FavoriteLoadingپسندیدہ کتابوں میں شامل کریں

 

فہرست مضامین

تحفۂ دعوت و ارشاد برائے اصلاح عمل و اعتقاد

 

                فضیلۃ الشیخ عبداللہ بن عبدالرحمن الجبرین حفظہ اللہ

 

                اردو ترجمہ: خورشید احمد عبد الجلیل

نظر ثانی: محمد اسماعیل عبدالحکیم :: ابوالمکرم عبدالجلیل

 

 

 

تقدیم

 

                فضیلۃ الشیخ عبداللہ بن عبدالرحمن الجبرین حفظہ اللہ

 

الحمدللہ رب العالمین، والعاقبۃ للمتقین، ولا عدوان الا علی الظالمین، و اشہد ان لا الہ الا اللہ لا شریک لہ ولا معین، و اشہد ان محمدا عبدہ و رسولہ الامین، صلی اللہ و سلم علیہ و علی الہ و اصحبہ اجمعین، اما بعد:

عقیدہ اور توحید عبادت نیز ان کی تنقیض شرک، کفر اور نفاق اور ان کے انواع و اقسام کے بیان پر یہ ایک مختصر مگر مفید کتابچہ ہے جسے بعض بھائیوں نے ائمہ دعوت رحمہم اللہ کی کتابوں اور بعض دیگر کتب سے مرتب کیا ہے، جو عام مسلمان کے لئے مفید ہے، اللہ تعالی اس کے مرتب اور شائع کرنے والے کو جزائے خیر عطا فرمائے۔

ہم اللہ تعالی سے دعا گو ہیں کہ وہ مسلمان کے احوال درست فرما دے اور جو بے راہ ہیں انہیں ہدایت سے نوازے۔

و صلی اللہ علی محمد و الہ و صحبہ و سلم۔

 

 

 

                لاالہ الااللہ کا مطلب اور اس کے شرائط

 

کلمہ طیبہ لاالہ الااللہ کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں۔

لاالہ الااللہ کے شرائط حسب ذیل ہیں:

پہلی شرط: نفی اور اثبات دونوں اعتبار سے لاالہ الااللہ کے معلی و مطلب کا ایسا علم رکھنا جو جہل کے منافی ہو،

اللہ تعالی کا ارشاد ہے:

 [{فَاعْلَمْ أَنَّہُ لا إِلَہَ إِلا اللَّہُ} (محمد:١٩)]

اپ یقین کر لیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔

دوسری شرط: یقین جو شک کے منافی ہو، اللہ تعالی کا ارشاد ہے:

[{إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ الَّذِينَ آمَنُوا بِاللَّہِ وَرَسُولِہِ ثُمَّ لَمْ يَرْتَابُوا} (الحُجرَات:١٥)]

مومن تو وہ ہیں جو اللہ پراور اس کے رسول پر ایمان لائیں پھر شک و شبہہ نہ کریں۔

تیسری شرط: اخلاص جو شرک کے منافی ہو۔ اللہ تعالی نے فرمایا:

 [{أَلا لِلَّہِ الدِّينُ الْخَالِصُ} (الزُّمَر:٣)]

خبردار! اللہ تعالی ہی کے لے خالص عبادت کرنا ہے۔

اور اللہ سبحانہ کا ارشاد ہے:

 [{وَمَا أُمِرُوا إِلا لِيَعْبُدُوا اللَّہَ مُخْلِصِينَ لَہُ الدِّينَ حُنَفَاءَ} (البَیّنَۃ :٥)]

انہیں اسکے سوا کوئی حکم نہیں دیا گیا کہ یکسو ہو کر صرف اللہ کی عبادت کریں، اسی کے لئے دین کو خالص رکھیں۔

چوتھی شرط: سچائی جو جھوٹ کے منافی ہو، اللہ تعالی نے فرمایا:

[{الم (١)أَحَسِبَ النَّاسُ أَنْ يُتْرَكُوا أَنْ يَقُولُوا آمَنَّا وَہُمْ لا يُفْتَنُونَ (٢)وَلَقَدْ فَتَنَّا الَّذِينَ مِنْ قَبْلِہِمْ فَلَيَعْلَمَنَّ اللَّہُ الَّذِينَ صَدَقُوا وَلَيَعْلَمَنَّ الْكَاذِبِينَ} (العَنکبوت:٣)]

الم (۱) کیا لوگوں نے یہ گمان کر رکھا ہے کہ صرف اس دعوے پر کہ ہم ایمان لئے ہیں ہم انہیں بغیر آزمائے ہوئے ہی چھوڑ دیں گے؟ ان سے اگلوں کو بھی ہم نے خوب جانچا، یقیناً اللہ تعالی انہیں بھی جان لے گا جو سچ کہتے ہیں اور انہیں بھی معلوم کر لے گا جو جھوٹے ہیں۔

پانچویں شرط: کلمہ لاالہ الااللہ اور اس کے مدلول اور تقاضوں سے محبت کرنا، اللہ تعالی کا ارشاد ہے:

[{وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَتَّخِذُ مِنْ دُونِ اللَّہِ أَنْدَادًا يُحِبُّونَہُمْ كَحُبِّ اللَّہِ وَالَّذِينَ آمَنُوا أَشَدُّ حُبًّا لِلَّہِ} (البَقَرَۃ :١٦٥)]

بعض لوگ ایسے بھی ہیں جو اللہ کے شریک اوروں کو ٹھہرا کر ان سے ایسی محبت رکھتے ہیں جیسی محبت اللہ سے ہونی چاہئے، اور ایمان والے اللہ کی محبت میں بہت سخت ہوتے ہیں۔

چھٹی شرط: کلمہ [ar]لا الہ الا اللہ[/ar] اور اس کے مدلول کی فرمانبرداری، اللہ تعالی نے فرمایا:

[{وَمَنْ يُسْلِمْ وَجْہَہُ إِلَى اللَّہِ وَہُوَ مُحْسِنٌ فَقَدِ اسْتَمْسَكَ بِالْعُرْوَۃِ الْوُثْقَى} (لقمَان:٢٢)]

اور جو اپنے کو اللہ کے تابع کر دے اور ہو بھی وہ نیکوکار یقیناً اس نے مضبوط کڑا تھام لیا۔

اور اللہ تعالی نے فرمایا:

 [{وَأَنِيبُوا إِلَى رَبِّكُمْ وَأَسْلِمُوا لَہُ} (الزُّمَر:٥٤)]

تم اپنے پروردگار کی طرف جھک پڑو اور اس کی حکم برداری کئے جاؤ۔

ساتویں شرط: اس کلمہ کے تقاضوں کو قول و عمل ہر پہلو سے قبول کرنا،

اللہ تعالی نے فرمایا:

[{إِنَّہُمْ كَانُوا إِذَا قِيلَ لَہُمْ لا إِلَہَ إِلا اللَّہُ يَسْتَكْبِرُونَ (٣٥)وَيَقُولُونَ أَئِنَّا لَتَارِكُو آلِہَتِنَا لِشَاعِرٍ مَجْنُونٍ} (الصَّافات:٣٦)]

یہ وہ ہیں کہ جب ان سے کہا جاتا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں تو یہ سرکشی کرتے تھے اور کہتے تھے کہ کیا ہم اپنے معبودوں کو ایک دیوانے شاعر کی بات پر چھوڑ دیں؟

 

                توحید اور اس کی اقسام

 

توحید یہ عقیدہ رکھنا ہے کہ بے شک اللہ سبحانہ و تعالی اپنی بادشاہت اور اپنے افعال میں یکتا ہے، نیز اپنی الوہیت و عبادت میں یکتا ہے جس کا کوئی شریک نہیں۔

اور توحید کی تین قسمیں ہیں:

توحید ربوبیت: اللہ تعالی کو اس کے افعال میں منفرد سمجھنا، جیسے یہ اقرار کرنا کہ بیشک اللہ ہی پیدا کرنے والا، روزی دینے والا اور کائنات کی تدبیر کرنے والا ہے، اللہ تعالی نے فرمایا:

 [{الْحَمْدُ لِلَّہِ رَبِّ الْعَالَمِينَ} (الفَاتِحَۃ:٢)]

سب تعریف اللہ تعالی کیلئے ہے جو تمام جہانوں کا پالنے والا ہے۔

اور فرمایا:

[{اور اللہ تعالی نے فرمایا: اللَّہُ الَّذِي خَلَقَكُمْ ثُمَّ رَزَقَكُمْ ثُمَّ يُمِيتُكُمْ ثُمَّ يُحْيِيكُمْ ہَلْ مِنْ شُرَكَائِكُمْ مَنْ يَفْعَلُ مِنْ ذَلِكُمْ مِنْ شَيْءٍ سُبْحَانَہُ وَتَعَالَى عَمَّا يُشْرِكُونَ} (الرُّوم:٤٠)]

اللہ تعالی وہ ہے جس نے تم کو پیدا کیا پھر تم کو روزی دی پھر مار ڈالے گا پھر زندہ کر دے گا،بتاؤ تمہارے شریکوں میں سے کوئی بھی ایسا ہے جو ان میں سے کچھ بھی کرسکتاہو، اللہ تعالی کے لیے پاکی اور برتری ہے ہے اس شریک سے جو یہ لوگ مقرر کرتے ہیں۔

توحید الوہیت: صرف اللہ تعالی کی عبادت و بندگی کرنا اور اسے شرک سے بری قرار دینا،

اللہ تعالی نے فرمایا:

 [{وَقَضَى رَبُّكَ أَلا تَعْبُدُوا إِلا إِيَّاہُ} (الإسرَاء:٢٣)]

اور تیرا پروردگار صاف صاف حکم دے چکا ہے کہ تم اس کے سوا کسی اور کی عبادت نہ کرنا۔

اور فرمایا:

[{وَاعْبُدُوا اللَّہَ وَلا تُشْرِكُوا بِہِ شَيْئًا} (النِّسَاء:٣٦)]

اللہ تعالی کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو۔

توحید اسماءوصفات: اور وہ یہ ہے کہ اللہ تعالی نے اپنے لئے اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے لئے جو اسماء و صفات بیان کئے ہیں ان پے ایمان رکھا جائے، بایں طور کہ ان کی کیفیت نہ متعین کی جائے، نہ مخلوق سے اس کو تشبیہ دی جائے اور نہ ہی ان کو بے معلی قرار دیا جائے اور نہ ہی ان کی تاویل کی جائے،

اللہ تعالی نے فرمایا:

[{لَيْسَ كَمِثْلِہِ شَيْءٌ وَہُوَ السَّمِيعُ الْبَصِيرُ} (الشّوریٰ:١١)]

اس جیسی کوئی چیز نہیں، اور وہ سننے اور دیکھنے والا ہے۔

اور فرمایا:

[{قُلْ ہُوَ اللَّہُ أَحَدٌ (١)اللَّہُ الصَّمَدُ (٢)لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ (٣)وَلَمْ يَكُنْ لَہُ كُفُوًا أَحَدٌ (الإخلاص:٤)]

كہو ! وہ اللہ ایک ہے، اللہ بےنیاز ہے، نہ اس سے کوئی پیدا ہوا نہ وہ کسی سے پیدا ہوا، اور نہ کوئی اس کا ہمسر ہے۔

 

 

 

                اسلام اور اس کے ارکان

 

اسلام کا مطلب ہے اللہ تعالی کی وحدانیت کا اقرار کرنا، اس کے آگے سراطاعت خم کر دینا، شرک اور اہل شرک سے اپنے کو بری قرار دینا اور اسلام کے ارکان مندرجہ ذیل ہیں:

اللہ کی وحدانیت اور محمد صلی اللہ علیہ و سلم کی رسالت کی گواہی دینا، نماز پڑھنا، زکوٰۃ دینا،(ماہ رمضان کے) روزے رکھنا اور بیت اللہ کا حج کرنا۔

 

ایمان اور اس کے ارکان

ایمان قول اور عمل کا مجموعہ ہے جو بڑھتا اور گھٹتا رہتا ہے۔

دل کا قول: اس کی تصدیق اور اقرار کرنا ہے،

اللہ تعالی کا ارشاد ہے:

 [{وَالَّذِي جَاءَ بِالصِّدْقِ وَصَدَّقَ بِہِ أُولَئِكَ ہُمُ الْمُتَّقُونَ} (الزُّمَر:٣٣)]

اور جو سچے دین کو لائے اور جس نے اس کی تصدیق کی یہی لوگ پرہیز گار ہیں۔

دل کا عمل: دل کا مطیع اور فرمانبردار ہونا ہے،

اللہ تعالی کا ارشاد ہے:

[{وَأَنِيبُوا إِلَى رَبِّكُمْ وَأَسْلِمُوا لَہُ} (الزُّمَر:٥٤)]

تم اپنے پروردگار کی طرف جھک پڑو اور اس کی حکم برداری کیے جاؤ۔

زبان کا قول: شہادتین کا اقرار کرنا ہے،

اللہ تعالی نے فرمایا:

[{قُولُوا آمَنَّا} (البَقَرَۃ:١٣٦)]

اے مسلمانو تم سب کہو کہ ہم ایمان لائے۔

اور فرمایا:

[{إِلا مَنْ شَہِدَ بِالْحَقِّ}(الزّخرُف:٨٦)]

مگر وہ جس نے حق کی شہادت دی۔

زبان اور اعضاء و جوارح کا عمل: زبان کا عمل مثلاً قرآن کریم کی تلاوت کرنا اور تمام ذکر و اذکار کرنا ہے، اور اعضاء و جوارح کا عمل جیسے نماز پڑھنا اور حج اور جہاد کرنا۔

ایمان اطاعت و فرمانبرداری سے بڑھتا اور معصیت سے گھٹتا ہے،

ایمان کے بڑھنے کی دلیل اللہ تعالی کا یہ ارشاد ہے:

 [{وَيَزْدَادَ الَّذِينَ آمَنُوا إِيمَانًا} (المدَّثِّر:٣١)]

ایماندار ایمان میں بڑھ جائیں۔

اور اللہ کا یہ ارشاد ہے:

[{وَإِذَا تُلِيَتْ عَلَيْہِمْ آيَاتُہُ زَادَتْہُمْ إِيمَانًا} (الاٴنفَال:٢)]

اور جب اللہ کی آیتیں ان کو پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو وہ آیتیں ان کے ایمان کو اور زیادہ کر دیتی ہیں۔

رہا ایمان کا گھٹنا، تو اس کی ایک دلیل رسول صلی اللہ علیہ و سلم کی یہ حدیث ہے:

” ایمان تمہارے اندر اسی طرح پرانا ہوتا ہے جس طرح کپڑا پرانا ہو جاتا ہے، لہذا تم اللہ تعالی سے یہ دعا کرو کہ وہ تمہارے دلوں کے اندر ایمان کی تجدید کرتا رہے”

امام حاکم نے اس حدیث کو صحیح قرار دیا ہے۔

ایمان کے ارکان: ایمان کے ارکان یہ ہیں کہ تم اللہ پر، اس کے فرشتوں پر، اس کی کتابوں پر، اس کے رسولوں پر اور آخرت کے دن پر ایمان رکھو اور یہ ایمان رکھو کہ بھلی بری تقدیر سب اللہ کی طرف سے ہے۔

 

 

 

                ایمان بالقدر کے درجات

 

پہلا درجہ

علم ہے اللہ تعالی نے فرمایا:

 [{لِتَعْلَمُوا أَنَّ اللَّہَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ وَأَنَّ اللَّہَ قَدْ أَحَاطَ بِكُلِّ شَيْءٍ عِلْمًا} (الطّلاَق:١٢)]

تاکہ تم جان لو کہ اللہ تعالی ہر چیز پر قادر ہے اور اللہ نے ہر چیز کو بہ اعتبار علم گھیر رکھا ہے۔

 

دوسرا درجہ:

لوح محفوظ میں لکھنا ہے،

اللہ تعالی کا ارشاد ہے:

 [{وَكُلَّ شَيْءٍ أحْصَيْنَاہُ فِي إِمَامٍ مُبِينٍ} (یسں:١٢)]

اور ہم نے ہر چیز کو ایک واضح کتاب میں ضبط کر رکھا ہے۔

اور اللہ سبحانہ کا ارشاد ہے:

 [{عِلْمُہَا عِنْدَ رَبِّي فِي كِتَابٍ لا يَضِلُّ رَبِّي وَلا يَنْسَى} (طٰہ:٥٢)]

ان کا علم میرے رب کے ہاں کتاب میں موجود ہے۔ نہ تو میرا رب غلطی کرتا ہے نہ بھولتا ہے۔

 

تیسرادرجہ

مشیت ہے،

اللہ تعالی نے فرمایا:

 [{وَمَا تَشَاءُونَ إِلا أَنْ يَشَاءَ اللَّہُ} (الإنسَان:٣٠)]

تم نہ چاہو گے مگر یہ کہ اللہ تعالی ہی چاہے۔

 

چوتھا درجہ

پیداکرناہے،

اللہ تعالی نے فرمایا:

 [{اللَّہُ خَالِقُ كُلِّ شَيْءٍ} (الزُّمَر:٦٢)]

اللہ تعالی ہی ہر چیز کا پیدا کرنے والا ہے۔

اور اللہ سبحانہ نے فرمایا:

 [{وَاللَّہُ خَلَقَكُمْ وَمَا تَعْمَلُونَ} (الصَّافات:٩٦)]

حالانکہ تمہیں اور تمہاری بنائی ہوئی چیزوں کو اللہ ہی نے پیدا کیا ہے۔

 

 

 

                نواقض توحید

 

توحید کا نقیض شرک ہے اور اس کی دوقسمیں ہیں:

1) شرک اکبر، جو ملت سے خارج کر دیتا ہے۔

2) شرک اصغر، جو کمال توحید کے منافی ہے۔

شرک اکبر: شرک اکبر یہ ہے کہ عبادت کے اقسام میں سے کسی قسم کو غیر اللہ کے لئے کیا جائے،

اللہ تعالی نے فرمایا:

 [{إِنَّ اللَّہَ لا يَغْفِرُ أَنْ يُشْرَكَ بِہِ وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذَلِكَ لِمَنْ يَشَاءُ وَمَنْ يُشْرِكْ بِاللَّہِ فَقَدِ افْتَرَى إِثْمًا عَظِيمًا} (النِّسَاء:٤٨)]

بے شک اللہ اپنے ساتھ شرک کئے جانے کو معاف نہیں کرسکتا، اور اس کے علاوہ اس کے علاوہ دیگر گناہ جس کے لئے چاہے معاف کرسکتاہے، اور جو اللہ کے ساتھ شریک مقرر کرے اس نے بہت بڑا گناہ اور بہتان باندھا۔

 

شرک اکبر کی اقسام:

 

اللہ کے ساتھ دوسروں کو پکارنا

اللہ تعالی نے فرمایا:

 [{فَإِذَا رَكِبُوا فِي الْفُلْكِ دَعَوُا اللَّہَ مُخْلِصِينَ لَہُ الدِّينَ فَلَمَّا نَجَّاہُمْ إِلَى الْبَرِّ إِذَا ہُمْ يُشْرِكُونَ} (العَنکبوت:٦٥)]

پس یہ لوگ جب کشتیوں میں سوار ہوتے ہیں تو اللہ تعالی ہی کو پکارتے ہیں اس کے لیے عبادت کو خالص کر کے، پھر جب وہ انہیں خشکی کی طرف بچا لاتا ہے تو اسی وقت شرک کرنے لگتے ہیں۔

 

نیت اور قصد و ارادہ میں اللہ کے ساتھ دوسرے کو شریک کرنا

اللہ تعالی نے فرمایا:

 [{مَنْ كَانَ يُرِيدُ الْحَيَاۃَ الدُّنْيَا وَزِينَتَہَا نُوَفِّ إِلَيْہِمْ أَعْمَالَہُمْ فِيہَا وَہُمْ فِيہَا لا يُبْخَسُونَ (١٥)أُولَئِكَ الَّذِينَ لَيْسَ لَہُمْ فِي الآخِرَۃِ إِلا النَّارُ وَحَبِطَ مَا صَنَعُوا فِيہَا وَبَاطِلٌ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ} (ہُود:١٦)]

جو شخص دنیا کی زندگی اور اس کی زینت پر فریفتہ ہوا ہم ایسوں کو ان کے کل اعمال(کا بدلہ) یہیں بھر پور پہنچادیتے ہیں اور یہاں انہیں کوئی کمی نہیں کی جاتی۔ ہاں یہی وہ لوگ ہیں جن کے لئے آخرت میں سوائے آگ کے اور کچھ نہیں، اور جو کچھ انہوں نے یہاں کیا ہوگا وہاں سب برباد ہونے والے ہیں۔

 

اطاعت میں اللہ کے ساتھ دوسرے کو شریک کرنا

اللہ تعالی نے فرمایا:

[{اتَّخَذُوا أَحْبَارَہُمْ وَرُہْبَانَہُمْ أَرْبَابًا مِنْ دُونِ اللَّہِ} (التّوبَۃ:٣١)]

ان لوگوں نے اللہ کو چھوڑ کر اپنے عالموں اور درویشوں کو رب بنا لیا۔

 

محبت میں اللہ کے ساتھ دوسرے کو شریک کرنا

اللہ تعالی نے فرمایا:

[{وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَتَّخِذُ مِنْ دُونِ اللَّہِ أَنْدَادًا يُحِبُّونَہُمْ كَحُبِّ اللَّہِ وَالَّذِينَ آمَنُوا أَشَدُّ حُبًّا لِلَّہِ} (البَقَرَۃ:١٦٥)]

بعض لوگ ایسے بھی ہیں جو اوروں کو اللہ کا شریک ٹھر اکر ان سے ایسی محبت رکھتے ہیں جیسی محبت اللہ سے ہونی چاہئے اور ایمان والے اللہ کی محبت میں بہت سخت ہوتے ہیں۔

شرک اصغر: یہ شرک اکبر تک پہنچے کا ایک ذریعہ ہے، مثلاً معمولی ریاکاری اور آدمی کا دوسرے سے یہ کہنا کہ جو اللہ چاہے اور آپ چا ہیں۔

 

 

 

                کفر اور اس کے اقسام

 

کفر کی دو قسمیں ہیں:

(1) کفر اکبر، جو ملت سے خارج کر دیتا ہے۔

(2) کفر اصغر، جو ملت سے خارج نہیں کرتا۔

کفر اکبر: یہ ایمان کے بالکل منافی ہے، جیسے آسمانی کتابوں، یا رسولوں، یا ان میں سے کسی ایک رسول کا انکار، یا جنوں کے وجود کا انکار۔

 

کفر اکبر کی قسمیں

 

جہالت اور تکذیب کا کفر:

اللہ تعالی نے فرمایا:

 [{بَلْ كَذَّبُوا بِمَا لَمْ يُحِيطُوا بِعِلْمِہِ وَلَمَّا يَأْتِہِمْ تَأْوِيلُہُ} (یُونس:٣٩)]

بلکہ وہ ایسی چیز کی تکذیب کرنے لگے جس کو اپنے احاطہ علمی میں نہیں لائے، اور ابھی ان کو اس کا اخیر نتیجہ نہیں ملا۔

اوراللہ تعالی نے فرمایا:

[{الَّذِينَ كَذَّبُوا بِالْكِتَابِ وَبِمَا أَرْسَلْنَا بِہِ رُسُلَنَا فَسَوْفَ يَعْلَمُونَ} (مؤمن:٧٠)]

جن لوگوں نے کتاب کو جھٹلایا اور اسے بھی جو ہم نے اپنے رسولوں کے ساتھ بھیجا، تو انہیں جلد ہی حقیقت حال معلوم ہو جائے گی۔

نافرمانی اور انکار کا کفر: اللہ تعالی نے فرعون اور اس کی قوم کے بارے میں فرمایا:

[{وَجَحَدُوا بِہَا وَاسْتَيْقَنَتْہَا أَنْفُسُہُمْ ظُلْمًا وَعُلُوًّا} (النَّمل:١٤)]

انہوں نے صرف ظلم اور تکبر کی بنا پر انکار کر دیا حالانکہ ان کے دل یقین کر چکے تھے۔

اور فرمایا:

[{قَدْ نَعْلَمُ إِنَّہُ لَيَحْزُنُكَ الَّذِي يَقُولُونَ فَإِنَّہُمْ لا يُكَذِّبُونَكَ وَلَكِنَّ الظَّالِمِينَ بِآيَاتِ اللَّہِ يَجْحَدُونَ} (الاٴنعَام:٣٣)]

سو یہ لوگ آپ کو جھوٹا نہیں کہتے، لیکن یہ ظالم تو اللہ کی آیتوں کا انکار کرتے ہیں۔

 

سرکشی اور تکبر کا کفر

جیسے ابلیس کا کفر،

اللہ تعالی نے فرمایا:

[{إِلا إِبْلِيسَ أَبَى وَاسْتَكْبَرَ وَكَانَ مِنَ الْكَافِرِينَ} (البَقَرَۃ:٣٤)]

ابلیس نے انکار کیا اور تکبر کیا، اور وہ کافروں میں سے تھا۔

نفاق کا کفر

اور یہ اسلام کو ظاہر کرنا اور کفر کو چھپانا ہے،

اللہ تعالی نے فرمایا:

[{إِنَّ الْمُنَافِقِينَ فِي الدَّرْكِ الأسْفَلِ مِنَ النَّارِ} (النِّسَاء:١٤٥)]

منافق تو یقیناً جہنم کے سب سے نیچے کے طبقہ میں جائیں گے۔

کفر نفاق کے اقسام کی تفصیل آگے آ رہی ہے۔

 

اللہ کے دین سے اعراض کا کفر

اللہ تعالی نے فرمایا:

[{وَالَّذِينَ كَفَرُوا عَمَّا أُنْذِرُوا مُعْرِضُونَ} (الاٴحقاف:٣)]

اور کافر لوگ جس چیز سے ڈرائے جاتے ہیں منہ موڑ لیتے ہیں

 

شک و شبہ اور گمان کا کفر

اللہ تعالی نے دو باغ والے شخص کے بارے میں فرمایا:

 [{وَدَخَلَ جَنَّتَہُ وَہُوَ ظَالِمٌ لِنَفْسِہِ قَالَ مَا أَظُنُّ أَنْ تَبِيدَ ہَذِہِ أَبَدًا (٣٥)وَمَا أَظُنُّ السَّاعَۃَ قَائِمَۃً وَلَئِنْ رُدِدْتُ إِلَى رَبِّي لأجِدَنَّ خَيْرًا مِنْہَا مُنْقَلَبًا (٣٦)قَالَ لَہُ صَاحِبُہُ وَہُوَ يُحَاوِرُہُ أَكَفَرْتَ بِالَّذِي خَلَقَكَ مِنْ تُرَابٍ ثُمَّ مِنْ نُطْفَۃٍ ثُمَّ سَوَّاكَ رَجُلا (٣٧)لَكِنَّا ہُوَ اللَّہُ رَبِّي وَلا أُشْرِكُ بِرَبِّي أَحَدًا} (الکہف:٣٨)]

کہا میں خیال نہیں کرتا كہ کسی وقت بھی یہ برباد ہو جائے، اور نہ میں قیامت کو قائم ہونے والی خیال کرتا ہوں، اور اگر میں اپنے رب کی طرف لوٹایا بھی گیا تو یقیناً میں اس سے بھی زیادہ بہتر پاؤں گا، اس کے ساتھی نے اس سے باتیں کرتے ہوئے کہا کہ کیا تو اس (معبود) سے کفر کرتا ہےجس نے تجھے مٹی سے پیدا کیا، پھر نطفے سے، پھر تجھے پورا آدمی بنایا۔ لیکن میں تو عقیدہ رکھتا ہوں کہ وہی اللہ میرا پروردگار ہے، میں اپنے رب کے ساتھ کسی کو شریک نہ کروں گا۔

کفر اصغر: کفر اصغر وہ کفر ہے جو کمال ایمان کے منافی ہے، اسی سلسلہ میں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:

“مسلمان کو گالی دینا فسق ہے اور اس کو قتل کرنا کفر ہے”۔

 

 

 

                نفاق اور اس کے اقسام

 

نفاق کی دو قسمیں ہیں:

1) نفاق اعتقادی۔

2) نفاق عملی۔

 

نفاق اعتقادی

یہ ہے کہ آدمی اسلام کو ظاہر کرے اور کفر کو چھپائے۔ اور اس کی چھ قسمیں ہیں:

1) رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو جھٹلانا۔

2) رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی لائی ہوئی شریعت کے کسی حصہ کو جھٹلانا۔

3) رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے بغض رکھنا۔

4) رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی لائی ہوئی شریعت کے کسی بھی حصہ کو نا پسند کرنا۔

5) دین اسلام کی تنزلی سے خوش ہونا۔

6) دین اسلام کے غلبہ سے کڑھنا۔

 

                نفاق عملی کے اقسام

 

نفاق عملی کی پانچ قسمیں ہیں اور وہ درج ذیل حدیث شریف میں مذکور ہیں: “منافق کی نشانیاں تین ہیں: جب بات کرے تو جھوٹ بولے اور جب وعدہ کرے تو خلاف ورزی کرے اور جب امین بنایا جائے تو خیانت کرے”۔ اور ایک روایت میں ہے کہ: “جب جھگڑے تو گالی دے اور جب عہد و پیمان کرے تو بے وفائی کرے”۔

 

اسلام کے منافی امور

اسلام کے منافی اموردس ہیں

1) اللہ کے ساتھ شرک کرنا، اور غیر اللہ کے لئے ذبح کرنا بھی شرک میں داخل ہے، اس کی دلیل اللہ تعالی کا یہ ارشاد ہے:

2) [{إِنَّ اللَّہَ لا يَغْفِرُ أَنْ يُشْرَكَ بِہِ وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذَلِكَ لِمَنْ يَشَاءُ وَمَنْ يُشْرِكْ بِاللَّہِ فَقَدِ افْتَرَى إِثْمًا عَظِيمًا} (النِّسَاء:٤٨)]

یقینا اللہ تعالی اپنے ساتھ شرک کیے جانے کو نہیں بخشتا اور اس کے علاوہ گناہ جس کے لے چاہے بخش دیتا ہے، اور جو اللہ کے ساتھ شریک مقرر کرے اس نے بہت بڑا گناہ اور بہتان باندھا۔

3) جو اپنے اور اللہ تعالی کے درمیان واسطے بنا کر انہیں پکارے اور ان سے توسل کرے( چنانچہ اللہ تعالی نے مشرکین کے درج ذیل قول کی تردید کی، فرمایا: ) [{ہَؤُلاءِ شُفَعَاؤُنَا عِنْدَ اللَّہِ} (یُونس:١٨)] یہ اللہ کے پاس ہمارے سفارشی ہیں۔

4) جو مشرکوں کو کافر نہ سمجھے، یا ان کے کافر ہونے میں شک کرے، یا ان کے مذہب کو صیح سمجھے تو وہ بھی بالا جماع کافر ہے۔

5) جو یہ اعتقاد رکھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقہ سے کسی اور کا طریقہ افضل ہے، اور آپ کے حکم سے کسی اور کا حکم اچھا ہے، جیسے وہ لوگ جو طاغوتی نظام کو آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی شریعت پر ترجیح دیتے ہیں، تو ایسا عقیدہ رکھنے والا بھی کافر ہے۔

6) جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی لائی ہوئی شریعت کے کسی بھی حصہ کو ناپسند کرے اگرچہ اس پر عمل پیرا بھی ہو، اللہ تعالی کا ارشاد ہے: [{ذَلِكَ بِأَنَّہُمْ كَرِہُوا مَا أَنْزَلَ اللَّہُ فَأَحْبَطَ أَعْمَالَہُمْ} (محَمَّد:٩)] وہ اللہ کی نازل کردہ چیز سے ناخوش ہوئے پس اللہ تعالی نے ان کے اعمال ضائع کر دئیے۔

7) جس نے رسول اللہ علیہ وسلم کے دین کی کسی چیز کا یا اس کے ثواب و عذاب کا مذاق اڑایا تو وہ بھی کافر ہے: [{قُلْ أَبِاللَّہِ وَآيَاتِہِ وَرَسُولِہِ كُنْتُمْ تَسْتَہْزِئُونَ (٦٥)لا تَعْتَذِرُوا قَدْ كَفَرْتُمْ بَعْدَ إِيمَانِكُمْ} (التّوبَۃ:٦٦)] کہہ دیجئے کہ اللہ اور اس کی آیتوں اور اس کے رسول کے ساتھ تم ہنسی مذاق کر رہے تھے، تم بہانے نہ بناؤ یقیناً تم ایمان لانے کے بعد کافر ہوگئے۔

8) جادو۔ اور صرف و عطف بھی جادو میں شامل ہیں، صرف جادو کا ایک عمل ہے جس کے ذریعہ انسان کو اس کی پسندیدہ اور محبوب چیز سے متنفر کرنا مقصود ہوتا ہے، چنانچہ مرد کو اس کی بیوی کی محبت سے پھیر کر نفرت میں مبتلا کر دیا جاتا ہے۔ اور عطف بھی جادو کا ایک عمل ہے جس میں شیطانی طریقوں کے ذریعہ انسان کو اس کی ناپسندیدہ اور غیر مرغوب چیز کی طرف مائل کر دینا مقصود ہوتا ہے، توجس نے ایسا عمل کیا یا اسے پسند کیا وہ کافر ہے۔

9) مسلمانوں کے خلاف مشرکین کی مدد کرنا، اوراسکی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے۔ [{يَا أَيُّہَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تَتَّخِذُوا الْيَہُودَ وَالنَّصَارَى أَوْلِيَاءَ بَعْضُہُمْ أَوْلِيَاءُ بَعْضٍ وَمَنْ يَتَوَلَّہُمْ مِنْكُمْ فَإِنَّہُ مِنْہُمْ إِنَّ اللَّہَ لا يَہْدِي الْقَوْمَ الظَّالِمِينَ} (المَائدۃ:٥١)] اے ایمان والو! تم یہود و نصاریٰ کو دوست نہ بناؤ، یہ تو آپس میں ہی ایک دوسرے کے دوست ہیں، اور تم میں سے جو بھی ان میں سے کسی سے دوستی کرے وہ بےشک انہیں میں سے ہے، ظالموں او اللہ تعالی ہرگز راہ راست نہیں دکھا تا۔

10) جس نے یہ عقیدہ رکھا کہ بعض لوگوں کو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی لائی ہوئی شریعت سے آزاد ہونے کا حق حاصل ہے تو وہ کافر ہے۔

11) اللہ تعالی کے دین سے اعراض کرنا، بایں طور کہ نہ تو اسے سیکھے اور نہ ہی اس پر عمل کرے، اس کی دلیل اللہ تعالی کا ارشاد ہے: [{وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنْ ذُكِّرَ بِآيَاتِ رَبِّہِ ثُمَّ أَعْرَضَ عَنْہَا إِنَّا مِنَ الْمُجْرِمِينَ مُنْتَقِمُونَ} (السَّجدَۃ:٢٢)] اس سے بڑھ کر ظالم کون ہے جسے اللہ تعالی کی آیتوں سے وعظ کیا گیا پھر بھی اس نے ان سے منہ پھیر لیا(یقین مانو کہ) ہم بھی گنہگاروں سے انتقام لینے والے ہیں۔

٭٭٭

ماخذ: اردو مجلس ڈاٹ نیٹ

کمپوزنگ۔ فاروق

تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید