔ تمھارے سخن آفریں کے بازوؤں میں علم کی طاقت ہو، تو پہاڑوں کو چیرے اور یہ جواہر نکالے۔ انیسؔ کے کلام میں ہے کیا؟ فقط زبانی باتوں کا جمع خرچ ہے۔

انیسی اُمّت اس بات پر چمک اُٹھتی تھی اور کہتی تھی کہ کون سا خیال تمھارے سخن آفریں کا ہے جو ہمارے معنی آفریں کے ہاں نہیں ؟ نہیں جانتے ! جسے باتوں کا جمع خرچ کہتے ہو، یہ صفائی کلام اور قدرت بیان کی خوبی ہے ! اسے سہل ممتنع کہتے ہیں، یہ جوہر خداداد ہے، کتابیں پڑھنے اور کاغذ سیاہ کرنے سے نہیں آتا۔

دبیرئیے اس تقریر کو سن کر کسی مرثیہ کی تمہید یا میدان کی آمد یا رجز خوانی کے بند پڑھنے شروع کر دیتے، جن میں اکثر آیتوں یا حدیثوں کے فقرے تضمین ہوتے تھے۔

انیسئے کہتے تھے۔ اس سے کس کافر کو انکار ہے مگر اتنا ہی پڑھیے گا، آگے نہ بڑھئے گا، دوسرے مطلب کی طرف انتقال کیجیے گا تو سلسلہ میں ربط بھی نصیب نہ ہو گا۔ حضرت! فقط لفاظی کی دھوم دھام سے کچھ نہیں ہوتا، ادائے مطلب اصل شے ہے، اس پر گفتگو کیجیے گا تو پوری بات بھی نہ ہو سکے گی۔ یہ قادر الکلام با کمالوں کا کام ہے جن کو اس فن کے اصول بزرگوں سے سینہ بہ سینہ ہیں۔ وہی اس کام کو جانتے ہیں۔

دبیرئیے اس کے جواب میں اپنے سخن آفریں کی آمد طبیعت مضامین کا وفور لفظوں کی بہتات دکھاتے تھے اور جا و بے جا کہتے جاتے تھے کہ دیکھیے کیا محاورہ ہے ! دیکھیے صاف بول چال ہے، ساتھ اس کے یہ بھی کہتے تھے کہ کس کا منھ ہے، جو رات کو بیٹھے اور سو (۱۰۰) بند کہہ کر اُٹھے ؟  برس دن تک خامہ فرسائی کی اور محرم پر ۱۰، ۱۵ مرثیے لکھ کر تیار کئے تو کیا کئے، وہ بھی دو اور بھائیوں کے مشورے ملا کر اور مباحثوں کے پسینے بہا کر۔انیسئے کہتے تھے درست ہے جو رات بھر میں سو (۱۰۰) بند کہتے ہیں، وہ بے ربط اور بے اصول ہی ہوتے ہیں اور جب ادائے مطلب پر آتے ہیں تو اتنے بھی نہیں رہتے، ساتھ اس کے بعض مصرع بھی پڑھ دیتے تھے جن پر بے محاورہ ہونے کا اعتراض ہوتا تھا یا تشبیہیں ناقص ہوتی تھیں یا استعارے بے ڈھنگے ہوتے تھے۔

اعتراضوں کی ردّ و بدل یہاں تک ہوتی تھی کہ دبیرئیے کہتے تھے کہ جو قبولیت خدا نے ہمارے سخن آفریں کو عطا کی ہے، کب کسی کو نصیب ہوتی ہے۔ جس مجلس میں ان کا کلام پڑھا گیا، کہرام ہو گیا، کیسے غم انگیز اور درہ خیز مضامین ہیں، اِن کے لفظوں کو دیکھو، اعتقاد کے آب حیات میں ڈوبے ہوئے ہیں۔

انیسئے کہتے تھے، وہ کیا پڑھیں گے، ان کی آواز تو دیکھئے اور انھیں مرثیہ پڑھنا تو آتا ہی نہیں، غرض جھگڑالو دعویداروں کو کوئی تقریر خاموش نہ کر سکتی تھی، البتہ مجبوری کہ دونوں کے گلے تھکا کر آوازیں بند کر دیتی تھی اور منصفی بیچ میں آ کر کہتی تھی، دونوں اچھے، دونوں اچھے، کبھی کہتی وہ آفتاب ہیں، یہ ماہ، کبھی یہ آفتاب وہ ماہ!

لکھنؤ کے بے فکرے بڑانے میں کمال رکھتے تھے اور تماشے کے عاشق، دبیرؔ تو غیر تھے، بھائی کو بھائی سے لڑا دیا۔ مدت تک بگڑی رہی۔ میر انیسؔ کے پاس آتے تو کہتے، حضور جب تک اصلاحی مرثیے میں پڑھے جائیں جس دن آپ کا بِن دیکھا مرثیہ پڑھا، قلعی کھل جائے گی۔ دوسرے بھائی سے کہتے، حضور عمر کی بزرگی اور شے ہے، لطف زبان اور شے ہے۔ یہ نعمت آپ کا حصّہ ہے۔

الغرض یہ پاک روحیں جن کی بدولت ہماری  نظم کو قوت اور زبان کو وسعت حاصل ہوئی، صلہ ان کا سخن آفرین حقیقی عطا کرے۔ ہمارے شکریہ کی کیا بساط ہے، لیکن یہ بات جتانے کے قابل ہے کہ اقلیم سخن میں جو دائرہ اِن کے زیر قلم تھا، ان کے جوش طبع میں اس کا بہت سا حصّہ سخن آرائی اور رزم بزم نے دبا لیا، مرثیت کا میدان بہت تنگ رہ گیا اور افسوس کہ اصل مدعا ان کا وہی تھا جسے آپ کھو بیٹھے۔

جب تک لکھنؤ آباد رہا، جب کسی اور شہر میں جانے کا ذکر ہوتا تو دونوں صاحب یہی فرماتے تھے کہ اس کلام کو اسی شہر کے لوگ سمجھ سکتے ہیں۔ اور کوئی اس کی قدر کیا جانے گا اور ہماری زبان کے لطف کو کیا سمجھے گا، لیکن تباہی لکھنؤ کے بعد اول ۱۸۵۸ء میں مرزا دبیر صاحب مرشد آباد بلائے گئے، وہ گئے اور ہمیشہ الہ آباد اور بنارس میں جاتے رہے۔ میر انیسؔ مرحوم اول ۱۸۵۹ ء  اور پھر ۱۸۶۰ ء  میں نواب قاسم علی خاں کی طلب اور اصرار سے عظیم آباد بھی جاتے رہے، پھر ۱۸۷۱ ء  میں جب کہ ارسطو جاہ غفراں پناہ کے خلف الرشید مولوی سید شریف حسین خاں صاحب حیدر آباد میں تھے، تو ان کی تحریک سے نواب تہور جنگ بہادر نے میر انیسؔ کو طلب فرمایا، اب بھی ان کی پابندی وضع انھیں نکلنے نہ دیتی تھی، مگر مولوی صاحب موصوف کے کہنے کو بھی  ٹال نہیں سکتے تھے، اس لئے مجبور گئے۔اہل حیدر آباد نے ان کے کمال کی ایسی قدر کی جیسی کہ چاہئے۔ مجلسوں میں لوگ اس کثرت سے آتے تھے کہ عالیشان مکان کی وسعت بھی جگہ نہ دے سکتی تھی دروازے پر پہرے کھڑے کر دیتے تھے کہ مستند اور سخن فہم لوگو کے سوا کسی کو نہ آنے دو  اور کسی امیر کے ساتھ دو متوسلوں سے زیادہ آدمی نہ آنے پائیں۔ اس پر بھی اس کثرت سے لوگ آتے تھے کہ کھڑے رہنے کو غنیمت سمجھتے تھے،  اور اسی میں خوش تھے کہ کہ ہم نے سنا تو سہی۔

میر انیسؔ صاحب جب وہاں سے پھرے تو حسب وعدہ الہ آباد میں اترنا پڑا۔ ایک مجلس بڑی شان و شوکت کے ساتھ منعقد ہوئی۔ میرے شفیقِ قدیم مولوی ذکاء اللہ صاحب کہ میور کالج میں پروفیسر ہیں، نکتہ فہم و سخن شناس ان سے زیادہ تر کون ہوگا؟ اس مجلس کا حال خود مجھ سے بیان کرتے تھے کہ خاص و عام ہزاروں آدمی جمع تھے۔ کلام اور کمال کی کیا کیفیت بیان کروں، محویت کا عالم تھا۔ وہ شخص منبر پر بیٹھا پڑھ رہا تھا اور یہ معلوم ہوتا تھا کہ جادو کر رہا ہے۔ مقطع کی ٹیپ پڑھتے تھے اور مزے لیتے تھے۔

عمر گزری ہے اسی دشت کی سیاحی میں

پانچویں پشت ہے شبیر کی مداحی میں

(حاشیہ: شیخ ابراہیم ذوق کے مطلع کے باب میں جو انہوں نے فرمایا، (دیکھو صفحہ  ) چونکہ میں نے اپنا حال طاہر نہ کیا تھا اس لئے ان سے پوچھا کہ شیخ موصوف کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے۔ فرمایا کہ میاں سید میر کے بعد پھر دلی میں ایسا شاعر کون ہوا ہے؟ بزرگوں سے زبان بزبان  خواجہ میر درد کے لئے یہی نام زبان پر چڑھا ہوا تھا۔ معلوم ہوا کہ کہ اس عہد کے لوگ انہیں میاں خواجہ میر کہتے تھے)

ان کی بلکہ ان کے گھرانے کی زبان اردوئے معلیٰ کے لحاظ سے تمام لکھنؤ میں سند تھی، اور انہیں بھی اس بات کا خیال تھا۔ لیکن طبیعت میں نہایت انکسار  تھا۔ حسنِ اخلاق گفتگو میں ان کی تقریر کو اتنا بچائے ہوئے چلتا تھا کہ باتیں خطِ اعتدال سے بھی نیچے ہی نیچے بہتی تھیں۔ اس پر ایک ایک لفظ کانٹے کی تول۔ کسی جلسے میں اپنا کلام سناتے تو تو بعض محاورے پر اتنا کہہ اٹھتے تھے کہ یہ میرے گھر کی زبان ہے۔ حضراتِ لکھنؤ اس طرح نہیں فرماتے۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اپنے تئیں لکھنؤ کا باشندہ نہ کہنا چاہتے تھے۔

مولوی شریف حسین خان صاحب  کہتے تھے کہ حیدر آباد میں ایک دن چند معزز اشخاص بیٹھے تھے۔ ایک صاحب ان کی شاعری کی تعریف کرنے لگے۔ فرمایا بھئی شاعر کون ہے؟ دُکھڑے کا کہنے والا ہوں، وہ بھی نہیں معلوم کہ جس طرح چاہئے ہوتا ہے یا نہیں۔ میں ۵۷ء میں خود بھی ان سے ملا۔ اور لوگوں سے بھی سن۔ کم سخن تھے اور بولتے تو فقرے کو موتی کی طرح ٹانکنے کے قابل۔ ارسطو جاہ مولوی رجب علی خاں بہادر حسب الطلب صاحب چیف کمشنر بہادر لکھنؤ میں تھے۔ ایک دن بعض عماید شہر موجود، میر انیس صاحب بھی تشریف رکھتے تھے، کہیں سے آم آئے چونکہ عمدہ تھے، مولوی صاحب ممدوح نے طاسوں میں پانی بھروا کر رکھ دیئے اور سب صاحبوں کو متوجہ فرمایا۔ ایک حکیم صاحب اسی جلسہ میں حرارت کی شکایت کر رہے تھے مگر شریک چاشنی ہوئے۔ کسی بزرگ نے کہا، حکیم صاحب! آپ تو ابھی علالت کی شکایت فرماتے تھے، حکیم صاحب تو بغلیں جھانکنے لگے۔ میر انیس نے فرمایا۔ فعل الحکیم لا یخلو عن الحکمۃ۔

جس طرح ان کا کلام لاجواب دیکھتے ہو، اسی طرح اُن کا پڑھنا بھی بے مثال ہی تھا، ان کی آواز، ان کا قد و قامت، ان کی صورت کا انداز، غرض ہر شے اِس کام کے لئے تھیک اور موزوں واقع ہوئی تھی۔ ان کا اور ان کے بھائیوں کا بھی قاعدہ تھا کہ ایک بڑا آئینہ سامنے رکھ کر خلوت میں بیٹھتے تھے اور مرثیہ پڑھنے کی مشق کرتے تھے، وضع، حرکات سکنات اور بات بات کو دیکھتے تھے اور آپ اس کی موزونی اور نا موزونی کی اصلاح دیتے تھے، ذوقؔ :

بنا کے آئینہ دیکھے ہے پہلے آئینہ گر

سبز در اپنے بھی عیب و ہنر کو دیکھتے ہیں

یہ بات درست ہے کہ مرزا دبیرؔ کے پڑھنے میں وہ خوش ادائی نہ تھی لیکن حُسن قبول اور فیض تاثیر خدا نے دیا تھا ان کا مرثیہ کوئی اور بھی پڑھتا تھا تو اکثر رونے رُلانے میں کامیاب ہوتا تھا کہ یہی اس کام کی علت غائی ہے۔

*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*

خاتمہ کتاب

 

پانچواں دور بھی ہو چکا، مگر سب سوگوار بیٹھے ہیں کہ دور نہیں ہو چکا۔ ہندوستان کی پرانی ہمدم یعنی عاشقانہ شاعری ہو چکی اور ا س کی ترقی کا چشمہ بند ہوا۔ اہل مشاعرہ نوحہ خوانی کر رہے تھے کہ اے صدر نشینو تم چلے اور حسن و عشق کے چرچے اپن ساتھ لے چلے کیونکہ متاع عشق کے بازار تھے تو تمہارے دم سے تھے۔ نگار حسن کے سنگار تھے تو تمہارے قلم سے تم ہی قیس و کوہکن کے نما لینے والے تھے۔ اور تم ہی لیلیٰ و مجنوں کے جوبن کو جلوہ دینے والے۔ لیکن اجسام فانی کی پرستش کرنے والے ہیں جو کہتے ہیں کہ تم گئے ا ور مشاعرے ہو چکے۔ نہیں نہیں تمہاری تصنیفیں تالیفیں حکایتیں اور روایتیں جب موجود ہیں تم آپ موجود ہو۔ تمہارے فخر کی دستاریں ایسے تحسین و آفرین کے پھولوں کے تاجدار ہیں جو ہمیشہ لہلہاتے رہیں گے اور گلے میں ان سدا بہار پھولوں کے ہار ہیں جن تک کبھی خزاں کا ہاتھ نہ پہنچے گا۔

حیات دوام کا خدائی چشمہ جاری ہے۔ جس کے کنارے پر عہد بعہد پانچوں جسے جمے ہوئے ہیں، آب حیات کا دور چلا۔ چشمے کا پانی زمانے کے گزرے ہوئے کی تصویر کھینچتا ہے۔ اور موجیں ظاہری زندگی کو الوداع کہتی چلی جاتی ہیںَ تمہارے جلسے اپنے اپنے عہد کی حالت خاموشی کی بولی میں بیان کر رہے ہیں۔ تمہارے مقالات و حالات اس زمانے کی جیتی جاگتی بولتی چالتی تصویریں گویا بے زبان مورتیں منہ سے بول رہی ہیں۔ خیالی صورتیں اپنی چال ڈھال ایسی بے تکلف دکھا رہی ہیں ۔ کوئی زندہ انسان اس طر ح کھلے دل سے کام نہیں کرتا۔ تمہاری زندگی عجب لطف کی زندگی ہے کوئی برا کہے تمہیں رنج نہیں۔ اچھا کہے تو خوشی نہیں۔ تمہیں کوئی آزار نہیں دے سکتا۔ تم سے کسی کو رنج نہیں پہنچ سکتا۔ اللہ اللہ امن و امان کی دنیا کے لوگ ہو کہ چپ چاپ آرام کے عالم میں نچنت گزران کرتے ہو۔ تم میں آواز نہیں مگر رنگارنگ کی بولیاں بول رہے ہو۔ تم وہ ہو کہ نہیں ہو؟ مگر مر گئے ہو پھر بھی زندہ ہو۔ کاغذی خانقاہوں کے بسنے والو! تمہاری تصنیفات تمہارے گھر آباد ہیں جب آنکھیں کھولتا ہوں تو تم نقوش و حروف کے لباس پہنے ہنستے بولتے پھرتے چلتے نظر آتے ہو اورویسے ہی نظر آتے ہو جیسے کہ تھے۔ زمانہ سالہا سال کی مسافت دور نکل آیا اور سینکڑوں برس آگے بڑھا اور بڑھ جائے گا۔ مگر تم اپن جگہ بدستور قائم ہو۔ تمہارے اعمال و افعال کے پتلے تمہاری تصنیفیں ہیں ان کی زبانی آئندہ نسلوں سے اپنے دل کی باتیں کہتے رہو گے نصیحتیں کرو گے سمجھاتے رہو گے غمگین دلوں کو بہلاؤ گے مردہ طبیعتوں میں جان ڈالو گے مدھم آرزوؤں کو چمکاؤ گے سوتے دلوں میں گدگدی کرو گے۔ خوشی کو اداسی کر دو گے۔ اداسی کو خوشی کر دو گے۔

اے با اقبال گداؤ! اے شاہ نشان خاکسارو! تمہاری نیک نیتی اچھے وقت تمہیں لائی ، مگر افسوس کہ تمہاری شاعری نے بہت کم عمر پائی۔ قسمت نے تمہیں اچھے سامان اور اچھے قدر دان دیے جن کی بدولت جوہر طبعی اور جوش اصلی کو اپنے اور اپنے شوق کے پورا کرنے کے سامان ملے۔ اب وہ نہ سامان ہوں گے نہ ویسے قدردان ہوں گے۔ نہ کوئی اس شاخ کو ہرا رکھ سکے گا۔ نہ تم سے بڑھ کر اس میں پھل پھول لگا سکے گا۔ ہاں تمہاری لکیروں کے فقط تمہارے ہی ہجو و وصل اور خط و خال کے مضمون لیں گے، انہی لفظوں کو الٹیں پلٹیں گے اور تمہارے چبائے ہوئے نوالوں کو منہ میں پھراتے رہیں گے۔

تم نے شہرت عام اور بقائے دوام کے ایسے عالی شان محل تعمیر کیے ہیں کہ صدہا سال کی مسافت سے دکھائی دیتے رہیں گے۔ وہ فلک کے صدموں اور انقلاب کے طوفانوں کو خاطر میں نہیں لاتے اور زمانے کے زلزلوں کو ہنس کر کہتے ہیں کہ بھلا آؤ تو سہی!

اگرچہ زیادہ تر عمارتیں تمہارے حسن و عشق کے جلوس کے لیے ہیں، مگر اس میں بھی تم نے ایسے سامان اور مصالح لگا دیے ہیں کہ آئندہ نسلیں جس غرض سے چاہیں گی عمارتیں بنائیں گی اور تمہاری صفتوں سے بہت کچھ مدد پائیں گی۔ جن پتھروں کو تم نے بنت اور گلکاری سے تراش کر فقط خوشنمائی کے لیے لگایا تھا ہم اسے وہاں سے نکال لیں گے۔ شکریے کے ساتھ آنکھوں سے لگائیں گے اور اس سے کسی ایسی محراب کو زینت دیں گے کہ جو اپنی مضبوطی سے ایک ملکی ایوان کو استحکام دے اور دلوں کو خوشنمائی سے شگفتہ کرے، کیونکہ تمہارے لفظوں کی عمدہ تراشیں اور ان کی پسندیدہ ترکیبیں استعارے اور تشبیہیں اگرچہ عاشقانہ مضامین میں ہوں پھر بھی ہم سلیقے اور امتیاز سے کام میں لائیں گے تو علوم فنون تاریخ وغیرہ عام مطلب میں ہمارے ادائے مقاصد اور انداز بیان کے لیے عمدہ معاون اور کار آمد ہوں گے۔ اے ہمارے رہنماؤ! تم کیسے مبارک قدموں سے چلے تھے اور کیسے برکت والے ہاتھوں سے رستے میں چراغ رکھتے گئے تھے کہ جہاں تک زمانہ آگے بڑھتا ہے تمہارے چراغوں سے چراغ جلتے چلے جاتے ہیں اور جہاں تک ہم آگے جاتے ہیں تمہاری ہی روشنی میں جاتے ہیں۔ ذرا ان برکت والے قدموں کو آگے بڑھاؤ کہ میں آنکھوں سے لگاؤں، اپنا مبارک ہاتھ میرے سر پر رکھو اور میرے سلام کا تحفہ قبول کرو۔

٭٭٭

ٹائپنگ: محمد شمشاد خان، اردو محفل

http://www.urduweb.org/mehfil/threads/%D8%A2%D8%A8-%D8%AD%DB%8C%D8%A7%D8%AA-%D9%85%D9%88%D9%84%D8%A7%D9%86%D8%A7-%D9%85%D8%AD%D9%85%D8%AF-%D8%AD%D8%B3%DB%8C%D9%86-%D8%A2%D8%B2%D8%A7%D8%AF-%D9%85%D8%B1%D8%AD%D9%88%D9%85.32237/

باقی کمپوزنگ:ٍ

http://www.iqbalcyberlibrary.net/txt/100036.txtٍٍٍ

تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید

٭٭٭