FavoriteLoadingپسندیدہ کتابوں میں شامل کریں

 

 

 

 

 

تفہیم القرآن

 

 

۳۔ مائدہ، الانعام

 

 

 

                   مولانا ابو الاعلیٰ مودودی

 

 

 

 

 

 

۵۔ المائدہ

 

نام

 

اس سورت کا نام پندرہویں رکوع کی آیت ھل یستطیع ربک ان ینزل علینا مآئدۃ من السمآ سے ماخوذ ہے۔ قرآن کی بیشتر سورتوں کے ناموں کی طرح اس نام کو بھی سورت کے موضوع سے کوئی خاص تعلق نہیں۔ محض دوسری سورتوں سے ممیز کرنے کے لیے اسے علامت کے طور پر اختیار کیا گیا ہے

 

زمانۂ نزول

 

سورت کے مضامین سے ظاہر ہوتا ہے اور روایات سے اس کی تصدیق ہوتی ہے کہ یہ صلح حدیبیہ کے بعد ۶ ھ کے اواخر یا ۷ھ کے اوائل میں نازل ہوئی ہے۔ ذی القعدہ ۶ ہجری کا واقعہ ہے کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم چودہ سو مسلمانوں کے ساتھ عمرہ ادا کرنے کے لیے مکہ تشریف لے گئے۔ مگر کفار قریش نے عداوت کے جوش میں عرب کی قدیم ترین مذہبی روایات کے خلاف آپ کو عمرہ نہ کرنے دیا اور بڑی رد و کد کے بعد یہ بات قبول کی کہ آئندہ سال آپ زیارت کے لیے آ سکتے ہیں۔ اس موقع پر ضرورت پیش آئی کہ مسلمانوں کو ایک طرف تو زیارت کعبہ کے لیے سفر کے آداب بتائے جائیں تاکہ آئندہ سال عمرے کا سفر پوری اسلامی شان کے ساتھ ہو سکے ، اور دوسری طرف انہیں تاکید کی جائے کہ دشمن کافروں نے ان کو عمرے سے روک کو جو زیادتی کی ہے اس کے جواب میں وہ خود کوئی ناروا زیادتی نہ کریں ، اس لیے کہ بہت سے کافر قبائل کے حج کا راستہ اسلامی مقبوضات سے گزرتا تھا اور مسلمانوں کے لیے یہ ممکن تھا کہ جس طرح انہیں زیارت کعبہ سے روکا گیا ہے اسی طرح وہ بھی ان کو روک دیں۔ یہی تقریب ہے اس تمہیدی تقریر کی جس سے اس سورت کا آغاز ہوا ہے۔ آگے چل کر تیرہویں رکوع میں پھر اسی مسئلے کو چھیڑا گیا ہے جو اس بات کا ثبوت ہے کہ پہلے رکوع سے چودھویں رکوع تک ایک ہی سلسلۂ تقریر چل رہا ہے۔ اس کے علاوہ جو دوسرے مضامین اس سورت میں ہم کو ملتے ہیں وہ بھی سب کے سب اسی دور کے معلوم ہوتے ہیں۔

بیان کے تسلسل سے غالب گمان یہی ہوتا ہے کہ یہ پوری سورت ایک ہی خطبہ پر مشتمل ہے جو بیک وقت نازل ہوا ہو گا۔ ہو سکتا ہے کہ متفرق طور پر اس کی بعض آیتیں بعد میں نازل ہوئی ہوں اور مضمون کی مناسبت سے ان کو اس سورت میں مختلف مقامات پر پیوست کر دیا گیا ہو، لیکن سلسلۂ بیان میں کہیں کوئی خفیف سے خلا بھی محسوس نہیں ہوتا جس سے یہ قیاس کیا جا سکے کہ یہ سورت دو یا تین خطبوں کا مجموعہ ہے۔

 

شان نزول

 

سورہ آل عمران اور سورہ نساء کے زمانۂ نزول سے اس سورت کے نزول تک پہنچتے پہنچتے حالات میں بہت بڑا تغیر واقع ہو چکا تھا۔ یا تو وہ وقت تھا کہ جنگ احد کے صدمے نے مسلمانوں کے لیے مدینے کے قریبی ماحول کو بھی پرخطر بنا دیا تھا یا اب یہ وقت آ گیا کہ عرب میں اسلام ایک ناقابل شکست طاقت نظر آنے لگا اور اسلامی ریاست ایک طرف نجد تک، دوسری طرف حدود شام تک، تیسری طرف ساحلِ بحیرہ احمر تک اور چوتھی طرف مکہ کے قریب تک پھیل گئی۔ احد میں جو زخم مسلمانوں نے کھایا تھا وہ ان کی ہمتیں توڑنے کے بجائے ان کے عزم کے لیے ایک اور تازیانہ ثابت ہوا۔ وہ زخمی شیر کی طرح بپھر کر اٹھے ، اور تین سال کی مدت میں انہوں نے نقشہ بدل کر رکھ دیا۔ ان کی مسلسل جدوجہد اور سرفروشیوں کا ثمرہ یہ تھا کہ مدینے کے چاروں طرف ڈیڑھ ڈیڑھ دو دو سو میل تک تمام مخالف قبائل کا زور ٹوٹ گیا۔ مدینہ پر جو یہودی خطرہ منڈلاتا رہتا تھا اس کا ہمیشہ کے لیے استیصال ہو گیا اور حجاز میں دوسرے مقامات پر بھی جہاں جہاں یہودی آباد تھے ،سب مدینے کی حکومت کے باج گذار بن گئے۔ اسلام کو دبانے کے لیے قریش نے آخری کوشش غزوۂ خندق کے موقع پر کی اور اس میں وہ سخت ناکام ہوئے۔ اس کے بعد اہل عرب کو اس امر میں کچھ شک نہ رہا کہ اسلام کی یہ تحریک اب کسی کے مٹائے نہیں مٹ سکتی۔ اب اسلام محض ایک عقیدہ و مسلک ہی نہ تھا جس کی حکمرانی صرف دلوں اور دماغوں تک محدود ہو، بلکہ وہ ایک ریاست بھی تھا جس کی حکمرانی عملاً اپنے حدود میں رہنے والے تمام لوگوں کی زندگی پر محیط تھی۔ اب مسلمان اس طاقت کے مالک ہو چکے تھے کہ جس مسلک پر وہ ایمان لائے تھے ، بے روک ٹوک اس کے مطابق زندگی بسر کر سکیں اور اس کے سوا کسی دوسرے عقیدہ و مسلک یا قانون کو اپنے دائرۂ حیات میں دخل انداز نہ ہونے دیں۔

پھر ان چند برسوں میں اسلامی اصول اور نقطۂ نظر کے مطابق مسلمانوں کی اپنی ایک مستقل تہذیب بن چکی تھی جو زندگی کی تمام تفصیلات میں دوسروں سے الگ اپنی ایک امتیازی شان رکھتی تھی۔ اخلاق، معاشرت، تمدن، ہر چیز میں اب مسلمان غیر مسلموں سے بالکل ممیز تھے۔ تمام اسلامی مقبوضات میں مساجد اور نماز با جماعت کا نظم قائم ہو گیا تھا، ہر بستی اور ہر قبیلے میں امام مقرر تھے ، اسلامی قوانینِ دیوانی و فوجداری بڑی حد تک تفصیل کے ساتھ بن چکے تھے اور اپنی عدالتوں کے ذریعے نافذ کیے جا رہے تھے۔ لین دین اور خرید و فروخت کے پرانے معاملات بند اور نئے اصلاح شدہ طریقے رائج ہو چکے تھے۔ وراثت کا مستقل ضابطہ بن گیا تھا۔ نکاح اور طلاق کے قوانین، پردۂ شرعی کے احکام اور زنا و قذف کی سزائیں جاری ہونے سے مسلمانوں کی معاشرتی زندگی ایک خاص سانچے میں ڈھل گئی۔ مسلمانوں کی نشست و برخاست، بول چال، کھانے پینے ، وضع قطع اور رہنے سہنے کے طریقے تک اپنی ایک مستقل شکل اختیار کر چکے تھے۔ اسلامی زندگی کی ایسی مکمل صورت گری ہو جانے کے بعد غیر مسلم دنیا اس طرف سے قطعی مایوس ہو چکی تھی کہ یہ لوگ، جن کا اپنا ایک الگ تمدن بن چکا ہے ، پھر کبھی ان میں آ ملیں گے۔

صلح حدیبیہ سے پہلے تک مسلمانوں کے راستے میں ایک بڑی رکاوٹ یہ تھی کہ وہ کفار قریش کے ساتھ ایک مسلسل کشمکش میں الجھے ہوئے تھے اور انہیں اپنی دعوت کا دائرہ وسیع کرنے کی مہلت نہ ملتی تھی۔ اس رکاوٹ کو حدیبیہ کی ظاہری شکست اور حقیقی فتح نے دور کر دیا۔ اس سے ان کو نہ صرف یہ کہ اپنی ریاست کے حدود میں امن میسر آ گیا، بلکہ اتنی مہلت بھی مل گئی کہ گردو و پیش کے علاقوں میں اسلام کی دعوت کو لے کر پھیل جائیں۔ چنانچہ اس کا افتتاح نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ایران، روم، مصر اور عرب کے بادشاہوں اور رؤسا کو خطوط لکھ کر کیا اور اس کے ساتھ ہی قبائل اور اقوام میں مسلمانوں کے داعی خدا کے بندوں کو اس کے دین کی طرف بلانے کے لیے پھیل گئے۔

 

مباحث

 

یہ حالات تھے جب سورۂ مائدہ نازل ہوئی۔ یہ سورت حسب ذیل تین بڑے مضامین پر مشتمل ہے :

 

۱. مسلمانوں کی مذہبی، تمدنی اور سیاسی زندگی کے متعلق مزید احکام و ہدایات۔ اس سلسلے میں سفر حج کے آداب مقرر کئے گئے ، شعائر اللہ کے احترام اور زائرین کعبہ سے عدم تعرض کا حکم دیا گیا، کھانے پینے کی چیزوں میں حرام و حلال کے قطعی حدود قائم کیے گئے اور دورِ جاہلیت کی خود ساختہ بندشوں کو توڑ دیا گیا، اہل کتاب کے ساتھ کھانے پینے اور ان کی عورتوں سے نکاح کرنے کی اجازت دی گئی، وضو اور غسل اور تیمم کے قاعدے مقرر کیے گئے ، بغاوت اور فساد اور سرقہ کی سزائیں متعین کی گئیں ، شراب اور جوئے کو قطعی حرام کر دیا گیا، قسم توڑنے کا کفارہ مقرر کیا گیا،اور قانون شہادت میں مزید چند دفعات کا اضافہ کیا گیا۔

۲. مسلمانوں کو نصیحت۔ اب چونکہ مسلمان ایک گروہ بن چکے تھے ، ان کے ہاتھ میں طاقت تھی، جس کا نشہ قوموں کے لیے اکثر گمراہی کا سبب بنتا رہا ہے ، مظلومی کا دور خاتمے پر تھا اور اس سے زیادہ سخت آزمائش کے دور میں وہ قدم رکھ رہے تھے ، اس لیے ان کو خطاب کرتے ہوئے بار بار نصیحت کی گئی کہ عدل پر قائم رہیں ، اپنے پیش رو اہل کتاب کی روش سے بچیں ، اللہ کی اطاعت و فرمانبرداری اور اس کے اسلام کی پیروی کا جو عہد انہوں نے کیا ہے اس پر ثابت قدم رہیں اور یہود و نصاریٰ کی طرح اس کو توڑ کر اس انجام سے دو چار نہ ہوں جس سے وہ دو چار ہوئے۔ اپنے جملہ معاملات کے فیصلوں میں کتاب الٰہی کے پابند رہیں ، اور منافقت کی روش سے اجتناب کریں۔

۳. یہودیوں اور عیسائیوں کو نصیحت۔ یہودیوں کا زور اب ٹوٹ چکا تھا اور شمالی عرب کی تقریباً تمام یہودی بستیاں مسلمانوں کے زیر نگیں آ گئی تھیں۔ اس موقع پر ان کو ایک بار پھر ان کے غلط رویے پر متنبہ کیا گیا ہے اور انہیں راہ راست پر آنے کی دعوت دی گئی ہے۔ نیز چونکہ صلح حدیبیہ کی وجہ سے عرب اور متصل ممالک کی قوموں میں اسلام کی دعوت پھیلانے کا موقع نکل آیا تھا اس لیے عیسائیوں کو بھی تفصیل کے ساتھ خطاب کر کے ان کے عقائد کی غلطیاں بتائی گئی ہیں اور انہیں نبی عربی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم پر یمان لانے کی دعوت دی گئی ہے۔ ہمسایہ ممالک میں سے جو قومیں بت پرست اور مجوسی تھیں ان کو براہ راست خطاب نہیں کیا گیا کیونکہ ان کی ہدایت کے لیے وہ خطبات کافی تھے جو ان کے ہم مسلک مشرکین کو خطاب کرتے ہوئے مکہ میں نازل ہو چکے تھے۔

 

 

ترجمہ

 

اے لوگو جو ایمان لائے ہو، بندشوں کی پُوری پابندی کرو۔۱ تمہارے لیے مویشی کی قسم کے سب جانور حلال کیے گئے ،۲ سوائے اُن کے جو آگے چل کر تم کو بتائے جائیں گے۔ لیکن احرام کی حالت میں شکار کو اپنے لیے حلال نہ کر لو،۳ بے شک اللہ جو چاہتا ہے حکم دیتا ہے۔۴ اے لوگو جو ایمان لائے ہو، خدا پرستی کی نشانیوں کو بے حُرمت نہ کرو۔۔۔۔۵ نہ حرام مہینوں میں سے کسی کو حلال کر لو، نہ قربانی کے جانوروں پر دست درازی کرو، نہ اُن جانوروں پر ہاتھ ڈالو جن کی گردنوں میں نذرِ خداوندی کی علامت کے طور پر پٹے پڑے ہوئے ہوں، نہ اُن لوگوں کو چھیڑو جو اپنے رب کے فضل اور اس کی خوشنودی کی تلاش میں مکانِ محترم (کعبہ) کی طرف جا رہے ہوں۔۶ ہاں جب احرام کی حالت ختم ہو جائے تو شکار تم کر سکتے ہو۔۔۔۔۷ اور دیکھو، ایک گروہ نے جو تمہارے لیے مسجدِ حرام کا راستہ بند کر دیا ہے تو اس پر تمہارا غصّہ تمہیں اتنا مشتعل نہ کر دے کہ تم بھی ان کے مقابلہ میں ناروا زیادتیاں کرنے لگو۔۸ نہیں ! جو کام نیکی اور خدا ترسی کے ہیں ان میں سب سے تعاون کرو اور جو گناہ اور زیادتی کے کام ہیں ان میں کسی سے تعاون نہ کرو۔ اللہ سے ڈرو، اس کی سزا بہت سخت ہے۔ تم پر حرام کیا گیا مُردار،۹ خُون، سُور کا گوشت، وہ جانور جو خدا کے سوا کسی اور کے نام پر ذبح کیا گیا ہو،۱۰ وہ جو گلا گھُٹ کر، یا چوٹ کھا کر، یا بلندی سے گِر کر، یا ٹکر کھا کر مرا ہو، یا جسے کسی درندے نے پھاڑا ہو۔۔۔۔سوائے اس کے جسے تم نے زندہ پا کر ذبح کر لیا۔۔۔۔اور ۱۱ وہ جو کسی آستانے ۱۲ پر ذبح کیا گیا ہو۔۱۳ نیز یہ بھی تمہارے لیے ناجائز ہے کہ پانْسوں کے ذریعہ سے اپنی قسمت معلوم کرو۔۱۴ یہ سب افعال فسق ہیں۔ آج کافروں کو تمہارے دین کی طرف سے پُوری مایوسی ہو چکی ہے لہٰذا تم اُن سے نہ ڈرو بلکہ مجھ سے ڈرو۔۱۵ آج میں نے تمہارے دین کو تمہارے لیے مکمل کر دیا ہے اور اپنی نعمت تم پر تمام کر دی ہے اور تمہارے لیے اسلام کو تمہارے دین کی حیثیت سے قبول کر لیا ہے (لہٰذا حرام و حلال کی جو قیُود تم پر عائد کر دی گئی ہیں اُن کی پابندی کرو)۱۶۔ البَتّہ جو شخص بھُوک سے مجبُور ہو کر اُن میں سے کوئی چیز کھا لے ، بغیر اس کے کہ گناہ کی طرف اس کا میلان ہو تو بیشک اللہ معاف کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے۔۱۷ لوگ پُوچھتے ہیں کہ ان کے لیے کیا حلال کیا گیا ہے ، کہو تمہارے لیے ساری پاک چیزیں حلال کر دی گئی ہیں۔۱۸ اور جن شکاری جانوروں کو تم نے سَدھا یا ہو۔۔۔۔جن کو خدا کے دیے ہوئے علم کی بنا پر تم شکار کی تعلیم دیا کرتے ہو۔۔۔۔وہ جس جانور کو تمہارے لیے پکڑ رکھیں اس کو بھی تم کھا سکتے ہو،۱۹ البتہ اس پر اللہ کا نام لے لو ۲۰ اور اللہ کا قانون توڑنے سے ڈرو، اللہ کو حساب لیتے کچھ دیر نہیں لگتی۔ آج تمہارے لیے ساری پاک چیزیں حلال کر دی گئی ہیں۔ اہلِ کتاب کا کھانا تمہارے لیے حلال ہے اور تمہارا کھانا اُن کے لیے۔۲۱ اور محفوظ عورتیں بھی تمہارے لیے حلال ہیں خواہ وہ اہلِ ایمان کے گروہ سے ہوں یا اُن قوموں میں سے جن کو تم سے پہلے کتاب دی گئی تھی،۲۲ بشرطیکہ تم اُن کے مہر ادا کر کے نکاح میں اُن کے محافظ بنو، نہ یہ کہ آزاد شہوت رانی کرنے لگو یا چوری چھُپے آشنائیاں کرو۔ اور جس کسی نے ایمان کی روش پر چلنے سے انکار کیا تو اس کا سارا کا سارا کارنامۂ زندگی ضائع ہو جائے گا اور وہ آخرت میں دیوالیہ ہو گا۔۲۳ ؏١

 

تفسیر

 

۱-یعنی اُن حُدُود اور قیُود کی پابندی کرو جو اس سُورۃ میں تم پر عائد کی جا رہی ہیں، اور جو بالعمُوم خدا کی شریعت میں تم پر عائد کی گئی ہیں۔ اس مختصر سے تمہیدی جملہ کے بعد ہی اُن بندشوں کا بیان شروع ہو جاتا ہے جن کی پابندی کا حکم دیا گیا ہے۔

۲-’’اَنعام‘‘ (مویشی) کا لفظ عربی زبان میں اُونٹ ، گائے ، بھیڑ اور بکری پر بولا جاتا ہے۔ اور ’’بہیمہ‘‘ کا اطلاق ہر چَرنے والے چوپائے پر ہوتا ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا ہوتا کہ انعام تمہارے لیے حلال کیے گئے ، تو اس سے صرف وہی چار جانور حلال ہوتے جنہیں عربی میں ’’انعام ‘‘ کہتے ہیں۔ لیکن حکم اِن الفاظ میں دیا گیا ہے کہ ’’مویشی کی قسم کے چرند و چوپائے تم پر حلال کیے گئے ‘‘۔ اس سے حکم وسیع ہو جاتا ہے اور وہ سب چرندے جانور اس کے دائرے میں آ جاتے ہیں جو مویشی کی نوعیّت کے ہوں۔ یعنی جو کچلیاں نہ رکھتے ہوں، حیوانی غذا کے بجائے نباتی غذا کھاتے ہوں، اور دُوسری حیوانی خصُوصیات میں اَنعامِ عرب سے مماثلت رکھتے ہوں۔ نیز اس سے اشارۃً یہ بات بھی مترشح ہو تی ہے کہ وہ چوپائے جو مویشیوں کے بر عکس کچلیاں رکھتے ہوں اور دُوسرے جانوروں کو مار کر کھاتے ہوں، حلال نہیں ہیں۔ اسی اشارے کو نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے واضح کر کے حدیث میں صاف حکم دے دیا کہ درندے حرام ہیں۔ اسی طرح حضور نے اُن پرندوں کو بھی حرام قرار دیا ہے جن کے پنجے ہوتے ہیں اور جو دوسرے جانوروں کا شکار کر کے کھاتے ہیں یا مُردار خور ہوتے ہیں۔ ابن عباس کی روایت ہے کہ، نھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم عن کل ذی ناب من ا لسباع و کل ذی مخلب من الطیر۔ دُوسرے متعدّد صحابہ سے بھی اس کی تائید میں روایات منقول ہیں۔

۳-’’احرام‘‘ اُس فقیرانہ لباس کو کہتے ہیں جو زیارت کعبہ کے لیے پہنا جاتا ہے۔ کعبہ کے گرد کئی کئی منزل کے فاصلہ پر ایک حد مقرر کر دی گئی ہے جس سے آگے بڑھنے کی کسی زائر کو اجازت نہیں جب تک کہ وہ اپنا معمُولی لباس اُتار کر احرام کا لباس نہ پہن لے۔ اس لباس میں صرف ایک تَہمت ہوتا ہے اور ایک چادر جو اُوپر سے اوڑھی جاتی ہے۔ اسے احرام اس لیے کہتے ہیں کہ اسے باندھنے کے بعد آدمی پر بہت سی وہ چیزیں حرام ہو جاتی ہیں جو معمُولی حالات میں حلال ہیں، مثلاً حجامت، خوشبو کا استعمال، ہر قسم کی زینت و آرائش اور قضا ء شہوت وغیرہ۔ انہی پابندیوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ کسی جاندار کو ہلاک نہ کیا جائے ، نہ شکار کیا جائے اور نہ کسی کو شکار کا پتہ دیا جائے۔

۴-یعنی اللہ حاکمِ مطلق ہے ، اسے پُورا اختیار ہے کہ جو چاہے حکم دے۔ بندوں کو اُس کے احکام میں چون و چرا کرنے کا کوئی حق نہیں۔ اگر چہ اس کے تمام احکام حکمت و مصلحت پر مبنی ہیں ، لیکن بندۂ مسلم اس کے حکم کی اطاعت اس حیثیت سے نہیں کرتا کہ وہ اسے مناسب پاتا ہے یا مبنی بر مصلحت سمجھتا ہے ، بلکہ صرف اس بنا پر کرتا ہے کہ یہ مالک کا حکم ہے۔ جو چیز اس نے حرام کر دی ہے وہ صرف اس لیے حرام ہے کہ اس نے حرام کی ہے ، اور اسی طرح جو اس نے حلال کر دی ہے وہ بھی کسی دُوسری بنیاد پر نہیں بلکہ صر ف اس بُنیاد پر حلال ہے کہ جو خدا ان ساری چیزوں کا مالک ہے ، وہ اپنے غلاموں کو اس چیز کے استعمال کی اجازت دیتا ہے۔ لہٰذا قرآن پُورے زور کے ساتھ یہ اُصُول قائم کرتا ہے کہ اشیاء کی حُرمت و حِلّت کے لیے مالک کی اجازت و عدم اجازت کے سوا کسی اور بُنیاد کی قطعاً ضرورت نہیں ، اور اسی طرح بندے کے لیے کسی کام کے جائز ہونے یا نہ ہونے کا مدار بھی اس کے سوا اَور کچھ نہیں کہ خدا جس کو جائز رکھے وہ جائز ہے اور جسے ناجائز قرار دے وہ ناجائز۔

۵-ہر وہ چیز جو کسی مسلک یا عقیدے یا طرزِ فکر و عمل یا کسی نظام کی نمائندگی کرتی ہو وہ اس کا ’’شعار‘‘ کہلائے گی، کیونکہ وہ اس کے لیے علامت یا نشانی کا کام دیتی ہے۔ سرکاری جھنڈے ، فوج اور پولیس وغیرہ کے یونیفارم ، سِکّے ، نوٹ اور اسٹامپ حکومتوں کے شعائر ہیں اور وہ اپنے محکوموں سے ، بلکہ جن جن پر ان کا زور چلے ، سب سے ان کے احترام کا مطالبہ کرتی ہیں۔ گِرجا اور قربان گاہ اور صلیب مسیحیّت کے شعائر ہیں۔ چوٹی اور زنّار اور مندر برہمنیّت کے شعائر ہیں۔ کیس اور کڑا اور کرپان وغیرہ سکھ مذہب کے شعائر ہیں۔ ہتھوڑا اور درانتی اشتراکیّت کا شعار ہیں۔ سواستیکا آریہ نسل پرستی کا شعار ہے۔ یہ سب مسلک اپنے اپنے پیرووں سے اپنے اِن شعائر کے احترام کا مطالبہ کرتے ہیں۔ اگر کوئی شخص کسی نظام کے شعائر میں سے کسی شعار کی توہین کرتا ہے تو یہ اِس بات کی علامت ہے کہ وہ دراصل اُس نظام کے خلاف دُشمنی رکھتا ہے ، اور اگر وہ توہین کرنے والا خود اسی نظام سے تعلق رکھتا ہو تو اس کا یہ فعل اپنے نظام سے ارتداد اور بغاوت کا ہم معنی ہے۔

’’شعائر اللہ‘‘ سے مراد وہ تمام علامات یا نشانیاں ہیں جو شرک و کفر اور دہریّت کے بالمقابل خالص خدا پرستی کے مسلک کی نمائندگی کرتی ہوں۔ ایسی علامات جہاں جس مسلک اور جس نظام میں بھی پائی جائیں مسلمان ان کے احترام پر مامور ہیں ، بشرطیکہ ان کا نفسیاتی پس منظر خالص خدا پرستانہ ہو، کسی مشرکانہ یا کافرانہ تخیّل کی آلودگی سے انہیں ناپاک نہ کر دیا گیا ہو۔ کوئی شخص خواہ وہ غیر مسلم ہی کیوں نہ ہو، اگر اپنے عقیدہ و عمل میں خدائے واحد کی بندگی و عبادت کا کوئی جُزء رکھتا ہے ، تو اس جُزء کی حد تک مسلمان اس سے موافقت کریں گے اور ان شعائر کا بھی پُورا احترام کریں گے جو اس کے مذہب میں خالص خدا پرستی کی علامت ہوں۔ اس چیز میں ہمارے اور اس کے درمیان نزاع نہیں بلکہ موافقت ہے۔ نزاع اگر ہے تو اس امر میں نہیں کہ وہ خدا کی بندگی کیوں کرتا ہے ، بلکہ اس امر میں ہے کہ وہ خدا کی بندگی کے ساتھ دُوسری بندگیوں کی آمیزش کیوں کرتا ہے۔

یاد رکھنا چاہیے کہ شعائر اللہ کے احترام کا یہ حکم اُس زمانہ میں دیا گیا تھا جبکہ مسلمانوں اور مشرکینِ عرب کے درمیان جنگ برپا تھی، مکّہ پر مشرکین قابض تھے ، عرب کے ہر حصّے سے مشرک قبائل کے لوگ حج و زیارت کے لیے کعبہ کی طرف جاتے تھے اور بہت سے قبیلوں کے راستے مسلمانوں کی زد میں تھے۔ اس وقت حکم دیا گیا کہ یہ لوگ مشرک ہی سہی، تمہارے اور ان کے درمیان جنگ ہی سہی، مگر جب یہ خدا کے گھر کی طرف جاتے ہیں تو انہیں نہ چھیڑو، حج کے مہینوں میں ان پر حملہ نہ کرو، خدا کے دربار میں نذر کرنے کے لیے جانور یہ لیے جا رہے ہوں اُن پر ہاتھ نہ ڈالو ، کیونکہ ان کے بگڑے ہوئے مذہب میں خدا پرستی کا جتنا حصّہ باقی ہے وہ بجائے خود احترام کا مستحق ہے نہ کہ بے احترامی کا۔

۶-’’شعائر اللہ ‘‘ کے احترام کا عام حکم دینے کے بعد چند شعائر کا نام لے کر ان کے احترام کا خاص طور پر حکم دیا گیا کیونکہ اُس وقت جنگی حالات کی وجہ سے یہ اندیشہ پیدا ہو گیا تھا کہ جنگ کے جوش میں کہیں مسلمانوں کے ہاتھوں ان کی توہین نہ ہو جائے۔ ان چند شعائر کو نام بنام بیان کرنے سے یہ مقصُود نہیں ہے کہ صرف یہی احترام کے مستحق ہیں۔

۷-احرام بھی مِن جُملہ شعائر اللہ ہے ، اور اس کی پابندیوں میں سے کسی پابندی کو توڑنا اس کی بے حرمتی کرنا ہے۔ اس لیے شعائر اللہ ہی کے سلسلہ میں اس کا ذکر بھی کر دیا گیا کہ جب تک تم احرام بند ہو ، شکار کرنا خدا پرستی کے شعائر میں سے ایک شعار کی توہین کرنا ہے۔ البتہ جب شرعی قاعدہ کے مطابق احرام کی حد ختم ہو جائے تو شکار کرنے کی اجازت ہے۔

۸-چونکہ کفار نے اُس وقت مسلمانوں کو کعبہ کی زیارت سے روک دیا تھا اور عرب کے قدیم دستور کے خلاف حج تک سے مسلمان محرُوم کر دیے گئے تھے ، اس لیے مسلمانوں میں یہ خیال پیدا ہوا کہ جن کافر قبیلوں کے راستے اسلامی مقبوضات کے قریب سے گزرتے ہیں ، ان کو ہم بھی حج سے روک دیں اور زمانۂ حج میں ان کے قافلوں پر چھا پے مارنے شروع کر دیں۔ مگر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فر ما کر انہیں اِس ارادہ سے باز رکھا۔

۹-یعنی وہ جانور جو طبعی موت مر گیا ہو۔

۱۰-یعنی جس کو ذبح کرتے وقت خدا کے سوا کسی اور کا نام لیا گیا ہو، یا جس کو ذبح کرنے سے پہلے یہ نیت کی گئی ہو کہ یہ فلاں بزرگ یا فلاں دیوی یا دیوتا کی نذر ہے۔ (ملاحظہ ہو سُورۂ بقرہ، حاشیہ نمبر ۱۷۱)۔

۱۱-یعنی جو جانور مذکورۂ بالا حوادث میں سے کسی حادثے کا شکار ہو جانے کے باوجود مرا نہ ہو بلکہ کچھ آثارِ زندگی اس میں پائے جاتے ہوں ، اس کو اگر ذبح کر لیا جائے تو اُسے کھا یا جا سکتا ہے۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ حلال جانور کا گوشت صرف ذبح کرنے سے حلال ہوتا ہے ، کوئی دُوسرا طریقہ اس کو ہلاک کر نے کا صحیح نہیں ہے۔ یہ ’’ذبح‘‘ اور ’’ذکاۃ‘‘ اسلام کے اصطلاحی لفظ ہیں۔ ان سے مراد حلق کا اتنا حصہ کاٹ دینا ہے جس سے جسم کا خون اچھی طرح خارج ہو جائے۔ جھٹکا کرنے یا گلا گھونٹنے یا کسی اور تدبیر سے جانور کو ہلاک کرنے کا نقصان یہ ہوتا ہے کہ خُون کا بیشتر حصہ جسم کے اندر ہی رُک کر رہ جاتا ہے اور وہ جگہ جگہ جم کر گوشت کے ساتھ چمٹ جاتا ہے۔۔ بر عکس اس کے ذبح کرنے کی صُورت میں دماغ کے ساتھ جسم کا تعلق دیر تک باقی رہتا ہے جس کی وجہ سے رگ رگ کا خُون کھِنچ کر باہر آ جاتا ہے اور اس طرح پُورے جسم کا گوشت خُون سے صاف ہو جاتا ہے۔ خون کے متعلق ابھی اُوپر ہی یہ بات گزر چکی ہے کہ وہ حرام ہے ، لہٰذا گوشت کے پاک اور حلال ہونے کے لیے ضروری ہے کہ خُون اس سے جُدا ہو جائے۔

۱۲-اصل میں لفظ’’ نُصُب‘‘ استعمال ہوا ہے۔ اس سے مراد وہ سب مقامات ہیں جن کو غیراللہ کی نذر و نیاز چڑھانے کے لیے لوگوں نے مخصُوص کر رکھا ہو، خواہ وہاں کوئی پتھر یا لکڑی کی مُورت ہو یا نہ ہو۔ ہماری زبان میں اس کا ہم معنی لفظ آستانہ یا استھان ہے جو کسی بزرگ یا دیوتا سے ، یا کسی خاص مشرکانہ اعتقاد سے وابستہ ہو۔

۱۳-اس مقام پر یہ بات خوب سمجھ لینی چاہیے کہ کھانے پینے کی چیزوں میں حرام و حلال کی جو قیُود شریعت کی طرف سے عائد کی جاتی ہیں اُن کی اصل بُنیاد اُن اشیاء کے طبّی فوائد یا نقصانات نہیں ہوتے ، بلکہ اُن کے اخلاقی فوائد و نقصانات ہوتے ہیں۔ جہاں تک طبیعی اُمُور کا تعلق ہے اللہ تعالیٰ نے اُن کو انسان کی اپنی سعی و جستجو اور کاوش و تحقیق پر چھوڑ دیا ہے۔ یہ دریافت کرنا انسان کا اپنا کام ہے کہ مادّی اشیاء میں سے کیا چیزیں اس کے جسم کو غذائے صالح بہم پہنچانے والی ہیں اور کیا چیزیں تغذیہ کے لیے غیر مفید ہیں یا نقصان دہ ہیں۔ شریعت اِن اُمُور میں اس کی رہنمائی کی ذمّہ داری اپنے سر نہیں لیتی۔ اگر یہ کام اس نے اپنے ذمّہ لیا ہوتا تو سب سے پہلے سنکھیا کو حرام کیا ہوتا۔ لیکن آپ دیکھتے ہیں ہیں کہ قرآن و حدیث میں اُس کا، یا اُن دُوسرے مفردات و مرکبّات کا ، جو انسان کے لیے سخت مُہلک ہیں، سرے سے کوئی ذکر ہی نہیں ہے۔ شریعت غذا کے معاملہ میں جس چیز پر روشنی ڈالتی ہے وہ دراصل اُس کا یہ پہلو ہے کہ کس غذا کا انسان کے اخلاق پر کیا اثر ہوتا ہے ، اور کونسی غذائیں طہارتِ نفس کے لحاظ سے کیسی ہیں ، اور غذا حاصل کرنے کے طریقوں میں سے کون سے طریقے اعتقادی و نظری حیثیت سے صحیح یا غلط ہیں۔ چونکہ اس کی تحقیق کرنا انسان کے بس میں نہیں ہے ، اور اسے دریافت کرنے کے ذرائع انسان کو میسّر ہی نہیں ہیں، اور اسی بنا پر انسان نے اکثر اِن اُمُور میں غلطیاں کی ہیں، اس لیے شریعت صرف اِنہی اُمُور میں، اس کی رہنمائی کرتی ہے۔ جن چیزوں کو اس نے حرام کیا ہے انہیں اس وجہ سے حرام کیا ہے کہ یا تو اخلاق پر ان کا بُرا اثر پڑتا ہے ، یا وہ طہارت کے خلاف ہیں، یا ان کا تعلق کسی فاسد عقیدہ سے ہے۔ بر عکس اس کے جن چیزوں کو اس نے حلال کیا ہے ان کی حِلّت کی وجہ یہ ہے کہ وہ اِن بُرائیوں میں سے کوئی بُرائی اپنے اندر نہیں رکھتیں۔

سوال کیا جا سکتا ہے کہ خدا نے ہم کو ان اشیاء کی حُرمت کے وجوہ کیوں نہ سمجھائے تا کہ ہمیں بصیرت حاصل ہوتی۔ اس کا جواب یہ ہے کہ اس کے وجوہ کو سمجھنا ہمارے لیے ممکن نہیں ہے۔ مثلاً یہ بات کہ خُون ، یا سُور کے گوشت یا مُردار کے کھانے سے ہماری اخلاقی صفات میں کیا خرابیاں رُو نما ہوتی ہیں، کس قدر اور کس طرح ہوتی ہیں، اس کی تحقیق ہم کسی طرح نہیں کر سکتے ، کیونکہ اخلاق کو نا پنے اور تولنے کے ذرائع ہمیں حاصل نہیں ہیں۔ اگر بالفرض اُن کے بُرے اثرات کو بیان کر بھی دیا جاتا تو شبہ کرنے ولا تقریباً اُسی مقام پر ہوتا جس مقام پر وہ اب ہے ، کیونکہ وہ اس بیان کی صحت و عدمِ صحت کو آخر کس چیز سے جانچتا۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے حرام و حلال کے حُدُود کی پابندی کا انحصار ایمان پر رکھ دیا ہے۔ جو شخص اس بات پر مطمئن ہو جائے کہ کتاب ، اللہ کی کتاب ہے اور رسول ، اللہ کا رسول ہے ، اور للہ علیم و حکیم ہے ، وہ اس کے مقرر کیے ہوئے حُدُود کی پابندی کرے گا، خواہ ان کی مصلحت اس کی سمجھ میں آئے یا نہ آئے۔ اور جو شخص اس بُنیادی عقیدے پر ہی مطمئن نہ ہو، اس کے لیے اِس کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے کہ جن چیزوں کی خرابیاں انسانی علم کے احاطہ میں آ گئی ہیں صرف انہی سے پرہیز کرے ا ور جن کی خرابیوں کا علمی احاطہ نہیں ہو سکا ہے ان کے نقصانات کا تختہ ٔ مشق بنتا رہے۔

۱۴-اِس آیت میں جس چیز کو حرام کیا گیا ہے اس کی تین بڑی قسمیں دُنیا میں پائی جاتی ہیں اور آیت کا حُکم ان تینوں پر حاوی ہے :

(۱) مشرکانہ فال گیری، جس میں کسی دیوی یا دیوتا سے قسمت کا فیصلہ پُوچھا جاتا ہے ، یا غیب کی خبر دریافت کی جاتی ہے ، یا باہمی نزاعات کا تصفیہ کرایا جاتا ہے۔ مشرکینِ مکّہ نے اِس غرض کے لیے کعبہ کے اندر ہُبَل دیوتا کے بُت کو مخصُوص کر رکھا تھا۔ اس کے استھان میں سات تیر رکھے ہوئے تھے جن پر مختلف الفاظ اور فقرے کندہ تھے۔ کسی کام کے کرنے یا نہ کرنے کا سوال ہو، یا کھوئی ہوئی چیز کا پتہ پُوچھنا ہو، یا خُون کے مقدمہ کا فیصلہ مطلوب ہو، غرض کوئی کام بھی ہو، اس کے لیے ہُبَل کے پانسہ دار ( صاحبِ القِداح) کے پاس پہنچ جاتے ، اس کا نذرانہ پیش کرتے اور ہُبَل سے دُعا مانگتے کہ ہمارے اس معاملے کا فیصلہ کر دے۔ پھر پانسہ دار اِن تیروں کے ذریعہ سے فال نکالتا ، اور جو تیر بھی فال میں نِکل آتا اس پر لِکھے ہوئے لفظ کو ہُبَل کا فیصلہ سمجھا جاتا تھا۔

(۲) توہّم پرستانہ فال گیری، جس میں زندگی کے معاملات کا فیصلہ عقل و فکر سے کرنے کے بجائے کسی وہمی و خیالی چیز یا کسی اتفاقی شے کے ذریعہ سے کیا جاتا ہے۔ یا قسمت کا حال ایسے ذرائع سے معلوم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے جن کا وسیلۂ علمِ غیب ہونا کسی علمی طریق سے ثابت نہیں ہے۔ رمل ، نجوم، جفر، مختلف قسم کے شگون اور نچھتر، اور فال گیری کے بے شمار طریقے اس صنف میں داخل ہیں۔

(۳)جُوئے کی قسم کے وہ سارے کھیل اور کام جن میں اشیاء کی تقسیم کا مدار حقوق اور خدمات اور عقلی فیصلوں پر رکھنے کے بجائے محض کسی اتفاقی امر پر رکھ دیا جائے۔ مثلاً یہ کہ لاٹری میں اتفاقاً فلاں شخص کا نام نِکل آیا ہے لہٰذا ہزار ہا آدمیوں کی جیب سے نِکلا ہوا روپیہ اُس ایک شخص کی جیب میں چلا جائے۔ یا یہ کہ علمی حیثیت سے تو ایک معمّہ کے بہت سے حل صحیح ہیں، مگر انعام وہ شخص پائے گا جس کا حل کسی معقول کوشش کی بنا پر نہیں بلکہ محض اتفاق سے اُس حل کے مطابق نِکل آیا ہو جو صاحبِ معمّہ کے صندوق میں بند ہے۔

اِن تین اقسام کو حرام کر دینے کے بعد قُرعہ اندازی کی صرف وہ سادہ صُورت اسلام میں جائز رکھی گئی ہے جس میں دو برابر کے جائز کاموں یا دو برابر کے حقوق کے درمیان فیصلہ کرنا ہو۔ مثلاً ایک چیز پر دو آدمیوں کا حق ہر حیثیت سے بالکل برابر ہے ، اور فیصلہ کرنے والے کے لیے ان میں سے کسی کو ترجیح دینے کی کوئی معقول وجہ موجود نہیں ہے ، اور خود ان دونوں میں سے بھی کوئی اپنا حق خود چھوڑنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ اس صُورت میں ان کی رضا مندی سے قرعہ اندازی پر فیصلہ کا مدار رکھا جا سکتا ہے۔ یا مثلاً دو کام یکساں درست ہیں اور عقلی حیثیت سے آدمی ان دونوں کے درمیان مذبذب ہو گیا ہے کہ ان میں سے کس کو اختیار کرے۔ اس صُورت میں ضرورت ہو تو قریہ اندازی کی جا سکتی ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ و سلم بالعمُوم ایسے مواقع پر یہ طریقہ اختیار فرماتے تھے جبکہ دو برابر حق داروں کے درمیان ایک کو ترجیح دینے کی ضرورت پیش آ جاتی تھی اور آپ ؐ کو اندیشہ ہوتا تھا کہ اگر آپ ؐ خود ایک کو ترجیح دیں گے تو دُوسرے کو ملال ہو گا۔

۱۵-’’آج‘‘ سے مراد کوئی خاص دن اور تاریخ نہیں ہے بلکہ وہ دَور یا زمانہ مراد ہے جس میں یہ آیات نازل ہوئی تھیں۔ ہماری زبان میں بھی آج کا لفظ زمانۂ حال کے لیے عام طور پر بولا جاتا ہے۔ ’’کافروں کو تمہارے دین کی طرف سے مایوسی ہو چکی ہے ‘‘، یعنی اب تمہارا دین ایک مستقل نظام بن چکا ہے اور خود اپنی حاکمانہ طاقت کے ساتھ نافذ و قائم ہے۔ کفار جو اب تک اس کے قیام میں مانع و مزاحم رہے ہیں ، اب اس طرف سے مایوس ہو چکے ہیں کہ وہ اِسے مٹا سکیں گے اور تمہیں پھر پچھلی جاہلیّت کی طرف واپس لے جا سکیں گے۔ ’’لہٰذا تم ان سے نہ ڈرو بلکہ مجھ سے ڈرو‘‘، یعنی اس دین کے احکام اور اس کے ہدایات پر عمل کر نے میں اب کسی کافر طاقت کے غلبہ و قہر اور در اندازی و مزاحمت کا خطرہ تمہارے لیے باقی نہیں رہا ہے۔ انسانوں کے خوف کی اب کوئی وجہ نہیں رہی۔ اب تمہیں خدا سے ڈرنا چاہیے کہ اس کے احکام کی تعمیل میں اگر کوئی کوتاہی تم نے کی تو تمہارے پاس کوئی ایسا عذر نہ ہو گا جس کی بنا پر تمہارے ساتھ کچھ بھی نرمی کی جائے۔ اب شریعتِ الہیٰ کی خلاف ورزی کے معنی یہ نہیں ہوں گے کہ تم دُوسرے کے اثر سے مجبُور ہو، بلکہ اس کے صاف معنی یہ ہوں گے کہ تم خدا کی اطاعت کرنا نہیں چاہتے۔

۱۶-دین کو مکمل کر دینے سے مُراد ُس کو ایک مستقل نظامِ فکر و عمل اور ایک ایسا مکمل نظامِ تہذیب و تمدّن بنا دینا ہے جس میں زندگی کے جُملہ مسائل کا جواب اُصُولاً یا تفصیلاً موجود ہو اور ہدایت و رہنمائی حاصل کرنے کے لیے کسی حال میں اس سے باہر جانے کی ضرورت پیش نہ آئے۔ نعمت تمام کرنے سے مُراد نعمتِ ہدایت کی تکمیل کر دینا ہے۔ اور اسلام کو دین کی حیثیت سے قبول کر لینے کا مطلب یہ ہے کہ تم نے میری اطاعت و بندگی اختیار کرنے کا جو اقرار کیا تھا ، اس کو چونکہ تم اپنی سعی و عمل سے سچّا اور مخلصانہ اقرار ثابت کر چکے ہو، اس لیے میں نے اسے درجۂ قبولیّت عطا فرمایا ہے اور تمہیں عملاً اس حالت کو پہنچا دیا ہے کہ اب فی الواقع میرے سوا کسی کی اطاعت و بندگی کا جُوا تمہاری گردنوں پر باقی نہ رہا۔ اب جس طرح اعتقاد میں تم میرے مسلم ہو اسی طرح عملی زندگی میں بھی میرے سوا کسی اور کے مسلم بن کر رہنے کے لیے کوئی مجبُوری تمہیں لاحق نہیں رہی ہے۔ ان احسانات کا ذکر فرمانے کے بعد اللہ تعالیٰ سکوت اختیار فرماتا ہے مگر اندازِ کلام سے خود بخود یہ بات نِکل آتی ہے کہ جب یہ احسانات میں نے تم پر کیے ہیں تو ان کا تقاضا یہ ہے کہ اب میرے قانون کی حُدُود پر قائم رہنے میں تمہاری طرف سے بھی کوئی کوتاہی نہ ہو۔

مستند روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ آیت حجۃ الوداع کے موقعہ پر سن ۱۰ ہجری میں نازل ہوئی تھی۔ لیکن جس سلسلۂ کلام میں یہ واقع ہوئی ہے وہ صُلحِ حُدَیبیَہ سے متصل زمانہ (سن ۶ ہجری) کا ہے اور سیاقِ عبارت میں دونوں فقرے کچھ ایسے پیوستہ نظر آتے ہیں کہ یہ گمان نہیں کیا جا سکتا کہ ابتداء میں یہ سلسلۂ کلام اِن فقروں کے بغیر نازل ہوا تھا اور بعد میں جب یہ نازل ہوئے تو انہیں یہاں لا کر نصب کر دیا گیا۔ میرا قیاس یہ ہے ، وَ الْعِلْم ُ عِنْدَ اللہ، کہ ابتداءً یہ آیت اِسی سیاقِ  کلام میں نازل ہوئی تھی اس لیے اس کی حقیقی اہمیّت لوگ نہ سمجھ سکے۔ بعد میں جب تمام عرب مسخر ہو گیا اور اسلام کی طاقت اپنے شباب پر پہنچ گئی تو اللہ تعالیٰ نے دوبارہ یہ فقرے اپنے نبی پر نازل فرمائے اور ان کے اعلان کا حکم دیا۔

۱۷-ملاحظہ ہو سُورۂ بقرہ ، حاشیہ نمبر ۱۷۲۔

۱۸-اس جواب میں ایک لطیف نکتہ پوشیدہ ہے۔ مذہبی طرزِ خیال کے لوگ اکثر اس ذہنیّت کے شکار ہو تے رہے ہیں کہ دُنیا کی ہر چیز کو حرام سمجھتے ہیں جب تک کہ صراحت کے ساتھ کسی چیز کو حلال نہ قرار دیا جائے۔ اس ذہنیّت کی وجہ سے لوگوں پر وہمی پن اور قانونیت کا تسلّط ہو جاتا ہے۔ وہ زندگی کے ہر شعبہ میں حلال اشیاء اور جائز کاموں کی فہرست مانگتے ہیں اور ہر کام اور ہر چیز کو اس شبہ کی نظر سے دیکھنے لگتے ہیں کہ کہیں وہ ممنُوع تو نہیں۔ یہاں قرآن اسی ذہنیّت کی اصلاح کرتا ہے۔ پُوچھنے والوں کا مقصد یہ تھا کہ انہیں تمام حلال چیزوں کی تفصیل بتائی جائے تاکہ ان کے سوا ہر چیز کو وہ حرام سمجھیں۔ جواب میں قرآن نے حرام چیزوں کی تفصیل بتائی اور اس کے بعد یہ عام ہدایت دے کر چھوڑ دیا کہ ساری پاک چیزیں حلال ہیں۔ اس طرح قدیم مذہبی نظریہ بالکل اُلٹ گیا۔ قدیم نظریہ یہ تھا کہ سب کچھ حرام ہے بجُز اس کے جسے حلال ٹھیرایا جائے۔ قرآن نے اس کے برعکس یہ اُصُول مقرر کیا کہ سب کچھ حلال ہے بجز اُس کے جس کی حُرمت کی تصریح کر دی جائے۔ یہ ایک بہت بڑی اصلاح تھی جس نے انسانی زندگی کو بندشوں سے آزاد کر کے دُنیا کی وُسعتوں کا دروازہ اس کے لیے کھول دیا۔ پہلے حِلّت کے ایک چھوٹے سے دائرے کے سوا ساری دُنیا اس کے لیے حرام تھی۔ اب حُرمت کے ایک مختصر سے دائرے کو مستثنیٰ کر کے ساری دُنیا اس کے لیے حلال ہو گئی۔

حلال کے لیے ’’پاک‘‘ کی قید اس لیے لگائی کہ ناپاک چیزوں کو اس اباحت کی دلیل سے حلال ٹھیرانے کی کوشش نہ کی جائے۔ اب رہا یہ سوال کہ اشیاء کے ’’پاک‘‘ ہونے کا تعین کس طرح ہو گا، تو اس کا جواب یہ ہے کہ جُو چیزیں اُصُولِ شرع میں سے کسی اصل کے ماتحت ناپاک قرار پائیں، یا جن چیزوں سے ذوقِ سلیم کراہت کرے ، یا جنہیں مہذّب انسان نے بالعمُوم اپنے فطری احساسِ نظافت کے خلاف پایا ہو، ان کے ماسوا سب کچھ پاک ہے۔

۱۹-شکاری جانوروں سے مُراد کُتّے ، چیتے ، باز، شِکرے اور تمام وہ درندے اور پرندے ہیں جن سے انسان شکار کی خدمت لیتا ہے۔ سَدھائے ہوئے جانور کی خصُوصیّت یہ ہوتی ہے کہ وہ جس کا شکار کرتا ہے اُسے عام درندوں کی طرح پھاڑ نہیں کھاتا بلکہ اپنے مالک کے لیے پکڑ رکھتا ہے۔ اسی وجہ سے عام درندوں کا پھاڑ ا ہوا جانور حرام ہے اور سَدھائے ہوئے درندوں کا شکار حلال۔

اس مسئلہ میں فقہاء کے درمیان کچھ اختلاف ہے۔ ایک گروہ کہتا ہے کہ اگر شکاری جانور نے ، خواہ وہ درندہ ہو یا پرندہ شکار میں سے کچھ کھا لیا تو وہ حرام ہو گا کیونکہ اس کا کھا لینا یہ معنی رکھتا ہے کہ اس نے شکار کو مالک کے لیے نہیں بلکہ اپنے لیے پکڑا۔ یہی مسلک امام شافعی کا ہے۔ دوسرا گروہ کہتا ہے کہ اگر اس نے شکار میں سے کچھ کھا لیا ہو تب بھی وہ حرام نہیں ہوتا ، حتیٰ کہ اگر ایک تہائی حصّہ بھی وہ کھا لے تو بقیّہ دو تہائی حلال ہے ، اور اس معاملے میں درندے اور پرندے کے درمیان کچھ فرق نہیں۔ یہ مسلک امام مالک کا ہے۔ تیسرا گروہ کہتا ہے کہ شکاری درندے نے اگر شکار میں سے کھا لیا ہو تو وہ حرام ہو گا، لیکن اگر شکاری پرندے نے کھایا ہو تو حرام نہ ہو گا۔ کیونکہ شکاری درندے کو ایسی تعلیم دی جا سکتی ہے کہ وہ شکار کو مالک کے لیے پکڑ رکھے اور اس میں سے کچھ نہ کھائے ، لیکن تجربہ سے ثابت ہے کہ شکاری پرندہ ایسی تعلیم قبول نہیں کرتا۔ یہ مسلک امام ابو حنیفہ اور اُن کے اصحاب کا ہے۔ اس کے برعکس حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ شکاری پرندے کا شکار سرے سے جائز ہی نہیں ہے ، کیونکہ اسے تعلیم سے یہ بات سکھائی نہیں جا سکتی کہ شکار کو خود نہ کھائے بلکہ مالک کے لیے پکڑ رکھے۔

۲۰-یعنی شکاری جانور کو شکار پر چھوڑتے وقت بسم اللہ کہو۔ حدیث میں آتا ہے کہ حضرت عَدِی بن حاتم نے نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے پوچھا کہ آیا میں کُتّے کے ذریعہ سے شکار کر سکتا ہوں؟ آپ ؐ نے فرمایا کہ ’’اگر اس کو چھوڑتے ہوئے تم نے اللہ کا نام لیا ہو تو کھاؤ ورنہ نہیں۔ اور اگر اس نے شکار میں سے کچھ کھا لیا ہو تو نہ کھاؤ کیونکہ اس نے شکار کو دراصل اپنے لیے پکڑا‘‘۔ پھر انہوں نے پُوچھا کہ اگر میں شکار پر اپنا کُتّا چھوڑوں اور بعد میں دیکھوں کہ کوئی اور کُتّا وہاں موجود ہے ؟ آپ ؐ نے جواب دیا ’’اس شکار کو نہ کھاؤ۔ اس لیے کہ تم نے خدا کا نام اپنے کُتّے پر لیا تھا نہ کہ دُوسرے کُتّے پر‘‘۔ اس آیت سے یہ مسئلہ معلوم ہوا کہ شکاری جانور کو شکار پر چھوڑتے ہوئے خدا کا نام لینا ضروری ہے۔ اس کے بعد اگر شکار زندہ ملے تو پھر خدا کا نام لے کر اسے ذبح کر لینا چاہیے اور اگر زندہ نہ ملے تو اس کے بغیر ہی وہ حلال ہو گا ، کیونکہ ابتداءً شکار جانور کو اس پر چھوڑتے ہوئے اللہ تعالیٰ کا نام لیا جا چکا تھا۔ یہی حکم تیر کا بھی ہے۔

۲۱-اہلِ کتاب کے کھانے میں اُن کا ذبیحہ بھی شامل ہے۔ ہمارے لیے اُن کا اور اُن کے لیے ہمارا کھانا حلال ہونے کا مطلب یہ ہے کہ ہمارے اور اُن کے درمیان کھانے پینے میں کوئی رکاوٹ اور کوئی چھُوت چھات نہیں ہے۔ ہم اُن کے ساتھ کھا سکتے ہیں اور وہ ہمارے ساتھ۔ لیکن یہ عام اجازت دینے سے پہلے اس فقرے کا اعادہ فرما دیا گیا ہے کہ ’’تمہارے لیے پاک چیزیں حلال کر دی گئی ہیں‘‘۔ اس سے معلوم ہوا کہ اہلِ کتاب اگر پاکی و طہارت کے اُن قوانین کی پابندی نہ کریں جو شریعت کے نقطۂ نظر سے ضروری ہیں، یا اگر اُن کے کھانے میں حرام چیزیں شامل ہوں تو اس سے پرہیز کرنا چاہیے۔ مثلاً اگر وہ خدا کا نام لیے بغیر کسی جانور کو ذبح کریں، یا اس پر خدا کے سوا کسی اَور کا نام لیں ، تو اُسے کھانا ہمارے لیے جائز نہیں۔ اِسی طرح اگر اُن کے دستر خوان پر شراب یا سُور یا کوئی اور حرام چیز ہو تو ہم ان کے ساتھ شریک نہیں ہو سکتے۔

اہلِ کتاب کے سوا دُوسرے غیر مسلموں کا بھی یہی حکم ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ ذبیحہ اہلِ کتاب ہی کا جائز ہے جبکہ اُنہوں نے خدا کا نام اس پر لیا ہو، رہے غیر اہلِ کتاب ، تو ان کے ہلاک کیے ہوئے جانور کو ہم نہیں کھا سکتے۔

۲۲-اِس سے مراد یہود و نصاریٰ ہیں۔ نکاح کی اجازت صرف انہی کی عورتوں سے دی گئی ہے اور اس کے ساتھ شرط یہ لگا دی گئی ہے کہ و ہ مُحصنَات (محفوظ عورتیں) ہوں۔ اس حکم کی تفصیلات میں فقہاء کے درمیان اختلاف ہوا ہے۔ ابنِ عباس ؓ کا خیال ہے کہ یہاں اہلِ کتاب سے مُراد وہ اہلِ کتاب ہیں جو اسلامی حکومت کی رعایا ہوں۔ رہے دار الحرب اور دارالکفر کے یہود و نصاریٰ ، تو ان کی عورتوں سے نکاح کرنا درست نہیں۔ حنفیّہ اس سے تھوڑا اختلاف کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک بیرونی ممالک کے اہلِ کتاب کی عورتوں سے نکاح کرنا حرام تو نہیں ہے مگر مکرُوہ ضرور ہے۔ بخلاف اس کے سعید بن المُسَیِّب ؒ اور حَسَن بصری ؒ اس کے قائل ہیں کہ آیت اپنے حکم میں عام ہے لہٰذا ذمّی اور غیر ذمّی میں فرق کرنے کی ضرورت نہیں۔ پھر مُحصَنات کے مفہُوم میں بھی فقہاء کے درمیان اختلاف ہے۔ حضرت عمر ؓ کے نزدیک اس سے مراد پاک دامن ، عصمت مآب عورتیں ہیں اور اس بنا پر وہ اہلِ کتاب کی آزاد منش عورتوں کو اس اجازت سے خارج قرار دیتے ہیں۔ یہی رائے حسن ؒ، شَعبِیؒ اور ابراہیم نَخعَی ؒ کی ہے۔ اور حنفیہ نے بھی اسی کو پسند کیا ہے۔ بخلاف اس کے امام شافعی ؒ کی رائے یہ ہے کہ یہاں یہ لفظ لونڈیوں کے مقابلہ میں استعمال ہوا ہے ، یعنی اس سے مراد اہلِ کتاب کی وہ عورتیں ہیں جو لونڈیاں نہ ہوں۔

۲۳-اہلِ کتاب کی عورتوں سے نکاح کی اجازت دینے کے بعد یہ فقرہ اس لیے تنبیہ کے طور پر ارشاد فرمایا گیا ہے کہ جو شخص اِس اجازت سے فائدہ اُٹھائے وہ اپنے ایمان و اخلاق سے ہوشیار رہے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ کافر بیوی کے عِشق میں مُبتلا ہو کر یا اس کے عقائد اور اعمال سے متاثر ہو کر وہ اپنے ایمان سے ہاتھ دھو بیٹھے ، یا اخلاق و معاشرت میں ایسی روش پر چل پڑے جو ایمان کے منافی ہو۔

 

ترجمہ

 

اے لوگو جو ایمان لائے ہو، جب تم نماز کے لیے اُٹھو تو چاہیے کہ اپنے مُنّہ اور ہاتھ کہنیوں تک دھولو، سروں پر ہاتھ پھیر لو اور پاؤں ٹخنوں تک دھو لیا کرو۔۲۴ اگر جَنابت کی حالت میں ہو تو نہا کر پاک ہو جاؤ۔۲۵ اگر بیمار ہو یا سفر کی حالت میں ہو یا تم میں سے کوئی شخص رفع حاجت کر کے آئے یا تم نے عورتوں کو ہاتھ لگایا ہو، اور پانی نہ ملے ، تو پاک مٹی سے کام لو، بس اُس پر ہاتھ مارکر اپنے مُنّہ اور ہاتھوں پر پھیر لیا کرو۔۲۶ اللہ تم پر زندگی کو تنگ نہیں کرنا چاہتا، مگر وہ چاہتا ہے کہ تمہیں پاک کرے اور اپنی نعمت تم پر تمام کر دے ،۲۷ شاید کہ تم شکر گزار بنو۔ اللہ نے تم کو جو نعمت عطا کی ہے ۲۸ اس کا خیال رکھو اور اُس پختہ عہد و پیمان کو نہ بھُولو جو اُس نے تم سے لیا ہے ، یعنی تمہارا یہ قول کہ ’’ہم نے سُنا اور اطاعت قبول کی‘‘۔ اللہ سے ڈرو، اللہ دلوں کے راز تک جانتا ہے۔ اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اللہ کی خاطر راستی پر قائم رہنے والے اور انصاف کی گواہی دینے والے بنو۔۲۹ کسی گروہ کی دُشمنی تم کو اتنا مشتعل نہ کر دے کہ انصاف سے پھر جاؤ۔ عدل کرو، یہ خدا ترسی سے زیادہ مناسبت رکھتا ہے۔ اللہ سے ڈر کر کام کرتے رہو، جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اُس سے پُوری طرح باخبر ہے۔ جو لوگ ایمان لائیں اور نیک عمل کریں، اللہ نے ان سے وعدہ کیا ہے کہ ان کی خطاؤں سے درگزر کیا جائے گا اور انہیں بڑا اجر ملے گا۔ رہے وہ لوگ جو کفر کریں اور اللہ کی آیات کو جھُٹلائیں، تو وہ دوزخ میں جانے والے ہیں۔ ے لوگو جو ایمان لائے ہو، اللہ کے اُس احسان کو یاد کرو جو اُس نے (ابھی حال میں) تم پر کیا ہے ، جبکہ ایک گروہ نے تم پر دست درازی کا ارادہ کر لیا تھا مگر اللہ نے اُن کے ہاتھ تم پر اُٹھنے سے روک دیے۔۳۰ اللہ سے ڈر کر کام کرتے رہو، ایمان رکھنے والوں کو اللہ ہی پر بھروسہ کرنا چاہیے۔ ؏۲

 

تفسیر

 

۲۴-نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے اِس حکم کی جو تشریح فرمائی ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مُنہ دھونے میں کُلّی کرنا اور ناک صاف کرنا بھی شامل ہے ، بغیر اس کے مُنہ کے غسل کی تکمیل نہیں ہوتی۔ اور کان چونکہ سر کا ایک حصّہ ہیں اس لیے سر کے مسح میں کانوں کے اندرونی و بیرونی حصّوں کا مسح بھی شامل ہے۔ نیز وضو شروع کرنے سے پہلے ہاتھ دھو لینے چاہیں تاکہ جن ہاتھوں سے آدمی وُضو کر رہا ہو وہ خود پہلے پاک ہو جائیں۔

۲۵-جَنابت خواہ مباشرت سے لاحق ہوئی ہو یا خواب میں مادّۂ منویہ خارج ہونے کی وجہ سے ، دونوں صُورتوں میں غُسل واجب ہے۔ اس حالت میں غُسل کے بغیر نماز پڑھنا یا قرآن کو ہاتھ لگانا جائز نہیں۔(مزید تفصیلات کے لیے ملاحظہ ہو سُورۂ نساء ، حواشی نمبر ۶۷، ۶۸ و ۶۹)۔

۲۶-تشریح کے لیے ملاحظہ ہو سُورہ ٔ نساء حاشیہ نمبر ۶۹ و ۷۰۔

۲۷-جس طرح پاکیزگیِ  نفس ایک نعمت ہے اسی طرح پاکیزگیِ جسم بھی ایک نعمت ہے۔ انسان پر اللہ کی نعمت اسی وقت مکمل ہو سکتی ہے جبکہ نفس و جسم دونوں کی طہارت و پاکیزگی کے لے پُوری ہدایت اسے مِل جائے۔

۲۸-یعنی یہ نعمت کہ زندگی کی شاہ راہِ مستقیم تمہارے لیے روشن کر دی اور دُنیا کی ہدایت و رہنمائی کی منصب پر تمہیں سرفراز کیا۔

۲۹-ملاحظہ ہو سُورہ ٔ نساء ، حاشیہ نمبر ۱۶۴ و ۱۶۵۔

۳۰-اشارہ ہے اس واقعہ کی طرف جسے حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ نے روایت کیا ہے کہ یہودیوں میں سے ایک گروہ نے نبی صلی اللہ علیہ و سلم اور آپ ؐ کے خاص خاص صحابہ کو کھانے کی دعوت پر بُلایا تھا اور خفیہ طور پر یہ سازش کی تھی کہ اچانک ان پر ٹوٹ پڑیں گے اور اس طرح اسلام کی جان نکال دیں گے۔ لیکن عین وقت پر اللہ تعالیٰ کے فضل سے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو اس سازش کا حال معلوم ہو گیا اور آپ ؐ دعوت پر تشریف نہ لے گئے۔ چونکہ یہاں سے خطاب کا رُخ بنی اسرائیل کی طرف پھر رہا ہے اس لیے تمہید کے طور پر اس واقعہ کا ذکر فرمایا گیا ہے۔

یہاں سے جو تقریر شروع ہو رہی ہے اس کے دو مقصد ہیں۔ پہلا مقصد یہ ہے کہ مسلمانوں کو اس روش پر چلنے سے روکا جائے جس پر ان کے پیش رو اہلِ کتاب چل رہے تھے۔ چنانچہ انہیں بتایا جا رہا ہے کہ جس طرح آج تم سے عہد لیا گیا ہے اسی طرح کل یہی عہد بنی اسرائیل سے اور مسیح علیہ السّلام کی اُمّت سے بھی لیا جا چکا ہے۔ پھر کہیں ایسا نہ ہو کہ جس طرح وہ اپنے عہد کو توڑ کر گمراہیوں میں مُبتلا ہوئے اُسی طرح تم بھی اُسے توڑ دو اور گمراہ ہو جاؤ۔ دوسرا مقصد یہ ہے کہ یہُود اور نصاریٰ دونوں کو اُن کی غلطیوں پر متنبّہ کیا جائے اور انہیں دینِ حق کی طرف دعوت دی جائے۔

 

ترجمہ

 

اللہ نے بنی اسرائیل سے پُختہ عہد لیا تھا اور ان میں بارہ نقیب ۳۱ مقرر کیے تھے اور ان سے کہا تھا کہ ’’میں تمہارے ساتھ ہوں، اگر تم نے نماز قائم رکھی اور زکوٰۃ دی اور میرے رسولوں کو مانا اور ان کی مدد کی ۳۲ اور اپنے خدا کو اچھا قرض دیتے رہے ۳۳ تو یقین رکھو کہ میں تمہاری بُرائیاں تم سے زائل کر دوں گا ۳۴ اور تم کو ایسے باغوں میں داخل کروں گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی ، مگر اس کے بعد جس نے تم میں سے کفر کی روش اختیار کی تو درحقیقت اُس نے سواء السبیل ۳۵ گم کر دی۔‘‘ پھر یہ اُن کا اپنے عہد کو توڑ ڈالنا تھا جس کی وجہ سے ہم نے ان کو اپنی رحمت سے دُور پھینک دیا اور ان کے دل سخت کر دیے۔ اب ان کا حال یہ ہے کہ الفاظ کا اُلٹ پھیر کر کے بات کو کہیں سے کہیں لے جاتے ہیں، جو تعلیم انہیں دی گئی تھی اُس کا بڑا حصّہ بھُول چکے ہیں، اور آئے دن تمہیں ان کی کسی نہ کسی خیانت کا پتہ چلتا رہتا ہے۔ ان میں سے بہت کم لوگ اس عیب سے بچے ہوئے ہیں۔ (پس جب یہ اس حال کو پہنچ چکے ہیں تو جو شرا رتیں بھی یہ کریں وہ ان سے عین متوقع ہیں) لہٰذا انہیں معاف کرو اور ان کی حرکات سے چشم پوشی کرتے رہو، اللہ اُن لوگوں کو پسند کرتا ہے جو احسان کی روش رکھتے ہیں۔ اِسی طرح ہم نے اُن لوگوں سے بھی پُختہ عہد لیا تھا جنہوں نے کہا تھا کہ ہم ’’نصاریٰ‘‘ ہیں،۳۶ مگر ان کو بھی جو سبق یاد کرایا گیا تھا اس کا ایک بڑا حصّہ اُنہوں نے فراموش کر دیا، آخر کار ہم نے ان کے درمیان قیامت تک کے لیے دُشمنی اور آپس کے بُغض و عناد کا بیج بو دیا، اور ضرور ایک وقت آئے گا جب اللہ نہیں بتائے گا کہ وہ دنیا میں کیا بناتے رہے ہیں۔ اے اہلِ کتاب ! ہمارا رسول تمہارے پاس آ گیا ہے جو کتابِ الٰہی کی بہت سی اُن کتابوں کو تمہارے سامنے کھول رہا ہے جن پر تم پردہ ڈالا کرتے تھے ، اور بہت سی باتوں سے درگزر بھی کر جاتا ہے۔۳۷ تمہارے پاس اللہ کی طرف سے روشنی آ گئی ہے اور ایک ایسی حق نما کتاب جس کے ذریعہ سے۔۔۔ اللہ تعالیٰ اُن لوگوں کو جو اس کی رضا کے طالب ہیں سلامتی کے طریقے بتاتا ہے ۳۸ اور اپنے اذن سے اُن کو اندھیروں سے نکال کر اُجالے کی طرف لاتا ہے اور راہِ راست کی طرف ان کی رہنمائی کرتا ہے۔ یقیناً کفر کیا اُن لوگوں نے جنہوں نے کہا کہ مسیحؑ  ابنِ مریم ہی خدا ہے۔۳۹ اے محمد ؐ ! ان سے کہو کہ اگر خدا مسیح ابنِ مریم کو اور اس کی ماں اور تمام زمین والوں کو ہلاک کر دینا چاہے تو کس کی مجال ہے کہ اُس کو اِس ارادے سے باز رکھ سکے ؟ اللہ تو زمین اور آسمانوں کا اور اُن سب چیزوں کا مالک ہے جو زمین اور آسمانوں کے درمیان پائی جاتی ہیں، جو کچھ چاہتا ہے پیدا کرتا ہے ۴۰ اور اس کی قدرت ہر چیز پر حاوی ہے۔ یہود اور نصاریٰ کہتے ہیں کہ ہم اللہ کے بیٹے اور اس کے چہیتے ہیں۔ ان سے پوچھو، پھر وہ تمہارے گناہوں پر تمہیں سزا کیوں دیتا ہے ؟ در حقیقت تم بھی ویسے ہی انسان ہو جیسے اور انسان خدا نے پیدا کیے ہیں۔ وہ جسے چاہتا ہے معاف کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے سزا دیتا ہے۔ زمین اور آسمان اور ان کی ساری موجودات اس کی مِلک ہیں، اور اسی کی طرف سب کو جانا ہے۔ اے اہلِ کتاب ! ہمارا یہ رسُول ایسے وقت تمہارے پاس آیا ہے اور دین کی واضح تعلیم تمہیں دے رہا ہے جبکہ رسولوں کی آمد کا سلسلہ ایک مدّت سے بند تھا، تاکہ تم یہ نہ کہہ سکو کہ ہمارے پاس کوئی بشارت دینے والا اور ڈرانے والا نہیں آیا۔ سو دیکھو ! اب وہ بشارت دینے اور ڈرانے والا آ گیا۔۔۔۔اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔۴۱ ؏۳

 

تفسیر

 

۳۱-نقیب کے معنی نگرانی اور تفتیش کرنے والے کے ہیں۔ بنی اسرائیل کے بارہ قبیلے تھے اور اللہ تعالیٰ نے ان میں سے ہر قبیلہ پر ایک ایک نقیب خود اسی قبیلہ سے مقرر کرنے کا حکم دیا تھا تا کہ وہ ان کے حالات پر نظر رکھے اور انہیں بے دینی و بد اخلاقی سے بچانے کی کوشش کرتا رہے۔ بائیبل کی کتاب گنتی میں بارہ ’’سرداروں‘‘ کا ذکر موجود ہے ، مگر ان کی وہ حیثیت جو یہاں لفظ ’’نقیب‘‘ سے قرآن میں بیان کی گئی ہے ، بائیبل کے بیان سے ظاہر نہیں ہوتی۔ بائیبل انہیں صرف رئیسوں اور سرداروں کی حیثیت سے پیش کرتی ہے اور قرآن ان کی حیثیت اخلاقی و دینی نگرانِ کار کی قرار دیتا ہے۔

۳۲-یعنی جو رسول بھی میری طرف سے آئیں ، ان کی دعوت پر اگر تم لبیک کہتے اور ان کی مدد کرتے رہو۔

۳۳-یعنی خدا کی راہ میں اپنا مال خرچ کرتے رہے۔ چونکہ اللہ تعالیٰ اُس ایک ایک پائی کو ، جو انسان اس کی راہ میں خرچ کرے ، کئی گُنا زیادہ انعام کے ساتھ واپس کرنے کا وعدہ فرماتا ہے ، اس لیے قرآن میں جگہ جگہ راہِ خدا میں مال خرچ کرنے کو ’’قرض ‘‘ سے تعبیر کیا گیا ہے۔ بشرطیکہ وہ ’’اچھا قرض‘‘ ہو، یعنی جائز ذرائع سے کمائی ہوئی دولت خرچ کی جائے ، خدا کے قانون کے مطابق خرچ کی جائے اور خلوصِ و حُسن نیت کے ساتھ خرچ کی جائے۔

۳۴-کسی سے اُس کی بُرائیاں زائل کر دینے کے دو مطلب ہیں: ایک یہ کہ راہِ راست کو اختیار کرنے اور خدا کی ہدایت کے مطابق فکر و عمل کے صحیح طریقے پر چلنے کا لازمی نتیجہ یہ ہو گا کہ انسان کا نفس بہت سی بُرائیوں سے ، اور اس کا طرزِ زندگی بہت سی خرابیوں سے پاک ہوتا چلا جائے۔ دوسرے یہ کہ اس اصلاح کے باوجود اگر کوئی شخص بحیثیتِ مجمُوعی کمال کے مرتبے کو نہ پہنچ سکے اور کچھ نہ کچھ بُرائیاں اس کے اندر باقی رہ جائیں تو اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے ان پر مواخذہ نہ فرمائے گا اور ان کو اس کے حساب سے ساقط کر دے گا، کیونکہ جس نے اساسی ہدایت اور بُنیادی اِصلاح قبول کر لی ہو اس کی جُزوی اور ضمنی بُرائیوں کا حساب لینے میں اللہ تعالیٰ سخت گیر نہیں ہے۔

۳۵-یعنی اُس نے ’’سَوَا ء السّبیل‘‘ کو پا کر پھر کھو دیا اور وہ تباہی کے راستوں میں بھٹک نکلا۔ ’’سَوَاء السّبیل‘‘ کا ترجمہ ’’توسّط و اعتدال کی شاہ راہ‘‘ کیا جا سکتا ہے مگر اس سے پُورا مفہُوم ادا نہیں ہوتا۔ اسی لیے ہم نے ترجمہ میں اصل لفظ ہی کو جُوں کا تُوں لے لیا ہے۔

اِس لفظ کی معنویت کو سمجھنے کے لیے پہلے یہ ذہن نشین کر لینا چاہیے کہ انسان بجائے خود اپنی ذات میں ایک عالِم اصغر ہے جس کے اندر بے شمار مختلف قوتیں اور قابلیتیں ہیں، خواہشیں ہیں، جذبات اور رُجحانات ہیں، نفس اور جسم کے مختلف مطالبے ہیں ، رُوح اور طبیعت کے مختلف تقاضے ہیں۔ پھر ان افراد کے ملنے سے جو اجتماعی زندگی بنتی ہے وہ بھی بے حد و حساب پیچیدہ تعلقات سے مرکب ہوتی ہے اور تمدّن و تہذیب کے نشو و نما کے ساتھ ساتھ اس کی پیچیدگیاں بڑھتی چلی جاتی ہیں۔ پھر دنیا میں جو سامانِ زندگی انسان کے چاروں طرف پھیلا ہوا ہے اس سے کام لینے اور اس کو انسانی تمدّن میں استعمال کرنے کا سوال بھی انفرادی اور اجتماعی حیثیت سے بکثرت شاخ در شاخ مسائل پیدا کرتا ہے۔

انسان اپنی کمزوری کی وجہ سے اس پُورے عرصۂ حیات پر بیک وقت ایک متوازن نظر نہیں ڈال سکتا۔ اس بنا پر انسان اپنے لیے خود زندگی کا کوئی ایسا راستہ بھی نہیں بنا سکتا جس میں اس کی ساری قوتوں کے ساتھ انصاف ہو، اس کی تمام خواہشوں کا ٹھیک ٹھیک حق ادا ہو جائے ، اس کے سارے جذبات و رُجحانات میں توازن قائم رہے ، اس کے سب اندرونی و بیرونی تقاضے تناسب کے ساتھ پُورے ہوں، اس کی اجتماعی زندگی کے تمام مسائل کی مناسب رعایت ملحوظ ہو اور ان سب کا ایک ہموار اور متناسب حل نکل آئے ، اور مادّی اشیاء کو بھی شخصی اور تمدّنی زندگی میں عدل ، انصاف اور حق شناسی کے ساتھ استعمال کیا جا تا رہے۔ جب انسان خود اپنا رہنما اور اپنا شارع بنتا ہے تو حقیقت کے مختلف پہلوؤں میں سے کوئی ایک پہلو، زندگی کی ضرورتوں میں سے کوئی ایک ضرورت، حل طلب مسئلوں میں سے کوئی ایک مسئلہ اس کے دماغ پر اس طرح مسلّط ہو جاتا ہے کہ دُوسرے پہلوؤں اور ضرورتوں اور مسئلوں کے ساتھ وہ بالارادہ یا بلا ارادہ بے انصافی کرنے لگتا ہے۔ اور اس کی اِس رائے کے زبردستی نافذ کیے جانے کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ زندگی کا توازن بگڑ جاتا ہے اور وہ بے اعتدالی کی کسی ایک انتہا کی طرف ٹیڑھی چلنے لگتی ہے۔ پھر جب یہ ٹیڑھی چال اپنے آخری حُدُود پر پہنچتے پہنچتے انسان کے لیے ناقابلِ برداشت ہو جاتی ہے تو وہ پہلو اور وہ ضروریات اور وہ مسائل جن کے ساتھ بے انصافی ہوئی تھی ، بغاوت شرُوع کر دیتے ہیں اور زور لگانا شروع کر تے ہیں کہ اُن کے ساتھ انصاف ہو۔ مگر انصاف پھر بھی نہیں ہو تا۔ کیونکہ پھر وہی عمل رُو نما ہوتا ہے کہ ان میں سے کوئی ایک ، جو سابق بے اعتدالی کی بدولت سب سے زیادہ دبا دیا گیا تھا ، انسانی دماغ پر حاوی ہو جاتا ہے اور اسے اپنے مخصُوص مقتضاء کے مطابق ایک خاص رُخ پر بہا لے جاتا ہے جس میں پھر دُوسرے پہلوؤں اور ضرورتوں اور مسئلوں کے ساتھ بے انصافی ہونے لگتی ہے۔ اِس طرح زندگی کو کبھی سیدھا چلنا نصیب نہیں ہوتا۔ ہمیشہ وہ ہچکولے ہی کھاتی رہتی ہے اور تباہی کے ایک کنارے سے دُوسرے کنارے کی طرف ڈھُلکتی چلی جاتی ہے۔ تمام وہ راستے جو خود انسان نے اپنی زندگی کے لیے بنائے ہیں، خطِ منحنی کی شکل میں واقع ہیں، غلط سمت سے چلتے ہیں اور غلط سمت پر ختم ہو کر پھر کسی دُوسری غلط سمت کی طرف مُڑ جاتے ہیں۔

اِن بہت سے ٹیڑھے اور غلط راستوں کے درمیان ایک ایسی راہ جو بالکل وسط میں واقع ہو، جس میں انسان کی تمام قوتوں اور خواہشوں کے ساتھ، اس کے تمام جذبات و رُجحانات کے ساتھ، اور اس کی رُوح اور جسم کے تمام مطالبوں اور تقاضوں کے ساتھ، اور اس کی زندگی کے تمام مسائل کے ساتھ پُورا پُورا انصاف کیا گیا ہو، جس کے اندر کوئی ٹیڑھ، کوئی کجی، کِسی پہلو کی بے جا رعایت اور کسی دُوسرے پہلو کے ساتھ ظلم اور بے انصافی نہ ہو، انسانی زندگی کے صحیح ارتقاء اور اس کی کامیابی و با مُرادی کے لیے سخت ضرورت ہے۔ انسان کی عین فطرت اس راہ کی طالب ہے ، اور مختلف ٹیڑھے راستوں سے بار بار اُس کے بغاوت کرنے کی اصل وجہ یہی ہے کہ وہ اس سیدھی شاہ راہ کو ڈھونڈتی ہے۔مگر انسان خود اس شاہ راہ کو معلوم کرنے پر قادر نہیں ہے۔ اس کی طرف صرف خدا ہی راہ نمائی کر سکتا ہے اور خدا نے اپنے رسول اسی لیے بھیجے ہیں کہ اِس راہِ راست کی طرف انسان کی راہنمائی کریں۔

قرآن اسی راہ کو سَوَاء السّبیل اور صراطِ مستقیم کہتا ہے۔ یہ شاہ راہ دُنیا کی اِس زندگی سے لے کر آخرت کی دُوسری زندگی تک بے شمار ٹیڑھے راستوں کے درمیان سے سیدھی گزرتی چلی جاتی ہے۔ جو اس پر چلا ، وہ یہاں راست رَو اور آخرت میں کامیاب و با مراد ہے ، اور جس نے اس راہ کو گم کر دیا، وہ یہاں غلط ہیں، غلط رَو اور غلط کار ہے ، اور آخرت میں لامحالہ اُسے دوزخ میں جانا ہے ، کیونکہ زندگی کے تمام ٹیڑھے راستے دوزخ ہی کی طرف جاتے ہیں۔

موجودہ زمانہ کے بعض نا دان فلسفیوں نے یہ دیکھ کر کہ انسانی زندگی پے در پے ایک انتہا سے دُوسری انتہا کی طرف دھکّے کھاتی چلی جا رہی ہے ، یہ غلط نتیجہ نِکال لیا کہ ’’جَدَلی عمل‘‘(Dialectical Process) انسانی زندگی کے ارتقاء کا فطری طریق ہے۔ وہ اپنی حماقت سے یہ سمجھ بیٹھے کہ انسان کے ارتقاء کا راستہ یہی ہے کہ پہلے ایک انتہا پسندانہ دعویٰ (Thesis) اُسے ایک رُخ پر بہا لے جائے ، پھر اِس کے جواب میں دُوسرا ویسا ہی انتہا پسندانہ دعویٰ (Antithesis) اُسے دُوسری انتہا کی طرف کھینچے ، اور پھر دونوں کے امتزاج (Synthesis) سے ارتقاء حیات کا راستہ بنے۔ حالانکہ دراصل یہ ارتقاء کی راہ نہیں ہے بلکہ بد نصیبی کے دھکے ہیں جو انسانی زندگی کے صحیح ارتقاء میں بار بار مانع ہو رہے ہیں۔ ہر انتہا پسندانہ دعویٰ زندگی کو اُس کے کسی ایک پہلو کی طرف موڑتا ہے اور اسے کھینچے لیے چلا جا تا ہے۔ یہاں تک کہ جب وہ سَوَاء السّبیل سے بہت دُور جا پڑتی ہے تو خود زندگی ہی کی بعض دُوسری حقیقتیں ، جن کے ساتھ بے انصافی ہو رہی تھی، اس کے خلاف بغاوت شروع کر دیتی ہیں اور یہ بغاوت ایک جوابی دعوے کی شکل اختیار کر کے اسے مخالف سمت میں کھینچنا شروع کر تی ہے۔ جُوں جُوں سَوَاء السّبیل قریب آتی ہے ان متصادم دعووں کے درمیان مصالحت ہونے لگتی ہے اور ان کے امتزاج سے وہ چیزیں وجود میں آتی ہیں جو انسانی زندگی میں نافع ہیں۔ لیکن جب وہاں نہ سَوَاء السّبیل کے نشانات دکھانے والی روشنی موجود ہوتی ہے اور نہ اس پر ثابت قدم رکھنے والا ایمان ، تو وہ جوابی دعویٰ زندگی کو اس مقام پر ٹھیرنے نہیں دیتا بلکہ اپنے زور میں اُسے دُوسری جانب انتہا تک کھینچتا چلا جاتا ہے ، یہاں تک کہ پھر زندگی کی کچھ دُوسری حقیقتوں کی نفی شروع ہو جاتی ہے اور نتیجہ میں ایک دُوسری بغاوت اُٹھ کھڑی ہوتی ہے۔ اگر ان کم نظر فلسفیوں تک قرآن کی روشنی پہنچ گئی ہوتی اور انہوں نے سَوَاء السّبیل کو دیکھ لیا ہوتا تو انہیں معلوم ہو جاتا کہ انسان کے لیے ارتقاء کا صحیح راستہ یہی سواء السّبیل ہے نہ کہ خط منحنی پر ایک انتہا سے دُوسری انتہا کی طرف دھکے کھاتے پھرنا۔

۳۶-لوگوں کا یہ خیال غلط ہے کہ ’’نصاریٰ‘‘ کا لفظ ’’ناصرہ‘‘ سے ماخوذ ہے جو مسیح علیہ السّلام کا وطن تھا۔ دراصل اس کا ماخذ ’’نصرت‘‘ ہے ، اور اس کی بنا وہ قول ہے جو مسیح علیہ السّلام کے سوال مَنْ اَنْصَارِیْ اِلَی اللہِ (خدا کی راہ میں کون لوگ میرے مددگار ہیں؟) کے جواب میں حواریوں نے کہا تھا کہ نَحْنُ اَنْصَارُ اللہِ (ہم اللہ کے کام میں مددگار ہیں)۔ عیسائی مصنّفین کو بالعمُوم محض ظاہری مشابہت دیکھ کر یہ غلط فہمی ہوئی کہ مسیحیت کی ابتدائی تاریخ میں ناصر یہ (Nazarenes) کے نام سے جو ایک فرقہ پایا جاتا تھا ، اور جنہیں حقارت کے ساتھ ناصری اور ایبونی کہا جاتا تھا، انہی کے نام کو قرآن نے تمام عیسائیوں کے لیے استعمال کیا ہے۔ لیکن یہاں قرآن صاف کہہ رہا ہے کہ انہوں نے خود کہا تھا کہ ہم ’’نصاریٰ‘‘ اور یہ ظاہر ہے کہ عیسائیوں نے اپنا نام کبھی ناصری نہیں رکھا۔

اس سلسلے میں یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السّلام نے اپنے پیرووں کا نام کبھی "عیسائی” یا "مسیحی” نہیں رکھا تھا۔ کیونکہ وہ اپنے نام نے کسی نئے مذہب کی بنیاد ڈالنے نہیں آئے تھے۔ ان کی دعوت اُسی دین کو تازہ کرنے کی طرف تھی، جو حضرت موسیٰ علیہ السّلام اور ان سے پہلے اور بعد کے انبیاء علیہم السلام لے کر آئے تھے۔اس لیے انہوں نے عام بنی اسرائیل اور پیروانِ شریعت موسوی سے الگ نہ کوئی جماعت بنائی اور نہ اس کا کوئی مستقل نام رکھا۔ ان کے ابتدائی پیرو خود بھی نہ اپنے آپ کو اسرائیلی ملّت سے الگ سمجھتے تھے ، نہ ایک مستقل گروہ بن کر رہے ، اور نہ انہوں نے اپنے لئے کوئی امتیازی نام اور نشان قرار دیا۔ وہ عام یہودیوں کے ساتھ بیت المَقْدِس ہی کے ہیکل میں عبادت کرنے کے لیے جاتے تھے اور اپنے آپ کو موسوی شریعت ہی پر عمل کرنے کا پابند سمجھتے تھے (ملاحظہ ہو کتاب اعمال ۳ : ۱ – ۱۰ : ۱۴ – ۱۵ : ۵،۱ – ۲۱ : ۲۱)

آگے چل کر جدائی کا عمل دو جانب سے شروع ہوا۔ ایک طرف عیسیٰؑ  کے پیرووں میں سے پولوس ( سینٹ پال) نے شریعت کی پابندی ختم کر کے یہ اعلان کر دیا کہ بس مسیح پر ایمان لے آنا نجات کے لیے کافی ہے۔ اور دوسری طرف یہودی علماء نے پیروانِ مسیح کو ایک گمراہ فرقہ قرار دے کر عامّۂ بنی اسرائیل سے کاٹ دیا۔ لیکن اس جدائی کے باوجود ابتداء ً اس نئے فرقے کا کوئی خاص نام نہ تھا۔ خود پیروانِ مسیح اپنے لیے کبھی "شاگرد” کا لفظ استعمال کرتے تھے اور کبھی اپنے رفقاء کا ذکر "بھائیوں” (اِخوان)، ” ایمان داروں” (مؤمنین) ” جو ایمان لائے ” (الّذین اٰمنوا) اور "مقدسوں” کے الفاظ سے کرتے تھے۔ (کتاب اعمال ۲ : ۴۴ – ۴ : ۳۲ – ۹: ۲۶ – ۱۱ : ۲۹ – ۱۳ : ۵۲ – ۱۵ : ۱، ۲۳ – رومیوں ۱۵ : ۲۵- کُلُسیّوں ۱ : ۲)۔ بخلاف اس کے یہودی ان لوگوں کو کبھی "گلیلی” کہتے اور کبھی "ناصریوں کا بدعتی فرقہ” کہہ کر پکارتے تھے (اعمال ۲۴ : ۵ – لوقا ۱۳ : ۲)۔ یہ نام دھرنے کی کوشش انہوں نے از راہِ طنز و تشنیع اس بنا پر کی تھی کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا وطن ناصرہ تھا اور وہ فلسطین کے ضلع گلیل میں واقع تھا۔ لیکن یہ طنزیہ الفاظ اس حد تک رائج نہ ہو سکے کہ پیروانِ مسیح کے لیے نام کی حیثیت اختیار کر جاتے۔

اس گروہ کا موجودہ نام مسیحی (CHRISTIAN) پہلی مرتبہ ۴۳ عیسوی یا ۴۴ عیسوی میں انطاکیہ کے مشرک باشندوں نے رکھا تھا، جب کہ سینٹ پال اور بَرنَاباس نے وہاں پہنچ کر اپنے مذہب کی تبلیغِ  عام شروع کی (اعمال ۱۱ : ۲۶)۔ یہ نام بھی دراصل طنز و تمسخر کے طور پر مخالفین کی طرف سے رکھا گیا تھا، اور پیروانِ مسیح اسے خود اپنے نام کے طور پر قبول کرنے کے لیے تیار نہ تھے۔ لیکن جب ان کے دشمنوں نے ان کو اسی نام سے پکارنا شروع کر دیا تو ان کے لیڈروں نے کہا کہ اگر تمہیں مسیح کی طرف نسبت دے کر "مسیحی ” کہا جاتا ہے تو اس میں شرمانے کی کیا ضرورت ہے (۱-پطرس ۴ : ۱۶)۔ اس طرح رفتہ رفتہ یہ لوگ بھی خود اپنے آپ کو اسی نام سے موسوم کرنے لگے جس سے ان کے دشمنوں نے طنزاً موسوم کیا تھا، یہاں تک کہ آخر کار ان کے اندر سے یہ احسان ہی ختم ہو گیا کہ یہ دراصل ایک بُرا لقب تھا جو انہیں دیا گیا تھا۔

قرآن مجید نے اسی لیے مسیح کے ماننے والوں کو مسیحی یا عیسائی کے نام سے یاد نہیں کیا ہے۔ بلکہ انہیں یاد دلایا ہے کہ تم دراصل ان لوگوں کے نام لیوا ہو جنھیں عیسیٰ ابنِ مریم نے پکارا تھا کہ مَنْ اَنصَارِیْ اِلَی اللہ ” کون ہے جو اللہ کی راہ میں میری مدد کرے "، انہوں نے جواب دیا کہ نَحْن ُ اَنصَارُ اللہ، ” ہم اللہ کی راہ میں مددگار ہیں”۔ اس لیے تم اپنی ابتدائی اور بنیادی حقیقت کے اعتبار سے انصاریٰ یا انصار ہو۔ لیکن آج عیسائی مشنری اس یاد دہانی پر قرآن کا شکریہ ادا کرنے کے بجائے اُلٹی شکایت کر رہے ہیں کہ قرآن نے ان کو مسیحی کہنے کے بجائے نصاریٰ کے نام سے کیوں موسوم کیا!

۳۷-یعنی تمہاری بعض چوریاں اور خیانتیں کھول دیتا ہے جن کا کھولنا دینِ حق کو قائم کرنے لیے ناگزیر ہے ، اور بعض سے چشم پوشی اختیار کر لیتا ہے جن کے کھولنے کی کوئی حقیقی ضرورت نہیں ہے۔

۳۸-’’سلامتی‘‘ سے مُراد غلط بینی، غلط اندیشی اور غلط کاری سے بچنا اور اس کے نتائج سے محفوظ رہنا ہے۔ جو شخص اللہ کی کتاب اور اُس کے رسول کی زندگی سے روشنی حاصل کرتا ہے اُسے فکر و عمل کے ہر چوراہے پر یہ معلوم ہو جاتا ہے کہ وہ کس طرح ان غلطیوں سے محفوظ رہے۔

۳۹-عیسائیوں نے ابتداءً مسیحؑ  کی شخصیت کو انسانیت اور الوہیت کا مرکب قرار دے کر جو غلطی کی تھی ، اُس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اُن کے لیے مسیحؑ  کی حقیقت ایک معما بن کر رہ گئی جسے اُن کے علماء نے لفّاظی اور قیاس آرائی کی مدد سے حل کرنے کی جتنی کوشش کی اُتنے ہی زیادہ اُلجھتے چلے گئے۔ اُن میں سے جس کے ذہن پر اِس مرکب شخصیت کے جُزوِ انسانی نے غلبہ کیا اس نے مسیحؑ  کے ابن اللہ ہونے اور تین مستقل خداؤں میں سے ایک ہونے پر زور دیا۔ اور جس کے ذہن پر جُزوِ  اُلُوہیّت کا اثر زیادہ غالب ہوا اس نے مسیحؑ  کو اللہ تعالیٰ کا جسمانی ظہُور قرار دے کر عین اللہ بنا دیا اور اللہ ہونے کی حیثیت ہی سے مسیحؑ  کی عبادت کی۔ ان کے درمیان بیچ کی راہ جنہوں نے نکالنی چاہی انہوں نے سارا زور ایسی لفظی تعبیریں فراہم کرنے پر صرف کر دیا جن سے مسیحؑ  کو انسان بھی کہا جاتا رہے اور اس کے ساتھ خدا بھی سمجھا جا سکے ، خدا اور مسیحؑ  الگ الگ بھی ہوں اور پھر ایک بھی رہیں۔ (ملاحظہ ہو سُورۂ نساء، حاشیہ نمبر ۲۱۲، ۲۱۳ و ۲۱۵)۔

۴۰-اس فقرے میں ایک لطیف اشارہ ہے اس طرف کہ محض مسیحؑ  کی اعجاز ی پیدائش اور ان کے اخلاقی کمالات اور محسُوس معجزات کو دیکھ کر جو لوگ اس دھوکہ میں پڑ گئے کہ مسیحؑ  ہی خدا ہے وہ درحقیقت نہایت نادان ہیں۔ مسیحؑ  تو اللہ کے بے شمار عجائبِ  تخلیق میں سے محض ایک نمونہ ہے جسے دیکھ کر ان ضعیف ُ البصر لوگوں کی نگاہیں چوندھیا گئیں۔ اگر اِن لوگوں کی نگاہ کچھ وسیع ہوتی تو انہیں نظر آتا کہ اللہ نے اپنی تخلیق کے اس سے بھی زیادہ حیرت انگیز نمونے پیش کیے ہیں اور اس کی قدرت کسی حد کے اندر محدُود نہیں ہے۔ پس یہ بڑی بے دانشی ہے کہ مخلوق کے کمالات کو دیکھ کر اسی پر خالق ہونے کا گمان کر لیا جائے۔ دانشمند وہ ہیں جو مخلوق کے کمالات میں خالق کی عظیم الشان قدرت کے نشانات دیکھتے ہیں اور ان سے ایمان کا نُور حاصل کرتے ہیں۔

۴۱-اِس موقع پر یہ فقرہ نہایت بلیغ و لطیف ہے۔ اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ جو خدا پہلے بشارت دینے والے اور ڈرانے والے بھیجنے پر قادر تھا اسی نے محمد صلی اللہ علیہ و سلم کو اس خد مت پر مامور کیا ہے اور وہ ایسا کرنے پر قادر تھا۔ دُوسرا مطلب یہ ہے کہ اگر تم نے اس بشیر و نذیر کی بات نہ مانی تو یاد رکھو کہ اللہ قادر و توانا ہے۔ ہر سزا جو وہ تمہیں دینا چاہے بلا مزاحمت دے سکتا ہے۔

 

ترجمہ

 

یاد کرو جب موسیٰؑ  نے اپنی قوم سے کہا تھا کہ ’’اے میری قوم کے لوگو! اللہ کی اُس نعمت کا خیال کرو جو اس نے تمہیں عطا کی تھی۔ اُس نے تم میں نبی پیدا کیے ، تم کو فرماں روا بنایا، اور تم کو وہ کچھ دیا جو دُنیا میں کسی کو نہ دیا تھا۔۴۲ اے برادران قوم ! اس مقدّس سرزمین میں داخل ہو جاؤ جو اللہ نے تمہارے لیے لکھ دی ہے ،۴۳ پیچھے نہ ہٹو ورنہ ناکام و نامراد پلٹو گے ‘‘۔۴۴ انہوں نے جواب دیا ’’اے موسیٰؑ  ! وہاں تو بڑے زبردست لوگ رہتے ہیں، ہم وہاں ہرگز نہ جائیں گے جب تک وہ وہاں سے نکل نہ جائیں۔ ہاں اگر وہ نکل گئے تو ہم داخل ہونے کے لیے تیار ہیں ‘‘۔ اُن ڈرنے والوں میں دو شخص ایسے بھی تھے ۴۵ جن کو اللہ نے اپنی نعمت سے نوازا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ’’اِن جبّاروں کے مقابلہ میں دروازے کے اندر گھُس جاؤ، جب تم اندر پہنچ جاؤ گے تو تم ہی غالب رہو گے۔ اللہ پر بھروسہ رکھو اگر تم مومن ہو‘‘۔ لیکن اُنہوں نے پھر یہی کہا کہ ’’اے موسیٰؑ ! ہم تو وہاں کبھی نہ جائیں گے جب تک وہ وہاں موجود ہیں۔ بس تم اور تمہارا رب، دونوں جاؤ اور لڑو، ہم یہاں بیٹھے ہیں‘‘۔ اس پر موسیٰؑ نے کہا ’’اے میرے رب، میرے اختیار میں کوئی نہیں مگر یا میری اپنی ذات یا میرا بھائی، پس تُو ہمیں اِن نافرمان لوگوں سے الگ کر دے ‘‘۔ اللہ نے جواب دیا ’’اچھا تو وہ مُلک چالیس (۴۰) سال تک ان پر حرام ہے ، یہ زمین میں مارے مارے پھریں گے ، ۴۶ ان نافرمانوں کی حالت پر ہرگز ترس نہ کھاؤ‘‘۔۴۷ ؏۴

 

تفسیر

 

۴۲-یہ اشارہ ہے بنی اسرائیل کی اُس عظمت گذشتہ کی طرف جو حضرت موسیٰ علیہ السّلام سے بہت پہلے کسی زمانہ میں اُن کو حاصل تھی۔ ایک طرف حضرت ابراہیمؑ  ، حضرت اسحاقؑ ، حضرت یعقوبؑ  اور حضرت یوسفؑ  جیسے جلیل القدر پیغمبر اُن کی قوم میں پیدا ہوئے۔ اور دُوسری طرف حضرت یوسُف علیہ السّلام کے زمانہ میں اور اُن کے بعد مصر میں اُن کو بڑا اِقتدار نصیب ہوا۔ مدّتِ دراز تک یہی اس زمانہ کی مہذب دُنیا کے سب سے بڑے فرماں روا تھے اور انہی کا سکّہ مصر اور اس کے نواح میں رواں تھا۔ عموماً لوگ بنی اسرائیل کے عُروج کی تاریخ حضرت موسی ٰؑ  سے شروع کرتے ہیں ، لیکن قرآن اس مقام پر تصریح کرتا ہے کہ بنی اسرائیل کا اصل زمانۂ عرُوج حضرت موسیٰؑ  سے پہلے گزر چکا تھا جسے خود حضرت موسیٰ اپنی قوم کے سامنے اس کے شاندار ماضی کی حیثیت سے پیش کرتے تھے۔

۴۳-اِس سے مراد فلسطین کی سرزمین ہے جو حضرت ابراہیمؑ  ، حضرت اسحاقؑ  اور حضرت یعقوبؑ  کا مسکن رہ چکی تھی۔ بنی اسرائیل جب مصر سے نکل آئے تو اسی سرزمین کو اللہ تعالیٰ نے اُن کے لیے نامزد فرمایا اور حکم دیا کہ جا کر اسے فتح کر لو۔

۴۴-حضرت موسیٰؑ  کی یہ تقریر اس موقع کی ہے جب مصر سے نکلنے کے تقریباً دو سال بعد آپ اپنی قوم کو لیے ہوئے دشتِ فاران میں خیمہ زن تھے۔ یہ بیابان جزیرہ نمائے سینا میں عرب کی شمالی اور فلسطین کی جنوبی سرحد سے متصل واقع ہے۔

۴۵-قَالَ رَجُلَانِ مِنَ الَّذِیْنَ یَخَافُوْنَ کے دو مطلب ہو سکتے ہیں۔ ایک یہ کہ جو لوگ جبّاروں سے ڈر رہے تھے اُن کے درمیان سے دو شخص بول اُٹھے۔ دوسرا یہ کہ جو لوگ خدا سے ڈرنے والے تھے ان میں سے دو شخصوں نے یہ بات کہی۔

۴۶- اس قصّے کی تفصیلات بائیبل کی کتاب گنتی، استثناء اور یشوع میں ملیں گی۔ خلاصہ اس کا یہ ہے کہ حضرت موسیٰ نے دشتِ فاران سے بنی اسرائیل کے ۱۲ سرداروں کو فلسطین کا دورہ کرنے کے لیے بھیجا تاکہ وہاں کے حالات معلوم کر کے آئیں۔ یہ لوگ چالیس دن دورہ کر کے وہاں سے واپس آئے اور انہوں نے قوم کے مجمعِ عام میں بیان کیا کہ واقعی وہاں دُودھ اور شہد کی نہریں بہتی ہیں، "لیکن جو لوگ وہاں بسے ہوئے ہیں وہ زورآور ہیں۔۔۔۔۔۔ ہم اس لائق نہیں ہیں کہ ان لوگوں پر حملہ کریں۔۔۔۔۔۔ وہاں جتنے آدمی ہم نے دیکھے وہ بڑے قد آور ہیں اور ہم نے وہاں بنی عناق کو بھی دیکھا جو جبّار ہیں اور جبّاروں کی نسل سے ہیں، اور ہم تو اپنی ہی نگاہ میں ایسے تھے جیسے ٹِڈے ہوتے ہیں اور ایسے ہی ان کی نگاہ میں تھے "۔ یہ بیان سُن کر سارا مجمع چیخ اٹھا کہ ” اے کاش ہم مصر میں ہی مر جاتے ! یا کاش اس بیابان ہی میں مرتے ، خداوند! کیوں ہم کو اس مُلک میں لے جا کر تلوار سے قتل کرانا چاہتا ہے ؟ پھر تو ہماری بیویاں اور بال بچّے لوٹ کا مال ٹھریں گے۔ کیا ہمارے لیے بہتر نہ ہو گا کہ ہم مصر کو واپس چلے جائیں”۔ پھر وہ آپس میں کہنے لگے کہ آؤ ہم کسی کو اپنا سردار بنا لیں اور مصر کو لوٹ چلیں۔ اِس پر اُن بارہ سرداروں میں سے ، جو فلسطین کے دورے پر بھیجے گئے تھے ، دو سردار، یُوشع اور کالِب اُٹھے اور انہوں نے اِس بُزدلی پر قوم کو ملامت کی۔ کالب نے کہا ’’چلو ہم ایک دم جا کر اس ملک پر قبضہ کر لیں، کیونکہ ہم اس قابل ہیں کہ اس پر تصّرف کریں‘‘۔ پھر دونوں نے یک زبان ہو کر کہا ’’ اگر خدا ہم سے راضی رہے تو وہ ہم کو اس ملک میں پہنچائے گا۔۔۔۔۔۔ فقط اتنا ہو کہ تم خداوند سے بغاوت نہ کرو اور نہ اِس ملک کے لوگوں سے ڈرو۔۔۔۔۔۔ اور ہمارے ساتھ خداوند ہے سو ان کا خوف نہ کرو‘‘۔ مگر قوم نے اس کا جواب یہ دیا کہ ’’ اِنہیں سنگسار کر دو‘‘۔ آخر کار اللہ تعالیٰ کا غضب بھڑکا اور اس نے فیصلہ فرمایا کہ اچھا اب یُوشع اور قالب کے سوا اس قوم کے بالغ مردوں میں سے کوئی بھی اُس سرزمیں میں داخل نہ ہونے پائے گا۔ یہ قوم چالیس برس تک بے خانماں پھرتی رہے گی، یہاں تک کہ جب ان میں سے ۲۰ برس سے لے کر اُوپر کی عمر تک کے سب مرد مر جائیں گے اور نئی نسل جوان ہو کر اُٹھے گی تب انہیں فلسطین فتح کرنے کا موقع دیا جائے گا۔ چنانچہ اس فیصلہ ٔ خداوندی کے مطابق دشتِ فاران سے شرق اُردن پہنچتے پہنچتے پورے ۳۸ برس لگ گئے۔ اِس دوران میں وہ سب لوگ مر کھپ گئے جو جوانی کی عمر میں مصر سے نکلے تھے۔ شرق اُردن فتح کرنے کے بعد حضرت موسیٰ کا بھی انتقال ہو گیا۔ اس کے بعد حضرت یُوشع بن نون کے عہدِ خلافت میں بنی اسرائیل اس قابل ہوئے کہ فلسطین فتح کر سکیں۔

بنی اسرائیل کی صحرا نوردی ( نقشہ ) :۔

تشریح : حضرت موسیٰ علیہ السّلام بنی اسرائیل کو مصر سے لے کر جزیرہ نمائے سینا میں مارہ، ایلیم اور رعیدیم کے راستے کوہِ سینا کی طرف آئے اور ایک سال سے کچھ زائد مدّت تک اس مقام پر ٹھیرے رہے۔ یہیں تورات کے بیشتر احکام آپ پر نازل ہوئے۔ پھر آپ کو حکم ہوا کہ بنی اسرائیل کو لے کر فلسطین کی طرف جاؤ اور اسے فتح کر لو کہ وہ تمھاری میراث میں دیا گیا ہے۔ چنانچہ حضرت موسیٰ علیہ السّلام بنی اسرائیل کو لیے ہوئے تبعیر اور نصیرات کے راستے دشتِ فاران میں تشریف لائے اور یہاں سے آپ نے ایک وفد فلسطین کے حالات کا مطالعہ کرنے کے لیے روانہ کیا۔ قادس کے مقام پر اس وفد نے آ کر اپنی رپورٹ پیش کی۔ حضرت یُوشع اور کالب کے سوا پورے وفد کی رپورٹ نہایت حوصلہ شکن تھی۔ جسے سن کر بنی اسرائیل چیخ اٹھے اور انھوں نے فلسطین کی مہم پر جانے سے انکار کر دیا۔ تب اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ اب یہ چالیس برس تک اس علاقے میں بھٹکتے رہیں گے اور ان کی موجودہ نسل، یُوشع اور کالِب کے سوا فلسطین کی شکل نہ دیکھنے پائے گی۔ اس کے بعد بنی اسرائیل دشتِ فاران، بیابانِ شور اور دشتِ صین کے درمیان مارے مارے پھرتے رہے اور عمالقہ، اشوریوں، اَدومیوں، مدیانیوں اور موآب کے لوگوں سے لڑتے بھڑتے رہے۔ جب چالیس سال گزرنے کے قریب آئے تو اَدُوم کی سرحد کے قریب کوہِ ہور پر حضرت ہارون علیہ السّلام نے وفات پائی۔ پھر حضرت موسیٰ علیہ السّلام بنی اسرائیل کو لیے ہوئے موآب کے علاقے میں داخل ہوئے ، اور اس پورے علاقے کو فتح کرتے ہوئے حسبون اور شطّیم تک پہنچ گئے۔ یہاں کوہِ عباریم پر حضرت موسیٰ علیہ السّلام کا انتقال ہوا اور ان کے بعد ان کے خلیفہ اوّل حضرت یُوشع نے مشرق کی جانب سے دریائے اُردن کو پار کر کے شہر یریحو (اریحا) کو فتح کیا۔ یہ فلسطین کا پہلا شہر تھا جو بنی اسرائیل کے قبضہ میں آیا۔ پھر ایک قلیل مدّت ہی میں پورا فلسطین فتح ہو گیا۔۔۔۔۔۔ اس نقشہ میں ایلہ (قدیم نام ایلات اور موجودہ نام عقبہ) وہ مقام ہے جہاں غالباً اصحاب السبت کا وہ مشہور واقعہ پیش آیا تھا جس کا ذکر سورۂ بقرہ رکوع ۸  اور سورۃ اعراف رکوع ۲۱ میں آیا ہے۔

۴۷-یہاں اس واقعہ کا حوالہ دینے کی غرض سلسلۂ بیان پر غور کرنے سے صاف سمجھ میں آ جاتی ہے۔ قصہ کے پیرایہ میں دراصل بنی اسرائیل کو یہ جتانا مقصُود ہے کہ موسیٰ کے زمانہ میں نافرمانی ، انحراف اور پست ہمتی سے کام لے کر جو سزا تم نے پائی تھی ، اب اس سے بہت زیادہ سزا محمد صلی اللہ علیہ و سلم کے مقابلہ میں باغیانہ روش اختیار کر کے پاؤ گے۔

 

ترجمہ

 

اور ذرا انہیں آدم کے دو بیٹوں کا قصّہ بھی بے کم و کاست سُنا دو۔ جب اُن دونوں نے قربانی کی تو ان میں سے ایک کی قربانی قبول کی گئی اور دوسرے کی نہ کی گئی۔ اُس نے کہا ’’میں تجھے مار ڈالوں گا‘‘۔ اس نے جواب دیا ’’اللہ تو متقیوں ہی کی نذریں قبول کرتا ہے۔۴۸ اگر تُو مجھے قتل کرنے کے لیے ہاتھ اُٹھائے گا تو میں تجھے قتل کرنے کے لیے ہاتھ نہ اُٹھاؤں گا،۴۹ میں اللہ ربّ العا لمین سے ڈرتا ہوں۔ میں چاہتا ہوں کہ میرا اور اپنا گناہ تُو ہی سمیٹ لے ۵۰ اور دوزخی بن کر رہے۔ ظالموں کے ظلم کا یہی ٹھیک بدلہ ہے‘‘۔ آخر کار اس کے نفس نے اپنے بھائی کا قتل اس کے لیے آسان کر دیا اور وہ اسے مارکر اُن لوگوں میں شامل ہو گیا جو نقصان اُٹھانے والے ہیں۔ پھر اللہ نے ایک کوّا بھیجا جو زمین کھودنے لگا تاکہ اُسے بتائے کہ اپنے بھائی کی لاش کیسے چھُپائے۔ یہ دیکھ کر وہ بولا افسوس مجھ پر! میں اس کوّے جیسا بھی نہ ہو سکا کہ اپنے بھائی کی لاش چھُپانے کی تدبیر نکال لیتا۔۵۱ اس کے بعد وہ اپنے کیے پر بہت پچھتایا۔۵۲ اسی وجہ سے بنی اسرائیل پر ہم نے یہ فرمان لکھ دیا تھا ۵۳ کہ ’’جس نے کسی انسان کو خُون کے بدلے یا زمین میں فساد پھیلانے کے سوا کسی اور وجہ سے قتل کیا اس نے گویا تمام انسانوں کو قتل کر دیا اور جس نے کسی کی جان بچائی اُس نے گویا تمام انسانوں کو زندگی بخش دی‘‘۔۵۴ مگر اُن کا حال یہ ہے کہ ہمارے رسُول پے درپے ان کے پاس کھُلی کھُلی ہدایات لے کر آئے پھر بھی ان میں بکثرت لوگ زمین میں زیادتیاں کرنے والے ہیں۔ جو لوگ اللہ اور اس کے رسُول سے لڑتے ہیں اور زمین میں اس لیے تگ و دو کرتے پھرتے ہیں کہ فساد برپا کریں ۵۵ اُن کی سزا یہ ہے کہ قتل کیے جائیں، یا سُولی پر چڑھائے جائیں، یا اُن کے ہاتھ اور پاؤں مخالف سمتوں سے کاٹ ڈالے جائیں، یا وہ جلا وطن کر دیے جائیں۔۵۶ یہ ذلّت و رسوائی تو اُن کے لیے دُنیا میں ہے اور آخرت میں اُن کے لیے اس سے بڑی سزا ہے۔ مگر جو لوگ توبہ کر لیں قبل اس کے کہ تم ان پر قابو پاؤ۔۔۔۔تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ اللہ معاف کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے۔۵۷ ؏۵

 

تفسیر

 

۴۸-یعنی تیری قربانی اگر قبول نہیں ہوئی تو یہ میرے کسی قصُور کی وجہ سے نہیں ہے بلکہ اس وجہ سے ہے کہ تجھ میں تقویٰ نہیں ہے ، لہٰذا میری جان لینے کے بجائے تجھ کو اپنے اندر تقویٰ پیدا کرنے کی فکر کرنی چاہیے۔

۴۹-اِس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ اگر تُو مجھے قتل کر نے کے لیے آئے گا تو میں ہاتھ باندھ کر تیرے سامنے قتل ہونے کے لیے بیٹھ جاؤ ں گا اور مدافعت نہ کروں گا۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ تُو میرے قتل کے درپے ہوتا ہے تو ہو، میں تیرے قتل کے درپے نہ ہوں گا۔ تُو میرے قتل کی تدبیر میں لگنا چاہے تو تُجھے اختیار ہے ، لیکن میں یہ جاننے کے بعد بھی کہ تُو میرے قتل کی تیاریاں کر رہا ہے ، یہ کوشش نہ کروں گا کہ پہلے میں ہی تجھے مار ڈالوں۔ یہاں یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ کسی شخص کا اپنے آپ کو خود قاتل کے آگے پیش کر دینا اور ظالمانہ حملہ کی مدافعت نہ کرنا کوئی نیکی نہیں ہے۔ البتہ نیکی یہ ہے کہ اگر کوئی شخص میرے قتل کے درپے ہو اور میں جانتا ہوں کہ وہ میری گھات میں لگا ہو ا ہے ، تب بھی میں اس کے قتل کی فکر نہ کروں اور اسی بات کو ترجیح دوں کہ ظالمانہ اقدام اُس کی طرف سے ہو نہ کہ میری طرف سے۔ یہی مطلب تھا اس بات کا جو آدم علیہ السّلام کے اس نیک بیٹے نے کی۔

۵۰-یعنی بجائے اس کے کہ ایک دُوسرے کے قتل کی سعی میں ہم دونوں گناہ گار ہوں ، میں اس کو زیادہ بہتر سمجھتا ہوں کہ دونوں کا گناہ تنہا تیرے ہی حصّہ میں آ جائے ، تیرے اپنے قاتلانہ اقدام کا گناہ بھی، اور اس نقصان کا گناہ بھی جو اپنی جان بچانے کی کوشش کرتے ہوئے میرے ہاتھ سے تجھے پہنچ جائے۔

۵۱-اس طرح اللہ تعالیٰ نے ایک کوّے کے ذریعہ سے آدم کے اس غلط کار بیٹے کو اس کی جہالت و نادانی پر متنبّہ کیا، اور جب ایک مرتبہ اس کو اپنے نفس کی طرف توجّہ کرنے کا موقع مل گیا توا س کی ندامت صرف اسی بات تک محدُود نہ رہی کہ وہ لاش چھپانے کی تدبیر نکالنے میں کوّے سے پیچھے کیوں رہ گیا، بلکہ اس کو یہ بھی احساس ہونے لگا کہ اس نے اپنے بھائی کو قتل کر کے کتنی بڑی جہالت کا ثبُوت دیا ہے۔ بعد کا فقرہ کہ وہ اپنے کیے پر پچھتایا، اسی مطلب پر دلالت کر تا ہے۔

۵۲-یہاں اس واقعہ کا ذکر کرنے سے مقصد یہودیوں کو ان کی اُس سازش پر لطیف طریقہ سے ملامت کرنا ہے جو انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و سلم اور آپ ؐ کے جلیل القدر صحابہ کو قتل کرنے کے لیے کی تھی(ملاحظہ ہو اسی سُورۃ کا حاشیہ نمبر ۳۰)۔ دونوں واقعات میں مماثلت بالکل واضح ہے۔ یہ بات کہ اللہ تعالیٰ نے عرب کے اِن اُمّیوں کو قبولیت کا درجہ عطا فرمایا اور اُن پُرانے اہلِ کتاب کو رد کر دیا، سراسر اِس بُنیاد پر تھی کہ ایک طرف تقویٰ تھا اور دُوسری طرف تقویٰ نہ تھا۔ لیکن بجائے اس کے کہ وہ لوگ جنہیں رَد کر دیا گیا تھا، اپنے مردُود ہونے کی وجہ پر غور کرتے اور اُس قصُور کی تلافی کرنے پر مائل ہوتے جس کی وجہ سے وہ رد کیے گئے تھے ، ان پر ٹھیک اُسی جاہلیت کا دورہ پڑ گیا جس میں آدمؑ  کا وہ غلط کار بیٹا مبتلا ہوا تھا، اور اُسی کی طرح وہ ان لوگوں کے قتل پر آمادہ ہو گئے جنہیں خدا نے قبولیت عطا فرمائی تھی۔ حالانکہ ظاہر تھا کہ ایسی جاہلانہ حرکتوں سے وہ خدا کے مقبول نہ ہو سکتے تھے ، بلکہ یہ کرتُوت انہیں اور زیادہ مردُود بنا دینے والے تھے۔

۵۳-یعنی چونکہ بنی اسرائیل کے اندر اُنہی صفات کے آثار پائے جاتے تھے جن کا اظہار آدم کے اس ظالم بیٹے نے کیا تھا، اس لیے اللہ تعالیٰ نے ا ن کو قتلِ نفس سے باز رہنے کی سخت تاکید کی تھی اور اپنے فرمان میں یہ الفاظ لکھے تھے۔ افسوس ہے کہ آج جو بائیبل پائی جاتی ہے وہ فرمانِ خداوندی کے ان قیمتی الفاظ سے خالی ہے۔ البتہ تلمُود میں یہ مضمون اس طرح بیان ہوا ہے :’’ جس نے اسرائیل کی ایک جان کو ہلاک کیا، کتاب اللہ کی نگاہ میں اس نے گویا ساری دنیا کو ہلاک کیا، اور جس نے اسرائیل کی ایک جان کو محفوظ رکھا، کتاب اللہ کی نزدیک اس نے گویا ساری دنیا کی حفاظت کی‘‘۔ اسی طرح تلمود میں یہ بھی بیان ہوا ہے کہ قتل کے مقدمات میں بنی اسرائیل کے قاضی گواہوں کو خطاب کر کے کہا کرتے تھے کہ ’’جو شخص ایک انسان کی جان ہلاک کرتا ہے وہ ایسی باز پرس کا مستحق ہے کہ گویا اس نے دُنیا بھر کے انسانوں کو قتل کیا ہے ‘‘۔

۵۴-مطلب یہ ہے کہ دُنیا میں نوعِ انسانی کی زندگی کا بقا منحصر ہے اس پر کہ ہر انسان کے دل میں دُوسرے انسانوں کی جان کا احترام موجود ہو اور ہر ایک دُوسرے کی زندگی کے بقاء و تحفظ میں مدد گار بننے کا جذبہ رکھتا ہو۔ جو شخص ناحق کسی کی جان لیتا ہے وہ صرف ایک ہی فرد پر ظلم نہیں کرتا بلکہ یہ بھی ثابت کرتا ہے کہ اس کا دل حیاتِ انسانی کے احترام سے اور ہمدردیِ  نوع کے جذبہ سے خالی ہے ، لہٰذا وہ پُوری انسانیت کا دُشمن ہے ، کیونکہ اس کے اندر وہ صفت پائی جاتی ہے جو اگر تمام افرادِ انسانی میں پائی جائے تو پُوری نوع کا خاتمہ ہو جائے۔ اس کے برعکس جو شخص انسان کی زندگی کے قیام میں مدد کرتا ہے وہ درحقیقت انسانیت کا حامی ہے ، کیونکہ اس میں وہ صفت پائی جاتی ہے جس پر انسانیت کے بقاء کا انحصار ہے۔

۵۵-(زمین سے مراد یہاں وہ مُلک یا وہ علاقہ ہے جس میں امن و انتظام قائم کرنے کی ذمہ داری اسلامی حکومت نے لے رکھی ہو۔ اور خدا و رسول سے لڑنے کا مطلب اُس نظامِ صالح کے خلاف جنگ کرنا ہے جو اسلام کی حکومت نے ملک میں قائم کر رکھا ہو۔ اللہ تعالیٰ کی مرضی یہ ہے اور اسی کے لیے اس نے اپنا رسول بھیجا تھا کہ زمین میں ایک ایسا صالح نظام قائم ہو جو انسان اور حیوان اور درخت اور ہر اُس چیز کو جو زمین پر ہے ، امن بخشے ، جس کے تحت انسانیت اپنی فطرت کے کمال مطلوب کو پہنچ سکے ،جس کے تحت زمین کے وسائل اس طرح استعمال کیے جائیں کہ وہ انسان کی ترقی میں مددگار ہوں نہ کہ اس کی تباہی و بربادی میں۔ ایسا نظام جب کسی سر زمین میں قائم ہو جائے تو اس کو خراب کرنے کی سعی کرنا، قطع نظر اس سے کہ وہ چھوٹے پیمانے پر قتل و غارت اور رہزنی و ڈکیتی کی حد تک ہو یا بڑے پیمانے پر اس صالح نظام کو اُلٹنے اور اس کی جگہ کوئ فاسد نظام قائم کر دینے کے لیے ، دراصل وہ خدا اور اس کے رسُول ؐ کے خلاف جنگ ہے۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے تعزیراتِ ہند میں ہر اُس شخص کو جو ہندوستان کی برطانوی حکومت کا تختہ اُلٹنے کی کوشش کرے ’’ بادشاہ کے خلاف لڑائی‘‘(Waging war against the King) کا مجرم قرار دیا گیا ، چاہے اس کی کاروائی ملک کے کسی دُور دراز گوشے میں ایک معمُولی سپاہی کے خلاف ہی کیوں نہ ہو اور بادشاہ اس کی دست رس سے کتنا ہی دُور ہو۔

۵۶-یہ مختلف سزائیں بر سبیلِ اجمال بیان کر دی گئی ہیں تاکہ قاضی یا امامِ وقت اپنے اجتہاد پر مُجرم کو اس کے جُرم کی نوعیت کے مطابق سزا دے۔ اصل مقصُود یہ ظاہر کرنا ہے کہ کسی شخص کا اسلامی حکومت کے اندر رہتے ہوئے اسلامی نظام کو اُلٹنے کی کوشش کرنا بدترین جُرم ہے اور اسے ان انتہائی سزاؤں میں سے کوئی سزا دی جا سکتی ہے۔

۵۷-یعنی اگر وہ سعِی فساد سے باز آ گئے ہوں، اور صالح نظام کو درہم برہم کرنے یا اُلٹنے کی کوشش چھوڑ چکے ہوں، اُن کا بعد کا طرزِ عمل ثابت کر رہا ہو کہ وہ امن پسند، مطیع قانون، اور نیک چلن انسان بن چکے ہیں، اور اس کے بعد اُن کے سابق جرائم کا پتہ چلے ، تو اُن سزاؤں میں سے کوئی سزا اُن کو نہ دی جائے گی جو اُپر بیان ہوئی ہیں۔ البتہ آدمیوں کے حقوق پر اگر کوئی دست درازی انہوں نے کی تھی تو اس کی ذمّہ داری ان پر سے ساقط نہ ہو گی۔ مثلاً اگر کسی انسان کو انہوں نے قتل کیا تھا یا کسی کا مال لیا تھا یا کوئی اور جُرم انسانی جان و مال کے خلاف کیا تھا تو اسی جرم کے بارے میں فوجداری مقدمۃسزا  انسانون ٔ ے کہ دُسرے پہلوو ان پر قائم کیا جائے گا، لیکن بغاوت اور غدّاری اور خدا اور رسول کے خلاف محاربہ کا کوئی مقدمہ نہ چلایا جائے گا۔

 

ترجمہ

رجمہ

ی قاعدہ کے مطابق رشتہ دار

اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اللہ سے ڈرو اور اُس کی جناب میں بار یابی کا ذریعہ تلاش کرو ۵۸ اور اس کی راہ میں جدوجہد کرو،۵۹ شاید کہ تمہیں کامیابی نصیب ہو جائے۔ میں چاہتا ہوں کہ میرا اور اپنا گناہ تُو ہی سمیٹ لے  اور چور، خواہ عورت ہو یا مرد، دونوں کے ہاتھ کاٹ دو،۶۰ یہ اُن کی کمائی کا بدلہ ہے اور اللہ کی طرف سے عبرت ناک سزا۔ اللہ کی قدرت سب پر غالب ہے اور وہ دانا ہ بینا ہے۔پھر جو ظلم کرنے کے بعد توبہ کرے اور اپنی اصلاح کر لے تو اللہ کی نظرِ عنایت پھر اس پر مائل ہو جائے گی،۶۱ اللہ بہت درگزر کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے۔کیا تم جانتے نہیں ہو کہ اللہ زمین اور آسمانوں کی سلطنت کا مالک ہے ؟ جسے چاہے سزا دے اور جسے چاہے معاف کر دے ، وہ ہر چیز کا اختیار رکھتا ہے۔ اے پیغمبرؐ ! تمہارے لیے باعث رنج نہ ہوں وہ لوگ جو کفر کی راہ میں بڑی تیز گامی دکھا رہے ہیں۔۶۲ خواہ وہ اُن میں سے ہوں جو منّہ سے کہتے ہیں، ہم ایمان لائے مگر دل اُن کے ایمان نہیں لائے ، یا اُن میں سے ہوں جو یہودی بن گئے ہیں، جن کا حال یہ ہے کہ جھُوٹ کے لیے کان لگاتے ہیں،۶۳ اور دُوسرے لوگوں کی خاطر، جو تمہارے پاس کبھی نہیں آئے ، سُن گُن لیتے پھرتے ہیں،۶۴ کتاب اللہ کے الفاظ کو اُن کا صحیح محل متعیّن ہونے کے باوجود اصل معنی سے پھیرتے ہیں،۶۵ اور لوگوں سے کہتے ہیں کہ اگر تمہیں یہ حکم دیا جائے تو مانو، نہیں تو نہ مانو۔۶۶ جسے اللہ ہی نے فتنہ میں ڈالنے کا ارادہ کر لیا ہو اس کو اللہ کی گرفت سے بچانے کے لیے تم کچھ نہیں کر سکتے ،۶۷ یہ وہ لوگ ہیں جن کے دلوں کو اللہ نے پاک کرنا نہ چاہا،۶۸ ان کے لیے دُنیا میں رُسوائی ہے اور آخرت میں سخت سزا۔ یہ جھُوٹ سُننے والے اور حرام کے مال کھانے والے ہیں،۶۹ لہٰذا اگر یہ تمہارے پاس (اپنے مقدمات لے کر) آئیں تو تمہیں اختیار دیا جاتا ہے کہ چاہو ان کا فیصلہ کرو ورنہ انکار کر دو۔ انکار کر دو تو یہ تمہارا کچھ بگاڑ نہیں سکتے ، اور فیصلہ کرو تو پھر ٹھیک ٹھیک انصاف کے ساتھ کرو کہ اللہ انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔۔۔۔۷۰ اور یہ تمہیں کیسے حَکم بناتے ہیں جبکہ ان کے پاس توراۃ موجود ہے جس میں اللہ کا حکم لکھا ہوا ہے اور پھر یہ اس سے منہ موڑ رہے ہیں؟۷۱ اصل بات یہ ہے کہ یہ لوگ ایمان ہی نہیں رکھتے۔ ؏٦

 

تفسیر

 

۵۸-یعنی ہر اُس ذریعہ کے طالب اور جویاں رہو جس سے تم اللہ کا تقرب حاصل کر سکو اور اس کی رضا کو پہنچ سکو۔

۵۹-اصل میں لفظ جَاھِدُوْ استعمال فرمایا گیا ہے جس کا مفہُوم محض ’’جدوجہد‘‘ سے پُوری طرح واضح نہیں ہوتا۔ مجاہدہ کا لفظ مقابلہ کا مقتضی ہے اور اس کا صحیح مفہُوم یہ ہے کہ جو قوتیں اللہ کی راہ میں مزاحم ہیں، جو تم کو خد اکی مرضی کے مطابق چلنے سے روکتی اور اس کی راہ سے ہٹانے کی کوشش کرتی ہیں ، جو تم کو پُوری طرح خدا کی بندہ بن کر نہیں رہنے دیتیں اور تمہیں اپنا یا کسی غیر اللہ کا بندہ بننے پر مجبُور کرتی ہیں، ان کے خلاف اپنی تمام امکانی طاقتوں سے کشمکش اور جدو جہد کرو۔ اسی جدوجہد پر تمہاری فلاح و کامیابی کا اور خدا سے تمہارے تقرب کا انحصار ہے۔

اس طرح یہ آیت بندۂ  مومن کو ہر محاذ پر چو مُکھی لڑائی لڑنے کی ہدایت کرتی ہے۔ ایک طرف ابلیسِ لعین اور اس کا شیطانی لشکر ہے۔ دُوسری طرف آدمی کا اپنا نفس اور اس کی سرکش خواہشات ہیں۔ تیسری طرف خدا سے پھرے ہوئے بہت سے انسان ہیں جن کے ساتھ آدمی ہر قسم کے معاشرتی ، تمدّنی اور معاشی تعلقات میں بندھا ہوا ہے۔ چوتھی طرف وہ غلط مذہبی ، تمدّنی اور سیاسی نظام ہیں جو خدا سے بغاوت پر قائم ہوئے ہیں اور بندگیِ حق کے بجائے بندگیِ باطل پر انسان کو مجبُور کرتے ہیں۔ ان سب کے حربے مختلف ہیں مگر سب کی ایک ہی کوشش ہے کہ آدمی کو خدا کے بجائے اپنا مطیع بنائیں۔ بخلاف اس کے آدمی کی ترقی کا اور تقربِ خداوندی کے مقام تک اس کے عُروج کا انحصار بالکلیہ اس پر ہے کہ وہ سراسر خدا کا مطیع اور باطن سے لے کر ظاہر تک خالصتًہ اس کا بندہ بن جائے۔ لہٰذا اپنے مقصُود تک اس کا پہنچنا بغیر اِس کے ممکن نہیں ہے کہ وہ اِن تمام مانع و مزاحم قوتوں کے خلاف بیک وقت جنگ آزما ہو، ہر وقت ہر حال میں ان سے کشمکش کرتا رہے اور ان ساری رُکاوٹوں کو پامال کرتا ہوا خدا کی راہ میں بڑھتا چلا جائے۔

خُوب جان لو کہ جن لوگوں نے کفر کا رویہ اختیار کیا ہے ، اگر اُن کے قبضہ میں ساری زمین کی دولت ہو اور اتنی ہی اور اس کے ساتھ، اور وہ چاہیں کہ اسے فدیہ میں دے کر روزِ قیامت کے عذاب سے بج جائیں، تب بھی وہ ان سے قبول نہ کی جائے گی اور انہیں درد ناک سزا مِل کر رہے گی۔وہ چاہیں گے کہ دوزخ کی آگ سے نِکل بھاگیں مگر نہ نکل سکیں گے اور انہیں قائم رہنے والا عذاب دیا جائے گا۔

۶۰-دونوں ہاتھ نہیں بلکہ ایک ہاتھ۔ اور اُمّت کا اس پر بھی اتفاق ہے کہ پہلی چوری پر سیدھا ہاتھ کاٹا جائے گا۔ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے یہ ہدایت بھی فرمائی ہے کہ لا قطع علیٰ خَائنٍ۔ اس سے معلوم ہوا کہ سرقہ کا اطلاق خیانت وغیرہ پر نہیں ہوتا بلکہ صرف اِس فعل پر ہوتا ہے کہ آدمی کسی کے مال کو اس کی حفاظت سے نکال کر اپنے قبضہ میں کر لے۔

پھر نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے یہ ہدایت بھی فرمائی ہے کہ ایک ڈھال کی قیمت سے کم کی چوری میں ہاتھ نہ کاٹا جائے۔ ایک ڈھال کی قیمت نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے زمانہ میں بروایت عبداللہ بن عباس ؓ دس درہم ، بروایت ابن عمر ؓ تین درہم، بروایت انس بن مالک ؓ پانچ درہم اور بروایت حضرت عائشہ ؓ ایک چوتھائی دینار ہوتی تھی۔ اسی اختلاف کی بنا پر فقہا کے درمیان کم سے کم نصابِ سرقہ میں اختلاف ہوا ہے۔ امام ابو حنیفہ ؒ کے نزدیک سرقہ کا نصاب دس درہم ہے اور امام مالک ؒ شافعیؒ اور احمدؒ کے نزدیک چوتھائی دینار۔ (اُس زمانہ کے درہم میں تین ماشہ ۱- ۱/۵ رتی چاندی ہوتی تھی۔ اور ایک چوتھا ئی دینار ۳ درہم کے برابر تھا)۔

(پھر بہت سی چیزیں ایسی ہیں کہ جن کی چوری میں ہاتھ کاٹنے کی سزا نہ دی جائے گی۔ مثلاً نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی ہدایت ہے کہ لا قطع فی ثمرۃ ولا کثر( پھل اور ترکاری کی چوری میں ہاتھ نہ کاٹا جائے )۔ لاقطع فی طعام( کھانے کی چوری میں قطعِ ید نہیں ہے۔)۔ اور حضرت عائشہ ؓ کی حدیث ہے کہ لم یکن قطع السارق علی عھد رسُول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم فی الشئ التافہ(حقیر چیزوں کی چوری میں نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے زمانہ میں ہاتھ نہیں کاٹا جاتا تھا)۔ حضرت علی ؓ اور حضرت عثمان ؓ کا فیصلہ ہے اور صحابہ کرام میں سے کسی نے اس سے اختلاف نہیں کیا کہ لا قطع فی الطّیر( پرندے کی چوری میں ہاتھ کاٹنے کی سزا نہیں ہے )۔ نیز سیّدنا عمر و علی رضی اللہ عنہما نے بیت المال سے چوری کرنے والے کا ہاتھ بھی نہیں کاٹا اور اس معاملہ میں بھی صحابہ کرام میں سے کسی کا اختلاف منقول نہیں ہے۔ اِن مآخذ کی بُنیاد پر مختلف ائمہ فقہ نے مختلف چیزوں کو قطعِ ید کے حکم سے مستثنیٰ قرار دیا ہے۔ امام ابو حنیفہ ؒ کے نزدیک ترکاریاں ، پھل ، گوشت ، پکا ہوا کھانا، غلّہ جس کا ابھی کھلیان نہ کیا گیا ہے ، کھیل اور گانے بجانے کے آلات وہ چیزیں ہیں جن کی چوری میں قطعِ ید کی سزا نہیں ہے۔ نیز جنگل میں چَرتے ہوئے جانوروں کی چوری اور بیت المال کی چوری میں بھی وہ قطعِ ید کے قائل نہیں ہیں۔ اِسی طرح دُوسرے ائمّہ نے بھی بعض چیزوں کو اس حکم سے مستثنیٰ قرار دیا ہے۔ لیکن اس کے معنی یہ نہیں ہیں کہ اِن چوریوں پر سرے سے کوئی سزا ہی نہ دی جائے گی۔ مطلب یہ ہے کہ ان جرائم میں ہاتھ نہ کاٹا جائے گا۔

۶۱-اس کا یہ مطلب نہیں کہ اس کا ہاتھ نہ کاٹا جائے ، بلکہ مطلب یہ ہے کہ ہاتھ کٹنے کے بعد جو شخص توبہ کر لے اور اپنے نفس کو چوری سے پاک کر کے اللہ کا صالح بندہ بن جائے وہ اللہ کے غضب سے بچ جائے گا ، اور اللہ اس کے دامن سے اس داغ کو دھو دے گا۔ لیکن اگر کسی شخص نے ہاتھ کٹوا نے کے بعد بھی اپنے آپ کو بدنیتی سے پاک نہ کیا اور وہی گندے جذبات اپنے اندر پرورش کیے جن کی بنا پر اس نے چوری کی اور اس کا ہاتھ کاٹا گیا ، تو اس کے معنی یہ ہیں کہ ہاتھ تو اس کے بدن سے جدا ہو گیا مگر چوری اس کے نفس میں بدستور موجود رہی، اس وجہ سے وہ خدا کے غضب کا اسی طرح مستحق رہے گا جس طرح ہاتھ کٹنے سے پہلے تھا۔ اِسی لیے قرآن مجید چور کو ہدایت کرتا ہے کہ وہ اللہ سے معافی مانگے اور اپنے نفس کی اصلاح کرے۔ کیونکہ ہاتھ کاٹنا تو انتظامِ تمدّن کے لیے ہے۔ اس سزا سے نفس پاک نہیں ہو سکتا۔ نفس کی پاکی صرف توبہ اور رُجوع اِلی اللہ سے حاصل ہوتی ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے متعلق احادیث میں مذکور ہے کہ ایک چور کا ہاتھ جب آپ کے حکم کے مطابق کاٹا جا چکا تو آپ ؐ نے اُسے اپنے پاس بلایا اور اس سے فرمایا قل اسْتغفر اللہ و اتوب الیہ۔’’کہہ میں خدا سے معافی چاہتا ہوں اور اس سے توبہ کرتا ہوں‘‘۔ اُس نے آپ ؐ کی تلقین کے مطابق یہ الفاظ کہے۔ پھر آپ ؐ نے اس کے حق میں دعا فرمائی کہ اَلّٰھُمَّ تُبْ عَلَیْہِ۔’’خدایا اسے معاف فر ما دے ‘‘۔

۶۲-یعنی جن کی ذہانتیں اور سرگرمیاں ساری کی ساری اس کوشش میں صرف ہو رہی ہیں کہ جاہلیت کی جو حالت پہلے سے چلی آ رہی ہے وہی برقرار رہے اور اسلام کی یہ اصلاحی دعوت اُس بگاڑ کو درست کرنے میں کامیاب نہ ہونے پائے۔ یہ لوگ تمام اخلاقی بندشوں سے آزاد ہو کر نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے خلاف ہر قسم کی رکیک سے رکیک چالیں چل رہے تھے۔ جان بُوجھ کر حق نِگل رہے تھے۔ نہایت بے باکی و جسارت کے ساتھ جھُوٹ ، فریب ، دغا اور مکر کے ہتھیاروں سے اُس پاک انسان کے کام کو شکست دینے کی کوشش کر رہے تھے جو کام بے غرضی کے ساتھ سراسر خیر خواہی کی بنا پر عام انسانوں کی اور خود اُن کی فلاح و بہبُود کے لیے شب و روز محنت کر رہا تھا۔ اُن کی اِن حرکات کو دیکھ دیکھ کر نبی صلی اللہ علیہ و سلم کا دل کُڑھتا تھا ، اور یہ کُڑھنا بالکل فطری امر تھا۔ جب کسی پاکیزہ انسان کو پست اخلاق لوگوں سے سابقہ پیش آتا ہے اور وہ محض اپنی جہالت اور خود غرضی و تنگ نظری کی بنا پر اس کی خیر خواہانہ مساعی کو روکنے کے لیے گھٹیا درجہ کی چال بازیوں سے کام لیتے ہیں تو فطرۃً اُس کا دل دُکھتا ہی ہے۔ پس اللہ تعالیٰ کے ارشاد کا منشا یہ نہیں ہے کہ اِن حرکات پر جو فطری رنج آپ کو ہوتا ہے وہ نہ ہونا چاہیے۔ بلکہ منشاء دراصل یہ ہے کہ اس سے آپ دل شکستہ نہ ہوں، ہمت نہ ہاریں، صبر کے ساتھ بندگانِ خدا کی اصلاح کے لیے کام کیے چلے جائیں۔ رہے یہ لوگ، تو جس قسم کے ذلیل اخلاق انہوں نے اپنے اندر پرورش کیے ہیں اُن کی بنا پر یہ روش ان سے عین متوقع ہے ، کوئی چیز اِن کی اس روش میں خلاف توقع نہیں ہے۔

۶۳-اس کے دو مطلب ہیں: ایک یہ کہ یہ لوگ چونکہ خواہشات کے بندے بن گئے ہیں اس لیے سچائی سے انہیں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ جھُوٹ ہی انہیں پسند آتا ہے اور اسی کو یہ جی لگا کر سُنتے ہیں ، کیونکہ ان کے نفس کی پیاس اُسی سے بُجھتی ہے۔ دوسرا مطلب یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم اور مسلمانوں کی مجلسوں میں یہ جھُوٹ کی غرض سے آ کر بیٹھتے ہیں تاکہ یہاں جو کچھ دیکھیں اور جو باتیں سُنیں اُن کو اُلٹے معنی پہنا کر یا ان کے ساتھ اپنی طرف سے غلط باتوں کی آمیزش کر کے آنحضرت ؐ اور مسلمانوں کو بدنام کرنے کے لیے لوگوں میں پھیلائیں۔

۶۴-اس کے بھی دو مطلب ہیں۔ ایک یہ کہ جاسوس بن کر آتے ہیں اور نبی صلی اللہ علیہ و سلم اور مسلمانوں کی مجلسوں میں اس لیے گشت لگاتے پھرتے ہیں کہ کوئی راز کی بات کان میں پڑے تو اسے آپ کے دُشمنوں تک پہنچائیں۔ دُوسرے یہ کہ جھُوٹے الزامات عائد کرنے اور افترا پردازیاں کرنے کے لیے مواد فراہم کرتے پھرتے ہیں تاکہ اُن لوگوں میں بدگمانیاں اور غلط فہمیاں پھیلائیں جن کو نبی صلی اللہ علیہ و سلم اور مسلمانوں سے براہِ راست تعلقات پیدا کرتے کا موقع نہیں ملا ہے۔

۶۵-یعنی توراۃ کے جو احکام ان کی خواہشات کے مطابق نہیں ہیں۔ ان کے اندر جان بُوجھ کر رد و بدل کرتے ہیں اور الفاظ کے معنی بدل کر من مانے احکام ان سے نکالتے ہیں۔

۶۶-یعنی جاہل عوام سے کہتے ہیں کہ جو حکم ہم بتا رہے ہیں ، اگر محمد صلی اللہ علیہ و سلم بھی یہی حکم تمہیں بتائیں تو اسے قبول کرنا ورنہ رد کر دینا۔

۶۷-اللہ کی طرف سے کسی کے فتنہ میں ڈالے جانے کا مطلب یہ ہے کہ جس شخص کے اندر اللہ تعالیٰ کسی قسم کے بُرے میلانات پرورش پاتے دیکھتا ہے اس کے سامنے پے در پے ایسے مواقع لاتا ہے جن میں اس کی سخت آزمائش ہوتی ہے۔ اگر وہ شخص ابھی بُرائی کی طرف پوری طرح نہیں جھکا ہے تو ان آزمائشوں سے سنبھل جاتا ہے اور اس کے اندر بدی کا مقابلہ کرنے کے لیے نیکی کی جو قوتیں موجود ہوتی ہیں وہ اُبھر آتی ہیں۔ لیکن اگر وہ بُرائی کی طرف پُوری طرح جھُک چکا ہوتا ہے اور اس کی نیکی اس کی بدی سے اندر ہی شکست کھا چکی ہوتی ہے تو ہر ایسی آزمائش کے موقع پر وہ اور زیادہ بدی کے پھندے میں پھنستا چلا جاتا ہے۔ یہی اللہ تعالیٰ کا وہ فتنہ ہے جس سے کسی بگڑتے ہوئے انسان کو بچا لینا اس کے کسی خیر خواہ کے بس میں نہیں ہوتا۔ اور اس فتنہ میں صرف افراد ہی نہیں ڈالے جاتے بلکہ قومیں بھی ڈالی جاتی ہیں۔

۶۸-اس لیے کہ انہوں نے خود پاک ہونا نہ چاہا۔ جو خود پاکیزگی کا خواہش مند ہوتا ہے اور اس کے لیے کوشش کرتا ہے اُسے پاکیزگی سے محرُوم کرنا اللہ کا دستور نہیں ہے۔ اللہ پاک کرنا اُسی کو نہیں چاہتا جو خود پاک ہونا نہ چاہے۔

۶۹-یہاں خاص طور پر اُن کے مفتیوں اور قاضیوں کی طرف اشارہ ہے جو جھُوٹی شہادتیں لے کر اور جھُوٹی رودادیں سُن کر اُن لوگوں کے حق میں انصاف کے خلاف فیصلے کیا کرتے تھے جن سے انہیں رشوت پہنچ جاتی تھی یا جن کے ساتھ ان کے ناجائز مفاد وابستہ ہوتے تھے۔

۷۰-یہودی اس وقت تک اسلامی حکومت کی باقاعدہ رعایا نہیں بنے تھے بلکہ اسلامی حکومت کے ساتھ ان کے تعلقات معاہدات پر مبنی تھے۔ ان معاہدات کی رُو سے یہودیوں کو اپنے اندرونی معاملات میں آزادی حاصل تھی اور ان کے مقدمات کے فیصلے انہی کے قوانین کے مطابق اُن کے اپنے جج کرتے تھے۔ نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس یا آپ کے مقرر کردہ قاضیوں کے پاس اپنے مقدمات لانے کے لیے وہ از رُوئے قانون مجبُور نہ تھے۔ لیکن یہ لوگ جن معاملات میں خود اپنے مذہبی قانون کے مطابق فیصلہ کرنا نہ چاہتے تھے اُن کا فیصلہ کرانے کے لیے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس اس اُمید پر آ جاتے تھے کہ شاید آپ کی شریعت میں ان کے لیے کوئی دُوسرا حکم ہو اور اس طرح وہ اپنے مذہبی قانون کی پیروی سے بچ جائیں۔

یہاں خاص طور پر جس مقدمہ کی طرف اشارہ ہے وہ یہ تھا کہ خیبر کے معزز یہودی خاندانوں میں سے ایک عورت اور ایک مرد کے درمیان ناجائز تعلق پایا گیا۔ توراۃ کی رُو سے ان کی سزا رجم تھی ، یعنی یہ کہ دونوں کو سنگسار کیا جائے ( استثناء – باب ۲۲ – آیت ۲۳ – ۲۴) لیکن یہودی اس سزا کو نافذ کرنا نہیں چاہتے تھے۔ اس لیے انہوں نے آپس میں مشورہ کیا کہ اس مقدمہ میں محمد صلی اللہ علیہ و سلم کو پنچ بنایا جائے۔ اگر وہ رجم کے سوا کوئی اَور حکم دیں تو قبول کر لیا جائے اور رجم ہی کا حکم دیں تو نہ قبول کیا جائے۔ چنانچہ مقدمہ آپ کے سامنے لایا گیا۔ آپ نے رجم کا حکم دیا۔ انہوں نے اس حکم کو ماننے سے انکار کیا۔ اس پر آپ نے پوچھا تمہارے مذہب میں اس کی کیا سزا ہے ؟ انہوں نے کہا کوڑے مارنا اور منہ کالا کر کے گدھے پر سوار کرنا۔ آپ نے ان کے علماء کو قسم دے کر اُ ن سے پوچھا ، کیا توراۃ میں شادی شدہ زانی اور زانیہ کی یہی سزا ہے ؟ انہوں نے پھر وہ جھوٹا جواب دیا۔ لیکن ان میں سے ایک شخص ابن صوریا، جو خود یہودیوں کے بیان کے مطابق اپنے وقت میں توراۃ کا سب سے بڑا عالم تھا، خاموش رہا۔ آپ نے اُس سے مخاطب ہو کر فرمایا کہ میں تجھے اُس خدا کی قسم دے کر پُوچھتا ہوں جس نے تم لوگوں کو فرعون سے بچایا اور طُور پر تمہیں شریعت عطا کی، کیا واقعی توراۃ میں زنا کی یہی سزا لکھی ہے ؟ اس نے جواب دیا کہ ’’اگر آپ مجھے ایسی بھاری قسم نہ دیتے تو میں نہ بتاتا۔ واقعہ یہ ہے کہ زنا کی سزا تو رجم ہی ہے مگر ہمارے ہاں جب زنا کی کثرت ہوئی تو ہمارے حُکّام نے یہ طریقہ اختیار کیا کہ بڑے لوگ زنا کرتے تو انہیں چھوڑ دیا جاتا اور چھوٹے لوگوں سے یہی حرکت سرزد ہوتی تو انہیں رجم کر دیا جاتا۔ پھر جب اس سے عوام میں ناراضی پیدا ہونے لگی تو ہم نے توراۃ کے قانون کو بدل کر یہ قاعدہ بنا لیا کہ زانی اور زانیہ کو کوڑے لگائے جائیں اور انہیں مُنہ کالا کر کے گدھے پر اُلٹے مُنہ سوار کیا جائے۔‘‘ اس کے بعد یہودیوں کے لیے کچھ بولنے کی گنجائش نہ رہی اور نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے حکم سے زانی اور زانیہ کو سنگسار کر دیا گیا۔

۷۱-اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اِن لوگوں کی بددیانتی کو بالکل بے نقاب کر دیا ہے۔ یہ ’’مذہبی لوگ‘‘ جنہوں نے تمام عرب پر اپنی دینداری اور اپنے علم کتاب کا سِکّہ جما رکھا تھا ، ان کی حالت یہ تھی کہ جس کتاب کو خود کتاب اللہ مانتے تھے اور جس پر ایمان رکھنے کے مدّعی تھے اُس کے حکم کو چھور کر نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس اپنا مقدمہ لائے تھے جن کے پیغمبر ہونے سے ان کو بشدّت انکار تھا۔ اس سے یہ راز بالکل فاش ہو گیا کہ یہ کسی چیز پر بھی صداقت کے ساتھ ایمان نہیں رکھتے ، دراصل ان کا ایمان اپنے نفس اور اس کی خواہشات پر ہے ، جسے کتاب اللہ مانتے ہیں اس سے صرف اس لیے مُنہ موڑتے ہیں کہ اس کا حکم ان کے نفس کو ناگوار ہے ، اور جسے معاذاللہ جھُوٹا مدّعیِ نبوّت کہتے ہیں اس کے پاس صرف اس امید پر جاتے ہیں کہ شاید وہاں سے کوئی ایسا فیصلہ حاصل ہو جائے جو ان کے منشاء کے مطابق ہو۔

 

ترجمہ

 

ہم نے توراۃ نازل کی جس میں ہدایت اور روشنی تھی۔ سارے نبی، جو مُسلِم تھے ، اُسی کے مطابق ان یہودی بن جانے والوں کے معاملات ۷۲ کا فیصلہ کرتے تھے ، اور اِسی طرح ربّانی اور اَحبار بھی ۷۳(اسی پر فیصلہ کا مدار رکھتے تھے ) کیونکہ انہیں کتاب اللہ کی حفاظت کا ذمہ دار بنایا گیا تھا اور وہ اس پر گواہ تھے۔ پس (اے گروہِ یہود !) تم لوگوں سے نہ ڈرو بلکہ مجھ سے ڈرو اور میری آیات کو ذرا ذرا سے معاوضے لے کر بیچنا چھوڑ دو۔ جو لوگ اللہ کے نازل کردہ قانون کے مطابق فیصلہ نہ کریں وہی کافر ہیں۔ توراۃ میں ہم نے یہودیوں پر یہ حکم لکھ دیا تھا کہ جان کے بدلے جان، آنکھ کے بدلے آنکھ، ناک کے بدلے ناک، کان کے بدلے کان، دانت کے بدلے دانت، اور تمام زخموں کے لیے برابر کا بدلہ۔۷۴ پھر جو قصاص کا صدقہ کر دے تو وہ اس کے لیے کَفّارہ ہے ،۷۵ اور جو لوگ اللہ کے نازل کردہ قانون کے مطابق فیصلہ نہ کریں وہی ظالم ہیں۔ پھر ہم نے ان پیغمبروں کے بعد مریمؑ  کے بیٹے عیسیٰؑ  کو بھیجا۔ توراۃ میں سے جو کچھ اس کے سامنے موجود تھا وہ اس کی تصدیق کرنے والا تھا۔ اور ہم نے اس کو انجیل عطا کی جس میں رہنمائی اور روشنی تھی اور وہ بھی توراۃ میں سے جو کچھ اُس وقت موجود تھا اُس کی تصدیق کرنے والی تھی ۷۶ اور خدا ترس لوگوں کے لیے سراسر ہدایت اور نصیحت تھی۔ ہمارا حکم تھا کہ اہلِ انجیل اس قانون کے مطابق فیصلہ کریں جو اللہ نے اس میں نازل کیا ہے اور جو لوگ اللہ کے نازل کردہ قانون کے مطابق فیصلہ نہ کریں وہی فاسق ہیں۔۷۷پھر اے محمد ؐ ! ہم نے تمہاری طرف یہ کتاب بھیجی جو حق لے کر آئی ہے اور الکتاب میں سے جو کچھ اس کے آگے موجود ہے اُس کی تصدیق کرنے والی ۷۸ اور اس کی محافظ و نگہبَان ہے۔۷۹ لہٰذا تم خدا کے نازل کردہ قانون کے مطابق لوگوں کے معاملات کا فیصلہ کرو اور جو حق تمہارے پاس آیا ہے اُس سے مُنّہ موڑ کر ان کی خواہشات کی پیروی نہ کرو۔۔۔۔ ۸۰ ہم نے تم میں سے ہر ایک کے لیے ایک شریعت اور ایک راہِ عمل مقرر کی۔ اگرچہ تمہارا خدا چاہتا تو تم سب کو ایک اُمّت بھی بنا سکتا تھا، لیکن اُس نے یہ اِس لیے کیا کہ جو کچھ اُس نے تم لوگوں کو دیا ہے اس میں تمہاری آزمائش کرے۔ لہٰذا بھلائیوں میں ایک دُوسرے سے سبقت لے جانے کی کوشش کرو۔ آخر کار تم سب کو خدا کی طرف پلٹ کر جانا ہے ، پھر وہ تمہیں اصل حقیقت بتا دے گا جس میں تم اختلاف کرتے رہے ۸۱ ہو۔۔۔۔۸۲ پس اے محمدؐ ! تم اللہ کے نازل کردہ قانون کے مطابق ان لوگوں کے معاملات کا فیصلہ کرو اور ان کی خواہشات کی پیروی نہ کرو۔ ہوشیار رہو کہ یہ لوگ تم کو فتنہ میں ڈال کر اُس ہدایت سے ذرہ برابر منحرف نہ کرنے پائیں جو خدا نے تمہاری طرف نازل کی ہے پھر اگر یہ اس سے منہ موڑیں تو جان لو کہ اللہ نے ان کے بعض گناہوں کی پاداش میں ان کو مبتلائے مصیبت کرنے کا ارادہ ہی کر لیا ہے ، اور یہ حقیقت ہے کہ اِن لوگوں میں سے اکثر فاسق ہیں۔ (اگر یہ خدا کے قانون سے مُنّہ موڑتے ہیں) تو کیا پھر جاہلیّت ۸۳ کا فیصلہ چاہتے ہیں؟ حالانکہ جو لوگ اللہ پر یقین رکھتے ہیں ان کے نزدیک اللہ سے بہتر فیصلہ کرنے والا کوئی نہیں ہے۔ ؏۷

 

تفسیر

 

۷۲-یہاں ضمناً اس حقیقت پر بھی متنبّہ کر دیا گیا کہ انبیاء سب کے سب ’’مسلم‘‘ تھے ، بخلاف اس کے یہ یہودی ’’اسلام ‘‘ سے ہٹ کر اور فرقہ بندی میں مبتلا ہو کر صرف ’’یہودی‘‘ بن کر رہ گئے تھے۔

۷۳-ربّانی = علماء – احبار = فقہاء

۷۴-تقابل کے لیے ملاحظہ ہو توراۃ کی کتاب خروج، باب ۲۱- آیت ۲۳-۲۵۔

۷۵-یعنی جو شخص صدقہ کی نیت سے قصاص معاف کر دے اس کے حق میں یہ نیکی اس کے بہت سے گناہوں کا کفارہ ہو جائے گا۔ اسی معنی میں نبی صلی اللہ علیہ و سلم کا یہ ارشاد ہے کہ من جرح فی جسدہ جراحۃ فتصدق بھا کفر عنہ ذنوبہ بمثل ما تصدق بہ۱۔ یعنی جس کے جسم میں کوئی زخم لگا یا گیا اور اس نے معاف کر دیا تو جس درجہ کی یہ معافی ہو گی اسی کے بقدر اس کے گناہ معاف کر دیے جائیں گے۔

۷۶-یعنی مسیح علیہ السّلام کوئی نیا مذہب لے کر نہیں آئے تھے بلکہ وہی ایک دین، جو تمام پچھلے انبیاء کا دین تھا، مسیح کا دین بھی تھا اور اسی کی طرف وہ دعوت دیتے تھے۔ توراۃ کی اصل تعلیمات میں سے جو کچھ ان کے زمانہ میں محفوظ تھا اس کو مسیح خود بھی مانتے تھے اور انجیل بھی اس کی تصدیق کرتی تھی(ملاحظہ ہو متی باب ۵ – آیت ۱۷- ۱۸)۔ قرآن اس حقیقت کا بار بار اعادہ کرتا ہے کہ خدا کی طرف سے جتنے انبیاء دُنیا کی کسی گوشے میں آئے ہیں اُن میں سے کوئی بھی پچھلے انبیاء کی تردید کے لیے اور ان کے کام کو ہٹا کر اپنا نیا مذہب چلانے کے لیے نہیں آیا تھا بلکہ ہر نبی اپنے پیشرو انبیاء کی تصدیق کرتا تھا اور اسی کام کو فروغ دینے کے لیے آتا تھا جسے اگلوں نے ایک پاک ورثہ کی حیثیت سے چھوڑا تھا۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے اپنی کوئی کتاب اپنی ہی پچھلی کتابوں کی تردید کرنے کے لیے کبھی نہیں بھیجی بلکہ اس کی ہر کتاب پہلے آئی ہوئی کتابوں کی مؤیّد اور مصدق تھی۔

۷۷-’’یہاں اللہ تعالیٰ نے اُن لوگوں کے حق میں جو خدا کے نازل کردہ قانون کے مطابق فیصلہ نہ کریں تین حکم ثابت کیے ہیں۔ ایک یہ کہ وہ کافر ہیں ، دوسرے یہ کہ وہ ظالم ہیں، تیسرے یہ کہ وہ فاسق ہیں۔ اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ جو انسان خدا کے حکم اور اس کے نازل کردہ قانون کو چھوڑ کر اپنے یا دُوسرے انسانوں کے بنائے ہوئے قوانین پر فیصلہ کرتا ہے ، وہ دراصل تین بڑے جرائم کا ارتکاب کرتا ہے۔ اوّلاً اس کا یہ فعل حکمِ خداوندی کے انکار کا ہم معنی ہے اور یہ کفر ہے۔ ثانیاً اس کا یہ فعل عدل و انصاف کے خلاف ہے ، کیونکہ ٹھیک ٹھیک عدل کے مطابق جو حکم ہو سکتا تھا وہ تو خدا نے دے دیا تھا ، اس لیے جب خدا کے حکم سے ہٹ کر اس نے فیصلہ کیا تو ظلم کیا۔ تیسرے یہ کہ بندہ ہونے کے باوجود جب اس نے اپنے مالک کے قانون سے منحرف ہو کر اپنا یا کسی دُوسرے کا قانون نافذ کیا تو درحقیقت بندگی و اطاعت کے دائرے سے باہر قدم نکالا اور یہی فسق ہے۔ یہ کفر اور ظلم اور فسق اپنی نوعیت کے اعتبار سے لازماً انحراف از حکمِ خداوندی کی عین حقیقت میں داخل ہیں۔ ممکن نہیں ہے کہ جہاں وہ انحراف موجود ہو وہاں تینوں چیزیں موجود نہ ہوں۔ البتہ جس طرح انحراف کے درجات و مراتب میں فرق ہے اسی طرح ان تینوں چیزوں کے مراتب میں بھی فرق ہے۔ جو شخص حکمِ الٰہی کے خلاف اس بنا پر فیصلہ کرتا ہے کہ وہ اللہ کے حکم کو غلط اور اپنے یا کسی دُوسرے انسان کے حکم کو صحیح سمجھتا ہے وہ مکمل کافر اور ظالم اور فاسق ہے۔ اور جو اعتقاداً حکمِ الٰہی کو برحق سمجھتا ہے مگر عملاً اس کے خلاف فیصلہ کرتا ہے وہ اگر چہ خارج از مِلّت تو نہیں ہے مگر اپنے ایمان کو کفر، ظلم اور فسق سے مخلوط کر رہا ہے۔ اِسی طرح جس نے تمام معاملات میں حکمِ الٰہی سے اِنحراف اختیار کر لیا ہے وہ تمام معاملات میں کافر، ظالم اور فاسق ہے۔ اور جو بعض معاملات میں مطیع اور بعض میں منحرف ہے اس کی زندگی میں ایمان و اسلام اور کفر و ظلم و فسق کی آمیزش ٹھیک ٹھیک اسی تناسب کے ساتھ ہے جس تناسب کے ساتھ اس نے اطاعت اور انحراف کو ملا رکھا ہے۔ بعض اہلِ تفسیر نے ان آیات کے اہلِ کتاب کے ساتھ مخصُوص قرار دینے کی کوشش کی ہے۔ مگر کلامِ الٰہی کے الفاظ میں اس تاویل کے لیے کوئی گنجائش موجود نہیں۔ اس تاویل کا بہترین جواب وہ ہے جو حضرت حذیفہ ؓ نے دیا ہے۔ ان سے کسی نے کہا کہ یہ تینوں آیتیں تو بنی اسرائیل کے حق میں ہیں۔ کہنے والے کا مطلب یہ تھا کہ یہودیوں میں جس نے خدا کے نازل کردہ حکم کے خلاف فیصلہ کیا ہو وہی کافر ، وہی ظالم اور وہی فاسق ہے۔ اس پر حضرت حذیفہ ؓ نے فرمایا نعم الاخرۃ لکم بنو اسرائیل اَن کانت لھم کل مُرّ ۃ ولکم کل حلوۃ کلّا واللہ لتسلکن طریقھم قدر الشراک۔’’ کتنے اچھے بھائی ہیں تمہارے لیے یہ بنی اسرائیل کہ کڑوا کڑوا سب اُن کے لیے ہے اور میٹھا میٹھا سب تمہارے لیے ! ہرگز نہیں ، خدا کی قسم تم انہی کے طریقہ پر قدم بقدم چلو گے۔

۷۸-یہاں ایک اہم حقیقت کی طرف اشارہ فرمایا گیا ہے۔ اگرچہ اس مضمون کو یوں بھی ادا کیا جا سکتا تھا کہ ’’پچھلی کتابوں‘‘ میں سے جو کچھ اپنی اصلی اور صحیح صورت پر باقی ہے ، قرآن اس کی تصدیق کرتا ہے ، لیکن اللہ تعالیٰ نے ’’پچھلی کتابوں‘‘ کے بجائے ’’الکتاب‘‘ کا لفظ استعمال فرمایا۔ اس سے یہ راز منکشف ہوتا ہے کہ قرآن اور تمام وہ کتابیں جو مختلف زمانوں اور مختلف زبانوں میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوئیں، سب فی الاصل ایک ہی کتاب ہیں۔ ایک ہی ان کا مصنّف ہے ، ایک ہی ان کا مدّعا اور مقصد ہے ، ایک ہی ان کی تعلیم ہے ، اور ایک ہی علم ہے جو ان کے ذریعہ سے نوع انسانی کو عطا کیا گیا۔ فرق اگر ہے تو عبارات کا ہے جو ایک ہی مقصد کے لیے مختلف مخاطبوں کے لحاظ سے مختلف طریقوں سے اختیار کی گئیں۔ پس حقیقت صرف اتنی ہی نہیں ہے کہ یہ کتابیں ایک دوسرے کی مخالف نہیں، مؤ یّد ہیں، تردید کرنے والی نہیں، تصدیق کرنے والی ہیں۔ بلکہ اصل حقیقت اس سے کچھ بڑھ کر ہے اور وہ یہ ہے کہ یہ سب ایک ہی ’’الکتاب‘‘ کے مختلف ایڈیشن ہیں۔

۷۹-اصل میں لفظ ’’مھَُیْمِنْ‘‘ استعمال ہوا ہے۔ عربی میں ھیمن یھمن ھیمنۃ کے معنی محافظت، نگرانی ، شہادت، امانت ، تائد اور حمایت کے ہیں۔ ھیمن الرجل الشئ، یعنی آدمی نے فلاں چیز کی حفاظت و نگہبانی کی۔ ھیمن الطائر علیٰ فراخہ۱، یعنی پرندے نے اپنے چُوزے کو اپنے پروں میں لے کر محفوظ کر لیا۔ حضرت عمر ؓ نے ایک مرتبہ لوگوں سے کہا انی داعٍ فھیمنوا یعنی میں دُعا کر تا ہوں تم تائید میں آمین کہو۔ اسی سے لفظ ھمیَان ہے جسے اُردو میں ہمیانی کہتے ہیں، یعنی وہ تھیلی جس میں آدمی اپنا مال رکھ کر محفوظ کرتا ہے۔ پس قرآن کو ’’الکتاب‘‘ پر مھیمن کہنے کا مطلب یہ ہے کہ اس نے ان تمام برحق تعلیمات کو جو پچھلی کُتبِ آسمانی میں دی گئی تھیں، اپنے اندر لے کر محفوظ کر لیا ہے۔ وہ اِن پر نگہبان ہے اس معنی میں کہ اب ان کی تعلیمات برحق کا کوئی حصہ ضائع نہ ہونے پائے گا۔ وہ ان کا مؤیّد ہے اس معنی میں کہ ان کتابوں کے اندر خدا کا کلام جس حد تک موجود ہے قرآن سے اس کی تصدیق ہوتی ہے۔ وہ ان پر گواہ ہے اس معنی میں کہ ان کتابوں کے اندر خدا کے کلام اور لوگوں کے کلام کی جو آمیزش ہو گئی ہے قرآن کی شہادت سے اس کو پھر چھانٹا جا سکتا ہے ، جو کچھ ان میں قرآن کے مطابق ہے وہ خدا کا کلام ہے اور جو قرآن کے خلاف ہے وہ لوگوں کا کلام ہے۔

۸۰-یہ ایک جملۂ  معترضہ ہے جس سے مقصُود ایک سوال کی توضیح کرنا ہے جو اُوپر کے سلسلۂ  تقریر کو سُنے ہوئے مخاطب کے ذہن میں اُلجھن پیدا کر سکتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ جب تمام انبیاء اور تمام کتابوں کا دین ایک ہے ، اور یہ سب ایک دُوسرے کی تصدیق و تائید کرتے ہوئے آئے ہیں تو شریعت کی تفصیلات میں ان کے درمیان فرق کیوں ہے ؟ کیا بات ہے کہ عبادت کی صُورتوں میں ، حرام و حلال کی قیُود میں اور قوانینِ  تمدّن و معاشرت کے فروع میں مختلف انبیاء اور کُتبِ آسمانی کی شریعتوں کے درمیان تھوڑا بہت اختلاف پایا جاتا ہے ؟

۸۱-یہ مذکورہ بالا سوال کا پُورا جواب ہے۔ اس جواب کی تفصیل یہ ہے :

(۱) محض اختلاف شرائع کو اس بات کی دلیل قرار دینا غلط ہے کہ یہ شریعتیں مختلف مآخذ سے ماخوذ اور مختلف سر چشموں سے نکلی ہوئی ہے۔ دراصل وہ اللہ تعالیٰ ہی ہے جس نے مختلف قوموں کے لیے مختلف زمانوں اور مختلف حالات میں مختلف ضابطے مقرر فرمائے۔

(۲) بلاشبہ یہ ممکن تھا کہ شروع ہی سے تمام انسانوں کے لیے ایک ضابطہ مقرر کر کے سب کو ایک اُمّت بنا دیا جاتا۔ لیکن وہ فرق جو اللہ تعالیٰ نے مختلف انبیاء کی شریعتوں کے درمیان رکھا اُس کے اندر دُوسری بہت سی مصلحتوں کے ساتھ ایک بڑی مصلحت یہ بھی تھی کہ اللہ تعالیٰ اس طریقہ سے لوگوں کی آزمائش کرنا چاہتا تھا۔ جو لوگ اصل دین اور اس کی رُوح اور حقیقت کو سمجھتے ہیں، اور دین میں اِن ضوابط کی حقیقی حیثیت کو جانتے ہیں، اور کسی تعصّب میں مُبتلا نہیں ہیں وہ حق کو جس صُورت میں بھی وہ آئے گا پہچان لیں گے اور قبول کر لیں گے۔ اُن کو اللہ کے بھیجے ہوئے سابق احکام کی جگہ بعد کے احکام تسلیم کرنے میں کوئی تامّل نہ ہو گا۔ بخلاف اس کے جو لوگ رُوحِ دین سے بیگانہ ہیں اور ضوابط اور ان کی تفصیلات ہی کو اصل دین سمجھ بیٹھے ہیں، اور جنہوں نے خدا کی طرف سے آئی ہوئی چیزوں پر خود اپنے حاشیے چڑھا کر ان پر جمُود اور تعصّب اختیار کر لیا ہے وہ ہر اُس ہدایت کو رَد کرتے چلے جائیں گے جو بعد میں خدا کی طرف سے آئے۔ ان دونوں قسم کے آدمیوں کو ممیّز کرنے کے لیے یہ آزمائش ضروری تھی ، اس لیے اللہ تعالیٰ نے شرائع میں اختلاف رکھا۔

(۳) تمام شرائع سے اصل مقصُود نیکیوں اور بھلائیوں کو پانا ہے اور وہ اسی طرح حاصل ہو سکتی ہیں کہ جس وقت جو حکمِ خدا ہو اُس کی پَیروی کی جائے۔ لہٰذا جو لوگ اصل مقصد پر نگاہ رکھتے ہیں ان کے لیے شرائع کے اختلافات اور مناہج کے فروق پر جھگڑا کرنے کے بجائے صحیح طرزِ عمل یہ ہے کہ مقصد کی طرف اُس راہ سے پیش قدمی کریں جس کو اللہ تعالیٰ کی منظُوری حاصل ہو۔

(۴) جو اختلافات انسانوں نے اپنے جمُود ، تعصّب، ہٹ دھرمی اور ذہن کی اُپَج سے خود پیدا کر لیے ہیں اُن کا آخری فیصلہ نہ مجلس مناظرہ میں ہو سکتا ہے نہ میدانِ جنگ میں۔ آخری فیصلہ اللہ تعالیٰ خود کرے گا جبکہ حقیقت بے نقاب کر دی جائے گی اور لوگوں پر منکشف ہو جائے گا کہ جن جھگڑوں میں وہ عمریں کھپا کر دُنیا سے آئے ہیں اُن کی تہ میں ’’حق‘‘ کا جوہر کتنا تھا اور باطل کے حاشیے کس قدر۔

۸۲-یہاں سے پھر وہی سلسلۂ  تقریر چل پڑتا ہے جو اُوپر سے چلا آ رہا تھا۔

۸۳-جاہلیّت کا لفظ اسلام کے مقابلہ میں استعمال کیا جاتا ہے۔ اسلام کا طریقہ سراسر علم ہے کیونکہ اس کی طرف خدا نے رہنمائی کی ہے جو تمام حقائق کا علم رکھتا ہے۔ اور اس کے برعکس ہر وہ طریقہ جو اسلام سے مختلف ہے جاہلیّت کا طریقہ ہے۔ عرب کے زمانۂ  قبلِ اسلام کو جاہلیّت کا دَور اسی معنی میں کہا گیا ہے کہ اس زمانہ میں علم کے بغیر محض وہم یا قیاس و گمان یا خواہشات کی بنا پر انسانوں نے اپنے لیے زندگی کے طریقے مقرر کر لیے تھے۔ یہ طرزِ عمل جہاں جس دَور میں بھی انسان اختیار کریں اسے بہرحال جاہلیّت ہی کا طرزِ عمل کہا جائے گا۔ مدرسوں اور یونیورسٹیوں میں جو کچھ پڑھایا جاتا ہے وہ محض ایک جُزوی عِلم ہے اور کسی معنی میں بھی انسان کی رہنمائی کے لیے کافی نہیں ہے۔ لہٰذا خدا کے دیے ہوئے عِلم سے بے نیاز ہو کر جو نظامِ زندگی اِس جُزوی عِلم کے ساتھ ظنون و اوہام اور قیاسات و خواہشات کی آمیزش کر کے بنا لیے گئے ہیں وہ بھی اُسی طرح  ’’جاہلیت‘‘ کی تعریف میں آتے ہیں جس طرح قدیم زمانے کے جاہلی طریقے اِس تعریف میں آتے ہیں۔

 

ترجمہ

 

اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! یہودیوں اور عیسائیوں کو اپنا رفیق نہ بناؤ، یہ آپس ہی میں ایک دُوسرے کے رفیق ہیں۔ اور اگر تم میں سے کوئی ان کو اپنا رفیق بناتا ہے تو اس کا شمار بھی پھر انہی میں ہے ، یقیناً اللہ ظالموں کو اپنی رہنمائی سے محروم کر دیتا ہے۔ تم دیکھتے ہو کہ جن کے دلوں میں نفاق کی بیماری ہے وہ اُنہی میں دَوڑ دھُوپ کرتے پھرتے ہیں۔ کہتے ہیں ’’ہمیں ڈر لگتا ہے کہ کہیں ہم کسی مصیبت کے چکّر میں نہ پھنس جائیں‘‘۔۸۴ مگر بعید نہیں کہ اللہ جب تمہیں فیصلہ کُن فتح بخشے گا یا اپنی طرف سے کوئی اور بات ظاہر کرے گا ۸۵ تو یہ لوگ اپنے اِس نفاق پر جسے یہ دلوں میں چھُپائے ہوئے ہیں نادم ہوں گے۔ اور اُس وقت اہل ایمان کہیں گے ’’کیا یہ وہی لوگ ہیں جو اللہ کے نام سے کڑی کڑی قسمیں کھا کر یقین دلاتے تھے کہ ہم تمہارے ساتھ ہیں‘‘؟۔۔۔۔ان کے سب اعمال ضائع ہو گئے اور آخر کار یہ ناکام ہ نامراد ہو کر رہے۔۸۶ اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اگر تم میں سے کوئی اپنے دین سے پھرتا ہے (تو پھر جائے ) اللہ اور بہت سے لوگ ایسے پیدا کر دے گا جو اللہ کو محبُوب ہوں گے اور اللہ اُن کو محبُوب ہو گا، جو مومنوں پر نرم اور کفّار پر سخت ہوں گے ،۸۷ جو اللہ کی راہ میں جدوجہد کریں گے اور کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہ ڈریں گے۔۸۸ یہ اللہ کا فضل ہے ، جسے چاہتا ہے عطا کرتا ہے۔ اللہ وسیع ذرائع کا مالک ہے اور سب کچھ جانتا ہے۔تمہارے رفیق تو حقیقت میں صرف اللہ اور اللہ کا رسول اور وہ اہلِ ایمان ہیں جو نماز قائم کرتے ہیں، زکوٰۃ دیتے ہیں اور اللہ کے آگے جھکنے والے ہیں۔ اور جو اللہ اور اس کے رسُول اور اہلِ ایمان کو اپنا رفیق بنا لے اُسے معلوم ہو کہ اللہ کی جماعت ہی غالب رہنے والی ہے۔ ؏۸

 

تفسیر

 

۸۴-اُس وقت تک عرب میں کفر اور اسلام کی کشمکش کا فیصلہ نہیں ہوا تھا۔ اگرچہ اسلام اپنے پیرووں کی سرفروشیوں کے سبب سے ایک طاقت بن چکا تھا لیکن مقابل کی طاقتیں بھی زبر دست تھیں۔ اسلام کی فتح کا جیسا امکان تھا ویسا ہی کفر کی فتح کا بھی تھا۔ اس لیے مسلمانوں میں جو لوگ منافق تھے وہ اسلامی جماعت میں رہتے ہوئے یہُودیوں اور عیسائیوں کے ساتھ بھی ربط و ضبط رکھنا چاہتے تھے تاکہ یہ کشمکش اگر اسلام کی شکست پر ختم ہو تو ان کے لیے کوئی نہ کوئی جائے پناہ محفوظ رہے۔ علاوہ بریں اُس وقت عرب میں عیسائیوں اور یہودیوں کی معاشی قوت سب سے زیادہ تھی۔ ساہوکارہ بیشتر انہی کے ہاتھ میں تھا۔ عرب کے بہترین سرسبز و شاداب خطے ان کے قبضہ میں تھے۔ ان کی سُود خواری کا جال ہر طرف پھیلا ہوا تھا۔ لہٰذا معاشی اسباب کی بنا پر بھی یہ منافق لوگ ان کے ساتھ اپنے سابق تعلقات برقرار رکھنے کے خواہش مند تھے۔ ان کا گمان تھا کہ اگر اسلام و کفر کی اس کشمکش میں ہمہ تن منہمک ہو کر ہم نے ان سب قوموں سے اپنے تعلقات منقطع کر لیے جن کے ساتھ اسلام اس وقت بر سرِ پیکار ہے تو یہ فعل سیاسی اور معاشی دونوں حیثیتوں سے ہمارے لیے خطر ناک ہو گا۔

۸۵-یعنی فیصلہ کُن فتح سے کم درجہ کی کوئی ایسی چیز جس سے عموماً لوگوں کو یہ یقین ہو جائے کہ ہار جیت کا آخری فیصلہ اسلام ہی کے حق میں ہو گا۔

۸۶-یعنی جو کچھ انہوں نے اسلام کی پَیروی میں کیا، نمازیں پڑھیں ، روزے رکھے ، زکوٰۃ دی، جہاد میں شریک ہوئے ، قوانینِ اسلام کی اطاعت کی، یہ سب کچھ اس بنا پر ضائع ہو گیا کہ ان کے دلوں میں اسلام کے لیے خلوص نہ تھا اور وہ سب سے کٹ کر صرف ایک خدا کے ہو کر نہ رہ گئے تھے بلکہ اپنی دُنیا کی خاطر انہوں نے اپنے آپ کو خدا اور اس کے باغیوں کے درمیان آدھا آدھا بانٹ رکھا تھا۔

۸۷-’’مومنوں پر نرم‘‘ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ ایک شخص اہلِ ایمان کے مقابلے میں اپنی طاقت کبھی استعمال نہ کرے۔ اُس کی ذہانت ، اُس کی ہوشیاری، اُس کی قابلیت، اُس کا رسُوخ و اثر، اُس کا مال، اُس کا جسمانی زور، کوئی چیز بھی مسلمانوں کو دبانے اور ستانے اور نقصان پہنچانے کے لیے نہ ہو۔ مسلمان اپنے درمیان اس کو ہمیشہ ایک نرم خو، رحم دل، ہمدرد اور حلیم انسان ہی پائیں۔

’’کفار پر سخت‘‘ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ ایک مومن آدمی اپنے ایمان کی پختگی ، دینداری کے خلُوص ، اصُول کی مضبُوطی، سیرت کی طاقت اور ایمان کی فراست کی وجہ سے مخالفینِ اسلام کے مقابلہ میں پتھر کی چٹان کے مانند ہو کہ کسی طرح اپنے مقام سے ہٹایا نہ جا سکے۔ وہ اسے کبھی موم کی ناک اور نرم چارہ نہ بنائیں۔ انہیں جب بھی اس سے سابقہ پیش آئے اُن پر یہ ثابت ہو جائے کہ یہ اللہ کا بندہ مر سکتا ہے مگر کسی قیمت پر بِک نہیں سکتا اور کسی دباؤ سے دب نہیں سکتا۔

۸۸-یعنی اللہ کے دین کی پَیروی کرنے میں، اُس کے احکام پر عمل  درآمد کرنے میں، اور اِس دین کی رُو سے جو کچھ حق ہے اُسے حق اور جو کچھ باطل ہے اُسے باطل کہنے میں اُنہیں کوئی باک نہ ہو گا۔ کسی کی مخالفت، کسی کی طعن و تشنیع ، کسی کے اعتراض اور کسی کی پھبتیوں اور آوازوں کی وہ پروا نہ کریں گے۔ اگر رائے عام اسلام کی مخالف ہو اور اسلام کے طریقے پر چلنے کے معنی اپنے آپ کو دُنیا بھر میں نکّو بنا لینے کے ہوں تب بھی وہ اسی راہ پر چلیں گے جسے وہ سچّے دل سے حق جانتے ہیں۔

 

ترجمہ

 

اے لوگو جو ایمان لائے ہو، تمہارے پیش رَو اہلِ کتاب میں سے جن لوگوں نے تمہارے دین کو مذاق اور تفریح کا سامان بنا لیا ہے ، اُنہیں اور دُوسرے کافروں کو اپنا دوست اور رفیق نہ بناؤ۔ اللہ سے ڈرو اگر تم مومن ہو۔ جب تم نماز کے لیے منادی کرتے ہو تو وہ اس کا مذاق اُڑاتے اور اس سے کھیلتے ہیں۔۸۹ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ عقل نہیں رکھتے۔۹۰ اِن سے کہو، ’’اے اہلِ کتاب ! تم جس بات پر ہم سے بگڑے ہو وہ اس کے سوا اور کیا ہے کہ ہم اللہ پر اور دین کی اُس تعلیم پر ایمان لے آئے ہیں جو ہماری طرف نازل ہوئی ہے اور ہم سے پہلے بھی نازل ہوئی تھی، اور تم میں سے اکثر لوگ فاسق ہیں؟‘‘ پھر کہو ’’کیا میں اُن لوگوں کی نشاندہی کروں جن کا انجام خدا کے ہاں فاسقوں کے انجام سے بھی بدتر ہے ؟ وہ جن پر خدا نے لعنت کی، جن پر اُس کا غضب ٹوٹا، جن میں سے بندر اور سُور بنائے گئے ، جنہوں نے طاغوت کی بندگی کی۔ ان کا درجہ اور بھی زیادہ بُرا ہے اور وہ سَوَاءُ السّبیل سے بہت زیادہ بھٹکے ہوئے ہیں‘‘۔۹۱ جب یہ تم لوگوں کے پاس آتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے ، حالانکہ کفر لیے ہوئے آئے تھے اور کفر ہی لیے ہوئے واپس گئے اور اللہ خوب جانتا ہے جو کچھ یہ دلوں میں چھُپائے ہوئے ہیں۔ تم دیکھتے ہو کہ ان میں سے بکثرت لوگ گناہ اور ظلم و زیادتی کے کاموں میں دَوڑ دھُوپ کرتے پھرتے ہیں اور حرام کے مال کھاتے ہیں۔ بہت بُری حرکات ہیں جو یہ کر رہے ہیں۔ کیوں اِن کے عُلماء اور مشائخ انہیں گناہ پر زبان کھولنے اور حرام کھانے سے نہیں روکتے ؟ یقیناً بہت ہی بُرا کارنامہ زندگی ہے جو وہ تیار کر رہے ہیں۔ یہُودی کہتے ہیں اللہ کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں۔۔۔۔۹۲ باندھے گئے ان کے ہاتھ،۹۳ اور لعنت پڑی اِن پر اُس بکواس کی بدولت جو یہ کرتے ہیں۔۔۔۔۹۴ اللہ کے ہاتھ تو کشادہ ہیں، جس طرح چاہتا ہے خرچ کرتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جو کلام تمہارے رب کی طرف سے تم پر نازل ہوا ہے وہ ان میں سے اکثر لوگوں کی سرکشی و باطل پرستی میں اُلٹے اضافہ کا موجب بن گیا ہے ،۹۵ اور (اس کی پاداش میں) ہم نے ان کے درمیان قیامت تک کے لیے عداوت اور دُشمنی ڈال دی ہے۔ جب کبھی یہ جنگ کی آگ بھڑکاتے ہیں اللہ اُس کو ٹھنڈا کر دیتا ہے۔ یہ زمین میں فساد پَھیلانے کی سعی کر رہے ہیں مگر اللہ فساد برپا کرنے والوں کو ہرگز پسند نہیں کرتا۔اگر (اِس سرکشی کے بجائے ) یہ اہلِ کتاب ایمان لے آتے اور خدا ترسی کی رَوَش اختیار کرتے تو ہم اِن کی بُرائیاں اِن سے دُور کر دیتے اور ان کو نعمت بھری جنتوں میں پہنچاتے۔ کاش انہوں نے توراۃ اور انجیل اور اُن دوسری کتابوں کو قائم کیا ہوتا جو اِن کے رب کی طرف سے اِن کے پاس بھیجی گئی تھیں۔ ایسا کرتے تو اِن کے لیے اُوپر سے رزق برستا اور نیچے سے اُبلتا۔۹۶ اگرچہ ان میں کچھ لوگ راست رَو بھی ہیں لیکن ان کی اکثریت سخت بد عمل ہے۔ ؏۹

 

تفسیر

 

۸۹-یعنی اذان کی آواز سُن کر اُس کی نقلیں اتارتے ہیں ، تمسخر کے لیے اس کے الفاظ بدلتے اور مسخ کرتے ہیں اور اس پر آوازے کستے ہیں۔

۹۰-یعنی ان کی یہ حرکتیں محض بے عقلی کا نتیجہ ہیں۔ اگر وہ جہالت اور نادانی میں مبتلا نہ ہوتے تو مسلمانوں سے مذہبی اختلاف رکھنے کے باوجود ایسی خفیف حرکات ان سے سرزد نہ ہوتیں۔ آخر کون معقول آدمی یہ پسند کر سکتا ہے کہ جب کوئی گروہ خدا کی عبادت کے لیے منادی کرے تو اس کا مذاق اُڑایا جائے۔

۹۱-لطیف اشارہ ہے خود یہُودیوں کی طرف، جن کی اپنی تاریخ یہ کہہ رہی ہے کہ بارہا وہ خدا کے غضب اور اس کی لعنت میں مُبتلا ہوئے ، سَبْت کا قانون توڑنے پر ان کی قوم کے بہت سے لوگوں کی صُورتیں مسخ ہوئیں، حتیٰ کہ وہ تنزّل کی اس انتہا کو پہنچے کہ طاغوت کی بندگی تک انہیں نصیب ہوئی۔ پس کہنے کا مطلب یہ ہے کہ آخر تمہاری بے حیائی اور مجرمانہ بے باکی کی کوئی حد بھی ہے کہ خود فسق و فجور اور انتہائی اخلاقی تنزل میں مُبتلا ہو اور اگر کوئی دُوسرا گروہ خدا پر ایمان لا کر سچّی دینداری کا طریقہ اختیار کرتا ہے تو اس کے پیچھے ہاتھ دھو کر پڑ جاتے ہو۔

۹۲-عربی محاورے کے مطابق کسی کے ہاتھ بندھے ہوئے ہونے کا مطلب یہ ہے کہ وہ بخیل ہے ، عطا اور بخشش سے اُس کا ہاتھ رُکا ہوا ہے۔ پس یہُودیوں کے اس قول کا مطلب یہ نہیں ہے کہ واقعی اللہ کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں ، بلکہ مطلب یہ ہے کہ اللہ بخیل ہے۔ چونکہ صدیوں سے یہُودی قوم ذلّت و نکبت کی حالت میں مُبتلا تھی اور اس کی گزشتہ عظمت محض ایک افسانۂ  پارینہ بن کر رہ گئی تھی جس کے پھر واپس آنے کا کوئی امکان اُنہیں نظر نہ آتا تھا ، اس لیے بالعمُوم اپنے قومی مصائب پر ماتم کرتے ہوئے اُس قوم کے نادان لوگ یہ بیہودہ فقرہ کہا کرتے تھے کہ معاذ اللہ خدا تو بخیل ہو گیا ہے ، اس کے خزانے کا مُنہ بند ہے ، ہمیں دینے کے لیے اس کے پاس آفات اور مصائب کے سوا اور کچھ نہیں رہا۔ یہ بات کچھ یہُودیوں تک ہی محدُود نہیں، دُوسری قوموں کے جُہلاء کا بھی یہی حال ہے کہ جب ان پر کوئی سخت وقت آتا ہے تو خدا کی طرف رجُوع کرنے کے بجائے وہ جل جل کر اس قسم کی گُستاخانہ باتیں کیا کرتے ہیں۔

۹۳-یعنی بخل میں یہ خود مُبتلا ہیں۔ دُنیا میں اپنے بُخل اور اپنی تنگ دلی کے لیے ضرب المثل بن چکے ہیں۔

۹۴-یعنی اس قسم کی گُستاخیاں اور طعن آمیز باتیں کر کے یہ چاہیں کہ خدا ان پر مہربان ہو جائے اور عنایات کی بارش کرنے لگے تو یہ کسی طرح ممکن نہیں۔ بلکہ ان باتوں کا اُلٹا نتیجہ یہ ہے کہ یہ لوگ خدا کی نظرِ عنایت سے اور زیادہ محرُوم اور اس کی رحمت سے اَور زیادہ دُور ہوتے جاتے ہیں۔

۹۵-یعنی بجائے اس کے کہ اس کلام کو سُن کر وہ کوئی مفید سبق لیتے ، اپنی غلطیوں اور غلط کاریوں پر متنبّہ ہو کر ان کی تلافی کرتے ، اور اپنی گِری ہوئی حالت کے اسباب معلوم کر کے اصلاح کی طرف متوجہ ہوتے ، اُن پر اس کا اُلٹا اثر یہ ہوا ہے کہ ضد میں آ کر انہوں نے حق و صداقت کی مخالفت شروع کر دی ہے۔ خیر و صلاح کے بھُولے ہوئے سبق کو سُن کر خود راہِ راست پر آنا تو درکنار ، اُن کی اُلٹی کوشش یہ ہے کہ جو آواز اس سبق کو یاد دلا رہی ہے اسے دبا دیں تاکہ کوئی دُوسرا بھی اسے نہ سُننے پائے۔

۹۶-بائیبل کی کتاب احبار(باب ۲۶) اور استثناء( باب ۲۸)’’ میں حضرت موسیٰ علیہ السّلام کی ایک تقریر نقل کی گئی ہے جس میں انہوں نے بنی اسرائیل کو بڑی تفصیل کے ساتھ بتایا ہے کہ اگر تم احکامِ الٰہی کی ٹھیک ٹھیک پیروی کرو گے تو کس کس طرح اللہ کی رحمتوں اور برکتوں سے نوازے جاؤ گے ، اور اگر کتاب اللہ کو پسِ پشت ڈال کر نافرمانیاں کرو گے تو کس طرح بلائیں اور مصیبتیں اور تباہیاں ہر طرف سے تم پر ہجوم کریں گی۔ حضرت موسیٰؑ  کی وہ تقریر قرآن کے اِس مختصر فقرے کی بہترین تفسیر ہے۔

 

ترجمہ

 

اے پیغمبر ؐ ! جو کچھ تمہارے رب کی طرف سے تم پر نازل کیا گیا ہے وہ لوگوں تک پہنچا دو۔ اگر تم نے ایسا نہ کیا تو اس کی پیغمبری کا حق ادا نہ کیا۔ اللہ تم کو لوگوں کے شر سے بچانے والا ہے۔ یقین رکھو کہ وہ کافروں کو (تمہارے مقابلہ میں) کامیابی کی راہ ہرگز نہ دکھائے گا۔ صاف کہہ دو کہ ’’اے اہلِ کتاب ! تم ہرگز کسی اصل پر نہیں ہو جب تک کہ توراۃ اور انجیل اور اُن دُوسری کتابوں کو قائم نہ کرو جو تمہارے رب کی طرف سے نازل کی گئی ہیں‘‘۔۹۷ ضرور ہے کہ یہ فرمان جو تم پر نازل کیا گیا ہے ان میں سے اکثر کی سرکشی اور انکار کو اور زیادہ بڑھا دے گا۔۹۸ مگر انکار کرنے والوں کے حال پر کچھ افسوس نہ کرو۔(یقین جانو کہ یہاں اجارہ کسی کا بھی نہیں ہے ) مسلمان ہوں یا یہودی، صابی ہوں یا عیسائی، جو بھی اللہ اور روزِ آخر پر ایمان لائے گا اور نیک عمل کرے گا بے شک اس کے لیے نہ کسی خوف کا مقام ہے نہ رنج کا۔۹۹ہم نے بنی اسرائیل سے پختہ عہد لیا اور اُن کی طرف بہت سے رسُول بھیجے ، مگر جب کبھی ان کے پاس کوئی رسُول اُن کی خواہشاتِ نفس کے خلاف کچھ لے کر آیا تو کسی کو اُنہوں نے جھُٹلایا اور کسی کو قتل کر دیا،اور اپنے نزدیک یہ سمجھے کہ کوئی فتنہ رُو نما نہ ہو گا، اس لیے اندھے اور بہرے بن گئے۔ پھر اللہ نے اُنہیں معاف کیا تو اُن میں سے اکثر لوگ اور زیادہ اندھے اور بہرے بنتے چلے گئے۔ اللہ اُن کی یہ سب حرکات دیکھتا رہا ہے۔ یقیناً کفر کیا اُن لوگوں نے جنہوں نے کہا کہ اللہ مسیح ابنِ مریم ہی ہے۔ حالانکہ مسیحؑ  نے کہا تھا کہ ’’اے بنی اسرائیل ! اللہ کی بندگی کرو جو میرا رب بھی ہے اور تمہارا رب بھی‘‘۔ جس نے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھیرایا اُس پر اللہ نے جنّت حرام کر دی اور اُس کا ٹھکانا جہنّم ہے اور ایسے ظالموں کا کوئی مددگار نہیں۔ یقیناً کفر کیا اُن لوگوں نے جنہوں نے کہا کہ اللہ تین میں کا ایک ہے ، حالانکہ ایک خدا کے سوا کوئی خدا نہیں ہے۔ اگر یہ لوگ اپنی ان باتوں سے باز نہ آئے تو ان میں سے جس جس نے کفر کیا ہے اُس کو درد ناک سزا دی جائے گی۔ پھر کیا یہ اللہ سے توبہ نہ کریں گے اور اس سے معافی نہ مانگیں گے ؟ اللہ بہت درگزر فرمانے والا اور رحم کرنے والا ہے۔ مسیحؑ  ابنِ مریمؑ  اِس کے سوا کچھ نہیں کہ بس ایک رسُول تھا، اُس سے پہلے اور بھی بہت سے رسُول گزر چکے تھے ، اس کی ماں ایک راستباز عورت تھی، اور وہ دونوں کھانا کھاتے تھے۔ دیکھو ہم کس طرح ان کے سامنے حقیقت کی نشانیاں واضح کرتے ہیں، پھر دیکھو یہ کدھر اُلٹے پھرے جاتے ہیں۔۱۰۰ اِن سے کہو، کیا تم اللہ کو چھوڑ کر اُس کی پرستش کرتے ہو جو نہ تمہارے لیے نقصان کا اختیار رکھتا ہے نہ نفع کا؟ حالانکہ سب کی سُننے والا اور سب کچھ جاننے والا تو اللہ ہی ہے۔ کہو، اے اہلِ کتاب ! اپنے دین میں ناحق غلُو نہ کرو اور اُن لوگوں کے تخیّلات کی پیروی نہ کرو جو تم سے پہلے خود گمراہ ہوئے اور بہتوں کو گمراہ کیا اور ’’سَوَاءُالسّبیل‘‘ سے بھٹک گئے۔۱۰۱ ؏١۰

 

تفسیر

 

۹۷-توراۃ اور انجیل کو قائم کرنے سے مراد راست بازی کے ساتھ ان کی پَیروی کرنا اور انہیں اپنا دستورِ زندگی بناتا ہے۔ اِس موقع پر یہ بات اچھی طرح ذہن نشین کر لینی چاہیے کہ بائیبل کے مجموعہ کتب مقدسہ میں ایک قسم کی عبارات تو وہ ہیں جو یہودی اور عیسائی مصنّفین نے بطورِ خود لکھی ہیں۔ اور دُوسری قسم کی عبارات وہ ہیں جو اللہ تعالیٰ کے ارشادات یا حضرت موسیٰؑ  ، عیسیٰؑ  اور دُوسرے پیغمبروں کے اقوال ہونے کی حیثیت سے منقول ہیں اور جن میں اس بات کی تصریح ہے کہ اللہ نے ایسا فرمایا یا فلاں نبی نے ایسا کہا۔ ان میں سے پہلی قسم کی عبارات کو الگ کر کے اگر کوئی شخص صرف دُوسری قسم کی عبارات کا تَتبّع کرے تو بآسانی یہ دیکھ سکتا ہے کہ ان کی تعلیم اور قرآن کی تعلیم میں کوئی نمایاں فرق نہیں ہے۔ اگرچہ مترجموں اور ناسخوں اور شارحوں کی در اندازی سے ، اور بعض جگہ زبانی راویوں کی غلطی سے ، یہ دُوسری قسم کی عبارات بھی پُوری طرح محفوظ نہیں رہی ہیں، لیکن اس کے باوجود کوئی شخص یہ محسُوس کیے بغیر نہیں رہ سکتا کہ ان میں بعینہ اسی خالص توحید کی دعوت دی گئی ہے جس کی طرف قرآن بُلا رہا ہے ، وہی عقائد پیش کیے گئے ہیں جو قرآن پیش کرتا ہے اور اسی طریقِ زندگی کی طرف رہنمائی کی گئی ہے جس کی ہدایت قرآن دیتا ہے۔ پس حقیقت یہ ہے کہ اگر یہُودی اور عیسائی اُسی تعلیم پر قائم رہتے جو اِن کتابوں میں خدا اور پیغمبروں کی طرف سے منقول ہے تو یقیناً نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی بعثت کے وقت وہ ایک حق پرست اور راست رَو گروہ پائے جاتے اور انہیں قرآن کے اندر وہی روشنی نظر آتی جو پچھلی کتابوں میں پائی جاتی تھی۔ اس صُورت میں ان کے لیے نبی صلی علیہ و سلم کی پَیروی اختیار کرنے میں تبدیلِ مذہب کا سرے سے کوئی سوال پیدا ہی نہ ہوتا بلکہ وہ اُسی راستہ کے تسلسل میں، جس پر وہ پہلے سے چلے آرہے تھے ، آپ کے متبع بن کر آگے چل سکتے تھے۔

۹۸-یعنی یہ بات سُن کر ٹھنڈے دل سے غور کرنے اور حقیقت کو سمجھنے کے بجائے وہ ضد میں آ کر اَور زیادہ شدید مخالفت شروع کر دیں گے۔

۹۹-دیکھو سورۃ بقرۃ ، آیت ۶۲ – و حاشیہ نمبر ۸۰-

۱۰۰-اِن چند لفظوں میں عیسائیوں کے عقیدہ ٔ اُلوہیّتِ مسیح کی ایسی صاف تردید کی گئی ہے کہ اس سے زیادہ صفائی ممکن نہیں ہے۔ مسیح کے بارے میں اگر کوئی یہ معلوم کرنا چاہے کہ فی الحقیقت وہ کیا تھا تو ان علامات سے بالکل غیر مشتبہ طور پر معلوم کر سکتا ہے کہ وہ محض ایک انسان تھا۔ ظاہر ہے کہ جو ایک عورت کے پیٹ سے پیدا ہوا ، جس کا شجرۂ نسب تک موجود ہے ، جو انسانی جسم رکھتا تھا، جو اُن تمام حدُود سے محدُود اور ان تمام قیُود سے مقیّد اور ان تمام صفات سے متصف تھا جو انسان کے لیے مخصُوص ہیں، جو سوتا تھا، کھاتا تھا، گرمی اور سردی محسوس کرتا تھا، حتیٰ کہ جسے شیطان کے ذریعہ سے آزمائش میں بھی ڈالا گیا ، اس کے متعلق کون معقول انسان یہ تصوّر کر سکتا ہے کہ وہ خود خدا ہے یا خدائی میں خدا کا شریک و سہیم ہے۔ لیکن یہ انسانی ذہن کی ضلالت پذیری کا ایک عجیب کرشمہ ہے کہ عیسائی خود اپنی مذہبی کتابوں میں مسیح کی زندگی کو صریحاً ایک انسانی زندگی پاتے ہیں اور پھر بھی اسے خدائی سے متصف قرار دینے پر اصرار کیے چلے جاتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ لوگ اُس تاریخی مسیح کے قائل ہی نہیں ہیں جو عالمِ واقعہ میں ظاہر ہوا تھا ، بلکہ انہوں نے خود اپنے وہم و گمان سے ایک خیالی مسیح تصنیف کر کے اُسے خدا بنا لیا ہے۔

۱۰۱-اشارہ ہے اُن گمراہ قوموں کی طرف جن سے عیسائیوں نے غلط عقیدہ اور باطل طریقے اخذ کیے۔ خصُوصاً فلاسفۂ  یونان کی طرف ، جن کے تخیلات سے متاثر ہو کر عیسائی اُس صراطِ مستقیم سے ہٹ گئے جس کی طرف ابتداءً ان کی رہنمائی کی گئی تھی۔ مسیح کے ابتدائی پَیرو جو عقائد رکھتے تھے وہ بڑی حد تک اُس حقیقت کے مطابق تھے جس کا مشاہدہ انہوں نے خود کیا تھا اور جس کی تعلیم ان کے ہادی و رہنما نے ان کو دی تھی۔ مگر بعد کے عیسائیوں نے ایک طرف مسیح کی عقیدت اور تعظیم میں غلو کر کے ، اور دُوسری طرف ہمسایہ قوموں کے اَوہام اور فلسفوں سے متاثر ہو کر، اپنے عقائد کی مبالغہ آمیز فلسفیانہ تعبیریں شروع کر دیں اور ایک بالکل ہی نیا مذہب تیار کر لیا جس کو مسیح کی اصل تعلیمات سے دُور کا واسطہ بھی نہ رہا۔ اس باب میں خود ایک مسیحی عالمِ دینیات (ریورینڈ چارلس اینڈرسن اسکاٹ) کا بیان قابلِ ملاحظہ ہے۔ انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا کے چودھویں ایڈیشن میں ’’یسُوع مسیح‘‘(Jesus Christ) کے عنوان پر اس نے جو طویل مضمُون لکھا ہے اس میں وہ کہتا ہے :

’’پہلی تین انجیلوں (متی، مرقس، لوقا) میں کوئی چیز ایسی نہیں ہے جس سے یہ گمان کیا جا سکتا ہو کہ اِن انجیلوں کے لکھنے والے یسُوع کو انسان کے سوا کچھ اَور سمجھتے تھے۔ ان کی نگاہ میں وہ ایک انسان تھا، ایسا انسان جو خاص طور پر خدا کی رُوح سے فیض یاب ہوا تھا اور خدا کے ساتھ ایک ایسا غیر منقطع تعلق رکھتا تھا جس کی وجہ سے اگر اس کو خدا بیٹا کہا جائے تو حق بجانب ہے۔ خود متی اس کا ذکر بڑھئی کے بیٹے کی حیثیت سے کرتا ہے اور ایک جگہ بیان کرتا ہے کہ پطرس نے اس کو ’’مسیح‘‘ تسلیم کرنے کے بعد’’ الگ ایک طرف لے جا کر اُسے ملامت کی‘‘(متی ۲۲،۱۶ )۔ لُوقا میں ہم دیکھتے ہیں کہ واقعۂ  صلیب کے بعد یسُوع کے دو شاگرد اماؤس کی طرف جاتے ہوئے اس کا ذکر اس حیثیت میں کرتے ہیں کہ’’ وہ خدا اور ساری اُمّت کے نزدیک کام اور کلام میں قدرت والا نبی تھا‘‘(لوقا ۱۹،۲۴)۔ یہ بات خاص طور پر قابلِ توجہ ہے کہ اگرچہ ’’مرقس‘‘ کی تصنیف سے پہلے مسیحیوں میں یسُوع کے لیے لفظ ’’خداوند‘‘ کا استعمال عام طور پر چل پڑا تھا ، لیکن نہ مرقس کی انجیل میں یسُوع کو کہیں اس لفظ سے یاد کیا گیا ہے اور نہ متی کی انجیل میں۔ بخلاف اس کے دونوں کتابوں میں یہ لفظ اللہ کے لیے بکثرت استعمال کیا گیا ہے۔ یسُوع کے ابتلاء کا ذکر تینوں انجیلیں پُورے زور کے ساتھ کرتی ہیں جیسا کہ اس واقعہ کے شایانِ شان ہے ، مگر مرقس کی ’’ فدیہ‘‘ والی عبارت (مرقس ۴۵،۱۰) اور آخری فَسَح کے موقع پر چند الفاظ کو مستثنیٰ کر کے ان کتابوں میں کہیں اس واقعہ کو وہ معنی نہیں پہنائے گئے ہیں جو بعد میں پہنائے گئے۔ حتیٰ کہ اس بات کی طرف کہیں اشارہ تک نہیں کیا گیا کہ یسُوع کی موت کا انسان کے گناہ اور اس کے کفارہ سے کوئی تعلق تھا‘‘۔

آگے چل کر وہ پھر لکھتا ہے :

’’یہ بات کہ یسُوع خود اپنے آپ کو ایک نبی کی حیثیت سے پیش کرتا تھا اناجیل کی متعدّد عبارتوں سے ظہار ہوتی ہے۔ مثلاً یہ کہ ’’مجھے آج اور کل اور پرسوں اپنی راہ پر چلنا ضرور ہے کیونکہ ممکن نہیں کہ نبی یروشلم سے باہر ہلاک ہو‘‘(لوقا ۲۳،۱۳)۔ وہ اکثر اپنا ذکر’’ ابنِ آدم‘‘ کے نام سے کرتا ہے۔۔۔۔۔۔ یسُوع کہیں اپنے آپ کو’’ ابن اللہ‘‘ نہیں کہتا۔ اس کے دُوسرے ہمعصر جب اس کے متعلق یہ لفظ استعمال کرتے ہیں تو غالباً ان کا مطلب بھی اس کے سوا کچھ نہیں ہوتا کہ وہ اس کو خدا کا ممسُوح سمجھتے ہیں۔ البتہ وہ اپنے آپ کو مطلقاً  ’’بیٹے ‘‘ کے لفظ سے تعبیر کرتا ہے۔۔۔۔۔۔ مزید برآں وہ خدا کے ساتھ اپنے تعلق کو بیان کرنے کے لیے بھی’’ باپ‘‘ کا لفظ اسی اطلاقی شان میں استعمال کرتا ہے۔۔۔۔۔۔ اِس تعلق کے بارے میں وہ اپنے آپ کو منفرد نہیں سمجھتا تھا ، بلکہ ابتدائی دَور میں دُوسرے انسانوں کو بھی خدا کے ساتھ اِس خاص گہرے تعلق میں اپنا سا تھی سمجھتا تھا۔ البتہ بعد کے تجربے اور انسانی طبائع کے عمیق مطالعہ نے اسے یہ سمجھنے پر مجبُور کر دیا کہ اس معاملہ میں وہ اکیلا ہے۔‘‘

پھر یہی مصنّف لکھتا ہے :

’’عید پُنْتِکُسْت کے موقع پر پطرس کے یہ الفاظ کہ ’’ایک انسان جو خدا کی طرف سے تھا‘‘ یسُوع کو اُس حیثیت میں پیش کرتے ہیں جس میں اس کے ہمعصر اس کو جانتے اور سمجھتے تھے۔۔۔۔۔۔ انجیلوں سے ہم کو معلوم ہوتا ہے کہ یسُوع بچپن سے جوانی تک بالکل فطری طور پر جسمانی و ذہنی نشو و نما کے مدارج سے گزرا۔ اُس کو بھُوک پیاس لگتی تھی ، وہ تھکتا اور سوتا تھا، وہ حیرت میں مُبتلا ہو سکتا تھا اور دریافتِ احوال کا محتاج تھا، پس نے دُکھ اُٹھایا اور مرا۔ اُس نے صرف یہی نہیں کہ سمیع و بصیر ہونے کا دعویٰ نہیں کیا بلکہ صریحاً اس سے انکار کیا ہے۔۔۔۔۔۔ درحقیقت اس کے حاضر و ناظر ہونے کا اگر دعویٰ کیا جائے تو یہ اُس پُورے تصوّر کے بالکل خلاف ہو گا جو ہمیں انجیلوں سے حاصل ہوتا ہے۔ بلکہ اس دعوے کے ساتھ آزمائش کے واقعہ کو اور گِتَسمْنی اور کھوپڑی کے مقام پر جو واردات گزریں ان میں سے کسی کو بھی مطابقت نہیں دی جا سکتی۔ تا وقتیکہ ان واقعات کو بالکل غیر حقیقی قرار نہ دے دیا جائے ، یہ ماننا پڑے گا کہ مسیح جب ان سارے حالات سے گزرا تو وہ انسانی علم کی عام محدُودیّت اپنے ساتھ لیے ہوئے تھا اور اس محدُودیّت میں اگر کوئی استثناء تھا تو وہ صرف اُسی حد تک جس حد تک پیغمبرانہ بصیرت اور خدا کے یقینی شہُود کی بنا پر ہو سکتا ہے۔ پھر مسیح کو قادرِ مطلق سمجھنے کی گنجائش تو انجیلوں میں اَور بھی کم ہے۔ کہیں اس بات کا اشارہ تک نہیں ملتا کہ وہ خدا سے بے نیاز ہو کر خود مختارانہ کام کرتا تھا۔ اس کے برعکس وہ بار بار دُعا مانگنے کی عادت سے اور اِس قسم کے الفاظ سے کہ’’ یہ چیز دُعا کے سوا کسی اور ذریعہ سے نہیں ٹل سکتی‘‘، اس بات کا صاف اقرار کرتا ہے کہ اس کی ذات بالکل خدا پر منحصر ہے۔ فی الواقع یہ بات ان انجیلوں کے تاریخی حیثیت سے معتبر ہونے کی ایک اہم شہادت ہے کہ اگرچہ ان کی تصنیف و ترتیب اُس زمانہ سے پہلے مکمل نہ ہوئی تھی کہ مسیحی کلیسا نے مسیح کو الہٰ سمجھنا شروع کر دیا تھا ، پھر بھی ان دستاویزوں میں ایک طرف مسیح کے فی الحقیقت انسان ہونے کی شہادت محفوظ ہے اور دُوسری طرف ان کے اندر کوئی شہادت اِس امر کی موجود نہیں ہے کہ مسیح اپنے آپ کو خدا سمجھتا تھا‘‘۔

اس کے بعد یہ مصنف پھر لکھتا ہے :

’’وہ سینٹ پال تھا جس نے اعلان کیا کہ واقعۂ  رفع کے وقت اسی فعلِ رفع کے ذریعہ سے یسُوع پُورے اختیارات کے ساتھ ’’ابن اللہ‘‘ کے مرتبہ پر علانیہ فائز کیا گیا۔۔۔۔۔۔ یہ ’’ابن اللہ‘‘ کا لفظ یقینی طور پر ذاتی اِبنیّت کی طرف ایک اشارہ اپنے اندر رکھتا ہے جسے پال نے دُوسری جگہ یسُوع کو ’’خدا کا اپنا بیٹا‘‘ کہہ کر صاف کر دیا ہے۔ اِس امر کا فیصلہ اب نہیں کیا جا سکتا کہ آیا وہ ابتدائی عیسائیوں کا گروہ تھا یا پال جس نے مسیح کے لیے ’’ خداوند‘‘ کا خطاب اصل مذہبی معنی میں استعمال کیا۔ شاید یہ فعل مقدّم الذکر گروہ ہی کا ہو۔ لیکن بلاشبہ وہ پال تھا جس نے اس خطاب کو پورے معنی میں بولنا شروع کیا ، پھر اپنے مُدّعا کو اس طرح اَور بھی زیادہ واضح کر دیا کہ ’’خداوند یسُوع مسیح‘‘ کی طرف بہت سے وہ تصوّرات اور اصطلاحی الفاظ منتقل کر دیے جو قدیم کتبِ مقدسہ میں خداوند یَہُوَہ(اللہ تعالیٰ) کے لیے مخصُوص تھے۔ اس کے ساتھ ہی اس نے مسیح کو خدا کی دانش اور خدا کی عظمت کے مساوی قرار دیا اور اُسے مطلق معنی میں خدا کا بیٹا ٹھیرایا۔ تاہم متعدّد حیثیات اور پہلوؤں سے مسیح کو خدا کے برابر کر دینے کے باوجود پال اُس کو قطعی طور پر اللہ کہنے سے باز رہا‘‘۔

انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا کے ایک دُوسرے مضمُون  ’’میسحیّت (Christianity) میں رورنڈ جارج ولیم ناکس مسیحی کلیسا کے بُنیادی عقیدے پر بحث کرتے ہوئے لکھتا ہے :

’’عقیدۂ تثلیث کا فکری سانچہ یُونانی ہے اور یہُودی تعلیمات اس میں ڈھالی گئی ہیں۔ اس لحاظ سے یہ ہمارے لیے ایک عجیب قسم کا مرکب ہے ، مذہبی خیالات بائیبل کے اور ڈھلے ہوئے ایک اجنبی فلسفے کی صُورتوں میں۔

باپ ، بیٹا اور رُوح القدس کی اصطلاحیں یہُودی ذرائع کی بہم پہنچائی ہوئی ہیں۔ آخری اصطلاح اگرچہ خود یسُوع نے شاذو نادر ہی کبھی استعمال کی تھی، اور پال نے بھی جو اس کو استعمال کیا ا س کا مفہوم بالکل غیر واضح تھا، تاہم یہودی لٹریچر میں یہ لفظ شخصیت اختیار کرنے کے قریب پہنچ چکا تھا۔ پس اس عقیدہ کا مواد یہودی ہے ( اگرچہ اس مرکب میں شامل ہونے سے پہلے وہ بھی یونانی اثرات سے مغلوب ہو چکا تھا) اور مسئلہ خالص یونانی۔ اصل سوال جس پر یہ عقیدہ بنا، وہ نہ کوئی اخلاقی سوال تھا نہ مذہبی، بلکہ وہ سراسر ایک فلسفیانہ سوال تھا، یعنی یہ کہ ان تینوں اقانیم ( باپ، بیٹے اور رُوح) کے درمیان تعلق کی حیثیت کیا ہے ؟ کلیسا نے اس کا جو جواب دیا وہ اُس عقیدے میں درج ہے جو نیقیا کی کونسل میں مقرر کیا گیا تھا ، اور اسے دیکھنے سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ وہ اپنی تمام خصُوصیات میں بالکل یونانی فکر کا نمونہ ہے ‘‘۔

اسی سلسلہ میں انسائیکلوپیڈیا بریٹا نیکا کے ایک اَور مضمون تاریخِ کلیسا (Church History) کی یہ عبارت بھی قابلِ ملاحظہ ہے :

’’تیسری صدی عیسوی کے خاتمہ سے پہلے مسیح کو عام طور پر ’’کلام‘‘ کا جسدی ظہُور تو مان لیا گیا تھا تا ہم بکثرت عیسائی ایسے تھے جو مسیح کی اُلُوہیّت کے قائل نہ تھے۔ چوتھی صدی میں اس مسئلہ پر سخت بحثیں چھڑی ہوئی تھیں جن سے کلیسا کی بُنیادیں ہل گئی تھیں۔ آخر کار سن ۳۲۵ ء میں نیقیا کی کونسل نے اُلُوہیّت مسیح کو باضابطہ سرکاری طور پر اصل مسیحی عقیدہ قرار دیا اور مخصُوص الفاظ میں اسے مرتب کر دیا۔ اگرچہ اس کے بعد بھی کچھ مدّت تک جھگڑا چلتا رہا لیکن آخری فتح نیقیا ہی کے فیصلے کی ہوئی جسے مشرق اور مغرب میں اس حیثیت سے تسلیم کر لیا گیا کہ صحیح العقیدہ عیسائیوں کا ایمان اسی پر ہونا چاہیے۔ بیٹے کی اُلُوہیّت کے ساتھ رُوح کی اُلُوہیّت بھی تسلیم کی گئی اور اسے اصطباغ کے کلمہ اور رائج الوقت شعائر میں باپ اور بیٹے کے ساتھ جگہ دی گئی۔ اس طرح نیقیا میں مسیح کا جو تصوّر قائم کیا گیا اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ عقیدۂ تثلیث اصل مسیحی مذہب کا ایک جزء لاینفک قرار پا گیا۔

پھر اس دعوے پر کہ ’’بیٹے کی اُلُوہیّت مسیح کی ذات میں مجسّم ہُوئی تھی ‘‘ ایک دُوسرا مسئلہ پیدا ہوا جس پر چوتھی صدی میں اور اس کے بعد بھی مدّتوں تک بحث و مناظرہ کا سلسلہ جاری رہا۔ مسئلہ یہ تھا کہ مسیح کی شخصیت میں اُلُوہیّت اور انسانیت کے درمیان کیا تعلق ہے ؟ سن ۴۵۱ ء میں کالسیڈن کی کونسل نے اس کا یہ تصفیہ کیا کہ مسیح کی ذات میں دو مکمل طبیعتیں مجتمع ہیں، ایک الٰہی طبیعت ، دُوسری انسانی طبیعت، اور دونوں متحد ہو جانے کے بعد بھی اپنی جداگانہ خصُوصیات بلا کسی تغیّر و تبدّل کے برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ تیسری کونسل میں جو سن ۶۸۰ ء میں بمقام قسطنطنیہ منعقد ہوئی، اس پر اتنا اضافہ اور کیا گیا کہ یہ دونوں طبیعتیں اپنی الگ الگ مشیّتیں بھی رکھتی ہیں، یعنی مسیح بیک وقت دو مختلف مشیّتوں کا حامل ہے۔۔۔۔۔۔ اِس دَوران میں مغربی کلیسا نے گناہ اور فضل کے مسئلہ پر بھی خاص توجّہ کی اور یہ سوال مدّتوں زیرِ بحث رہا کہ نجات کے معاملہ میں خدا کا کام کیا ہے اور بندے کا کام کیا۔ آخر کار سن ۵۲۹ ء میں اور ینج کی دُوسری کونسل میں۔۔۔۔۔۔ یہ نظریّہ اختیار کیا گیا کہ ہبُوطِ آدم کی وجہ سے ہر انسان اس حالت میں مبتلا ہے کہ وہ نجات کی طرف کوئی قدم نہیں بڑھا سکتا جب تک وہ اُس فضلِ خداوندی سے ، جو اصطباغ میں عطا کیا جاتا ہے ، نئی زندگی نہ حاصل کر لے۔ اور یہ نئی زندگی شروع کرنے کے بعد بھی اسے حالتِ خیر میں استمرار نصیب نہیں ہو سکتا جب تک وہ فضلِ خداوندی دائماً اس کا مددگار نہ رہے۔ اور فضلِ خداوندی کی یہ دائمی اعانت اسے صرف کیتھولک کلیسا ہی کے توسّط سے حاصل رہ سکتی ہے ‘‘۔

مسیحی عُلماء کے اِن بیانات سے یہ بات بالکل واضح ہو جاتی ہے کہ ابتداءً جس چیز نے مسیحیوں کو گمراہ کیا وہ عقیدت اور محبت کا غُلو تھا۔ اسی غلو کی بنا پر مسیح علیہ السّلام کے لیے خداوند اور ابن اللہ کے الفاظ استعمال کیے گئے ، خدائی صفات ان کی طرف منسُوب کی گئیں، اور کفارہ کا عقیدہ ایجاد کیا گیا، حالانکہ حضرت مسیحؑ  کی تعلیمات میں ان باتوں کے لیے قطعاً کوئی گنجائش موجود نہ تھی۔ پھر جب فلسفہ کی ہوا مسیحیوں کو لگی تو بجائے اس کے کہ یہ لوگ اس ابتدائی گمراہی کو سمجھ کر اس سے بچنے کی سعی کرتے ، انہوں نے اپنے گزشتہ پیشوا ؤ ں کی غلطیوں کو نباہنے کے لیے ان کی توجیہات شروع کر دیں اور مسیح کی اصل تعلیمات کی طرف رجوع کیے بغیر محض منطق اور فلسفہ کی مدد سے عقیدے پر عقیدہ ایجاد کرتے چلے گئے۔ یہی وہ ضلالت ہے جس پر قرآن نے ان آیات میں مسیحیوں کو متنبہ فرمایا ہے۔

 

ترجمہ

 

بنی اسرائیل میں سے جن لوگوں نے کفر کی راہ اختیار کی اُن پر داؤدؑ  اور عیسیٰؑ  ابنِ مریمؑ  کی زبان سے لعنت کی گئی کیونکہ وہ سرکش ہو گئے تھے اور زیادتیاں کرنے لگے تھے ، انہوں نے ایک دُوسرے کو بُرے افعال کے ارتکاب سے روکنا چھوڑ دیا تھا، ۱۰۲ بُرا طرز عمل تھا جو اُنہوں نے اختیار کیا۔ آج تم اُن میں بکثرت ایسے لوگ دیکھتے ہو جو (اہلِ ایمان کے مقابلہ میں) کفّار کی حمایت و رفاقت کرتے ہیں۔ یقیناً بہت بُرا انجام ہے جس کی تیاری اُن کے نفسوں نے اُن کے لیے کی ہے ، اللہ اُن پر غضب ناک ہو گیا ہے اور وہ دائمی عذاب میں مُبتلا ہونے والے ہیں۔ اگر فی الواقع یہ لوگ اللہ اور پیغمبر ؐ اور اُس چیز کے ماننے والے ہوتے جو پیغمبر ؐ پر نازل ہوئی تھی تو کبھی (اہلِ ایمان کے مقابلہ میں) کافروں کو اپنا رفیق نہ بناتے۔۱۰۳ مگر ان میں سے تو بیشتر لوگ خدا کی اطاعت سے نکِل چکے ہیں۔ تم اہلِ ایمان کی عداوت میں سب سے زیادہ سخت یہُود اور مشرکین کو پاؤ گے ، اور ایمان لانے والوں کے لیے دوستی میں قریب تر اُن لوگوں کو پاؤ گے جنہوں نے کہا تھا کہ ہم نصاریٰ ہیں۔ یہ اس وجہ سے کہ ان میں عبادت گزار عالِم اور تارک الدُّنیا فقیر پائے جاتے ہیں اور اُن میں غرورِ نفس نہیں ہے۔اب وہ اس کلام کو سُنتے ہیں جو رسُول پر اُترا ہے تو تم دیکھتے ہو کہ حق شناسی کے اثر سے اُن کی آنکھیں آنسوؤں سے تر ہو جاتی ہیں۔ وہ بول اُٹھتے ہیں کہ ’’پروردگار ! ہم ایمان لائے ، ہمارا نام گواہی دینے والوں میں لکھ لے ‘‘۔ اور وہ کہتے ہیں کہ ’’آخر کیوں نہ ہم اللہ پر ایمان لائیں اور جو حق ہمارے پاس آیا ہے اُسے کیوں نہ مان لیں جبکہ ہم اِس بات کی خواہش رکھتے ہیں کہ ہمارا رب ہمیں صالح لوگوں میں شامل کرے ‘‘؟ اُن کے اس قول کی وجہ سے اللہ نے اُن کو ایسی جنتیں عطا کیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں اور وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے۔ یہ جزاء ہے نیک رویّہ اختیار کرنے والوں کے لیے۔ رہے وہ لوگ جنہوں نے ہماری آیات کو ماننے سے انکار کیا اور انہیں جھٹلایا، تو وہ جہنّم کے مستحق ہیں۔ ؏١١

 

تفسیر

 

۱۰۲-ہر قوم کا بگاڑ ابتداءً چند افراد سے شروع ہوتا ہے۔ اگر قوم کا اجتماعی ضمیر زندہ ہوتا ہے تو رائے عام ان بگڑے ہوئے افراد کو دبائے رکھتی ہے اور قوم بحیثیت مجموعی بگڑنے نہیں پاتی۔ لیکن اگر قوم ان افراد کے معاملہ میں تساہل شروع کر دیتی ہے اور غلط کار لوگوں کو ملامت کرنے کے بجائے انہیں سوسائیٹی میں غلط کاری کے لیے آزاد چھوڑ دیتی ہے ، تو پھر رفتہ رفتہ وہی خرابی جو پہلے چند افراد تک محدُود تھی ، پُوری قوم میں پھیل کر رہتی ہے۔ یہی چیز تھی جو آخر کار بنی اسرائیل کے بگاڑ کی موجب ہوئی۔

حضرت داؤدؑ  اور حضرت عیسیٰؑ  کی زبان سے جو لعنت بنی اسرائیل پر کی گئی اس کے لیے ملاحظہ ہو زبور ۱۰ و ۵۰ اور متی ۲۳۔

۱۰۳-مطلب یہ ہے کہ جو لوگ خدا اور نبی اور کتاب کے ماننے والے ہوتے ہیں انہیں فطرۃً مشرکین کے مقابلہ میں اُن لوگوں کے ساتھ زیادہ ہمدردی ہوتی ہے جو مذہب میں خواہ ان سے اختلاف ہی رکھتے ہوں ، مگر بہرحال انہی کی طرح خدا اور سلسلۂ  وحی و رسالت کو مانتے ہوں۔ لیکن یہ یہُودی عجیب قسم کے اہلِ کتاب ہیں کہ توحید اور شرک کی جنگ میں کھُلم کھُلا مشرکین کا ساتھ دے رہے ہیں ، اقرارِ نبوّت اور انکارِ نبوّت کی لڑائی میں اعلانیہ ان کی ہمدردیاں منکرینِ نبوّت کے ساتھ ہیں، اور پھر بھی وہ بلا کسی شرم و حیا کے یہ دعویٰ رکھتے ہیں کہ ہم خدا اور پیغمبروں اور کتابوں کے ماننے والے ہیں۔

 

ترجمہ

 

اے لوگو جو ایمان لائے ہو، جو پاک چیزیں اللہ نے تمہارے لیے حلال کی ہیں انہیں حرام نہ کر لو ۱۰۴ اور حد سے تجاوز نہ کرو، ۱۰۵ اللہ کو زیادتی کرنے والے سخت ناپسند ہیں۔ جو کچھ حلال و طیّب رزق اللہ نے تم کو دیا ہے اُسے کھاؤ پیو اور اُس خدا کی نافرمانی سے بچتے رہو جس پر تم ایمان لائے ہو۔ تم لوگ جو مُہمل قسمیں کھا لیتے ہو اُن پر اللہ گرفت نہیں کرتا، مگر جو قسمیں تم جان بُوجھ کر کھاتے ہو اُن پر وہ ضرور تم سے مواخذہ کرے گا۔ (ایسی قسم توڑنے کا)کفّارہ یہ ہے کہ دس (۱۰) مسکینوں کو وہ اَوسط درجہ کا کھانا کھلاؤ جو تم اپنے بال بچّوں کو کھلاتے ہو، یا انہیں کپڑے پہناؤ، یا ایک غلام آزاد کرو، اور جو اس کی استطاعت نہ رکھتا ہو وہ تین دن کے روزے رکھے۔ یہ تمہاری قسموں کا کفّارہ ہے جبکہ تم قسم کھا کر توڑ دو۔۱۰۶ اپنی قسموں کی حفاظت کیا کرو۔۱۰۷ اس طرح اللہ اپنے احکام تمہارے لیے واضح کرتا ہے شاید کہ تم شکر ادا کرو۔اے لوگو جو ایمان لائے ہو، یہ شراب اور جُوا اور یہ آستانے اور پانسے ،۱۰۸ یہ سب گندے شیطانی کام ہیں، ان سے پرہیز کرو، اُمیّد ہے کہ تمہیں فلاح نصیب ہو گی۔۱۰۹شیطان تو یہ چاہتا ہے کہ شراب اور جُوئے کے ذریعہ سے تمہارے درمیان عداوت اور بغض ڈال دے اور تمہیں خدا کی یاد سے اور نماز سے روک دے۔ پھر کیا تم ان چیزوں سے باز رہو گے ؟اللہ اور اُس کے رسول ؐ کی بات مانو اور باز آ جاؤ، لیکن اگر تم نے حکم عدُولی کی تو جان لو کہ ہمارے رسُول ؐ پر بس صاف صاف حکم پہنچا دینے کی ذمّہ داری تھی۔ جو لوگ ایمان لے آئے اور نیک عمل کرنے لگے انہوں نے پہلے جو کچھ کھایا پیا تھا اس پر کوئی گرفت نہ ہو گی بشرطیکہ وہ آئندہ اُن چیزوں سے بچے رہیں جو حرام کی گئی ہیں اور ایمان پر ثابت قدم رہیں اور اچھے کام کریں، پھر جس جس چیز سے روکا جائے اس سے رُکیں اور جو فرمانِ الٰہی ہو اُسے مانیں۔ پھر خدا ترسی کے ساتھ نیک رویّہ رکھیں۔ اللہ نیک کردار لوگوں کو پسند کرتا ہے۔ ؏١۲

 

تفسیر

 

۱۰۴-اس آیت میں دو باتیں ارشاد ہوئی ہیں۔ ایک یہ کہ خود حلال و حرام کے مختار نہ بن جاؤ۔ حلال وہی ہے جو اللہ نے حلال کیا اور حرام وہی ہے جو اللہ نے حرام کیا۔ اپنے اختیار سے کسی حلال کو حرام کرو گے تو قانونِ الٰہی کے بجائے قانونِ نفس کے پَیرو قرار پاؤ گے۔ دوسری بات یہ کہ عیسائی راہبوں، ہندو جوگیوں ، بودھ مذہب کے بھکشووں اور اشراقی متصوّ فین کی طرح رہبانیت اور قطعِ لذّات کا طریقہ اختیار نہ کرو۔ مذہبی ذہنیت کے نیک مزاج لوگوں میں ہمیشہ سے یہ میلان پایا جاتا رہا ہے کہ نفس و جسم کے حقوق ادا کرنے کو وہ رُوحانی ترقی میں مانع سمجھتے ہیں اور یہ گمان کرتے ہیں کہ اپنے آپ کو تکلیف میں ڈالنا، اپنے نفس کو دُنیوی لذّتوں سے محرُوم کرنا، اور دُنیا کے سامانِ زیست سے تعلق توڑنا ، بجائے خود ایک نیکی ہے اور خدا کا تقرب اس کے بغیر حاصل نہیں ہو سکتا۔ صحابہ کرام میں بھی بعض لوگ ایسے تھے جن کے اندر یہ ذہنیت پائی جاتی تھی۔ چنانچہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو معلوم ہوا کہ بعض صحابیوں نے عہد کیا ہے کہ ہمیشہ دن کو روزہ رکھیں گے ،راتوں کو بستر پر نہ سوئیں گے بلکہ جاگ جاگ کر عبادت کرتے رہیں گے ، گوشت اور چکنائی استعمال نہ کریں گے ، عورتوں سے واسطہ نہ رکھیں گے۔ اس پر آپ ؐ نے ایک خطبہ دیا اور اس میں فرمایا کہ’’ مجھے ایسی باتوں کا حکم نہیں دیا گیا ہے۔ تمہارے نفس کے بھی تم پر حقوق ہیں۔ روزہ بھی رکھو اور کھاؤ پیو بھی۔ راتوں کو قیام بھی کرو اور سوؤ بھی۔ مجھے دیکھو، میں سوتا بھی ہوں اور قیام بھی کرتا ہوں۔ روزے رکھتا بھی ہوں اور نہیں بھی رکھتا۔ گوشت بھی کھاتا ہوں اور گھی بھی۔ پس جو میرے طریقے کو پسند نہیں کرتا وہ مجھ سے نہیں ہے ‘‘۔ پھر فرمایا’’ یہ لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ انہوں نے عورتوں کو اور اچھے کھانے کو اور خوشبو اور نیند اور دُنیا کی لذّتوں کو اپنے اُوپر حرام کر لیا ہے ؟ میں نے تو تمہیں یہ تعلیم نہیں دی ہے کہ تم راہب اور پادری بن جاؤ۔ میرے دین میں نہ عورتوں اور گوشت سے اجتناب ہے اور نہ گوشہ گیری و عزلت نشینی ہے۔ ضبطِ نفس کے لیے میرے ہاں روزہ ہے ، رہبانیت کے سارے فائدے یہاں جہاد سے حاصل ہوتے ہیں۔ اللہ کی بندگی کرو، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو، حج و عمرہ کرو، نماز قائم کرو اور زکوٰۃ دو اور رمضان کے روزے رکھو۔ تم سے پہلے جو لوگ ہلاک ہوئے وہ اس لیے ہلاک ہوئے کہ انہوں نے اپنے اُوپر سختی کی ، اور جب انہوں نے خود اپنے اُوپر سختی کی تو اللہ نے بھی اُن پر سختی کی۔ یہ انہی کے بقایا ہیں جو تم کو صومعوں اور خانقاہوں میں نظر آتے ہیں‘‘۔ اسی سلسلہ میں بعض روایات سے یہاں تک معلوم ہوتا ہے کہ ایک صحابی کے متعلق نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے سنا کہ وہ ایک مُدّت سے اپنی بیوی کے پاس نہیں گئے ہیں اور شب و روز عبادت میں مشغول رہتے ہیں تو آپ ؐ نے بُلا کر اُن کو حکم دیا کہ ابھی اپنی بیوی کے پاس جا ؤ۔ اُنہوں نے کہا کہ میں روزے سے ہوں۔ آپ ؐ نے فرمایا روزہ توڑ دو اور جا ؤ حضرت عمر ؓ کے زمانہ میں ایک خاتون نے شکایت پیش کی کہ میرے شوہر دن بھر روزہ رکھتے ہیں اور رات بھر عبادت کرتے ہیں اور مجھ سے کوئی تعلق نہیں رکھتے۔ حضرت عمر ؓ نے مشہور تابعی بزرگ، کعب ؓ بن سَور الاَزْدِی کو اُن کے مقدمہ کی سماعت کے لیے مقرر کیا ، اور اُنہوں نے فیصلہ دیا کہ اس خاتون کے شوہر کو تین راتوں کے لیے اختیار ہے کہ جتنی چاہیں عبادت کریں مگر چوتھی رات لازماً ان کی بیوی کا حق ہے۔

۱۰۵-’’حد سے تجاوز کرنا‘‘ وسیع مفہُوم کا حامل ہے۔ حلال کو حرام کرنا اور خدا کی ٹھیرائی ہوئی پاک چیزوں سے اِس طرح پرہیز کرنا کہ گویا کہ وہ ناپاک ہیں ، یہ بجائے خود ایک زیادتی ہے۔ پھر پاک چیزوں کے استعمال میں اسراف اور افراط بھی زیادتی ہے۔ پھر حلال کی سرحد سے باہر قدم نکال کر حرام کے حُدُود میں داخل ہونا بھی زیادتی ہے۔ اللہ کو یہ تینوں باتیں نا پسند ہیں۔

۱۰۶-چونکہ بعض لوگوں نے حلال چیزوں کو اپنے اُوپر حرام کر لینے کی قسم کھا رکھی تھی اس لیے اللہ تعالیٰ نے اسی سلسلہ میں قسم کا حکم بھی بیان فرما دیا کہ اگر کسی شخص کی زبان سے بلا ارادہ قسم کا لفظ نِکل گیا ہے تو اس کی پابندی کرنے کی ویسے ہی ضرورت نہیں، کیونکہ ایسی قسم پر کوئی مواخذہ نہیں ہے ، اور اگر جان بُوجھ کر کسی نے قسم کھائی ہے تو وہ اُسے توڑ دے اور کفّارہ ادا کر دے ، کیونکہ جس نے کسی معصیت کی قسم کھائی ہو اسے اپنی قسم پر قائم نہ رہنا چاہیے ( ملاحظہ ہو سُورۂ بقرہ، حاشیہ نمبر ۲۴۳ و ۲۴۴ – نیز کفّارہ کی تشریح کے لیے ملاحظہ ہو سُورہ ٔ نساء حاشیہ نمبر ۱۲۵)۔

۱۰۷-قسم کی حفاظت کے کئی مفہُوم ہیں: ایک یہ کہ قسم کو صحیح مَصْرف میں استعمال کیا جائے ، فضول باتوں اور معصیت کے کاموں میں استعمال نہ کیا جائے۔ دوسرے یہ کہ جب کسی بات پر آدمی قسم کھائے تو اسے یاد رکھے ، ایسا نہ ہو کہ اپنی غفلت کی وجہ سے وہ اُسے بھُول جائے۔ اور پھر اس کی خلاف ورزی کرے۔ تیسرے یہ کہ جب کسی صحیح معاملہ میں بالارادہ قسم کھائی جائے تو اسے پُورا کیا جائے اور اگر اس کی خلاف ورزی ہو جائے تو اس کا کفارہ ادا کیا جائے۔

۱۰۸-آستانوں اور پانسوں کی تشریح کے لیے ملاحظہ ہو سُورۂ مائدہ ، حاشیہ نمبر ۱۲ و ۱۴۔ اِس سلسلہ میں جُوئے کی تشریح بھی حاشیہ نمبر ۱۴ میں مِل جائے گی۔ اگرچہ پانسے ( جُوئے ) ہی کی ایک قسم ہیں۔ لیکن ان دونوں کے درمیان فرق یہ ہے کہ عربی زبان میں ازلام فال گیری اور قرعہ اندازی کی اُس صُورت کو کہتے ہیں کہ جو مشرکانہ عقائد اور وہمیّات سے آلودہ ہو۔ اور مَیسِر کا اطلاق اُن کھیلوں اور اُن کاموں پر ہوتا ہے جن میں اتفاقی اُمُور کو کمائی اور قسمت آزمائی اور تقسیمِ اموال و اشیاء کا ذریعہ بنایا جاتا ہے۔

۱۰۹-اِس آیت میں چار چیزیں قطعی طور پر حرام کی گئی ہیں۔ ایک شراب۔ دوسرے قمار بازی۔ تیسرے وہ مقامات جو خدا کے سوا کسی دُوسرے کی عبادت کرنے یا خدا کے سوا کسی اَور کے نام پر قربانی اور نذر و نیاز چڑھانے کے لیے مخصُوص کیے گئے ہوں۔ چوتھے پانسے۔ مؤخّر الذکر تینوں چیزوں کی ضرورت تشریح پہلے کی جا چکی ہے۔ شراب کے متعلق احکام کی تفصیل حسب ذیل ہے : شراب کی حُرمت کے سلسلہ میں اس سے پہلے دو حکم آ چکے تھے ، جو سُورۂ بقرہ آیت ۲۱۹ اور سُورۂ نساء آیت ۴۳ میں گزر چکے ہیں۔ اب اس آخری حکم کے آنے سے پہلے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے ایک خطبہ میں لوگوں کو متنبّہ فرما دیا کہ اللہ تعالیٰ کو شراب سخت ناپسند ہے ، بعید نہیں کہ اس کی قطعی حُرمت کا حکم آ جائے ، لہٰذا جن جن لوگوں کے پاس شراب موجود ہو وہ اسے فروخت کر دیں۔ اس کے کچھ مدت بعد یہ آیت نازل ہوئی اور آپ نے اعلان کرایا کہ اب جن کے پاس شراب ہو وہ نہ اسے پی سکتے ہیں ، نہ بیچ سکتے ہیں، بلکہ وہ اسے ضائع کر دیں۔ چنانچہ اسی وقت مدینہ کی گلیوں میں شراب بہا دی گئی۔ بعض لوگوں نے پُوچھا ہم یہُودیوں کو تحفۃً کیوں نہ دے دیں؟ آپ ؐ نے فرمایا’’ جس نے یہ چیز حرام کی ہے اُس نے اِسے تحفۃً دینے سے بھی منع کر دیا ہے ‘‘۔ بعض لوگوں نے پُوچھا ہم شراب کو سِرکے میں کیوں نہ تبدیل کر دیں؟ آپ ؐ نے اس سے بھی منع فرمایا اور حکم دیا کہ’’ نہیں، اسے بہا دو‘‘۔ ایک صاحب نے باصرار دریافت کیا کہ دواء کے طور پر استعمال کی تو اجازت ہے ؟ فرمایا’’ نہیں ، وہ دوا ء نہیں ہے بلکہ بیماری ہے ‘‘۔ ایک اَور صاحب نے عرض کیا یا رسُول اللہ ! ہم ایک ایسے علاقے کے رہنے والے ہیں جو نہایت سرد ہے ، اور ہمیں محنت بھی بہت کرنی پڑتی ہے۔ ہم لوگ شراب سے تکان اور سردی کا مقابلہ کرتے ہیں۔ آپ ؐ نے پُوچھا جو چیز تم پیتے ہو وہ نشہ کرتی ہے ؟ انہوں نے عرض کیا ہاں۔ فرمایا تو اس سے پرہیز کرو۔ انہوں نے عرض کیا مگر ہمارے علاقے کے لوگ تو نہیں مانیں گے۔ فرمایا’’ اگر وہ نہ مانیں تو ان سے جنگ کرو‘‘۔

ابنِ عمر ؓ کی روایت ہے کہ حضور ؐ نے فرمایا لعَن اللہ الخمر و شاربھا و ساقیھا و بائعھا و مُبتا عھا و عاصر ھا و معتصر ھا و حاملھا و المحمولۃ الیہ۔’’ اللہ تعالیٰ نے لعنت فرمائی ہے شراب پر اور اس کے پینے والے پر اور پلانے والے پر اور بیچنے والے پر اور خریدنے والے پر اور کشید کرنے والے پر اور کشید کرانے والے پر اور ڈھو کر لے جانے والے پر اور اس شخص پر جس کے لیے وہ ڈھو کر لے جائی گئی ہو‘‘۔ ایک اَور حدیث میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے اُس دستر خوان پر کھانا کھانے سے منع فرمایا جس پر شراب پی جا رہی ہو۔ ابتداءً آپ نے اُن برتنوں کے استعمال کو منع فرما دیا تھا جس میں شراب بنائی اور پی جاتی تھی۔ بعد میں جب شراب کی حُرمت کا حکم پُوری طرح نافذ ہو گیا تب آپ نے برتنوں پر سے یہ قید اُٹھا دی۔

(خمر کا لفظ عرب میں انگوری شراب کے لیے استعمال ہوتا تھا اور مجازاً گیہُوں ، جَو ، کِشمِش،کھجُور اور شہد کی شرابوں کے لیے بھی یہ الفاظ بولتے تھے ، مگر نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے حُرمت کے اس حکم کو تمام اُن چیزوں پر عام قرار دیا جو نشہ پیدا کرنے والی ہیں۔ چنانچہ حدیث میں حضُور کے یہ واضح ارشادات ہمیں ملتے ہیں کہ کل مسکر خمر و کل مسکر حرام۔’’ ہر نشہ آور چیز خمر ہے اور ہر نشہ آور چیز حرام ہے ‘‘۔کل شراب ٍ اسکر فھو حرام۔’’ ہر وہ مشروب جو نشہ پیدا کرے وہ حرام ہے ‘‘۔وانا انھی عن کل مسکرٍ۔’’اور میں ہر نشہ آور چیز سے منع کرتا ہوں‘‘۔ حضرت عمر ؓ نے جُمعہ کے خطبہ میں شراب کی یہ تعریف بیان کی تھی کہ الخمر ما خامر العقل۔’’خمر سے مراد ہر وہ چیز ہے جو عقل کو ڈھانک لے ‘‘۔

نیز نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے یہ اُصُول بیان فرمایا کہ ما اسکر کثیرہ فقلیْلہ حرام۔’’ جس چیز کی کثیر مقدار نشہ پیدا کر ے اس کی تھوڑی مقدار بھی حرام ہے ‘‘۔ اور ما اسکر الفرق منہ مفلٔ الکف منہ حرام۔’’ جس چیز کا ایک پُورا قرابہ نشہ پیدا کرتا ہو اس کا ایک چُلّو پینا بھی حرام ہے ‘‘۔

نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے زمانہ میں شراب پینے والے کے لیے کوئی خاص سزا مقرر نہ تھی۔ جو شخص اِس جُرم میں گرفتار ہو کر آتا تھا اُسے جُوتے ، لات، مُکّے ، بل دی ہوئی چادروں کے سونٹے اور کھجُور کے سَنٹے مارے جاتے تھے۔ زیادہ سے زیادہ ۴۰ ضربیں آپ ؐ کے زمانہ میں اس جُرم پر لگائی گئی ہیں۔ حضرت ابوبکر ؓ کے زمانے میں ۴۰ کوڑے مارے جاتے تھے۔ حضرت عمر ؓ کے زمانے میں بھی ابتداءً کوڑوں ہی کی سزا رہی۔ پھر جب اُنہوں نے دیکھا کہ لوگ اس جُرم سے باز نہیں آتے تو اُنہوں نے صحابۂ کرام کے مشورے سے ۸۰ کوڑے سزا مقرر کی۔ اسی سزا کو امام مالک ؒ اور امام ابو حنیفہ ؒ، اور ایک روایت کے بموجب امام شافعیؒ بھی، شراب کی حد قرار دیتے ہیں۔ مگر امام احمد ؒ ابن حنبل اور ایک دُوسری روایت کے مطابق امام شافعی ؒ ۴۰ کوڑوں کو قائل ہیں، اور حضرت علی ؓ نے بھی اسی کو پسند فرمایا ہے۔

شریعت کی رُو سے یہ بات حکومتِ اسلامی کے فرائض میں داخل ہے کہ وہ شراب کی بندش کے اس حکم کو بزور و قوت نافذ کرے۔ حضرت عمر ؓ کے زمانہ میں بنی ثَقِیف کے ایک شخص رُوَیشِد نامی کی دوکان اس بنا پر جلوا دی گئی کہ وہ خفیہ طور پر شراب بیچتا تھا۔ ایک دُوسرے موقع پر ایک پُورا گاؤں حضرت عمر ؓ کے حکم سے اِس قصُور پر جلا ڈالا گیا کہ وہاں خفیہ طریقہ سے شراب کی کشید اور فروخت کا کاروبار ہو رہا تھا۔

 

ترجمہ

 

اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اللہ تمہیں اُس شکار کے ذریعہ سے سخت آزمائش میں ڈالے گا جو بالکل تمہارے ہاتھوں اور نیزوں کی زد میں ہو گا، یہ دیکھنے کے لیے کہ تم میں سے کون اس سے غائبانہ ڈرتا ہے ، پھر جس نے اس تنبیہ کے بعد اللہ کی مقرر کی ہوئی حد سے تجاوز کیا اُس کے لیے درد ناک سزا ہے۔ اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! اِحرام کی حالت میں شکار نہ مارو،۱۱۰ اور اگر تم میں سے کوئی جان بوجھ کر ایسا کر گزرے تو جو جانور اس نے مارا ہو اُسی کے ہم پلّہ ایک جانور اُسے مویشیوں میں سے نذر دینا ہو گا جس کا فیصلہ تم میں سے دو عادل آدمی کریں گے ، اور یہ نذرانہ کعبہ پہنچایا جائے گا، یا نہیں تو اس گناہ کے کفارہ میں چند مسکینوں کو کھانا کھلانا ہو گا، یا اس کے بقدر روزے رکھنے ہوں گے ،۱۱۱ تاکہ وہ اپنے کیے کا مزہ چکھے۔ پہلے جو کچھ ہو چکا اُسے اللہ نے معاف کر دیا، لیکن اب اگر کسی نے اس حرکت کا اعادہ کیا تو اس سے اللہ بدلہ لے گا، اللہ سب پر غالب ہے اور بدلہ لینے کی طاقت رکھتا ہے۔

تمہارے لیے سمندر کا شکار اور اس کا کھانا حلال کر دیا گیا، ۱۱۲ جہاں تم ٹھیرو وہاں بھی اُسے کھا سکتے ہو اور قافلے کے لیے زادِ راہ بھی بنا سکتے ہو۔ البتّہ خشکی کا شکار جب تک تم اِحرام کی حالت میں ہو، تم پر حرام کیا گیا ہے۔ پس بچو اُس خدا کی نا فرمانی سے جس کی پیشی میں تم سب کو گھیر کر حاضر کیا جائے گا۔اللہ نے مکانِ مُحترم، کعبہ کو لوگوں کے لیے (اجتماعی زندگی کے ) قیام کا ذریعہ بنایا اور ماہِ حرام اور قربانی کے جانوروں اور قَلادوں کو بھی (اِس کام میں معاون بنا دیا)۱۱۳ تاکہ تمہیں معلوم ہو جائے کہ اللہ آسمانوں اور زمین کے سب حالات سے باخبر ہے اور اُسے ہر چیز کا علم ہے۔ ۱۱۴ خبردار ہو جاؤ ! اللہ سزا دینے میں بھی سخت ہے اور اس کے ساتھ بہت درگزر اور رحم بھی کرنے والا ہے۔ رسُول پر تو صرف پیغام پہنچا دینے کی ذمّہ داری ہے ، آگے تمہارے کھُلے اور چھُپے سب حالات کا جاننے والا اللہ ہے۔ اے پیغمبر ؐ ! اِن سے کہہ دو کہ پاک اور ناپاک بہرحال یکساں نہیں ہیں خواہ ناپاک کی بہتات تمہیں کتنا ہی فریفتہ کرنے والی ہو،۱۱۵ پس اے لوگو جو عقل رکھتے ہو ! اللہ کی نافرمانی سے بچتے رہو، اُمّید ہے کہ تمہیں فلاح نصیب ہو گی۔ ؏١۳

 

تفسیر

 

۱۱۰-شکار خواہ آدمی خود کرے ، یا کسی دُوسرے کو شکار میں کسی طور پر مدد دے ، دونوں باتیں حالتِ احرام میں منع ہیں۔ نیز اگر مُحرِم کی خاطر شکار مارا گیا ہو تب بھی اس کا کھانا مُحِرم کے لیے جائز نہیں ہے۔ البتہ اگر کسی شخص نے اپنے لیے خود شکار کیا ہو اور پھر وہ اس میں سے مُحِرم کو بھی تحفۃً کچھ دے دے تو اس کے کھانے میں کچھ مضائقہ نہیں۔ اس حکِم عام سے مُوذی جانور مستثنیٰ ہیں۔ سانپ ، بچھّو، باؤ لا کتّا اور ایسے دُوسرے جانور جو انسان کو نقصان پہنچانے والے ہیں، حالتِ احرام میں مارے جا سکتے ہیں۔

۱۱۱-اِن اُمُور کا فیصلہ بھی دو عادل آدمی ہی کریں گے کہ کس جانور کے مارنے پر آدمی کتنے مسکینوں کو کھانا کھِلائے ، یا کتنے روزے رکھے۔

۱۱۲-چونکہ سمندر کے سفر میں بسا اوقات زادِ راہ ختم ہو جا تا ہے اور غذا کی فراہمی کے لیے بجُز اس کے کہ آبی جانوروں کا شکار کیا جائے اور کوئی تدبیر ممکن نہیں ہوتی اس لیے بحری شکار حلال کر دیا گیا۔

۱۱۳-عرب میں کعبہ کی حیثیت محض ایک مقدّس عباد ت گاہ ہی کی نہ تھی بلکہ اپنی مرکزیّت اور اپنے تقدس کی وجہ سے وہی پُورے ملک کی معاشی و تمدّنی زندگی کا سہارا بنا ہوا تھا۔ حج اور عُمرے کے لیے سارا ملک اُس کی طرف کھِنچ کر آتا تھا اور اس اجتماع کی بدولت انتشار کے مارے ہوئے عربوں میں وحدت کا ایک رشتہ پیدا ہوتا، مختلف علاقوں اور قبیلوں کے لوگ باہم تمدّنی روابط قائم کرتے ، شاعری کے مقابلوں سے ان کی زبان اور ادب کو ترقی نصیب ہوتی، اور تجارتی لین دین سے سارے ملک کی معاشی ضروریات پوری ہوتیں۔ حرام مہینوں کی بدولت عربوں کو سال کا پُورا ایک تہائی زمانہ امن کا نصیب ہو جاتا تھا۔ بس یہی زمانہ ایسا تھا جس میں ان کے قافلے ملک کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک بسہُولت آتے جاتے تھے۔ قربانی کے جانوروں اور قلادوں کی موجودگی سے بھی اس نقل و حرکت میں بڑی مدد ملتی تھی ، کیونکہ نذر کی علامت کے طور پر جن جانوروں کی گردن میں پٹے پڑے ہوتے انہیں دیکھ کر عربوں کی گردنیں احترام سے جھُک جاتیں اور کسی غارت گر قبیلے کو ان پر ہاتھ ڈالنے کی جُرأت نہ ہوتی۔

۱۱۴-یعنی اگر تم اس انتظام پر غور کرو تو تمہیں خود اپنے ملک کی تمدّنی و معاشی زندگی ہی میں اس امر کی ایک بیّن شہادت مل جائے کہ اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق کے مصالح اور اُن کی ضروریات کا کیسا مکمل اور گہرا علم رکھتا ہے اور اپنے ایک ایک حکم کے ذریعہ سے انسانی زندگی کے کتنے کتنے شعبوں کو فائدہ پہنچا دیتا ہے۔ بد امنی کے یہ سینکڑوں برس جو محمد ِؐ  عربی کے ظہُور سے پہلے گزرے ہیں، ان میں تم لوگ خود اپنے مفاد سے ناواقف تھے اور اپنے آپ کو تباہ کرنے پر تُلے ہوئے تھے ، مگر اللہ تمہاری ضرورتوں کو جانتا تھا اور اُس نے صرف ایک کعبہ کی مرکزیّت قائم کر کے تمہارے لیے وہ انتظام کر دیا تھا جس کی بدولت تمہاری قومی زندگی برقرار رہ سکی۔ دُوسری بے شمار باتوں کو چھوڑ کر اگر صرف اسی بات پر دھیان کرو تو تمہیں یقین حاصل ہو جائے کہ اللہ نے جو احکام تمہیں دیے ہیں اُن کی پابندی میں تمہاری اپنی بھلائی ہے اور ان میں تمہارے لیے وہ وہ مصلحتیں پوشیدہ ہیں جن کو نہ تم خود سمجھ سکتے ہو اور نہ اپنی تدبیروں سے پُورا کر سکتے ہو۔

۱۱۵-یہ آیت قدر و قیمت کا ایک دوسرا ہی معیار پیش کرتی ہے جو ظاہر میں انسان کے معیار سے بالکل مختلف ہے۔ ظاہر بیں نظر میں سو (۱۰۰) روپے بمقابلہ پانچ (۵) روپے کے لازماً زیادہ قیمتی ہیں کیونکہ وہ سو ہیں اور یہ پانچ۔ لیکن یہ آیت کہتی ہے کہ سو (۱۰۰) روپے اگر خدا کی نافرمانی کر کے حاصل کیے گئے ہوں تو وہ ناپاک ہیں ، اور پانچ روپے اگر خدا کی فرماں برداری کرتے ہوئے کمائے گئے ہوں تو وہ پاک ہیں ، اور ناپاک خواہ مقدار میں کتنا ہی زیادہ ہو، بہرحال وہ پاک کے برابر کسی طرح نہیں ہو سکتا۔ غلاظت کے ایک ڈھیر سے عطر کا ایک قطرہ زیادہ قدر رکھتا ہے اور پیشاب کی ایک لبریز نانْد کے مقابلہ میں پاک پانی کا ایک چُلّو زیادہ وزنی ہے۔ لہٰذا ایک سچّے دانش مند انسان کو لازماً حلال ہی پر قناعت کرنی چاہیے خواہ وہ ظاہر میں کتنا ہی حقیر و قلیل ہو، اور حرام کی طرف کسی حال میں بھی ہاتھ نہ بڑھانا چاہیے خواہ وہ بظاہر کتنا ہی کثیر و شاندار ہو۔

 

ترجمہ

 

اے لوگوں جو ایمان لائے ہو، ایسی باتیں نہ پوچھا کرو جو تم پر ظاہر کر دی جائیں تو تمہیں ناگوار ہوں،۱۱۶ لیکن اگر تم انہیں ایسے وقت پُوچھو گے جب کہ قرآن نازل ہو رہا ہو تو وہ تم پر کھول دی جائیں گی۔ اب تک جو کچھ تم نے کیا اُسے اللہ نے معاف کر دیا، وہ درگزر کرنے والا اور بُرد بار ہے۔ تم سے پہلے ایک گروہ نے اِسی قسم کے سوالات کیے تھے ، پھر وہ لوگ انہی باتوں کی وجہ سے کفر میں مُبتلا ہو گئے۔۱۱۷اللہ نے نہ کوئی بَحِیرہ مقرر کیا ہے نہ سائبَہ اور نہ وَصیْلہ اور نہ حام۔۱۱۸ مگر یہ کافر اللہ پر جھُوٹی تہمت لگاتے ہیں اور ان میں سے اکثر بے عقل ہیں (کہ ایسے وہمیّات کو مان رہے ہیں)۔ اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ آؤ اُس قانون کی طرف جو اللہ نے نازل کیا ہے اور آؤ پیغمبر ؐ کی طرف تو وہ جواب دیتے ہیں کہ ہمارے لیے تو بس وہی طریقہ کافی ہے جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے۔ کیا یہ باپ دادا ہی کی تقلید کیے چلے جائیں گے خواہ وہ کچھ نہ جانتے ہوں اور صحیح راستہ کی انہیں خبر ہی نہ ہو؟ اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اپنی فکر کرو، کسی دُوسرے کی گمراہی سے تمہارا کُچھ نہیں بگڑتا اگر تم خود راہِ راست پر ہو،۱۱۹ اللہ کی طرف تم سب کو پلٹ کر جانا ہے ، پھر وہ تمہیں بتا دے گا کہ تم کیا کرتے رہے ہو۔اے لوگو جو ایمان لائے ہو، جب تم میں سے کسی کی موت کا وقت آ جائے اور وہ وصیّت کر رہا ہو تو اس کے لیے شہادت کا نصاب یہ ہے کہ تمہاری جماعت میں سے دو صاحبِ عدل آدمی ۱۲۰ گواہ بنائے جائیں، یا اگر تم سفر کی حالت میں ہو اور وہاں موت کی مصیبت پیش آ جائے تو غیر مسلموں ہی میں سے دو گواہ لے لیے جائیں۔۱۲۱ پھر اگر کوئی شک پڑ جائے تو نماز کے بعد دونوں گواہوں کو مسجد میں روک لیا جائے اور وہ خدا کی قسم کھا کر کہیں کہ ’’ہم کسی ذاتی فائدے کے عوض شہادت بیچنے والے نہیں ہیں، اور خواہ کوئی ہمارا رشتہ دار ہی کیوں نہ ہو (ہم اس کی رعایت کرنے والے نہیں)، اور نہ خدا واسطے کی گواہی کو ہم چھپانے والے ہیں، اگر ہم نے ایسا کیا تو گناہ گاروں میں شمار ہوں گے ‘‘۔لیکن اگر پتہ چل جائے کہ ان دونوں نے اپنے آپ کو گناہ میں مُبتلا کیا ہے تو پھر ان کی جگہ دو اور شخص جو ان کی بہ نسبت شہادت دینے کے لیے اہل تر ہوں ان لوگوں میں سے کھڑے ہوں جن کی حق تلفی ہوئی ہو، اور وہ خدا کی قسم کھا کر کہیں کہ ’’ہماری شہادت اُن کی شہادت سے زیادہ بر حق ہے اور ہم نے اپنی گواہی میں کوئی زیادتی نہیں کی ہے ، اگر ہم ایسا کریں تو ظالموں میں سے ہوں گے ‘‘۔ اس طریقہ سے زیادہ توقع کی جا سکتی ہے کہ ٹھیک ٹھیک شہادت دیں گے ، یا کم از کم اس بات ہی کا خوف کریں گے کہ ان کی قسموں کے بعد دُوسری قسموں سے کہیں ان کی تردید نہ ہو جائے۔ اللہ سے ڈرو اور سنو، اللہ نافرمانی کرنے والوں کو اپنی رہنمائی سے محروم کر دیتا ہے۔ ؏١۴

 

تفسیر

 

۱۱۶-نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے بعض لوگ عجیب عجیب قسم کے فضول سوالات کیا کرتے تھے جن کی نہ دین کے کسی معاملہ میں ضرورت ہوتی تھی اور نہ دُنیا ہی کے کسی معاملہ میں۔ مثلاً ایک موقع پر ایک صاحب بھرے مجمع میں آپ ؐ سے پُوچھ بیٹھے کہ ’’میرا اصلی باپ کون ہے ؟‘‘ اسی طرح بعض لوگ احکامِ شرع میں غیر ضروری پُوچھ گچھ کیا کرتے تھے ، اور خواہ مخواہ پُوچھ پُوچھ کر ایسی چیزوں کا تعیّن کرا نا چاہتے تھے جنہیں شارع نے مصلحتاً غیر معیّن رکھا ہے۔ مثلاً قرآن میں مُجملاً یہ حکم دیا گیا تھا کہ حج تم پر فرض کیا گیا ہے۔ ایک صاحب نے حکم سُنتے ہی نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے دریافت کیا’’ کیا ہر سال فرض کیا گیا ہے ؟‘‘ آپ ؐ نے کچھ جواب نہ دیا۔ اُنہوں نے پھر پُوچھا۔ آپ ؐ پھر خاموش ہو گئے۔ تیسری مرتبہ پُوچھنے پر آپ ؐ نے فرمایا ’’تم پر افسوس ہے۔ اگر میری زبان سے ہاں نِکل جائے تو حج ہر سال فرض قرار پائے۔ پھر تم ہی لوگ اس کی پیروی نہ کر سکو گے اور نا فرمانی کرنے لگو گے ‘‘۔ ایسے ہی لا یعنی اور غیر ضروری سوالات سے اس آیت میں منع کیا گیا ہے۔

نبی صلی اللہ علیہ و سلم خود بھی لوگوں کو کثرتِ سوال سے اور خواہ مخواہ ہر بات کی کھوج لگانے سے منع فرماتے رہے تھے۔ چنانچہ حدیث میں ہے ان اعظم المسلمین فی المسلمین جرما من سأل عن شیٔ لم یحرم علی الناس فحرم من اجل مسألتہ۔ ’’ مسلمانوں کے حق میں سب سے بڑا مجرم وہ شخص ہے جس نے کسی ایسی چیز کے متعلق سوال چھیڑا جو لوگوں پر حرام نہ کی گئی تھی اور پھر محض اس کے سوال چھیڑنے کی بدولت وہ چیز حرام ٹھیرائی گئی‘‘۔ ایک دُوسری حدیث میں ہے ان اللہ فرض فرائض فلا تضیْعوھا و حرم حرمَات فلا تنتھکو ھا وحَدّ حُدُوْداً فلا تعتدُوْھَا وسَکتَ عَنْ اشیَا ء من غیر نسیان فلا تبحثو ا عنھا۔’’ اللہ نے کچھ فرائض تم پر عائد کیے ہیں ، انہیں ضائع نہ کرو۔ کچھ چیزوں کو حرام کیا ہے ان کے پاس نہ پھٹکو۔ کچھ حُدُود مقرر کی ہیں ، ان سے تجاوز نہ کرو۔ اور کچھ چیزوں کے متعلق خاموشی اختیار کی ہے بغیر اس کے کہ اُسے بھُول لاحق ہوئی ہو، لہٰذا ان کی کھوج نہ لگاؤ‘‘۔ ان دونوں حدیثوں میں ایک اہم حقیقت پر متنبّہ کیا گیا ہے۔ جن اُمُور کو شارع نے مجملاً بیان کیا ہے اور ان کی تفصیل نہیں بتائی، یا جو احکام برسبیلِ اجمال دیے ہیں اور مقدار یا تعداد یا دُوسرے تعیّنات کا ذکر نہیں کیا ہے ، ان میں اجمال اور عدمِ تفصیل کی وجہ یہ نہیں ہے کہ شارع سے بھُول ہو گئی، تفصیلات بتانی چاہیے تھیں مگر نہ بتائیں، بلکہ اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ شارع ان امور کی تفصیلات کو محدُود نہیں کرنا چاہتا اور احکام میں لوگوں کے لیے وسعت رکھنا چاہتا ہے۔ اب جو شخص خواہ مخواہ سوال پر سوال نکال کر تفصیلات اور تعینات اور تقیدات بڑھانے کی کوشش کرتا ہے ، اور اگر شارع کے کلام سے یہ چیزیں کسی طرح نہیں نکلتیں تو قیاس سے ، اِستنباط سے کِسی نہ کسی طرح مجمل کو مفصّل، مطلَق کو مقَیَّد، غیر معیّن کو معیّن بنا کر ہی چھوڑتا ہے ، وہ درحقیقت مسلمانوں کو بڑے خطرے میں ڈالتا ہے۔ اس لیے کہ ما بعد الطبیعی اُمُور میں جتنی تفصیلات زیادہ ہوں گی، ایمان لانے والے کے لیے اتنے ہی زیادہ اُلجھن کے مواقع بڑھیں گے ، اور احکام میں جتنی قیُود زیادہ ہوں گی پَیروی کرنے والے کے لیے خلاف ورزیِ  حکم کے امکانات بھی اسی قدر زیادہ ہوں گے۔

۱۱۷-یعنی پہلے انہوں نے خود ہی عقائد اور احکام میں موشگافیاں کیں اور ایک ایک چیز کے متعلق سوال کر کر کے تفصیلات اور قیُود کا ایک جال اپنے لیے تیار کرایا، پھر خود ہی اُس میں اُلجھ کر اعتقادی گمراہیوں اور عملی نافرمانیوں میں مبتلا ہو گئے۔۔۔۔۔۔ اِس گروہ سے مراد یہودی ہیں جن کے نقشِ قدم پر چلنے میں، قرآن اور محمد صلی اللہ علیہ و سلم کی تنبیہات کے باوجود، مسلمانوں نے کوئی کسر اُٹھا نہیں رکھی ہے۔

۱۱۸-جس طرح ہمارے ملک میں گائے ، بیل اور بکرے خدا کے نام پر یا کسی بُت یا قبر یا دیوتا یا پیر کے نام پر چھوڑ دیے جاتے ہیں ، اور ان سے کوئی خدمت لینا یا انہیں ذبح کرنا یا کسی طور پر ان سے فائدہ اُٹھانا حرام سمجھا جاتا ہے ، اسی طرح زمانۂ جاہلیّت میں اہلِ عرب بھی مختلف طریقوں سے جانوروں کو پُن کر کے چھوڑ دیا کرتے تھے اور ان طریقوں سے چھوڑے ہوئے جانوروں کے الگ الگ نام رکھتے تھے۔

بحیرہ: اُس اُونٹنی کو کہتے تھے جو پانچ دفعہ بچّے جَن چکی ہو اور آخری بار اس کے ہاں نر بچّہ ہوا ہو۔ اس کا کان چیر کر اُسے آزاد چھوڑ دیا جاتا تھا۔ پھر نہ کوئی اس پر سوار ہوتا، نہ اُس کا دُودھ پیا جاتا، نہ اُسے ذبح کیا جاتا، نہ اس کا اُون اتارا جاتا۔ اُسے حق تھا کہ جس کھیت اور جس چراگاہ میں چاہے چرے اور جس گھاٹ سے چاہے پانی پیے۔

سائبہ: اُس اُونٹ یا اُونٹنی کو کہتے تھے جسے کسی مَنّت کے پُورا ہو نے یا کسی بیماری سے شفا پانے یا کسی خطرے سے بچ جانے پر بطور شکرانہ کے پُن کر دیا گیا ہو۔ نیز جس اُونٹنی نے دس مرتبہ بچّے دیے ہوں اور ہر بار مادہ ہی جنی ہو اُسے بھی آزاد چھوڑ دیا جاتا تھا۔

وصیلہ: اگر بکری کا پہلا بچّہ نر ہوتا تو وہ خداؤں کے نام پر ذبح کر دیا جاتا، اور اگر وہ پہلی بار مادہ جنتی تو اسے اپنے لیے رکھ لیا جاتا تھا۔ لیکن اگر نر اور مادہ ایک ساتھ پیدا ہوتے تو نر کو ذبح کر نے کے بجائے یونہی خداؤں کے نام پر چھوڑ دیا جاتا تھا اور اس کا نام وصیلہ تھا۔

حام : اگر کسی اُونٹ کا پوتا سواری دینے کے قابل ہو جاتا تو اس بُوڑھے اُونٹ کو آزاد چھوڑ دیا جاتا تھا۔ نیز اگر کسی اُونٹ کے نطفہ سے دس بچّے پیدا ہو جاتے تو اسے بھی آزادی مِل جاتی۔

۱۱۹-یعنی بجائے اس کے کہ آدمی ہر وقت یہ دیکھتا رہے کہ فلاں کیا کر رہا ہے اور فلاں کے عقیدے میں کیا خرابی ہے اور فلاں کے اعمال میں کیا بُرائی ہے ، اسے یہ دیکھنا چاہیے کہ وہ خود کیا کر رہا ہے۔ اسے فکر اپنے خیالات کی، اپنے اخلاق اور اعمال کی ہونی چاہیے کہ وہ کہیں خراب نہ ہوں۔ اگر آدمی خود اللہ کی اطاعت کر رہا ہے ، خدا اور بندوں کے جو حقوق اس پر عائد ہوتے ہیں انہیں ادا کر رہا ہے ، اور راست روی و راست بازی کی مقتضیات پُورے کر رہا ہے ، جن میں لازماً امر بالمعروف و نہی عن المنکر بھی شامل ہے ، تو یقیناً کسی شخص کی گمراہی و کج روی اس کے لیے نقصان دہ نہیں ہو سکتی۔

اِس آیت کا یہ منشاء ہر گز نہیں ہے کہ آدمی بس اپنی نجات کی فکر کرے ، دُوسروں کی اصلاح کی فکر نہ کرے۔ حضرت ابوبکر صدیق ؓ اس غلط فہمی کی تردید کرتے ہوئے اپنے ایک خطبہ میں فرماتے ہیں: ’’لوگو! تم اس آیت کو پڑھتے ہو اور اس کی غلط تاویل کرتے ہو۔ میں نے رسُول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو یہ فرماتے ہوئے سُنا ہے کہ جب لوگوں کا حال یہ ہو جائے کہ وہ بُرائی کو دیکھیں اور اسے بدلنے کی کوشش نہ کریں، ظالم کو ظلم کرتے ہوئے پائیں اور اس کا ہاتھ نہ پکڑیں ، تو بعید نہیں کہ اللہ اپنے عذاب میں سب کو لپیٹ لے۔ خدا کی قسم تم کو لازم ہے کہ بھلائی کا حکم دو اور بُرائی سے روکو، ورنہ اللہ تم پر ایسے لوگوں کو مسلّط کر دے گا جو تم میں سب سے بدتر ہوں گے اور وہ تم کو سخت تکلیفیں پہنچائیں گے ، پھر تمہارے نیک لوگ خدا سے دُعائیں مانگیں گے مگر وہ قبول نہ ہوں گی۔

۱۲۰-یعنی دیندار ، راست باز اور قابلِ اعتماد مسلمان۔

۱۲۱-اِس سے معلوم ہوا کہ مسلمانوں کے معاملات میں غیر مسلم کو شاہد بنانا صرف اُس حالت میں درست ہے جبکہ کوئی مسلما گواہ بننے کے لیے میسّر نہ آ سکے۔

 

ترجمہ

 

جس روز ۱۲۲ اللہ سب رسولوں کو جمع کر کے پُوچھے گا کہ تمہیں کیا جواب دیا گیا،۱۲۳ تو وہ عرض کریں گے کہ ہمیں کچھ علم نہیں،۱۲۴ آپ ہی تمام پوشیدہ حقیقتوں کو جانتے ہیں۔ پھر تصوّر کرو اس موقع کا جب اللہ فرمائے گا ۱۲۵ کہ ’’اے مریم کے بیٹے عیسیٰؑ ! یاد کر میری اس نعمت کو جو میں نے تجھے اور تیری ماں کو عطا کی تھی، میں نے رُوح پاک سے تیری مدد کی، تُو گہوارے میں بھی لوگوں سے بات کرتا تھا اور بڑی عمر کو پہنچ کر بھی، میں نے تجھ کو کتاب اور حکمت اور تورات اور انجیل کی تعلیم دی، تُو میرے حکم سے مٹی کا پُتلا پرندے کی شکل کا بناتا اور اس میں پھُونکتا تھا، اور وہ میرے حکم سے پرندہ بن جاتا تھا ، تُو مادر زاد اندھے کو کوڑھی کو میرے حکم سے اچھا کرتا تھا، تُو مُردوں کو میرے حکم سے نکالتا تھا،۱۲۶ پھر جب تُو بنی اسرائیل کے پاس صریح نشانیاں لے کر پہنچا اور جو لوگ ان میں سے منکرِ حق تھے انہوں نے کہا کہ یہ نشانیاں جادوگری کے سوا اور کچھ نہیں ہیں تو میں نے ہی تجھے اُن سے بچایا ،اور جب میں نے حواریوں کو اشارہ کیا کہ مجھ پر اور میرے رسول پر ایمان لاؤ تب اُنہوں نے کہا کہ ہم ایمان لائے اور گواہ رہو کہ ہم مسلم ہیں‘‘۱۲۷۔۔۔۔ (۱۲۸ حواریوں کے سلسلہ میں) یہ واقعہ بھی یاد رہے کہ جب حواریوں نے کہا کہ اے عیسیٰؑ  ابنِ مریمؑ ! کیا آپ کا رب ہم پر آسمان سے کھانے کا ایک خوان اتار سکتا ہے ؟ تو عیسیٰؑ  نے کہا اللہ سے ڈرو اگر تم مومن ہو۔اُنہوں نے کہا ہم بس یہ چاہتے ہیں کہ اس خوان سے کھانا کھائیں اور ہمارے دل مطمئن ہوں اور ہمیں معلوم ہو جائے کہ آپ نے جو کچھ ہم سے کہا ہے وہ سچ ہے اور ہم اس پر گواہ ہوں۔اس پر عیسیٰؑ  ابن مریمؑ  نے دُعا کی ’’خدایا !ہمارے ربّ ! ہم پر آسمان سے ایک خوان نازل کر جو ہمارے لیے اور ہمارے اگلوں پچھلوں کے لیے خوشی کا موقع قرار پائے اور تیری طرف سے ایک نشانی ہو، ہم کو رزق دے اور تُو بہترین رازق ہے‘‘۔اللہ نے جواب دیا ’’میں اُس کو تم پر نازل کرنے والا ہوں،۱۲۹ مگر اس کے بعد جو تم میں سے کفر کرے گا اسے میں ایسی سزا دوں گا جو دُنیا میں کسی کو نہ دی ہو گی‘‘۔ ؏١۵

 

تفسیر

 

۱۲۲-مراد ہے قیامت کا دن۔

۱۲۳-یعنی اسلام کی طرف جو دعوت تم نے دُنیا کو دی تھی اس کا کیا جواب دُنیا نے تمہیں دیا۔

۱۲۴-یعنی ہم تو صرف اُس محدُود ظاہر ی جواب کو جانتے ہیں جو ہمیں اپنی زندگی میں ملتا ہو ا محسوس ہوا۔ باقی رہا یہ کہ فی الحقیقت ہماری دعوت کا ردِّ عمل کہاں کس صُورت میں کتنا ہوا، تو اس کا صحیح علم آپ کے سوا کسی کو نہیں ہو سکتا۔

۱۲۵-ابتدائی سوال تمام رسُولوں سے بحیثیت مجمُوعی ہو گا۔ پھر ایک ایک رسُول سے الگ الگ شہادت لی جائے گی جیسا کہ قرآن مجید میں متعدّد مقامات پر بتصریح ارشاد ہوا ہے۔ اس سلسلہ میں حضرت عیسیٰ علیہ السّلام سے جو سوال کیا جائے گا وہ یہاں بطورِ خاص نقل کیا جا رہا ہے۔

۱۲۶-یعنی حالت موت سے نکال کر زندگی کی حالت میں لاتا تھا۔

۱۲۷-یعنی حواریوں کا تجھ پر ایمان لانا بھی ہمارے فضل اور توفیق کا نتیجہ تھا ، ورنہ تجھ میں تو اتنی طاقت بھی نہ تھی کہ اُس جھُٹلانے والی آبادی میں ایک ہی تصدیق کرنے والا اپنے بل بوتے پر پیدا کر لیتا۔۔۔۔۔۔ ضمناً یہاں یہ بھی بتا دیا کہ حواریوں کا اصل دین اسلام تھا نہ کہ عیسائیت۔

۱۲۸-چونکہ حواریوں کا ذکر آ گیا تھا اس لیے سلسلۂ  کلام کو توڑ کر جملۂ  معترضہ کے طور پر یہاں حواریوں ہی کے متعلق ایک اور واقعہ کی طرف بھی اشارہ کر دیا گیا جس سے یہ بات صاف ظاہر ہوتی ہے کہ مسیح سے براہِ راست جن شاگردوں نے تعلیم پائی تھی وہ مسیح کو ایک انسان اور محض ایک بندہ سمجھتے تھے اور ان کے وہم و گمان میں بھی اپنے مرشد کے خدا یا شریکِ خدا یا فرزندِ خدا ہونے کا تصوّر نہ تھا۔ نیز یہ کہ مسیح نے خود بھی اپنے آپ کو ان کے سامنے ایک بندۂ بے اختیار کی حیثیت سے پیش کیا تھا۔

یہاں یہ سوال کیا جا سکتا ہے کہ جو گفتگو قیامت کے روز ہونے والی ہے ، اس کے اندر اس جملۂ معترضہ کا کونسا موقع ہو گا؟ اس کا جواب یہ ہے کہ یہ جملۂ معترضہ اُس گفتگو سے متعلق نہیں ہے جو قیامت کے روز ہو گی بلکہ اُس کی اس پیشگی حکایت سے متعلق ہے جو اس دنیا میں کی جا رہی ہے۔ قیامت کی اس ہونے والی گفتگو کا ذکر یہاں کیا ہی اس لیے جا رہا ہے کہ موجودہ زندگی میں عیسائیوں کو اُس سے سبق ملے اور وہ راہِ راست پر آئیں۔ لہٰذا اس گفتگو کے سلسلہ میں حواریوں کے اس واقعہ کا ذکر بطور ایک جملۂ معترضہ کے آنا کسی طرح غیر متعلق نہیں ہے۔

۱۲۹-قرآن اس باب میں خاموش ہے کہ یہ خوان فی الواقع اتارا گیا یا نہیں۔ دُوسرے کسی معتبر ذریعہ سے بھی اس سوال کا جواب نہیں ملتا۔ ممکن ہے کہ یہ نازل ہوا ہو اور ممکن ہے کہ حواریوں نے بعد کی خوفناک دھمکی سُن کر اپنی درخواست واپس لے لی ہو۔

 

ترجمہ

 

غرض جب (یہ احسانات یاد دلا کر) اللہ فرمائے گا کہ ’’اے عیسیٰؑ  بن مریمؑ  ! کیا تُو نے لوگوں سے کہا تھا کہ خدا کے سوا مجھے اور میری ماں کو بھی خدا بنا  لو؟‘‘۱۳۰ تو وہ جواب میں عرض کرے گا ’’سبحان اللہ! میرا یہ کام نہ تھا کہ وہ بات کہتا جس کے کہنے کا مجھے حق نہ تھا، اگر میں نے ایسی بات کہی ہوتی تو آپ کو ضرور علم ہوتا، آپ جانتے ہیں جو کچھ میرے دل میں ہے اور میں نہیں جانتا جو کچھ آپ کے دل میں ہے ، آپ تو ساری پوشیدہ حقیقتوں کے عالم ہیں۔ میں نے اُن سے اُس کے سوا کچھ نہیں کہا جس کا آپ نے حکم دیا تھا ، یہ کہ اللہ کی بندگی کرو جو میرا ربّ بھی ہے اور تمہارا ربّ بھی۔ میں اُسی وقت تک ان کا نگراں تھا جب تک کہ میں ان کے درمیان تھا۔ جب آپ نے مجھے واپس بلا لیا تو آپ ان پر نگراں تھے اور آپ تو ساری ہی چیزوں پر نگراں ہیں۔ اب اگر آپ انہیں سزا دیں تو وہ آپ کے بندے ہیں اور اگر معاف کر دیں تو آپ غالب اور دانا ہیں‘‘ تب اللہ فرمائے گا ’’یہ وہ دن ہے جس میں سچّوں کو ان کی سچّائی نفع دیتی ہے ، اُن کے لیے ایسے باغ ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں، یہاں وہ ہمیشہ رہیں گے ، اللہ ان سے راضی ہوا اور وہ اللہ سے ، یہی بڑی کامیابی ہے ‘‘۔ زمین اور آسمانوں اور تمام موجودات کی پادشاہی اللہ ہی کے لیے ہے اور وہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔ ؏١٦

 

تفسیر

 

۱۳۰-عیسائیوں نے اللہ کے ساتھ صرف مسیح اور رُوح القدس ہی کو خدا بنانے پر اکتفا نہیں کیا، بلکہ مسیح کی والدۂ ماجدہ حضرت مریم کو بھی ایک مستقل معبُود بنا ڈالا۔ حضرت مریم علیہا السّلام کو اُلُوہیّت یا قُدُّوسیّت کے متعلق کوئی اشارہ تک بائیبل میں موجود نہیں ہے۔ مسیح کے بعد ابتدائی تین سو برس تک عیسائی دُنیا اس تخیّل سے بالکل نا آشنا تھی۔ تیسری صدی عیسوی کے آخری دَور میں اسکندریہ کے بعض علماء دینیات نے پہلی مرتبہ حضرت مریم کے لیے ’’اُمّ اللہ‘‘ یا ’’ مادرِ خدا‘‘ کے الفاظ استعمال کیا۔ اس کے بعد آہستہ آہستہ اُلُوہیّتِ  مریم کا عقیدہ اور مریم پرستی کا طریقہ عیسائیوں میں پھیلنا شروع ہوا۔ لیکن اوّل اوّل چرچ اسے باقاعدہ تسلیم کرنے کے لیے تیار نہ تھا ، بلکہ مریم پرستوں کو فاسد العقیدہ قرار دیتا تھا۔ پھر جب نَسطُور یَس کے اس عقیدے پر کہ مسیح کی واحد ذات میں دو مستقل جُداگانہ شخصیتیں جمع تھیں، مسیحی دُنیا میں بحث و جدال کا ایک طوفان اُٹھ کھڑا ہوا تو اس کا تصفیہ کرنے کے لیے سن ۴۳۱ ء میں شہر افسوس میں ایک کونسل منعقد ہوئی، اور اس کونسل میں پہلی مرتبہ کلیسا کی سرکاری زبان میں حضرت مریم کے لیے ’’مادرِ خدا‘‘ کا لقب استعمال کیا گیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ مریم پرستی کا جو مرض اب تک کلیسا کے باہر پھیل رہا تھا وہ اس کے بعد کلیسا کے اندر بھی تیزی کے ساتھ پھیلنے لگا، حتیٰ کہ نزولِ قرآن کے زمانہ تک پہنچتے پہنچتے حضرت مریم اتنی بڑی دیوی بن گئیں کہ باپ، بیٹا اور رُوح القدس تینوں ان کے سامنے ہیچ ہو گئے۔ ان کے مجسّمے جگہ جگہ کلیساؤں میں رکھے ہوئے تھے ، ان کے آگے عبادت کے جُملہ مراسم ادا کیے جاتے تھے ، انہی سے دُعائیں مانگی جاتی تھیں ، وہی فریاد رس، حاجت روا، مشکل کشا اور بیکسوں کی پشتیبان تھیں، اور ایک مسیحی بندے کے لیے سب سے بڑا ذریعۂ اعتماد اگر کوئی تھا تو وہ یہ تھا کہ ’’ مادرِ خدا‘‘ کی حمایت و سرپرستی اسے حاصل ہو۔ قیصر جَسٹِینَن اپنے ایک قانون کی تمہید میں حضرت مریمؑ  کو اپنی سلطنت کا حامی و ناصر قرار دیتا ہے۔ اس کا مشہُور جنرل نرسیس میدانِ جنگ میں حضرت مریمؑ  سے ہدایت و رہنمائی طلب کرتا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے ہمعصر قیصر ہِرَ قْل نے اپنے جھنڈے پر ’’مادرِ خدا‘‘ کی تصویر بنا رکھی تھی اور اسے یقین تھا کہ اس تصویر کی برکت سے یہ جھنڈا سرنگوں نہ ہو گا۔ اگرچہ بعد کی صدیوں میں تحریک اصلاح کے اثر سے پروٹسٹنٹ عیسائیوں نے مریم پرستی کے خلاف شدّت سے آواز اُٹھائی ، لیکن رومن کیتھولک کلیسا آج تک اس مسلک پر قائم ہے۔

٭٭٭

 

 

 

 

۶۔ الانعام

 

 

نام

 

قرآن مجید کی اس سورت کے رکوع ۱۶ اور ۱۷ میں بعض اَنعام (مویشیوں ) کی حرمت اور بعض کی حلت کے متعلق اہل عرب کے توہمات کی تردید کی گئی ہے۔ اسی مناسبت سے اس کا نام "الانعام” رکھا گیا ہے۔

 

زمانۂ نزول

 

ابن عباس رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ یہ پوری سورت مکہ میں بیک وقت نازل ہوئی تھی۔ حضرت معاذ بن جبل کی چچا زاد بہن اسماء بنت یزید کہتی ہیں کہ "جب یہ سورت نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم پر نازل ہو رہی تھی اس وقت آپ اونٹنی پر سوار تھے ، میں اس کی نکیل پکڑے ہوئے تھی اور بوجھ کے مارے اونٹنی کا یہ حال ہو رہا تھا کہ معلوم ہوتا تھا اس کی ہڈیاں اب ٹوٹ جائیں گی”۔ روایات میں اس کی بھی تصریح ہے کہ جس رات یہ نازل ہوئی اسی رات کو آپ نے اسے قلمبند کرا دیا۔

اس کے مضامین پر غور کرنے سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ یہ سورت مکی دور کے آخری زمانے میں نازل ہوئی ہو گی۔ حضرت اسماء بنت یزید کی روایت بھی اسی کی تصدیق کرتی ہے کیونکہ موصوفہ انصار میں سے تھیں اور ہجرت کے بعد ایمان لائیں۔ اگر قبول اسلام سے پہلے محض بر بناء عقیدت وہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی خدمت میں مکہ حاضر ہوئی ہوں گی تو یقیناً یہ حاضری آپ کی مکی زندگی کے آخری سال میں ہوئی ہو گی۔ اس سے پہلے اہل یثرب کے ساتھ آپ کے تعلقات اتنے بڑھے ہی نہ تھے کہ وہاں سے کسی عورت کا آپ کی خدمت میں حاضر ہونا ممکن ہوتا۔

 

شان نزول

 

زمانۂ نزول متعین ہو جانے کے بعد ہم باآسانی اس پس منظر کو دیکھ سکتے ہیں جس میں یہ خطبہ ارشاد ہوا ہے۔ اس وقت اللہ کے رسول کو اسلام کی طرف دعوت دیتے ہوئے ۱۲ سال گزر چکے تھے۔ قریش کی مزاحمت اور ستم گری و جفا کاری انتہا کو پہنچ چکی تھی۔ اسلام قبول کرنے والوں کی ایک بڑی تعداد ان کے ظلم و ستم سے عاجز آ کر ملک چھوڑ چکی تھی اور حبش میں مقیم تھی۔ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی تائید و حمایت کے لیے نہ ابو طالب باقی رہے تھے اور نہ حضرت خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ عنہ، اس لیے ہر دنیوی سہارے سے محروم ہو کر آپ شدید مزاحمتوں کا مقابلے میں تبلیغ رسالت کا فرض انجام دے رہے تھے۔ آپ کی تبلیغ کے اثر سے مکہ میں اور گرد و نواح کے قبائل میں بھی صالح افراد پے در پے اسلام قبول کرتے جا رہے تھے ، لیکن قوم بحیثیتِ مجموعی رد و انکار پر تلی ہوئی تھی، جہاں کئی شخص اسلام کی طرف ادنیٰ میلان بھی ظاہر کرتا تھا اسے طعن و ملامت، جسمانی اذیت اور معاشی و معاشرتی مقاطعہ کا ہدف بننا پڑتا تھا۔ اس تاریک ماحول میں صرف ایک ہلکی سی شعاع یثرب کی طرف سے نمودار ہوئی تھی جہاں سے اوس اور خزرج کے با اثر لوگ آ کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے ہاتھ پر بیعت کر چکے تھے اور جہاں کسی اندرونی مزاحمت کے بغیر اسلام پھیلنا شروع ہو گیا تھا۔ مگر اس حقیر سی ابتداء میں مستقبل کے جو امکانات پوشیدہ تھے انہیں کوئی ظاہر بیں آنکھ نہ دیکھ سکتی تھی۔ بظاہر دیکھنے والوں کو جو کچھ نظر آتا تھا وہ بس یہ تھا کہ اسلام ایک کمزور سی تحریک ہے جس کی پشت پر کوئی مادی طاقت نہیں ، جس کا داعی اپنے خاندان کی ضعیف سی حمایت کے سوا کوئی زور نہیں رکھتا اور جسے قبول کرنے والے چند مٹھی بھر بے بس اور منتشر افراد اپنی قوم کے عقیدہ و مسلک سے منحرف ہو کر اس طرح سوسائٹی سے نکال پھینکے گئے ہیں جیسے پتے اپنے درخت سے جھڑ کر زمین پر پھیل جائیں۔

 

مباحث

 

ان حالات میں یہ خطبہ ارشاد ہوا ہے اور اس کے مضامین کو سات بڑے بڑے عنوانات پر تقسیم کیا جا سکتا ہے :

 

۱. شرک کا ابطال اور عقیدہ توحید کی طرف دعوت

۲. عقیدۂ آخرت کی تبلیغ اور اس غلط خیال کی تردید کہ زندگی جو کچھ ہے بس یہی دنیا کی زندگی ہے

۳. جاہلیت کے ان توہمات کی تردید جن میں لوگ مبتلا تھے

۴. ان بڑے بڑے اصولِ خلاق کی تلقین جن پر اسلام معاشرے کی تعمیر چاہتا تھا

۵. نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور آپ کی دعوت کے خلاف لوگوں کے اعتراضات کا جواب

۶. طویل جدوجہد کے باوجود دعوت کے نتیجہ خیز نہ ہونے پر آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور عام مسلمانوں کے اندر اضطراب اور دل شکستگی کی جو کیفیت پیدا ہو رہی تھی اس پر تسلی

۷. منکرین و مخالفین کو ان کی غفلت و سرشاری اور نا دانستہ خود کشی پر نصیحت، تنبیہ اور تہدید۔

 

لیکن خطبہ کا انداز یہ نہیں ہے کہ ایک ایک عنوان پر الگ الگ یکجا گفتگو کی گئی ہو۔ بلکہ خطبہ ایک دریا کی سی روانی کے ساتھ چلتا جاتا ہے اور اس کے دوران یہ عنوانات مختلف طریقوں سے بار بار چھڑتے ہیں اور ہر بار ایک نئے انداز سے ان پر گفتگو کی جاتی ہے۔

یہاں چونکہ پہلی مرتبہ ناظرین کے سامنے ایک مفصل مکی سورت آ رہی ہے اس لیے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اس مقام پر مکی سورتوں کے تاریخی پس منظر کی ایک جامع تشریح کی ضرورت ہے تاکہ آئندہ تمام مکی سورتوں میں اشاعت کو سمجھنا آسان ہو جائے۔

جہاں تک مدنی سورتوں کا تعلق ہے ، ان میں سے تو قریب قریب ہر ایک کا زمانۂ نزول معلوم ہے یا تھوڑی سی کاوش سے متعین کیا جا سکتا ہے بلکہ ان کی تو بکثرت آیتوں کی انفرادی شان نزول تک معتبر روایات میں مل جاتی ہیں لیکن مکی سورتوں کے متعلق ہمارے پاس اتنے مفصل ذرائع معلومات موجود نہیں ہیں۔ بہت کم سورتیں یا آیتیں ایسی ہیں جن کے زمانۂ نزول اور موقعِ کے بارے میں کوئی صحیح و معتبر روایت ملتی ہو کیونکہ اس زمانے کی تاریخ اس قدر جزئی تفصیلات کے ساتھ مرتب نہیں ہوئی ہے جیسی کہ مدنی دور کی تاریخ ہے۔ اس وجہ سے مکی سورتوں کے معاملے میں ہمیں تاریخی شہادتوں کے بجائے زیادہ تر ان اندرونی شہادتوں پر اعتماد کرنا پڑتا ہے جو مختلف سورتوں کے موضوع، مضمون اور اندازِ بیاں میں ، اور اپنے پس منظر کی طرف ان کے جلی یا خفی اشارات میں پائی جاتی ہیں۔ اور ظاہر ہے کہ اس نوعیت کی شہادتوں کی مدد سے لے کر ایک ایک سورت اور ایک ایک آیت کے متعلق یہ تعین نہیں کیا جا سکتا کہ یہ فلاں تاریخ یا فلاں سن میں فلاں موقع پر نازل ہوئی ہے۔ زیادہ صحت کے ساتھ جو کچھ کیا جا سکتا ہے وہ صرف یہ ہے کہ ایک طرف ہم مکی سورتوں کی اندرونی شہادتوں کو اور دوسری طرف نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی مکی زندگی کی تاریخ کو آمنے سامنے رکھیں اور پھر دونوں کا تقابل کرتے ہوئے یہ رائے قائم کریں کہ کون سی سورت کس دور سے تعلق رکھتی ہے۔

اس طرز تحقیق کو ذہن میں رکھ کر جب ہم نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی مکی زندگی پر نگاہ ڈالتے ہیں تو وہ دعوت اسلامی کے نقطۂ نظر سے ہمیں چار بڑے بڑے نمایاں ادوار پر منقسم نظر آتی ہے :

 

پہلا دور، آغازِ بعثت سے لے کر اعلان نبوت تک، تقریباً تین سال، جس میں دعوت خفیہ طریقے سے خاص خاص آدمیوں کو دی جا رہی تھی اور عام اہلِ مکہ کو اس کا علم نہ تھا

 

دوسرا دور، اعلان نبوت سے لے کر ظلم و ستم کے آغاز تک، تقریباً ۲ سال، جس میں پہلے مخالفت شروع ہوئی، پھر اس نے مزاحمت کی شکل اختیار کی، پھر تضحیک، استہزاء، الزامات، سب و شتم، جھوٹے پروپیگنڈے اور مخالفانہ جتھہ بندی تک نوبت پہنچی اور بالآخر ان مسلمانوں پر زیادتیاں شروع ہو گئی جو نسبتاً زیادہ غریب، کمزور اور بے یار و مددگار تھے۔

تیسرا دور، آغاز ظلم و ستم سے لے کر ابو طالب اور حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کی وفات تک، تقریباً پانچ چھ سال۔ اس میں مخالفت انتہائی شدت اختیار کرتی چلی گئی، بہت سے مسلمان کفار مکہ کے ظلم و ستم سے تنگ آ کر حبش کی طرف ہجرت کر گئے ، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور آپ کے خاندان اور باقی ماندہ مسلمانوں کا معاشی و معاشرتی مقاطعہ کیا گیا اور آپ اپنے حامیوں اور ساتھیوں سمیت شعب ابی طالب میں محصور کر دیے گئے۔

چوتھا دور ہجرت سے قبل کے تین سال، یہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور آپ کے ساتھیوں کے لیے انتہائی سختی و مصیبت کا زمانہ تھا۔ مکہ میں آپ کے لیے زندگی دو بھر کر دی گئی تھی، طائف گئے تو وہاں بھی پناہ نہ ملی، حج کے موقع پر عرب کے ایک ایک قبیلے سے آپ اپیل کرتے رہے کہ وہ آپ کی دعوت قبول کرے اور آپ کا ساتھ دے مگر ہر طرف سے کورا جواب ہی ملتا رہا۔ اور ادھر اہل مکہ بار بار یہ مشورے کرتے رہے کہ آپ کو قتل کر دیں یا قید کر دیں یا اپنی بستی سے نکال دیں۔ آخر کار اللہ کے فضل سے انصار کے دل اسلام کے لیے کھل گئے اور ان کی دعوت پر آپ نے مدینہ کی طرف ہجرت فرمائی۔

ان میں سے ہر دور میں قرآن مجید کی جو سورتیں نازل ہوئی ہیں وہ اپنے مضامین اور انداز بیاں میں دوسرے دور کی سورتوں سے مختلف ہیں۔ ان میں بکثرت مقامات پر ایسے اشارات بھی پائے جاتے ہیں جن سے پس منظر کے حالات اور واقعات پر صاف روشنی پڑتی ہے۔ ہر دور کی خصوصیات کا اثر اس دور کے نازل شدہ کلام میں بہت بڑی حد تک نمایاں نظر آتا ہے۔ انہی علامات پر اعتماد کر کے ہم آئندہ ہر مکی سورت کے آغاز میں بتائیں کہ وہ مکہ کے کس دور میں نازل ہوئی۔

 

ترجمہ

 

تعریف اللہ کے لیے ہے جس نے زمین اور آسمان بنائے ، روشنی اور تاریکیاں پیدا کیں۔ پھر بھی وہ لوگ جنہوں نے دعوتِ حق کو ماننے سے انکار کر دیا ہے دُوسروں کو اپنے ربّ کا ہمسر ٹھیرا رہے ہیں۔۱ وہی ہے جس نے تم کو مٹی سے پیدا کیا،۲ پھر تمہارے لیے زندگی کی ایک مدّت مقرر کر دی، اور ایک دُوسری مدّت اور بھی جو اس کے ہاں طے شدہ ہے۔۳ مگر تم لوگ ہو کہ شک میں پڑے ہوئے ہو۔وہی ایک خدا آسمانوں میں بھی ہے اور زمین میں بھی، تمہارے کھُلے اور چھُپے سب حال جانتا ہے اور جو برائی یا بَھلائی تم کماتے ہو اس سے خوب واقف ہے۔ لوگوں کا حال یہ ہے کہ ان کے ربّ کی نشانیوں میں سے کوئی نشانی ایسی نہیں جو ان کے سامنے آئی ہو اور انہوں نے اس سے منہ نہ موڑ لیا ہو۔ چنانچہ اب جو حق ان کے پاس آیا تو اسے بھی انہوں نے جھٹلا دیا۔ اچھا، جس چیز کا وہ اب تک مذاق اُڑاتے رہے ہیں عنقریب اس کے متعلق کچھ خبریں انہیں پہنچیں گی۔۴کیا انہوں نے دیکھا نہیں کہ ان سے پہلے کتنی ایسی قوموں کو ہم ہلاک کر چکے ہیں جن کا اپنے اپنے زمانہ میں دَور دَورہ رہا ہے ؟ اُن کو ہم نے زمین میں وہ اقتدار بخشا تھا جو تمہیں نہیں بخشا ہے ، ان پر ہم نے آسمان سے خوب بارشیں برسائیں اور ان کے نیچے نہریں بہا دیں، (مگر جب انھوں نے کفرانِ نعمت کیا تو) آخر کار ہم نے ان کے گناہوں کی پاداش میں انہیں تباہ کر دیا اور ان کی جگہ دُوسرے دَور کی قوموں کو اُٹھایا۔ اے پیغمبر ؐ ، اگر ہم تمہارے اوپر کوئی کاغذ میں لکی لکھائی کتاب بھی اتار دیتے اور لوگ اسے اپنے ہاتھوں سے چھُو کر بھی دیکھ لیتے تب بھی جنھوں نے حق کا انکار کیا ہے وہ یہی کہتے کہ یہ تو صریح جادُو ہے۔ کہتے ہیں کہ اس نبی پر کوئی فرشتہ کیوں نہیں اُتارا گیا۔۵ اگر کہیں ہم نے فرشتہ اُتار دیا ہوتا تو اب تک کبھی کا فیصلہ ہو چکا ہوتا، پھر انہیں کوئی مُہلت نہ دی جاتی۔۶ اور اگر ہم فرشتے کو اُتارتے تب بھی اسے انسانی شکل ہی میں اُتارتے اور اس طرح انہیں اُسی شبہ میں مُبتلا کر دیتے جس میں اب یہ مبتلا ہیں۔۷ اے محمدؐ ، تم سے پہلے بھی بہت سے رسُولوں کا مذاق اُڑایا جا چکا ہے ، مگر ان مذاق اُڑانے والوں پر آخر کار وہی حقیقت مسلّط ہو کر رہی جس کا وہ مذاق اُڑاتے تھے۔ ؏١

 

تفسیر

 

۱-یاد رہے کہ مخاطب وہ مشرکین عرب ہیں جو اس بات کو تسلیم کرتے تھے کہ زمین و آسمان کا خالق اللہ ہے ، وہی دن نکالتا اور رات لاتا ہے اور اسی نے آفتاب و ماہتاب کو وجود بخشا ہے۔ ان میں سے کسی کا بھی یہ عقیدہ نہ تھا کہ یہ کام لات یا ہُبل یا عُزّیٰ یا کسی اَور دیوی یا دیوتا کے ہیں۔ اس لیے ان کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا جا رہا ہے کہ نادانو! جب تم خود یہ مانتے ہو کہ زمین و آسمان کا خالق اور گردش لیل و نہار کا فاعل اللہ ہے تو یہ دُوسرے کون ہوتے ہیں کہ ان کے سامنے سجدے کرتے ہو، نذریں اور نیازیں چڑھاتے ہو، دُعائیں مانگتے ہو اور اپنی حاجتیں پیش کرتے ہو۔ (ملاحظہ ہو سُورۂ فاتحہ حاشیہ نمبر ۲ – سُورۂ بقرہ حاشیہ نمبر ۱۶۳)

روشنی کے مقابلہ میں تاریکیوں کو بصیغۂ جمع بیان کیا گیا ، کیونکہ تاریکی نام ہے عدمِ نور کا اور عدم نور کے بیشمار مدارج ہیں۔ اس لیے نور واحد ہے اور تاریکیاں بہت ہیں۔

۲-انسانی جسم کے تمام اجزاء زمین سے حاصل ہوتے ہیں، کوئی ایک ذرہ بھی اس میں غیر ارضی نہیں ہے ، اس لیے فرمایا کہ تم کو مِٹی سے پیدا کیا گیا ہے۔

۳-یعنی قیامت کی گھڑی جب کہ تمام اگلے پچھلے انسان از سرِ نو زندہ کیے جائیں گے اور حساب دینے کے لیے اپنے ربّ کے سامنے حاضر ہوں گے۔

۴-اشارہ ہے ہجرت اور اُن کامیابیوں کی طرف جو ہجرت کے بعد اسلام کو پے درپے حاصل ہونے والی تھیں۔ جس وقت یہ اشارہ فرمایا گیا تھا اس وقت نہ کفار یہ گمان کر سکتے تھے کہ کس قسم کی خبریں انھیں پہنچنے والی ہیں اور نہ مسلمانوں ہی کے ذہن میں اس کا کوئی تصوّر تھا۔ بلکہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم خود بھی آئندہ کے امکانات سے بے خبر تھے۔

۵-یعنی جب یہ شخص خدا کی طرف سے پیغمبر بنا کر بھیجا گیا ہے تو آسمان سے ایک فرشتہ اُترنا چاہیے تھا جو لوگوں سے کہتا کہ یہ خدا کا پیغمبر ہے ، اس کی بات مانو ورنہ تمہیں سزا دی جائے گی۔ جاہل معترضین کو اس بات پر تعجب تھا کہ خالقِ ارض و سماء کسی کو پیغمبر مقرر کرے اور پھر اِس طرح اُسے بے یار و مددگار ، پتھر کھانے اور گالیاں سُننے کے لیے چھوڑ دے۔ اتنے بڑے بادشاہ کا سفیر اگر کسی بڑے اسٹاف کے ساتھ نہ آیا تھا تو کم از کم ایک فرشتہ تو اس کی اردلی میں رہنا چاہیے تھا تا کہ وہ اس کی حفاظت کرتا، اس کا رُعب بٹھاتا، اس کی ماموریّت کا یقین دلاتا اور فوق الفطری طریقے سے اس کے کام انجام دیتا۔

۶-یہ ان کے اعتراض کا پہلا جواب ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایمان لانے اور اپنے طرزِ عمل کی اصلاح کر لینے کے لیے جو مُہلت تمہیں ملی ہوئی ہے یہ اُسی وقت تک ہے جب تک حقیقت پردۂ غیب میں پوشیدہ ہے۔ ورنہ جہاں غیب کا پردہ چاک ہوا، پھر مُہلت کا کوئی موقع باقی نہ رہے گا۔ اُس کے بعد تو صرف حساب ہی لینا باقی رہ جائے گا۔ اس لیے کہ دنیا کی زندگی تمہارے لیے ایک امتحان کا زمانہ ہے ، اور امتحان اس امر کا ہے کہ تم حقیقت کو دیکھے بغیر عقل و فکر کے صحیح استعمال سے اس کا ادراک کرتے ہو یا نہیں، اور ادراک کرنے کے بعد اپنے نفس اور اس کی خواہشات کو قابو میں لا کر اپنے عمل کو حقیقت کے مطابق درست رکھتے ہو یا نہیں۔ اس امتحان کے لیے غیب کا غیب رہنا شرط لازم ہے ، اور تمہاری دُنیوی زندگی ، جو دراصل مہلتِ امتحان ہے ، اسی وقت تک قائم رہ سکتی ہے جب تک غیب، غیب ہے۔ جہاں غیب شہادت میں تبدیل ہوا، مہلت لازماً ختم ہو جائے گی اور امتحان کے بجائے نتیجہ ٔ امتحان نکلنے کا وقت آ پہنچے گا۔ لہٰذا تمہارے مطالبہ کے جواب میں یہ ممکن نہیں ہے کہ تمہارے سامنے فرشتے کو اس کی اصلی صُورت میں نمایاں کر دیا جائے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ ابھی تمہارے امتحان کی مدّت ختم نہیں کر نا چاہتا۔(ملاحظہ ہو سُورہ ٔ بقرہ حاشیہ نمبر ۲۲۸)

۷-یہ ان کے اعتراض کا دُوسرا جواب ہے۔ فرشتے کے آنے کی پہلی صُورت یہ ہو سکتی تھی کہ وہ لوگوں کے سامنے اپنی اصلی غیبی صُورت میں ظاہر ہوتا۔ لیکن اُوپر بتا دیا گیا کہ ابھی اس کا وقت نہیں آیا۔ اب دُوسری صُورت یہ باقی رہ گئی کہ وہ انسانی صُورت میں آئے۔ اس کے متعلق فرمایا جا رہا ہے کہ اگر وہ انسانی صُورت میں آئے تو اس کے مامور مِن اللہ ہونے میں بھی تم کو وہی اشتباہ پیش آئے گا جو محمد صلی اللہ علیہ و سلم کے مامور مِن اللہ ہونے میں پیش آ رہا ہے۔

 

ترجمہ

 

اِن سے کہو، ذرا زمین میں چل پھر کر دیکھو جھٹلانے والوں کا کیا انجام ہوا ہے۔۸ ان سے پوچھو، آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے وہ کس کا ہے ؟۔۔۔۔کہو سب کچھ اللہ ہی کا ہے ،۹ اس نے رحم و کرم کا شیوہ اپنے اوپر لازم کر لیا ہے (اسی لیے وہ نافرمانیوں اور سرکشیوں پر تمہیں جلدی سے نہیں پکڑ لیتا) قیامت کے روز وہ تم سب کو ضرور جمع کرے گا، یہ بالکل ایک غیر مشتبہ حقیقت ہے ، مگر جن لوگوں نے اپنے آپ کو خود تباہی کے خطرے میں مُبتلا کر لیا ہے وہ اسے نہیں مانتے۔رات کے اندھیرے اور دن کے اُجالے میں جو کچھ ٹھیرا ہُوا ہے ، سب اللہ کا ہے اور وہ سب کچھ سُنتا اور جانتا ہے ،کہو، اللہ کو چھوڑ کر کیا میں کسی اور کو اپنا سرپرست بنا لوں؟ اُس خدا کو چھوڑ کر جو زمین و آسمان کا خالق ہے اور جو روزی دیتا ہے روزی لیتا نہیں ہے ؟۱۰ کہو مجھے تو یہی حکم دیا گیا ہے کہ سب سے پہلے میں اُس کے آگے سرِ تسلیم خم کروں (اور تائید کی گئی ہے کہ کوئی شرک کرتا ہے تو کرے ) تُو بہرحال مشرکوں میں شامل نہ ہو۔کہو، اگر میں اپنے ربّ کی نافر مانی کروں تو ڈرتا ہوں کہ ایک بڑے (خوفناک) دن مجھے سزا بھگتنی پڑے گی۔ اُس دن جو سزا سے بچ گیا اس پر اللہ نے بڑا ہی رحم کیا اور یہی نمایاں کامیابی ہے۔ اگر اللہ تمہیں کسی قسم کا نقصان پہنچائے تو اس کے سوا کوئی نہیں جو تمہیں اس نقصان سے بچا سکے ، اور اگر وہ تمہیں کسی بھلائی سے بہرہ مند کرے تو وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ وہ اپنے بندوں پر کامل اختیارات رکھتا ہے اور دانا اور باخبر ہے۔ ان سے پوچھو، کس کی گواہی سب سے بڑھ کر ہے ؟۔۔۔۔ کہو، میرے اور تمہارے درمیان اللہ گواہ ہے ،۱۱ اور یہ قرآن میری طرف بذریعہ وحی بھیجا گیا ہے تاکہ تمہیں اور جس جس کو یہ پہنچے ، سب کو متنبّہ کر دُوں۔ کیا واقعی تم لوگ یہ شہادت دے سکتے ہو کہ اللہ کے ساتھ دُوسرے خدا بھی ہیں؟۱۲ کہو، میں تو اس کی شہادت ہرگز نہیں دے سکتا۔۱۳ کہو، خدا تو وہی ایک ہے اور میں اُس شرک سے قطعی بیزار ہوں جس میں تم مبتلا ہو۔جن لوگوں کو ہم نے کتاب دی ہے وہ اس بات کو اس طرح غیر مشتبہ طور پر پہچانتے ہیں جیسے ان کو اپنے بیٹوں کے پہچاننے میں کوئی اشتباہ پیش نہیں آتا۔۱۴ مگر جنہوں نے اپنے آپ کو خود خسارے میں ڈال دیا ہے وہ اِسے نہیں مانتے۔ ؏۲

 

تفسیر

 

۸-یعنی گزری ہوئی قوموں کے آثار قدیمہ اور ان کے تاریخی افسانے شہادت دیں گے کہ صداقت و حقیقت سے مُنہ موڑنے اور باطل پرستی پر اصرار کرنے کی بدولت کس طرح یہ قومیں عبرتناک انجام سے دوچار ہوئیں۔

۹-یہ ایک لطیف اندازِ بیان ہے۔ پہلے حکم ہوا کہ ان سے پوچھو، زمین و آسمان کی موجودات کس کی ہیں۔ سائل نے سوال کیا اور جواب کے انتظار میں ٹھیر گیا۔ مخاطب اگرچہ خود قائل ہیں کہ سب کچھ اللہ کا ہے ، لیکن نہ تو وہ غلط جواب دینے کی جرأت رکھتے ہیں ، اور نہ صحیح جواب دینا چاہتے ہیں، کیونکہ اگر صحیح جواب دیتے ہیں تو انھیں خوف ہے کہ مخالف اس سے ان کے مشرکانہ عقیدہ کے خلاف استدلال کرے گا۔ اس لیے وہ کچھ جواب نہیں دیتے۔ تب حکم ہوتا ہے کہ تم خود ہی کہو کہ سب کچھ اللہ کا ہے۔

۱۰-اس میں ایک لطیف تعریض ہے۔ مشرکوں نے اللہ کے سوا جن جن کو اپنا خدا بنا رکھا ہے وہ سب اپنے ان بندوں کو رزق دینے کے بجائے اُلٹا ان سے رزق پانے کے محتاج ہیں۔ کوئی فرعون خدائی کے ٹھاٹھ نہیں جما سکتا جب تک اس کے بندے اسے ٹیکس اور نذرانے نہ دیں۔ کسی صاحبِ قبر کی شانِ معبُودیّت قائم نہیں ہو سکتی جب تک اس کے پرستار اس کا شاندار مقبرہ تعمیر نہ کریں۔ کسی دیوتا کا دربارِ خداوندی سج نہیں سکتا جب تک اس کے پُجاری اس کا مجسّمہ بنا کر کسی عالی شان مندر میں نہ رکھیں اور اس کو تزئین و آرائش کے سامانوں سے آراستہ نہ کریں۔ سارے بناؤٹی خدا بیچا رے خود اپنے بندوں کے محتاج ہیں۔ صرف ایک خداوندِ عالم ہی وہ حقیقی خدا ہے جس کی خدائی آپ اپنے بل بوتے پر قائم ہے اور جو کسی کی مدد کا محتاج نہیں بلکہ سب اسی کے محتاج ہیں۔

۱۱-یعنی اس بات پر گواہ ہے کہ میں اس کی طرف سے مامور ہوں اور جو کچھ کہہ رہا ہوں اسی کے حکم سے کہہ رہا ہوں۔

۱۲-کسی چیز کی شہادت دینے کے لیے محض قیاس و گمان کافی نہیں ہے بلکہ اس کے لیے علم ہونا ضروری ہے جس کی بنا پر آدمی یقین کے ساتھ کہہ سکے کہ ایسا ہے۔ پس سوال کا مطلب یہ ہے کہ کیا واقعی تمہیں یہ علم ہے کہ اس جہانِ ہست و بُود میں خدا کے سوا اَور بھی کوئی کار فرما حاکمِ ذی اختیار ہے جو بندگی و پرستش کا مستحق ہو؟

۱۳-یعنی اگر تم علم کے بغیر محض جھُوٹی شہادت دینا چاہتے ہو تو دو، میں تو ایسی شہادت نہیں دے سکتا۔

۱۴-یعنی کتبِ آسمانی کا علم رکھنے والے اس حقیقت کو غیر مشتبہ طور پر پہچانتے ہیں کہ خدا ایک ہی ہے اور خدائی میں کسی کا کچھ حصّہ نہیں ہے۔ جس طرح کسی کا بچّہ بہت سے بچّوں میں مِلا جُلا کھڑا ہو تو وہ الگ پہچان لے گا کہ اس کا بچہ کونسا ہے ، اسی طرح جو شخص کتابِ الٰہی کا علم رکھتا ہو وہ اُلُوہیّت کے متعلق لوگوں کے بے شمار مختلف عقیدوں اور نظریوں کے درمیان بلا کسی شک و اشتباہ کے یہ پہچان لیتا ہے کہ ان میں سے امرِ حق کونسا ہے۔

 

ترجمہ

 

اور اُس شخص سے بڑھ کر ظالم کون ہو گا جو اللہ پر جھوٹا بہتان لگائے ،۱۵ یا اللہ کی نشانیوں کو جھٹلائے ؟۱۶ یقیناً ایسے ظالم کبھی فلاح نہیں پا سکتے۔ جس روز ہم ان سب کو اکٹھا کریں گے اور مشرکوں سے پوچھیں گے کہ اب وہ تمہارے ٹھیرائے ہوئے شریک کہاں ہیں جن کو تم اپنا خدا سمجھتے تھے  تو وہ اِس کے سوا کوئی فتنہ نہ اُٹھا سکیں گے کہ (یہ جھوٹا بیان دیں کہ) اے ہمارے آقا! تیری قسم ہم ہرگز مشرک نہ تھے۔ دیکھو، اُس وقت یہ کس طرح اپنے اوپر آپ جھوٹ گھڑیں گے ، اور وہاں اُن کے سارے بناوٹی معبود گم ہو جائیں گے۔ ان میں سے بعض لوگ ایسے ہیں جو کان لگا کر تمہاری بات سُنتے ہیں مگر حال یہ ہے کہ ہم نے اُن کے دلوں پر پردے ڈال رکھے ہیں جن کی وجہ سے وہ اس کو کچھ نہیں سمجھتے اور ان کے کانوں میں گرانی ڈال دی ہے (کہ سب کچھ سننے پر بھی کچھ نہیں سنتے )۱۷۔ وہ خواہ کوئی نشانی دیکھ لیں، اس پر ایمان لا کر نہ دیں گے۔ حد یہ ہے کہ جب وہ تمہارے پاس آ کر تم سے جھگڑتے ہیں تو ان میں سے جن لوگوں نے انکار کا فیصلہ کر لیا ہے وہ (ساری باتیں سننے کے بعد) یہی کہتے ہیں کہ یہ ایک داستانِ پارینہ کے سوا کچھ نہیں۔۱۸وہ اس امر حق کو قبول کرنے سے لوگوں کو روکتے ہیں اور خود بھی اس سے دُور بھاگتے ہیں۔ (وہ سمجھتے ہیں کہ اس حرکت سے وہ تمہارا کچھ بگاڑ رہے ہیں) حالانکہ دراصل وہ خود اپنی ہی تباہی کا سامان کر رہے ہیں مگر انہیں اس کا شعور نہیں ہے۔ کاش تم اس وقت کی حالت دیکھ سکتے جب وہ دوزخ کے کنارے کھڑے کیے جائیں گے۔ اس وقت وہ کہیں گے کہ کاش کوئی صُورت ایسی ہو کہ ہم دنیا میں پھر واپس بھیجے جائیں اور اپنے ربّ کی نشانیوں کو نہ جھٹلائیں اور ایمان لانے والوں میں شامل ہوں۔ در حقیقت یہ بات وہ محض اس وجہ سے کہیں گے کہ جس حقیقت پر انہوں نے پردہ ڈال رکھا تھا وہ اس وقت بے نقاب ہو کر ان کے سامنے آ چکی ہو گی،۱۹ ورنہ اگر انہیں سابق زندگی کی طرف واپس بھیجا جائے تو پھر وہی سب کچھ کریں جس سے انہیں منع کیا گیا ہے ، وہ تو ہیں ہی جھوٹے (اس لیے اپنی اس خواہش کے اظہار میں بھی جھوٹ ہی سے کام لیں گے )۔ آج یہ لوگ کہتے ہیں کہ زندگی جو کچھ بھی ہے بس یہی دنیا کی زندگی ہے اور ہم مرنے کے بعد ہرگز دوبارہ نہ اٹھائے جائیں گے۔ کاش وہ منظر تم دیکھ سکو جب یہ اپنے ربّ کے سامنے کھڑے کیے جائیں گے۔ اس وقت ان کا ربّ ان سے پوچھے گا ’’کیا یہ حقیقت نہیں ہے ‘‘؟ یہ کہیں گے ’’ہاں اے ہمارے ربّ!یہ حقیقت ہی ہے ‘‘۔ وہ فرمائے گا ’’اچھا! تو اب اپنے انکارِ حقیقت کی پاداش میں عذاب کا مزا چکھو ‘‘۔ ؏۳

 

تفسیر

 

۱۵-یعنی یہ دعویٰ کرے کہ خد اکے ساتھ دُوسری بہت سی ہستیاں بھی خدائی میں شریک ہیں، خدائی صفات سے متصف ہیں، خداوندانہ اختیارات رکھتی ہیں، اور اس کی مستحق ہیں کہ انسان ان کے آگے عبدیّت کا رویّہ اختیار کرے۔ نیز یہ بھی اللہ پر بہتان ہے کہ کوئی یہ کہے کہ خدا نے فلاں فلاں ہستیوں کو اپنا مقَرَّبِ خاص قرار دیا ہے اور اُسی نے یہ حکم دیا ہے ، یا کم از کم یہ کہ وہ اِس پر راضی ہے کہ ان کی طرف خدائی صفات منسُوب کی جائیں اور ان سے وہ معاملہ کیا جائے جو بندے کو اپنے خدا کے ساتھ کرنا چاہیے۔

۱۶-اللہ کی نشانیوں سے مراد وہ نشانیاں بھی ہیں جو انسان کے اپنے نفس اور ساری کائنات میں پھیلی ہوئی ہیں، اور وہ بھی جو پیغمبروں کی سیرت اور ان کے کارناموں میں ظاہر ہوئیں ، اور وہ بھی جو کتبِ آسمانی میں پیش کی گئیں۔ یہ ساری نشانیاں ایک ہی حقیقت کی طرف رہنمائی کرتی ہیں، یعنی یہ کہ موجوداتِ عالم میں خدا صرف ایک ہے باقی سب بندے ہیں۔ اب جو شخص ان تمام نشانیوں کے مقابلہ میں کسی حقیقی شہادت کے بغیر، کسی علم، کسی مشاہدے اور کسی تجربے کے بغیر، مجرّد قیاس و گمان یا تقلیدِ  آبائی کی بنا پر ، دُوسروں کو اُلُوہیّت کی صفات سے متصف اور خداوندی حقوق کا مستحق ٹھیراتا ہے ، ظاہر ہے کہ اس سے بڑھ کر ظالم کوئی نہیں ہو سکتا۔ وہ حقیقت و صداقت پر ظلم کر رہا ہے ، اپنے نفس پر ظلم کر رہا ہے اور کائنات کی ہر اس چیز پر ظلم کر رہا ہے جس کے ساتھ وہ اس غلط نظریہ کی بنا پر کوئی معاملہ کرتا ہے۔

۱۷-یہاں یہ بات ملحوظ رہے کہ قانونِ فطرت کے تحت جو کچھ دنیا میں واقع ہوتا ہے اسے اللہ تعالیٰ اپنی طرف منسُوب فرماتا ہے ، کیونکہ دراصل اس قانون کا بنانے والا اللہ ہی ہے اور جو نتائج اس قانون کے تحت رونما ہوتے ہیں وہ سب حقیقت میں اللہ کے اذن و ارادہ کے تحت ہی رونما ہوا کرتے ہیں۔ ہٹ دھرم منکرینِ حق کا سب کچھ سُننے پر بھی کچھ نہ سُننا اور داعی حق کی کسی بات کا اُن کے دل میں نہ اترنا اُن کی ہٹ دھرمی اور تعصب اور جمود کا فطری نتیجہ ہے۔ قانونِ فطرت یہی ہے کہ جو شخص ضد پر اُتر آتا ہے اور بے تعصّبی کے ساتھ صداقت پسند انسان کا سا رویہ اختیار کرنے پر تیّار نہیں ہوتا، اس کے دل کے دروازے ہر اس صداقت کے لیے بند ہو جاتے ہیں جو اس کی خواہشات کے خلاف ہو۔ اس بات کو جب ہم بیان کریں گے تو یوں کہیں گے کہ فلاں شخص کے دل کے دروازے بند ہیں۔ اور اسی بات کو جب اللہ بیان فرمائے گا تو یوں فرمائے گا کہ اس کے دل کے دروازے ہم نے بند کر دیے ہیں۔ کیونکہ ہم صرف واقعہ بیان کرتے ہیں اور اللہ حقیقتِ  واقعہ کا اظہار فرماتا ہے۔

۱۸-نادان لوگوں کا عموماً یہ قاعدہ ہوتا ہے کہ جب کوئی شخص انہیں حق کی طرف دعوت دیتا ہے تو وہ کہتے ہیں کہ تم نے نئی بات کیا کہی، یہ تو سب وہی پرانی باتیں ہیں جو ہم پہلے سے سُنتے چلے آرہے ہیں۔ گویا ان احمقوں کا نظریہ یہ ہے کہ کسی بات کے حق ہونے کے لیے اس کا نیا ہونا بھی ضروری ہے اور جو بات پرانی ہے وہ حق نہیں ہے۔ حالانکہ حق ہر زمانے میں ایک ہی رہا ہے اور ہمیشہ ایک ہی رہے گا۔ خدا کے دیے ہوئے علم کی بنا پر جو لوگ انسانوں کی رہنمائی کے لیے آگے بڑھے ہیں وہ سب قدیم ترین زمانہ سے ایک ہی امرِ حق پیش کرتے آئے ہیں اور آئندہ بھی جو اس منبعِ علم سے فائدہ اُٹھا کر کچھ پیش کرے گا وہ اسی پرانی بات کو دُہرائے گا۔ البتہ نئی بات صرف وہی لوگ نکال سکتے ہیں جو خدا کی روشنی سے محروم ہو کر ازلی و ابدی حقیقت کو نہیں دیکھ سکتے اور اپنے ذہن کی اُپج سے کچھ نظریات گھڑ کر انہیں حق کے نام سے پیش کرتے ہیں۔ اس قسم کے لوگ بلاشبہ ایسے نادرہ کار ہو سکتے ہیں کہ وہ بات کہیں جو ان سے پہلے کبھی دنیا میں کسی نے نہ کہی ہو۔

۱۹-یعنی ان کا یہ قول درحقیقت عقل و فکر کے کسی صحیح فیصلے اور کسی حقیقی تبدیلی رائے کا نتیجہ نہ ہو گا بلکہ محض مشاہدۂ حق کا نتیجہ ہو گا جس کے بعد ظاہر ہے کہ کوئی کٹّے سے کٹّا کافر بھی انکار کی جرأت نہیں کر سکتا۔

 

ترجمہ

 

نقصان میں پڑ گئے وہ لوگ جنہوں نے اللہ سے اپنی ملاقات کی اطلاع کو جھُوٹ قرار دیا۔ جب اچانک وہ گھڑی آ جائے گی تو یہی لوگ کہیں گے ’’افسوس! ہم سے اس معاملہ میں کیسی تقصیر ہُوئی‘‘۔ اور اِن کا حال یہ ہو گا کہ اپنی پیٹھوں پر اپنے گناہوں کا بوجھ لادے ہوئے ہوں گے۔ دیکھو ! کیسا بُرا بوجھ ہے جو یہ اُٹھا رہے ہیں۔ دُنیا کی زندگی تو ایک کھیل اور ایک تماشا ہے ،۲۰ حقیقت میں آخرت ہی کا مقام اُن لوگوں کے لیے بہتر ہے جو زیاں کاری سے بچنا چاہتے ہیں، پھر کیا تم لوگ عقل سے کام نہ لو گے ؟ اے محمدؐ ! ہمیں معلوم ہے کہ جو باتیں یہ لوگ بناتے ہیں ان سے تمہیں رنج ہوتا ہے ، لیکن یہ لوگ تمہیں نہیں جھٹلاتے بلکہ یہ ظالم دراصل اللہ کی آیات کا انکار کر رہے ہیں۔۲۱تم سے پہلے بھی بہت سے رسُول جھٹلائے جا چکے ہیں، مگر اس تکذیب پر اور اُن اذیّتوں پر جو انہیں پہنچائی گئیں، انہوں نے صبر کیا، یہاں تک کہ انہیں ہماری مدد پہنچ گئی۔ اللہ کی باتوں کو بدلنے کی طاقت کسی میں نہیں ہے ،۲۲ اور پچھلے رسُولوں کے ساتھ جو کچھ پیش آیا اس کی خبریں تمہیں پہنچ ہی چکی ہیں۔تاہم اگر ان لوگوں کی بے رخی تم سے برداشت نہیں ہوتی تو اگر تم میں کچھ زور ہے تو زمین میں کوئی سرنگ ڈھونڈو یا آسمان میں سیڑھی لگاؤ اور ان کے پاس کوئی نشانی لانے کی کوشش کرو۔۲۳ اگر اللہ چاہتا تو ان سب کو ہدایت پر جمع کر سکتا تھا، لہٰذا نادان مت بنو۔۲۴دعوتِ حق پر لبیک وہی لوگ کہتے ہیں جو سُننے والے ہیں، رہے مُردے ،۲۵ تو انہیں تو اللہ بس قبروں ہی سے اُٹھائے گا اور پھر وہ (اس کی عدالت میں پیش ہونے کے لیے ) واپس لائے جائیں گے۔یہ لوگ کہتے ہیں کہ اِس نبی پر اس کے ربّ کی طرف سے کوئی نشانی کیوں نہیں اُتری؟ کہو، اللہ نشانی اتارنے کی پُوری قدرت رکھتا ہے ، مگر ان میں سے اکثر لوگ نادانی میں مُبتلا ہیں۔۲۶زمین میں چلنے والے کسی جانور اور ہوا میں پروں سے اُڑنے والے کسی پرندے کو دیکھ لو، یہ سب تمہاری ہی طرح کی انواع ہیں، ہم نے ان کی تقدیر کے نوشتے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ہے ، پھر یہ سب اپنے ربّ کی طرف سمیٹے جاتے ہیں۔مگر جو لوگ ہماری نشانیوں کو جھٹلاتے ہیں وہ بہرے اور گونگے ہیں، تاریکیوں میں پڑے ہوئے ہیں۔۲۷ اللہ جسے چاہتا ہے بھٹکا دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے سیدھے رستے پر لگا دیتا ہے۔۲۸ان سے کہو، ذرا غور کر کے بتاؤ ، اگر کبھی تم پر اللہ کی طرف سے کوئی بڑی مصیبت آ جاتی ہے یا آخری گھڑی آ پہنچتی ہے تو کیا اس وقت تم اللہ کے سوا کسی اور کو پُکارتے ہو؟ بولو اگر تم سچّے ہو۔اس وقت تم اللہ ہی کو پُکارتے ہو، پھر اگر وہ چاہتا ہے تو اس مصیبت کو تم پر سے ٹال دیتا ہے۔ ایسے موقعوں پر تم اپنے ٹھیرائے ہوئے شریکوں کو بھُول جاتے ہو۔۲۹ ؏۴

 

تفسیر

 

۲۰-اس کا یہ مطلب نہیں کہ دنیا کی زندگی میں کوئی سنجیدگی نہیں ہے اور یہ محض کھیل اور تماشے کے طور پر بنائی گئی ہے۔ دراصل اس کا مطلب یہ ہے کہ آخرت کی حقیقی اور پائیدار زندگی کے مقابلہ میں یہ زندگی ایسی ہے جیسے کوئی شخص کچھ دیر کھیل اور تفریح میں دل بہلائے اور پھر اصل سنجیدہ کاروبار کی طرف واپس ہو جائے۔ نیز اسے کھیل اور تماشے سے تشبیہ اس لیے بھی دی گئی ہے کہ یہاں حقیقت کے مخفی ہونے کی وجہ سے بے بصیرت اور ظاہر پرست انسانوں کے لیے غلط فہمیوں میں مبتلا ہونے کے بہت سے اسباب موجود ہیں اور ان غلط فہمیوں میں پھنس کر لوگ حقیقت نفس الامری کے خلاف ایسے ایسے عجیب طرزِ عمل اختیار کرتے ہیں جن کی بدولت ان کی زندگی محض ایک کھیل اور تماشا بن کر رہ جاتی ہے۔ مثلاً جو شخص یہاں بادشاہ بن کر بیٹھتا ہے اس کی حیثیت حقیقت میں تھیئٹر کے اس مصنوعی بادشاہ سے مختلف نہیں ہوتی جو تاج پہن کر جلوہ افروز ہوتا ہے اور اس طرح حکم چلاتا ہے گویا کہ وہ واقعی بادشاہ ہے۔ حالانکہ حقیقی بادشاہی کی اس کو ہوا تک نہیں لگی ہوتی۔ ڈائرکٹر کے ایک اشارے پر وہ معزول ہو جاتا ہے ، قید کیا جاتا ہے اور اس کے قتل تک کا فیصلہ صادر ہو جاتا ہے۔ ایسے ہی تماشے اس دُنیا میں ہر طرف ہو رہے ہیں۔ کہیں کسی ولی یا دیوی کے دربار سے حاجت روائیاں ہو رہی ہیں، حالاں کہ وہاں حاجت روائی کی طاقت کا نام و نشان تک موجود نہیں۔ کہیں کوئی غیب دانی کے کمالات کا مظاہرہ کر رہا ہے ، حالاں کہ غیب کے عِلم کا وہاں شائبہ تک نہیں۔ کہیں کوئی لوگوں کا رزاق بنا ہوا ہے ، حالاں کہ بیچارہ خود اپنے رزق کے لیے کسی اَور کا محتاج ہے۔ کہیں کوئی اپنے آپ کو عزّت اور ذلّت دینے والا ، نفع اور نقصان پہنچانے والا سمجھے بیٹھا ہے اور یوں اپنی کبریائی کے ڈنکے بجا رہا ہے گویا کہ وہی گردو پیش کی ساری مخلوق کا خدا ہے ، حالاں کہ بندگی کی ذلت کا داغ اس کی پیشانی پر لگا ہوا ہے اور قسمت کا ایک ذرا سا جھٹکا اسے کبریائی کے مقام سے گر ا کر انہی لوگوں کے قدموں میں پامال کرا سکتا ہے جن پر وہ کل تک خدائی کر رہا تھا۔ یہ سب کھیل جو دنیا کی چند روزہ زندگی میں کھیلے جا رہے ہیں ، موت کی ساعت آتے ہی یکلخت ختم ہو جائیں گے اور اس سرحد سے پار ہوتے ہی انسان اُس عالَم میں پہنچ جائے گا جہاں سب کچھ عین مطابقِ حقیقت ہو گا اور جہاں دُنیوی زندگی کی ساری غلط فہمیوں کے چھلکے اتار کر ہر انسان کو دکھا دیا جائے گا کہ وہ صداقت کا کتنا جوہر اپنے ساتھ لایا ہے جو میزانِ حق میں کسی وزن اور کسی قدر و قیمت کا حامل ہو سکتا ہو۔

۲۱-واقعہ یہ ہے کہ جب تک محمد صلی اللہ علیہ و سلم نے اللہ کی آیات سنانی شروع نہ کی تھیں، آپ کی قوم کے سب لوگ آپ کو امین اور صادق سمجھتے تھے اور آپ کی راستبازی پر کام اعتماد رکھتے تھے۔ انہوں نے آپ کو جھٹلایا اُس وقت جبکہ آپ نے اللہ کی طرف سے پیغام پہنچانا شروع کیا۔ اور اس دُوسرے دَور میں بھی ان کے اندر کوئی شخص ایسا نہ تھا کہ جو شخصی حیثیت سے آپ کو جھوٹا قرار دینے کی جرأت کر سکتا ہو۔ آپ کے کسی سخت سے سخت مخالف نے بھی کبھی آپ پر یہ الزام نہیں لگایا کہ آپ دنیا کے کسی معاملہ میں کبھی جھُوٹ بولنے کے مرتکب ہوئے ہیں۔ انہوں نے جتنی آپ کی تکذیب کی وہ محض نبی ہونے کی حیثیت سے کی۔ آپ کا سب سے بڑا دشمن ابو جہل تھا اور حضرت علی ؓ کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ اس نے خود نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے گفتگو کرتے ہوئے کہا انا لا نکذبک ولکن نکذبُ ما جئت بہٖ ’’ ہم آپ کو تو جھوٹا نہیں کہتے ، مگر جو کچھ آپ پیش کر رہے ہیں اُسے جھوٹ قرار دیتے ہیں‘‘۔ جنگِ  بدر کے موقع پر اَخْنَس بن شَرِیق نے تخلیہ میں ابُو جہل سے پُوچھا کہ یہاں میرے اور تمہارے سوا کوئی تیسرا موجود نہیں ہے ، سچ بتاؤ کہ محمد ؐ کو تم سچا سمجھتے ہو یا جھُوٹا؟ اس نے جواب دیا کہ ’’خدا کی قسم محمدؐ ایک سچا آدمی ہے ، عمر بھر کبھی جھُوٹ نہیں بولا، مگر جب لِواء اور سقایت اور حجابت اور نبوّت سب کچھ بنی قُصَیّ ہی کے حصّہ میں آ جائے تو بتاؤ باقی سارے قریش کے پاس کیا رہ گیا؟‘‘ اسی بنا  پر یہاں اللہ تعالیٰ اپنے نبی کو تسلّی دے رہا ہے کہ تکذیب دراصل تمہاری نہیں بلکہ ہماری کی جا رہی ہے ، اور جب ہم تحمل و بُردباری کے ساتھ اسے برداشت کیے جا رہے ہیں اور ڈھیل پر ڈھیل دیے جاتے ہیں تو تم کیوں مضطرب ہوتے ہو۔

۲۲-یعنی اللہ نے حق اور باطل کی کش مکش کے لیے جو قانون بنا دیا ہے اسے تبدیل کرنا کسی کے بس میں نہیں ہے۔ حق پرستوں کے لیے ناگزیر ہے کہ وہ ایک طویل مدّت تک آزمائشوں کی بھٹی میں تپائے جائیں۔ اپنے صبر کا، اپنی راستبازی کا ، اپنے ایثار اور اپنی فدا کاری کا ، اپنے ایمان کی پختگی اور اپنے توکّل علی اللہ کا امتحان دیں۔ مصائب اور مشکلات کے دَور سے گزر کر اپنے اندر وہ صفات پرورش کریں جو صرف اِسی دشوار گزار گھاٹی میں پرورش پا سکتی ہیں۔ اور ابتداءً خالص اخلاقِ فاضلہ و سیرتِ صالحہ کے ہتھیاروں سے جاہلیّت پر فتح حاصل کر کے دکھائیں۔ اس طرح جب وہ اپنا اصلح ہونا ثابت کر دیں گے تب اللہ کی نُصرت ٹھیک اپنے وقت پر ان کی دستگیری کے لیے آ پہنچے گی۔ وقت سے پہلے وہ کسی کے لائے نہیں آ سکتی۔

۲۳-نبی صلی اللہ علیہ و سلم جب دیکھتے تھے کہ اس قوم کو سمجھاتے سمجھاتے مدّتیں گزر گئی ہیں اور کسی طرح یہ راستی پر نہیں آتی تو بسا اوقات آپ کے دل میں یہ خواہش پیدا ہوتی تھی کہ کاش کوئی نشانی خدا کی طرف سے ایسی ظاہر ہو جس سے اِن لوگوں کا کفر ٹُوٹے اور یہ میری صداقت تسلیم کر لیں۔ آپ کی اِسی خواہش کا جواب اس آیت میں دیا گیا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ بے صبری سے کام نہ لو۔ جس ڈھنگ اور جس ترتیب و تدریج سے ہم اس کام کو چلوا رہے ہیں اسی پر صبر کے ساتھ چلے جاؤ۔ معجزوں سے کام لینا ہوتا تو کیا ہم خود نہ لے سکتے تھے ؟ مگر ہم جانتے ہیں کہ جس فکری و اخلاقی انقلاب اور جس مدنیّتِ صالحہ کی تعمیر کے کام پر تم مامور کیے گئے ہو اسے کامیابی کی منزل تک پہنچانے کا صحیح راستہ یہ نہیں ہے۔ تاہم اگر لوگوں کے موجودہ جمُود اور ان کے انکار کی سختی پر تم سے صبر نہیں ہوتا ، اور تمہیں گمان ہے کہ اس جمُود کو توڑنے کے لیے کسی محسُوس نشانی کا مشاہدہ کرانا ہی ضروری ہے ، تو خود زور لگاؤ اور تمہارا کچھ بس چلتا ہو تو زمین میں گھُس کر یا آسمان پر چڑھ کر کوئی ایسا معجزہ لانے کی کوشش کرو جسے تم سمجھو کہ یہ بے یقینی کو یقین میں تبدیل کر دینے کے لیے کافی ہو گا۔ مگر ہم سے اُمید نہ رکھو کہ ہم تمہاری یہ خواہش پوری کریں گے کیونکہ ہماری اسکیم میں اس تدبیر کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے۔

۲۴-یعنی اگر صرف یہی بات مطلوب ہوتی کہ تمام انسان کسی نہ کسی طور پر راست رَو بن جائیں تو نبی بھیجنے اور کتابیں نازل کرنے اور مومنوں سے کفار کے مقابلہ میں جدوجہد کرانے اور دعوتِ حق کو تدریجی تحریک کی منزلوں سے گزروانے کی حاجت ہی کیا تھی۔ یہ کام تو اللہ کے ایک ہی تخلیقی اشارہ سے انجام پا سکتا تھا۔ لیکن اللہ اس کام کو اس طریقہ پر کرنا نہیں چاہتا۔ اس کا منشاء تو یہ ہے کہ حق کو دلائل کے ساتھ لوگوں کے سامنے پیش کیا جائے۔ پھر ان میں سے جو لوگ فکرِ صحیح سے کام لے کر حق کو پہچان لیں وہ اپنے آزادانہ اختیار سے اُس پر ایمان لائیں۔ اپنی سیرتوں کو اس کے سانچے میں ڈھال کر باطل پرستوں کے مقابلہ میں اپنا اخلاقی تفوّق ثابت کریں۔ انسانوں کے مجمُوعہ میں سے صالح عناصر کو اپنے طاقتور استدلال ، اپنے بلند نصب العین، اپنے بہتر اُصُولِ زندگی اور اپنی پاکیزہ سیرت کی کشش سے اپنی طرف کھینچتے چلے جائیں۔ اور باطل کے خلاف پیہم جدوجہد کر کے فطری ارتقاء کی راہ سے اقامتِ دینِ  حق کی منزل تک پہنچیں۔ اللہ اس کام میں ان کی رہنمائی کرے گا اور جس مرحلہ پر جیسی مدد اللہ سے پانے کا وہ اپنے آپ کو مستحق بنائیں گے وہ مدد بھی انہیں دیتا چلا جائے گا۔ لیکن اگر کوئی یہ چاہے کہ اس فطری راستے کو چھوڑ کر اللہ تعالیٰ محض اپنی قدرتِ قاہرہ کے زور سے افکارِ فاسدہ کو مٹا کر لوگوں میں فکرِ صالح پھیلا دے اور تمدّنِ فاسد کو نیست و نابود کر کے مدنیّتِ صالحہ تعمیر کر دے ، تو ایسا ہرگز نہ ہو گا کیونکہ یہ اللہ کی اُس حکمت کے خلا ف ہے جس کے تحت اس نے انسان کو دنیا میں ایک ذمّہ دار مخلوق کی حیثیت سے پیدا کیا ہے ، اسے تصرّف کے اختیارات دیے ہیں، طاعت و عصیان کی آزادی بخشی ہے ، امتحان کی مُہلت عطا کی ہے ، اور اس کی سعی کے مطابق جزا اور سزا دینے کے لیے فیصلہ کا ایک وقت مقرر کر دیا ہے۔

۲۵-سُننے والوں سے مراد وہ لوگ ہیں جن کے ضمیر زندہ ہیں ، جنہوں نے اپنی عقل و فکر کو معطّل نہیں کر دیا ہے ، اور جنھوں نے اپنے دل کے دروازوں پر تعصّب اور جمُود کے قفل نہیں چڑھا دیے ہیں۔ ان کے مقابلہ میں مُردہ وہ لوگ ہیں جو لکیر کے فقیر بنے اندھوں کی طرح چلے جا رہے ہیں اور اس لکیر سے ہٹ کر کوئی بات قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں، خواہ وہ صریح حق ہی کیوں نہ ہو۔

۲۶-نشانی سے مراد محسوس معجزہ ہے۔ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کا مطلب یہ ہے کہ معجزہ نہ دکھائے جانے کی وجہ یہ نہیں ہے کہ ہم اس کو دکھانے سے عاجز ہیں بلکہ اس کی وجہ کچھ اَور ہے جسے یہ لوگ محض اپنی نادانی سے نہیں سمجھتے۔

۲۷-مطلب یہ ہے کہ اگر تمہیں محض تماش بینی کا شوق نہیں ہے بلکہ فی الواقع یہ معلوم کرنے کے لیے نشانی دیکھنا چاہتے ہو کہ یہ نبی جس چیز کی طرف بُلا رہا ہے وہ امرِ حق ہے یا نہیں ، تو آنکھیں کھول کر دیکھو ، تمہارے گردو پیش ہر طرف نشانیاں ہی نشانیاں پھیلی ہوئی ہیں۔ زمین کے جانوروں اور ہوا کے پرندوں کی کسی ایک نوع کو لے کر اس کی زندگی پر غور کرو۔ کس طرح اس کی ساخت ٹھیک ٹھیک اس کے مناسبِ حال بنائی گئی ہے۔ کس طرح اس کی جبلّت میں اس کی فطری ضرورتوں کے عین مطابق قوتیں ودیعت کی گئی ہیں۔ کس طرح اس کی رزق رسانی کا انتظام ہو رہا ہے۔ کس طرح اس کی ایک تقدیر مقرر ہے جس کے حُدُود وہ نہ آگے بڑھ سکتی ہے نہ پیچھے ہٹ سکتی ہے۔ کس طرح ان میں سے ایک ایک جانور اور ایک ایک چھوٹے سے چھوٹے کیڑے کی اُسی مقام پر جہاں وہ ہے ، خبر گیری ، نگرانی، حفاظت اور رہنمائی کی جا رہی ہے۔ کس طرح اس سے ایک مقرر اسکیم کے مطابق کام لیا جا رہا ہے۔ کس طرح اسے ایک ضابطہ کا پابند بنا کر رکھا گیا ہے اور کس طرح اس کی پیدائش ، تناسُل ، اور موت کا سلسلہ پُوری باقاعدگی کے ساتھ چل رہا ہے۔ اگر خدا کی بے شمار نشانیوں میں سے صرف اِسی ایک نشانی پر غور کرو تو تمہیں معلوم ہو جائے کہ خدا کی توحید اور اس کی صفات کا جو تصوّر یہ پیغمبر تمہارے سامنے پیش کر رہا ہے اور اس تصوّر کے مطابق دُنیا میں زندگی بسر کرنے کے لیے جس رویّہ کی طرف تمہیں دعوت دے رہا ہے وہ عین حق ہے۔ لیکن تم لوگ نہ خود اپنی آنکھیں کھول کر دیکھتے ہو نہ کسی سمجھانے والے کی بات سُنتے ہو۔ جہالت کی تاریکیوں میں پڑے ہوئے ہو اور چاہتے ہو کہ عجائبِ قدرت کے کرشمے دکھا کر تمہارا دل بہلایا جائے۔

۲۸-خدا کا بھٹکانا یہ ہے کہ ایک جہالت پسند انسان کو آیاتِ الٰہی کے مطالعہ کی توفیق نہ بخشی جائے ، اور ایک متعصّب غیر حقیقت پسند طالب علم اگر آیاتِ الٰہی کا مشاہدہ کرے بھی تو حقیقت رسی کے نشانات اس کی آنکھ سے اوجھل رہیں اور غلط فہمیوں میں اُلجھانے والی چیزیں اسے حق سے دُور اور دُور تر کھینچتی چلی جائیں۔ بخلاف اس کے اللہ کی ہدایت یہ ہے کہ ایک طالبِ حق کو علم کے ذرائع سے فائدہ اُٹھانے کی توفیق بخشی جائے اور اللہ کی آیات میں اسے حقیقت تک پہنچنے کے نشانات ملتے چلے جائیں۔ ان تینوں کیفیات کی بکثرت مثالیں آئے دن ہمارے سامنے آتی رہتی ہیں۔ بکثرت انسان ایسے ہیں جن کے سامنے آفاق اور اَنفُس میں اللہ کی بے شمار نشانیاں پھیلی ہوئی ہیں مگر وہ جانوروں کی طرح انہیں دیکھتے ہیں اور کوئی سبق حاصل نہیں کرتے۔ اور بہت سے انسان ہیں جو حیوانیات(Zoology)، نباتیات(Botany)، حیَاتیات(Biology)، ارضیات(Geology)، فلکیات(Astronomy)، عضویات (Physiology)، علم التشریح(Anatomy) اور سائنس کی دُوسری شاخوں کا مطالعہ کرتے ہیں ، تاریخ ، آثارِ قدیمہ اور عُلُومِ اجتماع (Social Science) کی تحقیق کرتے ہیں اور ایسی ایسی نشانیاں ان کے مشاہدے میں آتی ہیں جو قلب کو ایمان سے لبریز کر دیں۔ مگر چونکہ وہ مطالعہ کا آغاز ہی تعصّب کے ساتھ کرتے ہیں اور ان کے پیشِ نظر دنیا اور اس کے فوائد و منافع کے سوا کچھ نہیں ہوتا اس لیے اس مشاہدے کے دَوران میں ان کو صداقت تک پہنچانے والی کوئی نشانی نہیں ملتی، بلکہ جو نشانی بھی سامنے آتی ہے وہ انھیں اُلٹی دہریّت ، الحاد، مادّہ پرستی اور نیچریّت ہی کی طرف کھینچ لے جاتی ہے۔ ان کے مقابلہ میں ایسے لوگ بھی ناپید نہیں ہیں جو آنکھیں کھول کر اس کارگاہِ عالم کو دیکھتے ہیں اور ان کا حال یہ ہے کہ :

برگِ درختانِ سبز در نَظَرِ ہوشیار

ہر ورقے دفریست معرفتِ کردگار

۲۹-گزشتہ آیت میں ارشاد ہوا تھا کہ تم ایک نشانی کا مطالبہ کرتے ہو اور حال یہ ہے کہ تمہارے گرد و پیش ہر طرف نشانیاں ہی نشانیاں پھیلی ہوئی ہیں۔ اس سلسلہ میں پہلے مثال کے طور پر حیوانات کی زندگی کے مشاہدہ کی طرف توجّہ دلائی گئی۔ اس کے بعد اب ایک دُوسری نشانی کی طرف اشارہ فرمایا جا رہا ہے جو خود منکرینِ حق کے اپنے نفس میں موجود ہے۔ جب انسان پر کوئی آفت آ جاتی ہے ، یا موت اپنی بھیانک صُورت کے ساتھ سامنے آ کھڑی ہوتی ہے ، اُس وقت ایک خدا کے دامن کے سوا کوئی دُوسری پناہ گاہ اُسے نظر نہیں آتی۔ بڑے بڑے مشرک ایسے موقع پر اپنے معبُودوں کو بھُول کر خدائے واحد کو پکارنے لگتے ہیں۔ کٹّے سے کٹّا دہریہ تک خدا کے آگے دُعا کے لیے ہاتھ پھیلا دیتا ہے۔ اسی نشانی کو یہاں حق نمائی کے لیے پیش کیا جا رہا ہے ، کیونکہ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ خدا پرستی اور توحید کی شہادت ہر انسان کے نفس میں موجود ہے جس پر غفلت و جہالت کے خواہ کتنے ہی پردے ڈال دیے گئے ہوں ، مگر پھر بھی کبھی نہ کبھی وہ اُبھر کر سامنے آ جاتی ہے۔ ابُو جہل کے بیٹے عِکْرِمہ کو اسی نشانی کے مشاہدے سے ایمان کی توفیق نصیب ہوئی۔ جب مکۂ معظمہ نبی صلی علیہ و سلم کے ہاتھ پر فتح ہو گیا تو عِکْرِمہ جدّہ کی طرف بھاگے اور ایک کشتی پر سوار ہو کر حبش کی راہ لی۔ راستہ میں سخت طوفان آیا اور کشتی خطرہ میں پڑ گئی۔ اوّل اوّل تو دیویوں اور دیوتاؤں کو پکارا جاتا رہا۔ مگر جب طُوفان کی شدّت بڑھی اور مسافروں کو یقین ہو گیا کہ اب کشتی ڈوب جائے گی تو سب کہنے لگے کہ یہ وقت اللہ کے سوا کسی کو پکارنے کا نہیں ہے ، وہی چاہے تو ہم بچ سکتے ہیں۔ اُس وقت عِکْرِمہ کی آنکھیں کھُلیں اور ان کے دل نے آواز دی کہ اگر یہاں اللہ کے سوا کوئی مددگار نہیں تو کہیں اور کیوں ہو۔ یہی تو وہ بات ہے جو اللہ کا وہ نیک بندہ ہمیں بیس برس سے سمجھا رہا ہے اور ہم خواہ مخواہ اس سے لڑ رہے ہیں۔ یہ عِکْرِمہ کی زندگی میں فیصلہ کُن لمحہ تھا۔ انہوں نے اسی وقت خدا سے عہد کیا کہ اگر میں اس طوفان سے بچ گیا تو سیدھا محمد صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس جاؤں گا اور ان کے ہاتھ میں ہاتھ دے دوں گا۔ چنانچہ انہوں نے اپنے اس عہد کو پُورا کیا اور بعد میں آ کر نہ صرف مسلمان ہوئے بلکہ اپنی بقیہ عمر اسلام کے لیے جہاد کرتے گزار دی۔

 

ترجمہ

 

تم سے پہلے بہت سی قوموں کی طرف ہم نے رسُول بھیجے اور اُن قوموں کو مصائب و آلام میں مبتلا کیا تاکہ وہ عاجزی کے ساتھ ہمارے سامنے جھُک جائیں۔ پس جب ہماری طرف سے ان پر سختی آئی تو کیوں نہ انہوں نے عاجزی اختیار کی؟ مگر ان کے دل تو اَور سخت ہو گئے اور شیطان نے ان کو اطمینان دلایا کہ جو کچھ تم کر رہے ہو خوب کر رہے ہو۔ پھر جب انہوں نے اس نصیحت کو، جو انہیں کی گئی تھی، بھُلا دیا تو ہم نے ہر طرح کی خوشحالیوں کے دروازے ان کے لیے کھول دیے ، یہاں تک کہ جب وہ اُن بخششوں میں جو انہیں عطا کی گئی تھیں خوب مگن ہو گئے تو اچانک ہم نے انہیں پکڑ لیا اور اب حال یہ تھا کہ وہ ہر خیر سے مایوس تھے۔ اس طرح ان لوگوں کی جڑ کاٹ کر رکھ دی گئی جنہوں نے ظلم کیا تھا اور تعریف ہے اللہ ربّ العا لمین کے لیے (کہ اس نے ان کی جڑ کاٹ دی)۔ اے محمد ؐ ! ان سے کہو، کبھی تم نے یہ بھی سوچا کہ اگر اللہ تمہاری بینائی اور سماعت تم سے چھین لے اور تمہارے دلوں پر مُہر کر دے ۳۰ تو اللہ کے سوا اور کونسا خدا ہے جو یہ قوتیں تمہیں واپس دلا سکتا ہو؟ دیکھو، کس طرح ہم بار بار اپنی نشانیاں ان کے سامنے پیش کرتے ہیں اور پھر یہ کس طرح ان سے نظر چُرا جاتے ہیں۔ کہو، کبھی تم نے سوچا کہ اگر اللہ کی طرف سے اچانک یا علانیہ تم پر عذاب آ جائے تو کیا ظالم لوگوں کے سوا کوئی اور ہلاک ہو گا؟ ہم جو رسُول بھیجتے ہیں اسی لیے تو بھیجتے ہیں کہ وہ نیک کردار لوگوں کے لیے خوشخبری دینے والے اور بد کرداروں کیلیے ڈرانے والے ہوں۔ پھر جو لوگ ان کی بات مان لیں اور اپنے طرزِ عمل کی اصلاح کر لیں ان کیلیے کسی خوف اور رنج کا موقع نہیں ہے۔ اور جو ہماری آیات کو جھٹلائیں وہ اپنی نافر مانیوں کی پاداش میں سزا بھگت کر رہیں گے۔ اے محمد ؐ ! ان سے کہو، ’’میں تم سے یہ نہیں کہتا کہ میرے پاس اللہ کے خزانے ہیں۔ نہ میں غیب کا علم رکھتا ہوں، اور نہ یہ کہتا ہوں کہ میں فرشتہ ہوں۔ میں تو صرف اُس وحی کی پیروی کرتا ہو جو مجھ پر نازل کی جاتی ہے ‘‘۔۳۱ پھر ان سے پوچھو کیا اندھا اور آنکھوں والا دونوں برابر ہو سکتے ہیں؟۳۲ کیا تم غور نہیں کرتے ؟ ؏۵

 

تفسیر

 

۳۰-یہاں دلوں پر مُہر کرنے سے مراد سوچنے اور سمجھنے کی قوتیں سلب کر لینا چاہیے۔

۳۱-نادان لوگوں کے ذہن میں ہمیشہ سے یہ احمقانہ تصوّر رہا ہے کہ جو شخص خدا رسیدہ ہو اسے انسانیت سے ماوراء ہونا چاہیے ، اُس سے عجائب و غرائب صادر ہونے چاہییں، وہ ایک اشارہ کرے اور پہاڑ سونے کا بن جائے ، وہ حکم دے اور زمین سے خزانے اُبلنے لگیں، اس پر لوگوں کے اگلے پچھلے سب حالات روشن ہوں، وہ بتا دے کہ گم شدہ چیز کہاں رکھی ہے ، مریض بچ جائے گا، حاملہ کے پیٹ میں نر ہے یا مادہ۔ پھر اس کو انسانی کمزوریوں اور محدودیتوں سے بھی بالاتر ہونا چاہیے۔ بھلا وہ بھی کوئی خدا رسیدہ ہوا جسے بھُوک اور پیاس لگے ، جس کو نیند آئے ، جو بیوی بچّے رکھتا ہو، جو اپنی ضرورتیں پوری کرنے کے لیے خرید و فروخت کرتا پھرے۔ جسے کبھی قرض لینے کی ضرورت پیش آئے اور کبھی وہ مفلسی و تنگ دستی میں مبتلا ہو کر پریشان حال رہے۔ اسی قسم کے تصوّرات نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے معاصرین کی ذہنیّت پر مسلّط تھے۔ وہ جب آپ ؐ سے پیغمبری کا دعویٰ سُنتے تھے تو آپ ؐ کی صداقت جانچنے کے لیے آپ ؐ سے غیب کی خبریں پوچھتے تھے ، خوارق عادت کا مطالبہ کرتے تھے ، اور آپ کو بالکل عام انسانوں جیسا ایک انسان دیکھ کر اعتراض کرتے تھے کہ یہ اچھا پیغمبر ہے جو کھاتا پیتا ہے ، بیوی بچّے رکھتا ہے اور بازاروں میں چلتا پھرتا ہے۔ انہی باتوں کا جواب اس آیت میں دیا گیا ہے۔

۳۲-مطلب یہ ہے کہ میں جن حقیقتوں کو تمہارے سامنے پیش کر رہا ہوں ان کا میں نے مشاہدہ کیا ہے ، وہ براہِ راست میرے تجربہ میں آئی ہیں، مجھے وحی کے ذریعہ سے ان کا ٹھیک ٹھیک علم دیا گیا ہے ، ان کے بارے میں میری شہادت آنکھوں دیکھی شہادت ہے۔ بخلاف اس کے تم ان حقیقتوں کی طرف سے اندھے ہو، تم ان کے بارے میں جو خیالات رکھتے ہو وہ یا تو قیاس و گمان پر مبنی ہیں یا محض اندھی تقلید پر۔ لہٰذا میرے اور تمہارے درمیان بینا اور نابینا کا سا فرق ہے اور اسی اعتبار سے مجھے تم پر فوقیت حاصل ہے ، نہ اس اعتبار سے کہ میرے پاس کوئی خدائی کے خزانے ہیں، یا میں عالمُ الغیب ہوں، یا انسانی کمزوریوں سے مبرّا ہوں۔

 

ترجمہ

 

ا ے محمد ؐ ! تم اِس (علم وحی) کے ذریعہ سے اُن لوگوں کو نصیحت کرو جو اس بات کا خوف رکھتے ہیں کہ اپنے ربّ کے سامنے کبھی اس حال میں پیش کیے جائیں گے کہ اُس کے سوا وہاں کوئی (ایسا ذی اقتدار) نہ ہو گا جو ان کا حامی و مدد گار ہو، یا ان کی سفارش کرے ، شاید کہ (اس نصیحت سے متنبّہ ہو کر) وہ خدا ترسی کی روش اختیار کر لیں۔۳۳ اور جو لوگ اپنے ربّ کو رات دن پکارتے رہتے ہیں اور اس کی خوشنودی کی طلب میں لگے ہوئے ہیں انہیں اپنے سے دُور نہ پھینکو۔۳۴ اُن کے حساب میں سے کسی چیز کا بار تم پر نہیں ہے اور تمہارے حساب میں سے کسی چیز کا بار اُن پر نہیں۔ اس پر بھی اگر تم انہیں دُور پھینکو گے تو ظالموں میں شمار ہو گے۔۳۵دراصل ہم نے اس طرح ان لوگوں میں سے بعض کو بعض کے ذریعہ سے آزمائش میں ڈالا ہے ۳۶ تاکہ وہ انہیں دیکھ کر کہیں ’’کیا یہ ہیں وہ لوگ جن پر ہمارے درمیان اللہ کا فضل و کرم ہوا ہے ‘‘؟۔۔۔۔ ہاں! کیا خدا اپنے شکر گزار بندوں کو اِن سے زیادہ نہیں جانتا ہے ؟جب تمہارے پاس وہ لوگ آئیں جو ہماری آیات پر ایمان لاتے ہیں تو ان سے کہو ’’تم پر سلامتی ہے۔ تمہارے رب نے رحم و کرم کا شیوہ اپنے اوپر لازم کر لیا ہے۔ یہ اس کا رحم و کرم ہی ہے کہ اگر تم میں سے کوئی نادانی کے ساتھ کسی بُرائی کا ارتکاب کر بیٹھا ہو پھر اس کے بعد توبہ کرے اور اصلاح کر لے تو وہ اُسے معاف کر دیتا ہے اور نرمی سے کام لیتا ہے ‘‘۳۷اور اس طرح ہم اپنی نشانیاں کھول کھول کر پیش کرتے ہیں تاکہ مجرموں کی راہ بالکل نمایاں ہو جائے۔۳۸ ؏٦

 

تفسیر

 

۳۳-مطلب یہ ہے کہ جو لوگ دنیا کی زندگی میں ایسے مدہوش ہیں کہ انھیں نہ موت کی فکر ہے نہ یہ خیال ہے کہ کبھی ہمیں اپنے خدا کو بھی منہ دکھانا ہے ، ان پر تو یہ نصیحت ہر گز کار گر نہ ہو گی۔ اور اسی طرح ان لوگوں پر بھی اس کا کچھ اثر نہ ہو گا جو اس بے بُنیاد بھروسے پر جی رہے ہیں کہ دُنیا میں ہم جو چاہیں کر گزریں، آخرت میں ہمارا بال تک بیکا نہ ہو گا، کیونکہ ہم فلاں کے دامن گرفتہ ہیں، یا فلاں ہماری سفارش کر دے گا، یا فلاں ہمارے لیے کَفّارہ بن چکا ہے۔ لہٰذا ایسے لوگوں کو چھوڑ کر تم اپنا رُوئے سخن ان لوگوں کی طرف رکھو جو خدا کے سامنے حاضری کا بھی اندیشہ رکھتے ہوں اور اس کے ساتھ جھوٹے بھروسوں پر پھُولے ہوئے بھی نہ ہوں۔ اس نصیحت کا اثر صرف ایسے ہی لوگوں پر ہو سکتا ہے اور انہی کے درست ہونے کی توقع کی جا سکتی ہے۔

۳۴-قریش کے بڑے بڑے سرداروں اور کھاتے پیتے لوگوں کو نبی صلی اللہ علیہ و سلم پر منجملہ اور اعتراضات کے ایک اعتراض یہ بھی تھا کہ آپ ؐ کے گرد و پیش ہماری قوم کے غلام، موالی اور ادنیٰ طبقہ کے لوگ جمع ہو گئے ہیں۔ وہ طعنہ دیا کرتے تھے کہ اس شخص کو سا تھی بھی کیسے کیسے معزّز لوگ ملے ہیں، بلال، عمّار، صُہَیْب اور خَبّاب۔ بس یہی لوگ اللہ کو ہمارے درمیان ایسے ملے جن کو برگزیدہ کیا جا سکتا تھا! پھر وہ ان ایمان لانے والوں کی خستہ حالی کا مذاق اُڑانے پر ہی اکتفا نہ کرتے تھے ، بلکہ ان سے جس جس سے کبھی پہلے کوئی اخلاقی کمزوری ظاہر ہوئی تھی اس پر بھی حرف گیریاں کرتے تھے ، اور کہتے تھے کہ فلاں جو کل تک یہ تھا اور فلاں جس نے یہ کیا تھا آج وہ بھی اس ’’ برگزیدہ گروہ‘‘ میں شامل ہے۔ انہی باتوں کا جواب یہاں دیا جا رہا ہے۔

۳۵-یعنی ہر شخص اپنے عیب و صواب کا ذمّہ دار آپ ہی ہے۔ ان مسلمان ہونے والوں میں سے کسی شخص کی جواب دہی کے لیے تم کھڑے نہ ہو گے اور نہ تمہاری جواب دہی کے لیے ان میں سے کوئی کھڑا ہو گا۔ تمہارے حصّہ کی کوئی نیکی یہ تم سے چھین نہیں سکتے اور اپنے حصّہ کی کوئی بدی تم پر ڈال نہیں سکتے۔ پھر جب یہ محض طالبِ حق بن کر تمہارے پاس آتے ہیں تو آخر تم کیوں انہیں اپنے سے دُور پھینکو۔

۳۶-یعنی غریبوں اور مفلسوں اور ایسے لوگوں کو جو سوسائیٹی میں ادنیٰ حیثیت رکھتے ہیں، سب سے پہلے ایمان کی توفیق دے کر ہم نے دولت اور عزّت کا گھمنڈ رکھنے والے لوگوں کو آزمائش میں ڈال دیا ہے۔

۳۷-جو لوگ اُس وقت نبی صلی اللہ علیہ و سلم پر ایمان لائے تھے ان میں بکثرت لوگ ایسے بھی تھے جن سے زمانۂ جاہلیّت میں بڑے بڑے گناہ ہو چکے تھے۔ اب اسلام قبول کرنے کے بعد اگرچہ ان کی زندگیاں بالکل بدل گئی تھیں ، لیکن مخالفینِ  اسلام اُن کو سابق زندگی کے عُیُوب اور افعال کے طعنے دیتے تھے۔ اس پر فرمایا جا رہا ہے کہ اہلِ ایمان کو تسلّی دو۔ انہیں بتا ؤ کہ جو شخص توبہ کر کے اپنی اصلاح کر لیتا ہے اس کے پچھلے قُصُوروں پر گرفت کرنے کا طریقہ اللہ کے ہاں نہیں ہے۔

۳۸-’’اس طرح‘‘ کا اشارہ اُس پُورے سلسلہ ٔ تقریر کی طرف ہے جو چوتھے رکوع کی اِس آیت سے شروع ہوا تھا ، ’’یہ لوگ کہتے ہیں کہ اس پر کوئی نشانی کیوں نہیں اُتری‘‘۔ مطلب یہ ہے کہ ایسی صاف اور صریح دلیلوں اور نشانیوں کے بعد بھی جو لوگ اپنے کفر و انکار پر اصرار ہی کیے چلے جائیں ان کا مجرم ہونا بالکل غیر مشتبہ طور پر ثابت ہوا جاتا ہے اور حقیقت بالکل آئینہ کی طرح نمایاں ہوئی جاتی ہے کہ دراصل یہ لوگ ضلالت پسندی کی بنا پر یہ راہ چل رہے ہیں نہ اس بنا پر کہ راہِ حق کے دلائل واضح نہیں ہیں یا یہ کہ کچھ دلیلیں ان کی اس گمراہی کے حق میں بھی موجود ہیں۔

 

ترجمہ

 

اے محمد ؐ، اِن سے کہو کہ تم لوگ اللہ کے سِوا جن دُوسروں کو پکارتے ہو اُن کی بندگی کرنے سے مجھے منع کیا گیا ہے۔ کہو، میں تمہاری خواہشات کی پیروی نہیں کروں گا، اگر میں نے ایسا کیا تو گمراہ ہو گیا، راہِ راست پانے والوں میں سے نہ رہا۔ کہو، میں اپنے رب کی طرف سے ایک دلیل روشن پر قائم ہوں اور تم نے اسے جھٹلا دیا ہے ، اب میرے اختیار میں وہ چیز ہے نہیں جس کے لیے تم جلدی مچا رہے ہو،۳۹ فیصلہ کا سارا اختیار اللہ کو ہے ، وہی امرِ حق بیان کرتا ہے اور وہی بہترین فیصلہ کرنے والا ہے۔ کہو، اگر کہیں وہ چیز میرے اختیار میں ہوتی جس کی تم جلدی مچا رہے ہو تو میرے اور تمہارے درمیان کبھی کا فیصلہ ہو چکا ہوتا۔ مگر اللہ زیادہ بہتر جانتا ہے کہ ظالموں کے ساتھ کیا معاملہ کیا جانا چاہیے۔ اُسی کے پاس غیب کی کنجیاں ہیں جنہیں اس کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ بحر و بر میں جو کچھ ہے سب سے وہ واقف ہے۔ درخت سے گرنے والا کوئی پتہ ایسا نہیں جس کا اسے علم نہ ہو۔ زمین کے تاریک پردوں میں کوئی دانہ ایسا نہیں جس سے وہ باخبر نہ ہو۔ خشک و تر سب کچھ ایک کھلی کتاب میں لکھا ہوا ہے۔ وہی ہے جو رات کو تمہاری رُوحیں قبض کرتا ہے اور دن کو جو کچھ تم کرتے ہو اسے جانتا ہے ، پھر دُوسرے روز وہ تمہیں اِسی کاروبار کے عالم میں واپس بھیج دیتا ہے تاکہ زندگی کی مقرر مدّت پوری ہو۔ آ خرکار اسی کی طرف تمہاری واپسی ہے ، پھر وہ تمہیں بتا دے گا کہ تم کیا کرتے رہے ہو۔ ؏۷

 

تفسیر

 

۳۹-اشارہ ہے عذابِ الٰہی کی طرف۔ مخالفین کہتے تھے کہ اگر تم خدا کی طرف سے بھیجے ہوئے نبی ہو اور ہم کھُلم کھُلا تمہیں جھُٹلا رہے ہیں تو کیوں نہیں خدا کا عذاب ہم پر ٹُوٹ پڑتا؟ تمہارے مامور من اللہ ہونے کا تقاضا تو یہ تھا کہ اِدھر کوئی تمہاری تکذیب یا توہین کرتا اور اُدھر فوراً زمین دھنستی اور وہ اس میں سما جاتا ، یا بجلی گرتی اور وہ بھسم ہو جاتا۔ یہ کیا ہے کہ خدا کا فرستادہ اور اس پر ایمان لانے والے تو مصیبتوں پر مصیبتیں اور ذلّتوں پر ذلّتیں سہ رہے ہیں اور ان کو گالیاں دینے اور پتھر مارنے والے چین کیے جاتے ہیں؟

 

ترجمہ

 

اپنے بندوں پر وہ پُوری قدرت رکھتا ہے اور تم پر نگرانی کرنے والے مقرر کر کے بھیجتا ہے ،۴۰ یہاں تک کہ جب تم میں سے کسی کی مَوت کا وقت آ جاتا ہے تو اس کے بھیجے ہوئے فرشتے اس کی جان نکال لیتے ہیں اور اپنا فرض انجام دینے میں ذرا کوتاہی نہیں کرتے۔ پھر سب کے سب اللہ، اپنے حقیقی آقا کی طرف واپس لائے جاتے ہیں۔ خبردار ہو جاؤ، فیصلہ کے سارے اختیارات اسی کو حاصِل ہیں اور وہ حساب لینے میں بہت تیز ہے۔ اے محمد ؐ ! اِن سے پوچھو، صَحرا اور سمندر کی تاریکیوں میں کون تمہیں خطرات سے بچاتا ہے ؟ کون ہے جس سے تم (مصیبت کے وقت) گِڑ گِڑا گِڑ گِڑا کر اور چُپکے چُپکے دُعائیں مانگتے ہو؟ کس سے کہتے ہو کہ اگر اس بلا سے تُو نے ہم کو بچا لیا تو ہم ضرور شکر گزار ہوں گے ؟۔۔۔۔کہو، اللہ تمہیں اُس سے اور ہر تکلیف سے نجات دیتا ہے پھر تم دُوسروں کو اُس کا شریک ٹھیراتے ہو۔۴۱ کہو، وہ اِس پر قادر ہے کہ تم پر کوئی عذاب اُوپر سے نازل کر دے ، یا تمہارے قدموں کے نیچے سے برپا کر دے ، یا تمہیں گروہوں میں تقسیم کر کے ایک گروہ کو دُوسرے گروہ کی طاقت کا مزہ چکھوا دے۔ دیکھو، ہم کس طرح بار بار مختلف طریقوں سے اپنی نشانیاں ان کے سامنے پیش کر رہے ہیں شاید کہ یہ حقیقت کو سمجھ لیں۔۴۲تمہاری قوم اُس کا انکار کر رہی ہے حالانکہ وہ حقیقت ہے۔ اِن سے کہہ دو کہ میں تم پر حوالہ دار نہیں بنایا گیا ہوں،۴۳ہر خبر کے ظہور میں آنے کا ایک وقت مقرر ہے ، عنقریب تم کو خود انجام معلوم ہو جائے گا۔اور اے محمد ؐ، جب تم دیکھو کہ لوگ ہماری آیات پر نکتہ چینیاں کر رہے ہیں تو ان کے پاس سے ہٹ جاؤ یہاں تک کہ وہ اس گفتگو کو چھوڑ کر دُوسری باتوں میں لگ جائیں۔ اور اگر کبھی شیطان تمہیں بھُلاوے میں ڈال دے ۴۴ تو جس وقت تمہیں اس غلطی کا احساس ہو جائے اس کے بعد پھر ایسے ظالم لوگوں کے پاس نہ بیٹھو۔اُن کے حساب میں سے کسی چیز کی ذمّہ داری پرہیز گار لوگوں پر نہیں ہے ، البتّہ نصیحت کرنا اُن کا فرض ہے شاید کہ وہ غلط روی سے بچ جائیں۔۴۵چھوڑو اُن لوگوں کو جنہوں نے اپنے دین کو کھیل اور تماشا بنا رکھا ہے اور جنہیں دنیا کی زندگی فریب میں مبتلا کیے ہوئے ہے۔ ہاں مگر یہ قرآن سُنا کر نصیحت اور تنبیہ کرتے رہو کہ کہیں کوئی شخص اپنے کیے کرتُوتوں کے وبال میں گرفتار نہ ہو جائے ، اور گرفتار بھی اِس حال میں ہو کہ اللہ سے بچانے والا کوئی حامی و مدد گار اور کوئی سفارشی اس کے لیے نہ ہو، اور اگر وہ ہر ممکن چیز فدیہ میں دے کر چھُوٹنا چاہے تو وہ بھی اس سے قبول نہ کی جائے ، کیونکہ ایسے لوگ تو خود اپنی کمائی کے نتیجہ میں پکڑے جائیں گے ، ان کو تو اپنے انکار حق کے معاوضہ میں کھولتا ہوا پانی پینے کو اور درد ناک عذاب بھگتنے کو ملے گا۔ ؏۸

 

تفسیر

 

۴۰-یعنی ایسے فرشتے جو تمہاری ایک ایک جنبش اور ایک ایک بات پر نگاہ رکھتے ہیں اور تمہاری ہر ہر حرکت کا ریکارڈ محفوظ کرتے رہتے ہیں۔

۴۱-یعنی یہ حقیقت کہ تنہا اللہ ہی قادرِ مطلق ہے ، اور وہی تمام اختیارات کا مالک اور تمہاری بھَلائی اور بُرائی کا مختارِ کُل ہے ، اور اسی کے ہاتھ میں تمہاری قسمتوں کی باگ دوڑ ہے ، اِس کی شہادت تو تمہارے اپنے نفس میں موجود ہے۔ جب کوئی سخت وقت آتا ہے اور اسباب کے شرارے رشتے ٹوٹتے نظر آتے ہیں تو اس وقت تم بے اختیار اُسی کی طرف رجوع کرتے ہو۔ لیکن اس کھُلی علامت کے ہوتے ہوئے بھی تم نے خدائی میں بلا دلیل و حجّت اور بلا ثبُوت دُوسروں کو اس کا شریک بنا رکھا ہے۔ پلتے ہو اس کے رزق پر اور اَن داتا بناتے ہو دُوسروں کو۔ مدد پاتے ہو اس کے فضل و کرم سے اور حامی و ناصر ٹھیراتے ہو دُوسروں کو۔ غلام ہو اس کے اور بندگی بجا لاتے ہو دُوسروں کی۔ مشکل کشائی کرتا ہے وہ ، بُرے وقت پر گِڑگِڑ اتے ہو اس کے سامنے ، اور جب وہ وقت گزر جاتا ہے تو تمہارے مشکل کشا بن جاتے ہیں دُوسرے اور نذریں اور نیازیں چڑھنے لگتی ہیں دُوسروں کے نام کی۔

۴۲-جو لوگ عذابِ الٰہی کو اپنے سے دُور پا کر حق دشمنی میں جرأت پر جرأت دکھا رہے تھے انہیں متنبّہ کیا جا رہا ہے کہ اللہ کے عذاب کو آتے کچھ دیر نہیں لگتی۔ ہوا کا ایک طوفان تمہیں اچانک برباد کر سکتا ہے۔ زلزلے کا ایک جھٹکا تمہاری بستیوں کو پیوندِ خاک کر دینے کے لیے کافی ہے۔ قبیلوں اور قوموں اور ملکوں کی عداوتوں کے میگزین میں ایک چنگاری وہ تباہی پھیلا سکتی ہے کہ سالہا سال تک خونریزی و بدامنی سے نجات نہ ملے۔ پس اگر عذاب نہیں آ رہا ہے تو یہ تمہارے لیے غفلت و مدہوشی کی پِینَک نہ بن جائے کہ مطمئن ہو کر صحیح و غلط کا امتیاز کیے بغیر اندھوں کی طرح زندگی کے راستے پر چلتے رہو۔ غنیمت سمجھو کہ اللہ تمہیں مُہلت دے رہا ہے اور وہ نشانیاں تمہارے سامنے پیش کر رہا ہے جن سے تم حق کو پہچان کر صحیح راستہ اختیار کر سکو۔

۴۳-یعنی میرا یہ کام نہیں ہے کہ جو کچھ تم نہیں دیکھ رہے ہو وہ زبردستی تمہیں دکھاؤں اور جو کچھ تم نہیں سمجھ رہے ہو وہ بزور تمہاری سمجھ میں اتار دوں۔ اور میرا یہ کام بھی نہیں ہے کہ اگر تم نہ دیکھو اور نہ سمجھو تو تم پر عذاب نازل کر دوں۔ میرا کام صرف حق اور باطل کو ممیز کر کے تمہارے سامنے پیش کر دینا ہے۔ اب اگر تم نہیں مانتے تو جس بُرے انجام سے میں تمہیں ڈراتا ہوں وہ اپنے وقت پر خود تمہارے سامنے آ جائے گا۔

۴۴-یعنی اگر کسی وقت ہماری یہ ہدایت تمہیں یاد نہ رہے اور تم بھُولے سے ایسے لوگوں کی صحبت میں بیٹھے رہ جاؤ۔

۴۵-مطلب یہ ہے کہ جو لوگ خدا کی نافرمانی سے خود بچ کر کام کرتے ہیں ان پر نافرمانوں کے کسی عمل کی ذمہ داری نہیں ہے ، پھر وہ کیوں خواہ مخواہ اس بات کو اپنے اوپر فرض کر لیں کہ ان نافرمانوں سے بحث و مناظرہ کر کے ضرور انہیں قائل کر کے ہی چھوڑیں گے ، اور ان کے ہر لغو و مہمل اعتراض کا جواب ضرور ہی دیں گے ، اور اگر وہ نہ مانتے ہوں تو کسی نہ کسی طرح منوا کر ہی رہیں گے۔ ان کا فرض بس اتنا ہے کہ جنہیں گمراہی میں بھٹکتے دیکھ رہے ہوں انہیں نصیحت کریں اور حق بات ان کے سامنے پیش کر دیں۔ پھر اگر وہ نہ مانیں اور جھگڑے اور بحث اور حجت بازیوں پر اُتر آئیں تو اہلِ حق کا یہ کام نہیں ہے کہ ان کے ساتھ دماغی کُشتیاں لڑنے میں اپنا وقت اور اپنی قوتیں ضائع کرتے پھریں۔ ضلالت پسند لوگوں کے بجائے انہیں اپنے وقت اور اپنی قوتوں کو اُن لوگوں کی تعلیم و تربیت اور اصلاح و تلقین پر صرف کرنی چاہیے جو خود طالبِ حق ہوں۔

 

ترجمہ

 

اے محمد ؐ ! اِن سے پُوچھو کیا ہم اللہ کو چھوڑ کر اُن کو پُکاریں جو نہ ہمیں نفع دے سکتے ہیں نہ نقصان؟ اور جبکہ اللہ ہمیں سیدھا راستہ دکھا چکا ہے تو کیا اب ہم اُلٹے پاؤں پھر جائیں ؟ کیا ہم اپنا حال اُس شخص کا سا کر لیں جسے شیطانوں نے صحرا میں بھٹکا دیا ہو اور وہ حیران و سر گردان پھر رہا ہو دراں حالیکہ اس کے سا تھی اسے پکار رہے ہوں کہ اِدھر آ یہ سیدھی راہ موجود ہے ؟ کہو، حقیقت میں صحیح رہنمائی تو صرف اللہ ہی کی رہنمائی ہے اور اس کی طرف سے ہمیں یہ حکم ملا ہے کہ مالک کائنات کے آگے سرِ اطاعت خم کر دو،نماز قائم کرو اور اس کی نافرمانی سے بچو، اسی کی طرف تم سمیٹے جاؤ گے۔ وہی ہے جس نے آسمان و زمین کو برحق پیدا کیا ہے۔۴۶ اور جس دن وہ کہے گا کہ حشر ہو جائے اسی دن وہ ہو جائے گا۔ اس کا ارشاد عین حق ہے۔ اور جس روز صُور پھونکا جائے گا ۴۷ اس روز پادشاہی اُسی کی ہو گی،۴۸ وہ غیب اور شہادت ۴۹ ہر چیز کا عالم ہے اور دانا اور باخبر ہے۔ ابراہیمؑ کا واقعہ یاد کرو جبکہ اُس نے اپنے باپ آزر سے کہا تھا ’’کیا تُو بتوں کو خدا بناتا ہے ؟۵۰ میں تو تجھے اور تیری قوم کو کھُلی گمراہی میں پاتا ہوں‘‘۔ابراہیمؑ کو ہم اِسی طرح زمین اور آسمانوں کا نظامِ سلطنت دکھاتے تھے ۵۱ اور اس لیے دکھاتے تھے کہ وہ یقین کرنے والوں میں سے ہو جائے۔۵۲چنانچہ جب رات اس پر طاری ہوئی تو اُس نے ایک تارا دیکھا۔ کہا یہ میرا رب ہے۔ مگر جب وہ ڈوب گیا تو بولا ڈوب جانے والوں کا تو میں گرویدہ نہیں ہوں۔پھر جب چاند چمکتا نظر آیا تو کہا یہ ہے میرا رب۔ مگر جب وہ بھی ڈوب گیا تو کہا اگر میرے رب نے میری رہنمائی نہ کی ہوتی تو میں بھی گمراہ لوگوں میں شامل ہو گیا ہوتا۔ پھر جب سورج کو روشن دیکھا تو کہا یہ ہے میرا رب، یہ سب سے بڑا ہے۔ مگر جب وہ بھی ڈوبا تو ابراہیمؑ  پکار اُٹھا ’’اے برادرانِ قوم ! میں اُن سب سے بیزار ہوں جنہیں تم خدا کا شریک ٹھیراتے ہو۔۵۳میں نے تو یکسُو ہو کر اپنا رُخ اُس ہستی کی طرف کر لیا جس نے زمین اور آسمانوں کو پیدا کیا ہے اور میں ہرگز شرک کرنے والوں میں سے نہیں ہوں۔‘‘اس کی قوم اس سے جھگڑنے لگی تو اس نے قوم سے کہا ’’کیا تم لوگ اللہ کے معاملے میں مجھ سے جھگڑتے ہو؟ حالانکہ اس نے مجھے راہِ راست دکھا دی ہے۔ اور میں تمہارے ٹھیرائے ہوئے شریکوں سے نہیں ڈرتا، ہاں اگر میرا رب کچھ چاہے تو وہ ضرور ہو سکتا ہے۔ میرے رب کا عِلم ہر چیز پر چھایا ہوا ہے ، پھر کیا تم ہوش میں نہ آؤ گے ؟۵۴اور آخر میں تمہارے ٹھیرائے ہوئے شریکوں سے کیسے ڈروں جبکہ تم اللہ کے ساتھ ان چیزوں کو خدائی میں شریک بناتے ہوئے نہیں ڈرتے جن کے لیے اس نے تم پر کوئی سند نازل نہیں کی ہے ؟ ہم دونوں فریقوں میں سے کون زیادہ بے خوفی و اطمینان کا مستحق ہے ؟ بتاؤ اگر تم کچھ علم رکھتے ہو۔حقیقت میں تو امن انہی کے لیے ہے اور راہِ راست پر وہی ہیں جو ایمان لائے اور جنھوں نے اپنے ایمان کو ظلم کے ساتھ آلودہ نہیں کیا ‘‘۔۵۵ ؏۹

 

تفسیر

 

۴۶-قرآن میں یہ بات جگہ جگہ بیان کی گئی ہے کہ اللہ نے زمین اور آسمانوں کو برحق پیدا کیا ہے یا حق کے ساتھ پیدا کیا ہے۔ یہ ارشاد بہت وسیع معانی پر مشتمل ہے۔

اس کا ایک مطلب یہ ہے کہ زمین اور آسمانوں کی تخلیق محض کھیل کے طور پر نہیں ہوئی ہے۔ یہ ایشور جی کی لِیلا نہیں ہے۔ یہ کسی بچے کا کھلونا نہیں ہے کہ محض دل بہلانے کے لیے وہ اس سے کھیلتا رہے اور پھر یونہی اُسے توڑ پھوڑ کر پھینک دے۔ دراصل یہ ایک نہایت سنجیدہ کام ہے جو حکمت کی بنا پر کیا گیا ہے ، ایک مقصدِ عظیم اس کے اندر کارفرما ہے ، اور اس کا ایک دَور گزر جانے کے بعد ناگزیر ہے کہ خالق اُس پُورے کام کا حساب لے جو اُس دَور میں انجام پایا ہو اور اسی دَور کے نتائج پر دُوسرے دَور کی بُنیاد رکھے۔ یہی بات ہے جو دُوسرے مقامات پر یوں بیان کی گئی ہے : رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ ھٰذَا بَا طِلاً۔’’اے ہمارے ربّ، تُو نے یہ سب کچھ فضول پیدا نہیں کیا ہے ‘‘۔ اور وَمَا خَلَقْنَا السَّمَآ ءَ وَالْاَرْضَ وَ مَا بَیْنَھُمَا لٰعِبِیْنَ۔’’ ہم نے آسمان و زمین اور ان چیزوں کو جو آسمان و زمین کے درمیان ہیں کھیل کے طور پیدا نہیں کیا ہے ‘‘۔ اور اَفَحَسِبْتُمْ اَنَّمَا خَلَقْنٰکُمْ عَبَثًا وَّ اَنَّکُمْ اِلَیْنَا لَا تُر ْجَعُوْنَ۔’’ تو کیا تم نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ ہم نے تمھیں یونہی فضول پیدا کیا ہے اور تم ہماری طرف واپس نہ لائے جاؤ گے ‘‘ ؟

دوسرا مطلب یہ ہے کہ اللہ نے یہ سارا نظامِ  کائنات حق کی ٹھوس بُنیادوں پر قائم کیا ہے۔ عدل اور حکمت اور راستی کے قوانین پر اس کی ہر چیز مبنی ہے۔ باطل کے لیے فی الحقیقت اس نظام میں جڑ پکڑنے اور بار آور ہونے کی کوئی گنجائش ہی نہیں ہے۔ یہ اَور بات ہے کہ اللہ باطل پرستوں کو موقع دے دے کہ وہ اگر اپنے جھُوٹ اور ظلم اور نا راستی کو فروغ دینا چاہتے ہیں تو اپنی کوشش کر دیکھیں۔ لیکن آخر کار زمین باطل کے ہر بیج کو اُگل کر پھینک دے گی اور آخری فرد حساب میں ہر باطل پرست دیکھ لے گا کہ جو کوششیں اس نے اس شجرِ خبیث کی کاشت اور آبیاری میں صرف کیں وہ سب ضائع ہو گئیں۔

تیسرا مطلب یہ ہے کہ خدا نے اس ساری کائنات کو بربنائے حق پیدا کیا ہے اور اپنے ذاتی حق کی بنا پر ہی وہ اس پر فرماں روائی کر رہا ہے۔ اس کا حکم یہاں اس لیے چلتا ہے کہ وہی اپنی پیدا کی ہوئی کائنات میں حکمرانی کا حق رکھتا ہے۔ دُوسروں کا حکم اگر بظاہر چلتا نظر بھی آتا ہے تو اس سے دھوکا نہ کھاؤ، فی الحقیقت نہ ان کا حکم چلتا ہے ، نہ چل سکتا ہے ، کیونکہ کائنات کی کسی چیز پر بھی ان کا کوئی حق نہیں ہے کہ وہ اس پر اپنا حکم چلائیں۔

۴۷-صُور پھونکنے کی صحیح کیفیت کیا ہو گی، اس کی تفصیل ہماری سمجھ سے باہر ہے۔ قرآن سے جو کچھ ہمیں معلوم ہوا ہے وہ صرف اتنا ہے کہ قیامت کے روز اللہ کے حکم سے ایک مرتبہ صُور پھُونکا جائے گا اور سب ہلاک ہو جائیں گے۔ پھر نا معلوم کتنی مدّت بعد، جسے اللہ ہی جانتا ہے ، دُوسرا صُور پھُونکا جائے گا اور تمام اوّلین و آخرین از سرِ نو زندہ ہو کر اپنے آپ کو میدانِ حشر میں پائیں گے۔ پہلے صُور پر سارا نظامِ کائنات درہم برہم ہو گا اور دُوسرے صُور پر ایک دُوسرا نظام نئی صُورت اور نئے قوانین کے ساتھ قائم ہو جائے گا۔

۴۸-یہ مطلب نہیں ہے کہ آج پادشاہی اس کی نہیں ہے۔ بلکہ مطلب یہ ہے کہ اُس روز جب پردہ اُٹھایا جائے گا اور حقیقت بالکل سامنے آ جائے گی تو معلوم ہو جائے گا کہ وہ سب جو با اختیار نظر آتے تھے ، یا سمجھے جاتے تھے ، بالکل بے اختیار ہیں اور پادشاہی کے سارے اختیارات اسی ایک خدا کے لیے ہیں جس نے کائنات کو پیدا کیا ہے۔

۴۹-غیب = وہ سب کچھ جو مخلوقات سے پوشیدہ ہے۔

شہادت = وہ سب کچھ جو مخلوقات کے لیے ظاہر و معلوم ہے۔

۵۰-یہاں حضرت ابراہیمؑ  کے واقعہ کا ذکر اس امر کی تائید اور شہادت میں پیش کیا جا رہا ہے کہ جس طرح اللہ کی بخشی ہوئی ہدایت سے آج محمد صلی اللہ علیہ و سلم نے اور آپ ؐ کے ساتھیوں نے شرک کا انکار کیا ہے اور سب مصنوعی خداؤں سے منہ موڑ کر صرف ایک مالکِ کائنات کے آگے سرِ اطاعت خم کر دیا ہے اسی طرح کل یہی کچھ ابراہیمؑ  بھی کر چکے ہیں۔ اور جس طرح آج محمد صلی اللہ علیہ و سلم اور ان پر ایمان لانے والوں سے ان کی جاہل قوم جھگڑ رہی ہے اسی طرح کل حضرت ابراہیمؑ  سے بھی ان کی قوم یہی جھگڑا کر چکی ہے۔ اور کل جو جواب حضرت ابراہیمؑ  نے اپنی قوم کو دیا تھا آج محمد صلی اللہ علیہ و سلم اور ان کے پیرووں کی طرف سے ان کی قوم کو بھی وہی جواب ہے۔ محمد صلی اللہ علیہ و سلم اس راستہ پر ہیں جو نوحؑ  اور ابراہیمؑ  اور نسلِ ابراہیمی کے تمام انبیاء کا راستہ رہا ہے۔ اب جو لوگ ان کی پیروی سے انکار کر رہے ہیں انھیں معلوم ہو جانا چاہیے کہ وہ انبیاء کے طریقہ سے ہٹ کر ضلالت کی راہ پر جا رہے ہیں۔

یہاں یہ بات اور سمجھ لینی چاہیے کہ عرب کے لوگ بالعموم حضرت ابراہیمؑ  کو اپنا پیشوا اور مقتدا مانتے تھے۔ خصُوصاً قریش کے تو فخر و ناز کی ساری بُنیاد ہی یہ تھی کہ وہ ابراہیم علیہ السّلام کی اولاد اور ان کے تعمیر کردہ خانۂ خدا کے خادم ہیں۔ اس لیے ان کے سامنے حضرت ابراہیمؑ  کے عقیدۂ توحید کا اور شرک سے اُن کا انکار اور مشرک قوم سے اُن کی نزاع کا ذکر کرنے کے معنی یہ تھے کہ قریش کا سارا سرمایۂ فخر و ناز اور کفارِ عرب کا اپنے مشرکانہ دین پر سارا اطمینان ان سے چھین لیا جائے اور اُن پر ثابت کر دیا جائے کہ آج مسلمان اُس مقام پر ہیں جس پر حضرت ابراہیمؑ  تھے اور تمہاری حیثیت وہ ہے جو حضرت ابراہیمؑ  سے لڑنے والی جاہل قوم کی تھی۔ یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسے کوئی شیخ عبدالقادر جیلانی ؒ کے معتقدوں اور قادری النسب پیر زادوں کے سامنے حضرت شیخ کی اصل تعلیمات اور ان کی زندگی کے واقعات پیش کر کے یہ ثابت کر دے کہ جن بزرگ کے تم نام لیوا ہو، تمہارا اپنا طریقہ ان کے بالکل خلاف ہے اور تم نے آج انہی گمراہ لوگوں کی حیثیت اختیار کر لی ہے جن کے خلاف تمہارے مقتدا تمام عمر جہاد کرتے رہے۔

۵۱-یعنی جس طرح تم لوگوں کے سامنے آثارِ کائنات نمایاں ہیں اور اللہ کی نشانیاں تمھیں دکھائی جا رہی ہیں، اُسی طرح ابراہیمؑ  کے سامنے بھی یہی آثار تھے اور یہی نشانیاں تھیں۔ مگر تم لوگ انھیں دیکھنے پر بھی اندھوں کی طرح کچھ نہیں دیکھتے اور ابراہیمؑ  نے انھیں آنکھیں کھول کر دیکھا۔ یہی سُورج اور چاند اور تارے جو تمہارے سامنے طلوع و غروب ہوتے ہیں اور روزانہ تم کو جیسا گمراہ طلوع ہوتے وقت پاتے ہیں ویسا ہی غروب ہوتے وقت چھوڑ جاتے ہیں، انہی کو اُس آنکھوں والے انسان نے بھی دیکھا تھا اور انہی نشانات سے وہ حقیقت تک پہنچ گیا۔

۵۲-اس مقام کو اور قرآن کے اُن دُوسرے مقامات کو جہاں حضرت ابراہیمؑ  سے اُن کی قوم کی نزاع کا ذکر آیا ہے ، اچھی طرح سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ حضرت ابراہیمؑ  کی قوم کے مذہبی و تمدّنی حالات پر ایک نظر ڈال لی جائے۔ جدید اثری تحقیقات کے سلسلہ میں نہ صرف وہ شہر دریافت ہو گیا ہے جہاں حضرت ابراہیمؑ  پیدا ہوئے تھے ، بلکہ دَورِ  ابراہیمی میں اُس علاقے کے لوگوں کی جو حالت تھی اس پر بھی بہت کچھ روشنی پڑی ہے۔ سر لیو نارڈو وُلی (Sir Leonard Woolley)نے اپنی کتاب ( ,Abraham’’ London, ۱۹۳۵‘‘) میں اس تحقیقات کے جو نتائج شائع کیے ہیں ان کا خلاصہ ہم یہاں درج کرتے ہیں۔

اندازہ کیا گیا ہے کہ سن ۲۱۰۰ قبل مسیح کے لگ بھگ زمانہ میں ، جسے اب عام طور پر محققین حضرت ابراہیمؑ  کے ظہُور کا زمانہ تسلیم کرتے ہیں ، شہر اُر کی آبادی ڈھائی لاکھ کے قریب تھی اور بعید نہیں کہ پانچ لاکھ ہو۔ بڑا صنعتی و تجارتی مرکز تھا۔ ایک طرف پامیر اور نیلگری تک سے وہاں مال آتا تھا اور دُوسری طرف اناطولیہ تک سے اس کے تجارتی تعلقات تھے۔ جِس ریاست کا یہ صدر مقام تھا اس کے حدود موجودہ حکومتِ  عراق سے شمال میں کچھ کم اور مغرب میں کچھ زیادہ تھے۔ ملک کی آبادی بیشتر صنعت و تجارت پیشہ تھی۔ اس عہد کی جو تحریرات آثارِ قدیمہ کے کھنڈروں میں دستیاب ہوئی ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ زندگی میں ان لوگوں کا نقطۂ نظر خالص مادّہ پرستانہ تھا۔ دولت کمانا اور زیادہ سے زیادہ آسائش فراہم کرنا ان کا سب سے بڑا مقصدِ حیات تھا۔ سُود خواری کثرت سے پھیلی ہوئی تھی۔ سخت کاروباری قسم کے لوگ تھے۔ ہر ایک دُوسرے کو شک کی نگاہ سے دیکھتا تھا اور آپس میں بہت مقدمہ بازیاں ہوتی تھیں۔ ا پنے خداؤں سے ان کی دُعائیں زیادہ تر درازیِ عمر ، خوش حالی اور کاروبار کی ترقی سے متعلق ہوا کرتی تھیں۔ آبادی تین طبقوں پر مشتمل تھی:

(۱) عَمیلو – یہ اُونچے طبقے کے لوگ تھے جن میں پُجاری ، حکومت کے عہدہ دار اور فوجی افسر وغیرہ شامل تھے۔

(۲) مِشکینو – یہ تجار، اہلِ صنعت اور زراعت پیشہ لوگ تھے۔

(۳) اَردو – یعنی غلام۔

ان میں سے پہلے طبقہ ، یعنی عَمیلو کو خاص امتیازات حاصل تھے۔ ان کے فوجداری اور دیوانی حقوق دُوسروں سے مختلف تھے ، اور ان کی جان و مال کی قیمت دُوسروں سے بڑھ کرتھی۔

یہ شہر اور یہ معاشرہ تھا جس میں حضرت ابراہیمؑ  نے آنکھیں کھولیں۔ ان کا اور ان کے خاندان کا جو حال ہمیں تَلمود میں ملتا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ عَمیلو طبقہ کے ایک فرد تھے اور ان کا باپ ریاست کا سب سے بڑا عہدہ دار تھا۔(دیکھو سُورۂ بقرہ، حاشیہ نمبر ۲۹۰)۔

اُر کے کتبات میں تقریباً ۵ ہزار خداؤں کے نام ملتے ہیں۔ ملک کے مختلف شہروں کے الگ الگ خدا تھے۔ ہر شہر کا ایک خاص محافظ خدا ہوتا تھا جو ربُّ البلد، مہادیو، یا رئیس الآلہہ سمجھا جاتا تھا اور اس کا احترام دُوسرے معبُودوں سے زیادہ ہوتا تھا۔ اُرکا ربّ البلد ’’نَنّار‘‘(چاند دیوتا) تھا اور اسی مناسبت سے بعد کے لوگوں نے اس شہر کا نام ’’قمرینہ‘‘ بھی لکھا ہے۔ دُوسرا بڑا شہر لَرسہ تھا جو بعد میں اُر کے بجائے مرکزِ سلطنت ہوا۔ اُس کا ربّ البلد ’’شماش‘‘ (سُورج دیوتا) تھا۔ ان بڑے خداؤں کے ماتحت بہت سے چھوٹے خدا بھی تھے جو زیادہ تر آسمانی تاروں اور سیاروں میں سے اور کم تر زمین سے منتخب کیے گئے تھے اور لوگ اپنی مختلف فروعی ضروریات ان سے متعلق سمجھتے تھے۔ ان آسمانی اور زمینی دیوتاؤں اور دیویوں کی شبیہیں بُتوں کی شکل میں بنالی گئی تھیں اور تمام مراسمِ عبادت انہی کے آگے بجا لائے جاتے تھے۔

’’ننار‘‘ کا بُت اُر میں سب سے اُونچی پہاڑی پر ایک عالی شان عمارت میں نصب تھا۔ اسی کے قریب ’’ننار‘‘ کی بیوی ’’نن گل‘‘ کا مَعبد تھا۔ ننار کے مَعبد کی شان ایک شاہی محل سرا کی سی تھی۔ اس کی خواب گاہ میں روزانہ رات کو ایک پوجا رن جا کر اس کی دُلہن بنتی تھی۔ مندر میں بکثرت عورتیں دیوتا کے نام پر وقف تھیں اور ان کی حیثیت دیو داسیوں(Religious Prostitutes) کی سی تھی۔ وہ عورت بڑی معزّز خیال کی جاتی تھی جو ’’خدا ‘‘ کے نام پر اپنی بکارت قربان کر دے۔ کم از کم ایک مرتبہ اپنے آپ کو ’’راہِ خدا‘‘ میں کسی اجنبی کے حوالہ کرنا عورت کے لیے ذریعہ ٔ نجات خیال کیا جاتا تھا۔ اب یہ بیان کرنا کچھ ضروری نہیں کہ اس مذہبی قحبہ گری سے مستفید ہونے والے زیادہ تر پجاری حضرات ہی ہوتے تھے۔

ننار محض دیوتا ہی نہ تھا بلکہ ملک کا سب سے بڑا زمیندار ، سب سے بڑا تاجر، سب سے بڑا کارخانہ دار اور ملک کی سیاسی زندگی کا سب سے بڑا حاکم بھی تھا۔ بکثرت باغ، مکانات اور زمینیں اس مندر کے لیے وقف تھیں۔ اس جائیداد کی آمدنی کے علاوہ وہ کسان، زمیندار ، تجّار سب ہر قسم کے غلّے ، دُودھ ، سونا ، کپڑا اور دُوسری چیزیں لا کر مندر میں نذر بھی کرتے تھے جنہیں وصُول کرنے کے لیے مندر میں ایک بہت بڑا اسٹاف موجود تھا۔ بہت سے کارخانے مندر کے ماتحت قائم تھے۔ تجارتی کاروبار بھی بہت بڑے پیمانے پر مندر کی طرف سے ہوتا تھا۔ یہ سب کام دیوتا کی نیابت میں پجاری ہی انجام دیتے تھے۔ پھر ملک کی سب سے بڑی عدالت مندر ہی تھی۔ پجاری اس کے جج تھے اور ان کے فیصلے ’’خدا‘‘ کے فیصلے سمجھے جاتے تھے۔ خود شاہی خاندان کی حاکمیت بھی ننار ہی سے ماخوذ تھی۔ اصل بادشاہ ننار تھا اور فرماں روائے ملک اس کی طرف سے حکومت کرتا تھا۔ اس تعلق سے بادشاہ خود بھی معبُودوں میں شامل ہو جاتا تھا اور خداؤں کے مانند اس کی پرستش کی جاتی تھی۔

اُر کا شاہی خاندان جو حضرت ابراہیمؑ  کے زمانہ میں حکمران تھا، اس کے بانیٔ اوّل کا نام اُرنَمُوّ تھا جس نے ۲۳۰۰ برس قبل مسیح میں ایک وسیع سلطنت قائم کی تھی۔ اس کے حُدُودِ مملکت مشرق میں سوسہ سے لے کر مغرب میں لُبنان تک پھیلے ہوئے تھے۔ اُسی سے اس خاندان کو ’’نَمُوّ‘‘ کا نام ملا جو عربی میں جا کر نمرود ہو گیا۔ حضرت ابراہیمؑ  کی ہجرت کے بعد اس خاندان اور اس قوم پر مسلسل تباہی نازل ہونی شروع ہوئی۔ پہلے عیلامیوں نے اُر کو تباہ کیا اور نمرُود کے ننار کے بُت سمیت پکڑ لے گئے۔ پھر لرسہ میں ایک عیلامی حکومت قائم ہوئی جس کے ماتحت اُر کا علاقہ غلام کی حیثیت سے رہا۔ آخر کار ایک عربی النسل خاندان کے ماتحت بابِل نے زور پکڑا اور لرسہ اور اُر دونوں اس کے زیرِ حکم ہو گئے۔ ان تباہیوں نے ننار کے ساتھ اُر کے لوگوں کا عقیدہ متزلزل کر دیا کیونکہ وہ ان کی حفاظت نہ کر سکا۔

تعیّن کے ساتھ نہیں کہا جا سکتا کہ بعد کے ادوار میں حضرت ابراہیمؑ  کی تعلیمات کا اثر اس ملک کے لوگوں نے کہا ں تک قبول کیا۔ لیکن سن ۱۹۱۰ قبل مسیح میں بابل کے بادشاہ حمورائی (بائیبل کے اَمُرافیل) نے جو قوانین مرتب کیے تھے وہ شہادت دیتے ہیں کہ بالواسطہ یا بلا واسطہ ان کی تدوین میں مشکوٰۃِ نبوّت سے حاصل کی ہوئی روشنی کسی حد تک ضرور کار فرما تھی۔ ان قوانین کا مفصل کتبہ سن ۱۹۰۲ بعد مسیح میں ایک فرانسیسی مفتش آثارِ قدیمہ کو ملا اور اس کا انگریزی ترجمہ C.H.W. John نے سن ۱۹۰۳ بعد مسیح میں( The Oldest Code of Law ) کے نام سے شائع کیا۔ اس ضابطۂ قوانین کے بہت سے اُصُول اور فروع موسوی شریعت سے مشابہت رکھتے ہیں۔

یہ اب تک کی اثری تحقیقات کے نتائج اگر صحیح ہیں تو ان سے یہ بات بالکل واضح ہو جاتی ہے کہ حضرت ابراہیمؑ  کی قوم میں شرک محض ایک مذہبی عقیدہ اور بُت پرستانہ عبادات کا مجمُوعہ ہی نہ تھا بلکہ درحقیقت اس قوم کی پُوری معاشی ، تمدّنی ، سیاسی اور معاشرتی زندگی کا نظام اسی عقیدے پر مبنی تھا۔ اس کے مقابلہ میں حضرت ابراہیمؑ  توحید کی جو دعوت لے کر اُٹھے تھے اس کا اثر صِرف بُتوں کی پرستش ہی پر نہ پڑتا تھا بلکہ شاہی خاندان کی معبُودیت اور حاکمیت، پجاریوں اور اُونچے طبقوں کی معاشرتی، معاشی اور سیاسی حیثیت ، اور پورے ملک کی اجتماعی زندگی اس کی زد میں آئی جاتی تھی۔ اُن کی دعوت کی قبول کرنے کے معنی یہ تھے کہ نیچے سے اُوپر تک ساری سوسائیٹی کی عمارت ادھیڑ ڈالی جائے اور اسے از سرِ نو توحیدِ الٰہ کی بُنیاد پر تعمیر کیا جائے۔ اِسی لیے ابراہیم علیہ السّلام کی آواز بلند ہوتے ہی عوام اور خواص، پجاری اور نمرود سب کے سب بیک وقت اس کو دبانے کے لیے کھڑے ہو گئے۔

۵۳-’’یہاں حضرت ابراہیمؑ  کے اُس ابتدائی تفکّر کی کیفیت بیان کی گئی ہے جو منصبِ نبوّت پر سرفراز ہونے سے پہلے اُن کے لیے حقیقت تک پہنچنے کا ذریعہ بنا۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ ایک صحیح الدّماغ اور سلیم النظر انسان، جس نے سراسر شرک کے ماحول میں آنکھیں کھولی تھیں ، اور جسے توحید کی تعلیم کہیں سے حاصل نہ ہو سکی تھی ، کس طرح آثارِ کائنات کا مشاہدہ کر کے اور ان پر غور و فکر اور ان سے صحیح استدلال کر کے امرِ حق معلوم کرنے میں کامیاب ہو گیا۔ اوپر قومِ  ابراہیمؑ  کے جو حالات بیان کیے گئے ہیں ان پر ایک نظر ڈالنے سے یہ معلوم ہو جاتا ہے کہ حضرت ابراہیمؑ  نے جب ہوش سنبھالا تھا تو ان کے گرد و پیش ہر طرف چاند ، سُورج اور تاروں کی خدائی کے ڈنکے بج رہے تھے۔ اس لیے قدرتی طور پر حضرت ابراہیمؑ  کی جستجوئے حقیقت کا آغاز اسی سوال سے ہونا چاہیے تھا کہ کیا فی الواقع ان میں سے کوئی ربّ ہو سکتا ہے ؟ اسی مرکزی سوال پر انھوں نے غور و فکر کیا اور آخر کار اپنی قوم کے سارے خداؤں کو ایک اٹل قانون کے تحت غلاموں کی طرح گردش کرتے دیکھ کر وہ اس نتیجہ پر پہنچ گئے کہ جن جن کے رب ہونے کا دعویٰ کیا جاتا ہے ان میں سے کسی کے اندر بھی ربُوبیّت کا شائبہ تک نہیں ہے ، ربّ صرف وہی ایک ہے جس نے ان سب کو پیدا کیا اور بندگی پر مجبُور کیا ہے۔

اس قصّہ کے الفاظ سے عام طور پر لوگوں کے ذہن میں ایک شبہ پیدا ہوتا ہے۔ یہ جو ارشاد ہوا ہے کہ جب رات طاری ہوئی تو اس نے ایک تارا دیکھا ، اور جب وہ ڈوب گیا تو یہ کہا، پھر چاند دیکھا اور جب وہ ڈوب گیا تو یہ کہا، پھر سُورج دیکھا اور جب وہ بھی ڈوب گیا تو یہ کہا، اس پر ایک عام ناظر کے ذہن میں فوراً یہ سوال کھٹکتا ہے کہ کیا بچپن سے آنکھ کھولتے ہی روزانہ حضرت ابراہیمؑ  پر رات طاری نہ ہوتی رہی تھی اور کیا وہ ہر روز چاند ، تاروں اور سُورج کو طلوع و غروب ہوتے نہ دیکھتے تھے ؟ ظاہر ہے کہ یہ غور و فکر تو انہوں نے سنِ رُشد کو پہنچنے کے بعد ہی کیا ہو گا۔ پھر یہ قصّہ اس طرح کیوں بیان کیا گیا ہے کہ جب رات ہوئی تو یہ دیکھا اور دن نکلا تو یہ دیکھا؟ گویا اس خاص واقعہ سے پہلے انھیں یہ چیزیں دیکھنے کا اتفاق نہ ہوا تھا، حالانکہ ایسا ہونا صریحاً مستبعد ہے۔ یہ شبہ بعض لوگوں کے لیے اس قدر ناقابلِ حل بن گیا کہ اسے دفع کرنے کی کوئی صُورت انھیں اس کے سوا نظر نہ آئی کہ حضرت ابراہیمؑ  کی پیدائش اور پرورش کے متعلق ایک غیر معمُولی قصّہ تصنیف کریں۔ چنانچہ بیان کیا جاتا ہے کہ حضرت ابراہیمؑ  کی پیدائش اور پرورش ایک غار میں ہوئی تھی جہاں سنِ رشد کو پہنچنے تک وہ چاند، تاروں اور سُورج کے مشاہدے سے محروم رکھے گئے تھے۔ حالانکہ بات بالکل صاف ہے اور اس کو سمجھنے کے لیے اس نوعیت کی کسی داستان کی ضرورت نہیں ہے۔ نیوٹن کے متعلق مشہُور ہے کہ اس نے باغ میں ایک سیب کو درخت سے گرتے دیکھا اور اس سے اس کا ذہن اچانک اس سوال کی طرف متوجّہ ہو گیا کہ اشیاء آخر زمین پر ہی کیوں گِرا کرتی ہیں ، یہاں تک غور کرتے کرتے وہ قانونِ جذب و کشش کے استنباط تک پہنچ گیا۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا اس واقعہ سے پہلے نیوٹن نے کبھی کوئی چیز زمین پر گرتے نہیں دیکھی تھی؟ ظاہر ہے کہ ضرور دیکھی ہو گی اور بارہا دیکھی ہو گی۔ پھر کیا وجہ ہے کہ اُسی خاص تاریخ کو سیب گِرنے کے مشاہدے سے نیوٹن کے ذہن میں وہ حرکت پیدا ہوئی جو اس سے پہلے روزمرّہ کے ایسے سینکڑوں مشاہدات سے نہ ہوئی تھی؟ اس کا جواب اگر کچھ ہو سکتا ہے تو یہی کہ غور و فکر کرنے والا ذہن ہمیشہ ایک طرح کے مشاہدات سے ایک ہی طرح متأثر نہیں ہوا کرتا۔ بارہا ایسا ہوتا ہے کہ آدمی ایک چیز کو ہمیشہ دیکھتا رہتا ہے اور اس کے ذہن میں کوئی حرکت پیدا نہیں ہوتی، مگر ایک وقت اُسی چیز کو دیکھ کر یکایک ذہن میں ایک کھٹک پیدا ہو جاتی ہے جس سے فکر کی قوتیں ایک خاص مضمون کی طرف کام کرنے لگتی ہیں۔ یا پہلے سے کسی سوال کی تحقیق میں ذہن اُلجھ رہا ہوتا ہے اور یکایک روزمرّہ ہی کی مشاہدات میں سے کسی ایک چیز پر نظر پڑتے ہی گتھی کا و ہ سرا ہاتھ لگ جاتا ہے جس سے ساری اُلجھنیں سلجھتی چلی جاتی ہیں۔ ایسا ہی معاملہ حضرت ابراہیمؑ  کے ساتھ بھی پیش آیا۔ راتیں روز آتی تھیں اور گزر جاتی تھیں۔ سُورج اور چاند اور تارے سب ہی آنکھوں کے سامنے ڈوبتے اور اُبھرتے رہتے تھے۔ لیکن وہ ایک خاص دن تھا جب ایک تارے کے مشاہدے نے ان کے ذہن کو اُس راہ پر ڈال دیا جس سے بالآخر وہ توحیدِ الٰہ کی مرکزی حقیقت تک پہنچ کر رہے۔ ممکن ہے کہ حضرت ابراہیمؑ  کا ذہن پہلے سے اس سوال پر غور کر رہا ہو کہ جن عقائد پر ساری قوم کا نظامِ زندگی چل رہا ہے ان میں کس حد تک صداقت ہے ، اور پھر ایک تارا یکایک سامنے آ کر کشودِ کار کے لیے کلید بن گیا ہو۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ تارے کے مشاہدے ہی سے ذہنی حرکت کی ابتدا ہوئی ہو۔

اس سلسلہ میں ایک اور سوال بھی پیدا ہوتا ہے۔ وہ یہ کہ جب حضرت ابراہیمؑ  نے تارے کو دیکھ کر کہا یہ میرا ربّ ہے ، اور جب چاند اور سُورج کو دیکھ کر انھیں اپنا رب کہا ، تو کیا اُس وقت عارضی طور پر ہی سہی، وہ شرک میں مبتلا نہ ہو گئے تھے ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ ایک طالبِ حق اپنی جستجو کی راہ میں سفر کرتے ہوئے بیچ کی جن منزلوں پر غور و فکر کے لیے ٹھیرتا ہے ، اصل اعتبار اُن منزلوں کا نہیں ہوتا بلکہ اصل اعتبار اُس سمت کا ہوتا ہے جس پر وہ پیش قدمی کر رہا ہے اور اُس آخری مقام کا ہوتا ہے جہاں پہنچ کر وہ قیام کرتا ہے۔ بیچ کی منزلیں ہر جویائے حق کے لیے ناگزیر ہیں۔ ان پر ٹھیرنا بسلسلۂ طلب و جستجو ہوتا ہے نہ کہ بصورتِ فیصلہ۔ اصلاً ٹھیراؤ سوالی و استفہامی ہوا کرتا ہے نہ کہ حُکمی۔ طالب جب اِن میں سے کسی منزل پر رُک کر کہتا ہے کہ ’’ ایسا ہے ‘‘ تو دراصل یہ اس کی آخری رائے نہیں ہوتی بلکہ اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ ’’ایسا ہے ‘‘؟ اور تحقیق سے اس کا جواب نفی میں پا کر وہ آگے بڑھ جاتا ہے۔ اس لیے یہ خیال کرنا بالکل غلط ہے کہ اثنائے راہ میں جہاں جہاں وہ ٹھیرتا رہا وہاں وہ عارضی طور پر کفر یا شرک میں مبتلا رہا۔

۵۴-اصل میں لفظ تَذَکُّر استعمال ہوا ہے جس کا صحیح مفہُوم یہ ہے کہ ایک شخص جو غفلت اور بھلا وے میں پڑا ہوا ہو وہ چونک کر اُس چیز کو یاد کر لے جس سے وہ غافل تھا۔ اسی لیے ہم نے اَفَلَا تَتَذَکَّرُوْنَ کا یہ ترجمہ کیا ہے۔ حضرت ابراہیمؑ  کے ارشاد کا مطلب یہ تھا کہ تم جو کچھ کر رہے ہو، تمہارا اصلی و حقیقی ربّ اس سے بے خبر نہیں ہے ، اس کا علم ساری چیزوں پر وسیع ہے ، پھر کیا اس حقیقت سے واقف ہو کر بھی تمھیں ہوش نہ آئے گا؟

۵۵-یہ پُوری تقریر اس بات پر شاہد ہے کہ وہ قوم اللہ فاطر السّمٰوات و الارض کی ہستی کی منکر نہ تھی بلکہ اس کا اصلی جُرم اللہ کے ساتھ دُوسروں کو خدائی صفات اور خداوندانہ حقوق میں شریک قرار دینا تھا۔ اوّل تو حضرت ابراہیمؑ  خود ہی فرما رہے ہیں کہ تم اللہ کے ساتھ دُوسری چیزوں کو شریک کرتے ہو۔ دوسرے جس طرح آپ ان لوگوں کو خطاب کرتے ہوئے اللہ کا ذکر فرماتے ہیں، یہ اندازِ بیان صرف اُنہی لوگوں کے مقابلہ میں اختیار کیا جا سکتا ہے جو اللہ کے نفسِ وجود سے منکر نہ ہوں۔ لہٰذا اُن مفسّرین کی رائے درست نہیں ہے جنھوں نے اس مقام پر اور حضرت ابراہیمؑ  کے سلسلہ میں دُوسرے مقامات پر قرآن کے بیانات کی تفسیر اس مفروضہ پر کی ہے کہ قومِ ابراہیمؑ  اللہ کی منکر یا اس سے ناواقف تھی اور صرف اپنے معبُودوں ہی کو خدائی کا بالکلّیہ مالک سمجھتی تھی۔

آخری آیت میں یہ جو فقرہ ہے کہ ’’جنھوں نے اپنے ایمان کو ظلم کے ساتھ آلودہ نہیں کیا‘‘، اس میں لفظ ظلم سے بعض صحابہ کو غلط فہمی ہوئی تھی کہ شاید اس سے مراد معصیت ہے۔لیکن نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے خود تصریح فرما دی کہ دراصل یہاں ظلم سے مراد شرک ہے۔ لہٰذا اس آیت کا مطلب یہ ہوا کہ جو لوگ اللہ کو مانیں اور اپنے اس ماننے کو کسی مشرکانہ عقیدہ و عمل سے آلودہ نہ کریں، امن صرف اُنہی کے لیے ہے اور وہی راہِ راست پر ہیں۔

اس موقع پر یہ جان لینا بھی دلچسپی سے خالی نہ ہو گا کہ یہ واقعہ جو حضرت ابراہیمؑ  کی عظیم الشان پیغمبرانہ زندگی کا نقطۂ آغاز ہے ، بائیبل میں کوئی جگہ نہیں پا سکا ہے۔ البتہ تَلمُود میں اس کا ذکر موجود ہے۔ لیکن اس میں دو باتیں قرآن سے مختلف ہیں۔ ایک یہ کہ وہ حضرت ابراہیمؑ  کی جستجوئے حقیقت کو سُورج سے شروع کر کے تاروں تک اور پھر خدا تک لے جاتی ہے۔ دُوسرے اس کا بیان ہے کہ حضرت ابراہیمؑ  نے جب سُورج کو ھٰذَا رَبِّیْ کہا تو ساتھ ہی اس کی پرستش بھی کر ڈالی اور اسی طرح چاند کو بھی انہوں نے ھٰذَا رَبِّیْ کہہ کر اس کی پرستش کی۔

 

ترجمہ

 

یہ تھی ہماری وہ حجّت جو ہم نے ابراہیمؑ  کو اس کی قوم کے مقابلہ میں عطا کی۔ ہم جسے چاہتے ہیں بلند مرتبے عطا کرتے ہیں۔ حق یہ ہے کہ تمہارا رب نہایت دانا اور علیم ہے۔ پھر ہم نے ابراہیمؑ کو اسحاقؑ اور یعقوبؑ جیسی اولاد دی اور ہر ایک کو راہِ راست دکھائی۔ (وہی راہِ راست جو) اس سے پہلے نوحؑ  کو دکھائی تھی۔ اور اُسی کی نسل سے ہم نے داؤدؑ ، سلیمانؑ ، ایّوبؑ ، یوسفؑ، موسیٰؑ  اور ہارونؑ کو (ہدایت بخشی)۔ اِس طرح ہم نیکو کاروں کو ان کی نیکی کا بدلہ دیتے ہیں۔ (اُسی کی اولاد سے ) زکریاؑ ، یحییٰؑ  ، عیسیٰؑ  اور الیاسؑ کو (راہ یاب کیا)۔ ہر ایک ان میں سے صالح تھا۔ (اسی کے خاندان سے ) اسماعیلؑ ، الیسعؑ ، اور یونسؑ اور لوطؑ کو (راستہ دکھایا)۔ اِن میں سے ہر ایک کو ہم نے تمام دُنیا والوں پر فضیلت عطا کی۔ نیز ان کے آباء و اجداد اور ان کی اولاد اور ان کے بھائی بندوں میں سے بہتوں کو ہم نے نوازا، انہیں اپنی خدمت کے لیے چُن لیا اور سیدھے راستے کی طرف ان کی رہنمائی کی۔ یہ اللہ کی ہدایت ہے جس کے ساتھ وہ اپنے بندوں میں سے جس کی چاہتا ہے رہنمائی کرتا ہے۔ لیکن اگر کہیں ان لوگوں نے شرک کیا ہوتا تو ان کا سب کیا کرایا غارت ہو جاتا۔۵۶ وہ لوگ تھے جن کو ہم نے کتاب اور حکم اور نبوت عطا کی تھی۔۵۷ اب اگر یہ لوگ اس کو ماننے سے انکار کرتے ہیں تو (پروا نہیں) ہم نے کچھ اور لوگوں کو یہ نعمت سونپ دی ہے جو اس سے منکر نہیں ہیں۔۵۸اے محمد ؐ ! وہی لوگ اللہ کی طرف سے ہدایت یافتہ تھے ، انہی کے راستہ پر تم چلو، اور کہہ دو کہ میں (اس تبلیغ و ہدایت کے) کام پر تم سے کسی اجر کا طالب نہیں ہوں، یہ تو ایک عام نصیحت ہے تمام دنیا والوں کے لیے۔ ؏١۰

 

تفسیر

 

۵۶-یعنی جس شرک میں تم لوگ مبتلا ہو اگر کہیں وہ بھی اسی میں مُبتلا ہوئے ہوتے تو یہ مرتبے ہر گز نہ پا سکتے تھے۔ ممکن تھا کہ کوئی شخص کامیاب ڈاکہ زنی کر کے فاتح کی حیثیت سے دنیا میں شہرت پا لیتا، یا زر پرستی میں کمال پیدا کر کے قارُون کا سا نام پیدا کر لیتا ، یا کسی اَور صُورت سے دُنیا کے بدکاروں میں نامور بدکار بن جاتا۔ لیکن یہ امامِ ہدایت اور امام المتّقین ہونے کا شرف اور یہ دُنیا بھر کے لیے خیر و صلاح کا سرچشمہ ہونے کا مقام تو کوئی بھی نہ پا سکتا اگر شرک سے مجتنب اور خالص خدا پرستی کی راہ پر ثابت قدم نہ ہوتا۔

۵۷-یہاں انبیاء علیہم السّلام کو تین چیزیں عطا کیے جانے کا ذکر کیا گیا ہے۔ ایک کتاب یعنی اللہ کا ہدایت نامہ دوسرے حُکم یعنی اس ہدایت نامہ کا صحیح فہم ، اور اس کے اُصُولوں کو معاملاتِ  زندگی پر منطبق کرنے کی صلاحیت اور مسائلِ  حیات میں فیصلہ کُن رائے قائم کرنے کی خداداد قابلیت۔ تیسرے نبوّت ، یعنی یہ منصب کہ وہ اس ہدایت نامہ کے مطابق خلق اللہ کی رہنمائی کریں۔

۵۸-مطلب یہ ہے کہ اگر یہ کافر و مشرک لوگ اللہ کی اس ہدایت کو قبول کرنے سے انکار کرتے ہیں تو کر دیں، ہم نے اہلِ  ایمان کا ایک ایسا گروہ پیدا کر دیا ہے جو اس نعمت کی قدر کرنے والا ہے۔

 

ترجمہ

 

ان لوگوں نے اللہ کا بہت غلط اندازہ لگایا جب کہا کہ اللہ نے کسی بشر پر کچھ نازل نہیں کیا ہے۔۵۹ ان سے پوچھو، پھر وہ کتاب جسے موسیٰؑ لایا تھا ، جو تمام انسانوں کے لیے روشنی اور ہدایت تھی، جسے تم پارہ پارہ کر کے رکھتے ہو، کچھ دکھاتے ہو اور بہت کچھ چھُپا جاتے ہو ،اور جس کے ذریعہ سے تم کو وہ علم دیا گیا جو نہ تمہیں حاصل تھا اور نہ تمہارے باپ دادا کو، آخر اُس کا نازل کرنے والا کون تھا؟۔۔۔۔۶۰ بس اتنا کہہ دو کہ اللہ، پھر اُنہیں اپنی دلیل بازیوں سے کھیلنے کے لیے چھوڑ دو۔(اُسی کتاب کی طرح) یہ ایک کتاب ہے جسے ہم نے نازل کیا ہے۔ بڑی خیرو برکت والی ہے۔ اُس چیز کی تصدیق کرتی ہے جو اس سے پہلے آئی تھی۔ اور اس لیے نازل کی گئی ہے کہ اس کے ذریعہ سے تم بستیوں کے اس مرکز (یعنی مکّہ) اور اس کے اطراف میں رہنے والوں کو متنبہ کرو۔ جو لوگ آخرت کو مانتے ہیں وہ اس کتاب پر ایمان لاتے ہیں اور ان کا حال یہ ہے کہ اپنی نمازوں کی پابندی کرتے ہیں۔۶۱اور اُس شخص سے بڑا ظالم اور کون ہو گا جو اللہ پر جھُوٹا بہتان گھڑے ، یا کہے کہ مجھ پر وحی آئی ہے در آں حالیکہ اس پر کوئی وحی نازل نہ کی گئی ہو، یا جو اللہ کی نازل کردہ چیز کے مقابلہ میں کہے کہ میں بھی ایسی چیز نازل کر کے دکھا دوں گا ؟ کاش تم ظالموں کو اس حالت میں دیکھ سکو جب کہ وہ سکراتِ موت میں ڈبکیاں کھا رہے ہوتے ہیں اور فرشتے ہاتھ بڑھا بڑھا کر کہہ رہے ہوتے ہیں کہ ’’لاؤ، نِکالو اپنی جان، آج تمہیں اُن باتوں کی پاداش میں ذِلّت کا عذاب دیا جائے گا جو تم اللہ پر تہمت رکھ کر ناحق بکا کرتے تھے اور اُس کی آیات کے مقابلہ میں سرکشی دکھاتے تھے ‘‘۔  (اور اللہ فرمائے گا) ’’لو اب تم ویسے ہی تنِ تنہا ہمارے سامنے حاضر ہو گئے جیسا ہم نے تمہیں پہلی مرتبہ اکیلا پیدا کیا تھا، جو کچھ ہم نے تمہیں دُنیا میں دیا تھا وہ سب تم پیچھے چھوڑ آئے ہو، اور اب ہم تمہارے ساتھ تمہارے اُن سفارشیوں کو بھی نہیں دیکھتے جن کے متعلق تم سمجھتے تھے کہ تمہارے کام بنانے میں ان کا بھی کچھ حصّہ ہے ، تمہارے آپس کے سب رابطے ٹوٹ گئے اور وہ سب تم سے گم ہو گئے جن کا تم زعم رکھتے تھے ‘‘۔ ؏١١

 

تفسیر

 

۵۹-پچھلے سلسلہ ٔ بیان اور بعد کی جوابی تقریر سے صاف مترشح ہوتا ہے کہ یہ قول یہودیوں کا تھا۔ چونکہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم کا دعویٰ یہ تھا کہ میں نبی ہوں اور مجھ پر کتاب نازل ہوئی ہے ، اس لیے قدرتی طور پر کفار قریش اور دُوسرے مشرکینِ عرب اس دعوے کی تحقیق کے لیے یہُود و نصاریٰ کی طرف رجوع کرتے تھے اور ان سے پُوچھتے تھے کہ تم بھی اہلِ  کتاب ہو، پیغمبروں کو مانتے ہو، بتاؤ کیا واقعی اس شخص پر اللہ کا کلام نازل ہوا ہے ؟ پھر جو کچھ جواب وہ دیتے اسے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے سرگرم مخالفین جگہ جگہ بیان کر کے لوگوں کو برگشتہ کرتے پھرتے تھے۔ اسی لیے یہاں یہودیوں کے اس قول کو، جسے مخالفینِ اسلام نے حجّت بنا رکھا تھا ، نقل کر کے اس کا جواب دیا جا رہا ہے۔

شُبہ کیا جا سکتا ہے کہ ایک یہودی جو خود توراۃ کو خدا کی طرف سے نازل شدہ کتاب مانتا ہے ، یہ کیسے کہہ سکتا ہے کہ خدا نے کسی بشر پر کچھ نازل نہیں کیا۔ لیکن یہ شُبہ صحیح نہیں ہے ، اس لیے کہ ضد اور ہٹ دھرمی کی بنا پر بسا اوقات آدمی کسی دُوسرے کی سچّی باتوں کو رد کرنے کے لیے ایسی باتیں بھی کہہ جاتا ہے جن سے خود اس کی اپنی مسلَّمہ صداقتوں پر بھی زد پڑ جاتی ہے۔ یہ لوگ محمد صلی اللہ علیہ و سلم کی نبوّت کو رد کرنے پر تُلے ہوئے تھے اور اپنی مخالفت کے جوش میں اس قدر اندھے ہو جاتے تھے کہ حضور ؐ کی رسالت کی تر دید کرتے کرتے خود رسالت ہی کی تردید کر گزرتے تھے۔

اور یہ جو فرمایا کہ لوگوں نے اللہ کا بہت غلط اندازہ لگایا جب یہ کہا ، تو اس کا مطلب یہ ہے کہ انھوں نے اللہ کی حکمت اور اس کی قدرت کا اندازہ کرنے میں غلطی کی ہے۔ جو شخص یہ کہتا ہے کہ خدا نے کسی بشر پر علم حق اور ہدایت نامۂ زندگی نازل نہیں کیا ہے وہ یا تو بشر پر نزُولِ وحی کو ناممکن سمجھتا ہے اور یہ خدا کی قدرت کا غلط اندازہ ہے ، یا پھر وہ یہ سمجھتا ہے کہ خدا نے انسان کو ذہانت کے ہتھیار اور تصرّف کے اختیارات تو دے دیے مگر اس کی صحیح رہنمائی کا کوئی انتظام نہ کیا، بلکہ اسے دُنیا میں اندھا دھُند کام کرنے کے لیے یُونہی چھوڑ دیا ، اور یہ خدا کی حکمت کا غلط اندازہ ہے۔

۶۰-یہ جواب چونکہ یہودیوں کو دیا جا رہا ہے اس لیے موسیٰ علیہ السّلام پر توراۃ کے نزول کو دلیل کے طور پر پیش کیا گیا ہے ، کیوں کہ وہ خود اس کے قائل تھے۔ ظاہر ہے کہ ان کا یہ تسلیم کرنا کہ حضرت موسیٰؑ  پر توراۃ نازل ہوئی تھی، ان کے اس قول کی آپ سے آپ تردید کر دیتا ہے کہ خدا نے کسی بشر پر کچھ نازل نہیں کیا۔ نیز اس سے کم از کم اتنی بات تو ثابت ہو جاتی ہے کہ بشر پر خدا کا کلام نازل ہو سکتا ہے اور ہو چکا ہے۔

۶۱-پہلی دلیل اس بات کے ثبوت میں تھی کہ بشر پر خدا کا کلام نازل ہو سکتا ہے اور عملاً ہوا بھی ہے۔ اب یہ دُوسری دلیل اس بات کے ثبوت میں ہے کہ یہ کلام محمد صلی اللہ علیہ و سلم پر نازل ہوا ہے یہ خدا ہی کا کلام ہے۔ اس حقیقت کو ثابت کرنے کے لیے چار باتیں شہادت کے طور پیش کی گئی ہیں:

ایک یہ کہ یہ کتاب بڑی خیر و برکت والی ہے ، یعنی اس میں انسان کی فلاح و بہبود کے لیے بہترین اُصُول پیش کیے گئے ہیں۔ عقائدِ  صحیحہ کی تعلیم ہے ، بھلائیوں کی ترغیب ہے ، اخلاقِ فاضلہ کی تلقین ہے ، پاکیزہ زندگی بسر کرنے کی ہدایت ہے ، اور پھر یہ جہالت، خود غرضی، تنگ نظری، ظلم، فحش اور دُوسری اُن بُرائیوں سے ، جن کا انبار تم لوگوں نے کتبِ  مقدسہ کے مجمُوعہ میں بھر رکھا ہے ، بالکل پاک ہے۔

دوسرے یہ کہ اس سے پہلے خدا کی طرف سے ہدایت نامے آئے تھے یہ کتاب اُن سے الگ ہٹ کر کوئی مختلف ہدایت پیش نہیں کرتی بلکہ اُسی چیز کی تصدیق و تائید کرتی ہے جو اُن میں پیش کی گئی تھی۔

تیسرے یہ کہ یہ کتاب اُسی مقصد کے لیے نازل ہوئی ہے جو ہر زمانہ میں اللہ کی طرف سے کتابوں کے نُزول کا مقصد رہا ہے ، یعنی غفلت میں پڑے ہوئے لوگوں کو چونکانا اور کج روی کے انجامِ بد سے خبر دار کرنا۔

چوتھے یہ کہ کتاب کی دعوت نے انسانوں کے گروہ میں سے ان لوگوں کو نہیں سمیٹا جو دُنیا پرست اور خواہشِ نفس کے بندے ہیں، بلکہ ایسے لوگوں کو اپنے گرد جمع کیا ہے جن کی نظر حیاتِ دنیا کی تنگ سرحدوں سے آگے تک جاتی ہے ، اور پھر اس کتاب سے متاثر ہو کر جو انقلاب ان کی زندگی میں رُو نما ہوا ہے اس کی سب سے زیادہ نمایاں علامت یہ ہے کہ وہ انسانوں کے درمیان اپنی خد ا پرستی کی اعتبار سے مُمتاز ہیں۔ کیا یہ خُصوصیات اور یہ نتائج کسی ایسی کتاب کے ہو سکتے ہیں جسے کسی جھُوٹے انسان نے گھڑ لیا ہو جو اپنی تصنیف کو خد ا کی طرف منسُوب کر دینے کی انتہائی مجرمانہ جسارت تک کر گزرے ؟

 

ترجمہ

 

دانے اور گٹھلی کو پھاڑنے والا اللہ ہے۔۶۲ وہی زندہ کو مُردہ سے نکالتا ہے اور وہی مُردہ کو زندہ سے خارج کرتا ہے۔۶۳ یہ سارے کام تو کرنے والا اللہ ہے ، پھر تم کدھر بہکے چلے جا رہے ہو؟ پردۂ شب کو چاک کر کے وہی صبح نکالتا ہے۔ اُسی نے رات کو سکون کا وقت بنایا ہے اُسی نے چاند اور سُورج کے طلُوع و غروب کا حساب مقرّر کیا ہے۔ یہ سب اُسی زبردست قدرت اور علم رکھنے والے کے ٹھیرائے ہوئے اندازے ہیں۔ اور وہی ہے جس نے تمہارے لیے تاروں کو صحرا اور سمندر کی تاریکیوں میں راستہ معلوم کرنے کا ذریعہ بنایا۔ دیکھو ہم نے نشانیاں کھول کر بیان کر دی ہیں اُن لوگوں کے لیے جو علم رکھتے ہیں۔۶۴اور وہی ہے جس نے ایک مُتنفّس سے تم کو پیدا کیا ۶۵ پھر ہر ایک کے لیے ایک جائے قرار ہے اور ایک اس کے سونپے جانے کی جگہ۔ یہ نشانیاں ہم نے واضح کر دی ہیں اُن لوگوں کے لیے جو سمجھ بوجھ رکھتے ہیں۔۶۶اور وہی ہے جس نے آسمان سے پانی برسایا، پھر اس کے ذریعہ سے ہر قسم کی نباتات اُگائی، پھر اس سے ہرے ہرے کھیت اور درخت پیدا کیے ، پھر ان سے تہ بر تہ چڑھے ہوئے دانے نکالے اور کھجور کے شگوفوں سے پھلوں کے گچھے کے گچھے پیدا کیے جو بوجھ کے مارے جھُکے پڑتے ہیں، اور انگور، زیتون اور انار کے باغ لگائے جن کے پھل ایک دُوسرے سے ملتے جُلتے بھی ہیں اور پھر ہر ایک کی خصُوصیات جُدا جُدا بھی ہیں۔ یہ درخت جب پھلتے ہیں تو ان میں پَھل آنے اور پھر اُن کے پکنے کی کیفیت ذرا غور کی نظر سے دیکھو، اِن چیزوں میں نشانیاں ہیں اُن لوگوں کے لیے جو ایمان لاتے ہیں۔اِس پر بھی لوگوں نے جنوں کو اللہ کا شریک ٹھیرا دیا،۶۷ حالانکہ وہ اُن کا خالق ہے ، اور بے جانے بوجھے اس کے لیے بیٹے اور بیٹیاں تصنیف کر دیں،۶۸ حالانکہ وہ پاک اور بالاتر ہے اُن باتوں سے جو یہ لوگ کہتے ہیں۔ ؏١۲

 

تفسیر

 

۶۲-یعنی زمین کی تہوں میں بیج کو پھاڑ کر اس سے درخت کی کونپل نکالنے والا۔

۶۳-زندہ کو مُردہ سے نکالنے کا مطلب بے جان مادّہ سے زندہ مخلوقات کو پیدا کرنا ہے ، اور مُردہ کو زندہ سے خارج کرنے کا مطلب جاندار اجسام میں سے بے جان مادّوں کو خارج کرنا۔

۶۴-یعنی اِس حقیقت کی نشانیاں کہ خدا صرف ایک ہے ، کوئی دُوسرا نہ خدائی کی صفات رکھتا ہے ، نہ خدائی کے اختیارات میں حصّہ دار ہے ، اور نہ خدائی کے حقوق میں سے کسی حق کا مستحق ہے۔ مگر ان نشانیوں اور علامتوں سے حقیقت تک پہنچنا جاہلوں کے بس کی بات نہیں، اس دولت سے بہرہ ور صرف وہی لوگ ہو سکتے ہیں جو علمی طریق پر آثارِ کائنات کا مشاہدہ کرتے ہیں۔

۶۵-یعنی نسلِ انسانی کی ابتداء ایک متنفس سے کی

۶۶-یعنی نوع انسانی کی تخلیق اور اس کے اندر مردو زن کی تفریق اور تناسل کے ذریعہ سے اس کی افزائش، اور رحم مادر میں انسانی بچہ کا نطفہ قرار پا جانے کے بعد سے زمین میں اس کے سونپے جانے تک اس کی زندگی کے مختلف اطوار پر اگر نظر ڈالی جائے تو اس میں بے شمار کھُلی کھُلی نشانیاں آدمی کے سامنے آئیں گی جن سے وہ اُس حقیقت کو پہچان سکتا ہے جو اُوپر بیان ہوئی ہے۔ مگر ان نشانیوں سے یہ معرفت حاصل کرنا انہی لوگوں کا کام ہے جو سمجھ بُوجھ سے کام لیں۔ جانوروں کی طرح زندگی بسر کرنے والے ، جو صرف اپنی خواہشات سے اور انھیں پورا کرنے کی تدبیروں ہی سے غرض رکھتے ہیں، اِن نشانیوں میں کچھ بھی نہیں دیکھ سکتے۔

۶۷-یعنی اپنے وہم و گمان سے یہ ٹھیرا لیا کہ کائنات کے انتظام میں اور انسان کی قسمت کے بنانے اور بگاڑنے میں اللہ کے ساتھ دُوسری پوشیدہ ہستیاں بھی شریک ہیں، کوئی بارش کا دیوتا ہے تو کوئی روئیدگی کا، کوئی دولت کی دیوی ہے تو کوئی بیماری کی، وغیرہ ذالکَ مِن الخرافات۔ اس قسم کے لغو اعتقادات دُنیا کی تمام مشرک قوموں میں ارواح اور شیاطین اور راکشسوں اور دیوتاؤں اور دیویوں کے متعلق پائے جاتے رہے ہیں۔

۶۸-جُہلائے عرب فرشتوں کو خدا کی بیٹیاں کہتے تھے۔ اِسی طرح دُنیا کی دُوسری مشرک قوموں نے بھی خدا سے سلسلہ ٔ نسب چلایا ہے اور پھر دیوتاؤں اور دیویوں کی ایک پُوری نسل اپنے وہم سے پیدا کر دی ہے۔

 

ترجمہ

 

وہ تو آسمانوں اور زمین کا موجد ہے۔ اس کا کوئی بیٹا کیسے ہو سکتا ہے جبکہ کوئی اس کی شریکِ زندگی ہی نہیں ہے۔ اس نے ہر چیز کو پیدا کیا ہے اور وہ ہر چیز کا عِلم رکھتا ہے۔۔ یہ ہے اللہ تمہارا رب، کوئی خدا اس کے سوا نہیں ہے ، ہر چیز کا خالق، لہذا تم اسی کی بندگی کرو اور وہ ہر چیز کا کفیل ہے۔ نگاہیں اس کو نہیں پا سکتیں اور وہ نگاہوں کو پا لیتا ہے ، وہ نہایت باریک بیں اور باخبر ہے  دیکھو، تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے بصیرت کی روشنیاں آ گئی ہیں، اب جو بینائی سے کام لے گا اپنا ہی بھلا کرے گا اور جو اندھا بنے گا خود نقصان اُٹھائے گا، میں تم پر کوئی پاسبان نہیں ہوں۔۶۹ اِس طرح ہم اپنی آیات کو بار بار مختلف طریقوں سے بیان کرتے ہیں اور اس لیے کرتے ہیں کہ یہ لوگ کہیں تم کسی سے پڑھ آئے ہو، اور جو لوگ علم رکھتے ہیں ان پر ہم حقیقت کو روشن کر دیں۔۷۰اے محمد ؐ! اُس وحی کی پیروی کیے جاؤ جو تم پر تمہارے رب کی طرف سے نازل ہوئی ہے کیونکہ اُس ایک رب کے سوا کوئی اور خدا نہیں ہے۔ اور ان مشرکین کے پیچھے نہ پڑو۔ اگر اللہ کی مشیّت ہوتی تو (وہ خود ایسا بندوبست کر سکتا تھا کہ) یہ لوگ شرک نہ کرتے۔ تم کو ہم نے ان پر پاسبان مقرر نہیں کیا ہے اور نہ تم ان پر حوالہ دار ہو۔۷۱اور (اے ایمان لانے والو !) یہ لوگ اللہ کے سوا جن کو پکارتے ہیں انہیں گالیاں نہ دو، کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ شرک سے آگے بڑھ کر جہالت کی بنا پر اللہ کو گالیاں دینے لگیں۔۷۲ ہم نے تو اسی طرح ہر گروہ کے لیے اس کے عمل کو خوشنما بنا دیا ہے ،۷۳ پھر انہیں اپنے رب ہی کی طرف پلٹ کر آنا ہے ، اُس وقت وہ اُنہیں بتا دے گا کہ وہ کیا کرتے رہے ہیں۔یہ لوگ کڑی کڑی قسمیں کھا کھا کر کہتے ہیں کہ اگر کوئی نشانی ۷۴ ہمارے سامنے آ جائے تو ہم اس پر ایمان لے آئیں گے۔ اے محمد ؐ ! ان سے کہو کہ ’’نشانیاں تو اللہ کے پاس ہیں‘‘۔۷۵ اور تمہیں کیسے سمجھایا جائے کہ اگر نشانیاں آ بھی جائیں تو یہ ایمان لانے والے نہیں۔۷۶ہم اُسی طرح ان کے دلوں اور نگاہوں کو پھیر رہے ہیں جس طرح یہ پہلی مرتبہ اس پر ایمان نہیں لائے تھے۔۷۷ ہم انہیں ان کی سرکشی ہی میں بھٹکنے کے لیے چھوڑے دیتے ہیں۔ ؏١۳

 

تفسیر

 

۶۹-یہ فقرہ اگرچہ اللہ ہی کا کلام ہے مگر نبی ؐ کی طرف سے ادا ہو رہا ہے۔ قرآن مجید میں جس طرح مخاطب بار بار بدلتے ہیں کہ کبھی نبی ؐ سے خطاب ہوتا ہے ، کبھی اہلِ ایمان سے ، کبھی اہلِ کتاب سے ، کبھی کفّار و مشرکین سے ، کبھی قریش کے لوگوں سے ، کبھی اہلِ عرب سے اور کبھی عام انسانوں سے ، حالانکہ اصل غرض پوری نوعِ انسانی کی ہدایت ہے ، اسی طرح متکلّم بھی بار بار بدلتے ہیں کہ کہیں متکلّم خدا ہوتا ہے ، کہیں وحی لانے والا فرشتہ، کہیں فرشتوں کا گروہ، کہیں نبی ؐ، اور کہیں اہلِ ایمان، حالانکہ ان سب صُورتوں میں کلام وہی ایک خدا کا کلام ہوتا ہے۔

’’میں تم پر پاسبان نہیں ہوں‘‘ یعنی میرا کام بس اتنا ہی ہے کہ اس روشنی کو تمہارے سامنے پیش کر دوں۔ اس کے بعد آنکھیں کھول کر دیکھنا یا نہ دیکھنا تمہارا اپنا کام ہے۔ میرے سپرد یہ خدمت نہیں کی گئی ہے کہ جنھوں نے خود آنکھیں بند کر رکھی ہیں ان کی آنکھیں زبردستی کھولوں اور جو کچھ وہ نہیں دیکھتے وہ انھیں دکھا کر ہی چھوڑوں۔

۷۰-یہ وہی بات ہے جو سُورۂ بقرہ رکوع ۳ میں فرما دی گئی ہے کہ مچھّر اور مکڑی وغیرہ چیزوں کی تمثیلیں سن کر حق کے طالب تو اس صداقت کو پا لیتے ہیں جو ان تمثیلوں کے پیرایہ میں بیان ہوئی ہے ، مگر جن پر انکار کا تعصّب مسلّط ہے وہ طنز سے کہتے ہیں کہ بھلا اللہ کے کلام میں ان حقیر چیزوں کے ذکر کا کیا کام ہو سکتا ہے۔ اُسی مضمون کا یہاں ایک دُوسرے پیرایہ میں بیان کیا گیا ہے۔ کہنے کا مدّعا یہ ہے کہ یہ کلام لوگوں کے لیے آزمائش بن گیا ہے جس سے کھوٹے اور کھرے انسان ممیّز ہو جاتے ہیں۔ ایک طرح کے انسان وہ ہیں جو اس کلام کو سُن کر یا پڑھ کر اس کے مقصد و مدّعا پر غور کرتے ہیں اور جو حکمت و نصیحت کی باتیں اس میں فرمائی گئی ہیں ان سے فائدہ اُٹھاتے ہیں۔ بخلاف اس کے دُوسری طرح کے انسانوں کا حال یہ ہے کہ اسے سُننے اور پڑھنے کے بعد ان کا ذہن مغزِ کلام کی طرف متوجّہ ہونے کے بجائے اس ٹٹول میں لگ جاتا ہے کہ آخر یہ اُمّی انسان یہ مضامین لایا کہاں سے ہے ، اور چونکہ مخالفانہ تعصّب پہلے سے ان کے دل پر قبضہ کیے ہوئے ہوتا ہے اس لیے ایک خدا کی طرف سے نازل شدہ ہونے کے امکان کو چھوڑ کر باقی تمام ممکن التّصور صُورتیں وہ اپنے ذہن سے تجویز کر تے ہیں اور انھیں اس طرح بیان کرتے ہیں کہ گویا انھوں نے اس کتاب کے ماخذ کی تحقیق کر لی ہے۔

۷۱-مطلب یہ ہے کہ تمھیں داعی اور مبلّغ بنایا گیا ہے ، کوتوال نہیں بنایا گیا۔ تمہارا کام صرف یہ ہے کہ لوگوں کے سامنے اِس روشنی کو پیش کر دو اور اظہارِ حق کا حق ادا کرنے میں اپنی حد تک کوئی کسر اُٹھا نہ رکھو۔ اب اگر کوئی اس حق کو قبول نہیں کرتا تو نہ کرے۔ تم کو نہ اس کام پر مامور کیا گیا ہے کہ لوگوں کو حق پرست بنا کر ہی رہو، اور نہ تمہاری ذمّہ داری و جواب دہی میں یہ بات شامل ہے کہ تمہارے حلقۂ نبوّت میں کوئی شخص باطل پر ست نہ رہ جائے۔ لہٰذا اس فکر میں خواہ مخواہ اپنے ذہن کو پریشان نہ کرو کہ اندھوں کو کس طرح بینا بنایا جائے اور جو آنکھیں کھول کر نہیں دیکھنا چاہتے انہیں کیسے دکھایا جائے۔ اگر فی الواقع حکمتِ  الٰہی کا تقاضا یہی ہوتا کہ دنیا میں کوئی شخص باطل پرست نہ رہنے دیا جائے تو اللہ کو یہ کام تم سے لینے کی کیا ضرورت تھی؟ کیا اس کا ایک ہی تکوینی اشارہ تمام انسانوں کو حق پرست نہ بنا سکتا تھا؟ مگر وہاں تو مقصُود سرے سے یہ ہے ہی نہیں۔ مقصُود تو یہ ہے کہ انسان کے لیے حق اور باطل کے انتخاب کی آزادی باقی رہے اور پھر حق کی روشنی اس کے سامنے پیش کر کے اُس کی آزمائش کی جائے کہ وہ دونوں چیزوں میں سے کس کو انتخاب کرتا ہے۔ پس تمہارے لیے صحیح طرزِ عمل یہ ہے کہ جو روشنی تمھیں دکھا دی گئی ہے اُس کے اُجالے میں سیدھی راہ پر خود چلتے رہو اور دُوسروں کو اُس کی دعوت دیتے رہو۔ جو لوگ اس دعوت کو قبول کر لیں انھیں سینے سے لگاؤ اور ان کا ساتھ نہ چھوڑو خواہ وہ دنیا کی نگاہ میں کیسے ہی حقیر ہوں۔ اور جو اسے قبول نہ کریں ان کے پیچھے نہ پڑو۔ جس انجامِ بد کی طرف وہ خود جانا چاہتے ہیں اور جانے پر مُصِر ہیں اس کی طرف جانے کے لیے انھیں چھوڑ دو۔

۷۲-یہ نصیحت نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے پیرووں کو کی گئی ہے کہ اپنی تبلیغ کے جوش میں وہ بھی اتنے بے قابو نہ ہو جائیں کہ مناظرے سے اور بحث و تکرار سے معاملہ بڑھتے بڑھتے غیر مسلموں کے عقائد پر سخت حملے کرنے اور ان کے پیشواؤں اور معبُودوں کو گالیاں دینے تک نوبت پہنچ جائے ، کیونکہ یہ چیز ان کو حق سے قریب لانے کے بجائے اور زیادہ دُور پھینک دے گی۔

۷۳-یہاں پھر اُس حقیقت کے ملحوظ رکھنا چاہیے جس کی طرف اس سے پہلے بھی ہم اپنے حواشی میں اشارہ کر چکے ہیں کہ جو اُمُور قوانینِ  فطرت کے تحت رُو نما ہوتے ہیں اللہ تعالیٰ انھیں اپنا فعل قرار دیتا ہے ، کیونکہ وہی ان قوانین کا مقرر کرنے والا ہے اور جو کچھ ان قوانین کے تحت رُو نما ہوتا ہے وہ اسی کے امر سے رُو نما ہوتا ہے۔ جس بات کو اللہ تعالیٰ یوں بیان فرماتا ہے کہ ہم نے ایسا کیا ہے اسی کو اگر ہم انسان بیان کریں تو اس طرح کہیں گے کہ فطرۃً ایسا ہی ہوا کرتا ہے۔

۷۴-نشانی سے مراد کوئی ایسا صریح محسُوس معجزہ ہے جسے دیکھ کر نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی صداقت اور آپ ؐ کے مامور مِنَ اللہ ہونے کو مان لینے کو سوا کوئی چارہ نہ رہے۔

۷۵-یعنی نشانیوں کے پیش کرنے اور بنا لانے کی قدرت مجھے حاصل نہیں ہے ، ان کا اختیار تو اللہ کو ہے ، چاہے دکھائے اور نہ چاہے نہ دکھائے۔

۷۶-یہ خطاب مسلمانوں سے ہے جو بے تاب ہو ہو کر تمنّا کرتے تھے اور کبھی کبھی زبان سے بھی اس خواہش کا اظہار کر دیتے تھے کی کوئی ایسی نشانی ظاہر ہو جائے جس سے اُن کے گمراہ بھائی راہِ راست پر آ جائیں۔ ان کی اسی تمنا اور خواہش کے جواب میں ارشاد ہو رہا ہے کہ آخر تمھیں کس طرح سمجھایا جائے کہ ان لوگوں کا ایمان لانا کسی نشانی کے ظہور پر موقوف نہیں ہے۔

۷۷-یعنی ان کے اندر وہی ذہنیت کام کیے جا رہی ہے جس کی وجہ سے انہوں نے پہلی مرتبہ محمد صلی اللہ علیہ و سلم کی دعوت سُن کر اسے ماننے سے انکار کر دیا تھا۔ ان کے نقطۂ نظر میں ابھی تک کوئی تغیر واقع نہیں ہوا ہے ، وہی عقل کا پھیر اور نظر کا بھینگا پن جو انھیں اُس وقت صحیح سمجھنے اور صحیح دیکھنے سے روک رہا تھا آج بھی ان پر اسی طرح مُسلّط ہے۔

 

ترجمہ

 

اگر ہم فرشتے بھی ان پر نازل کر دیتے اور مُردے ان سے باتیں کرتے اور دنیا بھر کی چیزوں کو ہم ان کی آنکھوں کے سامنے جمع کر دیتے تب بھی یہ ایمان لانے والے نہ تھے ، اِلّا یہ کہ مشیَّتِ الٰہی یہی ہو کہ وہ ایمان لائیں،۷۸ مگر اکثر لوگ نادانی کی باتیں کرتے ہیں۔ اور ہم نے تو اسی طرح ہمیشہ شیطان انسانوں اور شیطان جِنوں کو ہر نبی کا دُشمن بنایا ہے جو ایک دُوسرے پر خوش آیند باتیں دھوکے اور فریب کے طور پر القا کرتے رہے ہیں۔۷۹ اگر تمہارے رب کی مشیَّت یہ ہوتی کہ وہ ایسا نہ کریں تو وہ کبھی نہ کرتے۔۸۰ پس تم اُنہیں ان کے حال پر چھوڑ دو کہ اپنی افترا پردازیاں کرتے رہیں۔ (یہ سب کچھ ہم انہیں اسی لیے کرنے دے رہے ہیں کہ) جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے اُن کے دل اِس (خوشنما دھوکے ) کی طرف مائل ہوں اور وہ اس سے راضی ہو جائیں اور اُن بُرائیوں کا اِکتساب کریں جن کا اِکتساب وہ کرنا چاہتے ہیں۔۔۔۔پھر جب حال یہ ہے تو کیا میں اللہ کے سوا کوئی اور فیصلہ کرنے والا تلاش کروں، حالانکہ اس نے پوری تفصیل کے ساتھ تمہاری طرف کتاب نازل کر دی ہے ؟۸۱ اور جن لوگوں کو ہم نے (تم سے پہلے ) کتاب دی تھی وہ جانتے ہیں کہ یہ کتاب تمہارے رب ہی کی طرف سے حق کے ساتھ نازل ہوئی ہے لہٰذا تم شک کرنے والوں میں شامل نہ ہو۔۸۲تمہارے رب کی بات سچائی اور انصاف کے اعتبار سے کامل ہے ، کوئی اس کے فرامین کو تبدیل کرنے والا نہیں ہے اور وہ سب کچھ سُنتا اور جانتا ہے۔اور اے محمد ؐ ! اگر تم اُن لوگوں کی اکثریّت کے کہنے پر چلو جو زمین میں بستے ہیں تو وہ تمہیں اللہ کے راستہ سے بھٹکا دیں گے۔ وہ تو محض گمان پر چلتے اور قیاس آرا ئیاں کرتے ہیں۔۸۳در حقیقت تمہارا رب زیادہ بہتر جانتا ہے کہ کون اُس کے راستے سے ہٹا ہوا ہے اور کون سیدھی راہ پر ہے۔پھر اگر تم لوگ اللہ کی آیات پر ایمان رکھتے ہو تو جس جانور پر اللہ کا نام لیا گیا ہو اُس کا گوشت کھاؤ۔۸۴آخر کیا وجہ ہے کہ تم وہ چیز نہ کھاؤ جس پر اللہ کا نام لیا گیا ہو ، حالانکہ جن چیزوں کا استعمال حالتِ اضطرار کے سوا دُوسری تمام حالتوں میں اللہ نے حرام کر دیا ہے اُن کی تفصیل وہ تمہیں بتا چکا ہے۔۸۵ بکثرت لوگوں کا حال یہ ہے کہ علم کے بغیر محض اپنی خواہشات کی بنا پر گمراہ کُن باتیں کرتے ہیں، ان حد سے گزرنے والوں کو تمہارا رب خوب جانتا ہے۔تم کھلے گناہوں سے بھی بچو اور چھُپے گناہوں سے بھی، جو لوگ گناہ کا اکتساب کرتے ہیں وہ اپنی اس کمائی کا بدلہ پا کر رہیں گے۔اور جس جانور کو اللہ کا نام لے کر ذبح نہ کیا گیا ہو اس کا گوشت نہ کھاؤ، ایسا کرنا فسق ہے۔ شیاطین اپنے ساتھیوں کے دِلوں میں شکوک و اعتراضات القا کرتے ہیں تاکہ وہ تم سے جھگڑا کریں۔۸۶ لیکن اگر تم نے اُن کی اطاعت قبول کر لی تو یقیناً تم مشرک ہو۔۸۷ ؏١۴

 

تفسیر

 

۷۸-یعنی یہ لوگ اپنے اختیار و انتخاب سے تو حق کو باطل کے مقابلہ میں ترجیح دے کر قبول کرنے والے ہیں نہیں۔ اب اِن کے حق پرست بننے کی صرف ایک ہی صورت باقی ہے اور وہ یہ کہ عملِ تخلیق و تکوین سے جس طرح تمام بے اختیار مخلوقات کو حق پرست پیدا کیا گیا ہے اسی طرح انھیں بھی بے اختیار کر کے جِبلّی و پیدائشی حق پرست بنا ڈالا جائے۔ مگر یہ اُس حکمت کے خلاف ہے جس کے تحت اللہ نے انسان کو پیدا کیا ہے۔ لہٰذا تمہارا یہ توقع کرنا فضول ہے کہ اللہ تعالیٰ براہِ راست اپنی تکوینی مداخلت سے ان کو مومن بنائے گا۔

۷۹-یعنی آج اگر شیاطینِ جِن و انس متفق ہو کر تمہارے مقابلہ میں ایڑی چوڑی کا زور لگا رہے ہیں تو گھبرانے کی کوئی بات نہیں۔ یہ کوئی نئی بات نہیں ہے جو تمہارے ہی ساتھ پیش آ رہی ہو۔ ہر زمانہ میں ایسا ہی ہوتا آیا ہے کہ جب کوئی پیغمبر دُنیا کو راہِ راست دکھانے کے لیے اُٹھا تو تمام شیطانی قوتیں اس کے مِشن کو ناکام کرنے کے لیے کمر بستہ ہو گئیں۔

’’خوش آیند باتوں‘‘ سے مراد وہ تمام چالیں اور تدبیریں اور شکوک و شبہات و اعتراضات ہیں جن سے یہ لوگ عوام کو داعیِ حق اور اس کی دعوت کے خلاف بھڑکانے اور اکسانے کا کام لیتے ہیں۔ پھر ان سب کو بحیثیت مجموعی دھوکے اور فریب سے تعبیر کیا گیا ہے۔ کیونکہ حق سے لڑنے کے لیے جو ہتھیار بھی مخالفین حق استعمال کرتے ہیں وہ نہ صرف دُوسروں کے لیے بلکہ خود ان کے لیے بھی حقیقت کے اعتبار سے محض ایک دھوکا ہوتے ہیں اگرچہ بظاہر وہ ان کو نہایت مفید اور کامیاب ہتھیار نظر آتے ہیں۔

۸۰-یہاں ہماری سابق تشریحات کے علاوہ یہ حقیقت بھی اچھی طرح ذہن نشین ہو جانی چاہیے کہ قرآن کی رُو سے اللہ تعالیٰ کی مشِیَّت اور اس کی رضا میں بہت بڑا فرق ہے جس کو نظر انداز کر دینے سے بالعمُوم شدید غلط فہمیاں واقع ہوتی ہیں۔ کسی چیز کا اللہ کی مشیّت اور اس کے اذن کے تحت رُونما ہونا لازمی طور پر یہ معنی نہیں رکھتا کہ اللہ اس سے راضی بھی ہے اور اسے پسند بھی کرتا ہے۔ دُنیا میں کوئی واقعہ کبھی صُدُور میں نہیں آتا جب تک اللہ اس کے صُدُور کا اذن نہ دے اور اپنی عظیم الشان اسکیم میں اس کے صُدُور کی گنجائش نہ نکالے اور اسباب کو اس حد تک مساعد نہ کر دے کہ وہ واقعہ صادر ہو سکے۔ کسی چور کی چوری، کسی قاتل کا قتل، کسی ظالم و مفسد کا ظلم و فساد اور کسی کافر و مشرک کا کفر و شرک اللہ کی مشیّت کے بغیر ممکن نہیں ہے۔ اور اسی طرح کسی مومن اور کسی متقی انسان کا ایمان و تقویٰ بھی مشیّتِ  الٰہی کے بغیر محال ہے۔ دونوں قسم کے واقعات یکساں طور پر مشِیَّت کے تحت رُو نما ہوتے ہیں۔ مگر پہلی قسم کے واقعات سے اللہ راضی نہیں ہے اور اس کے برعکس دُوسری قسم کے واقعات کو اُس کی رضا اور اس کی پسندیدگی و محبُوبیّت کی سند حاصل ہے۔ اگر چہ آخر کار کسی خیرِ عظیم ہی لیے فرمانروائے کائنات کی مشیّت کام کر رہی ہے ، لیکن اُس خیرِ عظیم کے ظہُور کا راستہ نور و ظلمت ، خیر و شر اور صلاح و فساد کی مختلف قوتوں کے ایک دُوسرے کے مقابلہ میں نبرد آزما ہونے ہی سے صاف ہوتا ہے۔ اس لیے اپنی بزرگ تر مصلحتوں کی بنا پر وہ طاعت اور معصیت ، ابراہیمیت اور نمرود یّت، موسویّت اور فرعونیّت ، آدمیّت اور شیطنت ، دونوں کو اپنا اپنا کام کرنے کا موقع دیتا ہے۔ اس نے اپنی ذی اختیار مخلوق(جِن و انسان) کو خیر اور شر میں سے کسی ایک کے انتخاب کر لینے کی آزادی عطا کر دی ہے۔ جو چاہے اس کار گاہِ عالم میں اپنے لیے خیر کا کام پسند کر لے اور جو چاہے شر کا کام۔ دونوں قسم کے کارکنوں کو، جس حد تک خدائی مصلحتیں اجازت دیتی ہیں، اسباب کی تائید نصیب ہوتی ہے۔ لیکن اللہ کی رضا اور اس کی پسندیدگی صرف خیر ہی کے لیے کام کرنے والوں کو حاصل ہے اور اللہ کو محبُوب یہی بات ہے کہ اس کے بندے اپنی آزادی انتخاب سے فائدہ اُٹھا کر خیر کو اختیار کریں نہ کہ شر کو۔

اس کے ساتھ یہ بات اور سمجھ لینی چاہیے کہ یہ جو اللہ تعالیٰ دُشمنانِ حق کی مخالفانہ کارروائیوں کا ذکر کرتے ہوئے اپنی مشیّت کا بار بار حوالہ دیتا ہے اِس سے مقصُود دراصل نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو، اور آپ کے ذریعہ سے اہلِ ایمان کو یہ سمجھانا ہے کہ تمہارے کام کی نوعیّت فرشتوں کے کام کی سی نہیں ہے جو کسی مزاحمت کے بغیر احکامِ الٰہی کی تعمیل کر رہے ہیں۔ بلکہ تمہارا اصل کام شریروں اور باغیوں کے مقابلہ میں اللہ کے پسند کر دہ طریقہ کو غالب کرنے کے لیے جدّوجہد کرنا ہے۔ اللہ اپنی مشیّت کے تحت اُن لوگوں کو بھی کام کرنے کا موقع دے رہا ہے جنہوں نے اپنی سعی و جہد کے لیے خود اللہ سے بغاوت کے راستے کو اختیار کیا ہے ، اور اسی طرح وہ تم کو بھی ، جنھوں نے طاعت و بندگی کے راستے کو اختیار کیا ہے ، کام کرنے کا پورا موقع دیتا ہے۔ اگرچہ اس کی رضا اور ہدایت و رہنمائی اور تائید و نصرت تمہارے ہی ساتھ ہے ، کیونکہ تم اُس پہلو میں کام کر رہے ہو جسے وہ پسند کرتا ہے ، لیکن تمھیں یہ توقع نہ رکھنی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ اپنی فوق الفطری مداخلت سے اُن لوگوں کو ایمان لانے پر مجبُور کر دے گا جو ایمان نہیں لانا چاہتے ، یا اُن شیاطین جِن و انس کو زبر دستی تمہارے راستہ سے ہٹا دے گا جنھوں نے اپنے دل و دماغ کو اور دست و پا کی قوتوں کو اور اپنے وسائل و ذرائع کو حق کی راہ روکنے کے لیے استعمال کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ نہیں، اگر تم نے واقعی حق اور نیکی اور صداقت کے لیے کام کرنے کا عزم کیا ہے تو تمھیں باطل پرستوں کے مقابلہ میں سخت کشمکش اور جدوجہد کر کے اپنی حق پرستی کا ثبوت دینا ہو گا۔ ورنہ معجزوں کے زور سے بساط کو مٹانا اور حق کو غالب کرنا ہوتا تو تمہاری ضرورت ہی کیا تھی، اللہ خود ایسا انتظام کر سکتا تھا کہ دنیا میں کوئی شیطان نہ ہوتا اور کسی شرک و کفر کے ظہُور کا امکان نہ ہوتا۔

۸۱-اس فقرہ میں متکلم نبی صلی اللہ علیہ و سلم ہیں اور خطاب مسلمانوں سے ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جب اللہ نے اپنی کتاب میں صاف صاف یہ تمام حقیقتیں بیان کر دی ہیں اور یہ بھی فیصلہ کر دیا ہے کہ فوق الفطری مداخلت کے بغیر حق پرستوں کو فطری طریقوں ہی سے غلبہ ٔ حق کی جدّوجہد کرنی ہو گی، تو کیا اب میں اللہ کے سوا کوئی اَور ایسا صاحبِ  امر تلاش کروں جو اللہ کے اس فیصلہ پر نظر ثانی کرے اور ایسا کوئی معجزہ بھیجے جس سے یہ لوگ ایمان لانے پر مجبُور ہو جائیں؟

۸۲-یعنی یہ کوئی نئی بات نہیں ہے جو واقعات کی توجیہ میں آج گھڑی گئی ہو۔ تمام وہ لوگ جو کتبِ آسمانی کا علم رکھتے ہیں اور جنھیں انبیاء علیہم السلام کے مشن سے واقفیت حاصل ہے ، اس بات کی شہادت دیں گے کہ یہ جو کچھ قرآن میں بیان کیا جا رہا ہے ٹھیک ٹھیک حق ہے اور وہ ازلی و ابدی حقیقت ہے جس میں کبھی فرق نہیں آیا ہے۔

۸۳-یعنی بیشتر لوگ جو دنیا میں بستے ہیں علم کے بجائے قیاس و گمان کی پیروی کر رہے ہیں اور ان کے عقائد، تخیلات ، فلسفے ، اُصُولِ زندگی اور قوانینِ عمل سب کے سب قیاس آرائیوں پر مبنی ہیں۔ بخلاف اس کے اللہ کے راستہ ، یعنی دنیا میں زندگی بسر کرنے کا وہ طریقہ جو اللہ کی رضا کے مطابق ہے ، لازماً صرف وہی ایک ہے جس کا علم اللہ نے خود دیا ہے نہ کہ وہ جس کو لوگوں نے بطورِ خود اپنے قیاسات سے تجویز کر لیا ہے۔ لہٰذا کسی طالبِ حق کو یہ نہ دیکھنا چاہیے کہ دُنیا کے بیشتر انسان کِس راستہ پر جا رہے ہیں بلکہ اسے پُوری ثابت قدمی کے ساتھ اُس راہ پر چلنا چاہیے جو اللہ نے بتائی ہے ، چاہے اس راستہ پر چلنے کے لیے وہ دُنیا میں اکیلا ہی رہ جائے۔

۸۴-مِن جملہ ان غلط طریقوں کے جو اکثر اہلِ زمین نے بطورِ خود قیاس و گمان سے تجویز کر لیے اور جنھیں مذہبی حُدُود و قیُود کی حیثیت حاصل ہو گئی ، ایک وہ پابندیاں بھی ہیں جو کھانے پینے کی چیزوں میں مختلف قوموں کے درمیان پائی جاتی ہیں۔ بعض چیزوں کو لوگوں نے آپ ہی آپ حلال قرار دے لیا ہے حالانکہ اللہ کی نظر میں وہ حرام ہیں۔ اور بعض چیزوں کو انھوں نے خود حرام ٹھیرا لیا ہے حالانکہ اللہ نے انھیں حلال کیا ہے۔ خصُوصیّت کے ساتھ سب سے زیادہ جاہلانہ بات جس پر پہلے بھی بعض گروہ مُصِر تھے اور آج بھی دُنیا کے بعض گروہ مُصِر ہیں، وہ یہ ہے کہ اللہ کا نام لے کر جو جانور ذبح کیا جائے وہ تو ان کے نزدیک ناجائز ہے اور اللہ کے نام کے بغیر جسے ذبح کیا جائے وہ بالکل جائز ہے۔ اسی کی تردید کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ یہاں مسلمانوں سے فرما رہا ہے کہ اگر تم حقیقت میں اللہ پر ایمان لائے ہو اور اس کے احکام کو مانتے ہو تو اُن تمام اوہام اور تعصّبات کو چھوڑ دو جو کفار و مشرکین میں پائے جاتے ہیں، اُن سب پابندیوں کو توڑ دو جو خدا کی ہدایت سے بے نیاز ہو کر لوگوں نے خود عائد کر رکھی ہیں، حرام صرف اسی چیز کو سمجھو جسے خدا نے حرام کیا ہے اور حلال اسی کو ٹھیراؤ جس کو اللہ نے حلال قرار دیا ہے۔

۸۵-ملاحظہ ہو سُورۂ نحل آیت ۱۱۵ – اس اشارے سے ضمناً یہ بھی متحقق ہوا کہ سُورۂ نحل اس سُورہ سے پہلے نازل ہو چکی تھی۔

۸۶-حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کی روایت ہے کہ عُلمائے یہُود جُہلائے عرب کو نبی صلی اللہ علیہ و سلم پر اعتراض کرنے کے جو سوالات سکھایا کرتے تھے ان میں سے ایک یہ بھی تھا کہ ’’آخر کیا معاملہ ہے کہ جسے خدا مارے وہ تو حرام ہو اور جسے ہم ماریں وہ حلال ہو جائے ‘‘۔ یہ ایک ادنیٰ سا نمونہ ہے اس ٹیڑھی ذہنیّت کا جو ان نام نہاد اہلِ کتاب میں پائی جاتی تھی۔ وہ اس قسم کے سوالات گھڑ گھڑ کر پیش کرتے تھے تاکہ عوام کے دلوں میں شُبہات ڈالیں اور انھیں حق سے لڑنے کے لیے ہتھیار فراہم کر کے دیں۔

۸۷-یعنی ایک طرف اللہ کی خداوندی کا اقرار کرنا اور دُوسری طرف اللہ سے پھرے ہوئے لوگوں کے احکام پر چلنا اور ان کے مقرر کیے ہوئے طریقوں کی پابندی کرنا ، شرک ہے۔ توحید یہ ہے کہ زندگی سراسر اللہ کی اطاعت میں بسر ہو۔ اللہ کے ساتھ اگر دُوسروں کو اعتقادًا مستقل بالذّات مطاع مان لیا جائے تو یہ اعتقادی شرک ہے ، اور اگر عملاً ایسے لوگوں کی اطاعت کی جائے جو اللہ کی ہدایت سے بے نیاز ہو کر خود امر ونہی کے مختار بن گئے ہوں تو یہ عملی شرک ہے۔

 

ترجمہ

 

کیا وہ شخص جو پہلے مُردہ تھا پھر ہم نے اسے زندگی بخشی ۸۸ اور اس کو وہ روشنی عطا کی جس کے اُجالے میں وہ لوگوں کے درمیان زندگی کی راہ طے کرتا ہے اُس شخص کی طرح ہو سکتا ہے جو تاریکیوں میں پڑا ہوا ہو اور کسی طرح اُن سے نہ نکلتا ہو؟۸۹ کافروں کے لیے تو اسی طرح ان کے اعمال خوشنما بنا دیے گئے ہیں،۹۰ اور اسی طرح ہم نے ہر بستی میں اس کے بڑے بڑے مجرموں کو لگا دیا ہے کہ وہاں اپنے مکر و فریب کا جال پھیلائیں۔ دراصل وہ اپنے فریب کے جال میں آپ پھنستے ہیں، مگر اُنہیں اس کا شعور نہیں ہے۔  جب ان کے سامنے کوئی آیت آتی ہے تو وہ کہتے ہیں ’’ہم نہ مانیں گے جب تک کہ وہ چیز خود ہم کو نہ دی جائے جو اللہ کے رسُولوں کو دی گئی ہے ‘‘۔۹۱ اللہ زیادہ بہتر جانتا ہے کہ اپنی پیغامبری کا کام کس سے لے اور کس طرح لے۔ قریب ہے وہ وقت جب یہ مجرم اپنی مکّاریوں کی پاداش میں اللہ کے ہاں ذلّت اور سخت عذاب سے دوچار ہوں گے۔پس (یہ حقیقت ہے کہ) جسے اللہ ہدایت بخشنے کا ارادہ کرتا ہے اُس کا سینہ اسلام کے لیے کھول دیتا ہے ۹۲ اور جسے گمراہی میں ڈالنے کا ارادہ کرتا ہے اُس کے سینے کو تنگ کر دیتا ہے اور ایسا بھینچتا ہے کہ (اسلام کا تصوّر کرتے ہی) اُسے یوں معلوم ہونے لگتا ہے کہ گویا اس کی رُوح آسمان کی طرف پرواز کر رہی ہے۔ اس طرح اللہ ( حق سے فرار اور نفرت کی) ناپاکی اُن لوگوں پر مسلّط کر دیتا ہے جو ایمان نہیں لاتے ،حالانکہ یہ راستہ تمہارے رب کا سیدھا راستہ ہے اور اس کے نشانات اُن لوگوں کے لیے واضح کر دیے گئے ہیں جو نصیحت قبول کرتے ہیں۔اُن کے لیے اُن کے رب کے پاس سلامتی کا گھر ہے ۹۳ اور وہ ان کا سرپرست ہے اُس صحیح طرزِ عمل کی وجہ سے جو انہوں نے اختیار کیا۔جس روز اللہ ان سب لوگوں کو گھیر کر جمع کرے گا، اس روز وہ جِنوں ۹۴ سے خطاب کر کے فرمائے گا کہ ’’اے گروہِ جِن! تم نے تو نوعِ انسانی پر خوب ہاتھ صاف کیا‘‘۔ انسانوں میں سے جو اُن کے رفیق تھے وہ عرض کریں گے ’’ پروردگار ! ہم میں سے ہر ایک نے دُوسرے کو خوب استعمال کیا ہے ،۹۵ اور اب ہم اُس وقت پر آ  پہنچے ہیں جو تُو نے ہمارے لیے مقرر کر دیا تھا‘‘۔ اللہ فرمائے گا ’’اچھا اب آگ تمہارا ٹھکانا ہے ، اس میں تم ہمیشہ رہو گے ‘‘۔ اُس سے بچیں گے صرف وہی جنہیں اللہ بچانا چاہے گا، بیشک تمہارا رب دانا اور علیم ہے۔۹۶دیکھو، اس طرح ہم (آخرت میں) ظالموں کو ایک دُوسرے کا سا تھی بنائیں گے اُس کمائی کی وجہ سے جو وہ (دُنیا میں ایک دُوسرے کے ساتھ مِل کر) کرتے تھے۔۹۷ ؏ ١۵

 

تفسیر

 

۸۸-یہاں موت سے مُراد جہالت و بے شعوری کی حالت ہے ، اور زندگی سے مراد علم و ادراک اور حقیقت شناسی کی حالت۔ جس شخص کو صحیح اور غلط کی تمیز نہیں اور جسے معلوم نہیں کہ راہِ راست کیا ہے وہ طبیعیات کے نقطۂ نظر سے چاہے ذی حیات ہو مگر حقیقت کے اعتبار سے اس کو انسانیت کی زندگی میسّر نہیں ہے۔ وہ زندہ حیوان تو ضرور ہے مگر زندہ انسان نہیں۔ زندہ انسان درحقیقت صرف وہ شخص ہے جسے حق اور باطل، نیکی اور بدی ، راستی اور نا راستی کا شعور حاصل ہے۔

۸۹-یعنی تم کس طرح یہ توقع کر سکتے ہو کہ جس انسان کو انسانیت کا شعور نصیب ہو چکا ہے اور جو علم کی روشنی میں ٹیڑھے راستوں کے درمیان حق کی سیدھی راہ کو صاف دیکھ رہا ہے وہ اُن بے شعور لوگوں کی طرح دنیا میں زندگی بسر کرے گا جو نادانی و جہالت کی تاریکیوں میں بھٹکتے پھر رہے ہیں۔

۹۰-یعنی جن لوگوں کے سامنے روشنی پیش کی جائے اور وہ اس کو قبول کرنے سے انکار کر دیں، جنھیں راہِ راست کی طرف دعوت دی جائے اور وہ اپنے ٹیڑھے راستوں ہی پر چلتے رہنے کو ترجیح دیں، ان کے لیے اللہ کا قانون یہی ہے کہ پھر انھیں تاریکی ہی اچھی معلوم ہونے لگتی ہے۔ وہ اندھوں کی طرح ٹٹول ٹٹول کر چلنا اور ٹھوکریں کھا کھا کر گِرنا ہی پسند کرتے ہیں۔ ان کو جھاڑیاں ہی باغ اور کانٹے ہی پھُول نظر آتے ہیں۔ انھیں ہر بدکاری میں مزا آتا ہے ، ہر حماقت کو وہ تحقیق سمجھتے ہیں، اور ہر فساد انگیز تجربہ کے بعد اُس سے بڑھ کر دُوسرے فساد انگیز تجربے کے لیے وہ اِس اُمّید پر تیار ہو جاتے ہیں کہ پہلے اتفاق سے دَہکتے ہوئے انگارے پر ہاتھ پڑ گیا تھا تو اب کے لعل بدخشاں ہاتھ آ جائے گا۔

۹۱-یعنی ہم رسُولوں کے اِس بیان پر ایمان نہیں لائیں گے کہ ان کے پاس فرشتہ آیا اور خدا کا پیغام لایا، بلکہ ہم صرف اسی وقت ایمان لا سکتے ہیں جب کہ فرشتہ خود ہمارے پاس آئے اور براہِ راست ہم سے کہے کہ یہ اللہ کا پیغام ہے۔

۹۲-سینہ کھول دینے سے مراد اسلام کی صداقت پر پُوری طرح مطمئن کر دینا اور شکوک و شبہات اور تذَبذب و تردّد کو دُور کر دینا ہے۔

۹۳-’’سلامی کا گھر‘‘ یعنی جنّت جہاں انسان ہر آفت سے محفوظ اور ہر خرابی سے مامون ہو گا۔

۹۴-یہاں جِنوں سے مراد شیاطین جِن ہیں۔

۹۵-یعنی ہم میں سے ہر ایک نے دُوسرے سے ناجائز فائدے اُٹھائے ہیں، ہر ایک دُوسرے کو فریب میں مبتلا کر کے اپنی خواہشات پوری کرتا رہا ہے۔

۹۶-یعنی اگرچہ اللہ کو اختیار ہے کہ جسے چاہے سزا دے اور جسے چاہے معاف کر دے ، مگر یہ سزا اور معافی بلا وجہِ معقول ، مجرّد خواہش کی بنا پر نہیں ہو گی، بلکہ علم اور حکمت پر مبنی ہو گی۔ خدا معاف اسی مجرم کو کرے گا جس کے متعلق وہ جانتا ہے کہ وہ خود اپنے جُرم کا ذمّہ دار نہیں ہے اور جس کے متعلق اس کی حکمت یہ فیصلہ کر ے گی کہ اسے سزا نہ دی جانی چاہیے۔

۹۷-یعنی جس طرح وہ دنیا میں گناہ سمیٹنے اور بُرائیوں کا اکتساب کرنے میں ایک دُوسرے کے شریک تھے اسی طرح آخرت کی سزا پانے میں بھی وہ ایک دُوسرے کے شریک حال ہوں گے۔

 

ترجمہ

 

(اس موقع پر اللہ ان سے یہ بھی پوچھے گا کہ) ’’اے گروہِ جِن و انس ! کیا تمہارے پاس خود تم ہی میں سے وہ پیغمبر نہیں آئے تھے جو تم کو میری آیات سناتے اور اِس دن کے انجام سے ڈراتے تھے ‘‘؟ وہ کہیں گے ’’ہاں ! ہم اپنے خلاف خود گواہی دیتے ہیں‘‘۔۹۸ آج دُنیا کی زندگی نے ان لوگوں کو دھوکے میں ڈال رکھا ہے ، مگر اُس وقت وہ خود اپنے خلاف گواہی دیں گے کہ وہ کافر تھے۔۹۹(یہ شہادت اُن سے اس لیے لی جائے گی کہ یہ ثابت ہو جائے کہ) تمہارا رب بستیوں کو ظلم کے ساتھ تباہ کرنے والا نہ تھا جبکہ ان کے باشندے حقیقت سے ناواقف ہوں۔ ۱۰۰ہر شخص کا درجہ اُس کے عمل کے لحاظ سے ہے اور تمہارا رب لوگوں کے اعمال سے بے خبر نہیں ہے۔تمہارا رب بے نیاز ہے اور مہربانی اس کا شیوہ ہے۔۱۰۱ اگر وہ چاہے تو تم لوگوں کو لے جائے اور تمہاری جگہ دُوسرے جن لوگوں کو چاہے لے آئے جس طرح اُس نے تمہیں کچھ اور لوگوں کی نسل سے اُٹھایا ہے۔تم سے جس چیز کا وعدہ کیا جا رہا ہے وہ یقیناً آنے والی ہے ۱۰۲ اور تم خدا کو عاجز کر دینے کی طاقت نہیں رکھتے۔اے محمد ؐ !کہہ دو کہ لوگو !تم اپنی جگہ عمل کرتے رہو اور میں بھی اپنی جگہ عمل کر رہا ہوں،۱۰۳ عنقریب تمہیں معلوم ہو جائے گا کہ انجام کار کس کے حق میں بہتر ہوتا ہے ، بہرحال یہ حقیقت ہے کہ ظالم کبھی فلاح نہیں پا سکتے۔ان لوگوں ۱۰۴ نے اللہ کے لیے خود اُسی کی پیدا کی ہوئی کھیتیوں اور مویشیوں میں سے ایک حصّہ مقرر کیا ہے اور کہتے ہیں یہ اللہ کے لیے ہے ، بزعمِ خود، اور یہ ہمارے ٹھیرائے ہوئے شریکوں کے لیے۔۱۰۵ پھر جو حصّہ ان کے ٹھیرائے ہوے شریکوں کے لیے ہے وہ تو اللہ کو نہیں پہنچتا مگر جو اللہ کے لیے ہے وہ ان کے شریکوں کو پہنچ جاتا ہے۔۱۰۶ کیسے بُرے فیصلے کرتے ہیں یہ لوگ !۔ اور اسی طرح بہت سے مشرکوں کے لیے ان کے شریکوں نے اپنی اولاد کے قتل کو خوشنما بنا دیا ہے ۱۰۷ تاکہ ان کو ہلاکت میں مُبتلا کریں ۱۰۸ اور ان پر ان کے دین کو مشتبہ بنا دیں۔۱۰۹ اگر اللہ چاہتا تو یہ ایسا نہ کرتے ، لہٰذا انہیں چھوڑ دو کہ اپنی افترا پردازیوں میں لگے رہیں۔۱۱۰کہتے ہیں یہ جانور اور یہ کھیت محفوظ ہیں، انہیں صرف وہی لوگ کھا سکتے ہیں جنہیں ہم کھلانا چاہیں، حالانکہ یہ پابندی ان کی خود ساختہ ہے۔۱۱۱ پھر کچھ جانور رہیں جن پر سواری اور بار برداری حرام کر دی گئی ہے اور کچھ جانور ہیں جن پر اللہ کا نام نہیں لیتے ،۱۱۲ اور یہ سب کچھ انہوں نے اللہ پر افترا کیا ہے ،۱۱۳ عنقریب اللہ انہیں ان افترا پردازیوں کا بدلہ دے گا۔اور کہتے ہیں کہ جو کچھ ان جانوروں کے پیٹ میں ہے یہ ہمارے مردوں کے لیے مخصوص ہے اور ہماری عورتوں پر حرام، لیکن اگر وہ مُردہ ہو تو دونوں اس کے کھانے میں شریک ہو سکتے ہیں۔۱۱۴ یہ باتیں جو انہوں نے گھڑ لی ہیں ان کا بدلہ اللہ انہیں دے کر رہے گا۔ یقیناً وہ حکیم ہے اور سب باتوں کی اسے خبر ہے۔یقیناً خسارے میں پڑ گئے وہ لوگ جنہوں نے اپنی اولاد کو جہالت و نادانی کی بنا پر قتل کیا اور اللہ کے دیے ہوئے رزق کو اللہ پر افترا پردازی کر کے حرام ٹھیرا لیا۔ یقیناً وہ بھٹک گئے اور ہر گز وہ راہِ راست پانے والوں میں سے نہ تھے۔۱۱۵؏ ١٦

 

تفسیر

 

۹۸-یعنی ہم اقرار کرتے ہیں کہ آپ کی طرف سے رسُول پر رسُول آتے اور ہمیں حقیقت سے خبردار کرتے رہے ، مگر یہ ہمارا اپنا قصُور تھا کہ ہم نے ان کی بات نہ مانی۔

۹۹-یعنی بے خبر اور ناواقف نہ تھے بلکہ کافر تھے۔ وہ خود تسلیم کریں گے کہ حق ہم تک پہنچا تھا مگر ہم نے خود اسے قبول کرنے سے انکار کر دیا تھا۔

۱۰۰-یعنی اللہ اپنے بندوں کو یہ موقع نہیں دینا چاہتا کہ وہ اس کے مقابلے میں یہ احتجاج کر سکیں کہ آپ نے ہمیں حقیقت سے تو آگاہ کیا نہیں، اور نہ ہم کو صحیح راستہ بتانے کا کوئی انتظام فرمایا، مگر جب ناواقفیت کی بنا پر ہم غلط راہ پر چل پڑے تو اب آپ ہمیں پکڑتے ہیں۔ اِس حجّت کو قطع کر دینے کے لیے اللہ تعالیٰ نے پیغمبر بھیجے اور کتابیں نازل کیں تاکہ جِن و انس کو صاف صاف خبر دار کر دیا جائے۔ اب اگر لوگ غلط راستوں پر چلتے ہیں اور اللہ ان کو سزا دیتا ہے تو اس کا الزام خود ان پر ہے نہ کہ اللہ پر۔

۱۰۱-’’تمہارا رب بے نیاز ہے ‘‘ یعنی اس کی کوئی غرض تم سے اٹکی ہوئی نہیں ہے ، اس کا کوئی مفاد تم سے وابستہ نہیں ہے کہ تمہاری نافرمانی سے اس کا کچھ بگڑ جاتا ہو، یا تمہاری فرماں برداری سے اس کو کوئی فائدہ پہنچ جاتا ہو۔ تم سب مل کر سخت نافرمان بن جاؤ تو اس کی بادشاہی میں ذرہ برابر کمی نہیں کر سکتے ، اور سب کے سب مل کر اس کے مطیعِ فرمان اور عبادت گزار بن جاؤ تو اس کے ملک میں کوئی اضافہ نہیں کر سکتے۔ وہ نہ تمہاری سلامیوں کا محتاج ہے اور نہ تمہاری نذر و نیاز کا۔ اپنے بے شمار خزانے تم پر لٹا رہا ہے بغیر ا س کے کہ ان کے بدلہ میں اپنے لیے تم سے کچھ چاہے۔

’’مہربانی اس کا شیوہ ہے ‘‘۔ یہاں موقع و محل کے لحاظ سے اس فقرے کے دو مفہُوم ہیں۔ ایک یہ کہ تمہارا رب تم کو راہِ راست پر چلنے کی تلقین کرتا ہے اور حقیقت نفس الامری کے خلاف طرزِ عمل اختیار کرنے سے جو منع کرتا ہے اس کی وجہ یہ نہیں ہے کہ تمہاری راست روی سے اس کا کوئی فائدہ اور غلط روی سے اس کا کوئی نقصان ہوتا ہے ، بلکہ اس کی وجہ دراصل یہ ہے کہ راست روی میں تمہارا اپنا فائدہ اور غلط روی میں تمہارا اپنا نقصان ہے۔ لہٰذا یہ سراسر اس کی مہربانی ہے کہ وہ تمھیں اُس صحیح طرزِ عمل کی تعلیم دیتا ہے جس سے تم بلند مدارج تک ترقی کرنے کے قابل بن سکتے ہو اور اس غلط طرزِ عمل سے روکتا ہے جس کی بدولت تم پست مراتب کی طرف تنزّل کرتے ہو۔ دوسرے یہ کہ تمہارا ربّ سخت گیر نہیں ہے ، تم کو سزا دینے میں اُسے کوئی لُطف نہیں آتا ہے ، وہ تمھیں پکڑنے اور مارنے پر تُلا ہوا نہیں ہے کہ ذرا تم سے قصُور سرزد ہو اور وہ تمہاری خبر لے ڈالے۔ درحقیقت وہ اپنی تمام تمام مخلوقات پر نہایت مہربان ہے ، غایت درجہ کے رحم و کرم کے ساتھ خدائی کر رہا ہے ، اور یہی اس کا معاملہ انسانوں کے ساتھ بھی ہے۔ اسی لیے وہ تمہارے قصُور پر قصُور معاف کرتا چلا جاتا ہے۔ تم نافرمانیاں کرتے ہو، گناہ کرتے ہو، جرائم کا ارتکاب کرتے ہو، اس کے رزق سے پَل کر بھی اس کے احکام سے منہ موڑتے ہو، مگر وہ حلم اور عفو ہی سے کام لیے جاتا ہے اور تمھیں سنبھلنے اور سمجھنے اور اپنی اصلاح کر لینے کے لیے مُہلت پر مُہلت دیے جاتا ہے۔ ورنہ اگر وہ سخت گیر ہوتا تو اس کے لیے کچھ مشکل نہ تھا کہ تمھیں دنیا سے رخصت کر دیتا اور تمہاری جگہ کسی دُوسری قوم کو اُٹھا کھڑا کرتا، یا سارے انسانوں کو ختم کر کے کوئی اور مخلوق پیدا کر دیتا۔

۱۰۲-یعنی قیامت، جس کے بعد تمام اگلے پچھلے انسان از سرِ نو زندہ کیے جائیں گے اور اپنے ربّ کے سامنے آخری فیصلے کے لیے پیش ہوں گے۔

۱۰۳-یعنی اگر میرے سمجھانے سے تم نہیں سمجھے اور اپنی غلط روی سے باز نہیں آتے تو جس راہ پر تم چل رہے ہو چلے جاؤ، اور مجھے اپنی راہ چلنے کے لیے چھوڑ دو، انجام کار جو کچھ ہو گا وہ تمہارے سامنے بھی آ جائے گا اور میرے سامنے بھی۔

۱۰۴-اُوپر کا سلسلہ ٔ تقریر اس بات پر تمام ہوا تھا کہ اگر یہ لوگ نصیحت قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں اور اپنی جاہلیّت پر اصرار کیے جاتے ہیں تو ان سے کہہ دو کہ اچھا ، تم اپنے طریقہ پر عمل کرتے رہو اور میں اپنے طریقہ پر عمل کروں گا، قیامت ایک دن ضرور آنی ہے ، اس وقت تمھیں معلوم ہو جائے گا کہ اس روش کا کیا انجام ہوتا ہے ، بہر حال یہ خوب سمجھ لو کہ وہاں ظالموں کو فلاح نصیب نہ ہو گی۔ اس کے بعد اب اُس جاہلیّت کی کچھ تشریح کی جاتی ہے جس پر وہ لوگ اصرار کر رہے تھے اور جسے چھوڑنے پر کسی طرح آمادہ نہ ہوتے تھے۔ انھیں بتا یا جا رہا ہے کہ تمہارا وہ ’’ظلم ‘‘ کیا ہے جس پر قائم رہتے ہوئے تم کسی فلاح کی اُمید نہیں کر سکتے۔

۱۰۵-اِس بات کے وہ خود قائل تھے کہ زمین اللہ کی ہے اور کھیتیاں وہی اُگاتا ہے۔ نیز اُن جانوروں کا خالق بھی اللہ ہی ہے جن سے وہ اپنی زندگی میں خدمت لیتے ہیں۔ لیکن ان کا تصوّر یہ تھا کہ ان پر اللہ کا یہ فضل اُن دیویوں اور دیوتاؤں اور فرشتوں اور جِنّات ، اور آسمانی ستاروں اور بزرگانِ سلف کی ارواح کے طفیل و برکت سے ہے جو ان پر نظرِ  کرم رکھتے ہیں۔ اس لیے وہ اپنے کھیتوں کی پیداوار اور اپنے جانوروں میں سے دو حصّے نکالتے تھے۔ ایک حِصّہ اللہ کے نام کا، اس شکریہ میں کہ اس نے یہ کھیت اور یہ جانور انھیں بخشے۔ اور دُوسرا حصّہ اپنے قبیلہ اور خاندان کے سرپرست معبُودوں کی نذر و نیاز کا تاکہ اُن کی مہربانیاں ان کے شامِل حال رہیں۔ اللہ تعالیٰ سب سے پہلے ان کے اسی ظلم پر گرفت فرماتا ہے کہ یہ سب مویشی ہمارے پیدا کیے ہوئے اور ہمارے عطا کردہ ہیں، ان میں یہ دُوسروں کی نذر و نیاز کیسی؟ یہ نمک حرامی نہیں تو کیا ہے کہ تم اپنے محسن کے احسان کو، جو اس نے سراسر خود اپنے فضل و کرم سے تم پر کیا ہے ، دُوسروں کی مداخلت اور ان کے توسّط کا نتیجہ قرار دیتے ہو اور شکریہ کے استحقاق میں انھیں اُس کے ساتھ شریک کرتے ہو۔ پھر اشارۃً دُوسری گرفت اس بات پر بھی فرمائی ہے کہ یہ اللہ کا حصّہ جو انھوں نے مقرر کیا ہے یہ بھی بزعمِ خود کر لیا ہے ، اپنے شارع خود بن بیٹھے ہیں ، آپ ہی جو حصّہ چاہتے ہیں اللہ کے لیے مقر کر لیتے ہیں اور جو چاہتے ہیں دُوسروں کے لیے طے کر دیتے ہیں۔ حالانکہ اپنی بخشش کا اصل مالک و مختار خود اللہ ہے اور یہ بات اسی کی شریعت کے مطابق طے ہونی چاہیے کہ اس بخشش میں سے کتنا حصّہ اس کے شکریہ کے لیے نکالا جائے اور باقی میں کون کون حق دار ہیں۔ پس درحقیقت اس خود مختارانہ طریقہ سے جو حصّہ یہ لوگ اپنے زعمِ باطل میں خدا کے لیے نکالتے ہیں اور فقراء و مساکین وغیرہ پر خیرات کرتے ہیں وہ بھی کوئی نیکی نہیں ہے۔ خدا کے ہاں اس کے مقبول ہونے کی بھی کوئی وجہ نہیں۔

۱۰۶-یہ لطیف طنز ہے اُن کی اس حرکت پر کہ وہ خدا کے نام سے جو حصّہ نکالتے تھے اس میں بھی طرح طرح کی چالبازیاں کر کے کمی کرتے رہتے تھے اور ہر صُورت سے اپنے خود ساختہ شریکوں کا حصّہ بڑھانے کی کوشش کرتے تھے ، جس سے ظاہر ہوتا تھا کہ جو دلچسپی انھیں اپنے ان شریکوں سے ہے وہ خدا سے نہیں ہے۔ مثلاً جو غلّے یا پھل وغیرہ خدا کے نام پر نکالے جاتے ان میں سے اگر کچھ گِر جاتا تو وہ شریکوں کے حصّہ میں شامل کر دیا جاتا تھا ، اور اگر شریکوں کے حصّہ میں سے گرتا، یا خدا کے حصّے میں مِل جاتا تو اُسے انہی کے حصّہ میں واپس کیا جاتا۔ کھیت کا جو حصّہ شریکوں کی نذر کے لیے مخصُوص کیا جاتا تھا اگر اس میں سے پانی اُس حصّہ کی طرف پھُوٹ بہتا جو خدا کی نذر کے لیے مختص ہوتا تھا تو اس کی ساری پیداوار شریکوں کے حصّہ میں داخل کر دی جاتی تھی ، لیکن اگر اس کے برعکس صُورت پیش آتی تو خدا کے حصّہ میں کوئی اضافہ نہ کیا جاتا۔ اگر کبھی خشک سالی کی وجہ سے نذر و نیاز کا غلّہ خود استعمال کرنے کی ضرورت پیش آ جاتی تو خدا کا حصّہ کھا لیتے تھے مگر شریکوں کے حصّہ کو ہاتھ لگاتے ہوئے ڈرتے تھے کہ کہیں کوئی بلا نازل نہ ہو جائے۔ اگر کسی وجہ سے شریکوں کے حصّہ میں کچھ کمی آ جاتی تو وہ خدا کے حصّہ سے پُوری کی جاتی تھی لیکن خدا کے حصّہ میں کمی ہوتی تو شریکوں کے حصّہ میں سے ایک حبّہ بھی اس میں نہ ڈالا جاتا۔ اس طرزِ عمل پر کوئی نکتہ چینی کرتا تو جواب میں طرح طرح کی دل فریب توجیہیں کی جاتی تھیں۔ مثلاً کہتے تھے کہ خدا تو غنی ہے ، اس کے حصّہ میں سے کچھ کمی بھی ہو جائے تو اُسے کیا پروا ہو سکتی ہے۔ رہے یہ شریک ، تو یہ بندے ہیں ، خدا کی طرح غنی نہیں ہیں، اس لیے ذرا سی کمی بیشی پر بھی ان کے ہاں گرفت ہو جاتی ہے۔

اِن توہّمات کی اصل جڑ کیا تھی، اس کو سمجھنے کے لیے یہ جان لینا بھی ضروری ہے کہ جُہلائے عرب اپنے مال میں سے جو حصّہ خدا کے لیے نکالتے تھے ، وہ فقیروں ، مسکینوں ، مسافروں اور یتیموں وغیرہ کی مدد میں صَرف کیا جاتا تھا، اور جو حصّہ شریکوں کی نذر و نیاز کے لیے نکالتے تھے وہ یا تو براہِ راست مذہبی طبقوں کے پیٹ میں جاتا تھا یا آستانوں پر چڑھاوے کی صُورت میں پیش کیا جاتا اور اس طرح بالواسطہ مجاوروں اور پجاریوں تک پہنچ جاتا تھا۔ اسی لیے ان خود غرض مذہبی پیشواؤں نے صدیوں کی مسلسل تلقین سے ان جاہلوں کے دل میں یہ بات بٹھائی تھی کہ خدا کے حصّہ میں کمی ہو جائے تو کچھ مضائقہ نہیں ، مگر ’’خدا کے پیاروں‘‘ کے حصّہ میں کمی نہ ہونی چاہیے بلکہ حتی الامکان کچھ بیشی ہی ہوتی رہے تو بہتر ہے۔

۱۰۷-یہاں ’’شریکوں‘‘ کا لفظ ایک دُوسرے معنی میں استعمال ہوا ہے جو اُوپر کے معنی سے مختلف ہے۔ اوپر کی آیت میں جنھیں ’’شریک‘‘ کے لفظ سے تعبیر کیا گیا تھا وہ ان کے معبُود تھے جن کی برکت یا سفارش یا توسّط کو یہ لوگ نعمت کے حصُول میں مددگار سمجھتے تھے اور شکرِ نعمت کے استحقاق میں انھیں خدا کے ساتھ حصّہ دار بناتے تھے۔ بخلاف اس کے اس آیت میں ’’شریک‘‘ سے مراد وہ انسان اور شیطان ہیں جنھوں نے قتلِ اولاد کو ان لوگوں کی نگاہ میں ایک جائز اور پسندیدہ فعل بنا دیا تھا۔ انھیں شریک کہنے کی وجہ یہ ہے کہ اسلام کے نقطۂ نظر سے جس طرح پرستش کا مستحق تنہا اللہ تعالیٰ ہے ، اسی طرح بندوں کے لیے قانون بنانے اور جائز و ناجائز کی حدیں مقرر کرنے کا حق دار بھی صرف اللہ ہے۔ لہٰذا جس طرح کسی دُوسرے کے آگے پرستش کے افعال میں سے کوئی فعل کرنا اسے خدا کا شریک بنانے کا ہم معنی ہے ، اسی طرح کسی کے خود ساختہ قانون کو برحق سمجھتے ہوئے اس کی پابندی کرنا اور اس کے مقرر کیے ہوئے حُدُود کو واجب الاطاعت ماننا بھی اسے خدائی میں اللہ کا شریک قرار دینے کا ہم معنی ہے۔ یہ دونوں افعال بہرحال شریک ہیں، خواہ اُن کا مرتکب ان ہستیوں کو زبان سے الٰہ اور ربّ کہے یا نہ کہے جن کے آگے وہ نذر و نیاز پیش کرتا ہے یا جن کے مقرر کیے ہوئے قانون کو واجب الاطاعت مانتا ہے۔

قتلِ  اولاد کی تین صُورتیں اہلِ عرب میں رائج تھیں اور قرآن میں تینوں کی طرف اشارہ کیا گیا ہے :

(۱) لڑکیوں کا قتل، اس خیال سے کہ کوئی ان کا داماد نہ بنے ، یا قبائلی لڑائیوں میں وہ دُشمن کے ہاتھ نہ پڑیں ، یا کسی دُوسرے سبب سے وہ ان کے لیے سبب عار نہ بنیں۔

(۲) بچّوں کا قتل ، اس خیال سے کہ ان کی پرورش کا بار نہ اُٹھایا جا سکے گا اور ذرائع معاش کی کمی کے سبب سے وہ ناقابلِ برداشت بوجھ بن جائیں گے۔

(۳) بچّوں کو اپنے معبُودوں کی خوشنودی کے لیے بھینٹ چڑھانا۔

۱۰۸-یہ ہلاکت کا لفظ نہایت معنی خیز ہے۔ اِس سے مراد اخلاقی ہلاکت بھی ہے کہ جو انسان سنگ دلی اور شقاوت کی اس حد کو پہنچ جائے کہ اپنی اولاد کو اپنے ہاتھ سے قتل کرنے لگے اس میں جوہرِ  انسانیت تو درکنار جوہرِ حیوانیت تک باقی نہیں رہتا۔ اور نوعی و قومی ہلاکت بھی کہ قتلِ اولاد کا لازمی نتیجہ نسلوں کا گھٹنا اور آبادی کا کم ہونا ہے ، جس سے نوعِ انسانی کو بھی نقصان پہنچتا ہے ، اور وہ قوم بھی تباہی کے گڑھے میں گرتی ہے جو اپنے حامیوں اور اپنے تمدّن کے کارکنوں اور اپنی میراث کے وارثوں کو پیدا نہیں ہونے دیتی، یا پیدا ہوتے ہی خود اپنے ہاتھوں اُنھیں ختم کر ڈالتی ہے۔ اور اس سے مراد انجامی ہلاکت بھی ہے کہ جو شخص معصُوم بچّوں پر یہ ظلم کرتا ہے ، اور جو اپنی انسانیت کو بلکہ اپنی حیوانی فطرت تک کو یوں اُلٹی چھُری سے ذبح کرتا ہے ، اور جو نوعِ انسانی کے ساتھ اور خود اپنی قوم کے ساتھ یہ دُشمنی کرتا ہے ، وہ اپنے آپ کو خدا کے شدید عذاب کا مستحق بناتا ہے۔

۱۰۹-زمانۂ جاہلیّت کے عرب اپنے آپ کو حضرت ابراہیمؑ  و اسماعیلؑ  کا پیرو کہتے اور سمجھتے تھے اور اس بنا پر ان کا خیال یہ تھا کہ جس مذہب کا وہ اتباع کر رہے ہیں وہ خدا کا پسندیدہ مذہب ہی ہے۔ لیکن جو دین ان لوگوں نے حضرت ابراہیمؑ  و اسماعیلؑ  سے سیکھا تھا اس کے اندر بعد کی صدیوں میں مذہبی پیشوا ، قبائل کے سردار، خاندانوں کے بڑے بوڑھے اور مختلف لوگ طرح طرح کے عقائد اور اعمال اور رسوم کا اضافہ کرتے چلے گئے جِنھیں آنے والی نسلوں نے اصل مذہب کا جزء سمجھا اور عقیدت مندی کے ساتھ ان کی پیروی کی۔ چونکہ روایات میں ، یا تاریخ میں، یا کسی کتاب میں ایسا کوئی ریکارڈ محفوظ نہ تھا جس سے معلوم ہوتا کہ اصل مذہب کیا تھا اور بعد میں کیا چیزیں کس زمانہ میں کس نے کس طرح اضافہ کیں، اس وجہ سے اہلِ عرب کے لیے ان کا پورا دین مشتبہ ہو کر رہ گیا تھا۔ نہ کسی چیز کے متعلق یقین کے ساتھ یہی کہہ سکتے تھے کہ یہ اس اصل دین کا جزء ہے جو خدا کی طرف سے آیا تھا، اور نہ یہی جانتے تھے کہ یہ بدعات اور غلط رسُوم ہیں جو بعد میں لوگوں نے بڑھا دیں۔ اِسی صُورتِ  حال کی ترجمانی اس فقرے میں کی گئی ہے۔

۱۱۰-یعنی اگر اللہ چاہتا کہ وہ ایسا نہ کریں تو وہ کبھی نہ کر سکتے تھے ، لیکن چونکہ اللہ کی مشیّت یہی تھی کہ جو شخص جس راہ پر جانا چاہتا ہے اسے جانے کا موقع دیا جائے ، اسی لیے یہ سب کچھ ہوا۔ پس اگر یہ لوگ تمہارے سمجھانے سے نہیں مانتے اور ان افترا پردازیوں ہی پر انھیں اصرار ہے تو جو کچھ یہ کرنا چاہتے ہیں کرنے دو، ان کے پیچھے پڑنے کی کچھ ضرورت نہیں۔

۱۱۱-اہلِ عرب کا قاعدہ تھا کہ بعض جانوروں کے متعلق یا بعض کھیتیوں کی پیداوار کے متعلق منت مان لیتے تھے کہ یہ فلاں آستانے یا فلاں حضرت کی نیاز کے لیے مخصُوص ہیں۔ اُس نیاز کو ہر ایک نہ کھا سکتا تھا بلکہ اس کے لیے ان کے ہاں ایک مفصّل ضابطہ تھا جس کی رُو سے مختلف نیازوں کو مختلف قسم کے مخصُوص لوگ ہی کھا سکتے تھے۔ اللہ تعالیٰ ان کے اس فعل کو نہ صرف مشرکانہ افعال میں شمار کرتا ہے ، بلکہ اس پہلو پر بھی تنبیہ فرماتا ہے کہ یہ ضابطہ ان کا خود ساختہ ہے۔ یعنی جس خدا کے رزق میں سے وہ یہ منتیں مانتے اور نیازیں کرتے ہیں اس نے نہ ان منتوں اور نیازوں کا حکم دیا ہے اور نہ ان کے کھانے کے متعلق یہ پابندیاں عائد کی ہیں۔ یہ سب کچھ ان خود سر اور باغی بندوں نے اپنے اختیار سے خود ہی تصنیف کر لیا ہے۔

۱۱۲-روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ اہلِ عرب کے ہاں بعض مخصوص منتوں اور نذروں کے جانور ایسے ہوتے تھے جن پر خدا کا نام لینا جائز نہ سمجھا جاتا تھا۔ ان پر سوار ہو کر حج کرنا ممنوع تھا ، کیونکہ حج کے لیے لَبَّیْکَ اَللّٰھُمَّ لَبَّیْکَ کہنا پڑتا تھا۔ اسی طرح ان کا دودھ دوہتے وقت، یا ان پر سوار ہونے کی حالت میں ، یا ان کو ذبح کرتے ہوئے ، یا ان کو کھانے کے وقت اہتمام کیا جاتا تھا کہ خدا کا نام زبان پر نہ آئے۔

۱۱۳-یعنی قاعدے خدا کے مقرر کیے ہوئے نہیں ہیں، مگر وہ ان کی پابندی یہی سمجھتے ہوئے کر رہے ہیں کہ انھیں خدا نے مقرر کیا ہے ، اور ایسا سمجھنے کے لیے ان کے پاس خدا کے کسی حکم کی سند نہیں ہے بلکہ صرف یہ سند ہے کہ باپ دادا سے یونہی ہوتا چلا آ رہا ہے۔

۱۱۴-اہلِ عرب کے ہاں نذروں اور منتوں کے جانوروں کے متعلق جو خود ساختہ شریعت بنی ہوئی تھی اس کی ایک دفعہ یہ بھی تھی کہ ان جانوروں کے پیٹ سے جو بچہ پیدا ہو اس کا گوشت صرف مر د کھا سکتے ہیں ، عورتوں کے لیے ان کا کھانا جائز نہیں۔ لیکن اگر وہ بچہ مُردہ ہو یا مر جائے تو اس کا گوشت کھانے میں مرد و عورت سب شریک ہو سکتے ہیں۔

۱۱۵-یعنی اگرچہ وہ لوگ جنھوں نے یہ رسم و رواج گھڑے تھے تمہارے باپ دادا تھے ، تمہارے مذہبی بزرگ تھے ، تمہارے پیشوا اور سردار تھے ، لیکن حقیقت بہرحال حقیقت ہے ، ان کے ایجاد کیے ہوئے غلط طریقے صرف اس لیے صحیح اور مقدس نہیں ہو سکتے کہ وہ تمہارے اسلاف اور بزرگ تھے۔ جن ظالموں نے قتلِ اولاد جیسے وحشیانہ فعل کو رسم بنایا ہو، جنہوں نے خدا کے دیے ہوئے رزق کو خواہ مخواہ خدا کے بندوں پر حرام کیا ہو ، جنھوں نے دین میں اپنی طرف سے نئی نئی باتیں شامل کر کے خدا کی طرف منسُوب کی ہوں، وہ آخر فلاح یاب اور راست رَو کیسے ہو سکتے ہیں۔ چاہے وہ تمہارے اسلاف اور بزرگ ہی کیوں نہ ہوں، بہر حال تھے وہ گمراہ اور اپنی اسی گمراہی کا بُرا انجام بھی وہ دیکھ کر رہیں گے۔

 

ترجمہ

 

وہ اللہ ہی ہے جس نے طرح طرح کے باغ اور تاکستان ۱۱۶ اور نخلستان پیدا کیے ، کھیتیاں اُگائیں جن سے قسم قسم کے ماکولات حاصل ہوتے ہیں، زیتون اور انار کے درخت پیدا کیے جن کے پھل صُورت میں مشابہ اور مزے میں مختلف ہوتے ہیں۔ کھاؤ ان کی پیداوار جب کہ یہ پھلیں ، اور اللہ کا حق ادا کرو جب ان کی فصل کاٹو، اور حد سے نہ گزرو کہ اللہ حد سے گزرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ پھر وہی ہے جس نے مویشیوں میں سے وہ جانور بھی پیدا کیے جن سے سواری و بار برداری کا کام لیا جاتا ہے اور وہ بھی جو کھانے اور بچھانے کے کام آتے ہیں۔۱۱۷ کھاؤ اُن چیزوں میں سے جو اللہ نے تمہیں بخشی ہیں اور شیطان کی پیروی نہ کرو کہ وہ تمہارا کھُلا دشمن ہے۔۱۱۸یہ آٹھ نر و مادہ ہیں، دو بھیڑ کی قسم سے اور دو بکری کی قسم سے ، اے محمد ؐ ! ان سے پُوچھو کہ اللہ نے اُن کے نر حرام کیے ہیں یا مادہ، یا وہ بچّے جو بھیڑوں اور بکریوں کے پیٹ میں ہوں؟ ٹھیک ٹھیک علم کے ساتھ مجھے بتا ؤ اگر تم سچے ہو۔۱۱۹اور اسی طرح دو اُونٹ کی قسم سے ہیں اور دو گائے کی قسم سے۔ پوچھو، اِن کے نر اللہ نے حرام کیے ہیں یا مادہ، یا وہ بچّے جو اُونٹنی اور گائے کے پیٹ میں ہوں؟۱۲۰ کیا تم اُس وقت حاضر تھے جب اللہ نے ان کے حرام ہونے کا حکم تمہیں دیا تھا؟ پھر اُس شخص سے بڑھ کر ظالم اور کون ہو گا جو اللہ کی طرف منسُوب کر کے جھُوٹی بات کہے تاکہ عِلم کے بغیر لوگوں کی غلط راہ نمائی کرے۔ یقیناً اللہ ایسے ظالموں کو راہِ راست نہیں دکھاتا۔ ؏ ١۷

 

تفسیر

 

۱۱۶-اصل میں جَنّٰتٍ مَّعْرُوْ شٰتٍ وّ غَیْرَ مَعْرُوْشٰتٍ کے الفاظ استعمال کیے گئے ہیں جن سے مراد دو طرح کے باغ ہیں، ایک وہ جن کی بیلیں ٹٹیوں پر چڑھائی جاتی ہیں ، دُوسرے وہ جن کے درخت خود اپنے تنوں پر کھڑے رہتے ہیں۔ ہماری زبان میں باغ کا لفظ صرف دُوسری قسم کے باغوں کے لیے استعمال ہوتا ہے اس لیے ہم نے جَنّٰتٍّ غَیْرَ مَعْرُوْشٰتٍ کا ترجمہ ’’باغ‘‘ کیا ہے اور جَنّٰتٍ مَّعْرُوْ شٰتٍ کے لیے ’’تاکستان‘‘(یعنی انگوری باغ) کا لفظ اختیار کیا ہے۔

۱۱۷-اصل میں لفظ فَرْش استعمال ہوا ہے۔ جانوروں کو فرش کہنا یا تو اس رعایت سے ہے کہ وہ چھوٹے قد کے ہیں اور زمین سے لگے ہوئے چلتے ہیں۔ یا اس رعایت سے کہ وہ ذبح کے لیے زمین پر لٹائے جاتے ہیں، یا اس رعایت سے کہ ان کی کھالوں اور ان کے بالوں سے فرش بنائے جاتے ہیں۔

۱۱۸-سلسلۂ کلام پر نظر کرنے سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ یہاں اللہ تعالیٰ تین باتیں ذہن نشین کرانا چاہتا ہے۔ ایک یہ کہ یہ باغ اور کھیت اور یہ جانور جو تم کو حاصل ہیں ، یہ سب اللہ کے بخشے ہوئے ہیں، کسی دُوسرے کا اس بخشش میں کوئی حصّہ نہیں ہے ، اس لیے بخشش کے شکریہ میں بھی کسی کا کوئی حصّہ نہیں ہو سکتا۔ دوسرے یہ کہ جب یہ چیزیں اللہ کی بخشش ہیں تو ان کے استعمال میں اللہ ہی کے قانون کی پیروی ہونی چاہیے۔ کسی دُوسرے کو حق نہیں پہنچتا کہ ان کے استعمال پر اپنی طرف سے حدود مقرر کر دے۔ اللہ کے سوا کسی اَ ور کی مقرر کردہ رسموں کی پابندی کرنا اور اللہ کے سوا کسی اَور کے آگے شُکرِ نعمت کی نذر پیش کرنا ہی حد سے گزرنا ہے اور یہی شیطان کی پیروی ہے۔ تیسرے یہ کہ یہ سب چیزیں اللہ نے انسان کے کھانے پینے اور استعمال کرنے ہی کے لیے پیدا کی ہیں، اس لیے پیدا نہیں کیں کہ انھیں خواہ مخواہ حرام کر لیا جائے۔ اپنے اوہام اور قیاسات کی بنا پر جو پابندیاں لوگوں نے خدا کے رزق اور اس کی بخشی ہوئی چیزوں کے استعمال پر عائد کر لی ہیں وہ سب منشاءِ الٰہی کے خلاف ہیں۔

۱۱۹-یعنی گمان و وہم یا آبائی روایات نہ پیش کرو بلکہ علم پیش کرو اگر وہ تمہارے پاس ہو۔

۱۲۰-یہ سوال اس تفصیل کے ساتھ ان کے سامنے اس لیے پیش کیا گیا ہے کہ اُن پر خود اپنے ان توہّمات کی غیر معقولیّت واضح ہو جائے۔ یہ بات کہ ایک ہی جانور کا نر حلال ہو اور مادہ حرام، یا مادہ حلال ہو اور نر حرام، یا جانور خود حلال ہو مگر اس کا بچہ حرام، یہ صریحاً ایسی نامعقول بات ہے کہ عقلِ سلیم اِسے ماننے سے انکار کرتی ہے اور کوئی ذی عقل انسان یہ تصوّر نہیں کر سکتا کہ خدا نے ایسی لغویّات کا حکم دیا ہو گا۔ پھر جس طریقہ سے قرآن نے اہلِ عرب کو اُن کے اِن توہّمات کی غیر معقولیّت سمجھانے کی کوشش کی ہے بعینہٖ اسی طریقہ پر دُنیا کی اُن دُوسری قوموں کو بھی اُن کے توہّمات کی لغویّات پر متنبہ کیا جا سکتا ہے جن کے اندر کھانے پینے کی چیزوں میں حُرمت و حِلّت کی غیر معقول پابندیاں اور چھُوت چھات کی قیُود پائی جاتی ہیں۔

 

ترجمہ

 

اے محمد ؐ ! ان سے کہو کہ جو وحی میرے پاس آئی ہے اس میں تو میں کوئی چیز ایسی نہیں پاتا جو کسی کھانے والے پر حرام ہو، اِلّا یہ کہ وہ مردار ہو، یا بہایا ہوا خون ہو، یا سُور کا گوشت ہو کہ وہ ناپاک ہے ، یا فسق ہو کہ اللہ کے سوا کسی اور کے نام پر ذبح کیا گیا ہو۔۱۲۱ پھر جو شخص مجبُوری کی حالت میں (کوئی چیز ان میں سے کھا لے ) بغیر اس کے کہ وہ نافرمانی کا ارادہ رکھتا ہو اور بغیر اس کے کہ وہ حدِ ضرورت سے تجاوز کرے ، تو یقیناً تمہارا رب درگذر سے کام لینے والا اور رحم فرمانے والا ہے۔ اور جن لوگوں نے یہودیّت اختیار کی ان پر ہم نے سب ناخن والے جانور حرام کر دیے تھے ، اور گائے اور بکری کی چربی بھی بجز اُس کے جو اُن کی پیٹھ یا اُن کی آنتوں سے لگی ہوئی ہو یا ہڈّی سے لگی رہ جائے۔ یہ ہم نے ان کی سرکشی کی سزا اُنہیں دی تھی ۱۲۲ اور یہ جو کچھ ہم کہہ رہے ہیں بالکل سچ کہہ رہے ہیں۔اب اگر وہ تمہیں جھٹلائیں تو ان سے کہہ دو کہ تمہارے رب کا دامنِ  رحمت وسیع ہے اور مجرموں سے اس کے عذاب کو پھیرا نہیں جا سکتا۔۱۲۳یہ مشرک لوگ (تمہاری ان باتوں کے جواب میں) ضرور کہیں گے کہ ’’اگر اللہ چاہتا تو نہ ہم شرک کرتے اور نہ ہمارے باپ دادا، اور نہ ہم کسی چیز کو حرام ٹھیراتے ‘‘۔۱۲۴ ایسی ہی باتیں بنا بنا کر اِن سے پہلے کے لوگوں نے بھی حق کو جھٹلایا تھا یہاں تک کہ آخر کار ہمارے عذاب کا مزا انہوں نے چکھ لیا۔ ان سے کہو ’’کیا تمہارے پاس کوئی علم ہے جسے ہمارے سامنے پیش کر سکو؟ تم تو محض گمان پر چل رہے ہو اور نری قیاس آرائیاں کرتے ہو‘‘۔پھر کہو (تمہاری اس حجّت کے مقابلہ میں) حقیقت رس حجت تو اللہ کے پاس ہے ، بے شک اگر اللہ چاہتا تو تم سب کو ہدایت دے دیتا۔۱۲۵ان سے کہو کہ ’’لاؤ اپنے وہ گواہ جو اس بات کی شہادت دیں کہ اللہ ہی نے اِن چیزوں کو حرام کیا ہے ‘‘۔ پھر اگر وہ شہادت دے دیں تو تم ان کے ساتھ شہادت نہ دینا،۱۲۶ اور ہرگز اُن لوگوں کی خواہشات کے پیچھے نہ چلنا جنھوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا ہے ، اور جو آخرت کے منکر ہیں، اور جو دُوسروں کو اپنے رب کا ہمسر بناتے ہیں۔ ؏١۸

 

تفسیر

 

۱۲۱-یہ مضمون سُورہ بقرہ آیت ۷۳ اور سُورہ مائدہ آیت ۳ میں گزر چکا ہے ، اور آگے سُورہ نحل آیت ۱۱۵ میں آنے والا ہے۔

سُورہ بقرہ کی آیت اور اس آیت میں بظاہر اتنا اختلاف پایا جاتا ہے کہ وہاں محض ’’خون‘‘ کہا گیا ہے اور یہاں خون کے ساتھ مَسْفُوْح کی قید لگائی گئی ہے ، یعنی ایسا خون جو کسی جانور کو زخمی کر کے یا ذبح کر کے نکالا گیا ہو۔ مگر دراصل یہ اختلاف نہیں بلکہ اُس حکم کی تشریح ہے۔ اِسی طرح سُورۂ مائدہ کی آیت میں ان چار چیزوں کے علاوہ چند اور چیزوں کی حُرمت کا بھی ذکر ملتا ہے ، یعنی وہ جانور جو گلا گھُونٹ کر یا چوٹ کھا کر یا بلندی سے گِر کر یا ٹکر کھا کر مرا ہو یا جسے کسی درندے نے پھاڑ ا ہو۔ لیکن فی الحقیقت یہ بھی اختلاف نہیں ہے بلکہ ایک تشریح ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ جانور اس طور پر ہلاک ہوئے ہوں وہ بھی مُردار کی تعریف میں آتے ہیں۔

فقہائے اسلام میں سے ایک گروہ اس بات کا قائل ہے کہ حیوانی غذاؤں میں سے یہی چار چیزیں حرام ہیں اور ان کے سوا ہر چیز کا کھانا جائز ہے۔ یہی مسلک حضرت عبداللہ ابن عباس اور حضرت عائشہ کا تھا۔ لیکن متعدّد احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بعض چیزوں کے کھانے سے یا تو منع فرمایا ہے یا ان پر کراہت کا اظہار فرمایا ہے۔ مثلاً پالتو گدھے ، کچلیوں والے درندے اور پنجوں والے پرندے۔ اس وجہ سے اکثر فقہاء تحریم کو ان چار چیزوں تک محدُود نہیں مانتے بلکہ دُوسری چیزوں تک اسے وسیع قرار دیتے ہیں۔ مگر اس کے بعد پھر مختلف چیزوں کی حِلّت و حُرمت میں فقہاء کے درمیان اختلاف ہوا ہے۔ مثلاً پالتو گدھے کو امام ابو حنیفہ ، امام مالک اور امام شافعی حرام قرار دیتے ہیں۔ لیکن بعض دُوسرے فقہا کہتے ہیں کہ وہ حرام نہیں ہے بلکہ کسی وجہ سے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے ایک موقع پر اس کی ممانعت فرما دی تھی۔ درندہ جانوروں اور شکاری پرندوں اور مُردار خور حیوانات کو حنفیہ مطلقاً حرام قرار دیتے ہیں۔ مگر امام مالک اور اَوزاعی کے نزدیک شکاری پرندے حلال ہیں۔ لَیث کے نزدیک بِلّی حلال ہے۔ امام شافعی کے نزدیک صرف وہ درندے حرام ہیں جو انسان پر حملہ کرتے ہیں، جیسے شیر، بھیڑیا، چیتا وغیرہ۔ عِکْرِمہ کے نزدیک کوّا اور بجّو دونوں حلال ہیں۔ اسی طرح حنفیہ تمام حشرات الارض کو حرام قرار دیتے ہیں ، مگر ابن ابی لیلیٰ، امام مالک اور اوزاعی کے نزدیک سانپ حلال ہے۔

ان تمام مختلف اقوال اور ان کے دلائل پر غور کرنے سے یہ بات صاف معلوم ہوتی ہے کہ دراصل شریعت الٰہی میں قطعی حُرمت اُن چار ہی چیزوں کی ہے جن کا ذکر قرآن میں کیا گیا ہے۔ ان کے سوا دُوسری حیوانی غذاؤں میں مختلف درجوں کی کراہت ہے۔ جن چیزوں کی کراہت صحیح روایات کے مطابق نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے ثابت ہے وہ حُرمت کے درجہ سے قریب تر ہیں اور جن چیزوں میں فقہاء کے درمیان اختلاف ہوا ہے ان کی کراہت مشکوک ہے۔ رہی طبعی کراہت جس کی بنا پر بعض اشخاص بعض چیزوں کو کھانا پسند نہیں کرتے ، یا طبقاتی کراہت جس کی بنا پر انسانوں کے بعض طبقے بعض چیزوں کو ناپسند کرتے ہیں، یا قومی کراہت جس کی بنا پر بعض قومیں بعض چیزوں سے نفرت کرتی ہیں ، تو شریعتِ الٰہی کسی کو مجبُور نہیں کرتی کہ وہ خواہ مخواہ ہر اس چیز کو ضرور ہی کھا جائے جو حرام نہیں کی گئی ہے۔ اور اسی طرح شریعت کسی کو یہ حق بھی نہیں دیتی کہ وہ اپنی کراہت کو قانون قرار دے اور ان لوگوں پر الزام عائد کر ے جو ایسی غذائیں استعمال کرتے ہیں جنھیں وہ نا پسند کرتا ہے۔

۱۲۲-یہ مضمون قرآن مجید میں تین مقامات پر بیان ہوا ہے۔ سُورۂ آلِ عمران میں فرمایا ’’کھانے کی یہ ساری چیزیں (جو شریعت محمدی میں حلال ہیں)بنی اسرائیل کے لیے بھی حلال تھیں ، البتہ بعض چیزیں ایسی تھیں جنھیں توراۃ کے نازل کیے جانے سے پہلے اسرائیل نے خود اپنے اوپر حرام کر لیا تھا۔ ان سے کہو لاؤ توراۃ اور پیش کروا س کی کوئی عبارت اگر تم(اپنے اعتراض میں) سچے ہو‘‘۔(آیت ۹۳)۔ پھر سُورہ ٔ نساء میں فرمایا کہ بنی اسرائیل کے جرائم کی بنا پر ’’ہم نے بہت سی وہ پاک چیزیں ان پر حرام کر دیں جو پہلے ان کے لیے حلال تھیں‘‘۔(آیت ۱۶۱)۔ اور یہاں ارشاد ہوا ہے کہ ان کی سرکشیوں کی پاداش میں ہم نے ان پر تمام ناخن والے جانور حرام کیے اور بکری اور گائے کی چربی بھی ان کے لیے حرام ٹھیرا دی۔ اِن تینوں آیتوں کو جمع کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ شریعت محمدی ؐ اور یہُودی فقہ کے درمیان حیوانی غذاؤں کی حِلّت و حُرمت کے معاملہ میں جو فرق پایا جاتا ہے وہ دو وجوہ پر مَبنی ہے :

ایک یہ کہ نزولِ توراۃ سے صدیوں پہلے حضرت یعقوبؑ  (اسرائیل) علیہ السّلام نے بعض چیزوں کا استعمال چھوڑ دیا تھا اور ان کے بعد ان کی اولاد بھی ان چیزوں کی تارک رہی، حتیٰ کہ یہُودی فقہاء نے ان کو باقاعدہ حرام سمجھ لیا اور ان کی حُرمت توراۃ میں لکھ لی۔ اِن اشیاء میں اُونٹ اور خرگوش اور سافان شامل ہیں۔ آج بائیبل میں توراۃ کے جو اجزاء ہم کو ملتے ہیں اُن میں ان تینوں چیزوں کی حرمت کا ذکر ہے (احبار ۴:۱۱ – ۶ – استثناء ۷:۱۴ )۔ لیکن قرآن مجید میں یہودیوں کو جو چیلنج دیا گیا تھا کہ لاؤ توراۃ اور دکھاؤ یہ چیزیں کہاں حرام لکھی ہیں ، اس سے معلوم ہوا کہ توراۃ میں ان احکام کا اضافہ اس کے بعد کیا گیا ہے۔ کیونکہ اگر اس وقت توراۃ میں یہ احکام موجود ہوتے تو بنی اسرائیل فوراً لا کر پیش کر دیتے۔

دُوسرا فرق اس وجہ پر مبنی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی نازل کی ہوئی شریعت سے جب یہودیوں نے بغاوت کی اور آپ اپنے شارع بن بیٹھے تو انہوں نے بہت سے پاک چیزوں کو اپنی موشگافیوں سے خود حرام کر لیا اور اللہ تعالیٰ نے سزا کے طور پر انھیں اس غلط فہمی میں مبتلا رہنے دیا۔ ان اشیاء میں ایک تو ناخن والے جانور شامل ہیں ، یعنی شتر مُرغ ، قاز، بط وغیرہ۔ دُوسرے گائے اور بکری کی چربی۔ بائیبل میں ان دونوں قسم کی حرمتوں کو احکامِ توراۃ میں داخل کر دیا گیا ہے۔ (احبار ۱۶:۱۱ – ۱۸ – استثناء ۱۴:۱۴ – ۱۵ – ۱۶ – احبار ۱۷:۳ و ۲۲:۷ – ۲۳)۔ لیکن سُورہ ٔ نساء سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ چیزیں توراۃ میں حرام نہ تھیں بلکہ حضرت عیسیٰؑ  کے بعد حرام ہوئی ہیں ، اور تاریخ بھی شہادت دیتی ہے کہ موجودہ یہودی شریعت کی تدوین دُوسری صدی عیسوی کے آخر میں رَبّی یہوداہ کے ہاتھوں مکمل ہوئی ہے۔

رہا یہ سوال کہ پھر ان چیزوں کے متعلق یہاں اور سُورۂ نساء میں اللہ تعالیٰ نے حَرَّمْنَا (ہم نے حرام کیا) کا لفظ کیوں استعمال کیا تو اس کا جواب یہ ہے کہ خدائی تحریم کی صرف یہی ایک صُورت نہیں ہے کہ وہ کسی پیغمبر اور کتاب کے ذریعہ سے کسی چیز کو حرام کرے۔ بلکہ اس کی صورت یہ بھی ہے کہ وہ اپنے باغی بندوں پر بناوٹی شارعوں اور جعلی قانون سازوں کو مسلّط کر دے اور وہ ان پر طیّبات کو حرام کر دیں۔ پہلی قسم کی تحریم خدا کی طرف سے رحمت کے طور پر ہوتی ہے اور یہ دُوسری قسم کی تحریم اس کی پھِٹکار اور سزا کی حیثیت سے ہوا کرتی ہے۔

۱۲۳-یعنی اگر تم اب بھی اپنی نافرمانی کی روش سے باز آ جاؤ اور بندگی کے صحیح رویّہ کی طرف پلٹ آؤ تو اپنے ربّ کے دامنِ رحمت کو اپنے لیے کشادہ پا ؤ گے لیکن اگر اپنی اِسی مجرمانہ و باغیانہ روش پر اَڑے رہو گے تو خوب جان لو کہ اس کے غضب سے بھی پھر کوئی بچانے والا نہیں ہے۔

۱۲۴-یعنی وہ اپنے جرم اور اپنی غلط کاری کے لیے وہی پُرانا عذر پیش کریں گے جو ہمیشہ سے مجرم اور غلط کار لوگ پیش کرتے رہے ہیں۔ وہ کہیں گے کہ ہمارے حق میں اللہ کی مشیّت یہی ہے کہ ہم شرک کریں اور جن چیزوں کو ہم نے حرام ٹھیرا رکھا ہے انھیں حرام ٹھیرائیں۔ ورنہ اگر خدا نہ چاہتا کہ ہم ایسا کریں تو کیوں کر ممکن تھا کہ یہ افعال ہم سے صادر ہوتے۔ پس چونکہ ہم اللہ کی مشیّت کے مطابق یہ سب کچھ کر رہے ہیں اس لیے درست کر رہے ہیں، اس کا الزام اگر ہے تو ہم پر نہیں ، اللہ پر ہے۔ اور جو کچھ ہم کر رہے ہیں ایسا ہی کرنے پر مجبور ہیں کہ اس کے سوا کچھ اور کرنا ہماری قدرت سے باہر ہے۔

۱۲۵-یہ ان کے عذر کا مکمل جواب ہے۔ اس جواب کو سمجھنے کے لیے اس کا تجزیہ کر کے دیکھنا چاہیے :

پہلی بات یہ فرمائی کہ اپنی غلط کاری و گمراہی کے لیے مشیتِ الٰہی کو معذرت کے طور پر پیش کرنا اور اسے بہانہ بنا کر صحیح رہنمائی کو قبول کرنے سے انکار کرنا مجرموں کا قدیم شیوہ رہا ہے ، اور اس کا انجام یہ ہوا ہے کہ آخر کار وہ تباہ ہوئے اور حق کے خلاف چلنے کا بُرا نتیجہ انہوں نے دیکھ لیا۔

پھر فرمایا کہ یہ عذر جو تم پیش کر رہے ہو یہ دراصل علمِ حقیقت پر مبنی نہیں ہے بلکہ محض گمان اور تخمینہ ہے۔ تم نے محض مشیّت کا لفظ کہیں سے سُن لیا اور اس پر قیاسات کی ایک عمارت کھڑی کر لی۔ تم نے یہ سمجھا ہی نہیں کہ انسان کے حق میں فی الواقع اللہ کی مشیّت کیا ہے۔ تم مشیّت کے معنی یہ سمجھ رہے ہو کہ چور اگر مشیّتِ الٰہی کے تحت چوری کر رہا ہے تو وہ مجرم نہیں ہے ، کیونکہ اس نے یہ فعل خدا کی مشیّت کے تحت کیا ہے۔ حالانکہ دراصل انسان کے حق میں خدا کی مشیّت یہ ہے کہ وہ شکر اور کفر، ہدایت اور ضلالت ، طاعت اور معصیت میں سے جو راہ بھی اپنے لیے منتخب کرے گا، خدا وہی راہ اس کے لیے کھول دے گا، اور پھر غلط یا صحیح، جو کام بھی انسان کرنا چاہے گا ، خدا اپنی عالمگیر مصلحتوں کا لحاظ کرتے ہوئے جس حد تک مناسب سمجھے گا اُسے اس کام کا اذن اور اس کی توفیق بخش دے گا۔ لہٰذا اگر تم نے اور تمہارے باپ دادا نے مشیّتِ الٰہی کے تحت شرک اور تحریم طیّبات کی توفیق پائی تو اس کے یہ معنی ہر گز نہیں ہیں کہ تم لوگ اپنے اِن اعمال کے ذمّہ دار اور جواب دہ نہیں ہو۔ اپنے غلط انتخابِ راہ اور اپنے غلط ارادے اور سعی کے ذمّہ دار تو تم خود ہی ہو۔

آخر میں ایک ہی فقرے کے اندر کانٹے کی بات بھی فرما دی کہ فِللّٰہِ الْحُجَّۃُ الْبَالِغَۃُ، فَلَوْ شَآ ءَ لَھَدٰ کُمْ اَجْمَعِیْنَ۔ یعنی تم اپنی معذرت میں یہ حجّت پیش کرتے ہو کہ ’’اگر اللہ چاہتا تو ہم شرک نہ کرتے ‘‘، اس سے پوری بات ادا نہیں ہوتی۔ پوری بات کہنا چاہتے ہو تو یوں کہو کہ ’’ اگر اللہ چاہتا تو تم سب کو ہدایت دے دیتا‘‘۔ بالفاظ دیگر تم خود اپنے انتخاب سے راہِ راست اختیار کر نے پر تیار نہیں، بلکہ یہ چاہتے ہو کہ خدا نے جس طرح فرشتوں کو پیدائشی راست رَو بنایا ہے اس طرح تمھیں بھی بنا دے۔ تو بے شک اگر اللہ کی مشیّت انسان کے حق میں یہ ہوتی تو وہ ضرور ایسا کر سکتا تھا ، لیکن یہ اس کی مشیّت نہیں ہے ، لہٰذا جس گمراہی کو تم نے اپنے لیے خود پسند کیا ہے اللہ بھی تمھیں اسی میں پڑا رہنے دے گا۔

۱۲۶-یعنی اگر وہ شہادت کی ذمہ داری کو سمجھتے ہیں اور جانتے ہیں کہ شہادت اُسی بات کی دینی چاہیے جس کا آدمی کو علم ہو، تو وہ کبھی یہ شہادت دینے کی جرأت نہ کریں گے کہ کھانے پینے پر یہ قیُود، جو ان کے ہاں رسم کے طور پر رائج ہیں، اور یہ پابندیاں کہ فلاں چیز کو فلاں نہ کھائے اور فلاں چیز کو فلاں کا ہاتھ نہ لگے ، یہ سب خدا کی مقرر کر دہ ہیں۔ لیکن اگر یہ لوگ شہادت کی ذمہ داری کو محسُوس کیے بغیر اتنی ڈھٹائی پر اُتر آئیں کہ خدا کا نام لے کر جھُوٹی شہادت دینے میں بھی تامّل نہ کریں، تو ان کے اس جھُوٹ میں تم ان کے سا تھی نہ بنو۔ کیونکہ اُن سے یہ شہادت اس لیے طلب نہیں کی جا رہی ہے کہ اگر یہ شہادت دے دیں تو تم ان کی بات مان لو گے ، بلکہ اس کی غرض صرف یہ ہے کہ ان میں سے جن لوگوں کے اندر کچھ بھی راست بازی موجود ہے ان سے جب کہا جائے گا کہ کیا واقعی تم سچائی کے ساتھ اس بات کی شہادت دے سکتے ہو کہ یہ ضوابط خدا ہی کے مقرر کیے ہوئے ہیں تو وہ اپنی رسموں کی حقیقت پر غور کریں گے ، اور جب ان کے مِن جانب اللہ ہونے کا کوئی ثبوت نہ پائیں گے تو ان فضول رسموں کی پابندی سے باز آ جائیں گے۔

 

ترجمہ

 

اے محمد ؐ ! ان سے کہو کہ آؤ میں تمہیں سُناؤں تمہارے رب نے تم پر کیا پابندیاں عائد کی ہیں: ۱۲۷

(١) یہ کہ اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو،۱۲۸

(۲) اور والدین کے ساتھ نیک سلوک کرو،۱۲۹

(۳) اور اپنی اولاد کو مُفلسی کے ڈر سے قتل نہ کرو، ہم تمہیں بھی رزق دیتے ہیں اور ان کو بھی دیں گے۔

(۴) اور بے شرمی کی باتوں کے قریب بھی نہ جاؤ ۱۳۰ خواہ وہ کھُلی ہوں یا چھُپی۔

(۵) اور کسی جان کو جسے اللہ نے محترم ٹھیرایا ہے ہلاک نہ کرو مگر حق کے ساتھ۔۱۳۱یہ باتیں ہیں جن کی ہدایت اس نے تمہیں کی ہے ، شاید کہ تم سمجھ بوجھ سے کام لو۔

(٦) اور یہ کہ یتیم کے مال کے قریب نہ جاؤ مگر ایسے طریقہ سے جو بہترین ہو ۱۳۲ یہاں تک کہ وہ اپنے سنِ رُشد کو پہنچ جائے ،

(۷) اور ناپ تول میں پورا انصاف کرو، ہم ہر شخص پر ذمہ داری کا اُتنا ہی بار رکھتے ہیں جتنا اس کے امکان میں ہے ،۱۳۳

(۸) اور جب بات کہو انصاف کی کہو خواہ معاملہ اپنے رشتہ دار ہی کا کیوں نہ ہو،

(۹) اور اللہ کے عہد کو پُورا کرو۔۱۳۴ان باتوں کی ہدایت اللہ نے تمہیں کی ہے شاید کہ تم نصیحت قبول کرو۔

(١۰) نیز اس کی ہدایت یہ ہے کہ یہی میرا سیدھا راستہ ہے لہٰذا تم اِسی پر چلو اور دُوسرے راستوں پر نہ چلو کہ وہ اُس کے راستے سے ہٹا کر تمہیں پراگندہ کر دیں گے۔۱۳۵ یہ ہے وہ ہدایت جو تمہارے رب نے تمہیں کی ہے ، شاید کہ تم کَج روی سے بچو۔پھر ہم نے موسیٰؑ  کو کتاب عطا کی تھی جو بھلائی کی روش اختیار کرنے والے انسان پر نعمت کی تکمیل اور ہر ضروری چیز کی تفصیل اور سراسر ہدایت و رحمت تھی (اور اس لیے بنی اسرائیل کو دی گئی تھی کہ) شاید لوگ اپنے رب کی ملاقات پر ایمان لائیں۔۱۳۶ ؏١۹

 

تفسیر

 

۱۲۷-یعنی تمہارے ربّ کے عائد کی ہوئی پابندیاں وہ نہیں ہیں جن میں تم گرفتار ہو، بلکہ اصل پابندیاں یہ ہیں جو اللہ نے انسانی زندگی کو منضبط کرنے کے لیے عائد کی ہیں اور جو ہمیشہ سے شرائع الٰہیہ کی اصل الاُصُول رہی ہیں۔ (تقابل کے لیے ملاحظہ ہو بائیبل کی کتاب خروج ، باب ۲۰)۔

۱۲۸-یعنی نہ خدا کی ذات میں کسی کو اس کا شریک ٹھیراؤ ، نہ اس کی صفات میں، نہ اس کے اختیارات میں، اور نہ اس کے حقوق میں۔

ذات میں شرک یہ ہے کہ جوہرِ اُلُوہیّت میں کسی کو حصّہ دار قرار دیا جائے۔ مثلاً نصاریٰ کا عقیدۂ تثلیث، مشرکین عرب کا فرشتوں کو خدا کی بیٹیاں قرار دینا، اور دُوسرے مشرکین کا اپنے دیوتاؤں اور دیویوں کو اور اپنے شاہی خاندانوں کو جنسِ آلہہ کے افراد قرار دینا۔ یہ سب شرک فی الذّات ہیں۔

صفات میں شرک یہ ہے کہ خدائی صفات جیسی کہ وہ خدا کے لیے ہیں، ویسا ہی اُن کو یا اُن میں سے کسی صفت کو کسی دُوسرے کے لیے قرار دینا۔ مثلاً کسی کے متعلق یہ سمجھنا کہ اس پر غیب کی ساری حقیقتیں روشن ہیں، یا وہ سب کچھ سُنتا اور دیکھتا ہے ، یا وہ تمام نقائص اور تمام کمزوریوں سے منزَّہ اور بالکل بے خطا ہے۔

اختیارات میں شرک یہ ہے کہ خدا ہونے کی حیثیت سے جو اختیارات صرف اللہ کے لیے خاص ہیں اُن کو یا ان میں سے کسی کو اللہ کے سوا کسی اور کے لیے تسلیم کیا جائے۔ مثلاً فوق الفطری طریقے سے نفع و ضرر پہنچانا ، حاجت روائی و دستگیری کرنا ، محافظت و نگہبانی کرنا، دُعائیں سُننا اور قسمتوں کو بنانا اور بگاڑنا۔ نیز حرام و حلال اور جائز و ناجائز کی حُدُود مقرر کرنا اور انسانی زندگی کے لیے قانون و شرع تجویز کرنا۔ یہ سب خداوندی کے مخصُوص اختیارات ہیں جن میں سے کسی کو غیر اللہ کے لیے تسلیم کرنا شرک ہے۔

حقوق میں شرک یہ ہے کہ خدا ہونے کی حیثیت سے بندوں پر خدا کے جو مخصوص حقوق ہیں وہ یا ان میں سے کوئی حق خدا کے سوا کسی اور کے لیے مانا جائے۔ مثلاً رکوع و سجود، دست بستہ قیام، سلامی و آستانہ بوسی، شکرِ نعمت یا اعترافِ برتری کے لیے نذر و نیاز اور قربانی ، قضائے حاجات اور رفع مشکلات کے لیے مَنّت، مصائب و مشکلات میں مدد کے لیے پکارا جانا، اور ایسی ہی پرستش و تعظیم و تمجید کی دُوسری تمام صُورتیں اللہ کے مخصُوص حقوق میں سے ہیں۔ اسی طرح ایسا محبُوب ہونا کہ اس کی محبت پر دُوسری سب محبتیں قربان کی جائیں ، اور ایسا مستحق تقویٰ و خشیت ہونا کہ غیب و شہادت میں اس کی ناراضی اور اس کے حکم کی خلاف ورزی سے ڈرا جائے ، یہ بھی صرف اللہ کا حق ہے۔ اور یہ بھی اللہ ہی کا حق ہے کہ اس کی غیر مشروط اطاعت کی جائے ، اور اس کی ہدایت کو صحیح و غلط کا معیار مانا جائے ، اور کسی ایسی اطاعت کا حلقہ اپنی گردن میں نہ ڈالا جائے جو اللہ کی اطاعت سے آزاد ایک مستقل اطاعت ہو اور جس کے حکم کے لیے اللہ کے حکم کی سند نہ ہو۔ ان حقوق میں سے جو حق بھی دُوسرے کو دیا جائے گا وہ اللہ کا شریک ٹھیرے گا خواہ اس کو خدائی ناموں سے کوئی نام دیا جائے یا نہ دیا جائے۔

۱۲۹-نیک سلوک میں ادب ، تعظیم، اطاعت، رضا جوئی، خدمت ، سب داخل ہیں۔ والدین کے اس حق کو قرآن میں ہر جگہ توحید کے حکم کے بعد بیان فرمایا گیا ہے جس سے صاف ظاہر ہے کہ خدا کے بعد بندوں کے حقوق میں سب سے مقدم حق انسان پر اس کے والدین کا ہے۔

۱۳۰-اصل میں لفظ ’’فواحش‘‘ استعمال ہوا ہے جس کا اطلاق اُن تمام افعال پر ہوتا ہے جن کی بُرائی بالکل واضح ہے۔ قرآن میں زنا ، عملِ  قومِ لوط ، برہنگی، جھُوٹی تُہمت، اور باپ کی منکوحہ سے نکاح کرنے کو فحش افعال میں شمار کیا گیا ہے۔ حدیث میں چوری اور شراب نوشی اور بھیک مانگنے کو مِن جملۂ فواحش کہا گیا ہے۔ اِسی طرح دُوسرے تمام شرمناک افعال بھی فواحش میں داخل ہیں اور ارشادِ الٰہی یہ ہے کہ اس قسم کے افعال نہ علانیہ کیے جائیں نہ چھُپ کر۔

۱۳۱-یعنی انسانی جان، جو فی الاصل خدا کی طرف سے حرام ٹھیرائی گئی ہے ، ہلاک نہ کی جائے گی مگر حق کے ساتھ۔ اب رہا یہ سوال کہ ’’حق کے ساتھ‘‘ کا کیا مفہُوم ہے ، تو اس کی تین صُورتیں قرآن میں بیان کی گئی ہیں، اور دو صُورتیں اس پر زائد، نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بیان فرمائی ہیں۔ قرآن کی بیان کردہ صُورتیں یہ ہیں:

(۱) انسان کسی دُوسرے انسان کے قتلِ  عمد کا مجرم ہو اور اس پر قصاص کا حق قائم ہو گیا ہو۔

(۲) دینِ حق کے قیام کی راہ میں مزاحم ہو اور اس سے جنگ کیے بغیر چارہ نہ رہا ہو۔

(۳) دار الاسلام کے حُدُود میں بد امنی پھیلائے یا اسلامی نظامِ حکومت کو اُلٹنے کی سعی کرے۔

باقی دو صُورتیں جو حدیث میں ارشاد ہوئی ہیں ، یہ ہیں:

(۴) شادی شدہ ہونے کے باوجود زنا کرے۔

(۵) ارتداد اور خروج از جماعت کا مرتکب ہو۔

اِن پانچ صُورتوں کے سوا کسی صُورت میں انسان کا قتل انسان کے لیے حلال نہیں ہے ، خواہ وہ مومن ہو یا ذمّی یا عام کافر۔

۱۳۲-یعنی ایسا طریقہ جو زیادہ سے زیادہ بے غرضی، نیک نیتی اور یتیم کی خیر خواہی پر مبنی ہو، اور جس پر خدا اور خلق کسی کی طرف سے بھی تم اعتراض کے مستحق نہ ہو۔

۱۳۳-یہ اگرچہ شریعتِ الٰہی کا ایک مستقل اُصُول ہے ، لیکن یہاں اس کے بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ جو شخص اپنی حد تک تاپ تول اور لین دین کے معاملات میں راستی و انصاف سے کام لینے کی کوشش کرے وہ اپنی ذمہ داری سے سبکدوش ہو جائے گا۔ بھُول چوک یا نا دانستہ کمی وہ بیشی ہو جانے پر اس سے باز پُرس نہ ہو گی۔

۱۳۴-’’اللہ کے عہد‘‘ سے مراد وہ عہد بھی ہے جو انسان اپنے خدا سے کرے ، اور وہ بھی جو خدا کا نام لے کر بندوں سے کرے ، اور وہ بھی جو انسان اور خدا، اور انسان اور انسان کے درمیان اُسی وقت آپ سے آپ بندھ جاتا ہے جس وقت ایک شخص خدا کی زمین میں ایک انسانی سوسائیٹی کے اندر پیدا ہوتا ہے۔

۱۳۵-اوپر جس فطری عہد کا ذکر ہوا ، یہ اس عہد کا لازمی اقتضا ہے کہ انسان اپنے رب کے بتائے ہوئے راستہ پر چلے ، کیونکہ اس کے امر کی پیروی سے منہ موڑنا اور خود سری و خود مختاری یا بندگیِ غیر کی جانب قدم بڑھانا انسان کی طرف سے اُس عہد کی اوّلین خلاف ورزی ہے جس کے بعد ہر قدم پر اس کی دفعات ٹوٹتی چلی جاتی ہیں۔ علاوہ بریں اس نہایت نازک، نہایت وسیع اور نہایت پیچیدہ عہد کی ذمہ داریوں سے انسان ہر گز عہدہ برآ نہیں ہو سکتا جب تک وہ خدا کی رہنمائی کو قبول کر کے اس کے بتائے ہوئے راستہ پر زندگی بسر نہ کرے۔ اس کو قبول نہ کرنے کے دو زبردست نقصان ہیں۔ ایک یہ کہ ہر دُوسرے راستہ کی پیروی لازماً انسان کو اس راہ سے ہٹا دیتی ہے جو خدا کے قرب اور اس کی رضا تک پہنچنے کی ایک ہی راہ ہے۔ دُوسرے یہ کہ اس راہ سے ہٹتے ہی بے شمار پگڈنڈیاں سامنے آ جاتی ہیں جن میں بھٹک کر پُوری نوعِ انسانی پراگندہ ہو جاتی ہے اور اس پراگندگی کے ساتھ ہی اس کے بلوغ و ارتقاء کا خواب بھی پریشان ہو کر رہ جاتا ہے۔ انہی دونوں نقصانات کو اس فقرے میں بیان کیا گیا ہے کہ ’’دُوسرے راستوں پر نہ چلو کہ وہ تمہیں اس کے راستہ سے ہٹا کر پراگندہ کر دیں گے ‘‘۔ (ملاحظہ ہو سُورۂ مائدہ ، حاشیہ نمبر ۳۵)۔

۱۳۶-رب کی ملاقات پر ایمان لانے سے مراد اپنے آپ کو اللہ کے سامنے جواب دہ سمجھنا اور ذمہ دارانہ زندگی بسر کرنا ہے۔ یہاں اس ارشاد کے دو مطلب ہو سکتے ہیں۔ ایک یہ کہ خود بنی اسرائیل میں اس کتاب کی حکیمانہ تعلیمات سے ذمّہ داری کا احساس بیدار ہو جائے۔ دوسرے یہ کہ عام لوگ اس اعلیٰ درجہ کے نظامِ زندگی کا مطالعہ کر کے اور نیکو کار انسانوں میں اِس نعمتِ ہدایت اور اس رحمت کے اثرات دیکھ کر یہ محسُوس کر لیں کہ انکارِ آخرت کی غیر ذمّہ دارانہ زندگی کے مقابلہ میں وہ زندگی ہر اعتبار سے بہتر ہے جو اقرارِ آخرت کی بُنیاد پر ذم دارانہ طریقہ سے بسر کی جاتی ہے ، اور اس طرح یہ مشاہدہ و مُطالعہ انھیں انکار سے ایمان کی طرف کھینچ لائے۔

 

ترجمہ

 

اور اسی طرح یہ کتاب ہم نے نازل کی ہے ، ایک برکت والی کتاب۔ پس تم اِس کی پیروی کرو اور تقویٰ کی روش اختیار کرو، بعید نہیں کہ تم پر رحم کیا جائے۔ اب تم یہ نہیں کہہ سکتے کہ کتاب تو ہم سے پہلے کے دو گروہوں کو دی گئی تھی،۱۳۷ اور ہم کو کچھ خبر نہ تھی کہ وہ کیا پڑھتے پڑھاتے تھے۔ اور اب تم یہ بہانہ بھی نہیں کر سکتے کہ اگر ہم پر کتاب نازل کی گئی ہوتی تو ہم ان سے زیادہ راست رو ثابت ہوتے۔ تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے ایک دلیلِ روشن اور ہدایت اور رحمت آ گئی ہے ، اب اس سے بڑھ کر ظالم کون ہو گا جو اللہ کی آیات کو جھٹلائے اور ان سے منہ موڑے۔۱۳۸ جو لوگ ہماری آیات سے منہ موڑتے ہیں انہیں اس رُوگردانی کی پاداش میں ہم بدترین سزا دے کر رہیں گے۔کیا اب لوگ اس کے منتظر ہیں کہ ان کے سامنے فرشتے آ کھڑے ہوں، یا تمہارا رب خود آ جائے ، یا تمہارے رب کی بعض صریح نشانیاں نمودار ہو جائیں؟ جس روز تمہارے رب کی بعض مخصوص نشانیاں نمودار ہو جائیں ۱۳۹ گی پھر کسی ایسے شخص کو اس کا ایمان کچھ فائدہ نہ دے گا جو پہلے ایمان نہ لایا ہو یا جس نے اپنے ایمان میں کوئی بھلائی نہ کمائی ہو۔۱۴۰ اے محمد ؐ ! ان سے کہہ دوکہ اچھا، تم انتظار کرو، ہم بھی انتظار کرتے ہیں۔جن لوگوں نے اپنے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا اور گروہ گروہ بن گئے یقیناً ان سے تمہارا کچھ واسطہ نہیں،۱۴۱ ان کا معاملہ تو اللہ کے سپرد ہے ، وہی ان کو بتائے گا کہ انہوں نے کیا کچھ کیا ہے۔جو اللہ کے حضور نیکی لے کر آئے گا اس کے لیے دس ۱۰ گنا اجر ہے ، اور جو بدی لے کر آئے گا اس کو اتنا ہی بدلہ دیا جائے گا جتنا اس نے قصُور کیا ہے ، اور کسی پر ظلم نہ کیا جائے گا۔اے محمد ؐ ! کہو میرے رب نے بالیقین مجھے سیدھا راستہ دکھا دیا ہے ، بالکل ٹھیک دین جس میں کوئی ٹیڑھ نہیں، ابراہیمؑ  کا طریقہ ۱۴۲ جسے یکسُو ہو کر اُس نے اختیار کیا تھا اور وہ مشرکوں میں سے نہ تھا۔کہو، میری نماز، میرے تمام مراسِم عبودیت،۱۴۳ میرا جینا اور میرا مرنا، سب کچھ اللہ رب العالمین کے لیے ہے ،جس کا کوئی شریک نہیں۔ اسی کا مجھے حکم دیا گیا ہے اور سب سے پہلے سرِ اطاعت جھکانے والا میں ہوں۔کہو، کیا میں اللہ کے سوا کوئی اور رب تلاش کروں حالانکہ وہی ہر چیز کا رب ہے ؟۱۴۴ ہر شخص جو کچھ کماتا ہے اس کا ذمہ دار وہ خود ہے ، کوئی بوجھ اُٹھانے والا دُوسرے کا بوجھ نہیں اُٹھاتا،۱۴۵ پھر تم سب کو اپنے رب کی طرف پلٹنا ہے ، اُس وقت وہ تمہارے اختلافات کی حقیقت تم پر کھول دے گا وہی ہے جس نے تم کو زمین کا خلیفہ بنایا، اور تم میں سے بعض کو بعض کے مقابلہ میں زیادہ بلند درجے دیے ، تاکہ جو کچھ تم کو دیا ہے اس میں تمہاری آزمائش کرے۔۱۴۶ بے شک تمہارا رب سزا دینے میں بھی بہت تیز ہے اور بہت درگزر کرنے اور رحم فرمانے والا بھی ہے۔ ؏۲۰

 

تفسیر

 

۱۳۷-یعنی یہود و نصاریٰ کو۔

۱۳۸-اللہ کی آیات سے مراد اس کے وہ ارشادات بھی ہیں جو قرآن کی صورت میں لوگوں کے سامنے پیش کیے جا رہے تھے ، اور وہ نشانیاں بھی جو نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی شخصیت اور آپ پر ایمان لانے والوں کی پاکیزہ زندگی میں نمایاں نظر آ رہی تھیں، اور وہ آثارِ کائنات بھی جنھیں قرآن اپنی دعوت کی تائید میں شہادت کے طور پر پیش کر رہا تھا۔

۱۳۹-یعنی آثارِ قیامت ، یا عذاب، یا کوئی اور ایسی نشانی جو حقیقت کی بالکل پردہ کشائی کر دینے والی ہو اور جس کے ظاہر ہو جانے کے بعد امتحان و آزمائش کا کوئی سوال باقی نہ رہے۔

۱۴۰-یعنی ایسی نشانیوں کو دیکھ لینے کے بعد اگر کوئی کافر اپنے کفر سے توبہ کر کے ایمان لے آئے تو اس کا ایمان لانا بے معنی ہے ، اور اگر کوئی نافرمان مومن اپنی نافرمانی کی روش چھوڑ کر اطاعت کیش بن جائے تو اس کی اطاعت بھی بے معنی، اس لیے کہ ایمان اور اطاعت کی قدر تو اسی وقت تک ہے جب تک حقیقت پر دے میں ہے ، مُہلت کی رسّی دراز نظر آ رہی ہے ، اور دنیا اپنی ساری متاعِ غرور کے ساتھ یہ دھوکا دینے کے لیے موجود ہے کہ کیسا خدا اور کہاں کی آخرت، بس کھاؤ پیو اور مزے کرو۔

۱۴۱-خطاب بنی صلی اللہ علیہ و سلم سے ہے ، اور آپ کے واسطہ سے دینِ حق کے تمام پیرو اس کے مخاطب ہیں۔ ارشاد کا مدعا یہ ہے کہ اصل دین ہمیشہ سے یہی رہا ہے اور اب بھی یہی ہے کہ ایک خدا کو الٰہ اور ربّ مانا جائے۔ اللہ کی ذات، صفات ، اختیارات اور حقوق میں کسی کو شریک نہ کیا جائے۔ اللہ کے سامنے اپنے آپ کو جواب دہ سمجھتے ہوئے آخرت پر ایمان لایا جائے ، اور اُن وسیع اُصُول و کُلّیات کے مطابق زندگی بسر کی جائے جن کی تعلیم اللہ نے اپنے رسولوں اور کتابوں کے ذریعہ سے دی ہے۔ یہی دین تمام انسانوں کو اوّل یومِ پیدائش سے دیا گیا تھا۔ بعد میں جتنے مختلف مذاہب بنے وہ سب کے سب اس طرح بنے کہ مختلف زمانوں کے لیے لوگوں نے اپنے ذہن کی غلط اُپَج سے ، یا خواہشاتِ نفس کے غلبہ سے ، یا عقیدت کے غلو سے اس دین کو بدلا اور اس میں نئی نئی باتیں ملائیں۔ اس کے عقائد میں اپنے اوہام و قیاسات اور فلسفوں سے کمی و بیشی اور ترمیم و تحریف کی۔ اس کے احکام میں بدعات کے اضافے کیے۔ خود ساختہ قوانین بنائے۔ جُزئیات میں موشگافیاں کیں۔ فروعی اختلافات میں مبالغہ کیا۔ اہم کو غیر اہم اور غیر اہم کو اہم بنایا۔ اس کے لانے والے انبیاء اور اس کے علمبردار بزرگوں میں سے کسی کی عقیدت میں غلو کیا اور کسی کو بغض و مخالفت کا نشانہ بنایا۔ اس طرح بے شمار مذاہب اور فرقے بنتے چلے گئے اور ہر مذہب و فرقہ کی پیدائش نوعِ انسانی کو متخاصم گروہوں میں تقسیم کرتی چلی گئی۔ اب جو شخص بھی اصل دینِ  حق کا پیرو ہو اس کے لیے ناگزیر ہے کہ ان ساری گروہ بندیوں سے الگ ہو جائے اور ان سب سے اپنا راستہ جدا کر لے۔

۱۴۲-’’ابراہیمؑ  کا طریقہ‘‘ یہ اس راستے کی نشان دہی کے لیے مزید ایک تعریف ہے۔ اگرچہ اس کو موسیٰؑ  کا طریقہ یا عیسیٰؑ  کا طریقہ بھی کہا جا سکتا تھا، مگر حضرت موسیٰؑ  کی طرف دُنیا نے یہودیّت کو اور حضرت عیسیٰؑ  کی طرف مسیحیت کو منسُوب کر رکھا ہے ، اس لیے ’’ابراہیمؑ  کا طریقہ‘‘ فرمایا۔ حضرت ابراہیمؑ  کو یہُودی اور عیسائی ، دونوں گروہ بر حق تسلیم کرتے ہیں، اور دونوں یہ بھی جانتے ہیں کہ وہ یہودیّت اور عیسائیّت کی پیدائش سے بہت پہلے گزر چکے تھے۔ نیز مشرکینِ عرب بھی ان کو راست رَ و مانتے تھے اور اپنی جہالت کے باوجود کم از کم اتنی بات انھیں بھی تسلیم تھی کہ کعبہ کی بنا رکھنے والا پاکیزہ انسان خالص خدا پرست تھا نہ کہ بُت پرست۔

۱۴۳-اصل میں لفظ ’’نُسُک‘‘ استعمال ہوا ہے جس کے معنی قربانی کے بھی ہیں اور اس کا اطلاق عمومیّت کے ساتھ بندگی و پرستش کی دُوسری تمام صُورتوں پر بھی ہوتا ہے۔

۱۴۴-یعنی کائنات کی ساری چیزوں کا ربّ تو اللہ ہے ، میرا ربّ کوئی اور کیسے ہو سکتا ہے ؟ کس طرح یہ بات معقول ہو سکتی ہے کہ ساری کائنات تو اللہ کی اطاعت کے نظام پر چل رہی ہو ، اور کائنات کا ایک جزء ہونے کی حیثیت سے میرا اپنا وجود بھی اُسی نظام پر عامل ہو، مگر میں اپنی شعُوری و اختیاری زندگی کے لیے کوئی اور ربّ تلاش کروں؟ کیا پوری کائنات کے خلاف میں اکیلا ایک دُوسرے رُخ پر چل پڑوں؟

۱۴۵-یعنی ہر شخص خود ہی اپنے عمل کا ذمّہ دار ہے ، اور ایک عمل کی ذمہ داری دُوسرے پر نہیں ہے۔

۱۴۶-اس فقرہ میں تین حقیقتیں بیان کی گئی ہیں:

ایک یہ کہ تمام انسان زمین میں خدا کے خلیفہ ہیں ، اس معنی میں کہ خدا نے اپنی مملوکات میں سے بہت سی چیزیں ان کی امانت میں دی ہیں اور ان پر تصرّف کے اختیارات بخشے ہیں۔

دوسرے یہ کہ ان خلیفوں میں مراتب کا فرق بھی خدا ہی نے رکھا ہے ، کسی کی امانت کا دائرہ وسیع ہے اور کسی کا محدُود ، کسی کو زیادہ چیزوں پر تصرّف کے اختیارات دیے ہیں اور کسی کو کم چیزوں پر ، کسی کو زیادہ قوّتِ کارکردگی دی ہے اور کسی کو کم ، اور بعض انسان بھی بعض انسانوں کی امانت میں ہیں۔

تیسرے یہ کہ یہ سب کچھ دراصل امتحان کا سامان ہے ، پوری زندگی ایک امتحان گاہ ہے ، اور جس کو جو کچھ بھی خدا نے دیا ہے اسی میں اس کا امتحان ہے کہ اس نے کس طرح خدا کی امانت میں تصرّف کیا، کہاں تک امانت کی ذمہ داری کو سمجھا اور اس کا حق ادا کیا، اور کس حد تک اپنی قابلیّت یا ناقابلیّت کا ثبوت دیا۔ اسی امتحان کے نتیجہ پر زندگی کے دُوسرے مرحلے میں انسان کے درجے کا تعین منحصر ہے۔

٭٭٭

 

ماخذ:

http://www.urduquran.net

http://www.tafheemonline.com/tafheem.asp

http://ur.wikipedia.org

تشکر: سبط الحسین

جمع و ترتیب: سبط الحسین، اعجاز عبید

مزید ٹائپنگ: مخدوم محی الدین، کلیم محی الدین،  عبد الحمید

تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید

 

تفہیم القرآن

 

 

۳۔ مائدہ، الانعام

 

 

 

                   مولانا ابو الاعلیٰ مودودی

 

 

 

 

 

 

۵۔ المائدہ

 

نام

 

اس سورت کا نام پندرہویں رکوع کی آیت ھل یستطیع ربک ان ینزل علینا مآئدۃ من السمآ سے ماخوذ ہے۔ قرآن کی بیشتر سورتوں کے ناموں کی طرح اس نام کو بھی سورت کے موضوع سے کوئی خاص تعلق نہیں۔ محض دوسری سورتوں سے ممیز کرنے کے لیے اسے علامت کے طور پر اختیار کیا گیا ہے

 

زمانۂ نزول

 

سورت کے مضامین سے ظاہر ہوتا ہے اور روایات سے اس کی تصدیق ہوتی ہے کہ یہ صلح حدیبیہ کے بعد ۶ ھ کے اواخر یا ۷ھ کے اوائل میں نازل ہوئی ہے۔ ذی القعدہ ۶ ہجری کا واقعہ ہے کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم چودہ سو مسلمانوں کے ساتھ عمرہ ادا کرنے کے لیے مکہ تشریف لے گئے۔ مگر کفار قریش نے عداوت کے جوش میں عرب کی قدیم ترین مذہبی روایات کے خلاف آپ کو عمرہ نہ کرنے دیا اور بڑی رد و کد کے بعد یہ بات قبول کی کہ آئندہ سال آپ زیارت کے لیے آ سکتے ہیں۔ اس موقع پر ضرورت پیش آئی کہ مسلمانوں کو ایک طرف تو زیارت کعبہ کے لیے سفر کے آداب بتائے جائیں تاکہ آئندہ سال عمرے کا سفر پوری اسلامی شان کے ساتھ ہو سکے ، اور دوسری طرف انہیں تاکید کی جائے کہ دشمن کافروں نے ان کو عمرے سے روک کو جو زیادتی کی ہے اس کے جواب میں وہ خود کوئی ناروا زیادتی نہ کریں ، اس لیے کہ بہت سے کافر قبائل کے حج کا راستہ اسلامی مقبوضات سے گزرتا تھا اور مسلمانوں کے لیے یہ ممکن تھا کہ جس طرح انہیں زیارت کعبہ سے روکا گیا ہے اسی طرح وہ بھی ان کو روک دیں۔ یہی تقریب ہے اس تمہیدی تقریر کی جس سے اس سورت کا آغاز ہوا ہے۔ آگے چل کر تیرہویں رکوع میں پھر اسی مسئلے کو چھیڑا گیا ہے جو اس بات کا ثبوت ہے کہ پہلے رکوع سے چودھویں رکوع تک ایک ہی سلسلۂ تقریر چل رہا ہے۔ اس کے علاوہ جو دوسرے مضامین اس سورت میں ہم کو ملتے ہیں وہ بھی سب کے سب اسی دور کے معلوم ہوتے ہیں۔

بیان کے تسلسل سے غالب گمان یہی ہوتا ہے کہ یہ پوری سورت ایک ہی خطبہ پر مشتمل ہے جو بیک وقت نازل ہوا ہو گا۔ ہو سکتا ہے کہ متفرق طور پر اس کی بعض آیتیں بعد میں نازل ہوئی ہوں اور مضمون کی مناسبت سے ان کو اس سورت میں مختلف مقامات پر پیوست کر دیا گیا ہو، لیکن سلسلۂ بیان میں کہیں کوئی خفیف سے خلا بھی محسوس نہیں ہوتا جس سے یہ قیاس کیا جا سکے کہ یہ سورت دو یا تین خطبوں کا مجموعہ ہے۔

 

شان نزول

 

سورہ آل عمران اور سورہ نساء کے زمانۂ نزول سے اس سورت کے نزول تک پہنچتے پہنچتے حالات میں بہت بڑا تغیر واقع ہو چکا تھا۔ یا تو وہ وقت تھا کہ جنگ احد کے صدمے نے مسلمانوں کے لیے مدینے کے قریبی ماحول کو بھی پرخطر بنا دیا تھا یا اب یہ وقت آ گیا کہ عرب میں اسلام ایک ناقابل شکست طاقت نظر آنے لگا اور اسلامی ریاست ایک طرف نجد تک، دوسری طرف حدود شام تک، تیسری طرف ساحلِ بحیرہ احمر تک اور چوتھی طرف مکہ کے قریب تک پھیل گئی۔ احد میں جو زخم مسلمانوں نے کھایا تھا وہ ان کی ہمتیں توڑنے کے بجائے ان کے عزم کے لیے ایک اور تازیانہ ثابت ہوا۔ وہ زخمی شیر کی طرح بپھر کر اٹھے ، اور تین سال کی مدت میں انہوں نے نقشہ بدل کر رکھ دیا۔ ان کی مسلسل جدوجہد اور سرفروشیوں کا ثمرہ یہ تھا کہ مدینے کے چاروں طرف ڈیڑھ ڈیڑھ دو دو سو میل تک تمام مخالف قبائل کا زور ٹوٹ گیا۔ مدینہ پر جو یہودی خطرہ منڈلاتا رہتا تھا اس کا ہمیشہ کے لیے استیصال ہو گیا اور حجاز میں دوسرے مقامات پر بھی جہاں جہاں یہودی آباد تھے ،سب مدینے کی حکومت کے باج گذار بن گئے۔ اسلام کو دبانے کے لیے قریش نے آخری کوشش غزوۂ خندق کے موقع پر کی اور اس میں وہ سخت ناکام ہوئے۔ اس کے بعد اہل عرب کو اس امر میں کچھ شک نہ رہا کہ اسلام کی یہ تحریک اب کسی کے مٹائے نہیں مٹ سکتی۔ اب اسلام محض ایک عقیدہ و مسلک ہی نہ تھا جس کی حکمرانی صرف دلوں اور دماغوں تک محدود ہو، بلکہ وہ ایک ریاست بھی تھا جس کی حکمرانی عملاً اپنے حدود میں رہنے والے تمام لوگوں کی زندگی پر محیط تھی۔ اب مسلمان اس طاقت کے مالک ہو چکے تھے کہ جس مسلک پر وہ ایمان لائے تھے ، بے روک ٹوک اس کے مطابق زندگی بسر کر سکیں اور اس کے سوا کسی دوسرے عقیدہ و مسلک یا قانون کو اپنے دائرۂ حیات میں دخل انداز نہ ہونے دیں۔

پھر ان چند برسوں میں اسلامی اصول اور نقطۂ نظر کے مطابق مسلمانوں کی اپنی ایک مستقل تہذیب بن چکی تھی جو زندگی کی تمام تفصیلات میں دوسروں سے الگ اپنی ایک امتیازی شان رکھتی تھی۔ اخلاق، معاشرت، تمدن، ہر چیز میں اب مسلمان غیر مسلموں سے بالکل ممیز تھے۔ تمام اسلامی مقبوضات میں مساجد اور نماز با جماعت کا نظم قائم ہو گیا تھا، ہر بستی اور ہر قبیلے میں امام مقرر تھے ، اسلامی قوانینِ دیوانی و فوجداری بڑی حد تک تفصیل کے ساتھ بن چکے تھے اور اپنی عدالتوں کے ذریعے نافذ کیے جا رہے تھے۔ لین دین اور خرید و فروخت کے پرانے معاملات بند اور نئے اصلاح شدہ طریقے رائج ہو چکے تھے۔ وراثت کا مستقل ضابطہ بن گیا تھا۔ نکاح اور طلاق کے قوانین، پردۂ شرعی کے احکام اور زنا و قذف کی سزائیں جاری ہونے سے مسلمانوں کی معاشرتی زندگی ایک خاص سانچے میں ڈھل گئی۔ مسلمانوں کی نشست و برخاست، بول چال، کھانے پینے ، وضع قطع اور رہنے سہنے کے طریقے تک اپنی ایک مستقل شکل اختیار کر چکے تھے۔ اسلامی زندگی کی ایسی مکمل صورت گری ہو جانے کے بعد غیر مسلم دنیا اس طرف سے قطعی مایوس ہو چکی تھی کہ یہ لوگ، جن کا اپنا ایک الگ تمدن بن چکا ہے ، پھر کبھی ان میں آ ملیں گے۔

صلح حدیبیہ سے پہلے تک مسلمانوں کے راستے میں ایک بڑی رکاوٹ یہ تھی کہ وہ کفار قریش کے ساتھ ایک مسلسل کشمکش میں الجھے ہوئے تھے اور انہیں اپنی دعوت کا دائرہ وسیع کرنے کی مہلت نہ ملتی تھی۔ اس رکاوٹ کو حدیبیہ کی ظاہری شکست اور حقیقی فتح نے دور کر دیا۔ اس سے ان کو نہ صرف یہ کہ اپنی ریاست کے حدود میں امن میسر آ گیا، بلکہ اتنی مہلت بھی مل گئی کہ گردو و پیش کے علاقوں میں اسلام کی دعوت کو لے کر پھیل جائیں۔ چنانچہ اس کا افتتاح نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ایران، روم، مصر اور عرب کے بادشاہوں اور رؤسا کو خطوط لکھ کر کیا اور اس کے ساتھ ہی قبائل اور اقوام میں مسلمانوں کے داعی خدا کے بندوں کو اس کے دین کی طرف بلانے کے لیے پھیل گئے۔

 

مباحث

 

یہ حالات تھے جب سورۂ مائدہ نازل ہوئی۔ یہ سورت حسب ذیل تین بڑے مضامین پر مشتمل ہے :

 

۱. مسلمانوں کی مذہبی، تمدنی اور سیاسی زندگی کے متعلق مزید احکام و ہدایات۔ اس سلسلے میں سفر حج کے آداب مقرر کئے گئے ، شعائر اللہ کے احترام اور زائرین کعبہ سے عدم تعرض کا حکم دیا گیا، کھانے پینے کی چیزوں میں حرام و حلال کے قطعی حدود قائم کیے گئے اور دورِ جاہلیت کی خود ساختہ بندشوں کو توڑ دیا گیا، اہل کتاب کے ساتھ کھانے پینے اور ان کی عورتوں سے نکاح کرنے کی اجازت دی گئی، وضو اور غسل اور تیمم کے قاعدے مقرر کیے گئے ، بغاوت اور فساد اور سرقہ کی سزائیں متعین کی گئیں ، شراب اور جوئے کو قطعی حرام کر دیا گیا، قسم توڑنے کا کفارہ مقرر کیا گیا،اور قانون شہادت میں مزید چند دفعات کا اضافہ کیا گیا۔

۲. مسلمانوں کو نصیحت۔ اب چونکہ مسلمان ایک گروہ بن چکے تھے ، ان کے ہاتھ میں طاقت تھی، جس کا نشہ قوموں کے لیے اکثر گمراہی کا سبب بنتا رہا ہے ، مظلومی کا دور خاتمے پر تھا اور اس سے زیادہ سخت آزمائش کے دور میں وہ قدم رکھ رہے تھے ، اس لیے ان کو خطاب کرتے ہوئے بار بار نصیحت کی گئی کہ عدل پر قائم رہیں ، اپنے پیش رو اہل کتاب کی روش سے بچیں ، اللہ کی اطاعت و فرمانبرداری اور اس کے اسلام کی پیروی کا جو عہد انہوں نے کیا ہے اس پر ثابت قدم رہیں اور یہود و نصاریٰ کی طرح اس کو توڑ کر اس انجام سے دو چار نہ ہوں جس سے وہ دو چار ہوئے۔ اپنے جملہ معاملات کے فیصلوں میں کتاب الٰہی کے پابند رہیں ، اور منافقت کی روش سے اجتناب کریں۔

۳. یہودیوں اور عیسائیوں کو نصیحت۔ یہودیوں کا زور اب ٹوٹ چکا تھا اور شمالی عرب کی تقریباً تمام یہودی بستیاں مسلمانوں کے زیر نگیں آ گئی تھیں۔ اس موقع پر ان کو ایک بار پھر ان کے غلط رویے پر متنبہ کیا گیا ہے اور انہیں راہ راست پر آنے کی دعوت دی گئی ہے۔ نیز چونکہ صلح حدیبیہ کی وجہ سے عرب اور متصل ممالک کی قوموں میں اسلام کی دعوت پھیلانے کا موقع نکل آیا تھا اس لیے عیسائیوں کو بھی تفصیل کے ساتھ خطاب کر کے ان کے عقائد کی غلطیاں بتائی گئی ہیں اور انہیں نبی عربی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم پر یمان لانے کی دعوت دی گئی ہے۔ ہمسایہ ممالک میں سے جو قومیں بت پرست اور مجوسی تھیں ان کو براہ راست خطاب نہیں کیا گیا کیونکہ ان کی ہدایت کے لیے وہ خطبات کافی تھے جو ان کے ہم مسلک مشرکین کو خطاب کرتے ہوئے مکہ میں نازل ہو چکے تھے۔

 

 

ترجمہ

 

اے لوگو جو ایمان لائے ہو، بندشوں کی پُوری پابندی کرو۔۱ تمہارے لیے مویشی کی قسم کے سب جانور حلال کیے گئے ،۲ سوائے اُن کے جو آگے چل کر تم کو بتائے جائیں گے۔ لیکن احرام کی حالت میں شکار کو اپنے لیے حلال نہ کر لو،۳ بے شک اللہ جو چاہتا ہے حکم دیتا ہے۔۴ اے لوگو جو ایمان لائے ہو، خدا پرستی کی نشانیوں کو بے حُرمت نہ کرو۔۔۔۔۵ نہ حرام مہینوں میں سے کسی کو حلال کر لو، نہ قربانی کے جانوروں پر دست درازی کرو، نہ اُن جانوروں پر ہاتھ ڈالو جن کی گردنوں میں نذرِ خداوندی کی علامت کے طور پر پٹے پڑے ہوئے ہوں، نہ اُن لوگوں کو چھیڑو جو اپنے رب کے فضل اور اس کی خوشنودی کی تلاش میں مکانِ محترم (کعبہ) کی طرف جا رہے ہوں۔۶ ہاں جب احرام کی حالت ختم ہو جائے تو شکار تم کر سکتے ہو۔۔۔۔۷ اور دیکھو، ایک گروہ نے جو تمہارے لیے مسجدِ حرام کا راستہ بند کر دیا ہے تو اس پر تمہارا غصّہ تمہیں اتنا مشتعل نہ کر دے کہ تم بھی ان کے مقابلہ میں ناروا زیادتیاں کرنے لگو۔۸ نہیں ! جو کام نیکی اور خدا ترسی کے ہیں ان میں سب سے تعاون کرو اور جو گناہ اور زیادتی کے کام ہیں ان میں کسی سے تعاون نہ کرو۔ اللہ سے ڈرو، اس کی سزا بہت سخت ہے۔ تم پر حرام کیا گیا مُردار،۹ خُون، سُور کا گوشت، وہ جانور جو خدا کے سوا کسی اور کے نام پر ذبح کیا گیا ہو،۱۰ وہ جو گلا گھُٹ کر، یا چوٹ کھا کر، یا بلندی سے گِر کر، یا ٹکر کھا کر مرا ہو، یا جسے کسی درندے نے پھاڑا ہو۔۔۔۔سوائے اس کے جسے تم نے زندہ پا کر ذبح کر لیا۔۔۔۔اور ۱۱ وہ جو کسی آستانے ۱۲ پر ذبح کیا گیا ہو۔۱۳ نیز یہ بھی تمہارے لیے ناجائز ہے کہ پانْسوں کے ذریعہ سے اپنی قسمت معلوم کرو۔۱۴ یہ سب افعال فسق ہیں۔ آج کافروں کو تمہارے دین کی طرف سے پُوری مایوسی ہو چکی ہے لہٰذا تم اُن سے نہ ڈرو بلکہ مجھ سے ڈرو۔۱۵ آج میں نے تمہارے دین کو تمہارے لیے مکمل کر دیا ہے اور اپنی نعمت تم پر تمام کر دی ہے اور تمہارے لیے اسلام کو تمہارے دین کی حیثیت سے قبول کر لیا ہے (لہٰذا حرام و حلال کی جو قیُود تم پر عائد کر دی گئی ہیں اُن کی پابندی کرو)۱۶۔ البَتّہ جو شخص بھُوک سے مجبُور ہو کر اُن میں سے کوئی چیز کھا لے ، بغیر اس کے کہ گناہ کی طرف اس کا میلان ہو تو بیشک اللہ معاف کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے۔۱۷ لوگ پُوچھتے ہیں کہ ان کے لیے کیا حلال کیا گیا ہے ، کہو تمہارے لیے ساری پاک چیزیں حلال کر دی گئی ہیں۔۱۸ اور جن شکاری جانوروں کو تم نے سَدھا یا ہو۔۔۔۔جن کو خدا کے دیے ہوئے علم کی بنا پر تم شکار کی تعلیم دیا کرتے ہو۔۔۔۔وہ جس جانور کو تمہارے لیے پکڑ رکھیں اس کو بھی تم کھا سکتے ہو،۱۹ البتہ اس پر اللہ کا نام لے لو ۲۰ اور اللہ کا قانون توڑنے سے ڈرو، اللہ کو حساب لیتے کچھ دیر نہیں لگتی۔ آج تمہارے لیے ساری پاک چیزیں حلال کر دی گئی ہیں۔ اہلِ کتاب کا کھانا تمہارے لیے حلال ہے اور تمہارا کھانا اُن کے لیے۔۲۱ اور محفوظ عورتیں بھی تمہارے لیے حلال ہیں خواہ وہ اہلِ ایمان کے گروہ سے ہوں یا اُن قوموں میں سے جن کو تم سے پہلے کتاب دی گئی تھی،۲۲ بشرطیکہ تم اُن کے مہر ادا کر کے نکاح میں اُن کے محافظ بنو، نہ یہ کہ آزاد شہوت رانی کرنے لگو یا چوری چھُپے آشنائیاں کرو۔ اور جس کسی نے ایمان کی روش پر چلنے سے انکار کیا تو اس کا سارا کا سارا کارنامۂ زندگی ضائع ہو جائے گا اور وہ آخرت میں دیوالیہ ہو گا۔۲۳ ؏١

 

تفسیر

 

۱-یعنی اُن حُدُود اور قیُود کی پابندی کرو جو اس سُورۃ میں تم پر عائد کی جا رہی ہیں، اور جو بالعمُوم خدا کی شریعت میں تم پر عائد کی گئی ہیں۔ اس مختصر سے تمہیدی جملہ کے بعد ہی اُن بندشوں کا بیان شروع ہو جاتا ہے جن کی پابندی کا حکم دیا گیا ہے۔

۲-’’اَنعام‘‘ (مویشی) کا لفظ عربی زبان میں اُونٹ ، گائے ، بھیڑ اور بکری پر بولا جاتا ہے۔ اور ’’بہیمہ‘‘ کا اطلاق ہر چَرنے والے چوپائے پر ہوتا ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا ہوتا کہ انعام تمہارے لیے حلال کیے گئے ، تو اس سے صرف وہی چار جانور حلال ہوتے جنہیں عربی میں ’’انعام ‘‘ کہتے ہیں۔ لیکن حکم اِن الفاظ میں دیا گیا ہے کہ ’’مویشی کی قسم کے چرند و چوپائے تم پر حلال کیے گئے ‘‘۔ اس سے حکم وسیع ہو جاتا ہے اور وہ سب چرندے جانور اس کے دائرے میں آ جاتے ہیں جو مویشی کی نوعیّت کے ہوں۔ یعنی جو کچلیاں نہ رکھتے ہوں، حیوانی غذا کے بجائے نباتی غذا کھاتے ہوں، اور دُوسری حیوانی خصُوصیات میں اَنعامِ عرب سے مماثلت رکھتے ہوں۔ نیز اس سے اشارۃً یہ بات بھی مترشح ہو تی ہے کہ وہ چوپائے جو مویشیوں کے بر عکس کچلیاں رکھتے ہوں اور دُوسرے جانوروں کو مار کر کھاتے ہوں، حلال نہیں ہیں۔ اسی اشارے کو نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے واضح کر کے حدیث میں صاف حکم دے دیا کہ درندے حرام ہیں۔ اسی طرح حضور نے اُن پرندوں کو بھی حرام قرار دیا ہے جن کے پنجے ہوتے ہیں اور جو دوسرے جانوروں کا شکار کر کے کھاتے ہیں یا مُردار خور ہوتے ہیں۔ ابن عباس کی روایت ہے کہ، نھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم عن کل ذی ناب من ا لسباع و کل ذی مخلب من الطیر۔ دُوسرے متعدّد صحابہ سے بھی اس کی تائید میں روایات منقول ہیں۔

۳-’’احرام‘‘ اُس فقیرانہ لباس کو کہتے ہیں جو زیارت کعبہ کے لیے پہنا جاتا ہے۔ کعبہ کے گرد کئی کئی منزل کے فاصلہ پر ایک حد مقرر کر دی گئی ہے جس سے آگے بڑھنے کی کسی زائر کو اجازت نہیں جب تک کہ وہ اپنا معمُولی لباس اُتار کر احرام کا لباس نہ پہن لے۔ اس لباس میں صرف ایک تَہمت ہوتا ہے اور ایک چادر جو اُوپر سے اوڑھی جاتی ہے۔ اسے احرام اس لیے کہتے ہیں کہ اسے باندھنے کے بعد آدمی پر بہت سی وہ چیزیں حرام ہو جاتی ہیں جو معمُولی حالات میں حلال ہیں، مثلاً حجامت، خوشبو کا استعمال، ہر قسم کی زینت و آرائش اور قضا ء شہوت وغیرہ۔ انہی پابندیوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ کسی جاندار کو ہلاک نہ کیا جائے ، نہ شکار کیا جائے اور نہ کسی کو شکار کا پتہ دیا جائے۔

۴-یعنی اللہ حاکمِ مطلق ہے ، اسے پُورا اختیار ہے کہ جو چاہے حکم دے۔ بندوں کو اُس کے احکام میں چون و چرا کرنے کا کوئی حق نہیں۔ اگر چہ اس کے تمام احکام حکمت و مصلحت پر مبنی ہیں ، لیکن بندۂ مسلم اس کے حکم کی اطاعت اس حیثیت سے نہیں کرتا کہ وہ اسے مناسب پاتا ہے یا مبنی بر مصلحت سمجھتا ہے ، بلکہ صرف اس بنا پر کرتا ہے کہ یہ مالک کا حکم ہے۔ جو چیز اس نے حرام کر دی ہے وہ صرف اس لیے حرام ہے کہ اس نے حرام کی ہے ، اور اسی طرح جو اس نے حلال کر دی ہے وہ بھی کسی دُوسری بنیاد پر نہیں بلکہ صر ف اس بُنیاد پر حلال ہے کہ جو خدا ان ساری چیزوں کا مالک ہے ، وہ اپنے غلاموں کو اس چیز کے استعمال کی اجازت دیتا ہے۔ لہٰذا قرآن پُورے زور کے ساتھ یہ اُصُول قائم کرتا ہے کہ اشیاء کی حُرمت و حِلّت کے لیے مالک کی اجازت و عدم اجازت کے سوا کسی اور بُنیاد کی قطعاً ضرورت نہیں ، اور اسی طرح بندے کے لیے کسی کام کے جائز ہونے یا نہ ہونے کا مدار بھی اس کے سوا اَور کچھ نہیں کہ خدا جس کو جائز رکھے وہ جائز ہے اور جسے ناجائز قرار دے وہ ناجائز۔

۵-ہر وہ چیز جو کسی مسلک یا عقیدے یا طرزِ فکر و عمل یا کسی نظام کی نمائندگی کرتی ہو وہ اس کا ’’شعار‘‘ کہلائے گی، کیونکہ وہ اس کے لیے علامت یا نشانی کا کام دیتی ہے۔ سرکاری جھنڈے ، فوج اور پولیس وغیرہ کے یونیفارم ، سِکّے ، نوٹ اور اسٹامپ حکومتوں کے شعائر ہیں اور وہ اپنے محکوموں سے ، بلکہ جن جن پر ان کا زور چلے ، سب سے ان کے احترام کا مطالبہ کرتی ہیں۔ گِرجا اور قربان گاہ اور صلیب مسیحیّت کے شعائر ہیں۔ چوٹی اور زنّار اور مندر برہمنیّت کے شعائر ہیں۔ کیس اور کڑا اور کرپان وغیرہ سکھ مذہب کے شعائر ہیں۔ ہتھوڑا اور درانتی اشتراکیّت کا شعار ہیں۔ سواستیکا آریہ نسل پرستی کا شعار ہے۔ یہ سب مسلک اپنے اپنے پیرووں سے اپنے اِن شعائر کے احترام کا مطالبہ کرتے ہیں۔ اگر کوئی شخص کسی نظام کے شعائر میں سے کسی شعار کی توہین کرتا ہے تو یہ اِس بات کی علامت ہے کہ وہ دراصل اُس نظام کے خلاف دُشمنی رکھتا ہے ، اور اگر وہ توہین کرنے والا خود اسی نظام سے تعلق رکھتا ہو تو اس کا یہ فعل اپنے نظام سے ارتداد اور بغاوت کا ہم معنی ہے۔

’’شعائر اللہ‘‘ سے مراد وہ تمام علامات یا نشانیاں ہیں جو شرک و کفر اور دہریّت کے بالمقابل خالص خدا پرستی کے مسلک کی نمائندگی کرتی ہوں۔ ایسی علامات جہاں جس مسلک اور جس نظام میں بھی پائی جائیں مسلمان ان کے احترام پر مامور ہیں ، بشرطیکہ ان کا نفسیاتی پس منظر خالص خدا پرستانہ ہو، کسی مشرکانہ یا کافرانہ تخیّل کی آلودگی سے انہیں ناپاک نہ کر دیا گیا ہو۔ کوئی شخص خواہ وہ غیر مسلم ہی کیوں نہ ہو، اگر اپنے عقیدہ و عمل میں خدائے واحد کی بندگی و عبادت کا کوئی جُزء رکھتا ہے ، تو اس جُزء کی حد تک مسلمان اس سے موافقت کریں گے اور ان شعائر کا بھی پُورا احترام کریں گے جو اس کے مذہب میں خالص خدا پرستی کی علامت ہوں۔ اس چیز میں ہمارے اور اس کے درمیان نزاع نہیں بلکہ موافقت ہے۔ نزاع اگر ہے تو اس امر میں نہیں کہ وہ خدا کی بندگی کیوں کرتا ہے ، بلکہ اس امر میں ہے کہ وہ خدا کی بندگی کے ساتھ دُوسری بندگیوں کی آمیزش کیوں کرتا ہے۔

یاد رکھنا چاہیے کہ شعائر اللہ کے احترام کا یہ حکم اُس زمانہ میں دیا گیا تھا جبکہ مسلمانوں اور مشرکینِ عرب کے درمیان جنگ برپا تھی، مکّہ پر مشرکین قابض تھے ، عرب کے ہر حصّے سے مشرک قبائل کے لوگ حج و زیارت کے لیے کعبہ کی طرف جاتے تھے اور بہت سے قبیلوں کے راستے مسلمانوں کی زد میں تھے۔ اس وقت حکم دیا گیا کہ یہ لوگ مشرک ہی سہی، تمہارے اور ان کے درمیان جنگ ہی سہی، مگر جب یہ خدا کے گھر کی طرف جاتے ہیں تو انہیں نہ چھیڑو، حج کے مہینوں میں ان پر حملہ نہ کرو، خدا کے دربار میں نذر کرنے کے لیے جانور یہ لیے جا رہے ہوں اُن پر ہاتھ نہ ڈالو ، کیونکہ ان کے بگڑے ہوئے مذہب میں خدا پرستی کا جتنا حصّہ باقی ہے وہ بجائے خود احترام کا مستحق ہے نہ کہ بے احترامی کا۔

۶-’’شعائر اللہ ‘‘ کے احترام کا عام حکم دینے کے بعد چند شعائر کا نام لے کر ان کے احترام کا خاص طور پر حکم دیا گیا کیونکہ اُس وقت جنگی حالات کی وجہ سے یہ اندیشہ پیدا ہو گیا تھا کہ جنگ کے جوش میں کہیں مسلمانوں کے ہاتھوں ان کی توہین نہ ہو جائے۔ ان چند شعائر کو نام بنام بیان کرنے سے یہ مقصُود نہیں ہے کہ صرف یہی احترام کے مستحق ہیں۔

۷-احرام بھی مِن جُملہ شعائر اللہ ہے ، اور اس کی پابندیوں میں سے کسی پابندی کو توڑنا اس کی بے حرمتی کرنا ہے۔ اس لیے شعائر اللہ ہی کے سلسلہ میں اس کا ذکر بھی کر دیا گیا کہ جب تک تم احرام بند ہو ، شکار کرنا خدا پرستی کے شعائر میں سے ایک شعار کی توہین کرنا ہے۔ البتہ جب شرعی قاعدہ کے مطابق احرام کی حد ختم ہو جائے تو شکار کرنے کی اجازت ہے۔

۸-چونکہ کفار نے اُس وقت مسلمانوں کو کعبہ کی زیارت سے روک دیا تھا اور عرب کے قدیم دستور کے خلاف حج تک سے مسلمان محرُوم کر دیے گئے تھے ، اس لیے مسلمانوں میں یہ خیال پیدا ہوا کہ جن کافر قبیلوں کے راستے اسلامی مقبوضات کے قریب سے گزرتے ہیں ، ان کو ہم بھی حج سے روک دیں اور زمانۂ حج میں ان کے قافلوں پر چھا پے مارنے شروع کر دیں۔ مگر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فر ما کر انہیں اِس ارادہ سے باز رکھا۔

۹-یعنی وہ جانور جو طبعی موت مر گیا ہو۔

۱۰-یعنی جس کو ذبح کرتے وقت خدا کے سوا کسی اور کا نام لیا گیا ہو، یا جس کو ذبح کرنے سے پہلے یہ نیت کی گئی ہو کہ یہ فلاں بزرگ یا فلاں دیوی یا دیوتا کی نذر ہے۔ (ملاحظہ ہو سُورۂ بقرہ، حاشیہ نمبر ۱۷۱)۔

۱۱-یعنی جو جانور مذکورۂ بالا حوادث میں سے کسی حادثے کا شکار ہو جانے کے باوجود مرا نہ ہو بلکہ کچھ آثارِ زندگی اس میں پائے جاتے ہوں ، اس کو اگر ذبح کر لیا جائے تو اُسے کھا یا جا سکتا ہے۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ حلال جانور کا گوشت صرف ذبح کرنے سے حلال ہوتا ہے ، کوئی دُوسرا طریقہ اس کو ہلاک کر نے کا صحیح نہیں ہے۔ یہ ’’ذبح‘‘ اور ’’ذکاۃ‘‘ اسلام کے اصطلاحی لفظ ہیں۔ ان سے مراد حلق کا اتنا حصہ کاٹ دینا ہے جس سے جسم کا خون اچھی طرح خارج ہو جائے۔ جھٹکا کرنے یا گلا گھونٹنے یا کسی اور تدبیر سے جانور کو ہلاک کرنے کا نقصان یہ ہوتا ہے کہ خُون کا بیشتر حصہ جسم کے اندر ہی رُک کر رہ جاتا ہے اور وہ جگہ جگہ جم کر گوشت کے ساتھ چمٹ جاتا ہے۔۔ بر عکس اس کے ذبح کرنے کی صُورت میں دماغ کے ساتھ جسم کا تعلق دیر تک باقی رہتا ہے جس کی وجہ سے رگ رگ کا خُون کھِنچ کر باہر آ جاتا ہے اور اس طرح پُورے جسم کا گوشت خُون سے صاف ہو جاتا ہے۔ خون کے متعلق ابھی اُوپر ہی یہ بات گزر چکی ہے کہ وہ حرام ہے ، لہٰذا گوشت کے پاک اور حلال ہونے کے لیے ضروری ہے کہ خُون اس سے جُدا ہو جائے۔

۱۲-اصل میں لفظ’’ نُصُب‘‘ استعمال ہوا ہے۔ اس سے مراد وہ سب مقامات ہیں جن کو غیراللہ کی نذر و نیاز چڑھانے کے لیے لوگوں نے مخصُوص کر رکھا ہو، خواہ وہاں کوئی پتھر یا لکڑی کی مُورت ہو یا نہ ہو۔ ہماری زبان میں اس کا ہم معنی لفظ آستانہ یا استھان ہے جو کسی بزرگ یا دیوتا سے ، یا کسی خاص مشرکانہ اعتقاد سے وابستہ ہو۔

۱۳-اس مقام پر یہ بات خوب سمجھ لینی چاہیے کہ کھانے پینے کی چیزوں میں حرام و حلال کی جو قیُود شریعت کی طرف سے عائد کی جاتی ہیں اُن کی اصل بُنیاد اُن اشیاء کے طبّی فوائد یا نقصانات نہیں ہوتے ، بلکہ اُن کے اخلاقی فوائد و نقصانات ہوتے ہیں۔ جہاں تک طبیعی اُمُور کا تعلق ہے اللہ تعالیٰ نے اُن کو انسان کی اپنی سعی و جستجو اور کاوش و تحقیق پر چھوڑ دیا ہے۔ یہ دریافت کرنا انسان کا اپنا کام ہے کہ مادّی اشیاء میں سے کیا چیزیں اس کے جسم کو غذائے صالح بہم پہنچانے والی ہیں اور کیا چیزیں تغذیہ کے لیے غیر مفید ہیں یا نقصان دہ ہیں۔ شریعت اِن اُمُور میں اس کی رہنمائی کی ذمّہ داری اپنے سر نہیں لیتی۔ اگر یہ کام اس نے اپنے ذمّہ لیا ہوتا تو سب سے پہلے سنکھیا کو حرام کیا ہوتا۔ لیکن آپ دیکھتے ہیں ہیں کہ قرآن و حدیث میں اُس کا، یا اُن دُوسرے مفردات و مرکبّات کا ، جو انسان کے لیے سخت مُہلک ہیں، سرے سے کوئی ذکر ہی نہیں ہے۔ شریعت غذا کے معاملہ میں جس چیز پر روشنی ڈالتی ہے وہ دراصل اُس کا یہ پہلو ہے کہ کس غذا کا انسان کے اخلاق پر کیا اثر ہوتا ہے ، اور کونسی غذائیں طہارتِ نفس کے لحاظ سے کیسی ہیں ، اور غذا حاصل کرنے کے طریقوں میں سے کون سے طریقے اعتقادی و نظری حیثیت سے صحیح یا غلط ہیں۔ چونکہ اس کی تحقیق کرنا انسان کے بس میں نہیں ہے ، اور اسے دریافت کرنے کے ذرائع انسان کو میسّر ہی نہیں ہیں، اور اسی بنا پر انسان نے اکثر اِن اُمُور میں غلطیاں کی ہیں، اس لیے شریعت صرف اِنہی اُمُور میں، اس کی رہنمائی کرتی ہے۔ جن چیزوں کو اس نے حرام کیا ہے انہیں اس وجہ سے حرام کیا ہے کہ یا تو اخلاق پر ان کا بُرا اثر پڑتا ہے ، یا وہ طہارت کے خلاف ہیں، یا ان کا تعلق کسی فاسد عقیدہ سے ہے۔ بر عکس اس کے جن چیزوں کو اس نے حلال کیا ہے ان کی حِلّت کی وجہ یہ ہے کہ وہ اِن بُرائیوں میں سے کوئی بُرائی اپنے اندر نہیں رکھتیں۔

سوال کیا جا سکتا ہے کہ خدا نے ہم کو ان اشیاء کی حُرمت کے وجوہ کیوں نہ سمجھائے تا کہ ہمیں بصیرت حاصل ہوتی۔ اس کا جواب یہ ہے کہ اس کے وجوہ کو سمجھنا ہمارے لیے ممکن نہیں ہے۔ مثلاً یہ بات کہ خُون ، یا سُور کے گوشت یا مُردار کے کھانے سے ہماری اخلاقی صفات میں کیا خرابیاں رُو نما ہوتی ہیں، کس قدر اور کس طرح ہوتی ہیں، اس کی تحقیق ہم کسی طرح نہیں کر سکتے ، کیونکہ اخلاق کو نا پنے اور تولنے کے ذرائع ہمیں حاصل نہیں ہیں۔ اگر بالفرض اُن کے بُرے اثرات کو بیان کر بھی دیا جاتا تو شبہ کرنے ولا تقریباً اُسی مقام پر ہوتا جس مقام پر وہ اب ہے ، کیونکہ وہ اس بیان کی صحت و عدمِ صحت کو آخر کس چیز سے جانچتا۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے حرام و حلال کے حُدُود کی پابندی کا انحصار ایمان پر رکھ دیا ہے۔ جو شخص اس بات پر مطمئن ہو جائے کہ کتاب ، اللہ کی کتاب ہے اور رسول ، اللہ کا رسول ہے ، اور للہ علیم و حکیم ہے ، وہ اس کے مقرر کیے ہوئے حُدُود کی پابندی کرے گا، خواہ ان کی مصلحت اس کی سمجھ میں آئے یا نہ آئے۔ اور جو شخص اس بُنیادی عقیدے پر ہی مطمئن نہ ہو، اس کے لیے اِس کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے کہ جن چیزوں کی خرابیاں انسانی علم کے احاطہ میں آ گئی ہیں صرف انہی سے پرہیز کرے ا ور جن کی خرابیوں کا علمی احاطہ نہیں ہو سکا ہے ان کے نقصانات کا تختہ ٔ مشق بنتا رہے۔

۱۴-اِس آیت میں جس چیز کو حرام کیا گیا ہے اس کی تین بڑی قسمیں دُنیا میں پائی جاتی ہیں اور آیت کا حُکم ان تینوں پر حاوی ہے :

(۱) مشرکانہ فال گیری، جس میں کسی دیوی یا دیوتا سے قسمت کا فیصلہ پُوچھا جاتا ہے ، یا غیب کی خبر دریافت کی جاتی ہے ، یا باہمی نزاعات کا تصفیہ کرایا جاتا ہے۔ مشرکینِ مکّہ نے اِس غرض کے لیے کعبہ کے اندر ہُبَل دیوتا کے بُت کو مخصُوص کر رکھا تھا۔ اس کے استھان میں سات تیر رکھے ہوئے تھے جن پر مختلف الفاظ اور فقرے کندہ تھے۔ کسی کام کے کرنے یا نہ کرنے کا سوال ہو، یا کھوئی ہوئی چیز کا پتہ پُوچھنا ہو، یا خُون کے مقدمہ کا فیصلہ مطلوب ہو، غرض کوئی کام بھی ہو، اس کے لیے ہُبَل کے پانسہ دار ( صاحبِ القِداح) کے پاس پہنچ جاتے ، اس کا نذرانہ پیش کرتے اور ہُبَل سے دُعا مانگتے کہ ہمارے اس معاملے کا فیصلہ کر دے۔ پھر پانسہ دار اِن تیروں کے ذریعہ سے فال نکالتا ، اور جو تیر بھی فال میں نِکل آتا اس پر لِکھے ہوئے لفظ کو ہُبَل کا فیصلہ سمجھا جاتا تھا۔

(۲) توہّم پرستانہ فال گیری، جس میں زندگی کے معاملات کا فیصلہ عقل و فکر سے کرنے کے بجائے کسی وہمی و خیالی چیز یا کسی اتفاقی شے کے ذریعہ سے کیا جاتا ہے۔ یا قسمت کا حال ایسے ذرائع سے معلوم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے جن کا وسیلۂ علمِ غیب ہونا کسی علمی طریق سے ثابت نہیں ہے۔ رمل ، نجوم، جفر، مختلف قسم کے شگون اور نچھتر، اور فال گیری کے بے شمار طریقے اس صنف میں داخل ہیں۔

(۳)جُوئے کی قسم کے وہ سارے کھیل اور کام جن میں اشیاء کی تقسیم کا مدار حقوق اور خدمات اور عقلی فیصلوں پر رکھنے کے بجائے محض کسی اتفاقی امر پر رکھ دیا جائے۔ مثلاً یہ کہ لاٹری میں اتفاقاً فلاں شخص کا نام نِکل آیا ہے لہٰذا ہزار ہا آدمیوں کی جیب سے نِکلا ہوا روپیہ اُس ایک شخص کی جیب میں چلا جائے۔ یا یہ کہ علمی حیثیت سے تو ایک معمّہ کے بہت سے حل صحیح ہیں، مگر انعام وہ شخص پائے گا جس کا حل کسی معقول کوشش کی بنا پر نہیں بلکہ محض اتفاق سے اُس حل کے مطابق نِکل آیا ہو جو صاحبِ معمّہ کے صندوق میں بند ہے۔

اِن تین اقسام کو حرام کر دینے کے بعد قُرعہ اندازی کی صرف وہ سادہ صُورت اسلام میں جائز رکھی گئی ہے جس میں دو برابر کے جائز کاموں یا دو برابر کے حقوق کے درمیان فیصلہ کرنا ہو۔ مثلاً ایک چیز پر دو آدمیوں کا حق ہر حیثیت سے بالکل برابر ہے ، اور فیصلہ کرنے والے کے لیے ان میں سے کسی کو ترجیح دینے کی کوئی معقول وجہ موجود نہیں ہے ، اور خود ان دونوں میں سے بھی کوئی اپنا حق خود چھوڑنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ اس صُورت میں ان کی رضا مندی سے قرعہ اندازی پر فیصلہ کا مدار رکھا جا سکتا ہے۔ یا مثلاً دو کام یکساں درست ہیں اور عقلی حیثیت سے آدمی ان دونوں کے درمیان مذبذب ہو گیا ہے کہ ان میں سے کس کو اختیار کرے۔ اس صُورت میں ضرورت ہو تو قریہ اندازی کی جا سکتی ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ و سلم بالعمُوم ایسے مواقع پر یہ طریقہ اختیار فرماتے تھے جبکہ دو برابر حق داروں کے درمیان ایک کو ترجیح دینے کی ضرورت پیش آ جاتی تھی اور آپ ؐ کو اندیشہ ہوتا تھا کہ اگر آپ ؐ خود ایک کو ترجیح دیں گے تو دُوسرے کو ملال ہو گا۔

۱۵-’’آج‘‘ سے مراد کوئی خاص دن اور تاریخ نہیں ہے بلکہ وہ دَور یا زمانہ مراد ہے جس میں یہ آیات نازل ہوئی تھیں۔ ہماری زبان میں بھی آج کا لفظ زمانۂ حال کے لیے عام طور پر بولا جاتا ہے۔ ’’کافروں کو تمہارے دین کی طرف سے مایوسی ہو چکی ہے ‘‘، یعنی اب تمہارا دین ایک مستقل نظام بن چکا ہے اور خود اپنی حاکمانہ طاقت کے ساتھ نافذ و قائم ہے۔ کفار جو اب تک اس کے قیام میں مانع و مزاحم رہے ہیں ، اب اس طرف سے مایوس ہو چکے ہیں کہ وہ اِسے مٹا سکیں گے اور تمہیں پھر پچھلی جاہلیّت کی طرف واپس لے جا سکیں گے۔ ’’لہٰذا تم ان سے نہ ڈرو بلکہ مجھ سے ڈرو‘‘، یعنی اس دین کے احکام اور اس کے ہدایات پر عمل کر نے میں اب کسی کافر طاقت کے غلبہ و قہر اور در اندازی و مزاحمت کا خطرہ تمہارے لیے باقی نہیں رہا ہے۔ انسانوں کے خوف کی اب کوئی وجہ نہیں رہی۔ اب تمہیں خدا سے ڈرنا چاہیے کہ اس کے احکام کی تعمیل میں اگر کوئی کوتاہی تم نے کی تو تمہارے پاس کوئی ایسا عذر نہ ہو گا جس کی بنا پر تمہارے ساتھ کچھ بھی نرمی کی جائے۔ اب شریعتِ الہیٰ کی خلاف ورزی کے معنی یہ نہیں ہوں گے کہ تم دُوسرے کے اثر سے مجبُور ہو، بلکہ اس کے صاف معنی یہ ہوں گے کہ تم خدا کی اطاعت کرنا نہیں چاہتے۔

۱۶-دین کو مکمل کر دینے سے مُراد ُس کو ایک مستقل نظامِ فکر و عمل اور ایک ایسا مکمل نظامِ تہذیب و تمدّن بنا دینا ہے جس میں زندگی کے جُملہ مسائل کا جواب اُصُولاً یا تفصیلاً موجود ہو اور ہدایت و رہنمائی حاصل کرنے کے لیے کسی حال میں اس سے باہر جانے کی ضرورت پیش نہ آئے۔ نعمت تمام کرنے سے مُراد نعمتِ ہدایت کی تکمیل کر دینا ہے۔ اور اسلام کو دین کی حیثیت سے قبول کر لینے کا مطلب یہ ہے کہ تم نے میری اطاعت و بندگی اختیار کرنے کا جو اقرار کیا تھا ، اس کو چونکہ تم اپنی سعی و عمل سے سچّا اور مخلصانہ اقرار ثابت کر چکے ہو، اس لیے میں نے اسے درجۂ قبولیّت عطا فرمایا ہے اور تمہیں عملاً اس حالت کو پہنچا دیا ہے کہ اب فی الواقع میرے سوا کسی کی اطاعت و بندگی کا جُوا تمہاری گردنوں پر باقی نہ رہا۔ اب جس طرح اعتقاد میں تم میرے مسلم ہو اسی طرح عملی زندگی میں بھی میرے سوا کسی اور کے مسلم بن کر رہنے کے لیے کوئی مجبُوری تمہیں لاحق نہیں رہی ہے۔ ان احسانات کا ذکر فرمانے کے بعد اللہ تعالیٰ سکوت اختیار فرماتا ہے مگر اندازِ کلام سے خود بخود یہ بات نِکل آتی ہے کہ جب یہ احسانات میں نے تم پر کیے ہیں تو ان کا تقاضا یہ ہے کہ اب میرے قانون کی حُدُود پر قائم رہنے میں تمہاری طرف سے بھی کوئی کوتاہی نہ ہو۔

مستند روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ آیت حجۃ الوداع کے موقعہ پر سن ۱۰ ہجری میں نازل ہوئی تھی۔ لیکن جس سلسلۂ کلام میں یہ واقع ہوئی ہے وہ صُلحِ حُدَیبیَہ سے متصل زمانہ (سن ۶ ہجری) کا ہے اور سیاقِ عبارت میں دونوں فقرے کچھ ایسے پیوستہ نظر آتے ہیں کہ یہ گمان نہیں کیا جا سکتا کہ ابتداء میں یہ سلسلۂ کلام اِن فقروں کے بغیر نازل ہوا تھا اور بعد میں جب یہ نازل ہوئے تو انہیں یہاں لا کر نصب کر دیا گیا۔ میرا قیاس یہ ہے ، وَ الْعِلْم ُ عِنْدَ اللہ، کہ ابتداءً یہ آیت اِسی سیاقِ  کلام میں نازل ہوئی تھی اس لیے اس کی حقیقی اہمیّت لوگ نہ سمجھ سکے۔ بعد میں جب تمام عرب مسخر ہو گیا اور اسلام کی طاقت اپنے شباب پر پہنچ گئی تو اللہ تعالیٰ نے دوبارہ یہ فقرے اپنے نبی پر نازل فرمائے اور ان کے اعلان کا حکم دیا۔

۱۷-ملاحظہ ہو سُورۂ بقرہ ، حاشیہ نمبر ۱۷۲۔

۱۸-اس جواب میں ایک لطیف نکتہ پوشیدہ ہے۔ مذہبی طرزِ خیال کے لوگ اکثر اس ذہنیّت کے شکار ہو تے رہے ہیں کہ دُنیا کی ہر چیز کو حرام سمجھتے ہیں جب تک کہ صراحت کے ساتھ کسی چیز کو حلال نہ قرار دیا جائے۔ اس ذہنیّت کی وجہ سے لوگوں پر وہمی پن اور قانونیت کا تسلّط ہو جاتا ہے۔ وہ زندگی کے ہر شعبہ میں حلال اشیاء اور جائز کاموں کی فہرست مانگتے ہیں اور ہر کام اور ہر چیز کو اس شبہ کی نظر سے دیکھنے لگتے ہیں کہ کہیں وہ ممنُوع تو نہیں۔ یہاں قرآن اسی ذہنیّت کی اصلاح کرتا ہے۔ پُوچھنے والوں کا مقصد یہ تھا کہ انہیں تمام حلال چیزوں کی تفصیل بتائی جائے تاکہ ان کے سوا ہر چیز کو وہ حرام سمجھیں۔ جواب میں قرآن نے حرام چیزوں کی تفصیل بتائی اور اس کے بعد یہ عام ہدایت دے کر چھوڑ دیا کہ ساری پاک چیزیں حلال ہیں۔ اس طرح قدیم مذہبی نظریہ بالکل اُلٹ گیا۔ قدیم نظریہ یہ تھا کہ سب کچھ حرام ہے بجُز اس کے جسے حلال ٹھیرایا جائے۔ قرآن نے اس کے برعکس یہ اُصُول مقرر کیا کہ سب کچھ حلال ہے بجز اُس کے جس کی حُرمت کی تصریح کر دی جائے۔ یہ ایک بہت بڑی اصلاح تھی جس نے انسانی زندگی کو بندشوں سے آزاد کر کے دُنیا کی وُسعتوں کا دروازہ اس کے لیے کھول دیا۔ پہلے حِلّت کے ایک چھوٹے سے دائرے کے سوا ساری دُنیا اس کے لیے حرام تھی۔ اب حُرمت کے ایک مختصر سے دائرے کو مستثنیٰ کر کے ساری دُنیا اس کے لیے حلال ہو گئی۔

حلال کے لیے ’’پاک‘‘ کی قید اس لیے لگائی کہ ناپاک چیزوں کو اس اباحت کی دلیل سے حلال ٹھیرانے کی کوشش نہ کی جائے۔ اب رہا یہ سوال کہ اشیاء کے ’’پاک‘‘ ہونے کا تعین کس طرح ہو گا، تو اس کا جواب یہ ہے کہ جُو چیزیں اُصُولِ شرع میں سے کسی اصل کے ماتحت ناپاک قرار پائیں، یا جن چیزوں سے ذوقِ سلیم کراہت کرے ، یا جنہیں مہذّب انسان نے بالعمُوم اپنے فطری احساسِ نظافت کے خلاف پایا ہو، ان کے ماسوا سب کچھ پاک ہے۔

۱۹-شکاری جانوروں سے مُراد کُتّے ، چیتے ، باز، شِکرے اور تمام وہ درندے اور پرندے ہیں جن سے انسان شکار کی خدمت لیتا ہے۔ سَدھائے ہوئے جانور کی خصُوصیّت یہ ہوتی ہے کہ وہ جس کا شکار کرتا ہے اُسے عام درندوں کی طرح پھاڑ نہیں کھاتا بلکہ اپنے مالک کے لیے پکڑ رکھتا ہے۔ اسی وجہ سے عام درندوں کا پھاڑ ا ہوا جانور حرام ہے اور سَدھائے ہوئے درندوں کا شکار حلال۔

اس مسئلہ میں فقہاء کے درمیان کچھ اختلاف ہے۔ ایک گروہ کہتا ہے کہ اگر شکاری جانور نے ، خواہ وہ درندہ ہو یا پرندہ شکار میں سے کچھ کھا لیا تو وہ حرام ہو گا کیونکہ اس کا کھا لینا یہ معنی رکھتا ہے کہ اس نے شکار کو مالک کے لیے نہیں بلکہ اپنے لیے پکڑا۔ یہی مسلک امام شافعی کا ہے۔ دوسرا گروہ کہتا ہے کہ اگر اس نے شکار میں سے کچھ کھا لیا ہو تب بھی وہ حرام نہیں ہوتا ، حتیٰ کہ اگر ایک تہائی حصّہ بھی وہ کھا لے تو بقیّہ دو تہائی حلال ہے ، اور اس معاملے میں درندے اور پرندے کے درمیان کچھ فرق نہیں۔ یہ مسلک امام مالک کا ہے۔ تیسرا گروہ کہتا ہے کہ شکاری درندے نے اگر شکار میں سے کھا لیا ہو تو وہ حرام ہو گا، لیکن اگر شکاری پرندے نے کھایا ہو تو حرام نہ ہو گا۔ کیونکہ شکاری درندے کو ایسی تعلیم دی جا سکتی ہے کہ وہ شکار کو مالک کے لیے پکڑ رکھے اور اس میں سے کچھ نہ کھائے ، لیکن تجربہ سے ثابت ہے کہ شکاری پرندہ ایسی تعلیم قبول نہیں کرتا۔ یہ مسلک امام ابو حنیفہ اور اُن کے اصحاب کا ہے۔ اس کے برعکس حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ شکاری پرندے کا شکار سرے سے جائز ہی نہیں ہے ، کیونکہ اسے تعلیم سے یہ بات سکھائی نہیں جا سکتی کہ شکار کو خود نہ کھائے بلکہ مالک کے لیے پکڑ رکھے۔

۲۰-یعنی شکاری جانور کو شکار پر چھوڑتے وقت بسم اللہ کہو۔ حدیث میں آتا ہے کہ حضرت عَدِی بن حاتم نے نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے پوچھا کہ آیا میں کُتّے کے ذریعہ سے شکار کر سکتا ہوں؟ آپ ؐ نے فرمایا کہ ’’اگر اس کو چھوڑتے ہوئے تم نے اللہ کا نام لیا ہو تو کھاؤ ورنہ نہیں۔ اور اگر اس نے شکار میں سے کچھ کھا لیا ہو تو نہ کھاؤ کیونکہ اس نے شکار کو دراصل اپنے لیے پکڑا‘‘۔ پھر انہوں نے پُوچھا کہ اگر میں شکار پر اپنا کُتّا چھوڑوں اور بعد میں دیکھوں کہ کوئی اور کُتّا وہاں موجود ہے ؟ آپ ؐ نے جواب دیا ’’اس شکار کو نہ کھاؤ۔ اس لیے کہ تم نے خدا کا نام اپنے کُتّے پر لیا تھا نہ کہ دُوسرے کُتّے پر‘‘۔ اس آیت سے یہ مسئلہ معلوم ہوا کہ شکاری جانور کو شکار پر چھوڑتے ہوئے خدا کا نام لینا ضروری ہے۔ اس کے بعد اگر شکار زندہ ملے تو پھر خدا کا نام لے کر اسے ذبح کر لینا چاہیے اور اگر زندہ نہ ملے تو اس کے بغیر ہی وہ حلال ہو گا ، کیونکہ ابتداءً شکار جانور کو اس پر چھوڑتے ہوئے اللہ تعالیٰ کا نام لیا جا چکا تھا۔ یہی حکم تیر کا بھی ہے۔

۲۱-اہلِ کتاب کے کھانے میں اُن کا ذبیحہ بھی شامل ہے۔ ہمارے لیے اُن کا اور اُن کے لیے ہمارا کھانا حلال ہونے کا مطلب یہ ہے کہ ہمارے اور اُن کے درمیان کھانے پینے میں کوئی رکاوٹ اور کوئی چھُوت چھات نہیں ہے۔ ہم اُن کے ساتھ کھا سکتے ہیں اور وہ ہمارے ساتھ۔ لیکن یہ عام اجازت دینے سے پہلے اس فقرے کا اعادہ فرما دیا گیا ہے کہ ’’تمہارے لیے پاک چیزیں حلال کر دی گئی ہیں‘‘۔ اس سے معلوم ہوا کہ اہلِ کتاب اگر پاکی و طہارت کے اُن قوانین کی پابندی نہ کریں جو شریعت کے نقطۂ نظر سے ضروری ہیں، یا اگر اُن کے کھانے میں حرام چیزیں شامل ہوں تو اس سے پرہیز کرنا چاہیے۔ مثلاً اگر وہ خدا کا نام لیے بغیر کسی جانور کو ذبح کریں، یا اس پر خدا کے سوا کسی اَور کا نام لیں ، تو اُسے کھانا ہمارے لیے جائز نہیں۔ اِسی طرح اگر اُن کے دستر خوان پر شراب یا سُور یا کوئی اور حرام چیز ہو تو ہم ان کے ساتھ شریک نہیں ہو سکتے۔

اہلِ کتاب کے سوا دُوسرے غیر مسلموں کا بھی یہی حکم ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ ذبیحہ اہلِ کتاب ہی کا جائز ہے جبکہ اُنہوں نے خدا کا نام اس پر لیا ہو، رہے غیر اہلِ کتاب ، تو ان کے ہلاک کیے ہوئے جانور کو ہم نہیں کھا سکتے۔

۲۲-اِس سے مراد یہود و نصاریٰ ہیں۔ نکاح کی اجازت صرف انہی کی عورتوں سے دی گئی ہے اور اس کے ساتھ شرط یہ لگا دی گئی ہے کہ و ہ مُحصنَات (محفوظ عورتیں) ہوں۔ اس حکم کی تفصیلات میں فقہاء کے درمیان اختلاف ہوا ہے۔ ابنِ عباس ؓ کا خیال ہے کہ یہاں اہلِ کتاب سے مُراد وہ اہلِ کتاب ہیں جو اسلامی حکومت کی رعایا ہوں۔ رہے دار الحرب اور دارالکفر کے یہود و نصاریٰ ، تو ان کی عورتوں سے نکاح کرنا درست نہیں۔ حنفیّہ اس سے تھوڑا اختلاف کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک بیرونی ممالک کے اہلِ کتاب کی عورتوں سے نکاح کرنا حرام تو نہیں ہے مگر مکرُوہ ضرور ہے۔ بخلاف اس کے سعید بن المُسَیِّب ؒ اور حَسَن بصری ؒ اس کے قائل ہیں کہ آیت اپنے حکم میں عام ہے لہٰذا ذمّی اور غیر ذمّی میں فرق کرنے کی ضرورت نہیں۔ پھر مُحصَنات کے مفہُوم میں بھی فقہاء کے درمیان اختلاف ہے۔ حضرت عمر ؓ کے نزدیک اس سے مراد پاک دامن ، عصمت مآب عورتیں ہیں اور اس بنا پر وہ اہلِ کتاب کی آزاد منش عورتوں کو اس اجازت سے خارج قرار دیتے ہیں۔ یہی رائے حسن ؒ، شَعبِیؒ اور ابراہیم نَخعَی ؒ کی ہے۔ اور حنفیہ نے بھی اسی کو پسند کیا ہے۔ بخلاف اس کے امام شافعی ؒ کی رائے یہ ہے کہ یہاں یہ لفظ لونڈیوں کے مقابلہ میں استعمال ہوا ہے ، یعنی اس سے مراد اہلِ کتاب کی وہ عورتیں ہیں جو لونڈیاں نہ ہوں۔

۲۳-اہلِ کتاب کی عورتوں سے نکاح کی اجازت دینے کے بعد یہ فقرہ اس لیے تنبیہ کے طور پر ارشاد فرمایا گیا ہے کہ جو شخص اِس اجازت سے فائدہ اُٹھائے وہ اپنے ایمان و اخلاق سے ہوشیار رہے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ کافر بیوی کے عِشق میں مُبتلا ہو کر یا اس کے عقائد اور اعمال سے متاثر ہو کر وہ اپنے ایمان سے ہاتھ دھو بیٹھے ، یا اخلاق و معاشرت میں ایسی روش پر چل پڑے جو ایمان کے منافی ہو۔

 

ترجمہ

 

اے لوگو جو ایمان لائے ہو، جب تم نماز کے لیے اُٹھو تو چاہیے کہ اپنے مُنّہ اور ہاتھ کہنیوں تک دھولو، سروں پر ہاتھ پھیر لو اور پاؤں ٹخنوں تک دھو لیا کرو۔۲۴ اگر جَنابت کی حالت میں ہو تو نہا کر پاک ہو جاؤ۔۲۵ اگر بیمار ہو یا سفر کی حالت میں ہو یا تم میں سے کوئی شخص رفع حاجت کر کے آئے یا تم نے عورتوں کو ہاتھ لگایا ہو، اور پانی نہ ملے ، تو پاک مٹی سے کام لو، بس اُس پر ہاتھ مارکر اپنے مُنّہ اور ہاتھوں پر پھیر لیا کرو۔۲۶ اللہ تم پر زندگی کو تنگ نہیں کرنا چاہتا، مگر وہ چاہتا ہے کہ تمہیں پاک کرے اور اپنی نعمت تم پر تمام کر دے ،۲۷ شاید کہ تم شکر گزار بنو۔ اللہ نے تم کو جو نعمت عطا کی ہے ۲۸ اس کا خیال رکھو اور اُس پختہ عہد و پیمان کو نہ بھُولو جو اُس نے تم سے لیا ہے ، یعنی تمہارا یہ قول کہ ’’ہم نے سُنا اور اطاعت قبول کی‘‘۔ اللہ سے ڈرو، اللہ دلوں کے راز تک جانتا ہے۔ اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اللہ کی خاطر راستی پر قائم رہنے والے اور انصاف کی گواہی دینے والے بنو۔۲۹ کسی گروہ کی دُشمنی تم کو اتنا مشتعل نہ کر دے کہ انصاف سے پھر جاؤ۔ عدل کرو، یہ خدا ترسی سے زیادہ مناسبت رکھتا ہے۔ اللہ سے ڈر کر کام کرتے رہو، جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اُس سے پُوری طرح باخبر ہے۔ جو لوگ ایمان لائیں اور نیک عمل کریں، اللہ نے ان سے وعدہ کیا ہے کہ ان کی خطاؤں سے درگزر کیا جائے گا اور انہیں بڑا اجر ملے گا۔ رہے وہ لوگ جو کفر کریں اور اللہ کی آیات کو جھُٹلائیں، تو وہ دوزخ میں جانے والے ہیں۔ ے لوگو جو ایمان لائے ہو، اللہ کے اُس احسان کو یاد کرو جو اُس نے (ابھی حال میں) تم پر کیا ہے ، جبکہ ایک گروہ نے تم پر دست درازی کا ارادہ کر لیا تھا مگر اللہ نے اُن کے ہاتھ تم پر اُٹھنے سے روک دیے۔۳۰ اللہ سے ڈر کر کام کرتے رہو، ایمان رکھنے والوں کو اللہ ہی پر بھروسہ کرنا چاہیے۔ ؏۲

 

تفسیر

 

۲۴-نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے اِس حکم کی جو تشریح فرمائی ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مُنہ دھونے میں کُلّی کرنا اور ناک صاف کرنا بھی شامل ہے ، بغیر اس کے مُنہ کے غسل کی تکمیل نہیں ہوتی۔ اور کان چونکہ سر کا ایک حصّہ ہیں اس لیے سر کے مسح میں کانوں کے اندرونی و بیرونی حصّوں کا مسح بھی شامل ہے۔ نیز وضو شروع کرنے سے پہلے ہاتھ دھو لینے چاہیں تاکہ جن ہاتھوں سے آدمی وُضو کر رہا ہو وہ خود پہلے پاک ہو جائیں۔

۲۵-جَنابت خواہ مباشرت سے لاحق ہوئی ہو یا خواب میں مادّۂ منویہ خارج ہونے کی وجہ سے ، دونوں صُورتوں میں غُسل واجب ہے۔ اس حالت میں غُسل کے بغیر نماز پڑھنا یا قرآن کو ہاتھ لگانا جائز نہیں۔(مزید تفصیلات کے لیے ملاحظہ ہو سُورۂ نساء ، حواشی نمبر ۶۷، ۶۸ و ۶۹)۔

۲۶-تشریح کے لیے ملاحظہ ہو سُورہ ٔ نساء حاشیہ نمبر ۶۹ و ۷۰۔

۲۷-جس طرح پاکیزگیِ  نفس ایک نعمت ہے اسی طرح پاکیزگیِ جسم بھی ایک نعمت ہے۔ انسان پر اللہ کی نعمت اسی وقت مکمل ہو سکتی ہے جبکہ نفس و جسم دونوں کی طہارت و پاکیزگی کے لے پُوری ہدایت اسے مِل جائے۔

۲۸-یعنی یہ نعمت کہ زندگی کی شاہ راہِ مستقیم تمہارے لیے روشن کر دی اور دُنیا کی ہدایت و رہنمائی کی منصب پر تمہیں سرفراز کیا۔

۲۹-ملاحظہ ہو سُورہ ٔ نساء ، حاشیہ نمبر ۱۶۴ و ۱۶۵۔

۳۰-اشارہ ہے اس واقعہ کی طرف جسے حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ نے روایت کیا ہے کہ یہودیوں میں سے ایک گروہ نے نبی صلی اللہ علیہ و سلم اور آپ ؐ کے خاص خاص صحابہ کو کھانے کی دعوت پر بُلایا تھا اور خفیہ طور پر یہ سازش کی تھی کہ اچانک ان پر ٹوٹ پڑیں گے اور اس طرح اسلام کی جان نکال دیں گے۔ لیکن عین وقت پر اللہ تعالیٰ کے فضل سے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو اس سازش کا حال معلوم ہو گیا اور آپ ؐ دعوت پر تشریف نہ لے گئے۔ چونکہ یہاں سے خطاب کا رُخ بنی اسرائیل کی طرف پھر رہا ہے اس لیے تمہید کے طور پر اس واقعہ کا ذکر فرمایا گیا ہے۔

یہاں سے جو تقریر شروع ہو رہی ہے اس کے دو مقصد ہیں۔ پہلا مقصد یہ ہے کہ مسلمانوں کو اس روش پر چلنے سے روکا جائے جس پر ان کے پیش رو اہلِ کتاب چل رہے تھے۔ چنانچہ انہیں بتایا جا رہا ہے کہ جس طرح آج تم سے عہد لیا گیا ہے اسی طرح کل یہی عہد بنی اسرائیل سے اور مسیح علیہ السّلام کی اُمّت سے بھی لیا جا چکا ہے۔ پھر کہیں ایسا نہ ہو کہ جس طرح وہ اپنے عہد کو توڑ کر گمراہیوں میں مُبتلا ہوئے اُسی طرح تم بھی اُسے توڑ دو اور گمراہ ہو جاؤ۔ دوسرا مقصد یہ ہے کہ یہُود اور نصاریٰ دونوں کو اُن کی غلطیوں پر متنبّہ کیا جائے اور انہیں دینِ حق کی طرف دعوت دی جائے۔

 

ترجمہ

 

اللہ نے بنی اسرائیل سے پُختہ عہد لیا تھا اور ان میں بارہ نقیب ۳۱ مقرر کیے تھے اور ان سے کہا تھا کہ ’’میں تمہارے ساتھ ہوں، اگر تم نے نماز قائم رکھی اور زکوٰۃ دی اور میرے رسولوں کو مانا اور ان کی مدد کی ۳۲ اور اپنے خدا کو اچھا قرض دیتے رہے ۳۳ تو یقین رکھو کہ میں تمہاری بُرائیاں تم سے زائل کر دوں گا ۳۴ اور تم کو ایسے باغوں میں داخل کروں گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی ، مگر اس کے بعد جس نے تم میں سے کفر کی روش اختیار کی تو درحقیقت اُس نے سواء السبیل ۳۵ گم کر دی۔‘‘ پھر یہ اُن کا اپنے عہد کو توڑ ڈالنا تھا جس کی وجہ سے ہم نے ان کو اپنی رحمت سے دُور پھینک دیا اور ان کے دل سخت کر دیے۔ اب ان کا حال یہ ہے کہ الفاظ کا اُلٹ پھیر کر کے بات کو کہیں سے کہیں لے جاتے ہیں، جو تعلیم انہیں دی گئی تھی اُس کا بڑا حصّہ بھُول چکے ہیں، اور آئے دن تمہیں ان کی کسی نہ کسی خیانت کا پتہ چلتا رہتا ہے۔ ان میں سے بہت کم لوگ اس عیب سے بچے ہوئے ہیں۔ (پس جب یہ اس حال کو پہنچ چکے ہیں تو جو شرا رتیں بھی یہ کریں وہ ان سے عین متوقع ہیں) لہٰذا انہیں معاف کرو اور ان کی حرکات سے چشم پوشی کرتے رہو، اللہ اُن لوگوں کو پسند کرتا ہے جو احسان کی روش رکھتے ہیں۔ اِسی طرح ہم نے اُن لوگوں سے بھی پُختہ عہد لیا تھا جنہوں نے کہا تھا کہ ہم ’’نصاریٰ‘‘ ہیں،۳۶ مگر ان کو بھی جو سبق یاد کرایا گیا تھا اس کا ایک بڑا حصّہ اُنہوں نے فراموش کر دیا، آخر کار ہم نے ان کے درمیان قیامت تک کے لیے دُشمنی اور آپس کے بُغض و عناد کا بیج بو دیا، اور ضرور ایک وقت آئے گا جب اللہ نہیں بتائے گا کہ وہ دنیا میں کیا بناتے رہے ہیں۔ اے اہلِ کتاب ! ہمارا رسول تمہارے پاس آ گیا ہے جو کتابِ الٰہی کی بہت سی اُن کتابوں کو تمہارے سامنے کھول رہا ہے جن پر تم پردہ ڈالا کرتے تھے ، اور بہت سی باتوں سے درگزر بھی کر جاتا ہے۔۳۷ تمہارے پاس اللہ کی طرف سے روشنی آ گئی ہے اور ایک ایسی حق نما کتاب جس کے ذریعہ سے۔۔۔ اللہ تعالیٰ اُن لوگوں کو جو اس کی رضا کے طالب ہیں سلامتی کے طریقے بتاتا ہے ۳۸ اور اپنے اذن سے اُن کو اندھیروں سے نکال کر اُجالے کی طرف لاتا ہے اور راہِ راست کی طرف ان کی رہنمائی کرتا ہے۔ یقیناً کفر کیا اُن لوگوں نے جنہوں نے کہا کہ مسیحؑ  ابنِ مریم ہی خدا ہے۔۳۹ اے محمد ؐ ! ان سے کہو کہ اگر خدا مسیح ابنِ مریم کو اور اس کی ماں اور تمام زمین والوں کو ہلاک کر دینا چاہے تو کس کی مجال ہے کہ اُس کو اِس ارادے سے باز رکھ سکے ؟ اللہ تو زمین اور آسمانوں کا اور اُن سب چیزوں کا مالک ہے جو زمین اور آسمانوں کے درمیان پائی جاتی ہیں، جو کچھ چاہتا ہے پیدا کرتا ہے ۴۰ اور اس کی قدرت ہر چیز پر حاوی ہے۔ یہود اور نصاریٰ کہتے ہیں کہ ہم اللہ کے بیٹے اور اس کے چہیتے ہیں۔ ان سے پوچھو، پھر وہ تمہارے گناہوں پر تمہیں سزا کیوں دیتا ہے ؟ در حقیقت تم بھی ویسے ہی انسان ہو جیسے اور انسان خدا نے پیدا کیے ہیں۔ وہ جسے چاہتا ہے معاف کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے سزا دیتا ہے۔ زمین اور آسمان اور ان کی ساری موجودات اس کی مِلک ہیں، اور اسی کی طرف سب کو جانا ہے۔ اے اہلِ کتاب ! ہمارا یہ رسُول ایسے وقت تمہارے پاس آیا ہے اور دین کی واضح تعلیم تمہیں دے رہا ہے جبکہ رسولوں کی آمد کا سلسلہ ایک مدّت سے بند تھا، تاکہ تم یہ نہ کہہ سکو کہ ہمارے پاس کوئی بشارت دینے والا اور ڈرانے والا نہیں آیا۔ سو دیکھو ! اب وہ بشارت دینے اور ڈرانے والا آ گیا۔۔۔۔اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔۴۱ ؏۳

 

تفسیر

 

۳۱-نقیب کے معنی نگرانی اور تفتیش کرنے والے کے ہیں۔ بنی اسرائیل کے بارہ قبیلے تھے اور اللہ تعالیٰ نے ان میں سے ہر قبیلہ پر ایک ایک نقیب خود اسی قبیلہ سے مقرر کرنے کا حکم دیا تھا تا کہ وہ ان کے حالات پر نظر رکھے اور انہیں بے دینی و بد اخلاقی سے بچانے کی کوشش کرتا رہے۔ بائیبل کی کتاب گنتی میں بارہ ’’سرداروں‘‘ کا ذکر موجود ہے ، مگر ان کی وہ حیثیت جو یہاں لفظ ’’نقیب‘‘ سے قرآن میں بیان کی گئی ہے ، بائیبل کے بیان سے ظاہر نہیں ہوتی۔ بائیبل انہیں صرف رئیسوں اور سرداروں کی حیثیت سے پیش کرتی ہے اور قرآن ان کی حیثیت اخلاقی و دینی نگرانِ کار کی قرار دیتا ہے۔

۳۲-یعنی جو رسول بھی میری طرف سے آئیں ، ان کی دعوت پر اگر تم لبیک کہتے اور ان کی مدد کرتے رہو۔

۳۳-یعنی خدا کی راہ میں اپنا مال خرچ کرتے رہے۔ چونکہ اللہ تعالیٰ اُس ایک ایک پائی کو ، جو انسان اس کی راہ میں خرچ کرے ، کئی گُنا زیادہ انعام کے ساتھ واپس کرنے کا وعدہ فرماتا ہے ، اس لیے قرآن میں جگہ جگہ راہِ خدا میں مال خرچ کرنے کو ’’قرض ‘‘ سے تعبیر کیا گیا ہے۔ بشرطیکہ وہ ’’اچھا قرض‘‘ ہو، یعنی جائز ذرائع سے کمائی ہوئی دولت خرچ کی جائے ، خدا کے قانون کے مطابق خرچ کی جائے اور خلوصِ و حُسن نیت کے ساتھ خرچ کی جائے۔

۳۴-کسی سے اُس کی بُرائیاں زائل کر دینے کے دو مطلب ہیں: ایک یہ کہ راہِ راست کو اختیار کرنے اور خدا کی ہدایت کے مطابق فکر و عمل کے صحیح طریقے پر چلنے کا لازمی نتیجہ یہ ہو گا کہ انسان کا نفس بہت سی بُرائیوں سے ، اور اس کا طرزِ زندگی بہت سی خرابیوں سے پاک ہوتا چلا جائے۔ دوسرے یہ کہ اس اصلاح کے باوجود اگر کوئی شخص بحیثیتِ مجمُوعی کمال کے مرتبے کو نہ پہنچ سکے اور کچھ نہ کچھ بُرائیاں اس کے اندر باقی رہ جائیں تو اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے ان پر مواخذہ نہ فرمائے گا اور ان کو اس کے حساب سے ساقط کر دے گا، کیونکہ جس نے اساسی ہدایت اور بُنیادی اِصلاح قبول کر لی ہو اس کی جُزوی اور ضمنی بُرائیوں کا حساب لینے میں اللہ تعالیٰ سخت گیر نہیں ہے۔

۳۵-یعنی اُس نے ’’سَوَا ء السّبیل‘‘ کو پا کر پھر کھو دیا اور وہ تباہی کے راستوں میں بھٹک نکلا۔ ’’سَوَاء السّبیل‘‘ کا ترجمہ ’’توسّط و اعتدال کی شاہ راہ‘‘ کیا جا سکتا ہے مگر اس سے پُورا مفہُوم ادا نہیں ہوتا۔ اسی لیے ہم نے ترجمہ میں اصل لفظ ہی کو جُوں کا تُوں لے لیا ہے۔

اِس لفظ کی معنویت کو سمجھنے کے لیے پہلے یہ ذہن نشین کر لینا چاہیے کہ انسان بجائے خود اپنی ذات میں ایک عالِم اصغر ہے جس کے اندر بے شمار مختلف قوتیں اور قابلیتیں ہیں، خواہشیں ہیں، جذبات اور رُجحانات ہیں، نفس اور جسم کے مختلف مطالبے ہیں ، رُوح اور طبیعت کے مختلف تقاضے ہیں۔ پھر ان افراد کے ملنے سے جو اجتماعی زندگی بنتی ہے وہ بھی بے حد و حساب پیچیدہ تعلقات سے مرکب ہوتی ہے اور تمدّن و تہذیب کے نشو و نما کے ساتھ ساتھ اس کی پیچیدگیاں بڑھتی چلی جاتی ہیں۔ پھر دنیا میں جو سامانِ زندگی انسان کے چاروں طرف پھیلا ہوا ہے اس سے کام لینے اور اس کو انسانی تمدّن میں استعمال کرنے کا سوال بھی انفرادی اور اجتماعی حیثیت سے بکثرت شاخ در شاخ مسائل پیدا کرتا ہے۔

انسان اپنی کمزوری کی وجہ سے اس پُورے عرصۂ حیات پر بیک وقت ایک متوازن نظر نہیں ڈال سکتا۔ اس بنا پر انسان اپنے لیے خود زندگی کا کوئی ایسا راستہ بھی نہیں بنا سکتا جس میں اس کی ساری قوتوں کے ساتھ انصاف ہو، اس کی تمام خواہشوں کا ٹھیک ٹھیک حق ادا ہو جائے ، اس کے سارے جذبات و رُجحانات میں توازن قائم رہے ، اس کے سب اندرونی و بیرونی تقاضے تناسب کے ساتھ پُورے ہوں، اس کی اجتماعی زندگی کے تمام مسائل کی مناسب رعایت ملحوظ ہو اور ان سب کا ایک ہموار اور متناسب حل نکل آئے ، اور مادّی اشیاء کو بھی شخصی اور تمدّنی زندگی میں عدل ، انصاف اور حق شناسی کے ساتھ استعمال کیا جا تا رہے۔ جب انسان خود اپنا رہنما اور اپنا شارع بنتا ہے تو حقیقت کے مختلف پہلوؤں میں سے کوئی ایک پہلو، زندگی کی ضرورتوں میں سے کوئی ایک ضرورت، حل طلب مسئلوں میں سے کوئی ایک مسئلہ اس کے دماغ پر اس طرح مسلّط ہو جاتا ہے کہ دُوسرے پہلوؤں اور ضرورتوں اور مسئلوں کے ساتھ وہ بالارادہ یا بلا ارادہ بے انصافی کرنے لگتا ہے۔ اور اس کی اِس رائے کے زبردستی نافذ کیے جانے کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ زندگی کا توازن بگڑ جاتا ہے اور وہ بے اعتدالی کی کسی ایک انتہا کی طرف ٹیڑھی چلنے لگتی ہے۔ پھر جب یہ ٹیڑھی چال اپنے آخری حُدُود پر پہنچتے پہنچتے انسان کے لیے ناقابلِ برداشت ہو جاتی ہے تو وہ پہلو اور وہ ضروریات اور وہ مسائل جن کے ساتھ بے انصافی ہوئی تھی ، بغاوت شرُوع کر دیتے ہیں اور زور لگانا شروع کر تے ہیں کہ اُن کے ساتھ انصاف ہو۔ مگر انصاف پھر بھی نہیں ہو تا۔ کیونکہ پھر وہی عمل رُو نما ہوتا ہے کہ ان میں سے کوئی ایک ، جو سابق بے اعتدالی کی بدولت سب سے زیادہ دبا دیا گیا تھا ، انسانی دماغ پر حاوی ہو جاتا ہے اور اسے اپنے مخصُوص مقتضاء کے مطابق ایک خاص رُخ پر بہا لے جاتا ہے جس میں پھر دُوسرے پہلوؤں اور ضرورتوں اور مسئلوں کے ساتھ بے انصافی ہونے لگتی ہے۔ اِس طرح زندگی کو کبھی سیدھا چلنا نصیب نہیں ہوتا۔ ہمیشہ وہ ہچکولے ہی کھاتی رہتی ہے اور تباہی کے ایک کنارے سے دُوسرے کنارے کی طرف ڈھُلکتی چلی جاتی ہے۔ تمام وہ راستے جو خود انسان نے اپنی زندگی کے لیے بنائے ہیں، خطِ منحنی کی شکل میں واقع ہیں، غلط سمت سے چلتے ہیں اور غلط سمت پر ختم ہو کر پھر کسی دُوسری غلط سمت کی طرف مُڑ جاتے ہیں۔

اِن بہت سے ٹیڑھے اور غلط راستوں کے درمیان ایک ایسی راہ جو بالکل وسط میں واقع ہو، جس میں انسان کی تمام قوتوں اور خواہشوں کے ساتھ، اس کے تمام جذبات و رُجحانات کے ساتھ، اور اس کی رُوح اور جسم کے تمام مطالبوں اور تقاضوں کے ساتھ، اور اس کی زندگی کے تمام مسائل کے ساتھ پُورا پُورا انصاف کیا گیا ہو، جس کے اندر کوئی ٹیڑھ، کوئی کجی، کِسی پہلو کی بے جا رعایت اور کسی دُوسرے پہلو کے ساتھ ظلم اور بے انصافی نہ ہو، انسانی زندگی کے صحیح ارتقاء اور اس کی کامیابی و با مُرادی کے لیے سخت ضرورت ہے۔ انسان کی عین فطرت اس راہ کی طالب ہے ، اور مختلف ٹیڑھے راستوں سے بار بار اُس کے بغاوت کرنے کی اصل وجہ یہی ہے کہ وہ اس سیدھی شاہ راہ کو ڈھونڈتی ہے۔مگر انسان خود اس شاہ راہ کو معلوم کرنے پر قادر نہیں ہے۔ اس کی طرف صرف خدا ہی راہ نمائی کر سکتا ہے اور خدا نے اپنے رسول اسی لیے بھیجے ہیں کہ اِس راہِ راست کی طرف انسان کی راہنمائی کریں۔

قرآن اسی راہ کو سَوَاء السّبیل اور صراطِ مستقیم کہتا ہے۔ یہ شاہ راہ دُنیا کی اِس زندگی سے لے کر آخرت کی دُوسری زندگی تک بے شمار ٹیڑھے راستوں کے درمیان سے سیدھی گزرتی چلی جاتی ہے۔ جو اس پر چلا ، وہ یہاں راست رَو اور آخرت میں کامیاب و با مراد ہے ، اور جس نے اس راہ کو گم کر دیا، وہ یہاں غلط ہیں، غلط رَو اور غلط کار ہے ، اور آخرت میں لامحالہ اُسے دوزخ میں جانا ہے ، کیونکہ زندگی کے تمام ٹیڑھے راستے دوزخ ہی کی طرف جاتے ہیں۔

موجودہ زمانہ کے بعض نا دان فلسفیوں نے یہ دیکھ کر کہ انسانی زندگی پے در پے ایک انتہا سے دُوسری انتہا کی طرف دھکّے کھاتی چلی جا رہی ہے ، یہ غلط نتیجہ نِکال لیا کہ ’’جَدَلی عمل‘‘(Dialectical Process) انسانی زندگی کے ارتقاء کا فطری طریق ہے۔ وہ اپنی حماقت سے یہ سمجھ بیٹھے کہ انسان کے ارتقاء کا راستہ یہی ہے کہ پہلے ایک انتہا پسندانہ دعویٰ (Thesis) اُسے ایک رُخ پر بہا لے جائے ، پھر اِس کے جواب میں دُوسرا ویسا ہی انتہا پسندانہ دعویٰ (Antithesis) اُسے دُوسری انتہا کی طرف کھینچے ، اور پھر دونوں کے امتزاج (Synthesis) سے ارتقاء حیات کا راستہ بنے۔ حالانکہ دراصل یہ ارتقاء کی راہ نہیں ہے بلکہ بد نصیبی کے دھکے ہیں جو انسانی زندگی کے صحیح ارتقاء میں بار بار مانع ہو رہے ہیں۔ ہر انتہا پسندانہ دعویٰ زندگی کو اُس کے کسی ایک پہلو کی طرف موڑتا ہے اور اسے کھینچے لیے چلا جا تا ہے۔ یہاں تک کہ جب وہ سَوَاء السّبیل سے بہت دُور جا پڑتی ہے تو خود زندگی ہی کی بعض دُوسری حقیقتیں ، جن کے ساتھ بے انصافی ہو رہی تھی، اس کے خلاف بغاوت شروع کر دیتی ہیں اور یہ بغاوت ایک جوابی دعوے کی شکل اختیار کر کے اسے مخالف سمت میں کھینچنا شروع کر تی ہے۔ جُوں جُوں سَوَاء السّبیل قریب آتی ہے ان متصادم دعووں کے درمیان مصالحت ہونے لگتی ہے اور ان کے امتزاج سے وہ چیزیں وجود میں آتی ہیں جو انسانی زندگی میں نافع ہیں۔ لیکن جب وہاں نہ سَوَاء السّبیل کے نشانات دکھانے والی روشنی موجود ہوتی ہے اور نہ اس پر ثابت قدم رکھنے والا ایمان ، تو وہ جوابی دعویٰ زندگی کو اس مقام پر ٹھیرنے نہیں دیتا بلکہ اپنے زور میں اُسے دُوسری جانب انتہا تک کھینچتا چلا جاتا ہے ، یہاں تک کہ پھر زندگی کی کچھ دُوسری حقیقتوں کی نفی شروع ہو جاتی ہے اور نتیجہ میں ایک دُوسری بغاوت اُٹھ کھڑی ہوتی ہے۔ اگر ان کم نظر فلسفیوں تک قرآن کی روشنی پہنچ گئی ہوتی اور انہوں نے سَوَاء السّبیل کو دیکھ لیا ہوتا تو انہیں معلوم ہو جاتا کہ انسان کے لیے ارتقاء کا صحیح راستہ یہی سواء السّبیل ہے نہ کہ خط منحنی پر ایک انتہا سے دُوسری انتہا کی طرف دھکے کھاتے پھرنا۔

۳۶-لوگوں کا یہ خیال غلط ہے کہ ’’نصاریٰ‘‘ کا لفظ ’’ناصرہ‘‘ سے ماخوذ ہے جو مسیح علیہ السّلام کا وطن تھا۔ دراصل اس کا ماخذ ’’نصرت‘‘ ہے ، اور اس کی بنا وہ قول ہے جو مسیح علیہ السّلام کے سوال مَنْ اَنْصَارِیْ اِلَی اللہِ (خدا کی راہ میں کون لوگ میرے مددگار ہیں؟) کے جواب میں حواریوں نے کہا تھا کہ نَحْنُ اَنْصَارُ اللہِ (ہم اللہ کے کام میں مددگار ہیں)۔ عیسائی مصنّفین کو بالعمُوم محض ظاہری مشابہت دیکھ کر یہ غلط فہمی ہوئی کہ مسیحیت کی ابتدائی تاریخ میں ناصر یہ (Nazarenes) کے نام سے جو ایک فرقہ پایا جاتا تھا ، اور جنہیں حقارت کے ساتھ ناصری اور ایبونی کہا جاتا تھا، انہی کے نام کو قرآن نے تمام عیسائیوں کے لیے استعمال کیا ہے۔ لیکن یہاں قرآن صاف کہہ رہا ہے کہ انہوں نے خود کہا تھا کہ ہم ’’نصاریٰ‘‘ اور یہ ظاہر ہے کہ عیسائیوں نے اپنا نام کبھی ناصری نہیں رکھا۔

اس سلسلے میں یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السّلام نے اپنے پیرووں کا نام کبھی "عیسائی” یا "مسیحی” نہیں رکھا تھا۔ کیونکہ وہ اپنے نام نے کسی نئے مذہب کی بنیاد ڈالنے نہیں آئے تھے۔ ان کی دعوت اُسی دین کو تازہ کرنے کی طرف تھی، جو حضرت موسیٰ علیہ السّلام اور ان سے پہلے اور بعد کے انبیاء علیہم السلام لے کر آئے تھے۔اس لیے انہوں نے عام بنی اسرائیل اور پیروانِ شریعت موسوی سے الگ نہ کوئی جماعت بنائی اور نہ اس کا کوئی مستقل نام رکھا۔ ان کے ابتدائی پیرو خود بھی نہ اپنے آپ کو اسرائیلی ملّت سے الگ سمجھتے تھے ، نہ ایک مستقل گروہ بن کر رہے ، اور نہ انہوں نے اپنے لئے کوئی امتیازی نام اور نشان قرار دیا۔ وہ عام یہودیوں کے ساتھ بیت المَقْدِس ہی کے ہیکل میں عبادت کرنے کے لیے جاتے تھے اور اپنے آپ کو موسوی شریعت ہی پر عمل کرنے کا پابند سمجھتے تھے (ملاحظہ ہو کتاب اعمال ۳ : ۱ – ۱۰ : ۱۴ – ۱۵ : ۵،۱ – ۲۱ : ۲۱)

آگے چل کر جدائی کا عمل دو جانب سے شروع ہوا۔ ایک طرف عیسیٰؑ  کے پیرووں میں سے پولوس ( سینٹ پال) نے شریعت کی پابندی ختم کر کے یہ اعلان کر دیا کہ بس مسیح پر ایمان لے آنا نجات کے لیے کافی ہے۔ اور دوسری طرف یہودی علماء نے پیروانِ مسیح کو ایک گمراہ فرقہ قرار دے کر عامّۂ بنی اسرائیل سے کاٹ دیا۔ لیکن اس جدائی کے باوجود ابتداء ً اس نئے فرقے کا کوئی خاص نام نہ تھا۔ خود پیروانِ مسیح اپنے لیے کبھی "شاگرد” کا لفظ استعمال کرتے تھے اور کبھی اپنے رفقاء کا ذکر "بھائیوں” (اِخوان)، ” ایمان داروں” (مؤمنین) ” جو ایمان لائے ” (الّذین اٰمنوا) اور "مقدسوں” کے الفاظ سے کرتے تھے۔ (کتاب اعمال ۲ : ۴۴ – ۴ : ۳۲ – ۹: ۲۶ – ۱۱ : ۲۹ – ۱۳ : ۵۲ – ۱۵ : ۱، ۲۳ – رومیوں ۱۵ : ۲۵- کُلُسیّوں ۱ : ۲)۔ بخلاف اس کے یہودی ان لوگوں کو کبھی "گلیلی” کہتے اور کبھی "ناصریوں کا بدعتی فرقہ” کہہ کر پکارتے تھے (اعمال ۲۴ : ۵ – لوقا ۱۳ : ۲)۔ یہ نام دھرنے کی کوشش انہوں نے از راہِ طنز و تشنیع اس بنا پر کی تھی کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا وطن ناصرہ تھا اور وہ فلسطین کے ضلع گلیل میں واقع تھا۔ لیکن یہ طنزیہ الفاظ اس حد تک رائج نہ ہو سکے کہ پیروانِ مسیح کے لیے نام کی حیثیت اختیار کر جاتے۔

اس گروہ کا موجودہ نام مسیحی (CHRISTIAN) پہلی مرتبہ ۴۳ عیسوی یا ۴۴ عیسوی میں انطاکیہ کے مشرک باشندوں نے رکھا تھا، جب کہ سینٹ پال اور بَرنَاباس نے وہاں پہنچ کر اپنے مذہب کی تبلیغِ  عام شروع کی (اعمال ۱۱ : ۲۶)۔ یہ نام بھی دراصل طنز و تمسخر کے طور پر مخالفین کی طرف سے رکھا گیا تھا، اور پیروانِ مسیح اسے خود اپنے نام کے طور پر قبول کرنے کے لیے تیار نہ تھے۔ لیکن جب ان کے دشمنوں نے ان کو اسی نام سے پکارنا شروع کر دیا تو ان کے لیڈروں نے کہا کہ اگر تمہیں مسیح کی طرف نسبت دے کر "مسیحی ” کہا جاتا ہے تو اس میں شرمانے کی کیا ضرورت ہے (۱-پطرس ۴ : ۱۶)۔ اس طرح رفتہ رفتہ یہ لوگ بھی خود اپنے آپ کو اسی نام سے موسوم کرنے لگے جس سے ان کے دشمنوں نے طنزاً موسوم کیا تھا، یہاں تک کہ آخر کار ان کے اندر سے یہ احسان ہی ختم ہو گیا کہ یہ دراصل ایک بُرا لقب تھا جو انہیں دیا گیا تھا۔

قرآن مجید نے اسی لیے مسیح کے ماننے والوں کو مسیحی یا عیسائی کے نام سے یاد نہیں کیا ہے۔ بلکہ انہیں یاد دلایا ہے کہ تم دراصل ان لوگوں کے نام لیوا ہو جنھیں عیسیٰ ابنِ مریم نے پکارا تھا کہ مَنْ اَنصَارِیْ اِلَی اللہ ” کون ہے جو اللہ کی راہ میں میری مدد کرے "، انہوں نے جواب دیا کہ نَحْن ُ اَنصَارُ اللہ، ” ہم اللہ کی راہ میں مددگار ہیں”۔ اس لیے تم اپنی ابتدائی اور بنیادی حقیقت کے اعتبار سے انصاریٰ یا انصار ہو۔ لیکن آج عیسائی مشنری اس یاد دہانی پر قرآن کا شکریہ ادا کرنے کے بجائے اُلٹی شکایت کر رہے ہیں کہ قرآن نے ان کو مسیحی کہنے کے بجائے نصاریٰ کے نام سے کیوں موسوم کیا!

۳۷-یعنی تمہاری بعض چوریاں اور خیانتیں کھول دیتا ہے جن کا کھولنا دینِ حق کو قائم کرنے لیے ناگزیر ہے ، اور بعض سے چشم پوشی اختیار کر لیتا ہے جن کے کھولنے کی کوئی حقیقی ضرورت نہیں ہے۔

۳۸-’’سلامتی‘‘ سے مُراد غلط بینی، غلط اندیشی اور غلط کاری سے بچنا اور اس کے نتائج سے محفوظ رہنا ہے۔ جو شخص اللہ کی کتاب اور اُس کے رسول کی زندگی سے روشنی حاصل کرتا ہے اُسے فکر و عمل کے ہر چوراہے پر یہ معلوم ہو جاتا ہے کہ وہ کس طرح ان غلطیوں سے محفوظ رہے۔

۳۹-عیسائیوں نے ابتداءً مسیحؑ  کی شخصیت کو انسانیت اور الوہیت کا مرکب قرار دے کر جو غلطی کی تھی ، اُس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اُن کے لیے مسیحؑ  کی حقیقت ایک معما بن کر رہ گئی جسے اُن کے علماء نے لفّاظی اور قیاس آرائی کی مدد سے حل کرنے کی جتنی کوشش کی اُتنے ہی زیادہ اُلجھتے چلے گئے۔ اُن میں سے جس کے ذہن پر اِس مرکب شخصیت کے جُزوِ انسانی نے غلبہ کیا اس نے مسیحؑ  کے ابن اللہ ہونے اور تین مستقل خداؤں میں سے ایک ہونے پر زور دیا۔ اور جس کے ذہن پر جُزوِ  اُلُوہیّت کا اثر زیادہ غالب ہوا اس نے مسیحؑ  کو اللہ تعالیٰ کا جسمانی ظہُور قرار دے کر عین اللہ بنا دیا اور اللہ ہونے کی حیثیت ہی سے مسیحؑ  کی عبادت کی۔ ان کے درمیان بیچ کی راہ جنہوں نے نکالنی چاہی انہوں نے سارا زور ایسی لفظی تعبیریں فراہم کرنے پر صرف کر دیا جن سے مسیحؑ  کو انسان بھی کہا جاتا رہے اور اس کے ساتھ خدا بھی سمجھا جا سکے ، خدا اور مسیحؑ  الگ الگ بھی ہوں اور پھر ایک بھی رہیں۔ (ملاحظہ ہو سُورۂ نساء، حاشیہ نمبر ۲۱۲، ۲۱۳ و ۲۱۵)۔

۴۰-اس فقرے میں ایک لطیف اشارہ ہے اس طرف کہ محض مسیحؑ  کی اعجاز ی پیدائش اور ان کے اخلاقی کمالات اور محسُوس معجزات کو دیکھ کر جو لوگ اس دھوکہ میں پڑ گئے کہ مسیحؑ  ہی خدا ہے وہ درحقیقت نہایت نادان ہیں۔ مسیحؑ  تو اللہ کے بے شمار عجائبِ  تخلیق میں سے محض ایک نمونہ ہے جسے دیکھ کر ان ضعیف ُ البصر لوگوں کی نگاہیں چوندھیا گئیں۔ اگر اِن لوگوں کی نگاہ کچھ وسیع ہوتی تو انہیں نظر آتا کہ اللہ نے اپنی تخلیق کے اس سے بھی زیادہ حیرت انگیز نمونے پیش کیے ہیں اور اس کی قدرت کسی حد کے اندر محدُود نہیں ہے۔ پس یہ بڑی بے دانشی ہے کہ مخلوق کے کمالات کو دیکھ کر اسی پر خالق ہونے کا گمان کر لیا جائے۔ دانشمند وہ ہیں جو مخلوق کے کمالات میں خالق کی عظیم الشان قدرت کے نشانات دیکھتے ہیں اور ان سے ایمان کا نُور حاصل کرتے ہیں۔

۴۱-اِس موقع پر یہ فقرہ نہایت بلیغ و لطیف ہے۔ اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ جو خدا پہلے بشارت دینے والے اور ڈرانے والے بھیجنے پر قادر تھا اسی نے محمد صلی اللہ علیہ و سلم کو اس خد مت پر مامور کیا ہے اور وہ ایسا کرنے پر قادر تھا۔ دُوسرا مطلب یہ ہے کہ اگر تم نے اس بشیر و نذیر کی بات نہ مانی تو یاد رکھو کہ اللہ قادر و توانا ہے۔ ہر سزا جو وہ تمہیں دینا چاہے بلا مزاحمت دے سکتا ہے۔

 

ترجمہ

 

یاد کرو جب موسیٰؑ  نے اپنی قوم سے کہا تھا کہ ’’اے میری قوم کے لوگو! اللہ کی اُس نعمت کا خیال کرو جو اس نے تمہیں عطا کی تھی۔ اُس نے تم میں نبی پیدا کیے ، تم کو فرماں روا بنایا، اور تم کو وہ کچھ دیا جو دُنیا میں کسی کو نہ دیا تھا۔۴۲ اے برادران قوم ! اس مقدّس سرزمین میں داخل ہو جاؤ جو اللہ نے تمہارے لیے لکھ دی ہے ،۴۳ پیچھے نہ ہٹو ورنہ ناکام و نامراد پلٹو گے ‘‘۔۴۴ انہوں نے جواب دیا ’’اے موسیٰؑ  ! وہاں تو بڑے زبردست لوگ رہتے ہیں، ہم وہاں ہرگز نہ جائیں گے جب تک وہ وہاں سے نکل نہ جائیں۔ ہاں اگر وہ نکل گئے تو ہم داخل ہونے کے لیے تیار ہیں ‘‘۔ اُن ڈرنے والوں میں دو شخص ایسے بھی تھے ۴۵ جن کو اللہ نے اپنی نعمت سے نوازا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ’’اِن جبّاروں کے مقابلہ میں دروازے کے اندر گھُس جاؤ، جب تم اندر پہنچ جاؤ گے تو تم ہی غالب رہو گے۔ اللہ پر بھروسہ رکھو اگر تم مومن ہو‘‘۔ لیکن اُنہوں نے پھر یہی کہا کہ ’’اے موسیٰؑ ! ہم تو وہاں کبھی نہ جائیں گے جب تک وہ وہاں موجود ہیں۔ بس تم اور تمہارا رب، دونوں جاؤ اور لڑو، ہم یہاں بیٹھے ہیں‘‘۔ اس پر موسیٰؑ نے کہا ’’اے میرے رب، میرے اختیار میں کوئی نہیں مگر یا میری اپنی ذات یا میرا بھائی، پس تُو ہمیں اِن نافرمان لوگوں سے الگ کر دے ‘‘۔ اللہ نے جواب دیا ’’اچھا تو وہ مُلک چالیس (۴۰) سال تک ان پر حرام ہے ، یہ زمین میں مارے مارے پھریں گے ، ۴۶ ان نافرمانوں کی حالت پر ہرگز ترس نہ کھاؤ‘‘۔۴۷ ؏۴

 

تفسیر

 

۴۲-یہ اشارہ ہے بنی اسرائیل کی اُس عظمت گذشتہ کی طرف جو حضرت موسیٰ علیہ السّلام سے بہت پہلے کسی زمانہ میں اُن کو حاصل تھی۔ ایک طرف حضرت ابراہیمؑ  ، حضرت اسحاقؑ ، حضرت یعقوبؑ  اور حضرت یوسفؑ  جیسے جلیل القدر پیغمبر اُن کی قوم میں پیدا ہوئے۔ اور دُوسری طرف حضرت یوسُف علیہ السّلام کے زمانہ میں اور اُن کے بعد مصر میں اُن کو بڑا اِقتدار نصیب ہوا۔ مدّتِ دراز تک یہی اس زمانہ کی مہذب دُنیا کے سب سے بڑے فرماں روا تھے اور انہی کا سکّہ مصر اور اس کے نواح میں رواں تھا۔ عموماً لوگ بنی اسرائیل کے عُروج کی تاریخ حضرت موسی ٰؑ  سے شروع کرتے ہیں ، لیکن قرآن اس مقام پر تصریح کرتا ہے کہ بنی اسرائیل کا اصل زمانۂ عرُوج حضرت موسیٰؑ  سے پہلے گزر چکا تھا جسے خود حضرت موسیٰ اپنی قوم کے سامنے اس کے شاندار ماضی کی حیثیت سے پیش کرتے تھے۔

۴۳-اِس سے مراد فلسطین کی سرزمین ہے جو حضرت ابراہیمؑ  ، حضرت اسحاقؑ  اور حضرت یعقوبؑ  کا مسکن رہ چکی تھی۔ بنی اسرائیل جب مصر سے نکل آئے تو اسی سرزمین کو اللہ تعالیٰ نے اُن کے لیے نامزد فرمایا اور حکم دیا کہ جا کر اسے فتح کر لو۔

۴۴-حضرت موسیٰؑ  کی یہ تقریر اس موقع کی ہے جب مصر سے نکلنے کے تقریباً دو سال بعد آپ اپنی قوم کو لیے ہوئے دشتِ فاران میں خیمہ زن تھے۔ یہ بیابان جزیرہ نمائے سینا میں عرب کی شمالی اور فلسطین کی جنوبی سرحد سے متصل واقع ہے۔

۴۵-قَالَ رَجُلَانِ مِنَ الَّذِیْنَ یَخَافُوْنَ کے دو مطلب ہو سکتے ہیں۔ ایک یہ کہ جو لوگ جبّاروں سے ڈر رہے تھے اُن کے درمیان سے دو شخص بول اُٹھے۔ دوسرا یہ کہ جو لوگ خدا سے ڈرنے والے تھے ان میں سے دو شخصوں نے یہ بات کہی۔

۴۶- اس قصّے کی تفصیلات بائیبل کی کتاب گنتی، استثناء اور یشوع میں ملیں گی۔ خلاصہ اس کا یہ ہے کہ حضرت موسیٰ نے دشتِ فاران سے بنی اسرائیل کے ۱۲ سرداروں کو فلسطین کا دورہ کرنے کے لیے بھیجا تاکہ وہاں کے حالات معلوم کر کے آئیں۔ یہ لوگ چالیس دن دورہ کر کے وہاں سے واپس آئے اور انہوں نے قوم کے مجمعِ عام میں بیان کیا کہ واقعی وہاں دُودھ اور شہد کی نہریں بہتی ہیں، "لیکن جو لوگ وہاں بسے ہوئے ہیں وہ زورآور ہیں۔۔۔۔۔۔ ہم اس لائق نہیں ہیں کہ ان لوگوں پر حملہ کریں۔۔۔۔۔۔ وہاں جتنے آدمی ہم نے دیکھے وہ بڑے قد آور ہیں اور ہم نے وہاں بنی عناق کو بھی دیکھا جو جبّار ہیں اور جبّاروں کی نسل سے ہیں، اور ہم تو اپنی ہی نگاہ میں ایسے تھے جیسے ٹِڈے ہوتے ہیں اور ایسے ہی ان کی نگاہ میں تھے "۔ یہ بیان سُن کر سارا مجمع چیخ اٹھا کہ ” اے کاش ہم مصر میں ہی مر جاتے ! یا کاش اس بیابان ہی میں مرتے ، خداوند! کیوں ہم کو اس مُلک میں لے جا کر تلوار سے قتل کرانا چاہتا ہے ؟ پھر تو ہماری بیویاں اور بال بچّے لوٹ کا مال ٹھریں گے۔ کیا ہمارے لیے بہتر نہ ہو گا کہ ہم مصر کو واپس چلے جائیں”۔ پھر وہ آپس میں کہنے لگے کہ آؤ ہم کسی کو اپنا سردار بنا لیں اور مصر کو لوٹ چلیں۔ اِس پر اُن بارہ سرداروں میں سے ، جو فلسطین کے دورے پر بھیجے گئے تھے ، دو سردار، یُوشع اور کالِب اُٹھے اور انہوں نے اِس بُزدلی پر قوم کو ملامت کی۔ کالب نے کہا ’’چلو ہم ایک دم جا کر اس ملک پر قبضہ کر لیں، کیونکہ ہم اس قابل ہیں کہ اس پر تصّرف کریں‘‘۔ پھر دونوں نے یک زبان ہو کر کہا ’’ اگر خدا ہم سے راضی رہے تو وہ ہم کو اس ملک میں پہنچائے گا۔۔۔۔۔۔ فقط اتنا ہو کہ تم خداوند سے بغاوت نہ کرو اور نہ اِس ملک کے لوگوں سے ڈرو۔۔۔۔۔۔ اور ہمارے ساتھ خداوند ہے سو ان کا خوف نہ کرو‘‘۔ مگر قوم نے اس کا جواب یہ دیا کہ ’’ اِنہیں سنگسار کر دو‘‘۔ آخر کار اللہ تعالیٰ کا غضب بھڑکا اور اس نے فیصلہ فرمایا کہ اچھا اب یُوشع اور قالب کے سوا اس قوم کے بالغ مردوں میں سے کوئی بھی اُس سرزمیں میں داخل نہ ہونے پائے گا۔ یہ قوم چالیس برس تک بے خانماں پھرتی رہے گی، یہاں تک کہ جب ان میں سے ۲۰ برس سے لے کر اُوپر کی عمر تک کے سب مرد مر جائیں گے اور نئی نسل جوان ہو کر اُٹھے گی تب انہیں فلسطین فتح کرنے کا موقع دیا جائے گا۔ چنانچہ اس فیصلہ ٔ خداوندی کے مطابق دشتِ فاران سے شرق اُردن پہنچتے پہنچتے پورے ۳۸ برس لگ گئے۔ اِس دوران میں وہ سب لوگ مر کھپ گئے جو جوانی کی عمر میں مصر سے نکلے تھے۔ شرق اُردن فتح کرنے کے بعد حضرت موسیٰ کا بھی انتقال ہو گیا۔ اس کے بعد حضرت یُوشع بن نون کے عہدِ خلافت میں بنی اسرائیل اس قابل ہوئے کہ فلسطین فتح کر سکیں۔

بنی اسرائیل کی صحرا نوردی ( نقشہ ) :۔

تشریح : حضرت موسیٰ علیہ السّلام بنی اسرائیل کو مصر سے لے کر جزیرہ نمائے سینا میں مارہ، ایلیم اور رعیدیم کے راستے کوہِ سینا کی طرف آئے اور ایک سال سے کچھ زائد مدّت تک اس مقام پر ٹھیرے رہے۔ یہیں تورات کے بیشتر احکام آپ پر نازل ہوئے۔ پھر آپ کو حکم ہوا کہ بنی اسرائیل کو لے کر فلسطین کی طرف جاؤ اور اسے فتح کر لو کہ وہ تمھاری میراث میں دیا گیا ہے۔ چنانچہ حضرت موسیٰ علیہ السّلام بنی اسرائیل کو لیے ہوئے تبعیر اور نصیرات کے راستے دشتِ فاران میں تشریف لائے اور یہاں سے آپ نے ایک وفد فلسطین کے حالات کا مطالعہ کرنے کے لیے روانہ کیا۔ قادس کے مقام پر اس وفد نے آ کر اپنی رپورٹ پیش کی۔ حضرت یُوشع اور کالب کے سوا پورے وفد کی رپورٹ نہایت حوصلہ شکن تھی۔ جسے سن کر بنی اسرائیل چیخ اٹھے اور انھوں نے فلسطین کی مہم پر جانے سے انکار کر دیا۔ تب اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ اب یہ چالیس برس تک اس علاقے میں بھٹکتے رہیں گے اور ان کی موجودہ نسل، یُوشع اور کالِب کے سوا فلسطین کی شکل نہ دیکھنے پائے گی۔ اس کے بعد بنی اسرائیل دشتِ فاران، بیابانِ شور اور دشتِ صین کے درمیان مارے مارے پھرتے رہے اور عمالقہ، اشوریوں، اَدومیوں، مدیانیوں اور موآب کے لوگوں سے لڑتے بھڑتے رہے۔ جب چالیس سال گزرنے کے قریب آئے تو اَدُوم کی سرحد کے قریب کوہِ ہور پر حضرت ہارون علیہ السّلام نے وفات پائی۔ پھر حضرت موسیٰ علیہ السّلام بنی اسرائیل کو لیے ہوئے موآب کے علاقے میں داخل ہوئے ، اور اس پورے علاقے کو فتح کرتے ہوئے حسبون اور شطّیم تک پہنچ گئے۔ یہاں کوہِ عباریم پر حضرت موسیٰ علیہ السّلام کا انتقال ہوا اور ان کے بعد ان کے خلیفہ اوّل حضرت یُوشع نے مشرق کی جانب سے دریائے اُردن کو پار کر کے شہر یریحو (اریحا) کو فتح کیا۔ یہ فلسطین کا پہلا شہر تھا جو بنی اسرائیل کے قبضہ میں آیا۔ پھر ایک قلیل مدّت ہی میں پورا فلسطین فتح ہو گیا۔۔۔۔۔۔ اس نقشہ میں ایلہ (قدیم نام ایلات اور موجودہ نام عقبہ) وہ مقام ہے جہاں غالباً اصحاب السبت کا وہ مشہور واقعہ پیش آیا تھا جس کا ذکر سورۂ بقرہ رکوع ۸  اور سورۃ اعراف رکوع ۲۱ میں آیا ہے۔

۴۷-یہاں اس واقعہ کا حوالہ دینے کی غرض سلسلۂ بیان پر غور کرنے سے صاف سمجھ میں آ جاتی ہے۔ قصہ کے پیرایہ میں دراصل بنی اسرائیل کو یہ جتانا مقصُود ہے کہ موسیٰ کے زمانہ میں نافرمانی ، انحراف اور پست ہمتی سے کام لے کر جو سزا تم نے پائی تھی ، اب اس سے بہت زیادہ سزا محمد صلی اللہ علیہ و سلم کے مقابلہ میں باغیانہ روش اختیار کر کے پاؤ گے۔

 

ترجمہ

 

اور ذرا انہیں آدم کے دو بیٹوں کا قصّہ بھی بے کم و کاست سُنا دو۔ جب اُن دونوں نے قربانی کی تو ان میں سے ایک کی قربانی قبول کی گئی اور دوسرے کی نہ کی گئی۔ اُس نے کہا ’’میں تجھے مار ڈالوں گا‘‘۔ اس نے جواب دیا ’’اللہ تو متقیوں ہی کی نذریں قبول کرتا ہے۔۴۸ اگر تُو مجھے قتل کرنے کے لیے ہاتھ اُٹھائے گا تو میں تجھے قتل کرنے کے لیے ہاتھ نہ اُٹھاؤں گا،۴۹ میں اللہ ربّ العا لمین سے ڈرتا ہوں۔ میں چاہتا ہوں کہ میرا اور اپنا گناہ تُو ہی سمیٹ لے ۵۰ اور دوزخی بن کر رہے۔ ظالموں کے ظلم کا یہی ٹھیک بدلہ ہے‘‘۔ آخر کار اس کے نفس نے اپنے بھائی کا قتل اس کے لیے آسان کر دیا اور وہ اسے مارکر اُن لوگوں میں شامل ہو گیا جو نقصان اُٹھانے والے ہیں۔ پھر اللہ نے ایک کوّا بھیجا جو زمین کھودنے لگا تاکہ اُسے بتائے کہ اپنے بھائی کی لاش کیسے چھُپائے۔ یہ دیکھ کر وہ بولا افسوس مجھ پر! میں اس کوّے جیسا بھی نہ ہو سکا کہ اپنے بھائی کی لاش چھُپانے کی تدبیر نکال لیتا۔۵۱ اس کے بعد وہ اپنے کیے پر بہت پچھتایا۔۵۲ اسی وجہ سے بنی اسرائیل پر ہم نے یہ فرمان لکھ دیا تھا ۵۳ کہ ’’جس نے کسی انسان کو خُون کے بدلے یا زمین میں فساد پھیلانے کے سوا کسی اور وجہ سے قتل کیا اس نے گویا تمام انسانوں کو قتل کر دیا اور جس نے کسی کی جان بچائی اُس نے گویا تمام انسانوں کو زندگی بخش دی‘‘۔۵۴ مگر اُن کا حال یہ ہے کہ ہمارے رسُول پے درپے ان کے پاس کھُلی کھُلی ہدایات لے کر آئے پھر بھی ان میں بکثرت لوگ زمین میں زیادتیاں کرنے والے ہیں۔ جو لوگ اللہ اور اس کے رسُول سے لڑتے ہیں اور زمین میں اس لیے تگ و دو کرتے پھرتے ہیں کہ فساد برپا کریں ۵۵ اُن کی سزا یہ ہے کہ قتل کیے جائیں، یا سُولی پر چڑھائے جائیں، یا اُن کے ہاتھ اور پاؤں مخالف سمتوں سے کاٹ ڈالے جائیں، یا وہ جلا وطن کر دیے جائیں۔۵۶ یہ ذلّت و رسوائی تو اُن کے لیے دُنیا میں ہے اور آخرت میں اُن کے لیے اس سے بڑی سزا ہے۔ مگر جو لوگ توبہ کر لیں قبل اس کے کہ تم ان پر قابو پاؤ۔۔۔۔تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ اللہ معاف کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے۔۵۷ ؏۵

 

تفسیر

 

۴۸-یعنی تیری قربانی اگر قبول نہیں ہوئی تو یہ میرے کسی قصُور کی وجہ سے نہیں ہے بلکہ اس وجہ سے ہے کہ تجھ میں تقویٰ نہیں ہے ، لہٰذا میری جان لینے کے بجائے تجھ کو اپنے اندر تقویٰ پیدا کرنے کی فکر کرنی چاہیے۔

۴۹-اِس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ اگر تُو مجھے قتل کر نے کے لیے آئے گا تو میں ہاتھ باندھ کر تیرے سامنے قتل ہونے کے لیے بیٹھ جاؤ ں گا اور مدافعت نہ کروں گا۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ تُو میرے قتل کے درپے ہوتا ہے تو ہو، میں تیرے قتل کے درپے نہ ہوں گا۔ تُو میرے قتل کی تدبیر میں لگنا چاہے تو تُجھے اختیار ہے ، لیکن میں یہ جاننے کے بعد بھی کہ تُو میرے قتل کی تیاریاں کر رہا ہے ، یہ کوشش نہ کروں گا کہ پہلے میں ہی تجھے مار ڈالوں۔ یہاں یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ کسی شخص کا اپنے آپ کو خود قاتل کے آگے پیش کر دینا اور ظالمانہ حملہ کی مدافعت نہ کرنا کوئی نیکی نہیں ہے۔ البتہ نیکی یہ ہے کہ اگر کوئی شخص میرے قتل کے درپے ہو اور میں جانتا ہوں کہ وہ میری گھات میں لگا ہو ا ہے ، تب بھی میں اس کے قتل کی فکر نہ کروں اور اسی بات کو ترجیح دوں کہ ظالمانہ اقدام اُس کی طرف سے ہو نہ کہ میری طرف سے۔ یہی مطلب تھا اس بات کا جو آدم علیہ السّلام کے اس نیک بیٹے نے کی۔

۵۰-یعنی بجائے اس کے کہ ایک دُوسرے کے قتل کی سعی میں ہم دونوں گناہ گار ہوں ، میں اس کو زیادہ بہتر سمجھتا ہوں کہ دونوں کا گناہ تنہا تیرے ہی حصّہ میں آ جائے ، تیرے اپنے قاتلانہ اقدام کا گناہ بھی، اور اس نقصان کا گناہ بھی جو اپنی جان بچانے کی کوشش کرتے ہوئے میرے ہاتھ سے تجھے پہنچ جائے۔

۵۱-اس طرح اللہ تعالیٰ نے ایک کوّے کے ذریعہ سے آدم کے اس غلط کار بیٹے کو اس کی جہالت و نادانی پر متنبّہ کیا، اور جب ایک مرتبہ اس کو اپنے نفس کی طرف توجّہ کرنے کا موقع مل گیا توا س کی ندامت صرف اسی بات تک محدُود نہ رہی کہ وہ لاش چھپانے کی تدبیر نکالنے میں کوّے سے پیچھے کیوں رہ گیا، بلکہ اس کو یہ بھی احساس ہونے لگا کہ اس نے اپنے بھائی کو قتل کر کے کتنی بڑی جہالت کا ثبُوت دیا ہے۔ بعد کا فقرہ کہ وہ اپنے کیے پر پچھتایا، اسی مطلب پر دلالت کر تا ہے۔

۵۲-یہاں اس واقعہ کا ذکر کرنے سے مقصد یہودیوں کو ان کی اُس سازش پر لطیف طریقہ سے ملامت کرنا ہے جو انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و سلم اور آپ ؐ کے جلیل القدر صحابہ کو قتل کرنے کے لیے کی تھی(ملاحظہ ہو اسی سُورۃ کا حاشیہ نمبر ۳۰)۔ دونوں واقعات میں مماثلت بالکل واضح ہے۔ یہ بات کہ اللہ تعالیٰ نے عرب کے اِن اُمّیوں کو قبولیت کا درجہ عطا فرمایا اور اُن پُرانے اہلِ کتاب کو رد کر دیا، سراسر اِس بُنیاد پر تھی کہ ایک طرف تقویٰ تھا اور دُوسری طرف تقویٰ نہ تھا۔ لیکن بجائے اس کے کہ وہ لوگ جنہیں رَد کر دیا گیا تھا، اپنے مردُود ہونے کی وجہ پر غور کرتے اور اُس قصُور کی تلافی کرنے پر مائل ہوتے جس کی وجہ سے وہ رد کیے گئے تھے ، ان پر ٹھیک اُسی جاہلیت کا دورہ پڑ گیا جس میں آدمؑ  کا وہ غلط کار بیٹا مبتلا ہوا تھا، اور اُسی کی طرح وہ ان لوگوں کے قتل پر آمادہ ہو گئے جنہیں خدا نے قبولیت عطا فرمائی تھی۔ حالانکہ ظاہر تھا کہ ایسی جاہلانہ حرکتوں سے وہ خدا کے مقبول نہ ہو سکتے تھے ، بلکہ یہ کرتُوت انہیں اور زیادہ مردُود بنا دینے والے تھے۔

۵۳-یعنی چونکہ بنی اسرائیل کے اندر اُنہی صفات کے آثار پائے جاتے تھے جن کا اظہار آدم کے اس ظالم بیٹے نے کیا تھا، اس لیے اللہ تعالیٰ نے ا ن کو قتلِ نفس سے باز رہنے کی سخت تاکید کی تھی اور اپنے فرمان میں یہ الفاظ لکھے تھے۔ افسوس ہے کہ آج جو بائیبل پائی جاتی ہے وہ فرمانِ خداوندی کے ان قیمتی الفاظ سے خالی ہے۔ البتہ تلمُود میں یہ مضمون اس طرح بیان ہوا ہے :’’ جس نے اسرائیل کی ایک جان کو ہلاک کیا، کتاب اللہ کی نگاہ میں اس نے گویا ساری دنیا کو ہلاک کیا، اور جس نے اسرائیل کی ایک جان کو محفوظ رکھا، کتاب اللہ کی نزدیک اس نے گویا ساری دنیا کی حفاظت کی‘‘۔ اسی طرح تلمود میں یہ بھی بیان ہوا ہے کہ قتل کے مقدمات میں بنی اسرائیل کے قاضی گواہوں کو خطاب کر کے کہا کرتے تھے کہ ’’جو شخص ایک انسان کی جان ہلاک کرتا ہے وہ ایسی باز پرس کا مستحق ہے کہ گویا اس نے دُنیا بھر کے انسانوں کو قتل کیا ہے ‘‘۔

۵۴-مطلب یہ ہے کہ دُنیا میں نوعِ انسانی کی زندگی کا بقا منحصر ہے اس پر کہ ہر انسان کے دل میں دُوسرے انسانوں کی جان کا احترام موجود ہو اور ہر ایک دُوسرے کی زندگی کے بقاء و تحفظ میں مدد گار بننے کا جذبہ رکھتا ہو۔ جو شخص ناحق کسی کی جان لیتا ہے وہ صرف ایک ہی فرد پر ظلم نہیں کرتا بلکہ یہ بھی ثابت کرتا ہے کہ اس کا دل حیاتِ انسانی کے احترام سے اور ہمدردیِ  نوع کے جذبہ سے خالی ہے ، لہٰذا وہ پُوری انسانیت کا دُشمن ہے ، کیونکہ اس کے اندر وہ صفت پائی جاتی ہے جو اگر تمام افرادِ انسانی میں پائی جائے تو پُوری نوع کا خاتمہ ہو جائے۔ اس کے برعکس جو شخص انسان کی زندگی کے قیام میں مدد کرتا ہے وہ درحقیقت انسانیت کا حامی ہے ، کیونکہ اس میں وہ صفت پائی جاتی ہے جس پر انسانیت کے بقاء کا انحصار ہے۔

۵۵-(زمین سے مراد یہاں وہ مُلک یا وہ علاقہ ہے جس میں امن و انتظام قائم کرنے کی ذمہ داری اسلامی حکومت نے لے رکھی ہو۔ اور خدا و رسول سے لڑنے کا مطلب اُس نظامِ صالح کے خلاف جنگ کرنا ہے جو اسلام کی حکومت نے ملک میں قائم کر رکھا ہو۔ اللہ تعالیٰ کی مرضی یہ ہے اور اسی کے لیے اس نے اپنا رسول بھیجا تھا کہ زمین میں ایک ایسا صالح نظام قائم ہو جو انسان اور حیوان اور درخت اور ہر اُس چیز کو جو زمین پر ہے ، امن بخشے ، جس کے تحت انسانیت اپنی فطرت کے کمال مطلوب کو پہنچ سکے ،جس کے تحت زمین کے وسائل اس طرح استعمال کیے جائیں کہ وہ انسان کی ترقی میں مددگار ہوں نہ کہ اس کی تباہی و بربادی میں۔ ایسا نظام جب کسی سر زمین میں قائم ہو جائے تو اس کو خراب کرنے کی سعی کرنا، قطع نظر اس سے کہ وہ چھوٹے پیمانے پر قتل و غارت اور رہزنی و ڈکیتی کی حد تک ہو یا بڑے پیمانے پر اس صالح نظام کو اُلٹنے اور اس کی جگہ کوئ فاسد نظام قائم کر دینے کے لیے ، دراصل وہ خدا اور اس کے رسُول ؐ کے خلاف جنگ ہے۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے تعزیراتِ ہند میں ہر اُس شخص کو جو ہندوستان کی برطانوی حکومت کا تختہ اُلٹنے کی کوشش کرے ’’ بادشاہ کے خلاف لڑائی‘‘(Waging war against the King) کا مجرم قرار دیا گیا ، چاہے اس کی کاروائی ملک کے کسی دُور دراز گوشے میں ایک معمُولی سپاہی کے خلاف ہی کیوں نہ ہو اور بادشاہ اس کی دست رس سے کتنا ہی دُور ہو۔

۵۶-یہ مختلف سزائیں بر سبیلِ اجمال بیان کر دی گئی ہیں تاکہ قاضی یا امامِ وقت اپنے اجتہاد پر مُجرم کو اس کے جُرم کی نوعیت کے مطابق سزا دے۔ اصل مقصُود یہ ظاہر کرنا ہے کہ کسی شخص کا اسلامی حکومت کے اندر رہتے ہوئے اسلامی نظام کو اُلٹنے کی کوشش کرنا بدترین جُرم ہے اور اسے ان انتہائی سزاؤں میں سے کوئی سزا دی جا سکتی ہے۔

۵۷-یعنی اگر وہ سعِی فساد سے باز آ گئے ہوں، اور صالح نظام کو درہم برہم کرنے یا اُلٹنے کی کوشش چھوڑ چکے ہوں، اُن کا بعد کا طرزِ عمل ثابت کر رہا ہو کہ وہ امن پسند، مطیع قانون، اور نیک چلن انسان بن چکے ہیں، اور اس کے بعد اُن کے سابق جرائم کا پتہ چلے ، تو اُن سزاؤں میں سے کوئی سزا اُن کو نہ دی جائے گی جو اُپر بیان ہوئی ہیں۔ البتہ آدمیوں کے حقوق پر اگر کوئی دست درازی انہوں نے کی تھی تو اس کی ذمّہ داری ان پر سے ساقط نہ ہو گی۔ مثلاً اگر کسی انسان کو انہوں نے قتل کیا تھا یا کسی کا مال لیا تھا یا کوئی اور جُرم انسانی جان و مال کے خلاف کیا تھا تو اسی جرم کے بارے میں فوجداری مقدمۃسزا  انسانون ٔ ے کہ دُسرے پہلوو ان پر قائم کیا جائے گا، لیکن بغاوت اور غدّاری اور خدا اور رسول کے خلاف محاربہ کا کوئی مقدمہ نہ چلایا جائے گا۔

 

ترجمہ

رجمہ

ی قاعدہ کے مطابق رشتہ دار

اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اللہ سے ڈرو اور اُس کی جناب میں بار یابی کا ذریعہ تلاش کرو ۵۸ اور اس کی راہ میں جدوجہد کرو،۵۹ شاید کہ تمہیں کامیابی نصیب ہو جائے۔ میں چاہتا ہوں کہ میرا اور اپنا گناہ تُو ہی سمیٹ لے  اور چور، خواہ عورت ہو یا مرد، دونوں کے ہاتھ کاٹ دو،۶۰ یہ اُن کی کمائی کا بدلہ ہے اور اللہ کی طرف سے عبرت ناک سزا۔ اللہ کی قدرت سب پر غالب ہے اور وہ دانا ہ بینا ہے۔پھر جو ظلم کرنے کے بعد توبہ کرے اور اپنی اصلاح کر لے تو اللہ کی نظرِ عنایت پھر اس پر مائل ہو جائے گی،۶۱ اللہ بہت درگزر کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے۔کیا تم جانتے نہیں ہو کہ اللہ زمین اور آسمانوں کی سلطنت کا مالک ہے ؟ جسے چاہے سزا دے اور جسے چاہے معاف کر دے ، وہ ہر چیز کا اختیار رکھتا ہے۔ اے پیغمبرؐ ! تمہارے لیے باعث رنج نہ ہوں وہ لوگ جو کفر کی راہ میں بڑی تیز گامی دکھا رہے ہیں۔۶۲ خواہ وہ اُن میں سے ہوں جو منّہ سے کہتے ہیں، ہم ایمان لائے مگر دل اُن کے ایمان نہیں لائے ، یا اُن میں سے ہوں جو یہودی بن گئے ہیں، جن کا حال یہ ہے کہ جھُوٹ کے لیے کان لگاتے ہیں،۶۳ اور دُوسرے لوگوں کی خاطر، جو تمہارے پاس کبھی نہیں آئے ، سُن گُن لیتے پھرتے ہیں،۶۴ کتاب اللہ کے الفاظ کو اُن کا صحیح محل متعیّن ہونے کے باوجود اصل معنی سے پھیرتے ہیں،۶۵ اور لوگوں سے کہتے ہیں کہ اگر تمہیں یہ حکم دیا جائے تو مانو، نہیں تو نہ مانو۔۶۶ جسے اللہ ہی نے فتنہ میں ڈالنے کا ارادہ کر لیا ہو اس کو اللہ کی گرفت سے بچانے کے لیے تم کچھ نہیں کر سکتے ،۶۷ یہ وہ لوگ ہیں جن کے دلوں کو اللہ نے پاک کرنا نہ چاہا،۶۸ ان کے لیے دُنیا میں رُسوائی ہے اور آخرت میں سخت سزا۔ یہ جھُوٹ سُننے والے اور حرام کے مال کھانے والے ہیں،۶۹ لہٰذا اگر یہ تمہارے پاس (اپنے مقدمات لے کر) آئیں تو تمہیں اختیار دیا جاتا ہے کہ چاہو ان کا فیصلہ کرو ورنہ انکار کر دو۔ انکار کر دو تو یہ تمہارا کچھ بگاڑ نہیں سکتے ، اور فیصلہ کرو تو پھر ٹھیک ٹھیک انصاف کے ساتھ کرو کہ اللہ انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔۔۔۔۷۰ اور یہ تمہیں کیسے حَکم بناتے ہیں جبکہ ان کے پاس توراۃ موجود ہے جس میں اللہ کا حکم لکھا ہوا ہے اور پھر یہ اس سے منہ موڑ رہے ہیں؟۷۱ اصل بات یہ ہے کہ یہ لوگ ایمان ہی نہیں رکھتے۔ ؏٦

 

تفسیر

 

۵۸-یعنی ہر اُس ذریعہ کے طالب اور جویاں رہو جس سے تم اللہ کا تقرب حاصل کر سکو اور اس کی رضا کو پہنچ سکو۔

۵۹-اصل میں لفظ جَاھِدُوْ استعمال فرمایا گیا ہے جس کا مفہُوم محض ’’جدوجہد‘‘ سے پُوری طرح واضح نہیں ہوتا۔ مجاہدہ کا لفظ مقابلہ کا مقتضی ہے اور اس کا صحیح مفہُوم یہ ہے کہ جو قوتیں اللہ کی راہ میں مزاحم ہیں، جو تم کو خد اکی مرضی کے مطابق چلنے سے روکتی اور اس کی راہ سے ہٹانے کی کوشش کرتی ہیں ، جو تم کو پُوری طرح خدا کی بندہ بن کر نہیں رہنے دیتیں اور تمہیں اپنا یا کسی غیر اللہ کا بندہ بننے پر مجبُور کرتی ہیں، ان کے خلاف اپنی تمام امکانی طاقتوں سے کشمکش اور جدو جہد کرو۔ اسی جدوجہد پر تمہاری فلاح و کامیابی کا اور خدا سے تمہارے تقرب کا انحصار ہے۔

اس طرح یہ آیت بندۂ  مومن کو ہر محاذ پر چو مُکھی لڑائی لڑنے کی ہدایت کرتی ہے۔ ایک طرف ابلیسِ لعین اور اس کا شیطانی لشکر ہے۔ دُوسری طرف آدمی کا اپنا نفس اور اس کی سرکش خواہشات ہیں۔ تیسری طرف خدا سے پھرے ہوئے بہت سے انسان ہیں جن کے ساتھ آدمی ہر قسم کے معاشرتی ، تمدّنی اور معاشی تعلقات میں بندھا ہوا ہے۔ چوتھی طرف وہ غلط مذہبی ، تمدّنی اور سیاسی نظام ہیں جو خدا سے بغاوت پر قائم ہوئے ہیں اور بندگیِ حق کے بجائے بندگیِ باطل پر انسان کو مجبُور کرتے ہیں۔ ان سب کے حربے مختلف ہیں مگر سب کی ایک ہی کوشش ہے کہ آدمی کو خدا کے بجائے اپنا مطیع بنائیں۔ بخلاف اس کے آدمی کی ترقی کا اور تقربِ خداوندی کے مقام تک اس کے عُروج کا انحصار بالکلیہ اس پر ہے کہ وہ سراسر خدا کا مطیع اور باطن سے لے کر ظاہر تک خالصتًہ اس کا بندہ بن جائے۔ لہٰذا اپنے مقصُود تک اس کا پہنچنا بغیر اِس کے ممکن نہیں ہے کہ وہ اِن تمام مانع و مزاحم قوتوں کے خلاف بیک وقت جنگ آزما ہو، ہر وقت ہر حال میں ان سے کشمکش کرتا رہے اور ان ساری رُکاوٹوں کو پامال کرتا ہوا خدا کی راہ میں بڑھتا چلا جائے۔

خُوب جان لو کہ جن لوگوں نے کفر کا رویہ اختیار کیا ہے ، اگر اُن کے قبضہ میں ساری زمین کی دولت ہو اور اتنی ہی اور اس کے ساتھ، اور وہ چاہیں کہ اسے فدیہ میں دے کر روزِ قیامت کے عذاب سے بج جائیں، تب بھی وہ ان سے قبول نہ کی جائے گی اور انہیں درد ناک سزا مِل کر رہے گی۔وہ چاہیں گے کہ دوزخ کی آگ سے نِکل بھاگیں مگر نہ نکل سکیں گے اور انہیں قائم رہنے والا عذاب دیا جائے گا۔

۶۰-دونوں ہاتھ نہیں بلکہ ایک ہاتھ۔ اور اُمّت کا اس پر بھی اتفاق ہے کہ پہلی چوری پر سیدھا ہاتھ کاٹا جائے گا۔ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے یہ ہدایت بھی فرمائی ہے کہ لا قطع علیٰ خَائنٍ۔ اس سے معلوم ہوا کہ سرقہ کا اطلاق خیانت وغیرہ پر نہیں ہوتا بلکہ صرف اِس فعل پر ہوتا ہے کہ آدمی کسی کے مال کو اس کی حفاظت سے نکال کر اپنے قبضہ میں کر لے۔

پھر نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے یہ ہدایت بھی فرمائی ہے کہ ایک ڈھال کی قیمت سے کم کی چوری میں ہاتھ نہ کاٹا جائے۔ ایک ڈھال کی قیمت نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے زمانہ میں بروایت عبداللہ بن عباس ؓ دس درہم ، بروایت ابن عمر ؓ تین درہم، بروایت انس بن مالک ؓ پانچ درہم اور بروایت حضرت عائشہ ؓ ایک چوتھائی دینار ہوتی تھی۔ اسی اختلاف کی بنا پر فقہا کے درمیان کم سے کم نصابِ سرقہ میں اختلاف ہوا ہے۔ امام ابو حنیفہ ؒ کے نزدیک سرقہ کا نصاب دس درہم ہے اور امام مالک ؒ شافعیؒ اور احمدؒ کے نزدیک چوتھائی دینار۔ (اُس زمانہ کے درہم میں تین ماشہ ۱- ۱/۵ رتی چاندی ہوتی تھی۔ اور ایک چوتھا ئی دینار ۳ درہم کے برابر تھا)۔

(پھر بہت سی چیزیں ایسی ہیں کہ جن کی چوری میں ہاتھ کاٹنے کی سزا نہ دی جائے گی۔ مثلاً نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی ہدایت ہے کہ لا قطع فی ثمرۃ ولا کثر( پھل اور ترکاری کی چوری میں ہاتھ نہ کاٹا جائے )۔ لاقطع فی طعام( کھانے کی چوری میں قطعِ ید نہیں ہے۔)۔ اور حضرت عائشہ ؓ کی حدیث ہے کہ لم یکن قطع السارق علی عھد رسُول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم فی الشئ التافہ(حقیر چیزوں کی چوری میں نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے زمانہ میں ہاتھ نہیں کاٹا جاتا تھا)۔ حضرت علی ؓ اور حضرت عثمان ؓ کا فیصلہ ہے اور صحابہ کرام میں سے کسی نے اس سے اختلاف نہیں کیا کہ لا قطع فی الطّیر( پرندے کی چوری میں ہاتھ کاٹنے کی سزا نہیں ہے )۔ نیز سیّدنا عمر و علی رضی اللہ عنہما نے بیت المال سے چوری کرنے والے کا ہاتھ بھی نہیں کاٹا اور اس معاملہ میں بھی صحابہ کرام میں سے کسی کا اختلاف منقول نہیں ہے۔ اِن مآخذ کی بُنیاد پر مختلف ائمہ فقہ نے مختلف چیزوں کو قطعِ ید کے حکم سے مستثنیٰ قرار دیا ہے۔ امام ابو حنیفہ ؒ کے نزدیک ترکاریاں ، پھل ، گوشت ، پکا ہوا کھانا، غلّہ جس کا ابھی کھلیان نہ کیا گیا ہے ، کھیل اور گانے بجانے کے آلات وہ چیزیں ہیں جن کی چوری میں قطعِ ید کی سزا نہیں ہے۔ نیز جنگل میں چَرتے ہوئے جانوروں کی چوری اور بیت المال کی چوری میں بھی وہ قطعِ ید کے قائل نہیں ہیں۔ اِسی طرح دُوسرے ائمّہ نے بھی بعض چیزوں کو اس حکم سے مستثنیٰ قرار دیا ہے۔ لیکن اس کے معنی یہ نہیں ہیں کہ اِن چوریوں پر سرے سے کوئی سزا ہی نہ دی جائے گی۔ مطلب یہ ہے کہ ان جرائم میں ہاتھ نہ کاٹا جائے گا۔

۶۱-اس کا یہ مطلب نہیں کہ اس کا ہاتھ نہ کاٹا جائے ، بلکہ مطلب یہ ہے کہ ہاتھ کٹنے کے بعد جو شخص توبہ کر لے اور اپنے نفس کو چوری سے پاک کر کے اللہ کا صالح بندہ بن جائے وہ اللہ کے غضب سے بچ جائے گا ، اور اللہ اس کے دامن سے اس داغ کو دھو دے گا۔ لیکن اگر کسی شخص نے ہاتھ کٹوا نے کے بعد بھی اپنے آپ کو بدنیتی سے پاک نہ کیا اور وہی گندے جذبات اپنے اندر پرورش کیے جن کی بنا پر اس نے چوری کی اور اس کا ہاتھ کاٹا گیا ، تو اس کے معنی یہ ہیں کہ ہاتھ تو اس کے بدن سے جدا ہو گیا مگر چوری اس کے نفس میں بدستور موجود رہی، اس وجہ سے وہ خدا کے غضب کا اسی طرح مستحق رہے گا جس طرح ہاتھ کٹنے سے پہلے تھا۔ اِسی لیے قرآن مجید چور کو ہدایت کرتا ہے کہ وہ اللہ سے معافی مانگے اور اپنے نفس کی اصلاح کرے۔ کیونکہ ہاتھ کاٹنا تو انتظامِ تمدّن کے لیے ہے۔ اس سزا سے نفس پاک نہیں ہو سکتا۔ نفس کی پاکی صرف توبہ اور رُجوع اِلی اللہ سے حاصل ہوتی ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے متعلق احادیث میں مذکور ہے کہ ایک چور کا ہاتھ جب آپ کے حکم کے مطابق کاٹا جا چکا تو آپ ؐ نے اُسے اپنے پاس بلایا اور اس سے فرمایا قل اسْتغفر اللہ و اتوب الیہ۔’’کہہ میں خدا سے معافی چاہتا ہوں اور اس سے توبہ کرتا ہوں‘‘۔ اُس نے آپ ؐ کی تلقین کے مطابق یہ الفاظ کہے۔ پھر آپ ؐ نے اس کے حق میں دعا فرمائی کہ اَلّٰھُمَّ تُبْ عَلَیْہِ۔’’خدایا اسے معاف فر ما دے ‘‘۔

۶۲-یعنی جن کی ذہانتیں اور سرگرمیاں ساری کی ساری اس کوشش میں صرف ہو رہی ہیں کہ جاہلیت کی جو حالت پہلے سے چلی آ رہی ہے وہی برقرار رہے اور اسلام کی یہ اصلاحی دعوت اُس بگاڑ کو درست کرنے میں کامیاب نہ ہونے پائے۔ یہ لوگ تمام اخلاقی بندشوں سے آزاد ہو کر نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے خلاف ہر قسم کی رکیک سے رکیک چالیں چل رہے تھے۔ جان بُوجھ کر حق نِگل رہے تھے۔ نہایت بے باکی و جسارت کے ساتھ جھُوٹ ، فریب ، دغا اور مکر کے ہتھیاروں سے اُس پاک انسان کے کام کو شکست دینے کی کوشش کر رہے تھے جو کام بے غرضی کے ساتھ سراسر خیر خواہی کی بنا پر عام انسانوں کی اور خود اُن کی فلاح و بہبُود کے لیے شب و روز محنت کر رہا تھا۔ اُن کی اِن حرکات کو دیکھ دیکھ کر نبی صلی اللہ علیہ و سلم کا دل کُڑھتا تھا ، اور یہ کُڑھنا بالکل فطری امر تھا۔ جب کسی پاکیزہ انسان کو پست اخلاق لوگوں سے سابقہ پیش آتا ہے اور وہ محض اپنی جہالت اور خود غرضی و تنگ نظری کی بنا پر اس کی خیر خواہانہ مساعی کو روکنے کے لیے گھٹیا درجہ کی چال بازیوں سے کام لیتے ہیں تو فطرۃً اُس کا دل دُکھتا ہی ہے۔ پس اللہ تعالیٰ کے ارشاد کا منشا یہ نہیں ہے کہ اِن حرکات پر جو فطری رنج آپ کو ہوتا ہے وہ نہ ہونا چاہیے۔ بلکہ منشاء دراصل یہ ہے کہ اس سے آپ دل شکستہ نہ ہوں، ہمت نہ ہاریں، صبر کے ساتھ بندگانِ خدا کی اصلاح کے لیے کام کیے چلے جائیں۔ رہے یہ لوگ، تو جس قسم کے ذلیل اخلاق انہوں نے اپنے اندر پرورش کیے ہیں اُن کی بنا پر یہ روش ان سے عین متوقع ہے ، کوئی چیز اِن کی اس روش میں خلاف توقع نہیں ہے۔

۶۳-اس کے دو مطلب ہیں: ایک یہ کہ یہ لوگ چونکہ خواہشات کے بندے بن گئے ہیں اس لیے سچائی سے انہیں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ جھُوٹ ہی انہیں پسند آتا ہے اور اسی کو یہ جی لگا کر سُنتے ہیں ، کیونکہ ان کے نفس کی پیاس اُسی سے بُجھتی ہے۔ دوسرا مطلب یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم اور مسلمانوں کی مجلسوں میں یہ جھُوٹ کی غرض سے آ کر بیٹھتے ہیں تاکہ یہاں جو کچھ دیکھیں اور جو باتیں سُنیں اُن کو اُلٹے معنی پہنا کر یا ان کے ساتھ اپنی طرف سے غلط باتوں کی آمیزش کر کے آنحضرت ؐ اور مسلمانوں کو بدنام کرنے کے لیے لوگوں میں پھیلائیں۔

۶۴-اس کے بھی دو مطلب ہیں۔ ایک یہ کہ جاسوس بن کر آتے ہیں اور نبی صلی اللہ علیہ و سلم اور مسلمانوں کی مجلسوں میں اس لیے گشت لگاتے پھرتے ہیں کہ کوئی راز کی بات کان میں پڑے تو اسے آپ کے دُشمنوں تک پہنچائیں۔ دُوسرے یہ کہ جھُوٹے الزامات عائد کرنے اور افترا پردازیاں کرنے کے لیے مواد فراہم کرتے پھرتے ہیں تاکہ اُن لوگوں میں بدگمانیاں اور غلط فہمیاں پھیلائیں جن کو نبی صلی اللہ علیہ و سلم اور مسلمانوں سے براہِ راست تعلقات پیدا کرتے کا موقع نہیں ملا ہے۔

۶۵-یعنی توراۃ کے جو احکام ان کی خواہشات کے مطابق نہیں ہیں۔ ان کے اندر جان بُوجھ کر رد و بدل کرتے ہیں اور الفاظ کے معنی بدل کر من مانے احکام ان سے نکالتے ہیں۔

۶۶-یعنی جاہل عوام سے کہتے ہیں کہ جو حکم ہم بتا رہے ہیں ، اگر محمد صلی اللہ علیہ و سلم بھی یہی حکم تمہیں بتائیں تو اسے قبول کرنا ورنہ رد کر دینا۔

۶۷-اللہ کی طرف سے کسی کے فتنہ میں ڈالے جانے کا مطلب یہ ہے کہ جس شخص کے اندر اللہ تعالیٰ کسی قسم کے بُرے میلانات پرورش پاتے دیکھتا ہے اس کے سامنے پے در پے ایسے مواقع لاتا ہے جن میں اس کی سخت آزمائش ہوتی ہے۔ اگر وہ شخص ابھی بُرائی کی طرف پوری طرح نہیں جھکا ہے تو ان آزمائشوں سے سنبھل جاتا ہے اور اس کے اندر بدی کا مقابلہ کرنے کے لیے نیکی کی جو قوتیں موجود ہوتی ہیں وہ اُبھر آتی ہیں۔ لیکن اگر وہ بُرائی کی طرف پُوری طرح جھُک چکا ہوتا ہے اور اس کی نیکی اس کی بدی سے اندر ہی شکست کھا چکی ہوتی ہے تو ہر ایسی آزمائش کے موقع پر وہ اور زیادہ بدی کے پھندے میں پھنستا چلا جاتا ہے۔ یہی اللہ تعالیٰ کا وہ فتنہ ہے جس سے کسی بگڑتے ہوئے انسان کو بچا لینا اس کے کسی خیر خواہ کے بس میں نہیں ہوتا۔ اور اس فتنہ میں صرف افراد ہی نہیں ڈالے جاتے بلکہ قومیں بھی ڈالی جاتی ہیں۔

۶۸-اس لیے کہ انہوں نے خود پاک ہونا نہ چاہا۔ جو خود پاکیزگی کا خواہش مند ہوتا ہے اور اس کے لیے کوشش کرتا ہے اُسے پاکیزگی سے محرُوم کرنا اللہ کا دستور نہیں ہے۔ اللہ پاک کرنا اُسی کو نہیں چاہتا جو خود پاک ہونا نہ چاہے۔

۶۹-یہاں خاص طور پر اُن کے مفتیوں اور قاضیوں کی طرف اشارہ ہے جو جھُوٹی شہادتیں لے کر اور جھُوٹی رودادیں سُن کر اُن لوگوں کے حق میں انصاف کے خلاف فیصلے کیا کرتے تھے جن سے انہیں رشوت پہنچ جاتی تھی یا جن کے ساتھ ان کے ناجائز مفاد وابستہ ہوتے تھے۔

۷۰-یہودی اس وقت تک اسلامی حکومت کی باقاعدہ رعایا نہیں بنے تھے بلکہ اسلامی حکومت کے ساتھ ان کے تعلقات معاہدات پر مبنی تھے۔ ان معاہدات کی رُو سے یہودیوں کو اپنے اندرونی معاملات میں آزادی حاصل تھی اور ان کے مقدمات کے فیصلے انہی کے قوانین کے مطابق اُن کے اپنے جج کرتے تھے۔ نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس یا آپ کے مقرر کردہ قاضیوں کے پاس اپنے مقدمات لانے کے لیے وہ از رُوئے قانون مجبُور نہ تھے۔ لیکن یہ لوگ جن معاملات میں خود اپنے مذہبی قانون کے مطابق فیصلہ کرنا نہ چاہتے تھے اُن کا فیصلہ کرانے کے لیے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس اس اُمید پر آ جاتے تھے کہ شاید آپ کی شریعت میں ان کے لیے کوئی دُوسرا حکم ہو اور اس طرح وہ اپنے مذہبی قانون کی پیروی سے بچ جائیں۔

یہاں خاص طور پر جس مقدمہ کی طرف اشارہ ہے وہ یہ تھا کہ خیبر کے معزز یہودی خاندانوں میں سے ایک عورت اور ایک مرد کے درمیان ناجائز تعلق پایا گیا۔ توراۃ کی رُو سے ان کی سزا رجم تھی ، یعنی یہ کہ دونوں کو سنگسار کیا جائے ( استثناء – باب ۲۲ – آیت ۲۳ – ۲۴) لیکن یہودی اس سزا کو نافذ کرنا نہیں چاہتے تھے۔ اس لیے انہوں نے آپس میں مشورہ کیا کہ اس مقدمہ میں محمد صلی اللہ علیہ و سلم کو پنچ بنایا جائے۔ اگر وہ رجم کے سوا کوئی اَور حکم دیں تو قبول کر لیا جائے اور رجم ہی کا حکم دیں تو نہ قبول کیا جائے۔ چنانچہ مقدمہ آپ کے سامنے لایا گیا۔ آپ نے رجم کا حکم دیا۔ انہوں نے اس حکم کو ماننے سے انکار کیا۔ اس پر آپ نے پوچھا تمہارے مذہب میں اس کی کیا سزا ہے ؟ انہوں نے کہا کوڑے مارنا اور منہ کالا کر کے گدھے پر سوار کرنا۔ آپ نے ان کے علماء کو قسم دے کر اُ ن سے پوچھا ، کیا توراۃ میں شادی شدہ زانی اور زانیہ کی یہی سزا ہے ؟ انہوں نے پھر وہ جھوٹا جواب دیا۔ لیکن ان میں سے ایک شخص ابن صوریا، جو خود یہودیوں کے بیان کے مطابق اپنے وقت میں توراۃ کا سب سے بڑا عالم تھا، خاموش رہا۔ آپ نے اُس سے مخاطب ہو کر فرمایا کہ میں تجھے اُس خدا کی قسم دے کر پُوچھتا ہوں جس نے تم لوگوں کو فرعون سے بچایا اور طُور پر تمہیں شریعت عطا کی، کیا واقعی توراۃ میں زنا کی یہی سزا لکھی ہے ؟ اس نے جواب دیا کہ ’’اگر آپ مجھے ایسی بھاری قسم نہ دیتے تو میں نہ بتاتا۔ واقعہ یہ ہے کہ زنا کی سزا تو رجم ہی ہے مگر ہمارے ہاں جب زنا کی کثرت ہوئی تو ہمارے حُکّام نے یہ طریقہ اختیار کیا کہ بڑے لوگ زنا کرتے تو انہیں چھوڑ دیا جاتا اور چھوٹے لوگوں سے یہی حرکت سرزد ہوتی تو انہیں رجم کر دیا جاتا۔ پھر جب اس سے عوام میں ناراضی پیدا ہونے لگی تو ہم نے توراۃ کے قانون کو بدل کر یہ قاعدہ بنا لیا کہ زانی اور زانیہ کو کوڑے لگائے جائیں اور انہیں مُنہ کالا کر کے گدھے پر اُلٹے مُنہ سوار کیا جائے۔‘‘ اس کے بعد یہودیوں کے لیے کچھ بولنے کی گنجائش نہ رہی اور نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے حکم سے زانی اور زانیہ کو سنگسار کر دیا گیا۔

۷۱-اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اِن لوگوں کی بددیانتی کو بالکل بے نقاب کر دیا ہے۔ یہ ’’مذہبی لوگ‘‘ جنہوں نے تمام عرب پر اپنی دینداری اور اپنے علم کتاب کا سِکّہ جما رکھا تھا ، ان کی حالت یہ تھی کہ جس کتاب کو خود کتاب اللہ مانتے تھے اور جس پر ایمان رکھنے کے مدّعی تھے اُس کے حکم کو چھور کر نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس اپنا مقدمہ لائے تھے جن کے پیغمبر ہونے سے ان کو بشدّت انکار تھا۔ اس سے یہ راز بالکل فاش ہو گیا کہ یہ کسی چیز پر بھی صداقت کے ساتھ ایمان نہیں رکھتے ، دراصل ان کا ایمان اپنے نفس اور اس کی خواہشات پر ہے ، جسے کتاب اللہ مانتے ہیں اس سے صرف اس لیے مُنہ موڑتے ہیں کہ اس کا حکم ان کے نفس کو ناگوار ہے ، اور جسے معاذاللہ جھُوٹا مدّعیِ نبوّت کہتے ہیں اس کے پاس صرف اس امید پر جاتے ہیں کہ شاید وہاں سے کوئی ایسا فیصلہ حاصل ہو جائے جو ان کے منشاء کے مطابق ہو۔

 

ترجمہ

 

ہم نے توراۃ نازل کی جس میں ہدایت اور روشنی تھی۔ سارے نبی، جو مُسلِم تھے ، اُسی کے مطابق ان یہودی بن جانے والوں کے معاملات ۷۲ کا فیصلہ کرتے تھے ، اور اِسی طرح ربّانی اور اَحبار بھی ۷۳(اسی پر فیصلہ کا مدار رکھتے تھے ) کیونکہ انہیں کتاب اللہ کی حفاظت کا ذمہ دار بنایا گیا تھا اور وہ اس پر گواہ تھے۔ پس (اے گروہِ یہود !) تم لوگوں سے نہ ڈرو بلکہ مجھ سے ڈرو اور میری آیات کو ذرا ذرا سے معاوضے لے کر بیچنا چھوڑ دو۔ جو لوگ اللہ کے نازل کردہ قانون کے مطابق فیصلہ نہ کریں وہی کافر ہیں۔ توراۃ میں ہم نے یہودیوں پر یہ حکم لکھ دیا تھا کہ جان کے بدلے جان، آنکھ کے بدلے آنکھ، ناک کے بدلے ناک، کان کے بدلے کان، دانت کے بدلے دانت، اور تمام زخموں کے لیے برابر کا بدلہ۔۷۴ پھر جو قصاص کا صدقہ کر دے تو وہ اس کے لیے کَفّارہ ہے ،۷۵ اور جو لوگ اللہ کے نازل کردہ قانون کے مطابق فیصلہ نہ کریں وہی ظالم ہیں۔ پھر ہم نے ان پیغمبروں کے بعد مریمؑ  کے بیٹے عیسیٰؑ  کو بھیجا۔ توراۃ میں سے جو کچھ اس کے سامنے موجود تھا وہ اس کی تصدیق کرنے والا تھا۔ اور ہم نے اس کو انجیل عطا کی جس میں رہنمائی اور روشنی تھی اور وہ بھی توراۃ میں سے جو کچھ اُس وقت موجود تھا اُس کی تصدیق کرنے والی تھی ۷۶ اور خدا ترس لوگوں کے لیے سراسر ہدایت اور نصیحت تھی۔ ہمارا حکم تھا کہ اہلِ انجیل اس قانون کے مطابق فیصلہ کریں جو اللہ نے اس میں نازل کیا ہے اور جو لوگ اللہ کے نازل کردہ قانون کے مطابق فیصلہ نہ کریں وہی فاسق ہیں۔۷۷پھر اے محمد ؐ ! ہم نے تمہاری طرف یہ کتاب بھیجی جو حق لے کر آئی ہے اور الکتاب میں سے جو کچھ اس کے آگے موجود ہے اُس کی تصدیق کرنے والی ۷۸ اور اس کی محافظ و نگہبَان ہے۔۷۹ لہٰذا تم خدا کے نازل کردہ قانون کے مطابق لوگوں کے معاملات کا فیصلہ کرو اور جو حق تمہارے پاس آیا ہے اُس سے مُنّہ موڑ کر ان کی خواہشات کی پیروی نہ کرو۔۔۔۔ ۸۰ ہم نے تم میں سے ہر ایک کے لیے ایک شریعت اور ایک راہِ عمل مقرر کی۔ اگرچہ تمہارا خدا چاہتا تو تم سب کو ایک اُمّت بھی بنا سکتا تھا، لیکن اُس نے یہ اِس لیے کیا کہ جو کچھ اُس نے تم لوگوں کو دیا ہے اس میں تمہاری آزمائش کرے۔ لہٰذا بھلائیوں میں ایک دُوسرے سے سبقت لے جانے کی کوشش کرو۔ آخر کار تم سب کو خدا کی طرف پلٹ کر جانا ہے ، پھر وہ تمہیں اصل حقیقت بتا دے گا جس میں تم اختلاف کرتے رہے ۸۱ ہو۔۔۔۔۸۲ پس اے محمدؐ ! تم اللہ کے نازل کردہ قانون کے مطابق ان لوگوں کے معاملات کا فیصلہ کرو اور ان کی خواہشات کی پیروی نہ کرو۔ ہوشیار رہو کہ یہ لوگ تم کو فتنہ میں ڈال کر اُس ہدایت سے ذرہ برابر منحرف نہ کرنے پائیں جو خدا نے تمہاری طرف نازل کی ہے پھر اگر یہ اس سے منہ موڑیں تو جان لو کہ اللہ نے ان کے بعض گناہوں کی پاداش میں ان کو مبتلائے مصیبت کرنے کا ارادہ ہی کر لیا ہے ، اور یہ حقیقت ہے کہ اِن لوگوں میں سے اکثر فاسق ہیں۔ (اگر یہ خدا کے قانون سے مُنّہ موڑتے ہیں) تو کیا پھر جاہلیّت ۸۳ کا فیصلہ چاہتے ہیں؟ حالانکہ جو لوگ اللہ پر یقین رکھتے ہیں ان کے نزدیک اللہ سے بہتر فیصلہ کرنے والا کوئی نہیں ہے۔ ؏۷

 

تفسیر

 

۷۲-یہاں ضمناً اس حقیقت پر بھی متنبّہ کر دیا گیا کہ انبیاء سب کے سب ’’مسلم‘‘ تھے ، بخلاف اس کے یہ یہودی ’’اسلام ‘‘ سے ہٹ کر اور فرقہ بندی میں مبتلا ہو کر صرف ’’یہودی‘‘ بن کر رہ گئے تھے۔

۷۳-ربّانی = علماء – احبار = فقہاء

۷۴-تقابل کے لیے ملاحظہ ہو توراۃ کی کتاب خروج، باب ۲۱- آیت ۲۳-۲۵۔

۷۵-یعنی جو شخص صدقہ کی نیت سے قصاص معاف کر دے اس کے حق میں یہ نیکی اس کے بہت سے گناہوں کا کفارہ ہو جائے گا۔ اسی معنی میں نبی صلی اللہ علیہ و سلم کا یہ ارشاد ہے کہ من جرح فی جسدہ جراحۃ فتصدق بھا کفر عنہ ذنوبہ بمثل ما تصدق بہ۱۔ یعنی جس کے جسم میں کوئی زخم لگا یا گیا اور اس نے معاف کر دیا تو جس درجہ کی یہ معافی ہو گی اسی کے بقدر اس کے گناہ معاف کر دیے جائیں گے۔

۷۶-یعنی مسیح علیہ السّلام کوئی نیا مذہب لے کر نہیں آئے تھے بلکہ وہی ایک دین، جو تمام پچھلے انبیاء کا دین تھا، مسیح کا دین بھی تھا اور اسی کی طرف وہ دعوت دیتے تھے۔ توراۃ کی اصل تعلیمات میں سے جو کچھ ان کے زمانہ میں محفوظ تھا اس کو مسیح خود بھی مانتے تھے اور انجیل بھی اس کی تصدیق کرتی تھی(ملاحظہ ہو متی باب ۵ – آیت ۱۷- ۱۸)۔ قرآن اس حقیقت کا بار بار اعادہ کرتا ہے کہ خدا کی طرف سے جتنے انبیاء دُنیا کی کسی گوشے میں آئے ہیں اُن میں سے کوئی بھی پچھلے انبیاء کی تردید کے لیے اور ان کے کام کو ہٹا کر اپنا نیا مذہب چلانے کے لیے نہیں آیا تھا بلکہ ہر نبی اپنے پیشرو انبیاء کی تصدیق کرتا تھا اور اسی کام کو فروغ دینے کے لیے آتا تھا جسے اگلوں نے ایک پاک ورثہ کی حیثیت سے چھوڑا تھا۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے اپنی کوئی کتاب اپنی ہی پچھلی کتابوں کی تردید کرنے کے لیے کبھی نہیں بھیجی بلکہ اس کی ہر کتاب پہلے آئی ہوئی کتابوں کی مؤیّد اور مصدق تھی۔

۷۷-’’یہاں اللہ تعالیٰ نے اُن لوگوں کے حق میں جو خدا کے نازل کردہ قانون کے مطابق فیصلہ نہ کریں تین حکم ثابت کیے ہیں۔ ایک یہ کہ وہ کافر ہیں ، دوسرے یہ کہ وہ ظالم ہیں، تیسرے یہ کہ وہ فاسق ہیں۔ اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ جو انسان خدا کے حکم اور اس کے نازل کردہ قانون کو چھوڑ کر اپنے یا دُوسرے انسانوں کے بنائے ہوئے قوانین پر فیصلہ کرتا ہے ، وہ دراصل تین بڑے جرائم کا ارتکاب کرتا ہے۔ اوّلاً اس کا یہ فعل حکمِ خداوندی کے انکار کا ہم معنی ہے اور یہ کفر ہے۔ ثانیاً اس کا یہ فعل عدل و انصاف کے خلاف ہے ، کیونکہ ٹھیک ٹھیک عدل کے مطابق جو حکم ہو سکتا تھا وہ تو خدا نے دے دیا تھا ، اس لیے جب خدا کے حکم سے ہٹ کر اس نے فیصلہ کیا تو ظلم کیا۔ تیسرے یہ کہ بندہ ہونے کے باوجود جب اس نے اپنے مالک کے قانون سے منحرف ہو کر اپنا یا کسی دُوسرے کا قانون نافذ کیا تو درحقیقت بندگی و اطاعت کے دائرے سے باہر قدم نکالا اور یہی فسق ہے۔ یہ کفر اور ظلم اور فسق اپنی نوعیت کے اعتبار سے لازماً انحراف از حکمِ خداوندی کی عین حقیقت میں داخل ہیں۔ ممکن نہیں ہے کہ جہاں وہ انحراف موجود ہو وہاں تینوں چیزیں موجود نہ ہوں۔ البتہ جس طرح انحراف کے درجات و مراتب میں فرق ہے اسی طرح ان تینوں چیزوں کے مراتب میں بھی فرق ہے۔ جو شخص حکمِ الٰہی کے خلاف اس بنا پر فیصلہ کرتا ہے کہ وہ اللہ کے حکم کو غلط اور اپنے یا کسی دُوسرے انسان کے حکم کو صحیح سمجھتا ہے وہ مکمل کافر اور ظالم اور فاسق ہے۔ اور جو اعتقاداً حکمِ الٰہی کو برحق سمجھتا ہے مگر عملاً اس کے خلاف فیصلہ کرتا ہے وہ اگر چہ خارج از مِلّت تو نہیں ہے مگر اپنے ایمان کو کفر، ظلم اور فسق سے مخلوط کر رہا ہے۔ اِسی طرح جس نے تمام معاملات میں حکمِ الٰہی سے اِنحراف اختیار کر لیا ہے وہ تمام معاملات میں کافر، ظالم اور فاسق ہے۔ اور جو بعض معاملات میں مطیع اور بعض میں منحرف ہے اس کی زندگی میں ایمان و اسلام اور کفر و ظلم و فسق کی آمیزش ٹھیک ٹھیک اسی تناسب کے ساتھ ہے جس تناسب کے ساتھ اس نے اطاعت اور انحراف کو ملا رکھا ہے۔ بعض اہلِ تفسیر نے ان آیات کے اہلِ کتاب کے ساتھ مخصُوص قرار دینے کی کوشش کی ہے۔ مگر کلامِ الٰہی کے الفاظ میں اس تاویل کے لیے کوئی گنجائش موجود نہیں۔ اس تاویل کا بہترین جواب وہ ہے جو حضرت حذیفہ ؓ نے دیا ہے۔ ان سے کسی نے کہا کہ یہ تینوں آیتیں تو بنی اسرائیل کے حق میں ہیں۔ کہنے والے کا مطلب یہ تھا کہ یہودیوں میں جس نے خدا کے نازل کردہ حکم کے خلاف فیصلہ کیا ہو وہی کافر ، وہی ظالم اور وہی فاسق ہے۔ اس پر حضرت حذیفہ ؓ نے فرمایا نعم الاخرۃ لکم بنو اسرائیل اَن کانت لھم کل مُرّ ۃ ولکم کل حلوۃ کلّا واللہ لتسلکن طریقھم قدر الشراک۔’’ کتنے اچھے بھائی ہیں تمہارے لیے یہ بنی اسرائیل کہ کڑوا کڑوا سب اُن کے لیے ہے اور میٹھا میٹھا سب تمہارے لیے ! ہرگز نہیں ، خدا کی قسم تم انہی کے طریقہ پر قدم بقدم چلو گے۔

۷۸-یہاں ایک اہم حقیقت کی طرف اشارہ فرمایا گیا ہے۔ اگرچہ اس مضمون کو یوں بھی ادا کیا جا سکتا تھا کہ ’’پچھلی کتابوں‘‘ میں سے جو کچھ اپنی اصلی اور صحیح صورت پر باقی ہے ، قرآن اس کی تصدیق کرتا ہے ، لیکن اللہ تعالیٰ نے ’’پچھلی کتابوں‘‘ کے بجائے ’’الکتاب‘‘ کا لفظ استعمال فرمایا۔ اس سے یہ راز منکشف ہوتا ہے کہ قرآن اور تمام وہ کتابیں جو مختلف زمانوں اور مختلف زبانوں میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوئیں، سب فی الاصل ایک ہی کتاب ہیں۔ ایک ہی ان کا مصنّف ہے ، ایک ہی ان کا مدّعا اور مقصد ہے ، ایک ہی ان کی تعلیم ہے ، اور ایک ہی علم ہے جو ان کے ذریعہ سے نوع انسانی کو عطا کیا گیا۔ فرق اگر ہے تو عبارات کا ہے جو ایک ہی مقصد کے لیے مختلف مخاطبوں کے لحاظ سے مختلف طریقوں سے اختیار کی گئیں۔ پس حقیقت صرف اتنی ہی نہیں ہے کہ یہ کتابیں ایک دوسرے کی مخالف نہیں، مؤ یّد ہیں، تردید کرنے والی نہیں، تصدیق کرنے والی ہیں۔ بلکہ اصل حقیقت اس سے کچھ بڑھ کر ہے اور وہ یہ ہے کہ یہ سب ایک ہی ’’الکتاب‘‘ کے مختلف ایڈیشن ہیں۔

۷۹-اصل میں لفظ ’’مھَُیْمِنْ‘‘ استعمال ہوا ہے۔ عربی میں ھیمن یھمن ھیمنۃ کے معنی محافظت، نگرانی ، شہادت، امانت ، تائد اور حمایت کے ہیں۔ ھیمن الرجل الشئ، یعنی آدمی نے فلاں چیز کی حفاظت و نگہبانی کی۔ ھیمن الطائر علیٰ فراخہ۱، یعنی پرندے نے اپنے چُوزے کو اپنے پروں میں لے کر محفوظ کر لیا۔ حضرت عمر ؓ نے ایک مرتبہ لوگوں سے کہا انی داعٍ فھیمنوا یعنی میں دُعا کر تا ہوں تم تائید میں آمین کہو۔ اسی سے لفظ ھمیَان ہے جسے اُردو میں ہمیانی کہتے ہیں، یعنی وہ تھیلی جس میں آدمی اپنا مال رکھ کر محفوظ کرتا ہے۔ پس قرآن کو ’’الکتاب‘‘ پر مھیمن کہنے کا مطلب یہ ہے کہ اس نے ان تمام برحق تعلیمات کو جو پچھلی کُتبِ آسمانی میں دی گئی تھیں، اپنے اندر لے کر محفوظ کر لیا ہے۔ وہ اِن پر نگہبان ہے اس معنی میں کہ اب ان کی تعلیمات برحق کا کوئی حصہ ضائع نہ ہونے پائے گا۔ وہ ان کا مؤیّد ہے اس معنی میں کہ ان کتابوں کے اندر خدا کا کلام جس حد تک موجود ہے قرآن سے اس کی تصدیق ہوتی ہے۔ وہ ان پر گواہ ہے اس معنی میں کہ ان کتابوں کے اندر خدا کے کلام اور لوگوں کے کلام کی جو آمیزش ہو گئی ہے قرآن کی شہادت سے اس کو پھر چھانٹا جا سکتا ہے ، جو کچھ ان میں قرآن کے مطابق ہے وہ خدا کا کلام ہے اور جو قرآن کے خلاف ہے وہ لوگوں کا کلام ہے۔

۸۰-یہ ایک جملۂ  معترضہ ہے جس سے مقصُود ایک سوال کی توضیح کرنا ہے جو اُوپر کے سلسلۂ  تقریر کو سُنے ہوئے مخاطب کے ذہن میں اُلجھن پیدا کر سکتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ جب تمام انبیاء اور تمام کتابوں کا دین ایک ہے ، اور یہ سب ایک دُوسرے کی تصدیق و تائید کرتے ہوئے آئے ہیں تو شریعت کی تفصیلات میں ان کے درمیان فرق کیوں ہے ؟ کیا بات ہے کہ عبادت کی صُورتوں میں ، حرام و حلال کی قیُود میں اور قوانینِ  تمدّن و معاشرت کے فروع میں مختلف انبیاء اور کُتبِ آسمانی کی شریعتوں کے درمیان تھوڑا بہت اختلاف پایا جاتا ہے ؟

۸۱-یہ مذکورہ بالا سوال کا پُورا جواب ہے۔ اس جواب کی تفصیل یہ ہے :

(۱) محض اختلاف شرائع کو اس بات کی دلیل قرار دینا غلط ہے کہ یہ شریعتیں مختلف مآخذ سے ماخوذ اور مختلف سر چشموں سے نکلی ہوئی ہے۔ دراصل وہ اللہ تعالیٰ ہی ہے جس نے مختلف قوموں کے لیے مختلف زمانوں اور مختلف حالات میں مختلف ضابطے مقرر فرمائے۔

(۲) بلاشبہ یہ ممکن تھا کہ شروع ہی سے تمام انسانوں کے لیے ایک ضابطہ مقرر کر کے سب کو ایک اُمّت بنا دیا جاتا۔ لیکن وہ فرق جو اللہ تعالیٰ نے مختلف انبیاء کی شریعتوں کے درمیان رکھا اُس کے اندر دُوسری بہت سی مصلحتوں کے ساتھ ایک بڑی مصلحت یہ بھی تھی کہ اللہ تعالیٰ اس طریقہ سے لوگوں کی آزمائش کرنا چاہتا تھا۔ جو لوگ اصل دین اور اس کی رُوح اور حقیقت کو سمجھتے ہیں، اور دین میں اِن ضوابط کی حقیقی حیثیت کو جانتے ہیں، اور کسی تعصّب میں مُبتلا نہیں ہیں وہ حق کو جس صُورت میں بھی وہ آئے گا پہچان لیں گے اور قبول کر لیں گے۔ اُن کو اللہ کے بھیجے ہوئے سابق احکام کی جگہ بعد کے احکام تسلیم کرنے میں کوئی تامّل نہ ہو گا۔ بخلاف اس کے جو لوگ رُوحِ دین سے بیگانہ ہیں اور ضوابط اور ان کی تفصیلات ہی کو اصل دین سمجھ بیٹھے ہیں، اور جنہوں نے خدا کی طرف سے آئی ہوئی چیزوں پر خود اپنے حاشیے چڑھا کر ان پر جمُود اور تعصّب اختیار کر لیا ہے وہ ہر اُس ہدایت کو رَد کرتے چلے جائیں گے جو بعد میں خدا کی طرف سے آئے۔ ان دونوں قسم کے آدمیوں کو ممیّز کرنے کے لیے یہ آزمائش ضروری تھی ، اس لیے اللہ تعالیٰ نے شرائع میں اختلاف رکھا۔

(۳) تمام شرائع سے اصل مقصُود نیکیوں اور بھلائیوں کو پانا ہے اور وہ اسی طرح حاصل ہو سکتی ہیں کہ جس وقت جو حکمِ خدا ہو اُس کی پَیروی کی جائے۔ لہٰذا جو لوگ اصل مقصد پر نگاہ رکھتے ہیں ان کے لیے شرائع کے اختلافات اور مناہج کے فروق پر جھگڑا کرنے کے بجائے صحیح طرزِ عمل یہ ہے کہ مقصد کی طرف اُس راہ سے پیش قدمی کریں جس کو اللہ تعالیٰ کی منظُوری حاصل ہو۔

(۴) جو اختلافات انسانوں نے اپنے جمُود ، تعصّب، ہٹ دھرمی اور ذہن کی اُپَج سے خود پیدا کر لیے ہیں اُن کا آخری فیصلہ نہ مجلس مناظرہ میں ہو سکتا ہے نہ میدانِ جنگ میں۔ آخری فیصلہ اللہ تعالیٰ خود کرے گا جبکہ حقیقت بے نقاب کر دی جائے گی اور لوگوں پر منکشف ہو جائے گا کہ جن جھگڑوں میں وہ عمریں کھپا کر دُنیا سے آئے ہیں اُن کی تہ میں ’’حق‘‘ کا جوہر کتنا تھا اور باطل کے حاشیے کس قدر۔

۸۲-یہاں سے پھر وہی سلسلۂ  تقریر چل پڑتا ہے جو اُوپر سے چلا آ رہا تھا۔

۸۳-جاہلیّت کا لفظ اسلام کے مقابلہ میں استعمال کیا جاتا ہے۔ اسلام کا طریقہ سراسر علم ہے کیونکہ اس کی طرف خدا نے رہنمائی کی ہے جو تمام حقائق کا علم رکھتا ہے۔ اور اس کے برعکس ہر وہ طریقہ جو اسلام سے مختلف ہے جاہلیّت کا طریقہ ہے۔ عرب کے زمانۂ  قبلِ اسلام کو جاہلیّت کا دَور اسی معنی میں کہا گیا ہے کہ اس زمانہ میں علم کے بغیر محض وہم یا قیاس و گمان یا خواہشات کی بنا پر انسانوں نے اپنے لیے زندگی کے طریقے مقرر کر لیے تھے۔ یہ طرزِ عمل جہاں جس دَور میں بھی انسان اختیار کریں اسے بہرحال جاہلیّت ہی کا طرزِ عمل کہا جائے گا۔ مدرسوں اور یونیورسٹیوں میں جو کچھ پڑھایا جاتا ہے وہ محض ایک جُزوی عِلم ہے اور کسی معنی میں بھی انسان کی رہنمائی کے لیے کافی نہیں ہے۔ لہٰذا خدا کے دیے ہوئے عِلم سے بے نیاز ہو کر جو نظامِ زندگی اِس جُزوی عِلم کے ساتھ ظنون و اوہام اور قیاسات و خواہشات کی آمیزش کر کے بنا لیے گئے ہیں وہ بھی اُسی طرح  ’’جاہلیت‘‘ کی تعریف میں آتے ہیں جس طرح قدیم زمانے کے جاہلی طریقے اِس تعریف میں آتے ہیں۔

 

ترجمہ

 

اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! یہودیوں اور عیسائیوں کو اپنا رفیق نہ بناؤ، یہ آپس ہی میں ایک دُوسرے کے رفیق ہیں۔ اور اگر تم میں سے کوئی ان کو اپنا رفیق بناتا ہے تو اس کا شمار بھی پھر انہی میں ہے ، یقیناً اللہ ظالموں کو اپنی رہنمائی سے محروم کر دیتا ہے۔ تم دیکھتے ہو کہ جن کے دلوں میں نفاق کی بیماری ہے وہ اُنہی میں دَوڑ دھُوپ کرتے پھرتے ہیں۔ کہتے ہیں ’’ہمیں ڈر لگتا ہے کہ کہیں ہم کسی مصیبت کے چکّر میں نہ پھنس جائیں‘‘۔۸۴ مگر بعید نہیں کہ اللہ جب تمہیں فیصلہ کُن فتح بخشے گا یا اپنی طرف سے کوئی اور بات ظاہر کرے گا ۸۵ تو یہ لوگ اپنے اِس نفاق پر جسے یہ دلوں میں چھُپائے ہوئے ہیں نادم ہوں گے۔ اور اُس وقت اہل ایمان کہیں گے ’’کیا یہ وہی لوگ ہیں جو اللہ کے نام سے کڑی کڑی قسمیں کھا کر یقین دلاتے تھے کہ ہم تمہارے ساتھ ہیں‘‘؟۔۔۔۔ان کے سب اعمال ضائع ہو گئے اور آخر کار یہ ناکام ہ نامراد ہو کر رہے۔۸۶ اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اگر تم میں سے کوئی اپنے دین سے پھرتا ہے (تو پھر جائے ) اللہ اور بہت سے لوگ ایسے پیدا کر دے گا جو اللہ کو محبُوب ہوں گے اور اللہ اُن کو محبُوب ہو گا، جو مومنوں پر نرم اور کفّار پر سخت ہوں گے ،۸۷ جو اللہ کی راہ میں جدوجہد کریں گے اور کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہ ڈریں گے۔۸۸ یہ اللہ کا فضل ہے ، جسے چاہتا ہے عطا کرتا ہے۔ اللہ وسیع ذرائع کا مالک ہے اور سب کچھ جانتا ہے۔تمہارے رفیق تو حقیقت میں صرف اللہ اور اللہ کا رسول اور وہ اہلِ ایمان ہیں جو نماز قائم کرتے ہیں، زکوٰۃ دیتے ہیں اور اللہ کے آگے جھکنے والے ہیں۔ اور جو اللہ اور اس کے رسُول اور اہلِ ایمان کو اپنا رفیق بنا لے اُسے معلوم ہو کہ اللہ کی جماعت ہی غالب رہنے والی ہے۔ ؏۸

 

تفسیر

 

۸۴-اُس وقت تک عرب میں کفر اور اسلام کی کشمکش کا فیصلہ نہیں ہوا تھا۔ اگرچہ اسلام اپنے پیرووں کی سرفروشیوں کے سبب سے ایک طاقت بن چکا تھا لیکن مقابل کی طاقتیں بھی زبر دست تھیں۔ اسلام کی فتح کا جیسا امکان تھا ویسا ہی کفر کی فتح کا بھی تھا۔ اس لیے مسلمانوں میں جو لوگ منافق تھے وہ اسلامی جماعت میں رہتے ہوئے یہُودیوں اور عیسائیوں کے ساتھ بھی ربط و ضبط رکھنا چاہتے تھے تاکہ یہ کشمکش اگر اسلام کی شکست پر ختم ہو تو ان کے لیے کوئی نہ کوئی جائے پناہ محفوظ رہے۔ علاوہ بریں اُس وقت عرب میں عیسائیوں اور یہودیوں کی معاشی قوت سب سے زیادہ تھی۔ ساہوکارہ بیشتر انہی کے ہاتھ میں تھا۔ عرب کے بہترین سرسبز و شاداب خطے ان کے قبضہ میں تھے۔ ان کی سُود خواری کا جال ہر طرف پھیلا ہوا تھا۔ لہٰذا معاشی اسباب کی بنا پر بھی یہ منافق لوگ ان کے ساتھ اپنے سابق تعلقات برقرار رکھنے کے خواہش مند تھے۔ ان کا گمان تھا کہ اگر اسلام و کفر کی اس کشمکش میں ہمہ تن منہمک ہو کر ہم نے ان سب قوموں سے اپنے تعلقات منقطع کر لیے جن کے ساتھ اسلام اس وقت بر سرِ پیکار ہے تو یہ فعل سیاسی اور معاشی دونوں حیثیتوں سے ہمارے لیے خطر ناک ہو گا۔

۸۵-یعنی فیصلہ کُن فتح سے کم درجہ کی کوئی ایسی چیز جس سے عموماً لوگوں کو یہ یقین ہو جائے کہ ہار جیت کا آخری فیصلہ اسلام ہی کے حق میں ہو گا۔

۸۶-یعنی جو کچھ انہوں نے اسلام کی پَیروی میں کیا، نمازیں پڑھیں ، روزے رکھے ، زکوٰۃ دی، جہاد میں شریک ہوئے ، قوانینِ اسلام کی اطاعت کی، یہ سب کچھ اس بنا پر ضائع ہو گیا کہ ان کے دلوں میں اسلام کے لیے خلوص نہ تھا اور وہ سب سے کٹ کر صرف ایک خدا کے ہو کر نہ رہ گئے تھے بلکہ اپنی دُنیا کی خاطر انہوں نے اپنے آپ کو خدا اور اس کے باغیوں کے درمیان آدھا آدھا بانٹ رکھا تھا۔

۸۷-’’مومنوں پر نرم‘‘ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ ایک شخص اہلِ ایمان کے مقابلے میں اپنی طاقت کبھی استعمال نہ کرے۔ اُس کی ذہانت ، اُس کی ہوشیاری، اُس کی قابلیت، اُس کا رسُوخ و اثر، اُس کا مال، اُس کا جسمانی زور، کوئی چیز بھی مسلمانوں کو دبانے اور ستانے اور نقصان پہنچانے کے لیے نہ ہو۔ مسلمان اپنے درمیان اس کو ہمیشہ ایک نرم خو، رحم دل، ہمدرد اور حلیم انسان ہی پائیں۔

’’کفار پر سخت‘‘ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ ایک مومن آدمی اپنے ایمان کی پختگی ، دینداری کے خلُوص ، اصُول کی مضبُوطی، سیرت کی طاقت اور ایمان کی فراست کی وجہ سے مخالفینِ اسلام کے مقابلہ میں پتھر کی چٹان کے مانند ہو کہ کسی طرح اپنے مقام سے ہٹایا نہ جا سکے۔ وہ اسے کبھی موم کی ناک اور نرم چارہ نہ بنائیں۔ انہیں جب بھی اس سے سابقہ پیش آئے اُن پر یہ ثابت ہو جائے کہ یہ اللہ کا بندہ مر سکتا ہے مگر کسی قیمت پر بِک نہیں سکتا اور کسی دباؤ سے دب نہیں سکتا۔

۸۸-یعنی اللہ کے دین کی پَیروی کرنے میں، اُس کے احکام پر عمل  درآمد کرنے میں، اور اِس دین کی رُو سے جو کچھ حق ہے اُسے حق اور جو کچھ باطل ہے اُسے باطل کہنے میں اُنہیں کوئی باک نہ ہو گا۔ کسی کی مخالفت، کسی کی طعن و تشنیع ، کسی کے اعتراض اور کسی کی پھبتیوں اور آوازوں کی وہ پروا نہ کریں گے۔ اگر رائے عام اسلام کی مخالف ہو اور اسلام کے طریقے پر چلنے کے معنی اپنے آپ کو دُنیا بھر میں نکّو بنا لینے کے ہوں تب بھی وہ اسی راہ پر چلیں گے جسے وہ سچّے دل سے حق جانتے ہیں۔

 

ترجمہ

 

اے لوگو جو ایمان لائے ہو، تمہارے پیش رَو اہلِ کتاب میں سے جن لوگوں نے تمہارے دین کو مذاق اور تفریح کا سامان بنا لیا ہے ، اُنہیں اور دُوسرے کافروں کو اپنا دوست اور رفیق نہ بناؤ۔ اللہ سے ڈرو اگر تم مومن ہو۔ جب تم نماز کے لیے منادی کرتے ہو تو وہ اس کا مذاق اُڑاتے اور اس سے کھیلتے ہیں۔۸۹ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ عقل نہیں رکھتے۔۹۰ اِن سے کہو، ’’اے اہلِ کتاب ! تم جس بات پر ہم سے بگڑے ہو وہ اس کے سوا اور کیا ہے کہ ہم اللہ پر اور دین کی اُس تعلیم پر ایمان لے آئے ہیں جو ہماری طرف نازل ہوئی ہے اور ہم سے پہلے بھی نازل ہوئی تھی، اور تم میں سے اکثر لوگ فاسق ہیں؟‘‘ پھر کہو ’’کیا میں اُن لوگوں کی نشاندہی کروں جن کا انجام خدا کے ہاں فاسقوں کے انجام سے بھی بدتر ہے ؟ وہ جن پر خدا نے لعنت کی، جن پر اُس کا غضب ٹوٹا، جن میں سے بندر اور سُور بنائے گئے ، جنہوں نے طاغوت کی بندگی کی۔ ان کا درجہ اور بھی زیادہ بُرا ہے اور وہ سَوَاءُ السّبیل سے بہت زیادہ بھٹکے ہوئے ہیں‘‘۔۹۱ جب یہ تم لوگوں کے پاس آتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے ، حالانکہ کفر لیے ہوئے آئے تھے اور کفر ہی لیے ہوئے واپس گئے اور اللہ خوب جانتا ہے جو کچھ یہ دلوں میں چھُپائے ہوئے ہیں۔ تم دیکھتے ہو کہ ان میں سے بکثرت لوگ گناہ اور ظلم و زیادتی کے کاموں میں دَوڑ دھُوپ کرتے پھرتے ہیں اور حرام کے مال کھاتے ہیں۔ بہت بُری حرکات ہیں جو یہ کر رہے ہیں۔ کیوں اِن کے عُلماء اور مشائخ انہیں گناہ پر زبان کھولنے اور حرام کھانے سے نہیں روکتے ؟ یقیناً بہت ہی بُرا کارنامہ زندگی ہے جو وہ تیار کر رہے ہیں۔ یہُودی کہتے ہیں اللہ کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں۔۔۔۔۹۲ باندھے گئے ان کے ہاتھ،۹۳ اور لعنت پڑی اِن پر اُس بکواس کی بدولت جو یہ کرتے ہیں۔۔۔۔۹۴ اللہ کے ہاتھ تو کشادہ ہیں، جس طرح چاہتا ہے خرچ کرتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جو کلام تمہارے رب کی طرف سے تم پر نازل ہوا ہے وہ ان میں سے اکثر لوگوں کی سرکشی و باطل پرستی میں اُلٹے اضافہ کا موجب بن گیا ہے ،۹۵ اور (اس کی پاداش میں) ہم نے ان کے درمیان قیامت تک کے لیے عداوت اور دُشمنی ڈال دی ہے۔ جب کبھی یہ جنگ کی آگ بھڑکاتے ہیں اللہ اُس کو ٹھنڈا کر دیتا ہے۔ یہ زمین میں فساد پَھیلانے کی سعی کر رہے ہیں مگر اللہ فساد برپا کرنے والوں کو ہرگز پسند نہیں کرتا۔اگر (اِس سرکشی کے بجائے ) یہ اہلِ کتاب ایمان لے آتے اور خدا ترسی کی رَوَش اختیار کرتے تو ہم اِن کی بُرائیاں اِن سے دُور کر دیتے اور ان کو نعمت بھری جنتوں میں پہنچاتے۔ کاش انہوں نے توراۃ اور انجیل اور اُن دوسری کتابوں کو قائم کیا ہوتا جو اِن کے رب کی طرف سے اِن کے پاس بھیجی گئی تھیں۔ ایسا کرتے تو اِن کے لیے اُوپر سے رزق برستا اور نیچے سے اُبلتا۔۹۶ اگرچہ ان میں کچھ لوگ راست رَو بھی ہیں لیکن ان کی اکثریت سخت بد عمل ہے۔ ؏۹

 

تفسیر

 

۸۹-یعنی اذان کی آواز سُن کر اُس کی نقلیں اتارتے ہیں ، تمسخر کے لیے اس کے الفاظ بدلتے اور مسخ کرتے ہیں اور اس پر آوازے کستے ہیں۔

۹۰-یعنی ان کی یہ حرکتیں محض بے عقلی کا نتیجہ ہیں۔ اگر وہ جہالت اور نادانی میں مبتلا نہ ہوتے تو مسلمانوں سے مذہبی اختلاف رکھنے کے باوجود ایسی خفیف حرکات ان سے سرزد نہ ہوتیں۔ آخر کون معقول آدمی یہ پسند کر سکتا ہے کہ جب کوئی گروہ خدا کی عبادت کے لیے منادی کرے تو اس کا مذاق اُڑایا جائے۔

۹۱-لطیف اشارہ ہے خود یہُودیوں کی طرف، جن کی اپنی تاریخ یہ کہہ رہی ہے کہ بارہا وہ خدا کے غضب اور اس کی لعنت میں مُبتلا ہوئے ، سَبْت کا قانون توڑنے پر ان کی قوم کے بہت سے لوگوں کی صُورتیں مسخ ہوئیں، حتیٰ کہ وہ تنزّل کی اس انتہا کو پہنچے کہ طاغوت کی بندگی تک انہیں نصیب ہوئی۔ پس کہنے کا مطلب یہ ہے کہ آخر تمہاری بے حیائی اور مجرمانہ بے باکی کی کوئی حد بھی ہے کہ خود فسق و فجور اور انتہائی اخلاقی تنزل میں مُبتلا ہو اور اگر کوئی دُوسرا گروہ خدا پر ایمان لا کر سچّی دینداری کا طریقہ اختیار کرتا ہے تو اس کے پیچھے ہاتھ دھو کر پڑ جاتے ہو۔

۹۲-عربی محاورے کے مطابق کسی کے ہاتھ بندھے ہوئے ہونے کا مطلب یہ ہے کہ وہ بخیل ہے ، عطا اور بخشش سے اُس کا ہاتھ رُکا ہوا ہے۔ پس یہُودیوں کے اس قول کا مطلب یہ نہیں ہے کہ واقعی اللہ کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں ، بلکہ مطلب یہ ہے کہ اللہ بخیل ہے۔ چونکہ صدیوں سے یہُودی قوم ذلّت و نکبت کی حالت میں مُبتلا تھی اور اس کی گزشتہ عظمت محض ایک افسانۂ  پارینہ بن کر رہ گئی تھی جس کے پھر واپس آنے کا کوئی امکان اُنہیں نظر نہ آتا تھا ، اس لیے بالعمُوم اپنے قومی مصائب پر ماتم کرتے ہوئے اُس قوم کے نادان لوگ یہ بیہودہ فقرہ کہا کرتے تھے کہ معاذ اللہ خدا تو بخیل ہو گیا ہے ، اس کے خزانے کا مُنہ بند ہے ، ہمیں دینے کے لیے اس کے پاس آفات اور مصائب کے سوا اور کچھ نہیں رہا۔ یہ بات کچھ یہُودیوں تک ہی محدُود نہیں، دُوسری قوموں کے جُہلاء کا بھی یہی حال ہے کہ جب ان پر کوئی سخت وقت آتا ہے تو خدا کی طرف رجُوع کرنے کے بجائے وہ جل جل کر اس قسم کی گُستاخانہ باتیں کیا کرتے ہیں۔

۹۳-یعنی بخل میں یہ خود مُبتلا ہیں۔ دُنیا میں اپنے بُخل اور اپنی تنگ دلی کے لیے ضرب المثل بن چکے ہیں۔

۹۴-یعنی اس قسم کی گُستاخیاں اور طعن آمیز باتیں کر کے یہ چاہیں کہ خدا ان پر مہربان ہو جائے اور عنایات کی بارش کرنے لگے تو یہ کسی طرح ممکن نہیں۔ بلکہ ان باتوں کا اُلٹا نتیجہ یہ ہے کہ یہ لوگ خدا کی نظرِ عنایت سے اور زیادہ محرُوم اور اس کی رحمت سے اَور زیادہ دُور ہوتے جاتے ہیں۔

۹۵-یعنی بجائے اس کے کہ اس کلام کو سُن کر وہ کوئی مفید سبق لیتے ، اپنی غلطیوں اور غلط کاریوں پر متنبّہ ہو کر ان کی تلافی کرتے ، اور اپنی گِری ہوئی حالت کے اسباب معلوم کر کے اصلاح کی طرف متوجہ ہوتے ، اُن پر اس کا اُلٹا اثر یہ ہوا ہے کہ ضد میں آ کر انہوں نے حق و صداقت کی مخالفت شروع کر دی ہے۔ خیر و صلاح کے بھُولے ہوئے سبق کو سُن کر خود راہِ راست پر آنا تو درکنار ، اُن کی اُلٹی کوشش یہ ہے کہ جو آواز اس سبق کو یاد دلا رہی ہے اسے دبا دیں تاکہ کوئی دُوسرا بھی اسے نہ سُننے پائے۔

۹۶-بائیبل کی کتاب احبار(باب ۲۶) اور استثناء( باب ۲۸)’’ میں حضرت موسیٰ علیہ السّلام کی ایک تقریر نقل کی گئی ہے جس میں انہوں نے بنی اسرائیل کو بڑی تفصیل کے ساتھ بتایا ہے کہ اگر تم احکامِ الٰہی کی ٹھیک ٹھیک پیروی کرو گے تو کس کس طرح اللہ کی رحمتوں اور برکتوں سے نوازے جاؤ گے ، اور اگر کتاب اللہ کو پسِ پشت ڈال کر نافرمانیاں کرو گے تو کس طرح بلائیں اور مصیبتیں اور تباہیاں ہر طرف سے تم پر ہجوم کریں گی۔ حضرت موسیٰؑ  کی وہ تقریر قرآن کے اِس مختصر فقرے کی بہترین تفسیر ہے۔

 

ترجمہ

 

اے پیغمبر ؐ ! جو کچھ تمہارے رب کی طرف سے تم پر نازل کیا گیا ہے وہ لوگوں تک پہنچا دو۔ اگر تم نے ایسا نہ کیا تو اس کی پیغمبری کا حق ادا نہ کیا۔ اللہ تم کو لوگوں کے شر سے بچانے والا ہے۔ یقین رکھو کہ وہ کافروں کو (تمہارے مقابلہ میں) کامیابی کی راہ ہرگز نہ دکھائے گا۔ صاف کہہ دو کہ ’’اے اہلِ کتاب ! تم ہرگز کسی اصل پر نہیں ہو جب تک کہ توراۃ اور انجیل اور اُن دُوسری کتابوں کو قائم نہ کرو جو تمہارے رب کی طرف سے نازل کی گئی ہیں‘‘۔۹۷ ضرور ہے کہ یہ فرمان جو تم پر نازل کیا گیا ہے ان میں سے اکثر کی سرکشی اور انکار کو اور زیادہ بڑھا دے گا۔۹۸ مگر انکار کرنے والوں کے حال پر کچھ افسوس نہ کرو۔(یقین جانو کہ یہاں اجارہ کسی کا بھی نہیں ہے ) مسلمان ہوں یا یہودی، صابی ہوں یا عیسائی، جو بھی اللہ اور روزِ آخر پر ایمان لائے گا اور نیک عمل کرے گا بے شک اس کے لیے نہ کسی خوف کا مقام ہے نہ رنج کا۔۹۹ہم نے بنی اسرائیل سے پختہ عہد لیا اور اُن کی طرف بہت سے رسُول بھیجے ، مگر جب کبھی ان کے پاس کوئی رسُول اُن کی خواہشاتِ نفس کے خلاف کچھ لے کر آیا تو کسی کو اُنہوں نے جھُٹلایا اور کسی کو قتل کر دیا،اور اپنے نزدیک یہ سمجھے کہ کوئی فتنہ رُو نما نہ ہو گا، اس لیے اندھے اور بہرے بن گئے۔ پھر اللہ نے اُنہیں معاف کیا تو اُن میں سے اکثر لوگ اور زیادہ اندھے اور بہرے بنتے چلے گئے۔ اللہ اُن کی یہ سب حرکات دیکھتا رہا ہے۔ یقیناً کفر کیا اُن لوگوں نے جنہوں نے کہا کہ اللہ مسیح ابنِ مریم ہی ہے۔ حالانکہ مسیحؑ  نے کہا تھا کہ ’’اے بنی اسرائیل ! اللہ کی بندگی کرو جو میرا رب بھی ہے اور تمہارا رب بھی‘‘۔ جس نے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھیرایا اُس پر اللہ نے جنّت حرام کر دی اور اُس کا ٹھکانا جہنّم ہے اور ایسے ظالموں کا کوئی مددگار نہیں۔ یقیناً کفر کیا اُن لوگوں نے جنہوں نے کہا کہ اللہ تین میں کا ایک ہے ، حالانکہ ایک خدا کے سوا کوئی خدا نہیں ہے۔ اگر یہ لوگ اپنی ان باتوں سے باز نہ آئے تو ان میں سے جس جس نے کفر کیا ہے اُس کو درد ناک سزا دی جائے گی۔ پھر کیا یہ اللہ سے توبہ نہ کریں گے اور اس سے معافی نہ مانگیں گے ؟ اللہ بہت درگزر فرمانے والا اور رحم کرنے والا ہے۔ مسیحؑ  ابنِ مریمؑ  اِس کے سوا کچھ نہیں کہ بس ایک رسُول تھا، اُس سے پہلے اور بھی بہت سے رسُول گزر چکے تھے ، اس کی ماں ایک راستباز عورت تھی، اور وہ دونوں کھانا کھاتے تھے۔ دیکھو ہم کس طرح ان کے سامنے حقیقت کی نشانیاں واضح کرتے ہیں، پھر دیکھو یہ کدھر اُلٹے پھرے جاتے ہیں۔۱۰۰ اِن سے کہو، کیا تم اللہ کو چھوڑ کر اُس کی پرستش کرتے ہو جو نہ تمہارے لیے نقصان کا اختیار رکھتا ہے نہ نفع کا؟ حالانکہ سب کی سُننے والا اور سب کچھ جاننے والا تو اللہ ہی ہے۔ کہو، اے اہلِ کتاب ! اپنے دین میں ناحق غلُو نہ کرو اور اُن لوگوں کے تخیّلات کی پیروی نہ کرو جو تم سے پہلے خود گمراہ ہوئے اور بہتوں کو گمراہ کیا اور ’’سَوَاءُالسّبیل‘‘ سے بھٹک گئے۔۱۰۱ ؏١۰

 

تفسیر

 

۹۷-توراۃ اور انجیل کو قائم کرنے سے مراد راست بازی کے ساتھ ان کی پَیروی کرنا اور انہیں اپنا دستورِ زندگی بناتا ہے۔ اِس موقع پر یہ بات اچھی طرح ذہن نشین کر لینی چاہیے کہ بائیبل کے مجموعہ کتب مقدسہ میں ایک قسم کی عبارات تو وہ ہیں جو یہودی اور عیسائی مصنّفین نے بطورِ خود لکھی ہیں۔ اور دُوسری قسم کی عبارات وہ ہیں جو اللہ تعالیٰ کے ارشادات یا حضرت موسیٰؑ  ، عیسیٰؑ  اور دُوسرے پیغمبروں کے اقوال ہونے کی حیثیت سے منقول ہیں اور جن میں اس بات کی تصریح ہے کہ اللہ نے ایسا فرمایا یا فلاں نبی نے ایسا کہا۔ ان میں سے پہلی قسم کی عبارات کو الگ کر کے اگر کوئی شخص صرف دُوسری قسم کی عبارات کا تَتبّع کرے تو بآسانی یہ دیکھ سکتا ہے کہ ان کی تعلیم اور قرآن کی تعلیم میں کوئی نمایاں فرق نہیں ہے۔ اگرچہ مترجموں اور ناسخوں اور شارحوں کی در اندازی سے ، اور بعض جگہ زبانی راویوں کی غلطی سے ، یہ دُوسری قسم کی عبارات بھی پُوری طرح محفوظ نہیں رہی ہیں، لیکن اس کے باوجود کوئی شخص یہ محسُوس کیے بغیر نہیں رہ سکتا کہ ان میں بعینہ اسی خالص توحید کی دعوت دی گئی ہے جس کی طرف قرآن بُلا رہا ہے ، وہی عقائد پیش کیے گئے ہیں جو قرآن پیش کرتا ہے اور اسی طریقِ زندگی کی طرف رہنمائی کی گئی ہے جس کی ہدایت قرآن دیتا ہے۔ پس حقیقت یہ ہے کہ اگر یہُودی اور عیسائی اُسی تعلیم پر قائم رہتے جو اِن کتابوں میں خدا اور پیغمبروں کی طرف سے منقول ہے تو یقیناً نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی بعثت کے وقت وہ ایک حق پرست اور راست رَو گروہ پائے جاتے اور انہیں قرآن کے اندر وہی روشنی نظر آتی جو پچھلی کتابوں میں پائی جاتی تھی۔ اس صُورت میں ان کے لیے نبی صلی علیہ و سلم کی پَیروی اختیار کرنے میں تبدیلِ مذہب کا سرے سے کوئی سوال پیدا ہی نہ ہوتا بلکہ وہ اُسی راستہ کے تسلسل میں، جس پر وہ پہلے سے چلے آرہے تھے ، آپ کے متبع بن کر آگے چل سکتے تھے۔

۹۸-یعنی یہ بات سُن کر ٹھنڈے دل سے غور کرنے اور حقیقت کو سمجھنے کے بجائے وہ ضد میں آ کر اَور زیادہ شدید مخالفت شروع کر دیں گے۔

۹۹-دیکھو سورۃ بقرۃ ، آیت ۶۲ – و حاشیہ نمبر ۸۰-

۱۰۰-اِن چند لفظوں میں عیسائیوں کے عقیدہ ٔ اُلوہیّتِ مسیح کی ایسی صاف تردید کی گئی ہے کہ اس سے زیادہ صفائی ممکن نہیں ہے۔ مسیح کے بارے میں اگر کوئی یہ معلوم کرنا چاہے کہ فی الحقیقت وہ کیا تھا تو ان علامات سے بالکل غیر مشتبہ طور پر معلوم کر سکتا ہے کہ وہ محض ایک انسان تھا۔ ظاہر ہے کہ جو ایک عورت کے پیٹ سے پیدا ہوا ، جس کا شجرۂ نسب تک موجود ہے ، جو انسانی جسم رکھتا تھا، جو اُن تمام حدُود سے محدُود اور ان تمام قیُود سے مقیّد اور ان تمام صفات سے متصف تھا جو انسان کے لیے مخصُوص ہیں، جو سوتا تھا، کھاتا تھا، گرمی اور سردی محسوس کرتا تھا، حتیٰ کہ جسے شیطان کے ذریعہ سے آزمائش میں بھی ڈالا گیا ، اس کے متعلق کون معقول انسان یہ تصوّر کر سکتا ہے کہ وہ خود خدا ہے یا خدائی میں خدا کا شریک و سہیم ہے۔ لیکن یہ انسانی ذہن کی ضلالت پذیری کا ایک عجیب کرشمہ ہے کہ عیسائی خود اپنی مذہبی کتابوں میں مسیح کی زندگی کو صریحاً ایک انسانی زندگی پاتے ہیں اور پھر بھی اسے خدائی سے متصف قرار دینے پر اصرار کیے چلے جاتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ لوگ اُس تاریخی مسیح کے قائل ہی نہیں ہیں جو عالمِ واقعہ میں ظاہر ہوا تھا ، بلکہ انہوں نے خود اپنے وہم و گمان سے ایک خیالی مسیح تصنیف کر کے اُسے خدا بنا لیا ہے۔

۱۰۱-اشارہ ہے اُن گمراہ قوموں کی طرف جن سے عیسائیوں نے غلط عقیدہ اور باطل طریقے اخذ کیے۔ خصُوصاً فلاسفۂ  یونان کی طرف ، جن کے تخیلات سے متاثر ہو کر عیسائی اُس صراطِ مستقیم سے ہٹ گئے جس کی طرف ابتداءً ان کی رہنمائی کی گئی تھی۔ مسیح کے ابتدائی پَیرو جو عقائد رکھتے تھے وہ بڑی حد تک اُس حقیقت کے مطابق تھے جس کا مشاہدہ انہوں نے خود کیا تھا اور جس کی تعلیم ان کے ہادی و رہنما نے ان کو دی تھی۔ مگر بعد کے عیسائیوں نے ایک طرف مسیح کی عقیدت اور تعظیم میں غلو کر کے ، اور دُوسری طرف ہمسایہ قوموں کے اَوہام اور فلسفوں سے متاثر ہو کر، اپنے عقائد کی مبالغہ آمیز فلسفیانہ تعبیریں شروع کر دیں اور ایک بالکل ہی نیا مذہب تیار کر لیا جس کو مسیح کی اصل تعلیمات سے دُور کا واسطہ بھی نہ رہا۔ اس باب میں خود ایک مسیحی عالمِ دینیات (ریورینڈ چارلس اینڈرسن اسکاٹ) کا بیان قابلِ ملاحظہ ہے۔ انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا کے چودھویں ایڈیشن میں ’’یسُوع مسیح‘‘(Jesus Christ) کے عنوان پر اس نے جو طویل مضمُون لکھا ہے اس میں وہ کہتا ہے :

’’پہلی تین انجیلوں (متی، مرقس، لوقا) میں کوئی چیز ایسی نہیں ہے جس سے یہ گمان کیا جا سکتا ہو کہ اِن انجیلوں کے لکھنے والے یسُوع کو انسان کے سوا کچھ اَور سمجھتے تھے۔ ان کی نگاہ میں وہ ایک انسان تھا، ایسا انسان جو خاص طور پر خدا کی رُوح سے فیض یاب ہوا تھا اور خدا کے ساتھ ایک ایسا غیر منقطع تعلق رکھتا تھا جس کی وجہ سے اگر اس کو خدا بیٹا کہا جائے تو حق بجانب ہے۔ خود متی اس کا ذکر بڑھئی کے بیٹے کی حیثیت سے کرتا ہے اور ایک جگہ بیان کرتا ہے کہ پطرس نے اس کو ’’مسیح‘‘ تسلیم کرنے کے بعد’’ الگ ایک طرف لے جا کر اُسے ملامت کی‘‘(متی ۲۲،۱۶ )۔ لُوقا میں ہم دیکھتے ہیں کہ واقعۂ  صلیب کے بعد یسُوع کے دو شاگرد اماؤس کی طرف جاتے ہوئے اس کا ذکر اس حیثیت میں کرتے ہیں کہ’’ وہ خدا اور ساری اُمّت کے نزدیک کام اور کلام میں قدرت والا نبی تھا‘‘(لوقا ۱۹،۲۴)۔ یہ بات خاص طور پر قابلِ توجہ ہے کہ اگرچہ ’’مرقس‘‘ کی تصنیف سے پہلے مسیحیوں میں یسُوع کے لیے لفظ ’’خداوند‘‘ کا استعمال عام طور پر چل پڑا تھا ، لیکن نہ مرقس کی انجیل میں یسُوع کو کہیں اس لفظ سے یاد کیا گیا ہے اور نہ متی کی انجیل میں۔ بخلاف اس کے دونوں کتابوں میں یہ لفظ اللہ کے لیے بکثرت استعمال کیا گیا ہے۔ یسُوع کے ابتلاء کا ذکر تینوں انجیلیں پُورے زور کے ساتھ کرتی ہیں جیسا کہ اس واقعہ کے شایانِ شان ہے ، مگر مرقس کی ’’ فدیہ‘‘ والی عبارت (مرقس ۴۵،۱۰) اور آخری فَسَح کے موقع پر چند الفاظ کو مستثنیٰ کر کے ان کتابوں میں کہیں اس واقعہ کو وہ معنی نہیں پہنائے گئے ہیں جو بعد میں پہنائے گئے۔ حتیٰ کہ اس بات کی طرف کہیں اشارہ تک نہیں کیا گیا کہ یسُوع کی موت کا انسان کے گناہ اور اس کے کفارہ سے کوئی تعلق تھا‘‘۔

آگے چل کر وہ پھر لکھتا ہے :

’’یہ بات کہ یسُوع خود اپنے آپ کو ایک نبی کی حیثیت سے پیش کرتا تھا اناجیل کی متعدّد عبارتوں سے ظہار ہوتی ہے۔ مثلاً یہ کہ ’’مجھے آج اور کل اور پرسوں اپنی راہ پر چلنا ضرور ہے کیونکہ ممکن نہیں کہ نبی یروشلم سے باہر ہلاک ہو‘‘(لوقا ۲۳،۱۳)۔ وہ اکثر اپنا ذکر’’ ابنِ آدم‘‘ کے نام سے کرتا ہے۔۔۔۔۔۔ یسُوع کہیں اپنے آپ کو’’ ابن اللہ‘‘ نہیں کہتا۔ اس کے دُوسرے ہمعصر جب اس کے متعلق یہ لفظ استعمال کرتے ہیں تو غالباً ان کا مطلب بھی اس کے سوا کچھ نہیں ہوتا کہ وہ اس کو خدا کا ممسُوح سمجھتے ہیں۔ البتہ وہ اپنے آپ کو مطلقاً  ’’بیٹے ‘‘ کے لفظ سے تعبیر کرتا ہے۔۔۔۔۔۔ مزید برآں وہ خدا کے ساتھ اپنے تعلق کو بیان کرنے کے لیے بھی’’ باپ‘‘ کا لفظ اسی اطلاقی شان میں استعمال کرتا ہے۔۔۔۔۔۔ اِس تعلق کے بارے میں وہ اپنے آپ کو منفرد نہیں سمجھتا تھا ، بلکہ ابتدائی دَور میں دُوسرے انسانوں کو بھی خدا کے ساتھ اِس خاص گہرے تعلق میں اپنا سا تھی سمجھتا تھا۔ البتہ بعد کے تجربے اور انسانی طبائع کے عمیق مطالعہ نے اسے یہ سمجھنے پر مجبُور کر دیا کہ اس معاملہ میں وہ اکیلا ہے۔‘‘

پھر یہی مصنّف لکھتا ہے :

’’عید پُنْتِکُسْت کے موقع پر پطرس کے یہ الفاظ کہ ’’ایک انسان جو خدا کی طرف سے تھا‘‘ یسُوع کو اُس حیثیت میں پیش کرتے ہیں جس میں اس کے ہمعصر اس کو جانتے اور سمجھتے تھے۔۔۔۔۔۔ انجیلوں سے ہم کو معلوم ہوتا ہے کہ یسُوع بچپن سے جوانی تک بالکل فطری طور پر جسمانی و ذہنی نشو و نما کے مدارج سے گزرا۔ اُس کو بھُوک پیاس لگتی تھی ، وہ تھکتا اور سوتا تھا، وہ حیرت میں مُبتلا ہو سکتا تھا اور دریافتِ احوال کا محتاج تھا، پس نے دُکھ اُٹھایا اور مرا۔ اُس نے صرف یہی نہیں کہ سمیع و بصیر ہونے کا دعویٰ نہیں کیا بلکہ صریحاً اس سے انکار کیا ہے۔۔۔۔۔۔ درحقیقت اس کے حاضر و ناظر ہونے کا اگر دعویٰ کیا جائے تو یہ اُس پُورے تصوّر کے بالکل خلاف ہو گا جو ہمیں انجیلوں سے حاصل ہوتا ہے۔ بلکہ اس دعوے کے ساتھ آزمائش کے واقعہ کو اور گِتَسمْنی اور کھوپڑی کے مقام پر جو واردات گزریں ان میں سے کسی کو بھی مطابقت نہیں دی جا سکتی۔ تا وقتیکہ ان واقعات کو بالکل غیر حقیقی قرار نہ دے دیا جائے ، یہ ماننا پڑے گا کہ مسیح جب ان سارے حالات سے گزرا تو وہ انسانی علم کی عام محدُودیّت اپنے ساتھ لیے ہوئے تھا اور اس محدُودیّت میں اگر کوئی استثناء تھا تو وہ صرف اُسی حد تک جس حد تک پیغمبرانہ بصیرت اور خدا کے یقینی شہُود کی بنا پر ہو سکتا ہے۔ پھر مسیح کو قادرِ مطلق سمجھنے کی گنجائش تو انجیلوں میں اَور بھی کم ہے۔ کہیں اس بات کا اشارہ تک نہیں ملتا کہ وہ خدا سے بے نیاز ہو کر خود مختارانہ کام کرتا تھا۔ اس کے برعکس وہ بار بار دُعا مانگنے کی عادت سے اور اِس قسم کے الفاظ سے کہ’’ یہ چیز دُعا کے سوا کسی اور ذریعہ سے نہیں ٹل سکتی‘‘، اس بات کا صاف اقرار کرتا ہے کہ اس کی ذات بالکل خدا پر منحصر ہے۔ فی الواقع یہ بات ان انجیلوں کے تاریخی حیثیت سے معتبر ہونے کی ایک اہم شہادت ہے کہ اگرچہ ان کی تصنیف و ترتیب اُس زمانہ سے پہلے مکمل نہ ہوئی تھی کہ مسیحی کلیسا نے مسیح کو الہٰ سمجھنا شروع کر دیا تھا ، پھر بھی ان دستاویزوں میں ایک طرف مسیح کے فی الحقیقت انسان ہونے کی شہادت محفوظ ہے اور دُوسری طرف ان کے اندر کوئی شہادت اِس امر کی موجود نہیں ہے کہ مسیح اپنے آپ کو خدا سمجھتا تھا‘‘۔

اس کے بعد یہ مصنف پھر لکھتا ہے :

’’وہ سینٹ پال تھا جس نے اعلان کیا کہ واقعۂ  رفع کے وقت اسی فعلِ رفع کے ذریعہ سے یسُوع پُورے اختیارات کے ساتھ ’’ابن اللہ‘‘ کے مرتبہ پر علانیہ فائز کیا گیا۔۔۔۔۔۔ یہ ’’ابن اللہ‘‘ کا لفظ یقینی طور پر ذاتی اِبنیّت کی طرف ایک اشارہ اپنے اندر رکھتا ہے جسے پال نے دُوسری جگہ یسُوع کو ’’خدا کا اپنا بیٹا‘‘ کہہ کر صاف کر دیا ہے۔ اِس امر کا فیصلہ اب نہیں کیا جا سکتا کہ آیا وہ ابتدائی عیسائیوں کا گروہ تھا یا پال جس نے مسیح کے لیے ’’ خداوند‘‘ کا خطاب اصل مذہبی معنی میں استعمال کیا۔ شاید یہ فعل مقدّم الذکر گروہ ہی کا ہو۔ لیکن بلاشبہ وہ پال تھا جس نے اس خطاب کو پورے معنی میں بولنا شروع کیا ، پھر اپنے مُدّعا کو اس طرح اَور بھی زیادہ واضح کر دیا کہ ’’خداوند یسُوع مسیح‘‘ کی طرف بہت سے وہ تصوّرات اور اصطلاحی الفاظ منتقل کر دیے جو قدیم کتبِ مقدسہ میں خداوند یَہُوَہ(اللہ تعالیٰ) کے لیے مخصُوص تھے۔ اس کے ساتھ ہی اس نے مسیح کو خدا کی دانش اور خدا کی عظمت کے مساوی قرار دیا اور اُسے مطلق معنی میں خدا کا بیٹا ٹھیرایا۔ تاہم متعدّد حیثیات اور پہلوؤں سے مسیح کو خدا کے برابر کر دینے کے باوجود پال اُس کو قطعی طور پر اللہ کہنے سے باز رہا‘‘۔

انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا کے ایک دُوسرے مضمُون  ’’میسحیّت (Christianity) میں رورنڈ جارج ولیم ناکس مسیحی کلیسا کے بُنیادی عقیدے پر بحث کرتے ہوئے لکھتا ہے :

’’عقیدۂ تثلیث کا فکری سانچہ یُونانی ہے اور یہُودی تعلیمات اس میں ڈھالی گئی ہیں۔ اس لحاظ سے یہ ہمارے لیے ایک عجیب قسم کا مرکب ہے ، مذہبی خیالات بائیبل کے اور ڈھلے ہوئے ایک اجنبی فلسفے کی صُورتوں میں۔

باپ ، بیٹا اور رُوح القدس کی اصطلاحیں یہُودی ذرائع کی بہم پہنچائی ہوئی ہیں۔ آخری اصطلاح اگرچہ خود یسُوع نے شاذو نادر ہی کبھی استعمال کی تھی، اور پال نے بھی جو اس کو استعمال کیا ا س کا مفہوم بالکل غیر واضح تھا، تاہم یہودی لٹریچر میں یہ لفظ شخصیت اختیار کرنے کے قریب پہنچ چکا تھا۔ پس اس عقیدہ کا مواد یہودی ہے ( اگرچہ اس مرکب میں شامل ہونے سے پہلے وہ بھی یونانی اثرات سے مغلوب ہو چکا تھا) اور مسئلہ خالص یونانی۔ اصل سوال جس پر یہ عقیدہ بنا، وہ نہ کوئی اخلاقی سوال تھا نہ مذہبی، بلکہ وہ سراسر ایک فلسفیانہ سوال تھا، یعنی یہ کہ ان تینوں اقانیم ( باپ، بیٹے اور رُوح) کے درمیان تعلق کی حیثیت کیا ہے ؟ کلیسا نے اس کا جو جواب دیا وہ اُس عقیدے میں درج ہے جو نیقیا کی کونسل میں مقرر کیا گیا تھا ، اور اسے دیکھنے سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ وہ اپنی تمام خصُوصیات میں بالکل یونانی فکر کا نمونہ ہے ‘‘۔

اسی سلسلہ میں انسائیکلوپیڈیا بریٹا نیکا کے ایک اَور مضمون تاریخِ کلیسا (Church History) کی یہ عبارت بھی قابلِ ملاحظہ ہے :

’’تیسری صدی عیسوی کے خاتمہ سے پہلے مسیح کو عام طور پر ’’کلام‘‘ کا جسدی ظہُور تو مان لیا گیا تھا تا ہم بکثرت عیسائی ایسے تھے جو مسیح کی اُلُوہیّت کے قائل نہ تھے۔ چوتھی صدی میں اس مسئلہ پر سخت بحثیں چھڑی ہوئی تھیں جن سے کلیسا کی بُنیادیں ہل گئی تھیں۔ آخر کار سن ۳۲۵ ء میں نیقیا کی کونسل نے اُلُوہیّت مسیح کو باضابطہ سرکاری طور پر اصل مسیحی عقیدہ قرار دیا اور مخصُوص الفاظ میں اسے مرتب کر دیا۔ اگرچہ اس کے بعد بھی کچھ مدّت تک جھگڑا چلتا رہا لیکن آخری فتح نیقیا ہی کے فیصلے کی ہوئی جسے مشرق اور مغرب میں اس حیثیت سے تسلیم کر لیا گیا کہ صحیح العقیدہ عیسائیوں کا ایمان اسی پر ہونا چاہیے۔ بیٹے کی اُلُوہیّت کے ساتھ رُوح کی اُلُوہیّت بھی تسلیم کی گئی اور اسے اصطباغ کے کلمہ اور رائج الوقت شعائر میں باپ اور بیٹے کے ساتھ جگہ دی گئی۔ اس طرح نیقیا میں مسیح کا جو تصوّر قائم کیا گیا اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ عقیدۂ تثلیث اصل مسیحی مذہب کا ایک جزء لاینفک قرار پا گیا۔

پھر اس دعوے پر کہ ’’بیٹے کی اُلُوہیّت مسیح کی ذات میں مجسّم ہُوئی تھی ‘‘ ایک دُوسرا مسئلہ پیدا ہوا جس پر چوتھی صدی میں اور اس کے بعد بھی مدّتوں تک بحث و مناظرہ کا سلسلہ جاری رہا۔ مسئلہ یہ تھا کہ مسیح کی شخصیت میں اُلُوہیّت اور انسانیت کے درمیان کیا تعلق ہے ؟ سن ۴۵۱ ء میں کالسیڈن کی کونسل نے اس کا یہ تصفیہ کیا کہ مسیح کی ذات میں دو مکمل طبیعتیں مجتمع ہیں، ایک الٰہی طبیعت ، دُوسری انسانی طبیعت، اور دونوں متحد ہو جانے کے بعد بھی اپنی جداگانہ خصُوصیات بلا کسی تغیّر و تبدّل کے برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ تیسری کونسل میں جو سن ۶۸۰ ء میں بمقام قسطنطنیہ منعقد ہوئی، اس پر اتنا اضافہ اور کیا گیا کہ یہ دونوں طبیعتیں اپنی الگ الگ مشیّتیں بھی رکھتی ہیں، یعنی مسیح بیک وقت دو مختلف مشیّتوں کا حامل ہے۔۔۔۔۔۔ اِس دَوران میں مغربی کلیسا نے گناہ اور فضل کے مسئلہ پر بھی خاص توجّہ کی اور یہ سوال مدّتوں زیرِ بحث رہا کہ نجات کے معاملہ میں خدا کا کام کیا ہے اور بندے کا کام کیا۔ آخر کار سن ۵۲۹ ء میں اور ینج کی دُوسری کونسل میں۔۔۔۔۔۔ یہ نظریّہ اختیار کیا گیا کہ ہبُوطِ آدم کی وجہ سے ہر انسان اس حالت میں مبتلا ہے کہ وہ نجات کی طرف کوئی قدم نہیں بڑھا سکتا جب تک وہ اُس فضلِ خداوندی سے ، جو اصطباغ میں عطا کیا جاتا ہے ، نئی زندگی نہ حاصل کر لے۔ اور یہ نئی زندگی شروع کرنے کے بعد بھی اسے حالتِ خیر میں استمرار نصیب نہیں ہو سکتا جب تک وہ فضلِ خداوندی دائماً اس کا مددگار نہ رہے۔ اور فضلِ خداوندی کی یہ دائمی اعانت اسے صرف کیتھولک کلیسا ہی کے توسّط سے حاصل رہ سکتی ہے ‘‘۔

مسیحی عُلماء کے اِن بیانات سے یہ بات بالکل واضح ہو جاتی ہے کہ ابتداءً جس چیز نے مسیحیوں کو گمراہ کیا وہ عقیدت اور محبت کا غُلو تھا۔ اسی غلو کی بنا پر مسیح علیہ السّلام کے لیے خداوند اور ابن اللہ کے الفاظ استعمال کیے گئے ، خدائی صفات ان کی طرف منسُوب کی گئیں، اور کفارہ کا عقیدہ ایجاد کیا گیا، حالانکہ حضرت مسیحؑ  کی تعلیمات میں ان باتوں کے لیے قطعاً کوئی گنجائش موجود نہ تھی۔ پھر جب فلسفہ کی ہوا مسیحیوں کو لگی تو بجائے اس کے کہ یہ لوگ اس ابتدائی گمراہی کو سمجھ کر اس سے بچنے کی سعی کرتے ، انہوں نے اپنے گزشتہ پیشوا ؤ ں کی غلطیوں کو نباہنے کے لیے ان کی توجیہات شروع کر دیں اور مسیح کی اصل تعلیمات کی طرف رجوع کیے بغیر محض منطق اور فلسفہ کی مدد سے عقیدے پر عقیدہ ایجاد کرتے چلے گئے۔ یہی وہ ضلالت ہے جس پر قرآن نے ان آیات میں مسیحیوں کو متنبہ فرمایا ہے۔

 

ترجمہ

 

بنی اسرائیل میں سے جن لوگوں نے کفر کی راہ اختیار کی اُن پر داؤدؑ  اور عیسیٰؑ  ابنِ مریمؑ  کی زبان سے لعنت کی گئی کیونکہ وہ سرکش ہو گئے تھے اور زیادتیاں کرنے لگے تھے ، انہوں نے ایک دُوسرے کو بُرے افعال کے ارتکاب سے روکنا چھوڑ دیا تھا، ۱۰۲ بُرا طرز عمل تھا جو اُنہوں نے اختیار کیا۔ آج تم اُن میں بکثرت ایسے لوگ دیکھتے ہو جو (اہلِ ایمان کے مقابلہ میں) کفّار کی حمایت و رفاقت کرتے ہیں۔ یقیناً بہت بُرا انجام ہے جس کی تیاری اُن کے نفسوں نے اُن کے لیے کی ہے ، اللہ اُن پر غضب ناک ہو گیا ہے اور وہ دائمی عذاب میں مُبتلا ہونے والے ہیں۔ اگر فی الواقع یہ لوگ اللہ اور پیغمبر ؐ اور اُس چیز کے ماننے والے ہوتے جو پیغمبر ؐ پر نازل ہوئی تھی تو کبھی (اہلِ ایمان کے مقابلہ میں) کافروں کو اپنا رفیق نہ بناتے۔۱۰۳ مگر ان میں سے تو بیشتر لوگ خدا کی اطاعت سے نکِل چکے ہیں۔ تم اہلِ ایمان کی عداوت میں سب سے زیادہ سخت یہُود اور مشرکین کو پاؤ گے ، اور ایمان لانے والوں کے لیے دوستی میں قریب تر اُن لوگوں کو پاؤ گے جنہوں نے کہا تھا کہ ہم نصاریٰ ہیں۔ یہ اس وجہ سے کہ ان میں عبادت گزار عالِم اور تارک الدُّنیا فقیر پائے جاتے ہیں اور اُن میں غرورِ نفس نہیں ہے۔اب وہ اس کلام کو سُنتے ہیں جو رسُول پر اُترا ہے تو تم دیکھتے ہو کہ حق شناسی کے اثر سے اُن کی آنکھیں آنسوؤں سے تر ہو جاتی ہیں۔ وہ بول اُٹھتے ہیں کہ ’’پروردگار ! ہم ایمان لائے ، ہمارا نام گواہی دینے والوں میں لکھ لے ‘‘۔ اور وہ کہتے ہیں کہ ’’آخر کیوں نہ ہم اللہ پر ایمان لائیں اور جو حق ہمارے پاس آیا ہے اُسے کیوں نہ مان لیں جبکہ ہم اِس بات کی خواہش رکھتے ہیں کہ ہمارا رب ہمیں صالح لوگوں میں شامل کرے ‘‘؟ اُن کے اس قول کی وجہ سے اللہ نے اُن کو ایسی جنتیں عطا کیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں اور وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے۔ یہ جزاء ہے نیک رویّہ اختیار کرنے والوں کے لیے۔ رہے وہ لوگ جنہوں نے ہماری آیات کو ماننے سے انکار کیا اور انہیں جھٹلایا، تو وہ جہنّم کے مستحق ہیں۔ ؏١١

 

تفسیر

 

۱۰۲-ہر قوم کا بگاڑ ابتداءً چند افراد سے شروع ہوتا ہے۔ اگر قوم کا اجتماعی ضمیر زندہ ہوتا ہے تو رائے عام ان بگڑے ہوئے افراد کو دبائے رکھتی ہے اور قوم بحیثیت مجموعی بگڑنے نہیں پاتی۔ لیکن اگر قوم ان افراد کے معاملہ میں تساہل شروع کر دیتی ہے اور غلط کار لوگوں کو ملامت کرنے کے بجائے انہیں سوسائیٹی میں غلط کاری کے لیے آزاد چھوڑ دیتی ہے ، تو پھر رفتہ رفتہ وہی خرابی جو پہلے چند افراد تک محدُود تھی ، پُوری قوم میں پھیل کر رہتی ہے۔ یہی چیز تھی جو آخر کار بنی اسرائیل کے بگاڑ کی موجب ہوئی۔

حضرت داؤدؑ  اور حضرت عیسیٰؑ  کی زبان سے جو لعنت بنی اسرائیل پر کی گئی اس کے لیے ملاحظہ ہو زبور ۱۰ و ۵۰ اور متی ۲۳۔

۱۰۳-مطلب یہ ہے کہ جو لوگ خدا اور نبی اور کتاب کے ماننے والے ہوتے ہیں انہیں فطرۃً مشرکین کے مقابلہ میں اُن لوگوں کے ساتھ زیادہ ہمدردی ہوتی ہے جو مذہب میں خواہ ان سے اختلاف ہی رکھتے ہوں ، مگر بہرحال انہی کی طرح خدا اور سلسلۂ  وحی و رسالت کو مانتے ہوں۔ لیکن یہ یہُودی عجیب قسم کے اہلِ کتاب ہیں کہ توحید اور شرک کی جنگ میں کھُلم کھُلا مشرکین کا ساتھ دے رہے ہیں ، اقرارِ نبوّت اور انکارِ نبوّت کی لڑائی میں اعلانیہ ان کی ہمدردیاں منکرینِ نبوّت کے ساتھ ہیں، اور پھر بھی وہ بلا کسی شرم و حیا کے یہ دعویٰ رکھتے ہیں کہ ہم خدا اور پیغمبروں اور کتابوں کے ماننے والے ہیں۔

 

ترجمہ

 

اے لوگو جو ایمان لائے ہو، جو پاک چیزیں اللہ نے تمہارے لیے حلال کی ہیں انہیں حرام نہ کر لو ۱۰۴ اور حد سے تجاوز نہ کرو، ۱۰۵ اللہ کو زیادتی کرنے والے سخت ناپسند ہیں۔ جو کچھ حلال و طیّب رزق اللہ نے تم کو دیا ہے اُسے کھاؤ پیو اور اُس خدا کی نافرمانی سے بچتے رہو جس پر تم ایمان لائے ہو۔ تم لوگ جو مُہمل قسمیں کھا لیتے ہو اُن پر اللہ گرفت نہیں کرتا، مگر جو قسمیں تم جان بُوجھ کر کھاتے ہو اُن پر وہ ضرور تم سے مواخذہ کرے گا۔ (ایسی قسم توڑنے کا)کفّارہ یہ ہے کہ دس (۱۰) مسکینوں کو وہ اَوسط درجہ کا کھانا کھلاؤ جو تم اپنے بال بچّوں کو کھلاتے ہو، یا انہیں کپڑے پہناؤ، یا ایک غلام آزاد کرو، اور جو اس کی استطاعت نہ رکھتا ہو وہ تین دن کے روزے رکھے۔ یہ تمہاری قسموں کا کفّارہ ہے جبکہ تم قسم کھا کر توڑ دو۔۱۰۶ اپنی قسموں کی حفاظت کیا کرو۔۱۰۷ اس طرح اللہ اپنے احکام تمہارے لیے واضح کرتا ہے شاید کہ تم شکر ادا کرو۔اے لوگو جو ایمان لائے ہو، یہ شراب اور جُوا اور یہ آستانے اور پانسے ،۱۰۸ یہ سب گندے شیطانی کام ہیں، ان سے پرہیز کرو، اُمیّد ہے کہ تمہیں فلاح نصیب ہو گی۔۱۰۹شیطان تو یہ چاہتا ہے کہ شراب اور جُوئے کے ذریعہ سے تمہارے درمیان عداوت اور بغض ڈال دے اور تمہیں خدا کی یاد سے اور نماز سے روک دے۔ پھر کیا تم ان چیزوں سے باز رہو گے ؟اللہ اور اُس کے رسول ؐ کی بات مانو اور باز آ جاؤ، لیکن اگر تم نے حکم عدُولی کی تو جان لو کہ ہمارے رسُول ؐ پر بس صاف صاف حکم پہنچا دینے کی ذمّہ داری تھی۔ جو لوگ ایمان لے آئے اور نیک عمل کرنے لگے انہوں نے پہلے جو کچھ کھایا پیا تھا اس پر کوئی گرفت نہ ہو گی بشرطیکہ وہ آئندہ اُن چیزوں سے بچے رہیں جو حرام کی گئی ہیں اور ایمان پر ثابت قدم رہیں اور اچھے کام کریں، پھر جس جس چیز سے روکا جائے اس سے رُکیں اور جو فرمانِ الٰہی ہو اُسے مانیں۔ پھر خدا ترسی کے ساتھ نیک رویّہ رکھیں۔ اللہ نیک کردار لوگوں کو پسند کرتا ہے۔ ؏١۲

 

تفسیر

 

۱۰۴-اس آیت میں دو باتیں ارشاد ہوئی ہیں۔ ایک یہ کہ خود حلال و حرام کے مختار نہ بن جاؤ۔ حلال وہی ہے جو اللہ نے حلال کیا اور حرام وہی ہے جو اللہ نے حرام کیا۔ اپنے اختیار سے کسی حلال کو حرام کرو گے تو قانونِ الٰہی کے بجائے قانونِ نفس کے پَیرو قرار پاؤ گے۔ دوسری بات یہ کہ عیسائی راہبوں، ہندو جوگیوں ، بودھ مذہب کے بھکشووں اور اشراقی متصوّ فین کی طرح رہبانیت اور قطعِ لذّات کا طریقہ اختیار نہ کرو۔ مذہبی ذہنیت کے نیک مزاج لوگوں میں ہمیشہ سے یہ میلان پایا جاتا رہا ہے کہ نفس و جسم کے حقوق ادا کرنے کو وہ رُوحانی ترقی میں مانع سمجھتے ہیں اور یہ گمان کرتے ہیں کہ اپنے آپ کو تکلیف میں ڈالنا، اپنے نفس کو دُنیوی لذّتوں سے محرُوم کرنا، اور دُنیا کے سامانِ زیست سے تعلق توڑنا ، بجائے خود ایک نیکی ہے اور خدا کا تقرب اس کے بغیر حاصل نہیں ہو سکتا۔ صحابہ کرام میں بھی بعض لوگ ایسے تھے جن کے اندر یہ ذہنیت پائی جاتی تھی۔ چنانچہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو معلوم ہوا کہ بعض صحابیوں نے عہد کیا ہے کہ ہمیشہ دن کو روزہ رکھیں گے ،راتوں کو بستر پر نہ سوئیں گے بلکہ جاگ جاگ کر عبادت کرتے رہیں گے ، گوشت اور چکنائی استعمال نہ کریں گے ، عورتوں سے واسطہ نہ رکھیں گے۔ اس پر آپ ؐ نے ایک خطبہ دیا اور اس میں فرمایا کہ’’ مجھے ایسی باتوں کا حکم نہیں دیا گیا ہے۔ تمہارے نفس کے بھی تم پر حقوق ہیں۔ روزہ بھی رکھو اور کھاؤ پیو بھی۔ راتوں کو قیام بھی کرو اور سوؤ بھی۔ مجھے دیکھو، میں سوتا بھی ہوں اور قیام بھی کرتا ہوں۔ روزے رکھتا بھی ہوں اور نہیں بھی رکھتا۔ گوشت بھی کھاتا ہوں اور گھی بھی۔ پس جو میرے طریقے کو پسند نہیں کرتا وہ مجھ سے نہیں ہے ‘‘۔ پھر فرمایا’’ یہ لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ انہوں نے عورتوں کو اور اچھے کھانے کو اور خوشبو اور نیند اور دُنیا کی لذّتوں کو اپنے اُوپر حرام کر لیا ہے ؟ میں نے تو تمہیں یہ تعلیم نہیں دی ہے کہ تم راہب اور پادری بن جاؤ۔ میرے دین میں نہ عورتوں اور گوشت سے اجتناب ہے اور نہ گوشہ گیری و عزلت نشینی ہے۔ ضبطِ نفس کے لیے میرے ہاں روزہ ہے ، رہبانیت کے سارے فائدے یہاں جہاد سے حاصل ہوتے ہیں۔ اللہ کی بندگی کرو، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو، حج و عمرہ کرو، نماز قائم کرو اور زکوٰۃ دو اور رمضان کے روزے رکھو۔ تم سے پہلے جو لوگ ہلاک ہوئے وہ اس لیے ہلاک ہوئے کہ انہوں نے اپنے اُوپر سختی کی ، اور جب انہوں نے خود اپنے اُوپر سختی کی تو اللہ نے بھی اُن پر سختی کی۔ یہ انہی کے بقایا ہیں جو تم کو صومعوں اور خانقاہوں میں نظر آتے ہیں‘‘۔ اسی سلسلہ میں بعض روایات سے یہاں تک معلوم ہوتا ہے کہ ایک صحابی کے متعلق نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے سنا کہ وہ ایک مُدّت سے اپنی بیوی کے پاس نہیں گئے ہیں اور شب و روز عبادت میں مشغول رہتے ہیں تو آپ ؐ نے بُلا کر اُن کو حکم دیا کہ ابھی اپنی بیوی کے پاس جا ؤ۔ اُنہوں نے کہا کہ میں روزے سے ہوں۔ آپ ؐ نے فرمایا روزہ توڑ دو اور جا ؤ حضرت عمر ؓ کے زمانہ میں ایک خاتون نے شکایت پیش کی کہ میرے شوہر دن بھر روزہ رکھتے ہیں اور رات بھر عبادت کرتے ہیں اور مجھ سے کوئی تعلق نہیں رکھتے۔ حضرت عمر ؓ نے مشہور تابعی بزرگ، کعب ؓ بن سَور الاَزْدِی کو اُن کے مقدمہ کی سماعت کے لیے مقرر کیا ، اور اُنہوں نے فیصلہ دیا کہ اس خاتون کے شوہر کو تین راتوں کے لیے اختیار ہے کہ جتنی چاہیں عبادت کریں مگر چوتھی رات لازماً ان کی بیوی کا حق ہے۔

۱۰۵-’’حد سے تجاوز کرنا‘‘ وسیع مفہُوم کا حامل ہے۔ حلال کو حرام کرنا اور خدا کی ٹھیرائی ہوئی پاک چیزوں سے اِس طرح پرہیز کرنا کہ گویا کہ وہ ناپاک ہیں ، یہ بجائے خود ایک زیادتی ہے۔ پھر پاک چیزوں کے استعمال میں اسراف اور افراط بھی زیادتی ہے۔ پھر حلال کی سرحد سے باہر قدم نکال کر حرام کے حُدُود میں داخل ہونا بھی زیادتی ہے۔ اللہ کو یہ تینوں باتیں نا پسند ہیں۔

۱۰۶-چونکہ بعض لوگوں نے حلال چیزوں کو اپنے اُوپر حرام کر لینے کی قسم کھا رکھی تھی اس لیے اللہ تعالیٰ نے اسی سلسلہ میں قسم کا حکم بھی بیان فرما دیا کہ اگر کسی شخص کی زبان سے بلا ارادہ قسم کا لفظ نِکل گیا ہے تو اس کی پابندی کرنے کی ویسے ہی ضرورت نہیں، کیونکہ ایسی قسم پر کوئی مواخذہ نہیں ہے ، اور اگر جان بُوجھ کر کسی نے قسم کھائی ہے تو وہ اُسے توڑ دے اور کفّارہ ادا کر دے ، کیونکہ جس نے کسی معصیت کی قسم کھائی ہو اسے اپنی قسم پر قائم نہ رہنا چاہیے ( ملاحظہ ہو سُورۂ بقرہ، حاشیہ نمبر ۲۴۳ و ۲۴۴ – نیز کفّارہ کی تشریح کے لیے ملاحظہ ہو سُورہ ٔ نساء حاشیہ نمبر ۱۲۵)۔

۱۰۷-قسم کی حفاظت کے کئی مفہُوم ہیں: ایک یہ کہ قسم کو صحیح مَصْرف میں استعمال کیا جائے ، فضول باتوں اور معصیت کے کاموں میں استعمال نہ کیا جائے۔ دوسرے یہ کہ جب کسی بات پر آدمی قسم کھائے تو اسے یاد رکھے ، ایسا نہ ہو کہ اپنی غفلت کی وجہ سے وہ اُسے بھُول جائے۔ اور پھر اس کی خلاف ورزی کرے۔ تیسرے یہ کہ جب کسی صحیح معاملہ میں بالارادہ قسم کھائی جائے تو اسے پُورا کیا جائے اور اگر اس کی خلاف ورزی ہو جائے تو اس کا کفارہ ادا کیا جائے۔

۱۰۸-آستانوں اور پانسوں کی تشریح کے لیے ملاحظہ ہو سُورۂ مائدہ ، حاشیہ نمبر ۱۲ و ۱۴۔ اِس سلسلہ میں جُوئے کی تشریح بھی حاشیہ نمبر ۱۴ میں مِل جائے گی۔ اگرچہ پانسے ( جُوئے ) ہی کی ایک قسم ہیں۔ لیکن ان دونوں کے درمیان فرق یہ ہے کہ عربی زبان میں ازلام فال گیری اور قرعہ اندازی کی اُس صُورت کو کہتے ہیں کہ جو مشرکانہ عقائد اور وہمیّات سے آلودہ ہو۔ اور مَیسِر کا اطلاق اُن کھیلوں اور اُن کاموں پر ہوتا ہے جن میں اتفاقی اُمُور کو کمائی اور قسمت آزمائی اور تقسیمِ اموال و اشیاء کا ذریعہ بنایا جاتا ہے۔

۱۰۹-اِس آیت میں چار چیزیں قطعی طور پر حرام کی گئی ہیں۔ ایک شراب۔ دوسرے قمار بازی۔ تیسرے وہ مقامات جو خدا کے سوا کسی دُوسرے کی عبادت کرنے یا خدا کے سوا کسی اَور کے نام پر قربانی اور نذر و نیاز چڑھانے کے لیے مخصُوص کیے گئے ہوں۔ چوتھے پانسے۔ مؤخّر الذکر تینوں چیزوں کی ضرورت تشریح پہلے کی جا چکی ہے۔ شراب کے متعلق احکام کی تفصیل حسب ذیل ہے : شراب کی حُرمت کے سلسلہ میں اس سے پہلے دو حکم آ چکے تھے ، جو سُورۂ بقرہ آیت ۲۱۹ اور سُورۂ نساء آیت ۴۳ میں گزر چکے ہیں۔ اب اس آخری حکم کے آنے سے پہلے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے ایک خطبہ میں لوگوں کو متنبّہ فرما دیا کہ اللہ تعالیٰ کو شراب سخت ناپسند ہے ، بعید نہیں کہ اس کی قطعی حُرمت کا حکم آ جائے ، لہٰذا جن جن لوگوں کے پاس شراب موجود ہو وہ اسے فروخت کر دیں۔ اس کے کچھ مدت بعد یہ آیت نازل ہوئی اور آپ نے اعلان کرایا کہ اب جن کے پاس شراب ہو وہ نہ اسے پی سکتے ہیں ، نہ بیچ سکتے ہیں، بلکہ وہ اسے ضائع کر دیں۔ چنانچہ اسی وقت مدینہ کی گلیوں میں شراب بہا دی گئی۔ بعض لوگوں نے پُوچھا ہم یہُودیوں کو تحفۃً کیوں نہ دے دیں؟ آپ ؐ نے فرمایا’’ جس نے یہ چیز حرام کی ہے اُس نے اِسے تحفۃً دینے سے بھی منع کر دیا ہے ‘‘۔ بعض لوگوں نے پُوچھا ہم شراب کو سِرکے میں کیوں نہ تبدیل کر دیں؟ آپ ؐ نے اس سے بھی منع فرمایا اور حکم دیا کہ’’ نہیں، اسے بہا دو‘‘۔ ایک صاحب نے باصرار دریافت کیا کہ دواء کے طور پر استعمال کی تو اجازت ہے ؟ فرمایا’’ نہیں ، وہ دوا ء نہیں ہے بلکہ بیماری ہے ‘‘۔ ایک اَور صاحب نے عرض کیا یا رسُول اللہ ! ہم ایک ایسے علاقے کے رہنے والے ہیں جو نہایت سرد ہے ، اور ہمیں محنت بھی بہت کرنی پڑتی ہے۔ ہم لوگ شراب سے تکان اور سردی کا مقابلہ کرتے ہیں۔ آپ ؐ نے پُوچھا جو چیز تم پیتے ہو وہ نشہ کرتی ہے ؟ انہوں نے عرض کیا ہاں۔ فرمایا تو اس سے پرہیز کرو۔ انہوں نے عرض کیا مگر ہمارے علاقے کے لوگ تو نہیں مانیں گے۔ فرمایا’’ اگر وہ نہ مانیں تو ان سے جنگ کرو‘‘۔

ابنِ عمر ؓ کی روایت ہے کہ حضور ؐ نے فرمایا لعَن اللہ الخمر و شاربھا و ساقیھا و بائعھا و مُبتا عھا و عاصر ھا و معتصر ھا و حاملھا و المحمولۃ الیہ۔’’ اللہ تعالیٰ نے لعنت فرمائی ہے شراب پر اور اس کے پینے والے پر اور پلانے والے پر اور بیچنے والے پر اور خریدنے والے پر اور کشید کرنے والے پر اور کشید کرانے والے پر اور ڈھو کر لے جانے والے پر اور اس شخص پر جس کے لیے وہ ڈھو کر لے جائی گئی ہو‘‘۔ ایک اَور حدیث میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے اُس دستر خوان پر کھانا کھانے سے منع فرمایا جس پر شراب پی جا رہی ہو۔ ابتداءً آپ نے اُن برتنوں کے استعمال کو منع فرما دیا تھا جس میں شراب بنائی اور پی جاتی تھی۔ بعد میں جب شراب کی حُرمت کا حکم پُوری طرح نافذ ہو گیا تب آپ نے برتنوں پر سے یہ قید اُٹھا دی۔

(خمر کا لفظ عرب میں انگوری شراب کے لیے استعمال ہوتا تھا اور مجازاً گیہُوں ، جَو ، کِشمِش،کھجُور اور شہد کی شرابوں کے لیے بھی یہ الفاظ بولتے تھے ، مگر نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے حُرمت کے اس حکم کو تمام اُن چیزوں پر عام قرار دیا جو نشہ پیدا کرنے والی ہیں۔ چنانچہ حدیث میں حضُور کے یہ واضح ارشادات ہمیں ملتے ہیں کہ کل مسکر خمر و کل مسکر حرام۔’’ ہر نشہ آور چیز خمر ہے اور ہر نشہ آور چیز حرام ہے ‘‘۔کل شراب ٍ اسکر فھو حرام۔’’ ہر وہ مشروب جو نشہ پیدا کرے وہ حرام ہے ‘‘۔وانا انھی عن کل مسکرٍ۔’’اور میں ہر نشہ آور چیز سے منع کرتا ہوں‘‘۔ حضرت عمر ؓ نے جُمعہ کے خطبہ میں شراب کی یہ تعریف بیان کی تھی کہ الخمر ما خامر العقل۔’’خمر سے مراد ہر وہ چیز ہے جو عقل کو ڈھانک لے ‘‘۔

نیز نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے یہ اُصُول بیان فرمایا کہ ما اسکر کثیرہ فقلیْلہ حرام۔’’ جس چیز کی کثیر مقدار نشہ پیدا کر ے اس کی تھوڑی مقدار بھی حرام ہے ‘‘۔ اور ما اسکر الفرق منہ مفلٔ الکف منہ حرام۔’’ جس چیز کا ایک پُورا قرابہ نشہ پیدا کرتا ہو اس کا ایک چُلّو پینا بھی حرام ہے ‘‘۔

نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے زمانہ میں شراب پینے والے کے لیے کوئی خاص سزا مقرر نہ تھی۔ جو شخص اِس جُرم میں گرفتار ہو کر آتا تھا اُسے جُوتے ، لات، مُکّے ، بل دی ہوئی چادروں کے سونٹے اور کھجُور کے سَنٹے مارے جاتے تھے۔ زیادہ سے زیادہ ۴۰ ضربیں آپ ؐ کے زمانہ میں اس جُرم پر لگائی گئی ہیں۔ حضرت ابوبکر ؓ کے زمانے میں ۴۰ کوڑے مارے جاتے تھے۔ حضرت عمر ؓ کے زمانے میں بھی ابتداءً کوڑوں ہی کی سزا رہی۔ پھر جب اُنہوں نے دیکھا کہ لوگ اس جُرم سے باز نہیں آتے تو اُنہوں نے صحابۂ کرام کے مشورے سے ۸۰ کوڑے سزا مقرر کی۔ اسی سزا کو امام مالک ؒ اور امام ابو حنیفہ ؒ، اور ایک روایت کے بموجب امام شافعیؒ بھی، شراب کی حد قرار دیتے ہیں۔ مگر امام احمد ؒ ابن حنبل اور ایک دُوسری روایت کے مطابق امام شافعی ؒ ۴۰ کوڑوں کو قائل ہیں، اور حضرت علی ؓ نے بھی اسی کو پسند فرمایا ہے۔

شریعت کی رُو سے یہ بات حکومتِ اسلامی کے فرائض میں داخل ہے کہ وہ شراب کی بندش کے اس حکم کو بزور و قوت نافذ کرے۔ حضرت عمر ؓ کے زمانہ میں بنی ثَقِیف کے ایک شخص رُوَیشِد نامی کی دوکان اس بنا پر جلوا دی گئی کہ وہ خفیہ طور پر شراب بیچتا تھا۔ ایک دُوسرے موقع پر ایک پُورا گاؤں حضرت عمر ؓ کے حکم سے اِس قصُور پر جلا ڈالا گیا کہ وہاں خفیہ طریقہ سے شراب کی کشید اور فروخت کا کاروبار ہو رہا تھا۔

 

ترجمہ

 

اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اللہ تمہیں اُس شکار کے ذریعہ سے سخت آزمائش میں ڈالے گا جو بالکل تمہارے ہاتھوں اور نیزوں کی زد میں ہو گا، یہ دیکھنے کے لیے کہ تم میں سے کون اس سے غائبانہ ڈرتا ہے ، پھر جس نے اس تنبیہ کے بعد اللہ کی مقرر کی ہوئی حد سے تجاوز کیا اُس کے لیے درد ناک سزا ہے۔ اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! اِحرام کی حالت میں شکار نہ مارو،۱۱۰ اور اگر تم میں سے کوئی جان بوجھ کر ایسا کر گزرے تو جو جانور اس نے مارا ہو اُسی کے ہم پلّہ ایک جانور اُسے مویشیوں میں سے نذر دینا ہو گا جس کا فیصلہ تم میں سے دو عادل آدمی کریں گے ، اور یہ نذرانہ کعبہ پہنچایا جائے گا، یا نہیں تو اس گناہ کے کفارہ میں چند مسکینوں کو کھانا کھلانا ہو گا، یا اس کے بقدر روزے رکھنے ہوں گے ،۱۱۱ تاکہ وہ اپنے کیے کا مزہ چکھے۔ پہلے جو کچھ ہو چکا اُسے اللہ نے معاف کر دیا، لیکن اب اگر کسی نے اس حرکت کا اعادہ کیا تو اس سے اللہ بدلہ لے گا، اللہ سب پر غالب ہے اور بدلہ لینے کی طاقت رکھتا ہے۔

تمہارے لیے سمندر کا شکار اور اس کا کھانا حلال کر دیا گیا، ۱۱۲ جہاں تم ٹھیرو وہاں بھی اُسے کھا سکتے ہو اور قافلے کے لیے زادِ راہ بھی بنا سکتے ہو۔ البتّہ خشکی کا شکار جب تک تم اِحرام کی حالت میں ہو، تم پر حرام کیا گیا ہے۔ پس بچو اُس خدا کی نا فرمانی سے جس کی پیشی میں تم سب کو گھیر کر حاضر کیا جائے گا۔اللہ نے مکانِ مُحترم، کعبہ کو لوگوں کے لیے (اجتماعی زندگی کے ) قیام کا ذریعہ بنایا اور ماہِ حرام اور قربانی کے جانوروں اور قَلادوں کو بھی (اِس کام میں معاون بنا دیا)۱۱۳ تاکہ تمہیں معلوم ہو جائے کہ اللہ آسمانوں اور زمین کے سب حالات سے باخبر ہے اور اُسے ہر چیز کا علم ہے۔ ۱۱۴ خبردار ہو جاؤ ! اللہ سزا دینے میں بھی سخت ہے اور اس کے ساتھ بہت درگزر اور رحم بھی کرنے والا ہے۔ رسُول پر تو صرف پیغام پہنچا دینے کی ذمّہ داری ہے ، آگے تمہارے کھُلے اور چھُپے سب حالات کا جاننے والا اللہ ہے۔ اے پیغمبر ؐ ! اِن سے کہہ دو کہ پاک اور ناپاک بہرحال یکساں نہیں ہیں خواہ ناپاک کی بہتات تمہیں کتنا ہی فریفتہ کرنے والی ہو،۱۱۵ پس اے لوگو جو عقل رکھتے ہو ! اللہ کی نافرمانی سے بچتے رہو، اُمّید ہے کہ تمہیں فلاح نصیب ہو گی۔ ؏١۳

 

تفسیر

 

۱۱۰-شکار خواہ آدمی خود کرے ، یا کسی دُوسرے کو شکار میں کسی طور پر مدد دے ، دونوں باتیں حالتِ احرام میں منع ہیں۔ نیز اگر مُحرِم کی خاطر شکار مارا گیا ہو تب بھی اس کا کھانا مُحِرم کے لیے جائز نہیں ہے۔ البتہ اگر کسی شخص نے اپنے لیے خود شکار کیا ہو اور پھر وہ اس میں سے مُحِرم کو بھی تحفۃً کچھ دے دے تو اس کے کھانے میں کچھ مضائقہ نہیں۔ اس حکِم عام سے مُوذی جانور مستثنیٰ ہیں۔ سانپ ، بچھّو، باؤ لا کتّا اور ایسے دُوسرے جانور جو انسان کو نقصان پہنچانے والے ہیں، حالتِ احرام میں مارے جا سکتے ہیں۔

۱۱۱-اِن اُمُور کا فیصلہ بھی دو عادل آدمی ہی کریں گے کہ کس جانور کے مارنے پر آدمی کتنے مسکینوں کو کھانا کھِلائے ، یا کتنے روزے رکھے۔

۱۱۲-چونکہ سمندر کے سفر میں بسا اوقات زادِ راہ ختم ہو جا تا ہے اور غذا کی فراہمی کے لیے بجُز اس کے کہ آبی جانوروں کا شکار کیا جائے اور کوئی تدبیر ممکن نہیں ہوتی اس لیے بحری شکار حلال کر دیا گیا۔

۱۱۳-عرب میں کعبہ کی حیثیت محض ایک مقدّس عباد ت گاہ ہی کی نہ تھی بلکہ اپنی مرکزیّت اور اپنے تقدس کی وجہ سے وہی پُورے ملک کی معاشی و تمدّنی زندگی کا سہارا بنا ہوا تھا۔ حج اور عُمرے کے لیے سارا ملک اُس کی طرف کھِنچ کر آتا تھا اور اس اجتماع کی بدولت انتشار کے مارے ہوئے عربوں میں وحدت کا ایک رشتہ پیدا ہوتا، مختلف علاقوں اور قبیلوں کے لوگ باہم تمدّنی روابط قائم کرتے ، شاعری کے مقابلوں سے ان کی زبان اور ادب کو ترقی نصیب ہوتی، اور تجارتی لین دین سے سارے ملک کی معاشی ضروریات پوری ہوتیں۔ حرام مہینوں کی بدولت عربوں کو سال کا پُورا ایک تہائی زمانہ امن کا نصیب ہو جاتا تھا۔ بس یہی زمانہ ایسا تھا جس میں ان کے قافلے ملک کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک بسہُولت آتے جاتے تھے۔ قربانی کے جانوروں اور قلادوں کی موجودگی سے بھی اس نقل و حرکت میں بڑی مدد ملتی تھی ، کیونکہ نذر کی علامت کے طور پر جن جانوروں کی گردن میں پٹے پڑے ہوتے انہیں دیکھ کر عربوں کی گردنیں احترام سے جھُک جاتیں اور کسی غارت گر قبیلے کو ان پر ہاتھ ڈالنے کی جُرأت نہ ہوتی۔

۱۱۴-یعنی اگر تم اس انتظام پر غور کرو تو تمہیں خود اپنے ملک کی تمدّنی و معاشی زندگی ہی میں اس امر کی ایک بیّن شہادت مل جائے کہ اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق کے مصالح اور اُن کی ضروریات کا کیسا مکمل اور گہرا علم رکھتا ہے اور اپنے ایک ایک حکم کے ذریعہ سے انسانی زندگی کے کتنے کتنے شعبوں کو فائدہ پہنچا دیتا ہے۔ بد امنی کے یہ سینکڑوں برس جو محمد ِؐ  عربی کے ظہُور سے پہلے گزرے ہیں، ان میں تم لوگ خود اپنے مفاد سے ناواقف تھے اور اپنے آپ کو تباہ کرنے پر تُلے ہوئے تھے ، مگر اللہ تمہاری ضرورتوں کو جانتا تھا اور اُس نے صرف ایک کعبہ کی مرکزیّت قائم کر کے تمہارے لیے وہ انتظام کر دیا تھا جس کی بدولت تمہاری قومی زندگی برقرار رہ سکی۔ دُوسری بے شمار باتوں کو چھوڑ کر اگر صرف اسی بات پر دھیان کرو تو تمہیں یقین حاصل ہو جائے کہ اللہ نے جو احکام تمہیں دیے ہیں اُن کی پابندی میں تمہاری اپنی بھلائی ہے اور ان میں تمہارے لیے وہ وہ مصلحتیں پوشیدہ ہیں جن کو نہ تم خود سمجھ سکتے ہو اور نہ اپنی تدبیروں سے پُورا کر سکتے ہو۔

۱۱۵-یہ آیت قدر و قیمت کا ایک دوسرا ہی معیار پیش کرتی ہے جو ظاہر میں انسان کے معیار سے بالکل مختلف ہے۔ ظاہر بیں نظر میں سو (۱۰۰) روپے بمقابلہ پانچ (۵) روپے کے لازماً زیادہ قیمتی ہیں کیونکہ وہ سو ہیں اور یہ پانچ۔ لیکن یہ آیت کہتی ہے کہ سو (۱۰۰) روپے اگر خدا کی نافرمانی کر کے حاصل کیے گئے ہوں تو وہ ناپاک ہیں ، اور پانچ روپے اگر خدا کی فرماں برداری کرتے ہوئے کمائے گئے ہوں تو وہ پاک ہیں ، اور ناپاک خواہ مقدار میں کتنا ہی زیادہ ہو، بہرحال وہ پاک کے برابر کسی طرح نہیں ہو سکتا۔ غلاظت کے ایک ڈھیر سے عطر کا ایک قطرہ زیادہ قدر رکھتا ہے اور پیشاب کی ایک لبریز نانْد کے مقابلہ میں پاک پانی کا ایک چُلّو زیادہ وزنی ہے۔ لہٰذا ایک سچّے دانش مند انسان کو لازماً حلال ہی پر قناعت کرنی چاہیے خواہ وہ ظاہر میں کتنا ہی حقیر و قلیل ہو، اور حرام کی طرف کسی حال میں بھی ہاتھ نہ بڑھانا چاہیے خواہ وہ بظاہر کتنا ہی کثیر و شاندار ہو۔

 

ترجمہ

 

اے لوگوں جو ایمان لائے ہو، ایسی باتیں نہ پوچھا کرو جو تم پر ظاہر کر دی جائیں تو تمہیں ناگوار ہوں،۱۱۶ لیکن اگر تم انہیں ایسے وقت پُوچھو گے جب کہ قرآن نازل ہو رہا ہو تو وہ تم پر کھول دی جائیں گی۔ اب تک جو کچھ تم نے کیا اُسے اللہ نے معاف کر دیا، وہ درگزر کرنے والا اور بُرد بار ہے۔ تم سے پہلے ایک گروہ نے اِسی قسم کے سوالات کیے تھے ، پھر وہ لوگ انہی باتوں کی وجہ سے کفر میں مُبتلا ہو گئے۔۱۱۷اللہ نے نہ کوئی بَحِیرہ مقرر کیا ہے نہ سائبَہ اور نہ وَصیْلہ اور نہ حام۔۱۱۸ مگر یہ کافر اللہ پر جھُوٹی تہمت لگاتے ہیں اور ان میں سے اکثر بے عقل ہیں (کہ ایسے وہمیّات کو مان رہے ہیں)۔ اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ آؤ اُس قانون کی طرف جو اللہ نے نازل کیا ہے اور آؤ پیغمبر ؐ کی طرف تو وہ جواب دیتے ہیں کہ ہمارے لیے تو بس وہی طریقہ کافی ہے جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے۔ کیا یہ باپ دادا ہی کی تقلید کیے چلے جائیں گے خواہ وہ کچھ نہ جانتے ہوں اور صحیح راستہ کی انہیں خبر ہی نہ ہو؟ اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اپنی فکر کرو، کسی دُوسرے کی گمراہی سے تمہارا کُچھ نہیں بگڑتا اگر تم خود راہِ راست پر ہو،۱۱۹ اللہ کی طرف تم سب کو پلٹ کر جانا ہے ، پھر وہ تمہیں بتا دے گا کہ تم کیا کرتے رہے ہو۔اے لوگو جو ایمان لائے ہو، جب تم میں سے کسی کی موت کا وقت آ جائے اور وہ وصیّت کر رہا ہو تو اس کے لیے شہادت کا نصاب یہ ہے کہ تمہاری جماعت میں سے دو صاحبِ عدل آدمی ۱۲۰ گواہ بنائے جائیں، یا اگر تم سفر کی حالت میں ہو اور وہاں موت کی مصیبت پیش آ جائے تو غیر مسلموں ہی میں سے دو گواہ لے لیے جائیں۔۱۲۱ پھر اگر کوئی شک پڑ جائے تو نماز کے بعد دونوں گواہوں کو مسجد میں روک لیا جائے اور وہ خدا کی قسم کھا کر کہیں کہ ’’ہم کسی ذاتی فائدے کے عوض شہادت بیچنے والے نہیں ہیں، اور خواہ کوئی ہمارا رشتہ دار ہی کیوں نہ ہو (ہم اس کی رعایت کرنے والے نہیں)، اور نہ خدا واسطے کی گواہی کو ہم چھپانے والے ہیں، اگر ہم نے ایسا کیا تو گناہ گاروں میں شمار ہوں گے ‘‘۔لیکن اگر پتہ چل جائے کہ ان دونوں نے اپنے آپ کو گناہ میں مُبتلا کیا ہے تو پھر ان کی جگہ دو اور شخص جو ان کی بہ نسبت شہادت دینے کے لیے اہل تر ہوں ان لوگوں میں سے کھڑے ہوں جن کی حق تلفی ہوئی ہو، اور وہ خدا کی قسم کھا کر کہیں کہ ’’ہماری شہادت اُن کی شہادت سے زیادہ بر حق ہے اور ہم نے اپنی گواہی میں کوئی زیادتی نہیں کی ہے ، اگر ہم ایسا کریں تو ظالموں میں سے ہوں گے ‘‘۔ اس طریقہ سے زیادہ توقع کی جا سکتی ہے کہ ٹھیک ٹھیک شہادت دیں گے ، یا کم از کم اس بات ہی کا خوف کریں گے کہ ان کی قسموں کے بعد دُوسری قسموں سے کہیں ان کی تردید نہ ہو جائے۔ اللہ سے ڈرو اور سنو، اللہ نافرمانی کرنے والوں کو اپنی رہنمائی سے محروم کر دیتا ہے۔ ؏١۴

 

تفسیر

 

۱۱۶-نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے بعض لوگ عجیب عجیب قسم کے فضول سوالات کیا کرتے تھے جن کی نہ دین کے کسی معاملہ میں ضرورت ہوتی تھی اور نہ دُنیا ہی کے کسی معاملہ میں۔ مثلاً ایک موقع پر ایک صاحب بھرے مجمع میں آپ ؐ سے پُوچھ بیٹھے کہ ’’میرا اصلی باپ کون ہے ؟‘‘ اسی طرح بعض لوگ احکامِ شرع میں غیر ضروری پُوچھ گچھ کیا کرتے تھے ، اور خواہ مخواہ پُوچھ پُوچھ کر ایسی چیزوں کا تعیّن کرا نا چاہتے تھے جنہیں شارع نے مصلحتاً غیر معیّن رکھا ہے۔ مثلاً قرآن میں مُجملاً یہ حکم دیا گیا تھا کہ حج تم پر فرض کیا گیا ہے۔ ایک صاحب نے حکم سُنتے ہی نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے دریافت کیا’’ کیا ہر سال فرض کیا گیا ہے ؟‘‘ آپ ؐ نے کچھ جواب نہ دیا۔ اُنہوں نے پھر پُوچھا۔ آپ ؐ پھر خاموش ہو گئے۔ تیسری مرتبہ پُوچھنے پر آپ ؐ نے فرمایا ’’تم پر افسوس ہے۔ اگر میری زبان سے ہاں نِکل جائے تو حج ہر سال فرض قرار پائے۔ پھر تم ہی لوگ اس کی پیروی نہ کر سکو گے اور نا فرمانی کرنے لگو گے ‘‘۔ ایسے ہی لا یعنی اور غیر ضروری سوالات سے اس آیت میں منع کیا گیا ہے۔

نبی صلی اللہ علیہ و سلم خود بھی لوگوں کو کثرتِ سوال سے اور خواہ مخواہ ہر بات کی کھوج لگانے سے منع فرماتے رہے تھے۔ چنانچہ حدیث میں ہے ان اعظم المسلمین فی المسلمین جرما من سأل عن شیٔ لم یحرم علی الناس فحرم من اجل مسألتہ۔ ’’ مسلمانوں کے حق میں سب سے بڑا مجرم وہ شخص ہے جس نے کسی ایسی چیز کے متعلق سوال چھیڑا جو لوگوں پر حرام نہ کی گئی تھی اور پھر محض اس کے سوال چھیڑنے کی بدولت وہ چیز حرام ٹھیرائی گئی‘‘۔ ایک دُوسری حدیث میں ہے ان اللہ فرض فرائض فلا تضیْعوھا و حرم حرمَات فلا تنتھکو ھا وحَدّ حُدُوْداً فلا تعتدُوْھَا وسَکتَ عَنْ اشیَا ء من غیر نسیان فلا تبحثو ا عنھا۔’’ اللہ نے کچھ فرائض تم پر عائد کیے ہیں ، انہیں ضائع نہ کرو۔ کچھ چیزوں کو حرام کیا ہے ان کے پاس نہ پھٹکو۔ کچھ حُدُود مقرر کی ہیں ، ان سے تجاوز نہ کرو۔ اور کچھ چیزوں کے متعلق خاموشی اختیار کی ہے بغیر اس کے کہ اُسے بھُول لاحق ہوئی ہو، لہٰذا ان کی کھوج نہ لگاؤ‘‘۔ ان دونوں حدیثوں میں ایک اہم حقیقت پر متنبّہ کیا گیا ہے۔ جن اُمُور کو شارع نے مجملاً بیان کیا ہے اور ان کی تفصیل نہیں بتائی، یا جو احکام برسبیلِ اجمال دیے ہیں اور مقدار یا تعداد یا دُوسرے تعیّنات کا ذکر نہیں کیا ہے ، ان میں اجمال اور عدمِ تفصیل کی وجہ یہ نہیں ہے کہ شارع سے بھُول ہو گئی، تفصیلات بتانی چاہیے تھیں مگر نہ بتائیں، بلکہ اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ شارع ان امور کی تفصیلات کو محدُود نہیں کرنا چاہتا اور احکام میں لوگوں کے لیے وسعت رکھنا چاہتا ہے۔ اب جو شخص خواہ مخواہ سوال پر سوال نکال کر تفصیلات اور تعینات اور تقیدات بڑھانے کی کوشش کرتا ہے ، اور اگر شارع کے کلام سے یہ چیزیں کسی طرح نہیں نکلتیں تو قیاس سے ، اِستنباط سے کِسی نہ کسی طرح مجمل کو مفصّل، مطلَق کو مقَیَّد، غیر معیّن کو معیّن بنا کر ہی چھوڑتا ہے ، وہ درحقیقت مسلمانوں کو بڑے خطرے میں ڈالتا ہے۔ اس لیے کہ ما بعد الطبیعی اُمُور میں جتنی تفصیلات زیادہ ہوں گی، ایمان لانے والے کے لیے اتنے ہی زیادہ اُلجھن کے مواقع بڑھیں گے ، اور احکام میں جتنی قیُود زیادہ ہوں گی پَیروی کرنے والے کے لیے خلاف ورزیِ  حکم کے امکانات بھی اسی قدر زیادہ ہوں گے۔

۱۱۷-یعنی پہلے انہوں نے خود ہی عقائد اور احکام میں موشگافیاں کیں اور ایک ایک چیز کے متعلق سوال کر کر کے تفصیلات اور قیُود کا ایک جال اپنے لیے تیار کرایا، پھر خود ہی اُس میں اُلجھ کر اعتقادی گمراہیوں اور عملی نافرمانیوں میں مبتلا ہو گئے۔۔۔۔۔۔ اِس گروہ سے مراد یہودی ہیں جن کے نقشِ قدم پر چلنے میں، قرآن اور محمد صلی اللہ علیہ و سلم کی تنبیہات کے باوجود، مسلمانوں نے کوئی کسر اُٹھا نہیں رکھی ہے۔

۱۱۸-جس طرح ہمارے ملک میں گائے ، بیل اور بکرے خدا کے نام پر یا کسی بُت یا قبر یا دیوتا یا پیر کے نام پر چھوڑ دیے جاتے ہیں ، اور ان سے کوئی خدمت لینا یا انہیں ذبح کرنا یا کسی طور پر ان سے فائدہ اُٹھانا حرام سمجھا جاتا ہے ، اسی طرح زمانۂ جاہلیّت میں اہلِ عرب بھی مختلف طریقوں سے جانوروں کو پُن کر کے چھوڑ دیا کرتے تھے اور ان طریقوں سے چھوڑے ہوئے جانوروں کے الگ الگ نام رکھتے تھے۔

بحیرہ: اُس اُونٹنی کو کہتے تھے جو پانچ دفعہ بچّے جَن چکی ہو اور آخری بار اس کے ہاں نر بچّہ ہوا ہو۔ اس کا کان چیر کر اُسے آزاد چھوڑ دیا جاتا تھا۔ پھر نہ کوئی اس پر سوار ہوتا، نہ اُس کا دُودھ پیا جاتا، نہ اُسے ذبح کیا جاتا، نہ اس کا اُون اتارا جاتا۔ اُسے حق تھا کہ جس کھیت اور جس چراگاہ میں چاہے چرے اور جس گھاٹ سے چاہے پانی پیے۔

سائبہ: اُس اُونٹ یا اُونٹنی کو کہتے تھے جسے کسی مَنّت کے پُورا ہو نے یا کسی بیماری سے شفا پانے یا کسی خطرے سے بچ جانے پر بطور شکرانہ کے پُن کر دیا گیا ہو۔ نیز جس اُونٹنی نے دس مرتبہ بچّے دیے ہوں اور ہر بار مادہ ہی جنی ہو اُسے بھی آزاد چھوڑ دیا جاتا تھا۔

وصیلہ: اگر بکری کا پہلا بچّہ نر ہوتا تو وہ خداؤں کے نام پر ذبح کر دیا جاتا، اور اگر وہ پہلی بار مادہ جنتی تو اسے اپنے لیے رکھ لیا جاتا تھا۔ لیکن اگر نر اور مادہ ایک ساتھ پیدا ہوتے تو نر کو ذبح کر نے کے بجائے یونہی خداؤں کے نام پر چھوڑ دیا جاتا تھا اور اس کا نام وصیلہ تھا۔

حام : اگر کسی اُونٹ کا پوتا سواری دینے کے قابل ہو جاتا تو اس بُوڑھے اُونٹ کو آزاد چھوڑ دیا جاتا تھا۔ نیز اگر کسی اُونٹ کے نطفہ سے دس بچّے پیدا ہو جاتے تو اسے بھی آزادی مِل جاتی۔

۱۱۹-یعنی بجائے اس کے کہ آدمی ہر وقت یہ دیکھتا رہے کہ فلاں کیا کر رہا ہے اور فلاں کے عقیدے میں کیا خرابی ہے اور فلاں کے اعمال میں کیا بُرائی ہے ، اسے یہ دیکھنا چاہیے کہ وہ خود کیا کر رہا ہے۔ اسے فکر اپنے خیالات کی، اپنے اخلاق اور اعمال کی ہونی چاہیے کہ وہ کہیں خراب نہ ہوں۔ اگر آدمی خود اللہ کی اطاعت کر رہا ہے ، خدا اور بندوں کے جو حقوق اس پر عائد ہوتے ہیں انہیں ادا کر رہا ہے ، اور راست روی و راست بازی کی مقتضیات پُورے کر رہا ہے ، جن میں لازماً امر بالمعروف و نہی عن المنکر بھی شامل ہے ، تو یقیناً کسی شخص کی گمراہی و کج روی اس کے لیے نقصان دہ نہیں ہو سکتی۔

اِس آیت کا یہ منشاء ہر گز نہیں ہے کہ آدمی بس اپنی نجات کی فکر کرے ، دُوسروں کی اصلاح کی فکر نہ کرے۔ حضرت ابوبکر صدیق ؓ اس غلط فہمی کی تردید کرتے ہوئے اپنے ایک خطبہ میں فرماتے ہیں: ’’لوگو! تم اس آیت کو پڑھتے ہو اور اس کی غلط تاویل کرتے ہو۔ میں نے رسُول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو یہ فرماتے ہوئے سُنا ہے کہ جب لوگوں کا حال یہ ہو جائے کہ وہ بُرائی کو دیکھیں اور اسے بدلنے کی کوشش نہ کریں، ظالم کو ظلم کرتے ہوئے پائیں اور اس کا ہاتھ نہ پکڑیں ، تو بعید نہیں کہ اللہ اپنے عذاب میں سب کو لپیٹ لے۔ خدا کی قسم تم کو لازم ہے کہ بھلائی کا حکم دو اور بُرائی سے روکو، ورنہ اللہ تم پر ایسے لوگوں کو مسلّط کر دے گا جو تم میں سب سے بدتر ہوں گے اور وہ تم کو سخت تکلیفیں پہنچائیں گے ، پھر تمہارے نیک لوگ خدا سے دُعائیں مانگیں گے مگر وہ قبول نہ ہوں گی۔

۱۲۰-یعنی دیندار ، راست باز اور قابلِ اعتماد مسلمان۔

۱۲۱-اِس سے معلوم ہوا کہ مسلمانوں کے معاملات میں غیر مسلم کو شاہد بنانا صرف اُس حالت میں درست ہے جبکہ کوئی مسلما گواہ بننے کے لیے میسّر نہ آ سکے۔

 

ترجمہ

 

جس روز ۱۲۲ اللہ سب رسولوں کو جمع کر کے پُوچھے گا کہ تمہیں کیا جواب دیا گیا،۱۲۳ تو وہ عرض کریں گے کہ ہمیں کچھ علم نہیں،۱۲۴ آپ ہی تمام پوشیدہ حقیقتوں کو جانتے ہیں۔ پھر تصوّر کرو اس موقع کا جب اللہ فرمائے گا ۱۲۵ کہ ’’اے مریم کے بیٹے عیسیٰؑ ! یاد کر میری اس نعمت کو جو میں نے تجھے اور تیری ماں کو عطا کی تھی، میں نے رُوح پاک سے تیری مدد کی، تُو گہوارے میں بھی لوگوں سے بات کرتا تھا اور بڑی عمر کو پہنچ کر بھی، میں نے تجھ کو کتاب اور حکمت اور تورات اور انجیل کی تعلیم دی، تُو میرے حکم سے مٹی کا پُتلا پرندے کی شکل کا بناتا اور اس میں پھُونکتا تھا، اور وہ میرے حکم سے پرندہ بن جاتا تھا ، تُو مادر زاد اندھے کو کوڑھی کو میرے حکم سے اچھا کرتا تھا، تُو مُردوں کو میرے حکم سے نکالتا تھا،۱۲۶ پھر جب تُو بنی اسرائیل کے پاس صریح نشانیاں لے کر پہنچا اور جو لوگ ان میں سے منکرِ حق تھے انہوں نے کہا کہ یہ نشانیاں جادوگری کے سوا اور کچھ نہیں ہیں تو میں نے ہی تجھے اُن سے بچایا ،اور جب میں نے حواریوں کو اشارہ کیا کہ مجھ پر اور میرے رسول پر ایمان لاؤ تب اُنہوں نے کہا کہ ہم ایمان لائے اور گواہ رہو کہ ہم مسلم ہیں‘‘۱۲۷۔۔۔۔ (۱۲۸ حواریوں کے سلسلہ میں) یہ واقعہ بھی یاد رہے کہ جب حواریوں نے کہا کہ اے عیسیٰؑ  ابنِ مریمؑ ! کیا آپ کا رب ہم پر آسمان سے کھانے کا ایک خوان اتار سکتا ہے ؟ تو عیسیٰؑ  نے کہا اللہ سے ڈرو اگر تم مومن ہو۔اُنہوں نے کہا ہم بس یہ چاہتے ہیں کہ اس خوان سے کھانا کھائیں اور ہمارے دل مطمئن ہوں اور ہمیں معلوم ہو جائے کہ آپ نے جو کچھ ہم سے کہا ہے وہ سچ ہے اور ہم اس پر گواہ ہوں۔اس پر عیسیٰؑ  ابن مریمؑ  نے دُعا کی ’’خدایا !ہمارے ربّ ! ہم پر آسمان سے ایک خوان نازل کر جو ہمارے لیے اور ہمارے اگلوں پچھلوں کے لیے خوشی کا موقع قرار پائے اور تیری طرف سے ایک نشانی ہو، ہم کو رزق دے اور تُو بہترین رازق ہے‘‘۔اللہ نے جواب دیا ’’میں اُس کو تم پر نازل کرنے والا ہوں،۱۲۹ مگر اس کے بعد جو تم میں سے کفر کرے گا اسے میں ایسی سزا دوں گا جو دُنیا میں کسی کو نہ دی ہو گی‘‘۔ ؏١۵

 

تفسیر

 

۱۲۲-مراد ہے قیامت کا دن۔

۱۲۳-یعنی اسلام کی طرف جو دعوت تم نے دُنیا کو دی تھی اس کا کیا جواب دُنیا نے تمہیں دیا۔

۱۲۴-یعنی ہم تو صرف اُس محدُود ظاہر ی جواب کو جانتے ہیں جو ہمیں اپنی زندگی میں ملتا ہو ا محسوس ہوا۔ باقی رہا یہ کہ فی الحقیقت ہماری دعوت کا ردِّ عمل کہاں کس صُورت میں کتنا ہوا، تو اس کا صحیح علم آپ کے سوا کسی کو نہیں ہو سکتا۔

۱۲۵-ابتدائی سوال تمام رسُولوں سے بحیثیت مجمُوعی ہو گا۔ پھر ایک ایک رسُول سے الگ الگ شہادت لی جائے گی جیسا کہ قرآن مجید میں متعدّد مقامات پر بتصریح ارشاد ہوا ہے۔ اس سلسلہ میں حضرت عیسیٰ علیہ السّلام سے جو سوال کیا جائے گا وہ یہاں بطورِ خاص نقل کیا جا رہا ہے۔

۱۲۶-یعنی حالت موت سے نکال کر زندگی کی حالت میں لاتا تھا۔

۱۲۷-یعنی حواریوں کا تجھ پر ایمان لانا بھی ہمارے فضل اور توفیق کا نتیجہ تھا ، ورنہ تجھ میں تو اتنی طاقت بھی نہ تھی کہ اُس جھُٹلانے والی آبادی میں ایک ہی تصدیق کرنے والا اپنے بل بوتے پر پیدا کر لیتا۔۔۔۔۔۔ ضمناً یہاں یہ بھی بتا دیا کہ حواریوں کا اصل دین اسلام تھا نہ کہ عیسائیت۔

۱۲۸-چونکہ حواریوں کا ذکر آ گیا تھا اس لیے سلسلۂ  کلام کو توڑ کر جملۂ  معترضہ کے طور پر یہاں حواریوں ہی کے متعلق ایک اور واقعہ کی طرف بھی اشارہ کر دیا گیا جس سے یہ بات صاف ظاہر ہوتی ہے کہ مسیح سے براہِ راست جن شاگردوں نے تعلیم پائی تھی وہ مسیح کو ایک انسان اور محض ایک بندہ سمجھتے تھے اور ان کے وہم و گمان میں بھی اپنے مرشد کے خدا یا شریکِ خدا یا فرزندِ خدا ہونے کا تصوّر نہ تھا۔ نیز یہ کہ مسیح نے خود بھی اپنے آپ کو ان کے سامنے ایک بندۂ بے اختیار کی حیثیت سے پیش کیا تھا۔

یہاں یہ سوال کیا جا سکتا ہے کہ جو گفتگو قیامت کے روز ہونے والی ہے ، اس کے اندر اس جملۂ معترضہ کا کونسا موقع ہو گا؟ اس کا جواب یہ ہے کہ یہ جملۂ معترضہ اُس گفتگو سے متعلق نہیں ہے جو قیامت کے روز ہو گی بلکہ اُس کی اس پیشگی حکایت سے متعلق ہے جو اس دنیا میں کی جا رہی ہے۔ قیامت کی اس ہونے والی گفتگو کا ذکر یہاں کیا ہی اس لیے جا رہا ہے کہ موجودہ زندگی میں عیسائیوں کو اُس سے سبق ملے اور وہ راہِ راست پر آئیں۔ لہٰذا اس گفتگو کے سلسلہ میں حواریوں کے اس واقعہ کا ذکر بطور ایک جملۂ معترضہ کے آنا کسی طرح غیر متعلق نہیں ہے۔

۱۲۹-قرآن اس باب میں خاموش ہے کہ یہ خوان فی الواقع اتارا گیا یا نہیں۔ دُوسرے کسی معتبر ذریعہ سے بھی اس سوال کا جواب نہیں ملتا۔ ممکن ہے کہ یہ نازل ہوا ہو اور ممکن ہے کہ حواریوں نے بعد کی خوفناک دھمکی سُن کر اپنی درخواست واپس لے لی ہو۔

 

ترجمہ

 

غرض جب (یہ احسانات یاد دلا کر) اللہ فرمائے گا کہ ’’اے عیسیٰؑ  بن مریمؑ  ! کیا تُو نے لوگوں سے کہا تھا کہ خدا کے سوا مجھے اور میری ماں کو بھی خدا بنا  لو؟‘‘۱۳۰ تو وہ جواب میں عرض کرے گا ’’سبحان اللہ! میرا یہ کام نہ تھا کہ وہ بات کہتا جس کے کہنے کا مجھے حق نہ تھا، اگر میں نے ایسی بات کہی ہوتی تو آپ کو ضرور علم ہوتا، آپ جانتے ہیں جو کچھ میرے دل میں ہے اور میں نہیں جانتا جو کچھ آپ کے دل میں ہے ، آپ تو ساری پوشیدہ حقیقتوں کے عالم ہیں۔ میں نے اُن سے اُس کے سوا کچھ نہیں کہا جس کا آپ نے حکم دیا تھا ، یہ کہ اللہ کی بندگی کرو جو میرا ربّ بھی ہے اور تمہارا ربّ بھی۔ میں اُسی وقت تک ان کا نگراں تھا جب تک کہ میں ان کے درمیان تھا۔ جب آپ نے مجھے واپس بلا لیا تو آپ ان پر نگراں تھے اور آپ تو ساری ہی چیزوں پر نگراں ہیں۔ اب اگر آپ انہیں سزا دیں تو وہ آپ کے بندے ہیں اور اگر معاف کر دیں تو آپ غالب اور دانا ہیں‘‘ تب اللہ فرمائے گا ’’یہ وہ دن ہے جس میں سچّوں کو ان کی سچّائی نفع دیتی ہے ، اُن کے لیے ایسے باغ ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں، یہاں وہ ہمیشہ رہیں گے ، اللہ ان سے راضی ہوا اور وہ اللہ سے ، یہی بڑی کامیابی ہے ‘‘۔ زمین اور آسمانوں اور تمام موجودات کی پادشاہی اللہ ہی کے لیے ہے اور وہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔ ؏١٦

 

تفسیر

 

۱۳۰-عیسائیوں نے اللہ کے ساتھ صرف مسیح اور رُوح القدس ہی کو خدا بنانے پر اکتفا نہیں کیا، بلکہ مسیح کی والدۂ ماجدہ حضرت مریم کو بھی ایک مستقل معبُود بنا ڈالا۔ حضرت مریم علیہا السّلام کو اُلُوہیّت یا قُدُّوسیّت کے متعلق کوئی اشارہ تک بائیبل میں موجود نہیں ہے۔ مسیح کے بعد ابتدائی تین سو برس تک عیسائی دُنیا اس تخیّل سے بالکل نا آشنا تھی۔ تیسری صدی عیسوی کے آخری دَور میں اسکندریہ کے بعض علماء دینیات نے پہلی مرتبہ حضرت مریم کے لیے ’’اُمّ اللہ‘‘ یا ’’ مادرِ خدا‘‘ کے الفاظ استعمال کیا۔ اس کے بعد آہستہ آہستہ اُلُوہیّتِ  مریم کا عقیدہ اور مریم پرستی کا طریقہ عیسائیوں میں پھیلنا شروع ہوا۔ لیکن اوّل اوّل چرچ اسے باقاعدہ تسلیم کرنے کے لیے تیار نہ تھا ، بلکہ مریم پرستوں کو فاسد العقیدہ قرار دیتا تھا۔ پھر جب نَسطُور یَس کے اس عقیدے پر کہ مسیح کی واحد ذات میں دو مستقل جُداگانہ شخصیتیں جمع تھیں، مسیحی دُنیا میں بحث و جدال کا ایک طوفان اُٹھ کھڑا ہوا تو اس کا تصفیہ کرنے کے لیے سن ۴۳۱ ء میں شہر افسوس میں ایک کونسل منعقد ہوئی، اور اس کونسل میں پہلی مرتبہ کلیسا کی سرکاری زبان میں حضرت مریم کے لیے ’’مادرِ خدا‘‘ کا لقب استعمال کیا گیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ مریم پرستی کا جو مرض اب تک کلیسا کے باہر پھیل رہا تھا وہ اس کے بعد کلیسا کے اندر بھی تیزی کے ساتھ پھیلنے لگا، حتیٰ کہ نزولِ قرآن کے زمانہ تک پہنچتے پہنچتے حضرت مریم اتنی بڑی دیوی بن گئیں کہ باپ، بیٹا اور رُوح القدس تینوں ان کے سامنے ہیچ ہو گئے۔ ان کے مجسّمے جگہ جگہ کلیساؤں میں رکھے ہوئے تھے ، ان کے آگے عبادت کے جُملہ مراسم ادا کیے جاتے تھے ، انہی سے دُعائیں مانگی جاتی تھیں ، وہی فریاد رس، حاجت روا، مشکل کشا اور بیکسوں کی پشتیبان تھیں، اور ایک مسیحی بندے کے لیے سب سے بڑا ذریعۂ اعتماد اگر کوئی تھا تو وہ یہ تھا کہ ’’ مادرِ خدا‘‘ کی حمایت و سرپرستی اسے حاصل ہو۔ قیصر جَسٹِینَن اپنے ایک قانون کی تمہید میں حضرت مریمؑ  کو اپنی سلطنت کا حامی و ناصر قرار دیتا ہے۔ اس کا مشہُور جنرل نرسیس میدانِ جنگ میں حضرت مریمؑ  سے ہدایت و رہنمائی طلب کرتا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے ہمعصر قیصر ہِرَ قْل نے اپنے جھنڈے پر ’’مادرِ خدا‘‘ کی تصویر بنا رکھی تھی اور اسے یقین تھا کہ اس تصویر کی برکت سے یہ جھنڈا سرنگوں نہ ہو گا۔ اگرچہ بعد کی صدیوں میں تحریک اصلاح کے اثر سے پروٹسٹنٹ عیسائیوں نے مریم پرستی کے خلاف شدّت سے آواز اُٹھائی ، لیکن رومن کیتھولک کلیسا آج تک اس مسلک پر قائم ہے۔

٭٭٭

 

 

 

 

۶۔ الانعام

 

 

نام

 

قرآن مجید کی اس سورت کے رکوع ۱۶ اور ۱۷ میں بعض اَنعام (مویشیوں ) کی حرمت اور بعض کی حلت کے متعلق اہل عرب کے توہمات کی تردید کی گئی ہے۔ اسی مناسبت سے اس کا نام "الانعام” رکھا گیا ہے۔

 

زمانۂ نزول

 

ابن عباس رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ یہ پوری سورت مکہ میں بیک وقت نازل ہوئی تھی۔ حضرت معاذ بن جبل کی چچا زاد بہن اسماء بنت یزید کہتی ہیں کہ "جب یہ سورت نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم پر نازل ہو رہی تھی اس وقت آپ اونٹنی پر سوار تھے ، میں اس کی نکیل پکڑے ہوئے تھی اور بوجھ کے مارے اونٹنی کا یہ حال ہو رہا تھا کہ معلوم ہوتا تھا اس کی ہڈیاں اب ٹوٹ جائیں گی”۔ روایات میں اس کی بھی تصریح ہے کہ جس رات یہ نازل ہوئی اسی رات کو آپ نے اسے قلمبند کرا دیا۔

اس کے مضامین پر غور کرنے سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ یہ سورت مکی دور کے آخری زمانے میں نازل ہوئی ہو گی۔ حضرت اسماء بنت یزید کی روایت بھی اسی کی تصدیق کرتی ہے کیونکہ موصوفہ انصار میں سے تھیں اور ہجرت کے بعد ایمان لائیں۔ اگر قبول اسلام سے پہلے محض بر بناء عقیدت وہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی خدمت میں مکہ حاضر ہوئی ہوں گی تو یقیناً یہ حاضری آپ کی مکی زندگی کے آخری سال میں ہوئی ہو گی۔ اس سے پہلے اہل یثرب کے ساتھ آپ کے تعلقات اتنے بڑھے ہی نہ تھے کہ وہاں سے کسی عورت کا آپ کی خدمت میں حاضر ہونا ممکن ہوتا۔

 

شان نزول

 

زمانۂ نزول متعین ہو جانے کے بعد ہم باآسانی اس پس منظر کو دیکھ سکتے ہیں جس میں یہ خطبہ ارشاد ہوا ہے۔ اس وقت اللہ کے رسول کو اسلام کی طرف دعوت دیتے ہوئے ۱۲ سال گزر چکے تھے۔ قریش کی مزاحمت اور ستم گری و جفا کاری انتہا کو پہنچ چکی تھی۔ اسلام قبول کرنے والوں کی ایک بڑی تعداد ان کے ظلم و ستم سے عاجز آ کر ملک چھوڑ چکی تھی اور حبش میں مقیم تھی۔ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی تائید و حمایت کے لیے نہ ابو طالب باقی رہے تھے اور نہ حضرت خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ عنہ، اس لیے ہر دنیوی سہارے سے محروم ہو کر آپ شدید مزاحمتوں کا مقابلے میں تبلیغ رسالت کا فرض انجام دے رہے تھے۔ آپ کی تبلیغ کے اثر سے مکہ میں اور گرد و نواح کے قبائل میں بھی صالح افراد پے در پے اسلام قبول کرتے جا رہے تھے ، لیکن قوم بحیثیتِ مجموعی رد و انکار پر تلی ہوئی تھی، جہاں کئی شخص اسلام کی طرف ادنیٰ میلان بھی ظاہر کرتا تھا اسے طعن و ملامت، جسمانی اذیت اور معاشی و معاشرتی مقاطعہ کا ہدف بننا پڑتا تھا۔ اس تاریک ماحول میں صرف ایک ہلکی سی شعاع یثرب کی طرف سے نمودار ہوئی تھی جہاں سے اوس اور خزرج کے با اثر لوگ آ کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے ہاتھ پر بیعت کر چکے تھے اور جہاں کسی اندرونی مزاحمت کے بغیر اسلام پھیلنا شروع ہو گیا تھا۔ مگر اس حقیر سی ابتداء میں مستقبل کے جو امکانات پوشیدہ تھے انہیں کوئی ظاہر بیں آنکھ نہ دیکھ سکتی تھی۔ بظاہر دیکھنے والوں کو جو کچھ نظر آتا تھا وہ بس یہ تھا کہ اسلام ایک کمزور سی تحریک ہے جس کی پشت پر کوئی مادی طاقت نہیں ، جس کا داعی اپنے خاندان کی ضعیف سی حمایت کے سوا کوئی زور نہیں رکھتا اور جسے قبول کرنے والے چند مٹھی بھر بے بس اور منتشر افراد اپنی قوم کے عقیدہ و مسلک سے منحرف ہو کر اس طرح سوسائٹی سے نکال پھینکے گئے ہیں جیسے پتے اپنے درخت سے جھڑ کر زمین پر پھیل جائیں۔

 

مباحث

 

ان حالات میں یہ خطبہ ارشاد ہوا ہے اور اس کے مضامین کو سات بڑے بڑے عنوانات پر تقسیم کیا جا سکتا ہے :

 

۱. شرک کا ابطال اور عقیدہ توحید کی طرف دعوت

۲. عقیدۂ آخرت کی تبلیغ اور اس غلط خیال کی تردید کہ زندگی جو کچھ ہے بس یہی دنیا کی زندگی ہے

۳. جاہلیت کے ان توہمات کی تردید جن میں لوگ مبتلا تھے

۴. ان بڑے بڑے اصولِ خلاق کی تلقین جن پر اسلام معاشرے کی تعمیر چاہتا تھا

۵. نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور آپ کی دعوت کے خلاف لوگوں کے اعتراضات کا جواب

۶. طویل جدوجہد کے باوجود دعوت کے نتیجہ خیز نہ ہونے پر آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور عام مسلمانوں کے اندر اضطراب اور دل شکستگی کی جو کیفیت پیدا ہو رہی تھی اس پر تسلی

۷. منکرین و مخالفین کو ان کی غفلت و سرشاری اور نا دانستہ خود کشی پر نصیحت، تنبیہ اور تہدید۔

 

لیکن خطبہ کا انداز یہ نہیں ہے کہ ایک ایک عنوان پر الگ الگ یکجا گفتگو کی گئی ہو۔ بلکہ خطبہ ایک دریا کی سی روانی کے ساتھ چلتا جاتا ہے اور اس کے دوران یہ عنوانات مختلف طریقوں سے بار بار چھڑتے ہیں اور ہر بار ایک نئے انداز سے ان پر گفتگو کی جاتی ہے۔

یہاں چونکہ پہلی مرتبہ ناظرین کے سامنے ایک مفصل مکی سورت آ رہی ہے اس لیے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اس مقام پر مکی سورتوں کے تاریخی پس منظر کی ایک جامع تشریح کی ضرورت ہے تاکہ آئندہ تمام مکی سورتوں میں اشاعت کو سمجھنا آسان ہو جائے۔

جہاں تک مدنی سورتوں کا تعلق ہے ، ان میں سے تو قریب قریب ہر ایک کا زمانۂ نزول معلوم ہے یا تھوڑی سی کاوش سے متعین کیا جا سکتا ہے بلکہ ان کی تو بکثرت آیتوں کی انفرادی شان نزول تک معتبر روایات میں مل جاتی ہیں لیکن مکی سورتوں کے متعلق ہمارے پاس اتنے مفصل ذرائع معلومات موجود نہیں ہیں۔ بہت کم سورتیں یا آیتیں ایسی ہیں جن کے زمانۂ نزول اور موقعِ کے بارے میں کوئی صحیح و معتبر روایت ملتی ہو کیونکہ اس زمانے کی تاریخ اس قدر جزئی تفصیلات کے ساتھ مرتب نہیں ہوئی ہے جیسی کہ مدنی دور کی تاریخ ہے۔ اس وجہ سے مکی سورتوں کے معاملے میں ہمیں تاریخی شہادتوں کے بجائے زیادہ تر ان اندرونی شہادتوں پر اعتماد کرنا پڑتا ہے جو مختلف سورتوں کے موضوع، مضمون اور اندازِ بیاں میں ، اور اپنے پس منظر کی طرف ان کے جلی یا خفی اشارات میں پائی جاتی ہیں۔ اور ظاہر ہے کہ اس نوعیت کی شہادتوں کی مدد سے لے کر ایک ایک سورت اور ایک ایک آیت کے متعلق یہ تعین نہیں کیا جا سکتا کہ یہ فلاں تاریخ یا فلاں سن میں فلاں موقع پر نازل ہوئی ہے۔ زیادہ صحت کے ساتھ جو کچھ کیا جا سکتا ہے وہ صرف یہ ہے کہ ایک طرف ہم مکی سورتوں کی اندرونی شہادتوں کو اور دوسری طرف نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی مکی زندگی کی تاریخ کو آمنے سامنے رکھیں اور پھر دونوں کا تقابل کرتے ہوئے یہ رائے قائم کریں کہ کون سی سورت کس دور سے تعلق رکھتی ہے۔

اس طرز تحقیق کو ذہن میں رکھ کر جب ہم نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی مکی زندگی پر نگاہ ڈالتے ہیں تو وہ دعوت اسلامی کے نقطۂ نظر سے ہمیں چار بڑے بڑے نمایاں ادوار پر منقسم نظر آتی ہے :

 

پہلا دور، آغازِ بعثت سے لے کر اعلان نبوت تک، تقریباً تین سال، جس میں دعوت خفیہ طریقے سے خاص خاص آدمیوں کو دی جا رہی تھی اور عام اہلِ مکہ کو اس کا علم نہ تھا

 

دوسرا دور، اعلان نبوت سے لے کر ظلم و ستم کے آغاز تک، تقریباً ۲ سال، جس میں پہلے مخالفت شروع ہوئی، پھر اس نے مزاحمت کی شکل اختیار کی، پھر تضحیک، استہزاء، الزامات، سب و شتم، جھوٹے پروپیگنڈے اور مخالفانہ جتھہ بندی تک نوبت پہنچی اور بالآخر ان مسلمانوں پر زیادتیاں شروع ہو گئی جو نسبتاً زیادہ غریب، کمزور اور بے یار و مددگار تھے۔

تیسرا دور، آغاز ظلم و ستم سے لے کر ابو طالب اور حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کی وفات تک، تقریباً پانچ چھ سال۔ اس میں مخالفت انتہائی شدت اختیار کرتی چلی گئی، بہت سے مسلمان کفار مکہ کے ظلم و ستم سے تنگ آ کر حبش کی طرف ہجرت کر گئے ، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور آپ کے خاندان اور باقی ماندہ مسلمانوں کا معاشی و معاشرتی مقاطعہ کیا گیا اور آپ اپنے حامیوں اور ساتھیوں سمیت شعب ابی طالب میں محصور کر دیے گئے۔

چوتھا دور ہجرت سے قبل کے تین سال، یہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور آپ کے ساتھیوں کے لیے انتہائی سختی و مصیبت کا زمانہ تھا۔ مکہ میں آپ کے لیے زندگی دو بھر کر دی گئی تھی، طائف گئے تو وہاں بھی پناہ نہ ملی، حج کے موقع پر عرب کے ایک ایک قبیلے سے آپ اپیل کرتے رہے کہ وہ آپ کی دعوت قبول کرے اور آپ کا ساتھ دے مگر ہر طرف سے کورا جواب ہی ملتا رہا۔ اور ادھر اہل مکہ بار بار یہ مشورے کرتے رہے کہ آپ کو قتل کر دیں یا قید کر دیں یا اپنی بستی سے نکال دیں۔ آخر کار اللہ کے فضل سے انصار کے دل اسلام کے لیے کھل گئے اور ان کی دعوت پر آپ نے مدینہ کی طرف ہجرت فرمائی۔

ان میں سے ہر دور میں قرآن مجید کی جو سورتیں نازل ہوئی ہیں وہ اپنے مضامین اور انداز بیاں میں دوسرے دور کی سورتوں سے مختلف ہیں۔ ان میں بکثرت مقامات پر ایسے اشارات بھی پائے جاتے ہیں جن سے پس منظر کے حالات اور واقعات پر صاف روشنی پڑتی ہے۔ ہر دور کی خصوصیات کا اثر اس دور کے نازل شدہ کلام میں بہت بڑی حد تک نمایاں نظر آتا ہے۔ انہی علامات پر اعتماد کر کے ہم آئندہ ہر مکی سورت کے آغاز میں بتائیں کہ وہ مکہ کے کس دور میں نازل ہوئی۔

 

ترجمہ

 

تعریف اللہ کے لیے ہے جس نے زمین اور آسمان بنائے ، روشنی اور تاریکیاں پیدا کیں۔ پھر بھی وہ لوگ جنہوں نے دعوتِ حق کو ماننے سے انکار کر دیا ہے دُوسروں کو اپنے ربّ کا ہمسر ٹھیرا رہے ہیں۔۱ وہی ہے جس نے تم کو مٹی سے پیدا کیا،۲ پھر تمہارے لیے زندگی کی ایک مدّت مقرر کر دی، اور ایک دُوسری مدّت اور بھی جو اس کے ہاں طے شدہ ہے۔۳ مگر تم لوگ ہو کہ شک میں پڑے ہوئے ہو۔وہی ایک خدا آسمانوں میں بھی ہے اور زمین میں بھی، تمہارے کھُلے اور چھُپے سب حال جانتا ہے اور جو برائی یا بَھلائی تم کماتے ہو اس سے خوب واقف ہے۔ لوگوں کا حال یہ ہے کہ ان کے ربّ کی نشانیوں میں سے کوئی نشانی ایسی نہیں جو ان کے سامنے آئی ہو اور انہوں نے اس سے منہ نہ موڑ لیا ہو۔ چنانچہ اب جو حق ان کے پاس آیا تو اسے بھی انہوں نے جھٹلا دیا۔ اچھا، جس چیز کا وہ اب تک مذاق اُڑاتے رہے ہیں عنقریب اس کے متعلق کچھ خبریں انہیں پہنچیں گی۔۴کیا انہوں نے دیکھا نہیں کہ ان سے پہلے کتنی ایسی قوموں کو ہم ہلاک کر چکے ہیں جن کا اپنے اپنے زمانہ میں دَور دَورہ رہا ہے ؟ اُن کو ہم نے زمین میں وہ اقتدار بخشا تھا جو تمہیں نہیں بخشا ہے ، ان پر ہم نے آسمان سے خوب بارشیں برسائیں اور ان کے نیچے نہریں بہا دیں، (مگر جب انھوں نے کفرانِ نعمت کیا تو) آخر کار ہم نے ان کے گناہوں کی پاداش میں انہیں تباہ کر دیا اور ان کی جگہ دُوسرے دَور کی قوموں کو اُٹھایا۔ اے پیغمبر ؐ ، اگر ہم تمہارے اوپر کوئی کاغذ میں لکی لکھائی کتاب بھی اتار دیتے اور لوگ اسے اپنے ہاتھوں سے چھُو کر بھی دیکھ لیتے تب بھی جنھوں نے حق کا انکار کیا ہے وہ یہی کہتے کہ یہ تو صریح جادُو ہے۔ کہتے ہیں کہ اس نبی پر کوئی فرشتہ کیوں نہیں اُتارا گیا۔۵ اگر کہیں ہم نے فرشتہ اُتار دیا ہوتا تو اب تک کبھی کا فیصلہ ہو چکا ہوتا، پھر انہیں کوئی مُہلت نہ دی جاتی۔۶ اور اگر ہم فرشتے کو اُتارتے تب بھی اسے انسانی شکل ہی میں اُتارتے اور اس طرح انہیں اُسی شبہ میں مُبتلا کر دیتے جس میں اب یہ مبتلا ہیں۔۷ اے محمدؐ ، تم سے پہلے بھی بہت سے رسُولوں کا مذاق اُڑایا جا چکا ہے ، مگر ان مذاق اُڑانے والوں پر آخر کار وہی حقیقت مسلّط ہو کر رہی جس کا وہ مذاق اُڑاتے تھے۔ ؏١

 

تفسیر

 

۱-یاد رہے کہ مخاطب وہ مشرکین عرب ہیں جو اس بات کو تسلیم کرتے تھے کہ زمین و آسمان کا خالق اللہ ہے ، وہی دن نکالتا اور رات لاتا ہے اور اسی نے آفتاب و ماہتاب کو وجود بخشا ہے۔ ان میں سے کسی کا بھی یہ عقیدہ نہ تھا کہ یہ کام لات یا ہُبل یا عُزّیٰ یا کسی اَور دیوی یا دیوتا کے ہیں۔ اس لیے ان کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا جا رہا ہے کہ نادانو! جب تم خود یہ مانتے ہو کہ زمین و آسمان کا خالق اور گردش لیل و نہار کا فاعل اللہ ہے تو یہ دُوسرے کون ہوتے ہیں کہ ان کے سامنے سجدے کرتے ہو، نذریں اور نیازیں چڑھاتے ہو، دُعائیں مانگتے ہو اور اپنی حاجتیں پیش کرتے ہو۔ (ملاحظہ ہو سُورۂ فاتحہ حاشیہ نمبر ۲ – سُورۂ بقرہ حاشیہ نمبر ۱۶۳)

روشنی کے مقابلہ میں تاریکیوں کو بصیغۂ جمع بیان کیا گیا ، کیونکہ تاریکی نام ہے عدمِ نور کا اور عدم نور کے بیشمار مدارج ہیں۔ اس لیے نور واحد ہے اور تاریکیاں بہت ہیں۔

۲-انسانی جسم کے تمام اجزاء زمین سے حاصل ہوتے ہیں، کوئی ایک ذرہ بھی اس میں غیر ارضی نہیں ہے ، اس لیے فرمایا کہ تم کو مِٹی سے پیدا کیا گیا ہے۔

۳-یعنی قیامت کی گھڑی جب کہ تمام اگلے پچھلے انسان از سرِ نو زندہ کیے جائیں گے اور حساب دینے کے لیے اپنے ربّ کے سامنے حاضر ہوں گے۔

۴-اشارہ ہے ہجرت اور اُن کامیابیوں کی طرف جو ہجرت کے بعد اسلام کو پے درپے حاصل ہونے والی تھیں۔ جس وقت یہ اشارہ فرمایا گیا تھا اس وقت نہ کفار یہ گمان کر سکتے تھے کہ کس قسم کی خبریں انھیں پہنچنے والی ہیں اور نہ مسلمانوں ہی کے ذہن میں اس کا کوئی تصوّر تھا۔ بلکہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم خود بھی آئندہ کے امکانات سے بے خبر تھے۔

۵-یعنی جب یہ شخص خدا کی طرف سے پیغمبر بنا کر بھیجا گیا ہے تو آسمان سے ایک فرشتہ اُترنا چاہیے تھا جو لوگوں سے کہتا کہ یہ خدا کا پیغمبر ہے ، اس کی بات مانو ورنہ تمہیں سزا دی جائے گی۔ جاہل معترضین کو اس بات پر تعجب تھا کہ خالقِ ارض و سماء کسی کو پیغمبر مقرر کرے اور پھر اِس طرح اُسے بے یار و مددگار ، پتھر کھانے اور گالیاں سُننے کے لیے چھوڑ دے۔ اتنے بڑے بادشاہ کا سفیر اگر کسی بڑے اسٹاف کے ساتھ نہ آیا تھا تو کم از کم ایک فرشتہ تو اس کی اردلی میں رہنا چاہیے تھا تا کہ وہ اس کی حفاظت کرتا، اس کا رُعب بٹھاتا، اس کی ماموریّت کا یقین دلاتا اور فوق الفطری طریقے سے اس کے کام انجام دیتا۔

۶-یہ ان کے اعتراض کا پہلا جواب ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایمان لانے اور اپنے طرزِ عمل کی اصلاح کر لینے کے لیے جو مُہلت تمہیں ملی ہوئی ہے یہ اُسی وقت تک ہے جب تک حقیقت پردۂ غیب میں پوشیدہ ہے۔ ورنہ جہاں غیب کا پردہ چاک ہوا، پھر مُہلت کا کوئی موقع باقی نہ رہے گا۔ اُس کے بعد تو صرف حساب ہی لینا باقی رہ جائے گا۔ اس لیے کہ دنیا کی زندگی تمہارے لیے ایک امتحان کا زمانہ ہے ، اور امتحان اس امر کا ہے کہ تم حقیقت کو دیکھے بغیر عقل و فکر کے صحیح استعمال سے اس کا ادراک کرتے ہو یا نہیں، اور ادراک کرنے کے بعد اپنے نفس اور اس کی خواہشات کو قابو میں لا کر اپنے عمل کو حقیقت کے مطابق درست رکھتے ہو یا نہیں۔ اس امتحان کے لیے غیب کا غیب رہنا شرط لازم ہے ، اور تمہاری دُنیوی زندگی ، جو دراصل مہلتِ امتحان ہے ، اسی وقت تک قائم رہ سکتی ہے جب تک غیب، غیب ہے۔ جہاں غیب شہادت میں تبدیل ہوا، مہلت لازماً ختم ہو جائے گی اور امتحان کے بجائے نتیجہ ٔ امتحان نکلنے کا وقت آ پہنچے گا۔ لہٰذا تمہارے مطالبہ کے جواب میں یہ ممکن نہیں ہے کہ تمہارے سامنے فرشتے کو اس کی اصلی صُورت میں نمایاں کر دیا جائے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ ابھی تمہارے امتحان کی مدّت ختم نہیں کر نا چاہتا۔(ملاحظہ ہو سُورہ ٔ بقرہ حاشیہ نمبر ۲۲۸)

۷-یہ ان کے اعتراض کا دُوسرا جواب ہے۔ فرشتے کے آنے کی پہلی صُورت یہ ہو سکتی تھی کہ وہ لوگوں کے سامنے اپنی اصلی غیبی صُورت میں ظاہر ہوتا۔ لیکن اُوپر بتا دیا گیا کہ ابھی اس کا وقت نہیں آیا۔ اب دُوسری صُورت یہ باقی رہ گئی کہ وہ انسانی صُورت میں آئے۔ اس کے متعلق فرمایا جا رہا ہے کہ اگر وہ انسانی صُورت میں آئے تو اس کے مامور مِن اللہ ہونے میں بھی تم کو وہی اشتباہ پیش آئے گا جو محمد صلی اللہ علیہ و سلم کے مامور مِن اللہ ہونے میں پیش آ رہا ہے۔

 

ترجمہ

 

اِن سے کہو، ذرا زمین میں چل پھر کر دیکھو جھٹلانے والوں کا کیا انجام ہوا ہے۔۸ ان سے پوچھو، آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے وہ کس کا ہے ؟۔۔۔۔کہو سب کچھ اللہ ہی کا ہے ،۹ اس نے رحم و کرم کا شیوہ اپنے اوپر لازم کر لیا ہے (اسی لیے وہ نافرمانیوں اور سرکشیوں پر تمہیں جلدی سے نہیں پکڑ لیتا) قیامت کے روز وہ تم سب کو ضرور جمع کرے گا، یہ بالکل ایک غیر مشتبہ حقیقت ہے ، مگر جن لوگوں نے اپنے آپ کو خود تباہی کے خطرے میں مُبتلا کر لیا ہے وہ اسے نہیں مانتے۔رات کے اندھیرے اور دن کے اُجالے میں جو کچھ ٹھیرا ہُوا ہے ، سب اللہ کا ہے اور وہ سب کچھ سُنتا اور جانتا ہے ،کہو، اللہ کو چھوڑ کر کیا میں کسی اور کو اپنا سرپرست بنا لوں؟ اُس خدا کو چھوڑ کر جو زمین و آسمان کا خالق ہے اور جو روزی دیتا ہے روزی لیتا نہیں ہے ؟۱۰ کہو مجھے تو یہی حکم دیا گیا ہے کہ سب سے پہلے میں اُس کے آگے سرِ تسلیم خم کروں (اور تائید کی گئی ہے کہ کوئی شرک کرتا ہے تو کرے ) تُو بہرحال مشرکوں میں شامل نہ ہو۔کہو، اگر میں اپنے ربّ کی نافر مانی کروں تو ڈرتا ہوں کہ ایک بڑے (خوفناک) دن مجھے سزا بھگتنی پڑے گی۔ اُس دن جو سزا سے بچ گیا اس پر اللہ نے بڑا ہی رحم کیا اور یہی نمایاں کامیابی ہے۔ اگر اللہ تمہیں کسی قسم کا نقصان پہنچائے تو اس کے سوا کوئی نہیں جو تمہیں اس نقصان سے بچا سکے ، اور اگر وہ تمہیں کسی بھلائی سے بہرہ مند کرے تو وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ وہ اپنے بندوں پر کامل اختیارات رکھتا ہے اور دانا اور باخبر ہے۔ ان سے پوچھو، کس کی گواہی سب سے بڑھ کر ہے ؟۔۔۔۔ کہو، میرے اور تمہارے درمیان اللہ گواہ ہے ،۱۱ اور یہ قرآن میری طرف بذریعہ وحی بھیجا گیا ہے تاکہ تمہیں اور جس جس کو یہ پہنچے ، سب کو متنبّہ کر دُوں۔ کیا واقعی تم لوگ یہ شہادت دے سکتے ہو کہ اللہ کے ساتھ دُوسرے خدا بھی ہیں؟۱۲ کہو، میں تو اس کی شہادت ہرگز نہیں دے سکتا۔۱۳ کہو، خدا تو وہی ایک ہے اور میں اُس شرک سے قطعی بیزار ہوں جس میں تم مبتلا ہو۔جن لوگوں کو ہم نے کتاب دی ہے وہ اس بات کو اس طرح غیر مشتبہ طور پر پہچانتے ہیں جیسے ان کو اپنے بیٹوں کے پہچاننے میں کوئی اشتباہ پیش نہیں آتا۔۱۴ مگر جنہوں نے اپنے آپ کو خود خسارے میں ڈال دیا ہے وہ اِسے نہیں مانتے۔ ؏۲

 

تفسیر

 

۸-یعنی گزری ہوئی قوموں کے آثار قدیمہ اور ان کے تاریخی افسانے شہادت دیں گے کہ صداقت و حقیقت سے مُنہ موڑنے اور باطل پرستی پر اصرار کرنے کی بدولت کس طرح یہ قومیں عبرتناک انجام سے دوچار ہوئیں۔

۹-یہ ایک لطیف اندازِ بیان ہے۔ پہلے حکم ہوا کہ ان سے پوچھو، زمین و آسمان کی موجودات کس کی ہیں۔ سائل نے سوال کیا اور جواب کے انتظار میں ٹھیر گیا۔ مخاطب اگرچہ خود قائل ہیں کہ سب کچھ اللہ کا ہے ، لیکن نہ تو وہ غلط جواب دینے کی جرأت رکھتے ہیں ، اور نہ صحیح جواب دینا چاہتے ہیں، کیونکہ اگر صحیح جواب دیتے ہیں تو انھیں خوف ہے کہ مخالف اس سے ان کے مشرکانہ عقیدہ کے خلاف استدلال کرے گا۔ اس لیے وہ کچھ جواب نہیں دیتے۔ تب حکم ہوتا ہے کہ تم خود ہی کہو کہ سب کچھ اللہ کا ہے۔

۱۰-اس میں ایک لطیف تعریض ہے۔ مشرکوں نے اللہ کے سوا جن جن کو اپنا خدا بنا رکھا ہے وہ سب اپنے ان بندوں کو رزق دینے کے بجائے اُلٹا ان سے رزق پانے کے محتاج ہیں۔ کوئی فرعون خدائی کے ٹھاٹھ نہیں جما سکتا جب تک اس کے بندے اسے ٹیکس اور نذرانے نہ دیں۔ کسی صاحبِ قبر کی شانِ معبُودیّت قائم نہیں ہو سکتی جب تک اس کے پرستار اس کا شاندار مقبرہ تعمیر نہ کریں۔ کسی دیوتا کا دربارِ خداوندی سج نہیں سکتا جب تک اس کے پُجاری اس کا مجسّمہ بنا کر کسی عالی شان مندر میں نہ رکھیں اور اس کو تزئین و آرائش کے سامانوں سے آراستہ نہ کریں۔ سارے بناؤٹی خدا بیچا رے خود اپنے بندوں کے محتاج ہیں۔ صرف ایک خداوندِ عالم ہی وہ حقیقی خدا ہے جس کی خدائی آپ اپنے بل بوتے پر قائم ہے اور جو کسی کی مدد کا محتاج نہیں بلکہ سب اسی کے محتاج ہیں۔

۱۱-یعنی اس بات پر گواہ ہے کہ میں اس کی طرف سے مامور ہوں اور جو کچھ کہہ رہا ہوں اسی کے حکم سے کہہ رہا ہوں۔

۱۲-کسی چیز کی شہادت دینے کے لیے محض قیاس و گمان کافی نہیں ہے بلکہ اس کے لیے علم ہونا ضروری ہے جس کی بنا پر آدمی یقین کے ساتھ کہہ سکے کہ ایسا ہے۔ پس سوال کا مطلب یہ ہے کہ کیا واقعی تمہیں یہ علم ہے کہ اس جہانِ ہست و بُود میں خدا کے سوا اَور بھی کوئی کار فرما حاکمِ ذی اختیار ہے جو بندگی و پرستش کا مستحق ہو؟

۱۳-یعنی اگر تم علم کے بغیر محض جھُوٹی شہادت دینا چاہتے ہو تو دو، میں تو ایسی شہادت نہیں دے سکتا۔

۱۴-یعنی کتبِ آسمانی کا علم رکھنے والے اس حقیقت کو غیر مشتبہ طور پر پہچانتے ہیں کہ خدا ایک ہی ہے اور خدائی میں کسی کا کچھ حصّہ نہیں ہے۔ جس طرح کسی کا بچّہ بہت سے بچّوں میں مِلا جُلا کھڑا ہو تو وہ الگ پہچان لے گا کہ اس کا بچہ کونسا ہے ، اسی طرح جو شخص کتابِ الٰہی کا علم رکھتا ہو وہ اُلُوہیّت کے متعلق لوگوں کے بے شمار مختلف عقیدوں اور نظریوں کے درمیان بلا کسی شک و اشتباہ کے یہ پہچان لیتا ہے کہ ان میں سے امرِ حق کونسا ہے۔

 

ترجمہ

 

اور اُس شخص سے بڑھ کر ظالم کون ہو گا جو اللہ پر جھوٹا بہتان لگائے ،۱۵ یا اللہ کی نشانیوں کو جھٹلائے ؟۱۶ یقیناً ایسے ظالم کبھی فلاح نہیں پا سکتے۔ جس روز ہم ان سب کو اکٹھا کریں گے اور مشرکوں سے پوچھیں گے کہ اب وہ تمہارے ٹھیرائے ہوئے شریک کہاں ہیں جن کو تم اپنا خدا سمجھتے تھے  تو وہ اِس کے سوا کوئی فتنہ نہ اُٹھا سکیں گے کہ (یہ جھوٹا بیان دیں کہ) اے ہمارے آقا! تیری قسم ہم ہرگز مشرک نہ تھے۔ دیکھو، اُس وقت یہ کس طرح اپنے اوپر آپ جھوٹ گھڑیں گے ، اور وہاں اُن کے سارے بناوٹی معبود گم ہو جائیں گے۔ ان میں سے بعض لوگ ایسے ہیں جو کان لگا کر تمہاری بات سُنتے ہیں مگر حال یہ ہے کہ ہم نے اُن کے دلوں پر پردے ڈال رکھے ہیں جن کی وجہ سے وہ اس کو کچھ نہیں سمجھتے اور ان کے کانوں میں گرانی ڈال دی ہے (کہ سب کچھ سننے پر بھی کچھ نہیں سنتے )۱۷۔ وہ خواہ کوئی نشانی دیکھ لیں، اس پر ایمان لا کر نہ دیں گے۔ حد یہ ہے کہ جب وہ تمہارے پاس آ کر تم سے جھگڑتے ہیں تو ان میں سے جن لوگوں نے انکار کا فیصلہ کر لیا ہے وہ (ساری باتیں سننے کے بعد) یہی کہتے ہیں کہ یہ ایک داستانِ پارینہ کے سوا کچھ نہیں۔۱۸وہ اس امر حق کو قبول کرنے سے لوگوں کو روکتے ہیں اور خود بھی اس سے دُور بھاگتے ہیں۔ (وہ سمجھتے ہیں کہ اس حرکت سے وہ تمہارا کچھ بگاڑ رہے ہیں) حالانکہ دراصل وہ خود اپنی ہی تباہی کا سامان کر رہے ہیں مگر انہیں اس کا شعور نہیں ہے۔ کاش تم اس وقت کی حالت دیکھ سکتے جب وہ دوزخ کے کنارے کھڑے کیے جائیں گے۔ اس وقت وہ کہیں گے کہ کاش کوئی صُورت ایسی ہو کہ ہم دنیا میں پھر واپس بھیجے جائیں اور اپنے ربّ کی نشانیوں کو نہ جھٹلائیں اور ایمان لانے والوں میں شامل ہوں۔ در حقیقت یہ بات وہ محض اس وجہ سے کہیں گے کہ جس حقیقت پر انہوں نے پردہ ڈال رکھا تھا وہ اس وقت بے نقاب ہو کر ان کے سامنے آ چکی ہو گی،۱۹ ورنہ اگر انہیں سابق زندگی کی طرف واپس بھیجا جائے تو پھر وہی سب کچھ کریں جس سے انہیں منع کیا گیا ہے ، وہ تو ہیں ہی جھوٹے (اس لیے اپنی اس خواہش کے اظہار میں بھی جھوٹ ہی سے کام لیں گے )۔ آج یہ لوگ کہتے ہیں کہ زندگی جو کچھ بھی ہے بس یہی دنیا کی زندگی ہے اور ہم مرنے کے بعد ہرگز دوبارہ نہ اٹھائے جائیں گے۔ کاش وہ منظر تم دیکھ سکو جب یہ اپنے ربّ کے سامنے کھڑے کیے جائیں گے۔ اس وقت ان کا ربّ ان سے پوچھے گا ’’کیا یہ حقیقت نہیں ہے ‘‘؟ یہ کہیں گے ’’ہاں اے ہمارے ربّ!یہ حقیقت ہی ہے ‘‘۔ وہ فرمائے گا ’’اچھا! تو اب اپنے انکارِ حقیقت کی پاداش میں عذاب کا مزا چکھو ‘‘۔ ؏۳

 

تفسیر

 

۱۵-یعنی یہ دعویٰ کرے کہ خد اکے ساتھ دُوسری بہت سی ہستیاں بھی خدائی میں شریک ہیں، خدائی صفات سے متصف ہیں، خداوندانہ اختیارات رکھتی ہیں، اور اس کی مستحق ہیں کہ انسان ان کے آگے عبدیّت کا رویّہ اختیار کرے۔ نیز یہ بھی اللہ پر بہتان ہے کہ کوئی یہ کہے کہ خدا نے فلاں فلاں ہستیوں کو اپنا مقَرَّبِ خاص قرار دیا ہے اور اُسی نے یہ حکم دیا ہے ، یا کم از کم یہ کہ وہ اِس پر راضی ہے کہ ان کی طرف خدائی صفات منسُوب کی جائیں اور ان سے وہ معاملہ کیا جائے جو بندے کو اپنے خدا کے ساتھ کرنا چاہیے۔

۱۶-اللہ کی نشانیوں سے مراد وہ نشانیاں بھی ہیں جو انسان کے اپنے نفس اور ساری کائنات میں پھیلی ہوئی ہیں، اور وہ بھی جو پیغمبروں کی سیرت اور ان کے کارناموں میں ظاہر ہوئیں ، اور وہ بھی جو کتبِ آسمانی میں پیش کی گئیں۔ یہ ساری نشانیاں ایک ہی حقیقت کی طرف رہنمائی کرتی ہیں، یعنی یہ کہ موجوداتِ عالم میں خدا صرف ایک ہے باقی سب بندے ہیں۔ اب جو شخص ان تمام نشانیوں کے مقابلہ میں کسی حقیقی شہادت کے بغیر، کسی علم، کسی مشاہدے اور کسی تجربے کے بغیر، مجرّد قیاس و گمان یا تقلیدِ  آبائی کی بنا پر ، دُوسروں کو اُلُوہیّت کی صفات سے متصف اور خداوندی حقوق کا مستحق ٹھیراتا ہے ، ظاہر ہے کہ اس سے بڑھ کر ظالم کوئی نہیں ہو سکتا۔ وہ حقیقت و صداقت پر ظلم کر رہا ہے ، اپنے نفس پر ظلم کر رہا ہے اور کائنات کی ہر اس چیز پر ظلم کر رہا ہے جس کے ساتھ وہ اس غلط نظریہ کی بنا پر کوئی معاملہ کرتا ہے۔

۱۷-یہاں یہ بات ملحوظ رہے کہ قانونِ فطرت کے تحت جو کچھ دنیا میں واقع ہوتا ہے اسے اللہ تعالیٰ اپنی طرف منسُوب فرماتا ہے ، کیونکہ دراصل اس قانون کا بنانے والا اللہ ہی ہے اور جو نتائج اس قانون کے تحت رونما ہوتے ہیں وہ سب حقیقت میں اللہ کے اذن و ارادہ کے تحت ہی رونما ہوا کرتے ہیں۔ ہٹ دھرم منکرینِ حق کا سب کچھ سُننے پر بھی کچھ نہ سُننا اور داعی حق کی کسی بات کا اُن کے دل میں نہ اترنا اُن کی ہٹ دھرمی اور تعصب اور جمود کا فطری نتیجہ ہے۔ قانونِ فطرت یہی ہے کہ جو شخص ضد پر اُتر آتا ہے اور بے تعصّبی کے ساتھ صداقت پسند انسان کا سا رویہ اختیار کرنے پر تیّار نہیں ہوتا، اس کے دل کے دروازے ہر اس صداقت کے لیے بند ہو جاتے ہیں جو اس کی خواہشات کے خلاف ہو۔ اس بات کو جب ہم بیان کریں گے تو یوں کہیں گے کہ فلاں شخص کے دل کے دروازے بند ہیں۔ اور اسی بات کو جب اللہ بیان فرمائے گا تو یوں فرمائے گا کہ اس کے دل کے دروازے ہم نے بند کر دیے ہیں۔ کیونکہ ہم صرف واقعہ بیان کرتے ہیں اور اللہ حقیقتِ  واقعہ کا اظہار فرماتا ہے۔

۱۸-نادان لوگوں کا عموماً یہ قاعدہ ہوتا ہے کہ جب کوئی شخص انہیں حق کی طرف دعوت دیتا ہے تو وہ کہتے ہیں کہ تم نے نئی بات کیا کہی، یہ تو سب وہی پرانی باتیں ہیں جو ہم پہلے سے سُنتے چلے آرہے ہیں۔ گویا ان احمقوں کا نظریہ یہ ہے کہ کسی بات کے حق ہونے کے لیے اس کا نیا ہونا بھی ضروری ہے اور جو بات پرانی ہے وہ حق نہیں ہے۔ حالانکہ حق ہر زمانے میں ایک ہی رہا ہے اور ہمیشہ ایک ہی رہے گا۔ خدا کے دیے ہوئے علم کی بنا پر جو لوگ انسانوں کی رہنمائی کے لیے آگے بڑھے ہیں وہ سب قدیم ترین زمانہ سے ایک ہی امرِ حق پیش کرتے آئے ہیں اور آئندہ بھی جو اس منبعِ علم سے فائدہ اُٹھا کر کچھ پیش کرے گا وہ اسی پرانی بات کو دُہرائے گا۔ البتہ نئی بات صرف وہی لوگ نکال سکتے ہیں جو خدا کی روشنی سے محروم ہو کر ازلی و ابدی حقیقت کو نہیں دیکھ سکتے اور اپنے ذہن کی اُپج سے کچھ نظریات گھڑ کر انہیں حق کے نام سے پیش کرتے ہیں۔ اس قسم کے لوگ بلاشبہ ایسے نادرہ کار ہو سکتے ہیں کہ وہ بات کہیں جو ان سے پہلے کبھی دنیا میں کسی نے نہ کہی ہو۔

۱۹-یعنی ان کا یہ قول درحقیقت عقل و فکر کے کسی صحیح فیصلے اور کسی حقیقی تبدیلی رائے کا نتیجہ نہ ہو گا بلکہ محض مشاہدۂ حق کا نتیجہ ہو گا جس کے بعد ظاہر ہے کہ کوئی کٹّے سے کٹّا کافر بھی انکار کی جرأت نہیں کر سکتا۔

 

ترجمہ

 

نقصان میں پڑ گئے وہ لوگ جنہوں نے اللہ سے اپنی ملاقات کی اطلاع کو جھُوٹ قرار دیا۔ جب اچانک وہ گھڑی آ جائے گی تو یہی لوگ کہیں گے ’’افسوس! ہم سے اس معاملہ میں کیسی تقصیر ہُوئی‘‘۔ اور اِن کا حال یہ ہو گا کہ اپنی پیٹھوں پر اپنے گناہوں کا بوجھ لادے ہوئے ہوں گے۔ دیکھو ! کیسا بُرا بوجھ ہے جو یہ اُٹھا رہے ہیں۔ دُنیا کی زندگی تو ایک کھیل اور ایک تماشا ہے ،۲۰ حقیقت میں آخرت ہی کا مقام اُن لوگوں کے لیے بہتر ہے جو زیاں کاری سے بچنا چاہتے ہیں، پھر کیا تم لوگ عقل سے کام نہ لو گے ؟ اے محمدؐ ! ہمیں معلوم ہے کہ جو باتیں یہ لوگ بناتے ہیں ان سے تمہیں رنج ہوتا ہے ، لیکن یہ لوگ تمہیں نہیں جھٹلاتے بلکہ یہ ظالم دراصل اللہ کی آیات کا انکار کر رہے ہیں۔۲۱تم سے پہلے بھی بہت سے رسُول جھٹلائے جا چکے ہیں، مگر اس تکذیب پر اور اُن اذیّتوں پر جو انہیں پہنچائی گئیں، انہوں نے صبر کیا، یہاں تک کہ انہیں ہماری مدد پہنچ گئی۔ اللہ کی باتوں کو بدلنے کی طاقت کسی میں نہیں ہے ،۲۲ اور پچھلے رسُولوں کے ساتھ جو کچھ پیش آیا اس کی خبریں تمہیں پہنچ ہی چکی ہیں۔تاہم اگر ان لوگوں کی بے رخی تم سے برداشت نہیں ہوتی تو اگر تم میں کچھ زور ہے تو زمین میں کوئی سرنگ ڈھونڈو یا آسمان میں سیڑھی لگاؤ اور ان کے پاس کوئی نشانی لانے کی کوشش کرو۔۲۳ اگر اللہ چاہتا تو ان سب کو ہدایت پر جمع کر سکتا تھا، لہٰذا نادان مت بنو۔۲۴دعوتِ حق پر لبیک وہی لوگ کہتے ہیں جو سُننے والے ہیں، رہے مُردے ،۲۵ تو انہیں تو اللہ بس قبروں ہی سے اُٹھائے گا اور پھر وہ (اس کی عدالت میں پیش ہونے کے لیے ) واپس لائے جائیں گے۔یہ لوگ کہتے ہیں کہ اِس نبی پر اس کے ربّ کی طرف سے کوئی نشانی کیوں نہیں اُتری؟ کہو، اللہ نشانی اتارنے کی پُوری قدرت رکھتا ہے ، مگر ان میں سے اکثر لوگ نادانی میں مُبتلا ہیں۔۲۶زمین میں چلنے والے کسی جانور اور ہوا میں پروں سے اُڑنے والے کسی پرندے کو دیکھ لو، یہ سب تمہاری ہی طرح کی انواع ہیں، ہم نے ان کی تقدیر کے نوشتے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ہے ، پھر یہ سب اپنے ربّ کی طرف سمیٹے جاتے ہیں۔مگر جو لوگ ہماری نشانیوں کو جھٹلاتے ہیں وہ بہرے اور گونگے ہیں، تاریکیوں میں پڑے ہوئے ہیں۔۲۷ اللہ جسے چاہتا ہے بھٹکا دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے سیدھے رستے پر لگا دیتا ہے۔۲۸ان سے کہو، ذرا غور کر کے بتاؤ ، اگر کبھی تم پر اللہ کی طرف سے کوئی بڑی مصیبت آ جاتی ہے یا آخری گھڑی آ پہنچتی ہے تو کیا اس وقت تم اللہ کے سوا کسی اور کو پُکارتے ہو؟ بولو اگر تم سچّے ہو۔اس وقت تم اللہ ہی کو پُکارتے ہو، پھر اگر وہ چاہتا ہے تو اس مصیبت کو تم پر سے ٹال دیتا ہے۔ ایسے موقعوں پر تم اپنے ٹھیرائے ہوئے شریکوں کو بھُول جاتے ہو۔۲۹ ؏۴

 

تفسیر

 

۲۰-اس کا یہ مطلب نہیں کہ دنیا کی زندگی میں کوئی سنجیدگی نہیں ہے اور یہ محض کھیل اور تماشے کے طور پر بنائی گئی ہے۔ دراصل اس کا مطلب یہ ہے کہ آخرت کی حقیقی اور پائیدار زندگی کے مقابلہ میں یہ زندگی ایسی ہے جیسے کوئی شخص کچھ دیر کھیل اور تفریح میں دل بہلائے اور پھر اصل سنجیدہ کاروبار کی طرف واپس ہو جائے۔ نیز اسے کھیل اور تماشے سے تشبیہ اس لیے بھی دی گئی ہے کہ یہاں حقیقت کے مخفی ہونے کی وجہ سے بے بصیرت اور ظاہر پرست انسانوں کے لیے غلط فہمیوں میں مبتلا ہونے کے بہت سے اسباب موجود ہیں اور ان غلط فہمیوں میں پھنس کر لوگ حقیقت نفس الامری کے خلاف ایسے ایسے عجیب طرزِ عمل اختیار کرتے ہیں جن کی بدولت ان کی زندگی محض ایک کھیل اور تماشا بن کر رہ جاتی ہے۔ مثلاً جو شخص یہاں بادشاہ بن کر بیٹھتا ہے اس کی حیثیت حقیقت میں تھیئٹر کے اس مصنوعی بادشاہ سے مختلف نہیں ہوتی جو تاج پہن کر جلوہ افروز ہوتا ہے اور اس طرح حکم چلاتا ہے گویا کہ وہ واقعی بادشاہ ہے۔ حالانکہ حقیقی بادشاہی کی اس کو ہوا تک نہیں لگی ہوتی۔ ڈائرکٹر کے ایک اشارے پر وہ معزول ہو جاتا ہے ، قید کیا جاتا ہے اور اس کے قتل تک کا فیصلہ صادر ہو جاتا ہے۔ ایسے ہی تماشے اس دُنیا میں ہر طرف ہو رہے ہیں۔ کہیں کسی ولی یا دیوی کے دربار سے حاجت روائیاں ہو رہی ہیں، حالاں کہ وہاں حاجت روائی کی طاقت کا نام و نشان تک موجود نہیں۔ کہیں کوئی غیب دانی کے کمالات کا مظاہرہ کر رہا ہے ، حالاں کہ غیب کے عِلم کا وہاں شائبہ تک نہیں۔ کہیں کوئی لوگوں کا رزاق بنا ہوا ہے ، حالاں کہ بیچارہ خود اپنے رزق کے لیے کسی اَور کا محتاج ہے۔ کہیں کوئی اپنے آپ کو عزّت اور ذلّت دینے والا ، نفع اور نقصان پہنچانے والا سمجھے بیٹھا ہے اور یوں اپنی کبریائی کے ڈنکے بجا رہا ہے گویا کہ وہی گردو پیش کی ساری مخلوق کا خدا ہے ، حالاں کہ بندگی کی ذلت کا داغ اس کی پیشانی پر لگا ہوا ہے اور قسمت کا ایک ذرا سا جھٹکا اسے کبریائی کے مقام سے گر ا کر انہی لوگوں کے قدموں میں پامال کرا سکتا ہے جن پر وہ کل تک خدائی کر رہا تھا۔ یہ سب کھیل جو دنیا کی چند روزہ زندگی میں کھیلے جا رہے ہیں ، موت کی ساعت آتے ہی یکلخت ختم ہو جائیں گے اور اس سرحد سے پار ہوتے ہی انسان اُس عالَم میں پہنچ جائے گا جہاں سب کچھ عین مطابقِ حقیقت ہو گا اور جہاں دُنیوی زندگی کی ساری غلط فہمیوں کے چھلکے اتار کر ہر انسان کو دکھا دیا جائے گا کہ وہ صداقت کا کتنا جوہر اپنے ساتھ لایا ہے جو میزانِ حق میں کسی وزن اور کسی قدر و قیمت کا حامل ہو سکتا ہو۔

۲۱-واقعہ یہ ہے کہ جب تک محمد صلی اللہ علیہ و سلم نے اللہ کی آیات سنانی شروع نہ کی تھیں، آپ کی قوم کے سب لوگ آپ کو امین اور صادق سمجھتے تھے اور آپ کی راستبازی پر کام اعتماد رکھتے تھے۔ انہوں نے آپ کو جھٹلایا اُس وقت جبکہ آپ نے اللہ کی طرف سے پیغام پہنچانا شروع کیا۔ اور اس دُوسرے دَور میں بھی ان کے اندر کوئی شخص ایسا نہ تھا کہ جو شخصی حیثیت سے آپ کو جھوٹا قرار دینے کی جرأت کر سکتا ہو۔ آپ کے کسی سخت سے سخت مخالف نے بھی کبھی آپ پر یہ الزام نہیں لگایا کہ آپ دنیا کے کسی معاملہ میں کبھی جھُوٹ بولنے کے مرتکب ہوئے ہیں۔ انہوں نے جتنی آپ کی تکذیب کی وہ محض نبی ہونے کی حیثیت سے کی۔ آپ کا سب سے بڑا دشمن ابو جہل تھا اور حضرت علی ؓ کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ اس نے خود نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے گفتگو کرتے ہوئے کہا انا لا نکذبک ولکن نکذبُ ما جئت بہٖ ’’ ہم آپ کو تو جھوٹا نہیں کہتے ، مگر جو کچھ آپ پیش کر رہے ہیں اُسے جھوٹ قرار دیتے ہیں‘‘۔ جنگِ  بدر کے موقع پر اَخْنَس بن شَرِیق نے تخلیہ میں ابُو جہل سے پُوچھا کہ یہاں میرے اور تمہارے سوا کوئی تیسرا موجود نہیں ہے ، سچ بتاؤ کہ محمد ؐ کو تم سچا سمجھتے ہو یا جھُوٹا؟ اس نے جواب دیا کہ ’’خدا کی قسم محمدؐ ایک سچا آدمی ہے ، عمر بھر کبھی جھُوٹ نہیں بولا، مگر جب لِواء اور سقایت اور حجابت اور نبوّت سب کچھ بنی قُصَیّ ہی کے حصّہ میں آ جائے تو بتاؤ باقی سارے قریش کے پاس کیا رہ گیا؟‘‘ اسی بنا  پر یہاں اللہ تعالیٰ اپنے نبی کو تسلّی دے رہا ہے کہ تکذیب دراصل تمہاری نہیں بلکہ ہماری کی جا رہی ہے ، اور جب ہم تحمل و بُردباری کے ساتھ اسے برداشت کیے جا رہے ہیں اور ڈھیل پر ڈھیل دیے جاتے ہیں تو تم کیوں مضطرب ہوتے ہو۔

۲۲-یعنی اللہ نے حق اور باطل کی کش مکش کے لیے جو قانون بنا دیا ہے اسے تبدیل کرنا کسی کے بس میں نہیں ہے۔ حق پرستوں کے لیے ناگزیر ہے کہ وہ ایک طویل مدّت تک آزمائشوں کی بھٹی میں تپائے جائیں۔ اپنے صبر کا، اپنی راستبازی کا ، اپنے ایثار اور اپنی فدا کاری کا ، اپنے ایمان کی پختگی اور اپنے توکّل علی اللہ کا امتحان دیں۔ مصائب اور مشکلات کے دَور سے گزر کر اپنے اندر وہ صفات پرورش کریں جو صرف اِسی دشوار گزار گھاٹی میں پرورش پا سکتی ہیں۔ اور ابتداءً خالص اخلاقِ فاضلہ و سیرتِ صالحہ کے ہتھیاروں سے جاہلیّت پر فتح حاصل کر کے دکھائیں۔ اس طرح جب وہ اپنا اصلح ہونا ثابت کر دیں گے تب اللہ کی نُصرت ٹھیک اپنے وقت پر ان کی دستگیری کے لیے آ پہنچے گی۔ وقت سے پہلے وہ کسی کے لائے نہیں آ سکتی۔

۲۳-نبی صلی اللہ علیہ و سلم جب دیکھتے تھے کہ اس قوم کو سمجھاتے سمجھاتے مدّتیں گزر گئی ہیں اور کسی طرح یہ راستی پر نہیں آتی تو بسا اوقات آپ کے دل میں یہ خواہش پیدا ہوتی تھی کہ کاش کوئی نشانی خدا کی طرف سے ایسی ظاہر ہو جس سے اِن لوگوں کا کفر ٹُوٹے اور یہ میری صداقت تسلیم کر لیں۔ آپ کی اِسی خواہش کا جواب اس آیت میں دیا گیا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ بے صبری سے کام نہ لو۔ جس ڈھنگ اور جس ترتیب و تدریج سے ہم اس کام کو چلوا رہے ہیں اسی پر صبر کے ساتھ چلے جاؤ۔ معجزوں سے کام لینا ہوتا تو کیا ہم خود نہ لے سکتے تھے ؟ مگر ہم جانتے ہیں کہ جس فکری و اخلاقی انقلاب اور جس مدنیّتِ صالحہ کی تعمیر کے کام پر تم مامور کیے گئے ہو اسے کامیابی کی منزل تک پہنچانے کا صحیح راستہ یہ نہیں ہے۔ تاہم اگر لوگوں کے موجودہ جمُود اور ان کے انکار کی سختی پر تم سے صبر نہیں ہوتا ، اور تمہیں گمان ہے کہ اس جمُود کو توڑنے کے لیے کسی محسُوس نشانی کا مشاہدہ کرانا ہی ضروری ہے ، تو خود زور لگاؤ اور تمہارا کچھ بس چلتا ہو تو زمین میں گھُس کر یا آسمان پر چڑھ کر کوئی ایسا معجزہ لانے کی کوشش کرو جسے تم سمجھو کہ یہ بے یقینی کو یقین میں تبدیل کر دینے کے لیے کافی ہو گا۔ مگر ہم سے اُمید نہ رکھو کہ ہم تمہاری یہ خواہش پوری کریں گے کیونکہ ہماری اسکیم میں اس تدبیر کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے۔

۲۴-یعنی اگر صرف یہی بات مطلوب ہوتی کہ تمام انسان کسی نہ کسی طور پر راست رَو بن جائیں تو نبی بھیجنے اور کتابیں نازل کرنے اور مومنوں سے کفار کے مقابلہ میں جدوجہد کرانے اور دعوتِ حق کو تدریجی تحریک کی منزلوں سے گزروانے کی حاجت ہی کیا تھی۔ یہ کام تو اللہ کے ایک ہی تخلیقی اشارہ سے انجام پا سکتا تھا۔ لیکن اللہ اس کام کو اس طریقہ پر کرنا نہیں چاہتا۔ اس کا منشاء تو یہ ہے کہ حق کو دلائل کے ساتھ لوگوں کے سامنے پیش کیا جائے۔ پھر ان میں سے جو لوگ فکرِ صحیح سے کام لے کر حق کو پہچان لیں وہ اپنے آزادانہ اختیار سے اُس پر ایمان لائیں۔ اپنی سیرتوں کو اس کے سانچے میں ڈھال کر باطل پرستوں کے مقابلہ میں اپنا اخلاقی تفوّق ثابت کریں۔ انسانوں کے مجمُوعہ میں سے صالح عناصر کو اپنے طاقتور استدلال ، اپنے بلند نصب العین، اپنے بہتر اُصُولِ زندگی اور اپنی پاکیزہ سیرت کی کشش سے اپنی طرف کھینچتے چلے جائیں۔ اور باطل کے خلاف پیہم جدوجہد کر کے فطری ارتقاء کی راہ سے اقامتِ دینِ  حق کی منزل تک پہنچیں۔ اللہ اس کام میں ان کی رہنمائی کرے گا اور جس مرحلہ پر جیسی مدد اللہ سے پانے کا وہ اپنے آپ کو مستحق بنائیں گے وہ مدد بھی انہیں دیتا چلا جائے گا۔ لیکن اگر کوئی یہ چاہے کہ اس فطری راستے کو چھوڑ کر اللہ تعالیٰ محض اپنی قدرتِ قاہرہ کے زور سے افکارِ فاسدہ کو مٹا کر لوگوں میں فکرِ صالح پھیلا دے اور تمدّنِ فاسد کو نیست و نابود کر کے مدنیّتِ صالحہ تعمیر کر دے ، تو ایسا ہرگز نہ ہو گا کیونکہ یہ اللہ کی اُس حکمت کے خلا ف ہے جس کے تحت اس نے انسان کو دنیا میں ایک ذمّہ دار مخلوق کی حیثیت سے پیدا کیا ہے ، اسے تصرّف کے اختیارات دیے ہیں، طاعت و عصیان کی آزادی بخشی ہے ، امتحان کی مُہلت عطا کی ہے ، اور اس کی سعی کے مطابق جزا اور سزا دینے کے لیے فیصلہ کا ایک وقت مقرر کر دیا ہے۔

۲۵-سُننے والوں سے مراد وہ لوگ ہیں جن کے ضمیر زندہ ہیں ، جنہوں نے اپنی عقل و فکر کو معطّل نہیں کر دیا ہے ، اور جنھوں نے اپنے دل کے دروازوں پر تعصّب اور جمُود کے قفل نہیں چڑھا دیے ہیں۔ ان کے مقابلہ میں مُردہ وہ لوگ ہیں جو لکیر کے فقیر بنے اندھوں کی طرح چلے جا رہے ہیں اور اس لکیر سے ہٹ کر کوئی بات قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں، خواہ وہ صریح حق ہی کیوں نہ ہو۔

۲۶-نشانی سے مراد محسوس معجزہ ہے۔ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کا مطلب یہ ہے کہ معجزہ نہ دکھائے جانے کی وجہ یہ نہیں ہے کہ ہم اس کو دکھانے سے عاجز ہیں بلکہ اس کی وجہ کچھ اَور ہے جسے یہ لوگ محض اپنی نادانی سے نہیں سمجھتے۔

۲۷-مطلب یہ ہے کہ اگر تمہیں محض تماش بینی کا شوق نہیں ہے بلکہ فی الواقع یہ معلوم کرنے کے لیے نشانی دیکھنا چاہتے ہو کہ یہ نبی جس چیز کی طرف بُلا رہا ہے وہ امرِ حق ہے یا نہیں ، تو آنکھیں کھول کر دیکھو ، تمہارے گردو پیش ہر طرف نشانیاں ہی نشانیاں پھیلی ہوئی ہیں۔ زمین کے جانوروں اور ہوا کے پرندوں کی کسی ایک نوع کو لے کر اس کی زندگی پر غور کرو۔ کس طرح اس کی ساخت ٹھیک ٹھیک اس کے مناسبِ حال بنائی گئی ہے۔ کس طرح اس کی جبلّت میں اس کی فطری ضرورتوں کے عین مطابق قوتیں ودیعت کی گئی ہیں۔ کس طرح اس کی رزق رسانی کا انتظام ہو رہا ہے۔ کس طرح اس کی ایک تقدیر مقرر ہے جس کے حُدُود وہ نہ آگے بڑھ سکتی ہے نہ پیچھے ہٹ سکتی ہے۔ کس طرح ان میں سے ایک ایک جانور اور ایک ایک چھوٹے سے چھوٹے کیڑے کی اُسی مقام پر جہاں وہ ہے ، خبر گیری ، نگرانی، حفاظت اور رہنمائی کی جا رہی ہے۔ کس طرح اس سے ایک مقرر اسکیم کے مطابق کام لیا جا رہا ہے۔ کس طرح اسے ایک ضابطہ کا پابند بنا کر رکھا گیا ہے اور کس طرح اس کی پیدائش ، تناسُل ، اور موت کا سلسلہ پُوری باقاعدگی کے ساتھ چل رہا ہے۔ اگر خدا کی بے شمار نشانیوں میں سے صرف اِسی ایک نشانی پر غور کرو تو تمہیں معلوم ہو جائے کہ خدا کی توحید اور اس کی صفات کا جو تصوّر یہ پیغمبر تمہارے سامنے پیش کر رہا ہے اور اس تصوّر کے مطابق دُنیا میں زندگی بسر کرنے کے لیے جس رویّہ کی طرف تمہیں دعوت دے رہا ہے وہ عین حق ہے۔ لیکن تم لوگ نہ خود اپنی آنکھیں کھول کر دیکھتے ہو نہ کسی سمجھانے والے کی بات سُنتے ہو۔ جہالت کی تاریکیوں میں پڑے ہوئے ہو اور چاہتے ہو کہ عجائبِ قدرت کے کرشمے دکھا کر تمہارا دل بہلایا جائے۔

۲۸-خدا کا بھٹکانا یہ ہے کہ ایک جہالت پسند انسان کو آیاتِ الٰہی کے مطالعہ کی توفیق نہ بخشی جائے ، اور ایک متعصّب غیر حقیقت پسند طالب علم اگر آیاتِ الٰہی کا مشاہدہ کرے بھی تو حقیقت رسی کے نشانات اس کی آنکھ سے اوجھل رہیں اور غلط فہمیوں میں اُلجھانے والی چیزیں اسے حق سے دُور اور دُور تر کھینچتی چلی جائیں۔ بخلاف اس کے اللہ کی ہدایت یہ ہے کہ ایک طالبِ حق کو علم کے ذرائع سے فائدہ اُٹھانے کی توفیق بخشی جائے اور اللہ کی آیات میں اسے حقیقت تک پہنچنے کے نشانات ملتے چلے جائیں۔ ان تینوں کیفیات کی بکثرت مثالیں آئے دن ہمارے سامنے آتی رہتی ہیں۔ بکثرت انسان ایسے ہیں جن کے سامنے آفاق اور اَنفُس میں اللہ کی بے شمار نشانیاں پھیلی ہوئی ہیں مگر وہ جانوروں کی طرح انہیں دیکھتے ہیں اور کوئی سبق حاصل نہیں کرتے۔ اور بہت سے انسان ہیں جو حیوانیات(Zoology)، نباتیات(Botany)، حیَاتیات(Biology)، ارضیات(Geology)، فلکیات(Astronomy)، عضویات (Physiology)، علم التشریح(Anatomy) اور سائنس کی دُوسری شاخوں کا مطالعہ کرتے ہیں ، تاریخ ، آثارِ قدیمہ اور عُلُومِ اجتماع (Social Science) کی تحقیق کرتے ہیں اور ایسی ایسی نشانیاں ان کے مشاہدے میں آتی ہیں جو قلب کو ایمان سے لبریز کر دیں۔ مگر چونکہ وہ مطالعہ کا آغاز ہی تعصّب کے ساتھ کرتے ہیں اور ان کے پیشِ نظر دنیا اور اس کے فوائد و منافع کے سوا کچھ نہیں ہوتا اس لیے اس مشاہدے کے دَوران میں ان کو صداقت تک پہنچانے والی کوئی نشانی نہیں ملتی، بلکہ جو نشانی بھی سامنے آتی ہے وہ انھیں اُلٹی دہریّت ، الحاد، مادّہ پرستی اور نیچریّت ہی کی طرف کھینچ لے جاتی ہے۔ ان کے مقابلہ میں ایسے لوگ بھی ناپید نہیں ہیں جو آنکھیں کھول کر اس کارگاہِ عالم کو دیکھتے ہیں اور ان کا حال یہ ہے کہ :

برگِ درختانِ سبز در نَظَرِ ہوشیار

ہر ورقے دفریست معرفتِ کردگار

۲۹-گزشتہ آیت میں ارشاد ہوا تھا کہ تم ایک نشانی کا مطالبہ کرتے ہو اور حال یہ ہے کہ تمہارے گرد و پیش ہر طرف نشانیاں ہی نشانیاں پھیلی ہوئی ہیں۔ اس سلسلہ میں پہلے مثال کے طور پر حیوانات کی زندگی کے مشاہدہ کی طرف توجّہ دلائی گئی۔ اس کے بعد اب ایک دُوسری نشانی کی طرف اشارہ فرمایا جا رہا ہے جو خود منکرینِ حق کے اپنے نفس میں موجود ہے۔ جب انسان پر کوئی آفت آ جاتی ہے ، یا موت اپنی بھیانک صُورت کے ساتھ سامنے آ کھڑی ہوتی ہے ، اُس وقت ایک خدا کے دامن کے سوا کوئی دُوسری پناہ گاہ اُسے نظر نہیں آتی۔ بڑے بڑے مشرک ایسے موقع پر اپنے معبُودوں کو بھُول کر خدائے واحد کو پکارنے لگتے ہیں۔ کٹّے سے کٹّا دہریہ تک خدا کے آگے دُعا کے لیے ہاتھ پھیلا دیتا ہے۔ اسی نشانی کو یہاں حق نمائی کے لیے پیش کیا جا رہا ہے ، کیونکہ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ خدا پرستی اور توحید کی شہادت ہر انسان کے نفس میں موجود ہے جس پر غفلت و جہالت کے خواہ کتنے ہی پردے ڈال دیے گئے ہوں ، مگر پھر بھی کبھی نہ کبھی وہ اُبھر کر سامنے آ جاتی ہے۔ ابُو جہل کے بیٹے عِکْرِمہ کو اسی نشانی کے مشاہدے سے ایمان کی توفیق نصیب ہوئی۔ جب مکۂ معظمہ نبی صلی علیہ و سلم کے ہاتھ پر فتح ہو گیا تو عِکْرِمہ جدّہ کی طرف بھاگے اور ایک کشتی پر سوار ہو کر حبش کی راہ لی۔ راستہ میں سخت طوفان آیا اور کشتی خطرہ میں پڑ گئی۔ اوّل اوّل تو دیویوں اور دیوتاؤں کو پکارا جاتا رہا۔ مگر جب طُوفان کی شدّت بڑھی اور مسافروں کو یقین ہو گیا کہ اب کشتی ڈوب جائے گی تو سب کہنے لگے کہ یہ وقت اللہ کے سوا کسی کو پکارنے کا نہیں ہے ، وہی چاہے تو ہم بچ سکتے ہیں۔ اُس وقت عِکْرِمہ کی آنکھیں کھُلیں اور ان کے دل نے آواز دی کہ اگر یہاں اللہ کے سوا کوئی مددگار نہیں تو کہیں اور کیوں ہو۔ یہی تو وہ بات ہے جو اللہ کا وہ نیک بندہ ہمیں بیس برس سے سمجھا رہا ہے اور ہم خواہ مخواہ اس سے لڑ رہے ہیں۔ یہ عِکْرِمہ کی زندگی میں فیصلہ کُن لمحہ تھا۔ انہوں نے اسی وقت خدا سے عہد کیا کہ اگر میں اس طوفان سے بچ گیا تو سیدھا محمد صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس جاؤں گا اور ان کے ہاتھ میں ہاتھ دے دوں گا۔ چنانچہ انہوں نے اپنے اس عہد کو پُورا کیا اور بعد میں آ کر نہ صرف مسلمان ہوئے بلکہ اپنی بقیہ عمر اسلام کے لیے جہاد کرتے گزار دی۔

 

ترجمہ

 

تم سے پہلے بہت سی قوموں کی طرف ہم نے رسُول بھیجے اور اُن قوموں کو مصائب و آلام میں مبتلا کیا تاکہ وہ عاجزی کے ساتھ ہمارے سامنے جھُک جائیں۔ پس جب ہماری طرف سے ان پر سختی آئی تو کیوں نہ انہوں نے عاجزی اختیار کی؟ مگر ان کے دل تو اَور سخت ہو گئے اور شیطان نے ان کو اطمینان دلایا کہ جو کچھ تم کر رہے ہو خوب کر رہے ہو۔ پھر جب انہوں نے اس نصیحت کو، جو انہیں کی گئی تھی، بھُلا دیا تو ہم نے ہر طرح کی خوشحالیوں کے دروازے ان کے لیے کھول دیے ، یہاں تک کہ جب وہ اُن بخششوں میں جو انہیں عطا کی گئی تھیں خوب مگن ہو گئے تو اچانک ہم نے انہیں پکڑ لیا اور اب حال یہ تھا کہ وہ ہر خیر سے مایوس تھے۔ اس طرح ان لوگوں کی جڑ کاٹ کر رکھ دی گئی جنہوں نے ظلم کیا تھا اور تعریف ہے اللہ ربّ العا لمین کے لیے (کہ اس نے ان کی جڑ کاٹ دی)۔ اے محمد ؐ ! ان سے کہو، کبھی تم نے یہ بھی سوچا کہ اگر اللہ تمہاری بینائی اور سماعت تم سے چھین لے اور تمہارے دلوں پر مُہر کر دے ۳۰ تو اللہ کے سوا اور کونسا خدا ہے جو یہ قوتیں تمہیں واپس دلا سکتا ہو؟ دیکھو، کس طرح ہم بار بار اپنی نشانیاں ان کے سامنے پیش کرتے ہیں اور پھر یہ کس طرح ان سے نظر چُرا جاتے ہیں۔ کہو، کبھی تم نے سوچا کہ اگر اللہ کی طرف سے اچانک یا علانیہ تم پر عذاب آ جائے تو کیا ظالم لوگوں کے سوا کوئی اور ہلاک ہو گا؟ ہم جو رسُول بھیجتے ہیں اسی لیے تو بھیجتے ہیں کہ وہ نیک کردار لوگوں کے لیے خوشخبری دینے والے اور بد کرداروں کیلیے ڈرانے والے ہوں۔ پھر جو لوگ ان کی بات مان لیں اور اپنے طرزِ عمل کی اصلاح کر لیں ان کیلیے کسی خوف اور رنج کا موقع نہیں ہے۔ اور جو ہماری آیات کو جھٹلائیں وہ اپنی نافر مانیوں کی پاداش میں سزا بھگت کر رہیں گے۔ اے محمد ؐ ! ان سے کہو، ’’میں تم سے یہ نہیں کہتا کہ میرے پاس اللہ کے خزانے ہیں۔ نہ میں غیب کا علم رکھتا ہوں، اور نہ یہ کہتا ہوں کہ میں فرشتہ ہوں۔ میں تو صرف اُس وحی کی پیروی کرتا ہو جو مجھ پر نازل کی جاتی ہے ‘‘۔۳۱ پھر ان سے پوچھو کیا اندھا اور آنکھوں والا دونوں برابر ہو سکتے ہیں؟۳۲ کیا تم غور نہیں کرتے ؟ ؏۵

 

تفسیر

 

۳۰-یہاں دلوں پر مُہر کرنے سے مراد سوچنے اور سمجھنے کی قوتیں سلب کر لینا چاہیے۔

۳۱-نادان لوگوں کے ذہن میں ہمیشہ سے یہ احمقانہ تصوّر رہا ہے کہ جو شخص خدا رسیدہ ہو اسے انسانیت سے ماوراء ہونا چاہیے ، اُس سے عجائب و غرائب صادر ہونے چاہییں، وہ ایک اشارہ کرے اور پہاڑ سونے کا بن جائے ، وہ حکم دے اور زمین سے خزانے اُبلنے لگیں، اس پر لوگوں کے اگلے پچھلے سب حالات روشن ہوں، وہ بتا دے کہ گم شدہ چیز کہاں رکھی ہے ، مریض بچ جائے گا، حاملہ کے پیٹ میں نر ہے یا مادہ۔ پھر اس کو انسانی کمزوریوں اور محدودیتوں سے بھی بالاتر ہونا چاہیے۔ بھلا وہ بھی کوئی خدا رسیدہ ہوا جسے بھُوک اور پیاس لگے ، جس کو نیند آئے ، جو بیوی بچّے رکھتا ہو، جو اپنی ضرورتیں پوری کرنے کے لیے خرید و فروخت کرتا پھرے۔ جسے کبھی قرض لینے کی ضرورت پیش آئے اور کبھی وہ مفلسی و تنگ دستی میں مبتلا ہو کر پریشان حال رہے۔ اسی قسم کے تصوّرات نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے معاصرین کی ذہنیّت پر مسلّط تھے۔ وہ جب آپ ؐ سے پیغمبری کا دعویٰ سُنتے تھے تو آپ ؐ کی صداقت جانچنے کے لیے آپ ؐ سے غیب کی خبریں پوچھتے تھے ، خوارق عادت کا مطالبہ کرتے تھے ، اور آپ کو بالکل عام انسانوں جیسا ایک انسان دیکھ کر اعتراض کرتے تھے کہ یہ اچھا پیغمبر ہے جو کھاتا پیتا ہے ، بیوی بچّے رکھتا ہے اور بازاروں میں چلتا پھرتا ہے۔ انہی باتوں کا جواب اس آیت میں دیا گیا ہے۔

۳۲-مطلب یہ ہے کہ میں جن حقیقتوں کو تمہارے سامنے پیش کر رہا ہوں ان کا میں نے مشاہدہ کیا ہے ، وہ براہِ راست میرے تجربہ میں آئی ہیں، مجھے وحی کے ذریعہ سے ان کا ٹھیک ٹھیک علم دیا گیا ہے ، ان کے بارے میں میری شہادت آنکھوں دیکھی شہادت ہے۔ بخلاف اس کے تم ان حقیقتوں کی طرف سے اندھے ہو، تم ان کے بارے میں جو خیالات رکھتے ہو وہ یا تو قیاس و گمان پر مبنی ہیں یا محض اندھی تقلید پر۔ لہٰذا میرے اور تمہارے درمیان بینا اور نابینا کا سا فرق ہے اور اسی اعتبار سے مجھے تم پر فوقیت حاصل ہے ، نہ اس اعتبار سے کہ میرے پاس کوئی خدائی کے خزانے ہیں، یا میں عالمُ الغیب ہوں، یا انسانی کمزوریوں سے مبرّا ہوں۔

 

ترجمہ

 

ا ے محمد ؐ ! تم اِس (علم وحی) کے ذریعہ سے اُن لوگوں کو نصیحت کرو جو اس بات کا خوف رکھتے ہیں کہ اپنے ربّ کے سامنے کبھی اس حال میں پیش کیے جائیں گے کہ اُس کے سوا وہاں کوئی (ایسا ذی اقتدار) نہ ہو گا جو ان کا حامی و مدد گار ہو، یا ان کی سفارش کرے ، شاید کہ (اس نصیحت سے متنبّہ ہو کر) وہ خدا ترسی کی روش اختیار کر لیں۔۳۳ اور جو لوگ اپنے ربّ کو رات دن پکارتے رہتے ہیں اور اس کی خوشنودی کی طلب میں لگے ہوئے ہیں انہیں اپنے سے دُور نہ پھینکو۔۳۴ اُن کے حساب میں سے کسی چیز کا بار تم پر نہیں ہے اور تمہارے حساب میں سے کسی چیز کا بار اُن پر نہیں۔ اس پر بھی اگر تم انہیں دُور پھینکو گے تو ظالموں میں شمار ہو گے۔۳۵دراصل ہم نے اس طرح ان لوگوں میں سے بعض کو بعض کے ذریعہ سے آزمائش میں ڈالا ہے ۳۶ تاکہ وہ انہیں دیکھ کر کہیں ’’کیا یہ ہیں وہ لوگ جن پر ہمارے درمیان اللہ کا فضل و کرم ہوا ہے ‘‘؟۔۔۔۔ ہاں! کیا خدا اپنے شکر گزار بندوں کو اِن سے زیادہ نہیں جانتا ہے ؟جب تمہارے پاس وہ لوگ آئیں جو ہماری آیات پر ایمان لاتے ہیں تو ان سے کہو ’’تم پر سلامتی ہے۔ تمہارے رب نے رحم و کرم کا شیوہ اپنے اوپر لازم کر لیا ہے۔ یہ اس کا رحم و کرم ہی ہے کہ اگر تم میں سے کوئی نادانی کے ساتھ کسی بُرائی کا ارتکاب کر بیٹھا ہو پھر اس کے بعد توبہ کرے اور اصلاح کر لے تو وہ اُسے معاف کر دیتا ہے اور نرمی سے کام لیتا ہے ‘‘۳۷اور اس طرح ہم اپنی نشانیاں کھول کھول کر پیش کرتے ہیں تاکہ مجرموں کی راہ بالکل نمایاں ہو جائے۔۳۸ ؏٦

 

تفسیر

 

۳۳-مطلب یہ ہے کہ جو لوگ دنیا کی زندگی میں ایسے مدہوش ہیں کہ انھیں نہ موت کی فکر ہے نہ یہ خیال ہے کہ کبھی ہمیں اپنے خدا کو بھی منہ دکھانا ہے ، ان پر تو یہ نصیحت ہر گز کار گر نہ ہو گی۔ اور اسی طرح ان لوگوں پر بھی اس کا کچھ اثر نہ ہو گا جو اس بے بُنیاد بھروسے پر جی رہے ہیں کہ دُنیا میں ہم جو چاہیں کر گزریں، آخرت میں ہمارا بال تک بیکا نہ ہو گا، کیونکہ ہم فلاں کے دامن گرفتہ ہیں، یا فلاں ہماری سفارش کر دے گا، یا فلاں ہمارے لیے کَفّارہ بن چکا ہے۔ لہٰذا ایسے لوگوں کو چھوڑ کر تم اپنا رُوئے سخن ان لوگوں کی طرف رکھو جو خدا کے سامنے حاضری کا بھی اندیشہ رکھتے ہوں اور اس کے ساتھ جھوٹے بھروسوں پر پھُولے ہوئے بھی نہ ہوں۔ اس نصیحت کا اثر صرف ایسے ہی لوگوں پر ہو سکتا ہے اور انہی کے درست ہونے کی توقع کی جا سکتی ہے۔

۳۴-قریش کے بڑے بڑے سرداروں اور کھاتے پیتے لوگوں کو نبی صلی اللہ علیہ و سلم پر منجملہ اور اعتراضات کے ایک اعتراض یہ بھی تھا کہ آپ ؐ کے گرد و پیش ہماری قوم کے غلام، موالی اور ادنیٰ طبقہ کے لوگ جمع ہو گئے ہیں۔ وہ طعنہ دیا کرتے تھے کہ اس شخص کو سا تھی بھی کیسے کیسے معزّز لوگ ملے ہیں، بلال، عمّار، صُہَیْب اور خَبّاب۔ بس یہی لوگ اللہ کو ہمارے درمیان ایسے ملے جن کو برگزیدہ کیا جا سکتا تھا! پھر وہ ان ایمان لانے والوں کی خستہ حالی کا مذاق اُڑانے پر ہی اکتفا نہ کرتے تھے ، بلکہ ان سے جس جس سے کبھی پہلے کوئی اخلاقی کمزوری ظاہر ہوئی تھی اس پر بھی حرف گیریاں کرتے تھے ، اور کہتے تھے کہ فلاں جو کل تک یہ تھا اور فلاں جس نے یہ کیا تھا آج وہ بھی اس ’’ برگزیدہ گروہ‘‘ میں شامل ہے۔ انہی باتوں کا جواب یہاں دیا جا رہا ہے۔

۳۵-یعنی ہر شخص اپنے عیب و صواب کا ذمّہ دار آپ ہی ہے۔ ان مسلمان ہونے والوں میں سے کسی شخص کی جواب دہی کے لیے تم کھڑے نہ ہو گے اور نہ تمہاری جواب دہی کے لیے ان میں سے کوئی کھڑا ہو گا۔ تمہارے حصّہ کی کوئی نیکی یہ تم سے چھین نہیں سکتے اور اپنے حصّہ کی کوئی بدی تم پر ڈال نہیں سکتے۔ پھر جب یہ محض طالبِ حق بن کر تمہارے پاس آتے ہیں تو آخر تم کیوں انہیں اپنے سے دُور پھینکو۔

۳۶-یعنی غریبوں اور مفلسوں اور ایسے لوگوں کو جو سوسائیٹی میں ادنیٰ حیثیت رکھتے ہیں، سب سے پہلے ایمان کی توفیق دے کر ہم نے دولت اور عزّت کا گھمنڈ رکھنے والے لوگوں کو آزمائش میں ڈال دیا ہے۔

۳۷-جو لوگ اُس وقت نبی صلی اللہ علیہ و سلم پر ایمان لائے تھے ان میں بکثرت لوگ ایسے بھی تھے جن سے زمانۂ جاہلیّت میں بڑے بڑے گناہ ہو چکے تھے۔ اب اسلام قبول کرنے کے بعد اگرچہ ان کی زندگیاں بالکل بدل گئی تھیں ، لیکن مخالفینِ  اسلام اُن کو سابق زندگی کے عُیُوب اور افعال کے طعنے دیتے تھے۔ اس پر فرمایا جا رہا ہے کہ اہلِ ایمان کو تسلّی دو۔ انہیں بتا ؤ کہ جو شخص توبہ کر کے اپنی اصلاح کر لیتا ہے اس کے پچھلے قُصُوروں پر گرفت کرنے کا طریقہ اللہ کے ہاں نہیں ہے۔

۳۸-’’اس طرح‘‘ کا اشارہ اُس پُورے سلسلہ ٔ تقریر کی طرف ہے جو چوتھے رکوع کی اِس آیت سے شروع ہوا تھا ، ’’یہ لوگ کہتے ہیں کہ اس پر کوئی نشانی کیوں نہیں اُتری‘‘۔ مطلب یہ ہے کہ ایسی صاف اور صریح دلیلوں اور نشانیوں کے بعد بھی جو لوگ اپنے کفر و انکار پر اصرار ہی کیے چلے جائیں ان کا مجرم ہونا بالکل غیر مشتبہ طور پر ثابت ہوا جاتا ہے اور حقیقت بالکل آئینہ کی طرح نمایاں ہوئی جاتی ہے کہ دراصل یہ لوگ ضلالت پسندی کی بنا پر یہ راہ چل رہے ہیں نہ اس بنا پر کہ راہِ حق کے دلائل واضح نہیں ہیں یا یہ کہ کچھ دلیلیں ان کی اس گمراہی کے حق میں بھی موجود ہیں۔

 

ترجمہ

 

اے محمد ؐ، اِن سے کہو کہ تم لوگ اللہ کے سِوا جن دُوسروں کو پکارتے ہو اُن کی بندگی کرنے سے مجھے منع کیا گیا ہے۔ کہو، میں تمہاری خواہشات کی پیروی نہیں کروں گا، اگر میں نے ایسا کیا تو گمراہ ہو گیا، راہِ راست پانے والوں میں سے نہ رہا۔ کہو، میں اپنے رب کی طرف سے ایک دلیل روشن پر قائم ہوں اور تم نے اسے جھٹلا دیا ہے ، اب میرے اختیار میں وہ چیز ہے نہیں جس کے لیے تم جلدی مچا رہے ہو،۳۹ فیصلہ کا سارا اختیار اللہ کو ہے ، وہی امرِ حق بیان کرتا ہے اور وہی بہترین فیصلہ کرنے والا ہے۔ کہو، اگر کہیں وہ چیز میرے اختیار میں ہوتی جس کی تم جلدی مچا رہے ہو تو میرے اور تمہارے درمیان کبھی کا فیصلہ ہو چکا ہوتا۔ مگر اللہ زیادہ بہتر جانتا ہے کہ ظالموں کے ساتھ کیا معاملہ کیا جانا چاہیے۔ اُسی کے پاس غیب کی کنجیاں ہیں جنہیں اس کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ بحر و بر میں جو کچھ ہے سب سے وہ واقف ہے۔ درخت سے گرنے والا کوئی پتہ ایسا نہیں جس کا اسے علم نہ ہو۔ زمین کے تاریک پردوں میں کوئی دانہ ایسا نہیں جس سے وہ باخبر نہ ہو۔ خشک و تر سب کچھ ایک کھلی کتاب میں لکھا ہوا ہے۔ وہی ہے جو رات کو تمہاری رُوحیں قبض کرتا ہے اور دن کو جو کچھ تم کرتے ہو اسے جانتا ہے ، پھر دُوسرے روز وہ تمہیں اِسی کاروبار کے عالم میں واپس بھیج دیتا ہے تاکہ زندگی کی مقرر مدّت پوری ہو۔ آ خرکار اسی کی طرف تمہاری واپسی ہے ، پھر وہ تمہیں بتا دے گا کہ تم کیا کرتے رہے ہو۔ ؏۷

 

تفسیر

 

۳۹-اشارہ ہے عذابِ الٰہی کی طرف۔ مخالفین کہتے تھے کہ اگر تم خدا کی طرف سے بھیجے ہوئے نبی ہو اور ہم کھُلم کھُلا تمہیں جھُٹلا رہے ہیں تو کیوں نہیں خدا کا عذاب ہم پر ٹُوٹ پڑتا؟ تمہارے مامور من اللہ ہونے کا تقاضا تو یہ تھا کہ اِدھر کوئی تمہاری تکذیب یا توہین کرتا اور اُدھر فوراً زمین دھنستی اور وہ اس میں سما جاتا ، یا بجلی گرتی اور وہ بھسم ہو جاتا۔ یہ کیا ہے کہ خدا کا فرستادہ اور اس پر ایمان لانے والے تو مصیبتوں پر مصیبتیں اور ذلّتوں پر ذلّتیں سہ رہے ہیں اور ان کو گالیاں دینے اور پتھر مارنے والے چین کیے جاتے ہیں؟

 

ترجمہ

 

اپنے بندوں پر وہ پُوری قدرت رکھتا ہے اور تم پر نگرانی کرنے والے مقرر کر کے بھیجتا ہے ،۴۰ یہاں تک کہ جب تم میں سے کسی کی مَوت کا وقت آ جاتا ہے تو اس کے بھیجے ہوئے فرشتے اس کی جان نکال لیتے ہیں اور اپنا فرض انجام دینے میں ذرا کوتاہی نہیں کرتے۔ پھر سب کے سب اللہ، اپنے حقیقی آقا کی طرف واپس لائے جاتے ہیں۔ خبردار ہو جاؤ، فیصلہ کے سارے اختیارات اسی کو حاصِل ہیں اور وہ حساب لینے میں بہت تیز ہے۔ اے محمد ؐ ! اِن سے پوچھو، صَحرا اور سمندر کی تاریکیوں میں کون تمہیں خطرات سے بچاتا ہے ؟ کون ہے جس سے تم (مصیبت کے وقت) گِڑ گِڑا گِڑ گِڑا کر اور چُپکے چُپکے دُعائیں مانگتے ہو؟ کس سے کہتے ہو کہ اگر اس بلا سے تُو نے ہم کو بچا لیا تو ہم ضرور شکر گزار ہوں گے ؟۔۔۔۔کہو، اللہ تمہیں اُس سے اور ہر تکلیف سے نجات دیتا ہے پھر تم دُوسروں کو اُس کا شریک ٹھیراتے ہو۔۴۱ کہو، وہ اِس پر قادر ہے کہ تم پر کوئی عذاب اُوپر سے نازل کر دے ، یا تمہارے قدموں کے نیچے سے برپا کر دے ، یا تمہیں گروہوں میں تقسیم کر کے ایک گروہ کو دُوسرے گروہ کی طاقت کا مزہ چکھوا دے۔ دیکھو، ہم کس طرح بار بار مختلف طریقوں سے اپنی نشانیاں ان کے سامنے پیش کر رہے ہیں شاید کہ یہ حقیقت کو سمجھ لیں۔۴۲تمہاری قوم اُس کا انکار کر رہی ہے حالانکہ وہ حقیقت ہے۔ اِن سے کہہ دو کہ میں تم پر حوالہ دار نہیں بنایا گیا ہوں،۴۳ہر خبر کے ظہور میں آنے کا ایک وقت مقرر ہے ، عنقریب تم کو خود انجام معلوم ہو جائے گا۔اور اے محمد ؐ، جب تم دیکھو کہ لوگ ہماری آیات پر نکتہ چینیاں کر رہے ہیں تو ان کے پاس سے ہٹ جاؤ یہاں تک کہ وہ اس گفتگو کو چھوڑ کر دُوسری باتوں میں لگ جائیں۔ اور اگر کبھی شیطان تمہیں بھُلاوے میں ڈال دے ۴۴ تو جس وقت تمہیں اس غلطی کا احساس ہو جائے اس کے بعد پھر ایسے ظالم لوگوں کے پاس نہ بیٹھو۔اُن کے حساب میں سے کسی چیز کی ذمّہ داری پرہیز گار لوگوں پر نہیں ہے ، البتّہ نصیحت کرنا اُن کا فرض ہے شاید کہ وہ غلط روی سے بچ جائیں۔۴۵چھوڑو اُن لوگوں کو جنہوں نے اپنے دین کو کھیل اور تماشا بنا رکھا ہے اور جنہیں دنیا کی زندگی فریب میں مبتلا کیے ہوئے ہے۔ ہاں مگر یہ قرآن سُنا کر نصیحت اور تنبیہ کرتے رہو کہ کہیں کوئی شخص اپنے کیے کرتُوتوں کے وبال میں گرفتار نہ ہو جائے ، اور گرفتار بھی اِس حال میں ہو کہ اللہ سے بچانے والا کوئی حامی و مدد گار اور کوئی سفارشی اس کے لیے نہ ہو، اور اگر وہ ہر ممکن چیز فدیہ میں دے کر چھُوٹنا چاہے تو وہ بھی اس سے قبول نہ کی جائے ، کیونکہ ایسے لوگ تو خود اپنی کمائی کے نتیجہ میں پکڑے جائیں گے ، ان کو تو اپنے انکار حق کے معاوضہ میں کھولتا ہوا پانی پینے کو اور درد ناک عذاب بھگتنے کو ملے گا۔ ؏۸

 

تفسیر

 

۴۰-یعنی ایسے فرشتے جو تمہاری ایک ایک جنبش اور ایک ایک بات پر نگاہ رکھتے ہیں اور تمہاری ہر ہر حرکت کا ریکارڈ محفوظ کرتے رہتے ہیں۔

۴۱-یعنی یہ حقیقت کہ تنہا اللہ ہی قادرِ مطلق ہے ، اور وہی تمام اختیارات کا مالک اور تمہاری بھَلائی اور بُرائی کا مختارِ کُل ہے ، اور اسی کے ہاتھ میں تمہاری قسمتوں کی باگ دوڑ ہے ، اِس کی شہادت تو تمہارے اپنے نفس میں موجود ہے۔ جب کوئی سخت وقت آتا ہے اور اسباب کے شرارے رشتے ٹوٹتے نظر آتے ہیں تو اس وقت تم بے اختیار اُسی کی طرف رجوع کرتے ہو۔ لیکن اس کھُلی علامت کے ہوتے ہوئے بھی تم نے خدائی میں بلا دلیل و حجّت اور بلا ثبُوت دُوسروں کو اس کا شریک بنا رکھا ہے۔ پلتے ہو اس کے رزق پر اور اَن داتا بناتے ہو دُوسروں کو۔ مدد پاتے ہو اس کے فضل و کرم سے اور حامی و ناصر ٹھیراتے ہو دُوسروں کو۔ غلام ہو اس کے اور بندگی بجا لاتے ہو دُوسروں کی۔ مشکل کشائی کرتا ہے وہ ، بُرے وقت پر گِڑگِڑ اتے ہو اس کے سامنے ، اور جب وہ وقت گزر جاتا ہے تو تمہارے مشکل کشا بن جاتے ہیں دُوسرے اور نذریں اور نیازیں چڑھنے لگتی ہیں دُوسروں کے نام کی۔

۴۲-جو لوگ عذابِ الٰہی کو اپنے سے دُور پا کر حق دشمنی میں جرأت پر جرأت دکھا رہے تھے انہیں متنبّہ کیا جا رہا ہے کہ اللہ کے عذاب کو آتے کچھ دیر نہیں لگتی۔ ہوا کا ایک طوفان تمہیں اچانک برباد کر سکتا ہے۔ زلزلے کا ایک جھٹکا تمہاری بستیوں کو پیوندِ خاک کر دینے کے لیے کافی ہے۔ قبیلوں اور قوموں اور ملکوں کی عداوتوں کے میگزین میں ایک چنگاری وہ تباہی پھیلا سکتی ہے کہ سالہا سال تک خونریزی و بدامنی سے نجات نہ ملے۔ پس اگر عذاب نہیں آ رہا ہے تو یہ تمہارے لیے غفلت و مدہوشی کی پِینَک نہ بن جائے کہ مطمئن ہو کر صحیح و غلط کا امتیاز کیے بغیر اندھوں کی طرح زندگی کے راستے پر چلتے رہو۔ غنیمت سمجھو کہ اللہ تمہیں مُہلت دے رہا ہے اور وہ نشانیاں تمہارے سامنے پیش کر رہا ہے جن سے تم حق کو پہچان کر صحیح راستہ اختیار کر سکو۔

۴۳-یعنی میرا یہ کام نہیں ہے کہ جو کچھ تم نہیں دیکھ رہے ہو وہ زبردستی تمہیں دکھاؤں اور جو کچھ تم نہیں سمجھ رہے ہو وہ بزور تمہاری سمجھ میں اتار دوں۔ اور میرا یہ کام بھی نہیں ہے کہ اگر تم نہ دیکھو اور نہ سمجھو تو تم پر عذاب نازل کر دوں۔ میرا کام صرف حق اور باطل کو ممیز کر کے تمہارے سامنے پیش کر دینا ہے۔ اب اگر تم نہیں مانتے تو جس بُرے انجام سے میں تمہیں ڈراتا ہوں وہ اپنے وقت پر خود تمہارے سامنے آ جائے گا۔

۴۴-یعنی اگر کسی وقت ہماری یہ ہدایت تمہیں یاد نہ رہے اور تم بھُولے سے ایسے لوگوں کی صحبت میں بیٹھے رہ جاؤ۔

۴۵-مطلب یہ ہے کہ جو لوگ خدا کی نافرمانی سے خود بچ کر کام کرتے ہیں ان پر نافرمانوں کے کسی عمل کی ذمہ داری نہیں ہے ، پھر وہ کیوں خواہ مخواہ اس بات کو اپنے اوپر فرض کر لیں کہ ان نافرمانوں سے بحث و مناظرہ کر کے ضرور انہیں قائل کر کے ہی چھوڑیں گے ، اور ان کے ہر لغو و مہمل اعتراض کا جواب ضرور ہی دیں گے ، اور اگر وہ نہ مانتے ہوں تو کسی نہ کسی طرح منوا کر ہی رہیں گے۔ ان کا فرض بس اتنا ہے کہ جنہیں گمراہی میں بھٹکتے دیکھ رہے ہوں انہیں نصیحت کریں اور حق بات ان کے سامنے پیش کر دیں۔ پھر اگر وہ نہ مانیں اور جھگڑے اور بحث اور حجت بازیوں پر اُتر آئیں تو اہلِ حق کا یہ کام نہیں ہے کہ ان کے ساتھ دماغی کُشتیاں لڑنے میں اپنا وقت اور اپنی قوتیں ضائع کرتے پھریں۔ ضلالت پسند لوگوں کے بجائے انہیں اپنے وقت اور اپنی قوتوں کو اُن لوگوں کی تعلیم و تربیت اور اصلاح و تلقین پر صرف کرنی چاہیے جو خود طالبِ حق ہوں۔

 

ترجمہ

 

اے محمد ؐ ! اِن سے پُوچھو کیا ہم اللہ کو چھوڑ کر اُن کو پُکاریں جو نہ ہمیں نفع دے سکتے ہیں نہ نقصان؟ اور جبکہ اللہ ہمیں سیدھا راستہ دکھا چکا ہے تو کیا اب ہم اُلٹے پاؤں پھر جائیں ؟ کیا ہم اپنا حال اُس شخص کا سا کر لیں جسے شیطانوں نے صحرا میں بھٹکا دیا ہو اور وہ حیران و سر گردان پھر رہا ہو دراں حالیکہ اس کے سا تھی اسے پکار رہے ہوں کہ اِدھر آ یہ سیدھی راہ موجود ہے ؟ کہو، حقیقت میں صحیح رہنمائی تو صرف اللہ ہی کی رہنمائی ہے اور اس کی طرف سے ہمیں یہ حکم ملا ہے کہ مالک کائنات کے آگے سرِ اطاعت خم کر دو،نماز قائم کرو اور اس کی نافرمانی سے بچو، اسی کی طرف تم سمیٹے جاؤ گے۔ وہی ہے جس نے آسمان و زمین کو برحق پیدا کیا ہے۔۴۶ اور جس دن وہ کہے گا کہ حشر ہو جائے اسی دن وہ ہو جائے گا۔ اس کا ارشاد عین حق ہے۔ اور جس روز صُور پھونکا جائے گا ۴۷ اس روز پادشاہی اُسی کی ہو گی،۴۸ وہ غیب اور شہادت ۴۹ ہر چیز کا عالم ہے اور دانا اور باخبر ہے۔ ابراہیمؑ کا واقعہ یاد کرو جبکہ اُس نے اپنے باپ آزر سے کہا تھا ’’کیا تُو بتوں کو خدا بناتا ہے ؟۵۰ میں تو تجھے اور تیری قوم کو کھُلی گمراہی میں پاتا ہوں‘‘۔ابراہیمؑ کو ہم اِسی طرح زمین اور آسمانوں کا نظامِ سلطنت دکھاتے تھے ۵۱ اور اس لیے دکھاتے تھے کہ وہ یقین کرنے والوں میں سے ہو جائے۔۵۲چنانچہ جب رات اس پر طاری ہوئی تو اُس نے ایک تارا دیکھا۔ کہا یہ میرا رب ہے۔ مگر جب وہ ڈوب گیا تو بولا ڈوب جانے والوں کا تو میں گرویدہ نہیں ہوں۔پھر جب چاند چمکتا نظر آیا تو کہا یہ ہے میرا رب۔ مگر جب وہ بھی ڈوب گیا تو کہا اگر میرے رب نے میری رہنمائی نہ کی ہوتی تو میں بھی گمراہ لوگوں میں شامل ہو گیا ہوتا۔ پھر جب سورج کو روشن دیکھا تو کہا یہ ہے میرا رب، یہ سب سے بڑا ہے۔ مگر جب وہ بھی ڈوبا تو ابراہیمؑ  پکار اُٹھا ’’اے برادرانِ قوم ! میں اُن سب سے بیزار ہوں جنہیں تم خدا کا شریک ٹھیراتے ہو۔۵۳میں نے تو یکسُو ہو کر اپنا رُخ اُس ہستی کی طرف کر لیا جس نے زمین اور آسمانوں کو پیدا کیا ہے اور میں ہرگز شرک کرنے والوں میں سے نہیں ہوں۔‘‘اس کی قوم اس سے جھگڑنے لگی تو اس نے قوم سے کہا ’’کیا تم لوگ اللہ کے معاملے میں مجھ سے جھگڑتے ہو؟ حالانکہ اس نے مجھے راہِ راست دکھا دی ہے۔ اور میں تمہارے ٹھیرائے ہوئے شریکوں سے نہیں ڈرتا، ہاں اگر میرا رب کچھ چاہے تو وہ ضرور ہو سکتا ہے۔ میرے رب کا عِلم ہر چیز پر چھایا ہوا ہے ، پھر کیا تم ہوش میں نہ آؤ گے ؟۵۴اور آخر میں تمہارے ٹھیرائے ہوئے شریکوں سے کیسے ڈروں جبکہ تم اللہ کے ساتھ ان چیزوں کو خدائی میں شریک بناتے ہوئے نہیں ڈرتے جن کے لیے اس نے تم پر کوئی سند نازل نہیں کی ہے ؟ ہم دونوں فریقوں میں سے کون زیادہ بے خوفی و اطمینان کا مستحق ہے ؟ بتاؤ اگر تم کچھ علم رکھتے ہو۔حقیقت میں تو امن انہی کے لیے ہے اور راہِ راست پر وہی ہیں جو ایمان لائے اور جنھوں نے اپنے ایمان کو ظلم کے ساتھ آلودہ نہیں کیا ‘‘۔۵۵ ؏۹

 

تفسیر

 

۴۶-قرآن میں یہ بات جگہ جگہ بیان کی گئی ہے کہ اللہ نے زمین اور آسمانوں کو برحق پیدا کیا ہے یا حق کے ساتھ پیدا کیا ہے۔ یہ ارشاد بہت وسیع معانی پر مشتمل ہے۔

اس کا ایک مطلب یہ ہے کہ زمین اور آسمانوں کی تخلیق محض کھیل کے طور پر نہیں ہوئی ہے۔ یہ ایشور جی کی لِیلا نہیں ہے۔ یہ کسی بچے کا کھلونا نہیں ہے کہ محض دل بہلانے کے لیے وہ اس سے کھیلتا رہے اور پھر یونہی اُسے توڑ پھوڑ کر پھینک دے۔ دراصل یہ ایک نہایت سنجیدہ کام ہے جو حکمت کی بنا پر کیا گیا ہے ، ایک مقصدِ عظیم اس کے اندر کارفرما ہے ، اور اس کا ایک دَور گزر جانے کے بعد ناگزیر ہے کہ خالق اُس پُورے کام کا حساب لے جو اُس دَور میں انجام پایا ہو اور اسی دَور کے نتائج پر دُوسرے دَور کی بُنیاد رکھے۔ یہی بات ہے جو دُوسرے مقامات پر یوں بیان کی گئی ہے : رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ ھٰذَا بَا طِلاً۔’’اے ہمارے ربّ، تُو نے یہ سب کچھ فضول پیدا نہیں کیا ہے ‘‘۔ اور وَمَا خَلَقْنَا السَّمَآ ءَ وَالْاَرْضَ وَ مَا بَیْنَھُمَا لٰعِبِیْنَ۔’’ ہم نے آسمان و زمین اور ان چیزوں کو جو آسمان و زمین کے درمیان ہیں کھیل کے طور پیدا نہیں کیا ہے ‘‘۔ اور اَفَحَسِبْتُمْ اَنَّمَا خَلَقْنٰکُمْ عَبَثًا وَّ اَنَّکُمْ اِلَیْنَا لَا تُر ْجَعُوْنَ۔’’ تو کیا تم نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ ہم نے تمھیں یونہی فضول پیدا کیا ہے اور تم ہماری طرف واپس نہ لائے جاؤ گے ‘‘ ؟

دوسرا مطلب یہ ہے کہ اللہ نے یہ سارا نظامِ  کائنات حق کی ٹھوس بُنیادوں پر قائم کیا ہے۔ عدل اور حکمت اور راستی کے قوانین پر اس کی ہر چیز مبنی ہے۔ باطل کے لیے فی الحقیقت اس نظام میں جڑ پکڑنے اور بار آور ہونے کی کوئی گنجائش ہی نہیں ہے۔ یہ اَور بات ہے کہ اللہ باطل پرستوں کو موقع دے دے کہ وہ اگر اپنے جھُوٹ اور ظلم اور نا راستی کو فروغ دینا چاہتے ہیں تو اپنی کوشش کر دیکھیں۔ لیکن آخر کار زمین باطل کے ہر بیج کو اُگل کر پھینک دے گی اور آخری فرد حساب میں ہر باطل پرست دیکھ لے گا کہ جو کوششیں اس نے اس شجرِ خبیث کی کاشت اور آبیاری میں صرف کیں وہ سب ضائع ہو گئیں۔

تیسرا مطلب یہ ہے کہ خدا نے اس ساری کائنات کو بربنائے حق پیدا کیا ہے اور اپنے ذاتی حق کی بنا پر ہی وہ اس پر فرماں روائی کر رہا ہے۔ اس کا حکم یہاں اس لیے چلتا ہے کہ وہی اپنی پیدا کی ہوئی کائنات میں حکمرانی کا حق رکھتا ہے۔ دُوسروں کا حکم اگر بظاہر چلتا نظر بھی آتا ہے تو اس سے دھوکا نہ کھاؤ، فی الحقیقت نہ ان کا حکم چلتا ہے ، نہ چل سکتا ہے ، کیونکہ کائنات کی کسی چیز پر بھی ان کا کوئی حق نہیں ہے کہ وہ اس پر اپنا حکم چلائیں۔

۴۷-صُور پھونکنے کی صحیح کیفیت کیا ہو گی، اس کی تفصیل ہماری سمجھ سے باہر ہے۔ قرآن سے جو کچھ ہمیں معلوم ہوا ہے وہ صرف اتنا ہے کہ قیامت کے روز اللہ کے حکم سے ایک مرتبہ صُور پھُونکا جائے گا اور سب ہلاک ہو جائیں گے۔ پھر نا معلوم کتنی مدّت بعد، جسے اللہ ہی جانتا ہے ، دُوسرا صُور پھُونکا جائے گا اور تمام اوّلین و آخرین از سرِ نو زندہ ہو کر اپنے آپ کو میدانِ حشر میں پائیں گے۔ پہلے صُور پر سارا نظامِ کائنات درہم برہم ہو گا اور دُوسرے صُور پر ایک دُوسرا نظام نئی صُورت اور نئے قوانین کے ساتھ قائم ہو جائے گا۔

۴۸-یہ مطلب نہیں ہے کہ آج پادشاہی اس کی نہیں ہے۔ بلکہ مطلب یہ ہے کہ اُس روز جب پردہ اُٹھایا جائے گا اور حقیقت بالکل سامنے آ جائے گی تو معلوم ہو جائے گا کہ وہ سب جو با اختیار نظر آتے تھے ، یا سمجھے جاتے تھے ، بالکل بے اختیار ہیں اور پادشاہی کے سارے اختیارات اسی ایک خدا کے لیے ہیں جس نے کائنات کو پیدا کیا ہے۔

۴۹-غیب = وہ سب کچھ جو مخلوقات سے پوشیدہ ہے۔

شہادت = وہ سب کچھ جو مخلوقات کے لیے ظاہر و معلوم ہے۔

۵۰-یہاں حضرت ابراہیمؑ  کے واقعہ کا ذکر اس امر کی تائید اور شہادت میں پیش کیا جا رہا ہے کہ جس طرح اللہ کی بخشی ہوئی ہدایت سے آج محمد صلی اللہ علیہ و سلم نے اور آپ ؐ کے ساتھیوں نے شرک کا انکار کیا ہے اور سب مصنوعی خداؤں سے منہ موڑ کر صرف ایک مالکِ کائنات کے آگے سرِ اطاعت خم کر دیا ہے اسی طرح کل یہی کچھ ابراہیمؑ  بھی کر چکے ہیں۔ اور جس طرح آج محمد صلی اللہ علیہ و سلم اور ان پر ایمان لانے والوں سے ان کی جاہل قوم جھگڑ رہی ہے اسی طرح کل حضرت ابراہیمؑ  سے بھی ان کی قوم یہی جھگڑا کر چکی ہے۔ اور کل جو جواب حضرت ابراہیمؑ  نے اپنی قوم کو دیا تھا آج محمد صلی اللہ علیہ و سلم اور ان کے پیرووں کی طرف سے ان کی قوم کو بھی وہی جواب ہے۔ محمد صلی اللہ علیہ و سلم اس راستہ پر ہیں جو نوحؑ  اور ابراہیمؑ  اور نسلِ ابراہیمی کے تمام انبیاء کا راستہ رہا ہے۔ اب جو لوگ ان کی پیروی سے انکار کر رہے ہیں انھیں معلوم ہو جانا چاہیے کہ وہ انبیاء کے طریقہ سے ہٹ کر ضلالت کی راہ پر جا رہے ہیں۔

یہاں یہ بات اور سمجھ لینی چاہیے کہ عرب کے لوگ بالعموم حضرت ابراہیمؑ  کو اپنا پیشوا اور مقتدا مانتے تھے۔ خصُوصاً قریش کے تو فخر و ناز کی ساری بُنیاد ہی یہ تھی کہ وہ ابراہیم علیہ السّلام کی اولاد اور ان کے تعمیر کردہ خانۂ خدا کے خادم ہیں۔ اس لیے ان کے سامنے حضرت ابراہیمؑ  کے عقیدۂ توحید کا اور شرک سے اُن کا انکار اور مشرک قوم سے اُن کی نزاع کا ذکر کرنے کے معنی یہ تھے کہ قریش کا سارا سرمایۂ فخر و ناز اور کفارِ عرب کا اپنے مشرکانہ دین پر سارا اطمینان ان سے چھین لیا جائے اور اُن پر ثابت کر دیا جائے کہ آج مسلمان اُس مقام پر ہیں جس پر حضرت ابراہیمؑ  تھے اور تمہاری حیثیت وہ ہے جو حضرت ابراہیمؑ  سے لڑنے والی جاہل قوم کی تھی۔ یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسے کوئی شیخ عبدالقادر جیلانی ؒ کے معتقدوں اور قادری النسب پیر زادوں کے سامنے حضرت شیخ کی اصل تعلیمات اور ان کی زندگی کے واقعات پیش کر کے یہ ثابت کر دے کہ جن بزرگ کے تم نام لیوا ہو، تمہارا اپنا طریقہ ان کے بالکل خلاف ہے اور تم نے آج انہی گمراہ لوگوں کی حیثیت اختیار کر لی ہے جن کے خلاف تمہارے مقتدا تمام عمر جہاد کرتے رہے۔

۵۱-یعنی جس طرح تم لوگوں کے سامنے آثارِ کائنات نمایاں ہیں اور اللہ کی نشانیاں تمھیں دکھائی جا رہی ہیں، اُسی طرح ابراہیمؑ  کے سامنے بھی یہی آثار تھے اور یہی نشانیاں تھیں۔ مگر تم لوگ انھیں دیکھنے پر بھی اندھوں کی طرح کچھ نہیں دیکھتے اور ابراہیمؑ  نے انھیں آنکھیں کھول کر دیکھا۔ یہی سُورج اور چاند اور تارے جو تمہارے سامنے طلوع و غروب ہوتے ہیں اور روزانہ تم کو جیسا گمراہ طلوع ہوتے وقت پاتے ہیں ویسا ہی غروب ہوتے وقت چھوڑ جاتے ہیں، انہی کو اُس آنکھوں والے انسان نے بھی دیکھا تھا اور انہی نشانات سے وہ حقیقت تک پہنچ گیا۔

۵۲-اس مقام کو اور قرآن کے اُن دُوسرے مقامات کو جہاں حضرت ابراہیمؑ  سے اُن کی قوم کی نزاع کا ذکر آیا ہے ، اچھی طرح سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ حضرت ابراہیمؑ  کی قوم کے مذہبی و تمدّنی حالات پر ایک نظر ڈال لی جائے۔ جدید اثری تحقیقات کے سلسلہ میں نہ صرف وہ شہر دریافت ہو گیا ہے جہاں حضرت ابراہیمؑ  پیدا ہوئے تھے ، بلکہ دَورِ  ابراہیمی میں اُس علاقے کے لوگوں کی جو حالت تھی اس پر بھی بہت کچھ روشنی پڑی ہے۔ سر لیو نارڈو وُلی (Sir Leonard Woolley)نے اپنی کتاب ( ,Abraham’’ London, ۱۹۳۵‘‘) میں اس تحقیقات کے جو نتائج شائع کیے ہیں ان کا خلاصہ ہم یہاں درج کرتے ہیں۔

اندازہ کیا گیا ہے کہ سن ۲۱۰۰ قبل مسیح کے لگ بھگ زمانہ میں ، جسے اب عام طور پر محققین حضرت ابراہیمؑ  کے ظہُور کا زمانہ تسلیم کرتے ہیں ، شہر اُر کی آبادی ڈھائی لاکھ کے قریب تھی اور بعید نہیں کہ پانچ لاکھ ہو۔ بڑا صنعتی و تجارتی مرکز تھا۔ ایک طرف پامیر اور نیلگری تک سے وہاں مال آتا تھا اور دُوسری طرف اناطولیہ تک سے اس کے تجارتی تعلقات تھے۔ جِس ریاست کا یہ صدر مقام تھا اس کے حدود موجودہ حکومتِ  عراق سے شمال میں کچھ کم اور مغرب میں کچھ زیادہ تھے۔ ملک کی آبادی بیشتر صنعت و تجارت پیشہ تھی۔ اس عہد کی جو تحریرات آثارِ قدیمہ کے کھنڈروں میں دستیاب ہوئی ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ زندگی میں ان لوگوں کا نقطۂ نظر خالص مادّہ پرستانہ تھا۔ دولت کمانا اور زیادہ سے زیادہ آسائش فراہم کرنا ان کا سب سے بڑا مقصدِ حیات تھا۔ سُود خواری کثرت سے پھیلی ہوئی تھی۔ سخت کاروباری قسم کے لوگ تھے۔ ہر ایک دُوسرے کو شک کی نگاہ سے دیکھتا تھا اور آپس میں بہت مقدمہ بازیاں ہوتی تھیں۔ ا پنے خداؤں سے ان کی دُعائیں زیادہ تر درازیِ عمر ، خوش حالی اور کاروبار کی ترقی سے متعلق ہوا کرتی تھیں۔ آبادی تین طبقوں پر مشتمل تھی:

(۱) عَمیلو – یہ اُونچے طبقے کے لوگ تھے جن میں پُجاری ، حکومت کے عہدہ دار اور فوجی افسر وغیرہ شامل تھے۔

(۲) مِشکینو – یہ تجار، اہلِ صنعت اور زراعت پیشہ لوگ تھے۔

(۳) اَردو – یعنی غلام۔

ان میں سے پہلے طبقہ ، یعنی عَمیلو کو خاص امتیازات حاصل تھے۔ ان کے فوجداری اور دیوانی حقوق دُوسروں سے مختلف تھے ، اور ان کی جان و مال کی قیمت دُوسروں سے بڑھ کرتھی۔

یہ شہر اور یہ معاشرہ تھا جس میں حضرت ابراہیمؑ  نے آنکھیں کھولیں۔ ان کا اور ان کے خاندان کا جو حال ہمیں تَلمود میں ملتا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ عَمیلو طبقہ کے ایک فرد تھے اور ان کا باپ ریاست کا سب سے بڑا عہدہ دار تھا۔(دیکھو سُورۂ بقرہ، حاشیہ نمبر ۲۹۰)۔

اُر کے کتبات میں تقریباً ۵ ہزار خداؤں کے نام ملتے ہیں۔ ملک کے مختلف شہروں کے الگ الگ خدا تھے۔ ہر شہر کا ایک خاص محافظ خدا ہوتا تھا جو ربُّ البلد، مہادیو، یا رئیس الآلہہ سمجھا جاتا تھا اور اس کا احترام دُوسرے معبُودوں سے زیادہ ہوتا تھا۔ اُرکا ربّ البلد ’’نَنّار‘‘(چاند دیوتا) تھا اور اسی مناسبت سے بعد کے لوگوں نے اس شہر کا نام ’’قمرینہ‘‘ بھی لکھا ہے۔ دُوسرا بڑا شہر لَرسہ تھا جو بعد میں اُر کے بجائے مرکزِ سلطنت ہوا۔ اُس کا ربّ البلد ’’شماش‘‘ (سُورج دیوتا) تھا۔ ان بڑے خداؤں کے ماتحت بہت سے چھوٹے خدا بھی تھے جو زیادہ تر آسمانی تاروں اور سیاروں میں سے اور کم تر زمین سے منتخب کیے گئے تھے اور لوگ اپنی مختلف فروعی ضروریات ان سے متعلق سمجھتے تھے۔ ان آسمانی اور زمینی دیوتاؤں اور دیویوں کی شبیہیں بُتوں کی شکل میں بنالی گئی تھیں اور تمام مراسمِ عبادت انہی کے آگے بجا لائے جاتے تھے۔

’’ننار‘‘ کا بُت اُر میں سب سے اُونچی پہاڑی پر ایک عالی شان عمارت میں نصب تھا۔ اسی کے قریب ’’ننار‘‘ کی بیوی ’’نن گل‘‘ کا مَعبد تھا۔ ننار کے مَعبد کی شان ایک شاہی محل سرا کی سی تھی۔ اس کی خواب گاہ میں روزانہ رات کو ایک پوجا رن جا کر اس کی دُلہن بنتی تھی۔ مندر میں بکثرت عورتیں دیوتا کے نام پر وقف تھیں اور ان کی حیثیت دیو داسیوں(Religious Prostitutes) کی سی تھی۔ وہ عورت بڑی معزّز خیال کی جاتی تھی جو ’’خدا ‘‘ کے نام پر اپنی بکارت قربان کر دے۔ کم از کم ایک مرتبہ اپنے آپ کو ’’راہِ خدا‘‘ میں کسی اجنبی کے حوالہ کرنا عورت کے لیے ذریعہ ٔ نجات خیال کیا جاتا تھا۔ اب یہ بیان کرنا کچھ ضروری نہیں کہ اس مذہبی قحبہ گری سے مستفید ہونے والے زیادہ تر پجاری حضرات ہی ہوتے تھے۔

ننار محض دیوتا ہی نہ تھا بلکہ ملک کا سب سے بڑا زمیندار ، سب سے بڑا تاجر، سب سے بڑا کارخانہ دار اور ملک کی سیاسی زندگی کا سب سے بڑا حاکم بھی تھا۔ بکثرت باغ، مکانات اور زمینیں اس مندر کے لیے وقف تھیں۔ اس جائیداد کی آمدنی کے علاوہ وہ کسان، زمیندار ، تجّار سب ہر قسم کے غلّے ، دُودھ ، سونا ، کپڑا اور دُوسری چیزیں لا کر مندر میں نذر بھی کرتے تھے جنہیں وصُول کرنے کے لیے مندر میں ایک بہت بڑا اسٹاف موجود تھا۔ بہت سے کارخانے مندر کے ماتحت قائم تھے۔ تجارتی کاروبار بھی بہت بڑے پیمانے پر مندر کی طرف سے ہوتا تھا۔ یہ سب کام دیوتا کی نیابت میں پجاری ہی انجام دیتے تھے۔ پھر ملک کی سب سے بڑی عدالت مندر ہی تھی۔ پجاری اس کے جج تھے اور ان کے فیصلے ’’خدا‘‘ کے فیصلے سمجھے جاتے تھے۔ خود شاہی خاندان کی حاکمیت بھی ننار ہی سے ماخوذ تھی۔ اصل بادشاہ ننار تھا اور فرماں روائے ملک اس کی طرف سے حکومت کرتا تھا۔ اس تعلق سے بادشاہ خود بھی معبُودوں میں شامل ہو جاتا تھا اور خداؤں کے مانند اس کی پرستش کی جاتی تھی۔

اُر کا شاہی خاندان جو حضرت ابراہیمؑ  کے زمانہ میں حکمران تھا، اس کے بانیٔ اوّل کا نام اُرنَمُوّ تھا جس نے ۲۳۰۰ برس قبل مسیح میں ایک وسیع سلطنت قائم کی تھی۔ اس کے حُدُودِ مملکت مشرق میں سوسہ سے لے کر مغرب میں لُبنان تک پھیلے ہوئے تھے۔ اُسی سے اس خاندان کو ’’نَمُوّ‘‘ کا نام ملا جو عربی میں جا کر نمرود ہو گیا۔ حضرت ابراہیمؑ  کی ہجرت کے بعد اس خاندان اور اس قوم پر مسلسل تباہی نازل ہونی شروع ہوئی۔ پہلے عیلامیوں نے اُر کو تباہ کیا اور نمرُود کے ننار کے بُت سمیت پکڑ لے گئے۔ پھر لرسہ میں ایک عیلامی حکومت قائم ہوئی جس کے ماتحت اُر کا علاقہ غلام کی حیثیت سے رہا۔ آخر کار ایک عربی النسل خاندان کے ماتحت بابِل نے زور پکڑا اور لرسہ اور اُر دونوں اس کے زیرِ حکم ہو گئے۔ ان تباہیوں نے ننار کے ساتھ اُر کے لوگوں کا عقیدہ متزلزل کر دیا کیونکہ وہ ان کی حفاظت نہ کر سکا۔

تعیّن کے ساتھ نہیں کہا جا سکتا کہ بعد کے ادوار میں حضرت ابراہیمؑ  کی تعلیمات کا اثر اس ملک کے لوگوں نے کہا ں تک قبول کیا۔ لیکن سن ۱۹۱۰ قبل مسیح میں بابل کے بادشاہ حمورائی (بائیبل کے اَمُرافیل) نے جو قوانین مرتب کیے تھے وہ شہادت دیتے ہیں کہ بالواسطہ یا بلا واسطہ ان کی تدوین میں مشکوٰۃِ نبوّت سے حاصل کی ہوئی روشنی کسی حد تک ضرور کار فرما تھی۔ ان قوانین کا مفصل کتبہ سن ۱۹۰۲ بعد مسیح میں ایک فرانسیسی مفتش آثارِ قدیمہ کو ملا اور اس کا انگریزی ترجمہ C.H.W. John نے سن ۱۹۰۳ بعد مسیح میں( The Oldest Code of Law ) کے نام سے شائع کیا۔ اس ضابطۂ قوانین کے بہت سے اُصُول اور فروع موسوی شریعت سے مشابہت رکھتے ہیں۔

یہ اب تک کی اثری تحقیقات کے نتائج اگر صحیح ہیں تو ان سے یہ بات بالکل واضح ہو جاتی ہے کہ حضرت ابراہیمؑ  کی قوم میں شرک محض ایک مذہبی عقیدہ اور بُت پرستانہ عبادات کا مجمُوعہ ہی نہ تھا بلکہ درحقیقت اس قوم کی پُوری معاشی ، تمدّنی ، سیاسی اور معاشرتی زندگی کا نظام اسی عقیدے پر مبنی تھا۔ اس کے مقابلہ میں حضرت ابراہیمؑ  توحید کی جو دعوت لے کر اُٹھے تھے اس کا اثر صِرف بُتوں کی پرستش ہی پر نہ پڑتا تھا بلکہ شاہی خاندان کی معبُودیت اور حاکمیت، پجاریوں اور اُونچے طبقوں کی معاشرتی، معاشی اور سیاسی حیثیت ، اور پورے ملک کی اجتماعی زندگی اس کی زد میں آئی جاتی تھی۔ اُن کی دعوت کی قبول کرنے کے معنی یہ تھے کہ نیچے سے اُوپر تک ساری سوسائیٹی کی عمارت ادھیڑ ڈالی جائے اور اسے از سرِ نو توحیدِ الٰہ کی بُنیاد پر تعمیر کیا جائے۔ اِسی لیے ابراہیم علیہ السّلام کی آواز بلند ہوتے ہی عوام اور خواص، پجاری اور نمرود سب کے سب بیک وقت اس کو دبانے کے لیے کھڑے ہو گئے۔

۵۳-’’یہاں حضرت ابراہیمؑ  کے اُس ابتدائی تفکّر کی کیفیت بیان کی گئی ہے جو منصبِ نبوّت پر سرفراز ہونے سے پہلے اُن کے لیے حقیقت تک پہنچنے کا ذریعہ بنا۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ ایک صحیح الدّماغ اور سلیم النظر انسان، جس نے سراسر شرک کے ماحول میں آنکھیں کھولی تھیں ، اور جسے توحید کی تعلیم کہیں سے حاصل نہ ہو سکی تھی ، کس طرح آثارِ کائنات کا مشاہدہ کر کے اور ان پر غور و فکر اور ان سے صحیح استدلال کر کے امرِ حق معلوم کرنے میں کامیاب ہو گیا۔ اوپر قومِ  ابراہیمؑ  کے جو حالات بیان کیے گئے ہیں ان پر ایک نظر ڈالنے سے یہ معلوم ہو جاتا ہے کہ حضرت ابراہیمؑ  نے جب ہوش سنبھالا تھا تو ان کے گرد و پیش ہر طرف چاند ، سُورج اور تاروں کی خدائی کے ڈنکے بج رہے تھے۔ اس لیے قدرتی طور پر حضرت ابراہیمؑ  کی جستجوئے حقیقت کا آغاز اسی سوال سے ہونا چاہیے تھا کہ کیا فی الواقع ان میں سے کوئی ربّ ہو سکتا ہے ؟ اسی مرکزی سوال پر انھوں نے غور و فکر کیا اور آخر کار اپنی قوم کے سارے خداؤں کو ایک اٹل قانون کے تحت غلاموں کی طرح گردش کرتے دیکھ کر وہ اس نتیجہ پر پہنچ گئے کہ جن جن کے رب ہونے کا دعویٰ کیا جاتا ہے ان میں سے کسی کے اندر بھی ربُوبیّت کا شائبہ تک نہیں ہے ، ربّ صرف وہی ایک ہے جس نے ان سب کو پیدا کیا اور بندگی پر مجبُور کیا ہے۔

اس قصّہ کے الفاظ سے عام طور پر لوگوں کے ذہن میں ایک شبہ پیدا ہوتا ہے۔ یہ جو ارشاد ہوا ہے کہ جب رات طاری ہوئی تو اس نے ایک تارا دیکھا ، اور جب وہ ڈوب گیا تو یہ کہا، پھر چاند دیکھا اور جب وہ ڈوب گیا تو یہ کہا، پھر سُورج دیکھا اور جب وہ بھی ڈوب گیا تو یہ کہا، اس پر ایک عام ناظر کے ذہن میں فوراً یہ سوال کھٹکتا ہے کہ کیا بچپن سے آنکھ کھولتے ہی روزانہ حضرت ابراہیمؑ  پر رات طاری نہ ہوتی رہی تھی اور کیا وہ ہر روز چاند ، تاروں اور سُورج کو طلوع و غروب ہوتے نہ دیکھتے تھے ؟ ظاہر ہے کہ یہ غور و فکر تو انہوں نے سنِ رُشد کو پہنچنے کے بعد ہی کیا ہو گا۔ پھر یہ قصّہ اس طرح کیوں بیان کیا گیا ہے کہ جب رات ہوئی تو یہ دیکھا اور دن نکلا تو یہ دیکھا؟ گویا اس خاص واقعہ سے پہلے انھیں یہ چیزیں دیکھنے کا اتفاق نہ ہوا تھا، حالانکہ ایسا ہونا صریحاً مستبعد ہے۔ یہ شبہ بعض لوگوں کے لیے اس قدر ناقابلِ حل بن گیا کہ اسے دفع کرنے کی کوئی صُورت انھیں اس کے سوا نظر نہ آئی کہ حضرت ابراہیمؑ  کی پیدائش اور پرورش کے متعلق ایک غیر معمُولی قصّہ تصنیف کریں۔ چنانچہ بیان کیا جاتا ہے کہ حضرت ابراہیمؑ  کی پیدائش اور پرورش ایک غار میں ہوئی تھی جہاں سنِ رشد کو پہنچنے تک وہ چاند، تاروں اور سُورج کے مشاہدے سے محروم رکھے گئے تھے۔ حالانکہ بات بالکل صاف ہے اور اس کو سمجھنے کے لیے اس نوعیت کی کسی داستان کی ضرورت نہیں ہے۔ نیوٹن کے متعلق مشہُور ہے کہ اس نے باغ میں ایک سیب کو درخت سے گرتے دیکھا اور اس سے اس کا ذہن اچانک اس سوال کی طرف متوجّہ ہو گیا کہ اشیاء آخر زمین پر ہی کیوں گِرا کرتی ہیں ، یہاں تک غور کرتے کرتے وہ قانونِ جذب و کشش کے استنباط تک پہنچ گیا۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا اس واقعہ سے پہلے نیوٹن نے کبھی کوئی چیز زمین پر گرتے نہیں دیکھی تھی؟ ظاہر ہے کہ ضرور دیکھی ہو گی اور بارہا دیکھی ہو گی۔ پھر کیا وجہ ہے کہ اُسی خاص تاریخ کو سیب گِرنے کے مشاہدے سے نیوٹن کے ذہن میں وہ حرکت پیدا ہوئی جو اس سے پہلے روزمرّہ کے ایسے سینکڑوں مشاہدات سے نہ ہوئی تھی؟ اس کا جواب اگر کچھ ہو سکتا ہے تو یہی کہ غور و فکر کرنے والا ذہن ہمیشہ ایک طرح کے مشاہدات سے ایک ہی طرح متأثر نہیں ہوا کرتا۔ بارہا ایسا ہوتا ہے کہ آدمی ایک چیز کو ہمیشہ دیکھتا رہتا ہے اور اس کے ذہن میں کوئی حرکت پیدا نہیں ہوتی، مگر ایک وقت اُسی چیز کو دیکھ کر یکایک ذہن میں ایک کھٹک پیدا ہو جاتی ہے جس سے فکر کی قوتیں ایک خاص مضمون کی طرف کام کرنے لگتی ہیں۔ یا پہلے سے کسی سوال کی تحقیق میں ذہن اُلجھ رہا ہوتا ہے اور یکایک روزمرّہ ہی کی مشاہدات میں سے کسی ایک چیز پر نظر پڑتے ہی گتھی کا و ہ سرا ہاتھ لگ جاتا ہے جس سے ساری اُلجھنیں سلجھتی چلی جاتی ہیں۔ ایسا ہی معاملہ حضرت ابراہیمؑ  کے ساتھ بھی پیش آیا۔ راتیں روز آتی تھیں اور گزر جاتی تھیں۔ سُورج اور چاند اور تارے سب ہی آنکھوں کے سامنے ڈوبتے اور اُبھرتے رہتے تھے۔ لیکن وہ ایک خاص دن تھا جب ایک تارے کے مشاہدے نے ان کے ذہن کو اُس راہ پر ڈال دیا جس سے بالآخر وہ توحیدِ الٰہ کی مرکزی حقیقت تک پہنچ کر رہے۔ ممکن ہے کہ حضرت ابراہیمؑ  کا ذہن پہلے سے اس سوال پر غور کر رہا ہو کہ جن عقائد پر ساری قوم کا نظامِ زندگی چل رہا ہے ان میں کس حد تک صداقت ہے ، اور پھر ایک تارا یکایک سامنے آ کر کشودِ کار کے لیے کلید بن گیا ہو۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ تارے کے مشاہدے ہی سے ذہنی حرکت کی ابتدا ہوئی ہو۔

اس سلسلہ میں ایک اور سوال بھی پیدا ہوتا ہے۔ وہ یہ کہ جب حضرت ابراہیمؑ  نے تارے کو دیکھ کر کہا یہ میرا ربّ ہے ، اور جب چاند اور سُورج کو دیکھ کر انھیں اپنا رب کہا ، تو کیا اُس وقت عارضی طور پر ہی سہی، وہ شرک میں مبتلا نہ ہو گئے تھے ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ ایک طالبِ حق اپنی جستجو کی راہ میں سفر کرتے ہوئے بیچ کی جن منزلوں پر غور و فکر کے لیے ٹھیرتا ہے ، اصل اعتبار اُن منزلوں کا نہیں ہوتا بلکہ اصل اعتبار اُس سمت کا ہوتا ہے جس پر وہ پیش قدمی کر رہا ہے اور اُس آخری مقام کا ہوتا ہے جہاں پہنچ کر وہ قیام کرتا ہے۔ بیچ کی منزلیں ہر جویائے حق کے لیے ناگزیر ہیں۔ ان پر ٹھیرنا بسلسلۂ طلب و جستجو ہوتا ہے نہ کہ بصورتِ فیصلہ۔ اصلاً ٹھیراؤ سوالی و استفہامی ہوا کرتا ہے نہ کہ حُکمی۔ طالب جب اِن میں سے کسی منزل پر رُک کر کہتا ہے کہ ’’ ایسا ہے ‘‘ تو دراصل یہ اس کی آخری رائے نہیں ہوتی بلکہ اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ ’’ایسا ہے ‘‘؟ اور تحقیق سے اس کا جواب نفی میں پا کر وہ آگے بڑھ جاتا ہے۔ اس لیے یہ خیال کرنا بالکل غلط ہے کہ اثنائے راہ میں جہاں جہاں وہ ٹھیرتا رہا وہاں وہ عارضی طور پر کفر یا شرک میں مبتلا رہا۔

۵۴-اصل میں لفظ تَذَکُّر استعمال ہوا ہے جس کا صحیح مفہُوم یہ ہے کہ ایک شخص جو غفلت اور بھلا وے میں پڑا ہوا ہو وہ چونک کر اُس چیز کو یاد کر لے جس سے وہ غافل تھا۔ اسی لیے ہم نے اَفَلَا تَتَذَکَّرُوْنَ کا یہ ترجمہ کیا ہے۔ حضرت ابراہیمؑ  کے ارشاد کا مطلب یہ تھا کہ تم جو کچھ کر رہے ہو، تمہارا اصلی و حقیقی ربّ اس سے بے خبر نہیں ہے ، اس کا علم ساری چیزوں پر وسیع ہے ، پھر کیا اس حقیقت سے واقف ہو کر بھی تمھیں ہوش نہ آئے گا؟

۵۵-یہ پُوری تقریر اس بات پر شاہد ہے کہ وہ قوم اللہ فاطر السّمٰوات و الارض کی ہستی کی منکر نہ تھی بلکہ اس کا اصلی جُرم اللہ کے ساتھ دُوسروں کو خدائی صفات اور خداوندانہ حقوق میں شریک قرار دینا تھا۔ اوّل تو حضرت ابراہیمؑ  خود ہی فرما رہے ہیں کہ تم اللہ کے ساتھ دُوسری چیزوں کو شریک کرتے ہو۔ دوسرے جس طرح آپ ان لوگوں کو خطاب کرتے ہوئے اللہ کا ذکر فرماتے ہیں، یہ اندازِ بیان صرف اُنہی لوگوں کے مقابلہ میں اختیار کیا جا سکتا ہے جو اللہ کے نفسِ وجود سے منکر نہ ہوں۔ لہٰذا اُن مفسّرین کی رائے درست نہیں ہے جنھوں نے اس مقام پر اور حضرت ابراہیمؑ  کے سلسلہ میں دُوسرے مقامات پر قرآن کے بیانات کی تفسیر اس مفروضہ پر کی ہے کہ قومِ ابراہیمؑ  اللہ کی منکر یا اس سے ناواقف تھی اور صرف اپنے معبُودوں ہی کو خدائی کا بالکلّیہ مالک سمجھتی تھی۔

آخری آیت میں یہ جو فقرہ ہے کہ ’’جنھوں نے اپنے ایمان کو ظلم کے ساتھ آلودہ نہیں کیا‘‘، اس میں لفظ ظلم سے بعض صحابہ کو غلط فہمی ہوئی تھی کہ شاید اس سے مراد معصیت ہے۔لیکن نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے خود تصریح فرما دی کہ دراصل یہاں ظلم سے مراد شرک ہے۔ لہٰذا اس آیت کا مطلب یہ ہوا کہ جو لوگ اللہ کو مانیں اور اپنے اس ماننے کو کسی مشرکانہ عقیدہ و عمل سے آلودہ نہ کریں، امن صرف اُنہی کے لیے ہے اور وہی راہِ راست پر ہیں۔

اس موقع پر یہ جان لینا بھی دلچسپی سے خالی نہ ہو گا کہ یہ واقعہ جو حضرت ابراہیمؑ  کی عظیم الشان پیغمبرانہ زندگی کا نقطۂ آغاز ہے ، بائیبل میں کوئی جگہ نہیں پا سکا ہے۔ البتہ تَلمُود میں اس کا ذکر موجود ہے۔ لیکن اس میں دو باتیں قرآن سے مختلف ہیں۔ ایک یہ کہ وہ حضرت ابراہیمؑ  کی جستجوئے حقیقت کو سُورج سے شروع کر کے تاروں تک اور پھر خدا تک لے جاتی ہے۔ دُوسرے اس کا بیان ہے کہ حضرت ابراہیمؑ  نے جب سُورج کو ھٰذَا رَبِّیْ کہا تو ساتھ ہی اس کی پرستش بھی کر ڈالی اور اسی طرح چاند کو بھی انہوں نے ھٰذَا رَبِّیْ کہہ کر اس کی پرستش کی۔

 

ترجمہ

 

یہ تھی ہماری وہ حجّت جو ہم نے ابراہیمؑ  کو اس کی قوم کے مقابلہ میں عطا کی۔ ہم جسے چاہتے ہیں بلند مرتبے عطا کرتے ہیں۔ حق یہ ہے کہ تمہارا رب نہایت دانا اور علیم ہے۔ پھر ہم نے ابراہیمؑ کو اسحاقؑ اور یعقوبؑ جیسی اولاد دی اور ہر ایک کو راہِ راست دکھائی۔ (وہی راہِ راست جو) اس سے پہلے نوحؑ  کو دکھائی تھی۔ اور اُسی کی نسل سے ہم نے داؤدؑ ، سلیمانؑ ، ایّوبؑ ، یوسفؑ، موسیٰؑ  اور ہارونؑ کو (ہدایت بخشی)۔ اِس طرح ہم نیکو کاروں کو ان کی نیکی کا بدلہ دیتے ہیں۔ (اُسی کی اولاد سے ) زکریاؑ ، یحییٰؑ  ، عیسیٰؑ  اور الیاسؑ کو (راہ یاب کیا)۔ ہر ایک ان میں سے صالح تھا۔ (اسی کے خاندان سے ) اسماعیلؑ ، الیسعؑ ، اور یونسؑ اور لوطؑ کو (راستہ دکھایا)۔ اِن میں سے ہر ایک کو ہم نے تمام دُنیا والوں پر فضیلت عطا کی۔ نیز ان کے آباء و اجداد اور ان کی اولاد اور ان کے بھائی بندوں میں سے بہتوں کو ہم نے نوازا، انہیں اپنی خدمت کے لیے چُن لیا اور سیدھے راستے کی طرف ان کی رہنمائی کی۔ یہ اللہ کی ہدایت ہے جس کے ساتھ وہ اپنے بندوں میں سے جس کی چاہتا ہے رہنمائی کرتا ہے۔ لیکن اگر کہیں ان لوگوں نے شرک کیا ہوتا تو ان کا سب کیا کرایا غارت ہو جاتا۔۵۶ وہ لوگ تھے جن کو ہم نے کتاب اور حکم اور نبوت عطا کی تھی۔۵۷ اب اگر یہ لوگ اس کو ماننے سے انکار کرتے ہیں تو (پروا نہیں) ہم نے کچھ اور لوگوں کو یہ نعمت سونپ دی ہے جو اس سے منکر نہیں ہیں۔۵۸اے محمد ؐ ! وہی لوگ اللہ کی طرف سے ہدایت یافتہ تھے ، انہی کے راستہ پر تم چلو، اور کہہ دو کہ میں (اس تبلیغ و ہدایت کے) کام پر تم سے کسی اجر کا طالب نہیں ہوں، یہ تو ایک عام نصیحت ہے تمام دنیا والوں کے لیے۔ ؏١۰

 

تفسیر

 

۵۶-یعنی جس شرک میں تم لوگ مبتلا ہو اگر کہیں وہ بھی اسی میں مُبتلا ہوئے ہوتے تو یہ مرتبے ہر گز نہ پا سکتے تھے۔ ممکن تھا کہ کوئی شخص کامیاب ڈاکہ زنی کر کے فاتح کی حیثیت سے دنیا میں شہرت پا لیتا، یا زر پرستی میں کمال پیدا کر کے قارُون کا سا نام پیدا کر لیتا ، یا کسی اَور صُورت سے دُنیا کے بدکاروں میں نامور بدکار بن جاتا۔ لیکن یہ امامِ ہدایت اور امام المتّقین ہونے کا شرف اور یہ دُنیا بھر کے لیے خیر و صلاح کا سرچشمہ ہونے کا مقام تو کوئی بھی نہ پا سکتا اگر شرک سے مجتنب اور خالص خدا پرستی کی راہ پر ثابت قدم نہ ہوتا۔

۵۷-یہاں انبیاء علیہم السّلام کو تین چیزیں عطا کیے جانے کا ذکر کیا گیا ہے۔ ایک کتاب یعنی اللہ کا ہدایت نامہ دوسرے حُکم یعنی اس ہدایت نامہ کا صحیح فہم ، اور اس کے اُصُولوں کو معاملاتِ  زندگی پر منطبق کرنے کی صلاحیت اور مسائلِ  حیات میں فیصلہ کُن رائے قائم کرنے کی خداداد قابلیت۔ تیسرے نبوّت ، یعنی یہ منصب کہ وہ اس ہدایت نامہ کے مطابق خلق اللہ کی رہنمائی کریں۔

۵۸-مطلب یہ ہے کہ اگر یہ کافر و مشرک لوگ اللہ کی اس ہدایت کو قبول کرنے سے انکار کرتے ہیں تو کر دیں، ہم نے اہلِ  ایمان کا ایک ایسا گروہ پیدا کر دیا ہے جو اس نعمت کی قدر کرنے والا ہے۔

 

ترجمہ

 

ان لوگوں نے اللہ کا بہت غلط اندازہ لگایا جب کہا کہ اللہ نے کسی بشر پر کچھ نازل نہیں کیا ہے۔۵۹ ان سے پوچھو، پھر وہ کتاب جسے موسیٰؑ لایا تھا ، جو تمام انسانوں کے لیے روشنی اور ہدایت تھی، جسے تم پارہ پارہ کر کے رکھتے ہو، کچھ دکھاتے ہو اور بہت کچھ چھُپا جاتے ہو ،اور جس کے ذریعہ سے تم کو وہ علم دیا گیا جو نہ تمہیں حاصل تھا اور نہ تمہارے باپ دادا کو، آخر اُس کا نازل کرنے والا کون تھا؟۔۔۔۔۶۰ بس اتنا کہہ دو کہ اللہ، پھر اُنہیں اپنی دلیل بازیوں سے کھیلنے کے لیے چھوڑ دو۔(اُسی کتاب کی طرح) یہ ایک کتاب ہے جسے ہم نے نازل کیا ہے۔ بڑی خیرو برکت والی ہے۔ اُس چیز کی تصدیق کرتی ہے جو اس سے پہلے آئی تھی۔ اور اس لیے نازل کی گئی ہے کہ اس کے ذریعہ سے تم بستیوں کے اس مرکز (یعنی مکّہ) اور اس کے اطراف میں رہنے والوں کو متنبہ کرو۔ جو لوگ آخرت کو مانتے ہیں وہ اس کتاب پر ایمان لاتے ہیں اور ان کا حال یہ ہے کہ اپنی نمازوں کی پابندی کرتے ہیں۔۶۱اور اُس شخص سے بڑا ظالم اور کون ہو گا جو اللہ پر جھُوٹا بہتان گھڑے ، یا کہے کہ مجھ پر وحی آئی ہے در آں حالیکہ اس پر کوئی وحی نازل نہ کی گئی ہو، یا جو اللہ کی نازل کردہ چیز کے مقابلہ میں کہے کہ میں بھی ایسی چیز نازل کر کے دکھا دوں گا ؟ کاش تم ظالموں کو اس حالت میں دیکھ سکو جب کہ وہ سکراتِ موت میں ڈبکیاں کھا رہے ہوتے ہیں اور فرشتے ہاتھ بڑھا بڑھا کر کہہ رہے ہوتے ہیں کہ ’’لاؤ، نِکالو اپنی جان، آج تمہیں اُن باتوں کی پاداش میں ذِلّت کا عذاب دیا جائے گا جو تم اللہ پر تہمت رکھ کر ناحق بکا کرتے تھے اور اُس کی آیات کے مقابلہ میں سرکشی دکھاتے تھے ‘‘۔  (اور اللہ فرمائے گا) ’’لو اب تم ویسے ہی تنِ تنہا ہمارے سامنے حاضر ہو گئے جیسا ہم نے تمہیں پہلی مرتبہ اکیلا پیدا کیا تھا، جو کچھ ہم نے تمہیں دُنیا میں دیا تھا وہ سب تم پیچھے چھوڑ آئے ہو، اور اب ہم تمہارے ساتھ تمہارے اُن سفارشیوں کو بھی نہیں دیکھتے جن کے متعلق تم سمجھتے تھے کہ تمہارے کام بنانے میں ان کا بھی کچھ حصّہ ہے ، تمہارے آپس کے سب رابطے ٹوٹ گئے اور وہ سب تم سے گم ہو گئے جن کا تم زعم رکھتے تھے ‘‘۔ ؏١١

 

تفسیر

 

۵۹-پچھلے سلسلہ ٔ بیان اور بعد کی جوابی تقریر سے صاف مترشح ہوتا ہے کہ یہ قول یہودیوں کا تھا۔ چونکہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم کا دعویٰ یہ تھا کہ میں نبی ہوں اور مجھ پر کتاب نازل ہوئی ہے ، اس لیے قدرتی طور پر کفار قریش اور دُوسرے مشرکینِ عرب اس دعوے کی تحقیق کے لیے یہُود و نصاریٰ کی طرف رجوع کرتے تھے اور ان سے پُوچھتے تھے کہ تم بھی اہلِ  کتاب ہو، پیغمبروں کو مانتے ہو، بتاؤ کیا واقعی اس شخص پر اللہ کا کلام نازل ہوا ہے ؟ پھر جو کچھ جواب وہ دیتے اسے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے سرگرم مخالفین جگہ جگہ بیان کر کے لوگوں کو برگشتہ کرتے پھرتے تھے۔ اسی لیے یہاں یہودیوں کے اس قول کو، جسے مخالفینِ اسلام نے حجّت بنا رکھا تھا ، نقل کر کے اس کا جواب دیا جا رہا ہے۔

شُبہ کیا جا سکتا ہے کہ ایک یہودی جو خود توراۃ کو خدا کی طرف سے نازل شدہ کتاب مانتا ہے ، یہ کیسے کہہ سکتا ہے کہ خدا نے کسی بشر پر کچھ نازل نہیں کیا۔ لیکن یہ شُبہ صحیح نہیں ہے ، اس لیے کہ ضد اور ہٹ دھرمی کی بنا پر بسا اوقات آدمی کسی دُوسرے کی سچّی باتوں کو رد کرنے کے لیے ایسی باتیں بھی کہہ جاتا ہے جن سے خود اس کی اپنی مسلَّمہ صداقتوں پر بھی زد پڑ جاتی ہے۔ یہ لوگ محمد صلی اللہ علیہ و سلم کی نبوّت کو رد کرنے پر تُلے ہوئے تھے اور اپنی مخالفت کے جوش میں اس قدر اندھے ہو جاتے تھے کہ حضور ؐ کی رسالت کی تر دید کرتے کرتے خود رسالت ہی کی تردید کر گزرتے تھے۔

اور یہ جو فرمایا کہ لوگوں نے اللہ کا بہت غلط اندازہ لگایا جب یہ کہا ، تو اس کا مطلب یہ ہے کہ انھوں نے اللہ کی حکمت اور اس کی قدرت کا اندازہ کرنے میں غلطی کی ہے۔ جو شخص یہ کہتا ہے کہ خدا نے کسی بشر پر علم حق اور ہدایت نامۂ زندگی نازل نہیں کیا ہے وہ یا تو بشر پر نزُولِ وحی کو ناممکن سمجھتا ہے اور یہ خدا کی قدرت کا غلط اندازہ ہے ، یا پھر وہ یہ سمجھتا ہے کہ خدا نے انسان کو ذہانت کے ہتھیار اور تصرّف کے اختیارات تو دے دیے مگر اس کی صحیح رہنمائی کا کوئی انتظام نہ کیا، بلکہ اسے دُنیا میں اندھا دھُند کام کرنے کے لیے یُونہی چھوڑ دیا ، اور یہ خدا کی حکمت کا غلط اندازہ ہے۔

۶۰-یہ جواب چونکہ یہودیوں کو دیا جا رہا ہے اس لیے موسیٰ علیہ السّلام پر توراۃ کے نزول کو دلیل کے طور پر پیش کیا گیا ہے ، کیوں کہ وہ خود اس کے قائل تھے۔ ظاہر ہے کہ ان کا یہ تسلیم کرنا کہ حضرت موسیٰؑ  پر توراۃ نازل ہوئی تھی، ان کے اس قول کی آپ سے آپ تردید کر دیتا ہے کہ خدا نے کسی بشر پر کچھ نازل نہیں کیا۔ نیز اس سے کم از کم اتنی بات تو ثابت ہو جاتی ہے کہ بشر پر خدا کا کلام نازل ہو سکتا ہے اور ہو چکا ہے۔

۶۱-پہلی دلیل اس بات کے ثبوت میں تھی کہ بشر پر خدا کا کلام نازل ہو سکتا ہے اور عملاً ہوا بھی ہے۔ اب یہ دُوسری دلیل اس بات کے ثبوت میں ہے کہ یہ کلام محمد صلی اللہ علیہ و سلم پر نازل ہوا ہے یہ خدا ہی کا کلام ہے۔ اس حقیقت کو ثابت کرنے کے لیے چار باتیں شہادت کے طور پیش کی گئی ہیں:

ایک یہ کہ یہ کتاب بڑی خیر و برکت والی ہے ، یعنی اس میں انسان کی فلاح و بہبود کے لیے بہترین اُصُول پیش کیے گئے ہیں۔ عقائدِ  صحیحہ کی تعلیم ہے ، بھلائیوں کی ترغیب ہے ، اخلاقِ فاضلہ کی تلقین ہے ، پاکیزہ زندگی بسر کرنے کی ہدایت ہے ، اور پھر یہ جہالت، خود غرضی، تنگ نظری، ظلم، فحش اور دُوسری اُن بُرائیوں سے ، جن کا انبار تم لوگوں نے کتبِ  مقدسہ کے مجمُوعہ میں بھر رکھا ہے ، بالکل پاک ہے۔

دوسرے یہ کہ اس سے پہلے خدا کی طرف سے ہدایت نامے آئے تھے یہ کتاب اُن سے الگ ہٹ کر کوئی مختلف ہدایت پیش نہیں کرتی بلکہ اُسی چیز کی تصدیق و تائید کرتی ہے جو اُن میں پیش کی گئی تھی۔

تیسرے یہ کہ یہ کتاب اُسی مقصد کے لیے نازل ہوئی ہے جو ہر زمانہ میں اللہ کی طرف سے کتابوں کے نُزول کا مقصد رہا ہے ، یعنی غفلت میں پڑے ہوئے لوگوں کو چونکانا اور کج روی کے انجامِ بد سے خبر دار کرنا۔

چوتھے یہ کہ کتاب کی دعوت نے انسانوں کے گروہ میں سے ان لوگوں کو نہیں سمیٹا جو دُنیا پرست اور خواہشِ نفس کے بندے ہیں، بلکہ ایسے لوگوں کو اپنے گرد جمع کیا ہے جن کی نظر حیاتِ دنیا کی تنگ سرحدوں سے آگے تک جاتی ہے ، اور پھر اس کتاب سے متاثر ہو کر جو انقلاب ان کی زندگی میں رُو نما ہوا ہے اس کی سب سے زیادہ نمایاں علامت یہ ہے کہ وہ انسانوں کے درمیان اپنی خد ا پرستی کی اعتبار سے مُمتاز ہیں۔ کیا یہ خُصوصیات اور یہ نتائج کسی ایسی کتاب کے ہو سکتے ہیں جسے کسی جھُوٹے انسان نے گھڑ لیا ہو جو اپنی تصنیف کو خد ا کی طرف منسُوب کر دینے کی انتہائی مجرمانہ جسارت تک کر گزرے ؟

 

ترجمہ

 

دانے اور گٹھلی کو پھاڑنے والا اللہ ہے۔۶۲ وہی زندہ کو مُردہ سے نکالتا ہے اور وہی مُردہ کو زندہ سے خارج کرتا ہے۔۶۳ یہ سارے کام تو کرنے والا اللہ ہے ، پھر تم کدھر بہکے چلے جا رہے ہو؟ پردۂ شب کو چاک کر کے وہی صبح نکالتا ہے۔ اُسی نے رات کو سکون کا وقت بنایا ہے اُسی نے چاند اور سُورج کے طلُوع و غروب کا حساب مقرّر کیا ہے۔ یہ سب اُسی زبردست قدرت اور علم رکھنے والے کے ٹھیرائے ہوئے اندازے ہیں۔ اور وہی ہے جس نے تمہارے لیے تاروں کو صحرا اور سمندر کی تاریکیوں میں راستہ معلوم کرنے کا ذریعہ بنایا۔ دیکھو ہم نے نشانیاں کھول کر بیان کر دی ہیں اُن لوگوں کے لیے جو علم رکھتے ہیں۔۶۴اور وہی ہے جس نے ایک مُتنفّس سے تم کو پیدا کیا ۶۵ پھر ہر ایک کے لیے ایک جائے قرار ہے اور ایک اس کے سونپے جانے کی جگہ۔ یہ نشانیاں ہم نے واضح کر دی ہیں اُن لوگوں کے لیے جو سمجھ بوجھ رکھتے ہیں۔۶۶اور وہی ہے جس نے آسمان سے پانی برسایا، پھر اس کے ذریعہ سے ہر قسم کی نباتات اُگائی، پھر اس سے ہرے ہرے کھیت اور درخت پیدا کیے ، پھر ان سے تہ بر تہ چڑھے ہوئے دانے نکالے اور کھجور کے شگوفوں سے پھلوں کے گچھے کے گچھے پیدا کیے جو بوجھ کے مارے جھُکے پڑتے ہیں، اور انگور، زیتون اور انار کے باغ لگائے جن کے پھل ایک دُوسرے سے ملتے جُلتے بھی ہیں اور پھر ہر ایک کی خصُوصیات جُدا جُدا بھی ہیں۔ یہ درخت جب پھلتے ہیں تو ان میں پَھل آنے اور پھر اُن کے پکنے کی کیفیت ذرا غور کی نظر سے دیکھو، اِن چیزوں میں نشانیاں ہیں اُن لوگوں کے لیے جو ایمان لاتے ہیں۔اِس پر بھی لوگوں نے جنوں کو اللہ کا شریک ٹھیرا دیا،۶۷ حالانکہ وہ اُن کا خالق ہے ، اور بے جانے بوجھے اس کے لیے بیٹے اور بیٹیاں تصنیف کر دیں،۶۸ حالانکہ وہ پاک اور بالاتر ہے اُن باتوں سے جو یہ لوگ کہتے ہیں۔ ؏١۲

 

تفسیر

 

۶۲-یعنی زمین کی تہوں میں بیج کو پھاڑ کر اس سے درخت کی کونپل نکالنے والا۔

۶۳-زندہ کو مُردہ سے نکالنے کا مطلب بے جان مادّہ سے زندہ مخلوقات کو پیدا کرنا ہے ، اور مُردہ کو زندہ سے خارج کرنے کا مطلب جاندار اجسام میں سے بے جان مادّوں کو خارج کرنا۔

۶۴-یعنی اِس حقیقت کی نشانیاں کہ خدا صرف ایک ہے ، کوئی دُوسرا نہ خدائی کی صفات رکھتا ہے ، نہ خدائی کے اختیارات میں حصّہ دار ہے ، اور نہ خدائی کے حقوق میں سے کسی حق کا مستحق ہے۔ مگر ان نشانیوں اور علامتوں سے حقیقت تک پہنچنا جاہلوں کے بس کی بات نہیں، اس دولت سے بہرہ ور صرف وہی لوگ ہو سکتے ہیں جو علمی طریق پر آثارِ کائنات کا مشاہدہ کرتے ہیں۔

۶۵-یعنی نسلِ انسانی کی ابتداء ایک متنفس سے کی

۶۶-یعنی نوع انسانی کی تخلیق اور اس کے اندر مردو زن کی تفریق اور تناسل کے ذریعہ سے اس کی افزائش، اور رحم مادر میں انسانی بچہ کا نطفہ قرار پا جانے کے بعد سے زمین میں اس کے سونپے جانے تک اس کی زندگی کے مختلف اطوار پر اگر نظر ڈالی جائے تو اس میں بے شمار کھُلی کھُلی نشانیاں آدمی کے سامنے آئیں گی جن سے وہ اُس حقیقت کو پہچان سکتا ہے جو اُوپر بیان ہوئی ہے۔ مگر ان نشانیوں سے یہ معرفت حاصل کرنا انہی لوگوں کا کام ہے جو سمجھ بُوجھ سے کام لیں۔ جانوروں کی طرح زندگی بسر کرنے والے ، جو صرف اپنی خواہشات سے اور انھیں پورا کرنے کی تدبیروں ہی سے غرض رکھتے ہیں، اِن نشانیوں میں کچھ بھی نہیں دیکھ سکتے۔

۶۷-یعنی اپنے وہم و گمان سے یہ ٹھیرا لیا کہ کائنات کے انتظام میں اور انسان کی قسمت کے بنانے اور بگاڑنے میں اللہ کے ساتھ دُوسری پوشیدہ ہستیاں بھی شریک ہیں، کوئی بارش کا دیوتا ہے تو کوئی روئیدگی کا، کوئی دولت کی دیوی ہے تو کوئی بیماری کی، وغیرہ ذالکَ مِن الخرافات۔ اس قسم کے لغو اعتقادات دُنیا کی تمام مشرک قوموں میں ارواح اور شیاطین اور راکشسوں اور دیوتاؤں اور دیویوں کے متعلق پائے جاتے رہے ہیں۔

۶۸-جُہلائے عرب فرشتوں کو خدا کی بیٹیاں کہتے تھے۔ اِسی طرح دُنیا کی دُوسری مشرک قوموں نے بھی خدا سے سلسلہ ٔ نسب چلایا ہے اور پھر دیوتاؤں اور دیویوں کی ایک پُوری نسل اپنے وہم سے پیدا کر دی ہے۔

 

ترجمہ

 

وہ تو آسمانوں اور زمین کا موجد ہے۔ اس کا کوئی بیٹا کیسے ہو سکتا ہے جبکہ کوئی اس کی شریکِ زندگی ہی نہیں ہے۔ اس نے ہر چیز کو پیدا کیا ہے اور وہ ہر چیز کا عِلم رکھتا ہے۔۔ یہ ہے اللہ تمہارا رب، کوئی خدا اس کے سوا نہیں ہے ، ہر چیز کا خالق، لہذا تم اسی کی بندگی کرو اور وہ ہر چیز کا کفیل ہے۔ نگاہیں اس کو نہیں پا سکتیں اور وہ نگاہوں کو پا لیتا ہے ، وہ نہایت باریک بیں اور باخبر ہے  دیکھو، تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے بصیرت کی روشنیاں آ گئی ہیں، اب جو بینائی سے کام لے گا اپنا ہی بھلا کرے گا اور جو اندھا بنے گا خود نقصان اُٹھائے گا، میں تم پر کوئی پاسبان نہیں ہوں۔۶۹ اِس طرح ہم اپنی آیات کو بار بار مختلف طریقوں سے بیان کرتے ہیں اور اس لیے کرتے ہیں کہ یہ لوگ کہیں تم کسی سے پڑھ آئے ہو، اور جو لوگ علم رکھتے ہیں ان پر ہم حقیقت کو روشن کر دیں۔۷۰اے محمد ؐ! اُس وحی کی پیروی کیے جاؤ جو تم پر تمہارے رب کی طرف سے نازل ہوئی ہے کیونکہ اُس ایک رب کے سوا کوئی اور خدا نہیں ہے۔ اور ان مشرکین کے پیچھے نہ پڑو۔ اگر اللہ کی مشیّت ہوتی تو (وہ خود ایسا بندوبست کر سکتا تھا کہ) یہ لوگ شرک نہ کرتے۔ تم کو ہم نے ان پر پاسبان مقرر نہیں کیا ہے اور نہ تم ان پر حوالہ دار ہو۔۷۱اور (اے ایمان لانے والو !) یہ لوگ اللہ کے سوا جن کو پکارتے ہیں انہیں گالیاں نہ دو، کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ شرک سے آگے بڑھ کر جہالت کی بنا پر اللہ کو گالیاں دینے لگیں۔۷۲ ہم نے تو اسی طرح ہر گروہ کے لیے اس کے عمل کو خوشنما بنا دیا ہے ،۷۳ پھر انہیں اپنے رب ہی کی طرف پلٹ کر آنا ہے ، اُس وقت وہ اُنہیں بتا دے گا کہ وہ کیا کرتے رہے ہیں۔یہ لوگ کڑی کڑی قسمیں کھا کھا کر کہتے ہیں کہ اگر کوئی نشانی ۷۴ ہمارے سامنے آ جائے تو ہم اس پر ایمان لے آئیں گے۔ اے محمد ؐ ! ان سے کہو کہ ’’نشانیاں تو اللہ کے پاس ہیں‘‘۔۷۵ اور تمہیں کیسے سمجھایا جائے کہ اگر نشانیاں آ بھی جائیں تو یہ ایمان لانے والے نہیں۔۷۶ہم اُسی طرح ان کے دلوں اور نگاہوں کو پھیر رہے ہیں جس طرح یہ پہلی مرتبہ اس پر ایمان نہیں لائے تھے۔۷۷ ہم انہیں ان کی سرکشی ہی میں بھٹکنے کے لیے چھوڑے دیتے ہیں۔ ؏١۳

 

تفسیر

 

۶۹-یہ فقرہ اگرچہ اللہ ہی کا کلام ہے مگر نبی ؐ کی طرف سے ادا ہو رہا ہے۔ قرآن مجید میں جس طرح مخاطب بار بار بدلتے ہیں کہ کبھی نبی ؐ سے خطاب ہوتا ہے ، کبھی اہلِ ایمان سے ، کبھی اہلِ کتاب سے ، کبھی کفّار و مشرکین سے ، کبھی قریش کے لوگوں سے ، کبھی اہلِ عرب سے اور کبھی عام انسانوں سے ، حالانکہ اصل غرض پوری نوعِ انسانی کی ہدایت ہے ، اسی طرح متکلّم بھی بار بار بدلتے ہیں کہ کہیں متکلّم خدا ہوتا ہے ، کہیں وحی لانے والا فرشتہ، کہیں فرشتوں کا گروہ، کہیں نبی ؐ، اور کہیں اہلِ ایمان، حالانکہ ان سب صُورتوں میں کلام وہی ایک خدا کا کلام ہوتا ہے۔

’’میں تم پر پاسبان نہیں ہوں‘‘ یعنی میرا کام بس اتنا ہی ہے کہ اس روشنی کو تمہارے سامنے پیش کر دوں۔ اس کے بعد آنکھیں کھول کر دیکھنا یا نہ دیکھنا تمہارا اپنا کام ہے۔ میرے سپرد یہ خدمت نہیں کی گئی ہے کہ جنھوں نے خود آنکھیں بند کر رکھی ہیں ان کی آنکھیں زبردستی کھولوں اور جو کچھ وہ نہیں دیکھتے وہ انھیں دکھا کر ہی چھوڑوں۔

۷۰-یہ وہی بات ہے جو سُورۂ بقرہ رکوع ۳ میں فرما دی گئی ہے کہ مچھّر اور مکڑی وغیرہ چیزوں کی تمثیلیں سن کر حق کے طالب تو اس صداقت کو پا لیتے ہیں جو ان تمثیلوں کے پیرایہ میں بیان ہوئی ہے ، مگر جن پر انکار کا تعصّب مسلّط ہے وہ طنز سے کہتے ہیں کہ بھلا اللہ کے کلام میں ان حقیر چیزوں کے ذکر کا کیا کام ہو سکتا ہے۔ اُسی مضمون کا یہاں ایک دُوسرے پیرایہ میں بیان کیا گیا ہے۔ کہنے کا مدّعا یہ ہے کہ یہ کلام لوگوں کے لیے آزمائش بن گیا ہے جس سے کھوٹے اور کھرے انسان ممیّز ہو جاتے ہیں۔ ایک طرح کے انسان وہ ہیں جو اس کلام کو سُن کر یا پڑھ کر اس کے مقصد و مدّعا پر غور کرتے ہیں اور جو حکمت و نصیحت کی باتیں اس میں فرمائی گئی ہیں ان سے فائدہ اُٹھاتے ہیں۔ بخلاف اس کے دُوسری طرح کے انسانوں کا حال یہ ہے کہ اسے سُننے اور پڑھنے کے بعد ان کا ذہن مغزِ کلام کی طرف متوجّہ ہونے کے بجائے اس ٹٹول میں لگ جاتا ہے کہ آخر یہ اُمّی انسان یہ مضامین لایا کہاں سے ہے ، اور چونکہ مخالفانہ تعصّب پہلے سے ان کے دل پر قبضہ کیے ہوئے ہوتا ہے اس لیے ایک خدا کی طرف سے نازل شدہ ہونے کے امکان کو چھوڑ کر باقی تمام ممکن التّصور صُورتیں وہ اپنے ذہن سے تجویز کر تے ہیں اور انھیں اس طرح بیان کرتے ہیں کہ گویا انھوں نے اس کتاب کے ماخذ کی تحقیق کر لی ہے۔

۷۱-مطلب یہ ہے کہ تمھیں داعی اور مبلّغ بنایا گیا ہے ، کوتوال نہیں بنایا گیا۔ تمہارا کام صرف یہ ہے کہ لوگوں کے سامنے اِس روشنی کو پیش کر دو اور اظہارِ حق کا حق ادا کرنے میں اپنی حد تک کوئی کسر اُٹھا نہ رکھو۔ اب اگر کوئی اس حق کو قبول نہیں کرتا تو نہ کرے۔ تم کو نہ اس کام پر مامور کیا گیا ہے کہ لوگوں کو حق پرست بنا کر ہی رہو، اور نہ تمہاری ذمّہ داری و جواب دہی میں یہ بات شامل ہے کہ تمہارے حلقۂ نبوّت میں کوئی شخص باطل پر ست نہ رہ جائے۔ لہٰذا اس فکر میں خواہ مخواہ اپنے ذہن کو پریشان نہ کرو کہ اندھوں کو کس طرح بینا بنایا جائے اور جو آنکھیں کھول کر نہیں دیکھنا چاہتے انہیں کیسے دکھایا جائے۔ اگر فی الواقع حکمتِ  الٰہی کا تقاضا یہی ہوتا کہ دنیا میں کوئی شخص باطل پرست نہ رہنے دیا جائے تو اللہ کو یہ کام تم سے لینے کی کیا ضرورت تھی؟ کیا اس کا ایک ہی تکوینی اشارہ تمام انسانوں کو حق پرست نہ بنا سکتا تھا؟ مگر وہاں تو مقصُود سرے سے یہ ہے ہی نہیں۔ مقصُود تو یہ ہے کہ انسان کے لیے حق اور باطل کے انتخاب کی آزادی باقی رہے اور پھر حق کی روشنی اس کے سامنے پیش کر کے اُس کی آزمائش کی جائے کہ وہ دونوں چیزوں میں سے کس کو انتخاب کرتا ہے۔ پس تمہارے لیے صحیح طرزِ عمل یہ ہے کہ جو روشنی تمھیں دکھا دی گئی ہے اُس کے اُجالے میں سیدھی راہ پر خود چلتے رہو اور دُوسروں کو اُس کی دعوت دیتے رہو۔ جو لوگ اس دعوت کو قبول کر لیں انھیں سینے سے لگاؤ اور ان کا ساتھ نہ چھوڑو خواہ وہ دنیا کی نگاہ میں کیسے ہی حقیر ہوں۔ اور جو اسے قبول نہ کریں ان کے پیچھے نہ پڑو۔ جس انجامِ بد کی طرف وہ خود جانا چاہتے ہیں اور جانے پر مُصِر ہیں اس کی طرف جانے کے لیے انھیں چھوڑ دو۔

۷۲-یہ نصیحت نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے پیرووں کو کی گئی ہے کہ اپنی تبلیغ کے جوش میں وہ بھی اتنے بے قابو نہ ہو جائیں کہ مناظرے سے اور بحث و تکرار سے معاملہ بڑھتے بڑھتے غیر مسلموں کے عقائد پر سخت حملے کرنے اور ان کے پیشواؤں اور معبُودوں کو گالیاں دینے تک نوبت پہنچ جائے ، کیونکہ یہ چیز ان کو حق سے قریب لانے کے بجائے اور زیادہ دُور پھینک دے گی۔

۷۳-یہاں پھر اُس حقیقت کے ملحوظ رکھنا چاہیے جس کی طرف اس سے پہلے بھی ہم اپنے حواشی میں اشارہ کر چکے ہیں کہ جو اُمُور قوانینِ  فطرت کے تحت رُو نما ہوتے ہیں اللہ تعالیٰ انھیں اپنا فعل قرار دیتا ہے ، کیونکہ وہی ان قوانین کا مقرر کرنے والا ہے اور جو کچھ ان قوانین کے تحت رُو نما ہوتا ہے وہ اسی کے امر سے رُو نما ہوتا ہے۔ جس بات کو اللہ تعالیٰ یوں بیان فرماتا ہے کہ ہم نے ایسا کیا ہے اسی کو اگر ہم انسان بیان کریں تو اس طرح کہیں گے کہ فطرۃً ایسا ہی ہوا کرتا ہے۔

۷۴-نشانی سے مراد کوئی ایسا صریح محسُوس معجزہ ہے جسے دیکھ کر نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی صداقت اور آپ ؐ کے مامور مِنَ اللہ ہونے کو مان لینے کو سوا کوئی چارہ نہ رہے۔

۷۵-یعنی نشانیوں کے پیش کرنے اور بنا لانے کی قدرت مجھے حاصل نہیں ہے ، ان کا اختیار تو اللہ کو ہے ، چاہے دکھائے اور نہ چاہے نہ دکھائے۔

۷۶-یہ خطاب مسلمانوں سے ہے جو بے تاب ہو ہو کر تمنّا کرتے تھے اور کبھی کبھی زبان سے بھی اس خواہش کا اظہار کر دیتے تھے کی کوئی ایسی نشانی ظاہر ہو جائے جس سے اُن کے گمراہ بھائی راہِ راست پر آ جائیں۔ ان کی اسی تمنا اور خواہش کے جواب میں ارشاد ہو رہا ہے کہ آخر تمھیں کس طرح سمجھایا جائے کہ ان لوگوں کا ایمان لانا کسی نشانی کے ظہور پر موقوف نہیں ہے۔

۷۷-یعنی ان کے اندر وہی ذہنیت کام کیے جا رہی ہے جس کی وجہ سے انہوں نے پہلی مرتبہ محمد صلی اللہ علیہ و سلم کی دعوت سُن کر اسے ماننے سے انکار کر دیا تھا۔ ان کے نقطۂ نظر میں ابھی تک کوئی تغیر واقع نہیں ہوا ہے ، وہی عقل کا پھیر اور نظر کا بھینگا پن جو انھیں اُس وقت صحیح سمجھنے اور صحیح دیکھنے سے روک رہا تھا آج بھی ان پر اسی طرح مُسلّط ہے۔

 

ترجمہ

 

اگر ہم فرشتے بھی ان پر نازل کر دیتے اور مُردے ان سے باتیں کرتے اور دنیا بھر کی چیزوں کو ہم ان کی آنکھوں کے سامنے جمع کر دیتے تب بھی یہ ایمان لانے والے نہ تھے ، اِلّا یہ کہ مشیَّتِ الٰہی یہی ہو کہ وہ ایمان لائیں،۷۸ مگر اکثر لوگ نادانی کی باتیں کرتے ہیں۔ اور ہم نے تو اسی طرح ہمیشہ شیطان انسانوں اور شیطان جِنوں کو ہر نبی کا دُشمن بنایا ہے جو ایک دُوسرے پر خوش آیند باتیں دھوکے اور فریب کے طور پر القا کرتے رہے ہیں۔۷۹ اگر تمہارے رب کی مشیَّت یہ ہوتی کہ وہ ایسا نہ کریں تو وہ کبھی نہ کرتے۔۸۰ پس تم اُنہیں ان کے حال پر چھوڑ دو کہ اپنی افترا پردازیاں کرتے رہیں۔ (یہ سب کچھ ہم انہیں اسی لیے کرنے دے رہے ہیں کہ) جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے اُن کے دل اِس (خوشنما دھوکے ) کی طرف مائل ہوں اور وہ اس سے راضی ہو جائیں اور اُن بُرائیوں کا اِکتساب کریں جن کا اِکتساب وہ کرنا چاہتے ہیں۔۔۔۔پھر جب حال یہ ہے تو کیا میں اللہ کے سوا کوئی اور فیصلہ کرنے والا تلاش کروں، حالانکہ اس نے پوری تفصیل کے ساتھ تمہاری طرف کتاب نازل کر دی ہے ؟۸۱ اور جن لوگوں کو ہم نے (تم سے پہلے ) کتاب دی تھی وہ جانتے ہیں کہ یہ کتاب تمہارے رب ہی کی طرف سے حق کے ساتھ نازل ہوئی ہے لہٰذا تم شک کرنے والوں میں شامل نہ ہو۔۸۲تمہارے رب کی بات سچائی اور انصاف کے اعتبار سے کامل ہے ، کوئی اس کے فرامین کو تبدیل کرنے والا نہیں ہے اور وہ سب کچھ سُنتا اور جانتا ہے۔اور اے محمد ؐ ! اگر تم اُن لوگوں کی اکثریّت کے کہنے پر چلو جو زمین میں بستے ہیں تو وہ تمہیں اللہ کے راستہ سے بھٹکا دیں گے۔ وہ تو محض گمان پر چلتے اور قیاس آرا ئیاں کرتے ہیں۔۸۳در حقیقت تمہارا رب زیادہ بہتر جانتا ہے کہ کون اُس کے راستے سے ہٹا ہوا ہے اور کون سیدھی راہ پر ہے۔پھر اگر تم لوگ اللہ کی آیات پر ایمان رکھتے ہو تو جس جانور پر اللہ کا نام لیا گیا ہو اُس کا گوشت کھاؤ۔۸۴آخر کیا وجہ ہے کہ تم وہ چیز نہ کھاؤ جس پر اللہ کا نام لیا گیا ہو ، حالانکہ جن چیزوں کا استعمال حالتِ اضطرار کے سوا دُوسری تمام حالتوں میں اللہ نے حرام کر دیا ہے اُن کی تفصیل وہ تمہیں بتا چکا ہے۔۸۵ بکثرت لوگوں کا حال یہ ہے کہ علم کے بغیر محض اپنی خواہشات کی بنا پر گمراہ کُن باتیں کرتے ہیں، ان حد سے گزرنے والوں کو تمہارا رب خوب جانتا ہے۔تم کھلے گناہوں سے بھی بچو اور چھُپے گناہوں سے بھی، جو لوگ گناہ کا اکتساب کرتے ہیں وہ اپنی اس کمائی کا بدلہ پا کر رہیں گے۔اور جس جانور کو اللہ کا نام لے کر ذبح نہ کیا گیا ہو اس کا گوشت نہ کھاؤ، ایسا کرنا فسق ہے۔ شیاطین اپنے ساتھیوں کے دِلوں میں شکوک و اعتراضات القا کرتے ہیں تاکہ وہ تم سے جھگڑا کریں۔۸۶ لیکن اگر تم نے اُن کی اطاعت قبول کر لی تو یقیناً تم مشرک ہو۔۸۷ ؏١۴

 

تفسیر

 

۷۸-یعنی یہ لوگ اپنے اختیار و انتخاب سے تو حق کو باطل کے مقابلہ میں ترجیح دے کر قبول کرنے والے ہیں نہیں۔ اب اِن کے حق پرست بننے کی صرف ایک ہی صورت باقی ہے اور وہ یہ کہ عملِ تخلیق و تکوین سے جس طرح تمام بے اختیار مخلوقات کو حق پرست پیدا کیا گیا ہے اسی طرح انھیں بھی بے اختیار کر کے جِبلّی و پیدائشی حق پرست بنا ڈالا جائے۔ مگر یہ اُس حکمت کے خلاف ہے جس کے تحت اللہ نے انسان کو پیدا کیا ہے۔ لہٰذا تمہارا یہ توقع کرنا فضول ہے کہ اللہ تعالیٰ براہِ راست اپنی تکوینی مداخلت سے ان کو مومن بنائے گا۔

۷۹-یعنی آج اگر شیاطینِ جِن و انس متفق ہو کر تمہارے مقابلہ میں ایڑی چوڑی کا زور لگا رہے ہیں تو گھبرانے کی کوئی بات نہیں۔ یہ کوئی نئی بات نہیں ہے جو تمہارے ہی ساتھ پیش آ رہی ہو۔ ہر زمانہ میں ایسا ہی ہوتا آیا ہے کہ جب کوئی پیغمبر دُنیا کو راہِ راست دکھانے کے لیے اُٹھا تو تمام شیطانی قوتیں اس کے مِشن کو ناکام کرنے کے لیے کمر بستہ ہو گئیں۔

’’خوش آیند باتوں‘‘ سے مراد وہ تمام چالیں اور تدبیریں اور شکوک و شبہات و اعتراضات ہیں جن سے یہ لوگ عوام کو داعیِ حق اور اس کی دعوت کے خلاف بھڑکانے اور اکسانے کا کام لیتے ہیں۔ پھر ان سب کو بحیثیت مجموعی دھوکے اور فریب سے تعبیر کیا گیا ہے۔ کیونکہ حق سے لڑنے کے لیے جو ہتھیار بھی مخالفین حق استعمال کرتے ہیں وہ نہ صرف دُوسروں کے لیے بلکہ خود ان کے لیے بھی حقیقت کے اعتبار سے محض ایک دھوکا ہوتے ہیں اگرچہ بظاہر وہ ان کو نہایت مفید اور کامیاب ہتھیار نظر آتے ہیں۔

۸۰-یہاں ہماری سابق تشریحات کے علاوہ یہ حقیقت بھی اچھی طرح ذہن نشین ہو جانی چاہیے کہ قرآن کی رُو سے اللہ تعالیٰ کی مشِیَّت اور اس کی رضا میں بہت بڑا فرق ہے جس کو نظر اندا