FavoriteLoadingپسندیدہ کتابوں میں شامل کریں

طارق سلطانپوری — دبستانِ رضا کا گُلِ سرسبد
ما حلقہ بگوشِ سخنِ عشق و جنونیم

صاحبزادہ سید وجاہت رسول قادری
 
سیدی الوریٰ احمد مجتبیٰ محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی نعت لکھنا، پڑھنا اور سننا بامرِ الٰہی ایک عظیم عبادت ہے ۔ اہلِ ایمان کو اللہ تعالیٰ نے بارگاہِ سیدعالم صلی اللہ علیہ وسلم میں درود و سلام بھیجنے کا جس میں زبان و قلم دونوں شامل ہیں ، واضح حکم دیا ہے ۔ (1) یہ درود و سلام منثور بھی ہوسکتا ہے اور منظوم بھی۔ منثور صلوٰۃ و سلام کی بہترین مثال فنا فی الرسول، امامِ وقت، ولیِ کبیر، قطبِ شہیر، سید العارفین، حضرت الشیخ سیدنا ابو عبد اللہ محمد بن سلیمان الجزولی سملالی حسنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ (ولادت 807ھ/ 1404ء۔ وفات 870ھ/ 1465ء) کی مشہور زمانہ تالیف دَلَائِلُ الْخَیْرَاتِ وَشوارقُ الْاَنْوَارِ فِی ذِکْرِ الصَّلٰوۃِ عَلَی النَّبِیِّ الْمُخْتَارِ صلی اللہ علیہ وسلم ہے ۔
منظوم درود و سلام بے شمار لکھے گئے ہیں ۔ سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے دورِ ہمایونی سے لے کر آج تک ہر دور، ہر علاقہ اور ہر زبان کے اہلِ ایمان شعراء نے منظوم درود و سلام لکھنے میں طبع آزمائی کی ہے اور ان شاء اللہ یہ سلسلہ صبحِ قیامت تک جاری رہے گا بلکہ بروز حشر اور بعدِ حساب و کتاب جنت کی فضاؤں میں بھی جاری و ساری رہے گا۔ لفظ “نعت” کے لغوی و اصطلاحی معانی کی تفصیل میں جائے بغیر مختصراً یوں سمجھئے کہ ان منظوم صلوٰۃ و سلام کو ہی نعت کہا جاتا ہے ۔
عربی نعتیہ قصائد میں حضرت امام شرف الدین بوصیری علیہ الرحمۃ والرضوان کے قصیدۂ بردہ شریف کو جو شہرت و مقام ملا ہے ، وہ اظہر من الشمس ہے ۔ اسی طرح فارسی زبان میں جید اور افاضل شعراء کرام نے نعتیں کہی ہیں مثلاً ابو معید ابو الخیر (م440ھ/ 1049ء)، حکیم سینائی (م 545ھ)، خاقانی نظامی گنجوی، فرید الدین عطار، شیخ سعدی وغیرہم اور دورِ جدید میں علامہ اقبال معروف نعت گو شعراء میں شمار ہوتے ہیں ۔ امام احمد رضا بریلوی (م1921ء) نے بھی فارسی میں نعتیں کہی ہیں (2) لیکن مولائے روم علیہ الرحمۃ کی مثنوی شریف اور علامہ جامی قدس سرہ کے کلام کو جو مقبول عام نصیب ہوا، وہ شاید دوسروں کو نہیں مل سکا۔ ہندوستان کے دیگر فارسی شعراء میں حضرت امیر خسرو، عرفی، شیرازی، مرزا بیدل، قدسی، غالب معروف ہیں ۔
اردو نعت کا آغاز اردو زبان کی ابتداء کے ساتھ ہی ہوا۔ (سولہویں صدی عیسوی کا آخر اور سترہویں صدی کا آغاز) اردو زبان میں نعتیہ ادب کا پہلا نمونہ صوفیائے کرام کے قصائد، عارفانہ گیتوں اور جکریوں (ذکری اشعار) میں ملتا ہے جو انہوں نے تبلیغِ اسلام اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے فضائل و خصائل کے بیان کے سلسلے میں لکھی گئی تصانیف میں شامل کیے ہیں (3) جس میں دکن کے مشہور و معروف ولی اللہ حضرت خواجہ بندہ نواز گیسو دراز علیہ الرحمۃ والرضوان سرفہرست ہیں ۔ ان کا قصیدۂ نعتیہ بہت مشہور ہوا جس کا مطلع ہے :
اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہجلو جم جم جلوہ تیرا
ذات تجلی ہو گی سیں سپور نہ سیرا
بعض دیگر اشعار ملاحظہ ہوں :
واحد اپنی آپ تھا اپیں آپ نجہایا
پر کٹہ جلوے کار نے الف میم ہو آیا
عشقوں جلوہ دینے کو کاف نون بسایا
لولاک لما خلقت الافلاک خالق پالائے
فاضلافضل جتنے مرسل ساجد سجود آئے
امت رحمت بخشش ہدایت تشریف پائے
ان کے بعد فخر الدین نظامی، قطب علی شاہ اور ولی دکنی تک بہت سے صوفی شعراء کرام کے نام آتے ہیں ۔
اسی طرح دوسرے دور میں شمالی ہند میں سودا، میر، مصحفی، مومن وغیرہ کے نام نعتیہ شاعری کے حوالہ سے بہت نمایاں ہیں ۔ (4)
شمالی ہند میں اردو نعتیہ شاعری کے دوسرے دور کی ابتداء کرامت علی شہیدی، مولانا کفایت علی کافی، مولانا غلام امام شہید، مولانا لطف بریلوی اور مولانا تمنا مراد آبادی سے ہوتی ہے ۔ بقول ڈاکٹر ریاض مجید، ان نعت گو شاعروں نے اردو نعت کو تقلیدی دور سے نکال کر تشکیلی دور میں داخل کیا۔ انہوں نے اپنے شغفِ نعت سے نہ صرف یہ کہ نعت گوئی کی ترویج و تشہیر میں قابلِ قدر خدمات انجام دیں بلکہ نعت کے اعلیٰ نمونے بھی تخلیق کیے ہیں ۔ یہی وہ دور ہے جب غزل کے دیوان کی طرح پہلی بار ردیف وار نعتیہ دیوان مرتب کرنے کا آغاز ہوا۔ (5) شہید ِ آزادی حضرت مولانا کافی قدس سرہ کا جب ذکر آیا ہے تو اعلیٰ حضرت امام احمد رضا بریلوی علیہ الرحمۃ والرضوان کے حوالے سے ایک واقعہ کا بیان اہلِ علم کے لیے دلچسپی سے خالی نہ ہو گا۔ اس کا اعتراف تمام ناقدینِ نعتیہ ادب نے کیا ہے کہ اعلیٰ حضرت نعت گوئی میں آدابِ شریعت کا خاص خیال رکھتے تھے اس لیے وہ صرف ان شعراء کے نعتیہ اشعار سننا پسند فرماتے تھے جنہیں وہ سمجھتے تھے کہ وہ نعت گوئی میں آدابِ شریعت اور مقامِ مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کا خاص خیال رکھتے ہیں ۔ چنانچہ اس سلسلے میں امام صاحب کے ملفوظات میں ایک واقعہ ملتا ہے کہ کسی شاعر نے آپ کو نعت سنانی چاہی تو آپ نے جواب میں فرمایا:
“سوا دو کے کلام کے ، میں قصداً کسی کا کلام نہیں سنتا۔ مولانا کافی اور حسن میاں مرحوم کا کلام اول سے آخر تک شریعت کے دائرے میں ہے ۔۔۔ باقی اکثر دیکھا گیا ہے کہ قدم ڈگمگا جاتے ہیں ۔ حقیقت میں نعت شریف لکھنا نہایت مشکل ہے جس کو لوگ آسان سمجھتے ہیں ۔ اس میں تلوار کی دھار پر چلنا ہے ۔ اگر بڑھتا ہے تو الوہیت میں پہنچ جاتا ہے اور کمی کرتا ہے تو تنقیص ہوتی ہے ۔” (6)
امام احمد رضا محدثِ بریلوی قدس سرہ شہید ِ جنگ ِ آزادی مولانا کفایت علی کافی علیہ الرحمۃ کی نعتیہ شاعری کے کس قدر دلدادہ تھے ، وہ ان کی ایک رباعی سے بھی ظاہر ہے جس میں انہوں نے علامہ کافی کو اقلیمِ نعت کا سلطان تسلیم کیا ہے ۔ ملاحظہ ہو
مہکا ہے میرے بوئے دہن سے عالم
یاں نغمۂ شیریں نہیں تلخی سے بہم
کافی سلطانِ نعت گویاں ہے رضا
ان شاء اللہ میں وزیرِ اعظم (7)
بعض ناقدانِ فنِ نعت گوئی کے مطابق مولانا کفایت علی کافی کے دور کے بعد یہی روایت امیر مینائی اور محسن کاکوروی کے دور تک پہنچ کر تکمیلِ فن کا درجہ حاصل کر لیتی ہے ۔
امیر مینائی (م1318ھ) نے نعت کے علاوہ غزل اور دوسری اصنافِ سخن میں بھی طبع آزمائی کی لیکن ان کا زیادہ تر کلام نعتیہ موضوعات پر ہے ۔ انہوں نے میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام مروج اور معروف و مقبول موضوعات پر نعتیں لکھی ہیں ۔ ان کی ایک ترجیح بند نعت جو تیرہ بندوں پر مشتمل ہے اور غزلِ مسلسل کے انداز میں لکھی ہوئی محامد خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کے عنوان پر لکھی ہوئی ان کی نعتیں بہت مقبول ہوئیں اور مجالسِ میلاد شریف میں اکثر پڑھی جاتی رہی ہیں ۔ چند اشعار ملاحظہ ہوں :
1۔ ترجیح بند:
کر دو خبر یہ محفلِ میلادِ شاہ ہے
یاں آمدِ جنابِ رسالت پناہ ہے
اُمت چلے رسول( صلی اللہ علیہ وسلم) کی یہ جلوہ گاہ ہے
سیدھی یہی بہشت میں جانے کی راہ ہے
دربارِ عام گرم ہوا اشتہار دو
جن و بشر سلام کو آئیں ، پکار دو (8)
2۔ محامد ِ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم:
مژدہ اے امت کہ ختم المرسلیں پیدا ہوا
انتخابِ صنعِ عالم آفریں پیدا ہوا
نور جس کا قبلِ خلقت تھا، ہوا اس کا ظہور
رحمت آئی، رحمت اللعالمیں پیدا ہوا
………………
چاہئے تعظیم کو اٹھیں جو ہیں محفل نشیں
نائبِ خاصِ خدائے ماء و طیں پیدا ہوا (9)
ان کی غزلیہ نعتیں بھی بہت مشہور ہوئیں ۔ عقیدت و محبت، عشق و سرمستی، جاں نثاری، شیفتگی و جاں سپردگی کا جذبہ ان کی نعتوں کی جان ہے ۔ ایک مشہور نعتیہ غزل کے چند اشعار درج ذیل ہیں :
جب مدینے کا مسافر کوئی پا جاتا ہوں
حسرت آتی ہے یہ پہنچا، میں رہا جاتا ہوں
دو قدم بھی نہیں چلنے کی ہی مجھ میں طاقت
شوق کھینچے لئے جاتا ہے ، میں کیا جاتا ہوں
قافلے والے چلے جاتے ہیں آگے آگے
مدد اے شوق کہ میں پیچھے رہا جاتا ہوں (10)
سید محمد محسن کاکوروی (م1323ھ) کے ہاں دیکھا جائے تو اردو نعت گوئی کے گذشتہ ادوار کے مقابلے میں پہلی بار اردو نعت گوئی کا فن تکمیلی مراحل طے کرتا نظر آتا ہے ۔ تقلیدی اور تشکیلی ادوار کی روش سے ہٹ کر محسن کا نعتیہ کلام پہلی بار اردو نعت گوئی کی تاریخ میں نعت کا ایک مثالی معیار پیش کرتا ہے ۔ مزید برآں ایک جداگانہ صنفِ سخن کے طور پر فنِ نعت کو متعارف کرانے کا ذریعہ بنتا ہے بلکہ اس کے لیے ایک اعلیٰ درجہ کا تعین بھی کرتا نظر آتا ہے ۔ بیشتر ناقدینِ فن نے محسن کاکوروی کے نعتیہ کلام کا جائزہ لیتے ہوئے اس رائے کا اظہار کیا ہے کہ ان کی نعتوں میں تخلیقی شان پائی جاتی ہے ۔ یہ اس لیے کہ اگرچہ نعت گوئی ہمیشہ سے موجود تھی اور اردو زبان کے ابتدائی مراحل میں بھی اس کا رواج تھا لیکن اسے فن کی حیثیت سے کسی اردو شاعر نے محسن سے پہلے اختیار نہیں کیا اور نہ ہی ان سے قبل جن لوگوں نے محض عقیدت کی بناء پر نعت گوئی کو اپنا شعار بنایا، انہوں نے کوئی شاعرانہ کمال پیدا کیا۔ محسن کے کلام کی خوبی یہ ہے کہ ان کا کلام جذبات کی غیر فانی بنیادوں یعنی عشقِ صادق، شیفتگی اور عقیدت، جو ان کی زندگی کے عناصر تھے ، پر استوار ہے ۔ (11)
غرض کہ محسن کاکوروی کا کلیات سراپا نعت ہے ۔ ان کی نعتیہ شاعری مختلف النوع اصنافِ سخن پر مشتمل ہے ۔ ان کی مثنویوں میں “صبحِ تجلی” اور “چراغِ کعبہ” زیادہ معروف ہیں جبکہ قصائد میں “مدیحِ خیر المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم” جس کا دوسرا نام “قصیدۂ لامیہ” بھی ہے ۔
مثنوی صبحِ تجلی تقریباً پونے دو سو صفحات پر مشتمل ہے ۔ اس کا ابتدائیہ ملاحظہ ہو، کیا خوبصورت منظر نگاری ہے :
بیضاوی صبح کا سماں ہے
تفسیرِ کتابِ آسماں ہے
ہے خاتمہ شبِ دل افروز
دیباچہ نگارِ نسخۂ روز
آثارِ سحر ہوئے نمایاں
سیپارہ لیے ہوئے ہے دوراں
والیل کو ختم کر چکا ہے
آمادۂ دورِ والضحیٰ ہے
عنوانِ فلک ہے درِّ منثور
لوحِ زرّیں سے ہے سورۂ نور
اطرافِ بیاض مطلع صاف
والفجر کے حاشیہ پہ کشّاف (12)
بے ساختہ رعایاتِ لفظی، جاندار تشبیہات و استعارات کا استعمال ان کے کلام کی خوبی ہے ۔ مثنوی چراغِ کعبہ کے آخر میں مناجات کے چند اشعار میں یہی رنگ و آہنگ ہے :
اے پرتوِ مہر لایزالی
بے مثل مثالِ بے مثالی
شمعِ حرم خدانمائی
قندیلِ حریمِ کبریائی
……***……
جس طرح ملا تو اپنے رب سے
انداز سے شوق سے ادب سے
یوں ہی تِرے عاصیانِ مہجور
اِک دن ہوں تری لقا سے مسرور
صدقے میں تِرے یہ آرزو ہے
دم میں رہِ آخرت کریں طے
ہو حشر کا دن خوشی کی تمہید
جس طرح سے صبحِ صادقِ عید
یاں شوق، خلوص و التجاء ہو
واں میں ہوں ، آپ ہوں ، خدا ہو (13)
محسن کاکوروی کے نعتیہ قصائد میں سرِ فہرست وہ لامیہ قصیدہ ہے جس کا عنوان مدیحِ خیر المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم ہے ، جس کا مطلع ہے :
سمتِ کاشی سے چلا جانبِ متھرا بادل
برق کے کاندھے پہ لائی ہے صبا گنگا جل (14)
محسن کا یہ قصیدہ بہت مشہور ہوا۔ اس کی شہرت کی بناء پر ان کے دوسرے نعتیہ قصیدے “گلدستۂ رحمت”، “ابیاتِ نعت”، “نظمِ دل افروز” اور “انیسِ آخرت” اپنی فنّی خوبیوں کے با وصف مشہور نہ ہوسکے ۔
لیکن بایں ہمہ رنگ و آہنگ اور منفرد فنّی خصوصیات اس قصیدہ کی بہاریہ تشبیب میں ہندوانہ رسم و رواج اور ہندوانہ مذہب و تہذیب سے خاص روایات، تقریبات و تلمیحات کی کثرت سے استعمال نے اس نعتیہ قصیدے کی فضاء کو “مناسباتِ کفر” کے رنگ میں رنگ دیا ہے جس کو بعض اہلِ علم اور ناقدانِ فن نے سخت گرفت کی ہے لیکن امیر مینائی اور بعض دیگر ناقدین شعر و ادب نے قصیدہ کی بہاریہ تشبیب کے آغاز میں “مناسباتِ کفر” (ہندوانہ رسم و رواج اور مذہب کی اصطلاحات) کے غیر مشروع استعمال کا دفاع کیا ہے اور سند میں مشہور عربی قصیدہ “بانتِ سعاد” کہ جس کی تشبیب بھی مشروع نہیں ، کی مثال پیش کی ہے کہ اس قصیدہ کو سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے حضور پڑھا گیا اور رسول مجتبیٰ و مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زبان مبارک سے اس کی تحسین فرمائی۔ (15)
عصرِ جدید کی نعتیہ شاعری کی ابتداء جنگِ آزادی (1857ء) سے ہوتی ہے اور قیامِ پاکستان (1947ء) تک اردو شعر و ادب کی ترقی کے ساتھ ساتھ اس کے موضوعات اور لب و لہجہ میں بھی بڑی تبدیلیاں آئیں ۔ اسلوبِ بیان میں جدت طرازی کے ساتھ نعتیہ شاعری تشکیلی دور سے نکل کر ارتقاء پذیری کی طرف گامزن ہوئی۔ یہ دور ہندوستان میں قومی و ملّی تحریکوں کا زمانہ ہے ۔ اس عرصہ میں جو دیکھا جائے تو تقریباً ایک صدی پر محیط ہے ، مسلمانانِ ہند کے جذبۂ جہادِ آزادی اور اس کے لیے چلنے والی قومی و ملّی تحریکوں نے بھی اردو نعت کے موضوعات اور اسالیب کو متاثر کیا۔ چنانچہ نعت کے موضوعات میں سید عالم آقا و مولیٰ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حضور مصائبِ آلام پر انفرادی عرضِ حال، استمداد اور استغاثہ کی بجائے قومی و ملی آشوب پر اجتماعی استغاثے کی صورتیں سامنے آنا شروع ہوئیں ۔ بقول ڈاکٹر ریاض مجید:
“عصر جدید کی نعت گوئی کا بڑا دھارا ملّی و قومی موضوعات لیے ہوئے ہے ۔ اس میں رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوۂ حسنہ کے بیان کو خاص اہمیت حاصل ہے ۔ تذکارِ سیرتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے نعت گو شاعروں نے اصلاحِ احوال کا کام لیا اور معجزات اور جمالِ محمدی صلی اللہ علیہ وسلم کے بجائے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پیغام اور سیرت کو نعتوں کا موضوع بنایا گیا۔” (16)
امام احمد رضا خاں رضا بریلوی (م1921ء) اسی دور کے مشاہیر نعت گو شعراء میں شمار ہوتے ہیں ۔
اس دور کے دیگر مشاہیر نعت گو شعراء حسبِ ذیل ہیں :
1۔ مولوی الطاف حسین حالی (م1914ء)
2۔ مولوی شبلی نعمانی (م 1914ء)
3۔ مولوی سید علی حیدر نظم طباطبائی (م1933ء)
4۔ مولانا حسن رضا خاں حسن بریلوی (م1908ء)
5۔ آسی سکندر پوری (م 1916ء)
6۔ درگاسہائے سرور (م1910ء)
7۔ دلّو رام کوثری (م1931ء)
8۔ مولانا محمد علی جوہر (م1931ء)
9۔ مولانا حامد رضا خاں حامد بریلوی (م 1942ء)
10۔ راجہ کشن پرشاد شاد حیدرآبادی (م 1940ء)
11۔ مولانا حسرت موہانی (م 1951ء)
12۔ بیدم وارثی (م 1944ء)
13۔ ڈاکٹر سر محمد اقبال (م 1938ء)
14۔ اکبر وارثی میرٹھی (م1954ء)
15۔ مولانا مصطفی رضا خاں نوری بریلوی (م1981ء)
16۔ مولوی ظفر علی خاں (م1956ء)
17۔ حفیظ جالندھری (پ 1317ھ) (17)
“محسن کے بعد امام احمد رضا محدثِ بریلوی علیہ الرحمۃ (م1921ء) نے اردو کی نعتیہ شاعری میں چار چاند لگا دیے ۔ امام احمد رضا خاں محدثِ بریلوی 10/شوال المکرم 1272ھ/ 14/جون 1856ء کو ہندوستان کے شہر بریلی میں پیدا ہوئے اور 25/صفر المظفر 1340ھ/ 28/اکتوبر 1921ء میں اسی شہر میں اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملے ۔ بلاشبہ وہ اپنے دور کے ایک جید عالمِ دین، متبحر حکیم، عبقری فقیہہ، صاحبِ نظر صوفی، بے نظیر مفسر قرآن، عظیم محدث، سحر بیان خطیب، صاحبِ طرز قلم نگار، شاعر، ادیب اور تصانیف کثیرہ کے مالک تھے ۔
ان کے عہد تک اردو شاعری عاشقانِ مجازی کے پیچ و خم میں الجھی رہی اور محرماتِ شرعیہ کی ترغیب و تشویق اس کی انتہائی منزل تھی۔ امام احمد رضا کا یہ احسان ہے کہ شعر و شاعری کی اس مکدر فضاء کو خواجہ میر درد نے مصفی و مزکیٰ کیا اور عشق و محبت کے سچے جذبات سے اردو شاعری کو روشناس کیا اور بقول شاعر یہ پیش گوئی فرمائی
پھولے گا اس زبان میں گلزارِ معرفت
یاں میں زمینِ شعر میں یہ تخم بو گیا
اور مولانا احمد رضا اس گلزارِ معرفت میں نسیمِ سحر بن کر آئے ۔ اگر وہ نہ آتے تو گلشن پر بہار نہ آتی۔” (18)
اردو کے معروف نقاد ڈاکٹر ریاض مجید، امام احمد رضا کی شخصیت اور نعتیہ شاعری پر تبصرہ کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں :
“(مولانا احمد رضا خاں بریلوی) برصغیر کے معروف عالمِ دین ہیں ۔ محسن کاکوروی کے بعد اردو کے دوسرے بڑے نعت گو ہیں جنہوں نے اپنے شغفِ نعت اور اجتہادی صلاحیت سے اردو نعت کی ترویج و ارتقاء میں تاریخ ساز کام کیا۔ اردو نعت کی تاریخ میں اگر کسی فردِ واحد نے شعرائے نعت پر سب سے گہرے اثرات مرتسم کیے ہوں تو وہ بلاشبہ مولانا احمد رضا کی ذات ہے ۔ انہوں نے نہ صرف یہ کہ خود نعت میں وقیع شاعری کی بلکہ اپنے ہم مسلک شاعروں ، خلفاء اور تلامذہ میں نعت گوئی کو ایک تحریک کی شکل دی۔ اردو نعت میں بریلوی مکتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے سینکڑوں شاعروں کے ذوقِ نعت کو جِلا مولانا ہی کی نعت گوئی سے ملا۔
“حدائقِ بخشش‘ مولانا احمد رضا خان کے نعتیہ کلام کا مجموعہ ہے ۔ اس کے مطالعہ سے سب سے پہلا تاثر جو قاری کے ذہن پر مرتسم ہوتا ہے ، وہ مولانا کے تبحرِ علمی کا ہے ۔ مولانا اردو نعت کی تاریخ میں واحد شخصیت ہیں جنہوں نے اپنے وسیع مطالعے کو پوری طرح اپنے فنِ نعت میں برتا۔ انہوں نے نعتیہ مضامین کے بیان میں قرآن و حدیث سے لے کر منطق و ریاضی، ہیئت و نجوم، ہندسہ و مابعد الطبیعیات وغیرہ علوم و فنون کی مختلف اصطلاحوں کو نہایت سلیقے سے برتا۔” (19)
ڈاکٹر ریاض مجید ایک اور جگہ امام احمد رضا فاضلِ بریلوی علیہ الرحمۃ کی نعت گوئی اور فروغِ نعت میں ان کی خدمات اور مستقبل کے نعت گو شعراء پر ان کے اثرات کا ایک نہایت جامع جائزہ پیش کرتے ہوئے لکھتے ہیں :
“نعت کے باب میں اگر مولانا احمد رضا خاں کی خدمات کا جائزہ لیا جائے تو یہ بات بلا خوفِ تردید کہی جا سکتی ہے کہ اردو نعت کی ترویج و اشاعت میں ان کا حصہ سب سے زیادہ ہے ۔ کسی ایک شاعر نے اردو نعت پر وہ اثرات نہیں ڈالے جو مولانا احمد رضا خاں کی نعت گوئی نے ۔ انہوں نے نہ صرف یہ کہ اعلیٰ معیاری نعتیں تخلیق کیں بلکہ ان کے زیرِ اثر نعت کے ایک منفرد دبستان کی تشکیل ہوئی۔ ان کی نعت گوئی کی مقبولیت اور شہرت نے دوسرے شاعروں کو نعت گوئی کی ترغیب دی۔ عاشقانِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے آج بھی ان کا کلام ایک موٴثر تحریکِ نعت کا درجہ رکھتا ہے ۔” (20)
حضرت رضا بریلوی کی نعتیہ شاعری اور اس میں پنہاں ان کے فکری و علمی پیغامات اور عشقِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو مہمیز لگانے والی حرکی قوت کے مستقبل کی نعت کی تاریخ پر اثرات کے حوالے سے پروفیسر ڈاکٹر منظر عالم جاوید صدیقی صاحب کا یہ تبصرہ بھی بڑا فکر انگیز ہے ۔
“یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ امام احمد رضا بریلوی علیہ الرحمۃ نے اردو نعت کی تاریخ میں عصرِ حاضر کے نعت گوؤں پر سب سے گہرے اثرات مرتب کئے ہیں ۔ انہوں نے اپنے شغفِ نعت اور اجتہادی صلاحیت سے نعت کی ترویج و ارتقاء میں عہد ساز کام کیا۔ اپنے وسیع مطالعہ کو بھرپور انداز میں فنِ نعت میں سمویا۔ انہوں نے نعتیہ مضامین کے بیان میں قرآن و حدیث، منطق و ریاضی، ہیئت و نجوم، ہندسہ، مابعد الطبیعیات اور مختلف علمی و فنّی اصطلاحات و حوالہ جات کو نہایت نفاست اور تخلیقی انداز سے اپنی نعت گوئی کا جزو بنایا۔ انہوں نے نعتیہ مضامین کے اظہار میں مختلف علوم وفنون کے بیان سے نہ صرف اپنی نعت گوئی کو وقیع بنایا ہے بلکہ اردو نعت کے علمی و فکری دائرے کو بھی وسعت دی ہے ۔” (21)
ڈاکٹر عبد النعیم عزیزی اپنے مقالۂ ڈاکٹریٹ “اردو نعت گوئی اور فاضلِ بریلوی” میں امام احمد رضا کی نعتیہ شاعری کے مضامین و موضوعات پر تبصرہ کرتے ہوئے تحریر کرتے ہیں :
“سید محمد محسن کاکوروی نے بلاشبہ نعت کو فن و ادب کے مقام پر پہنچا کر اسے ایک اعلیٰ شاعری کا درجہ دیا۔ یہ فن پہلی بار انہی کے ہاں تکمیل آشنا ہوتا ہوا نظر آیا۔ لیکن امام احمد رضا خاں فاضل بریلوی نے نعت کو نئی سمتوں اور جہتوں سے آشنا کیا۔ اسے علمی اور شرعی وقار کا بھی حامل بنایا۔ مضامین و موضوعات کی وسعت، تکنیک سازی، ساختیاتی و لسانی تجربے کے اعتبار سے یہ محسن سے آگے بڑھے ہوئے ہیں ۔ محسن کی زبان بے شک دیرپا اور حسین ہے لیکن رضا کے یہاں ایسی بھی غزلیں ہیں جن پر جدید شاعری کا گمان ہوتا ہے ۔ رضا کا انداز نرالا ہے ۔ لگتا ہے الفاظ نگینوں کی مانند انگشتریِ شعر میں خیال و جذبہ کے ساتھ خودبخود فٹ ہوتے چلے گئے ہیں ۔ ان کا کلام بالکل وہبی اور الہامی معلوم ہوتا ہے ۔ معنی آفرینی سے پرسادگی کا نمونہ ہے ۔
محسن کا کلام اس قدر اپیلنگ (appealing) اور اثر آفریں نہیں ہے جس قدر رضا کا کلام ہے ۔ محسن کے یہاں خارجیت کا غلبہ ہے مگر رضا کے ہاں داخلیت کا۔” (22)
علامہ سید آلِ رسول حسنین میاں نظمی مارہروی فرماتے ہیں :
“اعلیٰ حضرت نے شاعری کی سب سے مشکل صنف یعنی نعت کو مشقِ سخن کے لیے منتخب کیا۔ انگریزی ادب میں لارڈ ٹینی سن، فارسی میں سعدی و شیرازی اور اردو میں جوش کے ذخیرۂ الفاظ کی بڑی دھوم ہے ۔ ذرا حدائقِ بخشش کے اوراق الٹئے ، زبان و بیان کا ایک سمندر ٹھاٹھیں مار رہا ہے ۔ انہوں نے اپنی شاعری میں جس رنگ و آہنگ کو پیش کیا ہے وہ دوسروں کے نصیب میں اس لیے نہیں کہ دوسرے یا تو معشوق کی زلفوں کے خم میں پھنسے رہ گئے یا غلو و مبالغہ کے دلدل میں ۔ اعلیٰ حضرت نے جو کچھ لکھا قرآنِ مقدس اور حدیث حمید کی روشنی میں لکھا، خود فرماتے ہیں
ہوں اپنے کلام سے نہایت محظوظ
بے جا سے ہے المنۃ للہ محفوظ
قرآن سے میں نے نعت گوئی سیکھی
یعنی رہے احکامِ شریعت ملحوظ
امام احمد رضا کے تبحر علمی اور وسعتِ فکری کے سامنے شعر گوئی کوئی حیثیت نہیں رکھتی لیکن آپ نے شاعری برائے شاعری نہیں کی بلکہ اسے اپنے اظہارِ مسلک کا ذریعہ بنایا اور اپنے کلامِ بلاغت نظام سے اردو شاعری کے دامن میں صالح شعر و ادب کے وہ موتی بکھیرے جس کی مثال پوری دنیائے شاعری میں بہت کم ملے گی، ان کی نعت کا یہ مقطع تعلّی نہیں بلکہ حقیقت کا بیان ہے
یہی کہتی ہے بلبلِ باغِ جناں کہ رضا کی طرح کوئی سحر بیاں
نہیں ہند میں واصفِ شاہِ ہدیٰ، مجھے شوخیِ طبعِ رضا کی قسم” (23)
خلاصۂ کلام یہ کہ امام احمد رضا کے نعتیہ کلام نے اپنے اور بعد کے آنے والے دور میں جس میں عصرِ جدید بھی شامل ہے جسے 1947ء کے بعد کا دور کہا جاتا ہے ، شعر و ادب کے سرمایہ، شریعت و طریقت کے معمولات اور مسلم تہذیب و تمدن پر گہرے اثرات چھوڑے ہیں ۔ تحریکِ آزادیِ ہند بالخصوص تحریک پاکستان جو عشقِ مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم سے سرشار ہو کر اور نظامِ اسلام کے نفاذ کے لیے چلائی گئی اس پر امام احمد رضا علیہ الرحمۃ کی فکر اور ان کے متوسلین علماء، ادباء، شعراء، دانشوارانِ ملت کی مساعی جلیلہ کی گہری چھاپ ہے ۔ اس لیے ان کا منثور و منظوم کلام ہماری قومی، تہذیبی اور ادبی وراثت کا حصہ ہیں ۔ بقول ڈاکٹر عبد النعیم عزیزی:
“جذبہ و فن، مضامین و موضوعات کی وسعت اور مختلف ادبی و علمی اوصاف کے اعتبار سے اردو نعت گوئی کی تاریخ میں امام احمد رضا کا مقام سب سے زیادہ بلند و بالا ہے اور اگر کیفیت کے اعتبار سے ان کی نعت گوئی پر کوئی شاعری اترتی ہے تو (وہ) صرف سید محسن کاکوروی کی نعتیہ شاعری ہے ۔ امام احمد رضا خاں فاضلِ بریلوی نے اردو شاعری کو ایک نئی راہ دکھائی ہے ۔ تقدیس، جذبہ، اور طہارتِ لفظی کی راہ! نعت کی ترویج و اشاعت میں امام احمد رضا بریلوی کا حصہ سب سے زیادہ ہے ۔ ان کے زیرِ اثر نعت کے ایک منفرد دبستان کی تشکیل ہوئی ہے ۔” (24)
بقول ڈاکٹر انور سدید:
“حضرت رضا بریلوی نے نعت کے شجر سایہ دار کو پاکستان اور ہندوستان کی مٹی میں اگانے کی کوشش کی ہے اور یہی وجہ ہے کہ ان کی نعت ہندوستان و پاکستان کے لوگوں میں زیادہ مقبول اور ان کے دلوں سے زیادہ قریب ہے ۔ اس نعت نے گم کردہ راہ مسافروں کو وحدت اور نبوت میں یقین پختہ کرنے میں بڑی معاونت کی ہے ۔”
(خیابانِ رضا، ص:45)
عصرِ جدید کے دور کے آخر میں کچھ شاعر ایسے بھی سامنے آئے جنہوں نے قیامِ پاکستان کے بعد کی ادبی و شعری فضا بالخصوص نعت کو بہت متاثر کیا۔ ان میں درج ذیل نعت گو شعراء قابلِ ذکر حیثیت رکھتے ہیں : سہیل اعظم گڑھی، امجد حیدر آبادی، عزیز لکھنوی، حمید صدیقی، ماہر القادری، مولانا ضیاء القادری، حافظ مظہر الدین، حافظ لدھیانوی، راسخ عرفانی، اعظم چشتی، عاصی کرنالی، عزیز حاصل پوری، قمر یزدانی، بہزاد لکھنوی، شمسمینائی، درد کاکوروی، شمس بریلوی، افق کاظمی امروہوی، اثر صہبائی، اسد ملتانی، اختر الحامدی، انور صابری، کوثر جائسی، کوثر امجدی، ادیب رائے پوری، قتیل دانا پوری، حق بنارسی، شمیم جے پوری، عثمان عارف، طیش صدیقی، عمر انصاری، حیات وارثی، قیصر وارثی لکھنوی، والی آسی، تسنیم فاروقی، اسلم بستوی، نسیم بستوی، قمر سلیمانی، راز الٰہ آبادی، بیکل اُتساہی، کوثر نیازی، عبد العزیز خالد، خالد نقشبندی، فنا نظامی کانپوری، شفیق جونپوری، سرور انبالوی، مولانا ریحان رضا خاں ریحان بریلوی، مولانا اختر رضا خاں اختر بریلوی، معراج فیض آبادی، صابر براری، حفیظ جالندھری، حفیظ تائب، انور جلال پوری، وسیم بریلوی، اقبال عظیم، مظفر وارثی، طارق سلطانپوری، ابو الحسن واحد رضوی، راجہ رشید محمود، احسان دانش، محشر رسول نگری، راغب مراد آبادی، محمد علی ظہوری، تابش قصوری، عارف محمود، مہجور رضوی، خواجہ غلام فخر الدین سیالوی، رحمان کیانی، ارم حسانی، نصیر الدین نصیر گولڑوی، نظمی مارہروی، درد اسعدی، اعجاز رحمانی، سرور اکبر آبادی، منیر الحق کعبی بہل پوری وغیرہم۔
پاکستان میں فروغِ نعت کے حوالے سے سن 60ء اور سن 70ء کی دہائی بہت اہم ہے ۔ اس دور میں بڑے سیاسی انقلابات آئے اور معاشرتی تبدیلیاں ہوئیں ۔ قادیانیت کے خلاف (خلیفۂ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خاں ) علامہ ابو الحسنات قادری علیہما الرحمۃ کی قیادت میں تحفظِ ناموس و عقیدۂ ختم رسالت کی تحریکیں چلیں ۔ ہندوستان سے دو جنگیں لڑی گئیں ، پھر علامہ شاہ احمد نورانی علیہ الرحمۃ کی سربراہی میں تحریکِ نفاذِ نظامِ مصطفی چلی، ملی نغمے لکھے گئے ، معروف شعراء کرام نے نعتیہ قصائد، غزلیں اور بزرگانِ کرام بالخصوص سیدنا علی بن عثمان ہجویری معروف بہ داتا صاحب علیہ الرحمۃ، اعلیٰ حضرت عظیم البرکت اور دیگر بزرگانِ کرام کی شان میں منقبتیں لکھیں اور عام جلسوں میں پڑھی جانے لگیں ۔ غرض کہ جذبۂ حبِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور اس کے ضمن میں حبِ وطن کے جذبے کو ہر طرح سے ابھارا گیا۔ اسی دوران برصغیر پاک و ہند کے اہلِ سنت سے تعلق رکھنے والے اہلِ درد علماء، اسکالر، دانشوروں اور اہلِ علم و قلم نے امام احمد رضا فاضلِ بریلوی علیہ الرحمۃ کے غیر مطبوعہ فتاویٰ اور نایاب و مخطوط تصانیف کی اشاعت کی مہم چلائی۔ اس کے سربراہ اعلیٰ حضرت علیہ الرحمۃ کے صاحبزادۂ اصغر مفتی اعظم حضرت علامہ مولانا مفتی مصطفی رضا خاں تھے اور ان کے تلامذہ و تلامذۂ تلامذہ، اساتذہ و اراکین مصباح العلوم جامعہ اشرفیہ مبارکپور (اعظم گڑھ، یوپی، انڈیا) نے اس میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ ادھر پاکستان میں حضرت حکیم موسیٰ امرتسری مرحوم نے مولانا عارف ضیائی صاحب، مفتی عبد القیوم ہزاروی علیہ الرحمۃ، علامہ عبد الحکیم شرف قادری، مولانا عبد النبی کوکب علیہما الرحمۃ اور دیگر مخلصین احباب کے ساتھ مل کر مرکزی مجلسِ رضا (موٴسسہ 1968ء) کی بنیاد ڈالی اور امام احمد رضا فاضلِ بریلوی علیہ الرحمۃ کی شخصیت اور علمی کارناموں کو اجاگر کرنے کے لیے علماء کے علاوہ جدید تعلیم یافتہ طبقوں کے نمائندہ اسکالرز سے مقالات لکھوائے گئے اور 25/صفر امام احمد رضا کے یومِ وصال کو یومِ رضا کے طور پر منانے کا اہتمام کیا جانے لگا۔ اس موقع پر ہر سال سیمینار کا اہتمام ہوتا جن میں جامعات اور کالجوں کے اساتذہ، علماء اور دانشور حضرات مقالات پڑھتے اور پھر یہ مقالات کتابی صورت میں شائع ہوتے ۔ حکیم موسیٰ مرحوم اور علامہ اختر شاہجہاں پوری علیہما الرحمۃ کی ترغیب و تشویق پر پروفیسر ڈاکٹر محمد مسعود احمد صاحب مظہری نقشبندی صاحب امام احمد رضا کی طرف متوجہ ہوئے ۔ پھر اَسّی اور نوے کی دہائی تک امام احمد رضا کے حوالے سے پروفیسر صاحب کے لکھے ہوئے تحقیقی مقالات مثلاً فاضلِ بریلوی اور ترکِ موالات، حیاتِ مولانا احمد رضا خاں بریلوی، فاضلِ بریلوی علماء حجاز کی نظر میں ، گناہِ بے گناہی، عبقریِ شرق، وغیرہم نے جدید علمی، تحقیقی و ادبی حلقوں کو حیرت زدہ کر دیا۔ اہلِ علم و قلم امام احمد رضا کی طرف متوجہ ہونے لگے ۔ اسی دوران کراچی میں 1980ء کے اواخر میں حضرت مولانا سید ریاست علی قادری علیہ الرحمۃ کی سربراہی اور قبلہ پروفیسر ڈاکٹر محمد مسعود صاحب اور علامہ شمس بریلوی مرحوم اور علامہ مفتی تقدس علی خاں علیہ الرحمۃ کی سرپرستی میں ادارۂ تحقیقاتِ امام احمد رضا کا قیام عمل میں آیا جس کا راقم بھی ایک بنیادی رکن ہے ۔ پھر تو گویا دبستاں کھل گیا۔ امام احمد رضا پر تحقیقات کے دروازے واہو گئے ۔ ملکی اور غیر ملکی سطح پر ایم۔فِل اور پی۔ایچ۔ڈی کے مقالات لکھے جانے لگے ۔ بحمد للہ اب تک 25 ملکی اور غیر ملکی اسکالرز پی۔ایچ۔ڈی کی اسناد حاصل کر چکے ہیں ۔ ڈاکٹر مسعود صاحب اور ادارۂ ہٰذا کی کاوشوں کی بدولت پشاور سے چٹاگانگ اور وہاں سے لے کر جامعہ ازھر کے ایوانِ علم “مصطفی جانِ رحمت پہ لاکھوں سلام” کی گونج سے گونجنے لگے ۔ اب حال یہ ہے “گونج گونج اٹھے ہیں نغماتِ رضا سے بوستاں “۔ اس پسِ منظر میں “دبستانِ رضا” سے حبِّ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی خوشبوئیں چہار طرف پھیلنے لگیں ، کلامِ رضا سے اٹھنے والی حبِّ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی خوشبو کے بھبھوکوں نے “بلبلانِ باغِ مدینہ” کو مست کر دیا۔
افسوس کہ دنیائے اہلِ سنت کا یہ عظیم محقق، رضویات کا ماہر 28/اپریل 2008ء کو کراچی میں انتقال فرما گیا۔ رحمہ اللہ تعالیٰ رحمۃ واسعہ (وجاہت)
رضا بریلوی کے قصیدۂ نوریہ جس کا ایک مصرعہ “مست بوہیں بلبلیں پڑھتی ہیں کلمہ نور کا” محافلِ نعت و میلاد میں جھوم جھوم کر پڑھا جانے لگا۔ فروغِ نعت کو مہمیز ملی، شعراء کرام طرز و اندازِ رضا میں نعتیں کہنے اور پڑھنے لگے ۔ ایک زمانہ تھا کہ حضرت رضا بریلوی نے آج سے تقریباً سوا سو سال قبل سلطانِ نعت گویاں شہید جنگِ آزادی 1857ء علامہ مولانا مفتی کفایت علی کافی علیہ الرحمۃ کے “سوزِ دروں ” کے حصول کے لیے یوں اظہارِ تمنا کیا تھا
پرواز میں جب مدحتِ شہ میں آؤں
تا عرش پروازِ فکرِ رسا میں جاؤں
مضمون کی بندش تو میسر ہے رضا
کافی کا دردِ دل کہاں سے لاؤں ؟
پھر اللہ تعالیٰ نے ان کے جذبۂ عشقِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے صدقے ان کو خوب نوازا، ان کے قلب مجلّٰی و مصفّٰی پر علم و عرفان اور معرفت و حکمت کی وہ موسلادھار بارش ہوئی کہ ان کے قلم سے نکلی ہوئی ہر سطر اور زبان سے نکلا ہوا ہر شعر خلقِ خدا کی زبان بن گیا، اہلِ علم و معرفت نے انہیں “صاحبِ امروز”، “اعلیٰ حضرت” ، “امام وقت”، “مجددِ عصر” کہا اور ان کا کلام “کلام الامام امام الکلام” کی سند حاصل کر گیا۔ “دبستانِ رضا” کے غنچے چٹکنے لگے ، بلبلیں چہکنے لگیں ، خالد نقشبندی نے دعا کی
دردِ جامی ملے نعت خالد لکھوں
اور اندازِ احمد رضا چاہئے
تابش قصوری یوں مدحت سرا ہوئے
یا الٰہی حشر تک سنتا رہوں
نعتِ حضرت( صلی اللہ علیہ وسلم)، مدحتِ احمد رضا
عزیز حاصل پوری نئے انداز سے نغمہ سرا ہوئے
ہر طرف نہریں ہیں جاری آپ کے فیضان کی
قلزمِ عرفان و حکمت حضرتِ احمد رضا
آپ ٹھہرے اِک امام نعت گویانِ رسول( صلی اللہ علیہ وسلم)
میرِ بزمِ فنِّ مدحت حضرتِ احمد رضا
“دبستانِ رضا” کے ایک گوشے سے محمد علی ظہوری کی یہ فردوس گوش آواز کانوں میں رس گھولنے لگی
مجھے بھی اقتداء حاصل ہے ان کی نعت گوئی میں
ظہوری درحقیقت وہ امامِ نعت گویاں ہیں
خم خانۂ رضا کے کیف و کم چشیدہ ارم حسانی مست و بے خود ہو کر یوں لب کشا ہوئے
بقا ہے اس کی نعتوں کو ابھی ہے دم قدم اس کا
خُمِ نعتِ نبی سے ہے عبارت کیف و کم اس کا
حافظ مظہر الدین حافظ دبستانِ رضا سے وابستہ دورِ جدید کے نعت گو شعراء میں ایک مستند و معتبر نام ہے ۔ وہ حدائقِ بخشش کے گل چین بھی ہیں اور سیاح بھی۔ رضا بریلوی کا طرز، اسلوب، علمی انداز، کیف و تاثر ان کے اشعار سے جا بجا جھلکتا ہے ۔ رضا بریلوی کی طرح ان کی نعتوں میں حبِّ رسول صلی اللہ علیہ وسلم مدحِ جمالِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پیغام و ارشاداتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے بھی ملتے ہیں ۔ ان کے اشعار جدت طرازی اور نکتہ آفرینی کے مظہر ہیں ۔ ایک شعر ملاحظہ ہو، اعلیٰ حضرت کے برادرِ اصغر حسن بریلوی کا رنگ نمایاں ہے
اللہ کو مرغوب ہیں کیا تیری ادائیں
“قل” کہہ کے سنی بات بھی اپنی تِرے لب سے (25)
حسن بریلوی کا اسی مضمون میں شعر ہے
“قل” کہہ کر اپنی بات بھی لب سے تِرے سنی
اللہ کو ہے اتنی تِری گفتگو پسند (26)
بقول ڈاکٹر ریاض مجید”نعت گوئی حافظ کے فن کا کوئی مختلف زاویہ نہیں بلکہ ان کا فن ہی نعت گوئی ہے ۔” (27)
جب طارق سلطانپوری صاحب کا آتش جوان تھا اور وہ اردو شاعری کے “بے وفا” اور “ہرجائی”، “محبوب” کے خیالی لب و رخسار اور عارضی و فانی حسن اور اس کے مرجھا جانے والے لب و رخسار و عارض کی مبالغہ آمیز تعریف و تحسین کے نغمے الاپ رہے تھے اور اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ اپنی بہترین صلاحیتوں کو زندگی کے لق و دق صحراء میں صنم کدے کی نیرنگیوں اور بوقلمونیوں پر بے محابہ نچھاور اور برباد کررہے تھے کہ اچانک حافظ صاحب بصورتِ خضر ادھر آ نکلے اور ان کی دستگیری فرماتے ہوئے فرمایا
ادھر آ ہر قدم پر حسنِ منزل تجھ کو دکھلا دوں
فلک کو یاس سے منزل بہ منزل دیکھنے والے
حافظ صاحب اعلی اللہ تعالیٰ مقامہ طارق کو “حدائقِ بخشش” کی سیر کو لے گئے ۔ وہاں کے گل بوٹوں سے ان کی آنکھیں روشن ہوئیں اور دل و ذہن معطر۔ سیر سے فارغ ہوئے تو مڑ کر دیکھا کہ وہ اب تک بے مقصد اور لاحاصل روایتی شاعری کے لق و دق ریگستان میں محض چند لمحوں کی واہ واہ کی خاطر بھٹکتے پھر رہے تھے ۔ امام احمد رضا محدثِ بریلوی علیہ الرحمۃ کی روح نے دستگیری فرمائی اور ان کی زندگی کا دریائے شور عبور کروا کر انہیں ساحلِ مراد تک پہنچا دیا جہاں ان کے دل میں “عشقِ رخِ شہ کا چراغ” روشن ہوچکا تھا جس نے ان کے تن و جاں کو پھونک ڈالا۔ یہاں ساحلِ مراد پر پہنچ کر طارق نے “جہادِ عشقِ صادق” کی راہ اختیار کی اور “عشقِ مجازی” کی وہ تمام کشتیاں جو انہوں نے اپنے فانی ہرجائی، خیالی محبوب کے بہلاوے کے لیے گل و بلبل اور جام و سبو کے استعاروں سے بنائی تھیں ، امام احمد رضا کا یہ شعر پڑھ کر جلا ڈالیں
اے عشق تِرے صدقے جلنے سے چھٹے سستے
جو آگ بجھا دے گی، وہ آگ لگائی ہے (28)
جس جذبۂ عشقِ صادق کے تحت طارق بن زیاد نے اپنی کشتیاں جلا کر “جبلِ طارق” کی چوٹی سر کی تھی، اسی جذبہ کے تحت جناب طارق نے ایک عظیم پہاڑ کی چوٹی سر کی جسے “جبلِ عشقِ صادق” کہا جاتا ہے ۔ اس مہم کی سرکوبی میں جب تشنگی حد سے بڑھی تو یہ دعا کی
گدا ہے ساقیِ کوثر تہی سبو طارق
عطائے خاص سے پُر اس کا جام ہو جائے (29)
بارگاہِ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم میں ان کی یہ دعا ایسی قبول ہوئی کہ انہیں بارگاہِ نبوی سے وہ کچھ عطا ہوا جو انہوں نے مانگا تھا اور وہ کچھ بھی جو نہیں مانگا تھا۔
مِرے حالات سے حاجات سے وہ بے خبر کب تھے
جو مانگا اور جو نہ مانگا گیا، بخشا گیا مجھ کو
پھر جو کچھ عنایاتِ سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہِ اقدس سے ان پر ہوئیں ، انہی کے الفاظ میں ملاحظہ کریں :
سنہری جالیوں کو دیکھنا بخشا گیا مجھ کو
مِری اوقات تھی کیا اور کیا بخشا گیا مجھ کو
برائے مغفرت ذوقِ ثنا بخشا گیا مجھ کو
متاعِ عشقِ محبوبِ خدا بخشا گیا مجھ کو
مجھے وصفِ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم) کے لیے اس کی ضرورت تھی
بہت سرمایۂ فکرِ رضا بخشا گیا مجھ کو
جھلک جس میں ہے نعتِ رومی و اقبال و جامی کی
وہ طرزِ مدحت و رنگِ ثنا بخشا گیا مجھ کو
مجھے شامل کیا خیلِ ثناء گویانِ خواجہ میں
گدازِ کافی و سوزِ رضا بخشا گیا مجھ کو
درِ حضرت پہ میری حاضری کا بن گیا موجب
جنوں بخشا گیا تو کام کا بخشا گیا مجھ کو
لیکن مدحت نگاری کی یہ عظیم صلاحیت جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولِ مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے بلاشبہ طارق سلطانپوری کے لیے ایک بہت بڑا انعام ہے ۔ یہ سب کچھ کس کے رابطہ، کس کے واسطے ، کس کی برکت اور کس کے فیضِ روحانی سے انہیں عطا ہوا؟ کس “نسخۂ کیمیا” کے استعمال سے ان کا قلبِ زنگ آلود مجلّٰی و مصفّٰی، چشمِ روشن و بینا اور قلم رہِ نعتِ سرورِ ہردوسرا صلی اللہ علیہ وسلم میں رواں دواں ہوا؟ اس کی تفصیل خود ان کی زبانی سنیں :
“اللہ تعالیٰ نے مجھ ہیچ مدان کو جو ذوقِ شعر و سخن اور سرمایۂ فکر و خیال و ودیعت فرمایا ہے ، اسے بچپن سے آغازِ شعور تک بے مقصد و لایعنی موضوعات و معاملات کی نذر کرتا رہا۔ طالبعلمی کے دور میں وقتی و ہنگامی نوعیت کے مسائل پر اور شعور کی پختگی کے ساتھ ساتھ روایتی طور پر گل و بلبل، لب و رخسار اور عارض و گیسو کی مبالغہ آمیز تعریف و تحسین میں اس متاع بے بہا کو صرف کرتا رہا۔ پھر کافی عرصہ تک سیاسی صنم کدے کی نیرنگیاں اور بوقلمونیاں موضوع نگارش رہیں اور نادانی سے اس فضول سعی و کاوش ہی کو اپنا عظیم کارنامہ سمجھتا رہا اور اس طویل عرصے میں نعت حبیب پاک صلی اللہ علیہ وسلم کا خیال و احساس بمشکل ہی کبھی دل و دماغ میں جاگزیں ہوسکا۔
خوش قسمتی سے اسی زمانہ میں ایک سلیم الطبع و خوش فکر کرم فرما، حضرت حافظ مظہر الدین نے مطالعہ نعت اور نعت نگاری کی تلقین کی اور ساتھ ہی “حدائقِ بخشش” از اعلیٰ حضرت احمد رضا خاں بریلوی قدس سرہ کا ایک نسخہ بھی مرحمت فرمایا اور پورے ذوق و شوق سے اس کے تفصیلی مطالعے کا پُر زور اصرار کیا اور اس نسخہ “کیمیا” کا مطالعہ شروع کیا تو دل و دماغ میں
گویا دبستاں کھل گیا
اس سے پہلے اساتذہ فن کی کہی ہوئی نعتیں عموماً پڑھی تھیں لیکن مجھے اس حقیقت کا برملا اظہار و اعتراف کرنے میں ذرہ بھر تامل نہیں کہ “حدائقِ بخشش” کے مطالعہ سے جو کیف و سرور جو قلبی انشراح و روحانی انبساط حاصل ہوا اور نعت کا جو فہم و ادراک نصیب ہوا وہ پہلے میسر نہ تھا۔ میں ایک کج مج بیان ہیچ مدان کسی لحاظ سے بھی کسی فنی اور ادبی حیثیت کا مالک نہیں ، نعت نگاری ایک زمانے سے میرا وظیفہ حیات ہے ۔ اس وظیفہ حیات کو اختیار کرنے پر مجھے “حدائقِ بخشش” نے آمادہ کیا۔ اب نعت نگاری میرا سامانِ زندگی ہے ، میری روح اور میری متاعِ حیات ہے ۔ یہ “حدائقِ بخش” کا مطالعہ نصیب نہ ہوتا تو کئی دیگر ہم عصر حضرات کی طرح میں بھی بے مقصد اور لاحاصل روایتی شاعری کے لق و دق صحرا میں بھٹکتا پھرتا
یہ سب حدائقِ بخشش کا فیض ہے طارق
حبیبِ پاک( صلی اللہ علیہ وسلم) کے مدحت نگار ہم بھی ہیں ” (31)
گویا احمد رضا کے “حدائقِ بخشش” طارق سلطانپوری کے لیے آقا و مولیٰ سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی عنایات کا ذریعہ اور “رابطۂ بخشش” بن گئے ۔ دوسرے الفاظ میں اور خود طارق سلطان پوری کے مندرجہ بالا اعتراف کی روشنی میں اعلیٰ حضرت ان کے روحانی مربّی اور استاذ ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ طارق کی نعت میں امام احمد رضا فاضلِ بریلوی کی طرح نعتِ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے وابستگی و عقیدت اور صاحبِ موضوع ( صلی اللہ علیہ وسلم) سے شیفتگی و محبت کی شدت کی جولانی اور آپ( صلی اللہ علیہ وسلم) کے دشمنوں ، گستاخوں سے نفرت و بیزاری کا اظہار شروع سے آخر تک یکساں اور موٴثر انداز میں جاری و ساری نظر آتا ہے ۔ اگرچہ یہ مقالہ اس اعتبار سے طارق سلطانپوری کے کلام پر تفصیلی تبصرہ کا متحمل نہیں ہوسکتا کیونکہ راقم کا یہ مقام و منصب نہیں ، دنیائے شعر و ادب بالخصوص جہانِ نعت کا کوئی عارف ہی اس موضوع پر قلم اٹھا سکتا ہے لیکن “دبستانِ رضا” کے ترجمان دورِ جدید کے اس عظیم شاعر کے کلام پر اجمالاً کچھ گفتگو ہوسکتی ہے ۔
مسلمانوں کا یہ بنیادی عقیدہ ہے کہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم ہر حال و آن اپنے امتی کے احوال سے باخبر رہتے ہیں ، خواہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم حیاتِ ظاہری میں ہوں یا اپنے مزار شریف میں محوِ استراحت ہوں یا میدانِ حشر میں ہوں ۔ امام احمد رضا نے اس عقیدہ کا اظہار ان الفاظ میں کیا ہے
دنیا مزارِ حشر جہاں ہیں غفور ہیں
ہر منزل اپنے چاند کی منزل غُفر کی ہے (32)
طارق کس قدر سادگی و برجستگی کے ساتھ اسی جذبہ و عقیدہ کی ترجمانی درج ذیل اشعار میں کرتے ہیں
ہر جگہ وہ مِری بہبود کا رکھتا ہے خیال
عرش پر یا مِرا سلطان مدینے میں رہے
حالِ امت سے وہ رہتا ہے بخوبی آگاہ
لاکھ امت کا نگہبان مدینے میں رہے
حریمین طیبین کی حاضری کے موقع پر طارق نے اپنی وارداتِ قلب امام احمد رضا کے طرز و انداز بلکہ بعض “حدائقِ بخشش” کی بحروں میں پیش کی ہیں اور کہیں کہیں ان کے مصرعوں کی گرہیں بھی لگائی ہیں ۔ مثلاً ان کی نعت کے یہ اشعار ملاحظہ ہوں ، مگر اس سے پہلے اعلیٰ حضرت کی ایک نعت شریف کے جذبۂ عشقِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے لبریز چند اشعار پڑھیں :
دل کو ان سے خدا جدا نہ کرے
بے کسی لوٹ لے خدا نہ کرے
اس میں روضہ کا سجدہ ہو کہ طواف
ہوش میں جو نہ ہو، وہ کیا نہ کرے
دل کہاں لے چلا حرم سے مجھے
ارے تیرا بُرا، خدا نہ کرے
دل سے اِک ذوقِ مے کا طالب ہوں
کون کہتا ہے اِتّقا نہ کرے
لے رضا سب چلے مدینے کو
میں نہ جاؤں ، ارے خدا نہ کرے
اب ذرا طارق کا رنگ و انداز بھی اسی لے اور نے میں دیکھئے ، اقبال کا حسنِ تمنا اور رضا کی سرشاری و جانثاری صاف جھلک رہی ہے
یہ لطف خاص بھی اب وہ گدا نواز کرے
مجھے بھی گامزنِ جادۂ حجاز کرے
رہِ حرم میں مجھے بھی ادب شناس کوئی
رفیقِ راہ بنائے ، شریکِ راز کرے
…… *** ……
یہ سوچتا ہوں کہ بے دیدِ طیبہ کیا ہو گا
اگر وفا مِری عمرِ گریز پا نہ کرے
کسی طرح جو پہنچ جاؤں تو قیامت تک
خدا حضور کے در سے مجھے جدا نہ کرے
طارق کی “حدائقِ بخشش” کی سیر و سیاحت سے محبت اور بارگاہِ رضا میں “ادب شناسی” کا یہ ثمرہ تھا کہ ان کی دعا مقبول ہوئی اور بارگاہِ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم میں حاضری کے لیے رضا بریلوی کی روح ان کی پیشوا بنی۔ یہی نہیں بلکہ طارق کی یہ خوش نصیبی تھی کہ گذشتہ کئی صدیوں کے پیکرِ نور سخن ور اور ثناء گو بھی ان کے ساتھ زمزمہ خوانی کے لیے درِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر حاضر تھے ۔ اس کا اعتراف طارق بھی بہت کھلی زبان سے کر رہے ہیں :
کیا حسن کیا جمال درِ مصطفی کا تھا
ہر گام پر تھے نور کے پیکر کھڑے ہوئے
بوصیری و سنائی و قدسی، رضا، امیر
اقبال و رومی جیسے سخنور کھڑے ہوئے
کافی، گرامی، سعدی، ضیاء، محسن و حسن
حسان، جامی جیسے ثناگر کھڑے ہوئے
ان تمام بزرگ اساتذۂ فن کی روحانی (اور کیا عجب کہ تصویر ادب و اخلاق کے ان پیکروں کی جسمانی موجودگی کا خوشگوار لمس بھی طارق نے محسوس کیا ہو) موجودگی نے سرکارِ ابد قرار صلی اللہ علیہ وسلم کے بابِ جود و کرم کے دروازے طارق پر وَا کر دیئے چنانچہ وہ برجستہ یہ کہنے پر مجبور ہو گئے
محسوس ہو رہا ہے کہ طارق ہم آج بھی
سرکار کے ہیں بابِ کرم پر کھڑے ہوئے (35)
انہوں نے مذکورہ “عاشقان خیلِ مشتاقانِ پیغمبر” کی جِلُو میں سید و سرور صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہِ مقدس کے کچھ ایسے جلوے بھی دیکھے جو ان کے تصور سے بھی ماورا تھے :
خوشا دیکھی مقدس جلوہ گاہِ سید و سرور صلی اللہ علیہ وسلم
جمیل و خوب تر، میرے تصور سے کہیں بڑھ کر
عیاں ہے اس کی بے تابی مگر کتنا موٴدب ہے
ہجومِ عاشقاں و خیلِ مشتاقانِ پیغمبر (36)
امام احمد رضا کے قصیدۂ سلامیہ کے مقطع کا قطعہ بند ہے :
کاش محشر میں جب ان کی آمد ہو اور
بھیجیں سب ان کی شوکت پہ لاکھوں سلام
مجھ سے خدمت کے قدسی کہیں ہاں رضا
مصطفی جانِ رحمت پہ لاکھوں سلام
راقم کو جب بھی درِ اقدس پر باریابی نصیب ہوئی تو صلوٰۃ و سلام کے ساتھ یہ دعائیہ مقطع بھی آہستہ آواز میں ترنّم کے ساتھ پڑھا۔ طارق سلطانپوری بھی اسی عاشقِ صادق کے مداح ہیں جن کا نامِ نامی امام احمد رضا ہے ۔ عجب اتفاق کہ ان کو بھی جب بارگاہِ اقدس میں باریابی نصیب ہوئی تو انہوں نے مصطفی جانِ رحمت پہ لاکھوں سلام پیش کرنے کے بعد ایک نئے لب و لہجہ میں برجستہ امام احمد رضا کی اسی تمنا کو سرِ حشر اپنی مطلب برآوری کے لیے پیش کیا:
دیکھوں درِ رحمت کے دوبارہ بھی نظارے
سرکار کی دہلیز پہ میں مانگتا کیا اور
طارق سے سرِ حشر کہیں کاش یہ قدسی
ہاں مدحتِ سرکار میں اشعار سنا اور (37)
سبحان اللہ غالب کی زمین ہے لیکن تمنا عرش نشینی کی! راقم کے ایک محب جناب الحاج نثار احمد صاحب (مالک پراچہ ٹیکسٹائل ملز، کراچی) جو اعلیٰ حضرت علیہ الرحمۃ کے بڑے مداح اور سچے عاشقِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہیں ، ہر سال انہیں اللہ تعالیٰ کے اور اس کے رسول مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے فضل سے حرمین شریفین کی حاضری اور بالخصوص آقا و مولیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے قدمین شریفین میں صلوٰۃ و سلام پیش کرنے کی سعادت نصیب ہوتی ہے ۔ (2006ء) رمضان 1427ھ میں راقم عازمِ عمرہ ہوا تو ان سے ملنے گیا۔ فقیر نے ان سے دریافت کیا کہ جب مواجہ اقدس میں حاضری ہو تو یہ گنہ گار وہاں کیا دعا مانگے ۔ انہوں نے فرمایا کہ آپ بارگاہِ اقدس میں صرف یہ عرض کریں یارسول اللہ صلی اللہ علیک وسلم جو کچھ احمد رضا نے آپ سے مانگا تھا۔ وہی احمد رضا کا یہ غلام بھی آپ سے مانگ رہا ہے ۔ بات ایک عاشقِ صادق کی تھی اور ایک عاشقِ صادق کے حوالے سے تھی، دل کو لگ گئی۔ فقیر نے گرہ میں باندھ لی۔ فقیر کے خیال میں برصغیر پاک و ہند کا اہل محبت سے وابستہ کوئی بھی فرد جب بھی سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے درِ اقدس پر حاضری دیتا ہے تو رضا بریلوی کے قصیدۂ سلامیہ کے چند اشعار ضرور پڑھتا ہے اور “مصطفی جانِ رحمت پہ لاکھوں سلام” کا مقطع پڑھ کر یقینا مداح خوانِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے اس پاکیزہ جماعت میں شامل ہو جاتا ہے جو سرِ حشر داورِ محشر صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد پر صلوٰۃ و سلام کی صورت میں استقبالیہ نغمے یک زبان ہو کر سنائے گی “مصطفی جانِ رحمت پہ لاکھوں سلام”۔ عصر حاضر میں عشاقانِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے امام و پیشوا امام احمد رضا خاں فاضلِ بریلوی قدس سرہ ہیں اور جو بلاشبہ اللہ تعالیٰ کے ان احسان یافتہ افراد کے گروہ سے ہیں جن کے متعلق قرآن مجید نے فرمایا ہے کہ “وَحَسُنَ اُولٰئِکَ رَفِیْقًا” یعنی اور یہ کیا ہی اچھے ساتھی ہیں ۔ راقم یہ بات محض عقیدت و محبت کی بناء پر نہیں کہہ رہا ہے بلکہ اردو نعت گوئی کے معروف نقاد اور محققین کا یہی فیصلہ رہا ہے ۔ چنانچہ یوسف سلیم چشتی امام احمد رضا کے اس قصیدۂ سلامیہ کے متعلق تحریر کرتے ہیں کہ “اسے یقینا شرفِ قبولیت حاصل ہو گیا کیونکہ ہندوستان و پاکستان میں شاید ہی کوئی عاشقِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم ایسا ہو گا جس نے اس کے دو چار شعر حفظ نہ کر لئے ہوں ۔” (38)
ظاہر ہے “حَسُنَ اُولٰئِکَ رَفِیْقًا” کے زمرے میں بروزِ حشر عشاقانِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہی شامل ہوں گے جبکہ ان کے مخالفین کے مونہوں پر تو اس دن گرد پڑ رہی ہو گی، ان پر سیاہی چڑھ رہی ہو گی۔
وُجُوْہٌ یَّوْمَئِذٍ عَلَیْہَا غَبَرَۃًo تَرْھَقُہَا قَتَرَۃٌo (عبس 80: 40، 41)
طارق سلطانپوری بھی اپنے ذوقِ ثناء اور وصّا فیِّ رسولِ خدا (عزوجل و صلی اللہ علیہ وسلم) کی وجہ سے “حَسُنَ اُولٰئِکَ رَفِیْقًا” کے گروہ میں شامل ہیں ، دنیا میں بھی اور ان شاء اللہ عقبیٰ میں بھی، وہ اپنی اس ارجمندی کا اظہار یوں کرتے ہیں
مِرے خدا نے بڑا ارجمند مجھ کو کیا
بنایا آپ کا وصّاف دے کے ذوقِ ثنا (39)
امام احمد رضا فاضلِ بریلوی نے جب دوسرے سفرِ حج کے بعد زیارتِ روضۂ اقدس کے لیے رختِ سفر باندھا تو بہجت و سرور کی کیفیت طاری ہو گئی اور آپ نے آقا و مولیٰ سیدنا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حضور دو قصیدے فی البدیہہ تحریر کیے ۔ پہلے کا عنوان رکھا “حاضری بارگاہِ بہیں جاہ (1324ھ)” وصل اول رنگ علمی، “حضور جانِ نور” (1324ھ) اور دوسرے کا عنوان “حاضریِ درگارہِ ابدی پناہ(1324ھ) ، وصلِ دوم رنگِ عشقی” رکھا۔ پہلے قصیدے میں 62 اور دوسرے میں 63اشعار ہیں ۔ پہلے قصیدے کے دو مطلع ملاحظہ ہوں :
شکرِ خدا کہ آج گھڑی اس سفر کی ہے
جس پر نثار جان فلاح و ظفر کی ہے
گرمی ہے ، تپ ہے ، درد ہے ، کلفت سفر کی ہے
ناشکر یہ تو دیکھ عزیمت کدھر کی ہے
دوسرے قصیدہ کے چند اشعار بھی دیکھیں :
بھینی سہانی صبح میں ٹھنڈک جگر کی ہے
کلیاں کھلیں دلوں کی ہوا یہ کدھر کی ہے
ہم جائیں اور قدم سے لپٹ کر حرم کہے
سونپا خدا کو یہ عَظَمَت کس سفر کی ہے
ہم گردِ کعبہ پھرتے تھے کل تک اور آج وہ
ہم پر نثار ہے یہ ارادت کدھر کی ہے
ذرا اسی بحر، ردیف و قوافی میں طارق کے اشعار ملاحظہ فرمائیں جو انہوں نے منظوریِ درخواستِ حج کی خوشخبری پر ارتجالاً انہی جذبات کے تحت کہے :
لایا نویدِ حاضریِ شہر ہائے پاک
آمد سعید آج مِرے نامہ بر کی ہے
میں نے گذاری اس کی تمنا میں ایک عمر
یہ کیفیت جو آج مِری چشمِ تر کی ہے (40)
پھر “روانگی” کے عنوان سے ایک نعت لکھی جس کے پہلے شعر میں اعلیٰ حضرت کے پہلے قصیدہ “حاضریِ بارگاہِ بہیں جاہ” کے مطلع کے پہلے مصرعہ پر تضمین کہی۔ رنگِ تغزل اور رنگِ رضا کی آمیزش ملاحظہ ہو۔ صرف دو شعر پیش کیے جاتے ہیں :
جس کا کہ ایک عمر سے طارق تھا انتظار
“شکرِ خدا کہ آج گھڑی اس سفر کی ہے ”
یہ لطفِ بے کراں ہے خدائے کریم کا
یہ بخششِ عمیم شہِ بحر و بر کی ہے
اس میں کوئی شبہ نہیں کہ کلامِ رضا کا حسنِ تغزل اور طرز و ادا ہمیں طارق کے کلام میں جا بجا نظر آتا ہے لیکن ان سب کے باوجود طارق جدید نعتیہ شاعری میں اپنا ایک جداگانہ اسلوب اور منفرد پہچان رکھتے ہیں ۔ وہ اردو و وفارسی کے ایک قادر الکلام نعت گو شاعر ہیں ۔ عربی زبان سے بھی انہیں خاصا شغف ہے ۔ وہ بیک وقت غزل، قصائد، منقبت، تاریخ گوئی اور تضمین نگاری اور دیگر اصنافِ سخن میں ماہرانہ دسترس رکھتے ہیں اور شعر و ادب کی تاریخ کا گہرا مطالعہ رکھتے ہیں ۔ تضمین نگاری کے نمونے تو ان کے کلام میں جگہ جگہ ملتے ہیں لیکن تضمین نگاری پر ان کا بڑا کام امام احمد رضا کے قصیدۂ سلامیہ”مصطفی جانِ رحمت پہ لاکھوں سلام” کے 171 اشعار پر ان کی دو تضمینیں ہیں ، فی الحال اس تضمین پر نقد و نظر موضوعِ سخن نہیں لیکن راقم یہ بات بلا خوفِ تردید کہہ سکتا ہے کہ کم از کم اس کے علم تک برصغیر پاک و ہند میں کوئی ایسا شاعر نہیں جس نے سلامِ رضا کے تمام اشعار پر دو تضمینیں کہی ہوں ۔ یہ انفرادیت طارق سلطانپوری کو حاصل ہے ۔ اگرچہ سلامِ رضا کے اشعار پر بہت سے نعت گو شعراء نے تضمین کے طور پر طبع آزمائی کی ہے جبکہ تمام اشعار پر مکمل تضمین معدودے چند نے کی ہے جس میں مولانا سید مرغوب احمد اختر الحامدی کی تضمین بہت مقبول و معروف ہوئی اور برصغیر پاک و ہند میں میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کی محافل میں کثرت سے پڑھی جاتی ہے ۔ فارسی غزل میں حافظ شیرازی علیہ الرحمۃ سے بہت متاثر ہیں جس کی جھلک ان کے فارسی کلام میں جا بجا ملتی ہے ۔ اس کے علاوہ غالب، خسرو، سعدی، رومی، جامی اور علامہ اقبال کے فارسی کلام پر بھی ان کی گہری نظر ہے جس کے نمونے ان کے کلام میں اکثر نظر آتے ہیں ۔
حالی سے سہیل اعظم گڑھی تک نعت گوئی میں جو عنصر عصرِ جدید کی عطا ہیں ، ان کا ذکر افتخار اعظمی نے سہیل کے فکر و فن کے حوالے سے کیا ہے ۔ اقبال سہیل کی نعت جو اپنی صوری اور معنوی خوبیوں کے سبب عصرِ جدید کی نمائندہ نعت ہے ، اس کی جو خصوصیات ڈاکٹر ریاض مجید نے اپنی تحقیقی مقالہ “اردو میں نعت گوئی” میں تحریر کیے ہیں (42) میں سمجھتا ہوں تھوڑے سے حذف و اضافہ سے طارق سلطانپوری کی نعت گوئی کے رویوں اور میلانات میں بھی جھلکتی ہیں :
1۔ جوش عقیدت، خلوصِ جذبات اور غیرتِ عشق کا برملا اظہار
2۔ تاریخِ اسلام کے صحیح اور موثر واقعات کی تلمیح اور شاعرانہ پیرایہ میں مستند احادیث و روایات کا اقتباس (و ترجمہ) یا ان کی تفسیر و تشریح۔
3۔ توحید و رسالت کا صحیح اسلامی شعور جو سلف سے قرآن و حدیث کی روشنی میں ثابت چلا آرہا ہے اور جو ہمارے عقیدۂ و ایمان کا اصل سرچشمہ ہے ۔
4۔ توحید کی آڑ میں شانِ الوہیت، مقامِ رسالت اور عظمتِ اولیاء کی تنقیص کی کوششوں کا نعت گوئی کے ذریعہ سدِّباب اور گستاخانِ بارگاہِ رسالت کی ہجو اور گرفت، شانِ الوہیت اور مقامِ مصطفی کا مثبت انداز میں دفاع۔
5۔ سیدِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم، انبیاء علیہم السلام، صدیقین، شہداء و صالحین رضی اللہ تعالیٰ عنہم کی شان و عظمت بلند کرنے کے لیے مبعوث ہوئے ۔ لہٰذا ان سب کا اس طرح ذکر کرنا کہ ان کی عزت و عظمت اور احترام کا جذبہ دل میں پروان چڑھے نہ کہ معاذ اللہ ان میں سے کسی کی تنقیص کا پہلو نکلے ۔
6۔ سیرت مبارکہ کے مختلف پہلوؤں پر اس پیرائے میں اظہارِ خیال کہ اسلامی نظریات و عقائد کی مکمل توضیح بھی ہو جائے ۔
7۔ بزمِ رسالت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارکانِ خاص کے مقام و مرتبہ کا صحیح تعین اور اس کے اعتبار سے ان کے فضائل و کمالات کا تجزیہ۔
8۔ نعت و منقبت کے ضمن میں فلسفہ و حکمت کے بہت سے راز ہائے سربستہ کی عقدہ کشائی۔
9۔ شاعرانہ محاسن کی آمیزش مگر اس درجہ نہیں کہ جذبہ کی شدت اور خیال کی قوت میں کوئی کمی واقع ہو۔
10۔ تخیل اور حقیقت میں کامل ہم آہنگی۔ (43)
مذکورہ بالا ان خصوصیات کی روشنی میں اگر کلامِ طارق کا جائزہ لیا جائے تو ان میں مجموعی طور پر مذکورہ رویے اور میلانات جھلکتے ہیں ۔ ان کی نعتوں میں اگر امام احمد رضا فاضلِ بریلوی کی طرح الفاظ و معنی کا حسن اور مولانا حسن رضا حسن بریلوی کی زبان و بیان کی گونج موجود ہے تو دوسری طرف ان کے پیش رو غالب، حافظ، خسرو، سعدی، رومی، جامی اور علامہ اقبال کے نعتیہ اشعار کی ہلکی مگر موٴثر آواز بھی شامل ہے ۔ طارق کے ہاں حافظ مظہر الدین کی طرح ہیئت کے تجربے اور نعت گوئی میں عبارت کی یکسوئی اور انہماک پایا جاتا ہے ۔ ان کے نعتیہ مجموعہ میں ایک عاشقِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے سفرِ عشق کے سچے جذبات و کیفیات اور قلبی واردات و مشاہدات کی متنوع جھلکیاں ملتی ہیں ۔ صبا کے ذریعہ بارگاہِ سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم میں پیغام رسانی کا جذبہ بھی نظر آتا ہے ۔ ایک خوش نصیب زائرِ حرم کی معرفت 12/اشعار پر مشتمل ایک التجا نامہ بارگاہِ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم میں پیش کیا گیا تھا جس کا ایک شعر یہ ہے
زیارتِ درِ والا نصیب ہو مجھ کو
قیامِ شہرِ مدینہ نصیب ہو مجھ کو
التجانامہ نامہ بر لے کر گیا لیکن بے تابیِ شوق نے سرکارِ کرم سے صبا کے دوش پر اذنِ حاضری چاہی
لائے گی صبا حاضری کا مژدہ کسی روز
طارق شبِ ہجراں کی سحر ہوکے رہے گی (44)
یہ شعر شاعر کے حسنِ ذوق کی داد کا طلبگار ہے ۔ طارق کے پیشرو ممدوح عشقِ مجسم حضرت مولانا نور الدین عبد الرحمن جامی نور اللہ مرقدہ نے صبا کے دوش پر ایک التجا نامہ بارگاہِ سید الوریٰ صلی اللہ علیہ وسلم میں پیش کیا تھا جس کا وجد آگیں مطلع ہے
کہ بود یارب کہ رو در “طیبہ” و بطحا کنم
گہ بہ مکہ منزل و گہ در مدینہ جاکنم
ہجر کی گھڑیاں بڑی کٹھن ہوتی ہیں ۔ اس کا کرب و درد تو کچھ وہی عاشقِ صادق جانتے ہیں جو اس منزل سے گذرتے ہیں ، بالخصوص اس حالت میں کہ نامہ بر عرض داشت لے گیا ہو اور عاشقِ صادق اس کی واپسی کی راہ دیکھ رہا ہو۔ اس کی کیفیت بقول حسن بریلوی انتظارِ وصل میں کچھ یوں ہوتی ہے
کس تمنا پر جئیں یارب اسیرانِ قفس
آ چکی بادِ صبا باغِ مدینہ چھوڑ کر (45)
طارق کے درد و کرب کو حسن رضا حسن بریلوی نے محسوس کیا کیونکہ وہ اس راہ کے رہرو ہیں ۔ انہوں نے عالمِ بالا سے ان کی رہنمائی کی اور تنبیہ کرتے ہوئے کہا
اے حسن خیر ہے کیا کرتے ہو؟
یار کو چھوڑ کر اغیار سے ربط (46)
تم سرکارِ مدینہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دوست یعنی ان کے ولی اور عاشقِ صادق نور الدین جامی سے کیوں رابطہ نہیں کرتے اور ان کے ذریعہ استغاثہ بارگاہِ شہنشاہِ مدینہ میں کیوں نہیں پیش کرتے ؟ بات طارق کی سمجھ میں آ گئی، ان کی آنکھیں کھل گئیں ، وہ خود بھی جامی کے شیدائی ہیں ۔ ان کے مقام مرتبہ کے عارف اور سلطان دو جہان صلی اللہ علیہ وسلم کے قدمین شریفین تک ان کی اعلیٰ رسائی کے معترف ہیں ، انہوں نے عالمِ ارواح میں شہیدِ محبت حضرت علامہ جامی قدس سرہ کی روحِ مبارک سے رجوع کیا اور ان کی معرفت اپنی زبان میں ان کا کہا ہوا منظوم استغاثہ بارگاہِ سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم میں یوں پیش کیا:
کون سا ہو گا وہ دن یارب کہ بطحا جاؤں گا
جلوہ زارِ مکہ دیکھوں گا، مدینہ جاؤں گا
خلد نظارہ، جناں بردوش ہو باب السلام
یا ہو بابِ جبرئیل، آنسو بہاتا جاؤں گا
اپنے در پر یارسول اللہ بلالیجئے مجھے
سر کے بل جاؤں گا، باذوقِ تماشا جاؤں گا
مجھ کو جنت کی نہیں ہے آرزو، در آپ کا
ہے مِری جنت، نہ میں اس در سے حاشا جاؤں گا
میں ہوں معذور اضطراب و اشتیاقِ دید میں
ہر گھڑی لکھتا ہوں نامہ اور لکھتا جاؤں گا (47)
حبِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں اخلاص اور استغراق کی تاثر دیکھئے ، دو ہی سال بعد یعنی 1999ء میں انہیں اذنِ حاضری کا مژدہ ملا۔ طارق اسے اپنے عشقِ جنوں خیز کی کامرانی سے تعبیر کرتے ہیں
درِ حضرت پہ میری حاضری کا بن گیا موجب
جنوں بخشا گیا تو کام کا بخشا گیا مجھ کو
پھر درِ حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر پہنچ کر نوازشوں کی جو بارشیں ہوئیں ، وہ خود ان کے الفاظ میں سنیں :
جو ہیں نامِ آقا پہ مٹ جانے والے
وہ ہیں دائمی زندگی پانے والے
انہیں بھی نہ رحمت سے محروم رکھا
ہمیشہ رہے جو ستم ڈھانے والے
بد اندیش کی بھی بھلائی کے خواہاں
عدو پر بھی ہیں رحم فرمانے والے
نوازا ہمیں تُو نے اتنا کہ اب ہم
کہیں بھی نہیں ہاتھ پھیلانے والے
تُو قاسم اور ہم تیرے محتاجِ نعمت
بحمد اللہ ہم ہیں تِرا کھانے والے
جب آئے تو یہ کس قدر شادماں تھے
خفا ہیں تِرے شہر سے جانے والے
درِ خواجہ سے اور جاؤں کہیں کیوں
یہ لمحے نہیں بار بار آنے والے
تِرے شہر میں موت آئے مجھے بھی
تِرے شہر والے ہوں دفنانے والے
رہے ان میں طارق بھی سرکار شامل
درِ پاک پر ہیں جو لوگ آنے والے (48)
نوٹ: واضح ہو کہ یہ نعت شریف امام احمد رضا بریلوی کی اس مشہور نعت کی بحر، قافیہ اور ردیف میں ہے جس کا مطلع ہے
چمک تجھ سے پاتے ہیں سب پانے والے
مِرا دل بھی چمکا دے چمکانے والے
بلاشبہ طارق نے زیرِ نظر نعت میں جدت طرازی اور انفرادیت دکھائی ہے ۔
اس وقت طارق سلطانپوری صاحب کا مذکورہ بالا سفر حج بیت اللہ اور زیارت روضۂ مقدسہ علیٰ صاحبہا التحیۃ والثناء کے مشاہدات و محسوسات کا تذکرۂ دلنواز معنون بہ “تجلیاتِ حرمین” موسوم بہ اسمِ تاریخی “رابطۂ بخشش” پیش نظر ہے جس کی بنیاد پر ان کی نعتیہ شاعری کے حوالے سے چند کلمات اس ہیچمدان کو لکھنے کا اعزاز حاصل ہوا۔ پروفیسر حسن عسکری کاظمی صاحب (حسن ابدال) نے “تجلیاتِ حرمین پر ایک طائرانہ نظر” کے عنوان سے ایک مقدمہ تحریر فرمایا ہے ۔ اس کا ایک اقتباس پیش کیا جارہا ہے کیونکہ یہ اقتباس ہمارے ممدوح وصّافِ نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نعت گوئی کے ایک اہم پہلو پر روشنی ڈالتا ہے ، وہ ہے ان کی غیرتِ ایمانی اور حمیتِ عشقِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم:
“طارق سلطانپوری نے منظوم سفرنامے میں مسجد الجن، غارِ حرا، غار ثور اور المولد النبی کے ذیل میں تفصیلی محاکمہ پیش کیا ہے ۔ ان میں موجودہ سعودی حکومت کی توحید اور اس کے تصور کہ “استخفافِ شانِ مصطفائی” قرر دیا ہے ۔ ان کا خیال ہے کہ حبیب خدا کے گھر کو بے زیب و زین چھوڑ کر اسی ارض پاک پر بلند و بالا جاگیریں کھڑی کرنا کہاں کا انصاف ہے ؟ خانہ کعبہ کی بلندی قریباً اڑتیس فٹ ہے لیکن گرد و نواح میں کئی منزلہ عمارتوں کی بلندی ڈیڑھ سو فٹ سے تجاوز کرتی نظر آتی ہے ۔ بہرحال اصل بلندی اور ترفع اور معنوی سطوت خدا کے نزدیک ان ظاہری بلندیوں سے مختلف ہے ۔ سعودی فرماں رواؤں اور ان کے ہمنواؤں کے نزدیک شعائر اللہ کا مفہوم کیا ہے ؟ اس کا اندازہ اس بات سے کیا جا سکتا ہے کہ انہوں نے جتنے مقدس آثار ان کے عہد حکومت سے پہےہ موجود تھے ، ان سب کو مٹا دیا اور عالمِ اسلام کے احتجاج پر بھی یہ سلسلہ جاری ہے ، اس لیے وہ ان آثار سے عقیدت کو بھی شرک تصور کرتے ہیں حالانکہ تعظیم کا مفہوم عبادت سے مختلف ہے اور تعظیم ان صاحبانِ عظمت کے لیے واجب ہے جن پر اللہ تعالیٰ نے خصوصی انعامات فرمائے اور جن کے راستے پر قائم رہنے کی دعا نماز میں شامل ہے ۔ ظاہر ہے ان سے تمسک کے بغیر ہماری نجات ممکن نہیں ۔ ان کے ورثے کو باقی رکھنا صاحبانِ ایمان کا وہ حسنِ عمل ہے جسے اللہ تعالیٰ پسند فرماتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ خانہ کعبہ کا طواف اور جملہ مناسکِ حج اور وہ سب مقامات محترم ہیں جہاں جہاں حضور نبی اکرم ( صلی اللہ علیہ وسلم) اور وفا شعار صحابہ کرام (رضی اللہ تعالیٰ عنہم) کے نقوشِ قدم ثبت ہیں ۔ ان مقامات پر سجدہ بھی اس لیے کیا جائے کہ ہم گناہگاروں کو یہ اعزاز عطا کیا جاتا ہے اور ہم سجدۂ شکر بجالا کر بارگاہِ خداوندی میں اپنی دعاؤں کے تسلسل کو باقی رکھ سکیں کہ اس نے تعظیم کے لائق ہستیوں کے حضور ہماری حاضری کا اہتمام فرمایا اور آتشِ جہنم سے بچا لیا:
مِرا بدن چھوئے گی نہ دوزخ کہ اس سے ہے
ٹھنڈی ہوائے شہر پیمبر لگی ہوئی
بخشش کے لیے در پہ بلا لیتے ہیں آقا
ہم جیسے غلاموں کی انہیں فکر بڑی ہے
اب نارِ جہنم کا مجھے ڈر نہیں طارق
میری بھی نظر گنبد ِ خضرا پہ پڑی ہے
طارق سلطانپوری نے تجلیاتِ حرمین میں مسجد قبلتین، مسجد قبا، کوہِ احد اور جنت البقیع کی زیارت کرتے ہوئے ان سب کی مختصر ترین تاریخ کو بھی سمیٹنے کی کوشش کی ہے ۔ اس کے علاوہ فرصت کے لمحوں کو غنیمت خیال کرتے ہوئے نعتِ رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کہنے اور اسی کیف زا اور پُر نور ماحول میں اس سلسلہ تخلیق کو آگے بڑھانے کا عمل جاری رکھا۔ حضور کے روضۂ اقدس کی سنہری جالیوں کو نگاہوں سے چومنے اور سامنے کھڑے رہنے کے عرصہ قیام میں عابد نظامی کی زمین میں اشعار کہے ۔ یہ تیرہ اشعار کی نعت ان کی عقیدت اور حسنِ اظہار کا مظہر ہے
خالی رہ جائے کسی سائل کا دامانِ طلب
کب یہ امکاں ہے سنہری جالیوں کے سامنے (49)
یقینا ہر زائر ِ حرمِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم اپنی تمام زندگی کا یہ خاص لمحہ کہ جب وہ حضور پاک سے ہم کلام ہونے کا شرف حاصل کرتا ہے ، اس کی خوش نصیبی کا منہ بولتا ثبوت ہے ۔ اس منظوم سفرنامے کی خوبی یہ ہے کہ عام فہم، رواں اور پاکیزہ اندازِ بیان کا حامل ہے جسے پڑھتے ہوئے نہ صرف معلومات میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ یہ جی چاہتا ہے کہ طارق سلطانپوری کی طرح ہم بھی اس سعادت سے بہرہ ور ہوں ۔”
(تجلیاتِ حرمین، ص: 68 تا 70)
طارق سلطانپوری حرمین شریفین پر قدم رکھتے ہی وہاں کے آثارِ اسلامی بالخصوص سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم ان کے صحابۂ کرام، ازواجِ مطہرات، اہلِ بیت اطہار اور صلحائے امت سے منسوب مقابر، مساجد اور مکانات کی بے حرمتی اور تباہی دیکھتے ہیں تو خون کے آنسو رونے لگتے ہیں اور غیرتِ عشق و ایمان جوش میں آ جاتی ہے اور والیانِ نجد و حجاز کے عزازیلی مسلک و مذہب کو عالمِ اسلام کی خرابی و تباہی و بربادی کا ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے اپنے دلِ حزیں کے غم و غصہ کا اظہار کرتے ہیں کہ یا اللہ ان پر قیامت کیوں نہیں ٹوٹ پڑتی؟ خاتم الانبیاء سرورِ ہر دو سرا صلی اللہ علیہ وسلم کی جائے ولادت، مکان عالیشان جنت نشان کی زیارت کے موقع پر اپنے جذبات کا اظہار “المولد النبی صلی اللہ علیہ وسلم” کے عنوان سے یوں فرماتے ہیں : (50)
درِ دولت پہ ان کے حاضری دی
یہ ہے لاریب میری خوش نصیبی
مقامِ عزت و تکریم ہے یہ
نہایت واجب التعظیم ہے یہ
یہ ہے سرکار کی جائے ولادت
تجلی گاہِ خورشیدِ رسالت
مناسب احترام اس کا نہیں ہے
محبانِ نبی کا دل حزیں
خدا کے گھر میں کچھ بندے خدا کے
ادب نا آشنا ہیں مصطفی کے
پسند ان کو نہیں توقیرِ احمد
مگر پھر بھی ہیں مومن اور موحد
عزازیلی ہے یہ وحدت مآبی
خرابی ہی خرابی ہی خرابی
کرم اے افتخارِ نوح و آدم
“ترحم یا نبیِ کل ترحم”
9 1 4 1 ھ
(2)
ضیائے مولدِ سرکار کی مرہونِ منت ہیں
جہاں میں آج ہیں جس نوع کی جتنی بھی تنویریں
نہیں اس کا تجمل حکمرانوں کو پسندیدہ
اِس ارضِ پاک پر ہرسُو ہیں جن کی خوب جاگیریں
حبیبِ حق کا گھر بے زیب انہوں نے چھوڑ رکھا ہے
حسیں سے ہیں حسیں تر جن کی ہر بستی میں تصویریں
کمر بستہ ہو استخفافِ شانِ مصطفائی پر
“حذر اے چیرہ دستاں سخت ہیں فطرت کی تعزیریں ”
(بانگِ درا، خضرِ راہ۔ اقبال)
کوئی بھی ہو ساعت یہاں دلسوز سماں ہے
یہ مولدِ محبوبِ خدائے دو جہاں ہے
بام و در و دیوار سے حال اس کا عیاں ہے
تنویر پہ سلطانیِ تاریک دلاں ہے
اے مالکِ کُل! روزِ مکافات کہاں ہے ؟
طارق سلطانپوری کی شاعری ایک اہم خصوصیت ان کی تاریخ گوئی بھی ہے ۔ یہ فن اب شعراء کرام سے اٹھتا جا رہا ہے ۔ دورِ آخر میں امام احمد رضا فاضلِ بریلوی علیہ الرحمۃ کو دیگر علومِ فنون کی طرح تاریخ گوئی میں یدِ طولیٰ حاصل تھا۔ شاید، جہاں تک راقم کے علم میں ہے ، عصرِ جدید میں برصغیر کے شعراء کی صف میں طارق کے علاوہ کسی اور کی اس فن میں دسترس کی نظیر دکھائی نہیں دیتی۔ اگر کسی صاحب کے علم میں کوئی ایسی شخصیت ہو تو ضرور آگاہ فرمائیں ۔
فنِ تاریخ گوئی کے متعلق ہندوستان کے معروف محقق ڈاکٹر عبد النعیم عزیزی کا ایک مضمون دلچسپی سے خالی نہ ہو گا، ملاحظہ ہو:
“تاریخ گوئی ایک بہت ہی مشکل فن ہے ۔اس فن کا ریاضی سے بڑا گہرا ربط ہے ۔ شعراء و ادباء کے یہاں یہ فن خصوصی اہتمام کیسا تھ پایا جاتا ہے ۔اس فن کا تعلق صرف کسی ایک زبان سے نہیں بلکہ اردو، فارسی، عربی، ہندی، اور سنسکرت سے بھی ہے ۔ انگریزی ادب میں بھی تاریخ گوئی کا ثبوت ملتا ہے ۔ انگریزی میں اسے Chronogram کہتے ہیں ۔
پروفیسر کلیم الدین احمد نے فرہنگ ادبی اصطلاحات میں اس کی بابت لکھا ہے ۔ وہ کہتے ہیں :
“کتبے میں بعض حروف نمایاں ہوتے ہیں جو رومن اعداد بھی ہوتے ہیں اور ان حروف کے اعداد مل کر تاریخ بناتے ہیں ۔”
(فرہنگ ادبی اصطلاحات (Dictionary of Literary terms English-Urduص۔40)
جن لوگوں کو فن تاریخ گوئی میں درک حاصل تھا ان کے بارے میں کتب تواریخ کے حوالوں سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ صرف اسی فن کے آدمی تھے ۔ شبانہ روز اپنی صلاحیتیں صرف اسی فن میں صرف کرتے تھے جس کے سبب انہیں اس فن کا سر خیل تسلیم کیا گیا۔ فن تاریخ گوئی میں کمال حاصل کرنے والوں میں صاحب میزان التاریخ مرزا اوج لکھنوی ، صاحب افادہ تاریخ جلال لکھنوی، منشی انوار حسین اور غرائب الجمل کے مصنف عزیز جنگ ولا کے اسماء خاص طور سے قابل ذکر ہیں ۔
آئینہ بلاغت (ص3،4) میں مرزا محمد عسکری نے “اقسام و متعلقات نظم و نثر” کے تحت تاریخ گوئی کی تعریف بیان کی ہے اور اس کے سات اقسام کا ذکر کیا ہے اور مومن و ناسخ کے اردو اور فارسی شعروں اور مصرعوں کی مثالیں بھی دی ہیں ۔
درس بلاغت (ص153،154) میں شمس الرحمٰن فاروقی نے بھی تاریخ کی تعریف اور قاعدۂ ابجد ( قاعدۂ جمل) اور زبر و بینہ کے قاعدہ کا ذکر کیا ہے ۔
فن تاریخ گوئی سے اردو شعراء کو بھی دلچسپی رہی ہے ۔ ناسخ ، مومن، انشاء اور ذوق وغیرہ اس فن میں ماہر سمجھے جاتے تھے ۔ ناسخ کے دیوان سے معلوم ہو تا ہے کہ وہ ہمہ وقت اسی فن میں غلطاں و پیچاں رہتے تھے ۔
صاحب سبحۃ المرجان نے اس فن کی تعریف اس طرح کی ہے :
“تاریخ ایسے فن کا نام ہے جس سے متکلم سال ہجری کسی حادثہ کے وقوع کا فن جمل کے قاعدے سے بیان کرے ۔ یہ فن ادیبوں کی نظر میں ایک دستاویز اور ظریفوں کی نگاہ میں ایک بازیچہ ہے ۔ عرب موٴ لفین کے یہاں اس فن کی طرف سے بے اعتنائی پائی جاتی ہے شاید یہی وجہہ ہے کہ اس کا شمار فن بدیع میں نہیں ہوا اور فن بدیع کے ماہرین میں کسی نے اس فن کو ہاتھ نہیں لگایا حالانکہ یہ صنعت ذکر کرنے کے قابل تھی۔ اس کے بر خلاف فارس کے ادیبوں نے اس فن کی طرف بھر پور توجہ کی ہے اور اس کا مکمل حق ادا کر دکھایا ہے ۔۔”
(سبحۃ المرجان فی آثار ہندوستان ،از:میر غلام علی آزاد ،ص 211)
امام احمد رضا خاں صرف شاعر یا تاریخ گوہی نہیں تھے بلکہ ان کی عظیم شخصیت فضائل و کمالات کا مخزن تھی۔ وہ بیک وقت علوم نقلی و عقلی کے ایک عظیم ماہر اور ایک متبحر عالم تھے اور اس نادر فن میں بھی وہ اپنی مثال آپ نظر آتے ہیں ۔ امام احمد رضا خاں صاحب نے کئی کئی صنعتوں میں تاریخیں نکالی ہیں ۔موقع و محل کی مناسبت بغیر کاغذ و قلم کا سہارا لئے بر جستہ تاریخی مادے نکال دیئے ہیں ۔ ان کے اکثر کتب و رسائل کے نام تاریخی ہیں ۔ان کی کتابوں کے تاریخی نام میں یہ بھی خوبی ہے کہ کتاب کی تصنیف کا مقصد بھی سامنے آ جاتا ہے اور تاریخ تصنیف بھی نکل آتی ہے ۔
کئی مرتبہ ایسا بھی ہوا ہے کہ انہوں نے ایک ہی موقع سے دوچار نہیں بلکہ دس دس تاریخی مادّے نکالے ہیں ۔ کئی شعرا کے دواوین کی تاریخیں انہوں نے نکالی ہیں ۔ لوگ نو مولود بچوں کے تاریخی نام نکالنے کی ان سے اکثر فرمائش کیا کرتے تھے ۔
1- ڈاکٹر مختار الدین آرزو سابق صدر شعبۂ عربی، مسلم یونی ورسٹی علی گڑھ کی ولادت پر ان کے والد ماجد مولانا ظفر الدین صاحب (مرید و خلیفہ امام احمد رضا خاں صاحب) نے بذریعہ خط امام احمد رضا خاں صاحب سے ان کا تاریخی نام رکھوایا۔ مولانا بریلوی نے فی البدیہہ مختار الدین (1336ھء) نام رکھ دیا۔
(حیات اعلیٰ حضرت حصہ اول ص 142)
مولانا ظفر الدین بہاری نے لکھا ہے کہ چودہ سال کی عمر سے امام احمد رضا نے اس فن کا کمال دکھانا شروع کر دیا تھا ۔
(حیات اعلیٰ حضرت حصہ اول ص 141)
لیکن قرائن سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ امام احمد رضا خاں نے بارہ سال کی عمر سے ہی اس فن کا اظہار شروع کر دیا تھا۔ اپنے والد گرامی مولانا محمد نقی علی خاں علیہ الرحمہ کی کتاب “سرور القلوب فی ذکر المحبوب” کا قطعہ تاریخی انہوں نے بارہ سال کی عمر میں لکھا ۔ (51)
امام احمد رضا خاں صاحب لکھتے ہیں :
میرے والد نے جب کیا تصنیف
یہ رسالہ بوصف شاہ ہدیٰ
جس کا ہر صفحہ تختۂ فردوس
ہر ورق سدرہ و طوبیٰ
گیسوئے حور ہے سواد حروف
مردم چشم حور ہر نقطہ
یا قلم اس کا ابر نیساں ہے
ہر ورق اس کا علم کا دریا
ہر سطر رشک موج صافی ہے
دائروں کو صدف لکھوں تو بجا
نقطے جن کے ہیں گوہر شہوار
قیمت ان کی جنت المادیٰ
سال تالیف میں رضا نے کہا
وصف خلق رسول امی کیا
1284ھ
(حدائق بخشش حصہ سوم ،از: امام احمد رضا خاں مرتبہ مولوی محبوب علی خاں ص95)
تاریخ گوئی اور تاریخی مادوں کے استخراج کے سلسلے میں دبستانِ نعت کے شعراء میں طارق منفرد مقام رکھتے ہیں ۔ جیسا کہ ذکر ہوا امام احمد رضا اس فن کے بھی امام تھے ۔ شاید طارق سلطانپوری کی دبستانِ رضا سے بے لوث وابستگی، کلامِ امام سے بطورِ طالبعلم شغف اور اعلیٰ حضرت کی ذات اور علم و فن سے ان کی والہانہ وابستگی اس علم میں ان کی فتوحات کا سبب بنی ہے ۔ طارق کو زیرِ نظر فن میں جو حیرت انگیز اور روز افزوں استعداد حاصل ہے ، وہ یقیناً ان پر امام احمد رضا کے روحانی فیض کے غماز ہیں ۔ پروفیسر ارشد “تجلیاتِ حرمین” کے مقدمہ میں طارق کی اس صلاحیت پر تبصرہ کرتے ہوئے رقم طراز ہیں :
“تاریخی مادے نکالنے میں طارق کو حیرت انگیز ملکہ حاصل ہے اور مہارت حدِّ کمال کو پہنچی ہوئی ہے ۔ اس خصوصیت کا اظہار تجلیاتِ حرمین میں بھی جا بجا ہوا ہے ۔ آیاتِ ربانی سے نکالی گئی تاریخوں کے استثناء کے ساتھ میں یہ کہنا پسند کروں گا کہ تاریخی مادے طارق کے سامنے دست بست کھڑے رہتے ہیں ۔ نمونے کے طور پر تجلیاتِ حرمین سے چند خوبصورت تاریخوں کا ذکر بے جا نہ ہو گا۔۔ مسجد قبلتین کی حاضری کی تاریخ کہی ہے
از سر و قلب “لطف” ہے تاریخ
39
“خواہشِ مصطفی ہوئی پوری”
39 + 1380 = 1419ھ
نئے غلافِ کعبہ کی تاریخ
میرے دلبر ہو تیرے حسن کی خیر
میرے جانی “مبارک خلعتِ نو”
9 1 4 1 ھ
سحابِ کعبہ کی بوندوں سے لطف اندوز ہونے کی تاریخ
لطفِ ہاتف سے اس کی ہے تاریخ
“ہو گیا آج خاص لطفِ خدا”
9 1 4 1 ھ
غارِ حرا کی زیارت کی تاریخ ع
حاضری کی کہے ہے یوں تاریخ
“قلزمِ آب و تابِ غارِ حرا” (52)
9 9 9 1 ء
تجلیاتِ حرمین میں کئی جگہ قرآنِ پاک اور حدیثِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑی خوبصورتی سے اقتباس کیا گیا ہے ، دو مثالیں نقل کرتا ہوں :
قَدْ نَرٰی سے فَوَلِّ وَجْھَکَ سے
آشکارا ہے شانِ مصطفوی
اور
حضور میری خطائیں ہیں حد وعد سے سوا
شفاعتی لکبائر سے حوصلہ ہے بڑا
اسی طرح بعض معروف نعت نگاروں کے مصرعے بھی بڑی خوبصورتی سے استعمال کئے ہیں مثلاً:
نفس گم کردہ می آیند جنید و بایزید ایں جا
ادب گاہیست زیرِ آسماں از عرش نازک تر
(عزت بخاری)
سلام اے آمنہ کے لال اے محبوب سبحانی
(حفیظ جالندھری)
شکرِ خدا کہ آج گھڑی اس سفر کی ہے
(امام احمد رضا بریلوی)
امیر مینائی کی ایک غزل کا مصرع بڑی خوبصورتی سے استعمال کیا ہے
آج کعبہ ہے مِرے پیشِ نظر
“دن گنے جاتے تھے اس دن کے لیے ” (53)
طارق نے مادہ ہائے تاریخ کے استخراج کے ساتھ ساتھ امام احمد رضا فاضلِ بریلوی علیہ الرحمۃ کی شان میں منظوم خراجِ تحسین بھی پیش کیا ہے اور وہ اس موضوع پر گذشتہ 25سال سے لکھ رہے ہیں ۔ امام احمد رضا کے علاوہ بھی دیگر علماء و مشائخ اور اہلِ علم شخصیات پر بھی لکھا ہے ۔ 2008ء کی امام احمد رضا کانفرنس کے موقع پر “زیبا باغِ معرفتِ حق” (1921ء) کے عنوان سے چھوٹی بحر میں ایک خوبصورت منقبت کہی تھی جس میں اعلیٰ حضرت کی ذات میں علم و عشق کے حسین امتزاج کی اعلیٰ شان کو نہایت خوبصورت پیرائے میں بیان کیا گیا ہے ۔ یہ منقبت سالنامہ معارفِ رضا 2008ء میں شائع ہوئی، راقم ان کی تاریخ گوئی اور منقبت گوئی کے ایک نمونے کے طور پر اہلِ علم کی تفنن طبع اور دعوتِ فکر کے لیے پیش کرنے کی سعادت حاصل کر رہا ہے ۔
زیبا باغِ معرفتِ حق
1921ء
(سالِ وصال 1340ھ/ 1921ء)
اجملِ ہر جہاں کا دِلدادہ
والۂ ماہِ انورِ طیبہ
مصطفی کا غلام شاہ حشم
عبد ذی شانِ سرور طیبہ
وہ ثنا خوانِ مصطفی بے مثل
بے بدل وہ ثناگرِ طیبہ
اس کا ممدوح اک ملیح عرب
اس کا موصوف دلبر طیبہ
اس کے اشعار نعت کا ہر شعر
عکسِ زیبائے منظرِ طیبہ
اس کی تحریر و گفتگو کا خصوص
ذکر ایمان پرورِ طیبہ
جان و دل سے عزیز تر اس کو
ہر وہ شے جو ہے مظہرِ طیبہ
فاتحِ مکہ کا مدِیح نگار
نعت گوئے مُظفّرِ طیبہ
قائدِ کاروانِ عشقِ حبیب
ترجمانِ قد آورِ طیبہ
عاشق و واصف محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم) تھا
مثل حسَّان منبر طیبہ
اس کا سالِ وصال ہے طارق
جلوہ ہائے پیغمبر طیبہ
0 4 3 1 ھ
جیسا کہ گذشتہ صفحات میں تحریر کیا گیا کہ طارق سلطانپوری کا شمار عصرِ جدید کے ان نعت گو شعرائے کرام میں ہوتا ہے جنہوں نے روایاتی نعتیہ شاعری کی اہم خوبیوں کو برقرار رکھتے ہوئے افکار و خیالات کو جدید اسلوب پر وسعت بخشنے کی کوشش کی ہے ۔ گفتگو کے نئے ڈھنگ اور نئے سلیقوں کو متعارف کرایا ہے ۔ اسی درج بالا منقبت کو دیکھ لیں : فاتحِ مکہ کا مدیح نگار، نعت گوئے مظفر طیبہ، قائدِ کاروانِ عشقِ حبیب، ترجمانِ قد آور طیبہ کیسی اچھوتی اور زوردار ترکیب ہیں ۔ سیدعالم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت مبارکہ کے نئے زاویئے پیش کئے ہیں ۔ عشق و سرمستی کا جذبہ پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ نعت گوئی کے حدود و قیود اور ادب و آداب کو ملحوظ رکھنے کی راہ دکھائی ہے اور پیغامِ مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم عام کرنے کا ذریعہ بھی بنایا ہے ۔ نعتیہ ادب میں فکر کی بلندی کے ساتھ الفاظ کے ذخیروں کو بڑھایا اور موجودہ ذخائر کے معانی کو وسعت دینے کی کوشش کی گئی جس سے اردو ادب کا دامن وسیع سے وسیع تر ہوا ہے ۔ مثال کے طور پر طارق کے کلام سے ایک نمونہ پیش کرتے ہیں ۔ نظم کا عنوان ہے “منیٰ”۔ یہ دورانِ حج مناسکِ حج ادا کرنے کے بعد منیٰ میں قیام کی بظاہر ایک منظر کشی ہے لیکن طارق نے منظر کشی کے ساتھ امتِ مسلمہ کو جگہ جگہ رُک کر جو پیغامات دیئے ہیں ، اس نے نعت کی افادیت اور مقصدیت میں اضافہ کر دیا ہے ۔(54)
ہے سر کوبی شیاطیں کی ضروری
شیاطیں بانیانِ فتنہ و شر
منیٰ کے تین شیطانوں کی خاطر
چنے مین نے بھی مزدلفہ سے کنکر
ہجومِ خلق بے اندازہ و حصر
اِک انسانوں کا متلاطم سمندر
تمازت کی نہ کوئی حبس کی حد
نہ گھبرایا غلامِ شاہِ کوثر
رسائی تھی ہدف تک گو نہ آساں
چلا لیکن خدا کے آسرے پر
عنایت سے خدا و مصطفی کی
سہولت ہی سہولت تھی میسر
مسلسل تین دن باعزمِ راسخ
لگائی ضرب شیطانوں کے سر پر
انہیں دھتکارا ابراہیم (علیہ السلام) نے جب
نظر کے سامنے آیا وہ منظر
حریصِ مرضی و خوشنودیِ رب
خدا کا عبدِ خاص، اللہ اکبر
ہوا بیٹے کی قربانی پہ تیار
رضا جوئے خدائے پاک و برتر
ارادہ پختہ تھا نیت تھی صادق
ملی اس کو رضائے ربِّ اکبر
ہوا پیدا اُسی کے خانداں میں
خدا کا آخری پیارا پیمبر
ادا کی اُس نے بھی سنت خلیلی
وہ جو ہے بدر کا سالارِ لشکر
یقیں افروز ہے تاریخ اس کی
منیٰ کی داستاں ایمان پرور
یہ سنت سیکڑوں سالوں سے اب تک
ادا کی جا رہی ہے با تواتر
رمی کی اور قربانی کی حکمت
ہے واضح خوب اربابِ نظر پر
(تعالی اللہ حزب اللہ کی شوکت)
شکوہِ اہلِ حق، اللہ اکبر
ہوئی تاریخ اس منظر کی موزوں
تعالیٰ شانہ، “یہ پیارا منظر”
9 1 4 1ھ
پہلا شعر کس قدر ایمان پرور اور فکر انگیز ہے ۔ منیٰ کے میدان سے امت مسلمہ کے لیے اس سے بڑا پیغام نشر نہیں ہوسکتا۔ یہ طارق سلطانپوری کی عشقِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی روشنی سے مجلہ فکر، اقبال کے الفاظ میں “دانشِ نورانی” کا کمال ہے ۔ آج اسلامی ممالک میں فتنہ و شر کی بھرمار ہے ۔ ہمیں اپنے اندر کے شیاطین کی بھی سرکوبی کرنی ہو گی۔ ساتھ ساتھ شاعر حج کے مقصد کی طرف بھی اشارہ کر رہا ہے ۔ اراکینِ حج کی ادائیگی محض ایک رسم نہیں ہیں بلکہ ان سے صفائی قلب، بالیدگیِ روح مقصود ہے ، اگر یہ نہیں تو حج ایک سعیِ لاحاصل ہے اور وقت، مال اور وسائل کی بربادی۔ پھر منظر کشی کا کمال ایک ایک مصرعہ سے ظاہر ہوتا ہے ، ملاحظہ ہو
انہیں دھتکارا ابراہیم نے جب (علیہ الصلوٰۃ والسلام)
نظر کے سامنے آیا وہ منظر
شاعر، قاری کو “دورِ براہیم” کی سیر کرا دیتا ہے جس کے لیے اقبال نے کہا ہے : “یہ دور اپنے براہیم کی تلاش میں ہے ۔” اور لفظ “دھتکارا” شیطان کے مقابل کس قدر زور آور اور نفرت آگیں استعارہ ہے ۔ اسی طرح اس سے قبل والا شعر ملاحظہ کریں ، “با عزم راسخ شیاطیں کے سروں پر ضربِ کاری” نفسِ امارہ کو کچلنے کی کیسی اچھی ترغیب و تشویق ہے ۔ پھر سیدنا حضرت ابراہیم علیہ الصلوٰۃ والسلام کے لیے “حریص مرضی و خوشنودیِ رب” کس قدر پیاری ترکیب و کنایہ ہے ۔ پھر اللہ تعالیٰ نے انہیں بیٹے کی قربانی کے صلے میں جو نعمت کبریٰ عطا فرمائی، اسے رب کی “رضائے اکبر” کہہ کر نسلِ ابراہیمی میں سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کی طرف کیا خوبصورت کنایہ ہے ۔ پختہ ارادہ اور نیت صادق کی برکات کا ثمرہ “رضائے اکبر” کا حصول قرار دے کر اخلاصِ نیت اور عزم مصمم کی اہمیت کو کس خوبصورتی سے اجاگر کیا جا رہا ہے ۔ دوسری جگہ رمی اور قربانی کی حکمت و فلسفہ کی طرف اشارہ کر کے “اربابِ نظر” کو غفلت سے ہوشیار کیا جا رہا ہے ۔ غرض کہ اول شعر سے آخر شعر تک یہ نعت مقصدیت سے پُر ہے اور پھر منیٰ کے ماحول کی منظر نگاری اس پر مستزاد۔ زیر نظر نعت طارق کی اعلیٰ شعری صلاحیتوں کا اچھا نمونہ، خوبصورت اور با مقصد شاعری کی عمدہ مثال ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ طارق کے کلام پر لب کشائی کرنا کسی ماہرِ فن کا ہی کام ہے ۔ راقم کو اپنی بے بضاعتی کا احساس ہے لہٰذا اس مضمون میں الفاظ و بیان اور تشریح و تعبیر کی کوئی غلطی نظر آئے تو تعجب نہیں ۔ راقم مفید مشوروں اور اصلاح کا کھلے دل سے خیر مقدم کرے گا۔
بلاشبہ طارق کا کلام ایسا ہے کہ عصرِ حاضر کے ممتاز نعت گو شعراء کے مقابلہ میں پیش کیا جا سکتا ہے ۔ طارق طبیعتاً نہایت خلیق، منکسر المزاج، درویش صفت انسان ہیں ۔ ذکر و فکرِ مصطفی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میں ہمہ وقت مستغرق رہنا ان کی زندگی کا شعار ہے ۔ مزاجاً شہرت گریز ہیں ۔ یہ ہمارا فرض ہی نہیں ، بلکہ ضرورت ہے کہ طارق سلطانپوری جیسے عظیم وصّافِ نبی الکریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نعتیہ شاعری کی طرف اہلِ علم، ادباء، شعراء اور ناقدینِ فن کی توجہ مبذول کرائیں ۔ علمی و ادبی نشستوں کا انعقاد کر کے ان کی نعت گوئی پر تحقیقی مقالے لکھوائے جائیں ۔ برصغیر کے مستند شعراء اور ناقدینِ فن سے ان کے مجموعہ کلام پر نقد و نظر اور تبصرے لکھوائے جائیں ۔ میٹرک کی سطح سے لے کر جامعات اور کالجز کی سطح تک نصاب میں طارق سلطانپوری کے کلام کو منظور کرایا جائے ۔ جامعات میں ان کے مجموعہ کلام پر ایم۔فِل اور پی۔ایچ۔ڈی کے مقالے لکھوائے جائیں ۔ جامعات اور تحقیقی اداروں کی جانب سے نعتیہ ادب کے فروغ کے سلسلہ میں طارق کی خدمات کے اعتراف کے طور پر انہیں اسناد اور تمغے دیئے جائیں ۔ ان جیسی شخصیات ملت کا بہت بڑا اثاثہ ہیں ۔ ہمیں چاہئیں کہ ہم ان کی قدر کریں ۔
بنام آں کہ جاں را فکرت آموخت
چراغِ دل بہ نورِ جاں برا فروخت
وصلی اللّٰہ تعالیٰ علیٰ خیر خلقہ سیدنا مولانا محمد و علی اٰلہ و ازواجہ و اصحابہ و ذریاتہ والیاء ملتہ اجمعین و بارک وسلم۔
……***……

حواشی و حوالہ جات

1۔ الاحزاب: 33/ 56
2۔ عبد النعیم عزیزی، ڈاکٹر، اردو نعت گوئی اور فاضلِ بریلوی، ص:79 تا 87، ناشر: ادارۂ تحقیقاتِ امام احمد رضا، کراچی
3۔ تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو: “اردو کی نشو و نما میں صوفیاء کرام کا حصہ” مصنفہ: مولوی عبد الحق اور “دکن میں اردو” مصنفہ: نصیر الدین ہاشمی (وجاہت)
4۔ ریاض مجید، ڈاکٹر، “اردو میں نعت گوئی”، ص:281 تا 301، ناشر: اقبال اکادمی، لاہور، پاکستان
5۔ ایضاً، ص:301
6۔ ملفوظات، مرتبہ: مفتی اعظم مولانا مصطفی رضا خاں ، ص:161 تا 163، حصہ دوم، ناشر: فریڈ بک ڈپو، لاہور
7۔ احمد رضا خاں ۔ حدائقِ بخشش، حصہ سوم، مطبوعہ بدایوں ، ص:93، 94
8۔ محامدِ خاتم النبیین (امیر مینائی)، ص: 111۔ 113
9۔ ایضاً، ص: 28، 29 10۔ ایضاً، ص:69
11۔ مزید تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو:
الف۔ شعر الہند، مصنفہ: عبد السلام ندوی، حصہ دوم، ص: 211، 212
ب۔ لکھنوٴ کا دبستانِ شاعری، مصنفہ: ابو اللیث صدیقی، ص: 545 تا 548
ج۔ اردو میں نعتیہ شاعری، مصنفہ: ڈاکٹر رفیع الدین اشفاق، ص: 320، 321
12۔ کلیاتِ محسن
13۔ ایضاً
14۔ ایضاً
15۔ اس موضوع پر تفصیلی بحث کے لیے درج ذیل کتب ملاحظہ ہوں :
الف۔ اردو کی نعتیہ شاعری، مصنف: ڈاکٹر فرمان فتح پوری
ب۔ کلیاتِ نعت، مصنف: مولوی محمد حسین
ج۔ کلیاتِ محسن میں اسی قصیدہ کی تشبیب میں “مناسباتِ کفر” کے استعمال کے جواز میں کہے گئے اشعار جس کے آخری دو شعر یہ ہیں :
کفر و ظلمت کو کہا کس نے کہ ہے دینِ خدا
مے و نغمہ کو لکھا کس نے کہ ہے حسنِ عمل
ہوا مبعوث فقط اس کو مٹانے کے لیے
سیفِ مسلولِ خدا نورِ نبیِ مرسل ( صلی اللہ علیہ وسلم)
د۔ ستارہ یا بادبان، مصنفہ: محمد حسن عسکری
16۔ ریاض مجید، ڈاکٹر، اردو میں نعت گوئی، ص:398، ناشر: اقبال اکیڈمی، لاہور
17۔ عبد النعیم عزیزی، ڈاکٹر، اردو نعت گوئی اور فاضلِ بریلوی، ص: 132، ناشر: ادارۂ تحقیقاتِ امام احمد رضا انٹرنیشنل، کراچی (2008ء)
18۔ جوہر شفیع آبادی، ڈاکٹر، حضرت رضا بریلوی بحیثیت شاعرِ نعت، ص:6،7، ناشر: ادارۂ تحقیقاتِ امام احمد رضا انٹرنیشنل، کراچی (2006ء)
19۔ ریاض مجید، ڈاکٹر، اردو میں نعت گوئی، ص: 408، 409، ناشر: اقبال اکیڈمی، لاہور (1990ء)
20۔ ایضاً، ص:420
21۔ جوہر شفیع آبادی، ڈاکٹر، حضرت رضا بریلوی بحیثیت شاعرِ نعت، ص: 10، 11، ناشر: ادارۂ تحقیقاتِ امام احمد رضا انٹرنیشنل، کراچی (2006ء)
22۔ عبد النعیم عزیزی، ڈاکٹر، اردو نعت گوئی اور فاضلِ بریلوی، ص: 363، ناشر: ادارۂ تحقیقاتِ امام احمد رضا انٹرنیشنل، کراچی (2008ء)
23۔ جوہر شفیع آبادی، ڈاکٹر، حضرت رضا بریلوی بحیثیت شاعرِ نعت، ص:7 تا 10، ناشر: ادارۂ تحقیقاتِ امام احمد رضا انٹرنیشنل، کراچی (2006ء)
24۔ عبد النعیم عزیزی، ڈاکٹر، اردو نعت گوئی اور فاضلِ بریلوی، ص:662، 663، ناشر: ادارۂ تحقیقاتِ امام احمد رضا انٹرنیشنل، کراچی (2008ء)
25۔ حافظ مظہر الدین کی نعت گوئی کی خوبیاں جاننے کے لیے ان کے مجموعۂ کلام تجلیات، جلوہ گاہ اور بابِ جبرئیل ملاحظہ فرمائیں ۔ (وجاہت)
26۔ ذوقِ نعت
27۔ ریاض مجید، ڈاکٹر، اردو میں نعت گوئی، ص:508، ناشر: اقبال اکیڈمی (طبعِ اول 1990ء)
28۔ حدائقِ بخشش، حصہ دوم
29۔ طارق سلطانپوری، تجلیاتِ حرمین موسوم بہ “رابطۂ بخشش”، ص: 163، ناشر: مکتبہ ضیائیہ، ضیاء العلوم، U-128، بازار تلواڑاں ، راولپنڈی
30۔ ایضاً، ص: 198 تا 200
31۔ ایضاً، ص: 14 تا 16
32۔ حدائقِ بخشش، حصہ دوم
33۔طارق سلطانپوری، تجلیاتِ رضا، ص:58، ناشر: مکتبہ ضیائیہ، ضیاء العلوم، راولپنڈی
34۔ ایضاً، ص: 93
35۔ ایضاً، ص: 136
36۔ ایضاً، ص: 137
37۔ ایضاً، ص: 14
38۔ ریاض مجید، ڈاکٹر، اردو میں نعت گوئی، ص: 413، ناشر: اقبال اکیڈمی، لاہور
39۔ طارق سلطانپوری، تجلیاتِ حرمین موسوم بہ “رابطۂ بخشش”، ص: 90، ناشر: مکتبہ ضیائیہ، ضیاء العلوم، راولپنڈی
40۔ ایضاً، ص: 95
41۔ ایضاً، ص: 103
42۔ ریاض مجید، ڈاکٹر، اردو میں نعت گوئی، ص: 490، 491، ناشر: اقبال اکیڈمی، لاہور
43۔ مزید تفصیل کے لیے ملاحظہ فرمائیں : اقبال سہیل، ارمغانِ حرام، ص: 48، 49 (مقدمہ: افتخار اعظمی)
44۔ طارق سلطانپوری، تجلیاتِ حرمین موسوم بہ “رابطۂ بخشش”، ص: 91، 94، ناشر: مکتبہ ضیائیہ، ضیاء العلوم، راولپنڈی
45۔ حسن رضا بریلوی، ذوقِ نعت
46۔ ایضاً
47۔ طارق سلطانپوری، تجلیاتِ حرمین موسوم بہ “رابطۂ بخشش”، ص: 102، ناشر: مکتبہ ضیائیہ، ضیاء العلوم، راولپنڈی
48۔ ایضاً، ص: 156، 157
49۔ایضاً، ص: 68 تا 70
50۔ ایضاً، ص: 114 تا 117
51۔ عبد النعیم عزیزی، اردو نعت گوئی اور فاضل بریلوی، ص: 225 تا 257
52۔ طارق سلطانپوری، تجلیاتِ حرمین موسوم بہ “رابطۂ بخشش”، ص: 52، 53، ناشر: مکتبہ ضیائیہ، ضیاء العلوم، راولپنڈی
53۔ ایضاً۔ مثال کے طور پر ملاحظہ ہو: ص: 142، 90، 137، 138، 104، 144، 103
54۔ ایضاً، ص: 177
٭٭٭

ٹائپنگ: الف نظامی، ماخذ: اردو محفل
تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید‏