FavoriteLoadingپسندیدہ کتابوں میں شامل کریں

 

 

علامہ اقبال کی صحبت میں

 

 

               محمد حسین عرشی

ماخوذ از ملفوظات اقبال، مع حواشی و تعلیقات از ڈاکٹر ابواللیث صدیقی

جمع و ترتیب: اعجاز عبید

 

 

 

 

 

 

 

 

جس طرح مرشد روم1؎ نے جاوید نامہ 2؎ کے ’’ زندہ رود*‘‘ کو عالم افلاک و ماورائے افلاک کی سیر کرائی اسی طرح انہوں نے مجھ کو ’’ زندہ دود‘‘ کی لاہوتی مجلس میں پہنچایا۔ اس کی تفصیل یہ ہے کہ جاوید نامہ اور بال جبریل کے مطالعہ نے مجھے مجبور کر دیا کہ مثنوی رومی کو باقاعدہ بہ نظر تعمق دیکھوں۔ تقریباً18دن میں میں نے نصف سے زیادہ مثنوی اس طرح دیکھ ڈالی کہ ایک شعر سے بھی سرسری عبور نہیں کیا۔ ہر لفظ پر غور کرتا اور ہر ترکیب سے لذت یاب ہوتا ہوا گذر گیا، لیکن اس دوران میں بہت سے مقام ایسے آئے، جہاں میں اپنے آپ کو تنہا محسوس کرتا اور ایک رفیق راہ کی طلب میں بے چین ہو جاتا۔ بعض اوقات پیر روم خود فرما دیتے:

یار باید راہ را تنہا مرو

از سر خود اندریں صحرا مرو

کے تراشد تیغ دستہ خویش را

رو بجر احے سپار ایں ریش را

وغیرہ

ایسی حالت میں، میں نے اپنے گرد و پیش نگاہ ڈالی، تو مجھے علامہ مرحوم کے سوا کوئی ایسا شخص نظر نہ آیا جو راہ کے نشیب و فراز سے آگاہ کرتا۔ چنانچہ میں نے امرت سر پہنچ کر پہلا کام یہ کیا کہ علامہ مرحوم کو ایک مکتوب کے ذریعے اپنے مافی الضمیر اور اپنی مشکلات سے آگاہ کیا۔ علامہ نے حسب عبادت بہت جلدی تسلی بخش جواب دیا، جسے ذیل میں نقل کیا جاتا ہے:

لاہور19مارچ1935ء

جناب عرشی صاحب!

السلام علیکم۔ آپ کا خط ابھی ملا ہے۔ میری صحت عامہ تو بہت بہتر ہو گئی ہے، مگر آواز پر ابھی خاطر خواہ اثر نہیں ہوا۔ علاج برقی ایک سال تک جاری رہے گا۔ دو ماہ کے وقفے کے بعد پھر بھوپال جانا ہو گا۔

آپ اسلام اور اس کے حقائق کے لذت آشنا ہیں۔ مثنوی رومی (رحمۃ اللہ علیہ) کے پڑھنے سے اگر قلب میں گرمی شوق پیدا ہو جائے تو اور کیا چاہیے؟ شوق خود مرشد ہے۔ میں ایک مدت سے مطالعہ کتب ترک کر چکا ہوں، اگر کبھی کچھ پڑھتا ہوں تو صرف قرآن یا مثنوی رومی۔ افسوس ہے، ہم اچھے زمانے میں پیدا نہ ہوئے:

کیا غضب ہے کہ اس زمانے میں

ایک بھی صاحب سرور نہیں

بہرحال قرآن اور مثنوی کا مطالعہ جاری رکھیے۔ مجھ سے بھی کبھی کبھی ملتے رہیے، اس واسطے نہیں کہ میں آپ کو کچھ سکھا سکتا ہوں، بلکہ اس واسطے کہ ایک ہی قسم کا شوق رکھنے والوں کی صحبت بعض دفعہ ایسے نتائج پیدا کر جاتی ہے، جو کسی کے خواب و خیال میں بھی نہیں ہوتے۔ یہ بات زندگی کے پوشیدہ اسرار میں سے ہے،3؎ جن کو جاننے والے مسلمانان ہند کی بدنصیبی سے اب اس ملک میں پیدا نہیں ہوتے۔ زیادہ کیا عرض کروں ؟

محمد اقبال

اس کے بعد میں برابر حاضر خدمت ہوتا رہا۔ میرے ان کے مکالمات کا غالب حصہ باریک روحانی، متصوفانہ 4؎ اور قرآنی مسائل سے متعلق ہوتا۔ میں عموماً سوالات کی ایک فہرست تیار کر کے لے جاتا۔ آپ ہر سوال کے جواب میں کافی گفتگو فرماتے۔ جب تک میری تسلی نہ ہو جاتی، یہ سلسلہ جاری رہتا۔ اس ضمن میں بہت سے نکات و اسرار میرے سوال و طلب سے بھی زائد آپ کی زبان پر آ جاتے۔ میں محسوس کرتا ہوں کہ اگر ان کی زبان سے نکلے ہوئے تمام کلمات جمع کئے جا سکتے، تو ہر روز ایک مبسوط کتاب بن جایا کرتی، جو بہت سے دینی، سیاسی، تاریخی، اخلاقی، حکمی وغیرہ مباحث کا بے نظیر ذخیرہ ہوتی، لیکن اس باب میں، میں نے خود ناقابل تلافی تساہل سے کام لیا کہ اس دولت کو محفوظ نہ رکھا، جس سے میرے قلب و روح کی جیب معمور ہوتی تھی اور مجھے معلوم نہیں تھا کہ اس خزانہ عشق و عرفان کے دروازے اتنی جلدی بند ہو جائیں گے۔ بہرحال اس سونے دماغ میں جو کچھ بچ رہا ہے، بغیر کسی نظم و ترتیب کے قرطاس و قلم کے سپرد کرتا ہوں کہ مرور وقت کی غارت گری سے محفوظ رہ سکے:

عجب نہیں کہ پریشاں ہے گفتگو میری

فروغ صبح پریشاں نہیں تو کچھ بھی نہیں

(اقبال)

ایک دفعہ مجھے لاہور کے احباب کی ایک مجلس میں حاضر ہونے کا اتفاق ہوا۔ صاحب خانہ سے رخصت چاہی تو انہوں نے کچھ دیر اور بیٹھنے کے لیے اصرار کیا۔ میں نے کہا، علامہ اقبال کی خدمت میں حاضری میرے پروگرام کا اہم جزو ہے، اس وقت میں یہی ارادہ رکھتا ہوں۔ اس پر حاضرین نے علامہ کے جمود و تعطل پر متعصبانہ اعتراض شروع کر دیے۔ میں اپنے ارادے پر مصر رہا۔ آخر ان میں سے ایک بزرگ، محترم حکیم طالب علی صاحب جو اس سے پہلے علامہ سے متعارف نہیں تھے، میرے ساتھ چلنے کو تیار ہوگئے۔ وہاں پہنچنے پر علی بخش نے میرے حاضر ہونے کی اطلاع دی۔ میں حکیم صاحب موصوف کی معیت میں اندر پہنچا، تو تنہا بیٹھے تھے۔ خیریت پرسی کے بعد گفتگو شروع ہوئی۔ حکیم طالب علی صاحب نے سورۂ النجم 5؎ کے پہلے رکوع کی تشریح دریافت کی۔ علامہ نے اس پر ایک طویل تقریر فرمائی۔ بالخصوص کان قاب قوسین او ادنیٰ کی تفسیر اپنے رنگ میں عجیب و نادر چیز تھی۔ ان سطور کے ناظرین کو معلوم ہونا چاہیے کہ آیات مذکورہ قرآن مجید کے مشکل ترین مقامات سے ہیں۔ یہاں بڑے بڑے آئمہ مفسرین نہایت دروازہ کار تاویلوں میں الجھ کر رہ گئے ہیں، یہاں تک کہ ایک غیر مسلم یورپین مترجم قرآن نے اس مقام کو پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی اور شخص کی تصنیف قرار دے دیا۔ علامہ کے بیان کا خلاصہ یہ ہے کہ ناسوت و لاہوت یا عقل و وحی یا عالم بشریت و عرش الوہیت کو دو کمان نما دائروں سے تشبیہہ دی گئی ہے۔ بشری عقل کا منتہائے کمال یہ ہے کہ وحی سماوی سے کامل مطابقت حاصل کرے، یعنی اس ترقی یافتہ عقل کے رباب سے بعض خاص اوقات میں جو نغمہ نکلتا ہے، وہ ساز الہام سے ہم آہنگ ہوتا ہے۔ اس طرح یہ دو کمان کامل اتصال کے مقام پر پہنچ جاتے ہیں۔ نوع انسان میں انبیاء ؑ بالعموم اور انبیاء میں حضرت خاتم النبیینؐ بالخصوص اس مقام کے آخری نقطہ سے واصل ہوئے۔ اس کے بعد علامہ نے فرمایا کہ اس تقریر سے یہ شبہ نہیں ہونا چاہیے کہ قرآن (معاذ اللہ) محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تصنیف ہے۔ وحی الٰہی میں فہم بشریٰ کا قطعاً دخل نہیں۔ اس کی مثال یوں سمجھو کہ جرمنی میں ہمارے ایک پروفیسر علم ریاضی کے بہت زیادہ مشاق تھے۔ بعض اوقات طلبہ ان سے نہایت مشکل سوال کر بیٹھتے۔ آپ فوراً جواب بتا دیتے۔ طلباء تشریح پوچھتے، تو کہتے، اس کے لیے دو ہفتہ کی مہلت درکار ہے۔ ان کے نزدیک جواب دینا آسان تھا، لیکن اس کا عمل سمجھانا دیر طلب تھا، اسی طرح عقل و وحی کا تطابق ہر فن کے اہل کمال میں پایا جاتا ہے۔

میں نے عرض کیا میرے خیال میں سرمد6؎ نے ایک شعر میں معراج کی جو حقیقت بیان کر دی ہے بڑے بڑے علماء کی مبسوط تصانیف اس کا مقابلہ نہیں کر سکتیں۔ فرماتے ہیں :

ملا گوید احمد بہ فلک برشد

سرمد گوید فلک باحمد درشد

علامہ نے فرمایا، یہ شعر رومی کے ایک شعر سے مستفاد ہے، جس کا واقعہ مثنوی میں اس طرح بیان ہو اہے:

’’ کہ جلسہ سعدیہ جب آنحضرتؐ کی رضاعت سے فارغ ہوئیں، تو آپ کو لے کر عازم مکہ ہوئیں۔ حرم میں پہنچیں، تو ایک غیبی آواز سنی کہ اے حطیم! آج تجھے بے اندازہ شرف حاصل ہونے والا ہے۔ الخ۔ حلیمہ اس آواز کی طرف متوجہ ہوئیں، حضور (صلی اللہ علیہ وسلم) کو زمین پر بٹھا دیا اور صاحب آواز کا سراغ لگانے کے لیے ادھر ادھر دوڑنے لگیں۔ جب کامیاب نہ ہوئیں، تو واپس آ کر (حضور صلی اللہ علیہ وسلم) کو نہ پایا، سخت متحیر و مغموم ہوئیں۔ اتنے میں ایک پیر مرد نمودار ہوا۔ اس نے پوچھا اے حلیمہ! اس فریاد و ماتم کا سبب کیا ہے؟ جواب دیا: میں احمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کی دودھ ماں ہوں۔ حطیم میں پہنچ کر میں ہوائی آوازوں کی تلاش میں بچے کو زمین پر بٹھا کر ادھر ادھر پھرنے لگی۔ آواز ختم نہ ہوتی اور آواز دینے والا نظر نہ آتا تھا۔ میں اسی عالم حیرت میں واپس آئی، تو بچے کو اس مقام پر نہ دیکھا۔ پیر مرد نے کہا: غم نہ کر! میں تجھے ایسے سلطان تک پہنچا دوں گا، جو تجھے بچے کے حال و مقام سے آگاہ کر دے گا۔ یہ کہہ کر وہ پیر، حلیمہ کو عزیٰ کے پاس لے گیا کہ یہ بت اخبار غیبی کا ماہر ہے۔ ہم نے ہزاروں گم شدہ اس سے حاصل کیے ہیں۔ پیر مرد نے عزیٰ کو سجدہ کیا اور اس کی ثناء کے بعد مناجات شروع کی کہ حلیمہ سعدیہ کا بچہ گم ہو گیا ہے۔ اس بچے کا نام محمد (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) ہے۔ جب اس کے منہ سے محمد (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نکلا تو سب بت سجدہ میں گر پڑے اور پکارے کہ اے مرد پیر! جا ہمیں اس سے زیادہ نہ جلا۔ بتوں کی یہ باتیں سن کر پیر مرد کے ہاتھ سے عصا گر پڑا اور اس کے جسم پر لرزہ طاری ہو گیا۔ حلیمہ نے کہا: اے مرد پیر!‘‘

حیرت اندر حیرت اندر حیرتم!

کبھی مجھ سے ہوا باتیں کرتی ہے، کبھی پتھر خطاب کرتے ہیں، آخر میرا بچہ گیا کہاں ؟ پیر مرد نے کہا: اے حلیمہ! خوش ہو، سجدۂ شکر ادا کر!

تو مخور غم کہ نگردد یاوہ او

بلکہ عالم یاوہ گردد اندرو*

یہاں پہنچ کر حضرت علامہ 7؎ ڈاڑھیں مار کر رونے لگے، جب ذرا افاقہ ہوا تو میں نے عرض کیا:یہاں ’’ یاوہ‘‘ کا کیا مطلب ہے؟ آپ نے فرمایا: یا وہ گشتن، یعنی گم شدن سرمد کا شعر اسی شعر سے ماخوذ ہے!

ایک ملاقات کے دوران میں، میں نے عرض کیا: آپ کے مدراس والے لیکچر8؎ بے حد مشکل ہیں۔ اگر اسلام یا قرآن کا منشا وہی ہے، جو آپ نے ان لیکچروں میں بیان فرمایا ہے اور جس کو اس ترقی یافتہ زمانے کے بڑے بڑے اہل علم سمجھنے سے قاصر ہیں، تو قرن اول کے عرب صحرا نشینوں نے اسے کیا سمجھا ہو گا؟

آپ نے فرمایا:

’’ بنی الاسلام علی الخمس، کسی قوم کی تشکیل و تعمیر کے لیے اسلام کے پانچ ارکان مشہورہ کا اجرا و انضباط کافی ہے، چنانچہ اس کی محسوس اور عملی صورت عہد سعادت سے بہتر کہیں نظر نہیں آ سکتی اور تاریخ کا حافظہ اس حقیقت کو کبھی فراموش نہیں کر سکتا۔‘‘

*مولانا رومی روایات کے ضعف و قوت سے تعرض نہیں کرتے، ان سے عجیب و غریب نتائج اخذ کرتے ہوئے گزر جاتے ہیں۔

میں نے کہا:

’’ ایک طرف تو ’’ یسرنا القرآن للذکر‘‘ فرمایا اور اسی قسم کے دوسرے ارشادات فصلت آیتہ اور فصلنہ علیٰ علم وغیرہ بھی موجود ہیں۔ دوسری طرف بہت سی آیات کو متشابہات کہہ کر ان کے فہم پر لایعلم تاویلہ الا اللہ والراسخون فی العلم کی مہر لگا دی۔ ظاہری نگاہ اس میں تضاد دیکھتی ہے۔‘‘

آپ نے فرمایا:

اس کو یوں سمجھو۔ا یک دفعہ لنڈن میں ایک صاحب نے کسی مہمان کے اعزاز میں چند دوستوں کو ضیافت پر مدعو کیا۔ا ن میں میں بھی شامل تھا۔ فراغت طعام کے بعد مہمان عزیز سے تفصیلی تعارف کرایا گیا تو معلوم ہوا کہ آپ ماہر حجریات ہیں۔ میں نے آپ سے دوبارہ ملنے کی خواہش ظاہر کی۔ فیصلہ ہوا کہ سیر کو اکٹھے چلیں گے، چنانچہ سیر کرتے ہوئے ہم سمندر کے ساحل پر پہنچ گئے۔ میں نے ان سے کہا کہ اپنے مضمون (حجریات) کے متعلق کچھ فرمائیں۔ انہوں نے ساحل سے ایک چھوٹا سا سنگ پار اٹھا لیا اور اس کی سوانح عمری بیان کرنا شروع کر دی۔ مختصر یہ کہ ہم 15دن روزانہ سیر کو جاتے رہے اور وہ اس پارہ حجر کے رموز و اسرار بیان کرتے رہے۔ اس کے مدارج نشو و ارتقا پر درجے کے زمانے کی تعیین، اس کے اجزائے اولیہ، رنگ و صلابت و صورت نوعیہ وغیرہ کے تفصیلی اسباب، تاثیرات و خواص وغیرہ اتنی باتیں بیان کر دیں جو میرے لیے اور اس علم سے ہر ناواقف شخص کے لیے پردۂ خفا میں تھیں یا متشابہ تھیں اور اس شخص کے لیے کہ راسخ فی العلم تھا، مفصل و میسر تھیں۔ اسی طرح قرآن مجید سارے کا سارا مفصل بھی ہے اور متشابہ بھی۔ جس قدر انسان کا ذوق9؎ و وجدان اور اخلاق و روحانیت ترقی کرتے جائیں گے، اس پر قرآن کے مطالب آشکارا ہوتے جائیں گے۔

اسی طرح کا ایک دوسرا واقعہ آپ نے ارشاد فرمایا:

’’ ایک دعوت میں ہمیں ایک صاحب سے تعارف کا اتفاق ہوا، جو صرف سطح بحر کی مخلوقات کے پروفیسر تھے۔ انہوں نے اپنے فن سے متعلق عجیب و غریب انکشافات فرمائے۔ ان کی زبانی معلوم ہوا کہ سمندر کی سطح پر رہنے والے جانداروں کی انواع و اقسام اور ان کے احوال و کوائف بے حد دلچسپ اور اہم ہیں۔ مجھ پر ان کی تقریر سے سحر ہو رہا تھا۔ اسی طرح ہر شخص اپنے فن کا راسخ ہوتا ہے اور وہ فن اس کے لیے ’’ یسرنا‘‘ اور ’’فصلت‘‘ کے مترادف ہو جاتا ہے۔‘‘

میرے نزدیک علامہ کی تشریح’’ یھدی الیہ من اناب‘‘ کے مفہوم سے بھی کامل مطابقت رکھتی ہے۔

آ کری عمر میں قریباً ہر صحبت میں مرزا غلام احمد صاحب قادیانی10؎ کا ذکر آ جاتا تھا۔ چنانچہ ایک دفعہ آپ نے فرمایا کہ:

’’ سلطان ٹیپو‘‘ کے جہاد حریت سے انگریز نے اندازہ کیا کہ مسئلہ جہاد اس کی حکومت کے لیے ایک مستقل خطرہ ہے۔ جب تک شریعت اسلامیہ سے اس مسئلہ کو خارج نہ کیا جائے، انگریز کا مستقبل مطمئن نہیں، چنانچہ اسی زمانہ سے مختلف ممالک کے علماء کو آلہ کار بنانا شروع کیا۔ ہندوستانی علماء سے بھی ایسے فتاویٰ حاصل کئے، لیکن ایک منصوص قرآنی مسئلہ کو مٹانے کے لیے علماء کو ناکافی سمجھ کر ایک جدید نبوت کی ضرورت محسوس ہوئی، جس کا بنیادی مسئلہ یہی ہو کہ اقوام اسلامیہ میں نسخ جہاد کی تبلیغ کی جائے۔ احمدیت کے اسباب وجود پر آج تک جو کچھ لکھا گیا، اس کی وقعت سطحیت سے زیادہ نہیں۔ اس کا حقیقی سبب اسی ضرورت کا احساس تھا۔

اس کے بعد علامہ نے مجھے خاص طور پر کہا:

’’ تم ایسے فتاویٰ کی نقول تلاش کرو، ممکن ہے کہ مولانا ثناء اللہ صاحب امرتسری 12؎ سے اس کا کچھ سراغ نکلے۔‘‘ میں امرت سر پہنچ کر مولوی صاحب موصوف سے دریافت کیا، تو انہوں نے سرسید مرحوم کے کتب خانہ علی گڑھ کی طرف رہنمائی کی۔ میں نے علامہ کو اس مطلب کا ایک خط لکھ دیا۔ پھر معلوم نہیں ہو سکا کہ آپ نے اس بارہ میں کوئی قدم اٹھایا یا نہیں۔ ایک دفعہ میری موجودگی میں آپ نے سید ریاست علی صاحب ندوی کو بھی اس کام کے لیے آمادہ کیا تھا۔ اصل یہ ہے کہ یہ کام اسی وقت کرنے کا ہے۔ جوں جوں زمانہ گزرتا جائے گا، ہم اس کی سہولتوں سے دور ہوتے جائیں گے اور اس ’’ ملت جدید‘‘ پر تقدس کے غلاف چڑھتے جائیں گے۔

علامہ کے برادر اکبر احمدیت سے دلچسپی رکھتے تھے، علامہ ان کا ادب ملحوظ رکھتے اور اس بارے میں ان سے گفتگو کرنے سے اجتناب فرماتے تھے، یہاں تک کہ ایک مرتبہ میری موجودگی میں احمدیت پر گفتگو ہو رہی تھی، وہ درمیان میں آ گئے تو علامہ خاموش ہو گئے۔ عمر کے آخری برسوں میں جب انہوں نے کھلم کھلااس مذہب کی تردید شروع کی، تو برادر بزرگ کو ناگوار گزرا۔ فرماتے تھے ’’ ایک دن جوش میں آ کر انہوں نے میرے ساتھ بحث شروع کر دی۔ بات یہاں تک پہنچی کہ حدیث علی راس کل مائتہ کا اقتضا یہ ہے کہ ہر صدی کے شروع میں ایک مجدد مبعوث ہو۔ تمام گذشتہ صدیوں کے مجدد تو پائے جاتے ہیں، اس صدی کے مجدد اگر مرزا صاحب نہیں تو کون ہے؟ میں نے کہا، یہ حدیث موضوع ہے۔ کہنے لگے، تم یہ نئی بات کر رہے ہو، جو آج تک نہیں سنی گئی، میں نے اسی وقت موضوعات*۔۔۔۔ منگوائی اور اس میں تلاش کر کے دکھلا دی۔ بھائی صاحب خاموش ہو کر رہ گئے۔‘‘

بہت سے مولوی جو تحریک احمدیت کے مخالف ہیں، انہوں نے اس مخالفت کو ذریعہ معاش بنا رکھا ہے۔ وہ نہیں چاہتے کہ احمدیت مٹے، کیونکہ اس کے مٹنے سے ان کی تجارت مٹ جائے گی۔ لیکن علامہ مرحوم ان لوگوں سے تھے جو پورے خلوص اور کامل بصیرت سے اس فرقہ کو تمام عالم اسلامی، عقائد اسلامی، شرافت انبیائ، خاتمیت محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) اور کاملیت قرآن کے لئے قطعاً مضر و منافی سمجھتے ہیں۔ وہ فرماتے تھے کہ:

’’ قرآن کے بعد نبوت و وحی کا دعویٰ تمام انبیائے کرام کی توہین ہے۔ یہ ایک ایسا جرم ہے جو کبھی معاف نہیں کیا جا سکتا۔ ختمیت کی دیوار میں سوراخ کرنا تمام نظام دیانت کو درہم و برہم کر دینے کے مترادف ہے۔‘‘

(یہ تحریر جو حافظہ کی مدد سے لکھی گئی ہے، یہاں تک پہنچ چکی، تو مجھے ایک کاپی دستیاب ہوئی، جس میں کچھ

*نام یاد نہیں رہا۔ منہ

اشارات میرے قلم سے لکھے ہوئے مل گئے۔ ذیل میں ان کی مدد سے لکھتا ہوں۔ راقم)

مورخہ 12اپریل 1935ء وقت4بچے سہ پہر میں نے سوال کیا، آیہ مبارکہ

ان الذین جاھدوا فینا لنھد ینھم سبلنا

(جو لوگ ہمارے بارے میں کوشش کرتے ہیں، ہم ضرور انہیں اپنی راہیں دکھلائیں گے) سے کیا مراد ہے؟ علامہ نے فرمایا:

’’ تمام علوم و کمالات اور مقاصد عالیہ جو نوع انسان کے لیے کسی نہ کسی جہت سے مفید ہوں، ان کے حصول کی سعی، جہاد فی سبیل اللہ میں داخل ہے اور اس مشق و مزاولت کے ارتقائی نتائج

لنھد ینھم

کا ظہور ہیں ‘‘ میں نے عرض کیا، مولانا روم نے فرمایا ہے:

نطق آب و نطق باد و نطق گل

ہست محسوس حواس اہل دل

اس سے کیا مرا دہے؟ آپ نے فرمایا:

’’ قرآن مجید میں ہے زمین و آسمان کی ہر چیز اللہ تعالیٰ کی تسبیح کرتی ہے اور کل قد علم صلوتہ و تسبیحہ ہر مخلوق کو اپنی نماز اور تسبیح کا علم حاصل ہے۔ ان آیتوں سے ثابت ہے کہ ہر شے کو اس کے حال کے مطابق نطق عطا ہوا ہے۔‘‘

میں نے کہا: مجھے نطق اشیاء و عناصر سے انکار نہیں، میرا سوال ’’ محسوس حواس اہل دل‘‘ پر ہے۔ آپ کی پیش کردہ دوسری آیت کے ساتھ ہی یہ لفظ پڑے ہوئے ہیں :

ولکن لا تففھون

(یعنی ہر شے نمازی اور تسبیح خواں تو ضرور ہے لیکن اے انسانو!تم اس کی سمجھ نہیں رکھتے) پھر اہل دل اس نطق کو کس طرح محسوس کرتے ہیں ؟ آپ نے یہ شعر پڑھا:

ہر کہ عاشق گشت حسن ذات را

گشت سید جملہ موجودات را

آپ کی سانت متغیر ہو گئی۔ آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ میں خاموش ہو گیا۔ اس کے بعد میں نے عرض کیا: معرفت الٰہی سے کیا مراد ہے؟ آپ نے فرمایا:’’ سید الطائفہ13؎ جنید بغدادیؒ کے نزدیک معرفت یا عرفان کا لفظ اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب یا مضاف نہیں کرنا چاہیے، کیونکہ قرآن عزیز میں اس کا استعمال نہیں کیا گیا، البتہ علم و ایمان کا ذکر بار بار آتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نہ تو عارف ہے، نہ معروف۔ ہاں ’’ عالم و علیم‘‘ ہے اور’’ معلوم‘‘ ہے، جس پر بہت سی آیتیں شاہد ہیں۔ انمایختی اللہ من عبادہ لعلما(اللہ تعالیٰ سے وہی لوگ ڈرتے ہیں جو اس کے بندوں میں علم سے ممتاز ہیں ) یہاں علما کہا ہے، عرفا نہیں کہا۔ مجھے صحیح یاد نہیں کہ یہی آیت پڑھی تھی یا کوئی اور آیت بھی پڑھی تھی۔ اس کے بعد لفظ علم پر گفتگو ہوئی۔ فرمایا:’’ علم14؎ کی دو قسمیں ہیں، ایک ہمارے اکتسابی معلومات کا ذخیرہ۔ ہم خود مخلوق الٰہی ہیں اور ہمارے اکتسابی آلات علمیہ ہماری مخلوق، یعنی ہمارا علم، مخلوق کا مخلوق ہے۔ پس ایسے علم کو علم الٰہی سے قطعاً کوئی واسطہ نہیں ہو سکتا۔ دوسرا وہ علم ہے، جو خواص کو عطا ہوتا ہے۔ وہ بے منت کسب قلب و روح کے اعماق سے ابلتا ہے۔‘‘ میں نے عرض کیا،ا س علم کی کلید کیا ہے؟ فرمایا: ارشاد خداوندی ہے، قد افلح من زکھا، جس نے اپنے نفس کا تزکیہ کر لیا، اس پر اس علم کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں۔ میں نے کہا تزکیہ نفس کا طریق کیا ہے؟ اس پر آپ 10؎ نے صوفیہ کے بعض مشاغل کی طرف اشارہ کر دیا۔‘‘

اس مقام پر مجھے یاد آ گیا، میں نے کسی صحبت میں پوچھا: صوفیہ کے اذکار مخصوصہ اور مصطلحات و مدارج (غوث، قطب، ابدال وغیرہ) کا تعلق نفس اسلام سے کیا ہے؟ صحابہ میں مومن، صالح، شہید، صدیق وغیرہ الفاظ تو ملتے ہیں، لیکن ان الفاظ کا اشارہ تک نہیں پایا جاتا؟ آپ نے فرمایا: واقعی جناب رسالت مآب ؐ اور صحابہ کرامؓ کے زمانے میں نہ یہ اصطلاحات تھیں اور نہ اس قسم کے اذکار و اوراد۔ اسلامی تصوف مجوس، ہنود اور نصاریٰ کے تعلقات سے کافی حد تک متاثر ہوا ہے۔

اسی12اپریل کی ملاقات میں حضرت مسیح علیہ السلام کی معجزانہ ولادت اور رفع سماوی کا ذکر ہوا، تو فرمایا’’ یہ*دو

*علامہ نے اپنے بعض اشعار و خطوط میں بھی جو میرے نام ہیں، اس طرف اشارہ کیا ہے، مثلاً:

مینار دن پہ اپنے خدا کا نزول دیکھ

اب انتظار مہدی و عیسیٰ بھی چھوڑ دے

اور

ہوئی جس کی خودی پہلے نمودار

وہی مہدی وہی آخر زمانی

مرزا بیدل نے بہت پہلے لکھ دیا ہے:

عالم کہ بوضع خود سری مسرور است

در شیوۂ غفلت حسی مجبور است

باز آمدن مسیح و ہدی اینجا

از تجربہ مزاج اعیان دور است

چیزیں تو مسلم عیسائیوں کی بدولت اسلامی عقائد میں داخل ہو گئیں۔ میں نے پوچھا: اسلام بتمامہ قرآن میں محصور ہے یا نہیں ؟ فرمایا:’’ مفصل کہو‘‘ ! میں نے کہا: خارج از قرآن ذخیرہ احادیث و روایات اور کتب فقہ وغیرہ کو شامل کر کے اسلام مکمل ہوتا ہے یا صرف قرآن اس باب میں کفایت کرتا ہے؟ آپ نے فرمایا: یہ چیزیں تاریخ و معاملات پر مشتمل ہیں، ان کی بھی ضرورت ہے۔ ان سے پتہ چلتا ہے کہ یہ کن ضروریات کے ماتحت وضع کی گئیں، لیکن نفس اسلام قرآن مجید میں بکمال و تمام آ چکا ہے۔ خدا تعالیٰ کا منشا دریافت کرنے کے لیے ہمیں قرآن سے باہر جانے کی ضرورت نہیں۔

پھر میں نے پوچھا: مولانا روم کے شعر ذیل کی شرح کیا ہے؟

دفتر صوفی کتاب و حرف نیست

جز دل اسپید ہمچو برف نیست

اس وقت علی بخش کو بلا کر ایک کتاب منگوائی، جس پر غالباً یہ شعر اور اس کے ماقبل و ما بعد کے اشعار لکھ کر انگریزی زبان میں ان کی شرح اپنے قلم سے لکھ رکھی تھی۔ مجھے اس کا ترجمہ کر کے سمجھا دیا۔ جس کا خلاصہ یہ تھا کہ ’’ عالم قلم پر چلتا ہے اور صوفی قدم پر۔‘‘

پھر مولوی کا یہ شعر پڑھا:

زاد دانشمند آثار قلم16؎

زاد صوفی چیست انوار قدم

یہ شعر پڑھ کر بہت روئے۔ اس کے بعد پھر مولوی کا ایک شعر پڑھا جس کا مفہوم یہ تھا کہ صوفی ہرن کے قدموں کے نشان سے اس کا سراغ لگاتا ہے اور چلتے چلتے بوئے نافہ تک پہنچ جاتا ہے، پھر بوئے نافہ کی رہنمائی میں خود ہرن تک جا پہنچتا ہے۔ پھر فرمایا: قلم کی راہ چلنے والا بھی آخر پہنچ ہی جاتا ہے، بلکہ محفوظ طریق سے۔

اس صحبت میں میرے ساتھ ایک خوش گلو رفیق تھا، میں نے عرض کیا: اگر آپ کچھ سننا پسند فرمائیں، تو یہ صاحب حاضر ہیں آپ نے رضا مندی ظاہر کی۔ میں نے بال جبریل منگوانے کو کہا اسی وقت منگوائی گئی۔ میں نے خاص خاص نظموں پر جو مجھے بہت پسند تھیں، نشان کر دیے۔ سب سے پہلے ایک غزل پڑھی گئی، جس کا آخری شعر یہ ہے:

تری بندہ پروری سے مرے دن گزر رہے ہیں

نہ گلہ ہے دوستوں کا نہ شکایت زمانہ 17؎

جب تک یہ غزل گائی جاتی رہی، آپ روتے رہے اور میں بھی اس حالت سے بہت متاثر ہوا۔

یہ صحبت قریباً سوا دو گھنٹے تک قائم رہی۔

14اپریل35ء کو حاضر خدمت ہوا۔ میرے ساتھ حکیم طالب علی صاحب تھے۔ ہمارے حاضر ہونے سے پہلے مشہور شاعرہ اور قائدہ مسز سروجنی نائیڈو18؎ اور میاں بشیر احمد آف ہمایوں موجود تھے۔ ان سے انگریزی میں بات چیت ہوتی رہی۔ میں نے شاعرہ کو پہلی اور آخری دفعہ دیکھا اور یہ بات بھی ایک ہی دفعہ دیکھی کہ علامہ، شاعرہ کو رخصت کرنے کے لیے اپنی جگہ سے اٹھ کر کوٹھی کے برآمدے تک تشریف لائے۔

اس کے بعد جناب عبد اللہ یوسف علی 19؎ اور بعض دیگر اکابر حمایت اسلام آ گئے۔ کسی خاص موضوع پر میٹنگ ہوئی۔ آخر دیر کے بعد تنہائی نصیب ہوئی۔ میں نے پوچھا: مرزا عبد القادر بیدل عظیم آبادی20؎ کس کے متبع ہیں ؟ فرمایا: مرزا سے پہلے کوئی شخص اس رنگ میں لکھنے والا نظر نہیں آتا۔ وہ اپنی طرز کے آپ ہی موجد و مبدع اور خالق و صانع ہیں۔ ان کے بعد بھی کوئی اس طرز میں کامیابی حاصل نہیں کر سکا۔

اس کے بعد کئی باتیں ہوئیں، جو خاص طور پر قابل ذکر نہیں۔ پھر حکیم طالب علی صاحب کے سوال پر مسیح علیہ السلام کی معجزات سے بھری ہوئی زندگی، ولادت اور وفات سے متعلق فرمایا کہ نو مسلم عیسائیوں نے اپنے غیر معقول اور خرافیاتی عقائد مسلمانوں میں شائع کر دیے۔ سادہ لوح مسلمانوں نے ان کو اجزائے اسلام سمجھ کر سر آنکھوں پر اٹھایا اور ابتدائی مصنفین نے روایتاً اپنی کتب میں نقل کر دیا۔ اس کے علاوہ ایک صحبت میں آپ نے خاص طور پر فرمایا کہ بزرگوں کی آمد ثانی کا عقیدہ تمام مذہبی گروہوں میں پایا جاتا ہے۔ یہ صرف مسلمانوں سے مختص نہیں۔ اس میں یہ مصلحت رکھی گئی ہے کہ جب کوئی مصلح و مجدد کھڑا ہو، وہ لوگوں کے اس انتظار و اعتقاد سے فائدہ اٹھا کر ن کو ایک مرکز پر لا سکے۔ مسلمانوں کے مسیح و مہدی کی آمد بھی اسی قبیل سے ہے، ورنہ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ قرآن اس بارے میں قطعاً خاموش ہے۔ ایک اور بزرگ نے بھی ایک دفعہ اپنا یہی خیال ظاہر کیا تھا جس پر عوام پنجے جھاڑ کر ان کے پیچھے پڑ گئے۔ آخر ان کو اپنے الفاظ کی نہایت نازیبا تاویل کر کے جہال کی زبانیں بند کرنا پڑیں۔ علامہ کے شعر میں اسی طرف اشارہ سمجھا گیا ہے:

کر سکتے تھے جو اپنے زمانے کی امامت

وہ کہنہ دماغ اپنے زمانے کے ہیں پیرو

اس کے بعد میں نے حیات بعد الممات سے متعلق استفسار کیا۔ آپ نے فرمایا:

’’ حیات اخروی، انسان کے ذوق حیات کی شدت پر منحصر ہے۔ جس قدر کسی شخص میں ذوق زندگی زیادہ ہو گا، اتنا ہی اس کا زمانہ برزخ کم ہو گا۔ شہدا کا ذوق زندگی بہت بڑھا ہوا ہوتا ہے، اس لیے ان کے لیے کوئی برزخ نہیں۔ اس زندگی سے آنکھ بند کرتے ہی ان کے لیے دوسری زندگی کا دروازہ کھل جاتا ہے۔‘‘

میں نے عرض کیا، عام مومنین کے لیے بھی برزخ کا کہیں ذکر نہیں :

فرمایا: ’’ اس کا سبب بھی ذوق حیات ہے۔ میں نے اس خیال کو اپنے ایک شعر میں بھی ظاہر کیا ہے:

جانے کہ بخشند دیگر نگیرند

انساں بمیرد از بے یقینی‘‘

اس کے بعد سلسلہ گفتگو دوسری جانب مڑ گیا۔ آپ نے فرمایا:

’’ یورپ سے آتے ہوئے ایک صبح جہاز میں میں قرآن مجید کی تلاوت کر رہا تھا۔ میرے سامنے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی یہ دعا آ گئی: وارزق اھلہ من الثمرات رزقاً (خدایا! حرم کعبہ کے اہالی کو پھلوں سے رزق عنایت فرما) اس سے میری طبیعت بے حد متاثر ہوئی۔ اس دعا کو زبان سے نکلے ہوئے چار ہزار سال گزر گئے۔ اس کی قبولیت ایک بدیہی حقیقت بن گئی ہے۔ تمام اسلامی ممالک ایران، عراق، شام افغانستان، بیروت، ٹرکی وغیرہ جو حرم کعبہ سے روحانی تعلق رکھتے ہیں، پھلوں کے رزق سے معمور ہیں اور غیر اسلامی دنیا یورپ، امریکہ وغیرہ اس نعمت خداوندی سے محروم سبحان اللہ!‘‘

16جنوری1938ء 3بجے بعد دوپہر بمقام جاوید منزل قریباً ڈیڑھ گھنٹہ تک ملاقات رہی۔ دوران کلام میں آپ نے فرمایا:

’’ علم‘‘ کے چار ذریعے ہیں اور قرآن مجید نے ان چاروں کی طرف واضح رہنمائی کی ہے۔ مسلمانوں نے ان کی تدوین کی اور دنیائے جدید اس باب میں ہمیشہ مسلمانوں کی منت کش رہے گی۔ پہلا ذریعہ ’’ وحی‘‘ ہے اور وہ ختم ہو چکا۔ دوسرا ذریعہ ’’ آثار قدما و تاریخ‘‘ ہے جس پر آیات قرآن متوجہ کر رہی ہیں۔ ’’ سیسروا فی الارض‘‘ اس آیت نے علم آثار کی بنیاد رکھ دی، جس پر مسلم مصنفین نے عالی شان قصر تعمیر کیے۔ ذکر بایام اللہ، یہ آیت محید تاریخ کا ابتدائی نقطہ ہے۔ جس نے ابن خلدون جیسے باکمال محقق پیدا کیے۔ علم کا تیسرا ذریعہ ’’ علم النفس‘‘ ہے جس کا آغاز وفی انفسکم افلا تبصرون سے ہوتا ہے۔ اس کو حضرت جنیدؒ اور ان کے رفقا و اتباع نے کمال تک پہنچایا۔ آخری ذریعہ صحیفہ فطرت ہے، جس پر قرآن مجید کی بیشمار آیات دلالت کر رہی ہیں مثلاً ’’ الی الارض کیف سطحت‘‘ اس علم پر علمائے اندلس نے بہت توجہ مبذول کی۔

آیات متشابہات، فصلت آیاتہ، راسخون فی العلم، وغیرہ آیات کی تطبیق پر حضرت علامہ کی تقریر جو میں پہلے نقل کر آیاہوں، اسی صحبت میں ہوئی تھی۔ اس تمام تشریح علوم، تفصیل آیات، اور مساعی علمائے اسلام کا ذکر کرنے کے بعد آپ نے فرمایا کہ موجودہ دنیا اپنے تمام علم و تہذیب اور صنائع و بدائع سمیت مسلمانوں کی ’’ مخلوق‘‘ ہے۔ میں نے اس لفظ پر ذرا اظہار تعجب کیا۔ آپ نے فرمایا’’ حقیقی خالق بیشک اللہ تعالیٰ ہے، لیکن اس کے علاوہ بھی خالق ہو سکتے ہیں، جیسا کہ آیہ احسن الخالقین سے ظاہر ہے، خدائے پاک تمام دوسرے خالقوں سے احسن ہے۔‘‘

اس کے بعد فرمایا:

’’ قرآن سے پہلے کسی ارضی یا سماوی کتاب نے انسان کو اس بلند مقام پر نہیں پہنچایا جس کی قرآن نے اطلاع دی۔ یہ لفظ تم قرآن کے سوا کہیں نہ دیکھو گے:’’ سخر لکم ما فی السموات والارض‘‘ آج تک تم جن ارضی و سماوی، مہیب یا مفید ہستیوں کو اپنا معبود سمجھتے رہے ہو، وہ سب اور تمام دیگر کائنات تمہاری خدمت کے لئے خلق کی گئی ہے۔ توحید کا یہ مرتبہ اعلیٰ، ماسوا سے بے پروا کر دینے والا، یہ انسانی خودی کا حقیقی عرفان، قرآن سے پہلے کہیں نظر نہیں آتا۔‘‘

اس کے بعد سید جمال الدین افغانی اور سر سید احمد خاں رحمۃ اللہ علیھا کا تذکرہ چل پڑا۔ فرمایا:’’ افغانی22؎ کا مرتبہ علم و فضیلت سید سے بدرجہا بلند ہے۔ سید کے فرزند رشید سید محمود کی علمی قابلیت بھی نادرہ روزگار تھی۔ ان کی قانونی استعداد حضرت امام ابو حنیفہؓ کے مشابہ تھی۔ میں نے سید احمد کی وفات پر تاریخ کہی تھی، جو ان کی قبر پر کندہ ہے:

انی متوفیک ورافعک الی و مطھرک

ایک دفعہ میرے ساتھ میاں مولا بخش صاحب سوداگر صابون تھے۔یہ بزرگ امرتسر میں اپنے دینی ذوق کے لیے مشہور ہیں۔ ہمارے ساتھ دو اور صاحب ملاقات کے کمرے میں داخل ہوئے۔ باتوں باتوں میں معلوم ہوا کہ یہ صاحب غالی قسم کے اہل حدیث ہیں۔ ان دنوں علامہ مسیح ؑ کی آمد ثانی کے متعلق ایک بیان شائع کرا چکے تھے، جس سے احمدی حضرات ناجائز فائدہ اٹھا رہے تھے۔ یہ دونوں صاحب اس معاملہ کے متعلق علامہ سے کچھ گفتگو کرنے آئے تھے۔ انہوں نے کہا:’’ احمدیوں نے مشہور کر رکھا ہے کہ آپ (علامہ ) نے لکھا ہے کہ مسیح ؑ کی آمد ثانی کا عقیدہ مسلمانوں نے مجوسیوں سے لیا ہے، کیا آپ نے کہیں ایسا لکھا ہے؟ ‘‘ علامہ نے فرمایا، ’’ نہیں ‘‘ ! انہوں نے کہا:’’ آپ تحریر فرما دیں، تاکہ ہم اس کو شائع کر کے احمدیوں کا منہ بند کر دیں ‘‘ علامہ نے اسی وقت قلم کاغذ منگوا کر اس مطلب کی تحریر لکھ دی۔ ان دونوں صاحبوں نے اس تحریر کو پڑھ کر کہا: ’’ایک سطر کا اور اضافہ کر دیجئے۔ جس کا مطلب یہ ہو کہ آپ حدیث شریف کے مطابق مسیح کی آمد ثانی پر اعتقاد رکھتے ہیں۔‘‘ علامہ نے فرمایا’’ میرا یہ اعتقاد نہیں ہے‘‘ انہوں نے کہا’’ کیا آپ کو حدیث کی صحت سے انکار ہے؟‘‘ آپ نے فرمایا ’’ میں اعتقادی امور میں صرف قرآن پر انحصار رکھتا ہوں اور حدیث کے متعلق مجھے اور آپ سب کو معلوم ہے کہ ذریعوں سے ہم تک پہنچی ہے۔‘‘ اس بات پر ایک صاحب ذرا گرم ہو کر کہنے لگے، اگر اس طرح حدیث سے بے پروائی کی جائے گی تو مسلمانی ختم ہو جائے گی۔ ہمارا کوئی عمل و عبادت حدیث کے بغیر مکمل نہیں ہو سکتا۔ قرآن تو نماز ایسی روز مرہ کی چیز کے لیے بھی ہمیں کوئی تفصیل نہیں بتایا۔ یہی وجہ ہے کہ فرقہ اہل قرآن نے اپنے لیے عجیب قسم کی نمازیں تراش لی ہیں، جن کا جمہور اہل اسلام سے کوئی واسطہ نہیں۔ ان کی نمازوں کے اوقات، اذکار اور رکعات وغیرہ سب عالم اسلامی سے مختلف ہیں۔ کیا ایسی حالت میں آپ ان کو کافر نہیں کہیں گے؟ علامہ نے اس تیز کلامی کے جواب میں نہایت نرمی سے فرمایا: ’’ کافر نہ کہو‘‘ کوئی اور نام رکھ لو، یہ شدت ہے۔ تم لوگ نمازوں کی رکعات و اذکار پر لڑتے ہو، مجھے تو سرے سے نماز کا وجود ہی کہیں نظر نہیں آتا (یا یہ کہا تھا کہ خطرے میں نظر آتا ہے) اس کے بعد وہ دونوں صاحب چلے گئے، لیکن گفتگو کا موضوع نہ بدلا۔ علامہ نے بڑے درد سے فرمایا کہ ایسی چھوٹی چھوٹی باتوں پر جھگڑا اور فتوے بازی اس امر کی دلیل ہے کہ اس قوم میں اللہ والے لوگ ختم ہو چکے ہیں۔ پھر آپ نے وفد ہلال احمر کا وہ قصہ سنایا جو بعد میں ضرب کلیم میں بصورت نظم شائع ہوا۔ اس کا خلاصہ یہ ہے کہ وفد موصوف کے ایک رکن علامہ کے ساتھ نماز پڑھنے کے لیے شاہی مسجد میں گئے۔ وہ بوڑھے آدمی تھے۔ امام نے نماز میں طوالت اختیار کی۔ وہ تنگ آ گئے۔ باہر آ کر انہوں نے علامہ سے اس طوالت پر تعجب کا اظہار کیا اور اس کا سبب پوچھا، تو علامہ نے کہا، یہ ہندی مسلمان کے بے کار اور بے نصب العین ہونے کے دلیل ہے۔ آپ لوگوں کے سامنے اپنی قوم اور ملت کی تعمیر و تشکیل کا کام ہے، اس لیے آپ کو ایسی بے مصرف نمازوں کی فرصت نہیں۔ اس ملک کے بے کار ملا اور نکمے مسلمان اگر مذہبی بحث و پیکار اور لمبے لمبے درود و وظائف میں اپنا وقت صرف نہ کریں تو کیا کریں ؟

ایک صحبت میں میں نے علامہ ابن جوزی 23کی ’’ تلبیس ابلیس‘‘ کا ذکر کیا، اس میں مصنف نے کامل جرأت اور پاک دلی سے ابلیس کے ہتھ کنڈوں اور مقدس مذہبی جماعتوں پر اس کے اثرات کی وضاحت کی ہے۔ اس ضمن میں صوفیہ کے معائب بھی دل کھول کر بیان کیے ہیں۔ میں نے اس حصہ کا کچھ ذکر کر کے حضرت علامہ کی رائے دریافت کی۔ آپ نے ناپسندیدگی کا اظہار فرمایا۔ میں نے کہا، علامہ ابن تیمیہ 24کی روش بھی تصوف کے خلاف ابن جوزی سے کچھ کم نہیں۔ آپ نے اس پر بھی کچھ ایسے الفاظ فرمائے، جن کا خلاصہ یہ تھا کہ بعض لوگ حقیقت سے واقف نہیں ہوتے اور نظر بر ظاہر عیب چینی شروع کر دیتے ہیں۔

ہنگامہ ’’ شہید گنج‘‘ 2؎ کے دنوں میں جب کہ مسلمانوں کی مختلف جماعتیں اور اخبارات آپس میں پگڑی اچھالنے کی مشق میں بہت تیزی دکھا رہے تھے، میں نے عرض کیا، آپ ان لوگوں کے لیڈروں کو بلا کر صلح کر ادیں، تو بہت بڑی اسلامی خدمت ہو گی۔ آپ نے فرمایا:’’ امرت سر میں یہ کوشش کرو‘‘ میں نے کہا: ’’ امرت سر میں کوئی ایسی شخصیت نہیں ہے جو ان پر موثر ہو سکے۔‘‘ آپ نے فرمایا کہ ’’ میرے پاس اتنے پیسے نہیں ہیں کہ ان کے منہ بند کر سکوں۔ میں ان سب کو خوب جانتا ہوں۔‘‘ میں نے کہا، آپ کے نزدیک موجودہ ہندی اسلامی تحریکوں میں کون سی تحریک مسلمانوں کے حق میں بہتر ہے؟ آپ نے فرمایا: ’’ عموماً ان تحریکوں کے قائد جاہل ہیں۔‘‘ احرار کے متعلق کہا:’’ ان سے کسی قدر اصلاح کی امید ہو سکتی ہے۔‘‘

ایک دفعہ میں نے پوچھا، مثنوی’’ پس چہ باید کرد اے اقوام شرق‘‘ میں آپ کے مصرع:

علم و حکمت از کتب، دیں از نظر

میں ’’ نظر‘‘ سے کیا مراد ہے؟ فرمایا’’ صحبت‘‘

ایک دفعہ میں نے عرض کیا، فلاں جدید فرقہ صراحتاً متضاد دعاوی اور لغو عقائد کا مجموعہ ہے، لیکن بہت سے اہل علم و ثروت اور اصحاب دانش و تجربہ اس میں شامل ہیں جس سے سطحی عقل کے لوگ بانی فرقہ کی صداقت تسلیم کر لینے پر مجبور ہو جاتے ہیں اس کے جواب میں آپ نے عقل کی متعدد قسمیں بیان کیں، جن کے لیے انگریزی الفاظ استعمال کیے جو مجھے یاد نہیں رہ سکے۔ مزید تشریح کرتے ہوئے فرمایا:’’ بعض لوگ بعض مخصوص فنون و اعمال میں کافی بصیرت کے مالک ہوتے ہیں، لیکن بہت سے دوسرے امور میں قطعاً سادہ اور صریح الاعتماد ثابت ہوتے ہیں۔‘‘ اس پر ایک مثال بیان فرمائی کہ:’’ مجھے ایک مصنف نے اپنی ایک کتاب جو انگریزی زبان میں معدنیات پر لکھی گئی تھی، تبصرے کے لیے بھیجی۔ میں نے اسے پڑھا تو مجھے ایک فن سے ذوق پیدا ہو گیا۔ تھوڑے عرصہ میں میں نے جواہر کے پرکھنے کی مہارت حاصل کر لی۔ 19ء میں جب ولایت گیا تو ایک لارڈ صاحب کی لیڈی کو میرے اس ذوق کا علم ہو گیا، وہ بھی اس کی بہت شوقین تھیں، اپنے جواہرات کا ڈبہ اٹھا کر میرے پاس لے آئیں۔ میں نے ان کے گراں قدر منتخبات کو دیکھا اور ان کی مناسب تعریف کرتا رہا۔ اخیر میں انہوں نے کہا کہ میرے پاس ایک نہایت اعلیٰ۔۔۔ تھا، لیکن افسوس ہے کہ میں اسے جدا کرنے پر مجبور ہو گئی۔ میں نے کہا، آپ مجبور کیوں ہو گئیں ؟ انہوں نے کہا، مجھے بتایا گیا تھا کہ وہ میری قسمت کے موافق نہیں۔ اس سے اندازہ لگا لو کہ وہ عورت بڑی اہل علم و تجربہ ہونے کے باوجود کتنے پست و ہم میں گرفتار تھی۔ اسی طرح بعض آدمی

کوئی قیمتی پتھر تھا جس کا نام یاد نہیں رہا (منہ)

قانون میں بڑے ماہر ہوتے ہیں، جب وہ کسی مذہبی مدعی کی بزرگی تسلیم کر لیتے ہیں تو عوام کو دھوکا ہوتا ہے کہ اتنے بڑے قانون نے اس کو بزرگ مانا ہے، ضرور اس میں کوئی بزرگی ہو گی، حالانکہ وہ قانون دان مذہب کی حقیقت سے اتنا ہی گورا ہوتا ہے جتنا ایک عامی انسان۔ اسی طرح اکثر لوگ مذہبی کتب پر عبور رکھتے ہوئے بھی صحیح مذہبی حس نہ رکھنے کے باعث فریب میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔‘‘

ایک دفعہ علم جوتش کا ذکر ہوا، فرمانے لگے: ’’ میرے ایک پنڈت دوست نے اپنے استاد سے جو بنارس میں اس فن کا بہت ماہر تسلیم کیا جاتا تھا، جاوید کی ولادت پر جنم پتری بنوائی، میں اس کا قائل نہیں ہوں، اس لیے میں نے اس پر کچھ توجہ نہ کی۔ چند دن گزرے، بڑے بھائی صاحب نے وہ پتری نکال کر دیکھی اور مجھے بھی دکھائی۔ اس میں علاوہ اور باتوں کے یہ بھی لکھا تھا کہ ’’ یہ بچہ۔۔۔۔ سال کی عمر میں علاوہ اور باتوں کے یہ بھی لکھا تھا کہ ‘‘ یہ بچہ سال کی عمر کو پہنچے گا تو اس کا والد لمبی بیماری میں مبتلا ہو جائے گا اور یہ خود سال تک معدہ (یا شاید جگر) کے مرض میں مبتلا رہے گا۔‘‘ تعجب ہے کہ یہ دونوں باتیں صحیح ہو رہی ہیں۔

ایک دفعہ اسلام یا مسلم کی تعریف میں ایک بلیغ و عمیق تقریر فرمائی، جس کو میں بمشکل سمجھ سکا، اس وقت اس کا دھندلا سا اجمال دماغ میں موجود ہے۔ کچھ ایسا مفہوم تھا کہ انسان صحیح معنوں میں مسلم اس وقت ہوتا ہے، جب قرآن کے فرمائے ہوئے اوامر و نواہی اس کی اپنی ’’ خواہ‘‘ش بن جائیں، یعنی وہ یہ نہ سمجھے کہ میں کسی حاکم یا آقا کے حکم و تسلط کے ماتحت فضائل اخلاق و عبادات پر کاربند اور ذمائم و قبائح نفس سے مجتنب ہوں، بلکہ یہ چیزیں اس کی اپنی تمنا بن کر اس کے عمق روح سے اچھلیں۔ قرآن اس کے حق میں ایک تلخ اور شافی دوا نہ رہے بلکہ ایک لذیذ اور زندگی بخش غذا بن جائے، منشائے الٰہی اور فطرت انسانی میں مغائرت نہ رہے۔ یہی مطلب ہے فطرت اللہ التی فطر الناس علیھا الخ کا۔ اس پر تاریخ سے بعض مثالیں بھی دیں جو بالکل بھول گئی ہیں۔

مجھے اعتراف ہے کہ یہ تمام داستان طویل عرصہ کے بعد ایک کمزور حافظہ کی مدد سے مرتب کی گئی ہے، اس لیے اس میں بالکل وہی کچھ نہیں ہے جو علامہ مرحوم کی زبان سے نکلا۔ بعض جگہ اشارات تفصیل کی صورت میں آ گئے ہیں اور بعض جگہ تفصیل اشارات میں ہو گئی ہے۔ تاہم یہ کوشش کی گئی ہے کہ کوئی بات جو ان کے عقائد کے خلاف ہو، ان کے ذمے لگانے سے احتراز کیا جائے۔

ربنا لا تو اخذنا ان نسینا او اخطانا

٭٭٭

*علامہ کا نام ہے جو جاوید نامہ کی سیر سماوی میں رکھا گیا۔

 

 

 

 

حواشی و تعلیقات

 

               ڈاکٹر ابواللیث صدیقی

 

1۔ مرشد روم:

مولانا جلال الدین رومی جن کو علامہ اقبال اپنا پیر و مرشد بتاتے ہیں اور مختلف مسائل کے سلسلے میں جو سوالات ان کے ذہن میں پیدا ہوتے ہیں ان کے جوابات مولانا جلال الدین رومی کی زبان سے ادا ہوتے ہیں۔ ان کے حالات اور ان کی مثنوی کے بارے میں مشرق و مغرب میں بہت کچھ لکھا گیا ہے، بلکہ یہاں تک کہا گیا ہے کہ:

مثنوی مولوی معنوی

ہست قرآں در زبان پہلوی

پورا نام جلال الدین محمد اور والد کا نام بہاؤ الدین محمد بن حسین الخطیبی۔ ولادت بلخ میں 7ربیع الاول 604ھ مطابق30ستمبر1207ء کو ہوئی اور وفات 5جمادی الثانی 672ھ مطابق 17 دسمبر 1273ء والد کا شمار اپنے عہد کے اکابر شیوخ اور علما میں ہوتا تھا۔ ابتدائی تعلیم و تربیت اس عہد کے رواج کے مطابق گھر سے شروع ہوئی اور والد سے ابتدائی تعلیم و تربیت کے مراحل طے کئے۔ انہی کے ساتھ جلال الدین محمد نے ممالک اسلامیہ کا سفر کیا اور حج بیت اللہ و زیارت مدینہ منورہ سے مشرف ہوئے۔ بیان کیا جاتا ہے کہ اسی سفر میں ان کی ملاقات مشہور صوفی بزرگ خواجہ فرید الدین عطار سے ہوئی۔ مختلف شہروں کی سیر کرتے بالآخر قونیہ تشریف لائے اور درس و تدریس کا سلسلہ شروع کیا۔ اسی عرصہ میں ان کی ملاقات شمس تبریز سے ہوئی۔ تذکرہ نگاروں نے اس ملاقات اور مولانا پر شمس تبریز کے اثرات کو نہایت شرح و تفصیل سے لکھا ہے۔ غرض اس ملاقات کے نتیجہ میں مولانا کی زندگی کا رخ ہی بدل گیا۔ علامہ اقبال نے بھی اس واقعہ کو مثنوی اسرار و رموز میں نظم کیا ہے۔ خود مولانا نے اپنی مثنوی میں شمس تبریز کے اثرات کا اعتراف کیا ہے:

شمس تبریزی کہ نور مطلق است

آفتاب است و ز انوار حق است

ایں نفس جاں را منم برتافتست

بوئے پیراہان یوسف یافت است

مولانا رومی سے منسوب سلسلہ صوفیہ جلالیہ یا مولویہ کہلاتا ہے اور آج بھی قونیہ میں مولانا کے مزار پر اس سلسلے کے صوفیہ کا اجتماع رہتا ہے۔

اقبال اور رومی کے اس روحانی اور فکر تعلق کے باب میں بہت کچھ لکھا گیا ہے۔ ایک اچھا مطالعہ ڈاکٹر خلیفہ عبد الحکیم کا اقبال رومی اور نطشے ہے۔ ڈاکٹر ابو اللیت صدیقی کی تصنیف اقبال اور مسلک تصوف میں بھی تفصیل سے بحث کی گئی ہے۔ مختصر طور پر یوں کہہ سکتے ہیں :

(الف) علامہ اقبال رومی کے اس تصور سے متفق ہیں کہ محض فلسفہ، حکمت، منطق، استدلال، تجربے، مشاہدے اور علم سے معرفت حاصل نہیں ہو سکتی یا کم از کم معرفت کامل یا اصل حقیقت تک رسائی ممکن نہیں ہے، بلکہ عشق کے ذریعے سے ہی اس کا کشف و حصول ممکن ہے۔ یہ تجربہ وہ صوفیانہ تجربہ ہے جو اقبال اور رومی دونوں کے یہاں قدر مشترک ہے۔ پہلی قسم کا علم نظر اور دوسرا خبر ہے۔

یہ تجربہ صرف رومی یا اقبال کا ہی نہیں، حجۃ الاسلام غزالی جو مفکرین اسلام میں ایک نمایاں حیثیت کے مالک ہیں، اسی منزل سے گزرے اور بالآخر تصوف میں پناہ لی، اور یہ تسلیم کیا کہ معرفت حقیقی کا ایقان اس ذاتی تجربے سے ہی ہوتا ہے جو حسی ادراک اور حسی مشاہدے کی منزل سے باہر ہے۔ علامہ اقبال نے بار بار اس تجربے پر زور دیا ہے۔

(ب) علامہ اقبال اور مولانا جلال الدین رومی دونوں کے یہاں فقر و قلندری کا ایک مشترک تصور ہے۔ فقر یا قلندری کا یہ تصور یہودیوں یا عیسائیوں کی رہبانیت، ترک دنیا اور تجرد نہیں ہے، نہ اسے بدھوں کے ترک دنیا کے تصور سے کوئی علاقہ یا تعلق ہے، نہ اس فقر کے معنی دریوزہ گری، طلب یا محرومی ہے۔ یہ وہ اسلامی فقر ہے جو فقر غیور ہے۔ جو ’’ محسود امیری‘‘ ہے۔ اس کی اعلیٰ ترین مثالیں خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرامؓ کی سیرت طیبہ میں ملتی ہیں۔ علامہ اقبال جب اسلاف کا سوز دروں طلب کرتے ہیں تو نان جویں کے ساتھ ’’ بازوئے حیدر‘‘ بھی مانگتے ہیں :

مصلحت در دین ما جنگ و شکوہ

مصلحت در دین عیسیٰ غار و کوہ

(ج) اقبال اور رومی دونوں حیات کے ایک ارتقا کے تصور کے قائل ہیں۔ اس سلسلے میں مولانا رومی کے وہ اشعار پیش نظر رکھیے جو جمادات، نباتات اور حیوانات کے مراحل کی نشان دہی کرتے ہیں جن سے حیات کو اپنے طویل اور با مقصد سفر میں گزرنا پڑا ہے۔ علامہ اقبال نے خاص طور پر اس بات پر زور دیا ہے کہ حیات انسانی تک ارتقا کی جو منازل اور مراحل مولانا جلال الدین رومی نے گنائے ہیں وہ عصر حاضر کے نظریہ ارتقا سے (جو عام طور پر ڈارون کا نظریہ ارتقا (Theory of Evolution) کہلاتا ہے) حیران کن حد تک قریب ہیں۔ اس ارتقا میں جدوجہد، حرکت اور عمل مسلسل لازمی عناصر ہیں۔ دونوں اس کے قائل ہیں کہ زندگی اسی حرکت اور جدوجہد سے فروغ پاتی اور ارتقا کی منازل طے کرتی ہے۔

ہستم اگر میروم، گر نہ روم نیستم

(د) مولانا جلال الدین رومی اور اقبال دونوں زندگی سے فرار کے قائل نہیں بلکہ مصاف زندگی میں سیرت فولاد پیدا کرنے کے فلسفہ کی تعلیم دیتے ہیں۔ ہمرہان سست عناصر سے دونوں دل گرفتہ ہیں۔’’ شیر خدا اور رستم دستاں ‘‘ کے دونوں آرزو مند ہیں اور ہر چند کہ تلاش دشوار راہوں سے گزرتی ہے لیکن وہاں تک رسائی کی تمنا ہی سوز و ساز حیات ہے۔ علامہ اقبال کے بقول مولانا رومی کی تعلیم غزالوں کو شیروں کا دل بخشتی ہے۔ زندگی کا یہی مثبت اور فعال و صحت مند نظریہ دونوں کے افکار کو ہم آہنگ بناتا ہے۔

(ہ) رومی اور اقبال دونوں کا تعلق اپنے اپنے عہد میں ایک ایسے دور سے رہا ہے جسے ’’ دور فتنہ‘‘ کہا گیا ہے۔ رومی نے ’’ دور فتنہ عصر کہن‘‘ میں اور اقبال نے’’ دور فتنہ عصر رواں ‘‘ میں اپنا پیغام پہنچایا اور اس طرح ان دونوں کی شاعری محض ایک جمالیاتی تجربہ نہیں ہے۔ یہ شاعری محض برائے شعر گفتن یا یہ تصوف برائے شعر گفتن خوب است کی عوام میں مشہور روایت کے برعکس دونوں نے اپنے اپنے کلام کو اپنے اپنے دور کے افکار و خیالات کی اصلاح کا ذریعہ بنایا ہے۔

(و) اقبال اور رومی دونوں جدوجہد اور حرکت پیہم و جاوداں کے ساتھ ساتھ سوز و ساز، درد، گداز، صدق و صفا، اخلاص و درد مندی کے پیکر ہیں اور وہ تمام صفات جو اقبال کے تصور میں انسان کامل اور مرد مومن میں پائی جاتی ہیں اور جن کی تعلیم اور ان پر عمل اسلامی تصوف کے علمبردار صوفیہ کے یہاں ملتا ہے، دونوں اس کی تعلیم دیتے ہیں اور اپنی زندگی میں اس پر عمل کرتے ہیں۔

7دونوں ذکر و فکر اور علم و عمل کی منازل طے کرنے میں ایک مرشد کامل اور ایک ہادی و رہبر کی ضرورت تسلیم کرتے ہیں۔ اعلیٰ ترین نمونہ خود رسول کریم ؐ کی حیات طیبہ ہے اور اس کے اتباع کی خود قرآن حکیم میں ہدایت کی گئی ہے۔ سلامتی کا راستہ وہی ہے جو راہ رسولؐ ہے۔ اس لیے اقبال اور مولانا جلال الدین رومی دونوں کے یہاں رسول کریم ؐ سے عشق درجہ کمال پر پورے خلوص اور شدت کے ساتھ موجود ہے۔ دونوں ان اکابر صوفیہ اور بزرگان دن سے فیض پانے کا اعتراف کرتے ہیں جنہوں نے تاریخ اسلام میں اپنے قول و فعل سے اسلام اور اسلامی عقائد کی تائید اور تبلیغ کی۔ اقبال خود مولانا روم کو بار بار اپنا پیر و مرشد بتاتے ہیں۔ مولانا روم کی زندگی میں شمس تبریز کا اثر محتاج بیان نہیں۔

(ز) اقبال نے جس طرح جلال و جبروت اور قوت و شوکت کا ذکر کیا ہے اور نو افلاطونی فلسفہ نفی خودی کی جس طرح نفی اور تنقید کی ہے اس سے بعض لوگ اقبال کو فاشسٹ کہتے تھے، حالانکہ اقبال کے انسان کامل اور مرد مومن اور فلاسفہ مغرب کے ’’ مرد آہن‘‘ میں بنیادی فرق ہی یہ ہے کہ مرد آہن کے یہاں اخلاقی اور روحانی اقدار کی کوئی جگہ نہیں۔ اقبال کے یہاں مولانا رومی کی طرح اخلاقی اور روحانی اقدار کے بغیر انسان کامل کا تصور ہی نہیں کیا جا سکتا۔

2جاوید نامہ: علامہ کی فارسی منظوم تصانیف میں اسرار خودی، رموز بیخودی، پیام مشرق اور زبور عجم کے بعد پانچواں مجموعہ جس کا پہلا ایڈیشن 1932ء میں اور دوسرا1947ء میں شائع ہوا۔ روزگار فقیر میں 1932تا1959 چار ایڈیشنوں کی مجموعی تعداد چار ہزار بتائی گئی ہے۔ دراصل یہ تعداد صرف طبع سوم دسمبر1954ء دو ہزار اور طبع چہارم نومبر1959 دو ہزار کی ہے۔ طبع اول 1932اور طبع دوم فروری 1947(باہتمام چودھری محمد حسین) اس میں شامل نہیں۔ ان کے بعد نومبر1965میں پانچواں ایڈیشن (دو ہزار) اور ستمبر1974میں چھٹا ایڈیشن (دو ہزار) شائع ہوا۔غیر قانونی طور پر بھارت میں طبع ہونے والے ایڈیشن ان میں شامل نہیں ہیں۔

علامہ اقبال کے مجموعوں میں جاوید نامہ کی بڑی اہمیت ہے۔ یہ علامہ کے آخری دور کی تصانیف میں ہے۔ جب ان کے افکار و نظریات کی شکل مستحکم اور واضح ہو چکی ہے۔ اسرار خودی کی اشاعت سے جاوید نامہ تک کا ذہنی سفر مختلف مراحل سے گزرتا ہے اور بعض مسائل کے بارے میں اقبال کے خیالات بدلتے بھی ہیں۔ جاوید نامہ کے تجزیہ اور مطالعہ سے علامہ کی فکر و فن کے سارے گوشے سامنے آ جاتے ہیں۔ اس طرح کی نظموں کا پہلا نقش بانگ درا کی مشہور نظم ’’ خضر راہ‘‘ ہے جس میں شاعر جو’’ شہید جستجو‘‘ ہے اور جس کے دل میں مختلف مسائل و معاملات کے متعلق بہت سے سوالات ابھرتے ہیں۔ ساحل دریا پر غور و فکر میں مستغرق نظر آتا ہے۔ یہاں اس کی ملاقات خضر سے ہوتی ہے جن کی چشم جہاں بیں پر وہ طوفان آشکار ہوتے ہیں جن کے ہنگامے ابھی دریا میں خموش ہوتے ہیں اور جن کے سامنے علم موسیٰ بھی حیرت فروش ہے۔ سوالات نہایت اہم ہیں، زندگی کا راز کیا ہے؟ سلطنت کیا چیز ہے؟ سرمایہ و محنت میں کشمکش کیوں ہے؟ اور اس کا انجام کیا ہے؟ ایشیا کن مراحل سے گزر رہا ہے۔ دنیائے اسلام کے لیے آزمائش کا وقت ہے۔ ترکوں اور عربوں کی بیداری اور جدوجہد کا انجام کیا ہے؟ غرض وہ سارے سوالات جو اس وقت کے زندہ ذہن میں پیدا ہو سکتے تھے اور خضر ان کے جوابات دیتے ہیں۔

جاوید نامہ میں ایک روحانی اور ذہنی سفر ہے، جس میں شاعر کی رہبری اور رہنمائی حضرت رومی کرتے ہیں۔ اس سے پہلے شاعر اپنی بیچارگی کا شکوہ رکتا ہے کہ اسے ہم نفس اور ہمنوا نہیں ملتا۔ یہ شکوہ ذہنی سفر کرنے والوں کو عام طور پر ہوتا ہے۔ مرزا غالب بھی اسی کیفیت سے گھبرا کر کہہ اٹھتے ہیں :

بیاورید گر ایں جا بوہ زبان دانے

غریب شہر سخن ہاے گفتنی دارد

اور اقبال فرماتے ہیں :

زار نالیدم صداے برنخواست

ہم نفس فرزند آدم را کجاست؟

انسان کی عظمت کا حال یہ ہے کہ آیہ تسخیر اور آیہ علم الاسما اس کی شان میں ہیں لیکن آج کا انسان خرد کا اسیر ہے اور علامہ کچھ اور چاہتے ہیں :

عقل دادی ہم جنونے دہ مرا

رہ بجذب اندرونے دہ مرا

اور جواب یہ ملتا ہے:

اے امینے از امانت بے خبر

غم مخور، اندر ضمیر خود نگر

………………..

…………………….

عقل آدم بر جہاں شبخوں زند

عشق او بر لا مکاں شبخوں زند

………………

………………

’’ہر کہ عاشق شد جمال ذات را

اوست سید جملہ موجودات را‘‘

اس مرحلہ پر حضرت رومی کی روح ظاہر ہوتی ہے اور اسرار معراج نبی کریم ؐ بیان کرتی ہے:

چیست معراج آرزوے شاہدے

امتحانے روبروے شاہدے

اس کے بعد زروان کہ روح زمان و مکان ہے مسافر کو عالم علوی کی سیاحت کے لیے لے جاتی ہے اور وہ زمزمہ انجم سنتے ہیں :

شام و عراق و ہند و پارس خوبہ نبات کردہ اند

خوبہ نبات کردہ را تلخی آرزو بدہ

……………….

…………………

ضرب قلندری بیار، سد سکندری شکن

رسم کلیم ؑ تازہ کن، رونق ساحری شکن

اس کے بعد افلاک کی سیر شروع ہوتی ہے۔ فلک قمر، جہاں ان کی ملاقات اس عارف ہندی سے ہوتی ہے جو قمر کے غاروں میں سے ایک میں خلوت نشیں ہے اور جہاں دوست کہلاتا ہے۔ جہاں دوست کے سوالات اور رومی کے جوابات سے ’’ عالم‘‘ رنگ عالم، آدم، حق کی حقیقت معلوم ہوتی ہے:

آدمی شمشیر و حق شمشیر زن

عالم ایں شمشیر را سنگ فسن

جہاں دوست اور شاعر کے سوال جواب نہایت مختصر لیکن جامع ہیں :

گفت مرگ عقل؟ گفتم ترک فکر

گفت مرگ قلب؟ گفتم ترک ذکر

گفت تن؟ گفتم کہ زاد از گرد رہ

گفت جاں ؟ گفتم کہ رمز لا الہ

گفت آدم؟ گفتم از اسرار اوست

گفت عالم؟ گفتم او خود روبروست

گفت ایں علم و ہنر؟ گفتم کہ پوست

گفت حجت چیست؟ گفتم روے دوست

گفت دین عامیاں ؟ گفتم شنید

گفت دین عارفاں ؟ گفتم کہ دید

یہ مختصر سا نمونہ جاوید نامہ کے افکار و خیالات کا ہلکا سا عکس ہے۔ اگر علامہ کی کوئی ایک تصنیف ان کے خیالات کی پوری طرح ترجمانی کر سکتی ہے تو وہ یہی جاوید نامہ ہے۔

3۔ یہ خط 19مارچ1935ء کا ہے۔ اس کے بعد علامہ تین سال زندہ رہے۔ گویا اس خط اور اس مضمون کے ملفوظات سے اس آخری دور کے بعض اہم پہلو سامنے آتے ہیں۔ جیسا کہ علامہ نے اس خط میں فرمایا ہے کہ وہ مدت سے مطالعہ کتب ترک کر چکے ہیں اور پڑھتے ہیں تو قرآن حکیم اور مثنوی روم۔ یہ دونوں باتیں نہایت اہم ہیں۔ آخر عمر میں علامہ کی سب سے بڑی خواہش یہ تھی کہ وہ قرآن حکیم پر تفسیری حواشی لکھیں اور چنانچہ سرسید راس مسعود اور نواب حمید اللہ خاں والی بھوپال سے وابستگی اور بھوپال کے وظیفہ کا قبول کرنا بھی اسی سلسلہ میں تھا۔ لیکن افسوس ہے کہ آخری چند سال علالت مسلسل میں گزرے اور اسی عرصہ میں علامہ کی شریک حیات کا انتقال ہو گیا اور چھوٹے بچوں کی نگہداشت اور دیکھ بھال کی ذمہ داری بھی سنبھالنا پڑی۔ ادھر بر عظیم پاک و ہند کی سیاست بھی ایک نازک اور فیصلہ کن مرحلہ میں داخل ہو چکی تھی اور علامہ کا جو تعلق مسلم لیگ سے تھا اور جس کے وہ ایک وقت پنجاب میں صدر بھی تھے، اس نے بھی ان کے ذہن اور توجہ کو اپنی طرف مبذول رکھا۔ بایں ہمہ مثنوی اور قرآن حکیم کا مطالعہ برابر جاری رہا۔ قرآن حکیم کے مطالعہ کا اثر ان کے پورے کلام میں ملتا ہے۔ بے شمار آیات قرآن حکیم کی ان کے اشعار میں موجود ہیں۔ ان کے خطبات میں بر عظیم میں ملت اسلامیہ کے مذہبی افکار کی جس تشکیل نو کا ذکر کیا گیا ہے اس کی اساس بھی قرآن حکیم ہی ہے۔ پہلے خطبے میں علامہ فرماتے ہیں (تشکیل جدید*اردو ترجمہ جس سے اس حاشیہ میں حوالے لیے گئے ہیں ): ’’ کہ قرآن مجید کا حقیقی مقصد تو یہ ہے کہ انسان اپنے اندر ان گوناگوں روابط کا ایک اعلیٰ اور برتر شعور پیدا کرے جو اس کے اور کائنات کے درمیان قائم ہیں۔‘‘ اس کے بعد قرآنی نقطہ نظر سے تخلیق کائنات کی غرض و غایت بیان کرتے ہیں کہ اس کی آفرینش اس لیے نہیں ہوئی کہ یہ محض ایک کھیل یا تماشہ ہے۔ علامہ قرآن حکیم کی ان آیات سے استدلال کرتے ہیں :

(1)سورہ الدخان،44آیت38-39

*تشکیل جدید الہیات اسلامیہ اردو ترجمہ سید نذیر نیازی

وما خلقنا۔۔۔۔۔۔ لا یعلمون

’’ اور ہم نے آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان کے درمیان میں ہے اس کو اس طور پر نہیں بنایا کہ ہم فعل عبث کرنے والے ہوں، (بلکہ) ہم نے ان دونوں کو کسی حکمت ہی سے بنایا ہے، لیکن اکثر لوگ نہیں سمجھتے۔‘‘

(2) سورہ آل عمران3 آیت 19-191

ان فی خلق السموت۔۔۔۔۔۔۔ باطلاً

’’ بلاشبہ آسمانوں کے اور زمیں کے بنانے میں اور یکے بعد دیگرے رات اور دن کے آنے جانے میں دلائل ہیں اہل عقل کے لیے جن کی حالت یہ ہے کہ وہ لوگ اللہ تعالیٰ کی یاد کرتے ہیں کھڑے بھی، بیٹھے بھی، لیٹے بھی اور آسمان اور زمین کے پیدا ہونے میں غور کرتے ہیں کہ اے ہمارے پروردگار آپ نے اس کو لایعنی پیدا نہیں کیا۔‘‘

اس کی تشریح میں مفسرین نے لکھا ہے کہ تخلیق کائنات میں حکمتیں رکھی گئی ہیں جن میں ایک بڑی حکمت یہ ہے کہ اس مخلوق سے خالق تعالیٰ کے وجود و توحید پر استدلال کیا جائے۔ علامہ اقبال فرماتے ہیں کہ اس کی (یعنی کائنات کی) ترکیب بھی اس طرح ہوئی کہ اس میں مزید وسعت کی گنجائش ہے۔ قرآن حکیم (سورہ فاطر35آیت1) میں ارشاد ہے:

یزید فی الخلق ما یشاء

(وہ پیدائش میں جو چاہے زیادہ کر دیتا ہے)

علامہ اقبال جب یہ فرماتے ہیں :

یہ کائنات ابھی ناتمام ہے شاید

کہ آ رہی ہے دما دم صدائے کن فیکوں

تو ان کا اشارہ اسی کی طرف ہے۔ وہ فرماتے ہیں :

’’ یہ کوئی جامد کائنات نہیں، نہ ایک ایسا مصنوع جس کی تکمیل ختم ہو چکی اور جو بے حرکت اور نا قابل تغیر و تبدل ہے۔ برعکس اس کے معلوم ہوتا ہے کہ اس کے باطن میں ایک نئی آفرینش کا خواب پوشیدہ ہے۔ دراصل کائنات کا یہ پر اسرار اہتزاز اور تحریک علیٰ ہذا زمانے کی یہ خاموش روانی جس کا احساس ہم انسانوں کو دن اور رات کی گردش میں ہوتا ہے، قرآن پاک کے نزدیک ایک بہت بڑی آیت ہے اللہ کی۔‘‘

یہ ہم نے صرف بطور مثال اور نمونہ نقل کیا ورنہ اسی خطبہ میں آگے چل کر قرآن حکیم کے بکثرت حوالے ملتے ہیں جن سے اس بات کی تائید ہوتی ہے کہ نہ صرف تشکیل جدید الہیات اسلامیہ کے لیے بلکہ اپنے تمام افکار و نظریات میں علامہ کی فکر کی اساس قرآن حکیم اور احادیث نبوی پر استوار ہے۔ جہاں تک مثنوی مولانا روم میں قرآن حکیم کی تعلیمات کا تعلق ہے، اس کا اندازہ اسی سے کیا جا سکتا ہے کہ اسے قرآن در زبان پہلوی کہا جاتا ہے۔ یہ مرتبہ کسی اور تصنیف یا کسی مصنف کو نصیب نہیں ہوا۔ یہاں ہم صرف بطور نمونہ مثنوی مولانا روم سے بعض اشعار تائید میں پیش کرتے ہیں جو قرآن حکیم کی صرف ایک سورہ، سورۂ بقر کی آیات پر مبنی ہیں۔ اسی سے قرآن حکیم سے لیے گئے دیگر حوالوں کا اندازہ لگا سکتے ہیں ـ:

یومنون بالغیب میباید مرا

زاں بہ بستم روزن فانی سرا

٭٭٭

ہست بر سمع و بصر مہر خدا

در حجب اس صورت است و بس صدا

٭٭٭

برق را چوں یخطف الابصار داں

نور باقی را ہمہ انصار داں

٭٭٭

فاتقوا النار التی او قدتموا

انکم فی المعصیتہ از ددتموا

٭٭٭

ور نبی فرمود کایں قرآں ز دل

بادی بعضے و بعضے را مضل

٭٭٭

بو البشر کو علم الاسماء یگ است

صد ہزاراں علمش اندر ہر رگ است

٭٭٭

آدمی کو علم الاسماء بگ است

در تک چوں برق ایں سگ بیتک است

٭٭٭

علم الاسماء بد آدم را امام

لپک نے اندر لباس عین و لام

٭٭٭

چوں ملائک گوئی لا علم لنا

تا بگیرد دست تو علمتنا

٭٭٭

آدم اینہم باسما درس گو

شرح کن اسرار حق را مو بمو

٭٭٭

آن کرہ بابات را بودہ عدامے

وز خطاب اسجدوا کردہ ابا

٭٭٭

اسجدوا الادم ندا آمد ہمی

کادمید و خویش بینندش دمی

٭٭٭

جانہائے خلق پیش از دست و پا

می پریدند از وفا سوئے صفا

چوں بامر اھبطوا بندی شدند

جنس خشم و حرص و خرسندی شدند

٭٭٭

چوں عتاب اہبطوا انگیختند

ہمچو ہاروتش نگوں آویختند

٭٭٭

گوش نہ اوفوا بعہدی گوش دار

تاکہ اوف عہد کم آید زیار

٭٭٭

ماندہ از آسماں در می رسید

نے شریٰ و بیع و نے گفت و شنید

درمیان قوم موسیؑ چند کس

بے ادب گفتند کو سیر و عدس

منقطع شد خوان و ناں از آسماں

ماند رنج زرع و بیل و داسماں

٭٭٭

زندہ شد کشتہ ز زخم دم گاؤ

ہمچو مس از کیمیا شد زر ساو

٭٭٭

کاؤ موسیؑ بود قرباں گشتہ

کمتریں جزوش حیات کشتہ

برجہید آں کشتہ ز آیبش ز جا

در خطاب اضربوا ببعضہا

یا کرامی اذبحوا ھذ البقر

ان اردتم حشر ارواح النظر

٭٭٭

چوں تمنو الموت گفت اے صادقین

صادقم، جاں را بر افشانم بریں

اس سورۃ بقرہ کی یہ صرف چند آیات ہیں جو ہم نے اس سلسلے میں نقل کیں۔ اسی سورۃ کی اور آیات ہیں اور اس کے علاوہ قرآن حکیم کی دوسری سورتوں کے بھی اسی طرح جا بجا حوالے مثنوی میں موجود ہیں۔

اس مکتوب کا آخری فقرہ بھی قابل غور ہے:’’ یہ بات زندگی کے پوشیدہ اسرار میں سے ہے جن کو جاننے والے مسلمانان ہند کی بد نصیبہ سے اب اس ملک میں پید انہیں ہوتے۔‘‘

ظاہر ہے یہاں محض علوم ظاہر کے جاننے والے مراد نہیں ہیں کیونکہ علامہ کے دور میں بھی علوم کے جاننے والے خواہ وہ علوم قدیم اور رسمی ہوں یا علوم جدیدہ موجود تھے۔ یہاں اسرار و رموز کے جاننے والے وہ لوگ ہیں جو بزرگان دین، صوفیائے کرام اور ارباب نظر کی چشم کرم سے فیض پا کر حقیقت کے اس روحانی تجربے تک پہنچ جاتے تھے اور پہنچ جاتے ہیں جہاں تک عقل و فکر انسانی کی رسائی نہیں۔ علامہ خود اپنی زندگی کے اس دور میں اس منزل سے گزر رہے تھے۔ ان کے مزاج میں جو سوز و گداز پیدا ہو گیا تھا اور جو رقت ان پر اکثر طاری ہو جاتی تھی وہ اسی گداز دل کی طرف اشارہ کرتی ہے جو اسرار و رموز سے آگاہی کا نتیجہ ہے۔

4۔ مکاتیب اور دوسری تحریروں سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے کہ زندگی کے آخری چند سالوں میں علامہ کے مکالمات کا غالب حصہ باریک روحانی متصوفانہ اور قرآنی مسائل سے متعلق ہوتا تھا۔ چنانچہ دو منصوبے علامہ کے پیش نظر تھے : ایک تو وہ تاریخ تصوف اسلام اس طرح لکھنا چاہتے تھے جس سے حقیقی اور اسلامی تصوف کے خد و خال نمایاں ہو جائیں کیونکہ وہ اس تصوف کو تسلیم کرتے تھے اور صوفیائے کرام کے روحانی تجربات اور ان کی اعلیٰ منازل و مراتب کا احترام کرتے تھے۔ دوسرے وہ قرآن حکیم کے بارے میں اپنے خیالات قلمبند کرنا چاہتے تھے کیونکہ ان کے نزدیک قرآنی تعلیمات میں ان تمام مسائل کا حل موجود ہے جو عصر حاضر میں فکر انسانی کو درپیش ہیں۔ وہ دور جدید کے ان فکری تقاضوں کا جواب قرآن حکیم سے دینا چاہتے تھے۔

5۔ سورہ النجم مکہ معظمہ میں نازل ہوئی، ترتیب قرآنی میں یہ سورہ 53ہے۔ اس میں باسٹھ آیتیں اور تین رکوع ہیں۔

اس سورہ میں حضرت جبریل اور نزول وحی کا بیان ہے اور مفسرین نے اس کی تفسیر میں بہت کچھ لکھا ہے۔ اقبال نے وحی کے باب میں اپنے خیالات کا کچھ اظہار تشکیل جدید الہیات اسلامیہ میں اسلامی ثقافت کی روح سے متعلق خطبہ میں کیا ہے۔ بقول ان کے قرآن مجید نے لفظ وحی کا استعمال جن معنوں میں کیا ہے ان سے تو یہی ثابت ہوتا ہے کہ وحی خاصہ حیات ہے اور ایسا ہی عام جیسے زندگی۔ یہ دوسری بات ہے کہ جوں جوں اس کا ذکر مختلف مراحل سے ہوتا یا یوں کہیے کہ جیسے جیسے وہ ارتقا اور نشوونما حاصل کرتی ہے ویسے ہی اس کی ماہیت اور نوعیت بھی بدلتی رہتی ہے۔

اس مکالمے میں بھی بنیادی طور پر اس ارتقا اور نشوونما کی طرف اشارہ ہے:

’’ بشریٰ عقل کا منتہائے کمال یہ ہے کہ وحی سماوی سے کامل مطابقت حاصل کر لے۔ یعنی اس ترقی یافتہ عقل کے رباب سے بعض خاص خاص اوقات میں جو نغمہ نکلتا ہے وہ ساز الہام سے ہم آہنگ ہوتا ہے۔ اس طرح یہ دو کمان (بقول علامہ ناسوت و لاہوت، یا عقل و وحی یا عالم بشریت و عرش آلوہیت) کامل اتصال کے مقام پر پہنچ جاتے ہیں۔ نوع انسان میں انبیاء بالعموم اور انبیاء میں حضرت خاتم النبیین بالخصوص اس مقام کے آخری نقطہ سے واصل ہوئے۔‘‘

اور علامہ کے نزدیک یہی دلیل حضرت خاتم النبیین صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے انسان کامل ہونے کی ہے جن پر قرآن مجید کے اعلان کے مطابق دین مکمل ہوا اور اللہ تعالیٰ نے آپ پر اپنی نعمتیں تمام فرمائیں۔

6سرمد: سرمد کے نام، قومیت اور حالات زندگی کے بارے میں اختلاف ہے، بعض یہودی الاصل ارمنی بتاتے ہیں۔ بعض نے کاشانی لکھا ہے۔ نام بعض تذکروں میں سعیدائے سرمد، لکھا ہے جس سے مولانا ابو الکلام آزاد کا قیاس ہے کہ اسلامی نام کا ایک جزو شاید لفظ سعید ہو گا۔ مولانا کے بقول تحصیل علمی اس زمانہ کے مطابق کامل ہو گی۔ بہ سلسلہ تجارت ہندوستان آئے اور کسی ہندو پسر کے عشق میں مبتلا ہوئے۔ تذکرہ نگاروں نے یہ واقعہ مختلف شہروں سے منسوب کیا ہے۔ ٹھٹھہ، اور پٹنہ دونوں شہروں کے نام ملتے ہیں۔ عشق شور انگیز نے دیوانہ اور صحرا نورد بنا دیا۔ دلی پہنچے اور دارا شکوہ کی صحبت میں رہنے لگے۔ عاشقی میں قید لباس سے آزاد ہو چکے تھے۔ عالم سرمستی کا تھا۔ ایک رباعی کہی:

ہر کس کہ سر حقیقتش پا در شد

او پہن تر از سپہر پہنا در شد

ملا گوید بر فلک شد احمد

سرمد گوید فلک بہ احمد در شد

علما نے اسے معراج جسمانی سے انکار قرار دیا اور واجب القتل ٹھہرایا۔ برہنگی کا جواز یہ بتایا:

خوش بالائے کردہ چنیں پست مرا

چشمے بدو جام بردہ از دست مرا

او در بغل من است و من در طلبش

دز دے عجب برہنہ کردہ است مرا

صاحب مراۃ الخیال کا بیان ہے کہ جلاد تلوار چمکاتا آگے آیا تو فرمایا: فدائے تو شوم، بیا بیا کہ بہر صورتے کہ می آئی من ترا خوب می شناسم۔ اور یہ شعر پڑھا:

شورے شد از خواب عدم چشم کشودیم

دیدیم کہ باقی است شب فتنہ غنودیم

یہ واقعہ عالمگیر کی جانشینی 1069ھ کے ایک سال بعد پیش آیا۔ *

۔۔۔۔۔۔

*منجملہ اور حوالوں کے دیکھے: (1) مضامین ابو الکلام آزاد، فرنٹیر بک ڈپو، لاہور ص212 و بعد۔ (2) شمع انجمن، تذکرہ، نواب صدیق حسن خان، مطبع شاہجہانی ص209۔ علامہ اقبال نے سرمد کے شعر کو رومی کے ایک شعر سے ماخوذ بتایا ہے۔ یہ بحث ملفوظات میں دیکھئے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

7۔ عشق رسولؐ میں سوز و گداز کی یہ کیفیت علامہ اقبال پر اکثر گزری ہے اور بے شمار واقعات سے اس کی تائید ہوتی ہے۔ اس شعر کے سلسلے میں حاشیہ میں لکھا گیا ہے کہ مولانا رومیؒ روایات کے ضعف و قوت سے تعرض نہیں کرتے۔ ان سے عجیب و غریب نتائج اخذ کرتے ہوئے گزر جاتے ہیں۔ یہ بات صرف مولانا رومی رحمۃ اللہ علیہ تک محدود یا مخصوص نہیں، صوفیائے کرام سے منسوب بہت سی روایات میں ایسی احادیث یا اقوال جنہیں حدیث سمجھ کر پیش کیا گیا ہے، ضعیف، وضعی یا صریحاً قول صوفیہ ہیں۔ تفصیل کے لیے دیکھئے اقبال اور مسلک تصوف از ڈاکٹر ابو اللیث صدیقی، یکے از مطبوعات سلسلہ صد سالہ یادگار علامہ اقبال، طبع اقبال اکیڈمی لاہور۔ اس مضمون کو علامہ نے بھی مومن اور کافر کی تمیز میں بیان کیا ہے کہ کافر آفاق میں گم ہوتا ہے اور مومن میں آفاق گم ہوتے ہیں۔

8مدراس والے لیکچر: دراصل ان خطبات کی طرف اشارہ ہے جو تشکیل جدید الہٰیات اسلامیہ کے نام سے ہیں اس کی پہلی اشاعت 1930ء میں ہوئی اور اس میں چھ خطبات شامل تھے۔ اسی لیے ان کا عنوان بھی انگریزی میں (Six Lectures on the Reconstruction of Religious Thought in Islam )تھا۔ 1934ء میں اس میں بعض لفظی ترمیمات ہوئیں اور ایک خطبہ کے اضافہ کے بعد لندن کی مجلس ارسطو (Aristotelian Society) کی دعوت پر لکھا گیا اور آکسفورڈ یونیورسٹی پریس سے شائع ہوا۔ یہ خطبات گویا علامہ اقبال کے فکر کا احاطہ کرتے ہیں اور ان کی زندگی کے آخری دور تک ان کے نظریات و مقاصد کی ترجمانی کرتے ہیں۔ خطبات کا مقصد اس کے عنوان سے ہی ظاہر ہے۔ اردو ترجمہ کا عنوان تشکیل جدید الہٰیات اسلامیہ ہے۔ علامہ اقبال عصر حاضر میں ساری دنیا میں بالعموم اور بر عظیم پاک و ہند میں بالخصوص ملت اسلامیہ کے مستقبل کے بارے میں بہت پر امید تھے اور جانتے تھے کہ دنیا کو جن مسائل کا سامنا ہے اور خاص طور پر جدید سائنس اور عقلیات نے مذہب کے بارے میں بعض ذہنوں میں شکوک و شبہات پیدا کر دیے ہیں ان کا جواب قرآن حکیم اور تعلیمات اسلام میں موجود ہے۔ البتہ مسائل کی تفہیم اور ان کے جوابات کی نوعیت کو عصر حاضر کے تقاضوں کی روشنی میں دیکھنا پڑے گا اور بعض مسائل میں ایک اجتہادی نقطہ نظر اختیار کرنا پڑے گا۔ علامہ کے نزدیک مسلمانوں کے افکار میں جمود و تعطل کا ایک سبب یہ بھی تھا کہ ان کے بعض فرقوں اور طبقوں اور بعض علماء نے اجتہاد کے بند ہونے کے مسلک کو قبول کر لیا۔ علامہ کے نزدیک اجتہاد کا دروازہ بند نہیں ہوا بشرطیکہ اس اجتہاد کی اساس قرآن حکیم اور روح اسلام ہو اور کوئی تفسیر یا تعبیر ایسی نہ ہو جس سے مسلمان خود کو بدلنے کی جگہ قرآن کو بدلنے لگیں۔

خطبات کے موضوعات نہایت اہم ہیں۔ پہلا خطبہ علم اور مذہبی مشاہدات کے موضوع پر محیط ہے۔ یہ عالم جس میں ہم رہتے ہیں اس کی نوعیت، ترکیب، عناصر، انسان اور کائنات کے تعلق جیسے مسائل کے بارے میں سوالات کے جوابات کہاں تک عقل کی رسائی میں ہیں اور کس حد تک ماورائے عقل و ادراک و احساس و تجربے پر۔ دوسرے خطبہ میں مذہبی مشاہدات کے فلسفیانہ معیار سے بحث کی گئی ہے۔ تیسرے خطبہ کا موضوع ذات الٰہیہ کا تصور اور حقیقت دعا ہے۔ چوتھے خطبے میں خودی، جبر و قدر اور حیات بعد الموت کے مسائل پر اظہار خیال کیا گیا ہے۔ پانچویں خطبے میں اسلامی ثقافت کی روح کا جائزہ لیا گیا ہے۔ چھٹے خطبہ کا عنوان ’’ الاجتہاد فی الاسلام‘‘ ہے۔ ساتواں خطبے کا موضوع’’ کیا مذہب کا امکان ہے؟‘‘ ہے۔ اصل خطبات انگریزی میں تھے لیکن ابتدا سے ہی علامہ اس کے اردو ترجمے کے حق میں تھے۔ چنانچہ پہلے خیال تھا کہ اردو ترجمہ جامعہ ملیہ کے ڈاکٹر عابد حسین کریں۔ عابد صاحب خود فلسفہ کے عالم تھے اور مکالمات افلاطون کا ترجمہ کر چکے تھے، لیکن عابد صاحب نے مصروفیت کی بنا پر انکار کر دیا تو سید نذیر نیازی صاحب نے ترجمہ کیا اور مولانا محمد السورتی، مولانا اسلم جیرا جپوری اور علامہ سید سلیمان ندوی کے مشورے بھی شامل رہے اور ترجمے کے اکثر حصے علامہ نے خود بھی دیکھے۔ ایک اعتبار سے انگریزی خطبات سے زیادہ اہم یہ ترجمہ ہے کیونکہ بہت سی اصطلاحات دینی اور فکری جو فلسفہ اسلام سے تعلق رکھتی ہیں انگریزی میں کسی اصطلاح سے ان کا مفہوم پوری طرح واضح نہیں ہوتا۔ مثلاً خود وحی کا لفظ جو مفہوم رکھتا ہے وہ Revelation Revel سے ظاہر نہیں ہوتا۔ نذیر نیازی صاحب کا ترجمہ معہ حواشی و فرہنگ اصطلاحات مجلس ترقی ادب لاہور سے 1958ء میں شائع ہوا۔

9یہاں پھر علامہ اقبال نے ذوق و وجدان اور اخلاق و روحانیت کی ترقی کو تفہیم قرآن کے لیے ضروری دیا ہے۔ قرآن فہمی کے لیے محض عربی زبان کا عالم ہونا، جیسا کہ اکثر لوگ سمجھتے ہیں کافی نہیں، ضروری البتہ ہے۔ اصل چیز توفیق الٰہی ہے کہ اللہ تعالیٰ جس کو چاہے ہدایت دے اور جسے چاہے گمراہی اور ضلالت میں مبتلا کرے۔ علامہ کا یہ استدلال درست ہے کہ قرآن مجید سارے کا سارا مفصل بھی ہے اور متشابہ بھی۔

10۔ مرزا غلام احمد قادیانی فرقہ کے بانی جو بعد میں دو فرقوں میں بٹ گیا۔ قادیان ان کا مرکز تھا جو اب بھارت میں ہے۔ پاکستان میں ربوہ کو قادیانیوں نے اپنی تحریک کا مرکز بنایا۔ قادیانی تحریک کے متعلق علامہ کا نقطہ نظر صاف ظاہر ہے۔ انہوں نے اپنے مکاتیب میں صاف صاف لکھا ہے کہ قادیانی نہ اسلام کے وفادار ہو سکتے ہیں اور نہ اس ملک کے۔ علامہ کا یہ تجزیہ درست ہے کہ سلطان ٹیپو شہید کے جہاد حریت کے بعد انگریزوں نے یہ محسوس کر لیا تھا کہ مسلمانوں کا مسئلہ جہاد ان کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے اور انہوں نے شریعت اسلامیہ سے اس مسئلہ کو خارج کرنے کے لیے مختلف طریقے اختیار کیے۔ مثلاً مسلمانوں کے جہاد کا ذکر کرتے ہوئے یہ تاثر پیدا کیا کہ اسلام بزور شمشیر پھیلا، حالانکہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ اس سے یہ غلط فہمی عام ہو گئی کہ مسلمان تبلیغ دین کے لیے نہیں صرف ملک گیری کی ہوس میں جنگ کرتے تھے، حالانکہ علامہ اقبال رحمۃ اللہ علیہ کے بقول:

ہم جو جیتے تھے تو جنگوں کی مصیبت کے لیے

اور مرتے تھے ترے نام کی عظمت کے لیے

تھی نہ کچھ تیغ زنی اپنی حکومت کے لیے

سر بکف پھرتے تھے کیا دہر میں دولت کے لیے

قوم اپنی جو زر و مال جہاں پر مرتی

بت فروشی کے عوض بت شکنی کیوں کرتی؟

اور مسلمانوں کا کردار یہ تھا:

ٹل نہ سکتے تھے اگر جنگ میں اڑ جاتے تھے

پاؤں شیروں کے بھی میداں سے اکھڑ جاتے تھے

تجھ سے سرکش ہوا کوئی تو بگڑ جاتے تھے

تیغ کیا چیز ہے؟ ہم توپ سے لڑ جاتے تھے

نقش توحید کا ہر دل پہ بٹھایا ہم نے

زیر خنجر بھی یہ پیغام سنایا ہم نے

چنانچہ علامہ کے بقول انگریزوں نے بعض نام نہاد علما کو اپنا آلہ کار بنایا۔ کہ وہ اسلام اور شریعت اسلامیہ میں رخنہ اندازی کریں۔ ایک سیاسی مسئلہ جہاد کا تھا، چنانچہ بعض اطراف سے یہ توجیہہ کی گئی کہ جہاد سے مراد صرف جہد یا کوشش ہے، تلوار اٹھانا اور خون بہانا جہاد نہیں اور بعض نے جہاد بالسیف کی جگہ ’’ جہاد بالقیم‘‘ *کو اس دور کی ضروریات کے مطابق جہاد بتایا۔ غرض علما کے ایک طبقہ سے اس طرح کی تاویلات فراہم ہو گئیں لیکن اس کا اثر عامۃ المسلمین پر نہ ہوا اس لیے بقول علامہ ایک جدید نبوت کی ضرورت محسوس ہوئی۔ مرزا غلام احمد اس خدمت پر متعین ہوئے اور مختلف مراحل سے گزر کر کبھی مسیح موعود، کبھی مہدی، کبھی نبی ظلی کے روپ میں ایک ایسی شریعت کے بانی ہوئے جو اسلام کے نام پر اسلام کی تلبیس تھی۔ قادیانیت کے خلاف مسلم علماء اور زعماء نے آواز اٹھائی اور بہت کچھ لکھا گیا لیکن علامہ کا یہ خیال درست ہے کہ اصل مسئلہ یعنی قادیانیوں کے تنسیخ مسئلہ جہاد پر جس توجہ کی ضرورت تھی وہ نہیں ہوئی۔

قیام پاکستان کے بعد بھی قادیانیت کی تبلیغ و تنظیم کا سلسلہ جاری رہا اور قادیانی بعض کلیدی آسامیوں پر قابض رہے جن سے نازک آسامیوں پر ان کا اور ان کی جماعت کے لوگوں کا اثر و اقتدار بڑھا اور طرح طرح کے سیاسی، سماجی اور انتظامی مسائل پیدا ہوئے۔

*اس شعر میں علامہ کا اشارہ اسی کی طرف ہے:

فتویٰ ہے شیخ کا یہ زمانہ قلم کا ہے

دنیا میں اب رہی نہیں تلوار کارگر

نظم کا عنوان ہے جہاد، دیکھئے، ضرب کلیم ص28

اس کے خلاف زبردست رد عمل بھی ہوا اور بالآخر حکومت پاکستان کو قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینا پڑا۔ علامہ کے اکثر مکتوبات میں قادیانیوں کے بارے میں واضح خیالات موجود ہیں۔

11۔ سلطان ٹیپو شہید: سلطان ٹیپو شہید سے علامہ اقبال کی عقیدت کی بناء سلطان شہید کا جذبہ اور شوق جہاد ہے یہ جہاد صرف اسلام کی سربلندی اور بر  ادہیب: اعجاز عبیدتشکیل: اعجاز عبیدعظیم پاک و ہند میں انگریزوں کے تسلط کے خلاف تھا، جن کے عزائم میں سلطان شہید کو سلطنت ہند کی پامالی اور نتیجہ کے طور پر ملت اسلامیہ کی تذلیل و تضحیک کے سامان نظر آ رہے تھے۔ سلطان شہید کے بارے میں ہمارے ملک کے نامور مورخ ڈاکٹر اشتیاق حسین قریشی لکھتے ہیں *:

’’ اگرچہ سلطان ٹیپو سلسلہ تواریخ کے اعتبار سے بہت بعد میں آیا، مگر ملت نے اس کی شخصیت میں ایک اور لائق، مجاہد اور منتظم فرزند پیدا کیا۔ اس میں اس قدر پیش بینی تھی کہ اس نے پہلے سے یہ اندازہ لگا لیا کہ انگریز بر عظیم کے سرداروں اور حکمرانوں سے اقتدار چھین لیں گے۔ اس نے یہ ثابت کر دیا کہ وہ مغرب کی بڑھتی ہوئی طاقت کے حقیقی اسباب کا کچھ فہم و ادراک رکھتا ہے اور اس نے اپنی مملکت میں بعض اصلاحات جاری کرنے کی کوشش بھی کی۔ اگر اس کو وقت ملتا تو اس کی یہ اصلاحات نظام ملک کی جدید تشکیل کے لیے بنیاد کا کام انجام دیتیں۔ وہ بر عظیم میں سب سے پہلا فرمانروا تھا جس نے بین الاقوامی سطح پر سفارتی تعلقات اور موقع شناسی کی قدر و قیمت کو اچھی طرح سمجھا، مگر اس کے مقدر میں کامیابی نہیں تھی کیونکہ اسے بڑی زبردست مشکلات کا سامنا تھا۔ کم سے کم اسے یہ طمانیت قلب ضرور حاصل ہوئی کہ اس نے اپنی جیسی کوشش میں کوئی دقیقہ فرو گذاشت نہیں کیا اور اپنی قلمرو کے دفاع میں مردانہ وار لڑتے ہوئے جان دی۔ مسلمانوں کے حکمران طبقوں میں نظام الملک اور ٹیپو سلطان جیسے آدمی فی الحقیقت نادر الوجود تھے۔ ملت ان جیسے فرزند پیدا کرنے کی صلاحیت کھو چکی تھی۔‘‘

۔۔۔۔۔

*بر عظیم پاک و ہند کی ملت اسلامیہ، ص224

۔۔۔۔۔۔۔

سلطان ٹیپو شہید کے مجاہدانہ عزم و استقلال اور جدوجہد کا ایک اور اندازہ فتح المجاہدین*سے ہوتا ہے۔ یہ سلطان ٹیپو کے فوج کے قواعد و ضوابط اور آئین جنگ پر ایک نادر تصنیف ہے جو سلطان کے حکم سے اور اس کی نگرانی میں اس کے ایک فوجی افسر میرزا زین العابدین شوستری نے مرتب کیا تھا۔ اس کتاب کے پیش لفظ میں شہید ملت لیاقت علی خاں فرماتے ہیں **:

Tipu Sultan was a great soldier, a great administrator and one of the greatest servants of the cause of Islam.

۔۔۔۔۔۔۔

*فتح المجاہدین، مرتبہ ڈاکٹر محمود حسین، مقدمہ لیاقت علی خاں وزیر اعظم و وزیر دفاع پاکستان، اردو اکیڈمی سندھ، کراچی 1950ء

**ایضاً

۔۔۔۔۔۔۔

دیباچہ میں میرزا زین العابدین، سلطان ٹیپو کے اس احساس کا ذکر کرتے ہوئے جو اس کے دل میں سلطنت تیموریہ کے زوال، ملازمین سلطنت کی نمک حرامی اور بد بختی سے پیدا ہونے والے حالات کی طرف سے تھا کہ بقول سلطان ’’ نصارائے کوٹھی دار سواحل ہند کہ تجارت کے بہانے سے آئے تھے، آہستہ آہستہ اس ملک میں قدم آگے بڑھا رہے تھے۔ سلطان نے ملک میں اسلام اور مسلمانوں کی بے حرمتی، بے بسی اور پریشانی کا ذکر کیا ہے اور اسی کے لیے اس نے اپنی فوج کو نئے طریقے سے منظم کیا اور اس کے قواعد و ضوابط حرب و ضرب مرتب کیے۔ کتاب کے آغاز میں باب اول در بیان ’’ مسائل عقائد و نماز و مسائل منع تمباکو و نمک حرامی و ترکہ و جہاد وغیرہ‘‘ ہے۔ اس میں جہاد کے مسائل پر زیادہ تفصیل سے لکھا ہے۔‘‘ مثلاً

1جہاد باکفار از برائے نصرت دین اسلام است، بجہت ارتفاع حق، قال اللہ تعالیٰ ولا تقولوا لمن یقتل فی سبیل اللہ اموات، بل احیاء ولکن لا تشعرون۔

2مسئلہ: حرام است روگرداں شدن از جہاد بر کسے کہ واجب است بر او جہاد۔۔۔

3 مسئلہ: کسے کہ اعانت مسلمانی بکند در جہاد بنفقہ یعنی ما کول یا مال یعنی زر یا سلاح جنگ یا اسپ یا بذات یعنی خود شریک جنگ شود پس از برائے اوست ثوابے کہ ہست برائے مجاہدہ در راہ خدا۔

4مسئلہ: نیکو نیست برائے مسلمین کہ اطاعت بکنند کفار را با قدرت و امکان۔

5مسئلہ: نیکو نیست باج دادن بکفار با قدرۃ بر جہاد۔۔۔۔

یہ ہم نے نہایت اختصار سے بطور نمونہ چند مسائل کی طرف اشارہ کیا ہے جو فتح المجاہدین میں بیان کئے گئے ہیں۔ پوری کتاب سے سلطان کے ذوق و شوق جہاد کا اندازہ ہوتا ہے۔ جن حضرات نے جہاد کے سلسلے میں علامہ کی تحریریں پڑھی ہیں ان کو علامہ کے بیانات میں سلطان ٹیپو شہید کی جھلک ضرور نظر آئے گی بالخصوص وہ مکتوب جو علامہ نے علی گڑھ کے ظفر احمد صدیقی کو لکھا تھا ٭ اور جس میں جہاد کی مختلف صورتوں کی وضاحت کی تھی اور یہ کہ محض جوع الارض کی تسکین کے لیے جو لڑائی لڑی جائے وہ جہاد نہیں اور نہ اسلام میں اس کی اجازت ہے۔ اسی خط میں علامہ نے اپنے کلام کی مشہور شعری علامت ’’شاہین‘‘ کی بھی تشریح کی تھی۔ سلطان شہید علامہ کے نزدیک جدوجہد اور عزم و استقلال کا ایک کامل نمونہ تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔

٭ یہ مکتوب پہلی مرتبہ راقم نے علامہ کی حیات میں علی گڑھ میگزین کے اقبال نمبر میں شائع کیا تھا۔ یہ نمبر تیار ہو چکا تھا کہ علامہ کا انتقال ہو گیا اور اسی ہفتہ یہ شائع ہوا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ضرب کلیم میں ایک مختصر نظم سلطان ٹیپو کی وصیت کے عنوان سے اس کردار کی ترجمان ہے:

تو وہ نورد شوق ہے؟ منزل نہ کر قبول!

لیلیٰ بھی ہم نشیں ہو تو محمل نہ کر قبول!

اے جوئے آب بڑھ کے ہو دریائے تند و تیز!

ساحل تجھے عطا ہو تو ساحل نہ کر قبول!

کھویا نہ جا صنم کدہ کائنات میں !

محفل گداز! گرمی محفل نہ کر قبول!

صبح ازل یہ مجھ سے کہا جبرئیل نے

جو عقل کا غلام ہو وہ دل نہ کر قبول!

باطل دوئی پسند ہے، حق لا شریک ہے

شرکت میانہ حق و باطل نہ کر قبول ٭

12۔ مولوی ثناء اللہ صاحب امرتسری: یہ ان لوگوں میں سے تھے جنہوں نے رد قادیانیت میں نمایاں کردار ادا کیا اور مناظروں مباحثوں اور مجلسوں کے علاوہ اپنی تحریروں میں بھی مرزا غلام احمد کے دعووں اور ان کے اقوال کی تردید کی ہے۔ یہ بات دلچسپ ہے کہ مولوی ثناء اللہ امرتسری نے سر سید احمد خاں مرحوم کے کتب خانے کی طرف توجہ دلائی۔ سرسید مرحوم کا کتب خانہ ایک زمانے میں بے شک ایسا تھا کہ مولانا شبلی نعمانی جب پہلی مرتبہ علی گڑھ آئے تو انہوں نے سرسید کے کتب خانے میں ایسی مطبوعات دیکھیں جو ان کی نظرسے پہلے نہیں گزری تھیں اور اکثر مطبوعات جدیدہ مصر، شام و لبنان وغیرہ کی مطبوعات ملک میں صرف ان کے پاس تھیں۔ سرسید نے خود مذہب کے بارے میں بہت کچھ لکھا تھا۔ تبئین الکلام کی ترتیب میں خاص طور پر عبرانی عربی ماخذ جمع کیے تھے بلکہ عبرانی پڑھی تھی۔ اور کتاب کے لیے عبرانی ٹائپ بھی منگوایا تھا۔ لیکن جب زمانے کا ذکر اس گفتگو میں ہے سرسید مرحوم کا کوئی کتب خانہ اس صورت کا باقی نہ تھا۔ کتب خانے کا ایک بڑا حصہ غالباً سرسید کے سفر انگلستان کے اخراجات کے لیے فروخت کرنا پڑا۔ کچھ حصہ ایم اے ا و کالج کی لائبریری میں تھا جو بعد میں مسلم یونیورسٹی علی گڑھ کی لٹن لائبریری میں منتقل ہوا۔ یہ معلوم نہ ہو سکا کہ علامہ نے اس سلسلے میں علی گڑھ سے رابطہ قائم کیا یا نہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

٭ ’’ضرب کلیم‘‘ ص 73۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

13۔ جنید بغدادیؒ : حضرت جنید بغدادیؒ ان صوفیہ میں سے ہیں جن سے عقیدت کا اظہار علامہ اقبال نے اپنی نظم و نثر میں جا بجا کیا ہے۔ ذوق و شوق ان کی مشہور نظم ہے اس میں حضرت جنیدؒ کے فقر کی طرف یوں اشارہ کیا ہے:

شوکت سنجر و سلیم ، تیرے جلال کی نمود

فقر جنید و بایزید تیرا جمال بے نقاب

جو شعر علامہ نے پڑھا تھا کہ

ہر کہ عاشق گشت حسن ذات را

گشت سید جملہ موجودات را

حضرت جنیدؒ ان صوفیہ میں سے تھے جو مشاہدہ ذات حق کے سالک تھے اور جنہوں نے جمال بے نقاب کا ادراک اپنے تزکیہ نفس اور تصفیہ باطن سے کیا تھا۔ حضرت جنید سید الطائفہ کہلاتے ہیں۔ چنانچہ علامہ نے بھی ان کو اسی لقب سے خطاب فرمایا۔ حضرت جنید کے مرتبہ کا اعتراف اکابر صوفیہ نے کیا ہے۔ چنانچہ حضرت ابوالحسن علی بن عثمان بن ابی علی الجلابی جو ہجویری کی نسبت سے زیادہ مشہور ہیں اور خود علامہ اقبال نے ان سے اپنی عقیدت کا اظہار کیا ہے حضرت جنید ؒ کے بارے میں فرماتے ہیں :

’’شیخ مشائخ اند طریقت و امام ائمہ انر شریعت ابو القاسم الجنید بن محمد الجنید القواریری، مقبول اہل ظاہر و ارباب القلوب بود، و اندر فنون علم کامل و در اصول و فروغ و وصول و معاملات مفتی و امام اصحاب ابو ثور بود۔ ویرا کلام عالی و احوال کاملست۔ تاجملہ اہل طریقت پر امامت وے متقق اند و ہیچ مدعی و متصرفی را در وے محال اعتراض و اعراض نیست‘‘۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

٭ کشف المحجوب متن تصحیح شدہ و انتین ژوفسکی، مطبوعات موسسہ چاپ و انتشارات امیر کبیر ص 161 تیر ماہ یک ہزار و سی صد و سی و شش۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

حضرت جنید باوجود اس مرتبہ کے جو ان کو صوفیانہ مشاہدہ سے حاصل ہوا تھا۔ شریعت ظاہری اور طریق راستخہ اسلام کی سختی سے پابندی کرتے اور اس کی تاکید فرماتے۔ تذکرۃ الاولیاء میں حضرت خواجہ فرید الدین عطار جو خود صوفیائے کبار میں سے ہیں حضرت جنید کے حوالہ سے فرماتے ہیں :

’’این راہ کسے یابد کہ کتاب بر دست راست گرفتہ باشد، و سنت مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم بردست چپ، و در روشنائی دو شمع می دود تا نہ در شبہت افتد نہ در ظلمت بدعت‘‘۔

حضرت ہجویری رحمۃ اللہ علیہ نے بھی حضرت جنید کے بعض اقوال نقل کیے ہیں ٭۔ علامہ اقبال روحانی مراتب اور تجربات میں ارتقاء کے قائل ہیں۔ حضرت ہجویری اس سلسلے میں انبیاء اور صدیقین کے مراتب کا ذکر حضرت جنید رحمۃ اللہ علیہ کے حوالے سے یوں کرتے ہیں :

’’گفت کلام الانبیا نبا عن الحضور و کلام الصدیقین اشارۃ عن المشاہدات۔ سخن انبیاء خبر باشد از حضور و کلام صدیقاں اشار ت از مشاہدات صحت خبر از نظر بود، و ازاں مشاہدات از فکر و خیر جز از عین نتوان داد و اشارت جز بغیر نباشد پس کمال و نہایت صدیقان ابتدا روزگار انبیا بود و فرقے واضح است میان ولی و نبی و تفضیل انبیاء بر اولیا بہ خلاف دو گروہ از ملاحدہ کہ انبیاء را اندر فصل موخر گویند و اولیا را مقدم‘‘۔

ارمغان حجاز میں بھی علامہ اقبال نے حضرت جنید کا ذکر کیا ہے:

دگر بمدرسہ ہائے حرم نمی بینی

دل جنید و نگاہ غزالی و رازی

حضرت جنید بغدادی ؒ کو خراز بھی کہتے ہیں۔ کیونکہ آپ موزہ دوزی کا کام کرتے تھے اور اکابر صوفیائے سلف کی طرح محنت مزدوری کر کے کسب حلال کماتے تھے۔ آبائی وطن نہاوند تھا لیکن آپ کی ولادت بغداد میں ہوئی۔ ان کی روحانی تربیت میں حضرت سری سقطیؒ، حضرت حارث محاسبی اور حضرت شیخ محمد قصاب کے نام ملتے ہیں۔

تذکرہ نگاروں نے ان کی جو صفات بیان کی ہیں وہ بے حد ہیں لیکن ان میں خاص طور پر زہد اور عشق الٰہی پر زور دیا ہے۔ خواجہ عطار ان کے بارے میں لکھتے ہیں :

’’بیشتر از مشائخ بغداد در عصر او و بعد از وے مذہب او داشتہ اند، و طریق او طریق صحو بود‘‘۔

یہ طریق صحو وہی ہے جس کا ذکر علامہ اقبال نے کیا ہے اور اسے سکر پر ترجیح دی ہے۔ حضرت جنید رحمۃ اللہ علیہ کی وفات 297ھ 910ء میں ہوئی۔

14۔ علامہ اقبال نے بار بار اپنے اشعار میں بھی اور اپنی نثری تحریروں میں بھی علم کی دو قسموں کا ذکر کیا ہے۔ کہیں ایک کو علم اور دوسرے کو وجدان کہا گیا ہے۔ کہیں علم کی دو قسمیں ہیں : برتن زنی، مارے برد، اور بردل زنی یارے بود کہیں کو ایک خبر ایک کو نظر کہا ہے۔ اس کی مفصل بحث تشکیل جدید الہیات اسلامیہ یعنی خطبات میں پہلے خطبہ میں کی ہے جس کا عنوان ہی علم اور مذہبی مشاہدات ہے۔ اس بحث کا خلاصہ یہ ہے کہ اسلام میں عقلی اساسات کی جستجو کا آغاز آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ذات مبارک ہی سے ہو گیا تھا ٭ کہ آپ ہمیشہ دعا فرماتے تھے کہ اے اللہ مجھ کو اشیاء کی اصل حقیقت سے آگاہ کر۔ خود قرآن حکیم میں بار بار انسان کو غور و فکر کی دعوت دی گئی ہے۔ مناظر و مظاہر قدرت دن رات کا نظام سیاروں کی گردش ، بادل بارش بلکہ حقیر شہد کی مکھی تک آیت الٰہی ہیں جن پر غور کرنے سے حقیقت پر سے بعض پردے اٹھتے ہیں۔ علامہ کے بقول یونانی فلسفہ اور دیگر اثرات نے مفکرین اسلام کے مطمح نظر میں کچھ وسعت پیدا کر دی ہے مگر بہ حیثیت مجموعی قرآن مجید میں ان کی بصیرت محدود ہو کر رہ گئی ہے حالانکہ قرآن پاک کی روح اساساً یونانیت کے منافی ہے۔ اس یونانیت کے فکر تحلیلی سے مایوس ہو کر بعض مفکرین نے صوفیانہ واردات پر توجہ کی۔ اس کی ایک اور مثال امام غزالی کے ہاں ملتی ہے۔ علامہ اقبال فرماتے ہیں کہ حقیقت مطلقہ کے تمام و کمال ٭٭ لقا کی خاطر ادراک بالحواس کے ساتھ ساتھ اس چیز کے مدرکات کا اضافہ بھی ضروری ہے جسے قرآن پاک نے فواد یا قلب سے تعبیر کیا ہے۔ علامہ فرماتے ہیں :

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

٭ تشکیل جدید الہیات اسلامیہ ص 4 و مابعد۔

٭٭ ایضاً ص 23۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

قلب کو ایک طرح کا وجدان یا اندرونی بصیرت کے لیے جس کی پرورش مولانا روم کے دلکش الفاظ میں نور آفتاب سے ہوتی ہے اور جس کی بدولت ہم حقیقت مطلقہ کے ان پہلوؤں سے اتصال پیدا کر لیتے ہیں جو ادراک بالحواس سے ماورا ہیں۔ قرآن مجید کے نزدیک قلب کو جو قوت دید حاصل ہے اور اس کی اطلاعات بشرطیکہ ان کی تعبیر صحت کے ساتھ کی جائے کبھی غلط نہیں ہوتیں۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ کوئی پراسرار قوت ہے۔ اسے دراصل حقیقت مطلقہ تک پہنچنے کا وہ طریق ٹھہرانا چاہیے جس میں باعتبار عضویات حواس کا مطلق دخل نہیں ہوتا۔ بایں ہمہ اس طرح حصول علم کاجو ذریعہ پیدا ہوتا ہے ایسا ہی قابل اعتماد ہو گا جیسے کسی دوسرے مشاہدہ سے، جسے اگر باطنی یا صوفیانہ یا فوق العادۃ ٹھہرایا جائے تو بحیثیت مشاہدہ اس کی قدر و قیمت میں کوئی فرق نہیں آتا‘‘۔

15۔ اس جملے اور بعد کے پارے کے آخری جملے میں بظاہر تضاد نظر آتا ہے۔ اس لیے مقالہ نگار کے سمجھنے یا بیان کرنے میں کوئی غلط فہمی ہے۔ تزکیہ نفس کے لیے علامہ کا یہ فرمانا کہ صوفیا کے فرائض اس کے لیے ہیں صحیح اور درست معلوم ہوتا ہے۔ رہا یہ سوال کہ بعض اصطلاحات جو صوفیہ یا مفکرین کے یہاں بعد میں ملتی ہیں وہ جنات رسالت مآب صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے زمانے میں نہ تھیں اور نہ اس قسم کے اذکار و اوراد تو یہ ا س حد تک درست ہے کہ صوفی کی اصطلاح اس زمانے میں نہ تھی اورکسی بھی مسلمان کے لیے سب سے بڑا فخر یہ تھا کہ اس نے آپ کا زمانہ پایا یا آپ کو دیکھا یا سنا۔ یہ صحابہ کرامؓ تھے ان کے بعد تابعین اور تبع تابعین کا عہد آیا لیکن اس زمانے میں بھی ایسے لوگ موجو د تھے جن کی روش عامہ المسلمین سے الگ تھی۔ مثلاً اصحاب صفہ جو مسجد نبوی سے باہرا یک چبوترے پر بیٹھے عبادت کرتے تھے اور ان کے لیے سامان زندگی خود رسول کریمؐ اور ان کے صحابہؓ بہم پہنچاتے تھے اور بعض صوفیا لوگ ان کی نسبت انہیں اصحاب صفہ سے بتاتے ہیں۔ بہرحال اگر مسلمانوں اور بالخصوص صوفیائے کرام میں ذکر و شغل کے بعض خاص طریقے رائج ہیں تو ضروری نہیں کہ یہ مجوس ہنود یا نصاریٰ ہی آئے ہوں ممکن ہے ان کے یہاں بھی بعض طریقے ایسے یا ان سے ملتے جلتے رائج ہوں لیکن ان کو صوفیہ کے ذکر و شغل کا منبع یا مصدر یقین کرنا لازم نہیں آتا کیونکہ ذکر و فکر کی تاکید قرآن حکیم میں ہے۔ اس سلسلے کی بعض روایات آیات مبارکہ دیکھیے:

(1) انما المومنون الذین … رزق کریم   (الانفال ۲۔۳۔۴)

’’بس ایمان والے تو ایسے ہوتے ہیں کہ جب (ان کے سامنے) اللہ تعالیٰ کا ذکر آتا ہے تو ان کے قلوب ڈر جاتے ہیں اور جب اللہ کی آیتیں ان کو پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو وہ (آیتیں ) ان کے ایمان کو اور زیادہ (مضبوط) کر دیتی ہیں اور وہ لوگ اپنے رب پر توکل کرتے ہیں۔ (اور ) جو کہ نماز کی پابندی کرتے ہیں اور جو کچھ ہم نے ان کو دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں۔ (بس) سچے ایمان والے یہ لوگ ہیں ان کے لیے بڑے درجے ہیں ان کے رب کے پاس اور (ان کے لیے ) مغفرت ہے اور عزت کی روزی‘‘۔

(2) الذین امنوا …تطمئن القلوب (الرعد۔ ۲۸)

’’جو لوگ ایمان لائے اور اللہ کے ذکر س ان کے دلوں کو اطمینان ہوتا ہے خوب سمجھ لو کہ اللہ کے ذکر سے دلوں کو اطمینان ہو جاتا ہے‘‘۔

(3) فسئلوا … لا تعلمون (النحل ۴۳)

’’اگر تم نہ جانتے ہو تو اہل ذکر (یعنی جاننے والوں سے پوچھو۔

(4) و اصبر نفسک…امرہ فرطا (الکہف ۲۸)

’’اور آپ اپنے آپ کو ان لوگوں کے ساتھ مقید رکھا کیجیے جو صبح و شام (یعنی ولی الدوام) اپنے رب کی عبادت محض اس کی رضا جوئی کے لیے کرتے ہیں اور دنیوی زندگی کی رونق کے خیال سے آپ کی آنکھیں (یعنی توجہات) ان سے ہٹنے نہ پائیں اورایسے شخص کا کہنا نہ ماننے جس کے قلب کو ہم نے اپنی یاد (ذکر) سے غافل کر رکھا ہے اور وہ اپنی نفسانی خواہشات پر چلتا ہے‘‘۔

(5) الم تران اللہ … بما یفعلون (النور۔ ۴۱)

’’کیا تجھ کو معلوم نہیں کہ اللہ کی پاکی بیان کرتے ہیں سب جو کچھ آسمانوں اور زمیں میں (مخلوقات) ہیں اور (بالخصوص) پرند جو پر پھیلائے ہوئے اڑتے ہیں سب کو اپنی اپنی دعا اور اپنی تسبیح معلوم ہے اور اللہ تعالیٰ کو ان لوگوں کے سب افعال کا پورا علم ہے‘‘۔

یہ صرف چند آیات ہیں جن میں ذکر الٰہی اور تسبیح و تمجید کا ذکر کیا گیا ہے اور یہ کہ مخلوقات اپنی اپنی زبان ، اپنے اپنے طریقے اور اپنے اپنے انداز میں اس امر ربی کی تعمیل و تکمیل کرتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ یہ ماخذ قرآنی کسی اور مصدر سے ماخوذ ہیں۔ اب دیکھیے خود صوفی ذکر کی تعریف کیا کرتے ہیں :

’’ذکر اللہ کی یاد، یاد الٰہی میں جمیع غیر اللہ کو دل سے فراموش کر کے حضور قلب کے ساتھ قرب و معیت و حق تعالیٰ کا انکشاف حاصل کرنے کی کوشش کو ذکر کہتے ہیں۔ چنانچہ ہر وہ چیز جسکے توسل سے یاد حق ہو، خواہ اسم ہو یا رسم ، فعل ہو یا جسم ، کلمہ ہو یا نماز، یا تلاوت قرآن یا درود شریف یا ادعیہ، یا کیفیات یا کوئی اور چیز جس سے مطلوب کی یاد ہو اور طالب و مطلوب میں رابطہ پیدا ہو یا بڑھے اصطلاح تصوف میں ذکر کر کے نام سے موسوم ہے۔ چنانچہ صوفی کے جملہ افعال و اقوال و احوال جو کہ یاد حق سے خالی نہیں رہتے اذکار ہیں۔ ذکر کا جمال یہ ہے کہ ذاکر و مذکور کے درمیان سے جملہ حجابات اٹھ جاویں ‘‘۔

ظاہر ہے کہ اس تعریف میں کوئی چیز ایسی نہیں جو قرآنی تعلیمات یا روح اسلامی کے منافی ہو۔ چنانچہ اسی بناء پر علامہ اقبال نے تزکیہ نفس تصٖیہ باطن اور اصلاح قلب کے لیے بعض اوراد اور اشغال کی طرف توجہ دلائی تھی۔

ان اذکار کی مختلف شکلیں ہیں جو مختلف سلسلوں کے مشائخ میں رائج ہیں۔ مثلاً ذکر لسانی یا ذکر ناسوتی، ذکر قلبی یا ذکر ملکوتی ذکر نسفی یا فکر ذکر روحی یا ذکر جبروتی و مشاہدہ ذکر لاہوتی یا سری ذکر نفی اثبات، ذکر اسم ذات، ذکر جبروتی، وغیرہ تفصیل ان کی تصوف کی تصانیف میں موجود ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

٭ سر دلبراں ص 169

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

16۔ یہ دونوں شعر مثنوی میں ہیں اور اسی ترتیب سے:

دفتر صوفی کتاب و حرف نیست

جز دل اسپید ہمچو برف نیست

زاد دانشمند آثار قلم

زاد صوفی چیست انوار قدم

حقیقت تک رسائی کے ان دونوں طریقوں پر علامہ اقبال نے بہت کچھ لکھا ہے۔ وہ عقل و تعقل کو بالکل معطل نہیں کرتے بلکہ اس کا دائرہ عمل متعین کرتے ہیں جس طرح حقیقت کے تجربے کے صوفیانہ یا مذہبی عمل کا دائرہ عمل ہے۔ خطبات میں بھی اس پر بحث ہے اور کلام میں بھی جا بجا اس علم کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔

17۔ پوری غزل بال جبریل میں موجود ہے مطلع یہ ہے:

تجھے یاد کیا نہیں ہے مرے دل کا وہ زمانہ؟

وہ ادب گہ محبت وہ نگہ کا تازیانہ

اس میں بتان عصر حاضر کے بارے میں یہ شعر بھی ہے:

یہ بتان عصر حاضر کہ بنے ہیں مدرسے میں

نہ ادائے کافرانہ! نہ تراش آزرانہ

بال جبریل میں علامہ اقبال کی غزلوں میں وہ رنگ و آہنگ ہے جو اس سے پہلے اردو غزل میں نہیں ملتا۔ مضامین عاشقانہ ہیں لیکن عشق کا تصور وہ نہیں جو مرزا خاں داغ دہلوی یا مومن جرات کے یہاں ہے۔ انداز بیان غزل کا ہے لیکن اس میں ندرت اور تازگی ہے۔

18۔ مسز سروجنی نائیڈو: شاعرہ ادیب ، مضمون نگار، سیاسی مبصر اپنے دور میں بالخصوص نوجوان طلبا میں بے حد مقبول تھیں۔ حب وطن کے جذبے سے سرشار اور وطن کی آزادی کے مجاہدوں کی قدردان تھیں۔ بر عظیم میں اور یہاں سے باہر ان کی محفلیں شعر و ادب، سیاست و تہذیب کی انجمنیں معلوم ہوتی تھیں۔ انگریزی زبان پر زبردست قدرت تھی اور اس میں شعر بھی کہتی تھیں۔

19۔ علامہ عبد اللہ یوسف علی قرآن حکیم کے انگریزی ترجمہ کی وجہ سے مشہور ہیں۔ انڈین ایجوکیشن سروس سے متعلق تھے پھر ایک مدت تک اسلامیہ کالج لاہور میں پرنسپل رہے انجمن حمایت اسلام کے سرگرم اراکین میں تھے اور پنجاب میں مسلمانوں کی دینی سماجی اور کسی قدر سیاسی تحریکات میں دلچسپی لیتے تھے۔ علامہ اقبال کے قدردانوں میں تھے۔ آخر عمر میں لندن چلے گئے تھے اور تقریباً گمنامی کی زندگی بسر کر رہے تھے۔ آخری زمانہ میں کس مپرسی اور ناقدری میں گزارا۔ وہیں انتقال ہوا۔

20۔ مرزا عبد القادر بیدل: مرزا عبد القادر بیدل بر عظیم پاک و ہند کے ان اکابر شعرا میں سے ہیں جن کا فارسی کلام مستند و معتبر ہے۔ اگرچہ بعض اردو اشعار بھی ان سے منسوب ہیں لیکن ان کی تاریخی صحت مشتبہ ہے۔ بعد کے شعراء نے جن میں مرزا غالب اور علامہ اقبال بھی شامل ہیں مرزا بیدل کا اعتراف کیا ہے عقل و جنون کے باب میں علامہ اقبال کا نقطہ نظر وہ تھا جسے صوفیانہ کہہ سکتے ہیں۔ ایک جگہ فرماتے ہیں :

تعلیم پیر فلسفہ مغربی ہے یہ

ناداں ہیں جن کو ہستی غائب کی ہے تلاش

پیکر اگر نظر سے نہ ہو آشنا تو کیا

ہے شیخ بھی مثال برہمن صنم تراش

محسوس پر بنا ہے علوم جدید کی

اس دور میں ہے شیشہ عقائد کا پاش پاش

مذہب ہے جس کا نام وہ ہے اک جنون خام

ہے جس سے آدمی کے تخیل کو انتعاش

کہتا مگر ہے فلسفہ زندگی کچھ اور

مجھ پر کیا ہے مرشد کامل نے راز فاش

با بر کمال اندکے آشفتگی خوش است

ہر چند عقل کل شدہ ای بے جنوں مباش

یہ آخری شعر جس میں مرشد کامل کا ہے وہ مرزا عبد القادر بیدل ہی ہیں۔ یہی خیال علامہ کا اس اردو شعر میں ہے:

اچھا ہے دل کے پاس رہے پاسبان عقل

لیکن کبھی کبھی اسے تنہا ہی چھوڑ دے

مرزا عبد القادر صرف ایک شاعر نہیں تھے۔ صوفی بھی تھے۔ ان کے چچا مرز ا قلندر تھے۔ جنہوں نے عبد القادر کے والد کی وفات کے بعد اس بچے کی پرورش کی۔ وہ خود حضرت شیخ کمال کے مرید تھے اور اپنے ساتھ عبد القادر کو بھی ان کی خدمت میں لے جاتے تھے اور ایک اور بزرگ شاہ ملوک تھے جن کی خدمت یں عبد القادر حاضر ہوتے تھے اور انہوں نے اکر ان کی کرامتوں کا حال بھی لکھا ہے۔ وہ وحدت الوجود کے قائل تھے اور مثنوی مولانا روم کے اشعار عبد القادر کو سناتے تھے۔ شاید مرزا عبد القادر بیدل اور علامہ اقبال دونوں کے مرشد کامل پیر رومی ہی دونوں کے ربط باطن کی کڑی ہیں۔ ظاہر ہے کہ جس طرح کا وحدت وجودی کا تصور بعض صوفیہ کے یہاں ملتا ہے۔ اور اس میں بیدل بھی شامل ہیں وہ اقبال کے مسلک سے مختلف ہے بلکہ یہ کہنا زیادہ درست ہے کہ اقبال کا کلام بڑی حد تک اس وحدت الوجود کے نظریہ اور اس کے نتیجہ میں پیدا ہونے والے مسائل و اثرات کی تردید ہے۔ لیکن دونوں میں بہت سی چیزیں مشترک ہیں۔ مثلاً علامہ اقبال اور بیدل دونوں اس باب میں ہمنوا ہیں کہ طریقت کا کوئی راستہ ایسا نہیں کہ جو شریعت سے باہر ہو۔ بیدل اپنے پیر و مرشد شیخ کمال الدین کا یہ قول نقل کرتے ہیں ـ:

تا نہ گردند خاک جادہ شرع

گر ہمہ منزل اند گمراہ اند

وحدت الوجودی ہونے کے باوجود مرزا عبد القادر بیدل ا س تصوف کے خلاف ہیں جو مزاج خلق میں ہوس کی پرورش کرے۔ اپنے ایک شعر میں فرماتے ہیں :

در مزاج خلق بے کاری ہوس می پرورد

غافلاں نام فضولی را تصوف کردہ اند

دراصل جو چیز علامہ اقبال کو بیدل کے یہاں پسند ہے وہ عظمت آدم ہے۔ تخلیق کائنات کا مقصد انسان کامل کا ظہور و عروج ہے اور کائنات کو اسی کے لیے مسخر کیا گیا۔ ہر چیز جو پیدا کی گئی انسان کی غلام ہے۔ بیدل کے یہ اشعار دیکھیے:

طالب صحبت معنی نظراں باید بود

خاک در صحن بہشتے کہ نہ دارد آدم!

٭٭٭

ہر دو عالم خاک شد تابست نقش آدمی

اے بہار نیستی از قدر خود ہشیار باش

اقبال کے ایک شعر میں اسی کی بازگشت یوں ہے:

آیہ کائنات کا معنی دیریاب تو

نکلے تری تلاش میں قافلہ ہائے رنگ و بو

اس سلسلے کے بعض اور اشعار یہ ہیں :

عافیت دور است از نقش بنائے محرمی

خوں بود رنگے کزو تصویر انساں می شود

مدعا دل بود اگر نیرنگ امکاں ریختند

بہر ایں یک قطرہ خوں رنگ طوفاں ریختند

علامہ اقبال نے مولانا رومی کے وہ اشعار نقل کیے ہیں جن میں حیات کی ارتقائی منازل جمادات، نباتات اور حیوانات کے مراحل طے کرتی ہیں بیدل فرماتے ہیں :

آن نغمہ بے نشانی پردہ راز

کہ انسان ز نوائے اوست مخرج پرداز

در آئینہ جماد موج رنگ است

در طبع نبات بوئے حیواں آواز

٭٭٭

زحد نمی رسی اے دنی بعروج فطرت بیدلی

تو معلم ملکوت شو کہ نہ حریف کمال او

اسی طرح اور اشعار بھی بیدل کے یہاں بکثرت ملتے ہیں۔ علامہ اقبال کی طرح بیدل کے یہاں بھی زندگی کا ایک حرکی تصور ہے:

در عشق ز پروانہ ہوس آئینہ بر گیر

ہر چند ریت قطع شود باز ز سر گیر

٭٭٭

بے غبارے نیست ہر جا مشت خاکے دیدہ ام

شد یقین کز بعد مردن ہم نمی میرد ہوس

٭٭٭

عرصہ آزادی از جوش غبارم تنگ بود

بر سر خود دامنے افشاندم و صحرا شدم

٭٭٭

موج دریا در کنارم از تگ وپویم مپرس

آنچہ من گم کردہ ام نایافتن گم کردہ ام

غرض مرزا کے کلام میں افسردگی فشار اور محرومی کی جگہ ہمت اولوالعزمی بلند فطرتی حرکت اور عمل پیہم کا سبق ملتا ہے۔ ٭

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

٭ دیکھیے اقبال اور بیدل ، ڈاکٹر ابواللیث صدیقی، ماہ نو، استقلال نمبر 1954ء

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

21۔ علوم قدیمہ اور علوم جدیدہ دونوں میں مسلمانوں کے کمالات ، ان کی ایجادات اور انکشافات سے اہل مغرب کی بے اعتنائی کے باوجود ان میں سے بعض نے مسلمانوں کے فضل و کمال کا اعتراف کیا ہے۔ اصلاً مسلمانوں کے لیے سرچشمہ ، علوم و ہدایت قرآن حکیم ہے علامہ نے وحی کو علم کا پہلا ذریعہ بتایا ہے۔ جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبیین پر ختم ہو گیا۔ لیکن قرآن حکیم موجود ہے اور اللہ تعالیٰ اس کی حفاظت کے خود ذمہ دار ہیں۔ مسلمانوں نے اسی ہدایت کی روشنی میں دیگر علوم و فنون کی تدوین کی۔ قرآن کی زبان عربی تھی۔ جب اسلام ان ملکوں اور لوگوں میں پھیلا جن کی زبان عربی نہ تھی تو قرآن پڑھنے اور سمجھنے کے لیے عربی جاننے کی ضرورت پیش آئی اور عربی میں قواعد صرف و نحو کی تدوین شروع ہوئی اور ابو الاسود پہلا نحوی ہوا۔ پھر تدوین احادیث کے سلسلے میں علم الرجال کی بنیاد پڑی جس سے سوانح نگاری کے علاوہ علمی تحقیق و تدقیقی تنقیح و تنقید کے اصول اور ضابطے مرتب ہوئے۔ اس کا سلسلہ تاریخ نگاری تک پہنچا اور مسلمانوں نے تاریخ کو نیم حقیقت نیم افسانہ کے دور سے نکال کر دور جدید سے آشنا کر دیا۔ علامہ ابن خلدون اس فن کے بنیادی ماخذ میں سے ہے۔ چنانچہ علامہ نے دوسرا ذریعہ آثار قدما و تاریخ بتایا ہے جس میں جغرافیہ بھی شامل ہے۔ مسلمانوں کو قرآن حکیم نے دنیا بھر کے سیر وسفر کی ترغیب دلائی۔ ’’سیر وا فی الارض‘‘ پر عمل پیرا ہو کر مسلمان جغرافیہ دانوں نے سیر و سیاحت سے اس فن کو مضبوط سائنسی بنیادوں پر استوار کیا اور اپنے ذاتی مشاہدوں پر مبنی اعلیٰ درجے کی کتابیں لکھیں۔ مشہور مستشرق جے ایچ آئی کریمرز لکھتا ہے:

’’یہ معلوم کرنا آسان نہیں کہ مسلمانوں کا علم جغرافیہ کس حد تک ذاتی مشاہدات پر مبنی تھا۔ انہوں نے کہاں تک بحری سفر کیے اور ان کے تجارتی تعلقات کی وسعت کا کیا حال تھا۔ یہ بیان حیرت انگیز ضرور معلوم ہو گا کیونکہ حقیقت یہ ہے کہ نویں صدی سے لے کر چودھویں صدی تک جغرافیہ کی معتدبہ اور اہم کتابیں عربی ہی میں لکھی گئیں ٭‘‘۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

٭ مقالہ مشمولہ میراث اسلام مرتبہ تامس آرنلڈ و الفریڈ گیام۔ اردو ترجمہ عبد المجید سالک مطبوعہ مجلس ترقی ادب لاہور، 1960ء ص 107ء و بعد۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

خلیفہ مامون الرشید کے عہد میں مشہور جغرافیہ دان اور ماہر علوم ہئیت الخوارزمی نے بطلمیوس کے ایک رسالے پر مبنی ایک کتاب لکھی۔ اس میں اس وقت کی دنیا کا ایک نقشہ بھی شامل تھا۔ جس میں وہ علاقے دکھائے گئے تھے جو اسلام کے بعد ظہور میں آئے اور جو ظاہر ہے بطلیموس کے رسالے میں نہ ہوں گے۔ اس میں عرض البلد اور طول البلد بھی موجود ہیں۔ مامون نے ہی صحرائے شام میں ایک جغرافیائی پیمائش کا حک مدیا تھا اور اسی کے حکم سے ستر عالموں نے جن میں الخوارزمی بھی شامل تھا کرہ ارضی کا ایک مجسمہ بھی تیار کرایا تھا۔ اس کتاب میں خوارزمی نے دنیا کو سات حصوں میں یا ہفت اقلیم میں تقسیم کیا تھا یہ بات بھی بطلیموس کے رسالے میں نہ تھی۔ الخوارزمی کے

علاوہ الفرغانی (860) البستانی (900)ابن یونس (1000)اور البیرونی کے تیار کردہ نقشے بھی موجود ہیں َ ابن خودداذبہ (870)الیعقوبی (890)ابن الفقیہہ (903) اور ابن رستا (910) بھ مشہور جغرافی دان گزرے ہیں۔ جنہوں نے اسلامی دنیا کے علاوہ غیر مسلم ممالک مشرق بعید اور جزائر اور بزنطینی قلمرو کے حالات بھی لکھے ہیں۔ ایک مشہور ناخدا سلیمان سیرافی نے ہندوستان اور چین کے بحری سفر کے حالات لکھے ہیں۔ ابو زید البلخی (متوفی 934ء) ایک اور مشہور جغرافیہ دان تھا۔ اسنے ایک ضخیم کتاب اس فن پر لکھی ہے۔ وہ تو اب موجود نہیں لیکن بعد کی اہم ترین تصانیف میں سے اس کے حوالے ملتے ہیں۔ مثلاً اصطخری (950)ابن حوقل (975)اور المقدسی (985)ناموں کی یہ فہرست طویل ہے۔ ان میں المسعودی بھی ہے۔ جو دنیائے اسلام کا جہانگرد سیاح تھا۔ اس نے چین اور ہندوستان کا سفر کیا تھا ادریسی دوسرا مشہور اور ذہین جغرافیہ دان ہے۔ اس مختصر سے بیان ہی سے اندازہ ہو جاتا ہے کہ مسلمانوں کے نزدیک اس علم کی کس قدر اہمیت تھی اور انہوں نے اس میں کتنا اضافہ کیا ہے۔

علامہ اقبال نے علم کا تیسرا ذریعہ علم النفس بتایا ہے جس کا آغاز علامہ کے بقول ’’وفی انفسکمن افلا تبصرون‘‘ سے ہوتا ہے دور جدید میں اس علم کو جسے اب اصطلاحاً نفسیات کہتے ہیں جو بنیادی اہمیت حاصل ہے وہ محتاج بیان نہیں۔ علامہ کے بقول اس کو حضرت جنید (رحمۃ اللہ علیہ) اور ان کے رفقا و اتباع نے درجہ کمال کو پہنچایا۔ یہاں علامہ کا اشارہ ان واردات نفسیات روانی کی طرف ہے جن کا تجربہ اور مشاہدہ صوفیائے کرام مثلاً حضرت جنید(رحمۃ اللہ علیہ) نے کیا تھا۔ علامہ اقبال نے کسی اور موقع پر لکھا تھا کہ اس کا آغاز بھی رسول کریمؐ کی حیات طیبہ میں ہو چکا تھا اور آپ ؐ اس طرح کا مطالعہ فرماتے تھے جس کی اہمیت کو سب سے پہلے ابن خلدون نے محسو س کیا۔ چوتھا ذریعہ علامہ نے صحیفہ فطرت یعنی مطالعہ و مشاہدہ کائنات بتایا ہے اور لکھا ہے کہ علمائے اندلس نے اس طرف خاص توجہ مبذول کی۔

22۔ سید جمال الدین افغانی: انیسویں صدی میں ملت اسلامیہ کی نشاۃ الثانیہ کی تحریکوں کے دو قائد نامور ہیں : ایک سر سید احمد خاں اور دوسرے سید جمال الدین افغانی۔ سرسید احمد خاں کی تحریک خاص طور پر بر عظیم پاک و ہند کی ملت اسلامیہ کی اصلاح کی تحریک تھی۔ یہ بھی ایک ہمہ جہتی تحریک تھی لیکن سر سید احمد خاں کی زیادہ توجہ مسلمانوں کی علمی اور تہذیبی اصلاح کی طرف تھی اور اس میں وہ تعلیم کو بنیادی اہمیت دیتے تھے۔ مذہبی اصلاح بھی ان کی تحریک کا ایک اہم جزو تھی لیکن اس باب میں لو گ ان سے اختلاف رکھتے تھے۔ خود ان کے پرستار مولانا حالی نے حیات جاوید میں سرسید کے مذہبی خیالات میں جا بجا اختلاف کیا ہے اور بالخصوص ان کی تفسیر قرآن حکیم کے بارے میں لکھا ہے کہ سرسید نے اس میں جا بجا ٹھوکریں کھائی ہیں اور ان سے غلطیاں سرزد ہوئی ہیں۔ بعض لوگوں کا یہ بھی خیال ہے کہ عالم دین کی حیثیت سے سرسید احمد خاں کی تعلیم و تربیت ایسی نہ تھی کہ وہ اس اہم اور نازک وقت میں الجھتے۔ بعض حضرات یہ بھی سمجھتے ہیں کہ سرسید جدید تعلیم اور اصلاح معاشرت سے مسلمانوں کو انگریزوں پسند یا انگریز پرست بنانا چاہتے تھے۔ سرسید کے نقطہ نظر سے اختلاف کی گنجائش ہے لیکن ان کے خلوص اور دیانت داری پر شبہ کرنا شاید درست نہیں جمال الدین افغانی کی صورت اس سے مختلف ہے وہ مسلمانوں کی بین الاقوامی ملت اور سیاست ملیہ کے قائد تھے۔ بنیادی طور پر وہ ایک عالم تھے اور دینی اصلاح کو اساسی اہمیت دیتے تھے۔ سید جمال الدین افغانی اپنے بیان کے مطابق 1839ء میں اسعد آباد میں پیدا ہوئے لیکن بعض تذکرہ نگاروں نے تحقیق کر کے لکھا ہے کہ آپ ایران میں ہمدان کے قریب اسی نام کے ایک قریہ میں پیدا ہوئے۔ لیکن بعض مصلحتوں کی بنا پر جن میں سیاسی مصلحتیں بھی شامل تھیں َ وہ ایرانی کی بجائے افغانی مشہور ہونے کے خواہشمند تھے۔ چنانچہ ای جی براؤن نے بھی اس خیال کی تائید کی ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

٭ اس کا تعلق ابن صیاد ایک وارفتہ یہودی نوجوان سے تھا جس کی وجدانی کیفیتوں نے حضور رسالتمآب صلی اللہ علیہ وسلم کی توجہ اپنی طرف منعطف کر لی تھی تشکیل جدید محولہ بالا ص 24۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سید جمال الدین افغانی نے ابتدائی تعلیم مقامی مدرسوں میں حاصل کی اور اس میں بعد ایران اور افغانستان کے مختلف مرکزوں میں در س لیا۔ اٹھارہ ال کی عمر میں مسلمانوں کے علوم میں درجہ کمال حاصل کیا جن میں عربی صرف و نحو علم اللسان بلاغت، تصوف، منطق ، فلسفہ، طبیعیات، مابعد الطبیعیات، ریاضی، ہئیت، طب ، تشریح الاعضاء وغیرہ شامل تھے اٹھارہ سال کی عمر میں ہندوستان آئے۔ یہاں انہوں نے انگریزی سیکھی اور جدید علوم و فنون سے بھی واقفیت بہم پہنچائی۔ 1857ء میں حج کیا اور پھر افغانستان آ کر ملکی سیاست میں حصہ لیا۔ امیر شیر علی کے زمانہ میں ان کی مخالفت شروع ہوئی اور وہ 1869 ء میں افغانستان سے چلے گئے۔ ہندوستان آئے۔ حکومت نے ان کی پذیرائی تو کی لیکن انہیں سیاست میں حصہ لینے کی اجازت نہ دی۔ چنانچہ حکومت کے ہی ایک جہاز میں وہ سوئز پہنچے۔ اور کچھ عرصہ قاہرہ میں قیام کیا۔ اس کے بعد قسطنطنیہ چلے گئے۔ سلطان عبد الحمید نے ان کا بڑا احترام کیا اور سید صاحب نے ترکی کے علما اور حکام میں اپنے خیالات کی اشاعت شروع کی۔ کچھ عرصہ کے بعد ان کی مخالفت شروع ہوئی۔ لیکن علماء سے ان کے بعض نزاعی بحثیں چھڑ گئیں اور ترکی حکومت نے ان کو ملک بدر کر دیا اور 1871ء میں وہ قاہرہ پہنچ گئے۔ حکومت مصر نے ان کا وظیفہ مقرر کر دیا اور انہوں نے درس و تدریس کا سلسلہ شروع کیا۔ نوجوان خاص طور پر ان سے متاثر تھے۔ ان کے خیالات کی اشاعت نے ملک میں بیداری کی تحریک شروع کی اور مصر میں انگریزوں کی مداخلت اور اقتدار کے خلاف جذبات ابھرتے گئے۔ یہاں بھی علماء کے ایک حلقہ نے ان کی مخالفت کی اور حکومت بالخصوص مصر میں مقیم انگریز افسروں نے ان کے خیالات کو اپنے لیے ایک خطرہ سمجھا اور 1879ء میں سید صاحب کو مصر سے نکال دیا گیا۔

مصر سے نکلنے کے بعد سید صاحب بر عظیم ہند آئے اور حیدر آباد دکن میں مقیم ہوئے لیکن مصر میں نوجوان مصریوں کی تحریک آزادی نے، جس سے سید صاحب کا تعلق ظاہر ہوتا تھا۔ بغاوت کی شکل اختیار کر لی اور برطانیہ نے مصر پر قبضہ کر لیا اس دوران میں ہندوستان کی حکومت نے سید صاحب کو کلکتہ میں نظر بند کر دیا۔ جب یہ تحریک ناکام ہو گئی تو انہیں ہندوستان سے جانے کی اجازت مل گئی اور آپ لندن اور پھر پیرس چلے گئے۔ پیرس پہنچ کر سید صاحب نے بین الاقوامی سطح پر اپنی تحریک اور خیالات کی اشاعت شروع کی۔ یہاں ان کے مصری شاگرد شیخ عبدہ بھی پہنچ گئے اور انہوں نے پیرس سے عربی کا ہفت روزہ العروۃ الوثقیٰ نکالا جس کا مقصد ملت اسلامیہ کو اقوام مغرب کی چیرہ دستیوں اور لوٹ کھسوٹ سے بچانا تھا۔ حکومت برطانیہ نے مصر اور ہندوستان میں اس پرچے کی اشاعت ممنوع قرار دی۔ اس اخبار کا پہلا پرچہ 13مارچ 1884ء کو اور آخری پرچہ 16اکتوبر 1884ء کو شائع ہوا۔ سید صاحب کے ایک سوانح نگار محمد رشید رضا لکھتے ہیں ٭:

’’اگر یہ اخبار جاری رہتا تو مسلمانوں میں ایک عام بغاوت پھیل جاتی۔ یہ اخبار اسی نام کی ایک خفیہ تنظیم کا علمبردار تھا جو سید جمال الدین افغانی نے قائم کی تھی اور جس میں ہندوستان، مصر، شمالی افریقہ، اور شام کے مسلمان شامل تھے۔ اس تنظیم کا مقصد یہ تھا کہ مسلمانوں کو متحد کرے، ان کو خواب غفلت سے جگائے اور ان کو پیش آنے والے خطرات سے آگاہ کرے۔ اور ان خطرات کا مقابلہ کرنے کے طریقے سمجھائے… اس تنظیم کا فوری مقصد یہ تھا کہ مصڑ اور سوڈان کو برطانوی قبضے سے نجا ت دلائی جائے۔ سید صاحب نے مکہ معظمہ میں بھی اتحاد اسلامی کی ایک انجمن ام القریٰ کے نام سے قائم کی تھی جس کا مقصد یہ تھا کہ پورے عالم اسلام کے لیے ایک خلیفہ مقرر کیا جائے۔ ابھی اس انجمن کو قائم ہوئے ایک ہی سال ہوا تھا کہ سلطان عبد المجید نے اس کو ختم کر دیا‘‘۔

اس رسالے کے بند ہونے کے بعد سید صاحب لندن میں اور پھر ماسکو اور سینٹ پیٹر ز برگ چلے گئے۔ روس میں ان کا قیام تقریباً چار سال رہا۔ 1889ء میں وہ ایران گئے اور ان کو وزیر جنگ مقرر کیا گیا لیکن ان کا اثر وام میں اتنا ہی بڑھا کہ حکومت سے ان کے تعلقات کشیدہ ہو گئے۔ اور سید جمال الدین افغانی کو بستر علالت پر سے جہان وہ مسجد شاہ عبد العظیم میں پناہ لے رہے تھے گرفتار کر لیا گیا اور ترکی کی سرحد پر پہنچا دیا گیا۔ یہ واقعہ 1890 ء کے اواخر یا 1891 کے اوائل کا ہے۔ کچھ عرصہ بعد بصرہ رہنے کے بعد سید صاحب لندن گئے اور 1892ء میں قسطنطنیہ پہنچ گئے جہاں 9مارچ 1897ء کو ان کا انتقال ہوا۔ کہا جاتا ہے کہ ان کا مرض الموت جبڑے کا سرطان تھا لیکن بعض لوگوں نے لکھا ہے کہ ایک زہریلے خلال سے سید صاحب کے لبوں کو مسموم کیا گیا تھا اور یہی ان کی موت کا سبب بنا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

٭ بحوالہ اسلام اور تحریک تجدد مصر میں چارلس سی آدم اردو ترجمہ عبد المجید سالک مجلس ترقی ادب لاہور 1958 ص 13۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

چارلس سی آدم سید جمال الدین افغانی کی تحریک کا خلاصہ ان الفاظ میں بیان کرتے ہیں :

’’سید جمال الدین افغانی کی تمام انتھک کوششوں اور مسلسل شورشوں کا سب سے بڑا مقصد یہ تھا کہ تمام مسلم اقوام ایک حکومت اسلامی کے ماتحت ہو جائیں اور ان سب پر ایک خلیفہ المسلمین کا قطعی اور کلی اقتدار ہو۔ جس طرح اسلام کے پر افتخار دور میں ہوتا تھا۔ بعد میں اسلام کی متحدہ طاقت متواتر اختلافات کا اور نزاعات سے منتشر ہو گئی ار مسلمان ملک جہالت اور بے بسی میں غرق ہو کر مغربیوں کی چیرہ دستی کا شکا رہو گئے۔ مسلمان ملکوں کی موجودہ حالت انحطاط جمال الدین کو ہمیشہ غمگین رکھتی تھ۔ ان کا عقیدہ تھا کہ اگر یہ ممالک ایک دفعہ بیرونی تسلط اور مداخلت کے بوجھ سے آزاد ہو جائیں اور اسلام میں بھی ایسی اصلاحات کر دی جائیں جن سے یہ زمانہ حاضر کے تقاضوں کی تکمیل کرسکے تو مسلمان قومیں یورپی قوموں کے سہارے یا ان کی نقالی کے بغیر اپنے لیے ایک جدید اور شاندار زندگی کا نظام تیار کر سکتی ہیں۔ ان کے نزدیک دین اسلام اپنے تمام لوازم میں ایک آفاقی مذہب ہے جو اپنی داخلی روحانی قوت کی وجہ سے یقینی طور پر ایسی اہمیت رکھتا ہے کہ تمام بدلتے ہوئے حالات سے مطابقت پیدا کر سکے‘‘۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

٭ ایضاً ص 18-19

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سید جمال الدین افغانی کی تعلیمات کے تعمیری پہلو پر مواد ان کی تصنیف الرد علی الدہرین میں ملتا ہے اور یہ واحد تصنیف ہے جو سید صاحب سے یادگار ہے جو انہوں نے حیدر آباد کے دوران قیام لکھی تھی۔ جرجی زیدان نے ان الفاظ میں سید صاحب کو خراج عقیدت پیش کیا ہے:

’’سید جمال الدین افغانی کی تمام مساعی کا مقصد اتحاد اسلام تھا۔ اس جدوجہد میں انہوں نے اپنی تمام قوتیں صرف کر دیں اور اسی کی خاطر دنیا سے انقطاع اختیار کر لیا۔ انہوں نے عمر بھر شادی نہ کی۔ نہ کسی طرف سے نفع کے طالب ہوئے… انہوں نے اپنے دوستوں مداحوں اور شاگردوں میں زندگی کی وہ روح پھونک دی جس سے ان کی قوتیں بیدار ہو گئیں اور ان کے قلم تیز و طرار ہو گئے۔ مشرق کوا ن کے کارناموں سے فائدہ پہنچا۔ اور ہمیشہ پہنچتا رہے گا‘‘۔

علامہ اقبال کی سید جمال الدین افغانی سے وابستگی صاف ظاہر ہے۔ اسلام کے ماضی اور مستقبل کے بارے میں دونوں مسلت اسلامیہ کے موجودہ انحطاط زوال اور پستی پر مغموم تھے اور اصلاح کے لیے کوشاں تھے۔ دونو ں دین کی اہمیت اور اس کی اصلاح کی ضرورت کو محسوس کرتے تھے۔ دونوں تحریک اتحاد مسلمین کے قائل تھے۔ بعض حلقوں میں اسی کو پین اسلامزم (Pan-Islamism)کہا جاتا ہے اور بیان کیا جاتا ہے کہ علامہ اقبال جب لند ن پہنچے تو وہاں ایک ایسی انجمن موجود تھی اور علامہ اقبال اور ان کے احباب اس کے سرگرم رکن تھے۔ بہرحال علامہ کی شاعری اور ان کے افکار کے خیالات میں تحریک جمال الدین افغانی کی جھلک صاف نظر آتی ہے۔

23-24: ابن جوزی اور ابن تیمیہ کی اس روش کی طرف ہلکے اشارے علامہ اقبال نے ایران میں مابعد الطبیعیات کے ارتقاء میں بھی کیے ہیں مثلاً ابن جوزی کا ذکر الغزالی کے سلسلے میں آیا ہے۔ علامہ کے الفاظ یہ ہیں ٭:

Ibn Jauzi Qadi Iyad, and other famous theologians of the orthodox school, publicly denounced him as one of the misguided, and Iyad went even so far as to order the destruction of all his philosophical anda theological writings that existed in Spain”.

ابن تیمیہ کی تصوف کی تنقید کے بے سود ہونے کا ذکر بھی اسی دستاویز میں ان الفاظ میں ملتا ہے:

"The flower of the Greek thought faded away before the breath of Christianity but the burning simoon of Ibn Taimiyya’s invective could not touch the freshness of the Persian rose, The one was completely swept away by the flood of barbarian invasions the other unaffected by the Tartar revolution still holds its own”.

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

٭ The Development of Metaphysics in Persia 2nd Edition Lahore P. 61.

٭۔ ایضاً ص 82۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مقالہ نگار نے صرف علامہ اقبال کے مفہوم کو اپنے الفاظ میں ادا کیا ہے جس سے مترشح ہوتا ہے کہ علامہ نے صوفیوں اور تصوف کے متعلق اس قسم کی تنقید کو ناپسند کیا جس میں ان کو شیطانی ہتھکنڈوں سے تعبیر کیا گیا تھا۔ اور یہ درست فرمایا تھا کہ وہ لوگ جو اصل حقیقت سے واقف نہیں وہ اس طرح کی تنقید کرتے ہیں۔ تصوف کوئی کتابی علم نہیں ہے کہ صرف پڑھنے یا سننے سے حاصل ہو جائے۔ یہ ایک روحانی تجربہ ہے۔ اور اس کے لیے بڑی تربیت کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس تربیت میں اگر ضبط نفس اور تزکیہ باطن پر زور دیا جاتا ہے تو یہ قرآنی تعلیمات یا اسلام کی روح کے منافی نہیں۔ اگر بعض صوفیوں سے بعض ایسے اشغال اور اعمال منسوب ہیں جو بظاہر عام لوگوں کے نزدیک قرآنی تعلیم یا اسلامی نظریہ حیات کے خلاف ہیں تو اس کی کئی صورتیں ہیں اول تو یہ کہ ہمارے پاس اس کی قطعی شہادت کس قدر مضبوط ہے کہ بعض صوفیہ جو اقوال یا افعال منسوب کر دیے گئے دوسرے ی کہ بعض اعمال و اشغال یا عبادات ریاضت، تزکیہ نفس اور تصفیہ قلب کے جو طریقے بعض صوفیہ کے یہاں رائج ہیں اور اسی طرح کے یا اس سے ملتے جلتے بعض طریقے اور صورتیں بعض دیگر مذاہب میں بھی نظر آتی ہیں تو یہ کیسے تسلیم کر لیا جائے کہ یقیناً ان کا ماخذ یہ دیگر مذاہب ہیں۔ قرآن حکیم کے بعض قصص ہبوط آدم سے عیسیٰ تک یہودیوں اور عیسائیوں کے نزدیک توریت اور انجیل میں مذکور ہیں اور بعض مستشرقین جو اسلام کے مخالف ہیں ان سب کو ماخوذ قرار دیتےی ہیں۔ حالانکہ یہ قصے قرآن حکیم میں اپنے عناصر انداز، ترتیب اور مقاصد میں بالکل الگ ہیں۔ علامہ اقبال خاص طور پر اپنی عمر کے آخری دور میں تصوف کے متعلق ایک ہمدردانہ نقطہ نظر رکھتے تھے۔ اور اس روحانی تجربے کو عقلی معیار سے کسی قدر باہر سمجھتے تھے۔

ابن الجوزی کا نام عبد الرحمن بن علی بن محمد تھا۔ حنبلی دبستان کے مشہور فقیہ بہت سی تصانیف کے مولف اور عرب کے واعظ مشہور ہیں۔ سلسلہ نسب پندرہ پشتوں سے حضرت ابوبکر صدیقؓ سے جا ملتا ہے۔ الجوزی نسبت بصرے کے ایک محلے جوذہ یا جوز سے ہے جہاں ان کے ایک بزرگ رہتے تھے پیدائش کے سال میں اختلاف ہے 508ھ اور 510ھ اور 517ھ بتایا جاتا ہے۔ ابن الجوزی بغداد .د کرے، ان کو خواب غفلت سے جگاامیں پیدا ہوئے تین سال کی عمر میں والد کا انتقال ہو گیا۔ والدہ نے تربیت و تعلیم پر پوری توجہ صرف کی فلسفہ اور علم کلام کے علاوہ تمام علوم متداولہ میں کمال پیدا کیا اور اپنے عہد کے اکابر اساتذہ سے جن کی تعداد نبن محمد تھا۔ حبنار دتs of the aاٹھہتر بتائی جاتی ہے کسب فیض کیا۔ ان کا قول ہے کہ سب سے اچھی نافلہ عباد ت تحصیل علم ہے اس لیے زہد کی طرف توجہ نہ کی۔ علم کے ساتھ فصاحت و بلاغت کا بھی شہرہ تھا۔ مصر میں فاطمیوں کے دربار سے وابستہ رہے اور خلفائے عباسیہ کا خطبہ رائج ہوا تو خلیفہ کی خدمت میں ایک کتاب لکھ کر پیش کی۔ خلفائے وقت اور اراکین سلطنت سے تعلق کسب معاش کے لیے نہیں بلکہ علم کی بنا پر تھا۔ عرصہ تک درس و تدریس کا سلسلہ رکھا۔ کہتے ہیں کہ ان کے درس میں پانچ ہزار سے دس ہزار تک حاضرین شریک ہوتے تھے۔ کئی مرتبہ قید کی سختیاں بھی اٹھائیں۔ سبب بعض علماء اور اکابر صوفیا سے اختلاف تھا۔ جن میں حضرت شیخ عبد القادر جیلانی کے صاحبزادے بھی تھے۔ ابن الجوزی حضرت شیخ کو نہیں مانتے تھے۔ رمضان 597/1200ء میں وفات پائی۔

ان الجوزی بقول خود بدعت کے سخت مخالف تھے۔ چنانچہ غزالی کی احیا ء علوم الدین کو ضعیف احادیث صے پاک کر کے ایک نسخہ تیار کیا۔ وہ خود لکھتے ہیں کہ ان کی تصانیف کی تعداد تین سو ہے۔ ان میں سے سو کے قریب آج بھی موجو د ہیں۔ تلبیس ابلیس بھی ان میں سے ایک ہے۔ اس کی ایک اشاعت قاہرہ سے 1928ء میں ہوئی۔ اس کا موضوع وعظ و نصیحت ہے اور ابن الجوزی نے لوگوں کے بعض افعال کو جو ان کے خیال میں شریعت اسلامی کے مطابق نہیں ہیں شیطان کی عیاری کا نتیجہ قرار دیا ہے اور یہ کوشش کی ہے کہ ان افعال کی تردید کریں۔ چنانچہ بعض خیالات جو فلاسفہ منکران نبوت ،خوارج ، باطنیوں اور بعض صوفیوں سے منسوب ہیں ان کی بھی تنقید کی ہے اور اس تنقید میں ان کا لہجہ نہایت شدید ہو گیا ہے۔ علامہ اقبال ظاہر ہے کہ ان افعال کی تائید نہیں کرتے جو شریعت اسلامی کے خلاف ہیں لیکن ایک تو ان کو ابن الجوزی کے لہجہ اور اس کی شدت سے اختلاف ہے، دوسرے یہ کہ ابن الجوزی خود تصوف کے مرد میدان نہ تھے اور نہ اس وادی میں انہوں نے قدم رکھا تھا، اسی لیے علامہ اقبال نے فرمایا ٭ کہ بعض لوگ حقیقت سے واقف نہیں ہوتے اور نظر بر ظاہر عیب چینی شروع کر دیتے ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

٭ تفصیلات کے لیے دیکھیے اردو دائرہ معارف اسلامیہ، دانش گاہ پنجاب لاہور، جلد 1کراسہ 8 ص 472-567 جہاں ابن الجوزی کی تالیفات کی تفصیل اور ماخذ کی فہرست دی گئی ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ابن تیمیہ کا پورا نام تقی الدین ابو العباس احمد بن شہاب الدین ہے۔ مشہور عرب عالم دین دمشق کے قریب حران میں (1243/661)پیدا ہوئے۔ خاندان میں کئی پشتوں سے درس و تدریس کا سلسلہ تھا اور پورا خاندان علم و فضل کا گہوارہ تھا۔ تحصیل علم اپنے والد اور اس عہد کے اکابر علماء سے کی جو دمشق میں موجود تھے۔ علوم اسلامیہ سے خاص دلچسپی تھی چنانچہ قرآن، فقہ ،مناظرہ و استدلال میں کمال پیدا کیا اور بیس سال کی عمر میں تعلیم مکمل کر کے حنبلی فقہ کے استاد مقرر ہوئے۔ ان کے نظریات میں بعض اوقات مناظرہ کے رنگ کی آمیزش سے علما کا ان سے اختلاف بھی ہوا۔ کئی مرتبہ قید و بند کی سختیاں اٹھائیں۔ کہا جاتا ہے کہ جس زمانے میں ابن تیمیہ دمشق کے قلعے میں قید تھے جہاں انہوں نے قرآن کی تفسیر اور اپنے مخالفین کے خلاف رسالے لکھے، اس خبر پر ان کو کتابوں کاغذ اور سیاہی سے محروم کر دیا گیا۔ اس واقعہ کے بیس دن بعد 20 ذوالقعدہ 728ھ 27/28 ستمبر 1328ء کو ان کا انتقال ہو گیا۔ کہتے ہیں کہ اس جنازے میں دو لاکھ مرد اور پندرہ ہزار عورتیں شریک تھیں۔

ابن تیمیہ حنبلی تھے اور اپنے آپ کو مجتہد فی المذہب سمجھتے تھے۔ اپنی اکثر تصنیفات میں قرآن و احادیث کے احکام کی لفظی پیروی پر زور دیتے تھے۔ ابن الجوزی کی طرح ابن تیمیہ بھی بدعت کے سخت مخالف تھے۔ انہوں نے صوفیہ سے عقیدت کو اولیا ء پرستی بتایا ہے اور ان کے مزارات کی زیارت کی شدید مذمت کی ہے۔ اور حدیث نبوی نقل کی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ صرف تین مسجدوں کا سفر اختیار کرو مکے کی مسجد حرام بیت المقدس کی مسجد اور میری مسجد کا۔ حد یہ ہے کہ ابن تیمیہ کے خیال میں اگر کوئی شخص محض نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے روضے کی زیارت کے لیے سفر اختیار کرے تو یہ بھی ایک ناجائز فعل ہو گا٭۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

٭ ایضاً ص 451

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ظاہر ہے علامہ اقبال ابن تیمیہ کی اس رائے سے متفق نہیں۔ انہوں نے اکثر بزرگان دین اور صوفیائے کرام کے مزارات پر حاضری دی ہے اور ان سے مدد کے طلب گار بھی ہوئے ہیں۔

فقراء (جن سے ان کی مراد صوفیہ اور مشائخ ہیں ) کے متعلق ان کا خیال تھا کہ ان کی دو قسمیں ہیں : ایک وہ ہے جو اپنے زہد و فقر ،تواضع اور حسن اخلاق کی وجہ سے قابل ستائش ہیں۔ دوسرے وہ لوگ جو مشرک مبتدع اور کافر ہیں اور یہ لوگ قرآن و سنت کو ترک کر کے کذب و تلبیس اور مکاید و حیل سے کام لیتے ہیں۔ بظاہر یہ درست ہے۔ کوئی مسلمان مشرک مبتدع اور کافر کی پیروی نہیں کرے گا۔ اور نہ ان کے اعمال و اقوال کو تسلیم کرے گا۔ لیکن یہاں بھی اگر اعتراض کرنے والے کی نظر صرف ظاہر پر ہے اور وہ بھی سرسری تو پھر شاید ہی کوئی مسلمان شرک اور کفر کے فتویٰ سے محفوظ رہے چنانچہ علمائے اسلام کے ایک طبقہ نے تو ’’کافر سازی‘‘ کو ہی خدمت اسلام سمجھ لیا ہے۔ اور فی سبیل اللہ فساد ایسے ہی علمائے ظاہر کا عمل تھا جن کو علامہ ملا کہتے تھے۔ خود مسلمان علما ابن تیمیہ ٭٭ کے عقیدہ کے باب میں متفق نہیں۔ بعض لوگ انہیں ملحد بتاتے ہیں اور بعض نے تو یہاں تک لکھا ہے کہ جو شخص ابن تیمیہ کو شیخ الاسلام کہے وہ کافر ہے۔ بعض لوگ اس کے برعکس ابن تیمیہ کی مذہبی دیانت داری، ادراک اسلامی اور مسائل فہمی میں ان کو بے مثال قرار دیتے ہیں اور بعض حضرات کا خیال ہے کہ ابن تیمیہ کی تصانیف کے اثر سے محمد ابن عبد الوہاب نجدی کی تحریک ابھری۔ دور حاضر میں مصر میں شیخ عبدہ پر ان کا اثر نمایاں ہے اور بر عظیم اک و ہند میں شاہ ولی اللہ، مولوی عبد اللہ غزنوی نواب صدیق حسن خاں ، مولانا ابوالکلام آزاد وغیرہ میں احیاء سنت کا جذبہ ابن تیمیہ کی تصانیف کے اثرات کی ایک کڑی ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

٭ دیکھیے راقم کی تصنیف اقبال اور مسلک تصوف سلسلہ جشن صد سالہ علامہ اقبال اقبال اکیڈمی لاہور۔

٭٭ ابن تیمیہ کے لیے دیکھیے اردو دائرہ معارف اسلامیہ محولہ بالا، ص 448-459

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

25۔ مسجد شہید گنج: موجودہ شہر لاہور میں اکبری منڈی کے قریب پرانے کپڑوں کی ایک بہت بڑی منڈی ہے۔ جو لنڈا بازار کہلاتی ہے۔ وہاں ایک بزرگ شاہ کا کو چشتی رحمۃ اللہ علیہ کا مزار تھا جن کی وفات 888/1477 میں ہوئی تھی۔ یہیں ایک مقبرہ میں میر منو کا تھا جن کی وفات 1752ء میں ہوئی تھی۔ یہ میر منو نواب قمر الدین خان وزیر شاہ محمد کے فرزند تھے اور سکھ ان کو اپنا دشمن سمجھتے تھے۔ اسی کے ساتھ ایک پختہ مسجد اور حمام تھے۔ اس مسجد کے تین گنبد اور تین محرابیں تھیں اور اسے دارا شکوہ کے خانساماں عبد اللہ خاں نے 1064 /1653 میں تعمیر کرایا تھا۔ سکھوں نے اپنے اقتدار کے زمانے میں اس مسجد اور مقبرہ کو مسمار کر کے گوردوارہ تعمیر کیا اور اس جگہ کو شہید گنج کہنے لگے۔ کیونکہ ان کے خیال میں میر منو (نواب میر معین الملک) نے فرخ سیر کے عہد مین یہاں سکھوں کو قتل کیا تھا۔ میر منو کا مقبرہ بارہ دری کی صورت میں تھا۔ اسے مسمار کر کے آثار برطانوی عہد حکومت تک باقی تھے اور مسلمانوں کا مطالبہ تھا کہ یہ مسجد اور ملحقہ عمارتیں ان کے حوالہ کر دی جائیں۔ لیکن مسلمان دشمن انگریزوں کی حکومت نے اسے مسلمانوں کے حوالہ نہ کیا بلکہ 9جولائی 1935ء کو سکھ لیڈر ماسٹر تارا سنگھ نے انگریزی فوج اور پولیس کی قیادت میں اس مسجد اور مزار حضرت شاہ کاکو چشتی رحمۃ اللہ علیہ کو مسمار کر دیا۔ مسلمانوں نے اس پر سخت احتجاج کیا۔ پیر جماعت علی شاہ کو امیر ملت منتخب کیا گیا اور تحریک مسجد شہید گنج شروع ہوئی۔ مولانا ظفر علی خاں ملک لال خاں مولانا سید حبیب اور بہت سے دوسرے مسلمان قید کر دیے گئے اور قیام پاکستان تک اس گوردوارہ کی حفاظت سکھ کرتے تھے۔ اب بھی یہ جگہ سکھوں کے لیے محفوظ مقامات میں شامل ہے۔ مسجد شہید گنج پر شعرا نے بکثرت نظمیں لکھی ہیں۔

٭٭٭

ماخذ:

http://www.iqbalcyberlibrary.net/txt/2153.txt

تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید