FavoriteLoadingپسندیدہ کتابوں میں شامل کریں

`

 

فہرست مضامین

شاہد کبیر : زندگی اور غزل

 

ڈاکٹر ثمیر کبیر

 

 

ڈاؤن لوڈ کریں

 

 

 

ورڈ فائل

ای پب فائل

 

کنڈل فائل

 

 

 

 

انتساب

 

والد محترم

شاہد کبیر

کے نام

 

میں جنبشِ انگشت میں محفوظ رہوں گا

ہر چند مجھے ریت پہ تو لکھ کے مٹا دے

 

 

 

 

 

 

 

 

شناس نامہ

 

نام: شاہد کبیر

پیدائش: ۱؍ مئی ۱۹۳۲ء

شادی: ۱۹۶۰ء

وفات: ۱۱؍ مئی ۲۰۰۱ء

کتابیں:

*  ’کچی دیواریں‘ (ناول)۱۹۵۸ء پبلشر: اہلووالیا بک ڈپو، نئی دہلی

*  ’چاروں اُور‘ (جدید غزلوں کا انتخاب ڈاکٹر مدحت الاختر کے ساتھ مل کر مرتب کیا) ۱۹۶۸ء

*  ’مٹی کا مکان‘  (شعری مجموعہ) ۱۹۷۹ء

*  ’پہچان‘ (شعری مجموعہ) ۱۹۹۹ء

*  ’پہچان‘ دیوناگری (شعری مجموعہ) مرتب: ڈاکٹر ثمیر کبیر ۲۰۰۲ء

*  ’اس کی گلی‘ (شعری مجموعہ) اردو اور دیوناگری، مرتب: ڈاکٹر ثمیر کبیر ۲۰۱۴ء،

وائس پبلی کیشن، لکھنؤ

انعامات:

* ’مٹی کا مکان‘ ۱۹۷۹ء، مہاراشٹر اسٹیٹ اردو اکادمی کا پہلا انعام

* ’پہچان‘ ۱۹۹۹ء، مہاراشٹر اسٹیٹ اردو اکادمی کا پہلا انعام

درسی کتب میں تخلیقات کی شمولیت:

* ناول ’ کچی دیواریں‘  کو شامل کیا گیا۔ بی۔ اے۔ کے کورس میں بابا صاحب امبیڈکر یونیورسٹی مراٹھواڑا

* غزلوں کو شامل کیا گیا۔ مہاراشٹر اسٹیٹ بورڈ آف سیکنڈری اینڈ ہائیر سیکنڈری ایجوکیشن، پونے

* غزلوں کو شامل کیا گیا۔ بی۔ اے اور ایم۔ اے۔ کے کورس میں راشٹر سنت تکڑوجی مہاراج ناگپور یونیورسٹی، ناگپور

* شاہد کبیر کی تخلیقات کو شامل کیا گیا۔ راشٹرسنت تکڑوجی مہاراج ناگپور یونیورسٹی کی PET (Ph.Dانٹرینس) کے کورس میں۔

* ’جدید غزل کے ارتقاء میں شاہد کبیر کا حصہ‘  اس مقالے پہ راشٹر سنت تکڑوجی مہاراج ناگپور یونیورسٹی سے Ph.D کی ڈگری تفویض کی گئی۔

دیگر سر گرمیاں:

* ۱۹۵۷ء میں نئی دہلی میں ڈرامہ  ’’مرزا غالب‘‘ کی اسکرپٹ لکھی جو کہ راشٹرپتی بھون نئی دہلی میں کھیلا گیا۔

* ہندوستان اور پاکستان سے شائع ہونے والے تمام ادبی جرائد میں آپ کی غزلیں /نظمیں اور کہانیاں شائع ہوئی۔

* دوردرشن، اکاشوانی سے بھی آپ کے کلام وقت وقت پر پیش کیے گئے۔

* بے شمار میوزک البم اور فلموں میں غزل /گیت/نظم شامل کی گئی جس کی فہرست دی جا رہی ہے۔

 

غزل/گیت ۔۔ البم/فلم ۔۔ سنگر ۔۔ میوزک ڈائرکٹر ۔۔ کمپنی /سال

۱۔اُس کی گلی میں پھر ۔۔ صابری بردرس ۔۔ صابری بردرس ۔۔ صابری بردرس ۔۔ ای۔ ایم۔ آئی ۔۔ لائیو اِن کنسرٹ پاکستان ۱۹۸۰ء

۲۔پھولوں کی برسات ہوئی ۔۔ پھولوں کی برسات ۔۔ انور حسین ۔۔ کلیان جی آنند جی ۔۔ ای۔ ایم۔ آئی ۔۔ دی گرامو فون کمپنی  انڈیا۔ ۱۹۸۱

۳۔ گوری روٹھ گئی ۔۔ ہنگامہ ۔۔ عزیز نازاں ۔۔ عزیز نازاں ۔۔ وِینس۔ ۱۹۸۵ء

۴۔ پیار کے موڑ پر ۔۔ خمارِ غزل ۔۔ بلقیس خانم ۔۔ رئیس خان ۔۔ اِی۔ ایم۔ آئی پاکستان  ۱۹۸۵ء

۵۔ پیار کے موڑ پر ۔۔ پیار کے موڑ پر ۔۔ صابری بردرس ۔۔ صابری بردرس ۔۔ ٹی۔ سیریز ۱۹۸۵

۶۔ پیار کے موڑ پر ۔۔ڈاکو حسینہ(فلم) ۔۔ انور دلاور خان  ۔۔اُوشا کھنّا ۔۔ ٹی۔ سیریز ۱۹۸۶

۷۔ خبر ہے اپنی  ۔۔ آرزو  ۔۔ اوشا امونکر  ۔۔ چھوٹے لال  ۔۔ یونیورسل میوزک  ۔۔ ۱۹۸۸

۸۔ پانی کا پتھروں پہ اثر ۔۔ آرزو  ۔۔ اُوشا امونکر  ۔۔ چھوٹے لال  ۔۔ یونیورسل میوزک ۔۔ ۱۹۸۸

۹۔ نیند سے آنکھ کھلی ہے  ۔۔ بی آنڈ ٹائم  ۔۔ چترا سنگھ  ۔۔ جگجیت سنگھ  ۔۔ ایچ، ایم، وی ۱۹۸۸

۱۰۔ غم کا خزانہ تیرا بھی ہے میرا بھی ۔۔ سجدہ  ۔۔ لتا منگیشکر / جگجیت سنگھ  ۔۔ جگجیت سنگھ ۔۔ ایچ، ایم، وی ۱۹۹۱

۱۱۔ پھولوں کی برسات ہوئی  ۔۔ میں نشے میں ہوں  ۔۔ عزیز نازاں  ۔۔ عزیز نازاں  ۔۔ وینس ۱۹۹۲

۱۲۔ میں نشے میں ہوں   ۔۔ اینکور جگجیت سنگھ  ۔۔ جگجیت سنگھ  ۔۔ ایچ، ایم، وی۱۹۹۳

۱۳۔ اُس کی گلی میں پھر مجھے  ۔۔ دیوانگی  ۔۔ چندن داس  ۔۔ للت سین  ۔۔ ٹی۔ سیریز ۱۹۹۳

۱۴۔ بے سبب بات بڑھانے کی  ۔۔ فیس ٹو فیس  ۔۔ جگجیت سنگھ  ۔۔ جگجیت سنگھ  ۔۔ میگھنا ساؤنڈ ۱۹۹۴

۱۵۔ میں نہ ہندو نہ مسلمان  ۔۔ میراج  ۔۔ جگجیت سنگھ  ۔۔ جگجیت سنگھ  ۔۔ ایچ، ایم، وی ۱۹۹۶

۱۶۔ آج ہم بچھڑے ہیں  ۔۔ لَو اِز بلائنڈ  ۔۔ جگجیت سنگھ  ۔۔ جگجیت سنگھ  ۔۔ وینس ۱۹۹۷

۱۷۔ وعدہ زخم  ۔۔ رئیس خان  ۔۔ رئیس خان  ۔۔ ٹپس ۲۰۰۱

۱۸۔ پھولوں کی برسات  ۔۔ پھولوں کی برسات  ۔۔ عذرا ریاض  ۔۔ عذرا ریاض  ۔۔ ٹپس ۲۰۰۱

۱۹۔ اس کی گلی میں  ۔۔ پھر مجھے دل سے ملو  ۔۔ رئیس خان  ۔۔ رئیس خان  ۔۔ ٹپس ۲۰۰۱

۲۰۔ اُس کی گلی میں  ۔۔ پھر مجھے انداز  ۔۔ سلمان علوی  ۔۔ سلمان علوی  ۔۔ ساؤنڈ ماسٹر پاکستان ۲۰۱۵

۲۱۔ کیا ہوا پھولوں کو  ۔۔ وہ لڑکی یاد آتی ہے  ۔۔ چھوٹا مجید شعلہ  ۔۔ راجندر پرسانن  ۔۔ ٹی۔ سیریز۲۰۰۴

۲۲۔ سب کے چہروں میں  ہم کو آپ۔۔ کون ہے جو سپنوں میں آیا (فلم) ۔۔ ادیت نارائن  ۔۔ نکھل ونئے  ۔۔ ٹی۔ سیریز۲۰۰۴

۲۳۔ اُس کی گلی میں پھر مجھے ۔۔ غزل کوئن منی بیگم ۔۔ منی بیگم ۔۔ ٹائمس میوزک ۲۰۱۲

۲۴۔ دستک ہے کہ پتہ  ۔۔ رومانیت  ۔۔ شِشر پارکھی  ۔۔ شِشر پارکھی  ۔۔ میسٹکا میوزک ۲۰۱۱

۲۵۔ آج کا دن تو بیت چکا ہے  ۔۔ آمین  ۔۔ سنجئے وتسل  ۔۔ سنجئے وتسل  ۔۔ سونی میوزک ۲۰۱۴

۲۶۔ خاموشی جب زباں بنتی ہے  ۔۔ آمین  ۔۔ سنجئے وتسل  ۔۔ سنجئے وتسل  ۔۔ سونی میوزک ۲۰۱۴

۲۷۔ میں نہ ہندو نہ مسلمان  ۔۔ گاندھی ہتّیہ، ایک سازش ہتّیہ، ایک سازش ۔۔ ربّی شیرگِل  ۔۔ پرشانت پلّائی  ۔۔ ٹی۔ سیریز ۲۰۱۸

 

 

 

 

اپنی بات

 

’’شاہد کبیر : زندگی اور غزل‘‘ میری چوتھی کتاب ہے۔ اس کے پہلے میں ’پہچان‘ (دیو ناگری)، ’اُس کی گلی‘(اردو) اور ’اُس کی گلی‘ (دیوناگری) مرتب کر چکا ہوں۔ میں اس کتاب میں جس شخصیت کی بات کر رہا ہوں وہ نہ صرف ایک عظیم شاعر تھا بلکہ ایک شفیق باپ بھی تھے۔ اور یہ دونوں کردار اُن کے اندر اس قدر نمایاں تھے کہ دونوں کو ایک دوسرے سے الگ کر کے نہیں دیکھا جا سکتا تھا۔ مجھے اکثر ان کے ایک دوست کا یہ جملہ یاد آ جاتا ہے:

’’مجھے تعجب ہوتا ہے کہ ایک اتنا شریف انسان اتنا اچھا شاعر کیسے ہو سکتا ہے‘‘۔

ناگپور کا یہ جدید شاعر ودربھ میں جدید شاعری کا بانی کہلاتا ہے۔ جدید شعرا کی لمبی بھیڑ میں اُن کا انفرادی لہجہ انھیں دوسروں سے الگ کرتا ہے۔ ۱۹۶۰ء کے آس پاس جب جدیدیت اپنے جنوں میں تھی اور مذہب بے زاری، رشتوں سے دوری اور تنہائی کا راگ الاپا جا رہا تھا اس وقت شاہد کبیر لکھتے ہیں:

خدائی پہ رکھو شاہد بھروسہ

خدا تم کو نمائندہ رکھے گا

باندھ رکھا ہے کسی سوچ نے گھر سے ہم کو

ورنہ اپنا در و دیوار سے رشتہ کیا ہے

ڈاکٹر ثمیر کبیر

 

 

 

 

 

شاہد کبیر

 

شاعری جناب شاہد کبیر کا پیشہ نہیں، اظہار ذات ہے۔ وہ اپنی ذات کے احساسات و مشاہدات کے وسیلے سے زندگی کو سمجھنے اور پہچاننے کی کوشش کرتے ہیں۔ انھوں نے جو غزلیں، نظمیں، گیت تخلیق کیے اس میں ان کی انفرادیت نمایاں ہے۔ خصوصیت سے غزلیہ شاعری میں کہ ان کا اصل میدان غزل ہی ہے۔ شاہد کبیر کے اشعار میں الفاظ کے تخلیقی استعمال کا ہنر نمایاں ہے۔ دوسری جانب کلاسیکی روایت کے احترام نے ان کی غزلوں کو با وقار بنا دیا ہے، عصری حقائق کو کلاسیکی لہجہ کے ساتھ پیش کرنا دشوار ہے تاہم شاہد کبیر اس پل صراط سے بآسانی گزر گئے۔ یوں تو غزل کا حسن اور اس کی جان اشعار کے اختصار میں ہے لیکن اشعار کے مزاج و بیان میں اعتدال و توازن اختصار سے بھی زیادہ لطیف جوہر ہے، شاہد کبیر کے اشعار میں جو جاذبیت ہے وہ تصور، توازن اور اعتدال ہے، یہ خصوصیت ان کے پورے کلام میں نمایاں ہے، کم گوئی، کم بیانی حسن کلام بن گیا ہے اور اشعار فصاحت و روانی کا منبع سادگی اور ہنر مندی ان کے اشعار میں جلوہ افروز ہے۔ یہ سادگی بلاغت کی جان ہے۔

ان کے دیوان میں رہ رہ کر ایسے اشعار ملتے ہیں جو دامن دل کھینچتے ہیں، ان کی غنائیت ذہن کو اسیر کر لیتی ہے اس طرح جیسے لیے کے اندر لیے پوشیدہ ہو، یہ صفت بھی شعر کی تہہ داری کو دلپذیر بنا دیتی ہے۔ عصری غزلیہ روایت میں شاہد کبیر کی آواز علیحدہ سے پہچانی جاتی ہے کسی فنکار کے لیے یہ انفرادیت بجائے خود اہم ہے۔ شاہد کبیر تازہ کاری، تہہ داری اور سلیقہ گفتار کے لیے غزل کی تاریخ میں محبت کے ساتھ یاد کیے جائیں گے۔

اقبال مسعود۔ بھوپال

 

 

 

 

اور گفتگو کی ضرورت…

 

ملے اس طرح سب سے شاہد کبیر

کوئی دوست جیسے پرانا ملے

 

یہ اور اسی طرح کے بے شمار اشعار کے مطالعہ سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ شاہد کبیر ، میرؔ ور داغؔ کی طرح سہل الفاظ میں شعر کہنے پر دسترس رکھتے تھے۔ ان کا پہلا مجموعۂ کلام 1979میں  ’’مٹی کا مکان‘‘ کے عنوان سے اور دوسرا مجموعہ 1999میں  ’’پہچان‘‘ کے عنوان سے تیسرا 2014 میں  ’’اس کی گلی‘‘ کے عنوان سے شائع ہو چکے ہیں۔ یہ سارے مجموعے دیوناگری میں بھی شائع ہو چکے ہیں۔

شاہد کبیر کی شاعری کو بہ آسانی دو حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے ایک وہ حصہ جس میں ان کی ان غزلوں، نظموں اور گیتوں کو رکھا جا سکتا ہے جو انھوں نے گلو کاروں کے لیے کہی تھیں اور دوسرے حصے میں ان کا وہ کلام شامل ہے جو ان کی ادبی حیثیت کو مستحکم کرتا ہے۔

میں سمجھتا ہوں کہ شاہد کبیر کے مجموعی کلام پر کام کرنے کی اشد ضرورت ہے تاکہ ان کے کلام کے وہ تیور سامنے آ سکیں جو ابھی تک نظروں سے اوجھل ہیں۔ میرے کہنے کا یہ قطعاً مطلب نہیں کہ شاہد کبیر کے کلام پر گفتگو نہیں ہوئی ہاں یہ ضرور کہنا چاہوں گا کہ اس طرح کے خوبصورت اشعار کہنے والے شاعر کا حق ابھی پوری طرح سے ادا نہیں ہو سکا کہ:

بہت دنوں سے ہے اک عکس میری آنکھوں میں

مگر میں اس کو کوئی شکل دے نہیں سکتا

اس سے ساحل پہ تڑپنا مرا دیکھا نہ گیا

موج اک کر گئی طوفاں کے حوالے مجھ کو

ابو صارم صارمؔ۔ نئی دہلی

 

شاہد کبیر اور جدید لب و لہجہ

 

شاہد کبیر کا نام آتے ہی ان کا کھنک وار لہجہ کانوں میں گونجنے لگتا ہے۔ مشاعروں میں ان کی آواز اور لہجہ ہمیشہ ہی دوسروں سے منفرد محسوس ہوتے تھے۔ علاقۂ ودربھ میں جدید شاعری کے آغاز و ارتقا میں جن شاعروں نے نمایاں خدمات انجام دیں بلا شبہ شاہد کبیر ان میں ایک اہم ستون ہیں۔ شاہد کبیر کے علاوہ کچھ اور اہم شاعر بھی گذر چکے ہیں مثلاً سید یونسؔ، شریف احمد شریفؔ وغیرہ۔ اب عبد الرحیم نشترؔ، ظفر کلیم، مدحت الاختر، وغیرہ ہی اس نسل کی نمائندگی کر رہے ہیں۔ اللہ ان کا سایہ طویل عرصے تک اردو ادب پر قائم رکھے اور ان تمام کی صحت کی بھی حفاظت فرمائے۔ آمین!

شاہد کبیر نہ صرف ودربھ میں جدید شاعری کے بانیوں میں شمار کئے جاتے ہیں بلکہ انھوں نے باقاعدہ اسے ایک تحریک کی شکل میں برپا رکھا۔ اپنے تمام بانیوں کے ساتھ مشاعروں میں خود بھی اکثر شریک رہتے اور اپنے کلام کی خوب داد وصول کرتے۔ سامعین نے بھی کبھی انھیں مایوس نہیں کیا تقریباً ہر شعر پر مکرر پڑھنے کی فرمائش تو عام بات تھی کبھی کبھی کسی پرانی غزل کی فرمائش بھی کی جاتی جسے وہ کبھی خوشی سے تو بھی بادل نخواستہ ضرور پوری کرتے۔ ناگپور و اطراف کے مشاعروں میں شرکت کے علاوہ دور دراز کے علاقوں میں اور پاکستان میں بھی انھیں بھر پور پذیرائی ملی۔ ابتدا میں انھیں جس مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا وہ وقت کے ساتھ ختم ہو گئی اور لوگ ان کے کلام پر خاطر خواہ توجہ دینے لگے۔ جب مدحت الاختر کے ساتھ مل کر جدید شاعری کا انتخاب  ’’چاروں اور‘‘ شائع کیا تو ادبی دنیا نے علاقۂ ودربھ کی مضبوط اور پائیدار آواز کو محسوس کیا۔ آج بھی اس علاقے کے شاعر اپنی پہچان قائم رکھے ہوئے ہیں۔ حمید انصاری، ضیا انصاری، ظہیر عالم، ریحان ناصر، ثمیر کبیر ، بابر شریف وغیرہ ان میں شامل ہیں۔

شاہد کبیر کا پہلا مجموعہ  ’’مٹی کا مکان‘‘ تھا۔ اس پر درج شعر نے سب کو توجہ مبذول کر لی۔ شعر یہ تھا:

اندر کا سکوت کہہ رہا ہے

مٹی کا مکان بہہ رہا ہے

چھوٹی بحر کی یہ غزل ناصر کاظمی کی یاد دلاتی ہے ان کی چھوٹی بحر میں کہی ہوئی غزلیں اکثر مشہور ہوئی ہیں جن میں:

اپنی دھن میں رہتا ہوں

 

میں بھی تیرے جیسا ہوں

بھی شامل ہیں۔ شاہد کبیر کی کچھ غزلوں کو مایہ ناز گلو کار لتا منگیشکر، جگجیت سنگھ، ہری ہرن، استاد رئیس خان، راحت فتح علی خان، چندن داس، منی بیگم، سلمان علوی، عزیز نازاں، صابری بردرس جیسے کئی گلو کاروں نے اپنی خوبصورت آواز میں گایا ہے۔ ان میں یہ غزل تو شاعر اور گلو کار دونوں کے لئے وجہِ شہرت رہی۔

ٹھکراؤ اب کہ پیار کرو میں نشے میں ہوں

جو چاہو میرے یار کرو میں نشے میں ہوں

اب بھی دلا رہا ہوں یقین وفا مگر

میرا نہ اعتبار کرو میں نشے میں ہوں

 

غم کا خزانہ تیرا بھی ہے میرا بھی

یہ نذرانہ تیرا بھی ہے میرا بھی

شاہد کبیر نے ابتدا میں ناول نگاری بھی کی۔ ان کا ناول  ’’کچی دیواریں‘‘ شائع بھی ہوا ہے۔ لیکن شاید انھیں خود بھی اندازہ تھا کہ نثر کے بجائے شاعری ان کے لئے اظہار خیال کا بہترین ذریعہ ہے۔ ان کی غزلیں ایک آہنگ میں محسوس ہوتی ہیں۔ بیشتر غزلیں ایسی ہیں جنھیں اگر کوئی گلو کار صدا بند کرنا چاہے تو بآسانی کر سکتا ہے۔ کلام میں روانی اور چاشنی ہے۔ اس کے ساتھ جو تیکھا پن ہے وہ ان کا مخصوص حصہ ہے۔ درج ذیل اشعار پڑھیے اور ان باتوں کو محسوس کیجیے۔

 

کسی امیر کو کوئی فقیر کیا دے گا

غزل کی صنف کو شاہد کبیر کیا دے گا

 

جتن ہزار کیے ہر لباس میں پھر بھی

وہ جسم ہے کہ برابر دکھائی دیتا ہے

 

یہی نہیں ہے کہ سب سے جدا سا لگتا ہے

وہ جب بھی ملتا ہے بالکل نیا سا لگتا ہے

فضا بدلنے کی رفتار کا یہ عالم ہے

ذرا جو دیر ہوئی گھر نیا سا لگتا ہے

 

ہر اِک ہنسی میں چھپی خوف کی اداسی ہے

سمندروں کے تلے بھی زمین پیاسی ہے

 

کبھی کبھی تو کئی شرط رکھ کے ملتا ہے

کہیں کہیں سے ترا پیار بھی سیاہی ہے

 

ایسی کتنی ہی مثالیں شاہد کے کلام میں مل جائیں گی جوان کے اسلوب کو واضح کرتی ہیں۔ شاہد نے جدید شاعری سے مراد یہ کبھی نہیں لیا کہ جدیدیت میں رومانی شاعری منع ہے بلکہ انھوں نے رومانیت کو نئے لہجے میں پیش کیا ہے:

تم سے ملتے ہی بچھڑنے کے وسیلے ہو گئے

دل ملے تو جان کے دشمن قبیلے ہو گئے

آج ہم بچھڑے ہیں تو کتنے رنگیلے ہو گئے

میری آنکھیں سرخ تیرے ہاتھ پیلے ہو گئے

ان کو بلوانے کی صورت یہ نکالی جائے

گھر میں اک چھوٹی سی تقریب منا لی جائے

شاہد کبیر ہند و پاک کے معتبر رسائل و جرائد میں شائع ہوتے رہے ہیں ان پر مضامین بھی لکھے گئے۔ ہندو پاک میں ان کے انٹرویو بھی شائع ہوئے جس میں انھوں نے کھل کر اپنی شاعری کے متعلق خیالات کا اظہار کیا۔ ڈاکٹر ایم۔ آئی۔ ساجد نے اپنے مقالے میں انھیں خاطر خواہ جگہ دی اور انھیں اس علاقے کا ایک اہم ستون قرار دیا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ علاقہ ودربھ میں نئی نسل کے شعرا شاہد کبیر کے کلام سے متاثر نظر آتے ہیں اور ان کے نقش قدم پر چلنے کی کوشش کرتے ہیں۔ انھوں نے استاد شاگرد کی روایت سے ہٹ کر اپنا مقام بنایا نہ وہ خود کسی کے شاگرد تھے نہ کسی کو اپنا شاگرد بنایا۔ لیکن نئی نسل کی ذہنی آبیاری ضرور کی۔ عام طور سے شاعری میں جو التزام ہونا چاہیے مثلاً بحر، وزن، خیالات، ردیف، قافیہ وغیرہ۔ ان سب معاملات میں شاہد کبیر پر گرفت ممکن ہی نہیں۔ وہ ان تمام باتوں سے بحسن و خوبی واقفیت رکھتے تھے۔ اس کے علاوہ جو اہم باتیں ہیں وہ یہ کہ ان کا کلام نئے خیالات سے آراستہ ہے۔ کچھ تو ایسے ہیں جن کے بارے میں کہہ سکتے ہیں کہ خیال ہی نیا ہے کچھ اشعار دیکھئے۔

وہ ہنس رہا تھا دور کھڑا اور چند لوگ

لے جا رہے تھے اس کو کفن میں لپیٹ کے

میں جنبشِ انگشت میں محفوظ رہوں گا

ہر چند مجھے ریت پہ تو لکھ کے مٹا دے

خوف سورج کی تمازت کا نہ سائے کا ملال

کانچ کا گھر ہے مرا دھوپ نہ چھاؤں والا

زمیں پہ چل نہ سکا آسمان سے بھی گیا

کٹا کے پر کو پرندہ اڑان سے بھی گیا

تباہ کر گئی پکے مکان کی خواہش

میں اپنے گاؤں کے کچے مکان سے بھی گیا

میں وہ بھولا ہوا چہرہ ہوں کہ آئینہ بھی

مجھ سے میری کوئی پہچان پرانی مانگے

جنسیات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بھی شاہد نے بہت کچھ کہا ہے۔ بالکل کھلے طور پر نہیں بلکہ لحاظ رکھتے ہوئے کچھ ایسے اشعار ان کے کلام میں ملتے ہیں۔

اس سانولے سے جسم کو دیکھا ہی تھا ابھی

گھلنے لگے زباں پہ مزے چاکلیٹ کے

رات بھر شاہد کوئی پہلو میں تھا

آپ نے کروٹ ہی کوئی لی نہیں

بج گئے رات کے دو اب تو وہ آنے سے رہے

آج اپنا ہی بدن اوڑھ کے سویا جائے

بہر حال اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ شاہد کبیر اس علاقے کے نمائندہ اور اہم شاعر ہیں۔ انھیں ہر انتخاب میں جگہ حاصل ہے۔ ملک میں جب بھی کوئی وسط ہند کی ادبی تاریخ مرتب کرے گا تو شاہد کبیر کو ایک اہم نام کے طور پر شمار کیا جائے گا۔

محمد اسرار

اسسٹنٹ پروفیسرشعبۂ اردو،

ایس۔ کے۔ پوروال کالج، کامٹی

 

 

 

 

شخصیت

 

مقام، تاریخ پیدائش:

تعلیمی ریکارڈ اورسرکاری کاغذات کی بنیاد پر شاہد کبیر کی تاریخ پیدائش ۱؍ مئی ۱۹۳۲ء ناگپور ہے۔ ناگپور کا یہ قد آور شاعر ودربھ میں جدید شاعری کا بانی ہے جس کا خاندان پار چہ باف برادری سے تھا۔ ان کا خاندان ۱۸۵۷ء کے انقلاب کے بعد مشرقی یوپی سے ناگپور آیا اور یہیں مومن پورہ میں آباد ہو گیا۔

شاہد کبیر کے جد اعلی محمد اسحق کو ڈرامہ اور موسیقی کا بڑا شوق تھا۔ ان کے جد امجد اسمعیٰل (عرف جہانگیر) بھی ان دونوں چیزوں کے بڑے شوقین تھے۔ انہیں شاعری سے بھی لگاؤ تھا اور شمیم ان کا تخلص تھا۔ انہوں نے ناگپور میں رحلت فرمائی، ان کے چار بیٹے تھے۔ محمد اسرائیل، محمد صابر، محمد صغیر اور محمد نذیر ان میں محمد اسرائیل شاہد کبیر کے والد تھے۔

شاہد کبیر کے والد صوم و صلوٰۃ کے بے انتہا پابند تھے۔ وہ بہت ہی سیدھے سادے اور شریف انسان تھے۔ علم کی قدر و منزلت سے واقف تھے۔ ان کی پوری زندگی موٹر ٹرانسپورٹ سروس میں گذری۔ یہی ملازمت ان کا ذریعہ معاش رہی۔ بروز اتوار ۲ ؍ نومبر ۱۹۸۰ء کو رحلت فرمائی۔ چار دن بعد (بروز جمعرات ۶؍ نومبر ۱۹۸۰ء) کو ان کی اہلیہ کا اچانک انتقال ہو گیا۔ ایک کے بعد ایک یہ دو حادثے ان کے خاندان کے لئے انتہائی اندوہناک تھے۔

شاہد کبیر کے دو بھائی اور پانچ بہنیں تھیں، شاہد کبیر کے ایک بھائی عبدالقدیر انصاری اردو سے ایم اے ہیں اور وہ لائف انشورنس کارپوریشن میں ملازم تھے اب سبکدوش ہو چکے ہیں، اردو شعر و ادب کا اچھا ذوق رکھتے ہیں۔

(حوالہ: ۔ ڈھہ گیا مٹی کا مکان، از۔ م۔ ناگ انقلاب ۷ جون ۲۰۰۱ء)

 

ابتدائی تعلیم و تربیت:

شاہد کبیر کی ابتدائی تعلیم مومن پورہ اردو پرائمری اسکول میں ہوئی ثانوی تعلیم انجمن ہائی اسکول ناگپورسے ہوئی۔ ۱۹۵۰میں بارہویں کا امتحان پاس کیا اس کے بعد انہیں فوراً ملازمت کی فکر ہوئی۔ کچھ سال پرائیوٹ اداروں میں کام کرتے رہے۔ پھر دہلی میں فوڈ اینڈ مارکیٹنگ کے محکمے میں ۱۹۵۶میں انہیں سرکاری ملازمت مل گئی۔ تین سال دہلی میں قیام رہا پھر ان کا تبادلہ ناگپور ہو گیا، یہاں سے ۱۹۹۰میں رٹائر ہوئے۔ دہلی کے قیام کے دوران ان کے مراسم نریش کمار شاد، سلام مچھلی شہری، مخمور سعیدی، زبیر رضوی، عوض سعید وغیرہ سے ہوئے۔

شاہدؔ کبیر کی ابتدائی تعلیم ان کے اپنے وطن ناگپور میں ہی انجمن ہائی اسکول سے ہوئی جہاں سے انہوں نے ۱۹۵۰میں بارہویں کا امتحان دیا۔ اپنی اسکول کے زمانے کے بارے میں وہ یوں لکھتے ہیں۔

’’شاعری سے مجھے کوئی خاص لگاؤ نہیں تھا البتہ نثرنگاری کی طرف ضرور جھکاؤ تھا، بارہ، تیرہ سال کی عمر تک میں نے اتنی ہی شاعری پڑھی تھی جوکورس کی کتاب میں شامل تھی، اور صرف اتنا جانتا تھا کہ غزل میں دو مصرع مل کر ایک شعر بنتا ہے جو اپنے آپ میں مکمل ہوتا ہے اور دو سے زیادہ مصرعوں میں ہونے والی بات نظم کہلاتی ہے۔‘‘

چھٹی یا ساتویں جماعت میں غالب کی ایک غزل پڑھنے میں آئی اور مجھ پر اچانک انکشاف ہوا کہ شاعری بڑی عظیم چیز ہے میں نے دو، ڈھائی روپئے جمع کئے (جوان دنوں بڑی رقم ہوا کرتی تھی) اور دیوان غالب خرید لایا۔ (جو آج تک میرے پاس محفوظ ہے) اس کتاب کو میں نے اتنی طبیعت سے پڑھا کہ کہ تین چوتھائی حفظ ہو گیا ان دنوں حافظے کا یہ عالم تھا کہ جو شعر پسند آ جاتا ذہن میں محفوظ ہو جاتا۔ نصف دیوان غالب تو آج بھی یاد ہو گا۔

اسی دوران نصاب میں ہی میرؔ کی غزل پڑھنے میں آئی۔

نازکی اس کے لب کی کیا کہئے

پنکھڑی ایک گلاب کی سی ہے

یہ غزل سمند شوق پر تازیانہ ثابت ہوئی، میں لائبریری سے میرؔ کا دیوان لایا اور اسے چاٹ گیا۔

۱۹۴۷ء کی افرا تفری کا عالم تھا کلاسس برابر نہیں لگتی تھی، فرصت ہی فرصت تھی اب میں نثر کے علاوہ شاعری کی طرف مائل ہونے لگا اور مولانا آزاد، نیاز فتح پوری، خلیل جبران، مجنوں گورکھپوری، پریم چند، شرد چندر، بنکم چندر، ستیہ دیوی چٹرجی، ٹیگور، کرشن چندر، منٹو، عصمت چغتائی، احمد ندیم قاسمی کے علاوہ داغ، جگر، احسان دانش، اور فراق وغیرہ کو پڑھنے لگا۔ اس سے شاعری کا چسکا تو نہیں لگا مگر شاعروں میں اٹھنے بیٹھنے لگا۔ جو یقیناً عمر میں مجھ سے زیادہ ہوا کرتے تھے۔ ادب سے ان کا کلام سنتا اور بڑے احترام کے ساتھ رائے زنی بھی کرتا۔ پھر رفتہ رفتہ انہیں مشورے دینے کی بھی ہمت ہونے لگی۔

آٹھویں جماعت میں ٹیچر نے کلاس میں ہی تاج محل پر ایک مضمون لکھنے کے لئے کہا میں نے فوراً مضمون لکھا اور دِکھا بھی دیا۔ ٹیچر نے سمجھا کہ میں نے کسی کتاب سے نقل کیا ہے میرے بستے کی تلاشی لینے کے بعد بھی وہ مجھے مشکوک نظروں سے دیکھ رہے تھے، ان دنوں گیارہویں جماعت میں انگریزی کے چار پرچے ہوا کرتے تھے۔ چوتھا پرچہ مادری زبان میں مضمون کا ہوتا تھا مجھے اس پرچے میں ۲۵ میں سے ۲۴نمبر ملے۔ اس کے بعد میں نے باقاعدہ کہانیاں لکھنی شروع کر دی جو ماہ نامہ  ’’شاعر‘‘ میں چھپتی بھی تھی۔

(حوالہ: ۔  ’’پہچان‘‘ دیوناگری مرتب ثمیر کبیر ۲۰۰۲ء)

 

شادی:

شاہد کبیر کی شادی کامٹی میں اردو شاعری کے روح رواں منشی محمدسعیدکامٹی کی پوتی اخترالنساء بنت خورشید حق کے ہمراہ ہوئی۔ ۱۹۶۱محرم میں ہوئی۔ ( شادی کی تاریخ کا صحیح علم نہیں ہو پایا) ان کے چار بیٹے، خالد کبیر ساجد کبیر ، فراز کبیر اور ثمیر کبیر اور چار بیٹیاں سیما، ناہید، الماس اور شیرازہ ہیں۔ یہ تمام اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں اور اپنی اپنی فیلڈ میں نمایاں مقام رکھتے ہیں۔ ساجد کبیر Civil Engineer ہیں۔ فراز کبیر Plant Breederہیں ثمیر کبیر اسسٹنٹ پروفیسر ہیں اور نئی نسل میں تیزی سے ابھرنے والے شاعر۔ خالد کبیر N.M.C میں ہیں جبکہ بیٹی سیما کبیر ٹیچر ہیں الماس کبیر ڈاکٹر ہیں اور ساتھ ہی ساتھ شاعری کا شوق بھی رکھتی ہے اور ادبی رسالوں میں چھپتی رہتی ہے جب کہ شیرازہ کبیر اسکول ٹیچر ہے۔

شاہد کبیر کی شاعری کی ابتداء ۱۹۵۲کے آس پاس ہوئی، اس میں ان کا اپنا وجدان ہی ان کا رہبر رہا ہے اور ان کا اپنا مطالعہ، انہوں نے ترقی پسنداندازفکرکی رومانی شاعری سے اپنی شعر گوئی کا آغاز کیا۔ (حوالہ۔ ۱: کمار بھارتی ۱۲ ویں جماعت، ناگپور میں اردو کا ارتقائی سفر، ڈاکٹر ساحل،  ’’پہچان‘‘ (دیوناگری) ثمیر کبیر ۲۰۰۳ء)

شاہدؔ کبیر شاعری شروع سے کرتے رہے تھے لیکن دہلی میں عوض سعید (افسانہ نگار) کے قریب آئے تو افسانے اور ناول لکھنا شروع کیا شاہد کبیر کا پہلا ناول  ’’کچی دیواریں‘‘ اگست (۱۹۵۸) میں منظر عام پر آیا جو کوہ نور پرنٹنگ پریس دہلی سے چھپا تھا، اوراس ناول پر انہیں کافی اچھی رائیلٹی ملی تھی، بعد میں یہ ناول مرٹھواڑہ یونیورسٹی کے انڈر گریجویٹ نصاب میں بھی شامل ہوا۔ اس ناول پر شرد چندر کی چھاپ تھی۔

دوسرا ناول۔  ’’فاصلے‘‘ لکھنؤ میں نسیم بکڈپو میں زیر طبع تھا مگر جب تک شاہد نے نثر نگاری سے ہٹ کر پوری طرح غزل کی شاعری کی طرف اپنا رخ کر لیا تھا اسلئے وہ ناول انہوں نے واپس بلوا لیا۔ بعد میں اس ناول کا مسودہ اورنگ آباد کے ایک طالب علم پڑھنے کے لئے لے گئے مگراس کے بعد نہ وہ آئے نہ ناول کا مسودہ۔ ایک جگہ شاہد کبیر لکھتے ہیں کہ جب میں دہلی میں تھا نقوش کا افسانہ نمبر آنے والا تھا۔ میں نے اور عوض سعید نے اپنی کہانی بھیجی اس کے بعد میرا تبادلہ ناگپور ہو گیا۔ ۱۹۷۸میں ڈاکٹر مدحت الاختر کے ساتھ  ’’چاروں اور‘‘ مرتب کی، ایک کاپی عوض سعید کو بذریعہ ڈاک روانہ کی چند دنوں بعد ان کا جواب یوں آیا۔

’’مجموعہ  ’’چاروں اور‘‘ مل گیا ویسے رسائل میں تمہیں پڑھتا رہتا ہوں مگر  ’’چاروں اور‘‘ میں آپ کی کہی غزلیں پڑھی۔ یار تم تو بدن چور شاعر نکلے۔  ’’نقوش‘‘ کے افسانہ نمبر میں تمہاری کہانی چھپ گئی تھی میری نہیں چھپی تھی‘‘۔

شاہد کبیر لکھتے ہیں اگر عوض سعید دس سال پہلے مجھے یہ خط لکھتے تو شاید میں اب تک دھیرے دھیرے رک رک کر کہانیاں ہی لکھتے رہتا ویسے شاعری بھی بہت کم کرتا ہوں سبھی ایڈیٹروں کو شکایت رہتی ہے۔ کہ میں اپنے کلام دیر دیر سے بھیجتا ہوں حالانکہ ہر غزل ایک سے زیادہ بار چھپ چکی ہے۔

ملازمت۔ قیام دہلی ۱۹۵۳ء تا ۱۹۵۷ء:

۱۹۵۳ء میں شاہد کبیر کو ایک سرکاری نوکریAGMARK, کے

Department of Food & Marketing میں لگ گئی۔ اپنی کتاب پہچان (دیوناگری مرتب ثمیر کبیر ) میں وہ لکھتے ہیں۔

’’میں نے شاعری کے لئے اپنا ذہن بنایا اور صرف غزل کی طرف دھیان دیا۔ ۱۹۵۳ء میں ملازمت کے سلسلے میں دہلی جانا پڑا، یہاں حیدرآباد کے مشہور افسانہ نگار عوض سعید سے ملاقات ہوئی جو دہلی میں کچھ دن میرے روم Partner بھی رہے۔ یہیں سے میں نے اپنی پہلی مکمل غزل جو غالب سے ملتی جلتی زمین سے تھی، احسان دانش کے پرچے (چودھویں صدی) کے لئے بھجوائی یہ پرچہ بڑے سائز میں چھپتا تھا۔ میری وہ غزل سرورق کے پیچھے پورے صفحہ پر شائع ہوئی اور دانش صاحب نے شکریہ کا ایک طویل خط بھی لکھا۔ میں نے نظموں کا خیال دل سے نکال دیا اور پوری طرح غزل کی طرف رجوع ہو گیا۔ اور  ’’شاعر‘‘ میں کہانی کے بجائے غزلیں بھجوانے لگا۔ عوض سعید صاحب کی کہانیاں  ’’شاعر‘‘ میں مسلسل چھپتی تھیں، میں نے ایک دن کہا کہ تمہاری کہانیوں میں بڑا کچاپن ہوتا ہے۔ ذرا پختگی لاؤ، وہ بولے  ’’نقوش‘‘ کا کہانی نمبر نکل رہا ہے میں کہانی بھجوا رہا ہوں تم بھی بھجواؤ، میں نے ایک کہانی لکھ کر ان کے حوالے کر دی، شاید وہ میری آخری کہانی تھی۔

عوض سعید کے جامعہ ملیہ جانے کے بعد میں دہلی میں اکیلا رہ گیا، اسی دوران دفتر میں بھگیرت نامی ایک شخص سے ملاقات ہوئی، یہ صاحب پنجابی تھے۔ فارغ تخلص تھا۔ شاعری جیسی بھی ہو مگر ذوق بہت اچھا تھا۔ مجھ سے پہلی ملاقات میں دریافت کیا کہ پسندیدہ شعرا کون ہیں، میں نے میر اور غالب کا نام بتایا تو نئے شاعروں میں دریافت کیا میں نے فیض کا نام بتایا اور ایک شعر بھی سنایا۔

وہ بات سارے فسانے میں جس کا ذکر نہ تھا

وہ بات ان کو بہت ناگوار گذری ہے

فارغ بہت متاثر ہوئے اور میرے ذوق کی داد بھی دی۔ اگرچہ حقیقت یہ تھی کہ مجھے فیض کا وہی ایک شعر یاد تھا، جو میں نے کسی مضمون میں پڑھا تھا، اور بے حد پسند آیا تھا، اس لئے ذہن میں بس گیا تھا۔ فارغ کے پاس سرکاری کوارٹر تھا انہوں نے مجھے بھی اپنے کوارٹر میں شفٹ کروا لیا جو دہلی جیسے شہر میں نعمت سے کم نہیں تھا۔ یہی گورنمنٹ کالونی میں ایک مشاعرہ پڑھنے کا اتفاق بھی ہوا اس مشاعرے میں انور صابری، پنڈت ہری چند اختر، کنور مہندر سنگھ بیدی سحر اور بسمل جیسے شعرا شریک تھے۔ اسی مشاعرے میں میری دوستی سلام مچھلی شہری اور نریش کمار شاد سے ہوئی، مگراس میں ایک پریشانی بھی بڑھ گئی، یہ دونوں کی آپس میں باتیں نہیں بنتی تھی۔ سلام تو کالونی میں ہی رہتے تھے لیکن شاد مجھ سے شاہدرا سے ملنے آتے تھے۔

فارغ کے یہاں مجھے فیض، عدم، اور متعدد نئے لب و لہجہ کے شاعروں کو پڑھنے کا موقع ملا، ۱۹۵۷ء میں میرا تبادلہ ناگپور ہو گیا اس وقت تک میرا ایک ناول  ’’کچی دیواریں‘‘ چھپ کر آ چکا تھا، دوسرا ناول  ’’فاصلے‘‘ لکھنؤ میں نسیم بکڈپو میں زیر طبع تھا، مگر اب میں پوری طرح شاعری کی طرف متوجہ ہو گیا تھا اس لئے میں نے اپنا کتابت شدہ مسودہ واپس بلوا لیا۔

دہلی میں قیام کے دوران میں نے راشٹر پتی بھون کے لئے ایک ڈرامہ  ’’غالب‘‘ لکھا تھا جو فائن آرٹ ڈرامہ فیسٹول میں راشٹر پتی بھون کلب کی جانب سے پیش کیا گیا تھا، راشٹر پتی بھون میں ایک مشاعرہ کے لئے بھی دعوت نامہ تھا لیکن جس دن یہ مشاعرہ تھا اس کے دو دن پہلے ناگپور کے لئے ٹرانسفر نامہ مل گیا تھا۔ اور گھر آنے کی ایسی بے چینی تھی کہ مزید دو دن بھی نہیں رک سکا۔ بعد میں دہلی سے ایک دوست نے خط لکھا کہ راشٹر پتی بھون کے مشاعرے میں بار بار تمہارے نام کا اعلان کیا جا رہا تھا۔

(حوالہ: ۔ پہچان، دیوناگری مرتب ثمیر کبیر ۲۰۰۲ء)

 

قیام ناگپور: ۱۹۵۷ء سے ۲۰۰۱ء تک:

شاہد کبیر غزل کے ممتاز شاعر ہونے کے ساتھ ساتھ ایک منتظم کا کام بھی بخوبی انجام دے سکتے تھے اس کی مثال ناگپور میں  ’’اردو کے ادیبوں کا کل ہند کنونشن‘‘ ہے جو کہ عالی جناب فیض انصاری، ایڈیٹر۔ ماہنامہ  ’’خیال‘‘ کامٹی، شاہد کبیر اور ناظم انصاری کی محنت اور کوشش کا نتیجہ تھا یہ کنونشن ۲۲؍ اپریل ۱۹۶۱ء سے ۲۵؍ اپریل ۱۹۶۱ء تک ہوا جس میں ہندوستان اور پاکستان کے مشہور ادیبوں اور شاعروں نے حصہ لیا جو کہ ناگپور میں انجمن ہائی اسکول صدر کے گراؤنڈ اور مسلم جمخانہ کہ بلڈنگ اور گراؤنڈ میں عمل میں آیا۔ اس میں شامل ہونے والے ادیبوں کے نام درج ذیل ہیں۔

ہادی نقش ہندی (برار)، پروفیسر محمد طیب (ناگپور)، کرشن چندر (بمبئی)، ڈاکٹر محمد حسن (علی گڑھ)، حامد الہ آبادی (علی گڑھ)، شاہد کبیر (ناگپور)، ابراہیم ہوش (کلکتہ)، عبد الستار فاروقی (ناگپور)، کلام حیدری (پٹنہ)، خواجہ احمد عباس (بمبئی)، ادریس سہناروی  (گیا)، غلام عباس (پاکستان)، حمید صادق (ناگپور)، ارشد صدیقی (بھوپال)، فیض انصاری (ناگپور)۔

ماہنامہ خیال۔ جون، جولائی ۱۹۶۰کے مطابق جس میں اس کنونشن کے رپورتاژ۔ عالی جناب ہمایوں اقبال کے قلم سے نقل کئے گئے ہیں۔ ۲۲؍ اپریل ڈیڑھ بجے شب، سونے گاؤں ایرو ڈرم پر (ہمایوں اقبال) حمید صادق، بلونت سنگھ گارچہ اور ناظم انصاری مع چند رضا کاروں کے دہلی سے آنے والے جہاز کا انتظار کر رہے ہیں جس سے  ’’پاکستان رائیٹرس گلڈ کے مبصر جناب غلام عباس صاحب تشریف لانے والے ہیں غلام عباس صاحب کا شمار ہندوستان اور پاکستان کے صف اول کے افسانہ نگاروں میں ہوتا ہے۔ یہ مشہور ناول آنندی کے مصنف ہیں اور رسالہ  ’’ساقی‘‘ کے ایڈیٹر رہ چکے ہیں۔

اب ہم غلام عباس کو لے کر وائے ایم سی اے (Y.M.C.A.) ہوسٹل جا رہے ہیں جہاں ہمارے مہمانوں کے طعام و قیام کا انتظام کیا گیا ہے۔ اس وقت رات کے تین بج رہے ہیں ہمارے مہمان کے چہرے سے تھکاوٹ کے آثار نمایاں ہیں ہوسٹل پہنچتے ہی ہم اپنے مہمان کو چھوڑ کر واپس ہو رہے ہیں، شاہد کبیر رکن مجلس انتظامیہ مہمانوں کی خاطر و مدارات کے لئے مامور ہیں۔

۲۴؍ اپریل۱۹۶۱ء کے ۱۲بجے شب کنونشن کے پنڈال میں داخل ہوتے ہی دو جگمگاتا ہوا خوبصورت اسٹیج نظر آتا ہے، جس پر شعرا کرام تشریف فرما ہیں، مشاعرہ شروع ہوا چاہتا ہے، مشاعرہ کی کاروائی شروع ہوتی ہے، جس کا سامعین بے چینی سے انتظار کر رہے ہیں جناب وقار صدیقی کی غزل ہو گئی ہے، اور جناب صدر شاہد کبیر سے درخواست کر رہے ہیں، شاہد کبیر ناگپور کے نوجوان شاعر ہیں اور نہایت کامیاب غزلیں و نظمیں کہتے ہیں وہ اپنی نظم  ’’تین تصویریں‘‘ سنا رہے ہیں جس میں عورت کی زندگی کے تین رخ پیش کئے گئے ہیں، کنوار پن، سہاگن، اور بیوگی، نظم نہایت متاثر کن ہے اور انہیں خوب داد مل رہی ہے۔

تین تصویریں (شاہدؔ کبیر )

دوشیزہ:

رات کے ماتھے پہ جب سجتا ہے جھومر چاند کا

جانے کیا کچھ سوچ کر بیکل ہو جاتی ہوں میں

مسکراتے ہیں ستارے کر کے کچھ سرگوشیاں

اور دل ہی دل میں خود اپنے سے شرماتی ہوں میں

شب کی رگ رگ سے پھٹا پڑتا ہے فطرت کا شباب

پھر بھی ہر شے میں کسی شے کی کمی پاتی ہوں میں

سہاگن:

شرم سے بوجھل ستاروں کے پپوٹے دیکھ کر

یاد آتی ہیں کسی کی پہلی پہلی ایک بات

رقص کرتی گنگناتی چاند کی پرچھائیاں

ہولے ہولے چھیڑنے لگتی ہیں نغماتِ حیات

رولتی جاتی ہے شبنم عارض گل پر گہر

قطرہ قطرہ، لمحہ لمحہ، بھیگتی جاتی ہے رات

بیوہ:

کہکشاں کی ریکھ جب بھرتی ہے زلفِ شب کی مانگ

کانپتی پلکوں پہ جل اٹھتے ہیں یادوں کے چراغ

چاند کی ٹھنڈی کرن دل میں لگادیتی ہے آگ

جب نہیں ملتاکسی دھڑکن سے بھی تیرا سراغ

تیرے دم سے زندگی تھی چاند کی سیمیں جبیں

تو نہیں تو زندگی ہے چاند کے چہرے کا داغ

(حوالہ: ماہنامہ ’خیال‘ کامٹی، کنونشن نمبر، جون و جولائی ۱۹۶۵ء)

شاہد کبیر انجمن ترقی اردو مہاراشٹر کے خاص کارکن تھے، ۵؍ جولائی ۶۱ء کو سکریٹری انجمن ترقی اردو ودربھ کی درخواست پر محبان اردو کا ایک جلسہ مدرسہ اسلامیہ مومن پورہ میں منعقد ہوا تھا، شدید بارش کے باوجود حاضرین کی تعداد خاصی تھی اس جلسے میں ایڈہاک کمیٹی بنائی گئی، اس سے چند دن قبل مقامی انجمن نے اپنے خاتمہ کا اعلان کر دیا تھا،۔ اس انجمن کے صدر شاکر اورنگ آبادی صاحب تھے۔ سابقہ شاخ کوئی نمایاں کام نہ کر سکی تھی اور تقریباً چھ سال خاموش تھی، سکریٹری ودربھ انجمن نے اسے اپنی تجدید کرنے کے لئے کہا تھا، اس کے جواب میں انجمن نے اپنے خاتمہ کا اعلان کر دیا۔

۳؍ اگست کو جدید انجمن ترقی اردو شاخ ناگپور کی تشکیل عمل میں لائی گئی اس انجمن کی ایڈہاک کمیٹی نے کل پندرہ دن میں چھ سو کے قریب عام ممبر بنائے، فیس ممبری چار آنے تھی۔ کچھ لوگ انجمن کا الیکشن پارٹی پالیٹکس پر لڑنا چاہتے تھے لیکن فیض انصاری صاحب کی بر وقت مداخلت اور صلح صفائی سے بات آگے نہیں بڑھی اور انتخاب بالاتفاق رائے ہو گیا۔ اس کے عہدے دارحسب ذیل ہیں۔

حمید ناگپوری۔۔۔ صدر

فرید تنویر۔۔۔ نائب صدر

شاہد کبیر ۔۔۔ سکریٹری

شریف احمد شریف اور محمد جلیل۔۔۔ نائب سکریٹریز

ناظم انصاری۔۔۔ خازن

اراکین پانچ۔ دو مزید رکن لینے کا اختیار

اس انجمن نے دو نشستیں کیں ایک بابائے اردو مولوی عبدالحق صاحب کی تعزیت میں جس کی ڈاکٹر نعیم الدین صاحب صدر شعبہ فارسی، ناگپور مہاودیالیہ ناگپور نے صدارت فرمائی، دوسری جناب کیلاش ماہر صاحب اسٹنٹ ڈائریکٹر اسمال انڈسٹریزحکومت ہند برائے مہاراشٹر بمبئی کے اعزاز میں۔ (حوالہ: ماہنامہ خیال، کامٹی اگست، ستمبر۱۹۶۱ء)

’’جب میرے کان شاعرانہ صداؤں سے مانوس ہوئے ہیں شاہد کبیر مدحت الاختر اور عبد الرحیم نشتر ودربھ کے ایک مخصوص علاقے کے رہنے والے ان تین شاعروں کو بیک وقت ہندوستان کے شاعروں کے قافلے کی اولین صفوں میں پایا ہوں‘‘۔ محبوب راہی

۱۹۴۷کے بعد ودربھ میں جدید آوازوں کو جن شعرا نے سب سے پہلے قبول کیا ان میں شاہد کبیر کا نام سرفہرست آتا ہے۔ علاقہ ودربھ میں پہلی صحت مند جدید آواز شاہد کبیر کی ہی ہے۔ (حوالہ: ص۳۲۳، ودربھ میں اردو شاعری۔ ڈاکٹر ایم آئی ساجد کھام گاؤں ۱۹۸۷)

شاہد کبیر اپنی کتاب پہچان (دیوناگری) میں لکھتے ہیں:

’’ہمارے آفس کی بلڈنگ میں ایک بلاسپوری صاحب ہوا کرتے تھے، جو بڑے زور و شور سے شاعری کیا کرتے تھے، بیاض ہمیشہ ہاتھ میں رہا کرتی تھی، جیسے ہی کوئی شعر ہوتا اچھلتے کودتے آتے اور چائے وغیرہ کے ساتھ نیا کلام سناتے۔ لیکن ایک دن منہ لٹکائے ہوئے آئے میں وجہ پوچھی تو بولے  ’’نگار‘‘ میں کلام بھجوایا تھا جواب آیا ہے، یہ کہہ کر ایک خط پکڑا دیا، یہ ان کا اپنا ہی خط تھاجس کے نیچے ایک جملہ لکھ کر بھجوایا گیا تھا۔

آپ شاعری کیوں کرتے ہیں؟

نیاز فتح پوری

گھر آ کر میں نے کچھ اشعار اور ڈیڑھ دو غزلیں جمع کی اور  ’’نگار‘‘ کو بھجوا دی، حال ہی میں شاعری شروع کی ہے، کچھ کلام بھجوا رہا ہوں برائے کرم لکھئے یہ سلسلہ جاری رکھوں یا ختم کر دوں۔ مجھے بھی میرا ہی خط ایک جملے کے اضافے کے ساتھ واپس ملا۔

شاعری کا سلسلہ جاری رکھئے، انتخاب  ’’نگار‘‘ میں شائع کیا جا رہا ہے۔

نیاز فتح پوری

میں نے یہ خط بلاسپوری صاحب کو نہیں بتایا۔

 

راج نرائن رازؔ کے خطوط شاہد کبیر کے نام:

برادرم، آداب

بہت دنوں سے آپ نے  ’’آج کل‘‘ پر توجہ نہیں فرمائی۔ تازہ کلام عنایت فرمائیں۔ ممنون و مشکور رہوں گا۔ اُمید کہ مزاج گرامی بخیر ہوں گے۔

26/5/1984 مخلص۔ راج نارائن رازؔ

 

برادرم آداب،

کرم نامہ ملا۔ سراپا سپاس اطلاعاً عرض ہے کہ آپ کی ایک غزل  ’’سمجھے ہوئے لوگوں کو‘‘ ستمبر کے شمارہ شامل کر رہا ہوں۔ امید ہے آپ خیریت سے ہوں گے۔

07/8/1984مخلص۔ راج نارائن رازؔ

 

 اسپورٹس میں دلچسپی:

بہت کم لوگ اس بات کو جانتے ہے کہ ودربھ میں جدید اردو شاعری کا بانی شاہد کبیر Sports سے بھی گہری دلچسپی رکھتا تھا۔ وہ کرکٹ بہت شوق سے دیکھتے تھے۔ اور یہاں تک کہ مجھے یاد ہے کہ ایک بار وہ مجھے ینگ مسلم فٹبال گراؤنڈ بھی لے گئے تھے۔ جہاں پر لوکل ٹیم کا آپس میں کرکٹ میچ تھا۔ اس میچ کو میں اپنے والد محترم کے ساتھ دیکھتا رہا۔ اس میچ میں مقابل ٹیم کا نام تو میرے ذہین میں نہیں ہے مگر ہم جس ٹیم کی طرف تھے وہ ینگ مسلم کرکٹ کلب تھا۔ جس کے کپتان میرے چچا زاد بھائی سعید انصاری تھے۔ اور اس ٹیم میں میرے بھائی خالد کبیر آل راؤنڈر تھے۔ جنھوں نے اس میچ میں دو وکٹ لی تھیں اور اپنی ٹیم کو اچھے رن بنا کر جیت دلائی تھی۔

شاہد کبیر کی کرکٹ کے علاوہ فٹبال سے بھی گہری دلچسپی تھی۔ وہ ۱۹۶۰ء تک ینگ مسلم فٹبال کلب کے سیکریڑی رہے۔ یہ کلب ناگپور کامٹی کا مشہور کلب تھا۔ اور جس کے چرچے ممبئی تک تھے۔ اسی زمانے میں اس ٹیم میں ایک کھلاڑی مسٹر کریشیہ ہوا کرتے تھے۔ جو آکل بیرام جی ٹاؤن قیام پذیر ہے۔ اُن کے مطابق شاہد کبیر جس دور میں اس کلب کے سکریڑی تھے وہ دور اس کلب کا انتہائی بہترین دور تھا۔ شاہد کبیر اور کھلاڑیوں کے درمیان کافی اچھا تال میل تھا۔ اور اس زمانے میں اُن کے کھلاڑی اُن کے ساتھ کلکتہ تک جا کر کھیلے۔ یہاں تک کہ جب کلب میں فنڈ کی کمی ہوتی تو شاہد کبیر اپنے پیسوں سے ٹیم کی ضرورت کو پورا کرتے۔

 

ڈرامہ سے دلچسپی:

ڈرامے کو فروغ دینے میں ناگپور نے بھی ایک اہم رول ادا کیا ہے، اس شہر میں بیسویں صدی کے آغاز میں ڈرامہ کھیلنے کی ابتداء ہوئی، بعد کو اس سے اس قدر دلچسپی بڑھی کہ ڈرامے کی کئی کمپنیاں یکے بعد دیگرے وجود میں آئیں، ان ڈراما کمپنیوں نے ۱۹۴۷ تک متعدد کامیاب ڈراموں کواسٹیج کیا اور وسط ہند میں زبردست مقبولیت حاصل کی شاہی ڈراما کمپنی یہ شہر ناگپور کی پہلی ڈراما کمپنی تھی، اس کا آفس مومن پورہ چوک کے قریب محمد حسین دلال کے مکان میں تھا، وہی اس کے روح رواں تھے انہوں نے محلہ کے چند بے باک نوجوانوں کو جمع کر کے ۱۹۲۱میں اس کمپنی کی بنیاد ڈالی۔ اس اعتبار سے ماسٹر محمد حفیظ الدین، پنڈت عبد الرحیم (بقریدن پنڈت) محمد اسماعیل شمیم، رحیم اللہ ڈائرکٹر، بابا میاں اور محمد اسحق (مالک آفتاب ہوٹل، مومن پورہ) کے اسمائے گرامی قابل ذکر ہیں، جب کمپنی کے زیر اہتمام کھیلے جانے والے ڈراموں کو عوامی مقبولیت ملی اور شہر میں اس کا چرچا ہونے لگا تو نوجوان اس طرف راغب ہوئے اور انہوں نے اس میں حصہ لینا شروع کیا، ایسے جوانوں میں اسرائیل پہلوان، جمن پہلوان، عبد الحفیظ، محمد یعقوب ماسٹر، عبد الجلیل کھٹکھٹے، حنیف ڈرائیور، عبد الحمید پنڈت اس وقت کے نوجوان شاہد کبیر (جو بعد کو جدید لب و لہجہ کے مقبول شاعر ہوئے) کا شمار تھا، یوں ۱۹۴۷تک یہ کمپنی بہت ہی فعال و متحرک تھی۔

اس نے ڈراموں کے متعدد کامیاب شوپ یش کئے تھے، اس کے پیش کردہ ڈراموں میں غیبی تلوار، غفران ڈاکو، خدادوست، شیریں فرہاد، لیلیٰ مجنوں اور شریف بدمعاش بے انتہا کامیاب ہوئے اور انہی کی وجہ اس کو وسط ہند میں زبردست مقبولیت ملی۔ اس میں کام کرنے والے اداکاری کے فن سے پوری طرح باخبر تھے۔ انہیں مکالموں کی ادائیگی میں کمال حاصل تھا، وہ الفاظ کے اتار چڑھاؤ سے لوگوں کو متاثر کرتے اور اپنے چہرے کے تاثرات اور اپنی حرکات و سکنات سے دیکھنے والوں کو مرعوب کرتے۔

اس میں عبد الحفیظ کاردار کو فن رقص میں مکمل دسترس حاصل تھی، ماسٹر محمد حفیظ الدین بادشاہ کے کردار کے لیے بالکل فٹ تھے، عبدالرحیم (بقریدن) پنڈت کا پارٹ کرتے، محمد اسرائیل پہلوان ہیرو، حنیف ڈرائیور اورماسٹر عبد الجلیل کھٹکھٹے کوڑھی کا رول نبھاتے اور نوجوان شاہد کبیر کم سن شہزادے کے روپ میں جلوہ گر ہوتے، یہ سب اپنے اپنے کردار کے خانے میں انگوٹھی کے نگینے کی طرح تھے، پھر ان کے ڈائرکٹر رحیم اللہ جیسے تجربہ کار فنکار تھے، اس پر مستزاد یہ کہ ان سب کو اداکاری کے فن سے مزید آشنا شاہد کبیر کے جد امجد محمد اسماعیل شمیم (عرف جہانگیر) نے کروایا جنہیں موسیقی اور اداکاری کا فن اپنے والد اسحق سے وراثت میں ملا تھا، اس نگہداشت اور کوشش و کاوش کا یہ نتیجہ ملا کہ کمپنی ترقی کی سمت بڑھتی ہی رہی۔

اس کمپنی نے پہلے پہل شہر کے میدانی علاقوں میں انتظام و انصرام کے ڈراما کھیلا، جب رفتہ رفتہ اس کی مقبولیت بڑھی تو اس نے بے نیکر تھیٹر، چترا ٹاکیز، شیام ٹاکیز اور ورائٹی ٹاکیز میں اپنے فن و کمال کا بے مثال مظاہرہ کیا۔

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ جس زمانے میں یہ ڈراما کمپنی عروج پر تھی، سہراب مودی اور بنجامن بمبئی سے اپنی ڈراما کمپنیاں اس مقصد کے تحت ناگپور لائے کہ وہ اپنے فن کا مظاہر کر کے ڈرامے کواس علاقے میں عروج دیں لیکن وہ شاہی کلب کے زیر اہتمام کھیلے جانے ولاے ڈرامے دیکھ کردنگ رہ گئے اوریہ کہہ کہ یہاں تو یہ فن تربیت یافتہ ہے وہ اس دورمیں ہفتوں ناگپورمیں مقیم رہے۔ (حوالہ: صبح زرِنگار۔ مرتب ڈاکٹراسداللہ صفحہ: ۳۳تا۳۶)

 

مشاعروں میں شرکت:

مشاعرے کے شاعر شہرت پاتے ہیں مگر معتبر نہیں کہلاتے۔ کئی مشاعرے کے شاعر ایسے ہیں جن کا ادب میں نام تک نہیں آتا۔ وہ مشاعروں میں گا بجا کر شہرت حاصل کر کے خوش ہو جاتے ہیں اور ادب میں اپنا نام نہیں کر پاتے۔ مگر کچھ شاعر ایسے بھی ہے جو مشاعرے میں مقبول ہونے کے بعد بھی ادب میں خاص اور بہت خاص مقام رکھتے ہیں۔ اردو ادب اور غزل اُن کے وسیلے سے اپنا سفر طے کرتے رہتی ہے۔ ان شاعروں کے فہرست میں شہر یار، ندا فاضلی، محمد علوی، بشر نواز، جاوید ناصر، حسن کمال، مخمور سعیدی، افتخار امام، زبیر رضوی اور شاہد کبیر وغیرہ ہیں۔ جنہیں ہم صرف مشاعروں کا شاعر نہیں کہہ سکتے مگر انہیں مشاعروں سے الگ بھی نہیں کیا جا سکتا۔

۔۔۔۔ ۔ ڈاکٹر شرف الدین کے مطابق  ’’شاہد کبیر کی مشاعروں میں شرکت اُن کی خود کی شرطوں پر ہوتی تھی‘‘ وہ ملک کے معیاری مشاعروں میں شرکت کرتے۔ وہ لال قلعے کے مشاعروں میں باقاعدہ بلائے جاتے تھے۔ دوردرشن کے مشاعروں میں بھی بلائے جاتے تھے۔ مشاعروں میں اُن کی شرکت مشاعرے کے معیار کو ظاہر کرتی تھی۔ آل انڈیا ریڈیو میں بھی انھیں وقت وقت پر مدعو کیا جاتا تھا۔ مگر انھوں نے مشاعروں کو ذریعۂ معاش نہیں بنایا۔ وہ مشاعرے کے بڑے کامیاب شاعر تھے جب وہ مائک پر آتے تھے سامعین میں ایک قسم کی خاموشی چھا جاتی تھی اور اُن کی طرف ایک ٹک دیکھنے لگتے کے یہ لمبے قد کا شہزادے کی شکل والا آدمی کیا کہنے اور پڑھنے والا ہے۔ وہ تحت الفظ میں اپنا کلام سناتے اور مشاعروں میں چھا جاتے جب کہ وہ ایسے ہی مشاعروں میں جاتے جہاں ملک کے نامور شاعر شرکت کرتے۔ (حوالہ: ڈاکٹر شرف الدین ساحل اورینج سٹی، ناگپور،

(Mushaira Wikipidia, the free encyclopedia

مشاعروں کے تعلق سے ایک واقعہ کا ذکر یہاں میں کرتا چلوں کہ یہ بات ۱۹۹۷ء کی ہے، ممبئی سے لگے علاقے رائے گڑھ میں جگجیت سنگھ جی کا ایک شو تھا جس میں شاہد کبیر کو بھی مدعو کیا گیا تھا۔ جگجیت سنگھ کا غزلوں کا پروگرام اپنے شباب پر تھا۔ ہال سامعین سے بھرا پڑا تھا۔ اور اتنے ہی لوگ باہر کھڑے تھے۔ جگجیت سنگھ نے شاہد کبیر کی ایک غزل  ’’ٹھکراؤ اب کہ پیار کرو میں نشے میں ہوں‘‘ سنائی۔ اور کہا کہ اتفاق سے آج اس غزل کے شاعر جناب شاہد کبیر صاحب ہمارے بیچ ہے اور میں چاہتا ہوں کہ وہ اسٹیج پر آ کر اپنا کچھ کلام سنائے۔ اتنا کہہ کر جگجیت جی نے بریک لے لیا۔ میں وہاں بیٹھا اس سوچ میں گم تھا کہ اتنا پیارا میوزیکل پروگرام چل رہا ہے اس میں لوگ جگجیت کو چھوڑ کر شاہد کبیر کو کیا سنے گے۔ یہ واقعہ اُس وقت کا ہے جب بابری مسجد کی شہادت اور اُس کے بعد ممبئی میں ہونے والے فساد کا زخم تازہ تھا۔ شاہد کبیر اسٹیج پر آتے ہے اور ممبئی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے یہ شعر پڑھتے ہیں۔

یہاں سے شہرِ ستم گر دکھائی دیتا ہے

جسے بھی دیکھئے پتھر دکھائی دیتا ہے

میری آنکھیں گواہ ہے کہ پوری کہ پوری سامعین کُرسی چھوڑ کر کھڑے ہو گئے۔ اُس کی بعد شاہد کبیر نے ایک کے بعد ایک تین غزلیں سنائی اور منتظم نے اعلان کر دیا اگلے سال یہاں پر مشاعرہ رکھا جائے گا۔ جگجیت جی اپنا بریک ختم کر کے اسٹیج پر آتے ہے اور کہتے ہے  ’’یار توسی چھا گئے‘‘ اگلے سال اس جگہ پر دلیپ کمار صاحب کی صدارت میں مشاعرہ رکھا گیا جس میں شاہد کبیر ، حسن کمال، محمد علوی، اور ندا فاضلی جیسے شاعروں نے شرکت کی۔

 

فلم/ میوزک انڈسٹری سے وابستگی:

شاہد کبیر اپنی شاعری کے ابتدائی دور سے گلو کاروں کی پسند بن گئے تھے جو کہ ان کی اسٹیج پر مقبولیت اور ہندوستان کے مختلف جرائد اور رسائل میں ان کے کلام کی وجہ سے تھی۔ ہندوستان کے مختلف گلو کاروں نے انہیں پہلے سے ہی اسٹیج پر گانا شروع کر دیا تھا۔ مگر باقاعدہ طور پر ان کی پہلی Recording  ۱۹۷۹میں ہوئی، جس میں حنیف آگرہ والا کی آواز میں شاہد کبیر کا کلام  ’’پھولوں کی برسات ہوئی‘‘ گایا اور اس البم کا نام بھی  ’’پھولوں کی برسات ہوئی‘‘ رکھا گیا۔ یہ البم اس زمانے میں بہت زیادہ مقبول ہوا بعد میں ۱۹۸۱میں اسی کلام کو انور حسین نے Kalyanji Anandji کی میوزک پرHMVپر رکارڈ کیا گیا جو کہ ایک Long Playکی شکل میں تھا اور اس کی اچھی خاصی Royaltyبھی HMV کمپنی نے شاہد کبیر کو دی اسLong Play کا نام بھی  ’’پھولوں کی برسات‘‘ رکھا گیا۔ اس میں شاہد کبیر کے ساتھ دیگر شاعر، شکیل بدایونی، قتیل شفائی، ندا فاضلی وغیرہ تھے۔  ’’پھولوں کی برسات ہوئی‘‘ یہ کلام یہاں پربھی بہت زیادہ مقبول ہوا۔ اور پورے ہندوستان اورپاکستان میں اس کلام کو قوالوں نے اسٹیج پر گایا۔ یہی وجہ تھی کہ ۱۹۹۲میں عزیر نازاں نے اس کلام کو اپنے البم  ’’میں نشے میں ہوں‘‘ میں رکارڈ کیا جو کہ Venus کمپنی پر جاری ہوا اس کا Video بھی بنایا گیا۔

اس طرح شاہد کبیر کا ایک اور کلام  ’’اس کی گلی میں پھر مجھے ایک بار لے چلو‘‘ ہندوستان اورپاکستان میں سبھی گلوکاروں کی پسندبن چکا ہے، اسے سب سے پہلے شاہدؔ کبیر کے دوست اورسنگراستادرئیس خان صاحب نے پاکستان میں اپنے البم سازکے لئے رکارڈ کیا بعد میں اسے پاکستان میں منی بیگم جی نے اپنے البم Hits of Munni Begum Vol.24 کے لئے رکارڈ کیاجیسے پاکستان میوزک کمپنی EMI نے ۱۹۸۶میں جاری کیا۔ اسی کلام کو ہندستان میں تمنا بانو نے رکارڈ کیا اور T. Series پر چندن داس جی نے ۱۹۹۳میں اپنے البم  ’’دیوانگی‘‘ کے لئے رکارڈ کیا۔ یہ کلام اتنا مشہور ہوا کہ پاکستان میں سلمان علوی صاحب نے اپنے البم  ’’انداز‘‘ میں جو کہ صدف میوزک کراچی پر ہے ۲۰۰۷میں ایکOriginal اور Remix Track دو شکل میں گایا اور حال ہی میں، نومبر ۲۰۰۷میں صابری بردرس نے اپنے Latest of Sabri bros نام سے البم پر EMI  میوزک کمپنی پاکستان میں رکارڈ کیا ہے اور ابھی 6؍ اگست 2008 کو مجھے مقبول صابری صاحب کا فون بھی آیا انہوں نے فون پر مجھ سے ۲۵منٹ بات کی اور کہا کہ وہ ہندوستان کی میوزک کمپنی پر شاہد کبیر کایہ کلام رکارڈ کرنا چاہتے ہیں۔

اس طرح شاہد کبیر کے اس دوکلام نے میوزک انڈسٹری میں ایک دھوم مچا رکھی ہے جوکہ ۱۹۷۹سے لے کرآج تک قائم ہے اس کے علاوہ شاہد کبیر کے اور بھی بہت سارے کلام رکارڈ کئے گئے ہیں جوم ندرجہ ذیل ہیں۔

کلام  ’’پیار کے موڑ پر‘‘ گلو کار صابری بردرس 1985 T.Series

کلام  ’’پیار کے موڑ پر‘‘، فلم ڈاکو حسینا گلو کار، انور دلاور خان، میوزک اُوشا کھننا، کمپنی 1986.T.Sereis

کلام  ’’نیند سے آنکھ کھلی ہے  ’’البم  ’’Beyond Time‘‘ میوزک جگجیت سنگھ

گلو کار چترا سنگھ 1988. HMVیہ ہندوستان کی پہلی 18 Track Digital Recordingرکارڈنگ تھی جس کاTrackلندن میں تیارکیا گیا تھا۔

کلام  ’’خبرہے اپنی نہ راہوں کاکچھ پتہ مجھ کو‘‘ اور  ’’پانی کاپتھروں پراثرکچھ نہیں ہوا‘‘ میوزک چھوٹے لال، گلوکار، یوشا اُمنکر کمپنی 1988. Universal Cassettes

کلام  ’’غم کاخزانہ تیرابھی ہے میرابھی‘‘ میوزک جگجیت سنگھ، گلوکار، لتامنگیشکر اورجگجیت سنگھ کمپنی HMV، (Saregama India Pvt Ltd) اس غزل پر Video بھی بنایا گیا اوراس البم کی یہ سب سے زیادہ مشہورغزل ہوئی۔ اس البم کو HMV نے دوبارجاری کیا، اس کے بعد سے جیسے جگجیت سنگھ اورشاہد کبیر ہر البم میں ایک ساتھ دیکھے گئے، 1988 سے لے کر 1997 تک جگجیت کے تمام البم میں شاہد کبیر کا ایک کلام شامل ہوتا ہی تھا۔

کلام  ’’میں نشے میں ہوں‘‘ البم کا نام Live with Jagjit Singh گلو کار اور میوزک جگجیت سنگھ کمپنی 1993 HMV. یہ غزل اتنی مشہور ہوئی کہ HMV نے اس کا دوسرا Version البم Encore کے نام سے جاری کیا۔ اس کے بعد شاہد کبیر کا کلام  ’’بے سبب بات بڑھانے کی ضرورت کیا ہے‘‘ کو جگجیت سنگھ جی نے کمپنی Magna Sound سے 1994 جاری کیا۔

1993میں  T. Seriesنے  ’’دیوانگی‘‘ نامی البم میں چندن داس جی کی آواز اورLalit Sen  کی میوزک پر  ’’اس کی گلی میں پھر مجھے ایک بار لے چلو‘‘ رکارڈ کیا۔

1996نے  HMVنے ہی جگجیت سنگھ کی آواز میں البم Miraje میں شاہد کبیر کی غزل  ’’میں نہ ہندو نہ مسلمان‘‘ رکارڈ کی۔

1996، میں T.Series نے ہری ہرن کی آواز میں البم  ’’سکون‘‘میں شاہد کبیر کی دو غزلیں  ’’جب سے وہ ماہ پارہ گیا‘‘ اور  ’’ہاتھ میں لے کے میرا ہاتھ یہ وعدہ کر لو‘‘ رکارڈ کیا۔

اس کے بعد 1997 میں پھر سے جگجیت سنگھ کی آواز میں  Venusپر شاہد کبیر کی ایک اور مشہور غزل  ’’آج ہم بچھڑے ہیں تو کتنے رنگیلے ہو گئے‘‘ البم Love is Blind پر جاری ہوئی جو بہت زیادہ مقبول ہوئی کیونکہ اس میں جگجیت سنگھ جی نے اپنی میوزک میں ایک نیا کشمیری Instrument کا استعمال کیا تھا۔

پاکستان میں ان کی غزلوں کو راحت فتح علی خان، استاد رئیس خان، منی بیگم، سلمان علوی، عذرا ریاض، بلقیس خانم، عزیز میاں جیسے مشہور گلو کاروں نے اپنی آواز دی ہے۔ جس کی تفصیل شناس نامے میں دیکھی جا سکتی ہے۔

اس کے علاوہ ۱۹۹۲ء میں توصیف اختر کی میوزک پر شاہد کبیر کا ایک گیت  ’’آج ہو یا کل بولے گی پائل‘‘ پنکج اُداس کی آواز میں رکارڈ کیا گیا۔ مگر یہ فلم کسی وجہ سے بن نہ سکی۔ 2004 میں ایک فلم  ’’کون ہے جو سپنوں میں آیا‘‘ میں Nikhil Vinay کی میوزک پر شاہد کبیر کا کلام  ’’سب کے چہروں میں ہم کو آپ لگے‘‘ جاری کیا گیا۔

حال ہی میں Hollywood کی فلم کمپنی NUGEN MEDIA کی آنے والی فلم  ’’گاندھی، ہتّیا ایک سازش‘‘ میں شاہد کبیر کی ایک غزل ’میں نہ ہندو نہ مسلمان‘  کو شامل کیا گیا ہے۔ جسے مشہور گلو کار ربّی شیر گِل نے اپنی آواز دی ہے۔ یہ فلم پوری دنیا میں الگ الگ زبانوں میں ریلیز ہو گی اور ہندوستان میں ہندی میں۔

اس کے علاوہ بھی دیش کے بہت سے بڑے اور چھوٹے گلو کاروں نے ان کے کلاموں کو اسٹیج پر بھی گایا اور رکارڈ بھی کیا ہے۔ اور ابھی بھی بہت سارے گلو کار ان کے کلام گانے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ (حوالہ: دی ہتواد ۳۰ نومبر ۲۰۰۴، دی ہتواد ۸جنوری ۱۹۹۲، دی ہتواد جنوری ۱۹۹۳، دی ہتواد جنوری۱۹۹۶، دی ہتواد ۲۲جولائی ۱۹۹۷، دی اکسپرس ۶جولائی ۱۹۹۷، ٹائمس آف انڈیا جون۱۹۹۷، دی ہتواد ۱۴ستمبر۲۰۰۳، دی ہتواد جولائی ۲۰۰۴،)

 

مشہور گلوکاروں کے خطوط شاہد کبیر کے نام:

 

احمد حسین محمد حسین

عالی جناب شاہد کبیر بھائی

السلام علیکم

آپ کا اجازت نامہ ملا ہم آپ کے بہت بہت شکر گذار ہیں رکارڈ کی تیاریاں یعنی رہرسل شروع کر دی جسے انشاء اللہ آپ کو اطلاع دیں گے ضروری ایک گذارش یہ ہے کہ ہمیں ایک آفر(Film Division)سے ملا ہے وہ ستارا دیوی پر ڈاکومینٹری فلم بنا رہے ہیں تو ہم لوگ اس فلم میں آپ کی غزل  ’’پیار کے موڑ پر مل گئے ہو اگر اور ملنے ملانے کا وعدہ کرو‘‘ گا رہے ہیں برائے گرم ایک اجازت نامہ اور لکھیں جس میں یہ لکھیں کہ احمد حسین محمد حسین میری غزل فلم ڈویژن میں گا سکتے ہیں۔ جب آپ کا اجازت نامہ آئے گا تو یہ لوگ آپ کو یا تو رائیلٹی یا پھر جو کچھ بھی نذرانہ ہو گا بھیجے گے۔ اجازت نامہ اس پتے پر بھیجیں

احمد حسین محمد حسین

متھورا والوں کی حویلی

گھاٹ گیٹ، جے پور

راجستھان

 

انصاری یوسف آزاد

26/2/92

ممبئی

شروع کرتا ہوں اللہ کے نام

بھائی شاہد کبیر

سلام، خیریت ہی خیریت

امید واثق ہے کہ آپ بھی خیریت سے ہوں گے غزلیں ملیں جواب میں تاخیر ہوئی معذرت کے ساتھ جواب دے رہا ہوں اس کی وجہ مصروفیت تھی پروگراموں میں مصروف رہا، دیکھئے کل بہار جا رہا ہوں، غزل پسندآئی وہ مخصوص محفلوں کے لئے ہے، ذراسخت ہے عام پبلک نہیں سمجھ پائے گی۔ خیریت شکریہ۔ انشاء اللہ اطراف میں اگر آنا ہوا تو ضرور ملاقات کروں گا۔ باقی حالات حالت بدستور ہیں۔ خدا کا شکر ہے۔

آپ کا……یوسف آزاد

 

جگجیت سنگھ۔ ممبئی

Dear Shahid Kabirji,

We are grateful to you for sharing our grief at the loss of our beloved son Vivek. Your words were a tremendous source of solace to us in this calamity. We appreciate your kindness and sympathy.

Your’s sincerely,

Chitra & Jagjit.

 

غلام فرید صابری اور مقبول صابری

۲۰۰۱؍۲؍۲۷

مکرمی جناب حاجی شاہد کبیر صاحب

السلام علیکم

حج کی سعادت حاصل کرنے کی بہت بہت مبارک باد قبول ہو۔ اللہ تعالیٰ سب مسلمان بھائیوں بہنوں کو یہ سعادت نصیب فرمائیں۔ آمین ثم آمین۔

جناب ہم آپ سے ملنے حج ہاؤس بھی گئے مگر آپ سے ملاقات نہ ہو سکی اگر ملاقات ہوتی تو ہم بھی آپ سے دعا کے لئے عرض کرتے۔ خیر آپ کی لکھی ہوئی ایک نظم جس کے بول۔  ’’اسکی گلی میں پھر مجھے ایک بار لے چلو‘‘ ہم ریکارڈ کرانا چاہتے ہیں تو کیا آپ اجازت نامہ ہمیں لکھ کر روانہ کر سکتے ہیں؟ اور حاجی صاحب اور بھی کلام روانہ کر سکیں تو عین نوازش، بڑی مشکلوں اور محنت کے بعد جناب اختر آزاد صاحب سے آپ کا پتہ ملا۔ ورنہ جن صاحب نے بھی آپ کا پتہ اور فون نمبر دیا سب غلط دیا۔ ایک مرتبہ تو ناگپور فون کیا تو کسی اور صاحب کا تھا اور اتفاق سے وہ صاحب آپ کو جانتے بھی نہیں تھے۔ بہرحال خط لکھ رہا ہوں آپ کو، اللہ کرے یہ پتہ درست ہو۔ آمین

سنائیں مزاج کیسے ہیں؟ ہم بھی آپ کی دعاؤں سے اچھی طرح ہیں۔ امید ہے کہ نئے کلام اجازت نامے کے ساتھ ارسال فرمائیں گے۔ شکریہ۔ آپ کی بیگم صاحبہ بھی آپ کے ساتھ حج کی سعادت حاصل کرے گی میری طرف سے انہیں بھی مبارک باد پیش کریں۔ اجازت

اللہ حافظ

مقبول صابری

کراچی

 

 

سفر حج آخری ایام اور وفات:

مولانا شبلی نعمانیؔ نے جب عمر کے آخری حصے میں سیرۃ النبیﷺ کی تدوین و اشاعت کا منصوبہ بنایا تو اپنے جذبات کا مندرجہ ذیل قطعہ میں اس طرح اظہار کیا۔

عجم کی مدح کی عباسیوں کی داستاں لکھی

مجھے چندے مقیم آستانِ غیر ہونا تھا

مگر اب لکھ رہا ہوں سیرت پیغمبر خاتم

خدا کا شکر ہے یوں خاتمہ بالخیر ہونا تھا

بے شک اللہ کے وہ نیک بندے انتہائی خوش نصیب ہیں جن کا خاتمہ ایمان پر ہوا اور جو خیر کی دولت لے کر اس دنیا سے رخصت ہوئے ہوں۔ شاہد کبیر کا شمار انہیں میں ہوتا ہے، ان کی زندگی کا آخری حصہ خدا کی اطاعت و بندگی میں گذرا انتقال سے پہلے ایک لفافے پر یہ دو شعر بھی قلم بند کر دیئے۔

ایک اللہ ثباتی ہے

باقی سب مماتی ہے

ڈال پہ بیٹھی ہر چڑیا

حمد اسی کی گاتی ہے

وہ فروری ۲۰۰۱ء میں حج بیت اللہ کے لئے روانہ ہوئے چنانچہ جانے سے ایک دن پہلے ان سے ملاقات کی، دیکھتے ہی ٹوٹ کر ملے، بھائی جا رہا ہوں، دیکھو کیا ہوتا ہے۔ میں نے کہا سب ٹھیک ہو گا۔ جو اللہ کی مرضی ہو گی وہی ہو گا۔ ہمارے لئے بھی دعا کرنا، اس وقت ان کے چہرے پر ایک عجیب سی کیفیت اور تمازت تھی، یہ ان سے آخری ملاقات تھی۔ اس کے بعد کفن میں لیٹا ہوا ان کا مسکراتا چہرہ ہی نظر آیا خدا ان کی مغفرت کرے اور ان کے درجات بلند کرے۔

شاہد اسم بامسمیٰ تھے، دراز قامت، خوبصورت، خوش اخلاق اور خوش خیال مسکراہٹ ان کے چہرے پر ہمیشہ نمودار رہتی۔ گھر آفس اور ہوٹل کے علاوہ کہیں دوسرا ٹھکانہ نہیں تھا، حلقہ احباب بہت محدود تھا، وہ عام لوگوں سے بدکتے تھے، گنتی کے دوست و احباب ہی سے ملتے جلتے تھے، کوئی نہ ملتا تو تنہا رہتے، سماج میں اس قدر ریزرو رہنے کے باوجود بھی ناگپور کا ادبی حلقہ ان کے کلام کو بہت پسند کرتا تھا۔ وہ مشاعرے میں جب بھی مائیک پر آتے تو سناٹا چھا جاتا اور لوگ ان کے کلام کو سنجیدگی سے سن کر داد دیتے واقعی ان کی شاعری لائق تعریف و توصیف ہے، یہ ناگپور کی ادبی تاریخ میں نیا باب کھولتی ہے۔

حج بیت اللہ سے مشرف ہو کر لوٹے تھے کہ دو یا تین دن بعد طبیعت کی خرابی کے باعث اسپتال میں بھرتی کئے گئے ڈاکٹروں نے تشخیص کے بعد ان کے مرض کو دماغ کا کینسر قرار دیا۔ آپریشن ہوا، پندرہ دن بعد صحت یاب ہو کر لوٹے لیکن ۱۱مئی (۲۰۰۱) کو جبکہ نماز جمعہ کے لئے تیمم کر رہے تھے ان کی طبیعت اچانک بگڑ گئی اور وہ آناً فاناً اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔ آب زمزم سے دھلے ہوئے کفن میں ان کا مسکراتا چہرہ بہت بھلا لگ رہا تھا۔ (حوالہ پنہاں چہرے۔ ڈاکٹر محمد شرف الدین ص ۱۷۸۔ ۱۸۹)

 

 

 

 شاہد کبیر کے کل ہند معاصرین

 

 زبیر رضویؔ:

ولادت اپریل ۱۹۳۵ء(امروہہ) چھ شعری مجموعے، لہر لہر ندیا گہری۔ خشت دیوار۔ مسافت شب، پرانی بات ہے، دھوپ کا سائبان اور انگلیاں فگار شائع ہوئے ہیں، سوانحی یادوں پر مشتمل کتاب  ’’گردش پا‘‘ بھی شائع ہو چکی ہے، ان کا لکھا ہوا گیت  ’’یہ میرا ہندوستان‘‘ گجرات، مہاراشٹر اور کرناٹک کے اسکولوں میں اردو نصاب میں شامل ہے، ذہن جدید کے نام سے ایک اہم ادبی رسالہ بھی نکالتے ہیں، شاہدؔ کبیر کے دہلی قیام کے دوران سے ہی زبیر رضوی سے اچھے تعلقات تھے، جو خطوط کے حوالوں سے ملتے ہیں۔

زبیر رضوی ۶۰کے قریب ابھر کر سامنے آ چکے تھے، زبیر کا پہلا شعری مجموعہ  ’’لہر لہر ندیا گہری‘‘ جس وقت شائع ہوا نئی شاعری ترقی پسندی کے رد عمل کے طور پر آگے بڑھ رہی تھی اور جدیدیت کا رخ ایک واضح سمت کی طرف بڑھنے لگا تھا۔ اس زمانے میں زبیر رضوی اپنی نو رومانیت کے سبب سے ہی مشاعروں کے مقبول شاعر کی حیثیت سے مشاعروں میں بڑے کامیاب جا رہے تھے، ان کی نظمیں، غزلیں قومی اور عشقیہ موضوعات پر مختلف رسالوں میں شائع ہو رہی تھیں جس میں روایتی اسلوب اور مروجہ موضوعات کی کار فرمائی نظر آتی تھی۔

لیکن آہستہ آہستہ ان کے مزاج میں نیا پن، تازگی اور شگفتگی پیدا ہونے لگی، مزاجاً زبیر رضوی گیت اور نظم کے شاعر ہیں اور غزلوں میں بھی ان کے یہاں جو نسائیت اور انفعالی انداز اس لحاظ سے نئی غزل کے پیش رو شاذ تمکنت سے بہت قریب محسوس ہوتے ہیں۔ زبیر اس زمانے سے تا حال مسلسل کہہ رہے ہے۔  ’’خشت دیوار‘‘ کے نام سے زبیر کا جب دوسرا مجموعہ کلام منظر عام پر آیا تو پہلے مجموعے کے برعکس دوسرے مجموعے میں روایتی اسالیب، ہنگامی موضوعات اور رائج الوقت شعری ضوابط سے گریز ان کی شاعری میں واضح طور پر نظر آنے لگا اور ان کی غزلیں اپنی غنائیت اور تازگی سے محظوظ کرنے لگیں۔

دشت تنہائی میں آواز کے گھنگھرو بھی نہیں

اور ایسا بھی کہ سنّاٹے کے جادو بھی نہیں

’’خشتِ دیوار‘‘ اور مسافتِ شب‘‘ زبیر کے تخلیقی سفر کے سنگ میل ہیں، لیکن زبیر کا یہ سفر نشیب و فراز کی بجائے ہموار اور یکساں نظر آتا ہے اس لئے کہ پہلے اورتیسرے مجموعہ تک کلام میں مہارت اور شاعرانہ حسن کے علاوہ رویہ کاکوئی واضح نشان سامنے نہیں آتا، ہاں ان کی نظموں میں ارتقائی صورتیں ضرور نظر آتی ہیں۔ غزل کے چند شعر ملاحظہ ہوں۔

ہم بچھڑ کے تم سے بادلوں کی طرح روتے رہے

تھک گئے تو خواب کی دہلیز پر سوتے رہے

لوگ لہجہ کا سہانا پن سخن کی نغمگی

شہر کی آبادیوں کے شور میں کھوتے رہے

اکیلی ساعتوں میں جی رہے ہیں

نجانے کب وہ آپس میں لڑے تھے

عجب بے چارگی کے درمیان ہیں

کبھی سب ہی ہمیں پہچانتے تھے

بہت کڑوی لگی چائے کی پیالی

کئی دن بعد جب اخبار دیکھے

چمکتی دھوپ تم اپنے دامن میں نہ بھر لینا

میں ساری رات پیڑوں کی طرح بارش میں بھیگا ہوں

میں گر کے ٹوٹ جاؤں یا کوئی محراب مل جائے

نہ جانے کب سے ہاتھوں میں کھلونا بن کے جیتا ہوں

کوئی ٹوٹا ہوا رشتہ نہ دامن سے الجھ جائے

تمہارے ساتھ پہلی بار بازاروں میں نکلا ہوں

احساس بکھرا بکھرا سا ہارا ہوا بدن

چڑھتی حرارتوں کا نشہ کون لے گیا

بالوں کا حسن ہے نہ کہیں شوخیِ بیاں

شہر نوا سے حرف و صدا کون لے گیا

میں جب نہ تھا تو مجھ پہ بہت قہقہے لگے

احباب سے سرشت وفا کون لے گیا

حوالہ: (نئی غزل اور نظم کی سمت و رفتار ۱۹۶۰ء کے بعد، از خلیق الزماں انصاری ۱۹۸۳ص ۲۵۷، وادی خیال۔ آزادی کے بعد اردو غزل اور نظم مرتب مخمور سعیدی)

بانیؔ:

بانی غزل کے شاعر ہیں اور ایک اہم شاعر ہیں، نئی غزل بانی کے ہاتھوں نئی جہتوں سے روشناس ہوتے ہوئے بلندی کی طرف بڑھتی ہے۔ نئی غزل میں ان کا آہنگ اور ان کی انفرادیت نے نئی غزل کو عمودی سمت عطا کی ہے۔

راستہ ختم جہاں ہوتا ہے

اک سفر اور اُدھر رکھ دینا

صد فردوس محبت زار ستمبرآ

اے رنگوں کے موسم منظر منظر آ

’’حرف معتبر‘‘ اور‘‘حساب رنگ‘‘ بانی کے مجموعے ہیں، اپنے پہلے مجموعے سے لے کر  ’’حساب رنگ‘‘ تک کا سفر بانیؔ نے جس حسن اور سجیلے انداز سے طے کیا ہے اس کے نقوش ان کی غزلوں میں خاصے نمایاں ہیں۔ غالبؔ نے طرزِ بیدل میں ریختہ کہنے کو قیامت سمجھا تھا مگر بانی اس قیامت سے سلامتی کے ساتھ گذر گئے۔ غالبؔ کی سی بیان میں شدت اور غالب سی ترکیب سازی کا جیسا سلیقہ بانی کی گرفت میں آیا ہے ویسا سلیقہ نئے غزل گویوں کو بہت کم نصیب ہوا ہے۔

نہ حریفانہ مرے سامنے آ میں کیا ہوں

ترا ہی جھونکا ہوں اے تیز ہوا میں کیا ہوں

کہاں کی سیر ہفت افلاک اوپر دیکھ لیتے تھے

حسین اجلی کپاس برف بال و پر پہ رکھی تھی

غالب کے اس وصف کے باوجود بانی غالب کی طرح بلند آہنگ نہیں ہوئے بلکہ ان کا لہجہ نرم رفتار، دھیما پن لئے ہوئے ہوتا ہے اور کہیں کہیں میرؔ کا اثر بانی پر نمایاں ہونے لگتا ہے، لفظوں کی تکرار تیز بانکپن میں چھپا ہوا درد اسی طرف اشارہ کرتا ہے۔

پتہ پتہ بھرے شجر پر ابر برستا دیکھو تم

منظر کی خوش تعمیری کو لمحہ لمحہ دیکھو تم

ابھی کہاں معلوم یہ تم کو ویرانے کیا ہوتے ہیں

میں خود ایک کھنڈر ہوں جس میں میرا گھر دیکھو تم

اپنی خوش تقدیری جانو اب جو راہیں سہل ہوئیں

ہم بھی ادھر ہی سے گذرے تھے حال ہمارا دیکھو تم

اسی غزل کے دو شعر اور ملاحظہ ہوں:

مجھ کو اس دلچسپ سفر کی راہ نہیں کھوٹی کرنی

میں عجلت میں نہیں ہوں یارو اپنا رستہ دیکھو تم

اب تو تمہارے بھی اندر کی بول رہی ہے مایوسی

مجھ کو سمجھانے بیٹھے ہو اپنا لہجہ دیکھو تم

بانیؔ کی غزل میں اشعار اور علامتیں ایسے ایسے ماہرانہ انداز میں حرف ہوئی ہیں کہ شعر میں طلسمی کیفیت سی پیدا ہو جاتی ہے لگتا ہے بندشِ الفاظ کی جرأت کا فن بانی نے براہ راست آتش سے سیکھا ہے۔

نمک نشیلی گداز فصیلیں نئی نئی سی

افق پرندے گلاب بستر نئے نئے سے

خلا بازوں کو بھاتی ہی نہیں نئی ہوائیں

سفر حمل بادباں سمندر نئے نئے سے

سفر ہے مرا اپنے ڈر کی طرف

مری ایک ذاتِ دگر کی طرف

مرے واسطے جانے کیا لائے گی

گئی ہے ہوا اک کھنڈر کی طرف

کب تک پھیلائے گا دھند مرے خون میں

جھوٹی سچی نوا میں ڈھل کر لب پر آئے

مجھے پتہ تھا ایک دن لوٹ کے آئے گا تو

کیوں دہلیز پہ اک سایہ ہے اندر آ

اس نے عجب کچھ پیار سے اب کے لکھا بانی

بہت دنوں پھر گھوم لیا، اب گھر آ

 

 محمد علویؔ :

محمد علوی نئی غزل کا ایک اہم نام ہے۔ مزید اہم بات یہ ہے کہ ان کا تخلیقی سفر تا حال جاری ہے، محمد علوی غزل کا باغی شاعر ہے یہ بغاوت غزل کی عام روش سطحی رومانیت، غزل کے الزام و ارائش سے ہے غزل میں وہ جس اسلوب کی نمائندگی کرتے ہیں وہ سراسر نئی ہے اور دوسروں تک اس کی رسائی نا ممکن نہیں تو محال ضرور ہے۔ علوی کی غزلیں مواد اور ہیئت ہر دو اعتبار سے ایک باغی ذہن کی شاعری قرار پاتی ہے، ان کا وصف یہ ہے کہ وہ سامنے کے عام اور سیدھے سادے موضوعات پر نہایت سادا اور بول چال کی زبان میں شعر کہتے ہیں۔ ان کے لہجے کی بے تکلفی اور بے ساختگی نیز عامیانہ پن انہیں نئی غزل کا نمائندہ بناتے ہیں۔ کہیں کہیں ان پر ظفر اقبال و سلیم احمد (پاکستان) کا اثر دکھائی پڑتا ہے۔

علوی کے یہاں زبان کی توڑ پھوڑ اور لسانی شکست و ریخت کا جرأت مندانہ قدم اپنی طرف توجہ مبذول کرتا ہے ان کی غزل کے اشعار سنجیدگی اور غیر سنجیدگی کے درمیان نشو و نما پاتے ہیں، ان کے لہجے کا کرب اور پوشیدہ خوف اور غم برابر اشعار سے جھانکنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔

دونوں کے دل میں خوف تھا میدان جنگ میں

دونوں کا خوف فاصلہ تھا درمیان کا

کوئی اپنے گھر سے نکلتا نہیں

عجب حال ہے آج کل شہر کا

دروازہ بند کر کے بہت خوش ہوا تھا میں

کوٹھے پھلانگنے لگیں رسوائیاں مگر

شہروں میں پھلنے پھولنے والی بے نیازی، بے زاری اور عدم دوستی کی فضا سیدھے سادے لوگوں کا حزن اور ملال اور شہروں کے عام بے حسی علوی کے پسندیدہ موضوعات ہیں۔

کوئی بینڈ باجا سا کانوں میں تھا

بہت شور اونچے مکانوں میں تھا

لوگ سڑکوں پہ کارخانوں میں

بھوت رہتے ہیں اب مکانوں میں

فرقہ وارانہ فسادات صرف اقلیت کا مسئلہ نہیں ہے پورے سماج کا مسئلہ ہے۔

دونوں ماریں گے مر جائیں گے

کس قبیلے کا طرفدار بنوں

وہ کون ہے جو مرے سامنے نہیں آتا

میں اپنے آپ میں کس کو تلاش کرتا ہوں

نئی غزل کی تاریخ میں محمد علوی نے جو مقام پیدا کیا ہے اس کے نقش ان کے مجموعے  ’’آخری دن کی تلاش‘‘ سے تیسرے مجموعے  ’’تیسری کتاب‘‘ تک دیکھے جا سکتے ہیں (حوالہ: نئی نظم اور غزل کی سمت و رفتار ۱۹۶۰کے بعد۔ از: خلیق الزماں انصاری ۱۹۸۳)

 

 شہریارؔ:

چھٹی دہائی میں تیزی سے اپنا مقام بنانے والوں کی صف میں شہریار اور بشیر بدر دو اہم نام ہیں جنہوں نے غزل میں اپنی معتبر آواز سے نئی غزل کے افق کو روشن اور تابناک کیا ہے۔ شہریار غزل کے ساتھ نظم بھی لکھتے ہیں۔ غزل کے معاملے میں ان کی احتیاط، کم گوئی اور ڈوب کر رکھ رکھاؤ سے شعر کہنے کا انداز ان کے قدم کو آگے کی طرف بڑھاتا ہے غزل میں شہریار کا معاملہ بانیؔ جیسا ہے، شہریار کی مختصر نظمیں بھی غزل کے اشعار کا سا لطف رکھتی ہیں۔ ان کے مجموعے  ’’اسم اعظم‘‘  ’’ساتواں در‘‘ وغیرہ ہیں۔ جس میں شاعر راتوں کو جاگنے کی سزا کے نتیجے میں بیچارگی اور غم کا شکار ہے، زمانے کی تیز رفتاری سے پیدا شدہ دھول و غبار اس کی حیثیت پر افسردگی اور محرومی کی تہیں چڑھاتی ہیں چنانچہ وہ ان کیفیات کو جن نادر طریقوں سے نئے ڈکشن اور اپنی اختراع کردہ زبان کے ذائقے غزل کے فارم میں سمو دیتا ہے وہ اس کے خلاقانہ ذہن کی مثال آپ ہے۔

خوشبو کا جسم سائے کا پیکر نظر تو آئے

دل جس کو ڈھونڈتا ہے وہ منظر نظر تو آئے

آنکھیں خلا کے دھند سے آگے کریں سفر

اک نور کی لکیر افق پر نظر تو آئے

کمار پاشی کی طرح شہریار بھی افقی سمت میں سفر کرتے ہیں لیکن ان کے یہاں کمار پاشی کی طرح سی یک رنگی اور اعادہ کے بجائے چاروں طرف بڑھتے ہوئے پھیلی ہوئی فضا کو سمیٹ لینے کا عمل ہے۔ شہریار کے یہاں بلند پردازی اور معنی آفرینی کی بجائے ایک خاص قسم کی ارضیت ہے جو زمین سے بہت قریب ہو کر زندگی کو نزدیک سے دیکھنے کا عمل اور مشاہدہ ہے آج کے نئے آدمی کے کھیل اوراس کے شوق کا منظر بڑی دل جمعی سے دیکھتے ہیں اور اپنے جرأت مندانہ اسلوب سے اس پروار کرتے ہیں۔

سبھی کو غم ہے سمندر کے خشک ہونے کا

کہ کھیل ختم ہوا کشتیاں ڈبونے کا

اہل وفا کو شوقِ شہادت ہے آج بھی

لیکن کسی کے ہاتھ میں خنجر نظر تو آئے

آؤ ہوا کے ہاتھ کی تلوار چوم لیں

اب بزدلوں کی فوج سے لڑنا فضول ہے

شہریار کا مشاہدہ اور مطالعہ دونوں وسیع ہیں۔ اوراسی اعتبارسے روایت پران کی گرفت بھی مضبوط ہے اس لئے حسن و عشق کے کلاسیکی اور آفاقی موضوعات ان کی غزل پر حاوی ہیں۔ لیکن یہ بات بھی توجہ طلب ہے کہ ان کے اظہار کے لئے شہریار جس ڈکشن سے کام لیتے ہیں وہ اپنے نئے پن اور ندرت میں بے مثال ہے۔

دل ہے تو دھڑکنے کا بہانہ کوئی ڈھونڈے

پتھر کی طرح بے حس و بے جان ساکیوں ہے

کتنے طوفان اٹھائے آنکھوں نے

ناو یاروں کی ڈوبتی ہی نہیں

یہ کیا ہوا کہ طبیعت سنبھلتی جاتی ہے

ترے بغیر بھی یہ رات ڈھلتی جاتی ہے

اس اک افق پہ ابھی تک ہے اعتبار مجھے

مگر نگاہِ مناظر بدلتی جاتی ہے

چہار سمت سے گھیرا ہے تیز آندھی نے

اس اک چراغ کی لو پھر بھی جلتی جاتی ہے

یہ دیکھو آ گئی مرے زوال کی منزل

میں رک گیا مری پرچھائیں چلتی جاتی ہے

کب سماں دیکھیں گے ہم زخموں کے بھر جانے کا

نام لیتا ہی نہیں وقت گذر جانے کا

جانے وہ کون ہے جو دامنِ دل کھنچتا ہے

جب کبھی ہم نے ارادہ کیا مر جانے کا

کون سا قہر یہ آنکھوں پہ ہوا ہے نازل

ایک مدت سے کوئی خواب نہ دیکھا ہم نے

مشعل درد پھر ایک بار جلا لی جائے

جشن ہو جائے ذرا دھوم مچا لی جائے

شمس الرحمن فاروقی کو اردو تنقید کی ایک معتبر شخصیت تسلیم کرنے میں آج تامل نہیں ہے۔ فاروقی شہریار کی شاعرانہ شخصیت پر یوں رقم طراز ہیں:

’’سماجی شعور اور عصری آگہی تو تمام شاعری کی بنیاد ہیں لیکن ان کو ٹین کا ڈھول بنا کر اس طرح نہ پیٹنا چاہیے کہ شعری آہنگ کا دم گھٹ جائے، شہریار جیسے شعرا جو مشہور و معروف ترقی پسند شاعروں کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہوش مند تھے اپنے عصری احساس کی علامت اور رمز کے پردے میں پیش کر کے شاعری کا بنیادی وصف ایک نیم روشن پیکری اور استعارائی فضا تھی جس میں ایک ایسے ذہن کا تحیّر اور خوف کار فرما تھا جو حقائق حیات کو انگیز کرتے وقت اس مثال اور تصوراتی دنیا کی طرف مراجعت کاتقاضہ کرتا تھا جو شاعر کے ذہن میں بچپن کی یادوں اور نوجوانی کے نیم واضح شعورسے مل جل کر بنی تھی، پچھلے کئی برسوں میں شہریار کی شاعری میں یہ کیفیت اپنے کمال پر پہنچ کر ٹہراؤ کی طرف مائل تھی شہریار کی نئی شاعری اس بات کو بھی ثابت کرتی ہے کہ نئی شاعری کے فلسفے میں نئے نئے مینار اور کنگرے بنتے جا رہے ہیں اور وہ دن دور نہیں جب یہ قلعہ خوبی سے عظمت کی طرف کی گام زن ہو گا۔ (شب خون: جولائی، اگست ۷۵۔)

 

 کمار پاشیؔ:

کمار پاشی اگرچہ بنیادی طور پر نظم کا شاعر ہے لیکن پاشی کا شمار جدید تر غزل گو شاعروں کی پہلی صف میں ہوتا ہے پہلا مجموعہ  ’’پرانے موسموں کی آواز‘‘ اس کے بعد کئی مجموعے شائع ہوئے۔  ’’خواب تمنا‘‘  ’’روبرو‘‘ ایک موسم مرے اندر ایک موسم مرے باہر‘‘ ان مجموعوں کے مطالعے سے واضح ہوتا ہے کہ کمار پاشی کے محبوب موضوعات ماضی کی یاد، تہذیب اور کلچر، مذہبی روایت اور اعتقاد کی شکست و ریخت کا غم اور انتشار زمانہ، جنسیات نیز مستقبل کا خواب وغیرہ ہیں زبان کی توڑ پھوڑ سے عاری کمار پاشی کی بے باکی جرأت بات کہنے کا ڈھنگ اپنی طرف متوجہ کرتی ہیں۔

کمار پاشی اپنے وجود سے مطمئن نہیں ان کی نظر بار بار ماضی کی طرف لوٹ کر دیکھتی ہیں لیکن یہ احساس بھی ہے کہ گذرا ہوا وقت لوٹ کر نہیں آتا، یہی خیال ان کے لہجے میں خاص قسم کی کسک اورسوچ کو بیدار کرتا ہے۔

مجھے پہچان لو اس خاک و خون میں

میں صدیوں بعد پھر ظاہر ہوا ہوں

تنہا تنہا گھوم رہا ہوں گم سم

گلی گلی کوئی خود سا ڈھونڈ رہا ہوں

یاد ماضی نہ خواب مستقبل

یوں ہوا ہے مرا زوال اب کے

بے منظری کا زہر آنکھوں میں بھر گیا

مرے سفر کو اور بھی دشوار کر گیا

اپنے سوا تھا کون جسے دیتا میں شراب

اپنے ہی سر پہ ہاتھ رکھا اور مرگیا

نکل گیا تھامیں ایک دن اجاڑ راہوں پر

نہ مل سکا کبھی پھر گھرکا راستہ مجھ کو

نئی غزل میں بیک وقت وجود کی حفاظت اور وجود سے نفرت کا جذبہ اُبھرا ہے اکثر شعرا نے اس جذبہ کو بھرپور انداز میں پیش کیا ہے۔ نئے غزل گو ایک طرف تو اجتماعی لا شعور سے زیر اثر ماضی سے وابستہ رہنا چاہتے ہیں لیکن دوسری طرف خود ان کا وجود زمانے کے تقاضوں سے متصادم ہو کر مسلسل ریزگی کے عمل سے دو چار ہے۔ اس متضاد کیفیت نے نئی غزل میں تنہائی اور اکیلے پن کے احساس کو شدید کر دیا ہے، شاعر خود کو سب سے کٹا ہوا، اکیلا، اداس اور تنہا محسوس کرتا ہے، مجمع میں تنہائی کا یہ احساس کمار پاشی کے یہاں اکثر نمایاں ہوتا ہے۔

ہر ایک سمت ہے آسیب مرگ چھایا ہوا

میں اپنے جسم کو لے کر کہاں نکل جاؤں

بیٹھ کے تنہائی میں آپ اپنے سے

میں کوئی پرانا رشتہ ڈھونڈ رہا ہوں

اپنی پہچان کھو چکا ہوں میں

میری بے چہرگی کو چہرہ دے

جگنو کوئی ظلمت کو مٹانے کے لئے دے

اک خواب تو آنکھوں میں سجانے کے لئے دے

خبر اب جو اس کے نہ آنے کی ہے

شرارت یہ سارے زمانے کی ہے

انا کو نہ یادوں کی محفل میں لا

کہ یہ چیز گھر رکھ کے آنے کی ہے

بڑی خوب صورت ہے پاشی مگر

غزل یہ پرانے زمانے کی ہے

 

 نداؔ فاضلی:

ندا فاضلی اگرچہ نظم کے شاعر ہیں لیکن ندا نظم کے ساتھ غزل میں بھی کامیاب نظر آتے ہیں انہوں نے غزلیں بہت کم کہی ہوں لیکن اب تک انہوں نے جتنی غزلیں کہی ہیں ان میں ان کا منفرد اسلوب بول رہا ہے۔ حسب ذیل اشعار ملاحظہ ہوں۔

دنیا جیسے کہتے ہیں بچے کا کھلونا ہے

مل جائے تو مٹی ہے کھو جائے تو سونا ہے

اچھا سا کوئی موسم تنہا سا کوئی عالم

ہر وقت کا رونا تو بے کار کا رونا ہے

برسات کا بادل تو دیوانہ ہے کیا جانے

کس راہ سے بچنا ہے کس چھت کو بھگونا ہے

غم ہو کہ خوشی دونوں کچھ دیر کے ساتھی ہیں

پھر رستہ ہی رستہ ہے ہنسنا ہے نہ رونا ہے

یہ وقت جو تیرا ہے یہ وقت جو میرا ہے

ہر گام میں پہرہ ہے پھر بھی اسے کھونا ہے

نداؔ کی ابتدائی شاعری گھر آنگن کی شاعری سے قریب تر معلوم ہوتی تھی اور ذہنی و اعصابی سکون کے لئے وہ پر امن گھریلو مسرت کو لازمی طور پر اختیار کرنے کی کوشس کرتے رہے۔ ان کا رومانی مزاج اپنے آنگن اور گھر میں عورت کو ڈھیلے ڈھالے ملبوس میں بغیر اوڑھنی کے دیکھنے کی کوشش، انفرادیت کی حامل تھی مگر بعد کی شہری زندگی سے پیدا شدہ انتشار اور خاندانوں کے بکھرنے کا کرب ان کا المیہ بنتا گیا اس لئے وہ خوابوں اور خیالوں کی دنیا آباد کرتے رہے۔

شیشے سے ڈھلا چوکا موتی سے چکنے برتن

کھلتا ہوا اک چہرہ ہنستے ہوئے سو درپن

ہر پیڑ کوئی قصہ ہر گھر کوئی افسانہ

ہر راستہ پہچانا ہر چہرے پہ اپنا پن

لیکن ان مسرتوں سے محرومی کے بعد ان کا احساس زیادہ شدید ہو جاتا ہے۔ چنانچہ وہ مکمل انسان کا ذکر کرنے کے بجائے اس کے خصوصی اجزا کو اہمیت دینے لگتے ہیں۔

رستے میں وہ ملا تھا میں بچ کر نکل گیا

اس کی پھٹی قمیص مرے ساتھ ہو گئی

نقشہ اٹھا کے کوئی نیا شہر ڈھونڈئیے

اس شہر میں تو سب سے ملاقات ہو گئی

نداؔ کا پہلا مجموعہ  ’’لفظوں کا پل‘‘ ساتویں دھائی کے اواخر میں شائع ہوا تھا، اور تقریبا دس سال بعد دوسرا مجموعہ  ’’مور ناچ‘‘ منظر عام پر آیا، دونوں کی غزلیں ایک ارتقائی بالیدگی کی نشاندہی کرتی ہیں پہلے ندا کی غزلوں میں ایک قسم کی انسانیت کے ساتھ دیہات اور گاؤں کی فضا کا ذائقہ ملتا تھا اور اب ان کے یہاں ایک طرح کی صلابت برد باری اور مشینی شہر کی جھلکیاں نظر آنے لگی ہیں۔ غزل اب بھی وہ جی جان سے کہتے ہیں، لیکن ان میں معصومیت اور محویت کی جگہ حزنیہ لا ابالی پن اور شاعرانہ تدبر کی آمیزش سے ایک نیا ذائقہ پیدا ہوا ہے۔ اور محسوس ہوتا ہے کہ ندا نظم کی جگہ غزل ہی میں زیادہ کامیاب رہیں گے۔

کرن کرن الساتا سورج پلک پلک کھلتی نیندیں

دھیمے دھیمے بکھر رہا ہے ذرہ ذرہ جانے کون

جانے کیا کیا بول رہا تھا سرحد، پیار، کتابیں، خون

کل میرے بستر پر ٹک کر لیٹ گیا تھا جانے کون

مرے بدن میں کھلے جنگلوں کی مٹی ہے

مجھے سمیٹ کے رکھنا بکھر نہ جاؤں میں

یہاں تو تیری شباہت کا عکس ہے ہر سو

جہاں پہ صاف ہو منظر وہاں سے چھوڑ مجھے

پڑے جو کہیں آنکھ تماشا نظر آئے

سورج میں دھواں چاند میں صحرا نظر آئے

ہر راہ گذر راستہ بھولا ہوا بالک

ہر ہاتھ میں مٹی کا کھلونا نظر آئے

وہ دور جو حسین سا منظر دکھائی دے

دیکھو اگر قریب سے بنجر دکھائی دے

اونچی عمارتوں کی یہ بستی عجیب ہے

ہر شکل اپنے جسم سے باہر دکھائی دے

سورج کی دھوپ پی کے سب انسان مر گئے

ہرسمت ریل، کار، کا منظر دکھائی دے

نئی غزل، نئی شاعری کی ایک معتبر صنف سخن ہے جس میں جدید فکر کا بھرپور اظہار ہوا ہے، بانیؔ، اشکؔ، بشیرؔ بدر، کمار پاشیؔ، فضیلؔ جعفری اور عتیقؔ اللہ وغیرہ نے نئی غزل کو اپنے فکر و فن کی دولت سے مالامال کیا ہے۔ نداؔ کی غزلیں جو تعداد میں کم ہیں ان کے اشعار ان کی انفرادیت کے آئینہ دار ہیں لیکن نداؔ اپنی غزلوں کی طرف زیادہ توجہ دیں تو اور بہتر ہو گا۔

ذہانتوں کو کہاں قرب سے قرار ملا

جسے نگاہ ملی اس کو انتظار ملا

وہ کوئی راہ کا پتھر ہو یا کھلا منظر

جہاں سے راستہ ٹوٹا وہیں قرار ملا

تمام عمر زمینوں کی جستجو ہی رہی

ہر اک دیار مسافر کو بے دیار ملا

کوئی پکار رہا تھا کھلی فضاؤں میں

نظر اُٹھائی تو چاروں طرف حصار ملا

چھوٹی بحر میں ایک غزل کے چند شعر دیکھئے

زندگی انتظار جیسی ہے

دور تک رہگذار جیسی ہے

چند بے چہرہ آہٹوں کے سوا

ساری بستی مزار جیسی ہے

راستے چل رہے ہیں صدیوں سے

کوئی منزل غبار جیسی ہے

زندگی تو ہے بے بدل لیکن

قیمتی شئے ادھار جیسی ہے

شاہد کبیر اور ندا فاضلی کے مراسم گہرے تھے۔ ندا فاضلی کا جنم ۱۲؍ اکتوبر ۱۹۳۸ میں دہلی میں ہوا اور بچپن گولیار میں گذرا، گولیار میں ہی رہتے ہوئے انہوں نے اردو ادب میں اپنی پہچان بنا لی تھی۔

شاہد کبیر اور ندا فاضلی کے مراسم، مشاعروں کی دین تھی اور یہ مراسم وقت کے ساتھ ساتھ گہرے ہوتے گئے جن کا ثبوت آج بھی شاہد کبیر کی فائلوں میں موجود ندا فاضلی کے کئی خطوط ہے۔

ذیل میں ستمبر ۱۹۷۹ کے ایک خط کا حوالہ دیا گیا ہے۔

برادرم تسلیم،

آپ کی ایک غزل  ’’پھولوں کی برسات‘‘میرے دوست انور HMV کے لئے ایک پرائیوٹ البم میں گانا چاہتے ہیں۔

آپ کی تحریری اجازت کی ضرورت ہے۔ اچھے ہو گے

آپ کا۔۔۔۔ ۔۔۔

ندا فاضلی

در اصل شاہد کبیر اور ندا فاضلی دونوں ہی گلو کاروں کے پسندیدہ شاعر تھے اور مشاعروں کے بھی اس لئے یہ تعلقات اور گہرے ہوتے گئے شاہد کبیر کی غزلوں میں  ’’گھر‘‘ کو بہت اہمیت حاصل ہے۔ اور اس کی جھلک ندا فاضلی کے یہاں بھی ملتی ہے۔

اپنا غم لے کے کہیں اور نہ جایا جائے

گھر میں بکھری ہوئی چیزوں کو سجایا جائے

گھر سے مسجد ہے بہت دور چلو یوں کر لیں

کسی روتے ہوئے بچے کو ہنسایا جائے

چاند سے، پھول سے، یا میری زباں سے سنئیے

ہر طرف آپ کا چرچا ہے جہاں سے سنئے

سب کو آتا ہے کیا جیون کو سجا کر جینا

زندگی کیا ہے محبت کی زباں سے سنئے

کیا ضروری ہے کہ ہر پردہ اٹھایا جائے

مرے حالات بھی آپ اپنے مکاں سے سنئے

دھوپ میں نکلو گھٹاؤں میں نہا کر دیکھو

زندگی کیا ہے کتابوں کو ہٹا کر دیکھو

پتھروں میں بھی زباں ہوتی ہے دل ہوتا ہے

اپنے گھر کے در و دیوار سجا کر دیکھو

 

مظفر حنفیؔ:

شہاب جعفری، محمد علوی اور زبیر رضوی کے بعد جو کہ ۶۰ کے ذرا سینئر شعرا میں سے ہیں ان کے بعد ۶۰ کے تازہ دم شعرا جس میں ندا فاضلی، مظفر حنفی، بمل کرشن اشک، کمار پاشی اور عادل منصوری وغیرہ شامل ہیں جو غزلوں میں سے اپنی مخصوص لفظیات کے لئے اہم ہیں۔ مظفر حنفیؔ کے سوا چاروں شاعروں نے نظمیں بھی لکھی ہیں اور غزلیں بھی لیکن ان چاروں شعرا کے مقابلے میں مظفر غزل کی طرف زیادہ راغب ہیں جبکہ دوسرے نظموں کے بھی کامیاب شاعر ہیں۔ تا حال مظفر حنفی کے کئی شعری مجموعے سامنے آ چکے ہیں۔ اور وہ تقریباً ۲۰ برسوں سے اپنے قلم کے ساتھ سرگرم ہیں  ’’طلسم حرف‘‘ تیکھی غزلیں، صریر خامہ، دیپک راگ، پانی کی زبان عکس ریز، یمب یم‘‘ ان کے شعری مجموعے میں مظفر کے بارے میں عمیق حنفی نے لکھا ہے کہ:

مظفر حنفی شروع ہی سے ہیئت و اسلوب کے لحاظ سے وضع دار رہے ہیں، اور اردو کی شعری روایت اور جمالیاتی حسن کی پاسداری قائم رکھتے ہوئے اپنے تجربے اور حسیت کے نئے پن اور عصریت کا اظہار کرنا ان کافن ٹھہرا ہے بول چال کی زبان سے قریب ہو کر کھنکتے ہوئے گونجتے ہوئے قافیے ان کے برتاؤ سے کبھی چبھتا ہوا طنز بن کر سامنے آتے ہیں، کبھی لفظوں کی ڈرائنگ، زبان، کبھی ان کے تجربے کو دھوکا نہیں دیتی، ان کے تجربے ہی کی طرح ان کی زبان بھی حساس اور زندہ ہے اس لئے ہیئت کی روایت اور اظہار کی جدت دونوں کو وہ بیک وقت خوش رکھ سکتے ہیں، روایت کا احترام کرنے والا کوئی شاعر شعور و ابلاغ کی سطح پر عصری حیثیت اور نجی تجربے کو شعری صورت دینے میں مظفر سے بہتر طریقے زبان کو شاید ہی برت سکے مظفر حنفی کی شاعری کو بغیر کسی لیبل کے نہ صرف پسند کیا جا سکتا ہے، بلکہ پہچانا بھی جا سکتا ہے۔ یہ سعادت یکسانیوں کے دور میں کسے نصیب ہوتی ہے۔

مظفر کے یہاں موضوعات اور تجربات گوناگوں میں وہ زندگی سے قریب ہو کر حالات معاملات اور لمحات کی مختلف لہریں بناتے ہیں۔

سرسراتے ہیں یہاں مارِ قضا سنتے ہو

وہ بلاتا ہے ہمیں کوہ ندا سنتے ہو

کس طرف جائیں مقفل ہیں دریچے سارے

در تک آ پہنچا ہے سیلاب بلا سنتے ہو

اک ستارہ سا کہیں ٹوٹ گیا پہلو میں

درد کی رات نے چپکے سے کہا سنتے ہو

آج کے ادب میں عصری آگہی ایک مروج اصطلاح ہے، عصریت کا اظہار مظفر کے یہاں بڑے نپے تلے انداز میں ملتا ہے۔

پھر مکڑیاں سی رینگ رہی ہیں دماغ میں

ذہنوں سے آگہی کا یہ جالا نہ جائے گا

لیکن اسی عصری آگہی کا دف جس طرح دوسروں نے محض فیشن کے طور پر استعمال کیا ہے مظفر ان کے خلاف یوں احتجاج کرتے ہیں۔

ہمارے زخم سر کو ناخن وحشت ہی کیا کم تھے

کہ عصری آگہی کے سینگ بھی سر سے نکل آئے

اسی طرح وہ اپنی انا کی حفاظت کے لئے کسی خول میں بند نہیں ہونا چاہتے بلکہ اس قدر پھیل جانا چاہتے ہیں کہ دست قاتل شل ہونے لگے۔

خشک آنکھوں سے نکل کرآسماں پر پھیل جا

اے غبار آرزو تا حد نظر پھیل جا

موتیوں کی آبرو کو لوٹنے والے بہت

سیپ کے قیدی سمندر در سمندر پھیل جا

مگر مظفر درد سے گھبراتے ہیں، دکھ سے آنکھ نہیں چراتے وہ غم کو غم ذات کو اپنی ذات پر اس طرح روشن کر لینا چاہتے ہیں کہ ذات جلاپا جائے وہ آنسوؤں کو رائیگاں نہیں جانے دینا چاہتے بلکہ اسی سے اپنی ہستی کو دھو کر نکھار پیدا کرنا چاہتے ہیں۔

یوں پلک پر جگمگانا دو گھڑی کا عیش ہے

روشنی بن کر مرے اندر ہی اندر پھیل جا

بہت ہے ہم صلیب پر چڑھ جائیں ایک دن

احباب پر خلوص کو ٹالا نہ جائے گا

یہ روگ جان بوجھ کے پالا نہ جائے گا

مجھ سے کسی کا نام اچھالا نہ جائے گا

غرض مظفر حنفی کی غزل اور شاعری ۶۰ کے بعد اردو میں نئے امکانات کی جستجو نئی جہتوں کی تلاش نو بہ نو تجربہ کرنے نیز اپنے منفرد طرز بیان سے دوسروں کے مقابلے میں قد آور نظر آتی ہے۔

 

مخمور سعیدی:

 

(ولادت دسمبر۱۹۳۴ء (ٹونک، راجستھان)، تاریخ وفات ۲؍ مارچ ۲۰۱۰ء) شاعر، نقاد، صحافی، مترجم دس شعری مجموعے  ’’گفتنی‘‘ سیر بر سفید، آواز کا جسم، سب رنگ، واحد متکلم، آتے جاتے لمحوں کی صدا، بانس کے جنگلوں سے گزرتی ہوا، دیوار و در کے درمیاں، عمر گزشتہ کا حساب (دو جلدوں میں) اور  ’’راستہ اور میں‘‘ متعدد کتابوں کی ترتیب و تدوین اور تراجم جن میں مرزا غالب کی دستنبوہ کا فارسی سے اردو میں ترجمہ بھی شامل ہے،  ’’راستہ اور میں‘‘ پر ساہتیہ اکادمی ایوارڈ ملا، قیام دہلی سے شاہد کبیر سے گہری دوستی تھی۔

مخمور سعیدی کا نام غزل کے سرزمین میں ایک منفرد نام ہے، ان کا کلام تکلف اور بے جا آرائش سے پاک ہے، وہ نہ صرف نئی غزل کے پیش رو ہیں بلکہ اس میں خلوص و لگن مخمور کی خوبیاں ہے جو ان کو ایک، میچور (mature) شاعر ثابت کرتی ہیں، مخمور جدیدیت کے رجحانات کی مقبولیت سے پہلے کے (شاعر) لکھنے والوں میں سے ایک ہیں، اور ان کے پہلے مجموعہ کلام  ’’گفتنی‘‘ کی تخلیقات سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس دور میں ان پر رومانیت کا غلبہ رہا ہے لیکن بعد میں آنے والے شعری مجموعے ’سیر بر سفید‘‘  ’’سب رنگ‘‘،  ’’آواز کا جسم‘‘، واحد متکلم اور  ’’آتے جاتے لمحوں کی صدا‘‘ کی غزلیں ان کے تدریجی ارتقاء عصری آگہی اور نئی بالیدگی کے مظاہر ہیں۔

مخمور کی غزلوں کی بنیادیں اپنے ماضی اور روایت سے رشتہ مضبوط رکھتے ہوئے اور ماضی کی زرخیزی سے آج کے حالت میں غزل کو پروان چڑھانے کے لئے جس آب و ہوا کی ضرورت ہے اس کی کھوج اور تلاش میں اس کو پانے میں غزل میں اس کے برتنے میں اپنی ذہنی بالیدگی سے کام لیا ہے، ان کے لہجوں کی سنجیدگی خیال کی تازگی اور موضوعات کا نو بہ نو ہونا بطور خاص قابل ذکر ہیں وہ ایہام کو قائدے سے برتنے کے قائل ہیں، ان کے یہاں ایہام کم ہے اور جہاں استعمال ہوتا ہے حسن پیدا کرتا ہے، علامات کا استعمال مناسب ہے، ایسی علامات سے گریز کرتے تھیں جس کے لئے ذہنیی مشق کرنی پڑے، عہد نو اور حیات نو کی پیچیدہ نفسیات کو شعر کا موضوع بنا کر تر سیل میں کامیاب ہونا کوئی مخمور سے سیکھے، مخمور نے اپنی تخلیقات میں انفرادیت کے لئے، تخلیقی انفرادیت کی تشکیل کے لئے غزل کے خارجی اور باطنی دونوں پہلوؤں پر توجہ دی ہے، چنانچہ جہاں ان کے موضوعات نئے ہے وہیں انہیں نئے انداز میں نظم کرنے کی کوشش بھی کی گئی ہے، نئے دلکش اور پر لطف قافیے ان کی غزلوں میں خوبصورتی اور تازگی پیدا کرتے ہیں۔

اب جہاں پاؤں پڑے گا یہ دَلدَل ہو گی

جستجو خشک زمینوں کی نہ کر پانی میں

سوکھے پتے گلدانوں میں سجا گئی تھی رات

آج بڑھے دو ہاتھ اچانک اور انہیں دکھلائی آگ

حریف ظلمت شب ہوں مگر سمجھتا ہوں

میں اک ستارہ لرزاں مری ضیا کتنی

مخمور کی غزل کا بے ساختہ پن ملاحظہ ہو۔

ہوا نہ سلسلہ درد منتشر سمجھ سے

کہ ساتھ اپنے بکھرنے کا خوف تھا مجھ کو

میں آپ اپنی خموشی کی گونج میں گم تھا

مجھے خیال نہیں کس نے کیا کہا مجھ کو

پکارتے تھے کئی نقش نا تراشیدہ

سکوت سنگ سے آتی تھی اک صدا مجھ کو

لفظ  ’’سفر‘‘ کو ذہن میں رکھ کر یہ شعر ملاحظہ کیجئے۔

نکلے تھے قریب کے سفر پر

صدیوں کی مسافت آ پڑی ہے

اکثر ناقدین نے نئے شعرا کے یہاں تغزل کے فقدان کا رونا رویا ہے مگر آج کے جدید معاشرے کی روشنی میں تغزل کی لطافت مخمور کے یہاں دیکھئے کہ کس خوبی نے شعر کہا ہے۔

لڑ لئے اس سے چلے آئے وہاں سے اٹھ کر

اب کہاں جا کے مگر وقت گذارا جائے

ٹوٹے ہوئے دل لگ گئے تعمیر انا میں

بگڑا ہوا اک ربط بنانے کا بہت دکھ

اور دل کو چھوتا ہوا یہ شعر دیکھئے۔

آگے بڑھ جائیں گے پھر دونوں ہی چپ چپ یوں تو

میں پکاروں گا تمہیں تم بھی ٹھہر جاؤ گے

مخمور کے یہاں ایسے اشعار کی کمی نہیں جو ہر اچھے قاری کی دل جوئی کریں۔

آگے اس موڑ کے رستہ ہو نہ جانے کیسا

دفعتاً آ کے یہاں پاؤں پھسلتا کیوں ہے

جزو جاں ہونے دے شاید یہی امرت بن جائے

زہر غم پی ہی لیا ہے تو اگلتا کیوں ہے

ضرورت اس بات کی ہے کہ مخمور کی پوری پوری غزلیں نقل کی جائیں لیکن طوالت کے خوف کے سبب کچھ غزلوں کے چند اشعار ملاحظہ ہوں:

مکینوں کو ترستا ہر مکاں ہے

مگر اب شہر میں امن و اماں ہے

لُٹی کیوں دن دہاڑے گھرکی پونجی

جو اس گھرکا محافظ تھا کہاں ہے

فسانے گڑھ رہا ہے جھوٹ ان کا

مگر میری صداقت بے زباں ہے

مری نیندوں پہ سائے قاتلوں کے

مرے خوابوں میں مقتل کا سماں ہے

تلخیِ زیست کا احساس بڑھا دیتا ہے

لمحہ لمحہ مجھے جینے کی سزا دیتا ہے

زہر پینے کو بہکنے کو فضا دیتا ہے

غم کا موسم مجھے سرسبز بنا دیتا ہے

کچھ عجب ڈوبتے منظر ہیں مری آنکھوں میں

کوئی منظر ہو، اب اس دل کو ڈھا دیتا ہے

تشنگی کا یہ سفر ختم بھی ہو گا کہ نہیں

ہم بھٹکنے کو چلے آئے سرابوں میں کہاں

تو جب سے نہیں تیرے جواں شہر کا منظر

چپ چپ سا کسی چاہنے والے کی طرح ہے

 

مدحت الاختر:

اصلی نام محمد مختار ابن حافظ رحمت اللہ، قلمی نام مدحت الاختر ۱۵؍مئی ۱۹۴۵کو کامٹی (ضلع ناگپور) میں پیدا ہوئے۔ ۱۹۶۲میں ربانی ہائی اسکول کامٹی سے میٹرک کا امتحان امتیازی نمبروں سے پاس کرنے کے بعد ناگپور مہاودیالیہ، ناگپور سے ۱۹۶۷ء میں فارسی میں ایم۔ اے کیا اور ایم۔ اے کے جملہ مضامین میں سب سے زیادہ نمبر لے کر ناگپور یونیورسٹی کا خان بہادر ایچ۔ ایم۔ ملک گولڈ میڈل حاصل کیا۔ ۱۹۶۹میں فرسٹ کلاس فرسٹ کی پوزیشن میں اردو سے ایم۔ اے کیا۔ ۱۹۷۹میں ناگپور یونیورسٹی ہی سے ڈاکٹر خواجہ محمد حامد صاحب کی نگرانی میں نظری نیشاپوری، پر تحقیقی مقالہ لکھ کر فارسی میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔

ایک قلیل مدت کے لئے جگدمبا مہاودیالیہ اچل پور شہر (ضلع امراؤتی) کے شعبہ اردو میں برسر روزگار رہنے کے بعد ۱۹۷۱ء میں مہاراشٹر ایجوکیشنل سروس کے لئے منتخب ہوئے اور ناگپور مہاودیالیہ میں شعبۂ اردو فارسی سے منسلک ہو گئے۔ آپ مہاراشٹر اسٹیٹ اردو ساہتیہ اکادمی کے فعال ممبر رہ چکے ہیں۔ مہاراشٹر اسٹیٹ بورڈ آف سیکنڈری اینڈ ہائر سیکنڈری ایجوکیشن کے زیر اہتمام گیارہویں جماعت کی کتاب مرتب کی۔ پوری اردو دنیا میں جدید غزلوں کے اولین انتخاب کی ترتیب شاہد کبیر کے ساتھ مل کر  ’’چاروں اُور‘‘ کے نام سے ۱۹۶۸ء میں کی۔ اس کی مقبولیت و افادیت کے پیش نظر مراٹھوڑہ یونیورسٹی نے اسے بی اے کے اردو نصاب میں شامل کیا۔  ’’منافقوں میں روز و شب‘‘ (مطبوعہ۔ ۱۹۸۰ ء) ان کا پہلا شعری مجموعہ تھا۔ اس کے بعد ان کا دوسرا مجموعہ کلام ۲۰۰۴ء میں  ’’میری گفتگو تجھ سے‘‘ لائف ٹائمز پبلی کیشنز سے شائع ہوا۔

۹؍ستمبر۱۹۹۹ء میں لکھے گئے ایک مضمون  ’’منفرد لب و لہجے کا شاعر‘‘ میں شاہد کبیر لکھتے ہیں:

’’غالب نے اپنے رقیب کی لغزش کو انسانی نفسیات کی کمزوری پر محمول کر کے نظر انداز کر دیا تھا۔

دیا ہے دل اگراس کو، بشر ہے کیا کہیے

ہوا رقیب تو ہو، نامہ بر ہے کیا کہیے

مگر مدحت کی ہجویات میں سب سے اہم اور عجیب بات یہ کہ رقیب پر طنز و ملامت اور غم و غصے کا اظہار کرنے کے باوجود جگہ جگہ اس بات کا شدید احساس ہوتا ہے کہ انتہائی منافقت اور دشمنی کے باوجود ان کے دل کے کسی گوشے میں اپنے رقیب سے ماضی قریب کے خوشگوار تعلقات کے اثرات ابھی تک باقی ہیں۔

اس پرسلامتی ہو اگر وہ شریف ہے

مجھ پر خدا کی مار اگر بدمعاش ہوں

خدا کرے کہ اسے جلد عقل آ جائے

ابھی وہ خود کو سمجھتا ہے ہوشیار بہت

تمہاری راہ سے میں ہٹ گیا ہوں

تمہیں اب گمرہی کا ڈر نہ ہو گا

تیری لغزش پہ اگر ٹوک نہ دیتا تجھ کو

میں ترا دوست نہ ہوتا ترا دشمن ہوتا

مدحت کے یہاں رقیب کے ساتھ اس طرح کے سلوک سے ایک نئے رشتے کا انکشاف ہوتا ہے اور شاید یہ رشتہ درد کا وہی رشتہ ہے جو عاشق کو اپنے محبوب کے ساتھ ہوتا ہے۔ یہ وہ انداز فکر اور تلازمے ہیں جو مدحت الاختر کو دیگر شعرا سے علیحدہ کر کے ایک منفرد شاعر کے مقام تک پہنچاتے ہیں۔‘‘(میری گفتگو تجھ سے، از۔ ڈاکٹر مدحت الاختر، ۲۰۰۴)

مدحت الاختر غزل کا ایک اہم نام ہے، ان کا تخلیقی سفر ۶۵ء کے آس پاس سے شروع ہوتا ہے وہ مسلسل لکھ رہے ہیں، تازہ دم لکھنے والوں میں اور خاص طورسے غزل گویوں میں ان کا نام اس لئے بھی نمایاں نظر آنے لگتا ہے کہ انہوں نے صنف غزل کی آبیاری کے لئے جس سعی سے کام لیا ہے وہ غزل کے ساتھ ان کی وفاداری کی دلیل بن گئی ہے جبکہ آج کے بیشتر شعراء نے نظم اور غزل دونوں کو اپنے اظہار کا ذریعہ بنایا ہے جو آج اظہار کے لئے ضروری معلوم ہوتا ہے، جہاں تک مجھے علم ہے مدحت نے کبھی نظم نہیں کہی، غزل کہنا بظاہر جتنا آسان نظر آتا ہے غزل کے ساتھ نبھانا اتنا ہی مشکل کام ہے سہل پسندی غزل کی فطرت نہیں، غزل ایمائیت اور رمزیت کی متلاشی اور تخلیقی ذہن کی طلب گار ہے۔

نشتر کے کھلنڈرے پن اور سرکشی کے بر عکس مدحت کا لہجہ زیادہ مہین اور سنجیدگی کا حامل ہے۔ شدید رد عمل، بے باک گفتار مدحت کے یہاں بھی موجود ہے لیکن ان کے لہجے کی معصومیت شامل طنز اور کلاسیکی رچاؤ کے ساتھ خوبصورت پیکر کا روپ دھار کر سامنے آتی ہے۔

’’منافقوں میں روز و شب‘‘ آج کے اس انسان کی داستان ہے جو کئی دائروں میں بٹاہواقسطوں میں جی رہا ہے نیز دریدہ ذہن سماج کی لایعنیت اور بد انتظامی کے درمیان اپنے آپ کوسمیٹنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اس سعی میں مدحت کی غزل کے کینواس پرایسی تصویریں بنتی ہیں جس میں بہتوں کو صرف اپنی ہی جھلک دکھائی پڑتی ہے۔

کب اپنے کئے کا مجھے اقرار نہیں

وہ سنگ اٹھائے جو گنہگار نہیں

میں بھی اس انبوہ، نام داں میں شامل تھا

ایک لڑکی مجھ کو جنگل میں بھگا کر لے گئی

ان کے یہاں فرد اور سماج مل کر ایک زاویہ بناتے ہیں شاعر کا یہ رویہ اس بات کی بھی تردید کرتا ہے کہ وہ صرف اپنی ہی ذات کے صحرا میں گم نہیں ہے۔

ہزار آنکھ سے رویا تری جدائی میں

نہ ہو گا میری طرح کوئی خود نمائی میں

بازار میں مٹی کے گھڑے تھے سبھی کچے

سازش مجھے لہروں میں ڈبو کر رہی آخر

نئی زندگی اپنے آپ میں بڑی absorb ہے مختلف النوع تقاضوں کے سبب اصولی زندگی کا تصور خواب ہوتا جا رہا ہے یوں بھی کسی ایک سسٹم میں قید ہو کر زندگی جینے سے انسان کے اندر کا وہ فرد سالم نہیں رہ پاتا، علاوہ آج کے حالت و واقعات وہ ہیں وہ سامان مہیا کر رہے ہیں کہ انسان کا چہرہ مسخ ہوتا چلا جا رہا ہے اس کے ساتھ ہی نمائش اور تصنع کی قلم کاری، بھیڑ میں صورتوں کی شناخت کو مشکل بنا رہی ہے، مدحت ایک طرف زمانے کی اس ہولناکی کو مصور کرنے میں کامیاب رہے ہیں تو دوسری طرف آج کے انسان کے مسائل، سماج کی افلاطونیت اور اپنی جرأت کو فنکارانہ ایمانداری سے شعر میں برتا ہے۔

اس سمندر میں گرے چاروں طرف کے دریا

کون سا رنگ مری ذات کے اندر نہ ملا

اب آئے ہو میری در پر تو پھر مزا بھی چکھو

کیا تھا حوصلہ کیوں مجھ کو آزمانے کا

دیوتا کہہ کر اسے سیدھا کیا

راستے میں جو نیا پتھر ملا

جن ہواؤں کے اشارے پہ زمین چھوڑی تھی

ان ہواؤں نے مجھے خاک پہ ڈالا ر بی

ہزار رنگ ہیں ہر رنگ کے تعاقب میں

ہر ایک چہرے کو چہروں کا سلسلہ کہیے

مدت ہوئی کسی نے اٹھایا تھا مسئلہ

رشتے رقابتوں کے گرہ در گرہ گئے

مدحت اپنی ہی ذات کے حوالے سے طنز کرتے ہیں:

ہم ہی شاید گراں ہیں دنیا پر

آپ تو پھول سے بھی ہلکے ہیں

دوستوں سے چکا رہا ہوں حساب

دشمنوں سے کہاں ٹھنی ہے ابھی

دیو قامت بنا ہوا گھوموں

اپنے قد کو مگر چھپا نہ سکوں

نغمے چھڑے ہوئے ہیں کوہ آہ کیا سنے

محفل جمی ہے عرض طلب کو نہ جائیے

مدت کے بعد گھر کی خبر لی ہے آپ نے

بکھرے پڑے ہیں نیم کے پتے سنبھالئے

مرے زول کی افواہ گرم تھی کب سے

لو آج میں نے حقیقت بنا دیا اس کو

تصنع اور تکلف سے پرے گرد و و غبار سے اٹے ماحول سے الگ مدحت کی معصومیت اپنے آپ کو الگ پاتی ہے اور الگ ہونے کا یہ احساس ان کے اکثر اشعار سے جھلکتا ہے۔

جاہلوں کے شہر میں سب سے بڑا جاہل ہوں میں

کیوں نہ اپنے نام کا سکہ یہاں جاری کروں

ہر شخص بے مثالی ہے اس کارگاہ میں

میرے سوا بھی کوئی یہاں بے ہنر تو ہو

مختلف موضوعات، ہم عصر زندگی، سماج اور اپنی ذات کے علاوہ اہم بات مدحت کی زبان و بیان پر قدرت، استعاراتی انداز، لفظوں کا علامتی استعمال، پیکروں کی تشکیل، معنی کی دریافت تراکیب کا نیا پن، شعری اظہار وہ نمایاں خصوصیات ہیں جو انہیں تازہ غزل گویوں میں بلند قد کرتی ہیں۔

میں سنگ گراں تھا نہ ہٹا راہ سے تیری

بے سود ترے پاوں کی ٹھوکر رہی آخر

 

ضیا۔ ضیاء الحق انصاری:

ضیا کا شمار ناگپور کے جدید شعرا میں ہوتا ہے۔ ان کا خاندان مبارک پور (ضلع اعظم گڑھ) کا ہے۔ وہیں سے ان کے جد اعلا جان محمد انیسویں صدی کی نویں دہائی میں ناگپور آئے اور یہیں کے ہو کر رہ گئے۔ ان کے جد امجد رحمت اللہ بنکر پیشہ تھے۔ وہ ہنڈ لوم پر ساڑیاں تیار کیا کرتے تھے انہوں نے ایک با عزت اور صاف ستھری زندگی گزار کر ۱۹۵۰ء میں رحلت فرمائی۔ ان کے دو بیٹے تھے۔ علیم اللہ اور کلیم اللہ، علیم اللہ ضیا کے والد تھے۔

علیم اللہ کا ذریعۂ معاش رخت سازی تھا۔ وہ بہت سیدھے سادے اور بھولے بھالے انسان تھے انتہائی جفا کش اور محنتی۔ سادگی، شرافت اور خلوص ان کی شخصیت کے اجزائے ترکیبی تھے۔ تقریباً ستر سال کی عمر کو پہنچ کر ۱۳؍دسمبر ۱۹۸۲ کو انتقال کیا اور دو بیٹے ضیاء الحق انصاری اور عبدالرب انصاری اور دو لڑکیاں یاد گار چھوڑیں۔ ان دونوں بھائیوں نے اپنے اپنے فن میں کافی مقبولیت حاصل کی۔ ضیا نے شاعری کی دنیا میں نام کمایا اور عبدالرب انصاری نے درس و تدریس میں ایم کام ہیں اور اکاؤنٹنٹ جنرل آفس میں ملازمت کرتے ہیں ان کا ادبی ذوق تربیت یافتہ ہے۔ کبھی کبھی ادبی موضوعات پر مضامیں بھی لکھتے ہیں۔

ضیا ۲۱ اپریل ۱۹۳۸ء کو ناگپور میں پیدا ہوئے۔ عربی کی تعلیم جامعہ عربیہ اسلامیہ ناگپور سے حاصل کی اوربیت العلوم مومن پورہ ناگپور سے اردو کی چوتھی جماعت کا امتحان پاس کیا۔ گھر کی مالی حالت اچھی نہیں تھی اس لیے آبائی پشے رخت سازی میں مصروف ہو گئے۔

نمونۂ کلام:

ہزار روپ فروزاں ہے روشنی کی طرح

وہ اپنے گھر میں بھی تنہا ہے چاندنی کی طرح

یہی نہیں کہ زمانے سے رسم و راہ نہ کی

ہم اپنے گھر میں بھی رہتے ہیں اجنبی کی طرح

جلوس والے مکانوں کو پھونک بھی دیتے

یہی بہت ہے کہ گزرے ہیں آدمی کی طرح

بھٹک رہا ہوں سمندر کی جستجو میں ضیا

مرا و جود ہے بہتی ہوئی ندی کی طرح

لہو ہے آستیں کا یا حنا ہے

ہتھیلی پر دیا سا جل رہا ہے

وہی اک پیڑ سب کا آسرا ہے

جو جلتی دھوپ میں تنہا کھڑا ہے

چلو تم بھی کوئی پتھر اٹھا لو

مرے بھی ہاتھ میں اک آئینہ ہے

نکالی جائیں گی کل صبح لاشیں

ابھی تو گھاٹ پر میلہ لگا ہے

ضیا پرچھائیوں کا شہر ہے یہ

یہاں کس کو کوئی پہچانتا ہے

وہ چاند شب کی جھیل میں جب تک کھلا رہا

میرے بدن کا گرم لہو چاٹتا رہا

دستک سی دے گیا تھا درِ دل پہ کوئی شخص

برسوں میں اپنے جسم کے باہر کھڑا رہا

ان کا خیال ترکِ تعلق کے بعد بھی

پرچھائیں کی طرح میرے پیچھے لگا رہا

ناچتی گاتی رتوں کو کیا کروں

وہ ابھی پردیس سے لوٹا نہیں

تم اپنے ہاتھ کا پتھر اچھال کر دیکھو

تمہارے سامنے اک اور کانچ کا گھر ہے

میں ایک قیمتی لمحہ ہوں میری قدر کرو

سرکتی دھوپ کا سایہ ہے زندگی میری

خواہش دید نہ قربت کی طربناک ہوس

میں نے چاہا ہے تمہیں جنسِ، مقدس کی طر ح

میرے ہمراہ کئی آبلہ پا اور بھی تھے

پیاس کانٹوں کی مگر میں نے بجھائی تنہا

جسم کا بوجھ کہاں جا کے اتارا جائے

سرد ہے رات بہت کس کو پکارا جائے

(حوالہ: ناگپور میں اردو کا ارتقائی سفر، از: ڈاکٹر شرف الدین ساحلؔ ۱۹۹۳ء)

 

شریف احمد شریف:

(پیدائش: ۵؍ جولائی ۱۹۳۹ء۔ وفات: ۱۷؍مارچ، ۲۰۱۰ء)

کارِ جہاں بینی شریف احمد شریف کا پہلا مجموعہ کلام ہے جس کی اشاعت جنوری ۱۹۹۸ء میں ہوئی اس کتاب پر پروفیسر سید یونس نے پیش لفظ لکھا ہے، جس میں وہ لکھتے ہیں۔

’’اس خاکدان عالم میں جب بھی کسی عبقری صلاحیت کی حامل شخصیت genius کا سامنا ہو جاتا ہے، تو دل ایک قسم کے روحانی انبساط سے بھر جاتا ہے۔

میتھو آرنلڈ نے ولیم شیکسپئیر کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوے لکھا ہے۔

self schooled, self scanned, self honoured, self secure.

(اپنے آپ کو خود ہی تعلیم سے آراستہ کرنے والا، اپنے آپ کا خود ہی جائزہ لینے والا، اپنے آپ میں وقار مند، اپنے آپ میں مامون و محفوظ)

شریف احمد شریف کا نام نامی وسط ہند کے علمی، ادبی و شعری حلقوں میں نہایت احترام کے ساتھ لیا جاتا ہے اور اس کی ایک وجہ آپ کا تبحّر علمی اور غیر معمولی طور پر وسیع مطالعہ ہے جو تاریخ، فلسفہ، عمرانیات، فنون لطیفہ، کلاسیکی ادب سے لے کر پراچین بھارت کے سنسکرت و پالی پراکرت کے شعراء تک پر محیط نظر آتا ہے۔ اور سب سے زیادہ حیرت میں ڈالنے والی بات یہ ہے کہ یہ سب کچھ انہوں نے اپنی ذات کے بل بوتے پر حاصل کیا ہے، ہوا یوں کہ جب وہ دوسری جماعت اردو میں زیر تعلیم تھے تو ایک ایسا واقعہ پیش آیا جس کہ وجہ سے انہیں رسمی اسکولی تعلیم کو خیرباد کہنے پر مجبور ہونا پڑا اس وقت سے تا این دم انہوں نے اسکول یا کالج کی شکل نہیں دیکھی۔

غزل کے اشعار کو شریف احمد شریف نے اظہار ذات کا اصل وسیلہ بنایا ہے۔ ان کے اشعار ان کے مخصوص مزاج، شخصیت، کردار اور نقطۂ نظر کے آئینہ دار ہوتے ہیں، ان کی غزلوں میں قافیہ ردیف کی ندرت، خیال کی جدت، سوچ کی گہرائی اور رواں دواں بحروں کا انتخاب پایا جاتا ہے۔ وہ سادہ بیانی اور تہہ دار معنویت کو لسانی تلازموں کے ذریعہ اشعار کی بیجا زیبائش پر ترجیح دیتے ہیں، پہلے نعت کے دو شعر ملاحظہ فرمائیے۔

کرنیں ترے عارض سے شب غار حرا لے

خوشبو کے خزانے تری زلفوں سے صبا لے

ہم وہ کہ غلامی پہ تری ناز ہے جن کو

ہم قیصر و کسریٰ کا فسوں توڑنے والے

شریف کے انفرادیت پسند مزاج کے عناصر ترکیبی میں ان کی غیور اور خود دار طبیعت فقیری میں بادشاہی کرنے کی ادا، ایک قلندرانہ شان، عزت پسندی اور علم دوستی کی شمولیت نمایاں اہمیت رکھتی ہے۔ اس ضمن میں ان کے چند اشعار پیش خدمت ہیں۔

شریف اس کو اگر ہے شوقِ نیاز مندی

تو بارگاہِ فقیر میں تاجدار آئے

یہی وہ گھر ہے کہ جس میں شریف رہتا ہے

عیاں شکوہِ فقیری ہے بام و درسے بھی

شریف کم سخنی اور یہ کم آمیزی

کہو کہ تم سے ملاقات کیوں کرے کوئی

خبر نہیں طلب علم و آگہی کیا ہے

کچھ اور تشنہ بجھا کر میں اپنی پیاس ہوا

شریف کے یہاں دوسراقوی ترین جذبہ، اپنی مٹی سے پیار کا ہے جس کا اظہار ان اشعار میں جا بجا ہوا ہے، یہ جذبہ گھر، وطن اور زمین ان چاروں در پر محیط ہے۔

شریف اپنے بزرگوں کی چھوڑ کر قبریں

فرار کیسا وطن سے مہاجرت کیسی

جب اسی مٹی میں ملی کچھ کرچیاں انہین چبھتی ہیں تو دیکھئے کس قدر لطیف طنز پیدا کرتے ہیں۔

کسی دیار کی مٹی سے مجھ کو کیا لینا

شریف پانھوں میں چھالے بھی میرے شہر کے ہیں

کبھی کبھی یہی پیار عالمگیر شکل اختیار کر لیتا ہے۔

زمیں کی خاک تھا ترا مرا وجود

اسی کی گود میں ہمک کے سو گئے

ہاں یہ دنیا مجھے با وصف خرابی کے شریفؔ

جس طرف جاؤں مرے گھرکی طرح لگتی ہے

شریف کے کلام میں جگہ جگہ انسانیت کے لئے درد مندی اور اسی دنیا کو بہتر بنانے کی خواہش غزل کے نازک آبگینے کو سلامت رکھتے ہوئے نہایت شگفتگی اور رجائیت کے ساتھ اظہار پاتی ہے۔

کیسا آشوب ہے کہ سارے لوگ

ذات میں اپنی نوحہ گرہی ملے

ہم دشت کو گلزار بنا آئے ہیں یارو

ہاں پھر سے کوئی وادی پر خار ہمیں دو

شریف کے اشعار میں درد بینی، تلاش ذات اور عصری حسیّت کے رجحانات بیش از بیش پائے جاتے ہیں۔ نمونہ اشعار ملاحظہ فرمائیے۔

کچھ اس طرح سے رہے ذات کے قفس میں ہم

خود اپنے آپ سے باغی، خود اپنے بس میں ہم

کھوج میں اپنی پریشان و ہراساں ہو شریفؔ

خود میں کھونے کا ہنر آئے تو پالو خود کو

کار جہاں بینی کے پشت پر شاہد کبیر ، ڈاکٹر مدحت الاختر اور فروغ نقاش کی قیمتی رائے بھی درج ہے، شریف احمد شریف اور شاہد کبیر کے تعلقات بہت قریبی تھے، شاہد کبیر لکھتے ہیں۔

’’کائنات کاحسن ہو یا زندگی کی صعوبتیں شریف احمد شریف نے اپنے موضوعات کو جتنی بے باکی اور سچائی سے چھوا اور محسوس کیا ہے اتنی ہی جسارت اور صاف گوئی سے اظہار بھی کیا ہے۔ ممکن ہے یہ انداز شاعری کے مزاج کے لئے گراں ہو مگر شاعر کے لہجے کی یہی صلابت اس کی پہچان بھی بن سکتی ہے۔‘‘

ڈاکٹر مدحت الاختر کی رائے کچھ اس طرح ہے:

’’یاں وہی ہے جو اعتبار کیا۔۔۔

’’شریف احمد شریف ایک معتبر اور نکتہ سنج شاعر ہیں ان کا شاعرانہ اخلاص انفرادی محسوسات میں تعمیم اور اجتماعی تجربات میں تخصیص کا رنگ پیدا کر دیتا ہے وہ بہت سوچ سمجھ کر شعر کہتے ہیں اس لئے ان کے شعروں کے ساتھ انصاف کرنے کے لئے بھی سوچ سمجھ کی ضرورت ہے فی زمانہ یہ خوبی کتنوں کے یہاں پائی جاتی ہے۔ اور میرے نزدیک یہ انتہائی اہم اور متحسن بات ہے۔‘‘

کار جہاں بینی کی اشاعت جنوری ۱۹۹۸ء میں ہوئی تھی ان دنوں شریف احمد شریف صاحب بچوں کی نظم اور بچوں کے ادب پربھی کافی کام کر رہے ہیں اور اتنی غزل کہہ لی ہے کہ دوسرے مجموعے کلام کی اشاعت کے بارے میں بھی سوچ رہے ہیں، ان کی حال ہی میں کہی گئی تازہ غزل کا ایک شعر۔۔۔

شریف سا کبھی مرد فقیر آئے کوئی

غزل سرا کبھی شاہد کبیر آئے کوئی

شریف احمد شریف کی بچوں کی کہانیوں کا مجموعہ نیشنل کونسل فار پروموشن آف اردو لینگویج کے مالی تعاون سے مارچ ۲۰۱۰ء میں شائع ہوا ہے جس کا نام  ’’مٹھی بھر کہانیاں‘‘ ہے۔ دوسرا مجموعہ کلام  ’’یلغار صبح‘‘ زیر طبع ہے، (کار جہاں بینی۔ از شریف احمد شریف۔ جنوری ۱۹۹۸ء)

 

سید یونس:

سید یونس کی پیدائش ۲۳؍اگست ۱۹۳۲ء بمقام امڑاپور، ضلع بلڈانہ (مہاراشٹڑ) میں ہوئی ان کی ابتدائی تعلیم جوائنٹ مڈل اسکول، امڑاپور میں ہوئی اور ہائی اسکول کی پڑھائی انجمن ہائی اسکول کھام گاؤں ضلع بلڈانہ میں ہوئی۔

سید یونس کا پہلا مجموعہ کلام  ’’انکشاف‘‘ اکتوپر ۱۹۹۷میں شائع ہوا۔ اس کتاب پر آج کی پرچھائیوں کا شاعر‘‘ کے نام سے ایک مضمون لکھتے ہوئے عبدالرحیم نشتر کہتے ہیں۔

’’علاقہ ودربھ کے جدید شاعروں میں شاہد کبیر ، مدحت الاختر، عبدالرحیم نشتر، صفدر اور حفیظ مومن نے اپنے اظہارات کی ندرت نمائی سے اپنی پہچان بنا لی ہے، ان کے فوراً بعد ابھرنے والوں میں سید یونس کا نام حرف معتبر کی حیثیت رکھتا ہے، کہ وہ بھی تخلیق کی آنچ سے تپ تپ کر کندن ہو گئے ہیں۔ بد قسمتی یہ رہی کہ دھول میں اٹے پڑے اس ہیرے کو کسی نے کرید کر نہیں دیکھا۔

یونس کی غزلوں کا مطالعہ انہیں بھرپور با شعور اور تخلیقی فنکار ثابت کرتا ہے، ان کے فکر و خیال کی رفعت ان کے زاویۂ نگاہ کا عمق، ان کی سوچ کا پھیلاؤ ان کی ذہنی تڑپ کاشدیداحساس اور ان کے منزہ باطن کی فراخی انہیں ایک زبردست شاعر ثابت کرتے ہیں۔ وہ شعوری طور پر غزل کے جلال و جمال کا دلپذیر اہتمام کرتے ہیں۔

شاعر کے یہ اشعار پڑھئے۔

قتل کرنا ہو تو کب زہر دیا جاتا ہے

ان دنوں بس نظرانداز کیا جاتا ہے

وقت وعدوں کا سخت دشمن ہے

آدمی بے وفا نہیں ہوتا

اکیلا جھیلتا رہتا ہوں دکھ بصیرت کے

ہو جیسے کوئی پیمبر بغیر امت کے

ہونے کو کس عظیم حقیقت کا ہے ظہور

ناخن ہوا کا خول انا تک کھرچ گیا

تھی دیکھنے میں تو سادہ سی سرخی اخبار

ہوا ہے شہر میں کس کس کو اختلاج نہ پوچھ

سر ہتھیلی پہ ہے گوش بر آواز رہو

کون کہہ سکتا ہے کب حکم ہو صادر کوئی

چند دن خود کو برتنے کے ہیں ورنہ پھر تو

زندگی آپ ہی اوڑھے گی بچھائے گی تجھے

خبر یہ کر نہ سکا وقت کی تحریر کو حل

ہر نو شتے میں پر اسرار لکھاوٹ نکلی

یوں ہر روح اگر جسم سے انکار کرے

پھر جو مطلوب ہو حشر بپا کیسے ہو

(ناگپور میں اردو کا ارتقائی سفر، از: ڈاکٹر شرف الدین ساحلؔ ۱۹۹۳ء)

 

عبدالرحیم نشترؔ:

نشتر صاحب کو دیکھ کر یہ احساس بھی نہ ہو گا کہ یہ آدمی شاعر بھی ہو سکتا ہے مگر ذرا ان کے قریب جائیے، چہرے پر پھیلی مسکراہٹ کو دیکھئے، ان کی نظروں کا تجسس، چبھتا ہوا لہجہ، طنزیہ مسکراہٹ، تھوڑی دیر بعد آپ محسوس کریں گے کہ یہ آدمی اپنے سینے میں ایک درد مند اور حساس دل رکھتا ہے، نشتر صاحب بڑے Active آدمی ہیں، وہ بہت کچھ کرنا چاہتے ہیں کچھ کر کے دکھانا چاہتے ہیں، لیکن ان کے اطراف پھیلی ہوئی بے حسی اورسیاست سرد فضا کی شبنم ان کے ارمانوں پر گر کر انہیں مجبور اور مہر بہ لب رکھنے کی سعی میں مصروف نظر آتی ہے۔ انہیں حالات کے سبب ان کی غزلوں میں کھلنڈرے پن، سر کشی اور بغاوت کا جذبہ ابھرتا ہے اور ان پر جھنجھلاہٹ طاری ہوتی ہے مگر انہیں حالات میں وہ حقائق کا سامنا کرنے کی ہمت اور جرأت بھی پیدا کر لیتے ہیں ان کی شروع کی غزلوں میں اسی طرح کے احساسات اور اپنے اطراف پھیلی ہوئی زندگی کی بو باس اشعار میں جذب ہو کر اپنے مشاہدے اور تجربے کا اظہار کرتی ہے  ’’چاروں اُور‘‘  ’’ارتکاز‘‘ اور  ’’اعراف‘‘ میں شامل غزلوں کے اشعار بول چال اور خود کلامی کے انداز میں اپنی طرف متوجہ کرتے ہیں۔

ہو گی برسات بھیگ جاؤں گا

میں بھی اب کے نہیں نہاؤں گا

وہ شخص جس نے خود اپنا لہو پیا ہو گا

جیا تو ہو گا مگر کس طرح جیا ہو گا

خوش فہمیوں کا کرب اسے بھی نصیب ہو

سنتے ہیں وہ بھی دیرسے خوش ہو رہا ہے آج

دیکھو کہ میری شکل بھی میری نہیں رہی

لمحوں نے دے دیا مرے ہاتھوں میں آئینہ

دشت افکار میں سوکھے ہوئے پھولوں سے ملے

کل تری یاد کے منسوب اصولوں سے ملے

اپنی ہی ذات کے صحرا میں سلگتے ہوئے لوگ

اپنی پرچھائیں سے ٹکراتے ہیولوں سے ملے

ظلم روشن اپنے دئیے کی طرح

میں بھی چلتی ہوا کا جھونکا ہوں

روشنی کی لکیر بن کر آ

ان کی دیوار میں پڑی ہے دراڑ

بکھرا ہوا بادل ہوں مگریوں بھی نہ خوش ہو

میں ٹوٹ کر برسوں تو زمینوں کو ہلا دوں

ابھی تک وہی زہر ہے جسم میں

ابھی تک لبوں پر ہے وہ ذائقہ

کہ شاید نام میرا بھی کسی پھل پر نکل آئے

درختِ راہ کی شاخیں ہلا کر دیکھ لیتا ہوں

پھٹے پرانے بدن سے کسے خرید سکوں

سجے ہیں کانچ کے پیکر بڑی دکانوں میں

ہاتھ لگتے ہی جلائے جائیں

کیسے اوراق پہ مرقوم ہوئے

زمین پہ گرتے ہیں کٹ کٹ کے سر فرشتوں کے

عجیب زلزلہ آیا ہے آسمانوں میں

مگر  ’’شام گراں‘‘ (دوسرا مجموعہ کلام) تک پہنچتے پہنچتے نشتر صاحب کی یہ سرکشی اور بغاوت مایوسی اور محرومی سے ہم کنار ہونے لگتی ہے، شاعر ’اعراف‘‘ سے نکل کر شامِ گراں کی اندوہناکی حالات کی سختی اور گران باری کے ہاتھوں کرب زدہ زندگی گذارنے پر مجبور ہو جاتا ہے مگراس کے فن اس کو ایک نیا موڑ بھی عطا کرتا ہے۔

روشن ہے آسمان بنایا گیا ہمیں

خوابوں کے پر لگا کے اڑایا گیا ہمیں

رنگینی بہار دکھائی نہ دی کہیں

پھولوں کی رت جوان ہے سنایا گیا ہمیں

دکھلا دئیے ہواؤں کی شوخی نے سبز باغ

آنکھیں کھلی تو دشت میں پایا گیا ہمیں

راتوں کو آنے والی نئی صبح کی نوید

ان کو جھلستی دھوپ میں لایا گیا ہمیں

ہم کیا ہیں اپنی ذات کے باہر نہ کھل سکا

ہم کوئی راز تھے کہ چھپایا گیا ہمیں

واقعہ یہ ہے کہ نشتر صاحب کی ساری سعی وجد و جہد منصب پرستوں کی رعونت کا شکار ہوتی رہی، دوستوں کی غم خواری اور ہم نواؤں کی میٹھی گولی قسطوں میں اس کی جان لیتی رہی، مایوسی اور محرومی نے نشتر صاحب پہ تاریکی کی چادر تان دی مگرایسانہیں ہوا کہ اس کی سرکشی اور بغاوت کا شعلہ سرد ہو گیا ہو، نشتر مفاہمت کرتے ضرور نظر آتے ہیں لیکن یہ ان کی کمزوری کی دلیل نہیں ہے۔

یہ راکھ اڑ کے بھٹکتی ہے کیوں ہواؤں میں

نجانے کون سی اَن بن ہوں میں تمہارے بیچ

گرتی ہوئی دیوار بھلا کون سنبھالے

مجھ کو مری تعمیر کی حسرت نہ ملے گی

جھکتے نہ تھے کبھی جوکسی کے بھی سامنے

ہم جیسے خاک ساروں کے وہ سر کہاں گئے

ہاتھوں میں رہیں گے یہی سوکھے ہوئے پتے

موسم مجھے پھولوں کے خزانے نہیں دے گا

ہم بدنصیب لوگ اسے مانتے نہ تھے

تقدیر ہم کو بخش گئی بس دھواں غبار

بھٹک رہا ہے پرندہ یہ کیسے جنگل میں

ہوا بھی گرم ہے موسم بھی سخت لہجے کا

کھلے رکھو یہ دریچے نئی ہوا کے لئے

مچلتے خون کی دھڑکن ہوں میں تمہارے بیچ

 

ظفر کلیم۔ شمشیر خان:

ان کا آبائی وطن ناگپور ہے۔ ان کے والد شیر خان ابن محمد گلزار تجارت پیشہ تھے۔ انہوں نے ۱۹۷۰ء میں رحلت فرمائی۔ ظفر کلیم اپنے والد کے اکلوتے بیٹے ہیں۔ وہ ۵ دسمبر ۱۹۳۸ء کو ناگپور میں پیدا ہوئے۔ عربی فارسی کی تعلیم جامعہ عربیہ اسلامیہ ناگپور میں حاصل کی۔ مدرسہ اسلامیہ مومن پورہ ناگپور میں حافظ عبدالستار سے قرآن کریم پڑھا اور اردو کی ابتدائی تعلیم مومن پورہ اردو پرائمری اسکول سے حاصل کی۔ اس کے بعد انجمن ہائی اسکول ناگپور میں داخلہ لیا۔ وہاں سے ۱۹۵۸ء میں میڑک کا امتحان پاس کیا۔ پھر مزید تعلیم حاصل نہ کر سکے۔ دو سال بعد ۱۹۶۰ء میں اسلامیہ ہائی اسکول مومن پورہ ناگپور میں ملازمت ملی۔ جہاں ۱۹۹۰ء تک درس و تدریس کا فریضہ انجام دیتے رہے۔ ملازمت کے دوران انہوں نے ۱۹۷۲ء میں پونا کالج سے ڈی ایڈ کا ڈپلوما حاصل کیا۔

وہ مخلص، ملنسار اور احباب نواز ہیں۔ شاعر کے علاوہ ایک اچھے مصور بھی ہیں۔ ان کی شاعری کا آغاز انجمن ہائی اسکول کی طالب علمی کے زمانے میں ہوا۔ اس میں انہیں آذر سیمابی سے شرف تلمذ حاصل ہے۔ ابتدا میں روایتی طرز کی شاعری کی۔ اس کے بعد جدید لب و لہجے کو اپنایا۔ ان کے کلام کا ایک مجموعہ۔ طلسم غزل، احباب اردو اکیڈمی مومن پورہ ناگپور کے زیر اہتمام مارچ ۱۹۸۱ء میں شائع ہو چکا ہے۔ دوسرامجموعہ نوائے حرف خموش ۲۰۰۷ء میں بغیر کسی اکیڈمی کی مالی امداد سے شائع ہوا۔ ۱۲۸ صفحات پر مشتمل اس مجموعے میں جدید اندازِ فکر کی غزلیں، نظمیں اور قطعات وغیرہ شامل ہیں۔ نمونۂ کلام۔۔

مسکان ان لبوں کا مقدر نہ بن سکی

مایوسیوں کا زہر تھا جن کے خمیر میں

ترکش کے سارے تیر خطا ہو کے رہ گئے

یہ کیا ہوا ہزار مہارت کے باوجود

کھیل ہی کھیل میں لڑکی وہ شرارت والی

بات ہی بات میں سنجیدہ سی ہو جاتی ہے

جس کی شہرت ہے اسی نام کا جلتا ہے چراغ

کتنے ہی نام ہیں ایسے جو اجالوں میں نہیں

مزہ تو جب ہے کہ اس دور بے عمل میں ظفر

زمانہ ناز کرے جس پہ وہ عمل سوچو

دن برے آتے ہمارے تو سبھی چھوٹ گئے

ایک ہی جھٹکے میں احباب کے دل ٹوٹ گئے

گو ہمیں قافلے والو میں سبک رو تھے مگر

اس قدر تیز چلے ہم کہ ہمیں چھوٹ گئے

وہ بات کر کہ کھلے تیری بات کا مفہوم

نہ کر وہ بات کہ باتوں میں رازداری لگے

گھر چھوڑ کے نکلے ہو تو اے شعلہ مزاجو

ساحل پہ کھڑے کیا ہو سفینوں کو جلادو

کبھی توڑے ستم ہم پر کبھی اس نے نوازش کی

مزاج اس نے بدلتے موسموں کے جیسا پایا تھا

حصول علم و ہنر کا بھرم نہ کھل جائے

پڑھے لکھوں سے ظفر سوچ کر ملا کیجئے

یہ شہر ہے یا کوئی کتب خانہ دوستو

ہر گام پہ کتاب سا چہرہ ملا مجھے

بچوں کو تتلیوں کی کہانی سنا کے ہم

ماضی کے کچھ حسین خیالوں میں کھو گئے

قطعات:

ہندو یا مسلمان ہوں عیسائی یا سکھ ہوں

میں کون مسافر ہوں کوئی بات نہ پوچھو

پیاسا ہوں بڑی دیر سے پنگھٹ کے کنارے

پردیس میں پیاسے سے کبھی ذات نہ پوچھو

مشورہ ہے بڑے خلوص کے ساتھ

بیکسوں کے دکھوں میں کام آؤ

تم فرشتہ تو بن نہیں سکتے

کم سے کم آدمی ہی بن جاؤ

(ناگپور میں اردو کا ارتقائی سفر، از: ڈاکٹر شرف الدین ساحلؔ ۱۹۹۳ء)

 

 

 

شاہد کبیر کی غزلوں میں ترقی پسند عناصر کے ساتھ ان کی انفرادی خصوصیات

 

ادیب یا فنکار اپنے زمانے کے ادبی رجحانات و تحریکات سے تو متاثر ہوتا ہی ہے لیکن وہ اسلاف کے کارناموں سے بھی بے نیاز نہیں رہ سکتا یعنی جس زبان میں وہ اپنی تخلیقی صلاحیت کا اظہار کرتا ہے اُس دور کے ادبی رجحانات کا مطالعہ بھی، کم یا زیادہ، کرتا ضرور ہے۔ یہی معاملہ شاہد کبیر پر بھی صادق آتا ہے۔ ہم کہہ سکتے ہیں کہ انھوں نے اردو کی ادبی تاریخوں کے مطالعے کے دوران درجہ ذیل تحریکات و رجحانات کا مطالعہ بھی کیا ہو گا اور ان سے حسب مزاج استفادہ بھی کیا ہو گا۔ لہذا اُن کا مختصر تذکرہ نا گریز ہے۔

 

جدیدیت (Modernism):

 

جدید علوم و فنون کے مباحث میں ایک کثیر الاستعمال متنازعہ اصطلاح۔ افلاطونی اورارسطوئی ادعائیت اور اصولوں سے یعنی ہرقسم کی روایت سے افادیت جدیدیت کی شناخت ہے جسے یورپ میں احیائے علوم کے زمانے میں ہوا ملی (پندرہویں صدی عیسوی) اور سائنس اور عقلیت کی ترقی نے اسے دنیا بھر کی ترقی پسنداورترقی پذیر اقوام میں پھیلا دیا۔ منطق و فلسفہ سیاست و معیشت مذہب و ثقافت اور علوم و فنون غرض ہر شعبۂ زندگی میں جدیدیت اپنے مختلف مفہوم کی حامل ہے اور آخر الذکر شعبوں میں ہر شعبے کے رنگ مشاہدے میں آتے ہیں۔ کلاسیکیت سے انحراف اور رومانیت کو ترجیح جدیدیت ہے۔

بیسویں صدی میں علوم و فنون کی گوناگوئی میں اس کے اثرات نمایاں طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔ اس صدی میں دو عالمی جنگوں اورتیسری کے خوف نے مزید فکری انحراف اور بے اعتقادی کو پروان چڑھایا ہے اسی لئے دنیا بھر کے (عصری) جدید ادب میں مختلف رنگوں کی جدیدیت پھل پھول رہی ہے۔ اردو میں اس کے اثرات ہندوستان کی آزادی کے زمانے سے نظر آنے لگے تھے۔ جب آزادی کے بعد نصب العین کی شکست فرد کا مقدر بن کرسامنے آئی تو تعصب یابرابری، اہلیت و قابلیت کی ناقدری اور غیر قانونی سرمائے کی افراط وغیرہ عوامل نے حساس ذہن کے مالک افراد کو مایوس و برگشتہ کر دیا پھر بیرونی سیاسی اور ثقافتی اثرات کا دباؤ ذہنی فکری اور اعتقادی ارتکاز کو متزلزل ہی کئے رہا جس کے نتیجے میں مایوس و برگشتہ ذہن کا اظہار مایوسی اور برگشتگی کا اظہار بن گیا۔ جس کی مثالیں موجودہ ادب و فن میں کثرت سے موجود ہیں۔

فنی اظہار میں آوان گاردرم کی پیروی یعنی روایتی ہستیوں کی شکست و ریخت کو جائز خیال کرنا، شعرافسانہ میں لکیروں، قوسوں، نقطوں اور تحریری خاکوں کا استعمال بے حرکت اور بے گفتار ڈراما، شعری ہیت کے ناول اور ناول میں جذبات سے ہم آہنگ رنگین صفحات شامل کرنا یا خاکے وغیرہ بنانا سب عملی جدیدیت کی مثالیں ہیں۔ (حوالہ: فرہنگ ادبیات سلیم شہزاد ص ۲۹۴)

 

اردو غزل کی روایت اور غزل کے شعری رسومیات:

ہر زبان کی طرح اُردو زبان بھی اس تاریخ و تہذیب کی ترجمان رہی ہے جس نے اسے جنم دیا اور اس کی پرورش کی۔ اپنے بچپن میں یہ اُن گلی کوچوں میں کھیلی کودی جہاں مختلف نسلوں اور الگ الگ ترجیحات رکھنے والے لوگوں کے آپسی میل جول سے ایک چہل پہل کا سماں تھا۔ یہ چہل پہل ایک نئی تمدنی فضا کی تشکیل کا پیش خیمہ تھی اور اس فضا کو اپنے اظہار کا کوئی نیا وسیلہ درکار تھا۔ ہندی کے علاوہ جو اُردو کی سگی بہن تھی، اپنی پیش رو اور ہمجولی زبانوں سے اُردو کی جو قربت رہی اس کا اثر بھی اس نے قبول کیا۔ اس کی ہم وطن ہندوستانی زبانیں تو اردو کی سنگی ساتھی تھیں ہی، اپنی سر زمین پر کچھ نووارد بیرونی زبانوں مثلاً عربی، فارسی اور ترکی سے بھی یہ بے رُخی سے پیش نہیں آئی۔ نتیجتاً انھوں نے بھی اسے گلے لگا لینے میں کچھ مضائقہ نہ جانا۔ اپنے اسی مزاج کے ساتھ اردو اپنے سنِ شعور کو پہنچی اور ایک ایسی خوبصورت زبان کا رُوپ اختیار کیا کہ شیخ و برہمن ہوں۔ خواص یا عام سبھی اس کی زلف گرہِ گیر کے اسیر ہوئے۔

یوں تو اردو شاعری اصناف عربی اور فارسی کی اصنافِ سخن سے مستعار ہیں۔ الفاظ اور مضامین کا بڑا ذخیرہ ہی وہیں سے آیا ہے مگر اُردو میں آ کر ان پر مقامی کا رنگ چڑھ گیا اور ان کے اندر وہ شئے حلول کر گئی جسے ہم ہندوستانیت کا نام دیتے ہیں۔ اُردو میں کچھ ایسی اصناف نے بھی رواج پایا جو عربی یا فارسی میں نہیں تھیں۔ مثلاً گیت اور دوہا ہندی سے آئے۔ ماہیا پنجابی کی ودیعت ہے اور نظم مصری، نظم آزاد اور سانیٹ انگریزی کی دین ہیں۔ یہ سبھی تحفے اردو نے اپنی شرائط پر قبول کیے ہیں۔ اور اس طرح اپنے چمن کی زینت ایسے مختلف رنگوں سے کی ہے جو اس کی خوش منظری کے ضامن بن گئے ہیں۔

شاعری کے دو اہم مکتب فکر انجمن ترقی پسند مصنفین اور حلقۂ اربابِ ذوق وجود میں آئے تھے۔ جو آزادی کے بعد بھی کم یا زیادہ مدت تک رہے۔ ترقی پسند تحریک سے وابستہ یا حلقۂ اربابِ ذوق کے نمائندہ شاعر۔ وہ شاعر جو ابتدا میں ترقی پسند تحریک سے متاثر تھے لیکن ترقی پسندوں کی ۱۹۴۹ء کی بھیمڑی کانفرنس کے بعد تحریک کے سربرا ہوں کی نظریاتی سخت گیری سے بر گشتہ خاطر ہو کر تحریک سے الگ ہو گئے اور جدید یت کے پیش رو میں شمار ہونے جیسے خلیل الرحمن اعظمی، باقر مہدی، سلیمان اریب وغیرہ ان سب نے آزادی کے بعد کے شعری منظر نامے کو کسی نہ کسی سطح پر متاثر کیا ہے۔ حلقہ ارباب ذوق کا شیرازہ حلقے کے بانی میراجی کے انتقال ۱۹۴۸ء کے بعد ہی بکھرنا شروع ہو گیا تھا۔ یوں بھی تقسیم کے بعد میراجی نے ہندوستان میں رہنے کا فیصلہ کیا تھا اور حلقے کے بیشتر ذمے دار اراکین لاہور میں تھے۔ دھیرے دھیرے حلقہ تحلیل ہو گیا۔

۱۹۶۰ء کے آس پاس جدیدیت کا رجحان پوری قوت سے ابھر کر سامنے آیا اور شاعروں کی ایک پوری نسل اس سے متاثر ہوئی۔ اس رجحان کی ابتدائی نمود، تحریک (دہلی) اور  ’’صبا‘‘ (حیدرآباد) میں ہوئی پھر  ’’شبِ خون‘‘ (الہ آباد) اس کا خصوصی آرگن بنا۔

۱۹۴۰ء سے ۱۹۸۰ء تک جدیدیت کو خوب زور رہا۔ تخلیقی سطح پربھی اور تنقید میں بھی مابعد جدیدیت کی آوازیں بلند ہونا شروع ہوئیں۔ اب یہ آوازیں بھی دھیمی پڑ چکی ہیں اور نئے شاعر کی باضابطہ تحریک، منضبط نظریے یا کسی مخصوص رجحان سے وابستگی کے روا دار نہیں۔ زندگی اور اس کے گوناگوں مظاہر کو اپنی کھلی آنکھ سے دیکھنا اور اور ان پر کھلے ذہن سے سوچنا چاہتے ہیں ان کے مشاہدات اور محسوسات کا اظہار کسی پیرائے میں ہو یہ فیصلہ بھی ان ہی کو کرنا ہے۔ اس دور میں شاہد کبیر نے قطعات اور نظمیں لکھی جس میں ترقی پسندی کے مثبت فنی رجحانات کے ساتھ انفرادی نقوش بھی تھے۔

ولی دکنی، میر،ؔ غالب، داغ سے لے کر آج کا نیا جدید دور ہر دور میں شاعری نے اس دور کی ترجمانی کی ہے اور غزل کو نئے نئے انداز میں پیش کیا ہے، پھر چاہے وہ میر کا عاشقانہ انداز بیان ہویا پھر فیض احمد فیض کی شکایتی شاعری، شاعری نے ہر دور میں عام آدمی کو اپنی طرف متوجہ کیا ہے ہر خاص و عام نے غزل کے شعر میں اپنی زندگی کے آئینہ کو بخوبی محسوس کیا ہے۔

جدید شاعری در اصل دل بہلانے کا سامان نہیں، بلکہ انسانوں کو انسانوں سے جوڑنے اور ان کو بنیادی اصولوں سے آشنا کرواتی ہے، اس جدید شاعری کے قافلے میں بہت سے شاعر آئے اور اپنے اپنے انداز سے اسے سنوارتے رہے اور پھراس قافلے کو چھوڑ کر چلے گئے، مگر حقیقت یہ ہے کہ وہ اب بھی اپنے انداز بیان کی وجہ سے ہر عام و خاص میں زندہ ہے اور زندہ رہیں گے، اس قافلے میں ایک نام جناب،  ’’شاہد کبیر‘‘ صاحب کا تھا جسے علاقہ ودربھ میں جدید شاعری کا بانی کہا جاتا ہے جو ۱۱؍ مئی ۲۰۰۱ء اس دنیا کے قافلے کو چھوڑ کر چلے گئے۔

اردو غزل کی شاعری پر اتنا زیادہ کام کیا گیا ہے کہ اس نے زندگی کے کوئی بھی پہلو کو نہیں چھوڑا جس پر شعر نہ کہا گیا ہو، تو پھر ایک سوال یہ اٹھتا ہے کہ شاعری کے تمام اسباب (Tools) ختم ہو چکے ہیں مگر ایسا بالکل نہیں ہے بلکہ باتیں وہی ہیں مگر سوچنے کا نظریہ اور انداز بیان بدلتا رہتا ہے جو شاعر کے فکر کا آئینہ ہوتا ہے جس کی مثال اس طرح دی جا سکتی ہے۔

تم میرے پاس ہوتے ہو گویا

جب کوئی دوسرا نہیں ہوتا

(مومن خان مومن)

مومن کی اس سوچ کے آگے  ’’شاہد کبیر‘‘ کی سوچ کا دخل اس طرح سامنے آتا ہے۔

تم بھی پاس نہیں گویا

آج میں اتنا تنہا ہوں

(شاہد کبیر)

یا پھر غالب کے اس شعر کا جواب بھی ہو سکتا ہے

ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے

بہت نکلے مرے ارمان لیکن پھر بھی کم نکلے

(غالب)

کیے ہیں اتنے جہاں اور ایک کرم کر دے

مرے خدا تو میری خواہشوں کو کم کر دے

(شاہد کبیر)

ہر شعر کے ایک ایک لفظ کو چن چن کر دھاگے میں پرونا اوراس کی معنی کے ساتھ پورا پورا انصاف کرنا شاہد کبیر کی شاعری کی خاصیت رہی ہے اس لئے یہ بات بہت عام تھی کہ ان کی غزلیں لوگوں کو مکمل یاد ہو جاتی تھی۔

یقیں مجھے بھی تو اس بات کا دلانے آ

تو مجھ کو بھول چکا ہے یہی بتانے آ

حقیقتوں کا سبھی کو پتہ نہیں ہوتا

کوئی کسی سے بچھڑ کر جدا نہیں ہوتا

شاہد کبیر کی سوچ سماج میں پھیل رہی سفید پوش بیماری کو بخوبی جانتی تھی، مگر وہ اس سے مایوس بالکل نہیں تھے، ان کی شاعری حوصلہ مند Motivate شاعری تھی جو برائی سے لڑنے کا ہنر سکھاتی ہے۔

آپ کتنا بھی سنور جائیں کمی رہتی ہے

دل میں جو میل ہے چہرہ پے جمی رہتی ہے

دل سے ملنے کی تمنا ہی نہیں جب دل میں

ہاتھ سے ہاتھ ملانے کی ضرورت کیا ہے

اور کچھ اس طرح کا انداز

ہر ایک ہنسی میں چھپی خوف کی اداسی ہے

سمندروں کے تلے بھی زمین پیاسی ہے

کبھی کبھی تو کئی شرط رکھ کر ملتا ہے

کہیں سے کہیں سے تیرا پیار بھی سیاسی ہے

کسی بھی سچے فنکار کے اندار ایک ایسا دل پایا جاتا ہے جو دوسروں کے غم و تکلیف کو برداشت نہیں کر پاتا، اور اپنے قلم و برش کے ذریعہ اپنے اندر کے جوش کو بیان کرتا ہے۔ یہی سوچ ہمیں شاہد کبیر کے یہاں ملتی ہے۔

خود اپنے سے سہمے ہوئے انسان بہت ہیں

اس شہر میں تفریح کے سامان بہت ہیں

کیا ان سے نکل جائے گی کمرے کی اداسی

فٹ پاتھ پے بکتے ہوئے گلدان بہت ہیں

یہ سچ ہے کہ ہم دھوپ میں گھبرائے ہوئے تھے

سائے میں پہونچ کر بھی پریشان بہت ہیں

جب ہم ہی گذرتے ہیں تو ہو جاتے ہیں دشوار

ورنہ یہ سبھی راستے آسان بہت ہیں

کرب چہرہ سے ماہ ووسال کا دھویا جائے

آج فرصت سے کہیں بیٹھ کر رویا جائے

اتنی جلدی تو بدلتے نہیں ہو گے چہرے

گرد آلود ہے آئینہ کو دھویا جائے

غزل کی شاعری میں اگر عاشقانہ مزاج نہ ہو تو شاید غزل کی تعریف مکمل نہیں ہے۔

آج ہم بچھڑے ہیں تو کتنے رنگیلے ہو گئے

مری آنکھیں سرخ تیرے ہاتھ پیلے ہو گئے

زندگی ہم سے یوں کترا کے گزری جیسی

کھینچ کر رخ پر گزر جاتا ہے گھونگھٹ کوئی

شاہد کبیر کی شاعری میں عشق کا دخل کمزور نہیں بلکہ بہت زیادہ طاقت ور ہے۔

ایک ضد ہے کی دیکھو تیرے قدموں کی سکت بھی

تو دور نہیں ورنہ میرے دستِ رسا سے

کچھ تو اپنی بھی طبیعت کا پتا دینا تھا

اس نے جب ہاتھ ملایا تھا دبا دینا تھا

اگتے سورج کی کرن سرخ دوپٹے سے نہ چھان

صبح کی دھوپ سے یوں شام کا منظر نہ بنا

یہ بات الگ ہے کہ کانٹوں پہ میں سویا ہوں

ورنہ میرے آنکھوں کا ہر خواب سنہرا ہے

تم بھول بھی جاؤ تو میں کیسے بھُلاؤں

تم نے مجھے چاہا تھا، میں نے تمیں پوجا ہے

ہر اچھا فنکار کا اپنے پڑھنے اور سننے والوں کے ساتھ ایک رشتہ قائم کر لیتا ہے اور آپس میں اپنی تخلیق کے ذریعے ایک Communication شروع ہو جاتا ہے جس سے فنکار اس سماج کی طرف اپنی ایک ذمہ داری سمجھتا ہے۔

پھول گل دان میں کانٹے ہے میرے ہاتھوں میں

میں نے چاہا تھی کی ہر چیز ٹھکانے سے رہے

شاہد کبیر کی پیدائش ۱؍ مئی ۱۹۳۲ء کو ناگپور میں ہوئی تھی انھوں نے اردو ادب کی خدمت نہ صرف غزل کی شاعری سے کی بلکہ شروع شروع میں ناول نگاری بھی کی، انھوں نے  ’’راشٹرپتی بھون‘‘ دہلی کے لیے ڈرما مرزا غالب بھی لکھا ۱۹۵۸ء میں  ’’کچی دیواریں‘‘ کے نام سے ان کا ناول شائع ہوا۔ پوری اردو دنیا میں جدید غزلوں کے اولین انتخاب  ’’چاروں اُور‘‘ کی ترتیب شاہد کبیر نے ڈاکٹر مدحت الا ختر کے ساتھ مل کر ۱۹۶۸ء میں کی۔ اس کی مقبولیت کے پیش نظر مراٹھواڑہ یونیورسٹی میں بی۔ اے۔ کے نصاب میں شامل کیا۔ شاہد کبیر کاپہلا غزلوں کا مجموعہ (مٹی کا مکان) کے نام سے منظرِ عام پر آیا جس پر انھیں مہاراشٹر اسٹیٹ اردو اکیڈمی کا اوّل انعام ملا۔

مٹی کا مکان پورے ہندوستان اور پاکستان میں ایک پہچان بنا چکی تھی۔ اور اس کی غزلوں کو نصاب میں بھی شامل کیا گیا۔ ساتھ ہی ساتھ میں اس میں شامل غزلوں کو نامور گلوکاروں نے اپنی آواز سے نوازا۔ مٹی کا مکان ناشر اختر کبیر ، محمد علی روڈ، مومن پورہ، ناگپور۔ قیمت۔ ؍۱۵، سن اشاعت ۱۹۷۹ء

اس کتاب پر تبصرہ کرتے ہوئے مخمور سعیدی صاحب لکھتے ہے:

’’جدید اردو شاعری میں ناگپور اور اُس کے نواح کے تین نام نمایا ہیں۔ ان میں پہلا نام شاہد کبیر کا اور دوسرا نام مدحت الا ختر اور عبدالرحیم نشتر کے ہیں۔ مدحت الا ختر اور عبدالرحیم نشتر نے ۱۹۶۰ء کے آس پاس شعر کہنا شروع کیا۔ گویا جدیدیت کے نو مولود رجحان کے فروغ کے ساتھ ہی ان کے نام سامنے آئے لیکن شاہد کبیر اُن شاعروں میں ہے جو جدیدیت کے پیش رو کہے جا سکتے ہے اور جن کی شاعری کی عمر کم و بیش وہی ہے جو آزاد ہندوستان کی۔ یہ وہ شاعر ہے جن کے ذہنوں میں ابتداء اگرچہ جدیدیت کا کوئی واضح تصوّر نہیں تھا لیکن انھوں نے جدیدیت کے ایک باقاعدہ رجحان کی شکل اختیار کرنے سے نو۔ دس سال پہلے ترقی پسندی کے نظریاتی جبر کو قبول کرنے سے انکار کیا اور فنکار کی تخلیقی آزادی کی اہمیت محسوس کی۔ شاہد کبیر اس چھوٹے سے قافلے میں آگے کی صفوں میں نہ سہی لیکن شامل رہے۔

’’مٹی کا مکان‘‘ شاہد کبیر کی غزلوں کا مجموعہ ہے۔ ان غزلوں سے گذرتے ہوئے آپ کی ملاقات ایک ایسے کردار سے ہو گی جو پہلی نظر میں شاہد آپ کو خود اپنا عکس نظر آئے۔ اسی سفاک دنیا کی زہر ناک فضا میں سانس لیتا ہوا ایک کردار جس میں خود آپ بھی جینے کی اداکاری پر معمور کر دیئے گئے ہیں۔ لیکن یہ کردار محض اداکاری نہیں کر رہا ہے یہ جینے کی طرح جینا چاہتا ہے۔ ایک بھرپور زندگی اس کا مطمح نظر ہے وہ قدم قدم پر جسمانی ہزیمتوں سے دو چار ہوتے ہوئے نفس نفس میں روحانی ظفر مندیوں کی تڑپ لیے ہوئے ہے۔ اسے حال کی سفاکیوں کا شد ید احساس ہے، مگر وہ اس شعور سے بھی بہرہ ور ہے کہ وقت انسان کے لئے ہمیشہ اتنا بے رحم نہیں رہا ہے۔ اور یہی شعور اسے مستقبل کی طرف سے بھی کبھی کبھی خود گمان کر دیتا ہے۔ خواہ خود گمانی کے یہ وقفے کتنے ہی مختصر کیوں نہ ہوں۔

شاہد کبیر بے باکانہ اظہار کے قائل ہے مگر ان کا لہجہ مہذب آدمی کا لہجہ ہے۔ اس لہجہ میں ڈھل کر کھردرے تجربات بھی ایک جمالیاتی آہنگ اختیار کر لیتے ہیں۔ ( ماہنامہ آج کل، نئی دہلی، دسمبر ۱۹۸۲ء، ص۔ ۴۴)

اس کے کئی سالوں بعد ۱۹۹۹ء میں (پہچان) نام سے شاہد کبیر کا دوسرا مجموعۂ کلام شائع ہوا۔ اس پر بھی مہاراشٹر اسٹیٹ اردو اکیڈمی کا پہلا انعام ملا۔ ناشر پہچان اردو، اختر کبیر، جعفر نگر، فراز اپارٹمنٹ، ناگپور، قیمت۔ ۱۰۰ روپے، اس کتاب کو ان کے انتقال کے بعد دیو ناگری میں اُن کے چھوٹے بیٹے ثمیر کبیر نے شائع کیا۔ پہچان پر تبصرہ کرتے ہوئے نشاط فاطمہ لکھتی ہے:

شاہد کبیر کے دوسرے شعری مجموعے  ’’پہچان‘‘ کی اشاعت سے قبل ہی اُن کا یہ شعر خاصا مقبول ہو چکا تھا۔

موت سے خوف زدہ، جینے سے بیزار ہیں لوگ

اس المیے پہ ہنسا جائے کہ رویا جائے

پہچان کی غزلیں مجموعی طور پر کلاسیکی اقتدار کو سمیٹے ہوئے ترقی پسندی سے مملو ہو کر جدیدیت پر منتج ہونے کا احساس کراتی ہے۔ شاہد کبیر نے جدیدیت کو محض فیشن کے طور پر نہیں اپنایا بلکہ اس کے پس منظر میں شہری زندگی اور صنعتی شہر کے حالات، مسائل اور تہذیب و تمدن کی مربوط روایت موجود ہے۔ جہاں روحانیت پر مادیت کا غلبہ ہے۔

مجموعہ میں اگر قدیم رنگ کے شعروں کی تلاش کی جائے تو ایسی بالیدگی بخشنے والے اشعار آسانی سے مل جائے گے۔

جیسے گل ہوتے چلے جائے چراغوں کی قطار

جب کوئی روٹھ کے جاتا ہے تو منظر دیکھو

اُگتے سورج کی کرن سُرخ دوپٹے سے نہ چھان

صبح کی دھوپ سے یوں شام کا منظر نہ بنا

سبھی آنکھوں میں کچھ باتیں ہیں لیکن

تیری آنکھوں میں افسانے بہت ہے

شاہد کبیر کی غزلوں میں مایوسی اور ناکامی کے جذبات خال خال ہی پائے جاتے ہیں اور وہ ایک حوصلہ مند دل اور نظر رکھتے ہیں۔ اپنی اولو العزمی کے سہارے دنیا کے سرد و غم سے مقابلہ کرنے کا فن اُنھیں آتا ہے۔

ہم سلامت ہے تو اک روز بہار آئے گی

حوصلہ دیتی ہے ہر شاخ شجر کو اپنے

اس کے ساتھ ساتھ ان کے یہاں ہندوستان کی بو باس میں رچے بسے شعروں کی مہک کا بھی احساس ہوتا ہے جس کی جڑیں لوک گیتوں میں پیوست ہے۔

میں نے لاکھ ٹھکانا پوچھا، اُس نے ہنس کر ٹال دیا

پنگھٹ سے گھر تک جس کی گاگر سے پانی چھلکا ہے

شاہد کبیر کے کلام میں متوازن لہجے کی واضح کھنک سنائی دیتی ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ کہیں کہیں زبان مقامی اثرات و حالات کے بنا ء پر بیانیہ انداز اختیار کرنے پر مجبور ہوئی ہے۔

آئینہ پگھل چکا ہے شاہد

ساکت ہوں میں عکس بہہ رہا ہے

سمجھے ہوئے لوگوں کو بھی ہر بار سمجھنا

مشکل ہے بہت شہر کا معیار سمجھنا

میں جنبشِ انگشت میں محفوظ رہوں گا

ہر چند مجھے ریت پہ تو لکھ کے مٹا دے

ایسی اشعار کی موجودگی میں یہ بات بڑے اعتماد سے کہی جا سکتی ہے کہ شاہد کبیر پہچان کے ذریعے اپنی شناخت بنانے میں کامیاب نظر آتے ہیں۔  ’’پہچان کا شاعر۔ ایک تعارف‘‘ کے تحت پروفیسر سید یونس نے بڑی عرق ریزی کے ساتھ اس بات کو دلیلوں کی مدد سے ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ پہچان کی غزلیں جدید شاعری کا اہم عظیم سرمایہ ہے۔ ان کا یہ انکشاف بھی کم چونکا دینے والا نہیں ہے کہ شاہد کبیر کی تخلیقات نصاب کا حصہ بن چکی ہیں۔‘‘

(حوالہ: ماہنامہ نیا دور۔ لکھنو ستمبر ۲۰۰۱ء ص۔ ۴۹، ۵۰)

شاہد کبیر کو ہندوستان اور پاکستان کے تمام نامور گلوکاروں نے اپنے البم اور ہندی فلموں میں آواز دی ہے جس میں لتا منگیشکر، جگجیت سنگھ، غم کا خزانہ، ٹھکراؤ اب کے پیار کروں میں نشے میں ہو، میں نہ ہندو نہ مسلمان، بے سبب بات بڑھانے کی ضرورت کیا ہے، آج ہم بچھڑے ہیں تو، وغیرہ غزلیں کافی مشہور ہوئی ہیں۔ اس کے علاوہ غلام فرید صابری، عزیز نازاں، پنکج اُداسؔ ، انور حسین، استاد رئیس خاں، ادِیستہ نارائن، ہری ہرن، چندن داس، سلمان علوی، منّی بیگم جسیے گلوکاروں نے اپنی آواز دی ہے۔

آدمی دنیا میں اپنا عمل کر کے چلا جاتا ہے مگر ایسا انسان جو کے جانے کے بعد بھی یاد کیا جائے صحیح معنی میں انسان کہلاتا ہے اور لوگ اُسے جانے کے بعد بھی یاد کرتے ہیں۔ شاید کبیر اس بات کو بخوبی جانتے تھے۔ اس لیے لکھتے ہیں:

میں جنبشِ انگشت میں محفوظ رہوں گا

ہر چند مجھے ریت پہ تو لکھ کے مٹا دے

صرف رنگت نہیں، خوشبو بھی جدا ہو جس کی

خود کو کیسے وہ چھُپائے گا جہاں بھی ہو گا

اب لوگ ترس جائیں گے آواز کو میری

گونجوں گا فضاؤں میں سُنائی نہیں دوں گا

شاہد کبیر کی غزلوں کو اردو نصاب میں بھی شامل کیا گیا جس میں بارھویں جماعت کی اردو کی کتاب ہے اور بی۔ اے فرسٹ ایئر میں اس کے علاوہ  ’’چاروں اُور‘‘ مراٹھواڑہ یونیورسٹی نے بی اے ڈگری کے لئے شامل کیا۔

شاہد کبیر کا پہلا شعری مجموعہ کلام  ’’مٹی کامکان‘‘ ۱۹۷۹ء میں شائع ہوا جس کو مہاراشٹر اسٹیٹ اردو اکاڈمی نے پہلا انعام سے نوازا۔ اُس کے تقریباً ۲۰ سال بعد شاہد کبیر کا دوسرا مجموعہ کلام  ’’پہچان‘‘ ۲۰۰۰ء شائع ہوا اس پر بھی مہاراشٹراسٹیٹ اردو اکاڈمی کا پہلا انعام ملا۔ اسی کتاب کو اُن کے بیٹے ثمیر کبیر نے ۲۰۰۲ء میں دیوناگری میں بھی شائع کیا۔

 

شاہد کبیر کی غزلوں میں جنس کا تصور:

جنس ہر عہد میں فنون و ادب کا سب سے اہم موزوں رہا ہے اور یہاں بھی مذہب و اخلاق کی پابندیاں ہمیشہ ان پر مسلط رہی ہے  ’’برہنہ ہرفہ نگفن کمال گوائی مست‘‘ اور  ’’افغاسے فن ہی فن ہے‘‘جیسے تصورات انہی کا نتیجہ ہے ویسے موجودہ عصر میں جنس اور فن کا رشتہ خاصہ بے تکلف ہو چکا ہے۔ جنس نگاری ادب و فن میں جنس کو موضوع بنایا۔ عشق یا عشق مجازی کے نام پر ہر زبان کے ادب میں جنس نگاری مرقعات دیکھے جا سکتے ہیں۔ اردو میں نثری اور منظوم داستانوں اور مثنویوں سے لے کر نظم غزل افسانہ اور ناول ہر صنف میں اس کی ادنیٰ اور اعلیٰ مثالیں موجود ہیں مثلاً مرزا ذوق کی مثنویوں، میراجی کی نظمیں، منٹو اور سریندر پرکاش کے افسانے اور عزیز احمد کے ناول وغیرہ۔

فرائڈ کی نفسیات کے زیر اثر غلبہ ہوا۔ یہ قاعدہ اردو ادب پر کلی طور پر منطبق نہیں ہوتا کیونکہ فرائڈ کے اثر کی برآمد سے پہلے رنگینؔ، جراتؔ اور جانؔ  صاحب کے سینے سے ڈوپٹہ ڈھلکائی ہوئی ریختی سے بزم شاعری فحاشی کے مزے لے چکی تھی۔ لیکن اس کے باوجود یہ اعتراف کیا جانا چاہئے کہ فرائڈ نے فحاشی کو ادبیات کے مقام پر پہنچایا ورنہ ریختی تلازمہ پسندی اور ابتذال بیانی کے سوا کچھ نہ تھی۔ شاعری میں جنسیات کے اظہار کا غالب رجحان فرد کی جنسی نا آسودگی کے اظہار کا رجحان رہا ہے۔ جس کی رو سے رجحان کی تخلیقات نہ آسودہ جذبات کے تسکین کے حصول کا اعتراف نامہ بن جاتی ہے۔ میراجی شاعری میں اور منٹو افسانہ میں اس اعترافی یا اقبالی ادب کے نمائندہ ہیں۔

شاہد کبیر کی شاعری کا ایک وصف جنسی خواہشات و جذبات کا بر ملا اظہار ہے۔ جو شریف احمد شریف کے الفاظ میں ان کی معتوبی کا باعث ہو سکتا ہے۔ ہماری اردو شاعری میں ہر دور میں رخ اور لہجہ بدل کر اس جذبے کو پیش کیا گیا ہے اور شعرا نے اپنے اپنے مذاق اور مزاج کے مطابق اس کو شعر کا پیکر عطا کیا ہے۔

زندگی تجربات سے بہت کچھ سیکھتی ہے۔ بنتی ہے اور بگڑتی بھی ہے۔ اچھائی بھی اخذ کرتی ہے اور برائی بھی۔ شاہد کبیر کے یہاں مادی نقطہ نظر حاوی دکھائی دیتا ہے۔ وہ روز مرہ کی معمولی سی معمولی باتوں سے لے کر جنس تک کو اپنے دائرے میں سمِٹتے ہیں۔ ان کے یہاں پائی جانے والی داخلیت اور عصری حسیّت پر گہری سوچ کا عمل ملتا ہے۔ اس میں محرومی، کرب اور غم کے عناصر پائے جاتے ہیں۔

 

تصور جنس کے نمایاں پہلو:

شریف احمد شریف نے  ’’مٹی کا مکان‘‘ میں ان کی شاعری کا جو رس نچوڑا ہے وہ خالص ہے۔

’’عصری ادب کے ظہور سے شاہد کبیر تک جدید شاعری کے لہجے کی یکسانیت اس قدر شدید ہے کہ کسی تنہا آواز کی شناخت مشکل ہے۔

اس پسِ منظر میں شاہد کبیر کی فنّی حیثیت اور ان کی شاعرانہ خصوصیات کا تعین قدرے مشکل ہو جاتا ہے۔ تاہم شاہد کبیر کے لہجے کا ٹھہراؤ اور طرفداری کے علاوہ ان کے یہاں اکثر جگہ خود اپنی ذات کے حوالے سے آشوب شہر کے نوحے کی گونج اور صوفیا کی خواہش کی طرح ذات کی قیود سے گزر کر ایک لامحدود اور وسیع تر فضا میں تحلیل ہو جانے کی زبردست آرزو کا سراغ ملتا ہے۔

ان کے یہاں بعض جگہ پر بڑی فکر انگیز داخلیت کا احساس ہوتا ہے اور ان کی تخلیقات میں بہت سے اشعار ایسے ہیں جن کی تخلیق برسوں کی سوچ محرومی اور کرب کی مشترکہ دین ہے۔

ان کے چند اشعار میں زمانہ وید کے گمنام شاعر امارو کی طرح کی جنسیت ان کی جراٗت اظہار کے ساتھ ساتھ انھیں معتوب کرنے کا بھی باعث ہو سکتی ہے۔

روکو گے کب تلک اسے اینٹوں کو جوڑ کے

اک دن نکل ہی جائے گا دیواریں توڑ کے

بارش میں بھیگنے کا مزہ آ گیا اسے

کپڑوں کے ساتھ ساتھ بدن کو نچوڑ کے

آگے بڑھی جو بات تو پانی اُتر گیا

دکھلا رہا تھا زور کلائی مروڑ کے

نرم دھاگے کو ملتا ہے کوئی چٹکی میں

سخت ہو جائے تو موتی میں پرویا جائے

بج گئے رات کے دو اب تو وہ آنے سے رہے

آج اپنا ہی بدن اوڑھ کے سویا جائے

کل رات اتفاق سے پکڑا گیا غریب

سونا چرا رہا تھا پڑوسی کی کان سے

بند کر دیں وقت سے پہلے ہی کھیل

اس قدر بھی پچ ابھی گیلی نہیں

ہاتھ اٹھتے ہی بدن پر کی طرح کھلتا ہے

جسم کھینچتا ہوا خنجر کی طرح کھلتا ہے

جاگ اٹھتی ہے لباسوں کی اچانک تقدیر

تجھ پر ہر رنگ مقدر کی طرح کھلتا ہے

دیر کے بعد تکلف سے بہت آہستہ

آج ہر زخم ترے در کی طرح کھلتا ہے

دن میں سمٹا ہوا رہتا ہے بدن میں اپنے

رات ہوتے ہی وہ بستر کی طرح کھلتا ہے

ان شعروں میں شاہد نے بعض جگہ اخلاقی حدود کو توڑنے کی کوشش کی ہے لیکن بعض شعروں میں اتنی گہرائی اور گیرائی ہے کہ انھیں کچھ اور معنوی رخ بھی دیا جا سکتا ہے۔ یہ در اصل شاہد کی سوچ کا ہی کمال ہے۔

شاہد کبیر نے کچھ آزاد نظمیں بھی کہی ہیں جو فکر انگیز ہیں ان کی نظم  ’’دعا‘‘ میں جو لہجہ ملتا ہے وہ انتہائی پاکیزہ، سنجیدہ اور متین ہے۔ وہ خدا کے حضور بڑے ادب و احترام سے کہتے ہیں۔

دُعا

اے خداوند

قادر مطلق

کوئی حرف سخن

کوئی آواز

میرا مفہوم جو ادا کر دے

کا سہ ذہن ہے تہی

تو ہی

چند لفظوں کی بھیک عطا کر دے

ایک مختصر سی آزاد نظم  ’’ارتقاء‘‘ دیکھئے اس میں جس المیہ کی نشاندہی کی ہے وہ قاری کو ایک لمحے کے لیے چونکا دیتا ہے۔

ارتقاء

جانے کتنی صدیوں سے

جس کے پیچھے پیچھے میں

چلتے چلتے پہنچا تھا

اس قدر بلندی پر

آج اُس بلندی سے

اِس عظیم رہبر نے

گر کے خود کشی کر لی

در اصل شاہد کبیر کی شاعری ایسی ہی چونکا دینے والی ہے۔

شاہد کبیر کی غزلوں میں جنسی پہلو پر گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر ارشد جمال لکھتے ہیں:

زمانۂ موجودہ میں مغربی ادب کے مطالعے نے زندگی کے اس پہلو کو جو ہماری روزانہ زندگی کا اہم اور لازمی حصہ ہے لیکن جس پر تہذیب و اخلاق نے پابندیاں عائد کر رکھی ہیں، جو کر یہہ اور مکروہ سمجھا جاتا ہے، اب بڑی بے باکی سے منظر عام پر لایا جا رہا ہے۔ جنسی زندگی جس کے نام سے ہر شرفا کانوں میں انگلیاں ٹھونس لیا کرتے تھے۔ فی زمانہ جنسیت اور جنسی زندگی کا بیان کوئی عیب نہیں رہا۔ زمانۂ قدیم کے ادبیات میں جنس کا بیان فحش گوئی تک محدود تھا۔ اکہری سطح کے اس فحش آلود بیان کو نہ تو اس زمانے میں عزت حاصل ہوئی اور نہ آج قدر کے قابل سمجھا جاتا ہے۔ لیکن فرائڈ کے فلسفیانہ افکار کے عام ہونے کے بعد اب جنس کو جس نئے رخ سے دیکھا جا رہا ہے، اس میں ادب کا موضوع بننے کی صلاحیت ہے۔ اب جنسیت سے متعلق اکہری سطح کا سیدھا سادا اور فحش بیان شاعری کا موضوع نہیں ہے بلکہ سماج اور معاشرے کی عائد کردہ پابندیوں کے نتیجے میں جنسی گھٹن سے شخصیت میں پیدا ہونے والی الجھنوں اور نفسیاتی کیفیات کا بیان شاعری کے لیے مواد مہیا کرتا ہے۔ جنسی گھٹن کے طفیل انسان ایک طرح کے ذہنی تشنج کا شکار ہو جاتا ہے۔ مگر عام طور سے اس میں مبتلا شخص کو شعوری طور پر اس بات کا احساس نہیں ہوتا کہ اس کی شخصیت میں پیدا شدہ پیچید گیاں جنسی گھٹن اور پابندیوں کے سبب سے ہیں۔ جدید شعرا کے یہاں اکثر تو جنسی گھٹن کا بیان کھلم کھلا مل جاتا ہے۔ کبھی کبھی دبیز پردوں میں بھی چھُپا ہوتا ہے۔ در اصل ان کیفیات کا بیان وقت طلب امرا ہے۔ فن کار ذرا سا چوکا اور سطحیت عیاں ہوئی۔ شاہد کا کلام بھی ان عناصر سے خالی نہیں۔ کہیں کہیں تو یہ بیان کھلم کھلا ہے۔

نرم دھاگے کو مسلتا ہے کوئی چٹکی میں

سخت ہو جائے تو موتی میں پرویا جائے

مرے من کی اگنی دہکتی رہی

بدن وہ سوتری بچا لے گئی

بند کر دیں وقت سے پہلے ہی کھیل

اس قدر بھی پچ ابھی گیلی نہیں

بچ گئے رات کے دو، اب تو وہ آنے سے رہے

آج اپنا ہی بدن اوڑھ کے سویا جائے

ان خیالات کو اکثر وہ ایسے دبیز پردوں میں چھپا دیتا ہے کہ بہت مشکل سے چھن کر روشنی باہر آتی ہے۔ بڑے غور و خوض کے بعد ہم ان اشعار کے مفاہیم کا سلسلہ جنیسات سے جوڑتے ہیں اور پھر بھی شبہے میں رہتے ہیں کہ ان سے یہی مفہوم نکلتا ہے یا کچھ اور۔ اور یقیناً کی تہہ داری سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔

آج اس کے بھی وجود کا پیکر اتر گیا

سہمے بدن میں پیاس کا شجر اتر گیا

آگے بڑھی جو بات تو پانی اتر گیا

دکھلا رہا تھا زور کلائی مروڑ کے

دوڑائے گا خلا میں کہاں تک کوئی نظر

جو چھت کھلی تھی اس پہ کبوتر اتر گیا

کہاں چلی ہو گھٹاؤ بڑھا کے پیاس مری

یہیں برس پڑو آخر کہیں تو برسو گی

کچھ تو ہو رات کی سرحد میں اترنے کی سزا

گرم سورج کو سمندر میں ڈبویا جائے

منزل کی سمت رخ ہے ادھر بادبان کا

اور اس طرف نشہ ہے سفر کی تکان کا

جیسے کوئی لباس نہ ہو اس کے جسم پر

یوں راستہ چلے ہے بدن کو سمیٹ کے

رستے میں روکنے کی اسے ضد فضول ہے

گھاٹی میں گر کے ٹھہرے گا پانی چٹان کا

 

جدید غزل گو شعرا میں شاہد کبیر کا مقام اور مرتبہ:

شاہد کبیر کی غزل کے خد و خال پر گفتگو شروع کرنے سے پہلے ان تمام عوامل کا جائزہ لینا ہو گا جنہوں نے ان کی خوبصورت اور تہہ دار غزل کے خد و خال کی تشکیل میں نمایاں کردار ادا کیا،

ان کا پہلا مجموعہ  ’’مٹی کا مکان‘‘ ۱۹۷۹ء میں شائع ہوا تھا۔ اس سے پہلے ماہنامہ شب خون الہ آباد اور دیگر اہم جرائد میں ان کی غزلیں پڑھی جاتی رہیں، بالخصوص یہ اشعار زیر تذکرہ بھی رہے اور زیر بحث بھی۔

میں جنبش انگشت میں محفوظ رہوں گا

ہر چند مجھے ریت پہ تو لکھ کے مٹا دے

قدم نکالے تو پیروں تلے زمین نہ تھی

ذرا جو سر کو اٹھایا تو آسمان لگا

پتھر کو نچوڑنے سے حاصل

ہر چند، ندی میں رہ رہا ہے

پہچان شاہد کبیر کی غزلوں کا دوسرا مجموعہ۔ جو مجموعہ اول  ’’مٹی کا مکان‘‘ کے پورے بیس سال بعد شائع ہوا ہے ان بیس برسوں میں کیا کچھ انقلاب نہیں آیا۔ شعرا کی ایک نسل بھی وجود پذیر ہوئی جو راتوں رات میر و غالب پر سبقت لے جانا چاہتی ہے جس کا شعار حیات رات دن رطب و یابس لکھتے رہنا، رسائل میں اپنا کلام بے ہودہ چھپوانے کے لئے تکرار کرتے رہنا، اپنی شاعری پر مضامین و مقالات لکھوانے کے لئے مثبت و منفی حربے استعمال کرتے رہنا، غزل جیسی صنف سخن کا متحمل نہ ہو پانا۔ لایعنی قسم کی اصناف سخن میں سرکھپاتے رہے اوراپنی فتوحات میں شمار کرتے رہے۔

شاہد کبیر کی فکر سخن سے صاف ظاہر ہے کہ وہ اس قسم کی بے ہودہ باتوں سے ہمیشہ دور رہے اور اپنا لہجہ تراشنے میں کامیاب ہو گئے۔ ان کی شعر گوئی کی ایک مخصوص رفتار رہی اورایسی کہ جب بیس سال بعد  ’’پہچان‘‘ شائع ہوئی تو کچھ غزلیں  ’’مٹی کا مکان‘‘ کی بھی شامل کرنا پڑیں۔ اس طرح اس بات کا اندازہ بھی ہوا جو مٹی کا مکان اور پہچان کے درمیان ہے۔

شاہد کبیر کے اسلوب اظہار میں ایک تنوع ہے۔ متانت ہے جو اسے پر شکوہ بناتی ہے اور یہی بڑی شاعری کی پہچان ہے۔ شاہد کبیر نے اپنے عہد کو سمیٹا ہے ان کے یہاں جمالیاتی نظام ایک خاص سطح سے کلام کرتا ہے اور منفرد نقوش مرتسم کرتا ہے۔

دن میں سمٹا ہوا رہتا ہے بدن میں اپنے

رات ہوتے ہی وہ بستر کی طرح کھلتا ہے

بستر میں کھلا کہ تھا اکہرا

وہ جسم کہ تہہ بہ تہہ رہا ہے

ان اشعار میں لفظ  ’’بستر‘‘ کی معنوی توسیع ہے، بستر جو ہماری زندگی میں طاقت و سکون کی علامت ہے اور ہمارے ارضی رشتوں کو مستحکم کرتا ہے شاہد کبیر کے یہاں اس لفظ کی بڑی معنویت ہے اور اس بات کا سراغ ملتا ہے کہ ان کے یہاں مٹی کی کیا اہمیت ہے۔ ایک ہی شعر میں جسم اور بستر کا ذکر کر کے انہوں نے مٹی کی آسودگی، لذت اور اس کے تقدس کو ظاہر کر دیا ہے یہاں  ’’جتنے عرصے میں مرا لپٹا ہوا بستر کھلا‘‘ کی کیفیت نہیں ہے بلکہ اسرار کو فاش کرنے کی طرف اشارہ ہے اور خود سپردگی کے ایک خاص لمحے کو ظاہر کرتا ہے۔ بستر کی طرح بدن کا کھلنا اور بستر میں جسم کا کھلنا دونوں الگ الگ چیزیں ہیں اور دونوں میں گہری معنویت ہے یہ اشعار اصغر گونڈوی کے اس شعر سے کہ:

بستر خاک پہ بیٹھا ہوں نہ مستی ہے نہ ہوش

ذرّے سب ساکت و صامت ہیں ستارے خاموش

بہت آگے کے جہات میں درخشاں نظر آتے ہیں اور ماضی و حال کے حیرت ناک ابعاد کا معنوی سطح پر سراغ فراہم کرتے ہیں یہ اشعار بھی قابل ملاحظہ ہیں اور ان کا لفظی نظام بھی۔

تنہا ہدف ہوں شہر میں سنگ نگاہ کا

میں ایک چلتا پھرتا عجوبہ ہوں راہ کا

ذرا جو جھانک کے دیکھا تو کانپ کانپ اٹھا

عجیب شخص مجھے اس کی چشم تر میں ملا

فصیل شہر کی زینت ہے اب لہو میرا

یہ آرزو تھی ترے شہر میں امان ملے

لمحوں کی حیات سے ہوں واقف

صدیوں کو فراغ جانتا ہوں

ان اشعار میں گہرا مشاہدہ بھی ہے اور زندگی کا وہ عرفان بھی جہاں ایک ذرے میں نبض عالم کے دھڑکنے کا احساس ہو جاتا ہے۔ شاہد کبیر کی فکر ان منزلوں کو طے کر رہی ہے جہاں بصیرت کا ایک جہاں بسیط فکر دھندلکوں سے طلوع ہوتا ہوا نظر آتا ہے اور ہر لمحے سے مکاشفات کے افلاک جھانکتے ہیں جن افلاک کی وسعت بے کنارمیں شاعر کے اپنے ہی شہپروں کی گونج ہوتی ہے اور ہر منظر وہیں سے ابھرتا ہے ان کے اشعار میں فلسفہ ہم وجودیت کے عناصر بھی ہیں اور ان کے گہرے مطالعے کی غمازی کرتے ہیں۔ بچھڑ کرجدانہ ہونے کی جس کیفیت کا انہوں نے اپنے ایک شعر میں بیان کیا ہے یا جنبش انگشت میں محفوظ رہنے کی جو بات کہی ہے وہ ظاہر کرتی ہے کہ جسمانی طور پر تو اشیاء ہم سے دور چلی جاتی ہیں اور بحر فنا کے پار اتر جاتی ہیں لیکن وہ ہمارے ساتھ رہتی ہیں اور ان کا انعکاس، پرچھائیوں، تصویروں یا لفظوں کی شکل میں لہو روتا رہتا ہے اور یہی وہ چیز ہے جو ہمیں ان اشیاء سے قریب رکھتی ہے جو بادی النظر میں تو ہمارے پاس نہیں ہوتی ہیں مگر ہوتی ہیں اور ہم ان کے ہونے کا احساس پیکروں میں کرتے ہیں۔

غزل کا یہی کمال ہے کہ وہ انتہائی چابکدستی سے ہر کیفیت کو بیان کرتی ہے اور یہ طریقہ کار ہمارے اساتذہ نے سکھایا ہے یہی وجہ ہے کہ غزل ہر عہد کا ساتھ دیتی رہتی ہے اور دیتی رہے گی۔ وہ جن کا کہنا ہے کہ غزل اپنا کام کر چکی ہے وہ ابھی اس میدان میں طفل مکتب ہیں کیونکہ بقول شاعر:

گماں میر کہ بہ پایاں رسید کار مغاں

ہزار بادۂ ناخوردہ در رگ تاک است

شاہد کبیر کی غزل کے تمام رنگ قدیم سے ابھرتے ہیں لیکن وہ جن آبشاروں میں نہا کر تر و تازہ ہوتے ہیں وہ آج کا عہد ہے وہ عہد جوان کے چاروں طرف پھیلا ہوا ہے یہی وجہ ہے کہ اشعار میں تازگی زیادہ نظر آتی ہے یہ اشعار دیکھئے۔

ہوئی ہے تجھ سے ملاقات ایک مدت میں

گلے لگا کے تجھے چھوڑ دوں زمانے آ

وہ ہنس رہا تھا دور کھڑا اور چند لوگ

لے جا رہے تھے اس کو کفن میں لپیٹ کے

فضا بدلنے کی رفتار کا یہ عالم ہے

ذرا جو دیر ہوئی گھر نیا سا لگتا ہے

اب بتا تجھ سے بچھڑ کر میں کہاں جاؤں گا

تجھ کو پایا تھا قبیلے سے بچھڑ کر اپنے

بس وہی ایک سہارا ہے سفر میں شاہد

اپنے ہمراہ جو ثابت قدمی رہتی ہے

لہجے کی انفرادیت شاعر کی پہچان کا ایک بڑا وسیلہ ہے۔ غالب ہو یا اقبال، میر ہو یا فانی، درد ہو یا اصغر، ذوق ہو یا سودا، داغ ہو یا امیر، ہر ایک اپنے لہجے کی انفرادیت کی بنا پر پہچانا جاتا ہے۔ جدید شعرا میں ناصر کاظمی، ابن انشا، خلیل الرحمن اعظمی، شہر یار، محمد علوی، ندا فاضلی، بشیر بدر، شکیب جلالی، شہزاد احمد، ظفر اقبال، عرفان صدیقی، فہمیدہ ریاض، ادا جعفری، پروین شاکر اور بلقیس ظفر الحسن وغیرہ۔ سب ہی اپنے منفرد لہجے کی بنا پر ممتاز مقام کے مالک ہیں۔ اچھی شاعری اپنی پہچان خود کراتی ہے۔ کوئی خیال بذاتِ خود نیا نہیں ہوتا۔ تلاش و تحقیق کے بعد یہ بات بہ آسانی معلوم کی جا سکتی ہے کہ فلاں خیال جو بظاہر نیا نیا سا ہے، در اصل نیا نہیں، اس کی جڑیں ماضی کے کسی نہ کسی خیال میں پیوست ہیں۔ بار بار دہرائے گئے خیال کو جب ایک اچھا شاعر اپنے مخصوص لب و لیجے میں، اپنے منتخب ڈکشن کے سہارے سے، اپنے مزاج کی افتاد کے مطابق، ایک مخصوص پس منظر میں، اپنی نفسیاتی ذہنی اور شعوری سطح کا سہارا لے کر بیان کرتا ہے تو خیال و اچھوتا، سب سے الگ اور ایسا دلکش بنا دیتا ہے کہ قاری اپنے آپ کو اس کے سحرسے کسی صورت آزاد نہیں کر پاتا۔ آنکھ کو جام و ساغر وغیرہ سے بارہا تشبیہ دی گئی ہے لیکن سودا کے یہاں اسی گھسے پٹے خیال کو جب اس طرح ادا کیا گیا۔

کیفیتِ چشم اس کی مجھے یاد ہے سودا

ساغر کو مرے ہاتھ سے لینا کہ چلا میں

تو ایک ایسی ندرت پیدا ہو گئی جو اپنے اندر عجیب دل کشی اور جاذبیت رکھتی ہے۔ یہ شاعر کا کمال ہے کہ وہ کسی پرانے سے پرانے خیال کو اپنے انداز بیان، جدّت ادا، اور جذبات کی شدت کے ساتھ الفاظ کا جامہ پہنا کر پیش کر دیتا ہے تو خیال دوبارہ نیا مزہ دے جاتا ہے۔ شاعر کسی بات کو محسوس کرے، کسی تجربے کو شدت کے ساتھ برتے، اسے مناسب الفاظ دے دے تو اس میں ایسی آنچ، ایسی تپش، اتنی سوزش اور اس قدر تپک پیدا ہو جاتی ہے کہ قاری اس سے سرسری طور سے نہیں گذرسکتا۔ اس کو اس وجدانی کیفیت سے لطف اندوز ہونے کے لیے رکنا ہی پڑتا ہے۔ شاہد اپنے مخصوص لہجے اور ڈکشن کے اعتبار سے جدید شاعروں کے درمیان منفرد مقام پر نظر آتے ہیں۔ ان کا اپنا لہجہ ہے، مخصوص ڈکشن ہے۔ ان وسیلوں کی مدد سے جب وہ کسی خیال کو ادا کرتا ہے تو ہماری توجہ اپنی طرف مبذول کرانے میں کامیاب ہو جاتا ہے۔

اندر کا سکوت کہہ رہا ہے

مٹی کا مکان بہہ رہا ہے

رقصِ جنوں پہ کوئی تعجب نہ شور ہے

دیوانہ شہر میں ہے کہ جنگل میں مور ہے

اوپر ادھر ہوا کے اشاروں پہ ہے پتنگ

اور اس طرف گمان کے ہاتھوں میں ڈور ہے

جس سے آگے ہمیں ملنے میں کوئی خوف نہ ہو

تم ذرا ہاتھ اسی موڑ پہ لہرا دینا

چلا تو سوچ کے یہ رو پڑا مرا سایہ

یہ شخص آج مجھے چھوڑ کے کدھر نکلا

ان کو بھی بہا لے گئے ناقوس ملوں کے

جو صبح کو جاگتے تھے موذن کی صدا سے

ویسے کب بولتا ہے سنّاٹا

خوف جاگا تو چار سو بولا

وہ سر و قد پس دیوار بھی نہیں چھپتا

ہزار جھک کے چلے سر دکھائی دیتا ہے

دھوپ رسوئی تک آپہنچی بس اب وہ آتے ہی ہوں گے

پیاز کترنا چھوڑ سہیلی، ورنہ انگلی کٹ جائے گی

جھانک رہا ہے سورج لیکن لوگ ابھی تک اُونگھ رہے ہیں

سارا گاؤں جاگ اٹھے گا گوری جب پنگھٹ جائے گی

آپ خفا ہو یا شرمائیں، روپ نکھرتا ہی جائے گا

یا ماتھے پر بل آئیں گے یا چہرے پر لٹ جائے گی

یہ حسرتیں، یہ اُمنگیں ہیں تیرے آنے تک

پھر اس کے بعد کوئی آرزو کہاں ہو گی

کون کتابوں کو چھانے

چہروں کو پڑھ لیتا ہوں

ندی کے پانی میں، تدبیر، بہہ گئی گھُل کر

وہ عزم تھا جو پہاڑوں کو چیر کر نکلا

جب ہم کسی ایسے شعر کو، جس کے شاعر کا نام ہمیں پہلے سے معلوم نہ ہو، پڑھتے ہیں تو انداز بیان، الفاظ کی نشست، یا ان کا مخصوص معنوں میں استعمال، ہمارے ذہن کو فوراً کسی شاعر کی طرف رجوع کر دیتا ہے اور ہمارا دماغ بے اختیار پکار اٹھتا ہے کہ اپنے اسلوب اور طرز ادا کے اعتبار سے یہ شعر فلاں شاعر کا کلام ہے۔ یہ کمال شعر کے لہجے کا ہے جو شاعر کی پہچان کا ذریعہ بنتا ہے۔ میراور فانی دونوں کا موضوع ایک ہے لیکن لہجے کا فرق دونوں کے کلام میں صاف طور سے محسوس ہوتا ہے۔ درد اور اصغر کا موضوع بھی ایک ہے لیکن طرِز ادا کے فرق کے باعث دونوں کے کلام میں امتیاز مشکل نہیں۔ داغ اور امیر ایک ہی دائرے کے شاعر ہونے کے باوجود الگ الگ پہچانے جاتے ہیں۔ ایسا ہی امتیازی لہجہ شاہدؔ کا بھی ہے جس کی وجہ سے اپنے ہم عصر شعرا میں وہ ایک ممتاز مقام پر نظر آتا ہے۔ جدید شعرا میں اس کا نام ایک اہمیت کا حامل ہے، اور ہم اس بات سے انکار نہیں کر سکتے کہ اس میں اوروں کی نسبت  ’’شاعری کا سلیقہ‘‘ بدر جہا بہتر طور پر موجود ہے۔ اگر اس کی شاعری کا بغور مطالعہ کیا جائے تو اس کے یہاں بہتیر ایسے عناصر مل جائیں گے جو کسی شاعر کو اوروں سے الگ کر کے ایک ممتاز مقام عطا کرتے ہیں۔ آئیے اس کی شاعری میں ہم ان عناصر کو تلاش کریں۔

شاہد کی شاعری کا سلسلہ بھی عام شعرا کی طرح روایتی غزل گوئی سے ہوا تھا۔ بعد میں شاعری سے زیادہ، نثر نگاری کی طرف توجہ منعطف ہوئی۔ کچھ نثری تحریریں، جن میں ایک ناول  ’’کچی دیواریں‘‘ بھی شامل ہے، شائع ہوئیں۔ ابھی تذبذب میں تھے کہ شعر لکھیں یا نثر۔۔ کہ ایک غزل نیاز فتح پوری کی خدمت میں ارسال کی۔ نیاز صاحب سے رائے مانگی کہ شاعری کرتے رہیں یا چھوڑ دیں۔ انھی کے خط پر موصوف کا جواب آیا۔  ’’سلسلہ جاری رکھیے۔ انتخاب نگار میں شائع ہو رہا ہے۔’’بس شاہد نے نثر سے توجہ ہٹا کر شاعری شروع کر دی۔ اولین غزلیں روایتی انداز کی تھیں۔ لیکن ان میں غضب کا بانکپن تھا۔

نو اے حق ہے تو کٹنے کا خوف کیا معنی

زبان کہہ نہیں سکتی تو کیوں دہن میں رہے

تمھارے شہر میں بھٹکے ہیں اجنبی کی طرح

کسی نے بات بھی پوچھی نہ آدمی کی طرح

بہت گراں تھی شب تار، وہ تو خیر ہوئی

تم اس طرف جو نکل آئے چاندنی کی طرح

یہ ماہتاب سا کچھ ہے کہ ماہتاب ہے یہ

ستارے سوچ میں ڈوبے ہیں فلسفی کی طرح

شاہدؔ کا تمام تر کلام غزلوں پر مشتمل ہے جو اس کے شعری رویے کی سمت متعین کرتا ہے۔ زیادہ تر چھوٹی بحروں میں شعر کہنے میں شاہدؔ کو کمال حاصل ہے، جن میں ایک خوش گوار ترنم اور رچاؤ ملتا ہے۔ ان کا آہنگ خوش تر ہے۔ میر کی سی سادہ زبان ہے لیکن لہجے میں میر کی سی کسک اور درد نہیں ہے۔ میر کے یہاں مظلومیت اور اذیت کا احساس درد مندی کی صورت اختیار کر لیتا ہے اور میر دھیمے لہجے میں گفتگو کرنے لگتے ہیں۔ شاہدؔ کے یہاں درد مندی ہے لیکن اس کی تمام تر شکایت زمانے سے ہے، اپنے ماحول سے ہے، اپنی تنہا ذات سے ہے۔ زمانے نے اس کی قدر نہ کی لیکن پھر بھی اسے اپنے فن، اپنی ذات، اپنی شخصیت اور وجاہت پر ناز ہے۔ اس لیے اس کے لہجے میں درد مندی، کسک اور دھیمے پن کی بجائے ایک طرح کی اکڑ، استحکام، پُر تحکم انداز اور بے زاری ہے۔ زمانے سے، اپنے آپ سے، اپنے ماحول سے۔

عصر حاضر کی ایک دین  ’’عدم اعتمادی‘‘ بھی ہے۔ یہ وہی عدم اعتمادی ہے جس نے زمانۂ قدیم میں شخصیت اور ذات کی نفی پر زور دیا تھا اور جس کی بدولت آدمی دنیاوی زندگی کی لذتوں سے بے نیاز ہو کر تصوف کی خانقاہوں میں خرقہ پوشی پر مجبور ہوا تھا۔ آج کی شاعری میں زندگی کی بے اعتباری کا رونا تو نہیں ہے لیکن زندگی کی مسلمہ روایات کے ٹوٹ جانے، بکھرجانے اور بے مایہ ہونے کا گلہ ضرور ہے۔ آج کسی پر بھروسا نہیں کیا جا سکتا۔ آدمی گھر کی چار دیواری میں رہتا ہے، پھر بھی در و دیوار سے اپنا رشتہ منقطع پاتا ہے۔ دیوار کے سایے کا بھی اعتبار نہیں کرتا۔ دن بھر سنہرے خواب خود ہی بنتا ہے، خود ہی توڑ دیتا ہے۔ اپنے وجود اور اپنی ذات پر بھی شبہ کرتا ہے۔ یہاں تک کہ ہر ملنے والے سے سوال کرتا ہے کہ تم جس سے مل رہے کیا میں وہی آدمی ہوں۔

باندھ رکھا ہے کسی سوچ نے گھر سے ہم کو

ورنہ اپنا در و دیوار سے رشتہ کیا ہے

ریت کی، اینٹ کی، پتھر کی ہو یا مٹی کی

کسی دیوار کے سایے کا بھروسہ کیا ہے

جا کے ملتا ہوں، نہ اپنا ہی پتا دیتا ہوں

میں اسے ہی نہیں خود کو بھی سزا دیتا ہوں

روز دن بھر کی مشقت سے اٹھاتا ہوں جسے

رات ہوتی ہی وہ دیوار گرا دیتا ہوں

تو جس کے تصور میں ملا کرتا ہے مجھ سے

اس شخص سے میرے بھی ملاقات کرادے

علاوہ ازیں شاعر نے مختلف شعری محاسن کو بھی بڑی خوبی سے برتا ہے۔ چند اشعار نقل کیے جاتے ہیں اور اشارۃً ان خوبیوں کی نشاں دہی کی جاتی ہے جو میرے خیال

میں شعر کی جان ہیں:

جیسے گل ہوتی چلی جائے چراغوں کی قطار

جب کوئی روٹھ کے جاتا ہے تو منظر دیکھو

برجستہ اور نادر تشبیہ ہے۔

لاٹھی بھی ٹوٹی سانپ بھی بچ کر نکل گیا

اس حادثے کے پیچھے کوئی گھر کا چور ہے

محاورے کا استعمال، حادثے کا بیان۔۔۔۔ ۔۔۔۔ ۔۔ نئی بات پیدا کی ہے۔

آ تجھے کوئی بددعا دے دوں

جا تجھے پیار کا شراپ لگے

محبوب کی محبوبیت کا لحاظ رکھتے ہوئے کیا خوب صورت بددعا دی ہے۔ پیار کو شراپ کہنا ندرت خیال ہے۔ آ اور جا میں صنعتِ تضاد ہے اور ان الفاظ کے بر محل استعمال سے شعر میں جو خوبی پیدا ہو گئی ہے، وہ بیان سے باہر ہے۔

کبھی کبھی کوئی خیال اس انداز سے ادا ہو جاتا ہے کہ اس میں ضرب المثل بن جانے کی قوت پیدا ہو جاتی ہے۔ ایسے اشعار آفاقی اقدار کے حامل ہوا کرتے ہیں۔ یعنی زماں اور مکاں کی قیود سے باہر ہوتے ہیں۔ ان پر وقت، مقام اور ماحول کی قید اثر انداز نہیں ہوتی۔ یہ ایسی کائناتی حقیقتیں ہوتی ہیں جن کا اطلاق تمام اقوام و ملت پر بلا لحاظ ملکی حدود اور جغرافیائی حالات، یکساں ہوتا ہے اور ان پر اضافیت کا شہرۂ آفاقی فلسفہ یعنی ہر شئے وقت، مقام اور ماحول کی پابند ہوتی ہے، لا گو نہیں ہوتا۔ مثلاً غالب کا ایک شعر ہے۔

لکھتے ہے جنوں کی حکایاتِ خونچکاں

ہر چند اس میں ہاتھ ہمارے قلم ہوئے

ممکن ہے غالب نے تاج محل کے معماروں کے ہاتھوں کے قلم کیے جانے والے حادثے سے متاثر ہو کر یہ شعر کہا ہو لیکن خیال کے ادا کرنے میں جن الفاظ کا سہارا لیا ہے۔ یعنی جنون، حکایاتِ خونچکاں اور پھر قلم کی ذو معنویت سب نے مل کر عمومیت کا ایسا رنگ اختیار کر لیا ہے کہ یہ شعر تاج محل کے مظلوم معماروں پر ہی نہیں، ہندوستان کی آزادی کی پہلی لڑائی لڑنے والوں، ہندوستان کو آزاد کرانے والوں، فلسطین میں جنگِ آزادی کا نعرہ بلند کرنے والوں، امریکہ کے حبشی غلاموں کی طرف داری کرنے والوں، افریقہ کی نسل پر ست حکومت کے خلاف جہاد کرنے والوں، افغانستان میں آزادی کی لڑائی لڑنے والے، ویت نام کے شہیدوں، سب پر صادق آتا ہے۔ اب کہاں زماں اور مکاں کی قید باقی رہی۔ یہاں اضافیت کا فلسفہ ناکام ہو جاتا ہے۔ ایسے ہی اشعار آفاقی اقدار کے حامل ہوا کرتے ہیں اور ایسے اشعار ہمیں شاہد کے یہاں و افر تعداد میں مل جاتے ہیں۔

نیند سے آنکھ کھلی ہے، ابھی دیکھا کیا ہے

دیکھ لینا ابھی کچھ دیر میں دنیا کیا ہے

گھیر کے مجھ کو بھی لٹکا دیا مصلوب کے ساتھ

میں نے لوگوں سے یہ پوچھا تھا کہ قصہ کیا ہے

مجھ سے کیا شرمانا، میں

دروازے کا پردہ ہوں

تیرے آنے اور جانے سے اک رنگ بدلتا رہتا ہے

ورنہ میرے گھر کا آنگن گلشن ہے نہ صحرا ہے

اب پیڑ بھی پھولوں کو سنبھالیں گے کہاں تک

شاخیں بھی لچکنے پہ ہیں مجبور ہوا سے

میں جنبشِ انگشت میں محفوظ رہوں گا

ہر چند مجھے ریت پہ تو لکھ کے مٹا دے

پتھر کو نچوڑنے سے حاصل

ہر چند ندی میں رہ رہا ہے

شاہد کبیر کی شعری خصوصیات میں وہ نازک اشاریت بہت اہم چیز ہے جس کا رچاؤ اُن کے ہاں کثرت سے ملتا ہے۔ یہ اشاریت تعمیریت سے اس طرح مربوط ہے کہ اکثر اوقات تو قاری کو یہ محسوس ہی نہیں ہوتا کہ وہ جن اشعار کو پڑھ رہا ہے اُن کی ایک خاص واقعاتی نوعیت بھی ہے اُس کے ساتھ ہی اُن میں خوبی یہ بھی ہے کہ کسی ایک خاص واقعہ سے منسلک ہونے کے باوجود ان اشعار کو غزل کے اشعار سے الگ نہیں کیا جا سکتا، اس کی بہترین مثال یہ چند اشعار ہے۔

گھُٹ کے مر جانے کالوگوں کو گماں بھی ہو گا

گھر میں جب آگ لگے گی تودھواں بھی ہو گا

صرف رنگت نہیں خوشبو بھی جداہو جس کی

خود کو کیسے وہ چھپائے گا جہاں بھی ہو گا

نقش ہو جاتا ہے ماحول پر ہرعکس حسیں

وہ یہیں تھا توکوئی اس کا نشاں بھی ہو گا

آگ اور خون کے آنگن میں ہمکتا بچہ

بچ گیا ہے تو کسی روز جواں بھی ہو گا

اس غزل کامطلع ایک المیہ سے متعلق ہے، آگ اور خون کے آنگن میں ہمکتابچہ بچ گیا ہے، اور یقیناکل وہ جوان ہو گا، اس علامتی تیورنے غزل کے اختتام کو رزمیہ رُخ دے دیا ہے۔

شاہد کبیر کے بہت سے اشعار ہمیں اپنے پورے پس منظر کے ساتھ ایک بھرپور کیفیت اور فضا کا احساس دلاتے ہیں، مشہور روسی ادیب میکسم گور کی اپنے شہرہ آفاق ناول  ’’ماں‘‘ کی ابتداء ان الفاظ سے کرتا ہے۔

’’کارخانے کی سیٹی روز مزدوروں کی بستی کے اوپر کی کثیف اور چکنی فضا میں تھر تھراتی ہوئی چیختی، اور اس بلاوے کی تعمیل میں اداس اور بے زار انسان توانائی بخش نیند سے قبل از وقت ہی بیدار ہو کر اپنے چھوٹے چھوٹے مٹیالے مکانوں سے حشرات الارض کی طرح نکل پڑتے‘‘

میکسم گورکی کی اس تحریر کے بعد شاہد کایہ شعر کیا اس منظر کی عکاسی نہیں کرتا؟

ان کو بھی بہا لے گئے ناقوس ملوں کے

جو صبح کو جاگے تھے موذن کی صدا سے

شاہد کبیر کی شاعری کے عناصِر ترکیبی میں عصری حسیت کی آنچ اور سیاسی شعور ذرا کم کم ہے، فکری عناصر سے تہی دامنی نئی شاعری کابہت بڑا المیہ ہے۔ سو وہ یہاں بھی ہے، انسانی دکھوں اور غموں کو وہ اپنی ذات کے حوالے سے بیان کرتے ہیں۔ ایک خوفِ آسیب شاعر پر مسلط ہے، یہ آسیب کہیں توواقعی آسیب وعفریت معلوم ہوتا ہے، لیکن اصل میں یہ وہ بے اطمینانی ہے جوآج کی صنعتی اور معاشی زندگی کا تلخ ثمر ہے، اس کے علاوہ ہمارے صوفیاء کی طرح اکثر جگہ ان کی شاعری میں وجود کے متعلق تشکیک اور بے یقینی کے اظہار کے ساتھ ایک خواہش فنابھی پائی جاتی ہے۔

شاہد کے یہاں لفظ، سفر، کابرتاؤ بھی خاصہ پایا جاتا ہے۔ ان کے ہاں سفرکی تھکن کا احساس بھی اور آرزوئے سفر بھی شدید تر ہے، مسافر کے ساتھ سانحہ یہ ہوا ہے کہ تمام راہیں ختم ہو چکی ہیں، غالباً وہ پھر اُسی نکتہ پر آپہنچا ہے جہاں سے اس نے سفر کا آغاز کیا تھا۔ سفر سے متعلق شاعر کے اس ذہنی رویّے کوسمجھنے کے لئے ہمیں شاعر کی نفسیات میں نہیں انسانی تاریخ میں جھانکنا ہو گا۔ انسان عہد وحشت سے سفر کرتا ہوا آج عہد تہذیب کی انتہا پر آ کر ٹھہر گیا ہے۔ وہ سوچ رہا ہے اور کھڑا ہے، دیکھنایہ ہے کہ اب اس کی سمتِ سفر کیا ہو گا۔ عہد تہذیب سے پھر عہد وحشت کی طرف تو نہیں؟

کیا حادثہ ہوا ہے مسافر کے ساتھ بھی

راہیں ہوئیں تمام سفر کچھ نہیں ہوا

اس کے علاوہ شاہد کبیر کو اپنی بات انتہائی سطح تک پہنچادینے میں بڑی دسترس حاصل ہے، اس حد تک کہ اس کے بعد وہ بات کو اور آگے لے جانے کی کوئی انتہا ہی نہیں چھوڑتے۔

مغموم بھی اتنے کہ کوئی غم نہیں باقی

محروم بھی ایسے کہ طلب تک نہیں معلوم

بھلادیا تو بھلانے کی انتہا کر دی

وہ شخص اب مرے وہم گمان سے بھی گیا

شاہد کبیر کی شاعری لطافت اور شگفتگی سے بھی خالی نہیں، غموں میں مسکرانے کا ہنر تو صرف شاعر ہی جانتا ہے۔ واقعہ کی سنگینی اپنی جگہ مسلم سہی، دیکھنا یہ ہے کہ شاعر کس لطیف انداز میں اس کی رپورٹنگ کر رہا ہے۔

گھیر کے مجھ کو بھی لٹکادیا مصلوب کے ساتھ

میں نے لوگوں سے یہ پوچھا تھا کہ قصہ کیا ہے

لہجے کی دل آویزی کے ساتھ ہی شاہد کے ہاں گہری داخلیت بھی ہے، جوعمیق مشاہدے اور گہری سوچ کی پیداوار ہے یہ داخلیت کسی شعر میں اسی وقت پیدا ہوتی ہے، جب شعر کے اندرون اور اس کی روح کی گہرائی سے کوئی شعر جنم لیتا ہے۔ اگرچہ یہ چند اشعار الگ الگ موضوعات سے متعلق ہیں تاہم میرا اشارہ ان کے داخلی تاثر کی نشاندہی کرتا ہے۔

جائے گا بھی توکہا جائے گا پاؤں والا

گھر سے نکلے، کہ اٹھا ہاتھ دعاؤں والا

اب یہاں کیا ہے ترے پاس ٹھہرنے کاجواز

اور پھر تو نے سفینے کو ڈبویا بھی کہاں

بس اک گماں کے تعاقب میں لوگ چلتے ہیں

سفر کوسمت کوئی راہگیر کیا دے گا

انا کو بیچ کے عظمت خرید سکتے ہیں

ضمیر کیا ہے؟ کسی کو ضمیر کیا دے گا

شاہدزندگی میں ابتری اور انتشار سے کافی دکھی ہیں، میں اور آپ سبھی چاہتے ہیں کہ ہر چیز سلیقے سے اپنی جگہ پر رہے مگر ایسا ہوتا نہیں، گھر میں ٹاول کبھی اپنی متعین جگہ پر نہیں ملتا، کنگھا بجائے سنگھاردان کے باورچی خانے سے برآمد ہوتا ہے، پھر زندگی کو ذرا دُور تک دیکھئے ذہانت مفلسی کی ردا میں لپٹی ہوئی ملتی ہے، علم بے وقار سڑکوں پر آوارہ ہے اور جہل کے سرپر علم وفضیلت کی دستار بندھی ہوئی ہے۔ مطلب یہ کہ ہر وہ چیز جسے اپنے مقام پر ہوناچاہئے تھا۔ اپنی جگہ پر نہیں ہے۔ زندگی کی اس غلط بخشی پر شاہد نے بہت خوبصورت انداز میں طنز کیا ہے۔

پھول گلدان میں، کانٹے ہیں مرے ہاتھوں میں

میں نے چاہا تھا کہ ہرچیز ٹھکانے سے رہے

یہاں کسی کو کوئی عقل دے نہیں سکتا

میں معتبر ہوں، مگر دخل دے نہیں سکتا

یہ بھی سچ ہے کہ یہاں ایک زمانے سے رہے

جانے والے تو مگر لوٹ کے آنے سے رہے

اب کے ہم بچھڑے ہیں تو کتنے رنگیلے ہو گئے

میری آنکھیں سرخ، تیرے ہاتھ پیلے ہو گئے

شاعر نے پانی، عکس، ساحل، سمندر، موج، تالاب، ندی، بارش، سائبان، چھت، بدن، لباس وغیرہ الفاظ کا سہارا لے کر کئی طرح کی خیالات باندھے ہیں۔  ’’مٹی کا مکان‘‘ ہے تو کل ۸۰ صفحات کی کتاب، لیکن پچاسوں جگہ ان الفاظ کا استعمال ہوا ہے۔ ایک ہی لفظ کو مختلف پس منظروں میں جب بار بار دہرایا جاتا ہے تو اس کے مفہوم میں بڑی وسعت آ جاتی ہے اور وہ لفظ رفتہ رفتہ کثرت استعمال سے علامت کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ چنانچہ ان چند الفاظ کو شاعر جب بار بار استعمال کرتا ہے تو پتہ چلتا ہے کہ ان کے پس منظر میں کوئی خاص بات یا واقعہ یا سانحہ یا خیال یا فلسفہ ہے جو شاعر کے شعور کے دھندلکوں میں موجود ہے اور اسی ایک بات کو وہ مختلف پس منظروں کے وسیلے سے وسیع ترمعنوں میں استعمال کرتا چلا جاتا ہے۔ یہی وہ مخصوص ڈکشن، وہ کلیدی الفاظ، وہ مخصوص پس منظر اور نفسیاتی کیفیت ہے جو شاعر کی پہچان کا ذریعہ بنتی ہے۔ ان الفاظ کو شاعر نے جن خاص معنوں میں استعمال کیا ہے وہ اس کا ذاتی سرمایہ ہیں۔ دوسروں کے یہاں بھی یہ الفاظ مل جائیں گے لیکن ان کے استعمال کا محل اور پس منظر علیحدہ ہو گا۔ یہی کلیدی الفاظ شاعر کے لب و لہجے کو متعین کرنے میں معاون ہوتے ہیں۔ اس کے اسلوب کی بنیاد بنتے ہیں۔ ان کلیدی لفظوں کے علاوہ شاہد ایک یونانی فلسفی کے قول سے بھی متاثر نظر آتا ہے۔ "you can’t bath in the same river” اس خیال کو بنیاد بنا کر مذکورہ بالا کلیدی لفظوں کی مدد سے شاہد اپنی شاعری کا لینڈ اسکیپ تیار کرتا ہے۔

بنے گا عکس جو پانی میں، ٹوٹ جائے گا

اس آئینے کو بہت ہی سنبھال کر دیکھو

مری تشنگی کا صلہ لے گئی

ندی عکس میرا بہا لے گئی

اب نہیں آئے گا ساحل پہ وہ چہرہ شاہد

نقش پانی پہ تجھے آج بنا دینا تھا

تھوڑی ہی دیر میں تحلیل تو ہو جانا ہے

عکس پانی کا ہے، کچھ دیر تو لہرانا ہے

آئینہ پگھل چکا ہے شاہد

ساکت ہوں میں، عکس بہہ رہا ہے

آئینہ، عکس، لباس، چاند، تالاب، ریت، پانی کی تھاہ وغیرہ الفاظ کی مدد سے بھی شاعر کئی طرح کے خیالات پیش کرتا ہے۔ مندرجہ بالا الفاظ قدیم شاعری میں بھی استعمال ہو چکے ہیں لیکن ان کا موضوع، پس منظر اور ماحول جدا تھا۔ یہاں شاعر کے سامنے زمانۂ حاضر ہے، جو جذبات کے اعتبار سے بے انتہا سرد ہے۔ انسانی تعلقات میں دکھاوا آ گیا ہے۔ برسوں ساتھ رہنے کے بعد پڑوسی پڑوسی سے واقف نہیں ہے۔ جو ہنس کر ملے تھے مڑ کر دیکھنے پر ان کی پیشانی شکن آلود نظر آتی ہے۔ انسانی جذبات مشینی معاشرے کے سرد ہاتھوں تلے انتہائی بے رحمی، سختی اور بے دردی سے کچلے جا رہے ہیں۔ سڑک پر کسی حادثے میں ایک انسان کی موت ہوتی ہے۔ راہ روبے نیازی سے گذر جاتے ہیں۔ کوئی رک کر یہ بھی جاننے کی رحمت گوارا نہیں کرتا کہ کون مرا اور اکثر ایسا ہوتا ہے کہ مرنے والا اس کا اپنا ہی ہوتا ہے۔ جانوروں اور انسانوں کے درمیان امتیاز مٹتا جا رہا ہے۔ ہر طرف ہوس کا دور دورہ ہے۔ جذبۂ خلوص سے دنیا خالی ہے۔ مطلب پرستی اور خود غرضی کا راج ہے۔ کوئی کسی کا ہم درد نہیں، غم گسار نہیں، دکھاوے کی ہم دردی اور غم گساری ہے۔ زخموں کا علاج نہیں کیا جاتا بلکہ اور کریدا جاتا ہے۔ ہزاروں خواہشیں ایسی ہیں کہ ہر خواہش پہ دم نکلے۔ انسان ہر صبح نئے نئے خواب لے کر گھر کی چوکھٹ سے باہر قدم رکھتا ہے اور ہر شام جب دہلیز پر واپس قدم رکھتا ہے تو ٹوٹا پھوٹا، لٹا لٹا یا، تھکا ماندہ، خواہشوں، آرزوؤں، تمناؤں کا جنازہ کاندھے پر رکھے نڈھال۔۔۔۔ کوئی یقین کامل نہیں، کوئی خواب مکمل نہیں، کوئی آرزو تسلی بخش نہیں، کوئی جذبہ پائیدار نہیں، کوئی تصویر صاف نہیں، کوئی نقش واضح نہیں۔ حساس اذہان ان وارداتوں کو اپنے آس پاس دیکھتے ہیں۔ اپنے آپ کو ان میں گھرا ہوا پاتے ہیں۔ ذکی الحسن ذہن اس شدید کرب کی حدت کو اپنے اندر سمولیتا ہے اور یہ پگھلا ہوا لا واجب آتش فشاں کی طرح دل کی گہرائیوں سے نکلتا ہے تو شاعر کا المیہ بن جاتا ہے۔

وہ شناور ہے تو کیوں مجھ سے چراتا ہے نظر

میں سمندر ہوں کسی روز کھنگا لے مجھ کو

اگر ہے جسم تو چھو کر مجھے یقین دلا

تو عکس ہے تو کبھی آئینہ بنا مجھ کو

میں وہ بھولا ہوا چہرہ ہوں کہ آئینہ بھی

مجھ سے میری کوئی پہچان پرانی مانگے

ہر آئنے میں بدن اپنا بے لباس ہوا

میں اپنے زخم دکھا کر بہت اداس ہوا

پانی کا پتھروں پہ اثر کچھ نہیں ہوا

روئے تمام عمر مگر کچھ نہیں ہوا

خود سے کوئی کب تلک لڑے گا

آئینے کو ٹوٹنا پڑے گا

جاؤ گے کہاں بچا کے دامن

پانی تو سبھی طرف بڑھے گا

کتنا خوش فہم کوئی آدمی ہو سکتا ہے

کبھی تنہائی میں آئینہ اٹھا کر دیکھو

پانی سے بچنے ٹھہرا تھا وہ سائبان میں

بارش ذرا بڑھی تو ٹپکنے لگیں چھتیں

’’شاہد کبیر‘‘ مضمون قرطاس ناگپور ادب نمبر جنوری۔ اپریل ۲۰۰۲ء میں ساحل احمد لکھتے ہیں کہ  ’’مٹی کا مکان‘‘ شاہد کبیر کا پہلا مجموعہ ہے جو ۱۹۷۹ء میں شائع ہوا اور دوسرا  ’’پہچان‘‘ ۱۹۹۹ء میں طبع ہوا۔ ان کا ناول  ’’کچی دیواریں‘‘ بھی ۱۹۵۸ء میں طبع ہوا۔

شاہد کبیر سے میرے مراسمات ۱۹۶۰ء کے آس پاس سے رہے ہیں۔ ان کی بعض تحریریں بہ شکل خطوط یادوں کا سر مایہ ہیں۔ میں ادھر جون ۲۰۰۰ء کے بعد جب اپنی ملازمت سے سبک دوش ہوا تو اپنے ان دوستوں اور بزرگوں کی یاد آئی۔ جنہیں میں اپنی کوتاہی یا غلطی کے باعث بھلا بیٹھا تھا۔ نئی روشنی کا اسیر ہو کر اُن یادوں کو یا اُن چہروں کو بھلا دینے کا احساس لہو رلاتا ہے۔ اب جب میں ان کے مشفقانا یا مخلصانہ تجویزوں کو دیکھتا ہوں۔ آنکھیں لہو روتے نہیں تھکتیں۔ کتنے بزرگوں کی محبتیں اور دوستوں کی رفاقت یاد آتی ہے۔ تو انہیں تلاشتا ہوں بیش ترکی بس یادیں باقی رہ گئی ہیں۔ اب اسی صورت میں اپنا فرض بہت شدت سے یاد آتا ہے۔ جو عمر کے آخری دہے میں ہیں۔ ان سے تجدید ملاقات یا مراسلات کرنے کی سعی کر رہا ہوں۔ اللہ طاقت و توانائی دے کہ اپنا فرض اور قرض ادا کر سکوں۔ سلسلۂ مضامین اسی فرض منصبی کا حصہ ہیں۔

شاہد کبیر کا ۹ جولائی ۱۹۶۵ء کا لکھا خط  ’’احوال واقعی‘‘ کے تحت میرے سامنے ہے۔ اس طویل تحریر کے بعض حصوں کی ہی نقل کرنے پر اکتفا کروں گا۔ انہوں نے اسی خط کے ساتھ اپنی نئی تازہ نظمیں ( عبادت گاہ، برہمن، اجنبی) بھجوائی تھیں اور ایک غزل بھی۔ اس غزل کے چند شعر درج کرتے ہوئے اپنی اگلی گفتگو جاری رکھوں گا۔

تمھارے شہر میں بھٹکے ہیں اجنبی کی طرح

کسی نے بات بھی پوچھی نہ آدمی کی طرح

ہمارے زخم کہاں تک سیو گے چارہ گرو

بہار آتے ہی کھل جائیں گے کلی کی طرح

ہمارے دل میں بھی حسرت ہے مسکرانے کی

حضور! ہم بھی تو انسان ہیں آپ ہی کی طرح

انہوں نے لکھا تھا کہ:

’’آدمی دوسروں کی خامیاں بڑی آسانی سے گنوا سکتا ہے۔ مگر اپنی کمزوریوں کا اعتراف کرنا بہت مشکل ہے۔۔۔۔ شاعری سے قبل مجھے شعر و شاعری سے کوئی خاص لگاؤ نہیں تھا۔ حالانکہ کلام غالب کا بیش تر حصہ بہت چھوٹی سی عمر میں تقریباً حفظ ہو چکا تھا۔۔۔ اور آج بھی اگر کوئی مجھے صورت سے شاعر سمجھ بیٹھتا ہے تو بڑی الجھن ہونے لگتی ہے۔ ایک حجام اپنے سیلون میں بھلے ہی حجام نظر آئے مگر عام حالات میں وہ آدمی ہی لگتا ہے۔ مگر شعرا عام حالات میں بھی شاعر لگتے ہیں۔ جبکہ پیدا وہ بھی آدمی ہی ہوتے ہیں۔ ( در اصل مجھے ہر حالت میں  ’’شاعر لگنا‘‘ اچھا نہیں لگتا) مجلسوں اور مشاعروں سے ہنوز کوئی دلچسپی پیدا نہ ہو سکی۔ شہر میں بہت بڑا مشاعرہ ہے۔ ہنگن گھاٹ، بالا گھاٹ اور گھاٹ گھاٹ کے شعرا تشریف لائے ہوئے ہیں۔ مگر کوشش کے باوجود بھی دل میں کوئی گد گدی پیدا نہیں ہوتی۔ تنہائی کو شدت سے محسوس کرتا ہوں۔ مگر ناموافق رفاقت تنہائی سے کہیں زیادہ تکلیف دہ ہوتی ہے۔ عام لوگوں میں گھلنے ملنے سے شروع سے کتراتا ہوں۔ بچپن میں میری اس کمزوری کو لوگ شر میلا پن کہتے تھے لیکن اب تکبر کہلاتا ہے۔ باتیں صرف بے تکلف دوستوں ہی سے کرتا ہوں ورنہ عام طور پر خاموش رہتا ہوں۔۔۔۔ میری ادبی زندگی کا آغاز نثر نگاری سے ہوا تھا۔ کبھی کبھی کہانیاں اور دو دو ڈھائی ڈھائی سو صفحات کے ناول تک لکھ مارے۔ مگر آج کل صرف چار چھ شعر کی غزلوں اور تین مصرعوں کی نظموں پر ہی اکتفا کر رہا ہوں۔۔۔۔‘‘

شاہد کبیر مزاجاً خاموش طبع اور قناعتی واقع ہوئے تھے۔ انہیں غزل کے معتبر شاعر ہونے کا افتخار حاصل تھا۔ ان کی غزلیں مروجہ فکر سے آراستہ ہوتے ہوئے عصری واقعات و حیثیت سے مالا مال ہیں۔ ان کے کلام میں یاس و محرومی، کرب و اذیت اور المیائی عناصر موجود ہیں جو ان کی زندگی کے مظاہرات کو آئینہ دکھاتی ہیں۔ انہوں نے اپنی غزلوں کو وقت کا آئینہ بنانے کی دست تخلیقیت سے مدد لی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے کلام میں زندگی عمل تحریک اور علائم تاثیریت روشن و تا بندہ دھوپ یا چاندنی کی طرح موجود ہیں۔ انہوں نے زندگی کی کھردری واقعیت پر پردہ نہیں ڈالا۔ فکر و اعمال کی کجی و کمزوری سے پردہ نہیں کیا۔

کتنی صدیوں سے ڈراتے ہیں اجالے مجھ کو

اپنے دامن میں کوئی رات چھپا لے مجھ کو

عجب سکون سا ملتا ہے نامرادی میں

جو میرا حال ہے وہ اپنا حال کر دیکھو

کیا وقت پڑا ہے کہ آدمی پر

سائے سے لپٹ کر رو رہا ہے

کیا حادثہ ہوا ہے مسافر کے ساتھ بھی

راہیں ہوئیں تمام سفر کچھ نہیں ہوا

جاؤ گے کہاں بچا کے دامن

پانی تو سبھی طرف بڑھے گا

سروں کو ریت کے اندر چھپائے بیٹھے ہیں

ہے سب کو خوف یہاں اپنی اپنی جانوں کا

اک برگ بے شجر سی پریشاں ہے زندگی

اپنے پہ کوئی بس نہ ہواؤں پہ زور ہے

فصیل شہر کی زینت ہے اب لہو میرا

یہ آرزو تھی ترے شہر میں امان ملے

ان کی غزلیں ان کی اپنی زندگی کی ہر خفی و جلی حسیاتی روش کا منظر دکھلاتی ہیں۔ جنہیں فکر پاتی نگاہ ہی دیکھ سکتی ہے۔ بہت ہی مہذب طور و طریق سے احساس فکر کی یہ مصوری کی گئی ہے اور جسے اجالنے کے لیے آنسو ؤں کا برش قدرے احتیاط سے استعمال کیا گیا ہے۔ اپنی تمام عمر کی سر گزشت شرافت و نیکی کے استعارے میں بیان کرنے کی جو سعیِ جمیل کی اس میں نفسی ایمائیت اور رمزی تصویر یت کی حرارت بھی ہے اور کسر نفسی بھی۔ اسی لیے ان کے اشعار میں داخلی کرب و احساس اور داخلی تفکر موجود ہے۔

منتشر ہو گیا میں دشت میں ذروں کی طرح

آج موسم تھا بہت تیز ہواؤں والا

میں وہ بھولا ہوا چہرہ ہوں کہ آئینہ بھی

مجھ سے میری کوئی پہچان پرانی مانگے

لباس جسم میں شاہد کو ڈھونڈنے والو

کبھی تو اس کو بدن سے نکال کر دیکھو

اس عہد کا ایک فرد ہوں میں

صدیوں کا جو بوجھ ڈھورہا ہے

ایک عمر سے محسوس کیے جاتا ہوں خود کو

کوئی مجھے چھو کر مرے ہونے کا پتہ دے

اپنی اجرت نہیں چھوڑے گا رلانے والا

دیکھ لینا وہ کسی روز ہنسائے گا مجھے

صرف یہی نہیں کہ انہوں نے اپنی ہی کہانی لباس نفسیہ میں بیان کی ہے انہیں تو ہر آنکھ کا آنسو، ہر پیڑ کا زرد پتہ ہر سطح آب پر جمی سیہ کائی، ہر کنویں کی منڈیر سے جھانکتی تنہائی، ہر ٹوٹے گھروندوں کی اداسی، اور ہر آدمی کی شکستہ سانسوں میں اپنی ہی تصویر دیکھی ہے۔ ان میں محبتوں کی، اخلاص کی، پیار کی خوشبو بسانے کی آرزو ہے۔ ان سب سے اپنی ذات کا کرب اور اپنی ٹوٹتی سانسوں کی تھر تھراہٹ محسوس کی ہے۔ شاید اسی باعث ان کی انسانی جبلّت خیر آگیں لمحات کو سمیٹنے یا تلاشنے کو فرض کفایہ مانتی ہے۔ انہوں نے ایک اچھے آدمی کی طرح ہر آدمی میں اس کی آدمیت تلاش کی ہے۔ کیوں کہ بغیر آدمیت کے آدمی کو آدمی کہا جانا منصفی نہیں۔ اسی طرح بغیر شعریت کے شعر کو شعر کہا جانا صحیح نہیں۔

باندھ رکھا ہے کسی سوچ نے گھر سے ہم کو

ورنہ اپنا در و دیوار سے رشتہ کیا ہے

شجر سے گرتی ہیں کٹ کٹ کے پتیاں شاہد

نہ کوئی ہاتھ نہ خنجر دکھائی دیتا ہے

کون سا کرب چھلکتا ہے ہنسی سے میری

کیسے ہنستا ہوں کہ دنیا کو رلا دیتا ہوں

اپنی پہچان کھو چلی دنیا

جسم زندہ ہیں مر گئے چہرے

پیروں سے زمیں نکل رہی ہے

اور ہاتھوں میں آسماں نہیں ہے

ہر روز بھی مل کے نہیں مل پاتے ہیں ہم لوگ

اے دوستو! یہ کیسی گرہ دل میں پڑی ہے

تمام حادثے احساس کھو چکے اپنا

یہ آرزو ہے کوئی آنکھ میری نم کر دے

کب کی پتھر ہو چکی تھیں منتظر آنکھیں مگر

چھو کے جب دیکھا تو میرے ہاتھ گیلے ہو گئے

بس اک گماں کے تعاقب میں لوگ چلتے ہیں

سفر کو سمت کوئی راہ گیر کیا دے گا

پھر اسی سج دھج سے سر راہ کھڑے ہیں شاہد

وہی انداز فقیرانہ صداؤں والا

حواس کی زرد روئی نے بھی لطافت احساس پر کوئی سایہ نہیں ڈالا بلکہ تھکی اداس سانسوں کو سوئی آنکھوں کے قریب جانے سے روکا اور خوابیدہ پلکوں پر تتلیوں کی محویت کم نہیں کی۔ شاہد کی حساس نظر اس منظر کو دیکھتی جو محبوب کی یادوں کو جلا دیتی ہے اور دردو تنہائی مہکا دیتی ہے۔ محبوب کی قربت اسی کا احساس اور بدن کی خوشبو کیا کچھ ان کے اشعار میں نہیں۔ ان کی تخیل لمس شعری تونگری کا ذریعۂ اثبات ہے۔ جب شعر محبوب یا دوست بن جاتا ہے تو شاعر کے خواب کی تعبیر مل جاتی ہے۔

اگر ہے جسم تو چھو کر مجھے یقین دلا

تو عکس ہے تو کبھی آئینہ بنا مجھ کو

بارش میں بھیگنے کا مزا آ گیا اسے

کپڑوں کے ساتھ ساتھ بدن کو نچوڑ کے

تیرے آنے اور جانے سے رنگ بدلتا رہتا ہے

ورنہ میرے گھر کا آنگن گلشن ہے نہ صحرا ہے

یہ حسرتیں یہ امنگیں ہیں تیرے آنے تک

پھر اس کے بعد کوئی آرزو کہاں ہو گی

اس سے ملو تو رہتا نہیں خود پہ اختیار

لیکن ملے بغیر بھی دل مانتا نہیں

جیسے گل ہوتی چلی جائے چراغوں کی قطار

جب کوئی روٹھ کے جاتا ہو تو منظر دیکھو

کچھ اس ادا سے ملا آج مجھ سے وہ شاہد

کہ مجھ کو خود پہ کسی اور کا قیاس ہوا

شاہد کبیر کی یہی اجلی شعریت ہے، جس میں صبح کی نرمی اور شام کی پیاس یا خنکی موجود ہے۔ یہی سچ ہے اور یہی آواز، آواز ہے۔

اب لوگ ترس جائیں گے آواز کو میری

گونجوں گا فضاؤں میں سنائی نہیں دوں گا

(حوالہ: قرطاس ناگپور ادب نمبر جنوری۔ اپریل۲۰۰۲ء)

۱۹۵۰ء سے ۱۹۶۰ء تک نئی شاعری پر فرائڈ کے اثر کا غلبہ رہا لیکن اس کے بعد جدید شعراء نے دوسرے موضوعات پر بھی توجہ کی۔ بیسویں صدی کی چھٹی دہائی کے اواخر میں جب نئی شاعری نے ایک مستقل اور اہم حیثیت اختیار کی تو اس کے لیے ماحول تیار کرنے میں بلراج کومل محمود ہاشمی اور شمس الرحمن فاروقی نے نمایاں حصہ لیا۔ لیکن جہاں آل احمد سرور، خلیل الرحمن اعظمی، وحید اختر، مغنی تبسم، عالم خوند میری، باقر مہدی، کرامت علی کرامت، شکیل الرحمن، گوپی چند نارنگ، فضیل جعفری، ندا فاضلی، شمیم حنفی اور بشر نواز وغیرہ نے نئی شاعری کی خلاف پیدا شدہ خوف و ہراس کو ختم کرنے کی کوشش کی وہیں علاقۂ ودربھ سے شاہد کبیر ، مدحت الاختر اور عبدالرحیم نشتر وغیرہ کی آوازوں نے بھی اپنی انفرادیت کو برقرار رکھا۔

شاہد کبیر کے شعری اظہار کی صداقت، حقیقت پسندی اور حسیت (Sensibility) نے انہیں عصری ادب میں ایک ممتاز مقام پر لا کھڑا کیا ہے۔ ان کے بیشتر اشعار کی تخلیق ان کے مشاہدات اور تجربات کی مشترکہ دین ہے۔ ان کا حساس اور با شعور ذہن خارج میں وقوع پذیر تمام تر تغیرات کا اثر اس طرح قبول کرتا ہے:

اس عہد کا ایک فرد ہوں میں

صدیوں کا جو بوجھ ڈھو رہا ہے

شاہد کبیر کے اولین شعری مجموعہ کی ورق گردانی کے دور ان یہ شعرمیری توجہ کا خاص مرکز بنا:

اندر کا سکوت کہہ رہا ہے

مٹی کا مکان بہہ رہا ہے

شاہد کبیر کے اندر پناہ گزیں شاعر ہی یہ سراغ پانے میں کامیاب ہوا کہ انسانی وجود بجز  ’’مٹی کا مکان‘‘ کچھ نہیں جو انجانے طوفان کی وجہ سے رفتہ رفتہ تحلیل ہو رہا ہے جس کی کسی کو خبر نہیں۔ یہ Phenomenon مسلسل تحلیلی ہے جو وجود انسانی میں ہر لمحہ وقوع پذیر ہو رہا ہے۔

شاہد کبیر نے ہمہ وقت یہی محسوس کیا کہ فرد اور سماج کا رشتہ جو بظاہر ایک پائیدار اور اٹوٹ نظر آتا ہے، اندر سے کس قدر ٹوٹا ہوا ہے۔ آخر انہیں کہنا ہی پڑا کہ:

قریب ہم ہی نہ جب ہو سکے تو کیا حاصل

مکان دونوں کا ہر چند پاس پاس ہوا

محفلوں میں بھی وہ احساس ہے تنہائی کا

شہر میں جیسے اکیلا کوئی گاؤں والا

نئی شاعری پر یہ الزام ہمیشہ رہا ہے کہ وہ روایت سے بغاوت پر آمادہ ہے لیکن میری ذاتی رائے اس سے انحراف کرتی ہے۔ کیوں کہ دیگر جدید شعرا کی طرح شاہد کبیر کے یہاں بھی روایتی موضوعات ملتے ہیں لیکن ان کے برتنے کا انداز ملاحظہ کیجئے۔

وہ سر و قد پسِ دیوار بھی نہیں چھپتا

ہزار جھک کے چلے سر دکھائی دیتا ہے

جیسے گل ہوتی چلی جائے چراغوں کی قطار

جب کوئی روٹھ کے جاتا ہو تو منظر دیکھو

ندی کے پانی میں تدبیر بہہ گئی گھل کر

وہ عزم تھا جو پہاڑوں کو چیر کر نکلا

دھوپ رسوئی تک آپہنچی، بس اب وہ آتے ہی ہوں گے

پیاز کترنا چھوڑ سہیلی ورنہ انگلی کٹ جائے گی

اسی طرح کے کئی اشعار جو روایتی بنیاد کے سہارے مکمل ہوتے ہیں  ’’مٹی کا مکان‘‘ میں موجود شاہد کبیر کا شعری اثاثہ ہیں۔ شاید ہی کوئی شاعر ہو، جس نے  ’’زندگی‘‘ اور  ’’دنیا‘‘ جیسے موضوعات کو اپنی شاعری میں نہ برتا ہو لیکن حقیقت تو یہ ہے کہ اگر انہیں برتنے میں ندرت خیال اور نیا آہنگ موجود نہ ہو تو قاری متوجہ نہیں ہو سکتا۔ شاید یہ بات شاہد کبیر بہتر طور پر جانتے تھے۔ اس وجہ سے ان کا غیر مشروط ذہن جو حساس بھی ہے اور باشعور بھی جب ان موضوعات پر کچھ سوچتا ہے تو ان کی فکر انہیں شعر گوئی کے لئے مجبور نہیں کرتی بلکہ شعری اظہار داخلی حسیت کے دباؤ کے تحت ہونے لگتا ہے اور شعر زیادہ پُر اثر ہو جاتا ہے۔ آپ بھی شاہد کبیر کے اس ندرت خیال سے لطف اندوز ہوئیے۔

نیند سے آنکھ کھلی ہے ابھی دیکھا کیا ہے

دیکھ لینا ابھی کچھ دیر میں دنیا کیا ہے

جو رنگ بھر دو اسی رنگ میں نظر آئے

یہ زندگی نہ ہوئی کانچ کا گلاس ہوا

مٹی کے مکان میں شاہد کبیر کے ذہنی، جذباتی اور حسی عوامل یکساں متحرک ہیں، جن کا بخوبی مشاہدہ درج ذیل اشعار میں کیا جا سکتا ہے۔ یہ اشعار بغور دیکھئے۔ مزاج زمانہ اور سماجی نفسیات کے عکاس بھی نظر آتے ہیں:

گھیر کر مجھ کو بھی لٹکا دیا مصلوب کے ساتھ

میں لوگوں سے یہ پوچھا تھا کہ قصہ کیا ہے

اسی خطا پہ وہ اک روز مارا جائے گا

غریب ہو کے تونگر دکھائی دیتا ہے

ایک ذی فہم قاری ان اشعار کی سچائی اور بینائی کا ضرور قائل ہو جائے گا اس طرح شاہد کبیر لوگوں کے اذہان میں محفوظ بھی ہو جائیں گے۔

نئی شاعری کے ارتقاء میں شاہد کبیر کے اشعار نہ صرف معاون ثابت ہوئے ہیں بلکہ قیمتی سرمایہ بھی ہیں۔ وہ خود بھی تو کہتے ہیں:

میں جنبشِ انگشت میں محفوظ رہوں گا

ہر چند مجھے ریت پہ تو لکھ کے مٹادے

چند صفحات پر مرقوم گنے چنے اشعار شاعر کی فکر کا پتہ ضرور دیتے ہیں۔ لیکن قاری کی ادبی تشنگی کو سیراب نہیں کر سکتے۔ مجھے یہ کہنے میں چنداں عار نہیں کہ ودربھ کے اس البیلے شاعر نے دانشور ان ملک کو نہ صرف اپنی جانب متوجہ کیا بلکہ ودربھ کے ادبی بنجر پن کو بھی کامیابی سے اس طرح دور کیا کہ نئی راہیں روشن ہوتی چلی گئیں اور شاعری میں نئے نئے چہرے سامنے آتے گئے۔

 

شاہد کبیر کی نظم نگاری:

انتظار

وہ نہیں آیاتواس کیلئے حیراں کیوں ہے

کوئی امید نہیں ہے تو پریشاں کیوں ہے

دل میں اب اس سے ملاقات کا ارماں کیوں ہے

وہ مسافر تھا مسافر کا بھروسہ کیا ہے

صرف دو چار ملاقاتوں سے ہوتا کیا ہے

دل کی دنیاسے جو اِک بار چلا جاتا ہے

جانے کس موڑ کس راہ میں کھو جاتا ہے

جس کی اُمید نہیں اے دلِ بیتاب کوئی

اپنی آنکھوں میں نہ رکھ اس کے لئے خواب کوئی

خواب پھر خواب ہے ٹوٹا تو بکھر جائے گا

اور ٹوٹے ہوئے خوابوں کی حسیں دنیاسے

آج تک لوٹ کے آیا نہ کوئی آئے گا

آس بے آس ہوئی بند ہوئے درسارے

راہ تک تک کے بکھرنے لگے منظرسارے

ایک اِک کر کے سبھی سو گئے چاند اور تارے

دورِ مئے ختم ہوئے ٹوٹ گئے پیمانے

سو گئے نیند کی آغوش میں بادہ خانے

بجھ گئی شمعیں سبھی راکھ ہوئے پروانے

منتظر آنکھوں کو اب بند کریں سو جائیں

ہم بھی اے دلِ بیتاب چلیں سو جائیں

اب یہاں کوئی نہیں کوئی نہیں آئے گا

شاہد کبیر کی نظموں کا عام رجحان عصری ہے۔ غزلوں کی طرح نظموں میں بھی اُن کا لہجہ دھیما اور آہستہ روہے جیسے کوئی سرگوشی کر رہا ہے۔ اس نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو وہ میر تقی میر کی اِتباع کرتے نظر آتے ہیں۔ نہ ہی اُن کی شاعری میں ترقی پسندوں کی طرح گھن گرج پائی جاتی ہے اور نہ ہی جدید وں کی طرح غیر ضروری اور لا یعنی علامتوں کا استعمال۔۔۔۔ ایک آہنگ، ایک نغمگی اُن کی نظموں کا خاصہ ہے۔ کہیں کہیں نظموں کا کھردُرا پن یا Texture Qualityانھیں دوسرے شعرا سے ممتاز کرتی ہے۔ اور یہی وجہ ہے کہ ہمیشہ سے وہ قارین کے پسندیدہ شاعر رہیں اور اخبارات و رسائل میں بے تحاشا چھپتے ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ انھوں نے اپنی پہچان  ’’مٹی کا مکان‘‘ سے لے کر  ’’پہچان‘‘ تک بحیثیت غزل گو بنائی مگر اُن کے نظموں کا معیار کسی بھی طرح غزلوں سے کمتر یا سطحی نہیں رہا لفظوں کا رکھ رکھاؤ اور اپنی بات کو آسانی سے قاری تک فوراً Convey کر دینا۔ اور عام موضوع کو بڑے دلکش انداز میں مخصوص ڈھنگ سے پیش کرنا شاہد کبیر کی خوبی رہی ہے۔

رات کا المیہ

زندگی کی تگ و تاز

اور عمر بھر کے سفر کا صلہ

چار سو پھیلتی بیکراں سی اداسی میں ڈوبی ہوئی

تیرگی کا جگر چیرتی

چیخ

جس کی کوئی صدا بھی نہیں

اور پھر

خامشی!

خامشی!!

شاہد کبیر بھی کی نظمیں حد درجہ محسوس اور مانوس جذبوں کی شاعری لگتی ہے۔ مگر ان کا اچھوتا انداز بیاں اور آسان لفظوں کی ترتیب اور مشکل سے مشکل موضوع کو بھی بہت سرل ڈھنگ سے بیاں کر دینے میں انھیں کمال حاصل تھا۔ اور ان جذبوں کو عام انسانی سطح پر سبھی نے محسوس کیا ہے۔ لیکن انھیں لفظوں کا پیکر دینے میں شاہد کبیر نے پہل کی ہے۔

سوچ

کھلی کھلی ہموار سی روشن راہگذر

خوف بھٹکنے کا نہ کوئی رہزن کا ڈر

منزل کے اندیشوں سے آزاد سفر

آگے پیچھے بھاگ رہے ہیں لوگ مگر

ختم نہیں ہوتی یہ سڑک مڑ جاتی ہے

شاہد کبیر کی نظمیں عام قاری کے جذبات کی بھی ترجمانی کرتی نظر آتی ہے۔ اور کہیں کہیں اسی طرح انھوں نے ان کے جذبوں کو بھی چھوا ہے۔ جو Express نہیں ہو پایا ہے۔۔۔۔ اگر شاہد کبیر نے Repeated موضوع کو چھوا بھی ہے تو اس انداز سے کہ اُسے سنتے اور پڑھنے میں نیا پن محسوس ہوتا ہے اور شاہد کبیر کا لہجہ بہت دور سے صاف پہچانا جاتا ہے جو کہ اپنی انفرادی شان رکھتا ہے۔ وہ زندگی کے مختلف رنگوں کو مختلف زاویئے سے بیان کرنے میں ماہر ہیں۔ غزلوں کی طرح نظموں میں شاہد کبیر کا لہجہ صاف، تندرست و توانا نظر آتا ہے۔ گنجلک نہیں، اس نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو وہ اپنے ہم عصروں سے کسی طرح کم تر نظر نہیں آتے بلکہ اُن کے شانہ بہ شانہ کھڑے نظر آتے ہیں۔ اور کہیں کہیں تو وہ اپنے ہم عصروں سے کچھ ہاتھ آگے نظر آتے ہیں۔

عبادت گاہ

یہ میرے سجدوں کی بدنام سر زمیں کہ جہاں

کسی قدیم عمارت کا اک کھنڈر تھا کبھی

جدھر سے لوگ گذرتے ہوئے بھی ڈرتے تھے

’’یہاں تو بھوت ہیں آسیب ہے‘‘ بتاتے تھے

اسی کھنڈر میں زمانے کی آنکھ سے چھپ کر

کسی کے آگے کبھی میں نے سر جھکایا تھا

مگر وہ قصر محبت مری وفا کا حرم

(وہ بھوت پریت کا مسکن وہ خوفناک کھنڈر)

کہاں ہے اب کہ یہاں ایک نئی عمارت ہے

کہ جس کے روزن و دیوار گنبد و محراب

ضیائے حسن تقدس سے جگمگاتے ہیں

غرور و فخر و رعونت سے سر اٹھائے ہوئے

منارے جس کے فلک سے نظر ملاتے ہیں

وہ میرے سجدوں کی بد نام سر زمیں پہ کہ آج

خلوص اور عقیدت سے سر جھکانے کو

دن اور رات عبادت گذار آتے ہیں

شاہد کبیر کی نظموں میں دعوت فکر کا رجحان ذرا کم ہی نظر آتا ہے اس کی خاص وجہ شاید یہ رہی ہے کہ وہ غزل کے اسیر ہو کر رہ گئے۔ شاہد کے نازک مزاج نے بہت دنوں تک نظم کی گھن گرج اور شور شرابے کو برداشت نہیں کیا بلکہ وہ بہت جلد غزل کی طرف لوٹ گئے۔ اگرچہ شاہد کبیر کے فن کا مشاہدہ عمیق گہرائی سے کیا جائے تو ایک بات صاف پہچانی جا سکتی ہے شاہد کی نظمیں بھی غزل کا لباس اوڑھے نظر آتی ہے۔ نازک استعارات، نادر تشبیہ۔ اور نرم گرم علامتیں۔ وہ جو غزل کا خاصہ ہے وہ ساری کی ساری خصوصیات شاہد کی نظموں میں در آتی ہے۔ گویا کہ اس معنی میں بھی شاہد کبیر کو ہم نظم کہنے والا غزل گو شاعر کہہ سکتے ہیں۔ کہیں کہیں شاہد کی نظموں کو عصری تقاضوں سے دور رومان یا رومانی انداز نظر آتا ہے۔ اس وقت شاہد کبیر صرف اورصرف ایک عاشق کی حیثیت سے سامنے آتا ہے۔ حدِ غم دنیا اور فکرِ فردا سے لاپرواہ اور انجان ہے۔ جیسا کہ ایک سچا عاشق ہو نا چاہئے۔ شاہد کا عشق رومانی ہے۔ حقیقت سے پرے۔ پرچھائیں کی طرح۔

وہ لڑکی

وہ لڑکی بڑی خوبصورت ہے

رنگوں کے جھرمٹ میں

آنچل اڑاتی

سر رہگذار

پھول شبنم، ستارے، شرر بانٹتی ہے

اُسے میں نے دیکھا ہے

ممکن ہے تم نے بھی دیکھا ہو اُس کو

وہ لڑکی مری کون ہے !

مری کوئی نہیں ہے !

آخر میں ایک بات اور کہنی رہ جاتی ہے کہ جہاں تک خیالات اور شاعری کے طرز کا تعلق ہے شاہد کا شمار جدید شعرا میں ہوتا ہے۔ لیکن املے کے معاملے میں وہ روایت پرستی کو ترجیح دیتا ہے۔ چنانچہ املے کی جدید تبدیلیوں کو اس نے قبول نہیں کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اکثر ایسے الفاظ جواب پرانے انداز پر تحریری نہیں ہوتے ہیں۔ ان کا املا بھی شاہد کے یہاں پرانے طرز پر ملتا ہے۔ مثلاً پیاسا، تماشا، شناسا کو اس نے پیاسہ، تماشہ، شناسہ، لکھا ہے۔ حیرت تو اس وقت ہوتی ہے جب و قافیے کے طور پر استعمال ہونے والے الفاظ میں بھی املے کو تبدیل نہیں کرتا۔ مثلاً مٹی کا مکان میں ص: ۲۵ پر جو غزل ہے اس میں  ’’کا‘‘ قافیے کے ساتھ سایہ، پتہ، پردہ وغیرہ قافیہ استعمال کیا ہے۔ اس کے علاوہ کچھ شعروں میں بعض الفاظ بڑے کریہہ الصوت محسوس ہوتے ہیں۔ بہرحال شاعر سے اس بات کی توقع نہیں کی جا سکتی کہ اس کے دیوان کا ہر شعر مکمل شاعری کا نمونہ ہے۔ اگر شاہد کے یہاں ایسی کچھ کمزوریاں ہیں تو ان کو گندم میں جو کے مصداق نا قابل اعتنا ء سمجھ کر در گذر کیا جا سکتا ہے۔ ان کم زوریوں سے کسی شاعر کی عظمت پر حرف نہیں آتا۔ میرے خیال میں شاہد کی شاعری میں وہ بنیادی عناصر موجود ہیں جو برسوں بعد بھی تاریخ ادب میں اس کے نام کو زندہ رکھیں گے۔

٭٭٭

 

 

 

شاہد کبیر کی کتابوں پر تبصرے اور انٹرویو

 

شاہد کبیر کا پہلا غزلوں کا مجموعہ  ’’مٹی کا مکان‘‘ ۱۹۷۹ء میں منظرِ عام پر آیا جس پر انھیں مہاراشٹر اسٹیٹ اردو اکیڈمی کا اوّل انعام ملا۔ مٹی کا مکان پورے ہندوستان اور پاکستان میں ایک پہچان بنا چکی تھی۔ اور اس کی غزلوں کو نصاب میں بھی شامل کیا گیا۔ ساتھ ہی ساتھ میں اس میں شامل غزلوں کو نامور گلوکاروں نے اپنی آواز سے بھی نوازا۔ شاہد کبیر کا دوسرا مجموعۂ کلام  ’’پہچان‘‘ اردورسم الخط میں ۱۹۹۹ء میں منظر عام پرآیا اور دیونگری میں ۲۰۰۲ء میں جسے ڈاکٹر ثمیر کبیر نے ترتیب دیا تھا۔ اس کتاب پر بھی شاہد کبیر کو مہاراشٹر اسٹیٹ اردو اکاڈمی کا اوّل انعام ملا۔ شاہد کبیر کا تیسرا مجموعۂ کلام  ’’اُس کی گلی‘‘ جو کہ اردو اور دیو ناگری دونوں زبانوں میں تھا منظر عام پر آیا۔ یہ شاہد کبیر کا وہ کلام تھا جسے انھوں نے موسیقی کی دنیا کو نظر میں رکھ کر لکھا تھا۔ ان میں سے بہت سے کلام فلم اور البم کی شکل میں منظر عام پر آ چکے ہیں اور بہت سے آنے والے ہیں۔ ذیل میں شاہد کبیر کے مجموعوں پر لکھے گئے چند اہم تبصرے اور کچھ انٹرویو پیش کئے جا رہے ہیں۔

مٹی کا مکان، ۱۹۷۹ء: (مبصّر۔ مخمور سعیدی)

( ماہنامہ آج کل، نئی دہلی، دسمبر ۱۹۸۲ء ص۔ ۴۴)

جدید اردو شاعری میں ناگپور اور اُس کے نواح کے تین نام نمایاں ہیں۔ ان میں پہلا نام شاہد کبیر کا اور دوسرا نام مدحت الاختر اور عبدالرحیم نشتر کے ہیں۔ مدحت الاختر اور عبدالرحیم نشتر نے ۱۹۶۰ء کے آس پاس شعر کہنا شروع کیا۔ گویا جدیدیت کے نو مولود رجحان کے فروغ کے ساتھ ہی ان کے نام سامنے آئے لیکن شاہد کبیر اُن شاعروں میں ہے جو جدیدیت کے پیش رو کہے جا سکتے ہے اور جن کی شاعری کی عمر کم و بیش وہی ہے جو آزاد ہندوستان کی۔ یہ وہ شاعر ہے جن کے ذہنوں میں ابتداء اگرچہ جدیدیت کا کوئی واضح تصوّر نہیں تھا لیکن انھوں نے جدیدیت کے ایک باقاعدہ رجحان کی شکل اختیار کرنے سے نو۔ دس سال پہلے ترقی پسندی کے نظریاتی جبر کو قبول کرنے سے انکار کیا اور فنکار کی تخلیقی آزادی کی اہمیت محسوس کی۔ شاہد کبیر اس چھوٹے سے قافلے کی آگے کی صفوں میں نہ سہی لیکن شامل رہے۔

’’مٹی کا مکان‘‘ شاہد کبیر کی غزلوں کا مجموعہ ہے۔ ان غزلوں سے گذرتے ہوئے آپ کی ملاقات ایک ایسے کردار سے ہوں گی جو پہلی نظر میں شاید آپ کو خود اپنا عکس نظر آئے۔ اسی سفاک دنیا کی زہر ناک فضا میں سانس لیتا ہوا ایک کردار جس میں خود آپ بھی جینے کی اداکاری پر معمور کر دیئے گئے ہیں۔ لیکن یہ کردار محض اداکاری نہیں کر رہا ہے یہ جینا کی طرح جینا چاہتا ہے۔ ایک بھرپور زندگی اس کا مطمح نظر ہے وہ قدم قدم پر جسمانی ہز یمتوں سے دو چار ہوتے ہوئے نفس نفس میں روحانی ظفر مندیوں کی تڑپ لیے ہوئے ہے۔ اسے حال کی سفاکیوں کا شد ید احساس ہے، مگر وہ اس شعور سے بھی بہرہ ور ہے کہ وقت انسان کے لئے ہمیشہ اتنا بے رحم نہیں رہا ہے۔ اور یہی شعور اسے مستقبل کی طرف سے بھی کبھی کبھی خود گمان کر دیتا ہے۔ خواہ خود گمانی کے یہ وقفے کتنے ہی مختصر کیوں نہ ہوں۔

شاہد کبیر بے باکانہ اظہار کے قائل ہے مگر ان کا لہجہ مہذب آدمی کا لہجہ ہے۔ اس لہجہ میں ڈھل کر کھردرے تجربات بھی ایک جمالیاتی آہنگ اختیار کر لیتے ہیں۔

 

 

 

شاعر شاہد کبیر سے فاطمہ زہرا جبیں کی بات چیت:

 

(ماہنامہ آنچل، کراچی۔ اپریل ۱۹۸۳ء)

 

پاکستان میں بھارتی انشا پردازوں کی آمد …ان کا گرم جوش استقبال…ان کا جذبوں سے لبریز تعارف اور ان کی ہماری طرف سے پذیرائی، ایک عظیم انسانی اخوت کی ہمہ گیر توانائی کا اعتراف کرتی ہے۔ ان کے اعزاز میں ادبی نشستوں کا اہتمام فاصلوں کو گھٹا کر دلوں کو قریب تر کر رہا ہے۔ جب آدمی، آدمی سے آدمیت کے حوالے سے ملتا ہے تو ثابت ہوتا ہے کہ عام ہستی صرف جذبوں کا آئینہ ہے۔

’’آنچل‘‘ نے ہر انشا پرداز کی پذیرائی کے لیے اپنا دامن وا گزار کیا ہے اور شاہد کبیر کی آمد پر بھی  ’’آنچل‘‘ اپنی روایتی معنی خیزی اور مہمان نوازی کے اعلیٰ ترین معیار کے ساتھ شاہد کبیر کو بھی خوش آمدید کہتا ہے۔

شاہد کبیر …ایک شاعر …ایک شخصیت کا نام ہے۔

شاہد کبیر کو میں نے آنکھ بھر دیکھا تو اندازہ ہوا کہ اس قدر بلند مینار کو نگاہوں میں سمو لینا امر محال نہیں تو امر مشکل ضرور ہے۔ چھوٹی چھوٹی بحروں میں شعر کہنے والے اس فلک بوس فٹ بالر کے بارے میں کوئی ہرگز ہرگز فوری طور پر یہ یقین کرنے پر آمادہ نہیں ہو گا کہ اس قدر طویل قامت شخص اس قدر ننھی ننھی بحروں میں اپنی شخصیت کے سفینے کو آگے بڑھاتا ہو گا۔

بہر حال یہ حقیقت تھی…اور یقین کرنے کے سوا کوئی چارہ نہ تھا۔

اُن کی طویل القامتی پر حیرانی کے سبب شاہد کبیر نے از خود بتلایا کہ وہ اپنے دورِ طالب علمی میں ایک کامیاب فٹ بالر رہ چکے ہیں۔

ہم نے پوچھا…  ’’آپ کی فٹ بال اپنے کھیل کے میدان سے اڑ کر شاعری کے ہفت رنگ گلزار میں کیوں کر آن گری؟ کیا یہ ایک اتفاقی حادثہ تھا یا پھر آپ کا اپنا میلان طبع یا افتاد طبع‘‘؟

’’میں ایک فٹ بالر تھا…بہت اچھا…یہ ایک ناقابل تردید حقیقت تھی اور جتنا اچھا فٹ بالر تھا شاید اس سے کہیں زیادہ اچھا شاعر تھا… اپنے اندر۔‘‘ شاہد کبیر نے ایک پُر سکون مسکراہٹ کا سہارا لیتے ہوئے اپنے دونوں میدانوں کی تعریف کی۔

ایک ’فلک بوس‘ فٹبالر کے ہونٹوں پر اس قدر آسودہ اور شریر مسکراہٹ خواب اور حقیقت کے درمیان پائے جانے والے تضاد کی آئینہ دار تھی۔

ڈاکٹر انیس خورشید چیرمین شعبۂ لائبریری سائنس جامعہ کراچی کے دولت کدے کے ادب نواز ماحول میں اگرچہ ہمیں تھوڑی دیر شاہد کبیر کا انتظار کرنا پڑا تاہم جب شاہد کبیر کسی شوخ و شنگ دندناتے ہوئے بگولے کی طرح اندر داخل ہوئے تو ماحول یکسر بدل گیا۔ معلوم ہوا کہ وہ کسی اور عزیز کے یہاں مقیم ہیں اور اپائنٹمنٹ کی تکمیل کے لیے انھیں وہاں سے یہاں آنا پڑا اور پھر ٹرانسپورٹ کا احوال تو آپ…ہم اور سب جانتے ہیں وہ تو شکر خدا کا کہ شاہد صاحب ٹوٹ پھوٹ کے بغیر ہم تک پہنچ گئے تھے ورنہ اس شہر نگاراں میں اجنبی ہونے کے ناتے سے کچھ نہ کچھ ضرور کھو آتے۔

شاہد کبیر سے باتیں کرتے ہوئے ہم الفاظ کے دھاروں پر بہنے لگے۔ نہایت بے تکلفی کے سادہ دھارے …ہمارے درمیان ملکوں کی حدود نابود تھیں اور اجنبیت کا ہلکا سا شائبہ بھی نہ تھا۔  ’’مٹی کا مکان‘‘  ’’چاروں اور‘‘ اور  ’’کچی دیواریں‘‘ کا مصنف زندہ اور اٹل حقیقت کی طرح ہمارے رو برو تھا۔ مجھے یاد آیا کہ یہ بھی تو شاہد کبیر ہی نے کہا تھا کہ:

اندر کا سکوت کہہ رہا ہے

مٹی کا مکان بہہ رہا ہے

مری تشنگی کا صلہ لے گئی

ندی عکس میرا بہا لے گئی

لپٹنے کو موجیں تڑپتی رہیں

سفینہ بہا کر ہوا لے گئی

ہر کوئی سوچ میں ہے کیسے نکالے مجھ کو

پستیوں سے کوئی نیزے پہ اٹھالے مجھ کو

کرب اور محرومی کا وہ سمندر جو دردنِ جان پوشیدہ تھا۔ وہ لفظ کے دھاروں میں دھل کر بہہ گیا۔ اتنا شوخ و شنگ فلک بوس آدمی بھی کہیں اس قدر خونچکاں ہوتا ہے۔ ہاں یہ وہی تھا جسے  ’’مٹی کا مکان‘‘ پر مہاراشٹر اردو اکیڈمی سے ایک ایوارڈ بھی مل چکا ہے۔

’’میں جس خاندان میں پیدا ہوا وہ اتنا فارغ البال نہیں تھا کہ مجھے کسی شاندار مستقبل یا ڈگری کے حصول کے لیے مالی وسائل ملتے۔‘‘ شاہد کبیر اپنے اس آدمی کا تعارف کرا رہے تھے جو ہماری محفل میں اپنے آہنی خول میں پوشیدہ تھا۔

’’میں سائنس کا طالب علم تھا۔ میڈیسن میری منزل تھی۔ مگر ایسا نہ ہو سکا۔ میری خواہشات اور تمنائیں ٹوٹ کر ریزہ ریزہ ہو چکی تھیں۔ ۱۹۴۷ء کے بعد سے حالات کا زبردست اثر ہم پر ہنوز باقی تھا۔ مجھے ناگپور سے ہجرت کر کے دلّی آنا پڑا۔ اس وقت میں انٹر کا طالب علم تھا اور ایک مکمل خاندان کی کفالت کی اچانک ذمہ داری نے میری شخصیت کی کونپلوں کو پھوٹتے ہی مرجھا دیا اور دوسروں کی زندگیوں کی بقاء کے لیے میں نے ذمّے داری کی اس صلیب کو جو میرے مقدر کا عطیہ تھی۔ اپنی غیرت اور خودداری کے کندھوں پر اٹھا لیا۔‘‘

’’کیا آپ خاندانی شاعر ہیں؟‘‘

’’جی نہیں …ایسی غلطی اور نے نہیں کی۔‘‘ شاہد کبیر بے تحاشا ہنس پڑے۔

’’پہلی غزل…آپ کا پہلا شعر؟‘‘

’’میں کہانیاں لکھتا تھا۔‘‘ کبیر صاحب مسکرائے۔

’’خود کو بہلانے کے لیے؟‘‘

’’اپنے ساتھ، اپنے جیسوں کے بے حساب زخمیوں کو بہلانے کے لیے جو دریا کے کنارے بھی پیاسے رہنے پر کبھی مجبور ہوتے ہیں۔ کبھی مجبور کر دیئے جاتے ہیں یا کبھی رضاکارانہ طور پر خود آمادہ ہو جاتے ہیں۔‘‘

’’پھر‘‘؟

’’میری کہانیاں ’نقوش‘ میں شائع ہوتی رہیں۔ پھر احسان دانش کے رسالے ’چودھویں صدی‘  میں …پھر یہ سلسلہ ٹوٹ گیا۔‘‘

’’کیوں …‘‘؟

’’غم روزگار کے بوجھ سے بے تحاشا ٹوٹ جانا تھا…کہانیوں کی آنچ کو ذہن میں لیے لیے پھرتا تھا۔ معرکۂ حیات میں ایک لمحہ فرصت کو ترس جاتا تھا اور پھر میری انگلیاں تحریر کو ٹھکرا دیتی تھیں۔ میرا دل اس طرح میرے ذہن، میرے جذبوں کے مطالبے کو مسترد کر دیتا کہ میں عالم پژمردگی میں ہر خیال کو ترک کر دینے کے علاوہ کچھ اور نہ کر سکا۔ پھر میں نے پہلا شعر کہا اور اچانک ہی مجھے اندازہ ہوا کہ میں شعر کہہ سکتا ہوں۔ میری پہلی مکمل غزل پاکستان کے ادبی رسالے ’ افکار‘ میں شائع ہوئی اور یہی میری زندگی کے شاعرانہ دور کا آغاز تھا۔‘‘

’’شاعری میں کس سے متاثر ہونے کے سبب آپ نے شاعری کا انتخاب کیا‘‘؟

وہ چند لمحے خاموش رہنے کے بعد گویا ہوئے۔

’’جب تک میں نثر نگار تھا میں نے شاعری کے بارے میں سوچا تک نہ تھا۔ تا ہم میں میرؔ اور غالبؔ کا مداح ہوں اور اتنے خوبصورت انداز بیان کے بعد، شعر کہنا مجھے شاعری کی صحت کے لیے بھلا نہ لگا۔ لیکن چراغ شوق کی لَو مدھم نہ کی جا سکی اور اس کے بعد ’اس زمانے‘  کے فیض سے متاثر ہوا تھا تاہم میرا کوئی استاد نہ تھا۔‘‘

’’اُس زمانے‘‘ کے فیض احمد فیضؔ سے آپ کیا مراد لیتے ہیں‘‘؟

’’وہ فیضؔ جو تقسیم سے قبل وہاں تھا وہ فیضؔ عصری ادب کی علامت تھا اور شگفتگی اور تازگی کا مہکار تھا۔ ہجرت کے بعد فیضؔ صرف ایک ٹھوس شاعر رہ گیا۔ ایسا لگا جیسے اس کی مہک، تازگی، اس کا دلنشیں عطر بیز گداز …اسی سر زمین میں بویا ہوا رہ گیا۔‘‘

’’ادب میں آپ کے مقام کا تعین کب اور کیسے ہوا‘‘؟

’’۱۹۶۰ء کے بعد کا واقعہ کہہ لیجیے۔ میں کچھ خوش قسمت ہی رہا ہوں اپنے مقام کے تعین کے سلسلے میں۔ مجھے ہر دور میں بڑا تعاون میسر رہا۔ خواہ اس کی وجہ تخلیقی رہی ہو یا تقدیر۔ میں نے بہت کم عرصہ میں اپنا ایک مکمل امیج بنا لیا تھا۔ اور یہ امیج بیس پچیس برس گزرنے کے باوجود قائم ہے جو میری محنت اور لگن کا واضح اعلان ہے۔‘‘

شاہد کبیر چند لمحوں کے لیے ٹھہرے اور پھر سلسلۂ تکلم کو جوڑتے ہوئے بولے۔ میرا ناول  ’’کچی دیواریں‘‘ ۱۹۵۹ء میں اردو سے متعلق ایک کانفرنس میں رکھا گیا تھا۔ غلام عباس، کرشن چندر جیسے بڑے ادیب اس میں شامل تھے۔ شرمساری اور کمتری کے احساس کے مارے میں نے اپنا ناول اٹھا لیا…کرشن چندر نے پوچھا…  ’’یہ آپ نے کیا کیا‘‘؟ میں نے کہا کہ میں بے مقدار ذرہ…اور ادب کے افق میں آپ جیسے درخشاں آفتاب۔ میرا حوصلہ نہ تھا کہ اپنی کم حیثیتی سے آپ کے مدّ مقابل ہوتا…‘‘ کرشن چندر نے مجھے حوصلہ دیا اور پھر اس کے بعد بہت جلدی اپنے جذبات، اپنے احساسات اور اپنے محسوسات کو اگلنے کے لیے شاعری کا افق ڈھونڈ لیا۔ جرائد و رسائل نے مجھے گرمجوشی سے قبول کیا اور کیا یہ حیرت انگیز بات نہیں کہ میرے کلام کا ایک بہت بڑا حصہ پاکستان کے افق ادب سے اجاگر ہوا یعنی آپ کے یہاں شائع ہوا۔‘‘

’’کہانیوں سے پھر ہاتھ کیوں روک لیا‘‘؟

’’یہ مجھے دقت طلب… مشقت طلب کام لگا اور شاید میں فطری طور پر کچھ کاہل واقع ہوا ہوں۔‘‘ وہ دھیرے سے مسکرائے۔

’’کوئی بھی واقعہ جو ذہن کو متاثر کرتا ہو اسے ایک افسانے میں ڈھالا جا سکتا ہے؟ کیا اسے ایک شعر میں بیان کرنے کے لیے بھی اس قدر سہولت میسر ہے؟‘‘

’’بالکل…‘‘ شاہد کبیر نے تائید کی۔  ’’شعر اسی وقت مکمل ہوتا ہے جب دل و دماغ پر گزرنے والے جذبات مکمل طور پر چھوٹی سی عبارت میں رقم ہو جائیں۔ جذبات کی ایک چھوٹی سی کہانی در اصل ایک مکمل شعر ہے۔ ایک مکمل جذباتی واردات…جیسے:

آپ کیوں دیکھ کر پریشاں ہیں

ہم تو آئے ہیں ایک برات کے ساتھ

’’اگر ایک ہی چیز کے بارے میں مختلف اوقات میں مختلف جذبات و احساسات ہو اور اس کے اظہار کے لیے ایسے اشعار کا استعمال ہو جس کی نوعیت ایک دوسرے سے یکسر مختلف ہو تو اس مجموعہ تضاد سے شاعر کے احتساب میں آپ کیا فرمائیں گے؟‘‘

شاہد کبیر میرے سوال کو بغور سنتے رہے۔ مجھے احساس تھا کہ میرا سوال بہت طویل ہو گیا ہے۔ میری کوشش یہی تھی کہ ان کی چھوٹی بحروں کی طرح میرے سوال بھی چھوٹے چھوٹے ہوں۔

’’اس قسم کے تغیرات سے وقتی طور پر شاعر متاثر ہو جاتا ہے۔ جیسے غالبؔ کو پڑھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ مایوسی میں غالبؔ کے اپنے حالات کا بے تحاشا دخل ہے۔ اس سے آپ اندازہ کر سکتی ہیں کہ انسان اپنی فطرت کے ساتھ زندہ رہتا ہے۔ انداز بیان میں اختلافات کے باوجود بنیادی طور پر جذبوں کی کیفیت میں کوئی تغیر پیدا نہیں ہوتا۔ انداز بیان کی مختلف کیفیتوں کا انحصار صرف چند بنیادی کیفیات کی حقیقتوں پر ہوتا ہے اور امر لازم ہے کہ کیفیات کے اختلافات سے شاعر کی شخصیت کسی بھی بحران میں مبتلا نہیں ہو اور شاعر کی مزاجی حقیقت بہر حال مسلم رہتی ہے۔ در اصل شعر اپنے وقت اور حالات کی وجہ سے اپنی نوعیت بدلتے رہتے ہیں جب کہ جذباتی سانحے بنیادی طور پر حقیقتوں کے لحاظ سے اٹل ہوتے ہیں جیسے میرؔ کے دور میں لوگ فکر معاش کے بارے میں بہت زیادہ سنجیدہ نہیں ہوتے تھے۔ بقول میرؔ کے:

ہو گا کسو دیوار کے سائے میں پڑا میرؔ

کیا کام محبت سے اس آرام طلب کو

پھر غالبؔ کے دور میں آئیے وہاں فکر معاش کے بارے میں کوئی شائبہ فکر شاعری پر اثر اندوز نہیں تھا۔ دیکھئے غالبؔ کیا کہتے ہیں:

زندگی یوں بھی گزر ہی جاتی

کیوں ترا راہ گزر یاد آیا

زمانوں کا بنیادی فرق کیفیات کی اٹل حقیقتوں کو جن مختلف محسوسات کے ذریعہ بیان کرتا ہے وہ در اصل وقت کے لحاظ سے شاعر کی ذہنی ساخت کے ذریعہ کیفیات کو پڑھنے کا انداز اور پھر بیان کرنے کے لیے الفاظ کے انتخاب کا آئینہ دار ہے۔ یہ کہ:

تم اپنا درد میرے دل میں منتقل کر دو

تمھاری یاد کا کیا رہی رہی نہ رہی

اس شعر سے آپ محسوس کر سکتی ہیں کہ موجودہ دور کا شاعر غم روز گار کے مرحلوں میں اس قدر گھرا ہوا ہے کہ اس کو اپنی محبتوں کو سمیٹنے میں بھی عجب بے کیفی و پژمردگی کے ساتھ زندہ رہنا ہے اور قناعت کے ساتھ حقیقتوں کو تسلیم کرنا ہے۔

میرے ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا…

’’شاعری محسوسات کا لاوا ہی نہیں حقائق کے بارے میں محسوسات کے اظہار کا زندگی سے نوازنے کا نازک ترین عمل بھی ہے۔ شاعری فطرت کی لطیف ترین محسوسات کا حقائق کے سنگین مراحل سے گزرتے ہوئے حاصل کیے ہوئے مشاہدات و تجربات اور ان کی ذات پر اثر اندازی اور وقت کے دباؤ کی داستان ہے۔ صحیح پوچھیے تو شاعری، انسان کے اندر پوشیدہ اس دوسری ذات کا عکس جمیل ہے جو مادیت سے بہت بلند اور بہت مختلف ہے۔ یہ دنیا جہاں کے جذبوں کا تقدس، محبتوں کی وارفتگی، محسوسات کی لطافت اور کیفیات کا گداز ہے جو مادی زندگی کی ٹھوس حقیقتوں کی عمل پذیری کے ذریعہ ایک فضا تعمیر کرتی ہے۔ ایسی حیرت انگیز فضا شاعری ہے۔‘‘

’’شاعری کے بارے میں خوبصورت اظہارِ خیال کے بعد میں آپ سے یہ سوال کرنا چاہوں گی کہ آپ اپنی محسوسات کے اظہار میں کس قدر کامیاب ہیں …‘‘؟

’’میں …‘‘ شاہد کبیر تھوڑے سے سکوت کے بعد بولے …‘‘ ہنوز اپنی محسوسات کے اظہار میں مکمل طور پر کامیاب نہیں۔ محسوسات در اصل ایک کبھی نہ ختم ہونے والے احساس کی طویل مسافت ہے اور اس کو طے کرتے ہوئے فکر شاخ در شاخ نئی کونپلوں میں پھوٹتی ہے اور ہر نئی کونپل سے ایک نئی کونپل پھوٹتی ہے اور یہی مسلسل وہ چیز ہے جو احساس کو نئی فکر اور شاعری کو نیا لباس دیتی ہے۔‘‘

’’آپ کس قسم کے شاعر ہیں …میرا مطلب ہے کہ عوام کے یا خواص کے‘‘؟

’’شاعر کے لیے میرے خیال میں ایک ہی تشخص کافی ہے۔ وہ یہ کہ  ’’وہ شاعر ہے‘‘۔ شاعری نہ تو عوام کے لیے مخصوص کی جا سکتی ہے اور نہ خواص کے لیے۔ در اصل شاعر جس طبقے سے متعلق ہوتے ہیں ان کی شاعری اسی معیار پر ان کی کیفیات ان کے ماحول اور ماحول کے سبب ان کی شعوری پرداخت کی آئینہ دار ہوتی ہے اسی طرح ان کی شخصیت متعلقہ طبقوں کا چہرہ لیے زندہ رہتی ہے …اب یہ شخصیتوں کی انفرادی اثر اندوزی ہے جو طبقوں کو اپنی طرف متوجہ کرتی ہے اور اپنے لیے علامتی طور پر ایک طبقے کو منتخب کر لیتی ہے۔ جیسے افلاس و بھوک سے زندہ رہنے والے طبقے سے ابھرنے والے شاعر کو ہم عوامی شاعر کہتے ہیں۔ اس لیے کہ آدمیت کے استحصالی نظام اور دیگر قوتوں کے خلاف وہ اپنی ذات میں ایک مدافعت ہوتا ہے اور اپنے ماحول سے متنفر ہوتا ہے۔ اس کو ایک نئی ارتقائی تیبدیلی کے ذریعہ قابل قبول بنانے کے لیے شاعری کے ذریعہ اپنے ماحول کی رائے کو ہموار کرنا ہے۔ اس کا اپنے مقصد میں کامیاب ہونا یا نہ ہونا ایک مختلف بات ہے لیکن وہ شاعر ہے اس طبقے کا جو، جو استحصالی قوت کی بقا کے لیے اپنا لہو دینے پر مجبور ہے۔ اظہار اپنے وقت کے ردِّ عمل کا نام ہے۔ اب آپ سمجھ گئی ہوں گی کہ شاعر کس طرح عوامی یا خواصی کہلاتے ہیں۔‘‘

’’شاہد صاحب ! آپ یہ بتائیے کہ آپ زندگی کے تضادات کا مطالعہ کس رخ سے کرتے ہیں اور کس رخ سے عوام کو اپنے مطالعہ سے روشناس کراتے ہیں؟‘‘

’’میں … زندگی کے تضادات کو وقت اور حالات کے پس منظر میں دیکھتا ہوں اور ان کو ان کی اسی حقیقت کے ساتھ شاعری کی زبان میں بیان کرتا ہوں جن میں وہ پائے جاتے ہیں۔‘‘

’’کیا شاعری بے اعتدال جذبوں کا آتش فشاں ہے‘‘؟

شاہد کبیر نے سوال سن کر تھوڑے سے تامل کے بعد کہا۔

’’شاعری کے لیے جذبوں کی فراوانی ازحد ضروری ہے لیکن آپ کو بے اعتدالی پر محمول نہیں کر سکتیں کیونکہ محسوسات کی کیفیت ہلکی ہو یا شدید …فطرت ایک اٹل حقیقت ہے اور شاعر ایک طرح سے اپنی زود حسی کے باعث شدت جذبات کے سبب ہی شاعر بنتا ہے۔ آپ بے اعتدال جذبوں کا  ’’شاعر‘‘ نہیں کہیں گی بلکہ  ’’شدید جذبوں‘‘ کو شاعر کہیں گے۔‘‘

’’کیا شاعری رومان کے بغیر نا ممکن ہے‘‘؟

’’شاعری کے لیے کسی فرد کی اس خوبصورت ترین بصارت کی واحد ضرورت ہے جو جوہر حسن کو صدلاکھ قباؤں میں جلوہ فگن دیکھے۔ اب حسن متعلقہ عنوان میں ہے یا شاعرکے حسن بصارت کی کرشمہ سازی سے، اس پر بحث بے کار ہے۔ بہر حال ہر حسن آفرین شے کا شاعر پر شدت سے اثر انداز ہونا اور اس کی فطری حسن پرستی کو متوجہ کرنا ہی شاعری کا بنیادی محرک ہے۔‘‘

’’جدید شاعری کے لہجے کی یکسانیت کی وجوہات کیا ہیں‘‘؟

’’غالبؔ سے پہلے یکسانیت تھی۔ اس جمود کو غالبؔ نے توڑا پھر انداز بیان کی نہج پر موضوع چل پڑا اور پھر یکسانیت طاری ہو گئی۔ پھر جمود ٹوٹا اور فکر کو نیا موضوع ملا یعنی شاعروں نے انسانیت، کرب، مشکلات کو موضوع سخن بنایا۔

در اصل موضوعات کے انتخاب کا ایک دور ہوتا ہے اور جب یہ دور منتخب شدہ موضوعات پر مسلسل لکھنے کا طویل دور ہوتا ہے تو یہیں سے یکسانیت کا احساس ہونے لگتا ہے۔ جیسے ڈاکٹر اقبال کا ایک دور تھا۔ ایک مکمل دور …اس کے بعد اس کا ٹوٹنا مشکل امر ہے۔ اور کلام تو الفاظ کے ہیر پھیر کے باوجود مسائل کی یکسانیت اور موضوعات میں محدودیت کا آئینہ دار ہوتا ہے۔ میں شعر کہتا ہوں اور دانستہ طور پر شعر کہتا ہوں اسی لیے لفظی اعتبار سے یکسانیت کا ہونا نا ممکنات میں سے نہیں۔‘‘

’’ابھی آپ نے اقبالؔ  کا ذکر کیا …‘‘ میں نے کہا اس سے قبل کہ میں سوال مکمل کرتی وہ بول اٹھے۔

’’جی…میں اقبال کے بارے میں بتا دوں کہ ان کی شاعری ان کے افکار، اسی دور کے لحاظ سے زیادہ اہمیت کے حامل تھے جس دور میں وہ لکھے گئے مگر سمجھے اب جا رہے ہیں اسی لیے ان کی اہمیت سوا ہو گئی ہے۔‘‘

’’میرا سوال تو یہ ہے کہ آپ اقبالؔ  کے بارے میں کیا کہتے ہیں‘‘؟

’’اوہ…‘‘ شاہد کبیر مسکرائے پھر سنبھل کر بیٹھ گئے۔

’’اقبالؔ  کے بارے میں بے حد لکھا  جا چکا ہے …اتنا کچھ کہ اب لکھنے یا کہنے کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہی اور اگر آپ کے لیے میری رائے دریافت کرنا از حد ضروری ہے تو میں صرف اور صرف اپنی ذاتی رائے یوں بیان کروں گا کہ میں اقبالؔ کو ایک ایسا تصوراتی شاعر کہوں گا جو اپنی تصوراتی دنیا کے عظیم تقدس کے ساتھ، مذہب کی آفاقیت کے لباس میں پہچانا گیا۔ الفاظ کے خوبصورت چہروں سے فلسفہ کو بیان کرنا ان ہی کا حق تھا اور اپنے لیے نئے دور تخلیق کر کے کامیابی کے ساتھ نئی نسلوں کو نئے دور کی امانت دے کر  جا چکا ہے۔ وہ اپنی شاعری کا ایک مکمل اور کامیاب ترین دور تھے جو میراث میں نسلوں کے پاس رہ گیا ہے اور اصولاً وہ ایک ایسا شاعرانہ دَور ہے جو اپنی مثال آپ ہے۔ کیا آپ مطمئن ہیں۔‘‘ شاہد کبیر نے براہ راست مجھے مخاطب کیا۔

بھارت میں اردو کے مستقبل کے بارے میں شاہد کبیر نے کہا۔

’’یوپی، بہار، مہاراشٹر میں اردو کے ترویج کے لیے خاص کام ہو رہا ہے تقریباً ہر شہر میں اردو اکیڈمی ہے۔ اس کو باقاعدہ فنڈ ملتا ہے۔ شہر ناگپور میں سرکاری سطح پر کتابت سکھائی جاتی ہے۔ مفت کتابیں اور سو روپے ماہانہ وظیفہ دیا جاتا ہے۔ اس کے لیے مختلف مراکز کام کر رہے ہیں۔

’’آپ کے یہاں اردو ادب میں کس ثقافت کا رنگ ہے‘‘؟

’’ہندی کا رنگ غالب ہے۔ ہندی نے بڑی جلدی ترقی کر لی ہے۔ شروع شروع میں تو ہندی تھوپنے کی کوشش ہوئی بھی تھی۔ لیکن اب ایسا نہیں۔ مشاعرے ملے جلے ہوتے ہیں۔ اردو اور ہندی میں فرق رسم الخط کا نظر آتا ہے لیکن اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ اردو زبوں حالی کا شکار ہے۔ اردو کی تقویت ہنوز قائم ہے۔‘‘

’’تقسیم کے بعد ہجرت کے سبب ہندوستان میں اردو شاعری میں خلا تو نہیں پیدا ہوا؟‘‘

’’نہیں …ایسا نہیں ہوا…ویسے بھی ادب ادب ہوتا ہے۔‘‘ اِدھر کا ادھر کا۔‘‘ کہہ کر بانٹ دینا انصاف کی بات نہیں۔‘‘ شاہد کبیر نے جواب دیا۔

’’کیا آپ کے یہاں ادب کی صحیح سمت کا تعین ہو چکا ہے؟‘‘

’’سمت کے تعین کے بارے میں کہنا خاصا مشکل ہے کیونکہ بھارت میں بہت سی ترقی یافتہ زبانیں ہیں۔ اردو دان طبقہ محدود ہو گیا ہے۔ یہ بات ہندوستان تک بھی محدود نہیں۔ آپ کے یہاں بھی کچھ یوں ہی محسوس ہوتا ہے کہ صحیح معنوں میں پڑھنے والوں کی، ادبی ذوق رکھنے والوں کی تعداد گھٹ کر ایک محدود سرکل میں آ گئی ہے۔‘‘

’’ادب کیا ہے …اس کی ابتدا کہاں سے ہوئی …تقسیم کے بعد سے اب تک آپ کے یہاں کن ادبی تحریکوں نے کام کیا؟ اور اردو کے ارتقا کی روداد کیا ہے؟‘‘

’’خاصا لمبا اور مشکل سوال کر دیا آپ نے …‘‘ شاہد کبیر نے پہلو بدلا۔

’’ادب در اصل فطرت پر وقت کی اثر اندازی کی داستان ہے چونکہ ادب کا براہ راست تعلق انسان کی اس فطرت سے ہے جس پر قید زماں و مکاں کے اثرات مرتب ہوتے ہیں اور ادب کے اس رد عمل کی داستان کو بھی ادب کہا جاتا ہے۔ یہ تو ہوئی ادب کی تعریف، اب ابتدا کے سوال سے صاف ظاہر ہے کہ ادب انسان کی تخلیق سے لے کر روز ابد تک ایک مسلسل سفر ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہوں گا کہ ادب ایک طرح سے انسان کا اپنا سایہ ہے اور وقت کی دھوپ میں ساتھ چلتا ہے۔ سو ادب کی ابتدا انسان کے ساتھ ہی سمجھی جا سکتی ہے۔ اب رہا مرحلہ اردو ادب میں ارتقا کا مرحلہ تو ادب ہر وقت ایک نئے دور کے ساتھ زندہ رہا ہے اور ہر طرح کے رد و بدل کے باوجود اپنی صنف میں قوی تر قوت کے ساتھ برقرار ہے۔ ہم اس کو تحریک یا منظم شکل کے طور پر بیان نہیں کر سکتے۔ جدیدیت کا رجحان بے شک ایک تحریک کی شکل میں آیا لیکن زیادہ دور تک نہ چل سکاہاں اگر تحریک ہی کی بات کرنی ہے تو ترقی پسند تحریک کے بعد کسی ایسی تحریک کا نام نہیں ملتا جو منظم طریقے سے چلائی گئی ہو۔‘‘

’’شاعری میں علامتی انداز کس حد تک کامیاب قرار دیا جا سکتا ہے؟‘‘

’’آج کی شاعری کا بہت بڑا حصہ علامت پر ہے۔ یہ ایک خوشگوار تبدیلی ہے۔ ایک تازگی ہے۔ ایک حیرت انگیز دلکشی ہے لیکن علامت اس وقت تک ہی قابل تعریف ہے جب تک شاعری پر حرف نہ آئے۔ میں ذاتی طور پر علامتی شاعری کی بہت زیادہ تائید نہیں کر سکتا کیونکہ علامتی شاعری بہت سی غیر ضروری قیاسات کی آمیزش کے سبب یا بے حساب کیفیات کے امکانات کے سبب ایک طرح سے مبہم حیثیت رکھتی ہے۔ اس طرح ایک مستند کیفیت کی واضح اور فیصلہ کی اہمیت ختم ہو جاتی ہے۔ لہٰذا میرا خیال ہے کہ خالصتاً علامتی شاعری کوئی مستند شاعری نہیں۔ شاعری کو چھنی ہوئی چاندنی کی طرح روشن اور دلنواز ہونا چاہیے۔‘‘

شاہد کبیر نے مزید کہا۔

’’نئی نسل اپنے دور کی قوی امید ہے اور نمائندہ مستقبل ہے۔ کبھی مایوسی ہوتی تو ہے لیکن نئی نسل پر کوئی التزام نہیں رکھتا۔

کیونکہ وہ جس ماحول میں پروان چڑھ رہی ہے اور اپنے اطراف کے مشاہدات سے سیکھ رہی ہے اور اپنے تجربات کے سبب وہی معنوی لفظی اور عملی کیفیات کی حامل ہے جو اسے مل رہی ہے۔ مستقبل میں نسل سے بہت سی اچھی توقعات امیدیں ہر دَور میں رہتی ہیں۔‘‘

’’آپ پانی سے بہت متاثر نظر آتے ہیں، اس کا سبب پانی کی قلت ہے یا کوئی علامت ہے؟‘‘

شاہد کبیر بے ساختہ ہنس پڑے۔ پھر سنجیدہ ہوئے تو بولے …

’’لکھنے والے پانی …پتھر…درخت غرض یہ کہ ہر چیز کو علامت کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ علامتیں میری شاعری میں بھی موجود ہیں لیکن ان کی معنوی حیثیت بدلتی رہتی ہے۔ سیلاب سے ایک تصور ابھرتا ہے وہ یہ کہ ہر چیز سیلاب کی شدتوں میں بہہ جاتی ہے …اور آپ محسوس کر سکتی ہیں کہ سیلاب تباہ کاری کی شدتوں کے لیے علامت کے طور پر استعمال ہو سکتا ہے …سو آپ نے اچھی طرح سمجھ لیا ہو گا سیلاب پر پانی کا تصور کس کیفیت کی غمازی کرتا ہے اور کیوں شاعری پر اثر اندوز ہوتا ہے۔‘‘

’’شاعری میں خواتین کا کیا حال ہے …آپ کے یہاں؟‘‘

’’ہمارے یہاں شاعری میں بلند مقام شاعرہ نہیں۔ بلکہ آپ کے یہاں ایسی خواتین موجود۔‘‘

’’شاعری میں آپ کن رجحانات کے حامل ہیں؟‘‘

’’میں عصری رجحان کا قائل بھی ہوں حامل بھی، اس کا اظہار ہر دَور کی شاعری میں ہونا چاہیے …‘‘

’’کیا ترقی پسند مصنفین کی تحریک میں آپ شامل تھے اگر تھے تو آپ کی رائے؟‘‘

’’وہ میرے لڑکپن کا دور تھا اور ترقی پسند تحریک سے متاثر ہونا فطری عمل تھا۔ آج کے بیشتر شاعر اس دور سے ہو کر آئے ہیں۔ میں یہ نہیں کہنا چاہتا کہ ترقی پسند تحریک نے ہمیں کچھ نہیں دیا …کیونکہ اس دَور کے حوالے سے بہت سے شاعر فلک بوس عمارت کی طرح کھڑے ہیں۔ وہ ترقی پسند بھی تھے اور اپنے اشعار کو تمام تر شعریت اور غذائیت بھی بخشتے تھے۔‘‘

’’کیا ادب کے ذریعہ قوموں کو قریب لایا جا سکتا ہے؟‘‘

’’یقیناً …شاعر اور ادیب ثقافتوں کے سفیر ہوتے ہیں۔ اور ان کے ذریعہ قوموں کے تعلقات ثقافتی ناطوں سے استوار رہتے ہیں۔‘‘

’’کیا آپ کے یہاں ادب گروہ بندی کا شکار ہے؟‘‘

’’گروہ بندی ہر جگہ پائی جاتی ہے اور ہر دور میں پائی گئی ہے۔ موجودہ دَور میں بھی موجود ہے۔‘‘

’’ہندوستان میں ادبی انجمنیں کیا کردار ادا کر رہی ہیں کہ ادب کو فروغ ملے؟‘‘

’’ہارے یہاں ادبی انجمنیں اتنی فعال نہیں ہیں۔ علاقائی زبانیں بھی بے شمار ہیں البتہ سرکاری سطح پر اردو اکیڈمی کے ذریعہ اردو کے فروغ کے لیے کام مسلسل ہو رہا ہے۔‘‘

میرے ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا۔

’’آپ کے یہاں نثری ادب بہت زیادہ معیاری ہے۔ پُر کشش ہے۔ پاکیزہ اور حقیقت پر مبنی ہے۔ آپ کے پاس سرمایہ بھی بہت ہے۔ سرمایہ کار بھی بہت ہیں۔ اچھے انشا پرداز، اچھے نقاد، اچھے لکھنے والے، سب ہی آپ کے پاس ہیں …ہمارے پاس اچھے نقاد نہیں۔ ہمارے یہاں شاعری میں نامساعد حالات کے سبب جد و جہد کا عنصر نمایاں ہے۔ بے اطمینانی اور بے بسی کا احساس بھی ملے گا۔ آپ کے یہاں معاشرہ بہر حال ہمارے یہاں سے بہتر ہے اور اس کے سبب شاعری پر حالات کا دباؤ کم سے کم تر محسوس ہوتا ہے۔ آسودہ حالی بسا اوقات عملی اور فکری دونوں طرح کی کاہلی پیدا کر دیتی ہے۔ در اصل معاشرتی بے اطمینانی فکر اور عمل کو نفسیاتی طور پر تیز کر دیتی ہے۔ قومی شاعری میں آپ لوگوں نے بے انتہا ترقی کی ہے۔ قومی جذبے کے تحت آپ کے یہاں جو شاعری ہوئی ہے وہ اعلیٰ معیار کی ہے۔ جب کہ ہمارے یہاں ایسا نہیں ہے اور نہ اتنی قومی شاعری ہوئی اس کی وجہ شاید یہ ہو کہ ہمارے لیے ایک بنا بنایا ماحول تھا اور آپ لوگوں کو ماحول تعمیر کرنا پڑا۔‘‘

شاہد کبیر نے پاکستانی ریڈیو اور ٹیلی ویژن کی تعریف کرتے ہوئے کہا …  ’’اس میدان میں آپ لوگوں نے بے پناہ ترقی کی اور شاعری کے فروغ میں آپ کے یہ ادارے جو کردار ادا کر رہے ہیں اس سے ہم محروم ہیں۔ اس کی وجہ شاید یہ بھی ہے کہ آپ کی قومی زبان اردو ہے جب کہ ہمارے یہاں بے شمار زبانیں ہیں۔‘‘

’’ڈائجسٹوں کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے اور آپ کے یہاں ڈائجسٹوں کا معیار کیا ہے؟‘‘

’’ہمارے یہاں ڈائجسٹ برائے نام ہیں ان کی تعداد ہی سے ان کے معیار کا تعین بخوبی کیا جا سکتا ہے لیکن آج اگر ڈائجسٹوں کے کردار کو دیکھا جائے تو یہ معاشرے میں ایک ناقابل تردید بھر پور کردار ادا کر رہے ہیں۔ جیسا کہ ادبی رسالے ایک خالصتاً ادبی شخصیت کی میراث سمجھے جاتے تھے تو ڈائجسٹ محض کسی ایک طبقے کی میراث بن کر نہیں رہ جاتے۔ اس میں ہر شخص کو اس کی پسند کا مواد ضرور مل جاتا ہے اور ہمارے معاشرے میں ایک طبقہ ایسا بھی ہے جو صرف ڈائجسٹ کے ذریعہ ہی ادب تک پہنچا ہے۔ جو کچھ ہمیں ڈائجسٹ سے ملتا ہے وہ خالصتاً ادبی رسالہ نہیں دے سکتا۔ آپ کے یہاں کے میں نے بہت سے ڈائجسٹ دیکھے ہیں جو وہاں آتے ہیں اور میرے خیال میں ڈائجسٹ ایک ایسی شے کا نام ہے جو زندگی کے نازک سے نازک گوشے کو چھوتی ہوئی گزر جائے۔‘‘

’’کچھ آپ سے صرف آپ کے متعلق پوچھا جائے۔‘‘

’’بالکل۔‘‘ شاہد کبیر نے مسکرا کر فدویانہ انداز میں کہا۔

’’آپ کے کتنے بچے ہیں؟‘‘

’’آٹھ بچے ہیں۔ اس وقت دو بچے میرے ہمراہ پاکستان آئے ہیں۔‘‘

’’ادب کی طرف کسی کا رجحان؟‘‘

’’یہ بہت ہی اچھی بات ہے میری نگاہ میں کہ کسی کو بھی لکھنے لکھانے کا شوق نہیں۔ البتہ پڑھنے اور سننے کے بے حد شوقین ہیں۔ میں اپنے بچوں کو ڈاکٹر اور انجینئر بنانا چاہتا ہوں اور اسی کے لیے تیار کر رہا ہوں۔‘‘

’’آپ کی وہ بہترین دلچسپی جو آپ کی زندگی کی بہترین دولت ہے۔‘‘

’’اس کا فیصلہ وقت کے اعتبار سے ہوتا ہے۔ تاہم آج کی بات تو میرا خاندان میری زندگی کی بہترین دولت ہے۔‘‘

’’وہ شخص جس نے آپ کی پوری زندگی کو چونکا دیا ہو اور جو زندگی کے افق پر لازوال تحریر بنا۔ کن خصوصیات کی بناء پر۔؟‘‘

’’ابو الکلام آزاد۔ ادب میں جس نے  ’’غبار خاطر‘‘ سے مجھے چونکا دیا اور تخلیق کا ایک دَور میرے اندر جاگا ٹھا۔

’’کوئی توہماتی رسم۔ جو آپ کو اچھی لگتی ہے؟‘‘

’’ساری رسمیں۔ جن میں سادگی ہو۔ خواہ وہ غیر ضروری ہی کیوں نہ ہوں۔‘‘

’’آپ کی عظیم تر خواہش۔ انوکھی تمنا۔ انہونی بات کیا ہے؟ اور کیا آپ کو انتظار ہے کہ وہ پوری ہو جائے۔؟

’’ایسا تو خیر ہوتا نہیں۔ نہ کوئی تصور واضح ہوتا ہے۔ کہاں ہے، کون ہے اس کا کوئی وجود ہے بھی یا نہیں۔ یہ میں آپ کو نہیں بتاؤں گا۔ وہ سب کچھ اکثر خوابوں میں دکھائی دیتا ہے۔‘‘

’’وہ کون ہے جو آپ کی پوری شخصیت کو زانوئے ادب تہہ کرنے پر مجبور کرتا ہے‘‘؟

’’مجھے تلاش ہے۔ ہنوز اس کی تلاش ہے‘‘!

’’کونسی ایسی بات جس پر آپ بے حد جذباتی ہو جاتے ہیں؟‘‘

’’رنگ۔ میرے جذبات میں تہلکہ پیدا کر دیتے ہیں‘‘!

’’کوئی ایسی کمزوری جو اگر نہ ہوتی تو آپ کی شخصیت ادھوری رہ جاتی‘‘؟

’’میری کمزوری۔ میری خامی۔ یہ ہے کہ میں با عمل نہیں ہوں مگر میں نہیں کہہ سکتا کہ میں  ’’با عمل‘‘ نہ ہونے کے سبب پہچان گیا ہوں یا ٹھکرا دیا گیا ہوں۔‘‘

’’کوئی تو ایسا ہو گا جو آپ کے تمام تر اعتماد کی عمارت کہلا سکتا؟‘‘

’’اعتماد کی بات آئی ہے توسمجھئے کہ میں اپنے آپ پر بھی اعتماد نہیں کرتا۔ اعتماد کا تعلق حالات سے ہوتا ہے۔ ویسے عام حالات میں سب پر اعتماد کرتا ہوں۔‘‘!

’’وہ کون ہے جس سے آپ کوئی بات چھپا نہیں سکتے؟‘‘

’’خود سے۔‘‘ شاہد کبیر زیر لب مسکرائے۔

’’حسن۔ آپ کی رائے میں کیا چیز ہے؟‘‘

’’حسن۔ جب ہر عنصر کی ترکیب مناسب ہو تو جو چیز بر آمد ہوتی ہے وہ حسن ہے۔ کائنات کی ہر چیز میں حسن ہے۔ اگر حسن سے آپ کا مطلب چیزوں کے حسن سے ہے تو مجھے مصنوعی رنگوں سے آراستہ حسن بالکل پسند نہیں۔ میں ایسے حسن کا قائل ہوں جہاں صرف فطرت کی سادگی کی چاندنی مملو ہو۔‘‘

’’کبھی آپ خوفزدہ ہوئے۔‘‘؟

’’مجھے احساس ہوتا ہے کہ میں ہر دم خوفزدہ رہتا ہوں لہٰذا کسی چیز سے خوف مایوس نہیں کرتا۔‘‘

’’آپ کب بے تحاشا ہنس پڑتے ہیں؟‘‘

’’معصومیت پر۔ جتنی زیادہ معصوم اور بھولی بات ہو گی وہ اتنی ہی خوشی دیتی ہے۔‘‘

’’وہ کون سی بات ہے جسے آپ یاد کرنا نہیں چاہتے؟‘‘

’’جو ہمارے بس کی بات نہ ہو۔‘‘

’’وہ کونسا کام ہے جو آپ کو سچی خوشی بہم پہنچاتا ہے؟‘‘

’’جس سے میرا ضمیر مطمئن رہے۔‘‘

’’آپ کے خیال میں آپ کی بہترین خوبی؟‘‘

’’میرے خیال میں کوئی خوبی ایسی نہیں۔‘‘

’’آپ کے خیال میں بد ترین خامی کونسی ہے؟‘‘

’’میرا حافظہ بہت کمزور ہے۔‘‘

’’آپ کا سب سے بڑا دشمن کون ہے؟‘‘

’’آدمی کا سب سے بڑا دشمن وہ خود ہے۔‘‘

’’کیا آپ زندہ رہنے کا تصور مقصد کی شرط سے رکھتے ہیں؟‘‘

’’میں زندہ رہنے کا تصور کھانے کے ساتھ مشروط رکھتا ہوں۔ کیونکہ کھانے کے بغیر زندہ نہیں رہا جا سکتا۔‘‘

’’ادبی زندگی نے ازدواجی زندگی پر کیا اثرات مرتب کیے؟‘‘

’’میرا خیال ہے کہ اچھے ہی اثرات مرتب کیے ہیں ورنہ ہم آج یہاں نہ ہوتے۔‘‘ شاہد کبیر کا اشارہ اپنی بیگم کی طرف تھا۔

’’کیا آپ اپنی پیدائش کے دن کو اہمیت دیتے ہیں؟‘‘

’’میں اسے بھول جانا چاہتا ہوں۔ لیکن یاد بھی رکھتا ہوں۔ یکم مئی۱۹۳۲ء۔‘‘

’’پاکستان کیسا لگا؟‘‘

’’بہت اچھا لگا۔ ابھی کراچی دیکھا ہے۔ اس شہر میں زندگی برق رفتار ہے۔ میں نے لوگوں میں بھی برق رفتاری پائی ہے۔ آپ کے یہاں آسودہ حالی بہت ہے۔ لوگ بھی اچھے ملے۔ جن کے دلوں میں ماضی کی تلخیاں نہیں ہیں وہ محبت کی وا گزار گود ہیں جو مصائب سے گزر کر یہاں آئے ہیں۔ وہ اپنے آپ کو سمیٹے ہوئے ہیں۔ وہ بے مروتی اور بے حسی کے خول سے دور رہنا پسند کرتے نظر آتے ہیں۔ مجموعی طور پر مجھے یہاں جو محبت لوگوں سے میسر آئی وہ میرے لیے ایک خزانے سے کم نہیں۔ ہر ہر یاد تمام عمر مجھے آپ کے دیس کی سیر کراتی رہے گی۔‘‘

’’کوئی پیغام جو آپ قارئین کی نذر کرنا چاہیں؟‘‘

’’سر زمین پاک نے مجھے خوشگوار گداز دیا اور میری خواہش ہے کہ لوگ اپنے دلوں میں انقلاب پیدا کریں۔ تلخابۂ حیات کو بھول کر اخوت و محبت کی فراوانی سے ایک دوسرے سے باہم ملیں۔ یہی میرا پیغام ہے۔ جو کُل انسانیت کے لیے بھی ہے۔‘‘

 

بھارتی شاعر شاہد کبیر سے رعنا شاہین کی بات چیت: ۔

 

( مشرق میگزین، کراچی، پاکستان، ۴؍ فروری، ۱۹۸۳ء)

 

پچھلے چند برسوں سے ہندوستان اور پاکستان کی حکومتیں جہاں سرکاری سطح پر و خیال تبادلہ کر رہی ہیں وہاں نجی طور پر بھی ممتاز شخصیتوں اور دانشوروں کی آمدورفت کا سلسلہ جاری ہے ان دنوں ادبی حلقوں میں کافی سر گرمیاں ہیں اور آئے دن یہ خبریں سننے میں آتی ہیں کہ پاکستان کے فلاں ادیب یا شاعر ہندوستان کے دورے پر یا ہندوستان کے ادیب یا شاعر پاکستان کے دورے پر آئے ہوئے ہیں۔ آج کل بھی شہر کراچی میں مشاعروں اور دیگر ادبی سر گرمیوں کا زور ہے خاص طور پر ان محفلوں میں بھارتی مہمان شخصیتوں کی شرکت قابل ذکر ہے۔ پچھلے ایک سال میں جن ممتاز ادبی شخصیتوں کی کراچی آمد ہوئی ان میں کنور مہندرسنگھ بیدی سحر، فنا نظامی، جگن ناتھ آزاد، پروفیسر کلیم عاجز اور اختر امام شامل ہیں۔

کراچی کے رسائل میں ان حضرات کے بارے میں کم و پیش چھپتا رہتا ہے۔ زیر نظر تحریر میں میں نے جس شخصیت سے تبادلہ خیال کیا ہے وہ بھارت کے شہر ناگپور کے ابھرتے ہوئے شاعر ادیب شاہد کبیر ہیں ان کے دو مجموعہ کلام  ’’چاروں اُور‘‘ اور  ’’مٹی کا مکان‘‘ منظر عام پر آ چکے ہیں ایک ناول کچی دیواریں کافی عرصہ پہلے دہلی سے شائع ہو چکا ہے شاہد کبیر صاحب نے مجھے بتایا کہ وہ شروع شروع میں شاعری کا ارادہ بھی نہیں رکھتے تھے بلکہ ناول نگاری کا شوق تھا بعد میں شاعری کا آغاز کیا اس سوال کے جواب میں کہ آپ کے دل میں شاعری کا خیال کیونکر آیا شاہد صاحب نے کہا کہ انسان شاعر خود نہیں بنتا بلکہ یہ قدرت کا بیش قیمت خزانہ ہے جو ہر ایک کو نہیں ملتا۔ میری شاعری کی بنیاد بھی شاید یہی ہے لیکن میں نے شاعری شروع کرنے سے پہلے ادب کا گہرا مطالعہ کیا یہی وجہ ہے کہ اصلاح کے لئے مجھے کسی استاد کی ضرورت ہی نہیں پڑی۔

ان سے گفتگو کے دوران ہمیں اندازہ ہوا کہ وہ بہت سنجیدہ اور منکسرالمزاج انسان ہیں شاہد کبیر کے بارے میں اگر یہ کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا کہ سادگی، متانت انکساری، شخصیت کا روپ لے تو شاہد کبیر کا سراپا نگاہوں میں گھومنے لگتا ہے شاہد کبیر کے لہجہ کا ٹھہراؤ اور طرفداری کے علاوہ ان کے ہاں اکثر جگہ خود اپنی ذات کے حوالے سے لوگوں کے ذہن کو ایک نئی سوچ اور فکر کا ایک نیا انداز عطا کرنے کا عزم ملتا ہے وہ کہتے ہیں۔

بھولے راہی کو تو مل جائے گا راستہ لیکن

وہ مسافر جو بھلا بیٹھے سفر کو اپنے

ان کو کیا ہو گی خبر رخ ہے ہواؤں کا کدھر

بند کر لیتے ہیں جو روژن و در کو اپنے

ہم سلامت ہیں تو ایک روز بہار آئے گی

حوصلہ دیتی ہے ہر شاخ شجر کو اپنے

شاہد کبیر ادب کی دنیا میں بہت پرانے نہیں تو بالکل نووارد بھی نہیں ہیں ان کا ناول  ’’کچی دیواریں‘‘ ۱۹۵۸ء میں دہلی سے شائع ہوا تھا ان کا کہنا ہے کہ وہ کم لکھتے ہیں مگر پوری محنت سے لکھتے ہیں، اور ادبی مطالعہ کے لئے زیادہ سے زیادہ وقت نکالتے ہیں انہوں نے بے شمار کہانیاں بھی لکھی ہیں۔

ان کی اپنی شاعری اور ادب سے ہٹ کر گفتگو کے دوران زیادہ تر ہندوستان اور پاکستان کے معاشی، سماجی اور ادبی حالات کا تجزیہ بھی ہوا۔ شاہد صاحب نے معاشی اعتبار سے پاکستان کو ہندوستان سے زیادہ خوشحال پایا۔ میں نے اس کی وجہ پوچھی تو انہوں نے کہا کہ یہاں کے لوگوں کے رہن سہن کا انداز، طرز رہائشں اور آمدنی سے بھی اندازہ ہوتا ہے، کہ معاشی طور پر پاکستان کے لوگ ہندوستان سے قدرے مستحکم ہیں۔

اردو ادب کے فروغ کے سلسلے میں گفتگو کرتے ہوئے شاہد صاحب نے کہا کہ اس کا تناسب بھی پاکستان میں زیادہ ہے اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ یہاں پورے ملک کی ایک زبان ہے اس زبان میں رسائل، اخبارات اور کتابیں بے شمار شائع ہوتی ہے اس کے علاوہ ذرائع ابلاغ یعنی ریڈیو اور ٹی وی بھی اس کے فروغ میں نمایاں کردار ادا کرتے ہیں یہاں کے لوگوں کو ان کے ذریعہ اپنی صلاحتیوں کو اجاگر کرنے کا موقع خوب ملتا ہے یہی وجہ ہے کہ یہاں کی کئی کتابوں کو ہندوستان میں بہت اہمیت دی جاتی ہے۔

یہاں کے شاعروں اور ادبی محفلوں کا ذکر کرتے ہوئے شاہد کبیر نے کہا کہ بہت اچھی بات یہ ہے کہ یہاں ہر قسم کی محفلیں ادب اور علم کے فروغ کے لئے جمائی جاتی ہیں جبکہ بھارت میں اس میں تجارتی عنصر کا عمل دخل بھی ہوتا ہے۔

بھارتی رسائل کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہاں زیادہ تر ہندی رسم الخط میں اردو پرچے چھپتے ہیں اردو رسائل میں  ’’خاتون مشرق‘‘ اور  ’’بانو‘‘ زیادہ مقبول ہیں اور خواتین بہت پسند کرتی ہیں فلمی پرچے زیادہ چھپتے ہیں، فلمی صنعت بہت بڑی ہے، بین الاقوامی سطح پر پھیلی ہوئی ہے۔ اس لئے ذرائع ابلاغ اس کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں۔ یوں ہندوستان کے ادب میں وہاں کی فلموں کا اثر بھی پایا جاتا ہے۔ ایک اور بات انہوں نے بتائی کہ ہندوستان میں پاکستان کے مقابلے میں زبانیں بہت ہیں اور ادب جو زبان میں ہے اس لئے ذرائع ابلاغ ہیں جبکہ آپ کے ہاں ہر جگہ اردو زبان اور ادب کو مرکزیت حاصل ہے یہی وجہ ہے کہ اردو ادب کا فروغ جس قدر تیزی سے یہاں ہو رہا ہے کہیں اور نہیں ہو سکتا۔

شاہد کبیر نے یہ بات زور دے کر کہی کہ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان جہاں ہر سطح پر مفاہمت اور دوستی کی تحریک چل رہی ہے وہاں اس بات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ ادب اور ادبی سرگرمیوں کا دونوں ملکوں کے درمیان دوستی کے فروغ میں سب سے نمایاں کردار ادا کر سکتا ہے کیونکہ ہمارا ادب مشترکہ ہے ادیب اور شاعر ایک دوسرے کو قریب لانے میں بہتر کردار ادا کر سکتے ہیں۔ میں نے محسوس کیا ہے کہ ہندوستان اور پاکستان کے عوام ایکدوسرے سے ذہنی طور پر بہت قریب ہیں میں نے جب فنکاروں کے تبادلوں کے ذکر کیا تو شاہد نے کہا کہ بھارت کے لوگ آپ کے فنکاروں، ادیبوں اور شاعروں کی بہت قدر کرتے ہیں۔ پچھلے دنوں مختلف شعراء ادباء اور فنکار بھارت جاتے رہے ہیں۔ جن میں پروین شاکر، رئیس امروہوی، مہدی حسن اور نور جہاں وغیرہ شامل ہیں۔ ان کی وہاں جس انداز میں پذیرائی ہوئی ہے۔ اس سے وہاں کے عام لوگوں کا بھی ادب سے لگے رہنے کا پتہ چلتا ہے۔ پاکستان کے شعرا ء کے بارے میں جب میں نے ان کی رائے معلوم کی تو کہنے لگے کہ  ’’یوں تو پاکستان کے بہت سارے شعراء قابل تعریف ہیں۔ مگر موجودہ دور کے منیر نیازی، احمد فراز جذبات کی ترجمانی بہت خوبصورتی سے کرتے ہیں۔ منیر نیازی عام زندگی میں ارد گرد کے لوگوں کے رویہ کا جو خاکہ پیش کرتے ہیں اس کی مثال کسی دوسری جگہ نہیں ملتی بھارت کے تعلیمی اداروں کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مرکزی زبان اردو نہیں ہے۔ مگر بڑے بڑے کالجوں اور بہت سی یونیورسٹیوں میں اردو شعبے بہت کامیاب ہیں۔ ناگپور یونیورسٹی میں طالب علموں نے اپنی اس خواہش کا اظہار کر دیا ہے کہ وہاں اردو ڈپارٹمنٹ بھی قائم کیا جائے اور امید ہے کہ اردو کے نفاذ کا مسئلہ بھی حل ہو جائے گا۔ تعلیمی صورتِ حال کے بارے میں انہوں نے بتایا کہ ہائی اسکول تک تعلیم مفت دی جاتی ہے۔ نجی اسکولوں کو حکومت کی اعانت حاصل ہوتی ہے۔ شاہد صاحب نے پاکستان کے تعلیمی اداروں کی تعریف کی خاص طور پر کراچی یونیورسٹی انہیں بہت پسند آئی۔ وہ کہتے ہیں کہ کراچی یونیورسٹی کی لائبریری دنیا کی بہترین لائبریریوں میں سے ایک ہے۔ اس میں قیمتی اور نایاب کتابوں کا خزانہ ہے۔ شاہد صاحب سے ہم نے پوچھا کہ شاعری اور ادب کے علاوہ آپ کی کیا کیا دلچسپیاں ہیں تو انھوں نے کہا کہ مجھے اپنے گھر سے اور اس کے ماحول سے بہت دلچسپی ہے۔ اس کے علاوہ میں تقریباً سارے کھیلوں کو بڑی دلچسپی سے دیکھتا ہوں۔ کھیل میں کرکٹ، فٹبال اور ہاکی کو زیادہ پسند کرتا ہوں۔

٭٭٭

تشکر: مرتب جنہوں نے اس کی فائل فراہم کی

ان پیج سے تبدیلی، تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید

 

ڈاؤن لوڈ کریں

 

 

 

ورڈ فائل

ای پب فائل

 

کنڈل فائل