FavoriteLoadingپسندیدہ کتابوں میں شامل کریں

رسومات محرم الحرام اور سانحہ کربلا

  صلاح الدین یوسف حفظہ اللہ

 

 

عرض مؤلف

یہ کتاب راقم کے چند مضامین کا مجموعہ ہے جو مختلف اوقات میں ہفت روزہ “الاعتصام” لاہور میں شائع ہوئے۔ موضوع ان سب کا ماہ محرم اور اس سے متعلقہ مباحث و مسائل ہیں۔ (ایک فاضلانہ مقالہ شیخ الاسلام ابن تیمیہؒ ک ا بھی اس کی اہمیت اور موضوع کی مناسبت سے اس میں شامل کر دیا گیا ہے ) جن احباب اور بزرگوں کی نظروں سے یہ مضامین گزرے ہیں ان کی خواہش تھی کہ یہ الگ کتابی شکل میں شائع ہو جائیں تاکہ ان کی اہمیت مستقل اور ان کا دائرہ استفادہ وسیع ہو جائے۔ الحمد للّٰہ ان کی خواہش کی تکمیل کا سروسامان بہم پہنچ گیا ہے اور اب انہیں بعض ضروری اور مفید اضافوں کے ساتھ شائع کیا جا رہا ہے۔ ان مضامین کے مخاطب اہل سنت کے وہ علما اور عوام ہیں جو شعوری یا غیر شعوری طور پر شیعیت کے مسموم اثرات سے متاثر ہیں۔ اور ان کا طرز عمل اور فکر رِفض و تَشَیُّع کے فروغ کا باعث ہے۔ہم نے علم و عقل کی روشنی میں ان کو دعوت فکر دی ہے تاکہ وہ سنجیدگی سے موروثی نظریات پر نظر ثانی کرسکیں۔ اللہ کرے کہ ان مضامین میں جو جذبۂ ہمدردی کارفرما ہے وہ مؤثر ثابت ہو اور فکر و نظر کی کجیوں کو دور کرنے کا باعث ہو۔

ایں دعاء از من و از جملہ جہاں آمین باد!

اس کتاب کا پہلا ایڈیشن ۱۳۹۹ھ میں بعنوان “ماہ محرم اور موجودہ مسلمان” چھپا تھا، اس وقت سے اب تک اسی عنوان سے پاک و ہند سے اس کے متعدد ایڈیشن شائع ہو چکے ہیں اور الحمد اللہ عوام و خواص میں اس کو خوب پذیرائی حاصل ہوئی ہے۔ تاہم اس میں ایک کمی محسوس ہوتی تھی اور وہ تھی “واقعہ کربلا اور اس کے اہم اسباب”

سالہا سال سے کتاب تو شائع ہو رہی تھی اور اس میں ساری گفتگو بھی اسی موضوع کے متعلقہ مباحث پر ہے، لیکن اصل واقعے کی تفصیلات نہ ہونے کی وجہ سے کتاب میں ایک تشنگی موجود تھی۔

اس ایڈیشن میں اللہ تعالیٰ کی توفیق سے اس تشنگی اور کمی کا بھی ازالہ “سانحۂ کربلا۔ پس منظر اور اہم اسباب” کے عنوان سے، ایک باب کا اضافہ کر کے، کر دیا گیا ہے۔ اور اب یہ کتاب “رسومات محرم الحرام اور سانحۂ کربلا” کے نئے عنوان سے چھپ رہی ہے۔

علاوہ ازیں اب یہ اضافہ شدہ ایڈیشن، اسلامی کتابوں کی نشر  و اشاعت کے عالمی ادارے دارالسلام الریاض۔ لاہور کی طرف سے شائع ہو رہا ہے۔ ادارے نے اپنی روایات کے مطابق اس کی تحقیق کے معیار کو مزید بلند اور طباعت کے حسن کو دوچند بلکہ دَہ چند کر دیا ہے۔ اس کے لیے راقم ادارے کے سینئر رفیق مولانا محمد عبدالجبار اور حافظ عبد العظیم اسد حفظہما اللّٰہ کا شکرگزار ہے۔ اول الذکر فاضل رفیق نے اس کی تصحیح و تحقیق میں ثانی الذکر عزیز موصوف نے اس کے گیسوئے طباعت کی تزئین و آرائش میں خوب خوب محنت کی ہے۔ جزا کما اللّٰہ احسن الجزاء۔

اس لحاظ سے یہ ایڈیشن، سابقہ تمام ایڈیشنوں کے مقابلے میں، زیادہ مفید، بہتر اور ظاہری و معنوی محاسن سے آراستہ ہے۔

صلاح الدین یوسف

مدیر: شعبۂ ترجمہ و تحقیق و تصنیف

دارالسلام۔ لاہور

ذوالحجہ ۱۴۲۲ھ۔ فروری ۲۰۰۲ء

 

۱۔۔محرم الحرام۔۔ سن ہجری کا آغاز

سانحۂ کربلا کا اس کی حرمت سے کوئی تعلق نہیں!

ماہ محرم سن ہجری کا پہلا مہینہ ہے جس کی بنیاد تو آنحضرت ﷺ کے واقعۂ ہجرت پر ہے لیکن اس اسلامی سن کا تقرر اور آغاز ِ استعمال ۱۷ھ میں حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے عہد حکومت میں ہوا۔ بیان کیا جاتا ہے کہ حضرت ابو موسی ٰ اشعری رضی اللہ عنہ یمن کے گورنر تھے ان کے پاس حضرت عمررضی اللہ عنہ کے فرمان آتے تھے جن پر تاریخ درج نہ ہوتی تھی۔ ۱۷ھ ہجری حضرت ابو موسی ٰرضی اللہ عنہ کے توجہ دلانے پر حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے صحابہ کو اپنے ہاں جمع فرمایا اور ان کے سامنے یہ مسئلہ رکھا، تبادلۂ افکار کے بعد قرار پایا کہ اپنے سن تاریخ کی بنیاد واقعہ ہجرت کو بنایا جائے اور اس کی ابتداء ماہ محرم سے کی جائے کیونکہ ۱۳ نبوت کے ذوالحجہ کے بالکل آخر میں مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کا منصوبہ طے کر لیا گیا تھا اور اس کے بعد جو چاند طلوع ہوا وہ محرم کا تھا۔ (فتح الباری، باب التاریخ ومن أین أرخو التاریخ؟ ج۳۳۴/۷، حدیث: ۳۹۳۴، طبع دارالسلام)

مسلمانوں کا یہ اسلامی سن بھی اپنے معنی و مفہوم کے لحاظ سے ایک خاص امتیازی حیثیت کا حامل ہے۔ مذاہب عالم میں اس وقت جس قدر سنین مروج ہیں وہ عام طور پر یا تو کسی مشہور انسان کے یوم ولادت کو یاد دلاتے ہیں یا کسی قومی واقعۂ مسرت و شادمانی سے وابستہ ہیں کہ جس سے نسل انسانی کو بظاہر کوئی فائدہ نہیں، مثلاً مسیحی سن کی بنیاد حضرت عیسیٰؑ علیہ السلام کا یوم ولادت ہے۔ یہودی سن فلسطین پر حضرت سلیمان علیہ السلام کی تخت نشینی کے ایک پر شوکت واقعے سے وابستہ ہے۔ بکرمی سن راجہ بکرما جیت کی پیدائش کی یادگار ہے، رومی سن سکندر فاتح اعظم کی پیدائش کو واضح کرتا ہے، لیکن اسلامی سن ہجری عہد نبوت کے ا یسے واقعے سے وابستہ ہے جس میں یہ سبق پنہاں ہے کہ اگر مسلمان اعلائے کلمۃ الحق کے نتیجے میں تمام اطراف سے مصائب و آلام میں گھر جائے، بستی کے تمام لوگ اس کے دشمن اور در پئے آزار ہو جائیں، قریبی رشتہ دار اور خویش و اقارب بھی اس کو ختم کرنے کا عزم کر لیں، اس کے دوست احباب بھی اسی طرح تکالیف میں مبتلا کر دئیے جائیں، شہر کے تمام سربرآوردہ لوگ اس کو قتل کرنے کا منصوبہ باندھ لیں، اس پر عرصۂ حیات ہر طرح سے تنگ کر دیا جائے اور اس کی آواز کو جبراً روکنے کی کوشش کی جائے تو اس وقت وہ مسلمان کیا کرے ؟ اس کا حل اسلام نے یہ تجویز نہیں کیا کہ کفر و باطل کے ساتھ مصالحت کر لی جائے، تبلیغ حق میں مداہنت اور رواداری سے کام لیا جائے اور اپنے عقائد و نظریات میں لچک پیدا کر کے ان میں گھل مل جائے تاکہ مخالفت کا زور ٹوٹ جائے۔ بلکہ اس کا حل اسلام نے یہ تجویز کیا ہے کہ ایسی بستی اور شہر پر حجت تمام کر کے وہاں سے ہجرت اختیار کر لی جائے۔

چنانچہ اسی واقعۂ ہجرت پر سن ہجری کی بنیاد رکھی گئی ہے جو نہ تو کسی انسانی برتری اور تَفَوُّق کو یاد دلاتا ہے اور نہ شوکت و عظمت کے کسی واقعے کو، بلکہ یہ واقعۂ ہجرت مظلومی اور بے کسی کی ایک یادگار ہے کہ جو ثبات قدم، صبر واستقامت اور راضی برضائے الہٰی ہونے کی ایک زبردست مثال اپنے اندر پنہاں رکھتا ہے۔ یہ واقعۂ ہجرت بتلاتا ہے کہ ایک مظلوم و بے کس انسان کس طرح اپنے مشن میں کامیاب ہوسکتا ہے اور مصائب و آلام سے نکل کر کس طرح کامرانی و شادمانی کا زریں تاج اپنے سر پر رکھ سکتا ہے اور پستی و گمنامی سے نکل کر رفعت و شہرت اور عزت و عظمت کے بام عروج پر پہنچ سکتا ہے۔ علاوہ ازیں یہ مہینہ حرمت والا ہے اور اس ماہ میں نفل روزے اللہ تعالیٰ کو بہت پسند ہیں جیسا کہ حدیث نبوی ﷺ میں ہے۔ (یہ حدیث آگے آئے گی)

یہ بھی خیال رہے کہ اس مہینے کی حرمت کا سیدنا حضرت حسینؓ کے واقعۂ شہادت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ یہ مہینہ اس لیے قابل احترام ہے کہ اس میں حضرت حسینؓ کی شہادت کا سانحۂ دلگداز پیش آیا تھا یہ خیال بالکل غلط ہے۔ یہ سانحۂ شہادت تو حضور ا کرم ﷺ کی وفات سے پچاس سال بعد پیش آیا اور دین کی تکمیل آنحضرت ﷺ کی زندگی میں ہی کر دی گئی تھی۔

[ٱلْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِى وَرَضِيتُ لَكُمُ ٱلْإِسْلَٰمَ دِينًا ۚ] (المائدۃ۳/۵)

اس لیے یہ تصور اس آیت قرآنی کے سراسر خلاف ہے، پھر خود اسی مہینے میں اس سے بڑھ کر ایک اور سانحۂ شہادت اور واقعۂ عظیم پیش آیا تھا یعنی یکم محرم کو عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی شہادت کا واقعہ۔ اگر بعد میں ہونے والی ان شہادتوں کی شرعاً کوئی حیثیت ہوتی تو حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی شہادت اس لائق تھی کہ اہل اسلام اس کا اعتبار کرتے۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت ایسی تھی کہ اس کی یادگار منائی جاتی اور پھر ان شہادتوں کی بنا پر اگر اسلام میں ماتم و شیون کی اجازت ہوتی تو  یقیناً تاریخ اسلام کی یہ دونوں شہادتیں ایسی تھیں کہ اہل اسلام ان پر جتنی بھی سینہ کوبی اور ماتم و گریہ زاری کرتے، کم ہوتا۔ لیکن ایک تو اسلام میں اس ماتم و گریہ زاری کی اجازت نہیں، دوسرے یہ تمام واقعات تکمیل دین کے بعد پیش آئے ہیں اس لیے ان کی یاد میں مجالس عزا اور محافل ماتم قائم کرنا دین میں اضافہ ہے جس کے ہم قطعاً مجاز نہیں۔

 

۲۔۔عشرۂ محرم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا احترام مطلوب

عشرۂ محرم میں عام دستور رواج ہے کہ شیعی اثرات کے زیر اثر واقعات کربلا کو مخصوص رنگ اور افسانوی و دیو مالائی انداز میں بیان کیا جاتا ہے۔ شیعی ذاکرین تو اس ضمن میں جو کچھ کرتے ہیں وہ عالم آشکارا ہے، لیکن بدقسمتی سے بہت سے اہل سنت کے واعظان خوش گفتار اور خطیبان سحر بیان بھی گرمیِ محفل اور عوام سے داد و تحسین وصول کرنے لیے اسی تال سر میں ان واقعات کا تذکرہ کرتے ہیں جو شیعیت کی مخصوص ایجاد اور ان کی انفرادیت کا غماز ہے اس سانحۂ شہادت کا ایک پہلو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پر تبرا بازی ہے جس کے بغیر شیعوں کی ” محفل ماتم حسین رضی اللہ عنہ ” مکمل نہیں ہوتی۔ اہل سنت اس پستی و کمینگی تک تو نہیں اترتے تاہم بعض لوگ بوجوہ بعض صحابہ پر کچھ نکتہ چینی کر لینے میں کوئی مضائقہ نہیں سمجھتے، مثلاً ایک “مفکر” نے تو یہاں تک فرما دیا کہ قلیل الصحبت ہونے کی وجہ سے ان کی قلب ماہیت نعوذ باللہ نہیں ہوئی تھی۔ حالانکہ واقعہ یہ ہے کہ تمام اعلیٰ و ادنی ٰ صحابہ کا فرق مراتب کے با وصف بحیثیت صحابی ہونے کے یکساں عزت و احترام اسلام کا مطلوب ہے۔ کسی صحابی کے حقوق میں زبان طعن و تشنیع کھولنا اور ریسرچ کے عنوان پر نکتہ چینی کرنا ہلاکت و تباہی کو دعوت دینا ہے۔

صحابی کی تعریف ہر اس شخص پر صادق آتی ہے جس نے ایمان کی حالت میں نبی ٔ ا کرم ﷺ کو دیکھا ہو اور قرآن و حدیث میں صحابۂ کرام کے جو عمومی فضائل و مناقب بیان کیے گئے ہیں، ان کا اطلاق بھی ہر صحابی پر ہو گا۔

حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ نے الاصابہ مین صحابی کی جس تعریف کو سب سے زیادہ صحیح اور جامع قرار دیا ہے، وہ یہ ہے :

((وَاَصَحُّ مَا وَقَفتُ عَلَیہِ مِن ذٰلِکَ أَنَّ الصَّحَابِیَّ مَن لَقِیَ النَّبِیَّ ﷺ مُؤمِناً بِہٖ وَمَاتَ عَلَی الاِسلَامِ، فَیَدخُلُ فِیمَن لَقِیَہُ مَن طَالَت مُجَالَسَتُہُ لَہُ أَو قَصُرَت وَ مَن رَوٰی عَنہُ أَو لَم یَروِ وَمَن غَزَا مَعَہُ أَو لَم یَغزُ وَ مَن رَاَٰہُ رُؤیَۃً وَلَو لَم یُجَالِسہُ وَ مَن لَم یَرَہُ بِعَارِضِ کَالعَمٰی)) (الاصابۃ فی تمییز الصحابۃ : ۱۵۸/۱، طبع دارالکتب العلمیۃ: ۱۹۹۵ء)

“سب سے زیادہ صحیح تعریف صحابی کی جس پر میں مطلع ہوا وہ یہ ہے کہ “وہ شخص جس نے ایمان کی حالت میں حضور ﷺ سے ملاقات کی اور اسلام ہی پر اس کی موت ہوئی۔” پس اس میں ہر وہ شخص داخل ہے جس نے نبی ﷺ سے ملاقات ( قطع نظر اس سے کہ )اسے آپ کی ہم نشینی کا شرف زیادہ حاصل رہا یا کم، آپ سے روایت کی یا نہ کی۔ آپ کے ساتھ غزوے میں شریک ہوا یا نہیں ور جس نے آپ کو صرف ایک نظر ہی سے دیکھا ہو اور آپ کی مجالس، ہم نشینی کی سعادت کا موقع اسے نہ ملا ہو اور جو کسی خاص سبب کی بنا پر آپ کی رؤیت کا شرف حاصل نہ کرسکا ہو جیسے نابینا پن۔”

اس لیے اہل سنت کا خلفاء اربعہ ابوبکر و عمر اور عثمان و علی رضی اللہ عنہم اور دیگر ان جیسے اکابر صحابہ کی عزت و توقیر کو ملحوظ رکھنا لیکن بعض ان جلیل القدر اصحاب رسول کی منقبت و تقدیس کا خیال نہ رکھنا یا کم از کم انہیں احترام مطلوب کا مستحق نہ سمجھانا جن کے اسمائے گرامی مشاجرات کے سلسلے میں آتے ہیں جیسے حضرت معاویہ، حضرت عمرو بن العاص، حضرت مغیرہ بن شعبہ رضوان اللہ علیہم اجمعین ہیں، یکسر غلط اور رفض و تشیع کا ایک حصہ ہے۔ اہل سنت کو اس نکتے پر غور کرنا چاہیے کہ خلفائے راشدین کی عزت و توقیر تو کسی حد تک معقولیت پسند شیعہ حضرات بھی ملحوظ رکھنے پر مجبور ہیں اور ان کا ذکر وہ نامناسب انداز میں کرنے سے بالعموم گریز ہی کرتے ہیں البتہ حضرت معاویہ، عمروبن العاص رضی اللہ عنہما وغیرہ کو وہ بھی معاف نہیں کرتے اگر صحابہ کرام کے نام لیوا بھی یہی مؤقف اختیار کر لیں، تو پھر محبان صحابہ اور دشمنان صحابہ میں فرق کیا رہ جاتا ہے ؟ اور ان صحابہ کو احترام مطلوب سے فروتر خیال کر کے ان کے شرف و فضل کو مجروح کرنا کیا صحابیت کے قصر رفیع میں نقب زنی کا ارتکاب نہیں ہے ؟ کیا س طرح نفس صحابیت کا تقدس مجروح نہیں ہوتا؟ اور صحابیت کی ردائے عظمت (معاذ اللہ) تار تار نہیں ہوتی؟

بہرحال ہم عرض یہ کر رہے تھے کہ قرآن و حدیث میں صحابۂ کرامؓ کے جو عمومی فضائل و مناقب مذکور ہیں وہ تمام صحابہؓ کو محیط و شامل ہیں اس میں قطعاً کسی استثناء کی کوئی گنجائش نہیں ہے اور ان نصوص کی وجہ سے ہم اس امر کے پابند ہیں کہ تمام صحابہ کو نفس صحابیت کے احترام میں یکساں عزت و احترام کا مستحق سمجھیں، اس سلسلے میں یہ حدیث ہر وقت ہمارے پیش نظر رہنی چاہیے۔

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا:

((لَا تَسُبُّوا أَصْحَابِي فَلَوْ أَنَّ أَحَدَكُمْ أَنْفَقَ مِثْلَ أُحُدٍ ذَهَبًا مَا بَلَغَ مُدَّ أَحَدِهِمْ وَلَا نَصِيفَهُ)) (صحیح البخاری، فضائل اصحاب النبی ﷺ، ح : ۳۶۷۳ و صحیح مسلم، فضائل الصحابۃ، ح:۲۵۴۱۔۲۵۴۰)

“میرے صحابہ پر سب و شتم نہ کرو( یعنی انہیں جرح و تنقید اور برائی کا ہدف نہ بناؤ) انہیں اللہ نے اتنا بلند رتبہ عطا فرمایا ہے ) کہ تم میں سے کوئی شخص اگر احد پہاڑ جتنا سونا بھی اللہ کی راہ میں خرچ کر دے تو وہ کسی صحابی کے خرچ کردہ ایک مُد (تقریباً ایک سیر) بلکہ آدھے مُد کے بھی برابر نہیں ہوسکتا۔”

 

۳۔۔ماہ محرم اور عاشورۂ محرم

عشرۂ محرم(محرم کے ابتدائی دس دن) میں شیعہ حضرات جس طرح مجالس عزا اور محافل ماتم برپا کرتے ہیں، ظاہر بات ہے کہ یہ سب اختراعی چیزیں ہیں اور  شریعت اسلامیہ کے مزاج سے قطعاً مخالف۔اسلام نے تو نوحہ و ماتم کے اس انداز کو”جاہلیت” سے تعبیر کیا ہے اور اس کام کو باعث لعنت بلکہ کفر تک پہنچا دینے والا بتلایا ہے۔

بدقسمتی سے اہل سنت میں سے ایک بدعت نواز حلقہ اگرچہ نوحہ و ماتم کا شیعی انداز تو اختیار نہیں کرتا لیکن ان دس دنوں میں بہت سی ایسی باتیں اختیار کرتا ہے جن سے رفض و تشیع کی ہمنوائی اور ان کے مذہب باطل کا فروغ ہوتا ہے۔ مثلاً

شیعوں کی طرح سانحۂ کربلا کو مبالغے اور رنگ آمیزی سے بیان کرنا

حضرت حسین رضی اللہ عنہ اور یزید رحمۃ اللہ علیہ کی بحث کے ضمن میں جلیل القدر صحابہ کرام (معاویہ اور مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہما وغیرہ) کو ہدف طعن و ملامت بنانے میں بھی تامل نہ کرنا۔

دس محرم کو تعزیے نکالنا، انہیں قابل تعظیم پرستش سمجھنا، ان سے منتیں مانگنا، حلیم پکانا، پانی کی سبیلیں لگانا اپنے بچوں کو ہرے رنگ کے کپڑے پہنا کر انہیں حسین رضی اللہ عنہ کا فقیر بنانا۔

دس محرم کو تعزیوں اور ماتم کے جلوسوں میں ذوق و شوق سے شرکت کرنا اور کھیل کود (گٹکے اور پٹہ بازی) سے ان محفلوں کی رونق میں اضافہ کرنا، وغیرہ

ماہ محرم کو سوگ کا مہینہ سمجھ کر اس مہینے میں شادیاں نہ کرنا۔

ذ والجناح (گھوڑے ) کے جلوس میں ثواب کا کام سمجھ کر شرکت کرنا۔

اور اسی انداز کی کئی چیزیں ہیں۔ حالانکہ یہ سب چیزیں بدعت ہین جن سے نبی ٔ ا کرم ﷺ کے فرمان کے مطابق اجتناب ضروری ہے۔ آپ نے مسلمانوں کو تاکید کی ہے۔

((فَعَلَيْكُمْ بِسُنَّتِي وَسُنَّةِ الْخُلَفَاءِ الْمَهْدِيِّينَ الرَّاشِدِينَ تَمَسَّكُوا بِهَا وَعَضُّوا عَلَيْهَا بِالنَّوَاجِذِ وَإِيَّاكُمْ وَمُحْدَثَاتِ الْأُمُورِ فَإِنَّ كُلَّ مُحْدَثَةٍ بِدْعَةٌ وَكُلَّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ)) (مسند احمد:۱۲۶/۴۔۱۲۷ وسنن ابی داؤد، السنۃ، ح:۴۶۰۷ وابن ماجہ، اتباع سنۃ الخلفاء الراشدین المھدیین، ح: ۴۲ وجامع الترمذی، العلم، ح: ۲۶۷۶)

“مسلمانو!تم میری سنت اور ہدایت یافتہ خلفائے راشدین کے طریقے ہی کو اختیار کرنا اوراسے مضبوطی سے تھامے رکھنا اور دین میں اضافہ شدہ چیزوں سے اپنے کو بچا کر رکھنا، اس لیے کہ دین میں نیا کام (چاہے وہ بظاہر کیسا ہی ہو) بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے۔”

یہ بات ہر کہ و مہ پر واضح ہے کہ یہ سب چیزیں صدیوں بعد کی پیداوار ہیں، بنا بریں ان کے بدعات ہونے میں کوئی شبہ نہیں اور نبی ﷺ نے ہر بدعت کو گمراہی سے تعبیر فرمایا ہے جس سے مذکورہ خود ساختہ رسومات کی شناعت و قباحت کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

محرم میں مسنون عمل:       محرم میں مسنون عمل صرف روزے ہیں۔ حدیث مین رمضان کے علاوہ نفلی روزوں میں محرم کے روزوں کو سب سے افضل قرار دیا گیا ہے۔

((أَفْضَلُ الصِّيَامِ بَعْدَ رَمَضَانَ شَهْرُ اللَّهِ الْمُحَرَّمُ)) (صحیح مسلم، الصیام، باب فضل صوم المحرم، ح: ۱۱۶۳)”رمضان کے بعد، سب سے افضل روزے، اللہ کے مہینے، محرم کے ہیں۔”

۱۰ محرم کے روزے کی فضلیت: بالخصوص دس محرم کے روزے کی حدیث میں یہ فضیلت آئی ہے کہ یہ ایک سال گزشتہ کا کفارہ ہے۔(صحیح مسلم، باب استحباب صیام ثلاثہ ایام۔۔۔حدیث: ۱۱۶۲)    اس روز آنحضرت ﷺ بھی خصوصی روز ہ رکھتے تھے (ترغیب) پھر نبیﷺ کے علم میں یہ بات آئی کہ یہودی بھی اس امر کی خوشی میں کہ دس محرم کے دن حضرت موسیٰ کو فرعون سے نجات ملی تھی، روزہ رکھتے ہیں تو نبی ﷺ نے فرمایا کہ عاشورہ (دس محرم) کا روزہ تو ضرور رکھو لیکن یہودیوں کی مخالفت بھی بایں طور کرو کہ اس کے بعد یا اس سے قبل ایک روزہ اور ساتھ ملا لیا کرو۔ ۹، ۱۰ محرم یا ۱۰، ۱۱ محرم کا روزہ رکھا کرو۔

((صُومُوا يَوْمَ عَاشُورَاءَ وَخَالِفُوا فِيهِ الْيَهُودَ صُومُوا قَبْلَهُ يَوْمًا أَوْ بَعْدَهُ يَوْمًا)) (مسند احمد بتحقیق احمد شا کر، ح: ۲۱۵۴ و مجمع الزوائد: ۴۳۴/۳، مطبوعۃ دارالفکر، ۱۴۱۴ھ/۱۹۹۴ء)

ایک اور حدیث میں ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ نے عاشورے کا روزہ رکھا اور مسلمانوں کو بھی اس دن کا روزہ رکھنے کا حکم فرمایا، تو صحابہ نے آپ کو بتلایا کہ یہ دن تو ایسا ہے جس کی تعظیم یہود و نصاریٰ بھی کرتے ہیں، اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

((لَئِنْ بَقِيتُ إِلَى قَابِلٍ لَأَصُومَنَّ التَّاسِعَ)) (صحیح مسلم، الصیام، باب ای یوم یصام فی عاشوراء، ح؛ ۱۱۳۴)”اگر میں آئندہ سال زندہ رہا تو نویں محرم کا روزہ (بھی) رکھوں گا۔

لیکن اگلا محرم آنے سے قبل ہی آپ اللہ کو پیارے ہو گئے،ﷺ۔

ایک ضروری وضاحت:      بعض علماء کہتے ہیں کہ “میں نویں محرم کا روزہ رکھوں گا” کا مطلب ہے کہ صرف محرم کی ۹ تاریخ کا روزہ رکھوں گا یعنی دس محرم کا روزہ نہیں، بلکہ اس کی جگہ ۹ محرم کا روزہ رکھوں گا۔ اس لیے وہ کہتے ہیں کہ اب صرف ۹ محرم کا روزہ رکھنا مسنون عمل ہے۔ ۱۰ محرم کا روزہ رکھنا بھی صحیح نہیں اور ۱۰ محرم کے ساتھ ۹ محرم کا روزہ ملا کر رکھنا بھی سنت نہیں۔ بلکہ اب سنت صرف ۹ محرم کا ایک روزہ ہے۔ لیکن یہ رائے صحیح نہیں۔ نبی ﷺ کے فرمان کا مطلب ہے کہ میں ۱۰ محرم کے ساتھ ۹ محرم کا روزہ بھی رکھوں گا، اسی لیے ہم نے ترجمے میں۔۔بھی۔۔ کا اضافہ کیا ہے، کیونکہ ۱۰ محرم کا روزہ تو آپ نے حضرت موسیٰ کے نجات پانے کی خوشی میں رکھا تھا، اس اعتبار سے ۱۰ محرم کے روزے کی مسنونیت تو مسلم ہے، لیکن یہودیوں کی مخالفت کے لیے آپ نے اس کے ساتھ ۹ محرم کا روزہ رکھنے کی خواہش کا اظہار فرمایا جس پر عمل کرنے کا موقع آپ کو نہیں ملا۔ بعض دیگر روایات سے بھی اس بات کی تائید ہوتی ہے، اسی لیے صاحب مرعاۃ مولانا عبید اللہ رحمانی مبارکپوری، امام ابن قیم اور حافظ ابن حجر نے اسی مفہوم کو زیادہ صحیح اور راجح قرار دیا ہے۔ (ملاحظہ ہو: مرعاۃ المفاتیح، ۲۷۰/۳، طبع قدیم)

توسیع طعام کی بابت–ایک من گھڑت روایت

محرم کی دسویں تاریخ کے بارے میں جو روایت بیان کی جاتی ہے کہ اس دن جو شخص اپنے اہل وعیال پر فراخی کرے گا، اللہ تعالیٰ سارا سال اس پر فراخی کرے گا، بالکل بے اصل ہے جس کی صراحت شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ اور دیگر ائمہ محققین نے کی ہے۔ چنانچہ امام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں۔

“۱۰ محرم کو خاص کھانا پکانا، توسیع کرنا وغیرہ من جملہ ان بدعات و منکرات سے ہے جو نہ رسول اللہ ﷺ کی سنت سے ثابت ہے نہ خلفائے راشدین سے، اور نہ ائمہ مسلمین میں سے کسی نے اس کو مستحب سمجھا ہے۔” (فتاویٰ ابن تیمیہ: ۳۵۴/۲)اور امام احمد رحمۃ اللہ علیہ کا یہ قول مذکورہ روایت کے متعلق امام ابن تیمیہ نے نقل کیا ہے کہ ((لا اصل لہ فلم یرہ شیئاً)) (اس کی کوئی اصل نہیں، امام احمد رحمۃ اللہ علیہ نے اس روایت کو کچھ نہیں سمجھا) (منہاج السنۃ، ۲۴۸/۲ اور فتاویٰ مذکور)

اسی طرح امام صاحب کی کتاب اقتضاء الصراط المستقیم میں اس کی صراحت موجود ہے۔ (ص:۳۰۱، طبع مصر ۱۹۵۰ء)

اور امام محمد بن وضاح نے نے اپنی کتاب “البدع والنھی عنھا” میں امام یحییٰ بن یحییٰ (متوفی ۲۳۴ھ) سے نقل کیا ہے۔

“میں امام مالک رحمۃ اللہ علیہ کے زمانے میں مدینہ منورہ اور امام لیث، ابن القاسم او ر ابن وہب کے ایام میں مصر میں تھا اور یہ دن (عاشورا) وہاں آیا تھا میں نے کسی سے اس کی توسیع رزق کا ذکر تک نہیں سنا۔ اگر ان کے ہاں کوئی ایسی روایت ہوتی تو باقی احادیث کی طرح اس کا بھی وہ ذکر کرتے۔”(کتاب مذکور ص۴۵)اس روایت کی پوری سندی تحقیق حضرت الاستاذ المحترم مولانا محمد عطاء اللہ حنیف رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے ایک مفصل مضمون میں کی ہے جو “الاعتصام” ۱۳ مارچ ۱۹۷۰ء میں شائع ہوا تھا۔ من شآء فلیراجعہ۔یہ تمام مذکورہ امور وہ ہیں جو اہل سنت عوام کرتے ہیں، شیعہ ان ایام میں جو کچھ کرتے ہیں، ان سے اس وقت بحث نہیں، اس وقت ہمارا روئے سخن اہل سنت کی طرف ہے کہ وہ بھی دین اسلام سے ناواقفیت، عام جہالت اور ایک برخود غلط فرقے کی دسیسہ کاریوں سے بے خبری کی بنا پر مذکورہ بالا رسومات بڑی پابندی اور اہتمام سے بجا لاتے ہیں حالانکہ یہ تمام چیزیں اسلام کے ابتدائی دور کے بہت بعد کی ایجاد ہیں جو کسی طرح بھی دین کا حصہ نہیں اور نبی ﷺ کے فرمان:

((مَنْ أَحْدَثَ فِي أَمْرِنَا هَذَا مَا لَيْسَ فِيهِ فَهُوَ رَدٌّ)) (صحیح البخاری، الصلح، باب اذا اصطلحوا علی صلح جور فالصلح مردود، ح۲۶۹۷ وصحیح مسلم، الاقضیۃ، باب نقض الأحکام الباطلۃ۔۔۔، ح: ۱۷۱۸)

“دین میں نو ایجاد کام مردود ہے۔”

کے مصداق ان سے اجتناب ضروری ہے۔

 

۴۔۔مذکورہ بدعات اور رسومات کی ہلاکت خیزیاں

دین میں اپنی طرف سے اضافے ہی کو بدعت کہا جاتا ہے۔ پھر یہ چیزیں صرف بدعت ہی نہیں ہیں بلکہ اس سے بھی بڑھ کر یہ شرک و بت پرستی کے ضمن میں آجاتی ہیں۔ کیونکہ :

اولاً:    تعزیے میں روح حسین رضی اللہ عنہ کو موجود اور انہیں عالم الغیب سمجھا جاتا ہے، تب ہی تو تعزیوں کو قابل تعظیم سمجھتے اور ان سے مدد مانگتے ہیں حالانکہ کسی بزرگ کی روح کو حاضر ناظر جاننا اور عالم الغیب سمجھنا شرک و کفر ہے، چنانچہ حنفی مذہب کی معتبر کتاب فتاوی بزازیہ میں لکھا ہے من قال ارواح المشائخ حاضرۃ تعلم یکفر “جو شخص یہ اعتقاد رکھے کہ بزرگوں کی روحیں ہر جگہ حاضر و ناظر ہیں اور وہ علم رکھتی ہیں، وہ کافر ہے۔”

ثانیاً:    تعزیہ پرست تعزیوں کے سامنے سر نیہوڑتے ہیں جو سجدے ہی کی ذیل میں آتا ہے اور کئی لوگ تو کھلم کھلا سجدے بجا لاتے ہیں اور غیر اللہ کو سجدہ کرنا، چاہے وہ تعبدی ہو یا تعظیمی، شرک صریح ہے۔ چنانچہ کتب فقہ حنفیہ میں بھی سجدہ لغیر اللہ کو کفر سے تعبیر کیا گیا ہے۔ شمس الائمہ سرخسی کہتے ہیں:

((ان کان لغیر اللہ تعالیٰ علی وجہ التعظیم کفر))

“غیر اللہ کو تعظیمی طور (بھی) سجدہ کرنا کفر ہے۔”

اور علامہ قہستانی حنفی فرماتے ہیں یکفروا لسجدۃ مطلقاً یعنی غیر اللہ کو سجدہ کرنے والا مطلقاً کافر ہے چاہے عبادۃًٍ ہو یا تعظیماً” (رد المحتار)

ثالثاً:   تعزیہ پرست نوحہ خوانی و سینہ کوبی کرتے ہیں اور ماتم و نوحہ میں کلمات شرکیہ ادا کرتے ہیں، اول تو نوحہ خوانی بجائے خود غیر اسلامی فعل ہے جس سے رسول اللہ ﷺ نے منع فرمایا ہے۔ چنانچہ صحیح حدیث میں ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا:

((لَيْسَ مِنَّا مَنْ ضَرَبَ الْخُدُودَ وَشَقَّ الْجُيُوبَ وَدَعَا بِدَعْوَى الْجَاهِلِيَّةِ)) (صحیح البخاری، الجنائز، باب لیس منا من ضرب الخدود، ح : ۱۲۹۷)

“وہ شخص ہم میں سے نہیں جس نے رخسار پیٹے، گریبان چاک کیے اور زمانۂ جاہلیت کے سے بین کیے۔”

یہ صورتیں جو اس حدیث میں بیان کی گئی ہیں، نوحہ و ماتم کے ضمن میں آتی ہیں، جو ناجائز ہیں۔ اس لیے فطری اظہار غم کی جو بھی مصنوعی اور غیر فطری صورتیں ہوں گی، وہ سب ناجائز نوحے میں شامل ہوں گی۔ پھر ان نوحوں میں مبالغہ کرنا اور زمین و آسمان کے قلابے ملانا اور عبد و معبود کے درمیان فرق کو مٹا دینا تو وہی جاہلانہ شرک ہے جس کے مٹانے کے لیے ہی تو اسلام آیا تھا۔

رابعاً:  تعزیہ پرست تعزیوں سے اپنی مرادیں اور حاجات طلب کرتے ہیں جو صریحاً شرک ہے۔ جب حضرت حسین رضی اللہ عنہ میدان کربلا میں مظلومانہ شہید ہو گئے اور اپنے اہل و عیال کو ظالموں کے پنجے سے نہ بچا سکے تو اب بعد از وفات وہ کسی کے کیا کام آ سکتے ہیں؟

خامساً:  تعزیہ پرست حضرت حسین رضی ا للہ عنہ کی مصنوعی قبر بناتے ہیں اور اس کی زیارت کو ثواب سمجھتے ہیں حالانکہ حدیث میں آتا ہے :

((من زار قبرا بلا مقبور کانما عبدالصنم)) (رسالہ تنبیہ الضالین، از مولانا اولاد حسن، والد نواب صدیق حسن خان رحمہ اللہ تعالیٰ)

یعنی” جس نے ایسی خالی قبر کی زیارت کی جس میں کوئی میت نہیں تو گویا اس نے بت کی پوجا کی۔”

مولانا احمد رضا خاں بریلوی کی صراحت:      علاوہ ازیں اہل سنت عوام کی اکثریت مولانا احمد رضا خاں بریلوی کی عقیدت کیش ہے، لیکن تعجب ہے کہ اس کے باوجود وہ محرم کی ان خودساختہ رسومات میں خوب ذوق و شوق سے حصہ لیتے ہیں۔ حالانکہ مولانا احمد رضا خاں بریلوی نے بھی ان رسومات سے منع کیا ہے اور انہیں بدعت، ناجائز اور حرام لکھا ہے اور ان کو دیکھنے سے بھی روکا ہے۔ چنانچہ ان کا فتویٰ ہے۔

“تعزیہ آتا دیکھ کر اعراض و روگردانی کریں۔ اس کی طرف دیکھنا ہی نہیں چاہیے۔” (عرفان شریعت، حصہ اول، صفحہ: ۱۵)

ان کا ایک مستقل رسالہ “تعزیہ داری” ہے، اس کے صفحہ ۴ پر لکھتے ہیں:

“غرض عشرۂ محرم الحرام کہ اگلی شریعتوں سے اس شریعت پاک تک نہایت بابرکت محل عبادت ٹھہرا تھا، ان بے ہودہ رسوم نے جاہلانہ اور فاسقانہ میلوں کا زمانہ کر دیا۔”

“یہ کچھ اور اس کے ساتھ خیال وہ کچھ کہ گویا خودساختہ تصویریں بعینہٖ حضرات شہداء رضوان اللہ علیہم اجمعین کے جنازے ہیں۔”

 “کچھ اتارا باقی توڑا اور دفن کر دیے۔ یہ ہر سال اضاعت مال کے جرم دو وبال جداگانہ ہیں۔ اب تعزیہ داری اس طریقۂ نامرضیہ کا نام ہے۔ قطعاً بدعت و ناجائز حرام ہے۔”

صفحہ ۱۱ پر لکھتے ہیں:

 “تعزیہ پر چڑھایا ہوا کھانا نہ کھانا چاہیے۔ اگر نیاز دے کر چڑھائیں، یا چڑھا کر نیاز دیں تو بھی اس کے کھانے سے احتراز کریں۔”

اور صفحہ ۱۵ پر حسب ذیل سوال، جواب ہے۔

سوال: تعزیہ بنانا اور اس پر نذر و نیاز کرنا، عرائض بہ امید حاجت برآری لٹکانا اور نہ نیت بدعت حسنہ اس کو داخل حسنات جاننا کیسا گناہ ہے ؟

جواب: افعال مذکورہ جس طرح عوام زمانہ میں رائج ہیں، بدعت سیئہ و ممنوع و ناجائز ہیں۔

اسی طرح محرم کی دوسری بدعت مرثیہ خوانی کے متعلق “عرفان شریعت” کے حصہ اول صفحہ ۱۶ پر ایک سوال و جواب یہ ہے۔

سوال: محرم شریف میں مرثیہ خوانی میں شرکت جائز ہے یا نہیں؟

جواب: ناجائز ہے، وہ مناہی و منکرات سے پر ہوتے ہیں۔

محرم کو سوگ کا مہینہ سمجھا جاتا ہے، اس لیے بالعموم ان ایام میں سیاہ یا سبز لباس پہنا جاتا ہے اور شادی بیاہ سے اجتناب کیا جاتا ہے، اس کے متعلق مولانا احمد رضا خاں لکھتے ہیں:

“محرم میں سیاہ، سبز کپڑے علامت سوگ ہیں اور سوگ حرام۔” (احکام شریعت،۷۱)

مسئلہ:  کیا فرماتے ہیں مسائل ذیل میں؟

۱۔ بعض اہل سنت جماعت عشرۂ محرم میں نہ تو دن بھر روٹی پکاتے اور نہ جھاڑو دیتے ہیں، کہتے ہیں بعد دفن روٹی پکائی جائے گی۔

۲۔ ان دس دن کپڑے نہیں اتارتے۔

۳۔ ماہ محرم میں شادی بیاہ نہیں کرتے۔

الجواب:        تینوں باتیں سوگ ہیں اور سوگ حرام ہے۔” (احکام شریعت، حصہ اول ۷۱)

قرآن و حدیث کی ان تصریحات اور مولانا احمد رضا خان بریلوی کی توضیح کے بعد امید ہے کہ بریلوی علماء اپنے عوام کی صحیح رہنمائی فرمائیں گے اور عوام اپنی جہالت اور علماء کی خاموشی کی بنا پر جو مذکورہ بدعات و خرافات کا ارتکاب کرتے ہیں یا کم از کم ایسا کرنے والوں کے جلوسوں میں شرکت کر کے ان کے فروغ کا سبب بنتے ہیں، ان کو ان سے روکنے کی پوری کوشش کریں گے۔

وَمَا عَلَيْنَآ إِلَّا ٱلْبَلَٰغُ ٱلْمُبِينُ

 

۵۔۔شیعی رسومات کی تاریخ ایجاد و آغاز

لعنت کا آغاز: “۳۵۱ھ میں معزالدولہ(احمد بن بُویہ دیلمی) نے جامع مسجد بغداد کے ک دروازے پر نعوذ باللہ “نقل کفر کفر نہ باشد” یہ عبارت لکھوا دی۔

((لعن اللہ معاویۃ بن ابی سفیان ومن غصب فاطمۃ فدکا ومن منع من دفن الحسن عند جدہ ومن نفی ابا ذر ومن خرج العباس عن الشوری))

عید غدیر کی ایجاد:     معزالدولہ نے ۱۸ذوالحجہ ۳۵۱ھ کو بغداد میں عید منانے کا حکم دیا اور اس عید کا نام “عید خم غدیر” رکھا، خوب ڈھول بجائے گئے اور خوشیاں منائی گئیں۔ اسی تاریخ کو یعنی ۱۸ ذوالحجہ ۳۵ھ کو حضرت عثمان غنی چونکہ شہید ہوئے تھے لہٰذا اس روز شیعوں کے لیے “خم غدیر” کی عید منانے کا دن تجویز کیا گیا۔ احمد بن بویہ دیلمی یعنی معزالدولہ کی اس ایجاد کو جو ۳۵۱ھ میں ہوئی، شیعوں نے یہاں تک رواج دیا کہ آج کل کے شیعوں کا یہ عقیدہ ہے کہ عید غدیر کا مرتبہ عیدالاضحٰی سے زیادہ بلند ہے۔

ماتم اور تعزیہ داری کی ایجاد:   ۳۵۲ھ کے شروع ہونے پر ابن بویہ مذکور نے حکم دیا کہ ۱۰ محرم کو حضرت “امام” حسین کی شہادت کے غم میں تمام دکانیں بند کر دی جائیں، بیع و  شراء بالکل موقوف رہے، شہر و دیہات کے لوگ ماتمی لباس پہنیں اور علانیہ نوحہ کریں۔ عورتیں اپنے بال کھولے ہوئے، چہروں کو سیاہ کیے ہوئے، کپڑوں کو پھاڑتے ہوئے سڑکوں اور بازاروں میں مرثیے پڑھتی، منہ نوچتی اور چھاتیاں پیٹتی ہوئی، نکلیں۔ شیعوں نے اس حکم کی بخوشی تعمیل کی مگر اہل سنت دم بخود اور خاموش رہے کیونکہ شیعوں کی حکومت تھی۔ آئندہ سال ۳۵۳ھ میں پھر اسی حکم کا اعادہ کیا گیا اور سنیوں کو بھی اس کی تعمیل کا حکم دیا گیا۔اہل سنت اس ذلت کو برداشت نہ کرسکے چنانچہ شیعہ اور سنیوں میں فساد برپا ہوا اور بہت بڑی خون ریزی ہوئی۔ اس کے بعد شیعوں نے ہر سال اس رسم کو زیر عمل لانا شروع کر دیا اور آج تک اس کا رواج ہندوستان میں ہم دیکھ رہے ہیں۔ عجیب بات یہ ہے کہ ہندوستان (متحدہ) میں اکثر سنی لوگ بھی تعزیے بناتے ہیں۔ (“تاریخ اسلام” اکبر خان نجیب آبادی۔ ج:۲، ص ۵۶۶، طبع کراچی)

شیعیت کا فتنہ: “بنی بویہ نہایت متعصب شیعہ تھے، چند دنوں تک وہ خاموش رہے پھر ان کے تعصب کا ظہور ہونے لگا۔ دولت عباسیہ کے بہت سے وزراء اور متوسل عجمی اور شیعہ تھے لیکن ان میں سے کسی نے علانیہ شیعیت کی ترویج و اشاعت کی جرأت نہ کی تھی۔ معز الدولہ نے خلفاء کی قوت ختم کرنے کے ساتھ ہی بغداد میں شیعیت کی تبلیغ شروع کر دی اور ۳۵۱ھ میں جامع اعظم کے پھاٹک پر یہ تبرا لکھوایا۔

“معاویہ بن ابی سفیان، غاصبین فدک، “امام” حسن کو روضہ نبوی ﷺ میں دفن کرنے سے روکنے والوں، حضرت ابو ذر کو جلاوطن کرنے والوں، عباس کو شوری سے خارج کرنے والوں پر لعنت ہو۔” (تاریخ ابن اثیر، ج: ۸، ص: ۱۷۹)

خلیفہ میں اس بدعت کو روکنے کی طاقت نہ تھی، کسی سنی نے رات کو یہ عبارت مٹا دی، معزالدولہ نے پھر لکھوانے کا ارادہ کیا لیکن اس کے وزیر مہلبی نے مشورہ دیا کہ صرف معاویہ کے نام کی تصریح کی جائے اور ان کے نام کے بعد والظالمین لال محمد یعنی “آل محمد ﷺ پر ظلم کرنے والوں” کا فقرہ بڑھا دیا جائے۔ معزالدولہ نے یہ مشورہ قبول کر لیا۔ غالباً تبرا کی اس منافقانہ شکل کی ابتداء اسی سے ہوتی ہے۔

معزالدولہ نے اسی پر بس نہیں کی بلکہ بغداد میں شیعوں کے تمام مراسم جاری کر دیے عید غدیر کے دن عام عید اور جشن مسرت منانے کا حکم دیا۔ محرم کے لیے حکم جاری کیا کہ عاشورے کے دن تمام دکانیں اور کاروبار بند رکھے جائیں، کل مسلمان خاص قسم کی ٹوپیاں پہن کر نوحہ و ماتم کریں۔ عورتیں چہرے پر بھبھوت مل پریشان مو و گریبان چاک سینہ کوبی کرتی ہوئی شہر میں ماتمی جلوس نکالیں، سینوں پر یہ احکام بہت شاق گزرے لیکن شیعوں کی قوت اور حکومت کے کے سامنے بے بس تھے اس لیے ان احکام کو منسوخ تو نہ کرا سکے لیکن اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ محرم ۳۵۳ھ میں شیعوں اور سنیوں میں سخت فساد ہوا۔ اور بغداد میں بڑی بدامنی پھیل گئی۔” (ابن اثیر، ج:۸، ص: ۱۸۴۔ تاریخ اسلام، شاہ معین الدین احمد ندوی، اعظم گڑھ، ج:۴، ص:۱۲، ۱۳)

 

۶۔۔اہل سنت کے غور و فکر کے لیے چند باتیں

ماہ محرم کی ان بدعات و رسومات غیر شرعیہ کے علاوہ واقعۂ کربلاسے متعلق بھی اکثر اہل سنت کا زاویۂ فکر صحیح نہیں۔ اس سلسلے میں چند باتیں پیش خدمت ہیں، امید ہے کہ اہل سنت حلقے اس پر پوری سنجیدگی، متانت اور علم و بصیرت کی روشنی میں غور فرمائیں گے۔

کیا یہ معرکہ، حق و باطل کا تھا یا عام معمول کے مطابق ایک حادثہ؟      اس سلسلے میں پہلی بات یہ ہے کہ اہل سنت کے خطباء اور وعاظ فلسفہ شہادت حسین رضی اللہ عنہ کو بالعموم اس طرح بیان کرتے ہیں جو خالصتاً شیعی انداز فکر اور رافضی آئیڈیالوجی کا مظہر ہوتا ہے اور اس کے متعلق یہ باور کرایا جاتا ہے کہ یہ تاریخ اسلام میں حق و باطل کا سب سے بڑا معرکہ تھا۔ یہ واعظین خوش بیان یہ نہیں سوچتے کہ اگر ایسا ہی ہوتا تو اس دور خیر القرون میں جب کہ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کی بھی ایک معتدبہ جماعت موجود تھی اور ان کے فیض یافتگان تابعین تو بکثرت تھے اس معرکے میں حضرت حسین رضی اللہ عنہ ہی اکیلے کیوں صف آراء ہوتے ؟ معرکہ ہوتا حق و باطل اور کفر واسلام کا اور صحابہ و تابعین اس سے نہ صرف یہ کہ الگ رہتے بلکہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو بھی اس سے روکتے، کیا ایسا ممکن تھا؟

شیعی آئیڈیالوجی تو یہی ہے کہ وہ (معاذ اللہ) صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کے کفر و ارتداد اور منافقت کے قائل ہیں اور وہ یہی کہیں گے کہ ہاں اس معرکۂ کفر و اسلام میں ایک طرف حضرت حسین رضی اللہ عنہ تھے اور دوسری طرف صحابہ سمیت یزید اور دیگر ان کے تمام حمایتی، صحابہ و تابعین اس جنگ میں خاموش تماشائی بنے رہے اور حسین رضی اللہ عنہ نے اسلام کو بچانے کے لیے جان کی بازی لگا دی۔

لیکن کیا اہل سنت اس نقطۂ نظر کو تسلیم کر لیں گے ؟

کیا صحابہ و تابعین کی اس بے غیرتی و بے حمیتی کی وہ تصدیق کریں گے جو شیعی انداز فکر کا منطقی نتیجہ ہے ؟

کیا صحابہ نعوذ باللہ بے غیرت تھے ؟ ان میں دینی حمیت اور دین کو بچانے کا جذبہ نہیں تھا؟

یقیناً کوئی اہل سنت صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے متعلق اس قسم کا عقیدہ نہیں رکھتا، لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ حقیقت بھی بڑی تلخ ہے کہ اہل سنت شہادت حسین کا جو فلسفہ بیان کرتے ہیں وہ اسی تال سر سے ترتیب پاتا ہے جو شیعیت کا مخصوص راگ ہے۔

واقعہ یہ ہے کہ سانحۂ کربلا کو معرکہ حق و باطل باور کرانے سے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی عظمت کردار اور ان کی دینی حمیت مجروح ہوتی ہے اور شیعوں کا مقصد بھی یہی ہے لیکن یہ ہمارے سوچنے کی بات ہے کہ واقعہ ایسا ہے یا نہیں؟ تو حقیقت یہ ہے کہ یہ حق و باطل کا تصادم نہیں تھا، یہ کفر واسلام کا معرکہ نہیں تھا، یہ اسلامی جہاد نہ تھا۔ اگر ایسا ہوتا تو اس راہ میں حضرت حسین رضی اللہ عنہ اکیلے نہ ہوتے، ان صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا تعاون بھی انہیں حاصل ہوتا جن کی پوری عمریں اعلائے کلمۃ اللہ میں گزریں جو ہمہ وقت باطل کے لیے شمشیر برہنہ اور کفر و ارتداد کے لیے خدائی للکار تھے۔ یہ تصادم دراصل ایک سیاسی نوعیت کا تھا اس نکتے کو سمجھنے کے لیے حسب ذیل پہلو قابل غور ہیں۔

واقعات کربلا سے متعلقہ سب ہی تاریخوں میں ہے کہ حضرت حسین جب کوفے کی طرف کوچ کرنے کے لیے تیار ہو گئے تو ان کے رشتہ داروں اور ہمدردوں نے انہیں روکنے کی پوری کوشش کی اور اس اقدام کے خطرناک نتائج سے ان کو آگاہ کیا۔ ان میں حضرت عبداللہ بن عمر، حضرت ابو سعید خدری، حضرت ابو الدرداء،حضرت ابو واقد لیثی، جابر بن عبداللہ، حضرت عبداللہ بن عباس اور حضرت حسین رضی اللہ عنہم کے بھائی محمد بن الحنفیہ نمایاں ہیں۔ آپ نے ان کے جواب میں نہ عزم سفر ملتوی فرمایا نہ اپنے موقف کی کوئی دلیل پیش کی،ورنہ ممکن ہے کہ وہ بھی اس موقف میں ان کے ساتھ تعاون کے لیے آمادہ ہو جاتے۔ دراصل حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے ذہن میں یہ بات تھی کہ اہل کوفہ ان کو مسلسل کوفہ آنے کی دعوت دے رہے ہیں،یقیناً وہاں جانا ہی مفید رہے گا۔

یہ بھی تمام تاریخوں میں آتا ہے کہ ابھی آپ راستے ہی میں تھے کہ آپ کو خبر پہنچی کہ کوفے میں آپ کے چچیرے بھائی مسلم بن عقیل شہید کر دئیے گئے جن کو آپ نے کوفے کے حالات معلوم کرنے کے لیے ہی بھیجا تھا۔ اس المناک خبر سے آپ کا اہل کوفہ پر سے اعتماد متزلزل ہو گیا اور واپسی کا عزم ظاہر کیا، لیکن حضرت مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے بھائیوں نے یہ کہہ کر واپس ہونے سے انکار کر دیا کہ ہم تو اپنے بھائی مسلم کا بدلہ لیں گے یا خود بھی مر جائیں گے اس پر حضرت حسین رضی اللہ عنہ نے فرمایا: “تمہارے بغیر میں بھی جی کر کیا کروں گا؟”

((فھم ان یرجع وکان معہ اخوۃ مسلم بن عقیل فقالواواللہ لا نرجع حتی نصیب بثارنا او نقتل)) (تاریخ الطبری: ۲۹۲/۴، مطبعۃ الاستقامۃ، قاہرۃ: ۱۹۳۹ء)

“چنانچہ حضرت حسین نے رضی اللہ عنہ نے واپسی کا ارادہ کر لیا، لیکن آپ کے ساتھ مسلم بن عقیل کے جو بھائی تھے، انہوں نے کہا کہ ہم تو اس وقت تک واپس نہیں جائیں گے جب تک کہ ہم انتقام نہ لے لیں یا پھر خود بھی قتل ہو جائیں۔”

اور یوں اس قافلے کا سفر کوفے کی طرف جاری رہا۔

پھر اس پر بھی تمام تاریخیں متفق ہیں کہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ جب مقام کربلا پر پہنچے تو گورنر کوفہ ابن زیاد نے عمر بن سعد کو مجبور کر کے آپ کے مقابلے کے لیے بھیجا۔ عمر بن سعد نے آپ کی خدمت میں حاضر ہوکر آپ سے گفتگو کی تو متعدد تاریخی روایتوں کے مطابق حضرت حسین رضی اللہ عنہ نے ان کے سامنے یہ تجویز رکھی۔

 ((اختر منی احدیٰ ثلاث اما ان الحق بثغر من الثغور واما ان ارجع الی المدینۃ واما ان اضع فی ید یزید بن معاویۃ فقبل ذلک عمر منہ)) (الاصابۃ: ۷۱/۲ الطبعۃ ۱۹۹۵ء، دارالکتب العلمیۃ)

یعنی “تین باتوں میں سے ایک بات مان لو۔ میں یا تو کسی اسلامی سرحد پر چلا جاتا ہوں یا واپس مدینہ منورہ لوٹ جاتا ہوں یا پھر میں (براہ راست جا کر) یزید بن معاویہ کی ہاتھ میں اپنا ہاتھ دے دیتا ہوں(یعنی ان سے بیعت کر لیتا ہوں) عمر بن سعد نے ان کی یہ تجویز قبول کر لی۔

ابن سعد نے خود منظور کر لینے کے بعد یہ تجویز ابن زیاد (گورنر کوفہ ) کو لکھ کر بھیجی مگر اس نے اس تجویز کو ماننے سے انکار کر دیا اور اس بات پر اصرار کیا کہ پہلے وہ (یزید کے لیے )میرے ہاتھ پر بیعت کریں۔

((فکتب الیہ عبید اللہ (ابن زیاد) لا اقبل منہ حتی یضع یدہ فی یدی)) (الاصابۃ: ۷۱/۲، الطبری: ۲۹۳/۴)

حضرت حسین رضی اللہ عنہ اس کے لیے تیار نہ ہوئے اور ان کی طبع خوددار نے یہ گوارا نہیں، چنانچہ اس شرط کو مسترد کر دیا جس پر لڑائی چھڑ گئی اور آپ کی مظلومانہ شہادت کا یہ حادثۂ فاجعہ پیش آ گیا۔

((فانا للہ وانا الیہ راجعون۔ فامتنع الحسین فقاتلوہ۔۔۔ ثم کان آخر ذلک ان قتل رضی اللہ عنہ وارضاہ))

اس روایت کے مذکورہ الفاظ جس میں حضرت حسین رضی اللہ عنہ نے بیعت یزید پر رضا مندی کا اظہار فرمایا” الاصابہ” کے علاوہ *تہذیب التہذیب، ۳۲۸/۲، ۳۵۳ *تاریخ طبری، ۲۹۳/۴ *تہذیب تاریخ ابن عسا کر، ۳۲۵/۴، ۳۳۷ *البدایۃ والنہایۃ، ۱۷۰/۸۔۱۷۵ *کامل ابن اثیر،۲۸۳/۳ اور دیگر کئی کتابوں میں بھی موجود ہیں۔ حتی کہ شیعی کتابوں میں بھی ہیں۔ ان کے دوسرے الفاظ بھی ہیں تاہم نتیجے میں کوئی خاص فرق نہیں پڑتا۔

ان تاریخی شواہد سے معلوم ہوا کہ اگر یہ حق و باطل کا معرکہ ہوتا تو کوفے کے قریب پہنچ کر جب آپ کو مسلم بن عقیل کی مظلومانہ شہادت کی خبر ملی تھی۔ آپ واپسی کا عزم ظاہر نہ فرماتے۔ ظاہر بات ہے کہ راہ حق میں کسی کی شہادت سے احقاق حق اور ابطال باطل کا فریضہ ساقط نہیں ہو جاتا۔

پھر ا ن شرائط مصالحت سے جو حضرت حسین رضی اللہ عنہ نے عمر بن سعد کے سامنے رکھیں، یہ بات بالکل نمایاں ہو جاتی ہے ہے کہ آپ کے ذہن میں کچھ تحفظات تھے بھی تو آپ ان سے دست بردار ہو گئے تھے، بلکہ یزید کی حکومت تک کو تسلیم کر لینے پر آمادگی ظاہر کر دی تھی۔

ایک یہ بات اس سے واضح ہوئی کہ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ، امیر یزید کو فاسق و فاجر یا حکومت کا نا اہل نہیں سمجھتے تھے، اگر ایسا ہوتا تو وہ کسی حالت میں بھی اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ میں دینے کے لیے تیار نہ ہوتے جیسا کہ وہ تیار ہو گئے تھے، بلکہ یزید کے پاس جانے کے مطالبے سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ آپ کو ان سے حسن سلوک ہی کی توقع تھی۔ ظالم وسفاک بادشاہ کے جانے کی آرزو (آخری چارۂ کار کے طور پر بھی) کوئی نہیں کرتا۔

اس تفصیل سے اس حادثے کے ذمہ دار بھی عریاں ہو جاتے ہیں اور وہ ہے ابن زیاد کی فوج، جس میں سب وہی کوفی تھے جنہوں نے آپ کو خط لکھ کر بلایا تھا، انہی کوفیوں نے عمر بن سعد کی سعیِ مصالحت کو بھی ناکام بنا دیا جس سے کربلا کا یہ المناک سانحۂ شہادت پیش آیا۔ وَكَانَ أَمْرُ ٱللَّهِ قَدَرًا مَّقْدُورًا (اس کی مزید تفصیل کتاب کے آخر میں۔۔۔ سانحۂ کربلا، پس منظر اور اسباب۔۔۔ میں ملاحظہ فرمائیں۔)

حضرت عثمان اور عمر فاروق رضی اللہ عنہما کی شہادت:        جب واقعہ یہ ہے کہ یہ معرکہ سیاسی نوعیت کا حامل ہے، حق و باطل کا معرکہ نہیں ہے، تو بہتر ہے کہ ایام محرم میں اس موضوع ہی سے احتراز کیا جائے کہ ان دنوں میں اس سانحے کو اپنے بیان و خطابت کا موضوع بنانا بھی شیعیت کو فروغ دینا ہے کیونکہ تاریخ اسلام میں اس سے بھی زیادہ اہم شہادتوں کو نظر انداز کر کے سانحۂ کربلا کو اجاگر کرنا یہ بھی رفض و تشیع ہی کا انداز ہے۔حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی شہادت کچھ کم جگر سوز اور دل دوز ہے جو ۱۸ ذو الحجہ کو ہوئی؟ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی شہادت ِ عظمیٰ کیا معمولی سانحہ ہے جو یکم محرم کو پیش آیا؟ اسی طرح اور بڑی بڑی شہادتیں ہیں لیکن ان سب کو نظر انداز کر کے صرف شہادت حسین کو اپنی زبان و قلم کا موضوع بنانا کسی طرح صحیح نہیں، اور جو شخص ایسا کرتا ہے وہ بالواسطہ اور شعوری یا غیر شعوری طور پر شیعی انداز فکر کو فروغ دینے کا باعث بنتا ہے۔

امام اور علیہ السلام:    اسی طرح اہل سنت کی اکثریت حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو بلا سوچے سمجھے “اما م حسین علیہ السلام” بولتی ہے حالانکہ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کے ساتھ “امام” کا لفظ بولنا اور اسی طرح “رضی اللہ عنہ” کے بجائے “علیہ السلام” کہنا بھی شیعیت ہے۔ ہم تمام صحابۂ کرام کے ساتھ عزت و احترام کے لیے “حضرت” کا لفظ استعمال کرتے ہیں۔ حضرت ابو بکر صدیق، حضرت عمر، حضرت عثمان، حضرت علی رضی اللہ عنہم وغیرہ۔ ہم کبھی “امام ابو بکر صدیق، امام عمر ” نہیں بولتے۔ اسی طرح ہم صحابہ کرام کے اسمائے گرامی کے بعد “رضی اللہ عنہ” لکھتے اور بولتے ہیں۔ اور کبھی “ابو بکر صدیق علیہ السلام یا حضرت عمر علیہ السلام” نہیں بولتے، لیکن حضرت حسین کے ساتھ “رضی اللہ عنہ” کے بجائے ” علیہ السلام” بولتے ہیں۔ کبھی اس پر بھی غور کیا کہ ایسا کیوں ہے ؟ دراصل یہ شیعیت کا وہ اثر ہے جو غیر شعوری طور پر ہمارے اندر داخل ہو گیا ہے اس لیے یاد رکھیے کہ چونکہ شیعوں کا ایک بنیادی مسئلہ “امامت” کا بھی ہے اور امام ان کے نزدیک انبیاء کی طرح من جانب اللہ نامزد اور معصوم ہوتا ہے۔ حضرت حسین رضی اللہ عنہ بھی ان کے بارہ اماموں میں سے ایک امام ہیں، اس لیے ان کے لیے “امام” کا لفظ بولتے ہیں اور اسی طرح ان کے لیے “علیہ السلام” لکھتے اور بولتے ہیں۔ ہمارے نزدیک وہ ایک صحابیِ  رسول ہیں “امام معصوم” نہیں، نہ ہم شیعوں کی امامت معصومہ کے قائل ہی ہیں۔ اس لیے ہمیں انہیں دیگر صحابۂ کرام کی طرح “حضرت حسین رضی اللہ عنہ ” لکھنا اور بولنا چاہیے۔ “امام حسین علیہ السلام” نہیں۔ کیونکہ یہ شیعوں کے معلوم عقائد اور مخصوص تکنیک کے غماز ہیں۔

یزید پر سب و شتم کا مسئلہ: اسی طرح ایک مسئلہ یزید رحمۃ اللہ علیہ پر سب و شتم کا ہے جسے بدقسمتی سے رواج عام حاصل ہو گیا ہے اور بڑے بڑے علامہ فہامہ بھی یزید کا نام برے الفاظ سے لیتے ہیں، بلکہ اس پر لعنت کرنے میں بھی کوئی حرج نہیں سمجھتے اور اس کو “حب حسین ” اور “حب اہل بیت” کا لازمی تقاضا سمجھتے ہیں حالانکہ یہ بھی اہل سنت کے مزاج اور مسلک سے ناواقفیت کا نتیجہ ہے محققین علمائے اہل سنت نے یزید پر سب و شتم کرنے سے بھی روکا ہے اور اسی ضمن میں اس امر کی صراحت بھی کی ہے کہ یزید کا قتل حسین میں نہ کوئی ہاتھ ہے نہ اس نے کوئی حکم دیا اور نہ اس میں اس کی رضا مندی ہی شامل تھی۔ ہم یہاں شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ کے اقوال کے بجائے امام غزالی کی تصریحات نقل کرتے ہیں جن سے عام اہل سنت بھی عقیدت رکھتے ہیں۔ علاوہ ازیں امام ابن تیمیہ کا موقف کتاب کے آخر میں وضاحت کے ساتھ موجود ہے۔امام غزالی فرماتے ہیں:

((ما صح قتلہ للحسین رضی اللہ عنہ ولا امرہ ولا رضاہ بذٰلک ومھما لم یصح ذٰلک لم یجز ان یظن ذٰلک فان اسآءۃ الظن ایضا بالمسلم حرام قال اللہ تعالیٰ: }يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ ٱجْتَنِبُوا۟ كَثِيرًۭا مِّنَ ٱلظَّنِّ إِنَّ بَعْضَ ٱلظَّنِّ إِثْمٌۭ {۔۔۔فھذا الامر لا یعلم حقیقہ اصلا واذا لم یعرف وجب احسان الظن بکل مسلم یمکن احسان الظن بہ)) (وفیات الاعیان: ۴۵۰/۲، طبع جدید)

یعنی”حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو یزید کا قتل کرنا یا ان کے قتل کرنے کا حکم دینا یا ان کے قتل پر راضی ہونا، تینوں باتیں درست نہیں اور جب یہ باتیں یزید کے متعلق ثابت ہی نہیں تو پھر یہ بھی جائز نہیں کہ اس کے متعلق اسی بدگمانی رکھی جائے کیونکہ کسی مسلمان کے متعلق بدگمانی حرام ہے جیسا کہ قرآن مجید میں ہے، بنا بریں ہر مسلمان سے حسن ظن رکھنے کے وجوب کا اطلاق یزید سے حسن ظن رکھنے پر بھی ہوتا ہے۔

اسی طرح اپنی معروف کتاب احیاء العلوم میں فرماتے ہیں:

((فان قیل ھل یجوز لعن یزید بکونہ قاتل الحسین او آمراً بہ قلنا ھٰذا لم یثبت اصلاً ولا یجوز ان یقال انہ قتلہ او امر بہ مالم یثبت)) (۱۳۱/۳)

یعنی “اگر سوال کیا جائے کہ کیا یزید پر لعنت کرنی جائز ہے کیونکہ وہ (حضرت حسین رضی اللہ عنہ کا ) قاتل ہے یا قتل کا حکم دینے والا ہے ؟ تو ہم جواب میں کہیں گے کہ یہ باتیں قطعاً ثابت نہیں ہیں اور جب تک یہ باتیں ثابت نہ ہوں اس کے متعلق یہ کہنا جائز نہیں کہ اس نے قتل کیا یا قتل کا حکم دیا۔”

پھر مذکورۃ  الصدر مقام پر اپنے فتوے کو آپ نے ان الفاظ پر ختم کیا ہے :

((واما الترحم علیہ فجائز بل مستحب بل ہو داخل فی قولنا فی کل صلوٰۃ اللھم اغفر للمؤمنین والمؤمنات فانہ کان مؤمنا۔ واللہ اعلم)) (وفیات الاعیان: ۴۵۰/۳، طبع جدید)

یعنی “یزید کے لیے رحمت کی دعا کرنا (رحمۃ اللہ علیہ کہنا) نہ صرف جائز بلکہ مستحب ہے اور وہ اس دعا میں داخل ہے جو ہم کہا کرتے ہیں۔ (یا اللہ! مومن مردوں او ر مومن عورتوں سب کو بخش دے ) اس لیے کہ یزید مومن تھا! واللہ اعلم”

مولانا احمد رضا خاں کی صراحت:      مولانا احمد رضا خاں فاضل بریلوی، جو تکفیر مسلم میں نہایت بے باک مانے جاتے ہیں، یزید رحمۃ اللہ علیہ کے بارے میں یہ وضاحت فرمانے کے بعد کہ امام احمد رحمۃاللہ علیہ اسے کافر جانتے ہیں او رامام غزالی وغیرہ مسلمان کہتے ہیں، اپنا مسلک یہ بیان کرتے ہیں کہ:

“اور ہمارے امام سکوت فرماتے ہیں کہ ہم نہ مسلمان کہیں نہ کافر، لہٰذا یہاں بھی سکوت کریں گے۔۔۔” (احکام شریعت، ص:۸۸، حصہ دوم)

فسق و فجور کے افسانے ؟       رہی بات یزید رحمۃ اللہ علیہ کے فسق وفجور کے افسانوں کی، تو یہ بھی یکسر غلط ہے جس کی تردید کے لیے خود حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے برادر اکبر محمد بن الحنفیہ کا یہ بیان ہی کافی ہے جو انہوں نے اس کے متعلق اسی قسم کے افسانے سن کر دیا تھا۔

((ما رایت منہ ما تذکرون وقد حضرتہ واقمت عندہ فرایتہ مواظباً علی الصلوٰۃ متحریا للخیر یسال عن الفقہ ملازماً للسنۃ)) (البدایۃ والنہایۃ: ۲۳۶/۸، دارالدیان للتراث، الطبعۃ ۱۹۸۸ء)

یعنی “تم ان کے متعلق جو کچھ کہتے ہو میں نے ان میں سے ایسی کوئی چیز نہیں دیکھی، میں نے ان کے ہاں قیام کیا ہے اور میں نے انہیں پکا نمازی، خیر کا متلاشی، مسائل شریعت سے لگاؤ رکھنے والا اور سنت کا پابند پایا ہے۔ (البدایۃ والنہایۃ، ج:۸، ص:۲۳۳)

غزوۂ قسطنطنیہ کے شرکاء کی مغفرت کے لیے بشارت نبوی:    علاوہ ازیں کم از کم ہم اہل سنت کو اس حدیث کے مطابق یزید کو برا بھلا کہنے سے باز رہنا چاہیے جس میں رسول اللہ ﷺ نے غزوۂ قسطنطنیہ میں شرکت کرنے والوں کے متعلق مغفرت کی بشارت دی ہے اور یزید اس جنگ کا کمانڈر تھا۔ یہ بخاری کی صحیح حدیث ہے اور آنحضرت ﷺ کا فرمان ہے، کسی کاہن یا نجومی کی پیشین گوئی نہیں کہ بعد کے واقعات اسے غلط ثابت کر دیں۔ اگر ایساہوتو پھر نبی کے فرمان اور کاہن کی پیشین گوئی میں فرق باقی نہ رہے گا۔ کیا ہم اس حدیث کی مضحکہ خیز تاویلیں کر کے یہی کچھ ثابت کرنا چاہتے ہیں؟ یہ حدیث مع ترجمہ درج ذیل ہے :

((أَوَّلُ جَيْشٍ مِنْ أُمَّتِي يَغْزُونَ مَدِينَةَ قَيْصَرَ مَغْفُورٌ لَهُمْ)) (صحیح البخاری، الجہاد والسیر، باب ما قیل فی قتال الروم، ح: ۲۹۲۴)

“میری امت کا پہلا لشکر جو قیصر کے شہر (قسطنطنیہ) میں جہاد کرے گا، وہ بخشا ہوا ہے۔”

 

۷۔۔سوالات اور ان کے جوابات

مذکورہ مضمون کی “الاعتصام” میں اشاعت کے بعد ایک بریلوی ماہنامہ “رضائے مصطفٰے ” گوجرانوالہ کے مدیر نے اس پر آٹھ سوالات لکھ کر راقم کو بھیجے، جن کا جواب بھی انہی دنوں “الاعتصام” کے چار شماروں میں شائع کر دیا گیا تھا۔ افادۂ عام کی غرض سے یہ سوالات و جوابات بھی ذیل میں درج کیے جاتے ہیں۔

سوال نمبر۱:     واقعۂ کربلا میں حق و صحیح موقف کس کا تھا اور ناحق و غلط کس کا۔ یزید کا یا امام حسین رضی اللہ عنہ کا؟

جواب نمبر۱:

موقف حسین و یزید :        افسوس ہے کہ مدیر مذکور نے یہ سوال کر کے وہ روایت دہرا دی ہے جو مشہور ہے کہ ساری رات یوسف و زلیخا کا قصہ سننے کے بعد دن کو کسی نے پوچھا کہ زلیخا مرد تھی یا عورت؟ حالانکہ راقم نے اپنے مذکورہ مضمون میں سب سے پہلے اسی نکتے پر بحث کی ہے کہ اس معرکے کو جو حق و باطل اور کفر واسلام کا معرکہ باور کرایا جاتا ہے۔ اس کی حقیقت کیا ہے ؟ اور ا س کو فی الواقع حق و باطل کا معرکہ تسلیم کر لینے سے اہل سنت کے بنیادی عقیدے (صحابہ کرام کی عظمت و رفعت اور ا ن کی بے مثال دینی حمیت و عصبیت) پر سخت ضرب پڑتی ہے۔

اس کے بعد بتلایا تھا کہ یہ معرکہ اگر حق و باطل کا نہ تھا تو اس کی نوعیت کیا تھی؟ اور خود حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے طرز عمل سے اس بات کی وضاحت کی تھی کہ انہوں نے مسلم بن عقیل کی شہادت کی خبر پا کر واپس لوٹ جانے کا جو ارادہ ظاہر فرمایا اور پھر کوفہ پہنچنے کے بعد وہاں سے واپس جانے کی جو صورتیں پیش فرمائیں۔ اس کا صاف مطلب یہ تھا کہ سابقہ موقف سے، جو بھی ان کے ذہن میں تھا، رجوع فرما لیا گیا ہے۔ ان کے نزدیک یہ معرکہ حق و باطل کا ہوتا تو وہ ہرگز اس سے رجوع نہ فرماتے۔

دراصل موصوف یہ سوال کر کے کہ صحیح موقف حضرت حسین کا تھا یا یزید کا؟ ایک عام جذباتی فضا سے فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں۔ کیونکہ عام ذہن یہ بنا دیا گیا ہے کہ یزید بہت برا شخص تھا، خانوادۂ رسول کا دشمن تھا اور دنیا جہان کی خرابیاں اس میں جمع تھیں۔ اس فضا میں کون شخص حقیقت سے پردہ اُٹھانے کی ہمت کرسکتا ہے ؟ اور اگر کوئی شخص یہ جرأت کر لے تو ایسے شخص کے متعلق فوراً یہ کہہ دیا جا سکتا ہے کہ یہ تو “اہل بیت” کا دشمن ہے۔ دیکھو تو کتنی جرأت سے حادثۂ کربلا کی تحقیق کے درپے ہے۔

تاہم چند باتیں اہل علم و فکر کے غور کے لیے پیش خدمت ہیں۔

یزید کے موقف کی وضاحت تاریخ میں موجود ہے اور وہ یہ کہ حضرت معاویہ کی وفات کے بعد اس وقت کی ساری قلمرو میں وہ حضرت معاویہ کے صحیح جانشین قرار دیے گئے، صرف مدینہ منورہ میں چار صحابیوں سے بیعت لینی باقی تھی۔

۱۔      حضرت عبداللہ بن عمر ۲۔ حضرت عبداللہ بن عباس ۳۔      عبداللہ بن زبیر ۴۔       اور حضرت حسین۔۔رضی اللہ عنہم۔۔

اول الذکر دونوں بزرگوں نے یزید کی حکومت باقاعدہ طور پر منظور کر لی جیساکہ تاریخ طبری وغیرہ، سب تاریخ کی کتابوں میں موجود ہے جب کہ حضرت ابن زبیر رضی اللہ عنہ اور حضرت حسین رضی اللہ عنہ نے پہلو تہی کی جس پر حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے ان دونوں سے کہا:

 ((اتقیا اللہ ولا تفرقا بین جماعۃ المسلمین))   (البدایۃ النہایۃ: ۱۵۰/۸، الطبری: ۲۵۴/۴)یعنی “اللہ سے ڈرو اور مسلمانوں کی جماعت میں تفرقہ نہ ڈالو۔

اور واقعہ یہ ہے کہ جن محققین علمائے امت نے حقائق کی روشنی میں جذبات سے الگ ہو کر اس پر غور کیا ہے وہ یزید کی حکومت کو اسی طرح تسلیم کرتے رہے جس طرح حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ اور دیگر سارے شہروں کے سب صحابہ و تابعین نے، صرف مذکور الصدر دو صحابیوں کے سوا، یزید کو وقت کا امیر المومنین تسلیم کر لیا تھا۔ چنانچہ ۶۰۰ھ میں وفات پانے والے ایک بڑے عابد و زاہد اور اونچے پائے کے محدث و فقیہ حافظ عبدالغنی بن عبد الواحد مقدسی رحمۃ اللہ علیہ سے جب یزید کے بارے میں سوال ہوا تو انہوں نے جواب دیا:

((خلافتہ صحیحۃ قال بعض العلمآء بایعہ ستون من اصحاب رسول اللہ ﷺ منھم ابن عمر وأما محبتہ فمن أحبہ فلا ینکر علیہ ومن لم یحبہ فلا یلزمہ ذٰلک لأنہ لیس من الصحابۃ الذین صحبوا رسول اللہ ﷺ فیلتزم محبھم ا کراما ً لصحبتھم)) (ذیل طبقات الحنابلۃ لابن رجب رحمۃ اللہ علیہ: ۳۴/۲)

یعنی “یزید کی خلافت صحیح تھی چنانچہ بعض علماء کا کہنا ہے کہ ساٹھ صحابہ رضی اللہ عنہم نے بشمول حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ اس کی بیعت کر لی تھی۔ رہی اس سے محبت رکھنے کی بات تو اگر اس سے کوئی محبت رکھتا ہے تو اس پر نکیر نہیں کرنی چاہیے تاہم کوئی اس سے محبت نہ رکھے جب بھی کوئی ایسی بات نہیں، وہ صحابی تو نہیں جس سے محبت رکھنا شرعاً ضروری ہو۔”

اس سے معلوم ہوا کہ جب صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم تک نے یزید کی بیعت کر لی تھی تو ظاہر ہے یزید کا موقف یہی ہوسکتا تھا کہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ اور عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ دوسرے لوگوں کے ساتھ ہو کر اس کی حکومت کو صحیح جانیں تاکہ انتشار کا کوئی امکان باقی نہ رہے۔

رہا حضرت حسین رضی اللہ عنہ کا موقف؟ تو حقیقت یہ ہے کہ بعد کی حاشیہ آرائیوں اور فلسفہ طرازیوں سے صرف نظر کر کے اگر غور کیا جائے تو معلوم ہو گا کہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ نے واضح الفاظ میں اپنے موقف کی کبھی وضاحت ہی نہیں فرمائی کہ وہ کیا چاہتے تھے ؟ اور ان کے ذہن میں کیا تجویز تھی؟ یزید کے خلیفہ بن جانے کے بعد جب گورنر مدینہ ولید بن عتبہ نے انہیں یزید کی بیعت کی دعوت دی تو انہوں نے فرمایا کہ میں خفیہ بیعت نہیں کرسکتا، اجتماع عام میں بیعت کروں گا۔

((أما ما سألتنی من البیعۃ فإن مثلی لا یعطی بیعتہ سراً ولا أراک تجتزی ء بھا منی سراً دون أن نظھرھا علی رؤوس الناس علانیۃ)) (الطبری: ۲۵۱/۴، مطبوعہ دارالاستقامۃ)

گورنر نے انہیں مزید مہلت دے دی۔ حضرت حسین رضی اللہ عنہ یہ مہلت پا کر مدینہ سے مکہ تشریف لے گئے۔ مکہ پہنچ کر بھی انہوں نے کوئی وضاحت نہیں کی، البتہ وہاں سے کوفہ جانے کی تیاریاں شروع کر دیں جس کی خبر پا  کر ہمدرد و بہی خواہ، جن میں حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما وغیرہ متعدد صحابی بھی تھے، انہیں کوفہ جانے سے روکتے رہے لیکن وہ کوفہ جانے پر ہی مصر رہے۔ حتی کہ ایک موقعے پر حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے قریبی رشتہ دار عبداللہ بن جعفر گورنر کوفہ عمر و بن سعید کے پاس آئے اور ان کے استدعا کی آپ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے نام ایک چٹھی لکھ دیں جس میں واضح الفاظ میں انہیں امان دیے جانے اور ان سے حسن سلوک کرنے کا ذکر ہو تاکہ حسین رضی اللہ عنہ واپس آجائیں اور کوفہ نہ جائیں۔ گورنر مکہ نے کہا کہ آپ جو چاہیں لکھ کر لے آئیں میں اس پر اپنی مہر لگادوں گا۔ چنانچہ وہ اپنے الفاظ میں ایک امان نامہ لکھ لائے جس پر گورنر کوفہ نے اپنی مہر لگادی۔عبداللہ بن جعفر نے پھر درخواست کی کہ یہ چٹھی بھی آپ خود اپنے ہی بھائی کے ہاتھ حضرت حسین تک پہنچائیں تاکہ حسین پوری طرح مطمئن ہو جائیں کہ ساری جدوجہد گورنر مکہ کی طرف سے ہو رہی ہے۔ گورنر مکہ نے ان کی یہ بات بھی قبول کر لی اورا پنے بھائی کو بھی عبداللہ بن جعفر کے ساتھ روانہ کر دیا۔ یہ دونوں حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو جا کر ملے لیکن حضرت حسین نے معذرت کر دی اور کوفہ جانے پر ہی اصرار کیا اور یہاں بھی اپنے موقف کی وضاحت نہیں کی بلکہ صاف لفظوں میں کہا کہ میں کوفہ جس مقصد کے لیے جا رہا ہوں وہ صرف مجھے معلوم ہے اور وہ میں بیان نہیں کروں گا۔ (الطبری: ۲۹۱/۴۔۲۹۲)

خود شیعہ مورخ ابن طقطقی بھی لکھتا ہے کہ جب حضرت حسین رضی اللہ عنہ مکہ سے کوفہ روانہ ہوئے تو انہیں مسلم کے حال کا کوئی علم نہیں تھا۔ جب کوفے کے قریب پہنچ گئے تو انہیں مسلم کے قتل کا علم ہوا۔ وہاں انہیں لوگ ملے اور انہوں نے حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو کوفہ جانے سے روکا اور انہیں ڈرایا لیکن حسین رضی اللہ عنہ واپس ہونے پر آمادہ نہیں ہوئے اور کوفہ جانے کا عزم جاری رکھا۔ ایک ایسے مقصد کے لیے جسے وہ خود ہی جانتے تھے۔

((فلم یرجع وصمم علی الوصول إلی الکوفۃ لأمر ھو أعلم بہ من الناس)) (الفخری، ص:۸۵، طبع مصر ۱۹۲۷ء)

شاید ایسے ہی مبہم طرز عمل کی وجہ سے یزید کے غالی حمایتیوں نے حضرت حسین کو جب اس حدیث کا مصداق قرار دینے کی کوشش کی۔

((فمن أراد أن یفرق أمر ھٰذہ الأمۃ وھی جمیع فاضربوہ بالسیف کائناً من کان)) (صحیح مسلم، الإمارۃ، باب حکم من فرق أمر المسلمین وھو مجتمع، ح:۱۸۵۲)

تو حضرت شیخ الاسلام ابن تیمیہ نے اس کی سخت تردید کرتے ہوئے فرمایا:

((وأھل السنۃ یردون غلو ھؤلآء ویقولون إن الحسین قتل مظلوماً شہیداً والذین قتلوہ کانوا ظالمین)) (منہاج السنۃ: ۲۵۶/۲)

“اہل سنت والجماعت اس غلو کو مسترد کرتے ہیں اور وہ کہتے ہیں کہ حسین رضی اللہ عنہ کو ظلماً شہید کیا گیا، اور ان کے قاتل ظالم تھے۔”

پھر لکھا: “اس لیے وہ حدیث مذکور کا مصداق نہیں ہوسکتے کہ آپ (آخراً) جماعت مسلمین سے الگ نہیں رہے وہ مسلمانوں کی اجتماعیت میں شامل تھے اور وہ یوں کہ انہوں نے (کوفی فوج سے ) صاف فرمایا تھا کہ (تم لوگ) مجھے واپس اپنے شہر لوٹ جانے دو یا سرحد کی کسی چوکی پر چلے جانے دو یا (پھر) یہ کہ میں یزید کے پاس براہ راست چلا جاتا ہوں۔” (منہاج السنۃ: ۲۵۶/۲)

حضرت حسین رضی اللہ عنہ پر الزام مذکور کی تردید میں “منہاج السنہ: کے ایک دوسرے مقام میں ہے :

((الحسین رضی اللہ عنہ لم یقتل إلا مظلوماً شہیداً تارکاً لطلب الإمارۃ طالباً للرجوع إما إلی بلدۃ أو إلی الثغر أو إلی المتولی علی الناس یرید)) (منہاج السنۃ: ۲۴۳/۲)

یزید کے پاس جانے سے حضرت کی غرض کیا تھی؟ تاریخی روایتوں نے یہ بھی بتادیا ہے۔

چنانچہ تاریخ کی ایک متداول کتاب تاریخ الخلفاء میں علامہ سیوطی لکھتے ہیں:

((فلما رھقہ السلاح عرض علیھم الاستسلام والرجوع المضی إلی یرید فیضع یدہ فی یدہ )) (تاریخ الخلفاء، ص:۱۳۸، طبع مصر)

“جب کوئی چارۂ کار باقی نہیں رہا تو حضرت حسین رضی اللہ عنہ نے انہیں صلح کی، واپسی کی اور یزید کے ہاتھ میں ہاتھ دینے کے لیے یزید کے پاس جانے کی پیش کش کی۔”

اس قسم کے الفاظ اصابہ (حافظ ابن حجر)، تہذیب ابن عسا کر، تاریخ طبری اور البدایہ والنہایہ وغیرہ تاریخ و تراجم کی کتابوں میں ملاحظہ کیے جا سکتے ہیں۔

اس بحث سے معلوم ہوسکتا ہے کہ حق اور صحیح موقف کس کا تھا؟

یزید کے طلب بیعت کے صحیح ہونے کا ہرگز یہ مطلب نہیں تھا کہ گویا نعوذ باللہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے قتل ناروا کا اقدام بھی صحیح تھا۔ اس کا اہل سنت میں سے کوئی بھی قائل نہیں نہ ہم ہی اس کو درست سمجھتے ہیں اس لیے یہ بات اچھی طرح سمجھ لینی چاہیے کہ یہاں موقف کی بحث میں مراد ہے وہ موقف جو یزید کی طرف سے حضرت حسین رضی اللہ عنہ سے مطالبۂ بیعت سے متعلق ہے۔

البتہ رہی یہ بات کہ یزید مطالبۂ بیعت میں حق بجانب تھا یا نہیں؟ تو یہ خود مدیر موصوف غور فرما لیں جب کہ یزید کو ساری اسلامی قلمرو میں بشمول صحابۂ کرام واجب الاطاعت حاکم تسلیم کر لیا گیا تھا۔

سوال نمبر 2:    واقعۂ کربلا سے قبل باختلاف روایات، یزید جو کچھ بھی تھا مگر واقعۂ کربلا و واقعۂ حرہ کے بعد بھی کیا وہ ظالم و قاتل اور فاسق و فاجر قرار نہیں پاتا؟ اگر نہیں تو کیوں؟ اتنے عظیم ظالمانہ واقعات کا یزید پر کوئی بوجھ نہیں؟ یہ واقعات اس کا کارنامہ ہیں یا سیاہ نامہ؟

جواب نمبر 2:

واقعۂ حرہ کی حقیقت:  سانحۂ کربلا۶۱ھ میں رونما ہوا۔ اس وقت صحابۂ کرام کی بھی ایک معقول تعداد موجود تھی حضرت علی رضی اللہ عنہ کا خاندان بھی تھا بلکہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی اپنی اولاد ہی ڈھائی درجن سے زیادہ تھی۔ اسی طرح دیگر قرابت مند بھی تھے، لیکن جہاں تک سانحہ کربلا کا تعلق ہے اس پر ساری قلمرو میں کوئی عمومی رد عمل ظاہر نہیں ہوا نہ اس حادثۂ الیمہ کے باعث یزید کو “ظالم و قاتل اور فاسق و فاجر” قرار دے کر اس کے خلاف کسی نے بھی خروج کو جائز سمجھا، گو ذاتی قلق اس کا کیسا بھی شدید رہا ہو۔ جیسا کہ اوپر لکھا جاچکا ہے کہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ اور حضرت ابن زبیر رضی اللہ عنہ ان دونوں کے سوا باقی سب لوگوں نے یزید کی حکومت یا (خلافت) کو درست تسلیم کر لیا تھا۔ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی مظلومانہ شہادت کے بعد حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ مکہ میں قیام پذیر تھے اور شاید سمجھ رہے تھے کہ ان کے لیے میدان اب صاف ہے چنانچہ وہ حکومت حاصل کرنے کے لیے کاروائیوں میں مصروف تھے۔ ۶۳ھ میں حسب تحریر حافظ ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ اہل مدینہ میں سے متعدد حضرات کی جن میں بعض صحابہ رضی اللہ عنہم بھی تھے، ہمدردیاں عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھیں۔ انہی دنوں ایک وفد مرتب ہوا۔ جو “یزید ” کے ہاں گیا۔ یزید نے ان کی خوب آؤ بھگت کی لیکن اس وفد نے مدینہ منورہ واپس آ کر یزید کے عیوب گنوانے شروع کر دیے اور اس کی طرف شراب نوشی وغیرہ باتیں منسوب کر کے ان کو عوام میں خوب پھیلایا گیا۔

((فرجعوا فأظہروا عیبہ ونسبوا إلی شرب الخمر وغیر ذٰلک)) (فتح الباری: ۸۸/۱۳، ح:۷۱۱۱، طبع دارالسلام)

جس کے نتیجے میں اہل مدینہ نے نہ صرف یہ کہ یزید کی بیعت سے الگ ہونے کا اعلان کر دیا۔

((لما انتزٰی أہل المدینۃ مع عبداللہ بن الزبیر خلعوا یزید بن معاویۃ)) (فتح الباری: ۸۸/۱۳، ح:۷۱۱۱، طبع دارالسلام)

بلکہ گورنر مدینہ عثمان بن محمد پر دھاوا بول دیا اور خاندان بنی امیہ کو محاصرے میں لے لیا۔ (تاریخ طبری، ۳۷۰/۴، طبع مطبعۃ الاستقامۃ)

لیکن اہل مدینہ کے اس طرز عمل کو اہل خیر و صلاح نے بالکل پسند نہیں کیا اور اس سے برملا اظہار بیزاری فرمایا جیسا کہ جلیل القدر صحابی حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کے متعلق صحیح بخاری میں آتا ہے کہ جب ان کو اہل مدینہ کے طرز عمل کی اطلاع پہنچی تو انہوں نے اپنے اہل خانہ یعنی بال بچوں کو جمع کیا اور ان سے فرمایا:

((إنی سمعت النبی ﷺ یقول ینصب لکل غادر لواء یوم القیامۃ وإنا قد بایعنا ھٰذا الرجل علی بیع اللہ ورسولہ وإنی لا أعلم غدراً أعظم من أن یبایع رجل علی بیع اللہ ورسولہ ثم ینصب لہ القتال وإنی لا أعلم أحداً منکم خلعہ ولا تابع فی ھٰذا إلا کانت الفصیل بینی وبینہ)) (صحیح البخاری، الفتن، باب إذا قال عند قوم شیئاً۔۔۔، ح:۷۱۱۱)

یعنی “میں نے نبی ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ قیامت کے دن ہر بدعہدی(غدر) کرنے والے کے لیے ایک جھنڈا (علامتی نشان) نصب کر دیا جائے گا۔ ہم نے اس شخص (یزید) سے اللہ اور اس کے رسولﷺ کی بیعت کی ہے، میری نظر میں اس سے زیادہ بدعہدی اور کوئی نہیں کہ ایک شخص کی اللہ اور اس کے رسول کے نام پر بیعت کی جائے پھر آدمی اسی کے خلاف اُٹھ کھڑا ہو۔ یاد رکھو تم میں سے کسی کے متعلق بھی اگر مجھے یہ معلوم ہوا کہ اس نے یزید کی بیعت توڑ دی ہے۔ یا وہ بدعہدی کرنے والوں کے پیچھے لگ گیا ہے تو میرے اور اس کے درمیان کوئی تعلق نہ رہے گا۔”

اسی طرح حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے حضرت زین العابدین رحمۃ اللہ علیہ نے بھی یزید کی بیعت توڑنے سے گریز کیا۔ (البدایہ والنہایہ، ۲۱۸/۸) بلکہ خاندان حضرت علی رضی اللہ عنہ اور دیگر اہل بیت نبوی کے کسی فرد نے بھی اس موقعے پر نہ بیعت توڑی نہ اس شورش میں کسی قسم کا حصہ لیا۔ چنانچہ حافظ ابن کثیر رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں:

((کان عبداللہ بن عمر الخطاب وجماعات أہل بیت النبوۃ ممن لم ینقض العہد ولا بایع أحداً بعد بیعتہ لیزید۔۔۔ لم یخرج أحد من آل أبی طالب ولا من بنی عبدالمطلب أیام الحرۃ)) (البدایۃ والنہایۃ، ص: ۲۳۵/۷)

یعنی “عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ اور اہل بیت نبوی کے کسی گروہ نے نقض عہد نہیں کیا، نہ یزید کی بیعت کے بعد کسی اور کی بیعت کی۔ آل ابو طالب (حضرت علی رضی اللہ عنہ کا خاندان) اور اولاد عبدالمطلب میں سے کسی نے بھی ایام حرہ میں (یزید کے خلاف) خروج نہیں کیا۔”

محمد بن الحنفیہ کی طرف سے یزید کی صفائی:   حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے بھائی محمد بن الحنفیہ رحمۃ اللہ علیہ نے ان لوگوں کے سامنے، جن کے ہاتھ میں “شورش” کی قیادت تھی، یزید کی بیعت توڑ دینے اور اس کے خلاف کسی اقدام میں شرکت کرنے سے نہ صرف انکار کر دیا بلکہ یزید پر لگائے گئے الزامات کو بے بنیاد قرار دیا اور یزید کی صفائی پیش کی۔ اس موقعے پر انہوں نے جو تاریخی بیان دیا، وہ حسب ذیل ہے۔

حافظ ابن کثیر لکھتے ہیں:

“عبداللہ بن مطیع اور ان کے رفقائے کار حضرت علی رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے، محمد بن الحنفیہ رحمۃ‌اللہ علیہ کے پاس گئے اور انہیں یزید کی بیعت توڑ دینے پر رضا مند کرنے کی کوشش کی لیکن انہوں نے ایسا کرنے سے صاف انکار کر دیا۔ اس پر ابن مطیع نے کہا: “یزید شراب نوشی، ترک نماز اور کتاب اللہ کے حکم سے تجاوز کرتا ہے ” محمد بن الحنفیہ نے کہا “تم جن باتوں کا ذکر کرتے ہو میں نے ان میں سے کوئی چیز اس میں نہیں دیکھی۔ میں اس کے پاس گیا ہوں، میرا وہاں قیام بھی رہا، میں اس کو ہمیشہ نماز کا پابند، خیر کا متلاشی، علم دین کا طالب اور سنت کا ہمیشہ پاسدار پایا “وہ کہنے لگے، وہ یہ سب کچھ محض تصنع اور آپ کے دکھلاوے کے لیے کرتا ہو گا۔ ابن الحنفیہ نے جواب میں کہا”مجھ سے اسے کون سا خوف یا لالچ تھا۔ جس کی بنا پر اس نے میرے سامنے ایسا کیا؟ تم جو اس کی شراب نوشی کا ذکر کرتے ہو، کیا تم میں سے کسی نے خود اسے ایسا کرتے دیکھا ہے ؟ اگر تمہارے سامنے اس نے ایسا کیا ہے تو تم بھی اس کے ساتھ اس کام میں شریک رہے ہو، اور اگر ایسا نہیں ہے تو تم اس چیز کے متعلق کیا گواہی د ے سکتے ہو جس کا تمہیں علم ہی نہیں، وہ کہنے لگے “یہ بات ہمارے نزدیک سچ ہے اگرچہ ہم میں سے کسی نے ایسا کرتے نہیں دیکھا” ابن الحنفیہ رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا “اللہ تو اس بات کو تسلیم نہیں کرتا، وہ تو فرماتا ہے إِلَّا مَن شَهِدَ بِالْحَقِّ وَهُمْ يَعْلَمُونَ “گواہی انہی لوگوں کی معتبر ہے جو اس بات کا ذاتی علم ہو” جاؤ! میں کسی بات میں تمہارا ساتھ نہیں دے سکتا” وہ کہنے لگے “شاید آپ کو یہ بات ناگوار گزرتی ہو کہ یہ معاملہ آپ کے علاوہ کسی اور کے ہاتھ میں رہے۔اگر ایسا ہے تو قیادت ہم آپ کے سپرد کیے دیتے ہیں” برادر حسین رضی اللہ عنہ نے کہا “تم جس چیز پر قتال و جدال کر رہے ہو، میں سرے سے اس کو جائز ہی نہیں سمجھتا، مجھے کسی کے پیچھے لگنے یا لوگوں کو اپنے پیچھے لگانے کی ضرورت ہی کیا ہے ؟” وہ کہنے لگے “آپ اس سے پہلے اپنے والد کے ساتھ مل کر جو جنگ کر چکے ہیں” انہوں نے فرمایا “تم پہلے میرے باپ جیسا آدمی اور انہوں نے جن سے جنگ کی ان جیسے افراد تو لا کر دکھاؤ۔ اس کے بعد میں بھی تمہارے ساتھ مل کر جنگ کر لوں گا” وہ کہنے لگے، آپ اپنے صاحبزادگان ابو القاسم اور قاسم ہی کو ہمارے حوالے کر دیں،ا نہوں نے فرمایا: میں ان کو اگر اس طرح کا حکم دوں تو میں خود نہ تمہارے ساتھ اس کام میں شریک ہو جاؤں؟ وہ کہنے لگے، اچھا آپ صرف ہمارے ساتھ چل کر لوگوں کو آمادۂ قتل کر دیں انہوں نے فرمایا “سبحان اللہ! جس کو میں خود ناپسند کرتا ہوں اور اس سے مجتنب ہوں۔ لوگوں کو اس کا حکم کیسے دوں؟ اگر میں ایسا کروں تو میں اللہ کے معاملے میں اس کے بندوں کا خیرخواہ نہیں، بدخواہ ہوں گا۔ “وہ کہنے لگے “ہم پھر آپ کو مجبور کریں گے ” انہوں نے کہا “میں اس وقت بھی لوگوں سے یہی کہوں گا کہ اللہ سے ڈرو اور مخلوق کی رضا کی خاطر خالق کو ناراض کرو۔” (البدایۃ والنہایۃ ۲۳۶/۸)

مگر ان مساعی ٔ خیر و صلاح کے علی الرغم شورش نے انتہائی نازک صورت اختیار کر لی۔یزید کو خبر پہنچی تو شورش کو فرو کرنے کے لیے فوج بھیج دی اور اس کو ہدایت کی کہ شورش کرنے والوں کو تین دن کی مہلت دینا، اگر اس دوران میں وہ اپنا طرز عمل درست کر لیں تو ٹھیک ہے ورنہ پھر تمہیں کاروائی کی اجازت ہے فوج نے اپنے خلیفہ کے حکم کے مطابق عمل کیا لیکن اہل مدینہ نے اس مہلت سے کوئی فائدہ نہیں اُٹھایا بلکہ جنگ کرنے کے لیے مقابلے پر آ گئے۔

اس مناسب مقام تفصیل سے واقعۂ حرہ کی بنیادی حقیقت معلوم ہوسکتی ہے نیز یہ کہ اس “شورش” کو اہل خیر و صلاح نے کس نظر سے دیکھا تھا؟ تاہم ان ایام حرہ میں، مبالغہ آمیز تفصیلات سے قطع نظر، جو غیر مستند ہی ہیں کیونکہ ان کا راوی ابو مخنف ہی ہے جو کذاب اور شیعہ ہے، یزید کی فوج نے حد سے تجاوز کر کے جو کاروائیاں کی ہیں۔ ان پر علماء نکیر ہی کرتے آئے ہیں، انہیں مستحسن کسی نے بھی نہیں کہا ہے۔

واقعۂ کربلا کی بھی جو حقیقت ہے اس پر ہم مختصراً روشنی ڈال آئے ہیں۔ اور امام غزالی وغیرہ کی تصریحات سے ہم اپنے سابقہ مضمون میں یہ وضاحت کر چکے ہیں کہ اس سلسلے میں یزید کو مطعون کرنا درست نہیں کیونکہ نہ اس نے ایسا کیا نہ ایسا کرنے کا حکم دیا، نہ اس کو پسند کیا۔

اگر کسی درجے میں سانحۂ کربلا اور واقعۂ حرہ کا ذمہ دار یزید ہی کو ٹھہرا لیا جائے اور اس بنا پر اس کو “فاسق و فاجر اور قاتل و ظالم” بھی سمجھ لیا جائے تب بھی یہ تمام جرائم کبائر ہی شمار ہوں گے اور کبائر کے ارتکاب سے کوئی مسلمان نہ دائرہ اسلام سے خارج ہوتا ہے نہ رحمت و مغفرت خداوند ہی کے امکان سے محروم۔ اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو اس کے تمام گناہ معاف کرسکتا ہے جیسا کہ اس نے کہا ہے کہ شرک کے علاوہ چاہوں گا تو دوسرے گناہ معاف کر دوں گا۔

إِنَّ اللّهَ لاَ يَغْفِرُ أَن يُشْرَكَ بِهِ وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذَلِكَ لِمَن يَشَاءُ [النساء : 48]{پھر یزید کی مغفرت کے لیے تو بالخصوص بشارت نبوی علی صاحبہا الصلوٰۃ والتسلیم بھی موجود ہے اور آیت قرآنی اور حدیث نبوی کے علاوہ اہل سنت کا متفقہ عقیدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کفر و شرک کے علاوہ ہر گناہ معاف کرسکتا ہے۔

((وما کان من السیئآت دون الشرک والکفر ولم یتب عنھا صاحبہا حتی مات مؤمناً فإنہ فی مشئۃ اللہ إن شآء عذبہ وإن شآء عفا عنہ ولم یعذبہ بالنار اصلاً))

یعنی “شرک و کفر کے علاوہ چاہے جو بھی گناہ آدمی سے سرزد ہوئے ہوں اور ان سے اس نے توبہ بھی نہ کی ہو ہاں مرتے دم تک مومن رہا (کافر نہ ہوا) تو اس کا معاملہ اللہ کی مرضی پر ہے چاہے وہ عذاب دے، چاہے وہ بالکل معاف کر دے اور نار جہنم کی اس کو ہوا تک نہ لگنے دے۔

اول تو اس بات کا ہی کوئی شخص ثبوت پیش نہیں کرسکتا کہ یزید نے ان جرائم پر اپنی زندگی میں توبہ نہیں کی، اور بغیر توبہ کیے ہی مرگیا۔ بلکہ ۹۹ فیصد اسی بات کا امکان ہے کہ اس نے یقیناً توبہ کی ہو گی۔ آخر وہ مسلمان اور نماز روزے کا پابند تھا۔ اگر یہ تسلیم کر لیا جائے کہ وہ بغیر توبہ ہی مرا تب بھی جب تک اس کے کفر و ارتداد کا ثبوت مہیا نہیں کر دیا جاتا، اس کو امکان مغفرت سے خارج نہیں کیا جا سکتا۔ دیکھ لیجئے ! اہل سنت کا عقیدہ یہی ہے کہ کفر و شرک کے علاوہ جو بھی گناہ ہو اور اس کا مرتکب چاہیے بغیر توبہ کیے ہی مرگیا ہو تب بھی اس کا معاملہ اللہ کی مشیت پر ہے چاہے عذاب دے چاہے بخش دے۔

مدیر موصوف اس کو “ظالم اور فاسق و فاجر” تسلیم کرا کے معلوم نہیں کیا چاہتے ہیں؟ اور ان کے ذہن میں کیا ہے ؟ اس کو انہوں نے کھولا نہیں۔ اگر اس سے مقصد ان کا یہ ہے کہ ایسے شخص کی مغفرت ممکن نہیں تو ہم موصوف سے دلائل شرعی کا مطالبہ کرتے ہیں اور اگر صرف اس کا ظلم تسلیم کرانا مطلوب ہے تو اسے تسلیم کر لینے سے وہ دائرہ اسلام سے خارج نہیں ہو جاتا ہے۔ وہ کتنا بھی گناہ گار ا ور “ظالم و فاسق” ہو وہ بہرحال مسلمان تھا اور عین ممکن ہے کہ مرنے سے پہلے وہ تائب بھی ہو گیا ہو۔ نہ بھی تائب ہوا تو امکان مغفرت بہرحال اس کے حق میں موجود ہے۔

اور اگر مدیر موصوف کا مطلب اس سے یہ ہے کہ ایسے شخص کے لیے دعائے رحمت و مغفرت نہیں کرنی چاہیے تو یہ بات بھی صحیح نہیں، دعا تو ہوتی ہی گناہ گاروں کے لیے ہے اگر ہم کسی گناہ گار مسلمان کے لیے دعا نہ بھی کریں گے تب بھی ہماری عام دعاؤں میں وہ ضرور شامل ہو جائے گا۔ جب ہم کہیں گے :

((اللھم اغفر للمؤمنین والمؤمنات والمسلمین والمسلمات))

“اے اللہ تمام مومن و مسلمان مردوں اور عورتوں کو بخش دے۔”

تو اس میں ہر مومن از خود شامل ہو جاتا ہے۔ چاہے کیسا ہی گناہ گار ہو۔بہرحال واقعات کربلا و حرہ کو یزید کا کارنامہ کوئی نہیں کہتا۔ البتہ اس کی مبالغہ آمیز تفصیلات سے ضرور انکار ہے جس کا زیادہ تر راوی ابو مخنف لوط بن یحییٰ ہے جو کذاب اور غالی شیعہ تھا (میزان) اور بھیانک روایتیں اسی کی ہیں اور جس حد تک یہ واقعات صحیح ہیں ان میں اگر فی الواقع یزید ملوث ہے تو اس کے “سیاہ کارنامے “شمار ہوں گے لیکن ان غلطیوں سے چاہے وہ کتنی بھی عظیم ہوں وہ دائرہ اسلام سے خارج ہوتا ہے نہ مغفرت خداوندی کے امکان سے محروم۔

سوال نمبر3:    اگر یزید کا قتل اہل بیت میں کوئی ہاتھ نہیں اور یہ سب کچھ ابن زیاد و ابن سعد کی کارستانی ہے تو کیا یزید کا یہ فرض نہیں تھا کہ وہ بحکم ((كُلُّكُمْ رَاعٍ وَكُلُّكُمْ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ)) (صحیح بخاری، النکاح، باب المرأۃ راعیۃ فی بیت زوجھا، حدیث:۵۲۰۰) اپنے گورنر سپہ سالا ر وغیرہ کا مؤاخذہ کرتا اور انہیں قتل اہل بیت کی سزا دیتا اور نہیں تو کیا قتل اہل بیت کے جرم میں وہ ابن زیاد بدنہاد کو معزول بھی نہیں کرسکتا تھا؟”

جواب نمبر 3:   یہ سوال بجا ہے، یزید کو فی الواقع حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے قاتلوں سے مؤاخذہ کرنا اور انہیں ان کے عہدوں سے برطرف کر دینا چاہیے تھا۔ لیکن جس طرح ہر حکمران کی کچھ سیاسی مجبوریاں ہوتی ہیں جن کی بنا پر بعض دفعہ انہیں اپنے ماتحت حکام کی بعض ایسی کاروائیوں سے بھی چشم پوشی کرنی پڑ جاتی ہے جنہیں وہ صریحا ً غلط سمجھتے ہیں۔ اسی طرح ہوسکتا ہے کہ کچھ ایسی سیاسی مجبوری ہو جس کو یزید نے زیادہ اہمیت دے دی ہو گو اسے قتل حسین رضی اللہ عنہ کو زیادہ اہمیت دینی چاہیے تھی۔ اسے بھی آپ اس کی ایک اور بہت بڑی غلطی شمارکرسکتے ہیں اور بس۔ خود حضرت علی رضی اللہ عنہ کو دیکھ لیجئے کہ ان کی خلافت کے مصالح نے انہیں نہ صرف قاتلین حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے چشم پوشی پر مجبور کر دیا بلکہ انہیں بڑے بڑے اہم عہدے بھی تفویض کرنے پڑے۔ حالانکہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے قتل کا سانحہ بھی کچھ کم المناک اور یہ جرم بھی کچھ عظیم جرم نہ تھا لیکن اس کے باوجود حضرت علی رضی اللہ عنہ ان کے خلاف کچھ نہ کرسکے۔ یزید نے تو قاتلین حسین رضی اللہ عنہ کو ان کے عہدوں سے صرف برطرف ہی نہیں کیا لیکن حضرت علی رضی اللہ عنہ نے تو قتل عثمان رضی اللہ عنہ کے بعد قاتلوں کو بڑے بڑے عہدوں سے نوازا۔

یہ موازنہ اگرچہ ہمارے لیے سخت اذیت ناک ہے لیکن اس کا کیا علاج کہ “اہلسنت” جب عہد صحابہ کو بھی بالکل شیعی نقطۂ نظر سے دیکھنا شروع کر دیں تو پھر اس کے بغیر چارہ بھی نہیں، اللہ تعالیٰ ہماری ان جسارتوں کو معاف فرمائے۔

سوال نمبر 4:    جب مسلم بن عقیل کی کوفے میں آمد کی خبر یزید کو پہنچ گئی اور اس نے ابن زیاد کو گورنر مقرر کر دیا تو کیا “امام” حسین رضی اللہ عنہ کی آمد اور اس کے گورنر و اہل کوفہ کے برتاؤ کی شہادت حسین رضی اللہ عنہ تک یزید کو کوئی اطلاع نہیں پہنچی تھی؟ حالانکہ اس نئی صورت حال کے متعلق یزید کی مسلسل دلچسپی و توجہ ایک فطرتی امر ہے اور اس سے صاف ظاہر ہے کہ قتل اہل بیت میں یزید کا فی الواقع ہاتھ ہے بلکہ یزید کا ابن زیاد کو گورنر مقرر کرنا اور اسے یہ کہنا کہ “کوفہ جا کر مسلم بن عقیل کی تلاش کر کے قتل تک سے دریغ نہ کرے ” کیا یہ تمام حقائق یزید پلید کی اہل بیت اور قتل اہل بیت میں رضا مندی کا ثبوت نہیں؟

جواب نمبر4:   قیاس آرائی، ظن و تخمین اور اٹکل پچو سے حقائق کا اثبات ممکن نہیں۔ جہاں تک مسلم بن عقیل کی کوفے میں آمد کی اطلاع اور ابن زیاد کے گورنر مقرر کرنے کا تعلق ہے تو اس کے متعلق عرض ہے کہ کتب تواریخ میں موجود ہے کہ اس بارے میں یزید کے بعض حامیوں نے یزید کو اطلاع بھجوائی تھی کہ کوفے میں اس طرح کے حالات رونما ہو رہے ہیں اور یزید کو اس امر کی بھی انہوں نے اطلاع دی تھی کہ موجود گورنر کا طرز عمل نرم ہے۔ نیز وہ سختی کرنے پر آمادہ بھی نہیں جس سے شورش پر قابو پایا جا سکے۔ یہ اطلاع ملنے پر ہی یزید نے سابق گورنر کا تبادلہ کر کے ابن زیاد کو کوفہ و بصرہ کا گورنر مقرر کیا اور اسے سختی سے شورش کو دبانے کا اسی طرح حکم دیا جس طرح ہر فرمانروا کسی صوبے میں بدامنی و شورش کی اطلاع پا کر حکم دیا کرتا اور حکام کا عزل و نصب کرتا ہے۔ اگر آپ اسی طرح تاریخی روایات سے اس امر کا ثبوت بہم پہنچادیں کہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے متعلق بھی کسی نے یزید کو اس طرح کی اطلاع بھجوائی تھی اور وہ اطلاع پا کر یزید نے ابن زیاد کو حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے ساتھ سختی کرنے کا حکم دیا تب تو یزید کی اہل بیت دشمنی اور قتل “اہل بیت” میں “رضا مندی” کی بات قابل قبول ہوسکتی ہے۔ موجودہ صورت میں تو یہ ہوائی باتیں ہیں جن سے اہل دانش کے نزدیک یزید پر کوئی الزام ثابت نہیں ہوتا اسی لیے تو امام غزالی جیسے ائمہ نے بھی اس بات کی صراحت کی ہے۔

((ما صح قتلہ للحسین رضی اللہ عنہ ولا أمرہ ولا رضاہ بذٰلک)) (وفیات الأعیان : ۴۵۰/۲)

یعنی “یزید کے بارے میں یہ کہنا کہ اس نے حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو قتل کیا یا س کے قتل کا حکم دیا، یا ان کے قتل پر رضامند تھا۔ ان میں سے کوئی بات بھی صحیح نہیں۔”

اور احیاء العلوم میں فرماتے ہیں:

((ولا یجوز أن یقال إنہ قتلہ أو أمر بہ مالم یثبت)) (۱۳۱/۳)

“بغیر ثبوت کے یہ کہنا جائز ہی نہیں کہ یزید نے حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو قتل کیا یا قتل کرنے کا حکم دیا۔”

اگر ایک بشارت نبوی علی صاحبہا الصلوٰۃ والتسلیم کا مصداق ہونے کے باوجود آپ یزید کا قافیہ “پلید” ہی سے ملانے پر مصر ہیں تو آپ کی مرضی۔ ہم کسی کی زبان و قلم پر پہرے نہیں بٹھا سکتے۔ تاہم اتنا ضرور عرض کریں گے کہ حدیث رسول کے مقابلے میں اس طرح کے ذہنی تحفظ کا مظاہرہ ایک مسلمان کے شایان شان نہیں۔ ہمیں معلوم ہے کہ بعض اکابر علماء نے بھی یزید کے لیے یہ لفظ استعمال کیا ہے لیکن انہوں نے عدم تحقیق کی بنا پر روا روی میں ایسا کیا ہے اور اس معاملے کی گہرائی میں وہ نہیں گئے اور بعض دفعہ ایسا ہو جاتا ہے کہ بعض مسائل میں جس طرح عام رائے ہوتی ہے بڑے بڑے محقق بھی انہیں تسلیم کر لیتے ہیں۔ لیکن جب کوئی دیدہ ور اس کی تہ میں اتر کر نقاب کشائی کرتا ہے تو صورت معملہ بالکل مختلف نکلتی ہے اس لیے اس دور میں جب یزید کا کردار نقد و نظر کی کسوٹی پر پرکھا گیا اور اس پر عام بحث ہوئی تو بہت سے مخفی گوشے بے نقاب ہو گئے۔ اب اگر کوئی شخص یزید کو “پلید” لکھنے پر اصرار کرتا ہے تو اسے بعض پچھلے علماء کی طرح معذور سمجھنا مشکل ہے ہاں اگر آپ کے نہاں خانۂ دماغ میں (ذاتی و سطحی باتوں کے علاوہ) اپنے “پلید” یا “ملعون” لکھنے معقول دلائل ہیں تو ان سے مطلع فرمائیں۔

سوال نمبر5:    “یزید کے آلہ کار ابن زیاد، شمر، وغیرہم کس حد تک مجرم ہیں اور آپ کے نزدیک ان کا کیا حکم ہے ؟”

جواب نمبر5:   یہ لوگ یزید کے آلہ کار نہیں، اہلکار تھے اور حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے اقدام جو ناخوشگوار صورت حال پیدا ہو گئی تھی اس سے اپنی صوابدید کے مطابق انہوں نے عہدہ برآ ہونے کی کوشش کی۔یہ کوشش مذموم تھی یا مستحسن؟ اس میں رائے دہی خَرطُ القَتَاد والی بات ہے۔ ایک تو تاریخ کی متضاد روایتوں نے واقعات کو بہت الجھا دیا ہے۔ دوسرے اس “سیاسی” نوعیت کے واقعے کو “مذہبی” رنگ دے دیا گیا ہے جس کی وجہ سے اس پر کھل کر گفتگو کرنا بھڑوں کے چھتے کو چھیڑنے کے مترادف ہو گیا ہے۔

ہم تاریخی تضاد کے انبار سے اگر حقیقت کی چہرہ کشائی کریں تو یہ راستہ طویل بھی ہو گا اور پھر بھی شائد آپ کے لیے ناقابل قبول۔ کیونکہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ تاریخی روایات کا ایک پہلو ہے جب کہ روایات کا دوسرا پہلو اس کے برعکس ہے۔ اس لیے ہم مختصراً صرف واقعے کی روشنی میں اتنا ہی عرض کریں گے کہ آپ جذبات اور مذہبیت سے الگ ہو کر معاملے کو واقعاتی سطح سے دیکھیں کہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ اہل کوفہ کی دعوت پر بیعت خلافت لینے کے لیے تشریف لائے تھے وہ جنگ کرنے کے لیے نہیں آئے تھے، کیونکہ ۶۰۔۷۰، افراد کے ساتھ جو بیشتر اہل خانہ ہی تھے جنگ نہیں ہوا کرتی۔اہل کوفہ نے تو حضرت حسین رضی اللہ عنہ کا ساتھ چھوڑ دیا۔ لیکن کیا حاکم وقت کے اہل کار بھی اپنے اس حاکم سے بغاوت کر ڈالتے جس پر تمام مسلمان متفق ہو چکے تھے۔ ایسا چونکہ ممکن نہیں تھا۔تاہم حضرت حسین رضی اللہ عنہ سے خیر سگالی کی گفتگو کی گئی جس کا خاطر خواہ اثر بھی ہونے لگا تھا اور حضرت حسین رضی اللہ عنہ نے تو اپنے موقف سے رجوع کر کے تین شرائط بھی پیش کر دی تھیں جن میں ایک شرط یزید کے پاس بھیج دینے کی بھی تھی لیکن انہی کوفیوں کی شرارت کہہ لیجئے جنہوں نے حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو خطوط لکھ کر بلوایا تھا یا ابن زیاد وغیرہ کی سختی کہ معاملہ سلجھتے سلجھتے الجھ گیا اور بات حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی مظلومانہ شہادت تک جا پہنچی۔

اب اس وقت ایسا کوئی پیمانہ نہیں جس سے ناپ کر یا تول کر ابن زیاد اور عمر بن سعد کی غلطی کا اندازہ کر کے کوئی حکم لگایا جا سکے اگر حضرت حسین رضی اللہ عنہ سے حسن سلوک میں انہوں نے کوئی کوتاہی کی ہے تو وہ یقیناً مجرم ہیں۔ تاہم یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ عمل اور رد عمل کے بنیادی نکتے کو نظر انداز کر کے بات بالعموم خاندانی شرف و فضل کے اعتبار سے کی جاتی ہے جو اصولاً غلط اور تحقیقی نقطۂ نظر کے منافی ہے۔

سوال نمبر 6:    ایک طرف لفظ امام اسے انکار اور صرف حضرت حسین پر اصرار اور دوسری طرف ابن تیمیہ کو نہ صرف امام بلکہ “شیخ الاسلام ابن تیمیہ” تحریر کرنا ابن تیمیہ کی “امام” حسین رضی اللہ عنہ کے مقابلے میں کون سی فوقیت اور دلیل شرعی پر مبنی ہے ؟”

جواب نمبر6:   افسوس ہے کہ اس سلسلے میں مدیر موصوف نے ہماری گزارشات کو غور سے نہیں پڑھا، اگر وہ ایسا کر لیتے تو ان کے قلم سے اس سطحیت کا اظہار نہ ہوتا جو ان کے سوال سے عیاں ہے۔ اس لیے بہتر ہے کہ پہلے ہم اپنی وہ وضاحت نقل کر دیں جس پر یہ سوال وارد کیا گیا ہے ہم نے لکھا تھا۔

” اسی طرح اہل سنت کی اکثریت حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو بلا سوچے سمجھے “اما م حسین علیہ السلام” بولتی ہے حالانکہ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کے ساتھ “امام” کا لفظ بولنا اور اسی طرح “رضی اللہ عنہ” کے بجائے “علیہ السلام” کہنا بھی شیعیت ہے۔ ہم تمام صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کے ساتھ عزت و احترام کے لیے “حضرت” کا لفظ استعمال کرتے ہیں۔ حضرت ابو بکر صدیق، حضرت عمر، حضرت عثمان، حضرت علی رضی اللہ عنہم وغیرہ۔ ہم کبھی “امام ابو بکر صدیق، امام عمر” نہیں بولتے۔ اسی طرح ہم صحابہ کرام کے اسمائے گرامی کے بعد “رضی اللہ عنہ” لکھتے اور بولتے ہیں۔ اور کبھی “ابو بکر صدیق علیہ السلام یا حضرت عمر علیہ السلام” نہیں بولتے، لیکن حضرت حسین کے ساتھ “رضی اللہ عنہ” کے بجائے ” علیہ السلام” بولتے ہیں۔ کبھی اس پر بھی غور کیا کہ ایسا کیوں ہے ؟ دراصل یہ شیعیت کا وہ اثر ہے جو غیر شعوری طور پر ہمارے اندر داخل ہو گیا ہے اس لیے یاد رکھیے کہ چونکہ شیعوں کا ایک بنیادی مسئلہ “امامت” کا بھی ہے اور امام ان کے نزدیک انبیاء کی طرح من جانب اللہ نامزد اور معصوم ہوتا ہے۔ حضرت حسین رضی اللہ عنہ بھی ان کے بارہ اماموں میں سے ایک امام ہیں، اس لیے ان کے لیے “امام” کا لفظ بولتے ہیں اور اسی طرح ان کے لیے “علیہ السلام” لکھتے اور بولتے ہیں۔ ہمارے نزدیک وہ ایک صحابی ٔ رسول ہیں “امام معصوم” نہیں، نہ ہم شیعوں کی امامت معصومہ کے قائل ہی ہیں۔ اس لیے ہمیں انہیں دیگر صحابۂ کرام کی طرح “حضرت حسین رضی اللہ عنہ ” لکھنا اور بولنا چاہیے۔ “امام حسین علیہ السلام” نہیں۔ کیونکہ یہ شیعوں کے معلوم عقائد اور مخصوص تکنیک کے غماز ہیں۔” (الاعتصام ۱۱ محرم الحرام ۱۳۹۵ھ)

اتنی صراحت و وضاحت کے بعد بھی مدیر موصوف کا عدم اطمینان ناقابل فہم ہے اگر وہ اس فرق کی کچھ توضیح کر دیتے کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے ساتھ “امام” نہ لکھنے سے تو ان کی توہین نہیں ہوتی لیکن حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے ساتھ “امام” نہ لکھنے سے ان کی توہین ہو جاتی ہے۔ تو ہم اپنے موقف پر نظر ثانی کر لیتے۔ یہ عجیب انداز ہے کہ ہمارے دلائل کا کوئی جواب بھی نہیں اور اسی طرح اپنے دلائل کا اظہار بھی نہیں لیکن پھر بھی حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی توہین کا بچکانہ اعتراض۔ ع

تمہی کہو یہ انداز “تحقیق” کیا ہے ؟

باقی رہا حضرت حسین رضی اللہ عنہ اور ابن تیمیہ میں آپ کا عجیب قسم کا موازنہ! تو جواباً عرض ہے کہ حدیث و فقہ کے مسلمہ عالم و فقیہ کو امام لکھنا اگر آپ کے نزدیک حضرت حسین رضی اللہ عنہ پر فوقیت دینا ہے جس کے لیے آپ دلیل شرعی کا مطالبہ کر رہے ہیں تو ہمارا سوال آپ سے یہ ہے کہ آپ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے لیے تو “امام” نہیں لکھتے لیکن ائمہ اربعہ اور سینکڑوں علماء و فقہاء کو امام لکھتے ہیں تو کیا امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ، امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ وغیرہ لکھ کر انہیں ابو بکر رضی اللہ عنہ و عمر رضی اللہ عنہ سے فوقیت دیتے ہیں؟

((ما ھو جوابکم فھو جوابنا))

پھر آپ امام ابو حنیفہ کو “امام اعظم” لکھتے ہیں۔ کیا ہم پوچھ سکتے ہیں کہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے لیے صرف “امام” اور امام ابو حنیفہ کے لیے “امام اعظم” کیا یہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی توہین نہیں؟

اور آگے بڑھئے ! آپ تمام صحابہ کرام کے لیے حضرت کا لفظ استعمال کرتے ہیں۔ بلکہ نبی ٔ ا کرم ﷺ کے لیے بھی بالعموم یہی لفظ “حضرت یا آنحضرتﷺ” ہی استعمال ہوتا ہے لیکن آپ مولانا احمد رضاخان بریلوی کو “اعلیٰ حضرت” لکھتے اور بولتے ہیں۔ کیا اس طرح صحابۂ کرام کی اور خود ختمی مرتبت ﷺ کی توہین نہیں؟

آخر یہ سوال لکھنے سے قبل اس کی سطحیت پر کچھ تو غور کر لیا ہوتا۔ اس لیے محترم! اچھی طرح سمجھ لیجئے کہ علماء و فقہاء کے لیے “امام” کے لفظ کا استعمال اس معنی میں ہوتا ہے کہ وہ حدیث و فقہ کے ماہر تھے، حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے لیے بھی اسے اس معنی میں استعمال کیا جائے تو اس میں نہ صرف یہ کہ کوئی حرج نہیں بلکہ اس معنی میں وہ بعد کے ائمہ سے زیادہ اس لفظ کے مستحق ہیں۔ لیکن بات تو یہ ہو رہی ہے کہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو اس معنی میں “امام ” نہیں کہا جاتا اگر ایسا ہوتا ابو بکر و عمر و دیگر صحابۂ کرام کو بھی امام لکھا اور بولا جاتا کہ وہ علوم قرآن و حدیث کے حضرت حسین رضی اللہ عنہ سے بھی زیادہ رمز شناس تھے۔ جب کسی بڑے سے بڑے صحابی کے لیے امام کا لفظ نہیں بولا جاتا تو اس کے صاف معنی یہ ہیں کہ صرف حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے ساتھ اس لفظ کا استعمال ان معنوں میں قطعاً نہیں جن میں اس کا استعمال عام ہے، بلکہ یہ شیعیت کے مخصوص عقائد کا غماز ہے۔ اس لیے اہل سنت کو اس سے اجتناب کرنا چاہیے۔

امید ہے اب تو مدیر موصوف کی سمجھ میں یہ بات آ گئی ہو گی۔ اگر اب بھی اطمینان نہیں تو ہم اس کے سوا کیا کہہ سکتے ہیں۔

یارب! وہ نہ سمجھے ہیں نہ سمجھیں گے مری بات

دے اور دل ان کو، جو نہ دے مجھ کو زباں اور

سوال نمبر 7:    آپ کی تحریر کے مطابق اگر یزید مومن ہونے کے باعث رحمۃ اللہ علیہ کا مصداق ہے تو کیا ا س منطق کے مطابق کسی مومن کہلانے والے زانی، شرابی، چور اور قاتل کو شخصی طور پر رحمۃ اللہ علیہ کہنا درست ہو گا؟”

جواب نمبر7:

رحمۃ اللہ علیہ کا استعمال:   یہ سوال بھی سطحیت پر مبنی ہے موصوف نے ذرا بھی غور و فکر سے کام لیا ہوتا تو اس سطحیت کا مظاہرہ شاید نہ فرماتے۔ ہم موصوف سے سوال کرتے ہیں کہ کیا آج تک شخصی طور پر کسی زانی یا شرابی یا چور یا قاتل مسلمان کے لیے دعائے مغفرت و رحمت سے کسی عالم نے روکا ہے ؟ اگر روکا ہے تو حوالہ دیں، اور اگر شرابی اور زانی کے لیے مغفرت و رحمت کی دعا کرنی جائز ہے تو رحمۃ اللہ علیہ یا رحمہ اللہ کا مطلب بھی تو مغفرت و رحمت کی دعا ہے، اس کا مفہوم کچھ اور تو نہیں؟

اسی طرح ہم موصوف سے پوچھتے ہیں کہ آج تک کسی عالم نے کسی زانی یا شرابی یا چور یا قاتل مسلمان کی نماز جنازہ پڑھنے سے انکار کیا ہے ؟ اگر کیا ہے تو حوالہ دیں بصورت دیگر از خود ایسے مجرموں کے لیے رحمۃ اللہ علیہ کہنا ثابت ہو گیا کیونکہ نماز جنازہ بھی تو مغفرت و رحمت کی دعا ہے۔ اگر ایک کبیرہ گناہ کے مرتکب کے لیے نماز جنازہ پڑھنی جائز ہے بلکہ ضرور پڑھی جاتی ہے تو پھر اسے رحمۃ اللہ علیہ یا رحمہ اللہ کہنے میں کیا حرج ہے ؟ اگر یہ نکتہ اب بھی موصوف کے ذہن میں نہیں آیا تو ہم ان سے پوچھتے ہیں کہ کسی کے لیے مغفرت و رحمت کی دعا کرنے میں یا اس کی نماز جنازہ پڑھنے میں یا اس کے لیے رحمۃ اللہ علیہ کہنے میں کیا فرق ہے ؟ ہمارے نزدیک تو تینوں کا مفہوم ایک ہی ہے۔ اگر موصوف کے نزدیک کچھ فرق ہے تو وضاحت فرمائیں کہ ان کے درمیان کیا فرق ہے ؟ تاکہ ہمیں بھی معلوم ہوسکے کہ ایک مرتکب کبیرہ گناہ مسلمان کی نماز جنازہ تو پڑھنی جائز بلکہ ضروری ہے لیکن اس کے لیے رحمۃ اللہ علیہ کہنا جائز نہیں، اس لیے کہ ان کے درمیان یہ یہ فرق ہے۔ امید ہے موصوف ان سوالات کی وضاحت فرما کر ہماری شک یا غلط فہمی دور کر دیں گے۔

سوال نمبر 8:    آپ نے غزوۂ قسطنطنیہ کے حوالے سے یزید کی مغفرت کی جو تصریح کی ہے۔ اس مغفرت سے کیا مراد ہے۔ اور محدثین و شارح بخاری نے اس حدیث سے کیا مراد لیا ہے اور یزید کے متعلق کیا تصریحات فرمائی ہیں اور ابن (1)مہلب کے قول کے متعلق کیا کہا ہے ؟

جواب نمبر8:

مسئلہ یزید کی مغفرت کا:  مغفرت سے مراد وہی ہے جو اس کا عام مفہوم ہے کہ اللہ تعالیٰ کا کسی بندے کے گناہوں کو نظر انداز کر کے اس کو معاف کر دینا، بخش دینا اور اپنے انعامات کا مستحق قرار دے دینا۔

باقی رہی بات کہ محدثین و شارح بخاری نے اس سے کیا مراد لیا ہے اور یزید کے متعلق کیا تصریحات فرمائی ہیں؟ اور “ابن مہلب” کے قول کے متعلق کیا کہا ہے ؟ تو محترم مدیر صاحب! اگر ہماری مختصر تصریحات پر ذرا گہری نظر سے غور فرما لیتے تو شاید وہ یہ سوالات نہ کرتے کہ ہماری مختصر سی عبارت میں ان تمام باتوں کا جواب موجود ہے۔ مناسب ہے کہ ہم پہلے اپنے سابقہ مضمون کی وہ عبارت یہاں نقل کر دیں جس پر یہ سوال کیا گیا ہے۔ اس کے بعد مزید گفتگو موزوں رہے گی۔ ہم نے لکھا تھا:

“کم از کم ہم اہل سنت کو اس حدیث کے مطابق یزید کو برا بھلا کہنے سے باز رہنا چاہیے جس میں رسول اللہ ﷺ نے غزوۂ قسطنطنیہ میں شرکت کرنے والوں کے متعلق مغفرت کی بشارت دی ہے اور یزید اس جنگ کا کمانڈر تھا۔ یہ بخاری کی صحیح حدیث ہے اور آنحضرت ﷺ کا فرمان ہے، کسی کاہن یا نجومی کی پیشین گوئی نہیں کہ بعد کے واقعات اسے غلط ثابت کر دیں۔ اگر ایساہوتو پھر نبی کے فرمان اور کاہن کی پیشین گوئی میں فرق باقی نہ رہے گا۔ کیا ہم اس حدیث کی مضحکہ خیز تاویلیں کر کے یہی کچھ ثابت کرنا چاہتے ہیں۔”

مدیر موصوف کو اگر ہماری اس بات سے اختلاف تھا تو ان کو بتلانا چاہیے تھا کہ نبی کی بشارت اور نجومی کی پیشگوئی میں کوئی فرق ہے یا نہیں۔ اگر ہے تو وہ کیا ہے ؟ کیونکہ اس حدیث کی ایسی تاویل جس سے بشارت کا پہلو ختم ہو جائے، حضور ﷺ کے قول کو ایک کاہن کے قول سے زیادہ اہمیت نہ دینے پر ہی صحیح قرار پا سکتی ہے۔ اس کے بغیر جب غزوۂ قسطنطنیہ کے شرکاء میں سے کسی ایک کو بھی مغفرت کی بشارت سے خارج نہیں کیا جا سکتا تو ہمیں بتایا جائے کہ کس طرح ممکن ہے کہ حضور ﷺ کی پیش کوئی بھی اٹل ہو اور پھر اس میں سے کسی کا تخلف بھی ہو جائے، بیک وقت دونوں باتیں ممکن نہیں۔

امام مہلب کے قول یہی تو کہا گیا ہے کہ آنحضرت ﷺ کا یہ قول مشروط ہے اس بات سے کہ ان شرکاء میں سے بعد میں کفر و ارتداد کا ارتکاب نہ ہوا ہو۔ اگر کسی نے ایسا کیا تو وہ اس بشارت سے خارج ہو جائے گا لیکن اس تاویل میں کوئی وزن نہیں۔ معلوم نہیں صحیح بخاری کے جلیل القدر شارحین اس تاویل کو بغیر کسی رد و نقد کے کیوں نقل کرتے آئے ہیں؟ حالانکہ یہ تاویل بالکل ویسی ہی ہے جیسی تاویل شیعہ حضرات صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے بارے میں کرتے ہیں۔ وہ بھی یہی کہتے ہیں کہ ٹھیک ہے آنحضرت ﷺ کی زندگی میں صحابہ کو “رضی اللہ عنہم و رضوا عنہ” کا سرٹیفیکیٹ دیا گیا تھا۔ لیکن آپﷺ کی وفات کے بعد چونکہ (نعوذ باللہ) وہ مرتد ہو گئے، اس لیے وہ اس کے مستحق نہیں رہے۔ اگر صحابۂ کرام کے بارے میں یہ لغو تاویل آپ کے نزدیک قابل قبول نہیں تو پھر یزید کے بارے میں یہ تاویل کیوں کر صحیح ہو جائے گی؟

پھر محض امکان کفر و ارتداد کو وقوع کفر و ارتداد سمجھ لینا بھی سمجھ سے بالاتر ہے۔ مان لیجئے کہ حضور ﷺ پیش گوئی مشروط ہے اور کفر  و ارتداد کرنے والے اس سے خارج ہو جائیں گے لیکن اس کے بعد اس امر کا ثبوت بھی تو پیش کیجئے کہ یزید کافر و مرتد ہو گیا تھا اور پھر اسی کفر و ارتداد پر اس کا خاتمہ بھی ہوا، جب تک آپ کا واقعی ثبوت پیش نہیں کریں گے بشارت نبوی کو مشروط ماننے سے بھی آپ کو کوئی فائدہ نہیں ہو گا۔

اگر یہ کہا جائے کہ قتل حسین رضی اللہ عنہ کا حکم یا اس پر رضامندی یہی کفر و ارتداد ہے تو یہ بھی لغو ہے۔ اول تو اس امر کا کوئی ثبوت نہیں کہ یزید نے حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے قتل کا حکم دیا یا اس پر رضا مندی کا اظہار کیا، جیسا کہ امام غزالی نے اس کی تصریح کی ہے، وہ لکھتے ہیں:

((ما صح قتلہ للحسین رضی الہ عنہ ولا أمرہ ولا رضاہ بذٰلک)) (وفیات الاعیان: ۴۵۰/۲)

“حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو یزید کا قتل کرنا یا ان کے قتل کرنے کا حکم دینا یا ان کے قتل پر راضی ہونا، ان میں سے کوئی بات بھی ثابت نہیں۔”

اور احیاء العلوم میں لکھتے ہیں:

((فإن قیل ھل یجوز لعن یزید بکونہ قاتل الحسین أو آمراً بہ قلنا ھٰذا لم یثبت أصلا ولا یجوز أن یقال إنہ قتلہ أو أمر بہ مالم یثبت)) (أحیاء العلوم : ۱۳۱/۳)

“اگر یہ سوال کیا جائے کہ کیا یزید پر لعنت کرنی جائز ہے، کیونکہ وہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کا قاتل ہے یا ان کے قتل کا حکم دینے والا ہے تو ہم جواب میں کہیں گے کہ یہ باتیں قطعاً ثابت نہیں ہیں اور جب تک کوئی ثبوت نہ ہو اس کے متعلق یہ کہنا جائز نہیں کہ اس نے قتل کیا یا قتل کا حکم دیا۔”

اگر یہ مان بھی لیا جائے کہ یزید ہی نے قتل کا حکم دیا تب بھی حکم قتل تو کجا، اگر وہ خود ہی حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو قتل کرنے والا ہوتا تب بھی محض قتل سے کافر و مرتد قرار نہیں پا سکتا چہ جائے کہ حکم قتل سے۔ یہ بھی ایک کبیرہ گناہ ہی ہے، کفر و ارتداد نہیں۔ چنانچہ ملا علی قاری حنفی لکھتے ہیں:

((علی أن الأمر بقتل الحسین بل قتلہ لیس موجباً للعنۃ علی مقتضیٰ مذہب أھل السنۃ من أن صاحب الکبیرۃ لا یکفر فلا یجوز عند ھم لعن الظالم الفاسق کما نقلہ جماعۃ یعنی بعینہ)) (ضوء المعالی علی بدء الأمالی ص:۸۶، طبع جدید)

“حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے قتل کا حکم دینا بلکہ خود ان کا قتل کر دینا بھی مذہب اہل سنت کے مقتضی کے مطابق لعنت کا موجب نہیں، (اس لیے کہ یہ کبیرہ گناہ ہی ہے ) اور مرتکب کبیرہ گناہ کو کافر نہیں کہا جا سکتا۔ پس اہل سنت کے نزدیک کسی ظالم، فاسق شخص کے لیے متعین طور پر لعنت کرنی جائز نہیں۔”

ایک اور حنفی بزرگ مولانا اخوند درویزہ اسی قصیدہ امالی کی شرح میں لکھتے ہیں:

“مذہب اہل سنت و جماعت آن ست کہ لعنت بغیر از کافر مسلمان رانیا مدہ است۔ پس یزید کافر نبود بلکہ مسلمان سنی بود وکسے بہ گناہ کردن کافر نمی شود در تمہید آور دہ است کہ قاتل حسین را نیز کافر نباید گفت۔ زیرا کہ بہ گناہ کردن کسے کافر نمی شود۔” (شرح قصیدہ امالی، طبع ۱۳۱۷ھ لاہور)

“اہل سنت کا مذہب ہے کہ لعنت کرنا سوائے کافر کے کسی مسلمان کے لیے جائز نہیں یزید کافر نہیں، سنی مسلمان تھا اور کوئی شخص محض گناہ کر لینے سے کافر نہیں ہوتا۔ تمہید میں ہے کہ خود قاتل حسین کو بھی کافر نہیں کہا جا سکتا۔ اس لیے کہ گناہ کر لینے سے کوئی شخص کافر نہیں ہوتا۔”

الغرض یزید کو مغفرت کو بشارت نبوی ﷺ سے کسی طرح بھی خارج نہیں کیا جا سکتا، جن لوگوں نے ایسی کوشش کی ہے ان کے پاس سوائے بغض یزید اور جذبۂ حب حسین رضی اللہ عنہ کے کوئی معقول دلیل نہیں۔

سب سے زیادہ تعجب مدیر “رضائے مصطفےٰ ” اور ان کے ہمنواؤں پر ہے کہ ایک طرف وہ آنحضرت ﷺ کو عالم ما کان وما  یکون تسلیم کرتے ہیں او ر دوسری طرف آپ کی دی ہوئی بشارت میں سے یزید کو خارج کرنے میں کوشاں ہیں۔ ہم تو آنحضرتﷺ کو عالم الغیب تسلیم نہیں کرتے۔ البتہ بشارات کا منبع وحیِ الہٰی کو مانتے ہیں اور یہ اعتقاد رکھتے ہیں کہ مستقبل کے متعلق جتنی بھی پیش گوئیاں حضورﷺ نے فرمائی ہیں وہ اللہ تعالیٰ سے علم اور وحی پا کر کی ہیں جو کبھی غلط نہیں ہوسکتیں اور آپ تو خود حضورﷺ کو بھی عالم الغیب مانتے ہیں لیکن پھر بھی ان کی پیش گوئی پر اعتقاد نہیں، کیسی عجیب بات ہے ؟ آپ کے نزدیک اس بات کا کیا جواب ہے کہ جس وقت نبی ﷺ نے غزوۂ قسطنطنیہ کے شرکاء کی مغفرت کی خبر دی، اس وقت رسول اللہﷺ کو یہ علم تھا یا نہیں کہ اس میں یزید جیسا شخص بھی شامل ہو گا؟ اور یہ بھی آپ کو علم تھا یا نہیں کہ یزید بعد میں کافر و مرتد ہو جائے گا؟ اگر ان دونوں باتوں کا آپ کو اس وقت علم تھا تو پھر نبی ﷺ نے یزید کو مغفرت و بشارت سے خارج کیوں نہیں کیا؟ اور علم ہوتے ہوئے اگر آپ نے یزید کو خارج نہیں کیا تو اس کا مطلب کیا ہے ؟ امید ہے مدیر موصوف اپنے عقیدۂ علم غیب کے مطابق ان سوالات کی وضاحت ضرور فرمائیں گے۔

بہرحال رسول اللہ ﷺ نے غزوۂ قسطنطنیہ کے شرکاء کی مغفرت کی جو پیش گوئی فرمائی ہے وہ بالکل برحق ہے اور یقیناً وہ سب مَغفُورٌ لَہُم ہیں۔ اگر ان میں سے کوئی کافر یا مرتد ہونے والا ہوتا تو آپ اس کی بھی وضاحت فرما دیتے اس لیے وہ سب شرکائے غزوہ یقیناً مسلمان تھے، غزوہ کے بعد ان کے کفر و ارتداد کا امکان محض ایک واہمی، سفسطہ اور مفروضہ ہے۔ بشارت کا اقتضاء تو یہ ہے کہ ان کا خاتمہ بہرحال ایمان و اسلام ہی پر ہونا چاہیے اور یہی ہمارا اعتقاد ہے کیونکہ اس اعتقاد کے بغیر ایک نبی کی پیش گوئی اور کاہن و نجومی کی پیش گوئی میں فرق باقی نہیں رہ جاتا ہے۔ نبی ﷺ کی توہین کی ایسی جسارت ہم نہیں کرسکتے یہ تو انہی لوگوں کا جگرا ہے جو “عشق رسول” کے ٹھیکیدار بھی بنے پھرتے ہیں اور آپ کی پیش گوئی کو ایک نجومی کے اٹکل پچو سے زیادہ حیثیت دینے کے لیے بھی تیار نہیں۔ معاذ اللہ!

حرف آخر:    ان سوالات کے آخر میں مدیر “رضائے مصطفے ٰ” نے لکھا ہے۔

نوٹ: جواب مختصر، جامع اور مدلل و جلدی ہونا چاہیے “

جواب: ہم نے موصوف کی خواہش پر اپنے علم و فہم کے مطابق جامع و مدلل جواب دے دیے ہیں۔ مدیر موصوف سے متوقع ہیں کہ وہ حزبی تعصب اور جذباتی وابستگی سے بالاتر ہو کر ہماری معروضات پر غور فرمائیں گے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو دین کی صحیح فہم عطا فرمائے۔

((اللھم أرنا الحق حقاً وارزقنا اتباعہ والباطل باطلاً وارزقنا اجتنابہ))

لیکن افسوس ہے کہ مدیر “رضائے مصطفے ٰ” نے ہمارے دلائل کا آج تک کوئی جواب نہیں دیا، جس سے قارئین اندازہ کرسکتے ہیں کہ کس کا موقف مضبوط اور وزنی ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1) یہ “ابن مہلب” نہیں صرف “مہلب” ہے سائل کو غالباً مغالطہ لگا ہے یا قلم کا سہو ہے۔

 

۸۔۔یزید کو رحمۃ اللہ علیہ کہنا نہ صرف جائز بلکہ مستحب ہے (امام غزالی کا فتویٰ)

مذکورہ مضمون میں متعدد جگہ امام غزالی کے جس فتویٰ کا ذکر آیا ہے اور اس کی بعض عبارتیں نقل ہوئی ہیں وہ پورا فتویٰ افادۂ عام کی غرض سے ذیل میں مع ترجمہ درج کیا جاتا ہے۔

((وقد أفتیٰ الإمام أبو حامد الغزالی رحمہ اللہ تعالیٰ۔۔۔ فإنہ سئل عمن صرح بلعن یزید ھل یحکم بفسقہ أم یکون ذٰلک مرخصاً فیہ؟ وھل کان مریداً قتل الحسین رضی اللہ عنہ أم کان قصدہ الدفع؟ وھل یسوغ الترحم علیہ أم السکوت عنہ أفضل؟ ینعم بإزالۃ الاشتباہ مثاباً فأجاب لا یجوز لعن المسلم أصلاً ومن لعن مسلماً فھو الملعون وقد قال رسول اللہ ﷺ “المسلم لیس بلعان” وکیف یجوز لعن المسلم ولا یجوز لعن البہائم وقد ورد النہی عن ذٰلک وحرمۃ المسلم أعظم من حرمۃ الکعبۃ بنص النبی ﷺ ویزید صح إسلامہ وما صح قتلہ الحسین رضی اللہ عنہ ولا أمرہ ولا رضاہ بذٰلک ومھما لم یصح ذٰلک منہ لا یجوز أن یظن ذٰلک بہ فإن إسآءۃ الظن بالمسلم أیضاً حرامٌ وقد قال تعالیٰ اجْتَنِبُوا كَثِيراً مِّنَ الظَّنِّ إِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ إِثْمٌ وقال النبی ﷺ إن اللہ حرم من المسلم دمہ ومالہ وعرضہ وأن یظن السوء ومن زعم أن یزید أمر بقتل الحسین رضی اللہ عنہ أو رضی بہ فینبغی أن یعلم بہ غایۃ حماقۃ فإن من قتل من الأکابر والوزرآء والسلاطین فی عصرہ لو أراد أن یعلم حقیقۃ من الذی أمر بقتلہ ومن الذی رضی بہ ومن الذی کرھہ لم یقدر علی ذٰلک وإن کان قد قتل فی جوارہ وزمانہ وھو یشاہدہ، فکیف لو کان فی بلد بعید وزمن قدیم قد انقضیٰ، فکیف یعلم ذٰلک فیما انقضیٰ علیہ قریبٌ من أربع مائۃ سنۃ فی مکان بعید؟

وقد تطرق التعصب فی الواقعۃ فکثرت فیھا الأحادیث من الجوانب فھٰذا أمر لا تعرف حقیقتہ أصلاً وإذا لم یعرف وجب إحسان الظن بکل مسلم یمکن إحسان الظن بہ ومع ھٰذا فلو ثبت علی مسلم أنہ قتل مسلماً فمذھب اھل الحق أنہ لیس بکافر والقتل لیس بکفر بل ہو معصیۃ وإذا مات القاتل فربما مات بعد التوبۃ والکافر لو تاب من کفرہ لم تجز لعنتہ فکیف من تاب عن قتل؟ وَهُوَ الَّذِي يَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهِ فإذن لا یجوزلعن أحد ممن مات من المسلمین ومن لعنہ کان فاسقاً عاصیاً للہ تعالیٰ ولو جاز لعنہ فسکت لم یکن عاصیاً بالإجماع بل لو لم یلعن إبلیس طول عمرہ لا یقال لہ یوم القیامۃ لم َ لم تلعن إبلیس؟ ویقال للاعن لِمَ لعنت؟ ومن أین عرفت أنہ مطرودٌ ملعونٌ؟ والملعون ھو المبعد من اللہ عز وجل وذٰلک غیبٌ لا یعرف إلا فیمن مات کافراً فإن ذٰلک عُلم بالشرع وأما الترحم علیہ فھو جائز بل ہو مستحبٌ بل ہو داخل فی قولنا فی کل صلوٰۃ اللھم اغفر للمؤمنین والمؤمنات فإنہ کان مؤمناً (وفیات الاعیان لابن خلکان: ۲۸۸/۳، طبع بیروت ۱۹۷۰ء)

“امام غزالی سے سوال کیا گیا کہ اس شخص کے متعلق کیا حکم ہے، جو یزید پر لعنت کرتا ہے ؟ کیا اس پر فسق کا حکم لگایا جا سکتا ہے ؟ کیا اس پر لعنت کا جواز ہے ؟ کیا یزید فی الواقع حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو قتل کرنے کا ارادہ رکھتا تھا یا اس کا مقصد صرف اپنی مدافعت تھا؟ اس کو “رحمۃ اللہ علیہ ” کہنا بہتر ہے یا اسے سکوت افضل ہے ؟”

امام غزالی نے جواب دیا مسلمان پر لعنت کرنے کا قطعاً کوئی جواز نہیں، جو شخص کسی مسلمان پر لعنت کرتا ہے وہ خود ملعون ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے :

“مسلمان لعنت کرنے والا نہیں ہوتا۔” علاوہ ازیں ہمیں تو ہماری شریعت اسلامیہ نے بہائم (مسلمانوں) تک پر لعنت کرنے سے روکا ہے تو پھر کسی مسلمان پر لعنت کرنا کس طرح جائز ہو جائے گا؟ جبکہ ایک مسلمان کی حرمت (عزت) حرمت کعبہ سے بھی زیادہ ہے جیسا کہ حدیث نبوی ﷺ میں مذکور ہے۔ (سنن ابن ماجہ)

یزید کا اسلام صحیح طور ثابت ہے جہاں تک حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے واقعے کا تعلق ہے سو اس بارے میں کوئی صحیح ثبوت موجود نہیں کہ یزید نے انہیں قتل کیا یا ان کے قتل کا حکم دیا یا اس پر رضامندی ظاہر کی۔ جب یزید کے متعلق یہ باتیں پایۂ ثبوت ہی کو نہیں پہنچتیں تو پھر اس سے بدگمانی کیونکر جائز ہو گی؟ جبکہ مسلمان کے متعلق بدگمانی کرنا بھی حرام ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے “تم خوامخواہ بدگمانی کرنے سے بچو کہ بعض دفعہ بدگمانی بھی گناہ کے دائرے میں  آجاتی ہے ” اور نبی ﷺ کا ارشاد ہے :

“اللہ تعالیٰ نے مسلمان کے خون، مال، عزت و آبرو اور ا س کے ساتھ بدگمانی کو حرام قرار دیا ہے۔”

جس شخص کا خیال ہے کہ یزید نے حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے قتل کا حکم دیا یا ان کے قتل کو پسند کیا، وہ پرلے درجے کا احمق ہے۔ کیا یہ واقعہ نہیں کہ ایسا گمان کرنے والے کے دور میں کتنے ہی اکابر، وزراء اور سلاطین کو قتل کیا گیا لیکن وہ اس بات کا پتہ چلانے سے قاصر رہا کہ کن لوگوں نے ان کو قتل کیا اور کن لوگوں نے اس قتل کو پسند یا ناپسند کیا دراں حالیکہ ان کے قتل اس کے بالکل قرب میں اور اس کے زمانے میں ہوئے اور ا س نے ان کا خود مشاہدہ کیا۔ پھر اس قتل کے متعلق (یقینی اور حتمی طور پر) کیا کہا جا سکتا ہے جو دور دراز کے علاقے میں ہوا اور جس پر چار سو سال (امام غزالی کے دور تک) کی مدت بھی گزر چکی ہے۔

علاوہ ازیں اس سانحے پر تعصب و گروہ بندی کی دبیز تہیں چڑھ گئی ہیں اور روایتوں کے انبار لگا دیے گیے ہیں جس کی بنا پر اصل حقیقت کا سراغ لگانا ناممکن ہے، جب واقعہ یہ ہے کہ حقیقت کی نقاب کشائی ممکن ہی نہیں تو ہر مسلمان کے ساتھ حسن ظن رکھنا ضروری ہے۔ پھر اہل حق (اہل سنت ) کا مذہب تو یہ ہے کہ کسی مسلمان کے متعلق یہ ثابت بھی ہو جائے کہ اس نے کسی مسلمان کو قتل کیا ہے تب بھی وہ قاتل مسلمان، کافر نہیں ہو گا۔ اس لیے کہ جرم قتل کفر نہیں ایک معصیت (گناہ) ہے۔ پھر یہ بھی واقعہ ہے کہ مسلمان قاتل مرنے سے پہلے پہلے اکثر توبہ کر ہی لیتا ہے اور شریعت کا حکم تو ہے کہ اگر کوئی کافر بھی کفر سے توبہ کر لے اس پر بھی لعنت کی اجازت نہیں، پھر یہ لعنت ایسے مسلمان کے لیے کیوں کر جائز ہو گی جس نے مرنے سے پہلے جرم قتل سے توبہ کر لی ہو؟

آخر کسی کے پاس اس امر کی کیا دلیل ہے کہ حضرت حسین کے قاتل کو توبہ کی توفیق نصیب نہیں ہوئی اور وہ توبہ کیے بغیر ہی مرگیا ہے جب کہ اللہ کا در توبہ ہر وقت وا ہے۔ وَهُوَ الَّذِي يَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهِ (الشوری: ۲۵/۴۲)

بہرحال کسی لحاظ سے بھی ایسے مسلمان پر لعنت کرنا جائز نہیں جو مرچکا ہو، جو شخص کسی مرے ہوئے مسلمان پر لعنت کرے گا وہ خود فاسق اور اللہ کا نافرمان ہے۔

اگر (بالفرض) لعنت کرنا جائز بھی ہو لیکن وہ لعنت کی بجائے سکوت اختیار کیے رکھے تو ایسا شخص بالاجماع گناہ گار نہ ہو گا بلکہ اگر کوئی شخص اپنی زندگی میں ایک مرتبہ بھی ابلیس پر لعنت نہیں بھیجتا تو قیامت کے روز اس سے یہ نہیں پوچھا جائے گا کہ تو نے ابلیس پر لعنت کیوں نہیں کی؟

البتہ اگر کسی نے کسی مسلمان پر لعنت کی تو قیامت کے روز اس سے ضرور پوچھا جا سکتا ہے کہ تو نے اس پر لعنت کیوں کی تھی؟ اور تجھے یہ کیوں کر معلوم ہو گیا تھا کہ وہ ملعون اور راندۂ درگاہ ہے ؟ جب کہ کسی کے کفر و ایمان کا مسئلہ امور غیب سے ہے جسے اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ ہاں شریعت کے ذریعے ہمیں یہ ضرور معلوم ہوا ہے کہ جو شخص کفر کی حالت میں مرے، وہ ملعون ہے۔

جہاں تک یزید کو “رحمۃاللہ علیہ” یا “رحمہ اللہ” کہنے کا تعلق ہے تو یہ نہ صرف جائز بلکہ مستحب (اچھا فعل) ہے بلکہ وہ از خود ہماری ان دعاؤں میں شامل ہے جو ہم تمام مسلمان کی مغفرت کے لیے کرتے ہیں کہ ((اللھم اغفر للمؤمنین والمؤمنات)) “یا اللہ! تمام مومن مردوں اور عورتوں کو بخش دے ” اس لیے کہ یزید بھی یقیناً مومن تھا۔” (وفیات الاعیان، ۲۸۸/۳، طبع بیروت)

 

۹۔۔غزوۂ قسطنطنیہ کی سپہ سالاری (ایک تاریخی حوالے کی وضاحت)

غزوۂ قسطنطنیہ سے متعلق صحیح بخاری کی جو روایت پہلے متعدد مقامات پر زیر بحث آ چکی ہے، جس میں یہ بشارت دی گئی ہے کہ اس غزوے میں شریک ہونے والے افراد مغفور (بخشے ہوئے ) ہیں۔ تمام قدیم کتب تواریخ اس امر پر متفق ہیں کہ اس غزوے کے امیر لشکر یزید بن معاویہ تھے۔ اس سلسلے میں سب سے پہلے مسند احمد کی ایک روایت ہے جس میں صاف وضاحت ہے کہ :

((أن یزید بن معاویۃ کان أمیراً علی الجیش الذی غزا فیہ أبو أیوب)) (مسند احمد: ۴۱۶/۵، طبع جدید)

“اس لشکر قسطنطنیہ کے امیر جس میں حضرت ابو ایوب انصاری بھی شریک تھے، یزید بن معاویہ تھے۔”

اسی طرح قدیم تاریخوں مثلاً ابن سعد (متوفی ۲۳۰ھ) کی الطبقات الکبری، ابن جریر طبری (متوفی ۳۱۰ھ) کی تاریخ الامم والملوک (ج:۴، ص:۱۷۳) اور خلیفہ بن خیاط (متوفی ۲۴۰ھ) کی تاریخ (ج:۱، ص: ۱۹۶) میں بسلسلہ زیر بحث غزوہ قسطنطنیہ، یزید بن معاویہ کی شمولیت کا ذکر اس انداز ہی سے آیا ہے کہ وہ امیر لشکر تھے۔ یہ تو اولین اور قدیم ترین تاریخیں ہیں بعد کے مؤرخین میں حافظ ابن کثیر (متوفی ۷۷۴ھ) کا جو پایہ ہے، وہ محتاج بیان نہیں انہوں نے اپنی تاریخ کی مشہور کتاب البدایۃ والنہایۃ کے متعدد مقامات پر اس کی صراحت کی ہے۔ ج: ۸، ص:۵۹ پر مسند احمد کی متذکرہ بالا روایت بھی نقل کی ہے اور ص: ۵۸ پر ہے کہ حضرت ابو ایوب انصاری کی وصیت کے مطابق ان کی نماز جنازہ یزید نے پڑھائی۔

((وکان فی جیش یزید بن معاویۃ وإلیہ أوصیٰ وھو الذی صلی علیہ)) (البدایۃ والنہایۃ: ۶۰/۸۔۶۱)

اسی جلد کے ص: ۱۵۱ پر لکھا ہے کہ حضرت حسین بھی اس لشکر میں موجود تھے۔

((وقد کان فی الجیش الذین غزوا القسطنطنیۃ مع ابن معاویۃ یزید)) (البدایۃ والنہایۃ: ۱۵۳/۸)

اور ص ۲۲۹ میں یزید کے حالات میں لکھا ہے۔

((وقد کان یزید أول من غزا مدنیۃ قسطنطنیۃ)) (البدایۃ والنہایۃ: ۲۳۲/۸)

اسی طرح ابن عبدالبر (متوفی ۴۶۳ھ) کی کتاب “الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب” ج:۱، ص:۱۵۷۔ امام سہیلی (متوفی۵۸۱ھ) کی الروض الانف (شرح سیرت ابن ہشام) ج: ۲، ص:۲۴۶۔ حافظ ابن حجر کی کتاب “الاصابہ فی تمییز الصحابہ” ج:۲، ص:۹۰ میں اسی حقیقت کا اثبات کیا گیا ہے۔ علاوہ ازیں شروح بخاری “فتح الباری” ج:۶، ص: ۱۲۵، (طبع دارالسلام) اور “عمدۃ القاری” میں بھی حدیث ((یغزون مدینۃ قیصر)) کی شرح کرتے ہوئے یہی کچھ لکھا گیا ہے۔

حدیث اور تاریخ کے ان تمام حوالوں سے یہ بات پایۂ ثبوت کو پہنچ جاتی ہے کہ جس لشکر کے بارے میں رسول اللہ ﷺ نے مغفور لھم (وہ بخشا ہوا ہے ) فرمایا ہے اس کے امیر یزید بن معاویہ ہی تھے۔ رحمہ اللہ تعالیٰ۔

اس تاریخی حقیقت کے برعکس بعض لوگ یزید کو اس شرف سے محروم کرنے کے لیے کہتے ہیں کہ زیر بحث لشکر کے امیر حضرت سفیان بن عوف تھے، یزید نہ تھے۔ لیکن تاریخی دلائل اس رائے کی تغلیط و تردید کرتے ہیں۔ جیسا کہ محولہ بالا عبارتوں سے واضح ہے۔ غالباً ایسے لوگوں کے سامنے ابن الاثیر (متوفی ۶۳۰ھ) کی الکامل اور ابن خلدون (متوفی ۸۰۸ھ) کی تاریخ ہے حالانکہ ان کے بیانات سے بھی ان کی رائے کی تائید نہیں ہوتی۔

ابن الاثیر نے اس سلسلے میں یہ لکھا ہے کہ :

“حضرت معاویہ نے قسطنطنیہ کی طرف کثیر فوج روانہ کی، حضرت سفیان بن عوف کو اس کا امیر مقرر کیا اور اپنے لڑکے یزید کو بھی اس فوج میں شامل ہونے کو کہا لیکن وہ ساتھ جانے کے لیے تیار نہیں ہوا، لشکر وہاں پہنچا اور خبر آئی کہ وہ مصائب سے دوچار ہو گیا ہے اس پر یزید کی خواہش کے مطابق جم غفیر لشکر کا اضافہ کیا جن میں حضرت ابن عباس، حضرت ابن عمر، ابن زبیر اور ابو ایوب انصاری وغیرہ بہت سے لوگ تھے۔ (ملخصاً از تاریخ ابن الاثیر (ج ۳، ص ۲۲۷)

تاریخ ابن خلدون میں بھی (غالباً) اسی سے ماخوذ تقریباً ایسا ہی درج ہے۔ (ج:۳، ص:۹، طبع بیروت ۱۹۷۱ء)

اولاً: یہ دونوں کتابیں بعد کی ہیں جب کہ قدیم تاریخوں میں (جو بنیادی مآخذ ہیں) یزید ہی کو لشکر کا سپہ سالار بتلایا گیا ہے جیسا کہ پہلے سارے حوالے درج کیے جا چکے ہیں۔

ثانیاً: ابن الاثیر اور ابن خلدون کی بیان کردہ تفصیل کو اگر پہلے مؤرخین کی مذکورہ تصریحات کی روشنی میں دیکھا جائے تو ا س میں صرف اتنا اضافہ ملتا ہ کہ یزید سے پہلے ایک لشکر سفیان بن عوف کی قیادت میں بھیجا گیا لیکن بوجوہ وہ لشکر کوئی کارکردگی پیش نہ کر سکا جس کے بعد یزید کی سپہ سالاری (قیادت) میں وہ لشکر بھیجا گیا جس نے وہاں جا کر جہاد کیا اور یوں یزیدی لشکر ہی غزوہ قسطنطنیہ کا اولین غازی اور بشارت نبوی کا مصداق قرار پایا۔ بنا بریں تمام مؤرخین کا یزید ہی کو اس لشکر قسطنطنیہ کا سپہ سالار قرار دیان بالکل صحیح ہے۔ اور ابن الاثیر اور ابن خلدون کی تفصیل بھی اس کے مناقض نہیں، گو اس میں ایک بات کا اضافہ ضرور ہے، تاہم اس اضافے سے یزید کو اس شرف سے محروم کرنے کی کوشش غیر صحیح اور بے بنیاد ہے۔ یہ بات تو خود ابن الاثیر کے اپنے ذہن میں بھی نہیں تھی جس کا واضح ثبوت یہ ہے کہ انہوں نے اپنی کتاب اسد الغابہ میں یزید ہی کو لشکر قسطنطنیہ کا سپہ سالار لکھا ہے۔ (ج:۲، ص:۸۸، ص:۱۴۵ طبع قدیم، ترجمہ، ابو ایوب انصاری)

 

۱۰۔۔سانحۂ کربلا اور حضرت حسین و یزید(شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ کی نظر میں)

سانحۂ شہادت حسین اور واقعات کربلا کے موضوع پر آج سے کئی صدیاں قبل شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ (۶۶۱۔۷۲۸ھ) نے جو کچھ لکھا تھا، وہ حق و اعتدال کا ایک بہترین نمونہ، دلائل و براہین کا نادر مرقع اور خداداد فہم صحیح کا شاہکار ہے، انہوں نے اپنی تالیفات میں متعدد مقامات پر اس کو موضوع بحث بنایا ہے۔ بالخصوص “منہاج السنۃ” میں اس پر بڑی عمدہ بحث فرمائی ہے جس کی ضروری تلخیص مولانا عبدالرزاق ملیح آبادی مرحوم نے اردو میں کر کے شائع کر دی تھی۔ اس کیا اہمیت و افادیت کے پیش نظر ہم ذیل میں امام موصوف کی وہ ترجمہ شدہ تحریر بھی قدرے ترمیم کے ساتھ پیش کر رہے ہیں، آیات و احادیث کے عربی الفاظ کا، اصل کتاب سے مراجعت کر کے، ہم نے اضافہ کر دیا ہے۔ (مرتب)

تمہید:  علماء اسلام میں کوئی ایک بھی یزید بن معاویہ کو ابو بکر، عمر، عثمان اور علی کی طرح خلفائے راشدین میں سے نہیں سمجھتا۔ حدیث میں آیا ہے کہ:

((خلافۃ النبوۃ ثلاثون سنۃ ثم یؤتی اللہ الملک من یشآء)) (سنن أبی داؤد، السنۃ، باب فی الخلفاء، ح:۴۶۴۷)

“خلافت تیس برس تک منہاج نبوت پر رہے گی پھر سلطنت ہو جائے گی۔”

علماء اہل سنت اس حدیث کے مطابق یزید اور اس جیسے آدمی اور عباسی خلفاء کو محض فرمانروا بادشاہ اور اسی معنی میں خلیفہ خیال کرتے ہیں۔ ان کا یہ خیال بالکل درست ہے۔ یہ ایک محسوس واقعہ ہے جس سے انکار غیر ممکن ہے کیونکہ یزید اپنے زمانے میں عملاً ایک بادشاہ، حکمران، ایک صاحب سیف اور خودمختار فرمانروا تھا۔ اپنے باپ کی وفات کے بعد تخت پر بیٹھا اور شام، مصر، عراق خراسان وغیرہ اسلامی ممالک میں اس کا حکم نافذ ہوا۔ حضرت حسین قبل اس کے کہ کسی ملک پر بھی حاکم ہوں، یوم عاشوراء ۶۱ھ میں شہید ہو گئے اور یہی یزید کی سلطنت کا پہلا سال ہے۔

حضرت عبداللہ بن زبیر:  بلاشبہ حضرت عبداللہ بن زبیر نے یزید سے اختلاف کیا اور باشندگان مکہ و حجاز نے ان کا ساتھ دیا لیکن یہ واقعہ ہے کہ حضرت عبداللہ نے خلافت کا دعوی یزید کی زندگی میں نہیں کیا بلکہ اس کے مرنے کے بعد کیا۔ یہ بھی ایک تاریخی حقیقت ہے کہ شروع شروع میں اختلاف کرنے کے باوجود عبداللہ بن زبیر یزید کے جیتے جی ہی اس کی بیعت پر رضا مند ہو گئے تھے مگر چونکہ اس نے یہ شرط لگا دی تھی کہ قید ہو کر ان کے حضور میں حاضر ہوں اس لیے بیعت رہ گئی اور باہم جنگ برپا ہوئی۔ پس اگرچہ یزید تمام بلاد اسلامیہ کا حکمران نہیں ہوا۔ اور عبداللہ بن زبیر کا ماتحت علاقہ اس کی اطاعت سے برابر گشتہ رہا، تاہم اس سے اس کی بادشاہت اور خلافت میں شبہ نہیں ہوسکتا کیونکہ خلفائے ثلاثہ ابو بکر، عمر، عثمان اور پھر معاویہ بن ابی سفیان، عبدالملک بن مروان اور اس کی اولاد کے سوا کوئی بھی اموی یا عباسی خلیفہ پورے بلاد اسلامیہ کا تنہا فرمانروا نہیں ہوا۔ حتی کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں بھی تمام دنیائے اسلام کی حکومت نہ تھی۔

بادشاہوں پر خلیفہ کا اطلاق؟  پس اگر اہل سنت ان بادشاہوں میں سے کسی کو خلیفہ یا امام کہتے ہیں تو اس سے مقصود صرف یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے زمانے میں خودمختار تھا، طاقتور تھا، صاحب سیف تھا۔ عزل ونصب کرتا تھا، اپنے حکام کے اِجراء کی قوت رکھتا تھا۔ حدود شرعی قائم کرتا تھا کفار پر جہاد کرتا تھا۔ یزید کو بھی امام و خلیفہ کہنے سے یہی مطلب ہے اور یہ ایک ایسی واقعی بات ہے کہ اس کا انکار غیر ممکن ہے۔ یزید کے صاحب اختیار بادشاہ ہونے سے انکار کرنا ایسا ہی ہے جیسے کوئی اس واقعے سے انکار کر دے کہ ابو بکر، عمر، عثمان حکمران نہیں تھے یا یہ کہ قیصر و کسریٰ نے کبھی حکومت نہیں کی۔

یہ “خلفاء” معصوم نہ تھے :   رہا یہ مسئلہ کہ یزید، عبدالملک، منصور وغیرہ خلفاء نیک تھے یا بد؟ صالح تھے یا فاجر؟ تو علماء اہل سنت نہ انہیں معصوم سمجھتے ہیں نہ ان کے تمام احکام و اعمال کو عدل و انصاف قرار دیتے ہیں اور نہ ہر بات میں ان کی اطاعت واجب تصور کرتے ہیں۔البتہ اہل سنت والجماعت کا یہ خیال ضرور ہے کہ عبادت و طاعت کے بہت سے کام ایسے ہیں جن میں ہمیں ان کی ضرورت ہے۔ مثلاً یہ کہ ان کے پیچھے جمعہ و عیدین کی نمازیں قائم کی جاتی ہیں۔ ان کے ساتھ کفار پر جہاد کیا جاتا ہے امر بالمعروف ونہی عن المنکر اور حدود شرعیہ کے قیام میں ان سے مدد ملتی ہے نیز اسی نوع کے دوسرے معاملات ہیں، اگر حکام نہ ہوں تو ان اعمال کا ضائع ہو جانا اغلب ہے بلکہ ان میں سے بعض کا موجود ہونا ہی غیر ممکن ہے۔

نصب امام کے چند اصول:    اہل سنت کے اس طریقہ پر کوئی اعتراض نہیں ہوسکتا کیونکہ اعمال صالحہ انجام دینے میں اگر نیکوں کے ساتھ برے بھی شامل ہوں تو اس سے نیکوں کے عمل کو ذرا بھی نقصان نہیں پہنچ سکتا۔ بلاشبہ یہ بالکل درست ہے کہ اگر عادل صالح امام کا نصب ممکن ہو تو فاجر و مبتدع شخص کو امام بنانا جائز نہیں، اہل سنت کا بھی یہی مذہب ہے لیکن اگر ایسا ممکن نہ ہو بلکہ امامت کے دونوں مدعی فاجر اور مبتدع ہوں تو ظاہر ہے کہ حدود شرعیہ و عبادات دینیہ کے قیام کے لیے دونوں میں سے زیادہ اہلیت و قابلیت والے کو منتخب کیا جائے گا۔ ایک تیسری صورت بھی ہے اور وہ یہ کہ اگر کوئی ایسا شخص موجود ہو جو صالح ہو مگر سپہ سالاری کے فرائض و واجبات ادا کرنے کا اہل نہ ہو۔ اس کے خلاف ایک فاجر شخص ہو جو بہترین طریق پر فوجوں کی قیادت کرسکتا ہو تو جس حد تک جنگی مقاصد کا تعلق ہے، یقیناً اسی آخر الذکر یعنی فاجر کو سربراہ بنانا پڑے گا۔ نیکی کے کاموں میں اس کی اطاعت و امداد کی جائے گی۔ بدی اور برائی میں اس پر اعتراض و انکار کیا جائے گا۔

حفظ مصالح اور دفع مفاسد:   غرض امت کی مصلحتوں کا لحاظ مقدم ہے اگر کسی فعل میں بھلائی اور برائی دونوں موجود ہوں تو دیکھا جائے گا کہ کس کا پلہ بھاری ہے اگر بھلائی زیادہ نظر آئے تو اس فعل کو پسند کیا جائے گا۔ اگر برائی غالب دکھائی دے تو اس کے ترک کو ترجیح دی جائے گی۔ اللہ تعالیٰ نے نبیِ کریم ﷺ کو اس لیے مبعوث فرمایا تھا کہ مصالح کی تائید و تکمیل فرمائیں اور مفاسد مٹائیں یا کم کریں۔ یزید، عبدالملک اور منصور جیسے خلفاء کی اطاعت اسی لیے کی گئی کہ ان کی مخالفت میں امت کے لیے نقصان، نفع سے زیادہ تھا۔ تاریخ شاہد ہے کہ ان خلفاء پر جن لوگوں نے خروج کیا ان سے امت کو سراسر نقصان ہی پہنچا، نفع ذرا بھی نہیں ہوا۔ بلاشبہ ان خروج کرنے والوں میں بڑے بڑے اخیار و فضلاء بھی شامل تھے مگر ان کی نیکی وخوبی سے ان کا یہ فعل لازماً مفید نہیں ہوسکتا۔ انہوں نے اپنے خروج سے نہ دین کو فائدہ پہنچایا اور نہ دنیوی نفع ہی حاصل کیا۔ اور معلوم رہے کہ اللہ تعالیٰ کسی ایسے فعل کا حکم نہیں دیتا جس میں نہ دنیا کا بھلا ہو نہ دین کا، جن لوگوں نے خروج کیا ان سے کہیں زیادہ افضل حضرت علی، طلحہ، زبیر، عائشہ وغیرہم صحابہ تھے مگر خود انہوں نے اپنی خونریزی پر ناپسندیدگی کا اظہار کیا۔

عہد فتن میں خروج کی ممانعت:      یہی وجہ ہے کہ حسن بصری حجاج بن یوسف ثقفی کے خلاف بغاوت سے روکتے تھے اور کہتے تھے “حجاج اللہ کا عذاب ہے اسے اپنے ہاتھوں کے زور سے دور کرنے کی کوشش نہ کرو بلکہ اللہ کے سامنے تضرع و زاری کرو کیونکہ اس نے فرمایا ہے :

وَلَقَدْ أَخَذْنَاهُم بِالْعَذَابِ فَمَا اسْتَكَانُوا لِرَبِّهِمْ وَمَا يَتَضَرَّعُون (المؤمنون ۷۶/۲۳)

“ہم نے ان کی عذاب کے ذریعے گرفت کی۔ انہوں نے پھر بھی اپنے رب کے سامنے نہ عاجزی کا اظہار کیا اور نہ اس کے حضور گڑگڑائے۔”

اسی طرح اور اخیار و ابرار بھی خلفاء پر خروج اور عہد فتنہ میں جنگ سے منع کیا کرتے تھے جیسا کہ حضرت عبداللہ بن عمر، سعید بن المسیب، حضرت زین العابدین، علی بن حسین وغیرہم اکابر صحابہ و تابعین جنگ حرہ کے زمانے میں یزید کے خلاف بغاوت کرنے سے روکتے تھے۔ احادیث صحیحہ بھی اسی مسلک کی مؤید ہیں اسی لیے اہل سنت کے نزدیک یہ تقریباً متفق علیہ مسئلہ ہے کہ عہد فتن میں قتال و جدال سے اجتناب اور جور ائمہ پر صبر کیا جائے، وہ یہ مسئلہ اپنے عقائد میں بھی ذکر کرتے رہے ہیں اور جو شخص متعلقہ احادیث اور اہل سنت کے صاحب بصیرت علماء کے طرز عمل و فکر میں تامل کرے گا اس پر اس مسلک کی صحت و صداقت بالکل واضح ہو جائے گی۔

حضرت حسین رضی اللہ عنہ کا عزم عراق:    اسی لیے جب حضرت حسین رضی اللہ عنہ نے عراق جانے کا  ارادہ کیا تو اکابر اہل علم و تقویٰ مثلاً عبداللہ بن عمر، عبداللہ بن عباس، ابوبکر بن عبدالرحمن حارث نے ان سے بہ منت کہا کہ وہاں نہ جائیں کیونکہ وہ سمجھتے تھے آپ ضرور شہید ہو جائیں گے۔ حتی کہ روانگی کے وقت بعضوں نے یہاں تک کہہ دیا کہ استودعک اللہ من قتیل “اے شہید! ہم تجھے اللہ کو سونپتے ہیں۔”

اور بعضوں نے کہا:

((لو الشناعۃ لأمسکتک ومنعتک من الخروج))

“اگر بے ادبی نہ ہوتی تو ہم آپ کو زبردستی پکڑ لیتے اور ہرگز جانے نہ دیتے۔”

اس مشورے سے ان لوگوں کے مد نظر صرف آپ کی خیرخواہی اور مسلمانوں کی مصلحت تھی مگر حضرت حسین اپنے ارادے پر قائم رہے۔آدمی کی رائے کبھی درست ہوتی ہے اور کبھی غلط ہو جاتی ہے۔ بعد کے واقعات نے ثابت کر دیا کہ حضرت حسین کو عراق جانے سے روکنے والوں ہی کی رائے درست تھی کیونکہ آپ کے جانے سے ہرگز کوئی دینی یا دنیاوی مصلحت حاصل نہ ہوئی بلکہ یہ مضرت پیدا ہوئی کہ سرکشوں اور ظالموں کو رسول اللہ ﷺ کے جگر گوشے پر قابو مل گیا اور وہ مظلوم شہید کر دیئے گئے۔ آپ کے جانے اور پھر قتل سے جتنے مفاسد پیدا ہوئے وہ ہرگز واقع نہ ہوتے اگر آپ اپنی جگہ پر بیٹھے رہتے کیونکہ جس خیر و صلاح کے قیام اور شروفساد کے دفعیہ کے لیے آپ اٹھے تھے اس میں سے کچھ بھی حاصل نہ ہوا۔ برعکس اس کے شر کو غلبہ اور عروج حاصل ہو گیا۔ خیرو  صلاح میں کمی آ گئی اور بہت بڑے دائمی فتنے کا دروازہ کھل گیا جس طرح حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت سے فتنے پھیلے اسی طرح حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت نے بھی فتنوں کے سیلاب بہا دیئے۔

حضرت حسین کا مقام بلند:    اس تفصیل سے ثابت ہوتا ہے کہ نبی ٔ کریم ﷺ کا ائمہ و خلفاء کے ظلم پر صبر کرنے اور ان سے جنگ و بغاوت نہ کرنے کا حکم مناسب اور امت کے دین ودنیا کے لیے زیادہ بہتر تھا اور جنہوں نے بالقصد یا بلا قصد اس کی مخالفت کی۔ ان کے فعل سے امت کو فائدہ کے بجائے نقصان ہی پہنچا۔ یہی سبب ہے کہ نبی ﷺ نے حضرت حسن رضی اللہ عنہ کی تعریف میں فرمایا تھا:

((إٍنَّ ابْنِي هَذَا سَيِّدٌ وَلَعَلَّ اللَّهَ أَنْ يُصْلِحَ بِهِ بَيْنَ فِئَتَيْنِ عَظِيمَتَيْنِ مِنَ الْمُسْلِمِيْنَ)) (صحیح البخاری، الصلح، ح:۲۷۰۴)

“میرا یہ فرزند سردا رہے عنقریب خدا اس کے ذریعہ سے مسلمانوں کے دو بڑے گروہوں میں صلح کرائے گا۔”

لیکن اس بات پر کسی شخص کی بھی تعریف نہیں کی کہ وہ فتنہ میں پڑے گا یا خلفاء پر خروج کرے گا یا اطاعت سے برگشتہ یا جماعت سے منحرف ہو گا۔ اس حدیث سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ دو گروہوں میں صلح کرانا اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی نظر میں مستحسن و محبوب ہے اور حضرت حسن رضی اللہ عنہ کا خلافت سے دستبردار ہو کر مسلمانوں کی خونریزی کا خاتمہ کر دینا ان کے فضائل میں ایک عظیم ترین فضیلت ہے کیونکہ اگر خانہ جنگی واجب و مستحب ہوتی تو آنحضرتﷺ اس کے ترک پر ہرگز تعریف نہ فرماتے۔

یہاں یہ معلوم کرنا بھی دلچسپی سے خالی نہیں کہ نبی ﷺ حضرت حسن رضی اللہ عنہ اور حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کو ایک ساتھ گود میں لے کر فرمایا کرتے تھے۔ “اے اللہ! میں ان دونوں سے محبت کرتا ہوں تو بھی محبت کر۔” چنانچہ جس طرح آپ اپنی محبت میں دونوں کو یکساں شریک کرتے تھے اسی طرح بعد میں یہ دونوں ان خانہ جنگیوں سے یکساں طور پر نفرت کرتے تھے۔ حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ تو جنگ صفین کے دن اپنے گھر بیٹھ رہے تھے اور حضرت حسن رضی اللہ عنہ ہمیشہ اپنے پدر برادر (حضرت علی اور حسین رضی اللہ عنہما) کو جنگ سے باز رہنے کا مشورہ دیتے تھے۔ پھر جب خود با اختیار ہوئے تو جنگ سے دستبردار ہو گئے اور لڑنے والوں میں صلح قائم کر دی۔ خود حضرت علی رضی اللہ عنہ پر بھی آخر میں یہ حقیقت روشن ہو گئی تھی کہ جنگ کے جاری رہنے سے زیادہ اس کے ختم ہو جانے میں مصلحت ہے۔ پھر حضرت حسین رضی اللہ عنہ بھی کربلا پہنچ کر جنگ سے بیزار اور سرے سے دعویٰ ٔ امارت و خلافت ہی سے دستبردار ہو گئے تھے اور کہتے تھے “مجھے وطن لوٹ جانے دو۔”

اطاعت فی المعروف:     اب یہ بات صاف ہو گئی کہ یزید کا معاملہ کوئی خاص جداگانہ معاملہ نہیں بلکہ دوسرے مسلمان بادشاہوں کا سا معاملہ ہے یعنی جس کسی نے طاعت الہٰی مثلاً نماز، حج، جہاد، امر بالمعروف ونہی عن المنکر اور اقامت حدود شرعیہ میں ان کی موافقت کی اسے اپنی اس نیکی اور اللہ ورسول کی فرمانبرداری پر ثواب ملے گا۔ چنانچہ اس زمانے کے صالح مؤمنین مثلاً حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ وغیرہ کا یہی طریقہ تھا۔ لیکن جس نے ان بادشاہوں کے جھوٹ کی تصدیق کی، اور ان کے ظلم میں مددگار ہوا، وہ گناہ گار ہوا اور زجر وتوبیخ اور مذمت اور سزا کا سزاوار۔ یہی باعث ہے کہ صحابۂ کرام یزید وغیرہ امراء کی ماتحتی میں جہاد کو جاتے تھے۔ چنانچہ جب یزید نے اپنے باپ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی زندگی میں قسطنطنیہ کا غزوہ کیا تو اس کی فوج میں حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ جیسے جلیل القدر صحابی شریک تھے۔ یہ مسلمانوں کی سب سے پہلی فوج ہے جس نے قسطنطنیہ کا غزوہ کیا(1) اور صحیح بخاری میں عبداللہ بن عمر سے مروی ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا:

((أَوَّلُ جَيْشٍ مِنْ أُمَّتِي يَغْزُونَ مَدِينَةَ قَيْصَرَ مَغْفُورٌ لَهُمْ )) (صحیح البخاری، الجہاد والسیر، باب ما قیل فی قتال الروم، ح:۲۹۲۴)

“جو فوج سب سے پہلے قسطنطنیہ کا غزوہ کرے گی وہ مغفور یعنی بخشی بخشائی ہے۔”

یزید کے بارے میں افراط و تفریط:  اس تفصیل کے بعد اب ہم کہتے ہیں کہ یزید کے بارے میں لوگوں نے افراط و تفریط سے کام لیا ہے ایک گروہ تو اسے خلفائے راشدین اور انبیائے مقربین میں سے سمجھتا ہے اور یہ سراسر غلط ہے دوسرا گروہ اسے باطن میں کافر و منافق بتاتا ہے اور کہتا ہے کہ اس نے قصداً حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو شہید کیا اور مدینہ میں قتل عام کرایا تاکہ ا اپنے ان رشتہ داروں کے خون کا انتقام لے جو بدرو خندق وغیرہ کی جنگوں میں بنی ہاشم اور انصار ہاتھوں قتل ہوئے تھے اور یہ کہ حضرت حسین کی شہادت کے بعد اس نے یہ شعر پڑھے تھے۔

لما بدت تلک الحمول وأشرفت

تلک الرؤوس علی أبی جیرون

“جب وہ سواریاں اور سرابوجیرون کی بلندیوں پر نمودار ہوئے۔”

نعق الغراب فقلت نح أو لا تنح

فلقد قضیت من النبی دیونی

“تو کوا چلایا۔ اس پر میں نے کہا تو نوحہ کر یا نہ کر میں نے تو نبی سے اپنا قرض پورا پورا وصول کر لیا!”

یا یہ کہ اس نے کہا:

لیت أشیاخی ببدر شھدوا

جزع الخزرج من وقع الأسل

“کاش میرے بدر والے بزرگ، نیزوں کی مار سے خزرج و انصار کی دہشت دیکھتے۔”

قد قتلنا القرون من ساداتھم

وعدلنا ببدر فاعتدل

“ہم نے ان کے سرداروں میں چوٹی کے سردار قتل کر ڈالے اور اس طرح بدر کا بدلہ اتار دیا۔”

یہ تمام اقوال سراسر بہتان اور جھوٹ ہیں۔

حقیقت حال: حقیقت یہ ہے کہ یزید مسلمان بادشاہوں میں سے ایک بادشاہ اور دنیا دار خلفاء میں سے ایک خلیفہ تھا۔ رہے حسین رضی اللہ عنہ تو بلاشبہ وہ اسی طرح مظلوم شہید ہوئے جس طرح اور بہت سے صالحین ظلم وقہر کے ہاتھوں جام شہادت پی چکے تھے۔ لاریب حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت اللہ اور اس کے رسول کی معصیت اور نافرمانی ہے۔ اس سے وہ تمام لوگ آلودہ ہیں جنہوں نے آپ کو اپنے ہاتھ سے قتل کیا یا قتل میں مدد کی یا قتل کو پسند کیا۔

شہادت کا رتبۂ بلند:    شہادت حسین رضی اللہ عنہ اگرچہ امت کے لیے بہت بڑی مصیبت ہے لیکن خود حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے حق میں ہرگز مصیبت نہیں، بلکہ شہادت، عزت اور علو منزلت ہے۔ یہ سعادت بغیر مصائب ومحن میں پڑے حاصل نہیں ہوسکتی چونکہ نبی ﷺ کے دونوں نواسے (حضرت حسین اور حضرت حسن رضی اللہ عنہما ) گہوارۂ اسلام میں پیدا ہوئے، امن و امان کی گود میں پلے اور ہولناک مصائب سے دور رہے جن کے طوفانوں میں ان کے اہل بیت مردانہ وار تیرتے پھرتے تھے۔اس لیے شہداء خوش بخت کے اعلیٰ درجات ِ منازل تک پہنچنے کے لیے انہیں کٹھن مرحلے سے گزرنا ضرور تھا۔ چنانچہ دونوں گزر گئے۔ ایک کو زہر دیا گیا اور دوسرے کے گلے پر چھری پھیری گئی۔

بڑی بڑی اہم شہادتیں:       لیکن یہ بھی ملحوظ رہے کہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کا قتل کسی حال میں بھی ان انبیاء کے قتل سے زیادہ گناہ اور مصیبت نہیں جنہیں بنی اسرائیل قتل کرتے تھے۔ اسی طرح حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا قتل بھی ان کے قتل سے زیادہ گناہ اور امت کے لیے زیادہ بڑی مصیبت تھا۔

صبر، نہ کہ جزع فزع:        یہ حوادث کتنے ہی دردناک ہوں بہرحال ان پر صبر کرنا، اور  إِنَّا لِلّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعونَ   کہنا چاہیے کیونکہ اس سے اللہ خوش ہوتا ہے۔ فرمایا: وَبَشِّرِ الصَّابِرِينَ  الَّذِينَ إِذَا أَصَابَتْهُم مُّصِيبَةٌ قَالُواْ إِنَّا لِلّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعونَ (البقرۃ ۱۵۵/۲۔۱۵۶)

“ان صبر گزاروں کو خوشخبری دے دیجئے جب انہیں کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو ان کی زبان پر  إِنَّا لِلّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعونَ جاری ہو جاتا ہے۔”

ماتم اور بین کرنے والے ہم میں سے نہیں:   حدیث صحیح میں آیا ہے، رسول اللہﷺ نے فرمایا: ((لَيْسَ مِنَّا مَنْ لَطَمَ الْخُدُودَ وَشَقَّ الْجُيُوبَ وَدَعَا بِدَعْوَى الْجَاهِلِيَّةِ)) (صحیح البخاری، الجنائز، باب لیس منا۔۔۔، ح:۱۲۹۴)

“جس نے منہ پیٹا، گریبان چاک کیا اور جاہلیت کے بین کیے وہ ہم میں سے نہیں۔”

نیز نبی ﷺ نے صَالِقَہ، حَالِقَہ اور شَاقَّہ سے اپنے تئیں بری بتایا ہے :

((إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَرِئَ مِنْ الصَّالِقَةِ وَالْحَالِقَةِ وَالشَّاقَّةِ)) (صحیح البخاری، الجنائز، باب ما ینہی من الحلق عند المصیبۃ، ح:۱۲۹۶)

صالقہ بین کرنے والی عورتیں” حالقہ غم سے بال منڈا ڈالنے والی اور شاقّہ گریبان پھاڑنے والی عورتیں۔

نیز فرمایا:

((النَّائِحَةُ إِذَا لَمْ تَتُبْ قَبْلَ مَوْتِهَا تُقَامُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَعَلَيْهَا سِرْبَالٌ مِنْ قَطِرَانٍ وَدِرْعٌ مِنْ جَرَبٍ)) (صحیح مسلم، الجنائز، باب التشدید فی النیاحۃ، ح:۹۳۴)

“نوحہ کرنے والی عورتیں اگر توبہ کے بغیر مر جائیں گے تو انہیں قیامت کے دن خارشی قمیص اور گندھک کا جامہ پہنا کر کھڑا کیا جائے گا۔”

اس قسم کی ایک عورت حضرت عمر کے پاس لائی گئی تو آپ نے اسے مارنے کا حکم دیا۔ سزا کے دوران میں اس کا سر کھل گیا تو لوگوں نے عرض کیا۔ امیر المؤمنین اس کا سر برہنہ ہو گیا ہے۔ فرمایا کچھ پروا نہیں۔

((لا حرمۃ لھا إنہا تنہی عن الصبر وقد أمر اللہ بہ وتأمر بالجزع وقد نہی اللہ عنہ وتفتن الحی وتؤذی المیت وتبیع عبرتھا وتبکی بشجو غیرھا إنہا لا تبکی علی میتکم إنما تبکی علی أخذ دراھمکم))

“اس کی کوئی حرمت نہیں کیونکہ یہ لوگوں کو مصیبت میں صبر کرنے سے منع کرتی ہے حالانکہ اللہ نے صبر کا حکم دیا ہے، اور یہ رونے کی ترغیب دیتی ہے حالانکہ اللہ نے اس سے منع کیا ہے۔ زندہ کو فتنے میں ڈالتی ہے۔ مردہ کو تکلیف دیتی ہے۔ اپنے آنسو فروخت کرتی ہے۔ اور دوسروں کے لیے بناوٹ سے روتی ہے یہ تمہاری میت پر نہیں روتی بلکہ تمہارا پیسہ لینے کے لیے آنسو بہاتی ہے۔”

شہادت حسین کے بارے میں افراط و تفریط:        جس طرح لوگوں نے یزید کے بارے میں افراط و تفریط سے کام لیا ہے اسی طرح بعضوں نے حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے بارے میں بے اعتدالی برتی ہے۔ ایک گروہ کہتا ہے۔ (معاذ اللہ!)

“ان کا قتل درست اور شریعت کے مطابق ہوا کیونکہ انہوں نے مسلمانوں میں پھوٹ ڈالنے اور جماعت کو توڑنے کی کوشش کی تھی اور جو ایسا کرے اس کا قتل واجب ہے کیونکہ نبی ﷺ فرما چکے ہیں:

((مَنْ أَتَاكُمْ وَأَمْرُكُمْ جَمِيعٌ عَلَى رَجُلٍ وَاحِدٍ يُرِيدُ أَنْ يَشُقَّ عَصَاكُمْ أَوْ يُفَرِّقَ جَمَاعَتَكُمْ فَاقْتُلُوهُ)) (صحیح مسلم، الإمارۃ، باب حکم من فرق أمر المسلمین وہو مجتمع، ح:۱۸۵۲)

“اتفاق کی صورت میں جو تم میں پھوٹ ڈالنے آئے اسے قتل کر ڈالو۔”

حضرت حسین بھی پھوٹ ڈالنا چاہتے تھے اس لیے بجا طور قتل کر ڈالے گئے۔”

بلکہ بعضوں نے یہاں تک کہہ دیا کہ “اسلام میں اولین باغی حسین ہے۔”

ان کے مقابلے میں دوسرا گروہ کہتا ہے :

“حضرت حسین امام برحق تھے ان کی اطاعت واجب تھی ان کے بغیر ایمان کا کوئی تقاضا بھی پورا نہیں ہوسکتا۔ جماعت اور جمعہ اسی کے پیچھے درست ہے جسے انہوں نے مقرر کیا اور جہاد نہیں ہوسکتا جب تک ان کی طرف سے اجازت موجود نہ ہو۔”

مقابلے کا ارادہ ترک کر دیا:   ان دونوں نہایت غلطیوں کے درمیان اہلسنت ہیں وہ نہ پہلے گروہ کے ہمنوا ہیں اور نہ دوسرے گروہ کے۔ ان کا خیال ہے کہ حضرت حسین مظلوم شہید کیے گئے ان کے ہاتھ امت کی سیاسی باگ دوڑ نہیں آئی۔ علاوہ ازیں مذکورہ بالا احادیث ان پر چسپاں نہیں ہوتیں کیونکہ جب انہیں اپنے بھائی مسلم بن عقیل کا انجام معلوم ہوا تو وہ اپنے اس ارادے سے دستبردار ہو گئے (2) تھے اور فرماتے (3) تھے۔

“مجھے وطن جانے دو یا کسی سرحد پر مسلمانوں کی فوج سے جا ملنے دو یا خود یزید کے پاس پہنچنے دو(4) مگر مخالفین نے ان کی کوئی بات بھی نہ مانی اور اسیری قبول کرنے پر اصرار کیا جسے انہوں نے نامنظور کر دیا کیونکہ اسے منظور کرنا ان پر شرعاً واجب نہ تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1) یہ غزوہ ۵۱ھ میں ہوا جس میں حضرت حسین یزید کی ماتحتی میں شریک تھے (البدایہ، ص:۱۵۱، ج:۸) ظاہر ہے اس اثناء میں نمازیں بھی یزید کے پیچھے پڑھتے رہے۔ (ص،ی)

(2) یعنی راستے ہی سے واپس مکہ جانے کا ارادہ کر لیا تھا لیکن مسلم کے بھائیوں کے اصرار کا ساتھ دینا پڑا جیسا کہ شیعہ سنی سب تاریخوں میں ہے۔ (ص،ی)

(3) یعنی منزل مقصود پر پہنچ کر جب ابن زیاد کی فوج کے سربراہ عمر بن سعد سے گفتگوئے مصالحت کے سلسلے میں حضرت حسین نے متن میں مذکور تین باتیں فرمائیں

(4) اس تیسری بات کے بارے میں تاریخ طبری ۲۹۳/۴ میں یہ الفاظ ہیں:

((فأضع یدی فی یدہ فیحکم فی ما رأیٰ)) (البدایۃ: ۱۷۱/۸)

“میں براہ راست یزید کے ہاتھ میں ہاتھ رکھ دوں گا (بیعت کر لوں گا) پھر و ہ جیسا کہ مناسب سمجھے کر لے گا۔”

شیخ الاسلام ابن تیمیہ نے بھی ایک جگہ یہ الفاظ ذکر کیے ہیں:

((وطلب أن یردوہ إلی یزید ابن عمہ حتی یضع یدہ فی یدہ أو یرجع من حیث جآء أو یلحق الثغور)) (رأس الحسین، ص:۲۰)

مطلب وہی ہے جو متن میں ہے۔ (ص،ی)

شہادت حسین کا نتیجہ

صحابہ سے بدگمانی اور بدعات محرم کا ظہور:   شہادت حسین کی وجہ سے شیطان کو بدعتوں اور ضلالتوں کے پھیلانے کا موقعہ مل گیا۔ چنانچہ کچھ لوگ یوم عاشوراء میں نوحہ و ماتم کرتے ہیں، منہ پیٹتے ہیں، روتے چلاتے ہیں، بھوکے پیاسے رہتے ہیں، مرثیے ہیں، یہی نہیں بلکہ سلف و صحابہ کو گالیاں دیتے ہیں، لعنت کرتے ہیں، اور ان بے گناہ لوگوں کو لپیٹ لیتے ہیں جنہیں واقعات شہادت سے دور و نزدیک کا کوئی تعلق نہ تھا بلکہ ((وَالسَّابِقُونَ الأَوَّلُونَ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالأَنصَارِ )) کو بھی گالیاں دیتے ہیں پھر واقعۂ شہادت کی جو کتابیں پڑھتے ہیں وہ زیادہ تر اکاذیب و اباطیل کا مجموعہ ہیں اور ان کی تصنیف و اشاعت سے ان کے مصنفوں کا مقصد صرف یہ تھا کہ فتنہ کے نئے نئے دروازے کھلیں۔ اور امت میں پھوٹ بڑھتی جائے۔ یہ چیز باتفاق جملہ اہل اسلام نہ واجب ہے نہ مستحب، بلکہ اس طرح رونا پیٹنا اور پرانی مصیبتوں پر گریہ و زاری کرنا اعظم ترین محرمات دینیہ میں سے ہے۔

پھر ان کے مقابلے میں دوسرا فرقہ ہے جو یوم عاشوراء میں مسرت اور خوشی کی بدعت کرتا ہے۔ کوفہ میں یہ دونوں گروہ موجود تھے۔ شیعوں کا سردار مختار بن عبید تھا اور ناصبیوں کا سرگروہ حجاج بن یوسف الثقفی تھا۔

واقعاتِ شہادت میں مبالغہ:       جن لوگوں نے واقعاتِ شہادت قلم بند کیے ہیں ان میں اکثر نے بہت کچھ جھوٹ ملا دیا ہے۔ جس طرح شہادت ِ عثمان بیان کرنے والوں نے کیا اور جیسے مغازی و فتوحات کے راویوں کا حال ہے حتی کہ واقعاتِ شہادت کے مؤرخین میں سے بعض اہل علم مثلاً بغوی اور ابن ابی الدنیا وغیرہ بھی بے بنیاد روائتوں کا شکار ہو گئے ہیں۔ رہے وہ مصنف جو بلا اسناد واقعات روایت کرتے ہیں تو ان کے ہاں جھوٹ بہت زیادہ ہے۔

دندان مبارک پر چھڑی مارنے کا واقعہ:       صحیح طور پر صرف اس قدر ثابت ہے کہ جب حضرت حسین رضی اللہ عنہ شہید کیے گئے تو آپ کا سر مبارک عبید اللہ بن زیاد کے سامنے لایا گیا۔ اس نے اپ کے دانتوں پر چھڑی ماری اور آپ کے حسن کی مذمت کی۔ مجلس میں حضرت انس رضی اللہ عنہ اور ابو برزہ اسلمی رضی اللہ عنہ دو صحابی موجود تھے انس رضی اللہ عنہ نے اس کی تردید کی اور کہا۔ “آپ رسول ا للہ ﷺ سے سب سے زیادہ مشابہت رکھتے تھے۔” صرف حضرت انس رضی اللہ عنہ ہی نہیں بلکہ اور صحابہ کو بھی آپ کی شہادت سے از حد ملال تھا۔ چنانچہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے ایک عراقی نے پوچھا کہ حالت احرام میں مکھی کا جائز ہے ؟ انہوں نے خفا ہو کر جواب دیا:

“اے اہل عراق تمہیں مکھی کی جان کا اتنا خیال ہے حالانکہ تم رسول اللہ ﷺ کے نواسے کو قتل کر چکے ہو۔”

بعض روایتوں میں دانتوں پر چھڑی مارنے کا واقعہ یزید کی طرف منسوب کیا گیا ہے جو بالکل غلط ہے کیونکہ جو صحابی اس واقعے میں موجود تھے وہ دمشق میں نہیں تھے عراق میں تھے۔

یزید نے حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے قتل کا حکم نہیں دیا:        متعدد مؤرخین نے جو نقل کیا ہے وہ یہی ہے کہ یزید نے حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے قتل کا حکم نہیں دیا اور نہ یہ بات ہی اس کے پیش نظر تھی بلکہ وہ تو اپنے باپ معاویہ رضی اللہ عنہ کی وصیت کے مطابق ان کی تعظیم و تکریم کرنا چاہتا تھا۔ البتہ اس کی یہ خواہش تھی کہ آپ خلافت کے مدعی ہو کر اس پر خروج نہ کریں۔ حضرت حسین رضی اللہ عنہ جب کربلا پہنچے اور آپ کو اہل کوفہ کی بے وفائی کا یقین ہو گیا تو ہر طرح کے مطالبے سے دست بردار ہو گئے تھے۔ مگر مخالفوں کی بے وفائی کا یقین ہو گیا تو ہر طرح کے مطالبے سے دست بردار ہو گئے تھے۔ مگر مخالفوں نے نہ انہیں وطن واپس ہونے دیا، نہ جہاد پر جانے دیا اور نہ یزید کے پاس بھیجنے پر رضامند ہوئے بلکہ قید کرنا چاہا جسے آپ نے نامنظور کیا اور شہید ہو گئے۔ یزید اور اس کے خاندان کو جب یہ خبر پہنچی تو بہت رنجیدہ ہوئے اور روئے بلکہ یزید نے تو یہاں تک کہا۔

((قبح اللہ ابن مرجانۃ لو کانت بینہ وبینکم رحم أو قرابۃ ما فعل ھٰذا بکم)) (تاریخ الطبری: ۳۵۳/۴ والبدایۃ: ۱۹۳/۸)

“(عبیداللہ بن زیاد ) پر اللہ کی پھٹکار! واللہ! اگر وہ خود حسین رضی اللہ عنہ کا رشتہ دار ہوتا تو ہرگز قتل نہ کرتا۔”

اور کہا:

((قد کنت أرضیٰ من طاعۃ أہل العراق بدون قتل الحسین))

“بغیر قتل حسین رضی اللہ عنہ کے بھی میں اہل عراق کی اطاعت منظور کرسکتا تھا۔”

پھراس نے حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے پسماندگان کی بڑی خاطر تواضع کی اور عزت کے ساتھ انہیں مدینہ واپس پہنچا دیا۔

یزید نے اہل بیت کی بے حرمتی نہیں کی:      بلاشبہ یہ بھی درست ہے کہ یزید نے حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی طرفداری بھی نہیں کی، نہ ان کے قاتلوں کو قتل کیا نہ ان سے انتقام لیا۔ لیکن یہ کہنا بالکل سفید جھوٹ ہے کہ اس نے اہل بیت کی خواتین کو کنیز بنایا۔ ملک ملک پھرایا اور بغیر کجاوہ کے انہیں اونٹوں پر سوار کیا۔ الحمد للہ مسلمانوں نے آج تک کسی ہاشمی عورت سے یہ سلوک نہیں کیا اور نہ اسے امت محمد (ﷺ) نے کسی حال میں جائز رکھا ہے۔

حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو شہید کرنے کا گناہ عظیم:      یہ بالکل درست ہے جیسا کہ اوپر بیان ہو چکا ہے حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت عظیم ترین گناہوں میں سے ایک گناہ تھی۔ جنہوں نے یہ فعل کیا، جنہوں نے اس میں مدد کی، جو اس سے خوش ہوئے وہ سب کے سب اس عتاب الہٰی کے سزاوار ہیں جو ایسے لوگوں کے لیے شریعت میں وارد ہے لیکن حسین رضی اللہ عنہ کا قتل ان لوگوں کے قتل سے بڑھ کر نہیں جو ان سے افضل تھے۔ مثلاً انبیاء، مؤمنین اولین، شہداء یمامہ، شہداء اُحد، شہداء بئر معونہ۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ یا خود حضرت علی رضی اللہ عنہ بلکہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے قاتل تو آپ کو کافر و مرتد سمجھتے اور یقین کرتے تھے کہ آپ کا قتل عظیم ترین عبادت ہے۔برخلاف حسین رضی اللہ عنہ کے کہ ان کے قاتل انہیں ایسا نہیں سمجھتے تھے۔ ان میں اکثر تو آپ کے قتل کو ناپسند کرتے اور ایک بڑا گناہ تصور کرتے تھے لیکن اپنی اغراض کی خاطر اس فعل شنیع کے مرتکب ہوئے جیسا کہ لوگ سلطنت کے لیے باہمی خونریزی کرتے ہیں۔

یزید پر لعنت بھیجنے کا مسئلہ:    رہا سوال یزید پر لعنت کرنے کا تو واقعہ یہ ہے یہ ہے کہ یزید بھی بہت سے دوسرے بادشاہوں اور خلفاء جیسا ہی ہے بلکہ کئی حکمرانوں سے وہ اچھا تھا۔ وہ عراق کے امیر “مختار بن ابی عبید الثقفی” سے کہیں اچھا تھا۔ جس نے حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی حمایت کا علم بلند کیا۔ ان کے قاتلوں سے انتقام لیا مگر ساتھ ساتھ یہ دعوی کیا کہ جبرائیل اس کے پاس آتے ہیں، اسی طرح یزید حجاج بن یوسف سے اچھا تھا جو بلا نزاع یزید سے کہیں زیادہ ظالم تھا۔ یزید اور اس جیسے دوسرے سلاطین و خلفاء کے بارے میں زیادہ سے زیادہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ فاسق تھے۔

لعنت کے بارے میں مسئلہ شرعیہ: لیکن فاسق کو معین کر کے لعنت کرنا سنت نبوی ﷺ میں موجود نہیں البتہ عام لعنت وارد ہے۔ مثلاً نبی ﷺ نے فرمایا:

((لَعَنَ اللَّهُ السَّارِقَ يَسْرِقُ الْبَيْضَةَ فَتُقْطَعُ يَدُهُ )) (صحیح البخاری، الحدود، باب لعن السارق إذا لم یسم، ح:۶۷۸۳ وصحیح مسلم، الحدود، باب حد السرقۃ ونصابہا، ح:۱۶۸۷)

“چور پر اللہ کی لعنت کہ ایک انڈے پر اپنا ہاتھ کٹوا دیتا ہے۔”

فرمایا:

((فَمَنْ أَحْدَثَ حَدَثًا أَوْ آوَى مُحْدِثًا فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ )) (صحیح البخاری، الجزیۃ والموادعۃ، باب إثم من عاھد ثم غدر، ح:۳۱۷۹)

“جو بدعت نکالے یا بدعتی کو پناہ دے اس پر اللہ کی لعنت۔”

یا مثلاً صحیح بخاری میں ہے کہ ایک شخص شراب پیتا تھا اور بار بار نبی ﷺ کے پاس پکڑا آتا تھا یہاں تک کہ کئی پھیرے ہو چکے تو ایک شخص نے کہا:

((اللَّهُمَّ الْعَنْهُ مَا أَكْثَرَ مَا يُؤْتَى بِهِ ))

“اس پر اللہ کی لعنت کہ بار بار پکڑ کر دربار رسالت میں پیش کیا جاتا ہے۔”

آنحضرت ﷺ نے سنا تو فرمایا:

((لَا تَلْعَنُوهُ فَوَاللَّهِ مَا عَلِمْتُ إِنَّهُ يُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ)) (صحیح البخاری، الحدود، باب ما یکرہ من لعن شارب الخمر۔۔۔، ح: ۶۷۸۰)

حالانکہ آپ نے عام طور پر شرابیوں پر لعنت بھیجی ہے۔ اس سے ثابت ہوا کہ عام طور پر کسی خاص گروہ پر لعنت بھیجنا جائز ہے مگر اللہ اور رسول ﷺ سے محبت رکھنے والے کسی معین شخص پر لعنت کرنا جائز نہیں اور معلوم ہے کہ ہر مومن اللہ اور رسول سے ضرور محبت رکھتا ہے۔

یزید پر لعنت سے پہلے دو چیزوں کا اثبات ضروری ہے :      صحیح حدیثوں سے ثابت ہے کہ جس کے دل میں ذرہ برابر بھی ایمان ہو گا وہ بالآخر دوزخ سے نجات پائے گا۔

بنابریں جو لوگ یزید کی لعنت پر زور دیتے ہیں انہیں دو با تین ثابت کرنی چاہئیں۔ اول یہ کہ یزید ایسے فاسقوں اور ظالموں میں سے تھا جن پر لعنت کرنا مباح ہے۔ اور اپنی اس حالت پر موت تک رہا۔ دوسرے یہ کہ ایسے ظالموں اور فاسقوں میں سے کسی ایک کو معین کر کے لعنت کرنا روا ہے۔ رہی آیت أَلاَ لَعْنَةُ اللّهِ عَلَى الظَّالِمِينَ (ہود: ۱۸/۱۱) تو یہ عام ہے جیسا کہ باقی تمام آیات وعید عام ہیں۔ اور پھر ان آیتوں سے کیا ثابت ہوتا ہے یہی کہ یہ گناہ لعنت اور عذاب کا مستوجب ہے ؟ لیکن بسا اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ دوسرے اسباب آ  کر لعنت و عذاب کے اسباب کو دور کر دیتے ہیں مثلاً گناہ گار نے سچے دل سے توبہ کر لی یا اس سے ایسی حسنات بن آئیں جو سیئات کو مٹا دیتی ہیں۔ یا ایسے مصائب پیش آئے جو گناہوں کا کفارہ بن جاتے ہیں۔ بنابریں کون شخص دعویٰ کرسکتا ہے کہ یزید اور اس جیسے بادشاہوں نے توبہ نہیں کی، یا سیئات کو دور کرنے والی حسنات انجام نہیں دیں یا گناہوں کا کفارہ ادا نہیں کیا، یا یہ کہ اللہ کسی حال میں بھی انہیں نہیں بخشے گا۔ حالانکہ وہ خود فرماتا ہے :

إِنَّ اللّهَ لاَ يَغْفِرُ أَن يُشْرَكَ بِهِ وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذَلِكَ لِمَن يَشَاءُ (النساء: ۴۸/۴)

پھر صحیح بخاری میں عبداللہ بن عمر سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا:

“سب سے پہلے قسطنطنیہ پر جو فوج لڑے گی وہ مغفور ہے۔” (صحیح البخاری، الجہاد والسیر، باب ماقیل فی قتال الروم، ح:۲۹۲۴)

اور معلوم ہے کہ اسلام میں سب سے پہلے جس فوج نے قسطنطنیہ پر لڑائی کی اس کا سپہ سالار یزید ہی تھا۔ کہا جا سکتا ہے کہ یزید نے یہ حدیث سن کر ہی فوج کشی کی ہو گی، بہت ممکن ہے کہ یہ بھی صحیح ہو لیکن اس سے اس فعل پر کوئی نکتہ چینی نہیں کی جا سکتی۔

لعنت کا دروازہ کھولنے کے نتائج:     پھر ہم خوب جانتے ہیں کہ اکثر مسلمان کسی نہ کسی طرح کے ظلم سے ضرور آلودہ ہوتے ہیں اگر لعنت کا دروازہ اس طرح کھول دیا جائے تو مسلمانوں کے اکثر مردے لعنت کا شکار ہو جائیں گے حالانکہ اللہ تعالیٰ نے مردہ کے حق میں صلاۃ و دعا کا حکم دیا ہے نہ کہ لعنت کرنے کا۔

نبی ﷺ نے فرمایا ہے :

((لَا تَسُبُّوا الْأَمْوَاتَ فَإِنَّهُمْ قَدْ أَفْضَوْا إِلَى مَا قَدَّمُوا )) (صحیح البخاری، الجنائز، باب ما ینہی من سب الأموات، ح:۱۳۹۳)

“مردوں کو گالی مت دو کیونکہ وہ اپنے کیے کو پہنچ گئے۔”

بلکہ جب لوگوں نے ابو جہل جیسے کفار کو گالیاں دینی شروع کیں تو انہیں منع کیا اور فرمایا:

((لَا تَسُبُّوا مَوْتَانَا فَتُؤْذُوا أَحْيَاءَنَا )) (سنن النسائی، القسامۃ، القود من اللطمۃ، ح:۴۷۷۹)

“ہمارے مرے ہوؤں کو گالیاں مت دو کیونکہ اس سے ہمارے زندوں کو تکلیف ہوتی ہے۔”

یہ اس لیے کہ قدرتی طور پر ان کے مسلمان رشتہ دار برا مانتے تھے۔ امام احمد بن حنبل سے ان کے بیٹے صالح نے کہا ألا تلعن یزید؟ آپ یزید کو لعنت کیوں نہیں کرتے ؟ حضرت امام نے جواب دیا: متیٰ رأیت أباک یلعن أحداً “تو نے اپنے باپ کو کسی پر بھی لعنت کرتے کب دیکھا تھا۔”

قرآن کریم کی آیت:

فَهَلْ عَسَيْتُمْ إِن تَوَلَّيْتُمْ أَن تُفْسِدُوا فِي الْأَرْضِ وَتُقَطِّعُوا أَرْحَامَكُمْ *أُوْلَئِكَ الَّذِينَ لَعَنَهُمُ اللَّهُ فَأَصَمَّهُمْ وَأَعْمَى أَبْصَارَهُمْ * (محمد ۲۲/۴۸۔۲۳)

“کیا تم سے بعید ہے کہ اگر جہاد سے پیٹھ پھیر لو تو لگو ملک میں فساد کرنے اور اپنے رشتے توڑنے یہی وہ لوگ ہیں جن پر اللہ نے لعنت کی اور ان کو بہرا اور ان کی آنکھوں کو اندھا کر دیا ہے۔”

سے خاص یزید کی لعنت پر اصرار کرنا خلاف انصاف ہے۔ کیونکہ یہ آیت عام ہے اور اس کی وعید ان تمام لوگوں کو شامل ہے جو ایسے افعال کے مرتکب ہوں جن کا اس آیت میں ذکر ہے یہ افعال صرف یزید ہی نے نہیں کیے بلکہ بہت سے ہاشمی، عباسی، علوی بھی ان کے مرتکب ہوئے ہیں۔ اگر اس آیت کی رو سے ان سب پر لعنت کرنا ضروری ہو تو اکثر مسلمانوں پر لعنت ضروری ہو جائے گی۔ کیوں کہ یہ افعال بہت عام ہیں مگر یہ فتویٰ کوئی بھی نہیں دے سکتا۔

قاتلین حسین رضی اللہ عنہ کے متعلق روایات:     رہی وہ روایت جو بیان کی جاتی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: حسین رضی اللہ عنہ کا قاتل آگ کے تابوت میں ہو گا۔ اس اکیلے پر آدھی دوزخ کا عذاب ہو گا اس کے ہاتھ پاؤں آتشی زنجیروں سے جکڑے ہوں گے وہ دوزخ میں الٹا اتارا جائے گایہاں تک کہ اس کی تہ تک پہنچ جائے گا اور اس میں اتنی سخت بدبو ہو گی کہ دوزخی تک اللہ سے پناہ مانگیں گے وہ ہمیشہ دوزخ میں پڑا جلتا رہے گا۔”

تو یہ روایت بالکل جھوٹی ہے اور ان لوگوں کی بنائی ہوئی ہے جو رسول اللہ ﷺ پر تہمت باندھنے سے نہیں شرماتے۔ کہاں آدھی دوزخ کا عذاب، اور کہاں ایک حقیر آدمی؟ فرعون اور دوسرے کفار  و منافقین، قاتلین انبیاء او ر قاتلین مومنین اولین کا عذاب قاتلین حسین سے کہیں زیادہ سخت ہو گا بلکہ عثمان رضی اللہ عنہ کے قاتلوں کا گناہ بھی حسین رضی اللہ عنہ کے قاتلوں سے زیادہ ہے۔

اہل سنت کا مسلک معتدل:   حسین رضی اللہ عنہ کی طرفداری میں اس غلو کا جواب ناصبیوں کا غُلُو ہے جو حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو اس حدیث کا مصداق قرار دے کر

((فَمَنْ أَرَادَ أَنْ يُفَرِّقَ أَمْرَ هَذِهِ الْأُمَّةِ وَهِيَ جَمِيعٌ فَاضْرِبُوهُ بِالسَّيْفِ كَائِنًا مَنْ كَانَ )) (صحیح مسلم، الإمارۃ، باب حکم من فرق أمر المسلمین وہو مجتمع، ح:۱۸۵۲)

انہیں باغی اور واجب القتل قرار دیتے ہیں۔ لیکن اہل سنت والجماعت نہ اس کا ساتھ دیتے ہیں نہ اس غلو کا۔ بلکہ یہ کہتے ہیں کہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ مظلوم شہید ہوئے اور ان کے قاتل ظالم و سرکش تھے۔ اور ان احادیث کا اطلاق ان پر صحیح نہیں جن میں تفریق بین المسلمین کرنے والے کے قتل کا حکم دیا گیا ہے کیونکہ کربلا میں آپ کا قصد امت میں پھوٹ ڈالنا نہ تھا، بلکہ آپ جماعت ہی میں رہنا چاہتے تھے مگر ظالموں نے آپ کا کوئی مطالبہ نہ مانا، نہ آپ کو وطن واپس ہونے دیا، نہ سرحد پر جانے دیا۔ نہ خود یزید کے پاس پہنچنے دیا بلکہ قید کرنے پر اصرار کیا۔ ایک معمولی مسلمان بھی اس برتاؤ کا مستحق نہیں ہوسکتا کجا کہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ۔

اسی طرح یہ روایت بھی رسول اللہ ﷺ پر سفید جھوٹ ہے۔

“جس نے میرے اہل بیت کا خون بہایا اور میرے خاندان کو اذیت دے کر مجھے تکلیف پہنچائی اس پر اللہ کا اور میرا غصہ ہو گا۔”

اس طرح کی بات رسول اللہ ﷺ کی زبان مبارک سے کہیں بھی نہیں نکل سکتی تھی۔ کیونکہ رشتہ داری اور قرابت سے زیادہ ایمان اور تقوی کی حرمت ہے اگر اہل بیت میں سے کوئی ایسا شخص جرم کرے جس پر شرعاً اس کا قتل واجب ہو تو بالاتفاق اسے قتل کر ڈالا جائے گا۔ مثلاً اگر کوئی ہاشمی چوری کرے تو یقیناً اس کا ہاتھ کاٹا جائے گا۔ اگر زنا کا مرتکب ہو تو سنگسار کر دیا جائے گا۔ اگر جان بوجھ کر کسی بے گناہ کو قتل کر ڈالے تو قصاص میں اس کی بھی گردن ماری جائے گی۔اگرچہ مقتول حبشی، رومی، ترکی دیلمی غرض کوئی بھی ہو۔ کیونکہ نبی ﷺ نے فرمایا:

((الْمُسْلِمُونَ تَتَكَافَأُ دِمَاؤُهُمْ)) (سنن أبی داؤد، الجہاد، باب فی السریۃ۔۔۔، ح:۲۷۵۱)

“یعنی تمام مسلمانوں کا خون یکساں حرمت رکھتا ہے۔”

پس ہاشمی و غیر ہاشمی کا خون برابر ہے۔

اسلامی مساوات:        نیز فرمایا:

((إِنَّمَا أَهْلَكَ الَّذِينَ قَبْلَكُمْ أَنَّهُمْ كَانُوا إِذَا سَرَقَ فِيهِمْ الشَّرِيفُ تَرَكُوهُ وَإِذَا سَرَقَ فِيهِمْ الضَّعِيفُ أَقَامُوا عَلَيْهِ الْحَدَّ وَايْمُ اللَّهِ لَوْ أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ مُحَمَّدٍ سَرَقَتْ لَقَطَعْتُ يَدَهَا)) (صحیح البخاری،أحادیث الأنبیاء، باب:۵۴، ح:۳۴۷۵ وصحیح مسلم، الحدود، باب قطع السارق الشریف وغیرہ۔۔۔، ح:۱۶۸۸)

“اگلی قومیں اس طرح ہلاک ہوئیں کہ جب ان میں کوئی معزز آدمی چوری کرتا تو چھوڑ دیا جاتا تھا۔ لیکن جب معمولی آدمی جرم کرتا تو اسے سزا دی جاتی تھی۔ واللہ! اگر فاطمہ بنت محمدﷺ بھی چوری کرے تو میں اس کا ہاتھ کاٹ ڈالوں گا۔”

اس میں نبیﷺ نے تشریح کر دی ہے کہ اگر آپ کا قریب سے قریب عزیز بھی جرم سے آلودہ ہو گا تو اسے شرعی سزا ضرور ملے گی۔

کسی خاندان کی خصوصیت ثابت نہیں:        پھر یہ کیسے باور کیا جا سکتا ہے کہ نبی ﷺ یہ کہہ کر اپنے خاندان کو خصوصیت دیں کہ جو ان کا خون بہائے گا۔ اس پر اللہ کا غصہ بھڑکے گا۔ کیونکہ یہ بات پہلے ہی مسلم ہے کہ ناحق قتل شریعت میں حرام ہے، عام اس سے کہ ہاشمی کا ہو یا غیر ہاشمی کا:

وَمَن يَقْتُلْ مُؤْمِناً مُّتَعَمِّداً فَجَزَآؤُهُ جَهَنَّمُ خَالِداً فِيهَا وَغَضِبَ اللّهُ عَلَيْهِ وَلَعَنَهُ وَأَعَدَّ لَهُ عَذَاباً عَظِيماً (النساء ۹۳/۴)

پس قتل کی اباحت و حرمت میں ہاشمی و غیر ہاشمی، سب مسلمان یکساں درجہ رکھتے ہیں۔

اسی طرح رسول اللہ ﷺ کو تکلیف دینا حرام ہے عام اس سے کہ آپ کے خاندان کو تکلیف دے کر ہو یا امت کو ستا کر، یا سنت کو توڑ کر۔ اب واضح ہو گیا کہ اس طرح کی بے بنیاد حدیثیں جاہلوں اور منافقوں کے سوا کوئی اور نہیں بیان کرسکتا۔

اسی طرح یہ کہنا کہ رسول اللہ ﷺ حضرت حسن اور حسین سے نیک سلوک کی مسلمانوں کو ہمیشہ وصیت کرتے اور فرماتے تھے۔ “یہ تمہارے پاس میری امانت ہیں۔” بالکل غلط ہے۔

بلا شبہ حضرت حسن و حسین اہل بیت میں بڑا درجہ رکھتے ہیں لیکن نبی ﷺ نے یہ کبھی نہیں فرمایا کہ “حسنین تمہارے پاس میری امانت ہیں۔” رسول اللہ ﷺ کا مقام اس سے کہیں ارفع و اعلیٰ ہے کہ اپنی اولاد مخلوق کو سونپیں۔

ایسا کہنے کے دو ہی مطلب ہوسکتے ہیں۔

۱۔ یہ کہ جس طرح مال امانت رکھا جاتا ہے اور اس کی حفاظت مقصود ہوتی ہے تو یہ صورت تو ہو نہیں سکتی کیونکہ مال کی طرح آدمی امانت رکھے نہیں جا سکتے۔

۲۔ یا یہ مطلب ہو گا کہ جس طرح بچوں کو مربیوں کے سپرد کیا جاتا ہے۔ تو یہ صورت بھی یہاں درست نہیں ہوسکتی کیونکہ بچپن میں حسنین اپنے والدین کی گود میں تھے۔ اور جب بالغ ہوئے تو اور سب آدمیوں کی طرح خودمختار اور اپنے ذمہ دار ہو گئے۔

اگر یہ مطلب بیان کیا جائے کہ نبی ﷺ نے امت کو ان کی حفاظت و حراست کا حکم دیا تھا تو یہ بھی درست نہیں کیونکہ امت کسی کو مصیبت سے بچا نہیں سکتی۔ وہ صرف اللہ ہی ہے جو اپنے بندوں کی حفاظت کرتا ہے۔

اگر کہا جائے کہ اس سے آپ کی غرض ان کی حمایت و نصرت تھی۔ تو اس میں ان کی خصوصیت نہیں۔ ہر مسلمان کو دوسرے مظلوم مسلمان کی حمایت و نصرت کرنی چاہیے اور ظاہر ہے حسنین اس کے زیادہ مستحق ہیں۔

اسی طرح یہ کہنا کہ آیت:

قُل لَّا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ أَجْراً إِلَّا الْمَوَدَّةَ فِي الْقُرْبَى (الشوری ۲۳/۴۲)”میں تم سے کوئی مزدوری نہیں مانگتا ہوں صرف رشتہ داری کی محبت چاہتا ہوں۔”

حسنین کے بارے میں نازل ہوئی ہے، بالکل جھوٹ ہے کیونکہ یہ آیت سورۃ شوری کی ہے اور سورۂ شوری مکی ہے اور حسنین کیا معنی ؟ حضرت فاطمہ کی شادی سے بھی پہلے اتری ہے۔ آپ کا عقد ہجرت کے دوسرے سال مدینہ میں ہوا اور حسن و حسین ہجرت کے تیسرے اور چوتھے سال پیدا ہوئے۔ پھر یہ کہنا کیسے صحیح ہوسکتا ہے کہ آیت ان کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔؟ (منہاج السنہ از صفحہ: ۲۳۷ تا ۲۵۶، ج: ۲، طبع قدیم)

 

۱۱۔۔سانحۂ کربلا (پس منظر اور اہم اسباب)

سانحۂ کربلاکے سلسلے میں جو تفصیلات گزشتہ صفحات میں مذکور ہوئیں، ان سے اگرچہ اس سانحۂ الیمہ کی اصل حقیقت واضح ہو جاتی ہے، تاہم پھر بھی مختصراً اس کی ضروری روداد اور تھوڑا سا پس منظر بیان کر دینا مناسب معلوم ہوتا ہے، ان چند مزید اشارات سے حقائق و واقعات کی تہ تک پہنچنا مزید آسان ہو جائے گا۔ ان شاء اللہ العزیز۔

۱۔      حضرت حسین رضی اللہ عنہ و یزید کی اس آویزش میں، سب سے پہلا نکتہ یہ ذہن میں رہنا چاہیے کہ ان دونوں کے گرامی قد ر والدین (حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ ) کے مابین بھی سیاسی آویزش اس حد تک رہی کہ مسلمان اس کی وجہ سے ۵ سال (۳۶ھ سے ۴۰ھ) تک خانہ جنگی کا شکار رہے اور جَمَل و صِفِّین کی خونی جنگوں سے تاریخ اسلام کے صفحات رنگین ہوئے۔

۲۔     اسے محض اقتدار کی رسہ کشی تو قرار دینا نہایت نامناسب اور احترام صحابیت کے تقاضوں کے خلاف ہے، تاہم یہ تاریخی حقیقت بھی ناقابل انکار ہے کہ یہ دونوں جلیل القدر صحابی اپنے اپنے علاقوں اور دائروں میں با اختیار اور با اقتدار تھے۔ ایک امیر المؤمنین تھے تو دوسرے، حضرت علی کے خلیفہ بننے کے وقت تک، شام کی گورنری پر ۱۵ سال سے مقرر اور فائز، گو ان کے یہ دونوں عہدے متفق علیہ نہ تھے۔ حضرت علی کے امیر المؤمنین ہونے پر تمام مسلمان اس طرح متفق نہ ہوسکے تھے، جیسے وہ اس سے پہلے خلفائے ثلاثہ کی خلافت پر متفق ہوئے تھے (جیسا کہ شاہ ولی اللہ اور امام ابن تیمیہ وغیرہ محققین نے اس کی صراحت کی ہے، جس کی تفصیلات راقم کی کتاب “خلافت و ملوکیت کی تاریخی و شرعی حیثیت” میں ملاحظہ کی جا سکتی ہے۔) اسی طرح حضرت معاویہ کی گورنری کو حضرت علی نے خلیفہ بننے کے بعد قبول نہیں کیا۔ لیکن دونوں، اتنے با اختیار اور ہمہ مقتدر ضرور تھے کہ دونوں کے ساتھ مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد تھی جس کی وجہ سے دونوں کے سیاسی اختلافات باہم معرکہ آرائی اور خانہ جنگی پر منتج ہوئے۔

۳۔     ہمہ مقتدر اور با اثر شخصیات کے باہمی اختلاف و مناقشہ کے، ان کے بعد آنے والے اخلاف پر، دو قسم کے اثرات مترتب ہوتے ہیں۔ کچھ تو اس نتیجے پر پہنچ جاتے ہیں کہ اختلافات سے سوائے نقصان اور مزید بربادی کے کچھ حاصل نہیں ہو گا۔ چنانچہ وہ صلح جوئی کی پالیسی اختیار اور مقابلہ آرائی سے گریز کرتے ہیں۔

اور بعض بوجوہ اسی اختلاف اور مقابلہ آرائی پر گامزن رہتے ہیں۔ اس کے کئی اسباب و وجوہ ہوتے ہیں، مثلاً اپنے حق پر یا برتر ہونے کا احساس۔ یا ان کے ساتھیوں کا اسی راہ کو اختیار کرنے پر اصرار یا بد خواہوں کا حمایتیوں کے روپ میں اپنے مفادات یا مقاصد کے حصول کے لیے انہیں استعمال کرنے کی کوشش کرنا، وغیرہ

اس نقطۂ نظر سے جب ہم اس سانحے کے پس منظر کو دیکھتے ہیں تو حضرت علی کے اخلاف (اولاد) میں مذکورہ دونوں قسم کے اثرات نظر آتے ہیں۔

۴۔     حضرت حسن اختلاف کی بجائے صلح کو پسند کرنے والے ہیں۔ حضرت حسن کی صلح جویانہ طبیعت کا تو یہ حال تھا کہ انہوں نے اپنے والد محترم سے ان کی زندگی میں بھی ان کی مقابلہ آرائی کی پالیسی سے اختلاف کیا اور انہیں حضرت معاویہ سے صلح کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش کی۔ چنانچہ منقول ہے کہ جب حضرت علی نے ان لوگوں سے لڑنے کا عزم کیا جنہوں نے آپ کی بیعت خلافت نہیں کی، تو آپ کے صاحبزادے حضرت حسن آپ کے پاس آئے اور کہا:

((یا ابتی دع ھٰذا فإن فیہ سفک دماء المسلمین ووقوع الإختلاف بینھم، فلم یقبل منہ ذٰلک، بل صمم علی القتال ورتب الجیش)) (البدایۃ والنہایۃ: ۲۴۰/۷ حالات ۳۶ھ دارالدیان، مصر ۱۹۸۸ء)

“ابا جان! اس ارادے کو ترک فرما دیجئے ! اس میں مسلمانوں کی خون ریزی ہو گی اور ان کے مابین اختلاف واقع (یعنی شدید) ہو گا۔ حضرت علی نے یہ رائے قبول نہیں کی اور لڑنے کے عزم پر قائم رہے اور لشکر کو مرتب کرنا شروع کر دیا۔”

اس کے نتیجے میں جب جنگ جمل ہوئی، جس کا سبب حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اور حضرت طلحہ و زبیر رضی اللہ عنہما کا قاتلین عثمان سے قصاص لینے کا مطالبہ بنا تھا، اس کے لیے یہ تینوں حضرات اپنے اعوان و انصار سمیت بصرہ آئے تاکہ وہ اپنے اس مطالبے پر عمل درآمد کے لیے قوت فراہم کریں۔ حضرت علی کے علم میں جب یہ بات آئی کہ یہ حضرات اس مقصد کے لیے بصرہ آ گئے ہیں تو حضرت علی نے اپنے اس لشکر کا رُخ، جسے انہوں نے شام کے لیے تیار کیا تھا، بصرے کی طرف موڑ دیا تاکہ ان کو بصرے میں داخل ہونے سے روکیں اور اگر داخل ہو گئے ہوں تو ان کو وہاں سے نکال دیں۔ اس موقعے پر بھی حضرت حسن راستے میں اپنے والد حضرت علی کو ملے اور ان سے کہا۔

“میں نے آپ کو منع کیا تھا لیکن آپ نے میری بات نہیں مانی، کل کو آپ اس حالت میں قتل کر دیئے جائیں گے کہ کوئی آپ کا مددگار نہیں ہو گا۔حضرت علی نے کہا: تو تو مجھ پر ہمیشہ اس طرح جزع فزع کرتا ہے جیسے بچی جزع فزع کرتی ہے، تو نے مجھے کس بات سے منع کیا تھا جس میں میں نے تیری نافرمانی کی؟ حضرت حسن نے کہا: کیا قتل عثمان سے پہلے میں نے آپ کو نہیں کہا تھا کہ آپ یہاں سے نکل جائیں تاکہ آپ کی موجودگی میں یہ سانحہ نہ ہو، تاکہ کسی کو کچھ کہنے کا موقعہ نہ ملے ؟ کیا قتل عثمان کے بعد میں نے آپ کو نہیں کہا تھا کہ آپ اس وقت تک لوگوں سے بیعت خلافت نہ لیں جب تک ہر شہر کے لوگوں کی طرف سے آپ کے پاس ان کی بیعت کی اطلاع نہ آ جائے ؟ اور میں نے آپ کو یہ بھی کہا تھا جس وقت یہ خاتون (حضرت عائشہ) اور یہ دو مرد (حضرت طلحہ وزبیر) (قصاص عثمان کا مطالبہ لے کر ) نکلے، کہ آپ گھر میں بیٹھے رہیں۔ یہاں تک کہ یہ سب باہم صلح کر لیں۔ لیکن آپ نے اب سب باتوں میں میری نافرمانی کی۔” (البدایۃ والنہایۃ، ۲۴۵/۷)

پھر جب جنگ جمل شروع ہو گئی اور مسلمان ایک دوسرے کی گردنیں کاٹنے لگے، تو حضرت علی نے اپنے صاحبزادے حضرت حسن سے کہا۔

((یا بنی! لیت أباک مات قبل ھٰذا الیوم بعشرین عاماً))”بیٹے ! کاش تیرا باپ اس دن سے ۲۰ سال قبل مرگیا ہوتا”

حضرت حسن نے کہا: “یا أبت قد کنت أنھاک عن ھٰذا” “ابا جان! میں تو آپ کواس سے منع ہی کرتا رہا۔” (البدایہ، ۲۵۱/۷)

حضرت علی نے اپنے صاحبزادے حضرت حسن کی رائے کو کیوں قبول نہیں کیا اور ا س کے برعکس موقف کیوں اپنایا؟ یہ ایک الگ موضوع ہے جس کی تفصیل کی یہاں گنجائش نہیں (اس کے لیے راقم کی کتاب “خلافت و ملوکیت کی تاریخی و شرعی حیثیت” کا مطالعہ مفید رہے گا) یہاں اس وقت یہ پہلو واضح کرنا مقصود ہے کہ حضرت حسن اپنے مزاج افتاد طبع کے اعتبار سے نہایت صلح جُو تھے، وہ قدم قدم پر اپنے والد گرامی کو بھی یہ پالیسی اختیار کرنے کی تلقین کرتے رہے اور پھر ۴۰ھ میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد جب مسلمانوں کی زمام کار حضرت حسن کے ہاتھ آئی اور انہیں خلیفہ تسلیم کر لیا گیا تو اپنے اسی مزاج کی وجہ سے وہ حضرت معاویہ کے حق میں خلافت میں دست بردار ہو گئے اور لڑائی جھگڑے کو طول دینے کی بجائے صلح و مفاہمت کا راستہ اختیار کیا اور یوں نبی ﷺ کی اس پیش گوئی کا مصداق بنے جو آپ نے حضرت حسن کے لیے فرمائی تھی کہ ان کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ مسلمانوں کے دو بڑے گروہوں میں صلح کروائے گا۔ یہ پیش گوئی پوری ہوئی اور حضرت حسن کے تدبر، جذبۂ مفاہمت اور قربانی سے خانہ جنگی کا خاتمہ ہو گیا اور امن واستحکام کا ایک نیا دور شروع ہوا جو حضرت معاویہ کی وفات یعنی ۶۰ ہجری تک رہا۔ حضرت معاویہ کے ۲۰ سالال دور خلافت میں اسلامی قلمرو اندرونی شورشوں سے محفوظ رہی، امن و خوش حالی کا دَور دَورہ رہا اور اسلامی فتوحات کا سلسلہ، جو حضرت علی کے پانچ سالہ دور میں بند رہا، پھر سے نہ صرف جاری ہوا بلکہ اس کا دائرہ مسلسل وسعت پذیر رہا۔ یہ نتیجہ تھا حضرت حسن کی صلح پسندانہ پالیسی اور حضرت معاویہ کے حلم و تدبر اور حسن سیاست کا، رضی اللہ عنہما۔

۵۔     حضرت علی کے دوسرے صاحبزادے حضرت حسین کا مزاج حضرت حسن سے یکسر مختلف تھا، اس لیے ان پر دوسرے قسم کے اثرات مترتب ہوئے اور اسی کے مطابق ان کی پالیسی اور اقدامات سے نتائج بھی ہولناک ہی برآمد ہوئے۔ ان ہولناک نتائج کے پس منظر میں، ہمیں وہ سارے اسباب بہ یک وقت کارفرما نظر آتے ہیں جن کی وضاحت ہم نے گزشتہ صفحات میں کی۔ یعنی:

۱۔      اپنے حق پر اور برتر ہونے کا احساس

۲۔     اختلاف و انشقاق ہی کی راہ کو اپنانے پر اصرار

۳۔     بد خواہوں کا حمایتیوں کے روپ میں انہیں اپنے مفادات و مقاصد کے حصول کے لیے استعمال کرنے کی سعی۔

جہاں تک احساس برتری کا تعلق ہے، اس میں حضرت حسین یقیناً حق بجانب تھے۔ فضائل و مناقب کے اعتبار سے وہ بلا شبہ یزید سے بدرجہا بہتر اور برتر تھے اور اس بنا پر اگر خلافت کے لیے ان کا انتخاب کر لیا جاتا تو بجا طور پر وہ اس کے مستحق تھے۔ لیکن حکومت و اقتدار کی تاریخ بھی یہی ہے اور اس کا تقاضا بھی یہی کہ اس میں فضائل کم دیکھے جاتے ہیں اور دوسرے عوامل زیادہ۔ یہی وجہ ہے کہ حکومتوں پر اکثر ایسے ہی لوگ فائز ہوتے چلے آئے ہیں جو مفضول ہوتے تھے اور افضل لوگ اس سے محروم۔ اسی لیے علمائے سیاست میں سے کسی نے بھی خلافت و حکومت کی اہلیت کے لیے افضلیت کو معیار تسلیم نہیں کیا ہے۔ بلکہ اس سے ہٹ کر دوسرے، معیارات ہی کو بنیاد بنایا ہے۔ بنا بریں محض افضلیت کی وجہ سے حضرت حسین ہی کو مستحق خلافت قرار دینا اور کسی مفضول کے اس منصب پر فائز ہونے کو یکسر رد کر دینا، معقول بات نہیں، اس طرح تو تاریخ اسلام کے بھی اکثر خلفاء و سلاطین نا اہل قرار پائیں گے۔ حتی کہ اس نکتے کی وضاحت کے لیے حضرت علی اور حضرت معاویہ کے ادوارِ خلافت ہی پر نظر ڈال لینا کافی ہے۔ اس میں بھی تفصیل میں جانے کی ضرورت نہیں۔ دونوں کی بابت صرف اس تبصرے ہی میں کافی رہنمائی ہے جو حافظ ابن کثیر نے کئے ہیں۔ حافظ ابن کثیر حضرت علی کی بابت لکھتے ہیں:

“امیر المؤمنین پر ان کے معاملات خراب ہو گئے تھے، ان کا لشکر ہی ان سے اختلاف کرتا تھا اور اہل عراق نے ان کی مخالفت کی اور ان کا ساتھ دینے سے گریز کیا۔ اس کے برعکس (ان کے مخالف) اہل شام کا معاملہ مضبوط ہوتا گیا۔۔۔ اور اہل شام کی قوت میں جتنا اضافہ ہوتا، اہل عراق کے حوسلے اتنے ہی پست ہو جاتے۔ ایسا اس حالت میں ہوا کہ ان کے امیر علی بن ابی طالب تھے جو اس وقت روئے زمین پر سب سے بہتر، سب سے زیادہ عابد و زاہد، سب سے زیادہ عالم اور اللہ سے سب سے زیادہ ڈرنے والے تھے، اس کے باوجود اہل عراق (یعنی ان کے اپنے ماننے والوں نے ) ان کو بے یار و مددگار چھوڑ دیا اور ان سے علیحدہ ہو گئے یہاں تک کہ حضرت علی زندگی ہی سے بیزار ہو گئے اور موت کی آرزو کرنے لگے اور یہ اس لیے ہوا کہ فتنے بہت زیادہ ہو گئے اور آزمائشوں کا ظہور ہوا۔”

(البدایۃ، ۳۳۵/۷، ذکر مقتل امیرا لمؤمنین علی بن ابی طالب)

خود حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ایک موقعے پر اپنے سر پر قرآن رکھ اور اہل کوفہ کی بابت بارگاہ الہٰی میں یوں عرض کناں ہوئے :

“اے اللہ! انہوں نے مجھے وہ کام نہیں کرنے دیئے جن میں امت کا بھلا تھا، پس تو مجھے ان کے ثواب سے محروم نہ رکھنا (پھر فرمایا) اے اللہ! میں ان سے اکتا گیا ہوں اور یہ مجھ سے اکتا گئے ہیں، میں انہیں ناپسند کرتا ہوں اور یہ مجھے ناپسند کرتے ہیں۔۔۔” (البدایہ، ۱۳/۸)

حضرت معاویہ حضرت عمر کے زمانے سے شام کے گورنر چلے آرہے تھے، جس پر وہ سالہا سال تک فائز رہے (گورنری کی یہ مدت ۲۰ سال شمار کی گئی ہے ) ۴۰ ھ میں حضرت معاویہ خلیفۃ المسلمین بن گئے اور اپنی وفات یعنی ۶۰ ہجری تک خلیفہ رہے، یوں ان کے دور حکومت و خلافت کی مدت ۴۰ سال بنتی ہے۔ اس چالیس سالہ دورِ حکمرانی پر تبصرہ کرتے ہوئے حافظ ابن کثیر لکھتے ہیں:

“حضرت معاویہ کے دورِ گورنری میں فتوحات کا سلسلہ جاری اور روم و افرنگ وغیرہ کے علاقوں میں جہاد ہوتا رہا۔ پھر جب ان کے اور امیر المؤمنین حضرت علی کے درمیان اختلاف ہوا، تو فتوحات کا سلسلہ رک گیا اور ان ایام میں کوئی فتح نہیں ہوئی، حضرت علی کے ہاتھوں نہ حضرت معاویہ کے ہاتھوں۔ بلکہ حضرت معاویہ کی زیر امارت علاقے میں شاہ روم (عیسائی حکمراں) دلچسپی لینے لگا، حالانکہ اسے اس سے قبل حضرت معاویہ ذلیل ورسوا اور اس کے لشکر کو مغلوب و مقہور کر چکے تھے، لیکن شاہ روم نے جب دیکھا کہ معاویہ حضرت علی سے جنگ و پیکار میں مشغول ہو گئے ہیں تو وہ اپنی فوج کی ایک بڑی تعداد حضرت معاویہ کے بعض علاقوں کے قریب لے آیا اور اپنی حرص و طمع کے دانت تیز کر لیے تو حضرت معاویہ نے اسے لکھا:

“اللہ کی قسم! اے ملعون! اگر تو باز نہ آیا اور اپنے علاقے کی طرف واپس نہ لوٹا تو میں تیرے مقابلے کے لیے اپنے چچازاد (حضرت علی) سے صلح کر لوں گا اور تجھے تیرے سارے علاقے سے باہر نکال کر تجھ پر زمین، تما م تر فراخی کے باوجود، تنگ کر دوں گا۔”

یہ خط پڑھ کر شاہ روم ڈر گیا اور اپنے ارادے سے باز آ گیا اور صلح کا پیغام بھیج دیا۔ اس کے بعد تحکیم کا مرحلہ ایا اور پھر حضرت حسن بن علی سے صلح ہو گئی (اور حضرت معاویہ خلیفہ بن گئے ) تو ان پر سب کا اتفاق ہو گیا اور ۴۱ھ میں ساری رعایا نے متفقہ طور پر ان کی بیعت کر لی۔ پھر اپنے سال وفات تک اس پوری مدت میں وہ مستقل بالامر رہے، دشمن کے علاقوں میں جہاد کا سلسلہ قائم رہا، اللہ کا کلمہ بلند رہا، اطراف و اکناف عالم سے مال غنیمت کی آمد جاری رہی اور مسلمان اس دور میں راحت سے رہے، عوام کے ساتھ ان کا معاملہ عدل و انصاف اور عفو و درگزر کا رہا۔ ” (البدایہ، ۱۲۲/۸)

فضائل و مناقب کے لحاظ سے حضرت علی، یقیناً حضرت معاویہ سے فائق اور افضل ہیں، لیکن افضل ہونے کے باوجود ان کا دورِ حکومت، حضرت معاویہ کے دورِ حکومت کے مقابلے میں جیسا کچھ رہا، وہ مذکورہ تبصروں سے واضح ہے، جس سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ امور جہانبانی کا مسئلہ اپنی گوناگوں نوعیت اور وسعت کے اعتبار سے مختلف حیثیت رکھتا ہے۔ اس میں زہد و ورع اور فضل و منقبت کے اعتبار سے ممتاز شخص بعض دفعہ ناکام اور اس سے کم تر فضیلت کا حامل شخص کامیاب رہتا ہے۔

اس لیے حضرت معاویہ نے ایک افضل شخص کو چھوڑ کر یزید کو اپنا جانشین بنایا، تو اس میں یقیانً یزید کے اندر اہلیت و صلاحیت کے علاوہ بہت سی حکمتیں اور مصلحتیں بھی تھیں۔ ہمارے لیے اس بنا پر حضرت معاویہ کو مطعون کرنے کا کوئی جواز ہے نہ یزید کی خلافت کو، جسے گنتی کے ۴ افراد کے علاوہ سب لوگوں نے اپنا خلیفہ تسلیم کر لیا تھا، غلط کہنے کی کوئی بنیاد۔ حضرت حسین کے لیے بھی یہی بات مناسب تھی کہ وہ اپنے سے مفضول شخص کی خلافت کو تسلیم کر لیتے، لیکن ایسا نہ ہوسکا اور ان کا احساس فضلیت ایک نہایت المناک سانحے کا سبب بن گیا۔

ان کے اس احساس ہی نے انہیں اختلاف کی راہ پر گامزن کر دیا اور انہیں اس کے خطرناک عواقب کا احساس نہ ہونے دیا۔

ان کے اسی احساس کی وجہ سے کوفیوں کو یہ حوصلہ ہوا کہ انہوں نے حضرت حسین کو ایسے خطوط لکھے جن میں ان کے احساس فضیلت کا سامان تھا اور جس نے ان کے احساس کو ایک عزم راسخ میں بدل دیا۔

بہرحال گفتگو یہ ہو رہی تھی کہ حضرت حسین کا مزاج، حضرت حسن کے مزاج سے یکسر مختلف تھا، جس کی وجہ سے انہوں نے حضرت حسن کی خلافت سے دست برداری اور حضرت معاویہ سے ان کے صلح کر لینے کو بھی ناپسند فرمایا تھا۔ (البدایۃ، ج:۸، ص:۱۷)

ان کا یہ مزاج ہی سانحۂ کربلا کا سب سے بڑا سبب بنا،۔۔ رضی اللہ عنہ۔۔ اس کی مرحلہ وار تفصیل آئندہ صفحات میں مختصراً پیش کی جاتی ہے۔

پہلا مرحلہ۔۔ ترک مدینہ:   حضرت معاویہ کی وفات کے بعد جب یزید تخت خلافت پر متمکن ہوا، تو یزید کی طرف سے مقرر گورنر مدینہ ولید بن عتبہ نے حضرت حسین کو بلا کر یزید کی بیعت کرنے کا کہا، تو حضرت حسین نے فرمایا:

“مجھ جیسا شخص پوشیدہ بیعت نہیں کرتا اور میرے خیال میں تمہارے نزدیک بھی میری خفیہ بیعت کافی نہیں ہو گی جب تک کہ ہم اسے لوگوں کے سامنے علانیہ طور پر نہ کریں۔ (ولید نے کہا) ٹھیک ہے۔ حضرت حسین نے مزید فرمایا: جب تم سب لوگوں سے بیعت لو گے تو ہمیں بھی لوگوں کے ساتھ بلا لینا، پس ایک ساتھ ہی سب کام ہو جائے گا۔” (الطبری، ۲۵۱/۴، مطبعۃ الاستقامۃ، قاہرہ، ۱۹۳۹ء۔ البدایۃ والنہایۃ، ۱۵۰/۸)

ولید نے کہا اور وہ عافیت پسند شخص تھا۔

((فانصرف علی اسم اللہ حتی تأتینا مع جماعۃ الناس))     “اللہ کا نام لے کر جائیے ! اور لوگوں کے ساتھ ہمارے پاس آ جائیے گا۔”

دوسرے روز سارا دن گزر جانے کے بعد رات کو ولید نے حضرت حسین کو بلونے کے لیے آدمی بھیجے تو حضرت حسین نے ان سے کہا: “صبح ہو لینے دو! پھر دیکھا جائے گا، تم بھی دیکھنا ہم بھی جائزہ لیں گے۔”

وہ واپس چلے گئے اور انہوں نے اصرار نہیں کیا۔ لیکن حضرت حسین اسی رات کو مدینے عازم مکہ ہو گئے اور اپنے بیٹوں، بھائیوں،بھتیجوں اور تمام اہل خانہ کو بھی ساتھ لے لیا، صرف ان کے بھائی محمد بن حنفیہ نے نہ صرف ساتھ جانے سے انکار کر دیا بلکہ خود حضرت حسین کو بھی اس قسم کے اقدام سے روکنے کی کوشش کی۔ چنانچہ چھوٹے ہوتے ہوئے بھی انہوں نے اس موقعے پر اپنے برادرِ اکبر حضرت حسین کو حسب ِ ذیل نصیحت کی۔

“بھائی جان! آپ مجھے لوگوں میں سب سے زیادہ محبوب اور سب سے زیادہ عزیز ہیں، مخلوق میں آپ سے زیادہ کوئی حق دار نہیں ہے جس کے لیے میں خیر خواہی ذخیرہ کر کے رکھوں (یعنی آپ کو اپنی خیر خواہانہ نصیحت کا سب سے زیادہ حق دار سمجھتا ہوں) آپ اپنے ساتھیوں کو حتی الامکان یزید سے اور شہروں سے دور رکھیں۔ پھر اپنے قاصد لوگوں کی طرف بھیجیں اور انہیں اپنی خلافت کی دعوت دیں، اگر وہ آپ کی بیعت کر لیں تو اس پر اللہ کا شکر کریں اور اگر لوگ آپ کے سوا کسی اور پر متفق ہو جائیں تو اس سے اللہ آپ کے دین میں کوئی کمی کرے گا نہ آپ کی عقل میں اور اس سے آپ کی مروت ختم ہو گی نہ آپ کی فضیلت۔ مجھے خدشہ ہے کہ اگر آپ نے کسی شہر میں قیام کیا اور لوگوں کا آپ کے پاس آنا جانا ہوا تو لوگ آپس میں مختلف ہو جائیں گے، کچھ آپ کے ساتھ اور کچھ آپ کے مخالف، اور وہ آپس میں لڑیں گے تو آپ ہی سب سے پہلا نشانہ بن جائیں گے۔۔۔”

حضرت حسین نے اس کے جوا ب میں یہی کہا، بھائی! میں اپنے (مکہ) جانے کے ارادے پر قائم ہوں۔ اس پر محمد بن حنفیہ نے کہا۔

“پھر آپ مکے ہی میں قیام فرمائیں، اگر وہاں صورت حال اطمینان بخش ہو تو فبہا، وگرنہ آپ وادیوں اور پہاڑوں کی چوٹیوں کو اپنا مسکن بنائیں اور ایک شہر سے دوسرے شہر جا کر جائزہ لیتے رہیں اور دیکھیں کہ لوگوں کا معاملہ کیا رخ اختیار کرتا ہے۔ اس کی روشنی میں آپ کوئی رائے قائم فرمائیں۔ یہ رائے درست بھی ہو گی اور اس پر عمل، حزم و احتیاط کا مظہر بھی۔۔۔”

حضرت حسین نے فرمایا:

“میرے بھائی! تمہاری نصیحت مشفقانہ ہے اور مجھے امید ہے کہ تمہاری رائے سدید (درست) مُوَفَّق (من جانب اللہ) ہے۔”

لیکن اس کے باوجود حضرت حسین نے اپنا ارادہ ختم نہیں کیا اور مکہ معظمہ تشریف لے گئے۔ (الطبری، ۲۵۳/۴۔ البدایۃ، ۱۵۰/۸)

دوسرا مرحلہ۔۔۔ مکے میں قیام اور لوگوں کے خیر خواہانہ مشورے :       کہا جاتا ہے کہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ اور عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ دونوں جب یزید کی بیعت سے بچنے کے لیے مکہ جا رہے تھے تو ابن عمر رضی اللہ عنہ اور ابن عباس رضی اللہ عنہ مکے سے واپس آرہے تھے، یہ دونوں حضرت حسین اور ابن زبیر کو راستے میں ملے اور انہوں نے ان سے ان کے مدینے سے مکہ آنے کی بابت پوچھا، تو حضرت حسین اور ابن زبیر نے بتلایا کہ حضرت معاویہ کی وفات ہو گئی ہے اور یزید کے لیے بیعت لی جا رہی ہے۔ تو حضرت ابن عمر اور ابن عباس نے ان دونوں کو خطاب کر کے کہا: “اللہ سے ڈرو! اور مسلمانوں کی جماعت میں تفرقہ مت ڈالو۔” (الطبری، ۲۵۴/۴)

حافظ ابن کثیر نے دونوں کے اقوال کو قدرے تفصیل سے بیان کیا ہے، وہ بھی ملاحظہ فرما لیے جائیں۔ مکے کے دورانِ قیام حضرت ابن عباس حضرت حسین کے پاس آئے اور کہا۔

“بھتیجے ! میں صبر کرنے کی کوشش کرتا ہوں لیکن صبر نہیں ہوتا، مجھے تمہارے اس طرز عمل سے ہلاکت کا اندیشہ ہے، عراقی بے وفا لوگ ہیں، ان کی وجہ سے دھوکہ مت کھاؤ! تم اس میں قیام رکھو، یہاں تک کہ عراقی اپنے دشمن کو وہاں سے نکال دیں، پھر بے شک تم وہاں چلے جانا۔ بصورت دیگر تم یمن چلے جاؤ، وہاں قلعے اور گھاٹیاں (یعنی پناہ گاہیں) ہیں اور وہاں تمہارے والد کے حمایتی بھی ہیں،تم لوگوں سے کنارہ کش رہو، ان کو لکھ دو اور اپنے داعی ان کے ہاں بھیج دو، اس طرح مجھے امید ہے کہ تم جو چاہتے ہو وہ تمہیں حاصل ہو جائے گا۔”

حضرت حسین نے کہا: “ابن عم! اللہ کی قسم! میں جانتا ہوں کہ تم خیرخواہ اور مہربان ہو، لیکن میں نے (کوفہ) جانے کا تہیہ کر لیا ہے۔”

حضرت ابن عباس نے کہا: “اگر تم نے ضرور جانا ہی ہے تو اپنی اولاد اور اپنی عورتوں کو مت لے جاؤ! اس لیے کہ اللہ کی قسم! مجھے اندیشہ ہے کہ تم اسی طرح قتل نہ کر دیئے جاؤ جیسے عثمان قتل کئے گئے اور ان کی عورتیں اور ان کے بچے ان کو دیکھتے ہی رہ گئے۔”

حضرت ابن عمر کی بابت آتا ہے کہ ان کے قیام مکہ کے دوران انہیں حضرت حسین کے عراق جانے کی اطلاع ملی، تو وہ تین راتوں کی مسافت طے کر کے ان سے ملے اور ان سے پوچھا کہ آپ کا کیا ارادہ ہے ؟ حضرت حسین نے فرمایا: میں عراق جا رہا ہوں اور ان کے ہاتھوں میں خطوط تھے، ان کی طرف اشارہ کر کے انہوں نے کہا، دیکھو! یہ ان کے خطوط اور ان کی طرف سے بیعت کا عہد و پیمان ہے۔ حضرت ابن عمر نے کہا۔ آپ ان کے پاس نہ جائیں۔ حضرت حسین نے یہ بات ماننے سے انکار کر دیا۔ تو حضرت ابن عمر نے کہا، میں آپ کو ایک حدیث سناتا ہوں۔

“جبریل نبی ﷺ کے پاس آئے اور انہوں نے آپ کو اختیار دیا کہ آپ دنیا اور آخرت میں سے جسے چاہیں پسند کر لیں، نبی ﷺ نے دنیا کے مقابلے میں آخرت کو پسند فرمایا۔”

اور آپ بھی رسول اللہ ﷺ کے لخت جگر ہیں، اللہ کی قسم! تم میں سے کوئی بھی دنیا حاصل کرنے میں کبھی کامیاب نہیں ہو گا اور اللہ نے تم لوگوں سے دنیا کو اس سے بہتر چیز کے لیے پھیرا ہے۔ یہ سب باتیں سن کر بھی حضرت حسین نے واپس ہونے سے انکار کر دیا۔ تو حضرت ابن عمر نے حضرت حسین کو اپنے سینے سے چمٹا لیا اور رونے لگے اور فرمانے لگے : “(مستقبل میں) قتل کیے جانے والے، میں تمہیں اللہ کے سپرد کرتا ہوں۔” (البدایۃ، ۱۶۱/۸)

حضرت ابوسعید خدری کے علم میں جب یہ بات آئی کہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے پاس اہل کوفہ کے خطوط آرہے ہیں، تو وہ حضرت حسین سے ملے اور ان سے کہا:

“اے ابو عبداللہ! میں تمہارا خیرخواہ اور تمہاری بابت اندیشے میں مبتلا ہوں۔ مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ تمہارے حمایتی کوفیوں کی طرف سے تمہیں خطوط آرہے ہیں جن میں وہ تمہیں یزید کے مقابلے میں کھڑے ہونے کی دعوت دے رہے ہیں (لیکن میری نصیحت یہ ہے کہ ) تم وہاں مت جانا، اس لیے کہ میں نے تمہارے والد کو کوفے میں یہ فرماتے ہوئے سنا ہے :

“اللہ کی قسم! میں ان (کوفیوں) سے اکتا گیا ہوں اور میں ان سے نفرت رکھتا ہوں اور وہ مجھ سے اکتا گئے ہیں اور مجھ سے نفرت کرتے ہیں اور ان سے کبھی وفا کی امید نہیں۔” (البدایۃ والنہایۃ، ۱۶۳/۸)

ان کے علاوہ اور بھی متعدد حضرات نے حضرت حسین کو اہل کوفہ پر اعتبار کر کے کوفہ جانے سے اور یزید کے خلاف کوئی اقدام کرنے سے روکا اور اس اقدام کی خطرناکیوں سے انہیں آگاہ کیا، مثلاً حضرت ابو واقد لیثی، حضرت جابر بن عبداللہ، حضرت سعید بن مسیب، ابو سلمہ بن عبدالرحمٰن، حضرت مسور بن مخرمہ، عمرہ بنت عبدالرحمٰن، بکر بن عبدالرحمٰن بن حارث، عبداللہ بن مطیع اور عبداللہ بن جعفر وغیرہم رضی اللہ عنہم۔ حتی کہ گورنر مکہ عمرو بن سعید نے بھی انہیں کوفہ جانے سے روکا اور مکے ہی میں رہنے پر زور دینے کے علاوہ ان کے حفظ و امان کی ضمانت دی اور ان سے حسن سلوک کا وعدہ کیا۔ بلکہ خود یزید نے بھی ایک مکتوب حضرت ابن عباس کے نام لکھا اور انہیں کہا کہ وہ حضرت حسین کو اپنے مجوزہ اقدام سے روکیں، اس سے مسلمانوں میں تفرقہ پیدا ہو گا۔ (تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو: (البدایۃ، ۱۶۴/۸۔۱۶۸۔ الطبری ۲۸۶/۴۔۲۸۸)

بلکہ حضرت عبداللہ بن زبیر تک بھی ان لوگوں میں شامل ہیں جنہوں نے حضرت حسین کو عراق جانے سے روکا اور انہیں اہل عراق کی بے وفائی یاد دلائی۔ (البدایہ، ۱۶۳/۸)

روکنے اور سمجھانے کی ایک کوشش حضرت حسین کے ایک اور قریبی عزیز حسین کے چچا زاد اور بہنوئی عبداللہ بن جعفر نے بھی نہایت مؤثر انداز کی۔ حضرت حسین جب مکے سے کوفہ جانے کے لیے نکلے تو عبداللہ بن جعفر نے ایک مکتوب لکھ کر اپنے دو بیٹوں کے ہاتھ حضرت حسین کو بھیجا، اس میں انہوں نے تحریر کیا۔

“میں اللہ کا واسطہ دے کر آپ کو کہتا ہوں کہ آپ (راستے ہی سے ) لوٹ آئیں اور میرے خط کو غور سے پڑھیں، مجھے آپ کی بابت یہ اندیشہ ہے کہ آپ نے جس طرف رُخ کیا ہے اس میں آپ کی بھی ہلاکت ہے اور آپ کے گھر والوں کی بھی۔ آج اگر آپ ہلاک ہو گئے تو اسلام کی روشنی بجھ جائے گی۔ اس لیے کہ آپ ہدایت یافتہ لوگوں کا عَلم اور اہل ایمان کی امیدوں کا مرکز ہیں۔ پس آپ (کوفہ ) جانے میں عجلت سے کام نہ لیں، میں بھی (مزید گفتگو کے لیے ) اپنے خط کے پیچھے آپ کے پاس آ رہا ہوں۔” والسلام

یہ خط روانہ کر کے وہ خود گورنر مکہ عمرو بن سعید کے پاس گئے اور ان سے کہا:

“آپ حسین کے نام ایک خط لکھ دیں جس میں آپ کی طرف سے حفظ و امان کی ضمانت، حسن سلوک اور صلہ رحمی کی تمنا کا اظہار اور اپنے خط میں ان کے لیے عہد کی پاسداری کی یقین دہانی ہو۔ نیز ان سے واپس آنے کا مطالبہ کریں، شاید اس سے وہ مطمئن ہو جائیں اور لوٹ آئیں۔”

گورنر مکہ عمرو بن سعید نے عبداللہ بن جعفر سے کہا:

“آپ جو چاہیں، لکھ کر میرے پاس لے آئیں، میں اس پر مہر لگا دوں گا۔”

چنانچہ عبداللہ بن جعفر نے عمر و بن سعید کی طرف سے اپنی خواہش کے مطابق ایک تحریر تیار کی اور پھر عمرو بن سعید کے پاس لائے۔ انہوں نے اس پر اپنی مہر ثبت کر دی۔ عبداللہ بن جعفر نے ان سے مزید درخواست کی کہ آپ میرے ساتھ اپنی امان بھی بھیجیں۔ چنانچہ انہوں نے اپنا بھائی یحییٰ ساتھ بھیج دیا۔ یہ دونوں گئے اور راستے میں حضرت حسین سے ملے اور انہیں گورنر کا خط پڑھ کر سنایا، لیکن حضرت حسین نے واپس آنے سے انکار کر دیا اور کہا:

“میں نے رسول اللہ کو خواب میں دیکھا ہے، انہوں نے مجھے ایک کام کرنے کا حکم دیا ہے، جسے میں بہرصورت کروں گا۔”

عبداللہ بن جعفر اور یحییٰ بن سعید نے کہا، وہ خواب کیا ہے ؟ حضرت حسین نے کہا:

“میں اسے کسی کے سامنے بیان نہیں کروں گا، تاآنکہ میں اپنے رب عزوجل سے جاملوں۔” (البدایۃ والنہایۃ، ۱۶۹/۸، الطبری، ۲۹۱/۴۔۲۹۲)

نظر بازگشت: حضرت معاویہ کی وفات کے بعد یزید کی بیعت کا جو مسئلہ سامنے آیا جس میں حضرت حسین سمیت صرف چار اشخاص نے اختلاف کیا۔ ان میں سے حضرت حسین سے مدینے میں بیعت لینے کا مطالبہ کیا گیا، لیکن حضرت حسین نے اس معاملے کو مؤخر کر دیا اور پھر وہاں سے مکہ تشریف لے گئے، مکے میں بھی ان سے تعرض نہیں کیا گیا۔ گویا دونوں شہروں میں ان کے احترام و وقار کو ملحوظ رکھا گیا، ان پر کسی قسم کی سختی کی گئی نہ ان سے کوئی باز پرس ہی ہوئی۔ نرمی اور عزت و احترام کا یہ معاملہ یزید کی اجازت یا رضامندی کے بغیر ممکن نہیں تھا۔ معلوم ہوتا ہے کہ یزید نے اس وصیت کو اپنے سامنے رکھا جو حضرت معاویہ نے حضرت حسین کی بابت بطور خاص کی تھی، یہ وصیت حسب ذیل تھی۔

“حضرت علی کے صاحبزادے، رسول اللہ کی صاحبزادی فاطمہ کے جگر گوشے، حسین، کا خیال رکھنا، وہ لوگوں میں سب سے زیادہ محبوب ہیں، پس ان کے ساتھ صلہ رحمی اور نرمی کا معاملہ کرنا، اس سے تیرے لیے ان کا معاملہ درست رہے گا اور اگر ان سے کسی چیز کا صدور ہوا تو مجھے امید ہے کہ اللہ تعالیٰ تجھے ان سے ان لوگوں کے ذریعے سے کافی ہو جائے گا جنہوں نے اس کے باپ کو قتل کیا اور اس کے بھائی کو بے یار و مددگار چھوڑ دیا۔” (البدایہ ۴۶۱/۸)

اس نرم پالیسی ہی کا نتیجہ تھا کہ حضرت حسین کے عزم ِ کوفہ میں کوئی لچک پیدا نہیں ہوئی اور خیرخواہوں کے سمجھانے کے باوجود انہوں نے اپنے ارادے میں تبدیلی کی ضرورت محسوس نہیں کی۔

تیسرا مرحلہ۔۔۔ روانگیِ کوفہ:        حضرت حسین جب مدینے سے مکہ تشریف لے گئے اور وہاں چند مہینے قیام رہا، اس دوران اہل کوفہ کی طرف سے آپ کے پاس خطوط آتے رہے جن میں ان کی طرف سے آپ کے ہاتھ پر بیعت خلافت کرنے اور یزید کو کوفے سے نکال باہر کرنے کے عزم کا اظہار کیا جاتا تھا۔ اہل کوفہ کے ان خطوط نے بھی اہل خیر و اہل صلاح کے مشورے اور رائے کو نظر انداز کرنے میں مؤثر کردار ادا کیا اور حضرت حسین نے ان کو اعتناء کے قابل نہیں سمجھا۔

چنانچہ حضرت حسین نے اپنے چچازاد بھائی مسلم بن عقیل کو کوفہ بھیجا تاکہ وہ معلوم کریں کہ وہاں کے لوگ وہی کچھ چاہتے ہیں جس کا اظہار انہوں نے خطوط میں کیا ہے، مسلم بن عقیل مکے سے پہلے مدینے آتے ہیں اور وہاں سے وہ دو اشخاص کو رہنمائی کے لیے ساتھ لیتے ہیں۔ راستے میں ایک شخص تو شدت پیاس اور راستے کی مشکلات کی تاب نہ لا کر فوت ہو جاتا ہے۔ اس سے مسلم بن عقیل کے ارادے میں کچھ تزلزل واقع ہوتا ہے اور حضرت حسین رضی اللہ عنہ سے درخواست کرتے ہیں کہ انہیں کوفہ جانے پر مجبور نہ کریں۔ لیکن حضرت حسین ان کی درخواست کو رد کر کے انہیں اپنا سفر جاری رکھنے کی تاکید کرتے ہیں۔ بہرحال مسلم بن عقیل کوفہ پہنچ جاتے ہیں اور وہاں لوگوں سے رابطہ کر کے اپنے مشن کا آغاز کرتے ہیں۔

ادھر یزید کی طرف سے مقرر گورنر حضرت نعمان بن بشیر کو ان سرگرمیوں کی اطلاع ہوتی ہے تو وہ لوگوں کو تنبیہ کرتے ہیں کہ وہ اس قسم کی سرگرمیوں سے دور رہیں اور امیر المؤمنین یزید کی اطاعت کے دائرے سے نکلنے کی کوشش نہ کریں۔ لیکن ان کے خلاف تادیبی کارروائی کرنے سے انہوں نے گریز کیا، جس سے حامیانِ یزید میں یہ تاثر پیدا ہوا کہ گورنر کی اس نرم پالیسی سے شورش میں اضافہ ہو گا اور اسے روکنا ممکن نہیں ہو گا۔

چنانچہ بعض حضرات نے امر کی اطلاع یزید کو دی کہ اگر وہ اس علاقے کو بدستور اپنے کنٹرول میں رکھنا چاہتا ہے تو اس کا حل سوچے۔ یزید نے مشورے کے بعد کوفے کا انتظام عبید اللہ بن زیاد کو سونپ دیا جو بصرے کا پہلے ہی گورنر تھا اور اسے یہاں سیاسی معاملات سے سختی کے ساتھ نمٹنے کی تاکید کی۔ اب ابن زیاد بیک وقت بصرہ اور کوفہ دونوں شہروں کا حاکم اعلیٰ بن گیا۔

مسلم بن عقیل جب کوفہ آئے، تو ہزاروں لوگوں نے ان کے ہاتھ پر حسین کے لیے بیعت کی اور حضرت حسین کی وہاں آمد کے لیے اپنا اشتیاق ظاہر کیا۔ مسلم بن عقیل نے اس سے یہ تاثر لیا کہ یہاں فضا حضرت حسین کے لیے تیار اور زمین ہموار ہے۔ انہوں نے حضرت حسین کو خط لکھ دیا کہ وہ یہ خط ملتے ہی فوراً کوفے کے لیے روانہ ہو جائیں، یہاں کے لوگ ان کے مشتاق اور منتظر ہیں۔ حضرت حسین یہ خط پڑھ کے مکے سے کوفے کے سفر پر روانہ ہو جاتے ہیں۔ راستے میں کچھ اور لوگ بھی شریک سفر ہو جاتے ہیں۔ لیکن صحابہ و تابعین میں سے کوئی بھی آپ کے ساتھ جانے کے لیے تیار نہیں ہوا، بلکہ ان میں سے جس جس کو بھی آپ کے ارادے اور سفر کا علم ہوا، تو اس نے آپ کو روکا اور اس ارادے اور سفر کو نہایت خطرناک اور اتحاد و اتفاق کے خلاف قرار دیا۔ (جیسا کہ اس کی ضروری تفصیل پہلے بیان ہوئی)

ادھر کوفے میں جب مسلم بن عقیل کی سرگرمیاں عبید اللہ بن زیاد کے علم میں آئیں تو اس نے سخت اقدامات اختیار کئے اور لوگوں کو ڈرایا دھمکایا، جس کے نتیجے میں مسلم بن عقیل کے گرد جمع ہونے والے لوگ منتشر اور حضرت حسین کا ساتھ دینے سے منکر ہو گئے اور بالآخر مسلم بن عقیل بھی قتل کر دیئے گئے۔ قتل سے قبل مسلم بن عقیل کو یہ فکر لاحق ہوئی کہ میرا تو کوفے سے زندہ بچ کر جانا مشکل معلوم ہوتا ہے لیکن حضرت حسین اور ان کے ہمراہیوں کا کیا بنے گا جنہیں میرا خط مل گیا ہو گا اور وہ کوفے کے لیے روانہ ہو گئے ہوں گے۔ انہوں نے ایک شخص کے ذمے یہ بات لگائی کہ وہ کسی طرح حضرت حسین تک میرا یہ پیغام پہنچا دے کہ وہ ہرگز کوفہ نہ آئیں، اہل کوفہ جھوٹے نکلے، انہوں نے مجھے بھی دھوکہ دیا، یہاں حالات اس کے بالکل برعکس ہیں جو میں نے اس سے قبل تحریر کئے تھے اور خط پہنچنے تک شاید میں قتل کر دیا جاؤں۔

جس شخص کے ذمے یہ بات لگائی گئی تھی، اس نے کسی اور شخص کے ذریعے سے مسلم بن عقیل کا یہ پیغام حضرت حسین تک پہنچا دیا۔ راستے میں ملنے والے بعض حضرات نے بھی آپ کو واپس ہو جانے کا مشورہ دیا اور ایک روایت میں ہے کہ قادسیہ سے تین میل پہلے آپ کو حر بن یزید تمیمی نامی شخص ملا (خیال رہے قادسیہ سے کوفے کا فاصلہ تقریباً پچاس میل ہے ) اس نے آپ کے سفر کی بابت پوچھا کہ آپ کہاں جا رہے ہیں؟ آپ کی وضاحت پراس نے کہا، آپ وہاں نہ جائیں بلکہ لوٹ جائیں، میں وہیں (کوفہ) سے آ رہا ہوں مجھے آپ کے لیے وہاں کسی بھلائی کی امید نہیں ہے۔

یہ صورت حال دیکھ کر اور جان کر حضرت حسین نے تو واپسی کا ارادہ کر لیا، لیکن آپ کے قافلے میں شریک مسلم بن عقیل کے بھائی بولے، اللہ کی قسم! ہم تو واپس نہیں جائیں گے، بلکہ اپنے بھائی کا انتقام لیں گے یا خود بھی قتل ہو جائیں گے۔ حضرت حسین نے فرمایا، پھر تمہارے بعد میری زندگی بھی بے مزہ ہے اور سفر جاری رکھا۔ تاہم آپ نے ان لوگوں کو، جو راستے میں آپ کا مقصد سفر معلوم کر کے آپ کے ساتھ ہولئے تھے، جانے کی رخصت دے دی، چنانچہ ایسے سب لوگ قافلے سے علیحدہ ہو گئے اور آپ کے ساتھ صرف وہی لوگ رہ گئے جو ابتدائے سفر یعنی مکے ہی سے آپ کے ساتھ آئے تھے۔

چوتھا مرحلہ۔۔۔ کربلا میں صلح کی کوشش اور اس میں ناکامی:       روایات میں ہے کہ جب واپسی کی بجائے، آگے ہی جانے کا فیصلہ کر لیا گیا، تو تھوڑے ہی فاصلے پر ابن زیاد کی طرف سے روانہ کردہ لشکر وہاں آ گیا، جسے دیکھ کر حضرت حسین نے اپنا رُخ کربلا (یعنی شام) کی طرف کر لیا۔ ابن زیاد کے اس لشکر کے قائد عمر بن سعد بن ابی وقاص تھے جو ایک صحابی کے فرزند اور فرزند رسول حضرت حسین کے قدر شناس تھے، وہ اس معاملے کو مفاہمانہ انداز میں سلجھانا چاہتے تھے، لیکن قضاء و قدر کے فیصلے کچھ اور ہی تھے اس لیے ان کی تدبیر اور مساعیِ صلح ناکام رہیں اور ہمارے خیال میں اس کی بڑی وجہیں دو باتیں بنیں۔

ایک ابن زیاد کا سخت گیر حاکمانہ رویہ۔

دوسری، حضرت حسین کا ابن زیا د کی انتظامی مصلحت کے مقابلے میں اپنی عزت نفس اور وقار کو زیادہ اہمیت دینا۔

اگر ان میں سے کسی ایک کی طرف سے بھی لچک کا مظاہرہ کیا جاتا، تو شاید یہ المیہ رونما نہ ہوتا، لیکن چونکہ اللہ کی مشیت یہی تھی، جس کی حکمت وہی بہتر جانتا ہے، اس لیے دونوں ہی اپنی اپنی بات پر مصر رہے جس کا بالآخر وہی نتیجہ نکلا جس کا اندیشہ آغازِ سفر ہی میں خیر خواہان ِ حسین نے ظاہر کیا تھا۔

بہرحال ہمارے خیال کے مطابق آخر میں اس حادثے کے وقوع پذیر ہونے کی یہی مذکورہ دو وجہیں ہیں، جس کی صورت یہ بنی کہ حضرت حسین نے عمر بن سعد کے سامنے تین باتیں پیش فرمائیں اور فرمایا کہ ان میں سے کوئی ایک بات اختیار کر لیں۔

۱۔ مجھے چھوڑ دو، میں جہاں سے آیا ہوں وہیں چلا جاتا ہوں۔

۲۔ یا مجھے یزید کے پاس جانے دو، تاکہ میں اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ میں دے دوں۔ یعنی اس کی بیعت کر لوں، پھر وہ خود میرے بارے میں فیصلہ کر لے گا۔

۳۔ یا مجھے کی سرحد پر جانے کی اجازت دے دو۔ (البدایۃ: ۱۷۱/۸، الطبری: ۲۹۳/۴)

اور ایک روایت میں ہے کہ حضرت حسین نے اللہ اور اسلام کا واسطہ دے کر کہا:

“انہیں امیر المؤمنین (یزید) کے پاس لے چلیں، وہ اس کے ہاتھ میں اپنا ہاتھ رکھ دیں گے (یعنی بیعت کر لیں گے۔)” (البدایۃ: ۱۷۲/۸، الطبری: ۲۹۵/۴)

یعنی اس روایت کی رُو سے انہوں سے صرف ایک ہی مطالبہ پیش کیا اور وہ تھا، بیعت کرنے کے لیے یزید کے پاس لے جانے کا، علاوہ ازیں اس میں انہوں نے یزید کے لیے “امیر المؤمنین” کا لفظ بھی استعمال فرمایا۔ جس کا صاف مطلب یہ تھا کہ اپنے سابقہ موقف سے، وہ جو بھی تھا، انہوں نے رجوع کر لیا ہے اور یزید کو امیرالمؤمنین تسلیم اور ان کی بیعت کر لینے کے لیے وہ تیار ہیں۔

حضرت حسین کا آخری وقت میں اپنے موقف سے رجوع، اللہ تعالیٰ کا ان پر خاص فضل و کرم تھاجس کی وجہ سے خلیفۂ وقت کے خلاف خروج اور مسلمانوں کے متفقہ دھارے سے کٹ کر ایک جداگانہ راستہ اختیار کرنے کا جو الزام ان پر عائد ہوسکتا تھا، اس سے وہ بچ گے۔ رضی اللہ عنہ وارضاہ۔

اس رجوع اور مذکورہ مطالبے کے بعد ان سے تعرض کرنے اور ان کے ساتھ سخت رویہ اختیار کرنے کا کوئی جواز نہیں تھا، اس لیے حضرت عمر بن سعد نے (ان کی بات کو تسلیم کر کے ) یہ مطالبے ابن زیاد کو لکھ کر بھیج دیئے تاکہ وہ ان کی منظوری دے دے۔ لیکن اس نے سخت رویہ اختیار کیا اور کہا کہ وہ پہلے یہاں میری بیعت کریں، تب میں انہیں یزید کے پاس جانے کی اجازت دوں گا۔ حضرت حسین کی طبع غیور نے اس بات کو پسند نہیں کیا اور فرمایا: لا یکون ذٰلک ابداً، ایسا کبھی نہیں ہوسکتا۔

اس کے نتیجے میں وہ جنگ شروع ہو گئی جس میں حضرت حسین اپنے بچوں اور اعوان و انصار سمیت مظلومانہ طور پر قتل کر دیئے گئے اور یوں یہ سب حضرات مظلومیت کی موت سے ہم کنار ہو کر شہادت کے رتبۂ بلند پر فائز ہو گئے۔ رحمہم اللہ و رضی عنہم۔

سانحۂ کربلا کی یہ وہ ضروری تفصیل ہے جو تاریخ کی ساری کتابوں میں موجود ہے۔ ہم نے غیر ضرور ی اور غیر مستند تفصیلات سے بچتے ہوئے واقعے کی اصل حقیقت بیان کر دی ہے۔ اس سے حسب ذیل باتیں واضح طور پر سامنے آتی ہیں۔

خلاصۂ ماسبق یا سانحۂ کربلا کے اہم اسباب:   اس کا پہلا سبب، خاندانی رقابت و آویزش تھی جو باپوں سے اولاد میں منتقل ہوئی۔ حضرت حسن نے اپنی صلح جُو طبیعت کی وجہ سے اس کو بڑھایا نہیں بلکہ اپنے عمل سے اس کو ختم فرما دیا۔ جب کہ حضرت حسین نے اس کے برعکس دوسرا راستہ اختیار فرمایا جو بالآخر ان کی مظلومانہ شہادت پر منتج ہوا۔

۲۔ دوسرا سبب حضرت حسین کا اپنے کو خلافت کا اہل تر سمجھنا تھا، لیکن حالات نے مساعدت نہیں کی۔ یوں وہ ظالموں کی مشق ستم کا نشانہ بن گئے۔

۳۔ اہل کوفہ کے خطوط، جنہوں نے حضرت حسین کے دل میں امید کے دیئے روشن کر دیئے، حالانکہ اہل کوفہ کا تاریخی کردار واضح تھا، اس کی رُو سے وہ بے وفا اور ناقابل اعتبار تھے۔

۴۔ حضرت حسین کا خیرخواہوں کے مخلصانہ مشوروں کو نظر انداز کر کے صرف اپنے طور پر فیصلہ کرنا اور نتائج سے بے پروا ہو کر اقدام کرنا۔

۵۔ گورنر کوفہ ابن زیاد کا سخت گیر حاکمانہ رویہ، جس کا کوئی جواز نہیں تھا۔

۶۔ حضرت حسین کا ابن زیاد کے انتظامی حکم کے مقابلے میں اپنی عزت نفس اور وقار کو عزیز تر رکھنا، حالانکہ اگر وہ موقعے کی نزاکت اور حالات کی خطرناکی کے پیش نظر تھوڑی سی لچک اختیار کر لیتے، تو شاید اس المیے سے بچنا ممکن ہو جاتا۔

بنابریں یہ کہے بغیر چارہ نہیں کہ قضا و قدر کا فیصلہ سب پر غالب رہا،کیونکہ اس کو ٹالنے پر کوئی قادر ہی نہیں۔ ایسے موقعوں پر بڑی بڑی تدبیریں بھی ناکام ہی رہتی ہیں اور بڑے بڑے اقدامات بھی سعیِ لاحاصل۔ اس لیے کہ ماشاء اللہ کان ومالم یشأ لم یکن۔ وما تشاؤون إلا أن یشاء اللہ رب العالمین۔

رسوماتِ محرم۔۔۔ علمائے اسلام کی نظر میں

شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ :       حجۃ الاسلام شاہ ولی اللہ نے فرمایا:

((یا معاشر بنی اٰدم اتخذتم رسوماً فاسدۃً تغیر الدین اجتمعتم یوم عاشورآء فی الأباطیل فقوم اتخذہ ماتماً أما تعلمون أن الأیام أیام اللہ والحوادث من مشیئۃ اللہ وإن کان حسین رضی اللہ عنہ قتل فی ھٰذا الیوم فأی یوم لم یمت فیہ محبوب من المحبوبین وقد اتخذوہ لعباً بحرابھم وسلاحہم۔۔۔ اتخذتم الماتم عیداً کأن إکثار الطعام واجبٌ علیکم وضیعتم الصلوٰۃ وقوم استغلوا بمکاسبھم فلم یقدروا علی الصلوٰات))

(التفہیمات الإلٰہیۃ ۱/تفہیم:۲۸۸/۶۹ طبع حیدر آباد سندھ ۱۹۷۰ء)

“اے بنی آدم! تم نے اسلام کو بدل ڈالنے والی بہت سی رسمیں اپنا رکھی ہیں (مثلاً) تم دسویں محرم کو باطل قسم کے اجتماع کرتے ہو۔ کئی لوگوں نے اس دن کو نوحہ وماتم کا دن بنالیا ہے حالانکہ اللہ تعالیٰ کی مشیت سے حادثے رونما ہوتے ہی رہتے ہیں۔ اگر حضرت حسین اس دن (مظلوم شہید کے طور پر) قتل کیے گئے۔ تو وہ کون سا دن ہے۔ جس میں کوئی نہ کوئی اللہ کا نیک بندہ فوت نہیں ہوا (لیکن تعجب کی بات ہے کہ ) انہوں نے اس سانحۂ شہادت مظلومانہ کو کھیل کود کی چیز بنالیا۔۔۔ تم نے ماتم کو عید کے تہوار کی طرح بنا لیا، گویا اس دن زیادہ کھانا پینا فرض ہے اور نمازوں کا تمہیں کوئی خیا ل نہیں (جو فرض ہے ) ان کو تم نے ضائع کر دیا، یہ لوگ اپنے ہی من گھڑت کاموں میں مشغول رہتے ہیں، نمازوں کی توفیق ان کو ملتی ہی نہیں۔”

حافظ ابن کثیر رحمۃ اللہ علیہ : حافظ ابن کثیر ۳۵۴ھ کے واقعات میں ماتمی جلوسوں کے سلسلے میں لکھتے ہیں:

((وھٰذا تکلف لا حاجۃ إالیہ فی الإسلام ولو کان أمراً محموداً لفعلہ خیر القرون وصدر ھٰذہ الأمۃ وخیرتھا وھم أولیٰ بہ وأہل السنۃ یقتدون ولا یبتدعون)) (البدایۃ والنہایۃ: ۲۷۱/۱۱)

“یہ (ماتمی مجالس وغیرہ) کی رسمیں، اسلام میں ان کی کوئی ضرورت نہیں۔ اگر یہ واقعتاً اچھی چیز ہوتی تو خیر القرون اور اس امت کے ابتدائی اور بہتر لوگ اس کو ضرور کرتے، وہ اس کے سب سے زیادہ اہل تھے (بات یہ ہے کہ) اہل سنت( سنت نبویﷺ کی) اقتداء کرتے ہیں، اپنی طرف سے بدعتیں نہیں گھڑتے۔”

شاہ اسماعیل شہید رحمۃ اللہ علیہ :   از جملہ بدعات رَفَضَہ کہ در دیار ہندوستان اشتہار تمام یافتہ ماتم داری و تعزیہ سازی است درماہ محرم بزعم محبت حضرت حسنین۔۔۔ وصور  ظاہریہ ایں بدعات چند چیز است۔ اول ساختن نقل و قبور و مقبرہ و شدہ وغیرہا و ایں معنی بالبداہۃ از قبیل بت سازی و بت پرستی است چہ ساختن نقل قبور از اطوار مشرکین صنم پرست است۔حقیقت صنم پرستی ہمیں است کہ شکلے از دست خود تراشیدہ و ساختہ و نام شخصے برآں نہادہ با اوہماں معاملہ کہ بہ اصل باید نہ آن نقل کہ چوب یا سنگ تراشیدہ است بعمل آرند۔۔۔ وآنچہ اہل زمانہ باتعزیہ ہا میکنند ہرگز باقبور واقعیہ ہم بناید کر دچہ جائے قبور جعلیہ اویں مبتدعاں عبادت سجدہ وطواف کردہہ صراحۃ خود رابسرحد شرک قبیح می رساند وشدہ و علم تعزیہ چوں مسجود ومصاف گرد وہمہ درمعنی بت پرستی است۔ (صراط مستقیم، ص:۵۹)

خلاصۂ عبارت یہ ہے کہ پاک و ہند میں رافضیوں کے زیر اثر تعزیہ سازی کی جو بدعت رائج ہے یہ شرک تک پہنچا دیتی ہے کیونکہ تعزیے میں حسین کی قبر کی شبیہ بنائی جاتی ہے اور پھر اس کو سجدہ کیا جاتا ہے اور وہ سب کچھ کیا جاتا ہے جو بت پرست اپنے بتوں کے ساتھ کرتے ہیں اور اس معنی میں یہ پورے طور پر بت پرستی ہے۔ اعاذنا اللہ منہ۔

اسی طرح مولانا شہید ماہ محرم میں قصہ شہادت حسین کے ذکر کو بھی مذموم و مکروہ قرار دیتے ہیں۔ فرماتے ہیں:

“ذکر قصہ شہادت بشرح وبسط عقد مجلس کردہ بایں قصد کہ مردم آن را بشنوندو تاسفہا وحسرتہا فراہم آرندو گریہ وزاری کنند۔ ہر چند در نظر ظاہرے خللے دراں ظاہر نمی شود۔ اما فی الحقیقت ایں ہم مذموم و مکروہ است۔” (صراط مستقیم، ص: ۶۱)

٭٭٭

پیشکش: آزاد، اردو مجلس

ماخذ:

http://www.urduvb.com/forum/showthread.php?t=13893

تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید