FavoriteLoadingپسندیدہ کتابوں میں شامل کریں

 

 

فاقصص القصص

 

(افسانوں کے متعلق چند باتیں )

 

ماخوذ: ادب سلسلہ شمارہ ۱، مدیر اعزازی: تبسم فاطمہ

 

 

                   حقانی القاسمی

 

 

 

 

 

مہاتما بدھ نے کہا تھا کہ لوگ بچوں کی مانند ہیں اور کہانیاں سننا پسند کرتے ہیں۔ مگر میں جس عہد میں زندہ ہوں، اس عہد میں آدمی کے اندر کا بچہ مر چکا ہے۔

(انتظار حسین)

 

کہانی کسے کہتے ہے ؟ اس کا شجرۂ نسب کیا ہے ؟ مجھے نہیں پتہ!

]شایدکہانی کدم کا پھول ہے، کٹج کی کلی ہے، کرشن کی بانسری ہے یا جوہی، کیتکی، یاسمن، نیلوفر، سنبل، مالتی، سرس، سوسن، ریحان، رعنا، زیبا، کبود کی خوشبوؤں کا منتھن ہے۔ [

کہانی جب کرشن کی بانسری بن جاتی ہے تو کہانی کو معراج نصیب ہوتی ہے۔ جس کہانی میں کرشن کی بانسری نہ ہو، وہ کہانی، کہانی نہیں ہوتی۔ کہانی تو ’مدھوبن‘ میں جنم لیتی ہے۔ لکشمی کے مدور استنوں پر وشرام کرتی ہے۔

]شاید استنوں سے لذت اور قوت کشید کرنے کا نام ہی کہانی ہے۔ اِندر کی زعفرانی شراب بھی کہانی ہے اور محافے میں بیٹھی ہوئی حسین دلربا قتالۂ عالم رقاصۂ فلک بھی۔ [

کہانی کا محل وقوع گنگا، جمنا اور سرسوتی کے ساحل بھی ہیں اور دارۂ جلجل بھی۔ کہانی قتّان پہ بھی رہتی ہے، کتیفہ پہ بھی۔ دماوند میں بھی، دمون میں بھی۔ راوی میں بھی، راہون میں بھی۔ زبرجد پہ بھی، زبرون میں بھی۔ شعب بوان میں بھی، شوالک میں بھی۔ ہر مکھ میں بھی، ہمالہ میں بھی۔ کہانیاں وہی زندہ رہتی ہیں جن کے اندر تخلیقیت کا ترفع اور تجمل ہو۔ بغیر تجمل اور ترفع کے کہانی زندہ نہیں رہتی۔ ہماری افسانوی تاریخ میں ’مشہود بالاجادہ‘ کہانیوں کی تعداد کچھ زیادہ نہیں۔ ہاں کچھ ناقابل فراموش افسانے ضرور ہیں مثلاً کفن (پریم چند) ان داتا (کرشن چندر) پھندنے، ٹوبہ ٹیک سنگھ (منٹو) لاجونتی (بیدی) لحاف (عصمت چغتائی) سوکھے ساون (ضمیرالدین احمد) مدن سینا اور صدیاں (عزیز احمد) میگھ ملہار (ممتاز شیریں ) کچھوے، آخری آدمی، کشتی (انتظار حسین)گائے، کونپل (انور سجاد) ماچس، کمپوزیشن، سریز (بلراج مینرا) تلقارمس، جمغورہ الفریم (سریندر پرکاش) فوٹو گرافر، ہاؤسنگ، سوسائٹی (قرۃ العین حیدر) رقص مقابر (زاہدہ حنا) سواری (خالدہ حسین) کلو (بانو قدسیہ) عطر کافور (نیر مسعود) آگ، الاؤ، صحرا (قمر احسن) پرندہ پکڑنے والی گاڑی (غیاث احمد گدی) بجوکا (سلام بن رزاق) ڈار سے بچھڑے (سید محمد اشرف) ہانکا (ساجد رشید) زہرا ( محسن خان) چابیاں (طارق چھتاری) میرے حصے کا زہر(فیاض رفعت) صدی کو الوداع کہتے ہوئے (مشرف عالم ذوقی)۔ ۔ .

’بین العدمین‘ کچھ کہانیاں ہمیشہ زندہ رہتی ہیں اور کچھ کہانیوں کی عمر صرف چودہ دن ہوتی ہے۔ ۔ . جن کہانیوں کو گاندھاری کی نظر کی شکتی میسر ہوتی ہے، وہ امرہو جاتی ہیں۔ جن کہانیوں کو گاندھاری کی نظر نہیں لگتی۔ وہ کہانیاں بس یوں ہی سی رہ جاتی ہیں۔ اور ان کہانیوں کے جسم زخمی اور لہولہان ہوتے رہتے ہیں۔ ان کے ناک نقشے بھی ٹیڑھے میڑھے ہوتے ہیں۔ کہانی تو ہر لحظہ نیا طور، نئی برقِ تجلی مانگتی ہے۔

مجھے یہ کہنے میں کوئی تامل نہیں کہ ہمارا تخلیقی ادب ابھی تک ابوالعلا معری کی ’’الانسان والحیوان‘‘ اور ابن طفیل کے ’’حی بن یقظان‘‘ جیسے عظیم تخلیقی اظہاریہ کی نظیر پیش کرنے سے عاجز ہے۔ بغیر باپ کے پیدا ہونے والے ہرن کی آغوش میں پرورش پانے والے ایک ایسے بچے کی داستان ہے جو اپنی مسلسل جستجو سے ایک مافوق الفطرت ہستی کو تلاش کر لیتا ہے۔ الف لیلہ ولیلہ، کلیلہ دمنہ اور مقامات روائی ادب کی اولین شناخت ہیں۔ صدیاں گزر جائیں گی مگر یہ تحریریں زندہ جاوید رہیں گی۔

بلراج مینرا نے بہت صحیح لکھا ہے کہ اردو کے بیشتر ادیب نہ جی رہے ہیں نہ ادب لکھ رہے ہیں بلکہ تنبولا کھیل رہے ہیں۔ ۔ . اور سچی بات یہ ہے کہ اردو میں Hoax زیادہ ہیں، تخلیق کار کم اور یہ بھی ’مساس ملاعبہ‘ تک ہی موقوف و محدود ہیں۔ تخلیق کاروں نے مجربات بو علی سینا کے ’میموں ‘ کا استعمال ترک کر دیا ہے۔ اس لیے ان کی تخلیق حد درجہ نحیف و ضعیف ہو گئی ہے۔ بو علی سینا کے ’میموں ‘ کا متروک ہو جانا تخلیقی توانائی اور افسانوی صحت کے لیے مضر ثابت ہوا ہے۔ تخلیق کار مبہیات، ممسکات کا استعمال کرتے تو افسانہ نہ ذیابیطس کا شکار ہوتا نہ سیلان و جریان کا اور لطف تو یہ ہے کہ بعض تخلیق کار، اذریطوس اوکتے ہیں۔ کتے کہانیوں کے کہتے ہیں کہ ہماری کہانیوں کاسرچشمہ’ پنچ تنتر‘ ہے جو حیوانوں کی زبان میں لکھی گئی تھی۔ اس زمانے میں جب دستورِ زباں بندی تھی تو حیوان مطلق کی زبان، حیوان ناطق کا ذریعۂ اظہار بن گئی تھی۔ حیوانی حرکات، اشارات، علامات، انسانی اظہار کے مؤثر ترین ذرائع تھے اور حیوان اس لحاظ سے بہت ممتاز تھا کہ اس کے اوپر کوئی دارو گیر، کوئی گرفت نہیں تھی۔ بعد کے زمانوں میں ان حیوانات نے کافی ارتقائی یاترا کی۔ دِمیری نے ’حیاۃ الحیوان‘ لکھا اور جاحظ نے ’کتاب الحیوان‘۔ ۔ .گوکہ ہمارے افسانہ نگاروں نے نہ دِمیری کو پڑھا اور نہ جاحظ کو۔ ۔ . پھر بھی ان کے افسانوں میں حیوانی کردار پوری قوت کے ساتھ نظر آتے ہیں۔ بالخصوص سید رفیق حسین کے افسانوں میں اور ان میں بھی ’کتے ‘ کو اشرفیت اور افضلیت حاصل ہے۔ سب سے زیادہ بطور استعارہ اسی کا استعمال ہوا ہے۔ ہمارے بیشتر کہانی کاروں نے ’کتے ‘ سے کئی سیاسی سماجی، تہذیبی استعارے اور ثقافتی خلقیے خلق کئے ہیں اور کتے کی جبلی، نفسیاتی کیفیات کی مؤثر عکاسی کی ہے اور انسانی سچویشن کے تناظر میں ’کتے ‘ کو منفرد کردار کی حیثیت سے پیش بھی کیا ہے۔ مثلاً سلام بن رزاق نے اپنی کہانی ’قصہ دیوجانس جدید‘ میں کتے کا استعاراتی استعمال کیا ہے :

’’جب بھی کوئی اس سے ملنے جاتا وہ کتوں میں گھرا ہوا ملتا۔ اسے کئی کئی منٹ تک پتہ ہی نہ چلتا کہ کوئی اس سے ملنے آیا ہے۔ ایسا لگتا تھا اسے اپنے کتوں کے سوا دنیا میں کسی اور چیز سے دلچسپی ہی نہیں ہے۔ کتوں کی مختلف حرکات و سکنات اور ان کے ردِّ عمل سے پیدا ہونے والے نتائج کا نہایت باریک بینی سے مشاہدہ کرتا۔ اس کی شخصیت بستی والوں کی نظر میں روز بروز پراسرار ہوتی گئی۔ ایک ڈھنڈورچی نے تھالی پیٹ پیٹ کر مذکورہ اعلان کیا۔ لوگوں کا سویا ہوا تجسس ایک دم سے جاگ پڑا۔ سارے لوگ کاٹھ اور مٹی کے پتلوں کی طرح بے حس و حرکت کھڑے تھے اور کان اس کی آواز پر لگے تھے۔ لوگوں نے حیرت سے دیکھا کہ وہ اسٹول پر کھڑا دونوں ہاتھ ہوا میں لہراتا کسی کتے کی طرح بھونک رہا ہے۔ ‘‘

( قصہ دیوجانس جدید)

مشرف عالم ذوقی کے یہاں یہی ’کتا‘ کنزیومر ورلڈ کی نئی علامت کے طور پر ابھرتا ہے۔ ’’یہ کسی تھکی ہوئی رات کی داستان نہیں ہے ‘‘ ذوقی کی مشہور کہانی ہے، جو دو حصوں میں ہے۔ یہاں کتا بیک وقت جانور بھی ہے، انسان بھی۔ اپنی جبلت اور درندگی وہ انسان کو دے چکا ہے اور دردمندی کے ساتھ اس سے تھوڑی سی انسانیت مانگ رہا ہے۔

 

                   (۱)

 

دروازہ شاید رات میں کھلا رہ گیا تھا۔ اب مجھے خوف کا احساس بھی ہو رہا تھا۔ کوئی قریب ہی کھڑا تھا اور میں اس کی باتوں کو صاف سن رہا تھا۔ وہ جو بھی تھا۔ لیکن مجھ سے یوں مخاطب تھا۔

’’ سنئے آپ ہماری درندگی اور جبلّت سب کچھ لے چکے ہیں ____ نرم شائستہ لہجہ____ آپ سن رہے ہیں نا____ مہینوں میں، برسوں میں اور شاید صدیوں میں آپ تھوڑا تھوڑا کر کے اپنے انسان ہونے کے خطرے کو ____ (ہنسی) کم کرتے رہے ہیں ____ برا مت مانیے ____ انسان تو آپ کو اپنے علاوہ پسند تھے نہیں ____ جانور آپ کے پالتو بن چکے تھے … آہ، سن رہے ہیں نا، خیر۔ اس غیر دلچسپ گفتگو سے مجھے کوئی لینا دینا نہیں۔ میں صرف اتنی التجا کرنے آیا ہوں کہ اگر آپ کو ہم سے کچھ لینے کا حق ہے تو ہمیں بھی____ آپ سمجھ رہے ہیں نا____ آپ ہم سے ہماری جبلّت لے چکے ہیں ____ آپ اپنی تھوڑی سی انسانیت ہمیں دے سکتے ہیں ‘‘

 

                   (۲)

 

اب کہانی بالکل ختم پر ہے ____ میری نیند اچٹ گئی وہی دھیما اور مہذب لہجہ… جیسے کوئی میرے قریب کھڑا چبا چبا کر نرمی اور متانت سے لفظوں کی ادائیگی کر رہا ہو، اور ادائیگی کرنے والا اتنا پاس کھڑا ہو کہ اس کی سانسیں بھی گننے میں مجھے کوئی دشواری نہ ہو… وہی نرم ملائم اور مہذب انداز گفتگو۔

’’سنئے اب یہاں آپ کو، یا سب کو میری ضرورت ہی کیا ہے وفاداری اور غلامی کی آپ کی نظروں میں قیمت ہی کیا رہی؟ ناراض مت ہوئیے۔ غور کیجئے، آپ ہم میں سے سب کچھ لے چکے ہیں۔ ہماری حیوانیت، درندگی___ جبلت۔ نہیں اس میں افسوس کرنے جیسی کوئی بات نہیں ہے محترم____ اچھا اب مجھے اجازت دیجئے، لیکن اتنا یاد رکھئے گا____ اپنی وفاداری اور غلامی، میں نے ٹھیک طرح سے نبھائی ____ کیوں ٹھیک ہے نا؟ تو جاتے جاتے آپ سے تھوڑی سی انسانیت مانگ رہا ہوں۔ اگر آپ کے اندر بچ گئی ہے تو … نہیں ؟ … اچھا الوداع… ‘‘

میں جانتا تھا شمو بھائی، آپ یقین نہیں کریں گے، مگر اس وقت یہاں میری موجودگی کی حد تک، جس کا آپ کہیں تو ثبوت بھی دے سکتا ہوں … وہ راکسی ہی تھا، اور وہ وہی میرے مخصوص لباس میں تھا____ سوٹ، ہیٹ____ ہاتھ میں اسٹک____ اس نے ہیٹ اتار کر، جھک کر مجھے سلام کیا پھر تیزی سے کمرے سے باہر نکل گیا۔

(یہ کسی تھکی ہوئی رات کی داستان نہیں ہے (۱)… ذوقی)

اس سے پہلے کہ ہم کچھ سمجھ پاتے، کانسٹبل چلا کر بولا۔ سر، چمتکار ہو گیا۔ انہونی ہو گئی۔

سینئر غصے میں دہاڑا۔ ’’ بکو کیا بکنا چاہتے ہو؟‘‘

’’ سر۔ اس کتے کی آواز سنئے۔ جی ہاں سر۔ غور سے سنیے۔ ‘‘

اور… بالکل سچ کہتا ہوں صاحبو، وہ کتا انسانی آواز میں بول رہا تھا۔

’’ شرافت کا زمانہ نہیں رہا۔ سراسر ظلم ہے، زیادتی ہے۔ آپ لوگ کسی بھی شریف کتے کو پکڑ کر اندر بند کر لیتے ہیں۔ ہر بات کی ایک حد ہوتی ہے۔ ‘‘

کتا بڑ بڑا رہا تھا۔ سینئر کی آنکھیں پھیل گئی تھیں ____ جونیئر پر غشی طاری تھی۔ اور تب سینئر نے دھیرے سے جونیئر کے کندھے تھپتھپائے۔ بولا____ ’’ سنو … غور سے سنو۔ ایسا ہوتا ہے … ایک خاص مدت میں … جب ہم ارتقا پذیر ہوتے ہیں … سمجھ رہے ہونا… ارتقا پذیر… تنزلی کے راستے بھی یہیں سے پھوٹتے ہیں، سمجھ رہے ہونا… یعنی اگر کچھ بدل جائے۔ ہم تم ہو جائیں۔ تم ہم… فیشن سے لے کر اخلاقیات … یعنی کتا انسان ہو جائے اور انسان… ایک خاص وقت میں … یعنی یہ ارتقاء کا بہت معمولی سا دستور ہے … تم سمجھ رہے ہونا… در اصل زمین اپنے مرکز سے ہٹ رہی ہے۔ نیا پرانا ہو رہا ہے۔ یعنی… میں جو کہہ رہا ہوں … تم سمجھ… ‘‘

سینئر ٹھہر ٹھہر کر سمجھانے کی کوشش کر رہا تھا۔ مگر صاحبو، جو بات اب میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں، وہ ناقابل یقین ہے۔ سینئر بول ضرور رہا تھا مگر۔ حیرت انگیز بات یہ تھی کہ وہ بولنے کی کوشش ضرور کر رہا تھا مگر اس کے نرخرے سے مستقل کتوں جیسی آواز نکل رہی تھی اور سب چونک کر حیرت سے اسے دیکھے جا رہے تھے۔

(یہ کسی تھکی ہوئی رات کی داستان نہیں ہے (۲)… ذوقی)

شوکت حیات کے یہاں بھی یہی ’کتا‘ باندازِ دگر آتا ہے :

’’گلی کا کتا اس کی بغل میں بیٹھا ہوا اس کا بدن چاٹتا اور اس کی کانپتی ہوئی انگلیوں کی تال پر دم ہلاتا رہتا۔ گردن اٹھائے ہوئے کتے کے ساتھ وہ گردن اٹھاتا۔ گردن جھٹکتے ہوئے کتے کے ساتھ وہ گردن جھٹکتا۔ ناخن رگڑتے ہوئے کتے کے ساتھ وہ اپنی انگلیاں توڑتا اور پھر لمحوں کے اوپر۔ نیچے بیچ یا کسی بھی لمحے میں پیچھے کی جانب سے ہاتھوں میں کچھ روٹیوں کے سر کتے ہی اس کی گردن نیچے جھک جاتی۔ انگلیاں کانپنے لگتیں اور کانپتی ہوئی ہتھیلیوں پر کانپتی ہوئی روٹیوں کو دیکھ کر کتے کی زبان بھی کانپتی۔ اس کی گردن اور بھی نیچے جھک جاتی۔ کانپتی ہوئی ہتھیلیوں پر کانپتی ہوئی روٹیوں کو دیکھ کر کتے کی زبان رال ٹپکاتی۔ اس کی گردن اور بھی نیچے جھک جاتی۔ کانپتی ہوئی ہتھیلیوں پر کانپتی ہوئی روٹیوں کو دیکھ کر کتا بھونکتا۔ اس کی گردن اور بھی۔ ۔ .‘‘

م۔ ق۔ خان نے بھی ’کتے ‘ کو ایک نئی معنویت عطا کرتے ہوئے اپنی کہانی کا موضوع بنایا ہے۔ اس میں ’کتے ‘ کی قلبِ ماہیت اور اس کی ممتا کا بیان تحیر سے خالی نہیں :

’’غار میں ساتھ دینے والا اصحاب کہف کا کتا ہو، اندھیری رات میں بھیڑوں کی حفاظت اور رکھوالی کرتا ہوا گڈریے کا کتا ہو۔ مجرم کی تلاش میں مدد کرتا ہوا پولیس کا تربیت یافتہ کتا ہو، Romulus اور Remus کا اسطوری قصہ ہو۔ آج کے خلائی دور کی کتیا Lyka ہو۔ انسان اور کتوں کا رشتہ بڑا ہی پرانا، معتبر اور دلچسپ ہے۔ یہ کہانی اسی رشتے کو اجاگر کرتی ہے۔ یہ اتفاق ہے کہ واقعہ کسی خاص شہر کا ہے لیکن ایسے حالات ہر بڑے اور چھوٹے شہر میں دیکھے جا سکتے ہیں۔ اس رات وہ کتیا رونی آواز میں گیٹ کے پاس بھونکتی رہی اور مجھے رات بھر نیند نہیں آئی۔ میری سمجھ میں یہ نہیں آ رہا تھا کہ اس لڑکے اور کتے میں کیسا رشتہ تھا؟ مجھے اسطوری قصوں پر یقین ہونے لگا۔ جنہیں میں محض علامتی قصے کہانیاں تصور کرتا تھا۔ خاص کر اس زرد کتیا کا عجیب کردار تھا۔ ایسا لگتا تھا کہ کتیا اس لڑکے کی اپنی ماں ہو۔ وہ نہ صرف لڑکے کے ساتھ کھیلا کرتی تھی بلکہ اسے کھانا لاکر بھی دیتی تھی اور اپنی بساط بھر اس کی حفاظت بھی کرتی رہتی تھی۔ (رشتے —م۔ ق۔ خان)

انور عظیم کے یہاں ’کتا‘ ایک جنسی علامت کے طور پر سامنے آتا ہے :

’’اور جب کبھی گراج کے مالک کی بیوی جو ماڈرن قسم کی سٹھانی ہے، نظر آ جاتی ہے تو بلا وجہ طوطے کی طرح چونچ نکال کر سیٹی بجانے لگتا ہے اور اپنے جھبرے کتے کی گردن پر یوں ہاتھ پھیرنے لگتا ہے جیسے سوتی ہوئی عورت کی شہوت جگانے کے لیے ران سہلا رہا ہو۔ ‘‘                          (آخری رات— انور عظیم)

بلراج کومل کی کہانی ’’تیسرا کتا‘‘ میں بھی کتا Social Status کی ایک علامت بن کر ابھرا ہے۔ یہ سماجی سوچ کا نیا زاویہ ہے، جو کتے کے حوالے سے ان کی کہانی میں پیش کیا گیا ہے۔ اس کہانی کاکردار ایسا ہے جوکتے کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا اور اچھی نسل کا کتا اس کے اچھے خاندانی ہونے کا واحد ثبوت بن جاتا ہے :

’’مسز لکشمی داس جس کی صحت کثرتِ احتیاط، کثرت اولاد، کفایت شعاری اور دن دونی رات چوگنی ترقی کرتی ہوئی قیمتوں کے کارن تباہ ہو چکی تھی۔ ہر شام پلے کو سینے سے لگا کر محلے کے ان تمام مکانوں کے سامنے سے مٹرگشت کرتی ہوئی نکلتی جن کے اندر کتوں کی مختلف نسلوں کے نمونے روز و شب راگ الاپتے رہتے تھے۔ اس کے چہرے کی زردی کچھ دیر تک اس وقار تلے دب جاتی جو پلے کے لمس سے اس کے چہرے پر پیدا ہو جاتا۔ وہ دل ہی دل میں اس کے لیے دعا کرتی۔ ‘‘

’’دوسرے پلے کی نسل اچھی تھی۔ اس کا جنم ایک پلیا کے اس فراخ دل دوست کے خاندانی دو منزلہ مکان کے پچھواڑے کے ایک جھنڈ میں ہوا تھا۔ پلے کا رنگ اچھا تھا اور دیکھنے میں بڑا تندرست تھا۔ ۔ . نیا پلا بڑا خوبصورت تھا۔ ہر روز کہیں نہ کہیں گھومتا پھرتا، کھیلتا کودتا نظر آ جاتا۔ لکشمی داس کے بچے اس کے ساتھ بہت پیار کرتے۔ اس کو اس قسم کے کرتب سکھاتے۔ اس کے بعد اپنی ممی کی ہدایات اور رسم و زمانے کے مطابق غلط سلط انگریزی میں بات کرتے۔ کتا بہت خوش ہوتا۔ ‘‘

’’تیسرا کتا پہلے دونوں کتوں سے بہتر تھا۔ اس کی تھوتھنی سفید تھی، آنکھیں بھوری، نوکے لیے لمبے کان، چھریرا بدن اور گھپے دار دم اور اس پر طرہ یہ کہ کتا بلا کا چست تھا۔ اس بار سیر کے لیے جاتے ہوئے جب لکشمی داس سے ملاقات ہوئی تو اس نے بتایا کہ اس بار اس نے کتا پوری چھان بین کے ساتھ حاصل کیا ہے اور اس کا ارادہ اس کو مستقل طور پر رکھنے کا ہے۔ پہلے دو کتوں کا نام غالباً لکشمی داس نے رکھا تھا یا نہیں۔ بہرحال ان کے ناموں کا علم نہ ہو سکا۔ یہ بلند کردار کتا بڑا خوش بخت نکلا۔ اس کا نام ریمو رکھا گیا اور چونکہ یہ کتا پہلے دو کتوں سے زیادہ محبت، عزت اور روشن مستقبل کے امکانات لیے ہوئے تھا۔ اس لیے ٹینو اور وینا نے کچھ ہی دنوں میں اسے لکشمی داس پوپلی کے خاندان کا فرد قرار دے کر اسے بھی ریمو پوپلی کے نام سے پکارنا شروع کر دیا۔ ۔ .

(تیسرا کتا — بلراج کومل)

ناصر بغدادی کا افسانہ ’’خوف زدہ کتے ‘‘ بھی اسی نوع کی کہانی ہے۔ اس کا ایک کردار جرمن شیفرڈ کتا شیرو ہے۔ یہ کہانی ایک ایسے شہر کی ہے جہاں جبر اور تخویف کا ماحول ہے۔ ناصر بغدادی کی کہانی کا کتا’ شیرو‘ انسانی بستی سے بیزار ہو کر کہیں دور نکل جاتا ہے۔ کہانی یوں شروع ہوتی ہے :

’’شیرو اپنے باوقار طرز عمل سے سب پر یہ واضح کر دیتا تھا کہ وہ اعلیٰ نسل کا کتا ہے۔ محلے کے کتوں سے میل ملاپ اور یاری دوستی کو وہ بالکل پسند نہیں کرتا تھا۔ اپنا زیادہ تر وقت وہ گھر ہی میں گزارتا تھا۔ یہ کتا پچھلے دو برسوں سے ہمارے گھر میں بڑے مزے سے رہ رہا تھا۔ جب گھر میں لایا گیا تھا تو بالکل چھوٹا سا کھلونا دکھائی دیتا تھا۔ اس وقت زیادہ تر دودھ پر ہی اس کا گزارا ہوتا تھا۔ مگر اب تو توانا اور تنومند ہو گیا تھا۔ اس کی حرکات و سکنات سے تو یہی محسوس ہوتا تھا کہ اس کا کسی بے حد شائستہ گھرانے سے تعلق تھا۔ اس کو ہر چیز کھانے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا تھا۔ چھچڑے اور کچا گوشت تو دور کی بات ہے۔ وہ ایسی ویسی ڈشوں کو دیکھ کر ہی اپنا منہ پھیر لیتا تھا۔ ‘‘      (خوف زدہ کتے —ناصر بغدادی)

Ward No:6

اردو کہانیاں پڑھتے ہوئے جانے کیوں ایسا لگتا ہے جیسے ابھی تک ہمارا فکشن چیخوف کے Ward No-6 میں سسک رہا ہے۔ آخر کیا بات ہے کہ اردو فکشن میں فرانس اور روس کچھ زیادہ ہی نظر آتا ہے۔ کلکتہ اور ممبئی بہت ہی کم۔ جانے کیوں اردو فکشن پڑھتے ہوئے بین السطور میں چیخوف اور موپاساں بار بار ابھرتے ہیں۔ یہ میرے ساتھ ہی ہے یا کسی اور کو بھی ایسا ہی کچھ کچھ ہوتا ہے۔ وہ موپاساں جس کی ایک ایک سطر میں نیا افق ہے۔ مگر ان کی تتبعی اور تقلیدی کہانیوں میں ایک نیا افق تلاش کرتا ہوں تو وہ افق تا آفاق نظر نہیں آتا۔ کہتے ہیں کہ موپاساں کے پاس جسم ہے اور چیخوف کے پاس روح۔ اور جب اس جسم اور روح کا قران السعدین ہوتا ہے تو ایک خوبصورت افسانوی کائنات جنم لیتی ہے۔ مگر میں دیکھتا ہوں کہ ہمارے فکشن میں نہ مکمل جسم ہے نہ پوری آتما۔ کہانی تو لاجونتی کی طرح سمپورن ہوتی ہے۔ مقدس، پروقار، پاکیزہ۔ مجھے منٹو کی سوگندھی، نیلم، کلونت کور اور موذیل سبھی سے یک گونہ پیار، عشق اور محبت ہے۔ منٹو کاغذ پہ افسانے لکھتا ہے تو افسانے کی ساری آگ اس کاغذ پہ دکھائی دیتی ہے۔

کوئی ضروری نہیں کہ ہر کہانی ہر کسی کو پسند آئے۔ ہر ایک کی اپنی پسند ہوتی ہے اور ہر ایک کا اپنا مذاق۔ مجھے بنیادی طور پر وہ کہانیاں اچھی لگتی ہیں جن میں تحیر ہو، سسپینس ہو، گوتھک قسم کی پراسراریت ہو اور نیا انفس و آفاق ہو اور میری اس پسند کی فہرست میں بہت سارے افسانہ نگار شامل ہیں۔ مجھے جتیندر بلّو بھی اچھے لگتے ہیں، جوگندر پال، حمید سہروردی، حسین الحق، ساجد رشید، شوکت حیات، شموئل احمد، رشید امجد، زاہدہ حنا، نیرمسعود، نور الحسنین، رام لعل، رتن سنگھ، دیویندر ستیارتھی، دیویندر اسّراور اپنے ’مٹھی بھر سانپ‘ کے ساتھ سلیم اختر بھی، اقبال مجید، عبدالصمد، پیغام آفاقی، الیاس احمد گدی، انیس رفیع، مظہر الزماں خان، سید محمد اشرف اور مشرف عالم ذوقی، شاہد اختر، انور قمر، غضنفر، ذکیہ مشہدی، قمر جہاں، غزال ضیغم، ترنم ریاض، نگار عظیم، اس کے علاوہ اور بھی بہت سے افسانہ نگار ہیں جو اچھا لکھتے ہیں۔ خالد سہیل بھی مجھے اچھے لگتے ہیں۔ کیونکہ وہ نئے ڈائمنشن کی کہانیاں لکھتے ہیں۔ ان کی کہانیوں کی باکرہ فکر مجھے اپنی بانہوں میں سمیٹ لیتی ہے۔ ان کی کہانی کا پہلا لفظ پڑھتے ہوئے آنکھ آخری سطر پر ہی جا کر ٹھہرتی ہے اور پھر آنکھ آگے کی سطریں تلاش کرنے لگتی ہے اور معدوم سطروں میں بھی ایک نئی معنویت دریافت کر لیتی ہے۔ ’ہم زاد‘ ایک ایسی کہانی ہے۔ نئے فنی اور ہیئتی تجربے، نئے لفظیاتی علائم و استعارات اور ان کا معنوی انسلاک اتنا خوبصورت ہوتا ہے کہ قاری بین السطور بھی بہت سارے احساسات کے مدو جزر کو دیکھ لیتا ہے۔ اس کہانی کی طلسماتی سحر کاری دیکھئے :

’’بعض شہروں میں مرد اور عورتیں ایک دوسرے کی قربت سے اتنے محروم ہوئے کہ ہم جنسی میں مبتلا ہو گئے تھے، حتیٰ کہ بچوں کی عصمت بھی محفوظ نہ رہی تھی۔ ان علاقوں میں کئی اساتذہ اور کئی مذہبی رہنما پکڑے گئے تھے جنہوں نے بچوں کو اپنی ہوس کی بھینٹ چڑھا دیا۔ اس نے یہ بھی بتایا کہ وہ ایسے دیہاتوں سے گزرا تھا جہاں جہالت کا ملکہ کی حکمرانی تھی۔ نوجوان مرد اور عورتیں ایک دوسرے کے جسموں سے کیا، اپنے جسموں سے بھی ناواقف تھے۔ وہ اب بھی سمجھتے تھے کہ مشت زنی سے انسان کی نظر کمزور ہو جاتی ہے، عورتیں، مردوں کو بوسہ دینے سے حاملہ ہو جاتی ہیں۔ حیض میں مباشرت کرنے سے انسان پاگل ہو جاتا ہے۔ وہ یہ نہ جانتے تھے کہ عورتیں مہینے میں صرف دو یا تین دن حاملہ ہو سکتی ہیں۔ وہاں عورتوں کے آج بھی ختنے کئے جاتے ہیں اور لوگ بعض آدمیوں کو جبراً زنخا بنا کر ان کا مذاق اڑاتے ہیں۔

اس نے ہزاروں بے اولاد عورتوں کو پیروں فقیروں کی قبروں پر نمک کھاتے، جھاڑو دیتے اور منتیں مانتے دیکھا تھا اور سوچنے لگا تھا کہ جب لوگ زندہ انسانوں کو چھوڑ کر مردہ قبروں سے امیدیں لگائے بیٹھے رہیں تو انسانوں کی زندگیوں میں قبروں کی تاریکی اتر آتی ہے۔ انسان آنکھیں رکھنے کے باوجود نابینا، کان رکھ کر بھی بہرے اور زبان رکھ کر بھی گونگے ہو جاتے ہیں اور اپنے فرسودہ عقائد کے دھندلکوں میں ایسے کھوتے ہیں کہ درخت گنتے گنتے جنگل ان کی آنکھوں سے اوجھل ہو جاتے ہیں۔

خالد سہیل کے علاوہ معاصر اردو فکشن کے منظرنامے پر کچھ اور بھی نام ہیں جن کے تخلیقی متون کی طلسماتی فضا متاثر کرتی ہے اور جن کی تخلیقی کائنات کی سیاحت کرتے ہوئے ایک نئے تجربے سے ذہن کو آگہی ملی اور نگاہوں کو ایک نیا تحیر میسر آیا۔ ان میں ایک نمایاں نام سید محمد اشرف کا بھی ہے جن کے ناولٹ کو پڑھتے ہوئے کنارِ دریا خود کو رقصاں لہروں کے درمیان محسوس کیا ہے، آتی جاتی لہریں جن میں ٹھہراؤ نہیں، تموج ہے، اضطراب ہے۔ ایک ثانیے میں جس طرح موجوں کا منظر نامہ بدلتا ہے، اسی طرح اس ناولٹ کے منظرنامے میں تبدیلی ہوتی رہتی ہے۔ مجھے ایک ایک سطر میں موج مے کی سرشاری نظر آتی ہے، مجھے کیا خبر، مجھے کیا پتہ کہ فکشن کیا ہوتا ہے۔ ۔ . ڈی۔ ایچ۔ لارنس سے کبھی پوچھوں گا تب فکشن کے مضمرات، فنی لوازمات پر طول طائل بحث کروں گا۔

سردست تو میں نے یہ ناولٹ اس گزرے ہوئے زمانے میں کھوکر پڑھا ہے، جب صرف تخلیق تھی، تنقیدی فارمولے نہیں تھے، نہ نظریات کی آویزش تھی۔ صرف آنکھیں تھیں، بیدار جاگتی ہوئی، صدیوں کے ماورا دیکھ لینے والی آنکھیں (آنکھ سے بڑا کوئی قاری آج تک پیدا نہیں ہوا۔ وزیر آغا) حواس خمسہ تھے اور انسان کے پاس چھٹی حس تھی، تخلیق بھی آزاد تھی، قاری بھی آزاد، نہ نظریاتی فکری بندشیں تھیں نہ اسلوبیاتی معنویاتی زنجیریں۔ تخلیق کا حسن گل کی صورت کھلتا تھا، اماوس کی رات میں تخلیق پورن ماشی کی طرح چمکتی تھی، اس وقت تخلیق کا مطلع بھی صاف تھا، آسمان و زمین بھی یک رنگ تھے۔ تخلیق کا دریا بہتا تھا اور اس کی موجیں ہر طرف پھیل جاتی تھیں۔ میں نے بہت کوشش کی کہ اس ناولٹ کی ’’فعال قرأت‘‘ کروں لیکن میری ’’قرأت منفعل‘‘ رہی۔ ناولٹ کے بہاؤ میں اس قدر کھو گیا کہ آنکھوں کی کشتی پر سوار نہ جانے کدھر نکل گیا۔ آنکھ کھلی تو نیا جزیرہ تھا، جہاں نئی نئی کتھائیں بکھری پڑی تھیں، جانور بھی تھے، انسان بھی اور دونوں ایک دوسرے میں گتھم گتھا کہ انسان اور حیوان کی تمیز دشوار تھی۔ کبھی انسان کے چہرے پر حیوان کا گمان گزرتا تو کبھی حیوان کو انسانی جون میں تبدیل ہوتا ہوا دیکھتا، یہی تقلیب ماہیت شاید اس ناولٹ کا فکری محور ہے اور یہی جواز بھی۔ ۔ . واللہ اعلم بالصواب!

سید محمد اشرف کا یہ ناولٹ پڑھ کر خلیل جبران بے طرح یاد آئے جنہوں نے کلیسائی نظام کے جبر و استحصال کی کہانیاں لکھیں اور یہ واضح کیا کہ مذہب جبر کی بہت بڑی علامت ہے اور یہ علامت اتنی مقدس ہے کہ لوگ اپنی زبانیں بند رکھتے ہیں اور ظلم کا تماشا دیکھتے رہتے ہیں۔ نیل گائے سے نیلا کا دہشت کی ایک علامت بن جانا، اس بات کا اشاریہ ہے کہ مذہب در اصل دہشت کی ایسی علامت بن گیا ہے جس کے خلاف لوگ بولتے ہوئے ڈرتے ہیں مگر اس سے حددرجہ پریشان بھی رہتے ہیں۔ نیلا کو ’’مندر والے کھیت‘‘ میں چھپانا اور اس کے بدن کا کیسر یا ہو جانا، مذہبی دہشت کا زبردست بیانیہ ہے، نیلے کا سورج دیوتا کے ڈوبتے وقت مندر کی طرف ڈنڈوت کرنا اور دونوں کھر جوڑنا اس بات کا ثبوت ہے کہ نمبردار کی صحبت میں وہ بھی ایک ایسا دھارمک بن گیا ہے جسے دھرم کی آڑ میں ہر طرح کے جبر و دہشت کی آزادی ہے۔ ۔ .

نمبردار ایک جاگیردار ہے جو اپنی جاگیر داری کے تحفظ کے لیے تمام استحصالی حربے آزماتا ہے، عوام کو غریبی اور جہالت کے اندھیرے میں رکھ کر مکمل طور سے اقتدار پر قابض رہنا چاہتا ہے۔ نمبر دار کو بچوں کی تعلیم بھی بہت اکھرتی ہے۔ ٹھاکر اودل سنگھ نے اپنی زندگی کے توازن کو برقرار رکھنے کے لیے پورے نظام کو غیر متوازن بنا دیا اور اس توازن میں نیلا سب سے بڑا معاون ثابت ہوا کیونکہ اقتدار، دولت اور اختیار کو ہضم کرنے کے لیے نیلا کی دہشت بہت ضروری تھی اور یہی نیلا کو پالنے کا کارن بھی تھا۔ نیلا میں یہ دہشت پیدا کرنے کے لیے ٹھاکر اودل سنگھ نے اسے وہ کھان پان دیا جو انسانوں کو دیا جاتا ہے۔ جنگل کی ماداؤں سے دور اسے انسانوں کی صحبت میں رکھا اس کی وجہ سے اس کے جنون کا پارہ بڑھ گیا اور وہ فطری ڈر ختم ہو گیا جو ہر جانور کو انسان سے محسوس ہوتا ہے بلکہ وہ الٹا انسانوں کے لیے خوف کی علامت بن گیا۔ ۔ .

اس ناولٹ میں مقامات آہ و فغاں کے سوا کئی خوبصورت مقامات بھی آئے ہیں۔ مثلاً بڑکی کے تعلق سے پورا سلسلہ واقعہ اسی ذیل میں آتا ہے۔ جہاں اشرف کا قلم رومانی جولانی میں کھوجاتا ہے۔ پوریاں بیلتے وقت بڑکی کے جھولتے بدن کا بیان دیکھئے :

’’اس (اونکار) نے اپنی فکر کو دو بڑے بڑے میدوں کے پیڑوں کی شکل میں مجسم دیکھ لیا تھا۔ ‘‘

اس کے بعد کا جو قصہ ہے وہ بے معنی نہیں ہے۔ اشرف نے پوریاں بیلتے وقت بدن جھولنے سے لے کر سراغ رسانی کے جس نئے طریقہ کا انکشاف کیا اس میں بھی ایک ذہانت چھپی ہوئی ہے۔

’’اس نے زندگی میں صرف ایک مرد کی سانس کی مہک سونگھی تھی۔ اس لیے اسے اپنا مجرم پہچاننے میں دقت نہیں ہوئی‘‘ ظاہر ہے کہ یہ بیان بے معنی نہیں ہے۔ اس طرح سید محمد اشرف کے ناولٹ میں ایسے بیانات مل جاتے ہیں جو قاری کے اندر شعور و فکر اور تجسس کی ایک متحرک کائنات کو بیدار کر دیتے ہیں۔

سید محمد اشرف کا ناولٹ ’نمبر دار کا نیلا‘ ہمارے عہد کا زبردست تخلیقی بیانیہ ہے۔ ایسا بیانیہ جو ان کے ہم عصر فکشن رائٹرز سے بیان، سوچ اور قوت اظہار، ابلاغ و ترسیل کے اعتبار سے مختلف اور منفرد اور اعلیٰ ہے۔

انل ٹھکر بھی ہمارے عہد کے ایک اہم ناول نگار ہیں جنہوں نے ’’اوس کی جھیل‘‘ جیسا بڑے کینوس کا اس ناول میں اردو کو ایک اچھا اور مختلف ناول دیا ہے۔

ناول نگار کی آنکھیں وہ سب کچھ دیکھ لیتی ہیں جو چاروں دشاؤں میں پھیلی ہوئی ہزاروں آنکھیں بھی نہیں دیکھ سکتیں۔ ایک تخلیق کار کی آنکھیں محیط الارضی ہوتی ہیں اور اس کی آتما میں ہر طرف سور داس کی آنکھیں لگی ہوتی ہیں یا شنکر کی کہ وہ ماورائے عصر اور پس پردہ ہر ایک واقعے کو اپنی نظروں کے دائرے میں سمیٹ لیتا ہے۔ انل ٹھکر نے بھی اپنے اس ناول میں وہ سب کچھ سمو لیا ہے جو ہماری نگاہوں سے اوجھل ہے۔

یہ ناول در اصل اخلاقی اور سماجی زوال کے منظر نامے پر محیط ہے۔ معاشرتی انحطاط اور سماجی تنزل کی کہانی بڑی ہی خوبصورتی سے کہی گئی ہے۔ انل ٹھکر نے اس ناول میں ڈرامائی تکنیک اور تشکیل کا بھی سہارا لیا ہے کہ بنیادی طور پر وہ ڈراما نگار ہیں۔ ڈرامے اور فکشن کا یہ حسن امتزاج، فکشن کو نئی وسعتوں سے ہم کنار کرے گا۔ یہ بات بلا تامل کہی جا سکتی ہے۔

اِس ناول کے صنم خانے میں جتنے بھی کردار ہیں، اصلی اور ضمنی سبھی اہمیت کے حامل ہیں اور ایک دوسرے سے مربوط و منضبط جن کا انفکاک کسی بھی طور پہ ممکن نہیں۔ یہ ناول ہماری آج کی سماجی زندگی، زندگی کی پیچیدگیوں اور مسائل و متعلقات کو پیش کرتا ہے۔ دفتروں کے در و دیوار میں بسی ہوئی عفونت، کرسیوں میں اٹکی ہوئی غلاظت، قمقموں سے روشن کمروں کی ظلمت اور تاریک سماج کے رستے ہوئے زخم اور ناسور— یہ تمام چیزیں جو سماج کے چہرے پر بدنما داغ ہیں، انہیں انل ٹھکر نے بڑی ہی فنکاری کے ساتھ ہماری آنکھوں کے حوالے کر دیا ہے۔ اِس میں اشوک ایک کردار ہے جو ’’عروج بالفروج‘‘ کی ایک نمائندہ مثال ہے :

’’سست قدموں سے چل کر گھر کا دروازہ بند کیا اور خواب گاہ میں آیا۔ وہاں ساوِتری پارٹی میں پہنے کپڑے بدل کر انہیں سینت رہی تھی۔ اشوک نے ٹائی نکال کر کرسی پر پھینکی۔ کوٹ اُتار کر کرسی کی پشت پر ڈالا۔ دونوں سنجیدہ تھے۔ دونوں کے چہروں پر تناؤ تھا، اشوک نے جوتے اُتار کر پلنگ کے نیچے سرکائے۔ اُس کی نظر پلنگ پر کھلے پڑے بریف کیس پر گئی۔ اس کا خون کھول اٹھا۔ اس کی انا گرج اٹھی۔

’’میں یہ جاننا چاہتا ہوں، یہ روپئے واپس کیسے آئے ؟‘‘

’’انہوں نے مانگے نہیں ‘‘ ساوِتری نے اطمینان سے کہا۔

’’کیوں ؟‘‘

’’میں نے پوچھا نہیں۔ ‘‘

’’بغیر رقم لیے انہوں نے کام کر دیا؟‘‘

ساوتری خاموش رہی۔ اس کے دماغ کی رگیں پھٹنے کو تھیں۔ اشوک چیخ اٹھا۔

’’میں پوچھ رہا ہوں۔ بغیر قیمت لیے۔ ۔ .‘‘

’’قیمت انہوں نے لے لی ہے — بہت بڑی قیمت۔ ۔ . جسے آپ کبھی وصول نہیں کر سکتے۔ ‘‘

اشوک کی آنکھوں سے شرارے برسنے لگے۔ ساوتری نے تہہ کیے ہوئے کپڑے رکھنے کے لیے الماری کھولی۔

’’تم نے کیوں ہونے دیا یہ سب؟— اشوک نے تلخی سے پوچھا۔

ساوتری خاموشی سے اپنا کام کرتی رہی۔ اس نے عالم طیش میں آگے بڑھ کر ساوتری کو بانہہ سے پکڑ کر اپنی طرف موڑا۔

’’سنا نہیں، کیوں ہونے دیا یہ سب؟‘‘

’’آگ میں دھکیل کر یہ پوچھ رہے ہیں، ہاتھ کیوں جلے۔ یہاں تو پورا جسم جل گیا ہے۔ ‘‘ ساوِتری نے اپنی بانہہ کو اس کی گرفت سے آزاد کیا۔

اشوک غصے سے تھرا رہا تھا۔ اس کی آنکھیں شعلہ زار ہو رہی تھیں۔ اس نے اپنی ران پر مکا مارا۔ اس کے منہ سے بے بسی و بے چارگی ٹیس بن کر پھوٹ پڑی۔

’’اب پاگلوں کی طرح چیخنے چلانے سے کیا ہو گا۔ انسان اور درندوں کی تمیز نہیں تھی تو بھیجا کیوں مجھے ؟‘‘

انل ٹھکر بہت ہی خوبصورت منظر نگاری کرتے ہیں۔ بالکل قدیم داستانوں جیسی منظر نگاری۔ ایک اقتباس:

’’پدمنی نے دیکھا اس کے گول چہرے پر شام کو کیا ہوا میک اَپ اب بھی تر و تازہ نظر آ رہا تھا۔ لپ اسٹک کی سرخی ہونٹوں پر قائم تھی۔ کٹے ہوئے بال شانوں پر پھیلے ہوئے تھے۔ تراشی ہوئی ابرو، کٹی زلفیں اُس کے چہرے کو جاذبِ نظر بنا رہی تھیں۔ بلاؤز کی کٹائی کچھ اتنی نیچی تھی کہ گورے گداز سینے کی گولائیاں دیکھنے والے کو لبھاتی تھیں۔ اسے بار بار پلو سنبھالتے دیکھ کر نظریں دھوکا کھا جاتیں کہ ساری جسم سے پھسل رہی ہے یا جسم ساری میں سے سرکتا جا رہا ہے۔ ‘‘

یہ ناول یقینی طور پر ہمارے عہد کا ایک شاک انگیز سلسلہ کہانی ہے جس میں ہمیں پورا سماج اور معاشرہ مجرم کی طرح نظر آتا ہے۔ انہوں نے بڑی فنکاری کے ساتھ ہندوستان کی سماجی زندگی کے منظر نامے کو پیش کیا ہے اور ملے جلے مخلوط کردار میں سماج کے متوسط طبقے کی نفسیات، رجحانات، میلانات اور رویے کو واضح کیا ہے۔ پروفیسر سلیمان اطہر جاوید نے اس ناول کے حوالے سے بڑا ہی بیش قیمت پیش گفتار درج کیا ہے اور انل ٹھکر کے اس ناول کو فکشن کے سرمائے میں ایک گراں قدر اضافہ قرار دیا ہے۔ یقیناً انل ٹھکر نے اپنے موضوع کا اچھا ٹریٹمنٹ کیا ہے۔ اپنی مشاقی اور تخلیقی ہنر مندی کا ثبوت دیا ہے۔

یہ ناول ایک ایسے موضوعاتی دائرے کو محیط ہے جس کے بارے میں ہمارے سماج کے لوگ کم ہی سوچتے ہیں۔ ہمارا سماج جس تیزی کے ساتھ تنزل کی راہ پہ گامزن ہے۔ اُس سماج کے لیے ناول ایک آئینہ ہے کہ ایک فنکار اپنے سماج کا آئینہ ہوتا ہے اور اس کے ادب سے ہی سماج کے درجۂ حرارت کو ناپا جا سکتا ہے۔ سو انل ٹھکر نے یہ کام بخوبی انجام دیا ہے اور معاشرے کے تمام مکروہ رنگوں کو ہمارے سامنے پیش کر دیا ہے۔ یہ ناول محض مشق نہیں ہے بلکہ اِس میں عبرت کی بہت سی داستانیں بھی مخفی ہیں۔ جہاں تک زبان و بیان کا تعلق ہے انل ٹھکر کی زبان بہت خوبصورت ہے۔

فیاض رفعت بھی اردو فکشن کا ایک معتبر حوالہ بن چکے ہیں۔ اُن کے افسانوں کا مجموعہ ’’میرے حصے کا زہر‘‘ ان کی تخلیقی عظمت کا نشان ہے۔

مگر المیہ یہ ہے کہ جب ان کا کوئی افسانوی مجموعہ شائع ہوتا ہے تو لوگ ان کی شاعری کے حوالے سے گفتگو کرنے لگتے ہیں اور جب ان کا شعری مجموعہ منظر عام پہ آتا ہے تو ان کے افسانوں پہ بحث شروع ہو جاتی ہے، یہ ممکن ہے کہ ان کی شاعری اور افسانے میں کوئی قدر مشترک ہو مگر یہ بات فہم سے بالاتر ہے کہ کیوں نقاد کبھی ان کے اندر کے افسانہ نگار کو مار دیتے ہیں تو کبھی ان کی شاعری کو منوں مٹی تلے دفن کر دیتے ہیں۔ ادب کے بابا لوگ نہ تو انہیں بحیثیت شاعر برداشت کر پاتے ہیں اور نہ بحیثیت افسانہ نگار۔ جبکہ سچ یہ ہے کہ فیاض رفعت جتنے اچھے شاعر ہیں اتنے ہی اچھے افسانہ نگار بھی ہیں۔ کہانی میں جتنے بولڈ ہیں شاعری میں بھی اتنے ہی بولڈ ہیں اور شاید یہی بولڈنیس ہے جو ہمارے نقادوں کے گلے سے نیچے نہیں اترتی۔ یہ اور بات ہے کہ ہمارے نقاد ان کی علمیت، ذہانت، فطانت، ذکاوت حس کا بجا طور پہ اعتراف بھی کرتے ہیں پھر بھی ادب میں انہیں وہ مقام دینے کے لیے تیار نہیں ہیں جس کے صحیح معنوں میں وہ مستحق ہیں۔ ان کا جرم صرف یہ ہے کہ ان کا مائنڈ اس کیپ بہت بڑا ہے، ان کے ذہن کا روشن دان کھلا ہوا ہے، دریچے سارے وا ہیں جن میں تازہ ہواؤں کے جھونکے آتے ہیں۔ ان کا ظاہر و باطن ایک ہے، ان کی آنکھیں جو کچھ دیکھتی ہیں، وہ قرطاس پر لفظوں کی شکل میں بکھر جاتی ہیں۔ ان کے ذہن اور آنکھ کے رشتوں نے در اصل ان انسانی رشتوں کے مظہر کو دریافت کر لیا ہے، جن سے لوگ آنکھیں چرائے پھرتے ہیں۔

مشرف عالم ذوقی اس کے بعد کی دہائی کے ایک اہم افسانہ نگار ہیں جنہوں نے اپنے افسانوی فن کے ذریعے عصری فکشن کے منظر نامے پر اپنا نام ثبت کر لیا ہے۔ ان کے کئی افسانوی مجموعے اور ناول شائع ہو چکے ہیں۔ جن میں ’’بیان‘‘ کو ہر طبقہ کے نقادوں نے سراہا ہے۔ ان کا ایک قابل قدر مجموعہ ’’منڈی‘‘ ہے۔ ذوقی نے اپنے اس افسانوی مجموعہ کو چار حصوں میں منقسم کیا ہے۔ (۱) نئی کہانیاں جن میں ۱۹۹۰ء سے ۱۹۹۷ء تک کی وہ تمام کہانیاں شامل ہیں جو مقتدر ادبی مجلات میں شائع ہو کر تنازعات اور مباحث کے نہ جانے کتنے در کھول چکی ہیں (۲) کچھ پرانی کہانیاں جن میں ۱۹۸۰ء سے ۱۹۹۰ء تک کی کہانیاں ہیں (۳) جدید لب و لہجہ کی کہانیاں، جنہیں ذوقی نے یہ کہہ کر رد کیا کہ اس کی زبان کہانی کی زبان نہیں بلکہ بوجھل اور ثقیل نثر کا ایک نمونہ ہے جو بے معنی تجریدی پینٹنگس کی طرح ہے (۴) جو چپ رہے گی زبان خنجر۔ ۔ . جس میں آج کے سیاسی، مذہبی جنون، جبر و تشدد کے خلاف لکھی گئی کہانیاں ہیں۔ پہلے حصے میں ذوقی کی وہ شاہکار کہانیاں ہیں جن میں وہ فکر و اسلوب کے کولمبس نظر آتے ہیں۔ ایک نئے اختراعی ذہن اور نئی تجرباتی و موضوعاتی دریافت کے ساتھ— ایک کہانی کا یہ اقتباس:

’’میں مانتا ہوں می لارڈ۔ ۔ . مگر جو واقعہ یا حادثہ ایک لمحے میں ہو گیا۔ ایک بے حد کمزور لمحے میں اس کے لیے مجھے ویتنام تو کیا، فلسطین، ایران، عراق، امریکہ، روس، روانڈا سب جگہوں پر جانے دیجئے۔ میں گیا اور میں نے دیکھا۔ ۔ . سب طرف لوگ مر رہے ہیں۔ ۔ . جب ہم ہنستے ہیں، روتے ہیں، باتیں کرتے ہیں، قہوہ یا چائے پیتے ہیں، قتل عام ہو رہے ہیں۔ ۔ . لوگ مر رہے ہیں۔ ۔ . مارے جا رہے ہیں۔ ۔ . سموئل نے ناگواری سے دیکھا۔ بیوقوفی بھری باتیں۔ کوری جذباتیت۔ اس کیس میں ایک ریپ ہوا ہے۔ ریپسٹ ایک باپ ہے جس نے اپنی۔ ۔ . کہیں تم گے (Gay) لیس بین (Lesbian) یافری کلچر کے حق میں تو نہیں ہو۔ ۔ .؟

’’نہیں۔ آہ۔ تم غلط سمجھے سموئل۔ اس نے گردن ترچھی کی۔ شاید میں سمجھ نہیں پارہا ہوں۔ ۔ . تم نے جن کلچرز کا ذکر چھیڑا، وہ سب دکھ کی پیداوار ہیں۔ دکھ۔ ۔ . جو ہم جھیلتے ہیں۔ مہاتما بدھ کے بھنشکرمن سے لے کر بھگوان کی آستھاؤں اور نئے خداؤں کی تلاش تک۔ ۔ . پھر ہم کسی روحانی نظام کی طرف بھاگتے ہیں۔ کبھی اوشو کی شرن میں آتے ہیں۔ ۔ کبھی گے بن جاتے ہیں تو کبھی لیس بین۔ قتل عام ہو رہے ہیں۔ ۔ . اور بھاگتے بھاگتے اچانک ہم شدبد کھوکر کنڈوم کلچر میں کھوجاتے ہیں۔ ۔ . ہم مر رہے ہیں۔ سموئل اور جو نہیں مر رہے ہیں وہ جانے انجانے ایچ آئی وی پازیٹیو کی تلاش میں بھاگ رہے ہیں۔

اور مان لو سموئل، دنیا ختم ہو جاتی ہے۔ بس ایک ایٹم بم یا اس سے بھی بھیانک ہتھیار ویتنام کے شعلے تو سیگون ندی سے اٹھ کر آسمان چھو گئے تھے۔ مان لو صرف دو ہی شخص بچتے ہیں۔ دنیا کا سفر جاری رہنا ہے۔ ایک باپ ہے، دوسری بیٹی۔ ‘‘

(اصل واقعہ کی زیراکس کاپی)

یہ کہانی بالکل نئے Dimension کی کہانی ہے۔ آج کی عصری اور بھیانک سچائی کا اظہار کرتی ہوئی جسے ایک فن کار نے بڑی ہنر مندی کے ساتھ پیش کیا ہے۔ نابغہ فن ہی ایسا کمال دکھاتے ہیں۔ اس کے علاوہ ’’مجھے جانوروں سے، بھوتوں سے پیار کرنے دو‘‘، مادام ایلیا کو جاننا ضروری نہیں ہے ‘‘، ’’بھنور میں ایلس‘‘، ’’حالانکہ یہ سب سچ نہیں ہے ‘‘ یا ’’ نور علی شاہ کو اداس ہونے کے لیے کچھ چاہیے ‘‘— یہ سب زندہ احساس اور عصری شعور کی کہانیاں ہیں جو بادلوں کی دھند میں کھوئی ہوئی نہیں ہیں اور نہ ہی موت کی گھونگھٹ میں قید— یہ کہانیاں در اصل وہ آنکھیں ہیں جن سے ہم عصری زندگی کے زرد، نیلے پیلے، مرجھائے، جھلسے ہوئے یا شاید شگفتہ چہرے دیکھتے ہیں۔ یہ فن کار کی آنکھوں کے دائروں میں سمٹ آنے والی وہ سچائیاں ہیں جنہیں وہ لفظ اور جذبے کے خوب صورت لمس سے ہم پر آشکار کرتا ہے اور حیرت زدہ بھی۔ یہ کہانیاں اس لیے عظیم ہیں کہ ان میں ہمارا عہد سانس لے رہا ہے۔

اس مجموعے میں ’’لیپروسی کیمپ‘‘، ’’مردہ روحیں ‘‘، ’’میرا ملک گم ہو گیا ہے ‘‘، ’’رام دین کچھ نہیں بولے گا‘‘ جیسی عمدہ اور بہترین کہانیاں ہیں۔ حتیٰ کہ دابۃ الارض، اشغلاء کی بند مٹھیاں نامی کہانیاں بھی بری نہیں ہیں جنہیں ذوقی نے بلاوجہ مسترد کر دیا۔ کم از کم یہ کہانیاں نقادوں کو الجھانے کا کام تو دیتیں۔ کوئی مانے یا نہ مانے۔ میری بلا سے، ذوقی نے اپنے ان افسانوں کے حوالے سے عصری فکشن کے منظرنامہ پر اپنا نام واضح طور پر ثبت کر دیا ہے۔ ذوقی کی فکر و نظر کی دنیا سب سے مختلف ہے اور منفرد بھی۔ بس یہ کہہ سکتے ہیں کہ ذوقی کی زبان کمزور ہے۔ مگر زبان کی خامی— یہ زبان کوئی منزل من اللہ تو ہے نہیں اور پھر کون ہے جو کوثر و تسنیم میں دھلی زبان لکھتا ہے اور اگر کوئی لکھتا ہے تو وہ کہانی کے ساتھ انصاف نہیں کرپاتا۔ کہانی اپنے چہرے سے پہچانی جاتی ہے زبان سے نہیں۔ ذوقی نے کہانی کے چہرے کو نکھارا ہے۔ یہ ماننا ہی پڑے گا۔ ہاں اگر آپ کے ذہن میں فساد اور طبیعت میں شر ہے تو پھر ہمارے یقین کے دائرے سے دور رہنے ہی میں آپ کی عافیت ہے۔

اسی نسل کے ایک اور افسانہ نگار مشتاق احمد نوری کی کہانیاں ذہن و دل کو بہت متاثر کرتی ہیں۔ اُن کے کئی مجموعے آ چکے ہیں۔ ’’تلاش‘‘ کے بعد ’’بند آنکھوں کا سفر‘‘ اُن کا تازہ افسانوی مجموعہ ہے جس سے اُن کی تخلیقی حرکیات اور فنی جمالیات کا صحیح طور پر ادراک کیا جا سکتا ہے۔

ار ریا، اس تخلیق کار کی کتھا بھومی ہے جو نہ شہر گلزار ہے اور نہ اس کی ہر گلی باغ و بہار ہے، نہ رشک گلشن جناں ہے اور نہ خطۂ بے نظیر و دل پذیر مگر اس سرزمین پر قصہ کا خزانہ عامرہ ہے۔ یہ حکایتوں کی سرزمین ہے۔ یہاں کی ندیوں، درختوں، باغات، بنوں، رمناؤں اور پرتیوں میں ڈھیر ساری کہانیاں ہیں۔ یہاں کا مالسور مرا نہیں ہے، ابھی زندہ ہے۔ جس کے محیرالعقول واقعے زبان زد خلائق ہیں۔ ۔ . ہمدردی اور عطوفت اور سخاوت کا یہ استعارہ ہمارے اجتماعی تخیل میں ہمیشہ زندہ رہے گا۔ ۔ . اور سب سے بڑی بات یہ کہ یہاں کا پورا سماجی اور ثقافتی نظام ہی ایک کہانی کی مانند ہے۔ ایک فطری کہانی جس میں حضارت کا حسن نہیں بلکہ بداوۃ کا غیر مجلوب حسن ہے۔ ان کہانیوں کے لب پر لاکھے اور لپسٹک نہیں ہیں بلکہ فطری اور قدرتی حسن ہے اور یوں بھی بقول مصحفی:

محتاج عطر کب ہے وہ پیراہن بتاں

یہی وجہ ہے کہ اس سرزمین سے ابھرنے والی کہانیاں ذہنوں کو اپنی طرف کھینچتی ہیں اور دیارِ غیر میں بھی اپنائیت کا احساس دلاتی ہیں۔ مشتاق احمد نوری کی کہانی صاف ستھری اور سادہ ہے۔ اور ان مہملات سے پاک ہے جن کی وجہ سے کہانیاں۔ ۔ . کچھ نہ سمجھے خدا کرے کوئی۔ ۔ . ہو جاتی ہیں۔ وہ کہانیوں میں زیادہ لند پھند نہیں دکھاتے۔ سیدھے سادے انداز میں جو کچھ لوحِ ذہن پر ابھرتا ہے، اسے قرطاس کے سپرد کر دیتے ہیں۔ ’’بند آنکھوں کا سفر‘‘ بہت اچھی کہانی ہے جس کا اختتامیہ واقعتاً بہت حسین ہے :

میں کنارے پر تھا اور تم سمندر کے درمیان تھیں۔

میں آگے بڑھ نہیں سکتا تھا کہ سامنے ایک تصویر تھی جس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ تھی اور پیچھے بھی نہیں جا سکتا تھا۔ وہاں بھی ایک تصویر تھی جسے میں پلٹ کر نہیں دیکھ سکتا تھا۔

کون جانے دیکھ لیتا تو امر ہو جاتا—

یا پتھر کے بت میں تبدیل ہو جاتا—

رفیع حیدر انجم، مشتاق احمد نوری ہی کی نسل اور کتھابھومی کے افسانہ نگار ہیں جنہوں نے اپنی ایک الگ تخلیقی دنیا بسائی ہے۔ انہیں اپنی تخلیقی قوت اور فن پر پورا اعتماد ہے۔ اس لیے وہ شہرت کے بینڈ و گن پر سوار نہیں۔ انہوں نے Literary Gimmicks کا کبھی سہارا نہیں لیا، وہ ادبی اٹھائی گیروں اور آرگنائزڈ مافیا سے ہمیشہ دور رہ کر کنج تنہائی میں اردو فکشن کی آبیاری کرتے رہے۔ ’’بے ارادہ‘‘ ان کے افسانوں کا تازہ ترین مجموعہ ہے جس میں ۲۲ افسانے شامل ہیں اور یہ تمام افسانے ایک نئے سماجی تہذیبی منطقے دریافت کرتے ہیں۔ رینو کے افسانے اَر ریا کے ’ کلچرل میموری‘ کی حیثیت رکھتے ہیں تو انجم کے افسانے بھی اسی تہذیبی روایت کی توسیع ہیں۔

آج جبکہ اردو افسانے میں کہانی پن کی گم شدگی، قاری کی عدم دلچسپی اور Hypertext Fiction کی بات ہو رہی ہے۔ ایسے میں یہ افسانے یہ احساس دلاتے ہیں کہ کہانی زندہ ہے، مری نہیں۔ گو کہ ’’الف لیلہ و لیلہ‘‘ کی طرح طلسماتی تحیراتی کہانیاں خال خال ہیں، پھر بھی غنیمت ہے کہ کچھ عصری کہانیاں ہماری ایسی سات راتوں کی کہانیاں ہیں جو اپنے اندر کم و بیش وہی قوت و تاثر رکھتی ہیں ’’بے ارادہ‘‘ کی کچھ کہانیاں بھی اسی زمرے میں آتی ہیں۔ رفیع حیدر انجم کے افسانوں میں داخلی کشمکش، ذہنی تناؤ، باطنی کرب، انسان کی بے حسی، بے مروتی، استحصال، جبر اور قصباتی زندگی کے مسائل اور المیوں کا سچا بیان ملتا ہے۔ فرقہ واریت، فسادات، بابری مسجد انہدام پر لکھے گئے ’’راڈار، اور ’’ستون‘‘ آج کے سفاک حالات کے عکاس ہیں مگر ان افسانوں میں بھی ایک مثبت زاویہ ابھرتا ہے۔ انجم کے تخلیقی بیانیہ میں بھرپور قوت ہے۔ لفظوں سے خوب صورت محاکاتی تاثر پیش کیا گیا ہے۔ ان کے افسانوں کے بدن میں آگ ہے، حرارت ہے، تخلیق کار کا جو کرب ان کہانیوں میں چھپا ہے، وہ یقیناً قاری کی آنکھوں سے لہو بن کر ٹپکے گا۔

رفیع حیدر انجم کا یہ مجموعہ عصری اردو فکشن میں ایک نئے امکان کا اشاریہ ہے اور ایک نئے افق کی تلاش۔ افسانے کی تنقید کا کوئی بھی فریم ورک تیار کیا جائے، رفیع حیدر انجم کے افسانے اس معیار پر پورے اتریں گے اور عمدہ و منفرد قرار پائیں گے۔

ایم۔ مبین ہمارے عہد کے ایک اہم افسانہ نگار ہیں جنہوں نے اردو کے علاوہ ہندی کی افسانوی دنیا میں بھی اپنی الگ شناخت قائم کی ہے۔ ان کے کئی افسانوی مجموعے شائع ہو چکے ہیں جن میں ’’ٹوٹی چھت کا مکان‘‘ اور تازہ مجموعہ ’’نئی صدی کا عذاب‘‘ قابل ذکر ہیں۔

ایم۔ مبین جیسے تخلیق کار جو کھلی آنکھوں سے سماج اور سیاست کا منظرنامہ دیکھ رہے ہیں، ان کا المیہ یہی ہے کہ وہ ان سانحات اور واقعات سے اپنی آنکھیں بند نہیں کر سکتے جو آج کے صنعتی شہری معاشرے میں رونما ہو رہے ہیں۔ ایک حساس ذہن وقت کی دستکوں کو اپنے سینے پر محسوس کرتا ہے اور یہی دستکیں اس کے پورے وجود میں پھیل جاتی ہیں تو وہ بے کلی اور اضطراب سا محسوس کرتا ہے اور یہی اضطراب جب تخلیق میں بدلتا ہے تو یہ اضطرابی لہریں ان ذہنوں کو بھی اسیر کر لیتی ہیں جو انہیں محسوسات کی سطح پر دیکھتے تو ہیں مگر اظہاری سطح پر اپنے درد کا اظہار کرنے سے قاصر رہتے ہیں۔

ایم۔ مبین کے افسانے آج کے عہد کا آشوب نامہ ہیں۔ انہوں نے اپنے عہد کے انتشار کو تخلیقی ہنر مندی کے ساتھ اپنے اظہار کا لمس عطا کیا ہے۔ اپنے عہد کی معاشرتی، سیاسی صورت حال اور انسانی ذہن اور احساس کی کیفیات کو بڑی ہی فن کاری کے ساتھ اپنی کہانیوں میں پیش کیا ہے اور یہاں اس حقیقت کا اظہار ضروری ہے کہ جن تخلیق کاروں نے اپنے عہد کے انتشار کو اپنی تخلیق کا محور بنایا ہے، وہ زمانی و مکانی حدود سے ماورا ہو گئے ہیں اور ان کی تخلیقات کو مابعد کے زمانوں میں حوالوں کی حیثیت حاصل رہی ہے۔

ایم۔ مبین نے بھی اپنی تخلیق میں زیادہ تر اپنے عہد سے ہی سروکار رکھا ہے اور اپنے عہد کی تمام تر تصویروں کو اپنی تخلیق میں قید کر لیا ہے۔

انہوں نے تجریدی طرز اظہار یا علامتی اسلوب سے قاری کے لیے پیچیدگیاں پیدا نہیں کیں بلکہ صاف شفاف بیانیہ اسلوب میں اپنے عہد کی تفہیم کی کوشش کی ہے اور اس میں قاری کی ذہنی سطحوں کا بھی خیال رکھا ہے۔ ان کے اسلوب میں جو کھردرا پن ہے، وہ بھی ماحول کا زائیدہ ہے۔ ایسے پرخطر ماحول میں انسان کی سوچ بھی کھردری ہو جاتی ہے اور زندگی کی بے کیفی، اسلوب پر حاوی ہو جاتی ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ ان کے لہجے اور اسلوب میں صرف کرختگی ہے بلکہ یہ کرختگی افسانے کا تقاضا ہے اور اس کی تکمیل کے لیے یہ اسلوب ہی ناگزیر تھا۔

ایم۔ مبین کی کہانیاں اپنے عہد کی تاریخ بھی ہیں اور اپنے عہد کا اضطراب بھی۔ ان کے بیشتر افسانوں کا محور مذہبی خطوط پر انسانی ذہنوں کی تقسیم اور اس تقسیم سے پیدا شدہ بھیانک مسائل ہیں۔ ایم۔ مبین کے افسانوں میں فسادات، جبر اور ہولناکی کی جو فضا ہے، وہ آج کے ماحول کی دین ہے۔

ایم۔ مبین کے زیادہ تر افسانے System کے خلاف ہیں۔ وہ سسٹم جو ساری برائیوں اور سارے فساد کی جڑ ہے۔ در اصل یہی وہ نظام ہے جس کی وجہ سے انسان زرد کتا بن گیا ہے۔

ایم۔ مبین کے افسانوں میں سوالات ہیں، احتجاج کی آوازیں ہیں اور یہی احتجاج، آج کے افسانے کا غالب عنصر ہے۔ افسانوں سے احتجاج غائب ہو جائے تو پھر افسانے معنویت کھو دیتے ہیں۔

ایم۔ مبین نے اپنے افسانوں کے ذریعہ اپنے عہد کی بے زبانی کو بھی زبان عطا کرنے کی کوشش کی ہے۔ در اصل خوف و دہشت میں جکڑی ہوئی زبانیں جب سکوت اختیار کر لیتی ہیں تو مسائل اور بھی پیچیدہ ہو جاتے ہیں۔ ایم۔ مبین نے آج کے انسان کے کرب اور ذہنی کیفیات کے تناظر میں کہانیاں لکھی ہیں اور یہ کہانیاں انسانی رشتوں اور تعلقات کی کہانیاں ہیں۔ اس میں Inner اور Outer life کی جھلکیاں ملتی ہیں۔

ان کی کہانیوں کے کردار بالکل ویسے ہی حقیقی ہیں جیسے وار اینڈ پیس، وینٹی فیر، مادام بواری، Tristam Shandy کے کردار حقیقی ہیں۔ ایم۔ مبین کے افسانوی کرداروں کی آنکھوں سے محبت، جنگ، امن، دہشت، خوف، فیملی لائف، سوشل لائف کے سارے رنگ دیکھ سکتے ہیں۔ یہ کردار راوی کے ذہن سے نکل کر قاری کے ذہن میں ہلچل اور ہیجان بپا کرتے ہیں۔

ایم۔ مبین کی کہانیاں صرف ایک حساس ذہن کے اضطراب کی آئینہ دار نہیں ہیں بلکہ ان کہانیوں میں ہمارے عہد کا اضطراب ہے، وہ اضطراب جو تخلیقی ذہنوں میں شعلگی کی کیفیت پیدا کرتا ہے اور پھر یہی شعلگی جب حساس خلاق ذہن سے عام انسانی ذہن میں منتقل ہوتی ہے تو آگ سی دہکتی ہے اور قاری اپنے وجود کو شعلوں کے حصار میں محسوس کرتا ہے۔

شہرزاد نے اپنے عہد کے کرب کو کہانی میں پیش کیا تھا۔ ہمارے آج کا تخلیق کار بھی اپنے عہد کے کرب کو پیش کر رہا ہے۔ ایم۔ مبین کے افسانوں کا امتیاز یہ ہے کہ انہوں نے اپنے افسانے میں آج کے عہد کی سوچ کرب اور اس کے تمام تر زاویوں کو پیش کیا ہے۔

ایم۔ مبین کی کہانیاں آج کی سچویشن کی شاعری ہے اور یہ شاعری اپنی تمام تر اظہاری قوت کے ساتھ ہمارے عہد کے ضمیروں کو جھنجھوڑ رہی ہے۔ یہ اسی نوع کی پوئٹری ہے جیسی وار اینڈپیس ودرنگ ہائٹس میں اور جین آسٹن کے ہاں ملتی ہے۔

احمد صغیر، مابعد نسل کے ہیں مگر بہت ہی مختصر عرصے میں ۱۹۸۰ء کے بعد افسانوی افق پر اپنی شناخت قائم کر لی ہے۔ اُن کے افسانوی مجموعے ’’منڈیر پر بیٹھا پرندہ‘‘ کو ادبی دنیا میں کافی محبوبیت نصیب ہوئی۔ دوسرا مجموعہ ’’انا کو آنے دو‘‘ اُن کے تخلیقی تحرک کا خوبصورت اشاریہ ہے۔ ’’جنگ جاری ہے ‘‘ اُن کا ایک اچھا موضوعاتی ناول ہے۔ ’’انا کو آنے دو‘‘ میں احمد صغیر کا فن ارتفاع کو چھوتا ہوا محسوس ہوتا ہے۔ اس میں بارہ افسانے شامل ہیں۔ جو ہماری بارہ راتوں کو زندہ رکھنے کے لیے کافی ہیں۔ یہ در اصل وہ بارہ چشمے ہیں جو تخلیقی ذہن کی ضرب سے فکشن کے دریا میں پھوٹ پڑے ہیں۔ یہ چھوٹے چھوٹے بارہ دائرے ہیں جن میں فکشن کے موج صد رنگ کو محسوس کیا جا سکتا ہے اور یہ بارہ دھارے، فکشن کے دریاؤں کا رخ بھی موڑ سکتے ہیں۔ ان افسانوں میں ’’انا کو آنے دو‘‘ مرکزی کہانی ہے اور یہ کہانی ایک نئی زمین، نئے آسمان، نئے چاند سورج اور نئے ستاروں کے جلو میں لکھی گئی ہے۔ کہانی مختصر سی ہے مگر اس کا تاثر بہت گہرا ہے۔ پھلمتیا اس کا ایک ایسا کیرکٹر ہے جسے اگر اور مانجھا گیا تو ہوری کی طرح کسی دن ایک زندہ کردار بن جائے گا۔ دوسرا کردار اَنا، ایک علامت ہے مزاحمت اور مقاومت کی، جد و جہد اور بغاوت کی، سماجی سیاسی نظام کو بدلنے والے ایک انقلابی انسان کی۔ کہانی کا ایک اقتباس اَنا کے اس علامتی کردار کی تمام تر وسعتوں کو پیش کرنے کے لیے کافی ہے۔

’’کیا اکیلا کوئی انا اس نظام کو بدل دے گا یا ہر گھر میں ایک انا کا وجود اب لازمی ہے ؟ ہر گاؤں ہر قصبے اور ہر گھر میں انا کی ضرورت ہے جو موجودہ نظام کو بدلنے میں معاون ہو سکے۔ لیکن اس قدر اَنا آئے گا کہاں سے ؟ برسوں میں صرف ایک انا پیدا ہوتا ہے اور بس ایک دن میں اسے ختم کر دیا جاتا ہے یا جیل کی سلاخوں کے پیچھے ڈال دیا جاتا ہے۔ ‘‘

احمد صغیر کی کہانیاں بہت مختصر مگر بہت ہی معنی خیز ہوتی ہیں۔ ان کہانیوں کا جوعلاقائی تناظر اور مقامی تشخص ہے، یہی تناظر اور تشخص ان کہانیوں کو نئی معنویت، نئی وسعت اور آفاقیت عطا کرنے کے لیے کافی ہے۔ جب تک علاقائی جڑوں کی تلاش کی کوشش نہیں کی جائے گی تب تک کوئی بھی ادب آفاقی نہیں ہو سکتا۔ علاقائیت کی کوکھ سے ہی آفاقیت جنم لیتی ہے اور احمد صغیر نے اس رمز کو سمجھ لیا ہے۔ اس لیے وہ ایسی کہانیاں لکھتے ہیں جس سے اردو فکشن کو ایک نیا ڈائمنشن ملے اور ایک ایسا نیا کنوارا تناظر جو دوسروں کے ذہن میں واضح نہ ہو۔ نئے تناظر کی یہ کہانیاں، اردو فکشن کو وسعتوں اور رفعتوں کی نئی منزلیں عطا کریں گی، یہ میرا گمان ہے۔ کیا عجب کہ کبھی یہ گمان، یقین میں بدل جائے —!!

ظہیر کیفی، اردو کے شاید وہ بدنصیب افسانہ نگار ہیں، جنہیں اتنی شہرت اور مقبولیت نصیب نہ ہو سکی جس کے وہ مستحق تھے، مگر انہوں نے ’’مسکوٹ‘‘ کے ذریعے فکشن کے منظر نامے پر اپنے جو نقوش ثبت کئے ہیں، وہ یقیناً اُن کے ہونے کی گواہی دیتے رہیں گے۔ ’’مسکوٹ‘‘ میں بعض بہت ہی عمدہ قسم کے افسانے شامل ہیں، جنہیں ہمارے فکشن کے ناقدین اگر سنجیدگی سے پڑھیں تو اُنہیں ظہیر کیفی کی ذہنی رفعتوں اور فنی عظمتوں کا احساس ہو گا۔

’’مسکوٹ ‘‘میں یوں تو ۱۷ افسانے ہیں۔ مگر صرف دو افسانوں سے میرے قلب و نظر کا رشتہ استوار ہو سکا ہے۔ یہ دو افسانے، واقعتاً اتنے سحر آفریں اور پُر اثر ہیں کہ قاری اس کے طلسماتی سحر میں بندھ سا جاتا ہے۔ ان دو افسانوں میں کہانی کار نے اپنے مشاہدے کی وسعت اور حواس کی شدت کو جس طرح فنی پیکر عطا کیا ہے، اس کی داد نہ دینا کم ظرفی ہو گی۔ کسی افسانوی مجموعے میں اگر دو ایک اچھی کہانیاں مل جائیں تو یہ بہت بڑی بات ہے۔ ورنہ اکثر کہانیوں کو پڑھتے ہوئے حمیم، زقوم، غساق اور غسلین جیسی بے لذتی کا احساس ہوتا ہے۔

تحسین منور ہمارے عہد کے نئے افسانہ نگار ہیں۔ اُن کا مجموعہ ’’معصوم‘‘ ابھی حال ہی میں شائع ہوا ہے اور خوشگوار حیرت ہوتی ہے کہ تحسین منور کی کہانیاں بعض ان لوگوں سے بہتر ہیں جو مستقل اور متواتر برسوں پہلے سے چھپتے رہے ہیں۔ ان کی کہانیوں میں شب کی تیرگی نہیں، سریت ہے۔ یہ کہانیاں کسی بھی سطح کے ذہن میں اپج سکتی ہیں مگر منور نے ان کہانیوں کو اپنے مرتفع ذہن سے معتبر بنا دیا ہے۔ کہانی بھی تو مہر میں اعتبار مانگتی ہے۔ سو اعتبار کا نور ان کہانیوں کے قلاوے میں چمک رہا ہے۔ یہ کمال ہے تحسین کا جنہوں نے کہانیوں کو نئی تجمیل عطا کی۔

 

 

 

 

اسطور اساس افسانہ

 

اساطیر کی اساس پر جو کہانیاں لکھی گئی ہیں وہ اپنے اندر ایک جہان طلسمات سمیٹے ہوئے ہیں۔ اساطیر ہمارا اجتماعی حافظہ اور شعور بھی ہیں۔ کتھا سرت ساگر، رامائن، مہابھارت اور جاتک کہانیوں سے کسی بھی تخلیقی ذہن کو مفر نہیں۔ اسی لیے اساطیری عناصر جن افسانوں میں ملتے ہیں، ان افسانوں کا قدو قامت تو بڑھ ہی جاتا ہے۔ ان کی دل کشی اور جاذبیت بھی دو چند ہو جاتی ہے۔ انتظار حسین کی بیشتر کہانیاں اسطوری محور کے ارد گرد گھومتی ہیں۔ اس لیے ان کے اندر ایک تجسس اور تحیر بھی ہوتا ہے اور تاثر آفرینی کی کیفیت بھی۔ کشتی، کچھوے کے علاوہ ’مورنامہ‘ ان کا ایک ایسا ہی اسطوری افسانہ ہے جس میں آج کے تناظر کو قدیم دیومالائی سیاق و سباق میں دیکھنے کی کوشش کی گئی ہے۔ سریندر پرکاش کا ’پیاسا سمندر‘ اور ’گاڑی بھر رسد، بجوکا، باز گوئی، بن باس۔ ۸۱، بھی اسطوری کہانیاں ہیں۔ ان کا فکری منبع مہابھارت ہے۔ اس میں آج کے حالات میں ان پرانے اسطوری کرداروں کا احیاء کیا گیا ہے۔ ’پیاسا سمندر‘ کا کردار بکاسر راکشش ہے جو صدیوں کے بعد بھی غائب نہیں، حاضر ہے۔ اسی طرح ’پیاساسمندر‘ کا کردار پربھاکر پنڈت جو رادھے بھگت ہے اسے ایک شبھ نام کی عورت سے پیار ہوتا ہے مگر وہ اس کے ساتھ لذت وصال حاصل نہیں کر سکتا۔ اس لیے اس کی تصویر کے سامنے ننگ دھڑنگ ہو کر جنسی تلذذ حاصل کرتا ہے۔ اسی طرح حسین الحق نے ’آتم کتھا‘، قمر احسن نے ’کل یگ کی علامت‘ اور جوگندر پال نے ’’مہابھارت کی دوسری جنگ‘‘ میں قدیم اسطوری کرداروں کو re-create کر کے اس حال کو ماضی سے مربوط کر دیا ہے۔ سلام بن رزاق نے بھی آریائی اساطیر کا تخلیقی استعمال اپنے افسانوں میں کیا ہے۔ ’ایک اور شرون کمار‘ اسطور اساس افسانہ ہے۔ عزیز احمد کی ’’مدن سینا اور صدیاں ‘‘ اور ممتاز شیریں کا ’’میگھ ملہار‘‘ بھی اسطوری تناظر میں لکھے گئے ہیں۔ عطیہ سید کے بھی کچھ افسانے اسطوری تناظر لیے ہوئے ہیں۔ سمیع آہو جہ کی کہانیوں میں بھی ہندو دیومالائی عناصر ملتے ہیں۔ ’’برسات کی رات‘‘ اسی نوع کی کہانی ہے۔ منصور قیصر کا افسانہ ’’نئی بشارت کا نوحہ‘‘ انور قمر کی کہانی ’’ارتھ ہین یاترا‘‘ انور خان کی ’’ہوا‘‘ بھی اسطور اساس کہانیاں ہیں۔

 

 

 

 

المیہ افسانوی تنقید کا

 

مجھے اپنی بے بضاعتی اور کم علمی کا اعتراف کرتے ہوئے کبھی کوئی جھجک نہیں ہوتی۔ میں نے مولوی محمد حسین آزاد کی آبِ حیات نہیں پڑھی اور نہ ہی خواجہ الطاف حسین حالی کی مقدمۂ شعر و شاعری۔ ۔ . میرے لیے تو جاحظ کی ’البیان والتبیین‘ ابن عبد ربہ کی ’العقد الفرید‘ مبرد کی ’الکامل‘ ابو علی قالی کی ’الامالی‘ ایسے سمندر ہیں جن میں غواصی کے لیے پوری حیات بھی ناکافی ہے۔ قدامہ بن جعفر، ابوہلال عسکری، ابن رشیق، جرجانی، ابن خلدون اس کے ماسوا ہیں۔ اس لیے میں اردو فکشن کی تنقید کے متعلق کوئی بات لکھوں تو چھوٹا منہ بڑی بات ہو گی۔ یہ میدان ان لوگوں کا ہے جنہوں نے فکشن اور فکشن کی تنقید کے دشت کی سیاحی میں ایک عمر گزاری ہے۔ مجھے تو اس وقت قاضی عبدالستار یاد آ رہے ہیں۔ جنہوں نے یہ لکھا ہے کہ اردو تنقید کی گردن میں بہت سے فقرے تعویذوں کی طرح پڑے ہوئے ہیں اور اسی کو بالفاظ سراج منیر یوں کہا جا سکتا ہے کہ تنقید کی اصطلاحیں جالِ الیاسی ہیں اور ادب کے دبستان عمر عیار کی زنبیل۔ کسی ادب پارے کی آبرو نقاد کی دست برد سے محفوظ نہیں ہے۔ ہر ایک پر کسی اصطلاح کالیبل ہے اور ہر تحریر کسی دبستاں کی تہمت:

آفاق کی منزل سے گیا کون سلامت

اسباب لٹا راہ میں یاں ہر سفری کا

نقاد جب Parasite بن جائیں تو تنقید اپنا اعتبار کھو دیتی ہے اور طفیلی تنقید جنم لیتی ہے۔ ایزرا، ایڈمنڈ ولسن یا ڈیوڈ لاج کے حوالے دے کر کوئی بڑا نقاد تو نہیں، ہاں بڑا نقال ضرور بن سکتا ہے۔ صاحب نظر کہتے ہیں کہ فکشن کی تنقید صحیح طور پر لکھی ہی نہیں گئی۔ جہاں تک وارث علوی کا تعلق ہے ان کے بارے میں رائے یہ ہے کہ علوی کی تنقید سراسر سفلی ہوتی ہے۔ باقی نقادوں کا حال اللہ بہتر جانتا ہے۔ علی گڑھ کٹ دہانِ تنگ تنقید کی تو بات ہی چھوڑیے، خدا جھوٹ نہ بلوائے مجھے تو اردو کے بہت سے نقاد دشت قیچاق کے قزاق نظر آتے ہیں۔ ۔ . صحیح کہہ رہا ہوں نا!

فکشن کی تنقید میں صرف چند ایک کو چھوڑ کر پروفیسر گوپی چند نارنگ کی ذات ہی ایسی ہے جنہوں نے نئی نسل کے افسانہ نگاروں کو درخور اعتناء سمجھا اور ان کی تخلیقی صلاحیتوں کو جلا بخشنے میں نمایاں رول ادا کیا۔ نارنگ صاحب نے نسلی خلیج کو بھی دور کیا اور اس تازہ ترین نسل کی تخلیقی حرکیات پہ بھی لکھا جس کے بارے میں ہمارے ابن کوش نمرود نقاد ایک سطر بھی لکھنا کسرِ شان سمجھتے ہیں۔ نارنگ صاحب کو نئی نسل اس لیے بھی زیادہ محترم معتبر مستند سمجھتی ہے کہ نارنگ صاحب نے نئی نسل کو نظرانداز نہیں کیا اور فکشن کی تنقید میں نئی نسل کے تخلیق کاروں کو بھی نمایاں اہمیت دی۔ فکشن کی تنقید کو انہوں نے یقیناً ایک نیا تناظر عطا کیا ہے اور تنقید کے جمود اور جلمود کو توڑا ہے اور ایسی تنقید لکھی ہے جس کی مثال بمشکل ملتی ہے۔ وارث علوی تک اقرار کرتے ہیں کہ فکشن کی تنقید کے آداب کوئی نارنگ سے سیکھے —!

٭٭٭

’ادب سلسلہ‘ شمارہ ایک سے ماخوذ

تشکر:تبسم فاطمہ جنہوں نے اس کی فائل فراہم کی

ان پیج سے تبدیلی، تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید