FavoriteLoadingپسندیدہ کتابوں میں شامل کریں

 

 

 

فہرست مضامین

آدھے سیارے پر

 

 

 

کلیات کا ایک حصہ

 

                   ثروت حسین

 

پیشکش: تصنیف حیدر

 

 

 


 

 

 

 

 

 

عصر تارا

 

ہم عصروں کی بات ہوئی تو ناصر کاظمیؔ نے میرؔ کے ساتھ سرسوں کے پھول کو بھی اپنا ہم عصر مان لیا۔ زرد پھول کی دھوپ میں چمکتی ہوئی پتیوں میں ناصرؔ کو مہذب اداسی کی کوئی ایسی کیفیت نظر آئی ہو گی جس کا رشتہ ان کی شاعری کے نازک لہجے سے ملتا ہو گا۔ ناصرؔ کی پیروی میں جب میں اپنے ہم عصر تلاش کرتا ہوں تو جی چاہتا ہے کسی پرندے کو یا کسی شجر کو اپنا معاصر کہہ دوں مگر ان سے بھی پہلے ایک تارا میرا ہم عصر ہے۔ فلک کی دھندلی نیلاہٹ میں سلگتا ہوا تارا، کسی دوست کی تسلی کی طرح، کسی امکان کی طرح، شاعری کے کسی نئے اسلوب کی طرح میری آنکھوں کے سامنے جھلملاتا ہے۔

ثروتؔ حسین کی نظموں اور غزلوں میں تاروں کی جھلمل جھلمل کرتی ہوئی روشنی دیکھتا ہوں تو احساس ہوتا ہے میرا ہم عصر تارا ثروتؔ کا بھی ہم عصر ہے اور اس نے اس تارے سے کچھ ایسی رمزیں بھی سیکھ لی ہیں جو اس نے مجھے بھی نہیں بتائیں۔ یوں اس ہم عصر کے وسیلے سے ثروتؔ حسین میرا ہم عصر ہے۔ اپنے زمانے کے بہت سے شاعر انسان کو اپنی طرف متوجہ کرتے ہیں : کسی کا آشوب، کسی کی لفظیات اور کسی کے شعری دائرے کا پھیلاؤ دل کو لُبھاتا ہے مگر سچی ہم عصری کا احساس کسی کسی ہی میں ہوتا ہے۔ ثروتؔ حسین کی نظمیں اور غزلیں پڑھتے ہوے فوراًً یہ احساس ہوتا ہے کہ ہم اسی کائنات میں سانس لے رہے ہیں جس میں مظاہر اپنی اوّلین اور شفّاف صورت میں موجود ہیں۔ اپنا آشوب بھی بر حق، کہ کون اس سے آزاد ہو سکتا ہے، گرد و پیش کا غبار آلود ہونا بھی مسلّم، کہ ہماری سانسیں ہر لمحہ اس کی گواہی دیتی ہیں مگر شاعر نے اپنی شاعری میں اپنے رویاء میں کائنات کو کسی اور ہی آن میں دیکھا ہے اور تاروں، پھولوں، درختوں، بستیوں اور انسانوں سے عاشق کا رشتہ جوڑ لیا ہے۔ رِلکے ؔ کی ایک مختصر نظم ہے :

’’دنیا محبوب کے چہرے میں تھی

لیکن ایک دم اُنڈیلی گئی

دنیا باہر ہے، یہ ناقابلِ فہم ہے

میں نے اسے تب کیوں نہ پیا جب اٹھایا تھا

محبوب کے پورے چہرے سے

دنیا اتنی قریب، میں نے اس کو چکھا

اوہ! کیا مَیں نے بے صبری سے پیا

میں پہلے ہی اتنا لبریز تھا، دنیا سے

کہ جب میں نے پیا تو چھلک اُٹھا‘‘

ثروتؔحسین کی نظموں اور غزلوں میں یہی چھلک جانے کی کیفیت ہے۔ رِلکے ہی نے نویں نوحے میں کہا ہے :

’’۔ ۔ ۔ زمین میری محبوبہ۔ ۔ ۔ یقین کرو

مجھے اپنا بنانے کے لیے تمھیں اپنی اور بہاروں کی ضرورت نہیں

صرف بہار کا ایک موسم آہ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ صرف ایک بھی

میرے لہو کی برداشت سے باہر ہے۔ ‘‘

جب ثروتؔ حسین کو ملازمت کے سلسلے میں اندرونِ سندھ جانا پڑا تو اس نے ایک بار پاک ٹی ہاؤس کے باہر فٹ پاتھ پر مجھے اس تجربے کے تأثر سے آگاہ کرتے ہوے کہا: ’’ زمین کو دیکھنا عجیب سا تجربہ ہے۔ لوگ کہتے ہیں زمین ماں ہے، ماں بھی ہو گی مگر مجھے تو اس سفر میں یہ محبوبہ کی طرح دکھائی دی۔ ‘‘ ماں ہو یا محبوبہ، یہ عورت ہی کے روپ ہیں مگر ثروتؔ نے زمین سے شفقت سے زیادہ رفاقت طلب کی ہے اور شاید رفاقت کے حصول سے بھی زیادہ اسے اپنی عاشقانہ وارفتگی سے سروکار ہے۔ وہ کاندھے پہ ساز دھرے سفر کرتا ہے اور فطرت میں تحلیل ہو جانا چاہتا ہے۔س کا نشاطیہ لہجہ اپنے اندر عبودیّت اور تشکر کی کیفیات کو لیے ہے۔ وہ بھی نروداؔ کی طرح اپنے سیارے کو تبدیل نہیں کرنا چاہتا جہاں عورت کا جسم، کھیت، گھنٹیوں کی آوازیں، سمندر، جزیرے، کھپریل، عبادت گاہیں اور مکتب موجود ہیں۔ زمین کا جادو اُس کے حواس پر چھایا ہوا ہے :

گردشِ سیآرگاں خوب ہے اپنی جگہ

اور یہ اپنا مکاں خوب ہے اپنی جگہ

ہمارے ہاں شاعری میں خطابت عام ہے اور شاعر تجربے کا عکس پیش کرنے میں زیادہ دلچسپی لیتے ہیں اور اکثر اپنے رویاء کی وضاحت بھی کرتے چلے جاتے ہیں۔ یہاں اس شعری اسلوب کی کامیابی یا ناکامی سے بحث نہیں، صرف یہ بتانا مقصود ہے کہ ثروت ؔ اس دائرے کا شاعر نہیں اس لیے اُس کی نظموں اور غزلوں کی تفہیم اس دائرے کے شاعروں کے شعری اصولوں کی مدد سے پوری طرح نہ ہو پائے گی۔ ثروتؔ حسین کا تعلق اس شعری دائرے سے ہے جہاں جہاں چھوٹی چھوٹی تصویریں کسی وضاحتی طوالت کے بغیر، اپنے اندر احساساتی اشاریت کو سمیٹ لیتی ہیں۔ ایسی شاعری کی تفہیم کے لیے شاعر کی مخصوص شعری زبان، اس کے رویاء کی وحدت اور اس کی تمثالوں کے جھرمٹ کی بدلتی ہوئی رنگا رنگ کیفیتوں کو دھیان میں رکھنا پڑتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تخلیقی طور پر ثروت ؔ حسین نے منیرؔ نیازی، ناصرؔ کاظمی، محمد سلیم الرّحمٰن اور کہیں کہیں مجید امجد کے بعض شعری عناصر اور احمد مشتاقؔ سے ذہنی قربت محسوس کی ہے اور ہسپانوی زبان کے شعرأ میں اسے لورکاؔ کی نظموں میں تخلیقی کرب اور نشاط تخلیق کی کشمکش اور اس کی نظموں کے زمینی مناظر نے مسحور کیا ہے اور پابلو نروداؔ کے ہاں چھوٹی چھوٹی زمینی اشیاء سے مسرّتوں کا رس نچوڑ لینے کی ادا اور ان اشیاء کو کائناتی عمل میں پرو کر دیکھنے کی ادا سے بھی وہ متحیّر ہوا ہے۔ ہر دائرے کی اپنی حدود ہوتی ہیں مگر ہر دائرہ بعض شعری عناصر کو اتنا چمکا کر سامنے لاتا ہے جو دوسرے میں اوجھل رہے تھے۔ ثروتؔ حسین جس دائرے کا شاعر ہے وہ شاعری کے ازلی سوتوں کے قریب تر ہے اور ہمارے عہد کی اداکارانہ خطابت سے کہیں گہرے تاثر کاحامل ہے۔

ثروتؔ حسین کی شعری تمثالوں کے کئی علاقے ہیں۔ ایک طرف ان کا تعلق کائنات کی فطری حالت سے ہے۔ گردشِ سیّارگاں، ثابت و سیّار، کہکشاں، آسماں، لہریں لیتا دریا، جزیرہ نما، پہنائے بحر و بر، ہوائیں، سمندر، دشت و در، دریا، ستارے، درخت، پرندے اس طرح کی تمثالیں اس شاعری کے گرد حاشیہ کھینچتی ہیں پھر اس ماحول میں انسانی تلازمات ظاہر ہوتے ہیں۔ مضافات، گاؤں، لڑکیاں، محنت کرنے والے ہاتھ، اچھے لوگ، بندرگاہوں پر کام میں مصروف انسان، منڈیریں، چھاج پھٹکتی ہوئی کلائیاں، مگن مکھ جھونپڑیوں میں جلتے چولھے، کھیلتے گرد اُڑاتے بچے ماہی گیر، نانبائی، گڈریے، کسان اس حاشیے کے اندر مختلف تصویروں کی صورت ظاہر ہوتے ہیں۔ پھر ایسی تمثالیں ہیں جو تہذیبی جہت رکھتی ہیں :

قریب ہی کسی خیمے سے آگ پوچھتی ہے

کہ اس شکوہ سے کس قرطبہ کو جاتا ہوں

 

اسی جزیرۂ جائے نماز پر ثروتؔ

زمانہ ہو گیا دستِ دعا بلند کیے

 

گونجتی گلیوں میں ہے ان کے خیالوں کی چاپ

گشت و گلیم آشنا، پاک پیمبر ترے

 

کوئی نور ظہور کرے ثروتؔ

اسی حمد الحمد کی جالی پر

اس جہت کے ساتھ اُس جہت کی تمثالیں جن کا تعلق قریبی زمین بالخصوص سندھ کی سر زمین سے ہے۔ ( بنگال کے حوالے سے اس کی نظم ’’ ایک انسان کی موت‘‘ کتنی پر تاثیر ہے )۔ مہران کا پانی، کوہ یارا، وائی اور کافی کا اسلوب، ان عناصر نے ثروتؔ حسین کے رویاء میں ایک نئی معنویت بھر دی ہے۔ ’’زمین، زمین‘‘ کا نعرہ لگانے والے شاعر تو بہت مل جائیں گے مگر زمین کو اتنی متنوع جہتوں میں دیکھنے والے شاعروں کی تعداد زیادہ نہیں۔ کہنے کی کچھ باتیں اور بھی ہیں، ثروتؔ کی غنائیت اور دیگر فنی پینترے، اس کی لفظیات، ان نظموں کی معنویت کی دوسری سطحںہ اور دوسرے موضوعات، مگر ان چیزوں کی پہچان شاعر کے رویاء کی پہچان کے بعد ہی ممکن ہے۔ ’’آدھے سیّارے پر‘‘ اُردو شاعری کا ایک نیا امکان ہے۔ ثروتؔ حسین کے ہم عصر ستارے کی طرح ایک نئی اُمید۔

فروری 1985، لاہور

سہیل احمد

‎٭٭٭

 

 

 

 

مرحوم ابا جی کے نام

کہیں بھی ہو وہ ستارہ یہاں سے دور نہیں

(ثروت)

٭٭٭

 

 

 

 

 

نظمیں

 

یہ ابر یہ بوچھار

اس خواب میں ہم کو

چلنا ہے لگاتار

٭٭٭

 

 

 

ایک نظم کہیں سے بھی شروع ہو سکتی ہے

 

ایک نظم کہیں سے بھی شروع ہو سکتی ہے

جوتوں کی جوڑی سے

یا قبر سے جو بارشوں میں بیٹھ گئی

یا اس پھول سے جو قبر کی پائنتی پر کھِلا

ہر ایک کو کہیں نہ کہیں پناہ مل گئی

چیونٹیوں کو جائے نماز کے نیچے

اور لڑکیوں کو میری آواز میں

مُردہ بیل کی کھوپڑی میں گلہری نے گھر بنا لیا ہے

نظم کا بھی ایک گھر ہو گا

کسی جلا وطن کا دل یا انتظار کرتی ہوئی آنکھیں

ایک پہیہ ہے جو بنانے والے سے ادھورا رہ گیا ہے

اسے ایک نظم مکمل کر سکتی ہے

ایک گونجتا ہوا آسمان نظم کے لیے کافی نہیں

لیکن یہ اک ناشتے دان میں بہ آسانی سما سکتی ہے

پھول، آنسو اور گھنٹیاں اس میں پروئی جا سکتی ہیں

اسے اندھیرے میں گایا جا سکتا ہے

تہواروں کی دھوپ میں سکھایا جا سکتا ہے

تم اسے دیکھ سکتی ہو

خالی برتنوں، خالی قمیضوں اور خالی گہواروں میں

تم اسے سن سکتی ہو

ہاتھ گاڑیوں اور جنازوں کے ساتھ چلتے ہوے

تم اسے چوم سکتی ہو

بندرگاہوں کی بھیڑ میں

تم اسے گوندھ سکتی ہو

پتھر کی ناند میں

تم اسے اُگا سکتی ہو

پودینے کی کیاریوں میں

٭٭٭

 

ایک نظم

 

کسی بھی رات سے تاریک نہیں کی جا سکتی

کسی تلوار سے کاٹی نہیں جا سکتی

کسی دیوار میں قید نہیں کی جا سکتی

 

ایک نظم

 

کہیں بھی ساتھ چھوڑ سکتی ہے

بادل کی طرح

ہوا کی طرح

راستے کی طرح

باپ کے ہاتھ کی طرح۔ ۔ .

٭٭٭

 

 

وصال

 

خوشبو کی آواز سنی

غنچۂ لب کے کھلتے ہی

پانی پر کچھ نقش بنے

پرتوِ شاخ کے ہلتے ہی

ساری باتیں بھول گئے

اس سے آنکھیں ملتے ہی

٭٭٭

 

 

بارشوں میں

 

ٹہنیاں بادل نہ ہو جائیں کہیں

بستیاں اوجھل نہ ہو جائیں کہیں

لڑکیاں پاگل نہ ہو جائیں کہیں

٭٭٭

 

چاہت

 

آدمی، پیڑ اور مکان

صاف نِیلا آسمان

سنگ ریزے اور گلاب

سب کے سب اچھے لگے

اس کے گھر جاتے ہوے

٭٭٭

 

یہ گیت تمھارا گھر ہے

 

 

آنکھوں سے زیادہ گہرا

کرنوں سا گرم سنہرا

آوازوں سا تر و تازہ

تاروں سا بے اندازہ

یہ گیت— تمھارا گھر ہے

٭٭٭

 

 

 

ستارے کا گمان

 

سایہ ہے گہری چپ کا اکیلے مکان پر

دل مطمئن بہت ہے مگر اس گمان پر

روشن ہے اک ستارہ ہمارے بھی نام کا

پیڑوں کی چوٹیوں سے اُدھر آسمان پر

٭٭٭

 

 

 

 

بہتا ہوا پانی

 

بہتا ہوا پانی

پیڑوں کے ماتھے کو

چوم گئے بادل

شاخوں سے ٹکرائیں

—ہات

کچے پھلوں کی

خوشبو جگائے

سُورج کی بانہوں میں

—رات

بہتا ہوا پانی

٭٭٭

 

بندرگاہ میں گرم پُر شور دِن کا آغاز

 

سورج دیکھنے والی آنکھ

محنت کرنے والے ہاتھ

گیلے تختے، جلتے پیر

اچھے لوگو! صبح بخیر

٭٭٭

دن اور جھاگ

 

دھوپ

اور

دوریوں کے درمیان

ایک آواز سنائی دیتی ہے

جیسے مچھلی

سیاہ جال سے بے خبر

سنہری پروں سے

—پانی کاٹتی ہے

٭٭٭

 

 

 

 

 

پانی کا ہاتھ

 

 

اُجلے پرندو! وہ دن کتنا میلا ہو گا

آسمان بہت دور دور تک پھیلا ہو گا

میں کشتی کے فرش پہ گِر جاؤں گا تھک کر

پانی کا ہاتھ سلا دے گا مجھے تھپک تھپک کر

٭٭٭

 

 

 

اداسی کا گیت

 

شام ہوئی، آنسوؤں میں بھیگنے لگے

لڑکیوں اور پھولوں کے ان گنت نام

کہیں کسی پڑاؤ پر رُکے ہوے لوگ

کہیں کسی اَلاؤ پر جھکے ہوے پیڑ

سفر کیا بادلوں نے تارے کے بغیر

٭٭٭

 

 

 

 

یہ مرے خواب کا مکاں

 

کتنے برس گزر گئے

کوئی چراغ، کوئی پھول

تم نے مجھے دیا نہیں

خواب مرے سنے نہیں

چاک مرا سیا نہیں

صبح کے بعد دوپہر

شام میں ڈوب جائے گی

شام کے بعد رات ہے

رات کے بعد پھر کہاں

یہ مرے خواب کا مکاں

٭٭٭

 

 

یہاں تک کہ شام ہو جاتی ہے

 

پرندوں اور بادلوں سے خالی آسمان کے نیچے کسی دور دراز اسٹیشن کے برآمدے میں ریت بھری بالٹیاں اور ایک بھاری زنجیر۔ ۔ .جنگلے کو تھام کر پھیلتی ہوئی بیلیں، رُکی ہوئی مال گاڑی کے پہیے اور پتھروں کی ابدی خاموشی میں قریب آتی ہوئی یاد، کبھی کبھی چمکنے والی بجلی کی چکا چوند میں آبائی مکان کی جھلک، جہاں کیاریوں کے پاس ایک بیلچہ بارشوں میں بھیگ رہا ہے۔ ۔ .

 

کوئی ہمارا نام لے کر پکارتا ہے، کیا وہ لڑکی اب بھی کسی کھڑکی پر کہنیاں ٹکائے ہمیں اداسیوں کے سرسراتے جھنڈ سے گزرتے دیکھ سکتی ہے۔ ۔ . یہاں تک کہ شام ہو جاتی ہے۔

٭٭٭

 

 

 

 

پھول کی حکایت

 

بس اتنا یاد ہے

سرخ پنکھڑیوں والا ایک پھول تھا

جو دھول بھرے سمندر سے گزرتے ہوے گم ہوا

اے خوب صورت آنکھوں والی لڑکی

قریب آ،

وہ پھول تجھ میں جل رہا ہے —

٭٭٭

 

 

 

 

 

ٹوٹ گئی چھاؤں

 

ٹوٹ گئی چھاؤں

دودھیا منڈیر ہے

میدانوں، مکانوں میں سویر ہے

چھاج پھٹکتی ہوئی کلائی سنگیت ہے

بانس کی کھپچیوں پہ، بیلوں کے جھکاؤ میں

آسمانی پلوؤں پہ دھُوپ ہے

کھیتوں سے کھیلتی کھجور کی چٹائیاں

بھید بھرے پتھروں پہ

گونجتی کھڑاؤں !

٭٭٭

 

 

پرانے دوستوں کی ناراضگی

 

سورج نے گھور کے دیکھا

پتوں نے شور کیا

ہوا نے بڑھ کر جھرنے کے گیتوں کو سمیٹ لیا

ہریالی میں اُگے ہوے تاروں نے مجھ سے

بات نہ کی

میں لوٹ آیا—

٭٭٭

 

 

 

 

بچپن اور اُداسی کی حد پر

 

میں اپنے خوابوں کے ساتھ گزرتا ہوں

اونچائی سے گرتی رات میں دیواروں، دروازوں کی پہچان

بہت مشکل ہے

ویسے بھی

رُک جانے، سستانے والے دیواروں کا حصّہ ہیں

دھُوپ چمکتی ہے —

بچپن اور اداسی کی حد پر میدان

فراکوں اور گلدستوں سے بھر جاتا ہے

یا شاید اک بنچ—

یا پھر سال مہینے پُلوں، سُرنگوں اور آئینوں پر نیند کے جھونکے

ایک مسلسل چیخ اُڑائے لیے جاتی ہے

اتنی تیز ہوا میں اطمینان کا سانس!

تمھارے لہجے میں دیوار سنائی دیتی ہے

دیواروں سے بچتا چھپتا

میں اپنے خوابوں کے ساتھ گزرتا ہوں —

٭٭٭

 

دشوار دن کے کنارے

 

خوابوں میں گھر لہروں پر آہستہ کھلتا ہے، پاس بلاتا ہے، کہتا ہے، دھوپ نکلنے سے پہلے سو جاؤں گا، میں ہنستا ہوں، لڑکی تیرے ہاتھ بہت پیارے ہیں، وہ بھی ہنستی ہے، دیکھو لالٹین کے شیشے پر کالک جم جائے گی، بارش کی یہ رات بہت کالی ہے، کچے رستے پر گاڑی کے پہیے گھاؤ بنا کر کھو جاتے ہیں، ایک ستارہ— بیس برس کی دوری پر اب بھی روشن ہے

٭٭٭

 

 

 

 

گیت کے ایک کنارے پر

 

گیت کے ایک کنارے پر میں، دوسری جانب رنج، خوشی اور خوابوں کی آزاد زمینیں، گیت کے رُخ پر کھلتے در اور چڑھتی بڑھتی بیلوں کی پیچیدگیوں میں اک اک کر کے کھلتے تارے، گیت کنارے دھوپ، مویشی اور مگن مکھ جھونپڑیوں میں جلتے چولھے، کھیلتے گرد اُڑاتے بچوں کی مٹ میلی صبحیں، شامیں میٹھی نیندوں کی برکھا سے جل تھل، جیسے دور دراز جگہوں سے بہتے سہتے آ گرتے ہیں گیتوں میں گیتوں کے دھارے

٭٭٭

 

اسی دالان بھر تنہائی کی حد پر

 

اسی دالان بھر تنہائی کی حد پر ستاروں کو ہوا سے گفتگو کرتے گزرتے، صبح کے ہمراہ مٹی کے پیالوں پر اترتے گھونٹ بھرتے، اَدھ کھلے جُز دان سے سیراب آئینوں کے رُخ پر سرمئی شمعیں جلاتے دیکھنا اور بھول جانا

٭٭٭

 

 

 

 

صدی کے چوتھائی ٹکڑے پر

 

صدی کے چوتھائی ٹکڑے پر جھپٹنے والے ہزاروں چاند اور سورج یا صرف ایک دن گرم پُر شور، نمازوں اور لڑکیوں کے جھُنڈ میں راستہ بناتا ہوا۔ ۔ . ہوائیں، برآمدے اور احاطے، گھی لگی روٹیوں سے آگے کتابوں میں رینگتی ہوئی تہذیب۔ ۔ .

 

پانی کی زندگی یا پانی کی موت، لڑکیوں کی ہنسی پانی کے سانپ کی طرح سفید بے زہر۔ ۔ . دونوں پتواروں نے ایک ہی کشتی سے چاند کو گلابی ہوتے ہوئے دیکھا اور پانی پر پہلا پیوند لگایا۔ ۔ .

٭٭٭

 

 

 

 

 

پھر وہی آگ

 

پھر وہی آگ

دہرائی گئی اس شام

پتھر سے تراشی ہوئی میز کے گرد

وہ شعلوں کے بدلتے ہوے رنگ میں بھی خاموش رہے

اور ہم سے کوئی بھید چھپا نہ سکے :

اندھیری کوٹھریوں میں

روشندان نہیں بنائے

کہ ستارے سستانے کو آ بیٹھتے ہیں

دکھی ہوئی پوروں کے لیے

آوازوں کے نُچے ہوے پنکھ بہت

تالیوں اور جھنڈیوں کے دوسرے کنارے

گھوڑوں کے بجتے سُم

اور چابکوں کے تیز جھکّڑ

آرائشی محرابوں کو بہا لے گئے

چوتھی دستک پر

دروازہ کھولنے والے سہم گئے

درزوں اور دراڑوں سے

خبریں چھن چھن کر آتی ہیں

دُور اندیش درختوں کی خلعت

چھیننے والے

گلی گلی میں

دھول بھرے پہناوے بانٹ رہے ہیں

٭٭٭

 

 

 

آدھے سیّارے پر

 

پھولوں

اور پھلوں کی بہتات میں

کسی کو نیند نہیں آئی

چبوتروں،

اناج گھروں کو

سراہتے ہوے

غلّہ گاہنے کے سمے

کتابوں،

ہتھیاروں کو قید

گیتوں کو رہائی

دشمنی کو زمہریر—

کوئی بول

ہواؤں کی حدوں کو

چومتا ہوا

کہ آدھے سیّارے پر

اب بھی سورج کا چراغ

—جھومتا ہے

٭٭٭

 

 

 

 

 

لفظوں کے درمیان

 

دیکھتے ہی دیکھتے انھوں نے سیّارے کو لفظوں سے بھر دیا

فیصلوں اور فاصلوں کو طول دینے کا فن انھیں خوب آتا ہے

جہاز بندرگاہوں میں کھڑے ہیں

اور گھروں، گوداموں، دکانوں میں

کسی لفظ کے لیے جگہ نہیں رہی

اتنے بہت سے لفظ — اُف خدایا!

مجھے اس زمین پر چلتے ہوے اٹّھائیس برس ہو گئے

باپ، ماں، بہنوں، بھائیوں اور محبوباؤں کے درمیان

انسانوں کے درمیان

میں نے دیکھا

تعریفوں، تعارفوں اور تعزیتوں کے لیے

ان کے پاس لرزتے ہوے ہونٹ ہیں

ڈبڈبائی ہوئی آنکھیں ہیں

گرم ہتھیلیاں ہیں

انھیں کسی ابلاغ کی ضرورت نہیں

نانبائی گنگناتا ہے

اسے لفظ نہیں چاہیے

ایک ناند — آٹا گوندھنے کے لیے

ایک تختہ — پیڑے بنانے کے لیے

ایک سلاخ — تنور سے روٹی نکالنے کے لیے

نانبائی، کام ختم کر لو تو میرے پاس آنا

یہاں کنارے پر سرکنڈوں کا جنگل آپ ہی آپ اُگ آیا ہے

کچھ قلم میں نے تراشے ہیں

اور ایک بانسری—

باقی سرکنڈوں سے ایک کشتی بنائی ہے

گڈریا، کسان، دستکار، موسیقار، آہن گر

سب تیار ہیں

کچھ آوازیں کشتی میں رکھ لی ہیں

مدرسے کی گھنٹی —

ایک لوری

اور ایک دعا

اک نئی زمین پر زندہ رہنے کے لیے اس سے زیادہ کچھ نہیں چاہیے

٭٭٭

 

 

 

 

ایک انسان کی موت

 

رُک کیوں گئے تمھارے ہاتھ موجمدار!

گنا پیلنے کی مشین کا پہیہ رُک گیا

زمین رک گئی

آدھے سیّارے پر ہمیشہ کے لیے رات آ گئی

لالٹین کون جلائے گا؟

ہوائیں گزرتی ہیں پتوں کو گراتی ہوئی

میلاد کی کتاب کے ورق اُڑ رہے ہیں

باہر الگنی پر بنیان سوکھ رہا ہے

ٹنکی کی ٹونٹی سے پانی گر رہا ہے

یہ اتنے سارے کام کون کرے گا موجمدار!

رُک کیوں گئے تمھارے ہاتھ

دیکھو! رانگا ماٹی پر دن نکل آیا ہے

بانس کے درختوں پر کونپلیں پھوٹ رہی ہیں

ہتیا اور بھولا کو نمودار ہوتے ہوے نہیں دیکھو گے کیا؟

تمھارے بیٹے اپنی بیویوں کے ساتھ گھاٹ سے کشتی کھول رہے ہیں

ان سے نہیں ملو گے کیا؟

وہاں کرشنا چورا کے سایے میں

تمھاری بیوی کی قبر

انسانوں اور بادلوں کو گزرتے دیکھتی ہے

کیا فاتحہ نہیں پڑھو گے ؟

اگر بتّی نہیں جلاؤ گے موجمدار؟

تم میری زبان جانتے تھے

میں تمھاری زبان نہیں جانتا لیکن آج تمھارے سرھانے

ایک گیت کے بول دہراتا ہوں

گاؤ موجمدار!

جیسے بچے گاتے ہیں

جیسے بوڑھی گنگا گاتی ہے :

’’شو کولے اُٹھیا

امی مونے مونے بولی

شارا دن امی جانے

بھالو ہوے چولی

آدیش کورے جہان

مورگرو جانے

امی جانے شئی کاج

کوری بھالو مانے ‘‘—

رُک کیوں گئے — بولتے کیوں نہیں موجمدار؟

تمھیں کے لیے کے باغوں اور پانی سے پیار تھا نا!

ہم تمھیں کے لیے کے پتوں میں کفنائیں گے

تمھاری قبر پانی میں بنائیں گے

موجمدار !

فوجی بوٹ دھان کی پنیری سے زیادہ طاقت ور ہوتا ہے

نہیں

دھان کی پنیری فوجی بوٹ سے زیادہ طاقت ور ہوتی ہے

اس بوٹ میں میرا پاؤں تھا موجمدار!

لو یہ گنّا چھیلنے کی کٹار

کاٹ دو اس پاؤں کو

الگ کر دو اسے

مجھے اپنے پاؤں سے خوف آتا ہے

مجھے مُردہ آدمی کی ہنسی سے خوف آتا ہے

مجھے رُکی ہوئی زمین سے خوف آتا ہے

رُک کیوں گئے تمھارے ہاتھ موجمدار!

٭٭٭

 

 

 

 

درخت، میرے دوست

 

درخت، میرے دوست

تم مل جاتے ہو کسی نہ کسی موڑ پر

اور آسان کر دیتے ہو سفر —

تمھارے پیر کی انگلیاں

جمی رہیں پاتال کے بھیدوں پر

قائم رہے مرے دوست

تمھارے تنے کی متانت اور قوت

دھوپ اور بارش تمھیں اپنے تحفوں سے نوازتی رہے

تم بہت پُر وقار اور سادہ ہو

میرے تھیلے کو جاننا چاہتے ہو

ضرور — یہ لو میں اسے کھولتا ہوں

روٹیاں، دعائیں اور نظمیں

میرے پاس اس سے زیادہ کچھ نہیں

ایک شاعر کے پاس اس سے زیادہ کچھ نہیں ہوتا

اگر میرے پاس ایک اور زندگی ہوتی

تو میں اپنی پہلی زندگی

تمھاری جڑوں پر گُزار دیتا

مگر میں گھر سے خاندان بھر خوشیوں کے لیے نکلا ہوں

اور وہاں میرا انتظار کیا جا رہا ہے

تم نے، مرے دوست

ہاں تم نے

بہت کچھ سکھایا ہے مجھے

مثلاً زمین اور آسمانی بجلی

اور ہوا

اور انتظار

اور دوسروں کے لیے زندہ رہنا

بہت قیمتی ہیں یہ باتیں

میں کیا دے سکتا ہوں اس فیاضی کا جواب

میرے پاس تمھارے لیے

ایک روٹی اور دُعا ہے

روٹی: تمھاری چیونٹیوں کے لیے

دعا: تمھارے آخری دن کے لیے

مجھے معلوم ہے تم نے کلھاڑی کے مصافحے

اور آری کی ہنسی سے کبھی خوف نہیں کھایا

مگر تم روک نہیں سکتے انھیں

کوئی بھی نہیں روک سکتا

 

خدا کرے —

خدا کرے تمھاری شاخوں سے ایک جھونپڑی بنائی جائے

بازوؤں کے گھیرے میں نہ آنے والے تمھارے تنے کی لکڑی

بہت کافی ہے

دو پہیوں اور ایک کشتی کے لیے

دوست! ہم پھر ملیں گے

مُسافر اور چھکڑا

مُسافر اور کشتی

کہیں نہ کہیں ہم پھر ایک ساتھ ہوں گے

کہیں نہ کہیں

ایک ساتھ — ہم سامنا کریں گے

ہوا کا

اور راستوں کا

مسرت کا اور موت کا—

٭٭٭

 

 

 

 

میں تمھیں یاد کر رہا تھا

 

جب درخت خاموش تھے

اور بادل شور کر رہے تھے

میں تمھیں یاد کر رہا تھا

جب عورتیں آگ روشن کر رہی تھیں

میں تمھیں یاد کر رہا تھا

جب میدان سے ایک بچے کا جنازہ گزر رہا تھا

میں تمھیں یاد کر رہا تھا

جب قیدیوں کی گاڑی عدالت کے سامنے کھڑی تھی

میں تمھیں یاد کر رہا تھا

جب لوگ عبادت گاہوں کی طرف جا رہے تھے

میں تمھیں یاد کر رہا تھا

جب دنیا میں ہر شخص کے پاس ایک نہ ایک کام تھا

میں تمھیں یاد کر رہا تھا

٭٭٭

 

 

 

 

ملّاح کا دل

 

کسی نے نہیں دیکھا

ملاح کا دل

یہاں تک کہ شام آ گئی

وہ گر پڑا

ایک اُونچے مستول سے

کبھی نہ اٹھنے کے لیے

کسی نے نہیں دیکھا

ملّاح کا دل

جب وہ پھینک دیا گیا

پتھر کی طرح

گہرے پانی میں

کسی نے نہیں دیکھا

ملّاح کا دل

اور اس میں سوئی ہوئی ایک لڑکی کو—

کسی نے نہیں دیکھا

٭٭٭

 

 

 

 

 

پیپر ویٹ

 

پیپر ویٹ

ٹھوس شیشے کا بنا ہوا ہے

جس کے اندر

پھول ہیں

جیسے سمندری تہہ میں

کھلتے ہیں

آٹھ جل پریاں ہیں

جو رقص کر رہی ہیں

پیپر ویٹ

اس لیے ہے کہ

کاغذ کو ہوا کی زد سے محفوظ رکھے

پیپر ویٹ

ایک سیارہ ہے

جس میں لوگ رہتے بستے ہیں

لیکن پیپر ویٹ ان سب باتوں سے بے خبر ہے

اسے تو صرف

شاعر کی آنکھ نے زندگی دی

اور مار دیا

٭٭٭

 

 

 

 

صبح ہوتے ہی

 

صبح ہوتے ہی آٹھ کروڑ مسخرے نکل آتے ہیں سڑکوں پر

اور شروع کر دیتے ہیں ناچ

آٹھ کروڑ مسخرے نکل آتے ہیں اپنے رنگے چہروں اور لمبی ٹوپیوں

کے ساتھ

توڑ پھوڑ ڈالتے ہیں آسمان

دھجّی دھجّی کر دیتے ہیں دھوپ

الجھا لیتے ہیں ہوا کی ڈور اپنے ہاتھوں میں

راستہ نہیں دیتے میّت گاڑیوں کو اور آگ بجھانے والے انجن کو

بھر دیتے ہیں سیّارے کو بیہودہ فقروں سے

اور شام آتی ہے

لوٹ جاتے ہیں سورج کے ساتھ کورس گاتے ہوے

اور رات ہوتی ہے

اور صبح ہوتی ہے

صبح ہوتے ہی آٹھ کروڑ مسخرے نکل آتے ہیں سڑکوں پر

اور شروع کر دیتے ہیں ناچ—

٭٭٭

 

 

 

 

دس سے اوپر

 

اتنے گھر

اتنے سیارے

کنکر پتھر کون گنے

دس سے اوپر کون گنے

 

اوزاروں کے

نام بہت ہیں

ہتھیاروں کے

دام بہت ہیں

اے سوداگر کون گنے

دس سے اوپر کون گنے

اے دل

اے بے کل فوارے

کتنے گھاؤ بنے ہیں پیارے

اپنے اندر کون گنے

دس سے اوپر کون گنے

کتنی لہریں ٹوٹ گئی ہیں بیچ سمندر، کون گنے

٭٭٭

 

 

 

یہاں مضافات میں

 

یہاں مضافات میں اس وقت

ٹھیک اِس وقت

جب زمینی گھڑیاں صبح کے ساڑھے سات بجا رہی ہیں

ایک پہیہ بنایا جا رہا ہے

لکڑی کے تختوں کو گولائی دینا معمولی کام نہیں

اپنے وسط سے باہر پھوٹتی ہوئی روشنی

عورت کے برہنہ جسم کے بعد یہ پہلا منظر ہے

جس نے مجھے روک لیا ہے

اور میں بھول گیا ہوں کہ سیّارے پر کوئی موسم بھی ہے

اور میرا ایک نام بھی ہے

پہیوں کی ایک جوڑی دروازے سے لگی کھڑی ہے

گاڑی بان آئے گا اور اسے لے جائے گا

گاڑی بان آئے گا اور یہ دو پھول لے جائے گا—  ٭٭٭

 

دو رویہ خوشیوں میں

 

سندھڑی—

جییں تیرے بیٹے

دو رویہ خوشیوں میں

دور تک

بہے جائیں

پکھی

تیری چونچ میں

مکئی کا تارا رہے

کارونجھر سے

اونٹوں والے

آئے ہیں

جھونپڑیاں

مہک اُٹھیں

چانور کی مانی سے

کٹورا بھریں

پانی سے

سندھڑی

تیری بیٹیاں

رلّیاں بناتی رہیں

گاتی رہیں

رنگین ٹکڑوں کو

وحدت میں لاتی رہیں

٭٭٭

 

 

 

مہران مجھے دو

 

مہران، مجھے دو

آواز کا اک پنکھ

مہران، مجھے دو

ٹوٹے ہوے رشتے

پرکھوں کے نوشتے

مہران، مجھے دو

زرخیز کنارا

یہ ہاتھ تمھارا

گرم اور سنہرا

مہران، مجھے دو

اُمید اور پانی

٭٭٭

 

وائی

 

کوہ یارا، کوہ یارا

دیکھ پچھم کے کنارے

چیختے رنگوں کا دھارا

کوہ یارا، کوہ یارا

دور نیچے بستیوں سے

لہلہاتی پستیوں سے

دیکھتا ہے گھر تمھارا

کوہ یارا، کوہ یارا

رات آ جاتی ہے پل میں

کوئی کہتا ہے جبل میں

دور ہے اب بھی ستارا

کوہ یارا، کوہ یارا

٭٭٭

 

 

 

 

کافی

 

کیا طنبور کہے

مٹّی کے اندھیاؤ اندر

کیا طنبور کہے

مٹّی، پانی کا سیارہ

گونج رہا اکتارا

کیا کیا نور کہے

مٹی کے اندھیاؤ اندر

کیا کیا نور کہے

دل اندر دریاؤ سائیں

آؤ سائیں

مٹّی کی تہہ داری اندر

کیاری اندر

زرد زبور کہے

مٹّی کے اندھیاؤ اندر

کیا طنبور کہے !

٭٭٭

 

 

 

 

 

کاندھے پہ دھرے ساز

 

گلیوں سے گزر جاؤں

کاندھے پہ دھرے ساز

سب لوگ ہمارے

اُس پار سِدھارے

کاندھے پہ دھرے ساز

اُس شوخ نے اب تک

کھولے ہی نہیں دوار

یہ ابر یہ بوچھار

اس خواب میں ہم کو

چلنا ہے لگاتار

کاندھے پہ دھرے ساز

یہ شام سہانی

آنکھوں سے پرانی

مہران کے پانی

تجھ میں نہ اُتر جاؤں

کاندھے پہ دھرے ساز

٭٭٭

 

 

 

 

 

سادھ بیلا

 

اپنی آنکھیں بند کر لو اور میرے ساتھ آؤ

ایک دریا، ایک کشتی

ایک کشتی، دو مسافر

دو مسافر، اک جزیرہ

اک جزیرہ اور چاروں سمت پانی

ایک راجہ، ایک رانی—

٭٭٭

 

 

 

 

آدھے سیّارے پر

 

آدھا پیڑ خزاں کی زد میں جس پر پھول نہ پات

آدھے سیّارے پر سُورج، آدھے پربرسات

آدھے فوارے پر پانی اور آدھے میں ریت

سچے ہاتھ درانتی والے کاٹ رہے ہیں کھیت

اچھی فصل ہوئی ہے اب کے، مالک کا احسان

اس آنگن میں آؤ ساتھی مل کر کوٹیں دھان

ایک طرف پیتل کی گھنٹی، ایک طرف دیوار

اس اُجلی آواز کے رُخ پر کھولے رکھّو دوار

خالی ہاتھ نہیں لوٹے گا اے میرے پاتال

کان کنوں کا ٹوکرا ہو یا ماہی گیر کا جال

٭٭٭

 

 

پیتل کی گھنٹیاں

 

ہرے بھرے بن میں

چوپایوں کے ساتھ ہیں

پیتل کی گھنٹیاں

 

گرجا کی ڈور میں

مندر کی بھور میں

مکتب کے شور میں

سدا یونہی بجا کریں

پیتل کی گھنٹیاں

٭٭٭

 

 

 

 

غیر حاضر زندگی کے سامنے

 

غیر حاضر زندگی کے سامنے

بارشوں میں جھومتے گاتے شجر

آندھیوں میں رقص فرماتے شجر

 

غیر حاضر زندگی کے سامنے

 

ایک سیارے کے جلنے کا سماں

آدمی کے بچ نکلنے کا سماں

 

غیر حاضر زندگی کے سامنے

 

ایک محبوبہ کا جسمِ دلنواز

بچھتا جاتا صورتِ جائے نماز

٭٭٭

 

نیلی بارش

 

نیلی بارش تیری آنکھوں میں

جیسے یہ منظر

پہلے بھی دیکھا ہو میں نے

آئینے کے دل میں یا پھر اس دروازے میں

جو کالی مٹّی کے پاتال میں کھلتا ہے

کالی مٹی کا پاتال ہمارا بچپن

بچپن اور جنّت کی چڑیاں

نیلی بارش میں سب کچھ بھیگ رہا ہے

بھیگے رنگوں سے تصویر بناؤں

تیرے بدن پر

میں نیلی بارش، تو کالی مٹی

تیرے ہونٹ دہک اُٹھے ہیں

جیسے شعلے

نیلی بارش کے آئینے میں جل اُٹھے ہوں

٭٭٭

 

 

 

 

ایک پُل بنایا جا رہا ہے

 

میں اُن سے پوچھتا ہوں :

پُل کیسے بنایا جاتا ہے ؟

پل بنانے والے کہتے ہیں :

تم نے کبھی محبت نہیں کی

میں کہتا ہوں : محبت کیا چیز ہے ؟

وہ اپنے اوزار رکھتے ہوے کہتے ہیں :

محبت کا مطلب جاننا چاہتے ہو

تو پہلے دریا سے ملو—

روئے زمین پر دریا سے زیادہ محبت کرنے والا کوئی نہیں

دریا اپنے سمندر کی طرف بہتا رہتا ہے

یہ سپردگی ہے

سپردگی بچپن ہے اور بچپن بہشت—

لیکن بہشت تک پہنچنے کے لیے ایک جہنّم سے گزرنا پڑتا ہے

میں پوچھتا ہوں : جہنّم کیا ہے ؟

وہ کہتے ہیں : اس سوال کا جواب درختوں کے پاس ہے

کوئی بھی موسم ہو، وہ اپنی جگہ نہیں چھوڑتے

انھیں مٹی سے محبت ہے

انھیں پرندوں اور چیونٹیوں سے محبت ہے

جو ان کے جسم میں گھر بناتی ہیں

گھر کیا ہے ؟ میں پوچھتا ہوں

وہ سب ہنسنے لگتے ہیں

پہلا مزدور کہتا ہے :

’’اپنی عورت کی طرف جاؤ

ہر سوال کا جواب مل جائے گا‘‘

٭٭٭

 

 

 

 

پکاسو کے مسخرے

 

رنگے ہوے چہرے، لمبوتری ٹوپیاں، بے ہنگم لباس

کبھی تار پر چلتے ہوے

کبھی ایک جھولے سے دوسرے جھولے پر

منھ سے رنگین کاغذ نکالتے ہوے

کبھی سر کے بل

کبھی خوابوں کے بل

مگر خوابوں کے بل کہاں

خواب تو آدمی دیکھتا ہے

پکاسو کے مسخرے خواب نہیں دیکھتے

وہ تو صرف تماشائیوں کو دیکھ سکتے ہیں

تالیوں کے شور کو سُن سکتے ہیں

پکاسو کے مسخرے روٹی کو سوچ رہے ہیں

مگر نہیں، وہ تو صرف چابک کھا سکتے ہیں

رِنگ ماسٹر ان کا خدا ہے

جب تماشائی اپنے گھروں کو لوٹ جاتے ہیں

مسخرے اپنے خیمے میں واپس آ جاتے ہیں

وہ اتنے تھک چکے ہوتے ہیں کہ انھیں نیند آ جاتی ہے

انھیں خواب دیکھنے کی مہلت نہیں ملتی

رنگے ہوے چہرے اور بے ہنگم لباس کے پیچھے

ایک آدمی ہے جو رونا چاہتا ہے

لڑنا چاہتا ہے

عورت کے ساتھ سونا چاہتا ہے

زندہ رہنا چاہتا ہے

مرنا چاہتا ہے

مگر رِنگ ماسٹر کے اشارے کے بغیر

وہ مر بھی نہیں سکتے —

٭٭٭

 

 

اتنے بہت سے رنگ

 

سلاخوں سے اُدھر

کچھ درخت، ایک سڑک، کتّے کی زنجیر تھامے ایک آدمی

اور ایک ڈور، جس پر رنگ برنگے کپڑے سوکھ رہے ہیں

جسموں کے بغیر یہ کپڑے، بچوں کے بغیر یہ میدان

محبت کے بغیر یہ راستے

دنیا کتنی چھوٹی نظر آتی ہے

رنگ برنگے کپڑے سُوکھ جانے پر

ایک عورت آئے گی

تب ایک ایک کر کے یہ قمیصیں، پتلونیں اور فراکیں

اپنے اپنے جسم حاصل کر لیں گے

تب میدان بچوں سے

اور بچے خوشی سے بھر جائیں گے

یہ چھوٹی کائنات رنگوں سے بھر جائے گی

اتنے بہت سے رنگ

اے عورت، اتنے بہت سے رنگ!

٭٭٭

 

بیت

 

سندھڑی تیرا دل، شاہ لطیف کا باغ

شاہ لطیف کا باغ، جیسے غیب کی بات

جیسے غیب کی بات مٹّی میں مستور

مٹی میں مستور پانی کا اک پھول

پانی کا اک پھول شہزادے کے پاس

شہزادے کے پاس ایک عجیب طلسم

ایک عجیب طلسم شہزادے کا جسم

شہزادے کا جسم سب سے پہلا اِسم  ٭٭٭

 

گھوڑے کی موت

 

میں نے ایک گھوڑے کو مرتے ہوے دیکھا

مرتے ہوے گھوڑے نے کیا دیکھا:

تارکول کی سڑک—

اُڑتا ہوا کاغذ یا ایک سکّہ جو بچے کے ہاتھ سے گر پڑا تھا

یا وہ جنگل جہاں پانی اور پرندوں کے ساتھ اس نے

آنکھ کھولی تھی

یا وہ دن جب پہلے آدمی نے اُسے دیکھا تھا

 

ایک گلے سڑے ڈھانچے پر بارش ہو گی

گھوڑا — اک اور جنم لے گا

گاڑی بان کے دل میں

یا کسی نظم میں —

٭٭٭

 

زمیں کا آہنگ

 

زمیں کا آہنگ دھوپ، دریا، سفید گھوڑے کی ہنہناہٹ، غروب ہوتے ہوے پرندے، گلاب کا آتشیں پیالہ، مجسّمے کا طویل سایہ، حکایتوں کے مہیب جنگل میں ڈھول گیتوں کا تازیانہ، علامتوں کا سیاہ پانی اُترنے والوں کی حیرتوں میں قدیم سورج کے پھول پتّے

٭٭٭

 

خودکشی کا فرشتہ

 

نوحہ — سارا شگفتہ کے واسطے

 

انجن کے ماتھے کا سُورج، ایک بدن کے لاکھوں ٹکڑے، ہر ٹکڑے میں اک سیّارہ، سیارے کے دل میں سارا — میں بنجارا، ہاتھوں میں لے کر انگارا، مٹّی کے سینے میں اُترا، بیج میں سویا پھول میں جاگا

—بن بیلے میں گونج رہا تھا سائیں مرنا کا اکتارا

٭٭٭

 

 

ایک افریقی حکایت

 

دن کے وسط میں ایک گھوڑا گاڑی تارکول کی سڑک پر ایک منزل کی جانب روانہ ہے۔ گاڑی بان کے داہنے ہاتھ میں چابک ہے۔ سورج سر پر ہے اور گھوڑا گاڑی کا سایہ تارکول کی سڑک پر۔ سڑک کے دونوں جانب لکڑی کے بنے ہوے مکانات ہیں۔ کہیں کہیں رسیوں پر رنگ برنگے کپڑے سوکھ رہے ہیں۔ مکانوں کے پیچھے جنگل، اتنا جنگل کہ سورج کی روشنی زمین کا بوسہ نہیں لے سکتی۔ دن کے وسط میں گھوڑا چکرا کے گر پڑتا ہے۔ لوگوں کا ہجوم بڑھتا جاتا ہے۔ گاڑی بان گھوڑے کی لگام کو آزاد کرتا ہے اور چار دوسرے سیاہ فاموں کے ساتھ گھوڑے کو اٹھانے کی کوشش کرتا ہے۔ گھوڑے کی آنکھوں میں بے چارگی کا آسمان ہے۔ پرندوں اور بادلوں سے خالی آسمان اور ایک تیز تپتا ہوا سورج۔ گاڑی بان چابک کی مدد سے گھوڑے کو اٹھانا چاہتا ہے لیکن کوئی تدبیر بھی کارگر نہیں ہوتی۔ ایک عورت مکان کی بالکنی سے یہ تماشا دیکھ رہی ہے۔ وہ آہستہ آہستہ، پیچدار چوبی زینے کو طے کرتی ہوئی گرے ہوے گھوڑے تک پہنچتی ہے اور اس کے کان میں کچھ کہتی ہے۔ گھوڑا فوراً کھڑا ہو جاتا ہے، گاڑی بان لگام کستا ہے اور منزل کی جانب روانہ ہو جاتا ہے۔ عورت اپنی بالکنی پر واپس آ جاتی ہے۔ اس کا مرد پوچھتا ہے : ’’تم نے گھوڑے کے کان میں کیا کہا؟‘‘ سیاہ فام عورت کہتی ہے : ’’میں نے گھوڑے سے کہا:‘میں وہ ہوں جسے اپنے مرد سے پہلے کسی نے چھوا ورنہ ہی اُس کے بعد، اگر تو اس سچ پر یقین رکھتا ہے تو کھڑا ہو جا۔ ‘‘

٭٭٭

 

 

 

 

                   غزلیں

 

قندیلِ مہ و مہر کا افلاک پہ ہونا

کچھ اس سے زیادہ ہے مرا خاک پہ ہونا

٭٭٭

 

 

 

قندیلِ مہ و مہر کا افلاک پہ ہونا

کچھ اس سے زیادہ ہے مرا خاک پہ ہونا

 

ہر صبح نکلنا کسی دیوارِ طرب سے

ہر شام کسی منزلِ غمناک پہ ہونا

 

یا ایک ستارے کا گزرنا کسی در سے

یا ایک پیالے کا کسی چاک پہ ہونا

 

لَو دیتی ہے تصویر نہاں خانۂ دل میں

لازم نہیں اِس پھول کا پوشاک پہ ہونا

 

لے آئے گا اِک روز گل و برگ بھی ثروت

باراں کا مسلسل خس و خاشاک پہ ہونا

٭٭٭

 

باد و باراں میں چلے یا تہہِ محراب رکھے

رکھنے والا مری شمعوں کو ابد تاب رکھے

 

کوئی موسم ہو مگر میرے خیاباں کے تئیں

نخلِ اندیشۂ فردا کو نمویاب رکھے

 

وہ خداے رم و رفتار سرِ ہر منزل

دلِ رہگیر کو آمادہ و بے تاب رکھے

 

ہے کوئی خاک نہادوں کو جگانے والا

اس سے پہلے کہ قدم تندیِ سیلاب رکھے

 

انہی گلیوں، انہی لوگوں سے ہوں بیزار مگر

پالنے والا انھیں خرم و شاداب رکھے

٭٭٭

 

 

فراتِ فاصلہ و دجلۂ دُعا سے اُدھر

کوئی پکارتا ہے مجھے دشتِ نینوا سے اُدھر

 

کسی کی نیم نگاہی کا جل رہا ہے چراغ

نگار خانہِ آغاز و انتہا سے اُدھر

 

میں آگ دیکھتا تھا آگ سے جدا کر کے

بلا کا رنگ تھا رنگینیِ قبا سے اُدھر

 

میں راکھ ہو گیا طاؤسِ رنگ کو چھو کر

عجیب رقص تھا دیوارِ پیشِ پا سے اُدھر

 

زمین میرے لیے پھول لے کے آئی ہے

بساطِ معرکۂ صبر آزما سے اُدھر

 

یہ میرے ہونٹ سمندر کو چوم سکتے ہیں

حکایتِ شبِ افراد و آئنہ سے اُدھر

٭٭٭

 

 

 

 

اُسی کنارۂ حیرت سرا کو جاتا ہوں

میں اِک سوار ہوں، کوہِ ندا کو جاتا ہوں

 

رمیدگی کا بیاباں ہے اور بے خورو خواب

غبار کرتا سکوت و صدا کو جاتا ہوں

 

قریب ہی کسی خیمے سے آگ پوچھتی ہے

کہ اس شکوہ سے کس قرطبہ کو جاتا ہوں

 

حذر کہ دجلۂ دشوار پر قدم رکھتا

شکار گاہِ فرات و فنا کو جاتا ہوں

 

کہاں گئے وہ خدایانِ درہم و دینار

کہ اک دفینۂ دشتِ بلا کو جاتا ہوں

 

سفارتِ حدِ حیرانگی پہ ہوں مامور

نگار خانۂ حسن و ادا کو جاتا ہوں

 

وہ دن بھی آئے کہ ان کار کر سکوں ثروت

ابھی تو معبدِ حمد و ثنا کو جاتا ہوں

٭٭٭

 

 

 

 

کتابِ سبز و درِ داستان بند کیے

وہ آنکھ سو گئی خوابوں کو ارجمند کیے

 

گزر گیا ہے وہ سیلابِ آتشِ امروز

بغیر خیمہ و خاشاک کو گزند کے

 

بہت مُصر تھے خدایانِ ثابت و سیّار

سو میں نے آئنہ و آسماں پسند کیے

 

اِسی جزیرۂ جائے نماز پر ثروت

زمانہ ہو گیا دستِ دعا بلند کیے

٭٭٭

 

 

 

وصل کی شام گلستاں پھر اُسی شعلہ رو سے ہے

رنگِ ستون و سقف و بام آمدِ ہم سبو سے ہے

 

بہجتِ بے مثال میں ایک ملال کی جھلک

یا مری خامشی سے تھی یا تری گفتگو سے ہے

 

رزم گہِ وجود میں آنکھ جھپک نہیں سکی

یورشِ بادِ واپسیں مجھ پہ چہار سو سے ہے

 

موسمِ ابر و باد میں اور بھی کچھ چمک اُٹھا

سنگِ سفید جا بجا سُرخ مرے لہو سے ہے

 

جنبشِ برگِ بے خزاں، آمد و رفت کا سماں

وسعتِ ریگزار میں موجۂ آبجو سے ہے

٭٭٭

 

 

گدائے شہرِ آئندہ تہی کاسہ ملے گا

تجاوز اور تنہائی کی حد پر کیا ملے گا

 

سیاہی پھیرتی جاتی ہیں راتیں بحر و بر پہ

انہی تاریکیوں سے مجھ کو بھی حصہ ملے گا

 

میں اپنی پیاس کے ہمراہ مشکیزہ اُٹھائے

کہ ان سیراب لوگوں میں کوئی پیاسا ملے گا

 

روایت ہے کہ آبائی مکانوں پر ستارہ

بہت روشن مگر نمناک و افسردہ ملے گا

 

شجر ہیں اور اس مٹی سے پیوستہ رہیں گے

جو ہم میں سے نہیں آسائشوں سے جا ملے گا

 

ردائے ریشمیں اوڑھے ہوے گزرے گی مشعل

نشستِ سنگ پہ ہر صبح گلدستہ ملے گا

 

وہ آئینہ جسے عجلت میں چھوڑ آئے تھے ساتھی

نہ جانے باد و خاک آثار میں کیسا ملے گا

 

اسے بھی یاد رکھنا بادبانی ساعتوں میں

وہ سیّارہ کنارِ صبحِ فردا آ ملے گا

 

چراگاہوں میں رُک کر آسمانی گھنٹیوں کو

سنو کچھ دیر کہ وہ زمزمہ پیرا ملے گا

 

اُسی کی وادیوں میں طائرانِ رزق جُو کو

نشیمن اور اُجلی نیند کا دریا ملے گا

 

اِسی جائے نماز و راز پہ اک روز ثروت

اچانک در کھلے گا اور وہ جھونکا ملے گا

٭٭٭

 

 

 

آنکھوں میں سوغات سمیٹے اپنے گھر آتے ہیں

بجرے لاگے بندرگاہ پہ سوداگر آتے ہیں

 

زرد زبور تلاوت کرتی ہے تصویر خزاں کی

عین بہار میں کیسے کیسے خواب نظر آتے ہیں

 

گندم اور گلابوں جیسے خواب شکستہ کرتے

دور دراز زمینوں والے شہر میں در آتے ہیں

 

شہزادی تجھے کون بتائے تیرے چراغ کدے تک

کتنی محرابیں پڑتی ہیں، کتنے در آتے ہیں

 

بندِ قبائے سُرخ کی منزل اُن پر سہل ہوئی ہے

جن ہاتھوں کو آگ چرا لینے کے ہنر آتے ہیں

٭٭٭

 

 

 

 

گھر ہے تو کسی کو سونپتا جاؤں

جاتے ہوے آگ کیوں لگا جاؤں

 

دیواروں کو ڈھال تھے مرے ہاتھ

جنگل ہے تو راستہ بنا جاؤں

 

بانہیں وہ شجر کہ روک لیں راہ

آنکھیں وہ بھنور کہ ڈوبتا جاؤں

 

نشّہ ہو کسی کی قربتوں کا

ایسا بھی نہیں کہ لڑکھڑا جاؤں

 

نفرت ہے تو منکشف بھی ہو گی

کچھ راز نہیں کہ جو چھپا جاؤں

 

جاتا ہوں خزاں کی سلطنت کو

تصویرِ بہار کھینچتا جاؤں

٭٭٭

 

 

 

یہ ہونٹ ترے ریشم ایسے

کھلتے ہیں شگوفے کم ایسے

 

یہ باغ چراغ سی تنہائی

یہ ساتھ گل و شبنم ایسے

 

مری دھوپ میں آنے سے پہلے

کبھی دیکھے تھے موسم ایسے

 

کس فصل میں کب یکجا ہوں گے

سامان ہوے ہیں بہم ایسے

 

سینے میں آگ جہنم سی

اور جھونکے باغِ اِرم ایسے

٭٭٭

 

 

 

 

لہر لہر آوارگیوں کے ساتھ رہا

بادل تھا اور جَل پریوں کے ساتھ رہا

 

کون تھا میں، یہ تو مجھ کو معلوم نہیں

پھولوں، پتوں اور دیوں کے ساتھ رہا

 

ملنا اور بچھڑ جانا کسی رستے پر

اک یہی قصہ آدمیوں کے ساتھ رہا

 

وہ اِک سورج صبح تلک مرے پہلو میں

اپنی سب ناراضگیوں کے ساتھ رہا

 

سب نے جانا بہت سبک، بے حد شفّاف

دریا تو آلودگیوں کے ساتھ رہا

 

میں اپنی جلاوطنی کے پچّیس برس

پنکھڑیوں اور تیتریوں کے ساتھ رہا

٭٭٭

 

 

 

 

 

ہاتھ ہمارے بھی شامل تھے پربت کاٹنے والوں میں

دیکھو ہم نے راہ بنائی بے ترتیب سوالوں میں

 

رات اور دن کے الجھاؤ میں کون ہے وہ آہستہ خرام

جس کے رنگ ہیں دیواروں پر جس کی گونج خیالوں میں

 

دروازوں میں لوگ کھڑے تھے اور ہماری آنکھوں نے

پانی کا چہرہ دیکھا تھا مِٹی کی تمثالوں میں

 

کنجِ خزاں آثار میں ثروت آج یہ کس کی یاد آئی

ایک شعاعِ سبز اچانک تیر گئی پاتالوں میں

٭٭٭

 

 

 

 

 

 

یہ جو پھوٹ بہا ہے دریا پھر نہیں ہو گا

روئے زمیں پر منظر ایسا پھر نہیں ہو گا

 

زرد گلاب اور آئینوں کو چاہنے والی

ایسی دھوپ اور ایسا سویرا پھر نہیں ہو گا

 

گھایل پنچھی تیرے کنج میں آن گرا ہے

اس پنچھی کا دوسرا پھیرا پھر نہیں ہو گا

 

میں نے خود کو جمع کیا پچیس برس میں

یہ سامان تو مجھ سے یکجا پھر نہیں ہو گا

 

شہزادی ترے ماتھے پر یہ زخم رہے گا

لیکن اس کو چومنے والا پھر نہیں ہو گا

 

ثروت تم اپنے لوگوں سے یوں ملتے ہو

جیسے ان لوگوں سے ملنا پھر نہیں ہو گا

٭٭٭

 

 

 

دشت لے جائے کہ گھر لے جائے

تیری آواز جدھر لے جائے

 

اب یہی سوچ رہی ہیں آنکھیں

کوئی تا حدِ نظر لے جائے

 

منزلیں بجھ گئیں چہروں کی طرح

اب جدھر راہ گزر لے جائے

 

تیری آشفتہ مزاجی، اے دِل

کیا خبر کون نگر لے جائے

 

سایۂ ابر سے پوچھو ثروت

اپنے ہمراہ اگر لے جائے

٭٭٭

 

 

ڈوبے تو ہلاک ہوے ہی نہیں

ایسے پیراک ہوے ہی نہیں

 

تری آنکھ کا کاجل بن تو گئے

ترے در کی خاک ہوے ہی نہیں

 

سورج نے آگ لگائی بہت

جنگل تو راکھ ہوے ہی نہیں

 

ہم پہروں بیٹھ کے رو بھی لیے

موسم نمناک ہوے ہی نہیں

 

اوپر تارے بھی کھلے ہوں گے

بادل تو چاک ہوے ہی نہیں

٭٭٭

 

 

اب کس سے کہیں بھول گئے ہیں نگر اپنا

جنگل کے اندھیروں میں کٹا ہے سفر اپنا

 

بدلیں جو ہوائیں تو پلٹ کر وہیں آئے

ڈھونڈا انہی شاخوں میں پرندوں نے گھر اپنا

 

پھولوں سے بھرے کنج تو اک خواب ہی ٹھہرے

یہ سایۂ دیوارِ خزاں ہے مگر اپنا

 

آنکھوں سے اُلجھنے لگے بیتے ہوے موسم

کیا نام لکھیں شہر کی دیوار پر اپنا

 

خاموش فصیلوں پہ ہُمکتی ہوئی بیلیں

دکھلا ہی دیا موسمِ گل نے اثر اپنا

٭٭٭

 

 

ان اونچی سرخ فصیلوں کا دروازہ کس پر وا ہو گا

گھوڑے کی باگیں تھامے ہوے شہزادہ سوچ رہا ہو گا

 

دو رویہ گلاب کے پودوں پر رنگوں کی بہار سجی ہو گی

پتھر کی کالی سیڑھیوں پر اک دیا ابھی جلتا ہو گا

 

مٹی کے منقّش پیالوں پر صدیوں کی گرد جمی ہو گی

اُڑ جانے والے پرندے کا پنجرہ کیسا لگتا ہو گا

 

اُڑتے بالوں کی اوٹ کیے، ہاتھوں میں زرد چراغ لیے

اسی ٹھنڈے فرش کے صحرا پر کوئی ننگے پیر چلا ہو گا

 

خاموش چراگاہوں کے لیے کوئی بادل ایسا گیت لکھوں

انہی دھوپ بھرے میدانوں میں کہیں بھیڑوں کا گلّہ ہو گا

٭٭٭

 

 

 

 

پورے چاند کی سج دھج ہے شہزادوں والی

کیسی عجیب گھڑی ہے نیک ارادوں والی

 

بارش کی اُودی پَوروں کو چوم رہی ہے

ایک عمارت مٹی کی بنیادوں والی

 

نئی نئی سی آگ ہے یا پھر کون ہے وہ

پیلے پھولوں، گہرے سُرخ لبادوں والی

 

بھری رہیں یہ گلیاں پھول پرندوں سے

سجی رہے تاروں سے طاق مرادوں والی

 

تصویروں کے ٹکڑے جوڑتی رہتی ہے

اِک تمثیل فصیلوں اور فریادوں والی

 

آنکھیں ہیں اور دھُول بھرا سنّاٹا ہے

گزر گئی ہے عجب سواری یادوں والی

٭٭٭

 

 

 

لڑکیاں، پھول، ساحلوں کے نگر

کشتیاں آ لگیں کناروں پر

 

ہجر کی اک طویل رُت کے بعد

پھر وہی شام، پھر وہی منظر

 

آنکھ میں خواہشوں کے تیرتے رنگ

جھاگ میں جیسے مچھلیوں کے پر

 

بادبانوں میں چھپ کے بیٹھے ہیں

کچھ نئے خواب کچھ پرانے ڈر

 

بارشیں تو گزر گئیں ثروت

کن ہواؤں میں جھومتا ہے شجر

٭٭٭

 

 

 

 

گر منتظرِ صدا نہ ہوتے

اس پل تو کہیں روانہ ہوتے

 

دیوارِ سکوں وداع کرتی

بادل ہمیں تازیانہ ہوتے

 

اندوہِ سفر میں ڈوب جاتے

دنیا کے تئیں فسانہ ہوتے

 

ہم خلوتیانِ آب و افلاک

کیا ہوتے اگر ندا نہ ہوتے

 

مہجوریِ یک نفس کو دیکھو

ساعت سے کبھی زمانہ ہوتے

 

ثروت یہ درخت، یہ ستارے

مٹّی سے اگر رہا نہ ہوتے

٭٭٭

 

 

 

 

بھٹکے گی ہوا صنوبروں میں

سب لوگ ہیں شام سے گھروں میں

 

سرما کی صدائیں گونجتی ہیں

پربت کے خموش منظروں میں

 

آباد رہے نگر تہہِ آب

اُترا نہ کوئی سمندروں میں

 

راتوں سے ڈری ہوئی زمیں کو

سورج نے چھپا لیا پروں میں

 

پہنائیِ شب گواہ رہنا

ہم بھی ہیں ترے شناوروں میں

٭٭٭

 

خوابوں کی وہ رُت گزر گئی کیا

یہ رات بھی بے ثمر گئی کیا

 

رسم و رہِ صورت آشنائی

اس شہر سے کوچ کر گئی کیا

 

ہمراہ چلی تھی کوئی خوشبو

رستے میں کہیں ٹھہر گئی کیا

 

یہ کاہشِ روز و شب سلامت

وہ خواہشِ دربدر گئی کیا

 

ثروت یہ ہوائے موسمِ گل

تجھ کو بھی اُداس کر گئی کیا

٭٭٭

 

 

سورج ابھی کُہر میں چھپا تھا

جو نقش تھا دُور کی صدا تھا

 

روشن تھی ہوا کہیں کہیں پر

ایک آدھ کواڑ کھل چکا تھا

 

ویران سڑک پہ مردہ چڑیاں

موسم کا عجیب سانحہ تھا

 

تالاب تھا یا کہ شہر کے بیچ

آئینہ کسی نے رکھ دیا تھا

 

اوجھل تھا نگاہ سے جزیرہ

دیوارِ ہوا کا سامنا تھا

 

شاخوں میں ہوا رکی ہوئی تھی

رستہ دریا میں جا گرا تھا

 

لڑکی کوئی گھاٹ پر کھڑی تھی

پانی پہ چراغ جل رہا تھا

 

رقصاں کوئی عکس تھا نظر میں

لرزاں کوئی حرف جا بجا تھا

 

آنکھوں سے پرے تہہِ خس و خاک

خوشبو کا بدن سلگ رہا تھا

 

ثروت وہ فضائے صبحِ سرما

لگتا ہے کہ جیسے خواب سا تھا

٭٭٭

 

 

 

دل گرفتہ کہ خوش گمان رہوں

انہی لوگوں کے درمیان رہوں

 

خاک افتاد ہوں تو پھر کیوں کر

بے نیازِ غمِ جہان رہوں

 

جوے کم آب ہو کہ سینۂ بحر

صورتِ عکسِ آسمان رہوں

 

دل میں رکھ لوں کوئی کرن ثروت

اور تا صبح میزبان رہوں

٭٭٭

 

 

 

 

 

بدن کا بوجھ لیے، روح کا عذاب لیے

کدھر کو جاؤں طبیعت کا اضطراب لیے

 

یہی امید کہ شاید ہو کوئی چشم براہ

چراغ دِل میں لیے، ہاتھ میں گلاب لیے

 

عجب نہیں کہ مری طرح یہ اکیلی رات

کسی کو ڈھونڈنے نکلی ہو ماہتاب لیے

 

سوا ہے شب کے اندھیروں سے دن کی تاریکی

گئے وہ دن جو نکلتے تھے آفتاب لیے

 

کسی کے شہر میں مانندِ برگِ آوارہ

پھرے ہیں کوچہ بہ کوچہ ہم اپنے خواب لیے

 

کہاں چلے ہو خیالوں کے شہر میں ثروت

گئے دنوں کی شکستہ سی یہ کتاب لیے

٭٭٭

 

 

 

اک گیت میرے پاس ہوا سے پرانا ہے

اے بادلو، مجھے تو بہت دور جانا ہے

 

کھپریل کی چھتوں سے گزرتے ستارے کو

کچھ دیر آئنے میں ابھی جھلملانا ہے

 

کس سے ملو گے ٹوٹتی شاخوں کے درمیاں

یہ بارشوں کی رات بڑی وحشیانہ ہے

 

بوچھار میں سوار کو اوجھل بھی دیکھنا

یہ بن محبتوں سے بھرا بیکرانہ ہے

 

جنگل کہانیوں کی طرح پھیل جائیں گے

پل بھر سمے کی شاخ پہ منظر سہانا ہے

٭٭٭

 

شہر زاد ہیں، گلیوں کی پہچان بھی رکھتے ہیں

اور بھٹکتے رہنے پر ایمان بھی رکھتے ہیں

 

رستہ رستہ اُگنے والے یہ ہم شکل درخت

دھوپ میں ہیں اور ہم جیسوں کا دھیان بھی رکھتے ہیں

 

دور افتادہ ویرانوں پر لہراتے بادل

اک دہلیز سے کچھ عہد و پیمان بھی رکھتے ہیں

 

اندیشوں میں جھلسنے والے دلوں کے یہ دالان

خوابوں اور خیالوں کو مہمان بھی رکھتے ہیں

 

رات کی رات چمکنے والے آسمان کے رنگ

دیواروں کو صدیوں تک حیران بھی رکھتے ہیں

٭٭٭

 

ستارۂ صبح کی خبر لے، رِدائے افلاک پر نظر کر

حصارِ تاریک سے نکل کر کبھی رگِ تاک پر نظر کر

 

بہت سی باتیں ہیں جو ابھی تک حروف و اشکال سے وَرا ہیں

جہانِ اَسرار کے مسافر، سفالِ نمناک پر نظر کر

 

خزاں زدہ باغ کی حدوں پر کہانیاں سی گزر رہی ہیں

سلگتے پتّوں کی خامشی میں بہارِ خاشاک پر نظر کر

 

نگاہ کی آخری حدوں تک زوال کی شام بہہ رہی ہے

زمین کے ٹوٹتے کنارے، خروشِ بیباک پر نظر کر

 

وہ قصرِ شاہاں، وہ کج کلاہاں زمیں کا پیوند ہو چکے ہیں

یہ پرچمِ خاک اُسی جگہ ہے، گلیمِ صد چاک پر نظر کر

٭٭٭

 

 

ٹوٹ چکا آسماں، ڈوب چلے گھر ترے

ایک دھواں دھار دن اور یہ منظر ترے

 

شعلگی و خیرگی، سیلِ سراسیمگی

ایک پرندہ مرا، سات سمندر ترے

 

حشمتِ آئینہ سے ہیبتِ افلاک تک

بول ستارے کہاں راکھ ہوے پر ترے

 

گونجتی گلیوں میں ہے ان کے خیالوں کی چاپ

گشت و گلیم آشنا پاک پیمبر ترے

 

قلعۂ کوہسار پر نوحۂ نخلِ بلند

خود نگر و خودپسند سرو و صنوبر ترے

 

شام شکستوں سے چُور، بے شجر و بے حضور

کون ہوائیں تھیں وہ، کیا ہوے لشکر ترے

 

سُن اے خدائے زبور، اب وہ ہجومِ طیور

کون نگر اڑ گئے چوم کے پتھر ترے

٭٭٭

 

 

 

کوئی نشاں سرِ دیوار و بام اپنا نہیں

کسی نگر، کسی بن میں قیام اپنا نہیں

 

ہوا کے ساتھ ہوا، بارشوں میں بارش ہیں

کسی شجر کسی پتّے پہ نام اپنا نہیں

 

تلاش دل کو بیابانِ شامِ ہجراں کی

کہ ان ہواؤں میں خواب و خرام اپنا نہیں

 

کبھی کبھی کوئی بادل گزر ہی جاتا ہے

نہیں کہ سلسلۂ صبح و شام اپنا نہیں

 

بہت سے لوگ ہیں آشفتہ کار و خاک بسر

جہاں تلک ہے یہ صحرا تمام اپنا نہیں

٭٭٭

 

 

منہدم ہوتی ہوئی آبادیوں میں فرصتِ یک خواب ہوتے

ہم بھی اپنے خشت زاروں کے لیے آسودگی کا باب ہوتے

 

شہرِ آزردہ فضا میں آبگینوں کو بروئے کار لاتے

شام کی ان خانماں ویرانیوں میں صحبتِ احباب ہوتے

 

تازہ و نم ناک رکھتے آس اور امید کی سب کونپلوں کو

اور پھر ہمراہیِ بادِ شبانہ کے لیے مہتاب ہوتے

 

خود کلامی کے بھنور میں ڈوبتی پرچھائیں بن کر رہ گئے ہیں

اس اندھیری رات میں گھر سے نکلتے تو ستارہ یاب ہوتے

 

خاک آلودہ زمانوں پر برستیں جھومتی کالی گھٹائیں

موسموں کی آب و خاک آرائیوں سے آئنے سیراب ہوتے

٭٭٭

 

 

 

 

نشیبِ حلقۂ صحنِ مکاں سے دور نہیں

کہیں بھی ہو وہ ستارہ یہاں سے دور نہیں

 

حدِ سپہر و بیاباں پہ جاگتی ہوئی لَو

جو ہم سے دُور ہے، آئندگاں سے دور نہیں

 

گزرنے والی ہے گلیوں سے بادِ برگ آثار

کہ اب وہ صبح مری داستاں سے دور نہیں

 

اُسی کے حرفِ نگفتہ سے گونجتے در و بام

جو دور رہ کے بھی پہنائے جاں سے دور نہیں

 

میں اپنے حجرۂ تاریک تر میں رہ کر بھی

سرشتِ حلقۂ آوارگاں سے دور نہیں

 

مگر وہ شاخِ تہی رنگ و بستۂ دیوار

جو گلستاں سے الگ ہے خزاں سے دور نہیں

٭٭٭

 

 

 

یہ جو اِک پرچھائیں سی ہے پیراہن میں کہیں

اِس بادل کو چھو مت لینا پاگل پن میں کہیں

 

وہی نشیب اور وہی ستارہ، کون ہے تو ہمراہی

سارا جنگل بیت نہ جائے اس الجھن میں کہیں

 

جیسے کوئی خوش خبر پرندہ زمیں کنارے پر

آگ جلی ہے دور پہاڑی کے دامن میں کہیں

 

گیتوں سے کچھ خواب تھے جانے کس کے سپرد کیے

اسی شہر کی دیواروں میں یا پھر بن میں کہیں

 

دو آئینے ایک چراغ کی لَو کو دہرانے میں

جلتے جائیں، پگھلتے جائیں تیز پون میں کہیں

٭٭٭

 

 

 

 

آئے ہیں رنگ بحالی پر

رکھتا ہوں قدم ہریالی پر

 

اک سورج میری مٹھی میں

اک سورج ہل کی پھالی پر

 

وہی ایک چراغ دمکتا ہے

گندم کی بالی بالی پر

 

کھلتی ہے دھنک الغوزے کی

اُٹھتے ہیں قدم کھڑتالی پر

 

دل دکھتا ہے، دل روتا ہے

اک پتّے کی پامالی پر

 

کسی ان داتا سے گر جاتا

اک سکّہ کاسۂ خالی پر

 

کوئی نور ظہور کرے ثروت

اسی حمد الحمد کی جالی پر

٭٭٭

 

 

 

آئینوں کے درمیاں سے گزرا

حیرت کدۂ جہاں سے گزرا

 

حسنِ رہِ زرد کی طلب تھی

آثارِ خس و خزاں سے گزرا

 

رہ گیرِ مراد کیا بتائے

کس دھن میں رہا، کہاں سے گزرا

 

ہو لیں گے اسی کے ساتھ ہم بھی

بادل جو کوئی یہاں سے گزرا

 

وہ پیش روِ بہار ثروت

شاید مرے خاکداں سے گزرا

٭٭٭

 

 

 

 

سبز اندھیروں سا آنچل

گرم زمیں اور ٹھنڈا جل

 

ایک کٹورے میں کچھ آگ

ایک کٹورے میں بادل

 

اک سیّال اندھیرے میں

چلتا ہوں خوابوں کے بل

 

لذت کے معمورے میں

دور تلک کوئی آج نہ کل

 

تاریکی میں کلیاں چُن

سیّاروں کے ساتھ نہ چل

 

رتھ پہیوں میں ڈوب گئے

قرنوں تک پھیلے جنگل

 

اب یہ لوگوں پر موقوف

پھول اُگائیں یا حنظل

٭٭٭

 

 

 

تنگ ہم آشفتگاں پر اب یہ پیراہن ہوا

پاؤں کی زنجیر شہروں کا مہذب پن ہوا

 

تو کوئی مہتاب جس پر عکس ہے خورشید کا

میں وہ پتھر ہوں کہ اپنی آگ سے روشن ہوا

 

میری ہمراہی کا جادو تھا کہ کیا تھا پر وہ شخص

اک کلی سے دیکھتے ہی دیکھتے گلشن ہوا

 

سبز اندر سبز راتوں میں سفر ہے دُور تک

سینۂ عشّاق گویا خواہشوں کا بن ہوا

 

بادیہ پیمائے حیرت کو اشارہ چاہیے

دھوپ کا آنچل ہوا یا ابر کا دامن ہوا

٭٭٭

 

 

 

 

گردشِ سیّارگاں خوب ہے اپنی جگہ

اور یہ اپنا مکاں خوب ہے اپنی جگہ

 

اے دلِ آشفتہ سر، رات اندھیری ہے پر

رقص ترا شمع ساں خوب ہے اپنی جگہ

 

کاغذِ آتش زدہ، تیری حکایت ہی کیا

پھر بھی تماشائے جاں خوب ہے اپنی جگہ

 

ہجر نژادوں کا ہے ایک الگ ہی جہاں

اس سے نہ ملنا یہاں خوب ہے اپنی جگہ

 

سیرِ بیابان و در، عُقدہ کشائے ہنر

رنجِ مسافت میاں، خوب ہے اپنی جگہ

 

چہرۂ بلقیس پر آنکھ ٹھہرتی نہیں

صبحِ یمن کا سماں خوب ہے اپنی جگہ

٭٭٭

 

 

 

 

 

مگر اس سے آگے جو تاریک صحرا ہے وہ کون سا ہے

ابھی تو یہ منظر ہماری محبت سے دہکا ہوا ہے

 

بہت دیر تک اُس گھنیرے شجر نے پریشان رکھا

کسی شاخ پر آگ ہے اور کہیں ابر کا ذائقہ ہے

 

مجھے اپنا سیّارہ تبدیل کرنے کی خواہش ہی کیوں ہو

کہ اب بھی زمیں پر بڑا حسن ہے اور گمبھیرتا ہے

 

ہوائے خزاں میں درختوں کی دلجوئی لازم ہے ثروت

گُریز اور گردش کا دن ہے مگر مجھ کو رُکنا پڑا ہے

٭٭٭

 

 

 

 

 

 

گیتوں سے جب بھر جاتا ہوں، گانے لگتا ہوں

دیواروں سے اپنا سر ٹکرانے لگتا ہوں

 

کانٹوں کا ملبوس پہن کر آتا ہوں باہر

اور مٹی پر اپنے پھول بنانے لگتا ہوں

 

ساری رات بُنا کرتا ہوں ایک سنہرا جال

صبح کے ہوتے ہوتے جال بچھانے لگتا ہوں

 

اپنے ہی بچوں کی چیخیں کان میں آتی ہیں

جب بھی کسی بستی کو آگ لگانے لگتا ہوں

 

وہ بھی تھک کر گر جاتی ہے میرے بازو پر

رفتہ رفتہ میں بھی ہوش میں آنے لگتا ہوں

 

پہلے اُس کے نام کو لکھ کر تکتا ہوں پہروں

پھر اس آگ سے اپنے زخم جلانے لگتا ہوں

٭٭٭

 

 

 

 

 

چاند، آفاق، شجر، دیکھنے والے کے لیے

سبھی چیزیں ہیں مگر، دیکھنے والے کے لیے

 

ایک دیوار ہے تا حدِ نظر پھیلی ہوئی

اور دیوار میں در، دیکھنے والے کے لیے

 

کسی کھوئی ہوئی جنّت کا نشاں ہو جیسے

ایک طاؤس کا پر، دیکھنے والے کے لیے

 

وہ مرے جسم کی مٹّی میں نہاں ہے ثروت

بیج میں جیسے شجر، دیکھنے والے کے لیے

٭٭٭

 

 

فضائے ثابت و سیّار میرے ساتھ چلتی ہے

مَیں چلتا ہوں تو یہ دیوار میرے ساتھ چلتی ہے

 

چراغِ سُرخ رُو کو گفتگو کرتے ہوے دیکھو

یہ ضو آمادۂ پیکار میرے ساتھ چلتی ہے

 

تنفس کا اُجالا کاٹتا جاتا ہے پتھر کو

جہاں بھی جاؤں یہ تلوار میرے ساتھ چلتی ہے

 

غروبِ مہر کی آبادیوں میں راستہ بن کر

وہ اِک بلقیسِ کم آثار میرے ساتھ چلتی ہے

 

کُشادہ منظروں میں انکسار اچھا نہیں ثروت

ہوائے وادیِ پندار میرے ساتھ چلتی ہے

٭٭٭

 

 

 

 

تھامی ہوئی ہے کاہکشاں اپنے ہاتھ سے

تعمیر کر رہا ہوں مکاں اپنے ہاتھ سے

 

آیا ہوں وہ زمین و و شجر ڈھونڈتا ہوا

کھینچی تھی اک لکیر جہاں اپنے ہاتھ سے

 

حُسنِ بہار مجھ کو مکمّل نہیں لگا

میں نے تراش لی ہے خزاں اپنے ہاتھ سے

 

آئینے کا حضور سمندر لگا مجھے

کاٹا ہے مَیں نے سیلِ گراں اپنے ہاتھ سے

 

ثروت ہدف بہت ہیں جوانانِ شہر میں

رکھّو ابھی نہ تیر و کماں اپنے ہاتھ سے

٭٭٭

 

 

 

جھلسے ہوے تانبے کی طرح ہے مرا چہرا

اندر سے مگر جلد کا ہے رنگ سنہرا

 

کیوں آگ کے شہباز کو اُڑنے نہیں دیتے

کیوں روح کے چو گرد بٹھا رکھا ہے پہرا

 

تہوار ہیں جسموں سے اُدھر اور طرح کے

نہ عید، نہ میلاد، نہ ہولی، نہ دسہرا

 

مٹی پہ نمودار ہیں پانی کے ذخیرے

ان میں کوئی عورت سے زیادہ نہیں گہرا

 

ثروت سرِ میدان اُتر آنے سے پہلے

دیوار کو مہمیز دے، پرچم کو تو لہرا

٭٭٭

 

آئنہ عکسِ رُخِ یار کے آ جانے سے

دمک اُٹھا ہے گرفتار کے آ جانے سے

 

یک بہ یک کیسے بدلنے لگے منظر دیکھو

اک ذرا گرمیِ رفتار کے آ جانے سے

 

وہی محفل ہے مگر ہو گئی کیسی بے رنگ

بیچ میں حرفِ دل آزار کے آ جانے سے

 

کہاں رُکتی ہے مری جان مہک پھولوں کی

راستے میں کسی دیوار کے آ جانے سے

 

ایک برآمدۂ شب میں بھڑکتی مشعل

بھیگنے لگتی ہے بوچھار کے آ جانے سے

٭٭٭

 

 

 

 

نقش کچھ ابھارے ہیں فرشِ خاک پر میں نے

نہر اک نکالی ہے وقت کاٹ کر میں نے

 

اُس درخت کے بازو دیر سے کشادہ تھے

توڑ ہی لیا آخر ایک برگِ تر میں نے

 

چیخ اک مسرّت کی خون میں سُنائی دی

جب شکار کو دیکھا تیر کھینچ کر میں نے

 

میری دسترس میں ہے آسمان مٹی کا

اِک لکیر کھینچی ہے دیکھ ہم شجر میں نے

 

جل اُٹھا اندھیرے میں انبساط کا پتھر

جب زمین کو دیکھا اُس کو دیکھ کر میں نے

 

میری گفتگو ثروت خواب گاہِ جنّت ہے

خواب ہی تو دیکھا ہے خواب سے اُدھر میں نے

٭٭٭

 

 

 

پہاڑ کاٹتے ہیں، جوے شیر کھینچتے ہیں

زمینِ خاک پہ ہم بھی لکیر کھینچتے ہیں

 

بس ایک لذّتِ بے نام کے ستائے ہوے

عذابِ دربدری راہ گیر کھینچتے ہیں

 

زیادہ دیر ہواؤں میں رہ نہیں سکتے

ہمیں مکانِ ازل کے اسیر کھینچتے ہیں

 

پلک جھپک نہ سکی کارزارِ ہستی میں

کمان دار اِشارے پہ تیر کھینچتے ہیں

 

بس ایک اس کا ہی چہرہ نہ بن سکا ثروت

وگرنہ عکس تو ہم دل پذیر کھینچتے ہیں

٭٭٭

 

رفتہ رفتہ اک ہجومِ کہکشاں بنتا گیا

آسماں پر اور ہی اک آسماں بنتا گیا

 

چھوٹے چھوٹے لوگ تھے اور چھوٹی چھوٹی خواہشیں

سو میں ان کے درمیاں اک داستاں بنتا گیا

 

میری سیرابی کے قصے شہر کی گلیوں میں تھے

میری محرومی کا سایہ جاوداں بنتا گیا

 

پھول اتنے تھے کہ میرے ہاتھ چھوٹے پڑ گئے

کاروبارِ عشق کارِ گلستاں بنتا گیا

 

آگ کے نزدیک آ جانا بہت آسان تھا

پھر مرا قربِ مسلسل امتحاں بنتا گیا

٭٭٭

 

اچھا سا کوئی سپنا دیکھو اور مجھے دیکھو

جاگو تو آئینہ دیکھو اور مجھے دیکھو

 

سوچو یہ خاموش مسافر کیوں افسردہ ہے

جب بھی تم دروازہ دیکھو اور مجھے دیکھو

 

صبح کے ٹھنڈے فرش پہ گونجا اس کا ایک سخن

کرنوں کا گلدستہ دیکھو اور مجھے دیکھو

 

بازو ہیں یا دو پتواریں ناؤ پہ رکھی ہیں

لہریں لیتا دریا دیکھو اور مجھے دیکھو

 

دو ہی چیزیں اس دھرتی پہ دیکھنے والی ہیں

مٹّی کی سندرتا دیکھو اور مجھے دیکھو

٭٭٭

 

وہ میرے سامنے ملبوس کیا بدلنے لگا

نگار خانۂ ابر و ہوا بدلنے لگا

 

تہہِ زمین کسی اژدہے نے جنبش کی

بساطِ خاک پہ منظر مرا بدلنے لگا

 

یہ کون اترا پئے گشت اپنی مسند سے

اور انتظامِ مکان و سرا بدلنے لگا

 

ہوا ہے کون نمودار تین سمتوں سے

کہ اندروں کا جزیرہ نما بدلنے لگا

 

یہ کیسے دن ہیں ہماری زمین پر ثروت

گُلوں کا رنگ، نمک کا مزا بدلنے لگا

٭٭٭

 

 

گھر سے نکلا تو ملاقات ہوئی پانی سے

کہاں ملتی ہے خوشی اتنی فراوانی سے

 

خوش لباسی ہے بڑی چیز مگر کیا کیجے

کام اس پل ہے ترے جسم کی عریانی سے

 

سامنے اور ہی دیوار و شجر پاتا ہوں

جاگ اٹھتا ہوں اگر خوابِ جہانبانی سے

 

عمر کا کوہِ گراں اور شب و روز مرے

یہ وہ پتھر ہے جو کٹتا نہیں آسانی سے

 

شام تھی اور شفق پھوٹ رہی تھی ثروت

ایک رقاصہ کی جلتی ہوئی پیشانی سے

٭٭٭

 

پہنائے بر و بحر کے محشر سے نکل کر

دیکھوں کبھی موجود و میسر سے نکل کر

 

آئے کوئی طوفان، گزر جائے کوئی سیل

اک شعلۂ بیتاب ہوں پتھر سے نکل کر

 

آنکھوں میں دمک اٹھی ہے تصویرِ در و بام

یہ کون گیا میرے برابر سے نکل کر

 

تا دیر رہا ذائقۂ مرگ لبوں پر

اک نیند کے ٹوٹے ہوے منظر سے نکل کر

 

ہر رنگ میں اثباتِ سفر چاہیے ثروت

مٹّی پہ دھرو پاؤں سمندر سے نکل کر

٭٭٭

 

 

سفینہ رکھتا ہوں، درکار اک سمندر ہے

ہوائیں کہتی ہیں اُس پار اک سمندر ہے

 

میں ایک لہر ہوں اپنے مکان میں اور پھر

ہجومِ کوچہ و بازار اک سمندر ہے

 

یہ میرا دل ہے مِرا آئنہ ہے شہزادی

اور آئنے میں گرفتار اک سمندر ہے

 

کہاں وہ پیرہنِ سرخ اور کہاں وہ بدن

کہ عکسِ ماہ سے بیدار اک سمندر ہے

 

یہ انتہائے مسرّت کا شہر ہے ثروت

یہاں تو ہر در و دیوار اک سمندر ہے

٭٭٭

 

 

ہوا و ابر کو آسودۂ مفہوم کر دیکھوں

شروعِ فصلِ گل ہے، ان لبوں کو چوم کر دیکھوں

 

کہاں، کس آئنے میں کون سا چہرہ دمکتا ہے

ذرا حیرت سراے آب و گل میں گھوم کر دیکھوں

 

مرے سینے میں دل ہے یا کوئی شہزادۂ خود سر

کسی دن اس کو تاج و تخت سے محروم کر دیکھوں

 

گزرگاہیں جہاں پر ختم ہوتی ہیں وہاں کیا ہے

کوئی رہرو پلٹ کر آئے تو معلوم کر دیکھوں

 

بہت دن دشت و در میں خاک اڑاتے ہو گئے ثروت

اب اپنے صحن میں اپنی فضا میں جھوم کر دیکھوں

٭٭٭

 

 

 

 

پتھروں میں آئنہ موجود ہے

یعنی مجھ میں دوسرا موجود ہے

 

زمزمہ پیرا کوئی تو ہے یہاں

صحنِ گلشن میں ہوا موجود ہے

 

خواب ہو کر رہ گیا اپنے لیے

جاگ اٹھنے کی سزا موجود ہے

 

اک سمندر ہے دلِ عشّاق میں

جس میں ہر موجِ بلا موجود ہے

 

آسمانی گھنٹیوں کے شور میں

اس بدن کی ہر صدا موجود ہے

 

میں کتابِ خاک کھولوں تو کھلے

کیا نہیں موجود کیا موجود ہے

 

جنّتِ ارضی بلاتی ہے تمھیں

آؤ ثروت راستہ موجود ہے

٭٭٭

 

 

 

لال لہو فوارہ ہُو

یار نے خنجر مارا ہُو

 

ہویا میں آوارہ ہُو

کُل عالم بنجارا ہُو

 

شام کا پہلا تارا ہُو

من اندر دوبارا ہُو

 

چنبے دا اجیارا ہُو

بدّل دا اندھیارا ہُو

 

یار مرے نے آتش لائی

من اندر لشکارا ہُو

 

پیر کھڑاؤں تپتی چھاؤں

ہتھ وچ ہُن اکتارا ہُو

 

شور قدیمی چمٹے دا

بول پیا اکتارا ہُو

 

ورقے نور کتاباں والے

مٹی دا سی پارا ہُو

 

سچا سائیں منارے والا

تن من تجھ پہ وارا ہُو

 

ست رنگا باغیچہ ثروت

نیل فلک مہ پارہ ہُو

٭٭٭

 

 

 

رات باغیچے پہ تھی اور روشنی پتھر میں تھی

اک صحیفے کی تلاوت ذہنِ پیغمبر میں تھی

 

آدمی کی بند مٹھی میں ستارہ تھا کوئی

ایک جادوئی کہانی صبح کے منتر میں تھی

 

ایک رخشِ سنگ تھا آتش کدے کے سامنے

ایک نیلی موم بتّی دستِ آہن گر میں تھی

 

بیج میں سوئی ہوئی تھی آتشِ آئندگاں

ایک پیراہن کی ٹھنڈک دھوپ کی چادر میں تھی

 

پاؤں ساکت ہو گئے ثروت کسی کو دیکھ کر

اک کشش ماہتاب جیسی چہرۂ دلبر میں تھی

٭٭٭

(نذر غالب)

 

دیکھا جو اس طرف تو بدن پر نظر گئی

اک آگ تھی جو میرے پیالے میں بھر گئی

 

اُن راستوں پہ نام و نسب کا نشاں نہ تھا

ہنگامۂ بہار میں خلقت جدھر گئی

 

اک داستان اب بھی سناتے ہیں فرش و بام

وہ کون تھی جو رقص کے عالم میں مر گئی

 

اتنا قریب پا کے اسے دم بخود تھامیں

ایسا لگا، زمین کی گردش ٹھہر گئی

 

اک چیخ تیغِ تیز کی میرے لہو سے پھر

سنگِ سیاہ و سُرخ کے اندر اتر گئی

٭٭٭

 

 

 

 

(نذرِ غالب)

 

 

ابتدائے فصلِ گل ہے اور حصارِ نغمہ ہے

آتشِ آئندگاں کو انتظارِ نغمہ ہے

 

کنجِ آشفتہ سری میں رنگِ لالہ کے تئیں

لرزشِ دستِ حنائی انتشارِ نغمہ ہے

 

طائرانِ سرخ سے اک بات کہنی ہے مجھے

اب کہاں، کس جا پہ وہ پروردگارِ نغمہ ہے

 

منتظر بیٹھا ہوں بچپن کے پرندے کے لے

دو گلابوں سے اُدھر اک جوئبارِ نغمہ ہے

 

زمزمہ پیرا ہے شاعر اور صحرا کے یہ پھول

دور تک ان وادیوں میں اعتبارِ نغمہ ہے

٭٭٭

 

 

 

 

(نذرِ غالب)

 

کبھی گلاب کبھی بام و در کو دیکھتے ہیں

ہم آئنے میں کسی اور گھر کو دیکھتے ہیں

 

بہشتِ باغ میں بچپن کا اک پرندہ ہے

سو اس پرند، اسی ہم شجر کو دیکھتے ہیں

 

طیورِ سبز کو پیغام ایک دینا ہے

سو اس امید پہ گلہائے تر کو دیکھتے ہیں

 

یہاں پہ چشمِ مظاہر کا کوئی کام نہیں

ہم اپنے ہاتھ سے تیغ و سپر کو دیکھتے ہیں

 

دعائیں دو مرے قاتل کو اور درود پڑھو

’’یہ لوگ کیوں مرے زخمِ جگر کو دیکھتے ہیں ‘‘

 

اک آگ میرے پیالے میں بھر گئی ثروت

سو اس شراب سے روئے سحر کو دیکھتے ہیں

٭٭٭

 

 

 

 

 

 

بہشت اور بچپن

 

 

بیسویں صدی کی ٹوٹی پھوٹی ہوئی شعوری کیفیتوں کے درمیان جو ہمارے عصر کا سچا آئینہ ہے ہمارے عصر کی شاعری جنم لیتی ہے، مگر ان شعوری کیفیتوں میں لا شعور اور وجدان کی جھلکیاں زیادہ اور خود شعور کی کوششیں کم ہو تی ہیں۔ شاعر اپنے آپ سے بچھڑے ہوے ہیں۔ اسی طرح ہمارا آج کا شاعر ثروت حسین بھی اپنے فطری احساسات اور ان کے تجربوں سے اپنی روح کے دکھ سکھ لکھ کر اپنی روح پر فتح پاتا ہے۔ وہ اپنے خوبصورت لفظ وجدانی طور پر منتخب کرتا ہے۔ اس کے نغمے آنسوؤں سے نہیں اس کی روح سے جنم لیتے ہیں۔ اس کے ہاں وجود کے ہزار دروازے ہیں اور ہر دروازے میں آنکھیں، چہرے اور ستارے، بابل اور نینوا سے سفر کرتے ہوے اسپین اور چلی تک آتے ہیں۔ وہ پابلو نرودا کے ساتھ ساتھ چلتا ہے، اہرامِ مصر کے ساتھ ساتھ چلتا ہے۔ وہ اپنے اندر پناہ گزیں بھی ہے اور کان کنوں کے ٹوکرے اور ماہی گیروں کے جال سے بے خبر بھی نہیں ۔ وہ ملیر میں پیدا ہوا لیکن اس نے ابدیت میں آنکھیں کھولیں اور مستقبل کے سنہرے بیج ہاتھ میں لے کر اردو کی سر زمین پر آ گیا۔ وہ ایک اسلوب میں نہیں لکھتا، اس لیے کہ اس کے ساتھ قدیم داستانوں کے عناصر بھی ہیں اور وائی اور کافی کی سندھی اور پنجابی طرزیں بھی۔ ہاں نظمیں اضافت سے پاک ہیں مگر غزلوں پر فارسی زبان کی روشنی پڑتی رہتی ہے۔ آگ، درخت، کشتی، تلوار اور شہزادے تو اس کے ہاں علامت بن کے آتے ہی ہیں مگر اس کی پیدائش کا سیّارہ مریخ اور بُرج عقرب ہے۔ شاید اسی لیے اس کے یہاں سپاہی اور ملّاح دونوں نظر آتے ہیں۔ سپاہی نے شہزادے کا روپ دھار لیا ہے۔ اس کی روح میں ایک شہزادہ چھپا ہوا ہے اور ایک درویش بھی۔ اُسے شاہ لطیف سے، بلّھے شاہ سے، سلطان باہو سے، میاں محمد سے عقیدت ہے۔ وہ دریائے سندھ سے محبت کرتا ہے۔ سچ ہے وہ جنگلی بیر کی جھاڑیوں، شہتوت کے درختوں اور محبت کی نگری ملیر میں پیدا ہوا اور اسے بچپن ہی میں اپنی فوجی بیرک، خاردار تار اور درختوں پر کھدے ہوے نام اچھے لگے۔ ملیر میں پیدا ہونے والا یہ شاعر اپنی روح میں اسپین، تیونس اور بیت المقدس کی محبت رکھتا ہے اور اس کے با وجود قدیم سنسکرت شاعر امارو سے اس کا پیار اَٹوٹ ہے اور جنگل کی زندگی اس کے لیے بن باس نہیں، بلکہ شہر اس کے لیے بن باس ہے۔ اس کا بنیادی احساس خوبصورتی اور بنیادی جذبہ خدمت ہے۔ اس کی شاعری کائنات کے نام ایک محبت بھرا خط ہے۔ اس کائنات میں گھنٹیاں، آنسو اور سیّارے اور خوبصورت آنکھوں والی لڑکیاں اور سُرخ پنکھڑیوں والے پھول ہیں۔ دودھیا منڈیر اور آسمانی پلوؤں پہ دھوپ اس دنیا میں جگمگاتی ہے۔ ثروت حسین لفظوں کے ایسے ایسے نئے سمبندھ جانتا ہے جو اس کے ہم عصر کسی اور شاعر کی آنکھ پر روشن نہیں۔ اردو ادب کے آسمان پر ایک ستارہ اس کے نام کا بھی روشن ہے۔ اس کے لیے چہرۂ بلقیس اور صبحِ یمن کا سماں ایک ہے۔ ایسا لگتا ہے وہ اپنی شاعری آبِ گہر سے لکھتا ہے۔ اس کے سخن میں مٹی کی خوشبو ہے اور محبوب کا بچپن، اور یہی اس کی شاعری کا آبِ حیات ہے۔ ہجر ہو یا وصل، وہ اپنی آنکھیں کھلی رکھتا ہے اور جب ہم اس کی شاعری پڑھتے ہیں تو ایسا لگتا ہے، کبھی ہم سندھ کا صحرا ہیں اور کبھی پاک پتن کا گلزار۔ اس کے ہاں جائے نماز آپ کو ملے گی اور دور دور تک یہ آواز آپ کے سامنے گونج رہی ہو گی: ’’اور جس جگہ سے تو نکلے منھ کر طرف مسجدالحرام کے اور یہی تحقیق ہے تیرے رب کی طرف سے اور اللہ بے خبر نہیں تیرے کام سے اور جہاں سے تُو نکلے، منھ کر طرف مسجد الحرام کے اور جس جگہ تم ہُوا کرو منھ کرو اسی کی طرف کہ نہ رہے لوگوں کو تم سے جھگڑنے کی جگہ—‘‘ثروت حسین کی شاعری خوبصورتی کی ایک سچی آواز ہے۔ یہ آواز اس زمانے میں بہت اہم ہو گئی ہے جب کوّوں نے سفید شاہین کی آواز کی نقل اتارنی سکھو لی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ ثروت حسین امید کی کشتی میں بیٹھے ہوے حیرت کے دریاؤں اور جنگلوں میں گھومتا رہتا ہے کہ یہی رومانی شاعروں کی تقدیر ہے اور انھی کی طرح وہ محبت کے مقدّس مندر میں دیے جلاتا ہے۔ وہ ہم سے کہتا ہے کہ دیکھو میں اپنے پر کھولتا ہوں اور محبت کے کھلے ہوے آسمانوں میں اُڑتا ہوں۔ وہ کہتا ہے کہ یہ دونوں عالم محبوب کے دونوں ابروؤں کی طرح ہیں اور یہ کہ مجھے نماز میں تیرے ابرو محراب لگتے ہیں۔ اس کا مطلب نہیں کہ وہ صرف ایک صوفی شاعر ہے بلکہ اس کے ہاں چیزوں کیTHINGNESS اپنا ظہور کرتی ہے۔ اس کا کلام بیمار کے لیے ہسپتال کا تکیہ اور نرس کا چہرہ بھی ہے اور اس کی شاعری میں کھڑکیاں، ننگے بدن، دھوپ اور روشنی بھی ہے۔ سفید دروازے پر ایک خوبصورت سی گھڑی لگی ہوئی ہے جس میں کبھی صبح ہوتی ہے کبھی رات اور کبھی دوپہر، اور وہیں اسپینی جنگ، اکتارا، پیتل کی گھنٹیاں، کالے جوتے، بڑھئی کا بکس، امریکہ کی آنکھیں، افریقہ کے جنگل، سفید سورج، گھاس، پرندوں کا شور کالے بادل اور ہرے بھرے درخت۔ ایسا لگتا ہے بحیرۂ روم کی قوسِ قزح ثروت حسین کی شاعری میں نکلنا چاہتی ہے۔ خالی مقبرے اور سورج مکھی کے پھول، دونوں اس سے پیار کرتے ہیں اور جیسے جیسے ہم اس کی شاعری میں اس کے ساتھ آگے بڑھتے ہیں، ہم یہ دیکھتے ہیں کہ اس کے لفظوں میں منظر سمٹ آتے ہیں اور وجود اپنا گھر بنا لیتا ہے۔

قمر جمیل

٭٭٭

ماخذ:

http://adbiduniya.com

تدوین اور  ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید