FavoriteLoadingپسندیدہ کتابوں میں شامل کریں

 

 

 

فہرست مضامین

دعوت القرآن

 

 

حصہ ۱۳:  شوریٰ (۴۲) تا  حجرات  (۴۹)

 

 

                   شمس پیر زادہ

 

 

 

 

 

 

(۴۲)سورۃ  الشوریٰ

 

(۵۳  آیات)

 

بسم اللہ الرحمٰن الر حیم

اللہ رحمٰن و رحیم کے نام سے

 

                   تعارف

 

نام

 

آیت ۳۸  میں شوریٰ (باہمی مشورہ) کو اہلِ ایمان کا طریقہ بتایا گیا ہے۔ اس مناسبت سے اس سورہ کا نام الشوریٰ ہے۔

 

زمانۂ نزول

 

مکی ہے اور مضامین سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ سورۂ حٰم السجدہ کے بعد نازل ہوئی ہو گی یعنی مکہ کے درمیانی دور میں۔

مرکزی مضمون

 

خدا اور مذہب کے معاملہ میں حق کیا ہے اس کو جاننے کا ذریعہ وحی الٰہی ہے۔ یہ دین جس کو اللہ کا رسول قرآن کے ذریعہ پیش کر رہا ہے اللہ کا مقرر کردہ دین ہے جس کی وحی اس نے اپنے رسول پر کی ہے۔

 

نظم کلام

 

آیت ۱  تا۱۲  تمہیدی آیات ہیں جن میں مختصراً وہ باتیں پیش کی گئی ہیں جن سے وحی الٰہی کے تفصیلی مضامین کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔

آیت ۱۳  تا ۲۰  میں واضح کیا گیا ہے کہ یہ وہی دین ہے جس کی وحی انبیاء علیہم السلام کی طرف کی گئی تھی۔ نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو ہدایت کی گئی کہ تم اسی پر جمے رہو اور اسی کی طرف دعوت دو۔ جو لوگ اس سلسلہ میں بحث میں الجھ رہے ہیں ان کے پاس حق کی کوئی حجت نہیں ہے۔

آیت ۲۱  تا ۳۵  میں اپنی طرف سے مذہب ایجاد کرنے والوں اور اس کی پیروی کرنے والوں پر سخت گرفت کی گئی ہے اور ان لوگوں کو خوشخبری سنائی گئی ہے جو اللہ کے دین پر ایمان لا کر نیک عمل کرتے ہیں نیز منکرین کے بعض شبہات کا ازالہ بھی کیا گیا ہے۔

آیت ۳۶  تا ۴۳  میں اس دین کو قبول کرنے والوں کے وہ اوصاف بیان کئے گئے ہیں جو کشمکش کے اس مرحلہ سے انہیں سلامتی کے ساتھ گزار سکتے ہیں اور جو کامیابی کی ضمانت ہیں۔

آیت ۴۴   تا ۵۰  میں مخالفین کو ان کی گمراہی پر متنبہ کرتے ہوئے اپنے رب کی پکار پر لبیک کہنے کی دعوت دی گئی ہے۔ آیت ۵۱  تا ۵۳  سورہ کے خاتمہ کی آیات ہیں جن میں اس مضمون کی مزید وضاحت ہے جس سے سورہ کا آغاز ہوا تھا یعنی وحی الٰہی۔

                   ترجمہ

 

بسم اللہ الرحمٰن الر حیم

اللہ رحمٰن و رحیم کے نام سے

 

۱۔۔۔۔۔۔حا۔ میم

۲۔۔۔۔۔۔عین۔ سین۔ قاف ۱*

۳۔۔۔۔۔۔اسی طرح اللہ غالب و حکیم تمہاری طرف وحی کرتا ہے اور تم سے پہلے جو (رسول) گزرے ہیں ان کی طرف بھی وحی کرتا رہا ہے۔ ۲*

۴۔۔۔۔۔۔جو کچھ بھی آسمانوں میں ہیں اور جو کچھ بھی زمین میں ہے سب اسی کا ہے۔ وہ نہایت بلند اور عظیم ہے۔ ۳*

۵۔۔۔۔۔۔قریب ہے کہ آسمان اپنے اوپر سے پھٹ پڑیں۔ ۴* فرشتے اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح کرتے ہیں اور زمین والوں کے لیے معافی کی دعا کرتے رہتے ہیں۔ ۵* سنو! اللہ ہی بخشنے والا رحم فرمانے والا ہے۔ ۶*

۶۔۔۔۔۔۔جن لوگوں نے اس کو چھوڑ کر دوسرے کارساز بنا رکھے ہیں ۷* اللہ ان پر نگاہ رکھے ہوئے ہے۔ ۸* اور تم کو ان پر ذمہ دار مقرر نہیں کیا گیا ہے۔ ۹*

۷۔۔۔۔۔۔اور (اے نبی!) اس طرح ہم نے تم پر عربی قرآن وحی کیا ہے تاکہ تم ام القریٰ ۱۰ * (مکہ) اور اس کے گرد و پیش رہنے والوں کو خبردار کرو۔ ۱۱ *  اور جمع ہونے کے دن سے ڈراؤ جس کے آنے میں کوئی شک نہیں۔ ۱۲ * ایک گروہ جنت میں جائے گا ۱۳ * اور دوسرا گروہ دوزخ (بھڑکتی آگ) میں۔ *۱۴

۸۔۔۔۔۔۔اگر اللہ چاہتا تو سب کو ایک ہی امت بنا دیتا ۱۵ * لیکن وہ جسے چاہتا ہے اپنی رحمت میں داخل کرتا ہے *۱۶  اور ظالموں کا نہ کوئی کارساز ہے اور نہ مددگار۔

۹۔۔۔۔۔۔کیا انہوں نے اس کو چھوڑ کر دوسرے کارساز بنا رکھے ہیں۔ ۱۷ کارساز تو اللہ ہی ہے اور وہ مُردوں کو زندہ کرے گا۔ وہ ہر چیز پر قادر ہے۔

۱۰۔۔۔۔۔۔جس چیز میں بھی تم لوگوں نے اختلاف کیا ہے اس کا فیصلہ اللہ کے سپرد ہے۔ ۱۸ * وہی اللہ میرا رب ہے۔ اسی پر میں نے بھروسہ کیا ہے اور اسی کی طرف میں رجوع کرتا ہوں۔

۱۱۔۔۔۔۔۔ آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے والا جس نے تم ہی میں سے تمہارے جوڑے بنائے اور مویشیوں کے بھی جوڑے پیدا کئے۔ وہ تمہاری نسلیں اس میں پھیلاتا ہے۔ ۱۹ * اس کے مثل کوئی چیز نہیں۔ ۲۰ * وہ سب کچھ سننے اور دیکھنے والا ہے۔

۱۲۔۔۔۔۔۔آسمانوں اور زمین کی کنجیاں اسی کے قبضہ میں ہیں ۲۱ * وہ جسے چاہتا ہے کشادہ رزق دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے نپا تلا دیتا ہے۔ ۲۲ * وہ ہر چیز کا علم رکھنے والا ہے۔

۱۳۔۔۔۔۔۔اس نے تمہارے لیے وہی دین مقرر کیا ہے جس کی ہدایت اس نے نوح کو کی تھی اور جس کی وحی (اے نبی!) ہم نے تمہاری طرف کی ہے اور جس کی ہدایت ہم نے ابراہیم اور موسیٰ اور عیسیٰ کو کی تھی کہ اس دین کو قائم رکھو اور اس معاملہ میں تفرقہ میں نہ پڑو۔ ۲۳ * مشرکین پر وہ چیز شاق ہے جس کی طرف تم انہیں دعوت دے رہے ہو۔ ۲۴ * اللہ جسے چاہتا ہے اپنی راہ کے لیے چن لیتا ہے اور اپنی طرف رہنمائی اسی کی کرتا ہے جو اس کی طرف رجوع کرے۔ ۲۵ *

۱۴۔۔۔۔۔۔اور لوگ جو تفرقہ میں پڑے تو اس کے بعد پڑے کہ ان کے پاس علم آ چکا تھا محض آپس کی ضد کی بنا پر۔ ۲۶ * اور اگر تمہارے رب کا فرمان ۲۷ * ایک مدتِ مقرر کے لیے صادر نہ ہو چکا ہوتا تو ان کے درمیان فیصلہ چکا دیا گیا ہوتا۔ ۲۸ * اور ان (گزرے ہوئے) لوگوں کے بعد جو لوگ کتاب کے وارث بنائے گئے وہ اس کی طرف سے شک میں پڑے ہوئے ہیں جس نے انہیں الجھن میں ڈال دیا ہے۔ *۲۹

۱۵۔۔۔۔۔۔لہٰذا تم اسی دین کی دعوت دو اور اس پر قائم رہو جیسا کہ تمہیں حکم دیا گیا ہے۔ ۳۰ * اور ان لوگوں کی خواہشات کے پیچھے نہ چلو ۳۱ *۔ اور کہو اللہ نے جو کتاب اتاری ہے اس پر میں ایمان لایا ۳۲ * مجھے حکم دیا گیا ہے کہ تمہارے درمیان عدل کروں۔ ۳۳ * اللہ ہمارا رب بھی ہے۔ اور تمہارا رب بھی۔ ہمارے اعمال ہمارے لیے ہیں اور تمہارے اعمال تمہارے لیے۔ ہمارے اور تمہارے درمیان کوئی بحث نہیں۔ ۳۴ * اللہ ہم سب کو جمع کرے گا اور اسی کی طرف سب کو جانا ہے۔

۱۶۔۔۔۔۔۔جو لوگ اللہ کے بارے میں جھگڑتے ہیں بعد اس کے کہ اس کی پکار پر لبیک کہا جا چکا ہے ۳۵ * ان کی حجت ان کے رب کے نزدیک باطل ہے۔ ۳۶ * اور ان پر غضب ہے اور ان کے لیے سخت عذاب ہے۔

۱۷۔۔۔۔۔۔اللہ ہی ہے جس نے کتاب حق کے ساتھ اتاری ہے اور میزان بھی۔ ۳۷ * اور تمہیں کیا خبر شاید قیامت کی گھڑی قریب آ لگی ہو۔ ۳۸ *

۱۸۔۔۔۔۔۔اس کے لیے جلدی وہی لوگ مچاتے ہیں جو اس پر ایمان نہیں رکھتے۔ ۳۹ * ایمان رکھنے والے تو اس سے ڈرتے ہیں ۴۰ * اور جانتے ہیں کہ وہ ایک حقیقت ہے۔ سنو! جو لوگ اس گھڑی کے بارے میں بحث میں الجھ رہے ہیں وہ گمراہی میں دور جا پڑے ہیں۔ ۴۱ *

۱۹۔۔۔۔۔۔اللہ اپنے بندوں پر بڑا مہربان ہے۔ وہ جسے چاہتا ہے رزق دیتا ہے۔ اور وہ بڑی قوت والا اور غالب ہے۔ ۴۲ *

۲۰۔۔۔۔۔۔جو کوئی آخرت کی کھیتی کا طالب ہوتا ہے ہم اس کی کھیتی کو بڑھاتے ہیں ۴۳ * اور جو دنیا کی کھیتی کا طالب ہوتا ہے ہم اس کو اسی میں سے دیتے ہیں مگر آخرت میں اس کا کوئی حصہ نہیں۔ ۴۴ *

۲۱۔۔۔۔۔۔کیا ان کے کچھ ایسے شریک ہیں جنہوں نے ان کے لیے مذہبی طریقے ایجاد کئے ہیں جس کی اللہ نے اجازت نہیں دی۔ ۴۵ * اگر فیصلہ کی بات (کہ وقتِ مقرر پر کیا جائے گا) طے نہ پا چکی ہوتی تو ان کا فیصلہ چکا دیا گیا ہوتا۔ ۴۶ * یقیناً ان ظالموں کے لیے دردناک عذاب ہے۔

۲۲۔۔۔۔۔۔تم دیکھو گے کہ ظالم اپنی کمائی کے وبال سے ڈر رہے ہوں گے اور وہ ان پر ا کر رہے گا۔ البتہ جو لوگ ایمان لائے اور جنہوں نے نیک عمل کئے وہ جنتوں کے باغیچوں ۴۷ * میں ہوں گے۔ وہ جو کچھ چاہیں گے ان کو ان کے رب کے پاس ملے گا۔ یہی ہے بہت بڑا فضل۔

۲۳۔۔۔۔۔۔یہی وہ چیز ہے جس کی خوشخبری دیتا ہے اللہ اپنے ان بندوں کو جو ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے۔ (اے نبی! ان سے) کہو میں اس پر کوئی اجر نہیں مانگتا مگر قرابت کی محبت ہے (جس کا تقاضا پورا کر رہا ہوں۔ ) ۴۸ * جو کوئی نیکی کرے گا ہم اس کے لیے اس کی نیکی میں خوبی کا اضافہ کریں گے۔ اللہ بڑا بخشنے والا اور بڑا قدر داں ہے۔ ۴۹ *

۲۴۔۔۔۔۔۔کیا یہ لوگ کہتے ہیں کہ اس شخص نے اللہ پر جھوٹ باندھا ہے۔ اگر اللہ چاہے تو (اے نبی) تمہارے دل پر مہر لگا دے۔ ۵۰۔۔۔۔۔۔* وہ باطل کو مٹاتا ہے اور حق کو اپنے کلمات سے حق ثابت کر دکھاتا ہے۔ ۵۱ * یقیناً وہ دلوں کے بھید جانتا ہے۔ ۵۲ *

۲۵۔۔۔۔۔۔وہی ہے جو اپنے بندوں کی توبہ قبول کرتا ہے اور برائیوں سے درگزر فرماتا ہے ۵۳ * اور جانتا ہے جو کچھ تم کرتے ہو۔

۲۶۔۔۔۔۔۔وہ ان لوگوں کی دعا قبول کرتا ہے جو ایمان لائے اور جنہوں نے نیک عمل کئے ۵۴ * اور اپنے فضل سے انہیں مزید عطا کرتا ہے۔ رہے کافر تو ان کے لیے سخت عذاب ہے۔

۲۷۔۔۔۔۔۔اگر اللہ اپنے بندوں کو فراخی کے ساتھ رزق دے دیتا تو وہ زمین میں زیادتی پر اتر آتے مگر وہ ایک خاص مقدار میں جس طرح چاہتا ہے اتارتا ہے۔ ۵۵ * وہ اپنے بندوں سے باخبر ہے اور انہیں دیکھ رہا ہے۔

۲۸۔۔۔۔۔۔وہی ہے جو لوگوں کے مایوس ہو جانے کے بعد بارش بھیجتا ہے ۵۶ * اور اپنی رحمت پھیلا دیتا ہے۔ وہی کارساز ہے لائقِ حمد۔ ۵۷*

۲۹۔۔۔۔۔۔اور اس کی نشانیوں میں سے ہے آسمانوں اور زمین کی پیدائش ۵۸ * اور جاندار جو اس نے ان میں پھیلائے ہیں۔ ۵۹۔۔۔۔۔۔* اور وہ ان کو جب چاہے اکٹھا کرنے پر قادر ہے۔

۳۰۔۔۔۔۔۔جو مصیبت بھی تم کو پہنچتی ہے تمہارے اپنے کرتوتوں کی وجہ سے پہنچتی ہے۔ ۶۰ * اور بہت سی برائیوں سے وہ درگزر بھی فرماتا ہے۔

۳۱۔۔۔۔۔۔تم زمین میں اس کے قابو سے نہیں نکل سکتے اور نہ اللہ کے مقابل میں تمہارا کوئی کارساز و مددگار ہے۔ ۶۱*

۳۲۔۔۔۔۔۔اس کی نشانیوں میں سے سمندر میں چلنے والے جہاز ہیں گویا پہاڑ۔ ۶۲*

۳۳۔۔۔۔۔۔اگر وہ چاہے تو ہوا کو ساکن کر دے تو وہ اس کی سطح پر ٹھہرے ہی رہ جائیں۔ ۶۳ * یقیناً اس میں نشانیاں ہیں ہر اس شخص کے لیے جو صبر اور شکر کرنے والا ہو۔ ۶۴ *

۳۴۔۔۔۔۔۔یا (وہ چاہے) تو ان کے کرتوتوں کی پاداش میں ان جہازوں کو تباہ کر دے۔ اور (چاہے تو) بہت سی باتوں سے درگزر فرمائے۔

۳۵۔۔۔۔۔۔اور (اگر تباہ کر دے تو اس لیے تاکہ) وہ لوگ جو ہماری آیتوں میں جھگڑتے ہیں جان لیں کہ ان کے لیے کوئی مفر (بھاگنے کی جگہ) نہیں ہے۔

۳۶۔۔۔۔۔۔تمہیں جو کچھ بھی دیا گیا ہے وہ محض دنیوی زندگی کا سامان ہے اور جو کچھ اللہ کے ہاں ہے وہ کہیں بہتر اور پائیدار ہے۔ *۶۵  ان لوگوں کے لیے جو ایمان لائے اور اپنے رب پر بھروسہ رکھتے ہیں۔ ۶۶ *

۳۷۔۔۔۔۔۔جو بڑے گناہوں ۶۷ * اور بے حیائی کے کاموں ۶۸ * سے بچتے ہیں اور جب غصہ آ جاتا ہے تو معاف کرتے ہیں۔ ۶۹ *

۳۸۔۔۔۔۔۔جو اپنے رب کی پکار پر لبیک کہتے ہیں ۷۰ * اور نماز قائم کرتے ہیں ۷۱ * اور اپنے معاملات آپس کے مشورہ سے چلاتے ہیں ۷۲ * اور جو ہمارے دیئے ہوئے رزق میں سے خرچ کرتے ہیں۔ ۷۳*

۳۹۔۔۔۔۔۔اور جب ان پر ظلم ہوتا ہے تو وہ اپنی مدافعت کرتے ہیں۔ ۷۴ *

۴۰۔۔۔۔۔۔اور برائی کا بدلہ ویسی ہی برائی ہے ۷۵ * پھر جو کوئی در گزر کرے اور اصلاح کرے تو اس کا اجر اللہ کے ذمہ ہے۔* ۷۶ اللہ ظالموں کو پسند نہیں کرتا۔ ۷۷ *

۴۱۔۔۔۔۔۔اور جنہوں نے اپنے اوپر ظلم ہونے کے بعد بدلہ لیا ان پر کوئی الزام نہیں۔ ۷۸ *

۴۲۔۔۔۔۔۔الزام تو ان لوگوں پر ہے جو لوگوں پر ظلم کرتے ہیں اور زمین میں ناحق سرکشی کرتے ہیں۔ ۷۹ * ایسے لوگوں کے لیے دردناک عذاب ہے۔

۴۳۔۔۔۔۔۔البتہ جس نے صبر کیا اور معاف کیا تو یہ بڑی عزیمت کا کام ہے۔ ۸۰ *

۴۴۔۔۔۔۔۔جس کو اللہ گمراہ کر دے تو اس کے بعد اس کا کوئی کارساز نہیں۔ ۸۱ * تم ظالموں کو دیکھو گے کہ جب وہ عذاب کو دیکھ لیں گے تو کہیں گے۔ ہے کوئی واپسی کی راہ !۸۲ *

۴۵۔۔۔۔۔۔اور تم دیکھو گے کہ وہ جہنم کے سامنے اس طرح پیش کئے جائیں گے۔ ۸۳ * اس وقت اہل ایمان کہیں گے کہ اصل خسارہ میں رہنے والے وہی ہیں جنہوں نے قیامت کے دن اپنے آپ کو اور اپنے متعلقین کو خسارہ میں ڈالا۔ ۸۴ * خبردار ! یہ ظالم قائم رہنے والے عذاب ۸۵ * میں ہوں گے۔

۴۶۔۔۔۔۔۔اور ان کے کوئی دوست نہ ہوں گے جو اللہ کے مقابل ان کی مدد کر سکیں۔ اور جسے اللہ گمراہ کر دے اس کے لیے کوئی راہ نہیں۔

۴۷۔۔۔۔۔۔اپنے رب کی دعوت قبول کر لو قبل اس کے کہ اللہ کی طرف سے ایک ایسا دن آئے جس کو ٹالا نہ جا سکے گا۔ ۸۶* اس دن تمہارے لیے کوئی جائے پناہ نہ ہو گی اور نہ تم (عذاب کو) دفع کر سکو گے۔ ۸۷ *

۴۸۔۔۔۔۔۔لیکن اگر یہ منہ پھیر لیتے ہیں تو (اے نبی!) ہم نے تمہیں ان پر نگہبان بنا کر نہیں بھیجا ہے۔ ۸۸ * تم پر صرف پہنچانے کی ذمہ داری ہے۔ اور انسان کو جب ہم اپنی رحمت کا ذائقہ چکھاتے ہیں تو اس پر اترانے لگتا ہے اور اگر اس کے کرتوتوں کی وجہ سے کوئی مصیبت اس پر آتی ہے تو ہ ناشکرا بن جاتا ہے۔ ۸۹ *

۴۹۔۔۔۔۔۔آسمانوں اور زمین کی بادشاہی اللہ ہی کے لیے ہے۔ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے۔ جس کو چاہتا ہے لڑکیاں دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے لڑکے دیتا ہے۔

۵۰۔۔۔۔۔۔یا ان کو لڑکے اور لڑکیاں دونوں عطا فرماتا ہے اور جس کو چاہتا ہے بے اولاد رکھتا ہے۔ وہ جاننے والا قدرت والا ہے ۹۰ *

۵۱۔۔۔۔۔۔کسی بشر کی یہ شان نہیں کہ اللہ اس سے کلام کرے مگر وحی کی صورت میں یا پردہ کے پیچھے سے یا یہ کہ کسی فرشتہ کو بھیج دے جو اس کے حکم سے وحی کرے جو وہ چاہے۔ ۹۱ * وہ بلند مرتبہ اور حکمت والا ہے۔ ۹۲ *

۵۲۔۔۔۔۔۔اور اسی طرح (اے نبی!) ہم نے تمہاری طرف ایک روح اپنے فرمان سے وحی کی ہے۔ ۹۳ *تم نہیں جانتے تھے کہ کتاب کیا ہے اور ایمان کیا ۹۴ *مگر ہم نے اس کو ایک نور بنا دیا ۹۵ * جس کے ذریعہ ہم ہدایت دیتے ہیں اپنے بندوں میں سے جسے چاہتے ہیں۔ اور یقیناً تم سیدھے راستے کی طرف رہنمائی کر رہے ہو۔ ۹۶ *

۵۳۔۔۔۔۔۔اللہ کے راستے کی طرف جو آسمانوں اور زمین کی ساری چیزوں کا مالک ہے۔ خبردار ہو جاؤ! سارے معاملات اللہ ہی کی طرف لوٹتے ہیں۔ ۹۷ *

                   تفسیر

 

۱۔۔۔۔۔۔ یہ الگ الگ حروف ہیں جن سے کلام کا آغاز کرنے کا فائدہ یہ ہے کہ ان کی تلاوت آدمی کو چونکا دیتی ہے اور وہ اصل کلام کی طرف متوجہ ہو جاتا ہے۔ (مزید تشریح کے لیے دیکھئے سورہ بقرہ نوٹ ۱)

اس سورہ میں حمٰ کا اشارہ اللہ کے حکیم ہونے کی صفت کی طرف ہے جس کا ذکر آیت ۳ میں اور ۵۱ میں ہوا ہے۔ اسی طرح “ع” کا اشارہ اللہ کے عزیز (غالب) ، علی (بلند) اور علیم (علم والا) ہونے کی صفات کی طرف ہے جن کا ذکر بالترتیب آیت ۳، ۴ اور ۵۰ میں ہوا ہے۔ “س” کا اشارہ اللہ کے سمیع (سننے والا) ہونے کی صفت کی طرف ہے جس کا ذکر آیت ۱۱ میں ہوا ہے۔ اور “ق” کا اشارہ اللہ کے قدیر (قدرت والا) اور قوی (قوت والا) ہونے کی طرف ہے جن کا ذکر آیت ۹ اور ۱۹ میں ہوا ہے۔

۲۔۔۔۔۔۔ “وحی” پیغام رسانی کا وہ مخفی ذریعہ ہے جو اللہ تعالیٰ اپنے پیغمبروں کے لیے اختیار کرتا ہے۔ عام انسان اس ذریعہ کا ادراک نہیں کر سکتے اس لیے جو حقیقت پسند نہیں ہوتے انہیں اس پر تعجب ہوتا ہے اور وہ اس کا انکار کر بیٹھتے ہیں۔ قرآن کے وحی الٰہی ہونے کو بھی تعجب کی نگاہ سے دیکھا جا رہا تھا اس لیے اس کے ایک امر واقعہ ہونے کا یقین دلاتے ہوئے فرمایا کہ پیغام رسانی کا یہی طریقہ ہم نے اس رسول کے معاملہ میں بھی اختیار کیا ہے اور یہی طریقہ اس سے پہلے بھی رسولوں کے بارے میں اختیار کیا جاتا رہا ہے۔ آیت میں خطاب نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے ہے لیکن سمجھا نا ان لوگوں کو مقصود ہے جو وحی کو تعجب کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔

آج کا ماڈرن انسان بھی خدا اور مذہب کے معاملہ میں تعصب کی بنا پر وحی کو جو اس بارے میں علم کا سبب سے زیادہ یقینی ذریعہ ہے ماننے کے لیے تیار نہیں ہے جب کہ خود انسان نے آسمان کی فضاء میں ایسے سٹیلائٹ داغے ہیں جن کے سگنل وہ سنتا اور سمجھتا ہے۔

۳۔۔۔۔۔۔ علی (بلند) ہے مرتبہ کے اعتبار سے اور عظیم ہے تعظیم و تکریم کے اعتبار سے۔

۴۔۔۔۔۔۔ یعنی اللہ کی ہیبت آسمانوں پر ایسی طاری ہے کہ عجب نہیں کہ وہ پھٹ پڑیں۔ اور قیامت کے دن وہ واقعی پھٹ پڑیں گے۔

۵۔۔۔۔۔۔ زمین والوں سے مراد زمین بسنے والے اہل ایمان ہیں جیسا کہ سورۂ مومن آیت۷ میں صراحت کے ساتھ بیان ہوا ہے یہاں واضح کرنا یہ مقصود ہے کہ فرشتے آسمان میں رہتے ہوئے زمین پر بسنے والے اہل ایمان سے گہرا قلبی ربط رکھتے ہیں اور ان کی ہمدردی میں ان کی معافی کے لیے اللہ کے حضور دعا گو ہوتے ہیں۔

اس آیت میں جو کچھ بیان ہوا اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اللہ کی کیا شان ہے اور کیسا جلال ہے آسمان میں !

۶۔۔۔۔۔۔ یعنی گناہوں کو بخشنا اور رحم کرنا اللہ ہی کا کام ہے۔ فرشتے صرف دعا کر سکتے ہیں اس لیے اپنے گناہوں کی بخشش اللہ ہی سے مانگنا چاہیے اور اسی سے رحم کی درخواست کرنا چاہیے۔

اس سے عیسائیوں کے اس عقیدہ کی آپ سے آپ تردید ہوتی ہیں کہ حضرت مسیح کفارہ ہیں اور قیامت کے دن وہ اپنے ماننے والوں کے گناہ بخش دیں گے۔

۷۔۔۔۔۔۔ ولی (کارساز) کی تشریح کے لیے دیکھئے سورۂ کہف نوٹ ۱۲۔۸ نیز سورۂ اعراف نوٹ ۶۔

۸۔۔۔۔۔۔ اور جب اللہ ان پر نگاہ رکھے ہوئے ہے تو وہ ضرور ان کے اس مجرمانہ رویہ پر گرفت کرے گا۔

۹ یعنی ان کے عمل کے تم ذمہ دار نہیں ہو۔ تمہارا یہ کام نہیں کہ اللہ کے دن کا زبردستی انہیں قائل کراؤ بلکہ تمہارا کام صرف پیغام پہنچا دینا ہے۔

۱۰۔۔۔۔۔۔ ام القریٰ کے معنی ہیں بستیوں کا مرکز۔ مکہ نہ صرف عرب علاقہ کا مرکزی شہر تھا بلکہ دینی اعتبار سے بھی مرکزی حیثیت رکھتا تھا اس لیے اسے ام القریٰ کہا گیا۔

۱۱۔۔۔۔۔۔ چونکہ قرآن کے مخاطب اول مکہ اور اس کے اطراف کے لوگ تھے اور ان کی زبان عربی تھی اس لیے قرآن کو بھی عربی زبان میں نازل کیا گیا۔

۱۲۔۔۔۔۔۔ قیامت کے دن سے خبردار کرنا نزولِ قرآن کا اہم مقصد ہے اس لیے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو ہدایت ہوئی کہ آپ قیامت کے دن سے لوگوں کو ڈرائیں۔ دعوتِ قرآنی کا یہ اہم ترین پہلو ہے جس کا لحاظ ان لوگوں کو کرنا چاہیے جو دعوتِ دین کی خدمت انجام دینے کے لیے اٹھیں۔

۱۳۔۔۔۔۔۔۔ یعنی ایمان لا کر نیک عمل کرنے والوں کا گروہ۔

۱۴۔۔۔۔۔۔ یعنی کافروں اور مشرکوں کا گروہ۔

۱۵۔۔۔۔۔۔ یعنی اللہ چاہتا تو بزور سب کو ایک ہی دین__اسلام__ کا پیرو بنا دیتا۔ کسی دوسرے مذہب کا وجود ہو ہی نہیں سکتا تھا لیکن اللہ کی مشیت یہ ہوئی کہ انسان کو انتخاب و اختیار کی آزادی دے کر آزمایا جائے کہ وہ اپنی عقل و بصیرت کو استعمال کر کے اس دین کو قبول کرتا ہے جو اللہ نے وحی کی ذریعہ اور رسولوں کی معرفت بھیجا ہے یا قوموں اور فرقوں کے خود ساختہ مذاہب میں سے کسی مذہب کا پیرو بن کر رہ جاتا ہے۔ مزید تشریح کے لیے دیکھئے سورۂ مائدہ نوٹ ۱۵۔۹۔

۱۶۔۔۔۔۔۔ یعنی جس کو دینِ حق پر چلنے کی توفیق ملی وہ اللہ کی رحمت میں داخل ہوا۔ اور یہ توفیق ان ہی کو ملتی ہے جو اس کی سچی طلب رکھتے ہیں۔ اللہ کی مشیت اس کی حکمت کے عین مطابق ہوتی ہے۔

۱۷۔۔۔۔۔۔ یہاں خاص طور سے اشارہ ان لوگوں کی طرف ہے جنہوں نے الگ الگ مذہب بنائے اور ان کے بانیوں کو ان کے عقیدت مندوں نے اپنا سر پرست اور کار ساز بنا لیا اور ان گمراہ پیشواؤں کے پیچھے چل کر گمراہ ہوتے رہے۔

۱۸۔۔۔۔۔۔ یہ اور اس طرح کی دوسری آیتیں صراحت کرتی ہیں کہ تمام اختلافی اور متنازعہ امور میں فیصلہ کا حق اللہ ہی کو ہے لہٰذا اللہ کے دین نے جن باتوں کو بھی اپنے دائرہ میں لیا ہے ان میں سے کسی معاملہ میں بھی کسی اور کے فیصلہ کو قبول نہیں کیا جا سکتا خواہ اس کا تعلق عقائد و عبادات سے ہو یا معاشرتی ، تمدنی اور سیاسی امور سے۔ اس آیت میں اللہ کی حاکمیت کو دو ٹوک انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ اس سے لازم آتا ہے کہ : اولاً لوگوں کے درمیان مذہب کے تعلق سے جو اختلافات رونما ہو گئے ہیں ان کے سلسلہ میں وہ اللہ کی کتاب __قرآن__کو حَکم مانیں۔

ثانیاً حلال و حرام، عائلی (نکاح، طلاق، نفقہ وغیرہ) تہذیبی (آرٹ وغیرہ) تمدنی اور سیاسی مسائل میں اللہ ہی کے احکام کی طرف رجوع کریں اور ایسی کوئی قانون سازی نہ کریں جو اس کے قانون اور اس کے رسول کے طریقہ (سنت) کے خلاف ہو۔ ثالثاً اللہ کے دین میں نے کوئی اضافہ کیا جائے اور نہ کمی۔ جو بدعتیں مسلمانوں کے مختلف فرقوں نے ایجاد کی ہیں ان کو رد کر دیا جائے اور اللہ اور اس کے رسول کے احکام کے آگے کسی کے قول کو کوئی وزن نہ دیا جائے اور نہ کسی کی تقلید کا قلادہ اپنی گردن میں ڈالا جائے۔ کھلے ذہن سے ہر اس بات کو قبول کیا جائے جس کا حکم اللہ نے دیا ہے اور جو اس کے رسول کی سنت سے ثابت ہے۔

۱۹۔۔۔۔۔۔ یعنی اسی خلق (پیدائش) میں اللہ نے یہ برکت رکھی کہ نسلیں پھیلتی چلی جا رہی ہے۔

۲۰۔۔۔۔۔۔ یہ بات کہ اللہ کے جیسی کوئی چیز نہیں عقائد کے باب میں بہت بڑی حقیقت کا اعلان ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ اپنی ذات اور صفات میں یکتا اور بے مثال ہے۔ مخلوق پر خالق کو نہ قیاس کیا جا سکتا ہے اور نہ مخلوق سے اسے تشبیہ دی جا سکتی ہے۔ اہل مذاہب کی گمراہی کی اصل وجہ یہی ہے کہ انہوں نے اپنے خالق اور اپنے رب کو مخلوق اور بندوں پر قیاس کیا اور پھر گمراہ کن فلسفے ایجاد کئے۔ مسلمانوں میں بھی جو کلامی بحثیں اٹھ کھری ہوئیں وہ بھی اس اصل سے انحراف ہی کا نتیجہ تھیں۔ عقیدہ کی صحت کے لیے ضروری ہے کہ کسی قسم کی فلسفیانہ بحث میں پڑے بغیر اس سادہ حقیقت پر یقین کیا جائے کہ اللہ کے جیسی کوئی چیز نہیں۔

۲۱۔۔۔۔۔۔ اس کی تشریح سورۂ زمر نوٹ ۱۱۰ میں گزر چکی۔

۲۲۔۔۔۔۔۔ تشریح کے لیے دیکھئے سورۂ رعد نوٹ ۵۸۔

۲۳۔۔۔۔۔۔ اس آیت کے مفہوم کو صحیح طور سے سمجھنے کے لیے سلسلہ کلام کو پیش نظر رکھنا ضروری ہے۔ سورہ کا آغاز اس بات سے ہوا تھا کہ یہ قرآن اسی طرح کی وحی ہے جس طرح کی وحی وہ رسولوں کی طرف بھیجتا رہا ہے۔ یہ کوئی نرالی چیز نہیں ہے جس سے انسان نا آشنا ہو۔ پھر اس ہستی کی معرفت بخشی گئی ہے جس کی طرف سے وحی نا زل ہوتی ہے اور اس سلسلہ میں توحید کی نشانیوں کی طرف متوجہ کیا گیا۔ اسی سیاق میں یہاں واضح کیا جا رہا ہے کہ جس دن کی دعوت قرآن اور اس کا پیغمبر پیش کر رہا ہے وہ دین توحید ہے اور یہ وہی دین ہے جو تمام جلیل القدر انبیاء علیہم السلام کا دین رہا ہے لہٰذا اسی دین توحید کی مخلصانہ پیروی کرو اور اس میں نئی راہیں (بدعتیں نہ نکالو) کہ دینِ حق کا سرا ہاتھ سے چھوٹ جائے اور الگ الگ مذہبی گروہوں اور فرقوں میں بٹ کر رہ جائے۔

حضرت نوح پہلے رسول تھے جو انسانی آبادی کی طرف بھیجے گئے تھے انہیں جس دین پر چلنے کی ہدایت اللہ تعالیٰ نے فرمائی تھی وہی دین اس نے اس رسول پر بھی نازل کیا ہے اور یہی دین ان جلیل القدر انبیاء علیہم السلام کا رہا ہے جس کی طرف مختلف ملتیں منسوب ہیں۔ یہ دین__اسلام__ اپنی اصل کے اعتبار سے ایک ہی ہے گو شریعتیں مختلف رہی ہیں جیسا کہ ارشاد ہوا ہے۔

لِکُلِّ جَعَلْنَا مِنْکُمْ شرْعَۃً وَمِنَہَاجاً (مائدہ۔ ۴۸)” ہم نے تم میں سے ہر ایک (گروہ) کے لیے ایک شریعت اور ایک منہاج (راہِ عمل) ٹھہرا دی ہے۔ ”

شریعتوں کا یہ اختلاف فروع کی حیثیت رکھتا ہے جن کا اصولِ دین پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ اصول دین میں توحید، آخرت، رسالت، ایک اللہ کی عبادت و اطاعت ، تقویٰ و پرہیزگاری، حق کی تلقین اور عدل و احسان جیسے بنیادی امور شامل ہیں اور شریعت تو اللہ کی اطاعت کی شکل اور اس کی تفصیل ہے جو دین کا لازمہ ہے۔ شریعت پر بھی اگرچہ دین کا اطلاق ہوا ہے جیسا کہ آیت اَلْیوْمَ اَکْمَلْتُ لَکُمْ دِیْنَکُمْ (مائدہ ۳)” آج میں نے تمہارے لیے تمہارے دین کو مکمل کر دیا”۔ میں ہوا ہے تاہم یہاں چونکہ انبیاء علیہم السلام کے مشترک دین کو پیش کیا گیا ہے اس لیے یہاں دین سے مراد اصولِ دین ہی میں لیکن اس کا مطلب یہ لینا صحیح نہ ہو گا کہ شریعت دین سے بالکل خارج ہے کیوں کہ اصول دین میں جیسا کہ ہم نے اوپر واضح کیا اللہ کی عبادت و اطاعت شامل ہے اور اسی کی عملی شکل اور اس کا تفصیلی عمل نظامِ شریعت ہے۔ قرآن میں دین کا لفظ جامع مفہوم میں بھی استعمال ہوا ہے اور کبھی اس کے کسی خاص پہلو کے لیے بھی مثلاً

وَاذاَغشِیہُم مَوْجٌ کالظَّلَل دَعَوُااللّٰہَ مُخْلِصِینَ لَہُ الدِّینَ (لقمان:۳۲) “اور جب موجیں سائبانوں کی طرح ان پر چھا جاتی ہیں تو وہ اللہ کو پکارتے ہیں دین (خضوع و بندگی) کو اس کے لیے خالص کرتے ہوئے۔ ”

اس آیت میں دین کا لفظ خضوع اور بندگی کے معنی میں استعمال ہوا ہے کیوں کہ مشرکین کا طوفان سے دو چار ہونے پر اللہ ہی کو پکارنا اس سے عاجزی کرنے کے مفہوم میں ہے نہ کہ اس کی شریعت کو خالصتہً قبول کرنے کے معنی میں۔ اس لیے اگر آیت زیر بحث میں دین کا لفظ اصولِ دین کے معنی میں استعمال ہوا ہے تو یہ محل کلام کے تقاضے کے تحت ہوا ہے لہٰذا کوئی وجہ نہیں کہ تکلف سے کام لیکر شریعت کی تفصیلات کو بھی اس میں شامل کرنے کی کوشش کی جائے۔ جمہور مفسرین نے بھی اس آیت کی تفسیر میں دین سے اصول دین ہی مراد لیے ہیں۔ امام رازی لکھتے ہیں۔

” تو ضروری ہے کہ دین سے مراد وہ امور ہوں جو اختلاف شرائع کی بنا پر مختلف نہیں ہوتے اور وہ ہیں اللہ، اس کے فرشتوں ، اس کی کتابوں ، اس کے رسولوں اور یومِ آخر پر ایمان، اور ایمان سے لازم آتا ہے کہ آدمی دنیا سے اعراض کرے اور آخرت کی طرف متوجہ ہو جائے ، مکارم اخلاق کے لیے کوشش کرے اور رذائل سے احتراز کرے۔ ” (التفسیر الکبیر ج ۲۷  ص ۱۵ ۶)

علامہ زمخشری فرماتے ہیں :

” مراد دینِ اسلام کی اقامت ہے جو اللہ کی توحید اور اس کی اطاعت اور اس کے رسولوں ، اس کی کتابوں اور یومِ جزا پر ایمان نیز ان تمام باتوں پر مشتمل ہے جن کو قائم کرنے سے آدمی مسلم ہو جاتا ہے اور مراد شریعتیں نہیں ہیں جو امتوں کے حسبِ حال مصالح پر مشتمل ہوتی ہیں کیوں کہ وہ مختلف اور متفاوت ہوتی ہیں۔ ” (الکشاف ج۳ ص ۴۶ ،۳ )۔

قریب قریب یہی بات علامہ آلوسی نے بھی اپنی تفسیر میں لکھی ہے۔ (ملاحظہ ہو روح المعانی ج ۲ ص ۲۱ )

علامہ ابن کثیر ؒ فرماتے ہیں :

” یعنی قدر مشترکہ ان (انبیاء) کے درمیان ایک اللہ کی عبادت ہے جس کا کوئی شریک نہیں اگرچہ ان کی شریعتیں اور ان کے منہاج مختلف ہیں۔ ” (تفسیر ابن کثیر ج ۴ ص ۱۰، ۹۔

مولانا امین احسن اصلاحی صاحب فرماتے ہیں : ” اللہ کا دین شروع سے اسلام ہے جیسا کہ ارشاد ہے اِنَّ الدِّینَ عِنْدَ اللّٰہِ الْاسْلَامِ (اصل دین اللہ کے نزدیک اسلام ہے)۔ اس دین کی بنیاد خالص اور کامل توحید پر ہے۔ یہی دین اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح علیہ السلام بلکہ حضرت آدم علیہ السلام کو بھی دیا اور یہی دین محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم پر بھی نازل کیا۔ اس کے عقائد اور اس کے اساسات شروع سے آخر تک بالکل ایک ہی ہیں۔ فرق اگر ہوا ہے تو جزئیاتِ شریعت میں ہوا ہے جس کو قرآن نے شریعۃ و منہاج کے الفاظ سے تعبیر فرمایا ہے۔ ” (تدبر قرآن ج ۶ ص۱۵۳)

لیکن صاحبِ تفہیم القرآن نے ان لوگوں پر سخت گرفت کی ہے جنہوں نے اس موقع پر دین سے مراد شرعی احکام و ضوابط نہیں لیے ہیں بلکہ صرف اصولی باتیں مراد لی ہیں جو تمام انبیاء علیہ السلام کے درمیان مشترک رہی ہیں۔ فاضل مفسر نے اس رائے کو خطرناک قرار دیتے ہوئے لکھا ہے کہ:

“اگر اس کی اصلاح نہ کر دی جائے تو آگے بڑھ کر بات دین و شریعت کی اس تفریق تک جا پہنچے گی جس میں مبتلا ہو کر سینٹ پال نے دین بلا شریعت کا نظریہ پیش کیا اور سیدنا مسیح علیہ السلام کی امت کو خراب کر دیا۔ اس لیے کہ جب شریعت دین سے الگ ایک چیز ہے اور حکم صرف دین کو قائم کرنے کا ہے نہ کہ شریعت کو تو لا محالہ مسلمان بھی عیسائیوں کی طرح شریعت کو غیر اہم اور اس کی اقامت کو غیر مقصود بالذات سمجھ کر نظر انداز کر دیں گے اور صرف ایمانیات اور موٹے موٹے اخلاقی اصولوں کو لیکر بیٹھ جائیں گے۔ ” (تفہیم القرآن ج ۴ص ۴۸۴)

مگر یہ صریح مغالطہ ہے کسی بھی مفسر نے یہ بات نہیں کہی کہ شریعت دین سے خارج ہے یا شریعت پر دین کا اطلاق نہیں ہوتا اور نہ کسی مفسر نے شریعت کی اہمیت گھٹا دی ہے۔ بات صرف یہ ہے کہ سورہ شوریٰ کی اس آیت میں جو زیر بحث ہے متعدد مفسرین شرعی احکام و ضوابط کو شامل نہیں سمجھتے ان کے نزدیک ان کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ قرآن میں کہیں بھی دین کا لفظ شریعت کے معنی میں نہیں آیا ہے یا دین کا لفظ جہاں بھی آیا ہے اس میں شریعت شامل نہیں ہے۔ قرآن میں ایسے کتنے الفاظ ہیں جو ایک جگہ محدود معنی میں استعمال ہوئے ہیں اور دوسری جگہ اپنے وسیع تر معنی میں۔ مثال کے طور پر طاغوت کا لفظ کہیں بت کے لیے استعمال ہوا ہے تو کہیں شیطان کے لیے اور کہیں گمراہ پیشواؤں اور حاکموں کے لیے تو کہیں سرکش اور مفسد لوگوں کے لیے۔ اب اگر ایک مفسر ایک آیت میں محلِ کلام کو ملحوظ رکھتے ہوئے طاغوت سے مراد بت لیتا ہے تو اس پر یہ الزام کیسے عائد کیا جا سکتا ہے کہ وہ دوسری چیزوں کے طاغوت ہونے کا منکر ہے ؟

آیت زیر تفسیر میں دین کے ساتھ “اَقیموا” کا لفظ آیا ہے جس کا مصدر اقامۃ ہے اور اقامۃ کے معنی عربی میں کسی چیز کا حق پوری طرح ادا کرنے کے ہیں :

اِقامۃ اشیِیٔ توفیۃُ حقہ (مفردات راغب ص۴۲۹)” کسی چیز کی اقامت اس کے حق کو پورا پورا ادا کرنا ہے۔ ”

امام راغب نے آگے صراحت کی ہے کہ اقامت صلوٰۃ سے مقصود محض نماز پڑھنا نہیں بلکہ نماز کو اس کی تمام شرائط کے ساتھ ادا کرنا ہے۔ اور (سورۂ مائدہ آیت ۶۸  میں) تورات و انجیل کو قائم کرنے سے مراد علم و عمل سے ان کے حقوق پورے پورے ادا کرنا ہے۔

اور لسان العرب میں ہے :

اَ قَامَ الشیٔ: ادَامہٗ من قولہ تعالیٰ: وَیقیمُون الصَّلوٰۃَ۔ “کسی چیز کو قائم کرنا یعنی اس کو دائمی طور پر کرتے رہنا ہے۔ اسی معنی میں ہے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ” وہ نماز کو قائم کرتے ہیں “۔ (لسان العرب ج ۱۲ ،ص۴۹۸)

اور اقامت کے معنی سیدھا رکھنے کے بھی آتے ہیں۔

قرآن میں ارشاد ہوا ہے :

وَ اَنْ اَقِمْ وجْہَکَ للدّینِ حَنیفاً (یونس:۱۰۵)” اپنا رخ دینِ حنیف کی طرف سیدھا رکھو۔ ”

وَاَقِیمُواوُجوہَکُمْ عِنْدَ کُلِّ مسجدٍ (اعراف۔ ۲۹ )” اور اپنا رُخ سیدھا رکھو ہر عبادت گاہ میں۔ ”

لہٰذا اقیمو الدین کے معنی ہوئے دین کو سیدھا رکھو، اس پر عمل پیرا ہو جاؤ اور اس کے حقوق پوری طرح ادا کرو۔ اور دین کا حق سب سے پہلے اپنی ذات سے متعلق ہوتا ہے اس کے بعد دوسروں سے متعلق۔ اس لیے خطاب کا رُخ یہاں فرد کے اپنے عقائد و اعمال اور اس کی اپنی اصلاح کی طرف ہے کیونکہ یہی نقطۂ آغاز ہے اور دین میں اس کو اولیت حاصل ہے۔ علامہ آلوسی نے اس کی وضاحت اس طرح کی ہے :

” اس کی اقامت سے مراد اس کے ارکان کی تعدیل اور اس بات سے اس کی حفاظت کرنا ہے کہ اس میں کوئی ٹیڑھ نہ پیدا ہو جائے نیز اس پر ہمیشہ عمل پیرا رہنا ہے۔ ” (روح المعانی ج۹ ص ۲۱ )

علامہ شبیر احمد عثمانی لکھتے ہیں :

” یعنی سب انبیاء اور ان کی امتوں کو حکم ہوا کہ دین الٰہی کو اپنے قول و عمل سے قائم رکھیں اور اصل دین میں کسی طرح کی تفریق و اختلاف کو روانہ رکھیں۔ ” (تفسیر مولانا شبیر احمد عثمانی ص ۶۲۸)

اور مولانا امین احسن صاحب فرماتے ہیں :

قائم رکھنے سے مراد یہ ہے کہ اس کی جو باتیں ماننے کی ہیں وہ سچائی کے ساتھ مانی جائیں جو کرنے کی ہیں وہ دیانت داری اور راست بازی کے ساتھ کی جائیں نیز لوگوں کی برابر نگرانی کی جائے کہ اس سے غافل یا منحرف نہ ہونے پائیں۔ اور اس بات کا بھی پورا اہتمام کیا جائے کہ اہل بدعت اس میں کوئی رخنہ نہ پیدا کر سکیں۔ (تدبر قرآن ج ۶ ص ۱۵۳)

اور اللہ تعالیٰ نے یہ جو فرمایا ولا تَتَفَرَّقُوافِیہِ یعنی اس معاملہ میں تفرقہ میں نہ پڑو۔ تو تفرقہ میں پڑنا اقامتِ دین کی ضد ہے اور اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کے دین کے معاملہ میں نئی نئی راہیں نہ نکالو، اس پر اپنی طرف سے نہ کوئی اضافہ کرو اور نہ کمی، اپنی طرف سے مذاہب نہ تراشو، اور نہ کسی مذہب کا جوڑ اس دین سے لگاؤ، بدعتیں اس میں داخل نہ کرو دین کی اصل شاہراہ سے ہٹ جاؤ اور فرقوں میں بٹ کر رہ جاؤ۔ اللہ کا دین ایک چشمۂ صافی ہے اور یہی انسانیت کے لیے آبِ حیات ہے۔ لہٰذا اس کو ہر طرح کی آمیزش سے ہمیشہ پاک اور خالص رکھو۔ اس میں جو چیز بھی ملائی جائے گی وہ زہر ہی ہو گا۔

یہ ہے اقامتِ دین کا سیدھا سادا مفہوم جس کی تائید عربی لغت سے بھی ہوتی ہے اور جمہور مفسرین کی تشریحات سے بھی لیکن موجودہ دور کی اسلامی تحریکیں اقامتِ دین کو ایک جامع اصطلاح کے طور پر مسلمانوں کے نصب العین کی حیثیت سے پیش کر رہی ہیں جس کا اثر دین کے مزاج پر بھی پڑ رہا ہے اور دعوت کے مزاج پر بھی۔ سورۂ شوریٰ کی یہ آیت اقامت دین کو فریضہ کی حیثیت سے پیش کرتی ہے نہ کہ نصب العین کی حیثیت سے۔ فریضہ تو بندہ کی ذمہ داری ہوتی ہے جسے لا محالہ اسے ادا کرنا ہوتا ہے جب کہ نصب العین منزلِ مقصود اور کوششوں کے نتیجہ میں حاصل ہونے والی چیز ہے۔ قرآن نے فلاحِ آخرت اور اس کی کامیابی پر ہی نگاہوں کو مرتکز کرتی ہیں اور مدنی سورتوں میں بھی اسی کو گوہرِ مقصود کی حیثیت سے پیش کیا گیا ہے۔

پھر اقامتِ دین کو جامع اصطلاح قرار دے کر اس کی تشریح و توضیح اس طرح کی جا رہی ہے کہ دین کے وہ تقاضے جو اجتماعی زندگی سے متعلق ہیں ابھر کر سامنے آ جاتے ہیں۔ اسلام کے معاشرتی، معاشی اور سیاسی نظام کے قیام کو اولین حاصل ہو جاتی ہے اور عقیدہ و عبادت کا پہلو جسے قرآن نے یہاں ابھارا ہے دب جاتا ہے۔ یہاں تک کہ اَقِیمُو الدین کا ترجمہ” اسلامی نظامِ زندگی قائم کرو” کیا جاتا ہے اور قائم کرو سے زمین پر قائم کرنا مراد لیا جاتا ہے اور زور اس بات پر دیا جاتا ہے کہ اقتدار حاصل کر کے اسلام کے سیاسی نظام کو قائم کر دو اور اس کے قوانین نافذ کر دو۔ ان میں سے کوئی بات بھی بجائے خود غلط نہیں ہے کیوں کہ قرآن میں ان سب باتوں کی ہدایت کی گئی ہے لیکن ہر بات کا ایک محل ہے۔ سورۂ شوریٰ کی یہ آیت اس کا محل نہیں ہے اس لیے اسلام کے اجتماعی تقاضوں کو یہاں چسپاں کرنا سراسر تکلف ہے۔ اس تکلف سے عربی کی مستند تفاسیر پاک ہیں مگر موجودہ زمانہ میں سیاسی و معاشی نظاموں کی کشمکش نے ذہنوں کو متاثر کیا ہے اور اس کے زیر اثر اسلامی تحریکیں دین کو نئے اسلوب میں پیش کر رہی ہیں جس میں بنیاد کو قائم کرنے سے پہلے ہی عمارت کو تعمیر کرنے کا منصوبہ بنایا جاتا ہے۔ گویا جو چیز دین میں اولین توجہ کی مستحق تھی اس کی اہمیت کو پوری طرح ملحوظ نہیں رکھا گیا اور جو چیز بعد کے مرحلہ کی تھی اس کو ابتدائی مرحلہ ہی میں مرکزِ توجہ بنا دیا گیا۔ نتیجہ یہ کہ جو دین دلوں پر قائم ہوتا ہے وہ بہت کم زیر بحث آتا ہے اور جو دین زمین پر قائم ہوتا ہے وہ بحث کا اصل موضوع بنتا ہے۔

جن انبیاء علیہم السلام کا اس آیت میں ذکر ہوا ہے ان کا اسوہ بھی اقامتِ دین کے مفہوم کو متعین کرتے وقت سامنے رہنا چاہیے۔ حضرت نوح نے اپنی طویل زندگی قوم کو دعوت دینے میں گزاری۔ یہ دعوت بت پرستی اور شرک کو چھوڑ دینے اور توحید کو قبول کرنے کی تھی۔ البتہ جب قوم پر عذاب آیا تو اس کی تباہی کے بعد اہل ایمان کو اقتدار حاصل ہوا اور اسلام نے اجتماعی ہیئت کی شکل اختیار کر لی۔ دوسری شخصیت ابراہیم علیہ السلام کی ہے۔ آپ نے بھی اپنی بت پرست قوم کو جھوٹے معبودوں کو چھوڑنے اور توحید کو قبول کرنے کی دعوت دی اور حق و باطل کی اسی کشمکش میں آپ کو بالآخر ہجرت کرنا پڑی۔ ہجرت کے بعد آپ نے اپنی اولاد کو آزاد ماحول میں بسایا تا کہ ان پر اللہ ہی کے دین کا اقتدار قائم ہو اور وہ اسلام کی دعوت و تبلیغ کا کام انجام دیں اس مقصد کے لیے انہوں نے فلسطین اور مکہ دونوں کا انتخاب کیا۔ تیسری شخصیت موسیٰ علیہ السلام کی ہے۔ آپ نے فرعون اور اس کی قوم کے سامنے دعوتِ توحید پیش کی اور بنی اسرائیل کو جو پہلے سے مسلمان تھے صبر کے ساتھ اسلام کے بنیادی احکام پر عمل کرنے کا حکم دیا یہاں تک کہ مصر کو چھوڑ کر آپ بنی اسرائیل کے ساتھ نکل گئے اور جب کوہِ طور کے دامن میں آپ کو شریعت عطا ہوئی تو اس آزادانہ ماحول میں اس کے احکام بنی اسرائیل پر نافذ کئے گئے۔ چوتھی شخصیت عیسیٰ علیہ السلام کی ہے۔ آپ برنی اسرائیل کے طرف رسول بنا کر بھیجے گئے تھے اور بنی اسرائیل پر رومیوں کی حکومت تھی۔ چونکہ اس وقت بنی اسرائیل میں بگاڑ عام ہو گیا تھا، ان کی سرکشی اپنی انتہا کو پہنچ گئی تھی اور دینداری محض رسمی حیثیت سے باقی رہ گئی تھی اس لیے آپ نے دین کی اصل حقیقت کو اجاگر کیا اور اللہ کی اطاعت و بندگی کی دعوت دی۔ ایک مسلمان قوم کے موجود ہوتے ہوئے آپ نے یہ نہیں کہا کہ قیصر کی حکومت کو ہٹاؤ اور اسلامی نظام حکومت قائم کر دو۔ اور ایسا نہ کہنے کی وجہ یہ نہ تھی کہ آپ کے دین کا سیاست سے کوئی تعلق نہ تھا اور آپ وقت کے سیاسی نظام میں انہیں فٹ کرنا چاہتے تھے بلکہ اس لئے کہ مسلمانوں کا معاشرہ بالکل کھوکھلا ہو گیا تھا اور ابھی وہ مرحلہ نہیں آیا تھا کہ کوئی سیاسی اقدام کیا جاتا۔ ورنہ تورات میں سیاسی احکام تو اس وقت بھی موجود تھے جو اسلام کے لیے اقتدار کے متقاضی تھے۔ آخری شخصیت نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی ہے۔ آپ نے تیرہ سال تک مکہ میں جو دعوت دی وہ شرک و بت پرستی کو ترک کرنے اور توحید، آخرت، رسالت جیسی حقیقتوں کو قبول کرنے کی دعوت تھی اور اہل ایمان کی جو جماعت تشکیل پائی اس کے لیے تقویٰ کی بنیادیں فراہم کیں تاکہ ہر ہر فرد کی زندگی سنور جائے یہاں تک کہ ہجرت کا مرحلہ پیش ا گیا اور آپ کو مدینہ میں آزاد اسلامی ریاست قائم کرنے کے مواقع میسر آئے اور اسی دوران شریعت کے وہ احکام بھی نازل ہوئے جن کا تعلق اسلام کے غلبہ اور اس کے سیاسی نظام کو قائم کرنے سے ہے۔ بلا شبہ آپ نے اسلام کے سیاسی نظام اور اجتماعی نظام کو قائم اور نافذ کر کے دکھایا لیکن سوال یہ ہے کہ جس وقت سورۂ شوریٰ کی آیت اَنْ اَقیمو الدین (دین کو قائم کرو) نازل ہوئی تو کیا آپ نے اسی وقت مسلمانوں کو اسلام کا سیاسی نظام قائم کرنے کی دعوت دی یا آپ اس کے لیے زمین ہموار کرتے رہے ؟ اگر زمین ہموار کرتے رہے تو یہی کام موجودہ دور میں بھی مجبور کن حالات میں کیا جا سکتا ہے یعنی ایسے حالات میں جہاں مسلمانوں کو اقتدار حاصل نہ ہو یا اس کے حصول کی راہیں بظاہر مسدود ہوں۔ لہٰذا اس سلسلہ میں جو خدمت بھی انجام دی جائے گی وہ اقامت دین ہی کا کام ہو گا۔ مگر موجودہ اسلامی تحریکیں اقامتِ دین کو اپنا طرۂ امتیاز سمجھتی ہیں اور دوسروں کی دینی خدمات اور ان کی دعوتی جدوجہد کو اقامتِ دین سے تعبیر کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ یہ غلط ذہنیت اس لیے پیدا ہو گئی ہے کہ انہوں نے قرآن کے اس سادہ حکم کو کہ دین قائم کرو نظامِ اسلامی اور اس طرح کی دوسری ترکیبیں بہ کثرت استعمال کر کے ایک خاص اصطلاح کی حیثیت دے دی اور پھر اس معیار پر دوسروں کے کام کو جانچنا شروع کیا تو ان کو اپنے سوا کوئی بھی اقامتِ دین کا علمبردار نظر نہیں آیا۔ وہ سمجھتے ہیں کہ سب جزئی کام کر رہے ہیں اور دین کی کلی خدمت ان ہی کے حصہ میں آئی ہے۔

واضح رہے کہ اقیموا الدین (دین کو قائم رکھو) کی ترکیب پورے قرآن میں صرف ایک جگہ ہی آئی ہے اور وہ ہے سورۂ شوریٰ کی یہ آیت۔ جب کہ قرآن نے اس حکم کو جو ان الفاظ میں یہاں بیان ہوا ہے دوسرے الفاظ اور دوسری ترکیبوں میں متعدد مقامات پر بیان کر دیا ہے۔ پھر اقامت دین کے الفا ظ ہی کو نصب العین کی تعبیر کے لیے کیوں ضروری قرار دیا جائے ؟

اقامتِ دین کے موضوع پر راقم سطور کی وہ تحریریں جو تفسیر دعوۃ القرآن سے پہلے کی ہیں اور آیت کی اس تشریح و توضیح سے مطابقت نہیں رکھتیں ان سے راقم سطور رجوع کرتا ہے)۔

۲۴۔۔۔۔۔۔ نبی صلی اللہ علیہ و سلم توحید کی دعوت دے رہے تھے اور یہی بات مشرکین کو سخت ناگوار تھی۔

۲۵۔۔۔۔۔۔ اللہ کی مشیت اس کی حکمت کے مطابق ہوتی ہے۔ جو شخص اس کی طرف رجوع کرتا ہے اللہ تعالیٰ ضرور اس کی رہنمائی کا سامان کرتا ہے اور توفیق عطا کرتا ہے کہ وہ اللہ کی راہ پر چلے۔ دین حق کو قبول کر کے اس کی روشنی میں چلنے کی سعادت ان ہی لوگوں کو نصیب ہوتی ہے جن کو اللہ تعالیٰ اس کارِ عظیم کے لیے منتخب فرماتا ہے۔

۲۶۔۔۔۔۔۔ تشریح کے لیے ملاحظہ ہو سورۂ بقرہ نوٹ ۳۰۹ اور سورۂ آل عمران نوٹ ۲۸  ، سورۂ حمٰ السجدہ نوٹ ۲۸۔

۲۷۔۔۔۔۔۔ یعنی دنیا میں عمل کی مہلت دینے کا فرمان۔

۲۸۔۔۔۔۔۔ تشریح کے لیے دیکھئے سورۂ حم السجدہ نوٹ ۶۹۔

۲۹۔۔۔۔۔۔ یعنی اہل کتاب نے جو تحریف شدہ کتابیں تورات، انجیل وغیرہ ورثہ میں پائی ہیں ان کے بارے میں وہ خود شک اور الجھن میں مبتلا ہو گئے ہیں۔ انہیں یقین اور وثوق حاصل نہیں ہے کہ موجودہ کتابوں میں جو باتیں بیان ہوئی ہیں وہ ٹھیک ٹھیک وہی ہیں جو اصل کتاب میں موجود تھیں۔ اب اس شک سے نکلنے کا ذریعہ قرآن ہے جو اللہ کا محفوظ کلام ہے۔

۳۰۔۔۔۔۔۔ یعنی جب صورتِ حال یہ ہے کہ لوگوں نے اپنے الگ الگ مذہب بنا لئے ہیں اور فرقوں میں بٹ گئے ہیں تو تمہارا کام ان سب کو دین حق کی طرف دعوت دینا ہے اور خود اس پر جمے رہنا ہے۔

یہاں بھی اقامتِ دین کا یہ پہلو نمایاں ہے کہ دینِ حق پر خود بھی قائم رہ اور دوسروں کو بھی اس کی دعوت دو۔

۳۱۔۔۔۔۔۔ یعنی دین کے معاملہ میں اتباع وحی الٰہی کی ہونی چاہیے نہ کہ لوگوں کی خواہشات کی۔ لوگوں نے جب اپنی خواہشات کو دین میں داخل کیا تو اس میں طرح طرح کی بدعتوں نے راہ پائی یہاں تک کہ دین کا حلیہ بگڑ کر رہ گیا اور نت نئے مذاہب وجود میں آ گئے۔ اس کا لازمی نتیجہ یہ نکلا کہ لوگ فرقوں میں بٹ کر رہ گئے۔

۳۲۔۔۔۔۔۔ یعنی اس شان کی کتاب کہ وہ حق کو دو ٹوک انداز میں پیش کرتی ہے۔

۳۳۔۔۔۔۔۔ یعنی کسی فرد یا فرقہ کے ساتھ جانب داری نہ برتوں اور نہ کسی فرد یا مذہب کے خلاف ایسی بات کہوں جو عدل و انصاف کے خلاف ہو۔ بے لاگ انصاف کی بات کہنا میرا فرض منصبی ہے۔

۳۴۔۔۔۔۔۔ یعنی دلائل واضح ہو جانے کے بعد اگر تم نہیں مانتے تو بحث کا خاتمہ ہو جانا چاہیے۔ معاملہ اللہ کی عدالت کے سپرد ہے وہاں اس نزاع کا فیصلہ ہو جائے گا۔

۳۵۔۔۔۔۔۔ یعنی جب کہ انسان کی فطرت اپنے رب کی پکار پر لبیک کہہ چکی ہے۔ فطرتِ انسانی ایک خدا ہی سے جو اس کا خالق ہے آشنا ہے اور دنیا میں آنے سے پہلے ہر شخص کی روح اپنے ربِ حقیقی کا اقرار کر چکی ہے۔ (سورۂ اعراف آیت ۲۶۵)

۳۶۔۔۔۔۔۔ یعنی اللہ کے بارے میں ایسی حجتیں پیش کرنا جو انسان کی فطرت سے ہم آہنگ نہیں ہیں اور اس کے قلب و ضمیر کی آواز کے خلاف ہیں کٹ حجتی کے سوا کچھ نہیں۔ اور اللہ کے بارے میں کٹ حجتی اور منطق چھانٹنا بالکل باطل ہے۔

۳۷۔۔۔۔۔۔ میزان یعنی عدل و انصاف کو قائم کرنے والی چیز کتاب الٰہی خدائی میزانDivine Balance ہے جو انسانی سوسائٹی کے لیے قیام عدل کا ذریعہ ہے۔ یہ ایسے اصول اور ایسے احکام و قوانین پر مشتمل ہے جن کو رو بہ عمل لانے اور جن کے مطابق متنازعہ امور کا فیصلہ کرنے سے انسان کی انفرادی و اجتماعی زندگی میں عدل کا دور دورہ ہو جاتا ہے۔ یہ میزان ہر چیز کی قدر متعین کرتی ہے کہ کون سا عمل کیا اہمیت اور فضیلت رکھتا ہے اور کن باتوں کو دین میں اولیت حاصل ہے۔ یہ میزان بندگانِ خدا کے باہمی حقوق بھی تول کر رکھ دیتی ہے تاکہ کسی کے ساتھ کوئی نا انصافی نہ ہو۔

واضح رہے کہ میزان کا اطلاق شریعت پر بھی ہوتا ہے جس کے احکام قرآن اور سنت دونوں میں بیان ہوئے ہیں کیونکہ وہ ایک عادلانہ نظام ہے۔

۳۸۔۔۔۔۔۔ یعنی اللہ نے کتاب اور میزان اس لیے نہیں نازل کی ہے کہ لوگوں کے لیے اس کا ماننا اور نہ ماننا یکساں ہو بلکہ اس لیے نازل کی ہے تاکہ اس کو ماننے اور نہ ماننے کے الگ الگ نتائج ظاہر ہوں جس کے لیے اللہ تعالیٰ نے قیامت کا دن مقرر کیا ہے جو عجب نہیں کہ قریب ہی آ لگا ہو۔

۳۹۔۔۔۔۔۔ یعنی وہ کہتے ہیں کہ قیامت کو اگر آنا ہے تو وہ آ کیوں نہیں جاتی۔ اس طرح وہ اس کا مذاق اڑاتے ہیں۔

۴۰۔۔۔۔۔۔ یعنی اللہ کی عدالت میں حاضر ہونے اور اس کے حضور جواب دہی سے وہ خائف رہتے ہیں۔

۴۱۔۔۔۔۔۔ قیامت کا انکار صریح گمراہی ہے اور اس کے بارے میں بحث میں الجھنا گمراہی میں دور نکل جانا ہے۔

۴۲۔۔۔۔۔۔ یہ اس شبہ کا ازالہ ہے کہ جب حقیقت وہ ہے جو اوپر بیان ہوئی تو اللہ کافروں کو رزق کیوں دیتا ہے ؟ فرمایا اللہ اپنے بندوں پر مہربان ہے اس لیے وہ کافروں کو بھی رزق دیتا ہے۔ رزق کا معاملہ اس کی مشیت پر موقوف ہے وہ جس کو چاہے رزق دے اور اس کی مشیت پوری ہو کر رہتی ہے۔ اس کو روکنے والا کوئی نہیں۔ اللہ اگر اپنے بندوں پر مہربان نہ ہوتا تو کفر کرنے پر ان کا دانا پانی فوراً بند کر دیتا مگر وہ انہیں مہلتِ عمل دیتا ہے تاکہ ان میں اپنے رب کے مہربان ہونے کا احساس پیدا ہو اور وہ اس کی طرف پلٹیں۔

۴۳۔۔۔۔۔۔ یعنی جو آخرت کے لیے نہ بیج بوئے گا اور اس کی آبیاری کرے گا اللہ اس کی نشو و نما کرے گا اور جب وہ آخرت میں پہنچے گا تو اپنی فصل کو بالکل تیار پائے گا۔

یہ آیت اور قرآن کی دوسری کتنی ہی آیتیں آخرت کو نصب العین، مقصود اور غایت کی حیثیت سے پیش کرتی ہیں اس لیے آخرت کو عمل کے لیے صرف محرک سمجھنا صحیح نہیں۔ وہ محرک بھی ہے اور مقصود بھی لہٰذا نگاہیں آخرت کی کامیابی پر ہی مرتکز ہونی چاہئیں۔

۴۴۔۔۔۔۔۔ یعنی جو شخص آخرت کو مقصود بنانے کے بجائے دنیا کو مقصود بناتا ہے اس کو دنیا کی ساری چیزیں تو نہیں ملتی البتہ جس قدر اللہ چاہتا ہے اسے دنیا ہی میں دے دیتا ہے لیکن اس کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہوتا کیوں کہ جب اس نے آخرت کو مقصود نہیں بنایا تو اس کو آخرت کی نعمتیں کیوں ملنے لگیں۔ جب اس نے وہاں کے لیے کچھ بویا ہی نہیں تو فصل کس طرح اُگے گی؟

۴۵۔۔۔۔۔۔ یعنی کیا انہوں نے اپنے مذہبی پیشواؤں اور لیڈروں کو شریکِ خدا کی حیثیت دی ہے کہ انہوں نے ان کے لیے مذہب ایجاد کر دیئے جن کی اللہ نے ہرگز اجازت نہیں دی اس سوال میں کئی اہم حقیقتیں پوشیدہ ہیں :

ایک یہ کہ جن مذہبی پیشواؤں نے اپنی طرف سے مذہب ایجاد کئے یا جن لیڈروں نے اپنی طرف سے مذہبی طور پر طریقے رائج کئے یا اللہ کے قوانین کے مقابلہ میں اپنی مرضی سے قوانین بنائے۔ انہوں نے اپنے کو اللہ کے اختیارات میں شریک سمجھا ورنہ اللہ نے ان کو یہ اجازت ہرگز نہیں دی تھی کہ وہ لوگوں کے لیے کوئی مذہب ایجاد کریں یا مذہبی طریقہ مقرر کریں یا اپنی مرضی سے شریعت بنائیں یا قانون سازی کریں خواہ وہ اللہ کی شریعت اور اس کے قوانین کے خلاف ہی کیوں نہ پڑتی ہو۔

دوسری یہ کہ جو لوگ اپنے مذہبی پیشواؤں اور لیڈروں کے پیچھے چل رہے ہیں اور اللہ کے دین اور اس کی شریعت کے مقابل ان کے مقرر کئے ہوئے طور طریقوں یا قوانین کی پیروی کر رہے ہیں انہوں نے در حقیقت ان کو شریکِ خدا کی حیثیت دے رکھی ہے خواہ وہ زبان سے ان کو شریکِ خدا کہیں یا نہیں کہیں کیوں کہ بندوں کے لیے مذہبی طور طریقے مقرر کرنا یا قانون زندگی بنانا اللہ ہی کا حق ہے اس کے حق میں دوسروں کو شریک کرنا ان کو خدا کا شریک ٹھہرانے کے ہم معنی ہے۔

تیسری یہ کہ اللہ کے منظور کردہ دین۔اسلام۔کے سوا جو مذہب بھی بنائے گئے ہیں ان میں سے کسی کی پیروی کے لیے بھی وجہ جواز نہیں ہے اس لیے جس مذہب کی بھی پیروی کی جائے گی وہ اللہ کا منکر اور نافرمان قرار پائے گا۔

چوتھی یہ کہ اللہ کے دین نے جن باتوں کو اپنے دائرہ میں لیا ہے ان میں سے کسی کے مقابل کوئی طریقہ رائج کرنے یا قانون سازی کرنے کا کسی کو اختیار نہیں ہے۔ جو شخص یہ حرکت کرتا ہے وہ شرک کا ارتکاب کرتا ہے۔

۴۶۔۔۔۔۔۔ یعنی آخری فیصلہ کے لیے قیامت کا دن مقرر نہ کیا گیا ہوتا تو دنیا ہی میں فیصلہ چکا دیا گیا ہوتا۔

۴۷۔۔۔۔۔۔ “روضات” یعنی باغیچے ، مراد جنت کے پر بہار مقامات ہیں۔ مزید تشریح کے لیے دیکھئے سورۂ روم نوٹ ۲۱۔

۴۸۔۔۔۔۔۔ یہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم کا قریش سے خطاب ہے جن سے آپ کی قریب ترین رشتہ داری تھی۔ مدعا یہ ہے کہ میں اللہ کا جو پیغام تمہیں پہنچا رہا ہوں اس پر تم سے کسی بھی صلہ کا طالب نہیں ہوں بلکہ یہ تمہاری رشتہ داری کی محبت ہے جس کے تقاضے کو پورا کر رہا ہوں تاکہ تم اس پیغام کو جس کو لیکر میں آیا ہوں قبول کرو۔ اس طرح تم جہنم کے عذاب سے بچو گے اور تمہیں ابدی فلاح حاصل ہو گی۔

آیت میں اِلاّ استثناء منقطع ہے جو لیکن اور بلکہ کے معنی دے رہا ہے اور یہ ایسا ہی استثناء ہے جیسا کہ سورہ فرقان کی آیت ۵۷  میں ہے :

قُلْ مَااَسْئَلُکُمْ عَلَیہِ مِنْ اَجْرٍ الاَّمَنْ شَاءَ اَنْ یتَّخِذَ اِلٰی رَبِّہِ سَبِیلاً۔ ” کہو میں تم سے اس پر کوئی معاوضہ نہیں طلب کر رہا ہوں مگر یہ کہ جو چاہے اپنے رب کی راہ اختیار کرے۔ ”

ظاہر ہے یہاں کسی کا اپنے رب کی راہ اختیار کرنا نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے لیے تبلیغ کا معاوضہ نہیں ہے۔ اسی طرح اس سلسلے میں قریش کی قرابت داری کی محبت کا حوالہ معاوضہ اور صلہ کے معنی میں نہیں ہے بلکہ اس کے تقاضے کو پورا کرنے کے معنی میں ہے۔ ایک رسول تبلیغ کا کام ایک فریضہ کی حیثیت سے انجام دیتا ہے اور فریضہ بھی ایسا جو اس کا فرضِ منصبی ہوتا ہے لیکن جس قوم سے اس کا نسبی تعلق ہوتا ہے اس کی فطری محبت اسے اس صورت میں اور زیادہ بے چین کر دیتی ہے جب وہ کفر کی راہ اختیار کر کے اللہ کے عذاب کو دعوت دیتی ہے۔

بعض مفسرین نے آیت کی یہ تاویل کی ہے کہ میں تم سے اس کام پر کوئی صلہ طلب نہیں کرتا مگر چاہتا ہوں کہ تم کم از کم رشتہ داری کی محبت کا لحاظ کرو۔ مگر یہ بات ایک نبی کے مقام سے فرو تر ہے کہ وہ اپنے مخالفین سے رشتہ داری کی محبت کا مطالبہ کرے۔ قرآن میں ہر رسول کی زبان سے یہی بات ادا ہوئی ہے کہ :

مَااَسْئَلُکُمْ عَلَیہِ مِنْ اَجْرٍ اِنْ اَجْرِیَ اِلاَّ عَلٰی رَبِّ الْعَالَمِینَ ” میں اس پر تم سے کوئی اجر نہیں مانگتا میرا جو رب العلمین کے ذمہ ہے۔ ” (شعراء۔ ۱۰۹۔

اور نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو ہدایت فرمائی کہ فرمائیں :

قُلْ مَاسَأَلْتُکُمْ مِنْ اَجْرٍ فَہُوَ لَکُمْ اِنْ اَجْرِیَ اِلاَّ عَلَی اللّٰہِ۔ ” کہو اگر میں نے تم سے کوئی اجر مانگا ہے تو وہ تمہارے ہی لیے ہے۔ میرا اجر تو اللہ ہی کے ذمہ ہے۔ ” (سبا۔ ۴۷)

اور مسلمانوں کے ایک فرقہ نے جو حضرت علی کی امامت اوران کے بارے میں اپنے غلو آمیز عقیدہ کو قرآن سے ثابت کرنا چاہتا ہے اِلاَّ الْمَوَدَّۃَ فِی الْقُرْبیٰ سے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے قرابت دار حضرت علی، حضرت فاطمہ، حضرت حسن اور حضرت حسین کی محبت مراد لی۔ حالانکہ جس وقت یہ سورہ نازل ہوئی تھی اس وقت نہ حضرت حسن کا وجود تھا اور نہ حضرت حسین کا۔ اور آپ کے اکثر قرابت دار مشرک تھے اس لیے اس فقرہ کے یہ معنی لینا کسی طرح درست نہیں کہ میں اس تبلیغ کے کام پر یہ چاہتا ہوں کہ تم میرے قرابت داروں سے محبت کرو۔ قرآن میں انبیاء علیہم السلام کی بے لوث خدمت کے سلسلہ میں جو کچھ ارشاد ہوا ہے اور جن آیتوں کا ہم نے اوپر حوالہ دیا ہے ان کے پیش نظر ایسے معنی لینے کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔

۴۹۔۔۔۔۔۔ یہ اللہ کی طرف سے قدر افزائی ہے کہ بندہ جب اس کی طرف بڑھتا ہے اور نیکی کرتا ہے تو وہ اس میں مزید حسن و خوبی پیدا فرماتا ہے۔ اگر ایک شخص کے بنائے ہوئے محل کو چاندنی رات چار چاند لگا دیتی ہے تو اللہ جب کسی شخص کی نیکی کو آراستہ کرے گا تو اس کے نکھار اور اس کے حسن کا کون اندازہ کر سکتا ہے !

۵۰۔۔۔۔۔۔ یعنی جو وحی تمہارے قلب پر نازل ہوتی ہے اس کا سلسلہ بند کر دے۔ یہ ایسی ہی بات ہے جیسی سورہ بنی اسرائیل میں ارشاد ہوئی ہے :

وَلَوْشِئنَا لَنَذْھَبَنَّ بِالِّذِیْ اَوْ حَینَااِلَیکَ ” اور اگر ہم چاہیں تو جو وحی ہم نے تم پر کی ہے اس کو چھین لیں۔ ” (بنی اسرائیل۔ ۸۶)

اور مقصود اس سے یہ واضح کرنا ہے کہ یہ کلام وحی الٰہی ہے جو اللہ کے نازل کرنے سے نازل ہوا ہے اور وہ چاہے تو اس وحی کو سلب بھی کرسکتا ہے۔ اس میں پیغمبر کا اپنا کوئی دخل نہیں ہے لہٰذا یہ الزام بالکل بے بنیاد ہے کہ قرآن کو پیغمبر نے گڑھا ہے۔

۵۱۔۔۔۔۔۔ یعنی آنکھیں کھول کر دیکھو کہ اس کلام کے ذریعہ حق ثابت ہو رہا ہے یا نہیں۔ اگر حق ثابت ہورہا ہے اور یقیناً ثابت ہو رہا ہے تو یہ اس کے اللہ کی طرف سے نازل ہونے کا کھلا ثبوت ہے۔

۵۲۔۔۔۔۔۔ اشارہ ہے ان لوگوں کی طرف جو دل میں محسوس کرتے ہیں کہ یہ کلام حق ہے لیکن تعصب اور ناجائز مصلحتوں کی بنا پر اس کے حق ہونے کا اعتراف نہیں کرتے اور ان کا یہ رویہ ان کے ضمیر کے خلاف ہوتا ہے مگر اللہ دل کے راز جانتا ہے اس لیے ایک دن آئے گا جب وہ انہیں بتائے گا کہ انہوں نے اپنے ضمیر کی آواز کو کس طرح دبا کر رکھا تھا۔

۵۳۔۔۔۔۔۔ یہ توبہ کی ترغیب ہے کہ گنہگاروں کے لیے اب بھی موقع ہے کہ وہ سنبھل جائیں اور اللہ کے حضور توبہ کریں۔ جو شخص بھی خلوصِ دل سے اللہ کے حضور توبہ کرتا ہے اللہ تعالیٰ اسے دھتکارتا نہیں ہے بلکہ اس کی توبہ کو قبولیت بخشتا ہے اور گناہوں کو معاف فرماتا ہے۔

۵۴۔۔۔۔۔۔ یعنی ایمان لاؤ اور نیک عمل کرو تو اللہ تمہاری دعائیں ضرور سنے گا کہ نیک لوگوں کی دعائیں اللہ کے ہاں شرفِ قبولیت حاصل کر لیتی ہیں۔

واضح رہے کہ نیک بندوں کی دعائیں دنیوی نعمتوں کے حصول سے زیادہ جہنم کے عذاب سے بچنے اور اخروی کامیابی کے حصول کے لیے ہوتی ہے اور اللہ ان کی ان دعاؤں کو ضرور قبول فرماتا ہے۔

۵۵۔۔۔۔۔۔ اس آیت میں ایک بہت بڑی معاشی حقیقت پر سے پردہ اٹھایا گیا ہے۔ دنیا میں کسی کو کشادہ رزق ملتا ہے اور کسی کو نپا تلا۔ ایسا کیوں نہیں ہوا کہ ہر شخص کو وافر پیمانہ پر رزق ملتا یہاں تک کہ وہ اپنی معاشی ضرورت کے لیے دوسرے کا دستِ نگر نہ رہتا۔ ایسا کرنا یقیناً اللہ کے لیے کچھ بھی مشکل نہ تھا اور اس سے اللہ کے خزانوں میں ہرگز کوئی کمی واقع نہ ہوتی لیکن بندوں کی مصلحت متقاضی تھی کہ ایک خاص مقدار ہی میں انہیں رزق دیا جائے کیوں کہ رزق کو وافر مقدار میں پا کر انسان غرور اور گھمنڈ میں مبتلا ہو جاتا اور یہ غرور اور گھمنڈ اسے سرکش بنا دیتا ہے اور اس بات پر آمادہ کرتا کہ دوسرے لوگوں پر برتری حاصل کرے جس کے لیے وہ ظلم و زیادتی پر اتر آتا۔ اس طرح انسانی سوسائٹی میں بڑے پیمانہ پر خون خرابہ ہوتا اور اودھم مچ جاتا۔ جن لوگو پر رزق کے دروازے کشادہ ہو گئے ہیں ان کی نفسیات اور ان کا طرزِ عمل ایسا ہی ہے اور اس سے یقیناً انسانی سوسائٹی میں ظم و زیادتی کی کثرت ہو گئی ہے تاہم یہ صورت ایک خاص حد تک ہی پائی جاتی ہے لیکن اگر رزق کے دروازے سب کے لیے کشادہ ہو جاتے تو ظلم و زیادتی کا بالکل غلبہ ہو جاتا اور انسانی سوسائٹی میں بہت بڑے پیمانہ پر فساد پھوٹ پڑتا۔

موجودہ دور میں جو معاشی ترقی ہوئی ہے اور اس کے نتیجہ میں خوشحالی جو عام ہوتی جا رہی ہے اس کی نسبت سے بدامنی، انار کی، دہشت گردی اور خوں ریزی میں بھی اضافہ ہی ہوتا جا رہا ہے۔ جو دن نکلتا ہے شر و فساد کی وحشت ناک خبریں سناتا ہے اور جنگ میں انسانوں کو مارنے کے لیے ایسے مہلک ہتھیار استعمال کئے جاتے ہیں کہ انسانیت کانپ اٹھے انسان کش کیمیائی دواؤں اور اسلحہ سازی پر بے شمار دولت صرف کی جاتی ہے۔ اس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ لوگوں کو اور زیادہ خوشحال بنا دے تو وہ فساد اور ظلم و زیادتی کا کیسا طوفان زمین پر برپا کریں گے۔

۵۶۔۔۔۔۔۔ تشریح کے لیے دیکھئے سورہ روم نوٹ ۸۶۔

۵۷۔۔۔۔۔۔ یعنی یہ ساری کار فرمائی اسی کی ہے اور وہی ہے تعریف اور شکر کا مستحق اس کے سوا نہ کسی کا عالم اسباب پر تصرف ہے اور نہ کوئی ہستی بندوں پر نوازشیں کرنے والی ہے کہ حمد کی مستحق قرار پائے۔

۵۸۔۔۔۔۔۔ تشریح کے لیے ملاحظہ ہو سورۂ بقرہ نوٹ ۱۹۶۔

۵۹۔۔۔۔۔۔ زمین پر تو جاندار مخلوق پھیلی ہوئی ہے ہی فضا میں بھی پرندے اڑتے پھرتے ہیں۔ یہ جاندار تو اپنی جان کے بھی مالک نہیں۔ پھر کون ہے جو ان کا مالک اور رب ہے ؟ اس کا جواب اس کے سوا اور کیا ہو سکتا ہے کہ وہی جس نے ان کو پیدا کیا اور ان کو زمین اور فضا میں پھیلا رہا ہے۔

آیت کے ان الفاظ میں کہ وَبَثَّ فِیہما ” ان دونوں میں (یعنی زمین اور آسمان میں) جاندار پھیلا دیئے ” اس بات کی طرف اشارہ پایا جاتا ہے کہ آسمانی دنیا میں بھی جاندار مخلوق موجود ہے۔

۶۰۔۔۔۔۔۔ آیت میں خطاب کافروں اور نا فرمانوں سے ہے۔ ان سے کہا جا رہا ہے کہ یہ تمہارے کرتوت ہی ہیں جو تمہارے لیے ایک نہ ایک مصیبت لاتے رہتے ہیں۔ ایک شخص جو برائیاں کماتا ہے اس کے نتیجہ میں اس پر کوئی نہ کوئی افتاد پڑتی ہے اور جو سوسائٹی برائیاں سمیٹ لیتی ہے وہ اجتماعی طور پر مصیبت کا شکار ہو جاتی ہے۔ آیت کا مدعا اسی حقیقت کو واضح کرتا ہے ورنہ مصیبتوں کا نزول نیک لوگوں پر بھی ہوتا ہے جس سے ان کی آزمائش مقصود ہوتی ہے مگر یہاں یہ پہلو زیر بحث نہیں ہے۔

۶۱۔۔۔۔۔۔ یعنی اللہ جب چاہے تمہاری آزادی سلب کر سکتا ہے اور تم اس کے عذاب کی گرفت میں آ سکتے ہو۔ نہ تمہارا اپنا یہ بل بوتا ہے کہ تم اس کی گرفت میں آنے سے اپنے کو بچا سکو اور نہ تمہارا کوئی کار ساز یا مددگار ہو سکتا ہے جو تمہیں اس سے بچا سکے۔

۶۲۔۔۔۔۔۔ یعنی بڑے بڑے جہاز جو پہاڑوں کی طرح سمندر میں کھڑے رہتے ہیں۔

۶۳۔۔۔۔۔۔ اس زمانہ میں صرف بادبانی جہاز تھے جو ہوا کے بغیر چل نہیں سکتے تھے اور ہوائیں اللہ ہی چلاتا ہے۔ اگر وہ ہواؤں کو روک دے تو ان جہازوں کا چلنا بند ہو جائے۔ اور موجودہ زمانہ میں ہوائی جہاز ایجاد ہوئے ہیں جن کا چلنا ہوا ہی پر منحصر ہے۔ یہ اس بات کی واضح نشانی ہے کہ عالمِ اسباب پر متصرف (اختیار رکھنے والی اور کنٹرول کرنے والی) صرف اللہ کی ذات ہے۔ پھر کسی اورکو متصرف مان کر اس کو اپنی حاجت روائی کے لیے پکارنے میں کیا معقولیت ہے ؟

۶۴۔۔۔۔۔۔ تشریح کے لیے ملاحظہ ہو سورۂ لقمان نوٹ ۵۳۔

۶۵۔۔۔۔۔۔ دنیا میں جو مال و متاع بھی انسان کو ملتا ہے وہ یہاں کی چند روزہ زندگی ہی کے لیے ہوتا ہے۔ جب موت آتی ہے تو آدمی سب کچھ یہاں چھوڑ کر رخصت ہو جاتا ہے اور کوئی چیز بھی اس کے ساتھ منتقل نہیں ہوتی کہ موت کے بعد والی زندگی میں اس کے کام آئے۔ بخلاف اس کے آخرت کی نعمتیں دنیا کی نعمتوں کے مقابل میں بدرجہا بہتر بھی ہیں اور ہمیشہ باقی رہنے والی بھی۔ اب یہ انسان کا اپنا ظرف ہے کہ وہ اپنے لیے کم درجہ کے اور عارضی سامان کا انتخاب کرتا ہے یا اعلیٰ درجہ کے اور مستقل رہنے والے سرو سامان کا۔ اگر وہ پہلی چیز کا انتخاب کرتا ہے تو دنیا اس کا مقصود قرار پائے گی اور وہ اپنی فکر اور اپنی عملی زندگی میں آخرت کو نظر انداز کرے گا لیکن اگر وہ دوسری چیز کا انتخاب کرتا ہے تو اس کی فکر پر آخرت کا غلبہ ہو گا اور وہ آخرت ہی کو مقصود بنا کر زندگی گزارے گا۔

۶۶۔۔۔۔۔۔ یہاں ان لوگوں کے اوصاف بیان کئے جا رہے ہیں جو آخرت کی نعمتوں سے مالا مال ہوں گے۔ ان کی اولین صفت یہ ہے کہ وہ ان باتوں پر ایمان لائے ہیں جن پر ایمان لانے کی دعوت قرآن دیتا ہے۔ پھر اس ایمان ہی کا اثر ہے کہ ان کے اندر ہی توکل کی صفت پیدا ہو گئی لہٰذا ان کا بھروسہ عالم اسباب پر نہیں بلکہ مسبب اسباب پر ہوتا ہے۔

توکل یہ ہے کہ آدمی بہتر سے بہتر تدبیر کرے لیکن سب کچھ تدبیر ہی کو نہ سمجھے بلکہ اس یقین کے ساتھ معاملہ اللہ کے حوالہ کرے کہ ہوتا وہی ہے جو اللہ کو منظور ہوتا ہے۔ اور یہ حقیقت ہے کہ کوئی تدبیر بھی کار گر اسی وقت ہوتی ہے جب مشیت الٰہی اس کے لیے سازگاری پیدا کرتی ہے۔

واضح رہے کہ اسلام اور کفر کی کشمکش میں توکل اہل ایمان کے لیے نہایت ضروری ہے اور اسی مناسبت سے یہاں ان کا یہ وصف نمایاں کیا گیا ہے۔

۶۷۔۔۔۔۔۔ گناہِ کبیرہ کی تشریح کے لیے دیکھئے سورہ نساء نوٹ ۷۹۔

۶۸۔۔۔۔۔۔ فواحش (بے حیائی کے کام) کی تشریح کے لیے دیکھئے سورۂ انعام نوٹ ۲۷۷۔

۶۹۔۔۔۔۔۔ کسی شخص کی طرف سے اذیت پہنچنے پر غصہ آنا بالکل فطری بات ہے مگر درگزر سے کام لینا اور معاف کرنا ایک مومن کی بہترین صفت ہے۔ یہ صفت جذبات پر کنٹرول، بندگانِ خدا کے ساتھ حسن سلوک اور عدل و انصاف پر آمادہ کرتی ہے۔ غصہ کو پی جانا یقیناً بڑی خوبی ہے لیکن اس سے بڑی خوبی یہ ہے کہ غصہ آنے پر قصوروار کو معاف کر دیا جائے۔ مگر جو لوگ خدا سے بے خوف ہوتے ہیں وہ غصہ میں بے قابو ہو جاتے ہیں اور ظلم و زیادتی پر اتر آتے ہیں۔

۷۰۔۔۔۔۔۔ یعنی اپنے رب کا ہر حکم دل کی آمادگی کے ساتھ سنتے ہیں اور اسے قبول کرتے ہیں۔ بخلاف اس کے نام نہاد مسلمانوں کا حال یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے رب کی دعوت پر کان دھرنے کے لیے تیار نہیں ہوتے اور نہ ان کو اس کے احکام سننے سے کوئی دلچسپی ہوتی ہے۔

۷۱۔۔۔۔۔۔ یعنی نماز کی پابندی کرتے ہیں اور اس فریضہ کو بڑے اہتمام کے ساتھ ادا کرتے ہیں جس میں دل کا خشوع بھی شامل ہوتا ہے اور وقار اور سکون بھی نیز ان باتوں کا لحاظ بھی جن کا لحاظ کرنا شریعت نے ضروری قرار دیا ہے۔

اقامتِ صلوٰۃ ایک جامع اصطلاح ہے جس میں جماعت کے ساتھ نماز ادا کرنا اور اس کے لیے صف بندی کرنا بھی شامل ہے۔

حدیث میں آتا ہے :

سَوُّواصَفُوْفَکُمْ فَاِنَّ تَسْوِیۃَ الصُّفُوْفِ مِنْ اِقَامَۃِ الصَّلوٰۃِ ” صفوں کو درست رکھو کہ صفوں کو درست رکھنا اقامتِ صلوٰۃ میں سے ہے۔ ” (بخاری کتاب الصلوٰۃ)

نیز ارشاد نبوی ہے :

صَلُّوْاکَمَارأیتُمُونِی اُصَلِّیْ ” اسی طرح نماز پڑھو جس طرح تم مجھے نماز پڑھتے ہوئے دیکھتے ہو۔ ” (بلوغ المرام بروایۃ البخاری)

اس لیے کتاب و سنت میں نماز کا جو طریقہ بتایا گیا ہے اس کے مطابق نماز ادا کرنے ہی سے اقامتِ صلوٰۃ کا منشاء پورا ہو سکتا ہے۔

۷۲۔۔۔۔۔۔ امر سے مراد اجتماعی معاملات ہیں جو ایک نظم کے متقاضی ہوتے ہیں۔ اسی مناسبت سے ان لوگوں کو جن کے ہاتھ میں اجتماعی معاملات کی باگ ڈور ہوتی ہے اُولی الامر (اصحابِ امر) کہا جاتا ہے۔ یہاں اہل ایمان کی ایک اہم صفت کے طور پر یہ بات بیان ہوئی ہے کہ ان کے معاملات باہمی مشورہ سے طے پاتے ہیں۔

واضح رہے کہ سورۂ مکی ہے اور مکی دور میں مسلمان اس پوزیشن میں نہیں تھے کہ اپنا سیاسی نظام قائم کریں اس کے باوجود شوریٰ کے ذریعہ معاملات کو طے کرنے کی ہدایت کی گئی جس کا مطلب یہ تھا کہ کافروں کے اقتدار کے باوجود مسلمان اپنے جن اجتماعی امور و مسائل کے سلسلہ میں کوئی فیصلہ اور کوئی اقدام کرسکتے ہیں ان کیلئے وہ شورائی طریقہ اختیار کریں۔ یہ بہت بڑی رہنمائی ہے ان مسلمانوں کے لیے بھی جو کسی غیر اسلامی ملک میں رہتے ہیں۔ ان کو اپنے دینی مسائل کے سلسلہ میں ملی سطح پر شورائی نظم کا اہتمام کرنا چاہیے تاکہ ملت کی صحیح نمائندگی ہو اور اس کے فیصلوں کو پوری ملت عملی جامہ پہنا سکے۔

اس آیت میں شورائیت کو جس اہمیت کے ساتھ پیش کیا گیا ہے وہ اسلام کے سیاسی نظام کی بہت بڑی بنیاد ہے یعنی مسلمانوں میں اقتدار وہی لوگ سنبھالیں گے جن کو وہ اس کام کے لیے منتخب کریں گے۔ من مانی کرنے والے افراد کا اس پر مسلط ہونا بڑی زیادتی کی بات ہے۔ یہ شورائیت آمریت اور “ملوکیت” (جس میں بادشاہ ہی کو سارے اختیارات حاصل ہوتے ہیں) کی جڑ کاٹ دیتی ہے۔ پھر موجودہ دور کی جمہوریت اور اسلام کی شورائیت میں جوہری فرق یہ ہے کہ جمہوریت شتر بے مہار کی طرح بالکل آزاد ہوتی ہے۔ اگر وہ پابند ہوتی ہے تو اپنے ہی بنائے ہوئے دستور کی اس لیے اس کے فیصلے خلافِ حق، برائیوں کو فروغ دینے والے اور ظلم و زیادتی پر مبنی ہوتے ہیں۔ بخلاف اس کے اسلامی شورائیت اللہ کے احکام اور اس کے رسول کی ہدایت کی پابند ہوتی ہے وہ اس بات کی مجاز نہیں ہوتی کہ شریعت کے خلاف کوئی فیصلہ کرے یا شرعی حدود سے تجاوز کر جائے وہ کتاب و سنت کی روشنی میں پیش آمدہ مسائل پر غور کرتی ہے اور ان ہی کی روشنی میں فیصلے کرتی ہے۔

شوریٰ کا فیصلہ اسی کو کہا جا سکتا ہے جس پر اتفاق رائے ہوا ہو یا جس کی تائید میں شوریٰ کی اکثریت ہو تنہا امیر یا خلیفہ کی رائے کو شوریٰ کا فیصلہ نہیں قرار دیا جا سکتااور نہ شوریٰ کی اقلیت کی رائے کو شوریٰ کے فیصلے سے تعبیر کیا جا سکتا ہے کیونکہ کسی بھی معاملہ میں حکم غالب چیز ہی کا ہوتا ہے۔ اور اگر امیر شوریٰ کی اکثریت (جمہور) کے فیصلے کا پابند نہ ہو تو شوریٰ بے وزن ہو کر رہ جاتی ہے۔

شوریٰ یا مشورہ کے لیے وہی لوگ موزوں ہو سکتے ہیں جو متقی، اہل الرائے اور قابل اعتماد ہوں ، فاسق و فاجر اور سطیحت پسند لوگ معاملات کو سلجھانے کے بجائے الٹا الجھا دیتے ہیں۔

آیت میں نماز سے متصل شوریٰ کا ذکر ہوا ہے۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ شورائیت نماز کا فیضان ہے اور وہی شوریٰ خیر و برکت کا باعث ہو سکتی ہے جو نماز کو قائم کرنے ولی ہو۔ بے نمازی لوگ شوریٰ کے لیے ہرگز موزوں نہیں ہیں۔ اس موقع پر سورۂ آل عمران کی آیت وَشَاوِرْہُمْ فِی الْاَمْرِ (آیت ۱۵۹) کے تشریح نوٹ ۹۱  کو پیش نظر رکھا جائے۔

۷۳۔۔۔۔۔۔ مراد اللہ کی راہ میں خرچ کرنا ہے جس میں زکوٰۃ، صدقہ اور دینی مقاصد کے لیے خرچ کرنا شامل ہے۔ (دیکھئے سورۂ بقرہ آیت ۲۶۲، انفال آیت ۶۰  ، توبہ آیت ۲۳)

۷۴۔۔۔۔۔۔ انتصار کے معنی عربی میں مدافعت کرنے کے بھی اور بدلہ لینے کے بھی۔ اسلام کی تعلیم ہرگز یہ نہیں ہے کہ جو ظلم بھی ہوس سہتے رہو اور جوابی کاروائی کرنے کا تم کو کوئی حق نہیں ہے یہ دین ایک نظام عمل ہے نہ کے خیالی باتوں اور نا قابلِ عمل نظریات کا مجموعہ اس لیے اس کو نہ اہنسا (عدم تشدد کے فلسفہ) سے کوئی مناسبت ہے اور نہ عیسائیت کی اس تعلیم سے کہ اگر کوئی تمہارے ایک گال پر طمانچہ مارے تو تم اپنا دوسرا گال اس کے آگے کرو۔ وہ تشدد کا جواب تشدد سے دینے اور دشمن کے دانت کھٹے کرنے کی اجازت دیتا ہے مگر اس شرط کے ساتھ کہ عدل و انصاف کا دامن ہاتھ سے نہ چھوٹنے پائے جیسا کہ بعد کی آیت سے واضح ہے۔ دراصل اسلام نے ہر طرح کے حالات کا لحاظ کیا ہے اور مختلف مزاجوں کی رعایت کی ہے۔ کبھی حالات اس بات کے متقاضی ہوتے ہیں کہ تشدد کا جواب تشدد سے دیا جائے تاکہ ظالم کا زور ٹوٹے اور بعض طبیعتیں بھی ہر وقت درگزر سے کام لینے کی متحمل نہیں ہو سکتیں اس لیے اسلام نے جو تعلیم دی ہے وہ اعتدال پر مبنی ہے۔ اس نے بدلہ لینے کو مذموم نہیں ٹھہرایا ہے بلکہ اس کی اجازت دیدی ساتھ ہی صبر اور درگزر سے کام لینے کی ترغیب دی اور اس کی حوصلہ افزائی کی۔

رہا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا وہ قول جو بائبل میں ان کی طرف منسوب ہے کہ:

“تم سن چکے ہو کہ کہا گیا تھا کہ آنکھ کے بدلے آنکھ اور دانت کے بدلے دانت لیکن میں تم سے یہ کہتا ہوں کہ شریر کا مقابلہ نہ کرنا بلکہ جو کوئی تیرے دہنے گال پر طمانچہ مارے دوسرا بھی اس کی طرف پھیر دے اور اگر کوئی تجھ پر نالش کر کے تیرا کُرتا لینا چاہے تو چوغہ بھی اسے لے لینے دے “۔ (متی ۵:۳۸  تا۔ ۴۱)

تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا منشا تورات کے اس حکم کو جو بدلہ سے متعلق ہے مسنوخ کرنا نہیں تھا بلکہ اس وقت کے حالات میں انہوں نے اپنے پیروؤں کو جو گنتی کے چند تھے اور اس پوزیشن میں نہیں تھے کہ کوئی جوابی کاروائی کرسکیں صبر کی تلقین کی اور استعارہ کے انداز میں فرمایا کہ کوئی تمہارے ایک گال پر طمانچہ مارے تو دوسرا بھی اس کی طرف پھیر دینا۔ مطلب یہ تھا کہ رومی حکومت اور مفسد عناصر تم پر ظلم کریں گیاور تمہارے پاس اپنی مدافعت کا کوئی سامان نہیں ہو گا۔ ایسی صورت میں تمہیں اس بات کے لیے تیار رہنا چاہیے کہ ایک طمانچہ کے بعد دوسرا طمانچہ بھی کھانا پڑے گا۔ یہ ایک اخلاقی ہدایت تھی نہ کہ شرعی قانون کی بات اور اس اخلاقی ہدایت کا بھی وہ مطلب نہیں تھا جو عیسائیوں نے سمجھا بلکہ ایک استعارہ ہے جیسا کہ اوپر واضح کیا گیا اور لوقا کی انجیل میں بھی یہ ہدایت اس طرح بیان ہوئی ہے کہ تورات کے اس حکم کا کہ آنکھ کے بدلہ آنکھ کوئی حوالہ نہیں ہے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام تورات کے احکام کو منسوخ کرنے کے لیے نہیں آئے تھے لہٰذا ان کی طرف کسی ایسے قول کو منسوب کرنا جو تورات کے شرعی حکم کو منسوخ کرنے کے ہم معنی ہو صحیح نہیں ہو سکتا۔

۷۵۔۔۔۔۔۔ یعنی جتنی تکلیف کسی نے پہنچائی ہے اس کو اتنی ہی تکلیف پہنچائی جا سکتی ہے اور جتنا نقصان کسی نے پہنچایا ہے اس سے اسی کے بقدر تلافی کا مطالبہ کیا جا سکتا ہے۔ اپنی مدافعت کرنے یا بدلہ لینے میں عدل و انصاف کا دامن نہیں چھوڑا جا سکتا۔ کسی نے اگر ایک شخص کا گلاس توڑ دیا ہے تو اس کے جواب میں اس شخص کا اس کے گھر کو آگ لگا دینا سراسر ظلم ہو گا۔

۷۶۔۔۔۔۔۔ ترغیب درگزر کرنے ، صلح و صفائی کی بات کرنے اور اصلاحی کام کرنے ہی کی ہے اور اس عمل پر اللہ تعالیٰ نے اجر کا وعدہ کر رکھا ہے۔

۷۷۔۔۔۔۔۔ اس میں تنبیہ ہے کہ اگر تم نے بدلہ لینے میں حد سے تجاوز کیا تو یاد رکھو یہ ظلم ہو گا اور اللہ ظلموں کو ہرگز پسند نہیں کرتا۔

۷۸۔۔۔۔۔۔ یعنی مظلوم کو حق پہنچتا ہے کہ وہ ظالم سے بدلہ لے۔ لہٰذا اگر کوئی مظلوم ظالم سے برابری کا بدلہ لیتا ہے تو کوئی وجہ نہیں کہ اس کی مذمت کی جائے۔ اس سے کوئی مواخذہ نہیں ہو گا۔

۷۹۔۔۔۔۔۔ یعنی قابلِ مذمت وہ لوگ ہیں جو بندگانِ خدا پر ظلم کرتے ہیں اور اللہ کے سرکش بن کر رہتے ہیں اور سوسائٹی میں فساد پھیلاتے ہیں۔ مواخذہ ایسے ہی لوگوں سے ہو گا۔

۸۰۔۔۔۔۔۔ یعنی کوئی شخص زیادتی کر ہی بیٹھا تو اس پر صبر کرنا اور درگزر سے کام لینا اور اپنے دشمنوں کو معاف کرنا بہت بڑی اخلاقی فضیلت ہے۔ یہ وہ صفت ہے جو انسان کے کردار کو مضبوط بناتی اور اس کے حوصلوں کو بلند کرتی ہے۔ یہ عزم و ہمت کا کام ہے جو انسان کو عظمت کرتا ہے۔

۸۱۔۔۔۔۔۔ یعنی کوئی نہیں جو اس کو ہدایت دے سکتا ہے اور اس کی کوششوں کو صحیح رُخ پر لگا سکتا ہے۔ اس کا کوئی دوست ایسا نہیں ہو سکتا جو اس کی تدبیروں کو کارگر اور اس کے کاموں کو نتیجہ خیز بنائے۔

۸۲۔۔۔۔۔۔ یعنی دنیا میں واپسی کی کوئی صورت ہے کہ وہاں جا کر ایمان لائیں اور نیک بنیں۔

۸۳۔۔۔۔۔۔ یعنی جس طرح ایک مجرم دی جانے والی سزا سے نظریں بچانے کی کوشش کرتا ہے وہی حال ان لوگوں کا ہو گا وہ جہنم کو دیکھنے سے نظریں چرائیں گے۔ یہ ان مجرموں کی ذلت اور بے بسی کی تصویر ہے۔

۸۴۔۔۔۔۔۔ یعنی اس روز اہل ایمان برملا کہیں گے کہ اصل خسارہ دنیا کا خسارہ نہ تھا بلکہ آخرت کا خسارہ ہے لہٰذا جن لوگوں نے آخرت کو نظر انداز کر رکھا تھا وہ آج ابدی خسارہ سے دو چار ہیں نیز ان کے اہل و عیال بھی جن کی انہوں نے غلط رہنمائی کی تھی اور وہ ان کے پیچھے چل کر گمراہ ہوئے تھے۔

۸۵۔۔۔۔۔۔ یعنی آخرت کا مستقل عذاب۔

۸۶۔۔۔۔۔۔ اندازِ کلام انسانی نفسیات کو بڑا ہی اپیل کرنے والا ہے۔ قرآن کی دعوت ہر شخص کے اپنے رب کی دعوت ہے لہٰذا تم اپنے رب کی پکار پر لبیک کہو اور اس کی دعوت کو قبول کر کے اپنی اخروی نجات کا سامان کرو۔ قیامت کا دن تو لازماً آنا ہے کوئی نہیں جو اس کو ٹال سکے۔

۸۷۔۔۔۔۔۔ یعنی تمہاری بس میں نہیں ہو گا کہ عذاب کو دفع کر سکو یا جو فرشتے تم کو گرفتار کرنا چاہیں گے ان کو گرفتاری سے روک سکو۔

۸۸۔۔۔۔۔۔ پیغمبر سے خطاب ہے کہ تم ان لوگوں کے عمل کے ذمہ دار نہیں ہو کہ ان کو زبردستی راہِ ہدایت پر چلاؤ۔

۸۹۔۔۔۔۔۔ تشریح کے لیے دیکھئے سورۂ روم نوٹ ۶۴۳، ۶۵۔

۹۰۔۔۔۔۔۔ آسمانوں اور زمین کا فرمانروا اللہ ہی ہے اور اس کی فرمانروائی کی شان یہ ہے کہ جو چاہے پیدا کرے اور جس کو چاہے لڑکیاں دے اور جس کو چاہے لڑکے دے یا لڑکے اور لڑکیاں دونوں عطا کرے نیز جس کو چاہے بے اولاد رکھے۔ وہ پورے علم اور کمالِ قدرت کے ساتھ فرمانروائی کر رہا ہے۔ اس کے سوا کوئی نہیں جو اس بات کا اختیار رکھتا ہو کہ کسی کو اولاد بخشے۔

اس سے جہاں مشرکوں کے اس عقیدہ کی تردید ہوتی ہے کہ فلاں دیوی اور دیوتا اولاد بخشتے ہیں وہاں جاہل مسلمانوں کے بھی اس عقیدہ کی تردید ہوتی ہے کہ فلاں پیر اور فلاں ولی اولاد عطا کرتے ہیں۔ اس بد عقیدگی کی بنا پر عورتیں درگاہوں کے چکر کاٹتی ہیں اور اولاد کے لیے پیروں کے نام سے منتیں مانتی ہیں۔ یہ عقیدہ بالکل باطل اور یہ عمل صریح مشرکانہ ہے مگر جاہل مسلمانوں نے اسلام کے ساتھ اس کا جوڑ لگا دیا ہے۔

۹۱۔۔۔۔۔۔ یعنی کوئی انسان بھی بشری کمزوری کی بنا پر اس بات کی تاب نہیں لا سکتا کہ اللہ اس سے روبرو کلام کرے۔ اس کا جلال اور اس کی عظمت ایسی ہے کہ انسان اس کو دیکھنے کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ چنانچہ حضرت موسیٰ کی درخواست پر جب اللہ تعالیٰ نے پہاڑ پر بجلی فرمائی تھی تو وہ ریزہ ریزہ ہو گیا تھا اور حضرت موسیٰ بے ہوش ہو کر گر پڑے تھے (دیکھئے سورۂ اعراف آیت ۱۴۳) اس لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے نبیوں اور رسولوں سے کلام کرنے کا جو طریقہ اختیار کیا اس کی تین صورتیں رہی ہیں :

ایک یہ کہ اللہ اپنے رسول کے قلب پر براہِ راست اپنا پیغام وحی کرے۔ وحی کے معنی جیسا کہ نوٹ ۲ میں واضح کیا جا چکا اشارہ کرنے یا مخفی طریقہ سے بات کرنے کے ہیں۔ اللہ تعالیٰ اپنے رسول یا نبی سے مخفی طریقہ سے بات کرتا ہے اور اسے اپنے پیغام اور احکام و ہدایت سے آگاہ کرتا ہے جسے دوسرا کوئی شخص سننے نہیں پاتا۔ پیغام رسانی کے اس غیبی ذریعہ کا نام قرآن کی اصطلاح میں ” وحی” ہے۔

دوسری صورت یہ کہ اللہ تعالیٰ اپنے رسول کو شرفِ ہم کلامی بخشے مگر اس کو وہ دکھائی نہ دے۔ یعنی رسول، اللہ کی آواز اور اس کا کلام سن لے اس سے ہم کلام بھی ہو لیکن اللہ کی ذات اس کے سامنے جلوہ گر نہ ہو۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ یہ صورت اختیار کی گئی تھی چنانچہ ان کو منصبِ رسالت عطا کرتے وقت بھی ہم کلامی کا شرف بخشا گیا سورۂ طہٰ آیت ۱۱  ،۱۲ اور کوہِ طور پر شریعت عطا کرتے وقت بھی۔

تیسری صورت یہ کہ اللہ تعالیٰ فرشتہ کو قاصد بنا کر بھیج دے جو اس کے پیغام کو رسول تک مخفی ذریعہ سے پہنچائے۔

ان میں سے پہلی اور تیسری صورت میں نبی صلی اللہ علیہ و سلم پر وحی کا نزول ہوتا رہا ہے۔ حدیث میں ان دونوں صورتوں کا ذکر اس طرح ہوا ہے :

” ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ حارث بن ہشام نے پوچھا اے اللہ کے رسول! آپ پر وحی کس طرح آتی ہے ؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کبھی تو گھنٹی کی آواز کی طرح آتی ہے اور یہ صورت مجھ پر بہت گراں ہوتی ہے۔ پھر جب میں اسے محفوظ کر لیتا ہوں تو یہ کیفیت ختم ہو جاتی ہے اور کبھی یہ صورت ہوتی ہے کہ فرشتہ انسان کی شکل میں میرے سامنے آ جاتا ہے اور مجھ سے کلام کرتا ہے تو میں اسے یا د کر لیتا ہوں۔ حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ میں نے سخت سردی کے دن وحی نازل ہوتے ہوئے دیکھی ہے ادھر وحی ختم ہوتی اور ادھر آپ کا یہ حال ہوتا کہ پیشانی سے پسینہ بہنے لگتا۔ ” (بخاری کتاب الوحی)

واضح رہے کہ پیغمبروں پر اللہ کے کلام کے نازل ہونے کا ذکر تورات، زبور اور انجیل تینوں میں بہ کثرت موجود ہے مثال کے طور پر تورات میں ہے :

” ان باتوں کے بعد خداوند کا کلام رویا میں ابرام (ابراہیم) پر نازل ہوا۔ ” (پیدائش ۱۵:۱)

” تو خدا نے اسے جھاڑی میں سے پکارا اور کہا اے موسیٰ! اے موسیٰ اس نے کہا میں حاضر ہوں۔ ” (خروج ۳:۴)

” تب خداوند نے موسیٰ سے کہا فرعون کے پاس جا کر اس سے کہہ کہ خداوند عبرانیوں کا خدا یوں فرماتا ہے کہ میرے لوگوں کو جانے دے کہ وہ میری عبادت کریں۔ ” (خروج ۹:۱)

زبور میں ہے :

” تیرا کلام میرے قدموں کے لیے چراغ اور میری راہ کے لیے روشنی ہے۔ ” (زبور ۱۱۹ ،۱۰۵)

اور انجیل میں ہے :

” اور پھر یسوع روح القدس سے بھرا ہوا  یردن سے لوٹا۔ ” (لوقا ۳:۱)

” جب بھیڑ اس پر گری پڑتی تھی اور خدا کا کلام سنتی تھی۔ ” (لوقا ۱:۵)

اس طرح کلام الٰہی اور ” وحی” کا جو تصور آسمانی کتابوں کے ذریعہ پہلے سے چلا ا رہا تھا اس کو قرآن نے پوری وضاحت کے ساتھ پیش کر دیا تاکہ اس ذریعہ علم پر لوگ یقین کریں۔ یہ بھی واضح رہے کہ ” وحی” اور الہام میں بہت بڑا فرق ہے۔ ” وحی” بہت واضح ہوتی ہے اور اس کے اللہ کی طرف سے ہونے میں کوئی اشتباہ نہیں ہوتا اور قرآن تو لفظاً لفظاً وحی اور اللہ کا کلام ہے الفاظ اور معانی دونوں کے اعتبار سے۔ اور جہاں تک ہندو مذہب کا تعلق ہے اس میں الہام کا دھندلا سا تصور موجود ہے جس کو وہ شروتی (Shruti) (Revelation) سے تعبیر کرتے ہیں۔

۹۲۔۔۔۔۔۔ اللہ عَلِّی (بلند مرتبہ) ہے اس لیے انسان کا یہ مقام نہیں کہ وہ اس کے رو برو ہو کر کلام کرے۔ اور وہ حکمت والا ہے اس لیے اس کی حکمت اس بات کی متقاضی ہوئی کہ وہ اپنا کلام اپنے پیغمبروں پر نازل کر کے انسان کی ہدایت کا سامان کرے۔

۹۳۔۔۔۔۔۔ اس آیت میں ” روح” سے مراد قرآن ہے اور اس کو روح سے اس لیے تعبیر کیا گیا ہے کہ وہ انسان کو حقیقی زندگی عطا کرتا ہے ، وہ انسان کے لیے آبِِ حیات ہے اور ایسا لطیف اور موثر کلام ہے کہ باطن کو ایک خاص روح (Spirit) سے بھر دیتا ہے۔

۹۴۔۔۔۔۔۔ یعنی تم ایمان اور کتاب سے اس طرح آشنا نہیں تھے جس طرح کہ اب ہوئے ہو۔ مقصود رسالت کے معجزانہ پہلو کو واضح کرنا ہے کہ جس شخص کی اچھی خاصی عمر اس طرح گزری ہو کہ نہ اسے ایمان کا تفصیلی علم حاصل ہوا ہو اور نہ کتابِ الٰہی کو وہ یکایک ایمان کی حقیقت کس طرح بیان کرنے لگا اور کتابِ الٰہی کی آیتیں کس طرح پیش کرنے لگا! یہ اس کی رسالت کا واضح ثبوت ہے۔ آیت کا یہ مطلب نہیں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نبوت سے پہلے ایمان سے بالکل نا واقف تھے اور یہ بھی نہیں جانتے تھے کہ اللہ نے کوئی کتاب بھی نازل کی تھی۔ واقعہ یہ ہے کہ ایک نبی فطرتِ سلیمہ پر قائم ہوتا ہے اور نبی صلی اللہ علیہ و سلم بھی قبل از نبوت اپنی فطرتِ سلیمہ پر قائم تھے۔ توحید آپ کا بنیادی عقیدہ تھا، بت پرستی اور شرک سے بالکل در رہے یہاں تک کہ بتوں کے نام کا ذبیحہ کھانے سے پرہیز کرتے تھے۔ دین ابراہیمی جس شکل میں باقی تھا اس کے پیرو تھے جس کا ایک اہم رکن حج تھا اور آپ کا غارِ حراء میں اللہ کی عبادت میں مشغول ہونا بھی ثابت ہے۔ اس لیے یہ کس طرح کہا جا سکتا ہے کہ آپ ایمان سے بالکل نابلد تھے۔ اسی طرح کتابِ الٰہی کے بارے میں بھی یہ نہیں کہا جا سکتا کہ آپ کو اس سلسلہ میں کوئی بات بھی معلوم نہیں تھی۔ یہود و نصاریٰ مکہ کے قرب و جوار میں آباد تھے اور ان کا اہل کتاب ہونا سب کو معلوم تھا اس لیے آپ اس بات سے نا واقف کس طرح رہ سکتے تھے کہ حضرت موسیٰ پر تورات اور حضرت عیسیٰ پر انجیل نازل ہوئی تھی لیکن چونکہ آپ اُمّی تھے اس لیے نہ آپ نے ان کتابوں کو پڑھا تھا اور نہ آپ کو اس سلسلہ میں کوئی خاص معلومات تھیں مگر قرآن کے نزول نے نہ صرف آپ کے علم میں اضافہ کیا بلکہ آپ کو وہ روشنی عطا کی کہ ایمان کی حقیقت کھول کر بیان کریں اور کتابِ الٰہی کی آیتیں سنائیں اور ان کا درس دیں۔

۹۵۔۔۔۔۔۔ یعنی قرآن کو نور بنا دیا ہے کہ وہ ہدایت کی راہ روشن کرتا اور علم کی روشنی عطا کرتا ہے۔

۹۶۔۔۔۔۔۔ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے جس راستہ کی طرف رہنمائی کی ہے وہی سیدھا راستہ ہے جو اللہ تک پہنچتا ہے اور اسی کی نام اسلام ہے۔

۹۷۔۔۔۔۔۔ یعنی آگاہ ہو جاؤ کہ جس نے خدا اور مذہب کے تعلق سے جو رویہ بھی اختیار کیا ہو گا بالآخر اسے اللہ کے حضور اس کی جواب دہی کرنا ہو گی کیونکہ سارے معاملات فیصلہ کے لیے اسی کے حضور پیش ہونے والے ہیں۔

٭٭٭

 

 

 

 

 

(۴۳) سورۃ الزُّخْرُفْ

 

(۸۹ آیات)

 

بسم اللہ الرحمٰن الر حیم

اللہ رحمٰن و رحیم کے نام سے

 

                   تعارف

 

نام

 

آیت ۳۵ میں زُخْرُفْ (سونے) کا ذکر متاعِ دنیا کی حیثیت سے ہوا ہے۔ اس مناسبت سے سورہ کا نام الزخرف ہے۔

 

زمانۂ نزول

 

مضامین سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ سورہ مکہ کے وسطی دور میں نازل ہوئی ہو گی۔

 

مرکزی مضمون

 

شرک کرنا نامعقولیت کو واضح کرتے ہوئے توحید کے حق ہونے کا یقین پیدا کرنا ہے۔

 

نظمِ کلام

 

آیت ۱ تا ۴ تمہیدی آیات ہیں جو قرآن کی افادیت اور اس کی عظمت کو واضح کرتی ہیں۔ آیت ۵ تا ۱۴میں ان نشانیوں کی طرف متوجہ کیا گیا ہے جن پر غور کرنے سے اللہ کی وحدانیت کا یقین پیدا ہو جاتا ہے۔

آیت ۱۵ تا ۲۵ میں مشرکانہ عقائد کی نا معقولیت واضح کی گئی ہے خاص طور سے فرشتوں کے شریکِ خدا ہونے کی۔

آیت ۲۶ تا ۳۲ میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کے اس تاریخی اعلان کو پیش کیا گیا جو انہوں نے غیر اللہ کی پرستش سے بے تعلقی کے سلسلہ میں کیا تھا اور جو ایک یادگار کلمہ کی حیثیت سے باقی رہا۔ مگر قریش جو ان ہی کی نسل سے ہیں اس تاریخی حقیقت کو نظر انداز کر کے شرک اور بت پرستی کی حمایت میں اٹھ کھڑے ہوئے ہیں اور اللہ کے رسول کی اس بنا پر مخالفت کر رہے ہیں کہ وہ توحید کی دعوت دیتا ہے۔

آیت ۳۳ تا ۴۵ میں دنیا کے حقیر فائدوں کی خاطر آخرت کو نظر انداز کرنے اور وحی و رسالت کا انکار کرنے کا انجام بیان کیا گیا ہے۔

آیت ۴۶ تا ۶۵ میں حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ علیہم السلام کے کچھ احوال پیش کئے گئے ہیں جن سے واضح ہوتا ہے کہ ان کی دعوت بھی توحید ہی کی دعوت تھی اور ان کی مخالفت کرنے والے سرکش لوگ تھے جو اپنے کیفر کردار کو پہنچ کر رہے۔

آیت ۶۶ تا ۸۹ سورہ کی اختتامی آیتیں ہیں جن میں منکرین کو تنبیہ بھی ہے اور اللہ سے ڈرنے والوں کو خوشخبری بھی۔ نیز مجرموں کو ان کے انجام بد سے بھی آگاہ کیا گیا ہے اور بعض شبہات کا ازالہ بھی کیا گیا ہے۔

 

                   ترجمہ

 

بسم اللہ الرحمٰن الر حیم

اللہ رحمٰن و رحیم کے نام سے

 

۱۔۔۔۔۔۔۔ حا۔ میم ۱*

۲۔۔۔۔۔۔۔ قسم ہے روشن کتاب کی ۲*

۳۔۔۔۔۔۔۔ ہم نے اس کو عربی قرآن بنایا ہے تاکہ تم لوگ اسے سمجھو۔ ۳*

۴۔۔۔۔۔۔۔ اور در حقیقت یہ ام الکتاب میں ہمارے پاس ہے بلند مرتبہ اور حکمت سے لبریز۔ ۴*

۵۔۔۔۔۔۔۔ کیا ہم تمہاری یاد دہانی سے اس لیے صرفِ نظر کریں کہ تم حد سے تجاوز کرنے والے لوگ ہو؟ ۵*

۶۔۔۔۔۔۔۔ ہم نے گزرے ہوئے لوگوں میں بھی کتنے ہی نبی بھیجے تھے۔ ۶*

۷۔۔۔۔۔۔۔ جو نبی بھی ان کے پاس آتا وہ اس کا مذاق اڑاتے۔

۸۔۔۔۔۔۔۔ تو ہم نے ان لوگوں کو ہلاک کر دیا جو ان سے زیادہ زور آور تھے۔ ۷* اور سابق قوموں کی مثالیں گزر چکی ہیں۔

۹۔۔۔۔۔۔۔ اگر تم ان سے پوچھو کہ آسمانوں اور زمین کو کس نے پیدا کیا ہے تو وہ یہی کہیں گے کہ ان کو اسی ہستی نے پیدا کیا ہے جو غالب اور علیم ہے۔ ۸*

۱۰۔۔۔۔۔۔۔ وہی ۹* جس نے زمین کو تمہارے لیے گہوارہ بنایا اور اس میں تمہارے لیے راستے بنا دئے ۱۰* تاکہ تم راہ پا سکو۔ ۱۱*

۱۱۔۔۔۔۔۔۔ اور جس نے آسمان سے ایک خاص مقدار میں پانی اتار اور اس سے مردہ زمین کو جِلا اٹھایا۔ اسی طرح تم (قبروں سے) نکالے جاؤ گے۔ ۱۲*

۱۲۔۔۔۔۔۔۔ جس نے ہر قسم کے جوڑے پیدا کئے ۱۳* اور تمہارے لیے کشتیوں اور چو پایوں کو سواری بنایا۔

۱۳۔۔۔۔۔۔۔ تاکہ تم ان کی پشت پر سوار ہو اور جب تم ان پر سوار ہو تو اپنے رب کی نعمت کو یاد کرو ۱۴* اور کہو  “پاک ہے وہ ذات جس نے ان چیزوں کو ہمارے لیے مسخر کر دیا ورنہ ہمارے بس میں نہ تھا کہ ان کو قابو میں کر لیتے۔ ”

۱۴۔۔۔۔۔۔۔ اور ہم اپنے رب ہی کی طرف لوٹنے والے ہیں۔ ۱۵*

۱۵۔۔۔۔۔۔۔ ان لوگوں نے اس کے بعض بندوں کو اس کا جزء بنا دیا ۱۶* بلا شبہ انسان کھلا نا شکرا ہے۔ ۱۷*

۱۶۔۔۔۔۔۔۔ کیا اس نے (اللہ نے) اپنی مخلوق میں سے اپنے لیے بیٹیاں رکھ لیں اور تمہارے لیے بیٹے خاص کر دئے ؟ ۱۸*

۱۷۔۔۔۔۔۔۔ اور جب ان میں سے کسی کو اس چیز کی خوشخبری دی جاتی ہے جو رحمن کے لیے وہ تجویز کرتا ہے تو اس کا چہرہ سیاہ پڑجاتا ہے اور وہ غم سے گھٹنے لگتا ہے۔ ۱۹*

۱۸۔۔۔۔۔۔۔ کیا وہ (صنف) جو زیوروں میں پلتی ہے اور بحث و نزاع میں واضح بات نہیں کر پاتی! ۲۰*

۱۹۔۔۔۔۔۔۔ انہوں نے فرشتوں کو جو رحمن کے بندے ہیں لڑکیاں بنا دیا ہے۔ کیا وہ ان کی پیدائش کے وقت موجود تھے ؟ ۲۱*ان کی گواہی لکھ لی جائے گی اور ان سے باز پرس ہو گی۔

۲۰۔۔۔۔۔۔۔ کہتے ہیں اگر رحمن چاہتا تو ہم ان کی عبادت نہ کرتے۔ ۲۲* اِن کو اس کا کوئی علم نہیں۔ یہ محض اٹکل کی باتیں کرتے ہیں۔ ۲۳*

۲۱۔۔۔۔۔۔۔ کیا ہم نے اس سے پہلے ان کو کوئی کتاب دی تھی جس کی سند وہ پکڑ رہے ہوں ؟ ۲۴*

۲۲۔۔۔۔۔۔۔ نہیں بلکہ وہ کہتے ہیں ہم نے اپنے باپ دادا کو ایک طریقہ پر پایا ہے اور ہم ان ہی کے نقشِ قدم پر چل کر ٹھیک راہ پر جارہے ہیں۔ ۲۵*

۲۳۔۔۔۔۔۔۔ اسی طرح تم سے پہلے جس بستی میں بھی ہم نے کوئی خبردار کرنے والا بھیجا اس کے خوشحال لوگوں نے یہی کہا کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو ایک طریقہ پر پایا ہے اور ہم ان کے نقشِ قدم کی پیروی کر رہے ہیں۔

۲۴۔۔۔۔۔۔۔ اس خبردار کرنے والے نے کہا اگر میں اس طریقہ کے مقابلے میں جس پر تم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے۔ بہترین ہدایت لے کر تمہارے پاس آیا ہوں تو کیا اس صورت میں بھی تم ان ہی کے نقشِ قدم پر چلو گے ؟ انہوں نے جواب دیا تم جو پیغام دے کر بھیجے گئے ہو ہم اس کے منکر ہیں۔ ۲۶*

۲۵۔۔۔۔۔۔۔ آخر کار ہم نے ان کو سزا دی تو دیکھو کیسا انجام ہوا جھٹلانے والوں کا !

۲۶۔۔۔۔۔۔۔ اور جب ابراہیم ؑ نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے کہا تھا میں ان چیزوں سے بالکل بے تعلق ہوں جن کی تم پرستش کرتے ہو۔

۲۷۔۔۔۔۔۔۔ میں صرف اسی کی پرستش کرتا ہوں جس نے مجھے پیدا کیا ہے۔ وہی میری رہنمائی فرمائے گا۔

۲۸۔۔۔۔۔۔۔ اور اس نے اس کو باقی رہنے والے کلمہ کی حیثیت سے اپنی اولاد میں چھوڑا تاکہ وہ اس کی طرف رجوع کریں۔ ۲۷*

۲۹۔۔۔۔۔۔۔ واقعہ یہ ہے کہ میں نے ان کو اور ان کے باپ دادا کو سامانِ زندگی دیا یہاں تک کہ ان کے پاس حق اور ایک آشکارا رسول ا گیا۔ ۲۸*

۳۰۔۔۔۔۔۔۔ اور جب حق ان کے پاس ا گیا تو انہوں نے کہا یہ نو جادو ہے اور ہم اس کے کافر ہیں۔ ۲۹*

۳۱۔۔۔۔۔۔۔ اور انہوں نے کہا یہ قرآن ان دو شہروں کے بڑے آدمی پر کیوں نہیں نازل کیا گیا؟* ۳۰

۳۲۔۔۔۔۔۔۔ کیا تمہارے رب کی رحمت کو یہ لوگ تقسیم کرتے ہیں ؟۳۱* دنیا کی زندگی میں ان کی معیشت کا سامان ہم نے ان کے درمیان تقسیم کر دیا ہے ۳۲* اور ان میں سے بعض کے درجے بعض پر بلند کر دئے ہیں تاکہ وہ ایک دوسرے سے خدمت لیں ۳۳* اور تمہارے رب کی رحمت اس (دولت) سے بدرجہا بہتر ہے جو یہ لوگ جمع کر رہے ہیں ۳۴*

۳۳۔۔۔۔۔۔۔ اور اگر اس کا امکان نہ ہوتا کہ لوگ ایک ہی طریقہ پر چل پڑیں تے تو ہم رحمن سے کفر کرنے والوں کے گھروں کی چھتیں اور زینے جن پر وہ چڑھتے ہیں چاندی کے بنا دیتے۔

۳۴۔۔۔۔۔۔۔ نیز ان کے گھروں کے دروازے اور ان کے تخت بھی جن پر وہ تکئے لگا کر بیٹھتے ہیں۔

۳۵۔۔۔۔۔۔۔ اور سونے سے بھی انہیں مالا مال کرتے۔ یہ سب دنیا کی زندگی ہی کا سامان ہے۔ اور آخرت تمہارے رب کے ہاں صرف متقیوں کے لیے ہے۔ ۳۵*

۳۶۔۔۔۔۔۔۔ اور جو رحمن کے ذکر سے بے پرواہ ہو جاتا ہے ہم اس پر ایک شیطان مسلط کر دیتے ہیں اور وہ اس کا ساتھی بن جاتا ہے۔ ۳۶*

۳۷۔۔۔۔۔۔۔ وہ (شیاطین) ان کو اللہ کی راہ سے روکتے ہیں اور یہ لوگ سمجھتے ہیں کہ ہم راہِ راست پر ہیں۔

۳۸۔۔۔۔۔۔۔ یہاں تک کہ جب ایسا شخص ہمارے پاس پہنچے گا تو (اپنے شیطان سے) کہے گا کاش میرے اور تیرے درمیان مشرق و مغرب کی دوری ہوتی۔ ۳۷* تو کیا ہی برا ساتھی ہوا۔

۳۹۔۔۔۔۔۔۔ اور جب تم ظلم کر چکے ہو تو یہ بات تمہارے لیے کچھ بھی مفید نہ ہو گی کہ تم عذاب میں ایک دوسرے کے شریک ہو۔ ۳۸*

۴۰۔۔۔۔۔۔۔ (اے نبی) کیا تم بہروں کو سناؤ گے یا اندھوں اور صریح گمراہی میں پڑے ہوئے لوگوں کو راہ دکھاؤ گے۔ ۳۹ *

۴۱۔۔۔۔۔۔۔ اگر ہم تمہیں اٹھا لیتے ہیں تو (اس کے بعد) انہیں سزا ضرور دیں گے۔ ۴۰*

۴۲۔۔۔۔۔۔۔ یا یہ ہو گا کہ تم کو ان کا انجام دکھا دیں گے جس کا ہم نے ان سے وعدہ کیا ہے۔ ۴۱* ایسا کرنے پر ہم پوری طرح قادر ہیں۔

۴۳۔۔۔۔۔۔۔ تو جو وحی تمہاری طرف کی گئی ہے اس کو مضبوطی کے ساتھ تھام لو۔ ۴۲* یقیناً تم سیدھی راہ پر ہو۔

۴۴۔۔۔۔۔۔۔ اور بے شک یہ تمہارے لیے اور تمہاری قوم کے لیے نصیحت ہے۔ عنقریب تم سے باز پرس ہو گی۔ ۴۳*

۴۵۔۔۔۔۔۔۔ تم سے پہلے ہم نے جو رسول بھیجے تھے ان سے پوچھ دیکھو کیا ہم نے رحمن کے سوا دوسرے معبود مقرر کئے تھے کہ ان کی پرستش کی جائے ؟ ۴۴*

۴۶۔۔۔۔۔۔۔ ہم نے موسیٰ ۴۵* کو اپنی نشانیوں کے ساتھ فرعون اور اس کے امراء کے پاس بھیجا تو اس نے کہا میں رب العالمین کا رسول ہوں۔

۴۷۔۔۔۔۔۔۔ اور جب وہ ان کے پاس ہماری نشانیوں کے ساتھ آیا تو وہ ان کامذاق اڑانے لگے۔

۴۸۔۔۔۔۔۔۔ ہم ان کو ایک سے بڑھ کر ایک نشانی دکھاتے رہے۔ ۴۶* اور ہم نے ان کو عذاب کی گرفت میں لے لیا تاکہ وہ رجوع کریں۔ ۴۷*

۴۹۔۔۔۔۔۔۔ مگر وہ کہتے اے جادوگر! اپنے رب سے اس عہد کی بنا پر جو اس نے تم سے کر رکھا ہے ہمارے لیے دعا کرو۔ ہم ضرور ہدایت قبول کریں گے۔ ۴۸*

۵۰۔۔۔۔۔۔۔ اور جب ہم ان پر سے عذاب ہٹا دیتے تو وہ اپنا عہد توڑ دیتے۔

۵۱۔۔۔۔۔۔۔ اور فرعون نے اپنی قوم کو پکار کر کہا اے میری قوم کے لوگو ! کیا مصر کی بادشاہی میری نہیں ہے ؟ اور کیا یہ نہریں میرے نیچے نہیں بہ رہی ہیں۔ کیا تم لوگ دیکھتے نہیں ہو! ۴۹*

۵۲۔۔۔۔۔۔۔ تو میں بہتر ہوں یا یہ شخص جو حقیر ہے ۵۰* اور اپنی بات کھل کر کہہ بھی نہیں سکتا؟ ۵۱*

۵۳۔۔۔۔۔۔۔ کیوں نہ اس پر سونے کے کنگن اتارے گئے یا فرشتے اس کے ساتھ پرے باندھے ہوئے آئے ! ۵۲*

۵۴۔۔۔۔۔۔۔ اس نے اپنی قوم کو بے وقوف بنایا اور انہوں نے اس کی اطاعت کی۔ وہ تھے ہی نافرمان لوگ۔ ۵۳*

۵۵۔۔۔۔۔۔۔ جب انہوں نے ہمارے غضب کو دعوت دی تو ہم نے ان کو سزا دی اور ان سب کو غرق کر دیا۔ ۵۴*

۵۶۔۔۔۔۔۔۔ اور ان کو ایسا بنا دیا کہ وہ گئے گزرے ہو گئے اور بعد والوں کے لیے نمونہ عبرت بن کر رہ گئے۔ ۵۵*

۵۷۔۔۔۔۔۔۔ اور جب ابن مریم کا حال بیان کیا جاتا ہے تو تمہاری قوم کے لوگ شور مچانے لگتے ہیں۔ ۵۶*

۵۸۔۔۔۔۔۔۔ اور کہتے ہیں ہمارے معبود اچھے ہیں یا وہ؟ یہ بات محض کٹ حجتی کے لیے وہ پیش کرتے ہیں۔ ۵۷* در حقیقت یہ لوگ ہیں ہی جھگڑالو۔

۵۹۔۔۔۔۔۔۔ وہ تو بس ہمارا ایک بندہ تھا جس کو ہم نے انعام سے نوازا اور بنی اسرائیل کے لیے ایک مثال بنایا۔ ۵۸*

۶۰۔۔۔۔۔۔۔ ہم چاہیں تو تمہارے اندر سے فرشتے بنائیں جو زمین میں خلیفہ ہوں۔ ۵۹*

۶۱۔۔۔۔۔۔۔ اور وہ یقیناً قیامت کی بہت بڑی دلیل ہے۔ ۶۰* لہٰذا اس میں شک نہ کرو اور میری پیروی کرو ۶۱*یہی سیدھی راہ ہے۔

۶۲۔۔۔۔۔۔۔ شیطان تمہیں اس سے روکنے نہ پائے۔ بلا شہ وہ تمہارا کھلا دشمن ہے۔

۶۳۔۔۔۔۔۔۔ اور جب عیسیٰ ؑ واضح نشانیوں کے ساتھ آیا تھا تو اس نے کہا تھا کہ میں تم لوگوں کے پاس حکمت لے کر آیا ہوں ۶۲* اور اس لیے آیا ہوں تاکہ تم پر بعض وہ باتیں واضح کر دوں جن کے بارے میں تم اختلاف میں پڑ گئے ہو۔ ۶۳* لہٰذا تم اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔

۶۴۔۔۔۔۔۔۔ اللہ ہی میرا رب بھی ہے اور تمہارا رب بھی لہٰذا اسی کی عبادت کرو۔ یہی سیدھی راہ ہے۔ ۶۴*

۶۵۔۔۔۔۔۔۔ مگر ان کے مختلف گروہوں نے اختلاف برپا کیا۔ ۶۵* تو تباہی ہے ان لوگوں کے لیے جنہوں نے ظلم کیا ۶۶* ایک دردناک دن کے عذاب سے۔

۶۶۔۔۔۔۔۔۔ کیا یہ لوگ اس بات کے منتظر ہیں کہ ان پر قیامت آ جائے اور انہیں اس کی خبر بھی نہ ہو؟ ۶۶

۶۷۔۔۔۔۔۔۔ اس دن دوست ایک دوسرے کے دشمن ہو جائیں گے سوائے متقیوں کے۔ ۶۷*

۶۸۔۔۔۔۔۔۔ اے میرے بندو! آج تمہارے لیے نہ کوئی خوف ہے اور نہ تم غمگین ہو گے۔ ۶۸*

۶۹۔۔۔۔۔۔۔ جو ہماری آیتوں پر ایمان لائے تھے اور مسلم (فرمانبردار) بن کر رہے تھے۔ ۶۹*

۷۰۔۔۔۔۔۔۔ داخل ہو جاؤ جنت میں تم اور تمہاری بیویاں۔ ۷۰* تمہیں خوش و خر ّم رکھا جائے گا۔

۷۱۔۔۔۔۔۔۔ ان کے آگے سونے کے طشتریاں اور ساغر گردش کریں گے۔ ۷۱* اور اس میں وہ کچھ ہو گا جو دل کو پسند اور آنکھوں کے لیے لذّت بخش ہو گا۔ ۷۲* اور تم اس میں ہمیشہ رہو گے۔

۷۲۔۔۔۔۔۔۔ یہ وہ جنت ہے جس کے وارث تم اپنے اعمال کے صلہ میں بنائے گئے ہو۔ ۷۳*

۷۳۔۔۔۔۔۔۔ تمہارے لیے اس میں بہ کثرت میوے ہوں گے جن کو تم کھاؤ گے۔ ۷۴*

۷۴۔۔۔۔۔۔۔ بلا شبہ مجرم ۷۵* ہمیشہ جہنم کے عذاب میں رہیں گے۔

۷۵۔۔۔۔۔۔۔ ان کے عذاب میں کمی نہ ہو گی اور وہ اس میں مایوس پڑے رہیں گے۔

۷۶۔۔۔۔۔۔۔ ہم نے ان پر ظلم نہیں کیا بلکہ وہ خود ہی اپنے اوپر ظلم کرتے رہے۔ ۷۶*

۷۷۔۔۔۔۔۔۔ وہ پکاریں گے اے خازن! تمہارا رب ہمارا خاتمہ ہی کر دے ۷۷* وہ جواب دیں گے تم کو اسی حال میں رہنا ہے۔

۷۸۔۔۔۔۔۔۔ ہم نے تمہارے سامنے حق پیش کیا تھا مگر تم میں سے اکثر لوگوں کو حق ناگوار تھا ۷۸*

۷۹۔۔۔۔۔۔۔ کیا ان لوگو ں نے قطعی فیصلہ کر لیا ہے (ایسا ہے) تو ہم بھی قطعی فیصلہ کر لیں گے۔ ۷۹*

۸۰۔۔۔۔۔۔۔ کیا انہوں نے یہ گمان کر رکھا ہے کہ ہم ان کی راز کی باتوں اور ان کی سرگوشیوں کو سنتے نہیں ہیں؟  ۸۰* ہم ضرور سن رہے ہیں اور ہمارے فرستادے ان کے پاس ہی لکھ رہے ہیں ۸۱*

۸۱۔۔۔۔۔۔۔ کہوا گر رحمن کے کوئی اولاد ہوتی تو سب سے پہلا عبادت کرنے والا میں ہوں۔ ۸۲*

۸۲۔۔۔۔۔۔۔ پاک ہے آسمانوں اور زمینوں کا رب ، عرش کا مالک ان باتوں سے جو یہ بیان کرتے ہیں۔ ۸۳*

۸۳۔۔۔۔۔۔۔ تو ان کو چھوڑ دو کہ بحث میں الجھے رہیں اور کھیل میں مشغول رہیں یہاں تک کہ اس دن کو دیکھ لیں جس سے ان کو ڈرایا جا رہا ہے۔ ۸۴*

۸۴۔۔۔۔۔۔۔ وہی آسمان میں بھی اِلٰہ (خدا) ہے اور زمین میں بھی اِلٰہ اور وہی حکمت والا علم والا ہے۔

۸۵۔۔۔۔۔۔۔ بڑا بابرکت ہے وہ جس کے قبضہ میں آسمانوں اور زمین اور ان کے درمیان کی تمام چیزوں کی بادشاہی ہے۔ اسی کے پاس قیامت کی گھڑی کا علم ہے اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے۔

۸۶۔۔۔۔۔۔۔ اس کو چھوڑ کر یہ لوگ جن کو پکارتے ہیں وہ شفاعت کا اختیار نہیں رکھتے مگر وہ جو علم کی بنا پر حق کی گواہی دیں گے۔ ۸۵*

۸۷۔۔۔۔۔۔۔ اگر تم ان سے پوچھو انہیں کس نے پیدا کیا ہے تو کہیں گے اللہ نے۔ پھر یہ کس طرح فریب میں آتے ہیں۔ ۸۶*

۸۸۔۔۔۔۔۔۔ اور اس کی (یعنی رسول کی) یہ فریاد کہ اے میرے رب! یہ وہ لوگ ہیں جو ایمان نہیں لاتے۔ ۸۷*

۸۹۔۔۔۔۔۔۔ تو ان سے درگزر کرو اور کہو سلام۔ ۸۸* عنقریب انہیں معلوم ہو جائے گا۔ ۸۹*

 

                   تفسیر

 

۱۔۔۔۔۔۔۔ یہ حروفِ مقطعات ہیں جن کی تشریح اس سے پہلے گزر چکی۔ اس سورہ میں حم کا اشارہ اللہ کی صفت ” حکیم” کی طرف ہے جو آیت ۸۴ میں بیان ہوئی ہے نیز قرآن کے ” حکیم” ہونے کی صفت کی طرف بھی جو آیت ۴ میں بیان ہوتی ہے۔

۲۔۔۔۔۔۔۔ قرآن کے روشن کتاب ہونے کی تشریح سورۂ یوسف نوٹ ۲ اور سورۂ نمل نوٹ ۲ میں گزر چکی۔

یہاں روشن کتاب کی قسم کھانے کا مطلب یہ ہے کہ یہ کتاب جن غیبی حقیقتوں پر سے پردہ اٹھا رہی ہے اور عقل و دل کو اپیل کرنے والی جو تعلیم پیش کر رہی ہے اور جس وضاحت کے ساتھ پیش کر رہی ہے وہ اس بات کا کھلا ثبوت ہے کہ یہ کتاب اللہ ہی کی طرف سے نازل ہوئی ہے اور اس نے ہدایت کی راہ کھول دی ہے۔

۳۔۔۔۔۔۔۔ تشریح کے لیے دیکھئے سورۂ یوسف نوٹ ۳

۴۔۔۔۔۔۔۔ امّ الکتاب سے مراد ” لوحِ محفوظ” ہے جیسا کہ سورۂ بروج میں ارشاد ہوا ہے۔

بَدْہُوَقُرْآنٌ مَّجِیْدٌ فِی لَوحٍ مَّحْفُوظٍ۔ (بروج:۲۴) “بلکہ یہ عظمت والا قرآن ہے جو لوحِ محفوظ میں (ثبت) ہے۔ ”

یعنی اللہ تعالیٰ نے آسمان پر اپنے کلام کو ضبط تحریر میں لانے کا جو اہتمام کر رکھا ہے اس میں اللہ کا یہ کلام درج ہے اور وہاں اس کی شان نہایت اعلیٰ و ارفع ہے اس خصوصیت کے ساتھ کہ وہ علم و حکمت کا خزانہ ہے۔ اگر تم اس کی قدر نہ کرو تو یہ تمہاری نا اہلی کا ثبوت ہو گا ورنہ آسمان میں اس کو بلند پایہ اور گرامی قدر کتاب ہونے کا شرف حاصل ہے اس لعلِ درخشاں کو وہی لوگ پتھر سمجھتے ہیں جن کی عقل پر پتھر پڑے ہیں۔

قرآن شیطان کی دخل اندازی سے بھی محفوظ ہے اور انسان کی دسترس سے بھی باہر۔ اس کا سرچشمہ ایسی بلندی پر ہے جہاں کسی کی پہنچ نہیں۔

آیت سے یہ اشارہ بھی نکلتا ہے کہ جو لوگ اس کلام عالی مقام کی قدر کریں گے ان کا مرتبہ بلند ہو گا اور وہ اپنے دامن کو علم و حکمت کے موتیوں سے بھر لیں گے۔

۵۔۔۔۔۔۔۔ خطاب قرآن کے منکرین سے ہے۔ ان سے کہا جا رہا ہے کہ تم اپنی سرکشی کی بنا پر چاہتے ہو کہ نصیحت اور تنبیہ کی باتیں تمہارے سامنے نہ آئیں ؟ لیکن اللہ تعالیٰ تمہیں اصلاح کا موقع دینا چاہتا ہے اور تم پر اپنی حجت قائم کرنا چاہتا ہے اس لیے وہ قرآن نازل کر کے تمہاری یاد دہانی کا سامان کر رہا ہے۔ تمہاری غلط خواہشات کی بنا پر اس سلسلہ کو روکا نہیں جا سکتا۔

۶۔۔۔۔۔۔۔ یعنی یہ کوئی پہلا نبی نہیں ہے جو اللہ کی طرف سے یاد دہانی لے کر آیا ہو بلکہ اس سے پہلے بھی کتنے ہی نبی گزرے ہیں جو مختلف قوموں میں اللہ کی طرف سے نصیحت کا پیغام لے کر آئے تھے۔

۷۔۔۔۔۔۔۔ یعنی فرعون جیسے جباروں کو جو قریش کے سرداروں کے مقابلہ میں کہیں زیادہ زور اور غلبہ رکھتے تھے۔

۸۔۔۔۔۔۔۔ یہ توحید پر استدلال ہے کہ جب تم اتنی بڑی حقیقت کو تسلیم کرتے ہو کہ آسمانوں اور زمین کو اللہ ہی نے پیدا کیا ہے جس کے قبضۂ قدرت میں یہ پوری کائنات ہے اور جو نہایت علم رکھنے والی ہستی ہے تو پھر کسی اور کے خدا اور معبود ہونے کے لیے گنجائش کہاں سے نکل آئی؟ تم نے کیسی متضاد باتوں کو جمع کر لیا ہے۔ ایک طرف حقیقت کا اعتراف بھی اور دوسری طرف اس کی نفی بھی۔ اللہ کا اقرار بھی اور اس کے تنہا الٰہ ہونے سے انکار بھی۔

۹۔۔۔۔۔۔۔ یہ اللہ کی طرف سے توحید کے سلسلہ میں مزید وضاحت ہے تاکہ اس پر یقین پیدا ہو۔

۱۰۔۔۔۔۔۔۔ مراد قدرتی راستے ہیں جو پہاڑوں وغیرہ کے درمیان ہوتے ہیں۔

۱۱۔۔۔۔۔۔۔ یعنی ان قدرتی راستوں کے ذریعہ اپنی منزل کو پہنچ سکو نیز ان راستوں کو دیکھ کر تمہارا ذہن اللہ کے راستہ کی طرف منتقل ہو جائے اور تم راہ ہدایت پا سکو۔

۱۲۔۔۔۔۔۔۔ یہ قیامت کے دن اٹھائے جانے پر استدلال ہے کہ جس طرح مردہ زمین بارش کے پانی سے زندہ ہو جاتی ہے اور سر سبز و شاداب ہو کر لہلہانے لگتی ہے اسی طرح اللہ مردوں کو زندہ کر کے قبروں سے اٹھائے گا۔

۱۳۔۔۔۔۔۔۔ تشریح کے لیے دیکھئے سورۂ یٰسین نوٹ ۳۹

۱۴۔۔۔۔۔۔۔ یعنی اللہ کی اس نعمت کو کہ اس نے خشکی اور تری میں تمہاری سواری کا انتظام کر دیا۔ سواری کے لیے اس زمانہ میں یا تو جانور ہوتے تھے یا کشتیاں اس لیے آیت میں ان چیزوں کا ذکر ہوا ہے موجودہ زمانہ میں سواری کے لیے جو نئی چیزیں ایجاد ہوئی ہیں مثلاً موٹریں ، ٹرین، جہاز، ہوائی جہاز وغیرہ وہ اگرچہ انسان کی دریافت ہیں مگر در حقیقت اللہ ہی کی نعمت ہیں کیونکہ جس قوت سے یہ چیزیں چلتی ہیں وہ اسی کی پیدا کردہ ہے اور اسی نے انسان کے لیے اس کو سازگار بنا دیا ہے لہٰذا سواری خواہ کوئی ہو اس کو استعمال کرتے وقت یہ احساس ہونا چاہیے کہ یہ اللہ کا بہت بڑا احسان ہے کہ اس نے اس نعمت سے نوازا۔

۱۵۔۔۔۔۔۔۔ ان دو آیتوں (۱۳ اور ۱۴) میں سواری کے تعلق سے چند اہم باتیں ارشاد ہوئی ہیں :

ایک یہ کہ آدمی کسی بھی سواری پر سوار ہوتے وقت شعوری طور پر اللہ کے اس احسان کو یاد کرے کہ اس نے یہ قوتیں اس کے لیے مسخر کر دیں۔

دوسری یہ کہ وہ زبان سے بھی اللہ کی پاکی اور اس کے شکر کے یہ کلمات ادا کرے :

سُبْحَانَ الَّذِیْ سَخَّرَلَنَا ہٰذَاوَمَاکُنَّالَہٗ مُقْرِنِیْنَ وَاِنَّا اِلٰی رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُوْنَ۔ ” پاک ہے جو ذات جس نے ہمارے لیے ان چیزوں کو مسخر کر دیا ورنہ ہمارے بس میں نہ تھا کہ ان کو قابو میں کر لیتے۔ اور ہم اپنے رب ہی کی طرف لوٹنے والے ہیں۔ ”

اس دعا کا اہتمام سوار ہوتے وقت ضروری ہے اور اس کا مسنون ہونا حدیث سے بھی ثابت ہے۔

تیسری بات یہ کہ کسی بھی سواری پر سوار ہو کر تکبر کا نہیں بلکہ بندگی کی شان کا اظہار ہونا چاہیے اور یہ دعائیہ کلمات اللہ کی بندگی کا احساس پیدا کرتے ہیں۔

چوتھی بات یہ کہ سفر کرتے وقت آدمی سفر آخرت کو نہ بھولے اور اپنی آخری منزل کہ اللہ کے حضور لوٹنا ہے یاد رکھئیے۔

سواری جانور کی ہو یا کشتی کی ، موٹر کی ہو یا ہوائی جہاز کی خطرات سے خالی نہیں ہو سکتی۔ کیا معلوم کب کیا حادثہ پیش آ جائے اس لیے چوکنا ہو کر اللہ کو یاد کرتے ہوئے اور آخرت کو پیش نظر رکھتے ہوئے سفر کا آغاز کرنا چاہیے ، آئے دن کے تباہ کن حادثات انسان کی آنکھیں کھول دینے کے لیے کافی ہیں۔

۱۶۔۔۔۔۔۔۔ مراد اللہ کے خاص بندے ہیں مثلاً فرشتے ، انبیاء وغیرہ اور ان کو اللہ کا جزء بنانے کا مطلب یہ ہے کہ ان کو اس کی ذات کا ایک حصہ سمجھ لیا حالانکہ اللہ کی ذات نا قابلِ تجزیہ ہے۔ اس کی ذات سے نہ کوئی چیز خارج ہوتی ہے اور نہ اس کے انر کوئی چیز داخل ہوتی ہے۔ وہ یکتا ہے اور بے مثال ہے (تشریح کے لیے دیکھئے سورۂ اخلاص نوٹ ۳، ۴ اور ۷) مشرکینِ عرب نے فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں ٹھہرا کر ان کو اللہ کی ذات کا جزء بنا دیا۔ اسی طرح نصاریٰ نے بھی حضرت مسیح ؑ کو اللہ کا بیٹا ٹھہرایا جبکہ بیٹا اور بیٹی باپ کا جزء ہوتے ہیں اور یہ معلوم حقیقت ہے کہ فرشتے ہوں یا انبیاء یا اولیاء سب اللہ کی مخلوق اور اس کے بندے ہیں پھر وہ خالق کا جزء کیسے ہو سکتے ہیں ؟

رہا ہندو ازم تو وہ پوری کائنات کو خدا کا جزء قرار دیتا ہے۔

“He both is and is not the Created Universe, for while the created universe, is a part of his being it is not the whole of it.” (Spiritual Heritage of India by Swami Prabhavananda P.32

یعنی خدا نے کائنات کو پیدا کیا بھی ہے اور نہیں بھی کیونکہ یہ تخلیق شدہ کائنات اس کی ذات کا جزء ہے مکمل اس کی ذات نہیں۔ کیسی متضاد الجھی ہوئی اور گمراہ کن باتیں ہیں یہ جن کو ایک فلسفہ کی شکل میں پیش کیا گیا ہے۔ نعوذ باللہ من ذالک۔

اسی ہندوانہ فلسفہ کا اثر ہے کہ بعض صوفیاء وحدۃ الوجود کے قائل ہو گئے۔ انہوں نے خالق اور مخلوق کے فرق کو مٹا دیا اور خدا اور کائنات کو ایک ہی وجود سے تعبیر کیا یہ گمراہی مسلمانوں میں تصوف کی راہ سے آئی۔ اگر مسلمان آنکھیں کھول کر قرآن کا مطالعہ کرتے تو وہ توحیدِ خالص کو پاتے اور گمراہ صوفیوں کے چکر میں نہ آتے۔

۱۷۔۔۔۔۔۔۔ یہ کھلی نا شکری ہے کہ انسان فائدہ اٹھائے اللہ کی نعمتوں سے مگر عبادت کرے غیر اللہ کی۔

۱۸۔۔۔۔۔۔۔ مشرکین عرب کہتے تھے کہ فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں۔ ان کے اسی دعوے کی نا معقولیت کو یہاں واضح کیا گیا ہے۔ وہ بیٹوں پر فخر کرتے تھے اور بیٹیوں کو اپنے لیے تنگ و عار سمجھتے تھے۔ ان کی اسی ذہنیت کے پیشِ نظر ان کے دعوے ٰ کی نامعقولیت ان پر واضح کی جا رہی ہے۔ مدعا یہ ہے کہ اول تو اللہ کی اولاد ہونے کا تصور ہی باطل ہے۔ مزید یہ کہ تم نے فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں قرار دیا ہے۔ جب کہ بیٹیوں کو تم اپنے لیے پسند نہیں کرتے بلکہ معیوب خیال کرتے ہو۔ تو جس چیز کو معیوب خیال کرتے ہو وہ اللہ کے لیے تجویز کرنا کہاں کی معقولیت ہے ؟ اس ایک پہلو ہی سے اگر غور کرو تو تم یہ محسوس کئے بغیر نہیں رہو گے کہ بڑی احمقانہ بات ہے جو تمہاری زبان سے نکل رہی ہے۔

۱۹۔۔۔۔۔۔۔ تشریح کے لیے دیکھئے سورۂ نحل نوٹ ۸۰۔

۲۰۔۔۔۔۔۔۔ یہ لڑکیوں کے تعلق سے مشرکین ہی کے ذہن کا ابھرتا ہوا سوال ہے جو ان ہی پر الٹ دیا گیا ہے۔ وہ لڑکی کی پیدائش کو اپنے لیے باعث عار خیل کرتے تھے کیونکہ قبائلی سسٹم میں افرادی قوت کی بڑی اہمیت تھی اور اس کی طاقت کا انحصار مردوں ہی پر تھا۔ دشمن سے مقابلہ مرد کرتے تھے نہ کہ عورتیں۔ پھر کسی نزاعی مسئلہ میں بھی اپنے موقف کو مرد ہی وضاحت کے ساتھ پیش کر سکتے تھے۔ عورتیں بالعموم ایسے موقع پر جذبات سے مغلوب ہو جاتی ہیں اور اپنے موقف کو وضاحت کے ساتھ پیش نہیں کر پاتیں اس لیے لڑکی کی پیدائش کی خبر سن کر ان کے ذہن میں سوال پیدا ہوتا تھا کہ یہ صنف جو زیورات کی جھنکار میں پرورش پاتی ہے دشمن سے مقابلہ کے لیے اور جنگ کے موقع پر ہمارے کیا کام آسکتی ہے بخلاف اس کے لڑکا صنفِ قوی سے تعلق رکھتا اور تلواروں کے سایہ میں پرورش پاتا ہے۔ اس لیے دشمن سے مقابلہ کی طاقت رکھتا ہے اور لڑائی کے لیے موزوں ہے۔ اسی طرح ان کے ذہن میں یہ سوال بھی پیدا ہوتا تھا کہ قبائل کے درمیان جو نزاعات پیدا ہوتی رہتی ہیں ان میں لڑکی کیا رول ادا کر سکے گی جبکہ وہ ایسے موقع پر جذبات سے مغلوب ہو جاتی ہے۔ ان کی اسی ذہنیت کو ان پر الٹ دیا گیا ہے کہ جب تم ان وجوہ سے لڑکیوں کو اپنے لیے باعثِ عار خیال کرتے ہو تو پھر اللہ کے لیے بیٹیاں کس طرح تجویز کرتے ہو؟ اول تو اللہ کے لیے اولاد تجویز کرنا حماقت ہے اور اس پر مزید حماقت یہ کہ صنفِ نازک کو اس کی اولاد قرار دیا جائے۔ گویا اللہ نے اپنی خدائی کو چلانے اور اپنے اقتدار کو قائم کرنے کے لیے جس کا انتخاب کیا وہ صنف نازک ہے۔ یہ ایک ایسا دعویٰ ہے جس کا بھونڈا پن اور جس کا لغو ہونا بالکل ظاہر ہے۔ پھر اللہ کے بارے میں ایسی بھونڈی بات کہتے ہوئے تمہیں شرم محسوس نہیں ہوتی! آیت میں ایسی کوئی بات نہیں ہے جس سے عورتوں کی تنقیص یا تحقیر کا کوئی پہلو نکلتا ہو۔ اللہ تعالیٰ نے مردوں کی طرح عورتوں کو بھی بہترین ساخت پر پیدا کیا ہے اس لیے ان کی فطرت میں بھی کوئی خرابی نہیں ہے۔ البتہ مردوں کی خصوصیات اور عورتوں کی خصوصیات میں کسی قدر فرق ہے۔ مرد قوت کی علامت ہیں تو عورتیں زینت کا نشان۔ اور جہاں تک خدائی نظام کا تعلق ہے اس میں نہ مرد دخیل ہیں اور نہ عورتیں اور کسی کے بھی دخیل ہونے کا تصور ہی سرے سے باطل ہے لیکن عورتوں کو دخیل سمجھنا بڑی بھونڈی بات ہے۔ سورۂ نجم میں یہی بات ارشاد ہوتی ہے۔

اَلَکُم اُلذَّکَرُوَلَہُ الْاُنْثٰی تِلْکَ اذِاً قِسْمَۃٌ ضِیْزٰی” کیا تمہارے لیے بیٹے ہیں اور اللہ کے لیے بیٹیاں ؟ یہ تقسیم تو بہت بھونڈی ہوئی۔ ” (نجم:۲۱۔ ۲۲)

۲۱۔۔۔۔۔۔۔ یعنی آخر انہیں کیسے معلوم ہوا کہ فرشتے لڑکیاں ہیں۔ فرشتے غیب سے تعلق رکھتے ہیں اور غیب کی حقیقتوں کو جاننے کا ذریعہ وحی ہے جس کے یہ لوگ قائل نہیں ہیں۔ پھر کیا یہ ان کی پیدائش کے وقت موجود تھے جو انہیں فرشتوں کی صنف معلوم ہو گئی؟

واضح کرنا یہ مقصود ہے کہ فرشتوں کی صنف کے بارے میں ان کا دعویٰ غلط ہے۔ دوسرے یہ کہ وہ خدا کا جزء نہیں ہیں کہ بیٹیاں قرار پائیں۔ حقیقت یہ ہے کہ وہ خدائے رحمن کے خاص بندے ہیں۔ جن کو کسی بھی صنف سے تعبیر نہیں کیا جا سکتا۔

۲۲۔۔۔۔۔۔۔ یہ کٹ حجتی ہے۔ آدمی جب بحث پر اتر آتا ہے تو اللہ کی مشیت پر ساری ذمہ داری ڈالتا ہے۔ گویا وہ تقدیر کے ہاتھوں مجبور ہے اور بالکل بے اختیار ہے مگر انسان دوسروں کے ساتھ معاملہ کرنے میں یہ رویہ اختیار نہیں کرتا۔ اگر کوئی شخص اس کا مال چراتا ہے یا اس کو مارتا ہے یا اس پر ظلم کرتا ہے تو وہ یہ کیوں نہیں سمجھتا کہ وہ ایسا کرنے کے لیے تقدیر کے ہاتھوں مجبور ہے اس لیے وہ سزا کا مستحق نہیں ہے۔

۲۳۔۔۔۔۔۔۔ عقیدہ اور عبادت کا معاملہ علم پر مبنی ہونا چاہیے نہ کہ قیاس پر مشرکین کا فرشتوں کو اللہ کے اقتدار میں شریک اور لائق عبادت سمجھنا کسی تحقیق پر مبنی نہیں تھا بلکہ محض اٹکل پچو بات تھی جو بہت بڑی گمراہی ہے۔

۲۴۔۔۔۔۔۔۔ یعنی فرشتوں کو انہوں نے جو معبود (دیویاں) بنا رکھا ہے تو اس کی تائید میں آسمانی کتاب کی کوئی حجت ان کے پاس موجود نہیں ہے کیونکہ عربوں (بنی اسمعیل) میں اللہ تعالیٰ نے قرآن سے پہلے کوئی کتاب نازل نہیں کی تھی۔ پھر یہ کس دلیل کی بنا پر یہ دعویٰ کر رہے ہیں ؟

واضح رہے کہ اللہ کے رسول مختلف قوموں اور ملکوں میں آتے رہے مگر اللہ تعالیٰ نے ہر قوم کو کتاب عطا نہیں کی کیونکہ اس زمانہ میں پڑھنے لکھنے کا رواج کم ہونے کی وجہ سے ہر قوم اس کی متحمل نہیں ہو سکتی تھی۔ عرب ایک امی قوم تھی اس لیے حضرات ابراہیم اور حضرت اسمٰعیل علیہم السلام نے جو کچھ نقوش چھوڑے وہ ان کی رہنمائی کا ذریعہ تھے۔ اسی طرح کا معاملہ دنیا کی مختلف قوموں کے ساتھ رہا ہو گا۔ ان کے لیے انبیائی ہدایت کا سامان کیا جاتا رہا البتہ بنی اسرائیل میں رسول بھی آئے اور کتابیں بھی نازل ہوئیں۔

۲۵۔۔۔۔۔۔۔ یعنی جس شرک اور بت پرستی میں وہ مبتلا ہیں اس کے لیے ان کے پاس کوئی دلیل نہیں ہے بلکہ اپنے گمراہ باپ دادا کی اندھی تقلید کر رہے ہیں اور اس زعم میں مبتلا ہیں کہ باپ دادا کے مذہب پر چلنا راہیاب ہونا ہے۔

عقیدہ و مذہب کے معاملہ میں انسان کی سب سے بڑی گمراہی یہی رہی ہے کہ وہ الہ کی حجت کے مقابلہ میں تقلید کو ترجیح دیتا رہا ہے خواہ وہ آباء و اجداد کی تقلید ہو یا مذہبی پیشواؤں کی یا لیڈروں کی مگر قرآن ہر قسم کی تقلید کی جڑ کاٹ دیتا ہے اور وحی الٰہی کی راہ روشن کرتا ہے جو علم کی راہ ہے۔ امام رازی تقلید کی گمراہی کو واضح کرتے ہوئے لکھتے ہیں :

” اگر اللہ کی کتاب میں صرف یہی آیتیں ہوتیں تو وہ تقلید کو باطل قرار دینے کے لیے کافی ہوتیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے واضح فرمایا ہے کہ ان کافروں کے پاس اپنے مسلک کی تائید میں نہ کوئی عقلی دلیل ہے اور نہ نقلی جس کو یہ پکڑے ہوئے ہوں بلکہ محض تقلید ہے اپنے آباؤ اجداد اور گزرے ہوئے لوگوں کی۔ ” (التفسیر الکبیر ج۲۷ ص ۲۰۶)

اور علامہ شوکانی نے اس آیت کے ذیل میں مسلمانوں مے پائے جانے والے تقلیدی ذہن پر سخت گرفت کرتے ہوئے لکھا ہے :

“یہ بہت بڑی دلیل ہے تقلید کے باطل اور اس کے بُرا ہونے کی مگر اسلام میں رہتے ہوئے یہ مقلدین اپنے گزرے ہوئے لوگو ں کی بات پر عمل کرتے ہیں ، ان کے نقشِ قدم پر چلتے ہیں اور ان کی پیروی کرتے ہیں۔ جب حق کی طرف دعوت دینے والا انہیں گمراہی سے نکالنا یا اس بدعت سے بچانا چاہتا ہے جس کو انہوں نے مضبوط پکڑ رکھا ہے اور اپنے بزرگوں سے کسی روشن دلیل اور واضح حجت کے بغیر ورثہ میں پایا ہے اور جو غلط شبہات ، بودے دلائل اور باطل اقوال پر مبنی ہونے کی وجہ سے محض قیل و قال کی حیثیت رکھتے ہیں تو یہ لوگ وہی جواب دیتے ہیں جو ان مذاہب کے خوشحال لوگوں نے دیا تھا کہ ہم نے اپنے باپ داد کو ایک مسلک پر پایا ہے اور ہم ان کے نقش قدم کی پیروی میں راہیاب ہیں۔ یا ان معنی میں کوئی بات کہہ دیتے ہیں۔ ” (فتح القدیر ج۴ ص ۵۵۲)

۲۶۔۔۔۔۔۔۔ ان کا یہ جواب سراسر ہٹ دھرمی کا مظاہرہ تھا۔

۲۷۔۔۔۔۔۔۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے اسوہ کو پیش کر کے مشرکین عرب کو فہمائش کی گئی ہے کہ تم نے اپنے گمراہ آباؤ اجداد کی تقلید میں شرک اور بت پرستی اختیار کی لیکن اپنے جدِ امجد ابراہیم ؑ کے اسوہ کو جو اللہ کے رسول تھے چھوڑ دیا۔ حالانکہ لائق اتباع رسول کا طریقہ ہوتا ہے نہ کہ باپ داد کا طریقہ۔

حضرت ابراہیم ؑ نے اپنے باپ اور اپنی قوم کی تقلید نہیں کی تھی بلکہ ان کے مشرکانہ عقائد اور ان کی بت پرستی سے بے زاری کا اعلان کیا تھا اور توحید کو فطرت کی آواز اور دلائل کی بنا پر اختیار کیا تھا۔ توحید کا یہ کلمہ انہوں نے اپنی اولاد اور اپنے اَخلاف میں ایک یادگار کلمہ کی حیثیت سے چھوڑا تاکہ اگر سماج میں گمراہی پیدا ہو جائے تو لوگ اس تاریخی کلمہ کی طرف رجوع کریں۔ یہ کلمہ اس لیے یادگار کلمہ قرار پایا کہ اس کی پشت پر زبردست قربانیاں تھیں جو انہوں نے دیں نیز ایک تاریخ تھی جو انہوں نے بنائی۔ اور اسی کلمہ کا یہ اثر تھا کہ جب عربوں میں بت پرستی رائج ہوئی تو جو لوگ اپنی فطرت سلیمہ پر قائم تھے وہ بت پرستی سے دور رہے اور حضرت ابراہیم ؑ کے نقش قدم پر صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے رہے۔ چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم کا قبل نبوت غارِ حراء میں صرف اللہ کی عبادت کرنا ثابت ہے۔

۲۸۔۔۔۔۔۔۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے ابراہیم کی اولاد (عربوں) کو جو مال و اسباب دیا اس میں وہ مگن رہے اور خدا اور آخرت سے بالکل بے پرواہ ہو گئے۔ ایک مدت کے ان کا یہی حال رہا یہاں تک کہ حق کی روشنی نمودار ہو گئی اور ایک ایسا رسول ان میں مبعوث ہوا جس کا رسول ہونا بالکل واضح ہے۔

۲۹۔۔۔۔۔۔۔ یعنی قرآن کے ذریعہ جب حق ظاہر ہو گیا تو انہوں نے اس کی تاثیر کو دیکھ کر اسے جادو قرار دیا اور ماننے سے انکار کر دیا۔

۳۰۔۔۔۔۔۔۔ دو شہروں سے مراد مکہ اور طائف ہیں جو مرکزی شہر تھے۔ مشرکین مکہ کا اعتراض یہ تھا کہ قرآن اگر واقعی الہ کی طرف سے ہے تو وہ مکہ یا طائف کے کسی رئیس پر نازل کیا جانا چاہیے تھا۔ ایک ایسا شخص اس کے لیے کس طرح موزوں ہوا جو نہ دولتمند ہے اور نہ جاہ و منصب رکھتا ہے ؟

۳۱۔۔۔۔۔۔۔ یہ ان کے اعتراض کا جواب ہے کہ نبوت اللہ کی رحمت ہے اور اللہ کی رحمت کو تقسیم کرنا اللہ کا کام ہے یا ان کا؟ اگر یہ اللہ ہی کا کام ہے تو اللہ بہتر جانتا ہے کہ اس کی رحمت کے لیے کون شخص موزوں ہے۔ تم کو کیا حق کہ کسی کے موزوں ہونے نہ ہونے کا فیصلہ کر بیٹھو۔

۳۲۔۔۔۔۔۔۔ یعنی نبوت تو بڑی بات ہے لوگوں کے درمیان معیشت کی تقسیم بھی تو اللہ ہی کی مشیت سے ہو رہی ہے وہ جس کو چاہتا ہے امیر بناتا ہے اور جس کو چاہتا ہے غریب۔ اور کسی کو اعتراض کرنے کا حق نہیں کہ فلاں شخص کو امیر کیوں بنایا اور فلاں شخص کو غریب کیوں۔ بندوں کی مصلحتوں کو اللہ بہتر جانتا ہے اور اس کی حکمت جس طرح متقاضی ہوتی ہے وہ اپنے بندوں کے ساتھ معاملہ کرتا ہے۔

۳۳۔۔۔۔۔۔۔ یعنی اللہ نے معیشت کی تقسیم میں جو تفاوت رکھا ہے کہ کسی کو وسائل زیادہ عطا کئے اور کسی کو کم ، کوئی امیر گھرانہ میں پیدا ہوا اور ورثہ میں بہت بڑی دولت پائی اور کوئی غریب گھرانہ میں پیدا ہوا اور ورثہ میں کچھ نہیں پایا، کسی کی کھیتی زر اگلتی ہے اور کوئی سرے سے کھیتی ہی سے محروم ہے ، کسی کو کاروبار کے ذرائع حاصل ہیں اور کوئی محنت مزدوری ہی کر سکتا ہے تو یہ تفاوت ایک طرح سے درجات کا تفاوت ضرور ہے مگر اس کا کوئی تعلق عزت و ذلت سے نہیں ہے اور نہ اس بنا پر اللہ کے یہاں کسی کا درجہ بڑھتا یا گھٹتا ہے اس لیے نبی کی شخصیت کو اس نظر سے دیکھنا کہ اس کے پاس اسباب معیشت کی فراوانی نہیں ہے لہٰذا وہ اس منصب کے لیے موزوں نہیں ہو سکتا نری جہالت ہے۔

پھر جب بات معیشت میں درجات کے تفاوت کی آئی تو اس کی مصلحت بھی واضح کر دی اور وہ یہ کہ لوگ ایک دوسرے سے خدمت لے سکیں۔ اگر سب لوگ یکساں صلاحیت لے کر آتے اور یکساں وسائل پاتے تو کوئی کسی کو نہ پوچھتا اور انسانی سوسائٹی کا نظام تعاون کی بنیاد پر نہ چلتا۔ اگر سب افلاطون کا دماغ لے کر آتے تو سب ہی فلسفی بن کر رہ جاتے۔ کاشتکار، تاجر، معمار اور کاریگر کہاں سے آتے اور اگر سب پیدائشی طور پر امیر ہی امیر یا غریب ہی غریب ہوتے تو نہ امیر کسی کے تعاون کا محتاج ہوتا اور نہ غریب سے کوئی سروکار رکھتا۔ اس طرح انسانی سوسائٹی کے نظام میں باہمی تعاون کی روح مفقود ہوتی ہے۔

اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ انسانی سوسائٹی میں دولت کے تفاوت کو کم کرنے کے لیے جائز اور منصفانہ ذرائع اختیار نہ کئے جائیں اور ان کو طبقات میں تقسیم کر دیا جائے۔ قرآن کے واضح احکام اس کی تردید کرتے ہیں مثلاً یہ حکم کہ دولت تمہارے مالداروں کے درمیان گردش نہ کرتی رہے (سورۂ حشر:۷) اسی طرح وراثت کا نظام زکوٰۃ کی ادائیگی کا حکم وغیرہ۔

۳۴۔۔۔۔۔۔۔ یعنی دنیا کی جو دولت یہ لوگ سمیٹ رہے ہیں اس کے مقابلہ میں وہ دولت جس سے اللہ تعالیٰ نے تمہیں نوازا ہے ہر لحاظ سے بہتر ہے کیونکہ یہ دولت (نبوت) اللہ کی خاص رحمت ہے جس سے وہ اپنے خاص بندوں ہی کو نوازتا ہے۔

۳۵۔۔۔۔۔۔۔ یہاں اس شبہ کا ازالہ کیا گیا ہے جو عام طور سے کافروں کو خوش حال دیکھ کر سطحیت پسند ذہنوں میں پیدا ہوتا ہے۔ وہ یہ خیال کرتے ہیں کہ جب اللہ نے ان کو خوشحال اور دولت مند بنایا ہے تو وہ ضرور ان سے خوش ہو گا اور اگر آخرت برپا ہوئی تو وہاں بھی انہیں سب نعمتیں حاصل ہوں گی۔ یہاں اس خیال کی تردید کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ کافروں کا خوشحال اور دولت مند ہونا اس بات کی علامت نہیں ہے کہ اللہ ان سے خوش ہے اور آخرت میں بھی وہ خوشحال ہوں گے۔ دنیا میں جو کچھ بھی انہیں دیا جا رہا ہے وہ دنیا کی زندگی تک ہی محدود رہنے والا ساز و سامان ہے اور انہیں اس لیے دیا جا رہا ہے تاکہ وہ کفر میں جتنا آگے نکل جانا چاہیں نکل جائیں اور اپنا پیمانہ خوب بھر لیں اس کے بعد آخرت کی نعمتوں میں ان کا کوئی حصہ نہیں ہو گا۔ اللہ کے نزدیک دنیوی مال و متاع بالکل بے وقعت ہے اور جس فراوانی کے ساتھ کافروں کو دیا جاتا ہے اس سے کہیں زیادہ فراوانی کے ساتھ انہیں دیا جاتا یہاں تک کہ وہ اپنے گھروں کو چاندی سے آراستہ کر لیتے اور سونے سے انہیں مالا مال کر دیا جاتا مگر اس صورت میں لوگ سونے چاندی کی چمک دمک سے متاثر ہو کر کفر کی راہ پر جا پڑتے۔ ہر شخص دنیا بٹورنے کے لیے آگے بڑھتا اور پوری انسانیت کفر پر مجتمع ہو جاتی۔ یہ ایسا زبردست امتحان ہوتا کہ خال خال لوگ ہی ایسے نکلتے جو اپنی فطرت سلیمہ پر قائم رہتے اور دنیا کے سامانِ عشرت کی پرواہ نہ کرتے ہوئے اللہ پر ایمان لاتے اور تقویٰ کی زندگی بسر کرتے۔ مگر اللہ تعالیٰ نے انسانیت پر رحم فرمایا اور اسے اتنے کڑے امتحان میں نہیں ڈالا۔

اس ارشاد الٰہی سے یہ بات خود بخود واضح ہوتی ہے کہ کافروں کو اللہ تعالیٰ دنیوی عیش و عشرت کا سامان کچھ زیادہ ہی دیتا ہے اور تمدنی ترقی کے اسباب بالعموم ان کے لیے زیادہ مہیا کر دیتا ہے مگر اہل ایمان کے لیے یہ چیزیں رشک کرنے کی نہیں ہیں کیونکہ یہ چند روزہ زندگی کے متاعِ حقیر ہے۔ آخرت کی بہترین اور لازوال نعمتیں متقیوں ہی کے حصہ میں آنے والی ہیں۔

آج مسلمانوں میں ایسے لوگ بہت کم ہیں جنہوں نے صاف ذہن سے اس حقیقت کو قبول کر لیا ہو اور جو دنیوی زخارف کی پرواہ نہ کرتے ہوئے تقویٰ کی زندگی کو اپنے لیے باعثِ سعادت خیال کرتے ہوں۔

۳۶۔۔۔۔۔۔۔ سلسلہ بیان سے واضح ہے کہ جو لوگ سیم و زر پر ریجھتے ہیں اور دنیوی عیش و عشرت کے دل دادہ بن جاتے ہیں وہ اللہ کے ذکر سے غافل ہو جاتے ہیں اور اللہ کے ذکر سے غافل ہونے کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ شیطان ان پر مسلط ہو جاتا ہے اور وہ ان کا ساتھی بن کر ان کو گمراہ کرتا ہے۔

یہاں اللہ کے ذکر سے مراد پورے شعور کے ساتھ اپنے رب کو یاد کرنا اور یاد رکھنا ہے۔ یعنی قلب و ذہن کا اللہ کی طرف متوجہ رہنا۔ ذکرِ لسانی (زبان سے اللہ کا ذکر کرنا) اس میں بڑا معاون ہے اور اس لحاظ سے اس کی بری اہمیت ہے۔

اس موقع پر سورۂ طٰہٰ نوٹ ۱۵۲ بھی پیش نظر رہے۔

شیطان کا مسلط ہونا اور اس کا ساتھی بن کر رہنا ظاہری آنکھوں سے دکھائی نہ دینے والی چیز ہے مگر اس کے اثرات انکار و خیالات اور اخلاقی و عملی زندگی میں محسوس کئے جا سکتے ہیں اور قرآن ہمیں ان چیزوں سے آگاہ کرتا ہے جو اگرچہ ہماری نظروں سے پوشیدہ ہیں لیکن ہمارے عقائد و اعمال پر اثر انداز ہو سکتی ہیں۔

۳۷۔۔۔۔۔۔۔ اصل میں “بُعد المشرقین” کی ترکیب استعمال ہوئی ہے جس کے لفظی معنی ہیں دو مشرقوں کے درمیان کی دوری۔ لیکن عربی محاورہ میں مشرق اور مغرب کے لیے مشرقین (دو مشرق) کہا جاتا ہے جیسا کہ شمس و قمر کے لیے قمران (دو قمر) بولنے کا محاورہ ہے۔ اسی لیے بعد المشرقین کا ترجمہ مشرق و مغرب کی دوری کیا گیا ہے۔

آیت کا مطلب یہ ہے کہ آج تو یہ ہے کہ آج تو یہ کافر شیطان کو اپنا ساتھی بنائے ہوئے ہیں لیکن قیامت کے دن وہ اپنے اس ساتھی سے سخت نفرت کریں گے اور اس سے برملا  کہہ دیں گے کہ کاش میرے اور تیرے درمیان انتہائی دوری ہوتی!

۳۸۔۔۔۔۔۔۔ یعنی جب دنیا میں تم اپنے نفس پر ظلم ڈھا کر  آئے ہو تو آج تم اپنے شیاطین کے ساتھ عذاب میں شریک ہو اور تمہاری یہ شرکت تمہارے عذاب میں کسی تخفیف کا باعث نہیں ہو سکتی۔ یعنی یہ شیاطین تمہارا کوئی بار ہلکا نہیں کر سکتے اور تمہارا دوزخ میں مجتمع ہونا احساسِ درد میں کمی کا باعث نہیں ہو سکتا۔

۳۹۔۔۔۔۔۔۔ یعنی جنہوں نے حق بات کو سننے اور راہ حق کو دیکھنے کی صلاحیت کھو دی ہے ان پر نہ کوئی نصیحت اثر انداز ہو سکتی ہے اور نہ ان کی رہنمائی کی جا سکتی ہے۔

۴۰۔۔۔۔۔۔۔ یعنی اے پیغمبر یہ لوگ تمہاری وفات کا انتظار کر رہے ہیں لیکن اگر ہم نے تمہیں دنیا سے اٹھا بھی لیا تو یہ لوگ اللہ کے عذاب سے جو کفر کی پاداش میں ان پر آنا ہے ہرگز بچنے والے نہیں۔

اس موقع پر سورۂ یونس نوٹ ۷۵ بھی پیشِ نظر رہے۔

۴۱۔۔۔۔۔۔۔ اور یہی دوسری صورت پیش آئی۔ کافروں کا انجام نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو آپ کی زندگی ہی میں دکھا دیا گیا۔

۴۲۔۔۔۔۔۔۔ مراد قرآن ہے جس کو مضبوطی کے ساتھ تھام لینے کا مطلب اس کو دل کی گہرائیوں میں جگہ دینا اور یکسوئی کے ساتھ اس راہ پر چلنا ہے جو وہ دکھا رہا ہے۔

۴۳۔۔۔۔۔۔۔ باز پرس اس بات کی کہ تم نے قرآن کے ساتھ کیا معاملہ کیا۔

۴۴۔۔۔۔۔۔۔ رسولوں سے پوچھنے کا مطلب ان کی کتابوں اور ان کی تعلیمات میں یہ بات تلا ش کرنا ہے کہ کیا واقعی انہوں نے خدائے رحمن کے سوا کسی اور کی عبادت کا حکم دیا تھا۔ اس کے ثبوت میں کوئی مستند حوالہ پیش نہیں کیا جا سکتا اور جب حقیقت یہ ہے کہ انبیاء علیہم السلام میں سے کسی نے بھی، غیر اللہ کی عبادت کا حکم نہیں دیا تھا تو شرک اور بت پرستی کے لیے کیا بنیاد رہ جاتی ہے ؟

یہ اسلوب کہ رسولوں سے پوچھ دیکھو بلاغت کا اسلوب ہے اور یہ اسی مفہوم میں ہے جس مفہوم میں کہ آیت فَاِنْ تَنَازَعْتُمْ فِیْ شَیْءٍ فَرُدُّوْہُ اِلَی اللّٰہِ وَالرَّسُوْلِ (اگر تمہارے درمیان کوئی اختلاف ہو جائے تو اسے اللہ اور رسول کی طرف پھیر دو۔ سورۂ نساء:۵۹) ظاہر ہے یہاں بھی کتاب و سنت مراد ہیں نہ کہ اللہ کے پاس پہنچ کر اور رسول کے پاس پہنچ کر جب کہ آپ دنیا سے رخصت ہو گئے کسی مسئلے کی شرعی حقیقت معلوم کرنا۔

۴۵۔۔۔۔۔۔۔ موسیٰ علیہ السلام کا قصہ اس سے پہلے کئی سورتوں میں تفصیل سے گزر چکا۔ یہاں اس قصہ کے چند پہلو نمایاں کئے گئے ہیں اور مقصود یہ واضح کرنا ہے کہ اللہ تعالیٰ منصب نبوت کے لیے جس کو چن لیتا ہے وہ کوئی متمول اور دنیوی شان و شوکت رکھنے والی شخصیت نہیں ہوتی بلکہ وہ اپنے اوصاف کے لحاظ سے عظیم شخصیت ہوتی ہے۔ موسیٰ کو فرعون کی طرف جو عظیم الشان سلطنت کا مالک تھا رسول بنا کر بھجا گیا تھا لیکن ان کے ساتھ کوئی دنیوی شان و شوکت نہیں تھی لہٰذا اگر پیغمبر قرآن کے ساتھ دنیا کا ساز و سامان نہیں ہے تو اس سے ان کی رسالت پر کیا حرف آتا ہے ؟

۴۶۔۔۔۔۔۔۔ مراد معجزے ہیں۔

۴۷۔۔۔۔۔۔۔ مراد تنبیہی عذاب ہیں یعنی ایسی آفتیں اور مصیبتیں جن سے اس بات کی تائید ہوتی تھی کہ موسیٰ اللہ کے رسول ہیں۔ اور یہ عذاب اس لیے آتے رہے تاکہ وہ ہوش میں آئیں اور انہیں اپنی غل روی کا احساس ہو۔

تفصیل کے لیے دیکھئے سورۂ اعراف نوٹ ۱۸۷ تا ۱۹۲۔

۴۸۔۔۔۔۔۔۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ کس قدر غیر سنجیدہ تھے یہ لوگ۔ وہ حضرات موسیٰ ؑ سے دعا کے لیے درخواست بھی کرتے اور ساتھ ہی انہیں جادوگر بھی کہتے۔ ان کی نظر میں حضرت موسیٰ کے معجزے محض ان کی جادوگری تھی مگر جو آسمانی آفتیں ان پر نازل ہو رہی تھیں ان سے بچنے کے لیے وہ حضرت موسیٰ کی دعا کو موثر خیال کرتے تھے۔ اس طرح انہوں نے دو متضاد باتوں کو جمع کر لیا تھا ایک طرف وہ حضرت موسیٰ کو نیک اور اللہ کا مقبول بندہ بھی سمجھتے تھے اور دوسری طرف جادوگر بھی۔

۴۹۔۔۔۔۔۔۔ یہ تھا فرعون کا دعوائے فرعونیت کہ جب میں مصر کا بادشاہ ہوں اور ایسی سلطنت کا مالک ہوں جس میں زمین کو زر خیز کرنے والی نہریں بہتی ہیں تو کون ہے جو مجھ سے بڑا ہو۔ حکومت کا یہ گھمنڈ ایسا تھا کہ وہ اپنے رب کو بھول گیا۔

۵۰۔۔۔۔۔۔۔ حضرت موسیٰ کو فرعون نے حقیر خیال کیا محض اس بنا پر کہ ان کے پاس نہ سلطنت تھی اور نہ دولت۔ قریش بھی اسی عینک سے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو دیکھ رہے تھے۔ اور جب ان کی عقل ہی ماری گئی تو ان کو کیا معلوم کی نبوت کا مقام کتنا بلند ہے۔

۵۱۔۔۔۔۔۔۔ یہ فرعون کا الزام تھا نہ کہ حقیقتِ واقعہ کیونکہ حضرت موسیٰ کی وہ دعا جو انہوں نے نبوت سے سرفراز کئے جانے پر اپنی زبان کی گرہ کھول دینے کے لیے کی تھی مقبول ہوئی تھی اور قرآن نے ان کی جو تقریریں نقل کی ہیں وہ اپنے مدعا میں بالکل واضح ہیں۔ معلوم ہوتا ہے فرعون نے پرانی بات کو جبکہ حضرت موسیٰ میں زبان آوری کی کمی تھی دہرا کر ان کے بارے میں غلط تاثر پیدا کرنے کی کوشش کی تھی۔

۵۲۔۔۔۔۔۔۔ اس زمانہ میں بادشاہ سونے کے کنگن پہنتے تھے اور ان کے جلو میں فوج رہتی تھی۔ اسی کے پیش نظر فرعون کا اعتراض یہ تھا کہ اگر واقعی موسیٰ کو کائنات کے رب نے رسول بنا کر بھیجا ہے تو ان کو شاہی شان و شوکت کیوں نہیں عطا کی گئی۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ان کے لیے آسمان سے سونے کے کنگن نازل کئے جاتے اور فرشتوں کے پرے ان کے جلو میں ہوتے۔ اس نے منصب نبوت کو بادشاہت کی سطح پر رکھا حالانکہ یہ منصب اس سے بدرجہا بلند ہے۔

۵۳۔۔۔۔۔۔۔ یعنی فرعون نے اپنی قوم کو بے وزن سمجھ کر خوب بیوقوف بنایا۔ ان کو ایسا مرعوب کیا کہ وہ اپنی عقل سے کام نہ لے سکے اور اس کی پُر فریب باتوں میں آ گئے۔ فرعون ان کو بے وقوف بنانے میں اس لیے کامیاب ہوا کہ تھے ہی وہ فاسق لوگ۔ اور فاسق لوگ فاسق قیادت ہی کو پسند کرتے ہیں۔

۵۴۔۔۔۔۔۔۔ تشریح کے لیے دیکھئے سورۂ طٰہٰ نوٹ ۹۳۔

۵۵۔۔۔۔۔۔۔ گزرے ہوئے (سلفا) یعنی ماضی کی داستان بنا کر رکھ دیا اور بعد والوں کے لیے نمونہ عبرت (مثلاً) بنا دیا کہ ہوش مند لوگ اس واقعہ سے سبق لیں۔

۵۶۔۔۔۔۔۔۔ ابن مریم سے مراد جیسا کہ ظاہر ہے عیسیٰ (علیہ السلام) ہیں۔ ان کو ماں کی طرف منسوب کرنا ان کے بغیر باپ کے پیدا ہونے پر دلالت کرتا ہے نیز اس بات پر بھی کہ وہ خدا کے بیٹے نہیں تھے بلکہ مریم کے بیٹے تھے۔

قرآن میں حضرت عیسیٰ کو اس حیثیت سے پیش کیا گیا ہے کہ وہ اللہ کے بندے اور رسول تھے چنانچہ سورۂ مریم میں جو اس سورہ سے پہلے نازل ہوئی تھی ان کی ولادت کے واقعہ کو تفصیل کے ساتھ پیش کیا گیا ہے تاکہ ان کے خدا کا بیٹا ہونے اور معبود ہونے کی بالکل نفی ہو جائے لیکن مشرکین مکہ حقیقت پر پردہ ڈالنے کی ناکام کوشش کرتے اور لوگوں کو یہ کہہ کر ورغلاتے کہ عیسائی تو انہیں اللہ کا بیٹا مانتے ہیں لہٰذا اگر ہم فرشتوں کے بارے میں یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ وہ اللہ کی بیٹیاں ہیں تو کیا غلط ہے ؟

۴۶۔۔۔۔۔۔۔ یعنی ہم نے تو فرشتوں کو معبود بنایا ہے جبکہ عیسائیوں نے عیسیٰ کو معبود بنایا جو بہر حال انسان تھے۔ لہٰذا ہمارے معبود عیسائیوں کے معبود سے اچھے ہوئے۔ یہ بات وہ محض کٹ حجتی کے لیے پیش کرتے تھے ورنہ ان پر یہ بات اچھی طرح واضح تھی کہ قرآن حضرت عیسیٰ کو نہ اللہ کا بیٹا قرار دیتا ہے اور نہ معبود۔ وہ صراحت کرتا ہے کہ حضرت عیسیٰ بھی اللہ کے بندے ہیں اور فرشتے بھی اس کے بندے۔

۵۸۔۔۔۔۔۔۔ یعنی عیسیٰ تھے تو اللہ کے بندے ہی مگر اللہ نے انہیں اپنے خصوصی فضل سے نوازا تھا اس لیے ان سے طرح طرح کے معجزے صادر ہوئے اور ان کا ظہور بنی اسرائیل میں ایک مثالی شخصیت کا ظہور تھا تاکہ ظاہری دینداری کے مقابلہ میں حقیقی دینداری کا اعلیٰ نمونہ ان کے سامنے آئے۔

۵۹۔۔۔۔۔۔۔ یعنی فرشتوں کو اس بنا پر معبود سمجھنا صحیح نہیں کہ وہ انسان سے الگ ایک نوع ہیں۔ وہ الگ نوع ہونے کے باوجود اللہ کے مخلوق ہیں اور اگر اللہ چاہے تو انسانوں میں سے بھی فرشتے پیدا کر سکتا ہے جو زمین میں خلافت کا کام انجام دیں۔ اللہ کی قدرت سے کوئی چیز بعید نہیں لہٰذا اس کی کسی مخلوق کو اس کی امتیازی خصوصیات کی بنا پر معبود بنا لینے کے لیے کوئی وجہ جواز Justification نہیں ہے۔

۶۰۔۔۔۔۔۔۔ حضرت عیسیٰ کی پیدائش غیر معمولی طریقہ پر یعنی بغیر باپ کے ہوئی تھی جو اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا معجزہ تھا نیز اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ کو عجیب و غریب معجزے عطا ء کئے تھے مثلاً مٹی کے پرندے بنا کر ان میں پھونکنا کہ وہ واقعی پرندہ بن جائے۔ پیدائشی کوڑھیوں اور اندھوں کو شفا یاب کرنا، مردوں کو زندہ کرنا وغیرہ۔ ان کی یہ معجزات سے بھری ہوئی زندگی اللہ کے کرشمہ قدرت کا ظہور تھا۔ اس سے اس بات کا یقین پیدا ہو جاتا ہے کہ قیامت کے آنے اور اس دن مردہ انسانو ں کو دوبارہ زندہ کئے جانے کی جو خبر اللہ تعالیٰ نے دی ہے وہ برحق ہے۔ اصل چیز اللہ کا حکم ہے نہ کہ طبقی قوانین۔ وہ جب چاہے طبعی قوانین کو بدل سکتا ہے اور عالم اسباب کو تہ و بالا کر سکتا ہے۔

یہ تو ہے اس آیت کا ابھرا ہوا مفہوم جو کافروں کے لیے حجت ہے لیکن اس کے مفہوم میں قیامت کے قریبی زمانہ میں حضرت عیسیٰ کا نازل ہونا بھی شامل ہے جس کی صراحت حدیث میں ہوئی ہے۔ ان کا دوبارہ دنیا میں آنا اور اسی جسم کے ساتھ آنا جس جسم کے ساتھ وہ ایک طویل عرصہ پہلے دنیا سے اٹھا لئے گئے تھے ، ان کا اس یلغار کا مقابلہ کرنا جو دشمنان اسلام کی طرف سے پورے عالم اسلام پر ہو رہی ہو گی، دجال کا جو اپنی غیر معمولی قوت کے ساتھ ظاہر ہو کر دنیا کو شر اور فتنہ میں جھونک رہا ہو گا۔ خاتمہ کر دینا، یہود کو صفحہ ہستی سے مٹا دینا اور عیسائیوں کا صلیب کو تور کر ان پر صحیح طور سے ایمان لانا اور ملت اسلامیہ کا ملت واحدہ اور دنیا کی سب سے بڑی طاقت بن کر ابھرنا اور اسلام کا دنیا پر چھا جانا دنیا کی تاریخ میں سب سے بڑا انقلاب ہو گا اور یہ انقلاب قیامت کا پیش خیمہ ہو گا کیونکہ حضرت عیسیٰ کا یہ معجزانہ کارنامہ اللہ کی طرف سے انسانیت کے لیے آخری حجت ہو گا۔ اس کے بعد بھی جو لوگ شر پر آمادہ ہوں گے وہ بدترین لوگ ہوں گے اور ان ہی پر قیامت قائم ہو گی۔

اس موقع پر سورۂ نسا کا نوٹ ۲۶۱ پیش نظر رہے۔

۶۱۔۔۔۔۔۔۔ یہ بات نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی زبانی کہلوائی گئی ہے کہ حضرت عیسیٰ کے بارے میں جو حقائق قرآن میں پیش کئے گئے ہیں ان میں شک و شبہ کی کوئی گنجائش نہیں لہٰذا ان پر یقین رکھو اور یکسوئی کے ساتھ میری پیروی کرو۔

۶۲۔۔۔۔۔۔۔ بنی اسرائیل نے دین کی روح کھو دی تھی اور صرف رسمی دینداری کو لے کر بیٹھ گئے تھے۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے ان پر دین کی حکمتیں واضح کیں یعنی دین کی روح Spirit کو نمایاں کیا تاکہ وہ سمجھ لیں کہ حقیقی دینداری کیا ہے۔ موجودہ انجیل میں بھی اس کی جھلک دیکھی جا سکتی ہے۔

۶۳۔۔۔۔۔۔۔ بنی اسرائیل میں اختلافات توبہ کثرت پیدا ہو گئے تھے لیکن ان میں س جو اختلافات بنیادی نوعیت کے تھے اور جن کی بنا پر وہ فرقوں میں بٹ گئے تھے ان کی حقیقت انہوں نے ان پر کھول دی۔ اور انبیاء علیہم السلام کا طریقہ یہی ہوتا ہے کہ وہ سِرے کو پکڑ لیتے ہیں جس کے بعد گتھیاں خود بخود سلجھنے لگتی ہیں۔

۶۴۔۔۔۔۔۔۔ تشریح کے لیے ملاحظہ ہو سورۂ آل عمران نوٹ ۷۶۔

۶۵۔۔۔۔۔۔۔ تشریح کے لیے ملاحظہ ہو سورۂ مریم نوٹ ۵۵۔

۶۶۔۔۔۔۔۔۔ یعنی شرک اور کفر کیا۔ حضرت عیسیٰ کے بارے میں عیسائیوں کا یہ عقیدہ کہ وہ اللہ کے بیٹے ہیں شرک بھی ہے کفر بھی اور بہت بڑی ظالمانہ حرکت بھی۔

۶۷۔۔۔۔۔۔۔ تشریح کے لیے دیکھئے سورۂ اعراف نوٹ ۲۸۷۔

۶۸۔۔۔۔۔۔۔ دنیا میں کافر گمراہوں کو اپنا دوست بنا لیتے ہیں۔ مگر قیامت کے دن وہ ایک دوسرے کے دشمن ہو جائیں گے کیونکہ وہ محسوس کریں گے کہ یہ دوستی ان کی گمراہی کا سبب بنی۔ البتہ متقیوں کی باہم دوستی قیامت کے دن بھی برقرار رہے گی کیونکہ وہ محسوس کریں گے کہ وہ ایک دوسرے کو حق کی تلقین کرتے رہے۔

قرآن کی یہ آیت متنبہ کرتی ہے کہ ہر شخص دیکھ لے کہ اس نے کس شخص کے ساتھ دوستی کر لی ہے اور وہ اس کو کدھر لے جا رہا ہے۔

۶۹۔۔۔۔۔۔۔ یہ آیت صراحت کرتی ہے کہ جنت کی بشارت ان لوگوں کے لیے ہے جو ایمان لاکر اللہ کے فرمانبردار (مسلم) بن کر رہے یعنی جن کی زندگیوں میں اسلام رچ بس گیا۔

۷۰۔۔۔۔۔۔۔ مراد مومن بیویاں ہیں۔ اہل ایمان کے لیے یہ بشارت بھی ہے کہ ان کے ساتھ ان کی مومن بیویاں بھی جنت میں داخل ہوں گی۔

۷۱۔۔۔۔۔۔۔ یعنی جنت کے ظروف بھی نہایت اعلیٰ قسم کے ہوں گے۔ اللہ کے خزانہ میں سونے کی کوئی کمی نہیں ہے اس لیے وہ جنتیوں کے لیے ظروف سونے کے بنا دے گا اور جب ساغر سونے کے ہوں گے تو

یار ب اس ساغرِ لبریز کی مَے کیا ہو گی!

۷۲۔۔۔۔۔۔۔ یعنی جنت کا جمال ایسا ہو گا کہ دل کے لیے سرور اور آنکھوں کے لیے لذت بخش۔ جنت کی ہر چیز آرٹ کا ایسا نمونہ پیش کرے گی جو ذوق نظر کے لیے نہایت خوب ہو گا۔

۷۳۔۔۔۔۔۔۔ اہل ایمان سے کہا جائے گا کہ تم اپنے اعمال کے صلہ میں جنت کے وارث (مالک) بنائے گئے ہو تاکہ انہیں اس بات سے مسرت ہو کہ ہماری کوششیں مقبول ہوئیں اور ہمیں اپنی محنت کا پھل ملا۔

۷۴۔۔۔۔۔۔۔ جنت کی خوشخبری دیتے ہوئے میووں کا خاص طور سے ذکر کیا گیا ہے کیونکہ میوے ایک لطیف اور لذیذ غذا ہے نیز فرحت بخش بھی۔

۷۵۔۔۔۔۔۔۔ مراد کافر و مشرک ہیں۔

۷۶۔۔۔۔۔۔۔ یعنی کافروں کے لیے اتنی سخت سزا اللہ کی طرف سے ظلم نہیں بلکہ اس کے عدل کا تقاضا ہو گا۔ قانونِ قدرت یہی ہے کہ جو آگ میں کود پڑتا ہے آگ اسے جلا دیتی ہے اور جو زہر کھاتا ہے اپنی زندگی کو ختم کر دیتا ہے۔

۷۷۔۔۔۔۔۔۔ یعنی ہمارا وجود ہی نہ رہے تو بہتر ہے۔

۷۸۔۔۔۔۔۔۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان دوزخیوں کو جواب ہو گا کہ ہم نے جب اپنے رسولوں کے ذریعہ حق تمہارے سامنے پیش کیا تھا تو تم کو اس کا سننا بھی گوارا نہ تھا۔ اب انکارِ حق کی سزا بھگتو۔

۷۹۔۔۔۔۔۔۔ یعنی ان لوگوں نے اگر انکارِ حق کا آخری طور سے فیصلہ کر لیا ہے تو ہم بھی انہیں سزا دینے کا قطعی فیصلہ کر لیں گے۔

۸۰۔۔۔۔۔۔۔ اشارہ ہے ان خفیہ سازشیوں کی طرف جو اسلام اور اس کے پیغمبر کے خلاف کی جا رہی تھیں۔

۸۱۔۔۔۔۔۔۔ یعنی اللہ تو خفیہ سے خفیہ بات کو جانتا اور سنتا ہی ہے ساتھ ہی اس نے ایسا انتظام کر رکھا ہے کہ فرشتے ان باتوں کا ریکارڈ تیار کریں تاکہ قیامت کے دن وہ شہادت کا کام دے سکے۔

۸۲۔۔۔۔۔۔۔ یعنی بالفرض خدا کی کوئی اولاد ہوتی تو میں کس طرح انکار کر سکتا تھا جب کہ میں اس کی عبادت میں پہل کرنے والا اور سب سے آگے رہنے والا ہوں۔ تمہیں سوچنا چاہیے کہ ایک ایسا شخص جو اللہ کی عبادت میں مخلص بھی ہے اور سب سے زیادہ سرگرم بھی وہ آخر اللہ کے لیے اولاد ہونے سے کیوں انکار کرتا ہے۔

فَاَنَااَوَّلُ الْعَابِدِیْنَ کا مطلب ہمارے نزدیک یہی ہے کہ ” تو میں سب سے پہلے اللہ کی عبادت کرنے والا ہوں ” میں اس سے انکار کیوں کرنے لگتا۔ آیت کی لغوی ترکیب کے لحاظ سے جملہ شرطیہ ہے اور جواب شرط میں یہ الفاظ کہ “میں اس کا انکار کیسے کرتا” محذوف ہیں مگر فحوائے کلام سے واضح ہیں۔ اس کی مثال سورۂ یونس کی یہ آیت ہے :

قُلْ یٰٓاَیہَاالنَّاسُ اِنْکُنْتُمْ فِیْ شَکٍّ مِنْ دِینِیْ فَلاَ اَعْبُدُ الَّذِینَ تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ وَلٰکِنْ اَعْبُدُ اللّٰہَالَّذِیْ یتَوَفٰکُمْ (یونس۔ ۱۰۴) ” کہو اے لوگو! اگر تم میرے دین کے بارے میں شک میں ہو تو (سن لو) میں ان کی پرستش نہیں کرتا جن کی تم اللہ کے سوا پرستش کرتے ہو بلکہ میں اللہ کی پرستش کرتا ہوں جو تم کو وفات دیتا ہے۔ ”

اس آیت میں بھی جواب شرط میں ” سن لو” یا اس طرح کے اور الفاظ محذوف ہیں جو قرینہ کی بنا پر واضح ہیں۔

خلاصہ یہ کہ آیت زیر بحث میں اللہ کے لیے اولاد ہونے کی جو بات فرضSupposeکر کے کہی گئی ہے وہ اس کی تردید کا ایک حکیمانہ اسلوب ہے۔ کسی بات کی تردید کی غرض سے یہ کہنا کہ بفرضِ محال یہ بات صحیح ہوتی اس کے ممکن ہونے کی دلیل نہیں ہے۔ اس کی مثال سورۂ انبیاء کی یہ آیت۔

لَوْکَانَ فِیہَما آلِہَۃٌ اِلاَّ اللّٰہُ لَفَسَدَتَا: (سورۂ انبیاء:۲۱) اگر ان میں اللہ کے سوا اور خدا بھی ہوتے تو یہ درہم برہم ہو کر رہ جاتے۔ ”

اس آیت میں بھی جو بات فرضSuppose کر کے کہی گئی ہے وہ مشرکین کے دعوے کی تردید کے لیے ہے اور اس سے ایک سے زائد خداؤں کے وجود کا کوئی امکان ثابت نہیں ہوتا۔

۸۳۔۔۔۔۔۔۔ یعنی اللہ ان تمام باتوں سے پاک ہے جو اس کے شایانِ شان نہیں ہیں اور اس کے لیے اولاد کا تصور ہرگز اس کے شایانِ شان نہیں۔

۸۴۔۔۔۔۔۔۔ یعنی یہ لوگ جب ان باتوں کو سمجھنے کے لیے تیار نہیں ہیں اور بحث میں الجھنا اور اللہ کی آیتوں سے کھیلنا ہی چاہتے ہیں تو ان کو ان کے حال پر چھوڑ دو۔ قیامت کے دن ان کو پتہ چلے گا کہ انہوں نے کتنا غلط موقف اختیار کیا تھا اور اس کے نتیجہ میں ان کو کیا کچھ بھگتنا پڑ رہا ہے۔

۸۵۔۔۔۔۔۔۔ یعنی شفاعت کا اختیار تو کسی کو نہیں البتہ اللہ جن کو اجازت دے گا وہ شفاعت کریں گے اور ان کی شفاعت اندھا دھند نہیں ہو گی بلکہ علم کی بنیاد پر ہو گی اور حق بات ہی وہ پیش کریں گے۔ جہاں تک مشرکین اور کافروں کا تعلق ہے ان کے لیے کوئی بھی سفارش نہیں کرے گا نہ فرشتے اور نہ انبیاء کیونکہ ان کے لیے شفاعت ممنوع ہو گی۔ رہے دوسرے گنہگار بندے تو ان میں سے بھی کسی کے بارے میں شفاعت کرنے سے پہلے وہ یہ معلوم کریں گے کہ وہ اللہ کے نزدیک شفاعت کا مستحق ہے یا نہیں۔ اگر وہ مستحق ہے تو سفارش کریں گے ورنہ نہیں۔ لہٰذا غلط کار لوگوں کا شفاعت پر تکیہ کرنا صحیح نہیں۔ اصل چیز عمل ہے جس کا بدلہ ہر شخص کو ملنا ہے لہٰذا اپنے عمل کو درست کرنے کی فکر کرنا چاہیے۔

مزید تشریح کے لیے دیکھئے سورۂ مریم نوٹ ۱۱۱۔

۸۶۔۔۔۔۔۔۔ یعنی یہ لوگ شیطان کے ورغلانے میں کس طرح آتے ہیں کہ فرشتے اللہ کے حضور شفاعت کے لیے وسیلہ ہیں لہٰذا ان کی عبادت کرو۔ وہ تمہاری عبادت سے خوش ہو کر اللہ کے حضور تمہارے لیے سفارش کریں گے اور تمہیں ہر طرح کے عذاب اور مصیبت سے نجات دلا کر رہیں گے۔ شفاعت کا یہ تصور ہی ہے جس نے فرشتوں کے معبود ہونے کا اعتقاد پیدا کر دیا ہے ورنہ حقیقت بالکل واضح ہیں کہ خالق اللہ ہی ہے اور جب خالق اللہ ہی ہے تو معبود بھی وہی ہے فرشتے جب خالق نہیں ہیں تو معبود کیسے ہوئے ؟

۸۷۔۔۔۔۔۔۔ یہ ہٹ دھرم لوگوں کے بارے میں نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی اپنے رب سے فریاد ہے کہ یہ لوگ گمراہی میں اتنے دور نکل گئے ہیں کہ قرآن کی واضح حجتیں بھی ان پر اثر انداز نہیں ہو رہی ہیں اور انہیں اس بات پر اصرار یہ کہ ایمان نہیں لائیں گے۔

فحوائے کلام سے واضح ہے کہ اللہ نے اپنے رسول کی یہ فریاد سن لی اور اب ان کے ساتھ وہ معاملہ کیا جائے جس کی ہدایت آگے دی جا رہی ہے۔

نحوی لحاظ سے ہمارے نزدیک آیت میں واو کے بعد (لَقَدْ سَمِعْنَا (ہم نے سن لی) محذوف ہے اور قِیْلِہٖ میں لام کا زیر زبر کی جگہ ہے اور اس قسم کا تغیر بعض مواقع پر کلام میں روانی اور آہنگ پیدا کرنے کے لیے کیا جاتا ہے جس کی مثال سورۂ فتح آیت ۱۰ میں عَلَیہٗ اللّٰہَ میں ضمیرہٗ کا پیش ہے۔)

۸۸۔۔۔۔۔۔۔ یہ سلام تحیہ کے طور پر نہیں ہے جو مسلمانوں کے باہمی ملاقات کے لیے شعار کی حیثیت رکھتا ہے بلکہ کٹ حجتی کرنے والوں سے ان پر حجت قائم کرنے کے بعد خوبصورتی کے ساتھ ان سے رخصت ہونے کا سلام ہے۔

آیت کا مطلب یہ ہے کہ اے نبی تمہاری فریاد ہم نے سن لی۔ یہ نہیں مانتے تو ان کو ان کے حال پر چھوڑ دو۔ ان سے درگزر کرو اور سلام کہہ کر خوبصورتی کے ساتھ ان سے رخصت ہو جاؤ۔

۸۹۔۔۔۔۔۔۔ یعنی عنقریب وہ اپنا انجام دیکھ لیں گے۔

٭٭٭

 

 

 

 

(۴۴) سورۃ الدُّخَانْ

 

(۵۹  آیات)

 

بسم اللہ الرحمٰن الر حیم

اللہ رحمٰن و رحیم کے نام سے

 

                   تعارف

 

نام

 

آیت ۱۰ میں آسمان سے دخان (دھوئیں) کے نکلنے کا ذکر ہوا ہے۔ اس مناسبت سے اس سورۃ کا نام “الدخان” ہے۔

 

زمانۂ نزول

 

مکی ہے اور مضامین سے اندازہ ہوتا ہے کہ سورۂ زخرف کے بعد نازل ہوئی ہو گی۔

 

مرکزی مضمون

 

قرآن کی قدر نہ کرنے والوں اور پیغمبر قرآن کا انکار کرنے والوں کو اس بات سے آگاہ کرنا ہے کہ ان کے لیے درد ناک عذاب ہے۔

 

نظمِ کلام

آیت ۱ تا ۶ میں قرآن کی قدر و منزلت بیان کی گئی ہے۔

آیت ۷ اور ۸ میں قرآن نازل کرنے والے کی معرفت بخشی گئی ہے۔

آیت ۹ تا ۳۳ میں قوم فرعون کی تباہی اور بنی اسرائیل کی سرفرازی کو ایک تاریخی مثال کی حیثیت سے پیش کیا گیا ہے کہ رسول کی مخالفت کرنے والے کس انجام کو پہنچے اور اس کی پیروی کرنے والے کس طرح سرخرو ہوئے۔

آیت ۳۴ تا ۵۷ میں دوسری زندگی کا انکار کرنے والوں اور اس پر یقین رکھ کر تقویٰ کی زندگی گزارنے والوں کا الگ الگ انجام بیان کیا گیا ہے جو قیامت کے دن ان کے سامنے آئے گا۔

آیت ۵۸ اور ۵۹ سورہ کے خاتمہ کی آیتیں ہیں جن میں قرآن کی قدر نہ کرنے والوں کو متنبہ کیا گیا ہے۔ یعنی جس مضمون سے سورہ کا آغاز ہوا تھا اسی پر اس کو ختم کر دیا گیا ہے۔

 

                   ترجمہ

 

بسم اللہ الرحمٰن الر حیم

اللہ رحمٰن و رحیم کے نام سے

 

۱۔۔۔۔۔۔۔۔ حا۔ میم ۱*

۲۔۔۔۔۔۔۔۔ قسم ہے روشن کتاب کی ۲*

۳۔۔۔۔۔۔۔۔ ہم نے اسے ایک مبارک شب میں نازل کیا۔ ۳* یقیناً ہم لوگوں کو خبردار کرنے والے تھے۔ ۴*

۴۔۔۔۔۔۔۔۔ اس شب میں ہر قسم کے حکیمانہ امور طے کئے جا رہے تھے۔ ۵*

۵۔۔۔۔۔۔۔۔ ہماری طرف سے ایک فرمان کی حیثیت سے۔ ۶* یقیناً ہم رسول بھیجنے والے تھے۔ ۷*

۶۔۔۔۔۔۔۔۔ تمہارے رب کی رحمت کے طور پر۔ ۸* بلا شبہ وہ سننے والا جاننے والا ہے۔ ۹*

۷۔۔۔۔۔۔۔۔ آسمانوں اور زمین کا نیز ان کے درمیان کی تمام موجودات کا رب۔ اگر تم کو یقین کرنا ہے۔ ۱۰*

۸۔۔۔۔۔۔۔۔ اس کے سوا کوئی الٰہ (معبود) نہیں۔ وہی زندہ کرتا اور موت دیتا ہے۔ تمہارا رب اور تمہارے گزرے ہوئے آبا ء و اجداد کا رب۔

۹۔۔۔۔۔۔۔۔ مگر یہ شک میں پڑے ہوئے کھیل رہے ہیں۔ ۱۱*

۱۰ ۔۔۔۔۔۔۔۔ تو انتظار کرو اس دن کا جب آسمان سے کھلا ہوا دھواں نمودار ہو گا۔ ۱۲*

۱۱ ۔۔۔۔۔۔۔۔ جو لوگوں پر چھا جائے گا۔ یہ ہے درد ناک عذاب۔

۱۲ ۔۔۔۔۔۔۔۔ اے ہمارے رب! ہم سے عذاب دور کر دے ہم ایمان لاتے ہیں۔

۱۳ ۔۔۔۔۔۔۔۔ اب ان کے لیے نصیحت حاصل کرنے کا کیا موقع رہا جب کہ ان کے پاس رسول آشکارا طور پر ا گیا تھا۔ ۱۳*

۱۴ ۔۔۔۔۔۔۔۔ لیکن انہوں نے اس سے رو گردانی کی تھی اور کہا تھا یہ تو ایک سکھایا پڑھایا خطبی ہے۔ ۱۴*

۱۵ ۔۔۔۔۔۔۔۔ ہم کچھ دیر کے لیے عذاب کو دور کر بھی دیں تو تم وہی کرو گے جو پہلے کر رہے تھے۔ ۱۵*

۱۶ ۔۔۔۔۔۔۔۔ جس دن ہم بڑی پکڑ میں لیں گے ۱۶* اس دن ہم سزا دے کر رہیں گے۔

۱۷ ۔۔۔۔۔۔۔۔ ہم نے ۱۷* اس سے پہلے قوم فرعون کو آزمائش میں ڈالا تھا۔ ۱۸* ان کے پاس ایک معزز رسول آیا۔

۱۸ ۔۔۔۔۔۔۔۔ کہ اللہ کے بندوں کو میرے حوالہ کرو۔ ۱۹* میں تمہارے لیے ایک امانتدار رسول ہوں۔ ۲۰*

۱۹ ۔۔۔۔۔۔۔۔ اور اللہ کے مقابلہ میں سرکشی نہ کرو۔ میں تمہارے سامنے کھلی حجت پیش کرتا ہوں۔ ۲۱*

۲۰ ۔۔۔۔۔۔۔۔ اور میں نے اپنے اور تمہارے رب کی پناہ مانگی اس سے کہ تم مجھے سنگسار کرو۔ ۲۲*

۲۱ ۔۔۔۔۔۔۔۔ اگر تم میری بات نہیں مانتے تو مجھے چھوڑ دو۔ ۲۳*

۲۲ ۔۔۔۔۔۔۔۔ بالآخر اس نے اپنے رب سے دعا کی کہ یہ لوگ مجرم ہیں۔ ۲۴*

۲۳ ۔۔۔۔۔۔۔۔ (حکم ہوا۔۔۔۔۔۔۔۔ میرے بندوں کو لے کر راتوں رات نکل جاؤ۔ ۲۵* تم لوگوں کا پیچھا کیا جائے گا۔ ۲۶*

۲۴ ۔۔۔۔۔۔۔۔ اور سمندر کو ساکن چھوڑ دو۔ یہ لوگ ڈوب جانے والا لشکر ہیں۔ ۲۷*

۲۵ ۔۔۔۔۔۔۔۔ انہوں نے کتنے ہی باغ اور چشمے چھوڑے۔

۲۶ ۔۔۔۔۔۔۔۔ اور کھیت اور عمدہ ٹھکانے۔

۲۷ ۔۔۔۔۔۔۔۔ اور سامانِ عیش جس میں وہ مزے کر رہے تھے۔ ۲۸*

۲۸ ۔۔۔۔۔۔۔۔ اس طرح ہم نے ان کے ساتھ معاملہ کیا اور ان چیزوں کا وارث ہم نے دوسروں کو بنایا۔ ۲۹*

۲۹ ۔۔۔۔۔۔۔۔ تو نہ آسمان ان پر رویا اور نہ زمین ۳۰* اور نہ ان کو کوئی مہلت دی گئی۔

۳۰ ۔۔۔۔۔۔۔۔ اور ہم نے بنی اسرائیل کو رسوا کن عذاب سے نجات دی۔

۳۱ ۔۔۔۔۔۔۔۔ فرعون سے ۳۱* جو حد سے گزر جانے والے لوگوں میں سے تھا ۳۲* اور بڑا ہی سرکش تھا۔ ۳۳*

۳۲ ۔۔۔۔۔۔۔۔ اور ہم نے ان کو (یعنی بنی اسرائیل کو) جانتے ہوئے دنیا والوں پر ترجیح دی۔ ۳۴*

۳۳ ۔۔۔۔۔۔۔۔ اور انہیں ایسی نشانیاں عطا کیں جن میں کھلی آزمائش تھی۔ ۳۵*

۳۴ ۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ لوگ ۳۶* بڑے وثوق سے کہتے ہیں۔

۳۵ ۔۔۔۔۔۔۔۔ کہ بس یہ ہماری پہلی موت ہے ۳۷* اور اس کے بعد ہم اٹھائے جانے والے نہیں ہیں۔

۳۶ ۔۔۔۔۔۔۔۔ اگر تم سچے ہو تو لے آؤ ہمارے باپ دادا کو۔ ۳۸*

۳۷ ۔۔۔۔۔۔۔۔ (قوت و شوکت میں) یہ لوگ بہتر ہیں یا قوم تبع ۳۹* اور وہ قومیں جو ان سے پہلے گزریں۔ ۴۰* ہم نے ان کو ہلاک کر دیا۔ وہ بڑے مجرم تھے۔

۳۸ ۔۔۔۔۔۔۔۔ ہم نے آسمان و زمین اور ان کے درمیان کی چیزوں کو کھیل کے طور پر نہیں بنایا ہے۔ ۴۱*

۳۹ ۔۔۔۔۔۔۔۔ ہم نے ان کو (مقصدِ)حق کے ساتھ پیدا کیا ہے مگر اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں۔ ۴۲*

۴۰ ۔۔۔۔۔۔۔۔ فیصلہ کا دن ۴۳* ان سب کے لیے وقتِ مقرر ہے۔

۴۱ ۔۔۔۔۔۔۔۔ جس دن کوئی قریبی عزیز کسی قریبی عزیز کے کام نہ آئے گا اور نہ ان کی کوئی مدد کی جائے گی۔

۴۲ ۔۔۔۔۔۔۔۔ سوائے اس کے کہ اللہ ہی کسی پر رحم کرے۔ ۴۴* یقیناً وہ بڑا زبردست رحم فرمانے والا۔ ۴۵*

۴۳ ۔۔۔۔۔۔۔۔ بلا شبہ زقوم ۴۶* کا درخت۔

۴۴ ۔۔۔۔۔۔۔۔ گنہگاروں ۴۷* کا کھانا ہو گا۔

۴۵ ۔۔۔۔۔۔۔۔ گویا پگھلی ہوئی دھات۔ وہ پیٹ میں گھولے گا۔ ۴۸*

۴۶ ۔۔۔۔۔۔۔۔ جیسے گرم پانی کھولتا ہے۔ ۴۹*

۴۷ ۔۔۔۔۔۔۔۔ پکڑو اس کو ۵۰* اور گھسیٹتے ہوئے جہنم کے بیچوں بیچ لے جاؤ۔

۴۸ ۔۔۔۔۔۔۔۔ پھر اس کے سر پر کھولتے پانی کا عذاب انڈیل دو۔

۴۹ ۔۔۔۔۔۔۔۔ چکھ اس کا مزہ۔ تو بڑا زبردست اور عزت والا آدمی ہے۔ ۵۱*

۵۰ ۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ وہی چیز ہے جس کے بارے میں تم شک میں پڑے ہوئے تھے۔ ۵۲*

۵۱ ۔۔۔۔۔۔۔۔ البتہ اللہ سے ڈرنے والے ۵۳* پر امن مقام میں ہوں گے۔ ۵۴*

۵۲ ۔۔۔۔۔۔۔۔ باغوں اور چشموں میں۔

۵۳ ۔۔۔۔۔۔۔۔ باریک اور دبیز ریشم کے لباس پہنے آمنے سامنے بیٹھے ہوں گے۔

۵۴ ۔۔۔۔۔۔۔۔ اس طرح وہ سرفراز کئے جائیں گے۔ اور حسین چشم حوروں سے ہم ان کا بیاہ کر دیں گے۔ ۵۵*

۵۵ ۔۔۔۔۔۔۔۔ وہاں وہ اطمینان سے ہر قسم کے میوے طلب کریں گے۔

۵۶ ۔۔۔۔۔۔۔۔ پہلی موت کے بعد وہ کسی موت کا مزہ نہیں چکھیں گے۔ ۵۶*

۵۷ ۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ تمہارے رب کے فضل سے ہو گا۔ ۵۷* یہی ہے بڑی کامیابی۔ ۵۸*

۵۸ ۔۔۔۔۔۔۔۔ ہم نے (اے پیغمبر!) تمہاری زبان میں اسے آسان بنا دیا ہے تاکہ لوگ نصیحت حاصل کریں۔ ۵۹*

۵۹ ۔۔۔۔۔۔۔۔ اب تم بھی انتظار کرو۔ وہ بھی انتظار کرتے ہیں۔ ۶۰*

 

                   تفسیر

 

۱ ۔۔۔۔۔۔۔۔ ان حروف کی تشریح سورۂ مومن نوٹ ۱ میں گزر چکی۔

اس سورہ کی آیت ۴ میں الہ کے حکیمانہ فیصلوں کا ذکر ہوا ہے اور ان حروف کا اشارہ اسی مضمون (امر حکیم) کی طرف ہے۔ اور اللہ کے حکیمانہ فیصلے اس کے “حکیم” (حکمت والا) ہونے پر دلالت کرتے ہیں۔

۲ ۔۔۔۔۔۔۔۔ اس کی تشریح سورۂ زخرف نوٹ ۲ میں گزر چکی۔

۳ ۔۔۔۔۔۔۔۔ یعنی ہدایت کی روشنی رات کی تاریکی میں نمودار ہوئی۔ گویا وہ جہالت کی تاریکیوں کو چیرتے ہوئے نمودار ہوئی تھی اور وہ گھڑی بڑی خیر و برکت اور سعادت کی گھڑی تھی جب نزولِ قرآن کا آغاز ہوا کیونکہ نزولِ قرآن سے خیر کے چشمے پھوٹ پڑے اور روحانی برکتوں سے فضا معمور ہوئی۔ یہ شب اپنے اسی وصف کی بنا پر کہ اس میں نزولِ قرآن کا آغاز ہوا مبارک شب اور قدر و منزلت والی شب (لیلۃ القدر) قرار پائی۔ عام طور سے مفسرین نے اس کا یہ مطلب لیا ہے کہ یہ مبارک شب اور لیلۃ القدر پہلے سے ایک ممتاز اور فضیلت والی شب تھی جس کو نزول قرآن کے لیے منتخب کیا گیا مگر اس کی تائید میں نہ قرآن کی کوئی دلیل ہے اور نہ کوئی صحیح حدیث۔ حضرت موسیٰ کو نبوت سے سرفراز کرتے وقت جس جگہ سے اللہ تعالیٰ نے پکارا تھا اسے البقعۃ المبارکۃ (مبارک خطہ۔ سورہ قصص۔ ۳۰) کہا گیا ہے۔ ظاہر ہے اس کا یہ مطلب نہیں کہ یہ خطہ پہلے سے مبارک چلا ا رہا تھا بلکہ مطلب یہ ہے کہ اس خطہ کو ندائے الٰہی کے لیے منتخب کئے جانے کا شرف حاصل ہو رہا ہے اس لیے یہ خطہ مبارک قرار پایا۔ اسی طرح قرآن کو مبارک شب میں نازل کرنے کا مطلب بھی یہ ہے کہ یہ شب نزولِ قرآن کی برکتوں کی وجہ سے مبارک قرار پائی ہے۔ (دیکھئے سورۂ قدر نوٹ ۲)

یہ وہی شب ہے جسے سورۂ قدر میں لیلۃ القدر سے تعبیر کیا گیا ہے اور قرآن کے نزول کا آغاز رمضان میں ہوا تھا۔

شَہْرُ رَمَضَانَ الَّذِیْ اُنْزِلَ فِیہِ الْقُرْآنَ (بقرہ:۱۸۵) ” رمضان کا مہینہ جس میں قرآن نازل کیا گیا ”

اس لیے یہ مبارک شب رمضان کی ایک شب تھی اور حدیث کی صراحت کے مطابق یہ رمضان کی طاق راتوں میں سے ایک رات ہے۔ بعض مفسرین نے ” مبارک رات” سے مراد شعبان کی پندرہویں شب لی ہے جسے “شب برأت” کہا جاتا ہے مگر یہ تاویل قرآن کی تصریحات کے بالکل خلاف ہے اس لیے یہ قول قابل رد ہے۔ علامہ ابن کثیر اس کی تردید کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

“جنہوں نے کہا کہ یہ نصف شعبان کی شب ہے جیسا کہ عکرمہ سے مروی ہے تو انہوں نے بہت دور کی بات کہی کیونکہ قرآن صراحت کرتا ہے کہ وہ رمضان کی رات ہے۔ رہی وہ حدیث جو عبداللہ بن صالح نے لیث، عقیل اور زہری کے واسطہ سے عثمان بن محمد بن نصیر الاحنس سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: اجل پوری ہو جانے (یعنی موت) کا فیصلہ شعبان سے شعبان تک کے لیے کیا جاتا ہے یہاں تک کہ ایک شخص نکاح کر لیتا ہے اور اسے اولاد ہونے والی ہوتی ہے مگر اس کا نام مردوں میں شامل ہو چکا ہوتا ہے۔ تو یہ حدیث مرسل ہے (یعنی تابعی نے صحابی کے واسطہ کے بغیر نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی طرف منسوب کی ہے (اور اس قسم کی روایتیں نصوص (قرآن کی تصریحات) کے مقابلہ میں پیش نہیں کی جا سکتیں” (تفسیر ابن کثیر ج ۴ ص ۱۳۷)۔

اصل میں شب برأت (شعبان کی پندرہویں شب) کی فضیلت نہ قرآن سے ثابت ہے اور نہ حدیث سے جو روایتیں اس کی فضیلت میں پیش کی جاتی ہیں وہ یا تو ضعیف ہیں یا موضوع۔ ایسی روایتوں سے دین میں حجت قائم نہیں ہوتی۔ اگر شب برأت کی کوئی اصل ہوتی تو یہ بات صحابہ کرام میں مشہور ہوتی اور اس کو بیان کرنے والوں کی تعداد زیادہ ہوتی مگر عجیب بات یہ ہے کہ اتنی اہم بات کو نقل کرنے والے یا تو ضعیف راوی ہیں یا وہ جنہوں نے فضائل کے سلسلہ میں حدیثیں گڑھنے کا کارخانہ کھول رکھا تھا۔

۴ ۔۔۔۔۔۔۔۔ یعنی غفلت میں پڑی ہوئی اور اپنے انجام سے بے خبر انسانیت کو چونکا دینا اور خبردار کرنا وہ اہم ترین مقصد ہے جس کے لیے قرآن کا نزول ہوا۔

۵ ۔۔۔۔۔۔۔۔ یعنی اس شب میں نہایت اہم اور حکیمانہ فیصلے کئے گئے مثلاً حضرت محمد صلی اللہ علیہ و سلم کو نبوت سے سرفراز کرنے کا فیصلہ، ایک معجزانہ کتاب عطا کرنے کا فیصلہ، اس کتاب کی حفاظت کا فیصلہ، دین کی تکمیل اور اس کو غالب کرنے کا فیصلہ ، امت مسلمہ کو برپا کرنے ، اس کو امامت کے منصب پر مامور کرنے اور خانۂ کعبہ کو اس کی تولیت میں دینے کا فیصلہ، اس کے ذریعہ دنیا میں عالمگیر دینی انقلاب برپا کرنے کا فیصلہ اور جنت کے لیے ان لوگوں کے انتخاب کا فیصلہ جو چمن انسانیت کے گلِ سر سبد ہوں۔ یہ اور اس طرح کے فیصلے اللہ کی حکیمانہ شان کے مظہر تھے۔

۶ ۔۔۔۔۔۔۔۔ یعنی قرآن کا نزول فرمانروائے کائنات کی طرف سے ایک واجب الاطاعت فرمان (Decree) کی حیثیت سے ہوا ہے جس سے انکار کی صورت میں سزا لازمی ہے۔ کوئی شخص اس غلط فہمی میں نہ رہے کہ اس کتاب کو ماننا اور نہ ماننا یکساں ہے۔

۷ ۔۔۔۔۔۔۔۔ یعنی ہمارا یہ فیصلہ تھا کہ ایک رسول بھیجنا ہے اس لیے ہم نے رسالت کے لیے محمد (صلی اللہ علیہ و سلم) کا انتخاب کر کے ان پر وحی نازل کی۔

۸ ۔۔۔۔۔۔۔۔ یعنی یہ کتاب تمہارے رب کی طرف سے رحمت بن کر نازل ہوئی ہے۔ اسے اپنے لیے مصیبت نہ سمجھو۔ اگر قبول کرو گے تو تم پر اس کی رحمتوں کی بارش ہو گی۔

۹ ۔۔۔۔۔۔۔۔ اللہ کی ان دو صفتوں کا یہاں ذکر اس بات سے آگاہ کرنے کے لیے ہے کہ اس مہتمم بالشان کتاب کے بارے میں کون کیا کہتا ہے اس کو وہ سن لے گا اور اس کے ساتھ کون کیا سلوک کرتا ہے اس کو دیکھ لے گا۔

۱۰ ۔۔۔۔۔۔۔۔ یعنی اللہ کا کائنات کا رب ہونا ایک حقیقت ہے مگر تمہیں اس کا یقین نہیں۔ اگر تمہیں اس کا یقین ہوتا تو غیر اللہ کو معبود نہ بناتے۔

۱۱ ۔۔۔۔۔۔۔۔ یعنی خدا کے بارے میں وہ طرح طرح کے شکوک میں مبتلا ہیں اور جو حقیقتیں پیش کی جا رہی ہیں ان پر وہ سنجیدگی سے غور کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں بلکہ ان کے ساتھ کھیل رہے ہیں۔

۱۲ ۔۔۔۔۔۔۔۔ مراد قیامت کا دھواں ہے جو کافروں پر چھا جائے گا جیسا کہ بعد کی آیتوں سے واضح ہے۔ مگر بخاری میں حضرت عبداللہ بن مسعود سے مروی ہے کہ اس سے مراد وہ دھواں ہے جو مکہ میں لوگوں کو قحط کی سخت تکلیف میں مبتلا ہونے کی وجہ سے آسمان پر دکھائی دے رہا تھا۔ عام طور سے مفسرین اس آیت کی تفسیر میں یہی قول پیش کرتے ہیں مگر علامہ ابن کثیر نے اس سے اختلاف کرتے ہوئے لکھا ہے کہ قرآن نے جو “دخان مبین” کہا ہے تو اس کے معنی کھلے ہوئے اور واضح دھوئیں کے ہیں جس کو ہر شخص دیکھ سکے گا۔ مگر عبداللہ بن مسعود کی تفسیر کی رو سے دھواں محض خیالی تھا جو بھوک کی شدت سے لوگوں کو دکھائی دے رہا تھا اور اگر واقعی یہ محض خیالی دھواں ہوتا تو قرآن یہ نہ کہتا کہ ” وہ لوگوں پر چھا جائے گا۔ ” (ملاحظہ ہو تفسیر ابن کثیر ج ۴ص۱۳۹)

ہم سمجھتے ہیں کسی روایت کے پیش نظر قرآن کی کسی آیت کی ایسی تاویل کرنا جو اس کے ظاہری پہلو اور اس کے مضمون سے مطابقت نہ رکھی ہو صحیح نہیں۔ البتہ روایت کی یہ توجیہ کی جا سکتی ہے کہ روایت نقل کرنے میں راویوں سے سہو ہوا ہے۔ اور جہاں تک قیامت کے دن کافروں پر دھواں چھوڑے جانے کا تعلق ہے سورۂ رحمن میں بھی اس کا ذکر ہوا ہے۔

یُرْسَلُ عَلَیْکُمَا شُوَاظٌ مِّنْ نَار وَنُخَاسٌ فَلَاتَنتَصِرَانِ: (رحمن:۳۵) ” تم پر آگ کے شعلے اور دھواں چھوڑا جائے گا تو تم اپنی مدافعت نہ کر سکو گے۔ ”

رہی وہ حدیث جس میں قرب قیامت میں دخان (دھوئیں) کے ظاہر ہونے کی پیشین گوئی کی گئی ہے (مسلم کتا ب الفتن) تو وہ دوسرا دھواں ہے جو قیامت کی علامتوں میں سے ہے اور حدیث میں اس دھوئیں کو اس آیت کی تفسیر نہیں قرار دیا گیا ہے۔

۱۳ ۔۔۔۔۔۔۔۔ نصیحت حاصل کرنے کا موقع ظاہر ہے قیامت کے دن ہی باقی نہیں رہے گا اور یہ دلیل ہے اس بات کی کہ قرآن جس دھوئیں کے عذاب کا ذکر کر رہا ہے وہ قیامت کے دن کا دھواں ہے۔

۱۴ ۔۔۔۔۔۔۔۔ کافروں کا یہ الزام بالکل بے بنیاد تھا۔ اگر پیغمبر کے بارے میں واقعی وہ یہ سمجھ رہے تھے کہ کوئی شخص انہیں سکھا پڑھا رہا ہے تو انہوں نے اس شخص کی نشاندہی کیوں نہیں کی؟ اور وہ شخص آخر کیسا تھا جو اخیر وقت تک چھپا رہا اور یہ ظاہر نہیں کیا کہ اس عظیم کتاب کا مصنف میں ہو؟ رہا خبطی ہونے کا الزام تو قرآن کا مطالعہ کرنے والا ہر شخص سمجھ سکتا ہے کہ اس میں کتنی صداقت ہے۔ یہ کیسی دیوانہ کی بڑ ہے یا حکیمانہ کلام ؟

۱۵ ۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ ویسی ہی بات ہے جیسی سورۂ انعام آیت ۲۸ میں ارشاد ہوئی ہے۔ وَلَوْرُدُّوْلَعَادُوْلِمَانُہُوْا عَنْہُ وَاِنَّہُمْ لَکَاذِبُوْنَ۔ “اگر انہیں (دنیا کی طرف) واپس بھیج دیا جائے تو وہ پھر وہی کریں گے جس سے ان کو منع کیا گیا تھا وہ یقیناً جھوٹے ہیں۔ ”

۱۶ ۔۔۔۔۔۔۔۔ مراد قیامت کے دن کی پکڑ ہے اور اس کی تائید ابن عباس رضی اللہ عنہ کے اس قول سے ہوتی ہے جو طبری نے ان سے نقل کی ہے:

” عکرمہ سے روایت ہے کہ ابن عباسؓ نے فرمایا ابن مسعود کہتے ہیں البطثۃ الکبریٰ سے مراد یوم بدر ہے لیکن میں کہتا ہوں کہ مراد قیامت کا دن ہے۔ ” (تفسیر طبری ج ۲۵ ص ۷۰)

۱۷ ۔۔۔۔۔۔۔۔ قوم فرعون کا قصہ اس سے پہلے متعدد مقامات پر گزر چکا یہاں اس کے چند پہلو حالات کی مناسبت سے پیش کئے گئے ہیں۔

۱۸ ۔۔۔۔۔۔۔۔ آزمائش اس بات کی کہ اقتدار پا کر تم کمزوروں کے ساتھ کیا سلوک کرتے ہو نیز اس بات کی کہ اللہ کی طرف سے رسول آ جانے اور معجزات کو دیکھ لینے کے بعد تم اس کے ساتھ کیا رویہ اختیار کرتے ہو۔

۱۹ ۔۔۔۔۔۔۔۔ یعنی بنی اسرائیل کو میرے ساتھ بھیج دو کہ مصر سے چلے جائیں۔ وہ اللہ کے بندے ہیں نہ کہ فرعون کے بندے اور اللہ نے حکم دیا ہے کہ ان کو تم میرے حوالہ کر دو تاکہ انہیں اللہ کے احکام کی تعمیل کے لیے آزادانہ ماحول میسر آئے۔

۲۰ ۔۔۔۔۔۔۔۔ امانت دار رسول ہو ں یعنی اللہ کا پیغام اور اس کے احکام ٹھیک ٹھیک تمہیں پہنچا رہا ہوں میرے بارے میں اس بات کا اندیشہ نہیں ہو سکتا کہ میں کوئی بات اپنی طرف سے اللہ کی طرف منسوب کر کے بیان کروں گا۔

۲۱ ۔۔۔۔۔۔۔۔ یعنی اپنے رسول ہونے کی حجت۔ مراد معجزہ ہے۔

۲۲ ۔۔۔۔۔۔۔۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ قومِ فرعون نے حضرت موسیٰ کو سنگسار کرنے کا ارادہ کیا تھا اور اس سے یہ بھی اندازہ ہوتا ہے کہ حضرت موسیٰ نے کس عزم اور حوصلہ کا ثبوت دیا تھا۔

اس آیت میں یہ رہنمائی بھی ہے کہ ایک مومن کو جب دشمن کی طرف سے شدید خطرہ لاحق ہو تو وہ اس شر سے اللہ کی پناہ مانگے۔

۲۳ ۔۔۔۔۔۔۔۔ یعنی اگر میری بات تم نہیں ماننا چاہتے تو نہ مانو لیکن میری راہ نہ روکو بلکہ مجھے اپنے حال پر چھوڑ دو۔ مگر اتنی معقول بات بھی فرعون اور اس کی قوم کے لیے قابل قبول نہیں ہوئی اور وہ حضرت موسیٰ کے خلاف کارروائی کرتے رہے۔

۲۴ ۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ دعا حضرت موسیٰ نے اس وقت کی جب کہ وہ اصلاح کی مسلسل کوششوں کے بعد ان لوگوں کی طرف سے مایوس ہو گئے تھے اور انہیں یقین ہو گیا تھا کہ یہ لوگ اب ایمان لانے والے نہیں۔

۲۵ ۔۔۔۔۔۔۔۔ اشارہ ہے اس بات کی طرف کہ قوم فرعون کی تباہی کا فیصلہ ہو چکا ہے لہٰذا تم میرے بندوں یعنی بنی اسرائیل کو لے کر راتوں رات مصر سے نکل جاؤ۔

۲۶ ۔۔۔۔۔۔۔۔ تشریح کے لیے ملاحظہ ہو سورۂ شعراء نوٹ ۴۹۔

۲۷ ۔۔۔۔۔۔۔۔ حضرت موسیٰ کے سمندر پر لاٹھی مارنے سے وہ پھٹ گیا تھا اور بنی اسرائیل کے لیے معجزانہ طور پر راستہ بن گیا تھا تاکہ وہ سمندر کو عبور کر سکیں۔ اس موقع پر حضرت موسیٰ کو ہدایت ہوئی کہ وہ جب بنی اسرائیل کے ساتھ سمندر عبور کر چکیں تو اس کو اسی حال میں رہنے دیں اور دوبارہ لاٹھی مارکر اس کو ملانے کا ارادہ نہ کریں کیونکہ اللہ کا منصوبہ یہ ہے کہ فرعون راہ کھلی دیکھ کر اپنے لشکر کے ساتھ اس میں داخل ہو اور جب بیچ سمندر کے پہنچ جائے تو اللہ تعالیٰ سمندر کے دونوں حصوں کو ملا دے اور یہ سب غرق ہو جائیں۔

۲۸ ۔۔۔۔۔۔۔۔ تشریح کے لیے دیکھئے سورۂ شعراء نوٹ ۵۲۔

۲۹ ۔۔۔۔۔۔۔۔ تشریح کے لیے ملاحظہ ہو سورۂ شعراء نوٹ ۵۳۔

۳۰ ۔۔۔۔۔۔۔۔ یعنی فرعون اور اس کی قوم کی ہلاکت پر نہ آسمان والوں کو کوئی افسوس ہوا اور نہ زمین والوں کو کیونکہ وہ ظالم تھے اور اپنی ہلاکت کے آپ ذمہ د ار تھے۔

۳۱ ۔۔۔۔۔۔۔۔ یعنی فرعون بنی اسرائیل کے لیے عذاب بن کر رہ گیا تھا اور عذاب بھی ایسا جو ذلیل کر دینے والا تھا مگر اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل پر جو ایک مومن گروہ تھا فضل فرمایا اور فرعون کی گرفت سے انہیں آزاد کر دیا۔

اس واقعہ میں اہل ایمان کے لیے یہ سبق ہے کہ اگر وہ کسی وجہ سے ظالمانہ اقتدار کی گرفت میں آ گئے ہوں تو صبر و استقامت کے ساتھ ایمان کے تقاضوں کو پورا کریں۔ اللہ تعالیٰ ان کے لیے نجات کی راہ کھول دے گا۔

۳۲ ۔۔۔۔۔۔۔۔ یعنی اخلاقی حدود سے گزرنے والا تھا۔ بالفاظ دیگر بد اخلاق، بد اطوار اور ظالم تھا۔

۳۳ ۔۔۔۔۔۔۔۔ یعنی جہاں وہ بندوں کے حق میں ظالم تھا وہاں وہ اللہ کا نافرمان اور باغی بھی تھا۔

۳۴ ۔۔۔۔۔۔۔۔ یعنی دنیا والوں کی دینی رہنمائی اور قیامت کے لیے بنی اسرائیل کا جو انتخاب کیا تو وہ اللہ تعالیٰ نے اپنے علم کی بنا پر کیا تھا۔ یعنی اس کو بنی اسرائیل کی صلاحیت کا ر وغیرہ کا علم تھا اور اقوام عالم میں سے اس قوم کا انتخاب موزوں ترین انتخاب تھا۔

۳۵ ۔۔۔۔۔۔۔۔ مراد وہ معجزے ہیں جو نبی اسرائیل کے لیے انعام کی حیثیت رکھتے تھے مثلاً ان کے لیے سمندر کا پھٹ جانا، صحرا میں بادلوں کا سایہ فگن ہونا، چشموں کا بہہ پڑنا، من و سلویٰ کا نزول وغیرہ مگر اس میں ان کے صبر و استقامت کا امتحان بھی تھا۔

۳۶ ۔۔۔۔۔۔۔۔ مراد مشرکین مکہ ہیں۔

۳۷ ۔۔۔۔۔۔۔۔ یعنی پہلی بار جو موت آئے گی وہ زندگی کا آخری مرحلہ ہے۔ اس کے بعد زندگی اور موت کا سلسلہ ختم ہو جاتا ہے۔

۳۸ ۔۔۔۔۔۔۔۔ یعنی اگر دوسری زندگی کی کوئی حقیقت ہے تو اس کے ثبوت میں گزرے ہوئے لوگوں کو زندہ کر دکھاؤ۔ جب ہم اپنی آنکھوں سے گزرے ہوئے لوگوں کو اپنے سامنے زندہ دیکھ لیں گے تو دوسری زندگی پر یقین کریں گے۔

ان کا یہ مطالبہ بڑی نادانی کی بات تھی کیونکہ جس چیز کا علم انسان کو تجربہ کے ذریعہ ہو گیا وہ چیز نہ غیب کی رہ جاتی ہے اور نہ اس پر ایمان لانے کا سوال پیدا ہوتا ہے۔ پھر امتحان کہاں باقی رہا جبکہ یہ زندگی سراسر امتحان کی زندگی ہے۔

۳۹ ۔۔۔۔۔۔۔۔ تبّع یمن کے بادشاہوں کا لقب تھا جو قوم سا کے ایک قبیلہ حمِیرَ سے تعلق رکھتے تھے اور جن کا زمانہ قبلِ مسیح رہا ہے۔

“کتبات میں ملوک معین و سبا کے عہد میں یعنی کم از کم ہزار سال قبل مسیح میں لفظ تُبّع نظر آتا ہے۔ ” (ارض القرآن ج ۱ص ۲۹۳)

ان کے زمانہ کا ٹھیک ٹھیک تعین کرنا مشکل ہے اور ان کے تفصیلی حالات جاننے کے لیے بھی کوئی مستند ذریعہ نہیں ہے۔ البتہ سورۂ ق آیت ۱۴ سے واضح ہوتا ہے کہ قوم تبع کی طرف بھی رسول بھیجا گیا تھا جس کو اس نے جھٹلایا اور بالآخر عذاب سے دو چار ہوئی۔

۴۰ ۔۔۔۔۔۔۔۔ یعنی عاد، ثمود جیسی گمراہ قومیں۔

۴۱ ۔۔۔۔۔۔۔۔ تشریح کے لیے ملاحظہ ہو سورۂ انبیاء نوٹ ۱۶۔

۴۲ ۔۔۔۔۔۔۔۔ یعنی اس کائنات کے پیدا کرنے کا ایک مقصد اور ایک غایت ہے اور وہ ہے جو جزاء و سزاء کا معاملہ اور انسانیت کے جوہر کو چھانٹ کر اسے ابدی کامیابی اور جنت کی لا زوال نعمتوں سے سرفراز کرنا۔ مگر اکثر لوگوں کا حال یہ ہے کہ وہ اپنے مقصد وجود ہی سے بے خبر ہیں اور انہیں اس بات کی کوئی فکر نہیں کہ اپنی زندگی کی غایت معلوم کریں۔

۴۳ ۔۔۔۔۔۔۔۔ یعنی قیامت کا دن۔

۴۴ ۔۔۔۔۔۔۔۔ قیامت کے دن نہ رشتے ناطے کام آئیں گے اور نہ دوستی بلکہ نجات کا معاملہ اللہ کے رحم و کرم پر موقوف ہو گا اور اللہ کا یہ فیصلہ ہے کہ وہ کافروں پر رحم نہیں فرمائے گا اس لیے کوئی شخص کفر کرتے ہوئے اللہ سے رحم کی امید نہ رکھے۔

۴۵ ۔۔۔۔۔۔۔۔ اللہ بڑا زبردست ہے اس لیے جس کو وہ اپنے عذاب کی گرفت میں لینا چاہے وہ اس سے بچ نہیں سکتا اور وہ رحیم ہے اس لیے جس پر وہ رحم کرنا چاہے تو کوئی نہیں جو اس کو رحم کرنے سے روک سکے۔

۴۶ ۔۔۔۔۔۔۔۔ تشریح کے لیے ملاحظہ ہو سورۂ صافات نوٹ ۵۱۔

۴۷ ۔۔۔۔۔۔۔۔ مراد کافر ہیں جیسا کہ آگے آیت ۵۰ سے واضح ہے۔

۴۸ ۔۔۔۔۔۔۔۔ یعنی زقوم کھانے کے بعد ان کا حال ایسا ہو گا جیسے پیٹ میں پگھلی ہوئی دھات ابل رہی ہو۔

۴۹ ۔۔۔۔۔۔۔۔ یعنی زقوم پیٹ میں گرم پانی کی طرح جوش کھا رہا ہو گا۔

۵۰ ۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ حکم فرشتوں کو ہو گا۔

۵۱ ۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ طنز ہے کہ تو اپنے کو بڑا زبردست اور عزت والا آدمی سمجھتا تھا حالانکہ تو نے سرکش بن کر ذلیل حرکتیں کی تھیں۔ اب چکھ اپنے کرتوتوں کا مزا اور دیکھ آج تو کیسا بے بس اور ذلیل ہے۔

۵۲ ۔۔۔۔۔۔۔۔ قیامت اور جزا و سزا کا انکار کرنا ہی نہیں بلکہ اس کے بارے میں شک کرنا بھی بہت بڑا جرم ہے کیونکہ شک میں مبتلا ہو کر بھی آدمی دنیا ہی کو اپنا مقصد حیات بنا لیتا ہے اور اللہ کا نافرمان بن کر من مانی کرنے لگتا ہے اس لیے عمل کے لحاظ سے آخرت کے منکر اور اس میں شک کرنے والے کے درمیان کوئی فرق نہیں رہتا۔ لہٰذا دونوں بجا طور پر جہنم کی سزا کے مستحق ہیں۔

۵۳ ۔۔۔۔۔۔۔۔ گنہگاروں اور آخرت کے بارے میں شک میں مبتلا ہونے والوں کے مقابلہ میں متقین (اللہ سے ڈرنے والوں) کا انجام بیان کیا جا رہا ہے جس سے یہ بات خود بخود واضح ہو جاتی ہے کہ متقی وہ لوگ ہیں جو آخرت پر یقین رکھتے ہیں اور جن کی زندگیاں اللہ کی اطاعت میں بسر ہوتی ہیں۔

۵۴ ۔۔۔۔۔۔۔۔ یعنی جہاں کسی قسم کا خوف و خطرہ نہیں ہو گا۔ مراد جنت ہے۔

حدیث میں آتا ہے کہ جنت میں یہ اعلان کر دیا جائے گا کہ :

اَنَّ لَکُمْ اَنْ تَصِحُّوْا فَلَاتَسقَمُوْااَبَدًا، وَاَنَّ لَکُمْ اَنْ تَحْیوْافَلاَتَمُوْتُوْا اَبَدًا،وَاَنَّ لَکُمْ اَنْ تَشُبُّوْا فَلاَ تَہْرِمُوْااَبَدًاوَاَنَّ لَکُمْ اَنْ تَنْعَمُوْ! فَلاَ تَبْأَسُوَااَبَدًا۔ “تمہارے لیے یہ بات طے شدہ ہے کہ تم صحت مند رہو گے کبھی بیمار نہ پڑو گے تم زندہ رہو گے کبھی نہ مرو گے۔ تم جوان رہو گے کبھی بوڑھے نہ ہو گے۔ اور تم عیش میں رہو گے کبھی تمہیں تکلیف نہیں پہنچے گی۔ ” (مسلم کتاب الجنۃ)

۵۵ ۔۔۔۔۔۔۔۔ حُور عربی میں گوری رنگت والی غزالی چشم عورتوں کو کہا جاتا ہے۔ یہاں جنت کی حسین و جمیل عورتیں مراد ہیں جو متقیوں سے بیاہ دی جائیں گی۔ قرآن میں یہ کہیں نہیں کہا گیا ہے کہ یہ کوئی اور مخلوق ہو گی اس لیے اس کا ظاہری مفہوم یہی ہے کہ یہ انسانوں میں سے ہوں گی۔ اور عجب نہیں کہ جو باکرہ لڑکیاں فوت ہو گئیں ان کو حور بنا کر متقیوں کی زوجیت میں دیدیا جائے۔ قرآن کے بیان سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اہل ایمان کو ان کی مومن بیویاں تو جنت میں ملیں گی ہی مزید یہ کہ حوروں سے بھی ان کا بیاہ کر دیا جائے گا۔ والعلم عند اللہ۔

رہا یہ عام خیال کہ جنت میں ایک ایک آدمی کو ستر ستر بلکہ اس سے بھی زیادہ تعداد میں حوریں ملیں گی تو اس کی کوئی اصل نہیں۔ نہ قرآن میں کہیں یہ بات کہی گئی ہے اور نہ کسی صحیح حدیث سے یہ بات ثابت ہے۔ ایسی باتیں قصہ گو لوگ بیان کرتے ہیں اور جنت کا مذاق اڑانے والے اس کو موضوع بحث بنا لتے ہیں۔

۵۶ ۔۔۔۔۔۔۔۔ یعنی دنیا میں جو پہلی موت ہو گی اس کے بعد ان کے لیے ابدی زندگی ہے۔ موت کا انہیں کبھی سامنا کرنا نہیں پڑے گا۔

۵۷ ۔۔۔۔۔۔۔۔ جہنم کے عذاب سے محفوظ ہونا اگرچہ تقویٰ کی بنا پر ہو گا مگر یہ سراسر اللہ ہی کے فضل سے ہو گا۔ اس کے فضل کے بغیر جنت میں پہنچنا کسی کے بس کی بات نہیں ہے۔

۵۸ ۔۔۔۔۔۔۔۔ جہنم کے عذاب سے بچنا اور جنت میں داخل ہونا سب سے بڑی کامیابی ہے۔ جو لوگ اس کو حقیقی کامیابی سمجھتے ہیں وہ اس کے حصول کے لیے ہر طرح کی قربانی دینے کے لیے تیار ہو جاتے ہیں۔

۵۹ ۔۔۔۔۔۔۔۔ یعنی قرآن کو عربی زبان میں نازل کیا گیا ہے جو پیغمبر قرآن اور ان کی قوم کی اپنی زبان ہے نیز اسے نہایت سہل اور عام فہم اسلوب میں پیش کیا گیا ہے تاکہ لوگ تذکیر کا فائدہ حاصل کر سکیں۔ قرآن کی یہ امتیازی خصوصیت ہے کہ وہ دقیق ترین مضامین کو جو کائنات کے اسرار و رموز، انسان کی باطنی کیفیات ، روحانی معاملات اور قیامت کے احوال سے تعلق رکھتے ہیں اتنے سلیس انداز میں پیش کرتا ہے کہ ان کا ابتدائی مفہوم ایک عام آدمی کے لیے بھی بشرطیکہ وہ صاف ذہن کا آدمی ہو سمجھنا اور اس سے نصیحت پذیر ہونا جو قرآن کا اولین منشاء ہے کچھ بھی مشکل نہیں۔ نصیحت کا یہ فائدہ غیر عربی داں قرآن کے ترجمہ سے بھی بشرطیکہ ترجمہ صحیح ہو حاصل کر سکتے ہیں۔

یہ آیت سورۂ قمر کی آیت:

وَلَقَدْیَسَّرْنَالْقُرْآنَ لِلذِّکْرِ فَہَلْ مِن مُدَّكِر” ہم نے قرآن کو “ذکر” (نصیحت حاصل کرنے) کے لیے آسان کر دیا ہے۔ “تو ہے کوئی نصیحت حاصل کرنے والا۔ ” (قمر:۲۲) کی تفسیر کرتی ہے اور اس سے “ذکر” کے یہ معنی کہ نصیحت اور یاد دہانی حاصل کرنا ہے معین ہو جاتے ہیں۔ لہٰذا جن علماء نے اس متبادر مفہوم کو چھوڑ کر محض لغت کے سہارے اس کے معنی (حفظ) کے لیے ہیں یعنی قرآن حفظ کرنے لیے آسان بنا دیا گیا ہے تو اس آیت سے ان کی اس تاویل کی تردید ہو جاتی ہے۔

۶۰ ۔۔۔۔۔۔۔۔ یعنی اس فہمائش اور نصیحت کے بعد بھی اگر یہ لوگ انجام کار ہی کے منتظر ہیں تو تم بھی ان کو ان کے حال پر چھوڑ دو اور انتظار کرو حالات خود بتا دیں گے کہ قرآن اور پیغمبر نے جو کچھ کہا تھا وہ کس طرح سچ ثابت ہوا۔

٭٭٭

 

 

(۴۵) سورۃ الجاثیہ

 

(۳۷   آیات)

 

بسم اللہ الرحمٰن الر حیم

اللہ رحمٰن و رحیم کے نام سے

 

                   تعارف

 

نام

 

آیت ۲۸ میں قیامت کے دن ہر گروہ کے جاثیہ یعنی گھٹنوں کے بل گرے ہوئے ہونے کا ذکر ہوا ہے۔ اس مناسبت سے اس سورہ کا نام “الجاثیہ” ہے۔

 

زمانۂ نزول

 

مکی ہے اور مضامین سے اندازہ ہوتا ہے کہ سورہ دخان کے بعد قریبی زمانہ میں نازل ہوئی ہو گی۔

 

مرکزی مضمون

 

توحید اور آخرت کی نشانیوں کی طرف متوجہ کرتے ہوئے انکار کے نتائج سے خبردار کرنا ہے۔

 

نظمِ کلام

 

آیت ۱ تا ۶ میں توحید کی نشانیوں کی طرف متوجہ کیا گیا ہے جس کی دعوت قرآن دے رہا ہے۔

آیت ۷ تا ۱۵ میں اللہ کی آیتوں کو سننے سے انکار کرنے والوں کو اس کے اخروی انجام سے خبردار کر دیا گیا ہے۔ اور اہل ایمان کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ان سے درگزر کریں۔

آیت ۱۰ تا ۲۰ میں بنی اسرائیل کو تنبیہ کہ انہوں نے دین کی نعمت پانے کے بعد اس میں اختلاف کیا اور یہ ہدایت کہ اب جو شریعت نازل کی جا رہی ہے اس کی پیروی کی جائے۔ آیت ۲۱ تا ۳۵ میں یوم جزا و سزا کے بارے میں بعض اعتراضات کا جواب اور شبہات کا ازالہ۔

آیت ۳۶ تا اور ۳۷ سورہ کی اختتامی آیتیں ہیں جن میں اللہ کی حمد بیان ہوئی ہے۔

 

                   ترجمہ

 

بسم اللہ الرحمٰن الر حیم

اللہ رحمٰن و رحیم کے نام سے

 

۱۔۔۔۔۔۔۔حا۔ میم ۱*

۲۔۔۔۔۔۔۔اس کتاب کا نزول اللہ کی طرف سے ہے۔ ۲* جو زبردست اور حکمت والا ہے۔

۳۔۔۔۔۔۔۔آسمانوں اور زمین میں بڑی نشانیاں ہیں ایمان لانے والوں کے لیے۔ ۳*

۴۔۔۔۔۔۔۔اور تمہاری خلقت میں اور ان حیوانات میں جو اس نے پھیلا رکھے ہیں نشانیاں ہیں یقین کرنے والوں کے لیے۔ ۴*

۵۔۔۔۔۔۔۔اور رات اور دن کی آمد و رفت میں اور اس رزق میں جسے اللہ آسمان سے اتارتا ہے پھر اس سے زمین کو اس کے مردہ ہو جانے کے بعد زندہ کر دیتا ہے اور ہواؤں کی گردش میں نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو عقل سے کام لیں۔ ۵*

۶۔۔۔۔۔۔۔یہ اللہ کی آیتیں ہیں جو ہم تمہیں حق کے ساتھ سنا رہے ہیں۔ ۶* اب اللہ اور اس کی آیتوں کے بعد وہ کون سی بات ہے جس پر یہ لوگ ایمان لائیں گے۔ ۷*

۷۔۔۔۔۔۔۔تباہی ہے ہر جھوٹے گنہگار شخص کے لیے۔ ۸*

۸۔۔۔۔۔۔۔جو الہ کی آیتوں کو جو اس کے سامنے پڑھی جاتی ہیں سنتا ہے پھر تکبر کے ساتھ (اپنے کفر پر) اصرار کرتا ہے گویا اس نے ان کو سنا ہی نہیں تو ایسے شخص کو درد ناک عذاب کی خوشخبری دے دو۔ ۹*

۹۔۔۔۔۔۔۔ہماری آیتوں میں سے کوئی بات اس کے علم میں آتی ہے تو وہ اس کو مذاق بنا لیتا ہے۔ ایسے لوگوں کے لیے ذلت کا عذاب ہے۔

۱۰۔۔۔۔۔۔۔ان کے آگے جہنم ہے۔ ۱۰* جو کچھ انہوں نے کمایا ہے ۱۱* وہ ان کے کچھ بھی کام آنے والا نہیں۔ اور نہ وہ ان کے کام آئیں گے جن کو انہوں نے اللہ کو چھوڑ کر کارساز بنا رکھا ہے۔ ۱۲* ان کے لیے بہت بڑا عذاب ہے۔

۱۱۔۔۔۔۔۔۔یہ سراسر ہدایت ہے۔ ۱۳* اور جن لوگوں نے اپنے رب کی آیتوں کا انکار کیا ان کے لیے شدت کا درد ناک عذاب ہے۔

۱۲۔۔۔۔۔۔۔اللہ ہی ہے جس نے تمہارے لیے سمندر کو مسخر کر دیا۔ ۱۴* تاکہ اس کے حکم سے اس میں کشتیاں چلیں اور تم اس کا فضل تلاش کرو۔ ۱۵* اور تاکہ تم اس کے شکر گزار رہو۔

۱۳۔۔۔۔۔۔۔اور اس نے آسمانوں اور زمین کی تمام چیزوں کو اپنی طرف سے تمہاری خدمت میں لگا رکھا ہے۔ ۱۶* اس میں یقیناً نشانیاں ہیں۔ ۱۷* ان لوگوں کے لیے جو غور و فکر کریں۔

۱۴۔۔۔۔۔۔۔ایمان لانے والوں سے کہو کہ وہ ان لوگوں سے درگزر کریں جو الہ کی طرف سے ظاہر ہونے والے عبرتناک دنوں کا اندیشہ نہیں رکھتے تاکہ اللہ ایک گروہ کو اس کی کمائی کا جو وہ کرتی رہی ہے بدلہ دے۔ ۱۸*

۱۵۔۔۔۔۔۔۔جو کوئی نیک عمل کرے گا وہ اپنے ہی لیے کرے گا اور جو برائی کرے گا اس کا وبال اسی پر ہو گا۔ ۱۹* پھر تم اپنے رب ہی کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔ ۲۰*

۱۶۔۔۔۔۔۔۔ہم نے بنی اسرائیل کو کتاب اور حکمت اور نبوت عطا کی تھی۔ ۲۱* ان کو ہم نے پاکیزہ رزق بخشا تھا۔ ۲۲* اور دنیا والوں پر فضیلت عطا کی تھی۔ ۲۳*

۱۷۔۔۔۔۔۔۔انہیں دین کے معاملہ میں واضح احکام ہوئے۔ تو انہوں نے جو اختلاف کیا وہ علم آ جانے کے بعد کیا محض آپس میں ایک دوسرے کے خلاف زیادتی کی بناء پر بے شک تمہارا رب قیامت کے دن ان کے درمیان ان باتوں کا فیصلہ کر دے گا جن میں وہ اختلاف کرتے رہے ہیں۔ ۲۴*

۱۸۔۔۔۔۔۔۔پھر ہم نے تم کو ایک واضح شریعت پر قائم کیا لہٰذا تم اس کی پیروی کرو اور ان لوگوں کی خواہشات کے پیچھے نہ چلو جو علم نہیں رکھتے۔ ۲۵*

۱۹۔۔۔۔۔۔۔یہ لوگ اللہ کے مقابلہ میں تمہارے کچھ بھی کام آنے والے نہیں ہیں۔ ۲۶* یہ ظالم ایک دوسرے کے رفیق ہیں اور اللہ متقیوں کا رفیق ہے۔

۲۰۔۔۔۔۔۔۔یہ لوگوں کے لیے بصیرت کی باتیں ہیں۔ ۲۷* اور ہدایت اور رحمت ہے ان لوگوں کے لیے جو یقین کریں۔

۲۱۔۔۔۔۔۔۔کیا وہ لوگ جنہوں نے برائیوں کا ارتکاب کیا ہے یہ سمجھتے ہیں کہ ہم انہیں ان لوگوں کی مانند کر دیں گے جو ایمان لائے اور جنہوں نے نیک عمل کئے کہ ان کا جینا اور مرنا یکساں ہو جائے ؟ ۲۸* بہت بُرا فیصلہ ہے جو وہ کر رہے ہیں !۲۹ *

۲۲۔۔۔۔۔۔۔اللہ نے آسمانوں اور زمین کو (مقصد) حق کے ساتھ پیدا کیا ہے۔ ۳۰* اور اس لیے پیدا کیا ہے تاکہ ہر شخص کو اس کی کمائی کا بدلہ دیا جائے۔ ۳۱* اور ان کے ساتھ نا انصافی ہرگز نہیں کی جائے گی۔ ۳۲*

۲۳۔۔۔۔۔۔۔کیا تم نے اس شخص کو دیکھا جس نے اپنی خواہش کو اپنا معبود بنا لیا ہے ؟ ۳۳* اور اللہ نے اسے جانتے ہوئے گمراہ کر دیا۔ ۳۴* اور اس کے کان اور دل پر مہر لگا دی اور اس کی آنکھوں پر پردہ ڈال دیا۔ ۳۵* اب کون ہے جو اللہ کے بعد اسے ہدایت دے ؟۳۶* پھر کیا تم لوگ ہوش میں نہیں آتے ؟ ۳۷*

۲۴۔۔۔۔۔۔۔یہ لوگ کہتے ہیں ہماری زندگی تو بس دنیا کی زندگی ہے۔ یہیں ہمیں مرنا اور جینا ہے اور ہمیں بس زمانہ کی گردش ہلاک کرتی ہے۔ ۳۸* (در حقیقت) ان کو اس بارے میں کوئی علم نہیں۔ یہ محض اٹکل پچو باتیں کرتے ہیں۔ ۳۹*

۲۵۔۔۔۔۔۔۔اور جب ان کو ہماری روشن آیتیں سنائی جاتی ہیں تو ان کی حجت بس یہ ہوتی ہے کہ لاؤ ہمارے باپ دادا کو اگر تم سچے ہو۔ ۴۰*

۲۶۔۔۔۔۔۔۔ان سے کہو اللہ ہی تمہیں زندگی بخشا ہے پھر تمہیں موت دیتا ہے پھر وہی تم کو قیامت کے دن جمع کرے گا جس کے آنے میں کوئی شبہ نہیں مگر اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں۔ ۴۱*

۲۷۔۔۔۔۔۔۔آسمانوں اور زمین کی بادشاہی اللہ ہی کی ہے اور جس دن قیامت قائم ہو گی اس دن باطل پرست خسارہ میں پڑیں گے۔

۲۸۔۔۔۔۔۔۔اور تم ہر گروہ کو گھٹنوں کے بل گرا ہوا دیکھو گے۔ ۴۲* ہر گروہ کو اس کے نامۂ اعمال کی طرف بلایا جائے گا۔ جو تم کرتے رہے اس کا آج تمہیں بدلہ دیا جائے گا۔

۲۹۔۔۔۔۔۔۔یہ ہمارا دفتر ہے جو تمہارے بارے میں ٹھیک ٹھیک بول رہا ہے۔ ۴۳* جو کچھ تم کرتے تھے ہم اسے لکھواتے جاتے تھے۔ ۴۴*

۳۰۔۔۔۔۔۔۔تو جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے ان کو ان کا رب اپنی رحمت میں داخل کرے گا۔ یہ صریح کامیابی ہے۔ ۴۵*

۳۱۔۔۔۔۔۔۔اور جن لوگوں نے کفر کیا ان سے کہا جائے گا کیا میری آیتیں تم کو پڑ ھ کر سنائی نہیں جاتی تھیں ؟ مگر تم نے تکبر کیا اور تم مجرم لوگ تھے۔

۳۲۔۔۔۔۔۔۔اور جب کہا جاتا تھا کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے اور قیامت کے بارے میں کوئی شک نہیں تو تم کہتے تھے ہم نہیں جانتے قیامت کیا ہے۔ ہم تو ایک گمان رکھتے ہیں اور ہم اس کا یقین کرنے والے نہیں ہیں۔ ۴۶*

۳۳۔۔۔۔۔۔۔اور ان پر ان کے عمل کی برائیاں واضح ہو جائیں گی ۴۷* اور جس چیز کا وہ مذاق اڑاتے رہے ہیں وہ ان کو گھیر لے گی۔ ۴۸*

۳۴۔۔۔۔۔۔۔اور ان سے کہا جائے گا آج ہم تمہیں بھلائے دیتے ہیں۔ ۴۹* جس طرح تم نے اپنی پیشی کے اس دن کو بھلا دیا تھا۔ تمہارا ٹھکانہ دوزخ ہے اور کوئی تمہارا مددگار نہیں ہے۔

۳۵۔۔۔۔۔۔۔یہ اس لیے کہ تم نے اللہ کی آیتوں کو مذاق بنا لیا تھا اور تمہیں دنیا کی زندگی نے دھوکہ میں ڈال دیا تھا۔ ۵۰* تو آج ان کو نہ اس سے نکالا جائے گا اور نہ توبہ کا موقع دیا جائے گا۔ ۵۱*

۳۶۔۔۔۔۔۔۔پس حمد اللہ ہی کے لیے ہے۔ ۵۲* جو آسمانوں کا بھی رب ہے اور زمین کا بھی رب، سارے جہاں کا رب۔

۳۷۔۔۔۔۔۔۔اور اسی کے لیے ہے بڑائی آسمانوں اور زمین میں اور وہ غالب ہے حکمت والا۔

 

                   تفسیر

 

۱۔۔۔۔۔۔۔۔ ان حروف کی تشریح کے لیے دیکھئے سورۂ مومن نوٹ ۱۔

اس سورہ میں “ح” “م” کا اشارہ اللہ کے حکیم (حکمت والا) ہونے کی طرف ہے جس کا ذکر آیت ۲ میں ہوا ہے۔

۲۔۔۔۔۔۔۔۔ قرآن بار بار صراحت کرتا ہے کہ یہ کتاب اللہ نے اپنے پیغمبر پر نازل کی ہے تاکہ لوگوں کے لیے شک کی گنجائش باقی نہ رہے اور وہ اس کتاب کے تعلق سے اپنی ذمہ داری محسوس کریں۔

۳۔۔۔۔۔۔۔۔ یعنی جو لوگ اللہ کی طرف متوجہ کرنے والی نشانیوں کو دیکھ کر ایمان لانے کے لیے تیار ہوں ان کے لیے آسمان  و زمین میں بڑی بڑی نشانیاں موجود ہیں۔ قرآن ان نشانیوں کو تفصیل سے بیان کرتا ہے تاکہ لوگ غور و فکر کریں۔ آگے کچھ نشانیوں کا ذکر ہوا ہے۔

آیت سے یہ اشارہ بھی نکلتا ہے کہ ایمان ایک وجدانی کیفیت ہے جو آسمان و زمین کے مشاہدہ سے انسان کے اندر پیدا ہو جاتی ہے۔ اگر انسان اپنی فطرت سلیمہ پر قائم ہو تو آسمان و زمین کو دیکھ کر اس کا وجدان خود پکار اٹھے گا کہ یہ ایک خدا کی کاریگری ہے اور وہی معبود برحق ہے۔

۴۔۔۔۔۔۔۔۔ ان نشانیوں پر غور کرنے سے اللہ کی وہ معرفت حاصل ہوتی ہے جو اس کے الٰہ واحد ہونے کا یقین پیدا کرتی ہے۔

۵۔۔۔۔۔۔۔۔ یعنی ان نشانیوں پر غور کرنے سے جہاں ایمان و یقین پیدا ہوتا ہے وہاں ذہن بھی اللہ کی وحدانیت پر مطمئن ہو جاتا ہے۔

۶۔۔۔۔۔۔۔۔ یعنی اللہ کی یہ آیتیں تمہیں اس طرح سنائی جا رہی ہیں کہ وہ ہر طرح کی آمیزش سے پاک ہیں۔ ان کا ایک ایک لفظ اللہ جل شانہ” کا اپنا کلام ہے اور اس کے ذریعہ حق بالکل واضح ہو کر سامنے آ رہا ہے۔

۷۔۔۔۔۔۔۔۔ یعنی جب اللہ کا وجود ایک واضح حقیقت ہے اور اس کی آیتوں نے اس کے وجود اور اس کی وحدانیت کو اور روشن کر دیا ہے تو ان کے ایمان لانے کے لیے مزید کس دلیل کی ضرورت باقی رہ اتی ہے۔

۸۔۔۔۔۔۔۔۔ خدا کے بارے میں جو شخص جھوٹ بولتا ہے اس کی زندگی لازماً معصیت کی زندگی ہوتی ہے۔

۹۔۔۔۔۔۔۔۔ درد ناک عذاب کوئی خوشخبری نہیں لیکن اس کو خوش خبری سے اس لیے تعبیر کیا گیا ہے تاکہ کافر چونک پڑیں اور ہوش میں آ جائیں۔

۱۰۔۔۔۔۔۔۔۔ یعنی مستقبل کی زندگی میں ان کو جہنم سے واسطہ ہے۔

۱۱۔۔۔۔۔۔۔۔ کمانے میں مال و دولت بھی شامل ہے اور اعمال بھی۔

۱۲۔۔۔۔۔۔۔۔ خواہ وہ بت ہوں ” دیوی دیوتا ہوں ” فرشتے ہوں یا بزرگ شخصیتیں جن کی عقیدت میں وہ اس طرح مبتلا ہیں جس طرح اللہ سے عقیدت ہونی چاہیے اور جن سے وہ ایسی امیدیں وابستہ کئے ہوئے ہیں جو اللہ ہی سے کی جا سکتی ہے۔

۱۳۔۔۔۔۔۔۔۔ یعنی یہ قرآن۔

۱۴۔۔۔۔۔۔۔۔ مسخر کر دیا یعنی تمہاری خدمت میں لگا دیا۔ یہ اسی کا بنایا ہوا طبعی قانون ہے کہ سمندر میں کشتیاں اور بڑے بڑے جہاز کھڑے ہوتے ہیں اور ڈوبتے نہیں ورنہ ایک پتھر بھی پھینکا جائے تو ڈوب جاتا ہے۔

۱۵۔۔۔۔۔۔۔۔ مراد تجارتی سفر ہیں جو کسب معاش کا ذریعہ ہیں۔ کسبِ معاش کو اللہ کے فضل سے تعبیر کیا گیا ہے کیونکہ یہ اللہ کی ربوبیت (پروردگاری) ہی ہے جو انسان کو سامانِ معیشت عطا کرتی ہے جس پر اس کا شکر لازم ہے۔

تجارت اور کاروبار ایک مومن بھی کرتا ہے اور ایک کافر بھی لیکن دونوں کا اندازِ فکر (سوچنے کا طریقہ) بنیادی طور پر مختلف ہوتا ہے۔ ایک مومن سمجھتا ہے میری دوڑ دھوپ اللہ کے فضل کی تلاش میں ہے کہ اس نے اپنے فضل سے جو رزق مہیا کیا ہے اسے میں حاصل کر کے اس کی نعمت کا قدر داں بن جاؤں بخلاف اس کے ایک کافر سمجھتا ہے کہ مجھے اپنا معاش اپنی قابلیت کی بنیاد پر حاصل کرنا ہے۔ پھر جو کچھ حاصل ہوتا ہے اس کو وہ بس اپنی محنت کا نتیجہ سمجھتا ہے۔

۱۶۔۔۔۔۔۔۔۔ یعنی سب چیزیں اس کی پیدا کردہ ہیں اور تمہاری خدمت میں بھی اسی نے لگا رکھی ہیں اس کے سوا نہ کوئی کسی چیز کا خالق ہے اور نہ متصرف (کام میں لگانے والا)۔

۱۷۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ نشانیاں جن کی طرف انسان کو متوجہ کیا گیا ہے خدا کی معرفت (پہچان) عطا کرنے اور اس سے صحیح تعلق پیدا کرنے کا بہترین اور اہم ترین ذریعہ ہیں اور ہر شخص قرآن کی رہنمائی میں ان نشانیوں پر غور کر کے ان نتائج تک پہنچ سکتا ہے جو قرآن اس کے سامنے پیش کر رہا ہے۔ یہ نشانیاں ہر خاص و عام کی سمجھ میں آنے والی اور دل کو اپیل کرنے والی ہیں۔ ا ن کے مقابلہ میں خدا کے وجود وغیرہ پر جو منطقی دلائل (صغریٰ اور کبریٰ) قائم کر کے پیش کئے جاتے ہیں وہ نہ عام انسان کی سمجھ میں آنے والے ہوتے ہیں اور نہ وہ اس درجہ موثر ہوتے ہیں۔

۱۸۔۔۔۔۔۔۔۔” ایام اللہ” سے مراد وہ تاریخی دن ہیں جن میں اللہ تعالیٰ نے مجرم قوموں کو عبرتناک سزائیں دیں۔ ایسی سزائیں آئندہ بھی ان لوگوں کو مل سکتی ہیں جو مجرم قوموں کے نقش قدم پر چلیں۔ مگر جو لوگ اپنی مجرمانہ حرکتوں کے باوجود اس قسم کا کوئی اندیشہ محسوس نہیں کرتے اور اہلِ ایمان کو اذیت پہنچاتے رہتے ہیں ان کی اذیتوں سے درگزر کرنے کی ہدایت کی گئی ہے تاکہ اللہ تعالیٰ خود ان کو ان کے کئے کی سزا دے۔

ایک طرف قرآن کی یہ ہدایت ہے اور دوسری طرف موجودہ مسلمانوں کا یہ طرزِ عمل ہے کہ وہ کافروں کی ہر اذیت پر جھنجھلاہٹ میں مبتلا ہوتے ہیں اور احتجاج کی تحریک چلانے کے لیے تیار ہو جاتے ہیں۔

واضح رہے کہ درگزر کی اس ہدایت پر عمل کرنے کا بھی ایک موقع و محل ہے اور کافروں سے جنگ کرنے کا بھی ایک موقع و محل ہے۔ دونوں میں کوئی تضاد نہیں اور کوئی وجہ نہیں کہ اس آیت کو ان آیتوں سے جن میں قتال کا حکم دیا گیا ہے منسوخ مانا جائے۔

۱۹۔۔۔۔۔۔۔۔ تشریح کے لیے دیکھئے سورۂ حٰم السجدہ نوٹ ۷۱۔

۲۰۔۔۔۔۔۔۔۔ یعنی جہاں سے تمہارا آغاز ہوا تھا وہیں تمہارا مرجع بھی ہو گا۔ تمہاری پیدائش کی ابتداء تمہارے رب کی طرف سے ہوئی تھی لہٰذا تم اپنے رب کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔ نہ کسی اور نے ہمیں پیدا کیا ہے اور نہ کسی اور کی طرف تم لوٹ کر جاؤ گے۔

۲۱۔۔۔۔۔۔۔۔ بنی اسرائیل کو تورات” زبور اور انجیل جیسی کتابیں عطا کی گئیں۔ ساتھ ہی حکمت (حکم) یعنی کتاب الٰہی کا فہم بخشا گیا تاکہ وہ عملی زندگی میں اس سے رہنمائی حاصل کریں اور ان میں انبیاء کا سلسلہ چلایا۔

۲۲۔۔۔۔۔۔۔۔ یعنی پاکیزہ اور حلال رزق کے دروازے ان پر کھول دئے تھے۔ مصر میں تو انہیں مظلومانہ زندگی بسر کرنا پڑی تھی لیکن اس ماحول سے نکلنے کے بعد جو آزاد فضا ان کو میسر آئی اور پھر فلسطین میں انہیں اقتدار حاصل ہوا تو حرام سے ملوث ہونے کے لیے انہیں کوئی مجبوری نہیں رہی۔ شرعی حدود میں رہ کر پاکیزہ رزق کا حصول ان کے لیے آسان ہو گیا تھا۔

۲۳۔۔۔۔۔۔۔۔ یعنی دوسری قوموں کے مقابلہ میں اس قوم کو دین حق کی طرف دعوت دینے اور دنیا والوں کی رہنمائی کے لیے منتخب کیا گیا۔ یہ بہت بڑا اعزاز تھا جو بنی اسرائیل کو بخشا گیا اور اس مقصد کے لیے بیت المقدس کو دعوت اسلامی کا مرکز بنایا گیا۔

۲۴۔۔۔۔۔۔۔۔ تشریح کے لیے ملاحظہ ہو سورۂ آل عمران نوٹ ۲۷، ۲۸۔

اور سورۂ حٰم السجدہ نوٹ ۶۸ اور سورۂ یونس نوٹ ۱۴۴۔

بنی اسرائیل کے جس اختلاف کا ذکر قرآن کرتا ہے وہ قرآن کے پیروؤں کے لیے درس عبرت ہے مگر اس کے باوجود مسلمانوں نے بنی اسرائیل کی سی روش اختیار کی۔ ان کے سامنے قرآن کے واضح احکام اور اس کے رسول کی سنتِ ثابتہ موجود ہے پھر بھی وہ گروہوں اور فرقوں میں بٹ گئے ہیں اور ایک دوسرے کی مخالفت میں دین کی من مانی تاویلیں کر رہے ہیں۔ تقلید اور عقیدت کے بندھنوں سے آزاد اور گروہی تعصبات سے پاک ہو کر قرآن و سنت کا مطالعہ کرنے والے اور اس کی روشنی میں چلنے والے مسلمان بہ مشکل نظر آتے ہیں ورنہ مسلمانوں کی سوسائٹی میں بہ کثرت بدعتیں رائج ہو گئی ہیں اور وہ بری طرح خواہش پرستی میں مبتلا ہیں۔

۲۵۔۔۔۔۔۔۔۔ یعنی جو شریعت اب قرآن کے ذریعہ تمہیں دی جا رہی ہے اس کی پیروی کرو اور اس کو چھوڑ کر اہل کتاب کے طور طریقوں کی پیروی نہ کرو جو انہوں نے اپنی خواہش سے رائج کر رکھے ہیں اور جو دین میں بدعت کی حیثیت رکھتے ہیں۔

۲۶۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ انتباہ ہے کہ اگر تم نے قرآن کی شریعت کو چھوڑ کر اہل کتاب کی من گھڑت باتوں کی پیروی کی تو قیامت کے دن وہ تمہیں اللہ کی پکڑ سے بچا نہ سکیں گے۔

۲۷۔۔۔۔۔۔۔۔ بصیرت کی باتیں ہیں یعنی علم کی روشنی میں لانے والی باتیں ہیں۔

۲۸۔۔۔۔۔۔۔۔ تشریح کے لیے دیکھئے سورۂ ص نوٹ ۳۹۔

۲۹۔۔۔۔۔۔۔۔ یعنی یہ بڑی نا معقول اور غیر منصفانہ بات ہے کہ بدکاروں کو نیکو کاروں کی سطح پر رکھا جائے اور یہ خیال کیا جائے کہ جو رویہ بھی آدمی اختیار کرے اللہ کی نظریں یکساں ہے۔ وہ نہ تو برائی اور ظلم کرنے والوں کا کوئی نوٹس لیتا ہے اور نہ نیکی اور بھلائی کرنے والوں سے خوش ہوتا اور انہیں ان کی اچھی جزا دیتا ہے۔

۳۰۔۔۔۔۔۔۔۔ ا س کی تشریح سورۂ دخان نوٹ ۴۲ میں گزر چکی۔

۳۱۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ ہے وہ مقصدِ حق جس کے لیے کائنات کو پیدا کیا گیا ہے اگر جزا و سزا کا معاملہ پیش آنے والا نہ ہوتا تو پھر اس کائنات کا کوئی مقصد باقی نہیں رہتا۔ جو لوگ جزا و سزا کا انکار کرتے ہیں وہ اس کائنات کی کوئی غرض و غایت متعین نہیں کر پاتے۔ اور یہ کتنا بڑا المیہ ہے کہ انسان اپنی اور کائنات کی تخلیق ہی کے بارے میں اندھیرے میں رہے اور اس طرح زندگی گزارے کہ اسے کچھ خبر نہیں کہ آگے کیا پیش آنے والا ہے اور اس کے لیے کیا تیاری کرنا ہے۔ اس شخص کی نا کامیابی میں کیا بہ رہ جاتا ہے جو امتحان گاہ کو تفریح گاہ سمجھتا ہے ؟

۳۲۔۔۔۔۔۔۔۔ واضح ہوا کہ کافروں کو جو سخت اور ہمیشگی کی سزا دی جائے گی وہ بالکل منصفانہ ہو گی۔ اس کو ظلم سے وہی لوگ تعبیر کرتے ہیں جو اس میزان عدل سے نا آشنا ہیں جو اس کائنات میں قائم کر دی گئی ہے۔

وَ السَّمَاءرَفَعَہَا وَوَضَعَ اَلْمِیزَانَ (الرحمن:۷) ” آسمان کو اس نے بلند کیا اور میزان قائم کی۔ ”

۳۳۔۔۔۔۔۔۔۔ تشریح کے لیے ملاحظہ ہو سورۂ فرقان نوٹ ۵۷

علم و عقل اور وحی الٰہی کی روشنی کو چھوڑ کر اپنی نفسانی خواہشات کے پیچھے چلنا گویا ان کی پرستش کرنا ہے اس لیے ان کو معبود بنانے سے تعبیر کیا گیا ہے ورنہ اپنی خواہش کی پوجا کوئی نہیں کرتا۔ علامہ آلوسی نے آیت کی تفسیر اس طرح کی ہے :

” یہ اظہار تعجب ہے اس شخص کے حال پر جو ہدایت کی پیروی کرنے کے بجائے اپنی خواہشات کا تابع بن کر رہ جاتا ہے گویا وہ ان کی پرستش کر رہا ہے۔ تو یہ کلام بلیغ تشبیہ یا استعارہ کے طور پر ہے :” (روح المعانی جزء ۲۵ ص ۱۵۲)

۳۴۔۔۔۔۔۔۔۔ یعنی اللہ نے اسے خواہ مخواہ گمراہ نہیں کیا بلکہ اس کی حالت کو جانتے ہوئے گمراہ کیا کہ وہ ہدایت کو قبول کرنے کے لیے آمادہ نہیں ہے۔ اس کے دل کا یہ حال اللہ کو معلوم تھا اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس کو بھٹکنے کے لیے چھوڑ دیا۔

۳۵۔۔۔۔۔۔۔۔ تشریح کے لیے دیکھئے سورۂ بقرہ نوٹ ۱۵۔

۳۶۔۔۔۔۔۔۔۔ یعنی جو شخص اللہ کے قانون ضلالت کی گرفت میں آ گیا اس کو نہ کوئی شخص سمجھا سکتا ہے اور نہ ہدایت دے سکتا ہے۔

۳۷۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ قرآن سننے والوں کو تنبیہ ہے کہ تم ہوش سے کام لو اور ان لوگوں کی طرح نہ ہو جاؤ جنہوں نے خواہش پرستی کی راہ اختیار کی۔

۳۸۔۔۔۔۔۔۔۔ آیت میں لفظ ” دہر” استعمال ہوا ہے جس کے معنی زمانہ کے ہیں اور مراد اس سے گردش ایام ہے۔ مشرکینِ مکہ خدا کے منکر نہیں تھے بلکہ اس کے وجود کو تسلیم کرتے ہوئے دوسری ہستیوں کو نفع و نقصان پہنچانے والا سمجھتے تھے اور ان ہی میں ایک گروہ ایسا بھی تھا جو موت کا فاعل اللہ کو نہیں بلکہ گردش ایام کو قرار دیتا تھا۔ ان کا خیال تھا کہ موت نہ خدائی منصوبہ کا جزء ہے اور نہ اس کے بعد کوئی دوسری زندگی ہے اس لیے وہ اپنی ہلاکت کو زمانہ کی گردش پر محمول کرتے تھے کہ وقت آتا ہے اور آدمی مر جاتا ہے جس طرح آدمی وقت کے ساتھ جوان اور بوڑھا ہوتا ہے۔ اسی بناء پر وہ کسی آفت کے نازل ہونے پر یا کسی تکلیف کے پہنچ جانے پر زمانہ کو بُرا بھلا کہتے تھے جس کی ممانعت حدیث میں وارد ہوئی ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: قَالَ اللّٰہُ یَسُبُّ الدَّہِرُ بِیَدِی الّیْلُ وَالنَّہارُ (صحیح البخاری کتاب الادب) ” اللہ فرماتا ہے آدم کی اولاد زمانہ کو بُرا بھلا کہتی ہے حالانکہ زمانہ مَیں ہوں ” رات اور دن میرے قبضہ میں ہیں۔ ”

“زمانہ مَیں ہوں ” کا یہ مطلب نہیں کہ اللہ زمانہ کی شکل میں مادی وجود رکھتا ہے۔ اللہ اس سے پاک ہے کہ اس کا کوئی مادی وجود ہو۔ مادی وجود رکھنے والی سب چیزیں مخلوق ہیں جب کہ اللہ ان سب کا خالق ہے اس لیے زمانہ بھی مخلوق ہے نہ کہ خالق۔ اس حدیث قدسی میں جو بات ارشاد ہوئی ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ آدمی کو جب تکلیف پہنچتی ہے تو وہ گردش ایام کی طرف اسے منسوب کر کے زمانہ کو برا بھلا کہنے لگتا ہے لیکن در حقیقت زمانہ کا الٹ پھیر کرنے والا اللہ ہے اس لیے جو تکلیف بھی پہنچتی ہے وہ تقدیر الٰہی کے تحت پہنچتی ہے۔ اس پر زمانہ کو مطعون کرنا در حقیقت خدا کو مطعون کرنا ہے کیونکہ زمانہ اپنی طرف سے کوئی مصیبت نہیں لاتا۔

واضح رہے کہ ” دہریہ” رائج الوقت اصطلاح میں ا س شخص کو کہا جاتا ہے جو خدا کا بالکل منکر ہو اور گردش زمانہ ہی کو مسبب الاسباب (عالمِ اسباب پر کار فرما) سمجھتا ہو۔ مگر آیت میں جو بات بیان ہوئی ہے وہ مشرکین کے بارے میں ہے گو منکرین خدا پر بھی چسپاں ہو جاتی ہے۔

۳۹۔۔۔۔۔۔۔۔  یعنی ان کی یہ بات کسی علمی دلیل پر مبنی نہیں ہے بلکہ محض اٹکل سے وہ ایسی باتیں کرتے ہیں ورنہ انہیں کیسے معلوم ہو گیا کہ مرنے کے بعد نہ روح کے ساتھ کوئی معاملہ پیش آتا ہے اور نہ دوبارہ زندہ ہونا ہے۔

۴۰۔۔۔۔۔۔۔۔  ان کی یہ حجت واقعی کوئی دلیل نہیں ہے بلکہ وہ اسے اپنے طور پر دلیل سمجھ کر پیش کرتے ہیں اور وہ یہ کہ اگر مردے زندہ کئے جانے والے ہیں تو ہم مارے باپ داد کو زندہ کر کے ہمارے سامنے کیوں نہیں لاتے۔ ان کا یہ مطالبہ بالکل بے جا تھا کیونکہ قرآن دوسری زندگی کی جو خبر دے رہا ہے وہ قیامت کے دن وقوع میں آنے والی بات ہے نہ کہ دنیا میں وقوع میں آنے والی۔ اگر دنیا میں وقوع میں آتی تو ایمان لانے کا سوال ہی کیا باقی رہتا اور امتحان کا کیا موقع رہتا۔

۴۱۔۔۔۔۔۔۔۔  یہ ان کے اعتراض کا مثبت انداز میں جواب ہے کہ زمانہ کی گردش سے نہ کسی کو زندگی ملتی ہے اور نہ موت آتی ہے بلکہ اللہ کے زندگی بخشنے سے زندگی ملتی ہے اور اس کے موت دینے سے آدمی مرتا ہے اور دوسری زندگی کے لیے اس نے قیامت کا دن مقرر کر رکھا ہے مگر لوگوں کی بڑی تعداد اتنی بری حقیقت سے بے خبر ہے۔

۴۲۔۔۔۔۔۔۔۔  یعنی قیامت کے دن الہ کے حضور ہر انسانی گروہ کی پیشی اس طرح ہو گی کہ وہ گھٹنوں کے بل گرا ہوا ہو گا۔ گھٹنوں کے بل گرنا خضوع کا اظہار ہے۔ برے بڑے متکبرین بھی اس روز گھٹنے ٹیک دینے پر مجبور ہوں گے۔ اور اجتماعی طور پر وہ قومیں بھی جو فخر سے اپنا سر اونچا کرتی رہی ہیں میدانِ حشر میں انتہائی خضوع کی حالت میں پیش ہوں گی۔

اس آیت میں محشر کی جو جھلک دکھائی گئی ہے وہ غرورِ نفس کو توڑنے اور قوموں کی خود سری کو ختم کرنے کے لیے کافی ہے بشرطیکہ وہ کھلے ذہن سے اس کا مطالعہ کریں۔

۴۳۔۔۔۔۔۔۔۔  یہ دفتر گویا اعمال کا ٹیپ ریکارڈ ہو گا اور ہر شخص اپنا ریکارڈ سن لے گا۔ قرآن کا یہ بیان کہ اعمال کا دفتر ناطق (بولنے والا) ہو گا انسان کے لیے تعجب کی بات نہیں رہی جبکہ وہ ٹیپ ریکارڈ ایجاد کر چکا ہے۔ نئے انکشافات اور ایجادات کے ساتھ قرآن کی صداقت اور زیادہ روشن ہوتی جا رہی ہے۔

۴۴۔۔۔۔۔۔۔۔  یعنی ہمارے فرشتے اسے ضبط تحریر میں لاتے ہیں۔

۴۵۔۔۔۔۔۔۔۔  آدمی ہمیشہ ہمیشہ کے لیے اللہ کی رحمت میں داخل ہو جائے اس سے زیادہ نمایاں کامیابی کیا ہو سکتی ہے ؟

۴۶۔۔۔۔۔۔۔۔  لوگوں میں ایسے بھی ہیں جو قیامت کے بالکل منکر ہیں اور ایسے بھی جن کو قیامت کے بارے میں شک ہے اور وہ یقین کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں کہ قیامت لازماً  آئے گی۔ یہ دونوں ہی قسم کے لوگ کافر اور مجرم ہیں کیونکہ دونوں آخرت کو نظر انداز کر کے زندگی گزارتے ہیں اس لیے دونوں کا انجام بھی یکساں ہے۔

۴۷۔۔۔۔۔۔۔۔  یعنی اس روز اپنے اعمال کے نتائج کو دیکھ کر انہیں احساس ہو جائے گا کہ انہوں نے آخرت کا انکار کر کے کتنے غلط اور کیسے برے کام کئے۔

۴۸۔۔۔۔۔۔۔۔  یعنی جہنم کا عذاب جس کا وہ دنیا میں مذاق اڑاتے رہے۔

۴۹۔۔۔۔۔۔۔۔  یعنی تم کو نظر انداز کر دیتے ہیں کہ تم رحم کے مستحق نہیں ہو۔

۵۰۔۔۔۔۔۔۔۔  دنیا کی رونق کو دیکھ کر انسان اس پر ایسا فریفتہ ہو جاتا ہے کہ اس کے بعد کی زندگی کے بارے میں کچھ سوچنے کے لیے آمادہ نہیں ہوتا۔ اسے بس یہی فکر رہتی ہے کہ دنیا کے فائدے زیادہ سے زیادہ حاصل کروں۔ رہی آخرت تو اگر وہ برپا ہو ہی گئی تو دیکھا جائے گا۔ یہ بہت بڑا دھوکہ ہے مگر آج بھی اکثر لوگ اس دھوکہ میں مبتلا نہیں۔ اور وہ قرآن ہی ہے جو انہیں اس دھوکہ سے نکالنا چاہتا ہے۔ کاش وہ قرآن کا سنجیدگی سے مطالعہ کرتے !

۵۱۔۔۔۔۔۔۔۔  کیونکہ توبہ کی جگہ دنیا ہے نہ کہ آخرت۔ دنیا کے امتحان میں فیل (ناکام) ہو جانے کے بعد دوبارہ امتحان دینے کا کوئی موقع نہیں۔

۵۲۔۔۔۔۔۔۔۔  یہ سورہ کی آخری آیتیں ہیں جو اللہ کی حمد و ثنا پر ختم ہو رہی ہیں اور اس بات کا احساس دلا رہی ہیں کہ اس سورہ میں جو حکیمانہ باتیں ارشاد ہوئی ہیں اس پر اللہ تعریف اور شکر کا مستحق ہے۔

٭٭٭

 

 

 

(۴۶) سورۃ الاحقاف

 

 (۳۵   آیات)

 

بسم اللہ الرحمٰن الر حیم

اللہ رحمٰن و رحیم کے نام سے

 

                   تعارف

 

نام

 

آیت ۲۱ میں قوم عاد کے مسکن الاحقاف کا ذکر ہوا ہے جو یمن کے قریب ایک ریگستانی علاقہ ہے۔ اس مناسبت سے اس سورہ کا نام ” الاحقاف” ہے۔

 

زمانۂ نزول

 

مکی ہے اور مضامین سے اندازہ ہوتا ہے کہ وسطی دور میں نازل ہوئی ہو گی۔ بعض مفسرین نے اس رائے کا اظہار کیا ہے کہ یہ سورہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کے سفر طائف سے واپسی پر نازل ہوئی تھی مگر طائف میں آپ کی دعوت کا جس طرح مذاق اڑایا گیا تھا اور جو شدید تکلیفیں آپ کو پہنچائی گئیں ان کی طرف اس سورہ میں کوئی اشارہ نہیں ملتا۔ رہا نخلہ کے مقام پر جنوں کے قرآن سننے کا واقعہ تو اس سلسلہ میں آیت ۲۹ کے ذیل میں وضاحت کر دی جائے گی انشاء اللہ۔

 

مرکزی مضمون

 

اس بات سے خبردار کرنا ہے کہ  توحید، آخرت اور رسالت کا انکار در حقیقت اس مقصدِ حق کا انکار ہے جس کے لیے اس کائنات کی تخلیق ہوئی ہے۔

 

نظمِ کلام

 

؂آیت ۱ تا ۱۲ میں قرآن کے کلامِ الوہی ہونے کے دعوے کو پیش کرتے ہوئے شرک کی نا معقولیت واضح کی گئی ہے اور رسالت کے سلسلہ میں شبہات کا ازالہ کیا گیا ہے۔

آیت ۱۳ تا ۱۶ میں اہل ایمان کے لیے تسلی اور خوشخبری ہے۔

آیت ۱۷ تا ۲۰ میں کافروں کو انجامِ بد سے خبردار کر دیا گیا ہے۔

آیت ۲۱ تا ۲۸ میں قومِ عاد کے انجام سے عبرت دلائی گئی ہے۔

آیت ۲۹ تا ۳۲ میں جنوں کے قرآن سننے اور اس سے متاثر ہو کر ایمان لانے کا ذکر ہوا ہے۔

آیت ۳۳ اور ۳۴ میں زندگی بعد موت کے سلسلہ میں شہ کا ازالہ بھی ہے اور جہنم کے عذاب سے خبردار بھی کر دیا گیا ہے۔

آیت ۲۵ میں نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو صبر کی تلقین اور تسلی ہے۔

                   ترجمہ

 

بسم اللہ الرحمٰن الر حیم

اللہ رحمٰن و رحیم کے نام سے

 

۱۔۔۔۔۔۔۔۔ حا۔ میم۔ ۱*

۲۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ کتاب اللہ کی طرف سے نازل ہوئی ہے جو غالب اور حکمت والا ہے۔ ۲*

۳۔۔۔۔۔۔۔۔ ہم نے آسمانوں اور زمین کو اور ان کے درمیان کی چیزوں کو (مقصدِ) حق کے ساتھ ۳* اور ایک معین مدت کے لیے ہی پیدا کیا ہے۔ ۴* مگر یہ کافر اس چیز سے ۵* رخ پھیرے ہوئے ہیں جس سے انہیں خبردار کیا گیا ہے۔

۴۔۔۔۔۔۔۔۔ کہو تم نے ان پر غور کیا جن کو تم اللہ کو چھوڑ کر پکارتے ہو؟ بتاؤ زمین کی کون سی چیز انہوں نے پیدا کی ہے یا آسمانوں کی تخلیق میں ان کا کیسا حصہ ہے ؟ اس سے پہلے کی کوئی کتاب یا کوئی علمی ثبوت (جو اس کی تائید میں ہو) میرے پاس لے آؤ اگر تم سچے ہو۔ ۶*

۵۔۔۔۔۔۔۔۔ اور ان سے بڑھ کر گمراہ اور کون ہو سکتے ہیں جو اللہ کو چھوڑ کر ان کو پکاریں جو قیامت تک ان کو جو اب نہیں دے سکتے اور وہ ان کی پکار سے بے خبر ہیں۔ ۷*

۶۔۔۔۔۔۔۔۔ اور جب تمام لوگ جمع کئے جائیں گے تو وہ ان کے دشمن ہوں گے اور ان کی عبادت کا انکار کریں گے۔ ۸*

۷۔۔۔۔۔۔۔۔ ان لوگوں کو جب ہماری روشن آیتیں سنائی جاتی ہیں تو یہ کافر حق کے بارے میں جو ان کے پاس آ گیا ہے کہتے ہیں کہ یہ صریح جادو ہے۔ ۹*

۸۔۔۔۔۔۔۔۔ کیا یہ لوگ کہتے ہیں کہ اس شخص نے اس کو گھڑ لیا ہے ؟ کہو اگر میں نے گھڑ لیا ہے تو تم لوگ مجھے اللہ سے ذرا بھی نہ بچا سکو گے اور تم جو باتیں بناتے ہو ان کو خوب جانتا ہے۔ میرے اور تمہارے درمیان وہ گواہی کے لیے کافی ہے۔ وہ بڑا معاف کرنے والا رحم فرمانے والا ہے۔ ۱۰*

۹۔۔۔۔۔۔۔۔ کہو میں کوئی نرالا رسول تو نہیں ہوں ۱۱* اور میں نہیں جانتا کہ میرے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے گا اور تمہارے ساتھ کیا معاملہ۔ ۱۲* میں تو صرف اس وحی کی پیروی کرتا ہوں جو میری طرف بھیجی جاتی ہے۔ اور میں تو بس کھلا خبردار کرنے والا ہوں۔ ۱۳*

۱۰۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کہو تم نے یہ بھی سوچا کہ اگر یہ اللہ کی طرف سے ہوا اور تم نے اس کا انکار کیا جبکہ بنی اسرائیل کے ایک گواہ نے اس جیسی کتاب پر گواہی دی ہے چنانچہ وہ ایمان لے آیا اور تم نے تکبر کیا۔ ۱۴* (تو یہ کتنا بڑا جرم ہو گا؟) اللہ ایسے ظالم لوگوں کو راہ پر نہیں لگاتا۔

۱۱۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کافر ایمان لانے والوں کے بارے میں کہتے ہیں کہ اگر یہ (قرآن) خیر ہوتا تو یہ لوگ ہم سے پہلے اس کو نہ پا لیتے۔ ۱۵* اور چونکہ انہوں نے اس سے ہدایت نہیں پائی اس لیے کہیں گے کہ یہ پرانا جھوٹ ہے۔ ۱۶*

۱۲۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ حالانکہ اس سے پہلے موسیٰ کی کتاب رہنما اور رحمت بن کر آ چکی ہے۔ ۱۷* اور یہ کتاب اس کی تصدیق کرنے والی ہے۔ ۱۸* عربی زبان میں تاکہ ظلم کرنے والوں ۱۹* (غلط) کار لوگوں ، کو خبردار کر دے اور یہ بشارت ہے نیکو کاروں کے لیے۔

۱۳۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جن لوگوں نے کہا اللہ ہمارا رب ہے پھر اس پر جمے رہے ان کے لیے نہ کوئی خوف ہے اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔ ۲۰*

۱۴۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ جنت والے ہیں جہاں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ یہ جزا ہو گی ان اعمال کی جو وہ کرتے رہے۔ ۲۱*

۱۵۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہم نے انسان کو ہدایت کی کہ اپنے والدین کے ساتھ نیک سلوک کرے۔ ۲۲* اس کی ماں نے تکلیف کے ساتھ اس کو پیٹ میں رکھا اور تکلیف کے ساتھ اس کو جنا۔ ۲۳* اس کے حمل اور دودھ چھڑانے میں تیس مہینے لگ گئے ۲۴* یہاں تک کہ جب وہ اپنے شباب کو پہنچا اور پہنچا چالیس سال کی عمر کو ۲۵* تو اس نے دعا کی اے میرے رب! مجھے توفیق عطا فرما کہ میں تیرے اس احسان کا شکر ادا کروں جو تو نے مجھ پر اور میرے والدین پر فرمایا۔ اور وہ نیک عمل کروں جو تجھے پسند ہے۔ اور میری اولاد کو بھی میرے لیے نیک بنا دے۔ میں نے تیری طرف رجوع کیا اور میں مسلمین (تیرے فرماں برداروں) میں سے ہوں۔ ۲۶*

۱۶۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ایسے لوگوں کے بہترین اعمال کو ہم قبول کریں گے۔ ۲۷* اور ان کی برائیوں سے درگزر کریں گے۔ وہ جنت والوں میں شامل ہوں گے۔ سچا وعدہ جو ان سے کیا جاتا رہا ہے۔

۱۷۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور جس شخص نے اپنے والدین سے کہا تم پر اُف ہے ! کیا تم مجھے اس سے ڈراتے ہو کہ میں قبر سے نکالا جاؤ ں گا حالانکہ مجھ سے پہلے کتنی ہی قومیں گزر چکی ہیں۔ ۲۸* اور وہ دونوں اللہ سے فریاد کرتے ہوئے اس سے کہتے ہیں کہ افسوس تجھ پر! ایمان لا۔ اللہ کا وعدہ سچا ہے۔ مگر وہ کہتا ہے کہ یہ گزرے ہوئے لوگوں کے فسانے ہیں۔ ۲۹*

۱۸۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ وہ لوگ ہیں جن پر اللہ (کے عذاب) کا فرمان لاگو ہوا ان گروہوں میں جو جنوں اور انسانوں میں سے ان سے پہلے گزرے۔ ۳۰* یقیناً یہ تباہ ہونے والے ہیں۔

۱۹۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور ہر ایک کے لیے ان کے اعمال کے لحاظ سے درجے ہوں گے۔ ۳۱* اور یہ (یہ اس لیے ہو گا کہ) وہ ان کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دے۔ اور ان پر ظلم ہرگز نہ کیا جائے گا۔

۲۰۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور جس دن کافر آگ کے سامنے پیش کئے جائیں گے (تو ان سے کہا جائے گا) تم اپنے حصہ کی اچھی چیزیں دنیا کی زندگی میں لے چکے اور ان سے فائدہ اٹھایا۔ ۳۲* تو آج تمہیں ذلت کا عذاب دیا جائے گا۔ اس بات کی پاداش میں کہ تم زمین میں بغیر کسی حق کے تکبر کرتے رہے اور اس لیے کہ تم نافرمانی کرتے رہے۔ ۳۳*

۲۱۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یاد کرو عاد کے بھائی کو ۳۴* جب اس نے احقاف ۳۵* میں اپنی قوم کو خبردار کیا ہے __ اور خبردار کرنے والے اس کے آگے بھی آئے تھے اور اس کے پیچھے بھی آئے۔ ۳۶*__ کہ اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو۔ مجھے تم پر ایک ہولناک دن کے عذاب کا اندیشہ ہے۔ ۳۷*

۲۲۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ انہوں نے کہا تم اس لیے آئے ہو کہ ہمیں ہمارے معبودوں سے برگشتہ کر دو۔ ۳۸* اگر تم سچے ہو تو لے آؤ وہ عذاب جس سے ہمیں ڈرا رہے ہو۔

۲۳۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس نے کہا اس کا علم تو اللہ ہی کو ہے۔ میں تو وہ پیغام تمہیں پہنچا رہا ہوں جس کے ساتھ مجھے بھیجا گیا ہے لیکن میں دیکھ رہا ہوں کہ تم لوگ جہالت برت رہے ہو۔

۲۴۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پھر جب انہوں نے اس کو ۳۹* بادل کی شکل میں اپنی وادیوں کی طرف آتے دیکھا تو کہنے لگے یہ بادل ہے جو ہم پر بارش برسائے گا۔ نہیں بلکہ یہ وہ چیز ہے جس کے لیے تم نے جلدی مچا رکھی تھی۔ یہ ہوا (کا طوفان) ہے جس میں دردناک عذاب ہے۔ ۴۰*

۲۵۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ ہر چیز کو تباہ کر دے گی اپنے رب کے حکم سے۔ چنانچہ ان کا حال یہ ہوا کہ ان کے گھروں کے سوا کچھ نظر نہ آتا تھا۔ ۴۱* ہم مجرموں کو اسی طرح سزا دیا کرتے ہیں۔ ۴۲*

۲۶۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہم نے ان کو وہ اقتدار بخشا تھا جو تم کو نہیں بخشا۔ ۴۳* ہم نے ان کو کان، آنکھیں اور دل دئے تھے مگر نہ ان کے کان ان کے کچھ کام آئے ، نہ ان کی آنکھیں اور نہ ان کے دل۔ اس بنا پر کہ وہ اللہ کی آیتوں کا انکار کرتے تھے۔ ۴۴* اور ان کو گھیر لیا اس چیز نے جس کا وہ مذاق اڑاتے تھے۔ ۴۵*

۲۷۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہم تمہارے گردو پیش کی بستیوں کو ہلاک کر چکے ہیں۔ ۴۶* ہم نے اپنی آیتیں گوناگوں طریقہ پر پیش کی تھیں تاکہ وہ رجوع کریں۔

۲۸۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تو کیوں نہ ان کی مدد کی ان ہستیوں نے جن کو انہوں نے اللہ کو چھوڑ کر تقرب کے لیے معبود بنا رکھا تھا۔ ۴۷* بلکہ وہ سب ان سے کھوئے گئے۔ یہ ان کا جھوٹ اور ان کی گھڑی ہوئی باتیں تھیں۔

۲۹۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور جب ہم نے جنوں ۴۸* کے ایک گروہ کو تمہارے طرف پھیر دیا تاکہ وہ قرآن سنیں۔ ۴۹* جب وہ وہاں پہنچے تو انہوں نے (آپس میں) کہا خاموش ہو جاؤ (اور سنو)۔ جب اس کی تلاوت پوری ہو گئی تو وہ اپنی قوم کی طرف خبردار کرنے والے بن کر لوٹے۔

۳۰۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ انہوں نے کہا اے ہماری قوم کے لوگو ! ہم نے ایک ایسی کتاب سنی ہے جو  موسیٰ کے بعد نازل کی گئی ہے۔ ۵۰* تصدیق کرتی ہے اس کتاب کی جو پہلے آ چکی ہے۔ ۵۱* یہ حق اور سیدھی راہ کی طرف رہنمائی کرتی ہے۔ ۵۲*

۳۱۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اے ہماری قوم کے لوگو ! اللہ کے داعی ۵۳* کی دعوت قبول کرو اور اس پر ایمان لے آؤ۔ ۵۴* اللہ تمہارے گناہ بخش دے گا ۵۵* اور تمہیں درد ناک عذاب سے بچائے گا۔ ۵۶*

۳۲۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور جو اللہ کے داعی کی دعوت قبول نہیں کرے گا تو اس کے بس میں نہیں ہے کہ زمین میں اللہ کے قابو سے نکل جائے ۵۷* اور نہ اللہ کے مقابل اس کا کوئی مددگار ہو گا۔ یہ لوگ کھلی گمراہی میں پڑے ہوئے ہیں۔ ۵۸*

۳۳۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کیا انہوں نے اس بات پر غور نہیں کیا کہ اللہ جس نے آسمان و زمین پیدا کئے اور جن کے پیدا کرنے سے وہ تھکا نہیں وہ مردوں کو زندہ کرنے پر قادر ہے۔ کیوں نہیں وہ ہر چیز کی قدرت رکھتا ہے۔

۳۴۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جس دن ۵۹* کافر جہنم کی آگ پر پیش کئے جائیں گے۔ (ان سے پوچھا جائے گا) کیا یہ حق نہیں ہے ؟ ۶۰* وہ کہیں گے ہاں ہمارے رب کی قسم۔ (یہ یقیناً حق ہے) فرمائے گا تو چکھو عذاب کا مزہ اپنے کفر کی پاداش ہیں۔

۳۵۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پس (اے نبی!) صبر کرو جس طرح عزم و ہمت والے رسولوں نے صبر کیا اور ان کے لیے جلدی نہ کرو۔ ۶۱* جس دن یہ لوگ اس چیز کو دیکھ لیں گے جس کا ان سے وعدہ کیا جا رہا ہے تو وہ محسوس کریں گے کہ گویا (وہ دنیا میں) دن کی ایک گھڑی سے زیادہ نہیں رہے تھے۔ ۶۲* یہ پیغام ہے۔ تو نافرمان لوگوں کے سوا اور کون تباہ ہو گا؟ ۶۳*

                   تفسیر

 

۱۔۔۔۔۔۔۔۔ ان حروف کی تشریح کے لیے دیکھئے سورۂ مومن نوٹ ۱۔

اس سورۂ میں آیت ۲ میں اللہ کے حکیم ہونے کا ذکر ہوا ہے۔ اور یہ حروف اس کی اسی صفت کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔

۲۔۔۔۔۔۔۔۔ تشریح کے لیے دیکھئے سورۂ جاثیہ نوٹ ۲۔

۳۔۔۔۔۔۔۔۔ تشریح کے لیے دیکھئے سورۂ انعام نوٹ ۱۲۴ اور سورۂ یونس نوٹ ۱۵۔

۴۔۔۔۔۔۔۔۔ تشریح کے لیے دیکھئے سورۂ روم نوٹ ۱۴۔

۵۔۔۔۔۔۔۔۔ یعنی قیامت اور جزا و سزا سے۔

۶۔۔۔۔۔۔۔۔ یعنی عبادت کا مستحق وہی ہو سکتا ہے جو خالق ہو۔ مشرکین بتائیں کہ وہ اللہ کے سوا جن کو معبود ٹھہراتے ہیں انہوں نے کیا چیز پیدا کی ہے اس کائنات کی تخلیق میں ان کا کوئی حصہ ہے ؟ اگر نہیں ہے تو وہ معبود کس طرح ہوئے ؟ اور اگر کسی کا یہ دعویٰ ہے کہ اللہ کے سوا اور ہستیوں نے بھی کوئی چیز پیدا کی ہے اور وہ خدا کے شریک ہیں تو یہ بات کس طرح معلوم ہوئی۔ اس کے جاننے کا ذریعہ اللہ کی کتاب ہو سکتی ہے یا انبیائی ہدایت جو اس طرح منقول ہو کہ علم و یقین کا درجہ حاصل ہو جائے۔ اب اگر اس کا ثبوت نہ قرآن سے پہلے کی کسی آسمانی کتاب میں مل رہا ہے اور نہ انبیائی ہدایت میں جو حضرت ابراہیم اور حضرت اسمٰعیل سے منقول ہے تو اتنے بڑے دعوے کے لیے کیا بنیاد رہ جاتی ہے ؟

واضح رہے کہ قرآن کا چیلنج ان کتابوں کے بارے میں ہے جو واقعی آسمانی کتابیں ہیں اور جن کا رسولوں پر نازل ہونا ایک تاریخی حقیقت ہے۔ تورات، زبور، اور انجیل میں اگرچہ بہت کچھ رد و بدل ہوا ہے لیکن ان میں کلام الٰہی کے اجزاء موجود ہیں۔ ان کتابوں میں یہ کہیں بھی نہیں کہا گیا ہے کہ ایک خدا کے سوا کسی اور نے کوئی چیز پیدا کی ہے یا اس کائنات کے کئی خدا ہیں یا یہ کہ انسان کو ایک خدا کے سوا کسی اور کی بھی پرستش کرنی چاہیے۔ رہیں وہ کتابیں جن کو مختلف مذہبی گروہوں نے اپنے اپنے مذہب کی مقدس کتاب قرار دے رکھا ہے تو ان کے آسمانی کتاب ہونے کا نہ تاریخی ثبوت ہے اور نہ ان کتابوں کا یہ دعویٰ ہے کہ و ہ کلامِ الٰہی ہیں اور نہ ان کے مضامین ان کے کلامِ الہیٰ ہونے کی شہادت دیتے ہیں اس لیے ان مذہبی کتابوں میں اگر مختلف دیوی دیوتاؤں کا تصور پایا جاتا ہے تو وہ کوئی دلیل نہیں بلکہ وہ ان کتابوں کو مرتب کرنے والوں کے باطل عقائد ہیں جن کو انہوں نے اپنے مذہب کی ” مقدس کتاب ” کی حیثیت سے پیش کیا ہے۔ یہ اللہ پر افتراء اور بہتان ہے نہ کہ اس کی فرمودہ بات۔

اسی طرح عقیدہ کے بارے میں انبیاء علیہم السلام کی طرف منسوب وہی روایتیں دلیل اور حجت کی حیثیت رکھتی ہیں جو علم و یقین کے درجہ کی ہوں۔ مثال کے طور پر حضرت ابراہیم کا بیت اللہ کو تعمیر کرنا اور حج کا سلسلہ جاری کرنا تاکہ توحید کے نقوش ہر زمانہ میں نمایاں ہوتے رہیں۔ اسی لیے قرآن نے اثارۃٍ کے ساتھ مِنْ عِلم کی قید لگائی ہے یعنی وہ باتیں جن کا کسی رسول سے منقول ہونا علم و یقین کی حد تک درست ہو۔

۷۔۔۔۔۔۔۔۔ آیت میں مَنْ (جو Whom) کا لفظ استعمال ہوا ہے جو عربی میں عقل رکھنے والوں کے لیے استعمال ہوتا ہے اس لیے مراد فرشتے ، جن، انبیاء اور بزرگ شخصیتیں ہی ہو سکتی ہیں۔ قرآن صراحت کرتا ہے کہ ان کو حاجت روئی، مشکل کشائی اور فریاد رسی کے لیے پکارنا بہت بڑی گمراہی اور بالکل بے معنی بات ہے ان کو پکارنے کے لیے نہ کوئی وجہ جواز ہے اور نہ وہ کسی کی پکار سنتے ہیں۔

قرآن کی اس صراحت کے باوجود مسلمانوں کی بڑی تعداد اس گمراہی میں مبتلا ہے۔ وہ اولیاء اور پیروں کو مدد کے لیے پکارتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ قبروں میں دفن ہونے کے باوجود وہ ہماری پکار سن لیتے ہیں حالانکہ وہ ان کی پکار سے بالکل بے خبر رہتے ہیں۔ یہ عقیدہ ہی فاسد ہے کہ جو قبروں میں مدفون ہیں وہ پکارنے والے کی پکار سنتے ہیں جب وہ اپنی زندگی میں دور سے پکارنے والے کی آواز نہیں سن سکتے تھے تو مرنے کے بعد ان کو یہ قدرت کہاں سے حاصل ہوئی کہ عالمِ برزخ میں رہتے ہوئے دنیا والوں سے ربط پیدا کریں اور اپنے ہر عقیدت مند کی خواہ وہ دنیا کے کسی گوشہ میں رہتا ہو پکار سنیں ؟ یہ سراسر لغو بات ہے مگر ایسی لغو باتوں کو ” جاہل عالموں ” نے اسلامی عقیدہ کی حیثیت دی ہے اور ان آیتوں کی تاویل کرتے ہیں کہ یہ بت پرستوں کے بارے میں ہیں۔ اس غلط تاویل کے نتیجہ میں مسلمانوں کی بڑی تعداد شرک میں مبتلا ہے۔ اگر وہ صاف ذہن سے قرآن کا مطالعہ کرتے تو ان کو ہدایت نصیب ہوتی۔

۸۔۔۔۔۔۔۔۔ یعنی یہ نہ سمجھو کہ جن کی عقیدت میں غلو کر کے (بڑھ کر) تم انہیں اپنی حاجتیں پوری کرنے کے لیے پکار ر ہے ہو وہ قیامت کے دن تم سے خوش ہوں گے نہیں بلکہ وہ تمہارے دشمن ہوں گے کہ تم نے ان کے ساتھ وہ معاملہ کیوں کیا جو خدا ہی کے ساتھ کرنے کا تھا اور تمہاری اس پکار کا جو عبادت کی حیثیت رکھتی ہے صاف انکار کریں گے کہ ہمیں اس کی کوئی خبر نہ تھی۔

۹۔۔۔۔۔۔۔۔ یعنی کلامِ الٰہی کی تاثیر کو دیکھ کر اسے جادو قرار دیتے ہیں۔

۱۰۔۔۔۔۔۔۔۔ یعنی تمہیں موقع دے رہا ہے کہ توبہ اور اصلاح کر کے اس کی معرفت اور رحمت کے مستحق ہو جاؤ۔

۱۱۔۔۔۔۔۔۔۔ یعنی ایسا تو نہیں ہے کہ انسانی تاریخ رسولوں سے خالی رہی ہو اور اب میرے دعوے رسالت کو سن کر لوگوں کو تعجب ہو کہ ایک نرالی بات ہے جو ہمارے سامنے آ رہی ہے۔ جب تاریخی واقعات اس پر شاہد ہیں کہ اس سے پہلے بھی رسول آتے رہے ہیں تو پھر میرا رسول ہونا کوئی نرالی بات نہیں ہوئی۔ اس لیے تمہیں غور کرنا چاہیے کہ آیا میرا یہ دعویٰ محض دعویٰ ہے یا ایک ایسی حقیقت جو ناقابل انکار دلائل سے ثابت ہے۔

۱۲۔۔۔۔۔۔۔۔ یعنی مجھے نہیں معلوم کہ رسول ہونے کی حیثیت سے مجھے آئندہ کن مراحل سے گزارا جائے گا اور نہ مجھے یہ معلوم ہے کہ تمہارے بارے میں کب کیا فیصلہ کیا جانے والا ہے۔ آیا تمہیں توبہ کی توفیق بخشی جائے گی یا تمہیں بھی اسی طرح ہلاک کر دیا جائے گا جس طرح تم سے پہلے کی قوموں کو ہلاک کیا جا چکا ہے۔ ان باتوں کا تفصیلی علم مجھے نہیں ہے البتہ وحی الٰہی کے ذریعہ جو علم مجھے حاصل ہوتا ہے اس پر میں یقین کرتا ہوں۔

یہ آیت صراحت کرتی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کو مستقبل کے حالات کا علم اسی حد تک ہوتا تھا جس حد تک کہ وحی الٰہی آپ کو اس کا علم بخشی تھی ورنہ عالم الغیب صرف اللہ کی ذات ہے۔

علامہ آلوسی اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں :

” میں کہنے والے کے اس قول کو اچھا نہیں سمجھتا کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم غیب کو جانتے تھے۔ اس کے بجائے یہ کہنا بہتر ہو گا کہ آپ کو اللہ تعالیٰ نے غیب پر مطلع فرمایا تھا اور آپ کو اس کا علم بخشا تھا۔ ” (روح المعانی ج ۲۶ ص ۱۰)

۱۳۔۔۔۔۔۔۔۔ یعنی اس کے بعد اس پر ایمان لانا تمہاری ذمہ داری ہے۔ میری یہ ذمہ داری نہیں ہے کہ ایمان لانے کے لیے مجبور کروں۔

۱۴۔۔۔۔۔۔۔۔ بنی اسرائیل کے ایک گواہ سے مراد ان میں کا ایک شخص ہے جو تورات کا علم رکھتا تھا اور ان آیات کے نزول کے وقت ایمان لایا تھا۔ اس کے بعد مکہ میں اہل کتاب میں سے اور لوگ بھی ایمان لائے جن کا ذکر سورۂ بنی اسرائیل میں ہوا ہے :

اِنَّ الَّذِیْنَ اُوْتُوالعِلْمَ مِنْ قَبْلِہٖ اِذَاایُتْلٰی عَلَیْہِمْ یَخِرُّوْنَ لِلْاَذْقَانِ سُجَّدًا۔ وَیَقُوْلُوْنَ سُبْحٰنِ رَبِّنَا اِنْ کَانَ وَعْدُرَبِّنَا لَمَفْعُوْلاً۔ (بنی اسرائیل:۱۰۷،۱۰۸) ” جن لوگوں کو اس سے پہلے علم دیا گیا ہے انہیں جب یہ سنایا جاتا ہے تو وہ ٹھوڑیوں کے بل سجدہ میں گر جاتے ہیں اور پکار اٹھتے ہیں کہ پاک ہے ہمارا رب۔ ہمارے رب کا وعدہ اسی لیے تھا کہ پورا ہو کر رہے۔ ”

تو جس طرح سورۂ بنی اسرائیل کی اس آیت میں کوئی خاص شخصیت مراد نہیں ہے اسی طرح آیت زیر تفسیر میں بھی گواہ سے کوئی خاص شخصیت مراد نہیں ہے بلکہ وہ شخص مراد ہے جو تورات کا علم رکھتے ہوئے قرآن پر ایمان لایا تھا اور علامہ ابن کثیر نے آیت کی یہی توجیہ کی ہے۔ جن مفسرین نے مدینہ کے یہودی عالم عبداللہ بن سلام کی شخصیت مراد لی ہے انہوں نے اس آیت کو مدنی قرار دیا ہے حالانکہ پوری سورۂ مکی ہے یہ تکلف انہیں اس لیے کرنا پڑا کہ عبداللہ بن سلام نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے مدینہ ہجرت کر جانے کے بعد ایمان لائے تھے اس لیے اس آیت کے نزول کے وقت وہ اس کا مصداق نہیں ہو سکتے تھے۔ صاحبِ تدبر قرآن نے ایک اور بات لکھی ہے اور وہ یہ ہے کہ اس گواہ سے مراد حضرت مسیح علیہ السلام ہیں جنہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی آمد کی پیشین گوئی کی تھی مگر آیت کے یہ الفاظ کہ وہ اس جیسی چیز پر ایمان لے آیا ان پر منطق نہیں ہوتے۔

مدعا اس آیت کا منکرین قرآن کو اس بات کی طرف متوجہ کرنا ہے کہ جب نبی اسرائیل کا ایک شخص جو کتابِ الٰہی کا علم رکھتا ہے یہ گواہی دیتے ہوئے کہ قرآن کی تعلیم تورات کی تعلیم سے بالکل مطابقت رکھتی ہے اس پر ایمان لایا ہے تو تمہارا اس کو ایک نرالی تعلیم سمجھ کر رد کر دینا کتنی بڑی غیر ذمہ دارانہ بات ہے۔

۱۵۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ کافروں کے سرداروں اور دنیوی حیثیت رکھنے والوں کا قول ہے۔ وہ سمجھتے تھے کہ یہ شان و شوکت ہمیں اسی لیے حاصل ہے کہ اللہ ہم سے خوش ہے لہٰذا اگر قرآن اللہ کی طرف سے نازل ہوا ہوتا تو اتنے بڑے خیر سے وہ سب سے پہلے ہمیں نوازتا مگر جب اس کی توفیق ہمیں نہیں ملی اور ایسے لوگوں نے اسے قبول کیا جو غریب ہیں اور اثر و رسوخ نہیں رکھتے تو یہ اللہ کی طرف سے نازل شدہ خیر کیسے ہو سکتا ہے ؟ان کی یہی غلط ذہنیت تھی جس کی وجہ سے وہ ہدایت سے محروم رہے۔

۱۶۔۔۔۔۔۔۔۔ یعنی قرآن قیامت اور جزا و سزا وغیرہ کی جو باتیں کرتا ہے وہ بالکل جھوٹ ہیں اور اس جھوٹ کی تاریخ بہت پرانی ہے کیونکہ گزری ہوئی قوموں کو بھی ایسی باتیں کہہ کر ڈرایا جاتا رہا ہے۔

۱۷۔۔۔۔۔۔۔۔ یعنی جس چیز کو وہ جھوٹ قرار دے رہے ہیں وہ جھوٹ کس طرح ہو سکتا ہے جب کہ وہ چیز لوگوں کی صحیح رہنمائی کرتی رہی ہے چنانچہ تورات سے لوگ ہدایت حاصل کرتے رہے ہیں اور اس بنا پر اللہ کی رحمت ان پر سایہ فگن رہی ہے۔

۱۸۔۔۔۔۔۔۔۔ یعنی قرآن بنیادی طور پر وہی تعلیم پیش کر رہا ہے جو تورات کی تعلیم تھی۔ یہ کوئی ایسی کتاب نہیں ہے جو نرالی تعلیم پیش کرتی ہو۔

۱۹۔۔۔۔۔۔۔۔ ظلم کرنے والوں سے مراد وہ لوگ ہیں جو شرک جیسی معصیت میں مبتلا ہو کر خود اپنے نفس پر ظلم کرتے ہیں۔

۲۰۔۔۔۔۔۔۔۔ تشریح کے لیے ملاحظہ ہو سورۂ حٰم السجدہ نوٹ ۴۴ اور ۴۵۔

۲۱۔۔۔۔۔۔۔۔ یعنی جنت مفت ملنے کی چیز نہیں ہے بلکہ وہ اعمال کی جزا میں دی جائے گی۔ لہٰذا جو شخص بھی جنت حاصل کرنا چاہتا ہے وہ اپنی عملی زندگی سے جنت کا مستحق ہونا ثابت کر دکھائے۔

۲۲۔۔۔۔۔۔۔۔ بندوں کے حقوق میں سب سے بڑا حق ماں باپ کا ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ اچھا برتاؤ کرنے کی سخت تاکید کی ہے۔ اچھے برتاؤ میں ان کا ادب و احترام، ان کی خدمت ، ان کی مدد، ان کو خوش و خرم رکھنے کی کوشش، ان کے لیے ایثار اور ان کے حق میں دعائے خیر سب شامل ہے۔ یہ ان سے فطری تعلق کا تقاضا ہے اس لیے شریعت نے اس کو بڑی اہمیت دی ہے۔ اور بہت بڑی نیکی قرار دیا ہے۔ مگر مغربی معاشرہ جو اخلاق سے عاری ہو گیا ہے اس حق کو نہیں مانتا۔ اولاد ماں باپ سے بالکل بے پرواہ رہتی ہے اور ان کے تعلق سے اپنی کوئی ذمہ داری محسوس نہیں کرتی اور جو لوگ خدا کا حق نہ پہنچاتے ہوں وہ بندوں کا حق کیا پہچانیں گے۔

مزید تشریح کے لیے دیکھئے سورۂ لقمان نوٹ ۱۷ ،۲۰ اور ۲۱ نیز سورہ بنی اسرائیل نوٹ ۲۸۔

۲۳۔۔۔۔۔۔۔۔ اسی بناء پر باپ کی بہ نسبت ماں حسن سلوک کی زیادہ مستحق ہے۔ آیت کے اس اشارہ کو نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے کھول کر بیان فرمایا ہے چنانچہ حدیث میں آتا ہے کہ:

” ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا:

اے اللہ کے رسول ؐ میرے حسنِ سلوک کا سب سے زیادہ مستحق کون ہے ؟

فرمایا تمہاری ماں۔ اس نے پوچھا پھر کون؟ فرمایا تمہاری ماں ، اس نے پوچھا پھر کون ؟ فرمایا تمہاری ماں ، اس نے پوچھا پھر کون ؟ فرمایا پھر تمہارا باپ۔ ” (بخاری کتاب الادب)

۲۴۔۔۔۔۔۔۔۔ اس آیت میں حمل اور دودھ چھڑانے کی مدت اکٹھا طور پر تیس مہینے بیان ہوئی ہے جب کہ سورہ لقمان میں دودھ چھڑانے کی مدت دو سال بیان ہوئی ہے :

وفِصٰلُہٗ فِی عَامَیْن (لقمان:۱۴) ” اور دو سال اس کے دودھ چھڑانے میں لگے۔ ”

نیز سورۂ بقرہ میں مدت رضاعت کامل دو سال بیان ہوئی ہے (سورۂ بقرہ آیت۔۲۳۳)  اس لیے فقہا نے سورۂ احقاف کی اس آیت سے یہ قاعدہ اخذ کیا ہے کہ حمل کی کم سے کم مدت چھ ماہ ہے۔ یعنی اگر نکاح کے چھ ماہ بعد بچہ تولد ہوتا ہے تو وہ جائز اولاد سمجھی جائے گی۔

۲۵۔۔۔۔۔۔۔۔ جوانی کی عمر ہوش سنبھالنے اور چالیس سال کی عمر عقل کی پختگی کی عمر ہے۔

۲۶۔۔۔۔۔۔۔۔ اس آیت میں اس شخص کا کردار بیان ہوا ہے جو اللہ سے ڈرنے اور اس کے حضور جوابدہی کا احساس رکھنے والا ہے۔ وہ ہوش سنبھالتے ہی اللہ کے احسان کو یاد کرتا ہے اور خاص طور سے اس احسان کو کہ اس نے اس کے ماں باپ کو اولاد عطا فرمائی اور اس کی پرورش کے قابل انہیں بنایا۔ جب وہ چالیس سال کا ہوتا ہے تو یہ احساس اس میں اور شدت سے ابھرتا ہے اور وہ شکر کی اور نیک بننے کی توفیق طلب کرتا ہے نیز یہ دعا کرتا ہے کہ میری اولاد کو بھی نیک بنا دے۔

واضح ہوا کہ نیک آدمی اپنی اولاد کو بھی نیک دیکھنا ہی پسند کرتا ہے۔ ایسا شخص لازماً اپنی اولاد کو دین کی تعلیم دے گا اور اس کی صحیح تربیت کرے گا۔

آیت میں ” وہ نیک عمل کروں جو تجھے پسند ہے ” کا اشارہ اس بات کی طرف ہے کہ نیکی وہی معتبر ہے جو خالصۃً اللہ کی رضا حاصل کرنے کی غرض سے کی گئی ہو۔ جو ریاء اور نمائش وغیرہ سے پاک ہو۔

۲۷۔۔۔۔۔۔۔۔ یعنی ایسے لوگوں کے اچھے اعمال نہ صرف اچھے ہیں بلکہ چونکہ وہ نیک نیتی کے ساتھ اپنی صحیح اسپرٹ میں ادا کئے  گئے ہیں اس لیے اللہ کی نظر میں وہ بہترین اعمال ہیں اس لیے وہ قبولیت کا درجہ حاصل کریں گے۔

۲۸۔۔۔۔۔۔۔۔ یعنی جو قومیں گزر چکی ہیں وہ دوبارہ زندہ ہو کر نہیں آئیں۔

۲۹۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ اس شخص کا کردار ہے جو آخرت کا منکر ہے اور جب اس کے مومن والدین اس کو ایمان لانے کے لیے کہتے ہیں تو وہ دوسری زندگی کو افسانہ قرار دینے لگتا ہے۔ والدین کی نصیحت کو قبول کرنے کے بجائے ان کے ساتھ گستاخی سے پیش آنے لگتا ہے۔

ان آیات کا کھلا اشارہ اس وقت کے حالات کی طرف ہے جب یہ سورہ نازل ہوئی اس وقت دونوں ہی کردار جن کا ان آیتوں میں ذکر ہوا ہے ابھر کر سامنے آ گئے تھے۔

۳۰۔۔۔۔۔۔۔۔ یعنی اس کردار کے لوگ عذاب کے مستحق ہے اور انسانوں اور جنوں کے اس گروہ میں شامل ہیں جو اس سے پہلے عذاب کا مستحق ہو چکا ہے۔

۳۱۔۔۔۔۔۔۔۔ یعنی جو شخص جتنا نیک ہو گا اسی مناسبت سے جنت میں اس کا درجہ ہو گا اور جو شخص جتنا برا ہو گا اسی مناسبت سے جہنم میں اس کی جگہ متعین ہو گی۔

اگر آدمی آخرت میں اعلیٰ درجہ چاہتا ہے تو اعلیٰ درجہ کے اعمال کرے۔

۳۲۔۔۔۔۔۔۔۔ یعنی دنیا میں جو نعمتیں اللہ تعالیٰ نے تمہیں عطا کی تھیں ان میں تم ایسے مگن رہے کہ نہ تمہیں خدا یاد آیا اور نہ آخرت۔ دنیا کی نعمتیں تو اس لیے ہیں کہ آدمی اپنے رب کا شکر گزار ہو اور ان کو اس طرح استعمال کرے کہ آخرت میں اس کا نعم البدل ملے۔ نہ اس لیے کہ وہ بس دنیا بٹورے اور مادہ پرست بن کر رہ جائے۔

۳۳۔۔۔۔۔۔۔۔ تکبر سے دل کے گھمنڈ کی طرف اور فسق (نافرمان) سے برے اعمال کی طرف اشارہ ہے۔

۳۴۔۔۔۔۔۔۔۔ مراد ہود علیہ السلام ہیں جو قوم عاد کے ایک فرد تھے اور اس کی طرف رسول بنا کر بھیجے گئے تھے۔ ان کی سر گزشت سورۂ اعراف اور سورۂ ہود میں گزر چکی۔

۳۵۔۔۔۔۔۔۔۔ احقاف کے معنی ریت کے ٹیلوں کے ہیں اور مراد اس سے وہ علاقہ ہے جو حضرِ موت کے قریب یمن کے مشرق میں واقع ہے۔ یہاں قوم عاد آباد تھی جس کا زمانہ ابراہیم علیہ السلام سے پہلے کا ہے۔ یہ علاقہ اس زمانہ کا سب سے بڑا متمدن علاقہ تھا لیکن اب تک ایک لق و دق ریگستان ہے جہاں ریت کے ایسے تودے ہیں کہ سفر کرنا مشکل ہے۔ جغرافیہ میں اس علاقہ کا نام الرّبع الخالی ہے۔ (دیکھئے نقشہ بر صفحہ تفسیر سورۂ فجر)

۳۶۔۔۔۔۔۔۔۔ یعنی حضرت ہود کوئی نئے رسول نہیں تھے۔ ان سے پہلے بھی رسول آئے تھے اور ان کے بعد بھی رسول آتے رہے۔

۳۷۔۔۔۔۔۔۔۔ مراد نزولِ عذاب کا دن ہے جس کی تباہی نہایت ہولناک ہو گی۔

۳۸۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ بت پرست قوم تھی اور اپنے بتوں کو چھوڑ کر اللہ کو واحد معبود مان لینے کے لیے ہرگز آمادہ نہیں تھی۔

۳۹۔۔۔۔۔۔۔۔ یعنی عذاب کو۔

۴۰۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ بادل کو دیکھ کر خوش ہو رہے تھے کہ بارش ہو گی اور انہیں سکون ملے گا مگر حضرت ہود نے __جیسا کہ قرینہ سے واضح ہے __ان کو متنبہ کیا کہ یہ تمہارے لیے باعثِ رحمت نہیں بلکہ باعثِ زحمت ہے اور یہ عذاب ہے جو تمہارے سروں پر منڈلا رہا ہے۔

۴۱۔۔۔۔۔۔۔۔ یعنی طوفانی ہوا نے ان کو اس طرح ہلاک کیا کہ وہ صفحۂ ہستی سے مٹ گئے اور ان کا شاندار تمدن بھی خاک میں مل گیا۔

۴۲۔۔۔۔۔۔۔۔ یعنی مجرم قوموں کو اللہ تعالیٰ جس طرح دنیا میں سزا دیتا ہے اس کا ایک نمونہ یہ عذاب ہے جو قومِ ہود پر نازل ہوا۔

۴۳۔۔۔۔۔۔۔۔ مخاطب قریش ہیں۔

۴۴۔۔۔۔۔۔۔۔ واضح ہوا کہ کان، آنکھ اور دل و دماغ کی صلاحیتیں (Faculties) اسی صورت میں کار آمد ثابت ہوتی ہیں جب کہ اللہ کی نشانیوں کو دیکھنے اور اس کی آیتوں (Revelations) کو پڑھنے اور سننے کے لیے ان کو استعمال کیا جائے پھر جو حقیقت روشن ہو کر سامنے آئے اس کو قبول کیا جائے۔

۴۵۔۔۔۔۔۔۔۔ یعنی اللہ کے عذاب نے جس کا وہ مذاق اُڑاتے تھے۔

۴۶۔۔۔۔۔۔۔۔ یعنی عاد، ثمود، مدین وغیرہ کی بستیاں جو عرب علاقہ ہی میں تھیں۔

۴۷۔۔۔۔۔۔۔۔ یعنی ان کے یہ معبود جن کے بارے میں ان کا عقیدہ یہ تھا کہ وہ اللہ کا تقرب حاصل کرنے کا ذریعہ ہیں اس وقت ان کی مدد کو کیوں نہ آئے جب ان پر اللہ کا عذاب ٹوٹ پڑا؟ جب یہ معبود اپنے پرستاروں کو اللہ کے عذاب سے نہیں بچا سکے تو یہ حقیقت ثابت ہوئی کہ اللہ کے سوا کوئی نہیں جو فریاد رس (غوث) ،مشکل کشا اور مدد گار ہو اور اس کے سوا کوئی نہیں جو عبادت کا مستحق ہو۔ کسی کو تقربِ الٰہی کا ذریعہ سمجھ کر اس کے ساتھ وہ معاملہ کرنا جو خدا ہی کے ساتھ کیا جا سکتا ہے سراسر گمراہی اور اللہ پر جھوٹ باندھنا ہے۔

۴۸۔۔۔۔۔۔۔۔ جن (Genie) اللہ ہی کی پیدا کردہ ایک مخلوق ہے جو ہمیں دکھائی نہیں دیتی لیکن وحی الٰہی نے ہمیں اس سے باخبر کیا ہے۔ ان کی تخلیق کے بارے میں دیکھئے سورۂ حجر نوٹ ۲۵۔

۴۹۔۔۔۔۔۔۔۔ اللہ تعالیٰ نے جنوں کے ایک گروہ کو نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی طرف متوجہ کر دیا تاکہ وہ آپؐ سے قرآن سنیں۔ جب انہوں نے قرآن سنا تو انہیں یہ پہچاننے میں کوئی دقت پیش نہیں آئی کہ یہ وحی الٰہی ہے چنانچہ بات فوراً ان کے دل میں اتر گئی اور وہ ایمان لائے اور نہ صرف ایمان لائے بلکہ اس کے مبلغ بن کر اپنی قوم کی طرف لوٹے اور انہیں خبردار کیا۔ یہاں اس واقعہ کو پیش کر کے واضح کرنا یہ مقصود ہے کہ قرآن کا کلام الٰہی ہونا ایک واضح حقیقت ہے۔ اس کو پہچاننے میں نہ سلیم الفطرت انسانوں کو کوئی دقت پیش آتی ہے اور نہ سلیم الفطرت جنوں کو اور یہ اس کی معجزانہ شان ہے۔

سورۂ جن میں بھی جنوں کے ایک گروہ کے قرآن کے سننے اور اس پر ایمان لانے کا ذکر ہوا ہے مگر سورۂ احقاف کی ان آیتوں میں ان کے مبلغ بن کر اپنی قوم کو خبردار کرنے کا بھی ذکر ہے اس لیے معلوم ہوتا ہے کہ یہ دو الگ الگ واقعات ہیں۔ سورۂ جن کا واقعہ مکہ کے ابتدائی دور کا معلوم ہوتا ہے اور سورۂ احقاف میں بیان کردہ واقعہ اس کے بعد کا یعنی مکہ کے درمیانی دور کا۔ عام طور سے مفسرین نے ابنِ ہشام کی روایت پر اعتماد کیا ہے جس کے مطابق یہ واقعہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی طائف کے سفر سے واپسی میں نخلہ کے مقام پر پیش آیا تھا۔ مگر بخاری اور مسلم کی حدیثیں نخلہ کے واقعہ کو سورۂ جن کے نزول سے متعلق قرار دیتی ہیں اور یہی بات صحیح معلوم ہوتی ہے۔ (دیکھئے بخاری کتاب التفسیر،تفسیر سورۂ جناور مسلم کتاب الصلوٰۃ باب الجہر با القرآن فی القبح)

اس لیے سورہ احقاف میں بیان کردہ واقعہ کو نخلہ کا واقعہ سمجھنا صحیح نہیں معلوم ہوتا۔ یہ کسی اور مقام پر پیش آیا ہو گا۔

واضح رہے کہ قرآن نے کہیں بھی یہ صراحت نہیں کی کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے جنوں کو دیکھ لیا تھا اور آپ کی ان سے بالمشافہ گفتگو ہوئی بلکہ صراحت کرتا ہے کہ آپ کو ان کے قرآن سننے کی خبر وحی کے ذریعہ دی گئی اور بخاری و مسلم کی حدیثوں میں بھی جو سورۂ جن کے نزول سے متعلق ہیں یہی بات بیان ہوئی ہے۔

مزید تشریح کے لیے دیکھئے سورۂ انعام نوٹ ۲۴۱۔

۵۰۔۔۔۔۔۔۔۔ حضرت موسیٰ کا ذکر جنوں نے اس لیے کیا کہ ان کو ایک جامع کتاب تورات عطا ہوئی تھی، زبور اور انجیل کا نزول اس اصل کتاب کی تجدید کے لیے ہوا تھا نیز اس لیے بھی کہ حضرت سلیمان حضرت موسیٰ کی امت میں سے تھے اور جنوں کو حضرت سلیمان کے تابع کر دیا گیا تھا۔

۵۱۔۔۔۔۔۔۔۔ یعنی وہ تصدیق کرتی ہے کہ تورات اللہ کی کتاب تھی نیز اس کی تعلیم بھی وہی ہے جو تورات کی تھی۔

۵۲۔۔۔۔۔۔۔۔ یعنی یہ صحیح اور سچا عقیدہ پیش کرتی ہے اور وہ راہ دکھاتی ہے جو اللہ تک پہنچنے والی ہے۔

۵۳۔۔۔۔۔۔۔۔ مراد اللہ کا رسول ہے۔ اس کی دعوت کو قبول کرنے میں قرآن پر ایمان لانا بھی شامل ہے۔

۵۴۔۔۔۔۔۔۔۔ یعنی رسول پر ایمان لے آؤ۔

۵۵۔۔۔۔۔۔۔۔ جس طرح انسان گناہ کے کام کرتا ہے اسی طرح جن بھی گناہ کے کام کرتے ہیں اور جس طرح ایمان لانے سے انسان کے وہ گناہ جو وہ کر چکا ہے معاف ہوتے ہیں اسی طرح کسی جن کے ایمان لانے سے اس کے گناہ بھی معاف ہو جاتے ہیں۔

واضح ہوا کہ جن بھی اللہ کے رسولوں اور اس کی کتابوں پر ایمان لانے نیز ایک اللہ ہی کی عبادت کرنے اور نیک عمل کرنے کے مکلف (ذمہ دار بنائے گئے) ہیں اور ان کے لیے بھی یہ دنیا اسی طرح دارالامتحان ہے جس طرح انسانوں کے لیے البتہ زمین کا خلیفہ (حاکم) انسان کو بنایا گیا ہے نہ کہ جنات کو اس لیے دونوں کے عمل کا دائرہ الگ الگ ہے اس لیے ممکن ہے ان کے لیے کسی تفصیلی شریعت کی ضرورت نہ ہو اور دین کی کلیات پر عمل کرنا ان کے لیے کافی ہو۔ مثلاً عقیدہ، عبادت، اخلاق، حق اور نیکی کی تلقین اور برائیوں سے روکنا وغیرہ۔ چونکہ جنات کا معاملہ غیب سے تعلق رکھتا ہے اس لیے ان کے بارے میں ہمیں اسی علم پر اکتفاء کرنا چاہیے جو قرآن اور احادیثِ صحیحہ کے ذریعہ حاصل ہو اور مزید کاوش نہیں کرنی چاہیے۔

۵۶۔۔۔۔۔۔۔۔ اللہ کے درد ناک عذاب سے نجات بجائے خود بہت بڑی کامیابی ہے۔ رہی جنت تو جیسا کہ سورۂ رحمن میں جنوں اور انسانوں کو خطاب کرتے ہوئے ارشاد ہوا ہے : وَلِمَنْ خَافَ مَقَازَ رَبِّہٖ جَنَّتَانِ۔ (الرحمن:۴۶) ” اور جو کوئی اپنے رب کے حضور کھڑا ہونے سے ڈرا اس کے لیے دو جنتیں ہیں۔ ”

صالح جنوں کو بھی انعام کے طور پر جنت اسی طرح ملے گی جس طرح صالح انسانوں کو ملے گی اور وہاں دونوں میں سے ہر ایک کے لیے اس کی فطرت کے تقاضوں کے مطابق عیش و عشرت کا سامان ہو گا۔

۵۷۔۔۔۔۔۔۔۔ جنوں کا اصل مسکن زمین ہی ہے اس لیے فرمایا: ” اس کے بس میں نہیں کہ زمین میں اللہ کے قابو سے نکل جائے۔ ”

۵۸۔۔۔۔۔۔۔۔ یہاں جنوں کا بیان ختم ہوا۔

۵۹۔۔۔۔۔۔۔۔ یعنی قیامت کے دن۔

۶۰۔۔۔۔۔۔۔۔ یعنی عذاب جہنم کا تم انکار کرتے رہے اب کیا یہ تمہارے سامنے حقیقت کی صورت میں موجود نہیں ہے ؟

۶۱۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے لیے نیز آپ کے واسطہ سے دعوتِ دین پیش کرنے والوں کو تسلی بھی ہے اور تلقین بھی کہ جب تم نے دین کی دعوت کو صحیح طور سے پیش کر دیا اور اس کے بعد بھی منکرین مخالفت پر ڈٹے ہوئے ہیں اور اذیت دہ باتیں کرتے ہیں تو تم اس پر صبر کرو اور ان پر عذاب کے لیے جلدی نہ کرو۔

۶۲۔۔۔۔۔۔۔۔ تشریح کے لیے دیکھئے سورۂ یونس نوٹ ۷۴ اور سورۂ نازعات نوٹ ۳۲

۶۳۔۔۔۔۔۔۔۔ یعنی یہ اللہ کا پیغام ہے جو اس کے رسول نے تم کو پہنچا دیا ہے۔ اب جو لوگ نافرمان بن کر رہیں گے وہی تباہ ہونے والے ہیں۔ اس کو قبول کرنے والے یقیناً تباہی سے بچیں گے۔

٭٭٭

 

 

 

(۴۷) سورۃ محمَّد

 

(۳۵   آیات)

 

بسم اللہ الرحمٰن الر حیم

اللہ رحمٰن و رحیم کے نام سے

 

                   تعارف

 

نام

 

آیت ۲۷ میں پیغمبر محمد ( صلی اللہ علیہ و سلم) کا نام آیا ہے اس مناسبت سے اس سورہ کا نام ” محمد” ہے۔

 

زمانۂ نزول

 

مدینہ میں ہجرت کے پہلے سال نازل ہوئی۔

 

مرکزی مضمون

 

اعلانِ جنگ ہے ان کافروں کے خلاف جو اللہ کی راہ روکتے ہیں۔ ان سے مقابلہ کے لیے اہلِ ایمان کو آمادہ کرنا اور اس سلسلہ میں ان کو ضروری ہدایات دینا ہے۔

 

نظم کلام

 

آیت ۱ تا ۳ میں ارشاد ہوا ہے کہ کفار اور اہلِ ایمان کا طرزِ عمل بنیادی طور پر مختلف ہے اس لیے اللہ تعالیٰ بھی ان کے ساتھ الگ الگ معاملہ کرے گا۔ کافروں کے عمل ناکام بنا دے گا اور اہلِ ایمان کا حال درست کر دے گا۔

آیت ۴ تا ۱۵ میں اہلِ ایمان کو جنگ کے تعلق سے ہدایات دی گئی ہیں اور جان کی بازی لگانے والوں کی حوصلہ افزائی کی گئی ہے اور اپنی آخرت کے بہترین انجام کی خوشخبری دی گئی ہے۔

آیت ۶۱ تا ۳۲ میں منافقین ( غیر مخلص مسلمانوں ) کا حال بیان ہوا ہے جن پر جہاد کا حکم شاق گزر رہا تھا اور جو اہل ایمان کے مقابلہ میں کافروں سے ہمدردی رکھتے تھے اور ساز باز کرتے تھے۔

آیت ۳۳ تا ۳۸ میں عام مسلمانوں کو جہاد کی اور اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کی ترغیب دی گئی ہے۔

 

                   ترجمہ

 

بسم اللہ الرحمٰن الر حیم

اللہ رحمٰن و رحیم کے نام سے

 

۱۔۔۔۔۔۔۔۔ جن لوگوں نے کفر کیا اور اللہ کے راستہ سے روکا ان کے اعمال اس نے ضائع کر دئے۔ ۱*

۲۔۔۔۔۔۔۔۔ اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کئے اور اس ( ہدایت) پر ایمان لائے جو محمد پر نازل کی گئی ہے۔ ۲* اور وہ حق ہے ان کے رب کی طرف سے۔۔۔  اللہ نے ان کی برائیاں ان سے دور کر دیں اور ان کا حال درست کر دیا۔۳*

۳۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ اس لیے کہ جن لوگوں نے کفر کیا انہوں نے باطل کی پیروی کی ۴ * اور جو ایمان لائے انہوں نے اپنے رب کی طرف سے آئے  ہوئے حق کی پیروی کی۔ اس طرح اللہ لوگوں کے لیے ان کا حال بیان فرماتا ہے۔ ۵*

۴۔۔۔۔۔۔۔۔ لہٰذا جب تمہارا مقابلہ کافروں سے ہو تو ان کی گردنیں  اُڑا دو یہاں تک کہ جب خوب قتل کر چکو تو ان کو مضبوط باندھ لو۔۶* اس کے بعد یا تو احسان کرنا ہے یا فدیہ کا معاملہ کرنا ہے ۷* یہاں تک کہ لڑائی اپنے ہتھیار ڈال دے۔۸* یہ ہے تمہاری ذمہ داری اور اگر اللہ چاہتا تو خود ہی ان کو سزا دیتا لیکن اس نے یہ ہدایت اس لیے دی تاکہ تمہیں ایک دوسرے کے ذریعہ آزمائے ۹* اور جو لوگ اللہ کی راہ میں قتل ہوئے ان کے اعمال وہ ہرگز ضائع نہ کرے گا۔ ۱۰*

۵۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ ان کو راہیاب کرے گا اور ان کی حالت سنوارے گا۔ ۱۱*

۶۔۔۔۔۔۔۔۔ اور ان کو جنت میں داخل کرے گا جس کی پہچان ان کو کرا دی گئی ہے۔ ۱۲*

۷۔۔۔۔۔۔۔۔ اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اگر تم اللہ کی مدد کرو گے ۱۳* تو وہ تمہاری مدد کرے گا اور تمہارے قدم جما دے گا۔ ۱۴*

۸۔۔۔۔۔۔۔۔ جن لوگوں نے کفر کیا ان کے لیے ہلاکت ہے اور اس نے ( اللہ نے ) ان کے اعمال ضائع کر دئے۔ ۱۵*

۹۔۔۔۔۔۔۔۔یہ اس لیے کہ انہوں نے اس ( ہدایت ) کو ناپسند کیا جو اللہ نے نازل کی ہے لہٰذا اس نے ان کے اعمال اکارت کر دیئے۔۱۶*

۱۰۔۔۔۔۔۔۔۔ کیا یہ لوگ زمین میں چلے پھرے نہیں کہ دیکھتے کیا انجام ہوا ان لوگوں کا جو ان سے پہلے گزر چکے ہیں۔ اللہ نے ان کو تباہ کر کے رکھ دیا اور کافروں کے لیے ایسی ہی سزائیں ہیں۔ ۱۷*

۱۱۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ اس لیے کہ اللہ ایمان لانے والوں کا کارساز( کرتا دھرتا) ہے اور کافروں کا کارساز کوئی نہیں۔۱۸*

۱۲۔۔۔۔۔۔۔۔ بلاشبہ اللہ ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور نیک اعمال کئے جنتوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہ رہی ہوں گی۔ اور جن لوگوں نے کفر کیا وہ( دنیا کا) لطف اٹھا رہے ہیں اور اس طرح کھا رہے ہیں جس طرح جانور کھاتے ہیں۔ ۱۹* ان کا ٹھکانا جہنم ہے۔

۱۳۔۔۔۔۔۔۔۔ اور کتنی ہی بستیاں ہیں جو قوت میں تمہاری اس بستی سے بڑھ کر تھیں جس نے تم کو ( اے نبی!) نکالا ہے۔ ۲۰* ہم نے ان کو ہلاک کر دیا تو کوئی ان کو بچانے والا نہ ہوا۔

۱۴۔۔۔۔۔۔۔۔ کیا وہ لوگ جو اپنے رب کی طرف سے روشن دلیل پر ہیں ۲۱* ان لوگوں کی طرح ہو جائیں گے جن کا برا عمل ان کی نظروں میں خوشنما بنا دیا گیا ہے اور وہ اپنی خواہشات کے پیچھے چل رہے ہیں ؟

۱۵۔۔۔۔۔۔۔۔ اس جنت کی خصوصیت جس کا متقیوں سے وعدہ کیا گیا ہے یہ ہے کہ اس میں ایسے پانی کی نہریں بہہ رہی ہوں گی جس میں کوئی تغیر نہ ہو گا۔ ۲۲* اور نہریں دودھ کی جس کا ذائقہ نہیں بدلے گا ۲۳* اور نہریں ایسی شراب کی جو پینے والوں کے لیے نہایت لذیذ ہو گی۔۲۴* اور نہریں صاف شفاف شہد کی ۲۵* وہاں ان کے لیے ہر قسم کے پھل ہوں گے ۲۶* اور ان کے رب کی طرف سے مغفرت۔ ۲۷* کیا ایسے لوگ ان لوگوں کی طرح ہوں گے جو ہمیشہ جہنم میں رہنے والے ہیں اور جن کو ایسا گرم پانی پلایا جائے گا جو ان کی آنتیں کاٹ کر رکھ دے گا۔۲۸*

۱۶۔۔۔۔۔۔۔۔ ان میں کچھ لوگ ایسے ہیں جو تمہاری طرف کان لگاتے ہیں لیکن جب تمہارے پاس سے نکلتے ہیں تو ان لوگوں سے جنہیں علم عطا ہوا ہے پوچھتے ہیں کہ ( رسول نے ) ابھی ابھی کیا فرمایا؟ ۲۹* یہ وہ لوگ ہیں جن کے دلوں پر اللہ نے مہر لگا دی ہے ۳۰* اور یہ اپنی خواہشات کے پیچھے چل رہے ہیں۔ ۳۱*

۱۷۔۔۔۔۔۔۔۔ اور جن لوگوں نے ہدایت کی راہ اختیار کی اللہ نے ان کی ہدایت میں اضافہ کر دیا ۳۲* اور انہیں ان کے حصہ کا تقویٰ عطا فرمایا۔ ۳۳*

۱۸۔۔۔۔۔۔۔۔ اب کیا یہ لوگ قیامت کے منتظر ہیں کہ ان پر اچانک آ جائے ؟ اس کی علامتیں تو ظاہر ہو چکی ہیں۔۳۴* جب وہ آ جائے گی تو ان کے لیے نصیحت حاصل کرنے کا موقع کہاں باقی رہ جائے گا۔

۱۹۔۔۔۔۔۔۔۔ تو جان ۳۵* لو کہ اللہ کے سوا کوئی اِلٰہ( معبود) نہیں۔ اور اپنی خطاؤں کے لیے معافی مانگو۔ ۳۶* اور مومن مردوں اور عورتوں کے لیے بھی۔ اللہ تمہارے چلنے پھرنے کو جانتا ہے اور تمہارے ٹھکانے کو بھی۔ ۳۷*

۲۰۔۔۔۔۔۔۔۔ ایمان لانے والے کہہ رہے تھے کہ ایک سورہ( جس میں جہاد کا حکم دیا گیا ہو) کیوں نہیں نازل کی جاتی؟ مگر جب ایک قطعی حکم والی سورہ نازل کی گئی جس میں قِتال( جنگ) کا ذکر ہے تو تم نے دیکھا کہ جن کے دلوں میں رو گ ہے وہ تمہاری طرف اس طرح دیکھ رہے ہیں جیسے کسی پر موت کی غشی طاری ہو۔ ۳۸* تو افسوس ہے ان پر۔

۲۱۔۔۔۔۔۔۔۔ ( ان کے لیے صحیح طرزِ عمل) اطاعت کرنا اور اچھی بات کہنا تھا۔ اور جب قطعی حکم دیا گیا تو اگر وہ اللہ سے صداقت شعاری کا ثبوت دیتے تو ان ہی کے حق میں بہتر ہوتا۔ ۳۹*

۲۲۔۔۔۔۔۔۔۔اور اگر تم منہ پھیرتے ہو تو اس کے سوا تم سے کیا توقع کی جا سکتی ہے کہ زمین میں فساد برپا کرو گے اور رحمی رشتوں کو کاٹ ڈالو گے۔ ۴۰*

۲۳۔۔۔۔۔۔۔۔ یہی لوگ ہیں جن پر اللہ نے لعنت کی اور ان کو بہرا اور ان کی آنکھوں کو اندھی کر دیا۔ ۴۱*

۲۴۔۔۔۔۔۔۔۔ کیا یہ لوگ قرآن پر غور نہیں کرتے یا دلوں پر ان کے تالے پڑے ہوئے ہیں۔ ۴۲*

۲۵۔۔۔۔۔۔۔۔ جو لوگ ہدایت واضح ہو جانے کے بعد پھر گئے شیطان نے ان کو پٹی پڑھائی اور ان کے لیے امیدوں کا سلسلہ دراز کر دیا۔ ۴۳*

۲۶۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ اس لیے ہوا کہ انہوں نے اللہ کی نازل کی ہوئی ہدایت کو نا پسند کرنے والوں سے کہا کہ بعض معاملات میں ہم تمہاری بات مانیں گے۔ ۴۴* اللہ ان کی راز داری کو جانتا ہے۔

۲۷۔۔۔۔۔۔۔۔ تو اس وقت ان کا کیا حال ہو گا جب فرشتے ان کے چہروں اور ان کی پیٹھوں پر مارتے ہوئے ان کی جانیں قبض کریں گے۔ ۴۵*

۲۸۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ اس لیے کہ انہوں نے اس طریقہ کی پیروی کی جو اللہ کو غصہ دلانے والا تھا اور اس کی خوشنودی کو نا پسند کیا۔ لہٰذا اس نے ان کے اعمال ضائع کر دئے۔ ۴۶*

۲۹۔۔۔۔۔۔۔۔ کیا ان لوگوں نے جن کے دلوں میں روگ ہے ۴۷* یہ خیال کر رکھا ہے کہ اللہ ان کا کینہ ظاہر نہیں کرے گا؟ ۴۸*

۳۰۔۔۔۔۔۔۔۔ (اے نبی!) اگر ہم چاہتے تو تمہیں ان کو دکھا دیتے اور تم ان کی علامتوں پہچان ہی لو گے۔۴۹ *اللہ تم لوگوں کے اعمال کو جانتا ہے۔

۳۱۔۔۔۔۔۔۔۔ ہم ضرور تمہاری آزمائش کریں گے تاکہ دیکھ لیں کہ تم میں کون جہاد کرنے اور صبر کرنے والے ہیں اور تمہارے حالات کی جانچ کر لیں۔ ۵۰*

۳۲۔۔۔۔۔۔۔۔ جن لوگوں نے کفر کیا ۵۱* اور اللہ کی راہ سے روکا اور رسولوں کی مخالفت کی بعد اس کے کہ ان پر ہدایت واضح ہو چکی تھی وہ اللہ کو کچھ بھی نقصان پہنچانے والے نہیں اور اللہ ان کے سارے اعمال ڈھا دے گا۔

۳۳۔۔۔۔۔۔۔۔ اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کی اطاعت کرو اور اپنے اعمال ضائع نہ کرو۔۵۲*

۳۴۔۔۔۔۔۔۔۔ جن لوگوں نے کفر کیا اور اللہ کی راہ سے روکا پھر حالتِ کفر ہی میں مر گئے اللہ انہیں کبھی نہیں بخشے گا۔ ۵۳*

۳۵۔۔۔۔۔۔۔۔ تو تم کمزور نہ پڑو اور صلح کی دعوت نہ دو۔ ۵۴*  تم ہی غالب رہو گے۔ ۵۵* اللہ تمہارے ساتھ ہے اور وہ تمہارے اعمال کو ضائع نہ کرے گا۔ ۵۶*

۳۶۔۔۔۔۔۔۔۔ دنیا کی زندگی تو بس کھیل تماشہ ہے۔ اور اگر تم ایمان لاؤ گے اور تقویٰ اختیار کرو گے تو وہ تمہیں تمہارے اجر دے گا ۵۷*  اور تم سے تمہارا مال طلب نہ کرے گا۔۵۸*

۳۷۔۔۔۔۔۔۔۔ اگر وہ تم سے مال مانگے اور سب مال طلب کرے تو تم بخل کرو گے اور وہ تمہارا کھوٹ ظاہر کرے گا۔۵۹*

۳۸۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ تم لوگ ۶۰* ہو کہ اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کی تمہیں دعوت دی جا رہی ہے تو تم میں ایسے لوگ بھی ہیں جو بخل کرتے ہیں۔ ۶۱* حالانکہ جو بخل کرتا ہے وہ اپنے ساتھ ہی بخل کرتا ہے۔ ۶۲* اللہ غنی ہے اور تم محتاج ہو۔ اور اگر تم رخ پھیر لو گے تو اللہ تمہاری جگہ دوسرے لوگوں کو لے آئے گا اور وہ تمہاری طرح نہ ہوں گے۔ ۶۳*

 

                   تفسیر

 

۱۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ جہاد کی سورہ ہے اس لیے سورۂ انفال کی طرح بغیر کسی تمہید کے شروع ہوئی ہے۔ گویا یہ کافروں کے حق میں غضب بن کر نازل ہوئی ہے۔

اللہ کے راستہ سے روکنے سے مراد لوگوں کو اسلام قبول کرنے سے روکنا، دعوت و تبلیغ کے کام میں رکاوٹیں کھڑی کرنا اور مسلمانوں کو اس بات کے لیے مجبور کرنا ہے کہ وہ اسلام کے احکام پر عمل نہ کریں۔ کفارِ مکہ نے اسلام دشمنی ہی میں مسلمانوں کو مکہ چھوڑنے پر مجبور کیا تھا اور ان کے مدینہ ہجرت کر جانے کے بعد ان کے خلاف جنگ کی آگ بھڑکا رہے تھے۔ قرآن نے بتلایا کہ کافروں کے سارے اعمال اکارت جانے والے ہیں یعنی نہ تو ان کی یہ سازشیں کامیاب ہونے والی ہیں اور نہ ان کا کوئی عمل اللہ کے ہاں قبولیت حاصل کرنے والا ہے۔ چنانچہ قرآن کی یہ پیشین گوئی پوری ہوئی اور ان کی وہ ساری تدبیریں الٹی پڑیں جو وہ اللہ کے رسول اور اس کے لائے ہوئے حق کے خلاف کر ر ہے تھے۔

واضح ر ہے کہ جس بات کا مستقبل میں واقع ہونا قطعی ہوتا ہے اس کو قرآن ماضی کے صیغے میں بیان کرتا ہے۔ اسی لیے یہاں فرمایا” ان کے اعمال اس نے ضائع کر  دئے۔”یعنی یقیناً وہ ضائع ہونے والے ہیں۔

۲۔۔۔۔۔۔۔۔ یعنی ایمان اور عمل صالح معتبر اسی صورت میں ہے جبکہ اللہ کے رسول محمد (صلی اللہ علیہ و سلم) پر جو ہدایت نازل ہوئی ہے اس پر بھی ایمان لایا جائے۔ آپ کے مبعوث ہو جانے کے بعد آپ پر ایمان نہ لانا اور اس ہدایت کو قبول نہ کرنا جو قرآن کی شکل میں آپ پر نازل ہوئی ہے کفر ہے اور کفر کے ساتھ نہ ایمان معتبر ہے اور نہ عمل صالح۔

۳۔۔۔۔۔۔۔۔ یعنی اللہ ان مخلص مومنوں کے قصور معاف کر دے گا اور ان کی دینی، اخلاقی اور دنیوی حالت درست کر دے گا۔

قرآن کی یہ پیشین گوئی بھی پوری ہوئی۔ قرآن پر ایمان لانے والوں کی زندگیاں سنور گئیں اور ان کے حالات بہتر سے بہتر ہوتے چلے گئے۔

۴۔۔۔۔۔۔۔۔ قرآن حق ہے یعنی اللہ کی سچی ہدایت ہے اس لیے اس کو چھوڑ کر کسی بھی چیز کی پیروی کرنا باطل کی پیروی کرنا ہے۔

۵۔۔۔۔۔۔۔۔ یعنی ہر گروہ کا حال الگ الگ بیان فرماتا ہے تاکہ لوگ کافروں اور مومنوں میں تمیز کریں اور دونوں کو یکساں خیال نہ کریں۔

۶۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ حکم جنگ سے تعلق رکھتا ہے اور یہ جنگ جیسا کہ اوپر کی آیات سے واضح ہے حق کی پیروی کرنے والوں کی اللہ کی راہ میں جنگ ہے ان باطل پرستوں کے خلاف جو اللہ کی راہ ( اسلام) سے لو گوں کو روکتے ہیں اور اس کے دین کے خَلاف فتنہ برپا کرتے ہیں۔ اس جنگ کا اصطلاحی نام جہاد ہے جو اسلام میں ایک مقدس فریضہ ہے ان شرائط کے ساتھ جو شریعت نے بیان کی ہیں۔

اس آیت میں ہدایت دی گئی ہے کہ جب کافروں سے جنگ کرنا پڑے اور ان سے مڈ بھیڑ ہو جائے تو ان کو بے دریغ قتل کر دو یہاں تک کہ خوب خونریزی ہو جائے۔ یہ خونریزی ان کا زور توڑنے اور ان کی شان و شوکت کو ختم کرنے کے لیے ضروری ہے۔ اس لیے اس معاملہ میں نرمی برتنے کا سوال پیدا ہی نہیں ہوتا۔ جب اچھی طرح خونریزی ہو چکے تو پھر انہیں گرفتار کرنا اور قید و بند میں جکڑنا شروع کرو۔

یہ ہدایتِ جنگ بدر سے پہلے دی جاچکی تھی لیکن جنگِ بدر میں مسلمانوں کے ایک گروہ سے یہ غلطی سر زد ہو گئی کہ اس نے کافروں کو اچھی طرح کچل دینے سے پہلے ہی گرفتاری کا سلسلہ شروع کیا۔ جس پر سخت تنبیہ نازل ہوئی۔ دیکھئے سورۂ انفال آیت ۶۷ اور نوٹ ۱۰۲۔

۷۔۔۔۔۔۔۔۔ یعنی بعد میں جنگی قیدیوں کے ساتھ دو میں سے ایک معاملہ کیا جائے۔ یا تو ان کو احسان کے طور پر رہا کر دیا جائے یا فدیہ لے کر ان کی رہائی عمل میں لائی جائے۔ اسلامی حکومت دونوں میں سے جس طریقہ کو مطابق مصلحت پائے اختیار کر سکتی ہے۔اگر احسان کے طور پر رہا کرنے میں یہ مصلحت نظر آتی ہو کہ وہ اس کا اچھا اثر قبول کریں گے اور اسلام سے قریب ہوں گے تو یہ صورت قابلِ ترجیح ہے۔ غزوۂ بنی المصطلق شعبان ۰۶ھ کے بعد اس قبیلے کے تمام قیدیوں کو مسلمانوں نے آزاد کر دیا تھا ( سیرت ابن ہشام ج ۳ ص ۳۴۰)۔ غزوۂ حنین کے بعد قبیلۂ  ہوازن کے چھ ہزار قیدی بلا معاوضہ رہا کر دئیے گئے ( کتاب الاموال ابو عبیدہ ص ۱۱۷) یمامہ کا سردار ثمامہ بن اُثال جب گرفتار ہو کر آیا تو مسجدِ نبوی میں اسے قید کر دیا گیا تا کہ وہ اسلام سے مانوس ہو۔ وہ فدیہ دینے کے لیے تیار تھا لیکن آپ نے چند روز بعد اسے بلا معاوضہ رہا کر دیا۔ اس حسنِ سلوک سے متاثر ہو کر وہ مشرف بہ اسلام ہوا۔(بخاری کتاب المغازی) لیکن اگر دشمن نے مسلمانوں کو قیدی بنا لیا ہو اور ان کا تبادلہ ان اسیرانِ جنگ کے ساتھ ہو سکتا ہو یا ان اسیرانِ جنگ سے کوئی خاص خدمت لے کر یا معاوضہ لے کر ان کو رہا کرنا مطابقِ مصلحت ہو تو یہ صورت بھی اختیار کی جا سکتی ہے۔ جنگِ بدر کے قیدیوں کو معاوضہ لے کر یا لکھنا پڑھنا سکھانے کی خدمت لے کر رہا کر دیا گیا تھا( سیرت ابن ہشام ج ۲ ص ۳۰۶،کتاب الاموال ص ۱۱۶)۔

قرآن کی اس ہدایت سے واضح ہوا کہ اسلام جنگی قیدیوں کو طویل مدت تک قید رکھنا یا انہیں عمر قید کی سزا دینا پسند نہیں کرتا۔ اسی طرح یہ بات بھی پسندیدہ نہیں ہے کہ قیدیوں کو قتل کر دیا جائے صرف استثنائی صورتوں میں ایسا کرنے کی گنجائش ہے چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے جنگِ بدر کے قیدیوں میں سے عُقبہ بن ابی مُعیط اور نضر بن حارث کو جو کافروں کے قائد اور پر لے درجہ کے مفسد تھے قتل کرا دیا تھا۔( سیرت ابن ہشام۔ ج ۲ ص ۲۸۶) اسی طرح بنی قُریَظہ کے مردوں کو قتل کر دیا گیا تھا کیونکہ انہوں نے غداری کی تھی اور مدینہ کے قرب و جوار میں رہتے ہوئے وہ سازشیں کر رہے تھے۔

رہا جنگی قیدیوں کو غلام بنانے ( استرقاق) کا معاملہ تو قرآن نے اس کا حکم نہیں دیا اور اس آیت میں جو دو صورتیں پیش کی گئی ہیں کہ یا تو احسان کے طور پر رہا کر دو یا فدیہ لے کر رہا کر دو تو اس سے واضح ہوتا ہے کہ اسلام کا عام قاعدہ یہی ہے اور لونڈی غلام بنانے کا جو ثبوت روایتوں سے ملتا ہے وہ ایک استثنائی صورت تھی جس کی گنجائش مخصوص حالات میں رکھی گئی تھی اور جہاں تک عربوں کا تعقل  ہے ان کے کسی مر د کو غلام نہیں بنایا گیا تھا چنانچہ ابو عبیدہ لکھتے ہیں :

” یہ جنگی قیدیوں کے احکام ہیں یعنی احسان کے طور پر یا معاوضہ لے کر رہا کرنا یا قتل کرنا اور یہ عربوں کے لیے خاص ہے کیونکہ ان کے مردوں کو غلام نہیں بنایا جا کتا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی سنت یہی رہی ہے۔ آپ نے ان کے کسی مر دکو غلام نہیں بنایا۔ اسی طرح حضرت عمر نے بھی ان کے معاملہ میں یہی فیصلہ فرمایا۔”( کتاب الاموال ص ۱۳۳)

اور اب جبکہ دنیا سے غلامی کا رواج ختم ہو گیا ہے جس کو ختم کرنا اسلام کے اہم ترین مقاصد میں شامل تھا تو یہ گنجائش بھی باقی نہیں رہی۔ اس مسئلہ پر السید سابق نے فقہ السنۃ میں بڑی اچھی روشنی ڈالی ہے۔ لکھتے ہیں۔

” قرآن کریم میں کوئی نص ( صریح حکم) ایسی وار د نہیں ہوئی ہے جو غلامی کو جائز قرار دیتی ہو۔ البتہ اس میں غلاموں کو آزاد کرنے کی دعوت ضرور دی گئی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے بھی یہ ثابت نہیں ہے کہ آپ نے کسی قیدی کو غلام بنایا ہو اور یہ واقعہ ہے کہ آپ نے مکہ کے غلاموں ، بنی المصطلق کے غلاموں اور حنین کے غلاموں کو آزاد کر دیا تھا۔ اور یہ بھی ثابت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو آزاد کر دیا تھا اور یہ بھی ثابت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے زمانۂ جاہلیت کے ان غلاموں کو جو آپ کے پاس تھے آزاد کر دیا تھا۔ اسی طرح ان کو بھی آزاد کر دیا تھا جو آپ کے لیے ہدیہ بھیجے گئے تھے۔ البتہ خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم سے ثابت ہے کہ انہوں نے بعض جنگی قیدیوں کو غلام بنایا تھا جو برابری کا معاملہ کرنے کے قاعدہ کے مطابق تھا۔ تو انہوں نے غلامی کی تمام صورتوں کو جائز نہیں رکھا جیسا کہ مذہبی اور رواجی قوانین میں عمل درآمد ہو رہا تھا بلکہ اس کو جنگ کی حد تک محدود کر دیا تھا جو مسلمانوں کی طرف سے شرعی طریقہ پر اعلان کے ساتھ کافر دشمنوں کے خلاف لڑی گئی ہو اور دوسری تمام صورتوں کو انہوں نے ساقط کر دیا اور ان کو شرعاً حرام قرار دیا کہ کسی حال میں جائز نہیں۔(فقہ السنۃ ج ۲ ص ۶۸۸)

سید قطب نے بھی غلام بنانے کو اس وقت کے خاص حالات ہی پر محمول کیا ہے اور واضح کیا ہے کہ یہ اسلام کا کوئی عام قاعدہ نہیں ہے۔ لکھتے ہیں :

” جب نئی صورت یہ پیدا ہو گئی ہے کہ جنگ لڑنے والے سب لوگ قیدیوں کو غلام نہ بنانے پر متفق ہو گئے ہیں تو اسلام اپنے منفرد ایجابی قاعدہ کی طرف عود کر  آیا ہے اور وہ ہے فَاِمَّا منّاًبَعُدوَاِمَّافِداءً (پھر یا تو احسان رکھ کر چھوڑ دینا ہے یا فدیہ لے کر) لہٰذا غلام بنانا (استرقاق) نہ لازم ہے اور نہ ان قواعد میں سے ہے جو اسلام میں قیدیوں کے ساتھ معاملہ کرنے سے متعلق ہیں۔ “( فی ظلال القرآن ج ۶ ص ۳۲۸۵)

واضح رہے کہ آیت میں جنگ کی صورت میں کافروں کو قید کرنے اور پھر احسان کے طور پر یا فدیہ لے کر رہا کرنے کا جو حکم دیا گیا ہے وہ ہر قسم کے کافروں کے لیے ہے خواہ وہ مشرک ہوں یا اہلِ کتاب لیکن بعد میں مشرکینِ عرب کے سلسلہ میں جن کے اندر نبی صلی اللہ علیہ و سلم مبعوث ہوئے تھے یہ حکم آیا کہ:

فَاِذَا الْنسَلَخَ الْاشْہُمُ الْحُرْمُ فَاقْتُلُوا الْمُشْرِکِیْنَ حَیْثُ وَجَدْتُّمُوْہُمْ وَخُذُوْہُمْ وَاحْصُرُوْہُمْ وَاقْعُدُوْاَلہُمْ کُلَّ مَرْصَدٍ فَاِنْ قَابُوْا وَاَقا مُوٓ الصَّلوٰۃَ وَاٰتوُاالزَّکوٰۃَ فَخَلُّوْاسَبِیْلَہُمْ۔(التوبہ:۵) پھر جب حرمت والے مہینے گزر جائیں تو ان مشرکین کو جہاں پاؤ قتل کرو اور انہیں پکڑو اور گھیرو اور ہر گھات میں ان کی تاک میں بیٹھے رہو۔ البتہ اگر وہ توبہ کر لیں اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ دیں تو انہیں چھوڑ دو۔”

تشریح کے لیے دیکھئے سورۂ توبہ نوٹ ۹ )۔

یہ حکم مشرکینِ عرب کے لیے خاص تھا اس لیے کوئی وجہ نہیں کہ سورۂ محمد کی اس آیت کو جس مے عام قاعدہ بیان ہوا ہے منسوخ سمجھا جائے جن مفسرین نے اسے منسوخ کیا ہے ان کی رائے سے اتفاق نہیں کیا جا سکتا۔

۸۔۔۔۔۔۔۔۔ یعنی ان کو گرفتار کرنے کا سلسلہ جاری رکھو جب تک کہ جنگ ختم نہ ہو جائے۔

۹۔۔۔۔۔۔۔۔ یعنی اللہ چاہتا تو کافروں کو کوئی آفت نازل کر کے تباہ کر سکتا تھا لیکن اس کی مصلحت یہ ہوئی کہ اہلِ ایمان کے ہاتھوں کافروں کی سر کوبی کی جائے تاکہ اہلِ ایمان اس آزمائش میں پڑ کر اعلیٰ درجات حاصل کر سکیں اور کافروں کو یا تو توبہ کا موقع ملے یا پھر وہ اپنا بُرا حشر دنیا ہی میں دیکھ لیں۔

۱۰۔۔۔۔۔۔۔۔ یعنی جو لوگ اللہ کی راہ میں قتل ہوں گے ان کی محنت رائیگاں جانے والی نہیں۔ وہ کھوئیں گے نہیں بلکہ پائیں گے۔ ان کے اعمال مقبول ہوں گے اور انہیں ان کا صلہ ملے گا۔

۱۱۔۔۔۔۔۔۔۔ یعنی جب انہوں نے اللہ کی راہ میں جان دے دی تو وہ مر کھپ نہیں گئے بلکہ زندہ جاوید ہو گئے۔ اللہ ان کو کامیابی کی منزل تک پہنچائے گا اور ان کو عزت و سرفرازی عطا کرے گا۔

۱۲۔۔۔۔۔۔۔۔ یعنی قرآن نے جنت کا جس طرح تعارف کرایا ہے ان ہی خصوصیات کی جنت میں اللہ تعالیٰ انہیں داخل کرے گا۔ قرآن نے جنت کا جو نقشہ کھینچا ہے وہ نہ خیال آرائی ہے اور نہ اس میں مبالغہ کا کوئی دخل ہے بلکہ وہ سراسر حقیقت ہے اس لیے جن لوگوں سے اس کا وعدہ کیا گیا ہے وہ اس کو ایک واقعہ کی صورت میں پائیں گے اور ٹھیک اس طرح پائیں جس طرح دنیا میں انہیں اس کی شناخت کرا دی گئی تھی۔

۱۳۔۔۔۔۔۔۔۔ اللہ کی مدد کرنے سے مراد اللہ کے دین کی مدد کرنا اور اس کے کلمہ کو بلند کرنے کے لیے سکر دھڑکی بازی لگانا ہے۔یہ اللہ کی قدر افزائی ہے کہ وہ اس خدمت کو اس کی مدد کرنے سے تعبیر کرتا ہے ورنہ ظاہر ہے اللہ کسی کی مدد کا محتاج نہیں اور سب بندے اس کی مدد کے محتاج ہیں۔

۱۴۔۔۔۔۔۔۔۔ یعنی دین کی نصرت کے لیے جو قدم بھی تم اٹھاؤ گے اللہ کی مدد شاملِ حال ہو گی۔ وہ تمہارے حوصلے بڑھائے گا اور تمہیں ثابت قدم رہنے کی توفیق عطا کرے گا۔

۱۵۔۔۔۔۔۔۔۔ یعنی ان کی کوشش بار آور ہیں ہوئیں اور ان کا کیا کرایا بے سود رہا۔

۱۶۔۔۔۔۔۔۔۔ یعنی انہوں نے اگر کچھ اچھے کام کئے تھے تو کفر کی وجہ سے وہ بے وزن ہو کر رہ گئے۔ نیکی کی قبولیت کے لیے ایمان شرط ہے۔

۱۷۔۔۔۔۔۔۔۔ یعنی ان کافروں کو بھی اگر وہ کفر سے باز نہیں آئے ایسے ہی کسی عذاب کا سامنا کرنا ہو گا جو ماضی میں کافر قوموں پر آئے تھے۔

۱۸۔۔۔۔۔۔۔۔ جنگِ احد میں جو اس سورہ کے نازل ہونے کے تقریباً دو سال بعد ہوئی کفار نے جب اپنے بُت عُزّیٰ کی جے لگائی کہ لنا العزیٰ ولاعزیٰ( ہمارے لیے عزیٰ ہے اور تمہارے لیے کوئی عزیٰ نہیں ) تو نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے جواب میں فرمایا:

اللّٰہُ مَولانا ولامَولیٰلَکُمْ (تفسیر ابن کثیر ج ۴ ص ) ” اللہ ہمارا مولیٰ ہے اور تمہارا کوئی مولیٰ نہیں۔”

۱۹۔۔۔۔۔۔۔۔ یعنی صرف معاشی حیوان بن کر رہ گئے ہیں کہ کھائیں پئیں اور مر کھپ جائیں۔ انہیں اس بات کا کوئی احساس نہیں کہ زندگی کا ایک اعلیٰ و ارفع مقصد ہے اور کھانا پینا تو محض قوتِ حیات حاصل کرنے کے لیے ہے۔

۲۰۔۔۔۔۔۔۔۔ یعنی اہلِ مکہ نے تمہیں وہاں سے ہجرت کرنے پر مجبور کیا۔

یہ مضمون بتا رہا ہے کہ سورہ ہجرت کے بعد نازل ہوئی ہے۔

۲۱۔۔۔۔۔۔۔۔ یعنی جنہوں نے اپنا موقف علم و بصیرت کی روشنی میں متعین کیا ہے اور یہ علم و بصیرت کی روشنی انہیں اپنی فطرت سے بھی حاصل ہوئی ہے اور اللہ کی نازل کردہ کتاب سے بھی۔

۲۲۔۔۔۔۔۔۔۔ دنیا کے پانی میں مٹی و نباتات وغیرہ کی آزمائش سے کدورت بھی پیدا ہوتی ہے اور بو بھی لیکن جنت میں ایسے پانی کی نہریں ہوں گی جس میں کبھی کوئی خرابی پیدا ہونے والی نہیں۔

۲۳۔۔۔۔۔۔۔۔ دنیا میں دودھ جانور کے تھنوں سے نکلتا ہے اور کچھ دیر بعد خراب ہونے لگتا ہے لیکن جنت میں تو دودھ کی نہریں بہہ رہی ہوں گی اور و ہ بھی ایسے دودھ کی جن میں کبھی کوئی خرابی پیدا ہونے والی نہیں۔اس کا ذائقہ ہمیشہ اچھا ہی رہے گا۔

۲۴۔۔۔۔۔۔۔۔ دنیا کی شراب میں سڑنے کی بو بھی ہوتی ہے اور تلخی بھی لیکن جنت کی شراب اتنی عمدہ اور نفیس ہو گی کہ پینے والوں کے لیے لذّت ہی لذّت اور سرور ہی سرور اور اس کی مقدار بھی کم نہیں ہو گی کیونکہ اس کی نہریں بہہ رہی ہوں گی۔

۲۵۔۔۔۔۔۔۔۔ دنیا میں شہد مکھیوں سے حاصل کیا جاتا ہے جس میں موم وغیرہ کی آمیزش ہوتی ہے لیکن جنت میں ایسا شہد ملے گا جو ہر قسم کی آمیزش سے پاک اور بالکل صاف شفاف ہو گا نیز اس کی مقدار بھی کم نہ ہو گی کیونکہ اس کی نہریں بہہ رہی ہوں گی۔ جس ہستی نے یہ چیزیں پیدا کی ہیں اس کے لیے اس کی نہریں بہا دینا کچھ مشکل نہیں اور نہ یہ بات مشکل ہے کہ ان کو پاک صاف ، غیر تغیر پذیر، عمدہ اور نہایت لذید بنایا جائے۔ عقل اس کی تائید کرتی ہے ، فطرت اس کا مطالبہ کرتی ہے اور دل اس خوشخبری پر باغ باغ ہو جاتا ہے۔

۲۶۔۔۔۔۔۔۔۔ یعنی جہاں پینے کے لیے عمدہ اور چیزیں ملیں گی وہاں کھانے کے لیے بھی ہر قسم کے بہترین پھل ملیں گے۔

۲۷۔۔۔۔۔۔۔۔ یعنی اللہ کی طرف سے مغفرت اس کا سب سے بڑا فضل ہو گا۔ ظاہر ہے عذاب سے نجات پانا اس کی تمام نعمتوں کے حصول پر مقدم ہے۔

۲۸۔۔۔۔۔۔۔۔ یعنی متقیوں کو تو کھانے پینے کی بہترین نعمتیں میسر آئیں گی لیکن کافروں کو کھولتا ہوا پانی ملے گا جس سے ان کی آنتیں کٹ جائیں گی۔ دونوں کا انجام بالکل الگ الگ ہے۔ خدا سے ڈرتے ہوئے زندگی گزارنے والے اور اس سے بے پرواہ ہو کر دنیا ہی کو سب کچھ سمجھنے والے نہ اپنے کردار اور اوصاف کے اعتبار سے یکساں ہیں اور نہ اپنے انجام کے اعتبار سے۔

۲۹۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ حال مدینے کے مسلمانوں کا بیان ہوا ہے جو اگرچہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی مجلس میں شریک ہوتے تھے لیکن ارشاداتِ رسول سے انہیں کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ انہوں نے بے سوچے سمجھے کسی نہ کسی مصلحت سے اسلام قبول کیا تھا اس لیے نہ وہ اپنے ایمان میں مخلص تھے اور نہ انہیں مسلمانوں سے سچی ہمدردی تھی۔ ان کے دلوں میں کفر تھا اور وہ کافروں سے ساز باز رکھتے تھے۔ ایسے لوگوں کو منافق کہا جاتا ہے۔ وہ جب مجلس نبوی سے نکلتے تو اصحاب علم سے پوچھتے کہ کیا بات ارشاد ہوئی ہے۔ ان کا یہ سوال بات کو سمجھنے کے لیے نہیں بلکہ اظہارِ تعجب کے لیے ہوتا تھا کہ آپ کیا فرمایا رہے ہیں ہماری سمجھ سے بالاتر ہے۔

آیت میں علم سے مراد قرآن اور ارشاداتِ رسول کا علم ہے اور جس کو یہ علم عطا ہوا اس کو بہت بڑی دولت عطا ہوئی۔

۳۰۔۔۔۔۔۔۔۔ یعنی وہ اللہ کے اس قانون کی گرفت میں آ گئے جو اس نے گمراہی پر اصرار کرنے والوں کے لیے مقرر کر رکھا ہے۔ اب ان میں قبولِ حق کی صلاحیت باقی نہیں رہی۔

۳۱۔۔۔۔۔۔۔۔ اللہ تعالیٰ دل پر مہر اسی صورت میں لگاتا ہے جبکہ آدمی عقل و فہم سے کام لینے اور علم کی روشنی میں چلنے کے لیے آمادہ نہیں ہوتا اور اپنے نفس کی باگیں اپنی خواہشات کے ہاتھ میں دے دیتا ہے۔

۳۲۔۔۔۔۔۔۔۔ یعنی جن لوگوں نے خواہشات کے پیچھے نہ چلتے ہوئے اللہ کی ہدایت کو قبول کیا اللہ ان کی ہر ہر قدم پر رہنمائی کرتا رہا ہے اور ان کی بصیرت میں اضافہ ہی ہوتا رہا۔

۳۳۔۔۔۔۔۔۔۔ یعنی ان کو ان کی طلب اور ان کی کوششوں کی مناسبت سے تقویٰ کی توفیق عطا فرمائی۔

۳۴۔۔۔۔۔۔۔۔ قیامت کی جو علامتیں ظاہر ہو چکی ہیں ان میں سب سے بڑی علامت نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی آخری نبی کی حیثیت سے بعثت ہے۔

حدیث میں آتا ہے کہ :

قالَ یِاُصْبَعَیْہِ ہٰذَ اباِلْوُسْطٰی وَالَّتِی تَلیِہا: بُعِثْثُ اَنَا وَالسَّاعَۃُ کَہَاتَیْنِ۔( تفسیر ابن کثیر ج ۴ ص ۷۷ براویۃ البخاری) ” آپ نے اپنی دو انگلیوں درمیان کی انگلی اور اس کے ساتھ والی انگلی سے اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ میں اور قیامت اس طرح ساتھ ساتھ بھیجے گئے ہیں۔

یعنی میرے بعد اب قیامت ہی ہے کوئی اور نبی آنے والا نہیں گویا آپ کے ذریعہ دنیا والوں کو آخری وارننگ دی گئی۔ دوسری بڑی علامت قرآن کا نزول ہے۔ اللہ کی طرف سے انسان کی ہدایت کے لیے ایک مکمل کتاب آ جانے کے بعد جس کی حفاظت کی ذمہ داری بھی اللہ تعالیٰ نے لے رکھی ہے لوگوں پر اللہ کی حجت بدرجۂ اتم قائم ہو جاتی ہے۔ اس کے بعد اگر کوئی چیز باقی رہ جاتی ہیں تو وہ فیصلہ کی گھڑی ہے جس کا نام قیامت ہے۔

تیسری بڑی علامت انسانی سوسائٹی کا عام بگاڑ ا ہے جو روز بروز بڑھتا ہی جا رہا ہے اور ان تاریخی واقعات سے لوگوں نے کوئی سبق نہیں لیا جو مفسد قوموں کے برے انجام کی تصویر پیش کرتے ہیں۔ بگاڑ کا جب یہ طوفان اپنی انتہا کو پہنچے گا تو دنیا کا خاتمہ یقینی ہے کیونکہ انسانی سوسائٹی جب خیر سے خالی ہو جائے گی تو شر رہ جائے گا اور اللہ کا غضب قیامت کی صورت میں اشرار ہی پر بھڑکنے والا ہے۔

چوتھی بڑی علامت زمین کا ظلم و نا انصافی سے بھر جانا ہے مظلوموں کی آہیں فریاد کرتی ہیں کہ اللہ کی عدالت جلد برپا ہو اس لیے عدالت کا دن قریب سے قریب تر ہوتا جا رہا ہے۔

ان کے علاوہ کتنی علامتیں ہیں جو قیامت کے بالکل قریبی زمانہ میں ظاہر ہوں گی اور جن کی پیشین گوئی قرآن اور احادیثِ صحیحہ میں کی گئی ہے مثلاً دابَّۃُ الارض کا خروج، یاجوج ماجوج کی یلغار، عیسیٰ علیہ السلام کا نزول ، مغرب سے سورج کا طلوع ہونا وغیرہ۔

۳۵۔۔۔۔۔۔۔۔ یعنی اچھی طرح ذہن نشین کر لو۔

۳۶۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے خطاب ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو اپنے قصوروں پر استغفار کرنے کی جو ہدایت ہوئی ہے اس کی تشریح سورۂ مومن نوٹ ۷۹ میں گزر چکی۔

حدیث میں آتا ہے کہ آپ دن میں سو مرتبہ استغفار کیا کرتے تھے۔

قالَ اِنَّہٗ لَیُفَانُ عَلٰی قَلْبِی وَاتِیْ لَاَسْتَغْفِرُاللّٰہَ فِی الْیومِ مِائَۃَ مَرَّۃٍ۔(مسلم کتاب الذکر) ” آپ نے فرمایا میرے دل پر غفلت طاری ہو جاتی ہے اور میں دن میں سو مرتبہ اللہ سے استغفار کرتا ہوں۔”

۳۷۔۔۔۔۔۔۔۔ یعنی اللہ کی نظر تمہاری حرکات و سکنات پر بھی ہے اور وہ تمہاری منزل کو بھی جانتا ہے لہٰذا اس سے ڈرتے رہو۔

۳۸۔۔۔۔۔۔۔۔ یعنی جہاد کا حکم سن کر منافقوں پر موت کی غشی طاری ہو گئی۔ اللہ کی راہ میں جان کی بازی وہی شخص لگا سکتا ہے جو اپنے ایمان میں مخلص ہو۔ جس کو جان و دل عزیز ہو وہ کیوں جاں فروشی کی تمنّا کرے گا؟

۳۹۔۔۔۔۔۔۔۔ یعنی جب جنگ( جہاد) کا قطعی حکم دیا گیا تو ان لوگوں کے لیے ضروری تھا کہ اس کو دل سے قبول کرتے اور اس کے لیے عملی قدم اٹھاتے اگر وہ ایسا کرتے تو یہ ان ہی کے حق میں بہتر ہوتا۔

۴۰۔۔۔۔۔۔۔۔ یعنی تم سے اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کا مطالبہ کیا جا رہا ہے جو تمہیں ناگوار ہے حالانکہ خیر و صلاح کا کام اس اطاعت ہی کے ذریعہ انجام پا سکتا ہے۔ نا فرمانی کی صورت میں آدمی شر کے کام خیر سمجھ کر کرنے لگتا ہے ،خود غرضی کی بنا پر قرابت داروں کے ساتھ برا سلوک کرتا ہے اور انسانی اخوت کے رشتہ کو کاٹ کر رکھ دیتا ہے۔

اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت سے رو گردانی ہی کا یہ نتیجہ ہے کہ آج دنیا میں فساد برپا ہے۔ بھائی بھائی کا گلا کاٹ رہا ہے اور انسانی اخوت کے رشتہ کو توڑا جا رہا ہے۔ بدامنی اور جنگوں نے انسانوں کا سکون غارت کر دیا ہے۔ غرض حالات قرآن کی ایک ایک بات کو سچا ثابت کر دکھا رہے ہیں لیکن انسان ہوش کے ناخن لینے کے لیے تیار نہیں ہے۔

۴۱۔۔۔۔۔۔۔۔ جب اللہ کی پھٹکار پڑتی ہے تو حق بات سننے کے لیے آدمی بہرا ہو جاتا ہے اور حق دیکھنے کے لیے اندھا۔

۴۲۔۔۔۔۔۔۔۔ یعنی یہ لوگ اگر قرآن پر غور کرتے تو انہیں ہدایت مل جاتی مگر قرآن کی طرف انہوں نے کوئی توجہ نہیں کی اور اپنی غلط روش پر قائم رہے اور اس پر ان کے اصرار کا نتیجہ یہ نکلا کہ ان کے دل کے دروازے قبولِ حق کے لیے بند ہو گئے۔

یہ آیت بھی دوسری آیتوں کی طرح کافروں اور منافقوں کو قرآن میں غور و فکر کرنے کی دعوت دیتی ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ قرآن ہر شخص کے سمجھنے کے لیے ہے۔ اب جو لوگ عربی نہیں جانتے وہ کسی ایسے ترجمہ سے جس کی صحت کی طرف سے اطمینان ہو فائدہ اٹھا سکتے ہیں مگر مسلمانوں میں ایک گروہ ایسا بھی پایا جاتا ہے جس کے نزدیک قرآن صرف عالموں کے سمجھنے کے لیے ہے۔ وہ عام مسلمانوں کو نہ صرف یہ کہ قرآن سمجھ کر پڑھنے کی ترغیب نہیں دیتا بلکہ ان کو ترجمہ کے ساتھ قرآن پڑھنے سے روکتا ہے اور کہتا ہے کہ ترجمہ پڑھ کر ان کے گمراہ ہونے کا اندیشہ ہے حالانکہ کتنے ہی مسلمان ایسے ہیں جنہوں نے قرآن کو ترجمہ کے ساتھ پڑھا تو ان کی آنکھیں کھل گئیں اور وہ اس سے برابر فیضیاب ہو رہے ہیں اور کتنے ہی غیر مسلموں کو قرآن کا ترجمہ پڑھنے سے ایمان کی دولت نصیب ہوئی۔

حقیقت یہ ہے کہ جو شخص بھی قرآن کا صاف ذہن سے مطالعہ کرے گا وہ اس سے ہدایت ہی پائے گا اور جتنا مطالعہ کرے گا اس کی بصیرت میں اضافہ ہی ہوتا رہے گا البتہ جس شخص کے دل کے دروازے ہی قبول حق کے لیے بند ہو چکے ہیں وہ اتنے بڑے خیر سے محروم ہی رہے گا۔

۴۳۔۔۔۔۔۔۔۔ یعنی جو لوگ مسلمان ہونے کے بعد کافر ہوئے۔ مراد منافقین ہیں جنہوں نے اسلام قبول کیا اس کے بعد اس سے پھر گئے۔ ہدایت کی راہ واضح ہو جانے کے بعد کفر کی راہ پر وہ اس لیے چل پڑے کہ شیطان نے انہیں سبز باغ دکھائے اور وہ اس کے فریب میں آ گئے۔ اس نے انہیں امیدیں دلائیں کہ اپنے آبائی مذہب کی طرف لوٹ کر تم یہ اور یہ نقد فائدے حاصل کر سکتے ہو۔

۴۴۔۔۔۔۔۔۔۔ یعنی کافروں سے انہوں نے ساز باز کی اور کہا کہ اگر تمہارے اور مسلمانوں کے درمیان جنگ ہوئی تو ہم تمہارا ساتھ دیں گے۔ یہ باتیں انہوں نے رازدارانہ طریقہ پر ان کافروں سے کہی تھیں۔

۴۵۔۔۔۔۔۔۔۔ یعنی اب تو یہ اپنی زندگی کو جہاد کے خطرہ سے بچانے کے لیے کافروں کے ساتھ ساز باز کر رہے ہیں لیکن ان کو مرنا تو بہر حال ایک دن ہے۔ تو جب ان کی موت کفر کی حالت میں ہو گی اور فرشتے مار پیٹ کرتے ہوئے ان کی روح قبض کریں گے تو ان کا کیا حال ہو گا۔اگر انہیں اس کا احساس ہوتا تو وہ جہاد سے جی چرانے کے لیے کافر نہ بنتے۔

یہ آیت بھی صراحت کرتی ہے کہ عالم برزخ میں کافروں کی روحوں کو عذاب بھگتنا پڑتا ہے جس کو حدیث میں عذاب قبر سے تعبیر کیا گیا ہے۔ مرنے والے کے جسم پر اس عذاب کا کوئی اثر دکھائی نہیں دیتا اس لیے اس کا صاف مطلب یہی ہے کہ یہ عذاب روح پر ہوتا ہے۔ چہرے اور پیٹھ سے مراد روح کا چہرہ اور پیٹھ ہے جن پر فرشتے ضرب لگاتے ہیں۔( مزید تشریح کے لیے دیکھئے سورۂ مومن نوٹ ۷۱ )

۴۶۔۔۔۔۔۔۔۔ یعنی منافقوں کی عبادتیں اور ان کے وہ اعمال جو بظاہر نیک تھے ان کے کفر کی وجہ سے اللہ کے ہاں قبولیت نہیں حاصل کر سکے۔ اس لیے سب رائیگاں گئے۔

۴۷۔۔۔۔۔۔۔۔ مراد نفاق ( منافقت) کا روگ ہے۔

۴۸۔۔۔۔۔۔۔۔ یعنی یہ منافق جو کینہ اور بغض اسلام اور مسلمانوں کے خلاف رکھتے ہیں کیا اس کو وہ ظاہر نہیں کرے گا؟

۴۹۔۔۔۔۔۔۔۔ یعنی ہم چاہتے تو اے نبی! ان منافقوں کا حال تمہیں شخصاً  شخصاً دکھا دیتے اس طور سے کہ ان کے چہروں کو دیکھ کر ان کے باطن کا حال تم پر ظاہر ہو جاتا۔

واضح رہے کہ یہ بات ان لوگوں کے بارے میں کہی جا رہی ہے جو ظاہر میں مسلمان تھے لیکن اپنے باطن میں کفر کو چھپائے ہوئے تھے۔ یہی اصل منافق ہیں اور کافروں سے بدتر ہیں کیونکہ وہ اسلامی سوسائٹی میں رہ کر جو ریشہ دوانیاں کرتے ہیں وہ اسلام اور مسلمانوں کے لیے کھلے کافروں سے زیادہ خطرناک ہوتی ہیں۔

جس وقت یہ سورہ نازل ہوئی ہے اس وقت منافقوں کا حال ظاہر ہونے لگا تھا مگر وثوق کے ساتھ کسی پر اس کے منافق ہونے کا حکم نہیں لگایا جا سکتا تھا البتہ ان کے لب و لہجہ اور ان کے طرزِ گفتگو سے ان کو شناخت کیا جا سکتا تھا لیکن بعد کے مراحل میں ان کے طرزِ عمل کے پیش نظر ان کے منافق ہونے کے بارے میں کسی شک و شبہ کی گنجائش باقی نہیں رہی۔ چنانچہ سورۂ توبہ میں ان سے جہاد کرنے اور ان پر سختی کرنے کا حکم نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو دیا گیا۔

یااَیُّہَاالنَّبِیُّ جَاہِدِ الْکُفَّارَ وَالْمُنَافِقِینَ وَاغْلُظْ عَلَیْہِمْ۔(التوبہ ۷۳) ” اے نبی! کافروں اور منافقوں سے جہاد کرو اور ان کے ساتھ سختی سے پیش آؤ۔”

۵۰۔۔۔۔۔۔۔۔ یعنی یہ دیکھ لیں کہ تمہارے ظاہری حالات کہاں تک تمہارے باطنی حالات سے مطابقت رکھتے ہیں اور تم اپنے ایمان کے دعوے میں کہاں تک سچے ہو۔

۵۱۔۔۔۔۔۔۔۔ خواہ اس کا کفر چھپا ہوا ہو یا ظاہر۔

۵۲۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ تنبیہ ہے مسلمانوں کو کہ اگر تم نے اللہ کی اطاعت اور اس کے رسول کی اطاعت کو اپنا شعار نہیں بنایا تو تمہارے اعمال اکارت جائیں گے۔

۵۳۔۔۔۔۔۔۔۔ مغفرت کے لیے اس حالت کا اعتبار ہو گا جس میں اس شخص کی موت واقع ہو گئی۔ اگر کسی کی موت کفر کی حالت میں ہوئی ہے تو اس کے لیے بخشش کے دروازے بند ہیں۔

۵۴۔۔۔۔۔۔۔۔ خود ہو کر صلح کی دعوت دینا جبکہ کفار جنگ پر آمادہ ہوں بزدلی کی علامت ہے اس لیے اس سے منع کیا گیا ہے۔ البتہ جب کفار خود صلح کی پیشکش کریں تو اس پیشکش کو قبول کیا جا سکتا ہے۔ سورۂ انفال میں ارشاد ہوا ہے :

فَاِنْ جَنَحُوْالِلسَّلْمِ فَاجْنَحْ لَہَا وَتَوَکَّلْ عَلَی اللّٰہِ۔ (انفال:۶۱) ” اور اگر وہ صلح کے لیے جھکیں تو تم بھی اس کے لیے جھک جاؤ اور اللہ پر توکل کرو۔”

۵۵۔۔۔۔۔۔۔۔ اور یہ واقعہ ہے کہ اہل ایمان کا پلڑا ہر جنگ کے موقع پر بھاری رہا اور وہ کفار پر غالب آ گئے۔ اس طرح قرآن کی یہ پیشین گوئی حرف بحرف پوری ہوئی۔

۵۶۔۔۔۔۔۔۔۔ یعنی تمہاری وہ کوششیں جو تم نے اللہ کے کلمہ کو بلند کرنے کے لیے کی ہوں گی نہ دنیا میں بے اثر ہوں گی اور نہ آخرت میں بے نتیجہ۔

۵۷۔۔۔۔۔۔۔۔ اس سے یہ بات خودبخود واضح ہے کہ ایمان لا کر تقویٰ اختیار کرنے والوں کی زندگیاں کھیل تماشہ نہیں ہوتیں بلکہ سنجیدہ اور با مقصد ہوتی ہیں۔ البتہ دنیا کی زندگی ان لوگوں کے لیے کھیل تماشے سے زیادہ حقیقت نہیں رکھتی جو اس کو اپنا مقصود بناتے ہیں اور خدا و آخرت سے غافل ہو جاتے ہیں۔

۵۸۔۔۔۔۔۔۔۔ یعنی تمہارا سارا مال طلب نہیں کرے گا جیسا کہ آگے بیان ہوا ہے۔

۵۹۔۔۔۔۔۔۔۔ یعنی اگر وہ تم سے یہ مطالبہ کرتا کہ تم اپنا سارا مال اللہ کی راہ میں خرچ کرو اور اپنے لیے کچھ نہ چھوڑو تو تم بخل کرتے اور یہ بات بالکل کھل کر سامنے آتی ہے کہ کفر و اسلام کی جنگ کے موقع پر بھی تم کو اپنا مال عزیز ہے۔ مگر اللہ تعالیٰ نے تم کو اتنی سخت آزمائش میں نہیں ڈالا اور اپنے مال کا ایک حصہ اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کا حکم دیا تاکہ تمہیں اپنی اصلاح کا موقع ملے اور تمہارے قلب کا تزکیہ ہو۔

واضح رہے کہ اس آیت میں خطاب منافقوں سے ہے جو اللہ کی راہ میں خرچ کرنے سے جی چراتے تھے۔

۶۰۔۔۔۔۔۔۔۔ یہاں خطاب عام مسلمانوں سے ہے۔

۶۱۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ غیر مخلص مسلمان تھے جو اللہ کی راہ میں خرچ کرنے سے بخل برتتے تھے۔

۶۲۔۔۔۔۔۔۔۔ یعنی وہ بخل کر کے اپنا ہی نقصان کرتا ہے۔

۶۳۔۔۔۔۔۔۔۔ یعنی تمہیں اللہ کے دین کی خاطر قربانیاں دینے کا جو موقع مل رہا ہے وہ در حقیقت تمہارے لیے بڑی سعادت کی بات ہے۔ اگر تم اس کی قدر نہ کرو تو اللہ اپنا کلمہ بلند کرنے کے لیے کسی دوسری گروہ کو میدان میں لے آئے گا اور وہ تمہاری طرح کمزور کردار کے نہ ہوں گے۔

اس آیت میں تفسیر سورہ مائدہ کی آیت ۵۴ کرتی ہے :

یااَیہاالَّذِینَ اٰمَنُوامَن یَرْتَدَّمِنْکُمْ عَنْ دِینِہِ فَسَوْفَ یئَاتِی اللّٰہُ بِقَومٍ           ۝یحِبُّہُمْ وَیحِبُّوْنَہٗ اَذِلَّۃٍ عَلَی الْمُؤْمِنِینَ اَعِزَّۃٍ عَلَی الَکافِرِینَ یُجَاہِدُوْنَ فِی سَبِلِ اللّٰہِ وَلاَ یَخَافُوْنَ لَوْمَۃَ لاَئِمٍ۔ “اے ایمان والو! تم میں سے جو کوئی اپنے دین سے پھر جائے گا تو اللہ ایسے لوگوں کو لے آئے گا جن سے اللہ محبت رکھتا ہو گا اور جو اللہ سے محبت رکھتے ہوں گے۔ مومنوں کے حق میں نرم اور کافروں کے مقابلہ میں سخت ہوں گے۔ اللہ کی راہ میں جہاد کریں گے اور کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہیں ڈریں گے۔

٭٭٭

 

 

 

(۴۸) سورۃ الفتح

 

 (۳۵   آیات)

 

بسم اللہ الرحمٰن الر حیم

اللہ رحمٰن و رحیم کے نام سے

 

                   تعارف

 

نام

 

پہلی آیت میں نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو کھلی فتح کی خوشخبری سنائی گئی ہے۔ اس مناسبت سے اس سورہ کا نام ” الفتح” ہے۔

 

زمانۂ نزول

 

ذی قعدہ ۰۶ھ (۰۶۲۸ء) میں صلح حدیبیہ کے بعد واپسی کے سفر میں حدیبیہ اور مدینہ کے درمیان نازل ہوئی۔

 

مرکزی مضمون

 

رسول اور پیروانِ رسول کو خوشخبری کہ اسلام کے لیے فتوحات کا آغاز ہو گیا ہے۔ اور ان حالات پر تبصرہ جو صلحِ حدیبیہ کے موقع پر پیش آئے تھے۔

 

نظمِ کلام

 

آیت ۱  تا ۷  میں فتح کی خوشخبری دیتے ہوئے رسول اور اس کے پیرووں کے لیے ان انعامات کا ذکر کیا گیا ہے جن کو یہ فتح اپنے جِلو میں لائی ہے۔ اور منافقوں اور مشرکوں کو خبردار کیا گیا ہے کہ یہ فتح ان کے لیے عذاب کا موجب ہو گی۔

آیت ۸  تا ۱۰  میں رسالت کے مقام کو واضح کیا گیا ہے اور رسول کے ہاتھ پر بیعت کو اللہ کے ہاتھ پر بیعت سے تعبیر کیا گیا ہے اور رسول کے ہاتھ پر بیعت کو اللہ کے ہاتھ پر بیعت سے تعبیر کیا گیا ہے۔

آیت ۱۱  تا ۱۷  میں منافقین کو فہمائش اور تنبیہ ہے جو رسول کی دعوت پر آپ کے ساتھ نہیں نکلے کیونکہ انہیں اپنے مال اور اپنے گھر والوں کی فکر تھی اور رسول کے اس اقدام کو کہ مکہ جا کر عمرہ کریں خطرناک خیال کرتے رہے۔ البتہ جو لوگ واقعی معذور تھے ان کو بے قصور قرار دیا گیا ہے۔

آیت ۱۸  تا ۲۶  میں مخلص مومنوں کو جنہوں نے اس موقع پر جہاد کے لیے بیعت کی اور رسول کے حکم پر جان کی بازی لگانے کے لیے تیار ہو گئے رضائے الٰہی کی بشارت دی گئی ہے۔ اور وعدہ کیا گیا ہے کہ وہ مستقبل میں بہ کثرت مالِ غنیمت حاصل کریں گے۔ اللہ کی نصرت ان کے شاملِ حال ہو گی اس لیے کافر ان کے مقابلہ میں ٹک نہیں سکیں گے۔

آیت ۲۷  تا ۲۹  میں اہلِ ایمان کو یہ مژدہ سنایا گیا ہے کہ رسول نے مسجد حرام میں داخل ہونے کا جو خواب دیکھا تھا وہ سچا تھا اور وہ پورا ہو کر رہے گا۔ رسول کے لیے غلبہ مقدر ہے اور اس کو ایسے مخلص ساتھی مہیا ہو گئے ہیں جن کی تصویر تورات اور انجیل میں دیکھی جا سکتی ہے۔

 

صلحِ حدیبیہ کیوں اور کیسے ؟

 

 

ہجرت کے بعد مسلمانوں پر قریشِ مکہ نے مسجدِ حرام کی زیارت کی راہ روک دی تھی۔ وہ نہ عمرہ ک سکتے تھے اور نہ حج جبکہ خانۂ کعبہ جو مسجد حرام میں واقع ہے کی تعمیر حضرت ابراہیم نے اللہ کے حکم سے کی تھی اور اس لیے کی تھی تاکہ وہ لوگوں کے لیے مرکزی عبادت گاہ قرار پائے اور وہ طواف، عمرہ اور حج ک سکیں۔ اس پر قریش کی اجارہ داری اور وہ بھی بت پرستی کی شکل میں ایک ایسی بات تھی جس سے اس کی تعمیر کا مقصد ہی فوت ہو رہا تھا نیز یہ مسلمانوں پر بہت بڑا ظلم تھا کہ وہ اپنے اصل مرکز سے بے تعلق ہو کر رہ جائیں۔ اس لیے مسلمانوں کا یہ حق تھا کہ وہ مسجدِ حرام کی زیارت کریں۔

مسلمانوں اور کفارِ مکہ کے درمیان جنگِ بدر، جنگِ احد اور جنگِ خندق لڑی جاچکی تھی اور کفارِ مکہ بر سرِ پیکار ہی تھے کہ ۶ ۰ھ میں نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے ایک رُؤیا (خواب) دیکھی کہ آپ اپنے اصحاب کے ساتھ مسجدِ حرام میں داخل ہو گئے ہیں۔ چونکہ نبی کی رُؤیا سچی اور منجانب اللہ ہوتی ہے اس لیے آپ نے اللہ کی طرف سے یہ اشارہ پاتے ہی عمرہ (زیارت بیت اللہ) کا ارادہ کیا اور اس کا عام اعلان کر دیا تاکہ لوگ زیادہ سے زیادہ تعداد میں شریک ہوں اور کافروں کو ان پر ہاتھ اٹھانے کی جرأت نہ ہو۔ آپ کی دعوت پر مدینہ کے چودہ سو مسلمان اس مہم میں شرکت کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے اور ذی قعدہ کی پہلی تاریخ کو یہ قافلہ مکہ کی سمت روانہ ہوا۔ مدینہ سے چھ میل کے فاصلہ پر ذوا لحلیفہ میں عمرہ کا احرام باندھا۔ قربانی کے لیے اونٹ ساتھ لیے تھے جن کی گردنوں میں علامت کے طور پر پٹے پڑے ہوئے تھے تاکہ کوئی شخص بھی ان کو دیکھ کر پہچان لے کہ یہ قربانی (ہدی) کے اونٹ ہیں اور اس بنا پر کوئی تعرض نہ کرے۔ جنگ کا چونکہ کوئی ارادہ نہیں تھا اس لیے جنگی سامان بھی ساتھ نہ لیا تھا۔ عام رواج کے مطابق صرف تلواریں ساتھ تھیں۔ اور و ہ بھی میانوں کے اندر۔ جب آپ کُراع الغُمیم پہنچے جہاں سے مکہ کا فاصلہ تقریباً سو کلو میٹر ہے تو معلوم ہوا کہ کفارِ مکہ کی طرف سے خالد بن ولید کی قیادت میں تین سو گھوڑے سواروں کا ایک دستہ آپ کے مقابلہ کے لیے پہنچ گیا ہے۔ چونکہ آپ جنگ کے ارادہ سے نہیں نکلے تھے اس لیے آپ نے اس قریب کے راستہ کو چھوڑ کر دور کا راستہ مکہ جانے کے لیے اختیار کیا اور حدیبیہ کے مقام پر پہنچ گئے جہاں سے حرم کی حدود شروع ہو جاتی ہیں اور مکہ کا فاصلہ صرف ۲۲ کلو میٹر رہ جاتا ہے۔ اب اس مقام کو شُمَیسیہ کہتے ہیں۔

آپ نے حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو یہ پیغام دے کر مکہ بھیجا کہ وہ قریش سے کہیں کہ ہم جنگ کے لیے نہیں آئے ہیں بلکہ مقصد صرف عمرہ ہے نیز انہیں قبولِ اسلام کی دعوت بھی دیں۔ حضرت عثمان جب مکہ پہنچے تو ان کے قبیلہ والے عزت سے پیش آئے اور قریش نے بھی ان کو طواف کرنے کی پیش کش کی لیکن انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے پہلے طواف کرنے سے انکار کر دیا۔ قریش کسی طرح اس بات کے لیے آمادہ نہیں ہوئے کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم صحابہ کے ساتھ عمرہ کے لیے مکہ میں داخل ہوں۔ اس بحث میں حضرت عثمان کی واپسی میں کچھ تاخیر ہو گئی۔ ادھر مسلمانوں کو تشویش ہوئی اور بظاہر یہ صورت پیدا ہو گئی کہ اب بزور ہی مکہ میں داخل ہونا پڑے گا۔ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے موقع کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے صحابہ کو جہاد کی بیعت کرنے کی دعوت دی چنانچہ صحابہ کرام نے آپ کے ہاتھ پر بلا تامل بیعت کی جو اس بات کا عہد تھا کہ اگر مشرکینِ مکہ عمرہ کی ادائیگی سے روکتے ہیں تو وہ بغیر جنگی سامان کے بھی محض اپنی تلواروں سے ان کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہیں۔

یہ ایک تاریخی بیعت تھی جو بیعتِ رضوان کے نام سے مشہور ہوئی۔ جب قریش کو اس کی اطلاع ہوئی تو وہ مرعوب ہوئے اور انہوں نے سہیل بن عَمرو کی قیادت میں ایک وفد صلح کی بات چیت کے لیے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس بھیجا۔ بات چیت کے بعد جو معاہدہ صلح طے پایا اس کی اہم دفعات یہ تھیں :۔

۱ ۔ امسال مسلمان مدینہ لوٹ جائیں اور آئندہ سال مکہ آ کر عمرہ کریں۔ اس موقع پر قریش ان سے کوئی تعرض نہیں کریں گے۔

۲ ۔ مسلمان اپنے ساتھ صرف تلواریں لا سکیں گے اور وہ میان میں ہو گی۔

۳ ۔ وہ مکہ میں صرف تین دن قیام کریں گے۔

۴ ۔ مسلمان اور قریش کے درمیان اب جنگ کی حالت باقی نہیں رہے گی اور یہ معاہدہ دس سال کے لیے ہے۔

۵ ۔ قریش کا کوئی آدمی اگر مدینہ آ جائے تو اسے واپس کرنا ہو گا اور اگر کوئی مسلمان قریش کے پاس آئے تو اسے واپس کرنا ضروری نہ ہو گا۔

۶ ۔ حرم کے اطراف میں رہنے والے قبائل کو اس بات کی آزادی ہو گی کہ وہ دونوں میں سے جس فریق کے ساتھ چاہیں ہو جائیں۔ اس کے بعد اس قبیلہ کی بھی وہی ذمہ داریاں ہوں گی جو معاہدہ نے اس فریق پر عائد کی ہیں۔ اسی طرح اس کے بھی وہی حقوق ہو ں گے جو معاہدہ کی رو سے اس فریق کے قرار پاتے ہیں۔

۷ ۔ ان قبائل میں سے اگر کسی قبیلہ سے تعرض کیا گیا تو اسے متعلقہ فریق کے خلاف زیادتی سمجھا جائے گا اور اس سے معاہدہ کالعدم ہو جائے گا۔ (صلح الحدیبیہ۔ محمد احمد باشمیل۔ ص۲۵۲ تا ۲۵۴)

اس معاہدہ کا ظاہری پہلو ایسا تھا کہ گویا مسلمانوں نے دب کر صلح کر لی ہے لیکن د ر حقیقت اس سے مسلمانوں کی پوزیشن کافی مضبوط ہو گئی تھی۔ کیونکہ اس سے اول تو مسجد حرام کی زیارت کی راہ کھل رہی تھی اور دوسرے اسلام اور مسلمانوں کے خلاف محاذ آرائی کا خاتمہ ہورہاتھا جس سے وہ رکاوٹ دور ہو رہی تھی جو اسلام کی اشاعت کی راہ میں حائل تھی اور لوگوں کو اسلام کے بارے میں آزادانہ غور و فکر کا موقع مل رہا تھا۔

معاہدۂ صلح سے فارغ ہونے کے بعد نبی صلی اللہ علیہ و سلم اور صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین نے حدیبیہ ہی میں قربانی (ھَدْی) کے اونٹ ذبح کئے اور عمرہ کا احرام اتارا۔ اس کے بعد مدینہ کے لیے روانہ ہو گئے۔ آئندہ سال ذی قعدہ ہی میں آپ اپنے اصحاب کے ساتھ مکہ تشریف لے گئے اور پر امن فضا میں آپ نے عمرہ ادا کیا۔ اس طرح وہ رؤیاء (خواب) سچی ثابت ہوئی جو آپ نے دیکھی تھی۔

 

                   ترجمہ

 

بسم اللہ الرحمٰن الر حیم

اللہ رحمٰن و رحیم کے نام سے

 

۱ ۔ (اے نبی!) ہم نے تم کو یقیناً کھلی فتح عطا کی۔ ۱*

۲ ۔ تاکہ اللہ تمہارے اگلے پچھلے قصوروں کو معاف کر دے ۲*  اور تم پر اپنی نعمت پوری کرے ۳*  اور تم کو سیدھی راہ چلائے۔ ۴*

۳ ۔۔۔۔۔۔۔۔ اور زبردست نصرت سے اللہ تمہاری مدد فرمائے۔ ۵*

۴ ۔۔۔۔۔۔۔۔ اسی نے مومنوں کے دلوں میں سکینت نازل فرمائی ۶*  تاکہ اپنے ایمان کے ساتھ انہیں مزید ایمان حاصل ہو۔ ۷*  آسمانوں اور زمین کے تمام لشکروں کا مالک اللہ ہی ہے۔ ۸*  اور اللہ صاحبِ علم اور صاحبِ حکمت ہے۔ ۹*

۵ ۔۔۔۔۔۔۔۔ (اس نے یہ فتح اس لیے عطا فرمائی) تاکہ وہ مومن مردوں اور مومن عورتوں کو جنتوں میں داخل کرے جن کے نیچے نہریں رواں ہوں گی۔ وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے۔ اور تاکہ ان سے ان کی برائیاں دور کر دے۔ اللہ کے نزدیک یہی بڑی کامیابی ہے۔ ۱۰*

۶ ۔۔۔۔۔۔۔۔ اور منافق مردو ں اور منافق عورتوں اور مشرک مردوں اور مشرک عورتوں کو سزا دے ۱۱*  جو اللہ کے بارے میں برا گمان رکھتے ہیں۔ برائی کی گردش ان ہی پر ہے۔ اللہ کا ان پر غضب ہوا اور اس نے ان پر لعنت کی۔ ان کے لیے اس نے جہنم تیار کر رکھی ہے اور وہ بہت بُرا ٹھکانا ہے۔

۷ ۔۔۔۔۔۔۔۔ آسمانوں اور زمین کے لشکر اللہ ہی کے قبضہ میں ہیں اور وہ غلبہ والا حکمت والا ہے۔

۸ ۔۔۔۔۔۔۔۔ (اے نبی!) ہم نے تم کو گواہی دینے والا،۱۲*  خوشخبری دینے والا ۱۳*  اور خبردار کرنے والا ۱۴*  بنا کر بھیجا ہے۔

۹ ۔۔۔۔۔۔۔۔ تاکہ تم لوگ اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لے آؤ، اس کی حمایت کرو اور اس کی تعظیم کرو ۱۵*  اور اللہ کی تسبیح کرو صبح و شام۔ ۱۶*

۱۰ ۔۔۔۔۔۔۔۔ (اے بنی!) جو لوگ تم سے بیعت کر رہے تھے وہ در حقیقت اللہ سے بیعت کر رہے تھے۔ ان کے ہاتھ پر اللہ کا ہاتھ تھا ۱۷*  تو جو شخص عہد توڑے گا وہ اپنی عہد شکنی کا وبا اپنے ہی اوپر لے گا اور جو اس عہد کو پورا کرے گا جو اس نے اللہ سے کیا ہے ۱۸* اس کو اجر عظیم عطا فرمائے گا۔

۱۱ ۔۔۔۔۔۔۔۔ بدوی عربوں میں سے جو لوگ پیچھے چھوڑ دئے گئے تھے ۱۹*  وہ تم سے ضرور کہیں گے کہ ہم کو اپنے مال اور بال بچوں نے مشغول کر رکھا تھا۔ لہٰذا آپ ہمارے لیے مغفرت کی دعا فرمائیں۔ یہ اپنی زبان سے وہ باتیں کہتے ہیں جو ان کے دلو ں میں نہیں ہیں۔ ۲۰*  کہو کون ہے جو اللہ کے مقابل تمہارے لیے کچھ اختیار رکھتا ہو اگر وہ تمہیں کوئی نقصان یا نفع پہنچانا چاہے ؟ اور یہ حقیقت ہے کہ اللہ تمہارے اعمال سے باخبر ہے۔

۱۲ ۔۔۔۔۔۔۔۔ مگر تم نے یہ گمان کیا کہ رسول اور اہلِ ایمان اب کبھی اپنے گھر والوں میں پلٹ کر نہ آ سکیں گے۔ ۲۱*  اور یہ بات تمہارے دلوں کو خوشنما معلوم ہوئی ۲۲*  اور تم نے برے گمان کئے ۲۳*  اور تم ہلاک ہونے والے بنے۔

۱۳ ۔۔۔۔۔۔۔۔ اور جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان نہیں لایا تو ایسے کافروں کے لیے ۲۴*  ہم نے بھڑکتی آگ تیار کر رکھی ہے۔ ۲۵*

۱۴ ۔۔۔۔۔۔۔۔ آسمانوں اور زمین کی بادشاہی اللہ ہی کی ہے۔ وہ جسے چاہے معاف کرے اور جسے چاہے سزا دے۔ ۲۶*  وہ مغفرت فرمانے والا رحم فرمانے والا ہے۔ ۲۷*

۱۵ ۔۔۔۔۔۔۔۔ جب تم غنیمتیں حاصل کرنے کے لیے جانے لگو گے تو یہ لوگ جو پیچھے چھوڑ دئے گئے ہیں ضرور کہیں گے کہ ہمیں بھی ساتھ چلنے دو ۲۸*  یہ چاہتے ہیں کہ اللہ کے قول کو بدل دیں۔ (ان سے) کہو تم ہرگز ہمارے ساتھ نہیں چل سکتے۔ یہ بات اللہ پہلے ہی فرما چکا ہے۔ ۲۹*  یہ کہیں گے نہیں بلکہ تم لوگ ہم پر حسد کرتے ہو۔ لیکن واقعہ یہ ہے کہ لوگ کم ہی سمجھتے ہیں۔ ۳۰*

۱۶ ۔۔۔۔۔۔۔۔ ان بدووں سے جو پیچھے چھوڑ دئے گئے ہیں کہہ دو کہ عنقریب تمہیں ایک سخت زور آور قوم سے مقابلہ کے لیے بلایا جائے گا۔ تم کو ان سے جنگ کرنا ہو گی یا وہ اسلام میں آ جائیں گے۔ ۳۱*  اگر تم نے منہ موڑا جیسا کہ تم پہلے منہ موڑ چکے ہو تو وہ تم کو درد ناک سزا دے گا۔ ۳۲*

۱۷ ۔۔۔۔۔۔۔۔ نابینا (کے جہاد کے لیے نہ نکلنے) پر کوئی حرج نہیں اور نہ لنگڑے اور مریض پر کوئی حرج ہے۔ ۳۳*  اور جو اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے گا اسے وہ ایسے باغوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی۔ ۳۴*  اور جو روگردانی کرے گا اسے وہ درد ناک عذاب دے گا۔

۱۸ ۔۔۔۔۔۔۔۔ اللہ راضی ہوا مومنوں سے جب وہ درخت کے نیچے تم سے بیعت کر رہے تھے۔ ۳۵*  اس نے جان لیا ان کے دلوں کا حال۔ ۳۶*  اس لیے اس نے ان پر سکینت نازل کی۳۷*  اور ان کو ایک قریبی فتح عطا کی۔ ۳۸*

۱۹ ۔۔۔۔۔۔۔۔ اور غنیمت کے بہت سے مال جن کو وہ حاصل کریں گے۔ ۳۹*  اللہ غالب ہے حکمت والا۔ ۴۰*

۲۰ ۔۔۔۔۔۔۔۔ اللہ نے تم سے بہ کثرت اموالِ غنیمت کا وعدہ کیا ہے جن کو تم حاصل کرو گے ۴۱*  اور فوری طور پر تم کو یہ (نُصرت) عطا فرائی اور لوگوں کے ہاتھ تم سے روک دیئے۔ ۴۲*  اور اس لیے ایسا کیا تاکہ مومنوں کے لیے ایک نشانی ہو ۴۳*  اور تمہیں سیدھی راہ پر چلائے۔ ۴۴*

۲۱ ۔۔۔۔۔۔۔۔ اور دوسرے اموالِ غنیمت بھی جن پر تم ابھی قادر نہیں ہوئے لیکن اللہ نے ان کو احاطہ کر رکھا ہے ۴۵*  اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔

۲۲ ۔۔۔۔۔۔۔۔ اگر یہ کافر تم سے جنگ کرتے تو یقیناً پیٹھ پھیر جاتے پھر نہ کوئی کارساز پاتے اور نہ مدد گار۔ ۴۶*

۲۳ ۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ اللہ کی سنت (قاعدہ) ہے جو پہلے سے چلی آ رہی ہے ۴۷*  اور اللہ کی سنت میں تم ہرگز کوئی تبدیلی نہ پاؤ گے۔

۲۴ ۔۔۔۔۔۔۔۔ وہی ہے جس نے مکہ کی وادی میں ان کے ہاتھ تم سے اور تمہارے ہاتھ ان سے روک دئے بعد اس کے کہ ان پر تمہیں غلبہ عطا کر چکا تھا۔ ۴۸*  اور جو کچھ تم کر رہے تھے اسے اللہ دیکھ رہا تھا۔

۲۵ ۔۔۔۔۔۔۔۔ وہی لوگ ہیں جنہوں نے کفر کیا اور تمہیں مسجدِ حرام سے روکا اور قربانی کے جانوروں کو بھی روکے رکھا کہ وہ اپنی جگہ (یعنی قربان گاہ) پہنچنے نہ پائیں۔ ۴۹*  اور اگر ایسے مومن مرد اور مومن عورتیں (مکہ میں) موجود نہ ہوتیں جنہیں تم نہیں جانتے اور جن کے بارے میں یہ اندیشہ نہ ہوتا کہ تم انہیں نادانستگی میں کچل دو گے اور ان کے تعلق سے تم پر الزام آئے گا (تو جنگ رو کی نہ جاتی۔ روکی اس لیے گئی) تاکہ اللہ اپنی رحمت میں جس کو چاہے داخل کرے۔ ۵۰*  اگر وہ الگ ہو گئے ہوتے تو ہم ان (مکہ والوں) میں سے جنہوں نے کفر کیا درد ناک سزا دیتے۔ ۵۱*

۲۶ ۔۔۔۔۔۔۔۔ جب کافروں نے اپنے دلوں میں حمیت پیدا کی۔۔ جاہلیت کی حمیت۔۵۲*  تو اللہ نے اپنے رسول اور مومنوں پر اپنی سکینت نازل فرمائی ۵۳*  اور ان کو تقویٰ کی بات کا پابند رکھا اور وہ اس کے حق دار اور اہل تھے۔ ۵۴*  اور اللہ ہر چیز کو جاننے والا ہے۔

۲۷ ۔۔۔۔۔۔۔۔ اللہ نے اپنے رسول کو سچی رؤیا (خواب) دکھائی تھی جو حق پر مبنی تھی۔ انشاء اللہ تم ضرور مسجدِ حرام میں امن کے ساتھ داخل ہو گے۔ اپنے سر منڈاتے اور کتراتے ہوئے۔ تمہیں کوئی ڈر نہ ہو گا۔ ۵۵*  تو اس نے جانی و ہ بات جو تم نے نہیں جانی۔ ۵۶*  لہٰذا اس نے اس سے پہلے تم کو ایک قریبی فتح عطا کی۔ ۵۷*

۲۸ ۔۔۔۔۔۔۔۔ وہی ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دینِ حق کے ساتھ بھیجا تاکہ تمام ادیان پر اس کو غالب کر دے۔ ۵۸*  اور (اس پر) اللہ کا گواہ ہونا کافی ہے۔

۲۹ ۔۔۔۔۔۔۔۔ محمد اللہ کے رسول ہیں ۵۹*  اور جو لوگ ان کے ساتھ ہیں وہ کافروں پر سخت اور آپس میں رحم دل ہیں۔ ۶۰*  تم انہیں رکوع اور سجدے کی حالت میں پاؤ گے۔ ۶۱*  (اور دیکھو گے کہ) وہ اللہ کے فضل اور اس کی خوشنودی کی طلب میں سرگرم ہیں۔ ۶۲*  ان کی علامت ان کے چہروں پر  سجدوں کا نشان ہے۔ ۶۳*  ان کی یہ صفت تورات میں بیان ہوئی ہے۔ ۶۴*  اور انجیل میں ان کی مثال اس طرح بیان ہوئی ہے جیسے کھیتی جس نے اپنی کونپل نکالی پھر اس کو تقویت دی پھر وہ موٹی ہوئی پھر اپنے تنہ پر کھڑی ہو گئی۔ ۶۵*  وہ کاشت کاروں کو خوش کرتی ہے تاکہ کفار ان سے جلیں۔ ۶۶*  اللہ نے ان لوگوں سے جو ان میں سے ایمان لائے اور جنہوں نے نیک عمل کئے مغفرت اور اجرِ عظیم کا وعدہ کر رکھا ہے۔ ۶۷*

 

                   تفسیر

 

۱ ۔۔۔۔۔۔۔۔مراد فتحِ مکہ ہے جس کی تمہید صلح حدیبیہ تھی۔ اس معاہدہ کے دو سال کے اندر (رمضان ۰۸ھ) مکہ فتح ہوا اور قرآن کی یہ پیشین گوئی کہ ” ہم نے تمہیں کھلی فتح عطا کی ہے ” سچی ثابت ہوئی۔ صلحِ حدیبیہ کا ظاہری پہلو مسلمانوں کے لیے ناگواری کا باعث تھا کیونکہ انہیں اس سال عمرہ کئے بغیر مدینہ لوٹنا پڑ رہا تھا لیکن اللہ کے رسول کی دور رس نگاہیں اس کے خوشگوار اثرات و نتائج کو دیکھ رہی تھیں اور واقعہ یہ ہے کہ اسلام کی فتوحات کا سلسلہ صلح حدیبیہ کے بعد ہی سے شروع ہو جاتا ہے۔ علامہ ابنِ قیوم اس کی حکمتوں کو واضح کرتے ہوئے لکھتے ہیں :۔

یہ تمہید تھی عظیم ترین فتح کی جس کے ذریعہ اللہ نے اپنے رسول اور اپنے لشکر کو عزت بخشی اور لوگ اللہ کے دین میں فوج در فوج داخل ہوئے۔ تو یہ صلح اس فتح کا باب اور اس کی کلید تھی نیز اس کا پیشگی اعلان تھا۔ ۔  یہ صلح فتحِ عظیم تھی کیونکہ اس سے لوگوں کو امن میسر آیا اور مسلمانوں کو کافروں سے ملنے جلنے ، ان کے سامنے دعوت پیش کرنے ، ان کو قرآن سنانے اور بے خوف ہو کر ان سے اسلام پر علانیہ مذاکرہ کرنے کا موقع ملا۔ جو لوگ اپنے اسلام کو چھپائے ہوئے تھے وہ ظاہر ہو گئے اور مدتِ صلح کے دوران اللہ نے جن کو توفیق دی وہ اسلام میں داخل ہو گئے۔ اسی لیے اللہ نے اسے فتحِ مبین قرار دیا۔ ۔ ۔ بظاہر یہ صلح مسلمانوں کے لیے حق تلفی کا باعث تھی لیکن اس کے باطن میں عزت ، فتح اور نصرت تھی۔ ” (زاد المعاد ج ۲ ص ۱۳۰)

واضح رہے کہ موجودہ زمانہ میں بعض حضرات اپنے غلط نظریات کے لیے صلح حدیبیہ کا سہارا لیتے ہیں جس سے جہاد کی اسپرٹ مجروح ہو جاتی ہے۔ وہ اسلام کی ایسی تعبیر کرتے ہیں کہ گویا وہ دشمنانِ اسلام کے لیے لوچ ہے اور مسلمانوں کو ان کے لیے نرم چارہ بن جانا چاہیے حالانکہ اسلام میں جنگ بھی ہے اور صلح بھی۔

صلحِ حدیبیہ تو ایک خاص موقع پر کی گئی تھی جس کی پیشکش کفارِ مکہ نے کی تھی نہ کہ مسلمانوں نے۔ مسلمانوں کو تو سورۂ محمد میں پہلے ہی یہ ہدایت دی جاچکی تھی کہ وہ صلح کے لیے پہل نہ کریں :۔

فَلاَ تَہِنُوا وَتَدْعُوا اِلٰی السَّلْمِ۔ (محمد:۳۵) ” ہمت نہ ہارو اور صلح کے لیے نہ بلاؤ۔ ”

پھر یہ بھی واقعہ ہے کہ صلحِ حدیبیہ سے پہلے جنگِ بدر (۰۲ھ) اور جنگِ احد (۳ ۰ھ) لڑی گئی تھی اور خندق (۰۵ھ) کا معرکہ بھی پیش آ چکا تھا۔ اسی طرح صلحِ حدیبیہ کے ختم ہونے پر بزور مکہ فتح کیا گیا اور حنین میں جنگ کا بازار گرم ہوا۔ اور تبوک میں تو رومن ایمپائر کو چیلنج کیا گیا۔ تو کیا ان سب واقعات کو نظر انداز کر کے صلحِ حدیبیہ کو بے موقع پیش کرنا اور اس بنیاد پر ایک خاص فکر تشکیل دینا صریح بے اعتدالی اور یک رخا پن نہیں ہے ؟

۲ ۔۔۔۔۔۔۔۔اشارہ ہے اس بات کی طرف کہ فتحِ مکہ کے بعد رسول کے مشن کی تکمیل ہو جاتی ہے اور اس کا مقصدِ بعثت پورا ہو جاتا ہے کیونکہ آخری نبی کے ذریعہ مرکز توحید کو مشرکوں سے پاک کر کے امتِ مسلمہ کے حوالہ کرنا اور اسلام کو اس طرح سر بلند کرنا کہ تمام ادیان پر اس کا غلبہ ہو وہ آخری غایت Goal تھی جس کے لیے آپ کو مبعوث کیا گیا تھا۔ اس آخری غایت کے حاصل ہو جانے کے بعد دنیا سے آپ کی رخصت کا وقت قریب آ جاتا ہے اس لیے آپ کو یہ بشارت سنائی گئی کہ فتحِ مکہ اپنے جِلو میں پروانۂ مغفرت لائی ہے۔ آپ سے جو قصور بھی سر زد  ہوئے ہیں یا آئندہ ہوں گے ان سب کے لیے آپ کے رب کی طرف سے معافی کا پیشگی اعلان ہے۔ یہ بشارت نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی سعی و جہد کو شرفِ مقبولیت بخشنے والی اور فرائض رسالت کی ادائیگی پر آپ کی قدر افزائی کا موجب تھی۔ اس خوشخبری کے بعد بھی نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے عبادت میں انہماک کا عالم یہ تھا کہ آپ کے پاؤں قیامِ لیل سے متورم ہو جاتے۔ جب صحابہ نے آپ سے پوچھا کیا آپ کے اگلے پچھلے قصور معاف نہیں کر دئے گئے ہیں تو آپ نے فرمایا:۔ اَفَلا اَکُونْ عَبْداً شَکُوراً (بخاری کتاب التفسیر) ” کیا میں شکر گزار بندہ نہ بن جاؤں ؟”

رہا یہ سوال کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے قصر سر زد ہوئے تھے یا نہیں تو اس کی وضاحت سورۂ مومن کے نوٹ ۷۹ میں کی جاچکی ہے۔ اس کو پیش نظر رکھا جائے۔

انبیاء علیہم السلام کے بارے میں یہ بات مسلم ہے کہ وہ گناہ کا ارتکاب نہیں کرتے۔ ان کی اتباع کا حکم دیا گیا ہے اور غیر مشروط اتباع اسی کی کی جا سکتی ہے جو معصوم ہو۔ اس سے عصمتِ انبیاء کا حق ہونا خود بخود واضح ہو جاتا ہے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ ان سے کبھی کوئی قصور سر زد نہیں ہوا۔ قصور کا سرزد ہونا بشریت کا تقاضا ہے۔ نا دانستہ کسی قصور کے سر زد ہونے اور دانستہ کسی گناہ کا ارتکاب کرنے میں زمین اور آسمان کا فرق ہے۔ پھر وحیِ الٰہی ان کے قصوروں پر انہیں متنبہ کر دیتی ہے اور وہ فوراً رجوع کر لیتے ہیں اس لیے لوگوں کے سامنے کسی غلط مثال کے پیش ہونے کا سوال پیدا نہیں ہوتا۔ قرآن نے خود بعض انبیاء علیہم السلام کے بعض قصوروں کا ذکر اس طور پر کیا ہے کہ انہیں ان پر متنبہ کیا گیا اور وہ فوراً اللہ کی طرف احساس عبدیت کے ساتھ رجوع ہو گئے۔ انبیاء علیہم السلام اپنے قصوروں کی معافی کے لیے دعا بھی کرتے رہے ہیں۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعا تھی:۔ وَالَّذِیْ اَطْمَعُ اَن ییغْفِرَلِیْ خَطِیئَتِیْ یوْمَ الدِّینِ۔ (شعراء:۸۲ ) ” اور جس سے میں امید رکھتا ہوں کہ جزا کے دن وہ میری خطائیں معاف کر دے گا۔ ”

اور نبی صلی اللہ علیہ و سلم روزانہ ستر مرتبہ سے زیادہ استغفار کیا کرتے تھے۔ (بخاری کتاب الدعوات)

۳ ۔۔۔۔۔۔۔۔نعمت پوری کرنے سے مراد خیر سے مالا مال کرنا، عزت و سر فرازی عطا کرنا اور مرتبہ کو بلند کرنا ہے۔

۴ ۔۔۔۔۔۔۔۔یعنی فتح سے ہم کنارے ہونے کے بعد بھی اللہ آپ کو راہِ راست پر چلائے گا۔ یہ اشارہ اس بات کی طرف ہے کہ فتح یابی کے بعد ایک قائد غرور اور گھمنڈ میں مبتلا ہو جاتا ہے اور غلط روی اختیار کرتا ہے مگر آپ کا معاملہ ایسا نہیں۔ آپ اللہ کے رسول ہیں اور اس کی توفیق اور رہنمائی میں سارے مراحل طے کر رہے ہیں اس لیے فتح یابی کے بعد بھی آپ راہِ ہدایت ہی پر چلتے رہیں گے۔ اور واقعات نے اس کی تصدیق کی چنانچہ فتح مکہ کے بعد آپ نے جس طرح زندگی گزاری اور اقتدار پاکر جس احساس ذمہ داری کے ساتھ اس کو استعمال کیا وہ آپ کا ایک بے مثال کارنامہ ہے۔ مکہ میں آپ فاتحانہ داخل ہوئے تھے مگر سر عبودیت جھکا ہوا تھا اور اپنے دشمنوں کے خلاف کوئی انتقامی کاروائی نہیں کی بلکہ فرمایا:۔

لاتَثْرِیبَ عَلَییکُمْ الْیومَ ” آج تم پر کوئی گرفت نہیں۔ ”

۵ ۔۔۔۔۔۔۔۔یعنی الہ کی طرف سے ایسی نصرت کہ جو بھی تم سے ٹکرائے گا پاش پاش ہو کر رہ جائے گا۔ انجیل میں بھی اس کی پیشین گوئی موجود ہے :۔

” اس لیے میں تم سے کہتا ہوں کہ خدا کی بادشاہی تم سے لے لی جائے گی اور اس قوم کو جو اس کے پھل لائے دیدی جائے گی اور جو اس پتھر پر گرے گا ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے گا لیکن جس پر وہ گرے گا پیس ڈالے۔ ” (متی ۲۱:۴۳،۴۴) اور حدیث میں ارشاد ہوا ہے :۔

نُصِرْتُ بِالرُّعْبِ” میری رعب سے مدد کی گئی ہے۔ ” (مسلم کتاب المساجد)

۶ ۔۔۔۔۔۔۔۔یعنی حدیبیہ کے موقع پر جب کہ مسلمان احرام کی حالت میں تھے اور جنگ کی نوبت آ گئی تھی مسلمان سخت اضطراب میں مبتلا ہو سکتے تھے لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کی مدد سکنیت نازل فرما کر کی اس لیے وہ مطمئن تھے اور جان ہاتھوں میں لے کر مکہ میں داخل ہونے کے لیے تیار ہو گئے تھے۔ انہوں نے اس موقع پر کوئی کمزوری نہیں دکھائی یہاں تک کہ انہیں صلح کا معاہدہ قبول کرنے میں بھی تامل ہوا جس سے ان کے حوصلہ اور ان کی جانفروشی کے جذبے کا اندازہ ہوتا ہے۔

۷ ۔۔۔۔۔۔۔۔یعنی ان کے ایمان میں اضافہ ہو۔

جہاں تک عقیدہ کا تعلق ہے ہر صحیح العقیدہ مسلمان کا عقیدہ یکساں رہتا ہے لیکن ایمانی کیفیت میں حسنِ عمل اور ان قربانیوں کی بنا پر جو وہ دین کے لیے دیتا ہے اضافہ ہوتا رہتا ہے۔ قرآن کی متعدد آیات سے یہی حقیقت واضح ہوتی ہے۔ (دیکھئے سورۂ انفال آیت ۲ ،نوٹ ۳  اور سورۂ توبہ آیت ۱۲۴، نوٹ ۲۲۶)۔

۸ ۔۔۔۔۔۔۔۔اس لیے وہ جس کو فتح کرنا چاہے اسے کوئی روک نہیں سکتا۔

۹ ۔۔۔۔۔۔۔۔اس لیے اس کا ہر فیصلہ علم و حکمت پر مبنی ہوتا ہے۔

۱۰ ۔۔۔۔۔۔۔۔یعنی یہ فتح اپنے پہلو بہ پہلو اہلِ ایمان کے لیے اخروی کامیابی کا مژدہ بھی لائی ہے کہ ان کی محنت ٹھکانے لگی، ان کی سعی مشکور ہوئی اور ان کو جنت کا پروانہ مل گیا۔

مومن عورتوں کا ذکر خصوصیت کے ساتھ کیا گیا کیونکہ اس مہم کو سر کرنے میں وہ مردوں کی مددگار ہوئیں اور ان کے حوصلوں کو بڑھاتی رہیں۔

حدیث میں آتا ہے کہ صحابہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے پوچھا یا رسول اللہ آپ کو تو اس سورہ میں اپنے اگلے پچھلے گناہ بخش دے ئے جانے کی بشارت سنائی گئی ہے مگر ہمارے لیے کیا ہے ؟ آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی یعنی تمہارے لیے جنت ہے۔ (ترمذی۔ ابواب التفسیر)

۱۱ ۔۔۔۔۔۔۔۔یعنی فتح مکہ جہاں اہل ایمان کے لیے عنایت کا باعث ہو گی وہاں منافقین اور مشرکین کے لیے عذاب کا موجب ہو گی۔ چنانچہ مکہ کے بعد ان کی سر کوبی کا سلسلہ برابر جاری رہا۔

۱۲ ۔۔۔۔۔۔۔۔تشریح کے لیے دیکھئے سورہ احزاب نوٹ ۹۹۔

۱۳ ۔۔۔۔۔۔۔۔تشریح کے لیے دیکھئے سورہ احزاب نوٹ ۱۰۰۔

۱۴ ۔۔۔۔۔۔۔۔تشریح کے لیے دیکھئے سورہ احزاب نوٹ ۱۰۱۔

۱۵ ۔۔۔۔۔۔۔۔یعنی رسول کا مقام نہایت بلند مقام ہے لہٰذا  تمہیں چاہیے کہ اس پر ایمان لانے کے بعد اس کے حامی و ناصر بن کر کھڑے ہو جاؤ اور اس کی تعظیم و توقیر کرو۔

واضح رہے کہ تُعَزِّرُوْہٗ (اس کی حمایت کرو) اور تُوَقِّرُوْہٗ (اس کی تعظیم کرو) کے الفاظ رسول ہی کے لیے موزوں ہو سکتے ہیں لہٰذا ضمیر (ہٗ) کا تعلق رسول ہی سے ہے۔ سورۂ اعراف آیت ۱۵۷ میں بھی عَزرُوہٗ (اس کی حمایت کی) کا لفظ رسول ہی کے لیے استعمال ہوا ہے۔

۱۶ ۔۔۔۔۔۔۔۔سَبِّحُوْہٗ (اس کی تسبیح کرو) میں ضمیر “ہٗ” اللہ ہی کے بارے میں ہو سکتی ہے کیونکہ تسبیح صرف اللہ ہی کی جا سکتی ہے اس لیے ترجمہ ” اللہ کی تسبیح کرو” کیا گیا ہے۔

۱۷ ۔۔۔۔۔۔۔۔اشارہ ہے بیعتِ رضوان کی طرف جو حدیبیہ میں نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنے اصحاب سے لی تھی کہ وہ بھاگیں گے نہیں اگرچہ انہیں موت کے منہ میں جانا پڑے۔ (مزید تفصیل آگے آیت ۱۸ کے ذیل میں آ رہی ہے)

یہ بیعت (عہد) جو رسول کے ہاتھ پر کی گئی تھی در حقیقت اللہ سے بیعت تھی کیونکہ رسول اللہ کا بھیجا ہوا ہوتا ہے اور وہ جو حکم دیتا ہے اللہ کے حکم سے دیتا ہے۔ لہٰذا اس سے عہد کرنا اللہ سے عہد کرنا ہے۔ اس حقیقت کو اس طرح بیان فرمایا ہے کہ ” ان کے ہاتھ پر اللہ کا ہاتھ تھا۔ ”

واضح رہے کہ قرآن میں صرف رسول کے ہاتھ پر بیعت کرنے کا ذکر ہوا ہے اور اس کی اہمیت اس سے واضح ہے کہ رسول کے ہاتھ پر بیعت کرنا اللہ کے ہاتھ پر بیت کرنے کے مترادف ہے۔ اس لیے یہ بیعت بیعت رسول کے ساتھ خاص ہے۔ اس کے علاوہ ایک بیعت وہ ہے جس کا ذکر حدیث میں آتا ہے اور وہ ہے خلیفہ کے ہاتھ پر بیعت کرنا۔ یہ بیعت خلیفہ کے سیاسی اقتدار کو تسلیم کرنے کے لیے ہوتی ہے۔ اس زمانہ میں حکومت کے سربراہ کے انتخاب کا وہ طریقہ رائج نہیں تھا اور نہ ان حالات میں وہ رائج ہو سکتا تھا جو موجودہ دور کی جمہوری حکومتوں میں رائج ہے اس لیے اربابِ حل و عقد کے مشورہ سے خلیفہ کا انتخاب ہوتا تھا اور لوگ اس کے ہاتھ پر بیعت یعنی معروف میں اطاعت کا عہد کرتے تھے جس سےظاہر ہوتا تھا کہ انہوں نے اس شخص کو خلیفہ تسلیم کر لیا ہے۔ چنانچہ بنی صلی اللہ علیہ و سلم کے دنیا سے رخصت ہو جانے کے بعد خلفائے راشدین کے ہاتھ پر جو بیعت کی گئی اس کی نوعیت یہی تھی۔ خلیفہ کے سیاسی اقتدار کو تسلیم کرنا تاکہ اسلام کا اجتماعی نظام قائم ہو اور اس نظام کے تحت احکام و قوانین کی بشرطیکہ وہ شریعت سے متصادم نہ ہوں پابندی کی جائے۔

رہی وہ بیعت جو پیر اپنے مرید بنانے کے لیے لیتا ہے تو یہ صریح بدعت ہے۔ شریعت نے نہ اس کا حکم دیا ہے اور نہ صحابہ کرام میں اس کا طریقہ رائج تھا۔ علاوہ ازیں اس میں طرح طرح کی قباحتیں ہیں مثلاً پیروں کی عقیدت میں غلو، بزرگ پرستی، اس قسم کی بیعت کو نجاتِ اخروی کے لیے کافی سمجھنا، پیروں کا اپنے بارے میں غلط زعم میں مبتلا ہونا اور اپنے مریدوں کی غلط رہنمائی کرنا، ان پر شریعت کی جگہ طریقت مسلط کر دینا اور سنت کو چھوڑ کر انہیں بدعتوں میں الجھائے رکھنا وغیرہ۔ اس لیے اس قسم کی بیعت کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔

۱۸ ۔۔۔۔۔۔۔۔عربی کے عام قاعدہ کی رو سے عَلَیہِ اللّٰہَ ہونا چاہیے تھا یعنی علیہ کی “ہ” کو زیر ہوتا لیکن آیت میں “ہ” پر پیش یعنی عَلَیہُ اللّٰہَ پڑھا جاتا ہے۔ اس قسم کا تصرف (تبدیلی) عربی کلام میں روانی پیدا کرنے کے لیے کی جاتی ہے۔ یہاں بھی عَلَیہ” کو پیش (۔ُ) کے ساتھ پڑھنے سے کلام میں روانی پیدا ہو گئی ہے۔ اور کلامِ  الٰہی کی روانی تو دریا کی روانی سے بھی بڑھ کر ہے۔

۱۹ ۔۔۔۔۔۔۔۔مدینہ کے اطراف میں رہنے والے بدو ہیں جو عمرہ کی اس مہم میں نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ شریک نہیں ہوئے تھے۔ ان پیچھے رہ جانے والوں کا ذکر المُخلَّفون (پیچھے چھوڑ دئے گئے تھے) کے لفظ سے کیا گیا ہے جس میں یہ اشارہ مضمر ہے کہ ان لوگوں نے جب پیچھے رہنا چاہا تو اللہ تعالیٰ نے بھی انہیں پیچھے چھوڑ دیا اور انہیں نکلنے کی توفیق نہیں بخشی۔

۲۰ ۔۔۔۔۔۔۔۔یعنی ان بدوؤں کو کوئی واقعی عذر نہیں تھا اور نہ ان کو رسول کی دعوت پر اس مہم میں شریک نہ ہو جانے پر احساسِ ندامت ہے۔ ان کی دعائے مغفرت کی درخواست بھی محض منافقت پر پردہ ڈالنے کے لیے ہے ورنہ سچے دل سے وہ مغفرت کے طالب نہیں ہیں۔

اس منافقت کی حقیقت بھی واضح ہو جاتی ہے اور وہ ہے دل سے ایمان نہ رکھتے ہوئے اپنے کو مسلمان ظاہر کرنا۔

۲۱ ۔۔۔۔۔۔۔۔یہ منافقین سمجھ رہے تھے کہ جب مسلمان عمرہ کے لیے مکہ میں داخل ہوں گے تو قریش اور دوسرے قبیلے کے لوگ لازماً ان کے خلاف جنگ کریں گے اور مسلمان چونکہ جنگ کی تیاری کے ساتھ نہیں جا رہے ہیں اس لیے اپنا بچاؤ نہیں ک سکیں گے۔ اب رسول کے ساتھ مسلمانوں کی پوری جمعیت کا خاتمہ یقینی ہے۔ منافقین کا یہی گمان تھا جس کی وجہ سے انہوں نے اس مہم میں رسول کا ساتھ نہیں دیا۔ مگر اب وہ اس بات کو چھپا کر اپنی مشغولیت کا عذر پیش کر رہے ہیں۔

۲۲ ۔۔۔۔۔۔۔۔یعنی جب وہ دیکھ رہے تھے کہ مسلمانوں کی جمیعت رسول کی قیادت میں ایک نہایت خطرناک مہم سر کرنے جا رہی ہے تو وہ چین سے کس طرح اپنے گھروں میں بیٹھے رہے۔ ان کی یہ بزدلانہ حرکت انہیں اس لیے بھلی معلوم ہوئی کہ ان کی ذہنیت غلط تھی۔

۲۳ ۔۔۔۔۔۔۔۔یعنی تم نے اللہ اور اس کے رسول کے بارے میں برے گمان کئے۔ مثلاً یہ کہ اللہ کا وعدہ پورا ہونے والا نہیں اور نہ رسول کا خواب سچا ثابت ہونے والا ہے۔

۲۴ ۔۔۔۔۔۔۔۔اللہ پر ایمان لانے کے ساتھ اس کے رسول پر بھی ایمان لانا ضروری ہے۔ جو شخص اللہ پر ایمان نہیں لاتا وہ کافر ہے اور جو شخص اللہ کو تو مانتا ہے لیکن اس کے رسول (محمد صلی اللہ علیہ و سلم) پر ایمان نہیں لاتا وہ بھی کافر ہے۔ یہ آیت بھی اس کی صراحت کرتی ہے اور دوسری آیتیں بھی اس پر دلیل ہیں۔

۲۵ ۔۔۔۔۔۔۔۔یعنی جہنم۔

۲۶ ۔۔۔۔۔۔۔۔یہ اللہ کے غیر محدود اختیارات کا ذکر ہے کہ وہ ان کو جس طرح چاہے استعمال کرے۔ ساتھ ہی وہ عدل کرنے والا اور حکمت والا ہے اس لیے وہ اپنے اختیارات کو عدل و حکمت کے ساتھ استعمال کرتا ہے اس لیے ایسا نہیں ہوتا کہ وہ خواہ مخواہ کسی کو سزا دے۔

۲۷ ۔۔۔۔۔۔۔۔یہ ترغیب ہے بندوں کو اگر ان سے گناہ سر زد ہوئے ہیں تو وہ مایوس نہ ہوں بلکہ اللہ کی طرف رجوع کریں اور اس کی مغفرت اور رحمت کے طلب گار بنیں۔

۲۸ ۔۔۔۔۔۔۔۔اشارہ ہے مستقبل قریب میں پیش آنے والی فتوحات کی طرف جو آسانی سے حاصل ہو سکیں گی اور جن میں کثیر مقدار میں مال غنیمت مسلمانوں کے ہاتھ لگے گا۔ چنانچہ صلحِ حدیبیہ کے کچھ ہی دنوں بعد محرم ۷ھ میں خیبر فتح ہوا جو مدینہ کے شمال مشرقی جانب تقریباً ڈیڑھ سو کلو میٹر کے فاصلے پر ہے۔ یہاں بدو آباد تھے اور یہ علاقہ مستحکم قلعوں ، زرعی زمینوں اور نخلستانوں کے لحاظ سے بڑی اہمیت رکھتا تھا۔ اس فتح میں کثیر مالِ غنیمت مسلمانوں کے ہاتھ لگا اور زرعی زمینوں اور نخلستانوں کی پیداوار سے مسلمانوں کے وسائل میں کافی اضافہ ہوا۔

یہ اموالِ غنیمت اللہ تعالیٰ نے بیعتِ رضوان کرنے والوں کے لیے خاص کر دئے تھے اس لیے اس نے اس غزوہ میں ان لوگوں کو شرکت کی اجازت نہیں دی جو عمرہ کے سفر میں اس کے پر خطر ہونے کی وجہ سے شریک نہیں ہوئے تھے۔

۲۹ ۔۔۔۔۔۔۔۔یعنی غزوۂ خیبر کے پیش آنے سے پہلے جب کہ سورۂ فتح نازل ہوئی اس آیت میں اللہ تعالیٰ یہ حکم دے چکا تھا کہ ان پیچھے رہ جانے والوں کو مستقبل قریب میں پیش آنے والے اس غزوہ میں شرکت کی اجازت نہ دی جائے جس میں اموالِ غنیمت کا حصول متوقع ہے۔ کیونکہ جب انہوں نے ایک پر خطر مہم میں رسول کا ساتھ نہیں دیا تو ان اموالِ غنیمت سے محرومی ان کے لیے مقدر ہو گئی۔

۳۰ ۔۔۔۔۔۔۔۔اللہ تعالیٰ نے ہر شخص کو عقل دی ہے خواہ وہ شہری ہو یا دیہاتی اور خواہ وہ عوام میں سے ہو یا خواص میں سے۔ اور یہ عقل اس لیے دی ہے تاکہ وہ سمجھداری کا ثبوت دے لیکن جب آدمی عقل سے کام نہیں لیتا تو نا سمجھی کی باتیں کرنے لگتا ہے۔

۳۱ ۔۔۔۔۔۔۔۔اشارہ ہے قبیلۂ ہوازن کی طرف جس کے ساتھ شوال ۸ھ  میں معرکہ آرائی ہوئی اور یہ غزوۂ مکہ ہی کے سلسلہ کی کڑی تھی۔ آپ کے ساتھ باہر ہزار کا لشکر تھا پھر بھی زبردست مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا بالآخر ہوازن کے قدم اکھڑ گئے اور لشکرِ اسلام کو کامیابی ہوئی اور بہ کثرت مالِ غنیمت ہاتھ لگا۔ اس کے بعد ہوازن کے لوگ بھی اسلام میں داخل ہوئے۔ اس طرح مکہ پر اسلام کا اقتدار مضبوط ہوا۔

۳۲ ۔۔۔۔۔۔۔۔اس تنبیہ کا اثر یہ ہوا کہ مدینہ کے اطراف کے مزینہ اور جہینہ جیسے بدو قبیلے جو حدیبیہ کے موقع پر پیچھے رہ گئے تھے فتح مکہ کی مہم میں شریک ہوئے اور حُنین میں ہوازن سے معرکہ آرائی کی جو نہایت زور آور قوم تھی۔

اس جہاد سے منہ موڑنے والوں کو درد ناک عذاب کی وعید سنائی گئی ہے جس سے اس گناہ کی سنگینی واضح ہو جاتی ہے۔ یہ گناہ اس لیے سنگین تھا کہ اولاً یہ اللہ اور اس کے رسول کے صریح حکم (جہاد کے حکم) کی کھلی نا فرمانی تھی۔ ثانیاً ایک ایسے نازک موقع پر جب کہ اسلام کو شدید خطرات کا سامنا ہو اور اس کے لیے زیادہ سے زیادہ اجتماعی قوت درکار تھی گوشۂ عافیت میں بیٹھے رہنا کسی مسلمان کا کام نہ تھا۔ ثالثاً اللہ کا رسول اپنی جان جوکھوں میں ڈال کر جہاد کے لیے نکل پڑے اور اس کے پیرو چین سے اپنے گھروں میں بیٹھے رہیں یہ صریح منافقت ہے۔ اس لیے یہ جہاد جس میں رہنمائی اور قیادت کے لیے خود اللہ کا رسول موجود تھا ایمان کی کسوٹی قرار پایا۔ اس سے منہ موڑنے والے وہی لوگ ہو سکتے تھے جو اپنے ایمان میں مخلص نہ تھے۔

۳۳ ۔۔۔۔۔۔۔۔یعنی ایسے لوگ جو کسی واقعی عذر کی بنا پر جہاد میں شریک نہ ہو سکے ان پر کوئی گرفت نہیں۔ نابینا، لنگڑا اور مریض ہونا واقعی مجبوری ہے جس کا شریعت نے لحاظ کیا ہے۔

۳۴ ۔۔۔۔۔۔۔۔یعنی واقعی عذر کی بنا پر جہاد میں شریک نہ ہونے والوں پر کوئی حرج نہیں ہے بشرطیکہ وہ اللہ اور اس کے رسول کی مخلصانہ اطاعت کرتے رہیں۔ ان کی اطاعت شعاری ہی انہیں جنت کا مستحق بنا سکتی ہے۔

۳۵ ۔۔۔۔۔۔۔۔یہ بیعت نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے حدیبیہ میں صحابہ کرام سے اس وقت لی جب حضرت عثمان جن کو نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے قریش کے پاس یہ پیغام دے کر بھیجا تھا کہ ہم لڑنے کے لیے نہیں بلکہ عمرہ کے لیے آئے ہیں واپس نہیں آئے تو تشویش ناک صورت پیدا ہوئی کہ عمرہ ادا کر نے کے لیے اب کفارِ مکہ کی طرف سے مزاحمت کا سامنا کرنا ہو گا اور اس حال میں کرنا ہو گا کہ مسلمان احرام کی حالت میں ہیں اور ان کے پاس جنگی سامان بھی نہیں ہے۔ مدافعت کے لیے صرف تلواریں ہیں جو سفر میں ساتھ ہوا کرتی تھیں۔ اس نازک موقع پر نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے ایک درخت کے نیچے صحابہ کرام سے عہد لیا کہ وہ بھاگیں گے نہیں اور پیش نظر مقصد کے لیے اپنی جانیں لڑا دیں گے۔ صحابہ کرام نے جن کی تعداد ایک ہزار چار سو تھی پورے جوش و خروش اور خوش دلی کے ساتھ یہ بیعت کی تھی۔ اس بیعت سے قریش مرعوب ہوئے اور انہوں نے صلح کی پیش کش کی اور اس سے پہلے حضرت عثمان بھی بسلامت واپس آ گئے۔ اللہ کو یہ بیعت جو ایک نازک موقع پر رسول کی معیت میں جان کی بازی لگانے کے لیے کی گئی تھی بہت پسند آئی اور بیعت کرنے والوں کو اس آیت کے ذریعہ خوشخبری دی کہ اللہ ان سے راضی ہوا۔ اس وجہ سے اس بیعت کو بیعتِ رضوان کہتے ہیں۔

حضرت عثمان کی اس وقت تک مکہ سے واپسی نہیں ہوئی تھی اس لیے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے ان کی طرف سے خود بیعت کر لی اس طرح حضرت عثمان کو بھی اس بیعت میں شرکت کی سعادت حاصل ہو گئی۔ حضرت عثمان کی طرف سے آپ کا بیعت کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ آپ نے اس خبر پر یقین نہیں کیا تھا کہ حضرت عثمان مکہ میں قتل کر دئے گئے اور نہ اس افواہ کی بنا پر آپ نے صحابہ کرام سے بیعت لی تھی بلکہ کفارِ مکہ سے مزاحمت کے اندیشہ کی وجہ سے بیعت لی تھی۔

یہ آیت ان تمام صحابہ کو جو اس بیعت میں شریک تھے اللہ کی خوشنودی کی سند عطا کرتی ہے اس کے باوجود مسلمانوں کا ایک فرقہ ایسا ہے جو چند افراد کو مستثنیٰ کر کے صحابہ کے پورے گروہ کو غلط کار ٹھہراتا ہے اور ان کو لعن طعن کرتا ہے۔ ان فرقہ کے لوگوں کی جسارت دیکھئے کہ اللہ نے جن لوگوں کے بارے میں اپنی خوشنودی کا اعلان کیا ہے ان سے وہ بغض کا اظہار کرتے ہیں۔ کاش کہ یہ لوگ فرقہ بندی سے بالاتر ہو کر قرآن کی روشنی میں اپنا رویہ متعین کرتے !

۳۶ ۔۔۔۔۔۔۔۔یعنی ان کے دل کا خلوص اور ان کی وفا شعاری ظاہر ہو گئی۔

۳۷ ۔۔۔۔۔۔۔۔یعنی قلبی اطمینان اور سکون انہیں حاصل ہوا اور یہ چیز ان کی حوصلے بلند رہے اور ہر طرح کی مزاحمت کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہو گئے۔

۳۸ ۔۔۔۔۔۔۔۔مراد فتح خیبر ہے جو صلح حدیبیہ کے کچھ ہی دنوں بعد کا یعنی محرم ۷ ھ کا واقعہ ہے۔ یہ فتح اللہ کی طرف سے ایک انعام تھا جو بیعتِ رضوان کرنے والوں پر ہوا۔ ” قریبی فتح ” کی پیشین گوئی ایک یقینی امر تھا اس لیے اسے ماضی کے صیغے میں بیان کیا گیا۔

۳۹ ۔۔۔۔۔۔۔۔اشارہ خیبر وغیرہ میں حاصل ہونے والے مالِ غنیمت کی طرف ہے۔ اس پیشین گوئی کے مطابق خیبر میں جو اموالِ غنیمت مسلمانوں کو حاصل ہوئے ان میں سونے اور چاندی کا خزانہ، ایک ہزار نیزے ، چار سو تلواریں ، پانچ سو کمانیں اور سامانِ جنگ میں منجیق اور دبابے جیسی نت نئی چیزیں نیز کھیتیاں اور نخلستان شامل ہیں جن میں چالیس ہزار کھجور کے درخت تھے۔ ان کھیتوں اور نخلستان کو یہود کے ہاتھ میں اس شرط پر رہنے دیا گیا کہ وہ پیداوار کا نصف حصہ مسلمانوں کو ادا کریں گے۔ اس طرح مدینہ کے مسلمانوں کے لیے یہ آمدنی کا بہت بڑا ذریعہ بن گیا۔ (غزوۂ خیبر۔ محمد احمد باشمیل۔ ص ۲۷۱۔ ۲۷۰) اور خیبر فتح ہوتے ہی فَدَک اور وادی القریٰ بھی فتح ہو گیا جو خیبر کے قریب زرخیز علاقہ تھا۔ اس علاقہ کے یہود سے بھی یہ معاملہ طے پایا کہ وہ پیداوار کا نصف مسلمانوں کو ادا کریں گے۔ (کتاب مذکور ص ۲۹۷)

۴۰ ۔۔۔۔۔۔۔۔اللہ غالب ہے اس لیے اس کا یہ منصوبہ پورا ہو کر رہے گا اور ہو حکیم ہے اس لیے اس کا یہ فیصلہ بھی حکمت پر مبنی ہے۔

۴۱ ۔۔۔۔۔۔۔۔یعنی خیبر کے علاوہ دوسرے بہت سے اموالِ غنیمت بھی تمہیں حاصل ہوں گے۔ چنانچہ مستقبل قریب میں حُنین میں کثیر مقدار میں مالِ غنیمت مسلمانوں کے ہاتھ لگا۔

۴۲ ۔۔۔۔۔۔۔۔یعنی بیعتِ رضوان کا فوری ثمرہ تم کو یہ ملا کہ اللہ کی نصرت تمہیں حاصل ہوئی اور تمہارا رعب کفارِ مکہ پر ایسا چھا گیا کہ وہ تم پر ہاتھ اٹھا نہ سکے اور صلح پر آمادہ ہو گئے۔

۴۳ ۔۔۔۔۔۔۔۔یعنی ایک ایسے موقع پر جب کہ مسلمان احرام کی حالت میں ہونے کی وجہ سے جنگ کرنے کی پوزیشن میں نہ تھے اور دشمن کے علاقہ میں داخل ہو چکے تھے کفارِ مکہ کا مسلمانوں کے خلاف کاروائی نہ کرنا اور صلح پر آمادہ ہونا مسلمانوں کے حق میں اللہ کی نصرت کی واضح نشانی تھی۔

۴۴ ۔۔۔۔۔۔۔۔یعنی اللہ قدم قدم پر تمہاری رہنمائی فرمائے۔

۴۵ ۔۔۔۔۔۔۔۔اشارہ ہے ان بڑی بڑی فتوحات کی طرف جو مستقبل میں مسلمانوں کو حاصل ہونے والی تھیں۔ خاص طور سے فارس اور روم کی فتوحات جن میں زبردست خزانے اور بہ کثرت اموالِ غنیمت مسلمانوں کو حاصل ہوا۔

۴۶ ۔۔۔۔۔۔۔۔یعنی اگر مکہ میں داخل ہونے کے لیے جنگ کی نوبت آ جاتی تو اس جنگ میں مسلمانوں کو فتح حاصل ہوتی اور کفارِ مکہ کو لازماً شکست کا سامنا کرنا پڑتا۔ یہ اس لیے کہ اگرچہ مسلمانوں کے ساتھ سامانِ جنگ نہیں تھا لیکن جب وہ اللہ کی راہ میں جاں فروشی کے لیے تیار ہو گئے تو اللہ کی نصرت بھی ان کے حق میں یقینی ہو گئی۔ اور اللہ کی نصرت کے مقابلہ میں کافروں کو شکست ہی کا سامنا کرنا پڑتا ہے جیسا کہ جنگِ بدر وغیرہ میں ہوا۔

۴۷ ۔۔۔۔۔۔۔۔اللہ کی سنت یعنی اس کا طریقہ اور قاعدہ یہ ہے کہ جب رسول کو بنفسِ نفیس میدانِ جنگ میں اترنا پڑتا ہے تو یہ جنگ حق و باطل کے درمیان ایک فیصلہ کن جنگ ہوتی ہے۔ ایسے موقع پر اللہ کی نصرت ہمیشہ اس کے رسول اور اس پر ایمان لانے والوں کے ساتھ ہوتی ہے۔ سورۂ روم میں ارشاد ہوا ہے :۔

وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِکَ رُسُلاً اِلٰی قَومِہِمْ فَجَآءُ وْہُمْ بِالْبَینَاتِ فَانْتَقُمْنَا مِنَ الَّذِینَ اَجْرَمُوْوَکَانَ حَقّاً عَلَینَا نصْر ُالْمُؤمِنِینَ۔ (روم:۴۷ )  ” ہم نے تم سے پہلے بھی رسول ان کی قوموں کی طرف بھیجے تھے اور وہ ان کے پاس واضح نشانیاں لیکر آئے تھے۔ پھر ہم نے ان لوگوں کو سزا دی جنہوں نے جرم کیا اور ہم پر لازم تھی مومنوں کی نصرت۔ ”

۴۸ ۔۔۔۔۔۔۔۔یعنی حدیبیہ میں بیعتِ رضوان کے بعد تمہاری پوزیشن کافی مضبوط ہو گئی تھی اور کفارِ مکہ کے حوصلے پست ہو گئے تھے تاہم جنگ دونوں کے لیے کچھ نا گزیر سی ہو گئی تھی مگر اللہ تعالیٰ کی مصلحت متقاضی تھی کہ جنگ نہ ہو اس لیے اس نے فریقین کو مزاحمت سے روک دیا اور مصالحت پر آمادہ کیا۔

مزاحمت سے روکنے کی ایک صورت یہ بھی پیش آئی کہ کافروں کا ایک گروہ جس کی تعداد اسّی تھی نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے قتل کے ارادہ سے تنعیم کی پہاڑی سے صبح کی نماز کے وقت اتر آیا۔ صحابہ کرام نے ان کو پکڑا اور نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں پیش کیا۔ آپ چونکہ اس موقع پر جنگ کو ٹالنا چاہتے تھے اس لیے ان کو رہا کر دیا۔ (دیکھئے ترمذی تفسیر سورۃ الفتح)

۴۹ ۔۔۔۔۔۔۔۔یہ کفار کی ہٹ دھرمی تھی کہ قربانی کے جانوروں کو بھی جن کا وہ بڑا احترام کرتے تھے قربان گاہ میں داخل ہونے سے روک دیا۔

۵۰ ۔۔۔۔۔۔۔۔یہاں وہ عظیم مصلحت بیان کی گئی ہے جس کے پیش نظر اللہ تعالیٰ نے جنگ نہ ہونے دی اور صلح حدیبیہ کا معاملہ طے پایا۔ وہ یہ کہ مکہ میں مسلمان مرد اور عورتیں موجود تھیں جن کو صحابہ کرام نہیں جانتے تھے اس لیے ان کے جنگ کی زد میں آنے اور پامالی ہونے کا اندیشہ تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے ایمان کی بدولت ان پر رحم فرمایا اور جنگ کی نوبت آنے نہ دی۔ اگر وہ مسلمانوں کے ہاتھوں پا مال ہوتے تو یہ بات خود مسلمانوں کو ناگوار ہوتی اور دشمنوں کو یہ کہنے کا موقع ملتا کہ جو جنگ رسول کی قیادت میں لڑی گئی اس میں بھی مسلمانوں نے اپنے ہی بھائیوں کا گلا کاٹ دیا۔

اس سے یہ بات نکلتی ہے کہ اگر کافروں کی آبادی پر حملہ کرنا پڑے تو وہاں جو مسلمان موجود ہوں ان کو بچانے کی حتی الامکان کوشش کرنا چاہیے لیکن اگر جنگ نا گزیر ہو اور اس آبادی کے مسلمانوں کو بچایا نہ جا سکتا ہو تو ان کی وجہ سے جنگ کو ٹالا نہیں جا سکتا ور نہ کافروں کو مسلمانوں پر مسلط ہونے کا موقع ملے گا۔ حدیبیہ میں اللہ کی تدبیر سے جنگ ٹل گئی ورنہ بیعتِ رضوان اسی لیے کی گئی تھی کہ اگر جنگ کی نوبت آتی ہے تو مسلمان پیٹھ نہیں پھیریں گے۔

صلح حدیبیہ کی یہ مصلحت اللہ تعالیٰ نے بعد میں ظاہر فرمائی اور صحابہ کرام نے رسول کے حکم کی تعمیل تو اس مصلحت کے ظاہر ہونے سے پہلے ہی کی تھی اگرچہ وہ اس صلح کو ناگوار خیال کر رہے تھے اور اس کی تلخیوں ہی کو دور کرنے کے لیے ان پر مصلحت واضح کر دی گئی اور ان کو کئی بشارتیں سنائی گئیں۔ واضح ہوا کہ حکم کی تعمیل مصلحت جاننے پر موقوف نہیں ہے۔ اللہ اور اس کے رسول کا حکم اطاعت کے لیے کافی ہے خواہ اس کی مصلحت ظاہر ہو یا نہ ہو۔ صحابہ کرام کا یہی طریقہ تھا جس کی بنا پر ان کو توفیق پر توفیق عطا ہوتی رہی اور اللہ کی خوشنودی انہیں حاصل ہوئی۔ موجودہ دور کا مسلمان پہلے مصلحت جاننا چاہتا ہے اس کے بعد تعمیل کے لیے آمادہ ہوتا ہے اور نہیں بھی ہوتا۔ یہ بڑی غلط ذہنیت ہے جو اطاعت شعاری کے خلاف ہے۔

۵۱ ۔۔۔۔۔۔۔۔یعنی جو مسلمان مکہ میں موجود تھے وہ اگر کافروں کی آبادی سے الگ ہو گئے ہوتے تو اللہ تعالیٰ کی تدبیر یہ ہوتی کہ مسلمان مکہ میں بزور داخل ہوں اور پھر ان کے ہاتھوں کافروں کی سرکوبی کی جاتی۔

۵۲ ۔۔۔۔۔۔۔۔کفار مکہ جانتے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم اپنے ساتھیوں کو لے کر محض عمرہ ادا کرنے کے لیے آئے ہیں جو خالص دینی عمل تھا اور جس کا احترام وہ خود بھی کیا کرتے تھے لیکن جاہلیت کے جذبات کا ان پر ایسا غلبہ ہوا کہ ان کی رگِ حمیت بھڑک اٹھی اور انہوں نے اس بات میں عار محسوس کی کہ مسلمانوں کی یہ جمعیت ان کے شہر میں داخل ہو اس لیے انہوں نے محض اپنی ناک اونچی رکھنے کی خاطر مسلمانوں کو روکنا چاہا اور جب صلح کے لیے مجبور ہوئے تو اس شرط پر ان کا اصرار رہا کہ مسلمان اس سال نہیں بلکہ آئندہ سال آ کر عمرہ ادا کریں۔ پھر انہوں نے صلح نامہ کا آغاز بسم اللہ الرحمن الرحیم سے کرنے پر بھی اعتراض کیا کہ رحمٰن کون ہے ہم نہیں جانتے بِسْمک اَللّٰہُمَّ (تیرے نام سے اے اللہ) لکھو۔ یہی ان کی حمیت جاہلیہ تھی جس کا ذکر اس آیت میں ہوا ہے۔

۵۳ ۔۔۔۔۔۔۔۔یعنی سکون و اطمینان کی ایسی کیفیت کہ وہ نا سازگار حالات سے متاثر نہیں ہوئے۔

۵۴ ۔۔۔۔۔۔۔۔کلمۃ التقویٰ (تقویٰ کی بات) کا پابند رکھا، کا مطلب یہ ہے کہ ان نازک لمحات میں ان کو یہ توفیق عطا ہوئی کہ وہ کوئی بات بھی تقویٰ کے خلاف نہ کریں۔ انہوں نے جس طرح بیعتِ رضوان کی اور صلحِ حدیبیہ کو ناگوار خیال کرنے کے باوجود رسول کے حکم کی اطاعت کی وہ اس کا واضح ثبوت ہے۔

اور مزید یہ کہ جب انہیں عمرہ ادا کئے بغیر حدیبیہ سے لوٹنا پڑا تو انہوں نے نہ رسول کے خواب کو غلط ٹھہرایا اور نہ اس پر کوئی اعتراض کیا۔ اگر کوئی سوال کیا تو محض وضاحت کے لیے۔ اس طرح ان کی زبان سے تقویٰ ہی کی باتیں نکلیں۔ اور یہ توفیق انہیں اس لیے عطا ہوئی کہ وہ اپنے مخلصانہ ایمان کی بنا پر اس کے مستحق تھے اور اللہ کی راہ میں قربانیاں دے کر انہوں نے اپنے کو تقویٰ کا اہل ثابت کر دیا تھا۔

ترمذی کی حدیث میں ہے کہ کلمۃ التقویٰ سے مراد لا الٰہ الا اللہ (اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں) ہے۔ لیکن ترمذی نے خود صراحت کی ہے کہ یہ حدیث غریب ہے (اس لیے صحت کے درجہ کو نہیں پہنچتی) تاہم یہ بات اس لحاظ سے صحیح ہے کہ تقویٰ کی بنیاد لا الٰہ الا اللہ ہے اس لیے کلمۂ تقویٰ اصلاً لا الٰہ الا اللہ ہی ہے۔

۵۵ ۔۔۔۔۔۔۔۔نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے خواب دیکھا تھا کہ آپ اپنے اصحاب کے ساتھ مکہ میں داخل ہوئے ہیں اور عمرہ ادا کیا ہے۔ اس خواب کو ہی اشارۂ الٰہی سمجھ کر آپ اپنے اصحاب کے ساتھ عمرہ کے لیے نکل پڑے تھے لیکن حُدیبیہ سے جب عمرہ کئے بغیر لوٹنا پڑا تو صحابہ کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہوا کہ نبی کا خواب تو سچا ہوتا ہے پھر عمرہ کئے بغیر ہم کس طرح لوٹ رہے ہیں ؟ اسی کا جواب اس آیت میں دیا گیا ہے کہ یہ رؤیا (خواب) اللہ کی طرف سے تھی جو بالکل سچی اور حق پر مبنی تھی اس لیے یہ لازماً پوری ہو کر رہے گی۔ تم لوگ ضرور مسجدِ حرام میں داخل ہو گے اور امن کے ساتھ داخل ہو گے۔ کسی قسم کا خوف و خطر نہیں ہو گا۔ تم احرام کی حالت میں ہو گے اور اطمینان سے مناسک ادا کرو گے۔

حدیث میں آتا ہے کہ یہ سوال نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے کیا گیا تو آپ نے فرمایا میں نے یہ کب کہا تھا کہ امسال تم مکہ میں داخل ہو گے۔ تم مکہ میں داخل ضرور ہو گے اور طواف بھی کرو گے۔ (بخاری کتاب الشروط) یہ خواب دوسرے سال پورا ہوا چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے ذی قعدہ ۷ ھ میں صحابہ کے ساتھ مکہ پہنچ کر عمرہ ادا کیا جسے ” عمرۃُ القضا” کہتے ہیں۔ اس موقع پر کفارِ مکہ نے تین دن کے لیے شہر خالی کر دیا تھا اس لیے مسلمانوں نے امن و اطمینان کے ساتھ عمرہ کے تمام مناسک ادا کئے۔ اس طرح خواب بھی سچا ہوا اور قرآن کی صداقت بھی ظاہر ہوئی۔

عمرہ کا احرام جب اتارا جاتا ہے تو سر کے بال منڈھائے یا ترشوائے جاتے ہیں اور آیت میں اس کے ذکر سے مقصود یہ واضح کرنا ہے کہ تم مسجدِ حرام میں احرام کی حالت میں داخل ہو گے اور بہ اطمینان عمرہ کے تمام مناسک ادا کر کے احرام اتارو گے۔

عمرہ اور حج کا احرام اتارتے وقت سر کے بال منڈانا بھی جائز ہے اور کتروانا بھی لیکن منڈوانا افضل ہے۔

۵۶ ۔۔۔۔۔۔۔۔یعنی تم کو یہ معلوم نہیں تھا کہ بغیر جنگ کئے تم امن کے ساتھ مکہ میں داخل ہو گے لیکن اللہ کو یہ معلوم تھا اس لیے اس نے تم کو پیشگی اس کی خبر دی۔ اسی طرح وہ مصلحت بھی جس کا ذکر اس سے پہلے ہوا تم نہیں جانتے تھے مگر اللہ جانتا تھا اس لیے اس نے جنگ کی نوبت آنے نہیں دی اور عمرہ آئندہ سال کے لیے مقدر کر دیا۔

۵۷ ۔۔۔۔۔۔۔۔مراد صلح حدیبیہ ہے جو عمرہ کی ادائیگی سے پہلے ایک نوری فتح بن گئی کیونکہ اس نا جنگ معاہدہ نے پورے عرب میں اشاعتِ اسلام کی راہ کھول دی نیز یہ فتح مکہ کا دیباچہ بن گئی۔

۵۸ ۔۔۔۔۔۔۔۔اس کی تشریح سورۂ توبہ نوٹ ۶۵  میں گزر چکی جو اس موقع پر بھی پیش نظر رہے۔ وہاں ہم یہ وضاحت کر چکے ہیں کہ لِیظْہِرَہٗ (تاکہ اس کو غالب کر دے) کا فاعل اللہ ہے نہ کہ رسول۔ اس کی تائید میں چند مفسرین کے اقوال یہاں پیش کئے جاتے ہیں۔ ابن جریر طبری فرماتے ہیں :۔

” اللہ تعالیٰ نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے فرماتا ہے کہ اے محمد تمہارا رب اپنے کو گواہ کر کے فرماتا ہے کہ وہ اس دین کو جس کے ساتھ تمہیں مبعوث کیا ہے غالب کرے گا۔ “پھر اس کی تائید میں حضرت حسن کا قول نقل کیا ہے۔ (تفسیر طبری ج ۲۹ ص ۶۹ )

علامہ زمخشری لکھتے ہیں :۔

” اللہ تعالیٰ انہیں شہروں پر فتح عطا کرے گا اور ممالک پر ایسا تسلط بخشے گا کہ فتح مکہ کو وہ کمتر خیال کرنے لگیں گے۔ ” (الکشاف ج ۳ ص ۵۵۰)

علامہ شوکانی لکھتے ہیں :۔

” یعنی اللہ کا گواہ ہونا کافی یہ اس اِظہار (غلبہ) پر جس کا اس نے مسلمانوں سے وعدہ کیا ہے۔ ” (فتح القدیر ج ۵ص ۵۵  )

علامہ آلوسی فرماتے ہیں :۔

” اور یہ قول کسی شخصِ واحد کا نہیں ہے __اور غالباً اپنے محل کے لحاظ سے زیادہ واضح ہے __کہ دین کو ادیان پر غالب کرنے کی صورت یہ ہو گی کہ وہ (یعنی اللہ) مسلمانوں کو تمام اہل ادیان پر اقتدار عطا کرے گا۔ (روح المعانی ج ۲۶ ص ۱۲۲ )

اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے خود” اظہار دین ” اللہ کی طرف منسوب فرمایا ہے چنانچہ سیرت ابن ہشام میں ہے کہ آپ نے فرمایا:۔

فَوَاللّٰہِ لاَ اَزالُ اُجَاہِدُ عَلٰی الذّیْ بَعَثِنی اللّٰہُ بِہِ حَتّٰی یظْہِرَہٗ اللّٰہُ۔ (سیرت ابن ہشام ج ۳ ص ۳۵۷ )

” اللہ کی قسم جس (دین) کو دے کر مجھے اللہ نے بھیجا ہے اس کے لیے میں جہاد کروں گا یہاں تک کہ اللہ اس کو غالب کر دے۔ ”

۵۹ ۔۔۔۔۔۔۔۔یعنی کوئی مانے یا نہ مانے اللہ کی شہادت یہ ہے کہ محمد اس کے رسول ہیں۔

محمدؐ رسول اللہ اسلام کے کلمہ کا دوسرا جز ہے۔ پورا کلمہ اس طرح ہے :۔

لاَ اِلٰہ اِلاَّ اللّٰہُ مُحَمِّدٌ رَسُوْلُ اللّٰہِ” اللہ کے سوا کوئی الٰہ (خدا، معبود) نہیں اور محمد اللہ کے رسول ہیں۔ ”

۶۰ ۔۔۔۔۔۔۔۔ایمان اور کفر دو متضاد چیزیں ہیں اس لیے دونوں کے درمیان مستقل طور پر کشمکش برپا رہتی ہے اور یہ کشمکش جنگ کی صورت بھی اختیار کر لیتی ہے اس لیے اہلِ ایمان کافروں کے لیے نرم چارہ نہیں ہو سکتے۔ وہ ان کے مقابلہ میں پتھر کی چٹان بن جاتے ہیں اور جب معرکہ آرائی ہوتی ہے تو پوری قوت ان کے خلاف استعمال کرتے ہیں اور ان کی سر کوبی کرنے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھتے۔

واضح رہے کہ کافروں پر سخت ہونے کا یہ مطلب نہیں ہے کہ عام حالات میں ان سے درشت لہجہ سے بات کی جائے یا دنیوی امور میں ان کے ساتھ بھلائی نہ کی جائے یا ان کے ساتھ بد اخلاقی کا رویہ اختیار کیا جائے۔ اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ ہر انسان سے بحیثیت انسان کے اچھا سلوک کیا جائے خواہ وہ کسی عقیدہ و مذہب کا پیرو ہو۔

اور مسلمانوں کا آپس میں رحم دل ہونا تو ان کے ایمان کا تقاضا ہے۔ وہ ایک دوسرے کے حق میں سخت گیر نہیں بلکہ نرم خو مہربان اور شفیق ہوتے ہیں۔ حدیث میں ان کے باہمی تعلق کو اس طرح بیان کیا گیا ہے۔

مَثَلُ الْمُوْمِنِینَ فِی تَوَادِّہِمْ وَتَرَاحُمِہِمْ وَتَعمَا طُفِہِمْ مَثَلُ الْجَسَدِ اِذَا اشْتَلٰی مِنْہُ عُضْوٌ تَداعٰی لَہٗ سائِرالْجَسَد بِالَسَّہْرِ وَالْحُمّٰی۔ (مسلم کتاب البر) ” مومن آپس کی محبت و رحم دلی اور ایک دوسرے پر مہربان ہونے میں ایسے ہیں جیسے ایک جسم کہ اگر اس کے عضو کو تکلیف پہنچتی ہے تو پورا جسم بے خوابی اور بخار کی تکلیف میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ ”

۶۱ ۔۔۔۔۔۔۔۔یہ تعبیر ہے پابندیٔ وقت کے ساتھ نماز ادا کرنے کی۔ دن میں پانچ وقت کی نماز کا اہتمام دیکھنے والے پر یہ اثر چھوڑتا ہے کہ یہ رکوع اور سجدے ہی میں مشغول رہتے ہیں۔ ان کا نماز سے یہ لگاؤ ایک امتیازی وصف کی حیثیت رکھتا ہے۔

۶۲ ۔۔۔۔۔۔۔۔یعنی ان کی ساری دوڑ دھوپ اللہ کے فضل کی تلاش میں اور اس کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے ہوتی ہے۔ وہ قدم قدم پر اللہ کا فضل تلاش کرتے ہیں کہ وہ ان پر مہربان ہو اور اپنی بخششوں سے انہیں نوازے۔ اور ان کی آخری غایت یہ ہوتی ہے کہ اللہ کی خوشنودی انہیں حاصل ہو۔

۶۳ ۔۔۔۔۔۔۔۔مراد وہ نشان ہے جو کثرتِ سجود سے پیشانی پر پڑتا ہے نیز خشوع کا وہ اثر بھی جو چہرہ پر ظاہر ہو جاتا ہے۔ ان کے چہرے ان کے باطن کی عکاسی کرتے ہیں کہ یہ سچے خدا پرست لوگ ہیں۔

۶۴ ۔۔۔۔۔۔۔۔نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے اصحاب کی یہ پہچان تورات میں بھی بیان ہوئی ہے جیسا کہ قرآن صراحت کرتا ہے لیکن موجودہ تورات سے یہ مضمون غائب ہے۔ اور یہ مضمون ہی نہیں نبی امی سے متعلق دوسری کتنی ہی پیشین گوئیاں جس کے تورات میں موجود ہونے کی قرآن صراحت کرتا ہے موجودہ تورات ان کے ذکر سے خالی ہے بجز دو تین پیشین گوئیوں کے جن کے ترجمہ میں بھی تحریف کر دی گئی ہے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ تورات کے جو نسخے نزولِ قرآن کے وقت مدینہ کے یہود کے پاس موجود تھے اور جن کے پیش نظر قرآن نے تورات کے جا بجا حوالے دئے ہیں وہ نسخے اب باقی نہیں رہے۔ جو نسخے اب دستیاب ہیں ان میں بڑا خلا محسوس ہوتا ہے آخرت اور نماز کے ذکر کے اعتبار سے بھی اور نبی امی سے متعلق پیشین گوئیوں کے اعتبار سے بھی۔ جس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ کتنی ہی باتیں تورات سے حذف کر دی گئیں ، کتنی ہی باتوں میں تحریف کر دی گئی اور کتنے ہی الفاظ کا غلط ترجمہ کر دیا گیا تاکہ اصل حقیقت پر پردہ پڑا رہے۔

۶۵ ۔۔۔۔۔۔۔۔انجیل کے موجودہ نسخوں میں یہ مضمون اس شکل میں موجود ہے :۔

آسمان کی بادشاہی اس رائی کے دانے کی مانند ہے جسے کسی آدمی نے لے کر اپنے کھیت میں بو دیا۔ وہ سب بیجوں سے چھوٹا تو ہے مگر جب بڑھتا ہے تو سب ترکاریوں سے بڑا اور ایسا درخت ہو جاتا ہے کہ ہوا کے پرندے آ کر اس کی ڈالیوں پر بسیرا کرتے ہیں۔ ” (متی ۱۳:۳۱، ۳۲)

آیت میں بنی صلی اللہ علیہ و سلم کے اصحاب کی تعداد میں روز افزوں اضافہ، ان کی جمیعت کے استحکام اور اسلام کے تدریجی ارتقاء اور غلبہ کی تصویر پیش کی گئی ہے۔

۶۶ ۔۔۔۔۔۔۔۔یعنی جنہوں نے اس کھیتی (اسلام) کی کاشت کی اور اس کی آبیاری کرتے رہے وہ یہ دیکھ کر کہ کھیتی بہار پر آ گئی ہے خوشی سے جھوم اٹھے لیکن کافروں کو اسلام کا پھلنا پھولنا ناگوار ہوا اور مسلمانوں کو خوش ہوتا ہوا دیکھ کر ان پر برہم ہوئے اور ان پر جلنے لگے۔

۶۷ ۔۔۔۔۔۔۔۔یعنی مسلمانوں کے گروہ میں جو لوگ اپنے ایمان میں مخلص اور کردار کے لحاظ سے نیک ہیں ان سے اللہ کا وعدہ ہے کہ وہ ان کی مغفرت فرمائے گا اور انہیں بہت بڑے اجر سے نوازے گا۔ رہے نام نہاد مسلمان تو ان کے لیے یہ خوشخبری نہیں ہے۔

٭٭٭

 

 

 

(۴۹) سورۃ الحجرات

 

( ۱۸ آیات)

 

بسم اللہ الرحمٰن الر حیم

اللہ رحمٰن و رحیم کے نام سے

 

                   تعارف

 

نام

 

آیت ۴ حجرات (حجروں) کے باہر سے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو پکارنے پر گرفت کی گئی ہے۔ اس مناسبت سے اس سورہ کا نام ” الحجرات” ہے۔

 

زمانۂ نزول

 

یہ سورہ مدینہ میں ۰۹ھ میں نازل ہوئی جب کہ عرب کے مختلف گوشوں سے وفود کی آمد کا سلسلہ شروع ہو گیا تھا اور لوگ فوج در فوج اسلام میں داخل ہو رہے تھے۔

 

مرکزی مضمون

 

ان آداب و اخلاق کی تعلیم جو ایمان کا تقاضا ہیں اور اسلامی معاشرہ (سماج) کو صحت مند رکھنے کے لیے ضروری ہیں۔

 

نظمِ کلام

 

آیت ۱ تا ۵ میں اس بات کی تاکید کی گئی ہے کہ اہل ایمان اپنی بات پیش کرنے میں اللہ اور اس کے رسول سے آگے نہ بڑھیں اور رسول کے ادب کو پوری طرح ملحوظ رکھیں۔

آیت ۶ تا ۱۰ میں اسلامی اخوت کو نقصان پہنچانے والی باتوں سے احتراز کرنے کی ہدایت کی گئی ہے اور تحقیق اور عدل و انصاف کا رویہ اختیار کرنے کی تاکید کی گئی ہے۔

آیت ۱۱ اور ۱۲  میں اخلاقی برائیوں سے بچنے کی ہدایت کی گئی ہے جو آپس میں نفرت پیدا کرتی اور فساد کا موجب بنتی ہیں۔

آیت ۱۳ میں قومی اور نسلی برتری پر ضرب لگاتے ہوئے واضح کیا گیا ہے کہ تمام قوموں اور قبیلوں کا رشتہ ایک ہی مرد و عورت (آدم و حوا) سے جا ملتا ہے اس لیے قومی اور نسلی فخر کے لیے کوئی بنیاد نہیں۔ انسان اور انسان کے درمیان اصلاً امتیاز کرنے والی چیز تقویٰ ہے۔

آیت ۱۴ تا ۱۸ میں ان مسلمانوں پر گرفت ہے جو دعویٰ تو کرتے ہیں کہ انہوں نے اسلام قبول کیا ہے لیکن ایمان ابھی ان کے دل میں اترا نہیں ہے ان پر واضح کیا گیا ہے کہ صحیح ایمان وہ ہے جس میں شک کا شائبہ نہیں ہوتا اور سچا مومن وہ ہے جو الہ کی راہ میں اپنی جان و مال کے ساتھ جہاد کرتا ہے۔

                   ترجمہ

 

بسم اللہ الرحمٰن الر حیم

اللہ رحمٰن و رحیم کے نام سے

 

۱۔۔۔۔۔۔۔۔ اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اللہ اور اس کے رسول سے آگے نہ بڑھو ۱*اور اللہ سے ڈرو۔ ۲* اللہ سب کچھ سننے والا جاننے والا ہے۔ ۳*

۲۔۔۔۔۔۔۔۔ اے ایمان لانے والو! اپنی آواز بنی کی آواز سے بلند نہ کرو ۴* اور نہ اس سے اس طرح اونچی آواز سے بولو جس طرح آپس میں ایک دوسرے سے بولتے ہو۔ ۵* کہیں ایسا ہو کہ تمہارے اعمال ضائع ہو جائیں اور تمہیں خبر بھی نہ ہو۔ ۶*

۳۔۔۔۔۔۔۔۔ جو لوگ اللہ کے رسول کے آگے اپنی آواز پست رکھتے ہیں وہی ہیں جن کے دلوں کو اللہ نے تقویٰ کے لیے خالص کر لیا ہے۔ ۷* ان کے لیے مغفرت اور بہت بڑا اجر ہے۔

۴۔۔۔۔۔۔۔۔ (اے نبی!) جو لوگ تمہیں حجروں کے باہر سے پکارتے ہیں ان میں سے اکثر بے عقل ہیں۔ ۸*

۵۔۔۔۔۔۔۔۔ اگر وہ صبر کرتے یہاں تک کہ تم ان کے پاس آ جاتے تو ان کے لیے بہتر تھا۔ اور اللہ معاف کرنے والا رحم فرمانے والا ہے۔ ۹*

۶۔۔۔۔۔۔۔۔ اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لائے تو تحقیق کر لیا کرو۔ ۱۰* کہیں ایسا نہ ہو کہ تم کسی گروہ کے خلاف نادانستہ کوئی کارروائی کر بیٹھو اور پھر اپنے کئے پر پچھتانے لگو۔ ۱۱*

۷۔۔۔۔۔۔۔۔ جان رکھو کہ اللہ کا رسول تمہارے درمیان موجود ہے اگر بہت سے معاملات میں وہ تمہاری بات مان لیا کرے تو تم تکلیف میں پڑ جاؤ۔ ۱۲* لیکن اللہ نے تمہارے لیے ایمان کو محبوب بنایا اور اس کو تمہارے دلوں میں کُھبا دیا اور کفر اورفسق اور نا فرمانی کو تمہارے لیے باعثِ نفرت بنایا۔ یہی لوگ راست رو ہیں۔ ۱۳*

۸۔۔۔۔۔۔۔۔ اللہ کے فضل اور احسان سے ۱۴* اور اللہ علم والا حکمت والا ہے۔

۹۔۔۔۔۔۔۔۔ اور اگر مومنوں کے دو گروہ آپس میں لڑ پڑیں تو ان کے درمیان صلح کراؤ۔ ۱۵* پھر اگر ان میں سے ایک گروہ دوسرے پر زیادتی کرے تو زیادتی کرنے والے گروہ سے لڑو۔ یہاں تک کہ وہ اللہ کے حکم کی طرف رجوع کرے۔ اگر وہ رجوع کرے تو ان کے درمیان عدل کے ساتھ صلح کراؤ اور انصاف کرو۔ اللہ انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔ ۱۶*

۱۰۔۔۔۔۔۔۔۔ مومن تو آپس میں بھائی بھائی ہیں۔ ۱۷* تو اپنے بھائیوں کے درمیان مصالحت کراؤ۔ اور اللہ سے ڈرو تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔

۱۱۔۔۔۔۔۔۔۔ اے لوگو جو ایمان لائے ہو! نہ مرد دوسرے مردوں کا مذاق اڑائیں۔ ہوسکتا ہے وہ ان سے بہتر ہوں۔ اور نہ عورتیں دوسری عورتوں کا مذاق اڑائیں۔ ہوسکتا ہے وہ ان سے بہتر ہوں۔ ۱۸* اور نہ آپس میں طعن کرو۔ ۱۹* اور نہ ایک دوسرے کو برے القاب سے پکارو۔ ۲۰* ایمان کے بعد فسق بہت بُرا نام ہے۔ ۲۱* اور جو لوگ توبہ نہ کریں وہی ظالم ہیں۔ ۲۲*

۱۲۔۔۔۔۔۔۔۔ اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! بہت سے گمانوں سے بچو کیونکہ بعض گمان گناہ ہوتے ہیں۔ ۲۳* اور ٹوہ میں نہ لگو۔ ۲۴* اور نہ تم میں سے کوئی کسی کی غیبت کرے۔ ۲۵* کیا تم میں سے کوئی شخص اس بات کو پسند کرتا ہے کہ اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھائے۔ تمہیں تو اس سے گھِن ہی آئے گی۔ ۲۶* اللہ سے ڈرو۔ بلا شبہ اللہ توبہ قبول کرنے والا رحم فرمانے والا ہے۔ ۲۷*

۱۳۔۔۔۔۔۔۔۔ لوگو! ہم نے تم کو ایک ہی مرد اور عورت سے پیدا کیا پھر تمہاری قومیں اور قبیلے بنائے تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچانو۔ ۲۸* اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو تم میں سب سے زیادہ متقی ہے۔ ۲۹* بلا شبہ اللہ جاننے والا اور باخبر ہے۔ ۳۰*

۱۴۔۔۔۔۔۔۔۔ بدو کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے۔ ۳۱* ان سے کہو تم ایمان نہیں لائے بلکہ کہو کہ ہم نے اسلام (اطاعت) قبول کر لیا۔ ۳۲* ایمان ابھی تمہارے دلوں کے اندر داخل نہیں ہوا ہے۔ ۳۳* اگر تم اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو گے تو وہ تمہارے اعمال ذرا بھی نہیں گھٹائے گا۔ ۳۴* یقیناً اللہ بخشنے والا رحم فرمانے والا ہے۔ ۳۵*

۱۵۔۔۔۔۔۔۔۔ مومن حقیقت میں وہی ہیں جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لائے پھر شک میں نہیں پڑے اور اپنے مال اور اپنی جانوں سے اللہ کی راہ میں جہاد کیا۔ یہی لوگ سچے ہیں۔ ۳۶*

۱۶۔۔۔۔۔۔۔۔ کہو کیا تم اپنا دین اللہ کو جتلاتے ہو؟ حالانکہ اللہ جانتا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے اور اللہ کو ہر چیز کا علم ہے۔

۱۷۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ لوگ تم پر احسان جتاتے ہیں کہ انہوں نے اسلام قبول کر لیا۔ کہو مجھ پر اپنے اسلام کااحسان نہ رکھو بلکہ یہ اللہ کا تم پر احسان ہے کہ اس نے تم کو ایما ن کی راہ دکھائی اگر تم سچے ہو۔ ۳۷*

۱۸۔۔۔۔۔۔۔۔ اللہ آسمانوں اور زمین کی تمام پوشیدہ باتوں کو جانتا ہے اور جو کچھ تم کرتے ہو اس کو اللہ دیکھ رہا ہے۔ ۳۸*

 

                   تفسیر

 

۱۔۔۔۔۔۔۔۔ اللہ اور اس کے رسول سے آگے بڑھنے کی مختلف صورتیں ہوسکتی ہیں مثلاً یہ کہ اپنے فیصلہ کو ان کے فیصلہ پر اور اپنی بات کو ان کی بات پر مقدم رکھا جائے ، جو معاملہ در پیش ہو اس میں یہ دیکھے بغیر کہ شریعت کیا کہتی ہے اظہارِ رائے اور عملی اقدام کیا جائے ، کتاب و سنت کی باتوں پر دوسروں کی باتوں کو مثلاً بزرگوں یا علماء ے فقہاء کے اقوال کو ترجیح دی جائے یہ تمام صورتیں اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت اور اتباعِ رسول کے منافی ہیں۔

۲۔۔۔۔۔۔۔۔ یعنی یہ ایسی بات ہے جو تقویٰ کے سراسر خلاف ہے لہٰذا تمہیں اللہ اور اس کے روسل سے آگے بڑھنے کی جسارت نہیں کرنی چاہیے۔

۳۔۔۔۔۔۔۔۔ لہٰذا خوب سمجھ لو کہ وہ تمہاری باتیں سنتا ہے اور تمہارے دلوں کا حال جانتا ہے۔

۴۔۔۔۔۔۔۔۔ نبی کا مقام بہت بلند ہے اس لیے اس کا زیادہ سے زیادہ ادب اور احترام کرنا چاہیے۔ نبی کی مجلس کے لیے یہ ادب سکھایا گیا ہے کہ اپنی آواز کو پست رکھیں۔ آج اگرچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس موجود نہیں ہے لیکن آپ کے ارشادات موجود ہیں ان کو بلند رکھنا اور ان کے مقابلہ میں کوئی آواز بلند نہ کرنا اس آیت کا عین منشاء ہے۔

۵۔۔۔۔۔۔۔۔ یعنی نبی کو اس طرح خطاب نہ کرو جس طرح آپس میں خطاب کرتے ہو۔ ادب کا تقاضا ہے کہ آپ کو “یا محمد ،کہ کر مخاطب نہ کیا جائے بلکہ یا رسول اللہ کہہ کر مخاطب کیا جائے نیز گفتگو میں آپ کے وقار کو پوری طرح ملحوظ رکھا جائے۔

۶۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ سخت تنبیہ ہے ان لوگوں کو جو نبی کے مقام کا لحاظ نہیں کرتے اور خلافِ ادب حرکتیں کر گزرتے ہیں۔ نبی کے ساتھ ناشائستہ طرزِ عمل دل کی بہت بڑی بیماری کو ظاہر کرتا ہے اور وہ ہے تقویٰ کی کمی جس کا اگر بر وقت علاج نہیں کیا گیا تو دلوں سے تقویٰ رخصت ہوسکتا ہے اور جب تقویٰ ہی باقی نہ رہا تو ان اعمال کی کوئی قدر و قیمت نہیں رہ جاتی جو بظاہر نیک ہوں۔ نیکی کا کوئی کام اسی صورت میں نیکی ہے جب کہ اس کی تہ میں تقویٰ__اللہ کی عظمت کے تصور سے اس کا خوف اور اس کی نافرمانی سے بچنے کا جذبہ__موجود ہو آگے کی آیت سے خود اس کی وضاحت ہو رہی ہے۔

ان آیتوں سے نزول کے بعد صحابہ کرام نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں اپنی آواز یں بہت زیادہ پست کر لی تھیں یہاں تک کہ آپ کو پوچھنا پڑتا تھا کہ کہنے والے نے کیا کہا اور جن کی آواز قدرتی طور سے اونچی تھی وہ گھبرا گئے کہ کہیں ان کے اعمال ضائع نہ ہو جائیں۔ بخاری کی روایت ہے کہ اس آیت کے نازل ہونے کے بعد ثابت بن قیس کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں دیکھا۔ آپ نے ان کا حال دریافت کرنے کے لیے ایک شخص کو بھیجا۔ وہ جب ان کے گھر پہنچا تو دیکھا کہ ثابت بن قیس اپنے گھر میں سر جھکائے بیٹھے ہیں۔ پوچھا کیا حال ہے ؟ انہوں نے جواب دیا بہت بُرا حال ہے کیونکہ جو شخص اپنی آواز نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز سے اونچی کر دیتا ہے اس کے عمل ضائع ہو جاتے ہیں اور وہ دوزخ والوں میں سے ہو جاتا ہے۔ اس شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی اطلاع دی۔ آپ نے فرمایا جاؤ اور ان سے کہو تم جہنمی نہیں بلکہ جنتی ہو (بخاری کتاب التفسیر)

۷۔۔۔۔۔۔۔۔ واضح ہوا کہ رسول کے پاس آواز کو پست رکھنے اور اس کا ادب و احترام کرنے کا تعلق دل کے تقویٰ سے ہے۔ ان ظاہری آداب کا قلب و ذہن پر گہرا اثر پڑتا ہے اور اس سے تقویٰ کی پرورش ہوتی ہے۔ اگر تقویٰ ان ظاہری آداب کے لیے محرک کی حیثیت رکھتا ہے تو یہ آداب تقویٰ کی تقویت کا باعثِ بن جاتے ہیں۔

۸۔۔۔۔۔۔۔۔ بدو عرب جن میں شائستگی کی بڑی کمی تھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات کے لیے آتے تو آپ کو مسجد نبوی میں موجود نہ پاکر آپ کے گھر کے باہر سے جو حجروں (کمروں ) پر مشتمل تھا آواز دینے لگتے۔ ان کا یہ طریقہ ادب و احترام کے خلاف تھا اور یہ اس بات کی علامت تھی کہ انہوں نے ابھی رسول کے مقام کو نہیں پہچانا ہے۔ رسول کا مقام عام لوگوں سے بہت بلند ہوتا ہے اس لیے اس کے ساتھ وہ طریقہ اختیار نہیں کیا جا سکتا جو عام طور سے لوگوں کے ساتھ اختیار کیا جاتا ہے اور دروازے کے باہر سے آواز دینا یوں بھی شائستہ طریقہ نہیں ہے کجا یہ کہ یہ طریقہ رسول کے معاملہ میں اختیار کیا جائے۔ اس کی نا معقولیت بالکل واضح ہے۔

اور جب حجروں کے باہر سے آپ کو آواز دینا نا معقولیت ہے تو قبر کے باہر سے آپ کو پکارنا تاکہ فریاد رستی کے لیے آپ پہنچ جائیں سراسر حماقت ہے۔ البتہ درود و سلام آپ پر ہر جگہ سے بھیجا جا سکتا ہے مگر اس کے لیے بھی وہی طریقہ اختیار کیا جانا چاہیے جس کی تعلیم آپ نے دی ہے۔

۹۔۔۔۔۔۔۔۔ لہٰذا اپنے قصور پر اللہ سے معافی مانگو اور اس سے رحم کی درخواست کرو۔

۱۰۔۔۔۔۔۔۔۔ فاسق سے مراد ایسا شخص ہے جو اللہ کا نافرمان اور گناہ کبیر کا مرتکب ہو۔ ایسے شخص کی کسی خبر پر جو اہمیت کی حامل ہو بلا تحقیق قبول کرنے اور اس پر اعتماد کر کے کسی کے خلاف کوئی کاروائی کرنے سے منع کیا گیا ہے کیونکہ فاسق کی خبر جھوٹی ہوسکتی ہے اور جھوٹی خبر پر اعتماد کرنے کے اثرات و نتائج برے ہی ہوسکتے ہیں۔

یہ ہدایت نیز آگے کی ہدایات ایسے موقع پر دی گئیں جبکہ مسلم سوسائٹی میں ایسے لوگ داخل ہو رہے تھے جنہوں نے شعوری طور پر اسلام قبول نہیں کیا تھا اور جو اپنے کردار کے لحاظ سے بھی لائق اعتماد نہیں ہوسکتے تھے۔ پھر قبائلی رقابت کی وجہ سے بھی ان لوگوں سے اندیشہ تھا کہ وہ غیر ذمہ دارانہ باتیں کر کے آپس میں چپقلش نہ پیدا کریں۔ گویا یہ ہدایات حفظ ماتقدم کے طور پر تھیں اور اس میں ان حالات کے لیے رہنمائی بھی تھی جو امت کو آئندہ پیش آنے والے تھے چنانچہ حضرت عثمان ؓ کی خلافت کے دور میں ان کے خلاف سبائیوں نے جو جھوٹی خبریں پھیلائیں اور ان پر اعتماد کر کے لوگ جس فتنہ کا شکار ہوئے وہ قرآن کی ان ہدایات کو جن میں مستقبل کی خانہ جنگی کی طرف اشارات تھے نظر انداز کر نے کا نتیجہ تھا۔

ان آیات کا اصل محلِ کلام یہی ہے۔ رہیں وہ روایتیں جو شانِ نزول کے طور پر بیان ہوئی ہیں تو ان کے بارے میں بہت کچھ کہنے کی گنجائش ہے۔ عام طور سے مفسرین اس آیت کے شانِ نزول میں یہ روایت نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ولید بن عقبہ کو قبیلہ بنی المصطلق کی طرف ان کی زکوٰۃ وصول کرنے کے لیے بھیجا لیکن وہ ڈر گئے اور راستہ ہی میں سے واپس ہو گئے اور آ کر عرض کیا یارسول اللہ (قبیلہ کے سردار) حارث نے زکوٰۃ دینے سے انکار کیا اور میرے قتل کے درپے ہو گئے۔ اس پر آپ برہم ہوئے اور کچھ لوگوں کو حارث کی طرف بھیجا مگر مدینہ سے قریب ہی حارث انہیں مل گئے اور انہوں نے آ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ جس شخص کو آپ نے بھیجا تھا اس کو نہ میں نے دیکھا اور نہ وہ میرے پاس آیا۔ اس پر سورۂ حجرات کی یہ آیت نازل ہوئی اور ابن جریر کی روایت میں ہے کہ بنی المصطلق کے لوگ ولید بن عقبہ کے استقبال کے لیے باہر نکل آئے تھے مگر انہوں نے سمجھ لیا کہ وہ ان کے قتل کے ارادے سے نکلے ہیں۔ (ملاحظہ ہو تفسیر ابن کثیر ج ۴ ص۳۰۹) اولاً تو اس روایت کے متن میں بڑا اضطراب ہے ثانیاً اس روایت کو امام احمد وغیرہ نے محمد بن سابق سے نقل کیا ہے جن کو بعض محدثین نے ضعیف کہا ہے (تہذیب التہذیب ج ۹ ص۱۷۵) ثالثاً ابن جریر طبری نے اس کی جو اسناد بیان کی ہے اس میں ایک راوی موسیٰ بن عبیدہ ہے جس کو ترمذی ، نسائی اور علی بن المدینی وغیرہ نے ضعیف کیا ہے۔ تہذیب ج ۱۰ ص ۳۵۶۔ ۳۵۸) رابعاً اس روایت کے پیش نظر ولید بن عقبہ فاسق قرار پاتے ہیں حالانکہ ان کے فاسق ہونے کا کوئی ثبوت موجود نہیں ہے اور یہ کس طرح ممکن ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک فاسق شخص کو زکوٰۃ وصول کرنے کے لیے اپنا نمائندہ بنا کر بھیج دیں ؟

خامِساً یہ بات بھی تسلیم نہیں کی جا سکتی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک فاسق کی خبر پر اعتماد کر لیا تھا۔ اسناد اور روایت کی ان خرابیوں کے پیش نظر یہ روایت قابل قبول نہیں ہے۔

اس آیت سے روایتوں کے بارے میں شریعت کا یہ قاعدہ بھی متعین ہوتا ہے کہ فاسق کی روایت کو بلا تحقیق قبول نہیں کیا جا سکتا۔ اسی لیے محدثین نے حدیث کی صحت کے لیے راویوں کا ثقہ (معتمد) اور عادل ہونا ضروری قرار دیا ہے۔ رہی عقیدہ کی گمراہی تو وہ عملی فسق سے بڑھ کر ہے اس لیے جو لوگ دین میں تفرقہ ڈالنے والے اور بدعت کی راہ اختیار کرنے والے ہوں ان کی روایتیں قبول نہیں کی جا سکتیں اور وہ ہرگز حجت نہیں ہیں۔ مشہور تابعی ابن سیرین نے بالکل بجا فرمایا ہے کہ:

اِنَّ ہٰذالحَدِیْثَ دِیْنٌ فَانْظُرُوا عَمَّنْ تَأخُذُوُنَ دِیْنَکُمْ (الکفایۃ فی علم الروایۃ ۱۶۲) ” یہ حدیثیں دین ہیں تو دیکھو کہ تم کن لوگوں سے اپنا دین حاصل کر رہے ہو۔ ”

اور یہ افسوسناک حقیقت ہے کہ محدثین کے ایک گروہ نے اس معاملہ میں تساہل سے کام لیا جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ حدیث کی کتابوں میں بہ کثرت ایسی روایتیں شامل ہو گئیں جن کے راوی شیعیت اور بدعت میں مبتلا تھے اور جنہوں نے واقعات کو غلط رنگ میں پیش کیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ایسی باتیں منسوب کیں جن کی نسبت آپ کی طرف کسی طرح صحیح نہیں ہوسکتی تھی۔ ان روایتوں نے دین کا حلیہ ہی بگاڑ کر رکھ دیا اس لیے اس معاملہ میں نرمی نہیں برتی جا سکتی۔

۱۱۔۔۔۔۔۔۔۔ یعنی ایسا نہ ہو کہ کسی غلط خبر پر اعتماد کر کے مسلمانوں کے کسی گروہ کے خلاف کوئی کارروائی کر بیٹھو اور بعد میں جب اصل صورتِ حال سامنے آئے تو پچھتانے لگو اس لیے پہلے ہی تحقیق کر لیا کرو۔

۱۲۔۔۔۔۔۔۔۔ یعنی اللہ کا رسول جب تمہارے درمیان رہنمائی کے لیے موجود ہے تو تم کیوں اپنی رائے پر اصرار کرنے لگو۔ تمہاری نظر ان مصلحتوں پر نہیں ہوسکتی جن مصلحتوں پر رسول کی دورس نگاہیں ہوتی ہیں اس لیے اگر رسول تمہاری بہت سی باتوں کو قبول کر لے تو خلافِ مصلحت ہونے کی بنا پر تمہیں نقصان پہنچے گا۔

۱۳۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ ہیں سچے مومنوں کی باطنی خصوصیات جو انہیں راست رو بنا دیتی ہیں یعنی ایمان کا ان کی نظروں میں محبوب بن جانا، دلوں میں اس کا رچ بس جانا اور کفر و فسق اور معصیت سے ان کا متنفر ہونا۔ یہ باطنی خصوصیات ان مسلمانوں کی نہیں ہوسکتیں جو کسی مصلحت سے مسلمانوں کے گروہ میں شامل ہو گئے ہوں یا اسلام سے جن کا تعلق محض رسمی نوعیت کا ہو۔

۱۴۔۔۔۔۔۔۔۔ یعنی یہ ایمانی خصوصیات جن کا ذکر اوپر کی آیت میں ہوا جن لوگوں کی اندر پائی گئیں انہیں اللہ کا شکر گزار ہونا چاہیے کہ یہ متاع عزیز انہیں اسی کے فضل و کرم سے حاصل ہوئی۔

۱۵۔۔۔۔۔۔۔۔ اس ہدایت کا بھی یہ مطلب نہیں کہ مسلمانوں کے دو گروہوں میں اس وقت کوئی جنگ چھڑ گئی تھی اس لیے صلح کرا دینے کا حکم دیا گیا بلکہ جیسا کہ ہم اوپر نوٹ ۱۰ میں واضح کر چکے ہیں پیش آمدہ حالات میں محتاط رہنے کے لیے بھی نیز مستقبل قریب میں حالات جو رخ اختیار کرنے والے تھے اور مسلمانوں کے درمیان جو فتنے برپا ہونے والے تھے ان کے تعلق سے پیشگی انتباہ بھی تھا اور ان حالات میں رہنمائی کا سامان بھی۔

۱۶۔۔۔۔۔۔۔۔ اس آیت میں مسلمانوں کی باہمی چپقلش اور ان کے درمیان برپا ہونے والے قتل و قتال کو روکنے کے لیے نہایت اہم ہدایات ہے جن سے کئی باتوں پر روشنی پڑتی ہے :

ایک یہ کہ شدید غلط فہمی یا کسی سازش وغیرہ کے نتیجہ میں مسلمانوں کے دو گروہوں کے درمیان جنگ کی نوبت آ سکتی ہے لیکن اس بنا پر کسی گروہ کو کافر قرار دینا صحیح نہ ہو گا کیونکہ اس آیت میں لڑنے والے دونوں گروہوں کا ذکر مومنوں کے دو گروہ کی حیثیت سے ہوا ہے۔

دوسری یہ کہ لڑائی کی صورت میں دوسرے مسلمانوں کا کام ہے کہ وہ ان کے درمیان صلح کرا دیں اور ایسا کوئی طرزِ عمل اختیار نہ کریں جس سے جنگ کی آگ اور بھڑک اٹھے۔

تیسری یہ کہ جو گروہ صلح پر آمادہ نہیں ہوتا اور ظلم و زیادتی کرتا ہے تو اس کے خلاف طاقت کا استعمال کیا جائے یہاں تک کہ وہ اللہ کے حکم کی طرف رجوع کر لے اور اللہ کے حکم کی طرف رجوع کرنے سے مراد صلح کا یہ حکم بھی ہے اور عدل و انصاف کا حکم بھی نیز وہ شرعی حکم بھی جو اس جنگ سے متعلق ہو۔

چوتھی یہ کہ اللہ کے حکم کی طرف رجوع کرنے کی صورت میں اس گروہ کے خلاف طاقت کا استعمال ختم کیا جانا چاہیے۔ اور دونوں گروہوں کے درمیان مصالحت کرا دینی چاہیے۔

پانچویں یہ کہ مسلمانوں کے دو گروہوں کی باہمی لڑائی میں دوسرے مسلمانوں کو کوئی ایسی بات نہیں کرنی چاہیے جو عدل و انصاف سے ہٹی ہوئی ہو یا جس سے جانبداری ظاہر ہوتی ہو۔ انہیں انصاف کی بات بے لاگ طور پر کہنا چاہیے خواہ کوئی فرقے ناراض ہو یا خوش کیونکہ اللہ کو انصاف کرنے والے لوگ ہی پسند ہیں۔

یہ احکام مسلمانوں کے لیے مشعل راہ ہیں مگر موجودہ دور کے مسلمانوں کا حال ایسا ہے کہ اللہ ہی رحم کرے۔ ان کے مختلف گروہ ایک دوسرے سے برسر پیکار ہیں اور مسلم ممالک کے درمیان جنگیں برپا ہوتی رہتی ہیں جس میں ہزاروں اور لاکھوں مسلمان مارے جاتے ہیں اس طرح وہ یہود کی تاریخ دہرا رہے ہیں جن کی سلطنت ٹکڑے ٹکڑے ہو کر رہ گئی تھی اور جن کے درمیان ہمیشہ جنگیں برپا رہیں۔

۱۷۔۔۔۔۔۔۔۔ دینی رشتہ کے اعتبار سے مسلمان ایک دوسرے کے بھائی ہیں۔ رنگ و نسل اور قوم و وطن کا فرق اس عالمگیر برادری میں کوئی رخنہ پیدا نہیں کرسکتا۔ وہ جہاں کہیں بھی ہوں ایک دوسرے سے منسلک رہیں گے اور ایک کے درد کی چوٹ دوسرا اپنے اندر محسو س کرے گا خواہ ان کے درمیان ہزاروں میل کا فاصلہ ہو۔ اس رشتہ اخوت کو مضبوط کرنے کی تاکید حدیث میں بھی کی گئی ہے۔

آپؐ نے فرمایا:

اَلْمُسْلِمُ اَحُوالْمُسْلِمِ لاَ یَظْلِمُہٗ وَلاَ یُسْلِمُہٗ مَنْ کَانَ فِیْ حَاجَۃِ اَخِیْہٖ کَانَ اللّٰہُ فِیُ حَاجَتِہٖ وَمَنْ فَرَّجَ عَنْ مُسْلِمٍ کُرْبَۃً فَرَّجَ اللّٰہُ عَنْہٗ بِہَاکُرْبَۃً مِنْ کُرَبِ یَوْمِ القِیَامَۃِ وَمَنْ سَتَرَ مُسْلِماً سَتَرَہٗ اللّٰہٗ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ۔ (مسلم کتاب البر) ” مسلمان مسلمان کا بھائی ہے۔ نہ اس پر ظلم کرے اور نہ اسے ظالم کے حوالہ کرے جو شخص اپنے بھائی کی حاجت پوری کرنے میں لگا رہتا ہے اللہ اس کی حاجت پوری کرتا رہتا ہے اور جو شخص کسی مسلمان کی تکلیف کو دور کرے گا قیامت کے دن اللہ اس کی تکلیف کو دور کرے گا اور جو کسی مسلمان کی پردہ پوشی کرے گا اللہ قیامت کے دن اس کی پردہ پوشی کرے گا۔ ”

نیز ان باتوں سے منع فرمایا جو اس رشتہ کو کاٹ دینے والی ہیں۔ آپؐ کا ارشاد ہے :

سِبَابُ الْمُسْلِمِ فُسُوْقٌ وَقِتَالُہُ کُفْرٌ (صحیح البخاری کتاب الادب) ” مسلمان کو گالی دینا فسق ہے اور اسے قتل کرنا کفر ہے۔ ”

لاَتَرْجِعُنَّ بَعْدِیْ کُفَّاراً یَضْرِبُ بَعْضُکُمْ رِقَابَ بَعْضٍ۔ (مشکوٰۃ براویۃ البخاری و مسلم) ” میرے بعد کافر نہ ہو جانا کہ ایک دوسرے کی گردنیں مارنے لگو۔ ”

۱۸۔۔۔۔۔۔۔۔ اوپر کی آیت میں دینی اخوت کے رشتہ کو قائم اور درست رکھنے کی تاکید کی گئی تھی۔ اب ان اخلاقی برائیوں سے بچنے کی ہدایت کی جارہی ہے جو باہمی تعلقات کو خراب کرنے والی اور بغض و عناد پیدا کرنے والی ہیں۔ ان اخلاقی خرابیوں میں ایک بہت بڑی خرابی ایک دوسرے کا مذاق اڑانا ہے۔ مذاق اڑانے والا دوسرے کی تحقیر کرتا ہے اور یہ بات تقویٰ کے منافی ہے۔ حدیث میں آتا ہے :۔

اَلتَّقْویٰ ہٰہُنا وَیُشِیُراِلٰی صَدْرۃِ ثَلاثَ مِرارٍ بِحَسْبِ امْرِی ٍ مِنَ الشَّرِ اَنْ یَحْقِرَ اَخَاہُ الْمُسْلِمَ، کُلُّ مُسْلِمٍ عَلٰی الْمُسْلِمِ حَرَامٌ دَمُہٗ وَمَالُہٗ وَعِرْضَہٗ۔ (مسلم کتاب البر)

” نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ اپنے سینہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا تقویٰ یہاں ہوتا ہے۔ آدمی کے لیے یہ برائی ہی کافی ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کو حقیر جانے۔ ہر مسلمان کا خون، مال اور عزت دوسرے مسلمان پر حرام ہے۔ ”

مذاق ایک آدمی دوسرے آدمی کا بھی اڑاتا ہے اور ایک گروہ دوسرے گروہ کا بھی اور یہ دونوں صورتیں مذموم ہیں۔ عورتوں میں بھی یہ خصلت بہت زیادہ ہوتی ہے کہ وہ دوسری عورتوں پر ہنستی ہیں اور ان کا مذاق اڑاتی ہیں اس لیے عورتوں کو بھی خاص طور سے تاکید کی گئی کہ وہ اس سے باز رہیں۔ مذاق اڑانے والا جس کا مذاق اڑاتا ہے اس سے اپنے کو بہتر سمجھتا ہے مگر ہوسکتا ہے کہ جس کا مذاق اڑایا جا رہا ہے وہ مذاق اڑانے والے سے بہتر ہو اس لیے یہ ذہنیت ہی غلط ہے کہ آدمی اپنے کو برتر اور دوسروں کو کمتر خیال کرے۔

۱۹۔۔۔۔۔۔۔۔ طعنہ زنی دلوں کو زخمی کرتی ہے اس لیے زبان کو طنز و تشنیع سے پاک رکھنا چاہیے۔ کسی کی ذات پر حملہ کرنا اس پر فقرے چست کرنا اور اس کو ملامت کا نشانہ بنانا سخت اذیت دہ بات ہے اور اس سے باہمی تعلقات کشیدہ ہو جاتے ہیں۔

۲۰۔۔۔۔۔۔۔۔ دوسروں کے لیے برے لقب تجویز کرنا اور برے ناموں سے انہیں پکارنا اور یاد کرنا بڑی بد اخلاقی کی بات ہے اور جو شخص کسی مسلمان کا برا نام رکھتا ہے وہ اس کی عزت کو پامال کرتا ہے اس لیے اس کو معمولی گناہ نہیں سمجھنا چاہیے۔

اس ہدایت سے بے پرواہی برتنے ہی کا نتیجہ ہے کہ آج مسلمانوں کا ایک گروہ دوسرے گروہ کو اور ان کی ایک جماعت دوسری جماعت کو بدنام کرنے کی کوشش کرتی ہے یہاں تک کہ جوگ توحیدِ خالص کے قائل ہوتے ہیں اور واسطہ وسیلہ، غیر اللہ کے لیے نذر و نیاز، شخصیت پرستی اور قبر پرستی وغیرہ کے مخالف ہوتے ہیں ان کو “وہابیت” کا لقب دیا جاتا ہے اور ان کو ۲۴ نمبر کہہ کر پکارا جاتا ہے جو حروف ابجد کے لحاظ سے لفظ “وہابی” کا مجموعہ عدد ہے۔ یہ حرکتیں وہ لوگ کرتے ہیں جو بدعات میں بُری طرح مبتلا ہوتے ہیں اور انہیں اس بات کا کوئی احساس نہیں ہوتا کہ وہ دین کی راہ میں کتنی زبردست رکاوٹیں پیدا کر رہے ہیں۔

۲۱۔۔۔۔۔۔۔۔ یعنی جو شخص دوسروں کے لیے برے نام تجویز کرتا ہے وہ ایسا کر کے خود اپنے اوپر بدترین نام چسپاں کر لیتا ہے کیونکہ یہ حرکتیں فسق (گناہ اور نافرمانی) ہیں اور جو شخص یہ حرکت کرتا ہے وہ فسق کا ارتکاب کرتا ہے اور ایمان لانے کے بعد فسق میں نام پیدا کرنا بہت بری بات ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ایک مسلمان کو برے نام سے یاد کرنے والا فسق کا مرتکب ہوتا ہے جو بہت برا وصف ہے۔

ان ہدایت سے اندازہ ہوتا ہے کہ اسلام میں اخلاقی پاکیزگی کی کیا اہمیت ہے اور وہ سوسائٹی میں کیسا ستھرا پن پیدا کرنا چاہتا ہے مگر مسلمانوں کی سوسائٹی میں جب تقویٰ کی بنیادیں کمزور ہو گئیں تو ہجو گوئی شاعروں کا طرۂ امتیاز قرار پایا اور ادب میں کثافت کی کثرت ہو گئی۔ موجودہ دور میں تو صحافت میں وہ کامیاب ہے جو دوسروں کی خوب پگڑی اچھالے ، نیک لوگوں کی کردار کشی کرے ، ذمہ دار لوگوں کے خلاف بے اعتمادی پھیلائے اور اسکینڈل پیش کرے۔ یہ سب حرکتیں مسلمانوں دوسرے مسلمانوں اور ان کی جماعتوں وغیرہ کے خلاف کرتے ہیں اور اس معاملہ میں اتنے آگے بڑھ گئے ہیں کہ مسلم صحافت اور غیر مسلم صحافت میں کوئی فرق باقی نہیں رہا۔ بہت کم لوگ ہیں جو اپنے دامن کو آلودہ ہونے سے بچا رہے ہیں۔

یہ صورتِ حال بھی بڑی افسوس ناک ہے کہ مسلمانوں میں گالی دینے کا رواج عام ہو گیا ہے۔ اور گالیاں بھی ایسی فحش کہ ایک شریف آدمی شرم کے مارے پانی پانی ہو جائے۔ پھر جس کو گالی دی جاتی ہے اس کی ماں اور بہن کو جن کا کوئی قصور نہیں ہوتا بلا وجہ نشانۂ ملامت بنایا جاتا ہے یہاں تک کہ جو مر گئے ہیں ان کی عزت پر بھی حملہ کیا جاتا ہے۔ ایسی شرمناک حرکتیں کرتے ہوئے مسلمانوں کا یہ احساس مردہ ہو جاتا ہے کہ ان کی ان باتوں کو اللہ سن رہا ہے اور ان کا ایک ایک لفظ ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔ وہ گالی دے کر صریح فسق اور بے حیائی کے مرتکب ہو رہے ہیں جس کی سزا بڑی سخت ہے۔

۲۲۔۔۔۔۔۔۔۔ یعنی ان واضح ہدایات کے بعد بھی جو لوگ ان گناہوں سے توبہ نہیں کریں گے اور ان حرکتوں سے باز نہیں آئیں گے وہ ظالم ہیں اور ظالموں کے لیے اللہ کی پکڑ بڑی سخت ہے۔

آیت کے اس آخری فقرہ میں ہر مسلمان کے لیے توبہ کی ترغیب ہے کہ ان ہدایتوں کے علم میں آنے سے پہلے جو برائیاں ان سے سرزد ہوئی ہوں ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے معافی مانگیں اور اپنی اصلاح کر لیں۔

۲۳۔۔۔۔۔۔۔۔ ایک مومن کو دوسرے مومن کے بارے میں اچھا گمان رکھنا چاہے۔ سورۂ نور میں ارشاد ہوا ہے :۔

لَوْلَآ اِذْ سَمِعْتُمُوْہُ ظَنَّ الْمُؤْمِنُوْنَ وَالْمُؤْمِنٰتُ بِاَنْفُسِہِمْ خَیْرًاوَّ قالُوْاہٰذآ اِفْکٌ مُّبِیْنٌ (نور:۱۲)

” جب تم لوگوں نے یہ بات سنی تو مومن مردوں اور مومن عورتوں نے ایک دوسرے کے بارے میں نیک گمان کیوں نہیں کیا۔ ”

لیکن مسلمانوں میں سب اچھے کردار ہی کے نہیں ہوتے برے کردار کے بھی ہوتے ہیں اور ان کے شر سے تکلیف اور نقصان بھی پہنچتا ہے اس لیے خوش گمانی کا مطلب یہ نہیں کہ آدمی خوش فہمیوں میں رہے بلکہ معقول وجوہ کی بنا پر آدمی کسی کے بارے میں برا گمان رکھنے میں حق بجانب ہوسکتا ہے مثلاً ایک شخص کی وعدہ خلافیوں کو دیکھتے ہوئے وہ یہ گمان کرتا ہے کہ جو وعدہ وہ مجھ سے کر رہا ہے اس کو وہ پورا نہیں کرے گا تو اس کا یہ گمان رکھنا بے بنیاد نہیں ہے اور نہ یہ گناہ کی تعریف میں آتا ہے۔ اسی طرح ایک ڈاکٹر کے بارے میں جو لا پرواہ ہو یہ خیال کرنا کہ وہ میرا علاج صحیح نہیں کرے گا اور اس وجہ سے اس کی طرف رجوع نہ کرنا کوئی ایسی بات نہیں ہے جس پر شریعت گرفت کرتی ہو۔ شریعت کی گرفت اصلاً ان بد گمانیوں پر ہے جن کے لیے کوئی وجہ جواز نہ ہو اور جو باہمی تعلقات میں کشیدگی پیدا کرتے ہوں۔ ایسی بد گمانیوں کو اس آیت میں صریح گناہ کہا گیا ہے اور حدیث میں اسے بدترین جھوٹ سے تعبیر کیا گیا ہے :۔

اِیَّاکُمْ وَالظَّنَّ فَاِنَّ الظَّنَّ اَکْذَبُ الْلحَدِیثِ۔ (صحیح البخاری کتاب الادب) ” بدگمانی سے بچو کہ بدگمانی بدترین جھوٹ ہے۔ ”

لیکن احتیاط کا تقاضا یہ ہے کہ آدمی جہاں تک ہوسکے بدگمانی سے بچے اس لیے آیت میں ہدایت یہ کی گئی ہے کہ بہت سی بد گمانیوں سے بچو۔ اس یہ بات خود بخود واضح ہوتی ہے کہ ہر بدگمانی گناہ نہیں ہے لیکن چونکہ بعض بدگمانیاں صریح گناہ ہیں اس لیے کسی کے بارے میں برا گمان رکھنے کے معاملہ میں آدمی کو محتاط رہنا چاہیے۔

۲۴۔۔۔۔۔۔۔۔ یعنی کسی کے عیب اور برائیاں نہ ٹٹولو۔ ایک متقی شخص کی نگاہ اپنی کمزوریوں پر ہوتی ہے اور اسے اپنی نجات کی فکر لاحق ہوتی ہے وہ دوسروں کی رایوں سے کیوں دلچسپی لینے لگے۔ حدیث میں بھی اس کی ممانعت آئی ہے :۔

وَلاَ تَجَسَّرُا ولَا تَحَسَّوُا (صحیح البخاری کتاب الادب)

” نہ ٹوہ میں لگے رہو اور نہ بھید تلاش کرو۔ ”

انجیل میں بھی عیب جوئی پر بڑے موثر انداز میں نصیحت کی گئی ہے :۔

” عیب جوئی نہ کرو کہ تمہاری عیب جوئی نہ کی جائے۔ کیونکہ جس طرح تم عیب جوئی کرتے ہو اسی طرح تمہاری بھی عیب جوئی کی جائے گی اور جس پیمانہ سے تم ناپتے ہو اسی سے تمہارے واسطے ناپا جائے گا۔ تو کیوں اپنے بھائی کی آنکھ کے تنکے کو دیکھتا ہے اور اپنی آنکھ کے شہتیر پر غور نہیں کرتا؟ اور جب تیری ہی آنکھ میں شہتیر ہے تو تو اپنے بھائی سے کیونکر کہہ سکتا ہے کہ لا تیری آنکھ میں سے تنکا نکال دوں ؟ اے ریا کار پہلے اپنی آنکھ میں سے تو شہتیر نکال پھر اپنے بھائی کی آنکھ میں سے تنکے کو اچھی طرح دیکھ کر نکال سکے گا۔ ” (متی ۷:۱ تا ۶)

رہا یہ سوال کہ کیا اس ہدایت کے پیش نظر اسلامی حکومت کے لیے خفیہ جرائم کا پتہ لگانا جائز نہیں ہے ؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہ ہدایت ان ذمہ داریوں کو ادا کرنے میں ہرگز مانع نہیں ہے جو امن عامہ کو برقرار رکھنے ، منکر کو روکنے اور سوسائٹی میں فساد کے انسداد کے تعلق سے اسلامی حکومت پر عائد ہوتی ہیں ان مقاصد کے لیے سراغ لگانے کے مناسب طریقے اختیار کرنا برائی نہیں بلکہ برائیوں اور جرائم کی روک تھام کے لیے ضروری ہے۔ ورنہ نہ تخریب کاری کا پتہ چل سکے گا اور نہ سازشوں کا اور نہ ان خفیہ اڈوں کا جو اسلامی حکومت یا مسلمانوں کی سوسائٹی کے لیے زبردست خطرہ کا باعث ہوں۔ یہ تجسس حکومت کے دائرہ کار سے تعلق رکھتا ہے جو یہاں زیر بحث نہیں۔

۲۵۔۔۔۔۔۔۔۔ غیبت کے معنی پیٹھ پیچھے کسی کی برائی کرنے کے ہیں اگرچہ وہ برائی فی الواقع اس میں موجود ہو۔ حدیث میں اس کی وضاحت اس طرح ہوئی ہے۔ :

ذِکَرُکَ اَخَاکَ بِمَا یَکْرَہُ قَیْلَ اَفَرَأَیْتَ اِنْ کانَ فِی اَخِی مَا اَقُولُ؟ قالَ اِنْ کانَ فِیہِ مَاتَقُولُ فَقَدِ اغْتَبْتَہٗ وَاِنَ لَّمْ یَکُنْ فِیہِ مَاتَمُولُ فَقَدْ بَہَتَّہٗ۔ (مسلم کتاب البر)

“غیبت یہ ہے کہ تم اپنے بھائی کا ذکر اس طرح کرو جو اسے ناگوار ہو۔ کسی نے پوچھا اگر وہ بات میرے بھائی میں موجود ہو جو میں کہہ رہا ہوں تو کیا یہ بھی غیبت ہو گی؟ فرمایا اگر وہ بات اس میں پائی جاتی ہو جو تم کہتے ہو تو تم نے اس کی غیبت کی اور اگر وہ بات اس میں موجود نہ ہو تو تم نے اس پر بہتان لگایا۔ ”

لیکن اگر کسی کی برائی کا ذکر واقعی یا شعری ضرورت کی بنا پر کرنا پڑے تو اس کو نہ قرآن میں غیبت سے تعبیر کیا گیا ہے اور نہ حدیث میں ، اس لیے جن علماء نے غیبت کی جائز صورتیں بیان کی ہیں اس سے اتفاق نہیں کیا جا سکتا۔ وہ صورتیں بجائے خود جائز ہیں اور بعض تو وجوب کے درجہ کی ہیں لیکن یہ کہنا کہ یہ غیبت اور بد گوئی تو ہے مگر جائز ہے اور اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھانا حرام تو ہے مگر ایسے موقع پر یہ گوشت حلال ہو جاتا ہے حقیقتِ واقعہ کی بھونڈی تعبیر ہے۔ قرآن کی مستند اور مشہور لغت مفردات راغب میں غیبت کے معنی اس طرح بیان ہوئے ہیں :۔

وَالغِیبۃُ اَنْ یَذْکُرَ الاِنسانُ غیرَہَ بِما فِیہِ مِنْ عَیبٍ مِنْ غَیرِ اَنْ اَحَوَجَ اِلٰی ذِکْرِہِ۔ (مفردات ص ۳۷۳)

” غیبت یہ ہے کہ آدمی دوسرے کا ذکر عیب کے ساتھ کرے جب کہ اس کے ذکر کی ضرورت نہ ہو۔ ”

کسی کے ضرر یا شر سے لوگوں کو بچانے ، عدالت میں شہادت پیش کرنے ، ظالم کے خلاف آواز اٹھانے ، مفسدانہ کاروائیوں اور تخریبی کاموں حکومت کو آگاہ کرنے ، مجرم کے خلاف رپورٹ لکھوانے ، منکر سے روکنے اور کسی کی شر انگیزی کے خلاف احتجاج کرنے ، راویوں پر جرح کرنے ، مصنفوں اور صحافیوں پر تنقید کرنے ، بدعات و خرافات اور گمراہیوں کی اشاعت کو روکنے اور انسداد رشوت ستانی کے لیے متعلقہ افراد کی جن برائیوں ، کمزوریوں اور مجرمانہ افعال کا ذکر ضروری ہو، ان کو بیان کرنا نہ صرف جائز بلکہ بسا اوقات واجب ہو جاتا ہے اس لیے اس قسم کی باتوں پر غیبت کا حکم نہیں لگایا جا سکتا۔ محدثین جنہوں نے اسماء الرجال کی کتابیں مرتب کیں غیبت کا دفتر کھول کر نہیں بیٹھے تھے بلکہ حدیثِ رسول کو ساقط الاعتبار روایتوں سے ممتاز کرنے کے لیے یہ قابلِ قدرت خدمت انہوں نے انجام دی۔

۲۶۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ نہایت بلیغ تشبیہ ہے جس سے غیبت کا گھناؤنا پن ظاہر ہوتا ہے اور اس سے سخت نفرت پیدا ہوتی ہے۔ جو مسلمان کسی مسلمان کی غیبت کرتا ہے تو وہ اس کا دینی بھائی ہے۔ جس کی غیر موجودگی میں وہ اس کی برائی کرتا ہے گویا کہ وہ اپنے مردہ بھائی کی عزت پر حملہ کرتا ہے اور یہ بھی واقعہ ہے کہ غیبت کرنے والا دوسروں کے عیوب بیان کرنے میں لذت محسوس کرتا ہے اس لیے غیبت کو مردہ بھائی کا گوشت کھانے سے تشبیہ دی گئی ہے۔ جو شخص غیبت کا عادی ہو اس کو اس گھناؤنے کام کی بہت بری سزا بھگتنا ہو گی۔ حدیث میں اس کی تصویر اس طرح پیش کی گئی ہے :۔

قَالَ رسولُ اللّٰہِ صلی اللّٰہ علیہ وسلّم لَمَّا عُرِجَ بِی مَرَرْتُ بِقَومٍ لَہُمْ اَظْفَارٌ مِنْ نُحاسٍ یَخْمِثُونَ وَجُوہَہَمْ وَصُدَورَہُمْ فَقُلْتُ مَنْ ہٰؤلائِ یاجِبْرِیْلُ؟ قالَ ہٰؤلائِ الَّذِینَ یَاکُلُونَ لُحُومَ النَّاسِ وَیَقَعُونَ فِی اَعْراضِہِمْ۔ (ریاض الصالحین برویہ ابی داؤد)

” رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم فرماتے ہیں کہ (معراج کے موقع پر) جب مجھے اوپر لے جایا گیا تو میرا گزر ایسے لوگوں کی طرف ہوا جن کے ناخن تانبے کے تھے اور وہ اپنے چہروں اور اپنے سینوں کو نوچ رہے تھے۔ میں نے پوچھا اے جبرائیل یہ کون لوگ ہیں ؟ انہوں نے کہا یہ وہ لوگ ہیں جو لوگوں کا گوشت کھایا کرتے تھے اور ان کی عزت پر حملہ کرتے تھے۔ ”

آج مسلمانوں کی سوسائٹی میں غیبت عام ہے۔ گھروں میں عورتوں کا موضوع خاص طور سے دوسروں کی غیبت ہی ہوتا ہے اور مرد اپنی مجلسوں میں بلا وجہ دوسروں کی برائیاں بیان کرتے ہیں اور ان باتوں پر غیر ذمہ دارانہ انداز میں تبصرہ کرتے ہیں۔ مگر قرآن کی ان تنبیہات کے پیش نظر ضروری ہے کہ مسلمان اپنے گھروں اور اپنی مجلسوں کو غیبت سے پاک رکھیں اور کسی بھی مسلمان کی تنقیص اور تذلیل سے سخت پرہیز کریں۔

۲۷۔۔۔۔۔۔۔۔ غیبت سے بچنے کی صورت یہ ہے کہ آدمی اللہ سے ڈرے۔ جو لوگ غیبت وغیرہ کی بیماریوں میں مبتلا ہوں انہیں توبہ کی ترغیب دی گئی ہے کہ اگر وہ اللہ کی طرف رجوع کریں اور اپنی اصلاح کر لیں تو اللہ ان کی توبہ قبول فرمائے گا اور ان پر رحم فرمائے گا۔

۲۸۔۔۔۔۔۔۔۔ اس آیت میں تمام انسانوں سے خطاب کر کے قوموں اور قبیلوں کے تعلق سے یہ حقیقت واضح کی گئی ہے کہ ان سب کا سر رشتہ ایک ہی باپ اور ایک ہی ماں سے جا ملتا ہے۔ سب آدم اور حوا کی اولاد ہیں اور جب سب کی اصل ایک ہے تو نہ قومی اور قبائلی فخر کے لیے کوئی گنجائش ہے اور نہ امتیازات کے لیے جو رنگ و نسل اور ملک و وطن کی بنا پر قائم کئے جاتے ہیں اور جن سے باہم منافرت پیدا ہوتی ہے۔

۲

زمین پر نوع انسانی کے پھیلاؤ کا یہ قدرتی اور لازمی نتیجہ تھا کہ وہ مختلف خطوں میں آباد ہوں اور جب لوگ مختلف خطوں میں آباد ہوئے تو ان کے رنگ الگ الگ ہو گئے ، ان کی نسلیں الگ الگ ہو گئیں اور زبانیں مختلف ہو گئیں۔ ان اختلافات نے جو ظاہری اور قدرتی تھے انسانوں کو قوموں اور قبیلوں کی شکل دی۔ یہ اختلاف جو قدرتی طور پر رونما ہوا کی مصلحت یہ تھی کہ لوگ ایک دوسرے کو پہچانیں ، قریبی لوگوں سے زیادہ محبت پیدا ہو اور وہ حقِ قرابت ادا کریں۔ مگر لوگوں نے ان اختلافات کو باہم تفریق اور منافرت کا ذریعہ بنایا اور قوموں اور قبیلوں کے درمیان تعصبات کی دیواریں کھڑی کر دیں۔

موجودہ زمانہ میں لسانی عصبیت ، کالے رنگ والوں کے ساتھ گورے رنگ والوں کا امتیازی سلوک، نسلی برتری کا احساس اور قوم پرستی و وطن پرستی جن کی بنا پر مختلف انسانی گروہوں کے درمیان کشمکش اور جنگیں برپا ہیں اس حقیقت کو نظر انداز کرنے کا نتیجہ ہے جو اس آیت کریمہ میں بیان ہوئی ہے۔

ہندوستان کی مشرک قوم ذات پات کی قائل ہے اور اونچ نیچ کا تصور ان کے مذہبی تصورات میں شامل ہے اس لیے اونچی ذات کے لوگ نچلی ذات کے لوگوں کو شودر (حقیر) قرار دیتے ہیں اور تاریخ بتاتی ہے کہ ان کو اچھوت قرار دے کر ان کے ساتھ بُرا سلوک کیا گیا اور ان کو گھٹیا درجہ میں رکھا گیا۔

اسلام کا معاشرتی نظام ان تمام خرابیوں سے پاک ہے اس میں نہ اونچ نیچ ہے اور نہ ذات پات کا تصور اور نہ چھو ت چھات کے لیے کوئی گنجائش۔ معاشرتی برابری کا مشاہدہ پنچ وقتہ نماز سے کیا جا سکتا ہے جس میں کسی قسم کے تفوق اور برتری کا لحاظ نہیں کیا جاتا اور سب ایک ہی صف میں کھڑے ہو جاتے ہیں

ایک ہی صف میں کھڑے ہو گئے محمود و ایاز

نہ کوئی بندہ رہا اور نہ کوئی بندہ نواز

رہا نکاح میں کفَائَت (خاندانی حیثیت اور پیشہ وغیرہ میں برابری) کا مسئلہ تو اس کی حیثیت محض مصلحت کی ہے تاکہ شوہر اور بیوی کے درمیان نباہ کی صورت پیدا ہو نہ کہ شرعی قاعدہ کی کہ اس کے خلاف کرنا جائز نہ ہو۔ اس کی واضح مثال حضرت زینب کا جو قریشی تھیں۔ حضرت زید سے نکاح ہے جو نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے آزاد کردہ غلام تھے۔ معلوم ہوا کہ کُفْو کا لحاظ واجب نہیں ہے۔ عربی اور عجمی سب ایک دوسرے کی عورتوں سے نکاح کر سکتے ہیں۔ قرآن نے اصلاً  دین اور پاکیزگی اخلاق اور پاک دامنی کو کُفْو (برابری) کا معیار قرار دیا ہے۔

الطَّیِّبٰاتُ لِلطَّیِّبِیْنَ وَالطَّیِّبُوْنَ لِلطَّیِّبٰاتِ۔ (نور :۲۶) ” پاکیزہ عورتیں پاکیزہ مردوں کے لیے ہیں اور پاکیزہ مرد پاکیزہ عورتوں کے لیے۔ ”

۲۹۔۔۔۔۔۔۔۔ یعنی اللہ کے نزدیک شرف اور فضیلت کا معیار تقویٰ ہے۔ جو شخص تقویٰ یعنی خدا خوفی اور پرہیزگاری میں جتنا آگے ہے اتنا ہی اس کا مقام بلند ہے۔ سچی عزت اور سرفرازی تقویٰ سے حاصل ہوتی ہے نہ کہ حسب و نسب اور اس قسم کی دوسری چیزوں سے۔

۳۰۔۔۔۔۔۔۔۔ اللہ جانتا ہے کہ تم میں سے کون کتنا اللہ سے ڈرنے والا ہے اور اس کے حالات سے باخبر ہے اس لیے وہ اس کا صحیح درجہ متعین کرے گا۔ ہو سکتا ہے ایک شخص کی لوگوں کی نظروں میں کوئی قدرو قیمت نہ ہو لیکن وہ تقویٰ کے بلند معیار پر ہو جس کی بنا پر اللہ تعالیٰ اسے بلند درجہ عطا فرمائے۔

۳۱۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ خاتمۂ سورہ کی آیات ہیں جن میں ان لوگوں پر گرفت کی گئی ہے جو اسلام کے عقیدہ کو قبول کر کے مسلمانوں میں شامل تو ہو گئے تھے لیکن ان کے دلوں میں ابھی ایمان اترا نہیں تھا۔ اسی لیے ان کا رویہ اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ ایسا تھا جو ایمان سے میل نہیں کھاتا بلکہ اس کے منافی تھا۔

۳۲۔۔۔۔۔۔۔۔ یہاں اسلام کا لفظ اپنے ابتدائی معنی میں استعمال ہوا ہے یعنی کلمہ پڑھ کر اسلام میں داخل ہونااور اطاعت کا اظہار کرنا۔ ظاہر ہے یہ اسلام اپنی روح ایمان سے خالی ہونے کی بنا پر محض ظاہری اسلام ہوتا ہے نہ کہ حقیقی اور مکمل اسلام اور جہاں تک ایمان کا تعلق ہے اس کی حقیقت دل کی تصدیق ہے۔ اس لیے ایمان کا زبانی دعویٰ بے معنی ہے اگر وہ دل کی تصدیق کے ساتھ نہ ہو۔

۳۳۔۔۔۔۔۔۔۔ واضح ہوا کہ کلمہ گو ہونے اور ایمان کا زبانی اقرار کر لینے سے آدمی مسلمانوں میں تو شامل ہو جاتا ہے لیکن جب تک دل میں ایمان نہ اتر جائے اللہ کے نزدیک وہ مومن نہیں ہے۔

۳۴۔۔۔۔۔۔۔۔ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت شعاری اسی صورت میں ممکن ہے جب کہ دل میں ایمان موجود ہو اور جو لوگ اطاعت شعار بنیں گے ان کے ہر نیک عمل کا اجر اللہ تعالیٰ انہیں دے گا اور اس میں کوئی کمی نہ کرے گا۔

۳۵۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ ترغیب ہے ان لوگوں کو کہ اپنی اصلاح کر کے اللہ کی مغفرت اور اس کی رحمت کے مستحق بن جائیں۔

۳۶۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ سچے مومن کی پہچان ہے کہ وہ اللہ اور اس کے رسول پر اس طرح ایمان لتا ہے کہ اس کے دل میں کوئی شک باقی نہیں رہتا بلکہ اسے پورا یقین اور اطمینان ہوتا ہے اور یہ یقین اسے اس بات کے لیے آمادہ کرتا ہے کہ وہ اللہ کی راہ میں قربانیاں دینے سے دریغ نہ کرے چنانچہ وہ دین کی خاطر مخالف اسلام طاقتوں سے کشمکش مول لیتا ہے اور اللہ کا کلمہ بلند کرنے کے لیے اپنا مال بھی لگا دیتا ہے اور اپنی جان کی بھی پروا نہیں کرتا۔

موجودہ دور کے مسلمانوں کی بڑی تعداد دین کا شعور نہیں رکھتی۔ وہ کلمہ گو ہونے کی وجہ سے مسلمان تو ہیں لیکن ان کی گفتار اور کردار سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ حقیقی ایمان سے آشنا نہیں ہیں اور اس خیالِ خام میں مبتلا ہیں کہ آخرت کی نجات کے لیے ان کا کلمہ گو ہونا کافی ہے۔ اگر وہ ان آیات کا بغور مطالعہ کرتے تو ان کی آنکھیں کھلتیں۔

۳۷۔۔۔۔۔۔۔۔ یعنی اگر تم اپنے دعوائے ایمان میں واقعی سچے ہو تو  تمہیں سمجھنا چاہیے کہ تم نے ایمان لا کر اللہ کے رسول پر کوئی احسان نہیں کیا ہے بلکہ اللہ کا یہ احسان ہے کہ اس نے تمہیں ایمان کی راہ دکھائی۔

۳۸۔۔۔۔۔۔۔۔ اس میں ان لوگوں کے لیے جو محض ظاہری اسلام کو کافی خیال کرتے ہیں تنبیہ ہے کہ اللہ سے تمہارے باطن کا حال پوشیدہ نہیں رہ سکتا۔ اگر تمہارے دل ایمان سے خالی ہیں تو تمہارے ظاہری اسلام کی اللہ کے ہاں کوئی قدر نہیں ہو گی۔

٭٭٭

ای بک: اعجاز عبید

ٹائپنگ: عبد الحمید، افضال احمد، مخدوم محی الدین، کلیم محی الدین، فیصل محمود، اعجاز عبید