FavoriteLoadingپسندیدہ کتابوں میں شامل کریں

یہ حصہ دوسرے اور تیسرے دور پر مشتمل ہے
کتاب کے بقیہ حصے
حصہ ۡاول
حصہ سوّم

دُوسرا دَور

تمہید

دوسرا دور شروع ہوتا ہے، اس فصل میں زبان کے حسن قدرتی کے لئے موسم بہار ہے، یہ وقت ہے کہ مضامین کے پھول گلشنِ فصاحت میں اپنے قدرتی جوبن دکھا رہے ہیں، حُسنِ قدرتی کی شے ہے ؟ ایک لطفِ خداداد ہے، جس میں بناؤ سنگار کا نام بھی آ جائے تو تکلف کا داغ سمجھ کر سات سات پانی سے دھوئیں، ان کا گلزار نیچر کی گلکاری ہے، صنعت کی دستکاری یہاں آ کر قلم لگائے تو ہاتھ کاٹے جائیں۔ اس میں تو کلام نہیں کہ یہ با کمال بھی ایک ہی شہد کی مکھی ہیں، اور معلوم ہوتا ہے کہ دریائے محبت میں ڈوبے ہوئے ہیں مگر اس خوبی کا وصف کسی زبان سے ادا نہیں ہوتا کہ جو کچھ دل میں ہوتا ہے جوں کا توں ادا کر دیتے ہیں۔ خیالی رنگوں کے طوطے مینا نہیں بناتے، ہاں طوطی و بلبل کی طرح صاف زبان اور قدرتی الحان لائے ہیں۔ انھوں نے اپنے نغموں میں گٹگری، اپچ، پلٹی، تان کسی گویے سے لے کر نہیں ڈالی، تم دیکھنا بے تکلف بولی اور سیدھی سادی باتوں سے جو کچھ دل میں آئے گا بے ساختہ کہہ دیں گے کہ سامنے تصویر کھڑی کر دیں گے اور جب تک سننے والے سنیں گے کلیجے پکڑ کر رہ جائیں گے، اس کا سبب کیا؟ وہی بے ساختہ پن جس کے سادہ پن پر ہزار بانکپن قربان ہوتے ہیں۔ مصرعہ :

“ہے حُسن وہی جس میں بے ساختہ پن نکلے “

ان کی اصلاح نے بہت سے لفظ ولی کے عہد کے نکال ڈالے مگر پھر بھی بھلہ رے اور گھیرے گھیرے اور مرے ہے بجائے مرتا ہے اور دوانہ بجائے دیوانہ اور میاں اور فقط جان کا لفظ بجائے معشوق موجود ہے، متاخرین اس کی جگہ جانِ جاں، یا جانا، یا یار، یا دوست، یا دلبر وغیرہ وغیرہ بولنے لگے، مگر موہن دورِ دوم میں نہ رہا۔ ہجن رہا اور بِل گیا، یعنی جل گیا، یعنی صدقہ گیا اور من بجائے دل بھی ہے۔

سید انشاء ایک جگہ بعض الفاظِ مذکورہ کا ذکر کر کے لکھتے ہیں، کہ اس عہد کی گفتگو میں اس قسم کے الفاظ شرفا بولتے تھے۔ پروٹھا بجائے پراٹھا، اور دھیرا بجائے آہستہ یا متوقف، اُور یعنی طرف، اور بھیچک بمعنی حیران (یہ دو لفظ سودا نے بھی باندھے ہیں ) اور تکوں بجائے کوں کویا اپنے تئیں کی اور جانے ہارا بجائے جانے والا، اور فرمائتا ہے بجائے فرماتا ہے اور جائتا ہے بجائے جاتا ہے۔

*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*

 

 

شاہ حاتم

دستور دنیا کا یہ ہے کہ بیٹا باپ کے نام سے اور شاگرد اپنے نامی اُستاد کے نشان سے روشناس ہوتا ہے مگر اس حاتم کو نصیبے کا بھی حاتم کہنا چاہیے جو اِس نام سے نشان دیا جائے کہ وہ اُستاد سودا کا تھا، خوشا نصیب اُس باپ کے جس کی نسل کمال سے وہ فرزند پیدا ہوا کہ خانوادہ کمال کے لئے باعثِ فخر شمار کیا جائے ان کا تخلص حاتم اور شیخ ظہور الدین نام تھا، والد کا نام فتح الدین تھا، خود کہا کرتے کہ ظہور  میرے تولد کی تاریخ ہے، رہنے والے خاص شاہجہاں آباد کے تھے۔ یہ معلوم نہیں کہ بزرگ ان کے کہاں سے آئے، کسی تذکرہ سے ان کی علمیت تحصیلی کا حال معلوم نہیں ہوتا ہے نہ کچھ اُن کے کلام سے ثابت ہوتا ہے مگر اس قدر استعداد ضرور رکھتے تھے کہ اُن کی انشاء پردازی میں خلل نہیں آنے دیتی، اور یہ جوہر اس عہد کے شریف خاندانوں کے لئے عام تھا، اصل حال یہ ہے کہ بعد عالمگیر کے جب اولاد میں کشا کشی ہوئی اور سلطنت تباہ ہو گئی تو جو شرفاء منصب دار عہدہ دار تھے، روز کے فسادوں سے دل شکستہ ہو گئے، خصوصاً جبکہ اُدھر مرہٹہ نے ادھر سکھ نے زور پکڑا اور قیامِ سلطنت کی طرف سے بالکل مایوس ہوئے تو اکثروں نے نوکری چھوڑ کر بسبب بے علمی کے مختلف حرفے اور پیشے اختیار کر لئے اور بعض لوگ باوجودیکہ صاحبِ علم تھے مگر دُنیا سے دل برداشتہ ہو کر چھوڑ ہی بیٹھے۔

شاہ حاتم پہلے ہی سپاہی پیشہ تھے، عمدۃ الملک امیر خاں کی مصاحبت میں عزت اور فارغ البالی بلکہ عیش و عشرت سے بسر کرتے تھے اور چونکہ محمد شاہی دَور تھا اِس لئے آئین زمانہ کے بموجب جو جو اِس وقت کے نوجوانوں کے شوق تھے سب پورے کرتے تھے، دلی میں قدم شریف کے پاس میر بادل علی شاہ کا تکیہ ایسے رند مشرب لوگوں کا ٹھکانا تھا، یہ بھی وہیں جایا کرتے تھے، چنانچہ فقیر کی صحبت نے ایسا اثر کیا کہ انھی کے مرید ہو گئے، رفتہ رفتہ سب گناہوں سے توبہ کی بلکہ دانہ کی گردش نے دنیا کے تعلقات سے بھی توبہ کروا دی، توکل پر گزارہ کیا اور فقط ایک رومال اور ایک پتلی سی چھڑی جو کہ ہندوستان کے فقرائے آزاد منش کا تمغہ ہے، وہ پاس رہ گئی۔

شاہ موصوف باوجودیکہ نہایت مہذب اور متین تھے اور عمر میں بھی سن رسیدہ ہو گئے تھے، مگر بہت خوش مزاج اور نہایت خلیق اور ظریف تھے۔

فقیری اختیار کر لی تھی مگر بانکوں (لفظ بانکہ اگرچہ آج کل ہر ایک شخص بولتا ہے مگر اس کی اصلیت سے بہت کم لوگ واقف ہیں، یہ دلی میں ایک خاص فرقہ تھا، چنانچہ سید انشاء اللہ خاں مرحوم ایک مقام پر ان کی تصویر کھینچتے ہیں، بانکہ، بانکہ بادر شہرے باشند، خواہ در دہلی خواہ در بلادِ دکن، خواہ در بلادِ بنگار، خواہ در شہرہائے پنجاب ہمہ را یک وضع و یک لباس می باشد، کج ادا کج راہ رفتن و خودرا بسیار دیدن، دہر مؤنث را مذکر ادا کردن شعارِ ایشاں است، چنانچہ ہمارے بکری را ہمارا بکرا گویند، مثل افغاناں در شہر دستار و زلف و خلیل دا وچہ گفتن ایشاں مبدل نمی شود۔) کی طرح دوپٹہ سر پر ٹیڑھا ہی باندھتے تھے، راج گھاٹ کے رستہ میں قلعہ کے نیچے شاہ تسلیم (شاہ تسلیم ایک نیک مرد فقیر تھے اور خود شاعر تھے۔ چونکہ ان کا تکیہ بھی ایک دلکشا اور با فضا مقام پر تھا اس لئے اکثر شعر و سخن کے شائق تھی صبح شام وہاں جا کر بیٹھا کرتے تھے، سعادت یار خان رنگین، محمد امان نثار جن کا ذکر میر کے حال میں ہے اور اکثر شعراء حاتم کے شاگرد تھے۔) کا تکیہ تھا، وہاں کچھ چمن تھے، کچھ درختوں کا سایہ تھا، سامنے فضا کا میدان تھا، شام کو روز وہاں جا کر بیٹھا کرتے تھے اور چند احباب اور شاگردوں کے ساتھ شعر و سخن کا چرچا رکھتے تھے، چنانچہ ۵۰ برس تک اس معمول کو نباہ دیا، گرمی، جاڑا، برسات، آندھی آئے، مینھ ائے، وہاں کی نشست قضا نہ ہوتی تھی، اہلِ دہلی کے قدیمی بزرگوں کا دستور تھا کہ جو بات ایک دفعہ اختیار کر لیتے تھے، پھر اُسے مرتے دم تک نباہ دیتے تھے اور اسے وضعداری یا پاس وضع کہتے تھے، یہ ایک قانون تھا کہ آئین شریعت کے برابر پہلو مارتا ہوا جاتا تھا۔ ایسی پابندیاں بعض معاملات میں استقلال بن کر ملک اور اہلِ ملک کے لئے قابل فخر ہوتی ہیں اور بعض جزئیات میں تکلیف بیجا ہو کر خاندانوں اور گھرانوں کو بلکہ عام ہو کر ملک کو برباد کر دیتی ہیں۔

شیخ غلام ہمدانی مصحفی اپنے تذکرہ میں اِن کی شاعری کی ابتدا یہ لکھتے ہیں کہ سنہ ۳ محمد شاہی عہد میں دلی کا دیوان دکن سے دہلی میں آیا۔ اس زمانہ کے حال بموجب وہی غنیمت تھا، اس واسطے خاص و عام میں اس کا بہت چرچا ہوا۔

شاہ حاتم کی طبیعت ِ موزوں نے بھی جوش مارا، شعر کہنا شروع کیا اور ہمت و لیاقت سے اُسے انتہا کو پہنچایا، پہلے رمز تخلص کرتے تھے پھر حاتم ہو گئے۔یہ پہلے شعرائے طبقہ اول کے منتخب شاعروں میں تھے، اس وقت بھی زبان ان کی فصیح اور کلام بے تکلف تھا، مگر پھر طبقہ دوم میں داخل ہو گئے، کلیات اِن کا بہت بڑا ہے جو اکثر زبانِ قدیم کی غزل اور قصائد اور رباعیات و مثنوی وغیرہ پر مشتمل ہے، کتبخانہ ہائے قدیم لکھنؤ اور دہلی میں دیکھا، وہ شاہ آبرو اور ناجی کی طرز میں ہے لیکن آخر عمر میں کلیات مذکور سے خود انتخاب کر کے ایک چھوٹا سا دیوان مرتب کیا، اس کا نام “دیوان زادہ” رکھا کیونکہ پہلے دیوان سے پیدا ہوا تھا، وہ صاحبزادہ بھی پانچ ہزار سے زیادہ کا مال بغل میں دبائے بیٹھا ہے، بہر حال یہ کارنامہ ان کا استحقاق پیدا کرتا ہے، کہ طبقہ دوم سے نکال کر طبقہ سوم کی اولیت کا طرہ ان کی زیب دستار کیا جائے یا اس کا ایک رکنِ اعظم قرار دیا جائے، اُنھوں نے دیوان زادہ پر ایک دیباچہ بہت مفید لکھا ہے۔ خلاصہ اُس کا یہ ہے “خوشہ چینِ خرمنِ سخنوارانِ عالم، بصورتِ محتاج و بمعنی حاتم کہ از 1139ھ تا 1169ھ کہ چہل سال باشد، عمر دریں فن صرف کردہ در شعر فارسی پیر و مرزا صائب و در ریختہ ولی را استادمے واند، اول کسیکہ دریں فن دیوانِ ترتیب نمودہ اور بود فقیر دیوان قدیم پیش از نادر شاہی در بلادِ ہند مشہور دارد بعد ترتیب آں تا امروز کہ سنہ 3 عزیز الدین عالمگیر ثانی باشد، ہر رطب و یا بس کہ از زبانِ این بے زباں برآمدہ، داخل دیوانِ قدیم نمودہ کلیات مرتب ساختہ، از ہر ردیف دو سہ غزلے دا زہر غزل دوسہ بیتے ورائے مناقب و مرثیہ و چند مخمس و مثنوی از دیوانِ قدیم نیز داخل نمودہ بہ دیوان زادہ مخاطب ساختہ و سرخی غزلیات بسہ قسم منقسم ساختہ یکے طرحی، دوم فرمائشی سوم جوابی، تا تفریقِ آں معلوم گردو، و معاصران فقیر، شاہ مبارک آبرو، و شرف الدین مضمون و مرزا جان جاناں مظہر و شیخ احسن اللہ احسن و میر شاکر ناجی و غلام مصطفے، یکرنگ است و لفظ در، و برواز و الفاظ و افعال دیگر کہ در دیوان قدیم خود تقید دارو، ور نیولا از دہ دو از دہ سال اکثر الفاظ را از نظر انداختہ و الفاظ عربی و فارسی کہ قریب الفہم و کثیر الاستعمال باشند و روزمرہ دہلی کہ میرزایانِ ہند و فصیحانِ رند، در محاورہ آرند منظور دارد” پھر ایک جگہ کہتے ہیں زبانِ ہندی بھاکا را موقوف کردہ محض روزمرہ کہ عام فہم و خاص پسند باشد اکتیار نمود، وشمہ ازاں الفاظ کہ تقید دارد، بہ بیان مے آرد، چنانچہ عربی و فارسی مثلاً راتسبی و صحیح را صحی و بیگانہ رابگانہ و یوانہ را دوانہ و مانند آن، یا متحرک را ساکن را متحرک، مَرض را مرض و نیز الفاظِ ہندی مثل نین، و جگ دست وغیرہ و لفظ مرا، و میرا، و ازیں قبیل کہ براں قباحت لازم آید، یا بجائے سی ستی، اُدھر را، اودھر، و کدھررا، کیدھر کہ زیادتی حرف باشد، یا بجائے پر، پہ یا، یہاں را، یاں، و، وہاں را واں، کہ در مخرج تنگ بود، یا قافیہ، را، با، ڑا، ہندی، مثل گھوڑا و بورا، دھڑ و سر، و مانند آں، مگر ہائے ہنوز را بدل کردن با الف کہ از عام تا خاص محاورہ دارند، بندہ دریں امر متابعت جمہور مجبوراست، چنانچہ بندہ رابندا، و پردہ را پردہ و انچہ ازیں قبیل باشد دایں قاعدہ را تاکہ شرح و ہد، مختصر کہ لفظے غیر فصیح انشاء اللہ نخواہد بود۔

مضمون ان کے صاف عاشقانہ و عارفانہ ہیں، شعر آپس کی باتیں اور زبان شُستہ و رُفتہ ہے لیکن لفظ اَب، اور یہاں وغیرہ زائد اکثر ہوتے ہیں، غرض اسی دیوان کے دیباچہ میں اپنے شاگردوں کی ذیل میں ۴۵ آدمیوں کے نام درج کرتے ہیں، انھی میں مرزا رفیع بھی ہیں، میاں ہدایت (اُردو کے ایک فصیح اور باکمال شاعر تھے، خواجہ میر درد کے ہمعصر تھے اور ان  سے بھی اصلاح لیتے تھے، چنانچہ انہی کا شعر ہے :

ہدایت کہا ریختہ جب سے ہم نے

رواج اُٹھ گیا ہند سے فارسی کا

سودا کے ذکر میں ایک لطیفہ اِن کے حال سے متعلق ہے (دیکھو صفحہ) کی زبانی ہدایت ہے کہ شاہ حاتم جب سودا کی غزل کو اصلاح دیتے تھے تو اکثر یہ اشعار پڑھا کرتے تھے :

از ادب صائب خموشم ورنہ در ہردا دیئے

رتبہ شاگردیِ من نیست اُستادِ مرا

اور احباب سے کہتے تھے کہ یہ شعر صائب نے میری اُستادی اور مرزا رفیع کی شاگردی کے حق میں کہا ہے، لکھنؤ سے مرزا کے قصیدے اور غزلیں آتیں تو آپ دوستوں کو پڑھ پڑھ کر سُناتے اور خوش ہوتے۔

سعادت یار خاں رنگین ان کے شاگرد اپنی مجالسِ رنگیں میں لکھتے ہیں کہ تیسرے پہر کو بھی اکثر شاہ صاحب کے پاس شاہ تسلیم کے تکیہ میں حاضر ہوا کرتا تھا، ایک دن میاں محمد امان نثار، لالہ مکند رائے فارغ، مِروہے اکبر علی اکبر وغیرہ، چند شاگرد خدمت میں موجود تھے اور میری نومشقی کے دن تھے کہ حسبِ معمول وہاں حاضر ہوا۔ شاہ صاحب نے فرمایا کہ آج رات کو مطلع کہا ہے :

سَر کو پٹکا ہے کبھو، سینہ کبھو کوٹا ہے

رات ہم ہجر کی دوست سے مزا لوٹا ہے

میاں رنگین لکھتے ہیں، ابتدا سے میرے مزاج میں چالاکی بہت تھی اور شعور کم تھا، اپنی نادانی سے گستاخانہ بول اٹھا کہ اگر مصرع ثانی میں اس طرح ارشاد ہو تو اچھا ہے :

سر کو پٹکا ہے کبھو، سینہ کبھو کوٹا ہے

ہم نے شب ہجر کی دوست سے مزا لوٹا ہے

شاہ صاحب بہت خوش ہوئے، میرا ہاتھ پکڑ کر اپنی طرف کھینچا اور فرمایا آفریں، آفریں، ہونہار بروا کے چکنے چکنے پات، انشاء اللہ تمھاری طبیعت بہت ترقی کرے گی، مشق نہ چھوڑنا، ان کی دوستوں میں سے ایک شخص بولے کہ صاحبزادے اُستاد کے سامنے یہ گستاخی زیبا نہ تھی، حضرت نے پھر فرمایا کہ مضائقہ کیا ہے، واللہ میں اسی طرح لکھوں گا۔ بعد اس کے یہ قطعہ پڑھا :

من و آں سادہ دل کہ عیب مرا

ہمچو آئینہ روبرد گوید

نہ چو شانہ بصد زبان و دو رُو

پس سر رفتہ مو بمو گوید

اس میں شک نہیں کہ یہ نیک نیتی اور دریا دلی شاہ حاتم کی قابلِ رشک ہے کیونکہ شعراء میں اپنے لئے خود پسندی اور دوسرے کے لئے ناتواں بینی ایک ایسی عادت ہے کہ اگر اُسے قدرتی عیب کہیں تو کچھ مبالغہ نہیں۔ بلکہ شاگردوں کو استادوں سے دست و گریباں ہوتے دیکھا تو اکثر اِسی فن میں دیکھا، یہ وصف یا اس فرشتہ سیرت میں پایا، یا مرزا محمد علی ماہر میں کہ مرزا محمد افصل سرخوش کے اُستاد تھے۔

نقل :- مرزا محمد علی ماہر عہدِ عالمگیر میں ایک مشاق اور مسلم الثبوت شاعر اپنے زمانہ کے تھے اور مرزا سر خوش اس نے قدیمی شاگرد تھے، مگر طبع مناسب اور کثرتِ مشق سے یہ بھی درجہ کمال کو پہنچ گئے، مرزا ماہر اکثر فرمائش کر کے اِن سے شعر کہوایا کرتے تھے اور یہ سعادت سمجھ کر کہہ دیا کرتے تھے، سرخوش لکھتے ہیں کہ انھوں نے ایک مثنوی بہاریہ تحفتہ العراقین کے ڈھنگ میں لکھی تھی، چنانچہ مطلع میں نے کہہ کر دیا کہ :

اے برسر نامہ گل زملامت

بارانِ بہار شیخ جامت

اور میرے ساقی نامہ کے لئے اُنھوں نے مطلع کہہ دیا :

بود نامہ نشہ بخش ادا

کہ بر سر کشد جامِ حمدِ خدا

پھر لکھتے ہیں کہ ایک شب قطب الدین مائل کے ہاں شعراء کا جلسہ تھا۔ چاندنی رات تھی، سب مہتابی پر بیٹھے تھے، مجھ سے شعر کی فرمائش کی، میں نے اسی دن مطلع کہا تھا وہ پڑھا :

کے توانم دید زاہد جامِ صہبا بشکند

مے پرور نگم حبابے گر یہ دریا بشکند

سب نے تعریف کی اور آدھی رات تک اس کے مصرعے لوگوں کی زبان پر تھے، حکیم محمد کاظم صاحب تخلص کہ اپنے تئیں مسیح البیان بھی کہتے تھے، بار بار یہ شعر

پڑھتے تھے اور کہتے تھے کہ خدا کی قدرت، ہندوستان میں ایک شخص پیدا ہو، اور فارس کی زبان میں ایسے شعر کہے، دوسرے دن دانشمند خاں کے مکان پر جلسہ ہوا، وہاں میں نہ تھا مگر مرزا ماہر موجود تھے۔ سب نے پھر اس مطلع کا ذکر کیا اور کہا کہ تمھارا شاگرد کتنا خوش فکر نکلا ہے، اُس کے شعر کی کیفیت میں عجب لطف سے کل رات کٹی، آفرین ہے آپ کی محنت پر خوب تربیت کیا، انھوں نے کہا کہ وہ میرے شاگرد نہیں، باہم اتحاد ہے، وہ مجھے شعر دکھاتے ہیں، میں انھیں شعر دکھاتا ہوں۔ حکیم نے کہا، سرخوش سے بارہا گفتگو آئی وہ باصرار کہتے تھے کہ میں شاگرد ہوں۔ ماہر نے کہا کہ بزرگ زادہ ہے جو چاہا کہہ دیا، مجھے اُس کی اُستادی کی لیاقت کب سے ہے، دوسرے دن میں خدمت میں حاضر ہوا، فرمایا کہ تم نے اپنے تئیں میرا شاگرد کیوں کہا۔ مجھے تو فخر ہے کہ تم جیسا میرا شاگرد ہو، مگر دنیا میں ایسے بلند فکر لوگ بھی ہیں کہ وہ مجھ کو اور میرے شعر کو خاطر میں نہیں لاتے، اُن کی نظر میں میرے شاگرد کی کیا قدر و منزلت ہو گی۔ شعراء خدا کے شاگرد ہیں۔ ان کو کسی کی شاگردی کی پرواہ نہیں، شاہ حاتم کا ایک دیوان فارسی میں بھی ہے مگر بہت مختصر میں نے دیکھا وہ 1179ھ کا خود اُن کے قلم کا لکھا ہوا تھا۔ غزل 90 صفحے، رباعی و فرد وغیرہ ۶۵ صفحے، ولادت ان کی 1111ہجری ہے اور ۹۶ برس کی عمر میں ماہ رمضان 1207ھ میں دہلی میں فوت ہوئے اور وہیں دلی دروازہ کے باہر دفن ہوئے۔ مگر مصحفی نے تذکرہ فارسی میں لکھا ہے کہ ۱۱۹۶ھ میں فوت ہوئے اور ۸۳ برس کی عمر پائی۔

یار کا مجھ کو اس سبب سے ڈر ہے

شوخ ظالم ہے اور سِتمگر ہے

دیکھ سرو چمن ترے قدکوں

خجل ہے پا بگل ہے بے بر ہے

حق میں عاشق کے تجھ لباں کا بچن

قند ہے نیشکر ہے، شکر ہے

کیوں کہ سب سے تجھے چھپا نہ رکھوں

جان ہے دل ہے دل کا انتر ہے

مارنے کو رقیب کے حاتم

شیر ہے، ببر ہے، دھنتر ہے

*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*

یہاں طالعوں سے ملتا ہے پیارا

عبث دیکھے ہے زاہد استخارا

میں پایا ہوں ولے تجھ چشم کا بھید

نہ مانگوں کا کبھی ان کا اشارا

نہالِ دوستی کو کاٹ ڈالا

دکھا کر شوخ نے اَبرو کا آرا

لیا اس گلبدن کا ہم نے بوسہ

تو کیا چوما رقیبوں نے ہمارا

کئی عالم کئے ہیں قتل اِن نے

کرے کیا ایکلا حاتم بچارا

*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*

چھپا نہیں جا بجا حاضر ہے پیارا

کہاں وہ چشم؟ جو ماریں نظارا

جدا نہیں سب ستی تحقیق کر دیکھ

ملا ہے سب سے اور سب سے ہے نیارا

مسافر اُٹھ تجھے چلنا ہے منزل

بجے ہے کوچ کا ہر دم نقارا

مثالِ بحر موجیں مارتا ہے

کیا ہے جس نے اِس جگ سوں کنارا

سیانے خلق سے یوں بھاگتے ہیں

کہ جوں آتش ستی بھاگے ہے پیارا

سمجھ کر دیکھ سب جگ سیکھ ماہی

کہاں ہے گا سکندر کاں (کہاں ) ہے دارا

کہیں ہیں اہلِ عرفاں اس کو جیتا

جو مر کر عشق میں دنیا سوں ہارا

صفا کر دل کے آئینہ کو حاتم

دیکھا چاہے سجن گر آشکارا

*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*

جب سُنا موتی نے تجھ دانداں کے موتی کا بہا

آب میں شرمندگی سوں ڈوب جوں پانی بہا

مردماں کو دیکھ کر بسمل ترے کوچہ کے بیچ

ڈر گیا اور چشم سے آنسو کے چاہے خونبہا

اب تمھارے سُرخ ہم نے تاڑ کر پوچھا تھا مول

جوہری کہنے لگے یہ لعل ہے گا بے بہا

حاتم اُس بے مہر نے مچھی نہ دی اس غم ستی

جا کنارے بیٹھ کر اس غم ستی دریا بہا

*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*

آبِ حیات جا کے کسو نے پیا تو کیا

مانند خضر جگ میں اکیلا جیا تو کیا

شیریں لباں سوں سنگ دلوں کو اثر نہیں

فرہاد کام کوہ کنی کا کیا تو کیا

جلنا لگن میں شمع صفت سخت کام ہے

پروانہ یوں شتاب عبث جی دیا تو کیا

ناسور کی صفت ہے نہ ہو گا کبھی وہ بند

جراح زخم عشق کا آ کر سیا تو کیا

محتاجگی سوں مجھ کو نہیں ایک دم فراغ

حق نے جہاں میں نام کو حاتم کیا تو کیا

*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*

خال اُس کے نے دل لیا میرا

تِل میں اِن نے لہو پیا میرا

جان بے درد کو ملا کیوں تھا

آگے آیا مرے کیا میرا

اُس کے کوچہ میں مجھ کو پھرتا دیکھ

رشک کھاتی ہے آسیا میرا

نہیں شمع و چراغ کی حاجت

دل ہے مجھ بزم کا دیا میرا

زندگی درد سر ہوئی حاتم

کب ملے گا مجھے پیا میرا

*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*

کاملوں کا یہ سخن مدت سوں مجھ کو یاد ہے

جگ میں بے محبوب جینا زندگی برباد ہے

بندگی سوں سرو قد اک قدم باہر نہیں

سرو گلشن بیچ کہتے ہیں مگر آزاد ہے

بے مدد زلفوں کے اس کے حُسن نے قیدی کیا

صید دل بے دام کرنا صنعتِ استاد ہے

خلق کہتی ہے بڑا تھا عاشقی میں کوہ کن

تجھ لبِ شیریں کی حسرت میں ہر اک فرہاد ہے

دل نہاں پھرتا ہے حاتم کا نجف اشرف کے بیچ

گو وطن ظاہر میں اس کا شاہجہاں آباد ہے

*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*

اے خرد مندو مبارک ہو تمھیں فرزانگی

ہم ہوں اور صحرا ہو اور وحشت ہو اور دیوانگی

بے مروت، بے وفا، بے دید اے ناآشنا

آشناؤں سے نہ کر بے رحمی اور بیگانگی

ملکِ دل آباد کیوں کرتا ہے حاتم کا خراب

اے مری بستی خوش آتی ہے تجھے ویرانگی

*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*

 

 

سراج الدین علی خان آرزوؔ

خانِ آرزو کو زبانِ اُردو پر وہی دعویٰ پہنچتا ہے جو کہ ارسطو کو فلسفہ و منطق پر ہے۔ جب تک کہ کل منطقی ارسطو کے عیال کہلائیں گے تب تک اہلِ اُردو خانِ آرزو کے عیال کہلاتے رہیں گے، ان کا دلچسپ حال قابلِ تحریر تھا، لیکن چونکہ فارسی تصنیفات کی مہموں نے اُنھیں کوئی دیوان اُردو میں نہ لکھنے دیا، اس لئے یہاں اُن کے باب میں اس قدر لکھنا کافی ہے کہ خان آرزو وہی شخص ہیں جن کے دامنِ تربیت میں ایسے شائستہ فرزند تربیت پا کر اُٹھے جو زبانِ اُردو کے اصلاح دینے والے کہلائے۔ اور جس شاعری کی بنیاد جگت اور ذومعنی لفظوں پر تھی اسے کھینچ کر فارسی کی طرز اور ادائے مطالب پر لے آئے، یعنی مرزا جان جاناں مظہر، مرزا رفیع، میر  تقی میر، خواجہ میر درد، وغیرہ۔

خان آرزو اُردو کے شاعر نہ تھے نہ اُس زمانہ میں اُسے کچھ کمال سمجھتے تھے، البتہ بعض متفرق اشعار کہے تھے، وہ زمانہ کی گردشوں سے اس طرح گھِس پس کر اُڑ گئے کہ آج کل کے لوگوں کو خبر بھی نہیں، میرے دیوانے دل نے جو اُستادوں کی زبان سے لے کر سینہ میں امانت رکھے وہ کاغذ سپرد کرتا ہوں۔ یقین ہے کہ یہ امانتدار ضائع نہ کرے گا۔ خان موصوف نے ۱۱۶۵ھ میں رحلت کی، اصل وطن اُن کے بزرگوں کا اکبر آباد ہے، مگر یہ دلی سے خاص دل لگی رہتے تھے، چنانچہ لکھنؤ میں انتقال کیا، ہڈیوں کی خاک دلی میں آ کر زمین کا پیوند ہوئی۔

آتا ہے ہر سحر اُٹھ تیری برابری کو

کیا دن لگے ہیں دیکھو خورشید خاوری کو

اِس تند خو صنم سے جب سے لگا ہوں سننے

ہر کوئی مانتا ہے میری دلاوری کو

تجھ زلف میں لٹک نہ رہے دل تو کیا کرے

بیکار ہے اٹک نہ رہے دل تو کیا کرے

رکھے سیپارہ دل کھول آگے عندلیبوں کے

چمن میں آج گویا پھول ہیں تیرے شہیدوں کے

کھول کر بندِ قبا کو ملکِ دل غارت کیا

کیا حصارِ قلب دلبر نے کھلے بندوں کیا

اس زلفِ (۱) سیاہ فام کی کیا دھوم پڑی ہے

آئینہ کے گلشن میں گتا جھوم پڑی ہے

(۱) سودا نے اپنے تذکرہ میں اس شعر کو خان آرزو کے نام سے اس طرح لکھا ہے اور میر انشاءاللہ خان نے اپنے دریائے لطافت میں قزلباش خاں امید کے نام پر اسی شعر کو اس طرح لکھا ہے :

از زلف سیاہ تو بدل دوم پری ہے

در خانہ آئینہ گتا جوم پڑی ہے

اور بعض تذکروں میں اسی شعر کو میر سوز فطرت کے نام سے لکھا ہے۔ واللہ اعلم۔

دریائے اشک اپنا جب سر بہ اوج مارے

طوفان نوح بیٹھا گوشہ میں موج مارے

مرے شوخِ خراباتی کی کیفیت نہ کچھ پوچھو

بہارِ حُسن کو دی آب اُس نے جب چرس کھینچا

مغاں مجھ مست بن پھر خندہ قلقل نہ ہووے گا

مئے گلگوں کا شیشہ ہچکیاں لے لے کے روئے گا

باوجودیکہ عزتِ خاندان اور نفسِ کمالات کی حیثیت سے خان موصوف کو امرا و غربا سب معزز و محترم سمجھتے اور علم و فضل کے اعتبار سے قاضی القضات کا عہدہ دربارِ شاہی سے حاصل کیا مگر مزاج کی شگفتگی اور طبیعت کی ظرافت نے دماغ میں خود پسندی اور تمکنت کی بو نہیں آنے دی تھی، چنانچہ لطیفہ شاگردوں میں ایک نوجوان بچپن سے حاضر رہتا تھا، حُسنِ اتفاق یہ کہ چہرہ اُس کا نمکِ حسن سے نمکین تھا، وہ کسی سبب سے چند روز نہ آیا، ایک دن یہ کہیں سرِ راہ بیٹھے تھے کہ وہ اِدھر سے گزرا۔ انھوں نے بلایا، شاید اسے ضروری کام تھا کہ وہ عذر کر کے چلا، انھوں نے پھر روکا اور بلا کر یہ شعر پڑھا کہ لطافتِ طبع سے اسی وقت شبنم کی طرح ٹپکا تھا :

یہ ناز یہ غرور لڑکپن میں تو نہ تھا

کیا تم جوان ہو  کے بڑے آدمی ہوئے

ایک دن کہیں مشاعرہ تھا، ایک جانب چند فہمیدہ اور سخن شناس بیٹھے شعر و سخن سے دماغ تر و تازہ کر رہے تھے، ایک شخص نے خان موصوف کی تعریف کی اور اُس میں بہت مبالغہ کیا۔ حکیم اصلح الدین خاں صاحب مُسکرائے اور کہا کہ :

آرزو خوب است!

اینقدرہا خوب نیست

سب ہنسے اور خود خاں صاحب دیر تک اس مصرعہِ لطیف کی داد دیتے رہے :

پیدا کہاں ہیں ایسے پراگندہ طبع لوگ

افسوس تم کو میر سے صحبت نہیں رہی

*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*

 

 

اشرف علی خاں فغاںؔ

فغاں تخلص اشرف خاں نام (گجرأت احمد آباد کے سادات عظام کے خاندان سے تھے، سودا کے دیوان پر جو دیباچہ ہے وہ انھیں کا لکھا ہوا ہے۔ خود شاعر تھے اور زین العابدین آشنا ان کا بیٹا بھی شاعر تھا۔ بعض حالات لطف خاں موصوف کے سودا کے حال میں لکھے گئے۔)، احمد شاہ بادشاہ کے کوکہ تھے، بدلہ سنجی و لطیفہ گوئی کا یہ عالم تھا کہ زبان سے پھلجڑی کی طرح پھول جھڑتے تھے اس لئے ظریف الملک کوکہ خاں خطاب تھا اگرچہ شاعری پیشہ نہ تھے، مگر شعر کا مزہ ایسی بُری بلا ہے کہ اس کے چٹخارے کے سامنے سارے بے مزہ ہو جاتے ہیں، چنانچہ وہ ایسے ہی صاحب کمالوں میں ہیں، ابتدائے عمر میں شعر گوئی کا شوق پیدا ہوا، طبیعت ایسی مناسب واقع ہوئی تھی کہ جبھی سے اس کام میں نام پیدا کیا، مصحفی نے اپنے تذکرہ میں قزلباش خاں امید کا شاگرد لکھا ہے۔ مگر اُن کی اُردو ابھی سُن چکے، شاید فارسی میں اصلاح لی ہو، گلزار ابراہیمی میں لکھا ہے کہ ندیم کے شاگرد تھے اور خود بھی جا بجا کہتے ہیں :

ہر چند اب ندیم کا شاگرد ہے فغاں

دو دن کے بعد دیکھیو اُستاد ہو گیا

دشتِ جنوں میں کیوں نہ پھروں میں برہنہ پا

اب تو فغاں ندیم مرا رہ نما ہوا

الغرض جب احمد شاہ درانی کے حملوں نے ہندوستان کو تہ و بالا کر دیا، اور دِلی میں دربار کا طور بے طور دیکھا تو مرشد آباد میں ایرج خاں اُس کے چچا کا ستارہ عروج پر تھا۔ اِن سے ملنے گئے اور وہاں سے علاقہ اودھ میں پہنچے، اس زمانہ میں دِلی کا آدمی کہیں جاتا تھا تو ایسا سمجھتے تھے گویا پیر زادے آئے بلکہ اس کی نشست و برخاست کو سلیقہ اور امتیاز کا دستور العمل سمجھتے تھے۔ اس وقت شاہِ اودھ بھی نواب وزیر ہی کہلاتے تھے۔ نواب شجاع الدولہ مرحوم حاکم اودھ ان کے ساتھ بہت تعظیم سے پیش آئے اور اعزاز و اکرام کے ساتھ رکھا لیکن معلوم ہوتا ہے کہ یہ نازک مزاج بہت تھا اور زمانہ بھی ایسا تھا کہ ایسے مزاجوں کی نزاکتیں پیش آ جاتی تھیں، چنانچہ ایک دن اختلاط میں ان کا کپڑا نواب کے ہاتھ سے جل گیا، یہ رنجیدہ ہو کر عظیم آباد چلے گئے، وہاں جا کر اس سے زیادہ عزت پائی اور راجہ شتاب رائے کی سرکار میں اختیار اور اقتدار حاصل کیا۔ راجہ صاحب بھی علاوہ خاندانی بزرگی کے اِن کے کمال ذاتی اور شیریں کلامی اور علم مجلسی کے سبب سے نہایت عزیز رکھتے تھے، چنانچہ وہیں رہے اور باقی عمر خوشحالی میں بسر کر کے دنیا سے انتقال کیا۔

ان کے کمال کی سند اس سے زیادہ نہیں ہو سکتی کہ مرزا رفیع جیسے صاحبِ کمال اکثر ان کے اشعار مزے لے لے پڑھا کرتے اور بہت تعریف کیا کرتے تھے۔ حقیقت میں مرزا کا خود بھی یہی انداز تھا، کیونکہ ان کے کلام میں ہندی کے محاورے نے فارسیت کے ساتھ نئے لطف سے پختگی پائی ہے، اور ہر خیال کو لطافت اور چونچلے کے ساتھ ادا کرتے ہیں، ان کے جس ویران سے میری آنکھیں روشن ہوئیں، میرے استاد ظاہر و باطن شیخ ابراہیم ذوق کے لڑکپن کا لکھا ہوا تھا، اگرچہ فغاں کیزبان اُسی زمانے کی زبان ہے، مگر فنِ شاعری کے اعتبار سے نہایت باصول اور برجستہ ہے اور الفاظ کی بندش ان کی مشق پر گواہی دیتی ہے، مقدار میں دیوان درد سے کچھ بڑا تھا، مگر فقط غزلوں کا دیوان ہے، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کی طبیعت ایشیا کی شاعری کے لئے نہایت مناسب تھی، ان کے حالات سے معلوم ہوتا ہے کہ تیزی اور طراری کو اُن کے مزاج سے وہ لگاؤ تھا جو باردت اور حرارت کو، لطیفہ گوئی اور حاضر جوابی میں ایسی تھی جیسے تلوار میں جوہر۔

ایک دن راجہ صاحب کے دربار میں غزل پڑھی جس کا قافیہ تھا لالیاں اور جالیاں، سب سخن فہموں نے بہت تعریف کی، راجہ صاحب کی صحبت میں جگنو میاں ایک مسخرے تھے، ان کی زبان سے نکلا کہ نواب صاحب سب قافیے آپ نے باندھے مگر تالیاں رہ گئیں، اُنھوں نے ٹال دیا اور کچھ جواب نہ دیا، راجہ صاحب نے خود فرمایا کہ نواب صاحب! سُنتے ہو جگنو میاں کیا کہتے ہیں ؟ اُنھوں نے کہا کہ مہاراج اس قافیہ کو مبتذل سمجھ کر چھوڑ دیا تھا اور حضور فرمائیں تو اب بھی ہو سکتا ہے، مہاراج نے کہا کہ ہاں کچھ کہنا تو چاہیے۔ انھوں نے اِسی وقت پڑھا :

جگنو میاں کی دُم جو چمکتی ہے رات کو

سب دیکھ دیکھ اس کو بجاتے ہیں تالیاں

تمام دربار چمک اُٹھا اور میاں جگنو مدھم ہو کر رہ گئے۔

افسوس یہ ہے کہ اس قسم کے لطائف بڑھتے بڑھتے ان سے اور راجہ صاحب سے بھی شکر رنجی ہو گئی، اس کی بنیاد یہ ہوئی کہ احمد شاہ دُرانی نے جو سلطنت پر حملے کئے، ایک دن اس کی دست درازی اور بے اعتدالیوں کا ذکر ہو رہا تھا، خدا جانے طنز سے یا سادہ مزاجی سے راجہ صاحب نے کہا کہ نواب صاحب ! ملکہ زمانی کو احمد شاہ درانی کیوں کر لے گیا، انھیں بات ناگوار ہوئی، افسردہ ہو کر بولے کہ مہاراج جس طرح سیتا جی کو راون لے گیا تھا، اسی طرح وہ لے گیا۔ اُسی دن سے دربار میں جانا چھوڑ دیا۔

اُن کی لیاقت اور حُسنِ تدبیر کو اس بات سے قیاس کر سکتے ہیں کہ حکام فرنگ سے اس عالم میں اس طرح رسائی پیدا کی کہ باقی عمر فارغ البالی اور خوشحالی میں گزاری، ۱۱۸۶ ہجری میں وفات پائی اور وہیں دفن ہوئے۔

مبتلائے عشق کو اے ہمدماں شادی کہاں

آ گئے اب تو گرفتاری میں آزادی کہاں

کوہ میں مسکن کبھی ہے اور کبھی صحرا کے بیچ

خانہ الفت ہو ویراں ہم کو آبادی کہاں

ایک میں تو قتل سے خوش ہوں و لیکن مجھ سوا

پیش جاوے گی مرے قاتل یہ جلادی کہاں

کاش آ جاوے قیامت اور کہے دیوانِ حشر

وہ فغاں جو ہے گریباں چاک فریادی کہاں

*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*

خط دیجئیو چھپا کے ملے وہ اگر کہیں

لینا نہ میرے نام کو اے نامہ بر کہیں

بادِ صبا توں عقدہ کشا اس کی ہو جیو

مجھ سا گرفتہ دل اگر آوے نظر کہیں

اتنا وفور خوش نہیں آتا ہے اشک کا

عالم کو مت ڈبوئیو اے چشمِ تر کہیں

میری طرف سے خاطرِ صیاد جمع ہے

کیا اُڑ سکے گا طائرِ بے بال و پَر کہیں

تیری گلی میں خاک بھی چھانی کہ دل ملے

ایسا ہی گم ہوا کہ نہ آیا نظر کہیں

رونا جہاں تلک تھا میری جان رو چکا

مطلق نہیں ہے چشم میں نم کا اثر کہیں

باور اگر تجھے نہیں آتا تو دیکھ لے

آنسو کہیں ڈھلک گئے لختِ جگر کہیں

ایذا فغاں کے حق میں یہاں تک روا نہیں

ظالم یہ کیا ستم ہے خدا سے بھی ڈر کہیں

*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*

بے فائدہ ہے  آرزوئے سیم و زر فغاں

کس زندگی کے واسطے یہ دردِ سر فغاں

جلتے ہیں اس گلی میں فرشتے کے پر فغاں

کیونکر پھرے وہاں سے ترا نامہ بر فغاں

بوئے کبابِ سوختہ آتی ہے خاک سے

دامن سے کیا گرا کوئی لختِ جگر فغاں

یاں تک تو گرم ہے مرے خورشید رو کا حُسن

دیکھے اگر کوئی تو نہ ٹھہرے نظر فغاں

*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*

کہتے ہیں فصلِ گل تو چمن سے گزر گئی

اے عندلیب تو نہ قفس بیچ مر گئی

شکوہ تو کیوں کرے ہے مرے اشکِ سُرخ کا

تیری کب آستیں مرے لوہو سے بھر گئی

اتنا کہاں رفیق بصارت ہے چشم کی

دل بھی ادھر گیا مری جیدھر نظر گئی

تنہا اگر میں یار کو پاؤں تو یوں کہوں

انصاف کو نہ چھوڑ مروت اگر گئی

آخر فغاں وہی ہے اُسے کیوں بھلا دیا

وہ کیا ہوئے تپاک وہ الفت کدھر گئی

مجھ سے جو پوچھتے ہو تو ہر حال سکر ہے

یوں بھی گزر گئی مری ووں بھی گزر گئی

*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*

مفت سودا ہے ارے یار کہاں جاتا ہے

آ مرے دل کی خریدار کہاں جاتا ہے

کچ کلہ تیغ بکف چین برابر و بے باک

یا الٰہی یہ ستمگار کہاں جاتا ہے

لئے جاتی ہے اجل جانِ فغاں کو اے یار

لیجئو تیرا گرفتار کہاں جاتا ہے

*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*

صنم بنا تو خدائی کا مجھ کو کیا نہ ہوا

ہزار شکر کہ تو بُت ہوا خدا نہ ہوا

کباب ہو گیا آخر کو کچھ بُرا نہ ہوا

عجب یہ دل ہے جلا تو بھی بے مزہ نہ ہوا

شگفتگی سے ہے غنچہ کے تئیں پریشانی

بھلا ہوا کبھی کافر تو مجھ سے وا نہ ہوا

مواد میں جیا آخر کو نیم بسمل جو

غضب ہوا مرے قاتل کا مدعا نہ ہوا

نپٹ ہوا ہوں فضیحت بہت ہوا ہوں خراب

تری طفیل اے خانہ خراب کیسا نہ ہوا

طرف سے اپنی تو نیکی میں ہے مرا صاحب

مری بلا سے فغاں کا اگر بھلا نہ ہوا

*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*

کھا پیچ و تاب مجھکو ڈسیں اب وہ کالیاں

ظالم اسی لئے تین نے زلفیں تھیں پالیاں

تنہا نہ در کو دیکھ کے گرتے ہیں اشکِ چشم

سوراخ دل میں کرتی ہیں کانوں کی بالیاں

دیکھا کہ یہ تو چھوڑ ناممکن نہیں مجھے

چلنے لگا وہ شوخ مراتب یہ چالیاں

ہر بات بیچ روٹھنا، ہر دم میں ناخوشی

ہر آن ودکھنا مجھے ہر وقت گالیاں

ایذا ہر ایک طرح سیں دینا غرض مجھے

کچھ بس نہ چل سکا تو یہ طرحیں نکالیاں

ہم نے شبِ فراق میں سُنتا ہے اے فغاں

کیا خاک سو کے حسرتیں دل کی نکالیاں

یہ تھا خیال خواب میں ہے گا یہ روزِ وصل

آنکھیں جو کھل گئیں وہی راتیں ہیں کالیاں

*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*

خاتمہ

دوسرے دَور کے شعراء رخصت ہوتے ہیں، سبحان اللہ اس بڑھاپے پر ایسے زندہ دل، اس کمال پر ایسے بے تکلف سادہ مزاج :

کیا خوب آدمی تھے خدا مغفرت کرے

نہ استعاروں کے پیچ، نہ تشبیہوں کی رنگا رنگی، اپنے خیالات کو کیسی صاف صاف زبان اور سیدھے سیدھے محاورہ میں کہہ گئے کہ آج تک جو سُنتا ہے سَر دھُنتا ہے۔ اُن کا کلام قال نہ تھا حال تھا۔ جو خیال شعر میں باندھتے تھے، اس کا عالم اُن کے دل و جان پر چھا جاتا تھا، یہی سبب ہے کہ جس شعر کو دیکھو تاثیر میں ڈوبا ہوا ہے۔ اسی کو آج اہلِ فرنگ ڈھونڈھتے ہیں، اور کہتے ہیں کہ ہر شے کی اصلی حالت دکھانی چاہیے۔ مگر حالت کون دکھائے، کہ اپنی حالت بگڑی ہوئی ہے :

صحبتِ گل ہے فقط بلبل سے کیا بگڑی ہوئی

آج کل سارے چمن کی ہے ہوا بگڑی ہوئی

آدمی کہتے ہیں جس کو ایک پُتلا کل کا ہے

پھر کہاں کل اس کو جب کل ہو ذرا بگڑی ہوئی

دل شکستوں کا سخن ہووے نہ کیونکر درست

ساز بگڑے ہے تو نکلے ہے صدا بگڑی ہوئی

*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*

 

 

 

تیسرا دَور

تمہید

اس مشاعرہ میں اُن صاحبِ کمالوں کی آمد آمد ہے جس کے پا انداز میں فصاحت آنکھیں بچھاتی ہے اور بلاغت قدموں میں لوٹے جاتی ہے، زبانِ اُردو ابتداء میں کچا سونا تھی، اِن بزرگوں نے اُسے اکثر کدورتوں سے پاک صاف کیا اور ایسا بنا دیا جس سے ہزاروں ضروری کام اور آرائشوں کے سامان حسینوں کے زیور بلکہ بادشاہوں کے تاج و افسر تیار ہوتے ہیں اگرچہ بہت سے مرصع کار، مینا نگار پیچھے آئے، مگر اِس فخر کا نولکھا ہار انھیں بزرگوں کے گلے میں رہا۔ جب یہ صاحبِ کمال چمن کلام میں آئے تو اپنے بزرگوں کی چمن بندی کی سیر کی، فصاحت کے پھول کو دیکھا کہ قدرتی بہار میں حُسنِ خداداد کا جوبن دکھا رہا ہے۔ چونکہ انھیں بھی ناموری کا تمغہ لینا تھا، اس لئے بڑوں سے بڑھ کر قدم مارنے چاہے۔ یہ گرد و پیش کے میدانوں میں بہت دوڑے، سب پھول کام میں آئے ہوئے تھے، جب سامنے کچھ نہ پایا تو ناچار اپنی عمارتوں کو اونچا اٹھایا، تم دیکھنا وہ بلندی کے مضمون نہ لائیں گے۔ آسماں سے تارے اُتاریں گے، قدر دانوں سے فقط داد نہ لیں گے، پرستش لیں گے، لیکن وہ پرستش کہ سامری کی طرح عارضی نہ ہو، اُن کے کمال کا دامن قیامت کے دامن سے بندھا پاؤ گے، یہ اپنی صنعت میں کچھ کچھ تکلف بھی کریں گے۔ مگر ایسا جیسے گلاب کے پھول پر شبنم یا تصویر پر آئینہ، اِن کا تکلف بھی اصلی لطافت پر کچھ لطف زیادہ کرے گا، اصل کی کوبی پر پردہ نہ ہو گا، تم میر صاحب اور خواجہ میر درد کو دیکھو گے کہ اثر میں ڈوبے ہوں گے، سودا کا کلام باوجود بلندی مضمون اور چستی بندش کے تاثیر کا طلسم ہو گا۔

اتنی بات کا افسوس ہے کہ اس ترقی میں طبیعت کی بلند پروازی سے اوپر کی طرف رُخ کیا، کاش آگے قدم بڑھاتے تا کہ حُسن و عشق کے محدود صحن سے نکل جاتے اور اِن میدانوں میں گھوڑے دوڑاتے کہ نہ ان کی وسعت کی انتہا ہے نہ عجائب و لطائف کا شمار ہے، اس بات کو نہ بھولنا چاہیے کہ خان آرزو کی فیضِ صحبت نے ان نوجوانوں کے کمال کو اس طرح پرورش کیا جس طرح دایہ اپنے دامن میں ہونہار بچوں کو پالتی (دیکھو صفحہ نمبر) ہے۔ میں نے طبقہ دوم اور سوم کے اکثر استادوں کے حال مجمل طور پر حواشی میں لکھ دیئے ہیں اور اکثر کے نام و کلام سے یہ جام خالی ہے، حقیقت میں اُن سبکو اُردو کی اصلاح کا حق حاصل ہے، لیکن اپنے اُستادوں اور بزرگوں سے یہی سُنا کہ مرزا جانجاناں، سودا، میر، خواجہ میر درد چار شخص تھے جنھوں نے زبان اُردو کو خراد اُتارا ہے۔

ہمارے زبان دانوں کا قول ہے کہ ۶۰ برس کے بعد ہر زبان میں ایک واضح فرق پیدا ہو جاتا ہے، طبقہ سوم کے اشخاص جو حقیقت میں عمارت اُردو کے معمار ہیں انھوں نے بہت سے الفاظ پُرانے سمجھ کر چھوڑ دیئے، اور بہت سی فارسی کی ترکیبیں جو مصری کی ڈلیوں کی طرح دودھ کے ساتھ منہ میں آتی تھیں انھیں گھُلایا، پھر بھی بہ نسبت حال کے بہت سی باتیں اُن کے کلام میں ایسی تھیں کہ اب متروک ہیں، چنانچہ فارسیت کی ترکیبوں کے اشعار دیباچہ میں لکھے گئے۔ (دیکھو صفحہ)

لیکن پُرانے الفاظ جو اب متروک ہیں ان کی مثال کے چند اشعار میر اور مرزا اور خواجہ میر درد کے کلام سے لکھتا ہوں پھر بھی انصاف سے نہیں گزرا جاتا، ان میں اپنی اپنی جگہ ایک ایک لفظ ایسا جڑا ہوا ہے، جسے اٹھانا مشکل ہے۔

ہوتا تھا مجلس آرا گر غیر کا تو مجھ کو

مانند شمع مجلس کاہے کو تیں جلایا

نقاش دیکھ تو میں کیا نقش یار کھینچا

اس شوخ کم نما کا نِت انتظار کھینچا

دیر و حرم میں کیونکہ قدم رکھ سکے گا میر

ایدھر تو اس سے بُت پھرا ادھر خدا پھرا

ٹک بھی نہ مڑ کے میری طرف تو نے کی نگاہ

ایک عمر تیرے پیچھے میں ظالم لگا پھرا

گل و آئینہ کیا؟ خورشید و مہ کیا

                                                              جدھر دیکھا تدھر تیرا ہی رو تھا

فقیرانہ آئے صدا کر چلے

میاں خوش رہو ہم دُعا کر چلے

رسم قلمرو عشق مت پوچھ تو کہ ناحق

ایکوں کی کھال کھینچی ایکوں کا وار کھینچا

لوہو لگتا ہے ٹپکنے جو پلک ماروں ہوں

اب تو یہ رنگ ہی اس دیدہ اشک افشاں کا

کیونکر تمھاری بات کرے کوئی اعتبار

ظاہر میں کیا کہو ہو سخن زیر لب ہے کیا

سیمیں تنوں کا ملنا چاہے ہے کچھ تمول

شاہد پرستیوں کا ہم پاس زر کہاں ہے

تابمقدور انتظار کیا

دل نے اب زور بے قرار کیا

خونِ جگر ہو بہنے لاگا

پلکوں ہی پر رہنے لاگا

پی پی کے اپنا لوہو رہیں گو کہ ہم ضعیف

جُوں رینگتی نہیں ہے انھوں کے تو کان پر

کیفیتیں ہزار ہیں اس کام جاں کے بیچ

دیتے ہیں لوگ جان تو ایک ایک آن پر

تازہ جھمک تھی شب کو تاروں میں آسمان کی

اِس آسیا کو شاید پھر ہے کنہو  نے ہارا

زمانہ نے مجھ جرعہ کش کو ندان

کیا خاک و خشت سر خم کیا

دِل لے کے میری جان کا دشمن ہوا ندان

جس بیوفا سے اپنے تئیں پیار ہو گیا

گہے خونِ جگر گہ اشک گاہے لختِ دل یارو

کسی نے بھی کہیں دیکھا ہے یہ بستار  رونے کا

کہا تھا میں نہ دیکھو غیر کی اور

سو اُس نے آنکھ مجھ سے ہی چھپائی

آنکھوں نے میر صاحب قبلہ سِتم کیا

حضرت بُکا کیا نہ کرو رات کے تئیں

باہر نہ آتا چاہ سے یوسف جو جانتا

لے کارواں مرے تئیں بازار جائے گا

ہز ذرہ خاک تیری گلی کی ہے بے قرار

یاں کونسا ستم زدہ ماٹی میں رُل گیا

آتشِ تیر جدائی سے یکایک اس بن

یوں جلا دِل کہ تنک جی بھی جلایا نہ گیا

رہے خیال تنک ہم بھی رُو سیاہوں کا

لگے ہو خون بہت کرنے بے گناہوں کا

ہو اس سے جہاں سیاہ تد بھی

نالہ میں مرے اثر نہ ہو گا

مت رنج کر کسی کو کہ اپنے تو اعتقاد

دل ڈھائے کر جو کعبہ بنایا تو کیا ہوا

بس طبیب اُٹھ جا مرے بالیں سے مت دے دردِ سر

کامِ جاں آخر ہوا اب فائدہ تدبیر کا؟

دل کی ویرانی کا کیا مذکور ہے

یہ نگر سو ۱۰۰ مرتبہ لوٹا گیا

حیف دے اُن کنے اس وقت میں پہنچا جس وقت

اُن کنے حال اشاروں سے بتایا نہ گیا

لگوائے پتھرے اور پُرا بھی کہا کئے

تم نے حقوق دوستی کے سب ادا کئے

ایسے وحشی کہاں ہیں اے خوباں

میر کو تم عبث اُداس کیا

ا س عہد میں استمراری جمع مؤنث میں دونوں فعل جمع لاتے تھے، مثلاً عورتیں آئیاں تھیں اور گاتیاں تھیں، اب پہلے فعل کو واحد لاتے ہیں، مثلاً عورتیں آتی تھیں اور گاتی بجاتی تھیں۔

بارہو وعدوں کی راتیں آئیاں

طالعوں نے صبح کر دکھلائیاں

جنوں میرے کی باتیں دشتِ گلشن میں جہاں چلیاں

نہ چوبِ گِل نے دم مارا نہ چھڑیاں پرند کی ہلیاں

اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت ہلنا بالفتح بولتے تھے، چنانچہ سودا بھی ایک غزل میں کہتے ہیں جس کا قافیہ ردیف ہے چلتے دیکھا، نکلتے دیکھا :

تیغ تیرے کا سدا شُکر ادا کرتے ہیں

لبوں کو زخم کے دن رات میں بنتے دیکھا

اسی طرح اکثر اشعار مرزا رفیع کے ہیں باوجود محاورہ قدیمانہ، آج کل کے ہزار محاورے اِن پر قربان ہیں، چنانچہ فرماتے ہیں :

آ خدا کے واسطے اس بانکپن سے درگزر

کل میں سودا یوں کہا دامان کھگریار کا

بیوفائی کیا کہوں دل ساتھ تجھ کو محبوب کی

تیری نسبت تو میاں بلبل سے گل نے خوب کی

جسکے دلکو تری زلفوں سے یہاں لاگ لگے

اس کی آنکھوں میں جو رسی بھی ہو تو ناگ لگے

تجھ عشق میں پیارے وہ زیرِ چوب گل ہیں

نے پھول کی کسی نے جن کو چھڑی لگائی

خبر شتاب لے سودا کے حال کی پیارے

نہیں ہے وقت مری جان یہ تامل کا

نجانے حال کس ساقی کو یاد آتا ہے شیشہ کا

کہ لے لے ہچکیاں جیوڑا نکل جاتا ہے شیشہ کا

نہ جانے یاد کر روتا ہے کس کے دلکے صدمہ کو

کہیں ٹکڑا جو سودا کو نظر آتا ہے شیشہ کا

بیہودہ اس قدر نہیں آتا ہے کم نا

مکھ پر خط آ چکا نہ کرو صبح و شام ناز

عالم کو مار رکھا ہے تیں با قد و وتا

زاہد یہ کاٹ ہے تری تیغِ دونیم کا

سوداؔ کہے تھا یار سے ایک مو نہیں غرض

اودھر کھلی جو زلف ادھر دل بکھر چلا

سوداؔ نکل نہ گھر سے کہ اب تجھ کو ڈھونڈتے

لڑکے پھریں ہیں پتھروں سے دامن بھرے ہوئے

تسلی اس دوا نے کی نہ ہو جھولی کے پتھروں سے

اگر سوداؔ کو چھیڑا ہے تو لڑکو مول لو پھڑیاں

نگر آباد ہیں بَسے، ہیں گانوں

تجھ بِن اُجڑے پڑے ہیں اپنے بھاؤں

قیس و فرہاد کا نہیں کچھ ذکر

ابے تو سودا کا باجتا ہے ناؤں

جاتے ہیں لوگ قافلے کے پیش و پس چلے

ہے یہ عجب سَرا کہ جہاں آئے بَس چلے

اس غزل میں قفس چلے اور بس چلے قافیہ ہے، اسی میں کہتے ہیں۔

صیاد اب تو کر دے قفس سے ہمیں رِہا

ظالم پھڑک پھڑک کے پر و بال گھس چلے

(پنجاب میں اب تک گھسنا بالفتح بولتے ہیں )

صبا سے ہر گھڑی مجھ کو لہو کی باس آتی ہے

چمن میں آہ گلچیں نے یہ کس بلبل کا دل توڑا

موجب مری رنجش کا جو پوچھے ہے تو اے جان

موندوں گا نہ میں کھول کے جوں غنچہ دہاں کو

داغ تجھ عشق کا جھمکے ہے مرے دل کے بیچ

مہر ذرہ میں درخشاں نہ ہوا تھا سو ہوا

وے صورتیں الٰہی کس ملک بستیاں ہیں

اب جن کے دیکھنے کو آنکھیں ترستیاں ہیں

بل بے ساقی تیری بے پروائیاں

جانیں مشتاقوں کی لب تک آئیاں

اِسی طرح ہندی صفت میں اب جمع نہیں لاتے :

ملائم ہو گئیں دل پریت کی ساعتیں کڑیاں

یہ انکھیاں کیوں مرے جی کے گلے کی ہار ہو پڑیاں

چیز کیا ہوں جو کریں قتل وہ انکھیاں مجھ کو

پھر گئے دیکھ کے منھ خنجرِ براں مجھ کو

خیال اِن انکھڑیوں کا چھوڑ مت مرنے کے بعد اب بھی

ولا آیا جو تو اس میکدہ میں جام لیتا تھا

ناتوانی بھی عجب شے ہے کہ گلشن میں نسیم

نت لئے پھرتی ہے دوش اوپر برنگ بُو مجھے

فارسی کی جمع کو اس وقت سب فصحا عموماً بولتے تھے، اب بغیر حالت صفت یا اضافت کے نہیں بولتے، سودا کہتے ہیں :

سودا غزل چمن میں تو ایسی ہی کہہ کے لا

گل پھاڑیں سن کے جیب کو دیں بلبلاں صدا

ہاتھ سے جاتا رہا دِل

دیکھ محبوباں کی چال

اور ایک جگہ کہتے ہیں :

یا الہی میں کہوں کسی سیتی اپنا احوال

زلف خوباں کی ہوئی ہے مرے جی کو جنجال

خوباں اور محبوباں مرزا کی زبان پر بہت چڑھے ہوئے ہیں۔

اور خواجہ میر درد علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں :

پرورش غم کی ترے یاں تئیں تو کی دیکھا

کوئی بھی داغ تھا سینہ میں کہ ناسور نہ تھا

تو کب تئیں مجھ سات مری جان ملے گا

ایسا بھی کبھی ہو گا کہ پھر آن ملے گا

گو نالہ نارسا ہو نہ ہو آہ میں اثر

میں نے تو درگزر نہ کی جو مجھ سے ہو سکا

ساتی مرے بھی دل کی طرف ٹک نگاہ کر

لب تشنہ تیری بزم میں یہ جام رہ گیا

اے آنسو نہ آوے، کچھ دل کی بات منھ پر

لڑکے ہو تم کہیں مت افشائے راز کرنا

ہم جانتے نہیں ہیں اے درد کیا ہے کعبہ

جیدھر ملے وہ ابرو اودھر نماز کرنا

کہا میں مرا حال تم تک بھی پہنچا

کہا تب اچٹتا سا کچھ میں سُنا تھا

مرے دل کو جو ہر دم تو بھلا اتنا ٹٹولے ہے

تصور کے سوا تیرے بتا تو اس میں کیا نکلا؟

جائیے کس واسطے اے درد میخانے کے بیچ

اور ہی ہستی ہے اپنے دل کے پیمانے کے بیچ

سو (۱۰۰) بار دیکھیاں ہیں تیری بے وفائیاں

تس پر بھی نت غرور ہے دل میں گناہ کا

جگ میں کوئی نہ ٹک ہنسا ہو گا

کہ نہ ہنستے ہی رو دیا ہو گا

درد کے ملنے سے اے یار بُرا کیوں مانے

اس کو کچھ اور سِوا دید کے منظور نہ تھا

اے شانہ تو نہ ہو جو دشمن ہمارے جی کا

کہیں دیکھیو نہ ہووے زلفوں کا بال بیکا

اگر تجھ کو چلنا ہے چل ساتھ میرے

یہ کب تک تو باتیں بناتا رہے گا

بعد مدت کے درد کل مجھ سے

مِل گیا راہ میں وہ غنچہ دہن

میری اس کی جو لڑ گئی نظریں

ہو گئے آنکھوں میں ہی دود و بچن

اِن کے عہد میں زبان میں کچھ کچھ اصلاح ہو گئی۔ مگر رسم الخط میں بہت کچھ بزرگوں کی میراث باقی تھی، ایک مجموعہ میرے ہاتھ آیا کہ 1170؁ھ کی تحریر ہے۔ وہ کسی فہمیدہ شخص نے بڑے شوق سے لکھا ہے، اس میں میر سوزؔ، تاباںؔ، فغاںؔ، سوداؔ، خواجہ میر دردؔ، انعام اللہ خاںؔ، خواجہ آبروؔ، میر محمد باقر حزیںؔ، میر کمال الدین شاعرؔ، خواجہ احسن اللہ خاں بیانؔ، قائم الدین قائمؔ کے دیوانوں کی انتخاب غزلیں ہیں۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ اس عہد میں کو علامت مفعول کوں لکھا جاتا ہے۔ چنانچہ شاہ آبروؔ اور کمال الدین شاعرؔ وغیرہ نے جن غزلوں میں کو ردیف ہے اُنھیں ردیف ن ہی میں لکھا ہے۔ متاخرین نے ن کو دُور کیا۔ مگر معلوم ہوتا ہے واؤ معروف ہی بولتے تھے، چنانچہ میر اثر نے کہ خواجہ میر دردؔ کے بھائی تھے، ایک بے ردیف غزل میں مو، رد، قافیہ رکھا ہے اور کو، استفہامیہ باندھا ہے۔ مرزا رفیع نے بھی ایک جگہ ایسا کہا ہے، ان کی ایک غزل ہے، قفس کو، جرس کو، نفس کو، اس کا مقطع یہ ہے :

ترغیب نہ کر سیرِ چمن کی ہمیں سوداؔ

ہر چند ہوا خوب ہے واں لیک ہوس کو

ایک غزل ہے ابرو نہیں، گیسو نہیں، اس میں کہتے ہیں :

خطِ سبز اُس کی سیہ، کچھ رد ہوا میرا سفید

خواہش ترکِ نیا زد و ناز دونوں کو نہیں

سُن کے ترکِ عشق میرا ہنس کے کہتا ہے وہ شوخ

نیل بگڑا ہے کہیں یارو یقیں مجھ کو نہیں

الفاظ مفصلہ ذیل کی رسم الخط اس عہد میں اس طرح تھی :

تو۔۔۔ توں

مجھے۔۔۔ مجھ سیں

اُس نے۔۔۔ اُنے

تجھ۔۔۔ تجھ کوں

سے۔۔۔ سیں

تو نے۔۔۔ تو نیں

جس نے۔۔۔ جِنے

کسے۔۔۔ کسو

اس سے۔۔۔ اس سین

جوں۔۔۔ جیوں

جی۔۔۔ جیو

اشعار مذکورہ بالا جو کہ حقیقت میں ایک محاورہ مرحوم کے نقشِ مزار ہیں، میں نہیں جانتا کہ نئے ہونہار یا اگلے وقتوں کی جو یادگار باقی ہیں انھیں پڑھ کر کہاں تک خیالات کو وسعت دیں گے۔ مجھے اس لکھنے سے فقط یہی مطلب نہیں کہ اس عہد تک زبان پر اس قدر قدامت کا اثر باقی تھا بلکہ ایک بڑی بات کا افسوس ظاہر کرنا منظور ہے وہ یہ ہے کہ سوداؔ کی ۷۵ برس کی اپنی عمر اور تخمیناً ۵۵، ۶۰ برس ان کی شاعری کی عمر، میرؔ کی ۱۰۰ برس کی عمر، شاعری کی ۸۰، ۸۵ برس کی عمر اور اس بات سے کسی کو انکار نہ ہو گا کہ جو زبان دلی کی اُن کے اوائل کلام میں تھی وہی اوسط میں نہ تھی، پھر وہی اواخر میں نہ تھی، یقیناً تینوں زبانوں میں ظاہر اور واضح امتیاز ہوئے ہوں گے مگر چونکہ رسمِ ملک نے دیوانوں کی ترکیب حروفِ تہجی پر رکھی ہے، اس لئے آج ہم معلوم نہیں کر سکتے کہ ان کے عہدوں میں وقت بوقت ملکی زبانوں میں کیا کیا انقلاب ہوئے یا مختلف وقتوں میں خود اُن کی طبیعت کے میلان اور زورِ کلام کے اُتار چڑھاؤ کس کس درجہ پر تھے۔

اس اندھیرے میں فقط دو شاعر ہمارے لئے چراغ رکھ گئے ہیں کہ حسب تفصیل ذیل چند قسموں میں اپنے کلام کو تقسیم کیا :

اوائلِ عمر

عہدِ جوانی

سن کہولۃ

پیرانہ سالی

(۱) امیر خسرو : تحفتہ الصغر، غرۃ الکمال، وسط الحیٰوۃ، بقیہ نقیۃ

(۲) جامیؔ : فاتحۃ الشباب، واسطتہ العقد، خاتمتہ الحیٰوۃ

خیر یہ سمجھ لو کہ جن الفاظ پر ہم لوگوں کے بہت کان کھڑے ہوتے ہیں، یہی اُن کے اوائلِ عمر یا جوانی کے کلام ہیں، منشی احمدؔ حسن خاں صاحب میر  تقی مرحوم کے شاگرد رشید تھے۔ اِن کی زبانی ڈپٹی کلب حسین خاں صاحب مرحوم فرماتے تھے کہ اکثر الفاظ جو میر صاحب پہلے دوسرے دیوان میں کہہ گئے ہیں وہ چوتھے پانچویں میں نہیں ہیں، جو دوسرے تیسرے میں ہیں وہ پانچویں چھٹے میں نہیں۔ بہر حال اخیر عمر میں ان کی زبان کا اندازہ ہو گا جو کہ سید انشاؔء، مصحفیؔ، جرأت کی زبان ہے۔ واللہ اعلم بحقیقتۃ الحال۔

*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*

 

 

مرزا جانِ جاناں مظہرؔ

اگرچہ نظم کے جوش و خروش اور کثرتِ کلام کے لحاظ سے میرؔ اور سوداؔ کے ساتھ نام لیتے ہوئے تامل ہوتا ہے لیکن چونکہ صانع قدرت نے طبیعت کی لطافت اور اصلی نفاست اور ہر بات میں انداز کی خوبی اور خوب صورتی اُن کے مزاج میں رکھی تھی اور زمانہ بھی سب کا ایک تھا، اس کے علاوہ پُرانے تذکرہ نویس لکھتے ہیں بلکہ بزرگوں کی زبان سے بھی یہی سُنا کہ زبان کی اصلاح اور اندازِ سخن اور طرز کے ایجاد میں انھیں ویسا ہی حق ہے جیسا کہ سوداؔ اور میرؔ کو، اسی واسطے ان کا حال بھی اس سلسلہ میں لکھنا واجب ہے، ان کے والد عالمگیر کے دربار میں صاحبِ منصب تھے، نسب اِن کا باپ کی طرف سے محمد ابن حنیفہ سے ملتا ہے کہ حضرت علی رضی اللہ کے بیٹے تھے، ماں بیجاپور کے شریف گھرانہ سے تھیں، دادا بھی دربارِ شاہی میں صاحبِ منصب تھے، دادی اسد خاں وزیر عالمگیر کی خالہ زاد بہن تھیں۔ پردادا سے اکبر بادشاہ کی بیٹی منسوب ہوئی تھیں۔ اِن رشتوں سے تیموری خاندان کے نواسے تھے، 1111؁ھ میں جبکہ عالمگیر دکن پر فوج لئے پڑا تھا، ان کے والد نوکری چھوڑ کر دلی کو پھرے، یہ کالا باغ علاقہ مالوہ میں 11 رمضان کو جمعہ کے دن پیدا ہوئے۔ عالمگیر کو خبر ہوئی، آئینِ سلطنت تھا کہ امراء کے ہاں اولاد ہو تو حضور میں عرض کریں، بادشاہ خود نام رکھیں یا پیش کئے ہوئے ناموں میں سے پسند کر دیں، کسی کو خود بھی بیٹا یا بیٹی کر لیتے۔ یہ امور طرفین کے دلوں میں اتحاد اور محبت پیدا کرتے تھے، اِن کے لئے ایک وقت پر سندِ ترقی ہوتے تھے اور بادشاہوں کو ان سے وفاداری اور جاں نثاری کی امیدیں ہوتی تھیں، شادی بھی اجازت سے ہوتی تھی، کبھی ماں باپ کی تجویز کو پسند کرتے تھے، کبھی خود تجویز کر دیتے تھے۔ غرض عالمگیر نے کہا کہ بیٹا باپ کی جان ہوتا ہے، باپ مرزا جان ہے، اس کا نام ہم نے جانِ جاناں رکھا، پھر اگرچہ باپ نے شمس الدین نام رکھا، مگر عالمگیری نام کے سامنے نہ چمکا (تذکرہ گلزارِ ابراہیمی میں لکھا ہے کہ ان کا وطن اکبر آباد تھا دلی میں آ رہے تھے۔) مظہر تخلص انھوں نے آپ کیا کہ جان جاناں کے ساتھ مشہور چلا آتا ہے، مرزا جان بھی شاعر تھے اور جانی تخلص کرتے تھے۔

۱۶ برس کی عمر تھی کہ باپ مر گئے، اسی وقت سے مشتِ خاک کو بزرگوں کے گوشہ دامن میں باندھ دیا۔ ۳۰ برس کی عمر تک مدرسوں اور خانقاہوں میں جھاڑو دی، اور جو دن بہارِ زندگی کے پھول ہوتے ہیں انھیں بزرگوں کے روضوں پر چڑھا دیا۔ اس عہد میں تصوف کے خیالات اَبر کی طرح ہندوستان پر چھائے ہوئے تھے، چنانچہ قطع نظر کمالِ شاعری کے ہزارہا مسلمان بلکہ ہندو بھی اُن کے مرید تھے اور دل سے اعتقاد رکھتے تھے۔ اُن کے باب میں بہت سے لطائف ایسے مشہور ہیں کہ اگر آج کسی میں پائے جائیں تو زمانہ کے لوگ اچھا نہ سمجھیں، لیکن وہ ایک زمانہ تھا کہ صفاتِ مذکورہ داخلِ فضائل تھیں، کچھ تو اس اعتقاد سے کہ مصرعہ : “خطائے بزرگاں گرفتن خطا است۔” اور کچھ اس وجہ سے کہ اگر ایک لطیف اور شفاف سطح پر کوئی داغ ہو اور وہ ایک عمدہ نظر گاہ میں جلوہ گر ہو تو وہاں وہ دھبہ بدنما نہیں بلکہ گلکاری معلوم ہوتا ہے، اور جسے بُرا معلوم ہو وہ خوش عقیدہ نہیں، میں روسیاہ بزرگوں کی ہر بات کو چشمِ عقیدت کا سُرمہ سمجھتا ہوں، مگر مقتضائے زمانہ پر نظر کر کے نمونہ پر اکتفا کرنا چاہیے۔

وہ خود بیان کرتے تھے کہ حسنِ صورت اور لطف معنی کا عشق ابتداء سے میرے دل میں تھا، چھوٹے سن میں بھی مصرعے موزوں زبان سے نکلتے تھے۔ شیر خوارگی کے عالم میں حُسن کی طرف اس قدر میلان تھا کہ بدصورت کو گود میں نہ جاتا تھا، کوئی خوب صورت لیتا تھا تو ہمک کر جاتا تھا، اس پھر اس سے لیتے تھے تو بمشکل آتا تھا۔

*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*

 

 

میر عبدالحیی تاباںؔ

ان کے عہد میں میر عبدالحیی تاباں تخلص ایک شریف زادہ حُسن و کوبی میں اس قدر شہرہ آفاق تھا کہ خاص و عام اس کو یوسف ثانی کہتے تھے، گوری رنگت پر کالے کالے کپڑے بہت زیب دیتے تھے، اس لئے ہمیشہ سیاہ پوش رہتا تھا۔ اس کے حُسن کی یہاں تک شہرت پھیلی کہ بادشاہ کو بھی دیکھنے کا اشتیاق ہوا۔ معلوم ہوا کہ مکان حبش خاں کے پھاٹک میں ہے اور وہ بڑا دروازہ جو کوچہ مذکور سے بازار لاہوری دروازہ میں نکلتا ہے، اس کے کوٹھے پر نشست ہے۔ زمانہ کی تاثیر اور وقت کے خیالات کو دیکھنا چاہیے کہ بادشاہ  خود سوار ہو کر اس راہ سے نکلے، انھیں بھی خبر ہو گئی تھی، بنے سنورے اور بازار کی طرف موڈھا بچھا کر آ بیٹھے۔ بادشاہ جب اس مقام پر پہنچے تو اس لئے ٹھہرنے کا ایک بہانہ ہو وہاں آب حیات  (شاہانِ دہلی کے کاروبار کے لئے الفاظ خاص مستعمل تھے، مثلاً پانی کو آب حیات، کھانے کو خاصہ، سونے کو سکھ فرمانا، شہزادوں کا پانی آبِ خاصہ اور اسی طرح ہزاروں اصلاحی الفاظ تھے۔) مانگا، اور پانی پی کر دیکھتے ہوئے چلے گئے، الغرض تاباں خود صاحبِ دیوان تھے، شاہ حاتم اور میر محمد علی حشمت کے شاگرد تھے اور مرزا صاحب کے مُرید تھے، مرزا صاحب بھی چشمِ محبت اور نگاہِ شفقت سے دیکھتے تھے چنانچہ اکثر ایسا ہوتا تھا کہ مرزا صاحب بیٹھے ہیں اور اُن کی صحبت میں کہ جہاں کبھی وعظ و ارشاد اور کبھی نظم و اشعار کا جلسہ رہتا تھا :- تاباںؔ بھی حاضر ہیں اور با ادب اپنے مرشد کی خدمت میں بیٹھے ہیں۔ حضرت اگرچہ محفل ارشاد کے آداب سے گرمجوشی ظاہر نہ کرتے تھے، مگر معلوم ہوتا تھا کہ دیکھتے ہیں اور مارے خوشی کے باغ باغ ہوئے جاتے ہیں، تاباںؔ بھی مزاج داں تھے، اشعار اور لطائف نمکین کہتے، حضرت سُن سُن کر خوش ہوتے، کوئی بات سب کے سامنے کہنی خلافِ ادب ہوتی تو جو اہلِ عقیدت میں ادب کا طریقہ ہے اسی طرح دست بستہ عرض کرتے کہ کچھ اور بھی عرض کیا چاہتا ہوں، حضرت مسکرا کر اجازت دیتے، وہ کان کے پاس منھ لے جاتے اور چند کلمے چپکے چپکے ایسے گستاخانہ کہتے کہ سوا اس پیارے عزیز کے کوئی نہیں کہہ سکتا۔ جسے بزرگوں کی محبت نے گستاخ کیا ہو، پس حضرت مسکراتے اور فرماتے کہ درست ہے پھر وہ اسی قسم کی کچھ اور باتیں کہتے، پھر آپ فرماتے کہ یہ بالکل درست ہے۔ جب تاباں اپنی جگہ پر آ بیٹھتے تو حضرت خود کہتے کہ ایک بات کا تمھیں خیال نہیں رہا۔ تاباں پھر کان کے پاس منھ لے جاتے، اُس وقت سے بھی تیز تر کوئی لطیفہ آپ اپنے حق میں کہتے (ان باتوں پر اور خصوصاً اِن کے شعر پر تہذیب آنکھ دکھاتی مگر کیا کیجیے ایشیا کی شاعری کہتی ہے کہ یہ میری صفائی زبان اور طراری کا نمک ہے۔ پس یہ رُخ اگر خصوصیت زبان کو نہ ظاہر کرے تو اپنے فرض میں قاصر ہے یا بے خبر ہے۔) اور اپنے پیارے عزیز کی ہم زبانی کا لُطف حاصل کرتے۔نہایت افسوس ہے کہ وہ پھول اپنی بہار میں لہلہاتا گر پڑا (ہائے میری دلی تیری جو بات ہے جہاں سے نرالی ہے ) جب اس یوسف ثانی نے عین جوانی میں دلوں پر داغ دیا تو تمام شہر نے اس کا سوگ رکھا۔ میر  تقی میر نے بھی اپنی ایک غزل کے مقطع میں کہا ہے :

داغ ہے تاباں علیہ الرحمہ کا چھاتی پہ میرؔ

ہو نجات اس کو بچارا ہم سے بھی تھا آشنا

مرزا صاحب کی تحصیل عالمانہ نہ تھی مگر علمِ حدیث کو باُصول پڑھا تھا۔ حنفی مذہب کے ساتھ نقشبندی طریقہ کے پابند تھے اور احکامِ شریعت کو صدق دل سے ادا کرتے تھے اور صناع و اطوار اور ادب آداب نہایت سنجیدہ اور برجستہ تھے کہ جو شخص ان کی صحبت میں بیٹھتا تھا ہوشیار ہو کر بیٹھتا تھا، لطافت مزاج اور سلامتی طبع کی نقلیں ایسی ہیں کہ آج سُن کر تعجب آتا ہے، خلافِ وضع اور بے اسلوب حالت کو دیکھ نہ سکتے تھے۔

نقل : ایک دن درزی ٹوپی سی کر لایا، اس کی تراش ٹیڑھی تھی۔ اس وقت دوسری ٹوپی موجود نہ تھی، اس لئے اسی کو پہنا مگر سر میں درد ہونے لگا۔

نقل : جس چارپائی میں کان ہو اس پر بیٹھا نہ جاتا تھا۔ گھبرا کر اُٹھ کھڑے ہوتے تھے، چنانچہ دلی دروازہ کے پاس ایک دن ہوادار میں سوار چلے جاتے تھے۔ راہ میں ایک بنیئے کی چارپائی کے کان پر نظر جا پڑی۔ وہیں ٹھہر گئے اور جب تک اس کا کان نہ نکلوایا آگے نہ بڑھے۔

نقل : ایک دن نواب صاحب کہ اِن کے خاندان کے مرید تھے ملاقات کو آئے اور خود صراحی لے کر پانی پیا، اتفاقاً آبخورا جو رکھا تو ٹیڑھا، مرزا کا مزاج اس قدر برہم ہوا کہ ہرگز ضبط نہ ہو سکا اور بگڑ کر کہا، عجب بے وقوف احمق تھا جس نے تمھیں نواب بنا دیا، آبخورا بھی صراحی پر رکھنا نہیں آتا۔

مولوی غلام یحییٰ فاضل جلیل، جنھوں نے میر زاہد پر حاشیہ لکھا ہے، کہ بہدایت غیبی مرزا ے مُرید ہونے کو دلی میں آئے، ان کی ڈاڑھی بہت بڑی اور گھن کی تھی، جمعہ کے دن جامع مسجد میں ملے اور ارادہ ظاہر کیا، مرزا نے ان کی صورت کو غور سے دیکھا اور کہا کہ اگر مجھ سے آپ بیعت کیا چاہتے ہیں تو پہلے ڈاڑھی ترشوا کر صورت بھلے آدمیوں کی بنائیے پھر تشریف لائیے۔ اللہُ جَمیلٌ و یُحِبُ الجَلٌ و یُحِبُ الجَمَال۔ بھلا یہ ریچھ کی صورت مجھ کو اچھی نہیں معلوم ہوتی تو خدا کو کب پسند آئے گی۔ ملا متشرع آدمی تھے، گھر میں بیٹھ رہے، تین دن تک برابر خواب میں دیکھا کہ بغیر مرزا کے تمھارا عقدہ دل نہ کھلے گا، آخر بیچارے نے ڈاڑھی حجام کے سپرد کی اور جیسا خشخاشی خط مرزا صاحب کا تھا ویسا ہی رکھ کر مریدوں میں داخل ہوئے۔

اسی لطافت مزاج اور نزاکت طبع کا نتیجہ ہے کہ زبان کی طرف توجہ کی اور اسے تراشا کہ جو شعر پہلے گزرے تھے، انھیں پیچھے ہی چھوڑ کر اپنے عہد کا طبقہ الگ کر دیا اور اہل زبان کو نیا نمونہ تراش کر دیا، جس سے پرانا رستہ ایہام گوئی کا زمین شعر سے مٹ گیا۔ ان کے کلام میں مضامین عاشقانہ عجب تڑپ دکھاتے ہیں اور یہ مقامِ تعجب نہیں، کیوں کہ وہ قدرتی عاشق مزاج تھے، اوروں کے کلام میں یہ مضامین خیال ہیں، ان کے اصل حال (افسوس ہے اہل وطن کے خیالات پر جنھوں نے ایسی ایسی لطافت طبع کی باتیں دیکھ کر ازروئے اعتقاد آخر میں ایک طرہ اور بڑھایا یعنی قاتل ہم جوانے صبیح و ملیح بود کہ بدستش جان سپروند یا شاید ایسا ہی، عالم الغیب خدا ہے۔) زبان ان کی نہایت صاف و شستہ و شفاف ہے، اس وقت کے محاورہ کی کیفیت کچھ ان کے اشعار سے اور کچھ اُس گفتگو سے معلوم ہو گی جو ایک دفعہ بر وقتِ ملاقات ان سے اور سید انشاء سے ہوئی، چنانچہ اصل عبارت دریائے لطافت سے نقل کی جاتی ہے۔

سید انشاء اللہ خاں اور مرزا جانجاناں مظہرؔ کی ملاقات

درزمانیکہ راقم مذنب ہمراہ والد مرحوم مغفور وارد دار الخلافہ بود، ازبسکہ آوازہ فصحاحت و بلاغت جناب فیض مآب مرزا جانجاناں مظہرؔ علیہ الرحمتہ گوش راقم را مقرر خود داشت دل بادیدہ مستعد سکیزہ شد کہ چرا از دیدارِ مرزا صاحب خودرا ایں ہمہ محروم مے پسندی و مرا از لذتِ جاودانی و عیش روحانی کہ در کلامِ  معجز نظام آنحضرت است، باز میداری چار و ناچار خط تراش واوہ جامہ ململ ڈھاکہ پوشیدہ و ستارِ سُرخ، برسرگزاشتم و دیگر لباس ہم ازیں قبیل و از سلاح انچہ باخود گرفتم کٹار بسیار خو بے بود کہ بکمرزدہ بودم، بایں ہئیت بسواری فیل روانہ خدمت سراپا افادت ایشاں شدم، چوں بالائے بام کہ کیول رام بانیہ متصل جامع مسجد ساختہ پیش کش مرزا صاحب کردہ بود برآمدم، دیدم کہ جناب معری الیہ با پیرہن و کلاہِ سفید دو دوپٹہ ناشپاتی رنگ بصورت سموسہ بردوش گزاشتہ نشستہ اندبکمالِ ادب سلامے برایشاں کردم، از فرطِ عنایت و کثرتِ مکارمِ اخلاق کہ شیوہ ستودہ بزرگانِ خدا پرست است بجواب سلام ملتفت شدہ برخاستند دوسرِایں بے لیاقت رادر کنار گرفتہ بہ پہلوئے خود جا داوند۔ (اس صحبت میں جو گفتگو ہوئی صفحہ میں لکھی گئی ہے۔) مرزا صاحب کا ایک دیوان فارسی ہے کہ خود ۶۰ برس کی عمر ۱۱۷۰ھ میں بیس (۲۰) ہزار شعر میں سے ایک ہزار شعر انتخاب کیا تھا۔ اسی واسطے اکثر غزلیں ناتمام اور بے ترتیب ہیں، اس کو انتہائی درجہ کی منصفی اور سلامتی طبع سمجھنا چاہیے ورنہ اپنے اشعار کہ اولادِ معنوی ہوتے ہیں، کس کا جگر ہے کہ اپنے ہاتھ سے کاٹے، فارسی بھی بہت شُستہ ہے اور مضامینِ عاشقانہ ایک انداز کے ساتھ بندھے ہیں۔

مراچہ جرم کہ ہر نالہ ام رموز دنی

غلط کنند عزیزاں بمصرعہ اُستاد

اُردو میں بھی پورا دیوان نہیں، غزلیں اور اشعار ہیں جو سوداؔ اور میرؔ کی زبان ہے وہی اُن کی زبان ہے لیکن سوداؔ بھلا کسے خاطر میں لاتے تھے، چنانچہ سب آداب اور رعایتوں کو بالائے طاق رکھ کر فرماتے ہیں :

مظہرؔ کا شعر فارسی اور ریختہ کے بیچ

سوداؔ یقین جان کہ روڑا ہے باٹ کا

آگاہِ فارسی تو کہیں اِس کو ریختہ

واقف جو ریختہ کے ذرا ہووے ٹھاٹھ کا

سُن کر وہ یہ کہے کہ نہیں ریختہ ہے یہ

اور ریختہ بھی ہے تو فیروز شہ (فیروز شاہ) کی لاٹھ کا

القصہ اس کا حال یہی ہے جو سچ کہوں

کتا ہے دھوبی کا کہ نہ گھر کا نہ گھاٹ کا

(نقطہ اس میں یہ ہے کہ مرزا صاحب نے ایک دھوبن گھر میں ڈال لی تھی)

خریطہ جواہر : ایک مختصر انتخاب اساتذہ فارس کے اشعار کا ہے کہ اپنی پسند کے بموجب لکھے گئے تھے، وہ حقیقت میں خریطہ جواہر ہے۔

جب (اکثر حالات اور سال تاریخ وغیرہ معمولات مظہری سے لیے گئے۔) کہ صحرائے فنا میں ۷۹ منزلیں عمر کی طے کر ۸۰ میں قدم رکھا تو دل کو آگاہی ہونے لگی کہ اب روح کا مسافر بدن کا بوجھ پھینکا چاہتا ہے، چنانچہ خود اکثر تحریروں اور تقریروں میں صاف صاف اظہار کرتے تھے۔

ایک معتقد کا بیٹا حسن اعتقاد سے غزل لے کر آیا کہ شاد ہو اور اصلاح لے۔ انھوں نے کہا کہ اصلاح کے ہوش و حواس کسے ہیں اب عالم کچھ اور ہے۔ عرض کی کہ میں بطور تبرک سعادت حاصل کرنی چاہتے ہوں، فرمایا کہ اس وقت ایک شعر خیال میں آیا ہے، اسی کو تبرک اور اسی کو اصلاح سمجھ لو۔

لوگ کہتے ہیں مر گیا مظہرؔ

فی الحقیقت میں گھر گیا مظہرؔ

غرض ساتویں محرم کی تھی کہ رات کے وقت  ایک شخص مٹھائی کی ٹوکری ہاتھ میں لئے آیا، دروازہ بند تھا، آواز دی اور ظاہر کیا کہ مُرید ہوں، نذر لے کر آیا ہوں۔ وہ باہر نکلے تو قرابین  (استاد مرحوم فرمایا کرتے تھے کہ گاڑے کا نشان ہم نے بھی دیکھا ہے۔ کیول رام کے کوٹھے پر ڈیوڑھی کی دیوار میں اب تک موجود تھا۔) ماری کہ گولی سینہ کے پار ہو گئی، وہ بھاگ گیا۔ مگر انھیں زخم کاری آیا، تین دن تک زندہ رہے۔ اس عالمِ اضطراب میں لوٹتے تھے اور اپنا ہی شعر پڑھتے تھے۔

بنا کردند خوش رسمے بخون و خاک غلطیاں

خدا رحمت کند ایں عاشقانِ پاک طینت را

یہ تین دن نہایت استقلال اور ثابت قدمی سے گزارے بلکہ جب شاہ عالم بادشاہ کو خبر پہنچی تو بعد تحقیقات کے کہلا بھیجا کہ قاتل نہیں ملتا، نشان بتائیے تو ہم اسے سزا دیں۔ جواب میں کہا کہ فقیر کشتہ راہِ خدا ہیں اور مردہ کا مارنا قتل نہیں۔

قاتل ملے تو آپ سزا نہ دیں، یہاں بھیج دیں، آخر دسویں کو شام کے وقت  دنیا سے انتقال کیا، بہت لوگوں نے تاریخیں کہیں، مگر درجہ اول پر میر قمر الدین منتؔ کی تاریخ ہے جس کا مادہ خاص الفاظِ حدیث ہیں اور اتفاق یہ کہ موزوں ہیں عاش  حمیدا، مات شھیدًا۔ اِس قتل کا سبب دلی کے خاص و عام میں مشہور تھا کہ بموجب رسم کے ساتویں کو علم اُٹھے تھے یہ سرِ راہ اپنے بالا خانہ پر خاص خاص مریدوں کو لئے بیٹھے تھے جیسا کہ عوام جہلا کی عادت ہے شاید طرفین سے کچھ کچھ طعن و تعریض ہوئے ہوں، وہ کسی جاہل کو ناگوار ہوئے اُن میں کوئی سنگ دل قول و خال نام سخت جاہل تھا، اُس نے یہ حرکت کی، لیکن حکیم قدرت اللہ قاسمؔ اپنے تذکرہ میں فرماتے ہیں کہ مرزا صاحب اپنے کلام میں اکثر اشعار حضرت علی کی مدح میں کہا کرتے تھے، اس پر بگڑ کر کسی سُنی نے یہ حرکت کی۔

نہ کرمظہرِ باطاعتے و رفت بخاک

نجات خود بہ تو لائے بوتراب گذاشت

(عجب مشکل ہے حکیم صاحب بھی ایک خوش اعتقاد سنت جماعت تھے۔ وہ کہتے ہیں سُنی نے مارا، لوگ کہتے ہیں شیعہ نے مارا۔ خیر شیعہ سُنی آپس میں سمجھ لیں۔ میرا کام اتنا ہی تھا جو کچھ پایا کاغذ کے حوالہ کیا۔)

جد مرحوم ایک اُردو کا شعر اُن کے نام سے پڑھا کرتے تھے۔

ہوں تو سُنی پہ علی کا صدق دل سے ہوں غُلام

خواہ ایرانی کہو تم خواہ تورانی مجھے

دلی میں پتلی قبر کے پاس گھر ہی میں دفن کر دیا تھا کہ اب خانقاہ کہلاتی ہے۔ قبر پر انہی کا شعر لکھا ہے :

بلوحِ تُربت من یافتند از غیب تحریر ہے

کہ ایں مقتول راجز بیگناہی نیست تقصیرے

تاریخ مرزا رفیع سودا نے بھی کہی :

مرزا کا ہوا جو قاتل ایک مرتدِ شوم

اور اِن کی ہوئی خبر شہادت کی عموم

تاریخ ازروئے، درد، یہ سن کے کہی

سوداؔ نے کہ ہائے جانِ جاناں (۱۱۹۵) مظلوم

اس لکھنے سے مجھے اظہار اس امر کا منظور ہے کہ ہجو ہمارے نظم کی ایک خاردار شاخ ہے جس کے پھل سے پھول تک بے لطفی بھری ہے اور اپنی زمین اور دہقان دونوں کی کثافتِ طبع پر دلالت کرتی ہے۔ چنانچہ اس میں بھی مرزا رفیع مرحوم سب سے زیادہ بدنام ہیں، لیکن حق یہ ہے کہ ان کی زبان سے جو کچھ نکلتا تھا باعث اُس کا یا فقط شوخی طبع یا کوئی عارضی جوش ناراضی کا ہوتا تھا اور مادہ کثافت فقط اتنا ہوتا تھا کہ جب الفاظ کاغذ پر آ جاتے تھے تو دل صاف ہو جاتا تھا۔ (دیکھو سوداؔ کے حال میں ان کا اور مرزا فاخر یکینؔ کا جھگڑا صفحہ  اور سید انشاء کے حال میں مشاعرہ دلی کا معرکہ۔) چنانچہ تاریخ مذکور کے الفاظ دل کی صفائی کا حال ظاہر کرتے ہیں۔ ہمارا زمانہ ایسے مہذب اور شائستہ لوگوں سے آراستہ ہے کہ لفظ ہجو کو گالی سمجھتے ہیں مگر دلوں کا مالک اللہ ہے۔

اِن کے شاگردوں میں میر محمد باقر حزیں، بساون لال بیدارؔ، کواجہ احسن اللہ خاں بیانؔ، انعام اللہ خاں یقینؔ، مشہور صاحبِ دیوان اور اچھے شاعر ہوئے، ان کی غزلیں تمام و کمال نہ ملیں، جو کچھ سرِ دست حاضر تھا درج کیا۔

چلی اب گل کے ہاتھوں سے لُٹا کر کارواں اپنا

نہ چھوڑا ہائے بلبل نے چمن میں کچھ نشاں اپنا

یہ حسرت رہ گئی کیا کیا مزے کی زندگی کٹتی

اگر ہوتا چمن اپنا، گل اپنا، باغباں اپنا

الم سے یاں تلک روئیں کہ آخر ہو گئیں رسوا

ڈبایا ہائے آنکھوں نے مژہ کا خاندان اپنا

رقیباں کی نہ کچھ تقصیر ثابت ہے نہ خوباں کی

مجھے ناحق ستاتا ہے یہ عشقِ بدگماں اپنا

مرا جی جلتا ہے اِس بلبلِ بیکس کی غُربت پر

کہ جن نے آسرے پر گل کے چھوڑا آشیاں اپنا

جو تو نے کی سو دشمن بھی نہیں دشمن سے کرتا ہے

غلط تھا جانتے تھے تجھ کو جو ہم مہرباں اپنا

کوئی آزردہ کرتا ہے سجن اپنے کو ہے ظالم

کہ دولت خواہ اپنا مظہر اپنا جانجاں اپنا

*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*

گرچہ الطاف کے قابل یہ دلِ زار نہ تھا

لیکن اِس جور و جفا کا بھی سزا وار نہ تھا

لوگ کہتے ہیں ہوا مظہرِ بے کس افسوس

کیا ہوا اس کو وہ اتنا بھی تو بیمار نہ تھا

جواں مارا گیا خوباں کے بدلے میرزا مظہرؔ

بھلا تھا یا بُرا تھا، زور کچھ تھا خوب کام آیا

ہم نے کی ہے توبہ اور دھومیں مچاتی ہے بہار

ہائے بس چلتا نہیں کیا مفت جاتی ہے بہار

لالہ و گل نے ہماری خاک پر ڈالا ہے شور

کیا قیامت ہے موؤں کو بھی ستاتی ہے بہار

شاخ گل ہلتی نہیں یہ بلبلوں کو باغ میں

ہاتھ اپنے کے اشارہ سے بلاتی ہے بہار

ہم گرفتاروں کو اب کیا کام ہے گلشن سے لیک

جی نکل جاتا ہے جب سُنتے ہیں آتی ہے بہار

یہ دل کب عشق کے قابل رہا ہے

کہاں اِس کو دماغ و دل رہا ہے

خدا کے واسطے اِس کو نہ ٹوکو

یہی اک شہر میں قاتل رہا ہے

نہیں آتا اسے تکیہ پہ آرام

یہ سر پاؤں سے تیرے ہل رہا ہے

اگر ملئے تو خفت ہی دگر دوری قیامت ہے

غرض نازک دماغوں کو محبت سخت آفت ہے

کوئی لیوے دل اپنے کی خبر یا دلبر اپنے کی

کسی کا یار جب عاشق کہیں ہو کیا قیامت ہے

توفیق دے کہ شور سے اک دم تو چپ رہے

آخر مرا یہ دل ہے الٰہی جرس نہیں

*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*

 

 

غزلہائے تاباںؔ

نہیں ہے دوست اپنا یار اپنا مہرباں اپنا

سُناؤں کس کو غم اپنا الم اپنا بیاں اپنا

بہت چاہا کہ آوے یار یا اس دل کو صبر آوے

نہ یار آیا نہ صبر آیا دیا جی میں نداں اپنا

قفس میں تڑپے ہے یہ عندلیباں سخت بے بس ہیں

نہ گلشن دیکھ سکتے ہیں نہ یہ اب آشیاں اپنا

مجھے آتا ہے رونا ایسی تنہائی پہ اے تاباںؔ

نہ یار اپنا، نہ دل اپنا، نہ تن اپنا نہ جاں اپنا

رہتا ہوں خاک و خوں میں سدا لوٹتا ہوا

میرے غریب دل کو الٰہی یہ کیا ہوا؟

میں اپنے دل کو غنچہ تصویر کی طرح

یارب کبھو خوشی سے نہ دیکھا کھلا ہوا

ناصح عبث نصیحت بیہودہ تو نہ کر

ممکن نہیں کہ چھوٹ سکے دل لگا ہوا

ہم بے کسی پہ اپنی نہ رو دیں تو کیا کریں

دل سا رفیق ہائے ہمارا جُدا ہوا

جفا سے اپنی پشیماں نہ ہو، ہوا سو ہوا

تری بلا سے مرے جی پہ جو ہوا سو ہوا

سبب جو میری شہادت کا یار سے پوچھا

کہا کہ اب تو اسے گاڑ دو ہوا سو ہوا

یہ دردِ عشق میرا نہیں علاج طبیب

ہزار میری دوائیں کرو ہوا سو ہوا

بھلے بُرے کی تری عشق میں اُڑا دی شرم

ہمارے حق میں کوئی کچھ کہو ہوا سو ہوا

نہ پائی خاک بھی تاباں کی ہم نے پھر ظالم

وہ ایک دم ی ترے روبرو ہوا سو ہوا

سُن فصلِ گل خوشی ہو گلشن میں آئیاں ہیں

کیا بلبلوں نے دیکھ دھومیں مچائیاں ہیں

بیمار ہے، زمیں سے اُٹھتی نہیں عصا بِن

نرگس کو تم نے شاید آنکھیں دکھائیں ہیں

آئینہ روبرو رکھ اور اپنی چھب دکھانا

کیا خود پسندیاں ہیں کیا خود نمائیاں ہیں

دیکھے سے آئینہ بھی حیران ہے ترا رُو

چہرہ کے بیچ تیرے کیا کیا صفائیاں ہیں

خورشید گر کہوں میں تو جان ہے وہ پیلا

جو مہ کہوں ترا رُو اُس پر تو جھائیاں ہیں

جب پان کھا کے پیارا گلشن میں جا ہنسا ہے

بے اختیار کلیاں تب کھل کھلائیاں ہیں

کہتے تھے ہم کسی سے تم بِن نہیں ملیں گے

اب کس کے ساتھ پیارے وے دلربئیاں ہیں

عاشق سے گرم ملنا پھر بات بھی نہ کہنا

کیا بے مروتی ہے کیا بے وفائیاں ہیں

افسوس اے صنم تم ایسے ہوئے ہو ابتر

ملتے تو غیر سے جا ہم سے روکھائیاں ہیں

قسمت میں دیکھیں کیا ہے جیتے رہیں کہ مر جائیں

قاتل سے ہم نے یارو آنکھیں لڑائیاں ہیں

اب مہرباں ہوا ہے تاباںؔ ترا ستمگر

آہیں تری کسی نے شاید سُنائیاں ہیں

*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*

 

 

مرزا محمد رفیع سوداؔ

سودا تخلص مرزا محمد رفیع نام، شہر دہلی کو اُن کے کمال سے فخر ہے، باپ مرزا محمد شفیع میرزایانِ کابل سے تھے، بزرگوں کا پیشہ سپاہ گری تھی، مرزا شفیع بطریقِ تجارت واردِ ہندوستان ہوئے۔ ہند کی خاکِ دامنگیر نے ایسے قدم پکڑے کہ یہیں رہے۔ بعض کا قول ہے کہ باپ کی سوداگری سوداؔ کے لئے وجہِ تخلص ہوئی لیکن بات یہ ہے کہ ایشیا کے شاعر ہر ملک میں عشق کا دم بھرتے ہیں اور سوداؔ اور دیوانگی عشق کے ہمزاد ہیں۔ اس لئے وہ بھی اِن لوگوں کے لئے باعثِ فخر ہے۔ چنانچہ اس لحاظ سے سوداؔ تخلص کیا اور سوداگری کی بدولت ایہام کی صنعت حصہ میں آئی۔

سوداؔ ۱۱۲۵ء میں پیدا ہوئے، دہلی میں پرورش اور تربیت پائی، کابلی دروازہ کے علاقہ میں ان کا گھر تھا، ایک بڑے پھاٹک میں نشست رہتی تھی، شیخ ابراہیم ذوقؔ علیہ الرحمۃ اکثر ادھر ٹہلتے ہوئے جا نکلتے تھے۔ میں ہمرکاب ہوتا تھا۔ مرزا کے وقت کے حالات اور مقامات کے ذکر کر کے قدرتِ خدا کو یاد کیا کرتے تھے۔

سوداؔ بموجب رسم زمانہ کے اول سلیمان قلی خاں داور کے پھر شاہ حاتم کے شاگرد ہوئے۔ شاہ موصوف نے بھی اپنے دیوان کے دیباچہ میں جو شاگردوں کی فہرست لکھی ہے اُس میں مرزا کا نام اس طرح لکھا ہے۔ جس سے فخر کی خوشبو آتی ہے۔ خوشا نصیب اِس اُستاد کے جس کی گود میں ایسا شاگرد پَل کر بڑا ہوا، خان آرزو کے شاگرد نہ تھے مگر ان کی صحبت سے بہت فائدے حاصل کئے۔ چنانچہ پہلے فارسی شعر کہا کرتے تھے۔ خان آرزو نے کہا کہ مرزا فارسی اب تمھاری زبان مادری نہیں، اس میں ایسے نہیں ہو سکتے کہ تمھارا اہل زبان کے مقابل میں قابلِ تعریف ہو۔ طبع موزوں ہے۔ شعر سے نہایت مناسبت رکھتی ہے، تم اُردو کہا کرو تو یکتائے زمانے ہو گے۔ مرزا بھی سمجھ گئے اور دیرینہ سال اُستاد کی نصیحت پر عمل کیا۔ غرض طبیعت کی مناسبت اور مشق کی کثرت سے دلی جیسے شہر میں ان کی اُستادی نے خاص و عام سے اقرار لیا کہ ان کے سامنے ہی ان کی غزلیں گھر گھر اور کوچہ و بازار میں خاص و عام کی زبانوں پر جاری تھیں۔

(مرزا محمد زمان عرف سلیمان قلی خاں  کے دادا اصفہان سے آئے تھے، یہ دلی میں پیدا ہوئے۔ نواب موسوی خاں کے ساتھ اعزاز سے زندگی بسر کرتے تھے۔ تین سو روپیہ مہینہ پاتے تھے اور شعر کہہ کہہ کر دل خوش کرتے۔ دیکھو مصحفی کا شعرائے فارسی کا تذکرہ۔)

جب کلام کا شہرہ عالمگیر ہوا تو شاہ عالم بادشاہ اپنا کلام اصلاح کے لئے دینے لگے اور فرمائشیں کرنے لگے، ایک دن کسی غزل کے لیے تقاضا کیا۔ اُنھوں نے عذر بیان کیا، حضور نے فرمایا، بھئی مرزا کَے غزلیں روز کہہ لیتے ہو؟ مرزا نے کہا، پیر و مرشد جب طبیعت لگ جاتی ہے دو چار شعر کہہ لیتا ہوں۔ حضور نے فرمایا بھئی ہم تو پائخانہ میں بیٹھے بیٹھے چار غزلیں کہہ لیتے ہیں۔ ہاتھ باندھ کر عرض کی حضور، ویسی بُو بھی آتی ہے۔ یہ کہہ کر چلے آئے۔ بادشاہ نے پھر کئی دفعہ بلا بھیجا اور کہا کہ ہماری غزلیں بناؤ۔ ہم تمھیں ملک الشعراء کر دیں گے، یہ نہ گئے اور کہا کہ حضور کی ملک الشعرائی سے کیا ہوتا ہے۔ کرے گا تو میرا کلام ملک الشعراء کرے گا اور پھر ایک بڑا مخمس شہرِ آشوب لکھا :

کہا میں آج یہ سودا سے کیوں ہے ڈانواں ڈول

بے درد ظاہر بین کہتے ہیں کہ بادشاہ اور دربارِ بادشاہ  کی ہجو کی ہے۔ غور دیکھو تو ملک کی دل سوزی میں اپنے وطن کا مرثیہ کہا ہے۔

مرزا دل شکستہ ہو کر گھر میں بیٹھ رہے۔ قدردان موجود تھے۔ کچھ پرواہ نہ ہوئی۔ اِن میں اکثر روسا اور امراء خصوصاً مہربان خاں اور بسنت خاں ہیں جن کی تعریف میں قصیدہ کہا ہے۔

کل حرص نام شخصے سودا پہ مہربان ہو

بولا نصیب تیرے سب دولت جہاں ہو

حرص کی زبانی دنیا کی دولت اور نعمتوں کا ذکر کر کے خود کہتے ہیں کہ

اے حرص جو کچھ کہا ہے تو نے یہ تجھ کو سب مبارک

میں اور میرے سر پر میرا بسنت خاں ہو

اِن لوگوں کی بدولت ایسی فارغ البالی سے گزرتی تھی کہ ان کے کلام کا شہرہ جب نواب شجاع الدولہ نے لکھنؤ میں سُنا تو کمالِ اشتیاق سے برادرِ من مشفق مہربان من لکھ کر خط مع سفر خرچ بھیجا اور طلب کیا، انھیں دلی کا چھوڑنا گوارہ نہ ہوا۔ جواب میں فقط اس رباعی پر حُسنِ معذرت کو ختم کیا :

سودا پے دنیا تو بہر سو کب تک؟

آوارہ ازیں کوچہ بآں کو کب تک؟

حاصل یہی اس سے نہ کہ دنیا ہووے

بالفرض ہوا یوں بھی تو پھر تو کب تک؟

کئی برس کے بعد وہ قدردان مر گئے، زمانے بدل گئے، سودا بہت گھبرائے۔ اس عہد میں ایسے تباہ زدوں کے لئے دہ ٹھکانے تھے، لکھنؤ یا حیدر آباد۔ لکھنؤ پاس تھا اور فیض و سخاوت کی گنگا بہہ رہی تھی، اس لئے جو دلی سے نکلتا تھا اِدھر ہی رُخ کرتا تھا اور اتنا کچھ پاتا تھا کہ پھر دوسری طرف خیال نہ جاتا تھا۔ اس وقت حاکم بلکہ وہاں کے محکوم بھی جویائے کمال تھے۔ نُقطے کو کتاب کے مولوں خریدتے تھے۔

غرض ۶۰ یا ۶۶ برس کی عمر میں دلی سے نکل کر چند روز فرخ آباد میں نواب بنگش کے پاس رہے۔ اُن کی تعریف میں بھی کئی قصیدے موجود ہیں۔ وہاں سے ۱۱۸۵ھ میں لکھنؤ پہنچے۔ نواب شجاع الدولہ کی ملازمت حاصل کی، وہ بہت اعزاز سے ملے اور ان کے آنے پر کمال خورسندی ظاہر کی۔ لیکن یا تو بے تکلفی سے یا طنز سے اتنا کہا کہ مرزا وہ رُباعی تمھاری اب تک میرے دل پر نقش ہے، اور اسی کو مکرر پڑھا۔ اُنھیں اپنے حال پر بڑا رنج ہوا اور بپاسِ وضعداری پھر دربار نہ گئے، یہاں تک کہ شجاع الدولہ مر گئے ا ور آصف الدولہ مسند نشین ہوئے۔

لکھنؤ میں مرزا فاخر مکیںؔ  زبانِ فارسی کے مشہور شاعر تھے، ان سے اور مرزا رفیع سے بگڑی اور جھگڑے نے ایسا طول کھینچا کہ نواب آصف الدولہ کے دربار تک نوبت پہنچی (عنقریب اس کا حال بہ تفصیل بیان کیا جائے گا) انجام یہ ہوا کہ علاوہ انعام و اکرام کے چھ ہزار روپیہ سالانہ وظیفہ ہو گیا اور نواب نہایت شفقت کی نظر فرمانے لگے۔ اکثر حرم سرا میں خاصہ پر بیٹھے ہوتے اور مرزا کی اطلاع ہوتی، فوراً باہر نکل آتے، شعر سُن کر خوش ہوتے اور اُنھیں انعام سے خوش کرتے تھے۔

جب تک مرزا زندہ رہے نواب مغفرت مآب اور اہلِ لکھنؤ کی قدردانی سے ہر طرح فارغ البال رہے۔ تقریباً ستر برس کی عمر میں ۱۱۹۵ھ میں وہیں دُنیا سے (فخر الدین نے تاریخ کہی : “بولے منصف دُور کر پائے عناد – شاعرانِ ہند کا سرور گیا” ۱۱۹۵ھ مصحفی نے کہا کہ “دوا لجاوآں سخنِ دلفریب او۔ ۱۱۹۵ھ، میر قمر الدین منت نے کہا “بگفت گوہر معنی یتیم شد ہی ۱۱۹۵ھ)انتقال کیا، شاہ حاتم زندہ تھے، سُن کر بہت روئے اور کہا کہ افسوس ہمارا پہلوانِ سخن مر گیا۔

حکیم قدرت اللہ خاں قاسم فرماتے ہیں کہ اواخر عمر میں مرزا نے دلی چھوڑی۔ تذکرہ دل کشا میں ہے کہ ۶۶ برس کی عمر میں مر گئے۔ تعجب ہے کہ مجموعہ سخن جو لکھنؤ میں لکھا گیا ہے اس میں ہے کہ مرزا عالمِ شباب میں وارد لکھنؤ ہوئے۔ غرض چونکہ شجاع الدولہ ۱۱۸۸ھ میں فوت ہوئے تو مرزا نے کم و بیش ۷۰ برس کی عمر پائی۔

ان کے بعد کمال بھی خاندان سے نیست و نابود ہو گیا۔ راقم آثم ۱۸۵۸ء میں لکھنؤ گیا۔ بڑی تلاش کے ایک شخص ملے کہ ان کے نواسے کہلاتے تھے، بیچارے پڑھے لکھے بھی نہ تھے اور نہایت آشفتہ حال تھے۔ سچ ہے :

میراث پدر خواہی علمِ پدر آموز

بندہ عشق شدی ترکِ نسب کن جامی

کاندریں راہ فلاں ابنِ فلاں چیزے نیست

ان کا کلیات ہر جگہ مل سکتا ہے اور قدر و منزلت کی آنکھوں سے دیکھا جاتا ہے۔ حکیم سید اصلح الدین خاں نے ترتیب دیا تھا اور اس پر دیباچہ بھی لکھا تھا۔ تھوڑی دیر کے لئے پُرانے محاوروں سے قطعِ نظر کر کے دیکھیں تو سرتاپا نظم اور افشائے اُردو کا دستور العمل ہے، اول قصائد اُردو بزرگانِ دین کی مدح میں اور اہل و دل کی تعریف میں اسی طرح چند قصائد فارسی ۲۴ مثنویاں ہیں۔ بہت سی حکایتیں اور لطائف منظوم ہیں۔ ایک مختصر دیوان فارسی کا تمام و کمال دیوان ریختہ جس میں بہت سی لاجواب غزلیں اور مطلع، رباعیاں، مستزاد، قطعات، تاریخیں، پہلیاں، واسوخت، ترجیع بند، مخمس سب کچھ کہا ہے اور ہر قسم کی نظم میں ہجوئیں ہیں، جو ان کے مخالفوں کے دل و جگر کو کبھی خون اور کبھی کباب کرتی ہیں۔ ایک تذکرہ شعرائے اُردو کا ہے اور وہ نایاب ہے۔

غزلیں اُردو میں پہلے سے بھی لوگ کہہ رہے تھے۔ مگر دوسرے طبقہ تک اگر شعراء نے کچھ مدح میں کہا ہے تو ایسا ہے کہ اُسے قصیدہ نہیں کہہ سکتے، پس اول قصائد کا کہنا اور پھر دھوم دھام سے اعلیٰ درجہ فصاحت و بلاغت پر پہنچانا اِن کا فخر ہے، وہ اس میدان میں فارسی کے نامی شہسواروں کے ساتھ عناں در عناں ہی نہیں گئے، بلکہ اکثر میدانوں میں آگے نکل گئے، ان کے کلام کا زور شور انوریؔ اور خاقانیؔ کو دباتا ہے اور نزاکتِ مضمون میں عرجی و ظہوری کو شرماتا ہے۔

مثنویاں ۲۴ ہیں اور اکثر حکایتیں اور لطائف وغیرہ ہیں۔ وہ سب نظم اور فصاحتِ کلام کے اعتبار سے اِن کا جوہر طبعی ظاہر کرتی ہیں۔ مگر عاشقانہ مثنویاں ان کے مرتبہ کے لائق نہیں۔ میر حسن مرحوم تو کیا، میر صاحب کے شعلہ عشق اور دریائے عشق کو بھی نہیں پہنچیں۔ فارسی کے مختصر دیوان میں سب ردیفیں پوری ہیں، زورِ طبع اور اُصولِ شاعرانہ سب قائم ہیں، صائب کا انداز ہے مگر تجربہ کار جانتے ہیں کہ ایک زبان کی مشق اور مزاولت دوسری زبان کے اعلیٰ درجہ کمال پر پہنچنے میں سنگ راہ ہوتی ہیں، چنانچہ شیخ مصحفی نے اپنے تذکرہ میں لکھا ہے “آخر آخر خیال شعر فارسی ہم پیدا گرد۔ مگر از فہم و عقلش ایں امر بعید بود کہ کرد، غرض غزلہائے فارسی خود نیز کہ در لکھنؤ گفتہ بقید ردیف ترتیب دادہ داخل دیوانِ ریختہ نمودہ و ایں ایجادِ اوست۔” دیوانِ ریختہ (وقت کی زبان سے قطع نظر کر کے ) باعتبار جوہر کلام کے سرتاپا مرصع ہے، بہت سی غزلیں دلچسپ اور دلپسند بحروں میں ہیں کہ اس وقت تک اُردو میں نہیں آئی تھیں۔ زمینیں سنگلاخ ہیں اور ردیف قافیتے بہت مشکل ہیں۔ جس پہلو سے اُنھیں جما دیا ہے ایسے جمے ہیں کہ دوسرے پہلو سے کوئی ہٹائے تو تمھیں معلوم ہو۔

گرمی کلام کے ساتھ ظرافت جو اُن کی زبان سے ٹپکتی ہے، اس سے صاف ظاہر ہے کہ بڑھاپے تک شوخیِ طفلانہ ان کے مزاج میں اُمنگ دکھاتی تھی۔ مگر ہجوؤں کا مجموعہ جو کلیات میں ہے، اس کا ورق ورق ہنسنے والوں کے لئے زعفرانِ زار کشمیر کی کیاریاں ہیں، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ طبیعت کی شگفتگی اور زندہ دلی کسی طرح کے فکر و تردد کو پاس نہ آنے دیتی تھی۔ گرمی اور مزاج کی تیزی بجلی کا حکم رکھتی تھی اور اس شدت کے ساتھ کہ نہ کوئی انعام اسے بجھا سکتا تھا نہ کوئی خطرہ اسے دبا سکتا تھا۔ نتیجہ اس کا یہ تھا کہ ذرا سی ناراضی میں بے اختیار ہو جاتے تھے، کچھ اور بس نہ چلتا تھا، جھٹ ایک ہجو کا طومار تیار کر دیتے تھے۔

غنچہ نام اِن کا ایک غلام تھا، ہر وقت خدمت میں حاضر رہتا تھا اور ساتھ قلمدان لئے پھرتا تھا،  جب کسی پر بگڑتے تو فوراً پکارتے “ارے غنچہ لا تو قلمدان، ذرا میں اس کی خبر تو لوں، یہ مجھے سمجھا کیا ہے۔” پھر شرم کی آنکھیں بند اور بے حیائی کا منھ کھول کر وہ بے نقط سُناتے تھے کہ شیطان بھی امان مانگے۔

عربی اور فارسی دو ذخیرہ وار اُردو کے ہیں، ان کے خزانے میں ہجوؤں کے تھیلے بھرے ہیں، مگر اس وقت تک اُردو کے شاعر صرف ایک دو شعروں میں دل کا غبار نکال لیتے تھے۔ یہ طرزِ خاص کہ جس سے ہجو ایک موٹا ٹہنا اس باغِ شاعری کا ہو گئی، انہی کی خوبیاں ہیں، عالم، جاہل، فقیر، امیر، نیک، بد، کسی کی ڈاڑھی ان کے ہاتھ سے نہیں بچی۔ اس طرح پیچھے پڑتے تھے کہ انسان جان سے بیزار ہو جاتا تھا مگر میر ضاحک (میر ضاحک کا حال صفحہ ۔۔  فدوی ۱۸۹ مکین ۲۵۵ شاہ ہدایت سے جو لطیفہ ہوا، دیکھو صفحہ) وغیرہ اہلِ کمال نے بھی چھوڑا نہیں، ان کا کہا انھیں کے دامن میں ڈالا ہے، البتہ حُسنِ قبول اور شہرتِ عام ایک نعمت ہے کہ وہ کسی کے اختیار میں نہیں انھیں خدا نے دی، وہ محروم رہے۔ مرزا نے جو کچھ کہا بچے بچے کی زبان پر ہے۔ انھوں نے جو کہا وہ ڈھونڈے سے بھی نہیں ملتا۔ انھیں میں سے ایک شعر ہے کہ فدوی (فدوی اصل میں ہندو تھے، مکند رام نام تھا، مسلمان ہو گئے تھے۔ پنجاب وطن تھا، علم کم مگر طبیعت مناسب تھی، شعر اُردو کہتے تھے، صابر علی شاہ کے شاگرد تھے اور فقیرانہ وضع سے زندگی بسر کرتے تھے۔ مشاعرہ میں جاتے تو کبھی بیٹھتے کبھی کھڑے ہی کھڑے غزل پڑھتے اور چلے جاتے تھے۔ جب انھوں نے احمد شاہ کی تعریف میں قصیدہ کہا تو بادشاہ نے ہزار روپیہ نقد اور گھوڑا اور تلوار انعام دی۔ ان کا بھی دماغ بلند ہوا، اور دعوے ٰ ملک الشعراء کا کرنے لگے۔ کچھ مرزا پر اعتراض کئے اِس پر مرزا نے اُلو اور بنیے کی ہجو کہی۔ انجام کو طرفین کی ہجوئیں حد سے گزر گئیں۔ فدوی نواب ضابطہ خاں کے ہاں نوکر بھی ہو گئے تھے اور اخیر کو انھیں بھی لکھنؤ جانا پڑا۔ ان کا دیوان نہایت دلچسپ ہے اور ہر غزل کا خاتمہ پیغمبر صاحب کی نعت یا کسی اور امام کی مدح پر کرتے ہیں۔ زلیخا کا ترجمہ بھی نواب صاحب موصوف کی فرمائش سے نظم کیا ہے۔ گلزارِ ابراہیمی میں لکھا ہے کہ ایک بر خود غلط آدمی تھا، مرزا کے مقابلہ کے لئے فرخ آباد میں آیا اور ذلت اٹھا کر گیا۔)اور فوقی ایک فرضی شخص کا نام ڈال دیا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

حاشیہ:

فدوی، مکین، بقا (بقا تخلص، بقاء اللہ خاں نام، اکبر آباد وطن تھا، دہلی میں پیدا ہوئے تھے، لکھنؤ میں جا رہے۔ حافظ لطف اللہ خوشنویس کے بیٹے تھے اور مرزا اور میر صاحب کے معاصر تھے۔ شاہ حاتم سے ریختہ کی اصلاح لی تھی اور فارسی میں مرزا فاخر کے شاگرد تھے۔ طبیعت فنِ شعر کے لئے نہایت مناسب تھی۔ اردو زبان صاف، ایک مطلع ان کا اہل سخن کے جلسوں میں ضرب المثل چلا آتا ہے، لاجواب ہے۔ دیکھو صفحہ۔۔، میرؔ اور سودا دونوں کو خاطر میں نہ لاتے تھے۔ چنانچہ ایک جگہ فرماتے ہیں :

میر و مرزا کی شعر خوانی نے

بسکہ عالم میں دھوم ڈالی تھی

کھول دیوان دونوں صاحب کے

اے بقاؔ ہم نے جب زیارت کی

کچھ نہ پایا سوائے اس کے سخن

ایک تو تو کہے ہے اک ہی ہی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کی طبع موزوں سے مرزا صاحب کی شان میں واقع ہوا ہے۔

کچھ کٹ گئی ہے پیتی کچھ کٹ گیا ہے ڈورا

دُم داب سامنے سے وہ اُڑ چلا لٹورا

بھڑوا ہے، مسخرا ہے سودا اسے ہوا ہے

مرزا نے جو راجہ نرپت سنگھ کے ہاتھی کی ہجو میں مثنوی کہی ہے۔ اس کے جواب میں بھی کسی نہ مثنوی لکھی ہے اور خوب لکھی ہے۔ چنانچہ وہ کہتے ہیں :

تم اپنے فیلِ معنی کو نکالو

مرے ہاتھی سے دو ٹکر لڑا لو

سید انشاء نے لکھا ہے کہ دو ٹکریں چاہیے۔ یہ سید صاحب کی سینہ زوری ہے۔

ہجوؤں میں ایک ساقی نامہ ہے جس میں فوتی شاعری کی ہجو ہے۔ اصل میں قیام الدین (یہ صاحبِ کمال چاند پور کے رہنے والے تھے مگر فنِ شعر میں کامل تھے۔ اِن کا دیوان ہر گز میرؔ و مرزاؔ کے دیوان نے نیچے نہیں رکھ سکتے، مگر کیا کیجیے کہ قبولِ عام اور کچھ شے ہے شہرت نہ پائی۔ یہ اول شاہ ہدایت کے شاگرد ہوئے۔ اِن سے ایسی بگڑی کہ ہجو کہی، تعجب یہ ہے کہ شاہ موصوف باوجویکہ حد سے زیادہ خاکساری طبیعت میں رکھتے تھے مگر اُنھوں نے بھی ایک قطعہ ان کے حق میں کہا۔ پھر خواجہ میر دردؔ کے شاگرد ہوئے، ان کے حق میں بھی کہہ سُن کر الگ ہوئے، پھر مرزا کی خدمت میں آئے اور اُن سے پھر ملے۔ مرزا تو مرزا تھے اُنھوں نے سیدھا کیا۔)قائمؔ کی ہجو میں تھا، وہ بزرگ باوجود شاگردی کے مرزا سے منحرف ہو گئے تھے۔ جب یہ ساقی نامہ لکھا گیا تو گھبرائے اور آ کر خطا معاف کروائی۔ مرزا نے اُن کا نام نکال دیا۔

مرثیے اور سلام بھی بہت کہے ہیں، اس زمانہ میں مسدس کی رسم کم تھی۔ اکثر مرثیے چو مصرع ہیں مگر مرثیہ گوئی کی آج کی ترقی دیکھ کر اِن کا ذکر کرتے ہوئے شرم آتی ہے۔ شاید انہی مرثیوں کو دیکھ کر اگلے وقتوں میں مثل مشہور ہوئی تھی کہ بگڑا شاعر مرثیہ گو اور بگڑا گویا مرثیہ خوان۔ حق یہ ہے کہ مرثیہ کا شاعر گویا ایک مصیبت زدہ ہوتا ہے کہ اپنا دُکھڑا روتا ہے، جب کسی کا کوئی مر جاتا ہے تو غم و اندوہ کے عالم میں جو بے چارہ کی زبان سے نکلتا ہے سو کہتا ہے اس پر کون بے درد ہے جو اعتراض کرے۔ وہاں صحت و غلطی اور صنائع و بدائع کو کیا ڈھونڈھنا۔ یہ لوگ فقط اعتقاد مذہبی کو مد نظر رکھ کر مرثیے و سلام کہتے تھے، اس لئے قواعدِ شعری کی احتیاط کم کرتے تھے اور کوئی اس پر گرفت بھی نہ کرتا، پھر بھی مرزا کی تیغ زباں جب اپنی اصالت دکھاتی ہے تو دلوں میں چھُریاں ہی مار جاتی ہے۔ ایک مطلع ہے :

یارو سنو تو خالق اکبر کے واسطے

انصاف سے جو اب دو حیدر کے واسطے

وہ بوسہ گہ بنی تھی پیمبر کے واسطے

یا ظالموں کے برش خنجر کے واسطے

باوجود عیوب مذکورہ بالا کے جہاں کوئی حالت اور روئداد دکھاتے ہیں، پتھر کا دل ہو تو پانی ہوتا ہے اور وہ ضرور آج کل کے مرثیہ گویوں کو دیکھنی چاہیے کیونکہ یہ لوگ اپنے زورِ کمال میں آ کر اس کوچہ سے نکل گئے ہیں (لطف یہ ہے کہ اس زمانہ کے لوگ سودا کے مرثیوں کو کہتے تھے کہ ان میں مرثیت نہیں، شاعری ہے اور سوداؔ خود بھی ان کی بے انصافی سے نالاں ہیں۔)

واسوخت، مخمس، ترجیح بند، مستزاد، قطعہ، رباعیاں، پہیلیاں وغیرہ اپنی اپنی طرز میں لاجواب ہے۔ خصوصاً تاریخیں بے کم و کاست ایسی برمحل و برجستہ واقع ہوئی ہیں کہ ان کے عدم شہرت کا تعجب ہے۔ غض جو کچھ کہا ہے اسے اعلیٰ درجہ کمال پر پہنچایا ہے، مرزا کی زبان کا حال نظم میں تو سب کو معلوم ہے کہ کبھی دودھ سے کبھی شربت، مبر نثر میں بڑی مشکل ہوتی ہے۔ فقط مصری کی ڈلیاں چبانی پڑتی ہیں اور صاف معلوم ہوتا ہے کہ نثر اُردو ہے مگر مرزا بیدل کی نثر فارسی معلوم ہوتی ہے۔ کتابِ مذکور اس وقت موجود نہیں لیکن ایک دیباچہ میں اُنھوں نے تھوڑی سی نثر بھی لکھی ہے۔ اس سے افسانہ مذکور کا انداز معلوم ہو سکتا ہے۔ دیکھو صفحہ ۔

کل اہلِ سخن کا اتفاق ہے کہ مرزا اس فن میں استاد مسلم الثبوت تھے۔ وہ ایسی طبیعت لے کر آئے تھے جو شعر اور فنِ انشاء ہی کے واسطے پیدا ہوئی تھی۔ میرؔ صاحب نے بھی اُنھیں پورا شاعر مانا ہے۔ ان کا کلام کہتا ہے کہ دل کا کنول ہر وقت کھلا رہتا تھا، اس پر سب رنگوں میں ہم رنگ اور ہر رنگ میں اپنی ترنگ، جب دیکھو طبیعت شورش سے بھری اور جوش و خروش سے لبریز، نظم کی ہر فرع میں طبع آزمائی کی ہے اور رُکے نہیں۔ چند صفتیں خاص ہیں، جن سے کلام اُن کا جملہ شعراء سے ممتاز معلوم ہوتا ہے۔ اول یہ کہ زبان پر حاکمانہ قدرت رکھتے ہیں۔ کلام زورِ مضمون کی نزاکت سے ایسا دست و گریبان ہے، جیسے آگ کے شعلہ میں گرمی اور روشنی، بندش کی چُستی اور ترکیب کی درستی سے لفظوں کو اس در و بست کے ساتھ پہلو بہ پہلو جڑتے ہیں، گویا ولایتی طپنچہ کی چانپیں چڑھی ہوئی ہیں اور یہ خاص اُن کا حصہ ہے۔ چنانچہ جب اُن کے شعر میں سے کچھ بھول جائیں تو جب تک وہی لفظ وہاں نہ رکھے جائیں شعر مزا ہی نہیں دیتا، خیالات نازک اور مضامین تازہ باندھتے ہیں مگر اس باریک نقاشی پر اُن کی فصاحت آئینہ کا کام دیتی ہے تشبیہ اور استعارے  ان کے ہاں ہیں مگر اسی قدر کہ جتنا کھانے میں نمک یا گلاب کے پھول پر رنگ، رنگینی کے پردہ میں مطلب اسلی کو گم نہیں ہونے دیتے۔

اِن کی طبیعت ایک ڈھنگ کی پابند نہ تھی۔ نئے نئے خیال اور چٹختے قافیئے جس پہلو سے جمتے دیکھتے تھے جما دیتے تھے، اور وہی ان کا پہلو ہوتا تھا کہ خواہ مخواہ سننے والوں کو بھلے معلوم ہوتے تھے۔ یا ان کی خوبی تھی کہ جو بات اس سے نکلتی تھی اس کا انداز نیا معلوم ہوتا تھا، زبان کے ہمعصر استاد خود اقرار کرتے تھے کہ جو باتیں ہم کاوش اور تلاش سے پیدا کرتے ہیں وہ اس شخص کے پیش پا اُفتادہ ہیں۔

جن اشخاص نے زبان اُردو کو پاک صاف کیا ہے مرزا کا اُن میں پہلا نمبر ہے۔ اُنھوں نے فارسی محاوروں کو بھاشا میں کھپا کر ایسا ایک کیا ہے، جیسے علم کیمیا کا ماہر ایک مادہ کو دوسرے مادہ میں جذب کر دیتا ہے اور تیسرا مادہ پیدا کر دیتا ہے کہ کسی تیزاب سے اُس کا جوڑ کھل نہیں سکتا۔ انھوں نے ہندی زبان کو فارسی محاوروں اور استعاروں سے نہایت زور بخشا، اکثر ان میں سے رواج پا گئے، اکثر آگے نہ چلے۔

انھیں کا زورِ طبع تھا، جس کی نزاکت سے دو زبانیں ترتیب پا کر تیسری زبان پیدا ہو گئی، اور اُسے ایسی قبولیت عام حاصل ہوئی کہ آیندہ کے لئے وہی ہندوستان کی زبان ٹھہری، جس نے حکام کے درباروں اور علوم کے خزانوں پر قبضہ کیا۔ اسی کی بدولت ہماری زبان فصاحت اور انشاء پردازی کا تمغہ لے کے شائستہ زبانوں کے دربار میں عزت کی کُرسی پائے گی۔ اہل ہند کو ہمیشہ ان کی عظمت کے سامنے ادب اور ممنونی کا سر جھکانا چاہیے۔ ایسی طبیعتیں کہاں پیدا ہوتی ہیں کہ پسند عام کی نبض شناس ہوں، اور وہی باتیں نکالیں، جن پر قبول عام رجوع کر کے سالہا سال کے لئے رواج کا قبالہ لکھ دے۔

ہر زبان کے اہلِ کمال کی عادت ہے کہ غیر زبان کے بعض الفاظ میں اپنے محاورہ کا کچھ نہ کچھ تصرف کر لیتے ہیں، اس میں کسی موقع پر قادر الکلامی کا زور دکھانا ہوتا ہے، کسی موقع پر محاورہ عام کی پابندی ہوتی ہے، بے خبر کہہ دیتا ہے کہ غلطی کی، مرزا نے بھی کہیں کہیں ایسے تصرف کئے ہیں،  چنانچہ ایک جگہ کہتے ہیں :

جیسے کہتا ہے کوئی ہو ترا صفًا صفًا

ایک غزل میں کہتے ہیں :

لب و لہجہ ترا سا ہے گا کب خوبانِ عالم میں

غلط الزام ہے جگ میں کہ سب مصری کی ڈلیاں ہیں

کل تو مست اس کیفیت سے تھا کہ آتے دیر سے

نظر بھر جو مدرسہ دیکھا سو وہ میخانہ تھا

ساق سیمیں کو ترے دیکھ کے گوری گوری

شمع مجلس میں ہوئی جاتی ہے تھوڑی تھوڑی

اپنے کعبہ کی بزرگی شیخ جو چاہے سو کر

از روئے تاریخ تو بیش از صنم خانہ نہیں

فارسی محاورہ کو دیکھنا چاہیے کہ کس خوبصورتی سے بول گئے ہیں :

ہے مجھے فیضِ سخن اِس کی ہی مداحی کا

ذات پر جس کی میرہن کنہ عزوجل

بہت ہر ایک سے ٹکرا کے چلے تھے، کالا

ہو گیا دیکھ کے وہ زلفِ سیہ فام سفید

خیال ان انکھڑیوں کا چھوڑ مت مرنے کے بعد از بھی

دلا آیا جو تو اس میکدہ میں جام لیتا جا

 (اس غزل کا مطلع دیکھو صفحہ)

سوداؔ کہتا ہے نہ خوباں سے مِل اتنا

تو اپنا غریب عاجز دل بیچنے والا

عاشق بھی نامراد ہیں پر اس قدر لپ پ،

دل کو گنوا بیٹھ رہے صبر کر کے ہم

یہاں ردیف میں تصرف کیا ہے کہ ے حذف ہو گئی ہے۔ اسی طرح عاجز میں ع، حکیم کی ہجو میں کہتے ہیں :

لکھ دیا مجنوں کو شیر شتر

کہہ دیا مستسقی سے جا فصد کر

ایک کہانی میں لکھتے ہیں :

قضا کار وہ دائیِ نامدار

ہوئی دردِ قولنج سے بے قرار

مرزا اکثر ہندی کے مضمون اور الفاظ نہایت خفیف طور پر تضمین کر زبان ہند کی اصلیت کا حق ادا کرتے تھے، اس لطف میں یہ اور سید انشاء شامل ہیں، چنانچہ فرماتے ہیں :

ترکش الینڈ سینہ عالم کا چھان مارا

مژگاں نے تیرے پیارے ارجن کا بان مارا

محبت کے کروں بھیج بل کی تعریف کیا یارو

ستم پربت ہو تو اس کو اُٹھا لیتا ہے جوں رائی

نہیں ہے گھر کوئی ایسا جہاں اس کو نہ دیکھا ہو

کنھیا سے نہیں کچھ کم صنم میرا وہ ہرجائی

ساون کے بادلوں کی طرح سے بھرے ہوئے

یہ نین ہیں کہ جن سے یہ جنگل ہرے ہوئے

بوندی کے جمدھروں سے بھڑتے ہیں ہم وگر

لڑکے مجھ آنسوؤں کے غضب منکرے ہوئے

اے دل یہ کس سے بگڑی کہ آتی ہے فوجِ اشک

لختِ جگر کی لاش کو آگے دھرے ہوئے

(ہندوستان کا قدیم دستور ہے کہ جب سپہ سالار لڑائی میں مارا جاتا تھا تو اس کی لاش کو آگے لے کر تمام فوج کے ساتھ دھاوا کر دیتے تھے۔ سر مہند پر جب دُرانی سے فوج شاہی کی لڑائی ہوئی اور نواب قمر الدین خاں مارے گئے تو میر منوان کے بیٹے نے یہی کیا اور فتحیاب ہوا۔)

مرزا خود الفاظ تراشتے تھے اور اس خوب صورتی سے تراشتے تھے کہ مقبول خاص و عام ہوتے تھے۔ آصف الدولہ مرحوم کی تعریف میں ایک قصیدہ کہا ہے۔ چند شعر اس کے لکھتا ہوں، مضامین ہندی کے ساتھ الفاظ کی خوبصورت تراش کا لطف دیکھو :

تیرے سایہ تلے ہے تو وہ مہنت

پشہ کر جائے دیو دود سے لڑ نت

نام سُن، پیل کوہ پیکر کے

بہہ چلیں جوئے شیر ہو کر ونت

سحر صولت کے سامنے تیرے

سامری بھول جائے اپنی پڑھنت

تیری ہیبت سے یہ فلک کے تلے

کانپتی ہے، زمیں کے بیچ گڑنت

تکلے کی طرح بَل نکل جاوے

تیرے آگے جو وہ کڑے اکڑنت

دیکھ میداں میں اس کو روزِ نبرد

منھ پہ راون کے پھول جائے بسنت

تگتگِ پا اگر سُنے تیرے

داب کر دُم کھِسک چلے ہنونت

آوے بالفرض سامنے تیرے

روز بیجا کے سوریا ساونت

تن کا اِن کے زرہ میں ہو یوں حال

مرغ کی مام میں ہو جو پھڑکنت

اسی طرح باقی اشعار ہیں، مُرغ کی پھڑکنت، جل کر بھسمنت،تیر کی کمان کی سرکنت، زمین میں کھدنت، گھوڑے کی کڑکنت اور ڈپنت، جَودَنت (مقابل) دبکنت (ڈر کر دبکنا) رویاہ شیر کو سمجھتی ہے کیا پشمنت، نچنت (بے فکر) روپیوں کی بکھرنت، تاروں کی چھٹکنت، لپٹنت (لپٹنا)، پڑھنت (پڑھنا) کھٹنت (کھٹنا) عام شعرائے ہند و ایران کی طرح سب تصنیفات ایک کلیات میں ہیں، اس لئے نہیں کہہ سکتے کہ کون سا کلام کس وقت کا ہے، اور طبیعت نے وقت بوقت کس طرف میل کیا ہے، خصوصاً یہ کہ زبان میں کب کب کیا کیا اصلاح کی ہے یہ اتفاقی موقع میرؔ صاحب کو ہاتھ آیا کہ چھ دیوان الگ الگ لکھ گئے۔ متقدمین اور متاخرین کے کلاموں کے مقابلے کروانے والے کہتے ہیں کہ ان کے دفتر تصنیفات میں ردی بھی ہے اور وہ بہت ہے۔ چنانچہ جس طرح میرؔ صاحب کے کلام میں بہتر (۷۲) نشتر بتاتے ہیں، ان کے زبردست کلام میں سے بہتر (۷۲) خنجر تیار کرتے ہیں۔ اس رائے میں مجھے بھی شامل ہونا پڑتا ہے کہ بے شک جو کلام آج کی طرف کے موافق ہے وہ ایسے مرتبہ عالی پر ہے جہاں ہمارے تعریف کی پرواز نہیں پہنچ سکتی اور دل کی پوچھو تو جن اشعار کو پُرانے محاوروں کے جرم میں ردی کرتے ہیں، آج کے ہزار محاورے اُن پر قربان، سُن لیجیے :

گر کیجیے انصاف تو کی روز وفا میں

خط آتے ہی سب ٹل گئے اب آپ ہیں یا میں

تم جن کی ثنا کرتے ہو کیا بات ہے اِن کی

لیکن ٹک ادھر دیکھیو اے یار بھلا میں

کیفیتِ چشم اُس کی مجھے یاد ہے سوداؔ

ساغر کو مرے ہاتھ سے لیجیو کہ چلا میں

اُستاد مرحوم کہا کرتے تھے کہ جب سودا کے سامنے کوئی یہ شعر پڑھ دیتا تھا یا اپنی ہی زبان پر آ جاتا تو وجد کیا کرتے تھے اور مزے لیتے تھے، اسی انداز کا ایک شعر نظیری کا یاد آ گیا، اگرچہ فارسی ہے مگر جی نہیں چاہتا کہ دوستوں کو لطف سے محروم رکھوں :

بوئے یارِ من ازیں سُست وفامی آید

گلم از دست بگیرید کہ از کارشدم

بہارِ سخن کے گل چینو! وہ ایک زمانہ تھا کہ ہندی بھاشا کی زمین میں جہاں دوہروں کا سبزہ خودرَو اُگا ہوا تھا وہاں نظم فارسی کی تخم ریزی ہوئی تھی، اسی وقت فارسی

(۱) مصحفیؔ کے آٹھ دیوانوں سے بھی یہ فائدہ حاصل کر سکتے ہیں۔

(۲) دیکھو صفحہ

بحروں میں شعر کہنا اور ادھر کے محاورات کو ادھر لینا اور فارسی مضامین کو ہندی لباس پہنانا ہی بڑا کمال تھا، اس صاحبِ ایجاد نے اپنے زورِ طبع اور قوتِ زبان سے صنعتوں اور فارسی کی ترکیبوں اور اچھوتے مضمونوں کو اس میں ترتیب دیا۔ اور وہ خوبی پیدا کی کہ ایہام اور تجنیس وغیرہ صنائع لفظی جو ہندی دوہروں کی بنیاد تھی، اُسے لوگ بھول گئے، ایسے زمانے کے کلام میں رطب و یابس ہو تو تعجب کیا، ہم اس الزام کا بُرا نہیں مانتے۔

اس وقت زمینِ سخن میں ایک ہی آفت تو نہ تھی، اِدھر تو مشکلات مذکورہ، ادھر پُرانے لفظوں کا ایک جنگل، جس کا کاٹنا کٹھن، پس کچھ اشخاص آئے کہ چند کیاریاں تراش کر تخم ریزی کر گئے۔ ان کے بعد والوں نے جنگل کو کاٹا، درختوں کو چھانٹا، چمن بندی کو پھیلایا، جو ان کے پیچھے آئے، اُنھوں نے روش، خیاباں، دار بست گلکاری نہال گلبن سے باغ سجایا، غرض عہد بعہد اصلاحیں ہوتی رہیں اور آیندہ ہوتی رہیں گی۔ جس زبان کو آج ہم تکمیلِ جاودانی کا ہار پہنائے خوش بیٹھے ہیں، کیا یہ ہمیشہ ایسی ہی رہے گی؟ کبھی نہیں، ہم کس منھ سے اپنی زبان کا فخر کر سکتے ہیں، کیا دورِ گذشتہ کا سماں بھول گئے، ذرا پھر کر دیکھو تو ان بزرگانِ متقدمین کا مجمع نظر آئے گا کہ محمد شاہی دربار کی کھڑکی دار پگڑیاں باندھے ہیں، پچاس پچاس گز گھیر کے جامے پہنے بیٹھے ہیں، وہاں اپنے کلام لے کر آؤ، جس زبان کو تم نئی تراش اور ایجاد و اختراع کا خلعت پہناتے ہو کیا وہ اُسے تسلیم کریں گے ؟ نہیں ہرگز نہیں، ہماری وضع کو سفلہ اور گفتگو کو چھچھورا سمجھ کر منھ پھیر لیں گے، پھر ذرا سامنے دُوربین لگاؤ، دیکھو اُن تعلیم یافتہ لوگوں کو لین ڈوری آ چکی ہے جو آئے گا ہم پر ہنستا چلا جائے گا۔

یہ چمن یوں ہی رہے گا اور ہزاروں جانور

اپنی اپنی بولیاں سب بول کر اُڑ جائیں گے

مرزا قتیل چار شربت میں فرماتے ہیں، مرزا محمد رفیع سوداؔ در ریختہ پایہ مُلا ظہوری دارد و غیر ازئیکہ زبانِ ہر دو باہر تخالف دارد فرقے نتواں کرد” مرزا قتیل مرحوم صاحب کمال شخص تھے، مجھ بے کمال نے اِن کی تصنیفات سے بہت فائدے حاصل کئے ہیں، مگر ظہوری کی کیا غزلیں کیا قصائد دونوں استعاروں اور تشبیہوں کے پھندوں سے الجھا ہوا ریشم ہیں، سوداؔ کی مشابہت ہے تو انوریؔ سے ہے کہ محاورہ اور زبان کا حاکم اور قصیدہ اور ہجو جا بادشاہ ہے۔

یہ بات بھی لکھنے کے قابل ہے کہ تصوف جو ایشیا کی شاعری کی مرغوب نعمت ہے، اس میں مرزا پھیکے ہیں۔ وہ حصہ خواجہ میر دردؔ کا ہے۔

کہتے ہیں کہ مرزا قصیدہ کے بادشاہ ہیں، مگر غزل میں میر  تقی کے برابر سوز و گداز نہیں، یہ بات کچھ اصلیت رکھتی ہے بلکہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کے سامنے بھی اس بات کے چرچے تھے چنانچہ خود کہتے ہیں :

لوگ کہتے ہیں کہ سوداؔ کا قصیدہ ہے خوب

اُن کی خدمت میں لئے میں یہ غزل جاؤنگا

یعنی دیکھو تو سہی غزل کچھ کم ہے۔

قدرت اللہ خاں قاسمؔ بھی اپنے تذکرہ میں فرماتے ہیں “زعم بعضے آنکہ سرآمدِ شعرائے فصاحت آقا مرزا محمد رفیع سودا اور غزل گوئی بوئے رسیدہ اماحق آفست کہ :

ہر گلے را رنگ و بوئے دیگر است

مرزا دریائیست بیکراں، و میر نہرست

عظیم الشان، درمعلوماتِ قواعد میر رابرتری ست و در قوتِ شاعری مرزا رابرمیرؔ سروری، اصل حقیقت یہ ہے کہ قصیدہ، غزل، مثنوی وغیرہ اقسامِ شعر میں ہر کوچہ کی راہ جدا جدا ہے، جس طرح قصیدہ کے لئے شکوہِ الفاظ اور بلندی مضامین، چستی ترکیب وغیرہ لوازمات ہیں، اسی طرح غزل کے لئے عاشق و معشوق کے خیالات عشقیہ صاف صاف نرم نرم، گویا وہی دونوں بیٹھے باتیں کر رہے ہیں۔ اس کے ادائے مضامین کے الفاظ بھی اور ہیں اور اس کی بحریں بھی خاص ہیں۔ میر صاحب کی طبیعت قدرتی درد خیز اور دل حسرت انگیز تھا کہ غزل کی جان ہے۔ اس لئے ان کی غزلیں ہی ہیں اور خاص خاص بحور و قوافی میں ہیں۔ مرزا کہ طبیعت ہمہ رنگ اور ہمہ گیر، ذہن براق اور زبان مشاق رکھتے تھے، تو سنِ فکر اِن کا منھ زور گھوڑے کی طرح جس طرف جاتا تھا رُک نہ سکتا تھا، کوئی بحر اور کوئی قافیہ ان کے ہاتھ آئے تغزلی کی خصوصیت نہیں رہتی تھی۔ جس برجستہ مضمون میں بندھ جائے باندھ لیتے تھے، بے شک اِن کی غزلوں کے بھی اکثر شعر چستی اور درستی میں قصیدہ کا رنگ دکھاتے ہیں۔

ایک دن لکھنؤ میں میرؔ اور مرزا کے کلام پر دو شخصوں نے تکرار میں طول کھینچا۔ دونوں خواجہ باسط کے مرید تھے۔ انھیں کے پاس گئے اور عرض کی کہ اپ فرمائیں۔ اُنھوں نے کہا کہ دونوں صاحب کمال ہیں مگر فرق اتنا ہے کہ میر صاحب کا کلام آہ ہے اور مرزا صاحب کا کلام واہ ہے۔ مثال میں میر صاحب کا شعر پڑھا :

سرہانے میرؔ کے آہستہ بولو

ابھی ٹک روتے روتے سو گیا ہے

پھر مرزا کا شعر پڑھا :

سودا کے جو بالیں پہ ہوا شورِ قیامت

خدام ادب بولے ابھی آنکھ لگی ہے

لطیفہ در لطیفہ – ان  میں سے ایک شخص جو مرزا کے طرفدار تھے وہ مرزا کے پاس بھی آئے اور سارا ماجرا بیان کیا، مرزا بھی میر صاحب کے شعر سُن کر مُسکرائے اور کہا شعر تو میرؔ کا ہے مگر داد خواہی ان کی دوا کی معلوم ہوتی ہے۔

رسالہ عبرہ الغافلین طبعِ شاعر کے لئے سیڑھی کا کام دیتا ہے، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مرزا فقط طبعی شاعر نہ تھے بلکہ اس فن کے اصول و فروغ میں ماہر تھے۔ اِس کی فارسی عبارت بھی زباں دانی کے ساتھ ان کی شگفتگی اور شوخیِ طبع کا نمونہ ہے، اس کی تالیف ایک افسانہ ہے اور قابل سننے کے ہے، اس زمانہ میں اشرف علی نامی ایک شریف خاندانی شخص تھے۔ اُنھوں نے فارسی کے تذکروں اور اُستادوں کے دیوانوں میں سے ۱۵ برس کی محنت میں ایک انتخاب مرتب کیا اور تصحیح کے لئے مرزا فاخر مکیںؔ کے پاس لے گئے کہ ان دونوں فارسی کے شاعروں میں نامور وہی تھے۔ انھوں نے کچھ انکار، کچھ اقرار، بہت سے تکرار کے بعد انتخاب مذکور کو رکھا اور دیکھنا شروع کیا۔ مگر جا بجا اُستادوں کے اشعار کو کہیں بے معنی سمجھ کر کاٹ ڈالا، کہیں تیغِ اصلاح سے زخمی کر دیا۔ اشرف علی خاں کو جب یہ حال معلوم ہوا تو گئے اور بہت سے قیل و قال کے بعد انتخابِ مذکور لے آئے، کتاب اصلاحوں سے چھلنی ہو گئی تھی۔ اس لئے بہت رنج ہوا۔ اسی عالم میں مرزا کے پاس لا کر سارا حال بیان کیا اور انصاف طلب ہوئے۔ ساتھ اس کے یہ بھی کہ آپ اسے درست کر دیجیے۔

انھوں نے کہا کہ مجھے فارسی زبان کی مشق نہیں، اُردو میں جو چند لفظ جوڑ لیتا ہوں، خدا جانے دلوں میں کیونکر قبولیت کا خلعت پا لیا ہے۔ مرزا فاخر مکیں فارسی داں اور فارسی کے صاحبِ کمال ہیں۔ انھوں نے جو کچھ کیا ہو گا سمجھ کر کیا ہو گا۔ آپ کو اصلاح منظور ہے تو شیخ علی حزیںؔ مرحوم کے شاگرد شیخ آیت اللہ ثناؔ، میر شمس الدین فقیر کے شاگرد مرزا بھچو ذرہؔ تخلص موجود ہیں، حکیم بو علی خاں ہاتف بنگالہ میں، نظام الدین صانعؔ بلگرامی فرخ آباد میں، شاہ نور العین واقفؔ شاہجہاں آباد میں ہیں۔ یہ اُن لوگوں کے کام ہیں۔

جب مرزا نے اِن نامور فارسی دانوں کے نام لئے تو اشرف علی خاں نے کہا کہ ان لوگوں کو تو مرزا فاخر خاطر میں بھی نہیں لاتے، غرضیکہ ان کے اصرار سے مرزا نے انتخاب مذکور کو رکھ لیا، دیکھا تو معلوم ہوا کہ جو جو با کمال سلف سے آج تک مسلم الثبوت چلے آتے ہیں اُن کے اشعار تمام زخمی تڑپتے ہیں۔ یہ حال دیکھ کر مرزا کو بھی رنج ہوا۔ بموجب صورتِ حال کے رسالہ عبرت الغافلین لکھا اور مرزا فاخر کی غلط فہمیوں کو اصول انشاء پردازی کے بموجب کماحقہ ظاہر کیا۔ ساتھ ان کے دیوان پر نظر ڈال کر اس کی غلط فہمیاں بھی بیان کیں اور جہاں ہو سکا اصلاح مناسب دی۔

مرزا فاخر کو بھی خبر ہوئی، بہت گھبرائے اور چاہا کہ زبانی پیاموں سے ان داغوں کو دھوئیں، چنانچہ بقاء اللہ خاں بقاؔ کو گفتگو کے لئے بھیجا، وہ مرزا فاخر کے شاگرد تھے، بڑے مشاق اور باخبر شاعر تھے، مرزا اور ان سے خوب خوب گفتگوئیں رہیں، اور مرزا فاخر کے بعض اشعار جن کے اعتراضوں کی خبر اُڑتے اُڑتے اِن تک بھی پہنچ گئی تھی، ان پر رد و قدح بھی ہوئی، چنانچہ ایک شعر ان کا تھا :

گرفتہ بود دریں بزم چوں قدح دلِ من

شگفتہ روئی صہبا شگفتہ کرد مرا

مرزا کو اعتراض تھا کہ قدح کو گرفتہ دل کہنا بیجا ہے، اہلِ انشاء نے ہمیشہ قدح کو کھلے پھولوں سے تشبیہ دی ہے یا ہنسی سے کہ اُسے بھی شگفتگی لازم ہے۔ بقاؔ نے جواب میں شاگردی کا پسینہ بہت بہایا اور اخیر کو باذل کا ایک شعر بھی سند میں لائے :

چہ نشاط بادہ بخشد بمنِ خراب بے تو

یہ دلِ گرفتہ ماند قدحِ شراب بے تو

مرزا رفیع سُن کر بہت ہنسے اور کہا کہ اپنے استاد سے کہنا کہ استادوں کے شعروں کو دیکھا کرو تو سمجھا بھی کرو، یہ شعر تو میرے اعتراض کی تائید کرتا ہے، یعنی باوجودیکہ پیالہ ہنسی اور شگفتگی میں ضرب المثل ہے اور پیالہ شراب سامانِ نشاط ہے مگر وہ بھی دلِ افسردہ کا حکم رکھتا ہے۔

عرض جب یہ تدبیر پیش نہ گئی تو مرزا فاخر نے اور راہ لی، شاگرد لکھنؤ میں بہت تھے، خصوصاً شیخ زادے کہ ایک زمانہ میں وہی ملکِ اودھ کے حاکم بنے ہوئے تھے اور سینہ زوری اور سرشوری کے بخار ابھی تک دماغوں سے گئے نہ تھے۔ ایک دن سودا تو بے خبر گھر میں بیٹھے تھے وہ بلوہ کر کے چڑھ آئے۔ مرزا کے پیٹ پر چھُری رکھ دی اور کہا کہ جو کچھ تم نے کہا ہے وہ سب واپس لو اور ہمارے استاد کے سامنے چل کر فیصلہ کرو، مرزا کو مضامین کے گل پھول اور باتوں کے طوطے مینا تو بہت بنانے آتے تھے، مگر یہ مضمون ہی نیا تھا، سب باتیں بھول گئے۔ بچارے نے جُز دان غلام کو دیا، خود میانے میں بیٹھے اور ان کے ساتھ ہوئے۔ گروہ لشکر شیطان تھا۔ یہ بیچ میں تھے، چوک میں پہنچے تو اُنھوں نے چاہا کہ یہاں انھیں بے عزت کیجیے، کچھ تکرار کر کے پھر جھگڑنے لگے، مگر جسے خدا عزت دے، اُسے کون بے عزت کر سکتا ہے، اتفاقاً سعادت علی خاں کی سواری آ نکلی، مجمع دیکھ کر ٹھہر گئے اور حال دریافت کر کے سوداؔ کو اپنے ساتھ ہاتھی پر بٹھا کر لے گئے۔ آصف الدولہ حرم سرا میں دستر خوان پر تھے۔ سعادت علی خاں اندر گئے اور کہا بھائی صاحب بڑا غضب ہے آپ کی حکومت میں ! اور شہر میں یہ قیامت۔ آصف الدولہ نے کہا کیوں بھئی خیر باشد، انھوں نے کہا کہ مرزا رفیع، جس کو باوا جان نے برادر من، مشفق مہربان کہہ کر خط لکھا، آرزوئیں کر کے بلایا اور وہ نہ آیا، آج وہ یہاں موجود ہے اور اس حالت میں ہے کہ اگر اس وقت میں نہ پہونچتا تو شہر کے بدمعاشوں نے اِس بیچارے کو بے حرمت کر ڈالا تھا اور پھر سارا ماجرا بیان کیا۔

آصف الدولہ فرشتہ خصال گھبرا کر بولے کہ بھئی مرزا فاخر نے ایسا کیا تو مرزا کر کیا گویا ہم کو بے عزت کیا۔ باوا جان نے انھیں بھائی لکھا تو وہ ہمارے چچا ہوئے۔ سعادت علی خاں نے کہا کہ اس میں کیا شبہ ہے ! اُسی وقت باہر نکل آئے۔ سارا حال سُنا، بہت غصہ ہوئے اور حکم دیا کہ شیخ زادوں کا محلہ کا محلہ اکھڑوا کر پھینک دو اور شہر سے نکلوا دو۔ مرزا فاخر کو جس حال میں ہو اسی حال سے حاضر کرو۔ سوداؔ کی نیک نیتی دیکھنی چاہیے، ہاتھ باندھ کر عرض کی کہ جناب عالی! ہم لوگوں کی لڑائی کاغذ قلم کے میدان میں آپ ہی فیصل ہو جاتی ہے، حضور اس میں مداخلت نہ فرمائیں، غلام کی بدنامی ہے۔ جتنی مدد حضور کے اقبال سے پہنچی ہے وہی کافی ہے۔ غرض مرزا رفیع باعزاز و اکرام وہاں سے رخصت ہوئے، نواب نے احتیاطاً سپاہی ساتھ کر دیئے۔

حریفوں کو جب یہ راز کھلا تو امرائے دربار کے پاس دوڑے، صلاح ٹھہری کہ معاملہ روپیہ یا جاگیر کا نہیں، تم سب مرزا فاخر کو ساتھ لے کر مرزا رفیع کے پاس چلے جاؤ اور خطا معاف کروا لو۔ دوسرے دن آصف الدولہ نے سر دربار مرزا فاخر کو بھی بلایا اور کہا تمھاری طرف سے بہت نازیبا حرکت ہوئی۔ اگر شعر کے مردِ میدان ہو تو اب روبرو سوداؔ کے ہجو کہو۔ مرزا فاخر نے کہا “ایں ازمانمے آید”، آصف الدولہ نے بگڑ کر کہا درست، ایں از شمانمے آید، ایں مے آید کہ شیاطین خود را برسرِ میرزائے بے چارہ فرستاوند از خانہ ببارش کشیدند و مے خواستند آبرویش بخاک ریزند، پھر سوداؔ کی طرف اشارہ کیا، یہاں کیا دیر تھی، فی البدیہہ رباعی پڑھی :

تو فخرِ خراسانی وفا ساقط ازد

گوہر بدہاں داری وفا ساقط ازد

روزان و شباں زحق تعالیٰ خواہم

مرکب و بدت، خدا و با ساقط ازد

یہ جھگڑا تو رفع دفع ہوا مگر دُور دُور سے ہجوؤں میں چوٹیں چلتی رہیں۔ لطف یہ ہے کہ مرزا فاخر کی کہی ہوئی ہجوئیں کوئی جانتا بھی نہیں۔ سودا نے جو کچھ اُن کے حق میں کہا وہ ہزاروں کی زبان پر ہے۔

 

 

مرزا فاخر مکینؔ

اصل میں کشمیری تھے۔ اول قنوت حسین خاں کشمیری سے اصلاح لیتے تھے۔ پھر عظیمائے کشمیری کے شاگرد ہوئے۔ ان کے کمال میں کلام کی جگہ نہیں، صحت الفاظ اور تحقیق لغت میں بڑی کوشش کی۔ دیوان نے رواج نہیں پایا، مگر اصل اشعار متفرق بیاضوں میں ہیں۔ یا وہ مشہور ہیں کہ انھوں نے سودا کے حق میں کہے۔ سوداؔ نے تضمین کر کے انہی پر اُلٹ دیئے۔ کچھ اشعار سوداؔ نے عبرۃ الغافلین میں اعتراضوں کی ذیل میں لکھے۔ بہرحال معلوم

ہوتا ہے کہ کیفیت سے خالی نہ تھے۔ زمانہ نے بھی پورا حق اِن کی قدردانی کا ادا کیا۔ سینکڑوں شاگرد غریب اور تونگر لکھنؤ اور اطراف میں ہو گئے۔ پیشہ توکل تھا اور بے دماغی سے اُسے رونق دیتے تھے۔

نقل۔ مولوی غلام ضامن صاحب رتبے کے فاضل تھے، ایک دن غزل لے کر گئے کہ مجھے شاگرد کیجیے اور اصلاح فرمائیے۔ مرزا فاخر نے ٹال دیا۔ مولوی صاحب نے پھر کہا، انھوں نے پھر انکار کیا اور کج خلقی کرنے لگے جو عجز و انکسار کے حق تھے، سب مولوی صاحب نے ادا کئے۔ ایک نہ قبول ہوا۔ ناچار یہ شعر پڑھ کر اٹھ کھڑے ہوئے۔

مرزا یکن مانشود چوں بکینِ ما

کین است جزوِ اعظم مرزا مکینِ ما

یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ ابتداء سوداؔ کی طرف سے کم ہوتی تھی۔ ہاں کوئی چھیڑ دیتا تھا، تو پھر یہ بھی حد سے پرے پہنچا دیتے تھے۔ چنانچہ میر ضاحک مرحوم کے حال سے معلوم ہو گا۔ (دیکھو صفحہ)۔

آصف الدولہ ایک دفعہ شکار کو گئے۔ خبر آئی کہ نواب نے بھیلوں کے جنگل میں شیر مارا۔ باوجویکہ ہمیشہ انعام و اکرام کے انباروں سے زیر بار تھے مگر فوراً کہا :

یارو یہ ابنِ نجم پیدا ہوا دوبارہ

شیرِ خدا کو جس نے بھیلوں کے بن میں مارا

نواب کو بھی خبر ہوئی، جب پھر کر آئے تو خود شکایت دوستانہ کے طور پر کہا کہ مرزا تم نے ہم کو شیرِ خدا کا قاتل بنایا؟ ہنس کر کہا کہ جناب عالی! شیر تو اللہ ہی کا تھا نہ حضور کا نہ فدوی کا۔

لطیفہ : آصف الدولہ مرحوم کی انا کی لڑکی خورد سال تھی، نواب فرشتہ سیرت کی طبیعت میں ایک تو عموماً تحمل اور بے پروائی تھی، دوسرے اس کی ماں کا دودھ پیا تھا، ناز برداری نے اِس کی شوخی کو شرارت کر دیا۔ ایک دن دوپہر کا وقت تھا، نواب سوئے تھے، ایسا غل مچایا کہ بد خواب ہو کر جاگ اُٹھے، بہت جھنجھلائے اور خفا ہوتے ہوئے باہر نکل آئے، سب ڈر گئے کہ آج نواب کو غصہ آیا ہے خدا خیر کرے، باہر آ کر حکم دیا کہ مرزا کو بلاؤ، مرزا اسی وقت حاضر ہوئے، فرمایا کہ بھئی مرزا! اس لڑکی نے مجھے بڑا حیران کیا ہے، تم اس کی ہجو کہہ دو، یہاں تو ہر وقت مصالحہ تیار تھا، اسی وقت قلمدان لے کر بیٹھ گئے اور مثنوی تیار کر دی کہ ایک شعر اس کا لکھتا ہوں :

لڑکی وہ لڑکیوں میں جو کھیلے

نہ کہ لونڈوں میں جا کے ڈنڑ پیلے

بعض بزرگوں نے یہ بھی سُنا ہے کہ دلی میں نالہ پر ایک دکان میں بھٹیاری رہتی تھی، وہ آپ بھی لڑاکا تھی، مگر لڑکی بھی اس سے سوا چنچل ہوئی، آتے جاتے جب دیکھتے لڑتے ہی دیکھتے، ایک دن کچھ خیال آ گیا، اس پر یہ ہجو کہی تھی۔

لطیفہ : شیخ قائم علی ساکن اٹاوہ ایک طباع شاعر تھے، کمال اشتیاق سے مقبول نبی خاں انعام اللہ خاں یقین کے بیٹھے کے ساتھ بہ اِرادہ شاگردی ان کے پاس آئے اور اپنے اشعار سُنائے، آپ نے پوچھا تخلص کیا ہے، کہا اُمیدوار، مسکرائے اور فرمایا :

ہے فیض سے کسی کے شجر اِن کے بار دار

اس واسطے کیا ہے تخلص امیدوار

(جب عورت حاملہ ہوتی ہے تو عورتوں کے محاورہ میں کہتے ہیں کہ امیدواری ہے یا اللہ کی درگاہ سے امید ہے۔)

بے چارے شرمندہ ہو کر چلے گئے۔ قائمؔ تخلص اختیار کیا اور کسی اور کے شاگرد ہوئے۔ اِن کی طبیعت میں شوخیاں تھیں، وہ حقیقت میں اتنی نہ تھیں جتنا انھیں لوگوں نے خطرناک بنا رکھا تھا، بے شک جو ان سے لڑتا تھا اُسے خوب خراب کرتے تھے مگر اخلاق و انصاف سے خالی نہ تھے۔

نقل : راسخؔ عظیم آبادی کا دیوان میں نے دیکھا ہے، بہت سنجیدہ کلام ہے، پُرانے مشاق تھے اور سب ادھر کے لوگ انھیں استاد مانتے تھے، مرزا کے پاس شاگرد ہونے کو آئے، مرزا نے کہا کوئی شعر سنائیے، انھوں نے پڑھا :

ہوئے ہیں ہم ضعیف اب دیدنی رونا ہمارا ہے

پلک پر اپنی آنسوصبحِ پیری کا ستارا ہے

مرزا نے اُٹھ کر گلے لگا لیا۔ ایسا ہی معاملہ جرأت سے ہوا تھا۔ (دیکھو صفحہ)۔

لطیفہ : ایک دن میاں ہدایت (ایک مرد متین دیرینہ سال اس زمانہ کے شعرائے معتبر میں سے تھے، خواجہ میر دردؔ کے شاگرد تھے ) ملاقات کو آئے، بعد رسوم معمولی کے آپ نے پوچھا کہ فرمائیے میاں صاحب آج کل کیا شغل رہتا ہے، انھوں نے کہا افکارِ دنیا سے فرصت نہیں دیتے، طبیعت  کو ایک مرض یاوہ گوئی کا لگا ہوا ہے، گاہے بگاہے غزل کا اتفاق ہو جاتا ہے، مرزا ہنس کر بولے کہ غزل کا کیا کہنا، کوئی ہجو کہا کیجیے، بیچارے نے حیران ہو کر کہا ہجو کس کی کہوں ؟ آپ نے کہا، ہجو کو کیا چاہیے، تم میری ہجو کہو، میں تمھاری ہجو کہوں۔

لطیفہ : ایک ولایتی نے کہ زمرہ اہل سیف میں معزز ملازم تھا، عجب تماشا کیا،یعنی سودا نے اس کی ہجو کہی اور ایک محفل میں اس کے سامنے ہی پڑھنی شروع کر دی۔ ولایتی بیٹھا سنا کیا۔ جب ہجو ختم ہوئی۔ اٹھ کر سامنے آ بیٹھا، اور ان کی کمر پکڑ کر مسلسل و متواتر گالیوں کا جھاڑ باندھ دیا۔ انھیں بھی ایسا اتفاق آج تک نہ ہوا تھا۔ حیران ہو کر کہا کہ خیر باشد؟ جناب آغا اقسام ایں مقالات شایان شان شما نیست۔ ولایتی نے پیش قبض کمر سے کھینچ کر ان کے پیٹ پر رکھ دی اور کہا نظم خودت گفتی حالا ایں نثر را گوش کن، ہر چہ تو گفتی نظم بود، نظم آزمانمے آید، مابہ نثر ادا کردیم۔

لطیفہ : سید انشاء کا عالم نوجوانی تھا۔ مشاعرہ میں غزل پڑھی :

جھڑکی سہی ادا سہی چین جبیں سہی

سب کچھ سہی پر ایک نہیں کی نہیں سہی

جب یہ شعر پڑھا :

گر نازنیں کہے سے بُرا مانتے ہو تم

میری طرف تو دیکھئے میں نازنیں سہی

سوداؔ کا عالم پیری تھا، مشاعرہ میں موجود تھے، مسکرا کر بولے “دریں چہ شک”۔

نقل : ایک دن سودا مشاعرہ میں بیٹھے تھے۔ لوگ اپنی اپنی غزلیں پڑھ رہے تھے۔ ایک شریف زادے کہ ۱۲، ۱۳ برس کی عمر تھی، اس نے غزل پڑھی، مطلع تھا :

دل کے پھپھولے جل اُٹھے سینہ کے داغ سے

اس گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے

گرمی کلام پر سوداؔ بھی چونک پڑے۔ پوچھا یہ مطلع کس نے پڑھا؟ لوگوں نے کہا حضرت یہ صاحبزادہ ہے۔ سودا نے بھی بہت تعریف کی۔ بہت مرتبہ پڑھوایا اور کہا کہ میاں لڑکے جوان تو ہوتے نظر نہیں آتے۔ خدا کی قدرت انہی دنوں میں لڑکا جل کر مر گیا۔

جبکہ فخر شعرائے ایران شیخ علی حزیں وارد ہندوستان ہوئے پوچھا کہ شعرائے ہند میں آج کل کوئی صاحب کمال ہے ؟ لوگوں نے سودا کا نام لیا، اور سوداؔ خود ملاقات کو گئے۔ شیخ کی عالی دماغی اور نازک مزاجی شہرہ آفاق ہے۔ نام نشاں پوچھ کر کہا کہ کچھ اپنا کلام سناؤ۔ سودا نے کہا :

ناوک نے تیرے صید نہ چھوڑا زمانے میں

تڑپے ہے مرغ قبلہ نما آشیانے میں

شیخ نے کہا کہ تڑپے چہ معنی دارد۔ سوداؔ نے کہا کہ اہل ہند طپیدن را تڑپنا مے گوئید۔ شیخ نے پھر شعر پڑھوایا اور زانوں پر ہاتھ مار کر کہا کہ مرزا  رفیع قیامت کر دی۔ یک مرغ قبلہ نما باقی بود آ نراہم نگذاشتی، یہ کہہ کر اٹھ کھڑے ہوئے اور بغلگیر ہو کر پاس بٹھایا مگر بعض اشخاص کی روایت ہے کہ شیخ نے کہا :

“در پوچ گویانِ ہند بد نیستی”

لطیفہ : خان آرزو کے مکان پر مشاعرہ ہوتا تھا۔ سوداؔ ان دنوں نوجوان تھے۔ مطلع پڑھا :

آلودہ قطراتِ عرق دیکھ جبیں کو

اختر پڑے جھانکیں ہیں فلک پر سے زمیں کو

یا تو لاعلمی یا ان کی آتشِ بیانی کے ڈر سے کوئی نہ بولا۔ مگر خان آرزو (دیکھو صفحہ) جن کی دایہ قابلیت کے دودھ سے مظہر، سوداؔ، میرؔ، دردؔ وغیرہ نوجوانوں نے پرورش پائی ہے، انھوں نے فوراً یہ شعر پڑھا کہ قدسی کے مطلع پر اشارہ ہے :

شعر سوداؔ۔ حدیث قدسی ہے

چاہیے لکھ رکھیں فلک پہ ملک

آلودہ قطراتِ عرق دیدہ جبیں را

اختر ز فلک مے نگرد روئے زمین را

سوداؔ بے اختیار اٹھ کھڑے ہوئے۔ خاں صاحب کے گلے سے لپٹ گئے اور اس شکریہ کے ساتھ خوشی ظاہر کی گویا حقیقتاً خاں صاحب نے ان کے کلام کو مثل حدیث قدسی تسلیم کیا ہے۔ ان کا ایک اور شعر ایسا ہی ہے :

بہار بے سپرِ جام دیار مے گذرد

نسیم تیرسی، سینہ کے پار گذرے ہے

فارسی میں کوئی استاد کہتا ہے :

بہار بے سپرِ جام دیار مے گذرد

نسیم ہمچو خدنگ از کتار مے گذرو

مگر اہل کا قول ہے کہ ایسی صورت خاص کو سرقہ نہیں ترجمہ سمجھنا چاہیے، کیونکہ شعر کو شعر ہی میں ترجمہ کرنا بھی ایک دشوار صنعت ہے۔ قطع نظر اس کے اسی مطلع کے بعد اور اشعار کو دیکھو کیا موتی پروئے ہیں۔ اور کلیات ایک دریا ہے کہ اقسام جواہر سے بھرا ہوا ے۔ کون کہہ سکتا ہے کہ اس رتبہ کا شاعر ایک مطلع کا محتاج تھا۔ اس لیے چرا لیا ہے۔ ابو الفضل نے ایک مراسلے میں لکھا ہے :

ولدالز ناست حاسد منم آنکہ طالع من

دلدالز ناکش آمد چو ستارہ یمانی

یہ شعر قصائد نظامی میں موجود ہے۔ اور اسی مضمون کو عربی میں متنبی کہتا ہے :

و تنکِرُ موتھم وَ اَنَا سھُل

طَلَعتُ لموتِ اَولا ولزناءِ

خود سودا سے زبان بزبان روایت پہنچی ہے کہ غزل فارسی کی ان کی ہجو میں مولوی ندرت کشمیری نے کہی اور مرزا نے اسے مخمس کر کے اسی پر الٹ دیا۔ اسی کے مطلع پر خان آرزو نے مصرع لگا دیئے تھے۔ باقی تمام مخمس مرزا کا ہے :

شعر ناموزوں سے تو بہتر ہے کہنا ریختہ

کب کہا میں قتل کر مضموں کسی کا ریختہ

بے حیائی ہے یہ کہنا سن کے میرا ریختہ

خون معنی تا رفیع بادہ پیما ریختہ

آبروئے ریختہ از جوش سوداؔ ریختہ

نقل : معتبر لوگوں سے سنا ہے کسی شخص نے سودا سے پوچھا۔ بلبل مذکر ہے یا مؤنث، مسکرا کر بولے کہ نوع انسان میں ایک ہو تو مرد سے عورت ہو جاتی ہے۔ لفظ کو دیکھو (اب تو ڈبل تانیث ہو گئی۔ اب بھی نہ مؤنث ہو گی۔) دو موجود ہیں، لیکن تعجب ہے کہ انھوں نے ایک جگہ مذکر بھی باندھا ہے۔ چنانچہ غزل ہے اثر لگا کہنے چشم تر لگا کہنے، تار نظر لگا کہنے، اس میں کہتے ہیں کہ :

سُنے ہے مُرغِ چمن کا تو نالہ اے صیاد

بہار آنے کی بلبل خبر لگا کہنے

اکثر اہلِ لکھنؤ اب مذکر باندھتے ہیں۔ چنانچہ سرورؔ کا شعر (دیکھو صفحہ) ہے :

کرے گا تو مرے نالوں کی ہمسری بلبل

شعور اتنا تو کر جا کے جانور پیدا

آتشؔ – مصرعہ : سیر چمن کو چلے بُلبل پکارتے ہیں

رندؔ – مصرعہ : جانور کا جو ہوا شوق تو پالے بلبل

مگر حق یہ ہے کہ اس وقت تک تذکیر و تانیث لفظوں کی مقرر نہیں ہوئی تھی۔ بہت سے الفاظ ہیں کہ مرزا اور میر صاحب نے انھیں مذکرباندھا ہے۔ بعد ان کے سید انشاء، جرأتؔ، مصفحیؔ سے لے کر آج تک سب مؤنث باندھتے چلے آتے ہیں۔ چنانچہ میر صاحب کی طرح میرزائے موصوف بھی فرماتے ہیں :

جانؔ :

کہا طبیب نے احوال دیکھ کر میرا

کہ سخت جان ہے سودا کا آہ کیا کیجیئے

دیدؔ :

بتاں کا دید میں کرتا ہوں شیخ جسدن سے

حلال تب سے ہے مے موبمو مرے دل پر

میرؔ :

کریں شمار بہم دل کے یاد داغوں کا

تو آ کہ سیر کریں آج دل کے باغوں کا

میرؔ :

ہر سنگ میں شرار ہے تیرے ظہور کا

موسیٰ نہیں جو سیر کروں کوہ طور کا

بسکہ پونچھوں ہوں میں اپنی چشم خوں آلود کو

جامہ کا ہر ایک تختہ سیر ہے گلزار کا

جب مرزا رفیع لڑکے تھے، اس وقت میر جعفر زٹل کا بڑھاپا تھا۔ اگلے وقتوں کے لوگ رنگین جریبیں جن پر نقاشی کا کام ہوتا تھا، اکثر ہاتھ میں رکھا کرتے تھے۔ ایک دن شام کے وقت میر موصوف ایک سبز جریب ٹیکتے ٹہلنے کو باہر نکلے۔ مرزا بغل میں کتابوں کا جزدان لئے سامنے سے آتے تھے۔ اس زمانہ میں ادب کی بڑی پابندی تھی۔ بزرگوں کو سلام کرنا اور ان کی زبان سے دعا لینے کو بڑی نعمت سمجھتے تھے۔ مرزا نے جھک کر سلام کیا۔ انھوں نے خوش ہو کر دعا دی۔ چونکہ بچپن ہی میں مرزا کی موزونی طبع کا چرچا تھا، میر صاحب کچھ باتیں کرنے لگے، مرزا ساتھ ہو لئے۔ انھوں نے نوخیز طبیعت کے بڑھانے کے لئے کہا کہ مرزا بھلا ایک مصرع پر مصرع تو لگاؤ :

لالہ در سینہ داغ چوں دارد؟

مرزا نے سوچ کر کہا :

عمر کو تا است غم فزوں دارد

میر صاحب نے فرمایا، واہ بھئی دل خون ہوتا ہے، جگر خون ہوتا ہے، بھلا سینہ کیا خون ہو گا، سینہ پر از خوں ہوتا ہے۔

مرزا نے پھر ذرا فکر کیا اور کہا :

چہ کند سوزشِ دروں دارد

میر صاحب نے کہا کہ ہاں مصرع تو ٹھیک ہے لیکن ذرا طبیعت پر زور دیکر کہو، مرزا دق ہو گئے تھے، جھٹ کہہ دیا :

یک عصا سبز زیرِ۔۔۔۔۔۔۔۔ دارد

میر جعفر مرحوم ہنس پڑے اور جریب اٹھا کر کہا۔ کیوں ! یہ ہم سے بھی۔ دیکھ کہوں گا تیرے باپ سے۔ بازی بازی بریش بابا ہم بازی، مرزا لڑکے تو تھے ہی بھاگ گئے۔

چند اشعار جن سے میرؔ اور مرزا کے کلام میں امتیاز ہوتا ہے لکھے جاتے ہیں۔ ان شعروں میں دونوں استادوں کی طبیعت برابر لڑی ہے، مگر دونوں کے انداز پر خیال کرو۔

ہمارے آگے ترا جب کسی نے نام لیا

دلِ ستم زدہ کو ہم نے تھام تھام لیا

(میر)

قسم جو کھائیے تو طالع زلیخا کی

عزیز مصر کا بھی صاحب اک غلام لیا

(میر)

چمن میں صبح جو اس جنگ جو کا نام لیا

صبا نے تیغ کا موجِ رواں سے کام لیا

(سودا)

کمال بندگی عشق ہے خداوندی

کہ ایک زن نے مہ مصر سا غلام لیا

(سودا)

گِلا میں جس سے کروں تیری بیوفائی کا

جہاں میں نام نہ لے پھر وہ آشنائی کا

(میر)

گلا لکھوں میں اگر تیری بے وفائی کا

لہو میں غرق سفینہ ہو آشنائی کا

(سودا)

دکھاؤں گا تجھے زاہد اس آفتِ دیں کو

خلل دماغ میں تیرے ہے پارسائی کا

(سودا)

چمن میں گل نے جو کل دعوئے جمال کیا

جمالِ یار نے منھ اس کا خوب لال کیا

(میر)

برابری کا تری گل نے جب خیال کیا

صبا نے مار طمانچہ منھ اس کا لال کیا

(سودا)

دل پہنچا ہلاکت کو بہت کھینچ کسا لا

لے یار مرے سلمہ اللہ تعالیٰ

ایک محروم چلے میر ہمیں دُنیا سے

ورنہ عالم کو زمانے نے دیا کیا کیا کچھ

(میر)

سوداؔ جہاں میں آ کے کوئی کچھ نہ لے گیا

جاتا ہوں ایک میں دلِ پر آرزو لئے

(سوداؔ)

رات ساری تو کٹی سنتے پریشاں گوئی

میرؔ جی کوئی گھڑی تم بھی تو آرام کرو

(میرؔ)

سوداؔ تری فریاد سے آنکھوں میں کٹی رات

اب آئی سحر ہونے کو ٹک تو کہیں مر بھی

(سودا)

ہوتی نہیں ہے صبح نہ آتی ہے مجھ کو نیند

جس کو پکارتا ہوں وہ کہتا ہے مر کہیں

(سودا)

کفر کچھ چاہیے اسلام کی رونق کے لئے

حُسن زنار ہے تسبیح سلیمانی کا

ہوا ہے جب کفر ثابت ہے وہ تمنوائے مسلمانی

نہ ٹوٹے شیخ سے زنار تسبیح سلیمانی

مت رنج کر کسی کو کہ اپنے تو اعتقاد

دل ڈھائے کر جو کعبہ بنایا تو کیا ہوا

کعبہ اگرچہ ٹوٹا تو کیا جائے غم ہے شیخ

یہ قصرِ دل نہیں کہ بنایا نہ جائے گا

نہ بھُول اے آرسی گر یار کو تجھ سے محبت ہے

نہیں ہے اعتبار اس کا یہ منھ دیکھے کی الفت ہے

بگولے سے جسے آسیب اور صرصر سے زحمت ہے

ہماری خاک یوں برباد ہوائے ابر رحمت ہے

چند مقالے اسی طرح کے جرأتؔ کے حال میں بھی ہیں (دیکھو صفحہ)۔

غیر کے پاس یہ اپنا ہی گماں ہے کہ نہیں

جلوہ گر یاد مرا ورنہ کہاں ہے کہ نہیں

دل کے پرزوں کو بغل بیچ لئے پھرتا ہوں

کچھ علاج ان کا بھی اے شیشہ گراں ہے کہ نہیں

مہر ہر ذرہ میں مجھ کو ہی نظر آتا ہے

تم بھی ٹک دیکھو تو صاحب نظراں ہے کہ نہیں

جرم ہے اس کی جفا کا کہ وفا کی تقصیر

کوئی تو بولو میاں منھ میں زباں ہے کہ نہیں

پاس ناموس مجھے عشق کا ہے اے بلبل

ورنہ یاں کون سا انداز فغاں ہے کہ نہیں

آگے شمشیر تمھاری کے بھلا یہ گردن

مُو سے باریک تر اے خوش کمراں ہے کہ نہیں

پوچھا سودا سے میں اک روز کہ اے آوارہ

تیرے رہنے کا معین بھی مکاں ہے کہ نہیں

یک بیک ہو کے بر آشفتہ لگا وہ کہنے

کچھ تجھے عقل سے بہرہ بھی میاں ہے کہ نہیں

دیکھا میں قصر فریدوں کے اوپر اک شخص

حلقہ زن ہو کے پکارا کوئی یاں ہے کہ نہیں

سینہ میں ہوا نالہ و پہلو میں دل آتش

دھڑکے ہے پڑا دل کہ نہ ہو مشتعل آتش

اشک آتش و خوں آتش و ہر لختِ دل آتش

آتش پہ برستی ہے پڑی متسل آتش

یک لحظہ طرف ہو کے مرے دیدہ دل سے

نادم تو سمندر ہے سدا منفعل آتش

یاقوت نہیں ہے وہ ترے لعل سے اے شوخ

جا ڈوب موئی آگ میں ہو کر خجل آتش

داغ آج سے رکھتا نہیں ان سنگدلوں کا

مُدت سے ہوئی ہے مری چھاتی پہ سل آتش

دل عشق کے شعلہ سے جو بھڑکا تو رہا کیا

اے جان نکل جا کہ لگی متصل آتش

اے قطرہ مے لے اڑی سوداؔ کو جگہ سے

بارود کے تودے کو ہے بس ایک تل آتش

————————————————————

دیں شیخ و برہمن نے کیا یار فراموش

یہ سبحہ فراموش وہ زنار فراموش

دیکھا جو حرم کو تو نہیں دیر کی وسعت

اس گھر کی فضا کر گیا معمار فراموش

بھولے نہ کبھی دل سے مرا مصرع جانکاہ

نالہ نہ کرے مرغ گرفتار فراموش

دل سے نہ گئی آہ ہوس سیر چمن کی

اور ہم نے کیا رخنہ دیوار فراموش

یا نالہ ہی کر منع تو، یا گر یہ کو ناصح

دو چیز نہ عاشق سے ہو یکبار فراموش

بھُولا پھروں ہوں آپ کو ایک عمر سے لیکن

تجھ کو نہ کیا دل سے میں زنہار فراموش

دل درد سے کس طرح مرا خالی ہو سوداؔ

وہ ناشنوا حرف میں گفتار فراموش

————————————————————

جو گذری مجھے پہ مت اس سے کہو ہوا سو ہوا

بلا کشان محبت پہ جو ہوا سو ہوا

مبادا ہو کوئی ظالم نرا گریباں گیر

مرے لہو کو تو دہن سے دھو ہوا سو ہوا

پہنچ چکا ہے سر زخم دل تلک یارو

کوئی سِیو کوئی مرہم کرو ہوا سو ہوا

کہے ہے سُن کے میری سرگذشت وہ بے رحم

یہ کون ذکر ہے جانے بھی دو ہوا سو ہوا

خدا کے واسطے آ درگذر گنہ سے مرے

نہ ہو گا پھر کبھو اے تند خو ہوا سو ہوا

یہ کون حال ہے احوال دل پہ اے آنکھو

نہ پھوٹ پھوٹ کے اتنا بہو ہوا سو ہوا

دیا اسے دل و دیں اب یہ جان ہے سوداؔ

پھر آگے دیکھئے جو ہو، سو ہو، ہوا سو ہوا

————————————————————

ناوک نے تیرے صید نہ چھوڑا زمانے میں

تڑپے ہے مرغ قبلہ نما آشیانے میں

کیونکر نہ چاک چاک گریبانِ دل کروں

دیکھوں جو تیری زلف کو میں دست شانے میں

زینت دلیل مفلسی ہے ٹک کماں کو دیکھ

نقش و نگار چھٹ نہیں کچھ اس کے خانے میں

اے مرغِ دل سمجھ کے تو چشم طمع کو کھول

تو نے سنا ہے دام جسے، ہے وہ دانے میں

چلے میں کھینچ کھینچ کیا قد کو جوں کماں

تیر مراد پر نہ بٹھایا نشانے میں

پایا ہر ایک بات میں اپنے میں یوں تجھے

معنی کو جس طرح سخن عاشقانے میں

دستِ گرہ کشا کو نہ تزئین کرے فلک

مہندی بندھی نہ دیکھی میں انگشت شانے میں

ہم سا تجھے تو ایک ہمیں تجھ سے ہیں کئی

جا دیکھ لے تو آپ کو آئینہ خانے میں

سوداؔ خدا کے واسطے کر قصہ مختصر

اپنی تو نیند اڑ گئی تیرے فسانے میں

————————————————————

افعی کو یہ طاقت ہے کہ اس سے بسر آوے

وہ زلف سیہ اپنی اگر لہر پر آوے

اصداف میں اس مہر کی پہچان اگر آوے

ہر ذرہ میں کچھ اور ہی جھمکا نظر آوے

مجھ چشم سے اب اشک نہیں آنے کا ناصح

آوے بھی غمِ دل سے تو لخت جگر آوے

پھرتا ہوں ترے واسطے میں دربدر اے یار

تجھ سے نہ ہوا یہ کہ کبھی میرے گھر آوے

گویا دل عاشق بھی ہے اک فیل سیہ مست

رُکتا نہیں روکے سے کسے کے جدھر آوے

کہہ کہہ کے دُکھ اپنا میں کیا مغز کو خالی

اتنا نہ ہوا سُن کے تری چشم بھر آوے

شیشہ نہ کہے راز مرے دل کا تو اے جام

سرگوشی سے اس کی نہ تری چشم بھر آوے

کیا ہو جو قفس تک مرے اب صحنِ چمن سے

وہ برگ لئے گل کے نسیم سحر آوے

سب کام نکلتے ہیں فلک تجھ سے و لیکن

میرے دل ناشاد کی امید بر آوے

جب پھونکتے ناقوس صنم خانہ دل شیخ

کعبہ کا ترے وجد میں دیوار و در آوے

نامے کا جواب آنا تو معلوم ہے اے کاش

قاصد کے بد و نیک کی مجھ تک خبر آوے

میں بھی ہوں ضعیف اس قدر اے مور کہ وہ آپ

گذرے مرے سر سے جو تیرے تا کمر آوے

سب سے کہے دیتا ہوں یہ کہہ دیں کہ پھر انا

بالیں پہ مرے شور قیام اگر آوے

دیتا ہے کوئی مرغ دل اس شوخ کو سوداؔ

کیا قہر کیا تو نے غضب تیرے پر آوے

اب لے تو گیا ہے پر اسے دیکھیو ناداں

پل میں نہ اڑاتا وہ اگر بال و پر آوے

خوبوں میں دلدہی کی روش کم بہت ہے یاں

خواہان جاں جو چاہو تو عالم بہت ہے یاں

غافل نہ رہ تو اہل تواضع کے حال سے

تیغ و کماں کی طرح خم و چم بہت ہے یاں

چشم ہوس اٹھا لے تماشے سے جوں حباب

نادیدنی کا دید بس اک دم بہت ہے یاں

خونِ جگر بآدم دلو زینہ ہے لگاؤ

صورت معاش خلق کی برہم بہت ہے یاں

آنکھوں میں دوں اس آئینہ رو کو جگہ ولے

ٹپکا کرے ہے بسکہ یہ گھر نم بہت ہے یاں

کہتا ہے حال ماضی و مستقبل ایک ایک

جامِ جہاں نما تو نہیں، جم بہت ہے یاں

دیکھا جو باغ دہر تو مانند صبح و گل

کم فرصتی ملاپ کی باہم بہت ہے یاں

آیا ہوں تازہ دیں بحرم شیخُنا مجھے

پوجن نماز سے بھی مقدم بہت ہے یاں

سودا کر اس سے دل کی تسلی کے واسطے

گوشہ سے چشم کے نگہ کم بہت ہے یاں

ابراہیم علی خاں تذکرہ گلزار ابراہیمی میں لکھتے ہیں کہ مرزا غلام حیدر مجذوبؔ مرزا رفیع کے بیٹے ہیں اور اب کہ ۱۱۹۶ھ میں لکھنؤ میں رہتے ہیں۔ درستی فہم اور آشنا پرستی کے اوصاف سے موصوف ہیں۔ حکیم قدرت اللہ خاں قاسم فرماتے ہیں کہ ایک مغل بچہ خوش اخلاق جوان ہے۔ مرزا سودا کا متنبیٰ ہے، سپاہ گری کے عالم میں زندگی بسر کرتا ہے اور اپنے مربی کی شاگردی کا دم بھرتا ہے۔

عداوت سے تمہاری کچھ اگر ہووے تو میں جانوں

بھلا تم زہر دے دیکھو اثر ہووے تو میں جانوں

نہ اندیشہ کرو پیارے کہ شب ہے وصل کی تھوڑی

تم اپنی زلف کو کھولو سحر ہووے تو میں جانوں

ہمارے تم سے جو عہد وفا ہوں ان کو تم جانو

مرے پیماں میں کچھ نوعِ دگر ہووے تو میں جانوں

ذرا تم مارِ کاکل کو مرے لب سے لگا دیکھو

ہزاروں سانپ کاٹیں پھر اثر ہووے تو میں جانوں

خوباں سے جو دل ملا کرے گا

ڈرتا ہوں یہی کہ کیا کرے گا

آوے بھی مسیحا مرے بالیں پہ تو کیا ہو

بیمار یہ ایسا تو نہیں جو کو شفا ہو

جور و جفا پہ یار کی دل مت نگاہ کر

اپنی طرف سے ہووے جہاں تک نباہ کر

خاک و خوں میں صورتیں کیا کیا نہ ملیاں دیکھیاں

اے فلک باتیں تری کوئی نہ بھلیاں دیکھیاں

آہ میں اپنی اثر ڈھونڈے ہے اے مجذوبؔ تو

بید مجنوں کی نہ شاخیں ہم نے پھلیاں دیکھیاں

بس اب تیرے تاثیر اے آہ دیکھی

نہ آیا وہ کافر بہت راہ دیکھی

خاموش جو اتنا ہوں مجھے گنگ نہ سمجھو

اک عرض تمنا ہے کہ آ لب پہ آڑی ہے

چاہوں مدد کسے سے نہ اغیار کے لئے

میں بھی تو یار! کم نہیں دو چار کے لئے

طوبے ٰ تلے میں بیٹھ کے روؤں گا بار بار

جنت میں تیرے سایہ دیوار کے لئے

ہے درد سر ہی بلبل آزاد کی صفیر

موزوں ہے نالہ مرغِ گرفتار کے لئے

میر  تقی مرحوم کی زبان سے ان کے باب میں کچھ الفاظ نکلے تھے۔ اس پر فرماتے ہیں :

اے میر سمجھیو مت مجذوب کو اوروں سا

ہے وہ خلفِ سودا اور اہل ہنر بھی ہے

اشک آنکھ میں ہو عشق سے تا دل میں غم رہے

یہ گھر ہے وہ خراب کہ آتش میں نم رہے

نکلے اگر قفس سے تو خاموش ہم صفیر

صیاد نے سنایا ترانہ تو ہم رہے

———————————————

 

 

میر ضاحکؔ

میر مرحوم کو سوداؔ کے دیوان میں بہت مداخلت ہے اور ان کے سلسلہ اولاد میں بھی ایسے عالی رتبہ با کمال پیدا ہوئے کہ خود صاحب طرز کہلائے۔ اس لئے ابتداء سے دل چاہتا تھا کہ اس خانوادہ سیادت کا سلسلہ لکھوں، مگر پھول نہ ہاتھ آئے جو لڑی پروتا۔ اسی واسطے طبع اول میں مقصر با، بے درد، بے انصاف اصول فن سے بے خبر ہیں۔ کیا جانیں انھیں اپنے مضامین اخباروں میں چمکانے کے لئے روشنائی ہاتھ آئی۔ جہاں اور شکایتیں چھاپیں، ان میں ایک نمبر شمار یہ بھی بڑھایا۔ راقم آثم نے اطراف مشرقی اور خاص لکھنؤ میں بھی احباب کو لکھا، کہیں سے آواز

نہ آئی، البتہ مولوی غلام محمد خاں تپشؔ نے اس شفقت کے ساتھ جواب یاس دیا کہ دل مشقت تلاش سے رہا ہو گیا۔ اب کہ طبع ثانی کا موقع ہے۔ آرزوئے قدیم پھر دل میں لہرائی، ناچار برسوں کے سُوکھے مرجھائے پھول جو دل افسردہ کے طاق میں پڑے تھے، انہی کا سہرہ بنا کر ساداتِ عظام کے روضوں پر چڑھاتا ہوں اور جس ابتدا تک دست آگاہی نے رسائی کی وہاں سے شروع کرتا ہوں۔

میر ضاحک مرحوم کا نام سید غلام حسین تھا۔ ان کے بزرگ ہرات سے آ کر پرانی دلی میں آباد ہوئے (صاحب تذکرہ گلزار ابراہیمی میر حسن مرحوم کے حال میں لکھتے ہیں کہ دلی میں بہجل مسجد کے پاس رہتے تھے اور حکیم قدرت اللہ خاں قاسم فرماتے ہیں کہ میر مرحوم کی ولادت محلہ سید واڑہ میں ہوئی کہ پرانی دلی میں ایک محلہ تھا۔) خاندان سیادت ان کا سَنَدی تھی۔ امامی ہردی کی اولاد میں تھے، اور شاعری بھی گھرانے میں میراث چلی آتی تھی۔ میر موصوف نہایت خوش طبع شگفتہ مزاج، خندہ جبیں ہنسنے اور ہنسانے والے تھے۔ اسی واسطے یہ تخلص اختیار کیا تھا، وضع اور لباس قدمائے دہلی کا پورا نمونہ تھا۔ سر پر سبز عمامہ بوضع عرب، بڑے گھیر کا پاجامہ یا جُبہ کہ وہ بھی اکثر سبز ہوتا تھا، گلے میں خاک پاک کا کنگھا، داہنے ہاتھ میں ایک چوڑی، اس میں کچھ کچھ دعائیں کندہ، چھنگلی بلکہ اور انگلیوں میں بھی کئی انگوٹھیاں، داڑھی کو مہندی لگاتے تھے۔ بہت بڑی نہ تھی، مگر ریش بچہ منڈاتے تھے۔ کبھی کبھی ہاتھوں میں بھی مہندی ملتے تھے۔میانہ قد، رنگ گورا۔

دیوان : دیوان اب تک نظر سے نہیں گذرا، جس پر کچھ رائے ظاہر کی جائے۔ خواص میں جو کچھ شہرت ہے، ان ہجوؤں کی بدولت ہے جو سوداؔ نے ان کے حق میں کہیں۔ سلطنت کی تباہی نے ان سے بھی دلی چھڑوائی اور فیض آباد کو آباد کیا۔

سوداؔ نے جو ان کے حق میں گستاخی کی ہے۔ اس کا سبب یہ ہوا کہ اول کسی موقع پر انھوں نے سودا کے حق میں کچھ فرمایا، سوداؔ ان کے پاس گئے اور کہا کہ اپ بزرگ میں خورد، آپ سید، میں آپ کے جد کا غلام، عاصی اس قابل نہیں کہ آپ اس کے حق میں کچھ ارشاد فرمائیں، ایسا نہ کیجیے کہ مجھ گنہگار کے منہ سے کچھ نکل جائے۔ اور قیامت کے دن آپ کے جد کے سامنے روسیاہ ہوں۔ تلامیذ الٰہی کے دماغ عالی ہوتے ہیں۔ ان کی زبان سے نکلا کہ نہیں بھئی یہ شاعری ہے، اس میں خوردی و بزرگی کیا، سودا آئیں تو کہا جائیں، پھر جو کچھ انھوں نے کہا، خدا نہ سنوائے، یہ بھی بزرگوں سے سُنا کہ مرزا نے جو کچھ ان کی جناب میں یاوہ گوئی کی ہے، میر موصوف نے اس سے زیادہ خراب و خوار کیا تھا۔ لیکن وہ کلام عجیب طرح سے فنا ہوا۔

میر حسن مرحوم ان کے صاحبزادے سودا کے شاگرد تھے۔ میر ضاحک کا انتقال ہوا تو سوداؔ فاتحہ کے لئے گئے اور دیوان اپنا ساتھ لیتے گئے۔ بعد رسم عزا پُرسی کے اپنی یاوہ گوئی پر جو کہ اس مرحوم کے حق میں کی تھی۔ بہت سے عذر کئے اور کہا کہ سید مرحوم نے دنیا سے انتقال فرمایا، تم فرزند ہو جو کچھ اس روسیاہ سے گستاخی ہوئی معاف کرو۔ بعد اس کے نوکر سے دیوان منگا کر جو ہجوئیں ان کی کہی تھیں سب چاک کر ڈالیں۔ میر حسن نے بمقتضائے علو حوصلہ و سعادت مندی اسی وقت دیوان باپ کا گھر سے منگایا اور جو ہجوئیں ان کی تھیں وہ پھاڑ ڈالیں۔ لیکن چونکہ سودا کی تصنیف قلم سے نکلتے ہی بچہ بچہ کی زبان پر پھیل جاتی تھی، اس لئے سب قائم رہیں۔ ان کا کلام کہ اسی مجلد کے اندر تھا مفقود ہو گیا۔ سودا کے دیوان میں میر ضاحک مرحوم کی یہ ہجو جب دیکھتا تھا :

مصرعہ : یا رب یہ دعا مانگتا ہے تجھ سے سکندر

تو حیران ہوتا تھا کہ سکندر کا یہاں کیا کام؟ میر مہدی حسن فراغؔ کو خدا مغفرت کرے (میر مہدی حسن فراغؔ ایک کہن سال شخص سید انشاء کے خاندان سے تھے۔ میاں بیتاب کے شاگرد تھے۔ فارسی کی استعداد اچھی تھی اور اردو شعر بھی کہتے تھے اور رموز سخن کے ماہر تھے۔ ناسخ و آتش کے مشاعرے اچھی طرح دیکھے تھے اور عملائے لکھنؤ کی صحبتوں میں بیٹھے تھے۔ ان کے بزرگ اور وہ ہمیشہ سرکاروں میں داروغہ رہے تھے اس لئے قدیمی حالات اور خاندانی معاملات سے واقف تھے۔ بادشاہ بیگم یعنی نصیر الدین حیدر کی والدہ اور ثریا جاہ چندی گڈھ میں تھے۔ جب ھی یہ اور ان کے بھائی ان کے ہاں داروغہ تھے اور مرزا سکندر شکوہ کی سرکار میں بھی داروغہ رہے تھے، میاں بحر کے قدیمی دوست اور ہم مشق تھے۔) انھوں نے بیان کیا کہ ایک دن حسب معمول مرزا سلیمان شکوہ کے ہاں پائیں باغ میں تخت بچھے تھے، صاحب عالم خود مسند پر بیٹھے تھے، شرفاء و شعراء کا مجمع تھا۔ مرزا رفیع اور میاں سکندر مرثیہ گو بھی موجود تھے کہ مرزا صاحب تشریف لائے۔ ان کی پرانی وضع اور لباس پر کہ ان دنوں بھی انگشت نما تھی، صاحب عالم مسکرائے، میر صاحب آ کر بیٹھے، مزاج پرسی ہوئی۔ حقہ سامنے آیا۔ اتفاقاً صاحب عالم نے مرزا رفیع سے کہا کہ کچھ ارشاد فرمائیے (دونوں صاحبوں کے معاملات تو انھیں معلوم ہی تھے۔ خدا جانے چھیڑ منظور تھی (یا اتفاقاً زبان سے نکلا) سوداؔ نے کہا کہ میں نے تو ان دنوں میں کچھ کہا نہیں، میاں سکندر کی طرف اشارہ کیا کہ انھوں نے ایک مخمس کہا ہے، صاحب عالم نے فرمایا۔ کیا؟ سوداؔ  نے پہلا ہی بند پڑھا تھا کہ میر ضاحکؔ مرحوم اٹھ کر میاں سکندر سے دست و گریبان ہو گئے۔ سکندر بچارے حیران کہ نہ واسطہ نہ سبب، یہ کیا آفت آ گئی۔ سب اٹھ کھڑے ہوئے۔ دونوں صاحبان کو الگ کیا۔ اور سوداؔ کو دیکھیے تو کنارے کھڑے مسکرا رہے ہیں۔ (یہ شان نزول ہے اس مخمس کی)۔

ہر چند چاہا کہ ان کے جلسے اور باہمی گفتگوؤں کے لطائف و ظرائف معلوم ہوں۔ کچھ نہ ہو تو چند غزلیں ہی پوری مل جائیں، کوئی کوشش کارگر نہ ہوئی۔ جب ان کے چراغ خاندان سید خورشید علی نفیس شواع توجہ سے دریغ فرمائیں تو غیروں سے کیا امید ہو۔ انھوں نے آزاد خاکسار کو آب حیات کی رو سے شاداب نہ کیا۔

تشنہ بودم زدم تیغ جو آبم دادند

دز جواب لب لعل تو جوابم دادند

تاریخ وفات بھی نہ معلوم ہوئی۔ ممکن نہیں کہ با کمال صاحبزادہ نے تاریخ نہ کہی ہو مگر آزاد کو کون بتائے۔ صاحب تذکرہ گلزار ابراہیمی ۱۱۹۶ھ میں کہتے ہیں کہ فیض آباد میں ہیں اور دارستگی سے گزران کرتے ہیں۔

جس تذکرہ میں دیکھا ایک ہی شعر ان کا درج پایا :

کیا دیجئے اصلاح خدائی کو وگرنہ

کافی تھا ترا حُسن اگر ماہ نہ ہوتا

 

 

خواجہ میر دردؔ

 

 

درد تخلص خواجہ میر نام، زبان اُردو کے چار رکنوں میں سے ایک رکن (دیکھو صفحہ) یہ ہیں۔ سلسلہ مادری ان کا خواجہ بہاؤ الدین نقشبندی سے ملتا ہے۔ خواجہ محمد ناصر عندلیب تخلص ان کے باپ تھے۔ اور شاہ گلشن صاحب سے نسبت ارادت رکھتے تھے۔ خاندان ان کا دلی میں بباعث پیری و مریدی کے نہایت معزز اور معظم تھا۔ علوم رسمی سے آگاہ تھے۔ کئی مہینے دولت صاحب سے مثنوی کا درس حاصل کیا تھا۔ ملک کی بربادی، سلطنت کی تباہی آئے دن کی غارت و تاراج کے سبب سے اکثر امراء وہ شرفاء کے گھرانے شہر چھوڑ چھوڑ کر نکل گئے۔ ان کے پائے استقلال کو جنبش نہ آئی۔ اپنے اللہ پر توکل رکھا اور جو سجادہ بزرگوں نے بچھایا اسی پر بیٹھے رہے۔ جیسی نیت ویسی برکت۔ خدا نے بھی نباہ دیا۔ دیوان اُردو مختصر ہے۔ سوا غزلیات اور ترجیع بند اور رباعیوں کے اور کچھ نہیں۔ قصائد و مثنوی وغیرہ کہ عادت شعراء کی ہے انھوں نے نہیں لکھے۔ باوجود اس کے سوداؔ، میر  تقی کی کچھ غزلوں پر جا غزلیں لکھی ہیں، ہر گز ان سے کم نہیں۔ ایک مختصر دیوان غزلیات فارسی کا بھی ہے۔ تصنیف کا شوق ان کی طبیعت میں خداداد تھا۔ چنانچہ اول پندرہ برس کی عمر میں بحالت اعتکاف رسالہ اسرار الصلوٰٰۃ لکھا۔ اُنتیس برس کی عمر میں واردات درد نام ایک اردو رسالہ اور اس کی شرح میں علم الکتاب ایک بڑا نسخہ تحریر کیا کہ اس میں ایک سو گیارہ رسالے ہیں۔ نالہ درد، آہ سرد، درد دل، سوز دل، شمع محفل وغیرہ جنھیں شائق تصوف نظر عظمت سے دیکھتے ہیں۔ اور واقعات درد اور ایک رسالہ حرمتِ غنا میں ان سے یادگار ہے، چونکہ اس زمانے کے خاندانی خصوص اہل تصوف کو شاعری واجب تھی، اس واسطے ان کے والد بھی ایک دیوان مختصر مع اس کی شرح کے اور ایک رسالہ نالہ عندلیب موجود ہے۔ ان کے بھائی میاں سید محمد میر اثرؔ تخلص کرتے تھے، وہ بھی صاحب دیوان تھے۔ بلکہ ایک مثنوی خواب و خیال ان کی مشہور ہے اور بہت اچھی لکھی ہے، خواجہ میرؔ درد صاحب کی غزل سات (۷) شعر نو (۹) شعر کی ہوتی ہے۔ مگر انتخاب ہوتی ہے، خصوصاً چھوٹی بحروں میں جو اکثر غزلیں کہتے تھے۔ گویا تلواروں کی آب داری نشتر میں بھر دیتے تھے۔ خیالات ان کے سنجیدہ اور متین تھے۔ کسی کی ہجو سے زبان آلودہ نہیں ہوئی، تصوف جیسا انھوں نے کہا، اُردو میں آج تک کسی سے نہیں ہوا۔ میر صاحب نے انھیں آدھا شاعر شمار کیا ہے (دیکھو صفحہ)۔ ان کے عہد کی زبان سننی چاہو، تو دیوان کو دیکھ لو، جو میرؔ و مرزاؔ کی زبان ہے، وہی ان کی زبان ہے۔

زمانے کے کلام میں بموجب ان کے کلام میں بھی نتؔ یعنی ہمیشہ اور ٹکؔ یعنی ذرا تئیں بمعنی کو، اور یہاں تئیں یعنی یہاں تک اور مجھ ساتھ یعنی میرے ساتھ اور ایدھرؔ، کیدھرؔ، جیدھرؔ، نہیں بہ حذف ہ وغیرہ الفاظ موجود ہیں۔ چنانچہ اس دور کی تمہید میں میرؔ اور سوداؔ کے اشعار کے ساتھ کچھ اشعار ان کے بھی لکھے گئے ہیں۔ دو تین شعر نمونہ کے طور پر یہاں بھی لکھتا ہوں :

چلئے کہیں اس جاگہ کہ ہم تم ہوں اکیلے

گوشہ نہ ملے گا کوئی میدان ملے گا

جاگہ کے علاوہ اکثر جگہ کی کے اور ہے وغیرہ دب دب کر نکلتے ہیں :

ایک لحظہ اور بھی وہ اڑاتا چمن کا دید

فرصت نہ دی زمانہ نے نے اتنی شرار کو

اس سے اعتراض مقصود نہیں۔ وقت کی زبان یہی تھی۔ سید انشاء نے بھی لکھا ہے کہ خواجہ میر اثر مرحوم مثنوی میں ایک جگہ وسا بھی کہہ گئے ہیں اور بڑے بھائی صاحب تلوار کو نردار کہا کرتے تھے لیکن اس سے قطع نظر کر کے دیکھا جاتا ہے تو بعض الفاظ پر تعجب آتا ہے۔ چنانچہ خواجہ میر درد کی ایک پُر زور غزل کا مطلع ہے :

مدرسہ یا دیر تھا کعبہ یا بتخانہ تھا

ہم سبھی مہمان تھے تو آپھی صاحب خانہ تھا

گویا بُت خانہ کثرتِ استعمال کے سبب سے ایک لفظ تصور کیا کہ دیر کے حکم میں ہو گیا۔ ورنہ ظاہر کہ یہ قافیہ صحیح نہیں۔ اگلے وقتوں کے لوگ خوش اعتقاد بہت ہوتے تھے۔ اسی واسطے جو لوگ اللہ کے نام پر توکل کر کے بیٹھ رہتے تھے، اِن کی سب سے اچھی گزر جاتی تھی، یہی سبب ہے کہ خواجہ صاحب کو نوکری یا دلی سے باہر جانے کی ضرورت نہ ہوئی۔ دربار شاہی سے بزرگوں کی جاگیریں چلی آتی تھیں۔ امیر غریب خدمت کو سعادت سمجھتے تھے۔ یہ بے فکر بیٹھے اللہ اللہ کرتے تھے۔ شاہ عالم بادشاہ نے خود ان کے ہاں آنا چاہا۔ اور انھوں نے قبول نہ کیا۔ مگر ماہ بماہ ایک معمولی جلسہ اہل تصوف کا ہوتا تھا۔ اس میں بادشاہ بے اطلاع چلے آئے۔ اتفاقاً اس دن بادشاہ کے پاؤں میں درد تھا۔ اس لئے ذرا پاؤں پھیلا دیا۔ انھوں نے کہا، یہ فقیر کے آداب محفل کے خلاف ہے۔ بادشاہ نے عذر کیا کہ معاف کیجیے، عارضہ سے معذور ہوں۔ انھوں نے کہا کہ عارضہ تھا تو تکلیف کرنی کیا ضروری تھی۔

موسیقی میں اچھی مہارت تھی۔ بڑے بڑے با کمال گوئیے اپنی چیزیں بنظر اصلاح لا کر سنایا کرتے تھے۔ راگ ایک پُر تاثیر چیز ہے۔ فلاسفہ یونان اور حکمائے سلف نے اسے ایک شاخ ریاضی قرار دیا ہے۔ دل کو فرحت اور رُوح کو عروج دیتا ہے۔ اس واسطے اہلِ تصوف کے اکثر فرقوں نے اسے بھی عبادت میں شامل کیا ہے، چنانچہ معمول تھا، کہ ہر مہینے کی دوسری اور ۲۴ کو شہر کے بڑے بڑے کلاونت، ڈوم، گوئیے اور صاحب کمال اور اہل ذوق جمع ہوتے تھے اور معرفت کی چیزیں گاتے تھے۔ یہ دن ان کے کسی بزرگ کی وفات کے ہیں، محرم غم کا مہینہ ہے۔ اس میں ۲ کو بجائے گانے کے مرثیہ خوانی ہوتی تھی۔ مولوی شاہ عبد العزیز صاحب کا گھرانا اور یہ خاندان ایک محلہ میں رہتے تھے، ان کے والد مرحوم کے زمانہ میں شاہ صاحب عالم طفولیت میں تھے۔ ایک دن اس جلسہ میں چلے گئے اور خواجہ صاحب کے  پاس جا بیٹھے۔ ان کی مرید بہت سی کنچنیاں بھی تھیں اور چونکہ اس وقت رخصت ہوا چاہتی تھیں، اس لئے سب سامنے حاضر تھیں، باوجودیکہ مولوی صاحب اس وقت بچہ تھے، مگر ان کا تبسم اور طرزِ نظر کو دیکھ کر خواجہ صاحب اعتراض کو پا گئے۔ اور کہا کہ فقیر کے نزدیک تو یہ سب ماں بہنیں ہیں۔ مولوی صاحب نے کہا کہ ماں بہنوں کو عوام الناس میں کر بیٹھنا کیا مناسب ہے۔ خواجہ صاحب خاموش رہے۔

ان کے ہاں ایک صحبت خاص ہوتی تھی۔ اس میں خواجہ میر دردؔ صاحب نالہ عندلیبؔ یعنی اپنے والد کی تصنیفات اور اپنے کلام کچھ کچھ بیان کرتے تھے۔ ایک دن مرزا رفیع سے سر راہ ملاقات ہوئی۔ خواجہ صاحب نے تشریف لانے کے لئے فرمائش کی۔ مرزا نے کہا، صاحب مجھے یہ نہیں بھاتا کہ سو (۱۰۰) کوئے کائیں کائیں کریں اور بیچ میں ایک پدا بیٹھ کر چوں چُوں کرے۔ اُس زمانہ کے بزرگ ایسے صاحب کمالوں کی بات کا تحمل اور برداشت کرنا لازمہ بزرگی سمجھتے تھے۔ آپ مُسکرا کر چُپکے ہو رہے۔

مرزائے موصوف نے ایک قصیدہ نواب احمد علی خاں کی تعریف میں کہا ہے اور تمہید میں اکثر شعراء کا ذکر انھیں شوخیوں کے ساتھ کیا جو ان کے معمولی انداز ہیں۔ چنانچہ اسی ضمن میں کہتے ہیں :

دردؔ کس کس طرح بلاتے ہیں

کر کے آواز منحنی و حزیں

اور جو احمد ان کے سامع ہیں

دم بدم ان کو یوں کریں تحسیں

جیسے سُبحَان من پرانی پر

لڑکے مکتب کے سب کہیں آمین

کوئی پوچھے ذرا کہ عالم میں

فخر کس چیز کا ہے ان کے تئیں

شعر و تقطیع ان کے دیواں کی

جمع ہووے تو جیسے نقش نگیں

اس میں بھی دیکھئے تو آخر کار

یا توارد ہوا ہے یا تضمیں

اتنی کچھ شاعری یہ کرتے ہیں

میخ در۔۔۔۔۔۔ آسماں و زمیں

خیر یہ شاعرانہ شوخیاں ہیں، ورنہ عام عظمت اُن کی جو عالم پر چھائی ہوئی تھی، اس کے اثر سے سوداؔ کا دل بھی بے اثر نہ تھا۔ چنانچہ کہا ہے :

سودا بدل کے قافیہ تو اس غزل کا لکھ

اے بے ادب تو درد سے بس دوبدو نہ ہو

نقل : ایک شخص لکھنؤ سے دلی چلے، مرزا رفیع کے پاس گئے۔ اور کہا کہ دلی جاتا ہوں، کسی یار آشنا کو کچھ کہنا ہو تو کہہ دیجیے۔ مرزا بولے کہ بھائی میرا دلی میں کون ہے، ہاں خواجہ میر دردؔ کی طرف جا نکلو تو سلام کہہ دینا۔

ذرا خیال کر کے دیکھو مرزا رفیع جیسے شخص کو دلی بھر میں (دلی بھی اس زمانہ کی دلی) کوئی آدمی معلوم نہ ہوا، اِلا وہ کیا کیا جواہر تھے اور کیا کیا جوہری، سبحان اللہ۔ استاد نے کیا کیا موتی پروئے ہیں :

دکھلائے ہم نے آنکھ سے لے کر جو دُرِ اشک

قائل ہماری آنکھ کے سب جوہری ہوئے

خواجہ صاحب کا ایک شعر ہے : لطیفہ :

بیگانہ گر نظر پڑے تو آشنا کو دیکھ

بندہ گر آئے سامنے تو بھی خدا کو دیکھ

اِسی مضمون کا شعر فارسی کا ہے :

بسکہ در چشم و دلم ہر لحظہ اے یارم توئی

ہر کہ آید در نظر از دور پندارم توئی

جب یہ شعر شاعر نے جلسہ میں پڑھا تو مُلا شیدا ایک شوخ طبع، دہن دریدہ شاعر تھے، انھوں نے کہا کہ اگر سگ در نظر آید۔ شاعر نے کہا، پندارم توئی، مگر انصاف شرط ہے، خواجہ صاحب نے اپنے شعر میں اس پہلو کو خوب بچایا ہے۔

اے دردؔ یہ درد جی کا کھونا معلوم

جوں لالہ جگر سے داغ دھونا معلوم

گلزار جہاں ہزار پھُولے لیکن

میرے دل کا شگفتہ ہونا معلوم

شاہ حاتم کی رباعی بھی اسی مضمون میں لاجواب ہے۔

ان سیم بروں کے ساتھ سونا معلوم

قِسمت میں لکھی ہے خاک سونا معلوم

حاتم افسوس ولے و امروز گذشت

فردا کی رہی امید سونا معلوم

میر  تقی اور سوداؔ اور مرزا جانجاناں مظہرؔ ان کے ہمعصر تھے۔ قیام الدین قائم ان کا وہ شاگرد تھا جس پر اُستاد کو فخر کرنا چاہیے۔ اس کے علاوہ ہدایت اللہ خاں ہدایتؔ، ثناء اللہ خاں فراقؔ وغیرہ بھی نام شاگرد تھے۔

خواجہ صاحب ۲۴ صفر یوم جمعہ ۱۱۹۹؁ھ ۶۸ برس کی عمر میں شہر دہلی میں فوت ہوئے۔ کسی مرید با اعتقاد نے تاریخ کہی۔

مصرعہ : حیف دُنیا سے سدھارا وہ خدا کا محبُوب

 

 

غزلیات

جگ میں آ کر اِدھر اُدھر دیکھا

تو ہی آیا نظر جدھر دیکھا

جان سے ہو گئے بدن خالی

جس طرف تو نے آنکھ بھر دیکھا

نالہ فریاد آہ اور زاری

آپ سے ہو سکا سو، کر دیکھا

اُن لبوں نے نہ کی مسیحائی

ہم نے سو (۱۰۰) سو (۱۰۰) طرح سے مر دیکھا

زور عاشق مزاج ہے کوئی

دردؔ کو قصہ مختصر دیکھا

ہم نے کِس رات نالہ سر نہ کیا

پر اُسے آہ کچھ اثر نہ کیا

سب کے یاں تم ہوئے کرم فرما

اس طرف کو کبھی گذر نہ کیا

دیکھنے کو رہے ترستے ہم

نہ کیا رحم تو نے پر نہ کیا

تجھ سے ظالم کے پاس میں آیا

جان کا میں نے کچھ خطر نہ کیا

کیوں بھویں تانتے ہو بندہ نواز

سینہ کس وقت میں سپر نہ کیا

کتنے بندوں کو جان سے کھویا

کچھ خدا کا بھی تو نے ڈر نہ کیا

آپ سے ہم گذر گئے کب کے

کیا ہے ظاہر میں گو سفر نہ کیا

کون سا دل ہے جس میں خانہ خراب

خانہ آباد تو نے گھر نہ کیا

سب کے جوہر نظر میں آئے دردؔ

بے ہنر تو نے کچھ ہنر نہ کیا

*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*

قتل عاشق کسی معشوق سے کچھ دور نہ تھا

پر ترے عہد کے آگے تو یہ دستور نہ تھا

رات مجلس میں ترے حُسن کے شعلہ کے حضور

شمع کے منھ پہ جو دیکھا تو کہیں نُور نہ تھا

ذکر میرا ہی وہ کرتا تھا صریحاً لیکن

میں نے پوچھا تو کہا خیر یہ مذکور نہ تھا

باوجودیکہ پَر و بال نہ تھے آدم کے

وہاں پہنچا کہ فرشتے کا بھی مقدور نہ تھا

پرورش غم کی ترے یہاں تئیں تو کی دیکھا

کوئی بھی داغ تھا سینہ میں کہ ناسور نہ تھا

محتسب آج تو میخانہ میں تیرے ہاتھوں

دل نہ تھا کوئی کہ شیشہ کی طرح چور نہ تھا

دردؔ کے ملنے سے اے یار برا کیوں مانے

اس کو کچھ اور سوا دید کے منظور نہ تھا

*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*

جگ میں کوئی نہ ٹک ہنسا ہو گا

کہ نہ ہنسنے میں رو دیا ہو گا

اُس نے قصداً بھی میرے نالہ کو

نہ سُنا ہو گا، گر سُنا ہو گا

دیکھئے غم سے اب کے جی میرا

نہ بچے گا، بچے گا کیا ہو گا

دل زمانہ کے ہاتھ سے سالم

کوئی ہو گا کہ رہ گیا ہو گا

حال مجھ غمزدے کا جس تس نے

جب سُنا ہو گا رو دیا ہو گا

دل کے پھر زخم تازہ ہوتے ہیں

کہیں غنچہ کوئی کھِلا ہو گا

یک بیک نام لے اُٹھا میرا

جی میں کیا اُس کے آ گیا ہو گا

میرے نالوں پہ کوئی دنیا میں

بِن کئے آہ کم رہا ہو گا

لیکن اس کو اثر خدا جانے

نہ ہوا ہو گا، یا ہوا ہو گا

قتل سے میرے وہ جو باز رہا

کسی بدخواہ نے کہا ہو گا

دل بھی اے درد قطرہ خوں تھا

آنسوؤں میں کہیں گِرا ہو گا

*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*

مرا جی ہے جب تک تری جستجو ہے

زباں جب تلک ہے یہی گفتگو ہے

خدا جانے کیا ہو گا انجام اس کا

میں بے صبر اتنا ہوں وہ تند خو ہے

تمنا ہے تیری اگر ہے تمنا

تری آرزو ہے اگر آرزو ہے

کیا سیر سب ہم نے گلزار دُنیا

گل دوستی میں عجب رنگ و بُو ہے

کسو کو کسو طرح عزت ہے جگ میں

مجھے اپنے رونے سے ہی آبرو ہے

غنیمت ہے یہ دید وا دید یاراں

جہاں مُند ہو گئی آنکھ میں ہوں نہ تو ہے

نظر میرے دل کی پڑی دردؔ کس پر

جدھر دیکھتا ہوں وہی روبرو ہے

*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*

تہمتیں چند اپنے ذمے دھر چلے

جس لئے آئے تھے سو ہم کر چلے

زندگی ہے یا کوئی طوفان ہے

ہم تو اس جینے کے ہاتھوں مر چلے

کیا ہمیں کام ان گلوں سے اے صبا

ایک دم آئے اِدھر اُودھر چلے

دوستو دیکھا تماشا یاں کا بس

تم رہو اب ہم تو اپنے گھر چلے

آہ بس مت جی جلا تب جانئے

جب ترا افسوں کوئی اس پر چلے

شمع کی مانند ہم اس بزم میں

چشم تر آئے تھے دامن تر چلے

ڈھونڈھتے ہیں آپ سے اس کو پرے

شیخ صاحب چھوڑ گھر باہر چلے

ہم نہ جانے پائے باہر آپ سے

وہ ہی آڑے آ گیا جیدھر چلے

ہم جہاں میں آئے تھے تنہا ولے

ساتھ اپنے آپ اُسے لے کر چلے

جوں شرر ہے ہستی بے بود یاں

بارے ہم بھی اپنی باری بھر چلے

ساقیا یاں لگ رہا ہے چل چلاؤ

جب تلک بس چل سکے ساغر چلے

دردؔ کچھ معلوم ہے یہ لوگ سب

کس طرف سے آئے تھے کیدھر چلے

*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*

ہے غلط گماں گر گمان میں کچھ ہے

تجھ سِوا بھی جہان میں کچھ ہے

دل بھی تیرے ہی ڈھنگ سیکھا ہے

آن میں کچھ ہے آن میں کچھ ہے

بے خبر تیغ یار کہتی ہے

باقی اس نیم جان میں کچھ ہے

اس دنوں کچھ عجب ہے دل کا حال

دیکھا کچھ ہے دھیان میں کچھ ہے

دردؔ تو جو کرے ہے جی کا زیاں

فائدہ اس زیان میں کچھ ہے

*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*

گلیم بخت سیہ سایہ دار رکھتے ہیں

یہی بساط میں ہم خاکسار رکھتے ہیں

بسانِ کاغذ آتش زدہ مرے گلرو

ترے جلے بھُنے اور ہی بہار رکھتے ہیں

یہ کس نے ہم سے کیا وعدہ ہم آغوشی

کہ مثلِ بحر سرا سرکنار رکھتے ہیں

ہمیشہ فتح نصیبی ہمیں نصیب رہی

جو کچھ کہ اپچی ہے جی میں سو مار رکھتے ہیں

بلا ہے نشہ دُنیا کہ تا قیامت آہ

سب اہل قبر اسی کا خمار رکھتے ہیں

جہاں کے باغ سے ہم دل سوا نہ پھل پایا

فقط یہی ثمر داغ دار رکھتے ہیں

اگرچہ دختر زر کے ہے محتسب در پے

جو ہو، سو ہو پر اسے اب تو باز رکھتے ہیں

ہر ایک شعلہ غمِ عشق ہم سے روشن ہے

کہ بے قراری کو ہم برقرار رکھتے ہیں

ہمارے پاس ہے کیا جو کریں فدا تجھ پر

مگر یہ زندگی مستعار رکھتے ہیں

فلک سمجھ تو سہی ہم سے اور گلو گیری

یہ ایک جیب ہے سو تار تار رکھتے ہیں

بتوں کے جور اُٹھائے ہزارہا ہم نے

جو اس پہ بھی نہ ملیں اختیار رکھتے ہیں

بھری ہے آ کے جنھوں نے ہوائے آزادی

حباب دار کُلہ بھی اتار رکھتے ہیں

نہ برق ہیں، نہ شرر ہم نہ شعلہ نے سیماب

وہ کچھ ہیں پر، کہ سدا اضطرار رکھتے ہیں

جنھوں کے دل میں جگہ کی ہے نقش عبرت نے

سدا نظر میں وہ لوحِ مزار رکھتے ہیں

ہر ایک سنگ میں ہے شوخی بتاں پنہاں

خنک یہ سب ہیں پہ دل میں شرار رکھتے ہیں

وہ زندگی کی طرح ایک دم نہیں رہتا

اگرچہ دردؔ اُسے ہم ہزار رکھتے ہیں

*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*

ہر ایک سنگ میں ہے شوخی بُتاں پنہاں

خنک یہ سب ہیں پہ دل میں شرار رکھتے ہیں

وہ زندگی کی طرح ایک دم نہیں رہتا

اگرچہ دردؔ اُسے ہم ہزار رکھتے ہیں

*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*

پیدا کرے ہر چند تقدس بندہ

مشکل ہے کہ حرص سے ہو دل برکندہ

جنت میں بھی اکل و شرب سے نہیں (*) ہے نجات

دوزخ کا بہشت میں بھی ہو گا دھندہ

(*) رباعی کے تیسرے مصرع میں نہیں دب کر نکلتا ہے۔ اس عہد کے شعراء کا عام محاورہ ہے۔

*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*

 

 

سید محمد میر سوزؔ

سوز تخلص، سید محمد میر نام، وہی شخص ہیں جنھیں میر  تقی (دیکھو صفحہ ، میر صاحب ملک سخن کے بادشاہ تھے۔ جن لفظوں میں چاہا کہہ دیا۔ مگر بات ٹھی ہے، دیوان دیکھ لو، وہی باتیں ہیں، باقی خیر و عافیت۔) نے پاؤ شاعر مانا ہے۔ پُرانی دلی میں قراول پورہ ایک محلہ تھا، وہاں رہتے تھے۔ مگر اصلی وطن بزرگوں کا بخارا تھا۔ باپ ان کے سید ضیاء الدین بہت بزرگ شخص تھے۔ تیر اندازی میں صاحب کمال مشہور تھے اور حضرت قطب عالم گجرأتی کی اولاد میں تھے۔ سوز مرحوم پہلے میرؔ تخلص کرتے تھے۔ جب میر تقی میر کے تخلص سے عالمگیر ہوئے تو انھوں نے سوز اختیار کیا۔ چنانچہ ایک شعر میں دونوں تخلصوں کا اشارہ کرتے ہیں۔

کہتے تھے پہلے میر میر تب نہ ہوئے ہزار حیف

اب جو کہے ہیں سوز سوز یعنی سدا جلا کرو

جو کچھ حال ان کا بزرگوں سے سُنا یا تذکروں میں دیکھا۔ اس کی تصدیق ان کا کلام کرتا ہے یعنی معلوم ہوتا ہے کہ ان کی طبع موزوں کے آئینہ کو جس طرح فصاحت نے صفائی سے جلا کی تھی اسی طرح ظرافت اور خوش طبعی نے اس میں جوہر پیدا کیا تھا۔ ساتھ اس کے جس قدر نیکی و نیک ذاتی نے عزت دی تھی اس سے زیادہ وسعتِ اخلاق اور شیریں کلامی نے ہردلعزیز کیا تھا اور خاکساری کے سب جوہروں کو زیادہ تر چمکا دیا تھا۔ آزادگی کے ساتھ وضعداری بھی ضرور تھی جس کا نتیجہ یہ تھا کہ باوجود مفلسی کے ہمیشہ مسندِ عزت پر صاحب تمکین اور امراء اور روساء کے پہلو نشین رہے اور اسی میں معیشت کا گذارہ تھا۔

شاہ عالم کے زمانہ میں جب اہل دہلی کی تباہی حد سے گذر گئی تو ۱۱۹۱ھ میں لباس فقیری اختیار کیا اور لکھنؤ چلے گئے۔ مگر وہاں سے ۱۲۱۲ھ میں ناکام مرشد آباد گئے۔ یہاں بھی نصیب نے یاوری نہ کی۔ پھر لکھنؤ میں آئے۔ اب قسمت رجوع ہوئی۔ اور نواب آصف الدولہ ان کے شاگرد ہوئے۔ چند روز آرام سے گذرے تھے کہ خود دُنیا سے گذر گئے۔ نواب کی غزلوں کو انہیں کا انداز ہے۔

صاحب تذکرہ گلزار ابراہیمی لکھتے ہیں۔ اب کہ ۱۱۹۶ھ میں میر موصوف لکھنؤ میں ہیں۔ اب تک ان سید والا تبار سے راقم آثم کی ملاقات نہیں ہوئی مگر اسی برس میں کچھ اپنے شعر اور چند فقرے نثر کے اس خاکسار کو بھیجے ہیں۔ میر سوز شخصے ست کہ ہیچکس را از حلاوتے جز سکوت و اکراہ حاصل نہ شود ایں نیز قدرت کمال الٰہی ست کہ ہریکے بلکہ خار و خسے نیست کہ بکار چند بیاید س۔ اگر منکرے سوال کند کہ ناکارہ محض بیفتا داست۔ ج۔۔۔ اینست کہ نامش سوختنی ست (دو تذکروں میں اس عبارت کو مطابق کیا۔ کوئی نسخہ مطلب خیز نہ نکلا۔ اس لئے جو کچھ ملا، سیدؔ موصوف کا تبرک سمجھ کر غنیمت جانا۔)خط شفیعا اور نستعلیق خوب لکھتے تھے۔ ممالک ایران و خراساں وغیرہ میں قاعدہ ہے کہ جب شرفاء ضروریات سے فارغ ہوتے ہیں تو ہم لوگوں کی طرح خالی نہیں بیٹھتے۔ مشق خط کیا کرتے ہیں، اسی واسطے علی العموم اکثر خوش نویس  ہوتے ہیں۔ پہلے یہاں بھی دستور تھا۔ اب خوشنویسی تو بالائے طاق بد نویسی پر بھی حرف آتا ہے۔

میر موصوف سواری میں شہسوار اور فنون سپہ گری میں ماہر خصوصاً تیر اندازی میں قد انداز تھے۔ ورزش کرتے تھے اور طاقت خدا داد بھی اس قدر تھی کہ ہر ایک شخص ان کی کمان کو چڑھا نہ سکتا تھا۔ غرض ۱۲۱۳ھ میں شہر لکھنو میں ۷۰ برس کی عمر میں فوت ہوئے۔ ان کے بیٹے شاعر تھے اور باپ کے تخلص کی رعایت سے داغؔ تخلص کرتے تھے۔ جوانی میں اپنے مرنے کا داغ دیا۔ اور اس سے زیادہ افسوس یہ کہ کوئی غزل ان کی دستیاب نہ ہوئی۔

خود حسین بھے اور حسینوں کے دیکھنے والے تھے۔ آخر غمِ فراق میں جان دی۔ میر سوزؔ مرحوم کی زبان عجیب میٹھی زبان ہے اور حقیقت میں غزل کی جان ہے۔ چنانچہ غزلیں خود ہی کہے دیتی ہیں۔ ان کی انشاء پردازی کا حُسن، تکلف اور صناع مصنوعی سے بالکل پاک ہے۔ اس خوش نمائی کی ایسی مثال ہے جیسے ایک گلاب کا پھول ہری بھری ٹہنی پر کٹورا سا دھرا ہے اور سر سبز پتیوں میں اپنا اصلی جوبن دکھا رہا ہے۔ جن اہل نظر کو خدا نے نظر باز آنکھیں دی ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ ایک حُسنِ خدا داد کے سامنے ہزاروں بناوٹ کے بناؤ سنگار کر کے قربان ہوا کرتے ہیں، البتہ غزل میں دو تین شعر کے بعد ایک آدھ پرانا لفظ ضرور کھٹک جاتا ہے۔ خیر اس سے قطع نظر کرنی چاہیے۔

مصرعہ : فکر معقول بفرماگلِ بے خارکجاست

غزل – لغت میں عورتوں سے باتیں چیتیں ہیں، اور اصطلاح میں یہ ہے کہ عاشق اپنے معشوق کے ہجر یا وصل کے خیالات کو وسعت دے کر اس کے بیان سے دل کے ارمان یا غم کا بخار نکالے اور زبان بھی وہ ہو کہ گویا دونوں آمنے سامنے بیٹھے باتیں کر رہے ہیں۔ بس وہ کلام ان کا ہے۔ معشوق کو بجائے جانا کے فقط جان یا میاں یا میاں جان کہہ کر خطاب کرنا ان کا خاص محاورہ ہے۔

مجالس رنگین کی بعض مجلسوں سے اور ہمارے عہد سے پہلے کے تذکروں سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کا کلام صفائی محاورہ اور لطف زبان کے باب میں ہمیشہ سے ضرب المثل ہے۔ ان کے شعر ایسے معلوم ہوتے ہیں۔ جیسے کوئی چاہنے والا اپنے چاہیتے عزیز سے باتیں کر رہا ہے۔ وہ اپنی محبت کی باتوں کو اس طرح باندھتے تھے کہ شعر کی موزونیت کے لئے لفظوں کا آگے پیچھے کرنا بھی گوارا نہ سمجھتے تھے۔ میر  تقی کہیں کہیں اُن کے قریب قریب آ جاتے ہیں۔ پھر بھی بہت فرق ہے، وہ بھی محاورہ خوب باندھتے تھے۔ مگر فارسی کو بہت نباہتے تھے۔ اور مضامین بلند لاتے تھے۔ سوداؔ بہت دور ہیں کیونکہ مضامین کو تشبیہ و استعارے کے رنگ میں غوطے دے کر محاورہ میں ترکیب دیتے تھے اور اپنے زور شاعری سے لفظوں کو پس و پیش کر کے اس بندوبست کے ساتھ جڑتے تھے کہ لطف اس کا دیکھے ہی سے معلوم ہوتا ہے۔

میر سوزؔ جیسے سیدھے سیدھے مضمون باندھتے تھے ویسے ہی آسان آسان طرحیں بھی لیتے تھے بلکہ اکثر ردیف چھوڑ کر قافیہ ہی پر اکتفا کرتے تھے۔ ان کے شعر کا قوام فقط محاورہ کی چاشنی پر ہے۔ اضافت تشبیہ، استعارہ فارسی ترکیبیں ان کے کلام میں بہت کم ہیں۔ ان لحاظوں سے انھیں گویا اردو غزل کا شیخ سعدی کہنا چاہیے۔ اگر اس انداز پر زبان رہتی یعنی فارسی کے رنگین خیال اس میں داخل نہ ہوتے اور قوت بیانی کا مادہ اس میں زیادہ ہوتا تو آج ہمیں اس قدر دشواری نہ ہوتی۔ اب دوہری مشکلیں ہیں۔ اول یہ کہ رنگین استعارات اور مبالغہ کے خیالات گویا مثل تکیہ کلام کے زبانوں پر چڑھ گئے ہیں، یہ عادت چھڑانی چاہیے۔ پھر اس میں نئے انداز اور سادہ خیالات کو داخل کرنا چاہیے۔ کیوں کہ سالہا سال سے کہتے کہتے اور سنتے سنتے کہنے والوں کی زبان اور سننے والوں کے کان اس کے انداز سے ایسے آشنا ہو گئے ہیں کہ نہ سادگی میں لطف زبان کا حق ادا ہو سکتا ہے اور نہ سننے والوں کو مزا دیتا ہے۔

زیادہ تر سوداؔ اور کچھ میرؔ نے اس طریقہ کو بدل کر استعاروں کو ہندی محاوروں کے ساتھ ملا کر ریختہ متین بنایا۔ اگر میرؔ و سودا اور ان کی زبان میں فرق بیان کرنا ہو تو یہ کہہ دو کہ بہ نسبت عہد سودا کے دیوان میں اردو کا نوجوان چند سال چھوٹا ہے، اور یہ امر بہ اعتبار مضمون اور کیا بلحاظ محاورہ قدیم ہر امر میں خیال کر لو، چنانچہ کو، کہ علامت مفعول ہے لہو اور کبھو کا قافیہ بھی باندھ جاتے تھے۔ انھوں نے سوائے غزل کے اور کچھ نہیں کہا اور اس وقت تک اُردو کی شاعری کی اتنی ہی بساط تھی۔ ۱۲ سطر کے صفحہ سے ۳۰۰ صفحہ کا کل دیوان ہے۔ اس میں سے ۳۸۸ صفحہ غزلیات، ۱۲ صفحہ مثنوی، رباعی مخمس، باقی والسلام۔ آغاز مثنوی کا یہ شعر ہے :

دعوے ٰ بڑا ہے سوزؔ کو اپنے کلام کا

جو غور کیجیے تو ہے کوڑی کے کام کا

نقل – ایک دن سوداؔ کے ہاں میر سوزؔ تشریف لائے۔ ان دنوں میں شیخ علی حزیںؔ کی غزل کا چرچا تھا۔ جس کا مطلع یہ ہے :

مے گرفتیم بجا ناں سرِ راہے گاہے

اوہم از لطف نہاں داشت نگاہے گاہے

میر سوزؔ مرحوم نے اپنا مطلع پڑھا :

نہیں نکسے ہے مرے دل کی اپاہے گاہے

اے فلک بہرِ خدا رخصت آہے گاہے

مرزا سُن کر بولے کہ میر صاحب بچپن میں ہمارے ہاں پشور کی ڈومنیاں آیا کرتی تھیں، یا تو جب یہ لفظ سُنا تھا یا آج سُنا۔ میر سوزؔ بچارے ہنس کر چُپکے ہو رہے پھر مرزا نے خود اسی وقت مطلع کہہ کر پڑھا :

نہیں جوں گل ہوسِ ابر سیا ہے گاہے

کاہ ہوں خشک میں اے برق نگاہے گاہے

میاں جرأت کی ان دنوں میں ابتدا تھی، خود جرأتؔ نہ کر سکے۔ ایک اور شخص نے کہا کہ حضرت! یہ بھی عرض کیا چاہتے ہیں۔ مرزا نے کہا، کیوں بھئی کیا؟ جرأتؔ نے پڑھا :

سرسری ان سے ملاقات ہے گاہے گاہے

صحبت غیر میں گاہے سرِ راہے گاہے

سب نے تعریف کی اور مرزائے موصوف نے بھی تحسین و آفریں کے ساتھ پسند کیا۔ اسی پر ایک اور مطلع یاد آیا ہے۔ چاہے ظفرؔ کا کہو چاہے ذوقؔ کا سمجھو :

اس طرف بھی تمھیں لازم ہے نگاہے نگاہے

دم بدم لحظہ بہ لحظہ نہیں گاہے گاہے

نقل – کسی شخص نے اُس سے آ کر کہا کہ حضرت ایک شخص آپ کے تخلص پر آج ہنستے تھے۔ اور کہتے تھے کہ سوز گوز کیا تخلص رکھا ہے۔ ہمیں پسند نہیں۔ انھوں نے کہنے والے کا نام پوچھا۔ اس نے بعد بہت سے انکار اور اصرار کے بتایا۔ معلوم ہوا کہ شخص موصوف بھی مشاعرہ میں ہمیشہ آتے ہیں۔ میر سوزؔ مرحوم نے کہا، خیر کوئی مضائقہ نہیں۔ اب کے صحبت کے مشاعرہ میں تم مجھ سے برسر جلسہ یہی سوال کرنا۔ چنانچہ انھوں نے ایسا ہی کیا اور بآواز بلند پوچھا، حضرت آپ کا تخلص کیا ہے ؟ انھوں نے فرمایا کہ صاحب قبلہ فقیر نے تخلص تو میر کیا تھا۔ مگر میر  تقی صاحب نے پسند فرمایا۔ فقیر نے خیال کیا کہ ان کے کمال کے سامنے میرا نام نہ روشن ہو سکے گا۔ ناچار سوزؔ تخلص کیا، (شخص مذکور کی طرف اشارہ کر کے کہا)، سنتا ہوں یہ صاحب گوز کرتے ہیں۔ مشاعرہ میں عجیب قہقہہ اڑا۔ لکھنؤ میں ہزاروں آدمی مشاعرہ میں جمع ہوتے تھے، سب کے کان تک آواز نہ گئی تھی، کئی کئی دفعہ کہلوا کر سُنا۔ ادھر شخص موصوف اُدھر میر  تقی صاحب، دونوں چپ بیٹھے سُنا کئے۔

انھوں نے علاوہ شاعری کے شعر خوانی کا ایسا طریقہ ایجاد کیا تھا کہ جس سے کلام کا لطف دوچند ہو جاتا تھا، شعر کو اس طرح ادا کرتے تھے کہ خود مضمون کی صورت بن جاتے تھے۔ اور لوگ بھی نقل اتارتے تھے۔ مگر وہ بات کہاں، آواز درد ناک تھی۔ شعر نہایت نرمی اور سوز و گداز سے پڑھتے تھے، اور اس میں اعضاء سے بھی مدد لیتے تھے۔ مثلاً شمع کا مضمون باندھتے تو پڑھتے وقت ایک ہاتھ سے شمع اور دوسرے کی اوٹ سے وہیں فانوس تیار کر کے بتاتے۔ بے دماغی یا ناراضی کا مضمون ہوتا تو خود بھی تیوری چڑھا کر وہیں بگڑ جاتے اور تم بھی خیال کر کے دیکھ لو، ان کے اشعار اپنے پڑھنے کے لئے ضرور حرکات و انداز کے طالب ہیں۔ چنانچہ یہ قطعہ بھی ایک خاص موقعہ پر ہوا تھا، اور عجیب انداز سے پڑھا گیا :

گئے گھر سے جو ہم اپنے سویرے

سلام اللہ خاں صاب کے ڈیرے

وہاں دیکھے کئے طفلِ پری رو

ارے رے رے ارے رے رے ارے رے

چوتھا مصرع پڑھتے پڑھتے وہیں زمین پر گر پڑے۔ گویا پریزادوں کو دیکھتے ہی دل بے قابو ہو گیا اور ایسے ہی نڈھال ہوئے کہ ارے رے رے کہتے کہتے غش کھا کر بے ہوش ہو گئے۔

ایک غزل میں قطعہ اس انداز سے سنایا تھا کہ سارے مشاعرہ کے لوگ گھبرا کر اٹھ کھڑے ہوئے تھے :

او مارِ سیاہ زلف سچ کہہ

بتلا دے دل جہاں چھُپا ہو

کنڈلی تلے دیکھیو نہ ہووے

کاٹا  نہ ہفی؟ ترا بُرا ہو

پہلے مصرع پر ڈرتے ڈرتے، بچ کر جھکے، گویا کنڈلی تلے دیکھنے کو جھکے ہیں، اور جس وقت کہا، کاٹا نہ ہفی۔ بس دفعتہً ہاتھ کو چھاتی تلے مسوس کر، ایسے بے اختیار لوٹ گئے کہ لوگ گھبرا کر سنبھالنے کو کھڑے ہو گئے۔ (صحیح افعی ہے۔ محاورہ  میں ہفی کہتے ہیں )۔

نوازش ان کے شاگرد کا نام ہم لڑکپن میں سُنا کرتے تھے اور کچھ کہتے تھے تو وہی اس انداز میں کہتے تھے۔ مرزا رجب علی سرور صاحب فسانہ عجائب ان کے شاگرد تھے۔

مطلع سرِ دیوان

سرِ دیوان پر اپنے جو بسم اللہ میں لکھتا

بجائے مدِ بسم اللہ مدِ آہ میں لکھتا

محو کو تیرے نہیں ہے کچھ خیال خوب و زشت

ایک ہے اس کو ہوائے دوزخ و باغ بہشت

حاجیو! طوفِ دل مستاں کرو تو کچھ ملے

ورنہ کعبہ میں دھرا کیا ہے بغیر از سنگ و خشت

ناصحا گر یار ہے ہم سے خفا تو تجھ کو کیا

چین پیشانی ہی ہے اس کی ہماری سرنوشت

سوزؔ نے دامن جو ہیں پکڑا تو وہیں چھین کر

کہنے لاگا، ان دنوں کچھ زور چل نکلا ہے ہشت

*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*

بھل رہے عشق تیری شوکت و شان

بھائی میرے تو اڑ گئے اوسان

ایک ڈر تھا کہ جی بچے نہ بچے

دوسرے غم نے کھائی میری جان

بس غم یار ایک دن دو دن

اس سے زیادہ نہ ہو جیو مہمان

نہ کہ بیٹھے ہو پاؤں پھیلا کر

اپنے گھر جاؤ خانہ آبادان

عارضی حُسن پر نہ ہو مغرور

میرے پیارے یہ گو ہے یہ میداں

پھرے ہے زلف و خال زیر زلف

چار دن تو بھی کھیل لے چوگاں

اور تو اور کہہ کے دو (۲) باتیں

سوز کہلایا صاحب دیوان

*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*

مرا جان جاتا ہے یارو بچا لو

کلیجہ میں کانٹا گڑا ہے نکالو

نہ بھائی، مجھے زندگانی نہ بھائی

مجھے مار ڈالو، مجھے مار ڈالو

خدا کے لئے میرے وے ہم نشینو

وہ بانکا جو جاتا ہے اس کو بلا لو

اگر وہ خفا ہو کے کچھ گالیاں دے

تو دم کھا رہو کچھ نہ بولو نہ چالو

نہ آوے اگر وہ امھارے کہے سے

تو منت کرو دھیرے دھیرے منا لو

کہو ایک بندہ تمھارا مرے ہے

اسے جان کندن سے چل کر بچا لو

جلوں کی بُری آہ ہوتی ہے پیارے

تم اس سوز کی اپنے حق میں دعا لو

*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*

ہواؤں کو میں کہتا کہتا دِوانا

پر اس بے خبر نے کہا کچھ نہ مانا

کوئی دم تو بیٹھے رہو پاس میرے

میاں میں بھی چلتا ہوں ٹک رہ کے جانا

مجھے تو تمھاری خوشی چاہیئے ہے

تمھیں گو ہو منظور میرا کڑھانا

گیا ایک دن اس کے کوچے میں ناگاہ

لگا کہنے چل بھاگ رے پھر نہ آنا

کہاں ڈھونڈوں ہے ہے کدھر جاؤں یا رب

کہیں جاں کا پاتا نہیں ہوں ٹھکانا

*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*

کہوں کس سے حکایت آشنا کی

سنو صاحب یہ باتیں ہیں خدا کی

دُعا دی تو لگا کہنے کہ در ہو

سُنی میں نے دُعا تیری دعا کی

کہا میں نے کہ کچھ خاطر میں ہو گا

تمھارے ساتھ جو میں نے وفا کی

گریباں میں ذرا منھ ڈال دیکھیو

کہ تم نے اس وفا پر ہم سے کیا کی

تو کہتا ہے کہ بس بس چونچ کر بند

وفا لایا ہے، دت تیری وفا کی

عدم سے زندگی لائی تھی بہلا

کہ دنیا جائے ہے اچھی فضا کی

جنازہ دیکھتے ہی سُن ہوا دل

کہ ہے ظالم! دغا کی رے دغا کی

تجھے اے سوزؔ کیا مشکل بنی ہے

جو ڈھونڈھے ہے سفارش اغنیا کی

کوئی مشکل نہیں رہتی ہے مشکل

محبت ہے اگر مشکل کُشا کی

*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*

دل کے ہاتھوں بہت خراب ہوا

جل گیا مل گیا کباب ہوا

اشک آنکھوں سے پل نہیں تھمتا

کیا بلا دل ہے دل میں آب ہوا

جن کو نت دیکھتے تھے اب ان کو

دیکھنا بھی خیال و خواب ہوا

یار اغیار ہو گیا ہیہات

کیا زمانے کا انقلاب ہوا

سارا دیوانِ زندگی دیکھا

ایک مصرعہ نہ انتخاب ہوا

سوزؔ بے ہوش گیا جب سے

تیری صحبت سے باریاب ہوا

*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*

عاشق ہوا، اسیر ہوا مبتلا ہوا

کیا جانئے کہ دیکھتے ہی دل کو کیا ہوا

سر مشق ظلم تو نے کیا مجھ کو واہ واہ

تقصیر یہ ہوئی کہ ترا آشنا ہوا

دل تھا بساط میں سو کوئی اس کو لے گیا

اب کیا کروں گا اے میرے اللہ کیا  ہوا

پاتا نہیں سراغ کروں کس طرف تلاش

دیوانہ دل کدھر کو گیا آہ کیا ہوا

سنتے ہی سوز کی خبر مرگ خوش ہوا

کہنے لگا کہ پنڈ تو چھوٹا بھلا ہوا

*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*

آج اس راہ سے دل رُبا گذرا

جی پہ کیا جانیے کہ کیا گذرا

آہ ظالم نے کچھ نہ مانی بات

میں تو اپنا  سا جی چلا گذرا

اب تو آیا ز بس خدا کو مان

پچھلا شکوہ تھا سو گیا گذرا

رات کو نیند ہے نہ دن کو چین

ایسے جینے سے اے خدا گذرا

سوزؔ کے قتل پر کمر مت باندھ

ایسا جانا ہے کیا گیا گذرا

*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*

یار گر صاحبِ وفا ہوتا

کیوں میاں جان! کیا مزا ہوتا

ضبط سے میرے تھم رہا ہے سر شک

ورنہ اب تک تو بہہ گیا ہوتا

جان کے کیا کروں بیان احسان

یہ نہ ہوتا تو مر گیا ہوتا

روٹھنا تب تجھے مناسب تھا

جو تجھے میں نے کچھ کہا ہوتا

ہاں میاں ! جانتا تو میری قدر

جو کہیں تیرا دل لگا ہوتا

*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*

بلبل کہیں نہ جائیو زنہار دیکھنا

اپنے ہی من میں پھولے گی گلزار دیکھنا

نازک ہے دل نہ ٹھیس لگانا اسے کہیں

غم سے بھرا ہے اے مرے غمخوار دیکھنا

شکوہ عبث ہے یار کے جوروں کا ہر گھڑی

غیروں کے ساتھ شوق سے دیدار دیکھنا

سوداؔ کی بات بھول گئی سُوز تجھ کو حیف

جو کچھ خدا دکھا دے سو لاچار دیکھنا

کچھ کہا تو قاصد آتا ہے وہ ماہ

اَلحَمدُ للہ اَلحَمدُ للہ

جھوٹے کے منہ میں آگے کہوں کیا

استغفر اللہ استغفر اللہ

یار آتا ہے ترے یار کی ایسی تیسی

آزماتا ہے ترے پیار کی ایسی تیسی

*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*

 

میر محمد تقی میرؔ

میر تخلص محمد تقی نام خلف میر عبد اللہ شرفائے اکبر آباد سے تھے۔ سراج الدین علی خاں آرزو، زبان فارسی کے معتبر مصنف اور مسلم الثبوت محقق ہندوستان میں تھے۔ گلزار ابراہیمی میں لکھا ہے کہ “میر صاحب کا ان سے دور کا رشتہ تھا اور تربیت کی نظر پائی تھی۔ عوام میں ان کے بھانجے مشہور ہیں۔ درحقیقت بیٹے میر عبد اللہ کے تھے۔ مگر ان کی پہلی بیوی سے تھے۔ وہ مر گئیں تو خان آرزو کی ہمشیرہ سے شادی کی تھی۔ اس لئے سوتیلے بھانجے ہوئے۔ میر صاحب کو ابتدا سے شعر کا شوق تھا، باپ کے مرنے کے بعد دلی میں آئے اور خان آرزو کے پاس انھوں نے اور ان کی شاعری نے پرورش پائی۔ مگر خان صاحب حنفی مذہب تھے اور میر صاحب شیعہ، اس پر نازک مزاجی غضب کی۔ غرض کسی مسئلہ پر بگڑ کر الگ ہو گئے۔ بد نظر زمانہ کا دستور ہے کہ جب کسی نیک نام کے دامن شہرت کو ہوا میں اڑتے دیکھتا ہے تو ایک داغ لگا دیتا ہے۔ چنانچہ تذکرہ شورش میں لکھا ہے کہ خطاب سیادت انھیں شاعری کی درگاہ سے عطا ہوا ہے۔ کہن سال بزرگوں سے یہ بھی سُنا ہے کہ جب انھوں نے میر تخلص کیا تو ان کے والد نے منع کیا کہ ایسا نہ کرو۔ ایک دن خواہ مخواہ سید ہو جاؤ گے۔ اس وقت انھوں نے خیال نہ کیا۔ رفتہ رفتہ ہو ہی گئے۔ سوداؔ کا ایک قطعہ بھی سن رسیدہ لوگوں سے سُنا ہے۔ مگر کلیات میں نہیں۔ شاید اس میں بھی یہی اشارہ ہو :

بیٹھے تنور طبع کو جب گرم کر کے میرؔ

کچھ شیر مال سامنے کچھ نان کچھ پنیر

اخیر میں کہتے ہیں :

میری کے اب تو سارے مصالح ہیں مستور

بٹیا تو گندنا بنے اور آپ کو تھ میرؔ

پھر بھی اتنا کہنا واجب سمجھتا ہوں کہ ان کی مسکینی و غربت اور صبر و قناعت تقوی و طہارت محضر بنا کر ادائے شہادت کرتے ہیں کہ سیادت میں شبہ نہ کرنا چاہیے۔ اور زمانہ کا کیا ہے۔ کس کس کو کیا نہیں کہتا۔ اگر وہ سید نہ ہوتے تو خود کیوں کہتے :

پھرتے ہیں میر خوار کوئی پوچھتا نہیں

اس عاشقی میں عزتِ سادات بھی گئی

غرض ہر چند کہ تخلص ان کا میر تھا۔ مگر گنجفہ سخن کی بازی میں آفتاب ہو کر چمکے۔ قدردانی نے ان کے کلام کو جوہر اور موتیوں کی نگاہوں سے دیکھا اور ناک کو پھولوں کی مہک بنا کر اڑایا۔ ہندوستان میں یہ بات انہی کو نصیب ہوئی ہے کہ مسافر غزلوں کو تحفہ کے طور پر شہر سے شہر کے جاتے تھے۔ یہ بھی ظاہر ہے کہ نحوست اور فلاکت قدیم سے ابن کمال کے سر پر سایہ کئے ہیں۔ ساتھ اس کے میر صاحب کی بلند نظری اس غضب کی تھی کہ دُنیا کی کوئی بڑائی اور کسی کا کمال یا بزرگی انھیں بڑی دکھائی نہ دیتی تھی۔ اس قباحت نے نازک مزاج بنا کر ہمیشہ دنیا کی راحت اور فارغ البالی سے محروم رکھا، اور وہ وضعداری اور قناعت کے دھوکے میں اسے فخر سمجھتے رہے۔ یہ الفاظ گستاخانہ جو زبان سے نکلے ہیں، راقم رُو سیاہ ان کی روح پاک سے عفو قصور چاہتا ہے، لیکن خدا گواہ ہے کہ جو کچھ لکھا گیا فقط اس لئے ہے کہ جن لوگوں کو دنیا میں گذارہ کرنا ہے وہ دیکھیں کہ ایک صاحب جوہر کا جوہر یہ باتیں کیوں کر خاک میں ملا دیتی ہیں، چنانچہ انہی کے حالات و مقالات اس بیان کا ثبوت پیش کرتے ہیں۔ اگرچہ دلی میں شاہ عالم کا دربار اور امراء و شرفاء  کی محفلوں میں ادب ہر وقت ان کے لئے جگہ خالی کرتا تھا، اور ان کے جوہر کمال اور نیکی اطوار و اعمال کے سبب سے سب عظمت کرتے تھے۔ مگر خالی آدابوں سے خاندان تو نہیں پل سکتے، اور وہاں تو خود خزانہ سلطنت خالی پڑا تھا۔ اس لئے ۱۱۹۰؁ء میں دلی چھوڑنی پڑی۔

جب لکھنؤ چلے تو ساری گاڑی کا کرایہ بھی پاس نہ تھا۔ ناچار ایک شخص کے ساتھ شریک ہو گئے تو دلی کو خدا حافظ کہا، تھوڑی دور آگے چل کر اس شخص نے کچھ بات کی، یہ اس کی طرف سے منھ پھیر کر ہو بیٹھے، کچھ دیر کے بعد پھر اس نے بات کی، میر صاحب چیں بہ چیں ہو کر بولے کہ صاحب قبلہ آپ نے کرایہ دیا ہے، بیشک گاڑی میں بیٹھے، مگر باتوں سے کیا تعلق؟ اس نے کہا، حضرت کیا مضائقہ ہے، راہ کا شغل ہے باتوں میں ذرا جی بہلتا ہے۔ میر صاحب بگڑ کر بولے۔ کہ خیر آپ کا شغل ہے، میری زبان خراب ہوتی ہے۔

لکھنؤ میں پہنچ کر جیسا مسافروں کا دستور ہے ایک سرا میں اترے۔ معلوم ہوا کہ آج یہاں ایک جگہ مشاعرہ ہے۔ رہ نہ سکے، اسی وقت غزل لکھی اور مشاعرہ میں جا کر شامل ہوئے۔ ان کی وضع قدیمانہ، کھڑکی دار پگڑی، پچاس گز کے گھیر کا پاجامہ، ایک پورا تھان پستولئے کا کمر سے بندھا، ایک رومال پڑی دار تہ کیا ہوا، اس میں آویزاں، مشروع کا پاجامہ جس کی عرض کے پائیچے، ناگ پھنی کی انی دار جوتی، جس کی ڈیڑھ بالشت اونچی نوک، کمر میں ایک طرف سیف یعنی سیدھی تلوار، دوسری طرف کٹار ہاتھ میں جریب، غرض جب داخل محفل ہوئے تو وہ شہر لکھنؤ نئے انداز نئی تراشیں، بانکے ٹیڑھے جوان جمع۔ انھیں دیکھ کے سب ہنسنے لگے۔ میر صاحب بیچارے غریب الوطن، زمانہ کے ہاتھ سے پہلے ہی دل شکستہ تھے۔ اور بھی دل تنگ ہوئے اور ایک طرف بیٹھ گئے۔ شمع ان کے سامنے آئی تو پھر سب کی نظر پڑی اور بعض اشخاص نے پوچھا کہ حضور کا وطن کہا ہے، میر صاحب نے یہ قطعہ فی البدیہہ کہہ غزل طرحی میں داخل یا :

کیا بود و باش پوچھو ہو پورب کے ساکنو

ہم کو غریب جان کے ہنس ہنس پکار کے

دلی جو ایک شہر تھا عالم انتخاب

رہتے تھے منتخب ہی جہاں روزگار کے

جس کو فلک نے لوٹ کے ویران کر دیا

ہم رہنے والے ہیں اُسی اجڑے دیار کے

سب کو حال معلوم ہوا۔ بہت معذرت کی اور میر صاحب سے عفو تقصیر چاہی۔ کمال کے طالب تھے۔ صبح ہوتے ہوتے شہر میں مشہور ہو گیا کہ میر صاحب تشریف لائے۔ رفتہ رفتہ نواب آصف الدولہ مرحوم نے سنا اور دو سو روپیہ مہینہ مقرر کر دیا۔

عظمت و اعزاز جو ہر کمال کے خادم ہیں۔ اگرچہ انھوں نے لکھنؤ میں بھی میر صاحب کا ساتھ نہیں چھوڑا، مگر انھوں نے بد دماغی اور نازک مزاجی کو جو ان کے ذاتی مصاحب تھے اپنے دم کے ساتھ ہی رکھا۔ چنانچہ کبھی کبھی نواب کی ملازمت میں جاتے تھے۔

ایک دن نواب مرحوم نے غزل کی فرمائش کی۔ دوسرے تیسرے دن جو پھر گئے تو پوچھا کہ میر صاحب! ہماری غزل لائے ؟ میر صاحب نے تیوری بدل کر کہا۔ جناب عالی! مضمون غلام کی جیب میں تو بھرے ہیں نہیں کہ کل آپ نے فرمائش کی، آج غزل حاضر کر دے۔اس فرشتہ خصال نے کہا، خیر میر صاحب جب طبیعت حاضر ہو گی کہہ دیجیئے گا۔

ایک دن نواب نے بُلا بھیجا۔ جب پہنچے تو دیکھا کہ نواب حوض کے کنارے کھڑے ہیں۔ ہاتھ میں چھڑی ہے۔ پانی میں لال سبز مچھلیاں تیرتی پھرتی ہیں۔ آپ تماشا دیکھ رہے ہیں۔ میر صاحب کو دیکھ کر بہت خوش ہوئے اور کہا کہ میر صاحب کچھ فرمائیے۔ میر صاحب نے غزل سنانی شروع کی۔ نواب صاحب سنتے جاتے تھے اور چھڑی کے ساتھ مچھلیوں سے بھی کھیلتے جاتے تھے۔ میر صاحب چیں بہ چیں ہوتے اور ہر شعر پر ٹھہر جاتے تھے، نواب صاحب کہے جاتے تھے کہ ہاں پڑھیئے، آخر چار شعر پڑھ کر میر صاحب ٹھہر گئے اور بولے کہ پڑھوں کیا، آپ مچھلیوں سے کھیلتے ہیں، متوجہ ہوں تو پڑھوں۔ نواب صاحب نے کہا جو شعر ہو گا، آپ متوجہ کر لے گا۔ میر صاحب کو یہ بات زیادہ ناگوار گزری، غزل جیب میں ڈال کر گھر کو چلے آئے اور پھر جانا چھوڑ دیا۔ چند روز کے بعد ایک دن بازار میں چلے جاتے تھے، نواب کی سواری سامنے سے آ گئی۔ دیکھتے ہی نہایت محبت سے بولے کہ میر صاحب آپ نے بالکل ہی ہمیں چھوڑ دیا، کبھی تشریف بھی نہیں لاتے۔ میر صاحب نے کہا، بازار میں باتیں کرنا آداب شرفاء نہیں۔ یہ کیا گفتگو کا موقع ہے۔ غرض بدستور اپنے گھر میں بیٹھے اور فقر و فاقہ میں گذارتے رہے۔ آخر ۱۳۲۵ھ میں فوت ہوئے اور سو برس کی عمر پائی۔ ناسخؔ نے تاریخ کہی کہ :

واویلا مرشہ شاعراں

تصنیفات کی تفصیل یہ ہے کہ چھ دیوان غزلوں کے ہیں، چند صفحے ہیں جن میں فارسی کے عمدہ متفرق شعروں پر اردو مصرع لگا کر مثلثؔ اور مربعؔ کیا ہے اور یہ ایجاد ان کا ہے۔ رباعیاں، مستزاد، چند صفحے ۴ قصیدے منقبت میں اور ایک نواب آصف الدولہ کی تعریف میں، چند مخمس اور ترجیع بند مناقب میں، چند مخمس شکایت زمانہ میں جن سے بعض اشخاص کی ہجو مطلوب ہے۔ دو واسوخت، ایک ہفت بند ملا حسن کاشی کی طرف پر حضرت شاہِ ولایت کی شان میں ہے۔ بہت سی مثنویاں جنکی تفصیل عنقریب واضح ہوتی ہے۔ تذکرہ نکات الشعراء شاعران اردو کے حال کا کہ اب بہت کمیاب ہے۔ ایک رسالہ مسمیٰ فیض میر مصحفیؔ  اپنے تذکرہ فارسی میں لکھتے ہیں “دعوے ٰ شعر فارسی نہ دارد، مگر فارسیش ہم کم از ریختہ نیست مے گفت کہ سالے ریختہ موقوف کردہ بودم، در آں حال دو ہزار شعر گرفتہ تدوین کردم۔

معلوم ہوتا ہے کہ میر صاحب کو تاریخ گوئی کا شوق نہ تھا۔ علیٰ ہذالقیاس مرثیہ بھی دیوان میں نہیں۔ غزلوں کے دیوان اگرچہ رطب و یابس سے بھرے ہوئے ہیں، مگر جو ان میں انتخاب ہیں وہ فصاحت کے عالم میں انتخاب ہیں۔ اُردو زبان کے جوہری قدیم سے کہتے آئے ہیں کہ ستر (۷۰) اور دو بہتر (۷۲) نشتر باقی میر صاحب کا تبرک ہے، لیکن یہ بہتر (۷۲) کی رقم فرضی ہے۔ کیوں کہ جب کوئی تڑپتا ہوا شعر پڑھا جاتا ہے تو ہر سخن شناس سے مبالغہ تعریف میں یہی سُنا جاتا ہے کہ دیکھئے یہ انھیں بہتر نشتروں میں ہے۔ انھوں نے زبان اور خیالات میں جس قدر فصاحت اور صفائی پیدا کی ہے۔ اتنا ہی بلاغت کو کم کیا ہے، یہی سبب ہے کہ غزل اُصول غزلیت کے لحاظ سے سوداؔ سے بہتر ہے۔ ان کا صاف اور سلجھا ہوا کلام اپنی سادگی میں ایک انداز دکھاتا ہے اور فکر کو بجائے کاہش کے لذت بخشتا ہے۔ اسی واسطے خواص میں معزز اور عوام میں ہر دل عزیز ہے۔ ھقیقت میں یہ انداز میر سوز سے لیا۔ مگر اُن کے ہاں فقط باتیں ہی باتیں تھیں۔ انھوں نے اس میں مضمون داخل کیا، اور گھریلو زبان کو متانت کا رنگ دے کر محفل کے قابل کیا۔

چونکہ مطالب کی دقت مضامین کی بلند پردازی، الفاظ کی شان و شکوہ بندش کی چُستی، لازمہ قصائد کا ہے، وہ طبیعت کی شگفتگی اور جوش و خروش کا ثمر ہوتا ہے۔ اسی واسطے میر صاحب کے قصیدے کم ہیں۔ اور اسی قدر درجہ میں میں بھی کم ہیں۔ انھوں نے طالبِ سخن پر روشن کر دیا ہے کہ قصیدہ اور غزل کے دو میدانوں میں دن اور رات کا فرق ہے۔ اور اسی منزل میں آ کر سوداؔ اور میرؔ کے کلام کا حال کھُلتا ہے۔

امراء کی تعریف میں قصیدہ نہ کہنے کا یہ بھی سبب تھا کہ توکل اور قناعت انھیں بندہ کی خوشامد کی اجازت نہ دیتے تھے یا خود پسندی اور خود بینی جو انہیں اپنے میں آپ غرق کئے دیتی تھی، وہ زبان سے کسی کی تعریف نکلنے نہ دیتی تھی، چنانچہ کہتے ہیں اور کیا خوب کہتے ہیں :

مجھ کو دماغِ وصف گل و یاسمن نہیں

میں جوں نسیم باد فروش چمن نہیں

کل جا کے ہم نے میرؔ کے در پر سُنا جواب

مُدت ہوئی کہ یاں وہ غریب الوطن نہیں

چند مخمس شکایت زمانہ میں بطور آشوب کے کہے ہیں، اور ان میں بعض اشخاص کے نام بھی لئے ہیں۔ مگر ایسے کمزور کہے ہیں کہ گویا کچھ نہیں ہیں۔ یہ سمجھ لو کہ قسامِ ازل نے ان کے دسترخوان سے مدح اور قدح کے دو پیالے اٹھا کر سودا کے ہاں دھر دیئے ہیں۔

واسوخت دو ہیں اور کچھ شک نہیں کہ لاجواب ہیں۔ اہل تحقیق نے فغانی یا وحشی کو فارسی میں اور اردو میں انھیں واسوخت کا موجد تسلیم کیا ہے۔ سینکڑوں شاعروں نے واسوخت کہے لیکن خاص خاص محاوروں سے قطع نظر کریں تو آج تک اس کوچہ میں میر صاحب کے خیالات و انداز بیان کا جواب نہیں۔

مناقب میں جو مخمس اور ترجیع بند وغیرہ کہے ہیں، حقیقت میں حُسنِ اعتقاد کا حق ادا کر دیا ہے، وہ ان کے صدق دل کی گواہی دیتے ہیں۔

مثنویاں مختلف بحروں میں ہیں، اصول مثنوی کے ہیں، وہ میر صاحب کا قدرتی انداز واقع ہوا ہے۔ اس لئے بعض بعض لطف سے خالی نہیں۔ ان میں شعلہ عشق اور دریائے عشق نے اپنی کوبی کا انعام شہرت کے خزانہ سے پایا۔ مگر افسوس یہ کہ میر حسن مرحوم کی مثنوی سے دونوں پیچھے رہیں۔

جوشِ عشق میں لطافت و نزاکت کا جوش ہے۔ مگر مشہور نہ ہوئی۔ اعجاز عشق و خواب و خیال مختصر ہیں۔ اور اس رتبہ پر نہیں پہنچیں۔ معاملات عشق ان سے بڑی ہے، مگر رتبہ میں گھٹی ہوئی ہے۔

مثنوی شکار نامہ نواب آصف الدولہ کے شکار کا اور اس سفر کا مفصل حال لکھا ہے۔ اس میں جو متفرق غزلیں جا بجا لگائی ہیں وہ عجیب لطف دیتی ہیں۔

ساقی نامہ بہاریہ لکھا ہے۔ مگر اصلی درجہ لطافت و فصاحت پر ہے۔

اس کے علاوہ بہت سی مختصر مختصر مثنویاں ہیں۔ ایک مثنوی اپنے مرغے کے مرثیہ میں لکھی ہے۔ فرماتے ہیں کہ میرا پیارا مرغا تھا، بڑا اصیل تھا، بہت خوب تھا۔ اس پر بلی نے حملہ کیا، مرغے نے بڑی دلاوری سے مقابلہ کیا اور اخیر کو مارا گیا۔ مثنوی تو جیسی ہے ویسی ہے، مگر ایک شعر اس کے وقت آخر کا نہیں بھولتا۔

جھکا بسوئے قدم سر خروس بیجاں کا

زمین پہ تاج گِرا ہُد ہُد سلیماں کا

ایک مثنوی میں کہتے ہیں کہ میری ایک بلّی بھی، بڑی وفادار تھی۔ بڑی قانع تھی، اس کے بچے نہ جیتے تھے، ایک دفعہ ۵ بچے ہوئے۔ پانچوں جئے، تین بچے لوگ لے گئے۔ دو رہے، وہ دونوں مادہ تھے، ایک کا نام  مونی رکھا، دوسرے کا نام مانی، مونی میرے ایک دوست کو پسند آئی، وہ لے گئے۔ مانی کے مزاج میں مسکینی اور غربت بہت تھی، اس لئے فقیر کی رفاقت نہ چھوڑی۔ اس کے بیان اور اور حالات کو بہت طور دیا ہے۔

ایک کتّا اور ایک بِلّا پالا تھا۔ اس کی ایک مثنوی لکھی ہے۔

ایک امیر کے ساتھ سفر میں میرٹھ تک گئے تھے۔ اس میں برسات کی تکلیف اور رستہ کی مصیبت بہت بیان کی ہے۔ اس سے یہ بھی قیاس کر سکتے ہیں کہ ہمارے ہم وطن ہمیشہ سے سفر کو کیسی آفت سمجھتے ہیں۔

ایک بکری پالی۔ اس کے چار تھن تھے۔ بچہ ہوا تو دودھ ایک ہی تھن میں اُترا۔ وہ بھی اتنا تھا کہ بچہ کی پوری نہ پڑتی تھی۔ بازار کا دودھ پلا پلا کر پالا، پھر بچہ کی سر زوری اور سر شوری کی شکایت ہے۔

ایک مثنوی آصف الدولہ مرحوم کی آرائش کتخدائی میں کہی ہے۔ ایک مختصر مثنوی جھوٹ کی طرف سے خطاب کر کے لکھی ہے اور اس کی بحر مثنوی کے معمولی بحروں سے علیٰحدہ ہے۔

مثنوی اژدر نامہ کہ اس کا حال آگے آتا ہے، یا اجگر نامہ۔

ایک مثنوی مختصر برسات کی شکایت میں لکھی ہے، گھر کا گرنا اور مینھ برستے میں گھر والوں کا نکلنا عجب طور سے بیان کیا ہے۔ اگر خیال کرو تو شاعر کی شورش طبع کے لیے یہ بھی موقع خوب تھا۔ مگر طبیعت مکان سے بھی پہلے گری ہوئی تھی۔ وہ یہاں بھی نہیں اُبھری، سودا ہوتے طوفان اٹھاتے۔

مثنوی تنبیہ الخیال اس میں فن شعر کی عزت و توقیر کو بہت سا طول دیکر کہا ہے۔ اس فن شریف کو شرفا اختیار کرتے تھے۔ اب پواج اور ارذال بھی شاعر ہو گئے۔ اس میں ایک بزاز لونڈے کو بہت خراب کیا ہے۔ اس کے علاوہ کئی اور چھوٹی مثنویاں کہ چنداں ذکر کے قابل نہیں۔

نکات الشعراء شاعر کے لئے بہت مفید ہے۔  اس میں شعرائے اردو کی بہت سی باتیں اس زمانہ کے لوگوں کے دیکھنے کے قابل ہیں مگر وہاں بھی اپنا انداز قائم ہے۔ دیباچہ میں فرماتے ہیں کہ یہ اردو کا پہلا تذکرہ ہے (یہ بھی میر صاحب کا دعویٰ ہے ورنہ اس سے پہلے تذکرے مرتب ہو چکے ہیں )۔ اس میں ایک ہزار شاعروں کا حال لکھوں گا۔ مگر ان کو نہ لوں گا، جن کے کلام سے دماغ پریشان ہو۔ ان ہزار میں ایک بے چارہ بھی طعنوں اور ملامتوں سے نہیں بچا۔ ولی کہ بنی نوع شعراء کا آدم ہے۔  اس کے حق میں فرماتے ہیں۔

وے شاعر بست از شیطان مشہور تر میر خاں کمترین  (کمترین تخلص میر خاں نام تھا۔ تخلص میں یہ نکتہ رکھا تھا کہ قوم کے افغان تھے۔ ترین فرقہ کا نام تھا، کمترین تخلص کیا تھا۔ بہت سن رسیدہ تھے۔ شاہ آبرو اور ناجی کے دیکھنے والوں میں تھے، مگر چوتھے طبقہ کے شاعروں میں موجود ہوتے تھے، پرانے سپاہی تھے، کچھ بہت علم بھی نہ تھا، طبقہ اول کے رنگ میں ایہام کے شعر کہتے تھے۔ خوش مزاج بھی تھے اور غصیل بھی تھے اور وقت پر جو سوجھ جاتی تھی اس میں چوکتے نہ تھے، صاف کہہ بیٹھتے تھے۔ کوئی ان کی زبان سے بچا نہیں مگر وہ زمانہ بھی ایسا تھا کہ علماء شرفاء سب ہنستے تھے اور ہنس ہنس کر برداشت کرتے تھے۔ وضع بھی دنیا سے نرالی رکھتے تھے۔ ایک بڑی سی گھیر دار پگڑی سر پر باندھتے تھے، لمبا سا دوپٹہ بل دیکر کمر پر لپیٹتے تھے، ایک بلّم ہاتھ میں رکھتے تھے۔ ان دنوں ہر جمعہ کو سعد اللہ خاں کے چوک پر گدری لگتی تھی، وہاں جا کر کھڑے ہوتے تھے۔ لڑکے اور شوقین مزاج خاطر خواہ دام دیتے تھے اور ایک ایک پرچہ خوشی خوشی لے جاتے تھے۔) اسی زمانہ میں ایک قدیمی شاعر دلّی کے تھے۔ انھیں اس فقرہ پر بڑا غصہ آیا۔ ایک نظم ہیں اول بہت کچھ کہا۔ آخر میں آ کر کہتے ہیں :

مصرعہ : ولی پر جو سخن لائے اسے شیطان کہتے ہیں

یہ تھی مختصر کیفیت میر صاحب کی تصنیفات کی۔ میر صاحب کی زبان شستہ کلام صاف بیان ایسا پاکیزہ جیسے باتیں کرتے ہیں۔ دل کے خیالات کو جو کہ سب کی طبیعتوں کے مطابق ہیں۔ محاورے کا رنگ دے کر باتوں باتوں میں ادا کر دیتے ہیں اور زبان میں خدا نے ایسی تاثیر دی ہے کہ وہی باتیں ایک مضمون بن جاتی ہیں۔ اسی واسطے ان میں بہ نسبت اور شعرا کے اصلیت کچھ زیادہ قائم رہتی ہے۔ بلکہ اکثر جگہ یہی معلوم ہوتا ہے، گویا نیچر کی تصویر کھینچ رہے ہیں۔ یہی سبب ہے کہ دلوں پر بھی اثر زیادہ کرتی ہیں۔ وہ گویا اردو کے سعدی ہیں، ہمارے عاشق مزاج شعرا کی رنگینیاں اور خیالات کی بلند پردازیاں، ان کے مبالغوں کے جوش و خروش سب مو معلوم ہیں، مگر اسے قسمت کا لکھا سمجھو کہ ان میں سے بھی میر صاحب کو شگفتگی یا بہار عیش و نشاط یا کامیابی وصال کا لطف کبھی نصیب نہ ہوا۔ وہی مصیبت اور قسمت کا غم جو ساتھ لائے تھے، اس کا دُکھڑا سناتے چلے گئے۔ جو آج تک دلوں میں اثر اور سینوں میں درد پیدا کرتے ہیں۔ کیونکہ ایسے مضامین اور شعراء کے لئے خیالی تھے، ان کے حالی تھے، عاشقانہ خیال بھی ناکامی زار حالی، حسرت، مایوسی، ہجر کے لباس میں خرچ ہوئے۔ ان کا کلام صاف کہے دیتا ہے کہ جس دل سے نکل کر آیا ہوں، وہ غم و درد کا پتلا نہیں حسرت و اندوہ کا جنازہ تھا۔ ہمیشہ وہی خیالات بسے رہتے تھے۔ بس جو دل پر گذرتے تھے، وہی زبان سے کہہ دیتے تھے کہ سننے والوں کے لئے نشتر کا کام کر جاتے تھے۔

ان کی غزلیں ہر بحر میں کہیں شربت اور کہیں شیر و شکر ہیں، مگر چھوٹی چھوٹی بحروں میں فقط آب حیات بہاتے ہیں۔ جو لفظ منہ سے نکلتا ہے، تاثیر میں ڈوبا ہوا نکلتا ہے۔مگر یہ بھی بزرگوں سے معلوم ہوا کہ مشاعرہ یا فرمائش کی غزلیں ایسی نہ ہوتی تھیں جیسی کہ اپنی طبع داد طرح میں ہوتی تھیں۔ میر صاحب نے اکثر فارسی کی ترکیبوں کو ان کے ترجموں کو اردو کی بنیاد میں ڈول کر ریختہ کیا، دیکھو صفحہ  اور اکثر کو جوں کا توں رکھا۔ بہت ان میں سے پسند عام کے دربار میں رجسٹری ہوئیں اور بعض نامنظور معاصرین نے کہیں برتا، مگر بہت کم، چنانچہ فرماتے ہیں :

ہنگامہ گرم کن جو دلِ ناصبُور تھا

پیدا ہر ایک نالہ سے شورِ نشور تھا

یہ چشم شوق طرفہ جگہ ہے دکھاؤ کی

ٹھہرو بقدر یک مژہ تم اس مکان میں

کیا کہئے حسن عشق کے آپ ہی طرف ہوا

دل نام قطرہ خون یہ ناحق تلف ہوا

دل کہ یک قطرہ خون نہیں ہے بیش

ایک عالم کے سَر بَلا لایا

ہر دم طرف ہے دل سے مزاج کرخت کا

ٹکڑا مرا جگر ہے کہو سنگ سخت (*) کا

(*) فارسی کا محاورہ ہے تو گوئی جگرم پارہ سنگ سخت است

اس کا خرام دیکھ کے جایا نہ جائے گا

اے کبک پھر بحال بھی آیا نہ جائے گا

اپنے ہی دل کو نہ ہو واشد تو کیا حاصل نسیم

گو چمن میں غنچہ پژمردہ تجھ سے کھل گیا

خواہے پیالہ خواہ سبو کر ہمیں کلال

ہم اپنی خاک پر تجھے مختار کر چلے

یادِ ایام کہ یاں ترک شکیبائی تھا

ہر گلی کوچہ مجھے کوچہ رسوائی تھا

اے تو کہ یہاں سے عاقبت کار جائے گا

یہ قافلہ رہے گا نہ زنہار جائے گا

اس کے علاوہ فارسی کے بعض محاوروں اور اس کی خاص خاص رسموں کا اشارہ بھی کر جاتے تھے کہ انھیں بھی پھر کسی نے پسند نہیں کیا۔ چنانچہ دیوانہ کو پھُول کی چھڑیاں مارنے کا ٹوٹکا انھوں نے بھی کیا ہے اور داغِ جنوں بھی دیا ہے  (دیکھو صفحہ)۔

جاتی ہے نظر حُسن پہ گہ چشم پریدن

یاں ہم نے پر کاہ بھی بیکار نہ دیکھا

بعض جگہ قادر الکلامی کے تصرف کر کے اپنے زور زبان کا جوہر دکھایا ہے۔ چنانچہ فرماتے ہیں :

ہر چند ناتواں ہوں پر آ گیا جو دل میں

دیں گے ملازمیں سے تیرا فلک قلابا (*)

(*) اصل قلابہ ہے۔

داغ ہے تاباں علیہ الرحمۃ کا چھاتی پہ میر

ہو نجات اس کی بچارا ہم سے بھی تھا آشنا

(بیچارہ کا مخفف ہے اور ہم سے آشنا تھا۔ بعینہ ترجمہ کا محاورہ ہے کہ بابا ہم آشنا بود، اردو میں ہمارا کہتے ہیں )

ہزار شانہ و مسواک و غسل شیخ کرے

ہمارے عندیہ میں تو ہے وہ پلیت و خبیث

ردیف تاءسثناۃ فوقانی کی غزل میں یہ شعر واقع ہوا ہے۔ ایسے تصرفوں سے نہیں کہہ سکتے کہ انھیں اس لفظ کی صحت کی خبر نہ تھی۔ سمجھنا چاہیے کہ زبان کے مالک تھے اور محاورہ کو اصلیت پر مقدم سمجھتے تھے۔

اے خوشا حال اس کا جس کو وہ

حال عمداً تباہ کرتے تھے

ہے تہ دل بتوں کو کیا معلوم

نکلے پردہ سے کیا، خدا معلوم

میں بے قرار خاک میں کب تک ملا کروں

کچھ ملنے یا نہ ملنے کا تو بھی قرار کر

رہوں جا کے مر حضرت یار میں

یہی قصد ہے بندہ درگاہ کا

کھُلا نشے میں جو پگڑی کا پیچ اس کی میرؔ

سمند ناز کو اک اور تازیانہ ہوا

آواز ہماری سے نہ رک ہم ہیں دُعا یار

آوے گی بہت ہم سے فقیروں کی صدا یاد

سب غلطی رہی بازی طفلانہ کی یک سُو

وہ یاد فراموش تھے ہم کو نہ کیا یاد

جُز و مرتبہ کل کو حاصل کرے ہے آخر

اک قطرہ نہ دیکھا جو دریا نہ ہوا ہو گا

ابر اٹھا تھا کعبہ سے اور جھوم پڑا میخانہ پر

بادہ کشوں کا جھرمٹ ہے گا شیشہ اور پیمانہ پر

کسی شخص نے کہا کہ حضرت، اصل محاورہ فارسی کا ہے، اہل زبان نے ابر قبلہ کہا ہے۔ ابر کعبہ نہیں کہا، میر صاحب نے کہا کہ ہاں قبلہ کا لفظ بھی آ سکتا ہے مگر کعبہ سے ذرا مصرعہ کی ترکیب گرم ہو جاتی ہے۔ اور یہ سچ فرمایا جنھیں زبان کا مزا ہے، وہی اس لطف کو سمجھتے ہیں۔ خیال کے لفظ میں جو تصرف میر صاحب نے فرمایا ہے، عنقریب واضح ہو گا۔ اکثر الفاظ ہیں جو کہ مؤنث ہیں۔ میر صاحب نے انھیں مذکر باندھا ہے۔

ملائے خاک میں کس کس طرح کے عالم یاں

نِکل کے شہر سے ٹک سیر کر مزاروں کا

کل جس کی جان کنی پہ سارا جہان ٹوٹا

آج اُس مریض غم کی ہچکی میں جان ٹوٹا

احوال خوش انھوں کا ہم بزم ہیں جو تیرے

افسوس ہے کہ ہم نے واں کا نہ بار پایا

بعض جگہ مذکرّ کو مؤنث بھی کہہ جاتے ہیں۔

کیا ظلم ہے اس خوبی عالم کی گلی میں

جب ہم گئے دو چار نئی دیکھیں مزاریں

مثنوی شعلہ عشق میں کہتے ہیں۔

خلق یک جا ہوئی کنارے پر

حشر برپا ہوئی کنارے پر

(ان کے علاوہ دیکھو صفحہ)

میر صاحب میانہ قد، لاغر اندام، گندمی رنگ تھے، ہر کام متانت اور آہستگی کے ساتھ، بات بہت کم، وہ بھی آہستہ آواز میں، نرمی اور ملائمت، ضعیفی نے ان سب صفتوں کو اور بھی قوی کیا تھا، کیونکہ سو برس کی عمر آخر ایک اثر رکھتی ہے۔ مرزا قتیلؔ مشاعرے سے آ کر کسی دوست کو خط تحریر کرتے ہیں۔ اس میں جلسہ کے حالات بھی لکھتے ہیں۔ “حنجرہ میر صاحب با وصف خوش گوئی بدستور بودہ، تمام جسم مبارک ایشان رعشہ داشت، آواز ہم کس نمے شنید، مگر من  و خدا کہ غزلہا خوب گفتہ بودند” عادات و اطوار نہایت سنجیدہ اور متین اور صلاحیت اور پرہیز گاری نے اسے عظمت دی تھی۔ ساتھ اس کے قناعت اور غیرت حد سے بڑھی ہوئی تھی۔ اس کا نتیجہ ہے کہ اطاعت تو درکنار نوکری کے نام کی برداشت نہ رکھتے تھے۔ لیکن زمانہ جس کی  حکومت سے کوئی سر نہیں اکسا سکتا، اس کا قانون اس کے بالکل برخلاف ہے۔ نتیجہ یہ کہ فاقے کرتے تھے۔ دکھ بھرتے تھے اور اپنی بد دماغی کے سائے میں دنیا  اور اہل دُنیا سے بیزار گھر میں بیٹھے رہتے تھے۔ ان شکایتوں کے جو لوگوں میں چرچے تھے۔ وہ خود بھی اس سے واقف تھے، چنانچہ ایک مخمس شہر آشوب کے مقطع میں کہتے ہیں۔

حالت تو یہ کہ مجھ کو غموں سے نہیں فراغ

دل سوزش دردنی سے جلتا ہے جوں چراغ

سینہ تمام چاک ہے سارا جگر ہے داغ

ہے نام مجلسوں میں میرا میرؔ بے دماغ

از بسکہ کم دماغی نے پایا ہے اشتہار

باوجود اس کے اپنے سرمایہ فصاحت کو دولت لازوال سمجھ کر امیر غریب کسی کی پرواہ  نہ کرتے تھے۔ بلکہ فقر کو دین کی نعمت تصور کرتے تھے اور اسی عالم میں معرفت الٰہی پر دل لگاتے تھے۔ چنانچہ ان کی اس ثابت قدمی کا وصف کسی زبان سے نہیں ادا ہو سکتا کہ اپنی بے نیازی اور بے پروائی کے ساتھ دنیائے فانی کی مصیبتیں جھیلیں، اور جو اپنی آن بان تھی اُسے لئے دنیا سے چلے گئے۔ اور

(*) دیکھو رقعات قتیل میں رقعہ نمبر ۹۳

جس گردن کو خدا نے بلند کیا تھا سیدھا خدا کے ہاں لے گئے۔ چند روز عیش کے لالچ سے یا مفلسی کے دکھ سے اسے دنیا کے نا اہلوں کے سامنے ہرگز نہ جھکایا۔ ان کا کلام کہے دیتا ہے کہ دل کی کلی  اور تیوری کی گرہ کبھی کھلی نہیں، باوجود اس کے اپنے ملک خیال کے ایک بلند نظر بادشاہ تھے اور جتنی دنیا کی سختی زیادہ ہوتی اسی قدر بلند نظری دماغ زیادہ بلند ہوتا تھا، سب تذکرے نالاں ہیں کہ اگر یہ غرور اور بے دماغی فقط امراء کے ساتھ ہوتی تو معیوب نہ تھی، افسوس یہ ہے کہ اوروں کے کمال بھی انھیں دکھائی نہ دیتے تھے۔ اور یہ امر ایسے شخص کے دامن پر نہایت بدنما دھبہ ہے، جو کمال کے ساتھ صلاحیت اور نیکو کاری کا خلعت پہنے ہو۔ بزرگوں کی تحریری روایتیں اور تقریری حکایتیں ثابت کرتی ہیں کہ خواجہ حافظ شیرازی اور شیخ سعدی کی غزل پڑھی جائے تو وہ سر ہلانا گناہ سمجھتے تھے۔ کسی اور کی کیا حقیقت ہے۔ جو اشخاص اس زمانہ میں قدردانی کے خزانچی تھے، ان کے خیالات عالی اور حوصلے بڑے تھے۔ اس لئے یہ بے دماغیاں ان کے جوہر کمال پر زیور معلوم ہوتی تھیں۔ خوش نصیب تھے کہ آج کا زمانہ نہ دیکھا۔ میر قمر الدین مِنت (دیکھو تذکرہ حکیم قدرت اللہ) دلی میں ایک شاعر گذرے ہیں، کہ علوم رسمی کی قابلیت سے عمائد دربار شاہی میں تھے، وہ میر صاحب کے زمانہ میں مبتدی تھے، شعر کا شوق بہت تھا۔ اصلاح کے لئے اردو کی غزل لے گئے۔ میر صاحب نے وطن پوچھا۔ انھوں نے سونی پت علاقہ پانی پت بتلایا۔ آپ نے فرمایا کہ سید صاحب اردوئے معلیٰ خاص دلّی کی زبان ہے۔ آپ اس میں تکلیف نہ کیجیے۔ اپنی فارسی وارسی کہہ لیا کیجیے۔

سعادت یار خاں رنگینؔ نواب طہاسپ بیگ خاں قلعدار شاہی کے بیٹے تھے۔ ۱۴، ۱۵ برس کی عمر تھی۔ بڑی شان و شوکت سے گئے اور غزل اصلاح کے لئے پیش کی۔ سن کر کہا کہ صاحبزادے ! آپ خود امیر ہیں اور امیر زادے ہیں، نیزہ بازی، تیر اندازی کی کسرت کیجیے، شہسواری کی مشق فرمائیے۔ شاعری دل خراشی و جگر سوزی کا کام ہے۔ آپ اس کے درپے نہ ہوں۔ جب انھوں نے بہت اصرار کیا تو فرمایا کہ آپ کی طبیعت اس فن کے مناسب نہیں۔ یہ آپ کو نہیں آنے کا۔ خواہ مخواہ میری اور اپنی اوقات ضائع کرنی کیا ضرور ہے۔ یہی معاملہ شیخ ناسخ کے ساتھ گذرا۔ (میر نظام الدین ممنون ان کے بیٹے بڑے صاحب کمال اور نامور شاعر تھے، دیکھو صفحہ)۔

دلی میں میر صاحب نے ایک مثنوی کہی۔ اپنے تئیں اژدہا قرار دیا اور شعرائے عصر میں سے کسی کو چوہا، کسی کو سانپ، کسی کو بچھو، کسی کو کنکھجورا وغیرہ وغیرہ ٹھہرایا۔ ساتھ اس کے ایک حکایت لکھی کہ دامن کوہ میں ایک خونخوار اژدہا رہتا تھا۔ جنگل کے حشرات الارض جمع ہو کر اس سے لڑنے گئے۔ جب سامنا ہوا تو اژدھے نے ایک ایسا دم بھرا کہ سب فنا ہو گئے۔ اس قصیدے کا نام اجگر نامہ قرار دیا اور مشاعرہ میں لا کر پڑھا۔ محمد امان نثار (سعادت اللہ معمار کے بیٹے اور میاں استاد معمار کی اولاد میں تھے جنھوں نے دہلی کی جامع مسجد بنائی تھی۔ نثارؔ کے بزرگ اور وہ خود عمارت میں کمال رکھتے تھے۔ نثارؔ شعر بھی خوب کہتے تھے۔ چنانچہ زمین سخن میں ریختہ کا دیوان ضخیم یادگار چھوڑا ہے۔ دلّی آباد تھی، تو امرائے شہر کے مکانات اپنے کمال سے مضبوط کرتے تھے اور عزت سے گزران کرتے تھے۔ دلّی تباہ ہوئی تو یہ بھی لکھنؤ چلے گئے۔ وہاں بھی فن آبائی سے عزت پائی اور ہمیشہ امراء روساء کی مصاحبت میں زندگی بسر کی۔ شاہ حاتم کے نامی شاگردوں میں تھے۔ میاں رنگین نے بھی مجالس رنگین میں ان کا ذکر کیا ہے۔ صاحب دیوان ہیں۔ مگر اب دیوان کمیاب ہے۔ میر صاحب اور ان کی اکثر چھیڑ چھاڑ رہتی تھی۔) شاہ حاتم کے شاگردوں میں ایک مشاق موزوں طبع تھے۔ انھوں نے وہیں ایک گوشہ میں بیٹھ کر چند شعر کا قطعہ لکھا اور اسی وقت سر مشاعرہ پڑھا۔ چونکہ میر صاحب کی یہ بات کسی کو پسند نہ آئی تھی، اس لئے اس قطعہ پر خوب قہقہے اڑے اور بڑی واہ واہ ہوئی اور میر صاحب پر جو گذرتی تھی سو گزری، چنانچہ مقطع قطعہ مذکور کا یہ ہے۔

حیدر کرار نے وہ زور بخشا ہے نثارؔ

ایک دم میں دو کروں اژدر کے کلے چیر کر

لکھنؤ میں کسی نے پوچھا کیوں حضرت آج کل شاعر کون ہے ؟ کہا ایک تو سوداؔ دوسرا یہ خاکسار ہے اور تامل کر کے کہا، آدھے خواجہ میر دردؔ۔ کوئی شخص بولا کہ حضرت اور میر سوزؔ صاحب؟ چیں بچیں ہو کر کہا کہ میر سوزؔ صاحب بھی شاعر ہیں ؟ انھوں نے کہا کہ آخر استاد نواب آصف الدولہ کے ہیں۔ کہا کہ خیر یہ ہے تو پونے تین سہی، مگر شرفاء میں ایسے تخلص ہم نے کبھی نہیں سُنے۔ میر صاحب کے سامنے مجال کس کی تھی جو کہے کہ ان بچارے نے میر تخلص کیا تھا وہ آپ نے چھین لیا۔ ناچار اب انھوں نے ایسا تخلص اختیار کیا کہ نہ آپ کو پسند آئے نہ آپ اسے چھینیں۔ دیکھو صفحہ ۔

لکھنؤ کے چند عمائد و اراکین جمع ہو کر ایک دن آئے کہ میر صاحب سے ملاقات کریں۔ اور اشعار سنیں۔ دروازہ پر آ کر آواز دی۔لونڈی یا ماما نکلی، حال پوچھ کر اندر گئی۔ ایک بوریا لا کر ڈیوڑھی میں بچھایا، انھیں بٹھایا اور ایک پرانا سا حقہ تازہ کر کے سامنے رکھ گئی۔ میر صاحب اندر سے تشریف لائے۔ مزاج پُرسی وغیرہ کے بعد انھوں نے فرمائش اشعار کی، میر صاحب نے اَوّل کچھ ٹالا، پھر صاف جواب دیا کہ صاحب قبلہ میرے اشعار آپ کی سمجھ میں نہیں آنے کے۔ اگرچہ ناگوار ہوا مگر بنظر آداب و اخلاق انھوں نے اپنی نارسائی طبع کا اقرار کیا۔ اور پھر درخواست کی۔ انھوں نے پھر انکار کیا، آخر ان لوگوں نے گراں خاطر ہو کر کہا، حضرت انوری و خاقانی کا کلام سمجھتے ہیں، آپ کا ارشاد کیوں نہ سمجھیں گے، میر صاحب نے کہا کہ یہ درست ہے۔  مگر ان کی شرحیں مصطلحات اور فرہنگیں موجود ہیں۔ اور میرے کلام کے لئے فقط محاورہ اہل اردو ہے، یا جامع مسجد کی سیڑھیاں اور اس سے آپ محروم، یہ کہہ کر ایک شعر پڑھا :

عشق بُرے ہی خیال پڑا ہے چین گیا آرام گیا

دِل کا جانا ٹھہر گیا ہے صبح گیا یا شام گیا

اور کہا آپ بموجب اپنی کتابوں کے کہیں گے کہ خیال کی ی کو ظاہر کرو پھر کہیں گے کہ ی تقطیع میں گرتی ہے۔ مگر یہاں اس کے سوا جواب نہیں کہ محاورہ یہی ہے۔

جب نواب آصف الدولہ مر گئے، سعادت خاں کا دور ہوا تو یہ دربار جانا چھوڑ چکے تھے۔ وہاں کسی نے طلب نہ کیا۔ ایک دن نواب کی سواری جاتی تھی۔ یہ تحسین کی مسجد پر سر راہ بیٹھے تھے۔ سواری سامنے آئی۔ سب اٹھ کھڑے ہوئے، میر صاحب اسی طرح بیٹھے  رہے، سید انشاء خواص میں تھے۔ نواب نے پوچھا کہ انشاء یہ کون شخص ہے ؟ جس کی تمکنت نے اُسے اٹھنے بھی نہ دیا۔ عرض کی جناب عالی یہ وہی گدائے متکبر جس کا ذکر حضور میں اکثر آیا ہے۔ گزارے کا وہ حال اور مزاج کا یہ عالم، آج بھی فاقہ ہی سے ہو گا۔ سعادت علی خاں نے آ کر خلعت بحالی اور ایک ہزار روپیہ دعوت کا بھجوایا۔ جب چوبدار لے کر گیا، میر صاحب نے واپس کر دیا اور کہا کہ مسجد میں بھجوائیے۔ یہ گنہگار اتنا محتاج نہیں۔ سعادت علی خاں جواب سن کر متعجب ہوئے۔ مصاحبوں نے پھر سمجھایا۔ غرض نواب کے حکم سے سید انشاء خلعت لے کر گئے اور اپنے طرز پر سمجھایا کہ نہ اپنے حال پر بلکہ عیال پر رحم کیجیے۔ اور بادشاہ وقت کا ہدیہ ہے اسے قبول فرمائیے۔ میر صاحب نے کہا کہ صاحب! وہ اپنے ملک کے بادشاہ ہیں، میں اپنے ملک کا بادشاہ ہوں، کوئی ناواقف اس طرح پیش آتا، تو مجھے شکایت نہ تھی۔ وہ مجھ سے واقف، میرے حال سے واقف، اس پر اتنے دنوں کے بعد ایک دس روپے کے خدمت گار کے ہاتھ خلعت بھیجا۔ مجھے اپنا فقر و فاقہ قبول ہے، مگر یہ ذلت نہیں اٹھائی جاتی۔ سید انشاء کی لسانی اور لفاظی کے سامنے کس کی پیش جا سکتی۔ میر صاحب نے قبول فرمایا، اور دربار میں بھی کبھی کبھی جانے لگے۔ نواب سعادت علی خاں مرحوم ان کی ایسی خاطر کرتے تھے کہ اپنے سامنے بیٹھنے کی اجازت دیتے تھے اور اپنا پیچوان پینے کو عنایت فرماتے تھے۔

میر صاحب کو بہت تکلیف میں دیکھ کر لکھنؤ کے ایک نواب انھیں مع عیال اپنے گھر لے گئے اور محل سرا کے پاس ایک معقول مکان رہنے کو دیا کہ نشست کے مکان میں کھڑکیاں باغ کی طرف تھیں۔ مطلب اس سے یہی تھی کہ ہر طرح ان کی طبیعت خوش اور شگفتہ رہے۔ یہ جس دن وہاں آ کر رہے، کھڑکیاں بند پڑی تھیں، کئی برس گذر گئے۔ اسی طرح بند پڑی رہیں۔ کبھی کھول کر باغ کی طرف نہ دیکھا۔ ایک دن کوئی دوست آئے، انھوں نے کہا کہ ادھر باغ ہے۔ آپ کھڑکیاں کھول کر کیوں نہیں بیٹھتے۔ میر صاحب بولے، کیا ادھر باغ بھی ہے۔ انھوں نے کہا کہ اسی لئے نواب آپ کو یہاں لائے ہیں کہ جی بہلتا رہے۔ اور دل شگفتہ ہو۔ میر صاحب کے پھٹے پرانے مسودے غزلوں کے پڑے تھے، ان کی طرف اشارہ کر کے کہا کہ میں تو اس باغ کی فکر میں ایسا لگا ہوں کہ اس باغ کی خبر بھی نہیں۔ یہ کہہ کر چپکے ہو رہے۔

کیا محویت ہے ! کئی برس گذر جائیں، پہلو میں باغ ہو اور کھڑکی تک نہ کھولیں۔ خیر ثمرہ اس کا یہ ہوا کہ انھوں نے دنیا کے باغ کی طرف نہ دیکھا خدا نے ان کے کلام کو وہ بہار دی کہ سالہا سال گزر گئے۔ آج تک لوگ ورقے الٹتے ہیں اور گلزار سے زیادہ خوش ہوتے ہیں۔

استاد مرحوم ایک دیرینہ سال شخص کی زبانی بیان کرتے تھے کہ ایک دن میر صاحب کے پاس گئے۔ نکلتے جاڑے تھے۔ بہار کی آمد تھی۔ دیکھا کہ ٹہل رہے ہیں۔ چہرہ پر افسردگی کا عالم ہے۔ اور وہ رہ رہ کر یہ مصرع پڑہتے تھے۔

ع : اب کی بھی دن بہار کے یوں ہی گذر گئے

یہ سلام کر کے بیٹھ گئے۔ تھوڑی دیر کے بعد اٹھے اور سلام کر کے چلے آئے۔ میر صاحب کو خبر بھی نہ ہوئی۔ خدا جانے دوسرے مصرع کے فکر میں تھے، یا اس مصرعہ کی کیفیت میں تھے۔

گورنر جنرل اور اکثر صاحبان عالیشان جب لکھنؤ میں جاتے تو اپنی قدردانی سے یا اس سبب سے کہ ان کے میر منشی اپنے علو حوصلہ سے ایک صاحب کمال کی تقریب واجب سمجھتے تھے۔ میر صاحب کو ملاقات کے لئے بلاتے مگر یہ پہلوتہی کرتے اور کہتے کہ مجھ سے جو کوئی ملتا ہے تو یا مجھ فقیر کے خاندان کے خیال سے یا میرے کلام کے سبب سے ملتا ہے۔ صاحب کو خاندان سے غرض نہیں۔ میرا کلام سمجھتے نہیں۔ البتہ انعام دیں گے۔ ایسی ملاقات سے ذلّت کے سوا کیا حاصل!

محلہ کے بازار میں عطار کی دکان تھی، آپ بھی کبھی اس کی دوکان پر جا بیٹھتے تھے۔ اس کا نوجوان لڑکا بہت بناؤ سنگار کرتا رہتا تھا، میر صاحب کو بُرا معلوم ہوتا تھا۔ اس پر فرماتے ہیں۔

کیفیتیں عطار کی لونڈے میں بہت ہیں

اس نسخہ کی کوئی نہ رہی ہم کو دوا یاد

کسی وقت طبیعت شگفتہ ہو گئی تو فرماتے ہیں۔

میرؔ کیا سادے ہیں بیمار ہوئے جسکے سبب

اُسی عطار کے لڑکے سے دوا لیتے ہیں

اِسی عہد میں بقا اللہ خاں بقا (دیکھو بقا کا حال صفحہ میں ) نے دو شعر کہے۔

ان آنکھوں کا نتِ گریہ دستور ہے

دوآبہ جہاں میں یہ مشہور ہے

سیلاب سے آنکھوں کے رہتے ہیں خرابے میں

ٹکڑے جو میرے دل کے بستے ہیں دوآبے میں

میر صاحب نے خدا جانے سن کر کہا یا توارد ہوا۔

دے دن گئے کہ آنکھیں دریا سی بہتیاں تھیں

سُوکھا پڑا ہے اب تو مدت سے یہ دوآبہ

اس پر بقا نے بگڑ کر یہ قطعہ کہا۔

میر نے گر ترا مضمون دوآبے کا لیا

اے بقا تو بھی دعا دے جو دعا دینی ہو

یا خدا میر کی آنکھوں کو دوآبہ کر دے

اور بینی کا یہ عالم ہو کہ تربینی ہو

لیکن میر صاحب نے اسی کوچہ میں ایک مضمون اور نکالا ہے۔ وہ سب سے الگ ہے۔

میں راہِ عشق میں تو آگے ہی دو دِلا تھا

پُر پیچ پیش آیا قسمت سے یہ دو راہا

بقا نے اور مضامین بھی میر صاحب کے باب میں صرف کئے ہیں۔

ان میں سے ایک قطعہ ہے۔

میر صاحب پھر اس سے کیا بہتر

اس میں ہووے جو نام شاعر کا

لے کے دیوان پکارتے پھرئیے

ہر گلی کوچہ کام شاعر کا

توبہ زاہد کی توبہ تلی ہے

چلے بیٹھے تو شیخ چلی ہے

پگڑی اپنی سنبھالئے گا میرؔ

اور بستی نہیں یہ دِلی ہے

کسی استاد کا شعر فارسی ہے۔

بہ گرد تر تم امشب ہجوم بلبل بود

مگر چراغ مزارم ز روغنِ گل بود

میر صاحب کے شعر میں بھی اس رنگ کا مضمون ہے مگر خوب بندھا ہے۔

ہمائے روغن دیا کرے ہے عشق

خونِ بلبل چراغ میں گل کے

شیخ سعدیؔ کا شعر ہے۔

دوستاں منع کندم کر چرا دل بتو دادم

باید اوّل بہ تو گفتن کہ چنیں خوب چرائی

(سعدی)

چاہنے کا ہم پہ یہ خوباں جو دھرتے ہیں گناہ

اُن سے بھی پوچھو کوئی تم اتنے کیوں پیارے ہوئے

(میر)

دست خواہم زد بدامانِ سکندر روزِ حشر

شوخِ لیلیٰ زا دہ ام را رشکر مجنوں کردہ است

(ناصر علی)

دیکھ آئینہ کو یار ہوا محو ناز کا

خانہ خراب ہو جیو آئینہ ساز کا

(میر)

زندگی بر گردنم افتاد بیدل چارہ نیست

شاد با ید زیستن ناشاد باید زیستن

(بیدل)

گوشہ گیری اپنے بس میں ہی نہ ہے آوارگی

کیا کریں اے میر صاحب بندگی بیچارگی

(میر)

محمد امان نثارؔ میر صاحب کے شعروں پر ہمیشہ شعر کہا کرتے تھے (دیکھو صفحہ)۔ ان کا شعر ہے۔

بھووں (*) تئیں تم جس دن سج نکلے تھے ایک چیرا

اس دن ہی تمھیں دیکھے ماتھا مرا ٹھنکا تھا

(میر)

*  یعنی جس دن تم بھوؤں تک جھکا ہوا بانکا چیرا باندھ کر نکلے تھے، اُسی دن ہم سمجھ گئے کہ اب دلوں کی خیر نہیں۔

اکثر اشعار میں میر اور مرزا کے مضمون لڑ گئے ہیں۔ اس رتبہ کے شاعروں کو کون کہہ سکتا ہے کہ سرقہ کیا، دوسرے ایک عہد تھا، ایک شہر تھا، اسی وقت غل مچتا۔ دیکھو صفحہ ، ان دونوں بزرگوں کے کلام میں چشمکیں ہوتی تھیں۔ چنانچہ مرزا فرماتے ہیں۔

نہ پڑھیو یہ غزل سودا تو ہر گز میر کے آگے

وہ ان طرزوں سے کیا واقف وہ یہ انداز کیا جانے

سودا تو اس غزل کو غزل در غزل ہی لکھ

ہونا ہے تجھ کو میرؔ سے استاد کی طرف

میر صاحب فرماتے ہیں۔

طرف ہونا مرا مشکل ہے میرؔ اس شعر کے فن میں

یونہی سودا کبھی ہوتا ہے سو جاہل ہے کیا جانے

مرزا رفیع سودا، خواجہ میر دردؔ، مرزا جانجاناں مظہرؔ قائم، یقین وغیرہ ان کے ہم عصر تھے۔ اور مصحفیؔ، جرأتؔ، اور میر انشاء اللہ خاں نے آخر عہد میں ظٖہور کیا۔

میر صاحب کے بیٹے لکھنؤ میں ملے تھے۔ باپ کے برابر نہ تھے۔ مگر بدنصیبی میں فرزندِ خلف تھے۔ ایک پیر مرد بے پروا مستغنی المزاج تھے۔ میر عسکریؔ نام میر کلو مشہور تھے۔ عرشؔ تخلص تھا۔ خود شاعر صاحب دیوان تھے اور چند شاگرد بھی تھے۔ ایک شعر ان کی غزل کا لکھنؤ میں زبان زد خاص و عام ہے :

آسیا کہتی ہے ہر صبح بآواز بلند

رزق سے بھرتا ہے رزاق دہن پتھر کا

میر صاحب کی غزلیں

برقع کو اٹھا چہرہ سے وہ بُت اگر آوے

اللہ کی قدرت کا تماشہ نظر آوے

اے ناقہ لیلیٰ دو قدم راہ غلط کر

مجنوں ز خود رفتہ کبھو راہ پر آوے

ٹک بعد مرے میرے طرفداروں کنے تو

بھیجو کوئی ظالم کہ تسلی تو کر آوے

کیا ظرف ہے گردون تنک حوصلہ کا جو

آشوبِ فغاں کے مرے عہدے سے بر آوے

ممکن نہیں آرام دے بیتابی جگر کی

جب تک نہ پلک پر کوئی ٹکڑا نظر آوے

مت ممتحن باغ ہوائے غیرتِ گلزار

گل کیا کہ جسے آگے ترے بات کر آوے

کھلنے میں ترے منھ کی کلی پھاڑے گریباں

ہلنے میں ترے ہونٹوں کے گلبرگ تر آوے

ہم آپ سے جاتے رہے ہیں ذوق خبر میں

اے جانِ بلب آمدہ رہ تا خبر آوے

کہتے ہیں ترے کوچہ سے میر آنے کہے ہے

جب جانئے وہ خانہ خراب اپنے گھر آوے

ہے جی میں غزل در غزل اے طبع یہ کہیے

شاید کہ نظیری کے بھی عہدے سے بر آوے

جب نام ترا لیجئے تب چشم بھر آوے

اِس زندگی کرنے کو کہاں سے جگر آوے

تلوار کا بھی مارا خدا رکھے ہے ظالم

یہ تو ہو کوئی گورِ غریباں میں در آوے

مے خانہ وہ منظر ہے کہ ہر صبح جہاں شیخ

دیوار پہ خورشید کا مستی سے سر آوے

کیا جانیں وہ مرغان گرفتار چمن کو

جن تک کہ بصد ناز نسیم سحر آوے

تو صبح قدم رنجہ کرے ٹک تو ہے ورنہ

کس واسطے عاشق کی شب غم بسر آوے

ہر سو تسلیم رکھے صید حرم میں

وہ صید فگن تیغ بکف تا کدھر (*) آوے

*  امیر خسرو کا شعر ہے :

ہمہ آہواں صحرا سر خود نہادہ برکف

بامیدایں کہ روزے بہ شکار خواہی آمد

دیواروں سے سر مارتے پھرنے کا گیا وقت

اب تو ہی مگر آپ کبھو در سے در آوے

واعظ نہیں کیفیتِ مے خانہ سے آگاہ

یک جرعہ بدل ورنہ یہ مندیل دھر آوے

صناع ہیں سب خوا رازانجملہ ہوں میں بھی

ہے عیب بڑا اس میں جسے کچھ ہنر آوے

اے وہ کہ تو بیٹھا ہے سرِ راہ پہ زنہار

کہیو جو کبھو میرؔ بلاکش ادھر آوے

مت دشتِ محبت میں قدم رکھ کہ خضر کو

ہر گام پہ اس رہ میں سفر سے حذر آوے

*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*

کوفت سے جان لب پہ آئی ہے

ہم نے کیا چوٹ دل پہ کھائی ہے

لکھتے رقعہ لکھے گئے دفتر

شوق نے بات کیا بڑھائی ہے

آرزو اس بلند و بالا کی

کیا بلا میرے سر پہ لائی ہے

دیدنی ہے شکستگی دل کی

کیا عمارت غموں نے ڈھائی ہے

ہے تصنع کہ لعل ہیں وہ لب

یعنی اک بات سی بنائی ہے

دل سے نزدیک اور اتنا دُور

کسے اس کو کچھ آسنائی ہے

بے ستون کیا ہے کوہ کن کیسا

عشق کی زور آزمائی ہے

جس مرض میں کہ جان جاتی ہے

دلبروں ہی کی وہ جدائی ہے

یاں ہوئے خاک سے برابر ہم

واں وہی ناز خود نمائی ہے

ایسا ہوتا ہے زندہ جاوید

رفتہ یار تھا جب آئی ہے

مرگِ مجنوں سے عقل گم ہے میرؔ

کیا دوانے نے موت پائی ہے

کعبے میں جاں بلب تھے ہم دوری بتاں سے

آئے ہیں پھر کے یارو اب کے خدا کے یاں سے

تصویر کے سے طائر خاموش رہتے ہیں ہم

جی کچھ اچٹ گیا ہے اب نالہ و فغاں سے

جب کوندتی ہے بجلی تب جانب گلستاں

رکھتی ہے چھیڑ میری خاشاک آشیاں سے

کیا خوبی اس کے منہ کی اے غنچے نقل کرئیے

تُو تُو نہ بول ظالم بو آتی ہے وہاں سے

آنکھوں ہی میں رہے ہو دل سے نہیں گئے ہو

حیران ہوں یہ شوخی آئی تمھیں کہاں سے

سبزانِ باغ سارے دیکھے ہوئے ہیں اپنے

دلچسپ کاہے کو ہیں اس بیوفا جواں سے

کی شِست و شو بدن کی جس دن بہت سی آنے

دھوئے ہیں ہاتھ میں نے اس دن سے اپنی جاں سے

خاموشی ہی میں ہم نے دیکھی ہے مصلحت اب

ہر اک سے حال دل کا مدت کہا زباں سے

اتنی بھی بد مزاجی ہر لحظہ میرؔ تم کو

الجھاؤ ہے زمیں سے جھگڑا ہے آسماں سے

*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*

اے نوکیلے یہ تھی کہاں کی ادا

کھب گئی جی میں تیری بانکی ادا

جادو کرتے ہیں اک نگاہ کے بیچ

ہائے رے چشم دلبراں کی ادا

بات کہنے میں گالیاں دے ہے

سنتے ہو میرے بد زباں کی ادا

دل چلے جائے ہیں خرام کے ساتھ

دیکھی چلنے میں ان بتاں کی ادا

خاک میں مل کے میر ہم سمجھے

بے ادائی تھی آسماں کی ادا

*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*

میر سوزؔ مرحوم نے بھی یہ مضمون خوب باندھا ہے۔

دعوی کیا تھا گل نے اس رخ سے رنگ و بو کا

ماریں صبا نے دھو لیں شبنم نے منہ پہ تھوکا

سخن مشتاق ہے عالم ہمارا

بہت عالم کرے گا غم ہمارا

پڑھیں گے شعر رو رو لوگ بیٹھے

رہے گا دیر تک ماتم ہمارا

نہیں ہے مرجعِ آدم اگر خاک

کدھر جاتا ہے قد خم ہمارا

زمین و آسماں زیر و زبر ہیں

نہیں کم حشر سے اودھم ہمارا

کسو کے بال و پر ہم دیکھتے میرؔ

ہوا ہے کام دل برہم ہمارا

*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*

جان (*) اپنا جو ہم نے مارا تھا

کچھ ہمارا اسی میں وارا تھا

* اس زمانے میں اکثر استاد جان کو مذکر باندھتے تھے۔

کون لیتا تھا نام مجنوں کا

جب کہ عہد جنوں ہمارا تھا

کوہ و فرہاد سے کہیں آگے

سر مرا اور سنگ خارا تھا

ہم تو تھے محو دوستی اُس کے

گو کہ دشمن جہاں ہمارا تھا

لطف سے پوچھتا تھا ہر کوئی

جب تلک لطف کچھ ہمارا تھا

آستاں کی کسو کے خاک ہوا

آسماں کا بھی کیا ستارا تھا

پاؤں چھاتی پہ میرے رکھ چلنا

یاں کبھی اس کا یوں گذرا تھا

موسم گل میں ہم نہ چھوٹے حیف

گشت تھا دید تھا نظارا تھا

اس کے ابرو جو ٹک جھکے اِیدھر

قتل کا تیغ سے اشارا تھا

عشق بازی میں کیا موئے ہیں میرؔ

آگے ہی جی انھوں نے مارا تھا

آیا ہے ابر جب کا قبلہ سے تیرا تیرا

مستی کے ذوق میں ہیں آنکھیں بہت سی خیرا

خجلت سے ان لبوں کی پانی ہو یہ چلے ہیں

قند و نبات کا بھی نکلا ہے خوب شیرا

مجنوں نے حوسلے سے دیوانگی نہیں کی

جاگہ سے اپنی جانا اپنا نہیں وطیرا

اس راہزن سے مل کر دل کیونکہ کھو نہ بیٹھیں

انداز و ناز اُچکے غمزہ اٹھائی گیرا

کیا کم ہے ہولناکی صحرائے عاشقی کی

شعروں کو اس جگہ پر ہوتا ہے قشعریرا

آئینہ کو بھی دیکھو پر ٹک ادھر بھی دیکھو

حیران چشم عاشق دمکے ہے جیسے ہیرا

نیت پہ سب بنا ہے یا مسجد اک پڑی تھی

پیر مغاں موا سو اس کا بنا خطیرا

ہمراہ خوں تلک ہو ٹک پاؤں کے چھوئے سے

ایسا گناہ مجھ سے وہ کیا ہوا کبیرا

غیرت سے میر صاحب سب جذب ہو گئے تھے

نکلا نہ بوند لوہو سینہ جو ان کا چیرا

*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*

مت صبح و شام تو پئے ایذائے میر ہو

ایسا نہ ہو کہ کام ہی اس کا اخیر ہو

ہو کوئی بادشاہ، کوئی یاں وزیر ہو

اپنی بلا سے بیٹھ رہے جب فقیر ہو

جنت کی منٹ ان کے دماغوں سے کب اٹھے

خاک راہ اس کی جن کے کفن کا عبیر ہو

کیا (*) لو آب و تاب سے ہو بیٹھیں کار عشق

سُوکھے جگر کا خوں تو رواں جوئے شیر ہو

* یہ اور کئی شعر مندرجہ ان کے دیوانوں میں دیکھے اس طرح لکھے تھے اس لیے حرف بحرف لکھے گئے۔

چھاتی قفس میں داغ سے ہو کیوں نہ رشک باغ

جوش بہار تھا کہ ہم آئے اسیر ہو

یاں برگ گل اڑاتے ہیں پرکالہ جگر

جا عندلیب تو نہ مری ہم صفیر ہو

اس کے خیال خط میں کسے یاں دماغ حرف

کرتی ہے بے مزہ جو قلم کی ضریر ہو

زنہار اپنی آنکھ میں آتا نہیں وہ صید

پھوٹا دو سار جس کے جگر کا نہ تیر ہو

ہوتے ہیں میکدے کے جواں شیخ جی بُرے

پھر درگذر یہ کرتے نہیں گو کہ پیر ہو

کس طرح آہ خاکِ مذلت سے میں اُٹھوں

افتادہ تر جو مجھ سے مرا دستگیر ہو

حد سے زیادہ جور و ستم خوش نما نہیں

ایسا سلوک کر کہ تدارک پذیر ہو

دم بھر نہ ٹھہرے دل میں نہ آنکھوں میں ایک پل

اتنے سے قد پہ تم بھی قیامت شریر ہو

ایسا ہی اس کے گھر کو بھی آباد دیکھیو

جس خانماں خراب کا یہ دل مشیر ہو

تسکین دل کے واسطے ہر کم بغل کے پاس

انصاف کرئیے کب تئیں مخلص حقیر ہو

اک وقت خاص حق میں مرے کچھ دعا کرو

تم بھی تو میر صاحب قبلہ فقیر ہو

*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*

دلِ پُر خوں کی اک گلابی سے

عمر بھر ہم رہے شرابی سے

جی ڈھہا جائے ہے سحر سے آج

رات گزرے گی کس خرابی سے

کھلنا کم کم کلی نے سیکھا ہے

اس کی آنکھوں کی نیم خوابی سے

برقع اٹھتے ہی چاند سے نکلا

داغ ہوں اس کی بے حجابی سے

کام تھے عشق میں بہت پر میرؔ

ہم ہی فارغ ہوئے شتابی سے

*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*

دل عجب شہر تھا خیالوں کا

لوٹا مارا ہے حسن والوں کا

جی کو جنجال دل کو ہے الجھاؤ

یار کے حلقہ حلقہ بالوں کا

موئے دلبر سے مشک بو ہے نسیم

حال خوش اس کے خستہ حالوں کا

نہ کہا کچھ نہ آ پھر نہ ملا (اس مصرعے میں کچھ گڑبڑ لگتی ہے )

کیا جواب ان مرے سوالوں کا

دم نہ لے اس کی زلفوں کا مارا

میرؔ کاٹا جئے نہ کالوں کا

*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*

ہے غزل میرؔ یہ شفائی کی

ہم نے بھی طبع آزمائی کی

اُس کے ایفائے عہد تک نہ جئے

عمر نے ہم سے بے وفائی کی

وصل کے دن کی آرزو ہی رہی

شب نہ آخر ہوئی جدائی کی

اسی تقریب اس گلی میں رہے

منتیں ہیں شکستہ پائی کی

دل میں اس شوخ کے نہ کی تاثیر

آہ نے آہ نارسائی کی

کاسۂ چشم لے کے جوں نرگس (*)

ہم نے دیدار کی گدائی کی

*************************************

* آتش نے بھی خوب کہا ہے :

آنکھیں نہیں ہیں چہرہ پہ تیرے فقیر کے

دو ٹھیکرے ہیں بھیک کے دیدار کے لئے

****************************************

زور و زر کچھ نہ تھا تو بارے میرؔ

کس بھروسے پہ آشنائی کی

*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*

ہو گئی شہر شہر رسوائی

اے مری موت تو بھلی آئی

یک بیاباں برنگ صورت جرس

مجھ پہ ہے بے کسی و تنہائی

نہ کھنچے تجھ سے ایک جا نقاش

اس کی تصویر وہ ہے ہرجائی

سر رکھوں اس کے پاؤں پر لیکن

دستِ قدرت یہ میں کہاں پائی

میرؔ جب سے گیا ہے دل تب سے

میں تو کچھ ہو گیا ہوں سودائی

اہلی شیرازی کے شعر پر مصرع لگا کر مثلث کا ایجاد اپنی زبان میں دکھاتے ہیں :

کل تک تو فریبندہ ملاقات تھی پہلی

امروز یقیں شد کہ نداری سراہلی

بیچارہ ز لطفِ تو بدل داشت گما ہا

کیا کہوں میں عاشق و معشوق کا راز و نیاز

ناقہ را میرا ند لیلیٰ سوئے خلوت گاہ ناز

سارباں درد رہ حدی میخواند و مجنوں میگریست

ایک مثلث سید انشاء کا یاد آ گیا۔ کیا خوب مصرع لگایا ہے۔

اگرچہ سینکڑوں اس جا پہ تھے کھڑے زن و مرد

نشد قتیل ولیکن کہ یک کس از سر درد

سرے بہ نعش من خستہ جاں بجنبباند

مربع پانچویں دیوان سے

جوائے قاصد وہ پوچھے میرؔ بھی ایدھر کو چلتا تھا

تو کہیو جب چلا تھا میں تب اس کا دم نکلتا تھا

سماں افسوس بیتابی سے تھا کل قتل میں میرے

تڑپتا تھا ادھر میں یار اودھر ہاتھ ملتا تھا

مربع فارسی پر

سکندر ہے نہ دارا ہے نہ کسرا ہے نہ قیصر ہے

یہ بیت المال ملک بیوفا بے وارثا گھر ہے

نہ در جانم، ہوا باقی نہ اندر دل ہوس ماندہ

بیا ساقی کہ ایں ویرانہ از بسیار کس ماندہ

خاتمہ

رات آخر ہو گئی مگر جلسہ جما ہوا ہے اور وہ سماں بندھ رہا ہے کہ دل سے صدا آتی ہے :

یا الہٰی تا قیامت برنیاید آفتاب

اس مشاعرہ کے شعراء کا کچھ شمار نہیں، خدا جانے یہ کتنے ہیں، اور آسماں پر تارے کتنے ہیں۔ سننے والے ایسے مشتاق کہ شمع پر شمع پانی ہوتی ہے، مگر ان کے شوق کا شعلہ دھیما نہیں ہوتا۔ یہی آواز چلی آتی ہے :

ساقیا یاں لگ رہا ہے چل چلاؤ

جب تلک بس چل سکے ساغر چلے

آزاد بھولتے ہو؟ دلوں کی نبض کس نے پائی ہے ؟ جانتے نہیں کہ دفعتہً اکتا جاتے ہیں۔ پھر ایسے گھبرا جاتے ہیں کہ ہاتھوں سے نکل جاتے ہیں۔ بس اب باقی داستان فردا شب۔ اے لو صبح ہو گئی، طول کلام ملتوی کرو۔

عزیزو مست سخن ہوو یا کہ سوتے ہو

اُٹھو اُٹھو کہ بس اب سر پہ آفتاب آیا

*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-***********-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*