FavoriteLoadingپسندیدہ کتابوں میں شامل کریں

 

 

فہرست مضامین

نذرِ میرا جی

 

                جمع و ترتیب: اعجاز عبید

 

ماخذ: جدید ادب، جرمنی، میرا جی نمبر

مدیر: حیدر قریشی

 

 

 

 

 

ندا فاضلی

 

                نذرِ میرا جی

 

نگری نگری پھرا مسافر گھر کا رستا بھول گیا

(میرا جی)

 

بدلا، بدلا ہے ہر منظر، گلی محلہ بھول گیا

یاد رہا وہ لیکن اس کا چہرہ مہرہ بھول گیا

 

بنا بنا کے بادل، سورج اُڑا رہا ہے پانی کو

ساگر تک جانے کا رستہ، بہتا دریا بھول گیا

 

جنگل سے محفوظ قفس تھا لیکن اسیحفاظت میں

کھلی فضا کا ایک پرندہ، پروں سے اُڑنا بھول گیا

 

آدم زاد فرشتہ بن کر چمکا دور ستارے سا

مگر زمیں پر بہن کی چوڑی، ماں کا چشمہ بھول گیا

 

تنہا تنہا بھٹک رہا ہے بیگانوں کی بستی میں

شاید اپنے ساتھ وہ اپنے شہر کو لانا بھول گیا

٭٭٭

 

 

 

 

ڈاکٹر پنہاں

 

                نذرِ میرا جی

 

لب کشائی کی اجازت دلِ آزاد نہیں

ضبط شیوہ ترا، زیبا تجھے فریاد نہیں

 

کوئی نمرود نہیں ہے، کوئی شداد نہیں

یہ اگر سچ ہے تو کیا اب کوئی ناشاد نہیں

 

اپنی تخلیق کے مقصد کو تو ہم بھول گئے

اور ایسا بھی نہیں ہے کہ خدا یاد نہیں

 

ہم سا معصوم زمانے میں نہیں اور کوئی

ہوکے برباد سمجھتے ہیں کہ برباد نہیں

 

اس میں کچھ خونِ جگر کی بھی ملاوٹ پنہاں ؔ

یہ غزل گوئی تری صرف خداداد نہیں

 

میرا جی کی غزل ’’لذتِ شام شبِ ہجر خداداد نہیں ‘‘ کی زمین میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پنہاں ؔ

٭٭٭

 

 

 

ڈاکٹر پنہاں

 

                نذرِ میرا جی

 

اس تناظر میں کچھ حق ہے، نہ کچھ باطل ہے

زندگی! کیا ترا خالق ہی ترا قاتل ہے

 

زہر آلود ہوئی جاتی ہے مٹی میری

کوئی سازش ہے، تنفس میں کوئی شامل ہے

 

ہر کسی کو نہیں ملتی ہے یہ دولت اے دل

درد پائے گا وہی، درد کے جو قابل ہے

 

زندگی ہے یہ ترے درس کا اعجاز کہ اب

موج کشتی مِری، طوفان مِرا ساحل ہے

 

شاعری دل کا سہارا ہے وگرنہ پنہاں ؔ

’’زندگی کشمکشِ حاصل و لا حاصل ہے ‘‘۱

 

۱:میرا جی کا مصرعہ ہے

٭٭٭

 

 

 

 

صادق باجوہ

 

سوچتے رہنے سے کیا اس کو خبر ہو جائے گی

زندگی کیونکر بھلا یونہی بسر ہو جائے گی

 

شامِ ہجراں میں بھی پِنہاں ہے رَمَق امید کی

تیرہ و تاریک شب کی بھی سَحر ہو جائے گی

 

جھِلملاتی لَ ووفا کی ضَو فِشاں ہو گی تو پھر

یاد کی ہر رہگزر خود ہی اً مَر ہو جائے گی

 

پھر زمانے آئیں گے اک دن مری دہلیز پر

پھر کوئی خوشبو کہیں محوِ سفر ہو جائے گی

 

دل سے آنکھوں تک وفاؤں کا سفر درپیش ہو

مختصر سے مختصر راہِ سفر ہو جائے گی

 

غم کو اپنایا تو دردِ دل بھی خود آتا گیا

کیا خبر تھی اس کو بھی اک دن خبر ہو جائے گی

 

ہم سمجھ لیں گے کہ جو کھویا تھا آخر پا لیا

گرتے گرتے بھی کوئی تعمیر گر ہو جائے گی

 

یہ زمیں ہے میرا جی کی جس میں کہہ ڈالی غزل

دیکھ لینا ! یہ غزل بھی معتبر ہو جائے گی

 

خواب جو دیکھے ہیں صاؔدق ان کی کچھ تعبیر ہے

آرزو کیونکر گریزاں در بدر ہو جائے گی

٭٭٭

 

 

 

 

صادق باجوہ

 

کوئی سُونا دیار ہے اپنا

دل پہ کب اِختیار ہے اپنا

 

کس نے ترکِ وفا کا نام لیا

کس پہ اب اعتبار ہے اپنا

 

مٹ گئیں شوخیاں وہ رعنائیاں

راستہ پُر غُبار ہے اپنا

 

زندگی کس کے نام کی جائے

کیا کوئی غمگسار ہے اپنا

 

ہوش ہوتے ہوئے بھی ہوش نہیں

بیخودی کا خمار ہے اپنا

 

ایسے گزرا ہے قیس دنیا سے

دشت و صحرا سے پیار ہے اپنا

 

منتظِر منتظَر بھی ہوتا ہے

جانے کیوں انتظار ہے اپنا

 

ہے یہ کیسی نرالی چا ہت بھی

اپنے ہی دل سے پیار ہے اپنا

 

دشت و صحرا سے بھی گزر آئے

کیا ابھی کچھ اُدھار ہے اپنا

 

نفرتوں کا کہاں جنوں، صاؔدق!

سب سے الفت شِعار ہے اپنا

٭٭٭

 

 

 

 

شاداب احسانی

                 (میراجی کی زمین میں )

 

روز و شب کا حصار ہے اپنا

کس لیے انتظار ہے اپنا

 

ہم فسانہ ہیں کس حقیقت کا

نہ کہیں اب شمار ہے اپنا

 

ایک دم پھرسے جی اُٹھے یعنی

کوئی تو غمگسار ہے اپنا

 

جس کے دم سے خوشبواستعارہ ہے

وہ گلِ نوبہار ہے اپنا

 

کچھ وفا کی سرشت ہے اپنی

کچھ انا کا خمار ہے اپنا

 

ہائے اس پائیدار دنیا میں

دل ہی نا پائیدار ہے اپنا

 

خواب دیکھے ہے چشمِ ویرانی

کس پہ اب اختیار ہے اپنا

 

اب بھی شادابؔ سب کا میراجی

شاعرِ طرح دار ہے اپنا

٭٭٭

 

 

 

 

شاداب احسانی

 

 

در و دیوار سے وحشت ہے مجھے

زندگی تیری ضرورت ہے مجھے

 

ہے عجب منزلِ دنیائے خواب

نیند میں چلنے کی حسرت ہے مجھے

 

اس حقیقت کی حقیقت کیا ہے

سوچنے کے لیے مہلت ہے مجھے

 

کیا وہی ہے جو نظر آتا ہے

اور درکار بصیرت ہے مجھے

 

زندگی کیسے گزاروں شادابؔ

آج بھی تیری ضرورت ہے مجھے

٭٭٭

 

 

 

 

نذیر فتح پوری

 

                نذرِ میرا جی۔۔۔

 

جب بھی جذبات آہ کر تے ہیں

دل کا عالم تباہ کرتے ہیں

 

منزلوں کے ہیں جو تمنائی

راستوں سے نباہ کر تے ہیں

 

روٹھ بیٹھے ہیں ہم تو بس خود سے

لوگ کیا کیا گناہ کر تے ہیں

 

بھول جا تے ہیں آپ اپنا پن

تجھ سے جب رسم و راہ کر تے ہیں

 

اے زمانے فقیر لوگ ہیں ہم

ہم کہاں تیری چاہ کر تے ہیں

 

ہم سے فکر و نظر کے شیدائی

شاعری پر نگاہ کرتے ہیں

 

دوسرا کون ہے نذیرؔ بتا

’’اک ہمیں ان کی چاہ کرتے ہیں ‘‘

٭٭٭

 

 

 

 

نذیر فتح پوری

 

کہاں آتی ہے اس کو یاد اپنی

کہاں سنتا ہے وہ فریاد اپنی

 

الاؤ بجھ گئے ہیں دل کے سا رے

نہیں دنیا کوئی آباد اپنی

 

اسی آنسو کی بس فریاد سُن لو

یہی آنسو ہے بس فریا د اپنی

 

طلسمِ درد سے با ہر نکل کر

سنائیں کس کو ہم فریاد اپنی

 

نہ شیریں ہے نہ جوئے شیر باقی

کہے گا کس سے اب فرہاد اپنی

 

نذیرؔ احمد کہاں گلشن کھلائیں

ہوائیں ہو چکیں نا شاد اپنی

٭٭٭

 

 

 

نذیر فتح پوری

 

سارا موسم بہار ہے اپنا

پھر بھی دل بیقرار ہے اپنا

 

اپنے خوں میں ہے اپنی میخواری

اپنے دل میں خمار ہے اپنا

 

جلتے رہتے ہیں اپنی وادی میں

جگنوؤں میں شمار ہے اپنا

 

گردنیں کاٹتے نہیں ہم لوگ

صرف لفظوں کا وار ہے اپنا

 

اپنا ہی بوجھ ڈھو تے رہتے ہیں

اپنے اوپر سوار ہے اپنا

 

دشمنوں سے نہ مات کھائیں گے

تجربوں کا حصار ہے اپنا

 

ہم بلندی سے گرتے رہتے ہیں

فکر کا آبشار ہے اپنا

 

خود سے خود ہے نذیرؔ شرمندہ

خود پہ باقی اُدھار ہے اپنا

٭٭٭

 

 

 

 

نذیر فتح پوری

 

 

پیڑ پودوں سے محبت ہے مجھے

درد کے رشتوں کی چاہت ہے مجھے

 

تھوڑا تھوڑا یاد کر تا ہوں اسے

تھوڑی تھوڑی خود پہ قدرت ہے مجھے

 

آئینہ رکھتا ہوں گھر میں اس لیے

خود سے ملنے کی سہو لت ہے مجھے

 

ورنہ تو کیا کچھ نہیں زنبیل میں

جن دعاؤں کی ضرورت ہے مجھے

 

میں ابھی چٹکا نہیں پو ری طرح

اے ہَوا تیری ضرورت ہے مجھے

 

ہار کر شرمندہ ہوں خود سے نذیر

خوب احساسِ ہزیمت ہے مجھے

٭٭٭

 

 

 

 

ڈاکٹر ریاض اکبر

 

یہ مِری دم بخودی ہے یا ہوا قاتل ہے

اس نئے شہر میں تو رکتا ہوا سادل ہے

 

آئینے گاڑ کے بیٹھا ہے نہاں خانے میں

جانتا ہے کہ اکیلے میں گذر مشکل ہے

 

در و دیوار  دِلے باعثِ امید و وہم

اور اس چق سے ورے اس کی ضیا جھلمل ہے

 

بارہا مِل کے بکھر جانا، دوبارہ جانا

بحر کی لہر مرا ذوق، ترا ساحل ہے

 

واردِ شب کے لئے ہم نے جلا دی آنکھیں

گھر میں اُترے بھی وہ مہرو جو سرِ محمل ہے

 

میں نے لی راہِ جنوں،  اس نے ریاض اپنایا

عشق میں ہمسفری اہم نہیں، منزل ہے

 

مجھے حیدرؔ نے دکھائی یہ زمیں میراؔ جی

مرے اقبال میں اس کی بھی خطا شامل ہے

٭٭٭

 

 

 

 

حبیب ہاشمی

 

زندگی دشتِ بلا، دشنہ بکف قاتل ہے

چند سانسوں کا تماشہ ہے قضا حاصل ہے

 

میں ہوں وہ سوختہ سامانِ بلائے غمِ جاں

جس کی آنکھوں میں خلش ہائے رہِ منزل ہے

 

اب نہ وہ کشتِ تمنا ہے نہ سر جوشِ جنوں

اب نہ وہ صحبتِ یارانِ گہِ محفل ہے

 

ڈھونڈتا پھر تا ہوں اک عمر سے میں مرہمِ جاں

ایک مدت سے مرا گریہ لبِ بسمل ہے

 

ایک اک سانس مری قرضِ ہنر کی ہے رہین

اور یہ جسم بھی منت کشِ آب و گل ہے

 

نا خدا ہاتھ کی پتوار کی رفتار نہ روک

میری کشتی ابھی محتاجِ لبِ ساحل ہے

 

یاد جو عشرتِ دل تھی کبھی اے راحتِ جاں

اب وہی سینے پہ رکھی ہوئی بھاری سل ہے

 

کیا مزہ دے وے ہے وہ جلوہ حیرت نگہی

تیرے رخسار پہ ہلکا ساجو کالا تل ہے

 

کل تلک تھا جو ترے شہر نگاراں کا حبیبؔ

آج دربار میں تیرے وہ شکستہ دل ہے

٭٭٭

 

فہیم انور

 

 

ایک لمحہ بھی تری سوچ سے آزاد نہیں

کیسے کہہ دوں کہ مری زندگی آباد نہیں

 

بھولنے والی سبھی باتیں ہیں مجھ کو ازبر

یاد کیا رکھنا اب یہ بھی مجھے یاد نہیں

 

مو قلم سے ترے پیکر کو ابھاروں کیسے

میں تو مانی بھی نہیں وقت کا بہزاد نہیں

 

ایک نعمت ہی سمجھتا ہوں ستم کو تیرے

تیری بیداد بھی میرے لئے بیداد نہیں

 

بات کہنے کا سلیقہ ہی عطا ہو یارب

اچھے افسانے لکھوں میں کوئی شہزاد نہیں

 

یہ قلم بھی تو عنایت ہے اسی کی یارو!

کون سی چیز مرے پاس خدا داد نہیں

 

مجھ سے اغیار بہت شاد ہیں لیکن اے فہیمؔ

شاد رہنا ہے جسے مجھ سے وہی شاد نہیں

٭٭٭

نوٹ :

شہزاد پچھم بنگال کے ایک اچھے افسانہ نگار کا نام ہے۔

٭٭٭

 

 

 

حسام حر

 

 

پھول ہاتھوں میں کوئی غنچۂ ناشاد نہیں

عام سا شخص ہے وہ دوست پری زاد نہیں

 

ایک سودا سرِ بازار چکایا تھا کبھی

آج تک پائی مگر اس کی کوئی داد نہیں

 

وہ مجھے چھوڑ گیا یا میں اسے بھول گیا

درمیاں اپنے ہوئی بات بھی اب یاد نہیں

 

کھڑکیاں کھلنے میں باقی ہے بہت وقت ابھی

دل دریچہ پسِ منظر ہوا آباد نہیں

 

کیا ستم ہے کہ مرے کو چہ و بازار میں اب

لوگ خاموش ہیں کرتا کوئی فریاد نہیں

 

دیکھ نازک ہے بہت ٹوٹ نہ جائے ورنہ

دل کھلونا ہے کہ جس پر کوئی میعاد نہیں

 

یہ جہاں جانے کئی راز محبت کے مگر

چاہ کو راس کسی غیر کی امداد نہیں

 

’’یک ہمہ حسن طلب، یک ہمہ جان نغمہ‘‘

پاسداران سیاست میں کوئی شاد نہیں

 

’’خانہ سازانِ عناصر سے یہ کوئی کہہ دے ‘‘

آج کے دور میں اک شخص بھی آزاد نہیں

٭٭٭

 

 

 

 

حسن آتشؔ

 

 

آبیاری جب لہو کی کارگر ہو جائے گی

فصلِ گل سے لہلہاتی رہ گزر ہو جائے گی

 

تاب گر سہنے کی تجھ میں دیدہ ور ہو جائے گی

حسنِ بے تمثیل پر تیری نظر ہو جائے گی

 

بند مٹھی سے پھسلتی جائے گی یہ مثلِ ریت

زندگی اب مختصر سے مختصر ہو جائے گی

 

وحشتِ دل کو صدائیں دے رہا ہے ریگزار

ہے گماں آشفتگی اب میرے سرہو جائے گی

 

ٹکڑے ٹکڑے بانٹ لی ہے سب نے سورج کی ضیا

رہ گئی ہے تیرگی، وہ میرے گھر ہو جائے گی

 

شب گزیدہ گن رہا تھا ساعتوں کی آہٹیں

کہہ رہا تھا ہر گزرتا پل، سحرہو جائے گی

 

ڈوب جائے گا سفینہ جس گھڑی ساحل کے پاس

ناخدا کی ناخدائی معتبر ہو جائے گی

 

جذبۂ ایثار کا ہو جائے گا مطلب عیاں

دھوپ میں جلتے شجر پر جب نظر ہو جائے گی

 

آ ہی جائیں گے نکل کر بام پر وہ بے حجاب

میرے آنے کی خبر آتشؔ اگر ہو جائے گی

٭٭٭

 

 

 

 

حسن آتشؔ

 

الفتوں کا شکار ہے اپنا

کس قدر دل فگار ہے اپنا

 

صرف اک درد ہم نوا تھا مرا

کون اب غم گسارہے اپنا

 

شب گزیدہ ہوں،  پوچھ لو شب سے

روز کب راز دار ہے اپنا

 

حسن بھی شرمسار ہے تیرا

عشق بھی زیر بار ہے اپنا

 

پھول کھلنے کی ہے امید عبث

گلستاں ریگزار ہے اپنا

 

تخم کیوں نہ ہوں بدنصیبی کے

اشک کا برگ و بار ہے اپنا

 

ہم ہیں آتشؔ ، سخن کی محفل ہے

اور غمِ روزگارہے اپنا

٭٭٭

 

 

 

جبار واصف

 

 

چارہ گر کو جب مرے غم کی خبر ہو جائے گی

زندگی تب زندگی بارِ دگر ہو جائے گی

 

داستاں سے ختم کر دو قصہ گو کی ہچکیاں

اس طرح لمبی کہانی مختصر ہو جائے گی

 

ہم اثیموں سے اگر دریا خفا پھر سے ہوا

پھر یہ بستی پانیوں سے در بدر ہو جائے گی

 

علم کی شمع کو تم ہر گاؤں میں روشن کرو

دیکھنا ہر شہر میں خود ہی سحَر ہو جائے گی

 

جسم سے لپٹے ہیں یادِ رفتگاں کے اژدہے

فکرِ فردا اِن کی صحبت میں نِڈر ہو جائے گی

 

شعر واصفؔ کہہ رہا ہے میرا جی کی بحر میں

ایک دن اِس کی غزل بھی معتبر ہو جائے گی

٭٭٭

 

 

 

 

افضل چوہان

 

 

پھول ہے نہ ہی خار ہے اپنا

بس یہی اختِصار ہے اپنا

 

آہٹوں پر ہی کان رہتا ہے

اب یہی انتظار ہے اپنا

 

جب سے تنہائیوں نے گھیر لیا

اب تو جنگل ہی یار ہے اپنا

 

جو بھی کہتا ہوں مانتا ہی نہیں

اب کہاں دل بھی یار ہے اپنا

 

وصل اپنے نشے میں ڈوب گیا

ہجر ہی اب خمار ہے اپنا

 

دل بھی زخمی ہے اس کی با توں سے

اور جگر تار تار ہے اپنا

٭٭٭

 

 

 

 

افضل چوہان

 

 

زخم دیتے ہیں واہ کرتے ہیں

ایسے باتیں تو شاہ کرتے ہیں

 

عشق کرنا اگر گناہ ٹھہرا

آؤ پھر یہ گناہ کرتے ہیں

 

جب کبھی دل ملول ہوتا ہے

تیری جانب نگاہ کرتے ہیں

 

درد ایسا کہ جاں نکلتی ہے

درد ہوتا ہے آہ کرتے ہیں

 

دیکھو فرعون مر گئے کتنے

ہم تمہیں انتباہ کرتے ہیں

٭٭٭

 

 

 

 

افضل چوہان

 

 

ایک تھا جوگی سُدھ بُدھ اپنی رفتہ رفتہ بھول گیا

عشق میں ایسا ڈوب گیا وہ نام ہی اپنا بھول گیا

 

گاؤں کی الھڑ مٹیاروں میں ایک تھی ناری روشن سی

دیکھ کے جگ مگ چہرہ اس کا جو کچھ دیکھا بھول گیا

 

پنگھٹ کے پہلو میں بیٹھا اک بنجارہ مدت سے

بستی بستی گانے والا اپنا گانا بھول گیا

 

دھرتی کے چہرے پہ جھریاں ناچ رہی ہیں عرصے سے

ایسا لگتا ہے بستی میں بادل برکھا بھول گیا

 

میرا جی کی غزلیں نظمیں ہیں برجستہ افضل جی

جب بھی پڑھنے بیٹھا ہوں میں اپنا لکھا بھول گیا

٭٭٭

 

 

 

 

افضل چوہان

 

 

شاید خود کو دیکھ لیں ہم بھی فطرت کے پیمانے میں

اپنی باری آ بیٹھے ہیں جیون کے میخانے میں

 

سادہ لوح تھے اور مسافر، گاؤں کی پگڈنڈی پر

لوٹ لیا تھا اک ناری نے ہم کو بھی انجانے میں

 

آگ جلا دیتی ہے پیارے کون اُسے یہ سمجھائے

دل ہی دل ہوتا ہے یارو شمع کے پروانے میں

 

تیرا رستہ تکتے تکتے جیون بازی ہار گیا

اتنی ہی ہمت تھی شاید تیرے اس دیوانے میں

 

سات سمندر اور صحرا کو پار بھی کرنا پڑتا ہے

کتنی صدیاں لگ جاتی ہیں ایک محبت پانے میں

 

وصل کا اپنا لطف ہے افضل ؔ ، ہجر اذیت کا مت پوچھ

کیف یقیناً ملتا ہو گا اس کو بھی تڑپانے میں

٭٭٭

 

 

 

 

افضل چوہان

 

 

زمانے نے سُنی رُوداد میری

تماشا بن گئی فریاد میری

 

مجھے تنہائی میں تم یاد کرنا

اگر آئے کبھی بھی یاد میری

 

خرد بھی اپنی مرضی کر رہا ہے

تباہی پر دلِ ناشاد میری

 

قفس کا اتنا عادی ہو گیا ہوں

رہائی بھول جا صیاد میری

 

جنوں میں آج کا مجنوں کہے ہے

کرے تقلید اب فرہاد میری

٭٭٭

 

 

 

 

عقیل احمد عقیل

 

 

یوں وہ ہم سے نباہ کرتے تھے

جیسے کوئی گناہ کرتے تھے

 

دیکھ کر میرے گھر کی ویرانی

دشت و صحرا بھی آہ کرتے تھے

 

مٹتی کیا جگنوؤں سے تاریکی

روشنی مہر و ماہ کرتے تھے

 

اس کا جب بھی خیال آتا تھا

دل کو ہم فرشِ راہ کرتے تھے

 

خوبصورت تھے کچھ گنہ اتنے

جان کر ہم گناہ کرتے تھے

 

مصلحت کا خضاب لے کر لوگ

زلفِ گیتی سیاہ کرتے تھے

 

کون سمجھے کہ وہ دوانے کیوں

اپنی ہستی تباہ کرتے تھے

 

ان کو عزت ملی،  وقار ملا

جس طرف وہ نگاہ کرتے تھے

 

فقر میں ہم وہ آج کرتے ہیں

جو کبھی بادشاہ کرتے تھے

 

لوٹتے تھے وہی متاعِ دل

جو مہیا پناہ کرتے تھے

 

شعر وہ تھے کہ لوگ سنتے ہی

آہ کرتے تھے، واہ کرتے تھے

 

اپنی فریاد،  اپنی آہ سے ہم

آسماں تک سیاہ کرتے تھے

 

جس کو دیکھا نہیں اسی کے لئے

کیوں عقیلؔ آپ آہ کرتے تھے

٭٭٭

 

 

 

 

عقیل احمد عقیل

 

موسمِ انتظار ہے اپنا

سارا حسنِ بہار ہے اپنا

 

گرد سے کہکشاں اگاتے ہیں

ہاں یہی کاروبار ہے اپنا

 

اک نہ اک دن تو واپسی ہو گی

ہم کو اب انتظار ہے اپنا

 

جس سے ملتے ہیں کھل کے ملتے ہیں

یہی آخر شعار ہے اپنا

 

دل کے ٹکڑوں کو جوڑنے والو

ذہن بھی تار تار ہے اپنا

 

سانس بھی جب خرید لی اس نے

خود پہ کیا اختیار ہے اپنا

 

کیوں عقیلؔ اب وہ اپنے دل میں نہیں

آئینہ ’پر غبار ہے ا پنا

٭٭٭

 

 

 

 

عقیل احمد عقیل

 

 

ہوئی ہے روح جب سے شاد میری

طبیعت ہے بہت آزاد میری

 

لبِ دریا سے پیاسا لوٹ آیا

انا بھی دے رہی ہے داد میری

 

فلک تو روک اپنے آنسوؤں کو

کہا تھا کس نے سن روداد میری

 

نہ جانے ایک مدت بعد کیوں کر

اسے اب آ رہی ہے یاد میری

 

وہی منصف، عدالت بھی وہی ہے

وہی نالہ،  وہی فریاد میری

 

ملا ہے خاک میں یوں خواب تو خواب

ہوئی ہے نیند بھی برباد میری

 

عقیلؔ اب تو زمانہ سن رہا ہے

غزل کے نام سے روداد میری

٭٭٭

 

 

 

عقیل احمد عقیل

 

 

تم کو اب دیکھوں گا تو حالت دگر ہو جائے گی

میں نہیں روؤں گا لیکن آنکھ تر ہو جائے گی

 

ہر کسی کے ہاتھ میں زیر و زبر ہو جائے گی

ہوتے ہوتے دنیا چھوٹی ا س قدر ہو جائے گی

 

جگنوؤں کو بھی مرے گھر سے پکڑ کر لے گئے

کیا خبر تھی چاند تاروں کو خبر ہو جائے گی

 

پہلے آنسو تو ندامت کے بہانا سیکھیئے

دیکھیئے ہر بوند اس کی پھر گہر ہو جائے گی

 

کیا غلط ہے کیا صحیح اب کچھ نظر آتا نہیں

رفتہ رفتہ چشمِ دنیا بے بصر ہو جائے گی

 

اک بشر ایسا بشر ہے جس کے ذکرَ خیر سے

جو دعا کی جائے گی وہ کار گر ہو جائے گی

 

کسبِ فن جاری رہا تو دیکھنا آخر عقیلؔ

شاعری تیری بھی اک دن معتبر ہو جائے گی

٭٭٭

 

 

 

وسیم فرحتؔ کارنجوی

 

 

جہل خرد ہے، عشق ہوس ہے، دنیا کے ویرانے میں

موند لیں آنکھیں اہلِ نظر اب، الٹی مت کے زمانے میں

 

کچھ تو خبر لے،  نقشِ پا کا یونہی ساتھ نبھانے میں

کتنی سانسیں ٹوٹ چکی ہیں،  تیرے آنے جانے میں

 

جتنی جان تھی دھیرے دھیرے وقت کے ہاتھوں ٹوٹ چلی

اب اتنی بھی تاب نہیں،  درکار ہو جتنی منانے میں

 

مشقِ ستم تو خیر تمہارا شیوہ ہی ہے اس کا کیا

ایک ہمارا ذکرِ وفا ہی کر نہ پائے فسانے میں

 

اول اول لطف و کرم اور آخر آخر قہر و عتاب

بس اتنی روداد تھی دل کی، لٹنے اور لٹانے میں

 

حرفِ جفا پر چونکنے والو! شکوۂ غم کو یاد کرو

حسن کی مشقِ ناز سلامت، جاننے اور سمجھانے میں

 

فرحتؔ کتنے دھندلے منظر اب تک محوِ رقص رہے

ان کی اجارہ داری دل پر، میں بے حال زمانے میں

٭٭٭

 

 

 

 

وسیم فرحتؔ کارنجوی

 

داد سے شاد نہیں،  شکوۂ بیداد نہیں

اب تو اپنی بھی طبیعت کا پتہ یاد نہیں

 

کیا کہا ! ان سے رفاقت کی وجہ ٹوٹ گئی

چلو اچھا ہوا نغمہ نہیں فریاد نہیں

 

کس قدر حیف ہے اس بزم کی آرائش پر

جو تری چاہ کے صدقے میں بھی برباد نہیں

 

ایسے ویرانوں میں دستک بھی کہاں دیں کہ جہاں

شہرِ خاموش تمناؤں سے آباد نہیں

 

آخرش ہو تو گیا دل کا مداوا لیکن

وصل میں ہجر کی وہ لذتِ ناشاد نہیں

 

یک بہ یک دھند چھٹی، نیرِّ تاباں نکلا

’’ اس سے بڑھ کر ہمیں رازِ غمِ دل یاد نہیں ‘‘

 

عصرِ حاضر کا ادب رو بہ تنزل فرحتؔ

ہر وہ نقاد ہے،  ابجد بھی جسے یاد نہیں

٭٭٭

 

 

 

 

افضل صفی

 

 

حسن کا اِک خمار ہے اپنا

عشق کا بھی وقار ہے اپنا

 

عشق کرنے کی ٹھان لی ہے میاں

اب یہی کاروبار ہے اپنا

 

مجھ کو تکتا ہے پاگلوں کی طرح

چاند کا دل فگار ہے اپنا

 

اب اسے کون جا کے سمجھائے

خیر جیسا ہے،  یار ہے اپنا

 

ذہن کہتا ہے بھول جاؤ اسے

دل پہ کب اختیار ہے اپنا

 

روشنی بانٹتے ہیں لفظوں کی

جگنوؤں میں شمار ہے اپنا

 

ریگزاروں کا اپنا موسم ہے

اور چمن کا سنگھار ہے اپنا

 

وہ ہمیں بھول ہی نہیں سکتا

جانتے ہو؟ وہ یار ہے اپنا

 

پیار چہرے اُجال دیتا ہے

دوستی کا نکھار ہے اپنا

 

عشق سولی پہ رقص کرتا ہے

عاشقی کا خمار ہے اپنا

 

یوں اذیت پسند فطرت ہے

بے قرار ی قرار ہے اپنا

 

خود سے بچھڑا ہوا ہوں صدیوں سے

اب مجھے انتظار ہے اپنا

 

آج پھر بے سبب اُداسی ہے

دل صفیؔ بے قرار ہے اپنا

٭٭٭

 

 

 

 

افضل صفی

 

 

رہائی پر تلا صیاد میری

سنے گا کون اب فریاد میری

 

گھرو گے ہجر کی تنہائیوں میں

تمہیں تڑپائے گی پھر یاد میری

 

کوئی مصرعہ تر و تازہ عطا ہو

طبیعت ہے بہت ناشاد میری

 

حوالے میں اسے لکھا گیا ہے

حواشی میں لکھو روداد میری

 

صفیؔ شعلوں پہ چلنا آ گیا ہے

یہ رمزِ عشق ہے استاد میری

٭٭٭

 

 

 

 

عابد علی عابد

 

 

زخم لگتا ہے آہ کرتے ہیں

ان سے ملنے کی راہ کرتے ہیں

 

سارے زخموں کو بھوگ جاتے ہیں

جب وہ ہم پہ نگاہ کرتے ہیں

 

مسکرا کر وہ دیکھنا ان کا

ایسے لمحے تباہ کرتے ہیں

 

لفظ دوزخ ہی خوف دیوے ہے

لوگ پھر بھی گناہ کرتے ہیں

 

وہ ستم کتنے توڑ دیتا ہے

پھر بھی عابد کی چاہ کرتے ہیں

٭٭٭

 

 

 

 

عابد علی عابد

 

 

حلق میں رہ گئی فریاد میری

وہ سنتا ہی نہیں روداد میری

 

وہ جب سے روٹھ کر گھر سے گیا ہے

یہ دنیا ہو گئی برباد میری

 

مجھے تم چھوڑ کے تو جا رہے ہو

تجھے تڑپائے گی اب یاد میری

 

تمہاری نظم بھی تو منفرد ہے

بہت ہی منفرد ہے داد میری

 

میں کچھ تو سرخرو ہو جاؤں عابد

اگر مانے دل_ناشاد میری

٭٭٭

 

 

 

 

 

 شکیل عادل

 

 

زیست اپنی خوب سے بھی خوب تر ہو جائے گی

کیا خبر تھی چشم تر بھی معتبر ہو جائے گی

 

پھر سے اس کو گھائل کر زخم جس کے بھر گئے

جیت کی دستار بھی پھر تیرے سر ہو جائے گی

 

خار بھی ہم کو چبھا تو بے کلی ہو گی اُدھر

عمر بھر سوچا کئے ان کو خبر ہو جائے گی

 

ذات سے نکلا اگر میں اپنی چپ کو توڑ کر

تجھ کو پانے کی یہ خواہش در بدر ہو جائے گی

 

تو نہیں ہے ساتھ میرے میری ہستی بھی نہیں

پھر یہ کشتی دیکھنا رزق بھنور ہو جائے گی

 

عشق کی راہوں پہ چل کر سوچ یہ رکھنا شکیل

جو دعا بھی مانگئے گا بے اثر ہو جائے گی

٭٭٭

 

 

 

 

شکیل عادل

 

 

صحرا صحرا پھرتے ہیں ہم اپنا یار منانے میں

ایسے الجھے ہیں ہم یارو عشق کے تانے بانے میں

 

جب بھی عشق نے پاؤں دھرا ہے بیری حسن کے خانے میں

ہم اکثر ناکام ہوئے ہیں اس دل کو بہلانے میں

 

ہر کردار کے خال و خد میں ہر منظر پس منظر میں

تیرا چہرا دیکھ رہے ہیں اپنے ہر افسانے میں

 

کچھ تو خوشبو لائے اور کچھ انواع و اقسام سبھی

ہم تو اپنا دل لائے ہیں دینے کو نذرانے میں

 

ہم نے روپ کی رانی دیکھی کرنوں جیسی رنگت بھی

اس نے جانے کیا دیکھا ہے ہم جیسے دیوانے میں

 

پلکوں کی وہ چلمن ظالم نشہ سا کر دیتی ہے

کاش کہ ہم بھی جا بیٹھیں ان آنکھوں کے میخانے میں

 

مشک و عنبر، گھور اندھیرا بادل اور گھنگھور گھٹا

کیا کیا منظر دیکھے ہم نے زلفوں کے لہرانے میں

 

سکھ کی دولت اور سایہ بھی ان سے کوسوں دور رہا

جن کی ساری عمر کٹی ہے عادل پیڑ لگانے میں

٭٭٭

 

 

 

ایوب خاور

 

                یہ میرا جی  کی” میرا” ہے

 

سمندر کے بہت گہرے،  گھنے پاتال کی تہہ میں سے

ایک آواز ابھرتی ہے

کبھی صبح ازل کی سمت جاتی ہی

کبھی شامِ ابد کے اُودے،  پیلے،  سبز، نیلے،  سرمئی،  دھانی، گلابی،  چمپئی اور زردئی

افقوں کے اندر جھانکتی ہے

گزرتے وقت کی گلیوں سے ہوتی

یخ ہوا کی بھُربھُری رسی کو تھامے

جلتے بجھتے ساحلوں کی ریت پرسانسوں کے گنبد سے بناتی، توڑتی ہے

اپنی خواہش کے جزیروں میں

کسی بے آب مچھلی کی طرح سے سر پٹختی ہے،  تڑپتی ہے

سمندر جن دنوں شدت بھری آواز دیتا ہے مجھے

یہ اُن دنوں مجھ سے بھی ملتی ہے

اِسے میں جانتا ہوں

یہ” میرا” ہے

یہ” میرا جی” کی میرا ہے

جو اُن کے ہی لہو کی بوند سے پھوٹی ہے

اور اُن کی اپنی ہی تخلیق ہے

اُن کی حضوری میں رہی ہے

اُن کے دل کی دھڑکنوں میں

اُن کی آنکھوں کے شفق زاروں میں

اُن کی کم لباسی

اور بستر کی تھکن میں

اُن کی مالاؤں کے منکوں

اُن کی پیشانی کی شکنوں میں

اور اُن کی نظموں،  غزلوں اور گیتوں کی کچھ ان دیکھی تہوں میں گونجتی وسعت میں ڈھلتی ہے،

چمکتی اور لہکتی ہے

یہ جوگن کب سے تنہا ہے

ہماری شعری دنیا کے بھرے بازار میں کتنی اکیلی ہے

اب اس بازار میں

“میرا” کو

کوئی میرا جی ملتا نہیں

یہ کس کے حرف و معنی میں صحرا کی وسعت کو دکھائے

یہ کس کی خوشبوؤں کے،  رنگوں کے لہجے میں بولے

تجریدیت اور حقیقت کے میاں،  قائم

کسی بارہ دری کے فرش پر

خود آشنائی کی تہائی مارکر اب سم دکھائے

یہ” میر ا”

میرا جی کی زندگی کے آخری لمحے تلک صرف اُن کے

بستر میں ہی سوتی جاگتی تھی، ہنستی روتی تھی

ابھی کچھ دن ہوئے

مجھ سے ملی تو آنکھوں میں آنسو بھرے تھے

کہہ رہی تھی

سمندر کے بلاوے پر

مجھے اک رات

بس یوں ہی اچانک ہاسپٹل کے سرخ کمبل میں لپیٹا

تھپکیاں دے کر سلایا اور بے آہٹ سے ہو کرایک

بے پاتال اندھیرے میں اترتے جا رہے تھے میرا جی

اور میں آواز پر آواز دیتی جا رہی تھی۔۔

۔۔ میرا جی۔۔۔۔۔ میرا جی۔۔۔۔۔۔۔۔

مری آواز گہرے اور نیلے پانیوں کی سطح سے ٹکرا کے واپس میرے اندر ہی کہیں پر جمع ہوتی جا رہی تھی

اور میں۔۔۔۔۔۔۔

قیامت تک اگرچہ کوئی بھی زندہ نہیں رہتا

مگر مر جانے والوں کی اگر اپنی کوئی آواز ہو تو وہ ہمیشہ زندہ رہتی ہے

میں میرا جی کی میرا ہوں

میں زندہ ہوں

٭٭٭

 

 

 

 

 

ڈاکٹر رضیہ اسماعیل

 

                سوچ سمندر

 

 

ہمیں لفظوں کے جنگل سے

بہت آگے نکلنا ہے

ہمیں الفاظ کے ان دائروں کی سمت جانا ہے

جہاں پاؤں میں گھنگرو باندھ کر

مدہوش جذبے رقص کرتے ہیں

ہماری سوچ کے رستے میں جتنے بھی سمندر ہیں

ہمیں سب پار کر کے

ان جزیروں پر اترنا ہے

جہاں مدت سے تنہائی کی دلہن

مانگ میں افشاں سجائے منتظر ہے

وصل کے انمول لمحوں کی

ہمارے راستے میں،  آئنوں کے شہر آئیں گے

ہمیں رستے میں حائل سب فصیلوں کو

کسی جذبے کی ٹھوکر سے گرانا ہے

ہمارے پاؤں سے لپٹے ہوئے جتنے سمندر ہیں

ہمیں کڑوے کسیلے پانیوں کو

اسمِ اعظم پڑھ کے زم زم میں بدلنا ہے

بدن کی چاندنی

صحرا کی تپتی ریت میں کندن بنانی ہے

کہیں سے ڈھونڈ کر ہم کو

کٹھالی عشق کی لانی ہے جس میں

مرغِ بسمل کی طرح سے رقص کرنا ہے

ہمیں جانا ہے نگری پیار کی

اور گھر کا رستہ بھول جانا ہے

ہمیں صحرا کی تپتی ریت میں رستے بنانے ہیں

انہیں حدت بھرے رستوں پہ چل کے

سوچ کے آئینہ خانوں میں اترنا ہے

جہاں الفاظ کی دیوی۔۔۔۔

قلم کا دیوتا۔۔۔۔۔

کاغذ کے رتھ پر بیٹھ کر

اہلِ قلم کی سوچ کو

اپنی سلامی پیش کرتے ہیں !

٭٭٭

 

 

 

 

فہیم انور

 

                میرا جی کی یاد میں

 

میرا ایک نرالا شاعر

لہجے کا تھا پیارا شاعر

نظمیں اس کی ریشم جیسی

غزلیں اس کی شبنم جیسی

تنقیدیں بھی سلجھی سلجھی

قدر کے لائق اس کے تراجم

پھول کی جیسی اس کی باتیں

نثر میں ایک روانی اس کی

بچپن تھا مٹ میلا اس کا

بہکی بہکی اس کی جوانی

میرا سین کی چاہت تھا وہ

بنجاروں کے بھیس میں رہتا

شہروں شہروں اس کا بسیرا

خود سے تھا انجان ذرا سا

بے ترتیبی اس کا شیوہ

بے چینی میں کیف تھا اس کو

انساں تھا اک پیارا سا وہ

لوگوں کا ہمدرد بڑا تھا

دوجے کے دکھ درد خریدے

اپنی پونجی ایسے گنوائی

سانسیں اپنی ایسے بتائی

لکھنا پڑھنا کام تھا اس کا

کتنا اونچا نام تھا اس کا

حرف و نوا کا وہ کارندہ

لفظوں میں ہے اپنے زندہ

٭٭٭

 

 

 

 

شہباز نیئرؔ

 

 میرا جی کے لیے

 

حرف جادوگری، لفظ ہیں ساحری

میرا جی کی جواں رُت کی ہے شاعری

جس میں خوابوں کی قوسِ قزح کا مزا

فکرِ تازہ کے پھولوں کا ہر ذائقہ

جس میں لہجے کی ہے تازگی دلنشیں

اور اس میں کوئی اُن کا ہمسر نہیں

اُن کی نظموں کے مصرعوں میں خوشبو سی ہے

اُن کے گیتوں میں آواز گھنگھرو کی ہے

چھن چھنن چھن ہے لفظوں کی آواز میں

کھن کھنن کھن کھنکتے سے انداز میں

دھڑکنیں بس گئیں وقت کے سازمیں

میرا سین ان کی جب سے محبت ہوئی

سامری سے تبھی بن گئے میرا جی

پھر تو اپنا پتہ نہ جہاں کی خبر

حال کی فکر تھی نہ ہی فردا کا ڈر

لائے قرطاس پر جب وہ اپنا ہنر

اِس ہنر نے انہیں معتبر کر دیا

اور وہ اعتبارِ سخن ہو گئے

نظم فہموں کے یوں جانِ من ہو گئے !

٭٭٭

 

 

 

حیدر قریشی

 

                اجنتا کے غار کی ایک تصویر

(یہ نظم میرا جی کی نظم ’’اجنتا کے غار‘‘ سے متاثر ہو کر اور ایک تصویر کو دیکھ کر لکھی گئی)

 

ابھی کی بات ہے شاید یا کل کی، ایسے لگتا ہے

مگر یہ بات تو صدیوں پرانی ہے

ہم اپنے پیار میں کھوئے ہوئے

اک دوسرے میں خود کو جیسے ڈھونڈتے تھے

ہمارا کھیل ابھی جاری تھا

جب تاریخ کے صفحات پر آندھی چلی

خانہ بدوشوں کے مقدس حملہ آور

جب مِرے جغرافیہ کو روندتے بڑھتے چلے آئے

تب اس آندھی کے پہلے زور ہی میں

میں جنم چکر کے گھیرے میں چلا آیا

وہ اصحابِ کہف کا حال کچھ کچھ جانتی تھی

اس لیے آندھی سے بچنے کے لیے

اک غار میں وہ جا چھپی

جنم چکر میں لہراتا ہوا کتنے ہی جنموں تک

اسے میں ڈھونڈتا پھرتا رہا

میں ساری بستیوں، صحراؤں سے ہوتا

بیابانوں تلک پہنچا

اُسے ڈھونڈا صدائیں دیں

پہاڑوں اور دریاؤں سے گزرا

اور غاروں تک بھی جا پہنچا

تبھی اک غار میں تصویر کا پیکر بنی آخر وہ مجھ کو مل گئی

میں اس مُورت کو کتنی دیر تک حیرت سے بس تکتا رہا

تکتا رہا۔۔۔ تکتے ہوئے

اس وقت خود حیرت سے مورت بن گیا

تصویر میں جب یک بیک جنبش ہوئی

انگڑائی سی لے کر وہ گہری نیند سے جاگی

اندھیرے غار کی دیوار سے نیچے اتر کر مسکرائی

میرے پاس آئی

مجھے بانہوں میں بھر کے بھینچ کے سینے سے لپٹایا

تو دو مہجور روحوں کا ملن جسموں کے رستے سے

ازل سے تا ابد پھیلے ہوئے لمحے میں

جیسے نقش سے بھرنے لگا

دو مہجوروں کے وصلِ جاوداں کی یہ کہانی

خواب کو تعبیر دیتی ہے

اک ابدی کیف سے سرشار لمحے کی گواہی

آج بھی اُس غار کی تصویر دیتی ہے !

٭٭٭

ماخذ: جدید ادب، جرمنی، میرا جی نمبر

تشکر: وقاص،پنجند لائبریری جنہوں نے جدید ادب، میرا جی نمبر کی فائل فراہم کی

تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید