FavoriteLoadingپسندیدہ کتابوں میں شامل کریں

 

 

 

 

فہرست مضامین

حیات محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم: عام الوفود سے   سانحۂ وفات تک

 

 

حیات محمدﷺ حصہ دوئم کے کچھ باب

 

                محمد حسین ہیکل

 

 

 سال وفود

 

نتیجہ تبوک

غزوۂ تبوک کا نتیجہ تمام جزیرہ عرب میں اسلام کے اثر و نفوذ کا پیش خیمہ ثابت ہوا۔ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کو دشمنوں کی ریشہ دوانیوں سے یک سوئی ہو گئی اور مدینہ میں سکون و طمانیت کے ساتھ زندگی کے دن گزارنے کا موقع حاصل ہوا۔

جو قبائل اب تک اپنے قدیم مسلک شرک پر قائم تھے۔ کسی تدبیر یا شرارت کی بجائے تبوک میں مسلمانوں کی کامیابی دیکھ کر اپنے مستقبل کی فکر میں ڈوب گئے۔ مسلمان جنہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مصاحبت کا شرف حاصل تھا اور اس غزوۂ میں شریک تھے، اپنی جگہ شکوہ سنج کہ شام جیسا طویل و پر صعوبت سفر اختیار کیا، جس میں گرمی کی شدت اور لو کے تھپیڑوں کے ساتھ پانی نہ ملنے کی وجہ سے قدم قدم پر ہلاکت کا خطرہ تھا۔ رومی اپنی فوجیں میدان سے ہٹا کر اندرون ملک کے قلعوں میں جا دبکے اور جنگ نہ ہونے کی وجہ سے غنیمت بھی نہ مل سکی۔ دوسری طرف ان قبائل کے دل پر بے حد اثر قائم کر دیا۔ عرب کے ان منتشر قبائل کے علاوہ ملک کی جنوبی سمت یمن و حضر موت اور عمان تک رومیوں کی پسپائی سے حیران گئے۔ کل کی بات تھی یہی رومی ایران جیسی عظیم الشان مملکت کو تہ و بالا کر کے اپنی مقدس صلیب ان سے واپس لے آئے تھے جسے انہوں نے جم غفیر کی مشایعت میں بیت المقدس میں اس کے اصلی مقام پر نصب کیا۔ وہی ایران ہے جس کے زیر نگین یمن جیسا وسیع ملک اور دوسرے عربی صوبے (اس کے) باج گزار تھے۔

 

عام الوفود

نہ صرف یمن ور اس کے قرب و جوار بلکہ ملک کے ہر خطہ میں اسلام کا اثر ہو چکا تھا۔ جو قبیلے اب تک مسلمان نہ ہوئے تھے ان کے لئے اس سے بہتر کیا تھا کہ وہ خود کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے علم کے سائے میں لے آئیں ، جس سے انہیں روم اور ایران جیسے خونخوار شہنشاہوں کے مظالم سے نجات مل جائے۔ بدیں وجوہ ایسے قبائل جو رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے حضور تحفہ اسلام قبول کرتے، ان کے لئے پس و پیش کا سوال نہ تھا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم قبائل کے سرداروں کو ان کے عہدوں پر بدستور قائم رکھتے۔ ایسے قبائل چاروں طرف سے جوق در جوق مدینہ آنا شروع ہو گئے۔ جو خود کو قبول اسلام کی خلعت سے مزین کر کے واپس ہوتے۔ وفود اس کثرت سے آئے کہ یہ سن (10ھ) عام الوفود کے لقب سے مشہور ہو گیا۔ اب تک تبلیغ اسلام میں مکہ اور حنین کی فتح اور طائف کے محاصرہ کا اثر غالب تھا لیکن آج سے تبوک میں مسلمانوں کے لشکر کشی کی ہیبت سے رومیوں کا میدان جنگ سے لڑائی کے بغیر واپس لوٹ جانا کہیں زیادہ موثر ثابت ہوا۔

 

عروہ ابن مسعود طائفی کا قبول اسلام اور شہادت

ان اتفاقات میں اہل طائف کا معاملہ حیرت انگیز ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غزوۂ حنین کے بعد ان کا محاصرہ کرنے پر مجبور ہو گئے مگر مقاتلہ و فتح کیے بغیر یہ محاصرہ ترک کرنا پڑا۔ حسن اتفاق یہ کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کی تبوک سے مراجعت کے بعد سب سے پہلے اہل طائف نے اپنی اطاعت کا اعلان کیا، باوجود یہ کہ وہ عرصہ سے شش و پنج میں تھے کہ انہیں کیا کرنا چاہیے۔ ہوا یہ کہ اہل طائف کے سردار عروہ بن مسعود جو محاصرۂ طائف کے زمانہ میں (وطن سے دور) یمن گئے ہوئے تھے۔ اس دوران میں جب یمن سے واپس آئے تو واقعہ تبوک سے متاثر ہو کر مدینہ حاضر ہوئے۔ خود اسلام قبول کرنے کے بعد اپنی قوم کو مشرف بہ دین کرنے کے لئے بعجلت واپسی پر مصر ہوئے۔

جناب عروہ (ابن مسعود) رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت سے نا آشنا نہ تھے۔ حدیبیہ کے موقع پر قریش کی طرف سے وکیل ہو کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے یہاں سے لوٹ کر اہل مکہ کو تلقین فرمائی تھی۔

حضرت عروہ کو اپنی قوم میں عزیمت دعوت کے ارادہ کا احساس رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی ہو گیا۔ اس کے ساتھ ہی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بنو ثقیف کی اپنے معبود لات کے بارے میں عصبیت سے بھی خطرہ تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عروہ کو اس نزاکت کی وجہ سے ان میں تبلیغ سے منع کرتے ہوئے فرمایا اگر تم نے بنو ثقیف میں تبلیغ کی تو کہیں وہ تمہیں قتل نہ کر دیں ! لیکن عروہ کو اپنے متعلق بنو ثقیف میں احترام کی وجہ سے یہ خطرہ نہ تھا۔ عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! مجھے تو بنو ثقیف اپنی آنکھ کا تارا سمجھتے ہیں ! آخر وہ طائف پہنچے اور اپنی قوم کو اسلام کی دعوت پیش کی۔ یاران شہر نے چھپ کر مشورہ کیا جس سے عروہ کو آگاہ نہ ہونے دیا۔ صبح ہوئی تو عروہ نے ایک بلند مقام پر کھڑے ہو کر بنو ثقیف کو نماز کے لئے جمع ہونے کا حکم دیا۔ اس موقع پر رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کی فراست ظاہر ہوئی۔ چاروں طرف سے ان کا محاصرہ کر کے تیر برسانا شروع کر دیے گئے۔ ایک تیر سے جناب عروہ جاں بحق ہوئے۔ یہ دیکھ کر ان کے اہل و عیال جمع ہو گئے۔ ہنوز زندگی کی رمق باقی تھی۔ حضرت عروہ نے آخری الفاظ میں فرمایا:

کرامۃ اکرمنی اللہ بھا و شھادۃ ساقھا اللہ الی فلیس منی الا ما فی الشھداء الذین قتلوا مع رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قبل ان یرتحل عنکم

یہ (اسلام) خدا کا دین ہے جو مجھے عطا ہوا اور یہ موت شہادت ہے جو میرے مقدر میں تھی۔ میں بھی ان ہی شہیدوں کی طرح ہوں جو (قبل ازیں ) رسول خدا کی معیت میں کفار سے لڑتے ہوئے شہید ہوئے۔

جناب عروہ نے وصیت میں فرمایا کہ انہیں ان لوگوں کے ساتھ دفن کیا جائے جو محاصرۂ طائف میں شہید ہوئے تھے۔

لیکن عروہؓ کا خون رائیگاں نہ جا سکتا تھا۔ طائف کے نواحی باشندے جو مسلمان ہو چکے تھے، انہیں اپنے سردار (عروہؓ) کے قتل کا بے حد ملال تھا۔ بنو ثقیف نے حضرت عروہؓ کو شہید تو کر دیا لیکن اب وہ پشیمان تھے کہ مسلمانوں کے ہاتھوں ان کا حشر کیا ہو گا! وہ تو جسے دیکھ لیں گے قتل کیے بغیر نہ رہیں گے۔ انہیں مسلمانوں کے ساتھ مصالحت کرنے کے بغیر چارہ نہ تھا۔ اگر وہ ایسا نہ کرتے تو پھر موت ہی ان کا مداوا کر سکتی۔

بنو ثقیف نے مشورہ کر کے عبد یا لیل کو اپنی طرف سے صلح کے لئے نام زد کیا، جس نے (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہونے سے) بدیں وجہ انکار کر دیا کہ اس کا حشر بھی کہیں عروہؓ ہی کی طرح نہ ہو۔ مزید اصرار پر اس نے اپنے ہمراہ چار اور اشخاص کو شامل کر لیا کہ اگر یاران شہر پہلے کی طرح برافروختہ ہوئے تو ہم سب کے قبیلہ دار انہیں سمجھا بجھا کر فتنہ سے روک سکیں گے۔

 

بنو ثقیف بحضور نبی صلی اللہ علیہ وسلم

وفد مدینہ پہنچا تو سب سے پہلے جناب مغیرہ بن شعبہؓ نے دیکھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حضور بشارت کی غرض سے روانہ ہوائے۔ راستے میں حضرت ابوبکرؓ نے مغیرہؓ کو اس طرح رواں دواں جاتے ہوئے دیکھ کر سبب دریافت کیا تو مغیرہ سے یہ خبر سن کر خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عبد یا لیل کے آنے کی خوش خبری پیش کی۔

اہل طائف مدینہ کی گلیوں سے گزرتے ہوئے کھوے سے کھوا ملا کر چل رہے تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے محاصرہ طائف اور اس سے دست کش ہو کر تشریف لے آنے کا ذکر اذکار زبانوں پر تھا۔ حضرت مغیرہ نے انہیں اسلامی طریق پر ملاقات و سلام کے آداب اور الفاظ بتائے، لیکن انہوں نے ان آداب پر عمل کرنے سے انکار کر دیا اور باریابی کے موقع پر جاہلیت ہی کے انداز سے آداب و سلام بجا لائے۔

 

وفد بنو ثقیف کا خیمہ مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں

رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے بنو ثقیف کے لئے مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحن میں خیمہ نصب ہوا، مگر طائفہ بہر صورت (اپنے متعلق) مسلمانوں سے خائف تھے۔ شرائط مصالحت میں حضرت خالدؓ بن سعید بن العاص وکیل تھے۔ جنہوں نے رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم اور ارباب طائف کے درمیان پیام بری کی۔ خالدؓ ہی ان کے لئے خوان لاتے لیکن بنو ثقیف حضرت خالدؓ کو اپنے سامنے اس خوان میں سے تھوڑا بہت چکھائے بغیر کھانے میں ہاتھ نہ ڈالتے۔ بنو ثقیف نے ایک پیغام میں کہلا بھیجا کہ ہمارے معبود لات کو تین سال تک منہدم نہ کیا جائے اور فی الحال ہمیں نماز کی تکلیف سے بھی بری رکھا جائے مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی شرط تسلیم نہ کی حتیٰ کہ اپنے معبود لات کے لئے ایک ماہ کی مہلت مانگی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے بھی انکار فرما دیا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ انکار ایسی قطعیت کے ساتھ تھا جس میں کسی استثناء یا ترمیم و اضافہ کی گنجائش نہ تھی مامور من اللہ جو خدائے واحد القہار کے دین کی دعوت کے لئے مبعوث ہوئے اور جنہوں نے کبھی کسی صنم کی بقا گوارا نہ کی ہو آج وہ ایک قبیلہ کی خاطر استثناء کا روادار ہو سکتے تھے۔ اس لئے بنو ثقیف کے لئے آج ایک اور رعایت فرما دی جائے کہ کل اسی قوم کے محاصرہ (طائف) پر خدا کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے درگزر کر کے محاصرہ ترک کر دیا تھا؟ نہیں نہیں ! انسان ایمان لا سکتا ہے۔ یا ایمان نہیں لا سکتا! ایمان اور عدم ایمان کے درمیان ارتیاب و شک کے سوا کوئی اور مقام نہیں لیکن جس طرح ایمان اور کفر یکجا نہیں ہو سکتے، اسی طرح ایمان باللہ اور شرک دونوں ایک جگہ نہیں رہ سکتے۔ بنو ثقیف کی طرف سے بقائے لات کا مطلب یہ تھا کہ وہ خدائے بزرگ و برتر اور لات کو مساوی مقام دینا چاہتے تھے۔ یہی تو شرک ہے!

وان اللہ لا یغفر ان یشرک بہ (48:4)

جب بنو ثقیف نے نماز سے استثناء کی شرط پیش کی تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

انہ لا خیر فی دین لا صلوٰۃ فیھا!

جس دین میں عبادت نہ ہو اس میں کیا بھلائی ہو سکتی ہے؟

(م۔ ۔ ۔ ۔ باضافہ: امیر وفد عبد یا لیل نے عرض کیا ہمارے ہاں تجرد کی رسم عام ہے اور تجربہ کی وجہ سے۔ ۔ ۔ ۔ میں شغف فرمایا)

ھو علیکم حرام فان اللہ یقول: ولا تقربو الزنی انہ کان فاحشۃ(32:17)

یہ۔ ۔ ۔ ۔ تم پر حرام ہو گیا ہے خدا فرماتا ہے کہ زنا کے پاس(ہو کر بھی) نہ پھٹکنا کیوں کہ وہ بے حیائی ہے اور (بہت ہی) برا چلن ہے۔

ربا کے استثناء پر عرض ہوا ہماری معیشت سود خواری ہی پر موقوف ہے فرمایا:

لکم رء وس اموالکم (ان اللہ یقول) یایھا الذین امنو اتقوا اللہ وذرو مابقی من الربوا ان کنتم مومنین (279-278:2)

جس قدر سود تمہارے مقروضوں کے ذمے ہے۔ مسلمانو! اگر فی الحقیقت تم خدا پر ایمان رکھتے ہو تو اس سے ڈرو! اور جس قدر سود مقروضوں کے ذمے باقی ہے اسے چھوڑ دو! اگر تم ایمان دار ہو۔

انہوں نے شراب نوشی کی اجازت طلب کی کہ یہ ہمارے خطہ کی سوغات ہے، تو فرمایا: اللہ تعالیٰ نے اسے حرام فرمایا ہے۔ اور یہ آیت تلاوت فرمائی:

یایھا الذین امنو انما الخمر والمیسر رجس من عمل الشیطان فاجتنبوہ (90:5)

مسلمانو! بلاشبہ شراب اور جوا سب شیطانی کاموں کی گندگی ہے۔ ان سے اجتناب کرو!

بنو ثقیف نے دیکھا کہ واقعی اسلام کے ساتھ ان امور کی کوئی نسبت نہیں۔ درخواست پیش کی ہمارے ہاتھ سے ہمارے بتوں کو نہ تڑوایا جائے۔ کیوں کہ وہ ابھی نئے نئے ایمان لائے تھے۔ ادھر ان کے وطن (طائف) میں ان کے مدینہ سے واپس آنے کا انتظار ہو رہا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی یہ درخواست تسلیم کرنے میں کوئی مضائقہ نہ سمجھا۔ مقصود بتوں کو توڑنا ہے، اہل طائف خود اپنے ہاتھ سے توڑیں یا کوئی اور دونوں صورتوں میں نتیجہ ایک ہی ہے۔ اس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی قسم کی پابندی نہ لگائی۔ یہی سہی لات کو جلدی توڑ دیا جائے گا اور طائف میں اللہ کی عبادت کا دور دورہ شروع ہو جائے گا! فرمایا تمہارے ہاتھ سے تمہارے بتوں کو توڑنے کی شرط نہیں۔

ان کی دینی تربیت کے لئے جناب عثمان ابن ابو العاص کا تقرر ہوا۔ ان کا ابھی عنفوان شباب ہی تھا۔ عثمان مسائل دین اور قرآن پڑھنے کے بڑے دلدادہ تھے۔ جیسا کہ حضرت ابوبکرؓ اور دوسرے مہاجرین اولین کی (عثمان کے متعلق) شہادت سے معلوم ہوتا ہے۔

وفد ثقیف آخر رمضان تک مدینہ میں رہا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ روزے بھی رکھے۔ افطاری اور سحری دونوں وقت کا کھانا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی محل سرائے سے جاتا اور مدینہ سے ان کی مراجعت کے موقعہ پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عثمان سے فرمایا:

تجاوز فی الصلوٰۃ واقدر الناس ضعفھم فان فیھم الکبیر والصغیر والضعیف و ذوالحاجہ

با جماعت نمازوں میں قیام و سجود میں طول مت دو۔ مقتدیوں میں کم زور اور ضعیف عمر کی رعایت کرو! جن میں بوڑھے، بچے، ناتواں اور کاروباری لوگ ہوتے ہیں۔

 

انہدام لات

ارباب وفد (ثقیف) اپنے وطن کی طرف لوٹے تو ان کے ہمراہ ابوسفیان (بن حرب) اور مغیرہ بن شعبہؓ کو طائف بھیج دیا۔ دونوں حضرات بنو ثقیف کی قرابت اور مودت میں دوسروں سے زیادہ قریب تھے۔ طائف وارد ہوئے تو من جملہ اور شرائط کے لات کے انہدام کا تذکرہ بھی ہوا۔ ابوسفیان اور مغیرہؓ ہاتھوں میں کدالیں لئے ہوئے لات کے صنم کدہ کی طرف جا رہے تھے۔ شہر کی عورتیں چھتوں پر بہ حسرت و یاس ان کی طرف تک رہی تھیں۔ جونہی لات پر ضرب لگائی اور یہ آواز لوگوں کے کان میں پہنچی عورتوں نے نالہ و شیون سے زمین آسمان ایک کر دئیے۔ لیکن وفد کے ساتھ معاہدہ کی وجہ سے کسی نے مغیرہ کے ہاتھ پکڑنے کی جرأت نہ کی۔ لات کے چڑھاوے میں جو مال و زر اور زیور جمع تھا، حضرت مغیرہؓ نے جناب عروہ بن مسعودؓ اور ان کے والد مسعود دونوں کا قرض ادا کر دیا جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مغیرہؓ سے فرما دیا تھا اور ابو سفیان بھی اس سے متفق ہو گئے۔

لات کے انہدام اور اہل طائف کے قبول اسلام کی ہیبت سے حجاز کے باقی قبائل اور قریے بھی مسلمان ہو گئے۔ آج سے جناب محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی سطوت کا شہرہ شام میں روم کی دیواروں تک ٹکرایا تو جنوب میں یہ غلغلہ یمن و حضر موت تک جا پہنچا۔

 

حج ابوبکر صدیقؓ

اس دوران میں اطراف ملک سے پے بہ پے وفود برائے اظہار و قبول اسلام آنا شروع ہوئے۔ ایک مہینہ گزرنے کے بعد حج کا موسم آ پہنچا۔ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے آج تک پورے شروط کے ساتھ بیت اللہ کا حج نہ کیا تھا اور روم پر (بر موقعہ تبوک) نصرت حاصل کرنے، طائف کے مطیع و مسلمان ہو جانے اور ملک کے دور و دراز سے وفود کے حلقہ بگوش اسلام ہو کر آنے کے شکریہ میں واجب نہ تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس سال (سنہ 9ھ ) میں حج کے لئے شذر حال فرماتے۔ لیکن ابھی بعض مواقع باقی تھے۔ ملک میں خال خال قبیلے ہنوز کفر سے وابستہ تھے۔ یہود و نصاریٰ ابھی کہیں کہیں باقی رہ گئے تھے۔ کفار ابھی تک ادب والے مہینوں (م۔ ۔ ۔ رجب، ذی قعد، ذوالحجہ، محرم) میں عمرہ و حج کے لئے آتے۔ یہ لوگ کفریہ عقائد کی وجہ سے نجس تھے۔ جب تک عرب کے چپہ چپہ پر ہر فرد کے دل میں کلمۃ اللہ (اسلام) کا نفوذ نہ ہو، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم حج کا قصد نہ فرما سکتے تھے۔ اس لئے ابوبکرؓ کو حج کے لئے مبعوث فرمایا جن کے ہمراہ تین سو مسلمانوں کا ایک قافلہ بھی تھا۔

یوں بعثت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے لے کر اب تک اور پہلے ہی کی طرح مشرکین ہمیشہ سے بیت اللہ کا حج و زیارت کرتے چلے آ رہے تھے۔ اس سال بھی انہیں بحسب معمول آنا ہی تھا کیوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ایسے لوگوں (مشرکین) کے درمیان وقت کی تحدید پر کوئی معاہدہ نہ تھا جس کی رو سے ان لوگوں پر نہ آنے کی پابندی عائد ہو سکے۔ پھر وہی ادب والے چار مہینوں میں سفر کی سہولتیں جس میں کسی رہ گزر کو رہزن کا خطرہ نہ تھا۔ دوسرے معنوں میں حج بیت اللہ کے لئے آنے کی ہر عقیدہ و عمل کے افراد کو اجازت تھی۔ یہی وجہ ہے کہ فتح مکہ کے بعد جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عتاب بن اسید کو مکہ معظمہ کا امیر مقرر فرما دیا، باوجودیکہ کعبہ کے باہر اندر اور شہر و نواحی کے تمام بت اور صنم کدے مسمار ہو چکے تھے لیکن غیر مسلم اشخاص مناسک کے رسوم اپنے پرانے طریق ہی پر ادا کرتے، جن پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نائب (مکہ) کی طرف سے کوئی قدغن نہ تھی۔ یہی دستور بیت المقدس کے زائرین میں رائج تھا کہ یہود اس کے ارض موعود اور نصاریٰ اس کے مولد مسیح ہونے کی وجہ سے وہاں جاتے مگر شرک و بت پرستی کی کون سی رسم تھی جو بیت المقدس میں ادا نہ ہوتی۔ قدیم کعبہ کی طرح یہاں بھی تو اصنام ہی کی جلوہ گری تھی۔

 

اہل کتاب اور مسلمانوں کا شریعت میں عملی فرق

لیکن بیت اللہ الحرام میں اہل اسلام اور بت پرستوں کا ایسا اجتماع جس میں مسلمان اپنے طریق پر مناسک ادا کریں اور مشرکین بت پرستانہ رسوم کے مطابق، ناقابل برداشت اور فہم و فراست سے دور تھا۔ ضروری تھا کہ جس طرح مشرکین کے خداؤں کو کعبہ سے نکال دیا گیا، ان (بتوں ) کے پرستاروں کو بھی یہاں آنے سے روک دیا جائے۔ سورۂ براۃ بھی اس معاملہ میں حرف آخر کے طور پر نازل ہوئی۔ موسم حج میں ایک مہینہ (ذی قعدہ) رہ گیا تھا۔ مشرکین نزدیک و دور سے چل کر حرم کعبہ میں پہنچ چکے تھے۔ مشیت خداوندی نے فیصلہ ہی کر لیا کہ اس سال (سنہ 9ھ ) عوام و خواص کے اجتماع میں اعلان کر دیا جائے کہ شرک و ایمان یک جا نہیں رہ سکتے۔ دین کے کسی معاملہ میں دونوں کا اتحاد ممکن نہیں ہے۔ ہاں اگر کسی سے معاہدہ ہوا ہو تو مسلمانوں پر اس کی پابندی واجب ہے۔

حضرت علیؓ کی نیابت:

معلوم ہے کہ ابوبکر صدیقؓ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج کے لئے جانے کی اجازت مرحمت فرمائی۔ ان کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے علی ابن ابی طالبؓ کو ان کے قدموں پر بھیجا تاکہ عرفہ کے روز مجمع عام میں لوگوں کو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم سنائیں۔ اسی روز حضرت علیؓ پہنچے۔ لوگ عرفات کی طرف آ رہے تھے۔ حضرت ابوبکرؓ نے حضرت علیؓ کو دیکھتے ہی فرمایا آپ کو امیر کی حیثیت سے بھیجا گیا ہے یا ماتحت کے طور پر! علیؓ نے عرض کیا ماتحت کے طور پر! آنے کی وجہ بیان کی: سورۃ براۃ کی عام منادی کے لئے بھیجا گیا ہے۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے علیؓ پر یہ اعتماد ان کے اہل بیت ہونے کی وجہ سے کیا۔

 

مجمع عام میں اعلام برأۃ

ادائے مناسک کے بعد جب لوگ منیٰ میں جمع ہوئے تو حضرت علیؓ نے سورۂ براۃ کی مندرجہ ذیل ابتدائی آیتیں بآواز بلند پڑھ کر سنائیں :

1۔ برآء ۃ من اللہ ورسولہ الی الذین عاھدتم من المشرکین (1-9)

1۔ مسلمانوں جن مشرکوں کے ساتھ تم نے (صلح و امن) کا معاہدہ کیا تھا اب اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے بری الذمہ ہونے کا ان کے لئے اعلان ہے کہ:

2۔ فسیحو فی الارض اربعۃ شھروا علموا انکم غیر معجزی اللہ وان اللہ مخزی الکفرین (2-9)

2۔ چار مہینے تک ملک میں پھرو (کوئی روک ٹوک نہیں اس کے بعد جنگ کی حالت قائم ہو جائے گی) اور یاد رکھو تم کبھی اللہ کو عاجز نہ کر سکو گے اور اللہ منکروں کو(پیروان حق کے ہاتھوں ) ذلیل کرنے والا ہے۔

3۔ واذا من اللہ ورسولہ الی الناس یوم الحج الاکبر ان اللہ بریء من المشکرین ورسولہ فان تبتم فھو خیر لکم وان تولیتم فاعلموا انکم غیر معجزی اللہ وبشر الذین کفروا بعذاب الیم (3-9)

3۔ اور اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے حج کے بڑے دن منادی کی جاتی ہے کہ اللہ مشرکوں سے بری الذمہ ہے اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم بھی (یعنی اب کوئی معاہدہ اللہ کے نزدیک باقی نہیں رہا اور نہ اس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم کسی معاہدہ کے لئے ذمہ دار ہے) پس اگر تم (اب بھی ظلم و شرارت سے) توبہ کر لو تو تمہارے لئے اس میں بہتری ہے۔ اگر نہ مانو گے تو جان رکھو تم اللہ کو عاجز نہیں کر سکتے اور (اے پیغمبر! ) جو لوگ کفر کی راہ چل رہے ہیں انہیں عذاب درد ناک کی خوش خبری سنا دو۔

4۔ الا الذین عھدتم من ا لمشرکین ثم لم ینقصو کم شیئا ولم یظاھروا علیکم احدا فاتموا الیھم عھدھم الی مدتھم ان اللہ یحب المتقین (40-9)

4۔ ہاں مشرکوں میں سے وہ لوگ کہ تم نے ان سے معاہدہ کیا تھا، پھر انہوں نے (قول و قرار نباہنے میں ) کسی طرح کمی نہیں کی اور نہ ایسا کیا کہ تمہارے مقابلہ میں کسی کی مدد کی ہو، اس حکم سے مستثنیٰ ہیں۔ پس چاہیے کہ ان کے ساتھ جتنی مدت کے لئے عہد ہوا ہے اتنی مدت تک اسے پورا کیا جائے۔ اللہ انہیں دوست رکھتا ہے۔ جو ہر بات میں متقی ہوتے ہیں۔

5۔ فاذا انسلخ الاشھر الحرم فاقتلوا المشرکین حیث وجدتموھم وخذوھم واحصروھم واقعدوالھم کل مرصد فان تابوا واقاموا الصلوٰۃ واتو الزکوٰۃ فخلوا سبیلھم ان اللہ غفور رحیم (5-9)

5۔ پھر جب حرمت کے مہینے گزر جائیں (تو جنگ کی حالت قائم ہو گئی) مشرکوں کو جہاں کہیں پاؤ قتل کرو اور جہاں کہیں ملیں گرفتار کر لو۔ نیز ان کا محاصرہ کرو اور ہر جگہ ان کی تاک میں بیٹھو۔ پھر اگر ایسا ہو کہ وہ باز آ جائیں ، نماز قائم کریں اور زکوٰۃ ادا کریں تو ان سے کسی طرح کا تعرض نہ کیا جائے۔ بلاشبہ اللہ بڑا بخشنے والا رحمت والا ہے۔

6۔ وان احد من المشرکین استجارک فاحرہ حتیٰ یسمع کلام اللہ ثم ابلغہ ما منہ ذالک بانھم قوم لا یعلمون (6-9)

6۔ اور (اے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم !) اگر مشرکوں میں سے کوئی آدمی آئے اور تم سے امان مانگے تو اسے ضرور امان دو یہاں تک کہ (وہ اچھی طرح) اللہ کا کلام سن لے۔ پھر اسے (بامن) اس کے ٹھکانے پہنچا دو۔ یہ بات اس لئے ضروری ہوئی کہ یہ لوگ (دعوت حق کی حقیقت کا) علم نہیں رکھتے۔

7۔ کیف یکون للمشرکین عھد عند اللہ وعند رسولہ الا الذین عھدتم عند المسجد الحرام فما استقاموا لکم فاستقیموا لھم ان اللہ یحب المتقین (7-9)

7۔ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ ان مشرکین کا عہد اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے نہ ہو؟ ہاں جن لوگوں کے ساتھ تم نے مسجد حرام کے قریب (حدیبیہ میں ) عہد و پیمان باندھا تھا (اور انہوں نے اسے نہیں توڑا) تو ان کا عہد ضرور عہد ہے اور جب تک وہ تمہارے ساتھ اپنے عہد پر قائم رہیں تم بھی ان کے ساتھ (اپنے عہد پر) قائم رہو۔ اللہ انہیں دوست رکھتا ہے جو (اپنے تمام کاموں میں ) متقی ہوتے ہیں۔

8۔ کیف وان یظھروا علیکم لا یرقبوا فیکم الا ولا ذمۃ یرضونکم بافواھھم وتابی قلوبھم واکثرھم فاسقون(8-9)

8۔ ان مشرکوں سے عہد کیوں کر ہو سکتا ہے جب کہ ان کا حال یہ ہے کہ اگر آج تم پر غلبہ پا جائیں تو نہ تمہارے لئے قرابت کا پاس کریں نہ کسی عہد و پیمان کا؟ وہ اپنی باتوں سے تمہیں راضی کرنا چاہتے ہیں مگر ان کے دلوں کا فیصلہ اس کے خلاف ہے اور ان میں زیادہ تر ایسے ہی لوگ ہیں جو فاسق ہیں (یعنی راست بازی کے تمام طریقوں اور پابندیوں سے باہر ہو چکے ہیں۔ )

9۔ اشتروا بایت اللہ ثمنا قلیلا فصدوا عن سبیلہ انھم ساء ما کانوا یعملون(9-9)

9۔ ان لوگوں نے اللہ کی آیتیں ایک بہت ہی حقیر قیمت پر بیچ ڈالیں (یعنی ہوئاے نفس کے تابع ہو گئے اور اللہ کی آیتوں پر یقین نہیں کیا۔ ) پس اس کی راہ سے لوگوں کو روکنے لگے (افسوس ان پر ) کیا ہی برا ہے جو یہ لوگ کرتے رہے ہیں۔

10۔ لا یرقبون فی مومن الا ولا ذمۃ واولئک ھم المعتدون(10-9)

10۔ کسی مومن کے لئے نہ تو قرابت کا پاس کرتے ہیں نہ عہد (اقرار) کا۔ یہی لوگ ہیں کہ ظلم میں حد سے گزر گئے ہیں۔

11۔ فان تابوا واقاموا الصلوٰۃ واتو الزکوٰۃ فاخوانکم فی الدین و نفصل الایت لقوم یعلمون(11-9)

11۔ بہرحال اگر یہ باز آئیں ، نماز قائم کریں ، زکوٰۃ ادا کریں تو (پھر ان کے خلاف تمہارا ہاتھ نہیں اٹھنا چاہیے وہ ) تمہارے دینی بھائی ہو گئے۔ ان لوگوں کے لئے جو جاننے والے ہیں ہم اپنی آیتیں کھول کھول کر بیان کر دیتے ہیں۔

12۔ وان تکثوا ایمانھم من بعد عھدھم وطعنوا فی دینکم فقاتلوا ائمۃ الکفر انھم لا ایمان لھم لعلھم ینقھون(12-9)

12۔ اور اگر یہ اپنے عہد و پیمان جو خود کر چکے ہیں توڑ ڈالیں۔ اور تمہارے دین کو برا بھلا کہیں تو پھر (اس کے سوا چارہ نہیں کہ ان) کفر کے سرداروں سے جنگ کرو۔ یہ ایسے لوگ ہیں کہ ان کی سو گند سوگند نہیں (اور تمہیں جنگ اس لئے کرنی چاہیے) تاکہ یہ (ظلم و بد عہدی سے ) باز آ جائیں۔

13۔ الا تقاتلون قوما نکثوا ایمانھم وھموا باخراج الرسول وھم بدء وکم اول مرۃ اتخشونھم فاللہ احق ان تخشوہ ان کنتم مومنین(13-9)

13۔ مسلمانو! کیا تم ایسے لوگوں سے جنگ نہیں کرتے جنہوں نے اپنے عہد و پیمان کی قسمیں توڑ ڈالیں جنہوں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کے وطن سے نکال باہر کرنے کے منصوبے کیے اور پھر تمہارے برخلاف لڑائی میں پہل بھی ان ہی کی طرف سے ہوئی۔ کیا تم ان سے ڈرتے ہو؟ (اگر ڈرتے ہو تو تم مومن نہیں کیوں کہ) اگر مومن ہو تو اللہ اس بات کا زیادہ سزاوار ہے کہ اس کا ڈر تمہارے دلوں میں بسا ہو۔

14۔ قاتلوھم یعذبھم اللہ بایدیکم ویخزھم وینصرکم علیھم ویشف صدور قوم مومنین۔

14۔ مسلمانو! ان سے بلا تامل جنگ کرو۔ اللہ تمہارے ہاتھوں انہیں عذاب دے گا، انہیں رسوائی میں ڈالے گا، ان پر تمہیں فتح مند کرے گا اور جماعت مومنین کے دلوں کے سارے دکھ دور کر دے گا۔

15۔ ویذھب غیظ قلوبھم ویتوب اللہ علی من یشاء واللہ علیم حکیم (15-9)

15۔ اور ان کے دلوں کی جلن باقی نہیں رہے گی اور پھر جس پر چاہے گا اپنی رحمت سے لوٹ آئے گا۔ اللہ سب کچھ جانتا ہے اور (اپنی ہر بات میں ) حکمت رکھنے والا ہے۔

16۔ ام حسبتم ان تترکوا ولما یعلم اللہ الذین جاھدوا منکم ولم یتخذوا من دون اللہ ولا رسولہ ولا المومنین ولیجۃ واللہ خبیر بما تعملون (16-9)

(مسلمانو!) کیا تم نے ایسا سمجھ رکھا ہے کہ تم اتنے ہی میں چھوڑ دئیے جاؤ گے۔ حالانکہ ابھی تو اللہ نے ان لوگوں کو پوری طرح آزمائش میں ڈالا ہی نہیں جنہوں نے تم میں سے جہاد کیا ہے اور اللہ نے اپنے رسول اور مومنوں کو چھوڑ کر کسی کو اپنا پوشیدہ دوست نہیں بنایا ؟ (یاد رکھو) جیسے کچھ بھی تمہارے اعمال ہیں خدا ان سب کی خبر رکھنے والا ہے۔

17۔ ما کان للمشرکین ان یعمروا مساجد اللہ شھدین علی انفسھم بالکفر اولئک حبطت اعمالھم وفی النارھم خالدون۔ (17-9)

17۔ مشرکوں کو اس بات کا حق نہیں پہنچتا کہ اللہ کی مسجدیں آباد کریں ، ایسی حالت میں کہ وہ اپنے کفر کا اعتراف کر رہے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں کہ ان کے سارے عمل اکارت گئے اور وہ عذاب آتش میں ہمیشہ رہنے والے ہیں۔

18۔ انما یعمر مساجد اللہ من امن باللہ والیوم الاخر واقام الصلوٰۃ واتی الزکوٰۃ ولم یخش الا اللہ فعسی اولئک ان یکونوا من المھتدین (18-9)

18۔ فی الحقیقت مسجدوں کو آباد کرنے والا تو وہ ہے جو اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان لایا، نماز قائم کی، زکوٰۃ ادا کی اور اللہ کے سوا کسی اور کا ڈر نہ مانا۔ جو لوگ ایسے ہیں ان سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ (سعادت و کامیابی کی) راہ پانے والے ثابت ہوں گے۔

19۔ اجعلتم سقایۃ الحاج و عمارۃ المسجد الحرام کمن امن باللہ والیوم الاخر وجھد فی سبیل اللہ لا یستون عند اللہ واللہ لا یھدی القوم الظلمین (19-9)

19۔ کیا تم نے یہ ٹھہرا رکھا ہے کہ حاجیوں کے لئے سبیل لگا دینا اور مسجد حرام کو آباد رکھنا، اس درجہ کا کام ہے جیسے اس شخص کا کام جو اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان لایا اور اللہ کی راہ میں جہاد کیا؟ اللہ کے نزدیک تو یہ دونوں برابر نہیں اور اللہ (کا قانون ہے کہ وہ) ظلم کرنے والوں پر (کامیابی کی) راہ نہیں کھولتا۔

20۔ الذین امنوا وھاحروا وجھدوا فی سبیل اللہ باموالھم وانفسھم اعظم درجۃ عند اللہ واولئک ھم الفائزون (20-9)

20۔ جو لوگ ایمان لائے، ہجرت کی اور اپنے مال اور جان سے اللہ کی راہ میں جہاد کیا تو یقیناً اللہ کے نزدیک ان کا بہت بڑا درجہ ہے۔ اور وہی ہیں جو کامیاب ہونے والے ہیں۔

21-22یبشرھم ربھم برحمۃ منہ ورضوان و جناب لھم فیھا نعیم مقیم۔ خالدین فیھا ابدا ان اللہ عندہ اجر عظیم۔

21-22۔ ان کا پروردگار انہیں اپنی رحمت اور کامل خوشنودی کی بشارت دیتا ہے۔ نیز ایسے باغوں کی جہاں ان کے لئے ہمیشگی کی نعمت ہو گی اور وہ ان میں ہمیشہ رہنے والے ہوں گے۔ یقیناً اللہ کے پاس (نیک کرداروں کے لئے) بہت بڑا اجر ہے۔

23۔ یایھا الذین امنوا لا تتخذوا اباء کم واخوانکم اولیاء ان استحبو الکفر علی الایمان ومن یتولھم منکم فاولئک ھم الظالمون (23-9)

23۔ مسلمانو! اگر تمہارے باپ اور تمہارے بھائی ایمان کے مقابلے میں کفر کو عزیز رکھیں تو انہیں اپنا رفیق و کار ساز نہ بناؤ اور جو کوئی بنائے گا تو یہ ایسے ہی لوگ ہیں جو اپنے اوپر ظلم کرنے والے ہیں۔

24۔ قل ان کان ابائکم وابناوکم واخوانکم وازواجکم و عشیر تکم واموال اقتر فتموھا و تجارۃ تخشون کسادھا و مساکن ترضونھا احب الیکم من اللہ ورسولہ و جھاد فی سبیلہ فتربصوا حتیٰ یاتی اللہ بامرہ واللہ لا یھدی القوم الفاسقین (24-9)

24۔ اے پیغمبر! مسلمانوں سے کہہ دو کہ اگر ایسا ہے کہ تمہارے باپ، تمہارے بیٹے، تمہارے بھائی، تمہاری بیویاں ، تمہاری برادری، تمہارا مال جو تم نے کمایا ہے، تمہاری سودا گری جس کے مندا پڑ جانے سے ڈرتے ہو، تمہارے رہنے کے مکانات جو تمہیں اس قدر پسند ہیں کہ ساری چیزیں تمہیں اللہ سے، اس کے رسول سے اور اللہ کی راہ میں جہاد کرنے سے زیادہ پیاری ہیں تو (کلمہ حق تمہارا محتاج نہیں ) انتظار کرو۔ یہاں تک کہ جو کچھ خدا کو کرنا ہے وہ تمہارے سامنے لے آئے اور اللہ کا (مقررہ) قانون ہے کہ وہ فاسقوں پر (کامیابی و سعادت کی) راہ نہیں کھولتا۔

25۔ لقد نصرکم اللہ فی مواطن کثیرۃ و یوم حنین اذا عجبتکم کثرتکم فلم تغن عنکم شیئاً وضاقت علیکم الارض بما رحبت ثم ولیتم مدبرین (25-9)

25۔ (مسلمانو!) یہ واقعہ ہے کہ اللہ بہت سے موقعوں پر تمہاری مدد کر چکا ہے (جب کہ تمہیں اپنی قلت و کمزوری سے کامیابی کی امید نہ تھی) اور جنگ حنین کے موقعہ پر بھی جب کہ تم اپنی کثرت پر اترا گئے تھے اور سمجھتے تھے کہ محض اپنی کثرت سے میدان مار لو گے تو دیکھو وہ کثرت تمہارے کچھ کام نہ آئی اور زمین ساری وسعت پر بھی تمہارے لئے تنگ ہو گئی۔ بالآخر ایسا ہوا کہ تم میدان سے پیٹھ دکھا کر بھاگنے لگے۔

26۔ ثم انزل اللہ سکینتہ علی رسولہ وعلی المومنین وانزل جنودا لم تروھا عذب الذین کفروا وذالک جزاء الکافرین (26-9)

26۔ پھر اللہ نے اپنے رسول اور مومنوں پر اپنی جانب سے دل کا سکون و قرار نازل فرمایا اور ایسی فوجیں اتاریں جو تمہیں نظر نہ آئی تھیں اور اس طرح ان لوگوں کو عذاب دیا جنہوں نے کفر کی راہ اختیار کی تھی اور یہی جزا ہے ان لوگوں کو جو کفر کی راہ اختیار کرتے ہیں (یعنی ان کی بد عملی کا لازمی نتیجہ یہی ہے۔ )

27۔ ثم یتوب اللہ من بعد ذالک علی من یشاء واللہ غفور رحیم (27-9)

27۔ پھر اس کے بعد اللہ جس پر چاہے گا اپنی رحمت سے لوٹ آئے گا۔ (یعنی توبہ قبول کر لے گا) اور اللہ بڑا ہی بخشش والا ہے۔

28۔ یایھا الذین امنوا انما المشرکون نجس فلا یقربوا المسجد الحرام بعد عامھم ہذا وان خفتم عیلۃ فسوف یعنیکم اللہ من فضلہ ان شاء ان اللہ علیم حکیم (28-9)

مسلمانو! حقیقت حال اس کے سوا کچھ نہیں ہے کہ مشرک نجس ہیں (یعنی شرک نے ان کے دلوں کی پاکی سلب کر لی ہے) پس چاہیے کہ اس برس کے بعد سے (یعنی 9 ھ کے بعد سے) مسجد حرام کے نزدیک نہ آئیں اور اگر تم کو ان کی آمد و رفت کے بند ہو جانے سے فقر و فاقہ کا اندیشہ ہو (کہ وہ ہر طرح کی ضروری چیزیں باہر سے لاتے اور تجارت کرتے ہیں ) تو گھبراؤ نہیں اللہ چاہے تو عنقریب تمہیں تونگر کر دے گا۔ اللہ سب کچھ جانتا ہے اور (اپنے تمام کاموں میں ) حکمت رکھنے والا ہے۔

29۔ قاتلوا الذین لا یومنون باللہ ولا بالیوم الاخر ولا یحرمون ما حرم اللہ ورسولہ ولا یدینون دین الحق من الذین اوتوا الکتاب حتیٰ یعطوا الجزیۃ عن یدوھم صغرون (29-9)

29۔ اہل کتاب میں سے جن لوگوں کا یہ حال ہے کہ نہ تو خدا پر (سچا) ایمان رکھتے ہیں ، نہ آخرت کے دن پر، نہ ان چیزوں کو حرام سمجھتے ہیں جنہیں اللہ اور اس کے رسول نے (ان کی کتاب میں ) حرام ٹھہرا دیا ہے اور نہ سچے دین ہی پر عمل پیرا ہیں۔ تو مسلمانو! ان سے بھی جنگ کرو یہاں تک کہ وہ اپنی خوشی سے جزیہ قبول کر لیں اور حالت ایسی ہو جائے کہ ان کی سرکشی ٹوٹ چکی ہو۔

30۔ وقالت الیھود عزیز ابن اللہ وقالت النصریٰ المسیح ابن اللہ ذالک قولھم بافواھھم یضاھؤن قول الذین کفروا من قبل قاتلھم اللہ انی یوفکون (30-9)

30۔ اور یہودیوں نے کہا عزیز اللہ کا بیٹا ہے اور عیسائیوں نے کہا مسیح اللہ کا بیٹا ہے۔ یہ ان کی باتیں ہیں محض ان کی زبان سے نکالی ہوئی (ورنہ سمجھ بوجھ کر کوئی ایسی بات نہیں کہہ سکتا) ان لوگوں نے بھی انہی کی سی بات کہی جو ان سے پہلے کفر کی راہ اختیار کر چکے ہیں۔ ان پر اللہ کی لعنت! یہ کدھر کو بھٹکے جا رہے ہیں ؟

31-32 اتخذوا احبارھم ورھبانھم اربابا من دون اللہ والمسیح ابن مریم وما امروا ا ا لیعبدو الھا وجدا لا الہ الا ھو سبحنہ عما یشرکون یریدون ان یطفؤا نور اللہ بافواھم ویابی اللہ الا ان یتم نورہ ولو کرہ الکافرون (31,32-9)

31-32۔ ان لوگوں نے اللہ کو چھوڑ کر اپنے علماء اور مشائخ کو پروردگار بنا لیا اور مریم کے بیٹے مسیح کو بھی ! حالانکہ انہیں جو کچھ حکم دیا گیا تھا وہ اس کے سوا کچھ نہ تھا کہ ایک خدا کی بندگی کرو، کوئی معبود نہیں ہے مگر وہی، اس کی پاکی ہو اس ساجھے سے جو یہ اس کی ذات میں لگا رہے ہیں۔ یہ لوگ چاہتے ہیں کہ اللہ کی روشنی پھونکوں سے بجھا دیں ، حالانکہ اللہ یہ روشنی پوری کیے بغیر رہنے والا نہیں اگرچہ کافروں کو یہ پسند نہ آئے۔

 33۔ ھو الذی ارسل رسولہ بالھدی ودین الحق لیظھرہ علی الدین کلہ ولو کرہ المشرکون (33-9)

33۔ (ہاں !) وہی ہے جس نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو حقیقی ہدایت اور سچے دین کے ساتھ بھیجا تاکہ اس دین کو تمام (ٹھہرائے ہوئے) دینوں پر غالب کر دے اگرچہ مشرکوں کو ایسا ہونا پسند نہ آئے۔

34۔ یایھا الذین امنوا ان کثیرا من الاخبار والرھبان لیاکلون اموال الناس بالباطل ویصدون عن سبیل اللہ والذین یکنزون الذھب والفضہ ولا ینفقونھا فی سبیل اللہ فبشرھم بعذاب الیم (34-9)

34۔ مسلمانو! یاد رکھو! (یہودیوں اور عیسائیوں کے) علماء و مشائخ میں ایک بڑی تعداد ایسے لوگوں کی ہے جو لوگوں کا مال حق و ناروا کھاتے ہیں اور اللہ کی راہ سے انہیں روکتے ہیں اور جو لوگ چاندی اور سونا اپنے ذخیروں میں ڈھیر کرتے رہتے ہیں۔ اور اللہ کی راہ میں اسے خرچ نہیں کرتے تو ایسے لوگوں کو عذاب درد ناک کی خوش خبری سنا دو۔

35۔ یوم یحمی علیھا فی نارجھنم فتکویٰ بھا جباھھم وجنوبھم وظھورھم ھذا ما کنزتم لا نفسکم فذوقوا ما کنتم تکنزون (35-9)

35۔ عذاب درد ناک کا وہ دن (جب کہ ان کا جمع کیا ہوا) سونے چاندی کا ڈھیر دوزخ کی آگ میں تپایا جائے گا اور اس سے ان کے ماتھے، ان کے پہلو اور ان کی پیٹھیں داغی جائیں گی (اور  اس وقت کہا جائے گا) یہ ہے جو تم نے اپنے اپنے لئے ذخیرہ کیا تھا۔ سو جو کچھ ذخیرہ کر کے جمع کرتے رہے اس کا مزا آج چکھ لو۔

36۔ ان عدۃ الشھور عند اللہ اثنا عشر شھراً فی کتاب اللہ یوم خلق المسوات والارض منھا اربعۃ حرم ذالک الدین القیم فلا تظلموا فیھن انفسکم وقاتلوا المشرکین کافۃ کما یقاتلونکم کافۃ واعلموا ان اللہ مع المتقین (36-9)

36۔ اللہ کے نزدیک مہینوں کی گنتی بارہ مہینے کی ہے۔ اللہ کی کتاب میں ایسا ہی لکھا گیا، جس دن آسمانوں کو اور زمین کو اس نے پیدا کیا (یعنی جب سے اجرام سماویہ بنے ہیں خدا کا ٹھہرایا ہوا حساب یہی ہے) ان بارہ مہینوں میں سے چار مہینے حرمت کے مہینے ہوئے۔ (یعنی رجب، ذی قعدہ، ذی الحجہ، محرم) کہ امن کے مہینے سمجھنے جاتے تھے اور لڑائی ممنوع تھی۔ دین کی سیدھی راہ یہ ہے پس ان حرمت کے مہینوں میں (جنگ و خونریزی کر کے) اپنی جانوں پر ظلم نہ کرو اور چاہیے کہ تمام مشرکوں سے بلا استثناء جنگ کرو جس طرح وہ تم سب سے بلا استثناء جنگ کرتے ہیں اور ساتھ ہی یاد رکھو کہ اللہ انہی کا ساتھی ہے جو (ہر حال میں ) تقویٰ والے ہیں۔

سورہ توبہ کی یہ آیات جنہیں ہم نے نقل کر دیا ہے۔ جو مقام منیٰ پر علیؓ نے بآواز بلند سنائیں ، ان کے ساتھ مندرجہ ذیل چار امور کا اعلان (مزید) بھی فرمایا:

1۔ انہ لایدخل الجنۃ کافر

1۔ جنت کافر کے لئے نہیں۔

2۔ ولا یحج بعد العام مشرک

2 آج کے بعد مشرک بیت اللہ کا حج نہیں کر سکتا۔

3۔ ولا یطوف بالبیت عریانا

3۔ کوئی شخص برہنہ ہو کر طواف کعبہ نہیں کر سکتا۔

4۔ ومن کان لہ عند رسول اللہ

4۔ جس شخص سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا جس مدت کے لئے وعدۂ امان ہو اس کے لئے معاہدہ کی پابندی کی جائے گی۔

 صلی اللہ علیہ وسلم عھد فھو الی مدتہ۔

علی بن ابی طالبؓ نے اس اعلام کے بعد فرمایا آج کے بعد چار مہینہ کی مہلت ہے۔ مقصد یہ تھا کہ جو لوگ دور دراز سے حج کے لئے آئے ہیں وہ امن و سلامتی کے ساتھ اپنے اپنے گھروں میں پہنچ جائیں۔

 

دولت اسلامیہ کا یوم تاسیس

آج (یوم عرفہ 9ھ) دولت اسلامیہ کی تاسیس کا دن ہے، جس دن کے متعلق ہم نے سورۂ توبہ کی ابتدائی آیات نقل کر دیں۔ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے قاصد جناب علیؓ کے مد نظر یہی امر تھا جیسا کہ معتمد روایات میں منقول ہے کہ ابن ابی طالبؓنے مدینہ سے سفر کے بعد ان آیات کا مذکور منیٰ ہی پر منحصر نہ رہنے دیا بلکہ بیت اللہ سے مراجعت کے بعد ان آیتوں کو ہر منزل پر دوسروں کے سامنے دہرایا (بحسب روایات متعددہ) اگر سورۂ براۃ کی ابتدائی آیتوں کو بنظر امعان مطالعہ کیجئے تو بین طور پر واضح ہو گا کہ ان کے مفہوم میں جدید سلطنت کی تشکیل کا اشارہ ہے۔

اور معلوم ہے کہ سورۂ براۃ دشمنان دین کی پیدا کردہ جنگی ہنگاموں سے پوری طرح فارغ ہونے کے بعد نازل ہوئی حتیٰ کہ اہل طائف جیسے سرکش باشندے اسلام کے ساتھ وابستگی کو اپنے لئے فخر سمجھ کر اس میں منضم ہو گئے، جب کہ تمام حجاز نے اسلام قبول کر لیا اور تہامہ (عربستان) میں اسلام کا ڈنکا بجنے لگا، جب نجد میں اسلام کا جھنڈا لہرانا شروع ہوا اور عرب کے خانہ بدوش قبائل نے اپنے سرداروں کے ماتحت وفود مدینہ بھیج کر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت اور اسلام کو بحیثیت دین اختیار کر لیا۔

وقت آ گیا کہ دولت نوزائیدہ اسلام ان آیات کے پرتو میں متشکل ہو اور قوت و سطوت کا مصدر ہو، جس کے تمام پیرو پر ایک ہی عقیدہ میں منسلک ہوں اور اس عقیدہ کے سہارے دین اور دین کے پیروؤں پر ظلم کرنے والوں کا استیصال کر سکیں۔ ادنیٰ فکر سے واضح ہے کہ ایمان کے مقابلہ میں کوئی قوت ایسی نہیں جس کے سائے میں ظالموں کے جور و ستم کو روکا جا سکے اور ایسے ایمان سے بڑھ کر کون سا عقیدہ ہے جس میں خدائے وحدہٗ لا شریک پر یقین کامل ہو اور اس سے بہتر عقیدہ کیا ہو سکتا ہے کہ انسان اپنی روح کو ایک ایسی برتر از ہمہ ہستی کے ساتھ وابستہ سمجھے، جس کی ہمسری کے لئے ممکن نہیں اور اس عقیدہ کے نتائج میں اس کا یہ بھی یقین ہو کہ نہ تو اس پر خدائے واحد القہار کے سوا کوئی اور غالب آ سکتا ہے اور نہ اس کے ضمیر پر کسی کو قبضہ کرنے کی قدرت ہے۔

اور جو لوگ اس عقیدہ کے متوازی عقیدہ وضع کر لیں اور نہ صرف یہی بلکہ اس عقیدہ پر جدید حکومت کی بنیاد رکھنے کا قصد بھی رکھتے ہوں تو اولئک ھم الفاسقون1؎ (19:59)یہ لوگ عادی معصیت کوش ہیں جو بنی نوع انسان کے اندر فتنہ پردازی اور خوں ریزی کے داعی ہیں۔ ریاست کی طرف سے ایسے لوگوں کے لئے مراعات ایک طرف، ایسے لوگوں کے لئے

فسیحوا فی الارض اربعۃ اشھر واعلموا انکم غیر معجزی اللہ وان اللہ مخزی لکافرین 2؎ (2:9)

کی مہلت دے کر ان کے ساتھ مقاتلہ تک واجب ہے۔ پھر ایسے سرکش فاسق اگر کسی قوم کے اجتماعی عقیدہ کے خلاف ریشہ دوانی کریں تو انہیں باڑھ پر رکھ کر اطاعت کے لئے مجبور کیا جا سکتا ہے۔ دوسری قسم ان لوگوں کو کی ہے جو کسی قوم کے اجتماعی عقیدہ کے دشمن تو ضرور ہوتے ہیں لیکن اس عقیدہ کے خلاف نہ وہ ریشہ دوانی کرتے ہیں اور نہ ایسے وسائل اختیار کرتے ہیں۔ ایسے لوگوں کی مثال مثلاً اہل کتاب ہیں۔ ان لوگوں سے مقاتلہ کی بجائے انہیں ادائے جزیہ پر مجبور کیا جائے گا۔

ان (ہر دو) قسموں کی مثال اس ایک ہی آیہ میں بیان فرما دی گئی:

قاتلوا الذین لا یومنون باللہ ولا بالیوم الاخر ولا یحرمون ما حرم اللہ ورسولہ ولا یدینون دین الحق من الذین اوتوا الکتاب حتیٰ یعطوا الجزیۃ عن یدوھم صغرون (29:9)

اہل کتاب میں سے جن لوگوں کا یہ حال ہے کہ نہ تو خدا پر سچا ایمان رکھتے ہیں نہ آخرت کے دن پر، نہ ان چیزوں کو حرام سمجھتے ہیں جنہیں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے (ان کی کتاب میں ) حرام ٹھہرا دیا ہے اور نہ سچے دین ہی پر عمل پیرا ہیں تو (مسلمانو!) ان سے بھی جنگ کرو، یہاں تک کہ وہ اپنی خوشی سے جزیہ دینا قبول کر لیں اور حالت ایسی ہو جائے کہ ان کی سرکشی ٹوٹ چکی ہو۔

تاریخی اور اجتماعی نقطہ نظر سے دیکھنے کے بعد سورۂ براۃ کی ان آیات کے مطابق ہم ایسے نتائج پر پہنچ سکتے ہیں جو انصاف پسند مصنف کی تحقیق کا ماحصل ہوں ، لیکن ان کے دیدہ وروں کی کوتاہ نظری کا ماتم کہاں تک کیجئے جو بہرحال اسلام اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نکتہ چینی کرنا تحقیق و تدقیق کا لازمہ سمجھتے ہیں۔ یہ لوگ ان آیات (برأۃ) کی روح میں ایسی عصبیت ثابت کرنا چاہتے ہیں جس کی تصدیق ان کا قابل صد فخر عہد حاضرہ کا تمدن تو نہیں کر سکتا۔ ان کی تحقیق کے مطابق سورۂ برأۃ مشرکوں کے بے رحمانہ قتل کی محرض ہے کہ مسلمان انہیں جہاں بھی دیکھ لیں کسی رافت یا نرمی کے بغیر انہیں موت کے گھاٹ اتار دیں ، یہ آیتیں ان مدعیان تنقید کے نقطہ نظر سے دعوت اسلام کو ہیبت و جبروت سے منوانے کی ترغیب دیتی ہیں جیسا کہ مستشرقین میں سے اکثر اہل قلم کی تحریروں سے ثابت ہوتا ہے۔

مغربی مدرستہ تحقیق و تنقید کے یہ استاد السام کے خلاف اس طرح مقدمات اور نتائج مرتب کرتے ہیں کہ خود مسلمانوں میں جو لوگ فن نقد و بحث سے ناواقف ہیں ان کی تحریروں سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتے، حالانکہ ان (مستشرقین) کا طرز استدلال فنی اور تنقید تاریخی و اجتماعی لحاظ سے مجذوب کی بڑ سے زیادہ اہمیت نہیں رکھتا۔

1؎ یہی لوگ تو بڑے نافرمان ہیں۔

2؎ اے مشرکو! امن کے چار مہینے (ذی قعدۃ، ذی الحج، محرم، رجب) ملک میں چلو پھرو! اور جانے رہو کہ تم اللہ کو کسی طرح بھی ہرا نہیں سکتے اور یہ (کہ آخر کار) اللہ کافروں کو) مسلمانوں کے ہاتھ سے) رسوا کرنے والا ہے۔

ان (مستشرقین) کی طرف سے سورۂ توبہ اور قرآن مجید کے دوسرے ایسے حصوں کی تفسیریں خود رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم ہی کے اس اسلوب زندگی کے منافی ہیں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اوائل بعثت سے لے کر سفر آخرت تک ظہور میں آیا۔

 

موجودہ تمدن کے خدوخال

آئیے، سب سے پہلے عہد حاضر ہی کے تمدن کے حسن و زیبائی کی طرف دیکھیں اور اس (تمدن) کا موازنہ (جناب) محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی روحانی دعوت کے ساتھ کریں۔ آج کے تمدن کی بنیاد حریت رائے پر بتائی جاتی ہے۔ جس حریت رائے کی کوئی نہ حد ہے نہ اس کی ایک یا دو بلکہ عدد آخرت تک کوئی معین تعریف، الا یہ کہ قانون وقت خود اس (حریت رائے) کی تعریف متعین کرے۔

کہنے کے لئے یہ بھی کہا جاتا ہے کہ آزادی رائے ہی کے بل بوتے پر کمزور کو طاقت ور کے غلبے سے بچایا جا سکتا ہے، اس لئے تو اس عقیدہ (آزادی رائے) کی حفاظت کے لئے ہمہ وقت ایثار و قربانی کی جاتی ہے، اس کے حدود و تعریفات کا تجزیہ اور تحقیق جاری رہتی ہے، اسے برقرار رکھنے کے لئے جنگ کے بھڑکتے ہوئے شعلوں میں جست لگائی جاتی ہے اور قوم کے جن اسلاف نے آزادی رائے کی حفاظت پر مصائب برداشت کرنے سے گریز نہیں کیا ان پر فخر کیا جاتا ہے۔

جن مستشرقین کی طرف اوپر اشارہ کیا گیا ہے اسی آزادی رائے کے غرور و تمکنت پر فرماتے ہیں اسلامی عقیدہ کے مطابق جو لوگ اللہ اور آخرت پر ایمان نہ لائیں ان کے خلاف جنگ کرنا ایسا تعصب ہے جو عقیدہ کی آزادی کے خلاف ہے۔

لیکن مستشرقین کا یہ مغالطہ سراسر بے بنیاد ہے کیوں کہ عقیدہ کی جس آزادی کے خلاف ارتکاب کو وہ (مستشرقین) مسلمانوں کے سر تھوپتے ہیں خود ان کے گھر میں اس آزادی رائے پر شمہ بھر بھی تو عمل نہیں ہوتا۔

دوسری طرف اسلام ہے جو ایسے مشرکین کے ساتھ کسی قسم کے تعرض کا روادار نہیں جو حکومت مسلمہ کی اطاعت کے بعد کسی شرک کی تبلیغ نہ کریں نہ خود کسی قسم کے علانیہ رسوم عبادت (م۔ ۔ ۔ ۔ مثلاً ولا یطوف بالبیب عریانانہ کوئی شخص برہنہ ہو کر طواف کعبہ کر سکتا ہے۔ ) بجا لا سکتے ہیں۔

اس بارہ میں عہد حاضر کا تمدن ملاحظہ ہو جس میں ریاست کے خلاف عقیدہ رکھنے والوں کے ساتھ اس سے کہیں زیادہ سختی کی جاتی ہے جو مسلمانوں نے مشرکین پر روا رکھی، مثلاً اسلام نے رعایا کے اہل کتاب سے جزیہ ہی تو لیا (باضافہ آیتے از مترجم من الذین اوتوا الکتاب حتیٰ یعطوا الجزیہ عن یدوھم صغرون1؎ (29:9)) لیکن تمدن حاضرہ نے اپنے خلاف عقیدہ پر جزیہ سے ہزار ہا گنا زیادہ بار ڈال رکھا ہے۔

ہم یورپ کی ان جنگوں کو رفع الزام کے لئے پیش کرنا نہیں چاہتے جو انہوں نے بردہ فروشی کے خلاف لڑیں کہ غلاموں کی تجارت کو ان کے بعض یاران وطن ہی مذہبی حیثیت سے جائز قرار دیتے ہیں مبادا مسیحان یورپ اور ان کے

1؎ اہل کتاب سے بھی جنگ کرو یہاں تک کہ وہ خوشی سے جزیہ دینا قبول کر لیں اور حالت ایسی ہو جائے کہ ان کی سرکشی ٹوٹ چکی ہو۔

حاشیہ بردار اسلام پر اپنی طرف سے عائد کردہ تہمت کو دھرا دیں کہ اسلام نے بھی غلامی کو جائز رکھا ہے۔

بلکہ آج کا یورپ جو تہذیب و تمدن کا مرغزار بنا ہوا ہے اور جس کی پشت پناہی کے لئے امریکا جیسا حریت نواز ملک کمر بستہ ہے اور جنوب میں پورا ایشیا اور مشرق اقصیٰ اس کی کمک کے لئے سربکف، جن سب نے مل کر بولشویک روس سے وہ جنگ لڑی جس کی ہلاکت آفرینی کے سامنے شاید اسرافیل بھی گرد ہو کر مہر بہ لب رہ جائے۔ اتنی بڑی لڑائی صرف روس کے اس عقیدہ کو کچلنے کے لئے نہ تھی کہ تقسیم اموال میں بالشویک کے نظریہ یورپ و امریکا کے ان مدعیان تہذیب کے عقیدۂ سرمایہ داری کے خلاف ہے یا اس کے سوا کوئی اور بنائے مخاصمت ہے۔

میں کہتا ہوں کیا اسلام کی مشرکین کے ساتھ جنگ یورپ و امریکا کی بولشویک کے ساتھ لڑائی سے زیادہ تعصب انگیز اور حریت رائے کے منافی تھی /کیا بولشویک کا خلاف ترکتاز کی یہ ہمہ ہمی ان کے اس برائے بیت اجتماعی نظام کے خلاف نہ ہونے کی وجہ سے نہ تھی جو تقسیم دولت میں ان (امریکا و یورپ) کے عقیدے کے خلاف ایسا نظام پیش کرتا ہے جس کی بار آوری کے بعد ان مدعیان حفظ حریت رائے کا نظام درہم برہم ہو کر رہ جاتا ہے۔

 

مغرب میں برہنہ رہنے کی منظم انجمنیں

یورپ کے کئی شہروں میں ایسی منظم جماعتیں ہیں جن کا ایمان یہ ہے کہ جس طرح عقیدہ کی آزادی پر کوئی پابندی نہیں اسی طرح جسم کی آزادی بھی ہر محاسبہ اور پابندی سے آزاد رہنے کی مستحق ہے۔ ان لوگوں کی تحقیق میں جنسیت کا اسراف معیوب ترین عادت ہے اور اس عادت کا محرک جسم انسانی پر لباس کا غلاف ہے۔ یہ غلاف جس قدر توبہ تو ہوتا جائے گا شہوانیت اسی قدر فراواں ہوتی جائے گی۔ اس لئے جنسیت کا بے جا استعمال صرف عریانی ہی سے رک سکتا ہے۔

ان جماعتوں نے بعض شہروں میں (اسی مقصد کے لئے) خاص قسم کے محل تعمیر کرائے جہاں اس گروہ کے زن و مرد پوری عریانی کے ساتھ ایک دوسرے کے سامنے آنے جانے لگے۔ ان محلوں کے نئے داخلے پر خاص طریقوں سے شرم و حیا کا دامن چاک کرنے کی تربیت ہوتی ہے۔ اب حریت رائے کے محافظین کا عمل ملاحظہ ہو۔ کچھ دنوں تک تو ان لوگوں کی اس رفتار پر اغماض کرتے رہے۔ لیکن جب دیکھا کہ یہ جماعتیں اپنے عقیدہ و عمل دونوں کا پرچار کرنے پر تل آئی ہیں تو تہذیب حاضرہ کے مدعیوں اور تحفظ عقیدہ کے سرغنوں نے اسے تہذیب و تمدن کے خلاف قرار دے کر ان کی تربیت گاہوں کا مقفل کر دیا اور ان طائفوں کو اس حد تک مغلوب کیا کہ اس عقیدہ کو قانون تمدن کے خلاف قرار دیا۔

مسلم ہے کہ اگر کسی قوم میں ایسا عقیدہ عملاً عام ہو جائے تو دوسری قومیں اس قوم کے خلاف جنگ کرنے کا حق رکھتی ہیں ، اس لئے کہ فی نفسہ یہ عقیدہ کمالات انسانی کی توہین کا سبب ہے جیسا کہ مغرب میں سفید فام باشندوں کی خرید و فروخت اور گھر بار والی عورتوں کے بیوپار پر خون ریز جنگیں ہوئیں ، اور یہ کیوں ہوتا رہا؟ اس لئے کہ عقیدہ کی آزادی اس وقت تک برداشت کی جا سکتی ہے جب تک اس کی مضرت سے معاشرہ کو ضرر نہ پہنچے یعنی کیسا عقیدہ بھی سہی مگر انفرادی طور پر قابل عمل ہو سکتا ہے۔ لیکن جب ایسا عقیدہ عام معاشرہ پر اثر انداز ہونے لگے (م۔ ۔ ۔ ۔ جیسے بردہ فروشی خصوصاً گھریلو عورتوں کی تجارت) تو ایسے عقیدہ کے کلاف جنگ کرنا لازم ہے، عام اس سے کہ وہ محض اخلاق پر اثراندا ہو سکتا ہے یا اس سے اجتماعی سیاست کے متاثر ہونے کا خطرہ ہو یا اس سے ملک کے اقتصادی حالات پر دخل اندازی کا ذریعہ ہونے کا اندیشہ ہو۔ عہد حاضر کا دستور اجتماعی اور قانون مدن بھی اس کی تائید کرتے ہیں۔ اگر گنجائش ہو تو ہم مختلف قوموں میں سے ایسے نظائر پیش کر سکتے ہیں مگر قطع نظر اس کے صرف اتنا عرض کر دینا کافی ہو گا کہ جو عقائد اجتماعیت، وطنی معاشیات اور ملکی سیاسیات کے منافی ہوں گے ملک کا قانون ایسے عقائد کے خلاف ہر قسم کی سختی اور پابندی کرنے پر حق بجانب ہو گا۔

پس اگر ہم یہ معلوم کرنا چاہتے ہیں کہ مشرکین کے ساتھ جنگ کرنے میں اسلام کا حکم برمحل ہے یا ناروا تو سب سے پہلے ہمیں بت پرستی اور اس کے نتائج پر غور کرنا چاہیے۔

اس حیثیت سے گزشتہ تاریخ پر نظر ڈالنا ضروری ہے۔ اگر ثابت ہو جائے کہ شرک کا عقیدہ مختلف زمانوں میں واقعی طور پر معاشرہ کے لئے ضرر کا موجب ثابت ہوا ہے تو تسلیم کر لینا چاہئے کہ مشرکین کے خلاف اسلام کی نبرد آزمائی جائز ہی نہیں بلکہ ضروری ہے۔

جس عہد میں خاتم المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلام کی تبلیغ کا آغاز فرمایا (تابہ نزول سورۂ توبہ۔ ۔ ۔ م) شرک محض بتوں کی پرستش ہی کی شکل میں جلوہ آرا نہ تھا اور اگر یہ معاملہ اس حد تک ہوتا تب بھی اس کے خلاف جہاد کرنا واجب ہو جاتا کہ آخر انسان پتھر کے حضور جبہ سائی کر کے فطرت انسانی کو متہم کرنے والا کون ہوتا ہے؟ لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں شرک اپنے جیب و داماں میں عقائد و اعمال کے گوناگوں عجائبات لئے ہوئے صنم کدوں میں براجمان تھا، ایسا عمل و عقیدہ کے ساتھ جو نہ صرف بردہ فروشی کے مقابلہ میں پست ترین ہیں اور بولشویک عقیدۂ تقسیم دولت کے سامنے حقیر و ذلیل نظر آتے ہیں ، بلکہ موجودہ بیسویں صدی کے اس دور (اواخر) کے بعض دوسرے مجلسی نظام کے مقابلہ میں بدترین عقائد و اعمال سے زیادہ گھناؤنے دکھائی دیتے ہیں ، جس شرک کا ایک شاخسانہ زندہ دختروں کو دفن کر دینا تھا، دوسری شاخ بیویوں کی کثرت تھی۔ کسی کے محل میں تیس حرم ہیں ، بعض کے تصرف میں چالیس نازنینائیں ہیں ، کسی کی حویلی میں یک صد اور ایسے دولت مند بھی موجود ہیں جن کی زندگی تین سو بیویوں کے بغیر بسر نہیں ہوتی بلکہ اس سے بھی زیادہ اسی شرک کا ثمرہ سود در سود کا دیو ہے جسے سرمایہ داروں نے غریب الحال لوگوں پر مسلط کر رکھا تھا اور اسی طرح کوچہ و بازار میں علانیہ و نائت وپستی اخلاق کی نمائش معاشرہ کا حسن سمجھا جاتا۔ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں عرب کے یہ باشندے ہر لحاظ سے دنیا کی پست ترین اقوام سے تھے۔

کیا فرماتے ہیں دور حاضرہ کے ارباب فکر و نظر کہ اگر آج کے معاشرہ کے کسی جز یا کل میں دختروں کا زندہ درگور کرنا ضروری بلکہ جائز قرار دیا جائے، تعدد ازدواج کی وسعت بیان کردہ حدود کے مطابق یا اس کے مقابلہ میں جزواً ہی سہی اجازت دے دی جائے، بردہ فروشی قحط یا کسی اور سبب پر مبنی سہی، سود خوری اسی بہیمانہ طریق پر رائج ہو اورریاست ان کے قلع قمع پر اتر آئے تو ریاست کا یہ اقدام اس کے تعصب اور دوسروں کے عقیدہ کی آزادی پر ضرب سمجھا جائے گا؟

بالفرض ایک قوم ایسے برے اخلاق کو معاشرہ کا جزو قرار دے چکی ہے اور اب ان کے یہ اخلاق دوسری قوموں پر اپنا دامن پھیلانے کے لئے بے تاب ہو رہے ہیں اگر ارباب اختیار ایسی قوم کے خلاف اعلان جنگ کر دیں تو کیا ان کا یہ اعلان ناجائز ہو گا؟ اور یہ جنگ اس عالم گیر لڑائی کے مقابلہ میں زیادہ مکروہ ہو گی جس میں کروڑوں انسان صرف ارباب سیاست کی ہوس استعمار پر نچھاور کر دئیے گئے ہیں ؟

 

خاتمہ بحث دربارۂ اعلان جنگ در سورۂ توبہ

سورۂ برات کی ابتدائی آیات پر مستشرقین کی گرفت کس حد تک ناکارہ ہے اور اسلام جیسی موحدانہ دعوت کا مقابلہ میں شرک اور مشرکین جو ایک فطری نظام کے اندر اس کے مخالف نظم و نسق کا تداخل کرنے کے مجرم ہوں ، ان کے خلاف اعلان جنگ کس حد تک حق بجانب!

زمانہ رسالت پناہ صلی اللہ علیہ وسلم میں ملک عرب میں جو نظام شرک و بت پرستی کے پرتو میں قائم تھا تاریخ اس پر گواہ ہے اور اس نظام (شرکیہ) کے مقابلہ میں حضرت خاتم الرسل صلی اللہ علیہ وسلم کی پوری زندگی کے معمولات پر بھی تاریخ شاہد اس میں وہ مدت بھی شامل ہے جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مکہ معظمہ میں بعثت کے ابتدائی تیرہ سال بلا انقطاع تبلیغ فرماتے رہے مگر اس عرصہ میں نہ تو براہین و دلائل کا دامن ہاتھ سے چھوڑا نہ گفتگو میں احسن طریق سے ہٹ کر کبھی کوئی لفظ زبان مبارک پر آنے پایا۔

یہی طرز عمل جنگوں میں تھا جن میں کبھی جارحانہ اقدام کا موقعہ پیدا نہ ہونے دیا بلکہ جب کہیں مسلمانوں پر ظلم و تشدد کیا گیا تو اس کی مدافعت کے لئے ناچار ادھر کا رخ کرنا پڑا۔ مسلمانوں کی طرف سے یہ مدافعت اپنے اس عقیدہ و دعوت کی مخافظت تھی جس پر وہ (مسلمان) ایمان لائے اور اس کے لئے قدم قدم پر قربانیاں دیں۔ پھر یہی دعوت (اسلام) پوری قوت سے مشرکین کے ساتھ ان کے عقیدہ شرک کی نجاست کی وجہ سے مبارزت میں بھی استعمال ہوئی اور اس تحدی کے ساتھ کہ اگر وہ شرک سے ہاتھ نہ روکیں تو ان کے لئے کسی قسم کے عہد و پیمان کی ذمہ داری نہیں :

کیف وان یظھروا علیکم لا یرقبوا فیکم الا ولا زمۃ1؎

یعنی اس لئے کہ یہ رسم بھی انہی کی ایجاد ہے کہ جب کبھی انہیں مومنین پر قابو حاصل ہوا انہیں اس کے ساتھ کسی رواداری یا پناہ دہی پر میلان نہ ہو سکا (م۔ ۔ ۔ حتیٰ کہ

وھموا یا خراج الرسول وھم بدء وکم اول مرۃ2؎)

الغرض سورۂ براۃ تمام غزوات کے بعد (تابہ خاتمہ غزوہ تبوک) نازل ہوئی۔ اب مثلاً عرب ہی میں ایک ایسا شہر ہے جس کے کچھ لوگ مسلمان ہو چکے ہیں اور اسی شہر کے رہنے والوں میں ابھی تک بے شمار اشخاص شرک کی نجاست سے آلودہ ہیں۔ یہاں تک کہ مسلمانوں نے شہر میں اس اجتماعی و اقتصادی نظام کے جاری کرنے کا تہیہ کر لیا ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے لے کر اب تک عرب کے قدیم مشرکانہ نظام کو تہس نہس کرتا چلا آ رہا ہے۔ جب نو وارد مسلمانوں نے وہاں کے مشرکوں کے سامنے اسلام (کا جدید نظام) پیش کیا، ا ن میں خدا کی طرف سے حلال شدہ اور حرام کردہ دونوں قسم کے امور کی تبلیغ کی۔

1؎ مشرکین کے عہد کیسے معتبر ہو سکتا ہے؟ ان کا حال یہ ہے کہ اگر یہ لوگ تم مسلمانوں پر غلبہ پا جائیں تو تمہارے بارے میں نہ قرابت کا پاس ملحوظ رکھیں اور نہ عہد و پیمان کا(8:9)

2؎ اور رسول کے نکال دینے کا ارادہ کیا اور تم سے چھیڑ خانی بھی اول انہوں نے شروع کی۔ (13:9)

تو انہوں نے اسے قبول کرنے کی بجائے استحقار سے ٹھکرا دیا کیا انصاف پسند طبائع کے نزدیک ایسے (منکرین) لوگوں کے خلاف طاقت کا استعمال ناروا ہے؟ اور اگر ایسے لوگ معمولی طاقت کی نمائش سے ریاست کے دستور اخلاق پر عمل پیرا ہونے کو تسلیم نہ کریں تو اس وقت تک ان کے خلاف جنگ کرنے میں تامل ہو سکتا ہے جب تک وہ کلمۃ الحق کی تعمیل سے گریز کریں تا آنکہ

ویکون الدین کلہ اللہ 1؎ (39:8)

یہی باعث ہوا حضرت علی کے اعلام بزائۃ من اللہ ورسولہ الی الذین عاھدتم من المشرکین فیسحوا فی الارض اربعۃ اشھر۔ ۔ ۔ ۔م کے بعد اس موقعہ پر مندریل ذیل قوانین ریاست بیان کرنے کا کہ:

1۔ لا یدخل الجنۃ کافر

1۔ کافر جنت میں داخل نہ ہوں گے۔

2۔ لا یحج بعد العام مشرک

2۔ شرک کرنے والا حج نہیں کر سکتا۔

3۔ ولا یطوف بالبیت عریانا

3۔ برہنہ ہو کر طواف کعبہ نہیں کیا جا سکتا۔

جس کا نتیجہ ریاست میں یک جہتی کے لئے بے حد امید افزا ثابت ہوا۔ قبائل میں جو لوگ ابھی تک اسلام قبول کرنے میں متردد تھے ان کے شکوک رفع ہو گئے اور اعلام کے بعد یمن، مہرہ، بحرین اور یمامہ کے وہ لوگ بھی اسلام میں داخل ہو گئے جو ابھی تک ایک طرف کھڑے ہوئے انجام کا انتظار کر رہے تھے۔

 

عامر بن طفیل کا حشر

ماسوا معدودے چند منکرین کے جنہیں ان کے غرور بے جا نے بہکا رکھا تھا اور اپنی جاہلی نخوت و تمکنت کے سہارے اپنی سیادت کے پرتو میں جی رہے تھے۔ ان میں ایک متکبر عامر بن طفیل ہے جو روسائے قبیلہ (اربند بن قیس و خالد بن جعفر اور حیان بن مسلم بن مالک۔ م) کا چوتھا رئیس تھا، یہ لوگ اسلام قبول کرنے کے لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں باریاب ہوئے۔ لیکن جب عامر بن طفیل آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش ہوا تو بدنصیب مکابرہ پر اتر آیا۔ اور تو اور ریاست میں اپنے وقار پر وثیقہ طلب کرنے لگا۔ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے تلقین میں کوئی کمی نہ رکھی۔ لیکن اس کے برے دن آ چکے تھے۔ یہ کہتا ہوا واپس لوٹا کہ دیکھنا اس شہر کو پیدل اور سوار فوج سے کس طرح کھنڈر کیے دیتا ہوں ! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خدا سے التجا کی خداوند! مجھے عامر کے شر سے محفوظ رکھیو!

عامر مدینہ ہی میں سے گزرتا ہوا بیما ر پڑ گیا۔ گردن پر طاعون کا پھوڑا نکل آیا۔ راستے میں بنو سلول کی ایک عورت کے گھر میں آ گرا اور اسی گھر میں ایڑیاں رگڑ رگڑ کر موت کے چنگل میں الجھ گیا۔ مرتے وقت اس کی زبان پر یہ کلمہ تھا۔ اے برادران بنو عامر! یہ پھوڑا تو اونٹ کی گردن پر نکلا کرتا تھا۔ میرے مقدر میں بھی اسی سے مرنا لکھا ہے!

1؎ اور دہائی ساری خدا ہی کی ہو۔

قبیلہ بنو عامر کا دوسرا متکبر اربد بن قیس بجلی گرنے سے ہلاک:

یہ بھی اسی وفد (بنو عامر) میں شریک تھا جو اسلام سے روگرداں ہو کر واپس لوٹا۔ ایک روزجب وہ اپنا اونٹ بیچنے کے لئے گھر سے نکلا تو بجلی گری اور اربد کو جلا کر بھسم کر گئی۔ لیکن عامر اور اربد ان دونوں قبیلوں کو اسلام لانے سے نہ روک سکے۔

 

مدعی نبوت مسیلمہ کذاب کے متوازی وحی

عامر بن طفیل اور اربد بن قیس دونوں سے زیادہ بد انجام اور آفت رسیدہ مسیلمہ بن حبیب تھا جو یمامہ سے بنو حنیفہ کے وفد میں آیا لیکن خود شہر سے باہر اپنے ہمراہیوں کے سامان کی چوکیداری کے لئے رہ گیا۔ دوسرے افراد رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں باریاب ہوئے اور سب کے سب اسلام سے مشرف ہو گئے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں انعامات سے سرفراز فرمایا۔

بنو حنفیہ نے رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم اسے اپنے رفیق وفد مسلیمہ کا تذکرہ کیا تو آپ نے اس کے لئے بھی ان کے برابر عطیہ بخشا اور فرمایا وہ بھی مرتبہ میں تم لوگوں کے مساوی ہیں اس لئے کہ قوم کے سامان کی چوکیداری مرتبہ میں کمی کا موجب نہیں ہو سکتی۔ لیکن جب مسلیمہ نے اپنے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ قول سنا تو اس نے متوازی نسبت اور وحی کا دعویٰ کرتے ہوئے خود کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رسالت میں شراکت کا پیغام بھیج دیا اور اپنی وحی کے نمونہ میں یہ جملے زبان سے ادا کیے:

لقد انعم اللہ علی الحبلی اخرج منھا نسمۃ نسعی من بین صفاق و حشاء

اللہ نے زن حاملہ کو کیا نعمت عطا فرمائی۔ اس کے بطن سے زندہ بچہ پیدا ہوا جو چلنے پھرنے لگا۔

 

مسیلمہ کی شریعت

شراب اور زنا حلال مگر نماز حرام ہے جس کی طرف اس نے لوگوں کو آنے کی دعوت دی۔

 

وفود

رسالت مآب کے حضور ملک کے چاروں طرف سے وفود آنا شروع ہوئے جن کا امیر قبیلہ کا معزز سردار ہوتا۔ مثلاً جناب عدی بن حاتم اور حضرت عمرو بن معدی کرب۔ البتہ حمیر کے نوابوں نے اپنی طرف سے قبول اسلام کی تحریر وثیقہ اپنے اپنے سفیر کے توسل سے پیش کیا جسے رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے تسلیم فرما کر ضروری ہدایات و احکام شریعت بھی تحریری بھجوا دیئے۔ یہ جنوب ملک (یمن) کے سفیر ہیں۔ جب پورے یمن میں اسلام پھیل گیا تب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے سابقین الاسلام میں سے ان لوگوں کو یمن بھیجا جو نو واردان اسلام کو عقائد و مسائل کی تلقین سے آراستہ کرسکیں۔

 

صرف وفود عرب کے قبیلوں کے نام

وفود آتے رہے۔ ان میں سے ہر ایک کی حکایت طوالت کا باعث ہو گی جیسا کہ دوسرے سیر نویس حضرات نے کیا اور ابن سعد نے تو (طبقات نام کتاب) میں بڑی تقطیع کے پچاس صفات اسی تذکرہ میں مزین کر دئیے۔ لہٰذا ہم اس موقع پر صرف قبائل اور ان کی شاخوں کے ناموں پر اکتفا کرتے ہیں۔

مزینہ، اسد، تمیم، عبس، فزارہ، مرہ، ثعلبہ، محارب، سعد بن بکر، کلاب، رواس بن کلاب، عقیل بن کعب، جعدہ، قشیر بن کعب، بنی البکا، کنانہ، اشجع، باہلہ، سلیم، ہلال بن عامر، عامر بن صعصعہ، ثقیف۔

از ربیعہ:

عبدالقیس، بکر بن وائل، تغلب، حنیفہ، شیبان۔

از خطہ یمن

طے، تجیب، خولان، جعفی، صدائ، مراد، زبید، کندہ، صدف، خشین، سعد ہذیم، بلیٰ، برائ، عذرہ، سلامان، جہنیہ، کلب، جرم، ازد، غسان، حارث بن کعب، ہمدان، سعد العشیرہ، عنس، الداریین، الرھاویین۔

از بنو مذجح

غامد، نخع، بجیلہ، خثعم، اشعریین، حضر موت، ازو عمان، غافق، بارق، دوس، ثمالہ، حدان، اسلم، جذام، مہرہ، حمیر، نجران، جیشان۔

جزیرہ نمائے عرب میں کوئی قبیلہ ایسا نہ تھا جس نے بت پرستی کے بعد اسلام قبول نہ کر لیا ہو۔ عرب کے مشرکین بت پرستی چھوڑ کر اسلام میں داخل ہوتے گئے تاآنکہ تمام ملک بتوں کی پرستش سے بے نیاز ہو کر خدائے یکتا کی عبادت پر کاربند ہو گیا۔ یہ اتفاق تبوک کے بعد ہوا۔ مدینہ میں جو وفد آیا کسی جبر و تحکم کے بغیر آیا اور از خود اطاعت گزارانہ حیثیت سے آیا۔ نہ کسی قبیلہ پر دباؤ ڈالا گیا اور نہ کسی کے معاملہ میں کشت و خون کی نوبت آنے پائی۔

مشرکین کے قبول اسلام کے بعد یہود و نصاریٰ کا معاملہ باقی رہ گیا کہ ان کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا سلوک کیا۔ اسے انتیسویں فصل میں ملاحظہ فرمائیے۔

٭٭٭

 

 

 

 

عرب کے اہل کتاب سے لے کر خطبہ حجۃ الوداع تک

 

 

حضرت ابوبکر صدیقؓ کے زمانہ حج (۹ھ ) میں جناب علی بن ابی طالبؓ نیابتاً سورۃ براۃ کی جو آیتیں اعلاماً سنانے آئے تھے مدوح نے منیٰ میں یہ آیات سنانے کے بعداعلان فرمایا کہ نہ کافر کے لیے جنت میں جگہ(مقام) ہے نہ اس سال کے بعد کوئی مشرک حج ادا کرنے کے لیے بیت اللہ میں قدم رکھ سکتا ہے۔ نہ کوئی زائر برہنگی کی حالت میں کعبہ کا طواف کرنے کا مجاز ہو گا۔ اور جس کے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ایسا وثیقہ موجود ہو وہ آئندہ کی پابندیوں سے پوری طرح آزاد متصور ہو گا۔

اس اعلان پر مشرکین کو یقین ہو گیا کہ آج سے بتوں کی خدائی تسلیم کرنے کے لیے کوئی سبیل نہیں اگر ان میں سے کسی نے ایسا کیا تو اس کے خللاف اللہ اور اس کے رسو ل صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اعلان جنگ سمجھا جائے گا۔ اس ساعت تک عرب کے جنوبی گوشہ ین و حضر موت میں ایسے لوگ باقی رہ گئے تھے جو بت پرستی پر قائم تھے۔ ان کے سو ا حجاز اور اس کے ملحقہ گردو نواح میں خصوصاً عرب کے شمالی حصہ میں بسنے والے مشرکین اسلام قبول کر چکے تھے۔ اور یہ کہ ان جنوبی(علاقہ یمن کے) باشندوں میں بت پرستوں کے ساتھ نصاریٰ بھی ہنوز قدیم مذہب پر جمے ہوئے تھے۔

عرب کے ان علاقوں سے مشرکین کے وفود مدینہ آتے جو بطبیب خاطر اسلام قبول کرتے اور دین و دولت سے مالا مال ہو کر اپنے اپنے گھروں کو لوٹتے۔ بیشتر وفود کے سرداروں کو ان کے مناصب دنیوی پر بحال رکھا جاتاجس سے انہیں اسلام کی رواداری اور زیادہ متاثر کرتی۔

 

اہل کتاب اور بت پرستوں میں امتیاز

اہل کتاب (یہود و نصاریٰ) کے متعلق سورۃ براۃ کی آیات جو حضرت علیؓ نے حج ابوبکرؓ کے زمانے میں سنائیں مندرجہ ذیل ہیں :

قاتلوا الذین لا یومنون باللہ وبالیوم الآخر ولا یحرمون ما حرم اللہ ورسولہ ولا یدینون دین الحق من الذین اوتوا الکتاب حتی یعطوا الجزیۃ عن یدوھ صغرون ( ۹:۲۹)

’’اہل کتاب جن میں سے جن لوگوں کا یہ حال ہے کہ نہ تو خدا پر (سچا) ایمان رکھتے ہیں اور نہ آخرت کے دن پر نہ ان چیزوں کو حرام سمجھتے ہیں جنہیں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کی کتاب میں حرام ٹھہرادیا ہے۔ اورنہ سچے دین ہی پر عمل پیرا ہیں تو (مسلمانو!) ان سے بھی جنگ کرو، یہاں تک کہ وہ خوشی سے جزیہ دینا قبول کر لیں اور حالت ایسی ہو جائے کہ ان کی سرکشی ٹوٹ جائے۔ ‘‘

(تابہ آیہ) یا ایھا الذین آمنوا ان کثیرا من الاخبار الاھبان لیاکلون اموال الناس بالباطل ویصدون عن سبیل اللہ والذین یکنزون الذھب والفضہ ولا ینفقونھا فی سبیل اللہ فبشرھم بعذاب علیم یوم یحمی علیھا فی نار جھنم فتکوی بہا جباھھ وجنوبھم وظہورھم ھذا ما کنزتم لا انفسکم فذوقوا ما کنتم تکنزون (۹:۳۴:۳۵)

’’مسلمانو! یاد رکھو(یہودیوں اور عیسائیوں کے) علماء اور مشائخ میں ایک بڑی تعداد ہے جو لوگوں کا مال ناحق و ناروا کھاتے ہیں اور اللہ کی راہ سے نہیں روکتے ہیں۔ اور جو لوگ چاندی سونا اپنے ذخیروں میں ڈھیر کرتے ہیں اور اللہ کی را ہ میں خرچ نہیں کرتے تو ایسے لوگوں کو عذاب دردناک کی خوش خبریسنا دو (عذاب درد ناک کا وہ دن) جب کہ (ان کاجمع کیا ہوا) سونے چاندی کا ڈھیر دوزخ کی آگ میں تپایا جائے گا اور ان سے ان کے ماتھے ان کے پہلو اور ان کی پیٹھیں داغی جائیں گی (اور اس وقت کہا جائے گا) کہ یہ ہے جو تم نے اپنے لیے ذخیرہ کیا تھا سو جو کچھ ذخیرہ کر کے جمع کر تے رہے ا س کا مزا آج چکھ لو۔ ‘‘

بیشتر مسیحی مورخین سورۃ براۃ کی آیت متذکرہ الصدر کے مطابق اعتراض کرتے ہیں۔ کہ جناب محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اہل کتاب کے متعلق اب (آخر میں آ کر) ا س دستور کے خلاف حکم تو نہیں دیا جو سورہ برات نازل ہونے سے دو سال قبل آپ کا معمول تھا۔ بعض مستشرقین یہاں تک کھل کھیلے ہیں کہ آج سورہ براۃ کے نزول پر آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مشرکین اور عامل کتاب دونوں کو ایک صف میں لا کھڑا کیا ہے۔ یہی یہود و نصاریٰ ہیں جن کے بل بوتے پر جناب محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مشرکین پر غلبہ حاصل کیا تھا۔ جیسا کہ اپنی رسالت کے دور اول میں مسلسل کئی سال تک فرمایا کیے کہ آپ دین عیسوی اور مسلک موسیٰ و مشرب ابراہیمی اور ان انبیاء علیہ السلام کے طریق و تجدید تبشیر کے لیے مبعوث ہوئے ہیں جو ان سے قبل دنیا میں تشریف لائے۔ اس سے کچھ عرصہ کے بعد جب یہودیوں کی طرف سے عداوت ظاہر ہونے پر ان کا قلع قمع کر متوجہ ہوئے تو نصاریٰ ؤسے امداد حاصل کرنے کے لیے ان کے ایمان دوستی کی تعریف میں (آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر) یہ آیہ نازل ہوئی:

لتجدن اشد الناس عدواۃللذین امنوا الیھود والذین اشرکو ولتجدن اقربھم مودۃ للذین امنوا الذین قالو انا نصری ذالک بان منھم قسیسی ورھبانا وانھم لا یستکبرون (۵:۸۲)

’’(اے پیغمبرؐ) تم ایمان والوں کی عداوت میں سب سے زیادہ سخت یہودیوں کو پاؤ گے نیز (عرب کے )مشرکوں کو اور ایمان والوں کی دوستی میں سب سے زیادہ قریب ان لوگوں کو پاؤ گے جو کہتی ہیں کہ ہم نصاریٰ ہیں اس لیے کہ ان یمں پادری اور رہبان ہیں (یعنی عالم اور تارک الدنیا فقیر ہیں جو زہد و عبادت میں مشغول رہتے ہیں ) اور اس لیے ان مین گھمنڈ اور خود پرستی نہیں ‘‘۔

لیکن آج سے عیسائیوں کے ساتھ بھی وہی سلوک کیا جا رہا ہے جو کل تک یہودیوں کے ساتھ ہوا۔ بلکہ یہاں تک کہ نصاریٰ کو ان لوگوں کے درجہ پر لایا جا رہا ہے کہ جو نہ خدا کو مانتے ہیں نہ قیامت کو۔ یہی نصاریٰ ہیں کہ جب حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے مسلمان پیرو مکہ سے ہجرت کر کے حبشہ پہنچے تو ان کی عیسائی بادشاہ (نجاشی) نے اپنی سلطنت میں انہیں پوری آزادی کے ساتھ رہنے کی اجازت دی۔ انہی مسیحیوں کے نجرانی اور دوسرے دوسرے قبائل کو جناب محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے نہ صرف ان کے ساتھ سابقہ دین بلکہ رسومات پر بھی پہلے کی طرح عمل کرنے میں تعرض نہ کیا حتیٰ کہ ان میں جو جس کا منصب یا اعزاز تھا اسے بھی بحال رہنے دیا‘‘۔

 

نتیجہ بحث دوبارہ نصاریٰ

رسول خدا صلوات اللہ علیہ نصاریٰ کے اس حد تک احسانات کا شمار کرنے کے بعد ہم ان کے  ہم مسلک مستشرقین فرماتے ہیں کہ آج یہی نصاریٰ کے ساتھ حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا برتاؤ اس قدر مختلف ہو رہا ہے کہ جس سے مسلمانوں اور عیسائیوں کے درمیان دشمنی کی خلیج حائل ہو سکتی ہے جس کی بنا پر تابعین مسیح اور پیروان محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میں باہم یک جہتی کے امکانات اگر محال نہیں تاہم مشکل ضرور ہیں۔

 

ازروئے قرآن مسیح ابن مریمؑ کی منزلت

بظاہر مستشرقین کا یہ نقض ان لوگوں کے لیے سرمایہ تسکین ہو سکتاہیکہ جن کے سامنے مسئلہ کی دوسری حیثیت نہ ہو لیکن تاریخٰ تتبع کے ساتھ ان آیات قرآنی کی ترتیب اور ان کے اسباب نزول پر غور کیا جائے تو قطعیت سے کہا جا سکتا ہے کہ آغاز بعثت سے لے کر رحلت تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا موقف اہل کتاب (یہود ونصاریٰ) دونوں کے متعلق ایک ہی رہا ہے جس میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی۔

چنانچہ قرآن مجید کے مطابق مریم کا بیٹامسیحؑ اس کے کلمہ بشارت کا ظہور ہے جو مریم پر القا کیا گیا تھا اور مسیح ابن ریمؑ اللہ تعالیٰ کے بندے ہیں جس نے انہیں سراپائے نبوت عطا فرمایا اور وہ جہاں کہیں رہیں انہیں کے سبب برکت ٹھہرایا گیا اور انہیں ادائے نماز و زکوٰۃ کی تاکید فرمائی جب وہ دنیا میں رہیں اور اللہ ایک ہی ہے۔ نہ اس سے کوئی پیدا ہوا کہ نہ کوئی اس کے برابر ہے۔ اول یوم سے لے کر دنیا میں جہاں کی بقا تک اسی بنیاد پر اسلام کی روح قائم ہے۔ اور یہ روح اسی طرح ایک لمحہ کے لیے بھی اس سیمنفک نہیں ہو سکتی۔ جیسا کہ مسئلہ زیر بحث کے متعلق واضح ہے کہ مستشرقین کے مورد اعتراضات سورہ براۃ میں مشرکین کے ساتھ اہل کتاب کی تنبیہہ سے بہت پہلے کا واقعہ ہے جب کہ نجران کے عیسائی رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور مناظرانہ طریق پر آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے یہ سوال کیا کہ خیر عیسیٰؑ کی ماں تو مریم تھیں مگر ان کے باپ اسی واقعہ پر مندرجہ ذیل آیات نازل ہوئیں :

ان مثل عیسیٰ عند اللہ کمثل ادم خلقہ من تراب ثم قال لہ کن فیکون (۳:۵۹)

’’اللہ کے نزدیک تو عیسیٰؑ ایسا ہ ہے جیسے آدم مٹی سے پیدا کیا پھر اس کی بناوٹ کے لیے حکم فرمایا کہ ہو جاؤ اور جیسا کہ کچھ خدا کا ارادہ تھا اسی کے مطابق ہو گیا۔ ‘‘۔

الحق من ربک فلا تکونن من الممترین (۲:۱۷۲)

’’(اے پیغبر ! مسیح کے انسان ہونے کی نسبت جو کچھ کہا گیا ہے ) تو یہ تمہارے پروردگار کی طرف سے امر حق ہے (اور جو بات خدا کی طرف سے حق ہو وہ ثابت اور اٹل حقیقت ہے کبھی نہ مٹنے والی نہیں ) تو دیکھو! ایسا نہ ہو کہ شک و شبہ کرنے والوں میں سے ہو جاؤ‘‘۔

فمن حاجک فیہ من بعد ما جائک من العلم فقل قالوا ندع ابنائنا وانباء کم ونسائنا ونسا ء کم و انفسنا وانفسکم ثم نبتھل فنجعل لعنۃاللہ علی الکاذبین (۳:۶۱)

’’پھر جو کوئی تم سے اس بار ے میں جھگڑا کرے حالانکہ علم و یقین تمہارے سامنے آ چکا ہے تو تم اسسے کہو کہ میرے پاس مسیحؑ کے انسان ہونے کے لیے علم و یقین موجود ہے اگر تم بھی اس کی خدائی پر وایسا ہی علم و یقین رکھتے ہو تو آؤ (یوں فیصلہ کر لیں کہ) ہم دونوں فریق میدان میں نکلیں اور اپنے اپنے بیٹوں اور عورتوں کو بلائیں اور خود بھی شریک ہوں پھر عجز و نیاز کے ساتھ حضور خداوندی میں التجا کریں (ہم دونوں میں سے جس کا دعویٰ جھوٹا ہو) تو جھوٹوں پر خدا کی پھٹکار!‘‘۔

ان ھذا لھوا القصص الحق وما ممن الہ الا اللہ وان اللہ لھوا لعزیز الحکیم (۳:۶۲)

’’اے پیغمبرؐ! یہ جو کچھ بیان کیا گیا ہے بلاشبہ بیا ن حق ہے اور کوئی معبود نہیں مگر صرف اللہ کی ذات یگانہ اور یقیناً اسی کی ذات ہے جو سب پر غالب ہے (اور اپنے کاموں میں ) حکمت رکھنے والی ہے‘‘۔

فان تولو ا فان اللہ علیم بالمفسدین (۳:۶۳)

’’پھر اگر یہ لوگ (فیصلہ کا یہ طریقہ) قبول نہ کریں (اور مباحلہ سے گریز کر جائیں ) تو اللہ مفسدوں کا حال خوب جانتا ہے‘‘۔

قل یا ھل الکتاب تعالوا الیٰ کلمۃ سواء بینا وبینکم الا نعبد الا اللہ والا نشرک بہ شیئا ولا یتخذبعضنا بعضا اربابا من دون اللہ فان تولوا اشھدوا بانا مسلمون (۳:۹۔ ۶۴)

’’اے پیغمبر!) تم (یہود اور نصاریٰ سے) کہہ دو کہ اے اہل کتاب! (اختلاف و نزاع کی ساری باتیں چھوڑ دو) ا س بات کی طرف آ جاؤ کہ جو ہمارے اور تمہارے دونوں کے لیے یکساں طور پر مسلم ہے یعنی اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں کسی کی ہستی کو اس کا شریک نہ ٹھہرائیں ہم میں سے ایک انسان دوسرے انسان کے ساتھ ایسا برتاؤ نہ کرے گویا خدا کو چھوڑ کر اسے اپنا پروردگار بنا لیا ہے! پھر اگر یہ لوگ اس بات سے روگردانی کریں تو تم کہہ دو کہ گواہ رہنا کہ (انکار تمہاری طرف سے ہے) اور ہم خدا کے ماننے والے ہیں ‘‘۔

یہ آیتیں سورہ آل عمران میں سے ہیں جس میں ذات خداوندی نے نصاریٰ(بشمول یہود) ہر دو پر عتاب فرمایا کہ تم دوسروں کو بھی خدا پر ایمان لانے سے منع کرنے میں خدا سے نہیں ڈرتے ۱؎… اور…’’خود بھی اللہ کی آیتوں سے انکار کرتے ہو ۲؎۔ اور اسی طرح (سورہ ) آل عمران میں وہ احکامات بیان ہیں جو خدا کی طرف سے حضرت عیسیٰؑ و جناب موسیٰؑ اور ابراہیمؑ پر نازل ہوئے مگر یہود و نصاریٰ دونوں کے گٹھ جوڑ نے ان احکامات میں تحریف کر کے انہیں دنیوی اغراض کا آلہ بنا لیا اور جس طرح سورہ آل عمران ۳  ؎ میں یہ آیات ملتی ہیں اسی طرح قرآن مجید کی دوسری سورتوں میں بھی یہ احکام بکثرت پائے جاتے ہیں ازاں جملہ سورہ مائدہ میں !

لقد کفرالذین قالوا ان اللہ ثالث ثلاثۃ وما من الہ الا الہ واحد وان لم ینتھوا عما یقولون لیمسن الذین کفروا منھم عذاب الیم (۵:۷۳)

’’یقیناً وہ لوگ (حق سے) منکر ہوئے جنہوں نے کہا خدا تین میں ایک ہے۔ (یعنی باپ بیٹا اور روحالقدس) حالانکہ کوئی معبود نہیں مگر وہی معبود یگانہ۔ اور (دیکھو) جوکچھ یہ کہتے ہیں اگر اس سے باز نہ آئے تو ان میں سے جن لوگوں نے انکار کیا ہے انہیں عذاب دردناک پیش آئے گا‘‘۔

افلا یتوبون الی اللہ ویستغرونہ واللہ غفور رحیم( ۵:۷۴)

’’انہیں کیا ہو گیا کہ اللہ تعالیٰ کی طرف نہیں لوٹتے اور اس سے بخشش طلب نہیں کرتے حالانکہ وہ بخشنے والا رحمت رکھنے والا ہے‘‘۔

ما المسیح ابن مریم الا رسول اللہ قد خلت من قبلہ الرسل وامہ صدیقہ کانا یاکلا ن الطعام انظر کیف نبین لھم الایت ثم انظر انی یوفکون (۵:۷۵)

’’مریم کا بیٹا مسیحؑ اس کے سو ا کچھ نہیں ہے کہ اللہ کا ایک رسول ہے۔ اس سے پہلے بھی کتنے رسول ( اپنے اپنے وقتوں میں گزر چکے ہیں ) اورس کی ماں (بھی اس کے سوا کچھ نہ تھی کہ )صدیقہ تھی (یعنی بڑی ہی راست باز انسان تھی) یہ دونوں تمام انسانوں کی طرح کھاتے پیتے تھے۔ (یعنی غذا کی احتیاج رکھتے تھے اور یہ ظاہر ہے کہ جسے زندہ رہنے کے لیے غذا کی احتیاج ہو اس میں ماورائے بشریت کوئی بات کیوں کر ہو سکتی ہے) دیکھو کس طرح ہم نے ان لوگوں کیلیے دلیلیں واضح کر دیتے ہیں اور پھر دیکھو کہ کس طرف کو یہ لوگ پھرے ہوئے جا رہے ہیں۔ (کہ اتی موٹی سی بات بھی سمجھ نہیں سکتے)۔ ‘‘

سورہ مائدہ ہی میں یہ آیت بھی ہے:

اور پھر جب ایسا ہو گا کہ اللہ کہے گا اے

واذ قال اللہ یا عیسیٰ ابن مریم ء انت قلت للناس اتخذونی وامی الھین من دون اللہ قا سبحانک ما یکون لی ان اقول مالیس لی بحق (۵:۱۱۶)

’’مریم کے بیٹے عیسیٰؑ کیا تو نے لوگوں سے یہ کہا تھا کہ خدا کو چھوڑ کر مجھے اور میری ماں کو خدا بنا لو عیسیٰ جواب میں عرض کرے گا۔ تیرے لیے پاکی ہو۔ بھلا مجھ کو یہ بات کیسے ہو سکتی ہے کہ ایسی بات کہوں جس کا مجھے کہنے کا حق نہیں ‘‘۔

۱؎  بمطابق مفہوم مولف: قل یا اھل الکتاب لم تصدون عن سبیل اللہ من امن (۳:۹۹…م)

۲؎  و ایضاً بمطابق مفہوم مولف: یعنی قل یا ھل الکتاب لم تکفرون بآیت اللہ (۳:۹۸…م)

۳؎  بمطابق مفہوم مولف: یعنی قل امنا باللہ وما انزل علینا وما انزل علی ابراہیم و اسمعیل و اسحق و یعقوب والاسباط وما اوتی موسی و عیسیٰ الخ(۳:۸۴)

مسیحی مورخین سورہ مائدہ ہی کی آیات سے اپنے موافق یہ استدلال کرتے ہیں کہ اوائل میں تو حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نصاریٰ کے ساتھ حسن مراعات سے پیش آتے رہے جیساکہ سورہ مائدہ کی آیت سے ثابت ہے:

لتجدن اشد الناس عدواۃ للذین امنوا والذین اشرکوا ولتجدن اقربھم مودۃ للذین امنوا الذین قالو انا نصریٰ ذالک بان منھم قسسن ورھبانا وانھم لا یکستبرون (۵:۸۲)

’’(اے پیغمبرؐ ! ) تم ایمان والو ں کی عداوت میں سب سے سخت یہودیوں کو پاؤ گے۔ نیز (عرب) کے مشرکوں کو اور ایمان والوں کی دوستی میں سب سے زیادہ قریب ان لوگوں کو پاؤ گے جو کہتے ہیں کہ ہم نصاریٰ ہیں اس لیے کہ ان میں پادری اور رہبان ہیں (یعنی عالم اور تارک دنیا فقیر ہیں جو زہد و عبادت میں مشغول رہتے ہیں ) اور اس لیے کہ ان میں گھمنڈ و خود پرستی نہیں ہے‘‘۔

اب رہیں سورہ براۃ کی وہ آیتیں (م… جن میں نصاریٰ کو بشمول یہود جزیہ ادا کرنے کا پابند کر دیا یعنی:

یعظوالجزیۃ عن یدوھم صغرون (۹:۲۹)

تویہ عتاب ان کے حضرت عیسیٰؑ بن مریم پر ایمان لانے کی وجہ سے نہیں بلکہ ان کے شرک اللہ ایک دوسرے کا مال دھوکے سے بٹورنے سرایہ داری کی کثرت سے شکم کو دولت کا تندور بنانے اور خدا کی طرف سے حرام کردہ امور کو حلال کر لینے کی وجہ سے ہے جسے اسلام عیسوی دین کے خلاف اعلان جنگ سمجھتا ہے اور یہ ان لوگوں کا وطیرہ ہوسکتا ہے کہ جن کا نہ تو خدا پر ایمان ہو نہ آخرت پر۔

بایں تہذید انہی نصاریٰ کے حق میں اسلام کی رواداری اور حسن مراعات کا یہ عالم ہے کہ ان کی ایسی برائیوں کے باوجود اسلام نے انہیں نہ تو کامل ایمان کے زمرہ سے مطلقاً خارج کیا نہ ا ن کے ساتھ بت پرستوں کا سلوک روا رکھا (م…جن بت پرستوں کے خلاف اسلام نے

قاتلوا لذین لا یومنون باللہ ولا بالیوم الاخر ؎۱ (۹:۲۹)

سے اعلان جنگ فرما دیا) بلکہ اسلام نے تو ان (نصاریٰ) کے ان اللہ ثالث ثلثۃ (۵:۷۳) خدا تین میں ایک ہے پر عقیدہ رکھنے اور (م… انجیل کی تعلیم کے مطابق) خدا کی طرف سے حرام کردہ امور کو حلال کر لینے کے باوجود اعلان جنگ کی بجائے صرف ادائے جزیہ تک کا مکلف رہنے دیا۔

 

وفد کندہ

جیسا کہ اٹھائیسویں فصل سے نقل ہو چکا ہے کہ حج ابوبکرؓ کے موقع پر حضرت علیؓ کے اعلان اثر سے جنوب کے عرب قبائل جوق در جوق اسلام میں داخل ہو نے لگے اور مدینہ میں متواتر ان کے وفود آنا شروع ہو گئے۔ ان میں مشرکین اور اہل کتاب دونوں قسم کے لوگ شامل تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ان کی بیش از بیش تکریم فرماتے اور ان کے سرداروں کو ان کے سابقہ مناصب پر فائز رکھنے میں کوئی تامل نہ فرماتے۔

جب بنو کندہ کا وفد جس میں اسی افراد شامل تھے حاضر ہوا تو اس موقعہ پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مسجد میں تشریف فرما تھے ارباب وفد بڑے طمطرا ق کے ساتھ مدینہ میں داخل ہوئے۔ کندھوں پر لٹیں بکھری ہوئیں آنکھوں میں سرمے کی تحریر ریشمیں استر سے منڈھے ہوئے یمنی جفر کے پٹکے گلوں میں حمائل۔ انہیں دیکھتے ہی آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا:

کیا تم لوگ مسلمان نہیں ؟

۱؎  (مشرک…م) جو نہ خدا کو مانتے ہیں (جیسا کہ ماننے کا حق ہے) اور نہ آخرت کو ان لوگوں سے بھی لڑو۔

اشعت کندی:  یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کیوں نہیں ہم مسلمان ہیں۔

فرمایا:  مسلمان ہونے کے باوجود ریشمی استر کے پٹکے گلے میں حمائل کرنے کے کیا معنی ہیں ؟

ارباب وفد نے سنتے ہ پٹکے چاک کر کے پھینک دیے۔

امیر وفد اشعث بن قیس نے مزاحاً عرض کیا ہم لوگ بنی آکل المرار ہیں اور جناب ؐ بھی یہ سن کر آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مسکرا دیے اور فرمایا بنی آکل المرار ہوں گے تو عباس اور ربیعہ بن حارث ہوں گے میں بنی آکل المرار کیوں ہونے لگا ۱؎

 

وائل بن حجر اور معاویہ بن ابوسفیان

اس وفد میں کندہ ہی کے ایک نواب وائل بن حجر بھی شریک تھے۔ یہ حضرموت کے ساحلی شہر وں اور بستیوں کے سردار تھے مسلمان ہو گئے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں اس شرط کے ساتھ اس منصب پر فائز رکھا کہ اپنے زیر اثر علاقہ سے عشر(زکوٰۃ) وصول کر کے محصلین کو سونپ دیا کریں وائل نے منظور کر لیا۔

ان کے ہمراہ معاویہ بن ابوسفیان کو وہاں کے سلمانوں کی تربیت کے لیے بھجوا دیا۔ راستے میں معاویہ نے ان  سیان کی ردیف میں بیٹھ جانے کی درخواست کی۔ وائل نے ردیف میں جگہ دینا تو درکنار فرمایا کہ اگر دھوپ سے بچاؤ کے لیے میرے جوتے کی پوائی بھی طلب کرو تو مجھے گوارا نہیں۔ البتہ تم میرے اونٹ کے سایے میں چل سکتے ہو۔ معاویہ نے یہ تصور کرتے ہوئے کہ اسلامی تعلیم نے مسلمانوں میں اس قسم کے مراتب کا کوئی امتیاز نہیں رہے دیا حتیٰ کہ انہیں ایک دوسرے کا بھائی بھائی بنا دیا۔ وائل کی اس بے مہری کو نظر انداز کر دیا تاکہ ان کے ذریعے وہ اس کی قوم اسلام سے بہرہ مند ہو سکے۔

۱؎  اسلاف کندہ میں حرث بن عمرو تھے جن کی اہلیہ کا نام اناس بنت عوف سے لقب بنی آکل المرار منسوب ہے۔ مرار پیلو کا درخت ہے۔ بی بی ام اناس نے یہ کلمہ ایسے موقع پر استعمال کیا تھا کہ جس کی وجہ سیان کی عظمت میں چار چاند لگ گئے۔ ہوا یہ کہ قریش (مکہ) کے نانیہال میں کلاب بن مرہ کی ماں اسی خاندان حرث بن عمرو سے تھیں بنو کندہ کے خاندان میں کئی پشتوں سے بادشاہت تھی۔ عرب اپنے فخر کے لے ہر شے کا سہارا لیتے۔ حضرت عباسؓ بن عبدالمطلب اور ربیعہ کے باپ حارث دونوں عبدالمطلب ہی کے فرزند تھے لیکن جدی نسب ماں کی جانب سے بنو کندہ سے ملتا تھا۔ عبا س اور ان کے برادر زادہ ربیعہ بن حارث تجارت کے لیے نکلے اور کسی نے ان کا نسب دریافت یا تو انہوں نے اپنے فخر کی وجہ سیاپنی والدہ ام کلاب سے منسوب کرتے ہوئے نحن بنو آکل المرار بتا دیا اور  شدہ شدہ یہ بات تام ملک میں پھیل گئی۔ قریش مکہ کی عظمت کی وجہ سے بنو کندہ یمن کو بھی اپنے ساتھ ان کی نسبت پر فخر رہا تھا۔ یہ ہے پس منظر اشعث بن قیس کے عرض کرنے کا کہ یار سول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بنو کندہ اور قریش اکل المرار ہیں۔ لیکن رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم الخالق نسب کے معاملہ میں والدہ کی بجائے والد کے نسب کومناسب تصور فرماتے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا نحن نضر بن کنانتہلا نفقوا منا ولا ثقفی من ابینا (ہم قبیلہ بن و نضر کنانہ سے ہیں۔ ہمیں اپنا الحاق ماؤں کے نسب سے منظور نہیں کہ اپنے باپ کی نسبت کو ترک کر دیں اور نضر  کنانہ کے باپ ہیں ابن ہشام … م)

 

اہل یمن کی دینی تعلیم کے لیے معاذؓ کا تقرر اور ہدایات

یمن میں ہر طرف اسلام پھیل گیا اور رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے وہاں کے مسلمانوں کی تربیت سے عرض سے حضرت معاذؓ کی قیادت میں معلمین کا وفد روانہ فرماتے ہوئے امیر وفد کو تلقین فرمائی:

یسر ولا تعسر و بشر ولا تنفر وانک ستقوم علی قوم من اہل الکتاب یسئلونک مامفتان الجنۃ فقل شھادۃ ان لا الہ الا اللہ وحد لاشریک لہ

’’اے معاذ! سہولت مدنظر رہے کہ نہ سختی لوگوں کو اپنے ساتھ مانو س رکھنا مبادا انہیں خو د سے دور کر دو اور وہاں اہل کتاب سے تمہاری ملاقات ہو گی جو تم سے جنت کی کلید معلوم کرنا چاہیں گے تو انہیں جواب دینا کہ جنت کی چابی لا الہ الا اللہ ہے اور الہ وہ ہے جوس کا کوئی شریک نہیں ‘‘۔

رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت معاذؓ کے ہمراہ مسلمانوں کی ایک جماعت تعینات کر دی جو اہل یمن کی تربیت کے ساتھ ان کے مقدمات کا فیصلہ حکم خدا اور رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ کرے۔

جزیرہ عرب میں شمال سے لے کر جنوب اور مشرق سے لے کر مغرب تک اسلام پھیل چکا تھا۔ ملک کے تمام باشندے امہ واحدہ بن گئے جو ایک علم کے سائے میں رہنے لگے اور یہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا علم تھا۔ سب کا ایک دین اور ایک ہی اسلام تھا۔ سب سے دل ایک ہی رخ پر مائل۔ اور یہ رخ خدائے وحدہٗ لا شریک کی عبادت تھی۔

یہی قبائل ہیں جو آج سے بیس سال پہلے ایک دوسرے سے متنفر اور ایک دوسرے کے مال و آبروکے دشمن تھے مگر اسلام کے جھنڈے تلے آتے ہی ان کے دل میں بت پرستی نجاست دور ہو گئی۔ خدائے دو جہاں کی پرستاری کا جذبہ ابھر آیا اور باہمی عناد اور گلے شکوے ختم ہو گئے اور ایک دوسرے سے جنگ و جدل کی راہیں مسدود ہو گئیں۔ جس تلوار کی کا ٹ کا امتحان اہل وطن کے حلقوم پر ہوتا اب سے دشمنان وطن اور اعدائے دین کی شہ رگ پر ہونے لگا تھا۔

 

مابقی مسیحان نجران کا قبول اسلام

نجران کے عیسائیوں میں ایک ہی قبیلہ (بنو حارث) تھا جس کی اکثریت حلقہ بگوش اسلام ہو چکی تھی۔ مگر ایک حصہ ابھی تک اپنے قدیم مسلک پر قائم تھا، رسو ل خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے خالد بن ولیدؓ کو ان کی تلقین کے لیے مقرر فرمایا اور انہوں نے بھی اسلام قبول کر لیا۔ حضرت خالدؓ نے ان کا وفد آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے حضور مدینہ بھیجا۔ جس کی تکریم و تواضع رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بحسب عادت گرامی مروت و خندہ پیشانی کے ساتھ فرمائی۔

 

اور مابقی اہل یمن کا قبول اسلام

یمن میں بھی قبیلہ نخع ابھی تک اسلام سے بھاگ رہا تھا۔ انہیں غرور تھا کہ اسلام کا ظہور اس ملک (حجاز) میں ہوا ہے جو کل تک ان کا باج گزار تھا۔ اہل حجاز کا مذہب قبول کر لینا اہل یمن کھے نزدیک خود کو حجاز کاباج گزار بنانے کے مترادف تھا آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت علیؓ کو ایک سومسلمانوں کادستہ ان کیہمراہ کر کے یمن بھیجا۔ یہ لوگ بھیمقالہ پر اتر آئے مگر علی ابن ابی طالبؓ نے اپنی کم سنی کے باوجود انہیں بھگا دیا۔ وہ دوسری مرتبہ پھرسمت کر پلٹ پڑے اور صف بندی کر کے سامنا کیا۔ اس مرتبہ حضر ت علیؓ نے انہیں گھیرے میں لے لیا۔ محصورین نے عاجز آ کر ہتھیار ڈالنے کے ساتھ اسلام بھی قبول کر لیا اور اپنے حسن عمل و خلوس سے اسلا کا بول بالا کر دکھایا۔ وہ لوگ بھی حضرت معاذؓ اور ان کے رفقا کی تعلیم و تلقین سے مستفید ہوئے۔ یہ آخری وفد تھا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا (اس وفد کا عنوان وفد نخع ہے زرارہ بن عمرو نخعی اس وفد میں شریک تھے)۔

 

حج اکبر کا اہتمام

جس موقع پر علی بن ابی طالبؓ یمن سے مراجعت فرمائے مکہ ہوے کا اہتمام کر رہے تھے اسی وقفہ میں رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم حج اکبر کے انصرام میں مشغول تھے۔ اس سال کے اکثر مہینے نکل چکے تھے ذی قعد کا بھی دوسرا پند رواڑہ شروع ہو چکا تھا۔ اب تک آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حج اصغر یعنی عمرہ تو دو مرتبہ ادا فرما لیا تھا لیکن حج اکبر ادا کرنے کا شرف ابھی تک اتفاق نہ ہوا تھا یہ بھی پیش نظر تھا کہ خود تشریف لے جا کر مسلمانوں کو اعمال حج سے آگاہ فرمایا جائے۔

(آپ کے) اس عزم کا افشا ہوتے ہی یہ خبر تمام عرب میں پھیل گئی۔ صحرا کے بادیہ نشین پہاڑوں کی گھاٹیوں پر بسنے والے دیہات اور شہروں کے باشندے نزدیک و دور ہر طرف سے امنڈ کر مدینہ میں سمٹ آئے مدینہ سے باہر خیموں کا نیا شہر آباد ہو گیا۔ ایک لاکھ بلکہ اور زیادہ تعداد میں لوگ جمع ہو گئے جنہوں نے سلمانوں کی دعوت پر لبیک کہا تھا۔ یہی لوگ ہیں جو چند سال پہلے ایک دوسرے کے خون کے پیاسے تھے گر آج مودت و اخوت کے صدقے میں باہم بھائیوں کا سا برتاؤ کر رہے تھے۔ ہزاروں نو وارد مسلمانو ں کا مدینہ کی گلیوں میں مٹر گشت ہر بشر خند رو چہرے سے مسرت و خوشی آشکار جن کی باہمی محبت حق کی داد رسی اور نور اسلام کا پھیلاؤ کا باعث ہوئی اور باہم اس قدر متحد گویا کانھم بنیان مرصوص (۶۱:۴)

 

حج بیت اللہ کے لیے شدالرحال

ختم المرسلین صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ۵ ۲ماہ ذیقعدسنہ ۱۰ کے روز مدینہ سے حج بیت اللہ کے لیے شد الرحال فرمایا۔ تمام حرم مشایعت میں تھیں۔ سب سے آگے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی سواری تھی امہات المومنینؓ  اپنے اپنے ہودج میں تشریف فرما زائرین آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور امہات المومنینؓ  کے پیچھے پیچھے۔ ان کی تعداد ستر ہزار اور بروایت دیگر ایک الکھ دس ہزار منقول ہے۔ مسلمانو ں کے اس سفرکی محرک ان کی قوت ایمان تھی۔ خانہ خدا کی زیارت اور حج کی خوشی سے دل بلیوں اچھل رہے تھے ذوالحلیفہ (میقات اہل مدینہ… م) پر پہنچے  اور شب بھر قیام فرمایا۔ دوسرے روز نبوت مآب صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور تمام مسلمانوں نے احرام حج باندھا۔ ایک تہ بند اور ایک چادر سب کی پوشاک یکساں اور یک رنگ۔ گویا مساوات کا ایک نادر روزگار نمونہ پیش کیا۔

۱؎  وہ گویا ایک دیوار ہیں جس میں سیسہ پلا دیا گیا ہے۔

 

تلبیہ حج

رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم خلوص قلب سے رب العالمین کی طرف مائل تھے زبان سے تکبیرات حج ادا فرمائیں اورمسلمان بھی آپ کے ہم آواز ہوئے۔

لبیک اللھم لبیک لبیک لا شریک لک لبیک ان الحمد والنعمۃ والشکرک لبیک لبیک لا شریک شریک لک لبیک!

’’خداوند ہم تیرے حضور میں حاضر ہیں دل و جان سے تیرا کوئی شریک نہیں تو ہی حمد کا سزاوار ہے عطائے نعمت تیرے ہی کرم پر منحصر ہے۔ اور تیرے ہی حضور شکر واجب ! اے خدائے وحدہٗ لا شریک ہم تیرے حضور حاضر ہیں ‘‘۔

اس آواز سے دشت و صحرا گونج اٹھے۔ موجودات کے ذرہ ذرہ نے مسلمانوں کے ساتھ ہم آہنگی سے خدائے واحد کی ربوبیت کا اعتراف کیا۔ مدینۃ الرسول اور بیت اللہ (مکہ) کی درمیانی راہوں میں زائرین کوسوں میں پھیلے ہوئے ہیں۔ جہاں نماز کا وقت آ گیا سب مل کر حضور خداوندی میں سربسجود ہو گئے۔ تکبیر کی دل کش آواز سے اللہ کی اطاعت اور تشکر کا اظہار کیا۔ ہر شخص بے تابی کے ساتھ یوم حج کا منتظر کہ دیکھیں خانہ خدا کی زیارت کب نصیب ہوتی ہے۔ عرب کے دشت و جبل وادیاں اور نخلستان بھی اتنے بڑے مجمع پر حیران کہ آج تک اس نبی امی عبدہ و رسولہ کی سی بابرکت و پر بہار شخصیت دیکھنے میں نہیں آئی۔

 

حج عمرہ اور حل احرام

جب زائرین مقام سرف پر پہنچے جو مدینہ اور مکہ کے درمیانی راستہ پر واقع ہے تو رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ جس زائر کے ہمراہ قربانی کا جانور نہ ہو اس کے لیے صرف عمرہ کی نیت کرنا چاہیے اور جن حضرات کے ساتھ ہدی (قربانی ) موجود ہے ان کے لیے حج کی نیت واجب ہے۔

 

مکہ معظمہ میں

زائرین ذوالحجہ کی چوتھی تاریخ کو مکہ معظمہ میں داخل ہوئے۔ رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور آپ کے رفقاء نے زیارت کعبہ کے لیے سبقت فرمائی۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور تمام مسلمانوں نے حجر اسود کو مس فرمانے کے بعد بوسہ دیا۔ کعبہ کے سات طواف میں پہلے چار تیز قدمی اور مابقی تین طواف معمولی رفتار سے کیے۔ یہاں سے فراغ کے بعد کوہ صفا پر تشریف لائے اور صفا و مروہ کے درمیان سعی کرنے کے بعد اعلان فرمایا کہ جس زائر کے ساتھ ہدی نہ ہو وہ احرام کھول دے۔ مگر بعض حضرات نے تامل کیا جس پر رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے خشمگیں ہو کر فر مایا:

ما امر کم فافعلوہ

جو حکم میں دیتا ہوں تم پر اس کی تعمیل واجب ہے۔

اور برہمی کی حالت میں اپنے خیمہ میں تشریف لے گئے۔ ام المومنین حضرت عائشہؓ نے دریافت کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مزاج گرامی کس بات پر مکدر ہوا؟ فرمایا

مالی لا اغضب وانا آمر امراً فلا یتبع

’’مجھے کیوں غصہ نہ آئے؟ انہیں جو حکم دیتا ہوں اس کی تعمیل نہیں کی جاتی‘‘۔

صحابہؓ میں سے ایک صاحب حاضر ہوئے اور رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو خشمگیں پا کر عرض کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم آپ کو ناراض کرنے والے کو خدا تعالیٰ دوزخ میں جھونک دے گا۔ فرمایا آپ نے محسوس نہیں کیا کہ جو نہیں حکم دیا گیا ہے (یہ لوگ) اس کی تعمیل میں متامل ہیں اگر مجھے حج قرآن کی مشکلات کا اندازہ ہوتا تو میں ھدی کے جانور خرید کر ہمراہ نہ لاتا اور احرام کھول دیتا جیسا کہ صحیح مسلم میں مروی ہے۔

جب مسلمانوں کو آ پ کی برہمی کا علم ہو ا تو ایسے زائرین ندامت کے ساتھ احرام کھول دیے جن کے ہمراہ ھدی نہ تھیں۔ ازواج مطہراتؓ  اور رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی صاحبزادی فاطمہؓ  نے بھی احرام کھول دیا ما سوائے ان حضرات کے جن کے ہمراہ قربانی کے جانور موجود تھے۔

 

حضرت علیؓ  کی یمن سے مراجعت

اسی دوران میں جناب علیؓ یمن سے تشریف لے آئے اور جب انہوں نے سنا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم احرام حج زیب تن فرما رکھا ہے تو خود بھی اقتدائے رسول میں احرام حج باندھ لیا مگر جب فاطمہؓ کو احرام کے بغیر دیکھ کر (علیؓ  نے ) دریافت فرمایا تو سیدہؓ نے عرض کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے عمرہ کی نیت کرنے کا حکم دے کر احرام اتار دینے کا ارشاد فرمایا ہے اس پر ہم نے احرام کھول دیے۔

جناب علیؓ حضرت رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں باریاب ہوئے اور یمن کے حالت عرض کیے یہ گفتگو ختم ہو جانے کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے علیؓ سے کعبہ کا طواف کرنے اور دوسرے مسلمانوں کی مانند احرام اتار دینے کا ارشاد فرمایا علی بن ابی طالبؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم احرام باندھنے کے مواقع پر میں ان الفاظ میں نیت کر چکا ہوں۔

الھم انی اھل بما اھل بہ نبیک و عبدک ورسولک محمد

’’یا اللہ میرا تلبیہ ۲؎  انہی لفظوں میں ہے کہ جن سے تیرے نبی عبد اور رسول (جناب) محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا‘‘۔

جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دیکھا کہ علیؓ کے ساتھ ان کی ھدی نہیں تو ان کے الفاظ کی وجہ سے علیؓ کو اپنی قربانیوں میں شریک فرما لیا ار جناب علیؓ  بدستور محرم ہی رہے تا آں کہ مناسک حج کی تکمیل ہوئی۔

مناسک حج کی ابتدا

نویں ذوالحجہ (ترویہ ۱؎) کے روز منیٰ میں اپنے خیمے کے اندر تشریف لے آئے۔ اس دن کے معمولات عبادت ادا ؤفرمانے کے بعد شب کو خیمہ ہی میں قیام فرمایا۔ صبح ہوئی۔ نماز فکر ادا کی  اور آفتاب نکل آنے کے بعد اپنی ناقہ(قصوائ) پر سوار ہو کر میدان عرفات کا قصد فرمایا یہ ۹ ذوالحجہ ہی کا دن تھا۔ ایک لاکھ زائرین مشایعت میں ہیں عرفات نامی پہاڑی پر تشریف لائے تو سب مسلمان گرد و پیش بکھرے ہوئے ہیں ان میں بعض تلبیہ پکار رہے ہیں بعض تکبیرات۔

۱؎  تلبیہ بمعنی لبیک لبیک…م

۲؎  ترویہ بمعنی کلمہ اللہ اکبر اللہ اکبر لا الہ الا اللہ واللہ اکبر واللہ اکبر وللہ الحمد الحمد اور یہ کلمہ تین تین مرتبہ ایام حج میں آٹھویں ذوالحجہ کی نماز فجر سے لے کر ہر نماز کے بعد بآواز بلند بعد سلامم فرض پڑھنا۔ تابہ ماہ ذوالحجہ عصر تک۔ حاجی اورابلی دونوں کے لیے ہم اور اپ بھی اپنے اپنے ہاں اسی طرح ترویہ کہیں گے… م

آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے تلبیہ و تکبیر کہنے والوں میں سے کسی سے تعرض نہ فرمایا۔ عرفات کے شرقی سمت نمرہ نامی بستی میں آپ کی منشا کے مطابق خیمہ پہلے سے نصب تھا جس میں استراحت فرمائی۔ زوال شمس کے بعد ناقہ قصواء پر عرق گیر اور کاٹھی کسنے کا حک دیا۔ سوار ہو کر (میدان) عرفات کے وسط میں تشریف لائے اور سواری ہ پر بیٹھے ہوئے خطبہ با اواز بلند ارشاد فرمایا جس میں ہر جلہ کے بعد توقف فرماتے۔ اسی لمحے جناب ربیعہ بن امیہ(بن خلف) انہی الفاظ کا اعادہ(بآواز بلند) فرماتے۔

 

حج اکبر کا خطبہ

(حمد و ثنائے باری تعالیٰ کے بعد فرمایا)

یا ایھا الناس اسمعوا قولی فانی لا ادری لعلی لا القاکم بعد عامی ھذا بھذا الموقف ابدا!

’’اے لوگو! میں جو کچھ کہوں اسے غور سے سنو اور شاید آئندہ سال اور اس کے بعد پھر کبھی تم سے ملاقات نہ ہو سکے‘‘۔

 

انسانی جان کی حرمت

یا ایھا الناس ان دمائک و امواکم علیکم حرام الی ان تلقوا ربکم کحرمۃ یومکم ہذا و کحرمۃ شھر کم ھذا

’’اے لوگو! تم پر ایک دوسرے کی جان و مال تا قیامت حرام ہیں جس طرح آج کے دن اور اس مہینہ ذوالحجہ میں ایک دوسرے کی بے حرمتی نہیں کرتے‘‘۔

 

ادائے امانت

فمن کانت عندہ امانۃ فلیؤ دھا الی من ائتمنہ علیھا

“جس کسی کے پاس دوسرے کی امانت جمع ہو اس کے مالک کو لوٹا دی جائے”

 

سود کی حرمت

وان کل رباھو موضوع ولکن لکم روس اموالکم لا تظلمون ولا تظلمون قضی اللہ اللہ انہ لا ربا

’’آج سے ہر قسم کاسود ختم کیا جاتا ہے راس المال کے سوا نہ تم ایک دوسرے پر ظلم کرو نہ قیامت کے دن تمہارے ساتھ ظلم کیا جائے گا۔ خدا تعالیٰ ہی نے سود کو ممنوع فرما دیا ہے۔ ‘‘

وان ربا عباس بن مطلب موضوع کلہ

’’عباس کا جو دوسرو ں کے ذمہ واجب الادا ہے اسے موقوف کیا جاتا ہے‘‘۔

 

جاہلیت کے قتل و  جراحات پر خط تنسیخ

وان کل دم کان فی الجاھلیۃ موضوع وان اول دمائکم اضع دم ابن ربیعہ الحارث بن عبدالمطلب

’’جاہلیت کے مقتولین کا قصاص و دیت دونوں کالعدم قرار دی جاتی ہیں۔ سب سے پہلے میں بنو ہاشم کے (طفل) ابن ربیعہ بن حارث بن عبدالمطلب کے فرزند کا بدلہ اور دیت معاف کرتا ہوں ‘‘۔

 

عمل صالح جزو ایمان ہیں

اما بعد ایھا الناس کان الشیطان قد ئیس من ان یعبد بارضکم ھذا ولکنہ ان یطمع فیھا سوی ذلک فقد رضی بہ مما تحقرون من اعمالکم فاحذروہ علی دینکم

’’غورسے سنیے کہ اب عرب میں شیطان کی پرستش نہ کی جائے گی لیکن اس کی پرستاری کی بجائے اگر شیطان کی صرف اطاعت ہ کی گئی تب بھی وہ بہت خوش ہو گا۔ اسی لیے دینی امور میں شیطانی وساوس کو اپنے قریب نہ آنے دو‘‘۔

 

مذہب میں خارجی رسوم کا دخل منع ہے

ایھا الناس ان النسی ذیادۃفی الکفر یضل بہ الذین کفروا یحلونہ عاما ویحرمونہ عاما لیو اطؤا عدۃ ما حرم اللہ فیحلو ا ما حرم اللہ ویحرمو ا ما احل اللہ

’’اے لوگو ادب والے مہینوں کا غیر ادب واہلے دنوں سے ادل بدل کر دینا کفر ہے۔ جس میں مومن آلودہ نہیں ہوسکتا مگر کافر کا اس سے بچنا محال ہے۔ جو اس سال ان چار مہینوں یں ایک مہینہ آئندہ سال کے کھاتے میں ڈال دیتے ہیں اورآنے والے سال میں اسے بدستور اپنے محل پر رکھتے ہیں۔ یہ بھی خدا کی طرف سے حرام کردہ امور کو حلال کر لینا اور حلال شدہ امور کو حرام کر لینا ہے۱؎‘‘۔

وان الزمان قد استدار کھیۃ یوم خلق السموات والارض وان عدۃ الشھور عندا للہ اثنا عشر شھرا منھا اربعہ حرم ثلاثہ متو الیۃ ورجب مفرد الذی بین جمادی و شعبان

’’(اور دیکھو!) جب خدا نے ابتدامیں آسمان و زمین کو پیدا کیا تھا زمانہ پھر پھرا کر آج پھر اسی نقطہ پر آ گیا ہے چار ادب والے مہینے ہیں یعنی تین متواتر ہیں (از ذی قعدہ تابہ محرم اور ایک مفرد یعنی رجب کہ جمادی اولیٰ و آخریٰ اور شعبان دونوں کا درمیانی مہینہ ہے)

 

شوہر و زوجہ کے باہمی حقوق کا تحفظ

اما بعد ایھا الناس فان لکم علی نسائکم حقا وان لھن علیکم حقا لکم علیکم الا یوطئن فرشکم احدا تکر ہونہ

’’اس کے بعد مجھے بتانا ہے کہ زن و شوہر دو نو ں ایک دوسرے کے سامنے جواب دہ ہیں۔ ازاں جملہ یہ کہ کسی عورت کے لیے غیر مرد کو اپنے قریب کرنے کا حق نہیں ورنہ شوہر کے تن بدن میں آگ لگ جائے گی‘‘۔

۱ٍ؎  رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا یہ اشارہ سورہ توبہ کی آیت انماالنسی زیادۃ فی الکفر یضل بہ الذین کفروا یحلونہ عاما ویحرمونہ عاما لیواطؤ ا عدۃ اما حر اللہ فیحلو ما حرم اللہ (۹:۳۷) کی طرف ہے۔

 

اگر بیویاں فحش کا ارتکاب کر بیٹھیں

وعلیھن الا یا تین بفاحشہ مبینہ فان فعلن فان اللہ قد اذن لکم ان تھجرو ھن فی المضاجع و تضربوھن ضربا غیر مبرح

’’اور یہ کہ عورتوں کو بے حیائی کے ارتکاب سے مطلقاً کنارہ کش رہنا چاہیے۔ اگر ان سے یہ قصور ہو جائے تو ان کے شوہر انہیں بدنی سز ا دے سکتے ہیں مگر وہ سزا ضرب شدید کی حد کے قریب نہ پہنچ جائے‘‘۔

فان انتھن فلھن رزقھن و کسوتھن بالمعروفاسترضوا بالنساء خیرا فانھم عندکم عوان لا یملکن لا نفسھن شیئا وانکم انما اخذ تمو ھن بامانہ اللہ واستحللتم فروجھن بکلمات اللہ

’’اگر عورتیں ایسا لا ابالی پن چھوڑ دیں تو عام دستور کے مطابق ان کے خورد و نوش اور ان کے لباس کا پورا لحاظ رکھو اور ان کے معاملہ میں حسن سلوک سے ہاتھ نہ کھینچو۔ وہ تمہارے نکاح میں آ جانے سے تمہاری پابند ہو جاتی ہیں اور (ان معنوں میں ) اپنے نفس کی مالک نہیں رہتیں لیکن تم بھی خیال رکھو کہ آخر کلمہ ایجاب و قبول کے ساتھ ہی تو تم نے اللہ کی اس امانت کو اپنی تحویل میں لیا ہے اور انہی کلمات کے ساتھ انہیں خود پر حلال کیا ہے۔

فاعقلوا ایھا الناس قولی فانی قد بلغت وقد ترکت فیکم ما ان اعتصمتم بہ فن تضلو ا ابدا امر بینا کتاب اللہ وسنۃ رسولۃ

’’(اے لوگو) غور سے سنو جو کچھ میں تم سے کہہ رہا ہوں اس کی تبین کے لیے جو چیزیں چھوڑ ے جا رہا ہوں اگر تم اسے مضبوطی کے ساتھ پکڑے رہو گے تو کبھی ٹھوکر نہ کھاؤ گے وہ چیز بجائے خود نہایت واضح ہے اور وہ خدا کی کتاب اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی سنت ہے‘‘۔

ایھاالناس اسمعوا قوی واقعلو ہ تعلمن ان کل مسلم اخ للمسلم وان المسلمین اخوۃ فلا یحل لا مری ن اخیہ الا ما اعطاء عن طیب نفس منہ فلا تظلمن انفسکم انفسکم

’’اے لوگو میری بات گوش ہوش سے سنو ہر مسلمان دورے مسلمان کا بھائی ہے اور اس رشتہ کی وج سے کسی مسلمان کو دوسرے مسلمانبھائی پراس کی اجازت کے بغیر تصرف روا نہیں۔ ورنہ یہ ایک دوسرے پر ظلم ہو جائے گا‘‘۔

اللھم ھل بلغت

’’خداوندا تو سن رہا ہے کہ میں نے اپنا یہ فرض بھی ادا کر دیا‘‘۔

 

نیابت خطبہ

(خطبہ میں ) آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہر جملہ پر توقف فرماتے اور س وقفہ کی تکرار بآواز بلند ربیعہ کرتے۔ رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ربیعہ کو تاکید فرما دی کہ حاضرین کو ان کے طاب ذہن میں رکھنے کی تاکید فرما دیں۔ بعض جملوں پر آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ربیعہ سے فرماتے ہیں کہ وہ حاضرین سے اس کا جواب بھی طلب کریں مثلاً

سوال:  ھل تدرون ای یوم ھذا؟

تم لوگ جانتے ہو کہ یہ کون سا دن ہی؟

جواب:  یوم الحج الاکبر

یہ حج اکبر کا روز ہے۔

حاضرین کے ا س جواب پر فرمایا

ان اللہ قد حرم علیکم دمائکم واموالکم الی ان تلقوا ربکم کحرمۃ یومکم ھذا

’’اے لوگو ت پر ایک دوسرے کی جان اور اسی طرح مال ہر ایک تابہ قیات حرام ہے جیسا کہ آج کے دن اور اس مہینہ میں تم کسی قسم کی بے حرمتی نہیں کر سکتے‘‘۔

اس جملہ کے بعد فرمایا ’’اللھم بلغت‘‘ (خداوند تو سن رہا ہے کہ میں نے اپنا فرض ادا کر دیا) اور ہر طرف آوازیں بلند ہوئیں اللھم اشد (یا اللہ میں گواہی دیتا ہوں کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنا فرض ادا فرما دیا)

 

تکمیل دین کی بشارت

ارشاد خطبہ کے بعد قصوا ناقہ سے اتر کر زمین پر فروکش ہوئے تھوڑی دور پا پیادہ چلنے کے بعد ظہر و عصر دونوں اوقات نماز در صورت جمع عرفہ میں ہی ادا فرمائی۔ پھر ناقہ پر سوار ہوئے اور مقام صخرات میں نزول اجلال فرمایا جہاں یہ آیت تکمیل دین نازل ہوئی۔

الیوم اکملت لکم دینکم و اتممت علیکم نعمتی ورضیت لکم الاسلام دینا (۵:۳)

’’آج کے دن میں نے تمہارے لیے دین کو کامل کر دیا اور اپنی نصیحت پر تم پر پوری کر دی اور تمہارے لے پسند کر لیا کہ دین اسلام ہو‘‘۔

 

آیہ تکمیل دین پر حضرت ابوبکر کا گریہ

جناب صدیق ابوبکرؓ تکمیل دین و اتمام رسالت کو آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دنیا سے وفات یاب ہونے کا مترادف سمجھ کر گریہ فرمانے لگے۔

 

حج کے بقیہ اعمال کی تکمیل

ختم المرسلین صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے عرفات سے مراجعت فرمائے مکہ معظمہ سے ہوتے ہوء سر راہ مقام مزدلفہ میں منزل فرمائی۔ یہ شب بسر فرمانے کے بعد ادائے نماز فجر اور طلوع آفتاب کے درمیان جہاں سے شد الرحال فرمایا اور ا س راہ میں جمرہ پر رمی فرماتے ہوئے منیٰ میں اپنے خیمہ میں فروکش ہوئے۔

 

ذبیحہ قربانی

اور ذرا وقفہ کے بعد (دسویں تاریخ ہی کو) من جملہ ایک سو شتر کے جو مدینہ سے قربانی کے لیے ہمراہ لائے تھے تریسٹھ اونٹ اپنی طر ف سے اپنے سن مبارک کے ہر سال کے عوض میں ایک ایک کے حساب سے قربانی میں ذبح کے اور مابقی سینتیس شتر حضرت علیؓ نے ذبح کیے جس کے بعد مناسک حج کا آخری عمل موئے سر منڈانا رہ گیا اس سے فارغ ہو کر احرام کھول دیا۔

رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اس حج کو تین مختلف عنوان سے موسوم کیا گیا :

(الف ) حج الوداع:  بمعنی مکہ معظمہ اور بیت اللہ کے آخری زیارت کی وجہ سے۔

(ب)  حج البلاغ:  بمعنی اللہ کی جانب سے اس کے احکام کے آخری ابلاغ کی بنا پر، ۔

(ج)  حج اسلام :  بمعنی اس حج میں تکمیل دین کی بشارت بمطابق آیہ ۵:۳ کے باعث یعنی الیوم اکملت لکم دینکم الخ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم خداوند عالم کی جانب سے مبشر و منذر دونوں حیثیات سے مبعوث ہوئے تھے۔

٭٭٭

 

 

 

 

از علالت تابہ ارتحال

 

تکمیل مناسک کے بعد یہ لاکھوں زائرین اپنے اپنے گھروں کی طرف لوٹنا شروع ہوئے۔ ساکنان حضرت موت و یمن نے اپنے وطن کی راہ لی۔ یاران نجد اپنے ملک کی طرف گامزن ہوئے۔ تہامہ میں بسنے والے اپنے دیس کی ڈگر پر چل دیے اور خاتم المرسلین صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنے مدنی رفقا ء کی مشایعت میں مدینہ کی جانب مراجعت فرما ہوئے۔ یہاں پہنچ کر محسوس ہوا کہ اب سے جزیرہ نمائے عرب میں مسلمانوں کے لیے کوئی خطرہ نہیں تاہم عرب کے نواحی ممالک روم و ایران و شام و مصر و عراق کی طرف سے ریشہ دوانی کا خدشہ باقی ہے۔

اہل عرب کا یہ معاملہ طاہر ہے کہ ملک کے اطراف و اکناف میں بسنے والے فوج در فوج دین میں شامل ہو چکے تھے۔ وفود پے بہ پے مدینہ حاضر ہوتے اور اپنے قبول اسلام کا وثیقہ پیش کر کے علم اسلام کے سائے میں رہنے کی سعادتت حاصل کرتے یہ لوگ حجۃ الوداع میں بھی شریک تھے۔ رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے وفود کے سداروں کی ان کے قبائل کی سیادت میں رد و بدل نہ فرمایا۔ جیسا کہ بدھان ہے جو مملکت ایران کی طرف سے یمن کا گورنر تھا۔ جب اس نے اسلام قبول کر کے عرب کی وحدت کو قائم رکھا اور آتش کدہ پر پانی پھیر دیا تو رسو ل کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بدھان کو اس کے سابقہ نصب پر فائز رکھنے میں ادنیٰ سا تامل بھی نہ فرمایا۔ بلاشبہ ابھی تک خال خال ایسے بے مایہ اشرار کی طرف سے کوئی خطرہ نہ تھا۔ آپ کی سلطانی ملک بھر سے خراج وصول کر چکی تھی۔ عرب کے پشتینی بت پرستوں نے اصنام کی بندگی کی طر ف سے منہ موڑ کے خدائے حی و قیوم کے حضور سر نیاز جھکا دیا تھا اور ان کے دلوں میں اللہ الواحد القھار پر یقین  وا دغان بس چکا تھا۔

مدعیان نبوت کاذبہ

یہی وجہ ہے کہ خاتم المرسلین صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کسی مدعی نبوت کو در خود اعتنا نہ سمجھا۔ ایسے دعویداروں کی بود و باش بھی مدینہ منور سے بہت دور تھی۔ ان کے ادعا کہ وجہ یہ تھی کہ جونہی انہوں نے رسالت مآب صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بعثت کا چرچا سنا تھا اپنی نبوت کا سوانگ رچا کر نمودار ہو گئے ان مدعیان نبوت کی قبولیت کا دائرہ ان کے قبیلہ سے متجاوز نہ ہو سکا۔ ان کے دماغوں میں یہ سواد کھول رہا تھا کہ جس طرح قریش مکہ نے اپنے قبیلہ کے پیغمبر کی وجہ سے تمام عرب میں نام پیدا کر لیا ہے وہ بھی اپنے نبی کے جلو میں لک کے اندر شہرت حاصل کر لیں۔

نبوت کے ایسے مدعی اور ان کے قبیلہ دار اسلا کے مولد(مکہ)سے بعد مسافت کی بنا پر دین اور اس کی شہرت سے بے بہرہ تھے۔ انہیں یہ احساس نہ ہو سکا کہ اسلا جو تما ملک میں مقبول ہو چکا ہے اس کا مقابلہ کرنا آسان نہیں۔ حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس راہ میں جو صعوبتیں برداشت کیں ان کے چرچے ملک کے گھر گھر میں ہونے لگے اور ان مدعیان نبوت کاذبہ کے ذہن میں یہ بات نہ آ سکی کہ ایسے مصائب اور سختیوں کا تمحل پسر عبداللہ ؐ کے سوا کسی کے بس کی بات نہیں خصوصاً وہ بدنصیب جن کے اس دعویٰ کی بنیاد افترا و بہتان محض پر ہو، انہیں کیوں کر فروغ حاصل ہو سکتا ہے۔

 

طلیحہ (مدعی نبوت)

قبیل بنو اس کا سردار عرب بھر میں مشہور جنگ آزمودہ دلاور اور اپنے صوبہ (نجد) میں صاحب اقتدار و سیاست۔ بدنصیب اپنے نبیہونے کے وہم میں مبتلا ہو گیا جس پر مندرجہ ذیل اتفاقی حادثہ نے طلیحۃ کو اور بھی بہوت کر دیا۔ ہوا یہ کہ ہو اپنی قوم کے ہمراہ سفر میں تھا کہ راستے میں پان نہ ملنے کی وجہ سے سب کی جان لبوں پر آ گئی طلیحہ نے کہا کہ ذرا ہی دور پانی مل جائے گا اور اتفاق سے ایسا ہی ہوا جسے طلیحہ نے اپنی نبوت کا کرشمہ قرار دے کر اس پر تحدی سے قائم ہو گیا۔

طلیحہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی زندگی میں مسلمانوں کی طرف آنکھ اٹھا کر دیکھنے کی جرات نہ تھی۔ لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی وفات کے بعد وہ ان کے منہ لگنے سے باز نہ رہ سکا۔ حضرت ابوبکرؓ نے اس کی سرکوبی کے لیے خالد بن ولیدؓ کو بھیجا طلیحہ کو شکست کھا جانے کے بعد اس پر اسلام کی عظمت واشگاف ہو گئی۔  طلیحہ د ل و جان سے اسلام کا مطیع و منقاد ہو گیا۔ اور  اس پر اسی کا خاتمہ ہوا۔

 

مسیلمہ اور اسود عنسی (مدعیان نبوت)

یہ دونوں بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے عہد حیات میں اپنی اپنی نبوت کی بڑ ہانکتے رہے مسیلمہ نے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی طرف سے اپنا سفیر بھیجنے یں بھی کوتاہی نہ کی، جس کے ذریعے یہ خط بھیجا:

من مسیلمہ رسول اللہ الی محمد رسول اللہ ما بعد فانی قد اشرکت فی الامر معک وان لنا نصف الامر والقریش نصف الامرولیس قریش قوما یعدلون

’’یہ خط اللہ کے رسول مسیلمہ کی جانب سے محمد رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی طرف ہے مشتمل بر آنکہ میں اور آپ دونوں امر رسالت میں نصف نصف کے شریک ہیں اگرچہ قریش کی ذات سے عدل کی توقع نہیں کی جا سکتی‘‘۔

(خاتم الرسل صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی طرف سے)

بسم اللہ الرحمن الرحیم من محمد رسول اللہ الی مسیلمۃ الکذاب والسلام علی من اتبع الھدیٰ اما بعد فان الارض للہ یورثھا من یشاء من عبادہ و العاقبہ للمتقین

’’بسم اللہ الرحمن الرحیم یہ گرامی نامہ جناب محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی طرف سے ہے جو اللہ کے رسول ہیں بنام مسیلمہ کذاب سلامتی کا مستحق وہ شخص ہے جو صداقت کا پیرو ہو اور ملک سب اللہ کا ہے وہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے اس کا وارث بنا دیتا ہے۔ انجام بخیر پرہیزگاری پر ہے‘‘۔

مسیلمہ کے دو قاصد تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ اگر سفیروں کا قتل روا ہوتا تو میں انہیں زندہ نہ چھوڑتا۔

 

اسود عنسی کا حشر

صنعائے یمن کا جادوگر جو بدھان گورنر یمن کی وفات کے بعد اس صوبہ پر مسلط ہو گیا تھا اور جادوگری می ترقی کرتے کرتے اپنی نبوت کے وہم میں گرفتار ہو کر درپردہ اس کا پرچار شروع کر دیا۔ رفتہ رفتہ اسود عنسی نے اپنے ارد گرد ایسے سرپھروں کی کثیر تعداد جمع کر لی کہ جسے ہمراہ لے کر وہ جنوب کی سمت بڑھا اور یہاں کے مسلمان تحصیلداروں کو بھگا کر اس نے نجران کا رخ کر لیا۔ یمن کے مسلمان گورنر بازن کی وفات کے بعد اس کے صاحبزادے(شہر: اصابہ) اپنے باپ کے منصب پر فائز تھے اور اس وقت وہ نجران میں موجو د تھے۔ اسود نے انہیں شہید کر دیا اور ان کی بیوی کو اپنے حرم میں داخل کر کے ہمراہ لے گیا۔

اسود یہ سب کچھ کرتا رہا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس معاملہ کو زیادہ اہمیت نہ دی کہ یمن کے عمال حکومت کی طرف سے اس کی گرفتاری  یا قتل دونوں میں سے جو موقع آ جائے کا فرمان بھیج دیا لیکن ا س مہم سے قبل ہی باذان کے فرزند کی معصومہ بیوی نے اسود کو قتل کر کے اس کا قصہ پاک کر دیا۔

 

ازروئے قصاص مسیحی سلطنت روم کا تختہ الٹنے کی فکر

جب ختم الرسل صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم حج الوداع سے مراجعت فرمائے مدینہ ہوئے تب جنوب کی طرف سے اسلام کے خلاف کسی قسم کی چیری دستی کا اندیشہ نہ تھا کہ اس کے آخری خط تک ہر شخص مسلمان ہو چکا تھا۔ لیکن عرب کا شمالی حصہ یعنی شام اور روم جن میں ابھی تک عیسائی سلطنت کا طبل انا ولا غیری بجتا تھا ان کی طرف  سے ہر وقت دغدغہ تھا کہ مبادا سر اٹھا لیں اور موتہ کی طرح پھر مسلمانوں کو نرغے میں لے لیں۔ مسیحان روم و شام کے ذمہ ان کے مسلمانوں کا قصاس بھی تھا۔ ان ے ہاتھ سے حضرت زید بن حارثہؓ اور حضرت جعفر طیارؓ قتل ہوئے۔ خدا خدا کر کے خالد بن ولیدؓ کی جنگی تدبیر سے مسلمان عیسائیوں کے نرغیسے نکل کر واپس لوٹ آئے۔

جنگ موتہ کے موقعہ رپ رسو ل خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو ان مسیحی دشمنان اسلام سے یہ خطرہ بھی نہ تھا کہ مبادا عرب کے جلاوطن نصاریٰ جو فلسطین میں جا کر آباد ہو گئے ہیں اپنے یاران طریقت کے ساتھ ساز باز کر کے دوبارہ اپنے وطن لوٹنے کی حرص میں مبتلا ہو جائیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج سے قبل(تبوک کے موقعہ پر) جونہی رسو ل خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سنا کہ روم کے عیسائی سمانوں پر حملے کی تیاری کر رہے ہیں اپنے ہمراہ لشکر جرار لے کر تبوک کی طرف بڑھے۔ وہاں پہنچ کر معلوم ہوا کہ مسمانوں کی ہیبت سے گھبرا کر خود بخود واپس ہو گئے ہیں بایں ہمہ رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس مستقبل سے غافل نہ تھے کہ رومی نصاریٰ مسلمانوں کے خلاف ہر وقت آمادہ پیکار ہو سکتے ہیں جن کے ہم مشربوں نے مسلمانوں کے ہاتھوں بارہا مصیبتیں اٹھائیں ایک گروہ کو ان کی ہیبت سے مرعوب ہو کر تبوک سے اپنی فوجوں کو لوٹانا پڑا اور دوسرے طائفہ کو مسلمانوں ہی کی وجہ سے نجران چھوڑنا پڑا۔ اسی طرح عرب کے دوسرے حصوں سے عیسائیوں کے متعدد قبیلے جلاوطن ہوئے۔

 

جیش اسامہ بن زیدؓ

آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ان پیش بندیوں کا نتیجہ تھا کہ مسلمانوں کی حجۃ الوداع سے مراجعت کے بعد (قیا مدینہ کا) زیادہ عرصہ نہ گزرا تھا کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے شام پر چڑھائی کر نے کے لیے زیادہ سے زیادہ فوج جمع ہونے کا حکم جاری فرمایا جس میں مہاجرین اول تھے ان میں جناب ابوبکر و حضرت عمرؓ جیسے سر بر آوردہ روزگار بطور عسکری مگر لشکر کی سپہ سالاری اسامہ بن زیدؓ کو عطا ہوئی جن کا سن ابھی پچیس برس سے متجاوز نہ ہوا تھا۔ اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ذات پر مسلمانوں کا دل سے ایمان نہ ہوتا تو مہاجرین سابقین اور دوسرے ممتاز سحابہ کا اسامہؓ جیسے نوعمر کی سیادت کیوں کر گوارا ہو سکتی اسامہؓ کے تقرر میں رسالت مآب صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے نزدیک دو امر محرک تھے۔

(الف)  اسامہؓ  کو ان کے والد شہید زید بن حارثہؓ کا نائب بنانا تھا جو انہی نصاریٰ کے ہاتھوں اسی مقام میں قتل ہوئے تاکہ اسامہ کو ان کے والد کی شہادت کے صلہ میں نصرت کا فخر حاصل ہو سکے۔

(ب)  ریاست کے مہمات پر نوجوانوں کو متعین کر کے انہیں مصائب کے برداشت اور خطرات کا مقابلہ کرنے کا خوگر بنانا۔

 

نوجوان سپہ سالار کے لیے ہدایات

رسالت مآب صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے نوجوان سپہ سالار اسامہؓ کو تاکید فرما دی کہ فوج و پپائے ارض فلسطین کے اس نقطہ پر لے جائیں جہاں بلقاء و روم کی حدیں ملتی ہیں وہاں مورچہ بندی کیجیے اور اس مقام کے قریب جہاں دشمنوں نے ان کے والد کو قتل کیا تھا  اور یہ کہ خدا کے ان دشمنوں اور اپنے اعدا کو صبح کی تاریکی میں گھیر لیا جائے۔ اگر ضرورت پڑے تو ان کو آگ میں جھونکنے میں بھی کوتاہی نہ کیجیے اوراس اندازہ سے حملہ کیجیے کہ جس سے دشمن کو کانوں کا ن تک خبر نہ ہو اور ی کہ فتح ہونے کے بعد وہاں پر پڑے رہنے کی بجائے نصرت اور غنیمت کی بشارت کے ساتھ مدینہ واپس لوٹنے میں سبقت کی جائے۔

 

آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی اچانک علالت اور جیش اسامہ کا التواء

حضرت اسامہؓ نے لشکر کی کمان سنبھالی۔ مدینہ سے باہر مقام جرف پر فوجوں کی دیکھ بھال کر رہے تھے کہ اچانک رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی شدید علالت کی اطلاع پہنچی جس سے روانگی میں تعویق پیدا ہو ئی سوال یہ ہے کہ جس لشکر کی روانگی کا حکم رسالت مآب صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس شد و مد کے ساتھ فرمایا ہو اس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بیمار پڑ جائے کی وجہ سے تعویق یوں گوارا کر لی گئی۔

بات یہ تھی کہ شام کا طویل سفر اور جس میں دشوار گزار صحرا کو عبور کرنا نا گریز تھا اور قدم قدم پر ہلاکت کا خطرہ درپیش ادھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی شدید علالت اور ایسی گرانمایہ ہستی جو ہر مسلمان کے نزدیک اپنی جان سے زیادہ عزیز ہو مسلمانوں کے لیے آسان نہ تھا کہ ایسی حالات میں مدینہ چھوڑ دیں جب کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ایسی نازک حالت میں مبتلا ہوں جس کے الم ناک انجام کا پہلو نمایاں نظر آرہا تھا اور اس سے قبل اب تک رسالت پناہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم صرف دو مرتبہ علیل ہوئے تھے۔

(الف)  سنہ ۶ ھ میں بھوک کی شدت سے گھبرا کر طبیعت ناساز ہو گئی تھی جسے بعض مسلمانوں نے یہود کی طرف سے جادو پر محمول کر دیا۔

(ب)  خیبر میں یہودی عورت کی طر ف سے گوشت میں زہر ہی کی وجہ سے جس کے تدارک کے لیے آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو پچھنے لگوانے پڑے۔

مزید برآں یہ کہ آپ کے طرز معاشرت اوردوسروں کی تربیت صحت سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنی ذات گرامی اور اپنے پیروؤں کو امراض و علالت سے بچانے کے لیے کیا تعلیم فرماتے تقلیل غذا لبا س و طرز بود و باش میں سادگی معمولات زندگی کے ہر شعبہ میں بیش نظافت اور ستھرے پن کا اہتمام ہر نما ز کے وضو کی فرضیت تھی کہ اگر امت پر بار کا خطرہ نہ ہوتا تو شاید پنج وقتہ وضو کے لیے مسواک کا فرض ہو جانا جو منہ کی نظافت اور دانتوں کی صحت کے لیے صفائی کی پور ی طرح ضامن ہے کا امکان بھی تھا۔ یوں عبادت اور زندگی کے ہر تعم میں میانہ روی مقدم تصور فرماتے ہر شے کا لطف حاصل کرنے سے پہلے اس کی نظافت اور اس نعمت سے حاصل ہونے والی صحت کے نتیجہ میں خیال رکھتے۔ خواہشات نفس پامال کرتے ہوئے زندگی  اور کائنات کے ساتھ یہ ارتباط جس شخص میں ایسی صفات موجود ہوں ایسے اجسا گرامی تندرست اور علالت سے محفوظ کیوں نہ رہیں پھر اگر  ان جیسے حضرات کے اجسام طبعاً تنومند اور ان کے اعضاء  و جوارح پیدائشی طور پر قوی بھی ہوں تو بیماری ان سے ا ز خود بھاگتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جیسے سلیم الفطرت اور قوی الجثہ وجود گرامی کو مرض نے اس طرح گھیر لیا کہ تشخیص مرض محال ہو گئی تو آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دوست داروں صحابہؓ کا اس حد تک متاثر ہونا محال نہ تھا۔

انہی صحابہؓ کے سامنے آپ نے مسلسل بیس سال تک کیسے کیسے جان کاہ مصائب کا مقابلہ فرمایا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے لوگوں سے یہی تو کہا تھا کہ جن بتوں کی پرستش کے لیے تمہارے پاس صرف یہ دلیل ہے کہ تمہارے آباء بھی ان کی پوجا کرتے تھے ان سے منہ مور کے خدائے وحدہٗ لا شریک کی پرستاری کرو۔ آہ اس سیدھی اور بدیہی بات پر اہل مکہ نے وہ ظلم برپا کے کہ جن سے گھبرا کر آپ نے اپنے دوستوں کو وطن سے کالے کوسوں دور حبشہ چلے جانے کا حکم دیا۔

یہی نہیں بلکہ قریش مکہ کے دست تظلم نے آپ کو مسلسل تین برس تک شعب ابو طالب میں دھکیل دیا ستم بالائے ستم یہ کہ انہی قریش کے مظالم سے تنگ آ کر بیعت عقبہ کی تکمیل کی امید میں یثرب منتقل ہو جانے کے لیے مجبور ہو گئے جس کا سفر ایسے پر خطر اور اتنے ہولناک موسم میں ہوا کہ جب قدم قدم پر تپش سے ہلاکت کا خطرہ اور عقب سے قریش کی دوش کا خوف تھا۔ پھر یہ نہیں معلوم کہ یثرب جا کر کیا پیش آئے جہاں یہود جیسے ہزار شیوہ سرمایہ دار چھائے ہوئے ہیں۔

اور جب مدینہ میں اقامت گزیں ہونے کے بعد (نصرت الٰہی سے) قبائل عرب جوق در جوق مسلمان ہونا شروع ہو گئے تو جن نوواردان اسلام میں ابھی چند ہی ایسے بہادر تھے کہ جن کی ہمت اور دلاوری پر بھروسا کیا جا سکتا لیکن مقابلہ جتھی بند قریش اور ان کے ازلی بھگت جنہوں ں ے ایک ایک سا ل میں کئی کئی مرتبہ مسلمانوں کے خلاف جنگ کے شعلے بھڑکائے۔ ان لڑائیوں میں بعض غزوات پر ایسے روح فرسا حوادث سے دوچار ہونا پڑاکہ اگر یہی صدمات کسی نوجوان پر وارد ہوں تو اسے بوڑھا کر دیں۔

غزوہ احد ہی کے تو بر تو صدمات پر نظر ڈالیے جس میں ایک دفعہ پرمسلمانوں کے قدم ہی اکھڑ گئے تھے اور خاتم الرسل صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم وادی سے پہاڑ پر پناہ لینے پر مجبور ہو گئے مگر حملہ آور قریش نے یہاں بھی تعاقب نہ چھوڑا۔ آہ دشمنوں کے پتھراؤ کے سامنے کے دو دانت اسی حادثہ میں شہید ہوئے۔

وہ غزوہ حنین کی ہولناکی الامان و الحفیظ ہنوز پوری طرح صبح نہ چھٹکی تھی کہ دشمن نے تیروں کی بوچھاڑ کر دی جس کی تاب نہ لا کر مسلمان بھاگ نکلے۔ یہ منظر دیکھ کر ابوسفیان جیسے معرکہ آزمودہ مدبر نے کہا ان کے طور طریقوں سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ سمندر سے ادھر نہیں رک سکتے۔

ایسے نازک موقع پر بھی رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ثبات و استقلال کا یہ عالم کہ اپنے قدموں سیسرمو پیچھے نہ ہٹنے دیا اور اپنے پیروؤں کو بار بار پکارتے رہے کہ اے تم لوگ کہاں جا رہے ہو؟میں موجود ہوں۔ جس پر مسلمان میدان میں واپس لوٹ آئے اور بالآخر فتح یاب ہوئے!

 

بار نبوت کے شدائد

ان ظاہری مصائب کے ماسوا وحی و نبوت کا دشوار ترین سلسلہ جس کا ایک حلقہ کائنات اور اس کے اسرار سے منسلک اور (سلسلہ وحی نبوت کا) آخری حلقہ ملائے اعلیٰ سے پیوست اضداد کے نبھانے کی دشواریاں جس پر نبوت مآب ہی نے فرمایا:

شیبنی ھود و اخوا تھا ؎۱

’’مجھے تو سورہ ہود اور اس کے نظائر نے قبل از وقت بوڑھا کر دیا‘‘۔

یہ حوادث ایک ایک کر کے مسلمانوں کی نظر سے بھی گزرتے رہے مگر کبھی کسی نے رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ہمت و ثبات میں لغزش نہ دیکھی نہ ان میں سے کسی حادثہ کی وجہ سے آپ پر کسی مرض کا اچانک حملہ ہوا۔ مگر جب تمام شدائد گزر جانے کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم صاحب فراش ہوئے تو اس علالت پر آپ کے پیروؤں اور دوست داروں کا اس حد تک متاثر ہونا محال قرار دیا جائے کہ جس لشکر کو رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہی کے ارشاد پر شام کی طرف جانے کے لیے رخصت کیا جائے اور جب وہ لشکر مدینہ سے چند میل کی مسافت مقام جرف پر پہنچے تو رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی اچانک اور شدید ترین علالت کی خبر سن کر اس لے روانگی میں تعویق کر دے کہ اب ذات کبریا کی طرف سے کیا ظہور میں آتا ہے۔

۱؎  اس پوری حدیث یں سورہ ہود کے ساتھ سورہ الحاقہ و واقعہ و عم یستاعلون ار ھل اتاک حدیث الغاشیہ بھی ہیں اس حدیث میں لفظ شیب بڑھاپا کی شرح میں بعض حضرات فرماتے ہیں کہ سبب شبیۃ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم من ھذا السورۃ المذکورہ فی الحدیث لما فیھا من ذکر القیامۃ والبعث والجنۃ والحساب والنار (تفسیر خازن در ضمن سورہ ہود) یہ کہ ان سورتوں میں حشر و نشر اور حساب و بہشت اور دوزخ کا مذکور ہونے کی وجہ سے ایسا فرمایا …م۔

 

علالت کی شب اول میں گورستان جنت البقیع میں تشریف آوری

علالت کی پہلی شب میں عجیب اتفاق پیش آیا۔ شدت مرض سے دماغ ماؤف ہو گیا اور آنکھوں سے نیند غائب ہو گئی۔ گرمی کا موسم تھا۔ اس پر باد نسیم کے خوشگوار جھونکے شہر سے باہر کھلے میدان میں تشریف آوری کا رجحان بڑھ گیا۔ اپنے خدمت گار ابو مویہبہ کو شایعت میں لے کر دولت کدہ سے باہر تشریف لائے۔ معلوم ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کس جانب کا رخ فرمایا: گورستان بقیع میں تشریف لائے جو شہر (سے باہر) مسلمانوں کی آخری آرام گاہ ہے۔ جس کے وسط میں آ کر اہل قبور سے ان لفظوں میں خطاب فرمایا:

السلام علیکم یا اھل المقابر لمھنی لکم ما اصبحتم فیہ ممااصبح الناس فیھا اقبلت الفتن کقطع اللیل امظلم یتبع آخڑھا اولھا ولآخرۃ شر من الاولی

’’اے اصحاب قبور تم پر سلامتیہو جو بھی تمہاری حالت ہے اس پر خوش رہنے سے جی نہ چراؤ۔ یہ سب کے ساتھ یکساں ہے۔ ‘‘

’’دیکھو فتنے اس طرح تو بہ تو چلے آ رہے ہیں جیسے اندھیری رات میں تاریکی کے پردے۔ ایک کے بعد دوسرا اور دوسرے کے بعد تیسرا جن میں ہر دوسرا پردہ اپنے پہلے سے زیادہ خوفناک ہے‘‘۔

اس روایت میں (جناب) ابو مویہبہ (غلام ) نے بھی فرمایا کہ جب وہ (آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی مشایعت میں ) بقیع کے قریب پہنچے تو آپ نے فرمایا:

انی امرت ان استغفر لا ھل ھذا البقیع فانطلق معی

’’بقیع میں مدفون موتی کے لیے مجھے دعائے مغفرت پیش کرنے کا حکم فرمایا گیا ہے اے ابو مویہبہ تم بھی میرے ہمراہ گورستان تک چلو‘‘۔

اور جب اس دعا کے فارغ ہوئے تب ابو مویہبہ سے فرمایا:

انی قد اوتیت مفاتیح خزائن الدنیا والخلد فیھا ثم الجنۃ فخیرت بین ذالک ولقاء ربی والجنۃ

’’اللہ نے مجھے دنیا کے خزانے اور زنگدانی جاوید ہر وہ یا ان کے مقابلہ میں جنت! کسی ایک پہلو کے پسند کرنے کا اختیار فرمایا مگر میں نے اس دنیا کے خزانوں اور دائمی حکات کے مقابلہ میں اپنے رب کی ملاقات اور جنت پر اکتفا کر لیا ہے‘‘۔

جس شب میں آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے گورستان بقیع میں موتی کے لیے دعا فرمائی اس شب کی صبح کو مرض نے اور شدت اختیار کر لی۔ مسلمان گھبرا  اٹھے اور جیس اسامیہؓ بھی اس افراتفری میں جہاں (مقام جرف میں ) تھا وہیں پڑا رہا۔

اس سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ بعض مورخین ابو مویہبہ کی روایت کو شبہ کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ ایسے حضرت کا اعتراض یہ ہے کہ جیش اسامہؓ کا سبب آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی علالت نہ تھی بلکہ اکابر مہاجرین و انصار اسامہؓ  کی نو عمری کی وجہ سے ان کی قیادت پر خفا تھے۔ ایسے مورخین کے پیش نظر وہ واقعات ہیں جو فصل ہذا میں قارئین کے ملاحظہ سے گزر چکے ہیں۔ کہنا یہ ہے کہ اگر ہم ایسے مورخین کی (اس) رائے پر تنقید نہ کریں جس (رائے) کا مبنیٰ ابو مویہبہ کی روایت ہے تب بھی جیش اسامہ کے اسباب کے توقف کو توجہ کا مرکز قرار دینا نامناسب ہے ماسوائے اس ایک وجہ تعویق کے رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا شب کے وقت گورستان بقیع میں تشریف لا کر موتی کے لیے دعائے مغفرت کرنا محض اس بنا پر تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اپنی وفات کے قریب تر ہونے کا احساس ہو چکا تھا جسے ایسے مورخ نظر انداز کر رہے ہیں۔

دور حاضرہ میں روحوں کے ساتھ مکالمہ کا جو دروازہ کھل گیا ہے اس علم کے موجد اور عامل ہر دو فریق روحوں کے ساتھ باتیں کرنے کے بعد دوسروں کو بتاتے ہوئے اعتراف کرتے ہیں کہ روحوں سے مکالمہ کا ادراک مکالمہ کرنے والوں کی روحانی قوت پر مبنی ہے۔ یہ عاملین یہاں تک دعویٰ کرتے ہیں کہ مردہ لوگوں کو روحوں کے ساتھ ایک دوسرے سوالات ہی نہیں بلکہ اس سے زیادہ مکالمات بھی ممکن ہیں ظاہر ہے کہ یہ مکالمات زندہ انسانوں کے ہیں مردہ لوگوں کی روحوں کے درمیان اور معمولی طریق پر نہیں بلکہ ان مکالمات جہاں ماضی ومستقبل دونوں ڈانڈے مل جات ہیں وہاں زمان و مکان بھی حائل نہیں رہتے۔

بایں ہمہ ابھی تک اس علم کے جاننے والے دوسروں کے سامنے علم الارواح کو ایسے واضح طریق پر بیان کرنے سے قاصر ہیں جسے ہر درج کا انسان سمجھ سکے۔ جب موجودہ دور تمدن کی دریافت کا یہ حال ہے کہ ہمارے سامنے اس علم کے مدعی موجود ہیں جن کی تحقیق کی تصدیق دوسرے ارباب علم و تنقید نے بھی کر دی ہو لیکن جس علم کی ہمہ گیری و پذیرائی کی یہ حالت ہو جو اوپر بیان کی گئی ہے تو پھر ہمارے اس انکار کی کیا وجہ ہے جو ابو مویہبہ روایت کرتے ہیں ؟ اگر ان کی روایت کو تسلیم کر لیا جائے کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم معنوی اور روحانی ہر دو لحاظ سے دوسروں سے زیادہ اسرار کائنات سے آگاہ تھے اور یہ حقائق مقابلہ آپ سے کہیں زیادہ منکشف ہو سکتے تھے تو یہ اعتراف کرنا ہی پڑے گا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے لیے قبل از وقت اپنی وفات پر آگاہی حاصل کرنا مشکل نہ تھی۔

 

حالت مرض میں ام المومنین صدیقہؓ کے ساتھ مزاح

شب مذکور کے دوسرے روز رسالت مآب صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے المومنین عائشہؓ کی طرف دیکھا کہ سر پکڑے ہوئے درد سے کراہ رہی ہیں بار بار ہائے میرا سر ہائے میرا سر زبان پر آ رہا ہے۔ حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مرض کی شدت سے نڈھال ہوتے جا رہے تھے مگر حضرت عائشہؓ  کو اس حال میں دیکھ کر فرمایا:

بل انا واللہ یا عائشہ و اراساہ

’’بی بی میں بھی درد سے بے حال ہوا جا رہا ہوں ‘‘۔

بیشک آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے درد و کرب کا یہی عالم تھا لیکن ابھی تک بستر علالت پر گر جانے کی نوبت نہ آئی تھی نہ مرض اس حد تک پہنچا تھا کہ اپنے اہل و ازدواج سے لطف و فکاہات کا دامن سمیٹ لیں یہی وجہ ہے کہ جب ام المومنینؓ  حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے کراہنے کی آواز سننے پر بھی اپنا واویلا نہ روک سکیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مزاح کے طور پر فرمایا:

وما ضرک لومت قبلی فقمت علیک و کفنتک وصلیت علیک ودفنتک

’’بی بی ! اگر ایسا ہی ہو جائے تو تمہیں کیا گھاٹا ہے؟ میں خود تمہاری تجہیز و تکفین کر کے تمہاری میت پر دعا پڑھ کر تمہیں دفن کروں گا‘‘۔

ام المومنینؓ جنہیں اپنی نوعمر ی کی وجہ سے ابھی اور زندہ رہنے کی تمنا تھی اور اپنی ضرب المثل حاضر جوابی کی بدولت اپنے گرامی منزلت شوہر کے مزاح کا جواب مزاح میں عرض کرنے پر مائل، عرض کیا:

لکن ذالک حظا غیری واللہ لکانی بک لو قد فعلت ذالک لقد ذالک جعت الی بیتی فاعرست فیہ ببعض نسائک

’’آپ کی خواہش تو یہی ہو گی کہ جس طرح ہو سکے مجھے سپرد زمین کر دیں اور دولت خانہ پر تشریف لا کر میری نوبت میری کسی سوت کو ہبہ فرما دیں ‘‘۔

رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنے حرم کے جواب میں تبسم فرما کر خاموش ہو گئے۔ شدت مرض کی وجہ سے بھی کسی قسم کی گفتگو کو طول دینا مناسب نہ تھا۔

 

جملہ حرم پاک کی طلبی اور حضرت عائشہؓ کے ہاں قیام کی تحریک

کچھ دیر بعد افاقہ محسوس ہوا تو سابقہ معمول کے مطابق تمام حرم کے ہاں قدم رنجہ فرمانے کا ارادہ ہو گیا لیکن مرض ہے کہ لمحہ لمحہ شدت اختیار کر رہا تھا۔ ام المومنین میمونہؓ کے ہاں تشریف لائے ہی تھے کہ تکلیف سے گھبرا اٹھے اور اپنے لیے تیمار داری کے بغیر مفر نہ دیکھا۔ تمام ازواج کو حضرت میمونہؓ کے ہاں بلا کر فرمایا مجھے عائشہؓ  ہی کے ہاں رہنے کی اجازت دی جائے۔

حرم پاک نے بصدق قلب تسلیم کر لیا۔ حضرت علی بن ابی طالبؓ اور اپنے عم زاد عباسؓ  دونوں کے کندھوں پر ٹیک لگائے ہوئے میمونہؓ کے ہاں سے عائشہؓ  کے حجرہ میں تشریف لے آئے۔ بے چینی اور نقاہت کی شدت سے سر پر پٹی بندھی ہوئی تھی۔ اور قدم لڑکھڑا رہے تھے۔

 

مسجد میں تشریف آوری

علالت نے ابتدائی دنوں میں بلا کی شدت اختیار کر لی جیسے رواں رواں حرارت کا سوتا بن گیا ہو، لیکن تپ میں کمی واقع ہوتے ہی مسجد میں تشریف نماز پڑھائی اور اسی طرح ایک سے زیادہ دنوں تک نمازیں پڑھاتے رہے۔ مگر مسجد میں ہونے والی کسی گفتگو میں شرکت نہ فرمائی، نہ صحابہ سے کسی قسم کا خطاب فرمایا۔ دوسروں کی با ت چیت سمع عالی تک پہنچتی رہ جس میں یہاں تک سننے میں آیا کہ آخر رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کیا مصلحت دیکھی جو شام کی مہم پر ایک کم سن نوجوان کو اکابر مہاجرین و صحابہ پر سپ سالار نامزد فرما دیا جوں جوں مرض ترقی کرتا گیا اسامہؓ کی تقرری کے بارے میں مسلمانوں کو تنبیہ کرے کا احساس بڑھتا گیا۔ حرم اور متعلقین کو حکم دیا کہ سات کنوؤں سے علیحدہ علیحدہ پانی کے ساتھ برتن منگوا کر یہ پانی آپ کے بدن پر ڈالا جائے۔ غسل کے دوران فرمایا کہ بس بس ۱ غسل سے فارغ ہو کر پوشاک زیب تن فرمائی اور سر سے پٹی باندھ کر (مسجد میں )منبر پر تشریف فرما ہوئے۔ خطبہ ارشاد فرمایا جس میں حمد و ثناء اور شہدائے احد کے لیے دعائے مغفرت کے بعد فرمایا:

یا ایھا الذین انفذوا بعث اسامۃ فلعمری لئن قلتم فی امارتہ لقد قلتم فی امارۃ ابیہ من قبلہ وانہ لخلیق کلا مارۃ وان کان ابوہ لخلیقا لھا

’’دوستو! اسامہ کے منصب پر اعتراض نہ کرو! قسم بجان خویش آج جو تم اساہ کی امارت پر حرف گیری کر رہے ہو اسامہ کے والد کی امارت پر بھی تم اسی طرح نکتہ چینی کرتے رہے لیکن اسامہ اسی طرح امارت کے لیے خلق ہوا ہے جس طرح اس کے والد زید امارت کے لیے خلق ہوئے تھے‘‘۔

 

خطبہ میں اپنی وفات کا اشارہ اور ابوبکرؓ کا گریہ و بکا

رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ذرا دیر کے لیے خاموش ہو گئے پھر فرمایا:

ان عبدا من عباداللہ خیرہ اللہ بین الدنیا والاخرۃ وبین ما عند فاختار ما عندہ

’’اللہ نے اپنے بندے کو اختیار  دیا ہے کہ وہ دنیا و عقبیٰ اور خدا کی نعمت دونوں میں سے کسی چیز کو اپنے لیے منتخب کر لے مگر اللہ نے اس بندے نے خدا کی ملاقات کو ترجیح دی ہے‘‘۔

یہ فرمانے کے بعد (رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) پہلے کی طرح پھر خاموش ہو گئے اور حاضرین بھی۔ ابوبکرؓ بات کی تہہ تک پہنچ گئے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تو اپنے ہی متعلق فرما رہے ہیں آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم دنیا چھوڑنے کو ہیں۔ یہ نتیجہ تھا کہ حضرت ابوبکرؓ کے اس وجدان کا جو انہیں آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی صداقت کے بارے میں ازل سے ودیعت تھا۔ ابوبکرؓ دھاڑیں مار مار کر رونے لگے اور عرض کیا

بل نحن نفدیک بانفسنا وابناء نا

’’اے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہماری جانیں اور اولاد نثار ہو جائیں آپ ہمیں یہ کیسی سناؤنی سنا رہے ہیں ؟‘‘

آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ابوبکرؓ  کے اس تاثر سے محسوس فرمایا کہ مبادا یہی جذبہ دوروں کو بھی گریہ و بکا میں مبتلا کر دے۔ ابوبکرؓ کو تلقین کرتے ہوئے فرمایا کہ مسجد میں جن لوگوں کے گھروں کے دروازے ہیں ابوبکرؓ کے گھر کے سوا سب کے دروازے موند دیے جائیں۔ اور ایک لمحے  بعد منبر سے اترتے ہوئے فرمایا۔

انی لا اعلم احدا کان افضل فی الصحبۃ عندی یدا منہ وانی لوکنت متخذا من العباد خلیلا لا تخزت ابابکر خلیلا ولکن صحبۃ واخاء ایمان حتیٰ یجمع اللہ بینا عندہ

’’میرے دوستو ں میں سے مجھ پر کسی کا احسان ابوبکرؓ کے برابر نہیں۔ اگر میں خدا کی طرف سے کسی کو اپنا خلیل بنانے کا مجاز ہوتا تو یہ منزلت ابوبکرؓ کے لیے ہوتی لیکن ازروئے اسلا باہمی رفاقت و اخوت ایمانی تک کا اختیار ہے کہ اور اسی حالت میں خدا کے سامنے میری حاضری ہے‘‘۔

 

انصار کے حق میں وصیت

مسجد میں حجرہ عائشہؓ  میں تشریف لانے کا قصد کرتے ہوئے فرمایا:

یا معشر المھاجرین استوصوا بالانصار خیر فان الناس یزیدون والانصار علی ھیہتھا لا تزید و انھم کانو اعیبتی التی اویت الیھا فاحسنوا الی محسنھم وتجاوزوا عن سیئھم

’’اے یاران مہاجر! انصار کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آنا۔ ان کے سوا دوسروں کی تعداد بڑھتی جائے گی۔ انصارمیر ے ایسے محرم ہیں جن کے سامن میں مجھے پناہ ملی۔ ان کی خوبیوں کی قدر اور انکی لغزش سے چشم پوشی کرتے رہنا‘‘۔

مسجد میں لوٹ کر ام المومنین عائشہؓ ہی کے حجرے یں فروکش ہوئے۔ آج کی جدوجہد اور مسجد میں تشریف لے جانے سے مرض نے اور تھکا دیا۔ وہ مریض جن کے بدن مبارک پر سات مشکیزے پانی ڈالا جائے جسے ایسی شدید علالت میں بھی مشاغل سے یکسوئی نصیب نہ ہو۔ جیش اسامہؓ کے نتائج کا فکر ادھر انصار کا غم ، اس پر ملت جو ابھی ابھی اسلام سے وابستہ ہوئی ہے اس کا فکر مآل۔ یہی تفکرات دوسرے روز پھر مسجد میں تشریف لانے کے محرک ہوئے لیکن مرض نے اتنا کمزور کر دیا تھا کہ ارادہ پورا نہ فرما سکے اور نماز کا وقت سر پر آ گیا۔ دوستوں سے فرمایا۔

مروا ابابکر فلیصل الناس

’’ابوبکرؓ سے ہو کہ میری بجائے نماز کی امامت وہ کرائیں ‘‘۔

لیکن ام المومنین  عائشہؓ جو دنیا جہاں سے زیادہ آپ کو صحت مند دیکھنا چاہتی تھیں عرض کیا ابوبکرؓ رقیق القلب ہیں ان کی آوا ز بھی مدھم ہے اور قرات میں گریہ بھی ضبط نہیں کر سکتے اس پر بھی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ابوبکرؓ ہی کے لیے امامت صلواۃ کا حکم قائم کیا۔ ادھر ام المومنینؓ نے اپنے پہلے اندازے کے مطابق اپنے والد گرامی کی طرف سے معذرت کے ارادہ سے پھر اسی بات کو دہرایا مگر اس مرتبہ رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مرض کی سختی کی وجہ سے گفتگو کا یارا نہ ہونے کے باوجود وہی حکم دہراتے ہوئے فرمایا:

ان کن صواحب یوسف مروہ فلیصل الناس

’’تم گویا حضرت یوسفؑ کے ہم جلیس ہو۔ ابوبکرؓ  ہی سے کہو کہ وہ میری بجائے نماز کی امامت کرائیں ‘‘۔

اور ایسا ہی ہوا جس کے بعد ایک موقعہ پر ب حضرت ابوبکرؓ ابھی مسجد میں تشریف نہ لائے کہ بلال نے ان کی بجائے سیدنا عمرؓ  سے امامت کی درخواست کی۔ عمرؓ کی آواز اس قدر گرج دار تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے عائشہؓ  کے حجرہ میں سن لی تو فرمایا۔

این ابوبکر؟ یا بی اللہ ذالک والمسلمون!

’’ابوبکر کہاں رہ گئے؟ اللہ اور تمام مسلمان ناپسند کرتے ہیں کہ ابوبکرؓ کے سوا کوئی اور نماز پڑھائے‘‘۔

حضرت ابوبکرؓ کے متعلق رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی طرف سے اس تاکید پر بعض مسلمانوں نے سمجھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم انہیں اپنا خلیفہ مقرر کرنا چاہتے ہیں کیونکہ نیابت رسالت کا سب سے بڑا مظہر نماز کی امامت ہے جس کی تاکید سے اس شد و مد سے فرمائی جا رہی تھی کہ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے انتخاب پر ابوبکرؓ کی افضلیت کا یہی دلیل حضرت عمرؓ نے آپ کا نام پیش کرتے ہوئے بیان کی۔

ساعت بساعت مزاج زیادہ ناساز ہوتا گیا تپ کی شدت بڑھتی گئی چہرہ مبارک ردا سے ڈھانک لیا۔ ازواج مطہرات یا دوسرے تیمار دار جبین مبارک پر ردا کے اوپر ہاتھ رکھتے تو حرارت کی شدت محسوس کر کے حیران رہ جاتے۔

 

سیدہ فاطمہؓ سے اپنی وفات کا راز

بضعۃ رسول فاطمہؓ دن میں کئی کئی مرتبہ عیادت کے لیے حاضر ہوتیں۔ اولاد میں تنہا سیدہ فاطمہؓ ہی باقی رہ گئی تھیں۔ رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ان سے بے حد محبت فرماتے۔ جب تشریف لاتیں تو استقبال کے ساتھ ان ے ماتھے پر بوسہ دیتے اور اپنی مسند پر نشست کا اعزاز بخشتے۔ سیدہؓ  شدت علالت میں حاضر ہوتیں تو تب بھی ان معمولات میں فرق نہ آنے پاتا۔ اسی دوران انہیں پاس بٹھا کر بی بی کے ان میں کوئی بات کہی جس سے وہ رو پڑیں دوسری مرتبہ ان کے کان میں کوئی بات کہی تو سیدہؓ  ہنس پڑیں۔ ام المومنین  عائشہؓ جو وہیں تشریف فرما تھیں سیدہؓ سے ان کے رونے اور ہنسنے کا سبب دریافت کیا فاطمہ نے فرمایا:

ماکنت لا فشی سر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم

’’رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جو بات مجھے راز کے طور پر بتائی ہے اس کے افشا کا یہ موقع نہیں ‘‘۔

لیکن رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی رحلت کے بعد فاطمہؓ نے از خود بتایا کہ اس روز میرے گریہ کا سبب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا اپنی وفات کی اطلاع تھی اور دوسری مرتبہ جب مجھے یہ بشارت فرمائی کہ خاندان نبوت میں سب سے پہلے مجھے ہی آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ملاقات کا شرف حاصل ہو گا تو میں فرط مسرت سے ہنس پڑی‘‘۔

 

شدت کرب سے بار بار چہرہ کو تر کرنا

(رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو) تپ کی شدت نے اس قدر نڈھال کر دیا تھا کہ آپ کے فرمانے پر پانی کی لگن بالیں کے قریب لگا دی گئی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پانی میں ہاتھ ڈبوتے وار جبین و چہرہ تر کرتے۔ بار بار غشی کے دورے پڑنے شروع ہو گئے۔ ذرا افاقہ ہو تا تو شدت کرب سے کراہ اٹھتے۔

 

فاطمہؓ کا ’’واتباہ‘‘ سے اپنے غم کا اظہار

خاتون جنت اپنے شفیق باپ کی یہ حالت دیکھ کر اس قدر متاثر ہوئیں کہ بے ساختہ و اکرب ابتاہ آہ میرے باپ کی جان پر کیا بیت رہی ہے؟ نکل گیا۔ رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے لخت جگر کی آواز سنی تو فرمایا کہ اے بیٹی آج کے بعد تمہارے باپ پر کوئی بدنی سختی نہ ہو گی۔ اشارہ اس طرف تھا کہ آج کسی نہ کسی وقت اس عالم کرب و بلا کی آخری منزل سے آگے بڑھ جانا ہے!

صحابہؓ نے آپ ط صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا غم غلط کرنے کے یے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم آپ دوسرے بیماروں کو تو آپ صبر و تحمل کی تلقین فرماتے رہے؟ فرمایا یہ صحیح ہے کہ مگر میری تکلیف دو مریضوں کے برابر ہے۔ ‘‘

 

واقعہ قرطاس

دولت کدہ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر تیمار  داروں کا ہجوم تھا فرمایا:

ائتونی بدواۃ و صحیفۃ اکتب لکم کتابا بالا تضلوا ابدا

’’دوات و کاغذ لے آؤ! تمہاری بہتری کے لیے میں ایسی تحریر کرا دوں جس سے تم کج رہی سے بچ سکو گے‘‘۔

حسبنا کتاب اللہ

حاضرین میں سے ایک صاحب ے عرض کیا(جن کے متعلق کہا جاتا ہے کہ حضرت عمرؓ تھے:

ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم غلبہ الوجع وعندکم القران وحسبنا کتاب اللہ

’’اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تکلیف سے دوچار ہیں۔ مسلمانو! تمہارے پاس قرآن موجود ہے وہی ہمارے لیے کافی ہے‘‘۔

بعد میں اس حادثہ پر دو رائیں قائم ہو گئیں بعض نے اسے ضروری سمجھ کر دوات اور کاغذ پیش کرنے کا مشورہ دیا اور بعضوں نے کتاب اللہ کے کامل ہونے کی بنا پر اسے زیادہ اہمیت نہ دی۔

آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہ رنگ دیکھ کر فرمایا نبی کے سامنے اس قسم کا غوغا نامناسب ہے۔ آپ حضرات میرے قریب سے ہٹ جائیں۔

 

واقعہ قرطاس پر حضرت عباسؓ و جناب عمرؓ کی رائیں

جناب ابن عباسؓ کی رائے

(م… جن کا سن وفات رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے موقع پر تیرہ سال تھا) ان لوگوں نے کیسی غفلت برتی جو بیش قیمت نصائح سے محروم رہ گئے کاش رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے املا کرانے میں سبقت کرتے۔

جناب عمر ابن الخطابؓ کی رائے

آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی رحلت کے بعد بھی اپنی اس رائے کی تحسین فرماتے رہے اس لیے کہ قرآن اپنے متعلق  فرماتا ہے۔

ما فرطنا فی الکتاب من شئی ؎۱ (۶:۳۸)

علالت تشویشناک حد تک پہنچی اور دور دور تک خبر پہنچ گئی۔ جیش فلسطین (شام) کے سپہ سالار اسامہ بن زیدؓ اور ان کے ہمراہی جرف (مقام پڑاؤ) سے سیدہ عائشہؓ کے دولت کدہ میں رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی تیمار داری کے لیے حاضر ہوئے لیکن اب تاب مقال ختم ہو چکی تھی۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسامہ کو دیکھا تو آسمان کی طرف دست مبارک اٹھایا پھر وہی ہاتھ اسامہؓ کے سر پر رکھ دیا گویا اسامہب کے لیے دعا کی علامت تھی۔

 

معالجہ

یہ حالت دیکھ کر اہل بیت کی توجہ معالجہ کی طرف متوجہ ہوئی۔ ام المومنین میمونہؓ کی قرابت دار جناب اسماء نے حبشہ کے زمانے میں ہجرت میں ایسے ہ ایک شربت بنانے کی ترکیب معلوم کر رکھی تھی۔ وہی شربت غشی کی حالت میں رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دہن مبارک میں ٹپکایا گیا ذرا افاقہ ہوا تو شربت پلانے کا سبب دریافت فرمایا۔ عباسؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ذات الجنب کے شبہ کی بنا پر شربت کے چند قطرے دہن مبارک میں ٹپکائے ہیں فرمایا مجھے تو خدا تعالیٰ نے ذات الجنب میں مبتلا ہونے سے محفوظ فرما لیا ہے پھر فرمایا مناسب یہ ہے کہ عباسؓ کے سوا ہر اس شخص کے حلق میں یہ شربت ٹپکایا جائے جو یہاں موجود ہے۔ حتی کہ ام المومنین میمونہؓ جو اس روز روزہ دار تھیں ان کا استثنا بھی نہ فرمایا۔

۱؎  یعنی کائنات کی ہر مخلوق کے لیے جو کچھ ہونا چاہیے تھا وہ سب کچھ اس کے لیے لکھ دیا۔ کسی مخلوق کے لیے بھی فروگزاشت نہیں ہوئی۔

 

آخری پونجی کا صدقہ

شدت علالت کے موقعہ پر آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ذاتی تحویل میں سات دینار تھے۔ شاید اللہ تعالیٰ کا آخری پیغام آ جائے اور یہ رقم میرے قبضہ میں رہ جائے۔ اس خیال کے مطابق آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کے صدقہ کر دینے کا حکم فرما دیا تھا لیکن اہل بیت تیمار داری میں اس قدر منہمک تھے کہ تعمیل کرن ذہن سے اتر گیا۔ زندگی کے آخری روز دو شنبہ کو غشی سے افاقہ ہوا اور آپ نے ان دیناروں کا  دریافت کیا تو ام المومنین عائشہؓ نے معذرت پیش کرتے ہوئے عرض کیا یا رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مجھے فرصت نہیں ملی دینار ابھی تک میری تحویل میں ہیں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے لے کر فرمایا:

ماظن محمد بربہ لو لقی عندہ ھذہ؟

’’اگر یہ دینار میری تحویل میں رہ جائیں تو میں اپنے رب کے متعلق کیا گمان لے کر اس کے سامنے حاضر ہوں گا؟‘‘

شب نہایت سکون و راحت کے ساتھ بسر فرمائی۔ تپ سے افاقہ نظر آنے لگا۔ سمجھا گیا کہ اسی دوا کا اثر ہے جو اہل بیت نے آپ کو پلائی تھی۔ صبح کے وقت سر سے پٹی باندھے ہوئے مسجد میں تشریف لائے۔ علیؓ ابن ابی طالب اور فضلؓ  ابن عباسؓ دونوں کے کندھوں پر ٹیک لگا رکھی تھی۔

 

ابوبکرؓ کے اقتدا میں ادائے صلواۃ

فجر کی نماز شروع ہو چکی تھی۔ ابوبکرؓ امامت فرما رہے تھے۔ جب صحابہ کو آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ورود کا احساس ہوا تو ہر ایک کے دل میں خوشی کی لہر دوڑ گئی اور آپ کے مصلیٰ پر تشریف لے جانے کے لیی راستہ بنا دیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہاتھ کے اشارے سے سمجھا دیا کہ نماز میں خلل نہ آنے پائے اور مسلمانوں کو اس خلوص سے نماز ادا کرتے ہوئے دیکھ کر بہت مسرور ہوئے۔

ابوبکرؓ کومحسوس ہوا کہ مقتدی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی تشریف آوری کی وجہ سے آپ ے مصلیٰ تک پہنچنے کے لیے راستہ بنا رہے ہیں تو آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے لیے مصلی خالی چھوڑ کر خود صف میں لوٹ آنے کا قصد کیا۔ لیکن رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ابوبکرؓ  کی پشت پر دست مبارک رکھ کر فرمایا صل بالناس (اے ابوبکرؓ آپ ہی امامت کرائیے) اور خود ابوبکرؓ کی اقتدا میں نماز کی نیت باندھ کر ان کی دائیں طرف بیٹھ کر نماز ادا کی۔

 

ادائے صلوۃ کے بعد تذکیر

تکمیل(نماز) کے بعد رخ مبارک نمازیوں کی طرف پھیر لیا اور ایسی بلند آوا زسے جو مسجد کے باہر بھی سنی گئی فرمایا:

سعرت النار و اقبلت الفتن کقطع اللیل المظلم وانی اللہ ماتمسکون علی بشئی انی و آلہ لم احل الاما احل القرآن ولعن قومنا اتخذوا قبور انبیا ء ھ مساجد

’’آگ دہک اٹھی ہے اندھیری رات کی مانند فتنے تو امڈے چلے آ رہے ہیں خدا کی قسم میرے فرمان کے سوا تمہیں کسی اور دستاویز سے تمسک نہ کرنا چاہیے۔ میں اس پر بھی خدا کی قسم کھاتا ہوں کہ میں نے قرآن ہی کی حلال کردہ اشیاء کو حلال کیا اور قرآن ہی کی حرام کردہ چیزوں کو حرام قرار دیا۔ اور خدا ا س قوم پر لعنت کرے جس نے نبیوں کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیا‘‘۔

مسلمانوں نے یہ سجھاکہ رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم صحت یاب ہو گئے ہیں۔ وہ اس جذبہ سے بے حد محظوظ ہوئے۔ حتیٰ کہ اسامہ بن زیدؓ نے اپنے ماتحت لشکر کو شام لے جانے کی اجازت طلب کی۔ ابوبکرؓ نے عرض کیا یا نبی اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم خدا کے فضل و کرم سے آ پ کی صحت عود کر آئی ہے آج کا دن ام المومنین زینب بن خارجہؓ کی نوبت ہے۔ اجازت ہو تو ان سے اپ کی صحت کی بشارت عرض کر دوں ؟ فرمایا اجازت ہے حضرت ابوبکرؓ (مقا م)سخ (بحوالی مدینہ) ام المومنینؓ  کے دولت خانہ پر حاضر ہو کر یہ مژدہ پہنچانے کے لیے تشریف لے گئے۔ حضرت عمرؓ اور علیؓ اپنے کام کاج کے لیے روانہ ہوئے۔ اسی طرح دوسرے مسلمان شاداں و فرحاں ادھر ادھر چلے گئے۔

لیکن رات ابھی پورے طور پر نہ پڑی تھی کہ مزاج کی ناسازی تپ کی سختی اور غشی کے دوروں کی خبر اڑنا شروع ہوئی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم حضرت عائشہؓ کے حجرہ میں فروکش ہونے پر مجبور ہو گئے۔ مسجد میں جمع شدہ مسلمانوں نے آپ کے صحت عود کر آنے سے جس خوشی کا اظہار فرمایا تھا س کے تصور سے آپ کا قلب معمور تھا۔ مگر بیماری کی شدت اور نقاہت حد سے گزر چکی تھی۔

 

سیدہ عائشہؓ کا حزن و ملال

سیدہ عائشہؓ جن کا قلب ایسے عظیم المنزلت وجود ( صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کے احترام و جلالت سے لبریز تھا آپ کی اس ناتوانی اور ضعف پر چاہتی تھیں کہ اگر ہو سکے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی زندگی برقرار رکھنے کے عوض میں اپنی جان تک قربان کر دیں۔ آہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اس ہمت کے ساتھ مسجد میں تشریف انا اوراس سنبھالنے کی حالت تھی جو مریض کے لیے افاقہ الموت کا مترادف ہو۔ کیوں کہ مسجد میں واپس تشریف لے آنے کے بعد نقاہت لمحہ بہ لمحہ بڑھتی گئی کوئی گھری جا رہی تھی کہ جان حزیں قالب کو چھوڑ کر اپنی راہ لے۔

اس وقفہ میں ذہن مبارک زندگی کے ان لمحات کا تصور کر درہا تھا کہ جن میں خدا نے اپنے نبی و ہادی کا مرتبہ بخش کر مبعوث فرمایا؟ یا اس منزل میں جن صعوبتوں سے واسطہ پڑتا رہا ان کی یاد تازہ ہو رہی تھی؟ یا اللہ ان کی نعمتوں میں سرور حاصل ہو رہا تھا جن سے تبلیغ نبوت کے صدقے میں متمتع ہوئے؟ یا دین حقہ کی قبولیت سے اہل عرب کے دلوں کو جس طرح مسخر فرمایا اس کی خوشی سے مستعمند ہو رہے تھے۔ یا زندگی کے ان آخری لمحوں میں حضور خداوندی میں توبہ و انابت کی طرف رجوع فرما تھے جیسا کہ زندگی بھر معمول رہا؟ یا جان کنی کی دشواریوں سے گھبرا کر پوری زندگی کے حوادث کو فراموش کر دیا گیا ؟ ہر ایک واقعہ پر روایات کا اختلاف نمایاں ہے۔

ارباب تاریخ کا غالب رجحان یہ ہے کہ ۸ جنوری ۶۳۲ کا دن تھا۔ عرب کی گرمی غضب ڈھا رہی تھی۔ ٹھنڈے پانی کی لگن بالیں کے قریب لگی ہوئی تھی۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنا دست ناتواں تر کر کے چہرہ مبارک سے مس فرماتے رہے۔

 

دنیا کا آخری عمل دہن مبارک کی صفائی

اسی اثناء میں ابوبکرؓ کے خاندان کے ایک صاحب مسواک لے کر حضرت عائشہؓ  کے دولت خانہ میں باریاب ہوئے۔ رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کی طرف ایسے دیکھا جیسے مسواک کی طلب ہو۔ ام المومنینؓ نے ان کے ہاتھ سے مسواک لے کر اپنے دہن مبارک میں چبائی۔ جب اس کے ریشے نرم ہو گئے تب آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں پیش کر دی۔ جس سے خود دہن مبارک صاف فرمایا۔ جان کنی کی اس کش مکش میں آخری مرحلہ پر پہنچ گئی تھی۔ خدا کی طرف متوجہ ہو کر الحاح کیا۔

 

سکرات الموت

اللھم اعنی علی سکرات الموت

’’اس جان کنی میں میری اعانت فرمائیو!

 

آغوش عائشہؓ میں دنیا سے رحلت

فرق مبارک ام المومنینؓ کی آغوش میں تھا۔ اس حالت کے تذکرہ میں فرماتی ہیں دفعتہً محسوس ہوا کہ میری آغوش بوجھ سے دبی جا رہی ہے۔ میں نے چہرہ مبارک پر نظر ڈالی تو آنکھیں پتھرائی جا رہی تھیں اور زبان پر الرفیق الاعلیٰ اپنے رب کے پاس جانا چاہتا ہوں۔ یہ سن کر میری زبان سے بے ساختہ نکل گیا کہ خدا کی قسم جس نے آپ کو رسول صادق کا منصب عطا فرمایا جب اس نے آپ کو دنیا و عقبیٰ دونوں میں سے ایک کا اختیار دیا تو آپ نے عقبیٰ کو ترجیح دی۔

روح مبارک اسی حالت اور میری ہی گود میں ٹیک لگائے ہوئے  رفیق الاعلیٰ کی جانب سدھاری۔ ایک وجہ سے یہ میرے لیے بھی اعزاز ہے کہ اور اس اظہار میں مجھے کسی کی توہین مقصود نہیں۔ ایسے ہی ہوا۔ میرا یہ سن اور رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا میری گود میں جاں بحق ہونا خداوند میری یہ منزلت!

رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی زندگی کی داستان ختم ہو جانے کے بعد آپ کے فرق مبارک کے نیچے تکیہ لگا کر ان عورتوں کے مجمع  میں شامل ہو گئیں جو پریشان گریہ و بکا میں مشغول تھیں۔ مگر میں دوسرے دوسرے خیالات میں سر جھکائے کھڑی رہی۔

اس لمحہ مسلمانوں میں عجیب اضطراب پیدا ہو گیا۔ بعض حضرات کو آپ کے وفات پانے کا تذکرہ سننا بھی گوارا نہ تھا ایسے لوگوں کا خیال تھا کہ آپ نے وفات نہیں پائی۔ یہ مسئلہ حد نزاع کو پہنچنے کو تھا لیکن خداوند عالم نے جو مسلمانوں کے لیے حسن سلوک کا خواہاں ہے اس فتنہ کا انسداد فرما دیا۔

٭٭٭

 

 

 

 

رسالت مآب صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی تدفین

 

نبی علیہ السلام ام المومنینؓ کے حجرے میں اور اس حالت میں رفیق الاعلیٰ سے ملاقی ہوں کہ فرق مبارک کی ٹیک ام المومنینؓ کی گود میں لگی ہوئی تھی۔ سیدہ آپ کے فرق مبارک کے نیچے تکیہ لگا کر ان عورتوں کے مجمع میں شامل ہو گئیں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے انتقال کی خبر سنتے ہی پہنچ گئیں اور فرط حزن سے گریہ و بکا میں مشغول ہو گئیں۔ ام المومنینؓ  پریشان حال کھوئی کھوئی سی رہیں جو لوگ مسجد میں جمع تھے یہ خبر سن کر حیرت میں ڈوب گئے کہ ابھی ابھی وہ رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اس حالت میں دیکھ چکے تھے جییس کہ صحت دوبارہ لوٹ آئی ہو۔ اسی تسکین کی وجہ سے حضرت ابوبکرؓ ام المومنینؓ زینب بن خارجہؓ کو بلانے کی غرض سے مقام سخ تشریف لے گئے اسی اطمینان کی بنا پر حضرت عمرؓ دوڑے دوڑے ہوئے ا س حجرے میں آئے جہاں جسدمبارک ابدی خواب میں محو استراحت تھا۔ اسی وجہ سے عمرؓ کو آپ کی وفات کا یقین نہ ہو سکا۔ رخ انور سے ردائے مبارک ہٹائی تو سانس کی رمق تک نہ ہونے کے باوجود حضرت عمرؓ نے غشی پر محمول کیا۔ یہ سجھ کر کہ ذرا دیر بعد ہوش میں آ جائیں گے۔ حضرت مغیرہؓ نے ہر چند سمجھایا کہ آپ کس خیال میں ہیں لیکن حضرت عمرؓ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی رحلت کا یقین نہ آیا بلکہ مغیرہؓ کے اصرار پر انہیں یہ کہہ کر جھڑک دیا کہ آپ جھوٹ کہہ رہے ہیں کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا انتقال ہو گیا ہے۔

 

وفات نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے موقع پر حضرت عمرؓ کی بے اختیاری اور اس حالت کی تقریر

حضرت عمرؓ کو یہی جذبہ مسجد میں لے آیا مغیرہؓ بھی ان کے ہمراہ تھے اور انہوں ں ے بآواز بلند اعلان کیا کہ:

ان رجالا من المنافقین بزعمون ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم قد تو فی وانہ واللہ مامات ولکنہ ذہب الی ربہ کما ذھب موسیٰ بن عمران فقد غاب عن قومہ اربعین لیلۃ ثم رجع الیھم بعد ان قیل قدمات وواللہ لیرجعن رسول اللہ کما رجع موسیٰ فلیقطعن ایدی رجال وارجلھم زعموا انہ مات

’’منافق افواہ اڑا رہے ہیں کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا انتقال ہو گیا ہے بلکہ موسیٰ بن عمران کی طرح خدا کے حضور تشریف لے گئے ہیں جس طرح موسیٰؑ بنی اسرائیل سے چالیس روز تک غائب رہنے کے بعد دوبارہ تشریف لائے ان کی غیبوبت کے دوران میں اسی طرح بنی اسرائیل نے کہا کہ موسیٰؑ کی وفات ہو گئی! اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بھی رجعت فرما ہوں گے اور جس جس نے آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی وفات کی خبر پھیلائی ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم واپسی پر اس کے ہاتھ پیر قلم کرا دیں گے۔ ‘‘

 

حضرت عمرؓ کی تقریر پر سامعین کی حیرت

مسلمان حضرت عمرؓ کی تقریر سن کر آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی وفات کے متعلق گومگو میں پڑ گئے۔ کبھی خیال گزرتا کہ اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم رحلت فرما چکے ہیں تو ہمارے لیے کس قدر افسوس و الم کا حادثہ رونما ہو گیا۔ یہی لوگ ہیں جنہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو آپ کی زندگی میں دیکھا آپ کے حسن تکلم س بہرہ مند ہوئے۔ آپ کی تعلیم کے اثر سے خدائے وحدہٗ لا شریک پر ایمان لانے کا موقع حاصل ہوا۔ جس نے آپ کو سچادین عطا فرما کر انسان کی ہدایت کے لیے مبعوث فرمایا آج ان مسلمانوں کے ذہن  میں رسول صادق الامین کی رحلت کا تصور گردش کر رہا تھا اوراس تصور کا مقابلہ ار حضرت عمرؓ کی تقریر تھی لیکن حضرت موسیٰ کی مانند آپ کی رجعت کا انتظار تو اور بھی حیرت انگیز ہے!

یہی وجہ ہے کہ جو لوگ حضرت عمرؓ کے اردگرد جمع ہو گئے اس امر کی تصدیق پر مائل تھے کہ رسلو خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا واقعی انتقال نہیں ہوا۔ ان کے دماغ میں یہ تصور بھی گردش کر رہا تھا کہ ذرا ہی دیر پہلے انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو صحیح سالم دیکھا آپ  کی گفتگو سنی اور آپ کی زبان مبارک سے دعا و استغفار کے کلمات گوش گزار ہوئے۔ مسلان یہ سوچ رہے تھے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تو خلیل اللہ ہیں ذات خدا نے اپنی رسالت کے لیے آپ کو منتخب فرما لیا تمام عرب آپ کے سامنے سرنگوں ہو گیا ایسی ذات کی موت واقع ہو سکتی ہے ان کے ذہن مین یہ امر بھی آپ کی وفات کے بار ے میں مانع تھا کہ ابھی تک آپ کے مقابلہ میں قیصر و کسریٰ کو تو شکست ہی نہیں ہوئی۔ ان کے ذہن میں یہ خیال بھی چٹکیاں لے رہا تھا کہ جس قوت نے بیس سال کی مدت میں ایک عالم کو اپنے سامنے مطیع ومنقا د کر لیا تاریخ عالم جس کی نظیر کرنے سے قاصر ہے ایسے وجود گرامی پر موت کا وارد ہونا سمجھ میں آنے کی بات ہی نہیں۔ عورتیں فرط غم سے پریشان حال سر جھکائے ہوئے مصروف گریہ تھیں جس کی وجہ سے آپ کی وفات کا یقین ہو گیا۔ اسی موقع پر حضرت عمرؓ مسجد میں بار بار دہرا رہے تھے کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بھی حضرت موسیٰؑ کی مانند اپنے رب کے پاس تشریف لے گئے ہیں اور جو لوگ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی رحلت کی افواہ اڑا رہے ہیں وہ منافق ہیں۔ رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم واپس تشریف لا کر ایسے وگوں کے ہاتھ اور گردنیں کٹوائے بغیر انہیں معاف نہ فرمائیں گے۔

مسلمان دو متضاد خبروں میں سے کس امر کی تصدیق کریں ؟ ذرا دیر پہے آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ارتحال کی خبر سے گھبرا رہے تھے اب حضرت عمرؓ آپ کے ارتحال کو افواہ سے تعبیر کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ رسول پاک صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم زندہ ہیں اور حضرت موسیٰ کی مانند رجعت فرمائیں گے۔ مسلمان ابھی تک اس خبر کے تسلیم کرنے پر مائل اور خود کو بہلا رہے تھے۔ کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی رجعت سے شادماں ہو کر رہیں گے۔

 

حضرت ابوبکرؓ کی سخ سے واپسی

اسی افراتفری میں ابوبکرؓ سخ سے واپس تشریف لائے اور رحلت نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی پر آشوب سناؤنی سے کلیجہ پکڑ کر بیٹھ گئے انہوں نے دیکھا کہ حضرت عمرؓ تقریر فرما رہے ہیں اور مسلمان پوری توجہ سے اور یقین کے ساتھ سن رہے ہیں۔ یہ کوائف دیکھنے کے ساتھ ہی حضرت عائشہ کے حجرہ کا رخ کیا اجازت طلبی پر جواب آیا کہ آج کوئی شخص طلب اذن کا مکلف نہیں دالان میں ایک طرف پلنگ پر جسد رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تھا یمن کی حظ دار چادر سے چہرہ مبارک ڈھکا ہوا ہے ابوبکرؓ نے دامن ہٹا کر پیشانی کا بوسہ لیا اور زبان سے یہ کلمہ کہا:

ما اطیبک حیا! وما اطیبک میتا!

’’آپ کا جسم اطہر زندگی میں بھی کسی درجہ عطر بیز رہا اور مرنے کے بعد بھی اس کی شمیم آرائیوں میں کمی نہیں آئی‘‘۔

اپنے دونوں ہاتھ رخ انور کا ہالہ بنائے اور فرق مبارک تکیہ سے ذرا ٹھا کر غور سے دیکھا تو چہرہ کی تنویر جوں کی توں ضیا پاش تھی ابوبکرؓ نے کہا:

بابی انت وامی ! اما الموتۃ التی کتب اللہ علیک فقد ذقتھاثم لن تصبیک بعدھا موتتہ ابدا

’’میرے ماں باپ نثار خدا کی طرف سے جو موت آپ کے لیے مقرر تھی واقع ہو چکی ہے۔ اب آپ کے لیے دوبارہ وفات پانے کا کوئی امکان نہیں ‘‘۔

اس کے بعد سر مبارک جس طرح تکیہ سے لگا ہوا تھا اسی طرح رکھ کر چہرہ انور پر ردا کا دامن اوڑھا دیا۔ اب مسجد میں تشریف لائے جہاں حضرت عمرؓ کی تقریر ابھی جاری تھی۔ وہ مسلمانوں کو یقین دلا رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر موت وارد نہیں ہوئی۔ مجمع نے ابوبکرؓ کے لیے راستہ کھول دیا انہوں نے حضرت عمرؓ کے قریب پہنچ کر انہیں خاموش رہنے اور اپنی تقریر سننے کی ہدایت کی لیکن عمرؓ نے بدستور اپنی تقریر جاری رکھی۔

حضرت ابوبکرؓ  کی تقریر

حضرت ابوبکرؓ  نے مجمع کو اشارہ کیا میں جو کچھ کہتا ہوں اسے غور سے سنا جائے اس مقام پر ابوبکرؓ کا ہم پلہ کون ہو سکتا تھا جو رسو ل خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ایسے مصدق تھے۔ کہ اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم خلیل بنانے کے  مجاز ہوتے تو ابوبکرؓ کے سوا کوئی دوسرا اس عزت کا مستحق نہ ہوتا۔ اس لیے ان کی آواز کان میں پڑتے کے ساتھ ہی عمرؓ کی طرف سے مجمع کا رخ پھر گیا اور تمام لوگ حضرت ابوبکرؓ کی طرف مائل ہو گئے۔ ممدوح نے تقریر شروع کی اور حمد و ثناء کے بعد فرمایا:

ایھا الناس ان من کان یعبد محمد ا فان محمد اقدمات و من کان یعبد اللہ فان اللہ حی لا یموت

’’لوگو! جو شخص محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا عبادت گزار ہے اسے معلوم ہو کہ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم وفات پا چکے ہیں اور جو کوئی اللہ کا عبادت گزار ہے اس پر واضح کیا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ زندہ ہے اور اس پر موت وارد نہیں ہو سکتی‘‘۔

جس کے بعد یہ آیات تلاوت فرمائی:

وما محمد الا رسول قد حلت من قبلہ الرسل افا ء ن مات اوقتل انقلبتم علی اعقابکم ومن ینقلب علی عقبیہ فلن یضر اللہ شیئا وسیجزی اللہ الشاکرین (۳:۱۴۴)

’’اور محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس کے سوووا کیا ہیں کہ اللہ کے رسول ہیں اور ان سے پہلے بھی اللہ کے رسول گزر چکے ہیں (جو اپنے اپنے وقتوں میں ظاہر ہوئے اور راہ حق کی دعوت د کر دنیا سے چلے گئے) پھر اگر ایسا ہوا کہ وہ وفات پائیں (اور بہرحال انہیں ایک دن وفات پانا ہی ہے) یا (فرض کرو) ایسا ہوا کہ لڑائی میں قتل ہو جائیں تو کیا تم الٹے پاؤں راہ حق سے پھر جاؤ گے (اور  ان کے مرنے کے ساتھ ہی تمہاری حق پرستی بھی ختم ہو جائے گی) اور جو کوئی راہ حق سے الٹے پاؤں پھر جائے گا تو وہ اپنا ہی نقصان کرے گا خدا کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔ جو لوگ شکر گزر ہیں (یعنی نعمت کی قدر سمجھنے والے ہیں ) وہ وقت دور نہیں کہ خدا انہیں ان کا اجر عطا فرمائے گا‘‘۔

 

حضرت ابوبکرؓ  کی تقریر کا اثر

مجمع کا رخ ابوبکرؓ کی طرف دیکھ کر حضرت عمرؓ خاموشی سے ابوبکرؓ کی تقریر سنتے رہے۔ جب انہوں نے آیہ مذکورہ پڑھی عمرؓ کے پاؤں لڑکھڑا اٹھے زمین پر گر پڑے اور انہیں رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی وفات کا یقین ہو گیا۔ جو مجمع ذرا دیر پہلے تک حضرت عمرؓ کا ہم نوا تھا ابوبکرؓ  کی زبان سے یہ آیت سننے کے بعد ان کی کیفیت بھی متبدل ہو گئی جیسے یہ آیت انہوں نے آج ہی سنی ہو۔ ان کے ذہن میں آنحضرتؐ  کی وفات کا نقش قائم ہو گیا۔ ہر شخص کو یقین ہو گیا کہ رسول خداؐ نے اپنے لیے رفیق اعلیٰ کی معیت کو ترجیح دی اور خدا تعالیٰ (رفیق اعلیٰ) نے بھی آپ پر اپنی رحمت کا دامن پھیلا دیا ہے۔

 

حضرت عمرؓ کے فہم پر تبصرہ

حضرت عمرؓ جس شد و مد کے ساتھ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی وفات سے انکار کر رہے تھے اور دوسروں کو بھی اپنا ہم خیال بنانے میں مصروف تھے کیا اس بارے میں وہ عمداً مبالغہ کر رہے تھے؟ ان کے انکار میں کہا جا سکتا ہے کہ جیسے موجودہ دور کے ارباب علم کی تحقیق کے مطابق آفتاب اپنی روشنی آفتاب اپنی روشنی اور حرارت دونوں بتدریج کھوتا آ رہا ہے جس کے ہاتھوں ایسا دن آ کر رہے گا کہ جب آج کا مہر عالم تاب کرہ سیاہ بن کر رہ جائے گا۔ لیکن سورج کے یوں پتھرا جانے کو شک کے بغیر تسلیم کرنا بے حد مشکل ہے۔ ایسے سرچشمہ نور کے متعلق جس کی روشنی اور حرارت دنیا کے ذروں تک کی بقا کے لیے ضامن ہو اس کے لیے اس قدر بے چارگی کا یقین کہ آفتاب فنا ہو جائے یا اس کا نور تاریکی سے متبدل ہو جائے ! ا س پر اہل تحقیق کا یہ طرفہ کہ سورج کے ساتھ اس حادثہ کے بعد بھی دنیا ایک دن اور قائم رہے گی!

میں کہتا ہوں (جناب ) محمد نور ہدایت و ایمان اور قوت کے سہ گونہ اوصاف کے ہوتے ہوئے آفتاب عالم تاب سے کم نہ تھے۔ جس طرح سورج کا پرتو تو تمام عالم پر ہے۔ اسی طرح محمد  صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ضیاء سے تمام دنیا منور ہے اور جس طرح آفتاب استقرار کائنات کا ذریعہ ہے۔ اسی طرح محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم (اپنی تعلیم کی خوبیوں کا باعث) ربع مسکون کے لے سبب برکت و یمن ہیں۔ جن کے تذکرہ کے صدقہ میں عالم کون و مکاں کی رونق قائم ہے۔

پس حضرت عمرؓ کا یہ یقین تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی موت ممکن نہیں ان معنوں میں قابل تسلیم ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنی صفات کی وجہ سے اس وقت بھی زندہ تھ اور جب تک یہ عالم قائم ہے آپ پر موت وارد نہ ہو سکے گی۔

 

جیش اسامہؓ کی جرف میں واپسی

اس دن کی صبح کے وقت جب حضرت اسامہؓ نے جناب رسالت مآب صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو سجد میں دیکھا تو انہیں بھی دوسرے مسلمانوں کی طرح آپ کی صحت عود کر آنے کا یقین ہو گیا اور وہ اپنے ہمرہان غزوہ کو ساتھ لے کر(مدینہ سے) جرف(کی سمت) روانہ ہو گئے (جہاں پر لشکر کا پڑاؤ تھا) اور فوج کو کوچ کرنے کا حکم دے دیا۔ اتنے ہی  میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے انتقال کی سناؤنی آ پہنچی جس کے سنتے ہی اپنے ساتھیوں سمیت مدینہ لوٹ آئے اور فوج کا علم سیدہ عائشہؓ کے دروازہ کے قریب نصب کر کے مسلمانوں کے فیصلہ کے انتظار میں سفر ملتوی کر دیا۔

 

سقیفہ بنی ساعدہ اور تاسیس خلافت

مسلمان گونہ پریشان تھے۔ بہرحال حضرت ابوبکرؓ کی تقریر نے انہیں رسو ل خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی وفات کا یقین دلا دیا اور اپنے اپنے گھر لوٹ گئے مگر ایک گروہ محلہ سقیفہ بنی ساعدہ میں حضرت سعد بن عبادہ (انصاری) کے ہاں جمع ہوا۔ مہاجرین میں سے چند حضرات اسید بن حضیر کی معیت میں جناب ابوبکرؓ  کے ہاں (محلہ) بنی اشہل کی طرف روانہ ہوئے۔ حضرت علیؓ زبیر بن عوامؓ اور طلحہ بن عبید اللہؓ  جناب فاطمہؓ کے دولت خانہ میں آ کر ایک طرف بیٹھ گئے۔

 

سقیفہ سے آمدہ اطلاع

اتنے میں ایک شخص ابوبکرؓ اور عمرؓ کے پاس یہ خبر لایا کہ سعد بن عبادہؓ نے سقیفہ میں انصار کا مجمع لگا رکھا ہے اسنے یہ بھی کہا ہے کہ آپ دونوں کو امت کے مصالح سے تعلق ہے تو انصار کے فیصلہ سے قبل سفیقہ بنو ساعدہ میں پہنچ جائیے ادھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا جسد گرامی تجہیز کے بغیر پلنگ پر رکھا ہوا تھا۔

 

حضرت ابوبکرؓ سے عمرؓ کا سقیفہ پہنچنے کا مشورہ

جناب عمر نے حضرت ابوبکرؓ سے عرض کیا کہ ہمیں اپنے انصار بھائیوں کے ہاں جا کر دیکھنا چاہیے کہ آخر ہو لوگ کیا کر رہے ہیں اور وہ دونوں حضرات سقیفہ کی طرف روانہ ہوئے۔ ادھر سے دو نیک طینت انصار تشریف لا رہے تھے۔ جنہوں ں ے مہاجرین کا ذکر اذکار کرنے کے بعد سقیفہ میں جمع شدہ لوگوں کی حقیقت بیان کی۔ پھر ان دونوں کا ارادہ دریافت کیا تو ان کے بتانے پر ہا کہ آپ کو سقیفہ میں جانے کے بجائے خود اپنی جگہ مہاجرین کے مستقبل کا خیال کرنا چاہیے۔

ان ہر دو انصار نے حضرت ابوبکرؓ  و عمرؓ کا ارادہ معلوم کرنے کے بعد پھر عرض کیا کہ آپ مہاجر ہیں اور آ پ کو مہاجرین سے مل کر اپنا فیصلہ طے کرنا چاہیے۔ لیکن عمرؓ نے اصرار کیا کہ واللہ اب ہم سقیفہ ضرور جائیں گے۔

 

سقیفہ اور سعدبن عبادہ

سقیفہ پہنچ کر دیکھا کہ ایک صاحب چادر میں لپٹے ہوئے ہیں زمین پر پڑے ہیں۔ حضرت عمرؓ کے دریافت کرنے پر فرمایا کہ یہ سعد بن عبادہ ہیں ان کا مزاج کچھ ناساز ہے۔

 

سقیفہ میں ایک انصاری کی تقریر

اتنے میں انصار کے ایک خطیب نے تقریر شروع کر دی اور حمد و ثناء کے بعد فرمایا کہ اے صاحبو سب کو علم ہے کہ ہم انصار اللہ ہیں اور مسلمانوں میں جنگ آزمودہ بہادر۔ اے یاران مہاجر اپ لوگوں کو ہم انصار کے فوج کا دستہ ہونے کی حیثیت حاصل ہے۔ افسوس ہے کہ آپ لوگوں کی مختصر سی جماعت نے مدینہ میں ہماری جڑیں کاٹ کر ہمیں اپنے ماتحت رکھنے کا منصوبہ بنانا شروع کر دیا۔

 

ابوبکرؓ کی تقریر مسالمت

انصار آنحضرت  صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی زندگی میں بھی اسی طرح سوچ رہے تھے۔ یہ تقریر سننے کے بعد حضر ت عمرؓ نے فتنہ کے سدباب کا تہیہ کر لیا لیکن حضرت ابوبکرؓ نے ان کی سخت کلامی کی وجہ سے انہیں تقریر کرنے سے روک دیا اور خود انصار سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا:

ایھا الناس نحن المھاجرون اول الناس اسلاما واکرمھم احسابا و اوسطھم دار واحسنھم وجوھاواکثرھم ولا دۃ فی العرب و امسھم رحما برسول اللہ

’’اے دوستو ہم مہاجر ہیں سب سے پہلے مشرف بہ اسلام ہوئے ملک کے تمام باشندوں میں حسب و نسب کے لحاظ سے مقتدر مولد مکہ معظمہ ہے عرب کے ہر قریہ و شہر میں ممتاز دوسروں کے مقابلہ میں وہ عمدہ ترین خوبیوں کا مجموعہ ہیں تعداد میں عرب  کے تمام قبائل سے زیادہ قرابت میں ملک کے ہر خاندان سے آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے قریب تر‘‘۔

اسلمنا قبلکم وقدمنا فی القران علیکم فقال تبارک و تعالیٰ والسابقون الاولون من المہاجرین والانصار والذین اتبعوھم باحسان (۹:۱۰۰) فمن المہاھرون و انتم الانصار اخواننا فی الدین وشرکاؤنا فی الفی وانصارنا علی العد د اماما ذکر تم فیکم من خیر فانتم لہ اھل وانتم اجدرنا بالثناء من اہل الارض جمعیا

فاما العرب فلن تعرف ھذا الامر الا بھذا الحی من قریش فما الامراء ومنکم الوزرائ۔

’’اے یاران انصار! ہم نے آپ لوگوں سے پہلے اسلام قبول کیا۔ قرآن نے بھی ہمیں آپ کے مقابلہ میں حق تقدم مرحمت فرمایا۔ واضح ہو کہ ہم مہاجر ہیں اور انصار ہمارے دینی بھائی جو غنیمتوں میں ہمارے ساتھ حصہ دار ہیں اور جنگوں میں ہمارے معین و انصار ہیں اور جو لوگ آپ نے اپنے محاسن کا اظہار فرمایا تو ہمیں بھی اس سے انکار نہیں بلکہ ہم یہاں تک تسلیم کرتے ہیں کہ دنیا میں آپ لوگ افضل ہیں۔ لیکن عرب کا کوئی قبیلہ قریش کے ماسوا کسی کی امارت پر صاد نہیں کر سکتا۔ اس لیے امیر قریش میں سے ہو گا اور وزیر انصار میں سے !‘‘

 

انصار کی جوابی تقریر

حضرت ابوبکرؓ کی تقریر ختم ہونے کے بعد ایک انصاری نوجوان (حباب بن منذر اصابہ جلد ۱ نمبر ۱۵۲۷۔ مم ) نے جوش کے ساتھ فرمایا۔

ان جذیلھا المحک و عذیقھا المرجب منا امیر و منکم امیر یا معشر قریش

’’میں لکڑی کا وہ کندا ہوں جو اونٹوں کے باڑے میں ان کے بدن گھسانے کے لیے گاڑ دیا جاتا ہے اور ایساد رخت ہوں جس کی حفاظت کے لیے اس کے اردگرد اوتھاولا بنا دیا جاتا ہے(م۔ یعنی آج کے دن صرف میں ہی خلافت کی پشتیبانی کے لیے موزوں ہوں )‘‘۔

حضرت ابوبکرؓ نے فرمایا کہ جیسا کہ میں پہلے کہہ چکا ہوں امیر مہاجرین میں سے منتخب کیا جائے جس کے وزیر انصار ہوں اور اس اصول کے مطابق دو مہاجر حضرات کے نام تجویز کرتا ہوں (اس موقعہ پر حضرت ابوعبیدہ الجراحؓ ) بھی وہیں تشریف رکھتے تھے۔ ابوبکرؓ  نے دونوں (حضرت عمرؓ اور ابوعبیدہ الجراحؓ )پر ہاتھ رکھ کر فرمایا کہ ان میں سے جسے سب مسلمان پسند فرمائیں اسے منتخب کر لیا جائے۔ اس مرحلہ پر ہر طرف سے شور بلند ہوا اور باہم اختلاف کا شبہ بڑھ گیا۔ یہ کیفیت دیکھ کر حضرت عمرؓ نے بآواز بلند ابوبکرؓ سے درخواست کی کہ آپ اپنا ہاتھ بڑھائیے۔ اور حضرت ابوبکرؓ کی بیعت کرتے ہوئے کہا:

الم یامرک النبی بان صلی انت یا ابابکر بالمسلمین! فانت خلیفۃ ونحن نبایعک فنبایع خیر من احب رسول اللہ مناجمیعا!

’’کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہ نہ فرمایا تھا کہ ا ے ابوبکرؓ مسمانوں کو نماز پڑھاؤ۔ جس فرمان کے مطابق حضرت ابوبکرؓ آپ رسول کے خلیفہ ہیں اور ہم آپ کی بیعت کرتے ہیں۔ یقین ہے کہ جس شخص کی بیعت کی جا رہی ہے وہ ہم سب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی نظر میں زیادہ پسندیدہ اور آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا محبوب ہے‘‘۔

 

مسجد نبوی میں تجدید بیعت

اس سے دوسرے روز مسجد نبوی میں اجتماع ہوا۔ حضرت ابوبکرؓ منبر پر تشریف فرما ہوئے اور جناب عمرؓ نے سبقت فرماتے ہوئے (حمد و ثناء کے بعد) مندرجہ ذیل تقریر کی۔

انی قد قلت لکم بالامس مقالۃ ما کانت ہما وجدتھا فی کتاب اللہ ولا کانت عھداً عھدہ الی رسول اللہ ولکنی قد کنت اریٰ ان رسول اللہ سیدبر امرنا و یبقی فیکون اخرنا وان اللہ قد ابقیٰ فیکم کتابہ الذی بہ ھدی اللہ رسولہ فان اعتصمتم بہ ھذا کم اللہ لما کان ہداہ اللہ وان اللہ قد جمع امر کم علی خیر کم صاحب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم وثانی اثنین اذھما فی الغار فقوموا وبایعوہ

’’ صاحبو! کل جو کچھ عرض کیا ہو نہ کتاب اللہ میں مذکور ہے نہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان لفظوں میں میرے سامنے بیان فرمایا۔ میرا خیال تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ا س امر میں ایک خاص تدبیر فرما سکیں گے اور آپ کی رحلت ہمارے سامنے ہو گی۔ دوستو! اللہ نے ہمارے سپرد وہ کتاب فرمائی ہے جس کے ذریعے اپنے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی رہنمائی کی۔ تم نے اس کتاب کے ساتھ تمسک کیا۔ تمہارے لیے بھی بڑی کامیابی کی راہ کھلی ہوئی ہے۔ تم میں سے بہتر شخص (ابوبکرؓ ) کو اللہ نے تمہارا امر تفویض فرمایا۔ ابوبکرؓ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ندیم خاص ہونے کا شرف بھی حاصل ہے۔ قرآن ہی میں ارشاد ہے و ثانی اثنین اذھما فی الغار پس اے مسلمانو اٹھو اور ابوبکرؓ کی بیعت میں مسابقت کرو‘‘۔

تقریر ختم ہونے کے ساتھ ہی ہر مسلمان نے ایک دوسرے سے سبقت کر کے بیعت شروع کی اور گزشتہ کے بعد آج کی بیعت عامہ تھی اور اول الذکر بیعت خاصہ تھی۔

 

خلیفہ اول کی پہلی تقریر

اتمام بیعت کے بعد خلیفہ بلا فصل حضرت ابوبکرؓ نے منبر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر تشریف لا کر تقریر ارشاد فرمائی جسے آیت حکمت و فصل خطاب کا درجہ حاصل ہے۔

اما بعد! ایھا الناس! فانی قد ولیت علیکم ولست بخیرکم ! فان احسنت فاعینونی وان اسات فقومونی! الصدق امانۃ والکذب خیانۃ! الضعیف فیک قوی عندی حتی اریح علیہ حقہ ان شاء اللہ والقو فیکم ضعیف عندی حتی اخذ الحق منہ ان شاء اللہ والا یدع قوم الجھاد فی سبیل اللہ الا ضربھم اللہ بالذل۔

’’دوستو! مجھے آپ لوگوں کا امیر بنا دیا گیا ہے حالانکہ آپ حضرات سے زیادہ لائق نہیں (یہ آ پ کی خوشی ) بھلائی میں میری اعانت کرتے رہیے اور برائی کے موقع پر مجھے زجر فرما دیجیے۔ خیال رہے کہ راست گوئی امانت داری میں داخل ہے اور کذب بیانی خیانت ہے۔ جو تم میں کمزور ہے میرے نزدیک قوی ہے۔ جس نے بے کس شخص کا حق تلف کیا ان شاء اللہ اس کا حق دلوا دیا جائے گا اور جابر میرے نزدیک کمزور ہے۔ میں ایسے شخص سے مظلوم کا حق دلوا کر رہوں گا ان شاء اللہ !‘‘

فان عصیت اللہ ورسولہ فلا طاعہ لی علیکم

’’ہاں جو قوم دینی اور قومی جہاد چھوڑ دیتی ہے اللہ تعالیٰ ایسی قوم کو ذلیل کرنے میں کمی نہیں رکھتا۔ یہ بھی خیال رہے کہ اگر میں خدا اور اس کے رسول کی بے فرمائی کروں تو اس حالت میں تم پر میری اطاعت کرنا واجب نہیں‘‘۔

قوموا! الی صلاتکم برحمکم اللہ

’’اے دوستو! اب نماز ادا کرنے کے لیے تیار ہو جاؤ اللہ تم پر رحم کرے!

 

تدفین نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم

مسلمانوں میں خلافت کے متعلق جو کشمکش جاری تھی حضرت ابوبکرؓ کے ہاتھ پر سقیفہ بنی ساعدہ اور اس کے بعد مسجد نبویؐ میں مجمع عام میں (بیعت) ہو جانے پر ختم ہو گئی جس کے بعد جسد مبارک کی تجہیز و تدفین کا اہتمام شروع ہو گیا۔ رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جس پلنگ پر ابدی نیند میں محو تھے وہ پلنگ بدستور اسی جگہ پر تھا۔ غم زدہ اقربا اردگرد پریشان حال بیٹھے ہوئے تھے پہلے مدفن کی تعیین پر گفتگو ہوئی جس میں تین مختلف رائیں تھیں :

(الف)  مکہ معظمہ میں تدفین ہو جسے آپ کا مولد اور آپ کے اجداد کا وطن ہونے کا فخر حاصل ہے۔

(ب)  بیت المقدس انبیائے کرام علیہم السلام کی آخری آرام گاہ ہونے کی  وجہ سے۔ لیکن مسلمان(ب) پر متفرق نہ ہوسکتے تھے کیونکہ ابھی تک بیت المقدس پر نصرانی رومی حکومت کا قبضہ تھا جن کی پشتینی دشمنی نے مسمانوں کو کبھی چین نہ لینے دیا۔ مسلمانوں کے دل سے جنگ موتہ اور غزوہ تبوک دونوں کا داغ ابھی تک مندمل نہ ہو سکا تھا حتیٰ کہ ابھی ابھی رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے مقتولوں کا قصاص لینے کے لیے جیش اسامہ کو اسی فلسطین پر حملہ کرنے کا حکم دیا تھا جس میں شہر بیت المقدس واقع ہے۔ اور مسلمان مکہ معظمہ کو بھی آپ کا مدفن بنانے پر رضامند نہ ہو سکے۔

(ج)  مدینہ منورہ جس بستی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور آپ کے رفقا کے لیی اپنے دروازے کھول دیے تھے جہاں کے باشندوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی نصرت کی سعادت کی، جس شہر نے سب سے پہلے اسلا کا علم بلند کرنے کے لے سر دھڑ کی بازی لگا دی اور اس رائے پر تمام مسلمان متفق ہو گئے۔

اب مرقد کی جگہ کے تعیین کے لیے گفتگو ہوئی اور اس میں بھی مختلف رائیں پیش ہوئیں۔

(الف) مسجد نبوی میں منبر کی جگہ پر جہاں رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تشریف فرما ہو کر خطبہ سناتے۔

(ب)  مصلیٰ کی جگہ جہاں پر امامت الصلوۃ کے قیام فرماتے۔

مرقد کے متعلق یہ دونوں رائیں ام المومنین عائشہؓ کی اس روایت کی وجہ سے مسترد کی گئی کہ علالت کے آخری مرحلہ میں جب رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سیاہ رنگ کی ردا اوڑھ رکھی تھی دفعتاً تکلیف بڑھ گئی جس کے اثر سے ردا کا دامن چہرہ مبارک پر پھیلا دیتے اور کبھی دامن کو رخ انور سے سرکا کر دوسری طرف پھینک دیتے۔ اسی اضطراب میں زبان مبارک سے یہ الفاظ صادر ہوئے!

قاتل اللہ قوما اتحذو ا قبور انبیاء مساجدا!

’’خدا تعالیٰ نے ایسی قوم کو ہلاک  کیے بغیر نہیں رہتا جو نبیوں کی قبروں کو مسجد بنا لے!‘‘

ام المومنینؓ کی ا س روایت سے مسجد نبوی کے اندر تدفین کا ارادہ ختم ہو گیا لیکن مرقد کی تعیین کا مرحلہ ابھی باقی تھا کہ خلیفۃ المسلمین حضرت ابوبکرؓ تشریف لائے اور انہوں نے سن کر فرمایا:

سمعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم یقول ما قبض نبی الادفن حیث یقبض

’’میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی زبان مبارک سے یہ سنا کہ نبی کی روح جس مقام پر قفس عنصری سے پرواز کر تی ہے اس قطعہ زمین کو ان کے مرقد بننے کا شرف حاصل ہوتا ہے‘‘۔

جس کا شرف ام المومنینؓ  سیدہ صدیقہؓ کے مقدر میں تھا۔ ختم المرسلین صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ی آخری آرام گاہ بھی آپ کا حجرہ قرار پائے۔ (مرقد کی تعیین) پلنگ جس مقام پر لگا ہوا تھا وہیں قبر کھود لی گئی۔

غسل میں صرف قرابت دار شریک تھے۔ جناب علی جسد اطہر کو مل رہے تھے۔ حضرت عباسؓ اور آپ کے ہر دو صاحبزادے( افضل و قشم بشمول شقران) پردہ کیے ہوئے تھے۔ اسامہ ابن زیدؓ پانی ڈالنے پر (شقران رسالت مآب صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے خدمت گار غلام ہیں ) بعض حضرات نے بدن سے قمیض علیحدہ کرنے کا مشورہ دیا مگر حضرت علیؓ اور ان ے دوسرے رفقا نے اسے مناسب نہ سمجھا۔ غسل کے دوران میں جسد گرامی پر مالش سے خوشبو کی لپٹوں کی وجہ سے در و دیوار مہک اٹھے۔ جس پر علی ابن طالبؓ نے کہا:

بابی انت وامی! ما اطبیک حیا و میتا!

’’میرے ماں باپ نثار! زندگی میں بھی اس جسد مبارک سے خوشبو  کی مہک آتی رہی اور اس حالت میں بھی‘‘۔

 

خوشبو کے بارے میں مستشرقین کی توجیہ

بعض مستشرقین نے اس کی توجیہ میں لکھا ہے کہ زندگی میں آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو جن چیزوں کا اشتیاق تھا ان میں خوشبو کا استعمال غالب تھا جس سے خوشبو بدن کا جزو ہی بن گئی۔

 

تکفین و تدفین

کفن تین چادروں سے دیا گیا جن یں دو چادریں قریہ صحار(یمن) کی بنی ہوئی تھیں اور ایک چادر دھاری دار تھی تکفین سے فارغ ہونے کے بعد فی الحال جسد مبارک کو اپنے حال میں چھوڑ کر زیارت کے لیے پردہ ہٹا دیا گیا۔ زائرین مسجد سے گزر کر آخری دیدار کے لیے آنے لگے اور درود و سلام پڑھ کر با دیدہ حسرت واپس لوٹتے گئے۔

 

نماز جنازہ میں ابوبکرؓ و عمرؓ کے ساتھ دوسرے مسلمانوں کی شرکت

ابوبکرؓ و عمرؓ حجرہ میں داخل ہوئے تو زائرین کی بھیڑ لگی ہوئی تھی۔ دونوں حضرات  نے مسلمانوں کی معیت میں نماز جنازہ (بہ نیت فرادی… م) ادا کی۔ نماز سے فارغ ہو کر ہر شخص اپنی جگہ پر خاموش کھڑا ہو گیا۔ اس موقع پر حضرت ابوبکرؓ نے تقریر کرتے ہوئے فرمایا:

السلام علیک یا رسول اللہ ورحمت اللہ و برکاتہنشھد ان نبی ورسولہ قد بلغ رسالۃ ربہ وجاھد فی سبیلہ حتی اتم اللہ النصر لدینہ وانہ فی بوعدہ و امر الا نعبد الا اللہ وحدہٗ لا شریک لہ۔

’’السلام علیک یا رسول اللہ و رحتہٗ و برکاتہ! ہم سب گواہ ہیں کہ اللہ کے نبی اور رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے پروردگار کی رسالت پہنچا دی۔ اس کی راہ میں ا س وقت تک جہاد جاری رکھا کہ جب تک اللہ نے اپنے دین کی نصرت نہ فرما دی۔ ہم اس پر بھی گواہ ہیں کہ خدا کے رسول نے اللہ کے ساتھ جو میثاق کیا تھا۔ اسے حرف بحر ف پورا کر دیا اور لوگوں نے فرما دیا کہ ہم خدائے وحدہٗ لا شریک کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں۔ ‘‘

جناب ابوبکرؓ کے ہر جملہ پر حاضرین نے صدق زبان سے تائید کرتے ہوئے اور موقعہ بموقعہ آمین پکارتے۔

مردوں کے حجرہ سے باہر آ جانے کے بعد عورتیں آئیں ان کے بعد بچے آئے جو خاتم النبیین صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے فراق کی حسرت میں چہرہ مبارک پر نظر کرتے۔ آ پ کی وفات کی وجہ سے ہر زن و بچہ دین کے انجام پر خائف تھا۔

 

تاریخ کی پر شکوہ گھڑیاں

یہ واقعہ جسے تیرہ سو سال سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہے جو تاریخ کا پر شکوہ منظر ہے کہ جب اس کا تصور کرتا ہوں تو دل پر اس زور کی ہیبت اور دبدبہ سے لرزہ طاری ہو جاتا ہے کہ کفن میں لپٹا ہوا پیکر حجرہ کے ایک طرف ابدی نیند میں سویا پڑا ہے یہ جسد گرامی کل سپرد لحد ہو جائے گا۔ گزشتہ کل تک یہی جسم بارک زندگی نور اور رحمت کا سرچشمہ تھا۔ یہ ایسے بزرگ کا پیکر ہے جو بنی نوع بشر کو ہدایت و حق کی تبلیغ کرتا رہا۔ نیکی کا مصدر رحمت عالم احسان کا منبع، رفاہ عام کے ہر امر میں سبقت کا خوگر ہدایت اور رشد کا سرچشمہ سرکشوں سے مظلوم کا حق دلانے میں پیش پیش۔ آج اس مجموعہ صفات کے آخری دیدار کی تمنا دل میں لیے ہوئے انسانوں کے دل کے دل چلے آ رہے ہیں مردوں عورتوں اور بچوں کی زبان مدح سرائی میں مصروف ہے اور فر ط غم سے نڈھال ہیں کہ ایسا بزرگ ان سے بچھڑ رہا ہے جو ان کے لیے شفیق باپ کا قائم مقام مہربانی بھائی کا بدل مونس و غم خوار دوست محبت و وفا کا پیکر اور خدا کا نبی و رسول ہے جو آج اپنے رب کے پا س جا رہا ہے۔

ایسے لوگوں کا احساس کس قدر قابل تعریف ہے جن کے دل ایمان کی دولت سے مالا مال ہیں۔ سب خائف ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی وفات کے بعد پردہ غیب سے کیا ظہور پذیر ہو گا!

جب میں آج سے تیرہ سو سال قبل کے اس منظر کا تصور کرتا ہوں تو حیرت میں کھو جاتا ہوں روح ایسے پر شکوہ نظارہ کی ہیبت سے متاثر ہو جاتی ہے ، جسے ذہن میں سے محو کرنے کی کوشش کرنے کے باوجود اس پر قادر نہیں ہوا جا سکتا۔

مسلمانوں کا یہ ہراس بے سبب نہ تھا کیوں کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی وفات کی خبر سے اطراف مدینہ کے یہود و نصاریٰ دونوں گروہ سرکشی پر آمادہ ہو گئے۔ قبائل میں جو لوگ ضعیف الایمان تھے منافقت پر اتر آئے۔ اور تو اور مکہ معظمہ کے مسلان بھ اسلام سے برگشتہ ہونے پر تل گئے۔ عالی حضرت عتاب بن اسید جنہیں رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہی نے مقرر فرمایا  تھا یہ رنگ دیکھ کر چپ ہو گئے۔ اس نازک موقع پر حضرت سہیل بن عمرو کی فراست آڑے آئی، جنہوں نے مجمع عام میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی رحلت کا تذکرہ کرنے کے بعد فرمایا اسے سے ہماری قوت میں ضعف نہیں آ سکتا۔ سن لو! جس نے اسلام کے خلاف زبان کھولی اس کی گردن اڑا دی جائے گی ذرا تو سوچو کہ تم تمام لوگوں کے بعد اسلام میں داخل ہوئے مگر سلام سے برگشتہ ہونے میں سب سے پہلے پیش قدمی کر رہے ہو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ دنیا میں قریش کی برتری قائم کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ ان ہی کے ہاتھ سے ان کی نصرت کرائے گا۔

 

صورت تدفین

عرب میں لحد کے دو طریقے رائج تھے (۱) بغلی اور (۲) ہودہ۔ مدینہ میں بغلی کا رواج تھا اہل مکہ ہودہ بناتے۔ حضرت ابوعبیدہ بن جراحؓ سرد آبہ تیار کرنے کے بعد مکی طریق کے مطابق لحد بناتے اور جناب ابوطلحہ (زید بن سہیلؓ) جو اہ مدینہ کے گویا قبر کن تھے بغلی لحد تیار کرتے۔ سیدنا عباسؓ نے دونوں حضرات کو طلب فرمایا مگر تنہا ابو طلحہ تشریف لائے اور ابوعبیدہ جو دولت کدہ پر موجود نہ تھے نہ آ سکے۔ مرقد مبرکاہ مدینہ کی رسم کے مطابق تیار کیا گیا۔ نصف شب تک جب مسلمان آخری دیدار سے فارغ ہو گئے تو اہل بیت نے تدفین پر توجہ فرمائی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اوڑھنے کی سرخ رنگ کی ردا کا فرش بچھایا۔ جو حضرات غسل میں شریک تھے انہیں کے ہاتھ سے جسد مبارک لحد میں رکھا۔ اسے کچی اینٹوں سے ڈھانک دیا گیا اور سرد آبہ میں مٹی ڈال کر قبر بنا دی۔ ام المومنین عائشہؓ فرماتی ہیں کہ نصف شب کے قریب پھاؤڑوں سے مٹی کاٹنے کی اواز سن کر اندازہ کیا گیا کہ جسد مبارک دفن ہو رہا ہے۔ (اسی طرح حضرت فاطمہؓ سے روایت کی جاتی ہے)۔

تاریخ و یوم تدفین

۱۴ ربیع الاول بروز چہار شنبہ یوم رحلت سے دو رو ز بعد

 

ام المومنین صدیقہ طاہرہؓ اور حجرہ مزار مقدس

ام المومنین عائشہ صدیقہؓ اسی حجرہ میں اقامت گزیں رہیں جس کے ایک حصے میں رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا مرقد مبارک تھا اور رساتل مآب صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی اس ہمسائیگی کو اپنا فخر سمجھتی رہیں اسی حجرہ میں حضرت ابوبکرؓ (رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی دائیں سمت) مدفون ہوئے ان کے بعد جناب عمرؓ بن الخطاب آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بائیں طرف ام المومنینؓ  عائشہؓ ایک روایت میں فرماتی ہیں کہ حضرت عمرؓ کے مدفون ہونے سے قبل میں چہرہ پر نقاب اوڑھے بغیر مزار مبارک کی زیارت کے لیے حاضر ہوتی رہی اور ابوبکر کے دفن ہونے پر نقاب کی ضرورت نہ سمجھی لیکن حضرت عمرؓ کے دفن ہونے کے بعد پورا نقاب اور پورا پردہ کیے بغیر زیارت کے لیے حاضر نہ ہوتی۔ ‘‘

 

جیش اسامہ کی روانگی

جسد مبارک کی تدفین کے بعد خلیفہ المسلمین ابوبکرؓ نے سب سے پہلے اس پر توجہ فرمائی کہ جیش اسامہ کو شام کی طرف روانہ کیا جائے کیوں کہ جس طرح مسلمانوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دوران میں جیش کے معاملہ پر اعتراض کیا تھا مبادا کہ وہی نکتہ چینی پھر ابھر آئے۔ اس وقت حضرت عمرؓ بھی ان لوگوں کے ہم نوا تھے لیکن آج عمرؓ  کی رائے مختلف تھی وہ مصر تھے کہ فی الحال لشکر کی روانگی میں التوا کیا جائے۔ انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی وفات کی وجہ سے مسلمانوں میں افتراق پیدا ہو جانے کا خطرہ تھا۔ انہیں اس حادث سے یہ خطرہ بھی تھا کہ جو لوگ بھی تک اسلا کے اصولوں سے پوری طرح واقف نہیں ایسا نہ ہو کہ وہ دین سے پھر جائیں اور لشکر کے موجود ہونے سے فتنہ کا انسداد کیاجا سکتا ہے۔ لیکن حضرت ابوبکرؓ فرمان رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے نفاذ میں ایک لمحہ کی تاخیر کے روادار نہ تھے۔ نہ مسلمانوں کے اس مشورہ پر عمل کرنے کے لیے آمادہ کہ سپہ کی کمان نو عمر اسامہؓ کے بجائے کسی مسن اور تجربہ کار کے ہاتھ  میں دی جائے۔

اور لشکر اپنی پہلی فرودگاہ( مقام) جرف میں یک جا ہو گیا۔ حضرت ابوبکرؓ رخصت کرنے کے لیے خود تشریف لائے اور جناب اسامہؓ سے درخواست کی کہ مجھے ہر وقت حضرت عمرؓ کے مشورے کی ضرورت ہے۔ ہو سکے تو آپ انہیں مدینہ ہی میں رہنے دیجیے۔ اور سپہ سالار نے خلیفہ المسلمین کا مشورہ قبول کیا۔

 

جیش اسامہؓ  کی کامیابی

مدینہ سے روانگی کے بعد بیس یوم نہ گزرے تھے کہ بلقائے روم پر مسلمانوں کا حملہ ہو گیا جس میں اسامہؓ  نے عیسائیوں سے غزوہ موتہ کے مقتول اور مسلمانوں اور اپنے والد کا قصاص لیا۔ مسلمان اس لڑائی میں مغلوب دشمنوں پر وار کرتے ہوئے للکار کر کہتے کہ اے مفتوحین تم مر کر ہی نجات حاصل کر سکو گے۔

دیکھنا یہ ہے کہ ابوبکرؓ اور جناب اسامہؓ دونوں حضرات نے کس خلوص و یگانگت کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے حکم کی تعمیل کی۔ جب اسامہؓ بلقا فتح کر کے مدینہ واپس تشریف لائے تو سواری میں اس دشمن کا گھوڑا تھا جس کے ہاتھ سے آپ کا والد گرامی(حضرت زیدؓ) شہید ہوئے تھے۔ اور رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جو علم اپنے دست مبارک سے گوندھ کر اسامہ کو عنایت فرمایا تھا وہ علم گھوڑے کی زین سے بندھا ہوا تھا۔

 

انبیائے کرامؑ  کی توریث

رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی وفات کے بعد آپ کی صاحبزادی سیدہ فاطمہؓ  خلیفہ المسلمین  (جناب حضرت ابوبکرؓ ) کے حضور تشریف لائیں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اپنے حصہ خمس کی جو اراضی فدک و خیبر میں تھی بربنائے حصہ اس اراضی کا مطالبہ پیش فرمایا لیکن خلیفہ المسلمینؓ  نے رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہ کے اس فرمان پر سیدہ کے ارشاد کی تعمیل سے مجبور ی کا اظہار کر دیا۔

نحن معاشر الانبیاء لا تورث ماترکناہ صدقۃ

’’ہم انبیاء کی جماعت میں سے ہیں جو اپنے کسی عزیز و قرابت دار کو اپنے متروکہ کا وارث نہیں بناتے۔ ہمارا ترکہ امت کے لیے صدقہ ہے‘‘۔

لیکن خلیفۃ المسلمینؓ  نے احتراماً و کراماً سیدہ سے فرمایا کہ اے بی بی  اگر رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے  یہ اراضی آپ کے لیے ہبہ فرما دی ہو تو اپ ہی کے فرمانے سے رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے حکم کی تعمیل کے لیے حاضر ہوں۔ سیدہ نے فرمایا یہ تذکرہ ام ایمن نے مجھ سے کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا آپ کے لیے فدک و خیبر کی اراضی ہبہ کرنے کا ارادہ تھا۔ لیکن میرے والد گرامی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے براہ راست اس معاملہ میں مجھ سے کبھی کوئی اشارہ نہیں فرمایا سیدہ کی زبان مبارک سے یہ الفاظ سننے کے بعد حضرت ابوبکرؓ نے فدک و خیبر کی ایسی اراضی بیت المال میں داخل فرما دی جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے خمس میں سے تھی۔

 

انبیاء کرام کی میراث معنوی ہے

ختم المرسلین صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم دنیا سے رخصت ہوئے تو مال و زر سے کوئی چیز اپنے وارثوں کے لیے نہ چھوڑی۔ جس طرح دنیا میں تشریف لائے تھے اسی طرح خویش و اقارب کی پابندی اور زر و مال کی محبت کا داغ دل میں لیے بغیر دنیا سے واپس تشریف لے گئے۔ البتہ ورثا بلکہ تمام بنی نوع بشر کے لیے اسلا اور اسلام کے ساتھ ایک ایسا تمدن چھوڑا جس کے سایے میں یہ جہاں صدیوں سے خوشی و  خرمی کی زندگی بسر کر رہا تھا اور رہتی دنیا تک (اہل جہان) ان دونوں سے فیض یاب رہیں گے۔ ا س کے ساتھ ہی (آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے) توحید کی بنیاد کو استوار فرمایا کلمۃ اللہ کو سربلند اور کلمہ کفر کو سرنگوں کیا بت پرستی اور شرک کی جڑیں پاتال سے کھود کر پھینک دیں۔ انسان کو ایک دوسرے کے ساتھ نیکی اور محبت سے پیش آنے کی تلقین اور نافر تو کینہ سے باز رہنے کی ہدایت فرمائی اور اپنے بعد قرآن کو ہدایت و رحمت کے سرمایہ کی حیثیت سے چھوڑا۔

یہ وجود مقدس کہ مظہر کامل و پیشوائے بزرگ ہیں اپنے کردار کا آخری مرقع کس حیرت انگیز طریق پر ظاہر کیا فرمایا:

 ایھا الناس من کنت جلدتہ لہ ظہراًفھذا ظھری

’’دوستو! تم میں سے جسے میرے ہاتھ سے کوئی بدنی ایذا پہنچی ہو قصاص کے لیے میری پشت حاضر ہے‘‘۔

ومن کنت شتمت لہ عرضا فھذا عرضی فلیستقدمنہ ومن اخذت لہ مالا فھذا مالی فلیستا خذمنہ ولا یخش الشحناء فھولیست من شانی

’’جس کسی کے حق میں میری زبان سے کوئی ناروا بات نک گئی ہو وہ شخص اسی طرح مجھ سے انتقام لے سکتا ہے جس کسی کا قرض میرے ذمہ ہو میں ادا کرنے کے لیے تیار ہوں اور ایسے حضرات کے خلاف میرے دل میں کوئی پرخاش نہ ہو گی کیوں کہ ایسی چیزوں سے میری طینت مبرا ہے‘‘۔

اس پر ایک صاحب نے اپنے تین درہم قرض کا اشارہ کیا جنہیں آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسی وقت ادا کر دیا اور اس کے بعد آپ نے اپنا وہ روحانی ترکہ چھوڑ کر دنیا سے منہ موڑ لیا جسے اللہ تعالیٰ ہمیشہ باقی رکھے گا اور اپنے اس دین کو دنیا کے ہر نئے اور پرانے دین کے مقابلہ می سچا ثابت فرمائے گا ولوکرہ الکافرون (۹:۳۲)

٭٭٭

ماخذ:

http://www.iqbalcyberlibrary.net/txt/100045.txt:

تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید