FavoriteLoadingپسندیدہ کتابوں میں شامل کریں

 

عہد نامہ قدیم

 

 

 

                   ۱۴۔ کتاب تواریخ دوم

 

 

 

 

 

 

باب :  1

 

 

1 داؤد کا بیٹا سلیمان ایک بہت طاقتور بادشاہ ہوا کیوں  کہ خداوند اس کا خدا اس کے  ساتھ تھا۔ خداوند نے  سلیمان کو بہت عظیم بنایا۔

2 سلیمان نے  سبھی بنی اسرائیلیوں  سے  باتیں  کیں۔ اس نے  فوج کے  کپتان جنرل منصف اسرائیل کے  تمام قائدین اور خاندان کے  گروہوں  سے  باتیں  کیں۔

3 تب سلیمان اور سب لوگ اس کے  ساتھ جمع ہوئے  اور اونچی جگہ کو گئے  جو جبعون شہر میں  تھی۔خدا کا خیمۂ اجتماع وہاں  تھا۔ خداوند کے  خادم موسیٰ نے  اسے  اس وقت بنایا تھا جب وہ اور بنی اسرائیلر یگستان میں  تھے۔

4 داؤد نے  خدا کے  معاہدہ کے  صندوق کو قریت یعریم سے  یروشلم لائے  تھے۔ داؤد نے  یروشلم میں  اس کے  رکھنے  کے  لئے  ایک جگہ بنائی تھی۔داؤد نے  یروشلم میں  خدا کے  معاہدہ کے  صندوق کے  لئے  ایک خیمہ لگا دیا تھا۔

5 بضلی ایل بن اوری بن حور نے  کانسے  کی ایک قربانگاہ بنائی تھی۔ وہ کانسے  کی قربانگاہ جبعون میں  مقدس خیمہ کے  سامنے  تھی۔اس لئے  سلیمان اور وہ لوگ خداوند سے  رائے  لینے  جبعون گئے۔

6 سلیمان خیمۂ اجتماع میں  خداوند کے  سامنے  کانسے  کی قربان گاہ تک گئے۔ سلیمان نے  قربان گاہ میں  ایک ہزار جلانے  کی قربانی پیش کیں۔

7 اس رات خدا سلیمان کے  پاس آیا۔خدا نے  کہا “مجھ سے  تم وہ مانگو جو کچھ تم چاہتے  ہوتا کہ میں  تمہیں  دوں۔”

8 سلیمان نے  خدا سے  کہا “تم میرے  باپ داؤد کے  ساتھ بہت رحم دل رہے  ہو تم نے  مجھے  میرے  باپ کی جگہ پر نیا بادشاہ ہونے  کے  لئے  چُنا ہے۔

9 اب اے  خداوند خدا تو نے  جو وعدہ میرے  باپ داؤد سے  کیا تھا اس کو پو را کر تو نے  مجھے  ان لوگوں  کا حاکم بنایا ہے  جو دھول کے  ذرّے  کی طرح بے  شمار ہیں۔

10 اب تم مجھے  دانش اور علم دوتا کہ میں  ان لوگوں  کی رہنمائی کر سکوں۔تمہارے  ان عظیم لوگوں  پر کون حکومت چلاس کتا ہے ؟ ”

11 خدا نے  سلیمان سے  کہا “تمہارا سلوک ٹھیک ہے  تم نے  دولت یا جائیداد یا عزت نہیں  مانگی تم نے  یہ بھی نہیں  پو چھا کہ تمہارے  دشمن مر جائیں  تم نے  طویل عمر بھی نہیں  مانگی لیکن تم نے  دانشمندی اور علم مانگا ہے تا کہ تم میرے  لوگوں  کا عقلمندانہ فیصلہ کر سکو میں  نے  تمہیں  ان لوگوں  کا بادشاہ بنایا۔

12 اس لئے  میں  تمہیں  دانشمندی اور علم دوں  گا۔میں  تمہیں  دولت جائیداد اور عزت بھی دوں  گا۔تم سے  پہلے  کے  بادشاہوں  کے  پاس دولت اور عزت کبھی نہ تھی اور تمہارے  بعد ہونے  والے  بادشاہوں  کے  پاس بھی اِتنی دولت اور عزّت نہ ہو نگی۔”

13 اس طرح سلیمان جبعون میں  عبادت کی جگہ پر گیا۔پھر سلیمان نے  خیمۂ اجتماع کو چھوڑے  اور یروشلم واپس ہو گئے۔ اور اسرائیل پر حکومت کرنے  لگے۔

14 سلیمان نے  اپنی فوج کے  لئے  گھوڑے  اور رتھ جمع کرنا شروع کیا۔ سلیمان کے  پاس ایک ہزار چارسو رتھ اور ۰۰۰،۱۲ گھوڑسوار تھے۔ سلیمان نے  ان کو رتھوں  کے  شہر میں  رکھا۔ وہ یروشلم میں  بھی ان میں  سے  کچھ کو رکھا جہاں  کہ بادشاہ کے  رہنے  کی جگہ تھی۔

15 سلیمان نے  یروشلم میں  بہت سا سونا اور چاندی جمع کیا یروشلم میں  بہ کثرت سونا اور چاندی پتھروں  کے  جیسا تھا۔ سلیمان نے  دیودار کی بہت سی لکڑی جمع کی اس نے  دیودار کی اِتنی زیادہ لکڑی جمع کی کہ وہ مغربی پہاڑی دامن کے  گولر کے  درختوں  جیسی ہو گئیں۔

16 سلیمان نے  مصر سے  اور کیو سے  گھوڑے  لائے  بادشاہ کے  تاجروں  نے  گھوڑوں  کو کیو سے  خریدا۔

17 سلیمان کے  تاجروں  نے  مصر سے  ایک رتھ ۶۰۰ مثقال چاندی میں  اور ایک گھوڑا ۱۵۰ مثقال چاندی میں  خریدے۔ اس طرح سے  تاجروں  نے  پھر گھوڑوں  رتھوں  کو حتی لوگوں  کے  بادشاہوں  اور ارام کے  بادشاہوں  کے  پاس فروخت کیا۔

 

 

 

باب :  2

 

 

1 سلیمان نے  خدا کے  نام کی تعظیم کے  لئے  ایک خدا کا گھر اور اپنے  لئے  ایک محل بنانے  کا ارادہ کیا۔

2 سلیمان نے  چیزیں  لینے  کے  لئے  ۰۰۰،۷ آدمیوں  کو چُنا اور پہاڑی ملک میں  پتھّر کھودنے  کے  لئے  ۸۰ ہزار آدمیوں  کو چُنا اور اس نے  ۶۰۰۳ آدمیوں  کو مزدوروں  کی نگرانی کے  لئے  چُنا۔

3 پھر سلیمان نے  حیرام کو پیغام بھیجا۔حیرام صور شہر کا بادشاہ تھا۔ سلیمان نے  پیغام دیا تھا ” مجھے  ویسی ہی مدد دو جیسے  تم نے  میرے  باپ داؤد کو مدد دی تھی۔ تم نے  بلوط کے  درختوں  سے  اس کی لکڑی بھیجی تھی جس سے  وہ اپنے  رہنے  کے  لئے  محل بناس کے   تھے۔

4 میں  خداوند اپنے  خدا کے  نام کی تعظیم کرنے  کے  لئے  ایک گھر بناؤں  گا۔میں  یہ گھر خداوند ہمارے  خدا کا بخور جلانے  کے  لئے   مقدس روٹی کے  نذر کے  لئے   خداوند کے  سامنے  ہر روز صبح و شام جلانے  کی نذرانہ پیش کرنے  کے  لئے   سبت کے  روز نئے  چاند کی تقریب پر عمل پیرا  ہونے  کے  لئے  خداوند اپنے  خدا کو وقف کروں  گا۔اسرائیل نے  ہمیشہ یہ کرنے  کا حکم دیا ہے۔

5 ” میں  جو ہیکل بناؤں  گا وہ عظیم ہو گا کیوں  کہ ہمارا خدا سب دیوتاؤں  سے  بڑا ہے۔

6 لیکن کوئی بھی آدمی  حقیقت میں  ہمارے  خدا کے  لئے  عمارت نہیں  بنا سکتا۔ یہاں  تک کہ جنّت بھی اسے  اپنے  اندر سمانے  کے  قابل نہ ہو گا۔ میں  اس کے  آگے  بخور جلانے  کی ایک جگہ بنانے  کے  سوائے  اس کا گھر بنانے  کے  لائق نہیں  ہوں۔

7 ” اب میرے  پاس چاندی کانسے  اور لوہے  کے  کام کرنے  میں  ترتیب یافتہ ایک آدمی  کو بھیجو اس آدمی  کو اس کا علم ہو نا چاہئے  کہ بیگنی لال اور نیلے  کپڑے  کا استعمال کیسے  کیا جاتا ہے  اور نقاشی میں  تربیت یافتہ ہو۔ اس آدمی  کو یہاں  یہوداہ اور یروشلم میں  میرے  ہنر مند ماہر کاریگروں  کے  ساتھ کام کرنا ہو گا جسے  میرے  باپ داؤد نے  چُنا تھا۔

8 میرے  پاس ملک لبنان سے  دیودار چیڑ اور صندل کی لکڑیاں  بھی بھیجو۔ میں  جانتا ہوں  کہ تمہارے  خادم لبنان کے  پیڑوں  کو کاٹنے  میں  ماہر ہیں۔میرے  خادم تمہارے  خادموں  کی مدد کریں  گے۔

9 ” کیوں  کہ مجھے  زیادہ تعداد میں  عمارتی لکڑی چاہئے۔ جو گھر میں  بنوانے  جا رہا ہوں  وہ بڑا اور عظیم الشان ہو گا۔

10 میں  نے  ایک لا کھ پچیس ہزار بوشل گیہوں  کھانے  کے  لئے   ۱۲۵۰۰۰ بوشل جو ۱۱۵۰۰۰ گیلن مئے  اور ۰۰۰، ۱۱۵ گیلن تیل تمہارے  ان خادموں  کے  لئے  دیا ہے  جو عمارت کی لکڑی کے  لئے  درختوں  کو کاٹتے  ہیں۔”

11 تب صور کے  بادشاہ حیرام نے  سلیمان کو جواب دیا کہ اس نے  سلیمان کو ایک خط بھیجا خط میں  یہ کہا گیا ” سُلیمان! خداوند اپنے  لوگوں  سے  محبت کرتا ہے  اس وجہ سے  اس نے  تم کو ان کا بادشاہ چُنا۔ ”

12 حیرام نے  یہ بھی کہا ” خداوند اسرائیل کے  خدا کی تمجید کرو جس نے  زمین اور آسمان بنایا۔ اس نے  بادشاہ داؤد کو عقلمند بیٹا دیا۔ سلیمان تمہیں  عقل اور سمجھ ہے  تم ایک گھر خداوند کے  لئے  بنا رہے  ہو تم اپنے  لئے  بھی ایک شاہی محل بنا رہے  ہو۔

13 میں  تمہارے  پاس ایک تربیت یافتہ کاریگر بھیجوں  گا۔اسے  مختلف طرح کی بہت سی فَنّی چیزوں  سے  واقفیت ہے  اس کا نام حورام ابی ہے۔

14 اس کی ماں  دان کے  خاندانی گروہ کی تھی۔ اور اس کا باپ صور شہر کا تھا۔ حورام ابی سونے   چاندی کانسہ لو ہا پتھر اور لکڑی کے  کام میں  تربیت یافتہ ہے۔ حورام ابی بینگنی نیلے  اور لال کپڑوں  اور قیمتی ململ کے  کام میں  بھی ماہر ہے۔ حورام ابی نقّاشی کے  کام میں  بھی ماہر ہے۔ ہر ایک منصوبہ جسے  تم سمجھاؤ گے  سمجھنے  میں  ماہر ہے  وہ تمہارے  ماہر کاریگروں  کی مدد کرے  گا۔

15 ” تم نے  گیہوں  جو تیل اور مئے  دینے  کے  لئے  وعدہ کیا تھا براہ مہربانی اسے  میرے  خادموں  کے  پاس بھیج دو۔

16 اور ہم لوگ ملک لبنان سے  لکڑی کا ٹیں  گے  ہم لوگ اتنی لکڑی کاٹیں  گے  جتنی تمہیں  ضرورت ہے۔ ہم لوگ سمندر میں  لکڑی کے  لٹھوں  کے  بیڑے  کا استعمال یا فا شہر تک لکڑی پہنچانے  کے  لئے  کریں  گے۔ پھر تم لکڑی کو یروشلم لے  جا سکتے  ہو۔”

17 تب سلیمان نے  اسرائیل میں  رہنے  والے  تمام اجنبی لوگوں  کی گنتی کروائی۔ یہ اس وقت کے  بعد ہوا تھا۔جس وقت داؤد نے  لوگوں  کو گنا تھا۔ داؤد سلیمان کا با پ تھا۔انہیں  ۶۰۰، ۱۵۳ اجنبی لوگ ملک میں  ملے۔

18 سلیمان نے  ۰۰۰، ۷۰ اجنبی لوگوں  کو چیزیں  دینے  کے  لئے  چُنا۔سلیمان نے  ۰۰۰، ۸۰ اجنبی لوگوں  کو پہاڑوں  میں  پتھر کاٹنے  کے  لئے  چُنا۔ اور سلیمان ۳۶۰۰ اجنبی لوگوں  کو کام کرنے  والے  لوگوں  کی نگرانی کے  لئے  چُنا۔

 

 

 

باب :  3

 

 

1 سلیمان نے  خداوند کی ہیکل یروشلم میں  موریا پہاڑ پر بنانا شروع کیا۔ موریا پہاڑ وہ جگہ ہے  جہاں  خداوند سلیمان کے  باپ داؤد کے  سامنے  ظاہر ہوا تھا۔سلیمان نے  اسی جگہ پر ہیکل بنا یا جسے  داؤد تیار کر چکا تھا یہ جگہ ارنون یبوسی کی کھلیان کے  بیچ میں  تھی۔

2 سلیمان نے  اسرائیل میں  اپنی حکومت کے  چوتھے  سال کے  دوسرے  مہینے  میں  ہیکل بنانا شروع کیا۔

3 سلیمان نے  خداوند کی ہیکل کی بُنیاد کی پیمائش کے  لئے  جس ناپ کا استعمال کیا وہ یہ ہے  : بُنیاد ۶۰ کیو بٹ طویل اور ۲۰ کیو بٹ چوڑا۔سلیمان نے  پُرانے  کیوبٹ کے  پیمائش کا ہی استعمال اس وقت کیا جب اس نے  خدا کی ہیکل کو ناپا۔

4 گھر کے  سامنے  کا پیش دہلیز ۲۰ کیو بٹ طویل اور ۲۰ کیوبٹ اونچا تھا سلیمان نے  پیش دہلیز کے  اندرونی حصّے  کو خالص سونے  سے  مڑھوا یا۔

5 سلیمان نے  بڑے  کمروں  کی دیوار پر صنوبر کی لکڑی سے  بنی چوکور تختے  رکھے  تب اس نے  صنوبر کے  تختوں  کو خالص سونے  سے  مڑھا اور اس کو کھجور کے  درخت کی تصویروں  اور زنجیروں  سے  سجا یا۔

6 سلیمان نے  ہیکل کی خوبصورتی کے  لئے  اس میں  قیمتی پتھّر لگوائے۔ سلیمان نے  جس سونے  کا استعمال کیا وہ پروائم کا تھا۔

7 سلیمان نے  ہیکل کی عمارت کے  اندرونی حصّہ کو سونے  سے  مڑھا۔سلیمان نے  چھت کی کڑیاں  چو کھٹوں  دیواروں  اور دروازوں  پر سونا مڑھوا یا۔ سلیمان نے  دیواروں  پر کرو بی فرشتوں  کی تصویر کھد وائی۔

8 تب سلیمان نے  مقدس ترین جگہ بنوا ئی۔ مقدس جگہ کی لمبائی ۲۰ کیوبٹ اور چوڑائی ۲۰ کیوبٹ تھی۔ یہ چوڑائی ہیکل کی چوڑائی کے  برا بر تھی۔ سلیمان مقدس ترین جگہ کی دیواروں  پر سونا مڑھوا یا۔ سونے  کا وزن تقریباً ۲۳ ٹن تھا۔

9 سونے  کے  کیلوں  کا وزن ۴/ ۱۱ پاؤنڈ تھا۔ سلیمان نے  اوپر کے  کمروں  کو سونے  سے  مڑھ دیا۔

10 سلیمان نے  دو کروبی فرشتے  مقدّس ترین جگہ پر رکھنے  کے  لئے  بنائے۔ کاریگروں  نے  کروبی فرشتوں  کا مجسمہ بنایا اور انہیں  سونے  سے  مڑھ دیا۔

11 کروبی فرشتے  کا ہر ایک پَر پانچ ہاتھ لمبا پَروں  کی پوری لمبائی بیس ہاتھ تھی۔ پہلے  کروبی فرشتے  کا ایک پَر کمرے  کی ایک دیوار کو چھُوتا تھا دوسرا پَر دوسرے  کروبی فرشتے  کے  پَر کو چھوتا تھا۔

12 دوسرے  کروبی فرشتے  کا دوسرا پَر کمرے  کے  دوسری طرف کی دوسری دیوار کو چھوتا تھا۔

13 کروبی فرشتے  کے  پَر بیس ہاتھ جگہ میں  پھیلے  ہوئے  تھے۔ کروبی فرشتے  اپنے  پیروں  پر اپنے  چہرے  کا رُخ مقدّس جگہ کی طرف کر کے  کھڑے  تھے۔

14 اس نے  نیلے   بینگنی لال اور قیمتی کپڑے  اور قیمتی سوتی کپڑوں  سے  پردے  بنوائے۔ پردوں  پر کروبی فرشتوں  کی تصویریں  بنوائی گئیں۔

15 سلیمان نے  ہیکل کے  سامنے  دو ستون کھڑا کئے۔ ستون ۳۵ ہاتھ اونچا تھا۔ ہر ایک سوتونوں  کا بالائی حصسہ ۵کیوبٹ چوڑا تھا۔

16 سلیمان نے  زنجیروں  کا ہار بنایا۔اس نے  زنجیروں  کو ستون کے  بالائی حصسہ پر رکھا سلیمان نے  ۱۰۰ انار بنوا یا اور انہیں  زنجیروں  پر لٹکایا۔

17 تب سلیمان نے  ہیکل کے  سامنے  ستون کھڑا کیا۔ایک ستون داہنی جانب تھا دوسرا ستون بائیں  جانب تھا۔سلیمان نے  داہنی جانب کے  ستون کا نام ” یا کین ” اور بائیں  جانب کے  ستون کا نام “بوعز” رکھا۔

 

 

 

 

باب :  4

 

 

1 سُلیمان نے  قربان گاہ بنانے  کے  لئے  کانسے  کا استعمال کیا۔ کانسے  کی قربان گاہ ۲۰ کیوبٹ لمبی اور ۲۰ کیوبٹ چوڑی اور ۱۰ کیو بٹ اونچی تھی۔

2 تب سلیمان نے  پگھلے  ہوئے  کانسے  کو ایک بڑا حوض بنانے  میں  استعمال کیا۔ بڑا حوض گول تھا اور ایک سرے  سے  دوسرے  سرے  تک اس کی پیمائش ۱۰ کیوبٹ تھی اور یہ ۵ کیوبٹ اونچا اور اس کی محیط ( گھیرا ) کی پیمائش ۳۰ کیوبٹ تھی۔

3 بڑے  کانسے  کے  بڑے  تالاب کے  کنارے   نیچے  اور اس کے  چاروں  طرف بیلوں  کی مورتی بنائی گئی تھی بیلوں  کی دوقطاریں  تھیں  جسے  حوض کو ڈھالتے  وقت ڈھالی گئی تھیں  جو ۱۰ کیوبٹ لمبی تھی۔

4 وہ کانسے  کا بڑا تا لاب ۱۲ بیلوں  کے  مجسمہ کے  اوپر تھا۔۳ بیلوں  کا رُخ شمال کی جانب ۳ بیلوں  کا رُخ مغرب کی جانب ۳ بیلوں  کا رُ خ جنوب کے  جانب اور ۳بیلوں  کا رُخ مشرق کی جانب تھا۔ وہ بڑا تالاب ان بیلوں  کے  اوپر تھا۔ سبھی بیلوں  کے  پچھلے  حصّے  کا رُخ اندر کی جانب تھا۔

5 کانسے  کا تالاب ۳ انچ موٹا تھا اس کا کنارہ پیالے  کے  کنارے  کے  مانند تھا۔بڑے  تالاب کا سِرا کھلی ہوئی لی لی (کنول) کی طرح تھا اس میں  ۵۰۰، ۱۷ گیلن کی گنجائش تھی۔

6 سلیمان نے  دس سلفچیاں  بنائیں  اس نے  پانچ سلفچی کو کانسے  کے  تالاب کی داہنی جانب رکھا اور سلیمان نے  پانچ سلفچی کو کانسے  کے  تالاب کے  بائیں  جانب رکھا۔ ان دس سلفچیوں  کا استعمال جلانے  کی قربانی کے  لئے  پیش کی جانے  وا لی چیزوں  کو دھونے  کے  لئے  ہوتا تھا۔لیکن بڑے  تالاب کا استعمال قربانی پیش کرنے  کے  پہلے  کاہنوں  کے  نہانے  کے  لئے  ہوتا تھا۔

7 سلیمان نے  اس کے  منصوبہ کے  مطابق سونے  کے  دس شمعدان بنوائے  اور ان کو ہیکل میں  رکھ دیا۔پانچ داہنی طرف اور پانچ بائیں  طرف۔

8 سلیمان نے  دس میزیں  بنوائیں  اور انہیں  ہیکل میں  رکھا۔ہیکل میں  پانچ میزیں  دائیں  اور پانچ بائیں۔سلیمان نے  ۱۰۰ سلفچیاں  بنوانے  کے  لئے  سونے  کا استعمال کیا۔

9 سلیمان نے  کاہنوں  کے  لئے  آنگن بڑا آنگن اور آنگن کے  لئے  دروازے  بنائے۔ اور اس نے  دروازے  کو کانسے  سے  مڑھا۔

10 تب اس نے  بڑے  کانسے  کے  تالاب کو ہیکل کے  داہنی جانب جنوب مشرقی سمت میں  رکھا۔

11 حورام نے  برتن بیلچے  اور سلفچیاں  بنائے۔ تب حورام نے  ہیکل میں  سلیمان کے  لئے  اپنے  کام کے  حصے  کو ختم کیا۔

12 حورام نے  دو ستون بنائے  اور دونوں  ستونوں  کے  بالائی حصّے  میں  دو بڑے  کٹورے  بنائے۔ حورام نے  ستونوں  کی چوٹی پر کے  کٹوروں  کو ڈھکنے  کے  لئے  دوسجاوٹی جال بنائے۔

13 حورام نے  ۴۰۰ انار دو جا لوں  کی سجاوٹ کے  لئے  بنائے۔ اناروں  کی دو قطاریں  تھیں۔دونوں  ستونوں  کے  بالائی حصہ کے  کٹورے  جال سے  ڈھکے  ہوئے  تھے۔

14 حورام نے  کٹورا دان بنائے  اور کٹوروں  کو ان کے  اوپر بنائے۔

15 حورام نے  بڑا تالاب بنایا اور تالاب کے  نیچے  ۱۲ بیل بنائے۔

16 حورام نے  برتن بیلچے   کانٹے  اور تمام چیزیں  سلیمان کے  لئے  خداوند کے  گھر کے  لئے  بنائیں۔ یہ چیزیں  قلعی کی ہوئی کانسے  کی تھیں۔

17 بادشاہ سلیمان نے  پہلے  اُن چیزوں  کو مٹی کے  سانچے  میں  ڈھالا یہ سانچے  سکات اور صریدا شہروں  کے  درمیان یردن کی وادی میں  بنے  تھے۔

18 سلیمان نے  یہ اتنی زیادہ تعداد میں  بنائے  تھے  کہ کسی آدمی نے  استعمال میں  لائے  گئے  کانسے  کو تولنے  کی کوشش نہیں  کی۔

19 سلیمان نے  ہیکل کے  لئے  بھی بہت سی چیزیں  بنائیں۔ سلیمان سنہری قربانگاہ بنا ئی۔ اس نے  وہ میزیں  بنائیں  جن پر حاضری کی روٹیاں  رکھی جا تی تھیں۔

20 سلیمان نے  شمعدان اور شمعوں  کو خالص سونے  سے  بنوا یا۔منصوبے  کے  مطابق شمعوں  کو مقدس جگہ کے  سامنے  اندر جلنا تھا۔

21 سلیمان نے  پھو لوں  شمعوں  اور چمٹوں  کے  بنانے  کے  لئے  خالص سونا استعمال کیا۔

22 سلیمان نے  کفگیر کٹورے   کڑھا ئیاں  اور بخور دان بنانے  کے  لئے  خالص سونے  کا استعمال کیا۔ سلیمان نے  ہیکل کے  دروازے  بنانے  کے  لئے  اور مقدس ترین جگہ کے  اندرونی دروازوں  کے  لئے  اور اہم ہال کے  دروازوں  کو بنانے  کے  لئے  خالص سونا استعمال کیا۔

 

 

 

 

باب :  5

 

 

1 تب سلیمان نے  خداوند کی ہیکل کے  لئے  سارے  کام پو رے  کر لئے۔ اس نے  ان تمام مقدس برتنوں  کو لا یا جو اس کے  باپ داؤد نے  ہیکل کے  لئے  وقف کیا تھا۔سلیمان نے  سونے  چاندی کی بنی تمام چیزیں  اور فرنیچر کو لا یا۔ اس نے  ان تمام چیزوں  کو خدا کی ہیکل کے  خزانہ میں  رکھا۔

2 سلیمان نے  اسرائیل کے  تمام بزرگوں  اور خاندانی گروہوں  کے  قائدین کو ایک ساتھ یروشلم میں  جمع کیا۔ ( یہ آدمی  اسرائیل کے  خاندانی گروہوں  کے  قائدین تھے۔ ) سلیمان نے  یہ اس لئے  کیا کہ لا وی لوگ معاہدہ کے  صندوق کو داؤد کے  شہر سے  لا سکیں  جو صیون ہے۔

3 سبھی بنی اسرائیل بادشاہ سلیمان سے  ساتویں  مہینے  کی تقریب پر ایک ساتھ ملے۔ یہ تقریب ساتویں  مہینے  میں  ( ستمبر ) میں  ہو ئی۔

4 جب اسرائیل کے  تمام بزرگ آ گئے  تب لا وی لوگوں  نے  معاہدہ کے  صندوق کو اٹھا یا۔

5 تب کاہن اور لا وی لوگوں  نے  معاہدہ کے  صندوق کو ہیکل میں  لے  گئے۔ کاہن اور لا وی لوگ خیمۂ اجتماع اور اس میں  جو مقّدس چیزیں  تھیں  انہیں  پھر یروشلم لے  آئے۔

6 بادشاہ سلیمان اور سبھی بنی اسرائیل معاہدہ کے  صندوق کے  سامنے  ملے  بادشاہ سلیمان اور سبھی بنی اسرائیلیوں  نے  مینڈھوں  اور بیلوں  کی قربانی دی۔ وہاں  اتنے  زیادہ مینڈھے  اور بیل تھے  کہ کوئی آدمی  بھی انہیں  گِن نہیں  سکتا تھا۔

7 تب کاہنوں  نے  خداوند کے  معاہدہ کے  صندوق کو اُس جگہ پر رکھا جو اس کے  لئے  تیار کیا گیا تھا۔ وہ مقدس ترین جگہ ہیکل کے  اندر تھی۔ معاہدہ کے  صندوق کو کروبی فرشتوں  کے  پروں  کے  نیچے  رکھا گیا۔

8 معاہدہ کے  صندوق کی جگہ کے  اوپر کروبی فرشتوں  کے  پَر پھیلے  ہوئے  تھے۔ کروبی فرشتے  معاہدہ کے  صندوق کو ڈھکے  ہوئے  تھے۔ اور لٹھ اس کولے  جانے  کے  لئے  استعمال کئے  گئے  تھے۔

9 لٹّھے  اتنے  لمبے  تھے  کہ صندوق کی مقدس ترین جگہ کے  سامنے  سے  انُ کے  سِرے  دیکھے  جا سکتے  تھے۔ لیکن کوئی آدمی  ہیکل کے  باہر سے  لٹھوں  کو نہیں  دیکھ سکتا تھا۔ لٹھّے  آج بھی وہاں  ہیں۔

10 معاہدہ کے  صندوق میں  سوائے  دو پتھر کے  تختوں  کے  جسے  موسیٰ نے  صندوق کے  اندر رکھا تھا کچھ اور نہ تھا۔موسیٰ نے  اسے  صندوق کے  اندر حورب کی پہاڑی پر رکھا تھا۔ حورب وہ جگہ تھی جہاں  خداوند نے  بنی اسرائیلیوں  سے  معاہدہ کیا تھا۔ یہ واقعہ اس وقت کے  بعد ہوا جب بنی اسرائیل مصر سے  باہر آئے  تھے۔

11 تب وہ تمام کاہن مقدس جگہ سے  باہر آئے۔ سب کاہنوں  نے  اپنے  آپ  کو پاک کر لیا تھا بنا توجہ دیئے  ہوئے  کہ وہ کس گروپ کے  ہیں۔

12 اور تمام لا وی گلوکار قربان گاہ کے  مشرقی جانب کھڑے  تھے۔ آسف کے  سب گانے  والے  گروہ ہیمان اور یدوتون کے  گانے  والے  گروہ وہاں  تھے۔ اور ان کے  بیٹے  اور رشتے  دار بھی وہاں  تھے۔ وہ گانے  والے  لا وی سفید قیمتی ململ کے  لباس پہنے  ہوئے  تھے۔ وہ مجیرا ستار اور بر بط لئے  ہوئے  تھے۔ وہاں  گانے  والے  لا وی لوگوں  کے  ساتھ ۱۲۰ کاہن تھے۔ وہ ۱۲۰ کاہن بگل بجا رہے  تھے۔

13 وہ لوگ جو بگل بجا رہے  تھے  اور گا رہے  تھے  وہ لوگ ایک شخص کی طرح ایک ساتھ مل گئے۔ جب وہ خداوند کی حمد کرتے  تھے  اور اس کا شکر ادا کرتے  تھے۔ بگل مجیرا اور دوسرے  آلات موسیقی سے  بلند آواز نکالتے  تھے۔ انہوں  نے  خداوند کی حمد میں  یہ گیت گایا۔خداوند کی حمد کرو جیسا کہ وہ اچھا ہے  اس کی سچی محبت ہمیشہ جاری رہتی ہے۔ تب خداوند کا گھر بادلوں  سے  بھر گیا۔

14 کاہن بادلوں  کی وجہ سے  خدمت انجام نہ دے  سکے۔ خدا کا گھر خداوند کے  جلال و فضل سے  معمور تھا۔

 

 

 

باب :  6

 

 

 

1 تب سلیمان نے  کہا ” خداوند نے  کہا کہ وہ کالے  بادلوں  میں  رہے  گا۔

2 اے  خداوند میں  نے  ایک گھر تیرے  رہنے  کے  لئے  بنایا ہے  اور یہ ایک پُر جلال گھر ہے۔ یہ تیرے  لئے  ہمیشہ ہمیشہ رہنے  کی جگہ ہے۔ ”

3 بادشاہ سلیمان پلٹے  اور سبھی بنی اسرائیلیوں  کو جو وہاں  کھڑے  تھے  دعائیں  دیئے۔

4 سُلیمان نے  کہا “خداوند اسرائیل کے خدا کی حمد کرو۔ خداوند نے  وہی کیا ہے  جس کا اس نے  وعدہ کیا تھا جب کہ اس نے  میرے  باپ داؤد سے  باتیں  کیں  تھیں  خداوند خدا نے  یہ کہا

5 ‘ جب سے  میں  نے  اپنے  لوگوں  کو مصر سے  باہر لے  آیا تب سے  اب تک میں  نے  اسرائیل کے  کسی خاندانی گروہ سے  اپنے  نام کا گھر بنانے  کے  واسطے  ایک جگہ کے  لئے  کوئی شہر نہیں  چُنا ہے۔ میں  نے  اپنے  لوگ اسرائیلیوں  پر بادشاہت کرنے  کے  لئے  بھی کسی آدمی  کو نہیں  چُنا ہے۔

6 لیکن اب میں  نے  یروشلم کو اپنے  نام کے  لئے  چُنا ہے  اور میں  نے  داؤد کو اسرائیلی لوگوں  پر حکومت کرنے  کے  لئے  چُنا ہے۔ ‘

7 ” میرے  باپ داؤد کی یہ خواہش تھی کہ وہ اسرائیلی سر زمین پر خداوند اسرائیل کا خدا کے  نام پر ایک گھر بنوائے۔

8 لیکن خدا نے  میرے  باپ سے  کہا تھا ” داؤد جب تم نے  میرے  نام سے  ایک گھر بنانے  کی خواہش کی تو تم نے  اچھا ہی کیا۔

9 لیکن تم گھر نہیں  بنا سکتے  ہو۔لیکن تمہارا خود کا بیٹا میرے  نام پر ایک گھر بنائے  گا۔’

10 اب خداوند نے  وہ کر دیا ہے  جو اس نے  کہا تھا۔ میں  اپنے  باپ کی جگہ پر نیا بادشاہ ہوں۔ داؤد میرا باپ تھا۔ اب میں  اسرائیل کا بادشاہ ہوں  خداوند نے  یہ کرنے  کا وعدہ کیا تھا۔ میں  نے  خداوند اسرائیل کے  خدا کے  نام پر گھر بنوایا ہے۔

11 میں  نے  معاہدہ کے  صندوق کو ہیکل میں  رکھا ہے۔ معاہدہ کا صندوق وہاں  ہے  جہاں  خداوند سے  کئے  گئے  معاہدہ رکھے  جاتے  ہیں۔خداوند نے  یہ معاہدہ بنی اسرائیلیوں  سے  کیا ہے۔ ”

12 سلیمان خداوند کی قربانگاہ کے  سامنے  کھڑا رہا وہ وہاں  اُن بنی اسرائیلیوں  کے  سامنے  کھڑا تھا جو وہاں  ایک ساتھ جمع ہوئے  تھے۔ پھر سلیمان نے  اپنے  ہاتھوں  اور بازوؤں  کو پھیلا یا۔

13 سلیمان نے  کانسے  کا ایک چبوترہ جس کی لمبائی ۵کیوبٹ اور چوڑائی ۵کیوبٹ اور اونچائی ۳کیوبٹ تھی آنگن میں  بنوا کر رکھا۔ تب وہ چبوترہ پر کھڑا ہوا اور جو بنی اسرائیل وہاں  جمع ہوئے  تھے  ان لوگوں  کے  سامنے  جھکے  اور تب آسمان کی طرف اپنے  ہاتھ پھیلائے۔

14 سلیمان نے  کہا ” اے  خداوند اسرائیل کا خدا تیرے  جیسا کوئی بھی خدا نہ تو جنت میں  ہے  اور نہ ہی زمین پر ہے۔ تو محبت کرنے  والے  رحم دل بنے  رہنے  کی اس معاہدہ کو پو را کرتا ہے  تو اپنے  اُن خادموں  کی معاہدوں  کو پو را کرتا ہے  جو دل کی گہرائیوں  سے  تیرے  آگے  رہتے  ہیں  اور تیرے  حکم کی تعمیل کرتے  ہیں۔

15 تو نے  اپنے  خادم داؤد کو دیئے  گئے  وعدہ کو پو را کیا۔ داؤد میرا باپ تھا۔تو نے  اپنے  منھ سے  وعدہ کیا تھا اور آج تو نے  اپنے  ہاتھوں  سے  اِس وعدہ کو پو را کیا ہے۔

16 اب اے  خداوند اسرائیل کا خدا تو اپنے  خادم داؤد کو دیئے  گئے  وعدہ کو پورا کر۔ تو نے  یہ وعدہ کیا تھا تو نے  یہ کہا تھا ” تیرے  آدمی  ( بیٹا ) کا میرے  سامنے  اسرائیل کے  تخت پر بیٹھنے  کے  لئے  خاتمہ نہ ہو گا جب تک تیرے  بیٹے  میری شریعت کے  مطابق احتیاط سے  رہیں  گے  جیسا کہ تم رہے۔ ”

17 اب اے  خداوند اسرائیل کا خدا اپنے  وعدہ کو پو را کر تو نے  یہ وعدہ اپنے  خادم داؤد سے  کیا تھا۔

18 ” اے  خدا کیا تو حقیقت میں  لوگوں  کے  ساتھ زمین پر بسے  گا؟ جنت اور اعلیٰ جنت بھی تجھے  اپنے  اندر سمانے  کی صلاحیت نہیں  رکھتی۔ اور ہمیں  معلوم ہے  کہ یہ ہیکل جسے  میں  نے  بنایا ہے  وہ بھی تجھے  اپنے  اندر نہیں  رکھ سکتا۔

19 لیکن اے  خداوند ہمارے  خدا تو ہماری دعا پر توجہ دے  اور خاص کر اس وقت جب میں  تجھ سے  رحم مانگتا ہوں۔ اے  خداوند میرے  خدا جو التجا میں  تجھ سے  کیا ہوں  اسے  سُنلے۔ میں  جو دعا تجھ سے  کر رہا ہوں  اسے  سُن میں  تیرا خادم ہوں۔

20 میں  دعا کرتا ہوں  کہ تیری آنکھیں  اس گھر کو دیکھنے  کے  لئے  دن رات کھلی رہیں۔ تو نے  کہا تھا کہ تو اس جگہ پر اپنا نام رکھے  گا۔ اس گھر کو دیکھتا ہوا جب میں  تجھ سے  استدعا کر رہا ہوں  تو تُو میری التجا کو سُن۔

21 میری التجائیں  سُن اور تیرے  بنی اسرائیل جو دعا کر رہے  ہیں  اسے  بھی سُن۔جب ہم تیرے  گھر کی طرف دعا کرتے  ہیں  تو تُو ہماری دعائیں  سُن تو جنت میں  جہاں  رہتا ہے  وہاں  سے  سُن اور جب تُو ہماری دعائیں  سنے  تو ہمیں  معاف کر۔

22 ” کوئی آدمی  کسی دوسرے  آدمی  کے  ساتھ کچھ بُرا کرنے  کا قصور وار ہو سکتا ہے  اس طرح کی حالت میں  وہ مجرم اس گھر کی قربان گاہ کے  سامنے  تیرے  نام کا عہد کرے  گا یہ ثابت کرنے  کے  لئے  کہ وہ بے  قصور ہے۔

23 تب جنت سے  تو سُن اور اپنے  خادموں  کا فیصلہ کر اور قصور وار آدمی  کو سزا دے  اور اس کو اسی چیزوں  میں  مبتلا کر جسے  انہوں  نے  دوسروں  کو مبتلا کرنے  کے  لئے  کیا۔ اور صادق لوگوں  کو اس کے  اچھے  کاموں  کے  مطابق اجر دے۔

24 ” کوئی دشمن تیرے  اسرائیلی لوگوں  کو شکست دے  سکتا ہے  کیوں  کہ تمہارے  لوگوں  نے  تمہارے  خلاف گناہ کئے  ہیں  اور جب بنی اسرائیل تمہارے  پاس واپس آ کر تمہارے  نام کو پکارے  اور دعا کرے  اور اس گھر میں  تیرے  سامنے  التجا کرے

25 تو تُو جنت سے  سُن اور اپنے  بنی اسرائیلیوں  کے  گناہ کو معاف کر انہیں  اس ملک میں  واپس کر جسے  تو نے  انہیں  اور ان کے  آباء و  اجداد کو دیا تھا۔

26 ” ہوسکتا ہے  کہ آسمان کبھی بند ہو جائے  بارش نہ ہو۔ ایسا ہو سکتا ہے  جب بنی اسرائیل تیرے  خلاف گناہ کریں  گے۔ جب وہ لوگ اس جگہ کی طرف دعا کرے  اور تیرے  نام کو تسلیم کرے  اور اپنے  گناہوں  کو چھوڑ دے  کیونکہ تو نے  انہیں  سزادی ہے۔

27 تو تُو جنت سے  ان کی سُن۔تُو اُن کو سُن اور اُن کے  گناہوں  کو معاف کر بنی اسرائیل تیرے  خادم ہیں  تب انہیں  صحیح راستے  پر چلنے  کی ہدایت دے  جس پر وہ چلیں  تو اپنی زمین پر بارش بر ساوہ ملک تو نے  اپنے  لوگوں  کو دیا تھا۔

28 ” ہو سکتا ہے  ملک میں  کوئی قحط یا بیماری یا فصلوں  کی بیماری یا پھپھوندی یا ٹڈّی یا ٹڈّے  ہو جائیں  یا بنی اسرائیلیوں  کے  شہروں  پر دشمن حملہ کریں  یا کسی قسم کی بیماری اسرائیل میں  ہو۔

29 اور پھر کوئی دعا یا التجا تمہارے  بنی اسرائیل کریں  یہ ممکن ہے  کہ وہ اپنی تکلیف اور غموں  کو ظاہر کریں۔ ہر ایک اپنے  دُکھ اور درد کو جانتا ہے  اور اگر وہ لوگ تمہارے  ہیکل کی طرف ہاتھ پھیلائے  اور تیر ی مدد تلاش کرے۔

30 تو تُو جنت سے  سُن۔ جنت جہاں  تو رہتا ہے  اُن کی سُن اور اُن کو معاف کر۔ ہر ایک کو اس کا جزا دے  جس کے  وہ مستحق ہیں۔کیونکہ صرف تو ہی جانتا ہے  کہ ہر ایک شخص کے  دِل میں  کیا ہے۔ کیونکہ تو ہی صرف لوگوں  کے  دلوں  کو جانتا ہے۔

31 تب لوگ ڈریں  گے  اور تیری اطاعت کریں  گے  جب تک وہ اس زمین میں  رہیں  جسے  تو نے  ان کے  آباء و  اجداد کو دی تھی۔

32 “کوئی ایسا اجنبی ہو سکتا ہے  جو بنی اسرائیلیوں  میں  سے  نہ ہو لیکن وہ اس ملک سے  آیا ہو جو بہت دور ہے۔ ہو سکتا ہے  وہ تیرے  نام کی عظمت کو سنا ہو اور تیری طاقت کے  متعلق اور لوگوں  کو سزا دینے  کی قوت کے  متعلق سُنا ہو۔ اگر ایسا آدمی  آئے  اور تیرے  گھر کی طرف دعا کرے۔

33 تو جنّت سے  جہاں  تو رہتا ہے  وہاں  اس اجنبی کی دعا سن اور تجھ سے  جو مانگتا ہے  اسے  دے۔ اس طرح سے  زمین کے  سبھی لوگ تیرے  نام کو جان جائیں  گے۔ اور اسی طرح تجھ سے  ڈریں  گے  جیسے  بنی اسرائیل تجھ سے  ڈرتے  ہیں۔ اور تب زمین کے  سارے  لوگ اس گھر کو تیرے  نام سے  جانیں  گے  جو میں  نے  تیرے  نام سے  بنایا ہے۔

34 ” جب تیرے  لوگ اپنے  دشمنوں  کے  خلاف لڑنے  کے  لئے  کہیں  بھی با ہر جہاں  تو اسے  بھیجے  گا جائیں  گے  تو جیسے  ہی وہ لوگ تیرے  چُنے  ہوئے  شہر اور تیرے  گھر کی طرف جسے  میں  نے  تیرے  نام سے  بنایا ہے  دیکھے  گا تو دعا کرے  گا۔

35 تو تو ان کی دعا جنت سے  سن ، ان کی مدد کر۔

36 لوگ تیرے  خلاف گناہ کریں  گے   کوئی ایسا آدمی  نہیں  جو گناہ نہ کرتا ہو تو اس پر غصہ ہو جائے  گا۔ تو دُشمن کو انہیں  شکست دینے  دے  گا اور انہیں  پکڑے  جانے  دے  گا اور بہت دور یا نزدیک کے  ملک میں  جانے  پر مجبور کرے  گا۔

37 لیکن جب وہ اپنا خیال بدلیں  گے  اور تجھ سے  التجا کریں  گے  اس وقت جب وہ اسی سر زمین پر ہوں  گے  جہاں  وہ قیدی بنے  ہوئے  ہیں  ‘ ہم لوگوں  نے  گناہ کئے  ہیں  ہم لوگوں  نے  بُرا کیا ہے  اور ہم لوگوں  نے  بد کاری کی ہے۔ ‘

38 تب وہ اس ملک میں  جہاں  وہ قیدی ہیں  اپنے  دل و جان کی گہرائی سے  تیرے  پاس واپس آئیں  گے۔ اور اس ملک کی طرف جسے  تو نے  ان کے  آباء و  اجداد کو دیا ہے  اور اس شہر کی طرف جس کو تو نے  چُنا ہے  اور اس گھر کی طرف جو میں  نے  تیرے  نام کی عظمت کے  لئے  بنا یا ہے  عبادت کریں  گے۔

39 جب یہ ہو گا تو تو جنت سے  سن اور ان کی دعا کو قبول کر اور ان کی حالت کو پرکھ اور اپنے  لوگوں  کو جو تیرے  خلاف گناہ کئے  ہیں  معاف کر۔

40 اب میرے  خدا میں  تجھ سے  مانگتا ہوں  تو اپنی آنکھ اور کان کھول سُن اور دعاؤں  پر توجہ دے  جو ہم اس جگہ کر رہے  ہیں۔

41 ” اے  خداوند خدا اٹھ اور اپنی خاص جگہ پر آ معاہدہ کا صندوق جو تیری طاقت بتاتا ہے۔ تیرے  کاہن نجات سے  ملبوس ہو۔ اپنے  سچے  پیرو کاروں  کو ان کے  اچھے  کاموں  کے  بارے  میں  خوش ہونے  دے۔

42 اے  خداوند خدا اپنے  مسح کئے  ( چنے  ہوئے  ) بادشاہ سے  منھ مت پھیر اور اپنے  وفادار خادم داؤد کو یاد رکھ۔”

 

 

 

باب :  7

 

 

1 جب سلیمان نے  دعا ختم کی تو آسمان سے  آ گ نیچے  آئی اور جلانے  کے  نذرانوں  اور قربانیوں  کو جلائی۔ خدا کا جلال ہیکل میں  بھر گیا۔

2 کاہن خداوند کی ہیکل میں  داخل نہ ہو سکے  کیوں  کہ خدا کا جلال اس میں  بھر گیا تھا۔

3 تمام بنی اسرائیلیوں  نے  جنّت سے  آ گ کو آتے  دیکھا۔ انہوں  نے  خدا کے  جلال کو بھی ہیکل پر دیکھا۔ وہ منھ کے  بل زمین پر گرے  اور سجدہ کئے۔ انہوں  نے  خداوند کی عبادت کی اور شکر ادا کیا۔ انہوں  نے  گیت گایا : خداوند اچھا ہے  اور اس کی مہر بانی ہمیشہ رہتی ہے۔

4 پھر بادشاہ سلیمان اور سبھی بنی اسرائیلیوں  نے  خداوند کے  سامنے  قربانی پیش کی۔

5 بادشاہ سلیمان نے  ۲۲ ہزار بیل اور ۱۲۰۰۰۰ مینڈھے  پیش کئے  بادشاہ اور تمام لوگوں  نے  ہیکل کو وقف کر دیا۔

6 کاہن اپنا کام کرنے  کے  لئے  تیار کھڑے  تھے۔ لاوی لوگ بھی خداوند کی موسیقی کے  آلات کے  ساتھ کھڑے  تھے  وہ ان کا استعمال تب کئے  جب وہ خداوند کی حمد کرتے  تھے  ( کیوں  کہ اس کی محبت ہمیشہ قائم رہتی ہے۔ ) کاہنوں  نے  بگل بجائے  جیسا کہ وہ لاویوں  کے  دوسری طرف کھڑے  تھے۔ اور تمام بنی اسرائیل بھی کھڑے  تھے۔

7 سلیمان نے  خداوند کی ہیکل کے  سامنے  آنگن کے  درمیانی حصّہ کو بھی وقف کیا۔ آنگن خداوند کی ہیکل کے  سامنے  تھا۔ یہ وہی جگہ تھی جہاں  سلیمان نے  جلانے  کی قربانی اور ہمدردی کا نذرانہ پیش کیا تھا۔ سلیمان نے  آنگن کا درمیانی حصہ کام میں  لیا کیوں  کہ کانسے  کی قربان گاہ پر جسے  سلیمان نے  بنا یا تھا اس پر ساری جلانے  کی قربانی اناج کی قربانی اور چربی سما نہیں  سکتی تھی ویسا نذرانہ بہت تھا۔

8 سلیمان اور سبھی بنی اسرائیلیوں  نے  سات دنوں  تک دعوتوں  کی تقریب منائی سلیمان کے  ساتھ لوگوں  کا ایک بہت بڑا گروہ تھا۔ وہ لوگ شمالی ملک کے  حمات شہر اور مصر کے  نالے  کے  راستوں  سے  آئے  تھے۔

9 آٹھویں  دن انہوں  نے  ایک مذہبی مجلس مقرر کی کیوں  کہ وہ سات دنوں  تک تقریب منا چکے  تھے۔ انہوں  نے  قربان گاہ کو پاک کیا اور اس کا استعمال صرف خداوند کی عبادت کے  لئے  ہوتا تھا۔ اور انہوں  نے  سات دن دعوت کی تقریب منائی۔

10 ساتویں  مہینے  کے  تیئیسویں  دن سلیمان نے  لوگوں  کو اپنا اپنا گھر واپس بھیج دیا۔ لوگ بڑے  خوش تھے  اور ان کے  دل خوشی سے  معمور تھے۔ کیوں  کہ خداوند داؤد سلیمان اور اپنے  بنی اسرائیلیوں  کے  ساتھ بہت اچھا تھا۔

11 سلیمان نے  خداوند کی ہیکل اور شاہی محل کے  کام کو پورا کر لیا۔ سلیمان نے  خداوند کی ہیکل اور اپنے  گھر اور تمام چیزوں  کے  لئے  جو منصوبہ بنایا تھا اس میں  کامیاب ہوا۔

12 تب خداوند سلیمان کے  پاس رات کو آیا۔ خداوند نے  اس سے  کہا ” سلیمان! میں  نے  تمہاری دعا سُنی ہے  اور میں  اس جگہ کو اپنے  لئے  قربانی کے  گھر کے  طور پر چنا ہے۔

13 جب میں  آسمان کو بند کرتا ہوں  تو بارش نہیں  ہوتی یا میں  ٹڈیوں  کو حکم دیتا ہوں  کہ فصلوں  کو تباہ کر دو۔

14 اور اگر میرے  نام سے  پکارے  جانے  والے  لوگ خاکسار ہوتے  اور دعا کرتے  ہیں  اور مجھے  ڈھونڈتے  ہیں  اور برے  راستوں  سے  دور ہٹ جاتے  ہیں  تو میں  جنت سے  ان کی سنوں  گا اور میں  ان کے  گناہ کو معاف کروں  گا اور ان کے  ملک میں  خوشحالی لاؤں  گا۔

15 اب میری آنکھیں  کھلی ہیں  اور میرے  کان اس جگہ کی گئی دعاؤں  پر دھیان دے  گا۔

16 میں  نے  اس ہیکل کو چنا ہے  اور میں  نے  اسے  پاک کیا ہے  جس سے  میرا نام یہاں  ہمیشہ رہے۔ ہاں ! میری آنکھیں  اور میرا دل اس ہیکل میں  ہمیشہ رہے  گا۔

17 ” اب سلیمان اگر تو میرے  سامنے  اسی طرح رہو گے  جس طرح تمہارا باپ داؤد رہا اگر تم ان تمام باتوں  کی اطاعت کرو گے  جن کے  لئے  میں  نے  حکم دیا ہے  اور اگر تم میرے  قانون اور اصولوں  کی فرماں  برداری کرو گے۔

18 تب میں  تمہیں  طاقتور بادشاہ بناؤں  گا اور تمہاری سلطنت بھی عظیم ہو گی۔ یہی معاہدہ ہے  جو میں  نے  تمہارے  باپ داؤد سے  کیا تھا۔ میں  نے  اس سے  کہا تھا ‘ داؤد تمہارے  خاندان سے  ہمیشہ تمہارا جانشین ہو گا جو اسرائیل پر حکو مت کرے  گا۔!

19 ” لیکن تم اگر میری شریعتوں  اور احکامات کو نہ مانو گے  جو میں  نے  دیئے  ہیں  اور تم دوسرے  دیوتاؤں  کی پرستش اور خدمت کرو گے۔

20 تو میں  بنی اسرائیلیوں  کو اپنے  ملک سے  باہر کروں  گا جسے  میں  نے  انہیں  دیا ہے۔ میں  اس گھر کو اپنی نظروں  سے  دور کر دوں  گا جسے  میں  نے  اپنے  نام کے  لئے  مقدس بنایا ہے۔ میں  اس ہیکل کو ایسا بناؤں  گا کہ تمام ملک اس کی برائی کریں  گے۔

21 ہر آدمی  جو اس ہیکل کے  بغل سے  گزرے  گا جس کا مرتبہ بلند کیا گیا ہے  حیرت زدہ ہو گا اور کہے  گا ‘ خداوند نے  ایسا بھیانک کام اس ملک اور اس ہیکل کے  ساتھ کیوں  کیا؟ ‘

22 تب لوگ جواب دیں  گے   ‘ کیوں  کہ بنی اسرائیلیوں  نے  خداوند خدا جس کے  احکام کی خلاف ورزی کی جب کہ ان کے  آباء و اجداد نے  ان کی اطاعت کی تھی وہ وہی خدا ہے  جو انہیں  ملک مصر کے  باہر لے  آیا لیکن بنی اسرائیلیوں  نے  دوسرے  دیوتاؤں  کی پرستش اور خدمت کی یہی وجہ ہے  کہ خداوند نے  بنی اسرائیلیوں  پر اتنی بھیانک مصیبت نازل کی۔ ”

 

 

 

باب :  8

 

 

1 خداوند کی ہیکل کو بنانے  اور اپنا محل بنانے  میں  سُلیمان کو بیس سال ہوئے۔

2 تب سلیمان نے  دوبارہ شہر بنایا جو حیرام نے  اسے  دیئے  تھے  اور سلیمان نے  بنی اسرائیلیوں  کو ان شہروں  میں  بسایا۔

3 اس کے  بعد سلیمان صوباہ کے  حمات کو گیا اور اس پر قبضہ کر لیا۔

4 سلیمان نے  ریگستان میں  تدمور شہر بنایا۔ اس نے  تمام شہر حمات میں  چیزوں  کو رکھنے  کے  لئے  بنائے۔

5 سلیمان نے  دورباہ اونچے  اور نیچے  بیت حورون کے  شہروں  کو بنایا۔ اس نے  ان شہروں  کو مضبوط قلعوں  میں  بنایا۔ ان شہروں  کی دیواریں  مضبوط تھیں  اور دروازے  اور دروازوں  کے  ڈنڈے  مضبوط تھے۔

6 سلیمان نے  بعلت شہر کو اور دوسرے  تمام شہروں  کو جن میں  اس نے  سامانوں  کو رکھا تھا۔ اور دوسرے  تمام شہروں  کو جن میں  اس نے  اپنی رتھوں  اور گھوڑ سواروں  کو رکھا تھا پھر سے  بنایا۔ یہ شہر بہت مضبوط بھی تھے۔ سلیمان نے  تمام چیزوں  کو جسے  وہ چا ہا لبنان یروشلم اور اپنی دورِ حکومت کی ساری زمین میں  بنایا۔

7 جہاں  بنی اسرائیل رہتے  تھے  وہاں  بہت سارے  اجنبی بھی بس گئے  تھے۔ وہ حتیّ اموری فرزّی حوّی اور یبو سی لوگ تھے۔ سلیمان نے  ان اجنبیوں  کو غلام اور مزدور بننے  کے  لئے  مجبور کیا۔ وہ لوگ اسرائیلی لوگوں  میں  سے  نہیں  تھے۔ وہ لوگ ان کی نسلوں  سے  تھے  جو ملک میں  بچے  رہ گئے  تھے  اور بنی اسرائیلیوں  نے  انہیں  اب تک تباہ نہیں  کیا تھا۔ یہ اب تک چل رہا ہے۔

8  9 سلیمان نے  اسرائیل کے  کسی بھی آدمی  کو غلام مزدور بننے  کے  لئے  زبردستی نہیں  کی۔ بنی اسرائیل سلیمان کے  جنگی آدمی  تھے۔ وہ لوگ سلیمان کے  فوجی افسروں  کے  سپہ سالار تھے۔ وہ سلیمان کی رتھوں  کے  سپہ سا لار تھے  اور سلیمان کی رتھ بانوں  کے  سپہ سالار تھے۔

10 اور کچھ بنی اسرائیل سلیمان کے  اہم عہدیداروں  کے  قائدین تھے۔ وہ ۲۵۰ قائدین تھے  جو لوگوں  کی نگرانی کرتے  تھے۔

11 سلیمان نے  فرعون کی بیٹی کو شہر داؤد سے  اس گھر میں  لا یا جو اس کے  لئے  بنایا تھا۔ سلیمان نے  کہا ” میری بیوی کو بادشاہ داؤد کے  گھر میں  نہیں  رہنا چاہئے  کیوں  کہ وہ جگہ جہاں  معاہدہ کا صندوق ہے  مقدس جگہ ہے۔ ”

12 تب سلیمان نے  خداوند کو جلانے  کی قربانی خداوند کی قربان گاہ پر پیش کی۔ سلیمان نے  اس قربان گاہ کو ہیکل کے  دہلیز کے  سامنے  بنایا۔

13 سلیمان نے  ہر روز موسیٰ کے  احکام کے  مطابق قربانی پیش کی۔ یہ قربانی سبت کے  دن ہر نئے  چاند کے  موقع پر اور تین سالہ تقریب کے  موقعے  پر۔ بغیر خمیری روٹی کے  تقریب پر ہفتے  کی تقریب پر اور پناہ کی تقریب پر پیش کی گئی تھی۔

14 سلیمان نے  اپنے  داؤد کی ہدایت پر عمل کیا۔سلیمان نے  کاہنوں  کے  گروہ کو خدمت کے  کاموں  کے  لئے  مقرر کیا۔سلیمان نے  لا وی لوگوں  کو بھی اپنے  کام کے  لئے  بحال کیا۔ لاوی لوگ حمد کرنے  میں  رہنمائی اور ہیکل میں  روزانہ کے  مقرّرہ خدمت کے  کاموں  کو کرنے  میں  کاہنوں  کی مدد کرتے  تھے۔ سلیمان نے  پہریداروں  کو ان کے  گروہ کے  حساب سے  جو کہ ہر ایک پھاٹک پر خدمت کا کام انجام دیتے  تھے  مقرر کیا۔خدا کا آدمی  داؤد کا ہدایت دینے  کا طریقہ تھا۔

15 بنی اسرائیل کاہنوں  کے  ساتھ یا لا وی لوگوں  کے  ساتھ سلیمان کی ہدایتوں  میں  تبدیلی یا نا فرمانی نہیں  کی۔انہوں  نے  کسی بھی حکم سے  روگردانی نہیں  کی۔ حتیٰ کہ قیمتی چیزوں  کو رکھنے  کے  طریقے  میں  بھی تبدیلی نہیں  کیں۔

16 سلیمان کا تمام کام پو را ہو چکا خداوند کی ہیکل کے  شروع ہونے  سے  اس کی تکمیل ہونے  تک کا منصوبہ ٹھیک تھا۔اس طرح خداوند کی ہیکل کی تکمیل ہو ئی۔

17 تب سلیمان عصیون جابر اور ایلوت کے  شہروں  کو گیا۔ وہ شہر بحرقلزم کے  ساحل پر ادوم میں  تھے۔

18 حیرام نے  سلیمان کے  پاس جہاز بھیجے۔ حیرام کے  آدمی  جہازوں  کو چلا رہے  تھے  حیرام کے  آدمی  سمندر میں  جہاز چلانے  میں  ماہر تھے۔ حیرام کے  آدمی  سلیمان کے  خادموں  کے  ساتھ افیر گئے  اور سترہ ٹن سونا سلیمان کے  پاس واپس لائے۔

 

 

 

باب :  9

 

 

1 ملکہ سبانے  سلیمان کی شہرت سنی اور وہ سلیمان کو مشکل سوالات کے  ذریعہ آزمائش کرنے  کے  ارادے  سے  یروشلم آئی۔ ملکہ سبا کے  ساتھ ایک بڑا گروہ تھا اُس کے  ساتھ اونٹ جو مصالحوں  اور بہت سارے  سونے  اور قیمتی پتھروں  سے  لدے  تھے۔ وہ سلیمان کے  پاس آ کر اس سے  بات کی۔ اس نے  سلیمان سے  کئی سوالات پو چھے۔

2 سلیمان نے  اس کے  تمام سوالات کے  جوابات دیئے۔ سلیمان کو اس کے  سوالات کے  جوابات دینے  یا اس کو سمجھانے  میں  کوئی مشکل نہ ہو ئی۔

3 ملکہ سبانے  سلیمان کی دانشمندی اور اس کے  بنائے  ہوئے  گھر کو دیکھا۔

4 اُس نے  سلیمان کی کھانے  کی میز کو دیکھا اور اس کے  سارے  عہدیداروں  کو دیکھا۔ اس نے  یہ بھی دیکھا کہ اس کے  خادم کس طرح کام کرتے  ہیں  اور وہ کیسے  لباس پہنے  ہوئے  ہیں۔ اس نے  دیکھا کہ مئے  پلانے  والے  خادم کس طرح کام کر رہے  ہیں  اور وہ کیسے  لباس پہنے  ہیں۔ اس نے  جلانے  کا نذرانہ دیکھا۔ اس نے  اپنے  راستے  پر خدا کے  گھر کی طرف جاتے  ہوئے  جلوس دیکھے۔ جب ملکہ سبانے  ان تمام چیزوں  کو دیکھا تو وہ حیران رہ گئی۔

5 تب اس نے  بادشاہ سلیمان سے  کہا ” میں  نے  اپنے  ملک میں  تمہارے  عظیم کارنامے  اور تمہاری دانشمندی کے  بارے  میں  جو سُنا ہے  وہ سچ ہے۔

6 مجھے  ان قصّوں  پر اس وقت تک یقین نہ تھا جب میں  یہاں  نہیں  آئی اور اپنی آنکھوں  سے  دیکھ نہ لی۔ تمہاری دانشمندی کے  متعلق مجھ سے  اس کا آدھا بھی نہیں  کہا گیا جو میں  نے  قصّے  سنے  تم اس سے  کہیں  عظیم تر ہو۔

7 تمہاری بیویاں  اور تمہارے  عہدیدار بہت خوش قسمت ہیں  وہ تمہاری دانشمندی کی باتیں  تمہاری خدمت کرتے  ہوئے  سن سکتے  ہیں۔

8 خداوند اپنے  خدا کی تمجید ہو۔ وہ تم سے  خوش ہے  اور اس نے  تمہیں  اپنے  تخت پر خداوند خدا کے  لئے  بادشاہ بننے  کے  لئے  بٹھا یا ہے۔ تمہارا خدا اسرائیل سے  محبت کرتا ہے  وہ اسرائیل کو ہمیشہ ہمیشہ کے  لئے  قائم رکھے  گا۔ یہی وجہ ہے  کہ خداوند نے  تمہیں  انصاف کرنے  اور صداقت سے  حکو مت کرنے  کے  لئے  اسرائیل کا بادشاہ بنایا تھا۔”

9 تب ملکہ سبانے  بادشاہ سلیمان کو ساڑھے  چار ٹن سونا اور کئی مصالحہ جات اور قیمتی پتھر دیئے۔ کوئی بھی آدمی  اتنے  اچھے  مصالحے  بادشاہ سلیمان کو نہیں  دیئے  جتنا عمدہ ملکہ سبانے  دیا تھا۔

10 حیرام اور سلیمان کے  نوکروں  نے  افیر سے  سونا لایا۔ وہ الگم ( صندل ) کی لکڑی اور قیمتی پتھر بھی لائے۔

11 بادشاہ سلیمان نے  خداوند کی ہیکل کی سیڑھیوں  کے  لئے  اور بادشاہ کے  محل کے  لئے  الگم کی لکڑی کا استعمال کیا۔ سلیمان نے  الگم کی لکڑی کا استعمال موسیقاروں  کے  آلات بربط اور ستار بنانے  کے  لئے  بھی کیا۔ ملک یہوداہ میں  اس طرح کی چیزیں  کسی نے  کبھی نہیں  دیکھی تھیں۔

12 جو کچھ ملکہ سبانے  بادشاہ سلیمان سے  مانگا وہ سب کچھ اس نے  دیا جو کچھ اس نے  دیا وہ اس سے  زیادہ تھا جو کچھ اس نے  بادشاہ سلیمان کے  لئے  لائی تھی۔ پھر ملکہ سبا اور اس کے  خادم اپنے  ملک کو واپس لوٹ گئے۔

13 ایک سال میں  سلیمان نے  جتنا سونا حاصل کیا اس کا وزن ۲۵ ٹن تھا۔

14تا جر اور سودا گر سلیمان کے  پاس اور زیادہ سونا لائے۔ عرب کے  تمام بادشاہ اور دیگر حکو متوں  کے  بادشاہوں  نے  بھی سُلیمان کے  لئے  سونا چاندی لائے۔

15 بادشاہ سلیمان نے  سونے  کے  پتروں  سے  ۲۰۰ ڈھا لیں  بنوائیں۔ تقریباً ساڑھے  سات پاؤنڈ پِٹا ہوا سونا ہر ڈھال بنانے  کے  لئے  استعمال کیا گیا۔

16 سُلیمان نے  ۳۰۰ چھوٹی ڈھا لیں  سونے  کی پتر کی بنائیں۔ تقریباً پونے  چار ( ۴/۳۳ پاؤنڈ سونا ہر ڈھال بنانے  کے  لئے  استعمال کیا گیا۔ بادشاہ سلیمان نے  سونے  کی ڈھا لوں  کو لبنان کے  جنگل محل میں  رکھا۔

17 بادشاہ سلیمان نے  ایک بڑا تخت بنانے  کے  لئے  ہاتھی دانت کا استعمال کیا اس نے  تخت کو خالص سونے  سے  مڑھا۔

18 تخت پر چڑھنے  کے  لئے  ۶ سیڑھیاں  تھیں  اور اس کا ایک پائیدان تھا جو سونے  کا بنا ہوا تھا۔ تخت کے  دونوں  جانب ہتھے  تھے۔ اور ہر ایک ہتھے  کے  بغل میں  شیر کا مجسمہ بنا ہوا تھا۔

19 وہاں  ۱۲ شیروں  کے  مجسمے  چھ سیڑھیوں  پر تھے  ہر سیڑھی پر ایک جانب ایک مجسمہ تھا۔ ایسا تخت کسی دوسری بادشاہت میں  نہیں  تھی۔

20 سُلیمان کے  پینے  کے  پیالے  سونے  کے  بنے  ہوئے  تھے۔ تمام گھریلو اشیاء جو لبنان کے  جنگل محل میں  رکھے  تھے  وہ خالص سونے  کے  بنے  ہوئے  تھے۔ سُلیمان کے  زمانے  میں  اتنی دولت تھی کہ چاندی کی کوئی قیمت نہیں  سمجھی جاتی تھی۔

21 کیوں  کہ بادشاہ سلیمان کے  پاس جہاز تھے  جسے  حیرام کے  آدمی  ترسیس لے  جاتے  تھے  اور تین سال میں  ایک بار وہ لوگ سونا چاندی ہاتھی دانت بندر اور مور کے  ساتھ ترسیس سے  واپس ہوتے  تھے۔

22 بادشاہ سلیمان دولت اور دانشمندی دونوں  میں  دنیا کے  ہر بادشاہ سے  بڑا ہو گیا تھا۔

23 دنیا کے  تمام بادشاہ اس کو دیکھنے  اور اس کے  دانشمندانہ فیصلوں  کو سننے  کے  لئے  اس سے  ملنے  آتے  جو خدا نے  اس کو دی تھی۔

24 ہر سال وہ بادشاہ سلیمان کے  لئے  نذرانہ لاتے  تھے۔ وہ سونے  چاندی کی چیزیں  لباس زرہ بکتر مصالحے   گھوڑے  اور خچر لاتے  تھے۔

25 سلیمان کے  پاس گھوڑے  اور رتھ رکھنے  کے  لئے  ۰۰، ۴۰ اصطبل تھے۔ اس کے  پاس ۱۲۰۰۰ گھوڑ سوار تھے۔ سلیمان انہیں  رتھوں  کے  لئے  مخصوص شہروں  میں  اور یروشلم میں  اپنے  پاس رکھتا تھا۔

26 سُلیمان دریائے  فرات سے  لے  کر فلسطینی لوگوں  کے  ملک تک اور مصر کی سر حدوں  تک کے  بادشاہوں  کا شہنشاہ تھا۔

27 سلیمان نے  چاندی کو اتنا عام بنا دیا تھا جتنا کہ یروشلم میں  پتھر۔ اور وہ دیو دار کی لکڑی کو ساحل میدان کے  سیکامر ( گو لر ) کے  درختوں  جیسا افراط کر دیا تھا۔

28 لوگ سلیمان کے  لئے  مصر اور دوسرے  تمام ملکوں  سے  گھوڑے  لاتے  تھے۔

29 شروع سے  آخر تک سلیمان نے  جو کچھ کیا وہ ناتن نبی کی تحریروں  میں  لکھا ہے۔ اور یہ شیلاہ کے  اخیاہ کی پیشین گوئی اور تفریبو کی رویاؤں  میں  بھی ہے۔ تفریبو بھی نبی تھا۔ جو نباط کے  بیٹے  یربعام کے  بارے  میں  لکھا ہے۔

30 سلیمان یروشلم میں  تمام اسرائیل کا بادشاہ پورے  چالیس سال تک رہا۔

31 تب سلیمان اپنے  آباء و  اجداد کے  ساتھ جا ملے۔ لوگوں  نے  اسے  شہر داؤد میں  دفن کیا۔ سلیمان کا بیٹا رحبعام سُلیمان کی جگہ نیا بادشاہ ہوا۔

 

 

 

باب :  10

 

 

1 رحبعام شہر سکم کو گیا۔ کیوں  کہ تمام بنی اسرائیل اس کو بادشاہ بنانے  کے  لئے  وہاں  گئے  تھے۔

2 یُر بعام مصر میں  تھا کیوں  کہ وہ بادشاہ سلیمان کے  پاس سے  بھا گا تھا۔ یُربعام نباط کا بیٹا تھا۔ یُر بعام نے  سنا کہ رحبعام نیا بادشاہ ہو رہا ہے  اس لئے  یر بعام مصر سے  لوٹ آیا۔

3 بنی اسرائیلیوں  نے  یر بعام کو اپنے  ساتھ رہنے  کے  لئے  بلا یا تب یُر بعام اور سبھی بنی اسرائیل رحبعام کے  پاس گئے۔ انہوں  نے  اس سے  کہا ” رحبعام

4 تمہارے  باپ نے  ہم لوگوں  کی زندگیوں  کو بڑی مصیبت میں  ڈالا یہ گو یا بھاری وزن لے  کر چلنے  کے  برا بر تھا۔ اس وزن کو ہلکا کرو تو ہم تمہاری خد مت کریں  گے۔ ”

5 رُحبعام نے  ان سے  کہا ” تین دن بعد میرے  پاس آؤ۔” اس لئے  لوگ چلے  گئے۔

6 تب رحبعام نے  بزر گ آدمیوں  سے  بات کی جو ماضی میں  اس کے  باپ سلیمان کی خدمت کئے  تھے۔ رحبعام نے  ان سے  کہا ” آپ  مجھے  ان لوگوں  سے  کیا کہنے  کے  لئے  مشورہ دیتے  ہو؟”

7 بزر گوں  نے  رحبعام سے  کہا ” اگر تم ان لوگوں  کے  ساتھ رحم دل ہو اور انہیں  خوش رکھتے  ہو اور ان سے  اچھی باتیں  کہو تو وہ زندگی بھر تمہاری خدمت کریں  گے۔ ”

8 لیکن رحبعام کو جو مشورہ بزر گوں  نے  دیا اسے  قبول نہیں  کیا۔ رحبعام نے  نوجوان آدمیوں  سے  جو اس کے  ساتھ بڑے  ہوئے  تھے  اور ان کی خدمت کر رہے  تھے  ان سے  بات کی۔

9 رحبعام نے  ان سے  کہا ” تم مجھے  کیا مشورہ دیتے  ہو؟ ان لوگوں  کو ہمیں  کیسے  جواب دینا چاہئے ؟ انہوں  نے  مجھے  ان کا کام آسان کرنے  کے  لئے  کہا ہے  اور انہوں  نے  جوئے  کے  سخت بوجھ کو جو میرے  باپ نے  ان لوگوں  پر ڈالا ہے  ہلکا کرنا چاہا۔”

10 تب نو جوان نے  جو رحبعام کے  ساتھ بڑے  ہوئے  تھے  ان کو کہا ” ان لوگوں  سے  یہ کہو جو تم سے  باتیں  کی۔ لوگوں  نے  تم سے  کہا تیرے  باپ نے  ہماری زندگی کو سختی میں  ڈال دیا۔ یہ بھاری وزن لے  کر چلنے  کے  برابر تھا۔ لیکن ہم چاہتے  ہیں  کہ تم ہم لوگوں  کے  وزن کو کچھ ہلکا کرو۔’ لیکن رحبعام تم کو ان لوگوں  سے  یہی کہنا چاہئے   ‘ میری چھوٹی انگلی میرے  باپ کی کمر سے  موٹی ہے۔

11 میرے  باپ نے  تم پر بھاری بوجھ لادا لیکن میں  اس بوجھ کو بڑھاؤں  گا۔ میرے  باپ نے  تم کو کوڑے  لگانے  کی سزا دی تھی میں  ایسے  کوڑے  لگانے  کی سزا دوں  گا جس کے  سروں  پر تیز دھا تی ٹکڑے  لگے  ہوں۔”

12 بادشاہ رحبعام نے  کہا ” تیسرے  دن واپس آنا۔” تیسرے  دن یر بعام اور سب اسرائیلی رعایا بادشاہ رحبعام کے  پاس آئے۔

13 تب بادشاہ رحبعام نے  ان سے  حقارت سے  بات کی بادشاہ رحبعام نے  بزر گ لوگوں  کے  مشوروں  کو نہیں  مانا۔

14 بادشاہ رحبعام نے  لوگوں  سے  ویسی ہی بات کی جیسے  نو جوانوں  نے  مشورہ دیا تھا۔ اس نے  کہا ” میرے  باپ نے  تمہارے  بوجھ کو بھاری کیا تھا لیکن میں  اسے  اور زیادہ بھاری کروں  گا۔ میرے  باپ نے  تم پر کوڑے  لگانے  کی سزا دی تھی۔ لیکن میں  ایسے  کوڑے  سے  سزادوں  گا جن کے  سروں  پر تیز دھات کے  ٹکڑے  لگے  ہوں  گے۔ ”

15 اس طرح بادشاہ رحبعام نے  لوگوں  کی ایک نہ سنی۔ اس نے  لوگوں  کی ایک نہ سنی کیوں  کہ یہ تبدیلی خدا کی طرف سے  آئی تھی۔ خدا نے  ایسا ہونے  دیا ایسا اس لئے  ہوا تا کہ خداوند اپنے  اس وعدہ کو پورا کر سکے  جو انہوں  نے  اخیاہ کے  ذریعہ یُر بعام کو کہا تھا۔ اخیاہ شیلاہ کے  لوگوں  میں  سے  تھا۔ اور یُر بعام نباط کا بیٹا تھا۔

16 بنی اسرائیلیوں  نے  دیکھا کہ بادشاہ رحبعام ان کی ایک نہیں  سنتا۔ انہوں  نے  بادشاہ سے  کہا ” کیا ہم داؤد کے  خاندان کا حصّہ ہیں ؟ نہیں ! کیا ہم کو یسّی کی کوئی زمین ملی ہے ؟ نہیں۔ اِس لئے  اے  اسرائیلیو ہمیں  اپنے  گھروں  کو جانے  دو۔ داؤد کے  بیٹے  کو ان کے  اپنے  لوگوں  پر حکو مت کرنے  دو! ” تب تمام بنی اسرائیل اپنے  گھروں  کو چلے  گئے۔

17 لیکن کچھ بنی اسرائیل شہر یہوداہ میں  رہتے  تھے  اور رحبعام ان لوگوں  پر حکو مت کرتا تھا۔

18 ادونیرام جبراً کام پر لگے  لوگوں  کا داروغہ تھا۔ رحبعام نے  اسے  بنی اسرائیلیوں  کے  پاس بھیجا لیکن بنی اسرائیلیوں  نے  ادو نیرام پر پتھر پھینکے  اور اسے  مار ڈالا۔ تب رحبعام بھا گا اور اپنی رتھ سے  کود کر بچ نکلا وہ بھاگ کر یروشلم گیا۔

19 اس وقت سے  اب تک اسرائیلی داؤد کے  خاندان کے  خلاف ہو گئے  ہیں۔

 

 

 

باب :  11

 

 

1 جب رحبعام یروشلم آیا تو اس نے  ایک لاکھ اسّی ہزار بہترین سپاہیوں  کو جمع کیا اس نے  ان سپاہیوں  کو یہوداہ اور بنیمین کے  خاندان سے  جمع کیا۔ اس نے  ان کو  اسرائیل کے  خلاف لڑنے  کے  لئے  جمع کیاتا کہ وہ رحبعام کی بادشاہت کو واپس دلاس کے۔

2 لیکن خداوند کا پیغام سمعیاہ کے  پاس آیا۔ سمعیاہ خدا کا آدمی  تھا۔

3 خداوند نے  کہا ” سمعیاہ یہوداہ کے  بادشاہ سلیمان کے  بیٹے  رحبعام سے  بات کرو اور یہوداہ اور بنیمین میں  رہنے  والے  سبھی بنی اسرائیلیوں  سے  بات کرو۔

4 ان سے  کہو خداوند یہ کہتا ہے  : ‘ تمہیں  اپنے  بھا ئیوں  کے  خلاف نہیں  لڑ نا چاہئے۔ ہر آدمی  اپنے  گھر واپس چلا جائے۔ میں  نے  ہی ایسا ہونے  دیا ہے۔ ” اس لئے  بادشاہ رحبعام اور اس کی فوج نے  خداوند کا پیغام مانا اور وہ واپس ہو گئے  انہوں  نے  یربعام پر حملہ نہیں  کیا۔

5 رحبعام یروشلم میں  رہنے  لگا۔ اس نے  حملہ کے  خلاف حفاظت کے  لئے  یہوداہ میں  طاقتور شہر بنائے۔

6 اس نے  بیت اللحم عطیام تفوع

7 بیت صور سوکو عدلام

8 جات مریسہ زیف

9 ادوریم لکیس عزیقہ

10 صرعہ ایالون اور حبرون شہروں  کی مرمت کی۔ یہوداہ اور بنیمین کے  شہروں  کو مضبوط بنایا گیا۔

11 جب رحبعام نے  ان شہروں  کو مضبوط بنایا تو اس نے  اس میں  سپہ سالار کو رکھا اس نے  اس میں  غذائی رسد تیل مئے  بھی ان شہروں  میں  رکھا۔

12 رحبعام نے  ہر شہر میں  ڈھا لیں  بر چھے  بھی رکھا اور شہر کو طاقتور بنایا۔ رحبعام نے  یہوداہ اور بنیمین کے  لوگوں  کو اپنے  قابو میں  رکھا۔

13 سارے  اسرائیل کے  کاہن اور لاوی لوگ رحبعام سے  متفّق تھے۔ اور وہ اس کے  ساتھ ہو گئے۔

14 لاوی لوگوں  نے  اپنی گھاس والی زمین اور کھیت چھوڑ دیئے  اور یہوداہ اور یروشلم آ گئے۔ لاوی لوگوں  نے  ایسا اس لئے  کیا کیوں  کہ یر بعام اور اس کے  بیٹوں  نے  انہیں  خداوند کے  کاہن کے  طور پر خدمت کرنے  سے  منع کر دیا۔

15 یُربعام نے  اپنے  ہی کاہنوں  کو اعلیٰ جگہوں  پر خدمت کے  لئے  چُنا جہاں  اس نے  بکروں  اور بچھڑوں  کی مورتیوں  کو رکھا۔

16 جب لاویوں  نے  اسرائیل کو چھوڑا تو اسرائیلی خاندانی گروہ کے  وہ لوگ جو خداوند خدا پر یقین رکھتے  تھے  یروشلم میں  خداوند اپنے  آباء و  اجداد کے  خدا کو قربانی پیش کئے۔

17 ان لوگوں  نے  یہوداہ کی حکو مت کو طاقتور بنایا اور انہوں  نے  سلیمان کے  بیٹے  رحبعام کی تین سال تک حمایت کی۔ انہوں  نے  ایسا اس لئے  کیا کیوں  کہ وہ لوگ اس دوران داؤد اور سلیمان کی راہ پر چلتے  رہے۔

18 رحبعام محالات سے  شادی کی اس کا باپ یریموت تھا اس کی ماں  ابی اخیل تھی یریموت داؤد کا بیٹا تھا۔ ابی اخیل الیاب کی بیٹی تھی۔ اور الیاب یسّی کا بیٹا تھا۔

19 محالات سے  رحبعام کو یہ بیٹے  ہوئے  : یعوس سمریاہ اور زہم۔

20 تب رحبعام نے  معکہ سے  شادی کی۔ معکہ ابی سلوم کی بیٹی تھی۔ معکہ کو رحبعام سے  یہ بیٹے  ہوئے  : ابیاہ عتی زِیزا اور سلومیت۔

21 رحبعام سب بیویوں  اور داشتاؤں  سے  زیادہ معکہ کو چاہتا تھا۔ معکہ ابی سلوم کی بیٹی تھی۔ رحبعام کی ۱۸ بیویاں  اور ۶۰ داشتائیں  تھیں۔ رحبعام ۲۸ بیٹے  اور ۶۰ بیٹیوں  کا باپ تھا۔

22 رحبعام نے  اپنے  بھائیوں  میں  ابیاہ کو قائد چنا۔ رحبعام نے  یہ اس لئے  کیا کیوں  کہ اس نے  ابیاہ کو بادشاہ بنانے  کا منصوبہ بنایا۔

23 رحبعام نے  عقلمندی سے  کام کیا اور اپنے  بیٹوں  کو یہوداہ اور بنیمین کے  سارے  ملک میں  ہر ایک طاقتور شہر میں  پھیلا دیا۔ اور رحبعام نے  اپنے  بیٹوں  کو بہت زیادہ رسد بھیجی۔ اس نے  اپنے  بیٹوں  کے  لئے  بیویوں  کو تلاش کیا۔

 

 

 

 

باب :  12

 

 

1 رحبعام ایک طاقتور بادشاہ ہو گیا۔اس نے  اپنی حکومت کو بھی طاقتور بنایا۔تب رحبعام اور سبھی بنی اسرائیلیوں  نے  خداوند کی شریعت کی تعمیل کرنے  سے  رُک گئے۔

2 رحبعام کی بادشاہت کے  پانچویں  سال سیسق نے  یروشلم پر حملہ کیا۔سیسق مصر کا بادشاہ تھا۔ یہ اس لئے  ہوا کہ رحبعام اور یہوداہ کے  لوگ خداوند کے  وفادار نہیں  تھے۔

3 سیسق کے  پاس ۱۲۰۰ رتھ اور ۶۰۰۰۰ گھوڑ سوار اور بے  شمار فوج تھیں۔سیسق کی بڑی فوج لیبیا کے  سپاہی سکیتی سپاہی اور اتھوپیائی سپاہی تھے۔

4 سیسق نے  یہوداہ کے  طاقتور شہروں  کو شکست دی تب سیسق نے  اس کی فوج کو یروشلم لا یا۔

5 تب سمعیاہ نبی رحبعام اور یہوداہ کے  قائدین کے  پاس آیا۔یہوداہ کے  قائدین ایک ساتھ یروشلم میں  جمع ہوئے۔ کیوں  کہ وہ سب سیسق سے  ڈرے  ہوئے  تھے۔ سمعیاہ نے  رحبعام اور یہوداہ کے  قائدین سے  کہا “خداوند یہ کہتا ہے  : ‘رحبعام! تم نے  اور یہوداہ کے  لوگوں  نے  مجھے  چھوڑ دیا اور میرے  احکامات کی تعمیل سے  انکار کیا اس لئے  میں  اب تمہیں  سیسق کا سامنا کرنے  کے  لئے  چھوڑتا ہوں۔”

6 تب یہوداہ کے  قائدین اور بادشاہ رحبعام نے  اپنی غلطیوں  کو محسوس کیا اور اپنے  آپ  کو خاکسار بنایا۔انہوں  نے  کہا “خداوند صحیح ہے۔ ”

7 جب خداوند نے  بادشاہ یہوداہ کے  قائدین کی فرمانبرداری کو دیکھا تو وہ سمعیاہ کے  پاس پیغام بھیجا۔خداوند نے  سمعیاہ سے  کہا “بادشاہ اور قائدین نے   اپنے  آپ  کو فرمانبردار بنایا ہے۔ اس لئے  میں  انہیں  تباہ نہیں  کروں  گا لیکن میں  انہیں  جلد ہی بچاؤں  گا۔میں  یروشلم اپنا غصّہ اتار نے  کے  لئے  سیسق کو استعمال نہیں  کروں  گا۔

8 لیکن یروشلم کے  لوگ سیسق کے  خادم ہوں  گے  ایسا ہو گا تاکہ وہ جان جائیں  کہ میری خدمت کرنا دوسری قوموں  کے  بادشاہ کی خدمت سے  الگ ہے۔ ”

9 سیسق نے  یروشلم پر حملہ کیا اور خداوند کی ہیکل میں  جو خزانہ تھالے  لیا۔ سیسق مصر کا بادشاہ تھا۔ اور اس نے  وہ خزانوں  کو بھی لیا جو بادشاہ کے  محل میں  تھا سیسق نے  ہر چیز اور خزانہ لے  گیا۔ اس نے  سونے  کی ڈھالوں  کو بھی لے  لیا جو سلیمان نے  بنوائی تھیں۔

10 بادشاہ رحبعام نے  سونے  کی ڈھالوں  کی جگہ کانسے  کی ڈھالیں  بنوائیں  رحبعام نے  کانسے  کی ڈھالوں  کو سپہ سالاروں  کو دیا جو بادشاہ کے  محل کے  داخلے  کی حفاظت کے  ذمّہ دار تھے۔

11 جب بادشاہ خداوند کی ہیکل میں  داخل ہوا تو محافظ کانسے  کی ڈھالوں  کو لایا اور پھر اسے  محافظ خانہ میں  رکھ دیا۔

12 جب رحبعام اپنی فرمانبرداری کو ظاہر کیا تو خداوند نے  رحبعام سے  اپنا غصّہ دور کر دیا اس لئے  خداوند نے  پورے  طور پر رحبعام کو تباہ نہیں۔یہوداہ میں  بھی کچھ اچھا ئیاں  تھی۔

13 بادشاہ رحبعام نے  یروشلم میں  خود کو طاقتور بادشاہ بنالیا۔ وہ اس وقت اکتا لیس سال کا تھا جب وہ بادشاہ ہوا تھا۔رحبعام یروشلم میں  سترہ سال کے  لئے  بادشاہ رہا۔ یروشلم وہ شہر ہے  جسے  خداوند نے  اسرائیل کے  تمام خاندانی گروہوں  سے  چُنا۔ خداوند نے  اپنا نام یروشلم میں  رکھنے  کے  لئے  چُنا۔ رحبعام کی ماں  نعمہ تھی۔ نعمہ ملک عمون کی تھی۔

14 رحبعام نے  اس لئے  بُرے  کام کئے  کیوں  کہ وہ اپنے  دِل سے  خداوند کی خواہشات کو تلاش کرنے  کا فیصلہ نہیں  کیا تھا۔

15 جب رحبعام بادشاہ ہوا تو اپنی بادشاہت کے  شروع سے  آخر تک جو کچھ کیا اسے  سمعیاہ نبی اور تقریبو نبی نے  اپنی تحریروں  میں  لکھا۔ان آدمیوں  نے  خاندانی تاریخ لکھی اور انہوں  نے  رحبعام اور یُربعام کے  بیچ مسلسل ہونے  وا لی جنگوں  کو لکھا جو کہ اس وقت تک چلی جب تک کہ وہ حکومت کئے۔

16 رحبعام اپنے  آباء و اجداد کے  ساتھ جا ملے۔ رحبعام کو داؤد کے  شہر میں  دفنایا گیا۔رحبعام کا بیٹا ابیاہ نیا بادشاہ ہوا۔

 

 

 

باب :  13

 

 

1 جب بادشاہ یربعام اسرائیل کے  بادشاہ کے  طور پر اٹھارویں  سال میں  تھا ابیاہ یہوداہ کا نیا بادشاہ ہوا۔

2 ابیاہ یروشلم میں  تین سال کے  لئے  بادشاہ تھا۔ ابیاہ کی ماں  میکایاہ تھی۔ میکایاہ اوری ایل کی بیٹی تھی۔ اوری ایل جبعہ شہر کا تھا۔ یُر بعام اور ابیاہ کے  درمیان جنگ ہو ئی۔

3 ابیاہ کی فوج میں  بہادر سپاہی تھے۔ ابیاہ نے  فوج کو جنگ میں  شامل کیا۔ یُربعام کی فوج میں  ۰۰۰، ۸۰ بہادر سپاہی تھے۔ یُر بعام ابیاہ سے  جنگ کے  لئے  تیار تھا۔

4 تب ابیاہ صمریم کی پہاڑی پر جو افرائیم کی پہاڑی ملک میں  ہے  کھڑا تھا۔ ابیاہ نے  کہا ” یربعام اور تمام اسرائیلی میری بات سُنو!

5 تمہیں  معلوم ہو نا چاہئے  کہ خداوند اسرائیل کے  خدا نے  داؤد اور اس کی اولاد کو اسرائیل کا بادشاہ ہونے  کا اختیار ہمیشہ کے  لئے  دیا ہے۔ خدا نے  داؤد کو یہ اختیار نمک کے  معاہدہ کے  ساتھ دیا تھا۔

6 لیکن یربعام اپنے  آقا کے  خلاف ہوا یربعام نباط کا بیٹا تھا داؤد کے  بیٹے  سلیمان کے  عہدیداروں  میں  سے  ایک تھا۔

7 تب نِکّمے  اور بُرے  آدمی  یربعام کے  دوست ہوئے  اور پھر یربعام اور وہ بُرے  آدمی  سلیمان کے  بیٹے  رحبعام کے  خلاف ہو گئے۔ رحبعام نوجوان تھا اور اسے  تجربہ نہیں  تھاا سلئے  رحبعام یربعام اور اس کے  بُرے  دوستوں  کو روک نہ سکا۔

8 ” تم لوگوں  نے  خداوند کی بادشاہت کو شکست دینے  کا فیصلہ کیا ہے  وہ بادشاہت جس پر داؤد کے  بیٹوں  نے  حکومت کی ہے۔ تم لوگوں  کی تعداد بہت ہے  اور یربعام کا تمہارے  لئے  بنایا گیا سونے  کا بچھڑا تمہارا” خداوند ” ہے۔

9 تم لوگوں  نے  ہارون کی نسل کو خداوند کے  کاہنوں  کو اور لاوی لوگوں  کو باہر نکال دیا ہے۔ پھر تم اپنے  کاہنوں  کو چُن لئے  اسی طرح جس طرح دوسری قوموں  نے  زمین پر کیا اور اب کوئی شخص جو ایک جوان بیل اور سات مینڈھے  لائے  گا وہ اُن ” جھوٹے  خداؤں  ” کی خدمت کرنے  والا کاہن بن سکتا ہے۔

10 لیکن جہاں  تک ہم لوگوں  کی بات ہے  تو خداوند ہمارا خدا ہے۔ ہم یہوداہ کے  لوگوں  نے  خدا کی اطاعت سے  انکار نہیں  کیا ہم نے  اسے  نہیں  چھوڑا۔ کاہن جو خداوند کی خدمت کرتے  ہیں  ہارون کے  بیٹے  ہیں  اور لاوی لوگ کاہنوں  کی مدد کرتے  ہیں  جو خداوند کی خدمت کرتے  ہیں۔

11 وہ جلانے  کی قربانی اور خوشبو دار مصالحہ جات جلا کر خداوند کو ہر صبح و شام پیش کرتے  ہیں۔ وہ ہیکل کے  خاص میز پر روٹیاں  قطاروں  میں  رکھتے  ہیں  اور سونے  کے  چراغ دانوں  پر رکھے  ہوئے  چراغوں  کی دیکھ بھال کرتے  ہیں تا کہ ہر شام کو وہ روشنی کے  ساتھ جلے۔ ہم لوگ خداوند اپنے  خدا کی خدمت لگن کے  ساتھ کرتے  ہیں  لیکن تم لوگوں  نے  اس کو چھوڑ دیا ہے۔

12 خداوند یقیناً ہم لوگوں  کے  ساتھ ہے  وہ ہمارا حاکم ہے  اور ان کے  کاہن ہمارے  ساتھ ہیں۔ خدا کے  کاہن تمہیں  جگانے  کے  لئے  اور تمہیں  اس کے  پاس آنے  کے  لئے  بگل بجاتے  ہیں۔ اسرائیل کے  لوگو اپنے  آباء و  اجداد کے  خداوند خدا کے  خلاف مت لڑو۔ تم کامیاب نہیں  ہو گے۔ ”

13 لیکن یربعام نے  فوج کی ایک گروہ کو خاموشی سے  خفیہ طور پر ابیاہ کی فوج کے  پیچھے  بھیجا۔ یُربعام کی فوج ابیاہ کی فوج کے  سامنے  تھی۔ یربعام کی فوج کی خفیہ فوجی ابیاہ کی فوج کے  پیچھے  تھے۔

14 جب یہوداہ کے  سپاہیوں  نے  یربعام کی فوج کو آگے  اور پیچھے  سے  حملہ کرتے  ہوئے  دیکھا تو یہوداہ کے  لوگوں  نے  خداوند کو زور سے  پکارا اور کاہنوں  نے  بِگل بجائے۔

15 تب ابیاہ کی فوج کے  لوگوں  نے  چلائے۔ جب یہوداہ کے  آدمی  چلائے  خدا نے  یربعام کی فوج کو شکست دی۔ اسرائیل کے  یربعام کی تمام فوج ابیاہ کی فوج کے  ساتھ ہار گئی۔

16 بنی اسرائیل یہوداہ کے  لوگوں  کے  سامنے  سے  بھاگ گئے۔ خدا نے  یہوداہ کی فوج کے  ہاتھوں  اسرائیل کی فوج کو شکست دلوائی۔

17 ابیاہ کی فوج نے  اسرائیل کی فوج کو بری طرح شکست دی اسرائیل کے  ۵ لاکھ بہترین آدمی  مارے  گئے۔

18 اس لئے  بنی اسرائیلیوں  کی شکست ہوئی اور یہوداہ کے  لوگوں  کو فتح ہوئی یہوداہ کی فوج جیت گئی کیوں  کہ وہ اپنے  آباء و  اجداد کے  خداوند خدا پر انحصار کئے  تھے۔

19 ابیاہ کی فوج نے  یربعام کی فوج کا پیچھا کیا۔ ابیاہ کی فوج نے  بیت ایل یسا نہ اور عفرون کے  شہروں  کو یربعام سے  جیت لیا۔ انہوں  نے  ان شہروں  کو اور اس کے  قریبی چھوٹے  قریوں  کو بھی لے  لیا۔

20 یُربعام دو بارہ کبھی طاقتور نہیں  ہوا جب تک ابیاہ زندہ رہا۔ خداوند نے  یربعام کو مار ڈالا۔

21 لیکن ابیاہ طاقتور بن گیا۔ اس نے  چودہ عورتوں  سے  شادی کی اور وہ بائیس بیٹوں  اور سولہ بیٹیوں  کا باپ تھا۔

22 جو دوسری چیزیں  ابیاہ نے  کیں  وہ تقریبو نبی کی کتاب میں  لکھا ہے۔

 

 

 

باب :  14

 

 

1 ابیاہ نے  اپنے  آباء و  اجداد کے  ساتھ آرام کیا۔ لوگوں  نے  اس کو داؤد کے  شہر میں  دفنایا۔ تب ابیاہ کا بیٹا آسا ابیاہ کی جگہ نیا بادشاہ ہوا آسا کے  زمانے  میں  ملک میں  دس سال تک امن رہا۔

2 آسانے  خداوند اپنے  خدا کے  لئے  اچھے  اور صحیح کام کئے۔

3 آسانے  ان غیر ملکی قربان گاہوں  کو ہٹا دیا جن کا استعمال مورتیوں  کی پرستش کے  لئے  ہوتا تھا۔ آسانے  اعلیٰ جگہوں  کو ہٹا دیا اور یادگار پتھروں  کو تباہ کر دیا اور آسانے  آشیرہ کے  ستون کو توڑ ڈالا۔

4 آسانے  یہوداہ کے  لوگوں  کے  آباء و  اجداد کے  خداوند خدا کے  راستے  پر چلنے  کا حکم دیا اور آسانے  خداوند کے  احکام کی تعمیل کرنے  کا حکم دیا۔

5 آسانے  اعلیٰ جگہوں  اور بخور کی قربان گاہوں  کو یہوداہ کے  شہروں  سے  ہٹا دیا۔ اس لئے  جب آسا بادشاہ تھا تو مملکت میں  امن تھا۔

6 آسانے  یہوداہ میں  امن کے  زمانے  میں  شہروں  کو طاقتور بنایا آسا ان برسوں  میں  کوئی جنگ نہیں  کی۔ کیوں  کہ خداوند نے  اسے  امن عطا کیا تھا۔

7 آسانے  یہوداہ کے  لوگوں  سے  کہا ” ہم ان شہروں  کو اور اس کے  اطراف دیواروں  کو بنائیں۔ ہم مینار پھا ٹکیں  اور پھاٹکوں  میں  سلاخیں  لگائیں۔ جب تک ہم اس ملک میں  زندہ ہیں  ہم یہ کریں۔ یہ ہمارا ملک ہے۔ کیوں  کہ ہم خداوند ہمارے  خدا کے  راستے  پر چلے  ہیں۔ اس نے  ہمارے  چاروں  طرف ہمیں  امن بخشا ہے۔ ” اس لئے  انہوں  نے  یہ سب بنایا اور کامیاب ہوئے۔

8 آسا کے  پاس ۰۰۰، ۳۰۰ آدمیوں  کی فوج یہوداہ کے  خاندانی گروہ سے  تھیں  اور ۰۰۰،۸۰ ۲ آدمی  بنیمین کے  خاندانی گروہ سے  تھے۔ یہوداہ کے  آدمی  بڑی ڈھا لیں  اور بر چھے  لئے  ہوئے  تھے۔ بنیمین کے  آدمی  چھوٹی ڈھالیں  اور کمان لئے  ہوئے  تھے  وہ سب طاقتور اور ہمت والے  تھے۔

9 تب زارح آسا کی فوج کے  خلاف آیا۔ زارح اتھوپیا کا تھا۔زارح کے  پاس ۱۰۰۰۰۰۰ آدمی  اور ۳۰۰ رتھ اس کی فوج میں  تھی۔ زارح کی فوج مر یسہ کے  شہر تک گئی۔

10 آسا زارح کے  خلاف لڑنے  کے  لئے  گیا۔آسا کی فوج مریسہ کی صفاتہ کی وادی میں  جنگ کے  لئے  تیار تھی۔

11 آسانے  خداوند کو پکارا اور کہا “خداوند تو ہی طاقتور لوگوں  کے  خلاف کمزور لوگوں  کی مدد کر سکتا ہے۔ اے  خداوند میرے  خدا ہماری مدد کر ہم تجھ پر انحصا ر کرتے  ہیں۔ ہم تیرے  نام پر اس بڑی فوج سے  جنگ کرتے  ہیں۔ اے  خداوند تو ہمارا خدا ہے۔ اپنے  خلاف کسی کو جیتنے  نہ دے۔ ”

12 تب خداوند نے  یہوداہ کی طرف سے  آسا کی فوج کا استعمال کوش کی فوج کو شکست دینے  کے  لئے  کیا اور کوش کی فوج بھاگ کھڑی ہو ئی۔

13 آسا کی فوج نے  کوش کی فوج کا پیچھا مسلسل جرار شہر تک کیا۔ کوش کے  لوگ اتنے  زیادہ مارے  گئے  کہ وہ جنگ کرنے  کے  لئے  ایک فوج کے  طور پر پھر جمع نہ ہو سکے۔ آسا اور اس کی فوج نے  دشمن سے  دوسری قیمتی چیزیں  لے  لیں۔

14 آ سا اور اس کی فوج نے  جرار کے  قریب تمام شہروں  کو ہرا دیا۔ ان شہروں  میں  رہ نے  والے  لو گ خداوند سے  ڈرتے  تھے۔ ان شہروں  میں  بے  شمار قیمتی چیزیں  تھیں۔ آسا کی فوجوں  نے  ان شہروں  سے  ان قیمتی چیزوں  کولے  لیا۔

15 آسا کی فوج نے  ان خیموں  پر بھی حملہ کیا جن میں  چرواہے  رہتے  تھے۔ وہ ان کے  مینڈھے  اور اونٹ لے  گئے  تب آسا کی فوج یروشلم واپس گئی۔

 

 

باب :  15

 

 

1 خدا کی رُو ح عزریاہ پر آئی۔ عزریاہ عودید کا بیٹا تھا۔

2 عزریاہ آسا سے  ملنے  گیا۔ عزریاہ نے  کہا ” آسا اور تم یہوداہ اور بنیمین کے  لوگو میری بات سنو! خداوند تمہارے  ساتھ ہے  جب تک تم اس کے  ساتھ ہو۔اگر تم خداوند کو تلاش کرو تو تم اسے  پاؤ گے  لیکن اگر تم اسے  چھوڑو تو وہ تمہیں  چھوڑ دے  گا۔

3 بہت عرصے  تک اسرائیل بغیر سچے  خدا اور بغیر تعلیم دینے  والے  کاہن اور بغیر اصولوں  کے  تھا۔

4 لیکن جب بنی اسرائیل مصیبت میں  تھے   تو وہ دوبارہ خداوند خدا کی طرف رجوع ہوئے۔ وہ اسرائیل کا خدا ہے  انہوں  نے  خداوند کی تلاش کی اور اسے  پا یا۔

5 اس مصیبت کے  وقت میں  کوئی بھی آدمی  سلامتی سے  سفر نہیں  کر سکتا تھا کیونکہ بہت زیادہ تشدد کی وجہ سے  قوموں  کے  باشندے  درہم بر ہم ہو گئے  تھے۔

6 ایک قوم دوسری قوم کو تباہ کرتی اور ایک شہر دوسرے  شہر کو تباہ کرتا۔ ایسا ہو رہا تھا کیونکہ خدا نے  ان کو ہر قسم کی مصیبت میں  مبتلا کیا تھا۔

7 لیکن آسا تم اور یہوداہ اور بنیمین کے  لوگ طاقتور رہو کمزور نہر ہو۔ پست ہمت نہ بنو کیوں  کہ تمہیں  اچھے  کاموں  کا صِلہ ملے  گا۔”

8 آسانے  جب ان باتوں  اور عودید نبی کے  پیغام کو سُنا تو وہ بہت حوصلہ مند ہوا تب اس نے  سارے  یہوداہ اور بنیمین کے  ملک سے  نفرت انگیز مورتیوں  کو ہٹا دیا۔ اور اس نے  افرائیم کے  پہاڑی ملک میں  اپنے  قبضہ میں  لائے  گئے  شہروں  سے  مورتیوں  کو ہٹا دیا اور اس نے  خداوند کی اس قربان گاہ کی مرمت کی جو خداوند کی ہیکل کے  پاس پیش دہلیز کے  سامنے  تھی۔

9 تب آسا یہوداہ اور بنیمین کے  تمام لوگوں  کو جمع کیا۔اس نے  افرائم منسی اور شمعون خاندانوں  کو بھی جمع کیا جو اسرائیل کے  ملک سے  یہوداہ کے  ملک میں  رہنے  کے  لئے  آئے  تھے۔ ان کی بہت بڑی تعداد یہوداہ میں  آئی۔ کیونکہ انہوں  نے  دیکھا کہ خداوند آسا کا خدا آسا کے  ساتھ ہے۔

10 آسا اور وہ لوگ جو یروشلم میں  پندرہویں  سال کے  تیسرے  مہینے  میں  آسا کی حکومت میں  جمع تھے۔

11 اس وقت انہوں  نے  خداوند کو ۷۰۰ بیل اور ۰۰۰،۷ بھیڑیں  اور بکریاں  قربانی پیں  کیں۔آسا کی فوج نے  ان جانوروں  کو اور دوسری قیمتی چیزیں  ان کے  دشمنوں  سے  لیں۔

12 تب انہوں  نے  آباء و  اجداد کے  خداوند خدا کی خدمت پوری دل و جان سے  کرنے  کا ایک معاہدہ کیا۔

13 کوئی آدمی  جو خداوند خدا کی خدمت سے  انکار کرتا تھا مار دیا جاتا تھا۔ اس بات کی کوئی اہمیت نہیں  کہ وہ آدمی  اہم تھا یا غیر اہم یا پھر وہ آدمی  عورت تھی یا مرد۔

14 تب آسا اور لوگوں  نے  خداوند سے  حلف لیا۔ انہوں  نے  زوردار آواز سے  پکا را انہوں  نے  بِگل بجائے  اور مینڈھوں  کے  سنگ پھونکے۔

15 یہوداہ کے  لوگ حلف کے  متعلق خوش تھے  کیونکہ انہوں  نے  اپنے  دِل سے  وعدہ کیا تھا۔ شوق سے  انہوں  نے  خدا کو تلاش کیا اور اس کو پا یا۔اس لئے  خداوند نے  سارے  ملک میں  امَن بحال کیا۔

16 بادشاہ آسانے  اس کی ماں  معکہ کو رانی کے  عہدے  سے  ہٹا دیا۔ آسانے  ایسا اس لئے  کیا کیوں  کہ اس نے  آشیرہ کے  لئے  ایک خوفناک ستون بنایا تھا۔آسانے  اس ستون کو کاٹ دیا۔اور اس کے  چھوٹے  چھوٹے  ٹکڑے  کر دیئے  اس نے  ان چھوٹے  ٹکڑوں  کو قدرون کی وادی میں  جلا دیا۔

17 اعلیٰ جگہوں  کو یہوداہ سے  نہیں  ہٹایا گیا۔ لیکن آسا کا دِل زندگی بھر خداوند کا وفادار رہا۔

18 آسانے  ان مقدس نذرانوں  کو رکھا جنہیں  اس نے  اور اس کے  باپ نے  خداوند کی ہیکل میں  پیش کئے  تھے۔ وہ چیزیں  چاندی اور سونے  کی بنی تھیں۔

19 آسا کی ۳۵ سالہ حکومت میں  کوئی جنگ نہیں  ہو ئی۔

 

 

 

باب :  16

 

 

1 آسا کا بطور بادشاہ کے  ۳۶ ویں  سال بعشا نے  یہوداہ کے  ملک پر حملہ کیا۔ بعشا اسرائیل کا بادشاہ تھا۔ وہ رامہ شہر کو گیا اور اس کو ایک قلعہ بنایا۔ بعشانے  رامہ شہر کو یہوداہ کے  بادشاہ آسا کے  پاس جانے  اور اس کے  پاس سے  لوگوں  کو آنے  سے  روکنے  کے  لئے  استعمال کیا۔

2 آسانے  خداوند کی ہیکل کے  گودام میں  رکھے  چاندی اور سونا کو لایا اور اس نے  شاہی محل سے  چاندی سونا لیا۔ تب آسا خبر رسانوں  کو بن ہدد کے  پاس بھیجا۔ بن ہدد ارام کا بادشاہ تھا اور وہ دمشق شہر میں  رہتا تھا آسا کے  پیغام میں  کہا گیا :

3 ” بن ہدد! میرے  اور تمہارے  درمیان ایک معاہدہ ہونے  دو جس طرح تمہارے  اور میرے  باپ نے  معاہدہ کیا تھا۔ دیکھو! میں  تمہیں  چاندی اور سونا بھیج رہا ہوں  اب اپنا معاہدہ اسرائیل کے  بادشاہ بعش سے  توڑ و۔ اس لئے  وہ مجھے  تنہا چھوڑے  گا اور مجھے  پریشان نہیں  کرے  گا۔”

4 بن ہدد نے  بادشاہ آسا کی بات منظور کر لی۔ بن ہدد نے  اس کی فوجوں  کے  سپہ سالاروں  کو اسرائیل کے  شہروں  پر حملہ کرنے  بھیجا۔ ان سپہ سالاروں  نے  عیون دان اور ابیل مائم شہروں  پر حملہ کیا۔ انہوں  نے  ملک نفتالی کے  ان تمام شہروں  پر حملہ کیا جہاں  خزانے  رکھے  ہوئے  تھے۔

5 بعشا نے  اسرائیل کے  شہروں  پر حملے  کی بات سُنی۔ اس لئے  اس نے  رامہ میں  قلعہ بنانے  کا کام روک دیا اور اپنا کام چھوڑ دیا۔

6 تب بادشاہ آسانے  یہوداہ کے  تمام لوگوں  کو جمع کیا وہ رامہ شہر کو گئے  اور لکڑی اور پتھر اٹھا لائے  جس کو بعشا نے  قلعہ بنانے  میں  استعمال کیا تھا۔ آسا اور یہوداہ کے  لوگوں  نے  پتھروں  اور لکڑی کا استعمال جبعہ اور مضفاہ شہروں  کو مضبوط بنانے  کے  لئے  کیا۔

7 اس وقت حنانی نبی یہوداہ کے  بادشاہ آسا کے  پاس آیا۔ حنانی نے  اس سے  کہا ” آسا تم نے  مدد کے  لئے  ارام کے  بادشاہ پر انحصار کیا اور خداوند اپنے  خدا پر نہیں  کیا تمہیں  خداوند پر بھروسہ کر نا چاہئے  تھا۔ لیکن تم نے  مدد کے  لئے  خداوند پر بھروسہ نہ کیا۔ ارام کے  بادشاہ کی فوج تمہارے  پاس سے  بھا گ گئی۔

8 کوش ( اتھوپیا ) اور لیبی کے  پاس بہت بڑی اور طاقتور فوج تھی۔ ان کے  پاس کئی رتھ اور رتھ بان تھے۔ لیکن آسا تم نے  بڑی اور طاقتور فوج کو شکست دینے  میں  مدد کے  لئے  خداوند پر بھروسہ کئے  اور خداوند نے  تمہیں  ان کو شکست دینے  دی۔

9 خداوند کی آنکھیں  ساری زمین پر چاروں  طرف ان لوگوں  کو ڈھونڈتی رہتی ہیں  جو ان کا فرمانبردار ہے  تا کہ وہ ان لوگوں  کے  ذریعہ اپنی قوت دکھاس کے۔  آسا! تم نے  بیوقوفی کی اس لئے  اب سے  آئندہ تم جنگیں  لڑتے  رہو گے۔ ”

10 آسا حنانی پر اس بات کی وجہ سے  غصہ ہوا جو اس نے  کہا تھا۔ وہ غصہ سے  اتنا پا گل ہوا کہ اس نے  حنانی کو قید میں  ڈالا۔ آسا اس وقت کچھ لوگوں  کے  ساتھ ظلم و ستم کیا۔

11 شروع سے  آخر تک جو کچھ آسانے  کیا وہ ” تاریخ سلا طین یہوداہ و اسرائیل ” میں  لکھا ہوا ہے۔

12 آسا کی بادشاہت کے  انتالیسویں  سال اس کے  پیر بیماری سے  متاثر ہو گئے  اس کی بیماری بڑی خراب تھی لیکن اس نے  مدد کے  لئے  خداوند کی طرف نہ دیکھا آسانے  ڈاکٹروں  سے  مدد لی۔

13 آسا اپنی بادشاہت کے  اکتالیسویں  سال مر گیا اور اس طرح آسا اپنے  آباء و  اجداد کے  ساتھ جا ملے۔

14 لوگوں  نے  آسا کو اس کی اپنی قبر میں  دفن کیا جو اس نے  اپنے  لئے  شہر داؤد میں  بنوائی تھی۔ لوگوں  نے  اس کو ایک بستر پر لٹا یا جس پر مختلف مصالحے  اور مختلف قسم کے  خوشبو دار عطر بھرا ہوا تھا۔ لوگوں  نے  آسا کی تعظیم کرنے  کے  لئے  بڑی آگ جلا ئی۔

 

 

 

باب :  17

 

 

1 آسا کی جگہ یہو سفط یہوداہ کا نیا بادشاہ ہوا۔ یہو سفط آسا کا بیٹا تھا۔ یہو سفط نے  یہوداہ کو طاقتور بنایا جس سے  وہ اسرائیل کے  خلاف لڑ سکتے  تھے۔

2 اس نے  یہوداہ کے  ان تمام شہروں  میں  فوج کے  گروہ رکھے  جسے  قلعے  بنا دیئے  گئے  تھے۔ یہو سفط نے  یہوداہ کی ساری زمین اور افرائیم کے  ان سبھی شہروں  میں  جسے  اس کے  باپ نے  قبضہ کیا تھا سپاہیوں  کا گروہ تعینات کیا۔

3 خداوند یہوسفط کے  ساتھ تھا کیوں  کہ یہوسفط نے  نوجوانی میں  اچھے  کام کئے  جیسے  اس کے  آباء و اجداد نے  کئے  تھے۔ یہوسفط نے  بعل کے  بُت کی پرستش نہیں  کی۔

4 یہوسفط اس خدا کو تلاش کیا جس کی پرستش اس کے  آبا ء و اجداد کرتے  تھے۔ اس نے  خدا کے  احکامات کی تعمیل کی۔ وہ اس طرح نہیں  رہا جس طرح اسرائیل کے  دوسرے  لوگ رہتے  تھے۔

5 خداوند نے  یہوسفط کو یہوداہ کا طاقتور بادشاہ بنایا یہوداہ کے  تمام لوگ یہوسفط کے  لئے  نذرانہ لائے۔ اس طرح یہوسفط کے  پاس دولت اور عزت دونوں  تھی۔

6 یہوسفط خداوند کے  راستے  پر چلا اور اس پر فخر کیا۔ اس نے  اعلیٰ جگہوں  اور آشیرہ کے  ستون کو یہوداہ سے  ہٹا دیا۔

7 یہوسفط نے  اس کے  قائدین کو یہوداہ کے  شہروں  میں  تعلیم (خدا کے  احکامات کو ) دینے  کے  لئے  بھیجا۔ یہ یہوسفط کی بادشاہت کے  تیسرے  سال ہوا وہ قائدین بن خیل عبدیاہ زکریاہ نتن ایل اور میکا یاہ تھے

8 یہوسفط نے  لاویوں  کو بھی ان قائدین کے  ساتھ بھیجا۔ یہ لاوی لوگ سمعیاہ زبدیاہ عسا ہل شیمیراموت یہوناتن ادونیاہ طوبیاہ اور طوب ادونیاہ تھے۔ یہوسفط نے  الیسمع اور یہورام کاہنوں  کو بھی بھیجا۔

9 وہ سب قائدین لاوی لوگوں  اور کاہنوں  نے  یہوداہ میں  لوگوں  کو تعلیم دی۔ اس کے  پاس “خداوند کی شریعت کی کتاب ” تھی۔ وہ یہوداہ کے  تمام شہروں  میں  گئے  اور لوگوں  کو تعلیم دی۔

10 یہوداہ کے  قریب کی قومیں  خداوند سے  ڈرتی تھیں۔ اس لئے  انہوں  نے  یہوسفط کے  خلاف جنگ شروع نہیں  کی۔

11 کچھ فلسطینی لوگ یہوسفط کے  لئے  تحفے  لائے۔ انہوں  نے  یہوسفط کے  پاس چاندی بھی لائے  کیوں  کہ وہ جانتے  تھے  کہ وہ بہت طاقتور بادشاہ ہے۔ کچھ عرب کے  لوگ یہوسفط کے  پاس ریوڑ لائے  وہ ۷۰۰، ۷ مینڈھے  اور ۷۰۰، ۷بکریاں  لائے۔

12 یہوسفط زیادہ سے  زیادہ طاقتور ہوتا گیا۔ اس نے  ملک یہوداہ میں  قلعے  اور گودام بنوائے۔

13 اس نے  بہت ساری رسدات ان شہروں  کے  گوداموں  میں  رکھا۔ اور یہوسفط نے  یروشلم میں  تربیت یافتہ سپاہی رکھے۔

14 ان سپاہیوں  کی تعداد ان کے  خاندانی گروہوں  کی فہرست میں  ہے۔ یروشلم میں  ان سپاہیوں  کی فہرست یہ ہے  : یہوداہ کے  خاندانی گروہ سے  یہ جنرل تھے  : ادنا ۰۰۰، ۳۰۰ سپاہیوں  کا جنرل تھا۔

15 یہوحنان ۰۰۰، ۲۸۰ سپاہیوں  کا جنرل تھا۔

16 عمسیاہ ۰۰۰،۰۰ سپاہیوں  کا جنرل تھا۔ عمسیاہ زکری کا بیٹا تھا۔ عمسیاہ اپنے  آپ  کو خداوند کی خدمت کے  لئے  بخوشی پیش کیا۔

17 بنیمین کے  خاندانی گروہ سے  یہ جنرل تھے۔ الیدع کے  پاس ۲۰۰۰۰۰ سپاہی تھے  جو تیر کمان اور ڈھالیں  استعمال کرتے  تھے  : الیدع بہت بہادر سپاہی تھا۔

18 یہوزبد کے  پاس۰۰۰، ۱۸۰ آدمی  جنگ کے  لئے  تیار تھے۔

19 وہ تمام سپاہی یہوسفط کی خدمت کرتے  تھے۔ بادشاہ کے  پاس سارے  یہوداہ کے  قلعوں  میں  اور بھی آدمی  تھے۔

 

 

 

 

باب :  18

 

 

1 یہوسفط کے  پاس دولت اور عزت تھی۔ اس نے  بادشاہ اخی اب کے  ساتھ شادی کے  ذریعہ ایک معاہدہ کیا۔

2 چند سال بعد سامریہ شہر میں  یہوسفط اخی اب سے  ملنے  گیا۔ اخی اب نے  یہوسفط کے  لئے  بہت سی بھیڑیں  اور گائیوں  کی قربانی دی۔ اخی اب نے  یہوسفط کو جلعاد کے  رامات شہر پر حملہ کرنے  کے  لئے  اکسایا۔

3 اخی اب نے  یہوسفط سے  کہا “کیا تم میرے  ساتھ رامات جِلعاد پر حملہ کرو گے ؟ ” اخی اب اسرائیل کا بادشاہ تھا اور یہو سفط یہوداہ کا بادشاہ تھا۔ یہو سفط نے  اخی اب کو جواب دیا ” میں  تمہاری طرح ہوں  اور میرے  لوگ تمہارے  لوگوں  کی طرح ہیں۔ ہم تمہارے  ساتھ جنگ میں  شامل ہوں  گے۔ ”

4 یہو سفط نے  اخی اب سے  کہا ” آؤ ہم پہلے  خداوند سے  پیغام حاصل کریں۔”

5 اس لئے  اخی اب نے  ۴۰۰ نبیوں  کو جمع کیا۔ اخی اب نے  ان سے  کہا ” کیا ہمیں  رامات جِلعاد کے  خلاف جنگ کے  لئے  جانا چاہئے  یا نہیں ؟ ” نبیوں  نے  اخی اب سے  کہا ” جاؤ خدا تمہیں  رامات جِلعاد کو شکست دینے  دے  گا۔”

6 لیکن یہو سفط نے  کہا ” کیا یہاں  کوئی خداوند کا نبی ہے ؟ ہم لوگ نبیوں  میں  سے  ایک نبی کے  ذریعہ خداوند سے  پو چھنا چاہتے  ہیں۔”

7 تب بادشاہ اخی اب نے  یہو سفط سے  کہا ” یہاں  پر ابھی بھی ایک آدمی  ہے  ہم اس کے  ذریعہ سے  خداوند سے  پو چھ سکتے  ہیں۔ لیکن میں  اس آدمی  سے  نفرت کرتا ہوں  کیوں  کہ اس نے  کبھی میرے  بارے  میں  خداوند سے  کوئی اچھا پیغام نہیں  دیا۔ اس نے  میرے  بارے  میں  ہمیشہ ہی برا پیغام دیا۔ اس آدمی  کا نام میکا یاہ ہے  یہ املہ کا بیٹا ہے۔ ” لیکن یہو سفط نے  کہا ” اخی اب تمہیں  ایسا نہیں  کہنا چاہئے۔ ”

8 تب اسرائیل کا بادشاہ اخی اب نے  اپنے  عہدیداروں  میں  سے  ایک کو بلایا اور کہا ” جاؤ اور املہ کے  بیٹے  میکا یاہ کو یہاں  جلدی لاؤ۔”

9 اسرائیل کا بادشاہ اخی اب اور یہوداہ کا بادشاہ یہو سفط اپنے  شاہی لباس پہنے  ہوئے  تھے۔ وہ اپنے  کھلیانوں  میں  اپنے  تختوں  پر سامریہ شہر کے  پھا ٹک کے  سامنے  بیٹھے  تھے۔ وہ ۴۰۰ نبی دونوں  بادشاہوں  کے  سامنے  پیشین گوئی کر رہے  تھے۔

10 صدقیاہ کنعانہ نامی شخص کا بیٹا تھا۔ صدقیاہ نے  لو ہے  کے  کچھ سینگیں  بنائیں۔ صدقیاہ نے  کہا ” وہ یہی ہے  جو خداوند کہتا ہے  : ‘ تم لوگ لوہے  کی سینگوں  کا استعمال اس وقت تک ارامی لوگوں  کے  گھو نپنے  کے  لئے  کرو گے  جب تک وہ تباہ نہ ہو جائیں۔”

11 تمام نبیوں  نے  یہی بات کہی انہوں  نے  کہا ” رامات جِلعاد کے  شہر کو جاؤ تم لوگ کامیاب ہو گے  اور جیت جاؤ گے۔ خداوند بادشاہ کو ارامی لوگوں  کو شکست دینے  دے  گا۔”

12 جو خبر رساں  میکا یاہ کے  پاس اسے  لینے  گئے  تھے  اس نے  اس کو کہا ” اے  میکا یاہ سنو! تمام نبی وہی بات کہتے  ہیں۔ وہ کہہ رہے  ہیں  کہ بادشاہ کامیاب ہو گا۔ اس لئے  تم وہی کہو جو وہ کہہ رہے  ہیں۔ تم بھی ایک خوشخبری دو۔”

13 لیکن میکا یاہ نے  جواب دیا ” خداوند کی حیات کی قسم میں  وہی کہوں  گا جو میرا خدا کہتا ہے۔ ”

14 تب میکا یاہ بادشاہ اخی اب کے  پاس آیا۔ بادشاہ نے  اس سے  کہا ” میکا یاہ! کیا ہمیں  جنگ کرنے  کے  لئے  جِلعاد کے  رامات شہر کو جانا چاہئے  یا نہیں ؟ ” میکا یاہ نے  کہا ” جاؤ اور حملہ کرو خداوند تمہیں  ان لوگوں  کو شکست دینے  دے  گا۔”

15 بادشاہ اخی اب نے  میکا یاہ سے  کہا ” کئی بار میں  نے  تم سے  وعدہ کرنے  کے  لئے  کہا کہ خداوند کے  نام پر صرف سچ کہو۔”

16 تب میکا یاہ نے  کہا ” میں  نے  دیکھا تمام بنی اسرائیل پہاڑوں  پر پھیلے  ہوئے  ہیں۔ وہ بغیر چرواہوں  کے  بھیڑوں  کی طرح تھے۔ خداوند نے  کہا ” ان کا کوئی قائد نہیں  ہے۔ ہر ایک آدمی  کو سلامتی سے  گھر واپس جانے  دو۔”

17 اسرائیل کے  بادشاہ اخی اب نے  یہو سفط سے  کہا ” میں  نے  کہا تھا کہ میکا یاہ میرے  لئے  خداوند سے  اچھا پیغام نہیں  پائے  گا وہ میرے  لئے  صرف برا پیغام رکھتا ہے۔ ”

18 میکا یاہ نے  کہا ” خداوند کے  پیغام کو سنو : میں  نے  دیکھا خداوند اپنے  تخت پر بیٹھا ہے  جنت کی تمام فوج اس کے  اطراف کھڑی ہیں  کچھ اس کے  دائیں  جانب اور کچھ بائیں  جانب۔

19 خداوند نے  کہا ” اسرائیل کے  بادشاہ اخی اب کو کون دھو کہ دے  گا جس سے  وہ جلعاد کے  رامات شہر پر حملہ کرے  اور وہ وہاں  مار دیا جائے ؟ ‘ خداوند کے  چاروں  طرف کھڑے  مختلف لوگوں  نے  مختلف جوابات دیئے۔

20 تب ایک روح آئی اور وہ خداوند کے  سامنے  کھڑی ہوئی اس روح نے  کہا ‘ میں  اخی اب کو دھو کہ دوں  گی۔’ خداوند نے  روح سے  پو چھا ” کیسے ؟ ”

21 اس روح نے  جواب دیا ‘ میں  باہر آؤں  گی اور اخی اب کے  نبیوں  کے  منھ میں  جھوٹ بولنے  والی روح بنوں  گی۔ ‘ اور خداوند نے  کہا ‘ تمہیں  اخی اب کو دھو کہ دینے  میں  کامیابی ملے  گی اس لئے  جاؤ اور یہ کرو۔’

22 ” اخی اب! اب غور کر خداوند نے  تمہارے  نبیوں  کے  منھ میں  جھو ٹ بولنے  والی روح ڈالی۔ وہ خداوند ہی ہے  جو تمہارے  لئے  بری خبر دیتا ہے۔ ”

23 تب صدقیاہ بن کنعنہ میکا یاہ کے  پاس گیا اور اس کے  منہ پر مارا۔ صدقیاہ نے  کہا ” جب خداوند کی روح میرے  پاس تجھ سے  بات کرنے  گئی تو کس طرح سے  گئی؟ ”

24 میکایاہ نے  جواب دیا ” صدقیاہ تم اس دن اس کو جان جاؤ گے  جب تم ایک اندرونی کمرے  میں  چھپنے  آؤ گے۔ ”

25 بادشاہ اخی اب نے  کہا ” میکا یاہ کولے  لو اور اسے  شہر کے  گور نر امون کے  اور بادشاہ کے  بیٹے  یو آس کے  پاس بھیج دو۔

26 امون اور یوآس سے  کہو کہ بادشاہ یہ کہتا ہے  کہ میکا یاہ کو قید میں  رکھو۔ اس کو کھانے  کے  لئے  سوائے  روٹی اور پانی کے  کچھ اور نہ دو جب تک میں  جنگ سے  واپس نہ آؤں۔”

27 میکا یاہ نے  جواب دیا ” اخی اب اگر تم جنگ سے  سلامتی سے  لوٹ آتے  ہو تو سمجھ لینا خداوند نے  میرے  ذریعہ نہیں  کہا۔ تم سب لوگ میرے  الفاظ سنو اور یاد رکھو۔”

28 اس لئے  اسرائیل کا بادشاہ اخی اب اور یہوداہ کا بادشاہ یہوسفط جلعاد کے  رامات شہر پر حملہ کیا۔

29 اس لئے  کہ اخی اب نے  یہوسفط سے  کہا “میں  جنگ میں  جانے  سے  پہلے  اپنی شکل بدل لوں  گا لیکن تم اپنے  شاہی لباس ہی کو پہنے  رہنا۔” اس لئے  اسرائیل کے  بادشاہ اخی اب نے  اپنی شکل بدل لی اور دونوں  بادشاہ جنگ میں  گئے۔

30 ارام کے  بادشاہ نے  اپنی رتھوں  کے  رتھ بانوں  کو حکم دیا اور اس نے  ان کو کہا “کوئی بھی آدمی  چا ہے  بڑا ہو یا چھوٹا اس سے  جنگ نہ کرو لیکن صرف اسرائیل کے  بادشاہ اخی اب سے  جنگ کرو۔ ”

31 اب رتھ بانوں  نے  یہوسفط کو دیکھا انہوں  نے  سوچا ” وہی اسرائیل کا بادشاہ ا خی اب ہے ! ” وہ یہوسفط پر حملہ کرنے  کے  لئے  اس کی طرف پلٹے  لیکن یہوسفط نے  پُکارا اور خداوند نے  اس کی مدد کی۔خدا نے  رتھوں  کے  سپہ سالاروں  کو یہوسفط کے  سامنے  سے  موڑ دیا۔

32 جب انہوں  نے  سمجھا کہ یہوسفط اسرائیل کا بادشاہ نہیں  ہے  انہوں  نے  اس کا پیچھا کر نا چھوڑ دیا۔

33 لیکن ایک فو جی کا بغیر کسی ارادے  کے  اس کی کمان سے  تیر نکل گیا اور وہ تیر اسرائیل کے  بادشاہ اخی اب کو لگا۔ یہ تیر اخی اب کے  زرہ بکتر کے  کھلے  حصّے  میں  لگا۔اخی اب نے  رتھ بان سے  کہا ” پلٹ جاؤ اور مجھے  جنگ سے  باہر لے  چلو میں  زخمی ہوں۔”

34 اس دن جنگ بُری طرح لڑی گئی۔اخی اب نے ا رامیوں  کا سامنا کرتے  ہوئے  شام تک خود کو اپنی رتھ میں  سنبھالے  رکھا۔تب اخی اب سورج غروب ہونے  پر مر گیا۔

 

 

 

 

باب :  19

 

 

1 یہوسفط یہوداہ کا بادشاہ یروشلم اپنے  گھر سلامتی سے  واپس ہوا۔

2 یا ہو سیر یہوسفط سے  ملنے  باہر آیا۔ یا ہو کے  باپ کا نام حنانی تھا۔یاہو نے  بادشاہ یہوسفط سے  کہا ” تم نے  بُرے  لوگوں  کی مدد کیوں  کی؟ تم ان لوگوں  سے  کیوں  محبت کرتے  ہو جو خداوند سے  نفرت کرتے  ہیں ؟ یہی وجہ ہے  کہ خداوند تم پر غصّہ ہے۔

3 لیکن تمہاری زندگی میں  کچھ اچھی باتیں  بھی ہیں۔تم نے  آشیرہ کے  ستون کو اس ملک سے  ہٹایا اور تم نے  اپنے  دِل میں  خدا کے  راستے  پر چلنے  کا ارادہ کیا۔”

4 وہ بیر سبع شہر سے  افرائیم کے  پہاڑی ملکوں  تک گیا اور تمام لوگوں  سے  ملا اور انہیں  خداوند کے  پاس واپس لا یا جس کی تعمیل ان کے  آباء واجداد کرتے  تھے۔

5 یہوسفط نے  یہوداہ میں  منصفوں  کو چُنا تا کہ وہ یہوداہ کے  ہر ایک قلعہ دار شہر میں  رہ سکے۔

6 یہوسفط نے  ان منصفوں  سے  کہا ” جو کچھ بھی تم کرو اس میں  ہوشیار رہو کیونکہ تم لوگوں  کے  لئے  انصاف نہیں  کر رہے  ہو بلکہ خداوند کے  لئے  کر رہے  ہو جب تم انصاف کرو گے  تو خداوند تمہارے  ساتھ ہو گا۔

7 تم میں  سے  ہر ایک کو اب خداوند سے  ڈرنا چاہئے۔ جو کرو اس میں  چوکنّے  رہو۔کیوں  کہ ہمارا خداوند خدا انصاف پر ور ہے۔ وہ کسی آدمی  کو انفرادی طور پر دوسرے  آدمی  سے  زیادہ ترجیح نہیں  دیتا اور وہ اپنا فیصلہ بدلنے  کے  لئے  رشوت نہیں  لیتا۔”

8 اور یروشلم میں  یہوسفط نے  لاوی لوگوں  کاہنوں  اور اسرائیل کے  خاندانی قائدین کو منصف چُنا۔ ان لوگوں  کو خداوند کے  قانون کے  مطابق یروشلم کے  لوگوں  کے  مسائل کو سلجھانا پڑتا تھا۔ اور وہ لوگ یروشلم میں  بس گئے  تھے۔

9 یہوسفط نے  ان کو ہدایت دی۔ یہوسفط نے  کہا ” تمہیں  اپنے  دل و جان سے  کام کرنا چاہئے۔ تمہیں  ضرور خداوند سے  ڈرنا چاہئے۔

10 تمہارے  پاس قتل قانون کی خلاف ورزی احکام اُصول یا کوئی دوسرے  قانون کے  متعلق مقدمے  رہیں  گے۔ یہ تمام معاملات شہروں  میں  رہنے  والے  تمہارے  بھا ئیوں  کے  پاس آئیں  گے۔ ان تمام معاملوں  میں  لوگوں  کو اس بات کی تاکید کرو کہ وہ لوگ خداوند کے  خلاف گناہ نہ کریں۔ اگر تم بھروسہ کے  ساتھ خداوند کی خدمت نہیں  کرتے  ہو تو تم خداوند کے  غصّہ کو اپنے  اور اپنے  بھا ئیوں  پر لانے  کا سبب بنو گے۔ ایسا کرو تب تم قصور وار نہیں  ہو گے۔

11 اماریہ اہم کاہن ہے  وہ خداوند کی تمام چیزوں  میں  تمہارے  اوپر رہے  گا۔اور تمہارے  بادشاہ زبدیاہ بن اسمٰعیل تمہارے  اوپر ہو گا۔زبدیاہ یہوداہ کے  خاندانی گروہ کا قائد ہے۔ لاوی لوگ ایک افسر کی طرح تمہاری مدد کریں  گے۔ جو کچھ کرو اس میں  با ہمت رہو۔خداوند ان لوگوں  کے  سا تھ ہو جو نیک کام کرتا ہو!”

 

 

 

باب :  20

 

 

1 کچھ عرصے  بعد موآبی عمّونی اور کچھ میونی لوگوں  نے  یہو سفط سے  جنگ شروع کرنے  کے  لئے  آئے۔

2 کچھ لوگوں  نے  آ کر یہو سفط سے  کہا ” تمہارے  خلاف ارام سے  ایک بڑی فوج آ رہی ہے۔ وہ مردہ سمندر کے  دوسری طرف سے  آ رہی ہیں۔ وہ حصاصون تمر میں  پہلے  سے  ہیں۔” ( حصاصون تمر کو عین جدی بھی کہا جاتا ہے۔ )

3 یہو سفط ڈر گیا اور اس نے  خداوند سے  پو چھنے  کا فیصلہ کیا کہ کیا کرنا چاہئے۔ اس نے  یہوداہ میں  ہر ایک کے  لئے  روزہ کا اعلان کیا۔

4 یہوداہ کے  لوگ ایک ساتھ خداوند سے  مدد مانگنے  آئے۔ وہ خداوند سے  مدد مانگنے  یہوداہ کے  تمام شہروں  سے  آئے۔

5 یہوسفط خداوند کی ہیکل میں  نئے  آنگن کے  سامنے  تھا وہ یہوداہ سے  آئے  ہوئے  لوگوں  کی مجلس میں  کھڑا ہوا۔

6 اس نے  کہا ” اے  ہمارے  آباء و اجدادا کے  خداوند خدا تو جنّت میں  خدا ہے ! تو سبھی سلطنتوں  میں  تو سبھی قوموں  پر حکو مت کرتا ہے ! تو اقتدار اور طاقت رکھتا ہے ! کوئی آدمی  تیرے  خلاف نہیں  کھڑا ہو سکتا!

7 تو ہمارا خدا ہے ! تو نے  اس مملکت میں  رہنے  والوں  کو اسے  چھوڑنے  پر مجبور کیا یہ تو نے  اپنے  بنی اسرائیلیوں  کے  سامنے  کیا تو نے  یہ زمین ہمیشہ کے  لئے  ابراہیم کی نسلوں  کو دی ہے۔ ابراہیم تیرا دوست تھا۔

8 ابراہیم کی نسل اس ملک میں  رہتی تھی اور انہوں  نے  تیرا ایک گھر تیرے  نام پر بنا یا۔

9 انہوں  نے  کہا ” اگر ہم لوگوں  پر آفتیں  آئیں  گی جیسے  تلوار سزائیں  بیماری یا قحط تو ہم اس گھر کے  سامنے  کھڑے  ہوں  گے  اور تمہارے  سامنے  ہوں  گے۔ ہم تم کو پکاریں  گے  جب ہم مصیبت میں  ہوں  گے  پھر تم ہماری سن کر ہمیں  بچاؤ گے۔ ”

10 لیکن اب یہاں  عمّون موآب اور شعیر پہاڑی کے  لو گ چڑھ آئے  ہیں۔ تو نے  بنی اسرائیلیوں  کو اس وقت ان کی زمین میں  نہیں  جانے  دیا جب بنی اسرائیل مصر سے  آئے۔ اس لئے  بنی اسرائیل پلٹ گئے  تھے  اور ان لوگوں  نے  ان کو تباہ نہیں  کیا تھا۔

11 لیکن دیکھو وہ لوگ ہمیں  ان لوگوں  کو تباہ کرنے  کا کیسا صلہ دے  رہے  ہیں۔ وہ لوگ ہمیں  تیری میراث سے  با ہر نکالنا چاہتے  ہیں۔ یہ زمین تو نے  ہمیں  دی ہے۔

12 ہمارے  خدا ان لوگوں  کو سزا دے۔ ہم لوگ اس بڑی فوج کے  خلاف کوئی طاقت نہیں  رکھتے  جو ہمارے  خلاف آ رہی ہیں۔ ہم نہیں  جانتے  کہ ہمیں  کیا کر نا ہے۔ یہی وجہ ہے  کہ ہم تجھ سے  مدد کی امید کرتے  ہیں۔”

13 یہوداہ کے  تمام لوگ خداوند کے  سامنے  اپنے  بچّوں  بیویوں  اور اولادوں  کے  ساتھ کھڑے  ہیں۔

14 تب خداوند کی روح یحزی ایل پر آئی۔ یحزی ایل زکریاہ کا بیٹا تھا۔ زکریاہ بنایاہ کا بیٹا تھا۔ بنا یاہ یعی ایل کا بیٹا تھا۔ اور یعی ایل متنیاہ کا بیٹا تھا۔ یحزی ایل لاوی تھا اور آسف کی نسل سے  تھا۔ مجلس کے  درمیان

15 یحزی ایل نے  کہا ” بادشاہ یہو سفط یہوداہ اور یروشلم میں  رہنے  والے  لوگو! میری بات سنو! خداوند تم سے  کہتا ہے   ‘ تم اس بڑی فوج سے  نہ ڈرو کیوں  کہ اصل میں  یہ جنگ تمہاری نہیں  خدا کی جنگ ہے۔

16 کل تم وہاں  جاؤ اور ان لوگوں  سے  لڑو۔ وہ صیص کے  دروں  سے  آئیں  گے۔ تم انہیں  وادی کے  آخری حصہ میں  یرویل کے  ریگستان کے  دوسری جانب پاؤ گے۔

17 اس جنگ میں  تمہیں  لڑنے  کی ضرورت نہیں  اپنی جگہوں  پر مضبوطی سے  کھڑے  رہو۔ تم دیکھو گے  کہ خداوند تمہیں  بچائے  گا۔ یہوداہ اور یروشلم ڈ رو مت فکر نہ کرو۔ خداوند تمہارے  ساتھ ہے  اِس لئے  کل ان لوگوں  کے  خلاف باہر جاؤ۔”

18 یہو سفط بہت تعظیم سے  جھکا اس کا چہرہ زمین پر ٹک گیا۔ اور تمام یہوداہ اور یروشلم کے  رہنے  والے  لوگ خداوند کے  سامنے  گِر گئے  اور وہ سب خداوند کی عبادت کئے۔

19 قہات خاندانی گروہ کے  لا وی اور قورا خاندان خداوند اسرائیل کے  خدا کی حمد کرنے  کے  لئے  کھڑے  تھے۔ اُن کی  آوازیں  بلند تھیں  جب انہوں  نے  خداوند کی حمد کی۔

20 یہو سفط کی فوج صبح سویرے  تقوع کے  ریگستان میں  گئی۔ جب وہ آگے  بڑھنا شروع کئے  یہو سفط کھڑا ہوا اور کہا ” تم یہوداہ اور یروشلم کے  لوگو میری بات سنو! اپنے  خداوند خدا میں  ایمان رکھو پھر تم مضبوطی سے  کھڑے  رہو گے  خداوند کے  نبیوں  میں  ایمان رکھو تم کامیاب ہو گے ! ”

21 یہو سفط نے  لوگوں  سے  صلاح و مشورہ کیا پھر اس نے  لوگوں  کو اپنے  مقدس لباس میں  خداوند کا گیت گانے  اور خداوند کی حمد کرنے  کے  لئے  مقرر کیا۔ وہ فوج کے  سامنے  باہر گئے  اور خداوند کی حمد کئے  اور انہوں  نے  گانا گایا : ” خداوند کا شکر ادا کرو کیوں  کہ اس کی سچی محبت ہمیشہ رہتی ہے۔ ”

22 جیسے  ہی ان لوگوں  نے  حمد گا کر خدا کی تعریف شروع کی خداوند نے  عمّونی موآبی اور شعیر کے  پہاڑی لوگوں  پر اچانک اور خفیہ حملہ کر وایا۔ یہ وہ لوگ تھے  جو یہوداہ پر حملہ کرنے  آئے  تھے۔ وہ لوگ خود پٹ گئے۔

23 عمّونی اور موابی لوگوں  نے  شعیر پہاڑی سے  آئے  لوگوں  کے  خلاف جنگ شروع کی۔ عمّونی اور موآبی لوگوں  نے  شعیر پہاڑی سے  آئے  لوگوں  کو مار ڈالا اور تباہ کر دیا۔ جب وہ شعیر لوگوں  کو مار چکے  تو انہوں  نے  ایک دوسرے  کو مار ڈالا۔

24 یہوداہ کے  لوگ ریگستان میں  نقطۂ دید پر آئے۔ انہوں  نے  دشمن کی بڑی فوج کو تلاش کئے  لیکن انہوں  نے  زمین پر صرف مرے  ہوئے  لوگوں  کی لاشیں  دیکھیں۔ کوئی آدمی  زندہ بھاگ نہیں  پایا تھا۔

25 یہو سفط اور اس کی فوج ان لاشوں  سے  قیمتی چیزیں  لینے  آئے۔ انہیں  کثرت سے  دولت کپڑے   کئی ساز و سامان اور قیمتی چیزیں  ملیں۔ یہو سفط اور اس کی فوج نے  اپنے  لئے  وہ چیزیں  لے  لیں۔ وہ لوگ چیزیں  اس وقت تک لوٹتے  رہے  جب وہ اور نہیں  لے  جا سکتے  تھے۔ ان لاشوں  سے  قیمتی چیزیں  جمع کرنے  میں  تین دن لگے  کیوں  کہ وہ بہت ہی زیادہ تھے۔

26 چوتھے  دن یہو سفط اور اس کی فوج ‘ برا کاہ کی وادی میں  ملے۔ کیوں  کہ وہاں  انہوں  نے  خداوند کی حمد کی اس لئے  آج تک یہ جگہ ‘ براکاہ کی وادی ‘ سے  جانا جاتا ہے۔

27 تب یہو سفط یہوداہ اور یروشلم کے  سب آدمیوں  کو یروشلم واپس لے  آئے۔ وہ لوگ خوشی خوشی واپس آئے۔ خداوند نے  انہیں  بہت خوشی عطا کی۔ کیوں  کہ ان کے  دشمنوں  کو شکست ہوئی تھی۔

28 وہ یروشلم میں  بربط سِتار اور بگل کے  ساتھ آئے  اور خداوند کی ہیکل میں  گئے۔

29 تمام ملکوں  کی بادشاہت خداوند سے  ڈرے  ہوئے  تھے  کیوں  کہ انہوں  نے  سُنا کہ خداوند اسرائیل کے  دشمنوں  سے  لڑا ہے۔

30 یہی وجہ ہے  کہ یہو سفط کی بادشاہت میں  امن رہا۔ یہو سفط کے  خدا نے  اسے  چاروں  طرف سے  امن دیا۔

31 یہو سفط نے  یہوداہ کے  ملک پر بادشاہت کی۔ یہو سفط نے  جب بادشاہت شروع کی۔ تو وہ ۳۵ سال کا تھا اور اس نے  ۲۵ سال یروشلم میں  بادشاہت کی۔ اس کی ماں  کا نام عروبہ تھا۔ عروبہ سلحی کی بیٹی تھی۔

32 یہو سفط اپنے  باپ آسا کی طرح سچے  راستے  پر رہا۔ یہو سفط آسا کے  راستے  پر چلنے  سے  نہیں  بھٹکا۔ یہو سفط خداوند کی نظروں  میں  صحیح رہا۔

33 لیکن اعلیٰ جگہوں  کو نہیں  ہٹا یا اور لوگوں  کے  دل ان کے  آباء و  اجداد کے  راستوں  پر چلنے  سے  نہیں  ہٹے۔

34 دوسری باتیں  جو یہو سفط نے  شروع سے  آخر تک کیں  حنونی کے  بیٹے  یا ہو کے  دفتری ریکا رڈ میں  لکھی ہوئی ہیں۔ یہ باتیں  نقل کر کے  تاریخ سلاطین اسرائیل نامی کتاب میں  لکھی گئیں۔

35 بعد میں  یہوداہ کے  بادشاہ یہو سفط اسرائیل کے  بادشاہ اخزیاہ کے  ساتھ ایک معاہدہ کیا۔ اخزیاہ نے  برائی کی۔

36 یہو سفط نے  اخزیاہ کے  ساتھ مل کر تر سیس شہر جانے  کے  لئے  جہازوں  کو بنایا۔ انہوں  نے  جہازوں  کو عصیون جابر شہر میں  بنایا۔

37 تب الیعزرنے  یہو سفط کے  خلاف نبوّت کی۔ الیعزر کے  باپ کا نام دودا واہو تھا۔ الیعزر مریسہ شہر کا تھا۔ اس نے  کہا ” یہو سفط تم اخزیاہ کے  ساتھ شامل ہوئے  اس لئے  خداوند تمہارے  کاموں  کو تباہ کر دے  گا۔” جہاز ٹوٹ گئے  یہو سفط اور اخزیاہ انہیں  ترسیس شہر کو نہ بھیج سکے۔

 

 

 

باب :  21

 

 

1 تب یہو سفط مر گیا اور اپنے  آباء و  اجداد کے  ساتھ دفن کیا گیا۔ وہ شہر داؤد میں  دفن ہوا۔ یہورام یہوسفط کی جگہ نیا بادشاہ ہوا۔ یہورام یہوسفط کا بیٹا تھا۔

2 یہورام کے  بھائی عزریاہ یحی ایل زکریاہ عزریاہ میکائیل سقطیاہ تھے  وہ یہو سفط کے  بیٹے  تھے۔ یہو سفط یہوداہ کا بادشاہ تھا۔

3 یہو سفط نے  بیٹوں  کو کئی چاندی سونے  اور قیمتی چیزوں  کے  تحفے  دیئے  اور یہوداہ میں  مضبوط قلعے  بھی دیئے۔ لیکن یہو سفط نے  یہورام کو بادشاہت دی کیوں  کہ یہو رام اس کا بڑا بیٹا تھا۔

4 یہورام نے  اپنے  باپ کی بادشاہت حاصل کی اور اس کو طاقتور بنایا۔ تب اس نے  اپنے  تمام بھائیوں  کو اور اسرائیل کے  کچھ قائدین کو بھی تلوار سے  مار ڈالا۔

5 یہورام جب حکو مت کی اس کی عمر ۳۲ سال تھی اس نے  یروشلم میں  آٹھ سال حکو مت کی۔

6 وہ اسی طرح رہا جس طرح اسرائیل کے  بادشاہ رہے  تھے۔ وہ اسی طرح رہا جیسے  اخی اب کا خاندان رہا کیوں  کہ اس نے  اخی اب کی بیٹی سے  شا دی کی تھی۔ اور یہورام خداوند کی نظروں  میں  برائی کی۔

7 لیکن خداوند نے  داؤد کے  خدا کو تباہ نہیں  کرنا چاہا۔ کیوں  کہ خداوند نے  داؤد کے  ساتھ معاہدہ کیا تھا۔ خداوند نے  وعدہ کیا تھا کہ داؤد اور اس کی اولاد کے  لئے  ایک چراغ ہمیشہ جلتا رہے  گا۔

8 یہورام کے  زمانے  میں  ادوم یہوداہ کے  علاقہ سے  باہر نکل گیا۔ ادوم کے  لوگوں  نے  اپنا بادشاہ چن لیا۔

9 اس لئے  یہورام اپنے  تمام سپہ سالاروں  اور رتھوں  کے  ساتھ ادوم گیا ادومی فوج نے  یہورام اور اس کے  رتھ کے  سپہ سالار کا محاصرہ کر لیا لیکن یہورام نے  رات میں  سخت لڑائی لڑ کر اپنے  نکلنے  کا راستہ بنالیا۔

10 اس وقت سے  اب تک ادوم کا ملک یہوداہ کے  خلاف بغاوت کی۔ لِبناہ شہر کے  لوگ بھی یہورام کے  خلاف بغاوت کئے۔ ایسا اس لئے  ہوا کہ یہو رام نے  خداوند اپنے  آباء و  اجداد کے  خدا کو چھوڑ دیا۔

11 یہو رام نے  بھی یہوداہ کی پہاڑ یوں  پر اعلیٰ جگہیں  بنوائیں۔ وہ یروشلم کے  لوگوں  کے  بتوں  کی پرستش کرنے  کا سبب بنا۔ وہ یہوداہ کے  لوگوں  کو خداوند سے  دور کر دیا۔

12 اس لئے  یہورام کو ایلیاہ نبی سے  ایک پیغام ملا پیغام میں  یہ کہا گیا تھا : ” یہ وہ ہے  جو خداوند کہتا ہے۔ یہی وہ خدا ہے  جس کے  راستے  پر تمہارا آباء و  اجداد داؤد چلا۔ خداوند کہتا ہے   ‘ یہورام تم اس راستے  پر نہیں  رہے  جس پر یہوداہ کا بادشاہ آسا رہا۔

13 لیکن تم ان راستوں  پر رہے  جن پر اسرائیل کے  بادشاہ رہے۔ تم نے  یہوداہ اور یروشلم کے  لوگوں  کو وہ کام کرنے  سے  روکا جسے  خداوند نے  چاہا۔ ایسا ہی اخی اب اور اس کے  خاندان نے  کیا وہ خداوند کے  وفا دار نہیں  رہے۔ تم نے  اپنے  بھا ئیوں  کو مار ڈالا تمہارے  بھائی تم سے  بہتر تھے۔

14 اس لئے  اب خداوند تمہارے  لوگوں  کو جلد ہی بہت زیادہ سزا دے  گا۔ خداوند تمہارے  بچّوں  بیویوں  اور تمہاری تمام جائیداد کو سزا دے  گا

15 تمہیں  آنتوں  کی بھیانک بیماری ہو گی یہ ہر روز زیادہ بگڑ تی جائے  گی۔ تب بھیا نک بیماری کی وجہ سے  تمہاری آنتیں  باہر آئیں  گی۔”

16 خداوند فلسطینیوں  اور عرب کے  لوگوں  کے  جو کو شی لوگوں  کے  پاس رہتے  ہیں  یہورام پر غصہ کرنے  کا سبب بنا۔

17 ان لوگوں  نے  ملک یہوداہ پر حملہ کر دیا۔ وہ شاہی محل کی ساری دولت کولے  لئے  اور یہورام کی بیویوں  اور بیٹوں  کولے  لیا۔ صرف یہورام کا چھوٹا بیٹا چھوڑ دیا گیا۔ یہو رام کے  سب سے  چھوٹے  بیٹے  کا نام یہو آخز تھا۔

18 ان چیزوں  کے  ہونے  کے  بعد خداوند نے  یہورام کی آنتوں  میں  ایسی بیماری پیدا کی جس کا علاج نہ ہو سکا۔

19 تب یہورام کی آنتیں  دو سال بعد اس کی بیماری کی وجہ سے  باہر نکل گئیں  وہ بہت بری حالت میں  مرا۔ یہورام کی تعظیم میں  لوگوں  نے  بڑی آگ نہیں  جلائی جیسا کہ اس کے  باپ کے  لئے  کئے  تھے۔

20 یہو رام جب بادشاہ ہوا تو وہ ۳۲ سال کا تھا اس نے  یروشلم میں  آٹھ سال حکومت کی۔ جب یہورام مرا تو کوئی بھی آدمی  غمزدہ نہیں  تھا۔ لوگوں  نے  یہورام کو شہر داؤد میں  دفن کیا۔ لیکن ان قبروں  میں  نہیں  دفن کیا جہاں  بادشاہوں  کو دفن کیا گیا۔

 

 

 

باب :  22

 

 

1 یروشلم کے  لوگوں  نے  اخزیاہ کو یہورام کی جگہ نیا بادشاہ بنایا۔ا خزیاہ یہورام کا سب سے  چھوٹا بیٹا تھا۔ عرب لوگوں  کے  ساتھ جو لوگ یہورام کے  خیموں  پر حملہ کرنے  آئے  تھے  انہوں  نے  یہورام کے  سب بیٹوں  کو مار ڈالا تھا۔ یہوداہ میں  اخزیاہ نے  حکومت کرنی شروع کی۔

2 اخزیاہ جب حکومت کرنی شروع کی تو وہ ۲۲ سال کا تھا۔ اخزیاہ نے  یروشلم میں  ایک سال حکومت کی اس کی ماں  کا نام عتلیاہ تھا۔عتلیاہ کے  باپ کا نام عُمری تھا۔

3 اخزیاہ بھی اسی طرح رہا جس طرح اخی اب کے  خاندان رہا تھا۔کیوں  کہ اس کی ماں  نے  اسے  بُرا کام کرنے  پر ہمت افزائی کی تھی۔

4 اخزیاہ نے  خداوند کی نظروں  میں  بُرے  کام کئے۔ وہ ٹھیک اخی اب کے  خاندان کی طرح رہا۔اخی اب کے  خاندان نے  اخزیاہ کو اس کے  مرنے  کے  بعد بُرا مشورہ دیا۔ اس بُرے  مشورے  نے  اس کو نقصان پہنچا یا۔

5 اخزیاہ نے  اسی مشورے  پر عمل کیا جو اخی اب کے  خاندان نے  اسے  دیا۔اخزیاہ بادشاہ یورام کے  ساتھ ارام کے  بادشاہ حزائیل کے  خلاف جلعاد کے  رامات شہر میں  لڑنے  گیا۔ یو رام کے  باپ کا نام اخی اب تھا جو اسرائیل کا بادشاہ تھا۔ لیکن ارامی لوگوں  نے  یورام کو جنگ میں  زخمی کیا۔

6 یو رام صحت یاب ہونے  کے  لئے  یزرعیل شہر کو واپس گیا۔ وہ رامات میں  زخمی ہوا تھا جب ارام کے  بادشاہ حزائیل کے  خلاف لڑا تھا۔ تب اخزیاہ شہر یزرعیل کو یورام سے  ملنے  گیا۔ اخزیاہ کے  باپ کا نام یہورام تھا جو یہوداہ کا بادشاہ تھا۔ یورام کے  باپ کا نام اخی اب تھا۔یو رام یزرعیل کے  شہر میں  تھا کیوں  کہ وہ زخمی تھا۔

7 خدا نے  اخزیاہ کو اس وقت تباہ کرنے  کا منصوبہ بنایا جب وہ یورام سے  ملنے  گیا۔ اخزیاہ وہاں  پہنچا اور یورام کے  ساتھ یا ہو سے  ملنے  گیا۔یاہو کے  باپ کا نام نمشی تھا۔ خداوند نے  یا ہو کو اخی اب کے  خاندان کوتباہ کرنے  کے  لئے  چُنا۔

8 یا ہو اخی اب کے  خاندان کو سزادے  رہا تھا۔ یا ہونے  یہوداہ کے  قائدین اور اخزیاہ کے  رشتے  داروں  کا پتہ لگایا جو اخزیاہ کی خدمت کرتے  تھے۔ یا ہونے  یہوداہ کے  ان قائدین اور اخزیاہ کے  رشتہ داروں  کو مار ڈالا۔

9 پھر یا ہو اخزیاہ کی تلاش میں  تھا۔ یا ہو کے  لوگوں  نے  اس کو اس وقت پکڑ لیا جب وہ سامریہ شہر میں  چھپنے  کی کو شش کر رہا تھا۔ وہ اخزیاہ کو یا ہو کے  پاس لائے۔ انہوں  نے  اخزیاہ کو مار ڈالا اور اس کو دفنا دیا۔انہوں  نے  کہا “اخزیاہ یہوسفط کی نسل سے  ہے  یہوسفط پورے  دل سے  خداوند کی راہ پر چلا۔” اخزیاہ کے  خاندان میں  اتنی طاقت نہ تھی کہ یہوداہ کی بادشاہت کو قائم رکھے۔

10 عتلیاہ اخزیاہ کی ماں  تھی۔ جب اس نے  دیکھا کہ اس کا بیٹا مر گیا تو اس نے  یہوداہ میں  سارے  شاہی خاندان کو مار ڈالا۔

11 لیکن یہوسبعتنے  اخزیاہ کے  بیٹے  یو آس کو لیا اور اسے  چھپا دیا۔یہوسبعتنے  یو آس کو بادشاہ کے  بیٹوں  میں  سے  جسے  مار ڈالے  گئے  تھے  چرا لیا۔ اور وہ یو آس اور اس کی دایہ کو سونے  کے  کمرے  میں  رکھا اور انہیں  وہیں  چھپا دیا۔ یہوسبعت بادشاہ یہورام کی بیٹی تھی۔ وہ یہویدع کی بیوی تھی۔یہویدع کاہن تھا اور یہوسبعت اخزیاہ کی بہن تھی۔ عتلیاہ یو آس کو ہلاک نہیں  کیا کیوں  کہ یہوسبعتنے  اس کو چھپا یا تھا۔

12 یو آس کاہن کے  ساتھ ہیکل میں  چھ سال تک چھپا رہا۔اس عرصے  میں  عتلیاہ بطور ملکہ ملک پر بادشاہت کی۔

 

 

باب :  23

 

 

1 ساتویں  سال میں  یہویدع نے  اپنی طاقت دکھا ئی۔ اس نے  کپتانوں  کے  ساتھ معاہدہ کیا۔ وہ سب کپتان تھے  : یروہام کا بیٹا عزریاہ یہو حنان کا بیٹا اسمٰعیل عوبید کا بیٹا عزریاہ عدایاہ کا بیٹا معسیاہ اور زکری کا بیٹا الیسا فط۔

2 وہ یہوداہ کے  اطراف گئے  اور یہوداہ کے  تمام شہروں  سے  لا وی لوگوں  کو جمع کیا۔انہوں  نے  اسرائیل کے  خاندانوں  کے  سرداروں  کو بھی جمع کیا۔ تب وہ یروشلم گئے۔

3 تمام لوگوں  نے  مل کر بادشاہ کے  ساتھ ہیکل میں  ایک معاہدہ کیا۔ یہویدع نے  ان لوگوں  سے  کہا “بادشاہ کا بیٹا حکومت کرے  گا یہی وہ وعدہ ہے  جو خداوند نے  داؤد کی نسلوں  کو دیا تھا۔

4 اب تمہیں  یہ ضرور کرنا چاہئے  : تم کاہنوں  اور لاویوں  میں  سے  ایک تہائی جو سبت کے  دن کام پر جاتے  ہیں  پھاٹک کی حفاظت کرے  گا۔

5 اور تمہارا ایک تہائی شاہی محل پر رہے  گا اور ایک تہائی بنیادی پھاٹک پر رہے  گا لیکن دوسرے  تمام لوگ خداوند کی ہیکل کے  آنگن میں  ٹھہریں  گے۔

6 صرف کاہن اور لا وی لوگ جو خدمت کرتے  ہیں  انہیں  خداوند کی ہیکل میں  اندر آنے  کی اجازت ہو گی کیوں  کہ وہ مقدّس ہیں۔ لیکن تمام دوسرے  آدمیوں  کو خداوند نے  جو کام دیا ہے  کرنا چاہئے۔

7 لا وی لوگوں  کو بادشاہ کے  پاس رہنا چاہئے۔ ہر آدمی  کے  پاس اپنی تلوار ہونی چاہئے۔ اگر کوئی آدمی  ہیکل میں دا خل ہونے  کی کوشش کرے  تو اس کو مار دو۔تمہیں  بادشاہ کے  ساتھ رہنا چاہئے  وہ جہاں  کہیں  بھی جائے۔ ”

8 لاوی لوگوں  اور یہوداہ کے  تمام لوگوں  نے  کاہن یہویدع نے  جو ہدایت دی اس کو پو را کیا۔ ہر ایک نے  اپنے  ساتھ اپنے  آدمیوں  کو لیا یعنی ان کو جو کہ سبت کے  دن اپنے  کام پر آتے  اور ان کو جو سبت کے  دن اپنے  کام سے  چلے  جاتے  تھے۔ کیونکہ کاہن یہویدع نے  کسی کاہن کے  گروہ کو برخواست نہیں  کیا۔

9 کاہن یہویدع نے  بر چھے  اور بڑی و چھوٹی ڈھالیں  عہدے  داروں  کو دیں  جو بادشاہ داؤد کی تھیں۔ وہ ہتھیار ہیکل میں  رکھے  ہوئے  تھے۔

10 تب یہویدع نے  لوگوں  کو بتا یا کہ انہیں  کہاں  کھڑے  رہنا ہے۔ ہر ایک آدمی  اپنے  ہتھیار اپنے  ساتھ لئے  ہوئے  تھے۔ آدمی  ہیکل کے  دائیں  جانب سے  بائیں  جانب مسلسل کھڑے  تھے۔ وہ قربان گاہ ہیکل اور بادشاہ کے  سامنے  کھڑے  تھے۔

11 وہ بادشاہ کے  بیٹے  کو باہر لائے  اور اسے  تاج پہنایا۔ انہوں  نے  اسے  شریعت کی کتاب دی۔ تب انہوں  نے  یو آس کو بادشاہ بنایا۔یہویدع اور اس کے  بیٹوں  نے  یوآس کو مسح کیا انہوں  نے  کیا ” بادشاہ کی عمر دراز ہو۔”

12 عتلیاہ نے  ان لوگوں  کی آواز سنی جو ہیکل کی طرف دوڑ رہے  تھے  اور بادشاہ کی تعریف کر رہے  تھے۔ وہ خداوند کی ہیکل میں  لوگوں  کے  پاس آئی۔

13 اس نے  نظر دوڑا کر بادشاہ کو دیکھا۔بادشاہ شاہی ستون کے  سامنے  دروازے  پر کھڑا تھا۔ افسر اور جن آ دمیوں  نے  بگل بجائے  تھے  وہ بادشاہ کے  قریب تھے۔ ملک کے  لوگ خوش تھے  اور بگل بجا رہے  تھے  گلو کار موسیقی آلات بجا رہے  تھے  گلو کار تعریف کے  گانوں  سے  لوگوں  کی رہنمائی کر رہے  تھے۔ تب عتلیاہ نے  اچانک اپنے  کپڑے  پھاڑ ڈالے  اور کہا ” بغاوت!” ” بغاوت! ”

14 کاہن یہو یدع نے  فوج کے  کپتانوں  کو باہر لایا اس نے  ان سے  کہا ” عتلیاہ کو فوج کے  درمیان سے  باہر لاؤ۔ جو بھی آدمی  اس کے  ساتھ جائے  وہ اسے  موت کے  گھات اتار دے۔ ” تب کاہن نے  سپاہیوں  کو خبر دار کیا کہ عتلیاہ کو خداوند کے  ہیکل میں  ہلاکت مت کرو۔

15 تب ان آدمیوں  نے  عتلیاہ کو اس وقت پکڑ لیا جب وہ شاہی محل کے  گھوڑے  کی پھا ٹک پر آئی۔ تب انہوں  نے  اس کو اس جگہ پر مار ڈالا۔

16 تب یہو یدع نے  تمام لوگوں  اور بادشاہوں  سے  معاہدہ کیا۔ ان تمام لوگوں  نے  اقرار کیا کہ خداوند کے  لوگ ہوں  گے۔

17 تمام لوگ بعل کے  بت کی ہیکل میں  گئے  اور اسے  اکھاڑ دیا۔ انہوں  نے  بعل کی ہیکل کی قربان گاہوں  اور مورتیوں  کو توڑ دیا۔ انہوں  نے  بعل کی قربان گاہ کے  سامنے  بعل کے  کاہن متّان کو مار ڈالا۔

18 تب یہو یدع نے  کاہنوں  کو خداوند کے  ہیکل کا نگراں  کار چُنا۔ وہ کاہن لاوی تھے  اور داؤد نے  انہیں  خداوند کی ہیکل کے  لئے  ذمہ داری کا کام دیا۔ ان کاہنوں  کو موسیٰ کے  احکامات کے  مطابق خداوند کے  لئے  جلانے  کا نذرانہ پیش کرنا تھا۔ وہ نہایت خوشی سے  گاتے  ہوئے  قربانی پیش کئے  جس طرح داؤد نے  ہدایت دی تھی۔

19 یہو یدع نے  خداوند کی ہیکل کے  پھا ٹک پر مخالفین کو رکھا جس سے  کوئی بھی آدمی  جو کہ پاک نہ ہو ہیکل میں  داخل نہ ہو سکتا تھا۔

20 یہو یدع نے  فوج کے  کپتانوں  قائدینوں  لوگوں  کے  حاکموں  اور ملک کے  تمام لوگوں  کو اپنے  ساتھ لیا۔ تب یہو یدع نے  بادشاہ کو خداوند کی ہیکل سے  باہر نکالا اور وہ بالائی دروازہ سے  شاہی محل میں  گئے۔ اس مقام پر انہوں  نے  بادشاہ کو تخت پر بٹھا یا۔

21 یہوداہ کے  تمام لوگ بہت خوش تھے۔ اور شہر یروشلم میں  امن رہا۔ کیوں  کہ عتلیاہ کو تلوار سے  مار دیا گیا تھا۔

 

 

 

 

باب :  24

 

 

1 یوآس جب بادشاہ ہوا تو وہ سات سال کا تھا۔ اس نے  یروشلم میں  چالیس سال تک بادشاہت کی۔ اس کی ماں  کا نام ضبیاہ تھا۔ ضبیاہ بیر سبع شہر کی تھی۔

2 یوآس خداوند کے  سامنے  اس وقت تک ٹھیک کام کیا جب تک یہو یدع زندہ رہا۔

3 یہو یدع نے  یوآس کے  لئے  دو بیویاں  چُنی۔ یوآس کے  بیٹے  اور بیٹیاں  تھیں۔

4 تب بعد میں  یوآس نے  خداوند کی ہیکل کو دوبارہ بنانے  کا فیصلہ کیا۔

5 یو آس نے  کاہنوں  کو اور لاویوں  کو ایک ساتھ بلایا۔ اس نے  ان سے  کہا ” یہوداہ کے  شہروں  کے  باہر جاؤ اور اس پیسے  کو جمع کرو جو بنی اسرائیل ہر سال ادا کرتے  ہیں۔ اس پیسے  کو خداوند کی ہیکل کی مرمّت کرنے  میں  استعمال کرو۔ ایسا کرنے  میں  جلدی کرو۔” لیکن لاویوں  نے  جلدی نہیں  کی۔

6 اس لئے  بادشاہ یوآس نے  کاہن قائد یہو یدع کو بلایا اور اسے  کہا ” یہو یدع تو نے  لاویوں  کو یہو داہ اور یروشلم سے  محصول کی رقم وصول کرنے  کا حکم کیوں  نہیں  دیا؟ خداوند کا خادم موسیٰ اور بنی اسرائیلیوں  نے  محصول کی رقم کو مقدس خیمہ کے  لئے  استعمال کیا۔”

7 ماضی میں  عتلیاہ کے  بیٹوں  نے  ہیکل میں  گھس کر خداوند کی ہیکل کی مقدس چیزوں  کو اپنے  بعل دیوتا کی پرستش کے  لئے  استعمال کیا تھا۔ عتلیاہ ایک بری عورت تھی۔

8 بادشاہ یوآس نے  ایک صندوق بنانے  اور اسے  خداوند کی ہیکل کے  باہر دروازے  پر رکھنے  کی ہدایت دی تھی۔

9 تب انہوں  نے  یہوداہ اور یروشلم میں  اعلان کیا کہ لوگ محصول کی رقم خداوند کے  لئے  لائیں۔ خداوند کے  خادم موسیٰ نے  بنی اسرائیلیوں  سے  ریگستان میں  رہتے  وقت و بطور محصول جو رقم مانگی تھی یہ رقم اتنی ہی ہے۔

10 تمام قائدین اور سب لوگ خوش تھے۔ وہ رقم لے  کر آئے  اور انہوں  نے  اس کو صندوق میں  ڈالا۔ وہ اس وقت تک دیتے  رہے  جب تک صندوق بھر نہ گیا۔

11 تب لاویوں  کو صندوق بادشاہ کے  عہدیداروں  کے  سامنے  لے  جانا پڑا۔ انہوں  نے  دیکھا کہ صندوق پیسوں  سے  بھر گیا ہے۔ بادشاہ کا سکریٹری اور خاص کاہن افسر آئے  اور رقم کو صندوق سے  باہر نکالا۔ پھر وہ صندوق کو واپس اس کی جگہ پرلے  گئے۔ وہ لوگ ایسا ہر دن کئے۔ اور اس طرح سے  بہت ساری رقم جمع ہو گئی۔

12 تب بادشاہ یو آس اور یہو یدع نے  وہ دولت ان لوگوں  کو دی جو خداوند کی ہیکل کو بنانے  کا کام کر رہے  تھے۔ اور خداوند کی ہیکل میں  کام کرنے  والوں  نے  خداوند کی ہیکل کو دوبارہ بنانے  کے  لئے  تر بیت یافتہ بڑھئی اور لکڑی پر کھدائی کا کام کرنے  والوں  کو مزدوری پر رکھا۔ انہوں  نے  خداوند کی ہیکل کو دوبارہ بنانے  کے  لئے  کانسے  اور لوہے  کے  کام جان نے  والوں  کو بھی مزدوری پر رکھا۔

13 کام کرنے  والوں  نے  اپنے  کام وفا داری سے  کئے۔ خداوند کی ہیکل کو دوبارہ بنانے  کا کام کامیاب ہوا۔ انہوں  نے  ہیکل کو جیسا وہ پہلے  تھا ویسا ہی بنایا اور پہلے  سے  زیادہ مضبوط بنایا۔

14 جب کاریگروں  نے  کام ختم کیا تو جو رقم بچی تھی اسے  بادشاہ یوآس اور یہو یدع کے  پاس لائے۔ اس کا استعمال انہوں  نے  خداوند کی ہیکل کے  لئے  چیزیں  بنانے  میں  کیا۔ وہ چیزیں  ہیکل کی خدمت کی کار گزاری میں  اور جلانے  کا نذرانہ پیش کرنے  میں  کام آتی تھیں۔ انہوں  نے  سونے  اور چاندی کے  کٹورے  اور دوسری چیزیں  بنائیں۔ کاہن ہر روز جلانے  کا نذرانہ ہیکل میں  پیش کرتے  رہے  جب تک یہو یدع زندہ رہا۔

15 یہو یدع بوڑھا ہوا اس نے  طویل عمر گزاری تب وہ مرا۔ جب یہو یدع مرا تو وہ ۱۳۰ سال کا تھا۔

16 لوگوں  نے  یہو یدع کو شہر داؤد میں  دفن کیا جہاں  بادشاہ دفن ہیں۔ لوگوں  نے  یہو یدع کو اس لئے  وہاں  دفن کیا کیوں  کہ اس نے  اپنی زندگی میں  اسرائیل میں  خدا اور اس کے  گھر کے  لئے  اچھے  کام کئے  تھے۔

17 یہو یدع کے  مرنے  کے  بعد یہوداہ کے  قائدین آئے  اور بادشاہ یوآس کے  سامنے  جھکے۔ بادشاہ نے  ان قائدین کو سنا۔

18 بادشاہ اور قائدین نے   خداوند خدا کی ہیکل کو ردّ کر دیا جب کہ ان کے  آباء و  اجداد خداوند خدا کے  راستے  پر چلے  تھے۔ ان لوگوں  نے  آشیرہ کے  ستون اور دوسرے  بتوں  کی پرستش کیں۔ خدا یہوداہ اور یروشلم کے  لوگوں  پر غصہ میں  تھا۔ کیوں  کہ بادشاہ اور وہ قائدین قصور وار تھے۔

19 خدا نے  لوگوں  کے  پاس نبیوں  کو  بھیجاتا کہ وہ انہیں  خدا کی طرف واپس لائیں۔ نبیوں  نے  لوگوں  کو خبر دار کیا لیکن لوگوں  نے  سننے  سے  انکار کر دیا۔

20 خدا کی روح زکریاہ پر اتری۔ زکریاہ کا باپ کاہن یہو یدع تھا۔ زکر یاہ لوگوں  کے  سامنے  کھڑا ہوا اور اس نے  کہا ” جو خداوند کہتا ہے  وہ یہ ہے  : تم لوگ خداوند کے  احکا مات کو مان نے  سے  کیوں  انکار کرتے  ہو؟ تم کامیاب نہیں  ہو گے۔ تم نے  خداوند کو چھوڑا ہے  اس لئے  خداوند نے  بھی تمہیں  چھوڑ دیا ہے۔ ”

21 لیکن لوگوں  نے  زکر یاہ کے  خلاف منصوبہ بنا یا بادشاہ نے  زکریاہ کو مار ڈالنے  کا حکم دیا انہوں  نے  اس پر اس وقت تک پتھر مارے  جب تک وہ مر نہیں  گیا۔ لو گوں  نے  یہ سب ہیکل کے  آنگن میں  کیا۔

22 بادشاہ یو آس نے  یہو یدع کی رحم دلی نہیں  یاد رکھا۔ یہو یدع زکر یاہ کا باپ تھا۔ لیکن یوآس نے  یہو یدع کے  بیٹے  زکر یاہ کو مار ڈالا۔ مرنے  سے  پہلے  زکریاہ نے  کہا ” خداوند اس کو دیکھے  جو تم کر رہے  ہو اور تمہیں  سزا دے ! ”

23 سال کے  ختم پر ارام کی فوج یوآس کے  خلاف آئی انہوں  نے  یہوداہ اور یروشلم پر حملہ کیا اور لوگوں  کے  تمام قائدین کو مار ڈالا۔ انہوں  نے  ساری قیمتی چیزیں  دمشق کے  بادشاہ کے  پاس بھیج دیں۔

24 ارامی فوج آدمیوں  کے  چھوٹے  گروہ میں  آئی۔ لیکن خداوند نے  یہوداہ کی فوج کو شکست دینے  دیا۔ خداوند نے  اس لئے  ایسا کیا کیوں  کہ یہوداہ کے  لوگ خداوند خدا کو چھوڑ دیئے  جس راہ پر ان کے  آباء و  اجداد چلے  تھے۔ اس لئے  انہوں  نے  یوآس کو سزا دی۔

25 جب ارام کے  لوگوں  نے  یو آس کو چھوڑا تو وہ بری طرح زخمی تھا۔ یو آس کے  خود کے  خادموں  نے  اس کے  خلاف منصوبہ بنایا انہوں  نے  اس لئے  ایسا کیا کیونکہ یو آس نے  کاہن یہویدع کے  بیٹے  زکریاہ کو مار ڈالا تھا۔ خادموں  نے  یو آس کو اس کے  اپنے  بستر پر ہی مار ڈالا۔یو آس کے  مرنے  کے  بعد لوگوں  نے  اسے  داؤد کے  شہر میں  دفنایا۔ لیکن لوگوں  نے  اسے  اس جگہ پر نہیں  دفن کیا جہاں  بادشاہ دفنائے  جاتے  تھے۔

26 جن خادموں  نے  یو آس کے  خلاف منصوبہ بنایا وہ یہ ہیں  : زبد اور یہوزبد۔ زبد کی ماں  کا نام سماعت تھا۔ سماعت عمون کی رہنے  وا لی تھی۔ اور یہوزید کی ماں  کا نام سمرتیت تھا۔ سمر تیت موآب کی تھی۔

27 یو آس کے  بیٹوں  کا قصّہ اس کے  خلاف بڑی پیشین گوئیاں  اور اس نے  کس طرح خدا کے  گھر کو دوبارہ بنایا یہ سلاطین کی تبصرہ نامی کتاب میں  لکھا ہے۔ امصیاہ اس کے  بعد نیا بادشاہ ہوا۔امصیاہ یو آس کا بیٹا تھا۔

 

 

 

باب :  25

 

1 امصیاہ جب بادشاہ ہوا اس کی عمر ۲۵ سال تھی۔ اس نے  یروشلم میں  ۲۹سال حکومت کی۔ اس کی ماں  کا نام یہوعدان تھا۔ یہوعدان یروشلم کی تھی۔

2 امصیاہ نے  وہی کیا جو خداوند اس سے  کروانا چاہتا تھا۔لیکن اس نے  اپنے  پو رے  دل سے  نہیں  کیا۔

3 امصیاہ جب ایک طاقتور بادشاہ ہو گیا۔تب اس نے  ان افسروں  کو مار ڈالا جو اس کے  باپ بادشاہ کو مار دیئے  تھے۔

4 لیکن امصیاہ ان افسروں  کے  بچوں  کو ہلاک نہیں  کیا۔کیوں ؟ کیوں  کہ اس نے  ان احکامات کی تعمیل کی جو موسیٰ کی کتاب میں  لکھے  ہوئے  تھے  خداوند نے  حکم دیا ” والدین کو اپنے  بیٹوں  کے  گناہوں  کے  لئے  نہیں  مارنا چاہئے۔ بچوں  کو اپنے  والدین کے  گناہوں  کے  لئے  نہیں  مارنا چاہئے۔ ہر ایک آدمی  کو خود اس کے  گناہ کے  لئے  مار دینا چاہئے۔ ”

5 امصیاہ نے  یہوداہ کے  لوگوں  کو ایک ساتھ جمع کیا۔اس نے  خاندانی گروہوں  کے  حساب سے  ان لوگوں  کو گروہوں  میں  بانٹا۔اس نے  کپتانوں  اور جنرلوں  کو ذمہ دار عہدے  داروں  کی طرح بحال کیا۔ وہ قائدین یہوداہ اور بنیمین کے  سپاہیوں  کے  صدر تھے۔ سپاہیوں  کے  لئے  جو لوگ چُنے  گئے  تھے  وہ سب ۲۰ سال کے  یا اس سے  بڑے  تھے۔ وہ سب ۰۰۰،۳۰۰ تربیت یافتہ سپاہی برچھوں  اور ڈھالوں  کے  ساتھ لڑنے  کے  لئے  تیار تھے۔

6 امصیاہ ایک لا کھ سپاہیوں  کو بھی اسرائیل سے  کرا یہ پر لیا تھا۔ اس نے  ان سپاہیوں  کو کرایہ پر حاصل کرنے  ۴/ ۳۳ ٹن چاندی ادا کی تھی۔

7 لیکن ایک خدا کا آدمی  امصیاہ کے  پاس آیا اس خدا کے  آدمی نے  کہا “بادشاہ! اسرائیل کی فوج کو اپنے  ساتھ نہ جانے  دو خداوند اسرائیل کے  ساتھ نہیں  ہے۔ خداوند افرائیم کے  لوگوں  کے  ساتھ نہیں  ہے۔

8 اگر تم اپنے  آپ کو طاقتور بناؤ اور اس طرح سے  جنگ کے  لئے  تیار رہو تو خدا تمہیں  شکست کا سبب بنائے  گا۔کیوں  کہ خدا تمہیں  اکیلے  فتح یا شکست دے  سکتا ہے۔ ”

9 امصیاہ نے  خدا کے  آدمی  سے  کہا “لیکن ہماری دولت کا کیا ہو گا جو میں  نے  پہلے  سے  اسرائیل کی فوج کو دیا ہے ؟ ” خدا کے  آدمی نے  جواب دیا “خداوند کے  پاس بہت زیادہ ہے  وہ اس سے  بھی زیادہ تمہیں  دے  سکتا ہے۔ ”

10 اس لئے  امصیاہ نے  اسرائیل کی فوج کو واپس افرائیم کو بھیج دیا۔ وہ آدمی  بادشاہ اور یہوداہ کے  لوگوں  کے  خلاف بہت غصہ میں  تھے۔ وہ غصہ میں  اپنے  گھر واپس ہوئے۔

11 تب امصیاہ بہت با ہمت ہوا اور اس کی فوج کو ملک ادوم میں  نمک کی وادی میں  لے  گیا۔ اس جگہ پر امصیاہ کی فوج نے  صور کے  ۰۰۰، ۱۰ آدمیوں  کو مار ڈالا۔

12 یہوداہ کی فوج نے  بھی صور کے  ۰۰۰، ۱۰ آدمیوں  کو پکڑا۔ وہ ان آدمیوں  کو شعیر سے  ایک اونچی چٹان کی چوٹی پرلے  گئے۔ وہ سب آدمی  اب تک زندہ تھے۔ تب یہوداہ کی فوج نے  ان آدمیوں  کو چوٹی پر سے  نیچے  پھینک دیا اور ان کے  جسم نیچے  کے  چٹانوں  پرٹوٹ گئے۔

13 لیکن اس وقت اسرائیلی فوج یہوداہ کے  کچھ شہروں  پر حملہ کر رہی تھی۔ وہ سامریہ سے  بیت حورون کے  شہروں  تک حملے  کر رہے  تھے۔ انہوں  نے  تین ہزار لوگوں  کو مار ڈالا اور کئی قیمتی چیزیں  لے  لیں  اس فوج کے  آدمی  بہت غصہ میں  تھے  کیونکہ امصیاہ نے  انہیں  جنگ میں  شامل نہیں  ہونے  دیا تھا۔

14 امصیاہ ادومی لوگوں  کو شکست دینے  کے  بعد گھر آیا۔اس نے  سور کے  لوگوں  کے  دیوتاؤں  کے  بُت جن کی وہ پرستش کرتے  تھے  لا یا۔ امصیاہ نے  ان بتوں  کی عبادت شروع کی اس نے  ان دیوتاؤں  کے  سامنے  جھکا اور انہیں  بخور جلا کر نذرانہ پیش کیا۔

15 خداوند امصیاہ پر بہت غصہ کیا۔خداوند نے  نبی کو امصیاہ کے  پاس بھیجا۔ نبی نے  کہا “امصیاہ تم نے  ان دیوتاؤں  کی عبادت کیوں  کی جس کی وہ لوگ عبادت کرتے  ہیں ؟ وہ سب وہی خداوند ہیں  جو اپنے  لوگوں  کو تم سے  نہیں  بچا سکتے  ہیں۔”

16 جب نبی نے  بو لا تو امصیاہ نے  نبی سے  کہا “ہم نے  کبھی تمہیں  بادشاہ کا مشیر نہیں  بنایا خاموش رہو! اگر تم خا موش نہ رہو گے  تو مار دیئے  جاؤ گے۔ ” نبی خاموش ہو گیا۔تب اس نے  کہا “در حقیقت خدا نے  طئے  کیا ہے  کہ تمہیں  تباہ کرے۔ کیونکہ تم نے  بُرے  کام کئے  اور میری نصیحتوں  کو نہیں  سنا۔”

17 یہوداہ کے  بادشاہ امصیاہ نے  اپنے  مشیروں  سے  بات کی تب اس نے  ایک پیغام اسرائیل کے  بادشاہ یہوآس کو بھیجا۔ امصیاہ نے  یہوآس سے  کہا ” ہمیں  آم نے  سامنے  ملنا چاہئے۔ ” یہوآس یہوآخز کا بیٹا تھا اور یہو آخز اسرائیل کا بادشاہ یاہو کا بیٹا تھا۔

18 تب یہو آخز نے  اس کا جواب امصیاہ کو بھیجا۔یہو آس اسرائیل کا بادشاہ تھا اور امصیاہ یہوداہ کا بادشاہ تھا۔ یہو آس نے  یہ قصہ کہا : ” َ لبنان کی ایک چھوٹی کانٹے  دار جھاڑی نے  لبنان کے  ایک بڑے  بلوط کے  درخت کو پیغام بھیجا۔ چھوٹی کانٹے  دار جھاڑی نے  کہا “اپنی بیٹی کی شادی میرے  بیٹے  سے  کرو۔لیکن ایک جنگلی جانور نکلا اور کانٹے  دار جھاڑی کو کچلا اور اسے  تباہ کر دیا۔

19 تم یہ کہتے  ہو ‘ میں  نے  ادوم کو شکست دی ہے ! ‘ تمہیں  اس کا غرور ہے  اور اس لئے  شیخی کی باتیں  کرتے  ہو لیکن تم کو گھر پر ٹھہرنا چاہئے  تم اپنے  لئے  مصیبت کیوں  لانا چاہتے  ہو؟ تم اور یہوداہ تباہ ہو جاؤ گے۔ ”

20 لیکن امصیاہ نے  سننے  سے  انکار کیا۔ یہ خدا کی طرف سے  ہوا۔ خدا کی مرضی تھی کہ اسرائیلی یہوداہ کو شکست دے  کیوں  کہ یہوداہ کے  لوگ ان دیوتاؤں  کی پرستش کر رہے  تھے  جیسا کہ ادوم کے  لوگ کرتے  تھے۔

21 اس لئے  اسرائیل کا بادشاہ یوآس یہوداہ کے  بادشاہ امصیاہ سے  آم نے  سامنے  بیت شمس کے  شہر میں  ملا۔ بیت شمس یہوداہ میں  ہے۔

22 اسرائیل نے  یہوداہ کو شکست دی۔ یہوداہ کا ہر آدمی  اپنے  گھر بھا گ گئے۔

23 یہو آس نے  بیت شمس میں  امصیاہ کو پکڑ لیا اور اس کو یروشلم لے  آیا۔ امصیاہ کے  باپ کا نام یوآس تھا۔ یہو آس کے  باپ کا نام یہو آخز تھا۔ یہو آس نے  ۶۰۰ فٹ لمبی یروشلم کی دیوار کے  حصّے  کو جو افرائیم پھا ٹک سے  کونے  کے  پھا ٹک تک تھی گِرا دیا۔

24 تب یوآس نے  ہیکل کا سونا چاندی اور کئی دوسرے  سامان لے  لیا۔ عو بید ادوم ان چیزوں  کا ذمہ دار تھا لیکن یوآس نے  وہ تمام چیزیں  لے  لیں۔ یوآس نے  بادشاہ کے  محل سے  خزانے  بھی لئے  تب یوآس نے  کچھ آدمیوں  کو بطور قیدی بنا لیا اور واپس سامر یہ گیا۔

25 اسرائیل کے  بادشاہ یو آخز کے  بیٹے  یہو آس کے  مرنے  کے  بعد امصیاہ ۱۵ سال زندہ رہا۔ امصیاہ کا باپ یو آس یہوداہ کا بادشاہ تھا۔

26 دوسری باتیں  جو شروع سے  آخر تک امصیاہ نے  کیں  وہ سب ” تاریخ سلا طین یہوداہ اور اسرائیل ” نا می کتاب میں  لکھی ہوئی ہیں۔

27 جب امصیاہ خداوند کی اطاعت سے  رک گیا۔ یروشلم میں  لوگوں  نے  اس کے  خلاف ایک منصوبہ بنا یا تو وہ شہر لکیس کو بھا گ گیا۔ لیکن لوگوں  نے  آدمیوں  کو لکیس کو بھیجا اور انہوں  نے  وہاں  امصیاہ کو مار ڈالا۔

28 تب وہ امصیاہ کی لاش کو گھوڑے  پرلے  گئے  اور اسے  اس کے  آباء و  اجداد کے  ساتھ یہوداہ میں  دفنایا۔

 

 

باب :  26

 

 

1 تب یہوداہ کے  لوگوں  نے  عُزّیاہ کو امصیاہ کی جگہ نیا بادشاہ چُنا۔ امصیاہ عُزّیاہ کا باپ تھا۔ جب یہ واقعہ ہوا اس وقت عزیاہ ۱۶ سال کا تھا۔

2 عُزّیاہ نے  دوبارہ ایلوت کے  شہر کو بنا یا اور اسے  واپس یہوداہ کو دیا۔ عُزّیاہ نے  امصیاہ کے  مرنے  کے  بعد جب وہ اپنے  آباء و  اجداد کے  ساتھ دفن ہوا تو یہ کیا۔

3 عُزّیاہ کی عمر ۱۶ سال کی تھی جب وہ بادشاہ بنا۔ اس نے  یروشلم میں  ۵۲ سال حکو مت کی۔ اس کی ماں  کا نام یکو لیاہ تھا۔ یکو لیاہ یروشلم کی تھی۔

4 عزیاہ نے  وہی کیا جو خداوند نے  چا ہا تھا۔ اس نے  خدا کی اطاعت اسی طرح کی جس طرح اس کے  باپ امصیاہ نے  کی۔

5 عُزّیاہ زکر یاہ کی زندگی میں  خدا کے  راستے  پر چلا۔ زکریاہ نے  عزیاہ کو تعلیم دی تھی کہ خداوند خدا کی عزت اور اس کی اطاعت کس طرح کرنی چاہئے۔ جب عُزّیاہ نے  خداوند خدا کی اطاعت کی تو اس کو کامیابی ملی۔

6 عُزّیاہ نے  فلسطینی لوگوں  کے  خلاف ایک جنگ لڑی۔ اس نے  جات اور یبنہ اور اشدود شہروں  کی دیواریں  گرا دیں۔ عزیاہ نے  اشدود شہر کے  پاس اور فلسطینی لوگوں  کے  درمیان دوسری جگہوں  پر شہر بسائے۔

7 خدا نے  عزیاہ کو فلسطینیوں  سے  اور جور بعل کے  شہر میں  اور میونی میں  رہنے  والے  عرب لوگوں  سے  لڑنے  میں  مدد کی۔

8 عمّونی عزیاہ کو خراج تحسین دیتے  تھے۔ عُزّیاہ کا نام مصر کی سر حد تک مشہور ہوا کیوں  کہ وہ بہت طاقتور ہو گیا تھا۔

9 عزیاہ نے  یروشلم میں  کونے  کے  پھا ٹک اور وادی کے  پھا ٹک اور جہاں  دیوار مڑ تی تھی وہاں  مینار بنوائے۔ اور اس نے  اسے  فصیلدار بنا یا۔

10 عُزّیاہ نے  ریگستان میں  مینار بنوائے  اس نے  بہت سے  کنوئیں  بھی کھد وائے۔ اس کے  پاس پہاڑی دامن اور میدانی علا قوں  میں  بہت سے  مویشی تھے۔ اس کے  پاس پہاڑوں  اور زر خیزی علا قوں  میں  کسان تھے۔ اس نے  ایسے  آدمیوں  کو بھی رکھا تھا جو ان کھیتوں  کی نگرانی کرتے  تھے  جن میں  انگور ہوتے  تھے۔ اس کو زراعت سے  لگاؤ تھا۔

11 عُزّیاہ کے  پاس تربیت یافتہ فوج تھی۔ اس کے  سکریٹری یعی ایل اور عہدیدار معسیاہ نے  سپاہیوں  کو منظم کیا اور انہیں  گنا اور انہیں  حنانیاہ جو کہ بادشاہ کا ایک عہدیدار تھا اس کی رہنمائی میں  مختلف گروہوں  میں  بانٹ دیا۔

12 سپاہیوں  کے  اوپر ۶۰۰،۲ قائدین تھے۔

13 وہ خاندانی قائدین ۵۰۰ ،۳۰۷ فو جی آدمیوں  کے  داروغہ تھے  جو بڑی طاقت سے  لڑتے  تھے۔ ان سپاہیوں  نے  دشمنوں  کے  خلاف بادشاہ کی مدد کی تھی۔

14 عزیاہ نے  فوج کو ڈھا لیں  بر چھے  سر کے  ٹو پ زرہ بکتر کمان اور گو پھن کے  پتھر دیئے  تھے۔

15 یروشلم میں  عزیاہ نے  جو مشینیں  بنوائیں  وہ ہوشیار لوگوں  کی ایجاد تھی۔ ان مشینوں  کو میناروں  پر اور دیواروں  کے  کونوں  پر رکھا گیا تھا۔ ان مشینوں  کا استعمال تیر چلانے  اور بڑے  پتھروں  کو پھینکنے  کے  لئے  کیا جاتا تھا۔ عُزّیاہ مشہور ہوا۔ دور و دراز کی جگہوں  کے  لوگ اس کے  نام سے  واقف ہوئے۔ اس کے  پاس بڑی مدد تھی اور وہ طاقتور بادشاہ ہو گئے۔

16 لیکن جب عُزّیاہ طاقتور ہو گیا تو اس کے  غرورنے  اس کو تباہ کیا۔ وہ خداوند اپنے  خدا کے  خلاف گناہ کیا۔ وہ خداوند کی ہیکل میں  اور قربان گاہ میں  بخور جلانے  کے  لئے  گیا۔

17 کاہن عزر یاہ اور ۸۰ بہادر کاہن جو خداوند کی خدمت کرتے  تھے  وہ عزیاہ کے  ساتھ ہیکل میں  گئے۔

18 وہ لوگ عز یاہ کے  روبرو ہوئے۔ انہوں  نے  اس کو کہا ‘ ‘ عزیاہ! یہ تمہارا کام نہیں  ہے  کہ خداوند کے  لئے  خوشبو جلائے۔ ایسا کر نا تمہارے  لئے  اچھا نہیں۔ وہ کاہنوں  اور ہارون کی نسل ہی ہیں  جو خداوند کے  لئے  خوشبو جلاتے  ہیں۔ وہی لوگ ہیں  جو مقدس خدمت اور خوشبو جلانے  کے  لئے  مخصوص کئے  گئے  ہیں۔ مُقدس ترین جگہ سے  باہر جاؤ تم اطاعت گزار نہیں  رہے  خداوند خدا تم کو اس کے  لئے  عزت نہیں  دے  گا! ”

19 لیکن عُزّیاہ غصہ میں  آیا اس کے  ہاتھ میں  خوشبو جلانے  کے  لئے  کٹو رہ تھا۔ جس وقت عزیاہ کاہنوں  پر غصہ میں  تھا۔ اس وقت اس کی پیشانی پر کوڑھ پھو ٹ پڑا۔ یہ واقعہ خداوند کے  ہیکل میں  بخور کی قربان گاہ پر کاہنوں  کے  سامنے  ہوا۔

20 کاہنوں  کا قائد عزریاہ اور تمام کاہنوں  نے  عزیاہ کو دیکھا وہ اس کی پیشانی پر جذام دیکھ سکتے  تھے۔ کاہنوں  نے  جلدی سے  عزیاہ کو ہیکل کے  باہر جانے  کے  لئے  مجبور کیا۔ عُزّیاہ نے  خود جلدی کی کیوں  کہ خداوند نے  اس کو سزا دی تھی۔

21 کیوں  کے  بادشاہ عزیاہ مرنے  تک کوڑ ھ کی بیماری میں  مبتلا رہا اور وہ ایک الگ گھر میں  رہتا تھا وہ خداوند کی ہیکل کے  اندر داخل نہیں  ہو سکتا تھا۔ عُزیاہ کے  بیٹے  یو تام نے  شاہی محل کے  آدمیوں  کو قابو میں  رکھا اور حکمراں  بن گیا۔

22 دوسرے  کارنامے  شروع سے  آخر تک جو عُزیاہ نے  کیں  وہ اموز کے  بیٹے  یسعیاہ نبی نے  لکھا ہے۔

23 عُزّیاہ مر گیا اور اپنے  آباء و  اجداد کے  قریب دفن ہوا۔ عُزّیاہ کو بادشاہوں  کے  قبرستان کے  قریب دفنا یا گیا کیوں  کہ لوگوں  نے  کہا ” عُزّیاہ کو کوڑھ ہے۔ ” یوتام عُزّیاہ کی جگہ نیا بادشا ہوا۔ یوتام عُزّیاہ کا بیٹا تھا۔

 

 

 

 

باب :  27

 

 

1 یو تام جب بادشاہ ہوا تو وہ ۲۵ سال کا تھا۔ اس نے  یروشلم میں  ۱۶ سال حکو مت کی۔ اس کی ماں  کا نام یرُوسہ تھا۔ یرُ وسہ صدوق کی بیٹی تھی۔

2 یو تام نے  وہی کیا جو خداوند نے  چا ہا۔ وہ اپنے  باپ عُزّیاہ کی طرح خدا کی اطاعت کی لیکن یوتام خداوند کی ہیکل میں  خوشبو جلانے  کے  لئے  داخل نہیں  ہوا جیسا کہ اس کے  باپ نے  کیا تھا۔ لیکن لوگوں  نے  گناہ کر نا جاری رکھا۔

3 یو تام نے  خداوند کی ہیکل کے  اوپری دروازے  کو دوبارہ بنا یا۔ اس نے  عوفل نامی جگہ میں  دیوار پر بہت سے  کام کئے۔

4 یو تام نے  یہوداہ کے  پہاڑی ملک میں  بھی شہر بنائے۔ یو تام نے  جنگل میں  مینار اور قلعے  بنوائے۔

5 یو تام عمّونی لوگوں  کے  بادشاہ اور اس کی فوج کے  خلاف بھی لڑا اور انہیں  شکست دی۔ اس لئے  ہر سال تین سالوں  تک عمّونی لوگوں  نے  یوتام کو ۴/۳ ۳ ٹن چاندی ۶۲۰۰۰ بوشل گیہوں  اور ۰۰۰ ، ۶۲ بو شل بارلی دیئے۔

6 یو تام طاقتور ہو گیا۔ کیوں  کہ اس نے  خداوند اپنے  خدا کی مرضی کے  مطابق اس کے  حکم کی اطاعت گزاری کی۔

7 دوسرے  کام جو یوتام نے  کیا اور اس کی جنگوں  کے  تعلق سے  ” تاریخ سلاطین اسرائیل اور یہوداہ ” نامی کتاب میں  لکھا ہے۔

8 یو تام جب بادشاہ ہوا تو اس کی عمر ۲۵ سال تھی۔ اس نے  یروشلم میں  ۱۶ سال حکو مت کی۔

9 تب یو تام مر گیا اور اپنے  آباء و  اجداد کے  ساتھ دفنا یا گیا۔ لوگوں  نے  اس کو شہر داؤد میں  دفنا یا۔ یو تام کا بیٹا آخز اس کی جگہ پر بادشاہ ہوا۔

 

 

 

باب :  28

 

 

1 جب آخز  بادشاہ ہوا تو وہ ۲۰ سال کا تھا۔ اس نے  یروشلم میں  ۱۶ سال حکومت کی۔آخز اپنے  آباء و  اجداد کی طرح سچائی سے  نہیں  رہا جیسا کہ خداوند نے  چا ہا تھا۔

2 آخز اسرائیلی بادشاہوں  کے  برے  راستوں  پر چلا۔ اس نے  بعل دیوتا کی عبادت کے  لئے  مورتیاں  بنانے  کے  لئے  سانچے  کا استعمال کیا۔

3 آخز بن ہنوم کی وادی میں  بخور جلائیں۔اس نے  اپنے  بیٹوں  کو آ گ میں  جلا کر قربانی پیش کی۔اس نے  وہ تمام خوفناک گناہ جسے  اس ملک میں  رہنے  والے  آدمیوں  نے  کیا تھا۔خداوند نے  ان آدمیوں  کو باہرجانے  کے  لئے  مجبور کیا تھا جب اسرائیل کے  لوگ اس سر زمین پر آئے  تھے۔

4 آخز نے  پہاڑی پر اعلیٰ جگہوں  پر اور ہر درخت کے  نیچے  قربانی پیش کی اور بخور جلائے۔

5 آخز نے  گناہ کئے  اس لئے  خداوند اس کے  خدا نے  ارام کے  بادشاہ کو اسے  شکست دینے  دیا۔ارام کے  بادشاہ اوراس کی فوج نے  آخز کو شکست دی اور یہوداہ کے  کئی لوگوں  کو قیدی بنایا۔ارام کے  بادشاہ نے  ان قیدیوں  کو شہر دمشق لے  گیا۔خداوند نے  اسرائیل کے  بادشاہ فقح کو بھی آخز کو شکست دینے  دیا۔فقح کے  باپ کا نام رملیاہ تھا۔ فقح اور اس کی فوج نے  ایک دن میں  یہوداہ کے  ۱۲۰۰۰۰ بہادر سپاہیوں  کو مار ڈالا۔کیوں  کہ اس نے  خداوند خدا کے  احکام کو نہیں  مانا جس کی احکام کی تعمیل ان کے  آبا ء واجداد کرتے  تھے۔

6  7 زکری افرائیم کا ایک بہادر فوجی تھا۔زکری نے  بادشاہ آخز کے  بیٹے  معسیاہ کو بادشاہ کے  محل کے  نگراں  کار عہدے  دار عزر یقام کو اور بادشاہ کے  دوسرے  درجے  کے  سپہ سالار القانہ کو مار ڈالا۔

8 اسرائیلی فوج نے  یہوداہ میں  رہنے  والے  ان کے  ۲۰۰۰۰۰ رشتے  داروں  کو پکڑا۔ انہوں  نے  عورتیں  بچے  اور یہوداہ سے  بہت قیمتی چیزیں  لیں۔ بنی اسرائیلی ان قیدیوں  اور ان چیزوں  کو سامریہ شہر کولے  گئے۔

9 لیکن وہاں  خداوند کے  نبیوں  میں  سے  ایک نبی وہاں  تھا۔اس نبی کا نام عودید تھا۔عودید اسرائیلی فوج سے  ملا جو کہ سامریہ واپس آئی تھیں۔عودید نے  اسرائیل کی فوج سے  کہا “خداوند خدا جس کی تمہارے  آبا ء واجدادنے  اطاعت کی اس نے  تم کو یہوداہ کے  لوگوں  کو شکست دینے  دی کیوں  کہ وہ ان پر غصہ میں  تھا۔تم نے  یہوداہ کے  لوگوں  کو بہت کمینگی سے  سزادی اور مار ڈالا اب خدا تم پر غصہ میں  ہے۔

10 تم یہوداہ اور یروشلم کے  لوگوں  کو غلاموں  کی طرح رکھنے  کا منصوبہ بنا رہے  ہو تم لوگوں  نے  بھی خداوند اپنے  خدا کے  خلاف گناہ کیا ہے۔

11 اب میری بات سُنو “اپنے  جن بھائی بہنوں  کو تم لوگوں  نے  قیدی بنایا ہے  انہیں  واپس کر دو۔ اسے  کرو کیونکہ خداوند کا بھیانک غصّہ تمہارے  خلاف ہے۔

12 تب افرائیم کے  چند قائدین نے   اسرائیل کے  فوجوں  کو جنگ سے  گھر واپس ہوتے  دیکھا۔ وہ قائدین اسرائیل کے  فوجوں  سے  ملے  اور انہیں  انتباہ دیا۔وہ قائدین یہوحنان کا بیٹا عزریاہ سلیموت کا بیٹا برکیاہ سلوم کا بیٹا یحزقیاہ اور خدلی کا بیٹا عماسا تھے۔

13 ان قائدین نے   اسرائیلی سپاہیوں  سے  کہا ” یہوداہ سے  قیدیوں  کو یہاں  مت لاؤ۔اگر تم ایسا کرو گے  تو یہ ہم لوگوں  کے  لئے  یہ خداوند کے  خلاف بُرا گناہ کرنے  کے  برابر ہو گا۔ اور وہ ہمارے  گناہ اور قصور کے  خلاف بُرا کرے  گا۔ اور خداوند ہم لوگوں  کے  خلاف بہت غصّے  میں  آ جائے  گا! ”

14 اس لئے  فوجوں  نے  قیدیوں  اور قیمتی چیزوں  کو ان قائدین اور بنی اسرائیلیوں  کو دے  دیا۔

15 قائدین ( یحزقیاہ برکیاہ اور عماسا ) کھڑے  ہوئے  اور انہوں  نے  قیدیوں  کی مدد کی۔ان چاروں  آدمیوں  نے  کپڑوں  کو لیا جو اسرائیلی فوج نے  لئے  تھے  اور اسے  ان لوگوں  کو دیا جو ننگے  تھے۔ ان قائدین نے   ان لوگوں  کو جوتے  بھی دیئے۔ انہوں  نے  یہوداہ کے  قیدیوں  کو کچھ کھانے  پینے  کو دیا۔ انہوں  نے  ان لوگوں  کی تیل کی مالش کی۔ تب افرائیم کے  قائدین نے   کمزور قیدیوں  کو گدھے  پر چڑھا یا اور ان کو ان کے  گھر یریحو تار کے  درخت کا شہر ان کے  خاندان کے  پاس بھیجا۔ تب وہ چاروں  قائدین اپنے  گھر سامر یہ کو واپس ہوئے۔

16 اُسی وقت ادوم کے  لوگ پھر آئے  انہوں  نے  یہوداہ کے  لوگوں  کو شکست دی ادومیوں  نے  لوگوں  کو قیدی بنا یا اور قیدیوں  کی طرح مانگنے  گئے۔ اس لئے  بادشاہ آخز نے  اسور کے  بادشاہ سے  مدد مانگی۔

17  18 فلسطینی لوگوں  نے  بھی جنوبی یہوداہ اور پہاڑی شہروں  پر حملہ کیا۔ فلسطینیوں  نے  بیت شمس ایا لون جدیروت سو کو تمنہ اور جمضو کے  شہروں  پر قبضہ کر لیا۔ انہوں  نے  ان شہروں  کے  نزدیک کے  گاؤں  پر بھی قبضہ کر لیا۔ پھر ان شہروں  میں  فلسطینی رہنے  لگے۔

19 خداوند نے  یہوداہ کو مصیبت دی۔ کیوں  کہ یہوداہ کے  بادشاہ آخز نے  یہوداہ کے  لوگوں  کو گناہ کرنے  کے  لئے  اکسا یا۔ وہ خداوند کا بہت نا فرمان تھا۔

20 اسور کا بادشاہ تگلت پلنا صر آیا اور آخز کو مدد دینے  کے  بجائے  تکلیف دی۔

21 آخز نے  کچھ قیمتی چیزیں  خداوند کی ہیکل اور شاہی محل اور شہزادوں  کے  محل سے  لیا۔ آخز نے  ان چیزوں  کو اسور کے  بادشاہ کو دیں  لیکن اس نے  آخز کی مدد نہیں  کی۔

22 آخز کی پریشانیوں  کے  وقت اس نے  اور زیادہ برے  گناہ کئے  اور خداوند کا اور زیادہ نا فرمان ہو گیا۔

23 اس نے  دمشق کے  لوگوں  کی پرستش والے  خداؤں  کو قربانی پیش کی۔ دمشق کے  لوگوں  نے  آخز کو شکست دی۔ اس لئے  اس نے  دل میں  سو چا ” ارام کے  لوگوں  کے  خداؤں  کی پر ستشنے  انہیں  مدد دی اگر میں  ان خداؤں  کو قربانی پیش کروں  تو ممکن ہے  وہ بھی میری مدد کریں۔” آخز نے  ان خداؤں  کی پرستش کی۔ لیکن یہ سب بت اس کو اور سارے  اسرائیلیوں  کو گناہ کرانے  کا سبب بنا۔

24 آخز نے  ہیکل سے  چیزوں  کو جمع کیا اور انہیں  توڑ کر ٹکڑے  کر دیا۔ تب اس نے  خداوند کے  گھر کے  دروازوں  کو بند کر دیا۔ اس نے  قربان گاہیں  بنائیں۔ اور انہیں  یروشلم کی ہر گلی کے  کونے  پر رکھی۔

25 آخز نے  یہوداہ کے  ہر شہر میں  بخور جلانے  اور دوسرے  خداؤں  کی پرستش کرنے  کے  لئے  اعلیٰ جگہ بنائی۔ آخز نے  خداوند اپنے  آباء و  اجداد کے  خدا کو ناراض کیا۔

26 دوسری چیزیں  جو آخز نے  شروع سے  آخر تک کیں  وہ ” تاریخ سلا طین یہوداہ و اسرائیل ” نا می کتاب میں  لکھا ہے۔

27 آخز مر گیا اور اپنے  آباء و  اجداد کے  ساتھ دفن کیا گیا۔ لوگوں  نے  آخز کو شہر یروشلم میں  دفن کیا لیکن انہوں  نے  آخز کو اس قبرستان میں  نہیں  دفن کیا جہاں  اسرائیل کے  بادشاہ دفن کئے  گئے  تھے۔ حزقیاہ آخز کی جگہ نیا بادشاہ ہوا۔ حزقیاہ آخز کا بیٹا تھا۔

 

 

 

 

باب : 29

 

 

1 حزقیاہ جب ۲۵ سال کا تھا تو وہ بادشاہ ہوا۔اس نے  ۲۹ سال تک یروشلم میں  حکومت کی۔اس کی ماں  کا نام ابیاہ تھا۔ابیاہ زکریاہ کی بیٹی تھی۔

2 حزقیاہ اسی طرح رہا جس طرح خداوند نے  چا ہا تھا اور وہی کیا۔ اس نے  اپنے  آبا ء واجداد داؤد کی طرح جو مناسب تھا وہ کیا۔

3 حزقیاہ نے  خداوند کی ہیکل کے  دروازوں  کو مرمت کروایا اور انہیں  مضبوط کیا۔ حزقیاہ نے  ہیکل کو پھر کھولا۔اس نے  بادشاہ ہونے  کے  بعدسال کے  پہلے  مہینے  میں  یہ کیا۔

4 حزقیاہ نے  کاہنوں  اور لا وی لوگوں  کی ایک ساتھ نشست بٹھا ئی۔ وہ ہیکل کے  مشرقی جانب کھلے  آنگن میں  مجلس میں  شامل ہو ا۔ حزقیاہ نے  ان سے  کہا “میری سنو! لا وی لوگو! مقدس خدمت کے  لئے  اپنے  کو تیار کرو۔ خداوند خدا کی ہیکل کو مقدس خدمت کے  لئے  تیار کرو۔ وہ خدا ہے  جس کے  احکام کی تعمیل تمہارے  آباؤ اجداد نے  کی۔ ہیکل سے  ان چیزوں  کو باہر نکالو جو وہاں  کے  لئے  نہیں  ہیں۔ وہ چیزیں  ہیکل کو پاک نہیں  کرتی ہیں۔

5

6 ہمارے  آ با ء و اجداد نے  بغاوت کی اور خداوند ہمارے  خدا کی نظر میں  بُرا کام کیا۔انہوں  نے  خداوند کو چھوڑ دیا اور اس کے  مسکن سے  منھ موڑ لیا اور اپنی پیٹھ اس کی طرف کر لی۔

7 انہوں  نے  ہیکل کے  پیش دہلیز کے  دروازے  بند کر دیئے۔ اور شمعوں  کو بجھا دیا۔ انہوں  نے  خوشبوؤں  کو جلانا اور اسرائیل کے  خدا کے  مقدس جگہ میں  قربانی پیش کرنی بند کر دی۔

8 اس لئے  خداوند یہوداہ اور یروشلم کے  لوگوں  پر بہت غصہ کیا۔ خداوند نے  انہیں  سزادی۔دوسرے  لوگ ڈر گئے  اور پریشان ہوئے  جب انہوں  نے  دیکھا کہ خداوند نے  یہوداہ اور یروشلم کے  لوگوں  کے  ساتھ کیا کیا۔ یہوداہ کے  لوگوں  کی قسمت کو دیکھ کر وہ لوگ حیرت زدہ ہو کر اپنے  سر ہلائے۔ تم جانتے  ہو یہ چیزیں  سچ ہیں۔ تم اپنی آنکھوں  سے  دیکھ سکتے  ہو۔

9 اور اسی لئے  ہمارے  آباء و اجداد جنگ میں  مارے  گئے۔ ہمارے  بیٹے  اور بیٹیاں  اور بیویوں  کو قید کر لئے  گئے۔

10 اس لئے  اب میں  حزقیاہ نے  طئے  کیا کہ خداوند اسرائیل کا خدا سے  معاہدہ کروں  تب وہ ہم پر مزید غصّہ نہ ہو گا۔

11 اس لئے  میرے  بیٹو! کا ہل نہ بنو اورمزید وقت خراب نہ کرو۔خداوند نے  تمہیں  اس کی خدمت کے  لئے  چُنا ہے۔ اس نے  تمہیں  ہیکل میں  خدمت کرنے  کے  لئے  بخور جلانے  کے  لئے  چُنا۔”

12 یہ لاویوں  کی فہرست ہے  جو وہاں  تھے  اور کام شروع کئے   قہات کے  خاندان سے  عماسی کا بیٹا محت عزریاہ کا بیٹا یوئیل تھا۔ مراری کے  خاندان سے  عبدی کا بیٹا قیس اور یہلل ایل کا بیٹا عزریاہ تھا۔ جیر شونی خاندان سے  زمہ کا بیٹا یو آخ اور یو آخ کا بیٹا عدن تھا۔الیصفن کی نسل سے  سمری اور یعو ایل تھے۔ آسف کی نسلوں  سے  زکریاہ اور متنیاہ تھے۔ ہیمان کی نسلوں  سے  یحی ایل اور سمعی تھے۔ یدوتون کی نسل سے  سمعیاہ اور عزّی ایل تھے۔

13  14  15 تب ان لاویوں  نے  ان کے  بھا ئیوں  کو ایک ساتھ جمع کیا اور انہیں  ہیکل میں  مقدس خدمت کے  لئے  تیار رکھا۔ انہوں  نے  بادشاہ کے  احکام کی تعمیل کی جو خداوند کی طرف سے  تھی۔ وہ خداوند کی ہیکل میں  صفائی کے  لئے  گئے۔

16 کاہن خداوند کی ہیکل کے  اندرونی حصہ کی صفائی کے  لئے  گئے۔ انہوں  نے  سب نجس چیزوں  کو لئے  اور اسے  خداوند کے  گھر کے  آنگن میں  لے  آئے۔ پھر لاویوں  نے  نجس چیزوں  کو قدرون کی وادی میں  لے  گئے۔

17 پہلے  مہینے  کے  پہلے  دن لاویوں  نے  خود کو مقدس خدمت کے  لئے  تیار کرنے  لگے  مہینے  کے  آٹھویں  دن لاوی خداوند کی ہیکل کے  پیش دہلیز پر آئے۔ پھر اور آٹھ دن تک وہ خداوند کی ہیکل کو مقدس استعمال کے  لئے  صاف کئے  اور انہوں  نے  پہلے  مہینے  کے  سولھویں  دن کام ختم کیا۔

18 تب وہ بادشاہ حزقیاہ کے  پاس گئے  اور اس سے  کہا “بادشاہ حزقیاہ! ہم لوگوں  نے  خداوند کے  سارے  گھر کو اور جلانے  کا نذرانہ کے  لئے  قربان گاہ کو سبھی برتنوں  کے  ساتھ صاف کر دیا۔ہم لوگوں  نے  مقدس روٹی کے  میز اور اس کے  ساتھ استعمال ہونے  والے  اوزاروں  کو بھی صاف کر دیا۔

19 اس وقت جب آخز بادشاہ تھا تو اس نے  خدا کے  خلاف کیا۔اس نے  کئی چیزوں  کو جو ہیکل میں  تھیں  پھینک دیا۔لیکن ہم نے  ان چیزوں  کی مرمت کی اور ان کو مقدس کام کے  لئے  صاف کیا۔اور وہ اب خداوند کی قربان گاہ کے  سامنے  ہے۔

20 دوسرے  دن صبح سویرے  بادشاہ حزقیاہ اٹھا اور شہر کے  تمام عہدے  داروں  کو جمع کیا اور خداوند کی ہیکل کو گیا۔

21 وہ سات بیل سات مینڈھے  سات میم نے  اور سات چھوٹے  بکرے  لائے۔ وہ جانور یہوداہ کی حکومت کے  لئے   مقدس جگہ کو پاک کرنے  کے  لئے  اور یہوداہ کے  لوگوں  کے  لئے  گناہ کا نذرانہ تھا۔ بادشاہ حزقیاہ نے  ہارون کی نسل کے  کاہنوں  کو حکم دیا کہ وہ ان جانوروں  کو خداوند کی قربان گاہ پر پیش کریں۔

22 اس لئے  کاہنوں  نے  بیلوں  کو ذبح کر ڈالا اور ان کا خون رکھ لیا تب انہوں  نے  بیلوں  کا خون قربان گاہ پر چھڑکا پھر کاہنوں  نے  مینڈھوں  کو ذبح کیا اور قربان گاہ پر مینڈھے  کا خون چھڑکا۔ پھر آخر کار وہ لوگ میمنوں  کو ذبح کیا اور ان کا خون قربانگاہ پر چھڑکا۔

23 تب کاہن بکروں  کو بادشاہ اور ایک ساتھ جمع لوگوں  کے  سامنے  لائے   بکرے  گناہوں  کے  بدلے  نذرانہ تھے۔ کاہنوں  نے  اپنے  ہاتھ بکروں  پر رکھے  اور انہیں  ذبح کیا۔ کاہنوں  نے  بکروں  کے  خون سے  قربان گاہ پر گناہ کا نذرانہ پیش کیا۔ انہوں  نے  یہ تمام اسرائیل کے  کفارہ کے  لئے  کیا۔ بادشاہ نے  کہا “جلانے  کا نذرانہ اور گناہ کا نذرانہ تمام بنی اسرائیلیوں  کے  لئے  دینا ہو گا۔

24  25 بادشاہ حزقیاہ نے  لاویوں  کو خداوند کی ہیکل میں  منجیروں  طنبوروں  اور بربط کے  ساتھ رکھا۔جیسا کہ داؤد بادشاہ کا نبی جاد ناتن نبی نے  حکم دیا تھا۔ یہ حکم خداوند کی طرف سے  اس کے  نبیوں  کے  ذریعہ آیا تھا۔

26 اس لئے  لا وی داؤد کے  آلات موسیقی کے  ساتھ تیار کھڑے  تھے  اور کاہن اپنے  بِگل کے  ساتھ تیار تھے۔

27 تب حزقیاہ نے  جلانے  کی قربانی کو قربانگاہ پر پیش کرنے  کا حکم دیا۔ جب جلانے  کی قربانی پیش کرنی شروع ہوئی تو خداوند کے  لئے  گانا بھی شروع ہوا۔ بگل بجے  اور اسرائیل کے  بادشاہ داؤد کے  آلات موسیقی بجنے  لگے۔

28 ساری مجلس نے  سر جھکایا۔موسیقی کار گائے  اور بِگل بجانے  والے  اپنے  بِگل اس وقت تک بجائے  جب تک جلانے  کی قربانی پوری نہ ہو ئی۔

29 قربانی کے  پورا ہونے  کے  بعد بادشاہ حزقیاہ اور اس کے  ساتھ سب لوگ جھکے  اور انہوں  نے  عبادت کی۔

30 بادشاہ حزقیاہ اور اس کے  عہدیداروں  نے  لاویوں  کو خداوند کی تعریف کرنے  کا حکم دیا۔ انہوں  نے  ترانے  گائے  جو داؤد اور نبی آسف نے  لکھے  تھے۔ انہوں  نے  خدا کی حمد کی اور خوش ہوئے۔ وہ سب جھکے  اور خدا کی عبادت کی۔

31 حزقیاہ نے  کہا ” یہوداہ کے  لوگ اب تم خود کو خداوند کے  حوالے  کئے  ہو۔ نزدیک آؤ اور قربانیاں  لے  آؤ اور شکرانے  کا نذرانہ خداوند کی ہیکل میں  پیش کرو۔” تب لوگ قربانیاں  پیش کر کے  شکر ادا کئے۔ کوئی بھی آدمی  جو چاہتا تھا اس نے  وہی قربانی لا ئی۔

32 مجلس کی طرف سے  ہیکل میں  لائی گئی قربانیاں  یہ ہیں  : ۷۰ بیل ۱۰۰ مینڈھے  اور ۲۰۰ میم نے  یہ تمام جانور خداوند کے  لئے  قربانی دی گئیں۔

33 خداوند کے  لئے  مقدس نذرانہ ۶۰۰ بیل اور ۰۰۰، ۳ مینڈھے  اور بکرے  تھے۔

34 لیکن وہاں  کافی تعداد میں  کاہن نہیں  تھے  جو جانوروں  کے  چمڑے  اتار سکیں  اور تمام جانوروں  کو کاٹ سکیں  اس لئے  ان کے  رشتے  دار اور لاویوں  نے  ان کی مدداس وقت تک کیں  جب تک کام پو را نہ ہوا۔ وہ لوگ اس وقت تک کئے  جب تک کاہن مقدس خدمت کے  لئے  تیار نہیں  ہوئے  تھے۔ لا وی لوگ مقدس خدمت کے  لئے  اپنے  آپ  کو تیار کرنے  میں  کاہنوں  سے  زیادہ سنجیدہ تھے۔

35 وہاں  جلانے  کا نذرانہ ہمدردی کے  نذرانے  کی چربی اور مئے  کا نذرانہ بہ کثرت تھا اس لئے  خداوند کی ہیکل میں  پھر سے  خدمت گذاری شروع ہو ئی۔

36 حزقیاہ اور سب لوگ ان چیزوں  کے  لئے  خوش تھے  جن کو خداوند نے  اپنے  لوگوں  کے  لئے  تیار کئے  تھے۔ اور وہ خوش تھے  کہ ہر چیز بہت جلدی کر لی گئی تھیں۔

 

 

 

باب :  30

 

 

1 حز قیاہ نے  اسرائیل اور یہوداہ کے  تمام لوگوں  کو پیغام بھیجا اس نے  افرائیم اور منّسی کو بھی خطوط بھیجا۔حزقیاہ نے  ان تمام لوگوں  کو یروشلم میں  خداوند کی ہیکل میں  آنے  کے  لئے  دعوت دی۔تاکہ وہ تمام فسح کی تقریب منا سکیں۔

2 بادشاہ حزقیاہ اور اس کے  عہدیدار اور تمام یروشلم کے  لوگ اس معاملے  پر بات چیت کی اور طے  کیا کہ فسح کی تقریب دوسرے  مہینے  میں  منانی چاہئے۔

3 وہ لوگ فسح کی تقریب مقررہ وقت پر نہیں  مناس کے۔ کیونکہ کئی کاہن خود کومقدس خدمت کے  لئے  تیار نہ کر سکے  تھے۔ اور دوسری وجہ یہ تھی کہ لوگ یروشلم میں  جمع نہ ہوئے  تھے۔

4 یہ معاہدہ بادشاہ حزقیاہ اور ساری مجلس کو صحیح معلوم ہوا۔

5 اس لئے  انہوں  نے  اسرائیل میں  ہر جگہ شہر بیرسبع سے  لے  کر دان کے  شہر کے  راستوں  تک یہ اعلان کیا۔انہوں  نے  لوگوں  سے  کہا کہ یروشلم آئیں  اور خداوند اسرائیل کے  خدا کے  لئے  فسح کی تقریب منائیں۔ بنی اسرائیلیوں  کے  ایک بڑے  گروہ نے  ایک عرصے  سے  فسح کی تقریب اس طرح نہیں  منائی تھی جس طرح موسیٰ کے  اصولوں  میں  منانے  کے  لئے  کہا گیا تھا۔

6 اس لئے  خبررسانوں  نے  بادشاہ کے  خطوط کو تمام یہوداہ اور اسرائیل لے  گئے  ان خطو ط میں  یہ لکھا تھا : ” اسرائیل کی اولاد! خداوند خدا کی طرف واپس آؤ جنہیں  ابراہیم اسحاق اور اسرائیل ( یعقوب ) مانتے  تھے۔ پھر خدا تم لوگوں  میں  سے  اس کے  پاس لو ٹ آئے  گا جو اسور کے  بادشاہ کے  فتح سے  بچ نکلا ہے۔

7 اپنے  باپ اور بھا ئیوں  کی طرح نہ بنو۔ خداوند ان کا خدا تھا لیکن وہ اس کے  خلاف ہو گئے  اس لئے  خداوند نے  ان لوگوں  کو ایک بیکار ملک بنا دیا۔تم اسے  اپنی آنکھوں  سے  دیکھ سکتے  ہو۔

8 اپنے  آباء و  اجداد کی طرح ضدّی نہ بنو۔ بلکہ اپنے  دِل کی چاہت سے  خداوند کی اطاعت کرو مقدس ترین جگہ پر آؤ۔جسے  خداوند نے  ہمیشہ کے  لئے  مقدس بنایا ہے۔ اپنے  خداوند خدا کی خدمت کرو تب خداوند کا خوفناک غصّہ تم پر سے  نکل جائے  گا۔

9 اگر تم واپس آؤ گے  اور خداوند کی اطاعت کرو گے  تب تمہارے  رشتے  دار اور تمہاری اولاد کو ان لوگوں  سے  رحم دلی ملے  گی جنہوں  نے  ان کو قیدی بنایا ہے  اور تمہارے  رشتے  دار اور بچے  اس ملک میں  واپس ہوں  گے۔ خداوند تمہارا خدا مہربان ہے  اگر تم اس کے  پاس واپس جاؤ گے  تووہ تم سے  دور نہ ہو گا۔

10 قاصد افرائیم اور منسّی کے  تمام علاقوں  کے  شہروں  میں  گئے۔ وہ اتنی دور زبولون کے  سارے  علاقے  میں  گئے۔ لیکن لوگوں  نے  ان قاصدوں  کا مذاق اڑایا اور ان پر ہنسے۔

11 لیکن آشر منسی اور زبولون کے  کچھ آدمی  اپنے  آپ کو فرمانبردار بنایا اور یروشلم گئے۔

12 یہوداہ میں  بھی خدا کی طاقت نے  لوگوں  کو یکجا کیاتا کہ وہ بادشاہ حزقیاہ اور اس کے  عہدیداروں  کی اطاعت کریں  اس طرح انہوں  نے  خداوند کے  کلام کی فرماں  برداری کی۔

13 کئی لوگ بغیر خمیری روٹی کے  تقریب منانے  ایک ساتھ یروشلم میں  دوسرے  مہینے  میں  آئے۔ یہ بہت بڑا مجمع تھا۔

14 ان لوگوں  نے  یروشلم میں  جھوٹے  خداؤں  کی قربانگاہوں  کو ہٹایا۔انہوں  نے  جھوٹے  خداؤں  کے  بخور جلانے  کی قربان گاہوں  کو بھی ہٹا دی۔انہوں  نے  ان قربان گا ہوں  کو قدرون کی وادی میں  پھینک دیا۔

15 تب انہوں  نے  فسح کے  میمنوں  کو دوسرے  مہینے  کے  ۱۴ ویں  دن ذبح کیا۔کاہن اور لا وی لوگ شرمندہ ہوئے  انہوں  نے  خود کو مقدس خدمت کے  لئے  تیار کیا۔ کاہن اور لاویوں  نے  جلانے  کی قربانی خداوند کی ہیکل میں  لائے۔

16 “ہیکل میں  وہ لوگ اپنی اپنی جگہ پر کھڑے  ہوئے  جیسا کہ خدا کے  آدمی  موسیٰ کی شریعت میں  کہا گیا تھا۔ لاویوں  نے  کاہنوں  کو خون کا کٹورا دیا۔ تب کاہنوں  نے  خون کو قربان گاہ پر چھڑکا۔

17 اس گروہ میں  بہت سے  لوگ ایسے  تھے  جنہوں  نے  خود کو مقدس خدمت کے  لئے  تیار نہیں  کیا تھا۔انہیں  فسح کی تقریب پر میمنوں  کو ذبح کرنے  کی اجازت نہ ملی۔کیوں  کہ لا وی لوگ ہی ان تمام لوگوں  کو جو کہ پاک نہ تھے  فسح کے  میم نے  کو ذبح کرنے  کے  ذمّے  دار تھے۔ لاویوں  نے  ہر ایک میم نے  کو خداوند کے  لئے  مقدّس کیا۔

18 افرائیم منسی اشکار اور زبولون کے  کئی لوگوں  نے  فسح کی تقریب کے  لئے  اپنے  کو ٹھیک طرح سے  تیار نہیں  کیا تھا۔انہوں  نے  فسح کی تقریب موسیٰ کی شریعتوں  کے  مطابق صحیح طریقے  سے  نہیں  منا ئی۔لیکن حزقیاہ ان لوگوں  کے  لئے  دعا کی اس لئے  حزقیاہ نے  یہ دعا کی ” خداوند خدا پوچھتا ہے  یہ لوگ تیری عبادت صحیح طریقے  سے  کرنا چاہتے  تھے  لیکن وہ خود کو اصولوں  کے  مطابق پاک نہ کر سکے  مہربانی سے  ان لوگوں  کو معاف کر۔تو خدا ہے  جس کی حکم کی تعمیل ہمارے  آباء و اجداد نے  کی۔اگر کسی نے  اپنے  آپ  کو مقدّس ترین جگہ کے  اصولوں  کے  مطابق پاک نہیں  کیا تو بھی انہیں  معاف کر۔

19

20 خداوند نے  بادشاہ حزقیاہ کی دعا سنی اور وہ لوگوں  کو شفا دیا۔

21 اسرائیل کے  بچوں  نے  یروشلم میں  بغیر خمیری روٹی کی تقریب منائے  وہ بہت خوش تھے۔ لاویوں  اور کاہنوں  نے  اپنی ساری طاقت سے  ہر روز خداوند کی تعریف کی۔

22 بادشاہ حزقیاہ نے  ان تمام لاویوں  کو ہمت بندھائی جو اچھی طرح واقف ہو چکے  تھے  کہ خداوند کی خدمت کیسے  کی جا تی ہے۔ لوگوں  نے  سات دن تک تقریب منائی اور ہمدردی کا نذرانہ پیش کیا۔انہوں  نے  اپنے  آباء و  اجداد کی خداوند خدا کا شکر ادا کیا اور حمد کی۔

23 تمام لوگ اور سات دن ٹھہرنے  کے  لئے  اتفاق کئے  وہ فسح کی تقریب مناتے  وقت سات دن تک بہت خوش رہے۔

24 یہوداہ کے  بادشاہ حزقیاہ نے  اس مجلس کو ۱۰۰۰ بیل اور ۷۰۰۰ بھیڑ قربانی کرنے  کے  لئے  دیئے  اور عہدیداروں  نے  ۱۰۰۰ بیل اور ۰۰۰، ۱۰ بھیڑ دیئے۔ بہت سے  کاہنوں  نے  اپنے  آپ  کو مقدس خدمت کے  لئے  تیار کیا۔

25 یہوداہ کی تمام مجلس کاہن لاوی لوگ اسرائیل سے  آنے  والی تمام مجلس اور وہ مسافر جو اسرائیل سے  آئے  تھے  اور یہوداہ پہنچ چکے  تھے۔ تمام لوگ بے  حد خوش تھے۔

26 اس طرح یروشلم میں  بہت خوشی تھی۔اس تقریب کی جیسی کوئی تقریب اسرائیل کے  بادشاہ داؤد کے  بیٹے  سلیمان کے  زمانے  سے  اب تک نہیں  ہوئی تھی۔

27 کاہن اور لا وی لوگ کھڑے  ہوئے  اور خداوند سے  لوگوں  کو فضل دینے  کے  لئے  کہا۔ ان کی دعا جنت میں  خداوند کی مقدس ترین جگہ تک پہنچی۔

 

 

 

 

باب :  31

 

 

1 سح کی تقریب ختم ہو گئی۔ اسرائیل کے  جو لوگ فسح کی تقریب کے  لئے  یروشلم میں  تھے  وہ یہوداہ کے  شہروں  کو چلے  گئے۔ تب انہوں  نے  پتھر کی مورتیوں  کو جو ان شہروں  میں  تھے  تباہ کر دیا۔ ان پتھر کی مورتیوں  کی پرستش جھوٹے  خداؤں  کے  طور پر کی جاتی تھی۔ان لوگوں  کے  آشیرہ کے  ستون کو بھی کاٹ ڈالا۔اور انہوں  نے  اعلیٰ جگہوں  اور قربان گا ہوں  کو بھی توڑ ڈالا جو بنیمین اور یہوداہ کے  پو رے  ملکوں  میں  تھے۔ لوگوں  نے  افرائیم اور منسی کے  علاقہ میں  بھی ویسا ہی کیا لوگوں  نے  یہ اس وقت تک کیا جب تک انہوں  نے  جھوٹے  خداؤں  کی تمام چیزوں  کو تباہ نہ کر دیا۔پھر سب اسرائیلی اپنے  گھروں  کو واپس ہو گئے۔

2 لاویوں  اور کاہنوں  کو گروہوں  میں  تقسیم کیا گیا تھا اس لئے  ہر گروہ نے  اپنے  سونپے  گئے  کام کو انجام دے  سکے  تھے۔ تب بادشاہ حزقیاہ ان گروہوں  سے  اپنا کام دوبارہ شروع کرنے  کے  لئے  کہا۔ اس لئے  لاویوں  اور کاہنوں  نے  پھر سے  جلانے  کا نذرانہ اور ہمدردی کا نذرانہ پیش کرنا شروع کیا۔ ان کا کام ہیکل میں  خدمت کرنا گانا اور خداوند کے  دروازے  پر حمد کرنا تھا۔

3 حزقیاہ نے  اپنے  جانوروں  میں  سے  کچھ کو جلانے  کی قربانی کے  لئے  پیش کیا۔ یہ جانور روزانہ جلانے  کا نذرانہ پیش کرنے  کے  لئے  استعمال کئے  جاتے  جو ہر صبح و شام دیئے  جا تے۔ یہ جانور سبت کے  دن نئے  چاند کی تقریب اور دوسرے  مخصوص موقعوں  پر پیش کئے  جا تے۔ یہ اسی طرح کئے  جاتے  تھے  جیسا کہ خداوند کی شریعت میں  لکھا ہے۔

4 حزقیاہ نے  یروشلم میں  رہنے  والے  لوگوں  کو حکم دیا کہ جو حصہ کاہنوں  اور لاویوں  کا ہے  وہ انہیں  دیں۔اس طرح کاہن اور لا وی اپنے  کام کو خداوند کی شریعت کے  مطابق انجام دینے  کے  قابل ہوں  گے۔

5 ملک کی چاروں  طرف کے  لوگوں  نے  اس حکم کے  بارے  میں  سنا۔اس لئے  بنی اسرائیلیوں  نے  اپنی فصل کا پہلا حصہ اناج انگور تیل شہد اور تمام چیزیں  جو ان کے  کھیتوں  میں  ہو تی تھیں د یئے۔ وہ لوگ ان تمام چیزوں  کا دسواں  حصہ کافی مقدار میں  لائے۔

6 اسرائیل اور یہوداہ کے  لوگ جو یہوداہ کے  شہروں  میں  رہتے  تھے  وہ بھی اپنے  مویشیوں  اور بھیڑوں  کا دسواں  حصہ لائے  وہ ان چیزوں  کا بھی دسواں  حصہ لائے  جو خاص جگہ رکھی جا تی تھیں  جو صرف خدا کے  لئے  تھیں۔ وہ ان تمام چیزوں  کو خداوند اپنے  خدا کے  لئے  لے  کر آئے  تھے۔ انہوں  نے  ان تمام چیزوں  کو ڈھیر لگا کر رکھ دیا۔

7 لوگوں  نے  تیسرے  مہینے  ( مئی / جون ) میں  اپنی چیزوں  کو لانا شروع کیا اور انہوں  نے  لانے  کے  کام کو ساتویں  مہینے  ( ستمبر / اکتوبر ) میں  پو را کیا۔

8 جب حزقیاہ اور قائدین آئے  تو انہوں  نے  ( جمع کی گئی چیزوں  کے  ) بڑے  بڑے  ڈھیروں  کو دیکھا۔انہوں  نے  خداوند اور اس کے  لوگ اور بنی اسرائیلیوں  کی تعریف کی۔

9 تب حزقیاہ نے  کاہنوں  اور لاویوں  سے  چیزوں  کے  جمع شدہ ڈھیر کے  متعلق پو چھا۔

10 اعلیٰ کاہن صدوق کے  خاندان کے  عزریاہ نے  حزقیاہ سے  کہا ” کیوں  کہ لوگوں  نے  نذرانوں  کو خداوند کی ہیکل میں  لا نا شروع کر دیا ہے  ہم لوگوں  کے  پاس کھانے  کے  لئے  بہت زیادہ ہے۔ ہم لوگوں  نے  پیٹ بھر کھا یا اور ابھی تک ہم لوگوں  کے  پاس بہت بچا ہے۔ خداوند نے  اپنے  لوگوں  پر فضل کیا ہے۔ اسی لئے  ہم لوگوں  کے  پاس یہ سب کچھ بچا ہے۔ ”

11 تب حزقیاہ نے  کاہنوں  کو حکم دیا کہ وہ خداوند کی ہیکل میں  ایک بھنڈار تیار کریں  اور اسے  تیار کر دیا گیا تھا۔

12 تب کاہنوں  نے  تحفہ نذرانے  کا دسواں  حصّہ اور دوسری چیزیں  لائے  جو خداوند کو دینے  کے  لئے  تھیں۔ وہ تمام چیزیں  جو جمع تھیں  انہیں  ہیکل کے  بھنڈار میں  رکھا گیا۔ لا وی کنعانیاہ جمع شدہ چیزوں  کا نگراں  کار تھا۔سمعی ان چیزوں  کا دوسرا نگراں  کار تھا۔سمعی کنعانیاہ کا بھائی تھا۔

13 کنعانیاہ اور اس کا بھائی سمعی ان آدمیوں  کے  نگراں  کا رتھے  : یحی ایل عزریاہ نحات عساہیل یریموت یوزبد الی ایل اِسما کیاہ محت اور بنایا ہ۔ حزقیاہ بادشاہ اور عزریاہ جو ہیکل کا سرکاری عہدیدار تھا اس نے  ان آدمیوں  کوچُنا۔

14 قور یمنہ کا بیٹا جو لا وی تھا مشرقی پھاٹک کا پہریدار تھا اور نذرانوں  کا نگراں  کار تھا جو لوگ آزادانہ طور پر خداوند کو پیش کرتے  تھے  وہ ان جمع شدہ چیزوں  کے  تقسیم کرنے  کا ذمہ دار تھا جو جمع کئے  گئے  تھے  اور خداوند کو دیئے  گئے  تھے۔ اور وہ تحفے  جو مقدس کئے  گئے  تھے۔

15 عدن بنیمین یشوع سمعیاہ امریاہ اور سکنیاہ نے  قور کی مدد کی۔ان آدمیوں  نے  وفاداری سے  شہروں  میں  خدمت کی جہاں  کاہن رہتے  تھے۔ انہوں  نے  کاہنوں  کے  گروہ کو حصّہ دیا۔ اور اس کو یقینی بنایا کہ کیا سب سے  چھوٹا اور سب سے  بڑا سب کو اس کا صحیح حصّہ ملا۔

16 یہ لوگ جمع شدہ چیزوں  کو تین برس کے  لڑکے  اور اس سے  بڑی عمر کے  اُن لڑکوں  کو بھی دیتے  تھے  جن کا نام لاویوں  کی خاندانی تاریخ میں  ہوتا تھا۔ ان تمام لوگوں  کو خداوند کی ہیکل میں  روزانہ خدمت کرنے  کے  لئے  جانا پڑتا تھا۔ ہر ایک گروہ کو اپنا سونپا ہوا کام دیئے  گئے  وقت پر انجام دینا پڑتا تھا۔

17 کاہنوں  کا ان کا حصّہ ان کے  خاندانی گروہ کے  مطابق دیا جاتا تھا۔اسی طرح سے  ۲۰ سال یا اس سے  زیادہ عمر والے  لاویوں  کواس کو سونپے  گئے  کام اور کاموں  کے  درجے  کے  مطابق حصہ دیا جاتا تھا۔

18 لاوی بچے   بیویاں  بیٹے  اور بیٹیاں  بھی جمع شدہ کا حصہ پاتے  تھے۔ یہ ان تمام لاویوں  کے  لئے  کیا جاتا تھا جو خاندان کی تاریخ میں  شامل تھے۔ یہ اس لئے  ہوا کہ لا وی اپنے  کو پاک اور خدمت کے  لئے  تیار رکھنے  میں  سختی سے  یقین رکھتے  تھے۔

19 کاہن ہارون کی کچھ نسلوں  کے  پاس کچھ کھیت شہر کے  قریب تھے  جہاں  لاوی رہتے  تھے۔ اور ہارون کی کچھ نسلیں  شہروں  میں  بھی رہتی تھیں۔ ان شہروں  میں  سے  ہر ایک شہر میں  کچھ آدمیوں  کو نام لے  کر ہارون کی نسلوں  کو جمع شدہ چیزوں  میں  حصہ دینے  کے  لئے  مقرر کئے  گئے۔ سبھی مرد اور وہ تمام جن کے  نام لا وی لوگوں  کی تاریخ میں  درج تھے  جمع شدہ چیزوں  میں  حصہ پائے۔

20 اس طرح بادشاہ حزقیاہ نے  سارے  یہوداہ میں  وہ تمام اچھے  کام کئے  اس نے  وہی کیا جو خداوند اس کے  خدا کی مرضی میں  اچھا صحیح اور قابل بھروسہ تھا۔

21 اس نے  جو بھی کام ہیکل کی خدمت میں  اصولوں  اور احکام کے  مطابق اپنے  خدا کے  احکام پو رے  کئے  اس میں  اسے  کامیابی ہو ئی۔حزقیاہ نے  یہ سب کام اپنے  دل سے  کیا۔

 

 

 

باب :  32

 

 

 

1 ان تمام چیزوں  کے  بعد حزقیاہ نے  وہ تمام کام بھی وفاداری سے  پو را کئے۔ اسور کا بادشاہ سخیریب ملک یہوداہ پر حملہ کرنے  آیا۔ سخیریب اور اس کی فوج نے  قلعہ کے  باہر خیمے  ڈالے  اس نے  اس لئے  ایسا تاکہ وہ شہروں  کو فتح کرنے  کے  منصوبے  بناس کے۔ سخیریب ان شہروں  کو اپنے  لئے  فتح کرنا چاہتا تھا۔

2 حزقیاہ جانتا تھا کہ وہ یروشلم اور اس پر حملہ کرنے  آیا ہے۔

3 تب حزقیاہ نے  اپنے  عہدیداروں  اور فوج کے  عہدیداروں  سے  مشورہ کیا۔ وہ اس بات کے  ہم خیال ہوئے  کہ شہر کے  باہر چشموں  کے  پانی کے  بہاؤ کو روک دیا جائے  ان عہدیداروں  اور فوجی عہدیداروں  نے  حزقیاہ کی مدد کی۔

4 بہت سے  لوگ ایک ساتھ آئے  اور انہوں  نے  چشموں  اور نالوں  کے  پانی کے  بہاؤ کو جو ملک کے  درمیان میں  بہتے  تھے  روک دیا۔ انہوں  نے  کہا ” جب اسور کا بادشاہ یہاں  آتا ہے  تو اسے  زیادہ پانی کیوں  ملنا چاہئے۔ ”

5 حزقیاہ نے  یروشلم کو پہلے  سے  مضبوط بنا یا۔ ایسا اس نے  اس طریقے  سے  کیا : اس نے  دیوار کے  ٹوٹے  حصّوں  کو پھر سے  بنا یا۔ اس نے  دیواروں  پر مینار بنائے۔ اس نے  پہلی دیوار کے  باہر دوسری دیوار بنا ئی۔ اس نے  پھر پرانے  یروشلم کے  مشرقی جانب مضبوط جگہیں  بنائیں۔ اس نے  کئی ہتھیار اور ڈھا لیں  بنائیں۔

6 حزقیاہ نے  فو جی افسروں  کو لوگوں  کا نگراں  کار چُنا۔ وہ ان افسروں  سے  شہر کے  پھا ٹک کے  قریب کھلی جگہ پر ملا۔ حزقیاہ نے  ان افسروں  سے  بات کی اور ان کی ہمت بڑھا ئی۔ اس نے  کہا ” بہادر بن کر مضبوطی سے  جمے  رہو۔ اسور کے  بادشاہ سے  یا اس کے  ساتھ کی بڑی فوج سے  نہ ڈرو اور نہ ہی پریشان ہو ہمارے  پاس اسور کے  بادشاہ سے  زیادہ عظیم طاقت ہے۔

7  8 اسور کے  بادشاہ کے  پاس صرف آدمی  ہیں  لیکن ہمارے  ساتھ خداوند ہمارا خدا ہے۔ ہمارا خدا ہماری مدد کرے  گا۔ وہ ضرور ہماری جنگ لڑے  گا۔” اس لئے  یہوداہ کا بادشاہ حزقیاہ نے  لوگوں  کی ہمّت بڑھائی اور انہیں  مضبوط بنا یا۔

9 جب سخیریب اسور کا بادشاہ اور اس کے  تمام فو جی لکیس قصبہ کا محاصرہ کیا ہوا تھا۔ تو وہ یروشلم میں  یہوداہ کا بادشاہ حزقیاہ اور یہوداہ کے  تمام لوگوں  کے  پاس اپنے  عہدیداروں  کو بھیجے۔ سخیریب کے  عہدیدار حزقیاہ اور یروشلم کے  تمام لوگوں  کے  لئے  ایک پیغام لے  گئے۔

10 انہوں  نے  کہا ” اسور کا بادشاہ سخیریب یہ کہتا ہے  : تم کس پر بھروسہ کرتے  ہو جو یروشلم میں  جنگ کی حالت میں  ٹھہر نا سکھاتا ہے ؟

11 حزقیاہ تمہیں  بے  وقوف بنا رہا ہے۔ تمہیں  یروشلم میں  ٹھہرنے  کے  لئے  دھو کہ دیا جا رہا ہے۔ اس طرح تم بھو ک پیاس سے  مر جاؤ گے۔ حزقیاہ تم سے  کہتا ہے  : ” خداوند ہمارا خدا ہمیں  اسور کے  بادشاہ سے  بچائے  گا۔”

12 حزقیاہ نے  ضرور خداوند کی اعلیٰ جگہوں  اور قربان گاہوں  کو ہٹا یا ہے۔ اس نے  یہوداہ اور اسرائیل سے  تم لوگوں  سے  کہا کہ تم لوگوں  کو صرف ایک قربان گاہ پر عبادت کرنی اور بخور جلانا چاہئے۔

13 بیشک تم جانتے  ہو کہ میرے  آباء و اجداد نے  اور میں  نے  جو دوسرے  ملکوں  کے  لو گوں  کے  ساتھ کیا ہے۔ ان دوسرے  ملکوں  کے  دیوتا ان کے  لوگوں  کو نہیں  بچاس کے   وہ دیوتا مجھے  ان کے  لوگوں  کو تباہ کرنے  سے  روک نہیں  سکے۔

14 میرے  آباء و اجداد نے  ان ملکوں  کو تباہ کیا۔ کوئی ایسا دیوتا نہیں  جو اپنے  لوگوں  کو مجھ سے  تباہ ہونے  سے  روکے۔ اس لئے  تم سوچو کہ کیا تمہارے  دیوتا تم کو مجھ سے  بچا سکتے  ہیں ؟

15 حزقیاہ کو تمہیں  بے  وقوف بنانے  اور دھو کہ دینے  نہ دو۔ اس پر بھرو سہ نہ کرو۔ کیوں  کہ کسی قوم یا بادشاہت کا کوئی خداوند ہم سے  یا ہمارے  آباء و  اجداد سے  اپنے  لوگوں  کو بچانے  کے  قابل نہیں  ہوا ہے۔ اس لئے  ایسا نہ سو چو کہ دیوتا مجھے  تمہیں  تباہ کرنے  سے  روک سکتے  ہیں۔”

16 بادشاہ اسور کے  عہدیداروں  نے  اس سے  بھی بری باتیں  خداوند خدا اور خدا کے  خادم حزقیاہ کے  خلاف کہی۔

17 اسور کے  بادشاہ نے  ایسے  خط بھی لکھے  جس سے  خداوند اسرائیل کے  خدا کی بے  عزتی ہوتی تھی۔ اسور کے  بادشاہ نے  ان خطوں  میں  جو کچھ لکھا تھا وہ یہ ہے  : ” دوسرے  ملکوں  کے  دیوتا جس طرح اپنے  لوگوں  کو مجھ سے  تباہ ہونے  سے  نہیں  بچاس کے   اسی طرح حزقیاہ کا خداوند اپنے  لوگوں  کو میرے  ذریعہ تباہ ہونے  سے  نہیں  روک سکتا۔

18 تب اسور کے  بادشاہ کے  خادم یروشلم کے  ان لوگوں  پر زور سے  چلّائے  جو شہر کی دیوار پر تھے۔ ان خادموں  نے  اس وقت عبرانی زبان کا استعمال کیا جب وہ دیوار پر کے  لوگوں  کے  ساتھ چلائے۔ اسور کے  بادشاہ کے  لئے  ان خادموں  نے  یہ سب اس لئے  کیا کہ یروشلم میں  لوگ ڈر جائیں۔ انہوں  نے  وہ باتیں  اس لئے  کیں  کہ یروشلم شہر پر قبضہ کر سکیں۔

19 اسور کے  بادشاہ کے  خادموں  نے  یروشلم کے  خدا کے  خلاف ویسا ہی بولا جیسا کہ انہوں  نے  ان دیوتاؤں  کے  خلاف بولا جن کی پرستش دنیا کے  لوگ کرتے  تھے۔ لوگوں  نے  ان دیوتاؤں  کو اپنے  ہاتھوں  سے  بنا یا تھا۔

20 بادشاہ حزقیاہ اور آموص کے  بیٹے  یسعیاہ نبی اس مسئلے  کے  لئے  دعا کی انہوں  نے  زور سے  جنت کو پکا را۔

21 تب خداوند نے  ایک فرشتے  کو بادشاہ اسور کے  خیمہ پر بھیجا۔ اس فرشتے  نے  تمام سپاہیوں  قائدین اور اسور کی فو ج کے  عہدیداروں  کو مار ڈالا۔ اس لئے  اسور کا بادشاہ اپنے  ملک میں  اپنے  گھر کو واپس گیا۔ اور اس کے  لوگ اس کی وجہ سے  شرمندہ ہوئے۔ وہ ان کے  دیوتا کے  گھر میں  گیا اور اس کے  کچھ بیٹوں  کو تلوار سے  مار ڈالا۔

22 اس لئے  خداوند نے  حزقیاہ اور یروشلم کے  لوگوں  کو اسور کے  بادشاہ سخیریب اور دوسرے  لوگوں  سے  بچا یا۔ خداوند نے  حزقیاہ اور دوسرے  لوگوں  کی دیکھ بھال کی۔

23 کئی لوگ یروشلم میں  خدا کے  لئے  تحفے  لائے۔ انہوں  نے  یہوداہ کے  بادشاہ حزقیاہ کے  لئے  قیمتی چیزیں  لائیں۔ اس وقت تمام قوموں  نے  بادشاہ حزقیاہ کی عزت کی۔

24 ان دنوں  حزقیاہ بہت بیمار پڑا۔ اور موت کے  قریب تھا۔ اس نے  خداوند سے  دعا کی۔ خداوند نے  حزقیاہ سے  کہا اور اسے  ایک نشان دیا۔

25 لیکن حزقیاہ کا دل غرور سے  بھرا تھا۔ اس لئے  اس نے  خدا کی مہر بانی کے  لئے  خدا کا شکر ادا نہیں  کیا اسی لئے  خدا حزقیاہ یہوداہ اور یروشلم کے  لوگوں  پر غصہ کیا۔

26 لیکن حزقیاہ اور یروشلم میں  رہنے  والے  لوگوں  نے  اپنے  دلوں  اور زندگیوں  کو بدل دیا۔ وہ خاکسار ہوئے  اور غرور کرنا چھوڑ دیئے۔ اس لئے  جب تک حزقیاہ زندہ رہا خداوند کا غصہ اس پر نہیں  ہوا۔

27 حزقیاہ کے  پاس بہت عزت اور دولت تھی اس نے  سونے  چاندی اور قیمتی جواہرات مصالحے   ڈھالیں  اور ہر قسم کی چیزوں  کو رکھنے  کے  لئے  جگہ بنائی تھی۔

28 حزقیاہ نے  اناج مئے  اور تیل رکھنے  کے  لئے  گودام بنائے۔ اس کے  پاس مویشی کے  لئے  تھان اور سبھی بھیڑوں  کے  لئے  بھی تھان تھے۔

29 حزقیاہ نے  کئی شہر بھی بنائے  تھے  اور وہ بھیڑوں  کی کئی جھنڈ اور مویشی بھی پائے۔ خدا نے  حزقیاہ کو بہت زیادہ دولت دی تھی۔

30 یہ حزقیاہ ہی تھا جس نے  یروشلم میں  جیحون چشمے  کے  اوپری پانی کے  بہاؤ کے  منبع کو رو کا اور پانی کے  بہاؤ کو شہر کے  نیچے  سے  شہر داؤد کے  مغربی جانب موڑ دیا۔ اور خزقیاہ نے  جو کام کیا اس میں  کامیاب رہا۔

31 ایک با بل کے  قائدین نے   سفیروں  کو حزقیاہ کے  پاس بھیجا۔ ان قاصدوں  نے  ایک نامعلوم نشان کے  بارے  میں  پو چھا جو قوموں  پر ظاہر ہوا تھا۔ جب وہ آئے  خدا نے  حزقیاہ کو آزمانے  کے  لئے  کہ اس کے  دل میں  کیا ہے  اسے  تنہا چھوڑ دیا۔

32 دوسرے  کام جو حزقیاہ نے  کیا اور اس نے  کس طرح خداوند سے  محبت کی ” آموص کے  بیٹے  یسعیاہ کی رو یا”‘ نامی کتاب اور ” تاریخ سلاطین یہوداہ اور اسرائیل ” نامی کتاب میں  لکھے  ہوئے  ہیں۔

33 حزقیاہ مر گیا اور اس کے  آباء و  اجداد کے  ساتھ دفنایا گیا۔ لوگوں  نے  اس کو پہاڑی پر دفنایا جہاں  داؤد کے  آباء و  اجداد ہیں۔ تمام یہوداہ کے  لوگ اور وہ جو یروشلم میں  رہتے  تھے  انہوں  نے  حزقیاہ کی تعظیم کی جب وہ مر گیا۔منّسی حزقیاہ کی جگہ نیا بادشاہ ہوا۔ منسّی حزقیاہ کا بیٹا تھا۔

 

 

 

 

باب :  33

 

 

1 منسی ۱۲ سال کا تھا جب وہ یہوداہ کا بادشاہ ہوا۔ وہ ۵۵ سال تک یروشلم میں  بادشاہ رہا۔

2 منسّی نے  وہ سب کیا جو خداوند نے  غلط کہا تھا۔ اس نے  دوسری قوموں  کے  کئے  گئے  بھیانک اور گناہ آلود طریقوں  پر عمل کیا۔ جسے  خداوند نے  بنی اسرائیلیوں  کے  سامنے  باہر نکل جانے  کے  لئے  مجبور کیا تھا۔

3 منسی نے  پھر ان اعلیٰ جگہوں  کو بنا یا جنہیں  اس کے  باپ نے  تباہ کر دیا تھا۔ منّسی نے  بعل دیوتاؤں  کی قربان گا ہیں  بنائیں  اور آشیرہ کے  ستون کو کھڑا کیا۔ اس نے  ستاروں  کی پرستش کی اور ستاروں  کے  مجموعہ ( کہکشاں  ) کی پرستش کی۔

4 منسی نے  جھوٹے  خداؤں  کی قربان گا ہیں  بنائیں۔خداوند نے  گھر کے  متعلق کہا تھا ” میرا نام یروشلم میں  ہمیشہ رہے  گا۔”

5 منسی نے  تمام ستاروں  کے  مجموعہ کے  لئے  خداوند کے  گھرکے  دونوں  آنگنوں  میں  قربان گا ہیں  بنائیں۔

6 منّسی نے  اپنے  بچوں  کو بھی قربانی کے  لئے  بن ہنوم کی وادی میں  جلایا۔منسّی نے  مستقبل کو جان نے  کے  لئے  جا دو کا استعمال کیا۔ اس نے  مُردہ لوگوں  کی روحوں  سے  بات کرنے  والے  کے  ساتھ باتیں  کیں۔منسّی نے  خداوند کی مرضی کے  خلاف کام کئے  اور اسی لئے  خداوند کو غصہ میں  لا یا۔

7 منسی نے  دیوتا کا بُت بنایا اور اسے  ہیکل میں  رکھا۔خدا نے  داؤد اور اس کے  بیٹے  سلیمان سے  ہیکل کے  بارے  میں  کہا تھا “میں  اس عمارت اور یروشلم میں  اپنانام ہمیشہ کے  لئے  رکھوں  گا یہ وہ شہر ہے  جسے  میں  تمام شہروں  اور تمام خاندانی گروہوں  سے  چُنا ہے  اور میرا نام وہاں  ابد الآباد رہے  گا۔

8 میں  پھر اسرائیلیوں  کو اس زمین سے  باہر نہیں  کروں  گا جسے  میں  نے  ان کے  آباء و  اجداد کو دینے  کے  لئے  چُنا۔ لیکن انہیں  ان اصولوں  کے  مطابق کام کرنا چاہئے  جنہیں  میں  نے  موسیٰ کو انہیں  دینے  کے  لئے  دیں۔”

9 منسیّنے  یہوداہ کے  لوگوں  اور یروشلم میں  رہنے  والے  لوگوں  کو گناہ کرنے  کے  لئے  اکسا یا۔ اس نے  ان قوموں  سے  بھی بڑا گناہ کیا جنہیں  خداوند نے  تباہ کیا تھا۔ جو اسرائیلیوں  سے  پہلے  اس ملک میں  تھے۔

10 خداوند نے  منسی اور اس کے  لوگوں  سے  بات چیت کی لیکن انہوں  نے  سننے  سے  انکار کر دیا۔

11 اس لئے  خداوند نے  اسور کے  بادشاہ کے  سپہ سالاروں  کو یہوداہ پر حملہ کرنے  کے  لئے  بھیجا۔ ان سپہ سالاروں  نے  منسسی کو پکڑ لیا اور اسے  قیدی بنا لیا۔ انہوں  نے  اس کو بیڑیاں  پہنا دیں  اور اس کے  ہاتھوں  میں  پیتل کی زنجیر ڈالی۔ انہوں  نے  منسّی کو قیدی بنا یا اور اسے  ملک بابل لے  گئے۔

12 منسّی کو تکلیف ہوئی اس وقت اس نے  خداوند اپنے  خدا سے  مدد مانگی۔ منسّی نے  اپنے  آپ  کو اپنے  آباء و  اجداد کے  خدا کے  سامنے  خاکسار کیا۔

13 منسّی نے  خدا سے  دعا کی اور خدا سے  مدد مانگی۔ خداوند نے  منسّی کی طلب کو سنا اور اس پر رحم کیا۔ خداوند نے  اس کو یروشلم کو اس کے  تخت پر واپس جانے  دیا۔ تب منسّی نے  جانا کہ خداوند ہی سچّا خدا ہے۔

14 جب یہ واقعات ہوئے  تو منسی نے  شہر داؤد کے  لئے  بیرونی دیوار بنا ئی۔ یہ بیرونی دیوار ( قدرون ) وادی میں  جیحون کے  چشمے  تک مچھلی دروازہ کے  داخلہ تک اور عوفل پہاڑی کے  چاروں  طرف پھیلی ہوئی تھی۔ اس نے  دیوار کو بہت اونچی بنا یا تب اس نے  عہدیداروں  کو یہوداہ کے  تمام قلعوں  میں  رکھا۔

15 منسّی نے  غیر معروف خداوند کی مورتیوں  کو ہٹا یا۔ اس بت کو خداوند کی ہیکل سے  باہر لایا۔ اس نے  تمام قربان گاہوں  کو خداوند کی ہیکل سے  دیو مورتیوں  کو باہر کیا۔ اس نے  ان تمام قربان گاہوں  کو ہٹا یا جسے  اس نے  ہیکل کی پہاڑی پر اور یروشلم میں  بنا یا تھا۔ منسّی نے  ان تمام قربان گاہوں  کو یروشلم شہر کے  باہر پھینکا۔

16 تب اس نے  خداوند کی قربان گاہ قائم کی اور اس پر قربانی اور شکر کا نذرانہ پیش کیا۔ منسّی نے  تمام یہوداہ کے  لوگوں  کو حکم دیا کہ خداوند خدا کی خدمت کریں۔

17 لوگوں  نے  اعلیٰ جگہوں  پر قربانی دینا جاری رکھا لیکن ان کی قربانیاں  صرف خداوند خدا کے  لئے  تھیں۔

18 دوسرے  کام جو منسّی نے  کئے  اور اپنے  خدا سے  دعائیں  اور نبیوں  کے  الفاظ جو خداوند اسرائیل کے  خدا کے  نام پر کہا گیا وہ تمام ” اسرائیل کے  بادشاہوں  کے  سرکاری دستاویز ” نامی کتاب میں  لکھے  ہوئے  ہیں۔

19 منسّی کی دعائیں  اور جس طرح سے  خدا نے  انہیں  سُنا اور اس کے  لئے  دکھ محسوس کیا وہ ساری باتیں  ‘ نبیوں  کی کتاب ‘ میں  لکھی ہوئی ہیں۔ اور منسّی کے  گناہ اور غلطیاں  اس کے  خاکسار ہونے  سے  پہلے   اور اس نے  اعلیٰ جگہیں  بنائیں  اور آشیرہ کے  ستون کو قائم کیا وہ تمام بھی ” نبیوں  کی کتاب ” میں  لکھا ہوا ہے۔

20 آخر کار منسّی مر گیا۔ اور اپنے  آباء و  اجداد کے  ساتھ دفن ہوا۔ لوگوں  نے  منسی کو خود اس کے  بادشاہ کے  محل میں  دفن کیا۔ امّون منسّی کی جگہ نیا بادشاہ ہوا۔ امُون منسّی کا بیٹا تھا۔

21 امُون بائیس سال کا تھا جب وہ یہوداہ کا بادشاہ ہوا۔ اس نے  یروشلم میں  دو سال تک حکو مت کی۔

22 امون نے  خداوند کے  سامنے  اپنے  باپ منسی کی طرح برائیاں  کیں۔ امون نے  تمام بتوں  پر جو اس کے  باپ منسّی کی تراشی ہوئی تھیں  قربانی پیش کی اس نے  ان بُتوں  کی پرستش کی۔

23 امُون اپنے  باپ کی طرح خداوند کے  سامنے  عاجز نہیں  ہوا لیکن امون زیادہ سے  زیادہ گناہ کرتا گیا۔

24 امون کے  خادموں  نے  اس کے  خلاف منصوبہ بنا یا انہوں  نے  امون کو اس کے  گھر ہی میں  مار ڈالا۔

25 لیکن یہوداہ کے  لوگوں  نے  ان تمام خادموں  کو مار ڈالا جنہوں  نے  بادشاہ امون کے  خلاف منصوبے  بنائے  تھے۔ تب لوگوں  نے  یوسیاہ کو نئے  بادشاہ کے  طور پر چُنا۔ یوسیاہ امون کا بیٹا تھا۔

 

 

 

باب :  34

 

 

1 یوسیاہ جب بادشاہ ہوا تو وہ آٹھ سال کا تھا۔ وہ یروشلم میں  ۳۱ سال تک بادشاہ رہا۔

2 یوسیاہ نے  وہی کیا جو راستی کے  کام تھے۔ اس نے  وہی کیا جو خداوند اس سے  کر وانا چاہتا تھا۔ اس نے  اپنے  آباء و  اجداد داؤد کی طرح نیک کام کئے۔ یوسیاہ صحیح کام کرنے  سے  نہیں  ہٹا۔

3 جب یوسیاہ کی بادشاہت کے  ۸ سال ہوئے  تو اس نے  اپنے  آباء و  اجداد داؤد کے  خدا کی راہ پر چلنا شروع کیا۔ جب کہ وہ ابھی بچہ ہی تھا کہ اس نے  خدا کا حکم ماننا شروع کیا۔ جب یو سیاہ کا یہوداہ پر بادشاہت کرتے  ہوئے  ۱۲ سال کا عرصہ گزر گیا تو وہ اعلیٰ جگہوں  آشیرہ کے  ستون تراشی ہوئی مورتیاں  اور یہوداہ اور یروشلم میں  سانچوں  میں  ڈھا لی ہوئی مورتیوں  کو تباہ کرنی شروع کر دی۔

4 لوگوں  نے  بعل دیوتا کی قربان گاہیں  توڑ دیں۔ انہوں  نے  ایسا یوسیاہ کے  سامنے  کیا۔ تب اس نے  بخور کو جلانے  کے  لئے  بنی ہوئی قربان گاہیں  تباہ کر دیں  جو لوگوں  سے  بھی بہت اونچی اٹھی تھیں۔ اس نے  تراشی ہوئی مورتیاں  اور سانچوں  کی ڈھا لی ہوئی مورتیاں  بھی توڑ ڈالیں  اس نے  ان کو توڑ کر باریک دھول کی طرح بنا دیا۔ تب یوسیاہ نے  اس دھول کو ان لوگوں  کی قبروں  پر ڈالا جو بعل دیوتا کی قربانی پیش کرتے  تھے۔

5 یوسیاہ نے  ان کاہنوں  کی ہڈیوں  کو بھی ان کے  بعل دیوتاؤں  کی قربان گاہوں  پر جلا یا اس طرح یوسیاہ نے  مورتیوں  اور مورتی کی پرستش کو یہوداہ اور یروشلم سے  ختم کر دیا۔

6 یوسیاہ نے  یہی کام منسّی افرائیم شمعون اور نفتالی تک کی سر زمین کے  شہروں  تک کیا اس نے  ان شہروں  کے  قریب کے  کھنڈروں  کے  ساتھ بھی کیا۔

7 یو سیاہ نے  قربان گاہوں  اور آشیرہ کے  ستون کو توڑ دیا۔ اس نے  مورتیوں  کو پیس کر دھول بنا دیا۔ اس نے  سارے  ملک اسرائیل میں  ان بخور کی قربان گاہوں  کو کاٹ ڈالا جو بعل کی پرستش میں  کام آتی تھیں  تب یوسیاہ یروشلم واپس ہوا۔

8 جب یوسیاہ یہوداہ کی بادشاہت کی اٹھا رہویں  سال میں  تھا اس نے  سافن معسیاہ اور یوآخ کو دوبارہ خداوند خدا کی ہیکل کے  بنانے  کے  لئے  بھیجا۔ سافن کے  باپ کا نام اصلیاہ تھا۔ معسیاہ شہر کا قائد تھا اور یوآخ کے  باپ کا نام ئیہوآخز تھا۔ یوآخ وہ آدمی  تھا جس نے  جو کچھ واقعات ہوئے  اسے  لکھا۔ یوسیاہ نے  ہیکل کی مرمت کا حکم دیا جس سے  وہ یہوداہ اور ہیکل دونوں  کو پاک کیا۔

9 وہ لوگ اعلیٰ کاہن خلقیاہ کے  پاس آئے  انہوں  نے  اس کو وہ رقم دی جو لوگوں  نے  ہیکل کے  لئے  دی تھی۔ لاوی دربانوں  نے  اس رقوم کو منسّی افرائیم اور باقی بچے  ہوئے  بنی اسرائیلیوں  سے  جمع کیا تھا۔ انہوں  نے  اس رقم کو یہوداہ بنیمین اور یروشلم کے  تمام لوگوں  سے  بھی وصول کیا تھا۔

10 تب لاوی نسل کے  لوگوں  نے  یہ دولت ان آدمیوں  کو دی جو خداوند کی ہیکل میں  کام کی نگرانی کر رہے  تھے۔

11 انہوں  نے  بڑھئیوں  اور معماروں  کو پہلے  سے  کاٹی ہوئی بڑی چٹانوں  اور لکڑی خریدنے  کے  لئے  دولت دی۔ عمارتوں  کو پھر سے  بنانے  اور عمارتوں  میں  شہتیروں  کے  لئے  لکڑی کا استعمال کیا گیا۔ سابق میں  یہوداہ کے  بادشاہ ہیکلوں  کی نگرانی نہیں  کرتے  تھے۔ وہ عمارتیں  پرانی اور کھنڈر ہو گئیں  تھیں۔

12 لوگوں  نے  بھروسہ کے  قابل اور وفاداری کے  کام کئے  ان کے  نگراں  کار یحت اور عبدیاہ تھے۔ یحت اور عبدیاہ لاوی تھے  اور وہ مراری نسلوں  سے  تھے۔ دوسرے  نگراں  کار زکریاہ اور مسلام تھے  جو قہات کی نسلوں  سے  تھے۔ لاوی لوگ جو آلات موسیقی بجانے  میں  ماہر تھے  وہ بھی چیزوں  کو اٹھانے  والے  اور دوسرے  کاریگروں  کی نگرانی کرتے  تھے۔ کچھ لاوی سرکاری معتمدوں  اور منشیوں  اور دربانوں  کا کام کرتے  تھے۔

13  14 لاوی نسل کے  لوگوں  نے  اس دولت کو نکالا جو خداوند کی ہیکل میں  تھی۔ اسی وقت کاہن خلقیاہ نے  خداوند کی وہ شریعت کی کتاب حاصل کی جو موسیٰ کو دی گئی تھی۔

15 خلقیاہ نے  معتمد سافن سے  کہا ” میں  نے  خداوند کی ہیکل میں  شریعت کی کتاب پائی ہے ! ” خلقیاہ نے  سافن کو کتاب دی۔

16 سافن کتاب کو بادشاہ یوسیاہ کے  پاس لایا۔ سافن نے  بادشاہ کو اطلاع دی ” تمہارے  ملازم وہی کر رہے  ہیں  جو تم نے  ان سے  کرنے  کو کہا۔

17 انہوں  نے  خداوند کی ہیکل سے  دولت کو نکالا اور انہیں  نگراں  کاروں  اور کاریگروں  کو ادا کیا۔ ”

18 تب سافن نے  بادشاہ یوسیاہ سے  کہا ” کاہن خلقیاہ نے  مجھے  ایک کتاب دی ہے۔ ” تب سافن نے  کتاب میں  سے  پڑھا۔ وہ بادشاہ کے  سامنے  تھا اور پڑ ھ رہا تھا۔

19 جب بادشاہ نے  اس قانونی کتاب کے  الفاظ سنے  جو پڑھی گئی تو اس نے  اپنے  کپڑے  پھاڑ ڈالے۔

20 تب بادشاہ خلقیاہ اخیقام سافن کا بیٹا میکاہ کا بیٹا عبدون معتمد سافن اور عسایاہ خادم کو حکم دیا۔

21 بادشاہ نے  کہا ” جاؤ اور خداوند سے  میرے  بارے  میں  پو چھو اور لوگوں  کے  متعلق جو اسرائیل اور یہوداہ میں  رہ گئے  ہیں  پو چھو۔ کتاب میں  لکھے  ہوئے  الفاظ کے  متعلق پوچھو جو ملی ہے۔ خداوند ہم پر بہت غصہ میں  ہے  کیوں  کہ ہمارے  آباء و اجدادنے  خداوند کے  کلام کی فرمانبر داری نہیں  کی۔ اس کتاب میں  جو کچھ کرنے  کے  لئے  کہا گیا انہوں  نے  نہیں  کیا! ”

22 خلقیاہ اور بادشاہ کے  ملازم خلدہ نامی نبیہ کے  پاس گئے۔ خلدہ سلوم کی بیوی تھی۔سلوم تو قہت کا باٹا تھا۔تو قہت خسرہ کا بیٹا تھا۔ خسرہ بادشاہ کے  لباس کی دیکھ بھال کرتا تھا۔خلدہ یروشلم کے  نئے  علاقے  میں  رہتی تھی۔ اور انہوں  نے  یہ ساری باتیں  اس کو کہہ دیں۔

23 خلدہ نے  ان سے  کہا ” یہ سب خداوند اسرائیل کے  خدا نے  کہا ہے  : بادشاہ یوسیاہ سے  کہو :

24 خداوند جو کہتا ہے  وہ یہ ہے  : ‘ میں  اس جگہ اور یہاں  کے  رہنے  وا لوں  پر آفت لاؤں  گا۔میں  وہ تمام بھیانک باتیں  جو کتاب میں  لکھی ہیں  اور جو یہوداہ کے  بادشاہ کے  سامنے  پڑھی گئی ہیں  وہ سب لاؤں  گا۔

25 میں  اس لئے  ایسا کروں  گا کیونکہ لوگوں  نے  مجھے  چھوڑ دیا اور جھوٹے  خداؤں  کے  سامنے  بخور جلائیں۔ ان لوگوں  نے  مجھے  غصہ میں  اس لئے  لا یا کہ انہوں  نے  تمام برائیاں  کیں۔میرا غصہ ایک جلتی ہوئی آ گ ہے  جسے  بجھا یا نہیں  جا سکتا! ‘

26 “لیکن یہوداہ کے  بادشاہ یوسیاہ سے  کہو کہ اس نے  خداوند سے  پو چھنے  کے  لئے  تمہیں  بھیجا۔ خداوند اسرائیل کا خدا جو کہتا ہے  وہ یہ ہے  : جو تم نے  کچھ عرصے  پہلے  سُنا۔ان کے  متعلق کہتا ہوں  :

27 ‘ یوسیاہ تم نے  اپنے  کئے  پر پچھتاوا کیا تم نے  میرے  سامنے  اپنے  آپ  کو خاکسار کیا اور اپنے  کپڑے  پھاڑ ڈالے۔ اور تم میرے  سامنے  روئے۔ کیونکہ تمہارا دل نازک ہے۔ اس لئے  میں  نے  تیری دعا کو سنا۔

28 میں  تمہیں  تمہارے  آباء و  اجداد کے  پاس لے  جاؤں  گا تم اپنی قبر میں  سلامتی سے  جاؤ گے۔ تمہیں  کسی بھی مصیبتوں  کو دیکھنے  کی نوبت نہیں  آئے  گی جنہیں  میں  اس جگہ اور یہاں  کے  رہنے  والے  لوگوں  پر لاؤں  گا۔” خلقیاہ اور بادشاہ کے  ملازم یوسیاہ کے  پاس یہ پیغام لے  کر واپس ہوئے۔

29 بادشاہ یوسیاہ نے  یہوداہ اور یروشلم کے  تمام بزر گوں  کو آنے  اور اس سے  ملنے  کے  لئے  بلا یا۔

30 بادشاہ خداوند کی ہیکل میں  گیا۔ یہوداہ اور یروشلم کے  رہنے  والے  تمام لوگ کاہن لاوی لوگ معمولی اور غیر معمولی لوگ یو سیاہ کے  ساتھ تھے۔ یوسیاہ نے  ان سب کے  سامنے  ” معاہدہ کی کتاب ” کے  سبھی الفاظ پڑھے۔ وہ کتاب خدا کی ہیکل میں  ملی تھی۔

31 تب بادشاہ اپنی جگہ کھڑا ہوا اور اس نے  خداوند سے  اقرار کیا اور خداوند کے  اصول قانون اور احکامات کی تعمیل کا اقرار کیا۔ یوسیاہ نے  دل و جان سے  اطاعت کرنے  کا اقرار کیا۔ اس نے  معاہدہ کے  الفاظ جو کتاب میں  لکھے  تھے  اس کی اطاعت کرنے  کا اقرار کیا۔

32 تب یوسیاہ نے  یروشلم اور بنیمین کے  تمام لوگوں  سے  معاہدہ کو قبول کرنے  کا اقرار کر وایا۔ یروشلم میں  لوگوں  نے  خدا کے  معاہدہ کی تعمیل کی اس خدا کے  معاہدہ کا جس کے  حکم کی تعمیل اس کے  آباء و اجداد نے  کی تھی۔

33 یوسیاہ نے  بنی اسرائیلیوں  کی جگہوں  سے  مورتیوں  کو پھینکوا دیا خداوند ان مورتیوں  سے  نفرت کرتا ہے۔ یوسیاہ نے  اسرائیل کے  ہر ایک آدمی  کو اپنے  خداوند خدا کی خدمت میں  پہنچا یا جب تک کہ وہ زندہ رہا۔ لوگوں  نے  آباء و  اجداد کے  خداوند خدا کے  حکم کی تعمیل کرنا نہیں  چھوڑے۔

 

 

باب :  35

 

 

1 یروشلم میں  بادشاہ یوسیاہ نے  خداوند کے  لئے  فسح کی تقریب منا یا۔ پہلے  مہینے  کے  چودہویں  دن فسح کی تقریب کے  موقع پر فسح کا میمنہ قربان کیا۔

2 یوسیاہ نے  اپنا اپنا کام پورا کرنے  کے  لئے  کاہنوں  کو چُنا۔ اس نے  کاہنوں  کی اس وقت ہمت بڑھائی جب وہ خداوند کی ہیکل کی خدمت کرتے  تھے۔

3 یو سیاہ نے  ان لاوی لوگوں  سے  باتیں  کیں  جو بنی اسرائیلیوں  کو تعلیم دیتے  تھے  اور خداوند کی خدمت کے  لئے  مقدس بنائے  گئے  تھے۔ اس نے  ان لاوی لوگوں  سے  کہا : ” مقدس صندوق کو اس ہیکل میں  رکھو جسے  سلیمان نے  بنا یا تھا۔ سلیمان داؤد کا بیٹا تھا۔ داؤد اسرائیل کا بادشاہ تھا۔ مقدس صندوق کو دوبارہ پھر اپنے  کندھوں  پر ایک جگہ سے  دوسری جگہ نہ لے  جاؤ۔ اب اپنے  خداوند خدا کی خدمت کرو۔ خدا کے  لوگ کی بنی اسرائیلیوں  کی خدمت کرو۔

4 اپنے  آپ  کو اپنے  خاندانی گروہ اور فرقوں  کے  ساتھ ہیکل کی خدمت کے  لئے  تیار کرو۔ ان کاموں  کو کرو جنہیں  بادشاہ داؤد اور اس کے  بیٹے  سلیمان نے  تمہیں  کرنے  کے  لئے  دیا تھا۔

5 مقدس جگہ میں  لاوی لوگوں  کے  گروہ کے  ساتھ کھڑے  رہو۔ تم ایسا ہر خاندانی گروہ کے  ساتھ کرو۔تا کہ تم اسرائیلی لوگوں  کے  درمیان اپنے  بھا ئیوں  کا مدد گار ہو گے۔

6 فسح کی تقریب پر میمنہ کو ذبح خداوند کے  لئے  اپنے  آپ  کو پاک کرو میمنوں  کو اپنے  اسرائیلی بھائیوں  کے  لئے  تیار کرو۔ خداوند نے  جیسا بھی کرنے  کا حکم دیا ہے  ویسا ہی کرو۔ خدا نے  وہ تمام احکام موسیٰ کے  ذریعہ دیئے  تھے۔ ”

7 یوسیاہ نے  بنی اسرائیلیوں  کو ۰۰۰،۳۰ مینڈھے  اور بکریاں  فسح کی تقریب پر قربانی دینے  کے  لئے  دیں۔ اس نے  لوگوں  کو ۳۰۰۰ مویشی بھی دیئے۔ یہ تمام جانور بادشاہ یوسیاہ کے  جانوروں  میں  سے  تھے۔

8 یوسیاہ کے  عہدیداروں  نے  بھی کھلے  دل سے  جانور اور چیزیں  لوگوں  کو کاہنوں  کو اور لاویوں  کو فسح کے  استعمال کے  لئے  دیئے۔ کاہن خلقیاہ زکریاہ اور یحی ایل ہیکل کے  اعلیٰ عہدیدار تھے۔ انہوں  نے  فسح کی تقریب پر قربانی کے  لئے  ۲۶۰۰ میم نے  اور بکرے  دیئے  اور ۳۰۰ بیل کاہنوں  کو دیئے۔

9 کنعانیاہ نے  بھی سمعیاہ نتنی ایل اور اس کے  بھا ئیوں  کے  ساتھ حسبیاہ یعی ایل اور یوزبد نے  ۵۰۰۰ بھیڑ اور بکرے  فسح کی تقریب پر قربانی کے  لئے  دیئے  اور ۵۰۰ بیل لاویوں  کو دیئے۔ وہ لوگ لاویوں  کے  قائدین تھے۔

10 جب ہر چیز فسح کی تقریب شروع کرنے  کے  لئے  تیار ہو چکی تو کاہن اور لاوی لوگ جگہوں  پر گئے۔ یہ بادشاہ کے  حکم کے  مطابق ہوا۔

11 جب فسح کی تقریب پر قربانی کے  لئے  میمنوں  اور بکروں  کو ذبح کیا گیا تو لاوی لوگوں  نے  جانوروں  کے  چمڑے  اتارے  اور کاہنوں  کو خون دیا۔ کاہنوں  نے  خون کو قربان گاہ پر چھڑ کا۔

12 تب انہوں  نے  جانوروں  کو مختلف خاندان کے  گروہ کے  جلانے  کے  نذرانہ میں  استعمال کیا۔ یہ جلانے  کا نذرانہ اسی طریقے  سے  دیا گیا جیسا کہ موسیٰ کی شریعت میں  لکھا گیا تھا۔

13 لاویوں  نے  فسح کی تقریب کی قربانیوں  کو اسی طرح آگ پر بھو نا جس طرح انہیں  حکم دیا گیا تھا۔ اور انہوں  نے  مقدس نذرانوں  کی دیگچیوں  کیتلیوں  اور کڑھا ئیوں  میں  پکا یا۔ تب انہوں  نے  جلدی سے  لوگوں  کو گوشت دیا۔

14 جب یہ پورا ہوا تو لاویوں  کو ان کے  لئے  اور ان کاہنوں  کے  لئے  گوشت ملا جو ہارون کی نسل کے  تھے۔ ان کاہنوں  کو اندھیرا ہونے  تک کام میں  مشغول رکھا گیا۔ انہوں  نے  قربانی اور نذر کی چربی کو جلاتے  ہوئے  سخت محنت کی۔

15 آسف کے  خاندان کے  لا وی گلو کار ان جگہوں  پر پہنچے  جنہیں  بادشاہ داؤد نے  ان کو کھڑے  ہونے  کے  لئے  چُنا تھا۔ وہ آسف ہیمان اور بادشاہ کا نبی یدوتون تھے۔ ہر ایک دروازے  کا دربان اپنی جگہ نہیں  چھوڑ سکتے  تھے۔ کیوں  کہ ان کے  لاوی بھا ئیوں  نے  ہر وقت ہر چیز فسح کی تقریب کے  لئے  ان لوگوں  کے  لئے  تیار رکھا تھا۔

16 اس طرح اس دن سب کچھ خداوند کی عبادت کے  لئے  اسی طرح کیا گیا تھا جیسا کہ بادشاہ یوسیاہ نے  حکم دیا تھا۔ فسح کی تقریب منائی گئی اور خداوند کی قربان گاہ پر جلانے  کی قربانی پیش کی گئی۔

17 اسرائیل کے  جو لوگ وہاں  تھے  انہوں  نے  فسح کی تقریب منائی اور بغیر خمیری روٹی کی تقریب سات دن تک منائیں۔

18 کوئی اور فسح کی تقریب لوگوں  نے  سموئیل نبی کے  وقت سے  اس طرح سے  نہیں  منائی تھی۔ اسرائیل کے  بادشاہوں  میں  سے  بھی کسی نے  فسح کی تقریب اس طرح سے  نہیں  منائی۔ بادشاہ یوسیا کاہن لاوی خاندانی گروہ کے  لوگ اور یہوداہ اور بنی اسرائیل اور جو یروشلم میں  سب لوگوں  کے  ساتھ تھے  ایک خاص طریقے  سے  یروشلم میں  فسح کی تقریب منائی۔

19 یہ فسح کی تقریب یوسیاہ کی بادشاہت کے  اٹھارہویں  سال منائی گئی۔

20 جب یوسیاہ ہیکل کے  لئے  اچھا کام کر چکا اس وقت مصر کا بادشاہ نکوہ نے  شہر کرکمیس دریائے  فرات کے  پار کے  خلاف جنگ کرنے  فوج لے  کر آیا۔ نکوہ مصر کا بادشاہ تھا۔ بادشاہ یوسیاہ بادشاہ نکوہ سے  لڑنے  کے  لئے  باہر نکلا۔

21 لیکن نکوہ نے  یوسیاہ کے  پاس اپنے  قاصدوں  کو بھیجے  وہ یوسیاہ کے  سامنے  گئے  اور کہا ” بادشاہ یوسیاہ یہ جنگ آپ  کے  لئے  کوئی مسئلہ نہیں  ہے۔ میں  تمہارے  خلاف لڑنے  نہیں  آیا ہوں۔ میں  یہاں  اپنے  دشمنوں  سے  لڑنے  آیا ہوں۔ خدا نے  مجھے  جلدی کرنے  کو کہا ہے  خدا میرے  ساتھ ہے  اس لئے  مجھے  اکیلا چھوڑو۔ اگر تم ہمارے  خلاف لڑو گے  تو خدا تمہیں  تباہ کر دے  گا! ”

22 لیکن یوسیاہ نہیں  گیا اس نے  نکوہ سے  لڑ نا طئے  کیا۔ اس لئے  اس نے  اپنا بھیس بد لا اور جنگ لڑنے  گیا۔ جو کچھ نکوہ نے  خدا کے  احکام کے  متعلق کہا اسے  یوسیاہ نے  سننے  سے  انکار کیا۔ یوسیاہ مجدو کے  میدان میں  لڑنے  گیا۔

23 بادشاہ یوسیاہ جس وقت جنگ کے  میدان میں  تھا تو اسے  تیر مارا گیا تھا اس نے  اپنے  خادموں  سے  کہا ” مجھے  یہاں  سے  نکال کر لے  چلو میں  بری طرح زخمی ہوں ! ”

24 خادموں  نے  یوسیاہ کو رتھ سے  باہر نکالا اور اس کو دوسری رتھ میں  بٹھا یا جسے  وہ اپنے  ساتھ جنگ میں  لایا تھا۔ پھر وہ یوسیاہ کو یروشلم لے  گئے۔ بادشاہ یوسیاہ یروشلم میں  مرا۔ یوسیاہ کو وہیں  دفنا یا گیا جہاں  اس کے  آباء و  اجداد فنائے  گئے  تھے۔ یہوداہ اور یروشلم کے  تمام لوگ یوسیاہ کے  مرنے  سے  بہت رنجیدہ تھے۔

25 یرمیاہ نے  یوسیاہ کے  لئے  موت کے  گانے  لکھے  اور گائے  اور مرد گلو کار اور عورت گلو کارہ آج بھی وہ المیہ گانا گاتے  ہیں۔ یہ ایسا واقعہ ہوا جسے  بنی اسرائیل ہمیشہ کرتے  رہے۔ یوسیاہ کے  لئے  المیہ گیت ایک کتاب میں  اس کے  سوگ میں  لکھے  گئے۔

26 دوسرے  تمام کام جو یوسیاہ نے  اپنی بادشاہت کے  شروع سے  آخر تک کئے  وہ سب کے  سب ” تاریخ سلا طین اسرائیل و یہوداہ ” نامی کتاب میں  لکھے  ہوئے  ہیں۔ اس کتاب سے  خداوند سے  اس کی وفا داری اور اس نے  کس طرح خداوند کے  احکامات کی اطاعت کی تھی وہ ظاہر ہوتا ہے۔

27

 

 

 

باب :  36

 

 

1 یہوداہ کے  لوگوں  نے  یہو آخز کو یروشلم میں  نیا بادشاہ بنایا۔یہو آخز یوسیاہ کا بیٹا تھا۔

2 یہو آخز جب یہوداہ کا بادشاہ ہوا تھا وہ ۲۳ سال کا تھا۔ وہ یروشلم میں  تین مہینے  تک بادشاہ رہا۔

3 تب مصر کے  بادشاہ نکوہ نے  یہو آخز کو قیدی بنایا۔ نکوہ نے  یہوداہ کے  لوگوں  کو سوا تین ٹن چاندی اور ۷۵ پاؤنڈ سونا جرمانہ ادا کرنے  کے  لئے  کہا۔

4 نکوہ نے  یہو آخز کے  بھائی کو یہوداہ اور یروشلم کا نیا بادشاہ چُنا۔یہو آخز کے  بھائی کا نام الیاقیم تھا۔ پھر نکوہ نے  الیاقیم کا نیا نام دیا اس نے  اس کا نام یہو یقیم رکھا۔ لیکن نکوہ یہو آخز کو مصرلے  گیا۔

5 یہو یقیم جب یہوداہ کا نیا بادشاہ ہوا تو وہ ۲۵ سال کا تھا۔ وہ یروشلم میں  ۱۱ سال تک بادشاہ رہا۔ یہو یقیم نے  وہ کام نہیں  کئے  جو خداوند اس سے  چاہتا تھا کہ وہ کرے۔ اس نے  اپنے  خداوند خدا کے  خلاف گناہ کیا۔

6 بادشاہ نبو کد نضرنے  با بل سے  یہوداہ پر حملہ کیا۔اس نے  یہو یقیم کو قیدی بنایا اور اس کو کانسے  کی زنجیر ڈالی۔ پھر نبو کد نضرنے  یہو یقیم کو بابل لے  گیا۔

7 نبو کد نضرنے  خداوند کی ہیکل سے  کچھ چیزیں  لے  لیں  وہ ان چیزوں  کو با بل لے  گیا اور انہیں  اس کے  محل میں  رکھا۔

8 دوسرے  کام اور بھیانک گناہ اور ہر کچھ جو یہو یقیم نے  کئے  اس کے  لئے  وہ قصوروار تھا۔ وہ سب ” تاریخ سلاطین یہوداہ ” نامی کتاب میں  لکھا ہوا ہے۔ یہو یاکن یہو یقیم کی جگہ نیا بادشاہ ہوا یہو یاکن یہو یقیم کا بیٹا تھا۔

9 یہو یاکن جب یہوداہ کا بادشاہ ہوا تووہ ۱۸ سال کا تھا۔ وہ یروشلم میں  تین مہینے  دس دن تک بادشاہ رہا۔ اس نے  وہ کام نہیں  کئے  جو خداوند نے  چاہا۔ یہو یاکن نے  خداوند کے  حکم کے  خلاف گناہ کئے۔

10 بہار کے  موسم میں  بادشاہ نبو کد نضرنے  کچھ خادموں  کو یہو یاکن کو پکڑنے  کے  لئے  بھیجا۔انہوں  نے  یہو یاکن کو لا یا اور کچھ قیمتی چیزیں  خداوند کی ہیکل سے  بابل کو لائے۔ نبو کد نضرنے  صدقیاہ کو یہوداہ اور یروشلم کا نیا بادشاہ چُنا۔صدقیاہ یہو یاکن کے  رشتے  داروں  میں  سے  ایک تھا۔

11 صدقیاہ جب یہوداہ  کا بادشاہ ہوا تو اس وقت وہ ۲۱ سال کا تھا۔ وہ یروشلم میں  گیا رہ سال تک بادشاہ رہا۔

12 صدقیاہ نے  ویسا نہیں  کیا جیسا اس کا خداوند خدا چاہتا تھا کہ وہ ایسا کرے۔ صدقیاہ نے  اپنے  خداوند کے  خلاف گناہ کئے۔ یرمیاہ نبی نے  خداوند کی جانب سے  پیغام دیا۔لیکن اس نے  خود کو خاکسار نہیں  بنایا اور یرمیاہ نبی نے  جو کہا اس کی تعمیل نہیں  کی۔

13 صدقیاہ بادشاہ نبو کد نضر کے  خلاف مُڑے۔ کچھ عرصہ پہلے  نبو کد نضر نے  صدقیاہ کو وفاداری کا حلف دلوایا تھا کہ وہ

14 کاہنوں  کے  تمام گروہ اور یہوداہ کے  لوگوں  کے  قائدین نے   غیر یہودیوں  کے  نفرت انگیز گناہوں  سے  بڑھکر بُرا گناہ کئے۔ انہوں  نے  دوسری قوموں  کے  بُرے  اعمال کی راہ پر چلے۔ ان قائدین نے   خداوند کی ہیکل کو آلودہ کیا۔ خداوند نے  یروشلم میں  ہیکل کو پاک بنایا تھا۔

15 خداوند نے  ان کے  آباء و  اجداد کے  خدا نے  لوگوں  کو بار بار خبردار کرنے  کے  لئے  نبیوں  کو بھیجا۔خداوند نے  اپنے  گھر میں  لوگوں  پر رحم کیا تھا۔خداوند ان کو یا اس کے  گھر کو برباد کرنا نہیں  چا ہا۔

16 لیکن خدا کے  لوگوں  نے  خدا کے  نبیوں  کا مذاق اُڑا یا۔ انہوں  نے  خدا کے  نبیوں  کی بات سننے  سے  انکار کیا۔ انہوں  نے  خدا کے  پیغام سے  نفرت کی۔ خدا اپنے  لوگوں  سے  ناراض ہو گیا اور ایسا کچھ نہ تھا جو اسے  روکنے  کے  لئے  کیا جاس کے۔

17 اس لئے  خدا نے  بابل کے  بادشاہ کو یروشلم اور یہوداہ کے  لوگوں  پر حملہ کرنے  کے  لئے  لا یا۔ بابل کے  بادشاہ نے  نوجوانوں  کو مار ڈالا جب وہ اپنے  ہیکل میں  تھے۔ اس نے  یہوداہ اور یروشلم کے  لوگوں  پر رحم نہ کیا۔بابل کے  بادشاہ نے  صرف جوان اور بوڑھے  لوگوں  کو ہی نہیں  بلکہ اس نے  سارے  مردوں  اور عورتوں  کو بھی مار ڈالا۔ اس نے  بیماروں  اور تندرستوں  کو بھی ماردیا۔ خدا نے  نبو کد نضر کو یہوداہ اور یروشلم کے  لوگوں  کو سزا دینے  کی اجازت دے  دی۔

18 نبو کد نضر نے  ہیکل کی تمام چیزوں  کو با بل لے  گیا۔اس نے  تمام قیمتی چیزوں  کو ہیکل سے   بادشاہ سے   اور بادشاہ کے  افسروں  سے  لے  لیا۔

19 نبوکد نضر اور اس کی فوج نے  ہیکل کو جلا دیا۔انہوں  نے  یروشلم کی دیوار کو توڑ دیا اور اس نے  عہدیداروں  کے  گھروں  کو اور محلوں  کو جلا دیا۔ انہوں  نے  سبھی قیمتی چیزوں  کو تباہ کر دیا۔

20 نبو کد نضرنے  ان لوگوں  کو جو زندہ بچے  تھے  انہیں  بابل لے  گیا اور انہیں  ز بردستی غلام بنایا۔ وہ لوگ غلاموں  کی طرح بابل میں  اس وقت تک رہے  جب تک فارس کے  شہنشاہ نے  بابل کی حکومت کو شکست نہ دی۔

21ا سطرح خداوند نے  بنی اسرائیلیوں  پر جو یرمیاہ نبی سے  کہلوایا تھا ان واقعات کو ہونے  دیا۔ خداوند نے  یرمیاہ نبی کے  ذریعہ کہا تھا ” یہ جگہ ۷۰ سال تک ویران خالی رہے  گی۔ یہ سرزمین کو اجازت دے  گی کہ وہ اپنا سبت کا آرام کر لے  جسے  کہ لوگوں  نے  نہیں  دیکھے  تھے۔

22 یہ پہلے  سال کے  دوران ہوا جب فارس کا بادشاہ خورس حکومت کر رہا تھا۔ خداوند نے  یرمیاہ نبی کے  ذریعہ جو وعدہ کیا تھا پو را ہوا۔ خداوند نے  خورس کے  دل کو نرم کیا جس سے  اس نے  حکم لکھا اور اپنی حکومت میں  ہر جگہ بھیجا۔”

23 فارس کا بادشاہ خورس یہ کہتا ہے   خداوند جنت کے  خدا نے  مجھے  سار ی زمین کا بادشاہ بنایا ہے  اس نے  مجھے  اس کے  لئے  یروشلم میں  ہیکل بنانے  کی ذمہ داری دی ہے  اب تم سب جو خدا کے  لوگ ہو یروشلم جانے  کے  لئے  آزاد ہو۔ خداوند تمہارا خدا تمہارے  ساتھ رہے۔

٭٭٭

ماخذ:

http://gospelgo.com/a/urdu_bible.htm

پروف ریڈنگ: اویس قرنی، اعجاز عبید

تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید