FavoriteLoadingپسندیدہ کتابوں میں شامل کریں

 

چاند اور صحرا

 

 

                   کائنات بشیر

 

 

 

 

پیش لفظ

 

پہلی کتاب کا پبلش ہونا پہلے قدم، پہلی کلاس، پہلی محبت جیسے محسوسات سے روشناس کرا رہا ہے۔ یہ نہیں کہوں گی کہ بچپن سے شوق تھا۔ البتہ یہ بیج ضرور تب کچھ مہربانوں نے اندر بو دیا تھا اور میں لا علمی میں اس راہگزر پر قدم رکھ چکی تھی۔ سوچا نہ تھا کہ من کی دنیا کبھی اتنی بیکل اور بے چین ہو گی کہ اپنے اظہار کا موقع اور ذریعہ ڈھونڈے گی۔ مجھے اس راہ کا مسافر بنانے میں بلاشبہ میرے والد صاحب کا ہاتھ ہے۔ جنہوں نے انگلش میڈیم کی بجائے اردو میڈیم سے میری تعلیم کی ابتدا کرائی اور اردو زبان سے میری محبت کروائی۔ اسے میری زندگی میں پہلی اور اپنی زبان کے طور داخل کیا۔ گو زمانے کے چلن کا ساتھ دیتے ہوئے میں انگلش بھی پڑھتی رہی لیکن ہائیئسٹ مارکس ہمیشہ اردو میں پائے۔ پھر انھوں نے آہستہ آہستہ میری زندگی میں فارسی لینگویج داخل کی۔ اور کالج میں ہسٹری سبجیکٹ بھی میں نے انھی کے مشورے سے رکھا اور پڑھا۔ جس سے میرے مطالعہ کا دائرہ اور وسیع ہوتا گیا۔ اور ان سب سے بڑھ کر انھوں نے میرے اندر جذبات و احساسات کو محسوس کرنے، سمجھنے اور تخیل کو مضبوط بنانے کے لئے شاعری کی لطیف حس بھی بیدار کی۔ وہ خود برجستگی، شگفتگی سے مرقع انسان تھے۔ سو یہ وصف مجھے ان سے ایک تحفے کی طرح ملا۔ مطالعہ اور اچھا مطالعہ کرنا اور ادب سے میری وابستگی انھی کی صورت ہوئی۔ میں ان کی محبتوں کی بہت بڑی قرضدار ہوں۔

پھر زندگی کے کارہائے انجام دیتے میں آگے تو بڑھتی رہی۔ مگر کبھی کبھی یہ بات مجھے سوچنے پر مجبور کرتی کہ مجھے اپنی زندگی ایک نارمل ذی نفس کی سی لگتی۔ وہ مقصد سمجھ میں نہ آتا، جس کے لئے مجھے حوا کا روپ دے کر دنیا میں بھیجا گیا۔ میں مشاہدوں کی دنیا میں گھوم ضرور رہی تھی مگر ابھی قلم اور کاغذ کے رشتے سے دور تھی۔ آخر کار وہ وقت آ ہی گیا اور مجھے آگے بڑھنے کا یہ موقع ون اردو پلیٹ فورم کی رائٹر سوسائیٹی نے دیا۔ جس پر میں نے اپنے آپ کو آزمایا اور یوں میرے لکھنے کی ابتداء ہوئی۔ اور میرا ڈائری لکھنے کا شوق ایک ذمہ داری کے صفحہ قرطاس تک جا پہنچا۔ اس مقام تک پہنچنے میں جن کرم فرماؤں نے مجھے تعریف و توصیف، رسپانس اور مثبت نقادی سے نوازا، میں ان کی تہہ دل سے ممنون ہوں۔ نور العین ساحرہ، مہوش جاوید، سمارا سید، آمنہ احمد، نایاب، پبلشڈ شاعرہ رافعہ خان اور شاعر شہزاد قیس بھائی اور سحر آزاد بھائی، ان سب کو میں خصوصی شکریہ کہنا چاہوں گی۔

اور صحرا میری پہلی کتابی کاوش ہے۔ ۔ میری تحاریر میرے لکھنے کا تعارف ہوں گی۔ اور آپ کا رسپانس میری آگے کی منزل طے کرنے کے لئے بہت ضروری ہو گا۔ کتاب کے کئی آرٹیکل آن لائن اخبار اردو پوائنٹ پر پبلش ہو چکے ہیں جیسے، جب دل ہی ٹوٹ گیا، ذرا سنتے جانا، جن پہ تکیہ تھا، مسافر ہوں یارو، نام اک پہچان، پیا گئے رنگون، خواہشات اور زندگی، ہر سانس گراں بار، یوں دی ہمیں آزادی وغیرہ وغیرہ، ان پر مجھے پڑھنے والوں کا بہت اچھا فیڈ بیک ملا۔  اس کے علاوہ میں آن لائن ون اردو میگزین میں بھی لکھتی ہوں۔ میری تحاریر شوق سے پڑھنے والے کافی دیر سے اس کی کتابی شکل کے منتظر تھے، سو اسی خواہش کی تکمیل کے ساتھ میں آپ سب کے روبرو ہوں۔

آج جب میں اپنے لکھنے کے ابتدائی سفر پر نظر ڈالتی ہوں تو اندر کی تحریک کے علاوہ خارجی عوامل کا بہت بڑا ہاتھ نظر آتا ہے۔  ون اردو فورم، ون اردو رائٹر سوسائیٹی، اردو پوائنٹ، ون اردو میگزین اور آن لائن میری تحاریر پڑھ کر مجھے تعریف و توصیف، مثبت نقادی سے نوازنے والے قارئین، منزل کو جاتی راہ پر میرے لئے وہ سنگ میل اور ساتھی ثابت ہوئے، جن کے ساتھ کی بدولت میرا سفر جاری اور آسان ہوا۔ اپنی کتاب کے توسط سے میں ان سب کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتی ہوں۔

دعاؤں میں یاد رکھئے گا۔ شکریہ

kainat-bashir@hotmail.com

کائنات بشیر

 

     دیباچہ

 

میرا اور کائنات کا ساتھ آن لائن دنیا میں کچھ سال پہلے ون اردو فورم پر ہوا۔ وہاں لائبریری میں ہم بڑے مصنفین کی کتابیں پڑھتے، ان  پر تعریفی اور تنقیدی تبصرے کیا کرتے۔ اس وقت ان دو عام سی فورم  ممبرز نے کبھی سوچا بھی نہ تھا کہ وہ کبھی خود بھی صاحب کتاب ہوں گی۔ کائنات کے تبصرے اس وقت بھی اتنے ہی مدلل، خوبصورت، شرارتی اور بھرپور مزاح کا رنگ لئے ہوتے تھے کہ کئی بار پڑھنے سے بھی دل نہیں بھرتا تھا  اور بوریت تو ایک طرف ہر بار پڑھنے پر کوئی نیا ہی سماجی، اخلاقی، معاشرتی پہلو آشکار ہو جاتا تھا۔

جیسے  فی زمانہ “میک اپ” نے عورتوں  اور ان کو پہچان نہ پانے والی مسٹری کے لئے مردوں کو جس مشکل  میں ڈال رکھا ہے اس کے بارے میں اس سے بہتر تشریح شاید ہی میری نظر سے گزری ہو۔ وہ اپنی تحریر۔ ۔ ذرا سنتے جانا۔ ۔ میں لکھتی ہیں ،

“کیا اچھے دور تھے جب عورتیں دنداسہ سے یا پان کھا کر اپنے ہونٹ کو رنگ لیتی تھیں۔ کاجل کی ڈبیہ سے انگلی سلائی کی طرح لگا کر آنکھ میں پھیر لیتی تھیں۔ بالوں کو یا تو وحیدہ رحمٰن سٹائل میں بنا لیتیں یا سادھنا ہیر کٹ یا۔ ۔ پی پی لانگ سٹرمپ کی طرح دو چٹیاں میں باندھ لیتیں۔ ان میں نیرو کی بیوی بڑی فضول خرچ تھی جو گدھی کے دودھ سے نہاتی تھی۔ مگر اللہ توبہ، یہ وقت بھی آنا تھا قیامت کی نشانی بن کر۔ اب تو اتنی فضول خرچی ہوتی ہے اس میک اپ پر کہ لڑکپن جوانی میں تبدیل ہو جاتا ہے اور جوانی دیوانی ہو جاتی ہے اور بڑھاپا۔ ۔ جوانی اور بڑھاپے کے سنگم پر کھڑا ہو جاتا ہے۔ ملک کے بجٹ کو اور زیر بار ان عورتوں کے میک اپ نے کر دیا ہے۔ ”

 

پھر چھوٹی سی ہنسی مذاق کی بات میں بڑا سا سبق دے جانا جیسے اس کے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے کہ پڑھنے والے کو احساس تک نہیں ہوتا کہ وہ اس کو رس گلے میں کڑوی گولی ڈال کر کھلا چکی ہیں۔ جیسے اپنی ایک سنجیدہ تحریر ہر سانس گراں بار میں لکھا،

“زندگی میں بیلنس، توازن جب بھی کھویا جائے گا تب مسائل کے انبار سامنے آن کھڑے ہوں گے۔ کچھ ایسا ہی ہوا جب وقت کے ترازو میں ایک طرف زمانہ تھا اور دوسری طرف روایات، سادگی، خالص پن، محبتیں تھیں کہ اچانک زمانے والے پلڑے میں افراط زر، نیولائف سٹائل، بناوٹ اور بے مروتی جیسی چیزیں آن گریں اور وہ پلڑا جھک گیا۔ ”

 

پھر میں نے دیکھا کہ کائنات بیک وقت ادب کی مختلف اصناف میں بڑی سہولت سے قلم اٹھاتی ہیں۔ کالم ہو یا انشائیہ،آرٹیکل ہو یا مضمون، مزاح نگاری ہو یا افسانہ، شاعری ہو یا غزل، اپنے نام کے مصداق وہ ہر رنگ میں لکھتی ہیں۔ حتی کہ میری حیرانی کی انتہا نہ رہی جب اس نے ایک سفر نامہ بھی لکھ ڈالا۔

زندگی کے روز مرہ عام سے پہلو کو بھی وہ اپنی نظر سے دیکھ کر خاص بنا دیتی ہیں۔ جیسے اسکی تحریر ناشتہ، اور پھر اگر ایک طرف اس نے جب دل ہی ٹوٹ گیا، نیم باز آنکھوں سے، ذرا سنتے جانا، میں اور مدھو بالا جیسی تحاریر پر مزاح نگاری کی تو دوسری طرف سنجیدہ تحاریر بھیاس کی توجہ سے مستثنی نہیں۔ ہمارا رویہ،اللہ کی مرضی، یہ سماج یہ تضاد، ٹرننگ پوائنٹ، ذات کا آئینہ جیسی تحاریر اس کی اسی سوچ کی عکاسی ہیں۔

اس کے علاوہ وہ معاشرے اور سماج کے روئے پر بھی خوب نظر رکھتی ہیں کہ اس کے اردگرد کیا ہو رہا ہے۔ عام زندگی میں پیش آنے والے ہر موضوع پر اسکی گہری نگاہ کا اس بات سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ جب مشہور زمانہ ساس اور بہو کے نازک رشتے پر ایک تحریر میں اس نے لکھا،

“وہ بہو۔ ۔ جس نے اپنی ساس کی جی جان سے خدمت کی۔ پھر سٹارپلس کے ڈرامے، ساس کے ڈرامے دیکھ کر تیار ہو کر خود ساس کے رتبے پر پہنچنے والی تھی اور اپنی بہو کو ناچ نچانے والی تھی۔ افسوس وہ اپنا خواب پورا نہ کر سکی بلکہ موجودہ دور کی بہو اس پر ساس کے حکم نامے کی طرح فائز ہو گئی۔”

ساس بہو پر قلم اٹھانے کے بعد اس نے ایک اور بہت خاص الخاص معاشرے کے  کردار، اہم رشتے۔ ۔ داماد۔ ۔ پر بھی لکھا۔

” کتنا بڑا تضاد ہے ہمارے معاشرے میں کہ ایک لڑکی کو ہمیشہ اگلے گھر کا ڈر دیا جاتا ہے۔ اسے دوسرے گھر کی بہو بننے کا دھیان کروایا جاتا ہے اور ڈھیر ساری ذمہ داریاں اٹھانے کے لئے ذہنی طور پر تیار کیا جاتا ہے اور اسی نہج پر اسکی تربیت کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ مگر بیٹے کو کبھی بھی یہ نہیں بتایا جاتا کہ مستقبل میں وقت کے ایک پڑاؤ پر وہ بھی داماد کا رشتہ پائے گا۔ اخلاقیات کا ضابطہ اس پر بھی لاگو ہو گا۔ اسے بھی اپنی زندگی میں مزید کچھ رشتوں کو لے کر چلنا ہو گا۔ انہیں اپنائیت دینا ہو گی۔ ان کے بھی کام آنا ہو گا۔ بلکہ اس کے برعکس اس کے اندر داماد بننے کا فخریہ احساس پیدا کر دیا جاتا ہے۔ اسی لئے شروع سے ہی اک ان دیکھی دیوار اس کے اور نئے رشتوں کے درمیان حائل ہونے لگتی ہے۔

 

نور العین ساحرہ

 

 

 

جن پہ تکیہ تھا

 

باغباں نے آگ دی جب آشیانے کو میرے

جن پہ تکیہ تھا وہی پتے ہوا دینے لگے

مجھے یہ شعر بہت پسند ہے۔ شائد اس لئے کہ اس میں تکیہ بھی استعمال ہوا ہے۔ ۔ ۔ ۔

دن بھر کی مصروفیت اور تھکاوٹ کے بعد جب رات آتی ہے۔ تو فورا دل چاہتا ہے، بندہ جلدی سے بستر پر چلا جائے اور اپنا سر تکئے پر ڈال دے۔

مجھے یاد ہے، بچپن میں جب ہمارا دور دراز علاقوں میں رشتہ داروں کے ہاں جانا ہوتا تو ان کی مہمان نوازی سے خوب لطف اندوز ہوتے۔ جب بھی کبھی ہم اس طرح مہمان بن کر گئے، تو خوب وہاں خاطر داریاں ہوتیں۔ سب رشتے داروں سے ملنا ملانا، اور اتنی دعوتیں ہوتیں۔ اور بہت سارے رشتہ داروں کے گھر رات کو قیام بھی ہوتا۔ تو جو بات مجھے متاثر کرتی وہ یہ کہ، جب رات کو وہ میزبان نئے نئے بستر مہمانوں کے لئے لگاتے تو نئی بیڈ شیٹس، لحاف اور سفید تکئے رکھتے۔ تو ان سفید تکیوں پر پھول بنے ہوتے تھے جو ہاتھ کی مہارت اور تکئے کی خوبصورتی کو دوچند کر رہے ہوتے۔ مجھے بھی یہ بات بڑی خوش کن محسوس ہوتی کہ تکئے پر خوشنما پھول کاڑھے ہوئے ہوں تو وہ بستر پر پڑا کتنا خوبصورت دکھائی دیتا ہے۔

پر جو بات مجھے سب سے زیادہ اچھی لگا کرتی تھی۔ وہ یہ کہ تکئے پر پھولوں کے ساتھ لازمی ایک شعر بھی لکھا ہوتا تھا۔

اور یہی بات مجھے بہت متاثر کیا کرتی تھی۔ کہ زیادہ پڑھے لکھے نہ ہونے کے باوجود وہ رشتہ دار مجھے پھر بھی ادبی لوگ لگا کرتے تھے۔ ان کے اندر ایک ذوق نظر آتا۔ جو پہلے اپنے اس ذوق کو بڑے شوق سے تکئے پر اتارتے اور پھر بعد میں بڑے آرام سے اس ادب اور ذوق کو سر کے نیچے رکھ کر سو جاتے۔

تو میں آپ کو تکئے پر لکھے شعروں کے بارے میں بتا رہی تھی۔ تب میں بالکل ابتدائی کلاسوں میں ہوا کرتی تھی۔ لیکن شائد میرے اندر شوق موجود تھا اس لئے کسی نہ کسی طرح لفظوں کو جوڑ کر شعر پڑھ لیا کرتی تھی، اور جب شعر مکمل ہو جاتا اور اس کا ایک واضح مطلب میرے سامنے آ جاتا۔ تو میرے اندر بھی ایک خوشی کی لہر دوڑ جاتی۔ ایک تو شعر کو کامیابی سے جوڑ کر پڑھنے کی اور دوسرا کسی حد تک شعر کی روح تک پہنچ جانے کی، سو تب کا تکئے پر لکھا یہ شعر میرے ذہن میں ہے۔ آپ بھی پڑھیے۔ ۔ ۔

تکیہ لگانے والے میری یہ عرض سننا

سونے سے پہلے چند پھول نیکیوں کے چننا

مجھے یہ انوکھا آئیڈیا بڑا ہی پسند آتا کہ تکئے سے سلیٹ، کاپی یا کتاب کا کام بھی لیا جا سکتا ہے۔ پھر خوبصورت رنگوں کے پھول اور اشعار اپنی طرف کھینچتے۔

لیکن ایک بات جو میں نے نوٹ کی کہ ان شعروں میں لازمی ایک اور چیز بھی نمایاں ہو رہی ہوتی۔ یہ نہیں کہ کوئی سا بھی شعر اٹھا کر تکئے پر دے مارا۔ بلکہ پھول کاڑھنے والے کا ذوق، تو اس شعر میں جھلک دیتا ہی۔ پر ان تکئے پر لکھے شعروں میں نیند، خواب، آنکھیں یا تکئے کا ضرور ذکر ہوتا اور لازمی کوئی پیغام، یا نصیحت، یا مشورہ بھی چھپا ہوتا اور کبھی کبھی وارننگ بھی۔ ۔ ۔ ۔ ۔

جیسے اوپر والا شعر دوبارہ ملاحظہ کیجئے۔ اس میں آپ کو مذہبی ٹچ نظر آئے گا۔

یعنی تکیہ لگانے والے سونے سے پہلے ضرور کوئی نہ کوئی نیکی، دعا، استغفار کر لینا۔ ورنہ خدا نخواستہ اسی تکئے پر سوئے بھی رہ سکتے ہو۔

وقت کے ساتھ جب تھوڑا آگے نصاب کی کتاب ہاتھ میں لے کر بڑھی۔ تو اس تکیہ اور شعر والی بات کی صداقت میں کوئی شک شبہ نہ رہا۔ جب میں نے یہ شعر پڑھا

سرہانے میر کے آہستہ بولو

ابھی ٹک روتے روتے سو گیا ہے

تب پتہ چلا کہ واقعی نیند اور سرہانے کا کتنا گہرا تعلق ہے۔ جب کہ یہ نہیں پتہ چل سکا کہ میر کیوں روتے روتے سویا ہے۔ لیکن شعر میں آپ سب کے لئے وارننگ موجود ہے۔ کہ وجہ جو بھی ہو لیکن آپ سب نے میر کے سرہانے بولنا آہستہ ہی ہے۔

میں نے شعروں کو پہلے والد صاحب کی زبانی جانا اس کے بعد انھیں تکئے کی سلیٹ پر پایا پھر نصاب کی کتابوں ،میگزین اور پھر شاعری کی کتابوں میں پایا۔ سو میں بتدریج ان ہی ذرائع کے ساتھ آگے بڑھتی رہی ہوں۔

آج وقت زمانہ اتنا آگے بڑھ گیا ہے۔ کہ اشعار والے تکئے بھی ناپید ہو گئے ہیں۔ یقیناً ان لوگوں کو بھی خوبصورت رائیٹنگ پیڈ مہیا ہو گئے ہوں گے۔ جن پر پہلے ہی خوبصورت پھول، تتلیاں ،دل بلکہ ایسی چیزیں جن سے دل کے احساسات نمایاں ہو رہے ہوں ،بنے ہوتے ہیں۔ بہر حال کبھی کبھی سوچتی ہوں کہ بزرگ کہتے ہیں وہ بڑے شرم و حیا کے زمانے تھے۔ لوگ اپنے جذبات دل کی گہرائیوں میں دبا لیتے تھے۔ پر میں سوچتی ہوں پھر بھی وہ لوگ کتنی خوبصورتی سے اپنی فیلنگز اپنے احساسات دوسروں تک پہنچا دیا کرتے تھے۔ ۔ ۔ ۔ ۔

کچھ بھی نہ کہا اور کہہ بھی گئے

اور پھر

کچھ کہتے کہتے رہ بھی گئے

یعنی جو رہ گیا، وہ پھر اگلے تکئے پر۔ ۔ ۔

میں کبھی کبھی سوچتی ہوں کہ واقعی وہ کتنے خالص زمانے تھے۔ کوئی بڑی بڑی ڈیمانڈز نہیں ایک تکئے پر شعر لکھ کروہ لوگ اپنے ذوق کی تسکین کر لیا کرتے تھے۔ اور دوسرے ادب کے رسیا اسی طرح شعر پڑھ کر خوش ہو لیا کرتے تھے۔

میرا آج بھی دل کرتا ہے۔ وہ زمانہ لوٹ آئے۔ اور میں بھی کسی شعر لکھے تکئے پر سر رکھ لوں۔ اور وہ احساسات محسوس کروں۔ جو وہ لوگ کرتے ہوں گے۔

پر اب کہاں وہ نیندیں ،کہاں وہ سہانے سپنے اور کہاں وہ شعر والے تکیے

یہ بھی تو ممکن ہے کہ وہ شعر والے تکئے ایک خاص علاقے، خطے کا ہی رواج ہوں۔

وہ تو بس کبھی ہمارے کلچر کا ایک حصہ بنے تھے۔ اب تو وہ پس پردہ چلے گئے ہیں۔ ۔ ۔ ۔

٭٭٭

 

 

 

 

نام اک پہچان

 

دنیا میں آتے ہی سب سے پہلے جو چیز ملتی ہے وہ یقیناً نام کا تحفہ ہے۔ جب گھر میں اک نئے فرد کی آمد کا پتہ چلتا ہے تو سبھی چونک جاتے ہیں۔ مگر آنے والے کو اس وقت صرف اک مہمان کی حیثیت میں ہی لیا جاتا ہے۔ اور اسے نام بھی۔ ۔ ۔ خاص مہمان۔ ۔ ۔ ۔ کا دیا جاتا ہے۔

یہ بھی بھلی رہی ورنہ سوچئے اگر بے تکلفی سے نام کرن پہلے ہی ہو جائے۔ کیونکہ احوال و زمان بدل چکے ہیں الٹرا ساونڈ مشینوں سے پہلے ہی پتہ چل جاتا ہے کہ گھر میں رحمت آ رہی ہے یا نعمت، تو لوگ اتاولے ہو کر پہلے ہی لڈو یا برفی بانٹ دیتے اور نام رکھنے کے فریضہ سے بھی نپٹ بیٹھتے تو کام بھی کتنے کم ہو جاتے۔ اور پہلے ہی علم ہو جاتا کہ فلاں گھر میں شیخ ہاشم الدین آ رہے ہیں اور فلاں گھر میں آفاق بدر الدین اور فلاں میں سکینہ بنت کلثوم رونق افزا ہونے والی ہے تو آنے والے کی بھی جگہ اس کے آنے سے پہلے ہی پکی ہو جاتی۔ شناختی کارڈ کے لئے بھی درخواست دے دی جاتی، اور سکول میں داخلہ اور پولیو کے ٹیکے کے لئے بھی نام کا اندراج ہو جاتا۔ گو وقت کے چرخے نے بہت سے رسم و رواج کو سوت کی طرح کات کر رکھ دیا ہے مگر اس معاملے میں خاص ترقی نہیں ہوئی۔

حتی کہ چاند کی بڑھیا آج بھی بے نام بیٹھی ہے۔ ۔ ۔ جبکہ چرخہ چلا چلا کر وہ خود چکرائی ہوئی ہے اور چاند بادل جیسی روئی سے بھر چکا ہے۔ افسوس چاند بھی بے نام ماما بن کر رہ گیا جو کہ لوری دینے میں ماں کے بعد پیش پیش رہا۔

چندا ماما دور کے

بڑے پکائیں بور کے

کاش اس ماما کو بھی کوئی نام مل جاتا، بےنام رہنا کتنا تکلیف دہ ہے کوئی اس سے پوچھے، اس دلہن کے ارمانوں سے، جس کا پیا اسے بظاہر اپنا نام دے کر پردیس کی الف لیلوی دنیا میں جا کر بیٹھ گیا ہو اور وہ بچاری اس بےنام سے رشتے کے سہارے اپنی عمر کا بہترین حصہ آنکھوں میں انتظار کی جوت جلائے کاٹ دے۔

پہلے لوگ ناموں کے جھنجھٹ میں زیادہ نہیں پڑتے تھے۔ کوئی قافیہ ردیف مل گیا تو ٹھیک ورنہ بعض دفعہ تو آنے والا خاص مہمان گود میں سیر کر رہا ہوتا تھا۔ مگر بچارے کو جلد نام نصیب نہیں ہوتا تھا۔ گھر والے منا منی، ننھا ننھی کہہ کر کام چلا لیتے تھے۔ اور اہل محلہ کے پاس بھی اک حق موجود رہتا تھا اور وہ بھی اپنی مرضی سے ان کے پپو، ببلو، گڈو، گڑیا، پدا، پدی جیسے نام رکھ لیتے تھے۔ تب سکول میں داخلے کے وقت تک گھر والوں کو بھی کافی وقت مل جاتا تھا۔ تب یا تو وہ کوئی فیشنی نام رکھ لیتے یا اپنے کسی خاندانی بزرگ کا رکھ کر برکت ڈال لیتے۔ ورنہ اسلامی نام تو ہر دور میں ہر وقت موجود رہتے ہی ہیں۔

علم و اعداد والے ہمیشہ اپنی ہی کہتے رہے کہ نام ان کے لگائے حساب سے رکھا جائے۔ تو کیا پتہ کل کو اس نام کا مکین عزت و شہرت کے آسمان کو چھونے لگے۔ اور دولت اس کے گھر کی لونڈی بن جائے۔ ورنہ کہیں یہ نہ ہو کہ ایک کا عدد نو کے عدد سے بھڑ جائے۔ ویسے ان کے تجویز کردہ ناموں کو رکھنے میں حرج تو نہیں مگر اپنی پسند کے حروف ابجد کو پیچھے ڈالنا پڑتا ہے۔ اور دوسری قباحت یہ ہے کہ ان کے بتائے نام صدیوں پرانے محسوس ہوتے ہیں۔ وہی کمال، جمال، انور، اصغر، اختر اور نسیم، بلقیس، یاسمین، طاہرہ، شاہدہ وغیرہ، کچھ لوگ بڑے سیاستدان ہیں وہ نام تو علم و اعداد کے مطابق رکھ لیتے ہیں مگر پھر اسے عرفیت اپنی پسند کی دے لیتے ہیں۔ اور اکثر ایسا ہوتا ہے کہ ساری زندگی اصل نام عرفیت کے پیچھے ہی چھپا رہتا ہے۔ اور اس سے پیچھا چھڑائے نہیں چھٹتا اور جب نکاح ہو رہا ہوتا ہے تو وہ بھی بقول دنیا کسی منا، کاکا، ننھا یا بلو شلو کا ہو رہا ہوتا ہے۔ ویسے شادی کے بعد زوجہ محترمہ کو میاں کو بلانے میں آسانی رہتی ہے۔ منے کے ابا، بلو کے ابا، ایک لڑکی اس جہان کی رونق ہوئی جس کی آنکھیں سبز تھیں تو سب نے اسے جھٹ بلی کی عرفیت دے دی۔ اب وہ خاتون کئی بچوں کی ماں ہے۔ اور ذکر کرنے والے کچھ یوں انجانے میں بات کر جاتے ہیں۔ پہلے بلی کے تین بچے تھے اب چار ہو گئے ہیں۔

کوچہ۔ ۔ ۔ میں ایک منشا نام کے صاحب تھے مگر اہل محلہ عورتوں کی زبان پر وہ ہمیشہ۔ ۔ ۔ حسب منشاء۔ ۔ ۔ ہی رہے۔

میری کھوج مسکرائے بنا نہیں رہتی جب اچھے بھلے ناموں کو لوگ بالکل اور طرح پیش کر رہے ہوتے ہیں۔ یا انھیں نام کو نظر لگنے کا ڈر ہوتا ہو گا۔ جیسے پھجے کے پائے نام کی شہرت تو سنی تھی غور کیا تو اچھا بھلا فضل نام برآمد ہوا۔

کچھ اہل جہاں بڑے با ذوق ہیں۔ وہ خوب چھان پھٹک کر غور و فکر کے بعد نام رکھتے ہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ ان ناموں سے نسل چلنی ہے اور یہ اگلی پیڑھی تک بھی پہنچنے ہیں کہیں یہ نہ ہو کہ اگلی نسل ان ناموں کو چھپاتی پھرے۔ اس لئے وہ شہنشاہوں اور بادشاہوں کے نام رکھنے کو ترجیح دیتی ہے۔ ممتاز بیگم، نور جہاں ، بابر، ہمایوں ،شاہ جہاں ، جہانگیر، جہاں زیب وغیرہ یا وہ رانی، شہزادی، ملکہ کو نام میں شامل کر کے با وزن بنا لیتے ہیں۔ میری حیرانی کا ٹھکانہ نہیں تھا جب ایک گھر میں دو بچوں کے نام اکبر اور اعظم دیکھے۔ درحقیقت انھوں نے اکبر اعظم کو اپنے گھر کا باسی بنا لیا تھا۔

نام رکھنے کی سہولت کے لئے ڈرامے، فلمیں اور ناول بھی بہت بڑی آفر دیتے ہیں۔ اس سلسلے میں رضیہ بٹ نے لڑکیوں کے نام اور عمیرہ احمد کے ناولز نے لڑکوں کے نام رکھنے میں بہت بڑا کردار ادا کیا ہے۔ اور ایک طرح سے لوگوں کی بڑی مشکل بھی حل کی۔ ایک طرف ناہید، نورین، عاشی، انیلا، نائیلہ، سارہ، شائنہ جیسے نام زبان زد ہوئے اور دوسری طرف شہیر، ذالعید، سالار، اظفر، زارون، معیز جیسے نئے نام سامنے آئے۔ اور مشہور مصنفہ رفعت سراج کو تو حرف ابجد۔ ۔ ۔ ظ۔ ۔ ۔ ۔ اتنا پسند آیا کہ ایک ناول میں انھوں نے ایک گھر میں پانچ، چھ لڑکوں کے نام میں اسے خوب استعمال کیا۔ مظاہر، اظہار، مظفر، مظہر، اظہر، ظہیر وغیرہ وغیرہ۔

سب سے زیادہ رائیٹر اور شاعر حضرات خوش قسمت نکلتے ہیں۔ ان کے پاس نام تو والدین کا دیا موجود ہوتا ہے مگر وہ تخلص رکھ کر اپنا نام کرن خود کر لیتے ہیں۔

سو نام رکھنا چنداں مشکل نہیں۔ ۔ ۔ اور نہ ہی اس کی کمی ہے۔

بسیہ سوچ لیں کہ نام نہ صرف زندگی میں ساتھ نبھائے گا بلکہ بعد میں بھی دوسروں کے لئے اک یاد بن کر رہے گا۔ اچھا خوبصورت بامعنی نام اک یادگار پہچان ہے تو یہ تحفہ ضرور سوچ سمجھ کر نئی نسل کو دیجئے۔

٭٭٭

 

 

 

کتاب اور قاری

 

رائیٹر، کتاب اور قاری۔ ۔ ۔

سب سے پہلے تو کسی بھی کتاب تحریر، مضمون، آرٹیکل، ناول یا افسانے کے لئے اس کا عنوان بہت بڑا رول ادا کرتا ہے۔ عنوان کو ایک لفافہ سمجھیے، جس سے آپ اندر چھپے مضمون کا اندازہ لگا سکتے ہیں۔

عنوان کا ذکر اس لئے کیا کیونکہ کتاب کے عنوان نے یا رائیٹر نے قاری کو کھینچ کر لانا ہے۔ سو اسے کتاب کی مارکیٹنگ کا ذریعہ بھی سمجھئے جو آپ کی تحریر کے لئے ریڈرز لاتا ہے۔

کچھ لکھنے والے لوگوں کو اس کی اہمیت کا نہیں معلوم۔ وہ پورا زور تحریر لکھنے پر لگا دیتے ہیں اور آخر میں پھسپھسا سا ٹائیٹل رکھ لیتے ہیں۔ اور کچھ رائیٹر پورا زور عنوان پر لگا دیتے ہیں ،پر تحریر میں جان نہیں ہوتی اور قاری یہ کہتا ہوا کتاب پرے رکھ دیتا ہے۔ ہونہہ، کھودا پہاڑ نکلا چوہا۔ ۔ ۔ ۔ اور اپنے وقت کی بربادی پر اسے علیحدہ ملال ہوتا ہے اور وہ تلملا رہا ہوتا ہے۔

کچھ لوگوں کو صرف پڑھنے سے مطلب ہوتا ہے۔

انھیں نہ تو عنوان سے کوئی شغف ہے نہ رائیٹر بارے جاننے کا تجسس اور نہ ہی ان کا اپنا کوئی خاص انتخاب ہوتا ہے۔ بس جو بھی کتاب ہاتھ لگی، اٹھائی اور کبھی کھلی آنکھوں سے اور کبھی نیم باز آنکھوں سے اسے پڑھتے رہے۔ نہ تو ان کا شعور حاضر تھا اور لا شعور تو تھا ہی نہیں۔ اور کتاب پڑھ کر ایک جمائی لی پھر انگڑائی لی اور یہ جا اور وہ جا۔ پھر کونسی کتاب کہاں کا رائیٹر اور کیسا عنوان و مضمون، اللہ، ایسے ٹائم پاس قارئین سے رائیٹرز کو بچائے۔

پھر کچھ قاری ایسے بھی ملیں گے۔ جنہیں اپنے کورس، نصاب کی کتابوں سے رغبت نہیں لیکن رسالے اخبار ناول چاٹنے کو ہر وقت تیار، بلکہ وقت گزرنے کا پھر انھیں پتہ بھی نہیں چلتا ان ریڈرز میں لڑکے بھی شامل تھے اور لڑکیاں بھی، لڑکے ابن صفی کی کتابیں اور لڑکیاں رضیہ بٹ کے ناول کورس کی کتابوں میں چھپا کر پڑھتی تھیں۔ ایک پنتھ دو کاج۔ اپنے لئے ناول دنیا کے لئے کورس کی کتاب۔ واہ واہ کتنے ہوشیار قاری۔ ۔ ۔ ۔

کچھ قاری آپ کو ایسے بھی جھلک دکھلائیں گے، جو صرف ٹرین، بس اور پلین میں پڑھنے کا فریضہ ادا کریں گے۔ یہاں بھی وہ اپنے لئے کم اور دوسروں کے لئے زیادہ پڑھیں گے۔ کیونکہ یہاں وہ صرف دوسروں کو اپنی باڈی لینگویج ہی دکھا سکتے ہیں نا، تو کیوں نہ اپنے آپ کو ایک ادبی اور با ذوق پرسنیلٹی دکھایا جائے۔ موقع بھی ہے دستور بھی ہے اور حرج بھی نہیں ہے۔ پر یہیں پر کچھ قاری زمانے کی مار بھی کھا جاتے ہیں جب وہ اس علم کے خزانے کو الٹا پکڑ لیتے ہیں یا صرف تصویریں دیکھنے سے کام چلا رہے ہوتے ہیں۔ یا کارٹونوں میں الجھے ہوتے ہیں۔

ممکن ہے،  آپ بھی کچھ ایسے قارئین کی لسٹ میں شامل ہوں۔ جن میں مرد حضرات اخبار لے کر باتھ روم میں گھس جاتے ہیں ،حالانکہ پڑھنے کا یہ طریقہ خاصا غیر مہذب ہے، آخر علم کو چھپا کر کیوں پڑھا جائے، علم کے لئے تو چین تک جایا جائے تو صرف باتھ روم تک کیوں ؟ اور ادھر قاری عورتیں ہنڈیا بھونتے ہوئے ڈائجسٹ پڑھ رہی ہوتی ہیں۔ جیسے ان کا ایک ایک منٹ قیمتی ہے اور پھر یہی ڈائجسٹ بعد میں ان کے تکئے کے نیچے سے بھی برآمد ہوتا ہے۔

قارئین کی ایک ننھی منی قسم بھی رہی۔ جو کسی زمانے میں نونہال، تعلیم و تربیت، بچوں کی دنیا، الف لیلی، انار شہزادی، کوہ قاف کی پریاں ،مکار جادوگرنی، کانا دیو وغیرہ پڑھ کر جوان ہوئی۔ پھر اس کے ہاتھوں میں ابن صفی، عمران سیریز، انوار علیگی کی انکا، شکاری اور نسیم حجازی کے ناولز آئے ہیں۔ اور ان ہونہار پڑھنے والے سپوتوں کے بعد جو اگلی ننھی قوم آئی، اس نے ہاتھوں میں بچوں کے رسائل، میگزین کی جگہ ویڈیو گیمز تھام لیں۔ سو یہیں سے قارئین کی تعداد میں کچھ کمی آنا شروع ہو گئی۔

اخبارات کے قارئین کی ایک بڑی تعداد ان شوہروں کی ہے،  جو صبح آفس جانے سے پہلے اتنے محدود وقت میں بھی لازمی اخبار پڑھ کر جانا چاہتے ہیں۔ جب بیوی۔ ۔ ۔ سنیے، ذرا سنئے آج کیا پکاؤں ؟ کی پکار کر رہی ہوتی ہے۔ اور وہ سنی ان سنی کر رہے ہوتے ہیں ،حالانکہ صبح ہی صبح اخبار میں کون سی سواد کی خبر انھیں مل جانی ہوتی ہے۔ آفس سے آ کر بھی تو وہ تسلی سے اخبار کا قاری بن سکتے ہیں۔ مگر کہاں جی، اسی لئے تو میاں بیوی کی آدھی لڑائیاں ناشتے کی میز پر ہوتی ہیں۔

ویسے اخبارات کے قارئین کی ایک تعداد بڑی سلجھی ہوئی ہے۔ جی ہاں آپ صحیح سمجھے، جاب لیس لوگوں کی یا جاب سے ریٹائرڈ لوگوں کی۔ جنہیں کسی بات کی جلدی نہیں ہوتی۔ وہ صحیح پڑھنے کا حق ادا کرتے ہیں ،اور اخبار کو دن میں کئی کئی بار پڑھ لیتے ہیں۔ بھئی آخر پڑھنے میں کیا حرج ہے؟

یہ تو تھے اخبارات و رسائل پڑھنے والے قارئین،  جنہیں ایور گرین قاری کا نام بھی دے سکتے ہیں۔ کیونکہ یہ ہر دور میں دستیاب ہوں گے۔ بے شک زمانے کا چلن بدل گیا ہے، مگر اخبار کے بغیر ان کی صبح بے کار ہے، موڈ خراب ہے، دل بیزار ہے۔

اور جو بدیسی قاری ہیں ، وہ آفس جاتے جاتے نیٹ پر موٹی موٹی سرخیوں پر نظر ڈالتے جاتے ہیں۔ جیسے ان کے کندھے پہ کسی نے بندوق رکھی ہو کہ آفس پہنچنے سے پہلے پہلے ان کے پاس خبروں کا نادر ذخیرہ موجود ہو۔

قارئین کی ایک بڑی تعداد صنف نازک کی ہے، جن کی شمولیت بنا ادب کی دنیا خالی رہے گی۔ اور یہ بڑی اور بھاری تعداد ناول اور ڈائجسٹ کو ترجیح دیتی ہے۔

پہلے اس نرم و نازک قاری کا دل بہلانے کے لئے مرد حضرات ہی ان کے لئے لکھا کرتے تھے، مگر وہ عورتوں والے جذبات، رومانیت، رونا دھونا، واویلا کہاں سے ڈالتے۔ سو یہ بیڑہ بھی پھر ان خواتین نے خود سنبھال لیا۔ اور اتنی اچھی طرح سے سنبھالا کہ اب وہی لکھنے والے مرد رائیٹر خود ان کو شوق سے پڑھتے ہیں۔

قارئین کی ایک بڑی تعداد شاعری پڑھنے والوں کی بھی ہے۔ جو اسے پڑھ کر وجد کے عالم میں جھومنا چاہتے ہیں۔ اس کیٹیگری میں ان قارئین کی تعداد زیادہ ہے، جنہیں اظہار میں مشکل کا سامنا ہو۔ جو اپنا ہوم ورک دوسروں کی مدد سے کرتے آئے ہوں ،تھوڑے سے چھپے رستم ہوں اور اپنے دل کی دل میں رکھنے والے ہوں۔ دنیا والوں کو وہ۔ ۔ ۔ ۔ “میں شاعر تو نہیں ” نظر آتے ہوں۔ مگر شاعری پڑھ پڑھ کر اندر سے خود اتنے حساس، لطیف اور رومانیت پسند ہو چکے ہوتے ہیں کہ پھر ان کا قلم بھی پھسلنے لگتا ہے۔ اور کبھی کبھی یہ قاری سے رائیٹر میں بدل جاتے ہیں۔

سو اب تو آپ کو اندازہ ہو گیا نا۔ یہ تینوں ایک ہی دائرے میں ہیں اور اسی میں گھومتے رہیں گے۔

٭٭٭

 

 

 

 

ناشتہ

جب سے آنکھیں پٹپٹاتے ہوئے اس دنیا کی رونق کو دیکھنا شروع کیا تو ایک چیز روزانہ سب کو ایک وقت مقررہ پر کرتے دیکھا۔ ہر انسان کی زندگی میں اس کی بہت اہمیت دیکھی۔ اور یہ روزانہ پوری دنیا کے تعاون سے جاری ہے۔

صحیح پہچانا۔ ۔ ۔ ۔ ناشتہ،  جس کے بغیر بندے کی صبح مکمل نہیں ہوتی۔ اور ناشتے کے اہتمام کے بغیر لگتا ہے کہ ابھی شائد رات ہی ہے۔ بستر سے اٹھ کر بھی دوبارہ بستر میں گھس جانے کو دل کرتا ہے۔ چہرہ اترا سا بیماروں کی طرح لگتا ہے۔ آنکھیں نیم باز ہو کر اس دنیا اور اس کے باسیوں کو دیکھنے سے انکاری ہوتی ہیں۔ بندے کی باڈی بغاوت پر اتر آتی ہے۔ پیٹ میں ہارمونز کی گھمسان کی جنگ چھڑ جاتی ہے۔ بادامی، کالی، نیلی، شربتی، براون، سبزآنکھیں صبح کے رنگین، گرین نظارے دیکھنے کے بجائے ابھی خوابوں اور سپنوں کی دنیا کے باغ میں گھوم رہی ہوتی ہیں ،باہر آنے کو تیار نہیں ہوتیں۔ اور کچھ گھروں میں تو انھیں باہر لانے کے لئے ڈنڈے کا استعمال بھی کرنا پڑتا ہے۔

چائے کافی کے بغیر دل نہیں مانتا۔ اس لئے بہت سوں کو تو بیڈ ٹی کی رشوت دے کر بستر سے نکالا جاتا ہے۔ حالانکہ یہ یوگا کرنے والے تو اس دنیا کو ناشتے سے بھی کہیں پہلے صبح پانچ بجے بستر سے گھسیٹ لینا چاہتے ہیں۔ مگر دنیا ان کی ایک نہیں سنتی۔ الٹا انھیں سادھو، ملنگ اور ہوا خور کہہ کر جلے دل کے پھپھولے پھوڑ لیتی ہے۔ جبکہ ساری دنیا کو ناشتے کی طرف راغب کرنے کے لئے بیچاری بھینس صبح صبح دودھ دیتی ہے۔ اور گوالا اس میں پانی ملا کر اپنا دھندہ کب کا شروع کر چکا ہوتا ہے۔ کیونکہ اسے پتہ ہے کہ ابھی اس وقت اس سستی کی ماری دنیا کو ملک ود واٹر پلانا کافی آسان ہے۔

کچھ لوگ اس وقت نہار منہ وٹامن شٹامن کھا رہے ہوتے ہیں اور کچھ گلوکوز پانی میں ملا کر پیتے ہیں اور اپنے تئیں کمزور ناتواں سمجھتے ہیں۔ حالانکہ ان سے نہار منہ دوائی تو کھائی نہیں جاتی۔ جو ڈاکٹر، حکیم بتا بتا کر تھک جاتے ہیں۔

البتہ اس وقت ناخواندہ اور نیم پڑھے لکھے طبقے کی پھرتیاں عروج پر ہوتی ہیں۔ دودھ دہی کی دکانوں والے فورا شٹر اٹھا کر کجے جیسے برتن میں مدھانی ڈال دیتے ہیں۔ اور دیکھتے ہی دیکھتے مکھن کے پیڑے اور ملائی کھوئے والی لسی کا لمبا گلاس تیار۔ جسے دل چاہے تو پہلوان پیئے یا پہلوان بننے کا خواہشمند، اور خود وہ چائے منگوا کر پی رہے ہوتے ہیں۔

حلوائی کی ڈیوٹی اس وقت تھوڑی اور پر کشش ہو جاتی ہے۔ بچارا حلوائی جس کے ہاتھ سارا دن لڈو، گلاب جامن، چم چم، رس گلے، بالو شاہی سے میچ کھیلتے رہتے ہیں اور ان کا ذائقہ چیک کرتے کرتے وہ خود شوگر میں تبدیل ہونے والا ہوتا ہے۔ اس وقت اس کا منہ۔ ۔ ۔ ۔ کچھ نمکین ہو جائے۔ ۔ ۔ کا متقاضی ہے۔ لہذا وہ گرم گرم پوریاں ،چنے چھولے اور قیمے والے پوڑے بڑا دل لگا کر بنا رہا ہوتا ہے اور اپنی اس خوشی کا اظہار پوری بناتے ہوئے زور زور سے تالی بجا کر کرتا ہے۔ ویسے بنانا تو اسے حلوہ بھی پڑتا ہے کیونکہ اس کے بغیر پوریاں ناراض رہتی ہیں مگر لوگ اس وقت حلوے کو تبرک کی طرح کھاتے ہیں۔

بچپن سے اب تک ایک خوش کن جملہ سنتے آ رہے ہیں۔ ۔ ۔ بچو اسکول کو دیر ہو رہی ہے جلدی سے آ کر ناشتہ کر لو۔ نہیں تو مس مارے گی۔ جب کہ میاں کو کیوں نہیں ایسے پیار بھری ڈانٹ دی جاتی کہ جلدیسے آ کر بریک فاسٹ کھا لو ورنہ آفس کو دیر ہو جائے گی اور باس کی ڈانٹ کھانی پڑے گی۔ ادھر میاں بچارے کی شرٹ کا بٹن بھی عین ناشتے کے وقت ہی ٹوٹتا ہے۔ لنچ اور ڈنر کے وقت نہیں۔ ۔ اور بیوی کے سلیقے سگھڑاپے کے لئے ایک اور سیاپا اور امتحان شروع ہو جاتا ہے۔ پھر اگر گھر میں بڑے بزرگ موجود ہیں تو ان کی گزری رات کی نیند کی داستاں اور بیماری کی بپتا بھی ناشتے کے وقت ہی سننا پڑتی ہے۔

اور ان لمحات میں ہی بیوی کو دوپہر اور رات کے کھانے کی فکر ستانے لگتی ہے۔ اور وہ خاوند کو سنئے آج کیا پکاؤں ؟ کا روزنامہ سنانے لگتی ہے۔ بچوں کے سکول اور گھر کے ہیڈ ممبر کے آفس جانے کی وجہ سے گھر میں اچھا خاصا میچ۔ ۔ اک ہڑبونگ مچی ہوتی ہے اور وہ بھی عین ناشتے کے وقت،  جبکہ لوگ ابھی تک ناشتے کا صحیح مفہوم بھی ٹھیک طرح سے نہیں سمجھ پائے۔ حکیم لوگ کہتے ہیں کہ غذا ہمیشہ سادہ، ہلکی اور بھوک رکھ کر کھانی چاہیئے۔ اور ڈاکٹر حضرات کہتے ہیں کہ ناشتا ڈٹ کر بادشاہ کی طرح کرنا چاہیئے۔ سو یہ بھی فقیر اور بادشاہ کے درمیان پیچا پڑ گیا۔ جو لوگ حکیم حضرات کے پیچھے چلتے ہیں وہ چائے میں رس ڈبو ڈبو کر کھا رہے ہوتے ہیں اور ڈاکٹر صاحبان کی اطراف والے انڈے پراٹھے، نان چنے، حلوہ پوری، سری پائے، کلچے، شیرمال سے مزے اڑا رہے ہوتے ہیں۔ اور اک متوازن ناشتے کا مقصد پورا نہیں ہو پاتا۔

ویسے ناشتے کا تصور شہر اور گاؤں کے حساب سے بھی مختلف ہے۔ روایتی لحاظ سے بھی دیکھا جائے تو گاؤں میں لسی اور دودھ کو باقی لوازمات کے ساتھ ترجیح دی جاتی ہے اور شہر میں چائے اور کافی کو۔

ایک اور کلچر کے لوگ کسی بھی وقت کے کھانے کو ناشتہ کہہ رہے ہوتے ہیں۔ کتنا عجیب لگتا ہو گا جب وہ شادی کے کھانے کے لئے بھی مہمانوں کو کہتے ہوں گے کہ آئیے ناشتہ کر لیجیے۔ ۔ یا ٹرین میں سفر کے دوران آدھی رات کو وہ ناشتہ کرتے ہوں گے۔ اچنبھے کی بات ہے کہ پھر وہ ناشتہ کے وقت کیا کرتے ہوں گے؟

اتنی رونق اور شور شرابا تو دوپہر اور رات کے کھانے پر بھی نہیں ہوتا۔ جتنا صبح صبح اس موقع پر، پر روزانہ طے کئے اس کام کو ذرا سلیقے سے کرنے کی ضرورت ہے اور ایک متوازن ناشتے کا مفہوم جاننے کی، جس میں غذا کے تمام ضروری جزو موجود ہوں۔

بہتر یہ ہو گا کہ غیر ضروری تیل، گھی سے نچڑتے کھانوں کو اپنی صحت کے صدقے ذرا ناشتے سے دور ہی رکھیے۔

٭٭٭

 

 

 

ایک میں اور ایک تم

 

ہم گھر والوں کے دو شاہکار۔ ۔ ۔ ۔ ۔

اکٹھے ہی گھر کو رونق دینے چلے آئے تھے۔ ویسے تو اماں ابا بڑا صرفے کے قائل تھے۔ لیکن پتہ نہیں یہاں آن کا حساب کتاب کیسے غلط ہو گیا کہ وہ بھی اس فضول خرچی کے منتظر نہ تھے۔ چند منٹوں کے وقفے سے ہم دونوں بھائی اس رنگوں کی دنیا میں رنگینی بڑھانے کے لئے رونق افروز ہو چکے تھے۔

وہ زمانے نہیں تھے کہ جب پہلے ہی پتہ چل جاتا کہ گھر میں ایک نہیں دو مہمان آ رہے ہیں۔ تب تو لوگ دوائی بھی تبھی کھاتے تھے، جب جان پہ بن آتی۔ نزلہ چلتا تو جوشاندہ پی لیتے، کھانسی ہوتی تو منہ میں ملٹھی رکھ لیتے۔ کمزوری آتی تو پانی میں گلوکوز ڈال کر دل ناتواں کو تراوٹ پہنچا لیتے۔ ہم بھائیوں کی طرح یہ وٹامن شٹامن تب نہیں تھیں۔ واہ واہ کیا سستے زمانے تھے اور سستے نسخے، اور سستے میں ہی سب چھوٹ جاتے تھے۔

سننے میں آیا کہ لوگوں رشتہ داروں کا ہمیں دیکھ کر رشک و حسد سے برا حال ہو گیا۔ لوگ بھانت بھانت کی بولیاں بولنے لگے۔

ایک بولی آئی۔ ۔ ۔ ۔ ” واہ واہ، کیا قسمت پائی ہے حضرت آپ نے۔ لوگ ایک اولاد نرینہ کو ترستے ہیں اور  ماشاءاللہ، آپ کے لئے اللہ نے جوڑی بھیج دی۔ ”

دوسری بولی، بولی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ہمممممم ایک بیٹا ہوتا ایک بیٹی ہوتی تو تب فیملی بالکل مکمل ہو جاتی۔ ہم دو ہمارے دو کے مصداق۔ ۔ ۔ اور ان کو نظر بھی نہ لگتی۔ ”

تیسری بولی بھی یقیناً پیچھے نہ رہی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ہاں اللہ کی شان، اگر دو بیٹیاں آ جاتیں تو ابھی سے ہی ان کی قسمت کی فکر لگ جاتی۔ ”

اور ایک حضرت نے تو حد کر دی۔ آگے بڑھ کر بولے “میاں صاحب، اب تو آپ کے گھر میں ایک ڈاکٹر اور ایک وکیل پکا۔ ۔ ۔ ”

پتہ چلا لوگ تو یہ لمبی لمبی چھوڑتے رہے اور بچارے ابا اماں ایک دوسرے کی آنکھوں میں ہی جھانکتے رہے۔ اور آنکھوں ہی آنکھوں میں یہ طے پا گیا کہ ایک کے لئے بنائے گئے کپڑے مساوات کے تحت دونوں میں تقسیم کر دیں گے۔ اور یہ کہ ایک کو تم ساتھ سلانا اور ایک کو میں۔ اور دونوں کو بدل بدل کر منہ کا ذائقہ بدلنے کے لئے کبھی ماں کا دودھ ملے گا اور کبھی بکری کا۔ یہ خاموش معاہدہ کر کے دونوں کچھ پرسکون ہو گئے۔ اس سے پہلے تو دونوں دل میں کچھ گھبرائے ہوئے تھے کہ اللہ نے تو چھپر پھاڑ کر دے دیا مگر اسے سنبھالیں گے اب وہ کیسے ؟

اور پھر وہ بھانت بھانت کے لوگ اور بھانت بھانت کی بولیوں کی طرف متوجہ ہو گئے۔ جو ہمارا مستقبل طے کر رہے تھے۔ اور ہم آنکھیں پٹپٹا کر اس دنیا کے باسیوں اور ان کی باتوں سے بے نیاز ایک بھائی ہاتھ کا انگوٹھا اور دوسرا بھائی پاوں کا انگوٹھا چوستے رہے۔ اماں ابا انجانے میں ہی ڈبل خرچے کے نیچے دب چکے تھے۔

اب لوگوں نے ڈبل مٹھائی کی بھی ڈیمانڈ کر دی۔ ابھی لوگ پیلے لڈوؤں ،چٹی، پیلی، گلابی چم چم، حبشی حلوے اور کالی گلاب جامنوں سے منہ میٹھا کر کے ہٹے ہی تھے کہ نام کرن کا مسئلہ پیش آ گیا۔

ایک مفت کا مشورہ آیا کہ ان کا نام بھی کلیان جی آنند جی، لکشمی کانت پیارے لال، آنند ملن یا شنکر جے کشن کی طرح رکھا جائے۔ جو ایک ہی سانس میں لیا جا سکے۔ آخر دو سانسوں کی فضول خرچی کی کیا ضرورت ہے۔ ۔ ۔ سو ہمارے لئے بھی ایم اشرف۔ ۔ ۔ حسن طارق۔ ۔ ۔ ۔ اکبر اعظم جیسے نام قرعہ اندازی میں ڈلنے لگے۔ یا پھر یہ کہ وحید مراد نام کو ہم دونوں میں تقسیم کر دیا جائے۔ یا محمد اور علی کو اکٹھا کر دیا جائے۔ شکر ہے ہماری بچت ہو گئی کسی نے رنگیلا، منور ظریف۔ ۔ ۔ ۔ یا۔ ۔ ۔ ۔ الن، ننھا جیسے نام نہیں سوچ لیے۔

البتہ اماں نے شائد فلم گورا اور کالا دیکھ لی تھی۔ ہم میں سے ایک کافی گورا تھا اور دوسرا تھوڑا کالا۔ لوگوں کو اس بات پر بھی اعتراض تھا کہ دونوں کے رنگ ایک جیسے ہوتے تا کہ یہ بھائی تو لگتے۔ ایک صاحب نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ ” ان کی عرفیت تو بنی بنائی ہے۔ بگھا اور کالو۔ ” اب ان میں سے کوئی اس سے کہتا ” کیا تم آرڈر پہ بنے تھے۔ ؟ افسوس، اتنے تماش بینوں میں کسی نے بھی کہنے والے کی زبان نہ پکڑی۔ اور اس بات پر ہم آج بھی تلملاتے ہیں۔ کیونکہ چڑیاں کھیت چگ گئی تھیں۔

چنانچہ باہمی مشاورت سے ہمارے نام رکھ دیئے گئے۔ سب۔ ۔ ۔ ر۔ ۔ ۔ ۔ کے پلیٹ فورم پر اکٹھے ہو گئے تھے۔

میرا نام راسخ اور بھائی کا نام راحم۔ ۔ ۔ راسخ کا معنی ہے مضبوط اور دیرپا اور راحم کا معنی رحم کرنے والا۔ ۔ ۔ ۔ یہ تو علیحدہ بات ہے اور بہت بعد کی بات ہے کہ میں مضبوط ہو کر بھی بھائی سے مار کھا لیتا تھا اور بھائی کے نام کے مصداق پھر اپنے پر رحم بھی کر لیتا تھا۔

لوگوں کی بھیڑ ذرا چھٹی تو اماں ابا کو بھی ہمیں گود میں لینے اور ہم پہ غور کرنے کا موقع ملا کہ کونسا ماں پر ہے اور کونسا باپ پر۔ ابھی غور و خوض جاری تھا کہ دھن دھنا دھن گھر کا دروازہ پیٹا جانے لگا کہ “۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کدے گھار کاکا جمیا۔ ۔ ۔ ۔ ” اور ناچنے والے اپنے ہاتھوں کی سپیشل تالیاں بجاتے گھر کے اندر گھس آئے۔ چھن چھن چھنا چھن۔ ۔ ۔ ۔ اور گھنگھرو¿ں کی جھنکار کے ساتھ دیکھتے ہی دیکھتے ڈانس بھی شروع ہو گیا۔ جن لوگوں کے لئے پہلے ہم جان محفل تھے، اب وہی ہم سے منہ پھیر کر ناچنے والوں کے گرد گھیرا ڈال چکے تھے۔ اور اپنی پسند کے گانے سننے لگے تھے۔ اور رقص کے زاوئے اپنے ذہن میں محفوظ کرنے لگے تھے۔

اماں ابا پھر گھبرا کر ایک دوسرے کا منہ دیکھنے لگے۔ کہ اب پھر ڈبل خرچہ ہو گا۔ ۔ ۔ ان کا بس نہیں چل رہا تھا کہ ہم میں سے ایک کو چھپا دیا جاتا یا ہم میں سے ایک کو کوئی اڈاپٹ ہی کر لیتا۔

سو آنے والے رقاصاؤں نے خوب اپنے ڈانس کی کلا دکھانی شروع کر دی۔ ابھی ہم جھولے میں قلقاریاں مارنے اور گود کی سواری کے قابل تھے مگر ہمارے سہروں کے گیت گائے جا رہے تھے۔

جیوے بنڑا عمراں ساریاں

تیرے سیرے توں میں واریاں

اور

دولہے کا سہرا سہانا لگتا ہے

دلہن کا تو دل دیوانہ لگتا ہے

دلہن۔ ۔ ۔ ۔ جس بیچاری نے ابھی پتہ نہیں کب اس دنیا کی سیر کو آنا تھا۔ جس کا انتظار پھر ہمیں ابھی سے ہی شروع ہو گیا تھا۔ ۔

٭٭٭

 

 

 

 

ہمارا رویہ

 

زندگی کے بہتے بہاؤ میں ہمیں بہت سی چیزوں اور باتوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ کچھ چیزیں ہمارے سامنے کھلی کتاب کی طرح ہوتی ہیں اس لئے ان سے تو آنکھ چرانا ممکن نہیں لیکن کچھ باتیں ہماری زندگی میں سائیڈ فلم کے طور چل رہی ہوتی ہیں ،جن پر اگر غور نہ کیا جائے تو ہمیں پتہ بھی نہیں چلے گا کہ ان میں ہماری ذات کے کتنے پہلو پنہاں ہیں۔ انھی میں ایک بہت اہم بات ہے ہمارا رویہ،کیونکہ یہ کسی بھی انسان کے:

موڈ کو ظاہر کرتا ہے۔

اس کی شخصیت کی عکاسی کرتا ہے۔

اس کی اخلاقیات کو نمایاں کرتا ہے۔

اس کی ذات کا مثبت یا منفی پہلو دکھاتا ہے۔

دوسرے لوگوں کے ساتھ اس کا رشتہ اور تعلق واضح کرتا ہے۔

معاشرے میں اس کے کردار کو نمایاں کرتا ہے۔

تو یہ رویہ جو اپنے آپ میں اتنی حقیقتیں لئے ہوئے ہے اسے اکثر پس پشت ڈال دیا جاتا ہے۔ اور انسان صرف اپنے دل کی بات سننے اور ماننے میں اتنا آگے پہنچ جاتا ہے کہ اپنا رویہ کہیں رکھ کر بھول جاتا ہے۔ اپنے آپ میں مگن وہ دوسروں کے حقوق اور اپنے تعلق کو کہیں طاق میں رکھ دیتا ہے۔ اپنی۔ ۔ میں۔ ۔ کو دکھانے کے چکر میں اس کا غلط استعمال کر رہا ہوتا ہے۔ اور کچھ باتوں اور سلسلوں میں ہمیشہ دوسروں کی پہل کے انتظار میں رہتا ہے۔ اور خود کبھی کبھی انجانے میں کسی کی حق تلفی بھی کر دیتا ہے اور اپنی شخصیت کے خاص پہلو کو تاریکی میں دھکیل دیتا ہے۔ کیونکہ بعض دفعہ وہ اک نیکی کمانے کا موقع گنوا دیتا ہے اور وہ لمحہ اس کے ہاتھوں سے پھسل جاتا ہے۔ حتی کہ سلام جیسے مقدس بول کی ابتدا کے لئے بھی وہ دوسروں کی جانب سے منتظر رہتا ہے اور آغاز گفتگو کے لئے بھی اوروں کی طرف سے پہل کا متمنی ہوتا ہے۔ اور اکثر اسے اپنی انا کا مسئلہ بھی بنا لیتا ہے۔

جس طرح مالی باغ میں موسم کے حساب سے درخت کو چھانگ رہا ہوتا ہے اور اس کی بے کار شاخوں کو تراش دیتا ہے اور نئے پھل پھولوں کے لئے اسے تیار کر دیتا ہے اسی طرح ہر انسان کے اندر بھی ایک مالی کے اوصاف ہیں اور اس کا جسم و جاں بھی بمثل درخت ہے اس کی بھی دیکھ ریکھ بہت ضروری ہے اس کے مزاج میں بھی پھولوں جیسی ملائمت اور شگفتگی کی ضرورت ہے تو اس کی بے کار شاخیں ہم اپنے تجزئے سے ہی تراش سکتے ہیں۔

تو وقت کے پھسلتے لمحوں سے کچھ پل تھام کر جائزہ لیجئے کہ کہیں آپ اپنے تکبرانہ روئے سے کسی کو ہرٹ تو نہیں کر رہے ؟

سلام میں اولیت اور دوسروں کے معاملات میں معاونی رویہ نہ دے کر آپ اپنی چھوٹی چھوٹی نیکیاں کمانے کے وسیلے تو نہیں ختم کر رہے ؟

اپنی بیمار سوچوں ،غیر صحتمند عادتوں ،تلخ رویوں کی بدولت دوسروں کے لئے باعث زحمت تو نہیں بن رہے ؟ لمحہ فکریہ ہے تو انداز سوچ بدلیے،  نفسانفسی اور خود غرضی کی پٹی اتار پھینکیے۔ اپنے معاملات زندگی کو قابل قبول بنائیے۔

اسے پھلنے پھولنے والی کھاد ڈالئے اور نئی امید کے پانی سے سیراب کریں اور اگلی نسل کو اک خوبصورت تحفہ دیجیے۔ اچھا سوچیں گے اچھا کریں گے تو اچھا ہونے کے امکانات بھی روشن ہوں گے۔ امید کی لہلہاتی کھیتی بھی آباد رہے گی۔

اپنی شخصیت کو ایسے سجائئے جیسے پرفیوم کی بھینی بھینی مہک لوگوں کو آپ کے معطر وجود کا احساس دلاتی رہتی ہے۔ اسی طرح آپ کا مثبت رویہ بھی آپ کے گرد لوگوں کو مسحور رکھے گا۔ دوسروں کے لئے باعث زحمت بننے سے کہیں اچھا ہے کہ باعث رحمت بنا جائے اور اپنے حصے کی نیکیاں کمائی جائیں۔

سو دوسروں کو بدلنے اور اپنی امیدوں پر پورا اتروانے کی بجائے معاشرے میں اپنے مثبت روئے کا کردار نمایاں کیجئے کیونکہ کسی بھی معاشرے کے لوگوں کا رویہ ہمیشہ ایک اہم رول ادا کرتا ہے اور مزے کی بات کہ اس روئے کو کنٹرول کرنے کی چابی بھی انھی کے پاس ہوتی ہے۔

٭٭٭

 

 

 

ذرا سنتے جانا

 

ذرا ٹھہرو

صدا میرے دل کی

آگے جانے والے بھیا، ذرا سنتے جانا

ارے یہ کیا تم تو ٹھٹک کر پھر چل پڑے۔ میں کوئی تم سے پیسے تھوڑی مانگنے لگا تھا۔ مجھے تو تمھارا تھوڑا سا وقت چاہیے۔ زیادہ نہیں ،بس آدھ گھنٹہ بھی چلے گا۔

میں شاعر تو نہیں مگر اس وقت میرے اندر شاعر والے جذبات کروٹیں لے رہے ہیں۔

اور کوئی سننے والا چاہیئے۔ یہ پاس ہی پارک ہے آؤ،  وہاں چلتے ہیں۔ شکریہ

آہا، کتنا خوبصورت پارک ہے۔ ہر رنگ کے پھول کھلے ہیں۔ گلابی نیلے پیلے،

”باغ میں کلی کھلی بھنورا نہیں آیا ہائے رے ہائے رے “

ہاں تو بھیا، میں جب اپنے آس پاس دیکھتا ہوں تو مجھے کچھ چیزیں اپنے مدار سے ہٹی ہوئی لگتی ہیں تو یہ بے ترتیبی میرے اندر ہلچل مچانے لگتی ہے۔ اس لئے میں چاہتا ہوں کہ آپ کو سنا کر اپنے دل کا بوجھ ذرا ہلکا کر لوں۔

مجھے پہلا شکوہ ہے میوزک کمپنیوں سے، ان میوزک کمپنیوں سے جنہوں نے جھنکار بیٹ بنائی۔ بھائی اچھے بھلے گانے چل رہے تھے اپنے اوریجنل ٹریک پر۔ کیا سریلے سر تھے۔ کبھی ڈھولکی کی آواز متاثر کرتی تو کبھی ستار اور بانسری کی، کبھی پیانو کی تو کبھی ہارمونیم کی۔ ایک ایکسر واضح تھا۔ جس سر کے ساتھ مرضی اپنی تال ملا لو۔

کہ اچانک جھنکار بیٹ کی شکل میں سروں کا طوفان سر پر آن گرا۔ وہی راگ جو پہلے دھیمے سر میں بہتے تھے اچانک ایک پرشو رندی میں تبدیل ہو گئے اور سر پر ہتھوڑے کی طرح ٹھک ٹھک بجنے لگے۔ اب تو سیڈ سونگ بھی سرپر چڑھ کر ناچنے لگا۔ اور سب کچھ بے سرا ہو گیا۔ اسی لئے تو لتا جی نے بھی کہا تھا کہ ” لگتا ہے میرے گانوں میں کوئی کمی رہ گئی ہے جسے لوگ جھنکار ڈال کر پورا کر رہے ہیں۔ “

ہاں تو بھائی کیا ضرورت تھی اس ہرجائی جھنکار کی۔ یہ تو جن بے چارے موسیقاروں نے جان مار کے ’سر نکالے ان کے ساتھ دن دیہ اڑے ڈاکہ والی بات ہوئی۔ یہ دراصل انھی کے ساتھ ہمدردی ہے جو شکوہ بن کر میری زبان پر آ گئی۔

اگلا شکوہ ہے مجھے فقیر حضرات سے،  جو تب بھی مانگ رہے تھے اور آج بھی مانگ رہے ہیں۔ انھوں نے کوئی ترقی نہیں کی۔ پہلے ان کو پھٹا پرانا کپڑا دے دو، مٹھی بھر آٹا دے دو، اپنی جیب کے مطابق پیسے دو، تو یہ ہمیں انڈرسٹینڈ کر لیتے تھے اور جھولی بھر بھر کر دعائیں دیتے تھے اور قالین کی طرح بچھے جاتے تھے۔

اور جوڑی سلامت رہے، تیرا بچہ جیئے، تو پیسے میں کھیلے، جیسی دعائیں بن مانگے مل جاتی تھیں۔

مگر اب تو اوئی اللہ،  وہی سائل نہ تو کپڑا لیتا ہے، ایک روٹی سے اس کا گزارہ نہیں ہوتا اور تھوڑے پیسے دو تو وہ گھور کر دینے والے کی اوقات جانچتا ہے۔ اب اس کی زبان پر بھی شکوے آ گئے ہیں۔ صبر اور شکر وہ بھی بھول گیا ہے تو دعائیں کہاں سے دے گا۔ حالانکہ اسے پتھ ہونا چاہیئے کھ اب تو پوری قوم کا حال اس جیسا ہے امداد کے نام پر خیرات مانگی جاتی ہے۔ بہتوں تک تو وہ خیرات پہنچتی بھی نہیں۔ شائد اس میں برکت نہیں ہے۔ اور اندھا بانٹے ریوڑیاں اپنوں اپنوں میں کے مصداق وہ راستے میں ہی بٹ جاتی ہے۔ اب تو ملک میں بچہ جیسے ہی پیدا ہوتا ہے تو اس کے حصے کا قرضہ پہلے ہی اسکا منتظر ہوتا ہے۔ تو وہ بال بال اک عالمی قرضے میں مقروض ہو جاتا ہے۔

اب کیا کہوں ان موٹر سائیکل والوں سے،  کیا بتاؤں بھائی، اچھے بھلے موٹر سائیکل پر یہ لوگ سوار تھے تو یہ پیچھے رکشہ لگانے کی کیا ضرورت تھی۔ اچھا بھلا گزارا ہو رہا تھا تانگے گھوڑے کی مدد سے۔ گھوڑے کی ٹاپ جب ٹھپ ٹھپ پڑتی تھی تو تھا تھیا والی موسیقییاد آ جاتی۔ بچے بھی گھوڑے کو دیکھ کر خوش ہو لیتے۔ امیر بگھی میں بیٹھ کر خوش تھا اور غریب تانگے میں۔ ان لوگوں نے تو بیچارے تانگہ بان کی روزی پر لات مار دی۔

کر بھلا تو ہو بھلا، اب انھیں پتہ چلے گا جب انھیں گیس، پٹرول نہیں ملے گا۔ پھر لوگوں کو تانگے کی بھی قدر آئے گی۔ اے بھیا، ان کی چن چن میں بیٹھ کر تو ویسے بھی دم ہوا۔ ۔ ۔ ہوا جاتا ہے۔ پٹرول علیحدہ سونگھنا پڑتا  ہے۔ اور دھوئیں کے بادل اور فضا کو پلوشن سے بھر دیتے ہیں۔ اور شوخی میں آ کر تیز یہ اتنی کہ۔ ۔ میں اڈی اڈی جاواں ہوا دے نال۔ ۔ ۔ ۔ ۔

آہ، یہ ٹیلر ماسٹر،  کچھ سال پہلے یہ درزی کی سیٹ پر بیٹھا تھا۔ اور صرف اور صرف جینٹس کے کپڑے ہی سینے کے لئے پکڑتا تھا۔ لیڈیز کے کپڑوں کو تو اپنی گنہگار آنکھوں سے دیکھتا بھی نہیں تھا۔ اس لئے بچوں اور لیڈیز کے کپڑے سینا اس کی پرابلم نہ تھی۔ عورتوں کو اپنے کپڑے گھر پر ہی سینا پڑتے تھے، اور یہ ان کے سلیقے کا بھی امتحان ہوتا تھا۔ وقت کے ساتھ اس کا بھی اچھا وقت آ گیا۔ اب یہی درزی، ٹیلر ماسٹر بن گیا ہے اور لیڈیز کے کپڑے دھڑا دھڑ سینے لگا ہے۔ جس سے اس کی کمائی چوگنی ہو گئی ہے۔ ہم مرد حضرات کبھی جائیں تو لفٹ ہی نہیں کراتا۔ کہ نہیں میرے پاس تو لیڈیز کے بہت کپڑے ہیں ،عید آنے والی ہے اس کا رش ہے۔ اور مولز میں اتنے تو جینٹس کے ریڈی میڈ ڈریسز ملتے ہیں کہہ کر ہمیں باہر کی راہ دکھاتا ہے۔

ایک شکوہ مجھے ہے کہ،  پہلے فلمیں چربہ بنتی تھیں اب تو ڈرامے بھی چربہ بننے لگے ہیں۔ اور فلموں کا چربہ بنانے کے لئے اب انگلش فلموں کی کہانیاں استعمال ہوتی ہیں۔ سو اسی لئے اب فلموں کا معیار کم ہو گیا ہے۔ بھائی دوسروں کی محنت پر ہاتھ صاف کرو گے تو ایسا ہی الٹا سیدھا، اپلم چپلم، اوٹ پٹانگ فلم کے نام پر بنا پاؤ گے۔

ایک بڑی شکایت مجھے آج کے فیشن سے بھی۔ ۔ ۔ ۔  کیا اچھے دور تھے جب عورتیں دنداسہ سے یا پان کھا کر ہونٹ رنگ لیتی تھیں۔ کاجل کی ڈبیہ سے انگلی سلائی کی طرح آنکھ میں پھیر لیتی تھیں ،بالوں کو یا تو وحیدہ رحمن اسٹائل میں بنا لیتیں یا سادھنا ہیئر کٹ یا۔ ۔ ۔ ۔ پی پی لانگ سٹرمپ کی طرح دو چٹیاں میں باندھ لیتیں۔ ان میں صرف نیرو کی بیوی بڑی فضول خرچ تھی جو گدھی کے دودھ سے نہاتی تھی۔

مگر اللہ توبہ۔ ۔ ۔ یہ وقت بھی آنا تھا قیامت کی نشانی بن کر۔ اب تو اتنی فضول خرچی ہوتی ہے اس میک اپ پر کہ لڑکپن جوانی میں تبدیل ہو جاتا ہے اور جوانی دیوانی ہو جاتی ہے۔ اور بڑھاپا۔ ۔ ۔ جوانی اور بڑھاپے کے سنگم پر کھڑا ہو جاتا ہے۔ ملک کے بجٹ کو اور زیر بار ان عورتوں کے میک اپ نے کر دیا ہے۔

اس لئے بھیا،

کہاں تک سنو گے کہاں تک سناؤں

ہزاروں ہی شکوے ہیں کیا کیا بتاؤں

مستنصر حسین تارڑ کے شکوؤں سے بھی زیادہ،

میں سنا سنا کر اپنا دل جلاتا رہوں گا اور تم سن سن کر کلستے رہو گے۔

اس لئے اب تم اپنے گھر کا رستہ ناپو اور میں باقی حال دل سنانے کے لئے کسی اور کو ڈھونڈتا ہوں۔

٭٭٭

 

 

 

 

ہر سانس گراں بار

 

جب سے یہ کائنات بنی ہے۔ رنگوں سے اس میں رنگینی بھری ہے۔ زندگی کے ساتھ وقت نے بھی اپنا سفر شروع کیا ہے۔ تو وہ سفر جاری و ساری ہے، وقت شائد ہی کبھی ٹھہرا محسوس ہوا ہو۔ ورنہ ہر دور میں یہ بھاگتا ہی رہا ہے۔ تیز اور تیز پھر اور تیز۔ اور اس کا ساتھ دینے کو ہمیشہ زمانہ ہی پیچھے بھاگتا رہا۔ اگر کبھی ٹھہرا ہے تو صرف غم کا زمانہ، دل کا فسانہ اور وہ بھی دل کے اندر۔

میں جب بھی زمانے کا چلن محسوس کرنے لگتی ہوں ،تو ساتھ ساتھ اپنے بزرگوں اور والدین کے دور میں بھی جھانکنے کی کوشش کرتی ہوں۔ تو پھر مجھے وہ لوگ خوش قسمت لگتے ہیں جو ایک ہی دور میں پیدا ہوئے، اسی میں اپنی زندگی جیئے، اسی میں اپنی جاگتی آنکھوں سے انھوں نے جو خواب دیکھے، ان میں کچھ پورے ہوئے اور کچھ نہ ہوئے تو انھوں نے اسے اپنے اوپر اتنا طاری نہ کیا۔ کچھ اپنی قسمت کے کھاتے میں ڈالے اور باقی صبر کے خانے میں فٹ کئے اور باری آنے پر چلے گئے۔

زمانے کی اتھل پتھل کا انھیں اتنا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ اور جن روایتوں رسموں میں انھوں نے آنکھ کھولی، انھیں ہی نبھاتے نبھاتے وہ اپنی زندگی جی گئے۔ مہذب، با مروت، رواداری کے دائرے میں ہی انھوں نے اپنے آپ کو رکھا۔ وہ سادگی کے دور وہ دل کو سمجھا لینے منا لینے کے زمانے تب ہی تھے کہ نہ انھیں زمانے کے خلاف جانا پڑا اور نہ ہی انھیں زمانے کی لات پڑی۔

اب یہ مت سمجھئے گا کہ وہ کوئی بہت بے چارے مظلوم قسم کے لوگ تھے۔ جو کسی سادہ سے دور میں پیدا ہوئے۔ اور ان کو زمانے کی ہوا نہیں لگی اور وہ نا آشنا ہی دنیا سے چلے گئے۔ آپ پیچھے مڑ کر دیکھیں۔ آپ کو ایسے دور اور قومیں نظر آئیں گی۔ جنہوں نے تاریخ پلٹ دی۔ قوموں سے ہٹ کر انفرادی طور پر لیں تو کتنی تگڑی ساسیں ان ادوار میں ہوئیں ،بالکل جاگیر دارنیوں کے موافق۔ جنہوں نے قوموں کی طرح گھروں پر راج کیا اور برسوں اپنا سکہ جمائے رکھا۔ لیکن انقلاب اور تبدیلی تو ممکنات میں سے ہیں۔ میں تو آپ کو یہاں کچھ علیحدہ قسم کے لوگوں بارے بتانا چاہتی ہوں۔ جو بیچارے حیرت زدہ سے بیٹھے زمانے کا چلن دیکھ رہے ہیں۔ اور انھیں ابھی تک یقین نہیں آ رہا کہ وہ زمانے کی چکی میں پس چکے ہیں اور وقت کی مار کھا چکے ہیں۔

زندگی کا سفر تو ہمیشہ کی طرح کبھی ہموار تو کبھی ٹیڑھی میڑھی پگڈنڈی پر جاری تھا۔ تو ہوا کچھ یوں کہ۔ ۔ ۔ پچھلے کچھ سالوں سے زمانے کی ہوا نے اچانک اپنا رخ بدل لیا ہے۔ اب اس بدلے وقت کا تعین آپ کو خود کرنا پڑے گا۔

عام طور پر ایک جنریشن سے دوسری جنریشن تک کا گیپ پچیس تیس سال کا سمجھا جاتا ہے۔ جتنا ایک باپ اور بیٹے کی عمر میں تفاوت، اور اتنا فاصلہ پھلانگنے کے لئے دونوں جنریشن تیار و آمادہ ہوتی تھیں۔ آج کے دور زندگی میں یقیناً نئی جنریشن بھی تیار ہو رہی ہے مگر وہ لوگ بھی اندر شامل ہیں ،جو اپنا بچیس تیس سالوں والا دائرہ پورا نہ کر سکے۔ اور سونامی کی طرح انھیں بھی وقت کے دھارے نے آ گھیرا۔

پچھلے کچھ سالوں میں اچانک جتنی ترقی سائنس اور میڈیا نے کی۔ توانسان بھی اس کا ساتھ دینے کو بھاگنے لگا۔ اور ایسے میں بہت سا زاد راہ اس کے ہاتھوں سے چھٹنے لگا۔

اب ذرا اپنا تجزیہ کر دیکھئے کہ پچھلے سالوں میں آپ زمانے کے کس چلن سے چلے۔ ؟

کیا آپ بھی گردش دوراں کا شکار ہوئے ہیں۔ ؟

کیا آپ وقت زمانے کے اس رخ کے لئے پہلے سے تیار تھے۔ کیا آپ نے حفاظتی بند باندھ لئے تھے۔؟

یا جب یہ وقت سر پر آن پڑا تو آپ نے فکر اور چارا کرنا شروع کیا۔ ؟

یا جب آپ اس کا شکار ہو گئے تو آپ اس طوفان بے تمیزی سے بد حال ہو چکے تھے۔ ؟

کیونکہ یہ ایک فطری عمل تھا جو ہونا ہی تھا۔ وقت نے یہ کروٹ تو لینا ہی تھی۔ آخر زمانہ کب تک سویا رہتا۔

زندگی میں بیلنس، توازن جب بھی کھویا جائے گا۔ تب مسائل کے انبار سامنے آن کھڑے ہوں گے۔ کچھ ایسا ہی ہوا، وقت کے ترازو میں ایک طرف زمانہ تھا اور دوسری طرف روایات، سادگی، خالص پن، محبتیں۔ کہ اچانک زمانے والے پلڑے میں افراط زر، لائف سٹائل، بناوٹ، بے مروتی جیسیچیزیں آن گریں اور وہ پلڑا جھک گیا۔

تو سمجھ لیں وہ لوگ جو ابھی اس گیپ کے آدھے پونے سال ہی گزار پائے تھے اور ابھی کچھ بے فکری کے عالم میں تھے، وقت کی مار انھی کو لگی۔ ملک میں ایک طرف مہنگائی بہت بڑھ گئی اور دوسری طرف ایک طبقے کے پاس افراط زر، اور چیزوں کی بہتات ہو گئی۔ پھرسب طبقات میں ایک اچھے لائف سٹائل کو حاصل کرنے کی دوڑ سی لگ گئی۔ پہلے گھر میں ایک فرد کمانے والا ہوتا تھا اور سات آٹھ افراد۔ ۔ ۔ ۔ ۔

اگرچہ کی روٹی مگرچہ کی دال

چنانچہ کی چٹنی بڑی مزیدار

کے مصداق بخوبی بغیر گلے شکوے کے زندگی کی حقیقت جان کر گزارہ کر لیا کرتے تھے۔ اور مقابلے کی دوڑ بھی پہلے نہ تھی۔ جس کے پاس جتنا ہوا کرتا تھا، وہ اسی میں ہی قناعت پسند تھا۔ صبر اور شکر بھی دامن تھامے رہتے تھے۔ دنیا کو دنیا کی طرح لیا جاتا تھا۔ اور آخرت کی فکر بھی دل میں دنیا کے لالچ کو کم کر دیتی تھی۔ لیکن اب ایسی بے مروتی کی ہوا چلنی شروع ہوئی کہ جس میں صرف اپنا آپ ہی دکھائی دینے لگا۔ اور اس دوڑ میں ہر کوئی شریک ہونے لگا، اپنی ہمت طاقت سے بڑھ کر۔ اور افراتفری کا ماحول ہو گیا اور بہت سی چیزیں اس کی زد میں آ کر ریزہ ریزہ ہونے لگیں۔ جن روایات، رسموں اور اصولوں کو ہم اپنی ویلیوز بنا کر ساتھ لے کر چلا کرتے تھے۔ انھی کے بت سب سے پہلے پاش پاش ہوئے۔

طبقاتی دوڑ پہلے ہی جاری تھی۔ مگر اب اس میں واضح ایک طبقہ پیچھے رہتا نمایاں ہو رہا تھا۔ اور انفرادی دوڑ بھی جاری تھی۔ جس میں جیتنے والے ہار رہے تھے۔ میں یہاں چند ہارنے والوں پر نظریں جمائے ہوں۔ میری ہمدردی انھی لوگوں کے ساتھ ہے۔ ۔ ۔ جنہوں نے اپنے فرائض خوب نبھائے اور جب اپنے حقوق لینے کا وقت آیا ہی چاہتا تھا۔ تو زمانے کا ناگ یکدم بیدار ہو گیا اور اس کی پھنکار کی زد میں وہ آ گئے۔ جیسے وہ بہو۔ ۔ ۔ جسں نے اپنی ساس کی جی جان سے خدمت کی اور سٹارپلس کے ڈرامے، ساس کے ڈرامے دیکھ کر تیار ہو کر خود ساس کے رتبے پر پہنچنے والی تھی۔ اور اپنی بہو کو ناچ نچانے والی تھی۔ وہ اپنا خواب پورا نہ کر سکی۔ بلکہ موجودہ دور کی بہو اس پر ساس کے حکم نامے کی طرح فائز ہو گئی۔

پھر وہ لوگ، جو اپنے والدین کے بہت فرمانبردار رہے۔ اور اب جبکہ وہ اپنی اولاد کی تابعداری کا کریڈٹ لینا چاہتے تھے تو انھیں بھی گھٹنے ٹیکنے پڑے۔ نہ چاہتے ہوئے بھی اپنی اولاد کا بھی انھیں اتنا ہی کہنا ماننا پڑتا ہے جتنا اپنے والدین کا مانتے تھے۔ کہ اس کے سوا اب چارا نہیں۔

اور وہ شاگرد، جنہوں نے اپنےاستاد کی جوتیاں سیدھی کیں اور استاد کی چھڑی بھی اپنے جسم پر مہر کی طرح لی۔ ۔ ۔ اب ایسے استاد بن گئے، جو اپنے شاگردوں کے دلوں اور نظروں میں وہ مقام نہیں پا رہے۔ جس کے وہ حقدار ہیں۔ آج وہ اپنے شاگردوں کو ڈر ڈر کر پڑھاتے ہیں۔ اور اپنی عزت اپنے ہاتھ کے مصداق کھل کر نہیں پڑھا پاتے۔

اسی طرح کی قسموں کے کچھ اور مہربان بھی ہیں۔ اور یہ سب لوگ آپ کے اردگرد ہی ہیں۔ انھیں ڈھونڈئیے اور ان سے ہمدردی رکھیے۔ جو پہلے ہی زمانے کے ستائے ہوئے ہیں انھیں اور کیا ستانا۔ ۔ بلکہ ان کا ہاتھ پکڑ لیجیے۔ ممکن ہے وقت کے گھومتے اس پہئے پر نیچے جانے کی اگلی باری آپ کی ہو۔

زندگی یوں تو ہمیشہ سے پریشان تھی

اب تو ہر سانس گراں بار ہوئی جاتی ہے

٭٭٭

 

 

 

 

 

ذات کا آئینہ

 

میری آنکھ کھلی تو ابھی ہلکا سا اندھیرا چھایا ہوا تھا۔ نیند پوری ہونے کی بدولت جسم میں تھکاوٹ، کسلمندی بھی نہیں تھی۔ اللہ تیرا شکر، کلمہ پڑھا اور اٹھ گیا۔ تمام کام آرام و سکون سے کیے۔ نماز پڑھ کر واپس آیا۔ ٹریک سوٹ پہنا اور نکل کھڑا ہوا فطرت کے قریب جانے کو۔

فطرت سے میری یاری اپنے بابا جان کی بدولت تھی جو مجھے بچپن سے نماز کے لئے اپنے ساتھ مسجد لے کر جاتے اور ویک اینڈ پر سیر کے لئے بھی ساتھ لے جاتے تھے۔ اس وقت نہ تو سیر کی افادیت کا علم تھا اور نہ ہی فطرت کی رنگینیوں کا۔ بس بابا جان کہتے اور میں ان کے ساتھ چل دیتا۔ لیکن آج مجھے احساس ہوتا ہے کہ انھوں نے بچپن سے ہی میرے اندر تین اچھی عادات کا بیج بو دیا تھا۔ صبح جلدی اٹھنا، نماز پڑھنے کے لئے مسجد جانا اور پھر سیر کی عادت، ورنہ آج میں بھی رات دیر تک ٹی وی دیکھتا رہتا یا انٹرنیٹ پر اپنی رات کو دن اور دن کو رات بنا کر لمبی تان کر سو جاتا۔ بھئی ظاہر سی بات ہے رات ان خرافات میں گزرتی تو لازمی دن کو سویا رہتا۔ اور پھر کہاں کی فطرت، کہاں کے نظارے، کہاں کی سیر۔ ۔ ۔ بلکہ زندگی میں کبھی ہم اجنبی کی طرح ملا کرتے۔

بچ گیا ورنہ میں کتنی باتوں سے محروم رہ جاتا۔ چڑیوں کی موسیقی جیسیچہچہاہٹ اور کوئل کی بانسری جیسی مدھر کوک سننے سے میرے کان محروم رہ جاتے۔ اور صبح سحر کی مہکی مہکی ہوا اپنے اندر جذب کرنے سے رہ جاتا۔ اور یوگا کرنے والے میرا خیال کئے بغیر بے دریغ اسے کھینچ جاتے۔ اور میری شربتی آنکھیں رنگا رنگ پھولوں اور سبز سبز خوشنما گھاس کو دیکھنے سے محروم رہ جاتیں۔ آپ کو ایک راز کی بات بتاؤں ،مجھے پورا یقین ہے کہ صبح صبح سبز گھاس اور اس پر موتیوں کی طرح پڑی شبنم کو دیکھ کر ہی میری آنکھوں کو اک تازگی ملتی ہے۔ اور جب آس پاس کا ماحول اتنا اچھا احساس دلا رہا ہو تو من کی دنیا بھی سندر لگنے لگتی ہے اور من کا باورا پنچھی بھی بولنے لگتا ہے۔

میں روزانہ سیر کو جاتے ہوئے مختلف سمتیں بدلتا رہتا ہوں۔ تا کہ مجھے بوریت نہ ہو اسی لئے ہر روز مجھے لگتا ہے کہ میں اک نئی دنیا کی کھوج میں جا رہا ہوں۔ کبھی کسی پارک کی راہ لیتا ہوں ،کسی دن آبادی کے باہر جانے کا راستہ منتخب کرتا ہوں اور کسی دن جوگنگ کرتے ہوئے اپنے علاقے کا ہی چکر لگا لیتا ہوں اور صبح ہی صبح لوگوں کے کموں کاروں سے بھی آگاہی ہو جاتی ہے۔ اور نوٹ کرتا ہوں کہ پڑھا لکھا طبقہ یا تو سو رہا ہوتا ہے یا انگڑائی لے رہا ہوتا ہے اور اس کے برعکس کم پڑھا لکھا طبقہ بھاگ رہا ہوتا ہے۔ کوئی دودھ دہی کی دکان کوئی گوشت کی کوئی سبزی کی دکان کھولنے میں مصروف، لگتا ہے جیسے رات کو سوئے ہی نہیں اور بستر کو ہاتھ لگا کر اٹھ کھڑے ہوئے ہوں۔ البتہ اللہ کی بندگی کرنے والے اور واک گروپ ضرور نظر آتے ہیں۔ ہاں بھئی اللہ جسے ہدایت دے اور جسےتوفیق دے۔ اسے نیند کی کیا پرواہ۔ ۔ ۔ ممکن ہے یہ دن کو تھوڑی آنکھ لگا لیتے ہوں۔ لیکن آخر مجھ جیسے لوگ بھی تو ہوتے ہیں جو سارا دن چل سو چل۔

آج میں نے آبادی سے باہر جانے والا راستہ منتخب کر لیا تھا۔ اس طرف جانے کا بھی ایک اپنا مزہ تھا۔ بلکہ لوگوں کا خیال ہے اس طرح ہمیں زیادہ نیچر نظر آتی ہے اور ہم فطرت کے اور قریب ہونے لگتے ہیں اور اس میں کوئی مبالغہ بھی نہیں۔ شمالی علاقہ جات میں اسی لئے تو فطرت کے اتنے حسین خزانے چھپے نظر آتے ہیں۔ اور وہ ہر سال مستنصر حسین تارڑ کو اپنی اور اس طرح بلاتے ہیں جیسے کسی ساقی کو مے خانہ۔ لیکن میں جب بھی پارک کی طرف نکلتا ہوں تو پارک میں سبز سبز گھاس کے علاوہ خوبصورت رنگا رنگ پھولوں کے قطعے نظر آتے ہیں اور ان میں مجھے ایک منظم خوبصورتی کا احساس ہوتا ہے جو یقیناً باغباں کے ہاتھوں کا کرشمہ ہے کہ وہ ان کی روزانہ دیکھ بھال کرتا ہے، پھر بھی جو خودرو پودے، بیلیں اگ آتی ہیں اور پھولوں پودوں کے ساتھ ہم آہنگ ہونے کی کوشش کرتی ہیں۔ تو وہ انھیں جڑ سے اکھاڑ پھینکتا ہے اور دوسرے پھولوں اور نظام کی ترتیب قائم رکھتا ہے۔

تو آج میں آبادی کے باہر جانے والے راستے پر جوگنک کرتے یہی دیکھ رہا تھا کہ راستے کے اطراف پر مجھے خود رو پودے جڑی بوٹیاں سی نظر آ رہی تھیں اور انھی کے بیچ کہیں کہیں پھول بھی کھلے ہوئے تھے۔ ایک نظر میں تو یہ بھی فطرت کا شاہکار ہی لگ رہے تھے۔ مگر وہ ترتیب نہیں نظر آ رہی تھی۔ بالکل ایسے ہی جیسے زندگی میں ہمیں بھی اپنے والدین کی طرف سے بہت سی خوبصورت عادات ملتی ہیں۔ جو پھولوں کی طرح ہماری ذات کا احاطہ کر لیتی ہیں ،پر کبھی کبھی باہر کے ماحول سے متاثر ہو کر کچھ خراب عادات بھی خودرو پودوں کی طرح ہمارے اندر جگہ بنانے لگتی ہیں اور ہماری ذات میں ضم لگتی ہیں۔ تو یہی وہ مقام فکر ہے۔ کہ اگر اس وقت ان سے چھٹکارا نہ پایا گیا تو ممکن ہے کہ یہ اتنی بڑھ جائیں کہ ہمارے اصل کو ہی ڈھانپ لیں۔ پہلے والدین یہ فرض نباہتے رہتے ہیں۔ مگر جیسے ہی ذمہ داری سنبھالنے کی عمر آئے تو اپنی اس ذمہ داری کو بخوبی سمجھ لینا چاہیئے۔ عقل مند را اشارہ کافی است۔

تو دیر کس بات کی، آپ اس نکتے پر غور کیجئے اور میں گھر کی راہ لیتا ہوں۔ جہاں حلوہ پوری، نان چنے، سری پائے کی جگہ ایک متوازن ناشتہ میرا منتظر ہو گا۔

٭٭٭

 

 

 

نیم باز آنکھوں سے

 

ٹھیک سے یاد تو نہیں ہے کہ میں نے کب اپنی ان گناہگار آنکھوں سے دنیا کو دیکھنا جانچنا شروع کیا۔

لیکن آنکھوں سے پٹپٹا کر دیکھنا تو شائد جھولے سے ہی شروع کر دیا تھا۔ اب اتنی پرانی خاک کیسے چھانوں کہ زیادہ جھولے میں ہی چھت کی طرف نظر کئے شہتیر گنتا رہتا تھا یا دائیں بائیں دیواریں جانچنا شروع کیں کہ ان کا پلستر، سفیدی صحیح ہے یا اکھڑا ہوا ہے یا ان پر ڈسٹمپر کس کلر کا ہونا چاہیئے۔ ؟ یا پھر ان لوگوں کو دیکھتا، جو مجھے عجوبہ سمجھ کر جھولے کے پاس چلے آتے تھے۔ جیسے کبھی جھولا یا جھولے والے نہیں دیکھے۔

یا پھر میں نے گود کی سواری زیادہ کی۔ کیونکہ جوائنٹ فیملی تھی اس لئے مجھے ہر طرح کی گود میسر تھی۔ پڑھے لکھوں کی بھی اور ناخواندہ کی بھی۔ اب آپ خود ہی سمجھ جائیں نا کہ پڑھے لکھوں کی گود میں جا کر میرے اندر تب ہی خواب پنپنے لگے ہوں گے کہ میں بھی ان کی طرح ڈاکٹر، انجینئر، وکیل بنوں ،کیونکہ ایکٹر، شاعر اور فنکار تو خاندان میں ناپید تھے، اس لئے میں وہ خواب تو دیکھ نہیں سکتا تھا۔

اور دوسری طرح کے گود مین جو پڑھے لکھے نہیں تھے وہ یقیناً اندر سے تو بڑے ایجوکیٹڈ تھے، ان سے مجھے ضرور خاندان کی روایات، سدا بہار محاورے، اونچی ناکوں کے مسئلے، خاندانی سیاست اور پتہ نہیں کیا کیا ملا ہو گا۔ ظاہر ہے وہ میرے لاشعور میں رچ بس گیا ہو گا۔ اب میں اپنا تجزیہ کرتا ہوں تو بظاہر ایک پڑھا لکھا سمجھدار انسان ہوں ،لیکن یہ کسی کو نہیں پتہ اور نہ ہی کبھی میں نے پتہ چلنے دیا کہ میں اندر سے کتنا میسنا ہوں۔ یقیناً مجھ پر یہ کرم نوازی ان ناخواندہ مہربانوں کی ہے۔

میں یہ ساری باتیں اندازوں کی بنا پر کر رہا ہوں۔ کیونکہ کبھی کبھی جب میں اپنی ذات کے سمندر میں غوطہ زن ہوتا ہوں ،تو مجھے اپنی ذات کی تشکیل میں یہ عوامل نظر آتے ہیں۔ کہ ایسا ہوا ہو گا ویسا ہوا ہو گا تبھی تو میری ذات کی ایسی نو رتن کھچڑی پکی ہے۔

ہاں تو۔ ۔ ۔ بچپن تو گودیوں کے سفر میں ہی گزر گیا۔ ۔ شکر ہے وہ بچپن تھا ورنہ میں تو گوڈوں گٹوں سے ہی رہ جاتا۔

کچھ خاندان کے ممبران نے مجھے بعد میں بتایا کہ میں نے ماں کا دودھ شوق سے پیا ہی نہیں۔ ماں کی بجائے بھینس کا دودھ مجھے زیادہ بھا گیا تھا اتنا زیادہ کہ اتنا تو بھینس کو بھی اس کی افادیت کا پتہ نہیں ہو گا۔ کہتے ہیں ماں میرے اس نخرے پر بہت تلملائی تھی، کیونکہ انھیں اپنی ساس سے سننا پڑتا تھا کہ ہمارے زمانے میں تو یہ ہمارے زمانے میں تو وہ۔ ۔ ۔

سو اسی طرح زمانے کی ہوا پھانکتے پھانکتے اور گودیوں میں منتقل ہوتے ہوتے میں بھی کچھ بڑا ہو گیا۔ اور جیسے جیسے میں بڑا ہوتا گیا۔ میں نے اپنی ذات میں بھی کچھ تبدیلی نوٹ کی۔ والدین نے تو یہ سکھلایا بتلایا تھا کہ دنیا کو کھلی آنکھوں سے دیکھو۔ لیکن میں کھلی آنکھوں سے تو شروع سے ہی دیکھ رہا تھا یہ کونسی نئی بات تھی۔ اب میں نے بلکہ دنیا کو اپنے من کی آنکھوں سے دیکھنا شروع کر دیا۔

خاص طور پر جب سے میں نے میر کا یہ شعر پڑھ لیا۔

میر، ان نیم باز آنکھوں میں

ساری مستی شراب کی سی ہے

تو میں سوچنے لگا کہ یہ پینے پلانے کا معاملہ تو گڑبڑ ہے، اور وہ بھی شراب کا۔ ۔ ۔ اور نہ ہی ابھی آنکھوں سے جام پینے کے زمانے آئے۔ لیکن میں اپنی ان آنکھوں میں دنیا کی رنگینیاں تو دیکھ بھر سکتا ہوں۔ اور دوسروں کے اندر جھانک سکتا ہوں۔

سو اب میں نے دنیا کا جائزہ لینا شروع کر دیا۔ دوسروں کی نظروں میں ،میں ایک بڑا سلجھا ہوا بیبا لڑکا تھا۔ اور یہ کریڈٹ مجھے بغیر کسی محنت کے مل گیا تھا اس لئے میں اسے کھونا نہ چاہتا تھا۔ اسی چیز نے مجھے زیادہ فائدہ دیا کہ اس کی آڑ لے کر میں اپنے دل کی کر سکتا تھا۔

چھوٹی موٹی دل لگیاں اور شرارتیں تو میں نے گھر کے اندر ہی شروع کر دی تھیں تا کہ باقیوں کا ری ایکشن دیکھ سکوں ،اور کوئی الٹا سیدھا کام کر کے پھر ایسا بن جاتا تھا کہ کسی کو شبہ تک نہیں ہوتا تھا۔ کہ یہ میری کارستانی ہو سکتی ہے۔

جیسے ایک دن ماں ہنڈیا پکا رہی تھی، میں ان سے کچھ فاصلے پر اپنا ہوم ورک کر رہا تھا۔ ماں گوشت بھون رہی تھی۔ اور مجھے پتہ تھا کہ ابا کو بھنا گوشت بہت پسند ہے، اس لئے ماں اب لازمی اس میں سے کچھ بھنا گوشت نکال کر ابا کے لئے رکھ لے گی۔ اور باقی میں آلو یا کوئی سبزی ڈال کر حساب پورا کر لے گی۔ ابھی میں اماں ابا کی اس آپس کی لگاوٹ بارے سوچ ہی رہا تھا کہ اچانک ماں ہنڈیا چھوڑ کر کمرے میں گئی، تب نہ جانے مجھے کیا ہوا کہ میں بھاگ کر گیا اور جگ میں پڑا پانی ہنڈیا کے اندر ڈال دیا۔ جو کہ ماں نے ابا کا حصہ نکالنے کے بعد اندر ڈالنا تھا۔ اور جلدی سے واپس آ کر اپنی جگہ بیٹھ گیا اور بظاہر پہلے کی طرح پڑھائی میں مگن ہو گیا۔

ماں واپس آئی اور جب ہانڈی میں ڈوئی گھمانے لگی تو اسے کسی انہونی کا احساس ہوا۔ اور ماں نے ہتھیلی اپنے ماتھے پر دے ماری کہ”میری تو مت ماری گئی یہ میں کیسے بھول کر پہلے ہی پانی ڈال گئی۔ ”

اور میں اس دوران نیم باز آنکھوں سے یہ سب دیکھتا رہا۔ ماں کا دھیان ایک بار بھی اپنے اس سپوت کی جانب نہیں گیا۔ اور یہ مجھے اپنی کامیابی لگی میں نے دیکھ لیا کہ ماں صبر والی ہے، دوسروں کو جلدی سے الزام دینے والی نہیں اور ٹھنڈی طبیعت کی ہے۔  ورنہ۔ ۔ ماں کی ڈوئی ہوتی اور میں رقص میں ہوتا۔

اسی طرح ایک بار رات کے کھانے کے وقت گلی سے فقیر کی صدا پہ صدا آ رہی تھی، ماں نے مجھے بلایا اور کہا

” لو فقیر کو روٹی دے آؤ۔ ”

میں چلا گیا دیکھا اس فقیر نے ایک لمبا سا کپڑے کا تھیلا اپنے کندھے سے لٹکا رکھا ہے۔ ظاہر ہے جس میں وہ سب شیر و مال ڈالتا ہو گا۔ مجھے تجسس سا ہوا۔ اس نے کھانا لینے کے لئے ہاتھ آگے بڑھایا اور میں نے دینے کے بہانے اس کے تھیلے میں ہی منہ گھسیڑ لیا اور میری نیم باز آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔ میرے منہ سے بے اختیار نکل گیا۔

” ارے تمہارے پاس تو چاول بھی ہیں ،زردہ بھی، روٹی بھی اور حلوہ بھی۔ پھر بھی تم مانگ رہے ہو ؟

اور وہ بے چارہ خاموش میرا منہ تاکنے لگا۔ تب مجھے اندازہ ہوا کہ میں نا دانستگی میں دوسروں کو لاجواب بھی کر سکتا ہوں۔ یہ اضافی خوبی نکلی۔ جس کا مجھے خود بھی علم نہ تھا۔

ایک بار میں سکول سے واپس گھر آ رہا تھا کہ نہ جانے کیا سوجھی کہ روز کا نارمل راستہ چھوڑ کر میں نے مارکیٹ کے بیچ والا راستہ لے لیا۔ اپنی دھن میں اینٹ پتھروں کو پاوں مارتا چلا آ رہا تھا کہ میں نے اپنے خالو جی کو دیکھا کہ وہ حلوائی کی دکان پر ہیں اور رنگ برنگی مٹھائی سے شغف فرما رہے ہیں۔ جلیبی ان کے منہ میں جا کر رس گھول چکی تھی اور پیلا موتی چور کا لڈو ان کے ہاتھ میں تھا۔ میں پہلے حیران ہوا۔ پھر ساری سٹوری سمجھ آ گئی۔ چٹورے کہیں کے۔

میں فورا خالہ کے گھر گیا اور ایسے ظاہر کیا جیسے خالہ سے ملنے آیا ہوں اور ادھر ادھر کی باتیں کرتے خالو کا یہ راز بھی ان سے سرسری انداز میں بیان کر دیا۔ خالہ مسکرائیں ،پر میرے دل کی نہ ہوئی۔ تجسس کے ہاتھوں مجبور اگلے روز میں پھر اسی راستے پہ جا نکلا اور سوئے اتفاق کہ خالو پھر وہاں موجود تھے۔ آج وہ دودھ دہی والے کی دکان پر بڑا لسی کا گلاس اپنے اندر انڈیل رہے تھے۔ یقیناً اندر کھوئے کے پیڑے بھی ہوں گے۔ پہلوان کہیں کے۔

اب تو ان کے اس کھانے پینے کے بارے میں مجھے کوئی شبہ نہ رہا تھا۔ برا بھی لگا کہ۔ ۔ ۔ اپنے بیوی بچوں کو چھوڑ یہ تو اپنی ہی دھن میں مست ہیں۔ سو میں پھر غڑاپ سے خالہ کے آنگن میں کود پڑا۔ آج خالہ سن کر مسکرائیں نہیں۔ خاموش رہیں۔

پر اب یہ ہونے لگا کہ میں خالو کی ٹوہ میں رہنے لگا، بلکہ مجھے تجسس ہوتا کہ خالو آج کیا کھا رہے ہوں گے اور مجھے جیسے ہی علم ہوتا۔ میں بہانے بہانے سے جا کر خالہ کے گوش گزار کر آتا۔ اب خالہ کے چہرے پر پہلے دن والی مسکراہٹ بھی نہ رہی تھی بلکہ سنتے ہی ماتھے پر تیوری پڑنے لگی تھی۔ جلد ہی میں نے خالہ کی جانب اب بھولے بھٹکے سے جانا چھوڑ دیا تھا۔ کیونکہ آگ سلگ چکی تھی اور وہاں دھماکے ہونے لگے تھے۔ اور میرا مقصد بھی پورا ہو گیا تھا۔ اگر میں بر وقت اپنے آپ کو نہ روکتا تو یقیناً خالہ کا ایک چٹاخ مجھے بھی ملتا اور ستاروں کا جہاں ہوتا۔

میں نے دیکھ لیا تھا کہ خالو ایک خودغرض قسم کے انسان ہیں۔ جنہیں سوائے اپنے اور کوئی دکھائی نہیں دیتا۔

اور خالہ کے بارے میں بھی کہ وہ کتنی جلدی میری باتوں میں آ گئیں۔

کل کو کوئی اور بھی بڑے آرام سے ان کو اپنی باتوں کے جال میں الجھا سکتا ہے۔

اب کہاں تک میں اپنے تجربے آپ کو بتاتا رہوں۔

میں نے اپنی ان چمکتی آنکھوں سے بہت دنیا کی چکا چوند دیکھی اور تجربے کیے۔ اب میرا وہ دور گزر گیا ہے۔ میں اچھا پڑھ لکھ گیا ہوں۔ اماں ابا کیا کسی کو بھی نہ تو پہلے مجھ سے کوئی شکایت تھی اور نہ ہی اب ہے۔ البتہ ان نیم باز آنکھوں سے میں نے جو دنیا دیکھی تھی۔ اب وہ میری عملی زندگی میں شامل ہو گئی ہے۔ کہ میں نہ تو اماں کی طرح کبھی اپنے آپ کو الزام دیتا ہوں۔

نہ ہی خالو کی طرح خود غرض انسان ہوں۔

نہ ہی خالہ کی طرح ایک دم دوسرے پر بھروسہ کر لیتا ہوں۔

اب مجھے اپنی کہانی یہیں ختم کرنا ہو گی۔ کیونکہ میری نیم باز آنکھیں اس وقت اور بھی نیم باز ہوئی جا رہی ہیں۔ عقلمندو، سمجھ جاؤ نا اب مجھے نیند آ رہی ہے۔ ۔ ۔

٭٭٭

 

 

 

 

مسافر ہوں یارو

 

زندگی کا سفر تو اس دنیا میں آتے ہی بلکہ آنکھ کھولتے ہی شروع ہو گیا تھا۔ سمجھ لیں مسافر اپنی پٹڑی پر تب ہی چڑھ گیا تھا۔ جیسے جیسے وقت گزرتا گیا ہوش سنبھلتا گیا۔ دیکھا اور بھی ہزاروں ، لاکھوں مسافرآپ کے ساتھ اور آس پاس ہیں۔ جن میں سے کچھ خاص مسافر تو میرے ساتھ گھر میں بھی رہ رہے تھے۔ جن میں کوئی دھوتی کرتے میں بے تکلف پھر رہا تھا تو کوئی جینز کی ٹراوزر اور شرٹ میں ملبوس، کوئی شلوار قمیض میں اور کچھ بے تکلف ابھی چڈی میں بھی پھرتے تھے۔

ہوش سنبھالتے ہی بزرگوں کی باتیں سننے کا موقع بھی مل گیا۔ کہ یہ دنیا فانی ہے، اس دنیا میں دل نہ لگایا جائے، یہ تو ایک مسافر خانہ ہے۔ وہ یہ مایوسی کی باتیں شائد اس لئے کر رہے تھے کیونکہ وہ بے یقین ہو چلے تھے کہ شائد اب وہ یہ مسافر خانہ خالی کرنے والے ہیں۔ لیکن انھیں یہ اندازہ نہیں تھا کہ ان کی یہ باتیں سن کر باقی راہی بھی بد دل ہو رہے ہیں۔ مانا یہ زندگی چار دن کی ہے مگر وہ باقیوں کو تو گنتی کے یہ دن ہنسی خوشی زندہ دلی سے گزار لینے دیں۔ ورنہ دو آرزو میں کٹ جائیں گے دو انتظار میں۔

میرے لئے تب عمر کا حصہ ہی ایسا تھا کہ یہ دنیا اک رنگ محل بننے جا رہی تھی۔ جس کا ایک ایک رنگ قوس و قزح کا محسوس ہو رہا تھا اور ان سے شعاعیں پھوٹتی محسوس ہو رہی تھیں۔ سو یہ عاشق بے فکریسے۔ ۔ ۔ “زندگی اک سفر ہے سہانا یہاں کل کیا ہو کس نے جانا ” گنگناتا تھا۔ زندگی کی حقیقت تو وقت گزرنے کے ساتھ بہت بعد جا کے پتہ چلی۔

جب صبح صبح نماز کے لئے مسجد میں جاتا تو دیکھتا۔ ۔ ۔ کہ یہاں موجود یہ راہ حق کے مسافر بڑی عاجزی وانکساری کے ساتھ اللہ کے حضور پیش ہو کر نماز پڑھتے ہیں ،سجدے پہ سجدہ کر کے حق بندگی ادا کرتے ہیں۔ گڑگڑا کر دعائیں مانگتے ہیں۔ کوئی آنکھیں بند کر کے رقت سے ہاتھ پھیلا رہا ہے تو کوئی اپنی جھولی، چادر کو پھیلا کر، کچھ عاجز اپنے ہاتھوں کو سر سے بلند کر کے مانگتے، ایک ہی صف میں سب محمود و ایاز کھڑے ہوتے۔ جب میں ان کو بغور دیکھتا۔ ۔ ۔ تو۔ ۔ ۔ ان عاجزوں ،مسکینوں کے چہرے مجھے نورانی لگنے لگتے۔ پھر یہ سفر کرنے والے، دنیا میں اللہ کا فضل تلاش کرنے کے لئے آہستہ آہستہ مسجد سے نکل کر پھیلنے لگتے ہیں۔

اور ان میں سے کوئی جا کر اپنی دکان کھول لیتا ہے، سبزی کی، دودھ دہی کی دکان، جنرل سٹور اور پھر چھوٹی سی بات پر اپنے نوکروں پر برسنے لگتا ہے۔ کچھ گھروں کی راہ لیتے ہیں ،اور جاب پر جانے سے پہلے بیوی اور بچوں پر رعب جمانے کا محدود وقت بھی نہیں چھوڑنا چاہتے۔ یاسرراہ کھڑے ہو کر ایک دوسرے سے بحث کرنے لگتے ہیں اور اپنا نظریہ بیان کرتے الجھنے لگتے ہیں۔ اور بات تو تکار تک پہنچنے لگتی ہے۔

لیکن کچھ لوگ واقعی اللہ ھو کا ورد کرتے واک کرتے اپنی چھڑیاں گھماتے نیچر کے قریب جانے لگتے ہیں ،کسی باغ میں کسی پارک میں۔ جہاں کچھ اور لوگ اچھلتے نظر آنے لگتے ہیں۔ ارے نہیں وہ تو جاگنگ کر رہے ہیں۔ اور اس دنیا کی صبح کی تازہ ٹھنڈی ہوا اپنے اندر کھینچ رہے ہیں اس سے پہلے کہ کوئی اور اسے اپنے اندر کھینچ لے۔

صبح کی سیر اور تازہ ہوا کھا کر گھر میں داخل ہوتا تو دیکھتا مسافرنی بھی نماز پڑھ کے ناشتہ بنانے میں مصروف ہوتی مگر دوپٹہ ابھی تک پیشانی اور کانوں کے پیچھے اڑسا ہوتا۔ جس سے صاف پتہ چل جاتا کہ وہ بھی اللہ اللہ کر چکی ہے۔ اور اب پیٹ پوجا کی فکر میں ہے۔

گھر کا سوداسلف لانا اور بلوں کی ادائی کرنا بھی اس خاکسار کو ہی کرنا پڑتا ہے۔ سو جب بنک کی لمبی لائن میں لگتا ہوں۔ اور دھکم پیل، گرمی، شور شرابے کا سماں ہوتا ہے، تو مسافر کو واقعی حشر کا میدان نظر آنے لگتا ہے۔

جنرل سٹور پر کچھ چیزیں خرید کر مہنگائی کا سوچتے نکلتا ہوں۔ گوشت کی دکان پر قصائی سے بد دل ہو کر آتا ہوں کہ اس نے گوشت کے نام پر ہڈیاں اور چھیچھڑے دے کر پیسے بٹور لئے ہیں۔ ابھی صبح ہی تو مسجد میں اس سے ملاقات ہوئی تھی، اس نے کھدر کی قمیض اور چھوٹی ڈبیوں والی دھوتی پہنی ہوئی تھی۔

اور سبزی والے نے باسی سبزی پر پانی چھڑک کر تازہ کہہ کے میری تسلی کر دی تھی۔ اور فورا سے پیشتر میرے تھیلے میں ڈال دی، جبکہ فجر کی نماز میں یہ میرے دائیں ہاتھ ہی تو بیٹھا ہوا تھا۔ سارا راستہ یہی ان کے بارے سوچتا آتا۔ ہم بھی مسافر تم بھی مسافر۔ ۔ ۔ ۔ پھر یہ ہیرا پھیری کیوں ؟

گھر آتا تو دیکھتا نصف بہتر کا وہ نمازی دوپٹہ غائب ہو چکا ہوتا، اب تو خوبصورت لباس کے ساتھ ایک میچنگ دوپٹے کا بوجھ شانوں پر ہوتا، اور بیگم صاحبہ پورے گھر میں دندناتی پھرتیں اور نوکرانی پر رعب جماتیں۔ اور میں دیکھتا رہ جاتا زوجہ محترمہ کو جو صبح بڑی مسکین سی نظر آ رہی تھی۔

دوپہر کو اگلی جنریشن کے بچوں کو اسکول سے لانے چل دیتا، اور لنچ کے بعد میں کچھ آرام کرنے لگتا تو پھر مستنصر حسین تارڑ کے سفر نامے پڑھنے لگتا۔ واہ گھر بیٹھے ہی کبھی ہنزہ، کبھی سوات، شمال شمشال اور کہاں کہاں کے تصوراتی سفر کر لیتا اور اپنے کو مستنصر حسین تارڑ کا ایک ساتھی سمجھنے لگتا۔

سویہ سفر جاری و ساری ہے جسے میں سالوں سے طے کر رہا ہوں۔ بچپن کا سفر معصوم تھا۔ لڑکپن کا کچھ جوشیلا اور جوانی کا تو بھاگتا چلا گیا۔ عمر کا میچور پن کب کا شروع ہو چکا، اب اس سفر میں بھی کچھ ٹھہراؤ آ گیا ہے۔ پڑاؤ کم ہوتے جا رہے ہیں۔ منزل کے قریب ہو رہا ہوں۔ اب آپ کو کچھ تو میرے بارے اندازہ ہوا ہو گا۔ جی ہاں۔ ۔ ۔ پہلے میں خود پڑھا کرتا تھا، پھر دوسروں کو پڑھانے لگا اور اب میں ایک ریٹائرڈ لیکچرر ہوں۔

لیکن ایک ازلی مسافر۔ ۔ ۔ جس کا ایک بڑا سفر ابھی باقی ہے۔

٭٭٭

 

 

 

 

جب دل ہی ٹوٹ گیا

 

میں تھوڑی دیر پہلے ہی گھر آیا تھا۔ آفس جانے کے لئے تیار ہونے لگا۔ سو ریڈیو آن کر لیا تو پروگرام شروع ہو چکا تھا۔ یہ میرا شوق تھا کہ میں ریڈیو پر اس وقت گانوں کا یہ پروگرام سن کر ہی دفتر کی راہ لیتا تھا۔

روز کا عمل تھا کہ میں پہلے رب کے حضور جھک کر پھر فطرت کے قریب وقت گزار کر آتا تھا۔ تا کہ مجھے اپنے بندہ بشر ہونے کا احساس ہوتا رہے۔ اس سے بڑھ کر کون مجھے اس بات کا احساس دلا سکتا تھا۔

میں بڑا موڈی سا بندہ ہوں۔ کئی بار ایک پیارا سا گیت میرے اندر خوشی و انبساط کی لہر دوڑا دیتا ہے۔ اور بعض دفعہ بڑی سے بڑی بات بھی مجھے خوش نہیں کر پاتی۔ کیا کروں میں بس ایسا ہی ہوں۔ اور آپ کے بچے جئیں ،آپ بھی مجھے ایسا ہی سمجھئے گا۔

جب دل ہی ٹوٹ گیا

ہم جی کے کیا کریں گے

گانے کے بول جیسے ہی میرے کانوں میں پڑے میں کچھ جزبز ہوا۔ کچھ عجیب سی کیفیت ہوئی۔ اب میں اتنے پرانے دادا، لکڑ دادا کے زمانے کے گیت بھی نہیں سنتا اور وہ بھی کندن لال سہگل کے، دراصل میں ان کی نایاب مونچھوں سے بھی کچھ خائف ہوں۔ میری پسند تو محمد رفیع کے گانوں سے شروع ہوتی ہے پھر کشور کمار کی اوڈلے اوڈلے سے ہوتی ہوئی کمار سانو تک پہنچتی ہے اور پھر واپس پہنچ جاتا ہوں۔ اصل میں کچھ چنیدہ شنیدہ سا بندہ ہوں۔

عموماً صبح کو جب حسب عادت ریڈیو آن کرتا ہوں تو بڑے پیارے اور خوبصورت دل کو لبھانے والے گیت لگے ہوتے ہیں۔

چودھویں کا چاند ہو یا آفتاب ہو

جو بھی ہو تم خدا کی قسم لاجواب ہو

تیری پیاری پیاری صورت کو

کسی کی نظر نہ لگے چشم بد دور

تو میرا موڈ بھی بڑا رومینٹک سا ہو جاتا ہے۔ سب سے پہلے تو بیوی ہی چاند کا ٹکڑا لگنے لگتی ہے۔ اس کی سیرت اس وقت صورت کے پیچھے چھپ جاتی ہے۔ لہذا بڑے اچھے موڈ کے ساتھ اپنی جان جاناں کو ایک دو رومانی جملے بول کر آفس کی راہ لیتا ہوں۔ جبکہ وہ مجھے پھٹی پھٹی آنکھوں سے دیکھتی رہ جاتی ہے۔ اور اپنا روز کا ”سبق سنئے آج کیا پکاؤ بھی بھول جاتی ہے۔

راستے میں جاتی کالج گرلز بھی مجھے پریوں کی طرح نظر آتی ہیں اور حوروں کی طرح حیسن، اب آپ مجھے ٹوکئے گا مت، ویسے تو میں بڑا شریف آدمی ہوں۔ کسی کی طرف فضول نگاہ نہیں ڈالتا، مگر اس دن۔ ۔

میری نظریں ہیں تلوار

کس کا دل ہے روکے وار

توبہ توبہ استغفار

پھر اگر راستے میں ٹریفک جام بھی مل جائے تو خوشگوار موڈ کے باعث نظرانداز کر دیتا ہوں۔ بلکہ اکثر تو گنگنانے لگتا ہوں۔ ”او منچلی کہاں چلی “ اور آنکھوں کے سامنے بیوٹی کوئن اور ڈریم گرل گھومتی رہتی ہے۔

اور آفس میں بھی بڑے اچھے موڈ کے ساتھ داخل ہوتا ہوں۔ سب کو بڑی جاندار مسکراہٹ سے ہیلو ہائے کرتا اپنی سیٹ تک پہنچتا ہوں۔ اور ایک کپ کافی پی کر جو فائلوں میں سر دیتا ہوں تو پھر شام کو ہی جا کر اٹھاتا ہوں۔

مگر آج لگتا ہے کوئی دل جلا اناونسر گیت پیش کر رہا تھا اور صبح ہی صبح جلے دل کے پھپھولے پھوڑ رہا تھا۔ لگتا ہے چارے کو رات بھر نیند بھی آئی ہو گی، جو اسے غمگساروں کی ضرورت پڑی۔

گیت اچھا تھا مدھم مدھم سروں میں بجتا ہوا، جیسے کوئی آرام سے ٹھنڈی ٹھار لسی پی رہا ہو۔ اگر اس کی بجائے کوئی شوخ گیت بج رہا ہوتا۔

پیا تو اب تو آ جا، آ آ آ جا، آ آ آ جا،  تو مجھے یقین ہے کہ بیوی کے ساتھ ساتھ پورے محلے کے بھی کان کھڑے ہو جاتے۔ اور میں بھی آفس جانے کی تیاری تھرک تھرک کر۔ ۔ ۔ کر رہا ہوتا۔ شرٹ کے بٹن الٹے سیدھے لگ رہے ہوتے۔ موزے بھی مختلف رنگوں کے پہن رہا ہوتا اور بوکھلاہٹ میں ہیئر سٹائلنگ کریم بھی ضرورت سے زیادہ ہاتھ پر نکل پڑتی۔ پر شکر ہے بچت ہو گئی۔ گانے کے بول پھر اپنی اور بلانے لگے۔

الفت کا دیا ہم نے

اس دل میں جلایا تھا

امید کے پھولوں سے

اس گھر کو سجایا تھا

اک بھیدی لوٹ گیا

جب دل ہی ٹوٹ گیا

ہک ہا، بول کی آخری لائن سن کر بے اختیار میرے منہ سے نکلا۔

یہاں تو معاملہ ہی کچھ اور نکلا، اک بھیدی لوٹ گیا۔ یہ تو کچھ زیادہ ہی غمگین سونگ نکلا۔ میں اداس ہو گیا۔ پہلے میں گیت کے سلو ردھم پر سرشار ہو رہا تھا مگر اب میری طبیعت ہی کچھ ڈاون ہو گئی۔ میں صوفے پر بیٹھ گیا بلکہ میرا دل چاہنے لگا کہ میں بیڈ میں لیٹ جاؤں۔

پر ہمت کر کے اٹھا تو بیوی سامنے دکھائی دی۔ مگر آج اس میں وہ بات نہیں نظر آ رہی تھی۔ وہی نارمل سا رنگ و روپ تھا جو اس سے قبل آفس جانے سے پہلے مجھے چودھویں کا چاند لگا کرتا تھا۔ بلکہ مجھے احساس ہو رہا تھا کہ اس کی صورت کی بجائے سیرت زیادہ اچھی ہے۔

آج میں نے اس کا پکانے کا روزنامہ بھی سنا اور جو دل چاہے پکا لو کہہ کر گھر سے نکل آیا۔ نکلتے ہی مجھے سامنے والے فواد صاحب نظر آ گئے۔ جو اپنی بیٹی لائبہ کو گود میں اٹھائے کھڑے تھے۔ جلدی سے ان کی احوال پرسی کی اور اپنے آفس کی راہ لی۔

سردی بڑھ رہی تھی اور آج مجھے موسم کے تبدیل ہونے کا بھی شدت سے احساس ہو رہا تھا۔ ورنہ اس سے پہلے مجھےموسم عاشقانہ لگا کرتا تھا اور نظارے رنگین، راستے میں ٹریفک بھی جام ملی۔ موڈ مزید خراب ہو گیا۔ گورمنٹ اور اس کے اداروں پر غصہ آنے لگا۔ ان کی ایسی تیسی کرنے کو دل چاہنے لگا۔ اور سیاستدانوں کی مطلبی سیاست پر انھیں دل میں صلواتیں سنانے لگا، کوسنے لگا، صبر کے گھونٹ بھی آخر کب تک بھرتا رہوں۔ سو کچھ لیٹ پہنچا تو کولیگ نے مجھے بتایا کہ صاحب نے مجھے یاد فرمایا تھا۔ لو کر لو گل،  تو دوستو اسی کوفت اور بھاگ دوڑ میں میرا سارا دن گزرا۔ میرا خیال ہے کہ یہ سارا کمال اس صبح کے گیت کا تھا۔ جس نے مجھے سلو اینڈ سلو کر دیا تھا۔ آج مجھے شدت سے احساس ہو رہا تھا کہ صبح کا آغاز اچھا ہونا چاہیئے۔ نہ تو تڑکتا پھڑکتا ہوا اور نہ ہی موڈ کو نیچے کرنے والا،  اب دیکھتا ہوں کل میری قسمت میں کیا ہے اور کونسا گانا بجنے والا ہے۔ ۔ کیونکہ اسی کے مطابق میرا موڈ ہو گا اور سارا دن بھی،

اگلی صبح جب کام پر جانے سے پہلے میں نے ریڈیو آن کیا تو۔ ۔ ۔ کندن لال سہگل کا ایک اور گیت میرا منتظر تھا،

غم دیئے مستقل کتنا نازک ہے دل

یہ نہ جانا ہائے ہائے یہ ظالم زمانہ

٭٭٭

 

 

 

 

اقلیت اور سماج

 

بہت سالوں سے یہ بات اک روایت کی طرح چلی آ رہی تھی۔

اقلیتوں کے ساتھ سماج کا سلوک اور برتاؤ، جو کسی سے ڈھکا چھپا نہیں تھا۔ جنہیں کسی اچھوت کنیا کی طرح سمجھا جاتا کہ ان کے ساتھ کوئی کپڑا یا برتن نہیں لگنا چاہئے ورنہ وہ پلید ہو جائے گا ناپاک ہو جائے گا۔ ستم در ستم اقلیتیں خود بھی اس حقیقت کو مان کر اپنے آپ کو ایک دائرے کی حدود میں رکھتی تھیں۔ نہ کوئی اختلاف کرنے والا اور نہ کوئی احتجاج کرنے والا اور معاشرے کی واضح اقلیت عیسائی کرسچن لوگ تھے۔

کئی سال پہلے کی بات ہے ایک آبادی والے علاقے سے ہٹ کر ایک فیکٹری ایریا ہوا کرتا تھا۔ جہاں بہت سے کارخانے اور فیکٹریاں ہوا کرتی تھیں۔ صبح ہوتے ہی اس علاقے میں مزدوروں کی آمد ہونے لگتی۔ پھر مشینوں کا شور شرابا شروع ہو جاتا اور سارا دن جو تھا تھیا چلتا تو شام ڈھلے ہی جا کر یہ ہنگامہ رکتا۔ انھی کارخانوں اور فیکٹریوں کے بیچ ایک ڈھابہ بھی موجود تھا۔ لوکیشن کے حساب سے تو مس فٹ مگر بہت کار آمد، جب دوپہر کے وقت  مزدوروں کو چھٹی ملتی تو یہاں آک رش کا سماں بندھ جاتا۔ جس آدمی کا یہ ڈھابہ تھا اسے سب سائیں کہتے تھے سو یہ ڈھابہ بھی سائیں کے ڈھابے کے نام سے مشہور تھا۔

راہ چلتے مسافروں اور ورکرز کے لئے کیسی نعمت سے کم نہ تھا۔ جہاں دوپہر کو انھیں گرم دال روٹی مناسب پیسوں میں مہیا ہو جاتی تھی۔ اس ڈھابے کی خاص ڈش چنے کی دال تھی جسے وہ سائیں خود بڑے خاص طریقے سے دل لگا کر بڑے سے دیگ نما پتیلے میں پکاتا تھا۔ خوب گھوٹ کر مزیدار سا تڑکا دیتا تو گرم تندوری روٹی کے ساتھ وہ دال بہت مزہ دیتی۔

یہ روز کا معمول تھا کہ دوپہر کھانے کے اوقات سے پہلے پہلے وہ اپنی سپیشل دال تیار کر لیتا۔ اور دو تین لڑکوں سے تندور میں روٹیاں لگوانا شروع کرواتا اور خود دال کے پتیلے کے آگے بیٹھ جاتا اور جیسے ہی مزدور آنا شروع ہوتے تو وہ روٹی کھولتا۔ اور اتنے رش اور شور شرابے میں وہ سب کی پلیٹوں میں دال ڈال کر انھیں بھگتائے جاتا۔

یہیں پر ایک فیکٹری میں ایک عیسائی لڑکا بھی کام کرتا تھا، جس کی عمر گیارہ یا بارہ سال تھی۔ غمومات وہ کھانا گھر سے ساتھ لے کر آتا تھا۔ مگر کبھی کبھار وہ آگے پیچھے کے اوقات میں ڈھابے پر دال لینے بھی چلا جاتا۔ تو اپنا خاص برتن ایک پیالہ ساتھ لے جاتا تھا۔ اور سائیں دو فٹ اوپر کے فاصلے سے اپنے کفگیر سےدال اس کے پیالے میں ڈال دیتا۔ اس طرح دونوں کا مطلب پورا ہو جاتا۔

کرنی خدا کی، ایک روز ایسا ہوا کہ وہ عیسائی لڑکا دوپہر کو ہی اس کے ڈھابے پر اپنا خاص پیالہ لے کر دال لینے چلا گیا۔ سائیں روز کی مانند اپنے پتیلے کے آگے بیٹھا تھا۔ چھٹی کا وقت تھا اور مسافر اور مزدوروں کا رش لگا ہوا تھا، سائیں ان کے درمیان بیٹھا اپنے کام میں مصروف تھا۔ شور شرابا جاری تھا ہر کوئی پہلے میں کے چکر میں دال حاصل کرنے کی کوشش میں تھا۔

سائیں پہلے مجھے دال۔ ۔ ۔

نہیں سائیں پہلے مجھے دو۔ ۔ ۔

او سائیں چھٹی کا وقت ختم ہو جائے گا پہلے مجھے۔ ۔ ۔ ۔

ہر طرف سائیں اور دال کی پکار ہو رہی تھی۔ وہ لڑکا بےچارہ حیران پریشان دیکھ رہا تھا۔ پھر کچھ سوچ کر ہمت کر کے وہ بھی لوگوں کی بھیڑ میں گھستے ہوئے آگے جانے کی کوشش کرنے لگا۔ اور اپنا دایاں ہاتھ آگے بڑھا کر بولاسائیں مجھے بھی دال دو۔ ۔ ۔

پر اتنے شور شرابے میں اس کی کمزور سی آواز کہاں سائیں تک پہنچتی۔ بلکہ الٹا دھکم پیل میں دھکا لگنے سے اس کا پیالہ ہاتھ سے چھٹ کر دال والے پتیلے میں گر گیا۔ یہ دیکھتے ہی اس کا رنگ فق ہو گیا وہ بری طرح گھبرا گیا۔ اب یا تو خود اسے پتہ تھا یا سائیں کو کہ وہ عیسائی ہے۔ سو اس سے پہلے کہ سائیں کی اس پر نظر پڑتی اور کوئی فساد برپا ہوتا۔ اس نے گھبرا کر وہاں سے دوڑ لگا دی۔

دال تو کیا ملنی تھی وہ پیالہ بھی چھوڑ آیا تھا۔ بھوکا علیحدہ رہنا پڑا اور یہ خدشہ بھی ستاتا رہا۔ کہ کہیں سائیں اور لوگوں کو پتہ نہ چل گیا ہو۔

دوسرے دن صبح اس نے ڈرتے ڈرتے ڈھابے کی طرف چکر لگایا تو سائیں کل والا دال کا پتیلہ مانجھ رہا تھا اورساتھ ساتھ بڑبڑا رہا تھا کہ یہ پتہ نہیں کل کون دال لینے آیا تھا اور اپنا پیالہ ہی یہاں چھوڑ گیا۔ اور پاس ہی وہ پیالہ بھی صاف دھلا پڑا تھا۔

سائیں کو حقیقت کا پتہ نہیں چلا یہ سن کر اس کی جان میں جان آئی۔ اور وہ اپنا پیالہ ہمیشہ کے لئے سائیں کی نذر کر کے مسکراتا ہوا واپس فیکٹری آ گیا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

٭٭٭

 

 

 

یوں دی ہمیں آزادی

 

یوں دی ہمیں آزادی کہ دنیا ہوئی حیران

اے قائد اعظم ترا احسان ہے احسان

بچپن میں جب بھی کبھی یہ ترانہ سنا تو دل اک عقیدت، جوش اور جذبے سے معمور ہو جاتا تھا اور اپنی پہچان اپنے وطن پر اک فخر اور غرور سا محسوس ہوتا۔ اور ان قوموں پر اک رحم سا محسوس ہوتا جو ابھی آزادی کی جنگ لڑتے لڑتے اس منزل کو پانے کی جدوجہد میں تھیں اور جبر غلامی کے عفریت کو اپنا خون پلانے پر مجبور تھیں۔

بذات خود آزادی کسے اچھی نہیں لگتی، اک ننھی سی چڑیا کو پنجرے میں بند کر دیکھیے، وہ اپنے راگ الاپنے بھول جائے گی۔ حسرت سے نیلے آسمان کو دیکھتے اپنے پر پھیلائے گی، مگر پنجرے کی دیواروں سے ہی پھڑ پھڑا کر رہ جائے گی۔ اور اگر اسے سونے کے پنجرے میں بھی بند کر دیا جائے۔ تو اس کی آزادی کی قیمت کے لئے دنیا کی تمام دولت بھی بےکار ہو گی۔ بس اس پر اک ننھا سا احسان کر دیں ،پنجرہ کھول دیجئے اور اسے آزادی کی پرواز دیجیے، وہ فورا یہ راگ الاپتی آسمان کی بلندیوں میں کھو جائے گی۔

پنچھی بنی اڑتی پھروں مست گگن میں

آج میں آزاد ہوں دنیا کے چمن میں

جی ہاں اقبال کا خواب جو نہ جانے کتنے لوگوں کی زندگی کی تعبیر بنا۔ اور قائد اعظم کی کوششوں سے منزل تک پہنچا۔ اور لاکھوں لوگوں کی عظمتوں کے ایثار سے پورا ہوا۔ تب پاک سرزمین نصیب ہوئی۔ انسان کی سب سے بڑی چاہ اپنے گھر کی ہوتی ہے۔ جب گھر مل جائے تو پھر اسے سجانے سنوارنے کی۔ گھر اپنا گھر پیارا گھر پاک وطن تو مل گیا تھا۔ جب یہ ملا تو سنگل سٹوری تھا، تریسٹھ سال گزر گئے اب تک تو اسے ٹرپل سٹوری بن جانا چاہیئے تھا مگر۔ ۔

لوگ ایکٹروں کو دیکھ کر خوش ہو لیتے ہیں پر والد صاحب نے قائد اعظم کو لائیو دیکھا تھا کسی جلسہ گاہ میں تقریر کرتے۔ جس پر میں اور بھائی بھی اک فخرسا محسوس کرتے تھے کہ انھوں نے اتنی عظیم ہستی کو دیکھا ہوا ہے اور ہم ان سے بار بار قائد اعظم بارے پوچھا کرتے تھے۔ کہ وہ کیسے تھے اور کیسے دکھتے تھے؟ تب وہ بتایا کرتے تھے کہ قائد اعظم دیکھنے میں ایک کمزور، نحیف ہستی نظر آتے تھے مگر ان کی آواز اتنی بھر پور اور پردوش ہوتی تھی کہ وہ اک ولولہ نظر آتا تھا ان کی تقریر میں۔

اور مجھے یاد ہے کہ علامہ اقبال کی لکھی یہ نظم، خوبصورت دعا زبانی یاد تھی،

لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا میری

زندگی شمع کی صورت ہو خدایا میری

اور یہ نظم سن کر خود بخود اک شمع سی اندر روشن ہو جاتی تھی، جو اک اچھا انسان محب وطن اچھا شہری بننے کی ترغیب دیتی تھی۔

سکول میں جب اسمبلی اٹینڈ کرتے تو دعا کے بعد روزانہ یہ پڑھتے،

پاک سر زمین شاد باد

کشور حسین شاد باد

اور روزانہ یہ دعا ہمیں یاد دہانی کراتی اپنے پاک وطن کی، اس کی خوبصورتی کی، اس کی عظمتوں کی، اور دل سے اک عجیب سا جذبہ اور کیفیت ابھرتی جو ہمارے ملک کی عظمت کو برقرار رکھنے کے لئے محب وطن بننے کی متقاضی ہوتی۔ اور پاک ترانہ تو ہمارے اندر ایسا رچ بس گیا تھا کہ صاف لگتا کہ مذہب کے بعد ہم نے اس کا احترام کرنا ہے۔ جہاں بھی بجتا تو فورا کھڑے ہو جاتے، رک جاتے۔ اور ترانے کے ادب کا نظارہ چند بار سینما میں بھی دیکھنے میں نظر آیا۔ فلم کے دوران بے شک لوگ ڈائلاگ بازی پر اونچے آوازے کس رہے ہوں۔ شور شرابا ہو رہا ہو۔ بچوں کی ریں پیں چل رہی ہو۔ لیکن ترانہ شروع ہوتے ہی سب منظم ہو جاتا۔ سب احتراما کھڑے ہو جاتے، لوگوں کو جیسے سانپ سونگھ جاتا اور بچوں کو بھی رونا بھول جاتا اور مزے کی بات پھر بھی احتیاطا سینما کے گیٹ تب تک نہ کھلتے جب تک ترانہ پورا نہ ہو جاتا۔ سمجھ لیں اک جذبہ داخلی بھی ہوتا جو منظم رکھتا مگر پھر خارجی انتظامات بھی ہوتے۔

مگر اب کیا ہوا؟ اب بھی وہی چاند ہے وہی تارے وہی سورج وہی نظارے۔ چودہ اگست آج بھی دھوم دھام سے منائی جاتی ہے۔ جگہ جگہ سجایا جاتا ہے ترانے بجتے ہیں ،چھوٹے چھوٹے بچے تک پرچم کی جھنڈیاں لہرا رہے ہوتے ہیں۔ مگر وہ بات بنتی نظر نہیں آتی جو ہمیں یہ بتائے کہ ہاں ہم واقعی محب وطن ہیں۔ میرا خیال ہے اب زمانے میں نفسا نفسی کی چال چلتے دکھاوا جو آ گیا ہے۔ تو یہ چیزیں اب صرف ظاہری پیمانے سے ناپی جانے لگی ہیں۔ اور دلوں سے وہ جذبہ ختم ہو گیا ہے جو کبھی اک جوش اک ولولہ پیدا کرتا تھا۔ اور جس نے ہمیں آزادی جیسی نعمت دلائی تھی اور اپنے گھر کی فیلنگ دی تھی۔ لگتا ہے ہم اپنے مدار سے ہٹ گئے ہیں۔ راستہ بھٹک گئے ہیں۔ اور آگے مزید خوبصورت منزلوں کی بجائے مسائل کے کالے پہاڑ اور چٹانیں راستہ روکی کھڑی ہیں۔ تبھی تو دم گھٹنے لگا ہے۔ کاش اے کاش اب پھر کوئی اقبال کی طرح حسین خواب دیکھے، اور جناح کی طرح ہمارا بیڑہ پار لگا دے، اور ہم بھی چڑیا کی طرح آزادی کا گیت گا سکیں۔

٭٭٭

 

 

 

کمپیوٹر یا کتاب

 

آپ کتاب ہاتھ میں لے کر پڑھنا چاہیں گے یا کمپیوٹر پر ؟

کتاب انسان کی بہت بڑی رفیق ہے، اس کی تنہائی کی بہترین ساتھی۔ علم اور انفارمیشن کا منبع، انسان کے لطیف جذبات کا اظہار، جس گھر میں کتاب نظر نہ آئے۔ سمجھ لیں اس کے مکین جذبات سے عاری روبوٹ کی طرح زندگی جی رہے ہیں۔ جس طرح ایک اچھا گیت انسان کی روح کو چھو لیتا ہے۔ ویسے ہی مطالعہ انسان کے من کو سیراب کرتا ہے۔ گیت کی روح تک پہنچنے کے لئے اس کی شاعری، اس کیموسیقی کے ردھم اور آواز کی مٹھاس کو محسوس کرنا پڑتا ہے۔ بالکل اسی طرح کتاب کو ہاتھ میں لے کر اسے محسوس کرنا پڑتا ہے۔ اور اس کے مطالعے کے لئے بھی اک خاص اہتمام کی ضرورت ہوتی ہے۔ کیونکہ مقصد صرف پڑھنا ہی نہیں ہے، بلکہ کس طریقے سے پڑھنا ہے کہ پڑھنے کا صحیح مزا بھی آئے۔ اس کے لئے آس پاس کے ماحول پر بھی تھوڑا دھیان دینا پڑتا ہے۔

پہلے وقتوں لوگ کتاب اور پڑھنے کی اہمیت پر بہت یقین رکھتے تھے۔ ان پڑھ عورت کو بھی ناخواندہ کہلانا پسند نہیں تھا۔ وہ بھی یہ ضرور بتاتی کہ وہ گرچہ سکول نہیں جا سکی لیکن بہشتی زیور ضرور پڑھی ہوئی ہے۔ پڑھائی کے یہ دو اکشر اس وقت اس کی ذات کی پہچان بننے کے کام آتے۔ اور ہر گھر میں ایک آدھ کتابوں کا ریکس، شیلف یا الماری ضرور نظر آتی۔ اور حیثیت والے احباب ثروت کے گھر میں کتابوں کی لائبریری بھی موجود ہوتی۔ اور پبلک لائبریریاں بھی تھیں۔ پڑھنے والے اپنی علمی پیاس وہیں بجھایا کرتے تھے۔ اپنے دن رات کے کچھ گھنٹے بخوشی اس کی نذر کر دیا کرتے تھے۔ لیکن تبدیلی تو لازم ہے۔ دور جدید نے انسان کو بہت ساری سہولیات میسر کی ہیں۔ الیکٹرانک میڈیا دیکھتے ہی دیکھتے چھا چکا۔ اور وقت نے یکدم ایسی کروٹ لی کہ کتابیں گھروں سے کم اور پھر غائب سی ہونے لگیں۔ اور ان کی جگہ کمپیوٹر، موبائل، میوزک نے لے لی۔ وہ کتاب جسے پڑھ کر ایک قاری جھیل کی طرح شانت رہتا تھا اب اس کی زندگی اک پر شور ندی کی طرح بہنے لگی تھی۔ اور کتاب ہاتھ سے پھسل کر کمپیوٹر میں سما گئی۔ حالانکہ یہ بھی ایک پراسس تھا۔ جیسے کاغذ سے تعلق بندھنے پر دھڑا دھڑ کتابیں آ گئی تھیں۔ اور قاری سے اپنا ایک رشتہ بنا چکی تھیں۔ یقیناً اب بھی اسی رشتے کو تجدید زمانہ دی گئی تھی۔ کتاب کو نیا پیرہن دیا گیا۔ ۔ سو کچھ سالوں سے کتاب کمپیوٹر کی سکرین میں سما گئی ہے۔

پوری دنیا میں اس تبدیلی کو قبول کر لیا گیا۔ وہاں کتابوں کے شائقین کی تعداد کم نہیں ہوئی۔ وہاں کتابیں آج بھی ہزاروں ،لاکھوں کی تعداد میں شائع ہوتی ہیں۔ اور انٹرنیشل سطح پر بیسٹ سیلرز بکس بن جاتی ہیں۔ ترقی پسند ممالک میں انھیں ہاتھوں ہاتھ لیا جاتا ہے۔ چاہے لوگ اسے کمپیوٹر پر پڑھیں یا خرید کر ہارڈ کاپی میں ،ان کے پاس اک چوائس موجود رہتی ہے۔ ہمارے ملکوں میں تبدیلی آ کر بھی جلد تبدیلی نہیں آ پاتی۔ اور اس میں سمونے کے لئے بھی اچھا خاصا وقت درکار ہوتا ہے۔ سو ہمارے ہاں کا قاری کچھ گھبرا سا گیا ہے۔ گو ہمارے ہاں پڑھنا لکھنا اتنا کم نہیں ہوا۔ کیونکہ اس کے بغیر تو کاروبار زندگی جام ہو سکتا ہے۔ لیکن ہمارے ہاں سوچ میں فرق ضرور آ گیا ہے۔ امریکہ کی ایک رپورٹ کے مطابق انگلینڈ میں اوسطا ایک سال میں آدمی سات کتابیں پڑھتا ہے، امریکہ میں چار اور پاکستان میں آدمی چار سال میں ایک کتاب پڑھتا ہے۔

جبکہ دیکھا جائے تو کمپیوٹر ویسے تو سب کی زندگی میں داخل ہو گیا ہے۔ ای میلز، چیٹنگ، ویڈیوگیمز، ویب سرچنگ، آن لائن خریداری سب کچھ۔ ۔ حتی کہ خاتون خانہ بھی پیچھے نہیں رہی۔ جو پہلے سالن بناتے ہوئے کتاب ہاتھ میں رکھتی تھی۔ تکئے کے نیچے رکھ کر اسے اک اپنائیت سی محسوس ہوتی تھی۔ اب اس کے پاس بھی پڑھنے کے دو دو آپشن موجود ہیں۔ اور وہ کچھ کشمکش کا شکار ہے کہ اب کتاب کمپیوٹر پر پڑھی جائے یا ہاتھ میں لے کر ؟ حالات کا تقاضا تو یہی ہے کہ وقت کے ساتھ چلا جائے بس کتاب میسر ہونی چاہیئے۔ بک شیلف نہ سہی پر کمپیوٹر گھر بیٹھے ہی ہمارے لئے اک لائبریری کا دروازہ ضرور کھول دیتا ہے۔ اور اس کے لئے نہ تو ہزاروں خرچنے پڑتے ہیں اور نہ ہی کسی اور جگہ سے ڈھونڈنے کا جھنجھٹ اٹھانا پڑتا ہے اور نہ ہی کسی کو لائبریری دوڑانا پڑتا ہے۔ پھر کیوں نہ کمپیوٹر کے آگے کرسی پر بیٹھ کر اسے پڑھنے کا لطف اٹھایا جائے۔ اور خود کو ترقی پسند قاری کا خطاب دلوایا جائے۔

لیکن ڈاکٹر کی گولی کی طرح اس کے بھی فوائد و نقائص ہیں۔ انٹر نیٹ کے ذریعے کسی سائیٹ پر جا کر مانیٹر پر نظر جما کر آخر کتنی دیر مطالعہ کیا جا سکتا ہے۔ کرسی پر بیٹھے بیٹھے باڈی اکڑنے لگتی ہے۔ گردن میں کھنچاؤ پڑنے لگتا ہے۔ متواتر ٹکٹکی باندھ کر دیکھنے سے آنکھیں بھی احتجاج کرنے لگتی ہیں۔ اعصاب جواب دینے لگتے ہیں۔ اور اس وقت کتاب کے بے شمار فوائد سامنے آنے لگتے ہیں۔ کتاب کو جب چاہیں پڑھ سکتے ہیں۔ جب دل چاہے ادھر ادھر لے جا سکتے ہیں۔ کتاب در کتاب رکھ کر پڑھ سکتے ہیں۔ بیٹھ کر دیوار کے ساتھ ٹیک لگا کر سفر کے دوران، انتظار کے جاں گسل لمحات میں پڑھ کر بوریت سے بچ سکتے ہیں۔ کتاب میں پھول رکھ کر محبت بھرا تحفہ پہنچایا جا سکتا ہے۔ افسوس یہ سہولیات انٹرنیٹ پر کتاب کے لئے میسر نہیں۔ ہاتھ میں کتاب لے کر پڑھتے ہوئے قاری رائٹر کو یاد رکھتا ہے۔ اور انٹرنیٹ پر پڑھتے ہوئےاس کا دھیان اپنی بدنی تکالیف کی طرف منتقل ہونے لگتا ہے۔ اتنے تام جام کے بعد بھی افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ہمارے ہاں ادبی کتابیں بہت کم اور محدود تعداد میں شائع ہوتی ہیں۔

ان باتوں سے ماسواء مجھے یہی احساس ہوا کہ مطالعہ مجھے ہمیشہ اک سکون کی کیفیت عطا کرتا ہے۔ میں رات کو جب سونے سے پہلے بیڈ میں کتاب پڑھ نہ لوں ،مجھے نیند نہیں آتی۔ گویا کتاب میرے لئے اک لوری اور سلیپنگ پلز کا کام کرتی ہے۔ تو کیا یہ چیز میرے لئے کمپیوٹر پر کتاب کرے گی ؟

پھر کبھی کبھی گھر میں ہلکی چہل قدمی کرتے ہوئے پڑھنے کا اپنا مزا ہے۔ واک کی واک اور کتاب کا بھی ساتھ،  کبھی ریلکس چیئر پر کبھی ہلکی دھوپ میں بیٹھ کر۔ ۔

غرض مجھے پڑھنے کے لئے اک ماحول تیار کرنا پڑتا ہے۔ اور میرے ہاتھوں کو اک عادت سی ہو چکی ہے۔ کہ پہلے میں اپنی پسند کی کتاب کو ہاتھ میں لوں ،بڑے پیار سے اس کے اوراق پلٹ پلٹ کر دیکھوں اور اک اپنائیت سی محسوس کروں۔ اچھے قاری کی حیثیت سے رائٹر سے اپنا ایک رشتہ استوار کروں۔

اور کتاب ہاتھ میں لے کر پڑھنے میں جو محسوسات ہیں وہ انٹرنیٹ پر پڑھنے میں مفقود ہیں۔ اک تشنگی سی باقی رہ جاتی ہے۔ لیکن اس کے باوجود میں شکر ہی ادا کرتی ہوں۔ کہ پڑھنے کے لئے کوئی نہ کوئی پلیٹ فارم، سلسلہ میسر تو ہے۔ ایسے نہ سہی ویسے ہی سہی۔ ممکن ہے بہت سے قاری کمپیوٹر پر کتاب پڑھنے میں آسانی محسوس کرتے ہوں۔ اگر آپ نے پہلے اس نکتے پر غور نہیں کیا تو آج کتاب پڑھتے ہوئے اس بات کا فیصلہ ضرور کیجئے گا کہ،

کتاب ہاتھ میں لے کر پڑھی جائے یا کمپیوٹر پر ؟

٭٭٭

 

 

 

میں اور مدھو بالا

 

جیون کے سفر میں راہی ملتے ہیں بچھڑ جانے کو

اور دے جاتے ہیں یادیں تنہائی میں تڑپانے کو

لیکن میں اور مدھو ہم تو کبھی ملے بھی نہیں تھے تو بچھڑے کب ؟

لیکن پھر بھی ظالم وقت، سماج اور قسمت کے ہیر پھیر نے ہمیں جدا کر دیا۔ وہ مجھ سے بہت سال پہلے اس دنیا میں آ گئی تھی۔ کیونکہ خاندان کے افراد کی وہ پسندیدہ اداکارہ تھی۔ جس کی تعریف کے لئے ان کے پاس الفاظ بھی کم پڑ جاتے تھے۔ کسی کو وہ مہتاب نظر آتی تھی کسی کو وینس، اور بیوٹی کوئین کے ٹائیٹل پر تو سب ہی متفق تھے۔ پھر بھی ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر اپنا مدعا بیان کرنے کے لئے وہ ایڑی چوٹی کا زور لگا دیتے۔ ان کا بس نہ چلتا کہ سارے چاند تارے وہ اسی کی جھولی میں ڈال دیں۔ لیکن شاعری کا وصف تو صرف ابا کے پاس ہی تھا۔ ۔ ۔

ہاں تو، سننے والو میں کہہ رہی تھی کہ مدھو مجھ سے پہلے ہی دنیا کی سیر کر گئی۔ اس کے حسن کی دھوم نے مجھے اس کی جانب متوجہ کیا تھا اور وہ مجھے کسی کہانی کی شہزادی کی طرح لگا کرتی تھی۔ دوسرا فلم مغل اعظم کی شہرت نے اسے دوام بخش دیا تھا۔ کالج میں ہسٹری مضمون میں دل لگا کر پڑھ چکی تھی۔ یہ نواب، شہزادے، بادشاہ ان کی حس، ادب و آداب کو سمجھنا جیسے میرے بائیں ہاتھ کا کھیل بن گیا تھا۔ لگتا تھا جیسے میں محلے کی بجائے محلوں میں انھی کے ساتھ رہتی رہی ہوں۔ پھر والد صاحب کو انڈین فلموں کی کافی جانکاری تھی۔ خصوصاً تاریخی فلمیں انھیں بہت بھاتی تھیں۔ ان کی زبانی میں نے سہراب مودی کی بھی بڑی تعریف سن رکھی تھی کہ جب وہ اپنے مکالمے ادا کرتا تھا تو اسکی آواز میں توپوں جیسی گھن گرج ہوتی تھی۔ تو میں مدھو بالا کے ساتھ ساتھ اسے بھی دیکھنا چاہتی تھی کہ وہ کیسا شخص ہے دیکھنے میں کیسانظر آتا ہے ؟جو منہ سے آگ کے گولے برساتا ہے۔ اور پھر کسی فلم میں وہ مجھے نظر آ ہی گیا تو تب میں نے فورا ہی کہہ دیا تھا کہ اچھا یہ ہے سہراب مودی۔ ۔ یہ تو مجھے پھوپھا جان جیسا نظر آتا ہے۔ تو والد صاحب اس کمنٹ پر مسکرانے لگے تھے۔ ۔ ۔

مجھے مدھو بالا میں کیا مماثلت لگی۔ جبکہ ہمارے ناموں میں بھی کوئی تال میل نہیں۔ وہ تو ممتاز جہاں بیگم تھی۔ آپ نے دیکھا اس کا نام بھی ملکہ جیسا۔ ۔ خوبصورتی کا مجسمہ، بے نظیر مثال جہاں ،جبکہ میں صرف اپنے ماما پاپا کا اک شاہکار تھی۔ لیکن کوئی نہ کوئی بات ایسی ضرور تھی۔ جو ہم دونوں میں مشترک تھی۔ جی ہاں وہ تھی ایک عادت جو میرے لڑکپن میں تھی اور اس کی جوانی میں۔ میں نے اپنی اس عادت پر وقت کے ساتھ قابو پا لیا تھا اور سنجیدگی کا نقاب اوڑھنے کی کوشش کی تھی۔ لیکن اس بچاری سے شائد ایسا نہ ہو سکا۔ اور وہ جوانی میں بھی اس عادت کے ہاتھوں کبھی لطف لیتی اور کبھی نادم ہوتی۔ اور کبھی سرعام تماشا بن جاتی۔ ۔

ہم دونوں کی یہ مشترکہ عادت تھی بے اختیار ہنسی اور قہقہے لگانے کی۔ مدھو بالا کے ساتھ کام کرنے والے اداکار دیو آنند، نمی، اوم پرکاش، کیدار شرما سب کو تجربہ تھا اور اس کی اس عادت کا پتہ تھا اور اس بات کا لائیو مظاہرہ وہ کئی بار دیکھ چکے تھے اس لئے وہ برا نہیں مانتے تھے۔ اور کئی بار خود مدھو کو مد مقابل سے اس کی اس حرکت کی وضاحت کرنا پڑتی تھی۔

”یقین کرو مجھے اپنی اس عادت پر بالکل قابو نہیں ،میں تم پر نہیں ہنس رہی تھی بلکہ اپنی عادت کے ہاتھوں مجبور تھی۔ میرا مطلب تمھیں دکھ دینایا مذاق اڑانا نہیں تھا۔ “

لیکن کچھ لوگ واقعی برا مان بھی جاتے تھے۔

ایک بار ایک فلم کی شوٹنگ ہو رہی تھی جس میں ایک ایکٹر راج مہرہ نے جلتے شعلوں پر اپنا ہاتھ رکھنا تھا۔ فلم کے ڈائریکٹر کے اصرار کے باوجود اس نے ہاتھوں پر ہتھیلی کو آگ سے محفوظ رکھنے والے کیمیکل کو لگانے سے انکار کر دیا، اور جیسے ہی اس کے ہاتھ نے آگ کے شعلوں کو چھوا تو اس کے چہرے کے عجیب و غریب تاثرات بننے لگے۔ مدھو بالا یہ دیکھ کر اپنی ہنسیپر قابو نہ پا سکی اور بے اختیار ہنستی چلی گئی۔ راج مہرہ جو اس وقت سخت تکلیف میں تھا اسے مدھو کی یہ حرکت بہت بری لگی۔ اور مدھو کے باپ کو بھی بیٹی کی اس حرکت پر شدید غصہ آیا۔ اور اس نے مدھو بالا سے کہا کہ وہ فورا مہرہ سے معذرت کرے۔ اگلے دن جب وہ مہرہ سے معذرت کرنے کے لئے گئی اورجیسے ہی دونوں کی آنکھیں ٹکرائیں تو ایک بار پھر مدھو کی ہنسی چھوٹ گئی۔ لیکن اس دفعہ وہ اکیلی نہیں ہنس رہی تھی بلکہ مہرہ سمیت پورا یونٹ اس کے قہقہوں میں شامل تھا۔ ۔ اور یوں یہ معاملہ رفع دفع ہو گیا تھا۔

ویسے تو مدھو کے علاوہ بھی دنیا میں بہت سے افراد ایسے ہوں گے، جنہیں اس طرح کی صورتحال سے گزرنا پڑتا ہو گا۔ جب ہنسی پر قابو پانا محال ہو جاتا ہے تو عورتیں ایسے مواقع پر دوپٹہ منہ میں ٹھونس لیتی ہوں گی۔ اور مرد حضرات بظاہر نارمل نظر آنے کی کوشش کرتے ہوں گے، پر ان کے دل ضرور غٹرغوں غٹر غوں کرتے ہوں گے۔ اور بالآخر وہ فلک شگاف قہقہہ لگا ہی لیتے ہوں گے۔

میں تب نہ تو مدھو کو جانتی تھی اور نہ ہی اسکی اس عادت کو، تو ہوا کچھ یوں کہ، میرے لڑکپن کی بات ہے کہ ہمارے سامنے والے گھر میں ایک آنٹی رہا کرتی تھیں کہ ان کی ساس کے سر پر چوٹ لگنے کی خبر ملی۔ امی جان کی طبیعت ٹھیک نہیں تھی۔ انھوں نے خالہ کو ان کی عیادت کے لئے بھیج دیا تو میں بھی ان کے ساتھ چلی گئی۔ وہ اندر کمرے میں لیٹی ہوئی تھیں۔ انھوں نے اپنا حال زار بتانا شروع کیا کہ،

چنگا بھلا دن چڑھیا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ میں نے یہ کام کیا۔ میں نے وہ کام کیا۔ ۔ ۔ بچوں نے یہ یہ آفتیں مچائیں ،بندے کموں کاروں پہ چلے گئے۔ میں نے بہو کو سبزی بھی لا کر دی، پکانے کے مشورے بھی دئیے۔ گرمی نے علیحدہ سے مت ماری ہوئی تھی۔ میں پسینے میں شرابور ہو گئی۔ دل کو گھبراپے نے لگ پڑا۔ میں جلدی سے اندر کمرے میں آئی۔ چھت والے پنکھے کا بٹن مروڑا۔ اور دیوار کے ساتھ کھڑی کرسی کو اس کی طرف دیکھے بغیر گھسیٹ کر عین کمرے کے درمیان میں پنکھے کے نیچے لے آئی اور اس پر بیٹھنے کی جلدی کی۔ اب مجھے کیا پتہ تھا کہ نادانوں نے کرسی کی ایک ٹانگ ہی توڑی ہوئی تھی اور اب وہ تین ٹانگوں والی کرسی بن چکی تھی اور کسی کم بخت نے دیوار کے ساتھ اس کی ٹیک لگوا کر کھڑی کر دی تھی۔ کرسی تو میرے بیٹھتے ہی اتنے بیڑے طریقے سے پیچھے کو الٹی کہ میں تو بری طرح پیچھے کو نیچے جا گری۔ میرا سر زمین پہ ٹھاہ کر کے بجا اور پگانے کے پھٹنے کی طرح آواز آئی اور میری ٹانگیں اوپر آسمان کی طرف ہو گئیں۔ ۔ ۔ ۔ ۔

ابھی انھوں نے اتنی ہی رام کہانی سنائی تھی کہ میرے منہ سے قہقہوں کا طوفان شروع ہو گیا۔ ہاہاہاہاہاہا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ہی ہی ہی ہی ہی ہی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ہوہوہوہوہو۔ وہ آپ بیتی سنانے والیاں ایک دم چپ ہو گئیں اور ادھر خالہ جان نے مجھے گھوری ڈالی۔ لیکن میں کہاں رکنے والی تھی۔ میں نے خوب ہی اپنے دل کی پوری کی۔ اور دل کھول کر قہقہے لگائے۔ ہنسی کا ذرا زور ٹوٹتا تو مجھے پھر یاد آ جاتا اور میں پھر سے شروع ہو جاتی۔ پھر میں نے خالہ کو بھی نظریں نیچی کئے ہونٹ دبا کے مسکراتے ہوئے دیکھا۔ یوں ایک عیادت کی گئی۔ گھر آ کر مجھے کہا گیا کہ ہم ان کی خیریت معلوم گئے تھے۔ وہ کیا سوچتی ہوں گی۔ واقعیسوچنے والی بات تو تھی کہ لوگ کیا کہیں گے؟ لیکن میں جب بھی دوبارہ ان کو کبھی دیکھتی تھی تو مجھے پھر وہی بات یاد آ جاتی تھی۔ تو آپ نے دیکھا کہ میں انجانے میں ہی مدھو سے جا ٹکرائی تھی۔ ۔

ویسے ہنسنے اور قہقہہ لگانے کی ممانعت تو نہیں ، یہ تو طبیعت کی شگفتگی کی علامت ہے۔ انسان کے زندہ دل ہونے کی نشانی ہے۔ زندگی کے مسئلے مسائل کو ایک طرف رکھ کر کچھ پل ہنسی مسکراہٹ میں گزارنے سے من بھی شاداب ہو جاتا ہے۔ اور انسان کو خوش مزاجی بھی عطا ہوتی ہے جو یقیناً اللہ کی دین ہے۔ اور ہر کسی کو نہیں ملتی۔ جیسے ایک دوست سے اسکی پریشانی کی وجہ پوچھنے پر اسکا جواب ملا تھا کہ میری سب سے بڑی ناخوشی یہ ہے کہ میں کبھی خوش نہیں رہتا۔ سو کہا جا سکتا ہے کہ خود کو خوش کرنے کا وصف بھی ہر ایک کے پاس نہیں ہوتا۔ اور کچھ لوگوں کو یہ گاڈ گفٹڈ کی طرح مل جاتا ہے۔ اسکا مطلب کسی دوسرے انسان کی دل آزاری، دل شکنی نہیں ہوتا۔ بلکہ ان کے اندر چھپا بچہ چنچل موڈ میں آ جاتا ہے، جسے اس وقت اپنی کھلکھلاتی روح پر کنٹرول پانا ذرا مشکل ہو جاتا ہے۔ مگر ایک انسانی عادت کو شائد اسی ترازو میں تولا جاتا ہے کہ وہ انسان کتنا سلجھا ہوا ہے اور اپنے اوپر کتنا کنٹرول رکھ سکتا ہے۔ ویسے میں نے اس عادت پر بروقت قابو پا لیا۔ اب بھی خود پر کافی کنٹرول کر لیتی ہوں اتنا کہ اسی کوشش میں دو تین بار آنکھوں سے آنسو نکل آئے۔ کاش مدھو بھی یہ گر جان پاتی تو مغل اعظم بنانے والے فلم میکر کے آصف کی بیوی نگارسلطانہ پر ایک بار ہنسنے سے جواباً معاملہ کے بہت سنجیدہ ہو جانے کا اسے سامنا نہ کرنا پڑتا۔

٭٭٭

 

 

 

یہ سماج یہ تضاد

 

جب وقت اور زندگی گزر رہی ہوتی ہے تو اک بے خبری کا سا عالم  ہوتا ہے۔  مگر جب اس کا سرا ہاتھ سے چھوٹ جاتا ہے تو تب ہی اس کے اچھے برے ہونے کا  احساس ہوتا ہے۔ تو یہی حال اس سماج کا ہے، ایور گرین سماج، معاشرہ، سوسائیٹی، مگرسیاستدانوں  کی طرح اس کے بھی کچھ اپنے ہی قاعدے قانون ہیں۔ جو یہ دوسروں پر لاگو کر  دیتا ہے۔ اب چاہے اس میں رہنے والے مچھلی کی طرح تڑپیں یا چکی میں پستے  رہیں یہ بے خبر انجان سا بن جاتا ہے۔

پہلے وقتوں کچھ لوگ جنم سے ہی تیز طرار، ہوشیار پیدا ہوتے۔ سو ان کی تو بات ہی  اور تھی۔ لیکن جو بچارے سیدھے سادے پیدا ہوتے تھے۔ اور انھیں اپنے اردگرد  کنویں جیسا ماحول ملتا تھا تو وہ اپنی ذات کے خول میں ہی بند رہ جاتے  تھے۔  جن کے بارے میں کہہ دیا جاتا تھا کہ انھیں تو زمانے کی ہوا ہی نہیں  لگی۔  لیکن کہنے والے ذرا یہ تو سوچتے کہ اس ہوا کو ان تک نہ پہنچنے میں  بھی اسی  سماج کا ہاتھ ہے۔ جو ان کے راستے میں ایک دیوار کی طرح کھڑا ہو  جاتا تھا۔  اور یہ سب کیا دھرا اسی  کا ہی ہوتا تھا۔ جس نے کچھ اصول تو سرے  سے بنائے  ہی نہیں اور جو بنائے ان میں بھی  تضاد کی جھول نظر  آتی۔  جس نے  ملکی ترقی میں اک رخنہ اور آدم و حوا کی نسل میں تفریق پیدا  کر دی تھی۔

پہلے تعلیم صرف لڑکوں کے لئے ہی ضروری سمجھی جاتی تھی۔    ان کے باہر کی دنیا سے نبرد آزما ہونے کے لیے،  ان کے کیریر کے لیے، انھیں ہی بڑھاپے کا سہارا سمجھ کر دل لگا کر آم کے درخت کی طرح سینچا جاتا  تھا۔ اپنی نسل کی پہچان، اپنے نام کی بقاء، اپنی جائیداد کا وارث اور  نگہبان، ان پر من نچھاور کیا جاتا اور دھن بھی کھول کر لگایا جاتا۔ جیسے  کسی ریس کے گھوڑے پر، برا مت مانئے پر تھا کچھ ایسا ہی۔

جبکہ ایک لڑکی  کی آمد کو بس اللہ کی رحمت اور پرایا مہمان سمجھ کر لیا  جاتا تھا اور یہ سوچ تو اور بھی دل ہولانے کو کافی تھی کہ اب اس ان چاہے  اور غیر معینہ مدت کے مہمان پر تعلیم اور جہیز کی صورت خرچا بھی کرنا ہو  گا۔  سو کٹوتی کدھر سے ہوئی کہ اس کی تعلیم کا خرچہ بچا لیا جاتا اور پڑھ  لکھ کر با شعور ہونے کا موقع ہی نہیں دیا جاتا تھا۔ اور بعد میں بڑے آرام سے  اسے اللہ میاں کی گائے کہہ دیا جاتا۔ اور پھر اس گائے کو آرام سے دوسرے  کے  کھونٹے پہ باندھ  دیا جاتا۔ حالانکہ اگر اس وقت لڑکی پر بھی خرچ کیا  جاتا تو یقیناً کچھ نہ کچھ تو واپس ملتا۔

ادھر لڑکوں میں سے بھی کچھ  تو لنگڑا اور چونسہ آم کی طرح نکلتے اور  پڑھاکو بنتے اور باقی غنڈے، موالی ٹائپ، ان لڑکوں  کو شائد باہر کی ہوا کچھ  زیادہ ہی لگ جاتی تھی۔ کہ وہ لوگوں کی رگ رگ اور نفسیات سے واقف ہو جاتے  تھے تو انھیں پریشان کرنے لگتے۔ ایک طرح سے معاملہ دونوں اطراف سے خراب  تھا۔ ایک کی لگام کس لی اور دوسرے کی ڈھیلی چھوڑ دی۔ یہ معاشرے کا کیسا انصاف  تھا بھئ ؟

صاف نظر آتا ہے کہ معاشرے میں ہی توازن نہیں تھا۔ اگر اس وقت لڑکیوں کو بھی  خوب پڑھایا لکھایا جاتا تو لڑکوں کے لئے بھی مقابلے کی فضا قائم ہوتی۔  پھر  لڑکیاں پڑھ لکھ کر چولہا ہانڈی کے ساتھ کچھ روزگار کا جگاڑ بھی کر  لیتیں ،کم از کم اپنا جہیز ہی بنا لیتیں تو گھر اور معاشرے میں ان کا وجود  بھی  مفید اور کارآمد ثابت ہوتا۔ اور والدین  پر بوجھ بننے کی بجائے وہ ان  کا ہی  بوجھ بٹاتیں۔ کیونکہ اس کی خال خال  مثال موجود تھی جسے درخور اعتنا  نہیں  سمجھا جاتا تھا۔ سوئے اتفاق ایک گھر میں کئی بچے تھے۔ سربراہ فیملی  کی  معمولی سی جاب تھی کہ گزارا ہی بمشکل ہو رہا تھا۔ گھر میں بڑی اولاد  لڑکی  تھی اس نے جیسے تیسے میٹرک کیا اور ٹیچنگ شروع کر دی اور اپنے  والد کا  مالی ہاتھ بٹانا شروع کر دیا۔ تو گھر کے حالات بہت حد تک سدھرنے  شروع ہو  گئے۔ باقی بچوں نے اچھی تعلیم حاصل کی اور جو فارغ ہوتا گیا  اچھی جاب  لیتا گیا اور زندگی کے وہ مرحلے جو  ایک لڑکی  کی قسمت کے ساتھ جوڑ دئے جاتے ہیں وہ مراحل بھی آسان ہوئے۔ ریت رواج کے مطابق ان کے جہیز بھی بن گئے اور بہت  اچھے گھروں  میں سب بہنوں کی شادیاں ہوئیں۔ اور یہ بات کہنے میں بالکل  عار نہیں کہ یہ سب اس لڑکی کی ہمت اور حوصلے کی وجہ سے ہوا۔ اگر  ایسا نہ ہوتا  تو ان ذمہ داروں کو نپٹاتے نپٹاتے ان کے باپ کے کندھے اور  کمر مزید جھک جاتی۔

حقیقتاً پہلا قدم اٹھانا ہی مشکل ہوتا ہے۔ جب یہ سماج پیروں کے نیچے سے زمین کھینچنے کی فکر میں ہوتا کہ،

“لڑکی کو اتنا پڑھانے کی کیا ضرورت ہے۔ ؟

کیا اسے افسر بنانے کا ارادہ ہے؟

کیا اس کی کمائی کھاؤ گے؟

اس نے  پڑھ لکھ کر کیا تیر چلا لینے ہیں۔ ؟

آخر کو چولہا چوکا ہی کرنا ہے۔ اور بچوں کو ہی پالنا ہے۔ ان کی بہتی ناک ہی صاف کرنی ہے۔ ؟”

یا پھر تعلیم کی اہمیت خود کافی پڑھے لکھے لوگ ہی جانتے تھے۔ ایک صاحب خود  لیکچرر تھے۔ کالج میں پڑھاتے  تھے۔ انھوں نے اپنی لڑکی کو تب ایم اے تک تعلیم دلوائی تھی، جب لڑکیوں کی اوسط  تعلیم میٹرک یا ایف اے تک ہوتی تھی۔ کہنے والے کہتے  ہیں کہ اہل محلہ نے دل  کھول کر لڑکی کی ماں کو لڑکی کے زیادہ پڑھ لکھ کر  با شعور ہونے بلکہ کچھ کچھ باغی ہو جانے کی قبل از وقت اطلاع دے دی۔

اس کے لئے پڑھے لکھے عنقا لڑکوں کی نوید سنائی۔

اس کے مستقبل کی نوکری اور کمائی کھانے کا طعنہ سنایا۔

پیسے اور وقت کا زیاں بتایا۔

اور لڑکی کے زیادہ وقت گھر سے باہر رہنے کے لئے زمانے کی ہوا سے خوفزدہ کیا۔

مگر عجب بات یہ ہوئی کہ لڑکی کی ماں چٹی ان پڑھ تھی۔ اس نے بات کا سارا وزن  اپنے خاوند پر ڈال دیا کہ یہ میرے ان کی خواہش ہے۔ وہ کہتے ہیں میں  اپنی بیٹی کو تعلیم کی صورت ایسا تحفہ دینا چاہتا ہوں۔ کہ خدا نہ کرے  اگر برا وقت بھی پڑے تو اس کے کام آئے۔ یہ بات سچ ہے کہ نیت کو مراد ملتی  ہے۔ اس لڑکی نے ابھی ایم اے ہی کیا تھا کہ اس کے لئے ایک اچھے پڑھے لکھے  لڑکے کا رشتہ آ گیا اور اس کی شادی ہو گئی۔ وہ بچوں اور گھر بار میں مصروف  ہو گئی۔ اس کے مالی حالات اتنے اچھے رہے کہ اسے آج تک جاب کی ضرورت محسوس  نہیں ہوئی۔ لیکن میں اس  باپ  سے بہت متاثر ہوں جس نے اس وقت معاشرے سماج  کی  پرواہ نہ کرتے ہوئے  اپنی بیٹی کو اتنا خوبصورت تحفہ دیا۔ یقیناً اس تحفے  کا  استعمال اس نے  اپنے بچوں کے تعلیمی کیریر بنانے میں ضرور استعمال کیا  ہو  گا۔ اور یہ تحفہ نسل در نسل استعمال بھی ہو گا۔

پھر معاشرے کے عفریت میں جہیز کی لعنت بھی موجود  تھی۔ جو لڑکی کے ساتھ ایک مہر کی طرح چپکی رہتی تھی۔ لڑکی کو اک بہت بڑا ذہنی اور بوجھ بنا  دیا جاتا۔ بیٹے کا باپ اکڑ اکڑ کر چلتا اور لڑکی کا باپ زیر بار ہو کر، اور جس گھر میں ایک  سے زیادہ لڑکیاں ہوتیں۔ وہ بےچارے والدین تو ساری زندگی  اک ان دیکھا قرض  ہی چکاتے رہتے۔ کبھی جہیز کی صورت، کبھی رسموں رواجوں کی  بدولت، کبھی  لین دین کی معرفت، کبھی ویلا نکما داماد ملنے پر ساری زندگی  اک  ٹیکس دینے  کی شکل، یہ کیسا تضاد تھا سماج کا ؟ تبھی مائیں بچی کے بچپن  سے  ہی اس کا جہیز بنانے میں جٹ جاتیں۔ ایک ماں نے اپنی بیٹی کا جہیز اس کے  بچپن  سے ہی بنانا شروع کر دیا تھا۔ اور جب  تک لڑکی بڑی ہوئی۔ تو جہیز بھی  اچھا  خاصا تیار ہو چکا تھا۔ کہ لڑکی کا  ایک بھائی باہر ملک  چلا گیا تواس  نے  اپنے بہن بھائیوں کو باہر ملک بلا  کر سیٹ کر دیا۔ اور اپنی اس مڈل پاس  بہن  کو ایک جیکٹسں سینے کی فیکٹری میں کام پر لگوا دیا۔ اس کا جہیز  پاکستان میں  دھرا کا دھرا رہ گیا اور لڑکی نے وہاں ایک سال میں ہی کام کر  کے اپنا جہیز  خود تیار کر لیا۔ اور شادی کے بندھن میں بندھ گئی۔ سو کہا جا  سکتا ہے کہ  تب بھی لڑکی میں وہ ہمت اور حوصلہ موجود تھا جسے سماج نے دبا  کر رکھا تھا۔  اور اسے معاشرے کے لئے مفید نہیں بنایا۔

کہنے والے اس زمانے میں خاموش رہے اب کہتے ہیں کہ زمانہ بگڑ گیا ہے۔ آزاد  ہو گیا ہے۔ اونہوں ،زمانے کو بگاڑنے والے اور اس کی ہوا کو چلانے والے  لوگ تو ہمیشہ رہے ہیں اور رہیں گے۔ یہ سماج ہی تو تھا جو اس وقت بھی لڑکے  اور لڑکی کی عزت میں اتنا فرق دکھاتا تھا۔ کہ لڑکی پر چار اطراف سے پابندی  ہوا کرتی تھی اور لڑکے کو اس سے بالاتر کر دیا جاتا تھا۔ مگر سمجھنے  والو، عزت تو لڑکے کی بھی ہوتی ہے۔ لیکن اس کے لئے کچھ رول سماج نے وضع  ہی نہیں  کیے۔ اسی لئے جب شادی کا مرحلہ آتا تو لڑکے سے پھر بھی اس کی مرضی  پوچھ لی  جاتی۔ چاند سی دلہن کی اس کے لئے تلاش ہوتی۔ مگر لڑکی پر اپنی  پسند ڈال  دی جاتی۔ اور اس کے شوہر کے روپ میں مرد کا قبول صورت ہونا ہی کافی سمجھا جاتا۔ گھر  میں لڑکا پیدا ہوتا تو ہمیشہ باپ کے نام کے حوالے سے مٹھائیاں  بنٹتیں کہ  امتیاز کے ہاں بیٹا  ہوا ہے اور لڑکی کی خبر ہوتی تو ہمیشہ ماں  کے حوالے  سے  پھیلتی کہ نگہت کے ہاں بیٹی پیدا ہوئی ہے۔ پھر لڑکے کے لئے  والدین اپنی  ہمت سے بڑھ کر جان مارتے، گھربار جائیداد بناتے۔ اور اپنی  وراثت کا اسے جائز  حقدار سمجھتے اور لڑکی کو وراثت میں حصہ دینے سے بھی گریز  کیا جاتا، کبھی  اس کے جہیز، اور کبھی معمولی تعلیم کا بدل کاٹ لیا جاتا اور کبھی  قرآن سے  اسکی شادی کر دی  جاتی۔ ایسا کیوں کیا جاتا یہی تو سماج کے کا فرق  تھا۔

قصہ مختصر، کسی بھی ملک کے معاشرے اور سماج کو سب سے پہلے خود اپنے لئے قانون اور حدود  وضع کرنا ہوں گی۔ پھر ہی وہ سماج میں رہنے والوں کا بھلا کر سکتے ہیں۔ ۔

٭٭٭

 

 

 

ٹرننگ پوائنٹ

 

زندگی کچھ دینے اور کچھ لینے کا نام ہے۔

ایک معاشرے میں رہتے ہوئے انسان کچھ اصولوں ،رواداریوں ،نظم و نسق اور    قوانین کا پابند ہو جاتا ہے۔ جنگل میں جنگل کا قانون اور انسانی    معاشرے میں انسانوں کا۔ یہی چیز ایک دوسرے سے ممتاز کرتی ہے، ایک حد    بندی بھی مقرر کرتی ہے اور ہر ذی شعور کو اسی کے اندر رہ کر اپنی بقا کی    جنگ بھی لڑنی پڑتی ہے۔

دنیا میں ہوش سنبھالتے ہی ذمہ داریاں بٹنے لگتی ہے۔ گھر میں اپنا کام      سنبھالنا پڑتا ہے اور معاشرے میں بھی اپنے حصے کا بوجھ ڈھونا پڑتا ہے۔ یہ    تقسیم کا سلسلہ گھر سے ہی شروع ہوتا ہے۔ جب والدین بچوں کو معاشرے کا ایک    مفید رکن اور باشعورانسان بنانے کے لئے اپنی  ذمہ داری نبھا رہے ہوتے    ہیں۔ ایک طرح سے وہ مستقبل کے لئے آہستہ آہستہ اپنی ذمہ داریاں آگے  منتقل  کرنے  کا عمل شروع کر دیتے ہیں۔ بہن بھائیوں کے ساتھ شیئرنگ کرنے  کا وصف  بچوں  میں  ڈال کر درحقیقت وہ انھیں دنیا کے تالاب میں تیرنے کا  طریقہ  سمجھا رہے  ہوتے  ہیں۔ آنے والے وقتوں میں لوگوں کے ساتھ معاملات کرنے  کا گر  بتا رہے  ہوتے ہیں۔

والدین کے بعد استاد بھی اس  میں ایک بڑا رول ادا کرتے ہیں۔ ان کے ہاتھوں    پالش ہو کر آگے بڑھا جاتا ہے۔ پھر وقت کے ساتھ جس طرح عقل و شعور ذات میں    اپنی جگہ بناتا چلا جاتا ہے۔ اسی طرح حقوق و فرائض سے بھی آگاہی بڑھتی  جاتی  ہے۔ اور ایک وقت ایسا آتا ہے جب والدین اور استاد کا رول بھی  کچھ  پیچھے  رہ جاتا ہے اور اب زندگی کا میدان کارزار ہوتا ہے اور صرف آپ ہوتے  ہیں۔

زندگی    نے اپنی  مسافت تو ہر حال طے کرنی ہی ہے اس چیز سے بے خبر کہ مسافر  اپنی    دھن  میں بے نیاز چلا جا رہا ہے یا ہر قدم سہج سہج کر رکھ رہا ہے۔ کہ کبھی    کبھی اچانک زندگی میں ٹرننگ پوائینٹ آ جاتا ہے۔  جو بندے کو  کسی اور  ہی    راہ کا مسافر بنا کر منزل کی اور روانہ کر دیتا ہے۔ حالانکہ اس وقت  یہی لگ رہا ہوتا ہے کہ زندگی کا آدھا معرکہ مارا جا چکا ہے تو اب آگے کا سفر سہل  ہو گا۔ پر ایسا نہیں ہوتا۔ آس پاس ہی کچھ تلخ حادثات اور حقیقتیں گھات  لگائے  چھپی ہوتی  ہیں۔ جو اچانک ہی حملہ آور ہوتی ہیں اور پھر آغاز ہوتا ہے  سفر در  سفر کا۔ ۔

قرآن پاک سے یہ بات واضح ہے کہ اللہ تعالی  اپنے بندوں پر ان کی طاقت اور برداشت  سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتا۔ پر    وہ  اپنے کچھ بندوں کو خاص نوعیت کی ذمہ داریاں اٹھانے کے لئے منتخب    ضرور کر لیتا ہے۔ اللہ جانے، ان  لوگوں میں کوئی خاص خوبیاں ہے یا وہ ان کے    اعمال کو اس راہ سے گزارنا چاہتا ہے۔

میں دسویں کلاس میں تھی کہ میری ایک کلاس فیلو راحت کی امی اچانک اس جہان    فانی سے رخصت ہو گئیں۔ یہ ایک  بہت بڑا صدمہ تھا۔ وہ جذباتی نقصان کبھی    پورا ہونے والا نہیں تھا۔ اس سے بالا تر گھر میں بھی اب وہی ایک صنف نازک تھی، جو کئی چھوٹے بھائیوں کی پندرہ سالہ بڑی بہن تھی۔ اپنے نام کے    مصداق ہمیشہ خوش رہنے والی، ماں کے غم میں نڈھال چند دنوں میں ہی اسے  گھر    کے حالات کا اندازہ ہو گیا۔ تو اسے  اپنی تعلیم کا سلسلہ منقطع کرنا  پڑا۔    اور چھوٹے بھائیوں کے لئے ایک مامتا بھرا روپ دھارنا پڑا۔ اور یوں  ایک    پندرہ سالہ بچی وقت سے پہلے مثل  خاتون خانہ بن گئی اور اپنی عمر  سے دگنی    ذمہ داری اس نے سنبھالنی لی۔ اسکا ساتھ چھوٹ چکا تھا اپنی سنگی  سہیلیوں  سے، اپنی کتابوں سے، اپنی ذات آگہی سے، وقت نے ایک طرف اسکا اپنا پن چھین لیا تھا  اور دوسری  طرف  اس کا وجود باقیوں کے لئے کارآمد بنا دیا تھا۔ اور اسی جگہ، اسی مقام پر ہی  اسکی زندگی  میں وہ موڑ آ چکا تھا۔

زندگی درحقیقت کیا ہے؟

وقت کا آئینہ ہے، جس میں انسان اپنا ماضی، حال اور مستقبل دیکھتا رہ جاتا    ہے۔ اور زندگی کے بارے میں بس اندازے ہی لگاتا رہ جاتا ہے۔ اسے سمجھنے  میں  ہی  عمر تمام ہو جاتی ہے۔ کبھی معاملات زندگی میں صبر سے کام لینا  پڑتا  ہے۔ کبھی اسے امتحان سمجھ کر ہمت جٹانی پڑتی ہے۔ اور خاص طور پر جب  اللہ  کی طرف  سے یہ آزمائش بن کر سامنے آ کھڑی ہوتی ہے۔

امی جان ایک ایسی عورت کا ذکر کرتیں ،جن سے وہ  بہت متاثر تھیں اور    شائد ہمیں بھی باور کرانا چاہتی تھیں کہ زندگی نشیب و فراز کا  ہی نام ہے۔ ایک    آدمی کی بیوی تین چھوٹے بچے چھوڑ کر انتقال کر گئی۔ اس نے دوبارہ شادی  کر    لی۔ دوسری بیوی کے روپ میں صفیہ ایک خوشگوار جھونکے کی طرح اسکی  زندگی  میں چلی  آئی۔ صفیہ ایک سکول میں ٹیچر تھی۔ اس نے آتے ہی بچوں کو خدا  ترسی سے  فورا گلے    لگا لیا۔ جس سے شوہر کے دل تک  بھی اس نے رسائی حاصل  کر لی۔  زندگی ایک بار  پھر خوشیوں کے ہنڈولے میں جھولنے لگی۔ بچے بھی  مطمئن اور  میاں بیوی بھی  خوش۔ ۔ ۔  زندگی کی رونق بڑھاتے ہوئے چھ بچے اور اس گلشن میں آباد  ہوئے۔ اور نو  بچوں کے ساتھ ایک اچھا خاصا خاندان تشکیل پا  گیا۔ کارواں منزل کی اور بڑھ رہا تھا۔ لگتا تھا  اب زندگی اپنے عروج پر ہے۔

مگر نہیں۔ ۔ ۔   ابھی تقدیر کے ترکش میں کچھ تیر باقی تھے۔ اچانک ہی میاں کو اجل نے کھینچ    لیا۔ نقصان پھر ہوا تھا اور پہلے سے بھی کہیں زیادہ ہوا تھا، مگر اب    خسارہ  پانے والا کوئی اور تھا۔ اس بار خسارہ صفیہ نے پایا تھا۔ ایک معمولی جاب اور سگے سوتیلے نو بچے اس کے سامنے تھے۔ حالات اسے صبر اور تقدیر    آزمائش  کے موڑ پر لے آئی تھی۔ اور یہیں سے ہی اس کا صراط کی جانب سفر شروع    ہو چکا  تھا۔

یہ زندگی یہ دنیا،  بظاہر تو کائنات کے رنگوں سے جڑی ایک خوبصورت تصویر ہے۔ جس میں قوس و قزح کے رنگ  سجے نظر آتے ہیں۔   اک رنگیں گلستاں ہے جہاں رنگا رنگ پھولوں جیسی خوشنمائی  ہے۔ پر اب چاہے یہ    کوئیاسٹوڈیو ہو یا گلشن، یہ سب فانی ہے۔ جنت، دوزخ، پل صراط، قیامت، آخرت    کا حساب کتاب ان سب کو مرنے کے بعد کے مراحل سمجھا جاتا ہے۔ جبکہ  دنیا  بھی ایک پل صراط ہے۔ جو اس پر چلنے کا تجربہ کرتا ہے وہ آخرت میں  بھی    انشاءاللہ گزر جائے گا۔  اسی لئے اس دنیا میں بہت سے لوگوں کا سفر اس  جانب  کب کا شروع ہو چکا ہوتا ہے۔

بہت سے لوگوں کی زندگی میں ٹرننگ پوائنٹ آ جاتے ہیں۔ کبھی موڑ آتے ہیں اور کبھی دوراہے۔  بعض دفعہ موت، طلاق، بیماری، ملازمت اور ایسی بہت سی حقیقتیں جو بہت تکلیف دہ ہوتی ہیں سامنے نمودار ہو جاتی ہیں ،جن  سے  زندگی کی  ہیئت ہی بدل جاتی ہے۔ مگر بعض لوگ بڑے وقار کے ساتھ ان  سانحوں سے  گزر جاتے ہیں۔ اور مشعل راہ بن جاتے ہیں۔ یہ بات سوچنے پر  مجبور کرتی ہے  کہ  آخر ان میں کونسی ایسی خوبیاں ہوتی ہیں ،جو  انھیں  دکھوں کو  ہنسی خوشیاں جرات کے ساتھ برداشت کرنے میں مدد دیتی ہیں۔ میں ایک ایسی ہی  پیاری سی ہستی کو جانتی ہوں۔

جو شادی کے تین ماہ بعد اچانک  بیوہ ہو گئی۔ اس کا خوبصورت من چاہا ساتھی    اچانک چھوٹ گیا۔ اک قیامت ہی تھی  جو اچانک برپا ہوئی۔ پھر وقت گزرنے کے  ساتھ اسکی دوسری شادی ہوئی۔ بہت سالوں بعد جب میرا اس سے دوبارہ ملنا ہوا۔ اور زندگی کی  موجودہ شکل بارے اس  سے بات ہوئی۔ تو اس نے کہا کہ زندگی اچھی گزر رہی ہے۔  خاوند اچھا ہے۔ اللہ  نے اولاد کی نعمت سے بھی سرفراز کیا ہے۔ اور میں نے  دیکھا اسکی زبان پر صبر  و شکر کی چھاپ تھی اور آنکھیں نم، پھر اسی نے  مجھے  ایک اور لڑکی سے  ملوایا۔ جس کا پہلا خاوند انتقال کر چکا تھا اب اس کی  دوسری  شادی ہو چکی تھی۔ ایک  پیاری سی بیٹی اسکی گود میں تھی۔ اور وہ  زندگی کے  نئے رنگ میں رنگی تھی۔ وہ بچی کے کپڑے بدل رہی تھی اور میں انجانے میں ہی اس کے چہرے پر زندگی کے رنگ ڈھونڈ  رہی تھی۔  میرے سامنے یہ وہ لوگ تھے، جن کی زندگی میں  ٹرننگ  پوائنٹ آ چکے تھے۔ اور میں  عقیدت بھری نظروں سے انھیں دیکھ  رہی تھی۔ طوفان گزرنے کے بعد کیا آثار ہوتے ہیں۔ لاشعوری طور پر کھوجنے کی فکر میں تھی۔  اور ان دونوں کے اندر مجھے  صبر، شکر کا عنصر نمایاں محسوس ہو رہا  تھا۔ یقیناً وہ دل کی دنیا کو تیاگ کر آگے بڑھ چکی تھیں۔ اور  واللہ اعلم، کیا پتہ ان کا یہی وصف انھیں اس راہ کا مسافر بنا گیا  ہو۔ ؟ یہ  راہ کٹھن ضرور ہے لیکن اس کی منزل یقیناً بڑی خوبصورت ہو گی۔

ہم  لوگ جو زندگی کی چھوٹی چھوٹی  مشکلوں ،باتوں سے گھبرا کر زبان  پر تلخی  سمیٹ لاتے ہیں۔ شکوے شکایات شروع کر دیتے ہیں۔ یقیناً زندگی کا  یہ روپ  دیکھنے والے لوگ ہمارے لیے بےمثال ہیں کہ  شمع کی طرح زندگی بسر کرنا سیکھو وہ خود تو جلتی ہے مگر دوسروں کو روشنی دیتی ہے۔ اور وہ اس بات کی تفسیر بن جاتے ہیں ۔

شمع جس آگ میں جلتی ہے نمائش کے لیے

ہم اسی آگ میں گمنام سے جل جاتے ہیں

٭٭٭

 

 

 

 

اللہ کی مرضی

 

اللہ مطلق العنان ہے۔ وہ جو چاہے کر سکتا ہے  اس کی رضا کے بغیر کوئی  پرندہ پر نہیں مار سکتا۔ یہ فقرہ کم عمری میں ہی سننے کو مل گیا تھا۔ جہاں  بھی دو چار عورتیں اکٹھی ہوتیں ،پہلے خوب کہانیاں بیان کرتیں ،دل کے  دکھڑے  روتیں اور آخر میں کہتیں اچھا اللہ کی مرضی، اور میں دیکھتی رہ جاتی  کہ  اگر یہ واقعی اللہ کی مرضی تھی تو پھر اس پر اتنا واویلا ڈالنے کی کیا  ضرورت تھی۔ ۔

تھوڑا سا اور آگے  بڑھی تو پتہ چلا کہ اللہ جسے چاہے دے، جتنا چاہے نواز دے اور جسے  چاہے نہ دے  محروم رکھے۔ اس کے لئے  سب بندے ایک برابر ہیں لیکن اس کے  دینے کی تقسیم  سب کے لئے مختلف ہے۔ میں دیکھتی کسی گھر میں بچے زیادہ ہیں  تو کسی گھر میں  دولت کی ریل پیل، کسی گھر میں سب لوگ ہی خوب پڑھے لکھے  ہوتے اور کسی جگہ    واجبی سی تعلیم ہوتی یا  انگوٹھا چھاپ۔ یہ بات  میرے لئے کچھ اچنبھے کا باعث بنتی کہ اللہ نے سب  کو ایک جیسی دولت اور زندگی گزارنے کا طریقہ اور سلیقہ کیوں نہیں دیا۔ جس گھر میں بچے زیادہ  ہیں وہاں تو  کھانے پینے کی وافر چیزیں اور روپے پیسے کی افراط ہونی چاہیئے لیکن وہاں تو  ضروریات  زندگی پورا کرنے کے لئے روپیہ پیسہ نہیں۔ کسی بچے کے پاؤں میں  جوتی  نہیں ،تو کوئی سردی میں ناکافی کپڑوں کے ساتھ ہے۔ اس وقت یہ چیز  میرے  دل  میں ایک حسرت کی طرح سر اٹھاتی کہ کاش اللہ میاں  سب کو ایک جیسا  ہی دے  دیتا  تو زندگی کتنی آسان ہوتی۔ پھر اردگرد کچھ مہربان اللہ کی  وافر دی  نعمتوں  پر خوب اتراتے۔ انہیں لگتا کہ اللہ کی ان پر خصوصی نظر عنایت ہے۔ اور اللہ ان سے بہت راضی ہے۔ ہمارے  ایک دور  پار کے رشتہ دار ہوا کرتے تھے۔ خوب کوٹھیوں ،زمینوں اور بزنس کے مالک اور خود ان کا کہنا تھا کہ اللہ ان پر اتنا مہربان ہے کہ اگر وہ مٹی کو بھی ہاتھ  لگاتے ہیں تو  وہ بھی سونا بن جاتی ہے۔ اوردوسری  طرف  کچھ لوگ شاکی رہتے کہ  آئے دن مصائب کا سامنا ہے اور  وہ مشکلات میں پھنسے رہتے ہیں۔ انھیں لگتا کہ اللہ ان سے  ناراض ہے یا ان سے  انجانے میں نہ جانے کتنی  خطائیں ہو چکی ہیں یا گناہ  سرزد ہو چکے ہیں۔

امی جان کے رشتے  داروں کی طرف دیکھتی تو وہ بہت امیر اور زمینوں کے مالک نظر آتے۔ مگر وہاں  اس جائیداد کو سنبھالنے والے نہ ہوتے اور امی جان کے کچھ کزن  دو  شادیاں  رچا چکے تھے اور دو دو بیویوں کے ساتھ زندگی گزار رہے تھے۔ سوکن  اور اس کا  جلاپا مین مدعے سے ہٹ کر کچھ اور ہی داستان گھڑ دیتا۔ اور لوگ  اسی داستان  کو زبان زد رکھتے۔

کچھ لوگ میں نے رشک و حسد اور حسرت میں بھی مبتلا دیکھے۔ سانولی عورت  گورا ہونے کے چکر میں کریم لوشن پر پیسے لٹاتی، چھوٹے قد والی ایڑی والے  جوتے پر۔ ۔ اور ساتھ  ہی ان کی زبان پر شکوہ بھی آ جاتا کہ اللہ  تیرا کیا جاتا اگر  مجھے تھوڑا گورا بنا دیتا۔ فلاں کو اتنا رنگ و روپ دے دیا۔ کاش اس میں سے  ہی بچا  کر تھوڑا مجھے دے دیتا تو کونسا وہ کالا ہو جانا تھا  اور چند انچ مزید  قد  کی خواہش دل میں پالنے والی  ایڑی والے جوتے پہن کر ساری زندگی اپنے آپ  کو  ایک ان دیکھی سزا کاٹنے پر مجبور پاتی۔ اوپر سے ڈاکٹر کہہ دیتے کہ اس کے  استعمال سے بڑھاپے میں کمر کی تکلیف ہو سکتی ہے یعنی الٹے بانس بریلی کو،

پھرکسی گھر میں  اللہ کی نعمت لڑکے ہی لڑکے  کرکٹ ٹیم کی طرح نظر آتے تو  کسی گھر میں لڑکیوں  کے گروپ نظر آتے۔ امیر لڑکیوں کی  شادی خوب دھوم دھام  سے ہو جاتیں۔ جہیز  کے  نام پر انہیں دنیا جہان کی چیزیں دی جاتیں ،دولت کی  نمائش کی جاتی۔ اور  یہی  چیز غریب کی بیٹی کی شادی کو اور مشکل بنا دیتی۔ بچاری لڑکیاں  ماں باپ  کی چھاتی پر سل کی طرح دھری رہتیں جس سے باپ کی کمر مزید  جھک جاتی اور  ماں دن  رات انھیں دیکھ کر آہیں بھرتی دکھائی دیتی۔ پر یہ تو اوپر والے کے کام تھے۔ اور یہ اسی کی منشاء  کے مطابق ہو رہا تھا۔

پھر مجھے طبقاتی  فرق بھی نظر آنے لگے۔ امریکہ سپر پاور نظر آتا، انڈیا پاکستان کا دشمن  دکھائی دیتا اور اسرائیل  فلسطین کا، ہیما مالنی کی قسمت میں دھرمیندر کی دوسری  بیوی بننا لکھا  تھا۔ مدھو بالا، دلیپ کمار کی محبت بھری داستان کو کوئی عنواں نہ مل سکا۔    وحیدہ رحمان  گورودت کی دوسری بیوی نہ بن سکی اور گورودت کو اسی کی وجہ سے  خود کشی کرنا پڑی۔ ہاں بھئ یہ سب تو اللہ کی مرضی تھی۔

پھر وہ گھڑی آ ہی گئی جب  شعور کا دروازہ دھیرے دھیرے کھلنا شروع ہو جاتا ہے۔  تب میں نے محسوس کرنا شروع کیا کہ یہ اللہ کی طرف سے کوئی ناانصافی یا  زیادتی نہیں کہ کسی کو کم مل رہا ہے اور کسی کو زیادہ، بلکہ اللہ نے ایک  نظام اور سسٹم کے تحت کچھ فارمولے بنائے ہیں جس کے مطابق دنیا کا یہ کاروبار  زندگی چلایا ہے اور اپنے بندوں کو ان میں سے گزارنا چاہا ہے۔ اسی لئے کچھ  لوگوں کے لئے دنیا شداد کی جنت جیسی بن گئی ہے اور کچھ کے لئے پل صراط  جیسی،      اور  اکثر  ایسا بھی ہوتا ہے کہ ایک چیز نہ دے کر اس کے بدلے اللہ اور بہت سی چیزوں سے    نواز دیتا ہے۔ جسے جاننے کے لئے بصیرت کی آنکھ چاہیئے۔ ویسے بھی سب کے  پاس  سب کچھ نہیں ہوتا۔ میں نے دولت اور طاقت کو اکثر یکجا دیکھا ہے اور  اسی  طرح تعلیم اور شرافت کو ایک جگہ پایا ہے۔ یقیناً اس میں بھی ضرور کوئی نہ  کوئی  مصلحت ہو گی۔ کیونکہ دولت، طاقت، تعلیم، شرافت یہ چاروں کبھی ایک جگہ  اکٹھی  نہیں ملیں گی۔

پھر اللہ  کبھی کبھی نہ دے کر بھی بندے کو آزمائش میں ڈالتا ہے اور آزماتا ہے اس کے صبر  اور شکر کے وصف  کو، کبھی وہ بندے کو حالات  کی بھٹی میں ڈال کر کندن بنانا چاہتا ہے۔  کبھی  دنیا  میں ہی سب کچھ نواز کر اس کے لئے آخری منزل کی سیڑھی چڑھنا مشکل  بنا  دیتا  ہے اور کبھی دنیا میں اسے تکالیف اور مصائب دے کر آخرت کی  منزلیں سہل  بنا دیتا ہے۔ اور یہ کوئی انہونی یا ڈھکی چھپی باتیں نہیں۔ یہ  سب باتیں  اللہ کی کتاب میں موجود ہیں۔ سمجھئے وہ امتحانی پیپر حل  کرنے کے لئے  دے چکا ہے۔ اب تو باری ہے اسے سوچ سمجھ کر حل کرنے کی اور ضرورت ہے اس پر  عمل پیرا ہونے کی۔

بے  شک سب کام اللہ کی رضاعت سے ہوتے ہیں۔ پھر بھی اس نے کہیں نہ کہیں  بندے  کو بھی یہ اختیار دیا ہے کہ وہ اپنا اچھا برا جانے، اپنی منزل پانے کے لئے  اس کے بتائے صراط مستقیمپر قدم بڑھائے اور یوں اللہ کی مرضی کو پا لے۔ ۔ ۔

٭٭٭

 

 

 

کیسے کیسے مہرباں

 

لٹا ہے دشت غریبی میں کارواں کس کا

خاک اڑاتی ہے منزل بھی کارواں کے لیے

جو اس زندگی کی طویل شاہراہ پر ہمیں ملتے ہیں۔ یہ دنیا ایک مسافر خانہ ہے ہم سب اس کے مسافر، اور ان ہزاروں لاکھوں کے درمیان اپنا آپ منوانا ہر ایک کے لئے ایک چیلنج ہے۔ لیکن کچھ مہرباں ایسے ہوتے ہیں جنہیں اپنا آپ منوانا بھی نہیں پڑتا، پھر بھی وہ دوسروں کے لئے خاص الخاص بن جاتے ہیں۔

میں آپ کو بتانا چاہوں گی اپنے بچپن کی ایک یادگار ہستی اماں بپو کے بارے میں ،جیسے ہی ہوش سنبھالا تو دیکھا کہ اکثر ایک لمبی پتلی سی عورت سفید براق لباس میں ملبوس گھر میں آتی ہے۔ میں تو شائداس کی عمر اس کے حلئے سے اسے نانی یا دادی کے کھاتے میں لے لیتی لیکن جو بات اسے ان یادگار ہستیوں سے علیحدہ اور ممتاز کرتی تھی، وہ اس کے بال تھے۔ جو اس وقت مجھے، میرے بھائی اور ہمارے ہم عصروں کی بالکل سمجھ سے باہر تھے۔ کیونکہ نانی دادی کے بال تو دوپٹے، چادر سے ڈھکے ہوتے اور جو تھوڑے بہت نظر بھی آتے تو وہ مہندی سے رنگے ہوتے۔ اور مجھے نہیں یاد کہ میں نے کبھی اماں بپو کے سر پر یا شانوں پہ دوپٹہ یا چادر دیکھی ہو۔

” ہائے ہائے کیسا زمانہ تھا لڑکیوں کو سر ڈھکنے کی تلقین کی جاتی تھی۔ اسلام کے حوالے سے بار بار بتایا جاتا تھا اور وہ اماں جی ایسے ہی دوپٹے کے بغیر پھرتی تھیں۔ ”

کیونکہ اکثر ان کا دوپٹہ گیلا اور دھلا ہوتا تھا اور مجھے ان کے سر پر نظر آنے کی بجائے ہمیشہ تار پر لٹکا نظر آتا۔ اور مجھے یہ بات مسٹری کی طرح لگتی کہ وہ اسے اوڑھتی کب ہیں جو اس کے دھلنے کی نوبت آ جاتی ہے۔

وہ جب بھی آتیں تو تین کام تو پکے ان سے متوقع ہوتے۔ ایک تو یہ کہ وہ نہائیں گی ضرور، میں جیسے ہی سکول سے گھر میں داخل ہوتی تو باتھ روم کے باہر ان کی لمبی سی بند کالی جوتی نظر آتی۔ جو وہ سردیوں میں بھی پہنتیں اور گرمیوں میں بھی یعنی ٹو ان ون۔ اور پانی کے نل کی متواتر آواز آتی اور ساتھ ہی پانی کے گرنے کی شڑپ شڑپ آواز آتی۔ اور کسی سے پوچھے بنا ہی مجھے پتہ چل جاتا کہ آج گھر میں اچانک کے مہمان کا نزول ہوا ہے۔ دوسرا یہ کہ اب وہ اپنا سفید دوپٹہ بھی ضرور خود دھوئیں گی۔ اور اسے نچوڑے بغیر پانی سے نچڑتا ہوا رسی پر لٹکائیں گی۔ جس سے گرتا پانی ایک لمبی سی پانی کی لکیر بھی بنائے گا۔ اور ان گیلی ٹائیلز پر سے کوئی بھی پھسل کر آسانی سے ناک آوٹ ہو سکتا ہے۔ پر وہ اس بات سے بے پرواہ صرف اپنے دل کی ہی کرتیں۔ اور میں اس گیلے حصے پر اشٹاپو کی طرح کھیلنے لگتی۔ کبھی پھلانگ کر ادھر جاتی کبھی ادھر، اور امی جان ہائے ہائے کرتی رہ جاتیں۔ بھائی کالج سے آتے تو وہ بھی نچڑتا گیلا دوپٹہ دیکھ کر مسکراتے اور دیکھ بھال کر اس جگہ سے گزرتے۔ والد صاحب مسجد سے نماز پڑھ کے آتے تو وہ بھی پھونک پھونک کر قدم رکھتے۔ اور امی جان تو اس حصے میں ہی جانے سے گریز کرتیں۔ دوپٹے سے یہ یاد بھی وابستہ ہے کہ وہ امی جان سے کبھی کبھی اپنا لباس شلوار قمیض دھلوا لیتی تھیں۔ مگر دوپٹہ کسی صورت بھی نہیں دھلواتی تھیں۔ اسے وہ خود ہی دھوتیں تھیں۔ اللہ جانے کیوں ؟

اس کے بعد وہ لازمی کھانا بھی کھاتی تھیں۔ پہلے پوچھ لیا کرتی تھیں کہ آج ای پکایا اے ؟ جس دن گوشت بنا ہوتا تو وہ سن کر خوش ہو جاتیں۔ میٹ ود ویجی بھی اوکے ہوتا لیکن جیسے ہی انھیں پتہ چلتا کہ آج صرف سبزی یا دال بنی ہے تو اس کا وہ برملا اظہار کرتیں۔ ” لے اج ایہ ہ ای ملیا سی پکان واسطے ؟“ تو امی جی برا منائے بغیر دل ہی دل میں مسکاتیں کہ آج اماں کو مینو پسند نہیں آیا۔ پر خاموش رہتیں۔ پھر اماں بپو خود ہی کہتیں ”چل لے آ دو برقیاں لگا ای لیواں “ اور پھر ان کی یہ دو برقیاں دو روٹیوں پر مشتمل ہوتیں۔ ویسے ان کی خوراک اتنی زیادہ نہیں تھی۔ جس کی گواہی ان کا سمارٹ فیگر دیتا۔

ہاں تو جو چیز ہمیں بہت حیران کرتی تھی وہ اماں جی کے سفید چھوٹے چھوٹے بال تھے۔ کندھوں پر نہیں بلکہ کانوں کے برابر تھے اور وہ پہلے ہی کافی پتلی اور لمبی تھیں تو عورتوں کی زبان میں ایک مائی منڈا کی تفسیر تھیں۔

اور پھر یہی ہمارے گھر والی کہانی کئی گھروں میں دہرائی جاتی۔ جہاں جہاں وہ جایا کرتیں۔ اس لئے ہمیں پتہ نہیں چل پاتا تھا کہ اماں جی کا اصل گھر کونسا ہے؟ لیکن پھر بھی ہم سب کی زندگیوں میں ان کے لئے کھلے دل سے جگہ موجود تھی۔ کوئی بھی ان کے آنے پر برا نہیں مانتا تھا۔ بلکہ ان کا آنا ایک معمول کی طرح ہی لگتا تھا۔ گھر کے مرد بھی ان کی عزت کیا کرتے تھے۔ جبکہ ان کا سلوک گھر کی عورت کے ساتھ ایک ساس والا ہوتا تھا۔ جب چاہتیں اس کے کھانے یا کارہائے زندگی میں نقص نکال دیتیں۔ اور بغیر لگی لپٹی رکھے بچوں کو پھٹکار بھی دیتیں اور اپنی وہی بند لمبی سی جوتی بھی ان پر اچھال دیتیں۔ یہ خیال کئے بغیر کہ اس وقت انھی کے گھر میں ہی ان کا ڈیرا ہے۔ اور آفرین ہے کہ مائیں بھی بچوں کو ڈانٹنے پر کچھ نہیں کہتی تھی۔ بلکہ کچھ ڈھیٹ اقسام کے بچے ماؤں سے نہیں ڈرتے تھے۔ لیکن اماں کے سامنے بڑے بیبے بچے بن کر رہتے تھے۔

اماں بپو کا سامان بھی مختصر تھا۔ اس لئے کسی بھی گھر میں ان کا مستقل ٹھکانہ نہیں تھا۔ ان کا قیام کسی گھر میں دن بھر کا ہوتا اور کسی گھر میں دو چار دن راتیں رہ لیتیں۔ وہ زیادہ باتیں نہیں کرتی تھیں۔ لیکن جب کرتی تھیں تو کچھ منفی انداز میں ،جس سے اندازہ ہوتا کہ شائد وہ اپنے آپ سے کچھ ناخوش ہیں۔ سب کہتے تھے کہ دنیا میں ان کا کوئی نہیں۔ اس لئے وہ اکیلی ہیں۔ لیکن یہ بات ہم بچوں کو ہضم نہیں ہوتی تھی کہ اتنی بڑی دنیا میں خاندان، برادری کے ہوتے وہ اکیلی کیسے ہیں۔ آخر کوئی تو ہو گا ؟

وہ کافی خاموش طبع قسم کی تھیں۔ صرف کام کی بات منہ سے نکالتی تھیں یا ڈانٹ پھٹکار کی۔ ایک بار میں سکول سے گھر آئی تو اماں جی حسب سابق نہا کر نچڑتے دوپٹے کو لٹکا کر امی جان کے پاس بیٹھی ہوئی تھیں۔ مجھے دیکھتے ہی اچانک انھوں نے شور سا مچانا شروع کر دیا۔ میں حیرت زدہ انھیں دیکھنے لگی۔ ان کے منہ سے بے تکے اور بے ربط فقرے نکل رہے تھے۔ ”بچ گیا منڈا، کرماں والا اللہ اوس نوں رکھیا۔ کوئی نیکی کم آساں “ میری سمجھ سے باہر ہو رہا تھا کہ یہ کس منڈے کا تذکرہ کر رہی ہیں۔ میں نے امی جان کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھا تو انھوں نے بتایا کہ اللہ نے کرم کیا۔ ”آج تمھارے ابو کا ایکسیڈنٹ ہونے لگا تھا۔ اللہ کا شکر ہے کہ وہ بحفاظت محفوظ رہے۔ “ تب مجھے اندازہ ہوا کہ اماں بپو۔ ۔ ۔ امی جی سے بھی پہلے یہ خبر مجھ تک پہنچانا چاہ رہی تھیں۔

اماں جی اپنی زندگی سے کتنی ناخوش تھیں اس کا اظہار شائد انجانے میں وہ سفید لباس پہن کر کیا کرتی تھیں۔ ہم نے کبھی انھیں سفید رنگ کے کپڑوں کے علاوہ رنگین یا پرنٹڈ کپڑوں میں نہیں دیکھا۔ بس اسی طرح ہی ایک گھر سے دوسرے گھر، دوسرے سے تیسرے، تیسرے سے چوتھے ان کی زندگی گزر گئی۔ عمر کے آخری حصے میں پھر وہ ایک دو گھروں تک ہی محدود ہو کر رہ گئی تھیں۔ کیونکہ مزید کمزور ہو گئی تھیں۔ چونکہ وہ بہت سے لوگوں کی زندگیوں میں شامل رہ چکی تھیں۔ تو ان کی اک کمی محسوس ہوتی تھی۔ پھر عورتیں ایک دوسری سے ان کی بابت اور خیرخیریت دریافت کیا کرتی تھیں۔ پھر انھیں بخار ہوا تھا۔ اور سب ان کی عیادت کے لئے بھی گئیں۔ اور اس گھر کی خاتون کو عورتیں بہت عقیدت سے ایسے دیکھتی رہیں۔ جیسے اماں نے نیکی کمانے کی سعادت صرف اسے دے دی ہو۔ امی جی بھی انھیں دیکھنے گئی تھیں اور میں بھی ضد کر کے اماں بپو کو دیکھنے ان کے ساتھ چلی گئی تھی۔

گرمی کا موسم تھا۔ اماں جی کو بجلی والے پنکھے کی فراٹے بھرتی ہوا بہت بری لگا کرتی تھی۔ سو اس وقت بھی دستی پنکھا اس گھر کی خاتون کے ہاتھ میں تھا۔ جسے وہ آہستہ آہستہ ہلا کر اماں کو ہوا دے رہی تھیں۔ اور پھر یہ ڈیوٹی عیادت کو جانے والی ایک عورت نے خود ہی سنبھال لی تھی۔ بس تب ہی انھیں آخری بار دیکھا تھا، کیونکہ چند دن بعد ان کے دنیا سے چلے جانے کی ہی خبر ملی تھی۔ اور یوں سب کی زندگی سے یہ باب ہمیشہ کے لئے بند ہو گیا۔ سب بہت افسردہ تھے۔ تب ہی ہم بچوں کو اماں جی کے اکیلے رہنے اور ان کی تاریخ کا پتہ چلا تھا۔ کہ وہ انڈیا سے تھیں۔ ان کا خاندان، زمین جائیداد سب وہیں تھا۔ اور تقسیم پاک و ہند کے وقت سب کچھ چھن گیا۔ ان کا پورا خاندان ختم ہو گیا۔ فیملی ان کی آنکھوں کے سامنے ماری گئی۔ ان کی اپنی جان کے بھی لالے تھے تو کوئی ملنے والے انھیں وہاں سے بچا کر بوری میں بند کر کے پاکستان کو آتی ٹرین میں پہنچا گئے تھے۔

اماں کی شخصیت مجھے ہمیشہ بے ضرر لگی۔ ان کا کوئی بھی نہیں تھا پھر بھی بہت سارے لوگ ان کے ساتھ یہ رشتہ نبھا رہے تھے۔ ان کا کوئی گھر نہیں تھا لیکن پھر بھی بہت سے گھر تھے، جہاں وہ دل سے ویلکم کی جاتی تھیں۔ بےشک وہ اپنی ذات میں تنہا ضرور تھیں لیکن پھر بھی ان کے اردگرد لوگ تھے۔ اور اب مجھے اماں جی کی ایک اور بہت بڑی خوبی بھی محسوس ہوتی ہے کہ وہ بہت سے گھروں کے حالات کی راز دار امین تھیں لیکن انھوں نے کبھی بھی اس بات کا غلط فائدہ نہیں اٹھایا۔ کبھی ایک گھر کی بات دوسرے گھر جا کر نہیں بتائی۔ اور بی جمالو کا کردار ادا نہیں کیا۔ اور نہ ہی کسی کی چغلی کی۔ ہر چند کہ سفید لباس پہن کر انھوں نے اپنی زندگی سے گلہ اور احتجاج ضرور کیا۔

مجھے ابھی بھی ان کی کچھ باتیں مسٹری کی طرح لگتی ہیں۔ کہ وہ صرف دوپٹہ ہی خود کیوں دھوتی تھیں باقی کپڑے کیوں نہیں ؟

پھر وہ انڈیا سے تھیں تو اردو کیوں نہیں بولتی تھیں ؟ بلکہ شد پنجابی بولتی تھیں۔

اور وہ ہنستی کیوں نہیں تھیں ؟

بہرحال جو بھی تھا یہ بات تو ہے کہ اماں بپو انھی لوگوں میں سے تھیں جن کی زندگی میں بڑے بڑے ٹرننگ پوائنٹ آ جاتے ہیں اور ہمیشہ کے لئے ان کی زندگی، سمے کا دھارا اور رخ موڑ دیتے ہیں۔

تو یہ تھی اک مہرباں ہستی کی داستان حیات،  اگلے مہربان کا حال جاننے کے لئے ملیں گے کسی اور پڑاؤ پر۔ ۔ ۔ ۔

٭٭٭

 

 

 

 

شارٹ کٹ

 

ایک جادوئی سیڑھی

کیا ملے گا تجھے  بکھرے ہوئے خوابوں کے سوا

ریت پر چاند کی تصویر بنانے والے

سب سے بڑی چالاکی یہ ہے کہ کوئی چالاکی نہ کی جائے۔

شارٹ کٹ

شارٹ کٹ انسانی فطرت ہے یا سماجی رویہ ؟

سفر زندگی کا ہو یا کوئی اور، اسکی کچھ نہ کچھ تو پلاننگ کی جاتی ہے۔ ٹرین کا ہو تو جب ٹکٹ گھر کی اس آدھی نقاب پوش کھڑکی تک رسائی ہوتی ہے، تو کلرک ضرور پوچھتا ہے، ” طوفان میل ایکسپریس سے جایئے گا یا پیسنجر ٹرین سے؟”

اور آپ اپنے وقت کو کھنگالتے لگتے ہیں یا جیب میں پڑے والٹ کو، یہ دنیا بھی ایک مسافر خانہ ہے اور زندگی اس کی ٹرین، جس میں مسافر چڑھتے ہیں اترتے ہیں۔ اور پھر ان کی جگہ دوسرے مسافر لے لیتے ہیں۔ یہ ٹرین رکنے والی نہیں۔ کاش اللہ میاں جی مسافروں سے ان کی خودی کی رضا ہی جان لیتے کہ زندگی کا سفر پیسنجر ٹرین سے کرنا چاہو گے یا شارٹ کٹ میں ایکسپریس سے ؟

شارٹ کٹ کا لغوی معنی تو ہے چھوٹا راستہ، لیکن سمجھنے والوں نے اسے کیا کیا سمجھا اور کس طرح اسکا استعمال کیا۔ بچوں کو ایک سال میں دو کلاسز کروا کر جلدی تعلیمی سیڑھی چڑھوا دینا۔ راتوں رات امیر ہونے کے چکر میں دو نمبر کے کام کرنا اور اپنا ٹارگٹ جلد از جلد پانے کو شارٹ کٹ کے مفہوم کے قریب کر دیا گیا، جس میں وقت، پیسہ بھی کم لگے اور نتیجہ بھی من پسند ملے۔

بچپن میں ایک مہربان کو انگلش خبریں سنتے ہوئے ساتھ تیزی سے لکھتے ہوئے دیکھا کرتی تھی۔ اب یہ مت سمجھئے گا کہ وہ انگلش نیوز پہلے لکھ کر پھر پڑھا کرتے تھے۔ پوچھنے پر پتہ چلا کہ وہ شارٹ ہینڈ میں نیوز لکھ رہے ہیں۔ مجھے عجیب سی ادھوری لکھی ہوئی تحریری زبان نظر آتی۔ سمجھ سے باہر، کچھ چینی زبان سے ملتی جلتی اور میں ایک لفظ بھی نہ پڑھ پاتی۔ میرا تجسس جوں کا توں برقرار رہتا اور میرے سوال ہی ختم نہ ہوتے۔ تب میری تسلی کی گئی کہ جس طرح ٹائپنگ کی سپیڈ ہوتی ہے اسی طرح انگلش کی مخفف زبان لکھ کر شارٹ ہینڈ کی سپیڈ بڑھائی جاتی ہے۔ میرے لیے یہ حیران کن تھا لیکن یہ میں نے اپنی زندگی کا سب سے پہلا شارٹ کٹ دیکھا تھا۔ انگلش زبان کو پہلے مکمل حالت میں سننا، بعد ازاں اس کے ٹکڑے کرنا اور پھر اس کو پزل کی طرح جوڑنا۔

ویسے مقام شکر ہے کہ یہ صرف شارٹ ہینڈ ہی رہی، ورنہ غضب ہو جاتا اگر یہ شارٹ ماؤتھ ہو جاتی۔ اور لوگ اسے روزمرہ کی بول چال میں لے آتے تو کیا ہوتا۔ سننے والا تو اپنا سر ہی کھجاتا رہ جاتا۔ ایک بار رضیہ جمیل کا ایک ناول پڑھا تھا، جس میں کچھ رشتوں کو ذرا مبہم اور مخفف الفاظ دئے گئے تھے۔ بڑے ابا کو بڑبا کہا جاتا تھا۔ بڑے بھیا کو بڑبھیا اور بڑبی، بڑپا وغیرہ استعمال کئے گئے تھے۔

اور ناموں کی عرفیت بھی اسی نکتے کو تو واضح کرتی ہے۔ کہ لوگ تابی، شینا، مینا، پپو، گڈو، مونی جیسے مخفف نام سے بلا کر اپنے تئیں فضول خرچی سے بچتے ہیں۔ ایک ماموں ہوا کرتے تھے جو بچوں کے ناموں پر بالکل دھیان نہیں دیتے تھے۔ اور وہ ہر لڑکی کو گڈی کہہ کر بلاتے تھے اور ہر لڑکے کو بلو، اور ان کے اس شارٹ کٹ پر سب مسکرا دیتے تھے۔

بہت سے لوگ اپنے دستخط میں ہی اپنی شخصیت اور نام کو بہت مختصر الفاظ میں چھپا لیتے ہیں۔ جیسے کے ایل سہگل، ایس اے صدیقی، اے آر کاردار، او پی نیر، کم کم، ٹن ٹن، ایس سلیمان، اے نیر، ایم راشد وغیرہ وغیرہ، اپنے زمانے کی ایک مشہور ناول نگار تھیں جنہیں سب اے آر خاتون کے نام سے جانتے تھے۔ قارئین ان کے ناولز کے تو مداح تھے ہی، پر ان میں مصنفہ کا اصل نام جاننے کا تجسس بھی بھرپور تھا۔ آخر کار اس مصنفہ کو اپنے نام پر سے تب پردہ اٹھانا پڑا، جب ان کے ایک مداح نے انھیں یہ لکھ بھیجا کہ اس کے خیال میں ناول نگار کا نام اللہ رکھی ہے۔ اور اے آر اسی کا مخفف ہے۔ تب وہ فورا اپنا اصل نام اپنے مداحوں کے سامنے لے آئیں۔

خیر اس بات سے بالاتر، لوگوں نے شارٹ کٹ کو اپنی زندگی میں اک عام سی حالت میں شامل کر لیا ہے۔ جبکہ اس کی ظاہری حالت بالکل مجبوری کی سی ہے۔ انگریزوں کی ڈالی ہوئی کوئی مجبوری۔ جو کسیناگہانی صورتحال کا متبادل نظر آئے اور نام سے یہ کسی ایمبرجینسی کو شو کرتی ہے۔ البتہ اس کی تاثیر ٹیلی گرام جیسی لگتی ہے۔ اور اس کو استعمال کرنے والے اپنے آپ کو سمارٹ بندے سمجھنے لگتے ہیں۔

جبکہ اپنے تئیں یہ سمارٹ سمجھنے والے اکثر دام میں بھی آ جاتے ہیں۔ ایک عامل بابا نے ایک گھر کی پریشانیاں دور کرنے کے لئے سربراہ فیملی کو گھر سے پورے زیورات لانے کا حکم دیا کہ وہ یہ سارا سونا اپنے تکئے کے نیچے رکھ کر عمل کرے گا، جس سے گھر کی پریشانیاں ،تکالیف دور ہوں گی۔ اور گھر میں خوشیوں اور رزق کی برسات ہو گی۔ ان صاحب نے ایسا ہی کیا اور تمام زیورات ان کے حوالے کر دئیے۔ اور جب اگلے روز وہ صاحب زیورات لینے واپس گئے تو عامل بابا نے یہ کہہ کر دینے سے انکار کر دیا کہ وہ سونا تو۔ ۔ جن۔ ۔ اپنے ساتھ لے گئے ہیں۔ اب آپ ہی کہیں کہ یہ رپٹ کہاں اور کس تھانے میں لکھوائی جائے؟تکلف بر طرف، شارٹ کٹ ایک لالچ کا ذریعہ لگتا ہے۔ کبھی کبھی جس کی سیڑھی بندہ ایک طرف سے چڑھ کر دوسری طرف اوندھے منہ گر جاتا ہے۔ اسی کی بدولت نجومیوں کا دھندا کافی چمکا ہے۔ کیونکہ انھیں پتہ ہے کہ راتوں رات امیر ہونے کا خواب لوگوں کی اکثریت کے لئے کتنا دلفریب ہے۔

قصہ بر طرف،  اب تو لنچ اور ڈنر بھی فاسٹ فوڈ کا شارٹ کٹ بن گیا ہے، جو بآسانی پیٹ بھر دیتا ہے۔ نہ کسی کو ٹفن لے جانے کی ضرورت اور نہ ہی بھوکا رہنے کی، اور نہ ہی اب ماں کو بچے کے بھوکا رہنے کی فکر تڑپاتی ہے۔ اسے پتہ ہے کہ اب گھر سے باہر کھانے میں مزے اڑانے کے بےشمار چھوٹے بڑے ذرائع دریافت ہو چکے ہیں۔ طالب علم کے لئے تو ایک فش، چکن چیز برگر اور کولا کا ٹن ہی کافی ہے۔ پھر میکڈونلڈ، کے ایف سی، پزا ہٹ، برگر کنگ اب پرانی روایت اور روایتی کھانوں کے متبادل کے طور پر آن موجود ہوئے ہیں۔ وہ مرد جس نے بڑی شایان شان زندگی گزاری ہے اور گھر کے کچن میں جھانکا تک نہیں۔ اب اس پر بھی ڈاکٹر وکیل بننے کا دباؤ نہیں اور ڈاکٹر، انجینئر تو ویسے بھی اب لڑکیاں زیادہ بن رہی ہیں۔ سو شارٹ کٹ میں اب اسکا رجحان بھی کوکنگ ایکسپرٹ، ماسڑ شیف بننے اور ٹی وی پر آنے کا ہے۔ اور یہ کام بھی مندا نہیں سدا بہار ہے۔ آخر لوگ کھانا پینا کم تو نہیں کریں گے نا؟

بس کبھی کبھی یہ ضرورمحسوس ہوتا ہے کہ شارٹ کٹ ایک معاشرتی رویہ بنتا جا رہا ہے۔ جس کے چکر میں اپنی روایات سے ہٹا جا رہا ہے۔ اس نے نفسانفسی کو بھی بڑھاوا دے دیا ہے۔ کیونکہ اب لوگ جلد اپنا ٹارگٹ پانا چاہتے ہیں۔ اور اس کے لئے دوسرے بندے کو پیچھے دھکیلنا پڑے تو بھی عار نہیں سمجھتے، بلکہ اسے اپنی بقاء کی لڑائی کہہ کر دل کو سمجھا لیا جاتا ہے۔ لیکن یہ طریقہ مقام صبر سے بندے کو کچھ دور لے جاتا ہے۔ اک اطمینان اور سکون کی کیفیت کو ختم کر دیتا ہے۔ افرا تفری جلدی، تیزی مزاج کا حصہ بننے لگتی ہے۔ اور بندہ منٹوں ،سیکنڈوں اور گھنٹوں کے مدار میں فٹ ہونے لگتا ہے۔ اور اسی افراتفری میں بلڈ کے اتار چڑھاؤ کے ساتھ غصہ بھی رگوں میں دوڑنے لگا ہے۔ اور پھر بی پی ہائی شوٹ ہو کر اک نئی فرسٹریشن کی صورت نمایاں ہونے لگتا ہے۔ اور معاشرے میں اسکا اخلاقی رویہ بھی متاثر ہونے لگتا ہے۔ اچھا لائف سٹائل اور بینک بیلنس مضبوط کرنے کی کیفیت میں اک دوڑ سی لگ جاتی ہے۔ تو اپنوں کے لئے بھی وقت محدود ہونے لگتا ہے اور یہیں سے ہی پریشانی در پریشانی نمودار ہونے لگتی ہے۔

جبکہ بےچارے یوگا والے تو ایروبک کرنے والوں بلکہ سب کو سمجھا سمجھا کر اپنی سی کر کے رہ گئے کہ صبح ساڑھے پانچ بجے اٹھو، نماز پڑھو، یوگا کرو، دوچار گہری سانسیں لو اور آرام سکون سے تیار ہو کر اپنے اپنے کموں کاروں پر سدھارو۔ تو شام کو جم میں جا کر جان مارنے کی کیا ضرورت ہے؟ لیکن کہاں جی شارٹ کٹ آخری منٹ میں تیار ہونے والے سب کو اک ناچ نچا کر صبح کے پرسکون وقت کو افراتفری میں بدل کر گھر سے روانہ ہوتے ہیں۔

اس موضوع کا ایک اور رخ بھی کافی تکلیف دہ ہے جب شارٹ کٹ راستہ مارنے کے چکر میں بہت سے لوگ ڈاکوں اور چوروں کے ہتھے چڑھ جاتے ہیں۔ حالانکہ یہی شارٹ کٹ اپنے معنی کے قریب تر ہے۔ چھوٹا راستہ، لیکن کیا کیجئے کہ تیری محفل میں قسمت آزما کر ہم بھی دیکھیں گے۔ گھڑی بھر کو تیرا دیدار کر کے ہم بھی دیکھیں گے۔ اور طویل راستے کی بجائے چھوٹے راستے پر سفر کر کے ہم بھی دیکھیں گے۔ یہ علیحدہ بات ہے کہ یہ دیدار بہت مہنگا پڑتا ہے۔ اور بندہ کنگال ہو کر اپنی جان کی خیر مناتا ہوا گھر کو لوٹتا ہے۔

قصہ مختصر، کچھ مہربان حق بندگی بھی شارٹ طریقے میں فورا سجدے پہ سجدہ دے کر پورا کرتے ہیں۔ اور لمبا راستہ مولوی اور علماء کے لئے رہنے دیتے ہیں۔

اب زندگی میں اس کی اہمیت کم ہے یا زیادہ پھر بھی اس بات کا ضرور خیال رکھا جائے کہ شارٹ کٹ کو کبھی بھی پہلی ترجیح نہ بنایا جائے۔ بلکہ جب کوئی تدبیر نہ بھی کام آ رہی ہو تو اس وقت ایک بار ضرور اپنے باطن کی آواز پر دھیان دے لیا جائے۔ ممکن ہے کہ سوچ کی گہرائی میں ہی مسئلے کا حل یا روشنی کی کوئی کرن موجود ہو۔ اور شارٹ کٹ جیسے پرخطر راستے پر چلنا ہی نہ پڑے۔

٭٭٭

 

 

 

 

پیا گئے رنگون

 

ان آئینوں کی طرح مجھ میں عکس ہیں لاکھوں

جو ریزہ ریزہ جڑے ہوں نگار خانوں میں

 

پچھلی صدی، بہت سال پہلے کی بات ہے جب پیا رنگون جایا کرتے تھے۔ اللہ جانے کیوں جایا کرتے تھے۔ لوگوں پر اگر کہیں جانے کا جنون سوار بھی ہوتا تو لوگ جنگ پر جایا کرتے یا پھر ولایت جایا کرتے۔

تب تو فلمیں بنانے والے بھی فلم شوٹ کرنے ملک سے باہر نہیں جایا کرتے تھے۔ کہ دیس میں ہی خوبصورتی کے خزانے بے بہا اور مفت بکھرے ہوئے تھے۔ جو سمیٹنے مشکل ہو رہے تھے۔ اور پھر مشرقی حسن تو بکھرا پڑا تھا۔

تب فلمیں بھی کم بجٹ میں بنتی تھیں۔ اور تماشائی بھی فورا فوکس ہیرو، ہیروئن پر رکھتے تھے۔ چاہے وہ ایک ہی جگہ کھڑے کھڑے آنکھیں گھماتے رہیں اور پورا گانا گا دیں۔ ملک میں ہی مدھو بالا، وحیدہ رحمان اور سائرہ بانو جیسے چاند پری چہرے اور دلیپ کمار، بسواجیت، دھرمیندر جیسے خوبرو ہیرو موجود تھے تو ایسے میں بیک گراؤنڈ خوبصورتی کی شائد اتنی ضرورت بھی نہ تھی۔ اور فلم میں میک اپ پر بھی زیادہ زور نہیں دیا جاتا تھا۔ کیونکہ فلمیں بلیک اینڈ وہائٹ بنتی تھیں سو بچت ہی بچت۔

اکثر ہیروئین پرنٹڈ پھولوں والی ساڑھی میں نظر آتی۔ اور ہیرو کالے ڈنر سوٹ، یا کالی شیروانی سفید شلوار، پاجامے کا میچ بنا لیتا۔ البتہ اگر خدا نخواستہ ہیروئین ودوا ہو جاتی توسفید ساڑھی میں سامنے آ جاتی۔ تماشائی ابھی سنبھل بھی نہ پاتا کہ وہ درد بھرا گیت بھی شروع کر دیتی۔

تب فیشن شو نہیں ہوا کرتے تھے۔ سو یہ بیڑا بھی فلموں نے اٹھا لیا۔ ماڈل گرل اور ماڈل بوائے کے روپ میں ہیرو ہیروئین پہلے ہی موجود تھے۔ تبھی ایک ہیرو نے بالوں کی لٹ سٹائل سے ماتھے پر ڈالی تو دوسرے نے بالوں میں پف ڈالا، تیسرے نے پتلون کا اسٹائل اپنایا اور چوتھے نے کرتے کا رواج دے دیا۔ سو دلیپ کمار اور دیو آنند ہیر سٹائل، سادھنا ہیر کٹ، سادھنا چوڑی دار پاجامہ اور راجیش کھنہ کرتا بھی فیشن میں مقبول ہو گئے۔ اس طرح پبلک بھی خوش ہو جاتی اور نیا فیشن بھی فروغ پا جاتا۔ پچاس اور ساٹھ کی دہائی کے فیشن بڑے سوبر سے دکھائی دیتے اور خوبصورت لگتے تھے۔ ان میں جو سادگی تھی وہ ایک ایسی معصومیت کو نکھار دیتی تھی کہ۔ ۔ اف یہ آنکھیں اف یوما یہ صورت یوما۔ ۔

لعل ہمیشہ گدڑی میں ہی چھپے ہوتے ہیں۔ تبھی تو اسی دور میں چندے آفتاب، چندے ماہتاب اور چودھویں کا چاند جیسی ہیروئنیں سامنے آئیں۔ تب صرف کپڑوں پر ہی زور دیا جاتا تھا۔ بال تو سادھنا اور وحیدہ رحمان کے علاوہ باقی سب کے ایک ہی جیسے انداز میں لگتے یا پھر گز بھر کی چوٹی ہیرو کو ناگن کی طرح ڈس لیتی۔ مگر جیسے ہی ستر کی دہائی شروع ہوئی تو اچانک یہ فیشن بھی بدل گیا۔ اور ایسے نایاب اور اونچے جوڑے ہیروئین کے سر پر آن ٹکے کہ جن پر چیل بھی گھونسلہ بناتے ہوئے شرمائے۔ اور اچانک آنکھوں کا میک اپ بھی زبردست ہو گیا۔ وہ جھکی جھکی آنکھیں جو ہیرو کے بدستور اصرار پر بھی نہ اٹھتی تھیں ،ان میں اچانک وہ کجلے کی دوہری دھار سمائی کہ دل میں ہیرو بھی کہتا ہو گا کہ ظالم تھوڑا سا تو آنکھیں جھکا لے۔

ہاں تو ایسے میں ایک پیا کا رنگون جانا ویسے ہی سوچنے کی بات ہے۔ کیا ضرورت تھی وہاں جانے اور فضول خرچی کرنے کی، اور پھر وہاں سے سجنی کو فون کر کے ڈبل خرچا کرنے کی۔

میرے پیا گئے رنگون کیا ہے وہاں سے ٹیلی فون

تمہاری یاد ستاتی ہے جیا میں آگ لگاتی ہے

اوہ، تو اتنی دور پیا فون کرنے گئے تھے کہ جتنی دور سے سجنی سے اظہار محبت کیا جائے گا۔ اتنا ہی محبت کی سچائی کی گواہی دے گا اور سجنی کے دل تک پہنچے گا۔ اور وہ دو چار سہیلیوں کو فخر سے بتا سکے گی کہ میرے پیا۔ ۔ ۔

اور وہ اس زمانے کا ٹیلی فون۔ ۔ ستیاناس جائے ایسے عجیب نمونے ہوتے تھے جیسے ریلوے کا پہلا کالا سیاہ انجن۔ ۔ ۔ اور کئی فون تو ایسے ہوتے تھے کہ مالک اس کا چونگا لے کر آگے آگے اور نوکر حقے کی طرح باقی حصہ لے کر پیچھے پیچھے بالکل شیشہ ٹائپ۔ ۔ ۔ لگتا ہے فون بنانے والا تو اپنی ایجاد بنا کر مطمئن ہو گیا۔ اسے اندازہ بھی نہ ہو گا کہ لوگ اس کا کیا حشر کریں گے۔ اور کبھی سارا دن فون کے ڈائل سسٹم گنتی سے کھیلتے رہیں گے۔ اسی طرح ایک خود ساختہ فون کا نمونہ فلم پالکی میں بھی نظر آیا۔ جو غالباً کولا کے دو خالی ٹن سے بنایا گیا تھا، جسے اداکار راجندر کمار اور وحیدہ رحمان استعمال کر رہے تھے۔ اور فلم سجاتا میں تو پورا ایک گانا سنیل دت نے تو فون پر ہی گا دیا تھا۔

جلتے ہیں جس کے لیے

تیری آنکھوں کے دئیے

جو اداکارہ نوتن نے پورا روتے روتے سنا تھا۔

تو یہ پیا فون کرنے رنگون چلے گئے تھے۔ پر وہاں جا کر اپنا آپ بھی بھول گئے اور وہاں ان جیسی لنگی پہن لی۔ اس سے تو اچھا ہوتا کہ وہ ولایت چلے گئے ہوتے۔ کم سے کم پتلون تو پہن لیتے۔ میمیں بھی فدا ہوتیں۔ اب لنگی پہن کر یہ موقع بھی گنوا دیا۔

صد افسوس، لنگی ہمیشہ ضرورت تو رہی پر کوئی لنگی فیشن نہ آیا۔ ویسے تو جاپان کی لیڈی بھی یہ سوہنی لنگی پہنتی ہے۔ ۔ ۔ لیکن وہ بالوں کے خوبصورت جوڑے بنا کر لنگی کو بیلنس کر لیتی ہے۔ اور ہاتھ میں جب اک پنکھڑیا پکڑ کر لازوال مسکراہٹ دے کر کہتی ہے۔ ۔ سائیو نارا۔ ۔ ۔ سائیو نارا، تو کس کم بخت کا دھیان اس لنگی نما ڈریس پر رہتا ہے۔

سو رنگون جانے والے پیا،

آئندہ امریکہ جانا یا پھر ولایت چلے جانا اور جینٹل مین بن کر واپس آنا۔ ۔ ۔

٭٭٭

 

 

 

 

اک ڈائری

 

ایک عالم کی نظر ایک زمانے کی زباں

تجھ سے دلکش تیرا افسانہ ہوا جاتا ہے

تحریر کو تم اس وقت قدر کی نگاہ سے دیکھو گے جب تم خود لکھنے لگو گے۔

 

میرا قلم سے تعلق تو شائد اسی وقت استوار ہو گیا تھا جب میں نے نصاب کے علاوہ ڈائری لکھنے کی ابتدا کی تھی۔ ڈائری کیا ہے ؟

یہ تو بچپن میں والد صاحب کی ڈائری دیکھ کر اندازہ ہو گیا تھا۔ جس میں اقبال کی شاعری موجود تھی۔ لیکن تب ڈائری کو مزید سمجھنے کی عمر نہ تھی۔ اس لئے اس بات کو ایک طرف رکھ دیا۔ اس کے بعد اگلی ڈائری میں نے اپنی دو کزن پھپھو کی بیٹی اور تایا کی بیٹی کے ہاتھ میں دیکھی۔ جس میں وہ کچھ لکھتی تھیں ایک دوسرے کو پڑھاتی تھیں اور ایک دوسرے کی آنکھوں میں دیکھ کر کھلکھلا کر ہنس پڑتی تھیں۔ میں اشتیاق بھری نظروں سے انھیں دیکھتی تھی۔ اور ان کی ڈائری پڑھنے کا خیال میرے اندر چٹکیاں کاٹتا تھا کہ یہ آخر ایسا کیا ڈائری کے اندر لکھتی ہیں جو انھیں مزہ دیتا ہے۔

لیکن انھوں نے نہ تو میرا تجسس دور کیا اور نہ ہی اپنی ڈائری پڑھنے کو دی۔ کیونکہ بقول ان کے میری یہ عمر نہ تھی۔ اور حقیقت یہی تھی کہ وہ دونوں مجھ سے کافی بڑی تھیں۔ اس وقت میں کوئی لیٹر لکھ لوں یا عرضی یہی میرے لئے بہت تھا۔ خیر ان کے اس شوق نے میرے تجسس کو خوب ہوا دے دی تھی۔ اور میں نے تب سے ہی تہیہ کر لیا تھا کہ بڑی ہو کر میں بھی ڈائری لکھوں گی اور ان دونوں کو ہرگز نہیں دکھاؤں گی۔ دل میں شوق کے ساتھ یہ بغض بھی شائد پروان چڑھ رہا تھا۔

میں سوچتی تھی کہ شائد ڈائری لکھنے کی اک خاص عمر ہوتی ہے۔ جیسا کہ انھوں نے مجھے احساس کروایا تھا اور جب وہ وقت آئے گا تو ڈائری اور قلم خود بخود میرے ہاتھ میں آ جائے گا۔ مگر ایسا کچھ نہ ہوا۔ میں دوبارہ پڑھائی کی جانب مصروف ہو گئی۔ پڑھنے کا جنون کچھ اور بھی بڑھ گیا تھا اور میرا پڑھنا بھی محدود نہ تھا۔ میں بچوں ،بڑوں کے میگزین، مذہبی مواد، کچن ٹوٹکے، اخبار جہاں ،تاریخی ناول، فلمی میگزین، سب پڑھنے لگی۔ بلکہ میری ایک خالہ کو بلھے شاہ کا کلام پڑھنے کا بہت دل کرتا تھا مگر وہ پنجابی پڑھنے سے جلد اکتا جاتیں۔ تو میں نے جوڑ توڑ کر کے ان کے ساتھ پنجابی کے شعر پڑھنے بھی شروع کر دئیے۔ تو اتنے رنگین مطالعے سے ڈائری لکھنے کا مواد بھی ذہن میں کافی جمع ہوتا رہا۔

اور آخر کار وہ وقت بھی دبے قدموں آ ہی گیا۔ جس کا انتظار لاشعوری تھا۔ میں کالج میں تھی جب پہلی ڈائری میرے ہاتھ میں آئی۔ اور میں نے اس پر اپنے شوق کے رنگ بکھیرنے شروع کیے۔ پسندیدہ اقتباس، کوئی شعر یا جملہ یا کوئی آنے والے دنوں کا پلان، اقوال زریں یا کسی ناول افسانے میں پڑھی اچھی بات اس طرح کی چیزیں ڈائری پر منتقل ہونے لگیں۔ اس وقت مجھے لگا کہ شائد دماغ اتنی معلومات اور انفارمیشن کا بوجھ نہ سہار پائے تو اسے ڈائری پر منتقل کر کے اس کا بوجھ تھوڑا ہلکا کر دینا چاہیئے۔ اوئی اللہ، یہ تو اب جا کر پتہ چلتا ہے کہ اصل دماغ تو صرف چار فیصد ہی ہم استعمال کر پاتے ہیں۔ اور باقی کا اللہ اللہ خیر صلا۔ ۔ ۔ ۔ استراحت فرماتا ہے۔

تو اس طرح میرا ڈائری لکھنے کا سفر شروع ہوا تھا۔ اور ڈائری لکھنا میرے لئے ایک اچھا خاصا مشغلہ بن گیا تھا۔ اور جب کبھی اپنی لکھی کوئی بات دوبارہ کبھی میں پڑھتی تو بھی مجھے بہت مزہ آتا۔ اور بھولنے والی بات بھی دوبارہ جگہ بنا لیتی۔ اس وقت میگزین کے علاوہ ڈائری بھی اچھا خاصا دل بہلاتی تھی۔ البتہ میں نے یہ ضرور نوٹ کیا تھا کہ لوگوں کے لئے ڈائری کسی مسٹری سے کم نہیں ہے۔ انھیں ڈائری کسی لو لیٹر سے کم نہیں لگتی۔ ان کا خیال ہے جو بات دوسروں کو بتائی نہ جا سکے وہی چھپا کر ڈائری میں لکھی جاتی ہے۔ اور غالباً عاشقی، معشوقی جیسی خرافات کو ڈائری میں جگہ ملتی ہے۔ لو کر لو گل۔ ۔ ۔ ۔ ایسے بے ادب لوگوں سے واقعی ڈائری چھپا کر ہی رکھنی چاہیئے۔

پھر میں نے اپنے اردگرد کے لوگوں میں بھی اس پاکٹ بک کی اہمیت جاننی چاہی تو دیکھا کہ کچھ لوگوں کی زندگی میں اس کی خاصی اہمیت ہے۔ ڈائری لکھنا ان کی روزمرہ کی ایک عادت ہے جب تک پورا نہ کر لیں۔ وہ اک کمی پاتے ہیں۔ کچھ مہربانوں نے بتایا کہ وہ ڈائری میں اپنی روزمرہ کی روٹین لکھتے ہیں۔ کچھ لوگ اس میں ماضی کی یادداشتیں مرتب کرتے۔ بھئ مستقبل کی پلاننگ تو سمجھ میں آتی ہے مگر جو دن بیت گیا سو بیت گیا، اب اس کے لکھنے کی کیا ضرورت اور لکیر پیٹنے سے فائدہ؟

زندگی میں کچھ وقت ایسا بھی آیا کہ میں ڈائری لکھنے سے کچھ دور ہو گئی۔ مگر اچانک ہی ایک دن میرے دل نے سرگوشی کی۔ کیا ڈائری لکھنا بھول گئی؟ تو مجھے دوبارہ قلم اور کاغذ کی ضرورت محسوس ہوئی۔ اور اس بار ایک آن لائن ڈائری بلاگ کی صورت میرے سامنے تھی۔ جس پر لکھنا میرے لئے ایک دلچسپ تجربہ تھا۔ اس ڈیجیٹل ڈائری پر لکھنا اور دوسروں کو پڑھانا اور ان کی رائے جاننا ایک نیا، انوکھا سلسلہ تھا۔

اب مجھے اپنے ساتھ ساتھ باقی لوگوں کی ڈائری پڑھنے کا بھی موقع ملا۔ اب کسی نے بھی مجھ سے اپنی ڈائری نہیں چھپائی۔ اور لوگ اپنی ڈائری میں کیا لکھتے ہیں۔ یہ بات جاننا بھی میرے لئے دلچسپی کا باعث بنی۔ پھر ڈائری کی آڑ میں مجھے لکھنے والے کی شخصیت کی بھی جھلک ملنے لگی۔ اور بآسانی اب ہم دوسروں کی بھی ڈیجیٹل ڈائریاں آن لائن پڑھ سکتے ہیں۔ اب تو ہر کوئی فراخ دلی سے اسے پڑھنے کی آفر دیتا ہے۔ اور اس کے لئے اپنی ڈائری کو خوبصورتی کا پیرہن دیتا ہے۔ اپنے جذبات و احساسات کو بڑے پیار سے اس کے صفحہ قرطاس پر اتارتا ہے۔ خوبصورت عنوان اور رنگوں کی دھنک بکھیر کر اہل ذوق کو متوجہ کرتا ہے۔ صاحب بلاگ کو اگر شاعری کی آمد ہوتی ہے یا نثر کی، تو یہ آن لائن ڈائری اس کے اظہار خیال کے لئے ایک بہت عمدہ ذریعہ بھی بن جاتی ہے۔

مزے کی بات ہے کہ اب یہ ڈائریاں کسی کونے میں پڑی بوسیدہ بھی نہیں ہوتیں۔ دن رات آنکھوں کے سامنے آن لائن گھومتی رہتی ہیں۔ تو دوستو اس وقت بھی میرے اردگرد بہت سی ڈیجیٹل ڈائریاں بکھری ہوئی ہیں۔ جن سے میری بخوبی پہچان ہے جیسے،

منہ پھٹ ڈائری:

لوگ کیا کہیں گے۔ ۔ ۔ ۔

اس کے لکھنے والوں کو اس بات کی بالکل پرواہ نہیں کہ لوگ ان کے لکھنے یا ان کی شخصیت کے بارے میں کیا سوچیں گے۔ انھیں بس اپنی بات ہر صورت لکھنی ہے اور پڑھنے والوں تک پہنچانی ہے۔ بات چاہے مذہبی نکتے کی ہو یا کوئی اور، پھر چاہے وہاں کمنٹ کرنے والوں کا آپسمیں ڈنڈا چلے یا سر پھٹول ہو۔ یہ لکھ کر غائب بھی ہو سکتے ہیں۔

شاعری ڈائری:

یہ ڈائری بہت عام ہے اور بہت نازک مزاج ہے پھر بھی اس کی بہتات ہے۔ جا بجا بکھری ہوئی ہے۔ شاعر کا انتخاب وجد کے عالم میں پیش کرتی ہے اور پڑھنے والوں کو بھی جھومنے پر مجبور کرتی ہے۔ بہت سے حضرات کی پسندیدہ ڈائری ہے۔ ۔ ۔ کیونکہ اس پر لکھتے لکھتے صاحب بلاگ کو بھی آمد ہونے لگتی ہے۔ ہے نا جادوئی ڈائری۔

سیاسی ڈائری:

نام سے ہی ظاہر ہے۔ ۔ ۔ اس میں سے حالات حاضرہ کی خبریں نکلتی ہیں۔ سیاستدانوں اور لیڈروں کو پٹخنی دینے کے لیے یہ بہت کار آمد ہے۔ اور ملک میں الیکشن، مہنگائی، بین الاقوامی قرضہ اور ڈرون حملے اس کے خاص ابواب ہیں۔

مذہبی ڈائری:

دوسروں کو نصیحت خود میاں فضیحت۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کے لکھنے والے بس اپنی رائے اپنی معلومات کو ہی فوقیت دیتے ہیں۔ راگ رنگ اور گانے سننے والے خاص طور پر ان کی تنقید کا نشانہ بنتے ہیں اور انھیں ان کی نصیحت بھی سننی پڑتی ہے۔ مگر پھر بھی وہ کرتے اپنے دل کی ہیں۔ اور روح کی غذا کے لئے گانے سننے سے باز نہیں آنے والے۔

محب وطنی ڈائری:

جب چودہ اگست، چھ ستمبر، اور بابائے قوم کی سالگرہ، برسی، اقبال ڈے آتا ہے تو یہ بھی متحرک ہو جاتی ہے۔ خود بھی محب وطنی سے معمور ہوتی ہے اور باقیوں کو بھی دو چار ترانے سنا کے جاتی ہے۔

مشاہدہ ڈائری:

یہ ڈائری بھی بہت سے لوگوں کے پاس ہے۔ جو اردگرد والی دنیا پر کڑی نگاہ رکھتے ہیں۔ کہ کون کب چھلکے سے پھسل جائے یا کسی میاں بیوی ان بن ہو جائے یا کسی کے گلے میں مچھلی کا کانٹا پھنس جائے تو وہ فورا اسے کہانی افسانہ کا روپ دے کر دوسروں تک پہنچائیں۔

یادوں کی ڈائری:

اس ڈائری کے لکھنے والے تو بچپن یا ابتدائے جوانی کے دور سے ہی باہر نہیں نکلنا چاہتے۔ ان کی ڈائری ایسی ہی یادگار ماضی کی رنگین یادداشتوں سے سجی ہوتی ہے۔ جسے وہ بار بار کھول کر پڑھتے ہیں۔ آسمان کو شکایتی نظروں سے تکتے ہیں اک آہ بھرتے ہیں اور دوسروں کو حال دل سناتے ہیں۔

تہواری ڈائری:

یہ کچھ اہم تہواروں پر کھلتی ہے۔ دونوں عیدوں ،شب برات، شب معراج وغیرہ پر شکر ہے یہ ہولی، دیوالی پر نہیں کھلتی۔ ورنہ یہ سب کو رنگوں میں نہلا کے جاتی اور دیوالی کے دیئے بھی جلاتی جاتی۔ دیا جلاو دیا جلاو جگمگ جگمگ دیا جلاو،

سدا بہار ڈائری:

ٹھیک سمجھے۔ ۔ ۔ ۔ یہ ڈائری آئے دن کھلی رہتی ہے۔ کسی مہینے بھی اس کا ناغہ نہیں ہوتا۔ سالگرہ کا کیک اور تحفہ یاد دلانے آتی ہے۔ پھردوسرے ساتھی بھی آ کر رسم دنیا داری نبھاتے ہیں۔ اور سالگرہ کے گیت الاپ کر اور کیک کھا کر رخصت ہوتے ہیں۔

ڈائری کو اپنا راز دار بناتے بناتے میں تو ان سب اہل ذوق کے شوق کو جان گئی ہوں۔ اور آپ کیا سوچ رہے ہیں اگر آپ نے کبھی ڈائری نہیں لکھی تو دیر مت کیجیے۔ یہ تجربہ بھی کر دیکھیے۔ کیونکہ، ایک دلچسپ ڈائری ایک دوست کی مانند ساتھ دیتی ہے۔

٭٭٭

 

 

 

 

داماد

 

رنگ چاہے اگر اس باغ میں آزادی کا

نکہت گل کی طرح شوق سفر پیدا کر

ہر انسان کی قیمت اس کی خوبیاں ہیں۔

 

بنے ہیں گھر جوائی

واہ کیا قسمت پائی

بالکل۔ ۔ ۔ ۔ جو مرد شادی کا لڈو کھائے گا صرف اسے ہی داماد کا رتبہ ملے گا اور مزید ترقی چاہے گا تو گھر جوائی کا حق انتخاب بھی۔

بیٹا، خاوند اور باپ کا ٹائیٹل تو ایک مرد فخریہ اپنے اوپر سجا لیتا ہے مگر داماد بن کر اسے کچھ ہچکچاہٹ کا سامنا ہونے لگتا ہے۔ ساس اسے اپنی شادی شدہ زندگی کے لئے ایک خطرے کا الارم لگتی ہے جو وقتاً فوقتاً بجا کرے گی۔ سسر سے اسے کچھ اجنبیت ہونے لگتی ہے۔ اس لئے وہ روز اول سے اسے لفٹ نہ کرانے کی طے کر لیتا ہے۔ سالے کا نام سنتے ہی اس کی بولتی بند ہونے لگتی ہے اور سالا حضرات کی زیادہ تعداد اسے کچھ مرعوب کرنے لگتی ہے۔ وہ اسے بیوی کے بھائی کم اور باڈی گارڈ زیادہ لگنے لگتے ہیں۔ جواس کی شادی شدہ زندگی میں جاسوسی کر سکتے ہیں۔ رپورٹر بن سکتے ہیں۔ بیوی سے کھٹ پٹ کی صورت اسے پٹخنی بھی دے سکتے ہیں۔ اور سالیاں اسے بیوی کی بہنیں کم اور میٹھی چھریاں زیادہ نظر آتی ہیں جو وقتاً فوقتاً اس کے والٹ پر دھاوا بولا کریں گی۔ اور اکثر و بیشتر فرمائشیں کر کے اس کا ناطقہ بند کریں گی۔

یہ کموکاست ایک داماد کے خیالات تو ہو سکتے ہیں۔ مگر داماد کی صورت سے رخ موڑ کر ایک شریک حیات اور ہم سفر بنتے ہی بیوی اسے جان جاناں ،ڈارلنگ لگتی ہے۔ کبھی اس میں محبوبہ کا روپ دکھنے لگتا ہے اور کبھی زندگی کی ساتھی کا۔ مگر پھر بھی یہ سائیڈ کے رشتے اس کے موڈ کو کرکرا کرنے لگتے ہیں۔ اس لئے وہ ساس کو آنٹی، خالہ اور سسر کو انکل کہہ کر پہلے دن ہی اک حد بندی مقرر کر کے اپنے آپ کو اس رشتے سے دور کر لیتا ہے۔ جس سے ایک بہو بھی گزرتی ہے اور وہ آتے ہی ساس میں ماں ،سسر میں باپ، نند اور دیور میں بھائی بہنوں کا روپ محسوس کر کے امی جی، ابا جی کہہ کر نہ صرف گھر میں بلکہ سب کے دلوں میں اپنی جگہ بنا لیتی ہے۔ اور اپنی نیک نیتی کا پھل پا لیتی ہے۔ داماد بھی چاہے تو ایسا رویہ اپنا سکتا ہے۔ مگر شائد اس کے اندر کی انا اسے اسکی اجازت نہیں دیتی۔ حالانکہ جب انا کو ایک طرف رکھ کر گھوڑی پر چڑھ گیا اور کان پھاڑنے والے باجے بھی بجوا لیے، تو اب کاہے کی شرم، ساس کو اماں کہہ کر لپٹ جاتا۔ ابا سے دوستی والا ہاتھ ملا لیتا، سالے کو چھوٹا بھائی سمجھ کر ایک پیار بھری دھپ لگا کر رعب جھاڑ لیتا اور سالی سے فرمائش کر کے کوئی ڈش بنوا لیتا تو معاملہ فورا ہی جم جانا تھا۔ مگر ہائے ری یہ پیچھے سے ماں بہنوں کی فضیحتیں ، کتنا بڑا تضاد ہے ہمارے معاشرے میں کہ ایک لڑکی کو ہمیشہ سے اگلے گھر کا ڈر دیا جاتا ہے۔ اسے دوسرے گھر کی بہو بننے کا دھیان کروایا جاتا ہے اور ڈھیر ساری ذمہ داریاں اٹھانے کے لئے ذہنی طور پر تیار کیا جاتا ہے۔ اور اسی نہج پر اسکی تربیت کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ مگر بیٹے کو کبھی بھی یہ نہیں بتایا جاتا کہ مستقبل میں وقت کے ایک پڑاؤ پر وہ بھی داماد کا رشتہ پائے گا۔ اخلاقیات کا ضابطہ اس پر بھی لاگو ہو گا۔ اسے بھی اپنی زندگی میں مزید کچھ رشتوں کو لے کر چلنا ہو گا۔ انھیں اپنائیت دینا ہو گی۔ ان کے بھی کام آنا ہو گا۔ بلکہ اس کے برعکس اس کے اندر داماد بننے کا ایک فخریہ احساس پیدا کر دیا جاتا ہے۔ اور اس رشتے کو کیش کرانے کے لئے اس کی انا کے الم کو کچھ اور بلند کر دیا جاتا ہے۔ اسی لئے شروع سے ہی ایک ان دیکھی دیواراس کے اور نئے رشتوں کے درمیان حائل ہونے لگتی ہے۔

اس حقیقت سے تو آنکھ نہیں چرائی جا سکتی کہ لڑکی کی شادی ہمارے معاشرے کا ایک سنجیدہ مسئلہ ہے۔ جس سے لڑکی اور اس کے والدین کو کافی تکلیف دہ اور دقت طلب مرحلے سے گزرنا پڑتا ہے۔ جبکہ اس کے الٹ ایک لڑکے کی شادی کا احساس ہی کتنا خوش کن ہے۔ ماں باپ، بہن بھائی سب خوشی سے پھولے نہیں سماتے۔ اور لڑکے کے دل میں بھی لڈو پھوٹ رہے ہوتے ہیں۔ داماد بننے کا خیال اسے دوچند کر دیتا ہے۔ اسے نہ تو گھر سے وداع ہونے کی فکر ہوتی ہے اور نہ ہی کسی سلیقے سگھڑاپے کی، پڑھائی کے معاملے میں جھنڈے گاڑ لئے تو ٹھیک ورنہ اسے سسرال ترقی کا ایک زینہ نظر آنے لگتی ہے۔ جس پر وہ بآسانی قدم رکھ سکے گا۔ بیوی گرین کارڈ ہولڈر مل جائے تو کیا ہی بات ہے اور سسسرال آوٹ آف کنٹری ہو تو اسے اپنا وجود اور بھی پیارا لگنے لگتا ہے۔

اب اس بات سے بھی انکار نہیں کہ داماد کے رشتے میں وسعت تو ہے، جو یکدم اتنے سارے لوگوں کی زندگی سے جڑ کر ان میں ہلچل مچا دیتا ہے۔ لیکن پھر بھی بہو زیادہ فیشن میں ان ہے۔ لوگ اسی کی خواہش کرتے ہیں۔ وہ اس لئے کہ لوگ بیٹوں کی خواہش زیادہ کرتے ہیں۔ اور ایک وقت میں کئی کئی بہووں سے نپٹنے کے لئے تیار رہتے ہیں۔ لیکن بیٹی کی چونکہ اتنی خواہش نہیں رکھتے تو ایک طرح سے داماد کے رشتے کی بھی نفی کرتے ہیں۔ ایک بیٹی بھی ہو تو اس کی قسمت کے حوالے سے درپردہ داماد سے خوفزدہ رہتے ہیں۔ انھیں لگتا ہے کہ ایک انجان آدمی کو اتنے اہم سنگھاسن پر بٹھانا پڑے گا۔ پھر بھی وہ ان کی بیٹی کے سر پر اک ان دیکھی تلوار کی طرح لٹکتا رہے گا۔ اور بیٹی کے حوالے سے انھیں بھی ساری زندگی ایک ان دیکھے خوف میں گزارنی پڑے گی۔ اسی لئے اکلوتے داماد اکثر نظر آتے ہیں۔ اور داماد بھی ایسے میں اپنے آپ کو کچھ ایزی، مطمئن اور فخر میں پاتا ہے۔ ورنہ ہم زلف کی موجودگی اسے بھی ٹکر دیتی ہے۔ سالیوں کی تعداد اسے بھی انڈر پریشر کر سکتی ہے۔

یہ معاشرے سوسائیٹی کا چلن ہے کہ بہو سے جتنی خدمت لینے کی امید کی جاتی ہے۔ اتنا ہی داماد کی خدمت کی جاتی ہے۔ یہاں آ کر دونوں کے نصیب بدل جاتے ہیں۔ ورنہ دونوں کے رشتے سسرال کے حوالے سے ایک جیسے ہیں۔ لیکن ایک کو زیادہ کوشش کرنی پڑتی ہے۔ جبکہ داماد کے اندر بھی ایک بہت پیارا سا رشتہ چھپا ہوا ہے لیکن اس تک کچھ عاقل، دور اندیش لوگ ہی پہنچ پاتے ہیں۔ جی ہاں جو مرد داماد کا چولا اتار کر سسرال میں اپنے آپ کو ان کے بیٹے جیسا ہی احساس دلاتا ہے۔ اور اپنے گھر کی طرح وہاں کے مسئلے مسائل میں بھی ان کا ساتھ دیتا ہے، مدد کرتا ہے۔ وہ بھی سسرال میں اپنی ایک اچھی جگہ بنا لیتا ہے۔ وہ وہاں ہمیشہ دل سے موسٹ ویلکم ہوتا ہے۔ اور میاں بیوی کے رشتے کی ڈور بھی کچھ اور مضبوط ہو جاتی ہے۔ ایک صاحب تھے ان کی ایک فیملی میں بڑی بیٹی سے شادی ہوئی۔ چند ماہ بعد ہی ان کے ساس سسر ایک ایکسیڈنٹ میں ختم ہو گئے۔ وہ صاحب اپنے کم عمر سالے اور سالی کو اپنے ہاں لے آئے۔ دونوں کو اچھی تعلیم دلوائی۔ پھر سالی کی شادی کر دی اور سالے کو پڑھنے کے لئے باہر ملک بھیج دیا اور سیٹ کر دیا۔ اور آج وہ دونوں اپنے بہنوئی کی اتنی عزت کرتے ہیں۔ جس نے ان کے لئے باپ جیسا رول ادا کیا۔

یہ بات کچھ ناقابل یقین مگر خوشگوار ہے کہ داماد کی ایک قسم واقعی ایسی بھی ہے۔ جو اپنے سسرال والوں پر کسی بھی قسم کا بوجھ نہیں ڈالنا چاہتی۔ وہ بیوی کو اپنی ذمہ داری سمجھ کر بیاہ لا کر لاتے ہیں اور سسرال والوں کو جہیز جیسی لعنت سے بھی نجات دلا دیتے ہیں۔ اور ایک طرح سے سسسرال والوں کا بوجھ، ذمہ داری حقیقی معنوں میں نپٹا دیتے ہیں۔ اور یہ ی داماد بیٹے کے روپ میں نظر آتا ہے۔ گو یہ قسم کچھ عنقا ہے مگر،  پیوستہ رہ شجر سے امید بہار رکھ

داماد بن کر اتنے سارے مہربانوں کی زندگی سے جڑ کر اگر وہ حسن اخلاق اور رواداری کا رویہ اپنائے گا، تو یقیناً سب کی زندگی آسان ہو سکتی ہے۔ اور ان کی عزت کر کے ہی وہ بھی عزت پا سکتا ہے ورنہ صرف منہ دیکھے کی عزت ہی اسے حاصل ہو گی۔ اور اس کے بارے میں خالص قیمتی آراء سب کے دلوں میں محفوظ رہیں گی۔

٭٭٭

 

 

 

رنگ، ہوا، خوشبو، بادل

 

کھلا کھلا یہ جہاں ،دھلا دھلا سماج ہو

تری زمیں پہ اے خدا، محبتوں کا راج ہو

ہمارا خیال  بدل جائے تو زندگی کا نام ہی بدل جاتا ہے

 

یہ دنیا ایک سٹیج ہے اور مسافر اس کے کردار۔ ۔ ۔

ہر سال کے آتے ہی چار موسم مجھے ہمیشہ چار شو مین والا کام کرتے لگتے ہیں۔ جن کے آتے ہی سب کو اک نئی تیاری کرنا پڑتی ہے۔ ان میں موسم سرما اس فینسی شو کا سب سے ہاٹ سیزن ہے۔

دیکھیں نا۔ ۔ سردی کے ساتھ ہی اس سے وابستہ بہت سی چیزیں نظروں کے سامنے آنے لگتی ہیں۔ لحاف، موٹے موٹے کمبل، بھاری بھاری کپڑے، لانگ شوز، مرغن کھانے، حلوے مانڈے، میوہ جات، مونگ پھلیاں ،اخروٹ، کاجو، بادام، چلغوزے اور سردی میں چائے، کافی، قہوے اور پستے بادام والی گلابی چائے کے کئی کئی دور چلتے ہیں۔ سردی کی بارش کتنا مزہ دیتی ہے۔ جب تک نہ آئے خشک کھانسی پیچھا نہیں چھوڑتی اور گرم کپڑے پہننے گرم شالیں اوڑھنے کا اپنا ہی ایک مزہ۔

سردی جس کے آتے ہی سب کے حلئے بدل جاتے ہیں۔ گول گھپلے منے کے سر پر پھندنے والی ٹوپی نظر آ جاتی ہے۔ گڑیا اونی کپڑوں میں ملبوس ہو جاتی ہے۔ ماں شال اوڑھ لیتی ہے۔ پاپا مفلر گلے میں ڈال لیتے ہیں۔ دادی جان گھٹنوں پر ہاتھ رکھے ہائے ہائے کرتے ہوئے گرم کپڑوں پر سویٹر، جرسی اور دو جوڑی جرابوں کی پہن کر بھی سردی کی دہائی دیتے لحاف میں گھس کے بیٹھ جاتی ہیں۔ اور آئے گئے ملنے والوں کو بھی بستر میں ہی بیٹھے بیٹھے انٹرٹین کرتی رہتی ہیں۔ اور ساتھ ساتھ۔ ۔ ۔ آج بہت ٹھنڈ ہے۔ ۔ ۔ ۔ کی دہائی بھی دیتی رہتی ہیں۔ اور سننے والوں کا اگر پہلے نہ بھی دھیان ہو تو پھر وہ بھی سردی پر غور فرمانے لگتے ہیں۔ ۔ ۔ ۔

ادھر دادا جان کی فطرت سے دوستی اور واک کی عادت سردی میں بھی نہیں چھوٹتی۔ اور وہ اس سے دو بدو مقابلہ کرتے ہوئے ایک دو ڈنڈ بیل کر خوب گرم کپڑے پہن کر گھٹنوں تک لمبے لانگ شوز پہنیں گے اور ساتہ ایک لمبا سا کوٹ۔ ۔ ۔ اور سر پر کاؤ بوائے جیسی ٹوپی رکھ کر ہاتھ میں چھڑی لیتے باہر کی دنیا کی راہ لیں گے تو دیکھنے والوں کو لگتا ہے، جیسے کوئی جاسوس اپنی ڈیوٹی پر ہے۔ ویسےیہ موسم بڑا ڈپلومیسی والا ہے۔ جس سے لوگوں کے اندر کے کپڑوں کے عیب کافی حد تک چھپ جاتے ہیں یا چھپا لئے جاتے ہیں۔

سردی چار ماہ کی چاندنی کی طرح خوب سب کو لبھاتی ہے۔ فلم ٹی وی والے بھی فورا ان فلموں اور ڈراموں کو شوٹ کر لیتے ہیں۔ جہاں انھیں برف پوش آوٹ ڈور سین درکار ہیں۔ جو سردی میں دکھائیں تو ناظرین کے دانت بجوا دیتی ہے۔ اور گرمی میں دکھائیں تو ناظرین کے گرمی سے تڑپتے دلوں کو تھوڑا چین مل جاتا ہے۔ ویسے تو موسم سرما کو بہت دل سے ویلکم کیا جاتا ہے۔ پر یہ علیحدہ بات ہے کہ یہ جاتے جاتے اپنے پرستاروں کے دو چار چپت بیماری کی شکل میں لگا کے جاتا ہے۔ فلو، سر درد، زکام، بخار اور کھانسی کی تو نہ جانے کتنی قسمیں ابل پڑتی ہیں۔ خشک کھانسی، کالی کھانسی، بلغمی کھانسی، دمے والی کھانسی، سمجھ لیں بیمار کے پاس اس کے کافی انتخاب موجود رہتے ہیں۔ کچھ لوگوں کے لئے ٹھنڈ کا یہ موسم کافی تکلیف دہ رہتا ہے۔ جیسے جوڑوں کے درد، گٹھیا کے مریض اور دمے کے مریض تو اس سے جلد چھٹکارا پانا چاہتے ہیں۔ انھیں گرمی کی دھوپ گرمی اس وقت بہت شدت سے یاد آتی ہے۔

سردی کے حوالے سے لاہور کا لنڈا بازار بھی بڑا با رونق رہا اور باکس آفس پر لگی فلم کی طرح ہٹ ہوا۔ جس کے کامیاب ہوتے ہی دوسرے شہروں میں بھی اس کے شو لگنے شروع ہو گئے۔ ایک طرح سے گورے ہمارے شہروں میں لنڈا بازار کے ذریعے داخل ہو گئے۔ ۔ ۔

ویسےکمال کی بات ہے نا اتنے انتظار کے بعد سردی سال کے آخر میں آتی ہے اورسال کے شروع میں چلی جاتی ہے۔

پھر موسم بہار کی آمد ہو جاتی ہے۔ اور سب اک نئے شو کے لئے تیار ہونے لگتے ہیں۔ بالکل ویسے ہی جیسے ڈرامے کے وہی کردار پس پردہ جا کر نیا رنگ و روپ دھارن کرنے لگتے ہیں۔ فطرت بھی ان کرداروں کا ساتھ دیتی ہے۔ وہ درخت، پودے جو خزاں سے ہی اپنا چولا اتار بجھے سے بیٹھے تھے، اب ان سمیت ہر شے گل و گلزار ہونے لگتی ہے۔ ناٹک کے کردار بھی گرم، موٹے موٹے بھاری بھر کم اور بوجھل رنگ پہن پہن کر کچھ اکتا سے گئے ہیں۔ سو اب قوس قزح کی مانند نظر کو لبھانے والے رنگین لباس پہننے لگتے ہیں۔ یقیناً دل کو بھی یہ سیزن بہت بھاتا ہے۔ رنگ اور پھول اس فینسی شو کا ٹائیٹل ہے۔ ہر طرف پھولوں کی بہار دیکھ کر یہ موسم رومان پرورسا لگتا ہے تبھی تو محبت کرنے والے اسی موسم میں تجدید وفا کرتے ہیں۔ کیونکہ پھولوں کی بہتات ہوتی ہے اور جہاں پھول ہوں وہاں بھنورے تو چلے ہی آتے ہیں۔ جو گنگناتے ہیں :

بہارو پھول برساؤ میرا محبوب آیا ہے

محبوب کا استقبال کرنے لئے بھی یہ موسم بہار کا خوبصورت محبت بھرا موسم ہے۔ اور اس میں محبوب کو پھول بھی بھیجے جا سکتے ہیں۔ ۔

“پھول تمہیں بھیجا ہے خط میں پھول نہیں میرا دل ہے”

یہ شو ایک ڈیڑھ ماہ ہی رہتا ہے کہ سب کو پسینہ پسینہ کرنے والی گرمی چلی آتی ہے۔ اور کردار کچھ بیزاری محسوس کرنے لگتے ہیں پر اک نیا سٹیج تیار ہونے لگتا ہے۔ یہ سال کا سب سے ہلکا پھلکا شو ہوتا ہے۔ پھر سب سے پہلے تو گرمی سے کسی کردار کا بی پی لو ہونا شروع ہو جاتا ہے۔ اور کسی کو چکر آنے لگتے ہیں۔ سر درد اس موسم کا خاص تحفہ ہے۔ وٹامن بھی اسی موسم میں کام آتے ہیں۔ گرمی سے ویسے ہی جی اڑا اڑا سا رہتا ہے۔ طبیعت کاٹ کھانے کو دوڑتی ہے۔ گلوکوز، روح افزاء، جام شیریں تھوڑا دل ناتواں کو تراوٹ بخشتے ہیں۔ کپاس کی مانگ سردی کے علاوہ گرمی میں بھی خوب رہتی ہے۔ جب اس سے گل احمد اور مختلف اقسام کی لون اور کاٹن کے دیدہ زیب لباس تیار ہونے لگتے ہیں اور حسینائیں ان میں ماڈلنگ کرتی نظر آتی ہیں۔ ننھے فنکار البتہ چڈی سے ہی کام چلا لیتے ہیں۔ نوجوان آڈی ڈاس کی ٹی شرٹ پہن کر چشمہ لگا کر سر پر کیپ رکھ کر ہیرو بن جاتا ہے۔ البتہ کیریکٹر ایکٹر سفید رنگ کے لباس کو ترجیح دیتے ہیں۔

گرمی کے پکوان اور ٹھنڈا ٹھنڈا قلفا، آئس کریم، فالودہ، قلفی وجود میں ٹھنڈک اتارنے لگتی ہے۔ دودھ دہی کا استعمال بڑھ جاتا ہے۔ چائے پینے والوں کی تعداد کم ہو جاتی ہے اور لوگ مکھن پیڑے والی لسی اور پھلوں سے بنی سموتھی پینے لگتے ہیں۔ گرمی کے موسم سے سب سمجھوتہ کرنے لگتے ہیں۔ کیا ہوا ؟ جو کبھی کریلے، بھنڈی، ٹینڈے، کدو کھانے پڑیں اور دن میں دو تین بار نہانا پڑے۔ دوسری طرف آوٹنگ اور وہ بھی ساحل سمندر پر۔ ۔ ۔ تو دل خوشی سے برضا و راضی ہو ہی جاتا ہے۔ گرمی میں چاندنی راتیں بڑی اچھی لگتی ہیں۔ وہی چاند جو سرما میں بجھا بجھا مدھم سا نظر آتا تھا۔ اب چودھویں کا چاند بن کر عاشقوں کے دلوں کو گرما بنا دیتا ہے۔ وہ چاند کو اپنے حال و زار کا ساتھی اور گواہ بنا لیتے ہیں۔ ۔ ۔

اے چاند ذرا چھپ جا اے وقت ذرا رک جا

رخ ان کا ادھر کو ہے اب کیوں نہ بہار آئے

گرمی کی طوالت کی بدولت یہ شو کافی لمبا اور لیٹ نائٹ چلتا رہتا ہے۔ اس موسم کی اک خاص بات ساون کی گھٹائیں اور بارش بھی ہے۔ جو بلا شبہ گرمی میں سب کرداروں کو خوب مزا دیتی ہے۔ یہ سال کا سب سے لمبا شو ہوتا ہے۔ اس شو کو پسند کرنے والوں کی تعداد آدھی آدھی رہتی ہے۔ البتہ گھٹنوں کے درد، دمے کے مریضوں اور کمزور افراد کے لئے گرمی کا موسم سہل رہتا ہے۔ ان کی آدھی بیماریاں دور ہو جاتی ہیں۔ وٹامن ڈی ان کو وافر ملتا رہتا ہے اور سردی کی شدت سے گھبرانے والوں کو بھی یہ موسم خوب بھاتا ہے۔

گرمی کے شدت کے بعد برسات کی بارش اور برسات کے پکوان خوب لطف دیتے ہیں۔ اور شو چلتا رہتا ہے۔ ۔

تبھی وقت آگے بڑھ جاتا ہے۔ ۔ آہستہ آہستہ یہ سیزن بھی اپنے اختتام کو پہنچتا ہے۔ اور سب اگلے سکرپٹ کی تیاری کرنے لگتے ہیں۔ سٹیج ایک بار پھر بدلنا پڑتا ہے۔ گرمیوں کی چھٹیاں منا کر کردار تازہ دم ہوتے ہیں۔ اور اب کہ خزاں کی آمد ہونے لگتی ہے۔ اب کی بار شو کا عنوان خزاں رکھا گیا ہے۔ سر سبز درختوں کے پتے اپنے رنگوں کی تاب کھونے لگتے ہیں۔ رنگ براون خاکی سا ہونے لگتا ہے۔ اور آخر ایک دن زمیں بوس ہو جاتے ہیں۔ تب زندگی کی حقیقت سمجھ آنے لگتی ہے۔ فضا مٹیالی سی ہو جاتی ہے۔ ماحول بوجھل ہونے لگتا ہے۔ جی خوامخواہ اداس ہو جاتا ہے۔ ایسا لگتا ہے جیسے پوری کائنات اداس ہے۔

دل تو میرا اداس ہے ناصر

شہر کیوں سائیں سائیں کرتا ہے

سب کرداراس شعر کی تفسیر بن جاتے ہیں۔

اور ایک بار پھر بوجھل من سے سب اس شو میں سمانے لگتے ہیں۔ اب نہ تو سردی ہے نہ گرمی، اب نہ تو موسم سرما کے بھاری بھر کم لباس کام آتے ہیں اور نہ ہی گرمی کے ہلکے پھلکے، سو ہر کردار بیچ کا رستہ ڈھونڈتا اپنی مرضی کرتا نظر آتا ہے۔ کچھ ہلکے پھلکے کپڑے پہن کر ابھی گزری گرمی کو نمایاں کر رہے ہیں اور کچھ آنے والی سردی کو۔ کچھ ملی جلی کیفیت کا سامنا ہے۔ جس کا دل چاہے وہ کاٹن، گل احمد پہنے اور جس کا جی چاہے وہ شفون ریشمی کپڑے اپنے تن کی زینت بنائے۔

یہ کافی مختصر شو ہے جو جلد ختم ہونے لگتا ہے۔ کردار کچھ اداس ہیں اسی لئے وہ ابھی سے ہی نئے سال کے نئے رنگ، خوشبو، ہوا اور بادل کے منتظر ہونے لگتے ہیں۔

٭٭٭

 

 

 

ایک لمحہ

 

کھلی آنکھوں میں جب انسان کچھ خوابوں میں جیتا ہے

وہ لمحے مجھ پہ گزرے ہیں ،وہ عالم مجھ پہ بیتا ہے

 

خوبصورتی اگر ہمارے اندر نہیں ہے تو چاہے اس کی تلاش میں ساری دنیا گھوم لی جائے، یہ کہیں نہیں ملے گی۔

 

کینیڈا، ٹورنٹو شہر،  ایک ہائی بلڈنگ کی دسویں منزل کی وال ٹو وال کھڑکی سے جب میں نے باہر کا نظارہ کیا تو واللہ، کیا سین تھا۔ کیا لوکیشن تھی۔ فطرت کے درمیاں شہر بسا تھا۔ ہائی بلڈنگز، سی این ٹاور، کھلا آسمان، پرندے، سرسراتی ہوا اور جھومتے بادل، ایک خوشگوار سی فیلنگ میرے دل پر اتری۔ اور میرے منہ سے بے اختیار ماشاءاللہ، سبحان اللہ کے الفاظ نکلے۔ ابھی یہاں میرا قیام کچھ روز ہونے والا تھا۔ خیالات اڑنے لگے اور ان کے سرے تھامنے کے لئے وقت کا ہونا مجھے اچھا لگا۔

میرے منہ سے وہ تعریفی الفاظ جیسے ہی نکلے۔ میزبان نے مجھے چونک کر دیکھا۔ تو میں نے کہا۔

” آپ کے گھر کی ونڈو اور بالکونی سے اچھا منظر، سین ہے۔ ”

تو وہ بولی۔

” ہاں۔ ۔ سامنے بڑی بڑی بلڈنگز ہیں۔ نیچے روڈ پر گاڑیاں اور لوگ ہیں۔ شور شرابا ہے۔ بس ہر وقت یہی سب کچھ چلتا رہتا ہے۔ ”

اس کا جواب سن کر میں نے اپنی مسکراہٹ دبا لی۔

یقیناً وہ۔ ۔ ۔ وہ نہیں دیکھ رہی تھی، جسے میں نے دیکھا تھا اور محسوس کیا تھا۔ تب مجھے احساس ہوا کہ جیسے ہر شخص کی سوچ اور خیالات جدا ہیں۔ بالکل اسی طرح ہر ایک کے دیکھنے کا انداز بھی جداگانہ ہے۔ میں یہ ہرگز نہیں کہہ رہی کہ اس کے دیکھنے کا انداز ٹھیک نہ تھا۔ بلکہ اس نے جو محسوس کیا تھا، بالکل وہی کہا تھا اور بڑی سچائی سے بیان کیا تھا۔ اب اگر میرے خیالات کی پرواز مختلف تھی کہ میں جلد فطرت اور خوبصورتی سے متاثر ہو جانے والی تھی تو یہ یقیناً میرے اندر کا موسم تھا۔ وہ لمحہ جو اس کے دل کے آس پاس سے گزر گیا تھا، وہ میرے دل پر وجد کا لمحہ بن کر اترا تھا۔ تو زندگی کا فلسفہ بھی غالباً کچھ اسی طرح سے ہے کہ کچھ لوگوں کو زندگی پھولوں کی طرح حسین لگتی ہے۔ خوبصورتیوں سے بھر پور نظر آتی ہے۔ اور کچھ لوگوں کو یہ آزمائش اور مصائب سے بھری لگتی ہے۔ کسی کو یہ خاص نظر آتی ہے اور کسی کو عام۔ اب یہ تو ہر انسان کے اپنے اوپر ہے کہ وہ اسے کیسے دیکھنا چاہتا ہے۔

سو ترازو آپ کے ہاتھ میں ہے کہ زندگی کو آپ مثبت پلڑے میں ڈال کر خوشیوں کا بار بڑھانا چاہیں گے یا منفی پلڑے میں رکھ کر زندگی کو بوجھل بنا لیں گے۔ سو مثبت سوچئے اور خوش رہیے۔

٭٭٭

 

 

 

جان کی بازی

 

تو بچا بچا کے نہ رکھ اسے ترا آئینہ ہے وہ آئینہ

کہ شکستہ ہو تو عزیز تر ہے نگاہ آئینہ ساز میں

فرائض کے ساتھ ساتھ اپنے حقوق کی بھی حفاظت کیجئے۔

 

 

آجکل جدید موسیقی میں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ناگن والی بین۔ ۔ ۔ ۔ پھر مشہور ہو گئی ہے۔ اور اس میوزک پر اب ڈسکو میں بھی خوب ڈانس کیا جاتا ہے۔ وہ ہے نا سیف علی خان، اسے تو ایک فلم میں اس بین پر سانپ سے بھی زیادہ لہراتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ اور پہلے تو بین کی آواز پر صرف ناگن ہی جھومتی تھی یا اک شرابی کی آنکھوں کے سامنے سارا جہاں جھومتا تھا پر اب اس میوزک پر سب ہی جھومنے تھرکنے کو تیار ہیں۔ بین میوزک پر اک گیت سنا تھا۔

ہم جان لٹا دیں گے اپنی ساجن کی جان سے پہلے

او ناگ تجھے ڈسنا ہو گا مجھ کو مہمان سے پہلے

عام طور پر گیت وقت اور بوریت دور کرنے کے لئے اچھا ذریعہ معلوم ہوتے ہیں لیکن کبھی اندر کا موسم اچھا ہو تو بندہ اس کی روح میں بھی اترنے لگتا ہے۔ تو گیت کے بول سن کر لگا کہ قربانی اور ایثار ابھی باقی ہیں۔ لیکن ساتھ ہی یہ سوچ بھی در آئی کہ کیا جان اتنی سستی ہے کہ اس کی بازی آسانی سے لگا دی جائے۔ یا ساجن پر وار دی جائے یا کسی دوسرے پر نثار کر دی جائے۔

فلموں میں بھی جان کا عنصر بہت نمایاں رہا۔ پہلے تو ہیرو ہیروئن میں جان پہچان ہوتی پھر وہ جان وفا بنتے اور جان من، جان جگر کے مرحلے سے ہوتے آگے بڑھتے۔ تو کبھی ظالم سماج ان کے رستے میں آ جاتا تو کبھی انھیں اپنی جان سے بڑھ کر خاندانی روایات کا پاس کرنا پڑتا۔ ویسے فلموں ڈراموں اور کتابوں میں جان کی قربانی زیادہ ہیروئن نے ہی دی۔ وجہ معلوم نہیں ہو سکی۔ شائد وہ وفا کی پتلی اسی قابل سمجھی گئی یا مردوں کے معاشرے میں اسے ہی قربانی دینے کے لئے مجبور کر دیا گیا۔ ہندی عورت تو خاوند کے مرنے پر اس کے ساتھ ہی ستی ہو جاتی تھی بلکہ کر دی جاتی تھی۔ ایک طرح سے اس کی جان چھین لی جاتی تھی۔ یہ بہت ظالمانہ دل ہلا دینے والی قربانی تھی۔ انارکلی بھی جس طرح دیوار میں چنی گئی۔ وہ داستانوں میں امر تو ضرور ہو گئی۔ پر حقیقت میں تو ایک بادشاہ کی انا سے ٹکرانے کی بدولت اسے اپنی جان سے ہارنا پڑا۔

ناولوں میں وفا اور قربانی کا درس عورت کو ہی خاص طور پر پڑھایا گیا۔ اپنے آپ کو پیچھے رکھنے اور دوسروں کے لئے جان حاضر ہے کے مصداق تیار کیا گیا۔ کہانیاں ،آپ بیتی، ناول، افسانے دراصل لڑکیوں اور عورتوں کا ٹائم پاس شوق رہے ہیں۔ تو بیسیویں صدی میں رائیٹرز نے بھی معاشرے میں کسی فساد سے بچنے کے لئے اپنی ہی صنف کو سمجھانا اوراس سے سمجھوتہ کرانا بہتر سمجھا۔ اور پہلے سے دبی دبائی عورت پر یہ قربانی چلتی رہی۔ جبکہ مرد اس بات سے ہمیشہ بری الزماں رہا۔ لیکن اس میں کچھ قصور عورت کا بھی ہے۔ یہ بات تو وہ بھی جانتی تھی کہ خدا بھی اس وقت تک بندے کی حالت نہیں بدلتا، جب تک وہ خود نہ چاہے۔ تو اس کی حالت بھی کیسے بدلتی جب تک وہ خود اپنی جان کی قیمت اور اپنے حقوق کی اہمیت نہ جان پاتی۔

یہ تو بھلا ہو اردو ناول اور افسانہ نگاروں کا، جن میں کچھ انقلابی رائٹرز سامنے آئیں۔ اور انھوں نے عورت کے حقوق کی پامالی دیکھتے ہوئے اپنی ذمہ داری کا احساس کیا۔ عورت کو اس کے ہونے کا احساس دلایا۔ اسے قربانی اور حقوق کی حد واضح کر کے دکھانی شروع کی۔ ورنہ اس نے تو اپنے آپ کو زیادہ ہی ماٹی کی گڑیا بنا لیا تھا۔ بشریٰ رحمٰن کے بعد عمیرہ احمد نے بھی ادب کی دنیا اور عورت کی زندگی میں خوب رول ادا کیا۔ جس مذہب کی آڑ لے کر عورت کو مجبور کر دیا جاتا تھا۔ اب اسی مذہب کے ذریعے اس کے حقوق اس پر واضح کئے جانے لگے۔ جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ آہستہ آہستہ اس معاشرتی دباؤ سے باہر آنے لگی۔ جان کی اہمیت معلوم ہوئی تو اسے اپنا وجود بھی اچھا لگنے لگا۔ تب اس نے اپنی جان کو سینت سینت کر رکھنا شروع کیا۔

ویسے بھی جان دینا تو وطن پہ جان دینا، اپنی عزت پہ جان دینا، اپنے مذہب کی راہ میں جان دینا ہے۔ جس سے اک واضح مقصد تو نظر آتا ہے، جس کا صلہ آخرت میں بھی ملنا ہے۔ مگر کسی کے لئے جان دینا پہلے وقتوں میں شائد یہ اور بات تھی، جب عاشق محبوبہ کے لئے نہریں بھی کھود لیتے تھے۔ مجنوں بیاباں ،صحرا میں نکل جاتا تھا سوہنی مٹکے پہ سوار مہینوال سے ملنے پہنچ جاتی تھی اور شاعر غالب ایک طرف تو محبوبہ پر بھی جانثار تھے اور دوسری طرف آموں پر بھی ان کی جان جاتی تھی۔ اور اب تو نفسا نفسی کا دور ہے۔ ہر ایک کو اپنی جان کی فکر پڑی ہے۔ آج کا عاشق نہ تو نہریں کھودنے کو تیار ہے اور نہ ہی مجنوں صحرا میں جانے کو تیار۔ بلکہ وہ خود کہتا نظر آتا ہے کہ اور بھی غم ہیں زمانے میں محبت کے سوا اور سوہنی تو مٹکے کا نام بھی سننا نہیں چاہے گی کجا کہ جان کو رسک میں ڈالنا۔

شاہ جہاں نے بھی اپنی لازوال محبت کا ثبوت تاج محل کی صورت دیا تھا نہ کہ جان دے کر اپنے مقبرے کی صورت۔ ویسے بھی عاشق پہ جان دینا تو بہت کم وزن بات لگتی ہے کہ جو جان اپنے کام نہ آئی وہ عاشق کے بھی کیا کام آئے گی۔

ایک ماں بچے پر اپنی مامتا لٹاتی ہے جان نہیں اور محبت کرنے والے ہم سفر بھی زندگی کی راہ میں دور تک ساتھ چلنے کا وعدہ جان کو قائم رکھتے ہوئے ہی کرتے ہیں۔ البتہ وہ عاشق و معشوق جنہیں اپنا ملنا ناممکن نظر آ رہا ہو وہ جذباتی ہو کر ساتھ مرنے جینے کی باتیں کرنے لگتے ہیں۔ لیکن محبت تو ایک بہت ہی پاکیزہ جذبہ ہے جو ایثار و قربانی کا متقاضی ضرور ہے پر جان کی قربانی کا نہیں۔ تو یہ جان کوئی ارزاں شے نہیں ہے جو آسانی سے لٹا دی جائے۔ یہ اس مالک کی دی گئی امانت ہے۔ عاشق پر جان دے کر یا خود کشی کر کے اس امانت میں خیانت نہیں کی جا سکتی۔ ۔ ۔ ۔

آجکل ہمارے ملک کے حالات دگرگوں ہیں۔ کہ صبح گھر سے نکلتے ہیں تو کام پر جانے کے لئے جان کو داؤ پر لگا کر جاتے ہیں۔ دعاؤں کے ورد یا اللہ خیر، سارا رستہ زبان پر اور پیچھے گھر میں رہ جانے والوں کی زبان پر ورد کی صورت جاری رہتے ہیں۔ سبزی گوشت لینے مارکیٹ تک جانا محال لگتا ہے۔ بچوں کو سکول لانا  لے جانا اک مسئلہ ہو گیا ہے۔ اک بے یقینی، تذبذب کی کیفیت سب کو گھیرے ہوئے ہے۔ سب کی زندگیوں میں بین بجنے لگی ہے۔

پر کیا کریں اب ملکی حالات کے آگے سب مجبور ہیں۔ اور آنکھوں کے سامنے کبھی مہنگائی کا عفریت پھن پھیلاتا ہے تو کبھی کرپشن کا، کبھی الجھی سیاست کا تو کبھی جان و مال کی بے یقینی کا، لیکن بصد مجبوری ناچے عوام باجے بین کے مصداق لوگ یہ بین سننے، اس پر ناچنے اور جان ہتھیلی پر رکھنے پر مجبور ہیں۔

٭٭٭

 

 

 

ایک پسندیدہ رائٹر

 

ایک مداح کی جانب سے مصنفہ بشریٰ رحمٰن کی نذر

 

الگ مزاج ہے اپنا تمام لوگوں سے

تمام قصوں میں قصہ جدا ہمارا ہے

بہت شور ہے مگر اطمینان بھی کہ یہاں

کوئی تو ہے جو سخن آشنا ہمارا ہے

 

ہوش سنبھالنے ہی میں نے دیکھا کہ گھر میں لوگ کم تھے لیکن سب پڑھنے کے شائقین، کوئی اخبار پڑھ کر حالات حاضرہ سے جڑ رہا ہے تو کوئی نسیم حجازی کے تاریخی ناول پڑھنے میں مگن اور کوئی ابن صفی کی عمران سیریز شوق سے پڑھ رہا ہے۔ ۔ سو یہ ادبی ماحول مجھے بھی مطالعہ کرنے کی دنیا میں لے گیا۔ اور ان کی طرح میں نے بھی اسے وقت کا بہترین مصرف پایا۔ میں نے بہت سے شعراء، بہت سے رائٹرز کو پڑھا۔ اس طرح میرا اپنا بھی ایک انتخاب بنتا گیا۔

میرا کالج ٹائم تھا جب پڑھنے اور بہت پڑھنے کا شوق سامنے آیا۔ ایک طرف تعلیمی نصاب اور دوسری طرف یہ ناول، ڈائجسٹ، اخبار، میگزین۔ ۔ ۔ ۔ پیاس تھی کہ بڑھتی چلی جا رہی تھی۔

اور جب اتنے رنگین مطالعے کے بعد میری اپنی پسند سامنے آئی تو بشریٰ رحمٰن کو اپنی پسندیدہ رائیٹر پایا۔ کیا خوبصورت ناول انھوں نے لکھے۔ ایک سے بڑھ کر ایک شاہکار انھوں نے تخلیق کیا۔ پیاسی، لازوال، اللہ میاں جی، چارہ گر، بت شکن اور میرا پسندیدہ ناول تھا۔ ۔ ۔ لگن۔ ۔ ۔ ۔ تب مجھے آفاق اور فلک ناز دونوں نام بڑے پسند آئے تھے۔ اور جب بھی کبھی خاندان میں یا ملنے والوں میں کوئی نیا بچہ اس دنیا کا باسی بنتا اور اس کے نام رکھنے کا مرحلہ آتا تو میں فورا آفاق اور فلک ناز نام پیش کر دیتی۔ بلکہ میرا بس نہ چلتا کہ میں اپنا نام ایک طرف رکھ کر فورا فلک نام رکھ لوں۔ اور سب مجھے فلک نام سے پکاریں۔ پر یہ بھی اتفاق کی بات ہے کہ میرے تجویز کردہ اور نام تو بچوں کی پہچان کی زینت بنے مگر یہ نام بدستور اپنی جگہ پر ہی رہے۔

تب میں نے بشریٰ رحمٰن کا ایک اور بہت ہی خوبصورت ناول پڑھا تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ لالہ صحرائی۔ ۔ ۔ ۔ ثمرہ بخاری کے ناول۔ ۔ ۔ دل دا دیس۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کی طرح اس کی ہیروئن بھی صحرا کی باسی تھی۔ بہت ہی پر اثر اور دل کو چھو لینے والی کہانی تھی۔ تب شائد وہ وقت نہیں تھا جب بندہ اپنا انتخاب سنبھال کر رکھتا ہے۔ بک ریکس میں سجاتا ہے۔ اس طرح وہ نایاب اور نادر ناول میرے ہاتھ سے آ کر نکل گیا۔ جان لیں کہ اسے دوبارہ پڑھنے کا موقع میں نے کھو دیا۔ سو آج وہ ایک خوبصورت یاد کی طرح میرے دل میں بسا ہے۔

بشریٰ رحمٰن ایک بولڈ رائیٹر تھیں۔ ان کے بعد مجھے رفعت سراج اور عمیرہ احمد ایسی رائٹرز لگیں۔ اور میں نے واضح محسوس کیا کہ جہاں باقی رائٹرز کا قلم آ کر رک جاتا ہے یا ان کے مطابق فسانہ ختم ہو جاتا ہے وہیں سے ان کا قلم آگے بڑھتا ہے۔ سمجھ لیں یہ بالکل بارڈر پر لکھتی ہیں۔ کہا جا سکتا ہے کہ یہ نڈر رائٹرز ہیں۔ ان کے قلم کو اس بات کی پرواہ نہیں کہ لوگ کیا کہیں گے ؟ سوسائیٹی کیا کہے گی یا معاشرہ انھیں لتاڑے گا یا میڈیا انھیں تنقید کا نشانہ بنا سکتا ہے یا ملا کوئی فتوی نہ دے دیں۔ ایک طرح سے انقلابی رائیٹر ہیں جو اپنے ہی معاشرے کے مسئلوں کو اٹھاتی ہیں اور کبھی انھیں مذہبی طریقے سے اور کبھی سماجی طریقے سے ایسا حل سامنے لاتی ہیں۔ کہ کچھ خیرخواہ دانتوں میں انگلی دبا لیتے ہیں اور کچھ عش عش کر اٹھتے ہیں۔

بشریٰ رحمٰن کے ناول کی کہانی بہت خوبصورت ہوتی تھی اور لفظوں کا جال بننے میں وہ بہت ماہر تھیں۔ پھر خوبصورت احساسات اور جذبات کو لفظوں میں ایسا ڈھالتی تھیں کہ دل کے ساز بے اختیار بج اٹھتے تھے۔ احساسات کو الفاظ میں اور جذبات کو شاعری میں ڈھالنے کا ہنر تو ان کے باطن میں موجود تھا۔ ۔ ممکن ہے آپ جانتے ہوں ان کی والدہ نصرت رشید ایک شاعرہ تھیں۔ تو بشریٰ رحمٰن کے اندر شاعری لکھنے کا بھی وصف تھا۔ ان کی دو شاعری کی کتابیں بھی پبلش ہوئی ہیں۔ جن میں ایک کا نام ہے۔ ۔ ۔ صندل میں سانسیں جلتی ہیں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بے شک انھوں نے نام نثر میں ہی کمایا۔ مگر شاعری بھی خوب کی۔

مجھے ان کی شاعری کی کتاب میں شامل۔ ۔ برسات کی اک رات ہو اور نظم بن باس۔ ۔ بہت اچھی لگیں۔ بن باس میں انھوں نے ایک نئی نویلی دلہن کے دلگداز ارمانوں کو بڑی خوبصورتی سے اس کے احساسات میں ڈھالا ہے۔

شاعری کے علاوہ انھوں نے دو سفر نامے بھی لکھے۔ براہ راست اور ٹک ٹک دیدم کے نام سے۔ ۔ ۔ میں نے ان کا ایک سفر نامہ۔ ۔ ۔ براہ راست۔ ۔ ۔ پڑھا ہے۔ جس سے مجھے اندازہ ہوا کہ ان کا مشاہدہ بہت وسیع ہے اور ہلکی سی مزاح کی حس بھی ان میں پائی جاتی ہے۔ اپنے اس سفرنامے میں انھوں نے اپنی ذات کے کچھ پرت بھی کھولے ہیں اور جس طرح اپنے شریک سفر کا ذکر’صاحب عالم‘ کہہ کر کیا ہے، تو مجھے بڑا اچھا لگا۔ کہ اتنی با ذوق ہستی سے میں یہی امید کر سکتی تھی۔

ان سے پہلے کی رائیٹرز میں رضیہ بٹ اپنا بہت نام بنا چکی تھیں۔ اور یہ بات میں نے واضح محسوس کی تھی کہ رضیہ بٹ کا انداز تحریر بہت سادہ، آسان اور عام فہم تھا جبکہ بشریٰ رحمٰن کا اس کے بالکل برعکس۔ اب یہ نہیں تھا کہ ان کا انداز بیاں مشکل تھا بلکہ انھیں لفظوں کو موتیوں کی طرح لڑی میں پرونا آتا تھا۔ ان کے انداز تحریر میں برجستگی ان کا نمایاں خاصہ تھی، مزاح کی چاشنی اور کہیں کہیں ہلکا سا طنز بھی نمایاں تھا۔ اور محبت کے جذبے کو انھوں نے قوس و قزح کی طرح جھلملاتا ہوا پیش کیا۔

میں نے ان میں یہ خوبی بھی محسوس کی کہ وہ ٹائم پاس رائیٹر نہیں تھیں۔ جو دھڑا دھڑ کتابوں پر کتابیں لکھ کر اپنا نام بنا رہی ہوں۔ وہ کوالٹی پر زور دینے والی مصنفہ رہیں اور جتنا بھی لکھا کمال کا لکھا اور ان کے اسی کمال نے انھیں کلاسک ادب لکھنے والوں میں بھی شامل کر دیا۔

بشریٰ رحمٰن نے اپنی تحاریر کے ذریعے لڑکیوں اور عورتوں کا خوب بھلا کیا۔ وہ مرد کی نفسیات اس طرح سامنے لائیں۔ جیسے کوئی چھپا ہوا منظر عیاں ہو جائے۔ اور مرد۔ ۔ ۔ ۔ ۔ جو کہ صدیوں سے ایک راز کی طرح تھا۔ وہ راز، راز نہ رہا۔ (یقیناً اس پر مرد تو خوب تلملائے ہوں گے) کیونکہ اس کے بعد رہی سہی کسر رفعت سراج اور پھر عمیرہ احمد نے خوب پوری کی۔ سو اب میں تو دھیرے سے گنگناتی ہوں۔

ہم جان گئے سرکار

تم لاکھ کرو انکار

میں نے بشریٰ رحمٰن سے پہلے کا بھی کچھ ادب پڑھا۔ جو کہ خاصا روایتی ہوا کرتا تھا۔ جس میں لڑکیوں کو اور بھی بیبی بچیاں بنانے کی کوشش کی جاتی تھی۔ انھیں اچھے اچھے کھانے بنانے کی ترغیب دی جاتی تھی۔ انھیں شرمیلی اور چھوئی موئی بنایا جاتا تھا۔ عورت کو صبر صبر اور صبر کی تلقین کی جاتی تھی۔ اور مرد کو کچھ اور بھی من مانیوں کے اونچے مقام پر پہنچا دیا جاتا تھا اور عورت کو مزید قربانی ایثار کے لئے تیار کیا جاتا تھا۔ بشریٰ رحمٰن پہلی مصنفہ تھیں جس نے ایک لڑکی اور عورت کو خود آگہی اور خود شناسی کا درس دیا۔ اور اپنے من کی کھڑکی سے جھانکنے اور اپنی ذات کو منوانے کا موقع فراہم کیا۔ یہ نہیں کہا جا سکتا کہ انھوں نے اپنی تحاریر میں کچھ باغیانہ روش اپنائی۔ بلکہ انھوں نے جہاں محسوس کیا وہاں اپنی ہیروئن کو بھی سمجھوتے اور اپنی ذات میں لچک رکھنے کا رویہ دیا۔ ان کا ناول خوبصورت۔ ۔ اسی کی مثال ہے۔ جس میں انھوں نے ہیروئن کو یہ باور کرانے کی کوشش کی کہ مرد کی خوبصورتی اس کی صورت میں نہیں اس کے اندرونی باطن میں چھپی ہوتی ہے۔

انھوں نے اپنے ناولز میں عورت کو وارننگ بھی دی کہ اس کی حد کہاں تک ہے اور کہاں سے مرد کی حد شروع ہوتی ہے۔

بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ عمیرہ احمد نے سب سے پہلے ادب میں مذہبی ٹچ دیا۔ جبکہ اس کی ابتدا بشریٰ رحمٰن پہلے سے ہی کر چکی تھیں۔ ان کا ناول۔ ۔ ۔ ۔ اللہ میاں جی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اسی بات پر مدلل ہے۔

بشریٰ جی نے اپنے قاری کا بہت بھلا کیا۔ ان کی تحریر سے کوئی نہ کوئی سبق ضرور ملا۔ کہیں عبرت پائی تو کہیں زندگی جینے کا سلیقہ۔ کہیں خود شناسی ملی اور کہیں مدمقابل کو سمجھنے کی حس، انھوں نے بہت کھل کر لکھا اور صنف نازک قاری کے لئے کبھی بڑی بہن کا کردار ادا کیا تو کہیں ماں والی مامتا لٹائی اور کبھی ایک دوست کا کردار نبھایا۔ پڑھنے والوں کے ساتھ انھوں نے اپنا وہ رشتہ استوار کیا جو رائیٹر اور قاری کو ایک ڈور میں باندھے رکھتا ہے۔

میں ان پر رشک کیا کرتی تھی کہ وہ کتنا گہرا سوچتی ہیں اور ان کی سوچ کتنی خوبصورت ہے۔ ان کے قلم سے الفاظ بھی نکل کر اپنی خوش نصیبی محسوس کرتے ہوں گے۔ وہ چونکہ اپنی ذات میں انجمن تھیں۔ اس لئے کبھی نثر تو کبھی نظم میں اپنے آپ کو آزماتی رہیں۔ ان کی شاعری بھی پڑھنے والے پر اپنا سحر طاری کرتی ہے، جوان کے حساس دلی جذبات اور خوبصورتی کو بیاں کرتی ہے۔ وہ صاحب عالم کی ملکہ تو تھیں ہی پھر ایک ادیبہ ایک شاعرہ بھی، مگر شائد ان کی پرواز اس سے بھی اونچی تھی۔ سو وہ سیاست کے میدان میں بھی اتریں۔ اور وہاں بھی اپنا نام و مقام بنایا۔ ان کی محنت، لگن اور قسمت نے بھی ان کا خوب ساتھ دیا۔ انھوں نے زندگی سے وہ سب کچھ پا لیا جس کا خواب دیکھا جاتا ہے۔

اپنے قارئین کے لئے وہ ایک بہت اچھی ادیبہ رہیں اور اپنے بعد آنے والی رائٹرز کے لئے اک مثال۔ بشریٰ جی نے یقیناً ادب کو ایک نیا موڑ دیا۔ ان کے بعد آنے والی رائٹرز نے بھی پھر پہلے سے تیار بیس پر کھل کر اور ڈٹ کر لکھا۔ جس کی واضح مثال رفعت سراج اور عمیرہ احمد ہیں۔ سو وہ ایک سنگ میل کی طرح ثابت ہوئیں۔

مجھے آج بھی ان کی کوئی نئی تحریر پڑھنے کومل جائے تو ایک انہونی سی خوشی محسوس کرتی ہوں۔ پچھلے چند سالوں میں ان کے کچھ نئے ناول بھی سامنے آئے۔ جن میں ناول بہشت اور چاند سے نہ کھیلو بہت عمدہ ہیں۔ انھوں نے ہمیشہ وقت کی رفتار کا ساتھ دیتے ہوئے لکھا۔ اور وہ ایک ترقی پسند مصنفہ رہی ہیں۔ ادب کے لئے ان کی بیکراں خدمات ہیں۔ جنہیں کبھی فراموش نہیں کیا جائے گا۔ اللہ انھیں دائم شاد و آباد اور خوش و خرم رکھے۔ آمین

٭٭٭

 

 

 

خواہشات اور زندگی

 

زندگی یہ ہے جدھر ہم ہوں ہوا اس رخ کی ہو

کون کہتا ہے ہوا کو رخ پہ جانا چاہیے

مالک وہ ہے جسے بے جا خواہشات گرفتار نہ کر لیں۔

ضرورت اور خواہش دو علیحدہ چیزیں ہیں

 

پچھلے سال    گرمی کا موسم تھا۔ جرمنی میں اتنی زیادہ گرمی تو نہیں پڑتی کہ بندہ گرمی پر ہی توجہ مرکوز کر کے رہ جائے  اور بالفرض پڑ بھی جائے تو جرمن تو بہت خوش ہوتے ہیں   کہ اب سوانا کی  ضرورت  نہیں پڑے گی۔ سمندر کے کنارے بیچ پر وقت گزارنے کا   موقع ملے گا۔  مالکان  سٹور علیحدہ خوش ہوتے ہیں کہ اب گارڈن کی چیزیں بکیں گی۔ آئس ٹھیلے والوں کی بھی چاندی ہو جاتی ہے۔ یہ علیحدہ بات ہے   کہ ہم ایشیائی اپنے ملکوں کی گرمی دیکھ  بھر پائے ہیں۔ اس  لیے یہاں حال   سے بے حال نہیں ہونا چاہتے اور ہوں  بھی کیوں ؟ آخر ٹھنڈے  ملک  میں اسی  لئے تو آئے ہیں۔ ورنہ پسینہ بہانے کے  لئے کیا اپنا ملک کافی  نہیں  تھا۔  دیسی سے پردیسی ہوئے ہیں تو کیا اب  ندامت سے پسینے میں ہی بہہ  جائیں۔  ہم جرمنوں کی طرح نہ تو بیچ پر جا کر  استراحت فرما سکتے ہیں ،نہ  ریت کے   گھروندے بنا سکتے ہیں ،نہ  باسکٹ بال کے میچ کھیل سکتے ہیں اور نہ ہی بلا تکلف پانی میں چھلانگیں مار سکتے ہیں۔

لیکن کیا کریں  بندہ  بشر ہیں۔ ہمارے اندر بھی  معصوم سا پیارا سا دل دھڑکتا ہے۔   تب  ہمارے سامنے  دو ہی حل  ہوتے ہیں کہ  یا توہم  گھر میں ہی چھپے رہیں  اور  دوست احباب، پڑوسیوں کو لگے کہ خدا نخواستہ نصیبان دشمناں ہماری  طبیعت  خراب ہے  اور ہم  ڈاکٹر کی ہدایت پر بستر سے دوستی کئے ہوئے ہیں۔ اور بابی  کیو کے مزے لینے کی بجائے  کڑوی کسیلی دوائیاں ہمارا مقدر بنی ہوئی ہیں۔ اور اس  کرہ  ارض پر ہمارا وجود  دریافت کرنے کو فون پہ  فون آ رہے ہوں۔ یا دوسرا  یہ کہ  ہم بھی ہائے گرمی  ہائے گرمی کرتے گھر سے  باہر کی راہ لیں۔ اور گرمی  کی  تمازت سے تمتماتے  پھریں۔ ویسے تو گھر سے  ایک دو کلومیٹر کے فاصلے پر ایک   خوبصورت چھوٹی سی جھیل اپنا  جلوہ دکھانے کو ہمیشہ ہماری منتظر رہتی ہے۔ لیکن وہ   تو ہماری واکنگ حدود  میں ہے نا، اس لئے شدید گرمی میں ہمیں وہ ذرا کم   نظر آتی ہے۔ زیادہ  گرمی پڑ رہی ہو تو پھر ہم بھی دور کی کوڑی لاتے ہیں۔ اور کسی  دور دراز علاقے  میں پانی کے قریب یا کسی پکنک سپاٹ کو ترجیح دیتے  ہیں۔

پچھلے سال ایسا ہی ہوا۔ چار دن کی گرمی آئی تو ہم بھی ایک دوست کے ساتھ    کوئی تیس، چالیس کلو میٹر دور ایک پکنک سپاٹ اور بہت بڑی جھیل کے کنارے    جا نکلے۔ یہ جگہ ٹورسٹ کے لئے بھی ہے۔  اور اکثر جرمن لوگ تو شادی کر کے  گھر  جانے کی بجائے دوست احباب کے ساتھ  سیدھایہ یں چلے آتے ہیں۔ گویا جھیل  سے  آشیرواد لینے آتے ہیں۔ اور ان  کی  مہمانوں کو دی دعوت بھی یہیں بنے  ریسٹورنٹ  میں ہوتی ہے۔ خوب مزے کی  جگہ ہے۔ وہاں جتنی گرمی اتنے لوگ والا  معاملہ رہتا  ہے۔

اس جھیل میں بوٹس  بھی چلتی ہیں اور دور دور  سےآئے سیاحت کے  شائقین کے لئے  لانچ  بھی چلتی ہیں۔ جو اک بھنور کے  مصداق مسافروں کو جھیل میں  گھماتی رہتی ہیں۔ بوٹنگ بھی ہوتی ہے۔  ویسے ایک بار تو ہم بھی اس میں کشتی  رانی کر کے اس   کی  گہرائیاں ناپ چکے ہیں۔ سو جھیل ہمارے لئے انجان تو نہیں۔ ہمارا پورا  دن  وہاں بہت مزے کا گزرا۔ بڑے بڑے پارک، لوگوں کی خلقت، سیاحوں کئے جمگھٹے، پانی کے کنارے ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا، مزیدار پزا، پھر ٹھنڈی ٹھنڈی آئس،

سہ پہر کے بعد واپسی  کے لئے نکلے تو کار کی طرف آتے  آتے دیکھا کہ بالکل  جھیل کے سامنے والی  لوکیشن میں ایک بہت بڑا ایریا   تھا۔ جو نہ جانے کتنے  بنگلوز کی جگہ گھیرے ہوئے تھا۔  اس کے اندر خوبصورت سے چند ایک  بنگلوز بنے  ہوئے نظر آ رہے تھے۔ جن  تک پہنچنے کے بھی اچھی خاصی  جگہ  درمیان میں تھی اور  بڑی بڑی مہنگی  گاڑیاں بھی  وہاں کھڑی نظر آئیں۔ اور اس جگہ  کا احاطہ کئے ایک بہت بڑا گیٹ  بھی  لگا ہوا  تھا اور ایک  آدمی بھی دربان کی طرح مین  گیٹ پر موجود تھا۔

ایک نظر  اس پر ڈال کر آگے  بڑھنا چاہا تو میری دوست نے  بتایا کہ یہ امیر  لوگ ہائی  سوسائیٹی والوں کے  اپنے خریدے ہوئے وہ گھر ہیں۔ جہاں وہ سال  کے اسی موسم  میں کچھ ہفتے آ کر  قیام کرتے ہیں۔ پانی، موسم  اور لوکیشن   کے حساب سے یہ  بنائے گئے ہیں۔ اس کے بتانے پر میں نے ان پر  دوبارہ نظر   ڈالی۔ تو مجھے یہ  مری کے کاٹیج یا کراچی کے ساحل سمندر پر  لوگوں کے ذاتی   ہٹ جیسے نظر آئے۔  پھر ہم اس پر بات کرنے لگے اور کافی دیر  کرتے رہے۔ جس کا مدعا یہ نکلا کہ  کچھ لوگوں کی زندگی باوجود کوشش کے ہینڈ  تو ماؤتھ ہی رہتی ہے۔  کبھی سر  ننگا تو کبھی پاؤں۔ ۔ ۔ اور اس گزارے کی  چادر میں ہی کھینچا تانی چلتی رہتی  ہے۔ اور بعض دفعہ ان کے لئے دو چار  اچانک کے آئے اضافی بل بھرنے بھی  مشکل  ہو جاتے ہیں۔ اس  کے برعکس کچھ  لوگوں کے پاس اتنا پیسہ ہے کہ  وہ اپنی  زندگی کے آرام سکون  کے لئے تعیشات  حاصل کرنے کا کوئی پہلو بھی  نہیں چھوڑتے۔  لیکن یہ بات ضرور  سامنے آئی کہ  اگر غریب بندہ روٹی کپڑا  اور مکان کی فکر  میں گھلتا ہے اور اس  سے نکل نہیں  پاتا تو مزے میں امیر بندہ بھی نہیں ہے۔ یہ ہائی سوسائیٹی  والے لوگ بھی  مبتلائے فکر تو ہوتے ہیں۔ اگرچہ انھیں  غریب  بندے والی  فکریں نہیں ہوتیں لیکن ان  کی اپنی کلاس ہی انھیں ٹکر  دیتی ہے۔ ہمیشہ  ایک مقابلے  کی فضا قائم  رہتی ہے۔ اگر ایک کے پاس ی نئی گاڑی ہے تو   دوسرا جا  کر اس سے بھی نیو ماڈل  کی گاڑی خریدے گا۔ ایک لندن سے شاپنگ  کرے  گا تو  دوسرا پیرس سے، ایک فیملی  سپین میں جا کر چھٹیاں منا رہی ہے تو  دوسری   لازما سوئٹزرلینڈ جائے گی۔ سو  فکروں سے تو یہ لوگ بھی آزاد نہیں  ہیں۔ بس غریب   لوگوں کو یہ عیاشی کرتے نظر  آتے ہیں اور متوسط طبقے کو اک  حسرت میں مبتلا  کرتے۔ تو کیا یہ بہتر نہیں  ہے کہ ہم  صبر اور شکر کا دامن تھام کر رکھیں۔  اور جو ہے جتنا ہے اسی میں  خوش رہنا سیکھ لیں ،کیونکہ کم سے کم وہ ہمارے   پاس تو ہے۔

٭٭٭

 

 

 

 

لائف بوائے اور تبت سنو کریم

 

میرے آگے سے ہٹا لو یا تو یہ مبہم کتاب

یا پلٹنے دو مجھے اوراق موجودات کو

کارکردگی تعارف سے بے نیاز ہوتی ہے۔

 

جب بھی کوئی کمپنی اپنی کسی پروڈکٹ کی مارکیٹنگ، ترسیلنگ کرتی ہے اور اسے بازار میں لاتی ہے، تو اس کے لئے مبالغہ، بلا مبالغہ حربے بھی استعمال کرتی ہے۔ یقیناً یہی نکتہ لائف بوائے صابن اور تبت سنو کریم کے لئے بھی استعمال کیا گیا ہو گا۔ پر اس وقت ان کو ذرا سا بھی اندازہ نہیں ہو گا کہ یہ صابن، کریم آدھی سے بھی زیادہ صدی کی پروڈکٹ بننے والی ہیں اور نسل در نسل چلنے والی ہیں۔ حقیقتاً بھی یہ جوڑی دار ہیں ورنہ ایک ہی کمپنی یہ دونوں بنا لیتی۔ پھر اشتہار کچھ یوں ہوتا کہ پہلے لائف بوائے سے نہائیے پھر تبت سنو کریم لگائیے اور اپنے حسن میں چار چاند لگائیے۔ ایک ہی سیلزمین سے دونوں کام ہو جاتے۔ اور کام شروع ہونے سے پہلے ہی بچت بھی شروع ہو جاتی۔

یہ دونوں پروڈکٹ سادگی کے زمانے کی پیداوار ہیں۔ میرا نہیں خیال کہ ان کو زیادہ مقابلے کی فضا سے بھی گزرنا پڑا ہو گا۔ بلکہ وہ مصطفے قریشی والی اشتہاری چائے کی طرح لائف بوائے ٹھاہ کر کے لوگوں کے سینے سے جا لگا ہو گا۔ کیونکہ کچھ روایتی لوگ ابھی بھی اسے سینے سے چمٹائے ہوئے ہیں۔ اسی طرح تبت سنو کریم کو بھی اس زمانے کی حسیناؤں نے ہاتھوں ہاتھ لیا ہو گا اوراسکا مقابلہ بھی صرف پونڈ کریم سے ہی ہوا ہو گا۔ پھر بھی یہ اپنی جگہ بنانے میں کامیاب رہی۔ میں نے ہوش سنبھالتے ہی دیکھا کہ نانا، دادا کی زندگی میں لائف بوائے اور نانی، دادی کی زندگی میں تبت کریم ہلچل مچا چکی تھی۔ بعد میں یہ سلسلہ نسل در نسل بھی چلنے لگا۔ لائف بوائے سے سب بزرگ خوش ہو کر نہاتے تھے اور سب اسے نہانے کا صابن کہتے تھے۔ دراصل یہ باقی لوگوں کو تنبیہ ہ ہوتی تھی کہ کہیں کوئی اس سے کپڑے نہ دھو لے۔

ویسےیہ اپنے آپ میں مردوں کا صابن تھا جیسا کہ نام سے ظاہر ہے لائف بوائے تو لگتا کہ شائد اس سے نہا کر ادھیڑ عمر لوگ لڑکے بن جائیں گے اور لڑکے کی زندگی بن جائے گی۔ لیکن اس سے تو با جماعت پوری فیملی نہا لیا کرتی تھی۔ کیونکہ تب شائد لوگوں کی اصطلاح بھی بڑی مخصوص تھی۔ نہانے کا صابن اور کپڑے دھونے کا صابن کہہ کر بات ختم ہو جاتی۔ جو احباب اس کا نام نہ لے پاتے وہ اسے لال صابن کہہ دیتے تھے۔ میں نے جب لائف بوائے صابن کا بغور جائزہ لیا تو اس کا رنگ نہ تو لال تھا اور نہ ہی گلابی۔ بلکہ تربوز کے رنگ سے میچ کر کے اسے ظاہری شکل دی گئی تھی۔ سو یہ ہلکے تربوزی رنگ کا لگتا تھا۔ کیونکہ چھوٹے بچے اسے منہ میں ڈالنے اور چوسنے کی کوشش کرتے تھے۔ پھر لائف بوائے سونگھنے سے اس کے پرستاروں کو خوشبو آتی تھی اور باقی لوگوں کو بو، لیکن اس کا سدا بہار فائدہ تو مجھے بعد میں پتہ چلا۔ جبکہ اب تو صابن کم اور نئے جدید لوازمات زیادہ ہیں۔ میں نے کچھ کرم فرماؤں کو زمانے کے تغیر اور بےشمار رنگ برنگی ایجادات کے باوجود پھر بھی اس سے ان کا مسلسل جڑنا دیکھا تو شکوہ کر ہی دیا۔ اور مجھے جواب ملا کہ یہ صابن گھلتا کم ہے اس لئے خرچ کم ہوتا ہے۔ مہمان کو تو خاص طور پر یہی صابن دیا جاتا ہے۔ آخر اسے اتنی فضول خرچی کی اجازت کیسے دی جا سکتی ہے۔ یہ جان کر جو میرے من میں پھلجھڑی چھوٹی تو بیان سے باہر ہے۔ کیونکہ لائف بوائے واقعی ایک ڈھیٹ قسم کا صابن ہے جس سے جھاگ بہت کم بنتا ہے۔

زاویہ کتاب پڑھ کر پتہ چلا کہ مصنف اشفاق احمد کا بھی یہ پسندیدہ صابن تھا اور وہ بھی اس کے پرستار تھے۔ کیونکہ انھیں بھی اس سے خوشبو آتی تھی۔ اس زمانے میں یقیناً بڑے لوگ مطلب اداکار کسی بھی کمپنی پروڈکٹ کی مارکیٹنگ نہیں کرتے تھے کہ لوگ کیا کہیں گے ؟ کہ شائد ان کے پاس اور کام نہیں۔ ورنہ اشفاق احمد بھی لائف بوائے کے ساتھ اپنا ایک اشتہار بنوا لیتے۔

ادھر تبت کریم بھی بڑے آرام سے اپنی جگہ بنا چکی تھی۔ یہ کریم عورتوں کی زندگی میں شامل تھی۔ اسے ہی لگائے جاؤ لگائے جاؤ، ختم ہو جائے تو جا کر جام جم کی طرح اور لے آؤ۔ اس کریم سے اتنی آشنائی تھی کہ ایک بچے تک کو جنرل سٹور پر بھیج کر منگوا لی جاتی۔ اس کی گول شیشی ایک ایسی پیکنگ میں ہوتی تھی۔ جس کی ایک سائیڈ ایک عورت کا چہرہ دکھائی پڑتا تھا اور دوسری طرف تبت کے پہاڑ اور خوبصورت مقام کا منظر تھا۔ جواس وقت مجھ نادان کی سمجھ سے باہر تھا۔ شائد اس کا مطلب یہ ہوتا ہو گا کہ پہلے عورت تبت کریم لگائے اور پھر تبت کے پہاڑوں میں گھومنے چلی جائے۔ ویسے کریم کا رنگ بذات خود بڑا سفید تھا اور اس میں چمک اتنی جیسے سفید موتی پیس کر ملائے گئے ہوں۔ اور دور میں عورتیں بالوں میں پف شوق سے بنایا کرتیں پھر تبت کریم لگا کر ان کا میک اپ مکمل ہو جاتا۔ اور وہ مطمئن ہو جاتیں کہ اب چاہے کوئی اچانک کا مہمان چھاپہ مار لے یا مجازی خدا کام سے گھر آ جائے۔

تب حسیناؤں کو کاہے خبر ہو گی،  کہ جلد کتنے ٹائپ کی ہوتی ہے۔ خشک جلد، چکنی جلد، ملی جلی جلد، ایکنی والی جلد، نارمل جلد اور پھر کمپنی بھی اس حساب سے کریم تیار کروائے اور صارفین تک پہنچائے۔ تب تو جو بنا دیا وہی سیل کے لئے مارکیٹ پہنچا دیا اور صارفین بیچارے تو ویسے ہی معصوم، نادان اور ان کمپنیوں کے محتاج، لہذا میں کبھی کبھی سوچ کر مسکرا دیتی ہوں کہ تبت کریم اصل میں ایک نرشنگ کریم تھی۔ جو ظاہر ہے کہ جلد کو غذائیت تو دیتی ہو گی مگر نرشنگ کریم لگانے سے جلد میں کچھ کھنچاؤ سا پیدا ہونے لگتا ہے۔ ورنہ کاہے کو پونڈ نرشنگ کریم بنانے والے پونڈ کی کولڈ کریم بناتے۔ سو کچھ عورتوں کی خشک جلد کے لئے تو یہ بالکل بھی مناسب نہ تھی۔ لیکن ان کے پاس اسکا متبادل بھی نہ تھا۔ اور چہرے پر کھنچاؤ محسوس کر کے وہ بیچاری یقیناً مزید کریم چہرے پر لگا لیتی ہوں گی۔ بہرحال پھر بھی اسے لگا کر ایک عورت اپنے آپ کو اس پیکنگ والی حسینہ جتنا ہی خوبصورت محسوس کرتی ہو گی۔ تب عورتیں بغیر آئینے میں دیکھے چہرے پر کریم مل مل کر فارغ ہو جاتی تھیں۔ کہ اب اسکن جانے یا کریم،  جبکہ آجکل کسی لڑکی کے چہرے پر ایک پمپل بھی نکل آئے تو فکر سے اسکی جان جل جاتی ہے۔ ٹماٹر، پنیر، چاکلیٹ کھانے بند کر دئے جاتے ہیں۔ دس لوگوں کو بتا کر اپنی پریشانی شیئر کی جاتی ہے۔ بار بار آئینے میں اس پمپل کا دیدار کیا جاتا ہے۔ اور جب تک وہ چلا نہ جائے اپنی اسکن کو ہی اچھوت کی طرح ہاتھ لگایا جاتا ہے۔ ورنہ پہلے عورتیں اول تو گورے ہونے کے چکر میں دن میں کئی کئی بار لائف بوائے سے مل مل کر منہ دھوتی تھیں اور پھر رہی سہی کسر مل مل کر لگائی تبت کریم سے پورا کر لیتی تھیں۔

اب اپنے آپ میں یہ دونوں پروڈکٹ جو بھی کمال رکھتی ہوں۔ لیکن ان کا اتنے سالوں سے اپنا وجود اپنی بقا بنائے رکھنا حیرت انگیز ہے۔ دنیا میں لوگ آتے ہیں چلے جاتے ہیں۔ چیزیں بھی آتی جاتی رہتی ہیں۔ ایک مارکیٹ سے غائب ہو تو اس کی جگہ دس آ جاتی ہیں۔ لیکن آدھی پونی صدی سے شروع ان دونوں کا سفر آج بھی جاری ہے۔ جو ایک ہی سمت میں کیا گیا ہے۔ ورنہ اپنی بنائی ایک ہی پروڈکٹ کو کمپنی کچھ عرصے بعد خود ہی دیکھ دیکھ کر بور ہو جاتی ہے تو اس میں کچھ نیا کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ زیادہ نہیں تو اس کی پیکنگ ہی ذرا تبدیل کر کے صارفین کے لئے جاذب نظر بنا دیتی ہے۔ مگر لائف بوائے اور تبت کریم بہت عرصے تک ایک ہی پیراہن استعمال کرتے رہے ہیں۔ پھر بھی انھوں نے اپنا نام گمنام نہیں ہونے دیا۔ البتہ زمانے کی ہوا اور وقت کی اڑان سے اتنا ضرور ہوا ہے کہ پچھلے دنوں میں نے ٹی وی پر تبت کریم بنانے والی کمپنی کی اب کچھ اور پروڈکٹس بھی دیکھی ہیں۔

سو لاتعداد شمپوز، فیس واش، باڈی واش، باڈی لوشن کے استعمال کرنے والوں کے درمیان یقیناً کہیں نہ کہیں ایسے مہربان ضرور موجود ہوں گے جو ان سب لوازمات کے بالمقابل یہی دو چیزیں استعمال کر کے راحت پاتے ہوں گے۔ تو کوئی حرج نہیں۔ شوق سے اپنے دل کی خواہش پوری کیجئے کیونکہ اب لائف بوائے اور تبت سنو کریم تو ویسے بھی روایتی انداز میں زندگی میں شامل رہیں گے۔

٭٭٭

تشکر: مصنفہ جنہوں نے اس کی فائل فراہم کی

تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید