FavoriteLoadingپسندیدہ کتابوں میں شامل کریں

 

 

 

اقبال کی شخصیت کے تخلیقی عناصر

 

 

 

               سیّد ابو الحسن علی ندوی

 

ماخوذ: مطالعۂ اقبال کے سو سال

مرتبہ: رفیع الدین ہاشمی، سہیل عمر، وحید اختر عشرت

 

 

 

 

 

 

 

 

اقبال کی شخصیت کے وہ تخلیقی عناصر جس نے اقبال میں ایک مخصوص قسم کی گو نا گو نی رنگا رنگی پیدا کی ،اور جنھوں نے اقبال کو اس کے ہم عصروں سے زیادہ دل آویز، باعث کشش اور جاذب نظر بنا دیا چند ایسے عناصر ہیں جن کا تعلق اقبال کی علمی و ادبی اور تعلیمی کوششوں سے بہت ہی کم ہے ،اقبال کی شخصیت میں جو جامعیت ، بلندی فکر و خیال، سوز، درد کشش اور جاذبیت نظر آتی ہے، ان کا تعلق اقبال کی زندگی کے اس رخ سے ہے ، جسے ہم یقین و ایمان کہتے ہیں۔

دراصل اقبال کی شخصیت کے بنانے ، سنوارنے اور پروان چڑھانے میں عصر حاضر کے صرف ان تعلیمی اداروں اور یونیورسٹیوں کا ہاتھ نہیں ہے، جن میں اقبال نے داخل ہو کر علومِ عصر یہ اور مغربی تعلیم حاصل کی اگرچہ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اقبال علومِ جدیدہ اور مغربی تعلیم کا حصول ہندوستان ، انگلستان اور جرمنی میں ماہر اساتذہ سے کرتے رہے، اور وہاں کے علم و فن کے چشموں سے سیراب ہوتے رہے، یہاں تک کہ وہ عالمِ اسلامی میں مغربی علوم و افکار اور تہذیب و تمدن کے ماہرین میں منفرد شخصیت کے مالک ہو گئے، مغربی فلسفہ و اجتماع ، اخلاق اور سیاست و معیشت میں یورپ کے ایک متنحصص کی حیثیت حاصل کی ، اور علومِ جدید و قدیم میں بڑی گہری نگاہ حاصل کی ، لیکن اگر اقبال اس مقام پر پہنچ کر ٹھہر جاتے اور موجودہ تعلیمی اداروں کے پھلوں سے استفادہ کے بعد مطمئن ہو کر صرف اس حلاوت و مزہ سے لطف اندوز ہوتے رہتے تو پھر آج وہ ہمارا موضوعِ گفتگو نہیں بن سکتے تھے، اور نہ ادبِ اسلامی اور تاریخ ادب اسلامی ان کے شعر و ادب کے نغموں سے گونجتی رہتیں ، اور نہ علمی صدارت فکری زعامت اور اسلامی ذہن ان کے لیے اپنا دامن وسیع کرتا، اور نہ انھیں اس بلند مقام پر بٹھا کر فخر محسوس کرتا، اس کے لیے بڑی باریک اور بلند شرطیں ہیں ، کوئی شخص محض درس و تدریس علوم میں تنّوع اور کثرت تالیف و تصنیف کی وجہ سے اس مقام بلند تک نہیں پہنچ سکتا ، بلکہ اقبال اگر ان تعلیمی اداروں سے استفادہ کے بعد مطمئن ہو جاتے اور انھیں علوم و فنون کی علمی موشگافیوں میں اپنی دلچسپیوں کو محدود رکھتے تو زیادہ سے زیادہ فلسفہ ، معاشیات ، ادب اور تاریخ میں ایک ماہر استاد اور پروفیسر کی جگہ پاتے یا ایک بڑے پایہ کے مصنف علومِ عصریہ کے ماہر فن، صاحب اسلوب ادیب یا ایک اچھے شاعر ہوتے ، اور بس !یا پھر ایک کامیاب بیرسٹر، ایک اچھے جج یا حکومت کے ایک اچھے وزیر بنائے جاتے، لیکن آپ یقین کیجئے اگر اقبال ان میں سے کچھ بھی ہوتے تو زمانہ انھیں ویسے ہی بھلا دیتا جس طرح دنیا کے بڑے بڑے علما ، ادبا شعرا مصنفین، اور حکومتوں کے وزرا کو آج زمانے نے گوشہ عزلت و گمنامی میں ڈال رکھا ہے، اور آج کوئی نہیں جانتا کہ وہ کون تھے’ اور کیا تھے لیکن اقبال کی ذہانت و عبقریت ،ان کا زندہ جاوید پیغام اور ان کی ذہنوں اور دلوں کی تسخیر کرنے کی طاقت و کشش……ان تمام فضائل اور بلندیوں کا سبب ان دنیاوی تعلیمی اداروں سے جدا ، ایک دوسرا تعلیمی ادارہ ہے جس میں کہ اقبال نے تعلیم و تربیت حاصل کی بڑھے اور پروان چڑھے۔

میرا خیال ہے کہ آپ میں سے اکثر کا ذہن اس مخصوص ’’ادارہ‘‘ کی تلاش و جستجو میں پریشان ہو گا، اور آپ اس کے جاننے کے لیے بے چین ہوں گے کہ آخر وہ کون سا ادارہ ہے، جس نے اس ’’عظیم شاعر ‘‘کو پیدا کیا؟ اور وہ کون سے علوم ہیں جو اس میں پڑھائے جاتے ہیں ؟ کس زبان میں وہاں تعلیم ہوتی ہے ؟اور کیسے معلم وہاں تعلیم دیتے ہیں ’ بلاشبہ اس میں اعلیٰ درجے کے نگراں اور مربی ہونگے، جو ایسی ہی عظیم شخصیتیں پیدا کرتے ہیں ، (جیسے کہ اقبال تھے)مجھے یقین ہے کہ اگر آپ اس کے وجود اور محل و مقام سے واقف ہو جائیں تو پھر ضرور اس میں داخلہ کی کوشش کریں گے، اور اپنی تعلیم وتربیت کے لیے اپنے آپ کو اس بے نظیر و بے مثال ادارہ کے سپرد کر دیں گے۔

وہ ایک ایسا ’’ادارہ‘‘ ہے کہ جس نے اس میں تعلیم و تربیت حاصل کی ، اس کی ناکامی کا کوئی سوال نہیں ، جو وہاں سے نکلا وہ ضائع نہیں ہو سکتا ،وہ ایک ایسا ادارہ ہے کہ جہاں سے صرف ائمۂ فن، مجتہدین فکر، واضعین علوم، قائدین فکرو اصلاح،اور مجددین امت ہی پیدا ہوتے ہیں ، وہ جو کچھ لکھتے ہیں ، اس کے سمجھنے میں عام مدارس و یونیورسٹیوں کے طلبا و اساتذہ مشغول رہتے ہیں ، ان کی لکھی ہوئی چیزیں درس کے طور پر پڑھی پڑھائی جاتی ہیں ، ان کی تصنیفوں کی شرحیں لکھی جاتی ہیں ، ان کے اجمال کی تفصیل کی جاتی ہے، ان کے ثابت شدہ نظریات کی تائید و تشریح ہوتی ہے ان کے ایک ایک لفظ پر کتابیں لکھی جاتی ہیں :اور ان کی ایک ایک کتاب سے پورا پورا کتاب خانہ تیار ہو جاتا ہے، وہ ایک ایسا ادارہ ہے جہا ں تاریخ پڑھائی نہیں جاتی بلکہ تاریخ بنائی جاتی ہے ، وہاں افکار نظریات کی تشریح و توضیح نہیں ہوتی ، بلکہ افکار و نظریات وضع کئے جاتے ہیں ، آثار و نشانات کے کھوج نہیں لگائے جاتے بلکہ وہاں سے آثار و نشانات پیدا ہوتے ہیں ، یہ ادارہ اور مدرسہ ہر جگہ اور ہر زمانے میں پایا جاتا ہے، یہ دراصل ایک داخلی مدرسہ ہے ، جو ہر انسان کے ساتھ پیدا ہوتا ہے اور ہر انسان اسے اٹھائے ہر مقام پر لیے پھرتا ہے وہ  دل کا مدرسہ اور ضمیر و وجدان کا دبستان ہے، وہ ایک ایسا مدرسہ ہے جہاں روحانی پرداخت اور الٰہی تربیت ہوتی ہے۔

اقبال نے اس ادارہ سے اسی طرح تکمیل کی جس طرح دوسرے بہت سے وہبی انسان اس عظیم ادارہ سے تعلیم و تربیت کے بعد نکلے، اقبال کی سیرت و شخصیت اس کا علم و فضل اور اخلاق ، یہ سب کا سب مرہونِ منت ہے، اِس قلبی دبستان کا جس میں کہ اقبال نے برسوں زانوئے تلمذ تہہ کیا ہے، اقبال کے کلام کا مطالعہ اس حقیقت کی اچھی نشاندہی کرتا ہے کہ خارجی مدرسہ کی بہ نسبت داخلی مدرسہ نے اس کی زندگی میں ایک دردو سوز، تب و تاب اور ایک نئی قوت و توانائی بخشی ، اگر وہ اپنے داخلی مدرسے میں تعلیم و تربیت حاصل نہ کرتا تو پھر نہ اُس کی یہ جاذب نظر شخصیت ہی ظاہر ہوتی ، اور نہ اس کا شعور و وجدان اس قدر شعلہ جانسوز نظر آتا، اور نہ اس کا آتشیں پیام قلب و نظر کے لیے سوزِ جاوداں ثابت ہوتا اقبال کے کلام میں اس ادارہ کے اساتذہ  و معلمین اور مربین کا ذکر و اعتراف بہت ہی کثرت سے ملتا ہے

وہ تخلیقی عناصر جنھوں نے اقبال کی شخصیت کو بنایا، بڑھایا اور پروان چڑھایا وہ دراصل اقبال کو اپنے داخلی مدرسہ میں حاصل ہوئے، یہ پانچ تخلیقی عناصر ہیں جنھوں نے اقبال کی شخصیت کو ’’زندۂ جاوید‘‘ بنا دیا۔

ان میں سے پہلا عنصر جو اقبال کو اپنے داخلی مدرسہ میں داخلہ کے بعد اول  ہی دن حاصل  ہوا وہ اس کا ’’ایمان و یقین ‘‘ ہے ،یہی یقین اقبال کا سب سے پہلا مربی اور مرشد ہے ، اور یہی اس کی طاقت و قوت اور حکمت و فراست کا منبع اور سرچشمہ ہے، لیکن اقبال کا وہ یقین و ایمان اس خشک جامد ایمان کی طرح نہیں ، جو بے جان تصدیق یا محض جامد عقیدہ ہے، بلکہ اقبال کا’’ یقین‘‘ عقیدہ و محبت کا ایک ایسا حسین امتزاج ہے جو اس کے قلب و وجدان، اس کی عقل وفکر ، اس کے ارادہ و تصرف اُس کی دوستی و دشمنی غرضکہ اس کی ساری زندگی پرچھایا ہوا ہے ، یہی وجہ ہے کہ اقبال اسلام اور اس کے پیغام کے بارے میں نہایت راسخ الایمان تھے، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ ان کی محبت ، شغف اور ان کا اخلاص انتہا درجہ کا تھا، اس لیے ان کے نزدیک اسلام ہی ایک ایسا زندہ جاوید دین ہے کہ اس کے بغیر انسانیت فلاح و سعادت کے بامِ عروج تک پہنچ ہی نہیں سکتی اور نبی صلی اللہ علیہ و سلم رشد و ہدایت کے آخری مینار ،نبوت و رسالت کے خاتم اور مولائے کل ہیں :۔

وہ دانائے سبل ، ختم الرسل ،مولائے کل جس نے

غبارِ راہ کو بخشا فروغِ وادی سینا

اس دورِ مادیت اور مغربی تہذیب و تمدن کی ظاہری چمک و دمک سے اقبال کی آنکھیں خیرہ نہ ہو سکیں ، حالانکہ اقبال نے جلوہ دانش فرنگ میں زندگی کے طویل ایام گذارے اس کی وجہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ اقبال  کی وہی والہانہ محبت ، جذبہ عشق اور روحانی وابستگی تھی، اور بلاشبہ ایک حْبِّ صادق اور عشقِ حقیقی ہی قلب و نظر کے لیے ایک اچھا محافظ اور پاسبان بن سکتا  ہے:

 

خیرہ نہ کر سکا مجھے جلوہ دانشِ فرنگ

سرمہ ہے میری آنکھ کا خاکِ مدینہ و نجف

 

عذاب دانش حاضر سے باخبر ہوں میں

کہ میں اس آگ میں ڈالا گیا ہوں مثلِ خلیلؐ

 

رہے ہیں ،اور ہیں ،فرعون میری گھات میں اب تک

مگر کیا غم کہ میری آستیں میں ہے ید  بیضا

 

عجب کیا گر مہ و پر ویں مرے نخچیر ہو جائیں

کہ بر فتراک صاحب دولتے بستم سرِ خود را

 

علامہ اقبال نے اپنی کتاب اسرار خودی میں ملتِ اسلامیہ کی زندگی کی بنیادوں اور ان ستونوں کے ذکر کے سلسلہ میں جس پر حیات ملتِ اسلامیہ موقوف ہے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ اپنے روحانی تعلق ، دائمی وابستگی اور اپنی فداکارانہ مُحبّت کا بھی ذکر کیا ہے ، جب وہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم کا تذکرہ کرتے ہیں تو ان کا شعری وجدان جوش مارنے لگتا ہے، اور نعتیہ اشعار ابلنے لگتے ہیں ایسا محسوس ہوتا ہے ، جیسے محبت و عقیدت کے چشمے پھُوٹ پڑے ہیں ، اس سلسلہ میں چندا شعار پیشِ خدمت ہیں۔ جِن سے اقبال کے مُحبّت بھرے جذبات کا قدرے اندازہ ہو گا:

 

درِ دل مسلم مقام مصطفیٰ است

آبروئے ما ز نام مصطفیٰ است

بوریا ممنون خوابِ راحتش

تاج کسریٰ زیر پائے امّتش

درشبستانِ حرِا خلوت گزید

قوم و آئین وحکومت آفرید

ماند شبہا چشمِ او محرومِ نوم

تابہ تخت خسروی خوابید قوم

وقت ہیجاتیغ اور آہن گداز

دیدۂ او اشکبار اندر نماز

در دعائے نصرت آمیں تیغ اُو

قاطع نسلِ سلاطیں تیغ  او

در جہاں آئین نو آغاز کرد

مسندِ اقوام پیشییں درنورد

از کلید دیں درِ دنیا کشاد

ہمچو او بطن اُمِ گیتی نزاد

درنگاہِ او یکے بالا و پست

با غلام خویش بریک خوا نشست

در مصافے پیش آں گردوں سریر

دختر سر دار طے آمد اسیر

پائے در زنجیر و ہم بے پردہ بود

گردن ازشرم و حیا خم کردہ بود

دخترک راچوں نبیؐ بے پردہ دید

چادر خود پیش روے او کشید

آں کہ براعدا درِ رحمت کشاد

مکہ راپیغام لا تثریب داد

ماکہ از قیدِ وطن بیگانہ ایم

چوں نگہ نوردوچشیم ویکیم

از حجاز وچین و ایرانیم ما

شبنم یک صبح خندا نیم ما

مست چشم ساقی بطحا ستیم

در جہاں مثل مے ومینا ستیم

امتیازاتِ نسب را پاک سو خت

آتش اوایں خس وخاشاک سوخت

شورِ عشقش درنیٔ خاموش من

می تپد صد نغمہ در آغوشِ من

من چہ گوئم ازتولائش کہ چسیت

خشک چوبے در فراقِ او گریست

ہستیِ مسلم تجلی گاہِ او

طور ہا بالدفاصلہ زگرد راہِ اُو

 

جوں جوں زندگی کے دن گذرتے گئے، اقبال کی نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ والہانہ محبت و الفت بڑھتی ہی گئے ، یہاں تک کہ آخری عمر میں جب بھی ان کی مجلس میں نبی صلی اللہ علیہ و سلم کا ذکر آتا یا مدینہ منورہ کا تذکرہ ہوتا، تو اقبال بے قرار ہو جاتے ،آنکھیں پُر آب ہو جاتیں یہاں تک کہ آنسو رواں ہو جاتے ، یہی وہ گہری محبت تھی ، جو ان کی زبان سے الہامی شعروں کو جاری کر دیتی تھی چنانچہ اللہ تعالیٰ کو مخاطب کرتے ہوئے فرماتے ہیں :۔

مکن رسوا حضور خواجہؐ مارا

حساب من زچشم اونہاں گیر

یہ شعر محبت و عقیدت کا کتنا اچھا مظہر ہے۔

دراصل علامہ اقبال کا یہی وہ ایمانِ کامل اور حبِّ صادق تھی، جس نے اقبال کے کلام میں یہ جوش، یہ ولولہ ، یہ سوز و گداز پیدا کر دیا، اگر آپ تاریخ کا مطالعہ کریں گے تو یہ حقیقت عیاں ہو جائے گی، کہ دراصل رقت انگیز شعر، عمیق فکر ، روشن حکمت ، بلند معنویت ، نمایاں شجاعت، نادر شخصیت اور عبقریت  Geniusکا حقیقی منبع و سر چشمہ محبت و یقین ہی ہے، اور تاریخ عالم میں جو کچھ بھی انسانی کمالات یا دائمی آثار و نشانات نظر آتے ہیں ، وہ سب کے سب اسی محبت و یقین کے مرہونِ منت ہیں ، اگر کوئی شخصیت یقین کے جذبہ سے خالی ہو تو پھر وہ صرف گوشت و پوست کی صورت ہے اور اگر پوری امت اس سے خالی ہے ، تو پھر اس کی وقعت بکریوں اور بھیڑوں کے گلے سے زیادہ نہیں ، اور اس طرح اگر کسی کلام میں یقین و محبت کی روح کار فرما نہیں ہے تو پھر وہ ایک مقفیٰ اور موزوں کلام تو ہو سکتا ہے، لیکن ایک زندہ جاوید کلام نہیں بن سکتا اور جب کوئی کتاب اس روح سے خالی ہو تو اس کتاب کی حیثیت مجموعہ اوراق سے زیادہ نہیں ہو گی اور اسی طرح اگر کسی عبادت میں محبت و یقین کا جذبہ شامل نہیں ہے تو پھر وہ ایک بے روح ڈھانچہ ہے، غرضکہ پوری زندگی اگر محبت و یقین کے جذبہ سے خالی ہے تو پھر وہ زندگی زندگی نہیں ، بلکہ موت ہے ،اور پھر ایسی زندگی کیا ؟ جس میں طبیعتیں مردہ و افسردہ ہوں ، نظم و نثر کے سر چشمے خشک ہوں ، اور زندگی کے شعلے بجھ چکے ہوں ، ایسی حالت میں یقین کامل اور حُبِّ صادق ہی حیاتِ انسانی میں جلا پیدا کرتی ہے، اور انسانی زندگی نور و رنگ سے معمور ہو جاتی ہے، پھر شکستہ،پُر سوز و پُر درد روح نواز اور جاں بخش کلام سننے میں آتے ہیں ، خارقِ شجاعت و قوت دیکھنے میں آتی ہے، اور علم و ادب کے نقوش بھی زندہ جاوید بن جاتے ہیں ، یہاں تک کہ یہی محبت اگر پانی ، مٹی اور اینٹ پتھر میں داخل ہو جائے تو اس کو بھی زندہ جاوید بنا دیتی ہے، ہمارے سامنے اس کی روشن مثال مسجد قرطبہ، قصرِ زہرا اور تاج محل ہیں ، سچ تویہ ہے کہ محبت و یقین کے بغیر ادب و فن مردہ و افسردہ و نا تمام ہیں :۔

نقش ہیں سب نا تمام خونِ جگر کے بغیر

نغمہ ہے سودائے خام خونِ جگر کے بغیر

بڑی غلط فہمی میں وہ لوگ مبتلا ہیں جو یہ سمجھتے ہیں کہ اہل علم حضرات اپنی قوتِ علم،کثرتِ معلومات اور ذکاوت و ذہانت کی وجہ سے ایک دوسرے سے سبقت لے جاتے ہیں یا ایک دوسرے پر فضلیت رکھتے ہیں ، اور اسی طرح شعرا کو ان کی فطری قوت شاعری،لفظوں کا حسن انتخاب ، معانی کی بلاغت ، انھیں ایک دوسرے سے ممتاز کرتی ہے اور مصلحین وقت اور قائدین ملت کی بلندی و پستی موقوف ہے ان کی ذہانت کی تیزی ، خطابت کی بلندی، سیاسی سوجھ بوجھ اور حکمت عملی پر !حالانکہ ایسا نہیں ہے،حقیقت یہ ہے کہ ان میں سے ہر ایک کی فضلیت و بلندی کا دارومدار محبت و اخلاص پر ہے،ان کی سچی محبت اور مقصد سے اخلاص کامل ہی ان کی عظمت و بزرگی کا سبب ہے، کہ اس کا مقصد و موضوع اور غرض و غایت اس کی روح میں سرایت کر جاتی ہے قلب میں جاگزیں ہو جاتی ہے،اور فکر و عمل پرچھا جاتی ہے، اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اس کی ذاتی خواہش مغلوب اور شخصیت تحلیل ہو جاتی ہے ، اب وہ جب کوئی بات کرتا ہے تو مقصد کی زبان سے کرتا ہے،جب کچھ لکھتا ہے، تو مقصد کے قلم سے لکھتا ہے، غرضکہ اس کے فکرو خیال ،دل و دماغ اور اس کی پوری زندگی پر اس کا مقصد چھا جاتا ہے۔

ایک عظیم گناہ جو اس جدید تمدن کا پیدا کردہ ہے وہ ہے مادہ پرستی اور پھر اس سے نفع پسندی ، جنسی محبت اور نفسانی خواہش!جو درحقیقت جدید عصری مادی تعلیم کا ثمرہ ہے، جس نے ہماری نئی نسلوں کو تباہ کر رکھا ہے، اور آج حال یہ ہے کہ ان کے قلوب ، ایمان کی حرارت ، حُبِّ صادق کی تپش اور یقین کے سوز سے خالی ہیں ، اور یہ عالم نو ایک ایسی متحرک شے بن کر رہ گیا ہے کہ جس میں نہ کوئی زندگی ہے، اور نہ کوئی روح نہ شعور و وجدان ہے، نہ مسرت و غم کا احساس !اس کی مثال اس جامد شے کی طرح ہے، جو کسی جابر و قاہر شخص کے دستِ تصرف میں ہو، وہ جس طرح چاہے اسے حرکت دے اور استعمال کرے۔

جب آپ اقبال کے کلام کا مطالعہ کریں گے تو آپ کو اندازہ ہو گا کہ اقبال کا کلام ہمارے جانے پہچانے شعرا سے بہت کچھ مختلف ہے ، اقبال کا کلام ہمارے شعور و احساس قلب و وجدان اور اعصاب میں حرکت و حرارت ، سوز و گداز، درد و تپش پیدا کرتا ہے، اور پھر ایک ایسا شعلۂ جوالہ بن کر بھڑک اٹھتا ہے جس کی گرمی سے مادیت کی زنجیریں پگھل جاتی ہیں ، فاسد معاشرہ اور باطل قدروں کے ڈھیر ،جل کر فنا ہو جاتے ہیں ، جس سے اس بات کا اندازہ ہوتا ہے کہ شاعر کس قدر طاقت ور ایمان، پر درد و پر سوز سینہ اور بے چین روح رکھتا ہے ، قابل صد ستائش ہے وہ دوسرا مدرسہ جس نے اتنی اچھی تربیت کی اور ایسی قابل قدر شخصیت تیار کی۔

اقبال کی شخصیت کو بنانے والا دوسرا عنصر وہ ہے جو آج ہر مسلمان گھر میں موجود ہے،مگر افسوس کہ آج خود مسلمان اس کی روشنی سے محروم،اس کے علم و حکمت سے بے بہرہ ہیں ،میری مراد اس سے قرآن مجید ہے، اقبال کی زندگی پر یہ عظیم کتاب جس قدر …..اثر انداز ہوئی ہے ،اقبال کا ایمان چونکہ ’’نو مسلم‘‘ کا سا ہے، خاندانی وراثت کے طور پر انھیں نہیں ملا ہے اس لیے ان کے اندر نسلی مسلمانوں کے مقابلے میں قرآن سے شغف،اور شعورو احساس کے ساتھ مطالعہ کا ذوق بہت ہی مختلف رہا ہے ، جیسا کہ خود اقبال نے اپنے قرآن مجید پڑھنے کے سلسلے میں ایک واقعہ بیان کیا ہے کہ ان کا یہ ہمیشہ کا دستور تھا کہ روزانہ بعد نماز صبح قرآنِ مجید کی تلاوت کیا کرتے تھے، اقبال کے والد جب انھیں دیکھتے تو فرماتے کیا کر رہے ہو؟ اقبال جواب دیتے ابا جان !آپ مجھ سے روزانہ پوچھتے ہیں ، اور میں ایک ہی جواب دیتا ہوں اور پھر آپ خاموش چلے جاتے ہیں تو انھوں نے جواب دیا کہ میں تم سے کہنا چاہتا ہوں کہ تم قرآن اس طرح پڑھا کرو کہ جیسے قرآن اسی وقت تم پر نازل ہو رہا ہے، اس کے بعد سے اقبال نے قرآن برابر سمجھ کر پڑھنا شروع کیا اور اس طرح کہ گویا وہ واقعی ان پر نازل ہو رہا ہے، اپنے ایک شعر میں بھی وہ اس کا اظہار یوں فرماتے ہیں :۔

ترے ضمیر پہ جب تک نہ ہو نزولِ کتاب

گرہ کشا ہے نہ رازی نہ صاحبِ کشّاف

علامہ اقبال نے اپنی پوری زندگی قرآن مجید میں غور و فکر اور تدبر و تفکر کرتے گذاری ، قرآن مجید پڑھتے ، قرآن سوچتے ، قرآن بولتے، قرآن مجید ان کی وہ محبوب کتاب تھی جس سے انھیں نئے نئے علوم کا انکشاف ہوتا ، اس سے انھیں ایک نیا یقین ، ایک نئی روشنی ، اور ایک نئی قوت و توانائی حاصل ہوتی ، جوں جوں ان کا مطالعہ قرآن بڑھتا گیا ، ان کے فکر میں بلندی اور ایمان میں زیادتی ہوتی گئی ، اس لیے کہ قرآن ہی ایک ایسی زندہ جاوید کتاب ہے جو انسان کو لَدُنی علم اور ابدی سعادت سے بہرہ ور کرتی ہے وہ ایک ایسی شاہ کلید ہے کہ حیات انسانی کے شعبوں میں سے جس شعبہ پر بھی اسے لگائیے ، فوراً کھل جائے گا، وہ زندگی کا ایک واضح دستور اور ظلمتوں میں روشنی کا مینار ہے۔

تیسرا عنصر جس کا اقبال کی شخصیت کی تعمیر میں بڑا دخل ہے، وہ عرفان نفس اور   خودی ہے ، علامہ اقبال نے عرفانِ ذات پر بہت زور دیا ہے، انسانی شخصیت کی حقیقی تعمیر ان کے نزدیک منت کشِ خودی ہے جب تک عرفانِ ذات نہ حاصل ہو ،اس وقت تک زندگی میں سوز و مستی ہے ،اور نہ جذب و شوق !اس سلسلہ میں اقبال کے یہ شعر ان کے فکر کی پوری ترجمانی کرتے ہیں :

 

اپنے من میں ڈوب کر پا جا  سراغ زندگی

تو اگر میرا نہیں بنتا ،نہ بن ، اپنا تو بن

من کی دنیا؟ من کی دنیا ، سوز و مستی جذب و شوق

تن کی دنیا ؟ تن کی دنیا ، سود و سودا،مکر و فن

من کی دولت ہاتھ آتی  ہے تو پھر جاتی نہیں

تن کی دولت چھاؤں ہے ،آتا ہے دھن جاتا ہے دھن

من کی دنیا میں نہ پایا میں نے افرنگی کا راج

من کی دنیا میں نہ دیکھے میں نے شیخ و برہمن

پانی پانی کر گئی مجھ کو قلندر کی یہ بات

تو جھکا جب غیر کے آگے، نہ من تیرا ، نہ تن

 

ان کے کلام میں معنوی بلندی کے ساتھ ساتھ ، لفظوں کی بندش ہم آہنگی ، اتار چڑھاؤ روانی و تسلسل ، اور موسیقیت اس قدر زیادہ ہے کہ بار بار پڑھنے کو جی چاہتا ہے۔

علامہ اقبال کو خودی کی تربیت اور عرفانِ نفس پر بڑا اعتماد تھا ، ان کے نزدیک خود شناسی و خود آگاہی انسان کو اسرار شہنشہی سکھلاتے ہیں ، عطا رہوں یا رومی رازی ہوں یا غزالی ، بغیر عرفانِ نفس کے کسی کو کچھ حاصل نہیں ہوتا اسی عرفانِ نفس کا نتیجہ تھا کہ اقبال نے اس رزق پر موت کو ترجیح دی جس رزق سے پرواز میں کوتا ہی آتی ہو اور دارا و سکندر سے وہ مردِ فقیر اقبال کے خیال میں زیادہ بہتر ہے جس کی فقیری میں حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی خُو بُو اور ان کا اسوہ ہو اور حق تو یہ ہے کہ عرفانِ نفس اور عرفانِ ذات ہی کے حصول کے بعد انسان جرات سے اس بات کا اظہار کر سکتا ہے کہ:۔

آئینِ جواں مرداں حق گوئی و بے باکی

اللہ کے شیروں کو آتی نہیں روباہی

اقبال کا تصور خودی خود اقبال میں اس قدر رچ بس گیا کہ ان کی زندگی عرفانِ نفس کا زندہ نمونہ تھی ، ان کی زندگی کے اوراق میں ان کی خودی ،خود داری ،خود اعتمادی کے نقوش بہت ابھرے ہوئے نظر آتے ہیں ، عرفانِ نفس ہی کے لیے دوسروں کو مخاطب کر کے وہ اپنے آپ کو کہتے ہیں۔

 

اپنے رازق کو نہ پہچانے تو محتاج ملوک

اور پہچانے تو ہیں تیرے گدا دارا و جم

دل کی آزادی شہنشاہی ، شکم سامانِ موت

فیصلہ تیرا ترے ہاتھوں میں ہے دل یا شکم

 

بلاشبہ اقبال نے شکم کے مقابلے میں دل کو ترجیح دی ، اور دل ہی کو اختیار کیا۔

یہ عرفانِ نفس ہی کا کرشمہ تھا جس نے اقبال کو ہر قسم کی فکری اور ادبی بے راہ روی سے محفوظ رکھا، حالانکہ یہی دونوں چیزیں ہمارے عام ادبا و شعرا اور مصنفین کو ہر چراگاہ میں منھ مار لینے ،ہر وادی میں بھٹکنے اور ہر موضوع پر لکھنے کے لیے آمادہ کرتی ہیں ، خواہ وہ ان کے عقیدہ و خیال کے موافق ہو یا نہ ہو جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنی زندگی کے آخری ایام تک نہ اپنی شخصیت کو پہچانتے ہیں ، اور نہ اپنے پیغام سے واقف ہوتے ہیں ،لیکن اقبال نے اول ہی دن سے اپنی ذات اور شخصیت کو اچھی طرح پہچانا ،اپنی وہبی صلاحیتوں کا صحیح صحیح اندازہ کیا، اور پھر صلاحیتوں ،شعری قوتوں کو مسلمانوں کی زندگی کے ابھارنے ان میں روح و زندگی پیدا کرنے ،اور یقین و ایمان کی دبی ہوئی چنگاریوں کو بھڑکانے میں صرف کیا ، اور ان میں قوت و حریت اور سیادت و قیادت کا احساس دلایا ،اقبال ایک فطری اور وہبی شاعر تھے، اگر وہ  شاعر نہ بننے کی کوشش کرتے تو کامیاب نہ ہوتے، شعر کہنے پر وہ مجبور تھے، اُن کی شاعری رستے ہوئے قلب،پر جوش  و پر سوز دل، معانی کی معنویت اور الفاظ کی شوکت کی آئینہ دار تھی، وہ ایک قادر الکلام ماہر فن شاعر تھے ، ان کے ہمعصر شعراء نہ صرف یہ کہ ان کی امامت اور کلام میں اعجاز کے قائل تھے ، بلکہ زبان تراکیب معانی افکار جدتِ تشبیہ ہر چیز سے متاثر تھے  ، ان کی شاعری کو عظیم بنانے میں انگریزی اور جرمن شعرو ادب اور فارسی شاعری کا بھی بڑا دخل ہے لیکن ان سب باتوں کے عرض کرنے کا یہ مطلب نہیں ہے کہ اقبال کے ہمعصروں میں کوئی اچھا اور اونچا شاعر ہی نہ تھا، بلکہ اچھے سے اچھے اور اونچے اونچے ادیب و شاعر موجود تھے جو اپنے الفاظ کی فصاحت معنی کی بلاغت ، استعارہ و تشبیہ کی جدت میں اپنی نظیر نہیں رکھتے تھے لیکن جو چیز کہ اقبال کو اپنے ہمعصروں سے ممتاز کر دیتی ہے وہ ہے ان کی شاعرانہ عظمت ،ادبی قوت ، فنی ذہانت جبلی عبقریت اور ان سب کے ساتھ ساتھ اسلام کا پیغام !اقبال نہ قومی شاعر تھے،اور نہ وطنی اور نہ عام رومانی شاعروں کی طرح ان کی شاعری بھی شراب و شاہد کی مرہون منت تھی، اور نہ ان کی شاعری نری حکمت و فلسفہ کی شاعری تھی، ان کے پاس اسلام کی دعوت اور قرآن کا پیغام تھا، جس طرح ہوا کے جھونکے پھولوں کی خوشبو پھیلاتے ہیں ،اور جس طرح اس زمانے میں برقی لہروں سے پیغامات کے پہچانے کا کام لیا جاتا ہے اسی طرح اقبال بھی اپنے اس پیغام کو شعر کی زبان میں کہتے تھے تاکہ ان کے پیغام کے لیے شعر ،برقی لہروں کا کام دے ،بلاشبہ اقبال کی شاعری نے خواب غفلت میں پڑی ہوئی قوم کو بیدار کر دیا اور ان کے دلوں میں ایمان و یقین کی چنگاری پیدا کر دی ، تو یہ سب کچھ صرف اس وجہ سے ہوا کہ اقبال نے اپنے آپ کو پہچانا اپنی وہبی شخصیت و قوت کا صحیح اندازہ کیا، اور ان کو اصل مقام پر استعمال کیا۔

وہ چوتھا عنصر جس نے اقبال کی شخصیت کو بنایا ، پروان چڑھایا ،اور اس کی شاعری کونت نئے معانی ،افکار کی جولانی اور قوت تاثیر عطا کی ،  ان میں کتابوں کی درس و تدریس اور مطالعہ کے شوق و انہماک کا کوئی دخل نہیں ہے، بلکہ اقبال کی آہِ سحر گاہی اس کا اصل سرچشمہ ہے جب سارا عالم خواب غفلت میں پڑا سوتا رہتا اس اخیر شب میں اقبال کا اٹھنا اور اپنے رب کے سامنے سجدہ ریز ہو جانا ، پھر گڑگڑانا اور رونا، یہی چیز تھی جواس کی روح کو ایک نئی نشاط اس کے قلب کو ایک نئی روشنی اور اس کو ایک نئی فکری غذا عطا کرتی پھر وہ ہر دن اپنے دوستوں اور پڑھنے والوں کے سامنے ایک نیا شعر پیش کرتا، جو انسانوں کو ایک نئی قوت ، ایک نئی روشنی اور ایک نئی زندگی عطا کرتا۔

اقبال کے نزدیک آہ سحر گاہی زندگی کا بہت ہی عزیز سرمایہ ہے بڑے سے بڑے عالم و زاہد اور حکیم و مفکر اس سے مستغنی نہیں ،چنانچہ فرماتے ہیں :۔

عطار ہو رومی ہو رازی  ہو غزالی ہو

کچھ ہاتھ نہیں آتا بے آہِ سحرگاہی

اقبال علی الصباح اٹھنے کا بہت ہی اہتمام رکھتے تھے، سفرو حضر ہر مقام اور ہر کہیں ان کے لیے سحر خیزی ضروری تھی:۔

زمستانی ہوا میں گرچہ تھی شمشیر کی تیزی

نہ چھوٹے مجھ سے لندن میں بھی آدابِ سحر خیزی

اور صرف یہیں تک نہیں بلکہ اس کی تمنا بھی کرتے ہیں کہ خداوند مجھ سے تو جو چاہے چھین لے لیکن لذت آہِ سحر گاہی سے مجھے محروم نہ کر:۔

نہ چھین لذت آہِ سحر گہی مجھ سے

نہ کر نگہ سے تغافل کو التفات آمیز

یہی وجہ تھی کہ وہ جوانوں میں اپنی اس آہ و سوز،اور درد و تپش کو دیکھنے کی تمنا کرتے تھے، اور دعائیں کرتے کہ خداوندا یہ میرا سوزِ جگر اور میرا عشق و نظر آج کل کے مسلم نوجوانوں کو بخش دے:

 

جوانوں کو سوز جگر بخش دے

مرا عشق ، میری نظر بخش دے

اسی بات کو ایک دوسری نظم میں اس طرح فرماتے ہیں :۔

جوانوں کو مری آہِ سحر دے

تو ان شاہیں بچوں کو بال و پر دے

خدایا آرزو میری یہی ہے

مرا نورِ بصیرت عام کر دے

 

اور اس میں کوئی شک نہیں کہ اقبال کے دل سے نکلی ہوئی یہ دعائیں بے اثر نہیں گئیں اور آج سارے عالم اسلام میں خالص اسلامی فکر و نظر لیے نوجوانوں کی ایک نئی نسل ابھر رہی ہے۔

دیکھئے اس بحر کی تہہ سے اچھلتا ہے کیا

گنبد نیلو فری رنگ بدلتا ہے کیا

آخری موثر عنصر جس نے اقبال کی شخصیت کی تخلیق میں اہم حصہ لیا ہے، وہ مولانا جلال الدین رومی کی’’ مثنوی معنوی‘‘ ہے یہ کتاب مولانا رومی کی مشہور مثنوی ہے، جو فارسی زبان میں وجدانی تاثر اور اندرونی شدت کی بنا پر لکھی گئی ہے، دراصل یونانی فلسفہ عقلیات مولانا رومی کے دور میں جس طرح چھا چکا تھا اور کلامی مباحث خشک فلسفیانہ موشگافیاں مسلمانوں کی ذہنوں ، دینی مدرسوں اور علمی اداروں میں جس طرح سرایت کر چکی تھیں ، اس سے ہٹ کر کوئی شخص سوچ بھی نہیں سکتا تھا، اس صورت حال سے متاثر ہو کر مولانا روم نے مثنوی لکھنی شروع کی جو اپنے اندر قوت حیات کے ساتھ ادبی بلندی، معانی کی جدت ، حکیمانہ مثالوں اور نکتوں کے بیش بہا خزینے سمٹیے ہوئے ہے، اس کتاب نے اس دور سے لے کر آج تک ہزاروں انسانوں کو متاثر کیا ہے ان کے قلب و نظر میں تبدیلی کی ہے اسلامی کتب خانے میں اپنے انداز پر یہ ایک بے نظیر و بے مثال کتاب ہے، اس دور جدید میں ، جبکہ اقبال کو یورپ کے مادی و عقلی، بے روح و بے خدا افکار و خیالات سے سابقہ پڑا،اور مادہ و روح کی کشمکش اپنے پورے عروج کے ساتھ سامنے آئی تو اس قلبی اضطراب اور فکری انتشار کے موقع پر اقبال نے مولانا روم کی مثنوی سے مدد لی، اس کشمکش میں مولانا روم نے ان کو بہت کچھ سہارا دیا، یہاں تک کہ اقبال نے پیر روم کو اپنا کامل رہنما تسلیم کر لیا، اور صاف صاف اعلان کر دیا کہ عقل و خرد کی ساری گتھیاں جسے یورپ کی مادیت نے اور الجھا دیا ہے، ان کا حل صرف آتشِ رومی کے سوز میں پنہاں ہے، اور میری نگاہِ فکر اسی فیض سے روشن ہے، اور آج یہ اسی کا احسان ہے کہ میرے چھوٹے سے سبو میں فکر و نظر کا ایک بحر ذخار پوشیدہ ہے:

 

علاج آتش رومی کے سوز میں ہے ترا

تری خرد پہ ہے غالب فرنگیوں کا فسوں

اسی کے فیض سے میری نگاہ ہے روشن

اسی کے فیض سے میرے سبو میں ہے جیحوں

 

مولانا روم سے اپنی اس محبت و عقیدت کا اظہار اقبال نے بار بار کیا ہے اور انھیں ہمیشہ ’’پیر روم‘‘(۱) کے نام سے یاد کرتے ہیں :۔

صحبت(۲) پیر روم سے مجھ پہ ہوا یہ راز فاش

لاکھ حکیم سر بجیب، ایک کلیم سربکف

اقبال اس بیسویں صدی کے خالص صنعتی و مادی دور میں پھر کسی ’’رومی ‘‘کے منتظر ہیں ، ان کے نزدیک مادیت کا رنگ عشق کی بھٹی ہی میں صاف ہو سکتا ہے، اور اس کے لیے آتشِ رومی کی ضرورت ہے:۔

نہ اٹھا پھر کوئی رومی عجم کے لالہ زاروں سے

وہی آب و گل ایراں ، وہی تبریز ہے ساقی

لیکن اقبال مایوس نہیں ہیں بلکہ اپنے کشتِ ویراں سے بہت ہی پر امید ہیں۔

نہیں ہے نا امید اقبال اپنی کشتِ ویراں سے

ذرا نم ہو، تو یہ مٹی بہت زرخیز ہے ساقی

یہی وہ پانچ عناصر ہیں جنھوں نے اقبال کی شخصیت کی تخلیق کی، اور یہ عناصر دراصل اسی دوسرے مدرسہ کے فیض و تربیت کے نتائج ہیں جس نے اقبال کو مضبوط عقیدہ، قوی ایمان، سلیم فکر اور بلند پیغام عطا کیا، اور جس نے اقبال کو ’’اقبال‘‘ بنایا۔

 

نقوش اقبال، ادارہ نشریات اسلام کراچی، ۱۹۷۲ء لاہور

٭٭٭

 

حواشی

 

۱۔   پیر رومی مرشد روشن ضمیر۔ کا روانِ عشق و مستی را امیر۔ اقبال

۲۔  یعنی مطالعہ مثنوی

٭٭٭

تشکر: وسیع اللہ کھوکھر جن کےتوسط سے فائل کا حصول ہوا

تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید