FavoriteLoadingپسندیدہ کتابوں میں شامل کریں

 

 

فہرست مضامین

سر بکف

دیوبند کا ترجمان

 

شمارہ ۱، جولائی اگست ۲۰۱۵ء

 

                مدیر: شکیب احمد

 

 

 

تبلیغ-فریضۂ عامہ یا خاصہ؟

 

                حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی ﷫

 

وَلْتَكُنْ مِّنْكُمْ اُمَّةٌ يَّدْعُوْنَ اِلَى الْخَيْرِ وَيَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَيَنْہَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ ۭوَاُولٰ ىِٕكَ ھُمُ الْمُفْلِحُوْنَ

اور تم میں ایک جماعت ایسی ہونا ضرور ہے کہ خیر کی طرف بلایا کریں اور نیک کام کے کرنے کو کہا کریں اور برے کاموں سے روکا کریں اور ایسے لوگ پورے کامیاب ہوں گے۔  (ترجمہ بیان القرآن- سورہ ٣ آلِ عمران، آیت ١٠٤)

 

یعنی ایک جماعت تم میں سے ایسی ہونی چاہیے جو داعی الی الخیر ہو۔ یعنی جو دین کی بقا میں کوشاں ہو اور شرعی امور اور دینی معاملات کا انتظام کرے اور امۃ منکم اس لئے فرمایا کہ اگر سب یہی کرنے لگیں تو کھیتی کون کرے گا اور نوکری تجارت وغیرہ کون کرے گا۔ یہ شریعت کا انتظام ہے کہ زراعت تجارت وغیرہ کو فرض کفایہ کیا ہے۔ اگر سب چھوڑ دیں تو سب کے سب گنہگار ہوں کیونکہ مجموعہ کو اسباب معیشت کی بھی حاجت ہے ورنہ سب ہلاک ہو جائیں اور نہ دنیا رہے نہ دین اور جو لوگ تارک اسباب ہیں ان کو جمعیت و توکل بھی مباشرین اسباب ہی کی بدولت ہے گو ان احاد کی تعیین نہیں مگر مجموعہ میں ایسے احاد کا ہونا ضروری ہے خصوصاً ہم جیسے ضعفاء کے لئے تو اگر ظاہری سامان نہ ہو تو تشویش سے دین ہی میں خلل پڑنے لگے۔

حاصل یہ ہے کہ دنیا سے سب کو تعلق ہے کوئی سگا ہے کوئی سوتیلا اور مطلق مذموم بھی نہیں کیونکہ دنیا مطلقاً بری نہیں ہے بلکہ دنیا جو معصیت ہے صرف وہ بری ہے۔ اس لئے باری تعالیٰ نے ولتکن فرمایا کونوا نہیں فرمایا۔ جیسا کہ اوپر واعتصموا بحبل اللہ جمیعا فرمایا۔ اس لئے مقصود تو یہ کہ دین تو سب میں ہو لیکن ایک ایسی ہی جماعت ہو جو مولویت ہی کا کام کریں اور کچھ دوسرا کام نہ کریں۔

 

وَلْتَكُنْ مِّنْكُمْ اُمَّۃٌ يَّدْعُوْنَ اِلی الْخَيْرِ

 

 

لفظ منکم سے معلوم ہوتا ہے کہ سب اس کام کے لائق نہیں ہیں اور یہ تجربہ ہے کہ جو لوگ اس کے اہل نہیں سمجھتے جاتے۔ ان کا کہنا لوگوں کو ناگوار گزرتا ہے اور جو لوگ اہل ہیں ان کا کہنا چنداں گران نہیں گزرتا۔ نیز علماء جو کچھ کہتے ہیں تہذیب سے اور شائستگی سے کہتے ہیں۔ غرض یہ طعن و تشنیع کا شیوہ مناسب نہیں ہے اپنے کام میں لگے رہو اگر کوئی برا ہو تم اس پر ترحم کرو اور اس کے لئے دعا کرو۔

 

تبلیغ کا ایک درجہ سب کے ذمہ ہے

 

اللہ تعالیٰ نے ایک جگہ تو یوں فرمایا : ولتکن منکم امۃ یدعون الی الخیر کہ اے مسلمانوں ! تمہارے اندر ایک جماعت ایسی ہونی چاہیے جو خیر کی طرف بلائے۔ یہاں تو دعوت کو ایک جماعت کے ساتھ خاص فرمایا اور اس کے بعد ارشاد ہے :

کنتم خیرامۃ اخرجت للناس تامرون بالمعروف وتنھون عن المنکر۔

کہ اے مسلمانو ! تم بہترین امت ہو جو لوگوں  (کی ہدایت) کے لئے ظاہر کئے گئے ہو۔ تم نیک کاموں کا حکم کرتے ہو، برے کاموں سے روکتے ہو۔

یہاں امر بالمعروف و نہی عن المنکر کو سب کے لئے عام کیا گیا ہے اس سے صاف معلوم ہو گیا کہ اس بالمعروف و نہی عن المنکر کا ایک درجہ ایسا بھی ہے جو سب کے ذمہ ہے اور علماء کے ساتھ خاص نہیں۔  (آداب تبلیغ)

 

اہل علم کی شان

 

جن کو اس آیت میں فرماتے ہیں :

وَلْتَكُنْ مِّنْكُمْ اُمَّةٌ يَّدْعُوْنَ اِلَى الْخَيْرِ وَيَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَيَنْہَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَاُولٰئىِٕكَ ھُمُ الْمُفْلِحُوْنَ

اور تم میں ایک جماعت ایسی ہونا ضروری ہے کہ خیر کی طرف بلایا کریں اور نیک کام کرنے کو کہا کریں اور برے کاموں سے روکا کریں) اس آیت میں یدعون  (بلاویں) کا مفعول ذکر نہیں فرمایا یہ ذکر نہ کرنا مشیر  (اشارہ کرنے والا) ہے اس کے عموم کی طرف مطلب یہ ہے کہ یدعون الناس یعنی عام لوگوں کو خیر کی طرف بلاویں تو یہ شان اہل علم کی ہے یعنی ان لوگوں کی جنہوں نے سب علوم کا بقدر ضرورت احاطہ کیا اور فرض یہ بھی ہے مگر فرض علی الکفایہ ہے۔ کہ امت میں کچھ لوگ ایسے ضرور ہونا چاہئیں کہ جن سے عوام امت کا کام چلے اسی لئے محققین نے من کو اس آیت سے تبعیضہ کہا ہے یعنی تم میں بعض ایسے ہونے چاہئیں۔

 

دعوت عامہ کے اقسام

 

یہ ایک خاص جماعت کا کام ہے ساری امت کا کام نہیں ہے اور دعوت الی الخیر اور دعوت الی اللہ کے ایک ہی معنی ہیں سو اس میں تو اس کو صرف ایک خاص جماعت کا کام فرمایا گیا ہے اور دوسرے مقام پر ارشاد ہے :

قل ھذہ سبیلی ادعوا الی اللہ علی بصیرۃ انا ومن اتبعنی، وسبحن اللہ وما انا من المشرکین۔

کہ فرما دیجئے یہ میرا راستہ ہے بلاتا ہوں میں اللہ کی طرف بصیرت پر ہو کر میں اور جتنے میرے متبع ہیں اور حق تعالیٰ تمام برائیوں سے پاک ہیں اور میں مشرکین میں سے نہیں ہوں۔ دیکھئے یہاں پر مطلقاً  ومن اتبعنی ہے یعنی جتنے میرے متبع ہیں سب حق کی طرف بلاتے ہیں اس میں عموم ہے۔

اس خصوص اور اس عموم سے معلوم ہوا کہ اس کے درجات و مراتب ہیں ایک درجہ کا پہلی آیت میں ذکر ہے اور ایک درجہ کا دوسری آیت میں اور وہ درجات دو ہیں ایک دعوت عامہ ایک دعوت خاص پھر دعوت عامہ کی دو قسمیں ہیں ایک دعوت حقیقیہ اور ایک دعوت حکمیہ۔ دعوت حکیمہ وہ جو کہ معین ہو دعوت حقیقیہ میں میں نے آسانی کے لئے یہ لقب تجویز کئے ہیں ان میں اصل دو ہی قسمیں ہیں دعوت الی اللہ کی۔ دعوت عامہ، دعوت خاصہ۔ اور ایک قسم معین ہے دعوت عامہ کی۔ تو اسی طرح یہ کل تین قسمیں ہو گئیں۔ تو ہر شخص کے متعلق جدا جدا مرتبہ کے لحاظ سے ایک ایک دعوت ہو گی۔ چنانچہ دعوت خاصہ ہر مسلمان کے ذمہ ہے اور وہ وہ ہے جس میں خطاب خاص ہو اپنے اہل و عیال کو، دوست احباب کو اور جہاں جہاں قدرت ہو اور خود اپنے نفس کو بھی۔ چنانچہ حدیث میں ہے کلکم راع وکلکم مسئول۔ کہ تم میں ہر ایک راعی و نگران ہے اور تم میں ہر ایک  (قیامت میں) پوچھا جائے گا کہ رعیت کے ساتھ کیا کیا۔ یہ دعوت خاصہ ہے اور قرآن میں بھی ذکر ہے۔

یایھا الذین امنوا قوا انفسکم واھلیکم نارا۔

اے ایمان والو ! اپنے آپ کو اور اپنے اہل و عیال کو عذاب دوزخ سے بچاؤ۔ یہ بھی دعوت خاصہ ہے کہ اپنے اہل و عیال کو عذاب دوزخ سے بچانے کا حکم ہے سو اس کا تو ہر شخص کو اپنے گھر میں اور تعلقات کے محل میں اہتمام کرنا چاہیے۔

 

عمومی دعوت میں تخصیص کا راز

 

ایک اور دعوت عام ہے جس میں خطاب عام ہو یہ کام ہے صرف مقتداؤں کا۔ جیسا کہ ولتکن منکم امۃ الایہ سے معلوم ہو رہا ہے اور اس تخصیص میں ایک راز ہے۔ وہ یہ کہ دعوت عامہ  (یعنی وعظ) اس وقت موثر ہوتی ہے کہ جب مخاطب کے قلب میں داعی کی وقعت ہو۔ بلکہ مطلق دعوت میں بھی اگر داعی کی وقعت نہ ہو تو وہ موثر نہیں ہوتی تو عام دعوت میں عام مخاطبین کے قلب میں داعی کی وقعت ہونی چاہیے اور ظاہر ہے کہ بجز مقتداء کے کوئی ایسا شخص نہیں ہے جو عام لوگوں کے دل پر اثر ڈال سکے اور ایسے لوگ کتنے ہوتے ہیں۔ جو یہ سمجھتے ہوں کہ انظر الی ماقال ولا تنظر الی من قال اور یہ سمجھتے ہوں کہ

مردباید کہ گیرد اندر گوش

درنبشت است پند بر دیوار

 

(انسان کو چاہیے کہ نصیحت پر عمل کرے۔ وہ نصیحت کی بات خواہ دیوار پر لکھی ہوئی کیوں نہ ہو) (١)

۔۔۔۔۔۔

(١)اشرف التفاسیر- از مولانا اشرف علی تھانوی ؒ،  تفسیر سورہ ٣آلِ عمران، آیت ١٠٤، تاریخِ اشاعت غیر مذکور

٭٭٭

 

 

 

 

                مَنْ يُّطِعِ الرَّسُوْلَ فَقَدْ اَطَاعَ  اللّٰہَ

جس نے رسول کی اطاعت کی، حقیقت میں اُس نے اللہ کی اطاعت کی۔ (سورہ نمبر 4 النساء، آیت 80)

 

الاحادیث المنتخبہ

                پیش کش: مدیر

 

قولوا لا الہ الا اللہ

 

حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ حَدَّثَنَا شَيْبَانُ عَنْ أَشْعَثَ قَالَ وَحَدَّثَنِي شَيْخٌ مِنْ بَنِي مَالِكِ بْنِ كِنَانَةَ قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّہِ صَلَّى اللَّہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ بِسُوقِ ذِي الْمَجَازِ يَتَخَلَّلُہَا يَقُولُ يَا أَيُّہَا النَّاسُ قُولُوا لَا إِلَہَ إِلَّا اللَّہُ تُفْلِحُوا قَالَ وَأَبُو جَہْلٍ يَحْثِي عَلَيْہِ التُّرَابَ وَيَقُولُ يَا أَيُّہَا النَّاسُ لَا يَغُرَّنَّكُمْ ہَذَا عَنْ دِينِكُمْ فَإِنَّمَا يُرِيدُ لِتَتْرُكُوا آلِہَتَكُمْ وَلِتَتْرُكُوا اللَّاتَ وَالْعُزَّى قَالَ وَمَا يَلْتَفِتُ إِلَيْہِ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّى اللَّہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ قَالَ قُلْنَا انْعَتْ لَنَا رَسُولَ اللَّہِ صَلَّى اللَّہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ قَالَ بَيْنَ بُرْدَيْنِ أَحْمَرَيْنِ مَرْبُوعٌ كَثِيرُ اللَّحْمِ حَسَنُ الْوَجْہِ شَدِيدُ سَوَادِ الشَّعْرِ أَبْيَضُ شَدِيدُ الْبَيَاضِ سَابِغُ الشَّعْرِ

(مسند احمد:جلد نہم،حدیث نمبر 3182 حدیث مرفوع)

مکررات: مسند احمد:جلد ششم،حدیث نمبر 2413، مسند احمد:جلد نہم،حدیث نمبر 3143

بنو مالک بن کنانہ کے ایک شیخ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریمﷺ کو ذوالمجاز نامی بازار میں چکر لگاتے ہوئے دیکھا نبی کریمﷺ فرما رہے تھے، لوگو! لا الہ اللہ کا اقرار کر لو تم کامیاب ہو جاؤ گے اور ابوجہل مٹی اچھالتے ہوئے کہتا جاتا تھا لوگو! یہ تمہیں تمہارے دین سے بہکا نہ دے یہ چاہتا ہے کہ تم اپنے معبودوں کو اور لات و عزیٰ کو چھوڑ دو لیکن نبی کریمﷺ اس کی طرف توجہ نہ فرماتے تھے ہم نے ان سے کہا کہ ہمارے سامنے نبی کریمﷺ کا حلیہ بیان کیجئے انہوں نے فرمایا کہ نبی کریمﷺ نے دو سرخ چادریں زیب تن فرما رکھی تھیں درمیانہ قد تھا جسم گوشت سے بھر پور تھا چہرہ نہایت حسین و جمیل تھا بال انتہائی کالے سیاہ تھے انتہائی اجلی سفید رنگت تھی اور گھنے بال تھے۔

 

دعوت کا طریقہ، بشروا

 

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو التَّيَّاحِ عَنْ أَنَسِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ قَالَ يَسِّرُوا وَلَا تُعَسِّرُوا وَبَشِّرُوا وَلَا تُنَفِّرُوا

(صحیح بخاری:جلد اول،حدیث نمبر 72 حدیث مرفوع )

مکررات: صحیح بخاری:جلد سوم،حدیث نمبر 1078، صحیح مسلم:جلد سوم،حدیث نمبر 31

محمد بن بشار، یحیی بن سعید، شعبہ، ابوالتیاح انس  (رض) نبی  (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روایت کرتے ہیں کہ آپ  (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا  (دین میں) آسانی کرو اور سختی نہ کرو، لوگوں کو خوشخبری سناؤ اور  (زیادہ تر ڈرا کر انہیں) متنفر نہ کرو۔

٭٭٭

اُدْعُ اِلٰى سَبِيْلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ وَجَادِلْہُمْ بِالَّتِيْ ہِىَ اَحْسَنُ ۭ

اپنے رب کے راستے کی طرف لوگوں کو حکمت کے ساتھ اور خوش اسلوبی سے نصیحت کر کے دعوت دو، اور  (اگر بحث کی نوبت آئے تو) ان سے بحث بھی ایسے طریقے سے کرو جو بہترین ہو۔  (سورہ نمبر 16 النحل، آیت 125)

٭٭٭

 

 

 

ردِ فرقِ باطلہ

 

                دعوتِ حق، غیر مسلموں میں

 

ہندو مذاہب میں توحید

 

اسلام نے ہمیں اس بات سے منع کیا ہے کہ ہم مذاہبِ باطلہ کے معبودانِ باطلہ اور اُن کی  قابلِ تعظیم ہستیوں کا مذاق اُڑائیں۔ “تعلیم الاسلام” میں و لکل قوم ہاد کے تحت یہ بتایا گیا ہے کہ گوتم بدھ، رام، لکشمن، وغیرہ اپنے دور کے ہاد میں شمار کیے “جا سکتے” ہیں، چنانچہ اُن کا مذاق ہرگز نہ اڑایا جائے۔ زیرِ نظر تحریر میں ہندوؤں کی کتب میں توحید کا ذکر کیا گیا ہے۔ (مدیر)

 

ہندو دھرم کسی ایک عقیدے پر مبنی نہیں ہے بلکہ وہ مختلف عقائد کا مجموعہ ہے۔ لیکن تب بھی ان کی مذہبی کتابوں میں عقیدہ توحید اور اصل دین حق کی واضح نشانیاں اور گواہیاں واضح طور پر موجود ہیں جن میں سے چند کا ذکر آگے کیا جا رہا ہے۔

ہندو بھائیوں کے مذہب کا اصل نام شاسوت مارگ اور سناتھن دھرم ہے۔ شاسوت دھرم کا مطلب وہ دھرم جو آسمان سے زمین تک سیدھاہی پہنچا ہو۔ اور سناتھن دھرم کا مطلب بہت قدیم زمانے کا دھرم یا سب سے پہلے کا دھرم جس کا ایک مفہوم اسلام بھی ہوتا ہے۔ ہندو دھرم کے بہت سے مذہبی پیشواؤں نے اسی کو دھرم کا سیدھا راستہ اور مناسب راستہ بتایا ہے جسے ایشور درشن مارگ بھی کہا جاتا ہے۔ چاروں ویدوں، اپنشد، اور پران کے علاوہ دیگر مذہبی کتب میں اس کا ذکر آیا ہے۔

اب ملاحظہ فرمائیں ہندو مذہبی کتب کے سینکڑوں ثبوتوں میں سے چند حوالے جن کی بنیاد پر ہم یہ یقین سے کہہ سکتے ہیں کہ اصل ہندو مذہب میں ایک خدا کا تصور  (وحدانیت )بالکل اسی انداز میں دیتا ہے جسے اسلام نے پیش کیا ہے۔ سب سے پہلے ہم ہندو ویدانت کا برہم سوتر  (کلمہ ) کا ذکر کریں گے۔

کوئی بھی مسلمان عقیدہ توحید ورسالت کے لئے کلمہ۔ لا الہ الاّ اللہ، محمد رسول اللہ کو بیان کرتا ہے۔ ایسی ہی گواہی کسی ہندو بھائی سے معلوم کرنے کے لئے ہم کو اس کے برہم سترا کے بارے میں پوچھنا ہو گا۔ تو وحدانیت کا قائل ہندو بھائی ہندو ویدانیت کا برہما سترا سنائے گا۔  (رگ وید مہارشی وید و یاس جی )

’’ایکم برہم دو یتا نا ستح، نیتہنا ناستح کنچن ‘‘کلمہ کے معنی جیسا برہم سوتر (رگ وید جلد ۸ سلوک ۱)

(ترجمہ۔ ایک ہی ایشور ہے جس کی عبادت اور پرستش کی جائے جو ایک الہ ہے مالک ہے اس کے سوا کوئی پوجا کے عبادت کے لائق نہیں ہے، نہیں ہے نہیں ہے اور کبھی نہیں ہے۔ )

سورہ فاتحہ کے معنی جیسا’’ ایک منتر گایتری منتر ‘‘

جس طرح مذہب اسلام میں سورہ فاتحہ کی اہمیت ہے۔ جسکا ہر نماز میں پڑھنا فرض ہے۔ اسی کے معنی سے مماثلت رکھتا ہوا ایک منتر گایتری منتر ہے۔ لفظ گایتری  (گایا۔ اتری )کا مطلب اپنے ایشور کی تعریف اور تسبیح بیان کرنا ہے۔ جس طرح سورہ فاتحہ کے معنی ہیں۔

۱) اوم بھوبھواح۔ ۔سوح دت۔ سروے برورے نیم بھرو دے وش شدھی مہدی دھویونہا پر چودیات۔  (رگ وید 3-62-10)

(مطلب :اے برہمانڈ کی رچنا کرنے والے سب سے عظیم خدا  (ایشور ) تو میرا صحیح مارگ درشن کر ایسا مارگ درشن کہ میں جنت کی طرف آ جاؤں اور گھمنڈ کپٹ، چھل ان چیزوں سے مجھے دور رکھ۔ اے ایشور میں تیری پرارتھنا اور تیری ارچنا اور تیرا اچرن کرتا ہوں۔   (رگ وید 3-62-10)) اس شلوک میں ایک خدا کی تعریف بیان کی گئی ہے۔

۲) شانتا کارم۔ ۔بھوچک سینم، پدم نابھم، سریشٹم، وشوا دھارم، گگن شدشم، میگھ ورنم، سیھا نگم، لکچھمی کا نتم، کمل نینم، یوگ ودیانگ میم،۔

مطلب :

* ہے ایشور تو نے اس برہمانڈ کی رچنا کی۔ تو بڑا ہی شانت سو بھاؤ کا ہے۔

* ہے ایشور تو بڑا شیتلتا اور شالین مزاج کا ہے۔

* ہے ایشور تیرا بڑے سورگ پر اور بڑے آسمان پر تیرا وراجمن  (عرش )ہے۔

* تو نے اس برہمانڈ  (کائنات )کو بنایا اور ایک زبر دست گگن  (آسمان ) بنایا جو بغیر کسی سہارے کے ہے۔ اورتو ہی اس آسمان سے پانی برساتا ہے۔

* بس ہے ایشور تو ایک ایسی شخصیت ایسے گرو کو بھیج جو وہ بھی شانت اور شالین مزاج کا ہو جس کی آنکھیں بہت خوبصورت اور نازک ہوں۔

* ہے ایشور ایسے اچاریہ اور گرو مہارشی کو بھیج جو لوگوں کو صحیح آچرن کرے لوگوں  کا صحیح مارگ درشن کرے اور لوگوں کو صحیح راستے پر لے آئے۔  (رگ وید /سرو دیو پوجنم /ادھیائے ۲ شلوک ۴)  (رگ ویدمنترا نمبر /۵۷/شلوک ۷)

مندرجہ بالا تمام شلوک ایک خدا کی صفات کو ثابت کرتی ہیں۔ محمدﷺ کے آنے کی طرف بھی اشارہ صاف ظاہر ہے۔اس کے علاوہ اللہ تعالی کی وحدانیت اور ایک الہ ہونے کے ضمن، مہارشی وید ویاس جی سرو دیوپو جنم میں لکھتے ہیں۔

منگلم، بھگوانم، وشنوح منگلم، پنڈھری کاچھو،منگلائے تنوہری،  منگلم، بھگوانم وشنو منگلم، پنڈھری منگلائے تنوہری منگلم،

(مطلب:جس نے سارے سنسار کو بنایا۔ اس سنسار کا پیدا کرنے والا وشنو، اپنے اندر اور ارجیت کرنے والا اس دنیا کی حفاظت کرنے والا وہ ایک مہان ایشور ہے۔ جو سبحان ہے اور وہ ذات پاک ہے۔ )

سورہ فاتحہ کے معنی کی مماثلت رکھنے والا ایک اور شلوک جو یجروید سے ہے جو سدھارک گروکل بھجر روہتک کے وید پردیش خصوصی نمبر ۱۰ ؍مارچ ۱۹۶۱ء میں دیئے گئے سوامی وید ویویکا نند جی کے ہندی ترجمہ صفحہ ۵۱ سے اردو کیا گیا ہے۔

(ترجمہ۔ اے سراپا علم، سب کو روشن کرنے والے پرمیشور ہم کو ہدایت اور مغفرت کے لئے صراط مستقیم سے لے چل، اے مسکھ داتا پربھو۔ حاضر و ناظر مالک تو سب کے علوم، اعمال افکار اور معاملات سے واقف ہے۔ ہم سے ٹیڑھ، گمراہی اور گناہ کو دور کر ہم تجھے ہی بندگی اور حمد پیش کرتے ہیں۔  (یجروید۔ ۴۰۔۱۶)

 

توحید کا ذکر رگ وید سے

 

 

* عالم کا مالک ایک ہی ہے۔   (رگ وید۔ 3-121-10)

* ہم سب سے آگے کے خدا کی ہی عبادت کرتے ہیں۔   (رگ وید۔ 1-1-1)

* وہ جو ایک الہ ہے۔ رشی اسے بہت سے نام سے یاد کرتے ہیں وہ اسی اگنی یم اور ماترشون کہہ کر پکارتے ہیں۔   (رگ وید۔ 46-164-1)

* وہ تمام جاندار اور بے جان دنیا کا بڑی شان و شوکت کے ساتھ اکیلا حکمراں ہے وہ انسانوں اور جانوروں کا رب ہے  (اسے چھوڑ کر )ہم کس خدا کی حمد کرتے ہیں اور نذرانے چڑھاتے ہیں ؟  (رگ وید۔ 3-2-1)

* اسی سے آسمانوں میں مضبوطی اور زمین میں استحکام ہے اسی کی وجہہ سے اجالوں کی بادشاہت ہے اور آسمان محراب کی شکل میں ٹکا ہوا ہے۔ فضا کی پیمانے بھی اسی کے لئے ہیں  (اسے چھوڑ کر ہم )کس خدا کی حمد و ثنا کرتے ہیں؟ اور نذرانے چڑھاتے ہیں۔   (رگ وید۔ 5-2-1)

*۔ وہ ایک ہی ہے اسی کی عبادت کرو۔   (رگ وید۔ 16-4-3)

*۔ ایشور ہی اول ہے اور تمام مخلوقات کا اکیلا مالک ہے وہ زمینوں اور آسمانوں کا مالک ہے اسے چھوڑ کر تم کون سے خدا کو پوج رہے ہو۔  (رگ وید 1-12-10)

* ماچ دیندی سنسد۔   (رگ وید۔ 1-1-8)

* تمام تعریفیں اس اکیلے کے لئے ہیں اس اکیلے کی ہی عبادت کرو۔

* یا اک مشتہی

* ایک ایشور کی طرف آؤ، ایشور نراکار ہے، اجنما ہے، سروشکتی مان ہے۔  (رگ وید 27-5-45)

* صرف ایک خدا ہے پوجو اس اکیلے کو۔  (رگ وید۔ 16-45-6)

 

سارے ایک

 

 

آج ہندو مذہب میں جتنے بھی خداؤں کے نام لئے جاتے ہیں وہ دراصل ایک ہی خدا کے صفاتی نام ہیں جس میں برہما برجا، وشنو، اندر، سرسوتی وغیرہ ہیں لیکن آج ان کی مورتیوں کو الگ الگ بنا کر پوجا جا رہا ہے اسی کو وید اور دیگر مذہبی کتابیں غلط ثابت کرتے ہیں۔ چند شلوکوں کے ترجمے نیچے درج کئے جا رہے ہیں۔

* اے اگنی  (خدائے واحد )تم ہی نیکیوں کی دلی تمنائیں پوری کرنے والے اندر ہو اور صرف تم ہی عبادت کے قابل ہو۔ تم ہی بہت لوگوں کے قابل تعریف وشنو ہو تم برہما اور تم ہی برہنپسپتی سردار آریم ہو۔  (رگ وید 3-1-2)

* اے اگنی  (خدائے واحد )تم وعدہ پورا کرنے والے راجا ورن ہو۔ تم قابل تعریف متر ہو۔ تم حقیقی سردار آریم ہو۔ (رگ وید۔ 4-1-2)

* اے اگنی  (خدائے واحد )تم ردر ہو، تم پسشا ہو۔ آسمانی دنیا کے محافظ شنکر ہو۔ تم ریگستانی امت کی طاقت کا ذریعہ ہو۔ تم رزق دینے والے مجسم نور ہو۔ ہوا کی طرح ہر جگہ موجود نفع بخشنے والے اور عبادت گزار کے محافظ ہو۔   (رگ وید 6-1-2)

* اے اگنی  (خدائے واحد )تم ہی دولت دینے والے سویتا ہو۔ تم وایو249ہوا اور عبادت کرنے والے کے محافظ ہو۔   (رگ وید۔ 7-1-2)

* اے اگنی  (خدائے واحد )تم سب سے اول ہو۔ تم بھارتی  (نیکوں کا خزانہ ) ہو تم اڑا ہو اور تم ہی سرسوتی ہو۔   (رگ وید 11-1-2)

ویدوں کے ان واضح ثبوتوں کے بعد بہت سے ناموں سے پوجے جانے والے الگ الگ دیوتاؤں کا تصور بالکل باطل ہو جاتا ہے۔

ویدیہ بھی صاف صاف بیان کرتے ہیں کہ ان تمام صفاتی ناموں سے دانشور لوگ ایک خدا کو پکارتے ہیں۔

* اندر، مترورن، اگنی، گرویم، وایو، ماتر یشوا وغیرہ )ایک ہی طاقت کے مختلف نام ہیں اہل بصیرت اور اہل علم نے ایشور کو صفات کی بنیاد پر مختلف ناموں سے پکارا ہے۔   (رگ وید۔ 5-114-10)

* ترجمہ۔ (ائے مالک )تیرے جیسا کوئی دوسرا ہے نہ تو اس دنیا میں ہے اور نہ ہی زمین پر ہوا ہے اور نہ ہو گا۔

(رگ وید، منڈل 7249سوکت 32منتر23)

* ترجمہ۔ ائے اللہ آپ کے علاوہ تمام مخلوقات کو کوئی اپنے اختیار میں نہیں کرسکتا۔

(رگ وید، منڈل۱۰249سوکت۱ ۱۲ منتر۱۰)

* ترجمہ۔ اے مالک آپ ہی عبادت کے لائق ہیں، آپ کے جیسا کوئی نہیں۔

(رگ وید، منڈل۱۰249سوکت۱۱۰ منتر۳)

* ترجمہ۔ وہی زمین و آسمان کا خالق ہے اس مالک کی ہم اہتمام سے عبادت کرتے ہیں۔

(رگ وید، منڈل۱۰249سوکت۱ ۱۲ منتر۱)

* ترجمہ۔ اس تمام کائنات کا بادشاہ ایک ہی ہے۔  (رگ وید، منڈل۶249سوکت۳۶ منتر۴)

* ترجمہ۔ دنیا کا خالق، مشرق، مغرب، اوپر نیچے سب جگہ ہے۔

(رگ وید، منڈل۱۰249سوکت۳۶ منتر۱۴)

* ترجمہ۔ نہ زمین اور آسمان اس خدا کے محیط ہونے کی حد کو پا سکتے ہیں نہ آسمان کے کُرے۔نہ آسمان سے برسنے والا مینہ اس خدا کے سوا کوئی اور دوسرا اس کی خلقت پر قدرت نہیں رکھ سکتا۔

(رگ وید، منڈل۱249سوکت۵۲ منتر۱۴)

مذکورہ بالا شلوک بالکل قرآن جیسا ہی ہے۔ قرآن ایک جگہ ذکر کرتا ہے۔

اللَّہُ لَا إِلَہَ إِلَّا ہُوَ لَہُ الْأَسْمَاء الْحُسْنَی

ترجمہ۔ ایک اللہ کے سواکوئی معبود نہیں اور اس کے بہت سے اچھے اچھے نام ہیں۔  (قرآن سورہ طہ8)

پھر یہ وید بالکل قرآنی طر ز  (١) میں بیان کرتے ہیں کہ جن معبودوں کو تم پکار رہے ہو یہ تو خود ہی اپنے ایک خدا کی عبادت کر رہے ہیں۔

(١) واضح رہے کہ یہاں طرزِ قرآنی سے مراد  قرآنی آیات کے مطابق مفہوم رکھنا ہے۔  (مدیر)

* ایشور ہی روحانی اور جسمانی طاقتیں عطا کرنے والا ہے۔ اور اسی کی عبادت تمام دیوتا  (فرشتے کیا کرتے ہیں )اس ایشور کی خوشی ہمیشہ کی زندگی عطا کرنے والی ہے اور موت کا خاتمہ کرنے والی ہے۔ اس ایشور کو چھوڑ کر تم کس دیوتا کی عبادت کر رہے ہو۔   (رگ وید۔ 2-121-10)

اسی مضمون کو اگر قرآن کی روشنی میں دیکھیں۔

* جن لوگوں کو یہ پکارتے ہیں تو وہ خود اپنے رب کے حضور رسائی حاصل کرنے کا قریب ترین وسیلہ تلاش کر رہے ہیں اور وہ اس کی رحمت کے امیدوار ہیں اور اس کے عذاب سے خائف ہیں۔  (قرآن سورہ بنی اسرائیل۔57)

 

توحید کا ذکر اتھر وا وید میں

 

* دیو مہا آسی۔واقعی سب سے بڑا ایک ایشور ہی  (خدائے برتر )ہے۔

* خدا بہت مہمان ہے۔   (اتھروا وید۔ 3-58-20)

ّّّ* وہ ایک ہی بہترین پرستش کے لائق ہے۔   (اتھر وا وید 14-52-1)

* ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا۔

* ترجمہ۔ وہ خدا ایک ہے وہ سچ مچ ایک ہے۔  (اتھروید  کانڈ۱۳ 249سوکت۴ منتر۱۲)

* ترجمہ۔ وہ اللہ اس سے بالاتر ہے کہ اس کو موت آئے بلکہ وہ امرت کے تصور سے بھی بالاتر ہے۔

(اتھروید کانڈ۱۳ 249سوکت۴ منتر۴۶)

* ترجمہ۔ حق نے ہی زمین و آسمان اور چاند وسورج کو تخلیق دی۔ (اتھروید کانڈ۱۴ 249سوکت۱ منتر۱)

 

توحید کا ذکر چھندو گیا اپنشید میں

 

* ایکم ایوم او دوتم۔  (وہ ایک ہی کسی دوسرے کی شرکت کے بغیر ہے۔  (چھندو گیا اپنشد۔ 1-2-6)

* ترجمہ۔ اس کائنات کی چیزوں میں جو کچھ بھی حرکت ہے وہ سب اس حاکم، قدرت رکھنے والے کی مرضی سے ہے۔  (یجروید۔ ادھیائے ۴۰۔ منتر۱)

* ترجمہ۔  (اے مالک)تیرے جیسا نہ کوئی دونوں عالم میں ہے اور نہ زمین کے ذرات میں اور نہ تیرے جیسا کوئی پیدا ہوا ہے اور نہ ہو گا۔  (یجر وید۔ ادھیائے ۲۷۔ منتر۳۶)

* ترجمہ۔ یہ پوری کائنات اس اللہ کے حجم سے چل رہی ہے۔   (یجرو ید۔ ادھیائے ۴۰۔ منتر۱)

 

تو حید کا ذکربھگوت گیتا سے

 

* یومام اجم آنا دم چہ۔ ویتی لوکہ مہیشورم۔  *اسمو ڈھح سہ مریشو سروہ پاپیئح پدم چیتے۔

(مطلب۔ اے انسانوں اپنے ایشور کو پہچانوں کیونکہ وہ ایک ایشور تمہارا پیدا کرنے والا ہے اس ایشور نے تمہیں ہوا   (وایو ) دیا۔  اگنی دیا، دھرتی دیا، آسمان دیا، جل دیا، تم اپنے ایشور کو پہچانو جس نے تمہیں اتنے انعامات دیئے۔ اے انسانوں اگر تم مجھے نہیں پہچانو گے تو بہت بڑی گمراہی میں ہوں گے۔   (بھگوت گیتا ادھیائے۔ 3-10)  (١)

۔۔۔۔۔۔۔

(١)بشکریہ  داعی اسلام حضرت مولانا کلیم صدیقی صاحب دامت برکاتہم

آفیشیل ویب سائٹ :

www.EmbraceIslam.GainPeace.com

٭٭٭

 

 

 

شہداء سے معذرت کے ساتھ۔۔۔

 

                شیخ عبداللہ عزام شہید

ترجمہ:  ام ہاشم

 

قوموں کی تاریخیں اُن جری نوجوانوں کے خون سے رقم ہوتی ہیں جو زمانے کا رخ موڑ دینے کا عزم اور حوصلہ رکھتے ہیں۔افغانستان کے کوہساروں میں رقم ہونے والی تاریخ ایسے ہی بلند حوصلہ نوجوانوں کی داستان ہے۔ آج احیائے اسلام کے لیے تن من دھن وقف کرنے کی رِیت قائم کرنے کا سہرا اُن کے سر ہے جنھوں نے اپنے خون،  ہڈیوں اور گوشت سے اس عمارت کی از سرِ نو تعمیر کی ہے۔ امت کے دورِ زوال میں ایسے نوجوانوں کا وجود معجزے کا درجہ رکھتا ہے۔ اور یہ معجزہ امت کی نشاۃ ثانیہ کی نوید ہے۔قومیں اپنی تاریخ کو رقم کرنا فرض گردانتی ہیں تاکہ آنے والی نسلیں ان اقدار کی پاسبان ہوں جن کی خاطر ان کے بہادر سپوتوں نے جان کے نذرانے پیش کیے۔

نئی نسلوں کے کردار کی بہترین تعمیر ان کے رہنماؤں اور ابطال کی زندگیوں کی داستان سنائے بغیر ممکن نہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم  کی سیرت سے ہمیں یہی رہنمائی ملتی ہے اور صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کا طرزِ عمل اسی روش کی پابندی سکھاتا ہے:

أُولَٰئِكَ الَّذِينَ ہَدَى اللَّہُ   فَبِہُدَاہُمُ اقْتَدِہْ          (الانعام:۹۰)

یہ ایسے لوگ تھے جنہیں اللہ نے ہدایت دی تھی سو آپ بھی انہیں کے طریق پر چلئے

یہ زندہ کردار ہمارے ماحول سے جتنا قریب ہوں گے اور ہمارے زمانے سے ان کا تعلق جتنا گہرا ہو گا اسی قدر دلوں پر ان کے اثرات بھی گہرے ہوں گے۔  یہ زندہ کردار پوری قوت سے اپنی عظمت کی داستان بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں: ” ان میں سے ہر نوجوان تمہارے ہی معاشرے کا ایک فرد تھا، تمہارے ہی جیسے ماحول میں اس کی پرورش ہوئی پھر بالآخر یہی تم سے بازی لے کر منزل پر جا پہنچا۔ آخر تمھیں اس کے نقش پاکی پیروی کرنے میں کیا امر مانع ہے” ؟

 

شہداء سے معذرت کے ساتھ !!!

 

ہم جب بھی افغانستان کے کسی شہید کی وصیت کا مطالعہ کرنے چلتے ہیں ایک مشکل آڑے آ جاتی ہے !ان میں سے اکثر شہداء کا یہ مطالبہ ہوتا ہے کہ”ان کے بارے میں ایک لفظ بھی تحریر کرنے سے گریز کیا جائے “۔ سعد رشود نے اپنی وصیت میں بڑے شد و مد کے ساتھ تاکید کی کہ” میں مجلہ’ الجہاد، اور ’بنیانِ مرصوص، کو ہر گز اجازت نہیں دیتا کہ وہ میرے بارے میں ایک لفظ بھی تحریر کریں “۔ ابو دجانہ کی وصیت بھی یہ تھی کہ ” ان کے بارے میں کچھ بھی تحریر نہ کیا جائے”۔

ابو مسلم صنعانی نے وصیت کی کہ “جو کوئی ان کے بارے میں کچھ تحریر کرے گا وہ قیامت کے دن اس کا جواب طلب کریں گے “۔جب بھی ایسی کوئی تحریر میری نظر سے گزرتی ہے میں خود سے سوال کرتا ہوں:” کیا ہمارے ان پیارے شہداء کو اس بات کا حق پہنچتا ہے کہ وہ لوگوں کو، اپنے بارے میں کلمۂ خیر کہنے سے باز رکھیں؟ یہ شہداء اُمّت کی تاریخ کا روشن باب ہیں، کسی کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ اُمّت کی تاریخ کے کسی باب کو اس وجہ سے حذف کرنے کی جسارت کرے کہ اس میں اُس کا تذکرہ یا اُس کی تصویر موجود ہے۔

دراصل ان شہداء نے اپنے خون سے شجرِ اسلام کی آبیاری کی ہے، اپنے لہو کی روشنائی سے اُمّت کی تاریخ رقم کی ہے۔ اس نقصان کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے جو آنے والی نسلوں کو ان روشن نمونوں کے تذکروں سے محروم کر کے لا حق ہو سکتا ہے۔

یہ تذکرہ ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ  کا ہو یا خلفائے راشدین المہدیین اور دیگر صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا یا پھر سعد  ؓ    مصعب ؓ   حمزہ ؓ   قعقاع ؓ   عاصم ؓ  مقدادؓ  نعمان ؓ   عِکرمہ  ؓ   خالدؓ  ابو عبیدہ ؓ جیسے جوانوں کا___ اپنی جوانیاں اللہ کے لئے لٹا دینے والوں کا یہ تذکرہ ہمیشہ سے اپنے اندر بہتے میٹھے آبشار کی سی حیات آفریں لذت رکھتا ہے۔

ان صالحین کا تذکرہ کوئی جائیداد نہیں ہے جس کی وراثت کا حق صرف ان کے لواحقین ہی کو ہو۔ یہ کوئی ایسا مال بھی نہیں ہے جسے محض کسی خیراتی ادارے کی ملکیت میں دے دیا جائے کہ وہ اس کے ساتھ جو چاہیں سلوک کریں۔  یہ تذکرہ تو ایک زندہ تاریخ ہے جو ان کی ملکیت سے نکل کر اُمت کی میراث قرار پا چکی ہے جس سے آنے والی نسلیں عظمت و سر بلندی کی منزلوں کے سراغ پائیں گی۔

ان میں سے ہر کوئی ریاکاری کے ڈر سے اپنے بارے میں کچھ تحریر نہ کرنے کی تاکید کر رہا ہے، تاکہ اس کی خلوصِ نیت اور مقصد کے ساتھ للہیت کسی بھی بیرونی آمیزش سے مبرا رہے۔ مگر کیا ان لوگوں کے اس اندیشے کے پیشِ نظر روشنی و نور کے اس کارواں کو اندھیاروں کے سپرد کرنا جائز قرار پائے گا؟ہرگز نہیں!

میرے لیے کس قدر دشوار ہے کہ ثانوی اسکول سے فارغ التحصیل اس نوجوان کے بارے میں کچھ تحریر کرنے سے باز رہوں جس کے ساتھ بیٹھ کر مجھے ہمیشہ یوں معلوم ہوتا گویا میں علم و عمل کے ایک پیکر سے محو گفتگو ہوں۔اب ابو مسلم صنعانی  ؒ بھی اسی نوعیت کی ایک وصیت کے ساتھ نمودار ہوتے ہوئے  گویا ہم سے کہتے ہیں کہ ہم ملتِ اسلامیہ کی تاریخ کا ایک تاب ناک اور روشن باب اکھاڑ پھینکیں۔ وہ اُجلا باب جس کے ایک ایک لفظ سے مقصد کے لیے جان دینے کا سبق ملتا ہے۔میں یہ کہتا ہوں کہ شہداء  کا تذکرہ کرنا تو درحقیقت اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی عین تعمیل ہے:

فَقَاتِلْ فِي سَبِيلِ اللَّہِ لَا تُكَلَّفُ إِلَّا نَفْسَكَ وَحَرِّضِ الْمُؤْمِنِينَ   (النساء : ۸۴ )

پس آپ اللہ کی راہ میں قتال کیجئے، آپ سوائے اپنی جان کے کسی کے ذمے دار نہیں اور مسلمانوں کو ﴿جہاد  کی﴾ ترغیب دے دیجئے۔

 

ہمارے شہداء شاید بھول گئے۔۔۔

 

کاش ہمارے یہ شہداء جانتے کہ ان کے تذکرے، خود ان کے لئے کس قدر خیر من اللہ کے ضامن بن  سکتے  ہیں اور کتنا اجر اللہ تعالیٰ نے انھیں ان کی قبروں میں ان کے قصوں کے بسبب پہنچانا ہے تو وہ ایسی وصیتوں سے باز رہتے۔

کتنے ہی مردہ دل ہیں جنھیں ان شہداء کے قصّوں نے نئی زندگی مرحمت کی ہے۔ کتنے ہی جوان ہیں جنھیں کسی شہید کی روشن سیرت کا تذکرہ راہِ جہاد پر لے آیا۔ اور کتنے ہی گنہ گار ہیں جنھیں ان سچی کہانیوں نے اپنے ربّ کی چوکھٹ پر لا کھڑا کیا۔  خوب کہا ہے کسی نے کہ شہیدوں کی باتیں نسلوں کو زندگی دیتی ہیں اور قیدیوں کی خاطر جاں نثاری کے شوق کو بھڑکاتی ہیں۔ ہمارے بھائی شاید بھول گئے کہ:

مَنْ سَنَّ فِي الْاِسْلَامِ سُنَّةً حَسَنَةً، فَلَہ، اَجْرُہَا، وَاَجْرُ مَنْ عَمِلَ بِہَا بَعْدَہ،  مِنْ غَیْرِ اَنْ یَنْقُصَ مِنْ اُجُوْرِہِمْ شَيْئٌ

جس نے اسلام میں دوسروں کے لیے ایک نمونہ قائم کیا اس کے لیے نہ صرف اپنے عمل میں سے اجر ہے بلکہ ہر اس شخص کے عمل میں بھی اس کے لیے اجر لکھا جاتا ہے جو اس کی پیروی کرے،  بغیر اس کے کہ پیروی کرنے والے کے اجر میں کوئی کمی کی جائے۔

﴿رواہ مسلم، کتاب الزکاۃ، باب الحث علی الصدقۃ ولو بشق تمرۃ أو کلمۃ طیبۃ، وأنھا حجاب من النار﴾

کتنے ہی نوجوان تھے جو عبدالوھاب حامدی شہید کی وصیت سے راہ جہاد کے مسافر بنے۔جب میں نے ابو مسلم صنعانی کی وصیت سنی تو میں نے اپنے دل میں فیصلہ کر لیا کہ ان کے بارے میں ضرور لکھوں گا اور جب قیامت کے دن ہم اکٹھے ہوں گے تو میں اللہ تعالیٰ کے حضور عرض کروں گا : پروردگار تیرا یہ بندہ ابو مسلم صنعانی چاہتا تھا کہ اس کے بارے میں کچھ تحریر نہ کر کے لوگوں کو نیکی و بھلائی کے سرچشمے سے محروم کر دیا جائے۔یہ چاہتا تھا کہ اہلِ ایمان کو جہاد کی تلقین کرنے اور معروف کا حکم دینے سے روک دیا جائے صرف اس لیے کہ ایسے ہر اقدام میں اس کا تذکرہ شامل ہے۔ )١)

(١) کتاب سے ماخوذ،جنہیں جنتوں کی تلاش تھی :صفحہ نمبر ۴۳ سے ۶۴-بشکریہ عرفان بلوچ اور ابو جمال حفظہما اللہ،غزوۂ ہند بلاگ

٭٭٭

 

 

 

                ردِ رافضیت

خلافتِ راشدہ  کے دلائل

 

خلفائے راشدینؓ مسلمانوں کے منتخب امام اور اللہ تعالیٰ کے موعود خلفاء تھے

 

مولانا محمد  یوسف  شہید  رحمہ اللہ علیہ  اس بات پر اپنی  مشہور کتاب  شیعہ سنی اختلافت اور صراط مستقیم میں فرماتے ہیں یہ چاروں حضرات خلفائے راشدینؓ ہیں، جو افضل البشرﷺ ‘‘خیر امت’’ کے منتخب امام اور اللہ تعالیٰ کے موعود خلیفہ تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی خلافت سے پہلے ان کے استخلاف فی الارض کی پیش گوئی فرمائی اور اس پیش گوئی میں ان کی اقامت دین اور حفظ ملت کے اوصاف کو بطور خاص ذکر فرمایا۔ پھر آنحضرتﷺ کے بعد جب ان پیش گوئیوں کے ظہور کا وقت آیا تو حضرات مہاجرین و انصار ؓ کو توفیق خاص عطا فرمائی کہ ان خلفاء اربعہ ؓ کو اپنا امام اور خلیفہ بنائیں تاکہ ان کے ذریعہ موعود پیش گوئیاں پوری ہوں اور اقامت دین و حفظ ملت کا عظیم الشان کارنامہ پردہ غیب سے منصہ شہود پر جلوہ گر ہو۔

قرآن کریم میں اس قسم کی آیات بہت ہیں مگر خلفاء اربعہؓ کے بابرکت عدد کی مناسبت سے یہاں قرآن کریم کی چار پیش گوئیوں کے ذکر کرنے پر اکتفا کرتا ہوں:

 

پہلی پیش گوئی

 

مظلوم مہاجرین کو تمکین فی الارض نصیب ہو گی اور وہ اقامت دین کا فریضہ انجام دیں گے۔

الَّذِينَ أُخْرِجُوا مِن دِيَارِہِم بِغَيْرِ حَقٍّ إِلَّا أَن يَقُولُوا رَبُّنَا اللَّہُ   وَلَوْلَا دَفْعُ اللَّہِ النَّاسَ بَعْضَہُم بِبَعْضٍ لَّہُدِّمَتْ صَوَامِعُ وَبِيَعٌ وَصَلَوَاتٌ وَمَسَاجِدُ يُذْكَرُ فِيہَا اسْمُ اللَّہِ كَثِيرًا   وَلَيَنصُرَنَّ اللَّہُ مَن يَنصُرُہُ   إِنَّ اللَّہَ لَقَوِيٌّ عَزِيزٌ (الحج 40)

الَّذِينَ إِن مَّكَّنَّاہُمْ فِي الْأَرْضِ أَقَامُوا الصَّلَاةَ وَآتَوُا الزَّكَاةَ وَأَمَرُوا بِالْمَعْرُوفِ وَنَہَوْا عَنِ الْمُنكَرِ   وَلِلَّہِ عَاقِبَةُ الْأُمُورِ   (الحج 41 )

یہ وہ لوگ ہیں کہ اپنے گھروں سے ناحق نکال دیئے گئے  (انہوں نے کچھ قصور نہیں کیا) ہاں یہ کہتے ہیں کہ ہمارا پروردگار خدا ہے۔ اور اگر خدا لوگوں کو ایک دوسرے سے نہ ہٹاتا رہتا تو  (راہبوں کے) صومعے اور  (عیسائیوں کے) گرجے اور  (یہودیوں کے) عبادت خانے اور  (مسلمانوں کی) مسجدیں جن میں خدا کا بہت سا ذکر کیا جاتا ہے ویران ہو چکی ہوتیں۔ اور جو شخص خدا کی مدد کرتا ہے خدا اس کی ضرور مدد کرتا ہے۔ بےشک خدا توانا اور غالب ہے

یہ وہ لوگ ہیں کہ اگر ہم ان کو ملک میں دسترس دیں تو نماز پڑھیں اور زکوٰۃ ادا کریں اور نیک کام کرنے کا حکم دیں اور برے کاموں سے منع کریں اور سب کاموں کا انجام خدا ہی کے اختیار میں ہے۔یہ آیت کریمہ دو پیش گوئیوں پر مشتمل ہے ایک یہ کہ مہاجرین کو اقتدار نصیب ہو گا اور دوسرہ یہ کہ ان کا  اقتدار اقامت دین  امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا ذریعہ ہو گا۔

اس آیت کے مطابق مہاجرین اولین میں سے چار حضرات کو اقتدار عطا کیا گیا اور دنیا نے دیکھا کہ کس طرح ان حضرات نے اقامت دین کا کام کیا بلکہ جناب صدیق نے زکوٰۃ کے انکاریوں سے جہاد کا اعلان کیا۔

 

دوسری آیت

 

وَعَدَ اللَّہُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنكُمْ وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّہُمْ فِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِن قَبْلِہِمْ وَلَيُمَكِّنَنَّ لَہُمْ دِينَہُمُ الَّذِي ارْتَضَىٰ لَہُمْ وَلَيُبَدِّلَنَّہُم مِّن بَعْدِ خَوْفِہِمْ أَمْنًا   يَعْبُدُونَنِي لَا يُشْرِكُونَ بِي شَيْئًا   وَمَن كَفَرَ بَعْدَ ذَٰلِكَ فَأُولَٰئِكَ ہُمُ الْفَاسِقُونَ  ( 55 )

جو لوگ تم میں سے ایمان لائے اور نیک کام کرتے رہے ان سے خدا کا وعدہ ہے کہ ان کو ملک کا حاکم بنا دے گا جیسا ان سے پہلے لوگوں کو حاکم بنایا تھا اور ان کے دین کو جسے اس نے ان کے لئے پسند کیا ہے مستحکم و پائیدار کرے گا اور خوف کے بعد ان کو امن بخشے گا۔ وہ میری عبادت کریں گے اور میرے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ بنائیں گے۔ اور جو اس کے بعد کفر کرے تو ایسے لوگ بدکردار ہیں

لفظ منکم سے یہ بات ظاہر ہو رہی ہے کہ جو حضرات نزول آیت کے موقع پر موجود تھے یہ پیش گوئی ان کے لئے نہ کہ صدیوں بعد میں آنے والوں کے لئے۔  اس آیت کا بالخصوص خطاب صحابہ ہی تھے۔  اور ان سے چار وعدے کئے گئے ہیں۔

پہلا وعدہ : اس جماعت کے کچھ لوگوں کو خلیفہ بنا دیا جائے گا اور ان کی خلافت منشا الہی ہو گی۔

دوسرا وعدہ: اللہ تعالی اپنے پسندیدہ دین کو ان خلفاء کے ذریعہ سے دنیا میں ہمیشہ کے لئے قائم کر دیں گے۔  یعنی وہ خلفاء دین السلام کی اشاعت کے لئے اللہ کے الا کار ہوں گے

تیسرا وعدہ: ان کے خوف کو امن سے بھر دیا جائے گا آج جو ان کو خطرہ  لاحق ہے وہ پھر ختم ہو جائے

اس کے  بر عکس شیعہ عقیدہ امامت کے مطابق شیعوں کے اماموں  کو خوف ساری زندگی ساتھ رہا اس لئے تکیہ کرتے رہے  (١)

چوتھا وعدہ :وہ اللہ کے فرمانبردار ہوں گے اور شرک و بدعت کو اکھاڑ پھینکیں  گے۔

ومن کفر بعد ذالک فاولئک ھم الفاسقون۔

یعنی ان حضرات کا استخلاف حق تعالیٰ شانہ کا عظیم الشان انعام ہے۔ جو لوگ اس جلیل القدر نعمت کی ناقدری و ناشکری کرین گے وہ قطعاً فاسق اور اللہ تعالیٰ کے نافرمان ٹھہریں گے۔

نزول آیت کے وقت تو کسی کو معلوم نہیں تھا کہ قرعہ فال کس کس کے نام نکلتا ہے؟ خلافت الٰہیہ موعودہ کا تاج کن کن خوش بختوں کے سر پر سجایا جاتا ہے؟ کون کون خلیفہ ربانی ہوں گے؟ اور ان کی خلافت کی کیا ترتیب ہو گی؟ لیکن آنحضرتﷺ کے بعد جب یہ وعدہ الٰہی منصہ شہود پر جلوہ گر ہوا تب معلوم ہوا کہ حق تعالیٰ شانہ کے یہ عظیم الشان وعدے انہی چار اکابر سے متعلق تھے جن کو خلفائے راشدینؓ کہا جاتا ہے۔

گزشتہ بالا دونوں آیات سے معلوم ہو چکا ہے کہ خلفاء اربعہؓ حق تعالیٰ شانہ کے ‘‘موعود امام’’ تھے،  حکمت خداوندی نے ان حضرات کو خلافت نبوت کے لئے پہلے سے نامزد کر رکھا تھا، اور تنزیل محکم میں ان کی خلافت کا اعلان فرما رکھا تھا۔ یہ بھی معلوم ہوا کہ ان خلفاء ربانی اور ائمہ ہدیٰ کے ذریعہ دین و ملت کی حفاظت ہوئی اور وہ تمام امور جو امامت حقہ اور خلافت نبویہ سے وابستہ ہیں ان اکابر کے ہاتھوں ظہور پذیر ہوئے۔

(١)اور ایک امام  مارے خوف  کے اب بھی “غائب ” ہیں،  غالب امکان ہے کہ یہ خوف سنیوں کا ہو گا۔  (مدیر)

 

تیسری پیش گوئی

 

أَيُّہَا الَّذِينَ آمَنُوا مَن يَرْتَدَّ مِنكُمْ عَن دِينِہِ فَسَوْفَ يَأْتِي اللَّہُ بِقَوْمٍ يُحِبُّہُمْ وَيُحِبُّونَہُ أَذِلَّةٍ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ أَعِزَّةٍ عَلَى الْكَافِرِينَ يُجَاہِدُونَ فِي سَبِيلِ اللَّہِ وَلَا يَخَافُونَ لَوْمَةَ لَائِمٍ   ذَٰلِكَ فَضْلُ اللَّہِ يُؤْتِيہِ مَن يَشَاءُ   وَاللَّہُ وَاسِعٌ عَلِيمٌ  (المائدہ 54)

اے ایمان والو اگر کوئی تم میں سے اپنے دین سے پھر جائے گا تو خدا ایسے لوگ پیدا کر دے گا جن کو وہ دوست رکھے اور جسے وہ دوست رکھیں اور جو مومنوں کے حق میں نرمی کریں اور کافروں سے سختی سے پیش آئیں خدا کی راہ میں جہاد کریں اور کسی ملامت کرنے والی کی ملامت سے نہ ڈریں یہ خدا کا فضل ہے وہ جسے چاہتا ہے دیتا ہے اور اللہ بڑی کشائش والا اور جاننے والا ہے

اس آیت میں جناب صدیق اکبر کی خلافت کی پیش گوئی ہے۔  وصال نبوی کے بعد جب لوگ ہر طرف سے مرتد ہونے لگے ماسواء مکہ، مدینہ،  اور طائف کے باقی سارہ عرب اس کی لپیٹ مین آگیا۔  تو جناب صدیق نے بہت ہی زبردست طریقہ سے اس ی سرکوبی کی او آپ اور آپ کے ساتھی  اس آیت کا مصداق بنے۔ اللہ تعالی نے آپ کے اور آپکے ساتھیوں کے جو اوصاف بتائے وہ یہ ہیں۔

1۔اللہ تعالیٰ ان سے محبت رکھتے ہیں

2۔یہ اللہ تعالیٰ سے سچی محبت رکھتے ہیں

3۔مسلمانوں پر شفیق و مہربان ہیں

4۔کافروں پر سخت ہیں اور ان پر غالب ہیں

5۔یہ مجاہد ہیں محض رضائے الٰہی  کے لئے جہاد کرتے ہیں

6۔یہ کسی کی ملامت کی پرواہ نہیں کرتے  ( یاد رہے جناب صدیق نے جب زکوٰۃ کے انکاریوں سے اعلان جہا د کیا تو کچھ لوگوں نے کہا کہ یہ صحیح نہیں تو آپ نے کسی کے پرواہ  نہ کرتے ہوئے فرمایا کہ جو لوگ نماز و زکوٰۃ میں فرق کرتے ہیں میں ان سے جہاد کرون گا)

حضرت صدیق اکبرؓ نے مسلمانوں کی از سر نو شیرازہ بندی کی اور پورے عرب کو نئے سرے سے متحد کر کے ایمان و اخلاص اور جہاد فی سبیل اللہ کے راستہ پر ڈال دیا۔ اور ان کے ہاتھ میں علم جہاد دے کر ان کو قیصر و کسریٰ سے بھڑایا۔ لہٰذا اس قرآنی پیش گوئی کا اولین مصداق حضرت صدیق اکبر ؓ اور ان کے رفقاء ہیں۔ رضی اللہ عنہم و ارضاھم یہاں ایک اہم نکتہ کی طرف توجہ دلانا ضروری ہے

وہ یہ کہ غزوہ خیبر میں آنحضرتﷺ نے فرمایا:

ترجمہ: ‘‘میں کل یہ جھنڈا ایک ایسے شخص کے ہاتھ میں دوں گا جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولﷺ سے محبت رکھتا ہے۔ اور اللہ و رسول اس سے محبت رکھتے ہیں۔ ’’

اس ارشاد کے وقت آنحضرتﷺ نے اس شخصیت کا نام نامی مبہم رکھا تھا۔ اس لئے ہر شخص کو تمنا تھی کہ یہ سعادت اس کے حصہ میں آئے۔ اگلے دن جب جھنڈا حضرت علیؓ کے ہاتھ میں دیا گیا تو اس پیش گوئی کے مصداق میں کوئی التباس نہیں رہا اور سب کو معلوم ہو گیا کہ اس بشارت کا مصداق حضرت علی کرم اللہ وجہہ تھے۔

ٹھیک اسی نہج پر سمجھنا چاہئے کہ اس آیت شریفہ میں جس قوم کو مرتدین کے مقابلہ میں لائے جانے کی پیش گوئی فرمائی گئے ہے نزول آیت کے وقت ان کے اسمائے گرامی کی تعین نہیں فرمائی گئی تھی۔ اس لئے خیال ہوسکتا تھا کہ خدا جانے کون حضرات اس کا مصداق ہیں؟ لیکن جب وصال نبویﷺ کے بعد فتنہ ارتداد نے سراٹھایا اور اس کی سرکوبی کے لئے حضرت صدیق اکبرؓ اور ان کے رفقاء ؓ کو کھڑا کیا گیا، تب حقیقت آشکارا ہو گئی اور التباس و اشتباہ باقی نہ رہا کہ اس پیش گوئی کا مصداق یہی حضرات تھے اور انہی کے درج ذیل سات اوصاف بیان فرمائے گئے ہیں:

چوتھی آیت

لِّلْمُخَلَّفِينَ مِنَ الْأَعْرَابِ سَتُدْعَوْنَ إِلَىٰ قَوْمٍ أُولِي بَأْسٍ شَدِيدٍ تُقَاتِلُونَہُمْ أَوْ يُسْلِمُونَ   فَإِن تُطِيعُوا يُؤْتِكُمُ اللَّہُ أَجْرًاحَسَنًا   وَإِن تَتَوَلَّوْا كَمَا تَوَلَّيْتُم مِّن قَبْلُ يُعَذِّبْكُمْ عَذَابًا أَلِيمًا  (الفتح  16 )

جو گنوار پیچھے رہ گئے تھے ان سے کہہ دو کہ تم ایک سخت جنگجو قوم کے  (ساتھ لڑائی کے) لئے بلائے جاؤ گے ان سے یا تو تم جنگ کرتے رہو گے یا پھر وہ اسلام لے کر آئیں اگر تم حکم مانو گے تو خدا تمہیں اچھا بدلا دے گا اور اگر اگر منہ پھیر لو گے جیسا کہ پہلے پھیر لیا تھا تو اللہ تم کو بری تکلیف کی سزا  دےگا۔

یہ آیت دعوت اعراب کہلاتی  ہے  یہ ان لوگوں کے بارے میں ہے جنہوں نے حضور علیہ السلام سے حدیبیہ کے موقع پر پہلو تہی کی تھی انہیں بتایا جا رہا کہ آئندہ تمہیں جنگجو قوموں کے مقابلے مین نکلنے کی دعوت دی جائے گی اور تم کو یہاں تک جنگ کرنا ہو گی کہ وہ اسلام لے آئیں یا جزیہ دے کر اسلام کے زیر اثر آ جائیں۔  عربوں کو یہ دعوت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں نہیں دی گئی کیوں کہ آپ کے زمانے میں  دوسری قوموں سے جنگ کی نوبت نہیں آئی تھی۔ بلکہ جناب صدیق کے زمانے میں جہاد شام و عراق کے لئے انہیں نکلنے کے کی دعوت دی گئی اور خلفاء ثلاثہ کے زمانہ مبارک مین ہی یہ مقامات اسلام کے زیر اثر آئے اس سے ان کی خلافت، اللہ تعالی کی موعودہ خلافت ہی بنتی ہے۔

چناچہ قرآن کریم کی یہ پیش گوئیاں خلفاء ثلاثہ  ہی پوری کرتے ہیں نہ ہی ان کے علاوہ کوئی مہاجر  خلیفہ بنا اور نہ ہی ان کے علاوہ کسی نے مرتدین سے قتال کیا۔  اور نہ ہی ان کے علاوہ کسی نے اعراب کو دعوت جہاد دی۔

اس سے خلفاء راشدہ موعودہ ثابت ہوتی ہے اور نہ صرف یہ بلکہ اس کو نہ ماننے والا بحکم قرآن بدکردار بنتا ہے۔  (١)

(١)بشکریہ سرونٹ آف صحابہ

٭٭٭

 

 

 

                ردِ قادیانیت

قادیانیت،  مرزا غلام احمد قادیانی کی تحریروں کے آئینے میں

 

                فاروق درویش

 

 

بسم اللہ الرحمن الرحیم

اللہ سبحان تعالیٰ اور اللہ کے دین کے دشمن،  خدا کے آخری رسول حضرت محمد مصطفٰے صلی اللہ علیہ وسلم کے دشمن،  عامۃ المسلمین کے دشمن،  مرزائیوں کے عقائد اور مکروہ سازشوں سے پردہ اٹھانے کیلئے سب مسلمانوں کی خدمت میں ایک مفصل اور جامع تحریر پیش کر رہا ہوں تاکہ ہر اس مسلمان کو ان کے دجالی عقائد و مذہب کے بارے آگاہی ہو جو اس مذہب کے عقائد اور ان کی اسلام دشمن سوچ سے ابھی تک نا واقف ہیں ان قادیانی کفار کو ان کے پیشوا مرزا قادیانی کی لکھی ہوئی تحریروں کے آئینے میں دیکھئے، سوچئے اور فیصلہ کیجئے کیا یہ ہمارے دوست ہیں یا بد ترین دشمن ؟ کیا یہ دل آزار،  توہین آمیز اور اشتعال انگیز تحریریں مسلمانوں کیلئے قابل برداشت ہیں اور کیا امت مسلمہ ایسے لوگوں کو گوارا کر سکتی ہے ؟ قادیانیت کے ان توہین آمیز عقائد کو پڑھ کر آپ دوستوں کو بڑی حد تک اس بات کا بھی اندازہ ہو جائے گا کہ پاکستان سے فرار ہو کر مغربی ممالک میں اپنے گورے مالکوں کی گود میں بیٹھے شاتمِ  اسلام اور گستاخِ  قرآن مرزائی اور جعلی آئی ڈیوں میں چھپے دینی اور ملی ہستیوں کی توہین کرنے والے حضرات نیٹ پر کھلے عام اللہ سبحان تعالی کی شان،  قرآن حکیم کی عظمت،  انبیا اکرام، صحابہ اجمعین اور اہلِ  بیت کی توہین میں توہین کیوں لکھتے ہیں۔

 

قسطوں میں فراڈ اور عیارانہ دعوے

 

مرزا نے اپنی تصانیف میں اتنا جھوٹ لکھا ہے جو ایک صحیح الدماغ شخص لکھ ہی نہیں سکتا۔ اس نے قسطوں میں بہت سےدعوے کئے اور یہ بات مد نظر رہے کہ ہر جھوٹے دعوے سے مکر جانے کے بعد اگلے منصب کا دعویٰ اس کے پہلے دعوے کو باطل اور فراڈ ثابت کرتا رہا۔

دعوی نمبر ۱مجدد ہونے کا دعویٰ کیا۔۔۔۔ تصنیف الاحمدیہ ج ۳ ص ۳۳۔ ۔۔۔۔۔

دعوی نمبر ۲ دوسرا دعویٰ محدثیت کا کیا۔۔۔۔۔۔

دعوی نمبر ۳ تیسرا دعویٰ مھدیت کا کیا۔ ۔۔ تذکرہ الشہادتین ص ۲۔۔۔۔۔۔

دعوی نمبر ۴ چوتھا دعویٰ مثلیت مسیح کا کیا۔ ۔۔۔ تبلیغِ رسالت ج ۲ ص ۲۱۔۔۔۔۔

دعوی نمبر ٥ پانچواں دعویٰ مسیح ہونے کا کیا۔ ۔۔ جس میں کہا کہ خود مریم بنا رہا اور مریمیت کی صفات کے ساتھ نشو و نما پاتا رہا اور جب دو برس گزر گئے تو دعوی نمبر عیسیٰ کی روح میرے پیٹ میں پھونکی گئی اور استعاراً میں حاملہ ہو گیا اور پھر دس ماہ لیکن اس سے کم مجھے الہام سے عیسیٰ بنا دیا گیا

کشتیِ نوح۔ ۔۔ ص ۶۸۔  ۶۹۔۔۔۔۔۔

دعوی نمبر ۶ چھٹا دعویٰ ظلی نبی ہونے کا کیا۔ ۔۔ کلمہ فصل۔ ۔۔ ص ۱۰۴۔۔۔۔۔۔

دعوی نمبر ۷ ساتواں دعویٰ بروزی بنی ہونے کا کیا۔ ۔۔ اخبار الفصل۔۔۔۔۔۔

دعوی نمبر ۸ آٹھواں دعویٰ حقیقی نبی ہونے کا کیا۔۔۔۔۔۔

دعوی نمبر ۹ نواں دعویٰ کیا کہ میں نیا نبی نہیں خود محمد ہوں اور پہلے والے محمد سے افضل ہوں انہیں ۳۰۰۰ معجزات دیے گئے جب کہ مجھے ۳ لاکھ معجزات ملے روحانی خزائن۔ ۔۔ ج ۱۷ ص ۱۵۳۔۔۔۔۔۔

 

دعویٰ خدائی

 

 

نمبر ١ میں نے اپنے تئیں خدا کے طور پر دیکھا ہے اور میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ میں وہی ہوں اور میں نے آسمان کو تخلیق کیا ہے۔ (آئینہ کمالات صفحہ ٥٦٤، مرزا غلام احمد قادیانی )

نمبر٢ خدا نمائی کا آئینہ میں ہوں۔  (نزول المسیح ص ٨٤)

نمبر ٣ ہم تجھے ایک لڑکے کی بشارت دیتے ہیں جو حق اور بلندی کا مظہر ہو گا،  گویا خدا آسمان سے اترے گا۔   (تذکرہ ط ٢ص ٦٤٦ (انجام آتھم ص ٦٢)

نمبر ٤ مجھ سے میرے رب نے بیعت کی۔   ( دافع البلاء ص ٦)

 

نبوت کے جھوٹے دعوے

 

نمبر ١ :پس مسیح موعود  (مرزا غلام احمد ) خود محمد رسول اللہ ہے جو اشاعت اسلام کے لیے دوبارہ دنیا میں تشریف لائے۔  اس لیے ہم کو کسی نئے کلمہ کی ضرورت نہیں ہاں! اگر محمد رسول اللہ کی جگہ کوئی اور آتا تو ضرورت پیش آتی۔   (کلمہ الفصل صفحہ ١٥٨مصنفہ مرزا بشیر احمد ایڈیشن اول )

نمبر ٢: آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے تین ہزار معجزات ہیں۔   (تحفہ گولڑویہ صفحہ ٦٧مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی ) میرے معجزات کی تعداد دس لاکھ ہے۔  (براہین احمدیہ صفحہ ٥٧ مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی)

نمبر ٣ :انہوں نے  (یعنی مسلمانوں نے) یہ سمجھ لیا ہے کہ خدا کے خزانے ختم ہو گئے۔ ۔۔۔۔۔ان کا یہ سمجھنا خدا تعالیٰ کی۔ ۔۔۔۔۔ قدر کو ہی نہ سمجھنے کی وجہ سے ہے ورنہ ایک نبی تو کیا میں تو کہتا ہوں ہزاروں نبی ہوں گے۔   (انوار خلافت، مصنفہ بشیر الدین محمود احمد صفحہ ٦٢)

نمبر ٤ :ہمارا دعویٰ ہے کہ ہم رسول اور نبی ہیں۔   (بدر ٥مارچ 190)

نمبر ٥ :میں اس خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اسی نے مجھے بھیجا اور میرا نام نبی رکھا۔   (تتمہ حقیقۃ الوحی ٦٨)

نمبر ٦: اگر میری گردن کے دونوں طرف تلوار بھی رکھ دی جائے اور مجھے یہ کہا جائے کہ تم یہ کہو کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا تو میں اسے ضرور کہوں گا کہ تو جھوٹا ہے کذاب ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نبی آ سکتے ہیں اور ضرور آ سکتے ہیں۔   ( انوار خلافت صفحہ ٦٥)

نمبر ٧ :یہ بات بالکل روز روشن کی طرح ثابت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نبوت کا دروازہ کھلا ہے۔   (حقیقت النبوت مصنفہ مرزا بشیر الدین محمود احمد خلیفہ قادیان ص ٢٢٨)

نمبر ٨ :مبارک وہ جس نے مجھے پہچانا،  میں خدا کی سب راہوں میں سے آخری راہ ہوں،  اور میں اس کے سب نوروں میں سے آخری نور ہوں۔  بد قسمت ہے وہ جو مجھے چھوڑتا ہے کیونکہ میرے بغیر سب تاریکی ہے۔  (کشتی نوح صفحہ ٥٦، طبع اول قادیان ١٩٠٢)

 

دعویِٰ  نبوت سے انکار اور پھر مکر کر دعویِٰ  نبوت

 

مرزا فروری ۱۸۹۴ کو اپنی کتاب روحانی خراین جلد۹ میں خود لکھتا ہے کہ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔

’ میں نے نہ نبوت کا دعوی کیا اور نہ ہی اپنے آپ کو نبی کہا ؛ یہ کیسے ہو سکتا تھا کہ میں دعوی نبوت کر کے اسلام سے خارج ہو جاؤں اور کافر بن جاؤں‘

اور پھر ہے نبوت کا جھوٹا دعوی کر کے اپنے ہی لکھے اور کہے کے مطابق خود کو کافر ثابت کرتا ہے ۔۔۔۔۔ کہتا ہے۔ ۔۔۔۔۔

سچا خدا وہ ہے جس نے قادیان میں اپنا رسول بھیجا  (دافع البلاء صفحہ ۱۱؛ خزایین جلد ۱۸ صفحہ ۲۳۱)

اور پھر ایک اور جگہ لکھتا ہے کہ۔ ۔۔۔۔۔۔۔

’مجھے ہر گز ہر گز دعویٰ نبوت نہیں، میں امت سے خارج نہیں ہونا چاہتا۔میں لیلہ القدر،  ملائکہ کا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزوں کا انکاری نہیں۔حضور سلی اللہ علیہ وسلم کے خاتم النبین ہونے کا قائل ہوں اور حضور کو خاتم الانبیاء مانتا ہوں اور حضور کی امت میں بعد میں کوئی نبی نہیں آئے گا۔ نہ نیا آئے گا نہ پرانا آئے گا‘

(آسمانی نشانی ص ۲۸)

حتی کہ ۱۷ مئی ۱۹۰۸ تک مرزا خود نبوت کا انکاری ہے اور اپنی کتاب ملفوظات جلد ۱۰ صفحہ ۲۰ میں کھلا دھوکہ دیتے ہوئے یا مکاری سے دعوی نبوت سے انکار کرتے ہوئے لکھتا ہے کہ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔

” مجھ پر الزام لگایا جاتا ہے کہ میں نبوت کا دعوی کرتا ہوں۔  سو اس تہمت کے جواب میں بجز اس کے کہ لعنت اللہ علی الکاذبین کہوں اور کیا کہوں؟ ”

اور پھر خود ہی قلابازی کھاتا ہے اور کہتا ہے کہ۔۔۔۔۔

’ اللہ نے مجھ پر وحی بھیجی اور میرا نام رسل رکھا یعنی پہلے ایک رسول ہوتا تھا اور پھر مجھ میں سارے رسول جمع کر دیے گئے ہیں۔میں آدم بھی ہوں۔ شیش بھی ہوں۔ یعقوب بھی ہوں اور ابراہیم بھی ہوں۔اسمائیل بھی میں اور محمد احمد بھی میں ہوں‘  (حقیقت الوحی۔ ۔۔ ص ۷۲)

 

تمام انبیاء کے مجموعہ ہونے کا دجالی دعویٰ

 

دنیا میں کوئی نبی ایسا نہیں گزرا جس کا نام مجھے نہیں دیا گیا۔  میں آدم ہوں۔  میں نوح ہوں،  میں ابراہیم،  میں اسحاق ہوں،  میں یعقوب ہوں،  میں اسماعیل ہوں۔  میں داود ہوں،  میں موسیٰ ہوں،  میں عیسیٰ ابن مریم ہوں،  میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہوں۔   ( تتمہ حقیقت الوحی،  مرزا غلام احمد ص ٨٤)

 

نبوت مرزا غلام احمد قادیانی پر ختم  ( نعوذ باللہ)۔

 

اس امت میں نبی کا نام پانے کیلئے میں ہی مخصوص کیا گیا ہوں اور دوسرے تمام لوگ اس نام کے مستحق نہیں ہیں۔   (حقیقت الوحی،  مرزا غلام احمد صفحہ ٣٩١)

 

سیدنا و مولانا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین

 

نمبر ١ :آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم عیسائیوں کے ہاتھ کا پنیر کھا لیتے تھے حالانکہ مشہو ر تھا کہ سور کی چربی اس میں پڑتی ہے۔  (مکتوب مرزا غلام احمد قادیانی مندرجہ اخبار الفضل ٢٢فروری ١٩٢٤)

نمبر ٢ :مرزا قادیانی کا ذہنی ارتقاء آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ تھا۔  ( بحوالہ قادیانی مذہب صفحہ ٢٦٦، اشاعت نہم مطبوعہ لاہور)

نمبر ٣ :اسلام محمد عربی کے زمانہ میں پہلی رات کے چاند کی طرح تھا اور مرزا قادیانی کے زمانہ میں چودہویں رات کے چاند کی طرح ہو گیا۔   (خطبہ الہامیہ صفحہ ١٨٤)

نمبر ٤ :مرزا قادیانی کی فتح مبین آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی فتح مبین سے بڑھ کر ہے۔   (خطبہ الہامیہ صفحہ ١٩٣)

نمبر ٥ :اس کے یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم لیے چاند گرہن کا نشان ظاہر ہوا اور میرے لیے چاند اور سورج دونوں کا اب کیا تو انکار کرے گا۔   ( اعجاز احمدی مصنفہ غلام احمد قادیانی ص ٧١)

نمبر ٦ : محمد پھر اتر آئے ہیں ہم میں

اور آگے سے ہیں بڑھ کر اپنی شاں میں

محمد دیکھنے ہوں جس نے اکمل

غلام احمد کو دیکھے قادیاں میں

(قاضی محمد ظہور الدین اکمل اخبار بدر نمبر ٤٣، جدل ٢قادیان ٢٥اکتوبر ١٩٠٦)

نمبر ٧: دنیا میں کئی تخت اترے پر تیرا تخت سب سے اوپر بچھایا گیا۔   (حقیقت الوحی ص ٨٩ از مرزا غلام احمد قادیانی)

نمبر ٨ :اس صورت میں کیا اس بات میں کوئی شک رہ جاتا ہے کہ قادیان میں اللہ تعالیٰ نے پھر محمد صلعم کو اتارا تا کہ اپنے وعدہ کو پورا کرے۔  (کلمہ الفصل ص ١٠٥، از مرزا بشیر احمد)

نمبر ٩ :سچا خدا وہی خدا ہے جس نے قادیان میں اپنا رسول بھیجا۔   ( دافع البلاء کلاں تختی ص ١١، تختی خورد ص ٢٣، انجام آتھم ص ٦٢)

نمبر ١٠ :مرزائیوں نے ١٧جولائی ١٩٢٢ کے  ( الفضل) میں دعویٰ کیا کہ یہ بالکل صحیح بات ہے کہ ہر شخص ترقی کر سکتا ہے اور بڑے سے بڑا درجہ پا سکتا ہے حتیٰ کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی بڑھ سکتا ہے۔

نمبر١١ مرزا غلام احمد لکھتا ہے : خدا نے آج سے بیس برس پہلے براہین احمدیہ میں میرا نام محمد اور احمد رکھا ہے اور مجھے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ہی وجود قرار دیا ہے۔  ( ایک غلطی کا ازالہ صفحہ نمبر ١٠)

نمبر ١٢ :منم مسیح زماں و منم کلیم خدا منم محمد و احمد کہ مجتبیٰ باشد۔ ۔ ۔  ترجمہ ! میں مسیح ہوں موسی کلیم اللہ ہوں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور احمد مجتبیٰ ہوں۔   (تریاق القلوب ص ٥ )

 

مسلمانوں کی توہین

 

نمبر١ :کل مسلمانوں نے مجھے قبول کر لیا اور میری دعوت کی تصدیق کر لی مگر کنجریوں اور بدکاروں کی اولاد نے مجھے نہیں مانا۔  (آئینہ کمالات ص ٥٤٧)

نمبر٢ :جو دشمن میرا مخالف ہے وہ عیسائی،  یہودی،  مشرک اور جہنمی ہے۔  (نزول المسیح ص ٤، تذکرہ ٢٢٧)

نمبر ٣ :میرے مخالف جنگلوں کے سؤر ہو گئے اور ان کی عورتیں کتیوں سے بڑھ گئیں۔   (نجم الہدیٰ ص ٥٣مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی)

نمبر ٤ :جو ہماری فتح کا قائل نہ ہو گا تو صاف سمجھا جائے گا کہ اس کو ولد الحرام بننے کا شوق ہے اور حلال زادہ نہیں۔ ( انوارالاسلام ص ٣٠مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی) (١)

 

۔ ۔۔جاری ہے۔۔۔

(١)تاریخِ اشاعت ١ دسمبر ٢٠١١، اردو محفل فورم

٭٭٭

 

 

 

 

 

جھوٹ حاضر ہے

 

“1893ء کے ماہ مئی میں آپ پھر قادیان سے نکلے اور امرتسر میں ڈپٹی عبداللہ آتھم عیسائی کے ساتھ تحریری مباحثہ فرمایا جس کی روئداد جنگ مقدس میں شائع ہو چکی ہے۔ یہ مباحثہ 22/مئی 1893ء کو شروع ہو کر 5/جون 1893ء کو ختم ہوا اور حضرت صاحب نے اپنے آخری پرچہ میں آتھم کے لئے خدا سے خبر پاکر وہ پیشگوئی فرمائی جس کے نتیجہ میں آتھم بالآخر اپنے کیفر کردار کو پہنچا۔ ”

(سیرت مہدی،جلد اول،حصہ دوم، تحریر نمبر420،صفحہ نمبر380)

دوستو اصولی طور پر قادیانیوں کا یہ انگریزی نبی مرزا قادیانی ملعون اپنی کسی ایک پیش گوئی میں سچا ثابت نہیں ہوا اور اپنی تمام پیش گوئیوں میں جھوٹا نکلا۔

مرزا قادیانی ملعون کی زبانی پیش گوئیوں کی نسبت معیار صداقت ملاحظہ ہو:

“اگر ثابت ہو جائے کہ میری سو پیش گوئیوں میں سے ایک بھی جھوٹی نکلی تو میں اقرار کروں گا کہ میں کاذب ہوں۔ ”

(حاشیہ اربعین نمبر4 ص30)

 

    اصل حقائق

 

تو دوستو ہم اس سفید جھوٹ اور دجل سے پردہ اٹھانے لگے ہیں اصل حقائق اس طرح سے ہیں:

عبداللہ آتھم نامی پادری کے ساتھ مرزا قادیانی ملعون کا پندرہ دن تک مباحثہ ہوتا رہا۔ مرزا قادیانی ملعون اپنے حریف کو میدان میں شکست دینے میں بری طرح ناکام رہا، تو 5 جون 1893ء کو الہامی پیش گوئی کر ڈالی کہ پندرہ مہینے تک اس کا حریف ھاویہ میں گرایا جائے گا۔ بشرطیکہ حق کی طرف رجوع نہ کرے، اس سلسلہ میں مرزا قادیانی ملعون لکھتا ہے:

“میں اس وقت اقرار کرتا ہوں اگر یہ پیش گوئی جھوٹی نکلے، یعنی جو فریق خدا تعالیٰ کے نزدیک جھوٹ پر ہے وہ پندرہ  (15)ماہ کے عرصے میں آج کی تاریخ سے بسزائے موت ھاویہ میں نہ پڑے تو میں ہر ایک سزا کو اُٹھانے کے لئے تیار ہوں۔ مجھ کو ذلیل کیا جائے، روسیاہ کیا جائے، میرے گلے میں رسا ڈال دیا جاوے، مجھ کو پھانسی دیا جاوے ہر ایک بات کے لئے تیار ہوں اور میں اللہ جل شانہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ وہ ضرور ایسا ہی کرے گا، ضرور کرے گا، ضرور کرے گا، زمین و آسمان مل جائیں پر اس کی باتیں نہ ٹلیں گی۔

اگر میں جھوٹا ہوں تو میرے لئے سولی تیار رکھو اور تمام شیطانوں اور بدکاروں اور لعنتیوں سے زیادہ مجھے لعنتی سمجھو۔”  (جنگ مقدس ص 189)

 

    نتیجہ

 

 

پیش گوئی کو آخری معیاد 5 ستمبر 1894ء تھی مگر عبداللہ آتھم نے اس تاریخ تک نہ تو عیسائیت سے توبہ کی اور نہ اسلام کی طرف رجوع کیا، نہ بسزائے موت ھاویہ میں گرا، مرزا قادیانی لعین نے اس کو مارنے کے لئے ٹونے ٹوٹکے بھی کئے  (دیکھو سیرت مہدی، جلد اول، حصہ اول، تحریری نمبر175، صفحہ نمبر168)

اور معیاد کے آخری دن خدا سے آہ و زاری کے ساتھ یا اللہ! آتھم مر جائے یا اللہ! آتھم مر جائے کی دعائیں بھی کیں کرائیں  (الفضل 20 جولائی 1940ء)مگر سب کچھ بے سود نہ عبداللہ آتھم پر ٹونے ٹوٹکوں کا اثر ہوا، نہ خدا نے قادیان کی آہ و زاری، نوحہ و ماتم اور بد دعاؤں کو عبداللہ آتھم کے حق میں قبول فرمایا، اس کا نتیجہ وہی ہوا جو مرزا قادیانی ملعون نے اپنے لئے تجویز کیا تھا یعنی:

“میں اقرار کرتا ہوں کہ اگر یہ پیش گوئی جھوٹی نکلی تو مجھ کو ذلیل کیا جائے، روسیاہ کیا جائے۔۔۔۔۔۔۔۔اور تمام شیطانوں اور بدکاروں اور لعنتیوں سے زیادہ مجھے لعنتی سمجھو۔”

چنانچہ مرزا قادیانی لعین کے اس ارشاد کی تعمیل فریق مخالف نے کس طرح کی؟؟؟؟؟؟

اس کا اندازہ ان گندے اشتہاروں سے کیا جا سکتا ہے جو اس میعاد کے گزرنے پر ان کی طرف سے شائع کئے گئے۔ بطور نمونہ صرف ایک شعر ملاحظہ ہو کہ قادیانی ٹولے کے اس انگریز کا خود کاشتہ پودا مرزا قادیانی ملعون کو مخاطب کر کے یہ شعر لکھا گیا:

ڈھیٹ اور بے شرم بھی ہوتے ہیں دنیا مگر (١)

سب سے سبقت لے گئی ہے بے حیائی آپ کی

یہ قادیانیوں کے منہ بولے مسیح موعود مرزا قادیانی ملعون کے اُس فقرے کی صدائے بازگشت تھی کہ “تمام شیطانوں اور بدکاروں اور لعنتیوں سے زیادہ مجھے لعنتی سمجھو۔” (٢)

(١)مصرع وزن کے موافق نہیں ہے۔موافقِ وزن یوں ہو گا” ڈھیٹ اور بے شرم بھی ہوتے ہیں دنیا میں مگر” (مدیر)

(٢)بشکریہ ختمِ نبوت ڈاٹ آرگ www.khatmenbuwat.org

٭٭٭

 

 

 

                ردِ غیر مقلدیت

 

فَعَلَیْکُمْ  بِسُنَّتِیْ وَ سُنَّةِ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِیْنَ الْمَھْدِیِّیْن

میری سنت اور میرے ہدایت یافتہ خلفاءِ راشدین کی سُنت تم پر لازم  ہے۔ (سنن ابی داؤدج2ص290باب فی لزوم السنۃ)

 

جھوٹے اہل حدیث

 

                مفتی آرزومند سعد ﷾

 

غیر مقلدین یا اہل حدیث کے نام پر جو فرقہ آج ہمارے درمیان موجود ہے اس بنیاد میں شاید جھوٹ اور فریب  پر رکھی گئی ہے اس لئے اس جماعت کا ہر چھوٹا بڑا جھوٹ بولنا اپنا حق سمجھتا ہے اور جھوٹ بولنے میں ذرا برابر بھی شرم محسوس نہیں کرتا۔ذیل میں غیر مقلدین کے ایک مصنف کے چند جھوٹ آپ کے سامنے لانے کی کوشش کی ہے۔

ابوالاقبال سلفی نام یہ مصنف جس نے “مذہب حنفی کا دین اسلام سےاختلاف “نامی کتاب لکھی ہے۔احناف کے ضد میں آ کر اس نے اتنے جھوٹ بولے ہیں کہ جی چاہتا ہے عالمی جھوٹ کا ایوارڈ اسی کو دیا جائے۔ذیل میں چند مثالیں پیش خدمت ہیں۔ان پر غور کریں اور اس جھوٹے مکار فرقے سے دور رہیں۔

جھوٹ ۱:اس کتاب کے صفحہ ۲۴ پر لکھتے ہیں۔ حنفی تعدیل ارکان کے احادیث کو نہیں مانتے۔

الجواب:اس سے بڑا جھوٹ دنیا میں کوئی ہو نہیں سکتا۔ احناف کے نزدیک تعدیل ارکان واجب ہے۔حاشية رد المختار على الدر المختار –  (1 / 464)

“والحاصل أن الأصح رواية ودراية وجوب تعديل الأركان”خلاصہ یہ ہے کہ صحیح قول کے مطابق تعدیل ارکان واجب ہے۔بلکہ فقہ  حنفی کے مطابق جس بھی نماز کی کتاب کو آپ اٹھا کر دیکھو گے اس میں تعدیل ارکان کے واجب ہونے کا ذکر ہو گا۔  اس لئے ہم یہی کہہ سکتے ہیں لعنت اللہ علی الکاذبین۔

جھوٹ نمبر ۲:حنفیہ سجدوں کی حدیثوں کو نہیں مانتے  صفحہ ۲۷

الجواب:یہ جھوٹ بھی دیکھ لیں۔حدیث شریف میں سات اعضاء پر سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔فقہ حنفی کی مشہور کتاب الدرالمختار میں سجدہ کا جو طریقہ لکھا ہوا ہے اس میں واضح طور پر ان سات اعضاء کا حکم دیا گیا ہے۔ (الدر المختار جلد ۲ صفحہ ۲۱۱،دارالمعرفہ )

جھوٹ نمبر ۳:صفحہ ۴۹ پر رقم طراز ہیں۔احناف دو نمازوں کے جمع والی حدیثوں کو نہیں مانتے۔

الجواب:یہ بھی مصنف کی حماقت کی کھلی مثال ہے۔مصنف نے اس عنوان کے تحت ان احادیث کو ذکر کیا ہے جن میں رسول اللہﷺ نے عذر کے وقت صورتاً جمع فرمایا تھا۔ اس کے حنفیہ قائل ہیں چنانچہ نماز مدلل  (مصنف فیض احمد ملتانی صاحب )نے صاف لکھا ہے کہ عذر کے وقت جمع صوری جائز ہے۔ لیکن غیر مقلدین جو جمع بین الصلوتین  (ظھرین اور مغربین کی طرز پر) کرتے ہیں۔ یہ نہ تو حدیث سے ثابت ہے اور نہ احناف اس کے قائل ہیں۔

جھوٹ نمبر ۴:غیر مقلد مولوی کہتا ہے کہ نماز میں سبحان اللہ کہنے کی حدیث کو حنفیہ نہیں مانتے۔ (۵۱)

الجواب:احناف کی کسی کتاب میں یہ نہیں لکھا کہ اگر امام سے غلطی ہو تو تسبیح نہیں کہنی چاہیے یہ بھی اس غیر مقلد کا جھوٹ ہے۔

 

عقائد علماء اہلحدیث

 

                عباس خان ﷾

 

 

علماء اہلحدیث کے چند باطل عقائد و نظریات

 

نوٹ:ہم جہاں بھی لفظ اہل حدیث،  فرقہ  اہلحدیث،  لامذہب  یا غیر مقلدین  کا لفظ استعمال کریں تو اس سے انگریز کے دور میں وجود میں آنے والا فرقہ مراد ہو گا۔ جیسا کہ  ان کے ایک بڑے بزرگ ہیں ان کی شہادت ہے ،  چنانچہ فرماتے ہیں

’کچھ عرصہ سے ہندستان میں ایک ایسے غیر مانوس مذہب کے لوگ دیکھنے میں آ رہے ہیں جس سے لوگ بالکل ناآشنا ہیں پچھے زمانہ میں شاذ و نادر اس خیال کے لوگ کہیں تو ہوں مگر اس کثرت سے دیکھنے میں نہیں آئے بلکہ ان کا نام بھی ابھی تھوڑے ہی دنوں میں سنا ہے۔ اپنے آپ کو اہلحدیث یا محمدی یا موحد کہتے ہیں مگر مخالف فریق میں ان کا نام غیر مقلد یا وہابی یا لامذہب لیا جاتا ہے‘۔ (الارشاد الی سبیل الرشاد ص 13)

 

فرقہ اہلحدیث کا سلسلہ کب اور کہاں سے شروع ہوا؟

 

مولانا عبد الرشید  غیر مقلد صاحب لکھتے ہیں:

“علماء اہلحدیث کا سلسلہ برصغیر میں ان   ( میاں نذیر حسن دہلوی غیر مقلد) سے شروع ہوتا ہے”۔

(چالیس علماء اہلحدیث 28)

فرقہ اہلحدیث انگریزوں کا پیدا کردہ فرقہ ہے:۔

جناب مولانا محمد حسن صاحب غیر مقلد بٹالوی  جنہوں نے اپنے فرقہ کا نام انگریز سے اہلحدیث الاٹ  کروایا تھا    خود فرماتے ہیں: “اے حضرات یہ مذہب سے آزادی اور خود سری و خود اجتہادی کی تیز ر ہوا یورپ سے چلی ہے اور ہندستان کے شہر و بستی و کوچہ و گلی میں پھیل گئی ہے۔ جس نے غالباً  ہندوؤں کو ہندو اور مسلمانوں کو مسلمان نہیں رہنے دیا۔ حنفی اور شافعی مذہب کا تو پوچھنا ہی کیا”  (اشاعت السنۃ  ص٢٥٥)

اس غیر مقلدیت کی سرپرستی کے لئے ایک زمنی ریاست بھوپال ان کو دی گئی:

چنانچہ نواب بھوپال صدیق حسن صاحب تحریر فرماتے ہیں: “فرمان روایاں بھوپال کو ہمیشہ آزادگی مذہب  (غیر مقلدیت) میں کوشش رہی ہے جو خاص منشاء گورنمنٹ انڈیا کا ہے”  (ترجمان وہابیہ ص ٣)

پھر فرماتے ہیں : “یہ آزادگی مذہب جدید  سے عین مراد انگلشیہ سے ہے”  (ص ٥)۔

“یہ لوگ  (غیر مقلدین) اپنے دین میں وہی آزادگی برتتے ہیں جس کا اشتہار بار بار انگریزی سرکار سے جاری ہوا۔ خصوصاً دربار دہلی سے جو سب درباروں کا سردار ہے”۔) ترجمان وہابیہ ص32)

 

ہم علماء اہلحدیث اور عوام اہلحدیث کے چند باطل اور گمراہ کن عقائد و نظریات پیش  کریں گے  اگر کوئی غیر مقلد اپنے کسی عالم کے کسی عقیدے کو ترک کرتا ہے تو وہ ساتھ میں اس عالم  کا اور اس کے عقیدے کا حکم بھی لکھے  اور اس بات کا اقرار کرے کہ اس کا یہ عالم گمراہ کن عقائد و نظریات کا حامل تھا تاکہ معلوم ہو کہ اس لامذہب فرقے  نے کتنے گمراہ لوگ پیدا کئے ہیں۔

فرقہ اہلحدیث کے ایک بڑے مولوی زبیر علی زئی صاحب جو کہ اپنے ان علماء کے گند سے جان چھڑانے کیلئے جھوٹ بولتے ہوئے لکھتے ہیں:

وحید الزمان،  نواب صدیق حسن خان،  نور الحسن،   وغیرہ غیر اہل حدیث اشخاص ہیں۔ (١)

(الحدیث فروری 2010 صفحہ نمبر 16)

 

لعنت اللہ علی الکاذبین

 

غیر مقلدین کے گھر کی شہادت کہ زبیر علی زئی کذاب تھا اور محدثین  کی  طرف بھی جھوٹ منسوب کر دیتا تھا۔

چنانچہ اہل  غیر مقلد عالم کفایت اللہ صاحب سنابلی لکھتے ہیں:

” زبیر علی زئی صاحب اپنے اندر بہت ساری کمیاں رکھتے ہیں مثلاً خود ساختہ اصولوں کو بلا جھجک محدثین کا اصول بتلاتے ہیں بہت سارے مقامات پر محدثین کی باتیں اور عربی عبارتیں صحیح طرح سے سمجھ ہی نہیں پاتے،  اور کہیں محدیث کے موقف کی  غلط ترجمانی  کرتے ہیں یا بعض محدثین  و اہل علم کی طرف ایسی باتیں منسوب کرتے ہیں جن سے وہ بری ہوتی ہیں۔ اور کسی  سے بحث کے دوران مغالطہ بازی کی حد کر دیتے ہیں اور فریق مخالف کے حوالے سے ایسی ایسی باتیں نقل کرتے ہیں یا اس کی طرف ایسی باتیں منسوب کر دیتے ہیں جو اس کے خواب و خیال میں  بھی نہیں ہوتیں۔

(زبیر علی زئی پر رد میں دوسری تحریر ص 2)

(١) محترم علی زئی صاحب کی یہ بوکھلاہٹ انتہائی درجہ کی تھی۔ بھائی نعمان اقبال کا ایک جملہ یاد آتا ہے”باپ کی غلطی کو غلطی تسلیم کرنے والا درست ہوتا ہے، جبکہ باپ کی غلطی پر اُسے باپ تسلیم کرنے سے انکار کرنے والا حرامی ہوتا ہے۔” حافظ زبیر علی زئی صاحب کے اس شگوفے پر سہ ماہی “قافلہ حق” میں قسط وار تحقیقی مقالہ (ڈیٹ ایکسپائر) شائع ہوا  تھا۔ ملاحظہ ہو قافلہ حق 22ص  ٥٦ اور قافلہ حق 23 ص٦١-از مولانا عاطف معاویہ ﷿  (مدیر)

وحید الزمان صاحب جن کو بڑے بڑے علماء نے اپنا امام تسلیم کیا ہے۔ خود ایک جگہ غیر مقلدین کے ایک بڑے عالم رئیس ندوی صاحب  انہیں امام اہلحدیث قرار دیتے ہیں:

ملاحظہ ہو  (سلفی تحقیقی جائزہ ص 635)

اور یہ کذاب کہتا ہے کہ یہ غیر اہلحدیث اشخاص ہیں۔

نواب وحید الزمان صاحب  آخری دم تک اہلحدیث رہے۔

اہل غیر مقلد عالم لکھتے ہیں:

مرحوم  (وحید الزمان) حنبلی یا اہلحدیث تھے اور آخری دم تک اسی موقف پر رہے۔

(ماہنامہ محدث ج 35 جنوری 2003 ص 77)

نوٹ : معلوم ہو گیا کہ وہ آخری دم تک اہلحدیث ہی تھے اور مولانا صاحب کی حنبلی ہونے والی بات  لطیفے سے کم نہیں۔

وحید الزمان،  نواب صدیق حسن خان،  ثناء اللہ امرتسری صاحب اہلحدیث کے اسلاف تھے۔

ایک اور بڑے مولوی غیر مقلدین کے وحید الزمان،  نواب صدیق حسن خان صاحب ثناء اللہ امرتسری صاحب کے نام لکھ کر آگے لکھتے ہیں:

بلا شبہ ہمارے اسلاف   تھے۔ (حدیث اور اہل تقلید ص 162)

اور آج کا ایک کذاب مولوی  زبیر علی زئی نامی کہتا ہے کہ یہ غیر اہلحدیث اشخاص تھے۔

امام اہلحدیث نواب وحید الزمان صاحب کی کتاب “نزل الابرار”  فرقہ اہلحدیث کے نزدیک نہایت مفید کتاب ہے۔

چنانچہ فرقہ اہلحدیث کے  شیخ الحدیث ثناء اللہ مدنی صاحب  نزل الابرار کے  متعلق لکھتے ہیں۔

“فی جملہ کتاب نہایت مفید ہے”۔ (فتاویٰ ثنائیہ مدنیہ ج 1 ص 493)

نواب صدیق حسن خان صاحب بھی غیر مقلد ہی تھے۔

خود نواب صدیق حسن خان صاحب اپنے بارے میں لکھتے ہیں:

ان احمقوں نے اتنا بھی خیال نہ کیا کہ میں تو مشہور اہل حدیث ہوں۔ (ابکار المنن ص  290)

آج نواب صدیق حسن خان صاحب زندہ ہوتے تو اپنی شہرت دیکھ لیتے۔

یہی ہے علماء اہلحدیث کی کل اوقات جو بھی مرے اس کے گند سے جان چھڑانے کیلئے اسے اپنی جماعت سے خارج قرار دے دو،  یہ اللہ کی طرف سے ان پر خاص غضب ہے۔

غیر مقلدین کے ایک بڑے مولوی مولانا نذیر احمد رحمانی صاحب لکھتے ہیں:

آج اہلحدیث ہی نہیں احناف بھی حضرت نواب صدیق صاحب  کا مسلک اہلحدیث ہونا اتنا مشہور اور معروف ہے کہ شاید بہتوں کو تعجب ہو گا کہ اس عنوان پر گفتگو کرنے کی ہم نے ضرورت ہی کیوں محسوس کی۔ (١)

(اہلحدیث اور سیاست ص 138)

نور الحسن خان صاحب جو کہ نواب صدیق حسن خان صاحب کے بیٹے تھے  نور الحسن صاحب نے اہلحدیث کی فقہ “عرف الجادی ” نامی کتاب لکھی اور اپنے مسلک کو ثابت کرنے کی کوشش کی۔

اور آج کا یہ کذاب مولوی کہتا ہے کہ یہ غیر اہلحدیث اشخاص تھے اور اللہ کا ان پر غضب دیکھئے کہ خود اس کے اپنے ہی جماعت کے کسی دوسری مولوی نے اس کے ساتھ بھی وہی کچھ کیا جو اس نے دوسرے اپنے بڑے مولویوں کے ساتھ کیا تھا۔

قرآن و حدیث کے نام پر جمع کئے گئے علماء اہلحدیث کے عقائد و نظریات جماعت اہلحدیث پر حجت ہیں۔

ڈاکٹر محمد بہاولدین صاحب غیر مقلد لکھتے ہیں لکھتے ہیں:

(١)ضرورت یوں  محسوس کی کہ کچھ لوگ  اپنے باپ کو باپ تسلیم نہیں کر رہے تھے (مدیر)

” بعض عوام کا لانعام گروہ اہل حدیث میں ایسے بھی ہیں جو اہل حدیث کہلانے کے مستحق نہیں۔ ان کو لامذہب،  بد مذہب،  ضال مضل جو کچھ کہو، زیبا ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو نہ خود کتاب و سنت کا علم رکھتے ہیں نہ اپنے گروہ کے اہل علم کا اتباع کرتے ہیں۔  کسی سے کوئی حدیث سن کر یا کسی اردو مترجم کتاب میں دیکھ کر نہ صرف اس کے ظاہر ی معنی کے موافق عمل کرنے پر صبر و اکتفا کرتے ہیں۔ بلکہ اس میں اپنی خواہش نفس کے موافق استنباط و اجتہاد بھی شروع کر دیتے ہیں۔ جس  میں وہ خود بھی گمراہ ہوتے ہیں اور دوسرے کو بھی گمراہ کرتے ہیں”۔ (تاریخ اہلحدیث ص 164)

پہلے تو یہ تمام عقائد غیر مقلدین پر حجت ہیں کیونکہ یہ لوگ یہی دعوے کرتے ہیں کہ ہماری جماعت صرف قرآن اور حدیث کے علاوہ اور کوئی بات نہیں کرتی اور  یہ تو پھر ان کے  بڑے بڑے علماء ہیں۔  ہاں اگر  وہ اپنے دعوے میں جھوٹے تھے تو پھر پہلے اس بات کا اقرار کریں۔

 

فرقہ اہلحدیث کو ننگا کرنے والا اصول

 

چنانچہ ایک غیر مقلد عالم لکھتا ہے۔

“کسی گروہ کے عقائد اس کے علماء اور اکابرین طے کرتے ہیں”۔ ( کیا علما دیوبند اہلسنت ہیں ص 8)

اب  ہم ان شاء اللہ اس گروہ کے علماء اور اکابرین کے عقائد سامنے لاتے ہیں۔

 

عقیدہ نمبر 1

 

فرقہ اہلحدیث   اللہ  کی ذات کو محدود مانتا ہے اور اللہ کیلئے مکان اور جہت کا قائل ہے۔

ملاحظہ فرمائے فرقہ اہلحدیث  کے ایک بڑے عالم طالب الرحمٰن  صاحب   کی ایک ویڈیو کلپ

http://goo.gl/jDD6sO

نزل الابرار جو کہ غیر مقلدین کے لئے فی جملہ نہایت مفید کتاب ہے۔  (فتاویٰ ثنائیہ مدنیہ ص 493)

میں  لکھا ہے کہ

“وہو في جہة  الفوق،  ومكانہ العرش”

وہ  (اللہ) اوپر کی جہت میں ہے اور اس کا مکان عرش ہے۔ (نزل الابرار ص 3 کتاب الایمان)

نوٹ : نواب وحید الزمان صاحب کو خود ان کے ایک بڑے جید عالم نے امام اہلحدیث قرار دیا ہے۔ دیکھئے  (سلفی تحقیقی جائزہ ص 635)

اللہ تعالیٰ  کا کوئی مکان ہے؟

وقال الإمام الحافظ الفقيہ أبو جعفر أحمد بن سلامة الطحاوي الحنفي  (321 ھ) في رسالتہ  ★

(متن العقيدة الطحاوية)ما نصہ: “وتعالى أي اللہ عن الحدود والغايات والأركان والأعضاء والأدوات، لا تحويہ الجہات الست كسائر المبتدعات ” اہ۔

امام الطحاوي الحنفي كبار علماء السلف میں سے ہیں اپنی کتاب  (العقيدة الطحاوية) میں یہ اعلان کر رہے کہ

“اللہ تعالی ” مکان و  جھت و حدود” سے پاک و مُنزہ و مُبرا ہے”   (متن العقيدة الطحاوية صفحہ ۱۵)

شیخ نظام الدین الہنديؒ اللہ کیلئے مکان  کا اثبات کرنے والے کو کافر لکھتے ہیں۔

قال الشيخ نظام الہندي: “ويكفر بإثبات المكان للہ”  (في كتابہ الفتاوى الہندية المجلد الثاني صفحہ 259)

★قال الإمام محمد بن بدر الدين بن بلبان الدمشقي الحنبليؒ  اللہ تعالٰی کی ذات کو ہر مکان میں موجود  یا کسی ایک مکان میں ماننے والے کو کافر کہتے ہیں۔

“فمن اعتقد أو قال إن اللہ بذاتہ في كل مكان أو في مكان فكافر”  (في كتابہ مختصر الإفادات ص: 489)۔

★الشيخ محمود محمد خطاب السبكيؒ اللہ تعالٰی کیلئے جھت کے قائل کو کافر قرار دیتے ہیں “وقد قال جمع من السلف والخلف: إن من اعتقد أن اللہ في جہة فہو كافر”۔ (إتحاف الكائنات)

★اللہ  کیلئے جسم جھت کے قائل پر چاروں آئمہ امام ابو حنیفہؒ،  امام مالکؒ امام شافعیؒ امام احمد بن حنبلؒ کا کفر کا فتویٰ۔

(وفي المنہاج القويم على المقدمة الحضرمية )في الفقہ الشافعي لعبد اللہ بن عبد الرحمن بن أبي بكر بافضل الحضرمي: “واعلم أن القرافي وغيرہ حكوا عن الشافعي ومالك وأحمد وأبي حنيفة رضي اللہ عنہم القول بكفر القائلين بالجہة والتجسيم وہم حقيقون بذلك”اہومثل ذلك نقل ملا علي القاري  (في كتابہ المرقاة في شرح المشكاة)

★محدث محمد زاہد بن الحسن الکوثریؒ فرماتے ہیں:

حيث تواتر ان ابا حنيفة كان يكفر من زعم فياللہ انہ متمكن بمكان  (تانیب الخطيب ص 101)

“یہ بات امام ابو حنیفہؒ سے تواتر سے ثابت ہے کہ وہ اس شخص کو کافر مانتے تھے جو یہ عقیدہ رکھتا ہو کہ اللہ کسی مکان میں متمکین ہیں”۔  ( یعنی کسی خاص مکان میں ہی ہیں اور بس)

 

عقیدہ نمبر2

 

فرقہ اہلحدیث اللہ تعالٰی کیلئے جسم کے اعضا  کے قائل ہیں۔

فرقہ اہلحدیث کے امام اہلحدیث نواب وحید الزمان خان صاحب لکھتے ہیں:

اللہ تعالیٰ کے لئے اس کی ذات مقدس کے لائق بلا تشبیہ یہ اعضا ثابت ہیں چہرہ آنکھ ہاتھ مٹھی کلائی درمیانی انگلی کے وسط سے کہنی تک کا حصہ سینہ پہلو کوکھ پاؤں ٹانگ پنڈلی، دونوں بازو  (ترجمہ ہدیۃ المہدی ص 27)

 

عقیدہ نمبر 3

 

فرقہ اہلحدیث اللہ کی صفات متشابہات کے متعلق یہ عقیدہ رکھتے اور لوگوں کو سمجھاتے ہیں کہ ان متشابہات کے جو ظاہری معنی ہمیں معلوم ہیں وہی اللہ کی بھی مراد ہے لیکن کیفیت اس کی معلوم نہیں۔

محدث امام جلال الدین سیوطیؒ فرماتے ہیں:

وَجُمْہُورُ أَہْلِ السُّنَّةِ مِنْہُمُ السَّلَفُ وَأَہْلُ الْحَدِيثِ عَلَى الْإِيمَانِ بِہَا وَتَفْوِيضِ مَعْنَاہَا الْمُرَادِ مِنْہَا إِلَى اللَّہِ تَعَالَى وَلَا نُفَسِّرُہَا مَعَ تَنْزِيہِنَا لَہُ عَنْ حَقِيقَتِہَا۔

ترجمہ:جمہور اہل سنت جن میں سلف اور اہلحدیث  (محدثین) شامل ہیں ان کا مذہب  (نصوص صفات پر) ایمان رکھنا ہے ساتھ اس کے کہ ان کے معنی مراد کو اللہ کی طرف سپرد کر دیا جائے اور ہم ان کی تفسیر نہیں کرتے جبکہ ان کے ظاہری معنی سے اللہ کو پاک قرار دیتے ہیں۔

جبکہ  فرقہ سلفیہ کا دعوی ہے  کہ نصوص صفات پر ایمان لانے  کیلئے صفات  متشابہات کے معنی مراد کا معلوم ہونا ضروری ہے۔

امام سیوطی ؒ کی اس عبارت پر تبصرہ کرتے ہوئے ایک اہلحدیث عالم شمس افغانی سلفی جو کہ جامعہ اثریہ بشاور کا بانی ہے  لکھتا ہے:

ہذا النص اولا صريح في التفويض المبدع المتقول علي السلف من جانب اہل الجہل والتجہيل والتعطيل وہم المبتدعة الخلف وثانياً قولہ : مع تنزيھنا لہو عن حقيقتہا،  صارخ بالتعطيل صراخ  ثكالي الجہمية

ترجمہ:میں کتاف ہوں یہ عبارت پہلے تو اس تفویض میں صریح ہے جو کہ جھوٹے طور پر سلف کی طرف منسوب کیا گیا ہے  (نعوذ باللہ) کہ اہل جہل تجہیل اور اہل تعطیل کی طرف سے جو کہ متاخرین بدعتی ہیں دوسرا یہ کہ امام سیوطی  (رحمہ اللہ) کی یہ عبارت کہ ہم ان کے ظاہری حقیقی معنی سے اللہ کو  پاک قرار دیتے ہیں واضح طور پر تعطیل فریاد کر رہی ہے ان جہمی عورتوں کی فریاد کی طرح جو بچوں سے محروم ہو گئی ہوں۔

(والعیاذ باللہ)

(عداء الماتریدية للقعيدة السلفية قولہ 28)

 

عقیدہ نمبر 3

 

فرقہ اہلحدیث کے عقیدہ کے مطابق اللہ کی صفات متشابہات پر ایمان لانے کیلئے ضروری ہے اللہ کی مراد کا بھی علم ہو جیسے صفات غیر متشابہات کے متعلق  ہوتا ہے۔

اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتے ہیں:

ہُوَ الَّذِي أَنْزَلَ عَلَيْكَ الْكِتَابَ مِنْہُ آيَاتٌ مُحْكَمَاتٌ ہُنَّ أُمُّ الْكِتَابِ وَأُخَرُ مُتَشَابِہَاتٌ   فَأَمَّا الَّذِينَ فِي قُلُوبِہِمْ زَيْغٌ فَيَتَّبِعُونَ مَا تَشَابَہَ مِنْہُ ابْتِغَاءَ الْفِتْنَةِ وَابْتِغَاءَ تَأْوِيلِہِ   وَمَا يَعْلَمُ تَأْوِيلَہُ إِلَّا اللَّہُ   وَالرَّاسِخُونَ فِي الْعِلْمِ يَقُولُونَ آمَنَّا بِہِ كُلٌّ مِنْ عِنْدِ رَبِّنَا   وَمَا يَذَّكَّرُ إِلَّا أُولُو الْأَلْبَابِ  (آل عمران آیت 7)

“وہی ہے جس نے اتاری تجھ پر کتاب اس میں بعض آیتیں ہیں محکم  (یعنی ان کے معنیٰ واضح ہیں) وہ اصل ہیں کتاب کی اور دوسری ہیں متشابہ ( یعنی جن کے معنیٰ  معین نہیں) سو جن کے دلوں میں کجی ہے وہ پیروی کرتے ہیں متشابہات کی گمراہی پھیلانے کی غرض سے اور مطلب معلوم کرنے کی وجہ سے اور ان کا مطلب کوئی نہیں جانتا سوا اللہ کے اور مضبوط علم والے کہتے ہیں ہم اس پر یقین لائے سب ہمارے رب کی طرف سے اتری ہیں اور سمجھانے سے وہی سمجھتے ہیں جن کو عقل ہے۔”

ہم سب اس بات پر متفق ہیں کہ اللہ کی غیر متشابہات صفات بھی ہیں جیسے علم،  حیات،  قدرت،  سمع،  بصر وغیرہ

اب ہم اور آپ دونوں ان کے متعلق یہی کہتے ہیں کہ اللہ کا علم ہے لیکن ہمارے علم کی طرح نہیں اللہ کی حیات ہے لیکن ہماری حیات کی طرح نہیں۔

یہ صفات تو غیر متشا بہات تھیں۔

اب جو متشابہات ہیں جیسے   ید،  قدم،  وجہ،  استوی علی العرش،  نزول الی سماء

ان صفات کے متعلق ہم یہ کہتے ہیں کہ ہم اس بات کا اقرار کرتے ہیں کہ  ہم نہیں جانتے کہ اللہ کی اس سے کیا مراد ہے۔ ہم اس پر ایمان لاتے ہیں اور اسے حق جانتے ہیں اور یہ نہیں سمجھتے کہ جب تک مراد معلوم نہیں ہو گی تب تک ایمان نہیں لایا جا سکتا۔

جب کہ نام نہاد ان صفات  متشابہات کے متعلق بھی وہی بات کہتے ہیں جو آپ غیر متشابہات صفات کے متعلق کہتے ہیں اللہ کا  ید  (ہاتھ) وجہ  (چہرہ) استوی علی العرش سے جو اللہ کی مراد ہے وہ آپ کو معلوم  ہے جیسا غیر متشابہات صفات کی مراد معلوم ہے اور کیسے ہے اس کی کیفیت کیا ہے وہ آپ کو معلوم نہیں جیسا  کہ غیر متشابہات صفات کی معلوم نہیں۔

اب انہوں نے صفات متشابہات اور غیر متشابہات کا بالکل فرق ہی مٹا دیا اور دونوں کیلئے ایک ہی ضابطہ مقرر کر دیا اگر صفات متشابہات اور غیر متشابہات ایک ہی ہیں تو ان کی تقسیم کیوں کی گئی اور اگر  ان متشابہات کو بھی غیر متشابہات کی طرح رکھنا تھا تو  اللہ نے ایسا کیوں فرمایا کہ اس قرآن میں متشابہات بھی موجود ہیں؟

 

عقیدہ نمبر4

 

خدا جس صورت میں چاہے ظاہر ہو سکتا ہے۔

امام اہلحدیث نواب وحید الزمان خان صاحب خدا کی صورت کا عنوان قائم کر کے لکھتے ہیں:

وہ جس صورت میں چاہے ظاہر ہو  (ترجمہ ہدیۃ المہدی ص 26)

معاذ اللہ لوگوں کے عقائد کو خراب کرنے کیلئے لوگوں کے ذہنوں میں  خدا کی صورت کا تصور بنایا جا رہا ہے جبکہ اللہ تعالٰی فرماتا ہے

ليس كمثلہ شيء

وہ کسی شے کی مثل نہیں۔  (الشوری 11)

 

عقیدہ نمبر5

 

فرقہ اہلحدیث کے نزدیک بیس رکعت تراویح بدعت ہے۔

لکھتے ہیں:

“بیس رکعت تراویح پڑھنا سنت رسول نہیں بلکہ بدعت ہے”۔  (مذہب حنفی کا دین اسلام سے اختلاف ص 69)

العیاذباللہ

 

بیس رکعت تراویح کب سے ہو رہی ہے؟

 

بیس رکعت تراویح صحابہ کرام اور تابعین کے پاک زمانے سے چلی آ رہی ہیں۔

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ الْفَقِيہُ قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو عُثْمَانَ الْبَصْرِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَہَّابِ قَالَ: أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ: حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ خُصَيْفَةَ، عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ قَالَ: «كُنَّا نَقُومُ فِي زَمَانِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ بِعِشْرِينَ رَكْعَةً وَالْوِتْرِ»

السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ صحابی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ نے فرمایا

ہم لوگ  (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہم ) حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں

20 رکعت اور تین  وتر پڑھا کرتے تھے۔ ( معرفة السنن والآثار ج 4 ص 42 : صحیح)

أخبرنَا أَبُو عبد اللہ مَحْمُود بن أَحْمد بن عبد الرَّحْمَن الثَّقَفِيُّ بِأَصْبَہَانَ أَنَّ سَعِيدَ بْنَ أَبِي الرَّجَاءِ الصَّيْرَفِي أخْبرہُم قِرَاءَة عَلَيْہِ أَنا عبد الْوَاحِد بن أَحْمد الْبَقَّال أَنا عبيد اللہ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ إِسْحَاقَ أَنا جَدِّي إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاہِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ جَمِيلٍ أَنا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ أَنا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى نَا أَبُو جَعْفَرٍ الرَّازِيُّ عَنِ الرَّبِيعِ بْنِ أَنَسٍ عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ أَنَّ عُمَرَ أَمَرَ أُبَيًّا أَنْ يُصَلِّيَ بِالنَّاسِ فِي رَمَضَانَ فَقَالَ إِنَّ النَّاسَ يَصُومُونَ النَّہَار وَلَا يحسنون أَن  (يقرؤا) فَلَوْ قَرَأْتَ الْقُرْآنَ عَلَيْہِمْ بِاللَّيْلِ فَقَالَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ہَذَا  (شَيْءٌ) لَمْ يَكُنْ فَقَالَ قَدْ عَلِمْتُ وَلَكِنَّہُ أَحْسَنُ فَصَلَّى بِہِمْ عِشْرِينَ رَكْعَة

ترجمہ:…”حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان کو حکم دیا کہ وہ رمضان میں لوگوں کو رات کے وقت نماز پڑھایا کریں، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ: لوگ دن کو روزہ رکھتے ہیں، مگر خوب اچھا پڑھنا نہیں جانتے، پس کاش! تم رات میں ان کو قرآن سناتے۔ اُبیّ نے عرض کیا: یا امیرالموٴمنین! یہ ایک ایسی چیز ہے جو پہلے نہیں ہوئی۔ فرمایا: یہ تو مجھے معلوم ہے، لیکن یہ اچھی چیز ہے۔ چنانچہ اُبیّ رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو 20 رکعتیں پڑھائیں۔ (الأحاديث المختارة ج 3 ص 367 : صحیح)

أَبُو الخضيب قَالَ يحيى بْن مُوسَى قَالَ نا جَعْفَر بْن عون سَمِعَ أبا الخضيب الجعفِي كَانَ سويد بْن غفلة يؤمنا فِي رمضان عشرين ركعة۔

ترجمہ:…”ابوالخصیب کہتے ہیں کہ: سوید بن غفلہ ہمیں رمضان میں بیس  ( 20 ) رکعتیں پڑھا تے تھے۔”

(التاريخ الكبير ج 9 ص 28)

حضرت سوید بن غفلہ رضی اللہ عنہ کا شمار کبار تابعین میں ہے، انہوں نے زمانۂ جاہلیت پایا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات میں اسلام لائے لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت نہیں کی، کیونکہ مدینہ طیبہ اس دن پہنچے جس دن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تدفین ہوئی، اس لئے صحابیت کے شرف سے مشرف نہ ہوسکے، بعد میں کوفہ میں رہائش اختیار کی۔ حضرت عبداللہ بن مسعود اور حضرت علی رضی اللہ عنہما کے خاص اصحاب میں تھے، ۸۰ھ میں ایک سو تیس برس کی عمر میں انتقال ہوا۔ (تقریب التہذيب ج 1 ص 341)

اگر یہ بدعت ہے تو یہ بدعت شروع سے  آج تک حرم اور مسجد نبوی میں جاری ہے۔

 

عقیدہ نمبر 6

 

فرقہ  اہلحدیث کے امام الہند محمد جونا گڑھی لکھتا ہے کہ :

حضرت عمرؓ کی سمجھ معتبر نہ تھی  (شمع محمدی ص 22)

اور حضرت عمرؓ کی سمجھ کے معتبر نہ ہونے پر دلائل بھی پیش کرنے کی کوشش کی ہے اور ایسے دلائل جس سے کل کو یہی لوگ کہہ سکتے ہیں کہ معاذ اللہ نبیﷺ کی سمجھ بھی معتبر نہیں۔

العیاذ باللہ جس عمرؓ کے متعلق نبیﷺ فرماتے ہیں

«لَوْ كَانَ نَبِيٌّ بَعْدِي لَكَانَ عُمَرَ بْنَ الخَطَّابِ»

اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتے تو وہ عمر بن خطابؓ ہوتے۔ (سنن الترمذي ج 5 ص 619)

ان عمرؓ کے متعلق یہ رافضی کہتا ہے کہ ان کی سمجھ معتبر نہ تھی

آخر ایسا کہہ کر یہ لوگوں  کو کیا   سبق دینا چاہتے ہیں؟

 

عقیدہ نمبر 7

 

قربانی میں مرزئی بھی شریک ہو سکتا ہے۔

غیر مقلد عالم محمد علی جانباز صاحب لکھتے ہیں:

“باقی رہی مرزائی کی شرکت تو اس کے متعلق بھی حرام کا فتوی نہیں لگا سکتے”۔ (فتاویٰ علمائے حدیث ج 13 ص 89)

 

عقیدہ نمبر 8

 

امام کے پیچھے فاتحہ پڑھنی فرض ہے اور

امام کے پیچھے فاتحہ نہ پڑھنے والے کی کوئی نماز نہیں ہوتی وہ بے نمازی ہے۔

العیاذ باللہ

مفتی عبد الستار صاحب غیر مقلد لکھتے ہیں:

“فاتحہ ہر ایک مقتدی و منفرد و امام پر واجب ہے اور اس کے ترک سے بالکل نماز نہیں”۔ (فتاویٰ ستاریہ ج 1 ص 54)

فرقہ اہلحدیث کے شیخ الکل میاں نذیر حسن دہلوی صاحب لکھتے ہیں:

“فاتحہ خلف الامام پڑھنا فرض ہے بغیر فاتحہ پڑھے ہوئے نماز نہیں ہوتی”۔ (فتاویٰ نذیریہ ج 1 ص 398)

محب اللہ شاہ راشدی صاحب لکھتے ہیں

“سورۃ فاتحہ کے سوائے کوئی بھی نماز ہرگز نہیں ہو گی۔ صرف ایک رکعت میں بھی نہیں پڑھی تو اس کی وہ رکعت نہیں ہوئی  وہ نماز خواہ اکیلے پڑھے یا پڑھنے والا امام ہو یا مقتدی”۔ (مقالات راشدیہ ص 67)

یہ الگ بات ہے کہ ان کے اس مسئلہ کی ایک بھی صحیح صریح مرفوع حدیث دنیا میں موجود نہیں۔

ان کی بنیادی 2 ہی دلیلیں ہیں

ایک صحیح بخاری سے

فاتحہ کے بغیر نماز نہیں۔۔۔ الخ

جواب:

یہی حدیث صحیح مسلم میں بھی موجود ہے اور امام مسلمؒ نے اس کے بعد سند نقل کر کے اس میں اضافہ بھی نقل کیا ہے اور پوری حدیث یوں ہے۔

37 –  (394) حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاہِيمَ بْنِ سَعْدٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ شِہَابٍ، أَنَّ مَحْمُودَ بْنَ الرَّبِيعِ، الَّذِي مَجَّ رَسُولُ اللہِ صَلَّى اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ فِي وَجْہِہِ مِنْ بِئْرِہِمْ، أَخْبَرَہُ، أَنَّ عُبَادَةَ بْنَ الصَّامِتِ، أَخْبَرَہُ أَنَّ رَسُولَ اللہِ صَلَّى اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا صَلَاةَ لِمَنْ لَمْ يَقْرَأْ بِأُمِّ الْقُرْآنِ» [ص:296] وَحَدَّثَنَاہُ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاہِيمَ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، قَالَا: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّہْرِيِّ، بِہَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَہُ وَزَادَ فَصَاعِدًا

(صحیح مسلم ج 1 ص 295)

نبی کریمﷺ فرماتے ہیں جو سورۃ فاتحہ اور کچھ زائد قرآن نہ پڑھے اس کی نماز نہیں۔

حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ مُوسَی الْأَنْصَارِيُّ حَدَّثَنَا مَعْنٌ حَدَّثَنَا مَالِکٌ عَنْ أَبِي نُعَيْمٍ وَہْبِ بْنِ کَيْسَانَ أَنَّہُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّہِ يَقُولُ مَنْ صَلَّی رَکْعَةً لَمْ يَقْرَأْ فِيہَا بِأُمِّ الْقُرْآنِ فَلَمْ يُصَلِّ إِلَّا أَنْ يَکُونَ وَرَائَ الْإِمَامِ قَالَ أَبُو عِيسَی ہَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ (جامع ترمذی:جلد اول:حدیث نمبر 301:صحیح )

جابر بن عبداللہ ؓ فرماتے ہیں جس نے ایک رکعت بھی سورت فاتحہ کے بغیر پڑھی گویا کہ اس نے نماز ہی نہیں پڑھی سوائے اس کے کہ وہ امام کے پیچھے ہو۔

غیر مقلدین کی دوسری اور آخری مرفوع   دلیل حضرت عبادہ بن صامتؓ   سے ہے جس میں ہے کہ امام کے پیچھے فاتحہ پڑھنی ہے اس کے بغیر نماز نہیں ہو گی۔ ۔۔ الخ

یہی غیر مقلدین  کی اس مسئلہ میں اکلوتی دلیل ہے جسے خود ان کے  محدث البانی صاحب نے ضعیف قرار دیا ہے۔

(سنن ابی داؤد ص 144)

یہی انتہائی ضعیف حدیث ان کا ہر  عامی جاہل اور عالم جاہل لئے گھومتا ہے  تمام امت کی نماز کو باطل قرار دینے کیلئے۔

 

عقیدہ نمبر 9

 

مرزئی اسلامی فرقہ ہے۔ (١)

ثناء اللہ امرتسری صاحب نے مرزئیوں کو اسلامی فرقوں میں شمار کیا ہے۔ دیکھئے  (ثنائی پاکٹ بک ص 55)

 

عقیدہ نمبر 10

 

اجماع حجت شرعیہ نہیں۔

ویسے تو تمام غیر مقلدین اجماع امت کے منکر ہیں چاہے عملاً ہوں یا قولاً لیکن ہم ان کے بڑے  مولوی سے دکھاتے ہیں

حافظ عبد المنان نور پوری صاحب غیر مقلد لکھتے ہیں۔

اجماع صحابہ ؓ اور اجماع ائمہ مجتہد کا دین میں حجت ہونا قرآن و حدیث سے ثابت نہیں۔  (مکالمات نور پوری ص 85)

لعنت اللہ علی الکاذبین

(١)  جناب زبیر علی زئی اگر موجود ہوتے تو شاید کہتے ” یہ بھی غیر اہلِ حدیث اشخاص میں سے ہیں” (مدیر)

اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتے ہیں

وَمَنْ يُشَاقِقِ الرَّسُولَ مِنْ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَہُ الْہُدَى وَيَتَّبِعْ غَيْرَ سَبِيلِ الْمُؤْمِنِينَ نُوَلِّہِ مَا تَوَلَّى وَنُصْلِہِ جَہَنَّمَ   وَسَاءَتْ مَصِيرًا

(سورۃ نساء آیت ١١٥)

“اور جو کوئی مخالفت کرے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی جب کہ کھل چکی اس پرسیدھی راہ اور چلے سب مسلمانوں کے راستہ کے خلاف تو ہم حوالہ کریں گے اس کو وہی طرف جو اس نے اختیار کی اور ڈالیں گے ہم اس کو دوزخ میں اور وہ بہت بری جگہ پہنچا”

یہ اجماع  کی حجیت نہیں تو اور کیا ہے اور یہ  سب سے افضل ہستیاں صحابہ اور ائمہ مجتہدین کے اجماع کا  انکار کر رہا ہے۔

٭٭٭

 

 

 

غیر مقلدین کا مختصر و مفصل تعارف

 

                عمر نعمان ﷾

 

 

اہل حدیث / غیر مقلدین کا مختصر تعارف

 

اہل حادث،  سرپرستی و وفاداری ہے انگریز کی،   شجرہ نسب و بانی ہے شیعہ اور یارانہ ہے قادیانیوں کا،  ان سب کے مجموعی تعاون و اشتراک سے معارض وجود میں آیا یہ فتنہ “نا اہل حدیث / غیر کے مقلد”

 

اہل حدیث / غیر مقلدین کا مفصل تعارف

 

اہل حادث :

١﴾ نواب صدیق حسن خان صاحب لکھتے ہیں:

“خلاصہ حال ہندستان کے مسلمانوں کا یہ ہے کہ جب سے یہاں اسلام آیا ہے، چونکہ اکثر لوگ بادشاہوں کے طریقہ اور مذہب کو پسند کرتے ہیں، اس وقت سے آج تک  (انگریز کی آمد تک) یہ لوگ مذہب حنفی پر قائم رہے اور ہیں اور اسی مذہب کے عالم اور فاضل اور قاضی اور مفتی اور حاکم ہوتے رہے۔ یہاں تک کہ ایک جم غفیر نے مل کر فتاویٰ ہند یہ جمع کیا اور اس میں شاہ عبدالرحیم صاحب والد بزرگو ارشاہ ولی اللہ صاحب دہلویؒ بھی شریک تھے۔  (ترجمان وہابیہ ص٢٠)

۲﴾ اسی کتاب میں نواب صاحب دوسرے مقام پر لکھتے ہیں:

“ہندستان کے مسلمان ہمیشہ سے مذہب شیعی یا حنفی رکھتے ہیں”  (ترجمان وہابیہ)

۳﴾ مولوی محمد شاہجہانپوری اپنی مشہور کتاب ” الارشاد الٰی سبیل الرشاد” میں ہندستان میں اپنے فرقہ کے نومولود نو خیز ہونے پر روشنی ڈالتے ہوئے رقمطراز ہیں:

“کچھ عرصہ سے ہندستان میں ایک ایسے غیرمانوس مذہب کے لوگ دیکھنے میں آرہے ہیں جس سے لوگ بالکل نا آشنا ہیں”۔ پچھے زمانہ میں شاذ و نادر اس خیال کے لوگ کہیں ہوں تو ہوں مگر اس کثرت سے دیکھنے میں نہیں آئے بلکہ ان کا نام ابھی تھوڑے ہی دنوں میں سنا ہے۔ اپنے آپ کو تو اہل حدیث یا محمدی یا موحد کہتے ہیں، مگر مخالف فریق میں ان کا نام غیر مقلد یا وہابی یا لامذہب لیا جاتا ہے۔  (الارشاد الی سبیل الرشاد، ص١٣)

 

انگریز کی سرپرستی

 

١﴾ غیر مقلدین کے مشہور عالم مولوی عبدالمجید سو ہد روی لکھتے ہیں

مولوی محمدحسین صاحب بٹالوی نے اشاعۃ السنۃ کے ذریعہ اہلحدیث کی بہت خدمت کی، لفظ وہابی آپ ہی کی کوششوں سے سرکاری دفاتر اور کاغذات سے منسوخ ہوا اور جماعت کو اہلحدیث کے نام سے موسوم کیا گیا”۔  (سیرت ثنائی:۳۷۲)

۲﴾ سرچارلس ایچی سن صاحب جو اسوقت پنجاب کے لفٹیننٹ گورنر تھے آپ کے خیرخواہ تھے؛ انہوں نے گورنمنٹ ہند کواس طرف توجہ دلا کر اس درخواست کو منظور کرایا اور پھر مولانا محمدحسین صاحب نے سیکریٹری گورنمنٹ کو جو درخواست دی اس کے آخری الفاظ یہ تھے:

“استعمال لفظ وہابی کی مخالفت اور اجراء نام اہلحدیث کا حکم پنجاب میں نافذ کیا جائے”۔  (اشاعۃ السنۃ:۱۱ شمارہ نمبر:۲ صفحہ نمبر:۲۶)

۳﴾ جس دن اس جماعت نے سرکار انگلیشیہ سے اپنے نئے نام اہل حدیث کی تصدیق کرا دی تھی  ( نگارشات،  ص 382،  مولانا محمد اسماعیل سلفی )

۴﴾ مگر جناب مولوی اب سعید محمد حسین کو وہابی نام ہونا گوارا نہ تھا ،  انھوں نے گورنمنٹ سے درخواست کی تھی کہ اس فرقے کو جو در حقیقت اہل حدیث ہے اور لوگوں نے از راہ ضد و حقارت اس کا نام وہابی رکھ دیا ہے،  گورنمنٹ اس کو وہابی کے نام سے مخاطب نہ کرے ﴿ مکالمات سرسید،  مولانا محمد اسماعیل پانی پتی ﴾

۵﴾ مولوی بٹالوی صاحب نے جماعت اہلحدیث کے وکیل اعظم کی حیثیت سے حکومت ہند اور مختلف صوبہ جات کے گورنروں کو لفظ وہابی کی منسوخی اور اہلحدیث نام کی الاٹمنٹ کی جو درخواست دی تھی کہ ان کی جماعت کو آئندہ وہابی کے بجائے اہل حدیث کے نام سے پکارا جائے اور سرکاری کاغذات اور خطوط و مراسلات میں وہابی کے بجائے  اہلحدیث لکھا جائے، انگریز سرکار کی طرف سے ان کی سابقہ عظیم الشان خدمات اور جلیل القدر کارناموں کے پیش نظر اس درخواست کو گورنمنٹ برطانیہ نے باقاعدہ منظور کر کے لفظ وہابی کی منسوخی اور اہل حدیث نام کی الاٹمنٹ کی باضابطہ تحریر اطلاع بٹالوی صاحب کو دی، سب سے پہلے حکومت پنجاب نے اس درخواست کو منظور کیا۔

لیفٹینٹ گورنر پنجاب نے بذریعہ سیکرٹری حکومت پنجاب مسٹر ڈبلیو، ایم، ینگ صاحب بہادر نے بذریعہ چھٹی نمبری ۱۷۸۷ مجریہ ۳ دسمبر ۱۸۸۶ء اس کی منظوری کی اطلاع بٹالوی صاحب کو دی، اسی طرح گورنمنٹ سی  پی کی طرف سے ۱۴ جولائی ۱۸۸۸ء بذریعہ خط نمبری ۴۰۷، گورنمنٹ یو پی کی طرف سے ۲۰ جولائی ۱۸۸۸ء بذریعہ خط نمبری  ۳۸۶ گورنمنٹ بمبئی کی طرف سے ۱۴ اگست ۱۸۸۸ء بذریعہ خط نمبری ۷۳۲، گورنمنٹ مدراس کی طرف سے ۱۵ اگست ۱۸۸۸ء بذریعہ خط نمبری  ۱۲۷، گورنمنٹ بنگال کی طرف سے  ۴ مارچ ۱۸۹۰ء بذریعہ خط نمبری ۱۵۶۔ اس درخواست کی منظوری کی اطلاعات مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کو فراہم کی گئیں  (اشاعت السنہ شمارہ ۲ جلد ۱۱  صفحہ ۳۲ تا صفحہ ۳۹، جنگ آزادی از جناب پروفیسر محمد ایوب صاحب قادری صفحہ ۶۶)

 

انگریز کی وفاداری

 

١﴾ میاں سید نذیر حسین دہلوی نے اس میں انگریز عورت کو باغیوں سے بچایا اور اس کو پناہ دی  ( معیار الحق،  ص 19 )

۲﴾ مولوی سید نذیر حسین دہلی کے ایک بہت بڑے مقتدر عالم ہیں جنہوں نے نازک وقتوں میں اپنی وفاداری گورنمنٹ برطانیہ کے ساتھ ثابت کی ہے  ( الحیاۃ بعد المماۃ )

۳﴾ میاں صاحب  (مولوی سید نذیر حسین ) بھی گورنمنٹ انگلیشیہ کے کیسے وفادار تھے،  زمانہ غدر 1857ء میں جب دہلی کے بعض مقتدر اور بیشتر معمولی مولویوں نے انگریز پر جہاد کا فتوی دیا تو میاں صاحب نے نہ اس پردستخط کیے نہ مہر  ( الحیاۃ بعد المماۃ )

۴﴾ “کتب تاریخ دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ جو امن و آسائش و آزادگی اس حکومت انگریزی میں تمام خلق کو نصیب ہوئی کسی حکومت میں بھی نہ تھی  (یعنی انگریز سے قبل عالم اسلام کے سلاطین مثلاً سلجوتی، عثمانی سلاطین، وغیرہ ہم کے ادوار حکومت اس  امن و آسائش اور آزادگی مذہب سے خالی تھے) اور وجہ اس کی سوائے اس کے کچھ نہیں سمجھی گئی کہ گورنمنٹ نے آزادی  کامل ہر مذہب والے کو دی”  (ترجمان وہابیہ ص۱۶،  نواب صدیق حسن خان )

دوسرے مقام پر تحریر فرماتے ہیں کہ:

اور یہ لوگ  (غیر مقلدین) اپنے دین میں وہی آزادگی برتتے ہیں، جس کا اشتہار بار بار انگریز سرکار سے جاری ہوا

۵﴾ سوانح نگار غیر مقلد عالم مولوی فضل حسین بہاری کی زبانی سنیئے۔ موصوف لکھتے ہیں:۔

عین حالت غدر میں  (جہاد حریت کو غدر سے تعبیر کیا جا رہا ہے فوااسفا !) جبکہ ایک  ایک بچہ انگریزوں کا دشمن ہو رہا تھا  (سوائے غیر  مقلدوں کے)  سزلیسنس ایک زخمی میم کو میاں صاحب رات  کے وقت ا  ٹھوا کر اپنے گھر لے  گئے، پناہ دی، علاج کیا، کھانا دیتے رہے، اس وقت اگر ظالم باغیوں کو ذرا بھی خبر ہو جاتی تو آپ کے قتل اور خانماں بربادی میں مطلق دیر نہ لگتی۔  (الحیات بعد الممات ص۱۲۷)

٦﴾ مولانا محمد حسین صاحب بٹالوی رقمطراز ہیں:۔

“غدر  ۱۸۵۷ء میں کسی اہل حدیث نے گورنمنٹ کی مخالفت نہیں کی  ( کیوں کرتے اس کے وفادار اور جان نثار جو تھے) بلکہ پیشوایان اہل حدیث نے عین اس طوفان بے تمیزی میں ایک زخمی یورپین لیڈی کی جان بچائی اور عرصہ کئی مہینے تک اس کا علاج معالجہ  کر کے تندرست ہونے کے بعد سرکاری کیمپ میں پہنچا دی”۔ (اشاعت السنۃ صفحہ۲۶ شمارہ ۹ جلد ۸)

۷﴾ مولوی فضل حسین بہاری لکھتے ہیں:۔

“ڈاکٹر حافظ مولوی نذیر احمد صاحب  (جو کہ میاں صاحب کے قریبی رشتہ دور ہیں) فرماتے  تھے کہ زمانہ غدر میں مسزلیسنس زخمی میم کو جس وقت میاں  (نذیر حسین صاحب) نے نیم جان دیکھا تو  (زار و قطار) روئے اور اپنے مکان میں اٹھا لائے، اپنی اہلیہ اور عورتوں کو ان کی خدمت کیلئے نہایت تا کید کی۔ ۔ ۔  اس وقت اگر باغیوں  (مسلمانوں) کو ذرا بھی خبر  لگ جاتی تو آپ کی بلکہ سارے خاندان کی جان بھی جاتی اور خانماں بربادی میں بھی کچھ دیر نہ لگتی۔۔۔ امن قائم ہونے کے بعد میم  کو انگریزی کیمپ میں پہنچا یا، جس کے نتیجہ میں آپ کو اور آپ کے متوسلین کو گورنمنٹ انگریزی کی طرف سے امن و امان کی چھٹی ملی چنانچہ انگریزوں کے تسلط کے بعد جب سارا شہر غارت کیا جانے لگا تو صرف آپ کا محلہّ آپ کی  (انگریزی خدمات) کی بدولت محفوظ رہا”۔  (الحیات بعد الممات ص۲۷۶-۲۷۵ سوانح میاں نذیر حسین دہلوی)

۸﴾ مولوی نذیر حسین دہلوی کے ایک بڑے مقتدر عالم ہیں جنہوں نے مشکل اور نازک وقتوں میں اپنی وفاداری اور نمک حلالی گورنمنٹ برطانیہ پر ثابت کی ہے۔ اب وہ اپنے فرض زیارت کعبہ کے ادا کتنے کو جاتے ہیں۔

امید کرتا ہوں کہ جس کسی افسر برٹش گورنمنٹ کی وہ مدد چاہیں گے وہ ان کو مدد دے گا کیونکہ وہ کامل طور سے اس مدد کے مستحق ہیں۔ دسخط جی ڈی ٹریملٹ بنگال سروس کمشنر دہلی ۱۰ اگست  ۱۸۵۷ء اشاعت السنہ صفحہ ۲۹۴ شمارہ۱۰، ج۸، الحیات بعد الممات صفحہ ۱۴۰ مطبوعہ کراچی

۹﴾ سوانح نگار مولوی فضل حسین بہاری لکھتے  ہیں “چنانچہ جب شمس العلماء کا خطاب گورنمنٹ انگلشیہ سے  (نمک حلالی اور وفاداری  اور مسلمانوں سے غداری کے صلہ میں آپ کو ملا اور اس کا تذکرہ کوئی آپ کے سامنے کرتا تو آپ فرماتے کہ:

میاں ! خطاب سے کیا ہوتا ہے۔۔ ۔  دنیاوی خطاب سلاطین سے ملا کرتا ہے یہ گو یا ان کی خوشنودی کا اظہار ہے۔ مجھے تو کوئی نذیر کہے تو کیا اور شمس العلماء کہے تو کیا میں نہایت خوش ہوں۔  (الحیات بعد المماۃ صفحہ٤)

١۰﴾ نواب  صدیق حسن خان لکھتے ہیں :

“اور حاکموں کی اطاعت اور رئیسوں کا انقیاد ان کی ملت میں ( غیر مقلدوں کی مذہب میں) سب واجبوں سے بڑا واجب ہے”۔  (ترجمان وہابیہ ص۲۹)

١١﴾ پس فکر کرنا ان لوگوں کا جو اپنے حکم مذہبی سے جاہل ہیں اس امر میں کہ حکومت برٹش مٹ جائے اور یہ امن  و امان جو آج حاصل ہے فساد کے پردہ میں جہاد کا نام لے کر اٹھا دیا جائے سخت نادانی اور بےوقوفی  کی بات ہے”۔  ( ترجمان وہابیہ ص۷)

١۲﴾ سرکار انگریز کی مخالفت قطعاً نا جائز ہے

نواب  صدیق حسن خان رقمطراز ہیں:

“اور کسی شخص کو حیثیت موجودہ پر ہندستان کے دارالاسلام ہونے میں شک نہیں کرنا چاہیے”۔  (ترجمان وہابیہ ص۴۸)

١۳﴾ کوئی فرقہ ہماری تحقیق میں زیادہ تر خیر خواہ اور طالب امن و امن و آسائش رعایا کا اور قدر شناس اس بندوبست گورنمنٹ کا اس گروہ  (غیر مقلدین) سے  نہیں ہے۔  (ترجمان وہابیہ صفحہ ۱۱۴)

حالانکہ جو  خیر خواہی ریاست بھوپال وغیرہ نے اس زمانہ میں کی ہے، وہ گورنمنٹ برطانیہ پر ظاہر ہے۔ ساگر و جھانسی تک سرکار انگریزی کو مدد غلہ و فوج وغیرہ سے دی، جس کے عوض میں سرکار نے گنہ “بیرسیہ” جمع ایک لاکھ روپیہ عنایت فرمایا۔

١۴﴾ نواب  صدیق حسن خان لکھتے ہیں :

چار برس ہوئے جب اشتہار جنگ کابل اجنٹی سے بھوپال میں آیا۔ اسی دن سے نواب شاہ جہان بیگم صاحبہ والی ریاست نے طرح طرح کے عمدہ  بندوبست کئے۔ اشتہار عام جاری کیا کہ کوئی مسافر ترکی،  عربی  (جس پر انگریز کی مخالفت کا ذرہ بھی شبہ ہو) شہر میں ٹھہرنے نہ پائے چنانچہ اب تک یہی حکم جاری ہے  (حد ہو گئی انگریز پرستی کی) اور اس کی تعمیل ہوتی ہے سرکار گورنمنٹ میں خط لکھا کہ فوج کنجنٹ اور فوج بھوپال واسطے مدد  (انگریز کے مسلمانوں کے خلاف) حاضر ہے اور ریاست سپاہ و مال سے واسطے مدد ہی  (انگریز کے) موجود ہے مدت تک فوج بھوپال اس چار سال میں اندر نوکری گورنمنٹ کی چھاؤنی سیور میں عرض کنجنٹ کے بجا لائی اور خاص میں  نے اور بیگم صاحبہ نے واسطے جنگ کابل کے چندہ دیا۔  (ترجمان وہابیہ صفحہ ۱۱۴-۱۱۳)

١۵﴾ جو لڑائیاں غدر میں واقع  ہوئیں وہ ہر گز شرعی جہاد نہ تھیں اوور کیونکہ وہ شرعی جہاد ہو سکتا ہے کہ جو امن و امان خلائق کا اور راحت و رفاہ مخلوق کا حکومت انگلشیہ سے زمین ہند پر قائم تھا اس میں بڑا خلل واقع ہو گیا۔ یہاں تک کہ بوجہ بے اعتباری رعا یا نوکری کا ملنا محال ہو گیا اور  جان و مال و آبرو کا بچانا محال ہو گیا۔  (ترجمان وہابیہ ص۳۴)

١٦﴾ نواب صاحب لکھتے ہیں کہ:

“کسی نے نہ سنا ہو گا کہ آج تک کوئی موحد، متبع سنت، حدیث و قرآن پر چلنے والا بیوفائی اور اقرار توڑنے کا مرتکب ہوا ہو۔ یا فتنہ انگیزی اور بغاوت پر آمادہ ہوا ہو اور جتنے لوگوں نے غد میں شروفساد کیا اور حکام انگلشیہ سے برسرعناد ہوئی وہ سب کے سب مقلدان مذہب حنفی تھے نہ متبعان سنت نبوی  (غیر مقلد)  (ترجمان وہابیہ ص۲۵)

١۷﴾ نواب صدیق حسن خان صاحب لکھتے ہیں

اور وہ لوگ جو بمقابلہ برٹش گورنمنٹ ہند یا کسی ایک بادشاہ کے جس نے آزادی مذہب دی ہے ہتھیار اٹھاتے ہیں اور مذہبی جہاد کرنا چاہتے ہیں کل ایسے لوگ باغی ہیں اور مستحق سزا کے مثل باغیوں کے شمار ہوتے ہیں۔  (ترجمان وہابیہ ص۱۲۰)

١۸﴾ بٹالوی صاحب لکھتے ہیں:

“اس گروہ اہل حدیث کے خیر خواہ وفا دار رعایا برٹش گورنمنٹ ہونے پر ایک بڑی روشن اور قوی دلیل یہ ہے کہ یہ لوگ برٹش گورنمنٹ کے زیر حمایت رہنے  کو اسلامی سلطنتوں کے زیر سایہ رہنے سے بہتر سمجھتے ہیں اور اس امر کو اپنے قومی وکیل اشاعت السنہ کے ذریعہ سے  (جس کے نمبر ۱۰ جلد ۶ میں اس کا بیان ہوا ہے اور وہ نمبر ہر ایک لوکل گورنمنٹ اور گورنمنٹ آف انڈیا میں پہنچ چکا ہے) گورنمنٹ پر بخوبی ظاہر اور مدلل کر چکے ہیں جو آج تک کسی اسلامی فرقہ رعایا گورنمنٹ نے ظاہر نہیں کیا  اور نہ آئندہ کسی سے اس کے ظاہر ہونے کی امید ہو سکتی ہے۔”  (اشاعت اسنہ ۲۶۲ شمارہ ۹ جلد ۸)

١۹﴾ اس جگہ راز افزوں ترقی  و اقبال پر فائز ہو کر اہل اسلام کے لئے بہبود اور نفع کا سر چشمہ بنیں اور برطانیہ کے تاج و تخت  کو  (جس کی نیابت سے جناب والا بہرہ مند  ہیں) ترقی واستحکام عطا ر فرما کر ملک کے لئے امن و برکت اور اہل اسلام کے لئے حمایت و حفاظت کا ذریعہ ثابت ہوں۔

ہم ہیں حضور کے وفادار جانثار حضور کی رعایا۔

مولوی سید نذیر حسین دہلوی  (شیخ الکل فی الکل شمس العلماء وآیۃ من آیات اللہ)

ابو سعید محمد حسین بٹالوی وکیل اہلحدیث ہند۔

مولوی احمد اللہ و اعظ میونسپل کمشنر امرتسر۔

مولوی قطب الدین پیشوائے اہلحدیث روپڑ۔

مولوی حافظ عبداللہ غازی پوری۔ مولوی محمد سعید بنارس۔

مولوی محمد ابراہیم آرہ۔ مولوی سید نظام الدین پیشوائے اہلحدیث مدارس۔

(اشاعت السنہ صفحہ ۴۰۔۴۲ شمارہ نمبر ۲ جلد ۱۱)

 

شیعہ بانی

 

١﴾ عبد الحق بنارسی  ( تفریظ الکلام المفید،  مولانا عبد الدیان )

۲﴾ شیخ الکل فی الکل شمس العلماء مولوی نذیر حسن دہلوی کے استاد اور  خسر مولانا بدرالخالق صاحب اپنی مشہور کتاب “تنبیہ الضالین” میں اس فرقہ کے نواحداث  (نو پیدا) ہونے پر روشنی ڈالتے ہوئے لکھتے ہیں:

۳﴾ سو بانی مبانی اس فرقہ نو احداث  (غیر مقلدین ) کا عبدالحق بنارسی ہے۔ جو چند روز بنارس میں رہتا ہے اور حضرت امیر المؤمنین  (سید احمد شہیدؒ) نے ایسی ہی حرکات ناشائستہ کے باعث اپنی جماعت سے اس کو نکال دیا اور علماء حرمین شریفین نے اس کے قتل کا فتویٰ لکھا مگر کسی طرح وہاں سے بچ نکلا۔

۴﴾ نواب صدیق حسن خان لکھتے ہیں  یعنی کہ عبدالحق بنارسی کی عمر کے درمیانی حصے میں اس کے عقائد میں تزلزل اور اہل تشیع کی طرف رجحان بڑا مشہور ہے ﴿ سلسلتہ العسجد ﴾

۵﴾ قاری عبد الرحمان محدث پانی پتی لکھتے ہیں ’بعد تھوڑے عرصے کے مولوی عبدالحق صاحب،  مولوی گلشن کے پاس گئے،  دیوان راجہ بنارس کے شیعہ مذہب کے تھے اور یہ کہا کہ میں شیعہ ہوں اور اب میں ظاہر شیعہ ہوں،  اور میں نے عمل بالحدیث کے پردے میں ہزار ہا اہل سنت کو قید مذہب سے نکال دیا ہے اب ان کا شیعہ ہونا بہت آسان ہے،  چنانچہ مولوی گلشن علی نے تیس روپیہ ماہوار ان کی نوکری کروا دی ﴿ کشف الحجاب،  ص ۲١ ﴾

 

 شیعہ شجرہ نسب

 

نواب صدیق حسن خاں کے والد نواب سید اولاد حسن خاں شیعہ مسلک سے تعلق رکھتے تھے ﴿ محدث،  حافظ عبد الرحمٰن مدنی ﴾

 

قادیانی یارانہ

 

١﴾ مرزا غلام احمد کی تصنیف “براہین احمدیہ” میں غیر مقلد مولوی نذیر حسین لکھتا ہے کہ ” ۔۔۔ اس کا مولف بھی اسلام کی مالی و جانی و قلمی و لسانی و حالی و قالی نصرت میں ایسا ثابت قدم نکلا،  جسکی نظیر پہلے مسلمانوں میں بہت ہی کم پائی گئی ہے ۔۔۔ مولف صاحب ہمارے ہم وطن ہیں،  بلکہ اوائل عمر کے ہمارے ہم مکتب ۔ اس زمانہ سے لیکر آج تک ہم میں ان میں خط و کتابت و ملاقات و مرسلت جاری رہی ہے ۔۔۔ مولف براہین احمدیہ نے مسلمانوں کی عزت رکھ دکھائی ہے

۲﴾ بٹالوی صاحب لکھتے ہیں۔

“مولوف برائے احمدیہ” کے حالات و خیالات سے جس قدر ہم واقف ہیں ہمارے معاصرین میں سے ایسے کم واقف نکلیں گے۔ مؤلف ہمارے ہم وطن ہیں بلکہ اوائل  عمر کے  (جب ہم قطبی و شرح ملا پڑھتے تھے) ہمارے ہم مکتب تھے۔ اس زمانہ سے آج تک ہم میں ان میں خط و کتابت و ملاقات و مراسلات برابر جاری و ساری ہے۔  (اشاعت السنہ جلد۷ بحوالہ مجدد اعظم ص۲۱ تا ۲۲ ج۱)

۳﴾ بٹالوی صاحب براہین احمدیہ پر دیویو کرتے ہوئے لکھتے ہیں:۔

“اس  کا مؤلف  (مرزا غلام احمد قادیانی) اسلام کی مالی و جانی و قلمی و لسانی نصرت میں ایسا ثابت قدم نکلا ہے جس کی نظیر پہلے مسلمانوں میں بہت ہی کم پائی گئی ہے”۔  (مجدد اعظم ص۲۲ج۱)

۴﴾ خود مولوی محمد حسین بٹالوی  باوجود اس قدر بڑا عالم  اور محدث ہونے کے اس قدر آپ  (مرزا قادیانی) کی عزت و احترام کرتا تھا کہ آپ کا جوتا اٹھا کر آپ کے سامنے سیدھا کر کے رکھ دیتا اور اپنے ہاتھ سے آپ کو وضو کرانا اپنی سعادت سمجھتا تھا”۔ (مجدد اعظم ص۲۲)

٭٭٭

 

 

 

 

حجۃ الاسلام حضرت مولانا قاسم نانوتویؒ پر انکارِ ختمِ نبوت  کے الزام کا جواب

 

                مولانا ساجد خان نقشبندی ﷾

 

بہتان: مولانا محمد قاسم نا نو تویؒ ختم نبوت کے قائل نہیں۔

پہلا بہتان جو علماء سُوء  کی طرف سے شیخ الاسلام مولانا محمد قاسم نا نو تویؒ پر لگا یا جاتا ہے،  وہ یہ ہے کہ آپ  اجراءِ  نبوت کے قائل ہیں۔ ان کے خیال میں بانی دارا العلوم دیو بند نے اس عقیدہ کا ذکر اپنی کتاب ’’ تخد یر الناس ‘‘ میں کیا ہے یہ عقیدہ رکھنا کہ حضورﷺ کے بعد بھی اگر کوئی نبی آ جائے تو حضورﷺ کی ختم نبوت میں کوئی فر ق نہیں آ تا ہے۔ یہ عقیدہ کفر ہے اس لئے محمد قاسم نانو توی اور ان کے متبعین کا فر اور مرتد ہیں۔

یہ اعتراض سب سے پہلے علماء سوء کے امام مولوی احمد رضا خاں صاحب نے حضرت نانو توی پر کیا ہے۔جس کا ذکر انہوں نے اپنی کتاب ’’ حسام الحرمین ‘‘ میں کیا ہے۔ اس اعتراض کے متعلق بس مختصر الفا ظ میں یہی کہہ سکتے ہیں کہ لعنۃ اللہ علی الکا ذ بین، اللہ تعالیٰ منکر ین ختم نبوت پر بھی لعنت کریں اور جھوٹے الزام لگا نے والوں پر بھی خدا کی لعنت ہو۔ دیو بند یوں میں سے کوئی ختم نبوت کا انکار نہیں کرتا۔

 

تحقیقی جواب

 

حسام الحرمین کی عبارت: ہم ذیل میں وہ عبارت مولوی احمد رضا خاں صاحب بریلوی کی کتاب حسام الحرمین کی نقل کرتے ہیں جو انہوں نے حر مین الشر یفین کے علماء کو حضرت نانو توی ؒ کے متعلق لکھی اور ان سے خواہش کی کہ وہ ایسا عقیدہ رکھنے والے پر کفر کا فتوی صادر فر مائیں۔

اور قا سمیہ قاسم نا نو توی کی طرف منسو ب کی جس کی تخدیر الناس ہے اور اس نے اپنے اس رسالے میں کہا ہے۔

’’ بلکہ اگر بالفرض آپ کے زمانہ میں بھی کہیں اور نبی ہو۔ جب بھی آپ کا خاتم ہونا بد ستور باقی رہتا ہے۔ بلکہ اگر بالفر ض بعد زمانہ نبوت میں بھی کوئی نبی پیدا ہو تو خاتمیت محمدی میں کچھ فر ق نہیں آئے گا۔ عوام کے خیال میں تو رسول اللہ کا خاتم ہو نا بایں معنی ہے۔  کہ آپ سب میں آ خر نبی ہیں۔ مگر اہل فہم پر روشن ہے کہ تقدم یا تا خر زمانہ میں بالذات کچھ فضلیت نہیں۔

 

مولوی احمد رضا خان صاحب کی دیانت کا ادنی نمونہ

 

مذکورہ بالا حوالہ سے پہلے ہم طائفہ بر یلویہ کے امام کی جس علمی دیانت کی طرف اشارہ کرنا چاہتے ہیں۔ وہ مندرجہ ذیل ہے۔

اولاً : مولوی صاحب نے حضرت نانو تویؒ کی اُردو عبارت کو جو معنی پہنائے ہیں اس سے ہر اہل علم مولوی احمد رضا خان صاحب کی علمی دیانت کا اندازہ لگا سکتا ہے۔

ثانیاً : یہ عبارت مولانا نا نو توی ؒ کی تخدیر الناس میں مسلسل نہیں ہے بلکہ تین مختلف مقامات پر ہے  (١)جہاں سے آدھا آ دھا فقرہ لے کر ایک مسلسل عبارت بنا دی گئی ہے۔  آپ جانتے ہیں اگر آ دھا فقرہ دوسرے صفحہ ایک فقرہ دس صفحے اور اگلا فقرہ بیس صفحے سے لے کرمسلسل عبارت بنا دی جائے تو اس کا اصل مفہوم اور مقصد کے ساتھ کیا تعلق ہو گا۔ پس یہی حشر مولوی احمد رضا خان صاحب نے مولانا نا نو توی کے حوالے کے ساتھ کیا ہے اب ملاحظہ فر مائیں کہ اس عبارت کے فقر ات اصل کتاب کے کن کن صفحات پر ہیں۔ اور کس بد دیانتی سے ایک جگہ اکٹھا کر کے حضرت نا نو توی اور علماء دیو بند کو بد نام کیا گیا ہے۔ کہ نعوذ باللہ حضرت نا نو توی اور علماء دیو بند ختم نبوت کے منکر ہیں۔

ثالثاً : در میان میں فقرہ ختم ہونے کی نشانی یعنی ڈیش  بھی نہیں لگائی۔

(i) بلکہ اگر بالفرض آپ کے زمانے میں بھی کہیں اور نبی ہو، جب بھی آپ کا خاتم ہونا بد ستور باقی رہتا ہے۔  ( یہ صفحہ ۱۸ پر ہے۔ )

(ii) بلکہ اگر با لفرض بعد زمانہ نبویﷺ بھی کوئی نبی پیدا ہو تو پھر بھی خا تمیت محمدی میں کچھ فرق نہیں آئے گا۔  ( صفحہ ۳۴)

(iii) عوام کے خیال میں تو رسول اللہ کا خاتم ہونا یا یں معنی ہے کہ آپ کا زمانہ انبیاء سابق کے زمانہ کے بعد

(١)کہتے ہیں بریلوی مکتبِ فکر کے ” اعلیٰ حضرت” خاتم المجددین تھے۔ (پاسبانِ مجدد نمبر سنہ٥٩ءبحوالہ دیوبند سے بریلی تک ص١٥٦)   اعلیٰ حضرت کی اِس    “دیانت” سے اُن کی شانِ مجددی کا بخوبی پتہ چلتا ہے۔ اُنہوں نے بشمول دین کے، ہر چیز کی تجدید کر کے  یہ ثابت کر دیا ہے کہ واقعی وہ “مجدد” ہیں۔ (مدیر)

اور آپ سب میں آخری نبی ہیں۔ مگر اہل فہم پر روشن ہو گا کہ تقدم یا تا خر کے زمانے میں بالذات کچھ

فضیلت نہیں  ( صفحہ نمبر ۳۸)

خا تمیت ایک جنس ہے جس کی دو قسمیں ہیں ایک زمانی اور دوسری رتبی خاتمیت زما نیہ کے معنی یہ ہیں کہ حضورﷺ سب سے اخیر زمانے تمام انبیاء کے بعد مبعوث ہوئے۔ اور اب آپﷺ کے بعد قیامت تک کوئی نبی مبعوث نہیں ہو گا اور خاتمیت رتبیہ کے معنی یہ ہیں کہ نبوت و رسالت کے تمام کمالات اور مراتب حضور کی ذات بابر کات پر ختم ہیں۔ اور حضورﷺ پر نور دونوں اعتبار سے خاتم النبین ہیں۔ زمانہ کے لحاظ سے بھی آپ خاتم ہیں۔ اور مراتب نبوت اور کمالات رسالت کے اعتبار سے بھی خاتم ہیں۔ حضور کی خاتمیت فقط زمانی نہیں بلکہ زمانی اور رتبی دونوں قسم کی خاتمیت حضور کو حاصل ہے۔ اس لئے کمال مدح جب ہی ہو گی کہ جب دونوں قسم کی خاتمیت ثابت ہو۔

مولانا محمد قاسم فر ماتے ہیں کہ حضور کی خاتمیت زمانیہ قرآن اور حدیث متواتر اور اجماع امت سے ثابت ہے۔ چنانچہ اسی کتاب تخدیر الناس کے صفحہ پر تحریر فر ماتے ہیں۔

’’ سو اگر اطلاق اور عموم ہے تب تو خاتمیت ظاہر ہے ورنہ تسلیم لز وم خاتمیت زمانی بدلالت التزامی ضرور ثابت ہے۔ ادھر تصر یحات نبوی مثل انت منی بمنز لۃ ھارون من موسی الا انہ لا نبی بعدی او کماقال

جو بظاہر بطرز مذکور اسی لفظ خاتم النبین سے ماخوذ ہے اس باب میں کافی ہے۔ کیونکہ یہ مضمون درجہ تو اتر کو پہنچ چکا ہے۔ پھراس پر اجماع بھی منعقد ہو گیا ہے۔ گو الفاظ مذکور بسند متواتر منقول نہ ہو ں سویہ عدم تو اتر الفاظ با و جود تواتر معنوی یہاں ایسا ہی ہو گا۔ جیسا کہ تواتر عدد رکعات فرائض وتر وغیرہ۔ با وجودیکہ الفاظ حدیث مشعر تعداد رکعات متواتر نہیں۔ جیسا کہ اس کا منکر کافر ہے ایسا ہی اس کا منکر بھی کافر ہے۔

مولانا محمد قاسم نا نوتوی کی اس عبارت میں ا س امر کی صاف تصریح موجود ہے۔ کہ خاتمیت زمانیہ کا منکر ایساہی کافر ہے جیسا کہ تعداد رکعات کا منکر کافر ہے۔ مولانا نانو توی اس خاتمیت زمانیہ کے علاوہ حضور کے لئے ایک اور معنی کو خاتمیت فر ماتے ہیں جس سے حضور کا تمام او لین و آخرین سے افضل و اعلم ہو نا ثابت ہو جائے۔ وہ یہ کہ حضور پر نور کمالات نبوت کے منتہی اور خاتم ہیں۔ اور علوم اولین و آخرین کے منبع اور معدن ہیں۔ جس طرح تمام روشنیوں کا سلسلہ آفتاب پر ختم ہوتا ہے۔ اسی طرح تمام علوم اور کمالات کا سلسلہ حضور پر ختم ہو تا ہے۔

معاذاللہ مو لانا مرحوم خاتمیت زمانیہ کے منکر نہیں بلکہ زمانیہ کے منکر کو کافر سمجھتے ہیں لیکن اس خاتمیت زمانیہ کی فضیلت کے علاوہ خاتمیت رتبیہ کی فضیلت بھی حضورﷺ کے لئے ثابت کر نا چاہتے ہیں۔ تاکہ آپﷺ کی تمام اولین او آخرین پر فضیلت و سیادت ثابت ہو اور خاتمیت زمانی کے اعتبار سے بفرض محال اگر حضور کے بعد بھی نبی مبعوث ہو تو حضور کی خاتمیت رتبیہ میں کوئی فر ق نہیں آئے گا۔ آفتاب اگر تمام ستاروں سے پہلے طلوع کر ے یا درمیان میں طلوع کرے آفتاب کے منبع نور ہونے میں کچھ فرق نہیں آتا اسی طرح بالفرض اگر حضور پر نور تمام انبیاء سے پہلے مبعوث ہوں یا درمیان میں مبعوث ہوتے تو آپ کے منبع کمالات ہونے میں کچھ فرق نہ آتا اور یہ فر ض بھی احتمال عقلی کے درجہ میں ہے۔ ورنہ جس طرح خاتمیت زمانیہ میں حضور کے بعد نبی کا آنا محال ہے۔ اسی طرح خاتمیت رتبیہ بھی آپ کے بعد نبی کا آنا محال ہے اس لئے اگر انبیاء متاخرین کا دین دین محمدی کے مخالفت ہوا تو اعلیٰ کا ادنیٰ سے منسو خ ہونا لازم آئے گا۔ جو حق تعالیٰ کے اس قول ماننسخ من ایۃ او ننسھا نات بخیر منھا کے خلاف ہے نیز جب علم ممکن للبشر آپﷺ پر ختم ہو چکا تو آپﷺ کے بعد کسی نبی کا مبعوث ہونا بالکل عبث اور بے کار ہو گا۔ حاصل یہ نکلا کہ خاتمیت رتبیہ کے لئے خاتمیت زمانیہ بھی لازم ہے۔

 

لفظ با لفرض کی تحقیق

 

مولانا مرحوم کے نزدیک اگر حضور کے بعد کوئی نبی مبعوث ہونا شرعاً جائز ہوتا تو لفظ بالفرض استعمال نہ فر ماتے۔ مولانا مرحوم کا یہ فر مانا کہ بالفرض اگر آپ کے بعد کوئی نبی یہ لفظ بالفرض خود اس کے محال ہونے پر دلالت کرتا ہے جس کا صاف مطلب یہ ہے کہ بات محال ہے کسی طرح ممکن نہیں لیکن اگر بفرض محال تھوڑی دیر کے لئے اس محال کو بھی تسلیم کر لیا جائے تب بھی حضورﷺ کی خاتمیت رتبیہ اور آپﷺ کی افضلیت و سیادت میں کوئی فر ق نہیں آتا۔

یہ ایسا ہی ہے جیسے حضورﷺ کا یہ فر مانا لو کان من بعدی نبی لکان عمر اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا عمر ہوتا تو ظاہر ہے کہ حضور کا مقصود یہ نہیں کہ آپﷺ کے بعد نبی کا آنا ممکن ہے بلکہ یہ بتلانا مقصود ہے کہ میں خاتم النبین ہوں میرے بعد کوئی نبی ہو تا تو عمر ہوتا۔ اس ارشاد سے حضورﷺ کی خاتمیت اور عمرؓ کی فضیلت ثابت کر نا مقصود ہے۔ اس کو اس طرح سمجھو کہ اگر کوئی شخص یہ کہے کہ اگر ایک چاند نہیں بالفرض ہزاروں چاند ہوں تب بھی ان کا نور آفتاب ہی سے مستفاد ہو گا تو اس کا یہ مطلب کرتا ہے کہ آفتاب تمام انوار اور شعاعوں کا ایسا حاکم ہے اور منتہا ہے کہ اگر بالفرض ہزاروں چاند بھی ہوں تو ان کا نور بھی اسی آفتاب سے مستفاد ہو گا۔

اسطرح بالفرض ہزار چاند کہنے سے آفتاب کی فضیلت دو بالا ہو جائے گی۔ کہ آفتاب فقط اس موجودہ قمر سے افضل نہیں بلکہ اگر جس قمر کے اور بھی ہزاروں افراد فرض کر لئے جائیں تب بھی آفتاب ان سب سے افضل اور بہتر ہو گا۔

با لفر ض و اگر کے لفظ سے معلوم ہوتا ہے کہ مولانا نانوتویؒ کے نزدیک نبی کا پیدا ہو نا ناممکن اور محال کے قبیل سے ہے۔ کیونکہ قرآن پاک میں کئی محال چیزوں کو فر ض کیا گیا ہے۔

(1) اگر رحمن کا بیٹا ہوتا تو میں پہلا عابد ہوتا  (القرآن )

(2) اگر زمین و آسمان میں کئی الہ ہوتے تو فسا د ہو جاتا  (القرآن)

(3) اگر اللہ مجھے اور میرے ساتھیوں کو ہلاک کر دے  (القرآن)

تو ایسی بے شمار مثالیں آپ کو قرآن پاک میں مل جائیں گی۔ جو قضیہ شرطیہ کی قبیل میں سے ہیں اور یہ مسئلہ بھی قضیہ شرطیہ میں سے ہے اور قضیہ شرطیہ کے متعلق مولوی ابو الحسنات قادری لکھتے ہیں

(1) یہ قضیہ شرطیہ ہے اور قضیہ شرطیہ کے صد ق کیلئے یہ لازم نہیں کہ اس کے طر فین صادق ہوں مثلاً اگر کوئی ضعیف بوڑھا آدمی کہے کہ میں جوان ہو جاؤں تو فلاں کام کروں گا۔ ظاہر ہے کہ ا س کا جوان ہونا اور  اس کام کا وجود میں آنا ناممکن ہے۔   (تفسیر الحسنات۔ ج1۔ ص 283)

(2) اور یہی بات مفتی احمد یار نعیمی لکھتے ہیں

نہ خدا کا بیٹا ہونا ممکن ہے اور نہ ہی حضورﷺ کا ان بے دینو ں کی طرف مائل ہونا۔ قضیہ شرطیہ محض تعلق بتا تا ہے اسے مقد موں کے امکان سے کوئی تعلق نہیں۔   (تفسیر نعیمی۔ ج 1۔ ص 603)

(3) دو سری جگہ لکھتے ہیں بالکل نا ممکن چیز کو ناممکن پر معلق کر دیا جاتا ہے۔  (تفسیر نعیمی۔ ج ا۔ ص 670)

معلوم ہو گیا کہ نہ تو رحمت کائناتﷺ کے بعد نبی آنا ممکن ہے اور نہ ہی فرق پڑ نا ممکن۔ بلکہ یہ تو محض قضیہ شر طیہ ہے کہ دونوں جز و ں کے وقوع اور امکان کو ثابت نہیں کر رہا جیسا کہ مفتی احمد یار نعیمی نے لکھا ہے یہ قاعدہ ہی سرے سے غلط ہے کہ یہ جملہ شرطیہ جس کا مقصد ہوتا ہے سببیت کا بیان کرنا یعنی شرط سبب ہے جز ا کی اس کا ذکر نہیں ہوتا کہ یہ دونوں واقع یا ممکن ہیں۔   (تفسیر نعیمی۔ ج ا۔ ص 670)

اب ا س سے یہ گمان کرنا کہ مولانا نانوتوی ؒ نے نبی کے آنے کو جائز قرار دیا با طل ٹھہر ا۔

اسی طرح نبی کریمﷺ کی تمام افراد نبوت پر فضیلت اور  بر تری بتلانا مقصود ہے خواہ افراد ذہنی ہوں یا خارجی محقق ہوں یا مقدر ممکن ہوں یا محال اور یہ کہ حضور پر نور پر سلسلہ نبوت علی الا طلاق ختم ہے زمانی بھی اور رتبی بھی۔

مولانا نے یہ کہیں نہیں فرمایا کہ سرور عالمﷺ کے بعد نبی کا آنا شرعاً جائز ہے۔ بلکہ یہ بھی فرماتے ہیں کہ جو شخص اس امر کو جائز سمجھے کہ حضور کے بعد نبی کا آنا شرعاً ممکن الوقوع ہے وہ قطعاً دائرہ اسلام سے خارج ہے۔

چنانچہ حضرت نا تو توی ’’ مناظرہ عجیبہ کے صفحہ ۳۹ پر لکھتے ہیں ” خاتمیت زمانیہ اپنا دین و ایمان ہے۔ ناحق کی تہمت کا البتہ کوئی علاج نہیں۔ ”

پھر اسی کتاب کے صفحہ ۱۰۲ پر لکھتے ہیں

” امتناع بالغیر میں کسے کلا م ہے اپنا دین و ایمان ہے کہ بعد رسول اللہﷺ کے کسی اور نبی کے ہونے کا احتمال نہیں جو اس کا قائل ہو۔ اسے کافر سمجھتا ہوں۔ ”

 

مزید اعتراض

 

بعض لوگ کہتے ہیں کہ ہمیں اعتراض ا س بات پر ہے کہ فر ق نہیں آئے گا۔

الجواب :

(1) بات پیچھے گذری کہ قضیہ شرطیہ سے وقوع یا امکان سمجھنا غلط ہے لہذا جب اس کا وقوع اور امکان ہی نہیں تو اعتراض کیسا۔

(2) سورج چمک رہا ہو اور اگر بالفرض تار ا نکل آئے تو سورج کی چمک دمک میں فر ق آئے گا ؟بالکل نہیں ایسے ہی فرق یہاں بھی نہیں آئے گا۔

 

الزامی جواب

 

(1)بریلوی اکا بر ین کے دو مختلف کونسلیں تحذیر الناس کے متعلق فیصلہ دے چکے ہیں۔

پہلی کونسل:

(5)  خواجہ قمر الدین سیا لوی صاحب  (ii) مولانا محبوب الرسول للہ شریف جہلم  (iii) قار ی الحاج محمد حنیف صاحب سجادہ نشین کوٹ مومن  (iv) مولانا حکیم صدیق صاحب سند یافتہ لکھنو  (v)مولانا محمد تا ج الملوک صاحب فاضل خطیب جامع شا ہ پورہ گجرات  (vi) حضرت مولانا محمد فضل حق خطیب میلو والی ضلع سر گودھا  (vii)مولوی مولانا غریب اللہ صاحب صد ر مدرس مدرسہ عزیزیہ شاہی مسجد بھیرہ  (viii) مولانا الحاج مفتی محمد سعید صاحب نمک میانی  (ix) حضرت پیر سید حامد شاہ خطیب جامع مسجد متصل ہسپتا ل (x) حضرت پیر سید محمد صاحب خطیب جامع مسجد پویس لائن سر گو دھا۔

دو سری کونسل علماء بر یلویہ:

پیر کرم شاہ بھیروی کی زیر نگرانی میں ان کے مدرسہ کے اساتذہ یعنی دارالعلوم محمد یہ غوثیہ کے اساتذہ نے مل کر تحقیق کی۔

اور با لآ خر اس کونسل نے جو نتیجہ نکالا وہ یہ تھا جو پیر کرم شاہ نے اپنے لفظوں سے لکھا ’’ جو تحذیر الناس میری نظر میں‘‘ کے آخر میں درج ہے۔

یہ کہنا درست نہیں سمجھتا کہ مولانا نوتوی عقیدہ ختم نبوت کے منکر تھے کیونکہ یہ اقتباسات بطور عبارۃ النص اور اشارۃ النص اس امر پر بلا شبہ دلالت کرتے ہیں کہ مو لانا نانو توی ختم نبوت زمانی کو ضروریات دین سے یقین کرتے تھے۔ اور اس کے دلائل کو قطعی اور متواتر سمجھتے تھے۔ انہوں نے ا س بات کو صراحۃً ذکر کیا ہے کہ جو حضورﷺ کی ختم نبوت زمانی کا منکر ہے و ہ کافر ہے اور دائرہ اسلام سے خارج ہے۔   ( تحذیر الناس میری نظر میں۔ ص 58)  (جمال کرم۔ ج ا۔ص694)

اور پہلے اکابرین کی فہرست میں سے ہم صرف خواجہ قمر الدین سیالوی کا ارشاد عرض کرتے ہیں

میں نے تحذیر الناس کو دیکھا میں مولانا قاسم صاحب کو اعلیٰ در جے کا مسلمان سمجھتا ہوں مجھے فخر ہے میری حدیث کی سند میں ان کا نام موجو دہے۔ خاتم النبین کا معنیٰ بیا ن کرتے ہوئے جہاں تک مولانا کا دماغ پہنچا ہے۔ وہاں تک معترضین کی سمجھ نہیں گئی۔ قضیہ فرضیہ کو واقعہ حقیقیہ سمجھ لیا گیا ہے۔  (ڈھول کی آواز۔ ص116۔117)

(2) مولوی سعید احمد کاظمی لکھتے ہیں

ہمیں نا نو تو ی صاحب سے یہ شکوہ نہیں کہ انہوں نے رسول اللہﷺ کیلئے تا خر زمانی تسلیم نہیں کیا یا یہ کہ انہوں نے رسول اللہﷺ کے بعد مدعیان نبوت کی تکذیب و تکفیر نہیں کی۔ انہوں نے یہ سب کچھ کیا  (مقالات کاظمی۔ ج 2۔ ص360)

(3) مفتی جلال الدین امجدی صا حب لکھتے ہیں

بے شک سر کار اقدسﷺ کے بعد کسی نبی کا پیدا ہونا  شرعاً محال اور عقلاً ممکن بالذات ہے۔   (فتاویٰ فیض الرسول۔ ج 1۔ص 9)

(4)مفتی خلیل احمد خان قا دری بر کاتی لکھتے ہیں

مولوی محمد قاسم مرحوم کی تصانیف کے مطالعہ سے ثابت ہوتا ہے کہ و ہ خا تمیت زمانی یعنی نبی پاکﷺ کے آخری ہونے کے منکر نہیں بلکہ مثبت ہیں۔ اس لیے کفری قول کو ان کی طرف نسبت کرنا ہر گز صحیح نہیں  (انکشاف حق۔ ص 114)

(5) مفتی احمد یار خان نعیمی لکھتے ہیں

اگر قادیانی نبی ہوتا تو وہ دنیا میں کسی کا شاگرد نہ ہوتا۔   (نور العرفان۔ ص 166)

دو سری جگہ لکھتے ہیں

اگر مر زا قادیانی نبی ہو تا تو پٹھانوں کے خوف سے حج جیسے فریضہ سے محروم نہ رہتا۔   (نور العرفان۔ ص 806)

ایک جگہ لکھتے ہیں

اگر قادیانی نبی ہوتا تو حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اولاد میں ہوتا۔   (نور ا لعرفان۔ ص166)

٭٭٭

 

 

 

 

 

سرمایہ

 

                اکبرؔ الٰہ بادی

 

سنا کہ چند مسلمان جمع تھے یکجا

خدا پرست، خوش اخلاق اور بلند نگاہ

کہا کِسی نے یہ اُن سے کہ یہ تو بتلاؤ

تمہاری عزت و وقعت کا کس طرح ہے نباہ

نظر کرو طرفِ اقتدارِ اہلِ فرنگ

کہ اُن کے قبضہ میں ہے ملک و مال و گنج و سپاہ

انھیں کا سکہ ہے جاری یہاں سے لندن تک

انھیں کی زیرِ نگیں ہے ہر اک سفید و سیاہ

کلیں بنائی ہیں وہ وہ کہ دیکھ کر جن کو

زبانِ خلق سے بے ساختہ نکلتی ہے واہ!

تمہارے پاس بھی کچھ ہے کہ جس پہ تُم کو ہے ناز؟

کہا انہوں نے کہ ہاں لا الٰہ اِلا اللہ

٭٭٭

 

 

 

 

مقام

 

                علامہ اقبال ؒ

 

لا پھر اک بار وہی بادہ و جام اے ساقی

ہاتھ آ جائے مجھے میرا مقام اے ساقی!

تین سو سال سے ہیں ہند کے میخانے بند

اب مناسب ہے ترا فیض ہو عام اے ساقی

مری مینائے غزل میں تھی ذرا سی باقی

شیخ کہتا ہے کہ ہے یہ بھی حرام اے ساقی

شیر مردوں سے ہوا بیشۂ تحقیق تہی

رہ گئے صوفی و ملا کے غلام اے ساقی

عشق کی تیغ جگر دار اڑا لی کس نے

علم کے ہاتھ میں خالی ہے نیام اے ساقی

سینہ روشن ہو تو ہے سوز سخن عین حیات

ہو نہ روشن،  تو سخن مرگ دوام اے ساقی

تو مری رات کو مہتاب سے محروم نہ رکھ

ترے پیمانے میں ہے ماہ تمام اے ساقی!

٭٭٭

 

 

 

 

 

ادبی منافقت

 

                عالم نقوی

 

 

یہ بحث بہت پرانی ہے کہ ادب برائے زندگی ہو یا محض۔  برائے شعر گفتن۔ اور اگر چہ یہ سوال کسی دل جلے ہی نے کیا ہے کہ شعر گفتن چہ ضرور؟ لیکن اس کے مختلف و النّوع جوابات سے دفتر کے دفتر بھرے پڑے ہیں۔

فضیل جعفری افسانوں کے مجموعے ’’شیر آہو خانہ‘‘ میں اس کے خالق قمر احسن اعظمی کے اسلوب کا ذکر کرتے ہوئے یہ تأثر دینے کی کوشش کرتے ہیں کہ ’’گردو پیش کے حالات اور مسائل کی عکاسی اپنے زاویۂ نگاہ سے بلکہ خالصتاً اپنی مرضی سے کرنا چاہیے‘‘ اور عام قاری کے رد عمل کی پروا ہ نہ کرنی چاہیے۔ یا یہ کہ ’’شاعر یا ادیب کے لیے اپنے ہر تجربے، ہر جذبے یا ہر احساس کی توضیح مناسب نہیں‘‘۔  اور وہ اس کی توجیح یہ پیش کرتے ہیں کہ۔ ’’ جو شخص دوسروں سے الگ اپنے لیے ایک راستہ بنانا چاہتا ہے اور اپنی ایک منفرد شناخت قائم کرنا چاہتا ہے اسے عام قاریوں کی طرف سے ملنے والی ناپسندیدگی کی قیمت تو چکانی ہی پڑے گی۔ (1)

جہاں تک اپنی راہ الگ بنانے اور اپنی شناخت قائم کرنے کی بات ہے تو اس میں کسی کو اعتراض نہیں ہو سکتا لیکن، کہیں اس کلمۂ حق کا استعمال باطل کے لیے تو نہیں ہو رہا ہے؟

کچھ لوگوں نے،  جو اس بحث میں پڑنا ہی نہیں چاہتے،گریز کی ایک نئی راہ نکالی ہے۔ مثلاً عبد الاحدسازؔ اپنے مجموعۂ کلام ’’خموشی بول اٹھی ہے‘‘ کے دیباچے میں لکھتے ہیں کہ۔  ’’جدید شاعری جسے اب عصری شاعری کہنا زیادہ مناسب ہے اپنے دائرہ سفر کی ایک بڑی قوس پوری کر کے متوازن ہو چلی ہے‘‘ (2)اس بیان میں وہ یہ تو تسلیم کرتے ہیں کہ ادھر انحراف تھا۔ مگر فوراً ہی صفائی بھی دیتے ہیں کہ اب وہ راہ راست پر آ لگی ہے۔

لیکن، ہم ایک اور سوال اٹھانا چاہتے ہیں۔ اور وہ یہ کہ ادیب و شاعر کے بے حسن، خیر اور صداقت پر مشتمل جوہر انسانیت کا حامل انسان ہونا بھی ضروری ہے یا نہیں؟ کیا بڑا ادب یا ’ادب عالیہ اور آفاقی شعر صرف اس لیے ہوتا ہے کہ اس پر عالمانہ اور فلسفیانہ بحثیں کی جائیں یا اس کی تعریف میں زمین و آسمان کے قلابے ملا دیے جائیں اور بس؟ قاری یا سامع کی ذمہ داری ختم ؟ اس بڑے ادیب،  بڑے شاعر یا اس کے ’شاہکار، کا حق ادا ہو گیا؟

رگھو پتی سہائے فراقؔ بیسویں صدی کے ایک بہت بڑے شاعر تھے قمر احسن کے لایعنی و بے معنی افسانوں کا دفاع کرنے والے نقاد تو انہیں میرؔ و غالبؔ کے ہم پلّہ شاعر قرار دیتے ہیں۔ وہ فراقؔ۔ ہم جنسی کے مریض تھے۔  (اب جن کے نزدیک ہم جنسی کوئی مرض نہیں بلکہ محض ایک Normal Sexual Manifestationہے، سرَ دست وہ ہمارے مخاطب بھی نہیں ہیں)یا۔  ایک اور بڑے شاعر تھے فیض احمد فیضؔ۔  ان کی حسن پرستی  (افلاطونی یا تصوفانہ (؟)نہیں) بلکہ گوشت پوست کے حسینوں کی پرستش کا یہ حال تھا کہ دوستوں کی بیویاں بھی ان کے تصرف سے نہ بچتی تھیں۔ یہاں تک کہ جب وہ مرے تو ان کی ایک فین (Fan)نے  (جو خیر سے با شوہر بھی ہیں)اپنے اور اس عظیم شاعر کے درمیان ہونے والی خط و کتابت باقاعدہ کتابی صورت میں شایع کروا دی، جس میں ’’معاملات‘‘ کا وہ بیان بھی شامل ہے جو نظم میں کالی داس سے لے کر شعرائے اودھ کی مثنویات سے ہوتے ہوئے کمار پاشی اور میراجی تک اور نثر میں الف لیلیٰ سے لے کر ڈی ایچ لارنس کی لیڈی چیٹرلیز لورLady Chatterley’s Loverاور قاضی عبد الستار کی ’حضرت جان‘ سے ہوتے ہوئے منٹوؔ اور عصمت تک کم یا زیادہ،  تھوڑا یا بہت، پوشیدہ یا علانیہ، ہر جگہ موجود ہے۔ یقین نہ آئے تو محترمہ سرفراز اقبال کی تالیف کردہ کتاب ’دامن یوسف، اٹھا کے دیکھ لیجئے، بقول ’خامہ بگوش،  (مشفق خواجہ مرحوم) ان خطوں میں کیا کچھ ہو گا، ذیل کے اقتباس سے اس کا اندازہ بآسانی لگا یا جا سکتا ہے:

’’جو تم نے لکھا ہے، کیفیت اپنی بھی کچھ ایسی ہی ہے، یعنی جہاں تک بدعادتوں کا تعلق ہے، تمہاری عادت ہمیں کچھ اتنی پڑ چکی ہے کہ آنکھ کھلتے ہی ’’صبا کے ہاتھ میں نرمی ہے ان کے ہاتھوں کی، ،  والا مضمون ذہن میں آتا ہے۔  (ص61)‘‘

بیسویں صدی میں ایک اور بڑے شاعر تھے جون ایلیا، جو اس مسئلے میں گرفتار تھے کہ اگر ’’انسانی ناف کے اوپر بالوں کی لکیر نہ پائی جاتی تو آخر کس نظامیت بدنی کو نقصان پہنچ جاتا؟‘‘ 90کے دہے میں جب ان کا مجموعۂ کلام ’’شاید‘‘ شایع ہوا تھا جس کے دیباچے میں انھوں نے مذکورہ اعتراض فرمایا ہے اس وقت وہ ماشاء اللہ ایک عدد جرنلسٹ اور کالم نگار بیوی زاہدہ حنا،اور کچھ جوان بچوں کے باپ تھے۔ بعد میں زاہدہ حنا نے ان سے طلاق لے لی اور اب تو جون ایلیا بھی دنیا سے رخصت ہو کر اسی خالق حقیقی کے پاس پہنچ چکے ہیں جس کے وہ شاکی تھے۔

شاعر بزرگ مذکور نے ’شاید‘ کے دیباچہ میں لکھا ہے کہ ’’میں نے اپنی بعض محبوبات کی پنڈلیوں پر بالوں کی جھلک دیکھی ہے اور بعض کی پنڈلیاں بالکل صاف پائی ہیں۔ بعض محبوبات کا  (خیال رہے کہ دونوں مقام پر صیغۂ جمع ارشاد ہوا ہے) پیالۂ ناف گہرا پایا ہے اور بعض کا اُتھلا۔ میں شاعر، عاشق اور معشوق کے طور پر  (یہ معشوق ہونا، کہیں ان کی کسی اور ‘ھور’ ’’خصوصیت‘‘ کا اعتراف تو نہیں؟)ان مظاہر کی توجیح کرنے کا قطعاً ذمہ دار نہیں ہوں۔ مگر ایک سوچنے والے غیر جذباتی فرد کے طور پر سوال کرنے کا حق رکھتا ہوں کہ ایسا کیوں ہے؟ اس’’بے نظامی‘‘ کوکس نظام کا نتیجہ قرار دیا جائے؟‘‘ (3)

یہ اور بات ہے کہ دنیا کے تمام سائنسدانوں کا  (جو شاعر بے شک نہیں تھے) اس بات پر اتفاق ہے کہ اس کائنات کے حقیر ترین ذرّے ایٹم سے لے کر نظام شمسی تک اور ہماری کہکشاں سے  (کہ ہمارا نظام شمسی جس کا ایک معمولی سا حصہ ہے) خلائے بسیط کی محدود وسعتوں تک پھیلے ہوئے معلوم و نا معلوم اجرامِ فلکی تک ایک حیرت انگیز ’’نظام ‘‘ یا ’’نظم و انتظام‘‘ پایا جاتا ہے کہ جس میں ایک سکنڈ کے کروڑویں حصّے کا فرق بھی اس پورے نظام کو تہ و بالا کر سکتا ہے!

جو ن ایلیا ایک طرف اپنے ’عالمِ و فلسفی،  ہونے کا دعویدار تھے اور دوسری طرف ’یقینیات‘  سے محرومی کا شکوہ بھی کرتے تھے۔ وہ فرماتے ہیں۔ ’’ یہ کائنات ایک واقعہ ہے جو عظیم الشان پیمانے پر متصلاً پیش آ رہا ہے۔ وہ شے جو زمانی اور مکانی طور پر واقع نہ ہو یا پیش نہ آئے غیر موجود ہوتی ہے۔ خدا زمانی یا مکانی طور پر واقع نہیں یا پیش نہیں آتا،  اس لیے وہ غیر موجود ہے‘‘ (4)انھیں یہ مسئلہ پریشان کرتا ہے کہ ’’کائنات کی کوئی غایت ہے یا نہیں؟ ارسطو یا ہٹلر کے پیدا ہونے کی آخری کیا غایت تھی، اگر ہمالیہ شمال کے بجائے جنوب میں واقع ہوتا تو اس میں کیا استحالہ تھا‘‘ (١) (5)

یہ پریشاں خیالی اور ژولیدہ فکری ثبوت اس بات کا ہے کہ کائنات پر غور کرتے ہوئے انھوں نے اپنے سمندذہن و توَسنِ عقل کو حکمت کی لگام کے ساتھ آزاد نہیں چھوڑا بلکہ محض چند ’انسان ساختہ، فلسفوں کے مطالع تک خود کو محدود رکھا اور کیا فلسفہ؟ جو خود ایک بہت بڑے فلسفی کے نزدیک ’’ ہمبگ‘‘ Humbugہے تشکیک کی وادی میں بھٹکنے کے باوجود اُس فلسفۂ حیات و کائنات سے وہ قصداً گریزاں رہے جس کے مطالعے اور اس پر غور فکر سے عین ممکن تھا کہ وہ ’’یقینیات‘‘ سے محروم ہونے کے بجائے ’اہل یقین، میں شامل ہو جاتے کیونکہ قرآن ہانکے پکارے کہہ رہا ہے کہ ’’ بے شک آسمان و زمین کی خلقت میں اور لیل و نہار کے اختلاف میں ارباب عقل کے لیے نشانیاں موجود ہیں اور یہ وہ لوگ ہیں جو ہر وقت خواہ کھڑے ہوئے ہوں یا بیٹھے ہوں یا پہلو کے بھل لیٹے ہوئے ہوں۔ آسمان و زمین کی خلقت میں غور فکر کرتے رہتے ہیں اور  (اس نتیجے پر پہنچتے ہیں) کہ رَبَّناَ ماَخَلَقْتَ ھٰذا باطِلاً پالنے والے تو نے ان تمام اشیا کو بے کار نہیں خلق کیا ہے (آل عمران190۔91)

حقیقت یہ ہے کہ ’’نظامیت بدلنی‘‘ اور کائنات میں بے نظمی کا شکوہ کرنے والے یہ لوگ بھی بیکار نہیں خلق   (١)جب انسان خود کو “بحمد اللہ” کے بغیر “عقلمند” سمجھنے لگتا ہے، اور اللہ عزوجل   پر سے اس کی نگاہ ہٹ جاتی ہے تو اُس سے یوں ہی “عقلمندیاں” سرزد ہوتی ہیں۔  (مدیر)

کیے گئے ہیں۔ بلکہ ان جیسے لوگ گروہ’’ یعقلون‘‘ کے لیے نمونۂ عبرت ہیں کہ دیکھو اور غور کرو کہ جب عقل کے شہ زور گھوڑے کے منھ پر ’حکمت‘ کی لگام نہیں دی جاتی تو معلم الملکوت سے ابلیس بننے میں زیادہ دیر نہیں لگتی۔

غرض کہ سنسکرت، عربی انگریزی اور اردو ادیبوں شاعروں اور آرٹسٹوں کی ایک طویل فہرست ہے کہ جس میں شامل افراد کا نام دنیا ے ادب و فنون لطیفہ میں نہایت ادب و احترام سے لیا جاتا ہے لیکن ان کی نجی زندگی کے جو احوال تحریری طور پر ہم تک پہنچے ہیں وہ اس کا ثبوت ہیں کہ وہ ’عظیم، لوگ نہایت گھٹیا قسم کے نفس پرست ضلالت میں پڑے ہوئے کمزور انسان تھے۔ اچھا وہ بہت بڑے ادیب و شاعر یا فن کار بھی تھے۔ تو پھر؟؟ ان کی لفظی بازی گری یا برش کی مشاقی سے انسان کا کیا بھلا ہوا؟ انھوں نے تہذیب اور مہذب سماج کے ارتقا میں کیا رول ادا کیا؟ انھوں نے انسان اور انسانیت اور معاشرے کو کیا دیا؟ ہاں یہ ضرور ہوا کہ ہم جیسے چھُٹ بھیوّں کے لیے ان کا نمونۂ عمل کھل کھیلنے کے واسطے بنے بنائے ’جواز، کی شکل اختیار کر گیا۔  ہم آج کتنے ہی ایسے ادبیوں، شاعروں، دانشوروں اور اساتذہ کو جانتے ہیں کہ جو مے نوشی اور ہوس پر ستی کو ’’دانشورانہ فضیلت،،  سمجھتے ہوئے شعوری طور پر اپنائے ہوئے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ کسی کی نجی زندگی سے ہمیں کیا لینا؟ ہر شخص کو اپنی فکر اور اپنے ارادے کے مطابق اپنی ذاتی زندگی کو گزارنے کا اختیار ہے۔  اور کسی کو حق نہیں کہ اس میں جھانکنے کی کوشش کرے یا اسی پر اس کے ادب اور شعر کو محمول کر کے رائے قائم کرے۔ دانشوران شعرو ادب ہم جیسے’’غیر ادیب‘‘ غیر شاعر اور غیر دانشور‘‘ لوگوں کو چپ کرانے کے لیے اسی طرح کی باتیں کرتے ہیں۔

بے شک کسی کو حق نہیں کہ وہ تاکا جھانکی کرتا پھر ے یا دوسروں کی ٹوہ میں رہے ہم نے کب کہا؟ یہ تو ’’زندگی کے ٹھیکے داروں کا شغل ہے کہ ’’سماج کے ناسور‘‘یا اس کا ’حسن‘ دکھانے کے لیے گلی گلی، کمرے کمرے ٹوہ لیتے اور جھانکتے پھرتے ہیں اور پھر جو کچھ نظر آتا ہے اسے اور ’’مزے دار‘‘ بنا کر قاری یا سامع یا ناظر کے چٹخاروں کے لیے پیش کر دیتے ہیں اور اسی خمیر سے بنے ہوئے نقلی وتقلیدی نقادوں کی ٹولیاں ادب یا آرٹ میں اس فن پارے کا مقام تلاش کرنے کے لیے’’دانشورانہ‘‘ موشگافیوں میں مشغول ہو جاتی ہیں۔

یہاں تو حال یہ ہے کہ دانشور حضرات خود ہی اپنی تحریروں، فن پاروں سوانحی خاکوں سفرناموں یا انٹر ویو ز میں اپنے’’عادات و اوصاف‘‘ کا اعلان کرتے رہتے ہیں اور تاکا جھانکی کا شوق رکھنے والوں کو زحمت مزید سے بچا لیتے ہیں۔ توپھر ہمیں پر یہ قدغن کیوں کہ ہم ادب یا آرٹ میں ان کا مقام متعین کرنے کے لیے ان کی نجی زندگی اور ان کے معائب و محاسن پر نظر نہ رکھیں اور یہ دیکھنے کی کوشش نہ کریں کہ ان کے قول و فعل میں تضاد تو نہیں؟ وہ جو بڑی بڑی اور اچھی اچھی باتیں کرتے نہیں تھکتے۔ خود بھی ان کے عامل ہیں؟

رہی یہ بات کہ کسی ادیب،  آرٹسٹ یا شاعر کی قدرو منزلت آنکنے کے لیے اس کے کردار پر نگاہ نہ ڈالی جائے بذات خود مہمل ہے۔

تھوڑی دیر کے لیے یہ نرالی منطق مان بھی لی جائے تو فرائڈ Frued اس کے فن تحلیل نفسی (Psyeo analyses)اور تحت الشعور و لاشعور کی تھیوریوں کا کیا ہو گا؟ جن پر ماہرین نفسیات سے زیادہ ادیبوں شاعروں اور نقادوں نے بغلیں بجائی ہیں اور فرائڈسے سیکڑوں سال قبل کے فن کاروں تک کی تحلیل نفسی کر ڈالی ہے۔ جی، فن تحلیل نفسی کی خدمت کے لیے نہیں، بلکہ خو پر اٹھنے والی انگلیوں کا رخ موڑنے کے لیے کہ دیکھو وہ اور وہ بھی تو’’ایسے ‘‘ اور ’’ویسے‘‘ تھے مگر اس کے باوجود وہ کتنے ’’بڑے ‘‘ تھے!

لہٰذا ہم یہی سوال اٹھانا چاہتے ہیں کہ بالفرض کوئی بڑا آرٹسٹ بڑا ناول نگار، بڑا افسانہ نگار یا بڑا شاعر ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔تو پھر؟؟

اوّل تو یہ ’’بڑے‘‘ کا سابقہ ہی مہمل ہے۔ یہاں تو یہی چیز محّلِ نظر ہے کہ اگر وہ آدمی کو انسان بننے میں مدد نہ دے سکے، ’بھیڑ‘ کے’ معاشرے‘ میں تبدیل ہونے کے عمل میں معاون نہ ہو سکے اور ’’تلاش کمال‘‘ میں آدمی کو انسانی حدّ کمال کے قریب تک نہ لے جا سکے تو اس کے بڑا ادیب شاعر آرٹسٹ یا نقاد ہونے سے فائدہ ؟

احسنؔ جو نہ بدلے قسمت دل اس حرف و نواسے کیا حاصل؟

بنیاد ستم جو ڈھا نہ سکے، وہ شعر ہے کیا؟ تقریر ہے کیا؟

جو یہ چاہتے ہیں کہ اگر وہ شراب و شباب میں غرق رہیں تو کوئی ان پر انگلی نہ اٹھائے۔ وہ اگر جنسی بے راہ روی کے شکار ہوں اور ’ ہم جنسی، ان کے لیے شہوانی خواہشات کا فطری نکاس Out letہو ‘آتے بلکہِتو کوئی ان پر اعتراض نہ کرے۔ وہ اگر شادی شدہ ہوتے ہوئے بھی جس کسی پر دل آ جائے اسے اپنے تصرف میں لانا اپنا ’’حق دانشوری‘‘ سمجھتے ہوں تو کوئی ٹوکنے روکنے کی جرأت نہ کرے۔ وہ اگر اپنی محبوبات کے پیالۂ ناف کے اتھلے پن یا گہرائی کے بیان میں فخر کریں تو آپ اپنا سر شرم سے نہ جھکائیں۔

وہ اگر یہ کہے کہ ’’فن کے تعلق سے ہر وہ اخلاقیات جو جمالیات کے مفہوم سے کم یا زیادہ مفہوم رکھتی ہو وہ اخلاقیات نہیں ہوتی بلکہ ’عقیدہ، ہوتی ہے اور عقیدوں کا حسن اور فن سے کوئی غیر مشروط تعلق نہیں ہوتا۔ عقیدوں کے نظام۔  غیر مشروط حسن، خیر اور فن سے تضاد کی نسبت رکھتے ہیں۔ چنانچہ ’مابعد الطبعی،  حقائق کے شاعر  (جیسے مولانا رومؒ اور اقبالؒ ) شاعر سے بلند مرتبے کے حقدار تو ہو سکتے ہیں مگر شاعر نہیں ہو سکتے۔۔۔۔۔۔۔‘‘ (6)

تو آپ ان لوگوں کی گرفت نہ کریں انھیں بڑا شاعر مانیں اور ان کے قصیدے پڑھیں کیونکہ وہ فراقؔ،  فیضؔ اور جونؔ ایلیا جو ہیں!

ہم جب بڑے ادیبوں،  شاعروں اور فن کاروں،  فرانسیسی نظریہ سازوں، یونانی مفکروں، اور انگریزی و عربی کے بعض ادیبوں اور شاعروں کی زندگی پر نگاہ ڈالتے ہیں تو ہمیں واضح طور پر  دو گروہ نظر آتے ہیں۔  ایک تو وہ جو مظاہر فطرت اور اپنے درون و برون پر غور فکر کے بعد کسی نتیجے پر پہنچے اور پھر اپنی پوری زندگی اپنے تلاش کردہ (یا ایجاد کردہ) فلسفے،  نظریے اور نظام میں ڈھال دی۔ یعنی جو کچھ کہا اسے کر کے اور برت کے دکھا دیا۔ مارکس، نطشیے میراجی اور دریداؔ اس فہرست کے چند نمائندہ نام ہیں۔ ان سب کی فکر صراط مستقیمی بھلے ہی نہ ہو لیکن وہ بذات خود اپنے نظریے اور فلسفے کے تئیں مخلص تھے۔

اور دوسرے گروہ میں وہ لوگ شامل ہیں جو ساری زندگی تبلیغ تو ایک نظریے کی کرتے رہے لیکن نجی زندگی دوسرے کے مطابق گزاری۔ ہمارے نزدیک فرائیڈ،ڈارون، ن۔ م۔  راشد، گیان چند جین، گوپی چند نارنگ، قاضی افضال اور شمس الرحمن فاروقی اسی گروہ ثانی سے تعلق رکھتے ہیں۔ گیان چند کی آخری کتاب ایک بھاشا دو لکھاوٹ دو ادب، گوپی چند نارنگ کی وہ سبھی کتابیں اور مضامین جو مابعد جدیدیت کی تشریح و تفسیر اور اشاعت کے لیے لکھے گئے اور شمس الرحمن فاروقی کے ’سوار اور دوسرے افسانے‘ اور ناول’ کئی چاند تھے سر آسماں‘ اس کا ثبوت ہیں۔ مثال کے طور پر آخرالذکر کی پوری زندگی شب خونی جدیدیت کے پر چار میں گزری لیکن جب شاعری کی، افسانے لکھے اور ناول لکھا، تو اس پر چیستانیت،  محیرالعقولیت، کرب تحقیق اور المیۂ ذات کے فلسفۂ جدیدیت کی کوئی چھاپ نظر نہیں آتی۔ فاروقی نے قمر احسن اعظمی کو تو اسپ کشت مات میں پھنسا رکھ کر نا کارہ بنا دیا اور خود میرؔ غالبؔ مصحفیؔ اور داغؔ اور ان کے ہر دم تغیر پذیر اور زوال آمادہ عہد پر شاہکار ناول اور افسانے لکھ ڈالے ! اگر یہی صحیح تھا تو قمر احسنوں کو کیوں غارت کیا اور اگر شب خونی نظر یہ و اسلوب درست تھا تو خود سیدھے سادھے بیانیہ والے اسلوب کو کیوں اپنایا؟کوئی ہمیں بتائے کہ اگر یہ منافقت  Hypocrisyنہیں تو پھر کیا ہے؟

یہی حال شاعروں کا ہے۔ بلکہ ان کا تو زیادہ برا حال ہے۔ کیونکہ ان میں اکثر کے لیے تو قرآن ہانکے پکارے کہہ رہا ہے کہ وہ تلامیذ الرحمن نہیں تلامذۂ شیطان ہوتے ہیں اور شیاطین جھوٹوں اور بدکرداروں ہی پر نازل ہو سکتے ہیں۔ ایسے شاعروں کی پیروی صرف گمراہ کرتے ہیں کیونکہ یہ تخیل کی وادیوں میں مارے مارے پھرتے ہیں اور ایسی باتیں کہتے ہیں جن پر خود کبھی عمل نہیں کرتے۔

مگر منافقین اور مخلصین کے دو گروہ یہاں بھی ہیں۔ بلکہ شعرا میں تو اکثریت منافقین کی ہے اور ان میں چھوٹے اور بڑے اچھے اور برے تحت خواں اور گلے بازاساتذہ اور تلامذہ سب ایک ہی کشتی کے سوار ہیں۔ غالب ہوں یا انشاء فراق ہوں یا فیض،  مجاز ہوں یا جون ایلیا، کم یا زیادہ،  تھوڑا یا بہت،  قول فعل کا تضاد اور آفاقی اخلاقی قدروں سے انحراف ہر ایک کے یہاں موجود ہے۔

لیکن اس ہجوم میں وہ لوگ بھی ہیں جو اَنَّھُمْ یَقولُونَ مَالا یَفْعَلُونَ کے زمرے میں نہیں آتے بلکہ اِلَّا اَلّذِینَ آمنُو وَ عَمِلُوالصّٰلِحٰتِ وَذکُرُواللّٰہ کثیراً کے اقلیتی گروہ میں شامل ہیں۔ وہ محض دون کی نہیں ہانکتے۔  نہ فلسفیانہ کج بحشی ان کا شیوہ ہے نہ شعر برائے شعر ان کا نظریہ۔ حق گوئی و بیباکی ان کا وطیرہ ہوتا ہے اور فروتنی وانکساری ان کا مزاج،  ان کے درون کا انسان ان کے اندر کے شاعر پر حاوی رہتا ہے۔ انھیں ہر وقت یاد رہتا ہے۔ کہ انھیں ایک ایک لفظ اور ایک ایک حرف کا حساب دینا ہے۔ انہیں معلوم ہے کہ ان سے پوچھا جائے گا کہ تم جو کہتے تھے اس پر خود عمل کیا؟ اس فہرست شعرا میں فرزدق،  حسان بن ثابت اور کمیت اسدی سے لے کر مولانا روم تک اور پھر اقبال،  اکبر الہٰ بادی،  حفیظ جالندھری،  ماہر القادری، سے لے کر عامرؔ عثمانی،  انجم فوقی بدایونی،  نعیم صدیقی، رشید کوثرؔ فاروقی اور حفیظ الرحمن احسن مجاہد، سید،  اور خردؔ فیض آبادی تک ایک خاصی طویل فہرست ہے جو گروہ اوّل کی اکثریت کے مقابل اقلیت میں سہی لیکن کم مّن فئَۃٍ قلیِلَتہٍ غلبت فِئَۃٍ کَثِیرَۃ کی مصداق ہے۔

کسی ادیب یا شاعر پر کوئی نظریاتی لیبل چسپا ں کرنا درست نہیں کیونکہ ادب ہو یا شعر اس کی دو ہی قسمیں ہو سکتی ہیں اچھا ادب اور اچھا شعر۔ برا ادب اور برا شعر۔  اور اگر دائرے کو مزید محدود کرنا چاہیں تو یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ۔ ادب یا غیر ادب، شعر یا غیر شعر۔ اس لیے اتنی شرط ضرور لگائی جانی چاہیے کہ اچھا ادیب اور اچھا شاعر ایک اچھا انسان بھی ہو۔ بلکہ ادیب اور شاعر کے لیے ’انسان، ہونا لازمی ہے۔ رشید احمد صدیقی کے بقول ’’جب تک انسانیت کے بہتر ین مقاصد انسانیت ہی کے بہترین طور طریقوں سے پورے نہ کیے جائیں گے، نہ اعلیٰ انسان وجود میں آئے گا اور نہ اعلیٰ ادب۔‘‘

اگر کوئی فنکار ادیب یا شاعر جمالیات بغیر اخلاقیات اور حسن بغیر خیر کا قائل ہے اور ازلی صداقتوں کا انکار کر کے زندگی کی سچائیوں کی مجرد تصویر کشی کرتا ہے تو وہ خائن بھی ہے اور گمراہ بھی اس کے اچھے ادیب اچھے فن کار یا اچھے شاعر ہونے سے کوئی فائدہ نہیں بلکہ۔  نقصان زیادہ ہے۔

کیونکہ اس کا فن پارہ،  شعر،  یا اعلیٰ نثری نمونہ قاری کو کم متاثر کرتا ہے اور خود اس ادیب شاعر یا فنکار کا کردار زیادہ۔  ہم سوچتے ہیں کہ جب غالبؔ شراب پینے کے باوجود غالبؔ ہو سکتے ہیں تو بذات خود نہ شراب کوئی بری چیز ہے نہ اس کا پینا کوئی مذموم فعل۔  جب ایک بہت بڑا شاعر فلسفی نظریہ ساز اور پینٹر ہم جنسی کا عادی ہے اور اپنے اس عیب کو ہنر اور مرض کو شفا سمجھتا ہے تو اس کے معنی ہیں کہ ہم جنسی بجنسہٰ کوئی بری یا قابل نفرین شے نہیں ہو سکتی۔ جب ایک بین اقوامی شہرت کا حامل، ترقی پسند و ں کا خداوند، عظیم شاعر اپنی حسین اور وفا شعار بیوی کے ہوتے ہوئے بھی پرائی عورتوں،  دوستوں کی بیویوں اور اپنی مداح خواتین کو بلا جھجک اپنے تصرف میں لا سکتا ہے اور ایسا کرنے سے سماج میں اس کے عزت و وقار اور مقام بلند کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا تو ہمارے لیے بھی حسب دل خواہ من چاہی عورتوں سے اپنی خواہش پوری کرنا کوئی عیب نہیں ہو سکتا

غرض یہ کہ خود کو اپنے ہیرو کے ساتھ Identifyکرنے کا یہ فطری جذبہ ان نام نہاد بڑے لوگوں کی اچھائیوں سے زیادہ ان کی برائیوں اور ان کے انحرافات کے فروغ کا سبب بن جاتا ہے

ہو سکتا ہے کچھ لوگ اس بحث کا یہ مطلب نکالیں کہ پھر شعر فکشن، تنقید ادب کی دیگر قسموں اور آرٹ کے نخلستان کو صحرا بنا دینا چاہیے کہ پھر کوئی نہ اس سے لطف اندوز ہو سکے اور نہ ہی اس کی خدمت کر سکے۔ جی نہیں۔ بالکل نہیں۔ ہم صرف یہ کہنا چاہتے ہیں کہ کوئی ناول نگار ہو یا شاعر،  کہانی کار ہو یا نقاد،  صنّاع ہو یا خطّاط اسے ترقی کی سمت اپنے اپنے ہنر کے مدارج طے کرنے کے ساتھ ساتھ ایک اچھاانسان بھی ہونا چاہیے تا کہ اس کی ذات اور اس کا فن’انسان،اس کی حیات اور اس دنیا کو بھی فائدہ پہنچا سکے۔ وہ صرف اپنی زندگی نہ جیے بلکہ دوسروں کو اپنی ذات پر مقدم رکھے۔ اپنی ذات کی تلاش اور شناخت میں اس لیے سر گرداں رہے کہ نہ صرف دوسروں کے دکھ دور ضرورتوں اور مسائل کو پہچان کر ان کا مداوا ڈھونڈ سکے بلکہ اس وسیلے سے اس ذات واجب تک جا پہنچے یا پہنچنے کی کوشش کرے کہ جس نے نہ صرف یہ کہ اسے خلق کیا ہے بلکہ اس کو وہ عقل و بصیرت بھی دی ہے کہ جو اَنفُسْ اور آفاق کےِ ادراک میں اس کی رہنمائی کرتی ہے۔

کوئی ہماری بات توجہ سے سنے یا ہنسی میں اڑا دے۔ کان دھرے یا برسر پیکار ہو جائے۔ ہمیں معلوم ہے کہ ابھی لِیُظْھِرَہٗ علی الدّین کلہ کا وعدہ پورا ہونا ہے۔  لیکن۔  اس وقت کے انتظار میں ہم ہاتھوں پر ہاتھ دھرے بیٹھے تو نہیں رہ سکتے۔

یہ رزم خیر و شر ہے تو الجھیں گے بار بار

دلدادگان صبح سے وابستگان شب!

 

حواشی:

(1)فضیل جعفری۔ قمر احسن کی کتاب ’شیر آہوخانہ‘  کے گرد پوش پر شایع اقتباس

(2)عبد الاحد سازؔ مجموعہ کلام ’خموشی بول اٹھی ہے‘ کا دیباچہ ’ خط ترسیل‘  ص 9

(3,4,5)جون ایلیا، مجموعہ کلام ’شاید‘  (1991)کا دیباچہ ص31۔36

نوٹ: مضمون میں درج دونوں شعر حفیظ الرحمن احسن کے ہیں اور ان کے مجموعہ کلام ’فصل زیاں‘سے لیے گئے ہیں۔

(نوٹ: محترم عالم نقوی کے اس مضمون کو میں یونی کوڈ میں پیش کر رہا ہوں تاکہ سبھی حضرات اسے پڑھ سکیں۔مجھے ذاتی طور پر یہ مضمون بہت ہی اچھا لگا۔ عالم نقوی صاحب مبارک باد کے مستحق ہیں۔ فریاد آزر) (١)

(١)بشکریہ سرور عالم راز “سرورؔ”-یو ایس اے            یونیکوڈ فائل : فریاد آذر

٭٭٭

 

 

 

 

فکریے

ابنِ غوری، حیدر آباد،ہند

 

رمضان

؎       خزاں کے دن جو دیکھا، کچھ نہ تھا جز خار گلشن میں

بتاتا باغ باں رو رو کر یہاں غنچہ، یہاں گل تھا

 

شعر کا مطلب یہ ہے: یکم شوال کے بعد جو دیکھا مسجدوں میں تو صرف پرانے نمازی ہی نظر آئے۔ مسجد روتے ہوئے کہہ رہی ہے کہ فجر میں اس کا دامن بھر جاتا تھا…مغرب میں اس کی گل پوشی کی جاتی تھی۔ عشاء میں اس کا استقبال ہوتا تھا، لیکن اب پانچوں اوقات میں مجھے مرثیہ پڑھنا پڑتا ہے۔

قسمت سوتی ہے:

کسی کے کال کا انتظار ہے۔ آپ رات بھر سیل فون کھلا رکھتے ہیں۔ خوب!

کوئی فجر کے وقت آپ کو اٹھانا چاہتا ہے۔ آپ اپنا فون بند رکھتے ہیں۔ افسوس!

 

دو آتشہ

ارشاد نبیﷺ : عورتیں شیطان کا جال ہیں۔ بازار شیاطین کے اڈے ہیں۔

مشاہدہ: عورتیں بازاروں میں

نتیجہ: فحاشی اور طغیانی

 

زاغ کی چونچ میں انگور

آپ عالم ہیں۔ اس قسم کی نوکریاں آپ کی شان کے خلاف ہیں۔

آپ دین کی خدمت کیجیے۔ اللہ آپ کا کفیل ہو گا۔

٭کوئی استاد، اپنے شاگرد کو نصیحت کر رہے ہوں گے؟؟؟

جی نہیں، وہ تو ایک انگریز حاکم تھا!

 

Cell: 09392460130

٭٭٭

 

 

 

 

 

عشقِ الہٰی کے اثرات

 

                مرشدی و مولائی حضرت مولانا  پیر ذوالفقار احمد نقشبندی دامت برکاتہم

 

عشقِ الہٰی کی برکات اتنی زیادہ ہیں کہ جس انسان کے دل میں یہ پیدا ہو جاتی ہیں اس کو سر سے لیکر پاؤں تک منور کر دیتی ہیں۔

 

چہرے میں تاثر

عاشق صادق کا چہرہ عشقِ الہٰی کے انوار سے منور ہوتا ہے۔ عام لوگوں کی نظریں جب اس کے چہرے پر پڑتی ہیں تو اُن کے دل کی گرہ کھل جاتی ہے۔

  • ایک مرتبہ کچھ ہندوؤں نے اسلام قبول کیا۔ دوسرے لوگوں نے اس سے پوچھا کہ تو نے ایسا کیوں کیا؟ تو اس نے علامہ انور شاہ کشمیریؒ کے چہرے کی طرف اشارہ کر کے کہا کہ یہ چہرہ کسی جھوٹے کا چہرہ نہیں ہوسکتا۔ چونکہ یہ مسلمان ہے، اس لیے ہم بھی مسلمان بن گئے ہیں۔
  • حضرت مرشد عالمؒ ایک مرتبہ حرم شریف میں تھے کہ آپ کی نظر حضرت مولانا قاری محمد طیب ؒ کے چہرے پر پڑی۔ آپؒ نے اُن سے ملاقات کی اور پوچھا کہ قاری صاحب، آپ نے یہ نورانی چہرہ کیسے بنایا؟انہوں نے مسکرا کے کہا”یہ میں نے نہیں، میرے شیخ نے بنایا ہے”

حدیثِ پاک میں اللہ  والوں کی یہ پہچان بتائی گئی ہے کہ اَلَّذِیْنَ اِذَا رَاُوْ ا ذُکِرَ اللہُ  (وہ لوگ جنہیں تم دیکھو تو اللہ یاد آئے) گویا اللہ والوں کے چہروں پر اتنے انوار ہوتے ہیں کہ اُنہیں دیکھ کر اللہ یاد آتا ہے۔ قرآن مجید میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے بارے میں ہے سِيمَاہُمْ فِي وُجُوہِہِمْ مِّنْ اَثَرِ السُّجُودِ  [سورة الفتح,٢٩] (ان کے نشانی ان کے چہروں میں ہے سجدوں کے اثر سے) گویا سجدوں  کی عبادتیں چہرے پر نور بنا کر سجادی جاتی ہیں۔

  • بعض صحابہ کرامؓ فرمایا کرتے تھے کہ جب نبی اکرم کی طبیعت بہت زیادہ ناساز تھی اور حضرت ابوبکرؓ نماز کی امامت کر رہے تھے تو ایک نماز کے بعد نبی اکرمﷺ نے گھر کا دروازہ کھول کر مسجد میں دیکھا تو ہمیں  آپ کا چہرہ یوں لگا کَاَنَّہٗ وَرْقَۃُ مُصْحَفٍ  (جیسے وہ قرآن کا ورق ہو) حضرت عطاء اللہ شاہ بخاریؒ فرمایا کرتے تھے  کہ جب غارِ ثور میں حضرت ابوبکرؓ اپنی گود میں نبی اکرمﷺ کا سرمبارک لے کر بیٹھے تھے اور ان کے چہرہ انور کو دیکھ رہے تھے تو فرماتے ہیں کہ مجھے اپنے تصور میں یوں لگتا ہے  کہ اے ابوبکرؓ تیری گود رحل کی مانند ہے اور نبی اکرمﷺ کا چہرہ انور قرآن کی مانند ہے اور اے ابوبکرؓ  تو قاری ہے جو بیٹھا قرآن پڑھ رہا ہے۔
  • ایک مرتبہ حضرت خواجہ ابوالحسن خرقانی ؒ نے فرمایا کہ بایزید بسطامیؒ کہ چہرے پر اتنا نور تھا کہ جو دیکھتا تھا اس کی گرہ کھل جاتی تھی۔ ایک صاحب نے اعتراض کیا”ابوجہل نے نبی اکرمﷺ کو دیکھا تو اس کی گرہ نہ کھلی۔۔۔آپ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ بایزیدؒ بسطامی  کے چہرے کو دیکھ کر لوگوں کے دل کی گرہ کھل جاتی تھی۔ حضرت خواجہ ابوالحسن خرقانی ؒ نے فرمایا ارے نامعقول ! ابو جہل نے نبی اکرمﷺ کے چہرہ انور کو دیکھا ہی کب تھا؟ وہ شخص  حیران ہو کر کہنے لگا کہ دیکھا کیوں  نہیں تھا؟فرمایا ابوجہل نے محمدؐ بن عبداللہ کو دیکھا تھا۔ ایک مرتبہ بھی محمد الرسول اللہﷺ سمجھ کر نگاہ ڈال لیتا تو ہدایت سے محروم نہ رہتا۔
  • حضرت عبداللہ بن سلامؓ یہود کے بڑے عالم تھے۔ نبی اکرمﷺ سے تین سوال پوچھنے کے لیے آئے مگر چہرہ انور کو دیکھ کر اسلام قبول کر لیا۔ کسی نے کہا آپ آئے تو کسی اور مقصد سے تھے، یہ  کیا ہوا؟ نبی اکرمﷺ کے چہرہ انور کی طرف اشارہ کر کے کہا واللہ ہذا الوجہ لیس وجہ  الکذاب  (اللہ کی قسم یہ چہرہ کسی جھوٹے کا نہیں ہوسکتا)
  • تابعین حضرات میں سے بعض حکام نے اپنے لوگوں کو کفار کے پاس جزیہ وصول کرنے کے لیے بھیجا تو انہوں نے انکار کردیا۔ پوچھا کہ کیا وجہ ہے ؟ ہمارے باپ دادا کو تو تم جزیہ دیتے تھے۔انہوں نے کہا ہاں! وہ لوگ آتے تھے تو ان کے کپڑے پھٹے پرانے،  ان کے بال بکھرے ہوئے، آنکھوں میں رات کی عبادتوں کی وجہ سے سرخ ڈورے پڑے ہوئے ہوتے تھے مگر چہروں پر اتنا رعب ہوتا تھا کہ ہم آنکھ اٹھا کر نہیں دیکھ سکتے تھے۔تم میں وہ اوصاف نہیں، جاؤ! ہم تمہیں  کچھ نہیں دے سکتے۔  (١)

٭٭٭

(١)  ماخوذ از “عشقِ الٰہی” –پیر ذوالفقار احمد نقشبندی مجددی دامت برکاتہم ص٢٣،٢٤،٢٥،تاریخِ اشاعت غیر مذکور

٭٭٭

 

 

 

صفت احسان اور دیدار الٰہی

 

                قاری  معاذ شاہد ﷾

 

۔۔۔۔اَن تَعبُدَاللہَ کَاَنّکَ تَرَاہ فَاِلَّم تَکُن تَرَاہُ فَاِنّہ یَرَاکَ۔ ۔۔۔

حضرت جبرائیل علیہ وسلم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ احسان کیا ہے   ‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا  کہ تو عبادت ایسے کر گویا کہ تو اللہ تعالی کو دیکھ رہا ہے اور   اگر تو اللہ کو نہیں دیکھ رہا تو اللہ تو تمہیں دیکھ رہا ہے۔

یہاں پر اشکال یہ ہے ہمارا اللہ کو دیکھنا تو محال ہے پھر ہم یہ کیسے تصور کر لیں تو اس کا طریقہ کار بیان فرمایا کہ یہ تصور کر کہ وہ تجھ کو دیکھ رہا ہے جب یہ تصور کرے گا تو پھر عمل۔کے اعتبار سے ایسا ہی ہو جائے گا کہ تو اس کو دیکھ رہا ہے   ۔ ۔ جب مالک بندے کو دیکھتا ہے تو کام بڑی توجہ سے ہوتا ہے۔ ۔لیکن  اگر صرف تم اسے دیکھو تو اس میں وہ بات نہیں ہے جو مالک کے دیکھنے میں ہے

بعض علماء نے اس میں دو درجے بیان فرمائے ہیں

۔۔۔1۔ ۔۔ اعلی درجہ تو یہ ہے کہ اس چیز کا تصور کرے کہ تو اللہ کو دیکھ رہا ہے

۔۔۔2۔ ۔۔ اور ادنی درجہ یہ ہے کہ وہ تجھے دیکھے۔ ۔

صوفیاء کرام نے ایک بہت خوبصورت بات فرمائی  فان لم تکن   کہ اگر تو اپنے آپ کو اس ذات پر فنا کر دے تو  تَرَاہ تو بدلے میں تُو اسے دیکھ لے گا

۔۔۔۔‘‘،۔۔۔ بقول شاعر۔ ۔۔‘‘‘‘۔۔۔۔

ہم نے لیا ہے درد دل کھو کے بہار زندگی

اِک گل تر کے واسطے میں نے چمن لٹا دیا

۔۔۔۔‘‘۔۔۔  ایک مقام مشاہدہ ہے ایک مقام مراقبہ ہے

مقام مشاہدہ یہ کہ اللہ۔ تجھے دیکھ رہا ہے

مقام مراقبہ یہ ہے کہ تو اللہ کو دیکھ رہا ہے

ایک بزرگ دوسرے بزرگ کے پاس بیعت ہونے کیلئے گئے تو انہوں نے سوال کیا کہ کیا آپ کو صفت احسان حاصل ہے؟ انہوں نے جواب دیا الحمدللہ  حاصل ہے۔ تو فرمایا پھر آپ کو میری بیعت کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ بیعت کا اصل مقصد سالک کے اندر صفت احسان کو پیدا کرنا ہے۔ ۔

ایک بزرگ فرمانے لگے دنیا میں تو کانک تراہ ہے یعنی  گویا کہ اسے دیکھ رہا ہے اور آخرت میں کاف ہٹا دیا جائے گا براہ راست اسے دیکھے گا ۔ ۔۔۔۔۔ بقول شاعر۔ ۔۔۔

نہیں وہ وعدہ کرتے دید کا حشر سے پہلے

دلِ مضطر کی ضد ہے کہ ابھی ہوتی یہیں ہوتی

صفت احسان پیدا کرنے کا طریقہ  یہ ہے کہ اخلاص کے ساتھ مجاہدہ کیا جائے۔

قرآن مجید میں ارشاد ہے۔ ۔ والذین جاھدو فینا لنھدینّھم سبلنا۔۔ ۔۔ جو اخلاص کے ساتھ اللہ تعالی کے لئے مجاہدہ کرے گا ہم ہدایت کی راہیں اس کیلئے کھول دیں گے۔ ۔

اور جو  اخلاص کے ساتھ مجاہدہ کرے گا اللہ تعالی فرماتے ہیں ہم اسے تین انعامات عطا فرمائیں گے

۔۔۔۔۔۔1۔ ۔۔۔۔۔ اس پر ہدایت کی راہیں کھول دیں گے

۔۔۔۔۔۔ 2۔ ۔۔۔۔  صفت احسان عطا فرمائیں گے

۔۔۔۔۔۔3۔ ۔۔ صفت احسان عطا فرما کر اپنی معیت نصیب فرمائیں گے۔ ۔۔۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا ہے۔ ۔۔۔۔اللہمَّ انی اَسئلکَ لذَّۃَ نظرَۃً الی وَجھک۔ ۔۔۔۔۔۔

اے اللہ میں آپ سے آپ کے چہرے کو دیکھنے کی لذت کا سوال کرتا ہوں

——–بقول شاعر ——-

نگاہ عشق بے پردہ دیکھتی ہے انہیں

خِرد کیلئے ابھی حجاب عالم ہے

۔۔۔۔۔ایک شاعر یوں کہتا ہے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔

فانی اسی حسرت میں جیے اور مرے ہم

بے پردہ نظر آؤ کبھی دیدہ سر سے

قرآن کریم میں ارشاد فرمایا۔ ۔۔اِنَّ اللہَ لَمع الُمحسِنین۔ ۔۔  اس آیت میں اللہ صفت احسان والوں کے ساتھ معیت کا وعدہ فرما رہے ہیں

اور  ایک دوسری جگہ  پر ارشاد باری تعالی ہے۔ ۔

اِنَّ اللہَ یحب المحسنین۔ ۔ اللہ صفت احسان والوں کو پسند فرماتے ہیں۔ ۔۔

یہ بھی بتا دیا کہ میں کن سے محبت کرتا ہوں کیوں کرتا ہوں اور کن  کن کو پسند کرتا ہوں

آج میرا دل کہتا ہے آؤ بڑھ کر شاعر کے اس قول پر عمل کرتے ہیں اس سے پہلے کہ وقت ہاتھ سے نکل جائے۔ ۔۔

پردے ہٹے ہوئے بھی ہیں ان کی ادھر نظر بھی ہے

بڑھ کے مقدر آزما سر بھی ہے سنگ در بھی ہے

اس آیت میں سب عبادات کا تذکرہ ہے یہ سب عبادات کو شامل ہے  جس طرح نماز میں صفت احسان ضروری ہے اسی طرح ہر عبادت،  ‘‘ذکر، تلاوت،  حج،   زکٰوۃ،  روزہ، ،  جہاد،   میں  استحضار  (صفت احسان) ضروری ہے۔

‘‘، 1 ‘‘، نماز

حضرت حاتم اصم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب میں نماز کیلئے کھڑا ہوتا ہوں تو گویا اس طرح ہوتا ہوں کہ بیت اللہ میرے سامنے ہے دائیں طرف جنت  بائیں طرف جہنم ہے اور میرے پاؤں پل صراط پر ہیں اور میں سمجھتا ہوں کہ گویا یہ میری آخری نماز ہے اور نماز پڑھ کر امید اور خوف کے درمیان میں رہتا ہوں کہ نامعلوم قبول بھی ہو گی کہ نہیں

۔ ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔   حضرت علی رضی اللہ عنہ کو جب جنگ میں تیر لگا تو وہ جسم سے نماز کے دوران نکالا گیا اور ان کو خبر تک نہ ہوئی۔ ۔۔۔۔۔۔

۔۔۔۔۔  ایک بزرگ سے کسی نے پوچھا کہ آپ کو نماز میں اللہ کے غیر کا خیال نہیں آتا  تو کیا خوبصورت جواب دیا کہ نہ نماز میں آتا ہے اور نہ غیر نماز میں  ( یعنی دل ہر وقت اللہ کی یاد میں مصروف رہتا ہے )

۔ ۔۔۔۔۔۔۔  حاجی امداد اللہ مہاجر مکی رحمۃ اللہ فرماتے ہیں کہ عارف کا ایک سجدہ غیر عارف کے ایک لاکھ سجدوں پر بھاری ہے۔ ۔۔۔

۔۔۔۔۔مولانا روم رحمۃ اللہ فرماتے ہیں ‘‘‘‘

کہ عارف کا ایک سجدہ دو سو ملکوں کی سلطنت سے بہتر ہے۔۔

‘‘‘‘‘‘شعر  ‘‘‘‘‘‘‘‘

لیکے ذوقِ سجدۂ پیش خدا

خوشتر از عائد ملک دو صد ترا

اللہ تعالی کے سامنے سجدہ کرنے کی لذت۔  دوسو ملکوں کی سلطنت سے بہتر ہے۔

جب ہم نماز کیلئے مسجد کی طرف جائیں تو ایسے جائیں گویا کہ احرام باندھ کر  حج کو جا رہے ہیں  اپنی نظروں کی حفاظت کرتے ہوئے  اپنے رب کی آواز پر لبّیک کہتے ہوئے دنیا سے بے خبر ہو کر جائیں ‘‘

ایک بزرگ جب اذان کی آواز سنتے تو فورا کھڑے ہو جاتے اور یہ کہتے ہوئے اے اللہ میں حاضر اے اللہ میں حاضر مسجد کی طرف چل پڑتے۔ ۔۔

۔۔۔۔۔۔۔ ایک بزرگ فرمانے لگے کہ دنیاوی بادشاہ تو بے وقوف ہیں ملکوں کو حاصل کرنے کے لئے لشکر کشی کرتے ہیں۔  اگر انہیں معلوم ہو جائے کہ اسل دولت تو ہمارے پاس ہے تو ہم پر لشکر کشی کریں ‘‘‘‘‘‘،

‘‘‘‘‘‘ شعر ‘‘‘‘‘‘

خدا کی یاد میں بیٹھے سب سے بے غرض ہو کر

تو پھر اپنا بوریا بھی ہمیں تخت سلیماں تھا

٭٭٭

 

 

 

کنواروں کا مسئلہ

 

                عبد الرحمٰن صدیقی ﷾

 

“پہلے اپنے پیروں پر کھڑے ہو جاؤ پھر شادی کی سوچنا”

یہ ایک جملہ ہے جو ہمارے عہد کے بہت سارے کنواروں کے دل پر بجلی بن کر گرتا ہے اور ان کی سلگتی تمنّاؤں اور امنگتی آرزوؤں کو خاکستر کر دیتا ہے۔  ہمارے یہاں لڑکے کے لیے پیروں پر کھڑا ہونے معیار اتنی بلندی پر رکھا گیا ہے کہ وہاں تک پہنچتے پہنچتے لڑکے کی عمر اس مرحلہ میں پہنچ جاتی ہے جہاں گھٹنوں کا درد شروع ہو جاتا ہے۔  لیکن گھنٹے میں درد شروع ہو جانے کی اور بھی کئی ساری وجوہات ہوتی ہیں۔

عجیب معاملہ یہ ہے کہ تیس سال سے پہلے تو یہ سمجھا ہی نہیں جاتا کہ بچّہ اب بچّہ نہیں رہا۔ جوان ہوچکا ہے۔  آرزوئیں اب اس کے دل میں بھی کچوکے لگاتی ہیں،  خواب اب اس کی راتوں کو سونے نہیں دیتے۔ بے چارہ نوجوان شرم اور بے شرمی کے بیچ جھولتا رہتا ہے اس فکر میں کہ آخر بے شرمی کی کون سی حد تک جائے کہ گھر والے اس کا مسئلہ سمجھ پائیں۔  کبھی حیا اس کو ہاتھ پکڑ کر روک لیتی ہے تو کبھی کنوارگی کا درد اس کو مجبور کرتا ہے کہ” اتر جاؤ بے شرمی پر اور رکھ دو دل کا درد کھول کر سب کے سامنے۔ ”

پھر جب عمر کی دہائی پر جب آ کر لگتا ہے تو گھر والوں کو لگتا ہے بچّہ اب شادی کے لائق ہو گیا۔ پھر رخ کیا جاتا ہے منڈی کی طرف۔  لڑکے پر حسب لیاقت و صلاحیت قیمت کے ٹیگ لگتے ہیں۔  خریدار کی تلاش ہوتی ہے۔  دلالوں سے کانٹیکٹ کیا جاتا ہے۔ بولیاں لگتی ہیں۔  مول بھائی ہوتا ہے۔ نیلامی ہوتی ہے۔  اور تلاش ہوتی ہے صحیح خریدار اور مناسب دام کی۔

مردوں کی منڈی میں ہر طرح دلہے بکنے کو دستیاب ہوتے ہیں۔  ہر قسم کے دلہے کہ اپنی ولیو ہوتی ہے۔  ڈاکٹر اور انجینر اور باہر ملکوں میں مقیم سب سے اعلیٰ نسل کے دلہے سمجھے جاتے ہیں منڈی میں جہاں اس نسل کے دولہے بکتے ہیں وہاں کی انٹری فیس بھی بڑی ہوتی ہے۔  جو صرف انتہائی امیر گھرانے کے لڑکی والے ہی ادا کر پاتے ہیں۔

متوسظ قسم کے مالداروں اور خوشحال گھرانوں کا بھاؤ کافی عروج پر ہے آج کل۔  اور انگریجی پڑھائی پڑھنے والوں کی بھی کافی مانگ ہے۔

منڈی  کے ایک کونے میں مولوی بھی بکتے ہیں۔  کیونکہ مولوی نسل کے دولہوں کے بارے میں خریداروں کی رائے یہ ہے کہ اس نسل کے دولہے کسی نا کسی طرح اپنے بال بچّوں کا پیٹ پال ہی لیتے ہیں،  اس لیے مارکیٹ میں ان کا بھی ریٹ کافی اچھا ہو گیا ہے۔  بلکہ شاید یہی ایک مارکیٹ ہے جہاں ان کی ویلیو تھوڑی ٹھیک ٹھاک ہے۔  دو پہیہ سے کم اب کوئی مولوی فروخت نہیں ہوتا۔  الا من شاء ربک

لیکن مسئلہ صرف صحیح خریدار اور مناسب قیمت ملنے کا بھی نہیں ہے۔ یہ بازار ایسا ہے کہ بکنے والے کو خریدار بھی پسند آنا چاہے ورنہ ڈیل کینسل۔

ذہنیت یہ بن گئی ہے کہ جب تک دس بیس گھرانے کی دعوتیں اڑا کر ان کی لڑکیاں ریجیکٹ نہ کر دی جائیں لڑکے کے گھر والوں کو تسکین نہیں ہوتی۔  (١)

وہی ہوتا ہے کہ لڑکے کا تھوبڑا چاہے دیکھنے لائق نہ ہو۔ گھر والوں کی فکر لگی ہوتی ہے ۔  “وہ پری کہاں سے لاؤں،  تیری دلہن کسے بناؤں” لڑکی چاہیے حور پری۔  لڑکے کو چاہے بات کرنے کی تمیز نہ ہو لڑکی چاہیے بے اے ایم اے۔

لڑکیوں کو ریجکٹ کرنے کے لیے ایسے ایسے کمنٹ سنے گئے ہیں :

“رنگ سانولا ہے۔  میرے بھائی کو گوری لڑکی چاہیے۔  ”

“بال دیکھے تھے اپّی کتنے چھوٹے تھے اس کے۔  ”

“اس کی ایڑیاں پھٹی ہوئی ہیں میں نے چپکے سے موزہ اتروا کے دیکھ لی تھی”

“قد چھوٹا ہے نہیں جمے گی بھائی کو ”

” ماسٹر ہی تو ہے ابّا لڑکی کے۔  کچھ بھی دے لیں تو کتنا دیں لیں گے آخر”

(١) یہ صورتِ حال اکثر جگہوں پر دیکھی گئی ہے اور انتہائی شرم کا مقام ہے۔ اِن میں بلا مبالغہ صرف عورتیں ہی پیش پیش رہتی ہیں۔ کاش کہ  “مرد” حضرات اپنی “مردانگی” کا  پاس کر لیں اور  نبی اکرمﷺ کے فرمانِ عالیشان  فلیغیرہ بیدہ   کا  خیال کر لیں۔  (مدیر)

” چودھری تو ہیں وہ لوگ لیکن چھوٹے چودھری ہیں۔  ہم بڑے چودھری کے گھر کی لڑکی لائیں گے”

“ہم انصاری لوگ شیخوں کے یہاں شادی نہیں کرتے”

اور بعض مرتبہ بہانہ ہوتا ہے۔

“لڑکی سمجھ نہیں آ رہی ہے ”

الغرض اس طرح پسندیدہ خریدار اور مناسب دام ملتے ملتے لڑکا 35 / 40 کراس کر چکا ہوتا ہے۔

اب بھلا بتائیے کہ کہ ایک ایسے زمانہ میں جب تقویٰ مسجد کی صفوں میں بھی دکھائی نہیں دیتا،  ایک لڑکے سے جس کی ضرورت 15 /16 سال سے ہی شروع ہو گئی تھی آپ بیس سال تک روزے پر کیسے گذارا کرا سکتے ہیں۔  پھر آپ کہتے ہیں کہ معاشرہ میں فحاشی بڑھ گئی ہے۔  تو بھائی جہاں نکاح مشکل ہو گا وہاں زنا اپنے لیے راستے آسان کر ہی لے گا۔

بہت سارے معاملات میں نے دیکھے ہیں کہ لڑکے جہیز کی لالچ نہیں رکھتے لیکن ان کی جوانی گھر والوں کی لالچ کی بھینٹ چڑھا جاتی ہے۔

میں اپنے عہد کے کنواروں کو بغاوت پر ابھارتا ہوں۔  دوستو! اصل کھیلنے کے دن تو یہ بیس کی دہائی کے ہی ہوتے ہیں۔  یہ ایک ایک دن بڑے قیمتی ہیں۔  ان کو اپنی کنوارگی میں ضائع مت کرو، نا جوانی کی اس پاک دامنی پر بد کرداری  کا داغ نہ لگنے دو۔ تمہارے نبی کی تعلیم ہے کہ اگر بیوی کا نان نفقہ برداشت کرسکتے ہو تو شادی کر لو۔ اس سے نگاہیں جھک جاتی ہیں اور شرمگاہیں محفوظ ہو جاتی ہے۔

یہ خوبصورت لمحے لالچی گھر والوں کی بھینٹ مت چڑھاؤ۔  یہ لالچی لوگ تمہاری جوانی واپس نہیں لا کر دینے والے۔  لڑکے کو شادی کے لیے ولی کی ضرورت نہیں۔  قدم آگے بڑھاؤ اور گھر دلہن لے آؤ۔ ورنہ تیس کے بعد حور پری بھی مل جائے تو نوجوانی کا یہ لطف نہیں ملنے والا۔

دیکھو تمھارے لیے بھی آسمان سے اتر کر حوریں نہیں آنے والی۔  دنیا ہی کی کسی لڑکی سے کام چلانا پڑے گا۔ بقیہ خواہشیں پوری کرنے کے لیے دینداری اختیار کرو اور جنّت کا انتظار۔ دنیا کے لیے تو رسول کی یہی ہدایت ہے کہ :

تُنْکَحُ الْمَرْأَةُ لِأَرْبَعٍ لِمَالِہَا وَلِحَسَبِہَا وَجَمَالِہَا وَلِدِينِہَا فَاظْفَرْ بِذَاتِ الدِّينِ تَرِبَتْ يَدَاکَ

“عورت سے چار وجہوں سے شادی کی جاتی ہے۔  مال، جمال،  نسب اور دین۔  دین دار لڑکی سے شادی کر کے کامیاب ہولے۔  ”  ( متفق علیہ)

٭٭٭

 

 

 

 

روزہ بھوکا پیاسا رہنے کا نام نہیں

 

                کوکب شہزاد

 

یہ بات تو عیاں ہے کہ روزہ ایک کٹھن عبادت ہے اور خاص طور پر گرمیوں کے روزے تو بچوں کے لیے بہت ہی مشکل ہوتے ہیں لیکن ہمیں اپنے بچوں کو یہی بتانا چاہیے کہ روزے کا اصل مقصد تقویٰ ہے۔

اسلام میں روزہ فرض ہے اس لیے میں نے شروع سے ہی اپنے بچوں میں روزہ رکھنے کی عادت ڈالی ہے مگر میرا بڑا بیٹا رمضان میں بہت چڑچڑا ہو جاتا ہے۔چھوٹی چھوٹی باتوں پر اپنے بہن بھائیوں سے لڑتا اور انھیں مارتا ہے اور میری اور اپنے باپ کی نافرمانی کرتا ہے۔مجھے بتائیں کہ میں اس کے لیے کیا کروں کہ وہ روزہ رکھنے کا صحیح حق ادا کرسکے؟

یہ بات تو عیاں ہے کہ روزہ ایک کٹھن عبادت ہے اور خاص طور پر گرمیوں کے روزے تو بچوں کے لیے بہت ہی مشکل ہوتے ہیں لیکن ہمیں اپنے بچوں کو یہی بتانا چاہیے کہ روزے کا اصل مقصد تقویٰ ہے۔ تقویٰ کا مطلب ہے ایسے کام کرنا جن سے اللہ تعالیٰ ہم سے راضی ہو جائے۔دراصل بچے چھوٹے ہوتے ہیں تو ہم ان کو روزہ رکھوانے کی کوشش تو کرتے ہیں لیکن اس کا فلسفہ آداب اور بنیادی تقاضے نہیں بتاتے جس کی وجہ سے بچوں کے اندر صبر اور  برداشت پیدا نہیں ہوتی اور وہ بھوکا اور پیاسارہنے کو ہی روزہ سمجھتے ہیں حالانکہ ہمارے دین اسلام نے روزہ رکھنے کے مقاصد واضح طور پر بتایئے ہیں۔ قرآن مجید میں ہے۔

“اے ایمان والو تم پر روزے فرض کیے گئے ہیں جس طرح سے پہلے لوگوں پر فرض کیے گئے تھے تا کہ تم تقویٰ حاصل کرسکو۔

اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہوئے اس کی مقرر کردہ حدود میں رہنا اور لڑائی، جھگڑا،چوری،ملاوٹ،گالم گلوچ اور ہر طرح کے برے کاموں کو چھوڑ دینا۔رسول اللہﷺ نے فرمایا:جس نے ایمان اور احتساب کے ساتھ روزے رکھے اس کے پہلے سارے گناہ معاف کر دیے جائیں گے۔

ایک مقام پر رسول اللہﷺ نے فرمایا: جس نے روزے کی حالت میں لڑنا،جھگڑنا نہ چھوڑا اللہ تعالیٰ کو اس کے بھوکے پیاسے رہنے کی کوئی پرواہ نہیں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا؛ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہر بنی آدم کی نیکی دس گناسے سات سو گنا بڑھا دی جاتی ہے سوائے روزے کے پس وہ میرے لیے ہے اور میں ہی اس کی جزا دیتا ہوں کیونکہ وہ میرے لیے اپنی شہوت اور اپنا کھانا چھوڑتا ہے۔ روزہ دار کے لیے دوہری خوشیاں ہیں۔ایک خوشی جواس کو روزہ افطار کرتے وقت ملے گی اور ایک خوشی اپنے رب سے ملاقات کے وقت ملے گی اور روزے دار کے منہ کی بو اللہ تعالیٰ کو مشک  (عطر) کی خوشبو سے زیادہ پسند ہے۔روزہ ڈھال ہے۔جس دن تم میں سے کسی کا روزہ ہو تو وہ نہ فحش بات کرے نہ شور مچائے۔اگر اس کو گالی دی جائے یا اس سے کوئی لڑے تو وہ کہے میں روزے سے ہوں۔

اسی طرح حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایت کے مطابق ایک حدیث مبارکہ ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا :جس نے جھوٹ بولنا اور اس پر عمل کرنا نہ چھوڑا رتو اللہ تعالیٰ کو اس کی حاجت نہیں کہ وہ اپنا کھانا اور پینا چھوڑے۔

ہمیں اپنے بچوں کو یہ بتانا چاہیے کہ رمضان تربیت کا مہینہ ہے اور اس مہینے میں سب سے زیادہ تربیت صبر و شکر کی ہوتی ہے۔اگر ہم شروع ہی سے یہ باتیں ان کے ذہن میں ڈال دیں اور خود بھی اس کا عملی نمونہ بنیں تو ضرور بچوں پر اس کا اثر ہو گا کیونکہ بچے آخر کار وہی کرتے ہیں جو وہ اپنے ماں باپ کو کرتے دیکھتے ہیں۔ (١)

(١)بشکریہ اردو پوائنٹ ڈاٹ کام

٭٭٭

 

 

 

 

مدیر کے قلم سے

 

                گوگل   کے مطابق پرائم منسٹر نریندر مودی مجرم

 

(ایجنسی) الیکٹرانک میڈیا کے بے تاج بادشاہ “گوگل” نے  بھارتی پرائم منسٹر نریندر مودی کو  مجرموں کی صف میں لا کھڑا کیا ہے۔  گوگل امیجز پر top 10 criminals    تلاش کرنے پر   اُسامہ بن لادن وغیرہ  کے ساتھ نریندر مودی کی تصویر بھی  تلاش کے نتائج کے طور پر دکھائی گئی۔ حیرت تو یہ ہے کہ

” محترم پرائم منسٹر” کی تصویر اس سرچ  کا پہلا رزلٹ تھی۔ کچھ ہی عرصے میں سوشل میڈیا کے ذریعے یہ خبر ہر طرف پھیل گئی۔

اس کے بعد بدھ کے روز گوگل نے  ان الفاظ یا اس جیسے الفاظ کے سرچ پر اوپر سرخ رنگ کے ہائیلایٹ  میں یہ پیغام دکھایا”گوگل پر سرچ کے نتائج صرف سرچ کرنے والے کے الفاظ تک محدود رہتے ہیں۔ یہ نتائج بذاتِ خود گوگل کے نظریہ کی ترجمانی نہیں کرتے۔” لیکن۔۔۔اس تحریر کے باوجود بھی پرائم منسٹر نریندر مودی کی تصویر ہی اس تلاش کا اول مصداق دکھائی جاتی رہی۔

پرائم منسٹر نریندر مودی کے ساتھ ساتھ سرچ رزلٹ میں  امریکہ کے سابق صدر “جارج بش”، لیبیا کے “معمر قذافی”، دلی کے چیف منسٹر “اروند کیجریوال”، انڈرورلڈ ڈان”داؤد ابراہیم” اور بالی ووڈ کے اداکار”سنجے دت” کو بھی دکھایا گیا۔

گوگل نے پرائم منسٹر سے اس “غیر متوقع” سانحہ پر معذرت کر لی ہے۔

 

                فری میسنری کی “معصومیت”

 

(ایجنسی) یہودیوں کی بد نامِ زمانہ خفیہ تنظیم “فری میسن” نے نیک نامی کے لیے بڑی خوبصورت باتیں کی ہیں اور اپنی جانب اٹھنے والی انگلیوں کو نیچے کرنے کی بودی کوشش کی ہے۔ اُن کے بقول  تنظیم “خفیہ” نہیں ہے، اور عوام کی غلط فہمیاں بالکل بے جا ہیں۔

روزنامہ “دی ہتوادThe Hitavada” کے ایک کارکن  شہر میں موجود فری میسن کے ممبران سے ملاقات اور انٹرویو کے بعد اسے اس شہ سُرخی کے ساتھ شائع کرتے نظر آئے۔

Free Masonary is not a Secret Society, It’s the society with Secrets!

انٹرویو کے خلاصے کے طور پر تمام ممبران فری میسن کی نام نہاد “معصومیت” کے گیت گاتے نظر آئے۔ اُن کا کہنا ہے کہ تنظیم کوئی خفیہ سرگرمی میں ملوث نہیں ہے، بلکہ سماجی خدمات انجام دینے میں پیش پیش ہے، جس کی تفصیل ویب سائٹ پر دیکھی جا سکتی ہے۔ فری میسنری کا مشن معاشرے کا مثبت بدلاؤ اور طرزِ زندگی کی مکمل آسودگی ہے۔ امن اور شانتی کی داعی ہے، ریڈ کراس کی طرح یہ بھی سوشل ورک کا کام انجام  دیتی ہے۔

اتنے “بے ضرر” مقاصد کو دیکھتے ہوئے جب انٹرویور نے اُن سے پوچھا کہ پھر آپ کا یہ مخصوص لباس  کیوں؟جس پر عجیب قسم کے نشانات اور اسٹارس ہیں۔ فری میسنری کی ممبران ہمیشہ رات کی تاریکی میں کیوں ملتے ہیں؟ اِن کی پہچان ہمیشہ خفیہ کیوں ہوتی ہے؟ تو تمام ممبران  ایک ہی “رٹا ہوا” جواب دیتے نظر آئے کہ” ہمارا کام اور مقصد تو وہی ہے جو بیان ہوا، اس کے علاوہ تنظیم میں کوئی خفیہ بات نہیں، ہاں یہ ضرور ہے کہ ممبران کی آپس کی پہچان کے لیے کچھ کوڈ ورڈز متعین ہیں، اور پیغام رسانی بھی انہیں کوڈ ورڈز میں ہوتی ہے۔ تنظیم بالکل بھی خفیہ نہیں۔ ”

شاید کفار و مشرکین کے شبہات  تو اس جواب سے زائل ہو گئے ہوں، لیکن امتِ مسلمہ اب بھی اِن کی “معصومیت” پر مسکرا رہی ہے۔۔۔کہ اتنی بے ضرر مقاصد والی سوشل ورکر تنظیم  میں کوڈ ورڈز کے استعمال کی کیا ضرورت اور غایت ہے؟

٭٭٭

تشکر: فقیر شکیب احمد جنہوں نے اس کی فائل فراہم کی

تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید