FavoriteLoadingپسندیدہ کتابوں میں شامل کریں

 

 

گردِ مُسافت ۔ نظمیں

 

 

                محسن بھوپالی

مجموعہ کلام ’گردِ مسافت‘ کی نظموں سے انتخاب: شیزان اقبال

 

 

 

 

تمہیں آسائشِ منزل مبارک

ہمیں گردِ مُسافت ہی بہت ہے

 

محسن بھوپالی

 

 

 

 

 

 

انتساب

 

ذوالفقار علی بخاری مرحوم

کے نام

جن کے سوال کے جواب میں مَیں نے یہ نظمانہ کہا تھا جو اپنے

سوال کے ساتھ آج بھی زندہ ہے

 

دُور اندیشی

 

تم محسن ہو؟

یہ تو ٹھیک ہے

لیکن تم یہ بھوپالی کیوں لکھتے ہو؟

اگر نہ لکھتا، آپ پوچھتے

کہاں کے رہنے والے ہو؟

 

میں کہتا لَڑکانے کا

تم پھر کہتے، پاکتسان آنے سے پہلے

کون سے شہر میں رہتے تھے؟

میں کہتا، بھوپال

۔۔۔۔۔۔۔گھما پھرا کر مجھ کو جو بتلانا پڑتا

میں نے ساتھ ہی لکھ رکھا ہے

٭٭٭

 

 

 

 

 

 

 

حرفِ اظہار

 

1948ء کے دوران میں نے اِس دشتِ سُخن میں قدم رکھا۔ آج چالیس سال کی مسافت کے بعد جب پچھلے سفر پر نظر ڈالتا ہوں تو ہلکی گہری گرد میں سے دور۔۔۔۔ نسبتاً نزدیک۔۔۔ اور بہت نزدیک ، تین موڑ نمایاں ہوتے ہوئے نظر آتے ہیں:۔

 

نیرنگئ سیاستِ دَوراں تو دیکھئے

منزل انہیں ملی جو شریکِ سفر نہ تھے

 

شکستِ شب۔1961ء

 

ہماری جان پہ دہرا عذاب ہے محسن

کہ دیکھنا ہی نہیں ہم کو سوچنا بھی ہے

 

ماجرا۔1981ء

 

تمہیں آسائشِ منزل مبارک

ہمیں گردِ مُسافت بہت ہے

 

گردِ مسافت۔1988ء

 

یہ موڑ اظہارِ صداقت۔۔۔ نظریۂ فن۔۔۔ اور پندارِ فکر کے آئینہ دار ہیں کہ شعری سطح پر اظہارِ صداقت کے جذبے نے میرے نظریۂ فن کو جلا بخشی ہے اور نظریۂ فن نے پندارِ فکر کا سرمایہ عطا کیا ہے۔

اپنی فکر، اپنے فن اور اپنی شخصیت کے عنوان سے یا ان کی آڑ لے کر بہت کچھ کہا اور لکھا جا سکتا ہے لیکن میرا ایقان ہے کہ اچھا شعر تنقید کا متحمل نہیں ہو سکتا۔۔ اسے محسوس کر کے حِظ حاصل کیا جا سکتا ہے یا عمل پیرا ہوا جا سکتا ہے۔ اسی طرح شاعر کو اچھا مانا تو جا سکتا ہے منوایا نہیں جا سکتا۔۔ آج قارئین کی خدمت میں “گردِ مُسافت” اسی احساس کے ساتھ پیش کر رہا ہوں

 

محسن بھوپالی

6 مئی۔ 1988ء

 

 

 

 

دوراہے پر

 

بچھڑنا ہے تم کو

بچھڑ جاؤ لیکن

کسی سنگِ الزام سے تو نوازو

۔۔۔ اگر زندگی کے کسی موڑ پر ہم ملیں

تو ہمارے لبوں پر

اِک ہلکا سا تبّسم تو ہو

کوئی بات وجہِ تکلّم تو ہو

٭٭٭

 

 

 

 

 

 

 

تسلسل ٹوٹ جائے گا

 

نہ چھیڑو کھِلتی کلیوں، ہنستے پھُولوں کو

اِن اُڑتی تتِلیوں ، آوارہ بھونروں کو

تسلسل ٹُوٹ جائے گا

 

فضا محوِ سماعت ہے

حسیں ہونٹوں کو نغمہ ریز رہنے دو

نگاہیں نیچی رکھو اور مجّسم گوش بن جاؤ

اگر جُنبش لبوں کو دی

تسلسل ٹوٹ جائے گا

 

وہ خوابیدہ ہے، خوابیدہ ہی رہنے دو

نہ جانے خواب میں کِن وادیوں کی سیر کرتی ہو

بلندی سے پھسلتے آبشاروں میں کہیں گم ہو

فلک آثار چوٹی پر کہیں محوِ ترنم ہو

اگر آواز دی تم نے

تسلسل ٹوٹ جائے گا

 

میں شاعر ہوں

مری فکرِ رسا، احساس کی اُس سطح پر ہے

جس میں خُوشبو رنگ بنتی ہے

صدا کو شکل ملتی ہے

تصّور بول اٹھتا ہے

خموشی گنگناتی ہے

یہ وہ وقفہ ہے۔۔۔۔۔ ایسے میں

اگر دادِ سخن بھی دی

تسلسل ٹوٹ جائے گا

٭٭٭

 

 

 

 

 

 

مکالمہ

 

ایک ہم عصر نے کہا مجھ سے

عُمر گُزری مخالفت کرتے

 

حرفِ اعلانِ حق بجا لیکن

پہلے ہم سے تو مشوَرت کرتے

 

گر اُجالوں میں تم کو رہنا تھا

تیرگی سے مفاہمت کرتے

 

چھیڑتے راگنی “محبت” کی

اور کبھی ذکرِ مملکت کرتے

 

بعد میں سوچتے مآلِ وطن

اولآ فکرِ منفعت کرتے

 

نہ سہی ذہن ،گفتگُو میں ہی

کچھ تو پیدا مطابقت کرتے

 

صاحبِ اِختیار کہلاتے

جبر کی قدر و منزلت کرتے

 

۔ ۔۔

 

 

آپ کا مشورہ بجا لیکن

کیسے خُود سے منافقت کرتا

 

جو نظریے سے عِشق رکھتا ہو

کِس طرح وہ مصالحت کرتا

 

عِشق ہے خُودسُپردگی کا نام

عِشق میں کیا معاملت کرتا

 

میں تو ٹھہرا زیاں کا سودَاگر

آپ سے کیا مسابقت کرتا

٭٭٭

 

 

 

 

 

گیس المیے کے بعد

 

شہرِِ بھوپال۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اے ارضِ دارالسّلام!

ایک مُدت کے بعد آج پھر تجھ سے ہوں ہم کلام

سالہا سال کے فاصلے کاٹ کر

اپنے یاروں میں ہوں۔۔۔ اپنے پیاروں میں ہوں!

شہرِ بھوپال، اے ارضِ دارالسّلام!

جس تباہی سے گزرے

ترے بچے بوڑھے۔۔۔۔۔۔ترے مرد و زن

اُس کی تشبیہ تاریخِ اِنسانیت میں نہیں

اُس کے معنی کِسی بھی لغت میں نہیں

۔۔۔۔۔۔ فکرِ اِنساں رَسا ہے تو بس اِس قدر

کچھ کہا، کچھ سُنا ہے تو بس اِس قدر

روزِ محشر سے پہلے قیامت کی شب آئی تھی

لے کے ہمراہ طُوفانِ غیظ و غضب آئی تھی

ساتھ اپنے ہزاروں دھڑکتے دلوں کی صدا لے گئی

دُعاؤں کو اُٹھے ہوئے سارے دستِ دُعا لے گئی

شہرِِ بھوپال۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اے ارضِ دارالسّلام!

کٹ گئیں وہ سیہ، سرد، سفاک، سم ساعتیں

پُر الم ساعتیں

ایک عرصے کے بعد آج پھر تیرے شیدا، ترے جاں نثار

تیرے ساونت، تیرے جیالے، ترے شہسوار

موت کی گھاٹیوں سے گزر کر

ہیں پھر زندگانی کے رن میں بنرد آزما

اُن کے ہونٹوں پہ حرفِ دُعا ہے

دلوں میں نئی زندگی کا نیا ولولہ

اُن کی ہمت کو صد آفریں، حوصلے کو سلام

ایک مدت کے بعد آج پھر تجھ سے ہوں ہم کلام

شہرِِ بھوپال۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اے ارضِ دارالسّلام!

٭٭٭

 

 

 

 

 

 

لا یغیّٗرُ ما۔ ۔ ۔

 

بُرائی سے نفرت ہی کرتا تھا پہلے

کہ اپنے بزرگوں سے میں نے یہی کچھ سُنا تھا

پھر اِک وقت آیا۔۔۔۔ کہ اورَوں کی خاطِر

بُری چیز کو بھی بُری چیز کہتے ہوئے

میں جِھجھکنے لگا!

 

اب بُرائی کو اچھا سمجھنے لگا ہوں

یہی “اِرتقا” کی وہ دلدل ہے جس سے بچانا

کِسی کے بھی بس میں نہیں ہے

اگر مَیں نہ چاہوں!

٭٭٭

 

 

 

 

 

سفاک تاثر

 

تم نے میرے لیے یہ کہا ہے

کہ میں صِفر ہوں

اگر تم مرے ساتھ ہو پھر بھی

مجھ میں اضافے کا اِمکاں نہیں

اور تمہیں خُود سے منہا اگر میں نے کر بھی دیا

تو کوئی فرق پڑتا نہیں !

 

یہ ریاضی کی منطق، یہ اندازے

بالکل بجَا ہیں مگر

اِس طرح بھی کبھی سوچنا

میری نفرت کی اِک ضرب

تم کو اگر صِفر کر دے ! !

٭٭٭

 

 

 

 

 

مَیں زِندہ ہوں

 

مَیں زِندہ ہوں

یوں ہی وِیرانۂ شب میں بھٹکتا

اور قضا کے سرد ہاتھوں سے اُلجھتا

اہرمن زادوں کے نرغے میں

میں اِک معصُوم خواہش کے سہارے

اب بھی زِندہ ہوں

 

کہ یہ جاگی ہوئی آنکھیں

مسلسل تیرگی میں اِک رمق کو ڈھُونڈتی آنکھیں

۔۔ اُفق کے خُونچکاں آغوش میں اِک دن

گُلِ خورشید کو کھِلتا ہوا دیکھیں

اور اُس کا عکس اپنی پتلیوں میں لے کے سو جائیں

٭٭٭

 

 

 

 

 

آخرت

 

عُمر اب ڈھل رہی ہے

تو بچپن میں جتنی بھی باتیں

بزرگوں سے میں نے سُنی تھیں

وہ ایک ایک کر کے

مجھے پوری ہوتی نظر آ رہی ہیں

سماعت سے کان اور بصارت سے آنکھوں کی

محرومی بڑھنے لگی ہے

قویٰ مُضمحل ہو رہے ہیں

اور اب یہ یقیں آ رہا ہے

کہ یہ میرے حق میں یا میرے خلاف

ایک دن سب گواہی بھی دیں گے!

٭٭٭

 

 

 

 

 

 

ورثہ

 

آخر کِس اُمید پہ اپنا سر نہوڑائے

بوڑھے پیڑ کے نیچے بیٹھے

بیتے لمحے گنِتے رہو گے

بوجھل سر سے ماضی کے احسان جھٹک کر اُٹھو

دیکھو یہ سب کوڑھ کی ماری شاخیں

گل کر گِرنے والی ہیں

اُس موٹے ، بے ڈول تنے کے غار میں جھانکو

ویرانی اپنے بال بکھیرے۔۔۔ خُشک زباں سے

اِک اِک جڑ کو چاٹ رہی ہے

آؤ کوڑھ کی ماری شاخوں کے گلنے سے پہلے

اپنی عُمر کے پیلے سورج کے ڈھلنے سے پہلے

اِک پودا ہی دیتے جائیں !

٭٭٭

٭٭٭

ماخذ: اردو محفل

http://urduweb.org/mehfil/

تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید