FavoriteLoadingپسندیدہ کتابوں میں شامل کریں

شمس  العلماء

(مولانا) محمد حُسین آزاد (مرحُوم)

 

 قارئین کی سہولت کے لیے یہ ضخیم کتاب تین حصوں میں تقسیم کی جا رہی ہے حصہ اوّل

1)  تاریخ زبانِ اُردو

2) برج بھاشا پر جب فارسی نے دخل پایا تو کیا کیا اثر کئے اور آیندہ کیا اُمید ہے۔

3)  تاریخ نظم اُردو

4) آب حیات کا پہلا دور : جس میں ولی اور ان کے قریب العصر با کمال جلسہ جمائے بیٹھے ہیں۔

پر مشتمل ہے بقیہ حصے دیکھنے کے لیے مندرجہ ذیل لنکس پر کلک کریں۔

حصہ دوّم (دوسرا اور تیسرا دور)

حصہ سوّم ( چوتھا اور پانچواں دور )

 دیباچہ

آزاد ہندی نہاد کے بزرگ فارسی کو اپنی تیغِ زبان کا جوہر جانتے تھے۔ تخمیناً سو برس سے کل خاندان کی زبان اُردو ہے۔ بزرگوں سے لے کر آج تک زبانوں کی تحقیقات میں کمال سرگرمی اور جستجو رہی، اب چند سال سے معلوم ہوتا ہے اس ملک کی زبان ترقی کے قدم برابر آگے بڑھا رہی ہے، یہاں تک کہ علمی زبانوں کے عمل میں دخل پیدا کر لیا اور عنقریب بارگاہِ علم میں کسی درجہ خاص کیکرسی پر جلوس کیا چاہتی ہے۔ ایک دن اسی خیال میں تھا اور دیکھ رہا تھا کہ کس طرح اس نے ظہور پکڑا، کس طرح قدم بقدم آگے بڑھی، کس طرح عہد بعہد اس درجہ تک پہنچی۔ تعجب ہوا کہ ایک بچہ شاہجہانی بازار میں پھرتا ملے، شعراء اُسے اٹھا لیں اور ملکِ سخن میں پال کر پرورش کریں۔ انجام کو یہاں تک نوبت پہنچے کہ وہی ملک کی تصنیف و تالیف پر قابض ہو جائے۔

اس حالت میں اس کے عہد بعہد کی تبدیلیاں اور ہر عہد میں اس کے با کمالوں کی حالتیں نظر آئیں جس کی وقت بوقت کی تربیت اور اصلاح نے اس بچہ کی اُنگلی پکڑ کے قدم قدم آگے بڑھایا اور رفتہ رفتہ اس درجہ تک پہنچایا کہ جو آج حاصل ہے۔ صاف نظر آیا کہ ہر عہد میں وہ جُدا جُدا رنگ بدل رہا ہے اور اس کے با کمال تربیت کرنے والے وقت بوقت ترکیب اور الفاظ سے اس کے رفتار و اطوار میں اصلاحیں کر رہے ہیں۔ چنانچہ اس لحاظ سے پانچ جلسے سامنے آئے کہ مسلسل اور متواتر قائم ہوئے اور برخاست ہوئے۔ ایک نے دوسرے کو رخصت کیا اور اپنا رنگ نیا جمایا۔ یہاں تک کہ پانچویں جلسہ کا بھی دور آیا جو کہ اب پیشِ نظر موجود ہے۔ ہر ایک جلسہ میں صدر نشین اور ارکانِ انجمن نظر آئے کہ جن میں عہد بعہد کے بزرگوں کی رفتار و گفتار وضع لباس جُدا جُدا ہے مگر اصلاح کے قلم سے کسی کا ہاتھ خالی نہیں اور اس کام کو ہر ایک اپنا فرض سمجھے ہوئے ہے۔ باوجود اس کے اہلِ مجلس بھی شوق کے دامن پھیلائے ہیں اور قبول کے ہاتھ سینوں پر رکھے ہیں۔ زبان مذکور کی ہر ہر جلسہ میں نئی صورت نظر آئی۔ کبھی بچہ، کبھی لڑکا، کبھی نوجوان، مگر یہ معلوم ہوا کہ دیکھتا ہے تو انھیں کی آنکھوں سے دیکھتا ہے اور بولتا ہے تو انھیں کی زبان سے بولتا ہے۔

غرضیکہ اس زبان کے رنگ میں اُن کے رفتار گفتار اوضاع، اطوار بلکہ اُس زمانے کے سارے چال چلن پیشِ نظر تھے جس میں اُنہوں نے زندگی بسر کی اور کیا کیا سبب ہوئے کہ اس طرح بسر کی۔ اِن کے جلسوں کے ماجرے اور حریفوں کے وہ معرکے جہاں طبیعتوں نے تکلف کے پردے اُٹھا کر اپنے اصلی جوہر دکھا دیئے۔ ان کے دلوں کی آزادیاں، وقتوں کی مجبوریاں، مزاجوں کی شوخیاں، طبیعتوں کی تیزیاں، کہیں گرمیاں، کہیں نرمیاں، کچھ  خوش مزاجیاں، کچھ بے دماغیاں، غرض یہ سب باتیں میری آنکھوں میں اس طرح عبرت کا سُرمہ دیتی تھیں گویا وہی زمانہ اور وہی اہلِ زمانہ موجود ہیں۔

چونکہ میں نے بلکہ میری زبان نے ایسے ہی اشخاص کی خدمتوں میں پرورش پائی تھی، اس لئے ان خیالات میں دل کی شگفتگی کا ایک عالم تھا کہ جس کی کیفیت کو کسی بیان کی طاقت اور قلم کی زبان ادا نہیں کر سکتی لیکن ساتھ ہی افسوس آیا کہ جن جوہریوں کے ذریعے سے یہ جواہرات مجھ تک پہنچے وہ تو خاک میں مل گئے۔ جو لوگ باقی ہیں وہ بجھے چراغوں کی طرح ایسے ویرانوں میں پڑے ہیں کہ ان کے روشن کرنے کی یا اُن سے روشنی لینے کی کسی کو پروا نہیں۔ پس یہ باتیں کہ حقیقت میں اثبات ان کے جوہر کمالات کے ہیں۔ اگر اسی طرح زبانوں کے حوالے رہیں تو چند روز میں صفحہ ہستی سے مٹ جائیں گی اور حقیقت میں یہ حالات نہ مٹیں گے بلکہ بزرگانِ موصوف دنیا میں فقط نام کے شاعر رہ جائیں گے جن کے ساتھ کوئی بیان نہ ہو گا جو ہمارے بعد آنے والوں کے دلوں پر یقین کا اثر پیدا کر سکے۔ ہر چند کلام اُن کے کمال کی یادگار موجود ہیں۔ مگر فقط دیوان جو بکتے پھرتے ہیں بغیر اُن کے تفصیلی حالات کے، اس مقصود کا حق پورا پورا نہیں ادا کر سکتے۔ نہ اُس زمانہ کا عالم اس زمانہ میں دکھا سکتے ہیں اور یہ نہ ہوا تو کچھ بھی نہ ہوا۔

سودا اور میر وغیرہ بزرگانِ سلف کی جو عظمت ہمارے دلوں میں ہے وہ آج کل کے لوگوں کے دلوں میں نہیں۔ سبب پوچھیے تو جواب فقط یہی ہے کہ جس طرح ان کے کلاموں کو ان کے حالات اور وقتوں کی واردات نے خلعت اور لباس بن کر ہمارے سامنے جلوہ دیا ہے اس سے ارباب زمانہ کے دیدہ و دل بے خبر ہیں حق پوچھو تو انہی اوصاف سے سودا سودا، اور میر تقی میر صاحب ہیں ورنہ جس کا جی چاہے یہی تخلص رکھ دیکھے۔ خالی سودا ہے تو جنون ہے اور نرا میر ہے تو گنجفہ کا ایک پتا۔

میرے دوستو  زندگی کے معنی کھانا، پینا، چلنا، پھرنا، سو رہنا اور منہ سے بولے جانا نہیں ہے۔ زندگی کے معنی یہ ہیں کہ صفات خاص کے ساتھ نام کو شہرتِ  عام ہو اور اُسے بقائے دوام  ہو۔ اب انصاف کرو کہ یہ تھوڑے افسوس کا موقع ہے کہ ہمارے بزرگ خوبیاں بہم پہنچائیں۔ انھیں بقائے دوام کے سامان ہاتھ آئیں اور اسی پر نام کی زندگی سے محروم ہیں۔ بزرگ بھی وہ بزرگ کہ  جن کی کوششوں سے ہماری ملکی اور کتابی زبان کا لفظ لفظ اور حرف حرف گرانبارِ احسان ہو۔ اِن کے کاموں کا اس گمنامی کے ساتھ صفحہ ہستی سے مٹنا بڑے حیف کی بات ہے۔ جس مرنے پر اُن کے اہل و عیال روئے وہ مرنا نہ تھا۔ مرنا حقیقت میں ان باتوں کا مٹنا ہے جس سے اِن کے کمال مر جائیں گے اور یہ مرنا حقیقت میں  سخت غمناک حادثہ ہے۔

ایسے بزرگانِ با کمال کے رویے اور رفتاروں کا دیکھنا  اُنھیں ہماری آنکھوں کے سامنے زندہ کر دکھاتا ہے اور ہمیں بھی دنیا کے پیچیدہ رستوں میں چلنا سکھاتا ہے اور بتاتا ہے کہ کیونکر ہم بھی اپنی زندگی کو اتنا طولانی اور ایسا گراں بہا بنا سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ نئے تعلیم یافتہ جن کے دماغوں میں انگریزی لالٹینوں سے روشنی پہنچتی ہے، وہ ہمارے تذکروں کے اس نقص پر حرف رکھتے ہیں کہہ ان سے نہ کسی شاعری کی زندگی کی سرگزشت کا حال معلوم ہوتا ہے نہ اس کی طبیعت اور عادت و اطوار کا حال کھلتا ہے نہ اس کے کلام کی خوبی۔ اور صحت و سقم کی کیفیت کھلتی ہے۔ نہ یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس کے معاصروں میں اور اس کے کلام میں کن کن باتوں میں کیا نسبت تھی۔ انتہا یہ ہے کہ سالِ ولادت اور سالِ وفات تک بھی نہیں کھُلتا۔ اگرچہ اعتراض ان کا کچھ اصلیت سے خالی نہیں مگر حقیقت یہ  ہے کہ اس قسم کی معلومات زیادہ  تر خاندانوں اور خاندانی با کمالوں اور ان کے صحبت یافتہ لوگوں میں ہوتی ہیں، وہ لوگ کچھ تو انقلاب  زمانہ سے دل شکستہ ہو کر تصنیف سے ہاتھ کھینچ بیٹھے۔ کچھ یہ کہ علم اور اُس کے تصنیفات کے انداز روز بروز کے تجربہ سے رستے بدلتے ہیں، عربی فارسی میں اس ترقی اور اصلاح کے رستے سالہا سال سے مسدود ہو گئے۔  انگریزی زبان ترقی اور اصلاح کا طلسمات ہے مگر خاندانی لوگوں نے اول اول اس کا پڑھانا اولاد کے لیے عیب سمجھا اور ہماری قدیمی تصنیفوں ککا ڈھنگ ایسا واقع ہوا تھا کہ وہ لوگ ایسی وارداتوں کو کتابوں میں لکھنا کچھ بات نہ سمجھتے تھے۔ ان چھوٹی چھوٹی باتوں کو زبانی جمع خرچ سمجھ کر دوستانہ صحبتوں کی نقل مجلس جانتے تھے۔ اس لئے وہ ان رستوں سے اور  ان کے فوائد سے آگاہ نہ ہوئے اور یہ اُنھیں کیا خبر تھی کہ زمانہ کا ورق اُلٹ جائے ے گا۔ پُرانے گھرانے تباہ ہو جائیں گے۔ ان کی اولاد ایسی جاہل رہے گی کہ اسے اپنے گھر کی باتوں کی بھی خبر نہ رہے گی۔ ا ور اگر کوئی بات ان حالات میں سے بیان کرے گا تو لوگ اُس سے سند مانگیں گے۔ غرض خیالات مذکورہ بالا نے مجھ پر واجب کیا کہ جو حالات ان بزرگوں کے معلوم ہیں یا  مختلف تذکروں میں متفرق مذکور  ہیں۔۔ انھیں جمع کر کے ایک جگہ لکھوں اور جہاں تک ممکن ہو اس طرح لکھوں کہ  ان کی زندگی کی بولتی چالتی، چلتی پھرتی تصویریں سامنے آن کھڑی ہون اور انھیں حیاتِ جاوداں حاصل ہوں۔  الحمد للہ کہ  چند روز میں جس قدر پریشاں خیالات تھے بہ ترتیب جمع ہو گئے اسی واسطے اس مجموعہ کا نام آبِ حیات رکھا  اور زبان اُردو کی عہد بعہد کی تبدیلی کے لحاظ سے پانچ دور پر تقسیم کیا اس طرح کہ ہر ایک دور اپنے عہد کی زبان بلکہ اس زمانے کی شان دکھاتا ہے۔ خدا کی درگاہ میں دُعا ہے کہ بزرگوں کے ناموں اور کلاموں کی برکت سے مجھے اور میرے کلام کو بھی قبول عام اور بقائے دوام نصیب ہو۔

آمین یا رب العالمین۔

*۔*۔*۔*۔*۔*۔*۔*۔*۔*۔*۔*۔*۔*۔*۔*۔*۔*۔*۔*

 

فہرستِ مطالب

دیباچہ

1)  تاریخ زبانِ اُردو

2) برج بھاشا پر جب فارسی نے دخل پایا تو کیا کیا اثر کئے اور آیندہ کیا اُمید ہے۔

3)  تاریخ نظم اُردو

4) آب حیات کا پہلا دور : جس میں ولی اور ان کے قریب العصر با کمال جلسہ جمائے بیٹھے ہیں۔

5)  آبِ حیات کا دوسرا دور : شاہ حاتم، خان آرزو، فغاں

6)  آبِ حیات کا تیسرا دور : مرزا مظہر جانجاناں، میر سوز، میر تقی میر، مرزا رفیع سودا

7) آبِ حیات کا چوتھا دور : مصحفی، سید انشاء، جرأت

8) آبِ حیات کا پانچواں دور : ناسخ، آتش، شاہ نصیر، مومن، ذوق، غالب

9)  آبِ حیات کا خاتمہ

بندہ آزاد محمد حسین

عفی اللہ عنہ

 

زبان اُردو  کی  تاریخ

اتنی بات ہر شخص جانتا ہے کہ ہمارے اُردو زبان برج بھاشا سے نکلی ہے اور “برج بھاشا” خاص ہندوستانی زبان ہے۔ لیکن وہ ایسی زبان نہیں کہ دنیا کے پردے پر ہندوستان کے ساتھ آئی ہو۔ اس کی عمر آٹھ سو برس سے زیادہ نہیں ہے اور برج کا سبزہ زار اس کا وطن ہے۔ تم خیال کرو گے کہ شاید اس میراثِ قدیمی کی سند سنسکرت کے پاس ہو گی اور وہ ایسا بیج ہو گا کہ یہیں پھوٹا ہو گا اور یہیں پَھلا پھولا ہو گا۔ لیکن نہیں، ابھی سراغ  آگے چلتا ہے۔ سب جانتے ہیں کہ ہندوستان اگرچہ بے ہمتی اور آرام طلبی کے سبب سے بدنام رہا۔ مگر باوجود اس کے مہذب قوموں کی آنکھوں میں ہمیشہ کھُپا رہا ہے۔ چنانچہ اس کی سرسبزی اور زرخیزی اور اعتدال نے بلائے جان ہو کر ہمیشہ اُسے غیر قوموں کی گھڑ دوڑ کا میدان بنائے رکھا ہے۔ پس دانائے فرنگ کہ ہر بات کا پتہ پتال تک نکالنے والے ہیں۔ اُنھوں نے زبانوں اور قدیمی نشانوں سے ثابت کیا ہے کہ یہاں کے ے اصلی باشندے ے اور لوگ تھے۔ ایک زبردست قوم نے آ کر آہستہ آہستہ ملک پر قبضہ کر لیا۔ یہ فتحیاب غالباً جیحوں سیحوں کے میدانوں سے اُٹھ کر اور ہمارے شمالی پہاڑ اُلٹ کر اس ملک میں آئے ہوں گے۔۔ اس زمانہ کے گیت اور پُرانی  نشانیاں دیکھ  کر یہ بھی معلوم کیا ہے کہ وہ لوگ دل کے بہادر، ہمت کے پُورے، صورت کے وجیہ، رنگ کے گورے ہوں گے، اور اس زمانہ کی حیثیت کے بموجب تعلیم یافتہ بھی ہوں گے۔ موقع کا مقام اور سبز زمین دیکھ کر یہیں زمین گیر ہوئے۔ اس قوم کا نام ایرین تھا اور عجب نہیں کہ ان کی زبان وہ ہو جو اپنے اصل سے کچھ کچھ بدل کر اب سنسکرت کہلاتی ہے۔ یہی لوگ ہیں جنہوں نے ہندوستان میں آ کر راجہ مہاراجہ کا خطاب لیا۔ ایران میں تاجِ کیانی پر درفش کا دیانی لہرایا۔ اپنے مذہب کا نادر طریقہ لے کر چین کو نگارخانہ بنایا۔ یونان کا طبقہ حکمت سے الگ جمایا، روما کی عالمگیر سلطنت کی بنیاد ڈالی، اندلس پہنچ کر چاندی نکالی۔ یورپ سے خبر آئی کہ کہیں دریا سے مچھلیاں نکالتے نکالتے گوہرِ سلطنت پائے، کہیں پہاڑوں سے دھات کھودتے کھودتے لعلِ بے بہا نکال لائے، تب اصلی رہنے والے کون تھے۔ اور اُن کی زبان کیا تھی؟ قیاس سے معلوم ہوتا ہے کہ جیسے پنجاب میں اب قطعہ قطعہ کی زبان کہیں کچھ کچھ اور کہیں بالکل اختلاف رکھتی ہے اور یہی حال اور اضلاعِ ہند میں ہے، اسی طرح اس عہد میں بھی اختلاف ہو گا اور اس عہد کی نامی زبانیں وہ ہوں گی جن کی نشانی تامل، اوڑیا اور تلنگو وغیرہ اضلاعِ دکن اور مشرق میں اب تک یادگار موجود ہیں، بلکہ اس حالت میں بھی ان کی شاعری اور انشا پردازی کہتی ہے کہ یہ گٹھلی کسی لذیذ میوہ کی ہے اور سنسکرت سے انہیں لگاؤ تک نہیں۔

فتحیابوں نے ہندوکش کے پہاڑ اتر کر پہلے ت پنجاب ہی میں ڈیرے ڈالے ہوں گے۔ پھر جوں جوں بڑھتے گئے ہوں گے، اصلی باشندے کچھ تو لڑتے مرتے دائیں بائیں جنگلوں کی گود  اور پہاڑوں کے دامن میں گھستے گئے ہوں گے، کچھ بھاگے ہوں گے وہ دکن اور مشرق کو ہٹتے گے ہوں گے۔  کچھ فتح یابوں کی غلامی اور خدمتگاری میں کام آئے ہوں گے اور وہی شودر کہلائے ہوں گے۔ چنانچہ اب تک بھی اُن کی صورتیں کہے دیتی ہیں کہ یہ کسی اور بدن کی ہڈی ہیں۔

مدت دراز تک ایرین بھائیوں کے کاروبار ہندوستانی بھائیوں کے ساتھ ملے جُلے رہے ہوں گے۔ یہی سبب ہے کہ ایران کی تاریخ قدیم مہ آباد اور اُس کے زمانہ کی تقسیم برہما کے زمانے سے اور اُس کے رسوم و قواعد سے مطابقت دکھاتی ہے اور چاروں برنوں کا برابر پتہ لگتا ہے۔۔ یہاں بدھ نے انھیں توڑا۔ وہاں زرتشت کے مذہب نے اُسے جلا کر خاک کیا۔ مگر ہندوؤں نے بدھ کے بعد پھر اپنے حال کو سنبھال لیا، ایرانی اپنی بدحالی نہ نہ سنبھال سکے۔

چار برنوں کی تقسیم اور ان کا الگ تھلگ رہنا دُور کے دیکھنے والوں کو غرور کے لباس میں نظر آیا مگر حق پوچھو تو یہ کچھ بُری بات نہ تھی۔ اسی کی برکت ہے کہ آج تک چاروں سلسلے صاف الگ الگ چلے آتے ہیں جو ہندو ہو گا، ماں باپ دونوں کی طرف سے خالص ہو گا اور برابر اپنی قوم کا پتہ بتا سکے گا، جو دوغلا ہو گا اُس کا سلسلہ الگ ہو جائے گا۔ اگر یہ قیدیں اس سختی کے ساتھ نہ ہوتیں تو تمام نسلیں خلط ملط ہو جاتیں۔ نجیب الطرفین آدمی چاہتے تو ڈھونڈھے سے نہ ملتا۔۔ فتح یابیوں کی ان سخت قیدوں نے آپس کی بندشوں میں عجیب طرح کے پھندے ڈالے۔ چنانچہ سب نسلوں کی حفاظت کا پورا بندوبست کر چکے تو خیال ہوا کہ شودروں کے ساتھ آٹھ پہر بات چیت، رہنے سہنے اور لین دین کرنے میں بزرگوں کی زبان دوغلی ہو جائے گی۔  اس  واسطے کہا کہہ ہماری زبان زبان الٰہی ہے اور الٰہی عہد سے اسی طرح چلی آئی ہے۔ چنانچہ اس کے قواعد اور اصول باندھے۔ اور ایسے جانچ کر باندھے جن میں نقطہ کا فرق نہیں آ سکتا۔ اس کی پاکیزگی نے غیر لفظ کو اپنے دامن پر ناپاک دھبا سمجھا اور سوا برہمن کے دوسرے کی زبان بلکہ کان تک گزرنا بھی ناجائز ہوا۔ اس سخت قانون نے بڑا فائدہ یہ دیا کہ زبان ہمیشہ اپنی اصلیت اور بزرگوں کی یادگار کا خالص نمونہ نمایاں کرتی رہے گی برخلاف ایرانی بھائیوں کے اُن کے پاس زبانی بھی سند نہ رہی۔

اسی بنیاد پر فتح یابوں کی بلند نظری نے اس کا نام سنسکرت رکھا (سن مکمل اور کرت بنائے ہوئے کو کہتے ہیں۔ سنسکرت مہذبوں کی بنائی ہوئی تھی۔ پراکرت کے معنی ہیں جو طبیعت سے نکلے، پس پراکرتیں وہ زبانیں ہیں جو طبیعت (نیچر) نے اپنی اپنی زمین میں پیدا کر دیں۔) جس کے معنی آراستہ پیراستہ، متقی، منزہ، مصفا، مقدس جو چاہو سمجھ لو، ان کے قواعدِ زبان بھی ایسے مقدس ہوئے کہ بزرگانِ دین ہی اُسے پڑھائیں تو پڑھائیں بلکہ اس طرح پکار کر پڑھنا بھی گناہ ہوا کہ شودر کے کان میں آواز پڑے۔ اس زبان کا نام دیوبانی ہوا یعنی زبانِ الٰہی۔ زبان شاہی دید کے سنہ ترتیب جس سے اس عہد کی زبان کا پتہ لگے، ۱۴ سو برس سنہ عیسوی خیال کرتے ہیں۔ اس وقت ان فتح یابوں کی باتیں اس ملک اور ملک والوں کے ساتھ ایسی سمجھ لو۔ جیسے ہندوستان میں پہلے پہلے مسلمانوں کی حالتیں اُن کے سنسکرت زبان کے مخرج اور تلفظ یہاں کے لوگوں میں آ کر کچھ اور ہو گئے ہوں گے۔ اس لئے گھروں اور بازاروں میں باتیں کرنے کو قطعہ قطعہ میں پراکرت زبانیں خودبخود پیدا ہو گئی ہوں گی۔ جیسے اسلام کے بعد اُردو، چنانچہ! گدی (پالی)، سورسینی، مہاراشٹری وغیرہ قدیمی پراکرتیں اب بھی اپنی قدامت کا پتہ بتاتی ہیں۔ ان کی سیاہی میں سینکڑوں لفظ سنسکرت کے چمکتے نظر آتے ہیں۔ مگر بگڑے ہوئے ہیں۔ دیکھا! پراکرت کے معنی ہیں طبیعت اور جو طبیعت سے نکلے چنانچہ ہیم چند لغاتِ سنسکرت کا جامع بھی یہی کہتا ہے۔ اس کے علاوہ سنسکرت مہذب اور مقدس اور پراکرت غیر مہذب لوگوں کو کہتے ہیں۔ پس ایسی باتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ فہمیدہ لوگ تھے۔ ہر بات کو خوب سمجھتے تھے اور جو کچھ اُنہوں نے کیا ہے سمجھ کر کیا ہے۔

راجہ بھوج کے عہد کی ناستک پستکیں کہتی ہیں کہ ان عہدوں میں علمی، کتابی اور درباری زبان تو سنسکرت تھی۔ مگر چونکہ معاملہ خاص و عام سے پڑتا ہے، اس لئے گفتگو میں پنڈتوں کو بھی پراکرت ہی بولنی پڑتی تھی۔ پراکرت صاف سنسکرت کی بیٹی معلوم ہوتی ہے کیونکہ اس میں ہزاروں لفظ سنسکرت کے ہیں اور ویسے ہی قاعدے صرف و نحو کے بھی ہیں۔

سنسکرت کی اتنی حفاظت ہوئی پھر بھی منوسمرتی دیدوں کی ترتیب سے کئی سو برس بعد لکھی گئی تھی۔ اس میں اور دید کی زبان میں صاف فرق ہے اور اب اور بھی زیادہ ہو گیا، لیکن چونکہ سلطنت اور معتبر تصانیف پر مذہب کا چوکیدار بیٹھا تھا، اس لئے نقصان کا بہت خطرہ نہ تھا کہ دفعتہً ۵۴۳ برس قبل عیسوی میں بُدھ مذہب کے بانی شاک منی پیدا ہوئے۔ وہ مگدھ دیس اُٹھے تھے۔ اس لئے وہیں کے پراکرت میں وعظ شروع کیا۔ کیونکہ زیادہ تر کام عوام سے تھا۔ عورت مرد سے لے کر بچے اور بوڑھے تک سمجھتے تھے، یہی اُس دیس کی زبان تھی۔ ان کی آتش زبانی سے مذہب مذکور ایسا پھیلنا شروع ہوا جیسے بَن میں آگ لگے۔ دیکھتے دیکھتے دھرم حکومت، رسم و رواج، دین آئین سب کو جلا کر خاک کر دیا، اور مگدھ دیس کی پراکرت کل دربار اور کل دفتروں کی زبان ہو گئی۔ اقبال کی یاوری نے علوم و فنون میں بھی ایسی ترقی دی کہ تھوڑے ہی دنوں میں عجیب و غریب کتابیں تصنیف ہو کر اسی زبان میں علوم کے کتب خانے سج گئے اور فنون کے کارخانے جاری ہو گئے، کہیں کہیں کونے گوشے میں جہاں کے راجہ دید کو مانتے رہے، وہاں ویدوں کا اثر رہا۔ باقی راج دربار اور علمی سرکار سب ماگدھی ہی ماگدھی ہو گئی۔ ان کے حوصلے وسیع ہو کر دعوے بڑھے اور بآواز بلند کہہ دیا کہ ابتدائے عالم سے تمام زبانوں کی اصل ماگدی ہے۔ برہمن اور کل انسان بات کرنے کے لائق بھی نہ تھے۔ اصل میں ان کی بھی اور قادر مطلق بودھ کی زبان یہی ہے۔ اس کی صرف و نحو کی کتابیں بھی تصنیف ہوئی، خدا کی قدرت دیکھو! جو لونڈی تھی، وہ رانی بن بیٹھی اور رانی منھ چھپا کر کونے میں بیٹھ گئی۔

زمانے نے اپنی عادت کے بموجب (تخمیناً ۱۵ سو برس بعد) بودھ مذہب کو بھی رخصت کیا، اور اس کے ساتھ اس کی زبان بھی رخصت ہوئی۔ شنکر چارج کی برکت سے برہمنوں کا ستارہ ڈوبا ہوا پھر اُبھر کو چمکا اور سنسکرت کی آب و تاب بھی شروع ہوئی۔ راجہ بکرماجیت کے عہد میں جو روشنی اس کی فصاحت نے پائی، آج تک لوگوں کی آنکھوں کا اُجالا ہے، اس سے بھی یہی ثابت ہوتا ہے کہ دربار سلطنت اور اعلیٰ درجہ کے لوگوں کو سنسکرت بولنا اعتبار و افتخار کی سند تھا۔ اور پراکرت عوام کی زبان تھی، کیونکہ اس عہد میں کالی داس ملک الشعراء نے شکنتلا کا ناٹک لکھا ہے۔ سبھا میں دیکھ لو بادشاہ، اُمراء اور پنڈت سنسکرت بول رہے ہیں، کوئی عام آدمی کچھ کہتا ہے تو پراکرت میں کہتا ہے۔

گیارھویں صدی عیسوی سے پہلے راجہ بھرت کے عہد میں برج کے قطعہ کی وہ زبان تھی، جسے ہم آج کی برج بھاشا کی اصل کہہ سکتے ہیں، اس وقت بھی ہر قطعہ میں اپنی اپنی بولی عام لوگوں کی حاجت روائی کرتی تھی اور سنسکرت تصنیفات اور خواص کی زبانوں کے لئے باعثِ برکت تھی کہ دفعتہً زمانہ کے شعبدہ باز نے ایک اور رنگ بدلا۔ یعنی اسلام کا قدم ہندوستان میں آیا۔ اس نے پھر ملک و مذہب کو نیا انقلاب دیا اور اسی وقت سے زبان کا اثر زبان پر دوڑنا شروع ہوا۔

سنسکرت اور اصل فارس یعنی ژندواستا کی زبان ایرین کے رشتہ سے ایک دادا کی اولاد ہیں، مگر زمانہ کے اتفاق دیکھو کہ خدا جانے کہ سو برس یا کہ ہزار برس کی بچھڑی ہوئی بہنیں اس حالت سے آ کر ملی ہیں کہ ایک دوسرے کی شکل نہیں پہچان سکتیں۔

ہندوستانی بہن کی کہانی تو سُن چکے۔ اب ایرانی بہن کی داستان بھی سن لو کہ اس پر وہاں کیا گزری۔ اول تو یہی قیاس کرو کہ اس ملک نے جو ایران نام پایا شاید وہ ایرین ہی کی برکت ہو، پھر یہ بھی کچھ تھوڑے تعجب کا مقام نہیں کہ جس طرح ہندوستانی بہن پر وقت بوقت بودھ وغیرہ کے حادثے گزرے، اسی طرح اس پر بھی وہاں انقلاب پڑتے رہے۔ باوجود اس کے اب تک ہزاروں لفظ فارسی اور سنسکرت کے صاف ملتے جلتے نظر آتے ہیں۔

ایرانی بہن جب اس ملک میں جا کر بسی ہو گی، اول تو مدت تک اُن کے مذہب رسم و رواج اور زبان جیسے تھے ویسے ہی رہے ہوں گے۔ مگر اس زمانہ کی کوئی تصنیف ہاتھ نہیں آئی، کچھ ٹوٹا پھوٹا پتا ملتا ہے تو زرتشت کے وقت سے ملتا ہے جسے آج تخمیناً ۲۴ سو برس ہوئے اس نورانی موجّد نے شعلہ آتش کے پردہ میں توحید کے مسئلہ کو رواج دیا، مذہب مذکور نے سلطنت کے بازوؤں سے زور پکڑا اور ایران سے نکل کر دو سو برس کے قریب اطراف و جوانب کو دباتا رہا یہاں تک کہ یونان سے سکندر طوفان کی طرح اُٹھا اور ایشیا کے امن کو تہ و بالا کر دیا۔ جو مصیبت بودھ کے ہاتھ سے بید شاستر پر پڑی تھی، وہاں وہی مصیبت ژنداستا پر آئی۔ چنانچہ جس آگ نے زرتشت اور جاماسپ متبرک ہاتھوں سے آتش خانوں کو روشن کیا تھا جس کے آگے گشاسپ نے تاج اُتار کر رکھا، جس کی درگاہ میں اسفند یار نے گرز اور تلوار چڑھائی۔ وہ یونان کے آب شمشیر سے بجھائی گئی، اور آتش خانے راکھ ہو کر اُڑ گئے، افسوس یہ ہے کہ ژند و پاژند کے  ورق ورق برباد کئے گئے اور ہزاروں کتابیں فلسفہ الٰہی اور علوم و فنون کی تھیں کہ نابود ہو گئیں، جبکہ یونانیوں نے ملک پر غلبہ پایا تو زبان نے زبانوں پر بھی زور دکھایا ہو گا۔  تھوڑے ہی دنوں میں پارتھیا والوں کا عمل دخل ہو گیا، وہ ایران جسے ہزاروں برس سے ملک گیری کے نشان سلامی اُتارتے تھے اور تہذیب و شائستگی اُس کے دربار میں سر جھکاتے تھے۔ پانچ سو برس تک ظفر یابوں کے قبضہ میں دبا رہا، اور ژند کی کتب مقدسہ ڈھونڈھ ڈھونڈھ کر فنا کی گئیں۔

۲۰۰ عیسوی میں پھر تنِ بے جان میں سانس آیا۔ اور ساسانیوں کی تلواروں میں قدیمی اقبال نے چمک دکھائی، ان بادشاہوں نے ملک و مملکت کی قدامت کے ساتھ بُجھتے ہوئے مذہب کو بھی روشن کیا۔ گرے ہوئے آتش خانوں کو پھر اُٹھایا اور جہاں جہاں سے پھٹے پُرانے اوراقِ پریشاں ہاتھ آئے، بہم پہنچائے۔ اُن ہی کی کوششوں کی کمائی تھی جو پھر ساڑھے چار سو برس بعد علم اسلام کے قربان ہوئی۔ اس معاملہ میں ہمیں نیک نیت پارسیوں کا شکریہ نہ بھولنا چاہیے، کیونکہ باوجود تباہی اور خانہ بربادی کے جو پُرانا کاغذ کسی با اعتقاد کے ہاتھ آیا وہ جان کے ساتھ ایمان کو بھی لیتا آیا۔ بندر سورت، گجرأت وغیرہ ملکوں میں آج تک اسی نور سے آتش خانے روشن ہیں، جو کچھ ان کے پاس ہے وہ اُن تصنیفات کا بقیہ ہے جو ساسانیوں کے عہد میں ہوئی، کتبِ مذکورہ و دونوں زبانوں کا لفظی اتفاق ہی نہیں ثابت کرتیں بلکہ اُن کے اتحاد و اعتقاد پر بھی شہادت دیتی ہیں جو چار برن ہندوؤں میں، وہی ایران میں تھے، اجرام آسمانی کی عظمت واجب تھی، حیوانات بے آزار کا مارنا گناہِ عظیم تھا، تناسخ کا مسئلہ دونوں میں یکساں تھا، آتش، آب، خاک، باد، ابر، بجلی، گرج، ہوا، وغیرہ وغیرہ اشیاء کے لئے ایک ایک دیوتا مانا ہوا تھا، جس کے اظہار عظمت کے لئے خاص خاص طریقے تھے۔ یاد الٰہی کے زمزمے تھے، جس کو وہ اپنی اصطلاح میں گاتھا کہتے تھے، یہ وہی لفظ ہے جس کے نام پر یہاں گیتا کتاب ہے۔ کیوں کہ اس میں بھی یادِ الٰہی کے گیت ہیں۔ فارسی مروجہ کے چند الفاظ تمثیلاً لکھتا ہوں کہ سنسکرت سے ملتے ہوئے معلوم ہوتے ہیں :

فارسی                       سنسکرت                                                  فارسی                        سنسکرت

پدر                          پتر                                                          برادر                        بھراتر

پور                           پُتر                                                          دختر                         دوہتر

مادر                          ماتر                                                         انگشت                      انگشٹ

زانو                          جانو                                                         پا                             پاؤ

بار                            بھار                                                         بیم                           بھئے

بوم                          بھوم                                                       خاشاک                     کُشیا

اسپ                        اشو                                                         کر                            کھر

ایرانی بہن پر ایران میں پہلے اسلام کے ہاتھ سے وہ صدمہ گزرا تھا جو کہ یہاں دو سو برس کے بعد گزرا اور اس سے اس کی حیثیت بالکل بدل گئی تھی۔ بہر حال یہاں دو ایسی حالت کے ساتھ پہنچی کہ عربی اور ترکی الفاظ اور بہت سی ترکیبی تبدیلیوں کے سبب سے اس کی صورت نہ پہچانی جاتی تھی، یہاں جو مسلمان آئے وہ آپس میں وہی رائج الوقت فارسی بولتے تھے اور ہندوؤں سے ہندی کے الفاظ مِلا جُلا کر گزارہ کر لیتے تھے۔

اِدھر سنسکرت تو دیوبانی یعنی زبانِ آسمانی تھی، اس میں ملکشوں کو دخل کہاں ؟ البتہ برج بھاشا نے اس بِن بلائے مہمان کو جگہ دی۔ دھرم وان ہندو سالہا سال تک میکش بھاشا سمجھ کر غیر زبان سے متنفر رہے، مگر زبان کا قانون دھرم اور حکومت کے قانون سے بھی سخت ہے کیونکہ اسے گھڑی گھڑی اور پَل پَل کی ضرورتیں مدد دیتی ہیں جو کسی طرح بند نہیں ہوتیں۔ غرض آٹھ پہر ایک جگہ کا رہنا سہنا لین دین کرنا تھا۔ لفظوں کے بولے بغیر گزارہ نہ کر سکے، دو قوموں کے ارتباط پر ایسا اختلاط ضرور ہوتا ہے اور اس کے کئی سبب ہیں، اول تو یہ کہ اکثر نئی چیزیں ایسی آئی ہیں جو اپنے نام اپنے ساتھ لائی ہیں (۲) اکثر معانی ایسے ہوتے ہیں کہ انہیں انہی کی زبان میں کہیں تو ایک لفظ میں ادا ہو جاتے ہیں۔ ترجمہ کریں تو ایک فقرہ بنتا ہے۔ پھر بھی وہ نہ مزہ آتا ہے، نہ مطلب کا حق ادا ہوتا ہے۔ اس صورت میں گویا قانونِ زبان اور آئینِ بیان مجبور کرتا ہے کہ یہاں وہی لفظ بولنا چاہیے، دوسرا لفظ بولنا جائز نہیں، (۳) جو لوگ اکثر غیر ملکوں میں سفر کرتے ہیں وہ اس لطف کو جانتے ہیں کہ جب دو غیر زبان والے ایک جگہ رہتے سہتے ہیں تو کبھی کام کاج کی شدتِ مصروفیت میں، کبھی اُس عالم میں ضروری بات جلدی کہہ دینے کی غرض سے کبھی آسانی سے مطلب سمجھانے کو ایک دوسرے کے لفظ خواہ مخواہ اس طرح بول جانے پڑتے ہیں کہ بے اس کے گزارہ نہیں ہوتا۔ (۴) پھر جب ایک رہ کر شیر و شکر ہوتے ہیں تو اکثر پیار اور محبت سے کبھی آپس کی دل لگی کے لئے ایک دوسرے کے لفظ بول کر جی خوش ہوتا ہے، جس طرح دوست کو دوست پیارا ہوتا ہے، اسی طرح اس کے لفظ بھی پیارے معلوم ہوتے ہیں۔ یا یوں سمجھو کہ جس طرح وطن دار اپنے مہمانوں کے رہنے کو جگہ دیتے ہیں، اسی طرح ان کی زبان مہمان لفظوں کو جگہ دیتی ہے۔ (۵) بڑی بات یہ ہے کہ فتح یابوں کے اقبال کی چمک اِن کی بات بات کو بلکہ لباس، دستار، رفتار، گفتار کو بھی ایسی آب و تاب سے جلوہ دیتی ہے کہ وہی سب کی آنکھوں میں بھلے معلوم ہوتے ہیں اور لوگ اسے فقط اِختیاری ہی نہیں کرتے بلکہ اُس پر فخر بھی کرتے ہیں۔ پھر اس میں بہت سے فوائد بھی عقلی دلائل سے پیدا کرتے ہیں۔

اُس زمانہ کی عہد بعہد کی ہندی تصنیفیں آج نہیں ملتیں، جن سے وقت بوقت اس کی تبدیلیوں کا حال معلوم ہو۔ البتہ جب 1193 عیسوی میں شہاب الدین غوری نے رائے پتھورا پر فتح پائی تو چند کوئی ایک نامی شاعر نے پرتھی راج راسا لکھا۔ اسے دیکھ کر حیرت ہوتی ہے کہ زبانِ مذکور نے کتنا جلد عربی، فارسی کے اثر کو قبول کر لیا۔ ہر صفحہ میں کئی کئی لفظ نظر آتے ہیں۔ ساتھ ہی یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت میں یہاں کی بھاشا بھی کچھ اور بھاشا تھی، میں نمونہ تصنیف مذکور کا دکھاتا ہوں۔

यच उठि महल प्रिधौराज मंगि चारीइनिवाजीव ५६ पत्र परवरदिगार पैगाम रदबखाई करीमकैवारसुरतान जलालदिन जायासुरितानस चलइउपाबामूसल मानदनिदान भौम दतिइतनौ कंडेरकडन खायो पातिशाह सैतान परवरेदैवरों दीवान कंड या जादवनिवैरमंकजा खलक आलम चलोई खोदले मजुवाजई हजरति खुदायमेश चास मरदां मैलसिध वासवाड़ सांई देव चादर उचाई।

इतने मुलक की फरमान पेस कलकविलास केलास रोईधंधारगधार। ५२ पत्र पावजाखि प्रियोराज दाईंदौनि कुलितामंकरी सलाम सिंदिवारमरी चंगुलि सुलितानं॥

(حاشیہ : اسلام نے آتے ہی اختلاط الفاظ کی بنیاد ڈال دی تھی۔)

یہ اگرچہ مختلف جگہ کے ٹکڑے ہیں، مطلب ان کا اسل کتاب دیکھنے سے کھُلتا ہے مگر حرف شناس آدمی بھی جان سکتا ہے کہ یہ لفظ عربی فارسی کے اس میں موجود ہیں۔ محل، پروردگار، پگام (پیغام)، کریم، سرطان (یعنی سلطان) بات شاہ (بادشاہ) دیوان، خلک (خلق) عالم، حجرت (حضرت) ملک، پھرمان (فرمان)، سلام۔

ترجمہ اور تصنیف کے تجربہ کار جانتے ہیں کہ ان کی عبارت میں کسی زبان کا اصل لفظ جو اپنا مطلب بتا جاتا ہے، سطر سطر بھر عبارت میں ترجمہ کریں تو بھی وہ بات حاصل نہیں ہوتی جو مجموعہ خیالات کا اور اِس کے صفات و لوازمات کا اُس ایک لفظ سے سُننے والے کے سامنے آئینہ ہو جاتا ہے وہ ہمارے سطر بھر سے پُورا نہیں ہوتا۔ مثلاً چند کوی اپنی نظم میں سلطان کی جگہ اگر راجہ بلکہ مہاراجہ لکھ دیتا تو بھی جو صفات اور اس کے لوازمات نیک یا بد، رحم یا عدل، زور یا ظلم یہ الفاظ اُس کی نظم میں دکھا رہا ہے، وہ بات راجہ مہاراجہ سے ممکن نہیں، اسی طرح لفظ سلام کہ اِس کے مطلب کا حق خواہ ڈنڈوت خواہ پرنام کوئی لفظ ادا نہیں کر سکتا۔ نظیر اس کی آج انگریزی کے سینکڑوں لفظ ہیں۔  اگر ترجمہ کریں تو سطروں میں بھی مطلب پورا نہیں ہو سکتا، مثلاً ایک ہندستانی شخص اپنے دوست سے کہتا ہے۔ “لاٹ صاحب چھ بجے اسٹیشن پر پہنچیں گے۔ پروگرام کے بموجب شہر کی سیر کریں گے۔ ۵ بجے آنا، وہیں چل کر تماشا دیکھیں گے، اب خواہ صحیح خواہ بگڑے، مگر جو اصلی لفظ آپ نے اپنے معنی سننے والے کو سمجھا رہے ہیں، کئی کئی سطروں میں ترجمہ کئے جائیں تو بھی حقِ مطلب بجا نہ لا سکیں گے، آخر پندرہ صدی عیسوی میں سکندر لودھی کا زمانہ تھا، اتنا ہوا کہ اول کایستھ فارسی پڑھ کر شاہی دفتر میں داخل ہوئے اور اب ان لفظوں کو اُن کی زبانوں پرانے کا زیادہ موقع ملا، رفتہ رفتہ اکبر کے عہد سے کہ مسلمان شیر و شکر ہو گئے۔ یہ نوبت ہوئی کہ اِدھر بادشاہ اور اس کے اعلیٰ درجہ کے اہل دربار نے جبہ و دستار کے ساتھ داڑھیوں کو خدا حافظ کہا، اور جامے پہن کر کھڑکی دار پگڑیاں باندھ بیٹھے، اِدھر ہندو شرفا بلکہ راجہ مہاراجہ ایرانی لباس پہننے اور فارسی بول کر فخر کرنے لگے، بلکہ مرزا کے خطاب کو بڑے شوق سے لینے لگے۔

اب جس قدر ممکن ہے عہد بعہد کی زبانوں کے نمونے دکھاتا ہوں۔ امیر خسرو جو کہ 725ھ (1325 ء) میں فوت ہوئے، ان کی ایک غزل نظم اُردو کی تاریخ میں دیکھو، جس کا پہلا مصرعہ ہے “زحال سکین مکن تغافل درائے نیناں بنائے بتیاں ” الخ اس سے تمہیں کچھ کچھ حال اُس وقت کی زبان کا بھی معلوم ہو گا۔ خالق باری بھی انہیں کی مخلوقات فکر سے ہے، باریک ہیں اشخاص اس سے بھی بہت سے الفاظ اور فقرے دیکھ کر یہ نکتے سمجھ سکتے ہیں :

بیا بر اور آؤ رے بھائی

بنشیں ماور بیٹھ ری مائی

ایک مجرب نسخہ آنکھوں کا دوہروں کی بحر میں کہتے ہیں :

لودھ پھٹکری مردہ سنگ

ہلدی زیرہ ایک ایک ٹنگ

افیون چنا بھر مرچیں چار

اُرد برابر تھوتھا ڈار

پوست کے پانی پوٹلی کرے

ترت پیر نینوں کی ہرے

نظم اُردو کی تاریخ میں اِن کی عمدہ پہلیاں، مکرنیاں، دوسخنے، انمل میں نے لکھ دیئے ہیں، انہیں دیکھو اور خیال کرو کہ بحریں دوہروں کی ہیں مگر فارسیت کس قدر اپنا زور دکھا رہی ہے۔

ہندو شاعروں کے دوہرے برج بھاشا میں ہیں مگر عہد بعہد کی زبان کا پتہ بتاتے ہیں، چنانچہ سکندر لودھی کے زمانے میں کبیر شاعر بنارس کے رہنے والے عِلم میں اَن پڑھ تھے، گرو رامانند کے چیلے ہو کر ایسے ہوئے کہ خود کبیر پنتھیوں کا مت نکالا۔ تصنیفات اگر جمع ہوں تو کئی جلدیں ہوں، اُن کے دوہروں میں فارسی عربی کے لفظوں کو دیکھو :

دین گر ایودُنی سے دُنی نہ آئیو ہاتھ

پیر کہاڑی ماریو گا پھل اپنے ہاتھ

کبیر سریر سرائے ہے کیوں سئے سکھ چین

کوچ نگارا سانس کا باجت ہے دن رین

گرو نانک صاحب کی تصنیفات بہت کچھ ہے، اگرچہ خاص قطعہ پنجاب کی زبان ہے مگر جس بہتات سے ان کے کلام میں عربی فارسی کے لفظ ہیں اتنے کسی کے کلام میں نہیں اور چونکہ ۹۰۰ عیسوی کے بعد فوت ہوئے، تو اس سے چار سو برس پہلے کی پنجابی کا نمونہ بھی معلوم ہو سکتا ہے۔ دوہرا :

سانس مانس سب جیو تمہارا

تو ہے کھرا پیارا

نانک شاعر ایو کہت ہے

سچے پروردگارا

بلکہ اکثر چیزیں وظیفہ عبادت کے طور پر ہیں۔ ان میں بھی الفاظِ مذکورہ اسی کثرت سے نظر آتے ہیں۔ جپ جی کے دو فقرے دیکھو :

وارن جاؤں اَن ایک بار

تو سدا سلامت جی نرنکار

مسلمان بھی اس زمانہ میں یہاں کی زبان سے محبت رکھتے تھے، چنانچہ سولھویں صدی عیسوی شیر شاہی عہد میں ملک محمد جائسی ایک شاعر ہوا۔ اس نے پدماوت کی داستان نظم کی۔ اس سے عہد مذکور کی زبان ہی نہیں معلوم ہوتی، بلکہ ثابت ہوتا ہے کہ مسلمان اس ملک میں رہ کر یہاں کی زبان کو کس پیار سے بولنے لگے تھے، اس کی بحر بھی ہندی رکھی ہے، اور ورق کے ورق اُلٹتے چلے جاؤ، فارسی عربی کی لفظ نہیں ملتا۔ مطلب اس کا آج مسلمان بلکہ ہندو بھی نہیں سمجھتا، کتابِ مذکور چھپ گئی ہے اور ہر جگہ مل سکتی ہے، اس لئے نمونہ نہیں لکھتا۔

ہمایوں نے جب گجرأت دکن پر فوج کشی کی تو سلطان بہادر وہاں کا بادشاہ تھا اور جاپانیر کا قلعہ بڑا مستحکم تھا کہ سلطان خود بھی وہاں رہتا تھا اور تمام خزائن و دفائن وہیں رکھتا تھا۔ محاصرے کے وقت رومی خاں میر آتش (باوجودیکہ کمال معتبر اور مصاحبِ منظور نظر سلطان کا تھا) ہمایوں سے مل گیا، اور قلعہ (تمام نصائس اموال اور خزائن بے حساب سمیت) ہمایوں کے قبضہ میں آیا۔ سلطان بہادر کے پاس ایک طوطا تھا کہ آدمی کی طرح باتیں کرتا تھا اور سمجھ کر بات کا جواب دیتا تھا، سلطان اُسے ایسا چاہتا تھا کہ سونے کے پنجرے میں رکھتا تھا اور ایک دم جدا نہ کرتا تھا، وہ بھی لوٹ میں آیا۔ جب دربار میں لائے، رومی خان بھی موجود تھا، طوطے نے دیکھ کر پہچانا اور کہا۔ “پھٹ پاپی رومی خاں نمک حرام۔” سب کو تعجب ہوا اور ہمایوں نے کہا، رومی خاں چکنم کہ جانور است ورنہ زبانش می بریدم۔ اُس نے شرما کر آنکھیں نیچی کر لیں۔ غرض اس نقل سے یہ ہے کہ اس وقت بھی لوگوں کی زبان پر عربی فارسی کے لفظ چڑھے ہوئے تھے، جب ہی طوطے کی زبان سے نمک حرام کا لفظ نکلا، جانور جو سُنتا ہو گا وہی بولتا ہو گا۔

سترھویں صدی عیسوی میں بابا تلسی داس برہمن ضلع باندہ کے رہنے والے کہ پنڈت بھی تھے، شاعر بھی تھے، فقیر بھی تھے، اُنہوں نے رامائن کو بھاشا میں اس طرح ترجمہ کیا کہ وہ لاثانی کتاب مطبوعِ خاص و عام ہوئی، ان کے دہروں میں بہت اور کتابِ مذکور میں کہیں کہیں لفظ فارسی عربی کے موجود ہیں۔ دُہرا رامائن :

سنکارے سیوک سکل چلے سوامی رکھ پائے

گھر تر وتر و بن و پاگ و بر ڈیرو دیو لگائے

گھر بسواس بچن ہٹ بولے

کتنی بھنگ کلہ بھی کھولے

رام اینک گریب نواجے

لوگ بید بربرو براجے

گنی گریب گرام نرناگر

پنڈت موٹے ملیں اوجاگر

مایا کو مایا ملے کر کر لمبے ہاتھ

تلسی داس گریب کو کوئی نہ پوچھے بات

انہی دنوں میں سور داس جی نے سری کرشن جی کے ذکر سے اپنے کلام کو مقبول خاص و عام کیا۔ اِن کی تصنیف میں شاید کوئی شعر ہو گا، کہ فارسی عربی لفظ سے خالی ہو گا۔

مایا دھام دھن ونتا

باندھیوں ہوں اس ساج (یعنی ساز)

سنت سبھی جانت ہوں

تو نہ آئیو باج (یعنی باز نہ آیا)

کھیت بہت کاہے تم تانے

سبن سنی آواج (یعنی آواز)

دیو نہ جات پار اُتر آئے

چاہت چڑھیں جہاج (یعنی جہاز)

لیجے پار اُتار سور کوں

مہاراج برج راج

تئیں کرت کہت پربھو تم سوں

سدا غریب نواج (غریب نواز)

خیال کرو کہ جب یہ بزرگانِ مذہب اپنے دُہروں میں فارسی لفظ بول جاتے تھے تو گفتگو میں عام ہندو لوگ کیا اس سے کچھ زیادہ نہ بولتے ہوں گے۔

اخیر میں حسن و خوبی برج بھاشا کی راجہ جے سنگھ سوانی کی قدردانی سے ظاہر ہوئی، انہوں نے ایک ایک اشرفی دہرہ کوئی اور گنوان پنڈتوں کو انعام دے کر دہلی اور نواحِ دہلی میں شوق پھیلایا۔

اس عہد میں مسلمانوں کی زبان کا کیا حال ہو گا؟ ظاہر ہے کہ کئی سو برس سے اسلام آیا تھا، جن کے باپ دادا کئی کئی پشت یہیں کی خاک سے اُٹھے اور یہیں پیوند زمین ہوئے، انھیں آپس کے رشتوں اور معاملات کے سررشتوں سے ضرور یہاں کی زبان یعنی برج بھاشا بولنی ہوتی ہو گی، تازہ ولایت، آدھی اپنی آدھی ان کی ملا کر ٹوٹی پھوٹی بولتے ہوں گے، اِن زبانوں کی کوئی نثر تصنیف نہیں۔ وہی امیر خسرو کی ایک غزل اور پہیلیاں اور مکرنیاں اور گیت پتہ بتاتے ہیں کہ ۷۰۰ھ میں یہاں کے مسلمان خاصی بھاشا بولتے ہوں گے بلکہ یہی کلام یہ بھی خبر دیتے ہیں کہ مسلمان بھی اب یہیں کی زبان کو اپنی زبان سمجھنے لگے تھے۔ اور اُس زبان کو کس شوق اور محبت سے بولتے تھے، شاید بہ نسبت ہندوؤں کے فارسی عربی لفظ اُن کی زبان پر زیادہ آ جاتے ہوں گے اور جتنا یہاں رہنا سہنا اور استقلال زیادہ ہوتا گیا اتنا ہی روز بروز فارسی ترکی نے ضعف اور یہاں کی زبانوں نے زور پکڑا ہو گا۔ رفتہ رفتہ شاہجہاں کے زمانے میں کہ اقبال تیموری کا آفتاب عین اوج پر تھا، شہر اور شہر پناہ تعمیر ہو کر نئی دلی دارالخلافہ ہوئی۔ بادشاہ اور ارکانِ دولت زیادہ تر وہاں رہنے لگے۔ اہلِ سیف، اہلِ قلم، اہلِ حرفہ اور تجار وغیرہ ملک ملک اور شہر شہر کے آدمی ایک جگہ جمع ہوئے۔ ترکی میں اُردو بازار لشکر کو کہتے ہیں، اُردوئے شاہی اور دربار میں ملے جُلے الفاظ زیادہ بولتے تھے، وہاں کی بولی کا نام اُردو ہو گیا۔ اسے فقط شاہجہاں کا اقبال کہنا چاہیے کہ یہ زبان خاص و عام میں اس کے اُردو کی طرف منسوب مشہور ہو گئی، ورنہ جو نظم و نثر کی مثالیں بیان ہوئیں، اِن سے خیال کو وسعت دے کر کہہ سکتے ہو کہ جس وقت سے مسلمانوں کا قدم ہندوستان میں آیا ہو گا، اُسی وقت سے اُن کی زبان نے یہاں کی زبان پر اثر شروع کر دیا ہو گا۔ چند کوی کا کلام مل گیا، اس میں الفاظ موجود ہیں۔ محمود کے وقت کی نظم یا نثر مل جائے تو اس میں بھی ضرور ہوں گے۔

بیان ہائے مذکورہ سے یہ بھی ثابت ہوا جو کچھ اس میں ہوا کسی تحریک یا ارادہ سے نہیں ہوا بلکہ زبانِ مذکور کی طبیعت ایسی ملنسار واقع ہوئی ہے کہ ہر زبان سے مِل جُل جاتی ہے۔ سنسکرت آئی اس سے مل گئی، عربی فارسی آئی اُسے بسم اللہ کہہ کر خیر مقدم کہا۔ اب انگریزی الفاظ کو اس طرح جگہ دے رہی ہے گویا اُس کے انتظار میں بیٹھی تھی۔

اِسی زبان کو ریختہ بھی کہتے ہیں (پہلے شعر اُردو کو ریختہ کہتے تھے۔ میر غفر غینی کی تقریر میں دیکھو ، مرزا رفیع فرماتے ہیں :

مصرعہ : شعر بے معنی سے تو بہتر ہے کہنا ریختہ

کیوں کہ مختلف زبانوں نے اسے ریختہ کیا ہے۔

جیسے دیوار کو اینٹ، مٹی، چونا، سفیدی وغیرہ پختہ کرتے ہیں، یا یہ کہ ریختہ کے معنی ہیں گری پڑی، پریشان چیز، چونکہ اس میں الفاظ پریشاں جمع ہیں، اس لئے اسے ریختہ کہتے ہیں، یہی سبب ہے کہ اس میں عربی، فارسی، ترکی وغیرہ کئی زبانوں کے الفاظ شامل ہیں۔ اور اب انگریزی بھی داخل ہوتی جاتی ہے اور ایک وقت ہو گا کہ عربی، فارسی کی طرح انگریزی زبان قابض ہو جائے گی، چنانچہ میں ایک نواب زادے کی گفتگو لکھتا ہوں جس کی پرورش اور تعلیم گھریلو ہے یعنی نہ عربی فارسی کی لفاظی نے اس پر رنگ چڑھایا ہے، نہ انگریزی نے روغن پھیرا ہے۔ فقط دوستانہ بے تکلفانہ باتیں ہیں۔ “بڑے آکا کی پنشن لینے کل کچہری گیا تھا، ڈپٹی صاحب کے کمرے کے آگے کچھ قرقی کا مال نیلام ہو رہا تھا، کمریاں کوٹ اور واسکٹیں نئی تھیں، کنٹر اور گلاس بھی ولایتی تھے۔ کرسیاں، میزیں، چقیں باریک خوشرنگ تھیں۔ میں نے کہا چلو کوئی ڈھب کی چیز ہو تو لے لیں۔ منجھلے آکا بولے، جانے بھی دو، جس مال نے مالک سے وفا نہ کی، ہم سے کیا وفا کرے گا۔ آتے وہئے ریل اسٹیشن کے پاس دیکھتا ہوں کھبے مرزا جان چلے آتے ہیں۔ شکرم ٹھہرا کر بڑی تپاک سے ملے۔ بڑھاپے نے بچارے کا رنگ روپ سب کھو دیا، وہ شکل ہی نہیں وہ صورت ہی نہیں، کیسے گورے چٹے سجیلے جوان تھے۔ لوگ تصویریں اُترواتے تھے، میں نے کہا میاں ! ہم نے تو جانا تھا تم دکھن سے خوب چاک و چوبند سُرخ سفید ہو کر آؤ گے تم تو سوکھ کر قاق ہو گئے، غضب کیا اگلا جوبن بھی گنوا آئے۔ ٹھنڈا سانس بھر کے بولے ہائے جوانی۔

فارسی عربی کے الفاظ تو ظاہر ہیں، مگر خیال کیجیے کہ قرق، چق، قاق آکا ترکی ہیں۔ میز (میز دری زبان میں ترجمہ ٹیبل کا ہے مگر اُردو کو یہ فارسی مروجہ سے نہیں ملا صاحب لوگوں سے پہنچا ہے۔) نامعلوم، نیلام پرتگالی ہے، کمرا اطالی ہے، ڈپٹی، ریل، اسٹیشن، کوٹ، واسکٹ، کنٹر، گلاس انگریزی ہیں۔ چٹا، کھمبا پنجابی ہے، مگر اتنا ہے کہ ہم چٹا بغیر گورے کے اور اسی طرح چنگا بغیر بھلے کے نہیں بولتے، وہ اکیلا ہی بولتے ہیں۔  کھمبا پنجابی میں عام ہے۔ خاص صفت کے ساتھ بولتے ہیں۔ بھانڈا پھوڑنا اُردو میں کسی بات یا راز کھول دینے کو کہتے ہیں۔ پنجابی میں باسن کو بھانڈا ہی کہتے ہیں۔ گلا گھونٹنا اُردو میں بولتے ہیں۔ پنجابی میں کھینچ کر باندھنے کو یا مضبوط پکڑنے کو کہتے ہیں۔ مثلاً گھُٹ کر باندھو یا گھُٹ کر پکڑو۔ بھنا، بَھنانا توڑنا اور تڑوانا ہے، اور اسی سبب سے پنجابی میں روپیہ کے لئے بھنانا کہتے ہیں، اُردو میں پہلے معنی متروک ہو گئے، دوسرے معنی رہے، وہ بھی ’‘ کو مدکر کے کہ جاؤ روپے کے ٹکے بھُنا لاؤ، اور اس اصلیت کا سُراغ یوں لگا کہ فارسی میں روپے کے لئے خوردہ کودن بولتے ہیں اور اُردو میں بھی کہتے ہیں، صُبح کو روپیہ خوردہ کیا تھا، دوپہر کو دیکھو تو برکت! یعنی سب پیسے اُٹھ گئے۔

کسوٹی،گھسنا مترادف فرسودن اُردو میں بالکسر ہے، پنجابی میں اس طرح بولتے ہیں کہ کاف مفتوح معلوم ہوتا ہے اور “ہ” کا تلفظ عجیب ہے کہ اِن ہی کے لہجہ کے لئے خاص ہے، بہرحال اس سے کس وٹی (گھِسنے کی بَٹیا) معیار کا نام ہوا، اُردو میں یہی لفظ کسوٹی ہو گیا۔

رُوپ، سجیلا، جوبن، گنوایا، برج بھاشا ہے، اِن کے علاوہ روزمرہ کی باتوں پر خیال کرو، یوسف، ہارون، موسیٰ، عیسیٰ وغیرہ عبرانی ہیں، کیمیا، فیلسوف، اصطرلاب یونانی ہیں، اُرد یعنی ماش تامل ہے، ننھا یعنی خورد گجرأتی ہے، بڑا جو کڑاہی میں تلتے ہیں، تنگو ہے، گدام ملایا کی زبان ہے، تمباکو امریکہ کا لفظ ہے، یورپ کے رستہ ہو کر اکبر کے عہد میں یہاں پہنچا۔

اُردو میں اس وقت نثر کی کوئی کتاب نہ لکھی گئی، جس سے سلسلہ ان تبدیلیوں کا معلوم ہو۔ میر جعفر زٹل کے کلام کو محمد شاہی بلکہ اس سے پہلے زمانہ کا نمونہ کہتا، مگر زٹل کا اعتبار کیا؟ البتہ محمد شاہ کے عہد میں ۱۱۴۵ھ میں فضلی تخلص کے ایک بزرگ نے وہ مجلس لکھی، اس کے دیباچہ میں سبب تالیف لکھتے ہیں، اور غالباً یہی نثر اُردو کی پہلی تصنیف ہے۔ پھر دل میں گزرا کہ ایسے کام کو عقل چاہیے، کامل اور مدد کسو طرف کی ہوئے شامل کیوں کہ بے تائیدِ صمدی اور بے مدد جنابِ احدی، یہ مشکل صورت پذیر نہ ہووے6 اور گوہر مراد رشتہ امید میں نہ آوے، لہذا کوئی اس صنعت کا نہیں ہوا۔ مخترع اور اب تک ترجمہ فارسی بعبارتِ ہندی نثر نہیں ہوا، مستمع۔ پس اس اندیشہ عمیق سے غوطا کھایا اور بیابانِ تامل و تدبیر میں سرگشتہ ہوا لیکن راہ مقصود کی نہ پائی، ناگاہ نسیم عنایت الٰہی دل افگار پُر اہتزاز میں آئی، یہ بات آئینہ خاطر میں منھ دکھلائی۔

میر کی مثنوی شعلہ عشق کو بھی مرزا رفیع نے نثر میں لکھا ہے۔ افسوس کہ اس وقت موجود نہیں۔ اس کا انداز بالکل یہی ہے کہ چند فقرے سودا کے ایک دیباچہ سے نقل کرتا ہوں جو کلیات میں موجود ہیں۔

نثر مرزا رفیع : ضمیر منیر پر آئینہ دارانِ معنی کے مبرہن کو محض عنایت حق تعالیٰ کی ہے جو طوطی ناطقہ شیریں سخن ہو، پس یہ چند مصرع کہ از قبیل ریختہ در ریختہ، خامہ دو زبان اپنی سے صفحہ کاغذ پر تحریر پائے، لازم ہے کہ تحویلِ سخن سامعہ سنجان روزگار کروں، تا زبانی اِن اشخاص کی ہمیشہ مور و تحسین و آفرین رہوں۔ ؂

قیمتِ در قدر شناسا ہی سے پہنچے ہے بہم

ورنہ دنیا میں خذف بھی نہیں گوہر سے کم

مضمون سینہ میں بیش از مرغِ اسیر نہیں کہ ہو بیچ قفس کے، جس وقت زبان پر آیا،  فریاد بلبل ہے واسطے گوش داد رس کے، غرض جس اہل سخن کا دُر منصفی زینتِ لب ہے، سر رشتہ حسنِ معانی کا اس کلام کے اس سے انصاف طلب ہے، اگر حق تعالیٰ نے صبح کاغذ سفید کی مانند شام سیاہ کرنے کو یہ خاکسار خلق کیا ہے، تو ہر انسان کے فانوسِ دماغ میں چراغِ ہوش دیا ہے۔ چاہیے کہ دیکھ کر نکتہ چینی کرے ورنہ گزند زہر آلود سے بے اجل کاہے کو مرے۔”

اس تصنیف سے تخمیناً ۳۰ برس کے بعد جبکہ میر انشاء اللہ خاں اور مرزا جانجاناں مظہر کی دلی میں ملاقات ہوئی ہے، اس گفتگو کے چند فقرے بھی قابلِ غور ہیں۔ سید انشاء مرزا جانجاناں سے فرماتے ہیں۔

سید انشاء فرماتے ہیں

ابتدائے سِن صبا سے تا اوائلِ ریعان، اور اوائل ریعان سے الی الآن اشتیاقِ مالا یطاقِ تقبیل عتبہ نہ سجدے تھا کہ سلکِ تحریر و تقریر میں منظم ہو سکے لہذا بے واسطہ و وسیلہ حاضر ہوا ہوں۔

مرزا صاحب جواب میں فرماتے ہیں

اپنے تئیں کون بھی بدرِ طفلی سے ہی ایسے اشخاص کے ساتھ موانست اور مجالست رہا کی ہے۔

لیکن  میر غفر غینی کے نام سے ایک گفتگو سید انشاء نے دریائے لطافت میں لِکھی ہے اسے پڑھ کر تعجب آتا ہے کہ اس صاحبِ کمال نے یہ زبان کس فصاحت کے قالب میں ڈھالی تھی کہ ان عبارتوں میں اور اس میں زمین آسمان کا فرق ہے، شاید مرزا جانجاناں اور سودا وغیرہ بزرگوں کی تحریر کچھ اور ہو گی، تقریر کا انداز اور ہو گا۔

بہرحال اس وقت تک انشاء پردازی اور ترقی اور وسعتِ زبانِ اُردو کی فقط شعراء کی زبان پر تھی، جن کی تصنیفات غزلیں عاشقانہ اور قصیدے مدحیہ ہوتے تھے اور غرض ان سے فقط اتنی تھی کہ اُمراء و اہلِ دل سے انعام لے کر گزارہ کریں یا تفریح طبع یا یہ کہ ہم چشموں میں تحسین و آفرین کا فخر حاصل کریں، وہ بھی فقط نظم میں نثر کے حال پر کسی کو اصلا توجہ نہ تھی، کیونکہ کاروائی مطالبِ ضروری کی سب فارسی میں ہوتی تھی مگر خدا کی قدرت دیکھو، تھوڑے عرصے میں کئی قدرتی سامان جمع ہو گئے اور سب سے مقدم سبب اس کی عام فہمی تھی کہ ہر شخص سمجھتا تھا، اس لئے لکھنے والوں کو اسی میں داد واہ لینے کا شوق ہوا۔ میر محمد حسین تحسین نے چہار درویش کا قصہ اُردو میں لکھ کر نو طرز مرصع نام رکھا، شجاع الدولہ کے عہد میں تصنیف شروع ہوئی، ۱۷۹۷ء (۱۲۱۳ھ) نواب آصف الدولہ کے عہد میں ختم ہوئی۔

ادھر تو یہ چونچال لڑکا شعرا ء کے جلسوں اور اُمراء کے درباروں میں اپنے بچپنے کی شوخیوں میں سب کے دل بہلا رہا تھا، اُدھر دانائے فرنگ جو کلکتہ میں فورٹ ولیم کے قلعہ پر دُوربین لگائے بیٹھا تھا، اُس نے دیکھا، نظرباز تاڑ گیا، کہ لڑکا ہونہار ہے، مگر تربیت چاہتا ہے، تجویز ہوئی کہ جس ملک پر حکمرانی کرتے ہیں، اُس کی زبان سیکھنی واجب ہے، چنانچہ ۱۷۹۹ ء (۱۲۱۴ھ) میں میر شیر علی افسوس نے باغ اُردو اور ۱۸۰۵ ء (۱۲۴۰ھ) میں آرائش محفل لکھی۔ میر امن دہلوی نے ۱۸۰۲ ء (۱۲۱۷ھ) میں باغ و بہار آراستہ کیا۔

 انہی دنوں میں اخلاق محسنی کا ترجمہ لکھا۔ ساتھ ہی جان گلگرسٹ صاحب نے انگریزی میں قواعد اُردو لکھی۔ 1802 عیسوی (۱۲۱۸ھ) میں شری للوجی لال کوی نے پریم ساگر (پریم ساگر 1860 میں بھاشا ہوئی) لکھی، اور بیتال پچیسی (بیتال پچیسی 1805 عیسوی میں مظہر علی دلا نے اُردو میں لکھی) جو محمد شاہ کے زمانہ میں سنسکرت سے برج بھاشا میں آئی تھی، اب عام فہم اُردو ہو کر ناگری میں لکھی گئی، لیکن اس نقارہ فخر کی آواز کو کوئی دبا نہیں سکتا، کہ میر انشاء اللہ خان پہلے شخص ہیں جنہوں نے ۱۸۰۷ء (۱۳۲۲ھ) میں دریائے لطافت لکھ کر ایجاد کی ٹہنی میں ظرافت کے پھول کھلائے۔

عجیب لطف یہ ہے کہ زبانِ اُردو کی عام فہمی دیکھ کر مذہب نے بھی اپنی برکت کا ہاتھ اُس کے سر پر رکھا یعنی 1807ء (1322ھ)میں مولوی شاہ عبد القادر صاحب نے قرآن شریف کا ترجمہ اُردو میں کیا، بعد اس کے مولوی اسمٰعیل صاحب نے بعض رسالے عام اہلِ اسلام کی فہمائش کے لئے اُردو میں لکھے۔

1835 عیسوی سے دفاترِ سرکاری بھی اُردو ہونے شروع ہوئے۔ چند سال کے بعد کُل دفتروں میں اُردو زبان ہو گئی، اسی سنہ میں اخباروں کو آزادی حاصل ہوئی۔ ۱۸۳۶ عیسوی میں اُردو کا اخبار دلی میں جاری ہوا، اور یہ اس زبان میں پہلا اخبار تھا کہ میرے والد مرحوم کے قلم سے نکلا۔

غرض اپنی آسانی کے وصف سے اور اس لحاظ سے کہ ملکی زبانی یہی ہے، دفتری زبان بھی یہی ٹھہری۔ اُردو نے آہستہ آہستہ فارسی کو پیچھے ہٹانا اور اپنا قدم آگے بڑھانا شروع کیا، تب سرکار نے مناسب سمجھا کہ اس ملک کے لوگوں کو ان ہی کی  زبان میں انگریزی علوم و فنون سکھائے جائیں۔ چنانچہ 1842 عیسوی سے دلی میں سوسائٹی قائم ہو کر ترجمے ہونے لگے اور ضرورت علمی الفاظ بہم پہنچانے لگی، خیال کرو کہ جس زبان کی فقط اتنی بنیاد ہو وہ زبان کیا اور اُس کی وسعت کا میدان کیا، البتہ اب امید کر سکتے ہیں کہ شاید یہ بھی ایک دن علمی زبانوں کے سلسلہ میں کوئی درجہ پا جائے۔

اُردو اس قدر جلد جلد رنگ بدل رہی ہے کہ ایک مصنف اگر خود اپنی ایک سنہ کی تصنیف کو دوسرے سنہ کی تصنیف سے مقابلہ کرے تو زبان میں فرق نظر آئے گا۔ باوجود اس کے اب تک بھی اس قابل نہیں کہ ہر قسم کے مضمون خاطر خواہ ادا کر سکے یا ہر علم کی کتاب کو بے تکلف ترجمہ کر دے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ اکثر علوم اور ہزاروں مسائل علمی ممالکِ فرنگ میں ایسے نکلے ہیں کہ زمانہ سلف میں بالکل نہ تھے، اس واسطے عربی، فارسی، سنسکرت، بھاشا وغیرہ جو کہ اُردو کے بزرگ ہیں، اُن کے خزانہ میں اس کے ادائے مطلب کے لئے الفاظ نہیں اور اس میں ہم اُردو بچاری کے افلاس پر چنداں تعجب نہیں کر سکتے۔ خصوصاً جب کہ ہندو مسلمان اپنے اپنے بزرگوں کی میراث کو بھی ہاتھ سے کھوئے بیٹھے ہوں۔

*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*

 

برج بھاشا پر عربی اور فارسی زبانوں نے کیا کیا اثر کئے ؟

جب دو صاحبِ زبان قومیں باہم ملتی ہیں تو ایک کے رنگ و رُوپ کا دوسرے پر ضرور سایہ پڑتا ہے، اگرچہ اس کے اثر، گفتگو، لباس، خوراک، نشست، برخاست مختلف رسوم میں بھی ہوتے ہیں، لیکن چونکہ مجھے اس مقام پر زبان سے غرض ہے، اس لئے اسی میں گفتگو کرتا ہوں، ظاہر ہے کہ جب ایک قوم دوسرے قوم میں آتی ہے، تو اپنے ملک کی صدہا چیزیں ایسی لاتی ہے کہ جو یہاں نہیں تھیں، اشیائے مذکورہ کبھی ضروری اور کبھی ایسی باعثِ آرام ہوتی ہیں، کہ اُنھیں استعمال میں لینا ضروریات زندگی سے نظر آتا ہے، اس لئے یہ لوگ انھیں غنیمت سمجھ کر لیتے ہیں اور بخوشی کام میں لاتے ہیں، ان اشیاء میں سے بہتیری چیزیں تو نام اپنے ساتھ لاتی ہیں اور بہتیری نئی ترکیب سے، یا ادل بدل کر یہاں نیا نام پاتی ہیں اور یہ پہلا اثر دوسری زبان کا ہے، اس کے علاوہ جب یہ دونوں ایک جگہ رہ سہ کر شیر و شکر ہوتی ہیں تو ایک زبان میں دوسری زبان کے لفظ گھل مِل جاتے ہیں۔

جب مہمان و میزبان ایک دوسرے کی زبان سمجھنے لگتے ہیں تو ایک خوشنما  اور مفید تبدیلی کے لئے رستہ پیدا ہوتا ہے، کیوں کہ اگرچہ طبعِ انسانی کے اتحاد سے سب کے خیالات متفق یا قریب قریب ہوں مگر اندازِ بیان سب کا جُدا جُدا ہے، اور طبیعت ہمیشہ نئے  انداز کو پسند کرتی ہے۔ اس لئے ادائے مطلب میں ایک دوسرے کے اندازِ بیان سے بھی فائدہ اُٹھاتے ہیں، پھر نئی نئی تشبیہیں، لطیف استعارے لے کر اپنی پُرانی تشبیہوں اور مستعمل استعاروں کا رنگ بدلتے ہیں اور جس قدر زبان میں طاقت ہے، ایک دوسرے کے خیالات اور نئی طرز کو لے کر اپنی زبان میں نیا مزہ پیدا کرتے ہیں۔

یہ انقلاب حقیقت میں وقت بوقت ہر ایک زبان پر گزرتا ہے، چنانچہ قومِ عرب نے جو ایک زمانہ میں رُوم، یونان اور ہسپانیہ وغیرہ سے خلط ملط ہوئی تھی، ہزاروں لفظ علمی اور غیر علمی وہاں سے لئے، اسی طرح فارسی زبان عربی و ترکی وغیرہ الفاظ سے مالا مال نظر آتی ہے، انگریزی کے باب میں مجھے کچھ کہنا زیبا نہیں، کیونکہ اب روشن ضمیر انگریزی خوان بہت ہیں، اور مجھ سے زیادہ جانتے ہیں، مگر اتنا کہنا کافی ہے کہ جس طرح ایک مہذب سلطنت کو تمام ضروریاتِ سلطنت کے کارخانے اور ملکی سامان کی ضرورت ہے، اسی طرح سب قسم کے الفاظ اور تمام ادائے خیالات کے انداز انگریزی زبان میں موجود ہیں۔

اب مجھے اپنی زبان میں گفتگو کرنی چاہیے لیکن اتنا یاد دلانا واجب ہے کہ اُردو کہاں سے نکلی ہے اور کیوں کر نکلی ہے ؟ اُردو زبان اول لین دین، نشست برخاست کی ضرورتوں کے لئے پیدا ہو گئی، ہندوؤں کے ساتھ ہندی مسلمان جو اکثر ایرانیوں یا ترکستانیوں کی اولاد تھے، ہندوستان کو وطن اور اس زبان کو اپنی زبان سمجھنے لگے، یہ بھی ظاہر ہے کہ جس طرح زمین بے روئیدگی کے نہیں رہ سکتی، اسی طرح کوئی زبان بے شاعری کے نہیں رہ سکتی۔ محمد شاہی دَور تھا اور عیش و عشرت کی بہار تھی، ان شرفا کو خیال آیا ہو گا کہ جس طرح ہمارے بزرگ اپنی فارس کی انشاء پردازی میں گلزار کھلاتے تھے، اب ہماری زبان یہی ہے، ہم بھی کچھ اس میں رنگ دکھائیں، چنانچہ وہی فارس کے خاکے اُردو میں اُتار کر غزل خوانیاں شروع کر دیں اور قصیدے کہنے لگے، اور اس میں کچھ شک نہیں کہ جو کچھ قوتِ بیان یا لفظوں کی تراش، یا ترکیبوں کی خوبصورتی یا تشبیہ اور استعاروں کی رنگینی غرض اول جو کچھ نصیب ہوا، شعرائے اُردو کی بدولت ہوا اور یہی سبب ہے کہ جو کچھ سامان ایک ملکی اور ٹکسالی زبان کے لئے درکار ہوتے ہیں، اُس سے یہ زبان مفلس رہی، کیوں کہ اِس عہد میں علوم و فنون، تاریخ، فلسفہ، ریاضی وغیرہ کا چرچا عام ہوتا تو اس کے لئے بھی الفاظ ہو جاتے، جن جن باتوں کا چرچا تھا، انہی سامانوں کے الفاظ اور خیالات پیدا ہوئے، ہاں یہ کہنا ضرور چاہیے کہ جو کچھ ہوا تھا، اپنے رنگ پر خوب ہوا تھا۔

اب ہمیں پھر مطلب پر آنا چاہیے کہ بھاشا نے اُردو کے کپڑے پہننے کے لئے فارسی سے کیا کیا لیا۔

۱)  ان چیزوں کے نام لئے جو عرب اور فارس سے آئیں اور اپنے نام اپنے ساتھ لائیں، مثلاً لباس میں فرغل، کُرتہ، قبا، چوغا، آستین، گریبان، پائجامہ، ازار، عمامہ، رومال، شال، دوشالہ، تکیہ، گاؤ تکیہ، برقع، پوستین، وغیرہ۔

کھانے کے ذیل میں : دسترخوان، چپاتی، شیرمال، باقرخانی، پلاؤ، زردہ، مزعفر، قلیہ، قورمہ، متنجن، فرنی، ماقوتی، حریرہ، حریسہ، لوز، مربے، اچار، فالودہ، گلاب، بید مشک، کوان، طبق، رکابی، طشتری، کفگیر، چمچہ، سینی، کشتی، چائے، جوش وغیرہ۔

متفرقات میں : حمام، کیسہ، صابون، شیشہ، شمع، شمعدان، فانوس، گلگیر، تنور، رفیدہ، مشک، نماز، روزہ، عید، شب برات، قاضی، ساقی، حقہ، نیچہ، چلم، تفنگ، بندوق، تختہ زد، گنجفہ اور اُن کی اصطلاحیں، یہ سب چیزیں اپنے نام ساتھ لے کر  آئیں، بہت سی چیزیں آئیں کہ بھاشا میں اُن کے لئے نام نہیں، سنسکرت کی کتابوں میں ہوں گے، پستہ، بادام، منقے، شہتوت، بیدانہ، خوبانی، انجیر، سیب، بہی، ناشپاتی، انار وغیرہ،

۲)  بہت سے عربی فارسی کے لفظ کثرتِ استعمال سے اس طرح جگہ پکڑ بیٹھے ہیں کہ اب اُن کی جگہ کوئی سنسکرت یا قدیمی بھاشا کا لفظ ڈھونڈھ کر لانا پڑتا ہے۔ مگر اس میں یا تو مطلب اصلی فوت ہو جاتا ہے، یا زبان ایسی مشکل ہو جاتی ہے کہ عوام تو کیا خواص ہنود کی سمجھ میں نہیں آتی، مثلاً دلّال، فراش، مزدور، وکیل، جلاد، صراف، مسخرا، نصیحت، لحاف، توشک، چادر، صورت، شکل، چہرہ، طبیعت، مزاج، برف، فاختہ، قمری، کبوتر، بلبل، طوطا، پر، دوات، قلم، سیاہی، جلاب، رقعہ، عینک، صندوق، کرسی، تخت، لگام رکاب، زین، تنگ، پوزی، فعل، کوتل، عقیدہ، وفا، جہاز، مستول، بادبان، تہمت، درہ، پردہ، دالان، تہ خانہ، تنخواہ، ملاح، تازہ، غلط، صحیح، رسد، سرباری، کاریگر، ترازو، شطرنج کے باب میں تعجب ہے کہ خاص ہندو کا ایجاد ہے، مگر عرب اور فارس سے جو پھر کر آئی تو سب اجزاء کے نام اور اصطلاحیں بدل آئی۔

(حاشیہ : بہت سی چیزیں ہندی کی ہیں مگر اپنے نام کھو بیٹھیں۔)

سینکڑوں لفظ عربی، فارسی کے یہاں آئے، مگر ہوا موافق نہ آئی، اس لیے مزاج  اور صورت بگڑ گئی۔ مثلاً مرغا وغیرہ،

صرف میں فارسی نے ہندی پر کیا اثر کیا

صرف۔ میں فارسی سے کچھ نہیں لیا۔ خود اتنا کیا کہ دن علامت جمع ہندی کو عربی فارسی لفظوں پر بھی لگا لیا، مثلاً آدمیوں، انسانوں، درختوں، میوؤں۔

اسمِ فاعل : فارسی عربی کے بے شمار لئے اور ان میں شطرنج باز کے قیاس پر چوپڑ باز اور وفادار کے قیاس پر ظرفاً سمجھ دار سمجھ ناک بھی بول دیتے تھے۔ باغبان کے قیاس پر گاڑی بان، ہاتھی بان، بہلبان، مگر بان اور دان حقیقت میں ایک ہیں کیونکہ اصل میں دونوں زبانیں ایک دادا کی اولاد ہیں، اس کی تحقیق جیسی کہ چاہیے فارسی لکچروں میں لکھی ہے۔

اسمِ ظرف : قلمدان وغیرہ کے قیاس پر خاصدان، پاندان، ناگردان، پیک دان، مودیخانہ، پیخانہ۔

بابِ حروف کا بھی یہی حال ہے، مثلاً حرف، تشبیہ کوئی نہیں لیا، مگر چنانچہ اور چونکہ موجود ہیں اور اس طرح آتے ہیں کہ ترجمہ کے لئے ہندی حرف معلوم ہی نہیں ہوتا۔

حرفِ شرط میں اگر، اور اس سے اگرچہ بھی لیا۔

واؤ عاطفہ : سمیت، معطوف اور معطوف علیہ، اُردو عبارت میں لے لئے مثلاً آب و ہوا، شب و روز، صبح و شام، زور و شور۔

حرفِ استثنا میں سے مگر اور عربی کے لفظ سوا، ماسوا، الا، والانہ، لیکن و لیکن لے لئے۔ اپنے حرفوں کو گم کر دیا۔

حروفِ نفی نا اور بنا کی جگہ نہ اور نے، آ گئے

حروفِ ایجاب رہے مگر ادب کی جگہ میں، سب بچن وغیرہ کی جگہ بجا، درست، واقعی، حق، بے شک، برحق، بہ سر و چشم، آ گئے، اصل زبان کے لفظ نہ رہے۔

حروفِ تاکید کی جگہ ہرگز، زنہار، ضرور، البتہ آ گئے۔ اصلی لفظ گم ہو گئے۔

حروفِ تردید کی جگہ با، خواہ ہیں، اصل گم۔

حروفِ تمنا میں سے کوئی حرف نہیں۔ کاش فارسی کا لفظ ہے۔

حروفِ ترقی میں بل تو نہیں بولتے، بلکہ اپنے موقع پر آتا ہے۔

اسم کی بحث میں اسمائے اشارہ میں سے کچھ نہیں لیا، مگر ازانجاکہ، باآنکہ، باآینکہ، مرکب ہو کر بہت آتے ہیں۔

موصولات میں سے کچھ نہیں لیا، مگر کاف بیانیہ اس طرح آنے لگا کہ بے اس کے کلام ہی بے مزہ ہو جاتا ہے۔ کیسا، ایسا، جیسا کی جگہ کس طرح وغیرہ کس وضع وغیرہ، کتنا، اتنا، جتنا کی جگہ کس قدر وغیرہ بولنے لگے۔

یائے نسبت کی ترکیبوں میں فارسی عمومی کے بموجب نسبتی الفاظ بولنے لگے چنانچہ دلی وال کی جگہ دہلوی بولتے ہیں۔ اسی طرح اور الفاظ ہیں اور عورتوں میں شیخانی، سیدانی، اُستانی وغیرہ وغیرہ۔

باوجودیکہ ہندی کے مصدر موجود تھے، مگر صدہا مصادر مرکبہ بنا لئے مثلاً مانا اب کہتے ہیں، ہر چند سمجھایا، اُس نے منظور نہ کیا، کسی عنوان قبول نہ کیا یعنی نہ مانا۔

مُکرنا : اب کہتے ہیں، پہلے قبول دیا تھا پھر انکار کر گیا یعنی مُکر گیا۔

سوچنا : اب کہتے ہیں ہر چند فکر کرتا ہوں، عقل کام نہیں کرتی۔

پچتانا : اپنے کئے پر بہت پشیمان ہوا، مگر اب کیا ہو سکتا ہے یعنی پچتانا۔ اسی طرح خوش ہونا، غصے ہونا، خفا ہونا، تنگ ہونا، دق ہونا، غمگین ہونا، تماشہ دیکھنا، سیر کرنا، انتظار کرنا، راہ دیکھنا، یہاں تک کہ بہتیرے مصدروں کی اصل ہندی گم ہو گئی، اس سے بڑھ کر یہ عربی فارسی کے مصدر یا مشتقات لے کر ہندی کا اشتقاق کر لیا۔

گزشتن سے گزرنا، اور اس کے افعال محاورہ ہے کہ گئی گزری بات کا اب کیا کہنا۔

فرمودن سے فرمانا، اور اس کے بہت سے افعال۔

قبول سے قبولنا محاورہ ہے، بڑا عادی چور تھا، ہرگز نہ قبولا۔

بدل سے بدلنا اور اس کے بہت سے افعال محاورہ ہے، کہ اَدلے کا بدلہ ہے صاحب۔

بخشیدن سے بخشنا

نواختن یا نوازس سے نوازنا۔

کاہلی سے کہلانا، میاں مجبور ایک قدیمی شاعر تھے۔ اُستاد مرحوم اُن کی باتیں کیا کرتے تھے کہ بڈھے دیرینہ سال تھے، مکتب پڑھایا کرتے تھے، ایک دفعہ مشاعرہ میں غزل پڑھی، دیکھا کس خوبصورتی سے فعل مشتق بٹھایا ہے۔ شعر

باتیں دیکھ زمانہ کی، جی بات سے بھی کُمھلاتا ہے

خاطر سے سب یاروں کی مجبور غزل کیا لاتا ہے

نحو میں ترکیب اضافی، ترکیب توصیفی، کہیں مبتدا، کہیں کبر ہو کر تمام ہندی پر چھا گئی۔ اس میں پہلا فائدہ یہ ہوا کہ اختصار کے لحاظ سے لفظوں کا پھیلاؤ کم ہو گیا۔

دوسرے جمع موصوف ہوا تو اسم صفت موصوف کو بھی اس کے لئے جمع لاتے تھے، اب واحد لاتے ہیں۔ شعر

ملائم ہو گئیں دل پر بَرہ کی ساعتیں کڑیاں

پہر کٹنے لگے اُن بِن نہ کٹتیں جن بنا گھڑیاں

اب گھڑی ساعتیں بولتے ہیں۔

 تیسرے صیغہ مضارع بمعنی حال، سودا

نالہ سینے سے کرے عزمِ سفر آخر شب
راہ رو چلنے پہ باندھے ہے کم آخر شب

چوتھے یہ کہ اقسام اضافت میں تشبیہ اور استعارے کے رنگ سے سیدھی سادی زبان رنگین ہو گئی۔ چنانچہ بھاشا میں کہنا ہو تو کہیں گے، راج کنور کے دل کے کنول کی کملاہٹ دربار کے لوگوں سے نہ دیکھی گئی، اُردو میں کہیں گے، شہزادہ کے غنچہ دل کی کُملاہٹ اہل دربار سے نہ دیکھی گئی۔

ولی وغیرہ متقدمین کے کلاموں میں ایسی ترکیبیں بہت ہیں، بلکہ آدھے آدھے اور سارے سارے مصرع فارسی کے ہیں۔ مگر کچھ اور طرح سے علیٰ ہذا القیاس بھاشا کے الفاظ اور ترکیبیں بھی زیادہ ہیں اور اس طرح ہیں کہ آج لوگوں کو فصیح نہیں معلوم ہوتیں، اس کی مثال ایسی ہے گویا دودھ میں مٹھاس ملائی مگر وہ ابھی اچھی طرح گھُلی نہیں۔ ایک گھونٹ خاصا میٹھا، ایک بالکل پھیکا ہے، پھر ایک مصری کی ڈلی دانت تلے آ گئی، ہاں اب گھُل مل کر وہ مرتبہ حاصل ہوا جسے شیر و شکر کہتے ہیں۔ بعض اشخاص یہ بھی کہتے ہیں کہ خالی بھاشا میں کچھ مزہ نہیں، اُردو خواہ مخواہ طبیعت کو بھلی معلوم ہوتی ہے مگر میری عقل دونوں باتوں میں حیران ہے، کیونکہ جب کوئی کہے آج ایک شخص آیا تھا، یا یہ کہیں کہ ایک منش آیا تھا، تو دونوں یکساں ہیں، کیوں کر کہوں کہ منش مخالف طبع ہے۔ یہ بھی تو ہو سکتا ہے کہ ہم بچپن سے “شخص” سنتے ہیں، اس لئے ہمیں منش یا مانس نامانوس معلوم ہوتا ہے، اسی طرح اور الفاظ جن کی تعداد شمار سے باہر ہو گئی ہے۔

اس سے زیادہ تعجب یہ ہے کہ بہت سے لفظ خود متروک ہیں، مگر دوسرے لفظ سے ترکیب پا کر ایسے ہو جاتے ہیں کہ فصحا کے محاورہ میں جان ڈالتے ہیں، مثلاً یہی مانس کہ اکیلا محاورہ میں نہیں مگر سب بولتے ہیں کہ احمد ظاہر میں تو بھلا مانس معلوم ہوتا ہے باطن کی خبر نہیں۔

بندھو!  بھاشا میں بھائی یا دوست کو کہتے ہیں۔ اب محاورہ میں بھائی بند کہتے ہیں۔ نہ فقط بندھو، نہ بھائی بندھو اور ان استعمالوں کی ترجیح کے لئے دلیل کسی کے پاس نہیں جو کچھ جس زمانہ میں رواج ہو گیا وہی فصیح ہو گیا۔ ایک زمانہ آئے گا، ہمارے محاورہ کو لوگ بے محاورہ کہہ کر ہنسیں گے۔

اگرچہ یہ بات بغیر تمثیل دیکھنے کے بھی ہر شخص کے خیال میں نقش ہے کہ سنسکرت اور برج بھاشا کی مٹی سے اُردو کا پُتلا بنا ہے، باقی اور زبانوں کے الفاظ نے خط و خال کا کام کیا ہے مگر میں چند لفظ مثالاً لکھتا ہوں، دیکھو سنسکرت الفاظ جب اُردو میں آئے تو اُن کی اصلیت نے انقلابِ زمانہ کے ساتھ کیوں کو صورت بدلی ہے۔

چُورن – سنسکرت ہے یعنی آٹا۔ بھاشا میں چون کہتے ہیں، اُردو میں چُورن پسی ہوئی دوا کو کہتے ہیں، اور کُٹی ہوئی چیز کے نیچے جو باریک اجزا رہ جائیں وہ چُورا ہے۔

پشٹ – سنسکرت ہے۔ برج بھاشا میں پسان اسی سے ہے، پسنہاری اُردو میں پیٹھی پسی ہوئی دال کے لئے خاص ہو گئی اور پیسنا مصدر ہو گیا۔

اٹ – جسے برج بھاشا اور اُردو دونوں میں آٹا کہتے ہیں۔

وارتا، یا درت اُردو میں بات ہو گئی۔

چتردھر – اُردو میں چودھری ہو گیا۔

چندر، چاندری، سنسکرت ہے، اُردو میں چاند اور چاندنی ہو گیا۔

(گڈھ) گڑھ، گھر یعنی خانہ، اور کیا عجب ہے، کہ فارسی میں کد یا کدہ بھی یہی ہو۔

ہست – ہاتھ ہے۔

ہستی کا ہاتھی ہو گیا۔

بازو – سنسکرت ہے، بھاشا، باور، اُردو بادل یعنی ابر ہو گیا۔

دَل – ایک ایک چیز کے دو دو ٹکڑے کرنے کو کہتے ہیں، بھاشا اور اُردو میں دال خاص غلہ کے لئے اور دَلنا مصدر نکل آیا۔

کشیر دودھ، بھاشا، کھیر، یا چھیر اُردو میں دودھ چاول سے تیار ہوتی ہے۔

دُگدھ سنسکرت ہے، بھاشا دُددھ ہوا، اب اُردو میں دودھ کہتے ہیں۔

ماش یا ماکھ، ماس، اُردو میں مہینا ہو گیا۔

گانڈا، اُردو میں گنا ہو گیا مگر گنڈیری میں ڈال باقی رہی، بہت سے الفاظ ہیں کہ عربی فارسی نے اُردو کو دیئے، اُردو نے کہیں تو لفظوں میں کچھ تصرف کیا، معنی وہی رکھے، کہیں لفظوں کو سلامت رکھا، معنی کچھ سے کچھ کر لئے، مثلاً :

فیلسوف – یونانی لفظ ہے، بمعنی محب الحکمت، جسے عربی میں حکیم اور انگریزی میں ڈاکٹر یا فلوزفر کہتے ہیں، مگر اُردو والے دغا باز اور مکار کو کہتے ہیں اور فیلسوفی مکاری۔

ابا – اما – اب اور اُم سے نکلے ہیں۔

خصم – عربی میں بمعنی مقابل یا دشمن ہے مگر اُردو میں خاوند بمقابل جورو کے ہے جس سے زیادہ کوئی دنیا میں عزیز نہیں۔

تماشا – سَیر، عربی میں فقط بمعنی رفتار ہے، اُردو میں کہتے ہیں، چلو باغ کی سیر دیکھ آئیں عجب تماشا ہے۔

اخلاص – عربی میں خالص کرنے کو کہتے ہیں، اُردو والے پیار، اخلاص محبت ایک معنوں میں بولتے ہیں۔

خیرات۔ عربی لفظ ہے، یعنی نیکیاں، اُردو میں خیرات دو، صدقہ اُتار دو۔

تکرار۔ عربی میں دوبارہ کہنے یا کام کرنے کو کہتے ہیں، اُردو میں نزاع یا جھگڑے کو کہتے ہیں۔

طوفان۔ عربی لفظ ہے۔ فارسی میں کسی شے کی حالتِ افراط کو کہتے ہیں، اُردو میں بمعنی تہمت بھی آتا ہے۔

خفیف۔ عربی میں ہلکی شے کو کہتے ہیں، ہندی میں کہتے ہیں، وہ مجھ سے ذرا ملے تو سہی دیکھو کیسا خفیف کرتا ہوں یعنی شرمندہ۔

مصالح۔ جمع مصلحت، یا صلح کا مخفف ہے، اُردو میں گرم مصالح وغیرہ اور سامانِ عمارت کو بھی مصالح کہتے ہیں۔

خاطر۔ عربی فارسی میں دل یا خیال کے موقع پر بولتے ہیں، اُردو میں کہتے ہیں کہ بھلا ایک گھونٹ تو ہماری خاطر سے بھی لو یا ان کی بڑی خاطر کی۔

دستوری۔ جن معنوں میں یہاں بولتے ہیں، یہ یہیں کا ایجاد ہے۔ پنجابی میں جھونگا کہتے ہیں۔

روزگار۔ فارسی میں زمانہ کو کہتے ہیں، ہندی میں روزگار نوکری ہے۔

رومال۔ جن معنوں میں یہاں بولتے ہیں یہ یہیں کا ایجاد ہے، فارسی میں روپاک یا دست پاک ہے۔

خیر و صَلاح۔ عوام الناس خیرسَلا کہتے ہیں یعنی صحت و سلامت۔

رسَد۔ اگرچہ فارسی لفظ معلوم ہوتا ہے مگر اہلِ فارس ان معنوں میں نہیں بولتے۔

بہت الفاظ اس طرح لئے کہ معنوں کے ساتھ اُن کی صورت بھی بدل دی، اگرچہ ان میں سے عوام الناس بولتے ہیں، مگر بعض الفاظ خواص کی زبانوں تک بھی پہنچ گئے، مثلاً :

اروادہ۔ کہ اسل آروابہ تھا

پجادہ۔ پزداہ پزیدن سے

شردا۔ شوربا، یا شورابہ

ٹاٹ بافی۔ تاربافی

کھیسا۔ کیسہ

زری کونا۔ زری کُہنہ

کہگل۔ کاہ گل

تارتلا۔ تارطلا یعنی زری کہنہ

ہمام دستہ۔ ہاون دستہ

تانے۔ تشنے۔ طعن و تشنیع

بجاز۔ بزاز

بَک بَک جھِک جھِک۔ زق زق، بق بق

قبور۔ قربوس

توبہ تنسوہا۔ توبتہً نصوحا

دسپناہ۔ دست پناہ، یہیں کی فارسی ہے

تاشہ پ تاسہ اور تاسک فارسی لفظ ہے۔

مردار سنگ۔ مردہ سنگ

سہ بندی۔ سپہ بندی، نو نگہداشت فوج

گدڑی۔ گذری

غرفِش۔ غُرش

افراتفری۔ یعنی افراط و تفریط۔ اصل میں نہایت بہتات، اور نہایت کمی کے معنی ہیں، اب کہتے ہیں  عجب افراتفری پڑ رہی ہے، یعنی ہلچل پڑ رہی ہے۔

قلانچ۔ قلاش۔ یا قلانچ، ترکی میں دونوں ہاتھوں کے درمیان کی وسعت کو کہتے ہیں۔ اسی طرح کپڑا ناپنے کا پیمانہ ہے، یہاں خرگوش یا ہرن وغیرہ جانور دوڑتے ہیں تو کہیں گے کہ قلانچیں بھرتے پھرتے ہیں۔ ذوق شعر :

وحشی کو دیکھا ہم نے اُس آہو نگاہ کے

جنگل میں بھر رہا ہے قلانچیں ہرن کیساتھ

آکا۔ ترکی میں بڑے بھائی کو کہتے ہیں، یہاں آکا، یار دوست کو بولتے ہیں۔ اس میں کچھ بانکپن کو بھی دخل ہے۔

قیورق۔ ترکی میں شے محفوظ کو کہتے ہیں، یہاں جو شے حاکم کی ضبطی میں آئے، اسے قرق کہتے ہیں۔

مشاطہ۔ مُشط عربی میں کنگھی کو کہتے ہیں، فارسی میں مشاطہ اُس عورت کو کہتے ہیں جو عورتوں کو بناؤ سِنگار کروائے، جیسے ہندوستان میں نائن، اُردو میں مشاطہ بضم اول، اور تخفیف ثانی اُس عورت کو کہتے ہیں جو زن و مرد کی نسبت تلاش کرے اور شادی کروائے۔

مرغا۔ فارسی میں مرغ، فقط پرندہ ہے۔ اُردو میں مُرغا، خروس مرغی، ماکیان کو کہتے ہیں اور ان کے ہاں ہر جمعہ کو مرغوں کی پالی بندھتی ہے۔

چغ۔ یا چق، ترکی میں باریک پردہ کو کہتے ہیں۔

کتا۔ ترکی میں بڑے کو کہتے ہیں، یہاں کٹا موٹے کو کہتے ہیں۔ ہٹا کٹا محاورہ ہے۔

نظر۔ بالتحریک ہے مگر جمع اس کی بسکونِ اوسط ہی بولتے ہیں۔ وزیر شعر

ترچھی نظروں سے نہ دیکھو عاشق دلگیر کو

کیسے تیر انداز ہو سیدھا تو کر لو تیر کو

خط۔ مشدد ہے، مگر اب کہتے ہیں، آج کل خطوں میں آداب و القاب کا دستور ہی نہیں رہا، کسی اُستاد کا شعر ہے :

صاف تھا جب تک کہ خط تب تک جواب صاف تھا

اب تو خط آنے لگا شاید کہ خط آنے لگا

غم۔ بھی عربی میں مشدد ہے۔ فارسی اور اُردو میں بالتخفیف بولتے ہیں۔

طرح۔ عربی میں بالتسکین ہے۔ اُردو کے اہل محاورہ اور شاعر بھی بالتحریک باندھتے ہیں۔

محل۔ با تشدید ہے مگر کہتے ہیں، کل بھولی بھٹیاری کے محلوں پر بسند ہے۔ بھولی بھٹیاری کو کوئی بو علی بختیاری کا مخفف و مبدل کہتا ہے، کوئی کہتا ہے بھول بھئی کا۔

بجے منڈل۔ بدیع منزل کا مخفف و مبدل ہے۔ دلی کے باہر شاہانِ قدیم کی تعمیرات سے ایک مشہور عمارت ہے۔

مرزا حس کو پیار سے مرزا حسنو کہتے ہیں، اور یہاں س ساکن ہی بولنا فصیح ہے۔

کلمہ۔ لام کی زیر سے ہے۔ محاورہ میں بہ سکون لام بھی بولتے ہیں اور وہی بھلا معلوم ہوتا ہے۔ جرأت نے کیا خوب کہا ہے :

کلمہ بھرے ترا، جسے دیکھے تو بھر نظر

کافر اثر ہے یہ تری کافر نگاہ کا

نشاہ۔ اہل محاورہ اسے بھی نَشَا کہتے ہیں، ذوق نے کیا خوب کہا ہے :

جتنے نشے ہیں یاں، روشِ نشہ شراب

ہو جاتے بدمزہ ہیں جو بڑھ جاتے حد سے ہیں

کھُلا نشے میں جو پگڑی کا پیچ اس کا میر

سمندِ ناز کو اک اور تازیانہ ہوا

اس طرح سینکڑوں لفظ ہیں جن کی تفصیل بے فائدہ طویل ہے۔

انگریزی زبان بھی اپنی عملداری بڑھاتی چلی آتی ہے۔ ہندو، مسلمان بھائیوں کو اس دن کا انتظار چاہیے کہ عربی، فارسی کے لفظ جو اب تک ہمارے تمھارے باپ دادا بولتے رہے، آیندہ ان کی جگہ اس کثرت سے انگریزی لفظ نظر آئیں گے کہ عربی، فارسی کے لفظ خود جگہ چھوڑ چھوڑ بھاگ جائیں گے، چند لفظ ایسے بھی دکھانے چاہئیں جو مختلف ممالک یورپ کے ہیں اور اب ہماری زبان میں اس طرح پیوند پا گئے ہیں کہ جوڑ تک نہیں معلوم ہوتا۔ مثلاً :

کمرا۔ اطالی ہے۔

اسٹام۔ سٹمپ انگریزی ہے۔

نیلام۔ پُرتگالی ہے، وہ لیلام کہتے ہیں۔

بِسکُٹ۔ بِسکٹ انگریزی ہے۔

پادری۔ زبان لاطینی سے آیا ہے۔

پنشن۔ انگریزی ہے۔

لالٹین۔ لین ٹرین انگریزی ہے۔

بوتام۔ بوتان فرنچ ہے۔

پستول۔ پسٹل انگریزی ہے۔

بٹن۔ بٹن انگریزی ہے۔

فرانیل۔ یا فلالین، فلنیل انگریزی ہے۔

بگی۔ انگریزی ہے۔

بابنٹ۔ بابی نٹ، ایک جالی کی قسم کا کپڑا۔

گلاس۔ انگریزی میں عام شیشہ ہے۔

بوتل۔ باٹل انگریزی ہے۔

میم۔ میڈم انگریزی ہے۔

درجن۔ ڈزن انگریزی ہے۔

اَردَلی۔ آرڈرلی۔

اِسی طرح اسٹیشن، ٹکٹ، ریل، پولیس وغیرہ صدہا لفظ ہیں کہ خاص و عام سے بڑھ کر عورتوں کی زبان تک پہنچ گئے ہیں۔ اور جو الفاظ دفتروں اور کچہریوں اور صاحب لوگوں کے ملازم بولتے ہیں، اگر سب لکھے جائیں تو ایک ڈکشنری بن جائے۔

ہر زبان کے فصحا کا قاعدہ ہے کہ اپنی زبان میں تصرفات لطیف سے کچھ ایجاد کر کے نئے الفاظ اور اصطلاحیں پیدا کرتے ہیں، ہماری اُردو بھی اس میدان میں کسی سے پیچھے نہیں رہی۔ ان اصطلاحوں کی بنیاد اگرچہ اتفاقی پڑتی ہے، مگر اُن لوگوں کی طبیعت سے ہوتی ہے جو علم کے ساتھ فکرِ عالی، طبیعتِ براق، ذہنِ پُر ایجاد اور ایجاد دلپذیر رکھتے ہیں، اُنھی کے کلام کا خاص و عام کے دلوں میں بھی اثر ہوتا ہے کہ بات سب کے دلوں کو بھی بھلی لگتی ہے اور اُسے اختیار کر لیتے ہیں۔ مثلاً :

 گھوڑے کا رنگ جسے ہندوستان میں سُرنگ اور پنجابی میں چنبا یا ککا کہتے ہیں، فارسی میں اسے کرنگ کہتے ہیں۔ چونکہ بھاشا میں ک علامت بدی اور س علامت خوبی ہے، اس لئے اکبر نے اِس کا نام سُرنگ رکھا۔

گھوڑے کی اندھیری کا نام اُجیالی رکھا کہ نیک شگون ہے۔

خاک روب کو حلال خور کا خطاب بھی اسی ذرہ نواز بادشاہ کا بخشا ہوا ہے۔ جہانگیر کی رنگیلی طبیعت نے شراب کا نام رام رنگی رکھا اور اس فارس کے شعراء نے اشعار میں بھی باندھا، طلب آملی :

نہ ایم مُنکرِ صہبا و لیک می گویم

کہ رام رنگیِ مانشہ دگر وارد

سنگترہ کو اس کی خوبی و خوش رنگی کے سبب سے محمد شاہ نے رنگترہ کہا، بلبل ہندوستان کا نام گُلدم رکھا۔

ہار کے لفظ کو بد شگون سمجھ کر پھُلمال کہوایا۔

شاہ عالم نے سرخاب کو بھی گُلسِرہ کہا، مگر اِس نے رواج نہ پایا۔

نواب سعادت علی خان مرحوم نے ملائی کا نام بلائی رکھا کہ لکھنؤ میں عام اور دلی وغیرہ میں کم رائج ہے، مذاقِ سلیم دونوں کے لطف میں امتیاز کر سکتا ہے۔

بھاشا کی ساخت کو دیکھو کہ ہر ایک زبان کے ملاپ کے لئے کیسی ملنسار طبیعت رکھتی ہے، نظم و نثر پر غور سے نظر کرو، اس نے اپنے مہمان کے لئے فقط لفظوں ہی میں جگہ خالی نہیں کی بلکہ بہت سے الفاظ و خیالات جو کہ ملکی خصوصیت عربی فارسی سے رکھتے تھے وہ بھی لے لئے، چنانچہ بہادری کا میدان رستم و سام کو دیا، حالانکہ یہاں وہ بھیم اور ارجن کا تھا، سودا کہتے ہیں :إ

رستم رہا زمین پہ نہ سام رہ گیا

مَردوں کا آسماں کے تلے نام رہ گیا

رستم سے بھلا کہہ تو سر تیغ تلے دھر دے

پیارے یہ ہمیں سے ہو ہرکارے و مرمردے

حُسن و جمال کے شبستان میں لیلیٰ و شیریں آ گئیں، اور جب وہ آئیں تو رانجھے کی جگہ مجنوں و فرہاد کیوں کر نہ آتے۔ مجنوں و فرہاد کی آنکھوں سے گنگا، جمنا تو بہہ نہیں سکیں، مجبوراً جیحوں، سحیوں ہندوستان میں آ گئے، ہمانچل اور بندھیا چل کو چھوڑ کر کوہِ بیستون، قصر شیریں، کوہِ الوند سے سر پھوڑتے ہیں، مگر جب کوئی خوش طبع چاہتا ہے تو یہیں کے پھولوں سے بھی یہاں کا مکان سجا دیتا ہے اور وہ عجیب بہار دیتے ہیں۔

ایک زبان کے محاورہ کو دوسری زبان میں ترجمہ کرنا جائز نہیں، مگر ان دونوں زبانوں میں ایسا اتحاد ہو گیا کہ یہ فرق بھی اُٹھ گیا اور اپنے کارآمد خیالوں کے ادا کرنے کے لئے دل پذیر اور دلکش اور پسندیدہ محاورات جو فارسی میں دیکھے اُنھیں کبھی بجنسہ اور کبھی ترجمہ کر کے لیا۔مثلاً آمدن اور بسر آمدن میں اس کا ترجمہ لفظی ڈھونڈیں تو نہیں ہے، مگر اہلِ زبان نے نہایت خوبصورتی کے ساتھ تضمین کر لیا اور سودا نے کہا،

اس دل کی تفِ آہ سے کب شعلہ بر آئے

بجلی کو دمِ سرد سے جس کے حذر آئے

افعی کو یہ طاقت ہے کہ اس سے بسر آئے

وہ زُلفِ سیاہ اپنی اگر لہر پر آئے

درآمدن، یعنی گھس آنا۔ سودا :

یاں تک نہ دل آزارِ خلائق ہو کہ کوکئی

مَل کر لہو منھ سے صفِ محشر میں در آئے

عرق عرق شدن، آب شدن، ذوق :

آگ دوزخ کی بھی ہو جائے گی پانی پانی

جب یہ عاسی عرقِ شرم میں تر جائیں گے

 حرف آمدن اور دل خوں شدن۔ ذوق

حرف آئے مجھ پہ دیکھیے کِس کِس کے نام سے

اس درد سے عقیق کا دل خوں یمن ہیں ہے

سید انشاء : مصرعہ

لب وہ کہ لعل کے بھی نگینہ پر حرف ہے

چشمک  زدن۔ ذوق

لب پر ترے پسینہ کی بوند اے عقیق لب

چشمک زنی کرے ہے سہیلِ یمن کے ساتھ

پیمانہ پُر کردن۔ مار ڈالنا۔ سودا :

ساقی چمن میں چھوڑ کے مجھ کو کدھر چلا

پیمانہ میری عمر کا ظالم تو بَھر چلا

دامن افشاندہ برخاستن۔ بیزار ہو کر اُٹھ کھڑے ہونا۔ سودا :

کیا اس چمن میں آن کے لے جائے گا کوئی

دامن تو میرے سامنے گل جھاڑ کر چلا

از جامہ بیروں شدن۔ سودا

نکلا پڑے ہے جامہ سے کچھ ان دنوں رقیب

تھوڑے ہی دم دلاسے میں اتنا اُبھر چلا

ذوق :

کب صبا آئے ترے کوچہ سے اے یار کہ میں

جوں حبابِ لبِ جو جامہ سے باہر نہ ہوا

فلکش خبر ندارد۔ یہ محاورہ بھی اہل ہند کا نہیں کیوں کہ یہاں اکاس ہے، فلک نہیں ہے۔ اہل ہند اس کا مضمون کیوں باندھتے مگر سودا کہتے ہیں :

تجھ رُخ میں ہے جو لطف ملک کو خبر نہیں

خورشید کیا ہے اس کے فلک کو خبر نہیں

دل از دست رفتن۔ بے اختیار ہونا، سودا کا مصرعہ ہے :

ہاتھ سے جاتا رہا دل، دیکھ محبوباں کی چال

دل داون۔ عاشق ہونا، ظفر :

دل دے کے تم کو جان پہ اپنی بُری بنی

شیریں کلامی آپ کی میٹھی چھُری بنی

میر صاحب : مصرعہ

ایسا نہ ہو دل دادہ کوئی جاں سے گزر جائے

از جان گزشتن۔ جان پر کھیل جانا، ظفر کا مصرعہ ہے :

وہاں جائے وہی جو جان سے جائے گزر پہلے

از سر چیزے گزشتن۔ دست بردار ہونا۔ سید اِنشاء :

خدا کے واسطے گزرا میں ایسے جینے سے

ذوق علیہ الرحمۃ

پہنچیں گے رہ گزرِ یار تلک کیوں کر ہم

پہلے جب تک نہ دو عالم سے گزر جائیں گے

آصف الدولہ

تو اپنے شیوہ جور و جفا سے مت گزرے

تری بَلا سے مِرا دَم رہے رہے نہ رہے

سفید شدن پوست کشیدن بھی فارسی کا محاورہ ہے جس کا ترجمہ انھوں نے کر لیا ہے۔ اُردو میں کھال کھینچنا۔ سودا :

چاہے تجھ چشم کے آگے جو ہو بادام سفید

کھینچ کر پوست کرے گردشِ ایام سفید

نہ کمروارند نہ دہن وارند۔ یہ حقیقت میں لفظی ترجمہ فارسی محاورہ کا ہے کہ نہ کمر ہے نہ دہن ہے۔

بھا گئی کون سی وہ چیز بتوں کی ہم کو

نہ کمر رکھتے ہیں ظالم نہ دہن رکھتے ہیں

بعض جگہ اصل اصطلاح فارسی کی لے کر اس پر اپنے شعر کی بنیاد قائم کی ہے۔ مثلاً

تَر دامن۔ اصطلاحِ فارسی میں پُر گناہ ہے، دیکھو اُسی بنیاد پر کیا مضمون پیدا کیا ہے :

تَر دامنی پہ شیخ ہماری نہ جائیو

دامن نچوڑ دیں تو فرشتے وضو کریں

ذوق ۔ مصرعہ :

کہ میری تر دامنی کے آگے عرق عرق پاک دامنی ہے

چراغِ سحری۔ بیمار جاں بلب :

ٹک میر جگر سوختہ کی جلد خبر لے

کیا یار بھروسا ہے چراغِ سحری کا

اور دیکھو اُردو فارسی دو محاوروں کو کس خوبصورتی سے ترکیب دیا ہے :

آشیانہ میں میر بلبل کے

آتشِ گل سے رات پھول پڑا

(دلی والوں کا محاورہ ہے۔ اگر رات کو کہیں آگ لگتی تھی تو اصلی لفظوں میں تعبیر کرنا بد شگونی سمجھتے تھے۔ کنایتہً ادا کرتے تھے اور کہتے تھے کہ دیکھنا کہیں پھول پڑا ہے۔)

پنبہ دہن۔ یعنی کم گو۔ زبان دراز، بے ادب پر گو، اُستاد مرحوم نے ساقی نامہ میں کہا :

شیشہ مے کی یہ دراز زباں

اُس پہ ہے یہ سِتم کہ پنبہ وہاں

شیشہ کے منھ میں عرق یا شربت وغیرہ نکلتے وقت جو دھار بندھتی ہے، اُسے اصطلاح فارسی میں زبانِ شیشہ کہتے ہیں۔

آتش زیر پا، بیقرار، موئے آتش دیدہ، جسے آگ کی سینک پہنچی ہو۔

بسکہ ہوں غالب اسیری میں بھی آتش زیر پا

موئے آتش دیدہ ہے حلقہ مری زنجیر کا

مُردنِ چراغ۔ کشتنِ چراغ، چراغ کے بُجھنے اور بُجھانے کو کہتے ہیں۔ اسی سے

چراغِ مردہ۔ دیکھا ذوق مرحوم نے کس لطف سے جان ڈالی ہے :

شمعِ مردہ کے لئے ہے دمِ عیسے آتش

سوزشِ عشق سے زندہ ہوں محبت کے قتیل

داغِ دل فسردہ پہ پھاہا نہیں، نہ ہو

کام اس چراغِ مردہ کو کیا ہے کفن کے ساتھ

کمر کوہ اور دامن کوہ سے بھی دیکھو کیا مضمون نکالا ہے، ذوق علیہ الرحمۃ :

حاضر ہیں جلو میں ترے وحشی کے ہزاروں
باندھے ہوئے کُہسار بھی دامن کو مکر سے

گردنِ مینا۔ آتش نے کیا خوب مضمون نکالا ہے۔

ہر شب شبِ برات ہے ہر روز روزِ عید
سوتا ہوں ہاتھ گردنِ مینا میں ڈال کر

دستِ سبو۔ خواجہ وزیر نے کس خوبصورتی سے اس کا ترجمہ کیا ہے :

ہوں وہ میکش گر نہ آیا مے کدہ میں ایک دن
ہر سُبو نے ہاتھ پھیلائے دُعا کے واسطے

سوسنِ دہ زبان۔ فارسی والوں کا خیال ہے، میر وزیر علی صبا کہتے ہیں :

کھولا بہار نے جو کتب خانہ چمن
سوسن نے دس ورق کا رسالہ اُٹھا لیا

سرو کو آزاد۔ فارسی والوں نے کہا تھا کہ بہار و خزاں، اور ثمر اور بے ثمری کی قید سے آزاد ہے، ذوق مرحوم اس بنیاد پر فرماتے ہیں :

پابزنجیر آبِ جو کی موج میں سب سرو ہیں
کیسی آزادی کہ یاں یہ حامل ہے آزاد کا

قافلہ نگہت گُل۔ سید انشاء نے خوب ترجمہ کیا :

جو ٹھنڈے ٹھنڈے چلی ہے اے آہ
چھانو تاروں کی چل نِکل تو

گلوں کی نگہت کا قافلہ بھی
چمن سے ہے لاد پھاند نکلا

آسمان و زمین کے قلابے ملانے بھی ایجاد اہل اُردو کا ہے۔ ذوق :

قلابے آسمان و زمیں کے نہ تو مِلا
اُس بت سے کوئی ملنے کی ناصح بتا صلاح

طوفان باندھنا بھی انہی کا ایجاد ہے، ہندی میں نہ تھا۔

بعض فارسی کے محاورے یا اُن کے ترجمے ایسے تھے کہ میر و مرزا وغیرہ اُستادوں نے لئے مگر متاخرین نے چھوڑ دیے، چنانچہ فارسی کا محاورہ ہے :

ترآمدن۔ یعنی شرمندہ شدن، میر صاحب کہتے ہیں :

کھلنے میں ترے منھ کی کلی پھاڑے گریباں
آگے ترے رخسار کے گل برگ تر آوے

تو گوئی۔ میر حسن اس کا ترجمہ فرماتے ہیں۔ مصرعہ :

کہے تو کہ خوشبوئیوں کے پہاڑ

ایک اور موقع پر کہتے ہیں۔ مصرعہ :

کہے تو کہ دریا تھا اک نُور کا

میر صاحب :

اب کوفت سے ہجراں کی جہاں دل پہ رکھا ہاتھ
جو درد و اَلم تھا سو کہے تھا کہ یہیں تھا

نمود کردن۔ بمعنی ظہور کردن بھی فارسی کا محاورہ تھا۔

نمود کر کے وہیں بحرِ غم میں بیٹھ گیا
کہے تو میر بھی اک بلبلہ تھا پانی کا

حیف آنا۔ یا حیف کسانیکہ، میر صاحب :

حیف وے جن کے وہ اس وقت پہنچا جس وقت
ان کنے حال اشاروں سے بتایا نہ گیا

اب اگر کہیں گے تو یہ کہیں گے کہ حیف ہے اُن لوگوں کے حال پر جن کے پاس تو گیا اور وہ بیچارے اشارے سے بھی حال نہ کہہ سکے، کنے، ہندے ہے، مگر اب متروک ہے۔

بے تہی، یعنی کم مائگی، میر صاحب کا شعر ہے :

اس زمانہ کی تری سے لہر بحر اگلی نہیں
بے تہی کرنے لگے دریا دلوں کے حوصلے

خوشم نمے آید۔ مجھے بھلا نہیں لگتا۔ میر صاحب فرماتے ہیں :

ناکامیِ صد حسرت خوش لگتی نہیں ورنہ
اب جی سے گزر جانا کچھ کام نہیں رکھتا

خوشا بحال کسانیکہ۔ میر صاحب فرماتے ہیں :

احوالِ خوش اُنھوں کا ہم بزم ہیں جو تیرے
افسوس ہے کہ ہم نے واں کا نہ بار پایا

داغ ایں حسرت ام میر صاحب کہتے ہیں :

داغ ہوں رشکِ محبت سے کہ اتنا بیتاب
کس کی تسکیں کے لئے گھر سے تو باہر نکلا

میر صاحب کہتے ہیں :

اے تو کہ یاں سے عاقتِ کار جائے گا
غافل نہ رہ کہ قافلہ یک بار جائے گا

ایک قصیدہ مدحیہ کے مطلع ثانی میں سودا کہتے ہیں :

اے تو کہ کارِ جن و بشر تجھ سے ہے رواں
تیری وہ ذات جس سے دو عالم ہے کامراں

فارسی میں بیامر کا صیغہ شعر کے اول میں لاتے ہیں اور وہ بہت مزا دیتا ہے :

بیا کہ گریہ من آن قدر زمیں نگزاشت
کہ درفراق تو خاکے بسر تواں کردن

عرفی :

بیا کہ باولم آں مے کند پریشانی
کہ غمزہ تو نکردہ است با مسلمانی

میاں رنگین اس کا ترجمہ کرتے ہیں :

آ تجھ بغیر مملکتِ دل اُجاڑ ہے
چھاتی پہ رات ہجر کی کالا پہاڑ ہے

دستے دریں کار دارد یعنی وہ اس کام میں واقفیت یا مہارت رکھتا ہے۔ سودا :

کون ایسا ہے جسے دست ہے دل سازی میں
شیشہ ٹوٹے تو کریں لاکھ ہنر سے پیوند

او دہن ایں کار ندارد۔ سودا نے کہا :

نہیں ہے بحث کا طوطی ترا دہن مجھ سے
سخن تو دیکھ ہے رنگیں ترا چمن مجھ سے

 گوش کرون۔ سُننا، سودا نے ترجمہ کیا : یہ سنگ ریزہ ہوا ہے دُرِ عدن مجھ سے

کب اس کو گوش کرے تھا جہاں میں اہلِ کمال
یہ سنگ ریزہ ہوا ہے دُرِ عدن مجھ سے

بُوکردن، سُونگھنا، سودا نے ترجمہ کیا :

دیکھوں نہ کبھی گل کو ترے مُنھ کے میں ہوتے
سنبل کے سوزِ زلف تری بُو نہ کروں میں

اور میر صاحب نے اس سے بڑھ کر کہا :

گل کو محبوب ہم قیاس کیا
فرق نِکلا بہت جو باس کیسا

خوابم بُرد یا خوابم در بود۔ یعنی مجھے نیند آ گئی، جرأت :

کل واں سے آتے ہی جو ہمیں خواب لے گیا
دیکھا تو پھر وہیں دلِ بے تاب لے گیا

ہندی کا محاورہ نیند آتی ہے، خواب کا لے جانا محاورہ نہیں۔

زنجیر کرون، قید کرنا۔ سید انشاء :

سودا زد و  دل ہے تو یہ تدبیر کرینگے
اِس زُلفِ گرہ گیر سے زنجیر کرینگے

خاک برسر کردن۔ سودا نے ترجمہ کر دیا :

تو ہی کچھ اپنے سر پر نہ یاں خاک کر گئی
شبنم بھی اس چمن سے صبا چشم تر گئی

ہندی میں سر پر خاک ڈالنی کہتے ہیں۔

اس سے بڑھ کر یہ کہ بعض رسمیں اور ٹوٹکے جو ایران اور توران میں ہوتے تھے اس کے اشارے اُردو میں کرنے لگے۔ سودا :

دوانہ اِن لٹوں کا ہوں قسم ہے روحِ مجنوں کی
نہ مارو مجھ کو چوبِ گل بغیر اربید کی چھڑیاں

میر اور سودا کے حال میں ان مطالب کی توضیح کی ہے۔

داغِ جنوں۔ اُستاد مرحوم عالمِ طفولیت کی ایک غزل میں فرماتے ہیں :

دیوانہ ہوں تیرا مجھے کیا کام کہ لوں گل
زیبائش سر کو ہے مرے داغ جنوں گل

اور میر صاحب مثنوی میں کہتے ہیں :

سرتاپا آشفتہ دماغی
داغِ جنوں دے جس پہ چراغی

ولایت میں رسم ہے کہ قلعہ کے محاصرہ میں یا ایک لشکر ہے دوسرے لشکر میں جب قاصد کا پہنچنا ممکن نہیں ہوتا تو خط کا پرزہ تیر میں باندھ کر پھینکتے ہیں، چنانچہ میر و سودا نے اُسے اُردو میں باندھا ہے :

نامہ جو وہاں سے آئے ہے سو تیر میں باندھا
کیا دیجئے جواب اجل کے پیام کا مہر

نہ تھا پیکاں پہ کیا جوہر جو نامہ تیر پر لکھا
اشارہ قتل کا قائل نے کس تقصیر پر لکھا سودا

اگرچہ اِن باتوں پر فصاحت کے اُصولِ عامہ کے بموجب بہت اعتراض ہوئے مگر احتراز نہ ہوئے کیوں کہ بولنے والوں کی نسلیں اور اصلیں اور گھر اور گھرانے فارسی سے شیر و شکر ہو رہے تھے۔ جتنا اِس کا دخل زیاد ہوتا تھا، اُتنا ہی مزہ زیادہ ہوتا تھا اور آج دیکھتے ہیں تو اور ہی رنگ ہے۔ ہمارے قادر الکلام انشا پرداز ترجمے کر کے انگریزی کے خیالوں کے چربے اُتارتے ہیں اور ایسا ہی چاہیے، جہاں اچھا پھول دیکھا چُن لیا، اور دستار نہیں تو کوٹ میں زیبِ گریباں کر لیا۔ ہمارے انشاء پردازوں نے جب دیکھا کہ فارسی والوں نے اپنی قادر سخنی کے زور یا ظرافتِ طبع کے شور سے عربی ترکیبوں کا استعمال کیا تو اُنھوں نے بھی اپنے پیارے ملک کی زبان کو اِس نمک سے بے لُطف نہ چھوڑا۔ سودا فرماتے ہیں :

جیسے کہتا ہے کوئی ہو ترا صفا صفا

سید رضی خاں رضی مرحوم نے کیا خوب کہا ہے :

تری وہ مثل ہے کہ اے رضی
نہ اِل الذَی نہ اُل الَذی

دونوں زبانوں کے بابِ تشبیہات میں ایک نکتہ کہے بغیر مجھ سے آگے نہیں بڑھا جاتا۔ یعنی مختلف افرادِ انسان کے طبائع پر غور کرو کہ ہزاروں کوس پر پڑے ہوں اور مختلف طبیعت کے ملکوں میں ہوں، لیکن چونکہ طبیعتِ انسانی متحد ہے اس لئے دیکھو ان کے خیالات کس قدر ملتے جلتے ہوتے ہیں، چنانچہ یہاں بالوں کی تعریف میں ناگوں کے لہرانے اور بھونروں کے اُڑنے سے تشبیہ دیتے تھے۔ فارسی میں زلف کی تشبیہ سانپ کے ساتھ آئی ہے، اس لئے اُردو میں سانپ ہے مگر بھونرے اُڑ گئے۔ اور اس کی جگہ مشک، بنفشہ، سنبل، ریحان آ گئے، جو کبھی یہاں دیکھے بھی نہیں مگر عرب کا سادہ مزاج فصیح اپنی نیچر کا حق ادا کرتا ہے، اور زلف کو کوئلے سے تشبیہ دیتا ہے۔ سانولی رنگت کی تعریف میں شام برن اور میکھ برن کہتے تھے۔ اُس سے کھُلتا رنگ ہوتا تو چنبک برفی کہتے تھے، اب سمن رنگ اور سیم رنگ کے الفاظ حُسن کو بہار دیتے ہیں مگر چندرمکھ اور ماہ رُخ مشترک ہے۔

آنکھ کی تعریف میں یہاں مرگ کی آنکھ اور کنول کے پھول اور ممولہ کی اچپلاہٹ سے تشبیہ دیتے تھے، اُردو میں آہو چشم رہے مگر ممولے ہوا ہو گئے اور کنول کی جگہ ساغرِ لبریز اور نرگسِ شہلا آ گئی۔ جو کسی نے یہاں دیکھی بھی نہ تھی بلکہ ترک چشم شمشیرِ نگاہ سے قتل کرنے لگے۔

رفتار کے لئے بھاشا میں ہتنی اور ہنس کی چال ضرب المثل ہے، اب ہنس کے ساتھ ہاتھی بھی اُڑ گیا، فقط کبکِ دری، شورِ محشر اور فتنہ قیامت نے آفت برپا کر رکھی ہے۔

بھاشا میں ناک کی تشبیہ طوطے کی ناک سے تھی، اب زنبق کی کلی سے تشبیہ دیتے ہیں۔ آتس کا شعر ہے :

توڑنے والے گلِ زنبق کے ہیں

کانٹے والے چمن کی ناک کے

فارسی والوں نے کمر کی نزاکت میں بڑی باریکیاں نکالی ہیں مگر سنسکرت نے بھی اپنی جگہ مبالغہ میں کچھ کمی نہیں کی۔ چنانچہ آنکھوں کی تعریف میں ایک شاعر نے کہا،

گوشے ان کے کانوں سے جا ملے تھے

پہلے یہاں ہوا یا ابر یا ہنس کو قاصد کہتے تھے، اُنھوں نے نسیم اور صبا کو قاصد رکھا۔

بلکہ نالہ ؤ آہ اور اشک سے بھی پیغام رسانی کا کام لیا، اُستاد مرحوم کا شعر ہے :

نالہ ہے اُن سے بیاں دردِ جدائی کرتا

کام قاصد کا ہے یہ تیر ہوائی کرتا

ظفر گر نہیں ہے کوئی نامہ بر

تم آنسو ہی اپنا روانہ کرو

(ظفر)

قاصدِ اشک آ کے خبر کر گیا

قتل کوئی دل کا نگر کر گیا

(سودا)

فارسی والے طفلِ اشک باندھتے تھے، اُنھوں نے بھی اسے لڑکا بنایا اور دیکھو اُستاد مرحوم نے اس کے لئے دامن کیا خوب تیار کیا ہے :

طفلِ اشک ایسا گرا دامانِ مژگاں چھوڑ کر

اور ظفر نے کہا :

کیا ہی شریر لڑکے یہ اوپر تلے کے ہیں

اور معروف نے کہا ہے :

ابھی سے نامِ خدا کرنے قاصدی نکلا

یہ طفلِ اشک بڑا پاؤں کا بلی نکلا

بیان کیا کروں اشک کی ابتری کا

یہ لڑکا بد اطوار پیدا ہوا ہے

یہ سمجھنا کہ فارسی ہندی میں تصرف حاکمانہ کرتی رہی، نہیں اُسے بھی یہاں کے الفاظ لئے بغیر چارہ نہیں ہوا، چنانچہ جو الفاظ فارسی اور سنسکرت کے اصلیت میں متفق ہیں، اِن سے قطع نظر کر کے کہتا ہوں کہ سلاطین چغتائیہ کے دفتروں میں صدہا لفظ ہندی کے تھے جو کہ فارسی عبارتوں میں بے تکلف مستعمل ہوتے تھے، اور اب بھی عہدِ مذکور کی تاریخوں میں موجود ہیں۔

مثلاً جھروکہ روشن اور پھول کٹارہ اور کھپوہ مرصع جہانگیر بادشاہ اپنی توزک میں لکھتا ہے، کہ میرا بھائی شاہ مراد کوہستان فتح پور سیکری میں پیدا ہوا تھا، اسی واسطے میرے والد اسے پہاڑی راجہ کہا کرتے تھے۔ اور آرام بانو بیگم میری چھوٹی بہن کو بہت پیار کرتے تھے، اور اکثر مجھ سے کہتے تھے کہ “بابا یجہت خاطرِ من ناز او برداشتہ، بے ادبی و شوخی ہاوے اور ابگز رانی۔” اسی کتاب میں معلوم ہوتا ہے کہ شہجہاں بچپن میں اکبر کو شاہ بابا اور جہانگیر کو شاہ بھائی کہا کرتا تھا۔

اِسی طرح شعراء نے اپنے تصرفات رنگیں کے ساتھ اشعار فارسی کو رونق دی ہے۔ امیر خسرو سو (۱۰۰) برس پہلے کہتے ہیں :

بنشستہ چوں در پالکی نہ چرخ کہار آمدہ

قِرآن السعدین میں کہتے ہیں :

خاں کرہ جھجوئے کشور کشا

کز لبِ شاہاں کرہ دارد بیا

اور دہلی کی یاد میں ایک جگہ کہتے ہیں :

اے دہلی والے بتانِ سادہ

پگ بستہ وہ چیرہ کج نہادہ

سرآں دو چشم گردم کہ چوں ہندوان رہزن

ہمہ را بنوکِ مژگاں زدہ بر جگر کتارہ

در چاشت گہ از شبنم گل گرد فشانست

آں باد کہ در ہند اگر آید جگر آید

(عرفی)

سیر گشتم ز کجرئے ایام

ہوسِ سیم و زر نمے دارم

(عرفی)

سپہر از سر افرازیش در حساب

زچوکھنڈیش سایہ بر آفتاب

(ظہوری)

چوکھنڈی شکوہش اگر سایہ افگند

فیلِ سپہر شانہ بدوز و بہ زیر بار

(اشرف)

شوخ سوسن رابگو دل میر باید قشقہ ات

ذات رجپوت است ترسم دست برجمدھر کند

(عفرا)

پان خوردہ بمن وادہ اگال آں بُتِ ہندی

ایں بوسہ بہ پیغام چہ رنگیں مزہ دارد

(خسرو)

شود چہرہ زرد خورشید آل

دہندش اگر نازنیناں اُگال

(ظہوری)

اور سہ نثر میں بادشاہ کے لئے کیا خوب کہا ہے :

“باز جگت گردی عالم بر خود گرفتہ”

(حاشیہ : فارسی کے استعاروں اور تشبیہوں نے آ کر کیسا زبان کا رنگ بدل دیا۔)

بیان مذکورہ بالا سے تمھیں اجمالاً معلوم ہو گیا ہو گا کہ اُردو کا درخت اگرچہ سنسکرت اور بھاشا کی زمین میں اُگا مگر فارسی کی ہوا میں سرسبز ہوا ہے، البتہ مشکل یہ ہوئی کہ بیدل اور ناصر علی کا زمانہ قریب گزر چکا تھا اور اُن کے معتقد باقی تھے، وہ استعارہ اور تشبیہ کے لُطف سے مست تھے، اس واسطے گویا اُردو بھاشا میں استعارہ و تشبیہ کا رنگ بھی آیا اور بہت تیزی سے آیا، یہ رنگ اسی قدر آتا کہ جتنا چہرہ پر اُبٹنے کا رنگ آنکھوں میں سُرمہ، تو خوش نمائی اور بینائی دونوں کو مفید تھا۔ مگر افسوس کہ اس کی شدت نے ہماری قوت بیان کی آنکھوں کو سخت نقصان پہنچایا اور زبان کو خیالی باتوں سے فقط توہمات کا سوانگ بنا دیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ بھاشا اور اُردو میں زمین و آسمان کا

فرق ہو گیا، چاہتا ہوں کہ دونوں کے نمونے آمنے سامنے رکھ کر ان کے فرق دکھاؤں، مگر اس سے پہلے دو تین باتیں خیال رکھنی چاہئیں، اول تو شاعرانہ اُردو کا نوجوان جس نے فارسی کے دودھ سے پرورش پائی، اُس کی طبیعت میں بہت سے بلند خیالات اور مبالغہ مضامین کے ساتھ وہ حالات اور ملکی رسمیں اور تاریخی اشارے آ گئے، جو فارس اور ترکستان سے خاص تعلق رکھتے تھے اور بھاشا کے طبعی مخالف  تھے، ساتھ اس کے فارسی کی نزاکت اور لطافتِ طبعی کے سبب سے اُردو کے خیالات اکثر پیچیدہ ہو گئے کہ بچپن سے ہمارے کانوں میں پڑتے اور ذہنوں میں جمتے چلے آتے ہیں، اس لئے ہمیں مشکل نہیں معلوم ہوتے، اَن پڑھ، انجان یا غیر زبان والا سنتا ہے تو مُنھ دیکھتا رہ جاتا ہے، کہ یہ کیا کہا، اس لئے اُردو پڑھنے والے کو واجب ہے کہ فارسی کی انشاء پردازی سے ضرور آگہی رکھتا ہو۔

فارسی اور اُردو کی انشاء پردازی میں جو دشواری ہے، اور ہندی کی انشا ہیں آسانی ہے،   اس میں ایک باریک نکتہ غور کے لائق ہے وہ یہ کہ بھاشا زبان جس شے کا بیان کرتی ہے اس کی کیفیت ہمیں ان خط و خال سے سمجھاتی ہے جو خاص اسی سے کے دیکھنے، سننے، سونگھنے، چکھنے یا چھُونے سے حاصل ہوتی ہے۔ اس بیان میں اگرچہ مبالغہ کے زور یا جوش و خروش کے دھوم دھام نہیں ہوتی ہے، مگر سننے والے کو جو اصل شے کے دیکھنے سے مزہ آتا ہے وہ سُننے سے آ جاتا ہے، برخلاف شعرائے فارس کے کہ یہ جس شے کا ذکر کرتے ہیں، صاف اُسی کی بُرائی بھلائی نہیں دکھا دیتے، بلکہ اِس کے مشابہ ایک اور سے جسے ہم نے اپنی جگہ اچھا یا بُرا سمجھا ہو، اس کے لوازمات کو شے اول پر لگا کر ان کا بیان کرتے ہیں، مثلاً بھول کہ نزاکت رنگ اور خوشبو میں معشوق سے مشابہ ہے، جب گرمی کی شدت میں معشوق کے حُسن کا انداز دکھانا ہو تو کہیں گے کہ مارے گرمی کے پھول کے رُخساروں سے شبنم کا پسینہ ٹپکنے لگا اور اسی رنگ میں شاعر کہتا ہے۔ خواجہ وزیر :

ہوں وہ بلبل جو کرے ذبح خفا تو ہو کر

روح میری گلِ عارض میں رہے بُو ہو کر

یہ تشبیہیں اور استعارے اگر پاس کے ہوں، اور آنکھوں کے سامنے ہوں تو کلام میں نہایت لطافت اور نزاکت پیدا ہوتی ہے، لیکن جب دور جا پڑیں اور بہت باریک پڑ جائیں تو دقت ہو جاتی ہے۔ چنانچہ ہمارے نازک خیال کسی بادشاہ کے اقبال اور عقل کے لئے اس قدر تعریف پر قناعت نہیں کرتے کہ وہ اقبال میں سکندر یونانی اور عقل میں ارسطوئے ثانی ہے، بلکہ بجائے اس کے کہتے ہیں کہ اگر اس کا ہمائے عقل، اوجِ اقبال سے سایہ ڈالے تو ہر شخص کشورِ دانش و دولت کا سکندر اور ارسطو ہو جائے۔ بلکہ اگر اس کے سینہ میں دلائلِ  عقلی کا دریا جوش مارے تو طبقہ یونان کو غرق کر دے، اول تو ہما کی یہ صفت خود ایک بے بنیاد فرض ہے اور وہ بھی اسی ملک کے ساتھ خاص ہے۔ اس پر اقبال کا ایک فلک الافلاک تیار کرنا اور اس پر نقطہ اوج کا دریافت کرنا دیکھئے۔ وہاں ان کے فرضی ہما کا جانا دیکھئے، پھر زمین پر اس خیالی آسمان کے نیچے ایک تدبیر کا یونان بسانا دیکھئے، پھر اس فرضی ہما کی برکت کا اس قدر عام کر دینا دیکھئے جس سے دنیا کا جاہل اس خیالی یونان میں جا کر ارسطو ہو جائے۔

دوسرے فقرے میں اول تو علمائے ہند نے تنور سے طوفان کا نکلنا مانا ہی نہیں ہے۔ اس پر طبقہ یونان کا اپنے فلسفہ کی تہمت میں تباہ ہونا وغیرہ وغیرہ ایسی باتیں اور روایتیں ہیں کہ اگرچہ ہمارے معمولی خیالات ہوں، مگر غیر قوم بلکہ ہمارے بھی عام لوگ اس سے بے خبر ہیں۔ اس لئے بے سمجھیں گے اور جب بات کو زبان سے کہہ کر سمجھانے کی نوبت آئی تو لطفِ زبان کہا اور یہ نہیں تو تاثیر کجا! مزہ وہی ہے کہ آدھی بات کہی، آدھی منھ میں ہے اور سننے والا پھڑک اُٹھا۔ تار بجا اور راگ پوچھا، اِن خیالی رنگینوں اور فرضی لطافتوں کا نتیجہ یہ ہوا کہ جو باتیں بدیہی ہیں اور محسوسات میں عیاں ہیں، ہماری تشبیہوں اور استعاروں کے پیچ در پیچ خیالوں میں آ کر وہ بھی عالمِ تصور میں جا پڑتی ہیں کیونکہ خیالات کے ادا کرنے میں ہم اول اشیائے بیجان کو جاندار بلکہ اکثر انسان فرض کرتے ہیں، بعد اس کے جانداروں اور عاقلوں کے لئے جو باتیں مناسبِ حال ہیں ان بے جانوں پر لگا کر ایسے ایسے خیالات پیدا کرتے ہیں جو اکثر ملکِ عرب یا فارس یا ترکستان کے ساتھ قومی یا مذہبی خصوصیت رکھتے ہیں۔

مثلاً رات کو اہلِ محبت کے جلسہ میں اول تو ساقی (ساقی عربی لفظ ہے اور ایسا ہے کہ جس کے لئے ہندی لفظ ہے ہی نہیں، اس کا سبب یہ ہے کہ اس ملک میں ساقی اور جام کی رسم نہیں تھی۔ اس لئے اس کے خیالات بھی نہیں تھے۔) کا آنا واجب ہے، پھر معشوق بجائے ایک نازنیں عورت کے پریزاد لڑکا ہے، اُس کی پیشانی اور رخسارہ سے نورِ صبح روشن ہے۔ مگر زلف کی شام بھی برابر مشک افشاں ہے، صراحی کبھی سرکشی کرتی ہے، اسی لئے جگر خون ہو کر ٹپکتا ہے، کبھی جھکتی ہے، اور خندہ قلقل سے ہنستی ہے، کبھی وہی قلقل حق حق ہو کر یادِ الٰہی میں صرف ہوتی ہے مگر پیالہ اپنے کھلے منھ سے ہنستا ہے  اور اس کے آگے دامن پھیلاتا ہے فلک تیر حوادث کا ترکش، کمانِ کہکشاں لگائے کھڑا ہے مگر عاشق کی تیرِ آہ اِس کے سینہ کے پار جاتا ہے، پھر زحل منحوسی کی آنکھ نہیں پھوٹتی کہ عاشق کی صبحِ مراد روشن ہو،  یہاں کی محفل میں شمع (شمع عربی میں بمعنی موم ہے، پھر موم بتی کو کہنے لگے، فارس میں آ کر چربی کی بھی بننے لگی مگر نام شمع ہی رہا۔ ہند میں چربی ناپاک ہے۔ اس لئے نہ شمع تھی نہ اس کا نام۔ مرغِ سحر کے ذبح کا مضمون بھی وہیں کا ہے۔) برقع فانوس میں تاجِ زر سر پر رکھے کھڑی ہے، اس لئے پروانہ کا آنا بھی واجب ہے، وہ عاشقِ زار آتے ہی جل کر خاک ہو جاتا ہے۔ چراغ کو ہنساتے ہیں اور شمع کو عاشق کے غم میں رُلاتے ہیں۔ وہ با وفا عشق کے تپ میں سراپا جلتی ہے، اس کی چربی گھُل گھُل کر بہتی ہے، مگر پائے استقامت اُس کا نہیں ٹلتا، یہاں تک کہ سفیدہ سحری کبھی آ کر کافور دیتا ہے، اور کبھی طباشیر، شمع کا دل اس لئے بھی گداز ہے کہ شبِ زندگی کا دامن بہت چھوٹا ہے۔ لیکن صبح دونوں کے ماتم میں گریباں چاک کرتی ہے۔ عاشق بادہ خوار کے لئے مرغِ سحر بڑا موذی ہے، اس کے ذبح کو ہمیشہ تیغ زبان تیز رہتی ہے۔ بادِ سحر قاصدِ خجستہ گام ہے کہ پیغام یار کا بہت جلد لاتا  اور لے جاتا ہے، اسی عالم میں آفتاب کبھی تو پنجہ شعاع سے آنکھ ملتا سر برہنہ حجرہ مشرق سے نکلتا ہے، ککبھی فلک کے سبزہ گھوڑے پر سوار کِرن کا تاجِ زرنگار سر پر چمکاتا شفق کا پھریرا اُڑاتا آتا ہے، کیونکہ اپنے حریف شاہِ انجم کی فوج کو پریشان کر کے فتحیاب آیا ہے۔

ان ہی بنیادوں پر جب گلزار کا شگفتگی یا باغ کی بہا ر دکھانی ہو تو ایسے خیالات میں دکھائیں گے کہ شاہدِ گل کے کان میں قاصدِ صبا کچھ ایسا افسوں پھونک گیا، کہ وہ  مارے ہنسی کے فرشِ سبزہ پر لوٹ گیا۔ طفلِ غنچہ مُسکرا کر اپنے عاشق بلبلِ شیدا کا دل لُبھاتا ہے۔ کبھی خزاں کا غارت گر آتا ہے، تو گل اپنا جام اور غنچہ اپنی صراحی لے کر روانہ ہو جاتا ہے، اسی طرح ہمارے باغ میں بہار خود ایک معشوق ہے، اس کا چہرہ چمن ہے، گل رخسار ہیں، سنبل بال ہیں، بنفشہ زلف ہے، نرگس آنکھیں ہیں، وغیرہ وغیرہ۔

پھر بہار موسمِ جوانی ہے، درخت جوانانِ چمن ہیں کہ عروسانِ گلشن سے گلے مل مل کر خوش ہوتے ہیں۔ شاخیں انگڑائیاں لیتی ہیں، تاکِ سیہ مست پڑا اینڈتا ہے۔ اطفالِ نبات دایہ بہار کی گود میں پرورش پاتے ہیں، خضرِ سبزہ کی برکت سے نسیمِ سحری مردہ ہزار سالہ دمِ عیسوی کا کام دیتی ہے، مگر بلبلِ زار عشقِ شاہدِ گل میں اُداس ہے۔ آبِ رواں عمرِ گزراں ہے، اس کی کوج کی تلوار سے دل کٹتے جاتے ہیں۔ سرو کے عکس کا اژدھا نگلے جاتا ہے، شبنم کے آنسو جاری ہیں، بلبل کبھی خوش ہے کہ گُل اس کا پیارا پاس ہنس رہا ہے کبھی افسردہ ہے کہ خزاں کا خوں ریز جھونکا اِن سب کو قتل کرے گا یا اس کے دشمن یعنی گلچیں و صیاد اسے یہاں سے نکالیں گے۔ سرو یا شمشاد کے عشق میں قمری کا گیروا لباس ہے۔ اس کے نالہ کا آرہ دلوں کو چیرتا ہے، کبھی عاشق زار بھی وہیں آ نکلتا ہے۔ وہ بجائے اپنے معشوق کے حسرت و غم سے ہمکنار ہے، روتا ہے اور قاصدِ صبا کو پیغام دیتا ہے کہ میرے تغافل شعار کو ذرا میرے حال کی خبر کر دینا۔

بیانِ مذکورہ بالا سے معلوم ہوا ہو گا کہ ان میں بہت سی باتیں ایسی ہیں جو خاص فارس اور ترکستان کے ملکوں سے طبعی اور ذاتی تعلق رکھتی ہیں، اس کے علاوہ بعض خیالات میں اکثر اُن داستانوں یا قصوں کے اشارے بھی آ گئے ہیں، جو خاص ملک فارس سے علاقہ رکھتے تھے، مثلاً بجائے عورت کے لڑکوں کا عشق، ان کے خط کی تعریف، شمشاد، نرگس، سنبل، بنفشہ، موئے کمر، قدِ سرو وغیرہ کی تشبیہیں، لیلی، شیریں، شمع، گل، سرو وغیرہ کا حُسن، مجنوں، فرہاد، بُلبلِ، قمری، پروانہ کا عشق، فانوس کا برقع، غازہ اور گلگونہ، مانی و بہزاد کی مصوری، رستم و اسفندیار کی بہادری، زحل کی نحوست، سہیلِ یمن کی رنگ افشانی، مشاہیر فارس و یونان اور عرب کے قصے، راہِ ہفت خوان، کوہِ الوند، کوہِ بے ستون، جوئے شیر، قصرِ شیریں، جیحوں، ہیحوں وغیرہ وغیرہ، ہر چند سب معاملات عرب اور فارس سے متعلق ہیں، مگر اُردو میں بہت سے خیالات انہی کی بنیاد پر نظم و نثر میں پیدا ہوتے ہیں۔

تعجب ہے کہ اِن خیالوں نے اور وہاں کی تشبیہوں نے اِس قدر زور پکڑا کہ ان کے مشابہ جو یہاں کی باتیں تھیں اُنھیں بالکل مٹا دیا، البتہ سودا اور سید انشاء کے کلام میں کہیں کہیں ہیں اور وہ اپنے موقع پر نہایت لطف دیتی ہیں۔

غرض کہ اب ہماری انشاء پردازی ایک پُرانی یادداشت ان تشبیہوں اور استعاروں کی ہے کہ صدہا سال سے ہمارے بزرگوں کو دستمال ہو کر ہم تک میراث پہنچی ہے۔

ہمارے متاخرین کو معنی آفرینی کی آرزو ہوئی تو بڑا کمال یہ ہے کہ کبھی صفت بعد صفت، کبھی استعارہ در استعارہ سے اسے اور تنگ و تاریک کیا۔ جس سے ہوا تو یہ ہوا کہ بہت غور کے بعد فقط ایک وہمی نزاکت اور فرضی لطافت پیدا ہو گئی کہ جسے محالات کا مجموعہ کہنا چاہیے۔ لیکن افسوس یہ ہے کہ بجائے اس کے کلام اِن کا خاص و عام کے دلوں پر تاثیر کرے، وہ مخصوص لوگوں کی طبع آزمائی کے لئے ایک دقیق معمہ اور عوام کے لئے ایک عجیب گورکھ دھندا تیار ہو گیا، اور جواب اُن کا یہ ہے کہ کوئی سمجھے تو سمجھے، جو نہ سمجھے وہ اپنی جہالت کے حوالے۔

اب اس کے مقابلے میں دیکھو، بھاشا کا انشاء پرداز برسات میں اپنا باغ کیونکر لگاتا ہے، درختوں کے جھنڈ چھائے ہیں، گھن کے پتے ہیں، اِن کی گہری گہری چھاؤں ہے، جامن کی ٹہنیاں آم کے پتوں میں کھچڑی ہو رہی ہیں، کھرنی کی ٹہنیاں فالسے کے درخت پر پھیلی ہوئی ہیں، چاندنی کی بیل کمرک کے درخت پر لپٹی ہے، عشق پیچہ ککروندہ پر چڑھا جاتا ہے، اِس کی ٹہنیاں لٹکتی ہیں، جیسے سانپ لہرا رہے ہیں، پھولوں کے گچھے پڑی جھُوم رہے ہیں، میوے دانے زمین کو چوم رہے ہیں، نیم کے پتوں کی سبزی اور پھولوں کی سفیدی بہار پر ہے، ام کے بور میں اِس کے پھولوں کی مہک آتی ہے، بھینی بھینی بُو جی کو بھاتی ہے، جب درختوں کی ٹہنیاں ہلتی ہیں، مولسری کے پھولوں کا مینھ برستا ہے، پھل پھلاری کی بوچھاڑ ہو جاتی ہے، دھیمی دھیمی ہوا اُن کی بُو باس میں بسی ہوئی روشوں پر چلتی ہے، ٹہنیاں ایسی ہلتی ہیں جیسے کوئی جوبن کی متوالی اٹکھیلیاں کرتی چلی جاتی ہے، کسی ٹہنی میں بھونرے کی آواز، کسی میں مکھیوں کی بھنبھناہٹ الگ ہی سماں باندھ رہی ہے۔ پرند درختوں پر بول رہے ہیں اور کلول کر رہے ہیں۔ حوض میں چادر اِس زور سے گرتی ہے کہ کان پری آواز نہیں سُنائی دیتی، اس سے چھوٹی چھوٹی نالیوں میں پانی لہراتا جاتا ہے، تو عجب بہار دیتا ہے، درختوں سے جانور اُترتے ہیں، نہاتے جاتے ہیں، آپس میں لڑتے جاتے ہیں، پروں کو پھڑپھڑاتے ہیں اور اُڑ جاتے ہیں، پرند زمین پر چوکڑیاں بھرتے پھرتے ہیں، ایک طرف سے کوئل کی کوک ایک طرف سے کوکلے کی آواز، اسی جمگھٹ میں عاشق مصیبت زدہ بھی کہیں اکیلا بیٹھا جی بہلا رہا ہے اور اپنی جُدائی کے دُکھ کو مزے لے کر اُٹھاتا ہے۔

برسات کا سماں باندھتے ہیں تو کہتے ہیں، سامنے سے کالی گھٹا جھوم کر اٹھی، دھُواں دھار ہے، بجلی کوندتی چلی آتی ہے، سیاہی میں سارس اور بگلوں کی سفید سفید قطاریں بہاریں دکھا رہی ہیں، جب بادل کڑکتا ہے اور بجلی چمکتی ہے تو کبھی پرندے دبک کر ٹہنیوں میں چھُپ جاتے ہیں، کبھی دیواروں سے لگ جاتے ہیں، مور جُدا جھنکارتے ہیں، پپیہے الگ پکارتے ہیں، محبت کا متوالا چنبیلی کے جھرمٹ میں آتا ہے تو ٹھنڈی ہوا لہک کر پھوار بھی پڑنے لگتی ہے، مست ہو کر وہیں بیٹھ جاتا ہے اور شعر پڑھنے لگتا ہے۔

جب ایک شہر کی خوبی بیان کرتے ہیں، شام ہونے ایک مقام پر پہنچا دیکھتا ہے کہ پہاڑیاں ہری بھری ہیں، اردگرد سرسبز میدانوں میں بسے ہوئے گاؤں آباد ہیں، پہاڑ کے نیچے ایک دریا میں نِرمل جل بہہ رہا ہے، جیسے موتی کی آب بیچوں بیچ میں شہر آباد، جب اس کے اُونچے اُونچے مکانوں اور برجیوں کا عکس پڑتا ہے تو پانی میں کلیاں جگ مگ جگ مگ کرتی ہیں، اور دوسرا شہر آباد نظر آتا ہے، لب دریا کے پیڑ بوٹوں اور زمین کی سبزی کو برسات نے ہرا کیا ہے کہ دو دھیلن گایوں اور بکریوں کا چارہ ہو جائے۔

جب اُداسی اور پریشانی کا عالم دکھاتے ہیں تو کہتے ہیں کہ آدھی رات اِدھر آدھی رات اُدھر، جنگل سنسان، اندھیر بیابان، مرگھٹ میں دُور دُور تک راکھ کے ڈھیر، جلے ہوئے لکڑ پڑے، کہیں کہیں چتا میں آگ چمکتی ہے، بھُوتوں پریتوں کی ڈراؤنی صورتیں اور بھیانک مورتیں ہیں، کوئی تاڑ سا قد، لال لال دیدے پھاڑے لمبے لمبے دانت نکالے گلے میں کھوپڑیوں کی مالا ڈالے ہنس رہا ہے، کوئی ایک ہاتھی کو بغل میں مارے بھاگا جاتا ہے کوئی ایک کالا ناگ ککڑی کی طرح کھڑا چبا رہا ہے۔ پیچھے غل ہوتا چلا آتا ہے کہ لیجیو، ماریو، جانے نہ پائے، دم بھر میں یہ بھوت پریت غائب ہوتے ہیں، غل شور تھمتا ہے، پھر مرگھٹ کا میدان سنسان ہے، پتے ہوا سے کھڑکتے ہیں، ہوا کا سناٹا، پانی کا شور، اُلو کی ہوک، گیدڑوں کا بولنا اور کتوں کا رونا، یہ ایسی وحشت ہے کہ پہلے ڈر بھی بھول جاتے ہیں۔

دیکھو یہ دونوں باغ آمنے سامنے لگے ہیں ؟ تم نے مقابلہ کیا؟ دونوں کے رنگ ڈھنگ میں کیا فرق ہے ؟ بھاشا کا شاعر فصیح استعارہ کی طرف بھول کر بھی قدم نہیں رکھتا۔ جو جو لُطف آنکھوں سے دیکھتا ہے اور جن خوش آوازیوں کو سنتا ہے یا خوشبوؤں کو سونگھتا ہے انہی کو اپنی میٹھی زبان سے بے تکلف بے مبالغہ صاف صاف کہہ دیتا ہے۔

لیکن یہ نہ سمجھنا کہ ہندوستان میں مبالغہ کا زور تھا ہی نہیں، سنسکرت کا انشاء پرداز ذرا بگڑ جائے تو زمین کے ماتھے پر پہاڑ تیوری کے بل ہو جائیں اور دہانِ غار پتھروں سے دانت پیسنے لگیں۔ ان مضامین کو دیکھ کر اول ہمیں وہ عام قاعدہ یاد آتا ہے کہ ہر ملک کی انشا پردازی، اپنے جغرافیے اور سر زمین کی صورتِ حال کی تصویر بلکہ رسم و رواج اور لوگوں کی طبیعتوں کا آئینہ ہے، سبب اس کا یہ ہے کہ جو کچھ شاعر یا انشا پرداز کے پیشِ نظر ہوتا ہے وہی اس کی تشبیہوں اور استعاروں کا سامان ہوتا ہے۔

معلوم ہوتا ہے کہ جس طرح ایران، خراسان اور توران کی زمین میں بہار کا موسم دلوں کو شگفتہ کرتا ہے، یہاں برسات کا موسم دلوں میں ذوق و شوق پیدا کرتا ہے، وہاں بہار میں بُلبل ہزار داستان ہے، یہاں کوئل اور پپیہا ہے، برج بھاشا کے انشاء پرداز برسات کے لُطف اور اِس کی کیفیتیں بہت خوب دکھاتے ہیں، جہانگیر نے توزک میں سچ کہا ہے کہ ہندوستان کی برسات ہماری فصل بہار ہے، اور کوئل یہاں کی بُلبل ہے۔ اس موسم میں عجب لطف سے بولتی ہے، اور مستیاں کرتی ہے، بہار کے موسم کا کچھ لطف یہاں ہے تو بسنت رُت کا سماں ہے، جس میں ہولی کے رنگ اُڑتے ہیں، پچکاریاں چھٹتی ہیں، گلال کے قمقمے جلتے ہیں۔ وہ باتیں نہیں جو فارسی والے بہار کے سمے کرتے ہیں۔

بہرحال ہمیں اپنے بزرگوں کی اس صنعت کا شکریہ ادا کرنا چاہیے کہ ہندی بھاشا میں جو اضافت کی طوالت کا کے کی سے ادا ہوتی، وہ فارسی کی اضافت میں آ کر مختصر ہو گئی، اس کے علاوہ استعارہ و تشبیہ جو بھاشا میں شاید اس سبب سے کم لاتے تھے کہ وہ کتاب یا انشا پردازی کی زبان نہ تھی، یا اس سبب سے کہ برابر کاکا اور کے کے آنے سے کلام بدمزہ ہو جاتا تھا، اسی طرح بہت تشبیہ میں بھی لفظوں کے بڑھاوے سے کلام مرتبہ فصاحت سے گِر جاتا، اب انھوں نے فارسی کو اس میں داخل کر کے استعارہ و تشبیہ سے مرصع کر دیا۔ جس سے وہ خیالوں کی نزاکت اور ترکیب کی پختگی اور زور کلا اور تیزی و طراری میں بھاشا سے آگے بڑھ گئی، اور بہت سے نئے الفاظ اور نئی ترکیبوں نے زبان میں وسعت بھی پیدا کی۔

اس فخر کے ساتھ یہ افسوس پھر بھی دل سے نہیں بھولتا، کہ انھوں نے ایک قدرتی پھول کو جو اپنی خوشبو سے مہکتا اور رنگ سے لہکتا تھا، مفت ہاتھ سے پھینک دیا، وہ کیا ہے ؟ کلام کا اثر، اور اظہار اصلیت ہمارے نازک خیال اور باریک بین لوگ استعاروں اور تشبیہوں کی رنگینی اور مناسبت لفظی کے ذوق شوق میں خیال سے خیال پیدا کرنے لگے، اور اصلی مطالب کے ادا کرنے میں بے پروا ہو گئے۔ انجام اس کا یہ ہوا کہ زبان کا ڈھنگ بدل گیا اور نوبت یہ ہوئی کہ اگر کوشش کریں تو فارسی کی طرح پنج رقعہ اور مینا بازار، یا فسانہ عجائب لکھ سکتے ہیں، لیکن ایک ملکی معاملہ یا اس طرح نہیں بیان کر سکتے، جس سے معلوم ہوتا جائے کہ واقعہ مذکور کیونکر ہوا اور کیونکر اختتام کو پہنچا، اور اس سے پڑھنے والے کو ثابت ہو جائے کہ روئداد وقت کی اور صورت حال معاملہ کی ایسی ہو رہی تھی کہ جو کچھ ہوا اسی طرح ہو سکتا تھا، دوسری صورت ممکن نہ تھی اور یہ تو ناممکن ہے، ایک فلسفہ یا حکمت اخلاق کا خیال رکھیں جس کی صفائی کلام لوگوں کے دلوں کو اپنی طرف لگائے اور اس کے دلائل جو حُسنِ بیان کے پردہ میں برابر جلوہ دیتے جاتے ہیں، وہ دلوں سے تصدیق کے اقرار لیتے جائیں اور جس بات سے روکنا یا جس کا جھوکنا منظور ہو، اُس میں پوری پوری اطاعت سُننے والوں سے لے سکیں۔ یہ قباحت فقط نازک خیالی نے پیدا کی۔ استعارہ و تشبیہ کے انداز اور مترادف فقرے، تکیہ کلام کی طرح ہماری زبانِ قلم پر چڑھ گئے، بے شک ہمارے متقدمین اس کی رنگینی اور نزاکت کو دیکھ کر بھولے مگر یہ نہ سمجھے کہ یہ خیالی رنگ ہمارے اسلی جوہر کو خاک میں ملانے والا ہے، یہی سبب ہے کہ آج انگریزی ڈھنگ پر لکھنے میں یا ان کے مضامین کا پورا پورا ترجمہ کرنے میں ہم بہت قاصر ہیں، نہیں ہماری اصلی انشاء پردازی اس رستہ میں قاصر ہے۔

انگریزی تحریر کے عام اُصول یہ ہیں کہ جس شے کا حال یا دل کا خیال لکھیئے تو اُسے اس طرح اَدا کیجیے کہ خود وہ حالت گزرنے سے یا اس کے مشاہدہ کرنے سے جو خوشی یا غم غصہ یا رحم یا خوف یا جوش دل پر طاری ہوتا ہے بعینہ وہی عالم اور وہی سماں دل پر چھا دیوے۔

بے شک ہماری طرزِ بیاں اور چُست بندش اور قافیوں کے مسلسل کھٹکوں سے کانوں کو اچھی طرح خبر کرتی ہے۔ اپنے رنگین الفاظ اور نازک مضمونوں سے خیال میں شوخی کا لُطف پیدا کرتی ہے، ساتھ اس کے مبالغہ کلام اور عبارت کی دھوم دھام سے زمین و آسمان کو تہ و بالا کر دیتی ہے، مگر اصل مقصود یعنی دلی اثر یا اظہارِ واقفیت ڈھونڈو تو ذرا نہیں، چند مضمون ہیں کہ ہماری زبانوں پر بہت رواں ہیں مگر حقیقت میں ہم ان میں بھی ناکام ہیں، مثلاً ہم اگر کسی کے حُسن کی تعریف کرتے ہیں، تو رشکِ حور اور غیرتِ پری پر قناعت نہ کر کے اُسے ایک پُتلا ناممکنات و محالات کا بنا دیتے ہیں، مگر کسی حسین کا حُسنِ خداداد خود ایک عالم ہے کہ جو کچھ آنکھوں سے دیکھ کر دلوں پر گزر جاتی ہے، دل ہی جانتے ہیں، بس اسی کو اس طرح کیوں ادا نہیں کر دیتے کہ سننے والے بھی کلیجہ پکڑ کے رہ جائیں۔

ایک بلونت جوان کی تعریف کریں گے تو رستم، تہمتن، اسفندیار، روئیں تین، شیر بیشۂ وغا، نہنگ قلزم ہیجا، وغیرہ وغیرہ لکھ کر صفحے سیاہ کر دیں گے لیکن اس کی بلند گردن، بھرے ہوئے ڈنڑ، چوڑا سینہ، بازوؤں کی گلاوٹ، پتلی کمر، غرض خوشنما بدن اور موزوں ڈیل ڈول بھی ایک انداز رکھتا ہے، اس کی اپنی دلاوری اور ذاتی بہادری بھی آخر کچھ نہ کچھ ہے، جس کے کارناموں نے اُسے اپنے عہد میں ممتاز کر رکھا ہے، اسی کو ایک وضع سے کیوں نہیں ادا کر دیتے، جسے سُن کر مُردار خیالوں میں اکٹر تکڑ اور کمھلائے ہوئے دلوں میں اُمنگ پیدا ہو جائے۔

ایک چمن کی تعریف سے کبھی فلک کے سبز باغ اور گلشنِ انجم کے دل پر داغ دیں گے، کبھی اُسے فردوسِ بریں اور جنات روئے زمین بنائیں گے بلکہ ایک ایک پھُول اور ایک ایک پتے کی تعریف میں رنگ رنگ سے ورق سیاہ کر دیں گے۔ اس کی اس کی ہریاول کا لہلہانا، پھولوں کا چہچہانا، میٹھی میٹھی خوشبوؤں کا آنا، آبِ رواں کا لہرانا، موزوں درختوں، گلزاروں کے تختوں کی بہار، ہوا کی مہک اور طوطی کی چہک، پپیہے کی کوک، کوئل کی ہوک جو کہ روحانی تفریح کے ساتھ انسان کے دل پر اثر کرتی ہے، اس کا بیان اس طرح نہیں کرتے جس کے پڑھنے سے آنکھوں میں سماں چھا جائے۔ میدانِ جنگ ہو تو زمین کے طبقوں کو اُڑا کر آسمان میں تلپٹ کر دیتے ہیں اور خون کے دریا ملکوں سے ملکوں میں بہا دیتے ہیں، مگر اپنے موقع پر وہ تاثیر جس سے ایک بہادر کی بہادری دیکھ کر دلوں میں قوم کی ہمدردی اور رفیق پر جاں نثار کرنے کا ولولہ پیدا ہو نہیں ہے۔

دوسرے کوچہ میں آ کر علم کی تعریف پر اترتے ہیں تو اس کی برکت سے پیر پیغمبر، ملائک فرشتہ بنا دیتے ہیں، کاش اس کے عوض میں چند ظاہر کھُلے کھُلے فائدے بیان کر دیں جس سے ہر شخص کے دل میں اس کا شوق پیدا ہو اور عالم جاہل سمجھ جائے کہ اگر بے علم رہوں گا تو خواری و ذلت کی زندگی سے دین و دنیا دونوں خراب ہوں گے۔ ہماری تصنیفات میں اس کا کچھ ذکر ہی نہیں، اور افسوس کہ اب تک بھی ہم نے اس پر توجہ نہیں کی (انگریزی میں بہت خیالات اور مضامین ایسے ہیں کہ ہماری زبان نہیں ادا کر سکتی، یعنی جو لطف اِن کا انگریزی زبان میں ہے وہ اُردو میں پورا ادا نہیں ہو سکتا، جو کہ درحقیقت میں زبان کی نا طاقتی کا نتیجہ ہے اور یہ اہلِ زبان کے لیے نہایت شرم کا مقام ہے۔

اگر شائستہ قوموں کی انشاء پردازی سوال کرے کہ اُردو کی انشاء کیوں اس حالت میں مبتلا رہی؟ تو حاضر جوابی فوراً بول اُٹھے گی کہ قوم کی انشاء پردازی بموجب اس کی حالت کے ہوتی ہے اور خیالات اس کے بموجب حالات ملک اور تربیت ملکی کے ہوتے ہیں، جیسی ہندوستان کی تعلیم و شائستگی تھی، اور بادشاہوں اور امیروں کی قدردانی تھی ویسی ہی انشا پردازی رہی اور خاتمہ کلام اس فقرہ پر ہو گا کہ کوئی پرند اپنے بازوؤں سے بڑھ کر پَر نہیں مار سکتا، اس کے بازو فارسی، سنسکرت، بھاشا وغیرہ تھے۔ پھر اُردو بیچاری انگلینڈ یا روم یا یونان کے محلوں پر کیونکر جا بیٹھتی۔ مگر حقیقت میں عقدہ اس سوال کا ایک اور گرہ میں بند ہے وہ یہ ہے کہ ہر ایک شے کی ترقی کسی ملک میں اسی قدر زیادہ ہوتی ہے، جس قدر شے مذکور کو سلطنت سے تعلق ہوتا ہے، یورپ کے ملکوں میں قدیم سے دستور ہے کہ سلطنت کے اندرونی اور بیرونی زور قوم کی ذاتی اور علمی لیاقتوں پر منحصر ہوتے تھے اور سلطنت کے کل انتظام اور اُس کے سب قسم کے کاروبار، انہی کے شمول اور انہی کی عرق ریز تدبیروں سے قرار پاتے تھے، یہ بھی ظاہر ہے کہ ان کی تجویزوں کی بنیاد علمی اور عقلی اور تاریخی تجربہ کے زوروں پر قائم ہوتی تھی، پھر لیاقتِ منحصر بھی سینکڑوں ہی میں منحصر نہیں بلکہ ہزاروں میں پھیلی ہوئی تھی، اس میں جہاں اور مہماتِ سلطنت ہیں وہاں ایک یہ بھی تھا کہ ہر امر تنقیح طلب جلسہ عام کے اتفاق رائے سے وابستہ تھا تحریروں اور تقریروں کے موقع پر جب ایک شخص جلسہ عام میں استادہ ہو کر کوئی مطلب ادا کرتا تھا تو اِدھر کی دنیا اُدھر ہو جاتی تھی، پھر جب طرفِ ثانی اس کے مقابلہ میں جواب ترکی بر ترکی دیتا تھا تو مشرق کے آفتاب کو مغرب سے طلوع کر دیتا تھا اور اب تک بھی فقط تقریروں اور تحریروں کے زور سے ہزاروں لاکھوں آدمیوں کو متفق کر کے ایک رائے سے دوسری رائے پر پھیر لیتے ہیں، خیال کرنا چاہیے کہ ان کے بیان میں کیسی طاقت اور زبان میں کیا کیا زور ہوں گے، برخلاف ہندوستان کے یہاں کی زبان میں اگر ہوئے تو ایک بادشاہ کی خوش اقبالی میں چند شعراء کے دیوان ہوئے جو فقط تفریح طبع اور دل لگی کا سامان ہے، کجا زمین، کجا آسمان، نہ وہ جوہر پیدا ہوا نہ کسی نے اس کے پیدا کرنے کا ارادہ کیا باوجود اس کے اُردو کی خوش اقبالی اور خوش رواجی قابلِ رشک ہے، کیونکہ اس کی اصل تو برج بھاشا ہے جو اپنی بہارِ جوانی میں فقط ایک ضلع میں لین دین کی زبان تھی، خود اُردو دلی سے نکلی۔ جس کا چراغ دلی کی بادشاہت کے ساتھ گل ہونا چاہیے تھا، پھر بھی اگر بیچوں بیچ ہندوستان میں کھڑے ہو کر آوازیں دیں کہ ان ملک کی زبان کیا ہے تو جواب یہی سنیں گے کہ اُردو اس کے ایک کنارے مثلاً پشاور سے چلو تو اول افغانی، اٹک اُترے تو پوٹھواری کچھ اور ہی کہتے ہیں، جہلم تک داہنے پر کشمیر پکار رہا ہے کہ یوروَلا، یوروَلا، یعنی اِدھر آؤ، بائیں پر، ملتان کہتا ہے کہ کتھے گھنیا، یعنی کہاں چلے، آگے بڑھے تو وہ بولی ہے کہ پنجابی خاص اسی کو کہتے ہیں، اس کے بائیں پر پہاڑی ایسی زبان ہے کہ تحریر و تقریر سب سے الگ ہے۔ ستلج اُتریں تو پنجابیت کی کمی سے لوگوں کی وضع و لباس میں بھی فرق شروع ہوتا ہے، دلّی پہنچے تو اور ہی سماں بندھا ہوا ہے، میرٹھ سے بڑھے تو علی گڑھ میں بھاشا سے مِلا جُلا پورب کا انداز شروع ہو گیا۔ کانپور، لکھنؤ سے الہ آباد تک یہی عالم ہے، جنوب کو ہٹیں تو مارواڑی ہو کر گجرأتی اور دکھنی ہو جاتی ہے، پھر ادھر آئے تو آگے بنگالہ ہے اور کلکتہ پہونچ کر تو عالم گونا گوں خلقِ خدا اور ملکِ خدا ہے، جس کا امتیاز حدِ انداز سے باہر ہے، میرے دوستو تم جانتے ہو کہ ہر شے کی اصلیت اور حُسن و قبح کے واسطے ایک مقام ایسا ہوتا ہے جیسے سِکہ کے لئے ٹکسال، کیا سبب ہے کہ ابتداء میں زبان کے لئے دِلی ٹکسال تھی؟ وجہ اس کی یہ ہے کہ دارالخلافہ تھی، دربار ہی میں خاندانی اُمراء اور امیر زادے خود صاحب علم ہوتے تھے، اِن کی مجلسیں اہلِ علم اور اہلِ کمال کا مجمع ہوتی تھیں جن کی برکت سے طبیعتیں گویا ہر شے کے سلیقے اور شائستگی اور لطافت و ظرافت کا قالب ہوتی تھیں، اسی واسطے گفتگو، لباس، ادب، آداب نشست، برخاست بلکہ بات بات ایسی سنجیدہ اور پسندیدہ ہوتی تھی کہ خواہ مخواہ سب کے دل قبول کرتے تھے۔ ہر شے کے لئے ہمیشہ نئی نئی تراش اور نئی نئی اصلاحیں اور ایجاد و اختراع وہاں سے ہوتے تھے اور چونکہ دارالخلافہ میں شہر شہر کا آدمی موجود تھا، اس لئے وہ دل پذیر ایجاد اور اصلاحیں ہر شہر میں جلد عام ہو جاتی تھیں چنانچہ بہادر شاہ سے پہلے دلی ہر بات کے لئے سند رہی، اور انہی صفتوں سے لکھنؤ نے بھی سندِ افتخار حاصل کی۔ لکھنؤ کو دیکھ کر سمجھ لو کہ دل پسند ایجادوں اور رنگین باتوں کا ایجاد ہونا کسی شہر کے اینٹ پتھر کی تاثیر نہیں ہے جہاں شائستہ اور رنگین مزاج لوگ جمع ہو گے اور دلپذیر باتوں کے سامان موجود ہوں گے، وہیں سے دو پھول کھلنے لگیں گے، چنانچہ وہی دلی کے لوگ اور اُن کی اولاد تھی کہ جب تباہی سلطنت اور آبادی لکھنؤ کے سبب سے وہاں پہنچے تو چند روز میں وہی ہی تراشیں وہاں سے نکلنے لگیں، لکھنؤ دارالسلطنت ہو گیا اور اس کے ضمن میں زبان بھی دلی کی اطاعت سے آزاد ہو گئی۔ اس آزادی کی ناسخ، آتش، ضمیر، خلیق وغیرہ اہلِ کمال نے بنیاد ڈالی اور انیس، دبیر، رند، خواجہ وزیر اور سرور نے خاتمہ کر دیا، اُنھوں نے زبان کو ترقی دی، مگر اکثر اُن میں ایسے ہوئے کہ جنگل کے صاف کرنے کو اُٹھے تھے مگر اس میں دریا کا دہانہ لا ڈالا، یعنی صفائی زبان کی جگہ لغات کی بوچھاڑ کر دی۔ یہاں تک کہ لکھنؤ کا ورق بھی زمانہ نے اُلٹ دیا، اب آفتاب ہماری ملکہ آفاق کا نشان ہے جسے حکم نہیں کہ ان کی قلمرو کے خط سے باہر حرکت کر سکے، ڈاکوں اور ریل گاڑیوں نے پورب سے پچھم تک دوڑ کر بھانت بھانت کا جانور ایک پنجرے میں بند کر دیا، دلی برباد، لکھنؤ ویران، دونوں کے سندی اشخاص کچھ پیوندِ زمین ہو گئے کچھ دربدر خاک بسر اب جیسے اور شہر ویسے ہی لکھنؤ جیسے چھاؤنیوں کے بازار ویسی ہی دلی بلکہ اس سے بھی بدتر کوئی شہر ایسا نہیں رہا، جس کے لئے لوگوں کی زبان عموماً سند کے قابل ہو، کیونکہ شہر میں ایسے چیدہ اور برگزیدہ اشخاص جن سے کہ وہ شہر قابل سند ہو صرف گنتی کے لوگ ہوتے ہیں، اور وہ زمانہ کی صدہا سالہ محنتوں کا نتیجہ ہوتے ہیں، اُن میں سے بہت مر گئے کوئی بڈھا جیسے خزاں کا مارا پتہ کسی درخت پر باقی ہے، اس بڈھے کی آواز کمیٹیوں کے غل اور اخبار کے نقار خانوں میں سُنائی بھی نہیں دیتی، پس اب اگر دلی کی زبان کو سندی سمجھیں تو وہاں کے ہر شخص کی زبان کیونکر سندی ہو سکتی ہے، ہوا کا رُخ اور دریا کا بہاؤ نہ کسی کے اختیار میں ہے نہ کسی کو معلوم ہے کہ کدھر پھرے گا، اس لئے نہیں کہہ سکتے کہ اب زبان کیا رنگ بدلے گی، ہم بھی جہاِز بے ناخدا ہیں، توکل بخدا کر بیٹھے ہیں، زمانہ کے انقلابوں کو رنگِ چمن کی تبدیلی سمجھ کر دیکھتے ہیں اور کہتے ہیں، آزاد :

قسمت میں جو لکھا تھا سو دیکھا ہے اب تلک

اور آگے دیکھیے ابھی کیا کیا ہیں دیکھتے

*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*

 

 

نظم اردو کی تاریخ

فلاسفہ یونان  کہتے ہیں شعر خیالی باتیں ہیں، جن کو واقعیت اور اصلیت سے تعلق نہیں، قدرتی موجودات یا اس کے واقعات کو دیکھ کر جو خیالات شاعر کے دل میں پیدا ہوتے ہیں وہ اپنے مطلب کے موقع پر موزوں کر دیتا ہے، اس خیال کو سچ کی پابندی نہیں ہوتی، جب صبح کا نور و ظہور دیکھتا ہے تو کبھی کہتا ہے دیگِ مشرق سے دُود اُبلنے لگا، کبھی کہتا ہے دریائے سیماب موج مارنے لگا، کوئی مشرق سے کافور اُڑاتا آتا ہے، صبح طباشیر بکھیرتی آتی ہے، یا مثلاً سورج نکلا اور کرن ابھی اس میں نہیں پیدا ہوئے، وہ کہتا ہے، سنہری گیند ہوا میں اُچھالی ہے، صبح طلائی تھال سر پر دھرے آتی ہے، کبھی مُرغانِ سحر کا غل اور عالمِ نور کا جلوہ آفتاب کی چمک دمک اور شعاعوں کا خیال کر کے صبح کی دھوم دکھاتا ہے اور کہتا ہے بادشاہِ مشرق سبزک فلک پر سوار، تاجِ مرصع سر پر رکھے کرن کا نیزہ لئے مشرق سے نمودار ہوا، شام کو شفق کی بہار دیکھتا ہے تو کہتا ہے کہ مغرب کے چپرکھٹ میں آرام کیا اور شنگرفی چادر تان کر سو رہا، کبھی کہتا ہے جام فلک خون سے چھلک رہا ہے، نہیں مغرب کے ایوان میں آگ لگ گئی، تاروں بھری رات میں چاند کو دیکھتا ہے تو کہتا ہے، لاجوردی چادر میں ستارے ٹنکے ہوئے ہیں۔ دریائے نیل میں نور کا جہاز چلا جاتا ہے اور روپہلی مچھلیاں تیرتی پھرتی ہیں، غرض ایسی باتیں ہیں کہ نہایت لطف دیتی ہیں، مگر اصلیت سے اُنھیں کچھ بھی غرض نہیں ہے، باوجود اس کے صنعت گاہِ عالم میں نظم ایک عجیب صنعت صنائع الٰہی سے ہے، اسے دیکھ کر عقل حیران ہوتی ہے کہ اول ایک مضمون کو ایک سطر میں لکھتے اور نثر میں پڑھتے ہیں، پھر اسی مضمون کو فقط لفظوں کے پس و پیش کے ساتھ لکھ کر دیکھتے ہیں تو کچھ اور ہی عالم ہو جاتا ہے بلکہ اس میں چید کیفیتیں پیدا ہو جاتی ہیں۔

۱ – وہ وصفِ خاص ہے کہ جسے سب موزونیت کہتے ہیں۔

۲ – کلام میں زور زیادہ ہو جاتا ہے اور مضمون میں ایسی تیزی آ جاتی ہے کہ اثر کا نشتر دل پر کھٹکتا ہے۔

۳ – سیدھی سادی بات میں ایسا لطف پیدا ہو جاتا ہے کہ سب پڑھتے ہیں اور مزے لیتے ہیں۔ تجربہ سے معلوم ہوتا ہے کہ جب خوشی یا غم و غصہ یا کسی کے ذوق و شوق کا خیال دل میں جوش مارتا ہے اور وہ قوتِ بیان سے ٹکر کھاتا ہے تو زبان سے خود بخود موزوں کلام نکلتا ہے جیسے پتھر اور لوہے کے ٹکرانے آگ نکلتی ہے اسی واسطے شاعر وہی ہے جس کی طبیعت میں یہ صنعتِ خداداد ہو، قدرتی شاعر اگرچہ ارادہ کر کے شعر کہنے کو خاص وقت میں بیٹھتا ہے مگر حقیقت میں اِس کا دل اور خیالات ہر وقت اپنے کام میں لگے رہتے ہیں، قدرت کے کارخانے میں جو چیز اس کے حواس میں محسوس ہوتی ہے اور اُس سے کچھ اثر اس کی طبیعت اُٹھاتی ہے وہ ہر شخص کو نصیب نہیں، خواہ لطف و شگفتگی ہو، خواہ آزردگی یا بیزاری، یہ ضرور ہے کہ جو کیفیت وہ آپ اُٹھاتا ہے اس کے لئے ڈھونڈتا رہتا ہے کہ کیسے لفظ ہوں اور کس طرح انھیں ترکیب دوں تا کہ جو کیفیت اس کے دیکھنے سے میرے دل پر طاری ہے وہی کیفیت سننے والوں کے دل پر چھا جائے اور وہ بات کہوں کہ دل پر اثر کر جائے۔

شاعر کبھی ایک حجرہ میں تنہا بیٹھتا ہے، کبھی سب سے الگ اکیلا پھرتا ہے کبھی کسی درخت کے سایہ میں تنہا نظر آتا ہے اور اسی میں خوش ہوتا ہے، وہ کیسی ہی خستہ حالی میں ہو مگر مزاج کا بادشاہ اور دل کا حاتم ہوتا ہے، بادشاہ کے پاس فوج و سپاہ، دفتر و دربار اور ملک داری کے سب کارخانے اور سامان موجود ہیں، اس کے پاس کچھ نہیں، مگر الفاظ اور معانی سے وہی سامان بلکہ اس سے ہزاروں درجے زیادہ تیار کر کے دیکھا دیتا ہے، بادشاہ سالہا سال کِن کِن خطرناک معرکوں سے ملک یا خزانہ جمع کرتا ہے، یہ جسے چاہتا ہے گھر بیٹھے دے دیتا ہے اور خود پرواہ نہیں کرتا۔ بادشاہ کو ایک ولایت فتح کر کے وہ خوشی حاصل نہیں ہوتی جو اُسے ایک لفظ کے ملنے سے ہوتی ہے جو اپنی جگہ پر موزوں سجا ہوا ہو، اور حق یہ ہے کہ اُسے ملک کی پروا بھی نہیں۔

اس بات میں جو کچھ میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا وہ یہ ہے کہ شیخ ابراہیم ذوق جس مکان میں بیٹھتے تھے تنگ و تاریک تھا، گرمی میں دل دق ہو جاتا تھا، بعض قدیمی احباب کبھی جاتے تو گھبراتے اور کہتے کہ مکان بدلو، گھڑی بھر بھی بیٹھنے کے قابل نہیں۔ تم کیونکر دن رات یہیں کاٹتے ہو؟ وہ ہوں ہاں کرتے اور چپکے ہو رہتے، کبھی مسکراتے، کبھی جو غزل کہتے ہوتے اُسے دیکھنے لگتے، کبھی اُن کا منہ دیکھتے، خدا نے مکانات، باغ، آرام و آسائش کے سب سامان دیئے تھے مگر وہ وہیں بیٹھے رہے اور ایسے بیٹھے کہ مر کر اُٹھے، اچھا ان کے قصائد اور غزلیں دیکھ لو، کسی بادشاہ کی سلطنت میں اس شان و شکوہ اور دھوم دھام کے سامان موجود ہیں ؟ گویا سلطنت کا سامان سب انھی کا مال تھے کہ جس طرح چاہتے تھے اپنے کام میں لاتے تھے۔ جب وہ اپنے کلام کو پڑھتے تھے تو بادشاہ کو جو مالکِ سلطنت ہوتا تھا کچھ اُن سے زیادہ خوشی نہ ہوتی ہو گی۔ کیونکہ اُسے ان کا فکر بھی رہتا ہے، انھیں پرواہ بھی نہیں تھی۔

جس طرح کوئی زمین اپنی قابلیت کے موافق بے کچھ نہ کچھ روئیدگی کے نہیں رہ سکتی اس طرح کوئی زبان اپنے اہل زبان کی حیثیت بموجب نظم سے خالی نہیں رہ سکتی۔ ہر روئیدگی کی رنگینی اور شادابی اپنی سر زمین کی خاصیت ظاہر کرتی ہے۔

زبانوں کے سلسلہ میں ہر ایک نظم اپنی زبان اور اہلِ زبان کی شائستگی اور تہذیب علمی کے ساتھ لطافتِ طبع کے درجے دکھاتی ہے۔

زبانِ اُردو کے ظہور پر خیال کریں اور اس کی تصنیفات پر نگاہ کریں تو اس میں نثر سے پہلے نظم نظر آئے گی اور یہ عجیب بات ہے کہ ایک بچہ پہلے شعر کہے پھر باتیں کرنی سیکھے، ہاں نظم جوشِ طبع تھا، اس لئے پہلے نکل پڑا، نثر شائستگی کے بوجھ سے گرانبار تھی، اپنی ضرورت کے وقت ظہور کیا، نثر اُردو کی تصنیف 1145 ھ سے پہلے نظر نہیں آتی، البتہ نظم کی حقیقت زبانی حکایتوں اور کتابی روایتوں کی خاک چھان کر بہہ نکلتی ہے کہ جب برج بھاشا نے اپنی وسعتِ اخلاق سے عربی فارسی الفاظ کے مہمانوں کو جگہ دی تو طبیعتوں میں اس قدر روئیدگی نے بھی زور کیا، لیکن وہ صدہا سال تک دوہروں کے رنگ میں ظہور کرتی رہی یعنی فارس کی بحریں اور فارسی کے خیالات نہ آتے تھے۔

امیر خسرو نے کہ جن کی طبیعت اختراع میں اعلیٰ درجہ صنعت و ایجاد کا رکھتی تھی۔ ملکِ سخن میں برج بھاشا کی ترکیب سے ایک طلسم خانہ انشا پردازی کا کھولا۔

خالق باری جس کا اختصار آج تک بچوں کا وظیفہ ہے کئی بڑی بڑی جلدوں میں تھی، اس میں فارسی کی بحروں نے اول اثر کیا اور اسی سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت کون کون سے الفاظ مستعمل تھے، جو اب متروک ہیں، اس کے علاوہ بہت سی پہلیاں عجیب و غریب لطافتوں سے ادا کی ہیں۔ جن سے معلوم ہوتا ہے کہ فارسی کے نمک نے ہندی کے ذائقہ میں کیا لطف پیدا کیا ہے۔ مکرنی، انمل، دوسخنے وغیرہ خاص ان کے آئینہ کا جوہر ہے، ہر  ایک کی مثال لکھتا ہوں کیونکہ ان سے بھی اس وقت کی زبان کا کچھ نہ کچھ پتا لگتا ہے۔

نبولی کی پہیلی

تِرور سے اک تریا اُتری اس نے بہت رُجھایا

باپ کا اس کے نام پوچھا آدھا نام بتایا

آدھا نام پتا پر پیارا بوجھ پہیلی موری

امیر خسرو یوں کہیں اپنے نام نبولی

آئینہ کی پہیلی

فارسی بولی آئینہ

ترکی سوجی پائی نا

ہندی بولتے آرسی آئے

مُنھ دیکھو جو اسے بتائے

ناخن کی پہیلی

بیسیوں کا سَر کاٹ لیا

نا مارا نہ خون کیا

لال کی پہیلی

اندھا گونگا بہرا بولے گونگا آپ کہائے

دیکھ سفیدی ہوت انگارا گونگے سے بھڑ جائے

بانس کا مندر واہ کا باشا، باشے کا وہ کھا جا

سنگ ملے تو سر پر راکھیں واہ کورا اور اجا

سی سی کر کے نام بتایا، تا میں بیٹھا ایک

اُلٹا سیدھا ہر پھر دیکھو وہی ایک کا ایک

بھید پہیلی میں کہی تو سُن لے میرے لال

عربی، ہندی، فارسی تینوں کرو خیال

 دلی بلکہ ہندوستان کے اکثر شہروں میں رسم ہے کہ عام عورتیں برسات کی بہار میں گھم گڑواتی ہیں، درخت ہو تو اس میں جھولا ڈلواتی ہیں، مل مل کر جھولتی ہیں اور گیت گا کر جی خوش کرتی ہیں، ان میں شاید کوئی عورت ہو جو یہ گیت نہ گاتی ہو۔

جو پیا آون کہہ گئے اجھوں نہ آئے سوامی ہو

اے ہو آون کہہ گئے، وغیرہ۔ وغیرہ۔

یہ گیت بھی انہی امیر خسرو کا ہے اور بروا راگ میں لَے بھی انہی کی رکھی ہے، واہ کیا زبانیں تھیں کہ جو کچھ ان سے نکل گیا، عالم کو بھایا، گویا زمانے کے دل پر نقش ہو گیا۔ بنانے والوں نے ہزاروں گیت بنائے اور گانے والوں نے گائے، آج ہوئے، کل بھول گئے، چھ سو برس گزرے یہ آج تک ہیں اور ہر برسات میں ویسا ہی رنگ دے جاتے ہیں۔ اس حسنِ قبول کو خداداد نہ کہیے تو کیا کہیے۔

بڑی بڑی عورتوں کے گانے کے لئے تو ویسے گیت تھے، چھوٹی چھوٹی لڑکیوں کو پیا اور سوامی کی یاد میں اس طرح گانا مناسب نہ تھا، لیکن دل کی امنگ تو وہ بھی رکھتی تھیں، اُنھیں بھی فصل بہار کی منافی تھی، ان کے لئے اور گیت رکھے تھے۔ چنانچہ ایک لڑکی گویا سُسرال میں ہے، برسات کی رُت آئی وہ جھولتی ہے اور ماں کی یاد میں گاتی ہے :

اماں میرے باوا جو بھیجو جی کہ ساون آیا   –   یعنی مجھے آ کر لے جائے

بیٹی تیرا باوا تو بڈھا ری کہ ساون آیا   –   یعنی وہ کیونکر آ سکتا ہے۔

اماں میرے بھائی کو بھیجو جی کہ ساون آیا

بیٹی تیرا بھائی تو بالا ری کہ ساون آیا   –   یعنی بچہ اکیلا اتنی دور کیوں کر آئے

اماں میرے ماموں کو بھیجو ری کہ ساون آیا   –   یعنی اس کے لئے تو وہ دونوں عذر نہیں

بیٹی تیرا ماموں تو بانکا ری کہ ساون آیا   –   بھلا وہ کب میری سنے گا

ذرا غور کر کے دیکھو، باوجود علم و فضل اور اعلیٰ درجہ خیالات شاعرانہ کے جب یہ لوگ پستی کی طرف جھکتے تھے تو ایسے تہہ کو پہنچتے تھے کہ زمین کی ریت تک نکال لاتے تھے۔ ان الفاظ و خیالات پر نظر کرو، کیسے نیچر میں ڈوبے ہوئے ہیں، عورتوں اور لڑکیوں کے فطری خیالات اور دلوں کے ارمانوں کو کیا اصلی طور سے ظاہر کرتے ہیں، مکرنیوں کا انھیں موجد کہنا چاہیے۔

مرنی – 1

سگری رین موہے سنگ جاگا

بھور بھئی تب بچھڑن لاگا

اس کے بچھڑے پھاٹت ہیا

اے سکھی ساجن نا سکھی دیا

مکرنی – 2

سرب سلونا سب گن نیکا

وابن سب جگ لاگے پھیکا

وا کے سر پر ہووے کون

اے سکھی ساجن نا سکھی لُون

مکرنی – 3

وہ آوے تب شادی ہوئے

اس بن دوجا اور نہ کوئے

میٹھے لاگے وا کے بول

اے سکھی ساجن، نا سکھی ڈھول

ایک کنوئیں پر چار پنہاریاں پانی بھر رہی تھیں۔ امیر خسرو کو رستہ چلتے چلتے پیاس لگی، کنویں پر جا کر ایک سے پانی مانگا، اُن میں سے ایک انھیں پہچانتی تھی، اس نے اوروں سے کہا کہ دیکھو خسرو یہی ہے۔ انھوں نے پوچھا کیا تو خسرو ہے جس کے سب گیت گاتے ہیں اور پہیلیاں اور مکرنیاں انمل سنتے ہیں، انھوں نے کہا، ہاں۔ اس پر ایک ان میں سے بولی کہ مجھے کھیر کی بات کہہ دے، دوسری نے چرخہ کا نام لیا، تیسری نے ڈھول، چوتھی نے کتے کا، اُنھوں نے کہا کہ مارے پیاس کے دم نکلا جاتا ہے پہلے پانی تو پلا دو، وہ بولیں، جب تک ہماری بات نہ کہہ دے گا نہ پلائیں گی۔ اُنھوں نے جھٹ کہا۔

کھیر پکائی جتن سے چرخہ دیا جلا

آیا کتا کھا گیا تو بیٹھی ڈھول بجا

لا پانی پلا

اِسی طرح کبھی کبھی ڈھکوسلا کہا کرتے تھے کہ وہ بھی انھیں کا ایجاد ہے۔

بھادوں پکی پیپلی، چو چو پڑی کپاس

بی مہترانی دل پکاؤ گی یا ننگا ہی سو رہوں

دو سخنے

گوشت کیوں نہ کھایا، ڈوم کیوں نہ گایا

گلا نہ تھا

انار کیوں نہ چکھا، وزیر کیوں نہ رکھا

دانا نہ تھا

دو سخنے

سود ا اگر راچہ مے باید، بوچے کو کیا چاہیے

دوکان

تشنہ راچہ مے باید، ملاپ کو کیا چاہیے

چاہ

فارسی اُردو

شکار بچہ مے باید کرد، قوت مغز کو کیا چاہیے

بادام

موسیقی میں ان کی طبیعت ایک بین تھی کہ بِن بجائے پڑی بکتی تھی، اس لئے دُہرپت کی جگہ قول و قلبانہ بنا کر بہت سے راگ ایجاد کئے کہ ان میں سے اکثر گیت اُن کے آج تک ہندوستان کی زن و مرد کی زبان پر ہیں، بہار راگ اور بسنت کے میلہ نے اِنہی کی طبیعت سے رنگ پڑا ہے، بین کو مختصر کر کے ستار بھی انہی نے نکالا ہے۔

لطیفہ :- سلطان جی صاحب کے ہاں ایک سیاح فقیر مہمان آئے، رات کو دسترخوان پر بیٹھے، کھانے کے بعد باتیں شروع ہوئیں، سیاح نے ایسے دفتر کھولے کہ بہت رات گئی ختم ہی نہ ہوں، سلطان جی صاحب نے کچھ انگڑائیاں کچھ جمائیاں بھی لیں، وہ سادہ لوح کسی طرح بھی نہ سمجھے، سلطان جی صاحب مہمان کی دل شکنی سمجھ کر کچھ نہ کہہ سکے۔ مجبور بیٹھے رہے، امیر خسرو بھی موجود تھے مگر بول نہ سکتے تھے کہ آدھی رات کی نوبت بجی۔ اس وقت سلطان جی نے کہا کہ خسرو یہ کیا بجا؟ عرض کی آدھی رات کی نوبت ہے، پوچھا اس میں کیا آواز آتی ہے ؟ اُنھوں نے کہا، سمجھ میں تو ایسا آتا ہے :-

نان کہ خوردی خانہ برد، نان کہ خوردی خانہ برد، خانہ برد خانہ برد، نان کہ خوردی خانہ برد، نہ کہ بدستِ تو کردم خانہ گرد، خانہ بروخانہ برد،

حرف حرف کی حرکت و سکون پر خیال کرو، ایک ایک چوٹ کو کیا پورا پورا ادا کر رہے ہیں، اور نہ بدست تو کردم خانہ گرد کو دیکھو، اس نے کیا کام کیا۔

نقل : ایک دن کسی کوچہ میں سے گزر ہوا، دھُنیا ایک دوکان میں روئی دھُنک رہا تھا، کسی نے کہا کہ جس دھُنیئے کو دیکھو ایک ہی انداز پر روئی دھُنکتا ہے۔ سب ایک ہی اُستاد کے شاگرد ہیں، کوئی بولا کہ قدرتی اُستاد نے سب کو ایک ہی انداز پر سکھایا ہے، آپ نے کہا کہ سکھایا ہے اور ایک حرکت میں بھی تال کو ہاتھ سے نہیں جانے دیا۔ کوئی بولا کہ لفظوں میں کیونکر لا سکیں۔ فرمایا :

در پئے جاناں جاں ہم رفت، جاں ہم رفت، جاں ہم رفت، رفت رفت جاں ہم رفت، ایں ہم رفت و آں ہم رفت، آنہم فرت آنہم رفت، اینہم آنہم اینہم آنہم رفت، رفتن، رفتن، رفتن، دہ ذہ، رفتن دہ، رف، رفتن دہ۔

نقل : محلہ کے سرے پر ایک بڑھیا ساقن کی دکان تھی۔ چمو (بکسر اول، واو مجہول) اس کا نام تھا۔

شہر کے بیہودہ لوگ وہاں بھنگ چرس پیا کرتے تھے، جب یہ دربار سے پھر کر آتے یا تفریحاً گھر سے نکلتے تو وہ بھی سلام کرتی، کبھی کبھی حقہ بھر کر سامنے لے کھڑی ہوتی۔ یہ بھی اس کی دلشکنی کا خیال کر کے دو گھونٹ لے لیا کرتے،، ایک دن اُس نے کہا بلائیں لوں، ہزاروں غزلیں، گیت، راگنی بناتے ہو، کتابیں لکھتے ہو، کوئی چیز لونڈی کے نام پر بھی بنا دو، انھوں نے کہا بی چمو بہت اچھا، کئی دن کے بعد اُس نے پھر کہا کہ بھٹیاری کے لڑکے لئے خالق باری لکھ دی۔ ذرا لونڈی کے نام پر بھی لکھ دو گے تو کیا ہو گا۔ آپ کے صدقے سے ہمارا نام بھی رہ جائے گا۔ اس کے بار بار کہنے سے ایک دن خیال آ گیا۔ کہا لو بھی چمو سنو (بادشاہ کے ہاں اُس زمانہ میں چوپہری نوبت بجا کرتی تھی) :

اوروں کی چوپہری باجے چمو کی اٹھ پہری

باہر کا کوئی آئے ناہیں آئیں سارے شہری

صاف صفوف کر آ گئے راکھے جس میں ناہیں تُوسل

اوروں کے جہاں سینک سماوے چمو کے وہاں موسل

یعنی یہ بادشاہوں سے بھی بڑی ہیں۔ جنگلی گنواروں کا کام نہیں۔ سفید پوش آتے ہیں۔ پیالہ بھنگ صاف مصفیٰ حاضر کرتی ہے جس میں تس تِنکا نہ ہو۔ بھنگڑ فخریہ کہا کرتے ہیں کہ وہ ایسی بھنگ پیتا ہے کہ جس میں گاڑھے پن کے سبب سے سینہ تک کھڑی رہے، آپ مبالغہ کرتے ہیں کہ وہ ایسی بھنگ بناتی ہیں کہ جس میں موسل کھڑا رہے۔ خیر ان کی بدولت چمو کا نام بھی رہ گیا۔

حق پوچھو تو جس طرح ہر جاندار کی عمر ہے اسی طرح کتاب کی بھی عمر ہے مثلاً شاہنامہ کو ۹ سو برس ہوئے۔ سکندر نامہ کو ۷ سو برس سمجھو۔ گلستاں بوستاں کو ۶ سو  برس کہو۔ زلیخا کی عمر قریب ۳ سو کے ہوئی مگر اب تک سب جوان ہیں، اُردو میں باغ و بہار، بدر منیر وغیرہ جوان ہیں، فسانہ عجائب جاں بلب ہو گیا۔ بہت کتابیں اول شہرت پاتی ہیں پھر گمنام ہو جاتی ہیں، یہ گویا بچے ہی تھے کہ مر گئے۔ بہتیری تصنیف ہوئی ہیں اور چھپتی ہیں، مگر کوئی نہیں پوچھتا یہ بچے مرے ہوئے پیدا ہوئے ہیں، بعض کتابوں کی عمریں میعاد معلوم پر ٹھہری ہوئی ہیں، وہ مدارس سرکاری کی تصنیفیں ہیں کیونکہ جب تک تعلیم میں داخل ہیں تب تک چھپتی ہیں اور خواہ مخواہ بکتی ہیں۔ لوگ پڑھتے ہیں۔ جب تعلیم سے خارج ہو گئیں مر گئیں کوئی آنکھ اُٹھا کر بھی نہیں دیکھتا۔

قبولِ خاطر و لطفِ سخن خداداد است

خدا یہ نعمت نصیب کرے

غرض اس جوشِ طبع اور ہنگامہ ایجاد میں ایک تازہ ایجاد ہوا جس میں ہمارے لئے تین باتیں قابلِ لحاظ ہیں :-

۱)  مضامین عاشقانہ سے وہ سلسلہ اشعار کا ہمارے ہاتھ آیا جسے غزل کہتے ہیں۔ وہی قافیے یا ردیف اور قافیے دونوں کی پابندی، اسی طرح اول مطلع یا کئی مطلع، پھر چند شعر، اخیر میں مقطع اور اس میں تخلص۔

۲)  عروضِ فارسی نے پہلا قدم ہندوستان میں رکھا۔

۳)  فارسی اور بھاشا کو نون مرچ کی طرح اِس انداز سے ملایا ہے کہ زبان پر چٹخارا دیتی ہے۔ اس میں یہ بات سب سے زیادہ قابلِ لحاظ ہے کہ اُنھوں نے بنیاد عشق کی عورت ہی کی طرف سے قائم کی تھی جو کہ خاصہ نظم ہندی کا ہے مگر یہ نہیں کہہ سکتے کہ اس تعشق کا انقلاب کس وقت ہوا؟

غزل مذکور یہ ہے :

زحالِ مسکیں مکن تغافل، درائے نیناں بنائے بتیاں

کہ تابِ ہجراں ندارم اے جاں، نہ لیہو کاہے لگائے چھتیاں

شانِ ہجراں دراز چوں زلف و روزِ وصلت چو عمر کوتاہ

سکھی پیا کو جو میں نہ دیکھوں، تو کیسے کاٹوں اندھیری رتیاں

یکایک از دل دوچشم جادو بصد فریبم ببُرد تسکیں

کِسے پڑی ہے جو جا سُناوے پیارے پی کو ہماری بتیاں

چو شمع سوزاں چوذرہ حیراں ز مہرآں مہ بگشتم آخر

نہ نیند نیناں، نہ انگ چینا، نہ آپ آویں نہ بھیجیں پتیاں

بحق روزِ وصال دلبر کہ دادِ مارا فریب خرد

سپیت منکے درائے راکھوں جو جائے پاؤں پیا کے کھتیاں

ابتدائے ایجاد میں ایسا ہی ہوتا ہے۔ زمانہ مبتدیوں کا اصلاح دینے والا ہے پھر تراشیں دے کر اعلیٰ درجہ خوبی و خوش اسلوبی پر پہنچا لیتا ہے مگر اس وقت اس طرف کسی اور نے ایسی توجہ نہ کی جس سے اس طرز کا رواج جاری ہو جاتا البتہ ملک محمد جائسی نے مثنوی پدماوت کے علاوہ دوہرے اور گیت بھی لکھے۔ اور وہ ایسے اعلیٰ رتبہ کے ہیں کہ ڈاکٹر گلگرسٹ صاحب کی تصنیف میں نہایت مدد کرتے ہیں، تعجب یہ ہے کہ فارسی کی بحروں میں کوئی شعر اس کا نہیں۔ دکن میں ایک سعدی گذرے ہیں، اُن کا فقط اتنا حال معلوم ہے کہ اپنے تئیں ہندوستان کا سعدی شیرازی سمجھتے تھے، اور تعجب ہے کہ مرزا رفیع سودا نے اپنے تذکرہ میں اُن کے اشعار مندرجہ ذیل کو شیخ سعدی شیرازی ہی کے نام پر لکھا ہے۔

قشقہ چو دیدم بر رخت گفتم کہ یہ کاویت ہے

گفتا کہ در ہو باد رہے اس شہر کی یہ ریت ہے

ہمنا نمہن کو دل دیا، تم دل لیا اور دُکھ دیا

ہم یہ کیا تم وہ کیا، ایسی بھلی یہ پیت ہے

سعدی کہ کفتہ ریختہ، در ریختہ، دُر ریختہ

شیر و شکر ہم ریختہ، ہم ریختہ ہم گیت ہے

کبیر اور تلسی داس وغیرہ کے دوہرے عالم میں زبان زد ہیں مگر وہ فقط اتنی سند کے لئے کارآمد ہیں کہ اس عہد میں فارسی الفاظ کا دخل ہندوؤں کی زبانوں پر بھی ہو گیا تھا، اُنھیں اس نظم سے علاقہ نہیں جو فارسی سے آ کر اُردو کے لباس میں ظاہر ہوئی اور ملکی مالک کو بے دخل کر کے گوشہ میں بٹھا دیا۔

حامد کوئ شخص ہوئے ہیں، اِن کا زمانہ معلوم نہیں، کہتے ہیں کہ حامد باری انھیں کی تصنیف ہے، اُن کی فقط سات شعر کی ایک غزل دیکھی جس سے معلوم ہوتا ہے کہ شاید کوئی پنجابی بزرگ ہیں۔ اس میں سے مطلع پر قناعت کرتا ہوں :

عزمِ سفر چوں کر دی ساجن نینوں نیند نہ آئی جی

قدرِ وصالت ندا نستم تم بن برہ ستائی جی

اگر یہی شعر ہیں تو جب سے اب تک بے شمار شاعر پنجاب میں نکل آئیں گے۔ یہاں کی شاعری اب تک انھیں بتیوں میں جاری ہے، لیکن یہ شاعر اور ان کی شاعری وہ نہیں ہے جس سے ہم بحث کرتے ہیں۔ احمد گجرأتی ہم عہد و ہم وطن دلی کے ہیں، وہ فرماتے ہیں :

گر بیضہ زاغے کسے درز یہ سیمرغے نہد

از اصل خود ناید بروں آخر گلیلا ہوئے پر

گر طفلکے بازی گرے خوانندہ و عالم شود

اصلیکہ وارد کے رود آخر زنبورا ہوئے پر

گر بچہ شیرے کسے باشیر روبہ پرورد

مروی کہ وارد کے رد و آخر بگیلا ہوئے پر

سیوا ایک مصنف دکن میں گزرا ہے، جس نے روضۃ الشہداء کا دکنی زبان میں ترجمہ کیا، مرثیے اس کے اب وہاں کے امام باڑوں میں پڑھے جاتے ہیں اور گمان غالب ہے کہ اس طرح کے شاعر اِن عہدوں میں بہت ہوں گے مگر ایسی شاعری کو علمی شاعری نہیں کہہ سکتے۔

نواز نام ایک مصنف نے فرخ سیر کے عہد میں شکنتلا کا ترجمہ بھاشا میں لکھا، اس عہد میں نظمِ اُردو کے صنف کا یہی سبب ہو گا کہ جو ذی استعداد اُردو کے اہلِ زبان ہوتے تھے وہ اُردو کی شاعری کو فخر نہ سمجھتے تھے۔ کچھ کہنا ہوتا تو فارسی میں کہتے تھے۔ البتہ عوام الناس موزوں طبع دل کی ہوس پوری کرنے کو جو منھ میں آتا تھا کہتے جاتے تھے، جو اہلِ ولایت شاعر ہوتے تھے، وہ فارسی شعر کہتے۔ اُردو اُنھیں آتی نہ تھی، کہتے تو ایسا معلوم ہوتا تھا گویا تمسخر کرتے ہیں، چنانچہ مرزا معز موسوی خاں فطرت کہ زبدہ شعرائے ایران اور عمدہ شعرائے عالمگیری سے تھے اور بعد اُن کے قزلباش خاں امید کے متفرق اشعار دیکھے، معلوم ہوتا ہے کہ جو کچھ اُس وقت ٹوٹی پھوٹی زبان تھی اسے پورا ادا نہ کر سکتے، چنانچہ فرماتے تھے :

از زلفِ سیاہ تو بدل دوم پری ہے

در خانہ آئینہ کتا جوم پری ہے

قزلباش نہاں اُمید باوجودیکہ فارسی میں بڑے نامور ہیں اور اہل ہند کے ساتھ اُن کے جلسوں کی گرمجوشیاں بھی مشہور ہیں مگر اُردو میں جو اظہارِ کمال کیا ہے وہ یہ ہے :

بامن کی بیٹی آج مری انکھ موں پری

غصہ کیا و گالی دیا اور دگر لری

اس بات میں سب کا اتفاق ہے کہ نظم موجودہ نے دکن سے ظہور کیا، چنانچہ میر تقی میر نے بھی ایک غزل میں شاعرانہ انداز سے اشارہ کیا ہے :

خوگر نہیں کچھ یوں ہی ہم ریختہ گوئی کے

معشوق جو تھا اپنا باشندہ دکن کا تھا

اور قائم ان کے ہم عصر نے صاف کہہ دیا ہے :

قائم میں غزل طور کیا ریختہ ورنہ

اک بات لچر سی بزبانِ دکنی تھی

بہرحال عالمگیر کے عہد میں دلی نے اس نظم کا چراغ روشن کیا جو محمد شاہ کے عہد میں آسمان پر ستارہ ہو کر چمکا اور شاہ عالم کے عہد میں آفتاب (آفتاب شاہ عالم بادشاہ کا تخلص تھا۔ وہ خود بڑا مشاق شاعر ہے جس کے چار دیوان اُردو میں موجود ہیں ) ہو کر اوج پر آیا۔

نظم اُردو کے آغاز میں یہ امر قابل اظہار ہے کہ سنسکرت میں ایک ایک لفظ کے کئی کئی معنی ہیں۔ اسی واسطے نظمِ اُردو اور برج بھاشا دونوں کی بنیاد ذومعنی الفاظ اور ایہام پر ہوتی تھی، فارسی میں یہ صنعت ہے گر کم، اُردو میں پہلے پہلے شعر کی بنا اسی پر رکھی گئی اور دورِ اول کے شعراء میں برابر وہی قانون جاری رہا اور اس عہد کے چند اشعار بھی نمونہ کے طور پر لکھتا ہوں :

لام نستعلیق کا ہے اُس بُتِ خوش خط کی زُلف

ہم تو کافر ہوں اگر بندے نہ ہوں اسلام کے

کیوں نہ ہو ہم سے وہ سجن باغی

قد ہو جس کا نہال کی مانند

تو جو دریا کے پار جلتا ہے

دل مرا وار وار جاتا ہے

تم دیکھو یا نہ دیکھو ہم کو سلام کرنا

یہ تو قدیم ہی سے سر پر ہمارے “کر” ہے

(کر ہندی میں محصول کو سنسکرت میں ہاتھ کو کہتے ہیں، سَر کے بالوں کی جڑوں میں جو خشکی ہو جائے اسے بھی کہتے ہیں۔)

نہیں محتاج زیور کا جسے خوبی خدا دیوے

کہ آخر بدنما لگتا ہے دیکھو چاند کو گہنا

سج دکھا بانکی نہیں چھوڑے گا میرا نقد دل

آج وہ افغاں پسر آتا یہی ہے دل میں ٹھان

نہ دیوے لے کے دل وہ جعدہ مشکیں

اگرباور نہیں تو مانگ دیکھو

شاہِ حاتم نے بڑی کوشش کر کے اِن رنگ آمیزیوں سے اُردو کو پاک کیا، چنانچہ اُن کے حال میں معلوم ہو گا۔

سودا کے عہد میں بھی اس مادہ فاسد کا بقیہ چلا آتا تھا، چنانچہ اُنھوں نے بھی اک قصیدہ میں اُن بزرگوں کی شکایت کی ہے جن کے شمار میں سے ایک شعر یہ ہے :

مونہو پرورشِ شانہ تو پھر ہے موسل

رام پور کی ہو کٹاری تو کہیں سیتا پھل

مگر لطف یہ ہے کہ خود بھی موقع پاتے تھے تو کہیں نہ کہیں کہہ جاتے تھے، چنانچہ فرمایا ہے :

حکاک کا پسر بھی مسیحا سے کم نہیں

فیروزہ ہوئے مژدہ تو دیتا ہے وہ جِلا

اگرچہ وہ انداز پہلے کی نسبت بالکل نہیں رہے پھر بھی جس قدر ہیں وہ ایسے زبان پر چڑھے ہوئے ہیں کہ جن مضامین کے اَدا کرنے کی ہمیں آج کل ضرورت پڑتی ہے اس کے لئے خلل انداز ہوتے ہیں، یہ بات بھی بھولنی نہ چاہیے کہ جس طرح ایک نوجوان مرغ اپنے پَر جھاڑ کر نئے پر نکالتا ہے، اسی طرح ہماری زبان بھی اپنے الفاظ کو بدلتی چلی آتی ہے، چنانچہ بہت سے الفاظ ہیں، جن کا دور بدور شعراء کے کلام میں اشارہ کیا گیا ہے۔

یہ اظہار قابلِ افسوس ہے کہ ہماری شاعری چند معمولی مطالب کے پھندوں میں پھنس گئی ہے، یعنی مضامینِ عاشقانہ، مے خواری، مستانہ، بے گل و گلزار و ہمی رنگ و بُو کا پیدا کرنا، ہجر کی مصیبت کا رونا، وصلِ موہوم پر خوش ہونا، دنیا سے بیزاری، اسی میں فلک کی جفا کاری اور غضب یہ ہے کہ اگر کوئی اصلی ماجرا بیان کرنا چاہتے ہیں تو بھی خیالی استعاروں میں ادا کرتے ہیں، نتیجہ جس کا یہ کہ کچھ نہیں کر سکتے ہیں۔ میرے دوستو ! دیکھتا ہوں کہ علوم و فنون کا عجائب خانہ کھلا ہے اور ہر قوم اپنے اپنے فنِ انشاء کی دستکاریاں بھی سجائے ہوئے ہے۔ کیا نظر نہیں آتا، ہماری زبان کس درجہ پر کھڑی ہے ؟ ہاں صاف نظر آتا ہے کہ پا انداز میں پڑی ہے۔

ہمارے بزرگوں میں سے دلی میں اول مرزا رفیع سودا پھر شیخ ابراہیم ذوق نے زبان کی پاکیزگی، الفاظ کی شستگی اور ترکیب کی چستی سے کلام میں خوب زور پیدا کیا، میر تقی میر اور خواجہ میر درد نے زار حالی افسردہ دلی، دنیا سے بیزاری کے مضامین کو خوب ادا کیا۔ غالب نے بعض مواقع پر ان کی عمدہ پیروی کی مگر معنی آفرینی کے عاشق تھے اور زیادہ تر توجہ اُن کی فارسی پر رہی، اس لئے اُردو میں غالباً صاف اشعار کی تعداد سو (۱۰۰) دو سو (۲۰۰) شعر سے آگے نہ نکلی۔ جرأت نے عاشق و معشوق کے معاملات اور دونوں کے دلی خیالات کو نہایت خوبی اور شوخی سے بیان کیا۔ مومن خان نے باوجود مشکل پسندی کے پیروی کی۔ لکھنؤ میں شیخ امام بخش ناسخ اور خواجہ حیدر علی آتش، رند، صبا، وزیر وغیرہ نے شاعری کا حق ادا کیا مگر پھر خیال کرو کہ فقط زبانی طوطا مینا بنانے سے حاصِل کیا؟ جو شاعری ہمارا ہر قسم کا مطلب اور ہمارے دل کا ہر ایک ارمان پورا نہ نکال سکے گویا ایک ٹوٹا قلم ہے جس سے پورا حرف نہ نکل سکے۔ دارالخلافہ دہلی جو کہ انشاء اور اُردو شاعری کے لئے دارالضرب تھا، وہاں ذوق اور غالب نے رسمی شاعری پر خاتمہ کیا، لکھنؤ میں ناسخ اور آتش سے شروع ہو کر رند، وزیر، صبا تک سلسلہ جاری رہا، ایک زمانہ میں مثل مشہور تھی کہ بگڑا شاعر مرثیہ گو، اور بگڑا گویا مرثیہ خوان، لیکن لکھنؤ میں ان دونوں شاخوں کے صاحبِ کمال بھی ایسے ہوئے کہ اصولوں کو رونق دے دی، اسی اعتبار سے کہہ سکتے ہیں کہ میر انیس اور مرزا دبیر خاتمہ شعرائے اُردو کا ہیں اور چونکہ اِس فن کے صاحبِ کمال کا پیدا ہونا نہایت درجہ کی آسودگی اور زمانہ کی قدردانی اور متعدد سامانوں پر منحصر ہے اور اب زمانہ کا رنگ اس کے برخلاف ہے، اس لئے ہندوستان کو اس شاعری کی ترقی اور ایسے شعراء کے پیدا ہونے سے بالکل مایوس ہو جانا چاہیے، البتہ کوئی نیا فیشن نکلے، پھر اُس میں خدا جانے کیا کیا کمال ہوں، اور کون کون اہلِ کمال ہوں۔

خاتمہ کلام میں عقل کے نجومی سے سوال ہوا کہ اس شاعری کا ستارہ جو نحوستِ زوال میں آ گیا ہے، کبھی اوجِ اقبال پر بھی طلوع کرے گا یا نہیں ؟ جواب ملا کہ نہیں۔ پوچھا گیا کہ سبب؟ جواب ملا کہ حکامِ وقت کی یہ زبان نہیں، نہ اُن کے کارآمد ہے۔ اسی لئے وہ اس کے قدردان نہیں نہ وہ اسے جانتے ہیں، نہ ان کے جاننے کو کچھ فخر جانتے ہیں، وہاں سے ہمارے شعراء کو جھوٹے خوشامدی کا خطاب ملا ہوا ہے۔ اچھا یا قسمت یا نصیب، جس لوگوں کے کلام ہماری زبان کے لئے سند سمجھے جانے تھے، اُن کی تو یہ عزت ہوئی، اب اس نیم جان مُردہ کے رونے والے چند بڈھے رہے جن کی درد ناک آوازیں کبھی کبھی آہِ سرد کے سُروں میں بلند ہو کر سینوں میں رہ جاتی ہیں، کبھی وہ دل آسودہ ہوتے ہیں تو ایک مشاعرہ کر کے مل بیٹھتے ہیں اور آپس ہی میں ایک دوسرے کی تعریفیں کر کے جی خوش کر لیتے ہیں، شاعر غریب اپنے بزرگوں کی قبریں قائم رکھنے کو اتنی ہی تعریف پر قناعت کر لیں مگر پیٹ کو کیا کریں ؟ یہ دوزخ تو بہت سی تعریف سے بھی نہیں بھرتا۔

پھر سوال ہوا کہ کوئی ایسی تدبیر ہے، جس سے اس کے دن پھریں، اور پھر ہماری نظم کا باغ لہلہاتا نظر آئے، جواب ملا کہ ہاں۔ ہمت و تدبیر کو خدا نے بڑی برکت دی ہے۔ صورت یہی ہے کہ ایشیا میں ایسے کمالوں کی رونق حکام کی توجہ سے ہوتی ہے۔ شاعروں کو چاہیے کہ اُسے حاکموں کے کارآمد یا اُن کی پسند کے قابل بنائیں۔ ایسا کریں گے تو شعر کہنے والوں کو کچھ فائدہ ہو گا، اور جس قدر فائدہ ہو گا، اُسی قدر چرچا زیادہ ہو گا۔ اسی قدر ذہن فکر و جودت کریں گے اور دلچسپ ایجاد اور خوش نما اختراع کر نکالیں گے، اسی کو ترقی کہتے ہیں۔

یہ تو تم نے دیکھ لیا کہ اُردو میں جو سرمایہ انشاء پردازی کا ہے، فارسی کی بدولت ہے، قدمائے فارس ہر قسم کے مضامین سے لطف اُٹھاتے تھے، متاخرین فقط غزل میں منحصر ہو گئے۔ ذی استعداد قصیدے بھی کہتے رہے، اُردو والوں نے بھی آسان کام سمجھ کر اور عوام پسندی کو غرض ٹھہرا کر حُسن و عشق وغیرہ کے مضامین کو لیا اور اس میں کچھ شک نہیں کہ جو کچھ کیا، بہت خوب کیا، لیکن وہ مضمون اس قدر مستعمل ہو گئے کہ سُنتے سُنتے کان تھک گئے ہیں، وہی مقرری باتیں ہیں، کہیں ہم لفظوں کو پس و پیش کرتے ہیں کہیں ادل بدل کرتے ہیں اور کہے جاتے ہیں، گویا کھائے ہوئے بلکہ اوروں کے چبائے ہوئے نوالے ہیں، اُنھیں کو چباتے ہیں اور خوش ہوتے ہیں، خیال کرو اس میں کیا مزہ رہا، حسن و عشق سبحان اللہ، بہت خوب، لیکن تابہ کے ؟ حور ہو یا پری، گلے کا ہار ہو جائے تو اجیرن ہو جاتی ہے۔ حُسن و عشق سے کہاں تک جی نہ گھبرائے اور اب تو وہ بھی سو برس کی بڑھیا ہو گئی۔

ایک دشواری یہ بھی ہے کہ اِن خیالات کے ادا کرنے کے لئے ہمارے بزرگ الفاظ اور معانی اور استعاروں اور تشبیہوں کے ذخیرے تیار کر گئے ہیں اور وہ اس قدر رواں ہو گئے ہیں کہ ہر شخص تھوڑے فکر سے کچھ نہ کچھ کر لیتا ہے اور اگر خیال نظم کرنا چاہے تو ویسا سامان نہیں، البتہ ذی استعداد مشاق چاہیں تو کر بھی سکتے ہیں، لیکن کم بخت حسن و عشق کے مضمون، اُس کے خط و خال اور بہار و گلزار کے الفاظ ان کی زبان و وہاں میں رچے ہوئے ہیں۔ اگر کچھ کہنا چاہیں تو اول اُسے بھلائیں پھر اُس کے مناسب مقام ویسے ہی نرالے استعارے، نئی تشبیہیں، انوکھی ترکیبیں اور لفظوں کی عمدہ تراشیں پیدا کریں، اور بڑی عرق ریزی اور جانکاہی کا کام ہے، بے ہمتی جو ہماری قوم پر حاکمِ باختیار بنی ہوئی ہے اسے اس سے زیادہ روکنے کا موقع کہاں مل سکتا ہے۔

اس اتفاقی معاملہ نے اور تو جو کیا سو کیا، بڑی قباحت یہ پیدا کی کہ اربابِ زمانہ نے متفق اللفظ کہہ دیا کہ اُردو نظم مضامینِ عاشقانہ ہی کہہ سکتی ہے۔ اسے ہر ایک مضمون کے ادا کرنے کی طاقت اور لیاقت بالکل نہیں اور یہ ایک بڑا داغ ہے جو ہماری قومی زبان کے دامن پر لگا ہے، سوچتا ہوں کہ اُسے کون دھوئے اور کیوں کر دھوئے، ہاں یہ کام ہمارے نوجوانوں کا ہے جو کشورِ علم میں مشرقی اور مغربی دونوں دریاؤں کے کناروں پر قابض ہو گئے ہیں۔ اُن کی ہمت آبیاری کرے گی، دونوں کناروں سے پانی لائے گی اور اس داغ کو دھوئے گی، بلکہ قوم کے دامن کو موتیوں سے بھر دے گی۔

*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*

 

آبِ حیت کا پہلا دور

تمہید

نظم اُردو کے عالم کا پہلا نوروز ہے، نفسِ ناطقہ کی روح یعنی شاعری عالمِ وجود میں آئی تھی مگر بچوں کی نیند پڑی سوتی تھی۔ ولی نے آ کر ایسی میٹھی آواز سے غزلخوانی شروع کی ہے کہ اس بچے نے ایک انگڑائی لے کر کروٹ لی، اور اثر اس کا درجہ حرارت برقی رو کی طرح ہر دل میں دوڑ گیا۔ گھر گھر شاعری کا چرچا ہے، جس امیر اور جس شریف کو دیکھو، شعر کی سوچ میں غرق بیٹھا ہے، ان بزرگوں کی باتیں تو ان کے شعروں سے بھی سُن سکتے ہو، مگر حیران ہوں کہ صورت کیوں کر دکھا دوں۔ اول  تو حرفوں میں تصویر کھینچنی مشکل، اس پر میں زبان کا اپاہج، اس رنگ کے الفاظ کہاں سے لاؤں جو ایسے لوگوں کی جیتی جاگتی بولتی چالتی تصویر کھینچ دکھاؤں کہ ادب کی آنکھ ان کی متانت پر نظر نہیں اُٹھا سکتی، دیکھو جلسہ مشاعرہ کا امرا و شرفا سے آراستہ ہے۔ معقول معقول بڈھے اور جوان برابر لمبے لمبے جامے، موٹی موٹی پگڑیاں باندھے بیٹھے ہیں، کوئی کٹاری باندھے ہے، کوئی سیف لگائے، بعض وہ کہن سال ہیں کہ جن کے بڑھاپے کو سفید داڑھی نے نورانی کیا ہے۔ بعض ایسے ہیں کہ عالمِ جوانی میں اتفاقاً داڑھی کو رخصت کیا تھا۔ اب کیوں کر رکھیں کہ وضعداری کا قانون ٹوٹتا ہے، اس پر خوش مزاجی کا یہ عالم ہے کہ ان کے بڑھاپے کی زندہ دلی سے آج نوجوان کی جوانی پانی پانی ہوتی ہے، ان شوخیوں سے اُنھیں کچھ اور مطلب نہیں، مگر یہ کہ اپنے اوپر آپ ہنسیں، اوروں کو خوش کریں۔

اِس دَور میں ولی تو مجلس کی شمع ہیں اور اہلِ مجلس دِلی اور دکن کے شریف و نجیب فصیح زبان ہیں کہ جو کچھ دیکھتے ہیں، اسی روشنی سے دیکھتے ہیں، ان کی زبان ایک ہی سمجھنی چاہیے مگر ولی نے اپنے کلام میں ایہام اور الفاظِ ذو معنی سے اتنا کام نہیں لیا، خدا جانے ان کے قریب العہد بزرگوں کو پھر اس قدر شوق اس کا کیونکر ہو گیا، شاید دوہروں کا انداز جو ہندوستان کی زبان کا سبزہ خود رَو تھا، اُس نے اپنا رنگ دیا، اگرچہ ولی کے بعد دِلی میں سینکڑوں صاحبِ طبع دیوان بنانے پر کمربستہ ہو گئے مگر میں اس مشاعرہ میں چند ایسے بزرگوں کو لاتا ہوں جن کے ناموں پر اس وقت کے معرکوں میں استادی کا چتر شاہی سایہ کئے تھا اور غالباً اس زبان کا نمونہ شعر کا انداز دکھانے کو اس قدر کافی ہے کہ ان بزرگوں کے کلام میں تکلف نہیں۔ جو کچھ سامنے آنکھوں کے دیکھتے ہیں اور اس سے دل میں جو خیالات گزرتے ہیں وہی زبان سے کہہ دیتے ہیں، ایچ پیچ کے خیال، دور دور کی تشبیہیں، نازک استعارے نہیں بولتے، اسی واسطے اشعار بھی صاف اور بے تکلف ہیں، اور یہ دلیل ہے اس بات کی کہ ہر ایک زبان اور اُس کی شاعری جب تک عالمِ طفولیت میں ہوتی ہے، تب تک بے تکلف، عام فہم اور اکثر حسبِ حال ہوتی ہے۔ اسی واسطے لطف انگیز ہوتی ہے، اس میں شک نہیں کہ اُن کے محاورات قدیمی اور مضمون بھی اکثر سبک اور مبتذل ہوں گے مگر کلام کی سادگی اور بے تکلفی ایسی دل کو بھلی لگتی ہے جیسے ایک حُسن خداداد ہو کہ اُس کی قدرتی خوبی ہزاروں بناؤ سنگار کا کام کر رہی ہے۔ میں خود نہیں کہتا، فلاسفہ سلف کا قول سنتا ہوں کہ ہر شے اپنی مختلف کیفیتوں میں خوبصورتی اور بدصورتی کا ایک عالم رکھتی ہے۔ پس انسان وہی ہے کہ جس پیرایہ میں خوبصورتی جوبن دکھائے، یہ اس سے کیفیت اٹھائے نہ کہ فقط حسینوں کے زلف و رخسار میں پریشان رہے، خوش نظر اُسے نہیں کہتے کہ فقط گل و گلزار ہی پر دیوانہ پھرے، نہیں ! ایک گھاس کی پتی بلکہ سڈول کانٹا خوشنما ہو تو اُس کی نوک جھوک پر بھی پھول ہی کی طرح لوٹ جائے۔

*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*

شمس ولی اللہ

یہ نظم اُردو کی نسل کا آدم جب ملکِ عدم سے چلا تو اس کے سر پر اولیت کا تاج رکھا گیا، جس میں وقت کے محاورہ  نے اپنے جواہرات خرچ کئے اور مضامین کی رائج الوقت دستکاری سے مینا کاری کی، جب کشورِ وجود میں پہنچا تو ایوانِ مشاعرہ کے صدر میں اس کا تخت سجایا گیا، شہرتِ عام نے جو اِس کے بقائے نام کا ایوان بنایا ہے اس کی بلندی اور مضبوطی کو ذرا دیکھو، اور جو کتبے لکھے ہیں اُنھیں پڑھو، دنیا تین سو برس دور نکل آئی ہے مگر وہ آج تک سامنے نظر آتے ہیں اور صاف پڑھے جاتے ہیں، اُس زمانہ تک اُردو میں متفرق شعر ہوتے تھے، ولی اللہ کی برکت نے اُسے وہ زور بخشا کہ آج کی شاعری نظمِ فارسی سے ایک قدم پیچھے نہیں، تمام بحریں فارسی کی اُردو میں لائے، شعر کو غزل اور غزل کو قافیہ ردیف سے سجایا۔ ردیف دار دیوان بنایا، ساتھ اس کے رُباعی، قطعہ، مخمس اور مثنوی کا راستہ بھی نکالا۔ انھیں ہندوستان کی نظم میں وہی رتبہ ہے جو انگریزی کی نظم میں چاسر شاعر  (چاسر 1348 ء میں پیدا ہوا اور 1402 ء میں مر گیا۔ اُس وقت یہاں تغلقیہ خاندان کا دَور ہو گا۔) کو اور فارسی میں رودکی (رودکی فارسی  کا پہلا شاعر ہے، تیسرے اور چوتھی صدی ہجری کے درمیان تھا اور سلاطین سامانیہ کے دربار میں قدردانہ کے بے انتہا انعام حاصل کرتا تھا۔) کو اور عربی میں مہلل کو، وہ کسی کے شاگرد نہ تھے، اور یہ ثبوت ہے فصیح عرب کے قول کا کہ الشعرا ء قلاہ سید الرحمٰن اسی کو رانائے فرنگ کہتا ہے کہ شاعر اپنی شاعری ساتھ لے کر پیدا ہوتا ہے، ایسے وقت میں کہ ہماری زبان زور بیان میں ایک طفل نوری کی تھی جو انگلی کے سہارے سے بڑھی۔ اُردو زبان اس وقت سوائے ہندی دہروں اور بھاشا کے مضامین کے اور کسی قابل نہ تھی، انھوں نے اس میں فارسی ترکیبیں اور فارسی مضامین کو بھی داخل کیا۔ (دیکھو تذکرہ حکیم قدرت اللہ خاں قاسم، مگر تعجب ہے کہ میر تقی نے اپنے تذکرہ میں اورنگ آباد لکھا ہے۔) ولی احمد آباد گجرأت کے رہنے والے تھے اور شاہ وجیہہ الدین کے مشہور خاندان میں سے تھے، ان کی علمی تحصیل کا حال ہماری لاعلمی کے اندھیرے میں ہے، کیونکہ اس عہد کی خاندانی تعلیم اور بزرگوں  کی صحبتوں میں ایک تاثیر تھی کہ تھوڑی نوشت و خواند کی لیاقت بھی استعداد کا پردہ نہ کھُلنے دیتی تھی، چنانچہ اُن کے اشعار سے معلوم ہو گا کہ وہ قواعد عروض کی طرح زبانِ عربی سے ناواقف تھے، پھر بھی کلام کہتا ہے کہ فارسیت کی استعداد درست تھی، ان کی انشا پردازی اور شاعری کی دلیل اس سے زیادہ کیا ہو گی کہ ایک زبان کا دوسری زبان سے ایسا جوڑ لگایا ہے کہ آج تک زمانے نے کئی پلٹے کھائے ہیں مگر پیوندنین جنبش نہیں آتی۔ علم میں درجہ فضیلت نہ رکھتے تھے مگر کہتے ہیں :

ایک دل نہیں آرزو سے خالی

ہر جا ہے محال اگر سنا رہے

یہ سیر کتاب کا شوق اور علماء کی صحبت کی برکت ہے۔ ولی کی طبیعت میں بعد پردازی بھی معلوم ہوتی ہے، کیونکہ اگرچہ سودا کی طرح کسی سے دست و گریباں نہیں ہوئے مگر اپنے ہمعصروں پر چوٹیں کی ہیں، چنانچہ ناصر علی سرہندی کے معاملہ سے ظاہر ہے۔

اگرچہ ایشیا کے شاعروں کا پہلا عنصر مضمون عاشقانہ ہے مگر جس شوخی سے اخلاق کی شوخی ظاہر ہو اس کا ثبوت ان کے کلام سے نہیں ہوتا، بلکہ برخلاف اس کے صلاحیت اور متانت اُن کا جوہر طبعی تھا۔ اُن کے پاس سیاحی اور تجربہ کو توشہ یہی معلوم ہوتا ہے کہ جس عہد میں تھوڑا سفر بھی بڑی سیاحی کی قیمت رکھتا تھا، اس میں یہ اپنے  وطن سے ابو المعالی کے ساتھ دلی میں آئے۔ یہاں شاہ سعد اللہ گلشن (شیخ سعد اللہ گلشن اچھے شاعروں میں تھے اور مرزا بیدل کے معاصر تھے۔ دو شعر فارسی کے ان سے بھی :

گشتم شہید تیغ تغافل کشید نت

جانم زدست بُرد غزالانہ دیدنت

بدقت می تواں فہمید معنی ہائے نازِ اُو

کو شرحِ حکمت العین است مژگانِ درازِ او)

کے مرید ہوئے۔ شاید اُن سے شعر میں اصلاح لی ہو مگر دیوان  (دیکھو تذکرۂ فائق۔ کہ خاص شعرائے دکن کے حال میں ہے اور وہیں تصنیف ہوا ہے۔) کی ترتیب فارسی کے طور پر یقیناً ان کے اشارہ سے کی۔ ان کا دیوان اس عہد کے مشاعروں کی بولتی تصویر ہے کیوں کہ اگر آج دریافت کرنا چاہیں کہ اس وقت کے امراء و شرفاء کی کیا زبان تھی؟ تو اس کیفیت کو وہ دیوان ولی کے اور کوئی نہیں بتا سکتا۔ انھی کے دیوان سے ہم اس وقت اور آج کی زبان کے فرق کو بخوبی نکال سکتے ہیں۔

سوں اور سین بجائے سے

کوں بہ داد معُرف بجائے کو

ہمن کوں بجائے ہم کو

جگ منے بجائے دنیا میں

برمنے بجائے بر میں فارسی کا ترجمہ ہے۔

پیراہنے در بر تجھ لب کی صفتہ بجائے تیرے لب کی صفتہ

تمن یعنی طرح یا مثل

جگ یعنی جہاں، دُنیا

بچن یعنی کلام

نِت یعنی ہمیشہ

مُکھ یعنی منھ

تسبی یعنی تسبیح

سہی یعنی صحیح

بگانہ یعنی بیگانہ

مَرض یعنی مَروض

بھیتر بجائے اندر

مجھ کو بجائے میرا

موہن، ترنجن، پی، پیتم بجائے معشوق

ہنجھواں بجائے آنسو کی جمع

بھواں پلکاں بجائے بھویں، پلکیں

نین بجائے آنکھ

دہن بجائے دَہن

مِرا بجائے میرا

ہوہ بجائے یہ

بعض قافیے مثلاً :

گھوڑا، موڑا، گورا

دھڑ، سر

گھوڑی، گوری

اکثر غزلیں بے ردیف ہیں۔

چونکہ نظم فارسی کی روح اسی وقت اُردو کے قالب میں آئی تھی، اسی واسطے ہندی لفظوں کے ساتھ فارسی کی ترکیبیں اور دَر اور بَر بلکہ بعض جگہ افعالِ فارسی بھی دیکھنے میں کھٹکتے ہیں، وہ خود دکنی تھے، اس لئے اُن کے کلام میں بعض بعض الفاظ دکنی بھی ہوتے ہیں۔

آج اس وقت کی زبان کو سُن کر ہمارے اکثر ہمعصر ہنستے ہیں، لیکن یہ ہنسی کا موقع نہیں، حوادث گاہ عالم میں ایسا ہی ہوا ہے اور ایسا ہی ہوتا رہے گا، آج تم اُن کی زبان پر ہنستے ہو، کل ایسے لوگ آئیں گے کہ وہ تمہاری زبان پر ہنسیں گے۔ اس انجمن غفلت کے ممبر اگر تھوڑی دیر کے لئے عقل دُوربین کو صدرِ انجمن کر لیں تو یہ اس تدبیر کے سوچنے کا موقع ہے کہ آج ہم کیونکر اپنے کلام کو ایسا کریں جس سے ہماری زبان کچھ مدت تک زیادہ مطبوع خلائق رہے۔ اگرچہ سامنے ہمارے اندھیرا ہے لیکن پیچھے پھر کر دیکھنا چاہیے اور خیال کرنا چاہیے کہ زبان نے جو ترقی کی ہے تو کن اصول پر اور کس جانب میں قدم رکھتی گئی ہے۔ آؤ ہم بھی آج کے کاروبار اور اُس کے آیندہ حالات کو خیال کریں اور اسی انداز پر قدم ڈالیں، شاید ہمارے کلام کی عمر میں کچھ برس زیادہ ہو جائیں۔

شاعرِ قدرت کے دیوان میں ایک سے ایک مضمون نیا ہے، مگر لطیفہ یہ بھی کچھ کم نہیں کہ شاعری کا چراغ تو دکن میں روشن ہو اور ستارے اُس ک دلی کے اُفق سے طلوع ہوا کریں، اس عہد کی حالت اور بھاشا زبان کو خیال کرتا ہوں تو سوچتا رہ جاتا ہوں کہ یہ صاحبِ کمال زبانِ اُردو اور انشائے ہندی میں کیوں کر ایک نئی صنعت کا نمونہ دے گیا اور اپنے پیچھے آنے والوں کے واسطے ایک نئی سڑک کی داغ بیل ڈالتا گیا۔ کیا اُس معلوم تھا کہ اس طرح یہ سڑک ہموار ہو گی، اس پر دکانیں تعمیر ہوں گی، لالٹینوں کی روشنی ہو گی، اہلِ سلیقہ دوکاندار جواہر فروشی کریں گے۔

اُردوئے معلیٰ اس کا خطاب ہو گا، افسوس یہ ہے کہ ہماری زبان کے مؤرخ اور ہمارے شعراء کے تذکرہ نویسوں نے اس کے دلی اور خدا رسیدہ ثابت کرنے میں تو بڑی عرق ریزی، لیکن ایسے حال نہ لکھے جس سے اُس کے ذاتی خصائل و حالات مثلاً دنیا داری یا گوشہ گیری، اقامت یا سیاحی، راہِ علم و عمل کی نشیب و فراز منزلیں یا اُس کی صحبتوں کی مزہ مزہ کی کیفیتیں معلوم ہوں بلکہ برخلاف اس کے سنہ ولادت اور سالِ فوت تک بھی نہ بتایا۔ اتنا ثابت ہے کہ اِن کی ابتدائے عہد شاید عالمگیر کا آخر زمانہ ہو گا اور وہ مع اپنے دیوان کے زمانہ محمد شاہی میں دلی پہنچے۔

قاعدہ ہے کہ جب دولت کی بہتات اور عیش و نشاط میں کچھ نیکی پر خیالات آتے ہیں تو صوفیانہ لباس میں ظاہر ہوا کرتے ہیں،  اس وقت محمد شاہی اُمراء نے در و دیوار کو دولت سے مست کر رکھا تھا، جس سے کہ تصوف کے خیالات عام ہو رہے تھے، دوسرے ولی خود فقر کے خاندان عالی سے تھے اور فقیری ہی کے دیکھنے والے بھی تھے۔ تیسرے زبانِ اُردو کے والدین یعنی بھاشا اور فارسی بھی صوفی ہیں، ان جذبوں نے اُنھیں تصوفِ شاعرانہ میں ڈالا اور دل کی اُمنگ نے پیش قدمی کا تمغہ حاصل کرنے کو اس کام پر آمادہ کیا جو سلف سے اس وقت تک کسی کو نہ سوجھا تھا وہ یہی کہ فارسی کے قدم بقدم چلیں اور پورا دیوان مرتب کریں۔ چنانچہ ان کے پیر کا اشارہ اس کی تائید کرتا ہے۔

غرض جب ان کا دیوان دلی میں پہنچا تو اشتیاق نے ادب کے ہاتھوں پر لیا۔ قدردانی نے غور کی آنکھوں سے دیکھا، لذت نے زبان سے پڑھا، گیت موقوف ہو گئے، قوال معرفت کی محفلوں میں انھیں کی غزلیں گانے بجانے لگے۔

اربابِ نشاط یاروں کو سُنانے لگے، جو طبیعت موزوں رکھتے تھے، انھیں دیوان بنانے بنانے کا شوق ہوا۔

اگرچہ اس اعتبار سے یہ نہایت خوشی کا موقع ہے کہ عمدہ جوہرِ انسانیت پسندیدہ لباس پہن کر ہماری زبان میں آیا، مگر اس کوتاہی کا افسوس ہے کہ ملکی فائدہ اس سے نہ ہوا اور اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ کسی علمی یا آئینی رستہ سے نہیں آیا، بلکہ فقیرانہ شوق یا تفریح کی ہَوا سے اُڑ کر آ گیا تھا، کاش شاہنامہ کے ڈھنگ سے آتا کہ محمد شاہی عیاشی اور عیش پرستی کا خون بہاتا اور اہلِ ملک کو پھر تیموری اور بابری میدانوں میں لا ڈالتا یا تہذیب و شائستگی سے اکبری عہد کو پھر زندہ کر دیتا۔

باوجودیکہ اِس کی زبان آج کل متروک ہے مگر دیوان اب تک ہر جگہ ملتا اور بِکتا ہے، یہاں تک کہ پیرس اور لندن میں چھپ گیا ہے، اس میں علاوہ ردیف دار غزلوں کے رُباعیاں، قطعے، دو تین مخمس، قصیدے، ایک مثنوی مختصر معرکہ کربلا کے حال ہیں، ایک شہر صورت کے ذکر میں ہے، واسوخت اُس وقت میں نہ تھا۔ اس ایجاد کا فخر میر صاحب کے لئے چھوڑ گئے۔ بادشاہ یا کسی امیر کی تعریف بھی نہیں، شاید خواجہ میر داد کی طرح تعریف کرنی عیب سمجھتے تھے، لیکن کبھی کبھی خواجہ حافظ کی طرح بادشاہِ وقت کے نام سے اپنے شعر کو شان و شکوہ دیتے تھے، چنانچہ دلی کی تصنیفات میں سے ایک غزل میں کہتے ہیں :

دل ولی کا لے لیا دلی نے چھین

جا کہو کوئی محمد شاہ سوں

رسالہ نور المعروف تصوف میں بھی لکھا ہے۔ اُس میں کہتے ہیں کہ میں محمد نور الدین صدیقی سہروردی کے مریدوں کا خاکِ پا ہوں اور شاہ سعد اللہ گلشن کا شاگرد، مگر یہ نہیں لکھا کہ کس امر میں، لطیفہ، ولی نے اپنے جوش ریختہ گوئی میں ناصر علی سر ہندی کو کہ علی تخلص کرتے تھے، یہ شعر لکھا :

اُچھل کر جا پڑے جوں مصرع برق

اگر مطلع لکھوں ناصر علی کوں

ناصر علی نے جواب میں لکھا :

باعجاز سخن گر اوڑ چلے وہ

ولی ہر گز نہ پہنچے گا علی کوں

(دیکھو تذکرہ فائق، مگر شعر مذکور عزیز دکنی کے دیوان میں درج ہے، شاید ناصر علی پر اسے یہ چوٹ بُری لگی، اسلئے جواب میں یہ شعر کہہ دیا، لوگوں میں ناصر علی کے نام سے مشہور ہو گیا۔)

اب ان کے کلام سے اس وقت کی زبان کا نمونہ دکھانا ضرور ہے، لیکن ہمارے تذکرہ نویسوں کا دستور ہے کہ جب شاعر کا حال لکھتے ہیں تو اس کے اشعار انتخاب کر کے لکھتے ہیں اور یہ ظاہر ہے کہ فیضانِ سخن رائگاں نہیں جاتا۔ نظیر کے بعض شعر ایسے ہیں کہ میر سے پہلو مارتے ہیں۔ پس اگر نظری کا ذکر لکھ کر اُس کے چند شعر منتخب لکھ دیئے تو ناواقف سوائے اس کے کہ نظری کا میر کا ہم پلہ شاعر سمجھے اور کیا تصور کر سکتا ہے۔ بڑی قباحت اس میں یہ ہے کہ شاعرِ مذکور میں اور ہم میں سالہا سال کے عرصے حائل ہیں۔ پس ان شعروں سے ان کی اصلیت، قابلیت اور طبیعت کی کیفیت کھلنی مشکل ہو جاتی ہے۔ میں ان کے دیوان سے نیک نیتی کے ساتھ چند غزلیں پوری کی پوری لکھ دوں گا تا کہ اصلیت حال ظاہر ہو جائے، ہاں اگر کسی کی پوری غزلیں ہاتھ نہ آئیں تو مجبوری ہے۔

تجھ لب کی صفت لعلِ بدخشاں سے کہوں گا

جادو ہیں تیرے نین غزالاں سے کہوں گا

دی حق نے تجھے بادشہی حُسن نگر کی

یہ کشورِ ایراں میں سلیماں سے کہوں گا

زخمی کیا ہے مجھ تری پلکوں کی اَنی نے

یہ زخم ترا خنجرِ بھالاں سے کہوں گا

بے صبر نہ ہو اے ولی اس درد سے ہر گاہ

جلدی سے ترے درد کی درماں سے کہوں گا

*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*

دیکھنا ہر صُبح تجھ رُخسار کا

ہے مطالع مطلعِ انوار کا

یاد کرنا ہر گھڑی تجھ یار کا

ہے وظیفہ مجھ دلِ بیمار کا

آرزوئے چشمہ کوثر نہیں

تشنہ لب ہوں شربتِ دیدار کا

عاقبت ہووے گا کیا معلوم نئیں

دل ہوا ہے مبتلا دیدار کا

بُلبل و پروانہ کرنا دل کے تئیں

کام تھا تجھ چہرہ گلنار کا

کیا کہے تعریف دل ہے بے نظیر

حرف حرف اس مخزنِ اسرار کا

گر ہوا ہے طالبِ آزادگی

بندہ مت ہو سبحہ و زنار کا

اے ولی ہونا سریجن پر نثار

مدعا ہے چشم گوہر بار کا

*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*

بے وفائی نہ کر خدا سوں ڈر

جگ ہنسائی نہ کر خدا سوں ڈر

ہے جُدائی میں زندگی مشکل

آ جدائی نہ کر خدا سوں ڈر

اس سوں جو آشنائی ڈر کر ہے

آشنائی نہ کر خدا سوں ڈر

آرسی دیکھ کر نہ ہو مغرور

خود نمائی نہ کر خدا سوں ڈر

اے ولی غیر آستانہ یار

جبہ سائی نہ کر خدا سوں ڈر

*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*

جب صنم کو خیالِ باغ ہوا

طالبِ نشہ فراغ ہوا

فوجِ عشاق دیکھ ہر جانب

نازنیں صاحب دماغ ہوا

پان سین تجھ لباں کے سُرخ ہوا

جگرِ لالہ داغ داغ ہوا

دلِ عشاق کیوں نہ ہو روشن

جب خیالِ صنم چراغ ہوا

اے ولی گلبدن کو باغ میں دیکھ

دلِ صد برگ باغ باغ ہوا

*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*

جس وقت اے سریجن تو بے حجاب ہو گا

ہر ذرہ تجھ جھلک سوں چوں آفتاب ہو گا

مت جا چمن سوں لالہ بُلبل پر مت ستم کر

گرمی سوں تجھ نگہ کی گلگل گلاب ہو گا

مت آئینہ کو دکھلا اپنا جمالِ روشن

تجھ مجھ کی تب دیکھے آئینہ آب ہو گا

نِکلا ہے وہ ستم گر تیغِ ادا کوں لے کر

سینے پہ عاشقاں کے اب فتحیاب ہو گا

رکھتا ہے کیوں جفا کو مجھ پر روا اے ظالم

محشر میں تجھ سیں آخر میرا حساب ہو گا

مجھ کو ہوا ہے معلوم اے مست جامِ خونیں

تجھ انکھڑیاں کے دیکھے عالم خراب ہو گا

ہاتف نے یوں دیا ہے مجھ کو ولی بشارت

اس کی گلی میں جا تو مقصد شتاب ہو گا

*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*

تخت جس بے خانماں کا دشت ویرانی ہوا

سر اوپر اس کے مکولا تاجِ سلطانی ہوا

تجھ حسنِ عالمتاب کا جو عاشق و شیدا ہوا

ہر خوبرو کے حُسن کے جلوہ سوں بے پردا ہوا

سینہ میں اب محشر تلک کونین کو بسرائے وہ

تجھ نین کے جو جام سوں مے پی کے متوالا ہوا

پایا ہے جگ میں اے ولی وہ لیلیٰ مقصود کون

جو عشق کے بازار میں مجنوں نمن رسوا ہوا

لیا ہے جب سوں موہن نے طریقہ خود نمائی کا

چڑھا ہے آرسی پر تب سے رنگ حیرت فزائی کا

کیونکر کرے آلودۂ زرجگ منے صیدِ مراد

ہے علم اوپر معطل صورتِ شیرِ طلا

بوالہوس رکھتے ہیں دائم فکر رنگِ عاشقاں

ہے مہوس کی سدا سینہ میں تدبیرِ طلا

بو کنارے مکھ پہ تیرے اے زلیخا وش نہیں

سورہ یوسف کے لکھا گرد تحریر طلا

ہوا ہے سیر ما مشتاق بیتابی سوں من میرا

چمن سوں آج آیا ہے مگر گل پیرہن میرا

خمارِ ہجر نے جس کے دیا ہے دردِ دل مجھ کوں

رکھو نشہ نمن انکھیاں میں گروہ مست ناز آوے

عجب نین گر گلاں دوڑیں پکڑ کر صورتِ قمری

ادا سوں جب چمن بھیتر وہ سردِ سرفراز آوے

تا حشر رہے بوئے گلاب اُس کے عرق سے

جس بر منے یک بار وہ گل پیرہن آوے

سایہ ہو مرا سبز برنگِ پر طوطی

گر خواب میں وہ نو خطِ شیریں بچن آوے

کھینچیں اَپن اَنکھیاں منے جوں کحل جواہر

عشاق کے گر ہاتھ وہ خاک چرن آوے

ہر گز سخنِ سخت کو لاوے نہ زبان پر

جس دہن میں یکبار وہ نازک بدن آوے

یہ تل تجھ مجھ کے کعبہ میں مجھے اسود دِستا

زنخداں میں ترے مجھ چاہِ زمزم کا اثر دِستا

*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*

(دِستا (دکھائی دیتا ہے ) یعنی نظر آتا ہے یا معلوم ہوتا ہے اور یہ ساری غزل اسی ردیف میں ہے۔)

 

 

شاہ مبارک آبرو

آبرو تخلص، مشہور شاہِ مبارک اصلی نام نجم الدین تھا، شاہ محمد غوث گوالیاری کی اولاد میں تھے، باوجودیکہ بڈھے شاعر اور پُرانے مشاق تھے مگر خانِ آرزو کو اپنا کلام دکھا لیتے تھے، دیکھو اس زمانہ کے لوگ کیسے منصف اور طالبِ کمال تھے۔ یہ اپنے زمانہ میں مسلم الثبوت شاعر زبانِ ریختہ کے اور صاحبِ ایجاد نظم اُردو کے شمار ہوتے تھے، وہ ایسا زمانہ تھا کہ اخلاص کو وسواس، اور دھڑ کو سر کا، قافیہ باندھ دیتے تھے اور عیب نہ سمجھتے تھے، ردیف کی کچھ ضرورت نہ تھی، البتہ کلام کی بنیاد ایہام اور ذو معنین لفظوں پر ہوتی تھی، اور محاورہ کو ہرگز ہاتھ سے نہ جانے دیتے تھے۔ وہ ایک آنکھ سے معذور تھے، اِن کی اور مرزا جان جانان مظہر کی خوب خوب چشمکیں ہوتی تھیں، بلکہ ان میں آنکھ کا بھی اشارہ ہو جاتا تھا، چنانچہ مرزا صاحب نے کہا :

آبرو کی آنکھ میں اک گانٹھ ہے

آبرو سب شاعرو ں کی۔۔۔۔۔ ہے

شاہ آبرو نے کہا ہے :

کیا کروں حق کے کئے کو، کور میری چشم ہے

آبرو جگ میں رہے تو جانِ جاناں پشم ہے

شاہ کمال بخاری اس زمانہ میں ایک بزرگ شخص تھے۔ اُن کے بیٹے پیر مکھن تھے۔ اور پاکباز تخلص کرتے تھے، شاہ مبارک کو اُن سے محبت تھی، چنانچہ اکثر شعروں میں اِن کا نام یا کچھ اشارہ ضرور کرتے تھے، دیکھا کیا مزے کا سجع کہا ہے :

عالم ہمہ دوغ است و محمد مکھن

اِن کی علمی استعداد کا حال معلوم نہیں، کلام سے ایسا تراوش ہوتا ہے کہ صرف و نحو عربی کی جانتے تھے اور مسائل علمی سے بے خبر نہ تھے۔

اِن کے شعر جب تک پیر مکھن پاکباز کے کلام سے چپڑے نہ جائیں تب تک مزہ نہ دیں گے، اس لئے پہلے ایک شعر اِن کا ہی لکھتا ہوں، اس زمانہ کے خیالات پر خیال کرو :

مجھے رنج و الم گھیرے ہے نت میرے میاں صاحب

خبر لیتے نہیں کیسے ہو تم؟ میرے میاں صاحب

آیا ہے صبح نیند سے اُٹھ رسمسا ہوا

جامہ گلے میں رات کا پھولوں میں بسا ہوا

کم مت گنو یہ بخت سیاہوں کا رنگ زرد

سونا وہ ہے کہ ہووے کسوٹی کسا ہوا

انداز سیں زیادہ نپٹ ناز خوش نہیں

جو خال اپنے حد سے بڑھا سو مسا ہوا

قامت کا سبھ جگت منیں بالا ہوا ہے نام

قد اس قدر بلند تمھارا رسا ہوا

دل یوں ڈرے ہے زلف کا مارا بہونک سیں

رسّی سیں اژدہا کا ڈرے جوں ڈسا ہوا

اے آبرو اول تو سمجھ پیچ عشق کا

پھر زلف سے نِکل نہ سکے دل پھنسا ہوا

*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*

پلنگ کوں چھوڑ خالی گروسیں اٹھ گئے سجن میتا

چتر کاری لگے کھانے ہمن کو گھر ہوا چیتا

لگائی بینوا کی طرح سیں جب وہ چھڑی تم نے

تج اوروں کو لیا ہے ہاتھ اپنے ایک تو میتا

جُدائی کے زمانہ کی سجن کیا زیادتی کہیے

کہ اس ظالم کی جو ہم پر گھڑی گزری سو جگ بیتا

لگا دل یار سیں تب اس کو کیا کام آبرو ہم سیں

کہ زخمی عشق کا پھر مانگ کر پانی نہیں پیتا

*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*

نین سیں نین جب ملائے گیا

دل کے اندر مرے سمائے گیا

نگہِ گرم سیں مرے دل میں

خوش نین آگ سی لگائے گیا

تیرے چلنے کی سن خبر عاشق

یہی کہتا ہوا کہ ہائے گیا

سہو کر بولتا تھا مجھ سیتی

بوجھ کر بات کو چھپائے گیا

آبرو ہجر نہ بیچ مرتا تھا

مُکھ دکھا کر اُسے جلائے گیا

*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*

یہ رسم ظالمی کی، دستور ہے کہاں کا

دل چھین کر ہمارا دشمن ہوا ہے جاں کا

ہر یک نگہ میں ہم سے کرنے لگے ہو نوکیں

کچھ یوں تری آنکھوں نے پکڑا ہے طور بانکا

تجھ راہ میں ہوا ہے اب تو رقیب کتا

بُو پائے کر ہمارے آ باندھتا ہے ناں کا

خندوں کے طور گویا دیوارِ قہقہا ہے

پھر  کر پھرے نہ لڑکا جو اس طرف کو جھانکا

رستم دَہَل کے دل میں ڈالے انجھو سو پانی

دیکھے اگر بھواں کی تلوار کا جھماکا

فاسق کے دل پہ ڈالی جب نفسِ بد نے بَرکی

رجواڑے کی گلی کا تب جا غبار پھانکا

سب عاشقوں میں ہم کوں مژدہ ہے آبرو کا

ہے قصد گر تمہارے دل بیچ امتحاں کا

*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*

مت قہر سینی ہاتھ میں لے دل ہمارے کوں

جلتا ہے کیوں پکڑتا ہے ظالم انگارے کوں

ٹک باغ میں شتاب چلو اے بہارِ حُسن

گل چشم ہو رہا ہے تمہارے نظارے کوں

مرتا ہوں ٹک رہی ہے رمق آدرس دکھا

جا کر کہو ہمارے طرف سے پیارے کوں

میں آ پڑا ہوں عشق کے ظالم بھنور کے بیچ

تختہ اوپر چلا دتے ہیں جی کے آئے کوں

اپنا جمال آبرو کوں ٹک دکھاؤ آج

مدت سے آرزو ہے درس کی بچائے کوں

*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*

رستم اس مرد کی کھاتا ہے قسم زوروں کی

تاب لاوے جو عشق کے جھک جھوروں کی

قدردان حُسن کے کہتے ہیں اُسے دل مُردہ

سانورے چھوڑ کے جو چاہ کرے گوروں کی

گانٹھ کاٹی ہے مرے دل کی تری انکھیاں نے

دو پلک نئیں یہ کترنی ہے مگر چوروں کی

لبِ شیریں پہ سریجن کے نہیں خطِ سیاہ

ڈار چھوٹی ہے مٹھائی پہ شکر خوروں کی

چَلکیں سورج منیں جو خط شعاع کے شعلے

دیکھ آنکھوں منیں یہ لال جھک ڈوروں کی

قادری جبکہ سجی برمیں سجن بونٹہ وار

عقل چکر میں گئی دیکھ کے چھب موروں کی

آبرو کوں نہیں کم ظرف کی صحبت کا داغ

کس کو برداشت ہے ہر وقت کے نکتوروں کی

*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*

افسوس ہے کہ مجکوں وہ یار بھول جاوے

وہ شوق، وہ محبت، وہ پیار بھول جاوے

رستم تیرے آنکھوں کے ہوئے اگر مقابل

انکھیوں کو دیکھ تیری تلوار بھول جاوے

عارض کے آئینہ پر تمنا کے سبز خط ہے

طوطی اگر جو دیکھے گلزار بھول جاوے

کیا شیخ و کیا برہمن جب عاشقی میں آویں

تسبی کرے فراموش نہ نار بھول جاوے

یوں آبرو بنا دے دل میں ہزار باتاں

جب تیرے آگے آوے گفتار بھول جاوے

*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*

پانی پت (۱) آج چھوڑ جو گنور تم چلے

تو راہ بیچ جائیو جاناں سنبھال کے

کنجی اُس کی زبانِ شیریں ہے

دل مرا قفل ہے بتاشے (۲) کا

(۱) پانی پت، گنور سنبھالکہ قصبوں کے نام ہیں۔ سنبھالکے کی پُرانی سرائے اب بھی قائم ہے۔ اگلے وقتوں میں یہاں قافلہ لٹتا تھا اور رہزنی اس کی مشہور تھی اور اب بھی استحکام اور وسعت میں ہمیشہ سے ضرب المثل ہے۔

(۲) چھوٹا سا قفل، مقدار میں بتاشے کے برابر اس سے کچھ بڑا ہوتا ہے۔ بتاشے کا قفل کہلاتا تھا۔

تم نے بجاؤ نے کو جب ہاتھ بیچ نَے لی

مجنوں ہو گئے سب یہ اس طرح کے نَے لی

سجا ہے نرگسی بوٹے کا جامہ

کرے کیونکر نہ مجھ سے چشم پوشی

آبرو کے قتل کو حاضر ہوئے کس کر کمر

خون کرنے کو چلے عاشق کو تہمت باندھ کر

وہ بھواں سے لگے ہیں جس کے نین

وہ کہاتا ہے حاجی الحرمین

عزت ہے جوہری کی، جو قیمتی ہو جوہر

ہے آبرو ہمن کو، جگ میں سخن ہمارا

جہاں اس خو کی گرمی تھی نہ تھی واں آگ کو عزت

مقابل اس کے ہو جاتی تو آتش لکڑیاں کھاتی

اسی انداز میں حافظ عبد الرحمن خاں احسان نے ایک شعر کہا ہے، اور کیا خوب کہا ہے :

دختِ رز سے کہا میخانے میں  شب رندوں نے

آج تو خوب ہی ختکے تری سوکن کو لگے

یعنی بھنگڑ خانے میں بھنگڑوں نے خوب سبزیاں بھونٹیں اور طرے اُڑائے۔ تم بھی یاروں پر نظرِ عنایت کرو۔

مبارک نام تیرے آبرو کا کیوں نہ ہو جگ میں

اثر ہے یو ترے دیدار کی ٖفرخندہ حالی کا

نالہ ہمارے دل کا، غم کو گواہ بس ہے

اپنے تئیں شہادت انگشت آہ بس ہے

تمھارے لوگ کہتے ہیں کمر ہے

کہاں ہے، کسطرح کی ہے، کدھر ہے ؟

تخلص آبرو برجا ہے میرا

ہمیشہ اشکِ غم سے چشم تر ہے

اس ناتواں کی حالت واں جا کہے ہے اڑ کر

میرا یہ رنگِ رُو ہے گویا مکھی کبوتر

میاں خفا ہیں فقیروں کے حال پر

آتا ہے اُن کو جوش جمالی کمال (۱) پر

(۱) جلالی اور جمالی دو قسم کے اسمائے الٰہی ہیں اور شیخ کمال بخاری ان کے دادا کا نام ہے۔

پھرتے تھے دشت دشت دوانے کدھر گئے

وے عاشقی کے ہائے زمانے کدھر گئے

خدمتگار خاں بادشاہی خواجہ سرا تھا اور سرکار شاہی میں بڑا صاحبِ اختیار تھا۔ اکثر بادشاہی نوکر اس کی سخت گیری اور بد مزاجی سے دق رہتے تھے، اُنھیں بھی اس سے کام پڑتا تھا، کبھی آسانی سے مطلب نکل آتا تھا کبھی دشواری سے، چنانچہ ایک موقعہ پر یہ شعر کہا :

یاروں خدمتگار خاں خو جوں کے بیچ

ہے تو مستثنیٰ و لیکن منقطع

*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*

 

 

شیخ شرف الدین مضمون

مضمون تخلص، شیخ شرف الدین نام، شیخ فرید الدین شکر گنج کی اولاد میں تھے۔ جاجمئو علاقہ اکبر آباد وطن اصلی تھا۔ دلی میں آ رہے تھے۔ اصل پیشہ سپاہ گری تھا۔ تباہی سلطنت سے ہتھیار کھول کر مضمون باندھنے پر قناعت کی اور زینت المساجد میں ایسے بیٹھے کہ مر کر اُٹھے، اس عالم میں بھی ایک خوش مزاج، با اخلاق، یار باش آدمی تھے، دورِ اول کے استادوں میں شمار ہوتے تھے اور انہی کا انداز تھا کیونکہ رواج یہی تھا اور خاص و عام اسی کو پسند کرتے تھے۔

اس زمانہ کے لوگ کسی قدر منصف اور بے تکلف تھے، باوجودیکہ مضمون سن رسیدہ تھے، اور خان آرزو سے عمر میں بڑے تھے، مگر انھیں غزل دکھاتے اور اصلاح لیتے تھے، نزلہ سے دانت ٹوٹ گئے تھے، اس لئے خان موصوف اُنھیں شاعرِ بیدانہ کہتے تھے۔

مرزا رفیع نے بھی اِن کا عہد پایا تھا، چنانچہ جب انتقال ہوا تو مرزا نے غزل کہی جس کا مطلع و مقطع بھی لکھتا ہوں۔

لئے مے اُٹھ گیا ساقی، مرا بھی پر ہو پیمانہ

الہٰی کس طرح دیکھوں میں اِن آنکھوں سے میخانہ

بنائیں اُٹھ گئیں یارو غزل کے خوب کہنے کی

گیا مضمون دنیا سے رہا سودا سو مستانہ

اور اس سے معلوم ہو سکتا ہے کہ اس صاحبِ کمال نے زمانہ کے دل میں کیا اثر پیدا کیا تھا۔

ہائے ولی خدا تجھے بہشت نصیب کرے، کیسے کیسے لوگ تیری خاک سے اُٹھے اور خاک میں مل گئے، استاد مرحوم نے ایک دن فرمایا کہ شیخ مضمون کے زمانہ میں کوئی امیر باہر سے محل میں آئے اور پلنگ پر لیٹ گئے، ایک بڑھیا ماما نئی نوکر ہوئی تھی وہ حقہ بھر کر لائی اور سامنے رکھا، نواب صاحب کی زبان پر اُس وقت مضمون کا یہ شعر تھا :

ہم نے کیا کیا نہ ترے عشق میں محبوب کیا

صبر ایوب کیا، گریہ یعقوب کیا

ماما سُن کر بولی، الٰہی تیری امان، اس گھر میں تو آپ ہی پیغمبری وقت پڑ رہا ہے، بیچارے نوکروں پر کیا گزرے گی۔ چلو بابا یہاں سے۔ (دلی میں غریب مفلس فقیر کسی سے سوال کیا کرتے تھے تو کہا کرتے تھے عیالدار ہیں مفلس ہیں، ہم پہ پیغمبری وقت پڑا ہے۔ لللہ کچھ دو اور اصل اس کی یہ تھی کہ جس پر سخت مصیبت پڑتی ہے وہ زیادہ خدا کا پیارا ہوتا ہے اور چونکہ پیغمبر سب سے زیادہ خدا کے پیارے ہیں اس لئے ان پر زیادہ مصیبتیں پڑتی ہیں۔ جو مصیبتیں پیغمبروں پر پڑی ہیں وہ دوسرے پر نہیں پڑیں۔ رفتہ رفتہ پیغمبری وقت اور پیغمبری مصیبت کے معنی سخت مصیبت کے ہو گئے۔ دیکھو ایسی ایسی باتیں اس زمانہ میں کس قدر عام تھیں کہ بڑھیا اور مامائیں اُن سے نکتے اور لطیفے پیدا کرتی تھیں۔ اب اللہ اللہ ہے۔)

تعجب یہ ہے کہ اس مضمون کو مخلص کاشی نے بھی باندھا ہے :

در فراقِ توچہا اے بُتِ خبوب کنم

صبر ایوب کنم گریہ یعقوب کنم

کرے ہے دار کو کامل بھی سرتاج

ہوا منصور سے نکتہ یہ حل آج

(حل اور علاج میں صنعت تجنیس مرکب رکھی ہے۔)

خط آ گیا ہے اس کے، مری ہے سفید ریش

کرتا ہے اب تلک بھی وہ ملنے میں شام صبح

کریں کیوں نہ شکر لبوں کو مرید

کہ دادا ہمارا ہے بابا فرید

(شادی کی ریت رسموں میں بابا فرید کا پڑا، عورتوں کی شرع کا ایک واجب مسئلہ ہے، مزا یہ ہے کہ اس میں شکر ہی ہو اور مٹھائی جائز نہیں۔)

ہنسی تیری پیارے پھلجڑی ہے

یہی غنچہ کے دل میں گلجھڑی ہے

میکدہ میں گر سراپا فعلِ نامعقول ہے

مدرسہ دیکھا تو واں بھی فاعل و مفعول ہے

تیرِ مژگاں برستے ہیں مجھ پر

آبِ پیکاں کا اس طرف ہے نڈھال

*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*

 

 

محمد شاکر ناجی

ناجی تخلص، سید محمد شاکر نام، شرافت اور سعادت کے ساتھ کمالِ شاعری سے اپنے زمانہ میں نامور تھے، اہلِ سخن نے انھیں طبقہ اول کے ارکان میں تسلیم کیا ہے۔ عمدۃ الملک امیر خاں جو محمد شاہی دربار کے رکنِ اعظم تھے، یہ اُن کے نعمت خانہ کے داروغہ تھے، شاہ مبارک آبرو نے جہاں اُن کے کمال کی تعریف کی ہے، وہاں اس امر کا بھی اشارہ کیا ہے :

سخن سنجاں میں ہے گا آبرو آج

نہیں شیریں زباں شاکر سریکا

مگر تیز مزاج اور شوخ طبع بہت تھے، راہ چلتے سے اُلجھتے تھے اور جس کے گرد ہوتے تھے اُسے پیچھا چھڑانا مشکل ہو جاتا تھا۔

زلف کے حلقہ میں دیکھا جب سے دانہ خال کا

مرغ دل عاشق کا تب سے صید ہے اس جال کا

گندمی چہرہ کو اپنے زلف میں پنہاں نہ کر

ہندواں سن کر مبادا شور ڈالیں کال کا

بینواؤں سے نہ مل اے مو کمر مت پیچ کھا

مونڈ سر لڑکوں کو کرتے ہیں وہ اپنا بال کا

مہر کی بیجا ہے چرخ بے مروت سے اُمید

پیر زالوں سے نہیں احسان کر اک بال کا

ایک دم ناجی کے تئیں آ کر جلا لے پیار سے

جاں بلب ہوں اے سجن یہ وقت نئیں اہمال کا

*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*

نہ تھا آزردہ دل کنعاں سے یوسف

ڈرا تھا خواب میں اخواں سے یوسف

نہ ہوتا راہ میں گلبانگ شہرت

جو روتا راہ میں خاراں سے یوسف

کوئیں میں جا پڑا یعقوب کا دِل

چلا جب نالہ و افغاں سے یوسف

زلیخا نے بہائے شیر کے نیل

جو رویا درد کے انجھواں سے یوسف

جو ناجی ڈر نہ ہوتا معصیت کا

نہ گردن پھیرتا فرماں سے یوسف

*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*

دیکھ موہن تری کمر کی طرف

پھر گیا مانی اپنے گھر کی طرف

جن نے دیکھے ترے لبِ شیریں

نظر اُن کی نہیں شکر کی طرف

ہے محال ان کا دام میں آنا

دل ہے ان سب بتاں کا زر کی طرف

تیرے رخسار کی صفائی دیکھ

چشمِ دانا نہیں ہُنر کی طرف

حشر میں پاک باز ہے ناجی

بد عمل جائیں گے سفر کی طرف

*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*

اے صبا کہہ بہار کی باتیں

اُس بتِ گلعذار کی باتیں

کس پہ چھوڑے نگاہ کا شہباز

کیا کرے ہے شکار کی باتیں

چھوڑتے کب ہیں نقد دل کو صنم

جب یہ کرتے ہیں پیار کی باتیں

*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*

معشوق مل کر آپ سے گر دلبری کرے

گر دیو ہو تو چاہیے آدم گری کرے

شیشہ اسی کے آگے بجا ہے کہ رُخ ستی

پیالے کو جب لے ہاتھ میں رشکِ پری کرے

اِس قد سے جب چمن میں خراماں ہو تو اے جاں

شمشاد و سرو آگے تری چاکری کرے

دشمن ہے دیں کا خالِ سیہ مُکھ اوپر ترے

ہندو سے کیا عجب ہے اگر کافری کرے

ناجی جو کوئی صاف کرے دل کا آئینہ

وہ عاشقی کے ملک میں اسکندری کرے

*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*

کفن ہے سبز ترے گیسوؤں کے ماروں کا

مکانِ غم ہے ترے در کے بے قراروں کا

*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*

رکھے اس لالچی لڑکے کو کب تنک بہلا

چلی جاتی ہے فرمائش کبھی یہ لا، کبھی وہ لا

*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*

موزوں قد اس کا چشم کی میزاں میں جب تُلا

طوبیٰ تب اُس سے ایک قدم اد کسا ہوا

*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*

اگر ہو وہ بُت ہندو کبھی اشنان کو ننگا

بھنور میں دیکھ کر جمنا اُسے غوطہ میں جا گنگا

*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*

دیکھ ہم صحبت کی دولت سے نہ رکھ چشمِ اُمید

لب صدف کے تر نہیں ہر چند گوہر میں ہے آب

*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*

بہا سستا ہو یا مہنگا نہیں موقوف غلے پر

یہ سب خرمن اسی کے ہیں خدا ہے جس کے پلے پر

انگوٹھی لعل کی کرتی قیامت، آج گر ہوتی

جنھوں کی آن پہنچی، لڑ موئے وہ ایک چھلے پر

*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*

روئے روشن کی جو کوئی یاد میں مشغول ہے

مہر اس کے روبرو سورج مکھی کا پھول ہے

*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*

نہ ٹوکو یار کو کہ خط رکھاتا یا منڈاتا ہے

مرے نشہ کی خاطر لطف سے سبزی بناتا ہے

*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*

جہاں دل بند ہو ناصح وہاں آوے خلل کرنے

رقیب نا ولد ناجی گویا لڑکوں کا بابا ہے

*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*

نادری چڑھائی اور محمد شاہی لشکر کی تباہی میں خود شامل تھے۔ اس وقت دربار دہلی کا رنگ، شرفا کی خواری، پاجیوں کی گرم بازاری اور اس پر ہندوستانیوں کی آرام طلبی اور ناز پروری کو ایک طولانی مخمس میں دکھایا ہے۔ افسوس ہے کہ اس وقت دو ہند اس کے ہاتھ آئے۔

لڑے ہوئے تھے دس بیس اُن کو بیتے تھے

دُعا کے زور سے دائی دوا کے جیتے تھے

شرابیں گھر کی نکالیں مزے سے پیتے تھے

نگاہ و نقش میں ظاہر گویا کہ جیتے تھے

گلے میں،نسئیاں بازو اوپر طلا – کرنال

قضا سے بچ گیا مرنا نہیں تو ٹھانا تھا

کہ میں نشان کے ہاتھی اوپر نشانہ تھا

نہ پانی پینے کو پایا وہاں نہ کھانا تھا

مل تھے دھان جو لشکر تمام چھانا تھا

نہ ظرف و مطبخ و دکاں نہ غلہ نہ بقال

*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*

 

 

محمد احسن احسنؔ

احسن تخلص، محمد حسن نام، یہ بھی انہی لوگوں کے ہم عصر و ہم زبان ہیں۔ چنانچہ ایک غزل اور دو شعر اُن کے ہاتھ آئے وہی لکھے جاتے ہیں :

صبا کہیو اگر جاوے ہے تو اُس شوخ دلبرسوں

کہ کر کر قول پرسوں کا گیا برسوں (۱) آوے برسوں

(۱) یعنی بغل سے گیا برسوں گزر گئے۔)

عجب نئیں ابر گر جلتوں کو جل کر جلاوے گا

کیا ہے یار میرے برسوں کہتا ہے کہ میں برسوں

یو قاصد وعدہ کرتا ہے جو پرسوں کا کہ پھر آوے

کبوتر پھر نہیں آتا گلی اس کی سیتی برسوں

ترس تجھ کو نہیں اے شوخ اتنی کیا ہے ترسائی

ترے دیدار کو میں دیدہ ترسوں کھڑا ترسوں

ترے تل سوں مجھے نت بیٹھ کا سودا ہے اے ظالم

عجب نئیں ہے اگر تو تیل نکساوے مرے سَرسوں

زلف تیری معطر ہے عطر فتنے سینتی ظالم

الٰہی آبرو رکھیو پڑا ہے کام ابتر سوں

غزل اس طرح سے کہنی بھی احسن تجھ سوں بن آوے

جواب اب آبرو کب کہہ سکے مضمون بہتر سوں

*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*

لام نستعلیق کا ہے اُس بُتِ خوش خط کی زُلف

ہم تو کافر ہوں، اگر بندے نہ ہوں اسلام کے

یہی مضمونِ خط ہے احسن اللہ

کہ حُسنِ خوبرو یاں عارضی ہے

*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*

نازک بدن پہ اپنے کرتے ہو تم جو غرہ

موسیٰ کمر نے تجھ کو فرعون سا بنایا

*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*

 

 

غلام مصطفیٰ خان یکرنگؔ

یکرنگ تخلص، غلام مصطفیٰ خاں نام، قدیمی تذکروں میں انھیں طبقہ اول کے شاعروں میں لکھا ہے، مگر یہ لوگ با انصاف ہوتے تھے اور ہر کام کے حُسن و قبح کو خوب سمجھتے تھے۔ اُس لئے باوجود کہن سالی اور کہنہ مشاقی کے آخر میں اپنا کلام مرزا جانجاناں مظہر کو بھی دکھاتے تھے، لیکن جو کلام ان کا موجود ہے، بزرگوں سے سنا اور تذکروں میں بھی دیکھا بڑے مشاق تھے اور اپنے وقت میں سب اُنھیں خوش فکر اور با کمال مانتے تھے اور لُطف یہ ہے کہ تخلص کی طرح  عالم آشنائی میں یک رنگ دیکتا تھے۔

یکرنگ پاس اور سجن کچھ بساط

رکھتا ہوں میں دو نین کہو تو نذر کروں

زبانِ شکوہ ہے مہدی کی ہر بات

کہ خوباں نے لگائے ہیں مجھ ہات

اس زلف کا یہ دل ہے گرفتار بال بال

یکرنگ کے سخن میں خلاف ایک مُو نہیں

جو کوئی توڑتا ہے غنچہ گل

دلِ بُلبل شکستہ کرتا ہے

یکرنگ نے تلاش کیا ہے بہت ولے

مظہر سا اس جہاں میں کوئی میرزا نہیں

پارسائی اور جوانی کیوں کہ ہو

ایک جاگہ آگ پانی کیونکر ہو

نہ کہو یہ کہ یار جاتا ہے

دل سے صبر و قرار جاتا ہے

گر خبر لینی ہو تو لے صیاد

ہاتھ سے یہ شکار جاتا ہے

مرزا جان جاناں کی اُستادی اور اپنی شاگردی کا اشارہ ہے :

جس کے دردِ دل میں کچھ تاثیر ہے

گر جواں بھی ہے تو میرا پیر ہے

لگے ہیں خوب کانوں میں بتوں کے

سخن یکرنگ کے گویا گہر ہیں

اس کو مت جانو میاں اوروں کی طرح

مصطفیٰ خاں آشنا یکرنگ ہے

جدائی سے تری اے صندلی رنگ

مجھے یہ زندگانی درد سر ہے

خدا جانے اِن باتوں کو سُن کر ہمارے شائستہ زمانہ کے لوگ کیا کہیں گے کچھ تو پرواہ بھی نہ کریں گے اور کچھ واہیات کہہ کر کتاب بند کر دیں گے مگر تم ان باتوں کو ہزل نہ سمجھو، ایک پل کی پل آنکھیں بند کر لو اور تصور کی آنکھیں کھول دو، دیکھو وہی محمد شاہی عہد کے کہن سال درباری لباس پہنے بیٹھے ہیں اور باوجود اس متانت و معقولیت کے مُسکرا مسکرا کر آپس میں اشعار پڑہتے ہیں اور مزے لیتے ہیں۔ کیا اُن نورانی صورتوں پر پیار نہ آئے گا، کلام کی تاثیر بیٹھنے دے گی، محبت کا جوش اُن کے ہاتھ نہ چوم لے گا۔

وہ صورتیں الٰہی کس ملک بستیاں ہیں

اب جن کے دیکھنے کو آنکھیں ترستیاں ہیں

میرے دوستو! غور کے قابل تو یہ بات ہے کہ آج جو تمھارے سامنے ان کے کلام کا حال ہے کل اوروں کے سامنے یہی تمھارے کلام کا حال ہوتا ہے۔ ایک وقت میں جو بات مطبوعِ خلائق ہو یہ ضرور نہیں کہ دوسرے وقت بھی ہو، خیال کرو انھی بزرگوں کے جلسہ میں آج ہم اپنی وضع اور لباس سے جائیں اور اپنا کلام پڑھیں تو وہ سنجیدہ اور برگزیدہ لوگ کیا کہیں گے۔ ایک دوسرے کو دیکھیں گے اور مسکرائیں گے، گویا سفلہ اور چھچھورا سمجھیں گے، ان بزرگوں کو کوئی بات ناپسند ہوتی تو اتنا ہی اشارہ کافی ہوتا تھا۔ اس خیال کی تصدیق اور اُس زمانہ کی وضع و لباس دکھانے کو دریائے لطافت کی ایک عبارت نقل کرتا ہوں، سید انشاء جن کی کوئی بات ظرافت سے خالی نہیں، ایک اپنے عہد کے بڈھے میر صاحب کی تقریر ایک کسبی کے ساتھ لکھتے ہیں، یہ دونوں دلی کے رہنے والے ہیں اور لکھنؤ میں باتیں کر رہے ہیں۔

بی نورن کہتی ہیں

اجی آؤ میر صاحب، تم عید کا چاند ہو گئے، دلی میں آتے تھے دوپہر رات تک بیٹھتے تھے اور ریختے پڑھتے تھے، لکھنؤ میں تمھیں کیا ہو گیا کہ کبھی صورت بھی نہیں دکھاتے، اب کے کربلا میں کتنا میں نے ڈھونڈا، کہیں تمھارا اثر آثار معلوم نہ ہوا۔ ایسا نہ کیجئو، کہیں آٹھوں (آٹھوں  کا میلہ لکھنؤ میں بڑی دھوم دھام کا ہوتا ہے۔) میں نہ چلو، تمھیں علی کی قسم آٹھوں میں مقرر چلیو۔

اب جس رنگ سے سید انشاء میر صاحب موصوف کی تصویر کھینچتے ہیں اسے ملاحظہ فرمائیے اور اتنا خیال اور بھی رہے کہ یہ پیر دیرینہ سال، ایک زمانہ کے خوش طبع رنگین مزاج شخص تھے، کوئی ثقہ متقی پرہیزگار نہ تھے، باوجود اس کے تازہ اوضاع و اطوار اور نئی رفتار و گفتار پر کیا خیالات رکھتے تھے۔

بیان صورت میر موصوف اینکہ، سیاہ رنگ، کوتاہ قد، فربہ گردن، دراز گوش، بندشِ دستار بطورِ بعض کند سازانِ کہنہ، رنگش سبز یا اگرئی، والا اکثر سفید، گاہے گل سرخ ہم در گوشہ دستار مے زنند، دجامہ مصطلح ہندوستان (نہ جامعہ لغوی) دَر برمبارک بسیار پاکیزہ مے باشد، چوں لباس باریک را ازیں جہت کہ برائے زناں مقرر است نمے پوشند۔ ختِ پوشاکی ملا زمانِ شریف ایشاں اکثر گندہ است لیکن قیمتی دونیم روپیہ رایک تھان تمام دریک جامہ صرف مے شود، چولی زیر پستاں، بالائے آں دوپٹہ پشتولیہ، دامن برزمین جاروب می کشندد سی ہم پر دندانِ مبارک ہیمالندد پاپوس از سقرلاطِ زر و دریاق وسط آں ستارہ اڑتا ہائے طلائی، حالانکہ ہیَیت معلوم شد طرز کلام با کسبی پاید سنید، میر صاحب فرماتے ہیں۔

اجی بی نورن! یہ کیا بات فرماتی ہو، تم اپنے جیوڑے کی چین ہو، پر کیا کہیں جب سے دلی چھوڑی ہے، کچھ جی افسردہ ہو گیا ہے اور شعر پڑھنے کو جو کہو، تو کچھ لطف اس میں بھی نہیں رہا کہ مجھ سے سنئے، ریختے میں استاد میاں ولی ہوئے، اُن پر توجہ شاہ گلشن صاحب کی تھی پھر میاں آبرو، میاں ناجی اور میاں حاتم پھر سب سے بہتر مرزا رفیع السودا اور میر  تقی صاحب، پھر حضرت خواجہ میر درد صاحب برواللہ مرقدہٗ جو میرے بھی اُستاد تھے، وہ لوگ تو سب مر گئے اور ان کی قدر کرنے والے بھی جاں بحق تسلیم ہوئے، اب لکھنؤ کے جیسے چھوکرے ہیں ویسے ہی شاعر ہیں اور دلی میں بھی ایسا ہی کچھ چرچا ہے، تخم تاثیر صحبت اثر، سبحان اللہ، یہ کون میاں جرأت بڑے شاعر، پوچھو تو تمھارا کام کس دن شعر کہنا تھا اور رضا بہادر کا کون سا کلام ہے اور دوسرے میاں مصحفی کہ مطلق شعور نہیں رکھتے، اگر پوچھئے کہ ضَرب زید عُمراً کی ترکیب تو ذرا بیان کرو تو اپنے شاگردوں کو ہمراہ لے کر لڑنے آتے ہیں اور میاں حسرت کو دیکھو اپنا عرق بادیان اور شربت انارین چھوڑ کے شاعری میں آ کے قدم رکھا ہے، اور میر انشاء اللہ خاں بچارے میر ماشاء اللہ خاں کے بیٹے آگے پریزاد تھے، ہم بھی گھورنے کو جاتے تھے اب چند روز سے شاعر بن گئے، مرزا مظہر جان جاناں صاحب کے روز مرہ کو نام رکھتے ہیں اور سب سے زیادہ ایک اور سنئیے کہ سعادت یار طہماسپ کا بیٹا، انوری ریختہ آپ کو جانتا ہے۔ رنگین تخلص ہے، ایک قصہ کہا ہے اس مثنوی کا نام دلپذیر رکھا تھا، رنڈیوں کی بولی اس میں باندھی ہے میر حسن پر زہر کھایا ہے، ہر چند اس مرحوم کو بھی کچھ شعور نہ تھا، بدر منیر کی مثنوی نہیں کہی، گویا سانڈے کا تیل بیچتے ہیں، بھلا اس کو شعر کیونکر کہیے، سارے لوگ دِلی کے لکھنؤ کے رنڈی سے لے کر مرد تک پڑھتے ہیں :

چلی واں سے دامن اٹھاتی ہوئی

کڑے کو کڑے سے بجاتی ہوئی

سو اس بچارے رنگین نے بھی اسی طور پر قصہ کہا ہے، کوئی پوچھے کہ بھائی تیرا باپ رسالدار مسلم لیکن بچارا برچھی بھالے کا ہلانے والا تیغے کا چلانے والا تھا، تو ایسا قابل کہاں سے ہوا اور شہد پن جو بہت مزاج میں رنڈی بازی سے آ گیا ہے تو ریختہ کے تئیں چھوڑ کر ایک ریختی ایجاد کی ہے، اس واسطے کہ بھلے آدمیوں کی بہو بیٹیاں پڑھ کر مشتاق ہوں اور ان کے ساتھ اپنا منھ کالا کریں، بھلا یہ کلام کیا ہے :

ذرا گھر کو رنگیں کے تحقیق کر لو

یہاں سے ہے کے پیسے ڈولی کہارو

مرد ہو کہتا ہے : مصرعہ “کہیں ایسا نہ ہو کم بخت میں ماری جاؤں ” اور ایک کتاب بنائی ہے اس میں رنڈیوں کی بولی لکھی ہے، جس میں اوپر والیاں، چیلیں، اوپر والا، چاند، اُجلی دھوبن وغیرہ وغیرہ۔ ان بزرگوں کو خیال کرو کہ مصحفی اور سید انشاء اور جرأت کو اپنی جگہ پر یہ کچھ کہتے تھے، پھر ہم اپنی بولی اور اپنی تراش اور ایجادوں کی قبولیت دوام کا سرٹیفکیٹ دے کر کس طرح نازاں ہوں جو نئی امت ہمارے بعد آئے گی وہ خدا جانے کیا کچھ میں میکھ نکالے گی، خیر اپنے اپنے وقت پر یوں ہی ہو رہا ہے اور یوں ہی ہوتا رہے گا۔

خاتمہ

پہلا دور برخاست ہوتا ہے، اِن مبارک صدر نشینوں کو شکریہ کے ساتھ رخصت کرنا چاہیے کہ مبارک جانشینوں کے لئے جگہ خالی کر کے اُٹھے، ایجاد کے بانی اور اصلاح کے مالک تھے، ملک کی زبان میں جو کچھ کیا اچھا کیا جو کام باقی ہے اچھے نکتہ پردازیوں کے لئے چھوڑ چلے ہیں، ہر مکان جلسہ کے بعد درہم برہم معلوم ہوتا ہے مگر یہ اس طرح سجا کر چلے ہیں کہ جو اِن کے بعد آئیں گے، آرائش و زیبائش کے انداز سوچ سوچ کر پیدا کریں گے، اب زیادہ گفتگو کا موقع نہیں کہ دور دوم کو زیب دینے والے آن پہنچے۔

*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*