FavoriteLoadingپسندیدہ کتابوں میں شامل کریں

 

ترجمہ و تفسیر قرآن

 

حصہ ۱: فاتحہ، بقرہ

 

                ترجمہ: حافظ نذر احمد

 

 

 

 

اس ترجمہ قرآن میں تحت اللفظ ترجمہ حافظ نذر احمد صاحب کے ’’ترجمہ قرآن‘‘ سے لیا گیا ہے، اور ہر سورۃ کا تعارف مفتی محمد تقی عثمانی صاحب کا آسان ترجمہ قرآن(توضیح القرآن)سے پیش کیا گیا ہے، قرآن کریم کی جو آیتیں بغیر تشریحات کے سمجھ میں آ جاتی ہیں وہاں تشریح کے بجائے صرف ترجمہ پر اکتفا کیا گیا ہے، اور جن آیتوں کو سمجھنے کے لئے تشریحات ضروری ہیں وہاں پر توضیح القرآن، معارف القرآن اور تفسیر عثمانی سے مختصر تشریح کی گئی ہے۔

 

 

 

 

۱۔ سورۂ فاتحہ

 

                تعارف

 

سورۂ فاتحہ نہ صرف قرآنِ مجید کی موجودہ ترتیب میں سب سے پہلی سورت ہے، بلکہ یہ پہلی وہ سورت ہے جو مکمل طور پر نازل ہوئی، اس سے پہلے کوئی سورت پوری نہیں نازل ہوئی تھی، بلکہ بعض سورتوں کی کچھ آیتیں آئی تھیں، اس سورت کو قرآنِ کریم کے شروع میں رکھنے کا منشا بظاہر یہ ہے کہ جو شخص قرآنِ کریم سے ہدایت حاصل کرنا چاہتا ہواسے سب سے پہلے اپنے خالق و مالک کی صفات کا اعتراف کرتے ہوئے اس کا شکر ادا کرنا چاہیے اور ایک حق کے طلب گار کی طرح اسی سے ہدایت مانگنی چاہیے، چنانچہ اس میں بندوں کو وہ دعا سکھائی گئی ہے جو ایک طالبِ حق کو اللہ سے مانگنی چاہیے، یعنی سیدھے راستے کی دعا، اس طرح اس سورت میں صراطِ مستقیم یا سیدھے راستے کی جو دعا مانگی گئی ہے پورا قرآن اس کی تشریح ہے کہ وہ سیدھاراستہ کیا ہے ؟

 

مکیہ

آیات:۷          رکوع:۱

 

اللہ کے نام سے جو بہت مہربان رحم کرنے والا ہے

تشریح:اسلام نے ہر کام کو اللہ کے نام سے شروع کرنے کی ہدایت دے کر انسان کی پوری زندگی کا رخ اللہ تعالی کی طرف ا س طرح پھیر دیا ہے کہ وہ قدم قدم پر اس حلف وفاداری کی تجدید کرتا رہے کہ میرا وجود اور میرا کوئی کام بغیر  اللہ کی مشیت و ارادے اور اس کی امداد کے نہیں ہوسکتا، جس نے اس کی ہر نقل و حرکت اور تمام معاشی اور دنیوی کاموں کو بھی ایک عبادت بنا دیا۔

مسئلہ:قرآن کی تلاوت شروع کرنے کے وقت اول اَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطَانِ الرَّجِیْم اور پھر بِسْمِ اللہِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ پڑھنا سنت ہے، اور درمیانِ تلاوت بھی سورۂ برأت کے علاوہ ہر سورت کے شروع میں بسم اللہ پڑھنا سنت ہے۔

(معارف القرآن)

 

تمام تعریفیں اللہ کی ہیں جو تمام جہانوں کا رب ہے (۱)

اگر آپ کسی عمارت کی تعریف کریں تو در حقیقت وہ اس کے بنانے والے کی تعریف ہوتی ہے، لہذا اس کائنات میں جس کسی چیز کی تعریف کی جائے وہ بالآخر اللہ تعالی ہی کی تعریف ہے، کیونکہ وہ چیز اسی کی بنائی ہوئی ہے، تمام جہانوں کا پروردگار کہہ کر اسی طرف اشارہ کیا گیا ہے، انسانوں کا جہان ہو یا جانوروں کا، سب کی تخلیق اور پرورش اللہ تعالی ہی کا کام ہے اور ان جہانوں میں جو کوئی چیز قابل تعریف ہے وہ اللہ تعالی کی تخلیق اور شانِ ربوبیت کی وجہ سے ہے۔

(توضیح القرآن)

 

جو بہت مہربان رحم کرنے والا ہے (۲)جو روزِ جزا کا مالک ہے (۳)

الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ: عربی کے قاعدے سے ‘‘رحمن’’ کے معنی ہیں وہ ذات جس کی رحمت بہت وسیع(Extensive) ہو، یعنی اس رحمت کا فائدہ سب کو پہنچتا ہو اور ‘‘رحیم’’ کے معنی ہیں وہ ذات جس کی رحمت بہت زیادہ (Intensive) ہو، یعنی جس پر ہو مکمل طور پر ہو، اللہ تعالی کی رحمت دنیا میں سب کو پہنچتی ہے، جس سے مؤمن کافر سب فیضیاب ہو کر رِزق پاتے ہیں اور دنیا کی نعمتوں سے فائدہ اٹھاتے ہیں اور آخرت میں اگرچہ کافروں پر رحمت نہیں ہو گی، لیکن جس کسی پر (یعنی مؤمنوں پر)ہو گی، مکمل ہو گی کہ نعمتوں کے ساتھ کسی تکلیف کا کوئی شائبہ نہیں ہو گا۔

(توضیح القرآن)

 

مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ :روزِ جزا کا مطلب ہے وہ دن جب تمام بندوں کو اُن کے دنیا میں کیے ہوئے اعمال کا بدلہ دیا جائے گا، یوں تو روزِ جزا سے پہلے بھی کائنات کی ہر چیز کا اصلی مالک اللہ تعالی ہے، لیکن یہاں خاص طور پر روزِ جزا کے مالک ہونے کا ذکر اس لیے کیا گیا کہ دنیا میں اللہ تعالی نے ہی انسانوں کو بہت سی چیزوں کا مالک بنایا ہوا ہے، یہ ملکیت اگرچہ ناقص اور عارضی ہے تاہم ظاہری صورت کے لحاظ سے ملکیت ہی ہے، لیکن قیامت کے دن جب اللہ تعالی جزا وسزا کا مرحلہ آئے گا تو یہ ناقص اور عارضی ملکیتیں بھی ختم ہو جائیں گی، اُس وقت ظاہری ملکیت بھی اللہ تعالی کے سوا کسی کی نہ ہو گی۔ (توضیح القرآن)

 

(اے اللہ)ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھی سے مدد مانگتے ہیں (۴)

تشریح:یہاں سے بندوں کو اللہ تعالی سے دعا کرنے کا طریقہ سکھایا جا رہا ہے اور اسی کے ساتھ یہ واضح کر دیا گیا ہے کہ اللہ تعالی کے سوا کوئی کسی قسم کی عبادت کے لائق نہیں، نیز ہر کام میں حقیقی مدد اللہ تعالی ہی سے مانگنی چاہیے، کیونکہ صحیح معنی میں کار ساز اُس کے سوا کوئی نہیں، دنیا کے بہت سے کاموں میں بعض اوقات کسی انسان سے جو مدد مانگی جاتی ہے، وہ اُسے کارساز سمجھ کر نہیں، بلکہ ایک ظاہری سبب سمجھ کر مانگی جاتی ہے۔

(توضیح القرآن)

 

ہمیں سیدھے راستے کی ہدایت عطا فرما(۵)

سیدھے راستے سے مراد دین کاو ہ راستہ ہے جس میں افراط و تفریط نہ ہو، افراط کے معنی حد سے آگے بڑھنا اور تفریط کے معنی کوتاہی کرنا۔

(معارف القرآن)

 

اُن لوگوں کے راستے کی جن پر تو نے انعام کیا ہے (۶)

اُن لوگوں کے راستے کی جن پر تو نے انعام کیا ہے،  قرآن کریم کی ایک دوسری آیت میں اس کی تفصیل بیان کی گئی ہے، یعنی وہ لوگ جن پر اللہ تعالی کا انعام ہوا: انبیاء، صدیقین، شہداء اور صالحین ومقبولان ِ بارگاہِ الہی ہیں (النساء:۶۹)ان چار طبقوں کے حضرات جس راستہ پر چلیں وہ صراطِ مستقیم ہے۔

(معارف القرآن)

 

نہ کہ اُن لوگوں کے راستے کی جن پر غضب نازل ہوا اور نہ اُن کے راستے کی جو بھٹکے ہوئے ہیں (۷)

تشریح:مغضوب علیہم سے وہ لوگ مراد ہیں جو دین کے احکام کو جاننے پہچاننے کے باوجود شرارت یا نفسانی اغراض کی وجہ سے ان کی خلاف ورزی کرتے ہیں، یا دوسرے لفظوں میں احکام الہیہ کی تعمیل میں کوتاہی(تفریط) کرتے ہیں، جیسے عام طور پر یہود کا حال تھا، کہ دنیا کے ذلیل مفاد کے خاطر دین کو قربان کرتے اور انبیاءؑ کی توہین کرتے تھے، اور ضالین سے مراد وہ لوگ ہیں جو ناواقفیت اور جہالت کے سبب دین کے معاملے میں غلط راستے پر پڑ گئے اور دین کی مقررہ حدود سے نکل کر افراط اور غلو میں مبتلا ہو گئے، جیسے عام طور پر نصاریٰ تھے، کہ نبی کی تعظیم میں اتنے بڑھے کہ انہیں کو خدا بنا لیا، ایک طرف یہ ظلم کہ اللہ کے انبیاء کی بات نہ مانیں انہیں قتل کرنے سے گریز نہ کریں اور دوسری طرف یہ زیادتی کہ ان کو خدا بنا لیں۔

(معارف القرآن)

۲۔ سورۂ بقرہ

 

                تعارف

 

یہ قرآن کریم کی سب سے لمبی سورت ہے، اس کی آیات۶۷تا۷۳میں اُس گائے کا واقعہ مذکور ہے جسے ذبح کرنے کا حکم بنی اسرائیل کو دیا گیا تھا، اس لئے اس سورت کا نام سورۃ البقرۃ ہے، کیونکہ بقرہ عربی میں گائے کو کہتے ہیں، سورت کا آغاز اسلام کے بنیادی عقائد یعنی توحید، رسالت اور آخرت کے بیان سے ہوا ہے، اسی ضمن میں انسانوں کی تین قسمیں یعنی، مؤمن، کافر اور منافق بیان کی گئی ہیں، پھر حضرت آدم علیہ السلام کی تخلیق کا واقعہ بیان فرمایا گیا ہے، تاکہ انسان کو اپنی پیدائش کا مقصد معلوم ہو، اس کے بعد آیات کے ایک طویل سلسلہ میں بنیادی طور پر خطاب یہودیوں سے ہے جو بڑی تعداد میں مدینہ منورہ کے آس پاس آباد تھے ان پر اللہ تعالی نے جو نعمتیں نازل فرمائیں اور جس طرح انہوں نے ناشکری اور نافرمانی سے کام لیا اس کا مفصل بیان ہے، پہلے پارہ کے تقریباً آخر میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کا تذکرہ ہے، اس لئے کہ انہیں نہ صرف یہودی اور عیسائی بلکہ عرب کے بت پرست بھی اپنا پیشوا مانتے تھے، ان سب کو یاد دلایا گیا کہ وہ خالص توحید کے قائل تھے اور انہوں نے کبھی کسی قسم کی شرک کو گوارہ نہیں کیا، اسی ضمن میں بیت اللہ کی تعمیر اور اُسے قبلہ بنانے کا موضوع زیر بحث آیا ہے، دوسرے پارہ کے شروع میں اس کے مفصل احکام بیان کرنے کے بعد اس سورت میں مسلمانوں کی انفرادی اور اجتماعی زندگی سے متعلق بہت سے احکام بیان فرمائے گئے ہیں جن میں عبادت سے لے کر معاشرت، خاندانی امور اور حکمرانی سے متعلق بہت سے مسائل داخل ہیں۔

(توضیح القرآن)

 

مدنیہ

آیات:۲۸۶       رکوعات:۴۰

 

الم(۱)(۱)

یہ کتاب ہے اس میں کوئی شک نہیں (۲)

پرہیز گاروں کے لئے ہدایت ہے (۳)(۲)

تشریح: (۱)مختلف سورتوں کے شروع میں یہ حروف اسی طرح الگ الگ نازل ہوئے تھے، ان کو حروف مقطعات کہتے ہیں اور صحیح بات یہ ہے کہ ان کا ٹھیک ٹھیک مطلب اللہ تعالی کے سوا کسی کو معلوم نہیں، یہ اللہ تعالی کی کتاب کا ایک راز ہے جس کی تحقیق میں پڑنے کی ضرورت نہیں اور عقیدے یا عمل کا کوئی مسئلہ ان کے سمجھنے پر موقوف نہیں۔

(۲)یعنی اس کتاب کی ہر بات کسی شک و شبہ کے بغیر درست ہے، انسان کی لکھی ہوئی کسی کتاب کو سوفیصد شک سے بالا تر نہیں سمجھا جا سکتا، کیونکہ انسان کتنا ہی بڑا عالم ہواس کا علم محدود ہوتا ہے اور اکثر اس کی کتاب اس کے ذاتی گمان پر مبنی ہوتی ہے، لیکن چونکہ یہ کتاب اللہ تعالی کی ہے جس کا علم لامحدود بھی ہے اور سوفیصد یقینی بھی، اس لئے اس میں کسی شک کی گنجائش نہیں، کسی کو شک ہو تو یہ اس کی ناسمجھی کی وجہ سے ہو گا کتاب کی کوئی بات شبہ والی نہیں۔

(۳)اگرچہ قرآن کریم نے صحیح راستہ ہر ایک کو دکھایا ہے خواہ وہ مؤمن ہو یا کافر اس لئے اس معنی کے لحاظ سے اس کی ہدایت سب کے لئے ہے لیکن نتیجے کے اعتبار سے دیکھا جائے تواس ہدایت کا فائدہ انہی پہنچتا ہے جو اس کی بات کو مان کر اس کے تمام احکام اور تعلیمات پر عمل کریں، اس لئے فرمایا گیا کہ ہدایت ہے پرہیزگاروں کے لئے جو بے دیکھی چیزوں پر ایمان لاتے ہیں، پرہیز گاری اور ڈر رکھنے کا مطلب یہ ہے کہ انسان یہ بات ہمیشہ پیش نظر رکھے کہ اسے ایک دن اللہ کے حضور اپنے تمام اعمال کا جواب دینا ہے لہذا مجھے کوئی کام ایسا نہ کرنا چاہئے جواس کی ناراضی کا باعث ہواسی خوف اور دھیان کا نام تقوی ہے۔

(توضیح القرآن)

 

جو غائب پر ایمان لاتے ہیں اور قائم کرتے ہیں نماز اور جو کچھ ہم نے انہیں دیا، وہ خرچ کرتے ہیں (۳)

تشریح: غیب سے مراد وہ چیزیں ہیں جو آنکھوں سے دکھائی نہیں دیتیں، نہ ہاتھ سے چھوکر یا ناک سے سونگھ کر انہیں محسوس کیا جا سکتا ہے، بلکہ وہ صرف اور صرف اللہ تعالی کی وحی کے ذریعے معلوم ہوتی ہیں، یعنی یا تو قرآن کریم میں ان کا ذکر ہے یا آنحضرتﷺ نے وحی کے ذریعے وہ باتیں معلوم کر کے ہمیں بتائی ہیں، مثلاً اللہ تعالی کی صفات، جنت و دوزخ کے حالات، فرشتے وغیرہ، اس آیت میں اللہ تعالی کے اُن متقی بندوں کی تعریف کی جا رہی ہے جو غیب کی چیزوں کو بغیر دیکھے صرف اللہ تعالی اور اس کے رسول ﷺ کے ارشادات پر یقین کر کے دل سے مانتے ہیں جو انہوں نے آنکھوں سے نہیں دیکھیں، یہ دنیا چونکہ امتحان کی جگہ ہے، اس لئے اگر یہ چیزیں آنکھوں سے نظر آ جاتیں اور پھر کوئی شخص ان پر ایمان لاتا تو کوئی امتحان نہ ہوتا، اللہ تعالی نے ان چیزوں کو انسان کی نگاہ سے پوشیدہ رکھا ہے لیکن ان کے وجود کے بیشمار دلائل مہیا فرما دئے ہیں کہ جب کوئی شخص ذرا انصاف سے غور کرے گا تو ان باتوں پر ایمان لے آئے گا اور امتحان میں کامیاب ہو گا۔

(توضیح القرآن)

 

(۲)یہ اللہ کے متقی بندے غیب پر ایمان کے ساتھ نماز قائم کرتے ہیں جو بدنی عبادتوں میں سب سے اہم ہے، اور اپنے مال میں سے اللہ تعالی کے راستے میں خرچ کرتے ہیں جس میں زکوٰۃ  و صدقات آ جاتے ہیں جو مالی عبادت ہے۔

اور جو لوگ اس پر ایمان رکھتے ہیں جو آپ پر نازل کیا گیا اور جو آپ سے پہلے نازل کیا گیا(۱)اور وہ آخرت پر یقین رکھتے ہیں (۲)(۴)

تشریح: (۱)یعنی اس بات پر ایمان رکھتے ہیں کے جو وحی حضور اکرمﷺ پر اتاری گئی وہ بھی بالکل سچی ہے اور جو آپ سے پہلے انبیائے کرام(علیہم السلام) مثلاً حضرت موسی حضرت عیسی علیہما السلام وغیرہ پر نازل کی گئی تھی وہ بھی بالکل سچی تھی اگرچہ بعد میں لوگوں نے اسے ٹھیک ٹھیک محفوظ نہ رکھا بلکہ اس میں تحریف کر دی۔

اس آیت میں اس طرف بھی اشارہ کر دیا گیا کہ وحی کاسلسلہ حضور اکرمﷺ پر ختم ہو گیا، آپﷺ کے بعد کوئی ایسا شخص پیدا نہیں ہو گا جس پر وحی آئے یا اسے پیغمبر بنایا جائے، کیونکہ یہاں اللہ تعالی نے صرف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہونے والی وحی اور آپ سے پہلے کے انبیاء علیہم السلام پر نازل ہونے والی وحی کا ذکر فرمایا ہے آپ کے بعد کی کسی وحی کا ذکر نہیں فرمایا۔

(۲)آخرت سے مراد وہ زندگی ہے جو مرنے کے بعد حاصل ہو گی اور جو ہمیشہ کے لئے ہو گی اور اس میں ہر بندے کو دنیا میں کئے ہوئے اعمال کا حساب دینا ہو گا اور اسی کی بنیاد پریہ فیصلہ ہو گا کہ وہ جنت میں جائے گا یا جہنم میں، اگرچہ یہ آخرت بھی غیب یعنی ان دیکھی چیزوں میں شامل ہے جس پر ایمان لانے کا ذکر سب سے پہلے کیا گیا تھا، لیکن آخر میں اسے علیحدہ کر کے خصوصی اہمیت کے ساتھ ذکر کیا گیا ہے شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ آخرت کا عقیدہ ہی درحقیقت انسان کی سوچ اور اس کی عملی زندگی کو صحیح راستے پر رکھتا ہے جو انسان یہ یقین رکھتا ہو کہ ایک دن مجھے اللہ کے سامنے پیش ہو کر اپنے ہر عمل کا جواب دینا ہے وہ کسی گناہ یا جرم کا ارتکاب پر کبھی ڈھٹائی کے ساتھ آمادہ نہیں ہو گا۔

(توضیح القرآن)

 

وہی لوگ اپنے رب کی طرف سے ہدایت پر ہیں، اور وہی لوگ کامیاب ہیں (۵)

تشریح: قرآن کریم ہر انسان کو صحیح راستہ دکھانے والا ہے لیکن ہدایت اور کامیابی انہی لوگوں کو ملے گی:

(۱) جو اللہ سے ڈرتے ہیں۔

(۲)غیب کی چیزوں پر ایمان لاتے ہیں۔

(۳)اور نمازوں کو قائم کرتے ہیں۔

(۴)جو کچھ اللہ تعالی نے ان کو دیا ہے اللہ کی رضا حاصل کرنے کے لئے اس کو خرچ کرتے ہیں۔

(۵)جو حضور اکرمﷺ پر نازل کیا گیا اور جو حضور اکرمﷺ سے پہلے نازل کیا گیا اُس پر ایمان لاتے ہیں۔

(۶)اور آخرت پر یقین رکھتے ہیں۔

 

بے شک جن لوگوں نے کفر کیا(۱)ان پر برابر ہے  آپ انہیں ڈرائیں یا نہ ڈرائیں، وہ ایمان نہیں لائیں گے (۲)(۶)

تشریح:  (۱)یہاں ان کافروں کا ذکر ہو رہا ہے جنہوں نے یہ طے کر لیا تھا کہ چاہے کتنے واضح اور روشن دلائل ان کے سامنے آ جائیں وہ کبھی آنحضرتﷺ کی دعوت پر ایمان نہیں لائیں گے، حضرت عبداللہ بن عباس ؓ نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا کہ یہ وہ لوگ ہیں جو کفر پر اڑ گئے ہیں۔

(۲)انبیاء کرام علیہم السلام لوگوں کو کفر اور بداعمالیوں کے برے انجام سے ڈراتے ہیں، لیکن جن لوگوں نے تہیہ کر رکھا ہے کہ کوئی بات ماننی نہیں ہے، ان کو برے انجام سے ڈرائیں یا نہ ڈرائیں وہ ایمان نہیں لائیں گے۔

(توضیح القرآن)

 

اللہ نے ان کے دلوں پر اور ان کے کانوں پر مہر لگا دی اور ان کی آنکھوں پر پردہ ہے اور ان کے لئے بڑا عذاب ہے (۷)

تشریح: اس آیت میں یہ واضح فرمایا گیا ہے کہ ضد اور ہٹ دھرمی بڑی خطرناک چیز ہے، اگر کوئی شخص ناواقفیت یا غفلت وغیرہ کی وجہ سے کسی غلطی کا ارتکاب کرے تو اس کی اصلاح کی امید ہوسکتی ہے، لیکن جو شخص غلطی پر اڑ جائے اور تہیہ کر لے کہ کسی بھی حالت میں بات نہیں ماننا ہے، تواس کی ضد کا آخری انجام یہ ہوتا ہے کہ اللہ تعالی کی طرف سے اس کے دل پر مہر  لگا دی جاتی ہے جس کے بعد اس سے حق کو قبول کرنے کی صلاحیت ہی ختم ہو جاتی ہے، اللہ تعالی اس حالت سے محفوظ رکھے، لہذا اس پر شبہ نہیں ہونا چاہئے کہ جب خود اللہ تعالی نے ان کے دل پر مہر لگا دی تو معذور ہو گئے اس لئے کہ یہ مہر لگانا خود انہی کی ضد اور تہیہ کرنے کا نتیجہ ہے کہ حق بات نہیں ماننی۔

(توضیح القرآن)

 

اور کچھ لوگ ہیں جو کہتے ہیں ہم ایمان لائے اللہ پر اور آخرت کے دن پر اور وہ ایمان لانے والے نہیں (۸)

تشریح: سورت کے شروع میں مؤمنوں کے اوصاف اور ان کا انجام خیر بیان فرمایا گیا، پھر ان لوگوں کا ذکر ہوا جو کھلے کافر ہیں، اب یہاں سے ایک تیسرے گروہ کا بیان ہو رہا ہے جسے منافق کہا جاتا ہے یہ لوگ ظاہر میں تو اپنے آپ کومسلمان کہتے تھے مگر دل سے مسلمان نہیں ہوئے تھے۔

(توضیح القرآن)

 

وہ دھوکہ دیتے ہیں اللہ کو اور ایمان والوں کو حالانکہ وہ نہیں دھوکہ دیتے مگر اپنے آپ کو اور وہ نہیں سمجھتے (۹)

تشریح: یعنی بظاہر تووہ اللہ اور مسلمانوں کو دھوکہ دینا چاہتے ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ وہ خود اپنے آپ کو دھوکہ دے رہے ہیں، کیونکہ اس دھوکے کا انجام خود اُن کے حق میں بُرا ہو گا، وہ سمجھ رہے ہیں کہ اپنے آپ کومسلمان ظاہر کر کے وہ کفر کے دنیوی انجام سے بچ گئے، حالانکہ آخرت میں اُن کو جو عذاب ہو گا وہ دنیا کے عذاب سے زیادہ سنگین ہے۔

(توضیح القرآن)

 

ان کے دلوں میں بیماری ہے سواللہ نے ان کی بیماری بڑھا دی اور ان کے لئے دردناک عذاب ہے کیونکہ وہ جھوٹ بولتے تھے (۱۰)

شروع میں انہوں نے اپنے اختیار سے اس گمراہی کو اپنایا اور اس پر اڑ گئے، یہ ان کے دل کی بیماری تھی، پھر ان کی ضد کے نتیجے میں اللہ تعالی نے ان کی بیماری کو اور بڑھا دیا کہ اب انہیں واقعی ایمان لانے کی توفیق نہیں ہو گی۔

(توضیح القرآن)

 

اور جب انہیں کہا جاتا ہے کہ زمین میں فساد نہ پھیلاؤ بے شک وہی لوگ فساد کرنے والے ہیں اور لیکن نہیں سمجھتے (۱۲)

تشریح: جب ان منافقین سے کہا گیا کہ تمہاری اس دو رخی روش سے فساد پیدا ہو رہا ہے، لہذا اس روش کو  چھوڑ دو تووہ منافقین کہتے کہ ہم فساد کرنے والے نہیں ہیں بلکہ ہم تو اصلاح کرنے والے ہیں، یہ منافقین کی جہالت تھی کہ اپنے عیب کو ہنر سمجھنے لگے اور مؤمنین کے خالص ایمان کو عیب سمجھنے لگے۔

 

اور جب انہیں کہا جاتا ہے تم ایمان لاؤ جیسے  لوگ ایمان لائے تووہ کہتے ہیں کیا ہم ایمان لائیں جیسے  بیوقوف ایمان لائے ؟سن رکھو خود وہی بیوقوف ہیں لیکن وہ جانتے نہیں (۱۳)

تشریح: اس آیت میں لفظ ناس سے مراد صحابہ کرامؓ ہیں، صحابہ کرامؓ کا ایمان ایک کسوٹی ہے، جس پر باقی ساری امت کے ایمان کو پرکھا جائے گا، عقیدہ اور عمل وہی معتبر ہو گا جو صحابہ کرامؓ کا تھا، منافقین نے صحابہ کرام کو بیوقوف کہا اور یہی ہر زمانہ کے گمراہوں کا طریقہ رہا ہے کہ جو ان کو صحیح راہ بتلائے اس کو بیوقوف اور جاہل قرار دیتے ہیں، مگر قرآن کریم نے بتلا دیا کہ درحقیقت وہ خود ہی بیوقوف ہیں کہ ایسی کھلی نشانیوں پر ایمان نہیں رکھتے۔

(ماخوذ معارف القرآن)

 

اور جب ان لوگوں سے ملتے ہیں جو ایمان لائے تو کہتے ہیں ہم ایمان لائے اور جب اپنے شیطانوں کے پاس اکیلے ہوتے ہیں تو کہتے ہیں ہم تمہارے ساتھ ہیں، ہم تو محض مذاق کرتے ہیں (۱۴)

تشریح: اس آیت میں منافقین کے نفاق اور دو رخی پالیسی کا اس طرح ذکر کیا گیا ہے کہ یہ لوگ جب مسلمانوں سے ملتے تو کہتے تھے کہ ہم مسلمان ہو گئے اور جب اپنی قوم کے کافر لوگوں سے ملتے تو کہتے تھے کہ ہم تو تمہارے ساتھ ہیں اور تمہاری قوم کے فرد ہیں اور مسلمانوں کے ساتھ تو محض مذاق کر رہے ہیں، یعنی ان کو بیوقوف بنا رہے ہیں۔

(ماخوذ معارف القرآن)

 

اللہ ان سے مذاق(کا معاملہ)کرتا ہے اور ان کو ان کی سرکشی میں بڑھاتا ہے، وہ اندھے ہو رہے ہیں (۱۵)

تشریح: یعنی اللہ تعالی نے ان کی رسی دراز کر رکھی ہے کہ ان کے دوغلے پن کی فوری سزا دنیا میں انہیں نہیں مل رہی ہے، جس سے وہ سمجھ رہے ہیں کہ ہماری تدبیر کارگر ہو گئی، چنانچہ وہ اپنی اس گمراہی میں اور پختہ ہوتے جا رہے ہیں، آخرت میں انہیں ایک دم پکڑ لیا جائے گا، چونکہ اللہ تعالی کا یہ عمل ان کے مذاق کا نتیجہ تھا اسے یہاں اللہ ان سے مذاق کرتا ہے کے عنوان سے تعبیر فرمایا گیا ہے۔

(توضیح القرآن)

 

یہی لوگ ہیں جنہوں نے ہدایت کے بدلے گمراہی خرید لی تو ان کی تجارت نے کوئی فائدہ نہ دیا اور نہ وہ ہدایت پانے والے تھے (۱۶)

تشریح: اس آیت میں منافقین کے اس حال کا ذکر ہے کہ انہوں نے اسلام کو بھی قریب سے دیکھا، اس کا ذائقہ بھی چکھا، اور کفر میں تو پہلے سے مبتلا ہی تھے، پھرکفرواسلام دونوں کو دیکھنے سمجھنے کے بعد انہوں نے اپنی ذلیل دنیاوی اغراض کے خاطراسلام کے بدلے کفر کو ترجیح دی، ان کے اس عمل کو قرآن کریم نے تجارت (کاروبار، بیوپار)کا نام دے کر یہ بتلایا کہ ان لوگوں کو بیوپار کا بھی سلیقہ نہ آیا کہ بہترین قیمتی چیز یعنی ایمان دے کر ردی اور تکلیف دہ چیز یعنی کفر خرید لیا۔

(معارف القرآن)

 

ان کی مثال اس شخص جیسی ہے جس نے آگ بھڑکائی،  پھر آگ نے اس کا اردگرد روشن کر دیا، تو اللہ نے چھین لی ان کی روشنی اور انہیں اندھیروں میں چھوڑ دیا وہ نہیں دیکھتے (۱۷)

وہ بہرے گونگے اور اندھے ہیں سووہ نہیں لوٹیں گے (۱۸)

تشریح: اس آیت میں ان منافقوں کی مثال دی جا رہی ہے جو اسلام کے واضح دلائل سامنے آنے کے باوجود نفاق کی گمراہی میں پھنسے رہے، اسلام کے واضح دلائل کو آگ کی روشنی سے تشبیہ دی گئی ہے کہ جس طرح اس روشنی سے ماحول کی چیزیں صاف نظر آنے لگتی ہیں اسی طرح اسلام کے دلائل سے حقیقت ان پر واضح ہو گئی، لیکن پھر ضد اور عناد کی وجہ سے اللہ تعالی نے یہ روشنی ان سے سلب کر لی اور وہ دیکھنے کی قوت سے محروم ہو گئے۔

(توضیح القرآن)

 

یا جیسے آسمان سے بارش ہو، اس میں اندھیرے ہوں اور گرج اور بجلی، وہ اپنے کانوں میں اپنی انگلیاں ٹھونس لیتے ہیں، کڑک کے سبب  موت کے ڈرسے، اور اللہ کافروں کو گھیرے ہوئے ہے (۱۹)

تشریح: منافقوں کی پہلی مثال تو ان منافقین سے متعلق تھی جو اسلام کے واضح دلائل سامنے آنے کے باوجود خوب سوچ سمجھ کر کفر اور نفاق کاراستہ اختیار کئے ہوئے تھے، اب منافقین کے اس گروہ کی مثال دی جا رہی ہے جو اسلام لانے کے بارے میں تذبذب کا شکار تھا، جب اسلام کی حقانیت کے دلائل سامنے آئے توا ن کے دل میں اسلام کی طرف جھکاؤ پیدا ہوتا اور وہ اسلام کی طرف بڑھنے لگتے، لیکن جب اسلامی احکام کی ذمہ داریاں اور حلال و حرام کی باتیں سامنے آتیں تو وہ اپنی خود غرضی کی وجہ سے رک جاتے، یہاں اسلام کو ایک برستی ہوئی بارش سے تشبیہ دی گئی ہے اور اس میں کفر و شرک کی خرابیوں کا جو بیان ہے اسے اندھیریوں سے اور اس میں کفر و شرک پر عذاب کی جو دھمکیاں دی گئی ہیں انہیں گرج سے تشبیہ دی گئی ہے۔

(توضیح القرآن)

 

قریب  ہے کہ بجلی ان کی نگاہیں اچک لے جب بھی وہ ان پر چمکی وہ اس میں چل پڑے اور جب ان پر اندھیرا ہوا، وہ کھڑے ہو گئے اور اگر  اللہ چاہتا تو چھین لیتا ان کی شنوائی  اور ان کی آنکھیں، بے شک اللہ ہر چیز پر قادر ہے (۲۰)

تشریح:قرآن کریم میں حق کے جو دلائل اور حق کو تھامنے والوں کے لئے جنت کے جو وعدے کئے گئے ہیں، انہیں بجلی کی روشنی سے تشبیہ دی گئی ہے، جب یہ روشنی ان منافقین کے سامنے چمکتی ہے تووہ چل پڑتے ہیں مگر کچھ دیر میں ان کی خواہشات کی ظلمت ان پر چھا جاتی ہے تو کھڑے رہ جاتے ہیں۔

منافقین کا حال اور ان کی مثال بیان کرنے کے بعد ان کو تنبیہ بھی کر دی گئی کہ وہ سب کے سب اللہ تعالی کے احاطۂ قدرت سے باہر نہیں، اللہ تعالی ان کوکسی بھی وقت اور کسی بھی حال میں ہلاک کرسکتے ہیں اور بینائی و شنوائی کی طاقتیں بھی سلب کرسکتے ہیں۔

(توضیح القرآن)

 

اور ان لوگوں کو جو تم سے پہلے ہوئے، تاکہ تم پرہیزگار ہو جاؤ (۲۱)

تشریح: سورۂ فاتحہ میں ہدایت کی دعا بتائی گئی، سورہ بقرہ کی ابتدائی آیات میں ہدایت کو قبول کرنے اور نہ کرنے کے اعتبار سے انسان کے تین گروہوں کو بیان کیا گیا، پہلی تین آیات میں مؤمنین متقین کا ذکر ہوا جنہوں نے ہدایات قرآنی کو اپنا نصب العین بنا لیا، بعد کی دو آیتوں میں اس گروہ کا ذکر کیا جس نے کھلے طور پر اس ہدایت کی مخالفت کی، اس کے بعد تیرہ آیتوں میں منافقین کے حالات بیان کئے گئے جو حقیقت میں تو قرآنی ہدایات کے مخالف تھے مگر دنیاوی اغراض یا مسلمانوں کو نقصان پہنچانے کے خیال سے اپنے کفر و مخالفت کو چھپا کر مسلمانوں میں شامل رہتے اور اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کرتے۔

اس کے بعد مذکورہ تینوں گروہوں کو خطاب کر کے وہ دعوت پیش کی گئی ہے جس کے لئے قرآن نازل ہوا اس میں مخلوق پرستی سے باز آنے اور ایک خدا کی عبادت کرنے کی طرف دعوت ایسے انداز سے دی گئی ہے کہ انسان ذراسا غور کرے تو توحید کے اقرار پر مجبور ہو جائے۔

اس جملہ میں انسانوں کے تینوں گروہوں کو خطاب ہے اور ہر مخاطب کے لئے اس جملہ کا معنی و مطلب جدا ہے، مثلاً جب کہا گیا کہ اپنے رب کی عبادت کرو، تو کفار کے لئے اس خطاب کے معنی یہ ہوئے کہ مخلوق پرستی چھوڑ کر توحید اختیار کرو اور منافقین کے لئے اس کے یہ معنی ہوئے کہ نفاق چھوڑ کر اخلاص پیدا کرو، گناہگار مسلمانوں کے لئے معنی یہ ہوئے کہ گناہ سے باز آؤ اور کامل اطاعت اختیار کرو اور متقی مسلمانوں کے لئے اس جملہ کے یہ معنی ہوئے کہ اپنی طاعت و عبادت پر ہمیشہ قائم رہو اور اس میں ترقی کی کوشش کرو۔

(روح البیان، ماخوذ معارف القرآن)

 

جس نے تمہارے لئے زمین کو فرش بنایا اور آسمان کو چھت اور آسمان سے پانی اتارا پھر نکالے اس کے ذریعہ پھل تمہارے لئے رزق سو اللہ کے لئے کوئی شریک نہ ٹھہراؤ اور تم جانتے ہو۔ (۲۲)

تشریح: آیت نمبر: ۲۱ اور ۲۲ میں اسلام کے بنیادی عقیدے توحید کی دعوت دی گئی ہے اور مختصر انداز میں اس کی دلیل بھی بیان کر دی گئی ہے اہل عرب یہ مانتے تھے کہ ساری کائنات کو پیدا کرنا، زمین وآسمان کی تخلیق اور آسمان سے بارش برسانا اور اس سے پیداوار اگانا، یہ سب کام اللہ تعالی کے ہیں، اس کے باوجود یہ عقیدہ رکھتے تھے کہ اللہ تعالی نے بہت سے کام بتوں کے سپرد کر رکھے ہیں اور وہ بت اپنے کاموں میں براہ راست فیصلہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، لہذا وہ ان بتوں کی عبادت اس لئے کرتے تھے کہ وہ ان کی مدد کریں، اللہ تعالی نے فرمایا کہ جب ہر چیز پیدا کرنے والے ہم ہیں اور ہمیں کائنات چلانے کے لئے کسی کی مدد کی ضرورت نہیں تو عبادت کسی اور کی کرنا کتنے بڑے ظلم کی بات ہے۔

(توضیح القرآن)

 

اور اگر تمہیں اس کلام میں شک ہو جو ہم نے اپنے بندہ پر اتارا تو اس جیسی ایک سورۃ لے آؤ اور بلا لو اپنے مددگار اللہ کے سوا اگر تم سچے ہو  پھر اگر تم نہ کرسکو اور تم ہرگز نہ کر سکوگے تواس آگ سے ڈرو جس کا ایندھن آدمی اور پتھر ہیں، کافروں کے لئے تیار کی گئی ہے (۲۴)

تشریح: پچھلی آیات میں توحید کا بیان تھا اب اسلام کے دوسرے اہم عقیدے یعنی آنحضرتﷺ کی رسالت کا بیان ہے اور عرب کے جو لوگ قرآن پر ایمان لانے کے بجائے یہ الزام لگاتے تھے کہ آنحضرتﷺ شاعر ہیں اور انہوں نے اپنی طرف سے یہ کلام بنا لیا ہے، انہیں زبردست چیلنج دیا گیا ہے کہ اگر ایسا کلام کوئی انسان بنا سکتا ہے تو تم بڑے فصیح و بلیغ ہو، تم سب مل کر قرآن جیسی کوئی ایک سورت ہی بنا کر لے آؤ، ساتھ ہی قرآن نے دعوی کیا ہے کہ تم سب مل کر بھی ایسا نہیں کرسکوگے اور واقعہ یہی ہے کہ اہل عرب جو اپنی زبان و ادب پر ناز کرتے تھے ان سب کو اس چیلنج کے بعد سانپ سونگھ گیا اور کوئی شخص یہ چیلنج قبول کرنے کے لئے آگے نہ بڑھا بڑے بڑے شاعروں اور ادیبوں نے اس خدائی کلام کے آگے گھٹنے ٹیک دئے اور اس طرح آنحضرتﷺ کی رسالت اور قرآن کریم کی سچائی روز روشن کی طرح ثابت اور واضح ہو گئی۔

(توضیح القرآن)

 

اور ان لوگوں کو خوشخبری دو جو ایمان لائے اور انہوں نے نیک عمل کئے ان کے لئے باغات ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں، جب بھی انہیں اس سے کوئی پھل کھانے کو دیا جائے گا وہ کہیں گے یہ وہی ہے جو ہمیں اس سے پہلے کھانے کو دیا گیا،   حالانکہ انہیں اس سے ملتا جلتا دیا گیا اور ان کے لئے اس میں  بیویاں ہیں پاکیزہ، اور وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے (۲۵)

تشریح: یہ اسلام کے تیسرے عقیدے یعنی آخرت پر ایمان کا بیان ہے اس میں بتایا گیا ہے کہ مرنے کے بعد ایک اور زندگی آنے والی ہے جس میں ہر انسان کو اپنے تمام اعمال کا جواب دینا ہو گا اگر ایمان کے ساتھ نیک عمل کئے ہوں گے تووہ جنت نصیب ہو گی جس کی ایک جھلک اس آیت میں دکھائی گئی ہے۔

اس آیت میں یہ بتایا گیا ہے کہ جنت میں جب اہل جنت کو پھل دیا جائے گا تووہ کہیں گے : یہ وہی ہے جو ہمیں اس سے پہلے کھانے کو دیا گیا، اس کا ایک مطلب تو یہ ہوسکتا ہے کہ جنت میں وقفہ وقفہ سے ایسے پھل دئے جائیں گے جو دیکھنے میں بالکل ملتے جلتے ہوں گے، مگر لذت اور ذائقے میں ہر پھل نیا ہو گا اور دوسرا مطلب یہ بھی ممکن ہے کہ جنت کے پھل دیکھنے میں دنیا کے پھلوں کی طرح ہوں گے اس لئے انہیں دیکھ کر جنتی یہ کہیں گے کہ یہ تو وہی پھل ہیں جو ہمیں پہلے یعنی دنیا میں ملے تھے،  لیکن جنت میں ان کی لذت اور خصوصیات دنیا کے پھلوں سے کہیں زیادہ ہوں گی۔

(توضیح القرآن)

 

بے شک اللہ نہیں شرماتا کہ کوئی مثال بیان کرے  جو مچھر جیسی ہو خواہ اس کے اوپر (بڑھ کر) سوجولوگ ایمان لائے  وہ تو جانتے ہیں کہ وہ ان کی رب کی طرف سے حق ہے اور جن لوگوں نے  کفر کیا وہ کہتے ہیں اللہ نے اس مثال سے کیا ارادہ کیا وہ اس سے بہت لوگوں کو گمراہ کرتا ہے اور ہدایت دیتا ہے  اس سے بہت سے لوگوں کو اور اس سے نافرمانوں کے سوا کسی کو گمراہ نہیں کرتا (۲۶)

تشریح :بعض کافروں نے قرآن کریم پر یہ اعتراض کیا تھا کہ اس میں کچھ مثالیں مکھی، مچھر، مکڑی وغیرہ کی دی گئی ہیں، اگر یہ واقعی خدا کا کلام ہوتا تو اس میں ایسی حقیر چیزوں کا ذکر نہ ہوتا، ظاہر ہے کہ یہ اعتراض بڑا بے تکا اعتراض تھا کیونکہ مثال ہمیشہ مضمون کی مناسبت سے دی جاتی ہے اگر کسی حقیر و ذلیل کی مثال دینی ہو تو ایسی ہی کسی چیز سے دی جائے گی جو حقیر و ذلیل ہو، یہ کسی کلام کا عیب تو کیا ہوتا اس کی فصاحت و بلاغت کی دلیل ہے مگر یہ بات انہی کی سمجھ میں آتی ہے جو طالب حق ہوں اور حق پر ایمان لا چکے ہوں لیکن جنہوں نے کفر کی قسم کھا رکھی ہے انہیں توہر بات پر ہر حالت میں اعتراض کرنا ہے اس لئے ایسی بے تکی باتیں کہتے ہیں۔

قرآن کریم کی یہی آیتیں جو طالب حق کو ہدایت بخشتی ہیں ایسے لوگوں کے لئے مزید گمراہی کاسبب بن جاتی ہیں جنہوں نے ضد اور ہٹ دھرمی پر کمر باندھ کر یہ طے کر لیا ہے کہ حق بات ماننی نہیں ہے کیونکہ وہ ہر نئی آیت کا انکار کرتے ہیں اور ہر آیت کا انکار ایک مستقل گمراہی ہے۔

(توضیح القرآن)

 

جو لوگ اللہ کا وعدہ توڑتے ہیں اس سے پختہ اقرار کرنے کے بعد اور اس کو کاٹتے ہیں جس کا اللہ نے حکم دیا تھا کہ وہ اسے جوڑے رکھیں  اور وہ زمین میں فساد پھیلاتے ہیں، وہی لوگ نقصان اٹھانے والے ہیں (۲۷)

تشریح: عہد سے مراد اکثر مفسرین نے وہ عہد الست لیا ہے جس کا ذکر سورہ اعراف (۷:۱۷۲)میں ہے، یعنی اللہ تعالی انسانوں کو پیدا کرنے سے بہت پہلے آنے والی تمام روحوں کو جمع کر کے ان سے پوچھا تھا کہ کیا میں تمہارا پروردگار نہیں ہوں، سب نے اللہ تعالی کے پروردگار ہونے کا اقرار کر کے یہ عہد کیا تھا کہ وہ اللہ تعالی کی اطاعت کریں گے، پھر اس آیت میں عہد کو پختہ کرنے سے مراد بظاہر یہ ہے کہ ہر دور میں اللہ تعالی کے رسول آتے رہے جو اس عہد کو یاد دلا کر اللہ تعالی کے خالق و مالک ہونے پر دلائل قائم کرتے رہے۔

اس عہد کی ایک اور تشریح بھی ممکن ہے اور وہ یہ کہ اس سے مراد وہ عملی اور خاموش عہد(tacit covenant) ہے جو ہرانسان پیدا ہوتے ہی اپنے خالق و مالک سے کرتا ہے یہ ایسا ہی ہے جیسے ہر شخص جو کسی ملک میں پیدا ہوتا ہے وہ اس ملک کا شہری ہونے کے ناطے یہ خاموش عہد کرتا ہے کہ وہ اس ملک کے قوانین کا پابند ہو گا خواہ زبان سے اس نے کچھ نہ کہا ہو لیکن اس کا کسی ملک میں پیدا ہونا ہی اس عہد کے قائم مقام ہے، اسی طرح کائنات میں جو شخص بھی پیدا ہوتا ہے وہ خود بخود اس عہد کا پابند ہو جاتا ہے کہ وہ اپنے پیدا کرنے والے کی ہدایات کے مطابق زندگی گزارے گا۔

الغرض اس آیت میں عہد کو توڑنے والے یعنی کافروں کی تین صفات بیان کی گئی ہیں، ایک یہ کہ وہ اللہ سے کیا ہوا عہد توڑتے ہیں دوسرے یہ کہ وہ رشتہ داروں کے حقوق پامال کرتے ہیں اور تیسرے یہ کہ زمین میں فساد مچاتے ہیں، ان میں سے پہلی چیز اللہ تعالی کے حقوق سے متعلق ہے یعنی وہ اللہ تعالی کے بارے میں وہ عقیدہ رکھتا ہے جو رکھنا چاہئے اور نہ اس کی وہ عبادت کرتا ہے جو ان پر فرض ہے، دوسری اور تیسری چیز کا تعلق حقوق العباد سے ہے، اللہ تعالی نے مختلف رشتوں کے جو حقوق مقرر فرمائے ہیں، ان کی ٹھیک ٹھیک ادائیگی سے ہی ایک پاکیزہ معاشرہ وجود میں آتا ہے، اگر ان رشتوں کو کاٹ کر باپ، بیٹے، بھائی بھائی، شوہر اور بیوی ایک دوسرے کے حقوق پامال کرنا شروع کر دیں تووہ خاندانی نظام تباہ ہو جاتا ہے جس پر ایک صحت مند تمدن کی بنیاد قائم ہوتی ہے، لہذا اس کا لازمی نتیجہ زمین میں فساد کی صورت میں نکلتا ہے اسی لئے قرآن کریم نے رشتوں کو کاٹنے اور زمین میں فساد مچانے کو سورۂ محمد(۲۶:۲۲) میں بھی ایک ساتھ ملا کر ذکر فرمایا ہے ۔

(توضیح القرآن)

 

تم کس طرح اللہ کا کفر کرتے ہو اور تم بے جان تھے سواس نے تمہیں زندگی بخشی پھر تمہیں مارے گا پھر تمہیں جلائے گا، پھر اس کی طرف لوٹائے جاؤ گے (۲۸)

تشریح: اس آیت میں اللہ تعالی نے اپنے اس انعام واحسان کا ذکر کیا ہے جوہر انسان کی اپنی ذات سے متعلق ہے اور جو سارے انعامات واحسانات کامدار ہے یعنی زندگی دنیا و آخرت اور زمین وآسمان کی جتنی نعمتیں انسان کو حاصل ہے وہ سب اسی زندگی پر موقوف ہیں، زندگی نہ ہوتوکسی نعمت سے فائدہ نہیں اٹھا سکتا، زندگی کا نعمت ہونا تو ظاہر ہے مگر اس آیت میں موت کو بھی نعمتوں کی فہرست میں شمار اس لئے کیا گیا ہے کہ یہ دنیا کی موت دروازہ ہے اس دائمی زندگی کا جس کے بعد موت نہیں اس لحاظ سے یہ موت بھی ایک نعمت ہے۔

مسئلہ:آیت مذکورہ سے ثابت ہوا کہ:جو شخص رسول کریمﷺ کی رسالت کا منکر ہو یا قرآن کے کلام الہی ہونے کا منکر ہو وہ اگرچہ بظاہر خدا کے وجود و عظمت کا انکار نہ کرے، مگر اللہ تعالی کے نزدیک وہ منکرین خدا ہی کی فہرست میں شمار ہے۔

(معارف القرآن)

 

وہی ہے جس نے تمہارے لئے پیدا کیا جو زمین میں ہے سب کاسب، پھر وہ آسمان کی طرف متوجہ ہوا پھر ان کو ٹھیک بنا دیا سات آسمان اور وہ ہر چیز کو جاننے والا ہے (۲۹)

تشریح:انسان کو توجہ دلائی جا رہی ہے کہ وہ کائنات کی جتنی چیزوں سے فائدہ اٹھاتا ہے سب اللہ تعالی کی عطا فرمائی ہوئی ہیں، ان میں سے ہر چیز اس کی توحید کی گواہی دے رہی ہے اس کے باوجود اس کے ساتھ کفر کا رویہ اختیار کرنا کتنی بڑی ناشکری ہے، اسی آیت سے فقہاء نے یہ اصول بھی مستنبط کیا ہے کہ دنیا کی ہر چیز اصل میں حلال ہے اور جب تک کسی چیز کی حرمت پر کوئی دلیل نہ ہو اس وقت تک اس کو حلال ہی سمجھا جائے گا۔

(توضیح القرآن)

 

اور جب تمہارے رب نے فرشتوں سے کہا کہ میں  زمین میں ایک نائب بنانے والا ہوں، انہوں نے کہا کیا آپ بنائیں گے  اس میں جو اس میں فساد کرے گا اور خون بہائے گا اور ہم آپ کی تعریف کے ساتھ آپ کو بے عیب کہتے ہیں اور ٖ پاکیزگی بیان کرتے ہیں  آپ کی، (اللہ نے )کہا بے شک میں (وہ باتیں ) جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے (۳۰)

تشریح: اس آیت میں یہ بتایا گیا ہے کہ اللہ نے فرشتوں سے فرمایا میں زمین میں اپنا ایک خلیفہ یعنی نائب بنانے والا ہوں، یہاں خلیفہ سے مراد انسان ہے اور اس کے خلیفہ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ وہ زمین میں اللہ تعالی کے احکام پر خود بھی عمل کرے اور اپنی طاقت کے مطابق دوسروں سے بھی عمل کروانے کی کوشش کرے۔

فرشتوں نے اس موقع پر جو سوال کیا اس سوال کا منشاء خدا نخواستہ کوئی اعتراض کرنا نہیں تھا بلکہ وہ حیرت کر رہے تھے کہ ایک ایسی مخلوق کو پیدا کرنے میں کیا حکمت ہے جو نیکی کے ساتھ بدی کی صلاحیت بھی رکھتی ہو گی جس کے نتیجے میں زمین پر فساد پھیلنے کا امکان ہو گا، ، مفسرین نے یہ بھی بیان کیا ہے کہ انسان سے پہلے زمین پر جنات پیدا کئے گئے تھے اور انہوں نے آپس میں لڑ لڑ کر ایک دوسرے کو ختم کر ڈالا تھا، فرشتوں نے سوچا کہ شائد انسان کا انجام بھی  ایساہی ہو۔

(توضیح القرآن)

 

اور اس نے آدمؑ کو سب چیزوں کے نام سکھائے، پھر انہیں فرشتوں کے سامنے کیا پھر کہا مجھ کو ان کے نام بتلاؤ اگر تم سچے ہو(۳۱)

تشریح: ناموں سے مراد کائنات میں پائی جانے والی چیزوں کے نام ان کی خاصیتیں اور انسان کو پیش آنے والی مختلف کیفیات کا علم ہے مثلاً بھوک، پیاس، صحت اور بیماری وغیرہ، اگرچہ آدم علیہ السلام کو ان چیزوں کی تعلیم دیتے وقت فرشتے بھی موجود تھے،  لیکن چونکہ ان کی فطرت میں ان چیزوں کی پوری سمجھ نہیں تھی اس لئے جب ان کا امتحان لیا گیا تو وہ جواب نہیں دے سکے اور اس طرح اللہ تعالی نے عملی طور پر انہیں باور کرا دیا کہ جو کام اس نئی مخلوق سے لینا مقصود ہے وہ فرشتے انجام نہیں دے سکتے۔

(توضیح القرآن)

 

انہوں نے کہا آپ پاک ہیں ہمیں کوئی علم نہیں مگر(صرف وہ)جو آپ نے ہمیں سکھادیا، بے شک آپ ہی جاننے والے، حکمت والے ہیں (۳۲)

تشریح: بظاہر ان الفاظ سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ نام صرف حضرت آدم علیہ السلام کو سکھائے گئے تھے اور فرشتے اس تعلیم میں شریک نہیں تھے، اس صورت میں اس سے ناموں کے بارے میں پوچھنا یہ بتانے کے لئے تھا کہ تم میں وہ صلاحیت نہیں رکھی گئی جو آدم علیہ السلام کی تخلیق سے مقصود ہے، دوسرا احتمال یہ بھی ہے کہ آدم علیہ السلام کو سکھاتے وقت فرشتے موجود تھے، لیکن چونکہ ان میں ان باتوں کو سمجھنے یا یاد رکھنے کی صلاحیت نہیں تھی اس لئے وہ امتحان کے وقت جواب نے دے سکے، اس صورت میں ان کے جواب کا حاصل یہ ہو گا کہ ہمیں وہی علم حاصل ہوسکتا ہے جو آپ ہمیں دینا چاہیں اور اس کی صلاحیت ہمارے اندر پیدا کر دیں۔

(توضیح القرآن)

 

اس نے فرمایا اے آدم! انہیں ان کے نام بتلا دے، سو جب اس نے ان کے نام بتلائے اس نے فرمایا کیا میں نے نہیں کہا تھا تمہیں ؟ کہ میں جانتا ہوں چھپی ہوئی باتیں آسمانوں اور زمین کی اور میں جانتا ہوں جو تم ظاہر کرتے ہو اور جو تم چھپاتے ہو(۳۳)

تشریح: اللہ جل شانہ نے جب تخلیق آدم اور دنیا میں ان کی خلافت قائم کرنے کا ارادہ کیا تو فرشتوں سے بظاہر ان کا امتحان لینے کے لئے اس ارادے کا ذکر فرمایا جس میں اشارہ تھا کہ وہ اس معاملہ میں اپنی رائے ظاہر کریں فرشتوں نے رائے پیش کی کہ انسانوں میں توایسے لوگ بھی ہوں گے جو فساد اور خون ریزی کریں گے ان کو زمین کی خلافت اور انتظام سپرد کرنا سمجھ میں نہیں آتا اس کام کے لئے تو فرشتے زیادہ انسب معلوم ہوتے ہیں کہ نیکی ان کی فطرت ہے برائی کا صدور ہی ان سے ممکن نہیں وہ مکمل اطاعت گزار ہیں دنیا کے انتظامات بھی وہ درست کرسکیں گے، اللہ تعالی نے ان کی رائے کے غلط ہونے کا اظہار اول ایک حاکمانہ طرز سے دیا کہ خلافت ارضی کی حقیقت اور اس کی ضروریات سے تم واقف نہیں اس کو میں ہی مکمل طور پر جانتا ہوں، پھر دوسرا جواب حکیمانہ انداز سے آدم علیہ السلام کی فرشتوں پر ترجیح اور مقام علم میں آدم علیہ السلام کے تفوق کا ذکر کر کے دیا گیا اور بتلایا گیا کہ خلافت ارض کے لئے زمینی مخلوقات کے نام اور ان کے خواص و آثار کا جاننا ضروری ہے اور فرشتوں کی استعداد اس کی متحمل نہیں۔

(معارف القرآن)

 

اور جب ہم نے فرشتوں کو کہا تم آدم کو سجدہ کروتو انہوں نے سجدہ کیا ابلیس کے سوائے اس نے انکار کیا اور تکبر کیا اور وہ کافروں سے ہو گیا(۳۴)

تشریح :فرشتوں کے سامنے آدم علیہ السلام کی عظمت کا علمی مظاہرہ اور ان کا امتحان لینے کے لئے انہیں آدم علیہ السلام کو سجدہ کرنے حکم دیا گیا یہ سجدہ عبادت کا نہیں تعظیم کا سجدہ تھا جو بعض پچھلی شریعتوں میں جائز تھا بعد میں تعظیم کے لئے بھی اللہ تعالی کے سوا کسی اور کو سجدہ کرنے کی سختی سے ممانعت کر دی گئی تاکہ شرک کا کوئی شائبہ بھی پیدا نہ ہو، یہ سجدہ کروانا اس بات کا بھی مظاہرہ تھا کہ فرشتوں کو اس بات کی تلقین کی جا رہی ہے کہ کائنات میں جو چیزیں ان کے اختیار میں دی گئی ہیں وہ انسان کے لئے مسخر کر دی جائیں تاکہ یہ دیکھا جائے کہ وہ ان کو صحیح استعمال کرتا ہے یا غلط۔

اگرچہ براہ راست سجدے کا حکم فرشتوں کو دیا گیا تھا مگر اس میں تمام جاندار مخلوقات بھی شامل تھیں لہذا ابلیس جو جنات میں سے تھا اس پر بھی اس حکم کی تعمیل لازم تھی لیکن جیسا کہ خود قرآن کریم نے دوسری جگہ بیان فرمایا ہے وہ اللہ تعالی سے کہنے لگا کہ مجھے تو نے آگ سے پیدا کیا اور آدم کو مٹی سے اس لئے میں اس سے افضل ہوں میں اسے کیوں سجدہ کروں (اعراف۷:۲۲)اس واقعہ سے دو سبق ملتے ہیں ایک یہ کہ اپنے آپ کو بذات خود دوسروں سے بڑا سمجھنا اور اپنی بڑائی بگھارنا کتنا بڑا گناہ ہے اور دوسرا سبق یہ کہ جب اللہ تعالی کی طرف سے کوئی واضح حکم آ جائے تو بندے کا کام یہ ہے کہ اس حکم کو دل و جان سے بجا لائے، چاہے اس کی حکمت اور فائدہ سمجھ میں آئے یا نہ آئے

(توضیح القرآن)

 

اور ہم نے کہا اے آدم! تم رہو اور تمہاری بیوی جنت میں، اور تم دونوں اس میں سے کھاؤ        جہاں سے چاہو اطمینان سے، اور نہ قریب جانا اس درخت کے (ورنہ) تم ہو جاؤ گے ظالموں میں سے (۳۵)

تشریح: یہ کونسا درخت تھا؟قرآن کریم نے اس کی وضاحت نہیں فرمائی نہ اس کے جاننے کی ضرورت ہے اتنا جان لینا کافی ہے کہ جنت کے درختوں میں ایک درخت ایسا تھا جس کا پھل کھانے سے انہیں روک دیا گیا تھا، بعض روایات میں ہے کہ یہ گندم کا درخت تھا بعض میں انگور کا ذکر ہے مگر کوئی روایت ایسی نہیں جس پر پورا بھروسہ کیا جا سکے۔

(توضیح القرآن)

 

پھر شیطان نے ان دونوں کو پھسلایا اس سے پھر انہیں نکلوا دیا اس جگہ سے جہاں وہ تھے، اور ہم نے کہا تم اتر جاؤ تمہارے بعض بعض کے دشمن ہیں اور تمہارے لیے  زمین میں ٹھکانہ ہے اور ایک وقت تک سامان (زندگی) ہے (۳۶)

تشریح: یعنی شیطان نے انہیں بہکا کر اس درخت کا پھل کھانے پر آمادہ کر دیا اور بہانہ یہ بنایا کہ یوں تو یہ درخت بڑا مفید ہے کیونکہ اس کو کھانے سے ابدی زندگی حاصل ہو جاتی ہے،  لیکن شروع میں آپ کو اس لئے منع کیا گیا تھا کہ آپ کی جسمانی کیفیت اس کو برداشت نہ کرسکتی تھی اب چونکہ آپ جنت کے ماحول کے عادی ہو گئے ہیں اور آپ کے قوی مضبوط ہو چکے ہیں اس لئے اب وہ ممانعت باقی نہیں رہی۔

اس واقعہ کے نتیجے میں آدم علیہ السلام اور ان کی اہلیہ کو جنت سے اور شیطان کو آسمانوں سے نیچے زمین پر اترنے کا حکم دے دیا گیا، ساتھ ہی یہ بھی بتا دیا گیا کہ انسان اور شیطان کے درمیان رہتی دنیا تک دشمنی قائم رہے گی اور زمین کا یہ قیام ایک معین مدت تک ہو گا جس میں کچھ دنیوی فائدے اٹھانے کے بعد سب کو بالآخر اللہ تعالی کے پاس دوبارہ پیش ہونا ہو گا۔

(توضیح القرآن)

 

پھر آدم نے حاصل کر لیے اپنے رب سے کچھ کلمے، پھر اس نے توبہ قبول کی اس کی (آدم کی)، بیشک وہ توبہ قبول کرنے والا رحم کرنے والا ہے (۳۷)

تشریح: جب آدم علیہ السلام کو اپنی غلطی کا احساس ہوا تووہ پریشان ہو گئے لیکن سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ اللہ تعالی سے کن الفاظ میں معافی مانگیں، اس لئے زبان سے کچھ نکل نہیں رہا تھا، اللہ تعالی نے جو دلوں کے حال سے بھی خوب واقف ہے اور رحیم و کریم بھی ہے ان کی اس کیفیت کے پیش نظر خود ہی ان کو توبہ کے الفاظ سکھائے جو سورۂ اعراف میں مذکور ہیں :قَالَا رَبَّنَا ظَلَمْنَا اَنْفُسَنَا وَاِنْ لَمْ تَغْفِرْ لَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَكُوْنَنَّ مِنَ الْخَاسِرِیْنَ (آیت نمبر:۲۳)اے ہمارے پروردگار ہم اپنی جانوں پر ظلم کر گزرے ہیں اور اگر آپ نے ہمیں معاف نہ فرمایا اور ہم پر رحم نہ کیا توہم برباد ہو جائیں گے۔

اس طرح اللہ تعالی نے زمین پر بھیجنے سے پہلے انسان کو یہ تعلیم دے دی کہ جب کبھی نفسانی خواہشات یا شیطان کے بہکاوے میں آ کر اس سے کوئی گناہ سرزد ہو جائے تو اسے فوراً اللہ تعالی سے توبہ کرنی چاہئے اور اگرچہ توبہ کے لئے کوئی خاص الفاظ لازمی نہیں ہیں بلکہ ہر وہ جملہ جس میں اپنے کئے پر ندامت اور آئندہ گناہ نہ کرنے کا ارادہ شامل ہو، اس کے ذریعہ توبہ ممکن ہے لیکن چونکہ یہ الفاظ خود اللہ تعالی کے سکھائے ہوئے ہیں اس لئے ان الفاظ میں توبہ کرنے سے قبولیت کی زیادہ امید ہے۔

اس آیت میں اس بات کی وضاحت بھی کر دی گئی کہ حضرت آدمؑ کی اجتہادی لغزش کو اللہ نے معاف فرما دیا اور آپ کی توبہ قبول فرما لی اس طرح اس عیسائی عقیدہ کی تردید فرما دی گئی جس کا کہنا یہ ہے کہ آدم علیہ السلام کا یہ گناہ ہمیشہ کے لئے انسان کی سرشت میں داخل ہو گیا تھا جس کے نتیجے میں ہر بچہ ماں کے پیٹ سے گناہگار پیدا ہوتا ہے اور اس مشکل کے حل کے لئے اللہ تعالی کو اپنا بیٹا دنیا میں بھیج کر اسے قربان کرنا پڑا تاکہ وہ ساری دنیا کے لئے کفارہ بن سکے، قرآن کریم نے دو ٹوک الفاظ میں اعلان فرما دیا کے اللہ تعالی نے ان کی توبہ قبول فرما لی تھی اس لئے نہ وہ گناہ باقی رہا تھا نہ اس کے اولاد آدم کی طرف منتقل ہونے کا سوال ہے کیونکہ اللہ تعالی کے قانون عدل میں ایک شخص کے گناہ کا بوجھ دوسرے کے سرپر نہیں ڈالا جاتا۔

(ملخص توضیح القرآن)

 

ہم نے کہا تم سب یہاں سے اتر جاؤ پس جب تمہیں میری طرف سے کوئی ہدایت پہنچے  سو جو چلا میری ہدایت پر، نہ ان پر کوئی خوف ہو گا نہ وہ غمگین ہوں گے (۳۸)

اور جن لوگوں نے کفر کیا اور ہماری آیتوں کو جھٹلایا، وہی دوزخ والے ہیں، وہ ہمیشہ اس میں رہیں گے (۳۹)

تشریح: جنت سے زمین پر اترنے کا حکم اس سے پہلی آیت میں آ چکا ہے اس جگہ پھر اس کو مکرر لانے میں غالباً حکمت یہ ہے کہ پہلی آیت میں زمین پر اتارنے کا ذکر بطور عتاب اور سزا کے آیا تھا اسی لئے اس کے ساتھ انسانوں کی باہمی عداوت کا بھی ذکر کیا گیا، اور یہاں زمین پر اتارنے کا ذکر ایک خاص مقصد خلافت الہیہ کی تکمیل کے لئے اعزاز کے ساتھ ہے اسی لئے اس کے ساتھ ہدایت بھیجنے کا ذکر ہے جو خلافت الہیہ کے فرائض منصبی میں سے ہے، اس سے یہ بھی معلوم ہو گیا کہ اگرچہ زمین پر اترنے کا ابتدائی حکم بطور عتاب اور سزا کے تھا مگر بعد میں جب خطا معاف کر دی گئی تودوسری مصالح اور حکمتوں کے پیش نظر زمین پر بھیجنے کے حکم کو اس کی حیثیت بدل کر برقرار رکھا گیا اور اب ان کا نزول زمین کے حاکم اور خلیفہ کی حیثیت سے ہوا اور یہ وہی حکمت ہے جس کا ذکر تخلیق آدمؑ کے وقت ہی فرشتوں سے کیا جا چکا تھا کہ زمین کے لئے ان کو خلیفہ بنانا ہے۔

دوسری آیت میں یہ بتلا دیا گیا ہے کہ جو لوگ اللہ تعالی کی بھیجی ہوئی ہدایت کی پیروی نہیں کریں گے ان کا ٹھکانہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے جہنم ہو گا اس سے مراد وہ لوگ ہیں جو اس ہدایت کو ہدایت سمجھنے اور اس کی پیروی کرنے سے انکار کر دیں، یعنی کفار۔

مؤمنین جو ہدایت کو ہدایت ماننے کا اقرار کرتے ہیں وہ عملاً کیسے بھی گنہگار ہوں اپنے گناہوں کی سزا بھگتنے کے بعد بالآخر جہنم سے نکال لئے جائیں گے واللہ اعلم۔

(ملخص معارف القرآن)

 

اے بنی اسرائیل (اولادِ یعقوب)! میری نعمت یاد کرو جو میں نے تمہیں بخشی اور پورا کرو میرا وعدہ، میں تمہارا وعدہ پورا کروں گا اور مجھ ہی سے ڈرو(۴۰)

تشریح: اسرائیل حضرت یعقوب علیہ السلام کا دوسرا نام ہے ان کی اولاد کو بنی اسرائیل کہا جاتا ہے، تمام تر یہودی اور اکثر عیسائی اسی نسل سے تعلق رکھتے تھے، مدینہ منورہ میں یہودیوں کی اچھی خاصی تعداد آباد تھی اور رسول اکرمﷺ نے مدینہ منورہ پہنچنے کے بعد نہ صرف ان کو اسلام کی دعوت دی تھی بلکہ ان سے امن کا معاہدہ بھی فرمایا تھا، لہذا اس مدنی سورت میں زیر نظر آیت سے آیت نمبر: ۱۴۳ تک مسلسل بنی اسرائیل کا تذکرہ ہے، جس میں انہیں اسلام کی دعوت بھی دی گئی ہے اور ان کو نصیحت کرنے کے ساتھ ان کی بد عنوانیوں پر متنبہ بھی کیا گیا ہے، شروع میں ان کو یاد دلایا گیا ہے کہ اللہ تعالی نے ان پر کیسے کیسے انعامات فرمائے تھے، اس کا تقاضا یہ تھا کہ وہ اللہ تعالی کے شکر گزار ہو کر اس عہد کو پورا کرتے جو اللہ تعالی نے ان سے لیا تھا کہ وہ تورات پر ٹھیک ٹھیک عمل کریں گے اور اللہ کے بھیجے ہوئے ہر نبی پر ایمان لائیں گے،  لیکن انہوں نے تورات پر عمل کرنے کے بجائے اس کو من مانی تاویلیں شروع کر دیں اور اس کے احکام کو بدل ڈالا،  چونکہ اس طرز عمل کی وجہ یہ بھی تھی کہ حق کو قبول کرنے کی صورت میں انہیں اپنے ہم مذہب لوگوں کا ڈر تھا کہ وہ کہیں ان سے بد ظن نہ ہو جائیں اس لئے اس آیت میں اور اس کے بعد والی آیت کے آخر میں فرمایا گیا ہے کہ مخلوق سے ڈرنے کے بجائے انہیں اللہ سے ڈرنا چاہئے اور اللہ کے سوا کسی کا خوف دل میں نہیں رکھنا چاہئے۔

(توضیح القرآن)

 

اور اس پر ایمان لاؤ جو میں نے نازل کیا اس کی تصدیق کرنے والا جو تمہارے پاس ہے، اور اس کے پہلے کافر نہ ہو جاؤ اور میری آیات کے عوض تھوڑی قیمت نہ لو اور مجھ ہی سے ڈرو(۴۱)

اور نہ ملاؤ حق کو باطل سے اور حق کو نہ چھپاؤ جبکہ تم جانتے ہو(۴۲)

تشریح: بنی اسرائیل کو یاد دلایا جا رہا ہے کہ قرآن کریم وہی دعوت لے کر آیا ہے جو تورات اور انجیل کی دعوت تھی اور جن آسمانی کتابوں پر وہ ایمان رکھتے ہیں قرآن کریم انہیں جھٹلانے کے بجائے دو طرح سے ان کی تصدیق کرتا ہے ایک اس لحاظ سے کہ وہ یہ تسلیم کرتا ہے کہ یہ کتابیں اللہ ہی کی نازل کی ہوئی تھیں (یہ اور بات ہے کہ بعد کے لوگوں نے ان میں کافی رد و بدل کر ڈالا جس کی حقیقت قرآن نے واضح فرمائی)اور دوسرے قرآن اس حیثیت سے ان کتابوں کی تصدیق کرتا ہے کہ ان کتابوں میں آخری نبی کی تشریف آوری کی جو پیشین گوئیاں کی گئی تھیں قرآن کریم نے انہیں سچا کر دکھایا اس کا تقاضا یہ تھا کہ بنی اسرائیل عرب کے بت پرستوں سے پہلے اس پر ایمان لاتے،  لیکن ہو یہ رہا ہے کہ جس تیز رفتاری سے بت پرست اسلام لا رہے ہیں اس رفتار سے یہودی ایمان نہیں لا رہے ہیں اور اس طرح گویا بنی اسرائیل قرآن کی تکذیب کرنے میں پیش پیش ہیں اس لئے کہا گیا کہ تم ہی سب سے پہلے اس کے منکر نہ بن جاؤ، بعض یہودیوں کا طریقہ یہ بھی تھا کہ وہ رشوت لے کر تورات کی تشریح عام لوگوں کی خواہشات کے مطابق کر دیا کرتے تھے اور بعض اوقات اس کے احکام کو چھپا لیتے تھے ان کے اس طرز عمل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا میری آیتوں کو معمولی سی قیمت لے کر نہ بیچو اور حق کو باطل کے ساتھ گڈمڈ نہ کرو اور نہ حق بات کو چھپاؤ۔

(توضیح القرآن)

 

اور تم قائم کرو نماز، اور ادا کرو زکوٰۃ، اور رکوع کرو رکوع کرنے والوں کے ساتھ(۴۳)

تشریح: اَقِیْمُوْا الصَّلَاةَ سے نماز کا حکم دیا گیا وَآتُوْا الزَّکَاةَ، سے زکوٰۃ کا حکم دیا گیا اور وَارْکَعُوْا مَعَ الرَّاكِعِیْنَ، سے نماز با جماعت ادا کرنے کا حکم دیا گیا، نماز با جماعت کی اہمیت کو ثابت کرنے کے لئے مسلم شریف کی یہ روایت کافی ہے :

فقیہ الامت حضرت عبداللہ بن مسعودؓ نے فرمایا کہ جو شخص یہ چاہتا ہے کہ کل(محشر میں )اللہ تعالی سے مسلمان ہونے کی حالت میں ملے تواس کو چاہئے کہ ان(پانچ)نمازوں کے ادا کرنے کی پابندی اس جگہ کرے جہاں اذان دی جاتی ہے (یعنی مسجد)کیونکہ اللہ تعالی نے تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے کچھ ہدایت کے طریقے بتلائے ہیں اور ان پانچ نمازوں کو جماعت کے ساتھ ادا کرنا انہی سنن ہدی میں ہے اور اگر تم نے یہ نمازیں اپنے گھر میں پڑھ لیں جیسے فلاں جماعت سے الگ رہنے والا اپنے گھر میں پڑھ لیتا ہے تو تم اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کو چھوڑ بیٹھو گے اور اگر تم نے اپنے نبیﷺ کی سنت کو چھوڑ دیا تو تم گمراہ ہو جاؤ گے، اور جو شخص وضو کرے اور اچھی طرح پاکی حاصل کرے پھر کسی مسجد کا رخ کرے تو اللہ تعالی اس کے ہر قدم پر نیکی اس کے نامۂ اعمال میں درج فرماتے ہیں اور اس کا ایک درجہ بڑھا دیتے ہیں اور ایک گناہ معاف کر دیتے ہیں اور ہم نے اپنے مجمع کو ایسا پایا ہے کہ منافق جس کا نفاق کھلا ہوتا تھا کے سوا کوئی آدمی جماعت سے الگ نماز نہ پڑھتا تھا یہاں تک کہ بعض حضرات کو عذر اور بیماری میں بھی دو آدمیوں کے کندھوں پر ہاتھ رکھ کر مسجد میں لایا جاتا اور صف میں کھڑا کر دیا جاتا تھا۔

اس بیان میں جس طرح جماعت نماز کی پوری تاکید اور  اہمیت و ضرورت کا ذکر ہے اسی کے ساتھ اس کا یہ درجہ بھی بیان فرما دیا گیا کہ وہ سنن ہدی میں سے ہے، جس کو فقہاء سنت مؤکدہ کہتے ہیں، چنانچہ اگر کوئی شخص عذر شرعی مثلاً مرض وغیرہ کے بغیر تنہا نماز پڑھ لے اور  جماعت میں شریک نہ ہو تو اس کی نماز تو ہو جائے گی مگر سنت مؤکدہ کے ترک کی وجہ سے مستحق عتاب ہو گا، اور اگر ترک جماعت کی عادت بنا لے توسخت گنہگار ہے خصوصاً اگر ایسی صورت ہو جائے کہ مسجد ویران رہے اور لوگ گھروں میں نماز پڑھیں تو یہ شرعاً مستحق سزا ہیں اور قاضی عیاض نے فرمایا کہ ایسے لوگ اگر سمجھانے سے باز نہ آئیں تو ان سے قتال کیا جائے۔

(قرطبی:۱، ۲۹۸)(ملخص معارف القرآن)

 

کیا تم لوگوں کو نیکی کا حکم دیتے ہو اور اپنے آپ کو بھول جاتے ہو؟ حالانکہ تم پڑھتے ہو کتاب کیا پھر تم سمجھتے نہیں (۴۴)

تشریح: اس آیت میں خطاب اگرچہ علماء یہود سے ہے، کہ وہ اپنے دوستوں اور رشتہ دواروں کو یہ تلقین کرتے تھے کہ تم محمدﷺ کی پیروی کرتے رہو اور دین اسلام پر قائم رہو مگر خود نفسانی خواہشات سے اتنے مغلوب تھے کہ اسلام کو قبول کرنے کے لئے تیار نہ تھے، لیکن معنی کے اعتبار سے یہ ہر اس شخص کی مذمت ہے جو دوسروں کو تو نیکی اور بھلائی کی ترغیب دے مگر خود عمل نہ کرے دوسروں کو خدا سے ڈرائے مگر خود نہ ڈرے، ایسے شخص کے بارے میں احادیث میں بڑی ہولناک وعیدیں آئی ہیں۔

اس آیت میں نیکی کا حکم دینے سے نہیں روکا گیا بلکہ بے عملی سے روکا گیا ہے، یعنی اگر کوئی آدمی نماز نہیں پڑھتا ہے تو ایسا نہیں ہے کہ اب وہ دوسروں کو بھی خاص کر اپنے ماتحتوں کو بھی نماز کا حکم نہ دے،  بلکہ نماز کا حکم دینا ضروری ہے ورنہ ایک گناہ خود نماز نہ پڑھنے کا ہو گا اور دوسرا گناہ اپنے ماتحتوں کو نماز کا حکم نہ دینے کا ہو گا، خلاصہ یہ کہ واعظ کو بے عمل نہیں ہونا چاہئے۔

(ملخص معارف القرآن)

 

اور تم مدد حاصل کرو صبر اور نماز سے اور وہ بڑی (دشوار) ہے مگر عاجزی کرنے والوں پر (نہیں )(۴۵)

وہ جو یقین رکھتے ہیں کہ وہ اپنے رب کے رو برو ہونے والے ہیں اور یہ کہ وہ اس کی طرف لوٹنے والے ہیں (۴۶)

تشریح :حب مال اور حب جاہ یہ دونوں قلب کی ایسی بیماریاں ہیں جن کے باعث انسان کی دنیاوی زندگی اور اخروی زندگی اجیرن ہو جاتی ہے اور غور کیا جائے تو معلوم ہو گا کہ انسانی تاریخ میں اب تک جتنی انسانیت سوز لڑائیاں لڑی گئیں اور جوفساد برپا ہوئے ان میں سے اکثر و بیشتر کو انہی دو بیماریوں نے جنم دیا تھا۔

ان دونوں بیماریوں کا حل قرآن کریم نے یہ تجویز فرمایا ہے کہ صبر اختیار کرو یعنی اپنی لذات و شہوات پر قابو حاصل کر لو اس سے حب مال گھٹ جائے گی،  کیونکہ مال کی محبت اسی لئے پیدا ہوتی ہے کہ مال لذات و شہوات کو پورا کرنے کا ذریعہ ہے، جب ان لذات و خواہشات کی اندھا دھند پیروی چھوڑنے پر ہمت باندھ لو گے تو شروع میں اگرچہ شاق گزرے گا رفتہ رفتہ یہ خواہشات اعتدال پر آ جائیں گی۔

اور نماز سے حب جاہ کم ہو جائے گی،  کیونکہ نماز میں ظاہری اور باطنی ہر طرح کی عاجزی ہے، جب نماز کو صحیح صحیح ادا کرنے کی عادت ہو جائے گی توہر وقت اللہ کے سامنے اپنی عاجزی اور پستی کا تصور رہنے لگے گا جس سے تکبر و غرور اور حب جاہ گھٹ جائے گی۔

(ملخص معارف القرآن)

اگر کوئی کہے کہ خود نماز اور صبر کا التزام بہت دشوار ہے تو سن لے کہ بے شک نماز دشوار ضرور ہے مگر جن کے قلوب میں خشوع ہو ان پر کچھ بھی دشوار نہیں، خاشعین وہ لوگ ہیں جن کو اپنے رب سے ملاقات کی امید بھی ہے اور حساب کتاب کا خوف بھی ہے اور یہی خوف و امید ہر عمل کی روح ہیں۔

 

اور اس دن سے ڈرو جس دن کوئی شخص کسی کا کچھ بدلہ نہ بنے گا اور نہ اس سے کوئی سفارش قبول کی جائے گی اور نہ اس سے کوئی معاوضہ لیا جائے گا اور نہ ان کی مدد کی جائے گی(۴۸)

تشریح: اس آیت میں خطاب چونکہ حضور اکرمﷺ کے زمانہ کے یہودیوں کو ہے اور عموماً ایسا ہوتا ہے کہ باپ دادا پر جو احسان و اکرام کیا جائے اس سے اس کی اولاد بھی فائدہ حاصل کرتی ہے جس کا عام طور پر مشاہدہ ہوتا رہتا ہے، اس لئے ان کو بھی اس آیت میں مخاطب سمجھا جا سکتا ہے۔

دوسری آیت میں جس یوم کا ذکر ہے اس سے قیامت کا دن مراد ہے، قیامت کے دن بغیر ایمان کے نہ کسی کی سفارش قبول کی جائے گی اور نہ ہی کسی کی مدد کی جائے گی۔

(ملخص معارف القرآن)

 

اور جب ہم نے تمہیں آل فرعون سے رہائی دی، وہ تمہیں دکھ دیتے تھے برا عذاب، اور وہ تمہارے بیٹوں کو ذبح کرتے تھے اور تمہاری عورتوں کو زندہ چھوڑ دیتے تھے اور اس میں تمہارے رب کی طرف سے بڑی آزمائش تھی(۴۹)

تشریح :فرعون مصر کا بادشاہ تھا جہاں بنی اسرائیل بڑی تعداد میں آباد تھے، اور فرعون کی غلامی میں دن گزار رہے تھے، فرعون کے سامنے کسی نجومی نے یہ پیشین گوئی کر دی کہ اس سال بنی اسرائیل میں ایک شخص پیدا ہو گا جو اس کی بادشاہی کا خاتمہ کر دے گا، یہ سن کر اس نے یہ حکم دے دیا کے اسرائیلیوں میں جو کوئی بچہ پیدا ہو اسے قتل کر دیا جائے، البتہ لڑکیوں کو زندہ رکھا جائے تاکہ ان سے خدمت لی جا سکے، اس طرح بہت سے نو زائیدہ بچے قتل کئے گئے، اگرچہ حضرت موسی علیہ السلام اسی سال پیدا ہوئے مگر اللہ تعالی نے ان کو محفوظ رکھا، اس کا مفصل واقعہ سورہ طہ اور سورۃ القصص میں خود قرآن کریم میں ذکر فرمایا ہے۔

(توضیح القرآن)

 

 

اور جب ہم نے تمہارے لیے پھاڑ دیا دریا، پھر ہم نے تمہیں بچا لیا اور آل فرعون کو ڈبو دیا، اور تم دیکھ رہے تھے (۵۰)

تشریح :یہ قصہ اس وقت ہوا کہ موسی علیہ السلام پیدا ہو کر پیغمبر ہو گئے اور مدتوں فرعون کو سمجھاتے رہے جب وہ کسی طرح نہ مانا تو حکم ہوا کہ بنی اسرائیل کو خفیہ طور پرلے کر یہاں سے چلے جاؤ، راستہ میں دریا حائل ہوا اور اسی وقت پیچھے سے فرعون بھی مع لشکر آ پہنچا، حق تعالی کے حکم سے دریا شق ہو گیا اور بنی اسرائیل کو گزرنے کا راستہ مل گیا یہ تو پار ہو گئے فرعون کے پہنچنے تک دریا اسی طرح رہا وہ بھی تعاقب کی غرض سے اس میں گھس گیا اس وقت سب طرف سے دریا سمٹ کر اپنی سابق حالت پر ہو گیا اور فرعون اور اس کے ساتھی سب وہیں غرق ہو کر ختم ہو گئے۔

 

اور جب ہم نے موسیؑ سے چالیس رات کا وعدہ کیا، پھر تم نے بچھڑے کو ان کے بعد معبود بنا لیا اور تم ظالم ہوئے (۵۱)

پھر ہم نے تمہیں اس کے بعد معاف کر دیا تاکہ تم احسان مانو(۵۲)

اور ہم نے موسٰیؑ کو کتاب دی اور جدا جدا کرنے والے احکام تاکہ تم ہدایت پالو (۵۳)

تشریح: اور جب موسٰی نے اپنی قوم سے کہا اے قوم ! بیشک تم نے اپنے اوپر ظلم کیا بچھڑے کو (معبود) بنا کر سو تم اپنے پیدا کرنے والے کی طرف رجوع کرو، اپنوں کو ہلاک کرو، یہ تمہارے لیے بہتر ہے تمہارے پیدا کرنے والے کے نزدیک، سو اس نے تمہاری توبہ قبول کر لی، بیشک وہ توبہ قبول کرنے والا، رحم کرنے والا ہے (۵۴)

 

تشریح :حضرت موسی علیہ السلام سے اللہ تعالی نے وعدہ فرمایا تھا کہ وہ کوہ طور پر آ کر چالیس دن اعتکاف کریں تو انہیں تورات عطا کی جائے گی،  چنانچہ حضرت موسی علیہ السلام کوہ طور پر تشریف لے گئے، ان کی غیر موجودگی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے سامری جادوگر نے ایک گائے کا بچھڑا بنایا اور بنی اسرائیل کو اسے اپنا معبود قرار دینے اور اس کی عبادت کرنے پر آمادہ کر لیا اور اس طرح وہ شرک میں مبتلا ہو گئے، حضرت موسی علیہ السلام کو اطلاع ہوئی وہ گھبرا کر واپس تشریف لائے اور بنی اسرائیل کو توبہ کی تلقین فرمائی، اس توبہ کا ایک حصہ یہ تھا کہ بنی اسرائیل میں سے جو لوگ اس شرک میں ملوث نہیں ہوئے تھے وہ ملوث ہونے والوں کو قتل کریں،  چنانچہ ان کی ایک بڑی تعداد قتل کی گئی اور اس طرح ان کی توبہ قبول ہوئی۔

(توضیح القرآن)

 

پھر ہم نے تمہیں تمہاری موت کے بعد زندہ کیا تاکہ تم احسان مانو(۵۶)

تشریح :جب حضرت موسی علیہ السلام کوہ طور سے تورات لے کر تشریف لائے تو بنی اسرائیل نے ان سے کہا کہ ہمیں کیسے یقین آئے کہ واقعی اللہ نے ہمیں اس کتاب پر عمل کرنے کا حکم دیا ہے، شروع میں ان پر حجت تمام کرنے کے لئے انہیں اللہ تعالی نے براہ راست خطاب فرما کر تورات پر عمل کا حکم دیا مگر وہ کہنے لگے کہ جب تک ہم اللہ تعالی کو آنکھوں سے نہ دیکھ لیں گے ہمیں یقین نہ آئے گا، ان کے اس گستاخانہ طرز عمل پر ایک بجلی کے کڑکے نے انہیں آ گھیرا اور وہ بعض روایات کے مطابق مر گئے اور بعض روایات کے مطابق بے ہوش ہو گئے پھر اللہ تعالی نے انہیں دوبارہ زندگی دی۔

(توضیح القرآن)

 

اور ہم نے تم پر بادل کا سایہ کیا اور ہم نے تم پر من و سلوٰی اتارا، وہ پاک چیزیں کھاؤ جو ہم نے تمہیں دیں اور انہوں نے ہم پر ظلم نہیں کیا اور لیکن وہ اپنی جانوں پر ظلم کرتے تھے (۵۷)

تشریح :جیسا کے سورۂ آل عمران میں آئے گا، بنی اسرائیل نے جہاد کے ایک حکم کی نافرمانی کی تھی جس کی پاداش میں انہیں صحرائے سینا میں مقید کر دیا گیا تھا،  لیکن اس سزا یابی کے دوران بھی اللہ تعالی نے انہیں جن نعمتوں سے نوازا یہاں ان کا ذکر ہو رہا ہے، صحرا میں چونکہ کوئی چھت ان کے سروں پر نہیں تھی اس لئے ان کو دھوپ کی تمازت سے بچانے کے لئے اللہ تعالی نے غیب سے یہ انتظام فرمایا کہ ایک بادل ان پر مسلسل سایہ کئے رہتا تھا اسی صحرا میں جہاں کوئی غذا دستیاب نہیں تھی اللہ تعالی نے غیب سے من وسلوی کی شکل میں انہیں بہترین خوراک مہیا فرمائی، بعض روایات کے مطابق من سے مراد ترنجبین ہے جو اس علاقے میں افراط سے پیدا کر دی گئی تھی اور سلوی سے مراد بٹیریں ہیں جو بنی اسرائیل کی قیام گاہوں کے آس پاس کثرت سے منڈلاتی رہتیں اور کوئی انہیں پکڑنا چاہتا تووہ بالکل مزاحمت نہیں کرتی تھیں، بنی اسرائیل نے ان تمام نعمتوں کی بری طرح ناقدری کی اور اس طرح خود اپنی جانوں پر ظلم کیا۔

(توضیح القرآن)

 

اور جب ہم نے کہا تم داخل ہو اس بستی میں، پھر اس میں جہاں سے چاہو با فراغت کھاؤ اور دروازے سے داخل ہو سجدہ کرتے ہوئے، اور کہو بخش دے، ہم تمہاری خطائیں بخش دیں گے اور عنقریب زیادہ دیں گے، نیکی کرنے والوں کو(۵۸)

پھر ظالموں نے دوسری بات سے اس بات کو بدل ڈالا جو کہی گئی تھی انہیں، پھر ہم نے ظالموں پر آسمان سے عذاب اتارا کیونکہ وہ نافرمانی کرتے تھے (۵۹)

تشریح :اسی صحرا میں رہتے ہوئے جب مدت گزر گئی اور بنی اسرائیل من وسلوی سے بھی اکتا گئے تو انہوں نے یہ مطالبہ کیا کہ ہم ایک ہی قسم کے کھانے پر گزارہ نہیں کرسکتے، ہم زمین کی ترکاریاں وغیرہ کھانا چاہتے ہیں، ان کا یہ مطالبہ آگے آیت نمبر: ۶۱ میں آ رہا ہے، اس موقع پر ان کی یہ خواہش بھی پوری کی گئی اور یہ اعلان فرمایا گیا کہ اب تمہیں صحرا کی خاک چھاننے سے نجات دی جاتی ہے، سامنے ایک شہر ہے اس میں چلے جاؤ،  لیکن اپنے گناہوں پر ندامت کے اظہار کے طور پر سر جھکائے ہوئے اور معافی مانگتے ہوئے شہر میں داخل ہو، وہاں اپنی رغبت کے مطابق جو حلال غذا چاہو کھا سکوگے، لیکن ان ظالموں نے پھر ضد کا مظاہرہ کیا، شہر میں داخل ہوتے ہوئے سرتو کیا جھکاتے سینے تان تان کر داخل ہوئے اور معافی مانگنے کے لئے انہیں جو الفاظ کہنے کی تلقین کی گئی تھی ان کا مذاق بنا کر ان سے ملتے جلتے ایسے نعرے لگاتے ہوئے داخل ہوئے جس کا مقصد مسخرہ پن کے سوا کچھ نہ تھا، جو لفظ انہیں معافی مانگنے کے لئے سکھایا گیا تھا وہ تھا “حطۃ” (یا اللہ ہمارے گناہ بخش دے )انہوں نے اسے بدل کر جس لفظ کے نعرے لگائے تھے وہ تھا “حنطۃ” یعنی گندم۔

(توضیح القرآن)

 

اور جب موسٰی نے اپنی قوم کے لیے پانی مانگا پھر ہم نے کہا اپنا عصا پتھر پر مارو، تو پھوٹ پڑے اس سے بارہ چشمے، ہر قوم نے اپنا گھاٹ جان لیا، تم کھاؤ اور پیو اللہ کے رزق سے اور زمین میں نہ پھرو فساد مچاتے (۶۰)

تشریح:یہ واقعہ بھی اس وقت کا ہے جب بنی اسرائیل میدان تیہ (صحرائے سینا)میں محصور تھے وہاں پانی کا کوئی چشمہ نہیں تھا، اللہ تعالی نے ایک معجزہ کے طور پر بارہ چشمے پیدا فرما دئے، حضرت یعقوب(اسرائیل)علیہ السلام کے بارہ بیٹے تھے ہر بیٹے کی اولاد ایک مستقل قبیلہ بن گئی اور اس طرح بنی اسرائیل بارہ قبیلوں میں تقسیم ہو گئے، اللہ تعالی نے ہر قبیلے کے لئے الگ چشمہ جاری فرما دیا تاکہ کوئی الجھن پیش نہ آئے۔

(توضیح القرآن)

 

اور جب تم نے کہا اے موسی! ہم ایک کھانے پر ہر گز صبر نہ کریں گے، آپ ہمارے لئے دعا کریں اپنے رب سے، ہمارے لئے نکالے جو زمین اگاتی ہے، کچھ ترکاری اور ککڑی   اور گندم اور مسور اور پیاز۔ اس نے کہا کیا تم بدلنا چاہتے ہو وہ جو ادنی ہے اس سے جو بہتر ہے تم شہر میں اترو بیشک تمہارے لئے ہو گا جو تم مانگتے ہو اور ان پر ذلت اور محتاجی ڈال دی گئی اور وہ لوٹے اللہ کے غضب کے ساتھ، یہ اس لئے ہوا کہ وہ اللہ کی آیتوں کا انکار کرتے تھے اور ناحق نبیوں کو قتل کرتے تھے، یہ اس لئے ہوا کہ انہوں نے نافرمانی کی اور وہ حد سے بڑھتے تھے (۶۱)

 

تشریح: اس آیت کی تشریح وہی ہے جو آیت نمبر: ۵۹کے ذیل میں ذکر کی گئی۔

 

بیشک جو لوگ ایمان لائے اور جو لوگ یہودی ہوئے اور نصرانی اور صابی، جو ایمان لائے اللہ پر اور روزِ آخرت پر اور نیک عمل کرے تو ان کے لیے ان کے رب کے پاس ان کا اجر ہے، اور ان پر نہ کوئی خوف ہو گا اور نہ وہ غمگین ہوں گے (۶۲)

تشریح:بنی اسرائیل پر اللہ تعالی کے انعامات اور ان کی نافرمانیوں کے تذکرے کے بیچ میں یہ آیت کریمہ بنی اسرائیل کے ایک باطل گھمنڈ کی تردید کے لئے آئی ہے، ان کا عقیدہ یہ تھا کہ صرف انہی کی نسل اللہ کے منتخب اور لاڈلے بندوں پر مشتمل ہے، ان کے خاندان سے باہر کا کوئی آدمی اللہ کے انعامات کا مستحق نہیں ہے، (آج بھی یہودیوں کا یہی عقیدہ ہے، اسی لئے یہودی مذہب ایک نسل پرست مذہب ہے اور اس نسل کے باہر کا کوئی شخص یہودی مذہب اختیار کرنا بھی چاہے تو اختیار کر ہی نہیں سکتا، یا ان کے حقوق کا مستحق نہیں ہوسکتا جو ایک نسلی یہودی کو حاصل ہیں )اس آیت نے واضح فرمایا کہ حق کسی ایک نسل میں محدود نہیں ہے، اصل اہمیت ایمان اور نیک عمل کو حاصل ہے، جو شخص بھی اللہ اور آخرت پر ایمان لانے اور عمل صالح کی بنیادی شرطیں پوری کر دے گا خواہ وہ پہلے کسی بھی مذہب یا نسل سے تعلق رکھتا ہو اللہ کے نزدیک اجر کا مستحق ہو گا، یہودیوں اور نصرانیوں کے علاوہ عرب میں کچھ ستارہ پرست لوگ رہتے تھے جنہیں صابی کہا جاتا تھا اس لئے ان کا بھی ذکر کیا گیا ہے یہاں یہ بھی واضح رہے کہ اللہ پر ایمان لانے میں اس کے تمام رسولوں پر ایمان لانا بھی داخل ہے، لہذا نجات پانے کے لئے رسول اکرمﷺ پر ایمان لانا بھی ضروری ہے،  چنانچہ پیچھے آیت ۴۰۔ ۴۱ میں اسی لئے تمام بنی اسرائیل کو آنحضرتﷺ پر ایمان لانے کا حکم دیا گیا ہے۔

(توضیح القرآن)

 

اور جب ہم نے تم سے اقرار لیا اور ہم نے تمہارے اوپر کوہ طور اٹھایا، جو ہم نے تمہیں دیا ہے وہ مضبوطی سے پکڑو اور جو اس میں ہے اسے یاد رکھو،  تاکہ تم پرہیز گار ہو جاؤ۔ (۶۳)

پھر اس کے بعد تم پھر گئے، پس اگر اللہ کا فضل نہ ہوتا تم پر، اور اس کی رحمت، تو تم نقصان اٹھانے والوں میں سے تھے۔ (۶۴)

 

تشریح:جب حضرت موسی علیہ السلام تورات لے کر آئے تو بنی اسرائیل نے دیکھا کہ اس کے بعض احکام بہت سخت ہیں، اس لئے اس سے بچنے کے بہانے تلاش کرنے شروع کر دئے، پہلے تو انہوں نے کہا کہ اللہ تعالی ہم سے خود کہے کہ تورات پر عمل کرنا ضروری ہے، مطالبہ اگرچہ نامعقول تھا مگر ان پر حجت تمام کرنے کے لئے ان میں سے ستر آدمی منتخب کر کے حضرت موسی علیہ السلام کے ساتھ کوہ طور پر بھیجے گئے (اعراف، ۷:۱۵۵)جن کو اللہ تعالی نے براہ راست تورات پر عمل کا حکم دیا، مگر جب یہ واپس لوٹے تو انہوں نے اپنی قوم کے سامنے تصدیق توکی کہ اللہ تعالی نے تورات پر عمل کا حکم دیا ہے،  لیکن ایک بات اپنی طرف سے بڑھا دی کہ اللہ تعالی نے یہ بھی فرمایا ہے کہ جتنا تم سے ہوسکے اتنا عمل کر لینا،  لیکن جو نہ ہوسکے وہ ہم معاف کر دیں گے،  چنانچہ تورات کے جس حکم میں بھی انہیں کچھ مشکل نظر آتی وہ یہ بہانہ تراش لیتے کہ یہ حکم بھی اسی چھوٹ میں داخل ہے، اس موقع پر اللہ تعالی نے کوہ طور ان کے سروں پر بلند کر دیا کہ تورات کے تمام احکام کو تسلیم کرو، جب انہیں یہ اندیشہ ہوا کہ کہیں پہاڑ ان پر گرانہ دیا جائے تب ان لوگوں نے تورات کو ماننے اور اس پر عمل کرنے کا عہد کیا۔

(توضیح القرآن)

 

اور البتہ تم نے (ان لوگوں کو) جان لیا جنہوں نے تم میں سے ہفتہ کے دن میں زیادتی کی تب ہم نے ان سے کہا تم ذلیل بندر ہو جاؤ۔ (۶۵)

پھر ہم نے اسے سامنے والوں کے لیے اور پیچھے آنے والوں کے لیے عبرت بنایا اور نصیحت پرہیز گاروں کے لیے (۶۶)

تشریح :سنیچر(ہفتہ)کو عربی اور عبرانی زبان میں سبت کہتے ہیں، یہودیوں کے لئے اسے ایک مقدس دن قرار دیا گیا تھا، جس میں ان کے لئے معاشی سرگرمیاں ممنوع تھیں، جن یہودیوں کا یہاں ذکر ہے وہ (غالباً حضرت داؤد علیہ السلام کے زمانے میں ) کسی سمندر کے کنارے رہتے تھے اور مچھلیاں پکڑا کرتے تھے، سنیچر کے دن مچھلیاں پکڑنا ان کے لئے نا جائز تھا مگر شروع میں انہوں نے کچھ حیلے کر کے اس حکم کی خلاف ورزی کرنی چاہی اور پھر کھلم کھلا مچھلیاں پکڑنی شروع کر دیں، کچھ نیک لوگوں نے انہیں سمجھایا مگر باز نہ آئے، بالآخر ان پر عذاب آیا اور ان کی صورتیں مسخ کر کے انہیں بندر بنا دیا گیا۔

(اس واقعہ کی تفصیل :اعراف، ۷:۱۶۳تا۱۶۶)۔ (توضیح القرآن)

 

وہ کہنے لگے کیا تم ہم سے مذاق کرتے ہو اس نے کہا میں اللہ کی پناہ لیتا ہوں (اس سے ) کہ میں جاہلوں سے ہو جاؤں (۶۷)

کہ وہ گائے نہ بوڑھی ہے اور نہ چھوٹی عمر کی اس کے درمیانی جوان ہے، پس تمہیں جو حکم دیا جاتا ہے کرو(۶۸)

انہوں نے کہا ہمارے لیے دعا کریں اپنے رب سے کہ وہ ہمیں بتلا دے اس کا رنگ کیسا ہے ؟ اس نے کہا بیشک وہ فرماتا ہے کہ وہ ایک گائے ہے زرد رنگ کی، اس کا رنگ خوب گہرا ہے، دیکھنے والوں کو اچھی لگتی ہے (۶۹)

گائے میں ہم پر اشتباہ ہو گیا اور اگر اللہ نے چاہا تو بیشک ہم ضرور ہدایت پالیں گے (۷۰)

انہوں نے کہا ہمارے لیے اپنے رب سے دعا کریں کہ وہ ہمیں بتلائے وہ کیسی ہے ؟ کیونکہ اس نے کہا بیشک وہ فرماتا ہے کہ وہ ایک گائے ہے نہ سدھی ہوئی، نہ زمین جوتتی، نہ کھیتی کو پانی دیتی، بے عیب ہے، اس میں کوئی داغ نہیں، وہ بولے اب تم ٹھیک بات لائے ۔ پھر انہوں نے اسے ذبح کیا اور وہ لگتے نہ تھے کہ وہ (ذبح) کریں (۷۱)

اور جب تم نے ایک آدمی کو قتل کیا پھر تم اس میں جھگڑنے لگے اور اللہ ظاہر کرنے والا تھا جو تم چھپاتے تھے (۷۲)

پھر ہم نے کہا تم اس (مقتول) کو گائے کا ایک ٹکڑا مارو، اس طرح اللہ مردوں کو زندہ کرے گا، وہ تمہیں دکھاتا ہے اپنے نشان تاکہ تم غور کرو(۷۳)

تشریح :اس واقعہ کی تفصیل تاریخی روایات میں یہ آئی ہے کہ بنی اسرائیل کے ایک شخص نے اپنے ایک بھائی کو اس کی میراث حاصل کرنے کی خاطر قتل کیا اور اس کی لاش سڑک پر ڈال دی، پھر خود ہی حضرت موسی علیہ السلام کے پاس شکایت لے کر پہنچ گیا کہ قاتل کو پکڑ کر سزا دی جائے، اس موقع پر حضرت موسی علیہ السلام نے اللہ تعالی کے حکم سے انہیں گائے ذبح کرنے کو کہا، جب انہیں اس کا حکم دیا گیا تو کسی خاص قسم کی گائے نہیں بتائی گئی تھی،  چنانچہ وہ کوئی بھی گائے ذبح کر دیتے تو حکم پورا ہو جاتا،  لیکن انہوں نے خواہ مخواہ کھود کرید شروع کر دی، جس کے نتیجے میں اللہ تعالی نے بھی نت نئی شرطیں عائد فرمائیں اور ایسی گائے تلاش کرنا مشکل ہو گیا جو ان شرطوں کو پورا کرتی ہو، یہاں تک کہ ایک مرحلے پر ایسا محسوس ہونے لگا کہ شاید وہ ایسی گائے تلاش کر کے ذبح کرنے کے قابل نہ ہوں، اس واقعہ میں سبق یہ دیا گیا ہے کہ بلاوجہ غیر ضروری کھوج میں پڑنا ٹھیک نہیں، جو بات جتنی سادہ ہو اس پر اتنی ہی سادگی سے عمل کر لینا چاہئے، الغرض جب گائے ذبح ہو گئی تو آپؑ نے فرمایا کہ گائے کا کوئی عضو اٹھا کر مقتول کی لاش پر مارو تووہ زندہ ہو کر قاتل کا نام بتا دے گا،  چنانچہ ایسا ہی ہوا اور اس طرح قاتل کا پول کھل گیا اور وہ پکڑا گیا، قاتل کی دریافت کے لئے یہ طریقہ اختیار کرنے کا ایک فائدہ یہ ہوا کہ مردوں کو زندہ کرنے کی خدائی طاقت کا عملی مظاہرہ کر کے ان لوگوں کی زبانیں بند کر دیں گئیں جو دوسری زندگی کو ناممکن سمجھتے تھے۔

(توضیح القرآن)

 

پھر اس کے بعد تمہارے دل سخت ہو گئے، سو وہ پتھر جیسے ہو گئے، یا اس سے زیادہ سخت اور بیشک بعض پتھروں سے نہریں پھوٹ نکلتی ہیں اور بیشک ان میں سے بعض پھٹ جاتے ہیں تو نکلتا ہے ان سے پانی، اور ان میں بعض اللہ کے ڈر سے گر پڑتے ہیں، اور اللہ اس سے بے خبر نہیں جو تم کرتے ہو(۷۴)

تشریح :ایسے ایسے واقعات کے بعد چاہئے تھا کہ تم لوگوں کے دل بالکل نرم اور حق تعالی کی عظمت سے پر ہو جاتے، لیکن تمہارے دل پھر بھی سخت ہی رہے، تویوں کہنا چاہئے کہ اس کی مثال پتھر کی سی ہے یا یوں کہئے کہ وہ سختی میں ان سے بھی زیادہ ہیں اور زیادہ سخت اس وجہ سے کہا جاتا ہے کہ بعضے پتھر توایسے ہیں جن سے بڑی بڑی نہریں پھوٹ کر چلتی ہیں اور انہی پتھروں میں بعض ایسے ہیں جو خدا تعالی کے خوف سے اوپر سے نیچے لڑھک آتے ہیں اور تمہارے قلوب میں کسی قسم کا اثر ہی نہیں ہوتا اور اس قساوت سے جو اعمال بد صادر ہوتے ہیں، حق تعالی تمہارے ان اعمال سے بے خبر نہیں ہیں بہت جلد تم کو سزا کو پہنچا دیں گے۔

 

پھر کیا تم توقع رکھتے ہو؟ کہ وہ مان لیں گے تمہاری خاطر، اور ان میں سے ایک فریق اللہ کا کلام سنتا ہے پھر وہ اس کو بدل ڈالتے ہیں اس کو سمجھ لینے کے بعد، اور وہ جانتے ہیں (۷۵)

تشریح:اے مسلمانو! کیا یہ سارے قصہ سن کر اب بھی تم توقع رکھتے ہو کہ یہ یہودی تمہارے کہنے سے ایمان لے آویں گے،  حالانکہ ان سب مذکورہ قصوں سے بڑھ کر ایک اور بات بھی ان سے ہو چکی ہے کہ ان میں کچھ لوگ ایسے گزرے ہیں کہ اللہ تعالی کا کلام سنتے تھے اور پھر اس کو کچھ کا کچھ کر ڈالتے تھے اور یہ سب جانتے بوجھتے کیا کرتے تھے۔

 

اور جب وہ ان لوگوں سے ملتے ہیں جو ایمان لائے تو کہتے ہیں ہم ایمان لائے، اور جب ان کے بعض دوسروں کے پاس اکیلے ہوتے ہیں تو کہتے ہیں، کیا تم انہیں وہ بتلاتے ہو جو اللہ نے تم پر ظاہر کیا تاکہ وہ اس کے ذریعے تمہارے رب کے سامنے حجت لائیں تم پر تو کیا تم نہیں سمجھتے ؟(۷۶)

تشریح:تورات میں آخر زمانے میں آنے والے نبی کی جو پیشین گوئیاں موجود تھیں وہ تمام تر نبی کریمﷺ پر صادق آتی تھیں، بعض منافق یہودی جو مسلمانوں کے سامنے اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کرتے تھے یہ پیشین گوئیاں مسلمانوں کو سنادیتے تھے اس پر دوسرے یہودی تنہائی میں ان کو ملامت کرتے تھے کہ مسلمان ان پیشین گوئیاں کو جان لیں گے تو قیامت میں ہمارے خلاف استعمال کریں گے اور ہمارے پاس ان کا کوئی جواب نہ ہو گا، ظاہر ہے کہ یہ انتہائی بے وقوفی کی بات تھی،  کیونکہ اگرمسلمانوں سے یہ پیشین گوئیاں چھپا بھی لی جائیں تو اللہ سے تو نہیں چھپ سکتیں۔

(توضیح القرآن)

 

کیا وہ نہیں جانتے کہ اللہ جانتا ہے جو وہ چھپاتے ہیں اور جو وہ ظاہر کرتے ہیں (۷۷)

اور ان میں کچھ ان پڑھ ہیں جو کتاب نہیں جانتے سوائے چند آرزوؤں کے، اور صرف گمان سے کام لیتے ہیں (۷۸)

سو ان کے لیے خرابی ہے جو وہ کتاب لکھتے ہیں اپنے ہاتھوں سے، پھر کہتے ہیں یہ اللہ کے پاس سے ہے تاکہ اس کے ذریعے حاصل کر لیں تھوڑی سی قیمت، سو ان کے لیے خرابی ہے اس سے جو ان کے ہاتھوں نے لکھا اور ان کے لیے خرابی ہے اس سے جو وہ کماتے ہیں (۷۹)

تشریح:یہاں قرآن کریم نے ترتیب یہ رکھی ہے کہ پہلے ان یہودی علماء کا ذکر فرمایا ہے جو تورات میں جان بوجھ کر رد و بدل کرتے تھے پھر اُن اَن پڑھ یہودیوں کا جنہیں تورات کا علم تو تھا نہیں مگر انہیں مذکورہ بالا علماء نے ان جھوٹی آرزوؤں میں مبتلا کر رکھا تھا کہ سارے یہودی اللہ کے لاڈلے ہیں اور وہ بہر صورت جنت میں جائیں گے، ان کا ساراعلم اسی قسم کے گمانوں پر مشتمل تھا،  چونکہ ان کے اس گمان کی بنیادی وجہ علماء کی تحریفات تھیں، اور یہ یہودی علماء عوام کی رضا جوئی کے لئے غلط مسئلے بتاتے تھے اس سے ان کو کچھ نقد وغیرہ بھی وصول ہو جاتا تھا اور ان کی نظر میں وقعت اور وقار بھی رہتا تھا اسی غرض سے توریت میں لفظی اور معنوی تبدیلی کرتے رہتے تھے اس آیت میں اسی پر وعید سنائی گئی ہے۔

 

اور انہوں نے کہا کہ ہمیں آگ ہر گز نہ چھوئے گی گنتی کے چند دن کے سوا، کہہ دو کیا تم نے اللہ کے پاس سے کوئی وعدہ لیا ہے ؟ کہ اللہ ہر گز اپنے وعدہ کے خلاف نہیں کرے گا، کیا تم اللہ پر وہ کہتے ہو جو تم نہیں جانتے ؟(۸۰)

تشریح :حضور اکرمﷺ کی بعثت کے بعد تمام گزشتہ مذاہب کو منسوخ قرار دے دیا گیا، اب اگر کوئی یہ دعوی کرتا ہے کہ اس سے پہلے گزری ہوئی شریعتیں منسوخ نہیں ہوئیں اور ہم اسی شریعت پر رہتے ہوئے جنت میں جائیں گے، اگر جہنم میں چلے بھی جائیں تو پھر چند دن کے بعد جنت میں پہنچا دئے جائیں گے، تو اس کا یہ دعوی جھوٹا ہے، اس آیت میں ان لوگوں سے پوچھا جا رہا ہے کہ کیا اللہ نے تم سے اس طرح کا کوئی وعدہ کیا ہے، ان کے پاس اس بات کی کوئی دلیل نہیں ہے، یہ لوگ اللہ تعالی پر جھوٹ کہہ رہے ہیں۔

 

کیوں نہیں ! جس نے کمائی کوئی برائی اور اس کو اس کی خطاؤں نے گھیر لیا پس یہی لوگ دوزخی ہیں، وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے (۸۱)

اور جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے اچھے عمل کیے یہی لوگ جنت والے ہیں وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے (۸۲)

تشریح :خطاؤں نے گھیر لیا کا مطلب کفر کے ساتھ مخصوص ہے، کیونکہ کفر کی وجہ سے کوئی بھی عمل صالح مقبول نہیں ہوتا،  بلکہ کفر سے قبل اگر کچھ نیک عمل کئے بھی ہوں تووہ بھی ضائع اور ضبط ہو جاتے ہیں، اسی وجہ سے کفار میں سرتاپا بدی ہی بدی ہو گی، جس کی سزا ابدی جہنم ہو گی، بخلاف اہل ایمان کے کہ اول تو ان کا ایمان خود بہت بڑا عمل صالح ہے، دوسرے اعمال فرعیہ بھی ان کے نامۂ اعمال میں درج ہوتے ہیں اس لئے نیکی کے اثر سے خالی نہیں، پس احاطۂ مذکور ان کی حالت پر صادق نہیں آتا۔

 

اور جب ہم نے لیا بنی اسرائیل سے پختہ عہد کہ تم اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرنا ، اور ماں باپ سے حسن سلوک کرنا،  اور قرابت داروں ، یتیموں ، اور مسکینوں سے اور تم کہنا لوگوں سے اچھی بات، اور نماز قائم کرنا ، اور زکوٰۃ دینا۔ پھر تم پھر گئے تم میں سے چند ایک کے سوا ، اور تم پھر جانے والے ہو(۸۳)

تشریح :اس آیت سے یہ معلوم ہوا کہ یہ” احکام” اسلام اور سابقہ شریعتوں میں مشترک ہیں، جن میں توحید اور رشتہ داروں اور یتیموں اور مسکینوں کی خدمت اور تمام انسانوں کے ساتھ گفتگو میں نرمی، خوش خلقی اور نماز اور زکوٰۃ سب داخل ہیں۔

آیت کے آخر میں فرمایا چند لوگوں کے علاوہ سب پھر گئے، چندسے مراد وہ لوگ ہیں جو توریت منسوخ ہونے سے قبل شریعت موسویہ کے پابند رہے، جب توریت منسوخ ہو گئی تو شریعت محمدیہ کے متبع ہو گئے۔

 

پھر جب ہم نے تم سے پختہ عہد لیا کہ تم اپنوں کے خون نہ بہاؤ گے، اور نہ تم اپنوں کو اپنی بستیوں سے نکالو گے، پھر تم نے اقرار کیا اور تم گواہ ہو۔ (۸۴)

تشریح :اوپر کی آیت میں جو عہد میثاق لیا گیا تھا اس آیت میں اس کا تتمہ بیان کیا گیا ہے :وہ زمانہ یاد کرو جب ہم نے تم سے یہ قول و قرار بھی لیا کہ خانہ جنگی کر کے باہم خونریزی مت کرنا اور ایک دوسرے کو ترک وطن مت کرانا، ترک وطن کرانے کی ممانعت کا مطلب یہ ہے کہ کسی کو آزار پہنچا کر اتنا تنگ مت کرنا کے وہ ترک وطن پر مجبور ہو جائے، ہمارے اس اقرار لینے پر تم نے اقرار بھی کر لیا اور اقرار بھی اتنا واضح تھا جیسے شہادت صاف اور واضح ہوا کرتی ہے۔

 

پھر تم وہ لوگ ہو جو قتل کرتے ہو اپنوں کو، اور اپنے ایک فریق کو ان کے وطن سے نکالتے ہو۔ تم چڑھائی کرتے ہو ان پر گناہ اور سرکشی سے، اور اگر وہ تمہارے پاس قیدی آئیں تو بدلہ دے کر انہیں چھڑاتے ہو۔ ان کا نکالنا تم پر حرام کیا گیا تھا تو کیا تم کتاب کے بعض حصہ پر ایمان لاتے ہو اور بعض حصہ کا انکار کرتے ہو ؟ سو تم میں جو ایسا کرے اس کی کیا سزا ہے سوائے اس کے کہ دنیا کی زندگی میں رسوائی اور وہ قیامت کے دن سخت عذاب کی طرف لوٹائے جائیں گے، اور اللہ بے خبر نہیں ہے اس سے جو تم کرتے ہو(۸۵)

یہی لوگ ہیں جنہوں نے خرید لی آخرت کے بدلے دنیا کی زندگی سو ان سے عذاب ہلکا نہ کیا جائے گا اور نہ وہ مدد کیے جائیں گے (۸۶)

تشریح :اس کا پس منظر یہ ہے کہ مدینہ منورہ میں یہودیوں کے دو قبیلے آباد تھے، بنو قریظہ اور بنو نضیر، دوسری طرف بت پرستوں کے بھی دو قبیلے تھے اوس اور خزرج، قریظہ کی دوستی اوس قبیلے سے تھی، اور بنو نضیر کی خزرج سے، جب اوس و خزرج میں لڑائی ہوئی تو قریظہ اوس کا ساتھ دیتے اور بنو نضیر خزرج کا، نتیجہ یہ کہ یہودیوں کے دونوں قبیلے بالواسطہ ایک دوسرے کے مدمقابل آ جاتے اور ان لڑائیوں میں جہاں اوس اور خزرج کے آدمی مارے جاتے وہاں قریظہ اور نضیر کے یہودی بھی قتل ہوتے یا اپنے گھروں سے نکلنے پر مجبور ہوتے، اس طرح اگرچہ بنو قریظہ اور بنو نضیر دونوں قبیلے یہودی تھے مگر وہ ایک دوسرے کے دشمنوں کی امداد کر کے آپس میں ایک دوسرے کے قتل اور خانماں بربادی میں حصہ دار ہوتے تھے، ہاں اگر کوئی یہودی دشمن کے ہاتھوں قید ہو جاتا تووہ سب مل کر اس کا فدیہ ادا کرتے اور اسے چھڑا لیتے جس کی وجہ یہ بیان کرتے تھے کہ ہمیں تورات نے حکم دیا ہے کہ اگر کوئی یہودی دشمن کی قید میں چلا جائے تو اسے چھڑائیں، قرآن کریم فرماتا ہے کہ جس تورات نے یہ حکم دیا ہے اسی نے یہ حکم بھی تو دیا تھا کہ نہ ایک دوسرے کو قتل کرنا نہ ایک دوسرے کو گھر سے نکالنا، ان احکام کو تو تم نے چھوڑ دیا اور صرف فدیہ کے حکم پر عمل کر لیا۔

(توضیح القرآن)

 

اور البتہ ہم نے موسٰی کو کتاب دی اور ہم نے اس کے بعد پے در پے بھیجے رسول اور ہم نے مریم کے بیٹے عیسیٰ کو کھلی نشانیاں دیں اور اس کی مدد کی جبرائیل کے ذریعے  کیا پھر جب تمہارے پاس کوئی رسول اس کے ساتھ آیا جو تمہارے نفس نہ چاہتے تھے تو تم نے تکبر کیا، سو ایک گروہ کو تم نے جھٹلایا اور ایک گروہ کو تم قتل کرنے لگے (۸۷)

اور انہوں نے کہا ہمارے دل پردہ میں ہیں، بلکہ ان پر ان کے کفر کے سبب اللہ کی لعنت ہے، سو تھوڑے ہیں جو ایمان لاتے ہیں (۸۸)

تشریح:بنی اسرائیل کی ہدایت کے لئے موسی علیہ السلام کو تورات دی گئی، پھر اس کے بعد درمیان میں مختلف پیغمبروں کو بھیجا گیا، یہود نے پیغمبروں کی تکذیب کی، حضرت زکریا و یحییٰ علیہما السلام کو قتل بھی کیا۔ اور اس خاندان کے اخیر میں حضرت عیسی علیہ السلام کو نبوت کے واضح دلائل انجیل اور معجزات کے ساتھ بھیجا گیا، عیسی علیہ السلام کو حضرت جبرئیل علیہ السلام کے ذریعہ تقویت دی گئی، یہود چونکہ حضرت عیسی علیہ السلام کے مخالف تھے اس لئے جبرئیل علیہ السلام حفاظت کے لئے ساتھ رہتے تھے حتی کے آخر میں ان کے ذریعہ آسمان پر اٹھا لئے گئے۔

ان سارے واقعات کو سننے کے باوجود یہ لوگ کہنے لگے کہ ہمارے دلوں پر( حفاظت کے ) پردے ہیں، ہم ہمارے مذہب کو نہیں چھوڑسکتے، ایسے لوگوں پر اللہ کی لعنت سنائی گئی ان کے کفر کے سبب۔

 

اور جب ان کے پاس اللہ کے پاس سے کتاب آئی، اس کی تصدیق کرنے والی، جو ان کے پاس ہے اور وہ اس سے پہلے کافروں پر فتح مانگتے تھے، سوجب ان کے پاس وہ آیا جو وہ پہچانتے تھے منکر ہو گئے سو کافروں پر اللہ کی لعنت ہے (۸۹)

تشریح:جب یہودیوں کی بت پرستوں سے جنگ ہوتی یا بحث و مباحثہ ہوتا تووہ یہ دعائیں مانگا کرتے تھے کہ یا اللہ!آپ نے تورات میں جس آخری نبی کی خبر دی ہے اسے جلدی بھیج دیجئے تاکہ ہم ان کے ساتھ مل کر بت پرستوں پر فتح حاصل کریں، مگر جب وہ نبی(حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم) تشریف لے آئے تو وہ حسد میں مبتلا ہو گئے کہ انہیں بنی اسرائیل کے بجائے بنی اسماعیل میں کیوں بھیجا گیا ؟چنانچہ یہ جان لینے کے باوجود کہ آنحضرتﷺ پر وہ ساری علامتیں صادق آتی ہیں جو تورات میں نبی آخرالزماں کی بیان کی گئی ہیں انہوں نے آپ کو ماننے سے سے انکار کر دیا۔

(توضیح القرآن)

 

برا ہے جو انہوں نے بیچ ڈالا اپنے آپ کو اس کے بدلے کہ وہ اس کے منکر ہو گئے جو اللہ نے نازل کیا، اس ضد سے کہ اللہ نازل کرتا ہے اپنے فضل سے، اپنے جس بندہ پر وہ چاہتا ہے کما لائے غضب پر غضب، اور کافروں کے لیے رسوا کرنے والا عذاب ہے (۹۰)

تشریح:جب اللہ تعالی نے اپنے بندے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر قرآن کریم نازل فرمایا تو یہ لوگ حسد اور ضد کی وجہ سے انکار کر کے کافر ہو گئے، لہذا ان کے کفر کی وجہ سے اللہ کا غضب ان پر نازل ہوا اور آخرت میں ایسا عذاب دیا جائے گا جو ذلت والا ہے۔

 

اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ تم ایمان لاؤ اس پر جو اللہ نے نازل کیا تو کہتے ہیں ہم اس پر ایمان لاتے ہیں جو ہم پر نازل کیا گیا اور انکار کرتے ہیں اس کا جو اس کے علاوہ ہے، حالانکہ وہ حق ہے، اس کی تصدیق کرنے والا جو ان کے پاس ہے، آپ کہہ دیں سو کیوں تم اللہ کے نبیوں کو اس سے پہلے قتل کرتے رہے ہو؟اگر تم مومن ہو(۹۱)

تشریح:یہودیوں نے جو یہ کہا کہ:ہم صرف تورات پر ایمان لائیں گے دوسری کتب پر ایمان نہ لائیں گے، تو ان کا یہ قول صریح کفر ہے اور اس کے ساتھ جو یہ کہا کہ توراۃ جو ہم پر نازل کی گئی ہے اسی سے ان کا حسدواضح ہو رہا ہے، اس کا مفہوم صاف یہ ہے کہ دوسری کتابوں کو ہم پر نازل نہیں کیا گیا اس لئے ان پر ہم ایمان نہیں لائیں گے، اللہ تعالی نے ان کے اس قول کو تین طرح رد فرمایا:

اول یہ کہ جب اور کتابوں کی حقانیت دلیل قطعی سے ثابت ہے تو پھر اس (انکار)کی کیا وجہ ہے، ہاں اگر اس کی دلیل میں کلام تھا تو اس کو پیش کر کے تشفی کر لیتے۔

دوسرے اور کتابیں مثلاً قرآن مجید جو تورات کی تصدیق کرنے والا ہے اس کے انکار سے تو خود تورات کی تکذیب و انکار لازم آتا ہے۔

تیسرے یہ کہ انبیاء علیہم السلام کو قتل کرنا تمام آسمانی کتابوں کی رو سے کفر ہے پھر تمہارے گروہ کے لوگوں نے جو کئی نبیوں کو قتل کیا جن کی تعلیم بھی توراۃ ہی کہ احکام کے ساتھ خاص تھی اور تم ان قاتلین کو اپنا پیشوا اور مقتدا سمجھتے ہو غرض کسی بھی پہلو سے تمہارا قول و فعل صحیح اور درست نہیں۔

(معارف القرآن)

 

اور البتہ موسٰی(علیہ السلام)تمہارے پاس کھلی نشانیوں کے ساتھ آئے، پھر تم نے اس کے بعد بچھڑے کو (معبود)بنا لیا اور تم ظالم ہو (۹۲)

تشریح:بینات سے مراد وہ دلائل ہیں جو اس قصہ سے پہلے جبکہ تورات نہ ملی تھی موسی علیہ السلام کے نبی برحق ہونے پر قائم ہو چکی تھیں مثلاً عصا اور ید بیضا، دریا کا پھٹنا وغیرہ۔

ان بینات کو دیکھنے کے باوجود یہ یہودی ہی تھی جو گوسالہ پرستی میں مبتلا ہو کر ظالموں میں شامل ہو گئے۔

 

اور جب ہم نے تم سے پختہ عہد لیا اور تمہارے اوپر کوہ طور بلند کیا (اور کہا) جو ہم نے تمہیں دیا ہے اسے مضبوطی سے پکڑو اور سنو، تو وہ بولے کہ ہم نے سنا اور نافرمانی کی، اور ان کے دلوں میں بچھڑا رچا دیا گیا ان کے کفر کے سبب کہہ دیں کیا ہی برا ہے جس کا تمہیں حکم دیتا ہے تمہارا ایمان، اگر تم مومن ہو (۹۳)

تشریح:اس آیت میں جو اسباب اور مسببات مذکور ہیں ان کی ترتیب کا حاصل یہ ہے کہ دریائے شور سے پار ہو کر ان سے ایک کلمہ کفر کا صدور ہوا، ہرچند موسی علیہ السلام کی ڈانٹ ڈپٹ سے توبہ کر لی،  لیکن توبہ کے مراتب بھی مختلف ہوتے ہیں، اعلی درجہ کی توبہ نہ ہونے کے سبب اس کی ظلمت قلب میں کچھ باقی رہ گئی تھی، وہ ترقی پاکر گوسالہ پرستی کا سبب بن گئی، پھر اس کی توبہ میں بعضوں کو قتل ہونا پڑا اور بعض کو غالباً بلا قتل معافی ہو گئی ہو جیسا کی بعض مفسرین نے ذکر بھی کیا ہے، اُن کی توبہ بھی کچھ ضعیف ہوئی ہو گی اور جوگوسالہ پرستی سے محفوظ رہے تھے ان کو بھی گوسالہ پرستوں سے جس قدر نفرت واجب تھی اس میں کوتاہی ہونے سے ایک گونہ اثر اس معصیت شرکیہ کا ان کے قلب میں باقی تھا بہر حال ضعف توبہ یا کفر سے نفرت نہ ہونے کے آثار باقی رہنے نے دلوں میں دین سے سستی پیدا کر دی جس سے اخذ میثاق میں کوہ طور کو ان پر معلق کرنے کی نوبت آئی۔

(معارف القرآن)

 

کہہ دیں اگر تمہارے لیے ہے آخرت کا گھر اللہ کے پاس خاص طور پر دوسرے لوگوں کے سوا تو تم موت کی آرزو کرو، اگر تم سچے ہو(۹۴)

اور وہ ہر گز کبھی موت کی آرزو نہ کریں گے اس کے سبب جو ان کے ہاتھوں نے آگے بھیجا اور اللہ ظالموں کو جاننے والا ہے (۹۵)

تشریح:بعض یہودی یہ دعوی کرتے تھے کہ آخرت کی نعمتیں خالص ہمارا ہی حق ہیں، اللہ تعالی نے اس دعوی کو باطل کرنے کے لئے فرمایا کہ اگر عالم آخرت صرف تمہارے لئے ہے تو ذرا موت کی تمنا کر کے دکھلاؤ، اور حقیقت یہ ہے کہ یہ لوگ ہرگز موت کی تمنا نہیں کرسکتے۔

 

اور البتہ تم انہیں دوسرے لوگوں سے زیادہ زندگی پر حریص پاؤ گے اور مشرکوں سے (بھی زیادہ) ان میں سے ہر ایک چاہتا ہے کاش وہ ہزار سال کی عمر پائے، اور اتنی عمر دیا جانا اسے عذاب سے دور کرنے والا نہیں اور اللہ دیکھنے والا ہے جو وہ کرتے ہیں (۹۶)

تشریح:اس میں حیرت کی وجہ یہ ہے کہ مشرکین عرب تو آخرت کے منکر تھے ان کی بہار اور عیش تو جو کچھ ہے دنیا ہی ہے، اس لئے وہ اگر طول عمر کی تمنا کریں تو کوئی عجیب بات نہیں، مگر یہود تو آخرت کے قائل اور بزعم خود آخرت کی نعمتوں کا اپنے آپ ہی کو مستحق کہتے تھے، پھر بھی وہ دنیا میں رہنے کی تمنا کریں یہ ہے حیرت و تعجب کی بات۔

(معارف القرآن)

 

کہہ دیں جو جبرائیل کا دشمن ہو تو بیشک اس نے یہ آپ کے دل پر نازل کیا ہے اللہ کے حکم سے اس کی تصدیق کرنے والا جو اس سے پہلے ہے اور ہدایت اور خوشخبری ایمان والوں کے لیے (۹۷)

جو دشمن ہو اللہ کا، اور اس کے فرشتوں اور اس کے رسولوں کا، اور جبرائیل اور میکائیل کا، تو بیشک اللہ کافروں کا دشمن ہے (۹۸)

تشریح:بعض یہودیوں نے آنحضرتﷺ سے کہا تھا کہ آپ کہ پاس جبرئیل علیہ السلام وحی لاتے ہیں وہ چونکہ ہمارے لئے بڑے سخت احکام لایا کرتے تھے اس لئے ہم انہیں اپنا دشمن سمجھتے ہیں، اگر کوئی اور فرشتہ وحی لا رہا ہو تو ہم کچھ غور کرسکتے تھے، یہ آیت اس کے جواب میں نازل ہوئی ہے اور جواب کا حاصل یہ ہے کہ جبرئیل علیہ السلام تو محض پیغام پہنچانے والے ہیں، جو کچھ لاتے ہیں اللہ کے حکم سے لاتے ہیں، لہذا نہ ان سے دشمنی کی کوئی معقول وجہ ہے اور نہ اس کی وجہ سے اللہ کے کلام کو رد کرنے کا کوئی معنی ہے۔

(توضیح القرآن)

 

اور البتہ ہم نے آپ کی طرف واضح نشانیاں اتاریں اور ان کا انکار صرف نافرمان کرتے ہیں (۹۹)

کیا (ایسا نہیں ) جب بھی انہوں نے کوئی عہد کیا تو اس کو توڑ دیا ان میں سے ایک فریق نے، بلکہ ان کے اکثر ایمان نہیں رکھتے (۱۰۰)

تشریح:بعض یہود کو جو عہد یاد دلایا گیا تھا جو ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے کے باب میں توراۃ میں لیا گیا تھا تو انہوں نے عہد لینے ہی سے صاف انکار کر دیا اس کے متعلق مذکورہ بالا ارشاد ہوا۔

اور ایک جماعت کی تخصیص اس لئے کی گئی کہ بعضے ان میں کے عہد کو پورا بھی کرتے تھے، حتی کے اخیر میں حضور اکرمﷺ پر بھی ایمان لے آئے۔

 

اور جب ان کے پاس ایک رسول آیا اللہ کی طرف سے، اس کی تصدیق کرنے والا جو ان کے پاس ہے تو پھینک دیا ایک فریق نے اہل کتاب کے، اللہ کی کتاب کو اپنی پیٹھ پیچھے گویا کہ وہ جانتے ہی نہیں (۱۰۱)

تشریح:اس آیت میں ان کی عہد شکنی کا ذکر فرمایا گیا ہے کہ تورات میں حضور اکرمﷺ کے نبوت کی خبر موجود ہے، تورات کو وہ جانتے ہیں، اس کے باوجود اس کو انہوں نے ایسا پس پشت ڈال دیا ہے جیسے ان کو اس کے مضمون کا یا کتاب اللہ ہونے کا گویا کہ اصلاً علم ہی نہیں۔

 

انہوں نے اس کی پیروی کی جو شیطان سلیمان (علیہ السلام ) کی بارگاہ میں پڑھتے تھے اور کفر نہیں کیا سلیمان نے لیکن شیطانوں نے کفر کیا وہ لوگوں کو جادو سکھاتے۔

تشریح:ان آیات میں اللہ تعالی نے یہودیوں کی ایک اور بد عملی کی طرف اشارہ فرمایا ہے اور وہ یہ کہ جادو ٹونے کے پیچھے لگنا نا جائز تھا، بالخصوص اگر جادو میں شرکیہ کلمات منتر کے طور پر پڑھے جائیں توایسا جادو کفر کے مرادف ہے، حضرت سلیمان علیہ السلام کے زمانے میں کچھ شیاطین نے، جن میں انسان اور جنات دونوں شامل ہوسکتے ہیں، بعض یہودیوں کو یہ پٹی پڑھائی کہ حضرت سلیمان علیہ السلام کی سلطنت کا سارا راز جادو میں مضمر ہے اور اگر جادو سیکھ لو گے تو تمہیں بھی حیرت انگیز اقتدار نصیب ہو گا، چنانچہ یہ لوگ جادو سیکھنے اور اس پر عمل کرنے میں لگ گئے، حالانکہ جادو پر عمل کرنا نہ صرف نا جائز تھا،  بلکہ اس کی بعض قسمیں کفر تک پہنچتی تھیں، دوسرا غضب یہودیوں نے یہ کیا کہ خود حضرت سلیمان علیہ السلام کو جادو گر قرار دے کر ان کے بارے میں یہ مشہور کر دیا کہ انہوں نے آخری عمر میں بتوں کو پوجنا شروع کر دیا تھا، ان کے بارے میں یہ جھوٹی داستانیں انہوں نے اپنی مقدس کتابوں میں شامل کر دیں جو آج تک بائبل میں درج چلی آتی ہیں،  چنانچہ بائبل کی کتاب سلاطین اول ۱۱۔ ۱تا ۲۱ میں ان کے معاذاللہ مرتد ہونے کا بیان آج بھی موجود ہے، قرآن کریم نے اس آیت میں حضرت سلیمان علیہ السلام پر اس ناپاک بہتان کی تردید فرمائی ہے، اس سے یہ بات بھی واضح ہو جاتی ہے کہ جن لوگوں نے قرآن کریم پر یہ الزام لگایا ہے کہ وہ یہودیوں اور عیسائیوں کی کتابوں سے ماخوذ ہے وہ کتنا غلط الزام ہے، یہاں قرآن کریم صریح الفاظ میں یہود و نصاریٰ کی کتابوں کی تردید کر رہا ہے، حقیقت تو یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کے پاس ایسا کوئی ذریعہ نہیں تھا جس سے وہ یہ خود معلوم کرسکتے کہ یہودیوں کی کتابوں میں کیا لکھا ہے، اس بات کا علم آپﷺ کو وحی کے سوا کسی اور راستہ سے نہیں ہوسکتا تھا، لہذا یہ آیت بذات خود آپ کے صاحب وحی رسول ہونے کی واضح دلیل ہے کہ آپ نے نہ صرف یہ بتلایا کہ یہودیوں کی کتابوں میں حضرت سلیمان علیہ السلام پر کیا بہتان لگایا گیا ہے،  بلکہ اس قدر جم کر اس کی تردید فرمائی ہے۔

(توضیح القرآن)

 

اور وہ نہ سکھاتے کسی کو، یہاں تک کہ کہہ دیتے ہم تو صرف آزمائش ہیں، پس تو کفر نہ کر (نیز اس چیز کے پیچھے لگ گئے ) جو بابل میں ہاروت اور ماروت دو فرشتوں پر نازل کیا گیا سو وہ سیکھتے ان دونوں سے وہ کچھ جس سے خاوند اور اس کی بیوی کے درمیان جدائی ڈالتے۔

تشریح:بابل عراق کا مشہور شہر تھا، ایک زمانے میں وہاں جادو کا بڑا چرچا ہو گیا تھا، اور یہودی بھی اس نا جائز کام میں بری طرح ملوث ہو گئے تھے، انبیاء کرام اور دوسرے نیک لوگ انہیں جادو سے منع کرتے تھے تو وہ بات نہ مانتے تھے، ا س سے بھی خطرناک بات یہ تھی کہ لوگوں نے جادوگروں کے شعبدوں کو معجزے سمجھ کر انہیں اپنا دینی مقتدا بنا لیا تھا، اس موقع پر اللہ تعالی نے اپنے دو فرشتے جن کا نام ہاروت و ماروت تھا دنیا میں انسانی شکل میں بھیجے تاکہ وہ لوگوں کو جادو کی حقیقت سے آگاہ کریں اور یہ بتائیں کہ خدائی معجزات سے ان کا کوی تعلق نہیں ہے، معجزہ براہ راست اللہ تعالی کا فعل ہے جس میں کسی ظاہری سبب کا کوئی دخل نہیں ہوتا، اس کے برعکس جادو کے ذریعے جو کوئی شعبدہ دکھایا جاتا ہے وہ اسی عالم اسباب کا ایک حصہ ہے، یہ بات واضح کرنے کے لئے ان فرشتوں کو جادو کے مختلف طریقے بھی بتانے پڑتے تھے، تاکہ یہ دکھایا جا سکے کہ کس طرح وہ سبب اور مسبب کے رشتے سے منسلک ہیں،  لیکن جب وہ ان طریقوں کی تشریح کرتے توساتھ ساتھ لوگوں کو متنبہ بھی کر دیتے تھے کہ یاد رکھو !یہ طریقے ہم اس لئے نہیں بتا رہے ہیں کہ تم ان پر عمل شروع کر دو، بلکہ اس لئے بتا رہے ہیں کہ تم پر جادو اور معجزے کا فرق واضح ہو اور تم جادو سے پرہیز کرو اس لحاظ سے ہمارا وجود تمہارے لئے ایک امتحان ہے کہ ہماری باتوں کو سمجھ کر تم جادو سے پرہیز کرتے ہویا ہم سے جادو کے طریقے سیکھ کر ان پر عمل شروع کر دیتے ہو، یہ کام انبیاء کے بجائے فرشتوں سے بظاہر اس بنا پر لیا گیا کہ جادو کے فارمولے بتانا خواہ وہ صحیح مقصد سے کیوں نہ ہو، انبیائے کرام کو زیب نہیں دیتا تھا، اس کے برعکس فرشتے چونکہ غیر مکلف ہوتے ہیں اس لئے ان سے بہت سے تکوینی کام لئے جا سکتے ہیں بہر حال نافرمان لوگوں نے ان فرشتوں کی طرف سے کہی ہوئی باتوں کو تو نظر انداز کر دیا اور ان کے بتائے ہوئے فارمولوں کو جادو کرنے میں استعمال کیا اور وہ بھی ایسے گھناؤنے مقاصد کے لئے جو ویسے بھی حرام تھے مثلاً میاں بیوی میں پھوٹ ڈال کر نوبت طلاق تک پہنچا دینا۔

(توضیح القرآن)

 

اور وہ نقصان پہنچانے والے نہیں اس سے کسی کو مگر اللہ کے حکم سے اور وہ سیکھتے ہیں جو انہیں نقصان پہنچائے اور انہیں نفع نہ دے۔

تشریح:یہاں سے جملۂ معترضہ کے طور پر ایک اور اصولی غلطی پر متنبہ کیا جا رہا ہے اور وہ یہ کہ جادو پر ایمان رکھنے والے یہ سمجھتے تھے کہ جادو میں بذات خود ایسی تاثیر موجود ہے جس سے مطلوبہ نتیجہ خود بخود اللہ کے حکم کے بغیر بھی برآمد ہو جاتا ہے، گویا اللہ چاہے یا نہ چاہے وہ نتیجہ پیدا ہو کر رہے گا، یہ عقیدہ بذات خود کفر تھا، اس لئے واضح کر دیا گیا کہ دنیا کے دوسرے اسباب کی طرح جادو بھی محض ایک سبب ہے اور دنیا میں کوئی سبب بھی اپنا سبب یا نتیجہ اس وقت تک ظاہر نہیں کرسکتا جب تک اللہ کی مشیت اس کے ساتھ متعلق نہ ہو، کائنات کی کسی چیز میں بذات خود نہ کسی کو نفع پہنچانے کی طاقت ہے نہ نقصان پہنچانے کی، لہذا اگر کوئی ظالم کسی پر ظلم کرنا چاہتا ہے تو وہ اللہ کی قدرت اور مشیت کے بغیر کچھ نہیں کرسکتا، البتہ چونکہ یہ دنیا ایک امتحان کی جگہ ہے، اس لئے یہاں اللہ کی سنت یہ ہے کہ جب کوئی شخص اللہ کی نافرمانی کرتے ہوئے کوئی گناہ کرنا چاہتا ہے یا کسی پر ظلم کرنا چاہتا ہے تو اگر اللہ تعالی تکوینی مصلحت کے مطابق سمجھتا ہے تو اپنی مشیت سے وہ کام کرا دیتا ہے، اسی کے نتیجے میں ظالم کو گناہ اور مظلوم کو ثواب ملتا ہے، ورنہ اگر اللہ اسے کام کی قدرت ہی نہ دے تو امتحان کیسے ہو؟لہذا جتنے گناہ کے کام دنیا میں ہوتے ہیں وہ اللہ تعالی ہی کی قدرت اور مشیت سے ہوتے ہیں، اگرچہ اس کی رضا مندی ان کو حاصل نہیں ہوتی اور اللہ تعالی کی مشیت اور اس کی رضا مندی میں فرق یہی ہے کہ مشیت اچھے برے ہر کام سے متعلق ہوسکتی ہے، مگر رضامندی صرف جائز اور ثواب کے کاموں سے مخصوص ہے۔

(توضیح القرآن)

 

اور البتہ وہ جان چکے ہیں جس نے یہ خریدا اس لیے آخرت میں کوئی حصہ نہیں اور البتہ برا ہے جس کے بدلے انہوں نے اپنے آپ کو بیچ دیا کاش وہ جانتے ہوتے (۱۰۲)

اور اگر وہ ایمان لے آتے اور پرہیز گار بن جاتے تو اللہ کے پاس اچھا بدلہ پاتے، کاش وہ جانتے ہوتے (۱۰۳)

تشریح:اس آیت کے شروع میں تو یہ کہا گیا ہے کہ وہ حقیقت جانتے ہیں کہ جو مشرکانہ جادو کا خریدار ہو گا اس کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں لیکن آیت کے آخری حصہ میں فرمایا ہے کہ کاش وہ علم رکھتے جس کا مطلب یہ ہے کہ انہیں اس حقیقت کا علم نہیں ہے، بظاہر دونوں باتیں متضاد لگتی ہیں لیکن در حقیقت اس انداز بیان سے یہ عظیم سبق دیا گیا ہے کہ نرا علم جس پر عمل نہ ہو حقیقت میں علم کہلانے کا مستحق نہیں بلکہ وہ کالعدم ہے،  لہذا اگر وہ یہ بات جانتے تو ہیں مگر ان کا عمل اس کے برخلاف ہے تووہ علم کس کام کا ؟کاش کہ وہ حقیقی علم رکھتے تواس پر ان کا عمل بھی ہوتا۔

 

اے لوگو! جو ایمان لائے ہو (مومنو) ! راعنا نہ کہا کرو اور انظرنا کہو اور سنو اور کافروں کے لیے دردناک عذاب ہے (۱۰۴)

تشریح:مدینہ میں رہنے والے بعض یہودیوں کی ایک شرارت یہ تھی کہ وہ جب حضور اکرمﷺ سے ملتے تو آپ سے کہتے تھے ‘‘راعنا’’ عربی میں اس کے معنی یہ ہیں کہ ہماری رعایت فرمائیے، اس لحاظ سے یہ لفظ ٹھیک تھا اور اس میں گستاخی کے کوئی معنی نہیں تھے لیکن عبرانی زبان میں جو یہودیوں کی مذہبی زبان تھی اس سے ملتا جلتا ایک لفظ بدعا اور گالی کے طور پر استعمال ہوتا تھا نیز اگر اسی لفظ میں عین کو ذرا کھینچ کر بولا جائے تو وہ راعینا بن جاتا ہے، جس کے معنی ہیں ‘‘ہمارے چرواہے ’’ غرض یہودیوں کی اصل نیت لفظ کو خراب معنی میں استعمال کرنے کی تھی،  لیکن چونکہ عربی میں بظاہر اس کا مطلب ٹھیک تھا اس لئے بعض مخلص مسلمانوں نے بھی یہ لفظ بولنا شروع کر دیا، یہودی اس بات سے بڑے خوش ہوتے اور اندر اندر مسلمانوں کا مذاق اڑاتے تھے، اس لئے اس آیت نے مسلمانوں کو اس شرارت پر متنبہ بھی کر دیا، آئندہ اس لفظ کے استعمال پر پابندی بھی لگا دی اور یہ سبق بھی دے دیا کہ ایسے الفاظ کا استعمال مناسب نہیں ہے جن میں کسی غلط مفہوم کا احتمال ہو یا ان سے کوئی غلط فہمی پیدا ہوسکتی ہو، نیز اگلی آیت میں اس سارے عناد کی اصل وجہ بھی بتا دی کہ درحقیقت ان کو یہ حسد ہے کہ اللہ تعالی نے نبوت کی نعمت آنحضرتﷺ کو کیوں عطا فرما دی ہے۔

(توضیح القرآن)

 

اہل کتاب میں سے جن لوگوں نے کفر کیا وہ نہیں چاہتے اور نہ مشرک کہ تم پر تمہارے رب کی طرف سے کوئی بھلائی نازل کی جائے اور اللہ جسے چاہتا ہے اپنی رحمت سے خاص کر لیتا ہے اور اللہ بڑے فضل والا ہے (۱۰۵)

تشریح:رسول اللہ ﷺ کے ساتھ یہود کا  جو برتاؤ تھا وہ اوپر کی آیت میں بیان کیا گیا، اب اس آیت میں یہود کا برتاؤ مسلمانوں کے ساتھ بیان کیا جا رہا ہے کہ بعضے یہودی بعض مسلمانوں سے کہنے لگے کہ بخدا ہم دل سے تمہارے خیر خواہ ہیں اور ہزار جان سے پسند کرتے ہیں کہ تم کو دینی احکام ہمارے دینی احکام سے بہتر عنایت ہوں تو ہم بھی ان کو قبول کریں، مگر کیا کیا جائے کہ تمہارا دین ہمارے دین سے اچھا ثابت نہیں ہوا، حق تعالی اس دعوی خیر خواہی کی تکذیب اس آیت میں فرماتے ہیں۔

 

جو کوئی آیت جسے ہم منسوخ کرتے ہیں یا اسے ہم بھلا دیتے ہیں اس سے بہتر یا اس جیسی لے آتے ہیں کیا تو نہیں جانتا کہ اللہ ہر چیز پر قادر ہے (۱۰۶)

کیا تو نہیں جانتا کہ اللہ کے لئے ہے آسمانوں کی اور زمین کی بادشاہت، اور تمہارے لیے نہیں اللہ کے سوا کوئی حامی اور نہ مددگار(۱۰۷)

تشریح:اللہ تعالی کی یہ سنت رہی ہے کہ وہ مختلف زمانوں کے حالات کی مناسبت سے شریعت کے فروعی احکام میں تبدیلی فرماتے رہے ہیں، اگرچہ دین کے بنیادی عقائد مثلاً توحید رسالت آخرت وغیرہ ہر دور میں ایک رہے ہیں لیکن جو عملی احکام حضرت موسی علیہ السلام کو دئے گئے تھے، ان میں سے بعض حضرت عیسی علیہ السلام کے دور میں تبدیل کر دئے گئے اور آنحضرتﷺ کے زمانے میں ان میں مزید تبدیلیاں واقع ہوئیں، اسی طرح جب آنحضرت ﷺ کو شروع میں نبوت عطا ہوئی تو آپ کی دعوت کو مختلف مراحل سے گزرنا تھا، مسلمانوں کو طرح طرح کے مسائل درپیش تھے اس لئے اللہ تعالی نے احکام میں تدریج اختیار فرمائی، کسی وقت ایک حکم دیا گیا بعد میں اس کی جگہ دوسرا حکم آ گیا، جیسا کہ قبلے کی تعین میں احکام بدلے گئے، جن کی کچھ تفصیل آگے آیت ۱۱۵ میں آ رہی ہے، فروعی احکام میں ان حکیمانہ تبدیلیوں کو اصطلاح میں ‘‘ نسخ’’ کہتے ہیں، یہودیوں نے بالخصوص اور دوسرے کافروں نے بالعموم اس پر یہ اعتراض اٹھایا کہ اگر یہ سارے احکام اللہ تعالی کی طرف سے ہیں تو ان میں یہ تبدیلیاں کیوں ہو رہی ہیں، یہ آیت کریمہ اس سوال کے جواب میں نازل ہوئی ہے، جواب کا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالی اپنی حکمت کے مطابق بدلتے ہوئے حالات میں یہ تبدیلیاں کرتے ہیں اور جو حکم بھی منسوخ کیا جاتا ہے اس کی جگہ ایسا حکم لایا جاتا ہے جو بدلے ہوئے حالات میں زیادہ مناسب اور بہتر ہوتا ہے یا کم از کم اتنا ہی بہتر ہوتا ہے جتنا بہتر پہلا حکم تھا۔

 

کیا تم چاہتے ہو کہ اپنے رسول سے سوال کرو جیسے سوال کیے گئے اس سے پہلے موسٰی سے اور جو ایمان کے بدلے کفر اختیار کر لے سو وہ بھٹک گیا سیدھے راستے سے (۱۰۸)

تشریح:یہ خطاب یہودیوں کو بھی ہے جو آنحضرتﷺ پر ایمان لانے کے بجائے طرح طرح کے مطالبے پیش کرتے تھے اور ساتھ ہی مسلمانوں کو بھی یہ سبق دیا جا رہا ہے کہ جس طرح حضرت موسی علیہ السلام پر ایمان لانے کے باوجود یہودی ان سے نامعقول اور غیر ضروری سوالات اور مطالبے کرتے رہے، تم ایسا نہ کرنا۔

 

بہت سے اہل کتاب نے چاہا کہ وہ کاش تمہیں لوٹا دیں تمہارے ایمان کے بعد کفر میں اپنے دل کے حسد کی وجہ سے اس کے بعد جبکہ ان پر حق واضح ہو گیا، پس تم معاف کر دو اور در گزر کرو یہاں تک کہ اللہ اپنا حکم لائے بیشک اللہ ہر چیز پر قادر ہے (۱۰۹)

اور نماز قائم کرو اور دیتے رہو زکوٰۃ، اور اپنے لیے جو بھلائی آگے بھیجو گے تم اسے پا لو گے اللہ کے پاس، بیشک تم جو کچھ کرتے ہو اللہ اسے دیکھنے والا ہے (۱۱۰)

تشریح:بعض یہود شب و روز مختلف تدبیروں سے دوستی اور خیر خواہی کے پیرایہ میں مسلمانوں کو اسلام سے پھیرنے کی کوشش کیا کرتے تھے اور باوجود ناکامی کے اپنی دھن سے باز نہ آتے تھے، حق تعالی نے مسلمانوں کو اس پر متنبہ فرما دیا کہ یہ لوگ حسد کی وجہ سے تم کو اسلام سے پھیرنا چاہتے ہیں، مسلمانوں کو یہ حکم دیا جاتا ہے کہ درگزر کا معاملہ کریں یہاں تک کہ اللہ کی جانب سے (جہاد کا)حکم آ جائے۔

اس وقت کی حالت کا یہی تقاضا تھا پھر اللہ نے اس وعدے کو پورا فرمایا اور جہاد کی آیتیں نازل ہوئیں جس کے بعد یہود کے ساتھ بھی وہ قانون برتا گیا اور ناشائستہ لوگوں کے ساتھ حسب حیثیت ان کے فساد کے بدلے قتل یا جلا وطنی یا جزیہ پر عمل درآمد کیا گیا۔

 

اور انہوں نے کہا ہر گز داخل نہ ہو گا جنت میں، سوائے اس کے جو یہودی ہو یا نصرانی یہ ان کی جھوٹی آرزوئیں ہیں، کہہ دیں تم لاؤ اپنی دلیل اگر تم سچے ہو(۱۱۱)

تشریح:یہودی کہتے ہیں کہ جنت میں یہودیوں کے علاوہ کوئی نہیں جائے گا اور عیسائی کہتے ہیں کہ جنت میں عیسائیوں کے علاوہ کوئی بھی نہیں جائے گا، حق تعالی ان کی تردید فرماتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں کہ یہ خالی دل بہلانے کی باتیں ہیں اور درحقیقت کچھ بھی نہیں، آپ ان سے کہیے کہ اپنی دلیل لاؤ اگر تم اس دعوی میں سچے ہو۔

 

کیوں نہیں جس نے اپنا چہرہ اللہ کے لیے جھکا دیا، اور وہ نیکو کار ہو تو اس کے لیے اس کا اجر اس کے رب کے پاس ہے اور ان پر کوئی خوف نہیں اور نہ وہ غمگین ہوں گے (۱۱۲)

تشریح:مذہب کی روح اصل دو چیزیں ہیں، ایک یہ کہ بندہ دل و جان سے اپنے آپ کو خدا کے سپرد کر دے اس کی اطاعت و فرمانبرداری کو اپنا عقیدہ و مذہب سمجھے، دوسری بات یہ ہے کہ جنت میں جانے کے لئے صرف یہ بھی کافی نہیں کہ کوئی آدمی اپنے دل سے خدا کی فرمانبرداری کا قصد تو درست کر لے مگر اطاعت فرمانبرداری اور عبادت کے طریقے اپنے ذہن و خیال کے مطابق خود گھڑ لے، حالانکہ یہ ضروری ہے کہ عبادت و اطاعت اور امتثال امر کے طریقے بھی وہی اختیار کرے جو خدا تعالی نے اپنے رسول کے ذریعے بتائے اور متعین کئے ہوں۔

پہلے بات بَلٰى مَنْ اَسْلَمَ کے ذریعے اور دوسری بات وَهُوْ مُحْسِنٌ کے ذریعے واضح کی گئی ہے جس سے معلوم ہوا کہ نجات اخروی اور دخول جنت کے لئے صرف قصداً اطاعت کافی نہیں بلکہ حسن عمل بھی ضروری ہے اور حسن عمل کا مصداق وہی تعلیم و طریقہ ہے جو قرآن اور سنت رسول خیر الانام صلی اللہ علیہ وسلم کے مطابق ہو۔

 

اور یہود نے کہا نصاریٰ کسی چیز پر نہیں، اور نصاریٰ نے کہا یہودی کسی چیز پر نہیں حالانکہ وہ پڑھتے ہیں کتاب اسی طرح ان لوگوں نے ان جیسی بات کہی جو علم نہیں رکھتے سو اللہ ان کے درمیان قیامت کے دن فیصلہ کرے گا جس (بات) میں وہ اختلاف کرتے ہیں (۱۱۳)

تشریح:ان آیات میں اللہ تعالی نے یہود و نصاریٰ کے باہمی اختلافات اور ایک دوسرے پر رد کا ذکر فرمایا، اس نامعقول اختلاف کا نتیجہ یہ نکلا کہ مشرکین کو یہ کہنے کا موقع مل گیا کہ عیسائیت بھی بے بنیاد اور یہود بھی بے اصل حق و صحیح بس ہماری بت پرستی ہے۔

حق تعالی نے فرمایا یہاں سب اپنی اپنی ہانک لیں قیامت کے دن ان تمام مقدمات کا فیصلہ ہو گا جن میں وہ باہم اختلاف کر رہے تھے۔

 

اور اس سے بڑا ظالم کون ؟ جس نے اللہ کی مسجدوں سے روکا کہ ان میں اللہ کا نام لیا جائے اور اس کی ویرانی کی کوشش کی، ان لوگوں کے لیے (حق) نہ تھا کہ وہاں داخل ہوتے مگر ڈرتے ہوئے، ان کے لیے دنیا میں رسوائی ہے اور ان کے لیے آخرت میں بڑا عذاب ہے۔ (۱۱۴)

تشریح:اوپر یہود و نصاریٰ اور مشرکین عرب تینوں گروہوں کا ذکر آیا ہے، یہ تینوں گروہ کسی نہ کسی زمانے میں اور کسی نہ کسی شکل میں اللہ تعالی کی عبادت گاہوں کی بے حرمتی کے مرتکب ہوئے ہیں، مثلاً عیسائیوں نے شاہ طیطوس کے زمانے میں بیت المقدس پر حملہ کر کے اسے تاخت و تاراج کیا، ابرہہ نے جو عیسائی ہونے کا مدعی تھا بیت اللہ پر حملہ کر کے اسے ویران کرنے کی کوشش کی، مشرکین مکہ مسلمانوں کو مسجد حرام میں نماز پڑھنے سے روکتے رہے اور یہودیوں نے بیت اللہ کے تقدس سے انکار کر کے عملاً لوگوں کو اس کی طرف رخ کرنے سے روکا، قرآن کریم فرماتا ہے کہ ایک طرف ان میں سے ہر ایک کا دعوی یہ ہے کہ تنہا وہی جنت کا حق دار ہے اور دوسری طرف ان کی حالت یہ ہے کہ وہ اللہ کی عبادت میں رکاوٹ ڈالنے یا عبادت گاہوں کو ویران کرنے کے درپے رہے ہیں، اسی آیت کا اگلا جملہ ذو معنی ہے اس کا ظاہری مطلب یہ ہے کہ حق تو یہ تھا کہ یہ لوگ اللہ کی مسجدوں میں اللہ کا خوف لے کر داخل ہوتے، نہ یہ کہ متکبرانہ انداز میں انہیں ویران کریں یا لوگوں کو وہاں اللہ کی عبادت سے روکیں، لیکن ساتھ ہی یہ لطیف اشارہ بھی ہے ہوسکتا ہے کہ عنقریب وہ وقت آنے ولا ہے جب یہ متکبر لوگ جو اللہ کی مسجدوں سے لوگوں کو روک رہے ہیں حق پرستوں کے سامنے ایسے مغلوب ہوں گے کہ انہیں خود ان کی جگہوں پر ڈر ڈر کر داخل ہونا پڑے گا چنانچہ فتح مکہ کے موقع پر کفار مکہ کے ساتھ یہی صورت پیش آئی۔

(توضیح القرآن)

 

اور اللہ کے لیے ہے مشرق اور مغرب، سو جس طرف تم منہ کرو اسی طرف اللہ کا سامنا ہے، بیشک اللہ وسعت والا جاننے والا ہے (۱۱۵)

تشریح:اوپر جن تین گروہوں کا ذکر ہوا ہے ان کے درمیان ایک اختلاف قبلے کا بھی تھا، اہل کتاب بیت المقدس کی طرف رخ کرتے تھے اور مشرکین بیت اللہ کو قبلہ سمجھتے تھے، مسلمان بھی اسی کی طرف رخ کر کے نماز پڑھتے تھے اور یہ بات یہودیوں کو ناگوار تھی، ایک مختصر عرصے کے لئے مسلمانوں کو بیت المقدس کی طرف رخ کرنے کا حکم دیا گیا تو یہودیوں نے حکم دیا گیا تو یہودیوں نے خوشی کا اظہار کیا کہ دیکھو! مسلمان ہماری بات ماننے پر مجبور ہو گئے ہیں، پھر دوبارہ بیت اللہ کو مستقل قبلہ بنا دیا گیا، جس کی تفصیل ان شاء اللہ اگلے پارہ کے شروع میں آنے والی ہے، یہ آیت بظاہر اس موقع پر نازل ہوئی ہے جب مسلمان بیت المقدس کی طرف رخ کر کے نماز پڑھ رہے تھے، بتلانا یہ مقصود ہے کہ کوئی بھی سمت اپنی ذات میں کسی تقدس کی حامل نہیں، کسی بھی جگہ یا کسی بھی سمت میں اگر کوئی تقدس آتا ہے تووہ اللہ تعالی کے حکم کی وجہ سے آتا ہے، مشرق و مغرب سب اللہ کی مخلوق اور اسی کی تابع فرمان ہیں، اللہ تعالی کسی ایک جہت میں محدود نہیں وہ ہر جگہ موجود ہے، چنانچہ وہ جس سمت کی طرف رخ کرنے کا حکم دے دے بندوں کا کام ہے کہ اسی حکم کی تعمیل کریں۔

(توضیح القرآن)

 

اور انہوں نے کہا اللہ نے بیٹا بنا لیا ہے، وہ پاک ہے، بلکہ اسی کے لیے ہے جو آسمانوں اور زمین میں ہے سب اسی کے زیر فرمان ہے (۱۱۶)

وہ پیدا کرنے والا ہے آسمانوں کا اور زمین کا اور جب وہ کسی کام کا فیصلہ کرتا ہے تو اسے یہی کہتا ہے ہو جا تو وہ ہو جاتا ہے (۱۱۷)

تشریح:عیسائی تو حضرت عیسی علیہ السلام کو خدا کا بیٹا کہتے ہی ہیں، بعض یہودی حضرت عزیر علیہ السلام کو خدا کا بیٹا کہتے تھے، اور مشرکین مکہ فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں کہا کرتے تھے، یہ آیت ان سب کی تردید کر رہی ہے، مطلب یہ ہے کہ اولاد کی ضرورت اسے ہوسکتی ہے جو دوسروں کی مدد کا محتاج ہو، اللہ تعالی پوری کائنات کا مالک ہے اور اسے کسی کام میں کسی کی مدد کی ضرورت نہیں، پھر وہ اولاد کا محتاج کیوں ہو؟اسی دلیل کو اگر منطقی پیرائے میں بیان کیا جائے تو وہ اس طرح ہو گی کہ اولاد اپنے باپ کا جزء ہوتی ہے اور ہر کل اپنے جز ء کا محتاج ہوتا ہے، اللہ تعالی چونکہ ہر احتیاج سے پاک ہے اس لئے اس کی ذات بسیط ہے جسے کسی جزء کی حاجت نہیں، لہذا اس کی طرف اولاد منسوب کرنا اسے محتاج قرار دینے کے مرادف ہے۔

(توضیح القرآن)

 

اور جو لوگ علم نہیں رکھتے انہوں نے کہا :اللہ ہم سے کلام کیوں نہیں کرتا یا ہمارے پاس کوئی نشانی کیوں نہیں آتی، اسی طرح ان سے پہلے لوگوں نے ان جیسی بات کہی، ان کے دل ایک جیسے ہو گئے، ہم نے یقین رکھنے والے لوگوں کے لیے نشانیاں واضح کر دی ہیں (۱۱۸)

بیشک ہم نے آپ کو بھیجا حق کے ساتھ، خوشخبری دینے والا، ڈرانے والا اور آپ سے نہ پوچھا جائے گا دوزخ والوں کے بارے میں (۱۱۹)

تشریح:جو لوگ علم نہیں رکھتے وہ کہتے ہیں کہ اللہ ہم سے براہ راست کیوں بات نہیں کرتا؟یا ہمارے پاس کوئی نشانی کیوں نہیں آتی جو لوگ ان سے پہلے گزرے ہیں وہ بھی اسی طری کی باتیں کہتے تھے جیسی یہ کہتے ہیں، ان سب کے دل ایک جیسے ہیں، حقیقت یہ ہے کہ جو لوگ یقین کرنا چاہیں ان کے لئے ہم نشانیاں پہلے ہی واضح کر چکے ہیں، اے پیغمبر بے شک ہم نے تمہیں کو حق دے کر اس طرح بھیجا ہے کہ تم جنت کی خوشخبری دو اور جہنم سے ڈراؤ اور جو لوگ اپنی مرضی سے جہنم کا راستہ اختیار کر چکے ہیں ان کے بارے میں آپ سے کوئی باز پرس نہیں ہو گی۔

 

اور آپ سے ہر گز راضی نہ ہوں گے یہودی اور نہ نصاریٰ، جب تک آپ ان کے دین کی پیروی نہ کریں کہہ دیں ! بیشک اللہ کی ہدایت وہی ہدایت ہے اور اگر آپ نے ان کی خواہشات کی پیروی کی اس کے بعد جب کہ آپ کے پاس علم آ گیا، آپ کے لیے اللہ سے کوئی حمایت کرنے والا نہیں، اور نہ مدد گار(۱۲۰)

 

تشریح:اگرچہ حضوررسالت مآبﷺ سے یہ بات ناقابل تصور تھی کہ آپ کفار کی خواہشات کے پیچھے چلیں، لیکن اس آیت نے فرض محال کے طور پر یہ بات کہہ کر اصول یہ بتلا دیا کہ اللہ کے نزدیک شخصیات کی اہمیت ان کی ذات کی وجہ سے نہیں،  بلکہ اللہ کی اطاعت کی وجہ سے ہوتی ہے، آنحضرتﷺ ساری مخلوقات میں سب سے افضل اسی بنا پر ہیں کہ اللہ کے سب سے زیادہ فرمانبردار ہیں۔

 

ہم نے جنہیں کتاب دی اور جس کی تلاوت کرتے ہیں جیسے تلاوت کا حق، وہی اس پر ایمان رکھتے ہیں اور جو اس کا انکار کریں وہی خسارہ پانے والے ہیں (۱۲۱)

تشریح:بنی اسرائیل میں جہاں سرکش لوگ بڑی تعداد میں تھے وہاں بہت سے لوگ ایسے مخلص بھی تھے جنہوں نے تورات اور انجیل کو صرف پڑھا ہی نہیں تھا،  بلکہ اس کے تقاضوں پر عمل کرتے ہوئے حق کی ہر بات کو قبول کرنے کے لئے اپنے سینوں کو کشادہ رکھا تھا، چنانچہ جب ان کو آنحضرتﷺ کی دعوت پہنچی تو انہوں نے کسی عناد کے بغیر اسے قبول کیا، اس آیت میں ان حضرات کی تعریف کی گئی ہے اور سبق یہ دیا گیا ہے کہ کسی آسمانی کتاب کی تلاوت کا حق یہ ہے کہ اس کے تمام احکام کو دل سے مان کر ان کی تعمیل کی جائے، درحقیقت تورات پر ایمان رکھنے والے وہی ہیں جو اس کے احکام کی تعمیل میں آنحضرتﷺ پر ایمان لاتے ہیں۔

(توضیح القرآن)

 

اے بنی اسرائیل ! میری نعمت یاد کرو جو میں نے تم پر کی اور یہ کہ میں نے تمہیں زمانہ والوں پر فضیلت دی(۱۲۲)

اور اس دن سے ڈرو جس دن کوئی شخص بدلہ نہ ہو سکے گا کسی شخص کا کچھ بھی اور نہ اس سے کوئی معاوضہ قبول کیا جائے گا اور نہ اسے کوئی سفارش نفع دے گی اور نہ ان کی مدد کی جائے گی(۱۲۳)

تشریح:بنی اسرائیل پر اللہ تعالی کی نعمتوں اور ان کے مقابلے میں بنی اسرائیل کی نافرمانیوں کا جو ذکر اوپر سے چلا آ رہا ہے اس کا آغاز آیت ۴۷ اور ۴۸ میں تقریباً انہی الفاظ سے کیا گیا تھا، اب سارے واقعات تفصیل سے یاد دلانے کے بعد پھر وہی بات ناصحانہ انداز میں ارشاد فرمائی گئی ہے کہ ان سب باتوں کو یاد دلانے کا اصل مقصد تمہاری خیر خواہی ہے اور تمہیں ان واقعات سے اس نتیجے تک پہنچنا چاہئے۔

(توضیح القرآن)

 

اور جب ابراہیم (علیہ السلام) کو ان کے رب نے چند باتوں سے آزمایا تو انہوں نے وہ پوری کر دیں، اس نے فرمایا بیشک میں تمہیں لوگوں کا امام بنانے والا ہوں، اس نے کہا اور میری اولاد کو (بھی) اس نے فرمایا: میرا عہد ظالموں کو نہیں پہنچتا(۱۲۴)

تشریح:یہاں سے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے کچھ حالات و واقعات شروع ہو رہے ہیں اور پچھلی آیتوں سے ان واقعات کا دو طرح  گہرا تعلق ہے، ایک بات تو یہ ہے کہ یہودی عیسائی اور عرب کے بت پرست یعنی تینوں گروہ جن کا ذکر اوپر آیا ہے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اپنا پیشوا مانتے تھے، مگر ہر گروہ یہ دعوی کرتا تھا کہ وہ اسی کے مذہب کے حامی تھے، لہذا ضروری تھا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بارے میں صحیح صورت حال واضح کی جائے، قرآن کریم نے یہاں یہ بتلایا ہے کہ ان کا تینوں گروہوں کے باطل عقائد سے کوئی تعلق نہیں تھا، ان کی ساری زندگی توحید کی تبلیغ میں خرچ ہوئی اور انہیں اس راستے میں بڑی بڑی آزمائشوں سے گزرنا پڑا جن میں وہ پورے اترے، دوسری بات یہ ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے دو بیٹے تھے، حضرت اسحاق علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام، حضرت اسحاقؑ ہی کے بیٹے حضرت یعقوبؑ تھے جن کا دوسرا نام اسرائیل تھا، نبی کریمﷺ سے پہلے نبوت کا سلسلہ انہی کی اولاد یعنی بنی اسرائیل میں چلا آ رہا تھا، جس کی بنا پروہ یہ سمجھتے تھے کہ دنیا بھر کی پیشوائی کا حق صرف انہی کو حاصل ہے، کسی اور نسل میں کوئی ایسا نبی نہیں آسکتا جو ان کے لئے واجب الاتباع ہو، قرآن کریم نے یہاں یہ غلط فہمی دور کرتے ہوئے یہ واضح فرمایا ہے کہ دینی پیشوائی کا منصب کسی خاندان کی لازمی میراث نہیں ہے اور یہ بات خود حضرت ابراہیم علیہ السلام سے صریح لفظوں میں کہہ دی گئی تھی انہیں جب اللہ تعالی نے مختلف طریقوں سے آزما لیا اور یہ ثابت ہو گیا کہ وہ اللہ تعالی کے ہر حکم پر بڑی سے بڑی قربانی کے لئے ہمیشہ تیار ہیں، تب اللہ تعالی نے انہیں دنیا بھر کی پیشوائی کا منصب دینے کا اعلان فرمایا، اسی موقع پر جب انہوں نے اپنی اولاد کے بارے میں پوچھا تو صاف طور پر بتلا دیا گیا کہ ان میں جو لوگ ظالم ہوں گے یعنی اللہ تعالی کی نافرمانی کر کے اپنی جانوں پر ظلم کریں گے وہ اس منصب کے حق دار نہیں ہوں گے۔

(توضیح القرآن)

 

اور جب ہم نے خانہ کعبہ کو بنایا لوگوں کے لئے (بار بار ) لوٹنے (اجتماع ) کی جگہ اور امن کی جگہ، اور مقام ابراہیم کو نماز کی جگہ بناؤ اور ہم نے حکم دیا ابراہیم اور اسماعیل کو کہ وہ میرا گھر پاک رکھیں طواف کرنے والوں اور اعتکاف کرنے والوں کے لئے اور رکوع سجدہ کرنے والوں کے لئے (۱۲۵)

تشریح:اللہ تعالی نے بیت اللہ کی یہ حرمت رکھی ہے کہ نہ صرف مسجد حرام میں بلکہ اس کے ارد گرد کے وسیع علاقے میں جسے حرم کہا جاتا ہے، نہ کسی انسان کو قتل کیا جا سکتا ہے نہ شدید دفاعی ضرورت کے بغیر جنگ کرنا جائز ہے، نہ کسی جانور کا شکار حلال ہے، نہ کوئی خود رو پودا اکھاڑنے کی اجازت ہے، نہ کسی جانور کو قید رکھا جا سکتا ہے، اس طرح یہ صرف انسانوں کے لئے ہی نہیں حیوانات اور نباتات کے لئے بھی امن کی جگہ ہے۔ مقام ابراہیم اس پتھر کا نام ہے جس پر کھڑے ہو کر حضرت ابراہیم علیہ السلام نے بیت اللہ تعمیر کیا تھا، یہ پتھر آج بھی موجود ہے اور یہ حکم دیا گیا ہے کہ ہر وہ شخص جو بیت اللہ کا طواف کرے سات چکر لگانے کے بعد اس پتھر کے سامنے کھڑا ہو کر بیت اللہ کا رخ کرے اور دو رکعتیں پڑھے ان رکعتوں کا اسی جگہ پڑھنا افضل ہے۔

(توضیح القرآن)

 

اور جب ابراہیم (علیہ السلام ) نے کہا اے میرے رب ! اس شہر کو بنا امن والا اور اس کے رہنے والوں کو پھلوں کی روزی دے جو ان میں سے ایمان لائے اللہ پر اور آخرت کے دن پر، اس نے فرمایا جس نے کفر کیا اس کو تھوڑا سا نفع دوں گا پھر اس کو مجبور کروں گا دوزخ کے عذاب کی طرف اور وہ لوٹنے کی بری جگہ ہے (۱۲۶)

تشریح:حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام نے اللہ کی راہ میں قربانیاں دیں، اہل و عیال اور اپنے نفس کی خواہشات کو نظر انداز کر دیا، اہل و عیال پر شفقت و محبت ایک طبعی اور فطری امر ہونے کے ساتھ ساتھ حکم ربانی بھی ہے اس لئے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اس موقع پر اہل و عیال اور مؤمنین کے لئے دعائیں مانگی ہے۔

سب سے پہلے دعا یہ فرمائی کہ اس چٹیل میدان کو جس میں آپ کے حکم کے مطابق میں نے اپنے اہل و عیال کو لا ڈالا ہے آپ ایک شہر بنا دیں،  تاکہ یہاں کی سکونت میں ان کو وحشت نہ ہو اور ضروریات زندگی بآسانی میسر آ جائیں، دوسری دعا یہ ہے کہ اس شہر کو امن والا شہر بنا دیجئے یعنی قتل و غارت گری سے کفار کے تسلط سے اور آفات سے مامون و محفوظ رہے، تیسری دعا یہ فرمائی کہ اس شہر کے باشندوں کو پھلوں کا رزق عطا فرمائیے، اللہ نے یہ دعائیں قبول فرمائیں۔

(ماخوذ معارف القرآن)

 

اور جب اٹھاتے ہیں ابراہیم (علیہ السلام) اور اسماعیل (علیہ السلام) خانہ کعبہ کی بنیادیں (یہ دعا کرتے تھے ) اے ہمارے پروردگار! ہم سے قبول فرما لے بیشک تو سننے والا، جاننے والا ہے (۱۲۷)

تشریح:بیت اللہ جسے کعبہ بھی کہتے ہیں درحقیقت حضرت آدم علیہ السلام کے وقت سے تعمیر چلا آتا ہے لیکن حضرت ابراہیم علیہ السلام کے دور میں وہ حوادث روزگار سے منہدم ہو چکا تھا، حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اسے از سر نو انہی بنیادوں پر تعمیر کرنے کا حکم ہوا تھا جو پہلے سے موجود تھیں اور اللہ تعالی نے بذریعۂ وحی آپ کو بتا دی تھیں، اسی لئے قرآن کریم نے یہاں یہ نہیں فرمایا کہ وہ بیت اللہ تعمیر کر رہے تھے بلکہ یہ فرمایا ہے کہ وہ اس کی بنیادیں اٹھا رہے تھے۔

انبیاء کرام اپنے بڑے سے بڑے کارنامے پر بھی مغرور ہونے کے بجائے اللہ تعالی کے حضور اور زیادہ عاجزی کا مظاہرہ فرماتے ہیں، ان کا ہر کام صرف اللہ کی رضا جوئی کے لئے ہوتا ہے،  لہذا وہ اس پر مخلوق سے تعریف کرانے کی فکر کے بجائے اللہ تعالی سے اس کی قبولیت کی دعا مانگتے ہیں۔

(ماخوذ توضیح القرآن)

 

اے ہمارے رب ! اور ہمیں اپنا فرمانبردار بنا لے اور ہماری اولاد میں سے ایک اپنی فرمانبردار امت بنا اور ہمیں حج کے طریقے دکھا اور ہماری توبہ قبول فرما بیشک تو ہی توبہ قبول کرنے والا ہے، رحم کرنے والا ہے (۱۲۸)

تشریح:حضرت ابراہیم علیہ السلام اطاعت و فرمانبرداری کے کارنامے بجا لانے کے بعد بھی یہ دعا کرتے ہیں کہ ہم دونوں کو اپنا فرمانبردار بنا لیجئے، اس دعا میں حضرت ابراہیمؑ نے اپنی اولاد کے لئے بھی فرمانبرداری کی دعا مانگی ہے، عام لوگ صرف اپنی اولاد کی جسمانی   عافیت اور صحت و مال کی دعا کرتے ہیں اور انبیاء اپنی اولاد کے لئے اللہ کی فرمانبردار بننے کی دعا مانگتے ہیں، اعمال حج اور مقامات حج کی دعا بھی یہاں مانگی گئی اور حضرت جبرئیل کے ذریعہ اللہ نے اعمال اور مقامات کی نشاندہی فرما دی۔

 

اے ہمارے رب! اور ان میں ایک رسول بھیج ان میں سے، وہ ان پر تیری آیتیں پڑھے اور انہیں کتاب اور حکمت (دانائی) کی تعلیم دے اور انہیں پاک کرے بیشک تو ہی غالب، حکمت والا ہے (۱۲۹)

 

تشریح:حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے آئندہ نسل کی فلاح و دنیا و آخرت کے واسطے حق تعالی سے یہ دعا کی کہ میری اولاد میں ایک رسول بھیج دیجئے جو ان کو آپ کی آیات تلاوت کر کے سنائے اور قرآن وسنت کی تعلیم دے اور ان کو ظاہری و باطنی گندگیوں سے پاک کرے، اس میں حضرت ابراہیمؑ نے اس رسول کے لئے اپنی اولاد میں ہونے کی اس لئے دعا فرمائی کہ اول تو یہ اپنی اولاد کے لئے سعادت و شرف ہے، دوسرے ان لوگوں کے لئے ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ یہ رسول جب انہی کی قوم اور برادری کے اندر ہو گا تواس کے چال چلن سیرت و حالات سے یہ لوگ بخوبی واقف ہوں گے کسی دھوکہ فریب میں مبتلا نہ ہوں گے، حدیث میں ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اس دعا کا جواب حق تعالی کی طرف سے یہ ملا کہ آپ کی دعا قبول کر لی گئی اور یہ رسول آخری زمانہ میں بھیجے جائیں گے (یعنی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم)۔

(ابن جریر ابن کثیر از معارف القرآن)

 

اور کون ہے جو منہ موڑے ابراہیم کے دین سے، سوائے اس کے جس نے اپنے آپ کو بیوقوف بنایا اور بیشک ہم نے اسے دنیا میں چن لیا اور بیشک وہ آخرت میں نیکو کاروں میں سے ہے (۱۳۰)

تشریح:اس آیت میں ملت ابراہیمی کی فضیلت اور اسی وجہ سے حضرت ابراہیم علیہ السلام کا دنیا و آخرت میں شرف اور بزرگی بتلا کر ان کی ملت سے انحراف کرنے کو احمقانہ بتلایا گیا ہے، کیونکہ یہ ملت عین فطرت ہے، کوئی سلیم الفطرت انسان اس سے انکار نہیں کرسکتا۔

 

جب اس کو اس کے رب نے کہا تو سر جھکا دے اس نے کہا میں نے تمام جہانوں کے رب کے لئے سر جھکا دیا(۱۳۱)

تشریح:ملت ابراہیمی کا بنیادی اصول اور پوری حقیقت ایک لفظ اسلام میں مضمر ہے، جس کے معنی ہیں اطاعت حق اور یہی خلاصہ ہے ابراہیم علیہ السلام کے مذہب ومسلک کا اور یہی حاصل ہے ان امتحانات کا جن سے گزر کر اللہ تعالی کا یہ خلیل مقام عالی تک پہنچا ہے اور اسلام یعنی اطاعت حق ہی وہ چیز ہے جس کے لئے یہ سارا جہاں بنایا گیا اور جس کے لئے انبیاء علیہم السلام بھیجے گئے، آسمانی کتابیں نازل کی گئیں، اس سے یہ بھی معلوم ہو گیا کہ اسلام ہی تمام انبیاء علیہم السلام کا مشترک دین اور نقطۂ وحدت ہے، حضرت آدمؑ سے لے کر خاتم الانبیاء ﷺ تک ہر آنے والے رسول اور نبی نے اسی کی طرف دعوت دی اسی پر اپنی اپنی امت کو چلایا۔

 

اور ابراہیم (علیہ السلام ) نے اپنے بیٹوں کو اور یعقوب (علیہ السلام) نے بھی اسی کی وصیت کی اے میرے بیٹو! اللہ نے بیشک چن لیا ہے تمہارے لئے دین، پس تم ہر گز نہ مرنا، مگر مسلمان(۱۳۲)

تشریح:اس آیت میں حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اور حضرت یعقوب علیہ السلام نے اپنے بیٹوں سے جو نصیحت کی ہے اس کو ذکر کیا گیا ہے کہ اے میرے بیٹو اللہ نے یہ دین تمہارے لئے منتخب فرما لیا ہے لہذا تمہیں موت بھی آئے تواس حالت میں آئے کہ تم مسلم ہو۔

 

کیا تم تھے موجود؟ جب یعقوب (علیہ السلام ) کو موت آئی جب اس نے اپنے بیٹوں کو کہا میرے بعد تم کس کی عبادت کرو گے ؟ انہوں نے کہا ہم عبادت کریں گے تیرے معبود کی، اور تیرے باپ، دادا ابراہیم اور اسماعیل اور اسحٰق کے معبود واحد کی، اور ہم اسی کے فرمانبردار ہیں۔(۱۳۳)

تشریح:بعض یہودیوں نے کہا تھا کہ حضرت یعقوب(اسرائیل)علیہ السلام نے اپنے انتقال کے وقت اپنے بیٹوں کو وصیت کی تھی کہ وہ یہودیت کے دین پر رہیں، یہ آیت اس کا جواب ہے۔

 

یہ ایک امت تھی جو گزر گئی، اس کے لئے جو اس نے کمایا اور تمہارے لئے ہے جو تم نے کمایا اور تم سے اس کے بارے میں نہ پوچھا جائے گا جو وہ کرتے تھے (۱۳۴)

تشریح:اس آیت سے معلوم ہوا کے باپ دادا کے نیک اعمال اولاد کے لئے کافی نہیں ہوں گے، جب تک وہ خود اپنے اعمال کو درست نہ کریں، اسی طرح باپ دادا کے برے اعمال کا عذاب بھی اولاد پر نہ پڑے گا جب کہ یہ اعمال صالحہ کے پابند ہوں، اس سے یہ بھی ثابت ہوا کہ مشرکین کی اولاد جو بلوغ سے پہلے مر جائے ان کو اپنے ماں باپ کے کفر و شرک کی وجہ سے عذاب نہیں ہو گا اور اس سے یہود کے اس عقیدے کی بھی تردید ہو گئی کہ ہم جو چاہیں عمل کرتے رہیں ہماری مغفرت تو ہمارے آبا  و اجداد کے اعمال سے ہو جائے گی، اسی طرح آج کل کے بعض سید خاندان کے لوگ اس خیال میں رہتے ہیں کہ ہم اولاد رسول ہیں ہم جو چاہیں گناہ کرتے رہیں ہماری مغفرت ہی ہو گی، قرآن کریم نے اس مضمون کو بار بار مختلف عنوانات سے بیان فرمایا ہے :وَلَا تَكْسِبُ كُلُّ نَفْسٍ إِلَّا عَلَيْهَا وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى(انعام:۱۶۴)ہر ایک نفس جو عمل کرتا ہے اس کی ذمہ داری اسی پر ہے، کسی کا بوجھ قیامت کے روز کوئی دوسرا نہیں اٹھائے گا، اور رسول اللہﷺ نے فرمایا:اے بنی ہاشم ایسا نہ ہو کہ قیامت کے روز اور لوگ تو اپنے اپنے اعمال صالحہ لے کر آئیں اور تم اعمال صالحہ سے غفلت برتو، صرف میرے نسب کا بھروسہ لے کر آؤ اور میں اس روز تم سے کہوں کہ میں تمہیں اللہ کے عذاب سے نہیں بچا سکتا، ایک حدیث میں ہے کہ جس شخص کو اس کا عمل پیچھے ڈالا اس کو اس کا نسب آگے نہیں بڑھا سکتا۔

(معارف القرآن)

 

اور انہوں نے کہا تم یہودی یا نصرانی ہو جاؤ ہدایت پا لو گے، کہہ دیں ( ہم پیروی کرتے ہیں ) ایک اللہ کے ہو جانے والے ابراہیم (علیہ السلام) کے دین کی اور وہ مشرکوں میں سے نہ تھے (۱۳۵)

تشریح:یہودی مسلمانوں سے کہتے ہیں کہ تم لوگ یہودی ہو جاؤ ہدایت پا لو گے اور نصرانی کہتے ہیں کہ تم لوگ نصرانی ہو جاؤ ہدایت پا لو گے، اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم تم جواب میں کہہ دیجیے کہ ہم تو یہودی یا نصرانی کبھی نہ ہوں گے بلکہ ملت ابراہیم یعنی اسلام میں رہیں گے جس میں کجی کا نام نہیں، برخلاف یہودیت اور نصرانیت کے کہ اس میں لوگوں نے اپنی طرف سے تبدیلی کر لی ہے اور یہ مذاہب اب منسوخ بھی ہو چکے ہیں۔

 

کہہ دو ہم ایمان لائے اللہ پر اور جو ہماری طرف نازل کیا گیا اور جو نازل کیا گیا ابراہیم (علیہ السلام) اور اسماعیل اور اسحٰق اور یعقوب اور اولادِ یعقوب کی طرف اور جو دیا گیا موسٰی اور عیسٰی کو اور جو دیا گیا نبیوں کو ان کے رب کی طرف سے، ہم ان میں سے کسی ایک کے درمیان  فرق نہیں کرتے اور ہم اسی کے فرمانبردار ہیں (۱۳۶)

تشریح:اس آیت میں ملت ابراہیمی کی وضاحت کی گئی ہے کہ ہم ایمان رکھتے ہیں اللہ پر اور ایمان رکھتے ہیں ہم اس حکم پر جو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوا اور اس حکم پر بھی جو دیگر انبیاء علیہم السلام پر ناز ہوا اور جو ان کو معجزات عطا کئے گئے اور ہم تمام انبیاءؑ پر برابر ایمان لاتے ہیں ایسا نہیں کہ کسی نبی پر ایمان لے آئے اور کسی نبی کی نبوت کا انکار کیا،  بلکہ ہم ایمان لانے میں انبیاء کے درمیان فرق نہیں کرتے، ہم اللہ تعالی کے فرمانبردار ہیں انہوں نے ہمیں یہ دین بتلایا اور ہم نے اختیار کیا، پس یہ حاصل ہے اس ملت کا جس پر ہم قائم ہیں جس میں کسی کو انکار کی کوئی گنجائش نہیں۔

 

پس اگر وہ ایمان لے آئیں جیسے تم اس پر ایمان لائے ہو تو وہ ہدایت پا گئے، اور اگر انہوں نے منہ پھیرا تو بیشک وہی ضد میں ہیں پس عنقریب ان کے مقابلے میں اللہ کافی ہو گا اور وہ سننے والا، جاننے والا ہے (۱۳۷)

تشریح:شروع سورۃ البقرۃ سے یہاں تک ایمان کی حقیقت کہیں مجمل کہیں مفصل بیان کی گئی ہے، اس آیت میں ایک ایسا اجمال ہے جو تمام تفصیلات اور تشریحات پر حاوی ہے،  کیونکہ آمَنْتُمْ کے مخاطب رسول کریمﷺ اور صحابہ کرامؓ ہیں، اس آیت میں ان کے ایمان کو ایک مثالی نمونہ قرار دے کر حکم دیا گیا ہے کہ اللہ تعالی کے نزدیک مقبول و معتبر صرف اس طرح کا ایمان ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہؓ نے اختیار فرمایا، جو اعتقاد اس   سے کچھ بھی مختلف ہو، اللہ کے نزدیک مقبول نہیں۔

(معارف القرآن)

 

(ہم نے لیا) رنگ اللہ کا، اور کس کا اچھا ہے رنگ اللہ سے اور ہم اس کی عبادت کرنے والے ہیں (۱۳۸)

تشریح:اس میں عیسائیوں کی رسم بپتسمہ(Baptism) کی طرف اشارہ کیا گیا ہے جسے اصطباغ(رنگ چڑھانا)بھی کہا جاتا ہے، کسی شخص کو عیسائی بنتے وقت وہ اسے غسل دیتے ہیں جو بعض اوقات رنگا ہوا پانی ہوتا ہے، ان کے خیال میں اس طرح اس پر عیسائی مذہب کا رنگ چڑھ جاتا ہے، یہ بپتسمہ پیدا ہونے والے بچوں کو بھی دیا جاتا ہے کیونکہ ان کے عقیدے کے مطابق ہر بچہ ماں کے پیٹ سے گنہگار پیدا ہوتا ہے اور جب تک وہ بپتسمہ نہ لے گا گنہگار رہتا ہے اور یسوع مسیح کے کفارے کا حق دار نہیں ہوتا، قرآن کریم کا ارشاد ہے کہ اس بے سر و پا خیال کی کوئی حقیقت نہیں، رنگ چڑھانا ہے تو اللہ کا رنگ چڑھاؤ جو توحید خالص کا رنگ ہے۔

(توضیح القرآن)

 

کہہ دو کیا تم اللہ کے بارے میں ہم سے حجت کرتے ہو وہی ہے ہمارا رب اور تمہارا رب، اور ہمارے لئے ہمارے عمل اور تمہارے لئے تمہارے عمل، اور ہم خالص اسی کے ہیں (۱۳۹)

تشریح:آپ ان یہود اور نصاریٰ سے فرما دیجئے کہ کیا تم لوگ اب بھی ہم سے حجت کرتے ہو حالانکہ وہ ہمارا بھی پروردگار ہے اور تمہارا بھی پروردگار، یہ اور بات ہے کہ ہمارے اعمال ہمارے لئے ہیں اور تمہارے اعمال تمہارے لئے، اور ہم نے تو اپنی زندگی اسی کے لئے خالص کر لی ہے۔

اخلاص کے معنی حضرت سعید بن جبیرؓ نے یہ بتلائے ہیں کہ انسان اپنے دین میں مخلص ہو، کہ اللہ کے سوا کسی کو شریک نہ ٹھہرائے اور اپنے عمل کو خالص اللہ کے لئے کرے لوگوں کو دکھلانے یا ان کی مدح و شکر کی طرف نظر نہ ہو۔

بعض بزرگوں نے فرمایا کہ اخلاص ایک ایسا عمل ہے جس کو نہ فرشتے پہچان سکتے ہیں اور نہ شیطان وہ صرف بندے اور اللہ تعالی کے درمیان ایک راز ہے۔

(معارف القرآن)

 

کیا تم کہتے ہو؟ کہ ابراہیم (علیہ السلام) اور اسماعیل اور اسحٰق اور یعقوب اور اولادِ یعقوب یہودی تھے یا نصرانی کہہ دیں کیا تم جاننے والے ہو یا اللہ ؟ اور کون ہے بڑا ظالم اس سے جس نے وہ گواہی چھپائی جو اللہ کی طرف سے اس کے پاس تھی، اور اللہ بے خبر نہیں اس سے جو تم کرتے ہو (۱۴۰)

یہ ایک امت تھی جو گزر گئی، اس کے لئے جو اس نے کمایا اور تمہارے لئے ہے جو تم نے کمایا اور تم سے اس کے بارے میں نہ پوچھا جائے گا جو وہ کرتے تھے (۱۴۱)

تشریح:یہ حقیقت دراصل ان کو بھی معلوم ہے کہ یہ تمام انبیاء کرام توحید خالص کا درس دیتے رہے ہیں اور ان بے بنیاد عقیدوں سے انبیاء کرام کا کوئی تعلق نہیں ہے خود ان کی کتابوں میں یہ حقیقت واضح طور پر لکھی ہوئی موجود ہے اور ان میں نبی آخر الزماں ﷺ کی بشارتیں بھی موجود ہیں جو ان کے پاس اللہ تعالی کی طرف سے آئی ہوئی شہادت کا درجہ رکھتی ہیں، مگر یہ ظالم ان کو چھپائے بیٹھے ہیں۔

 

اب بیوقوف کہیں گے کہ مسلمانوں کو کس چیز نے اس قبلہ سے پھیر دیا وہ جس پر تھے ؟ آپ کہہ دیں کہ مشرق اور مغرب اللہ ہی کا ہے، وہ جس کو چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے سیدھے راستے کی طرف(۱۴۲)

تشریح:یہاں سے قبلے کی تبدیلی اور اس سے پیدا ہونے والے مسائل کا تفصیلی بیان شروع ہو رہا ہے، واقعات کاپس منظر یہ ہے کہ مکہ مکرمہ میں آنحضرتﷺ بیت اللہ کی طرف رخ کر کے نماز پڑھا کرتے تھے، جب آپ مدینہ منورہ تشریف لائے تو آپ کو بیت المقدس کا رخ کرنے کا حکم دیا گیا، جس پر آپ تقریباً سترہ مہینے تک عمل کرتے رہے، اس کے بعد دوبارہ بیت ا للہ شریف کو قبلہ قرار دے دیا گیا، تبدیلی کا یہ حکم آگے آیت نمبر:۱۴۴ میں آ رہا ہے، یہ آیت پیشین گوئی کر رہی ہے کہ یہودی اور عیسائی اس تبدیلی پر بڑے اعتراضات کریں گے،  حالانکہ یہ حقیقت اللہ تعالی پر ایمان رکھنے والے ہر شخص کے لئے کسی دلیل کی محتاج نہیں کہ قبلہ کی کوئی خاص سمت مقرر کرنے کا مطلب ہرگز یہ نہیں ہے کہ اللہ تعالی قبلے کی سمت میں تشریف فرما ہیں، وہ توہر سمت اور ہر جگہ موجود ہے اور مشرق ہو یا مغرب شمال ہو یا جنوب، یہ ساری جہتیں اسی کی بنائی ہوئی ہیں،  البتہ چونکہ مصلحت کا تقاضہ یہ ہے کہ اللہ کی عبادت کرتے وقت تمام مؤمنوں کے لئے کوئی ایک سمت مقرر کر دی جائے، اس لئے یہ مقصود ہے، جو کچھ تقدس کسی قبلہ یا اس کی سمت میں آتا ہے وہ اللہ تعالی کے حکم کی وجہ سے آتا ہے،  چنانچہ وہ اپنی حکمت کے مطابق جب چاہے جس سمت کو چاہے قبلہ قرار دے سکتا ہے، ایک مؤمن کا سیدھا راستہ یہ ہے کہ وہ اس حقیقت کو سمجھ کر اللہ کے ہر حکم کے آگے سرتسلیم خم کر دے، آیت کے آخر میں سیدھی راہ کا جو ذکر ہے اس سے مراد اسی حقیقت کا ادراک ہے۔

(توضیح القرآن)

 

اور اسی طرح ہم نے تمہیں معتدل امت بنایا تاکہ تم ہو لوگوں پر گواہ، اور رسول(صلی اللہ علیہ وسلم) تم پر گواہ ہوں (۱۴۳)

تشریح:یعنی جس طرح ہم نے اس آخری زمانے میں دوسری جہتوں کو چھوڑ کر کعبہ کی سمت کو قبلہ بننے کا شرف عطا فرمایا اور تمہیں اسے دل و جان سے قبول کرنے کی ہدایت دی، اسی طرح ہم نے تم کو دوسری امتوں کے مقابلے میں سب سے زیادہ معتدل اور متوازن امت بنایا ہے (تفسیر کبیر)چنانچہ اس امت کی شریعت میں ایسے مناسب احکام رکھے گئے ہیں جو قیام قیامت تک انسانیت کی صحیح رہنمائی کرسکیں، معتدل امت کی یہ خصوصیت بھی اس آیت میں بیان فرمائی گئی ہے کہ اس امت کو قیامت کے دن انبیاء کرام کے گواہ کے طور پر پیش کیا جائے گا، اس کی تفصیل صحیح بخاری کی ایک حدیث میں یہ بیان ہوئی ہے کہ جب پچھلے انبیاء کرام کی امتوں میں سے کافر لوگ صاف انکار کر دیں گے کہ ہمارے پاس کوئی نبی نہیں آیا تھا تو امت محمدیہ کے لوگ انبیائے کرام کے حق میں گواہی دیں گے کہ انہوں نے رسالت کا حق ادا کرتے ہوئے اپنی اپنی امتوں کو پوری طرح اللہ تعالی کا پیغام پہنچا دیا تھا اور اگرچہ ہم خود اس موقع پر موجود نہیں تھے،  لیکن ہمارے نبی کریمﷺ محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے وحی سے باخبر ہو کر ہم کو یہ بات بتلا دی تھی اور ہمیں ان کی بات پر اپنے ذاتی مشاہدے سے زیادہ اعتماد ہے۔

دوسری طرف رسول کریم ﷺ اپنی امت کی اس بات کی تصدیق فرمائیں گے، نیز مفسرین نے امت محمدیہ کے گواہ ہونے کے یہ معنی بھی کئے ہیں کہ شہادت سے مراد حق کی دعوت و تبلیغ ہے اور یہ امت پوری انسانیت کو اسی طرح حق کا پیغام پہنچائے گی جس طرح آنحضرتﷺ نے ان کو پہنچایا تھا۔ باتیں دونوں اپنی اپنی جگہ درست ہیں اور ان میں کوئی تعارض بھی نہیں۔

(توضیح القرآن)

 

اور ہم نے مقرر نہیں کیا تھا وہ قبلہ جس پر آپ(صلی اللہ علیہ وسلم) تھے، مگر (اس لیے ) تاکہ ہم معلوم کر لیں کون رسول ( صلی اللہ علیہ وسلم) کی پیروی کرتا ہے اس شخص سے جو پھر جاتا ہے اپنی ایڑیوں پر (الٹے پاؤں )

تشریح:مطلب یہ ہے کہ پہلے کچھ عرصے کے لئے بیت المقدس کو قبلہ بنانے کا جو حکم ہم نے دیا تھا اس کا مقصد یہ امتحان لینا تھا کہ کون قبلے کی اصل حقیقت کو سمجھ کر اللہ کے حکم کی تعمیل کرتا ہے اور کون ہے جو کسی ایک قبلے کو بذات خود ہمیشہ کے لئے مقدس مان کر اللہ کے بجائے اسی کی عبادت شروع کر دیتا ہے، قبلے کی تبدیلی سے یہی واضح کرنا مقصود تھا کہ عبادت بیت اللہ کی نہیں اللہ کی کرنی ہے، ورنہ اس میں اور بت پرستی میں کیا فرق رہ جاتا ہے؟ اگلے جملے میں اللہ تعالی نے یہ بھی واضح فرما دیا کہ جو لوگ صدیوں سے بیت اللہ کو قبلہ مانتے چلے آرہے تھے ان کے لئے اچانک بیت المقدس کی طرف رخ موڑ دینا کوئی آسان بات نہ تھی،  کیونکہ صدیوں سے دلوں پر حکمرانی کرنے والے اعتقادات کو یکایک بدل لینا بڑا مشکل ہوتا ہے،  لیکن جن لوگوں کو اللہ نے یہ سمجھ عطا فرمائی کہ کسی بھی چیز میں کوئی ذاتی تقدس نہیں اور اصل تقدس اللہ تعالی کے حکم کو حاصل ہے ان کو نئے قبلے کی طرف رخ کرنے میں ذرا بھی دقت پیش نہیں آئی،  کیونکہ وہ سمجھ رہے تھے کہ ہم پہلے بھی اللہ کے بندے اور اس کے تابع فرمان تھے اور آج بھی اسی کے حکم پر ایسا کر رہے ہیں۔

(توضیح القرآن)

 

اور بیشک یہ بھاری بات تھی مگر ان پر (نہیں ) جنہیں اللہ نے ہدایت دی اور اللہ (ایسا) نہیں کہ تمہارا ایمان ضائع کر دے بیشک اللہ لوگوں کے ساتھ بڑا شفیق رحم کرنے والا ہے (۱۴۳)

تشریح:اس سلسلۂ کلام میں اس جملے کا ایک مطلب تو حضرت حسن بصریؒ نے یہ بیان فرمایا ہے کہ اگرچہ نئے قبلے کو اختیار کر لینا مشکل تھا،  لیکن جن لوگوں نے اپنی قوت ایمانی کا مظاہرہ کرتے ہوئے، اسے بے چون و چرا مان لیا اللہ تعالی ان کے اس ایمانی جذبے کو ضائع نہیں کرے گا،  بلکہ انہیں اس کا عظیم اجر ملے گا (تفسیر کبیر)دوسرے یہ جملہ ایک سوال کا جواب بھی ہے جو بعض صحابہ کے دل میں پیدا ہوا تھا اور وہ یہ کہ جو مسلمان اس وقت انتقال فرما گئے تھے جب قبلہ بیت المقدس تھا تو کہیں ایسا تو نہیں کہ ان کی وہ نمازیں جو انہوں نے بیت المقدس کی طرف رخ کر کے پڑھی تھیں قبلے کی تبدیلی کے بعد ضائع اور کالعدم ہو جائیں ؟ آیت نے جواب دے دیا کہ نہیں چونکہ انہوں نے اپنے ایمانی جذبے کے تحت وہ نمازیں اللہ ہی کے حکم کی تعمیل میں پڑھی تھیں اس لئے وہ نمازیں ضائع نہیں ہوں گی۔

(توضیح القرآن)

 

ہم دیکھتے ہیں بار بار آپﷺ کا منہ آسمان کی طرف پھرنا، تو ضرور ہم آپ کو اس قبلہ کی طرف پھیر دیں گے جسے آپ پسند کرتے ہیں۔

تشریح:جب بیت المقدس کو قبلہ بنایا گیا تو آنحضرتﷺ کو یہ اندازہ تھا کہ یہ حکم عارضی ہے اور چونکہ بیت اللہ بیت المقدس کے مقابلے میں زیادہ قدیم بھی تھا اور اس سے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی یادیں بھی وابستہ تھیں، اس لئے آپ کی طبعی خواہش بھی یہی تھی کے اسی کو قبلہ بنایا جائے، چنانچہ آنحضرتﷺ قبلے کی تبدیلی کے انتظار اور اشتیاق میں کبھی کبھی آسمان کی طرف منہ اٹھا کر دیکھتے تھے، اس آیت میں آپ کی اسی کیفیت کو بیان کیا گیا ہے۔

(توضیح القرآن)

 

پس آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) اپنا منہ مسجد حرام(خانہ کعبہ) کی طرف پھیر لیں، اور جہاں کہیں تم ہو پھیر لیا کرو اپنے منہ اس کی طرف، اور بیشک اہلِ کتاب ضرور جانتے ہیں کہ یہ حق ہے ان کے رب کی طرف سے، اور اللہ اس سے بے خبر نہیں جو وہ کرتے ہیں (۱۴۴)

تشریح:یعنی اہل کتاب اچھی طرح جانتے ہیں کہ قبلے کی تبدیلی کا جو حکم دیا گیا ہے وہ بالکل برحق ہے، اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ وہ لوگ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو مانتے تھے اور یہ بات تاریخی طور پر ثابت تھی کہ انہوں نے اللہ تعالی کے حکم سے مکہ میں کعبہ تعمیر کیا تھا بلکہ بعض مورخین نے خود تورات کے دلائل سے ثابت کیا ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی تمام اولاد(بشمول حضرت اسحاق علیہ السلام)کا قبلہ کعبہ ہی تھا۔

(توضیح القرآن)

 

اور اگر آپ ﷺ لائیں اہل کتاب کے پاس تمام نشانیاں وہ (پھر بھی) آپﷺ کے قبلہ کی پیروی نہ کریں گے، اور نہ آپ ﷺ ان کے قبلہ کی پیروی کرنے والے ہیں اور ان میں سے کوئی کسی (دوسرے ) کے قبلہ کی پیروی کرنے والا نہیں، اور اگر آپ نے ان کی خواہشات کی پیروی کی اس کے بعد کہ آپ کے پاس علم آ چکا ہے تو اب بیشک آپ بے انصافوں میں سے ہوں گے (۱۴۵)

تشریح:وَمَا أَنْتَ بِتَابِعٍ قِبْلَتَهُمْ، میں یہ اعلان کر دیا گیا کہ اب قیامت تک کے لئے آپ کا قبلہ بیت اللہ ہی رہے گا، اس سے یہود و نصاریٰ کے ان خیالات کا قطع کرنا مقصود تھا کہ مسلمانوں کے قبلہ کو تو کوئی قرار نہیں۔

وَلَئِنِ اتَّبَعْتَ أَهْوَاءَهُمْ، یہ خطاب رسول اللہﷺ کو بطور فرض محال کے ہے جس کے وقوع کا کوئی احتمال نہیں، اور دراصل سنانا امت محمدیہ کو ہے کہ اس کی خلاف ورزی نہ کریں۔

 

اور جنہیں ہم نے کتاب دی وہ اسے پہچانتے ہیں جیسے وہ اپنے بیٹوں کو پہچانتے ہیں، اور بیشک ان میں سے ایک گروہ حق کو چھپاتا ہے حالانکہ وہ جانتے ہیں (۱۴۶)

حق ہے آپ کے رب کی طرف سے پس آپ نہ ہو جائیں شک کرنے والوں سے (۱۴۷)

تشریح:اس آیت میں رسول کریمﷺ کو بحیثیت رسول پہچاننے کی تشبیہ اپنے بیٹوں کو پہچاننے کے ساتھ دی گئی ہے، کہ یہ لوگ جس طرح اپنے بیٹوں کو پوری طرح پہچانتے ہیں، ان میں کبھی شبہ و اشتباہ نہیں ہوتا، اسی طرح تورات و انجیل میں جو رسول اللہﷺ کی بشارت اور آپﷺ کی واضح علامات و نشانات کا ذکر آیا ہے، اس کے ذریعے یہ لوگ رسول اللہﷺ کو بھی یقینی طور سے جانتے پہچانتے ہیں ان کا انکار محض عناد اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے ہے۔

 

اور ہر ایک کے لیے ایک سمت ہے جس طرف وہ رخ کرتا ہے پس تم نیکیوں میں سبقت لے جاؤ، جہاں کہیں تم ہو گے اللہ تمہیں اکھٹا کرے گا، بیشک اللہ ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے (۱۴۸)

تشریح:جو لوگ قبلے کی تبدیلی پر اعتراض کر رہے تھے ان پر حجت تمام کرنے کے بعد مسلمانوں کو یہ ہدایت دی جا رہی ہے کہ ہر مذہب کے لوگوں نے اپنے اپنے قبلے الگ الگ بنا رکھے ہیں اور تمہارے لئے یہ ممکن نہیں ہے کہ اس دنیا میں ان کو کسی ایک قبلے پر جمع کرسکو، لہذا اب ان لوگوں سے قبلے کی بحث میں پڑنے کے بجائے تمہیں اپنے کام میں لگ جانا چاہئے اور وہ یہ ہے کہ اپنے نامۂ اعمال میں زیادہ سے زیادہ نیکیوں کا اضافہ کرو اور اس کام میں ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی کوشش کرو، آخری انجام یہ ہو گا کہ تمام مذہبوں والوں کو اللہ تعالی اپنے پاس بلائے گا اور اس وقت ان سب کی ترکی تمام ہو جائے گی وہاں سب کا قبلہ ایک ہی ہو جائے گا، کیونکہ سب اللہ کے سامنے کھڑے ہوں گے۔

(توضیح القرآن)

 

اور جہاں سے آپ نکلیں، پس اپنا رخ مسجد حرام کی طرف کر لیں اور بیشک آپ کے رب (کی طرف)سے یہی حق ہے اور اللہ اس سے بے خبر نہیں جو تم کرتے ہو(۱۴۹)

تشریح:اللہ تعالی نے مسجد حرام کی طرف رخ کرنے کا حکم ان آیتوں میں تین مرتبہ دہرایا ہے، اس سے ایک تو حکم کی اہمیت اور تاکید جتلانی مقصود ہے، دوسرے یہ بھی بتانا ہے کہ قبلے کا رخ کرنا صرف اس حالت میں نہیں ہے جب کوئی شخص بیت اللہ کے سامنے موجود ہو،  بلکہ جب مکہ مکرمہ سے نکلا ہوا ہو تب بھی یہی حکم ہے اور کہیں دور چلا جائے تب بھی یہ فریضہ ختم نہیں ہوتا، البتہ یہاں اللہ تعالی نے سمت کا لفظ استعمال فرما کر اس طرف بھی اشارہ کر دیا ہے کہ کعبے کا رخ کرنے کے لئے یہ ضروری نہیں ہے کہ انسان کعبے کی سوفیصد سیدھ میں ہو بلکہ اگر سمت وہی ہے تو کعبہ کی طرف رخ کرنے کا حکم پورا ہو جائے گا اور انسان اس معاملے میں اتنا ہی مکلف ہے کہ وہ اپنے بہترین ذرائع استعمال کر کے سمت صحیح متعین کر لے ایسا کر لینے کے بعد اس کی نماز ہو جائے گی۔

(توضیح القرآن)

 

اور جہاں کہیں سے آپ نکلیں اپنا رخ مسجد حرام کی طرف کر لیں، اور تم جہاں کہیں ہو سو کر لو اپنے رخ اس کی طرف، تاکہ لوگوں کے لیے تم پر کوئی دلیل نہ رہے، سوائے ان کے لیے جو ان میں سے بے انصاف ہیں، سو تم ان سے نہ ڈرو، اور مجھ سے ڈرو تاکہ میں اپنی نعمت تم پر پوری کر دوں، اور تاکہ تم ہدایت پاؤ(۱۵۰)

 

تشریح:اس کا مطلب یہ ہے کہ جب بیت المقدس قبلہ تھا، یہودی یہ حجت کرتے تھے کہ دیکھو ہمارا دین برحق ہے، اسی لے یہ لوگ ہمارے قبلے کو اختیار کرنے پر مجبور ہوئے ہیں اور مشرکین مکہ یہ بحث کرتے تھے کہ مسلمان اپنے آپ کو حضرت ابراہیم علیہ السلام کا متبع کہتے ہیں مگر انہوں نے ابراہیمی قبلے کو چھوڑ کر ان سے سنگین انحراف کر لیا ہے، اب جبکہ قبلے کی تبدیلی میں جو مصلحت تھی وہ حاصل ہو گئی اور اس کے بعد مسلمان ہمیشہ کے لئے کعبے کو قبلہ قرار دے کر اس پر عمل پیرا ہوں گے تو ان دونوں کی حجتیں ختم ہو جائیں گی، البتہ وہ کٹ حجت لوگ جنہوں نے اعتراض کرتے رہنے کی قسم ہی کھا رکھی ہے ان کی زبانیں کوئی نہیں روک سکتا،  لیکن مسلمانوں کو ان سے خوف کھانے کی ضرورت نہیں ہے، انہیں اللہ کے سوا کسی سے ڈرنا نہیں چاہئے۔

(توضیح القرآن)

 

جیسا کہ ہم نے تم میں ایک رسول تم میں سے بھیجا، وہ تم پر ہمارے حکم پڑھتے ہیں اور وہ تمہیں پاک کرتے ہیں، اور تمہیں کتاب و حکمت (دانائی) سکھاتے ہیں، اور تمہیں و ہ سکھاتے ہیں جو تم نہ جانتے تھے (۱۵۱)

سو مجھے یاد کرو میں تمہیں یاد رکھوں گا، اور تم میرا شکر کرو اور میری ناشکری نہ کرو(۱۵۲)

تشریح:حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کعبے کی تعمیر کے وقت دو دعائیں کی تھیں، ایک یہ کہ ہماری نسل سے ایسی امت پیدا فرمائیے جو آپ کی مکمل فرمانبردار ہو، اور دوسری یہ کہ ان میں ایک رسول بھیجئے (دیکھئے پیچھے آیات۱۲۸۔ ۱۲۹)اللہ تعالی نے پہلی دعا اس طرح قبول فرمائی کہ امت محمدیہ(علی صاحبہا السلام) کو معتدل امت قرار دے کر پیدا فرمایا(دیکھئے آیت۱۴۳) اب اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ جس طرح ہم نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعا قبول کرتے ہوئے تم پر یہ انعام فرمایا کہ تمہیں معتدل امت بنا کر آئندہ ہمیشہ کے لئے انسانیت کی رہنمائی تمہیں عطا کر دی، جس کی ایک اہم علامت یہ بھی ہے کہ ہمیشہ کے لئے کعبے کو قبلہ بنا دیا گیا ہے، اسی طرح ہم نے حضرت ابراہیمؑ کی  دوسری دعا قبول کرتے ہوئے رسول اکرمﷺ کو تمہارے درمیان بھیج دیا ہے، جو انہی خصوصیات اور فرائض منصبی کے حامل ہیں جو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ان کے لئے مانگے تھے، ان میں سے پہلا فریضہ تلاوت آیات ہے، اس سے معلوم ہوا کہ قرآن کریم کی آیات کو تلاوت کرنا بذات خود ایک مقصد اور ایک نیکی ہے، خواہ تلاوت آیات بغیر سمجھے کی جائے، کیونکہ قرآن کے معنی کی تعلیم آگے ایک مستقل فریضے کے طور پر بیان کی گئی ہے، دوسرا مقصد قرآن کریم کی تعلیم ہے، اس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ آنحضرتﷺ کی تعلیم کے بغیر قرآن کریم کو ٹھیک ٹھیک سمجھنا ممکن نہیں ہے، اور یہ کہ صرف ترجمہ پڑھ لینے سے قرآن کریم کی صحیح سمجھ حاصل نہیں ہوسکتی کیونکہ اہل عرب عربی زبان سے خوب واقف تھے، انہیں ترجمہ سکھانے کے لئے کسی استاذ کی ضرورت  نہیں تھی، تیسرے آپ کا فریضہ یہ بتایا گیا ہے کہ آپ حکمت کی تعلیم دیں، اس سے معلوم ہوا کہ حکمت و دانائی اور عقلمندی وہی ہے جو آنحضرتﷺ نے تلقین فرمائی، اس سے نہ صرف آپ کی احادیث کا حجت ہونا معلوم ہوتا ہے بلکہ یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ اگر آپ کا کوئی حکم کسی کو اپنی عقل کے لحاظ سے حکمت کے خلاف محسوس ہو تو اعتبار اس کی عقل کا نہیں بلکہ آنحضرتﷺ کی سکھائی ہوئی حکمت کا ہے، چوتھا فریضہ یہ بتایا گیا ہے کہ آپ لوگوں کو پاکیزہ بنائیں اس سے مراد آپ کی عملی تربیت ہے، جس کے ذریعے آپ نے صحابہ کرام کے اخلاق اور باطنی صفات کو گندے جذبات سے پاک کر کے انہیں اعلی درجے کی خصوصیات سے آراستہ فرمایا، اس سے معلوم ہوا کہ قرآن وسنت کا صرف کتابی علم بھی انسان کی اصلاح کے لئے کافی نہیں ہے، جب تک اس نے اس علم کو اپنی زندگی میں نافذ کرنے کی عملی تربیت نہ لی ہو، آنحضرتﷺ نے صحابہ کو اپنی صحبت سے سرفراز فرما کر ان کی تربیت فرمائی، پھر صحابہ نے تابعین کی اور تابعین نے تبع تابعین کی اسی طرح تربیت کی، اور یہ سلسلہ صدیوں سے اسی طرح چلا آتا ہے، باطنی اخلاق کی اسی تربیت کا علم علم احسان یا تزکیہ کہلاتا ہے اور تصوف بھی در حقیقت اسی علم کا نام تھا اگرچہ بعض نا اہلوں نے اس میں غلط خیالات کی ملاوٹ کر کے بعض مرتبہ اسے خراب بھی کر دیا، لیکن اس کی اصل یہی تزکیہ ہے جس کا ذکر قرآن کریم نے یہاں فرمایا ہے، اور ہر دور میں تصوف کی اصل حقیقت کو سمجھ کر اس پر عمل کرنے والے ہمیشہ موجود رہے ہیں۔

(توضیح القرآن)

 

اے ایمان والو ! تم صبر اور نماز سے مدد مانگو، بیشک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے (۱۵۳)

تشریح:اس سورت کی آیت نمبر۴۰ سے بنی اسرائیل سے متعلق جو سلسلہ کلام شروع ہوا تھا وہ پورا ہو گیا اور آخر میں مسلمانوں کو ہدایت کر دی گئی کہ وہ فضول بحثوں میں الجھنے کے بجائے اپنے دین پر زیادہ سے زیادہ عمل کرنے کی طرف متوجہ ہوں، چنانچہ اب مختلف اسلامی عقائد اور احکام کا بیان شروع ہو رہا ہے، اس بیان کا آغاز صبر کی تاکید سے ہوا ہے، کیونکہ یہ دور وہ ہے جس میں مسلمانوں کو اپنے دین پر عمل اور اس کی تبلیغ میں دشمنوں کی طرف سے طرح طرح کی رکاوٹیں پیش آ رہی تھیں، اسی زمانے میں جنگوں کا سلسلہ بھی جاری تھا اور بہت سی سختیاں برداشت کرنی پڑ رہی تھیں، جنگوں میں اپنے عزیز رشتہ دار اور دوست شہید بھی ہو رہے تھے یا ہونے والے تھے۔ لہذا اب مسلمانوں کو تلقین کی جا رہی ہے کہ دین حق کے راستے میں یہ آزمائشیں تو پیش آنی ہیں، ایک مؤمن کا کام یہ ہے کہ وہ اللہ تعالی کی مشیت پر راضی رہ کر صبر کا مظاہرہ کرے، واضح رہے کہ صبر کا مطلب یہ نہیں ہے کہ انسان کسی تکلیف یا صدمہ پر روئے نہیں، صدمے کی بات پر رنج کرنا انسان کی فطرت میں داخل ہے اس لئے شریعت نے اس پر کوئی پابندی نہیں لگائی، جو رونا بے اختیار آ جائے وہ بھی بے صبری میں داخل نہیں، البتہ صبر کا مطلب یہ ہے کہ صدمے کے باوجود اللہ تعالی سے کوئی شکوہ نہ ہو،  بلکہ اللہ تعالی کے فیصلے پر انسان عقلی طور پر راضی رہے، اس کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی ڈاکٹر آپریشن کرے توانسان کو تکلیف تو ہوتی ہے اور بعض اوقات اس تکلیف کی وجہ سے انسان بیساختہ چلا بھی اٹھتا ہے،  لیکن اسے ڈاکٹر سے شکایت نہیں ہوتی، کیونکہ اسے یقین ہے کہ وہ جو کچھ کر رہا ہے اس کی ہمدردی میں اور اس کی مصلحت کی خاطر کر رہا ہے۔

(توضیح القرآن)

 

اور جو اللہ کی راہ میں مارے جائیں انہیں مردہ نہ کہو، بلکہ وہ زندہ ہیں، لیکن تم (اس کا) شعور نہیں رکھتے۔ (۱۵۴)

تشریح:ایسے مقتول کو جو اللہ کی راہ میں قتل کیا جائے شہید کہتے ہیں اور اس کی نسبت گو یہ کہنا کہ وہ مرگیا صحیح اور جائز ہے،  لیکن ا س کی موت کو دسرے مردوں کی سی موت سمجھنے کی ممانعت کی گئی ہے وجہ اس کی یہ ہے کہ بعد مرنے کے گو برزخی حیات ہر شخص کو حاصل ہے اور اسی سے جزا وسزا کا ادراک ہوتا ہے،  لیکن شہید کو اس حیات میں اور مردوں سے ایک گونہ امتیاز ہے اور وہ امتیاز یہ ہے کہ اس کی حیات آثار میں اوروں سے قوی ہے۔

(ماخوذ معارف القرآن)

 

اور ہم تمہیں ضرور آزمائیں گے کچھ خوف سے، اور بھوک سے، اور مال و جان اور پھلوں کے نقصان سے، اور آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) خوشخبری دیں صبر کرنے والوں کو(۱۵۵)

پہلے تو ان کا ذکر تھا جنہوں نے صبر کا اعلیٰ مرتبہ حاصل کیا یعنی شہداء، اب فرماتے ہیں کہ تمہارا علی العموم تھوڑی تھوڑی تکلیف اور مصیبت میں وقتاً فوقتاً امتحان لیا جائے گا اور تمہارے صبر کو دیکھا جائے گا، صابرین میں داخل ہونا کچھ سہل نہیں اسی واسطے پہلے سے متنبہ فرما دیا۔

(تفسیرعثمانی)

 

وہ جنہیں جب کوئی مصیبت پہنچے تو وہ کہیں ہم اللہ کے لیے ہیں اور ہم اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں (۱۵۶)

تشریح:اس فقرے میں پہلے تواس حقیقت کا اظہار ہے کہ چونکہ ہم سب اللہ کی ملکیت میں ہیں اس لئے اسے ہمارے بارے میں ہر فیصلہ کرنے کا اختیار ہے اور چونکہ ہم اس کے ہیں اور کوئی بھی اپنی چیز کا بُرا نہیں چاہتا، اس لئے ہمارے بارے میں اس کا ہر فیصلہ خود ہماری مصلحت میں ہو گا، چاہے فی الحال ہمیں وہ مصلحت سمجھ میں نہ آ رہی ہو، دوسری طرف اس حقیقت کا اظہار ہے کہ ایک دن ہمیں بھی اللہ تعالی کے پاس اسی جگہ جانا ہے جہاں ہمارا کوئی عزیز یا دوست گیا ہے، لہذا یہ جدائی عارضی ہے ہمیشہ کے لئے نہیں ہے اور جب ہم اس کے پاس لوٹ کر جائیں گے تو ہمیں اس صدمے یا تکلیف پر انشاءاللہ ثواب بھی ملنا ہے، جب یہ اعتقاد دل میں ہو تو اسی کا نام صبر ہے، خواہ اس کے ساتھ ساتھ بے اختیار آنسوں بھی نکل رہے ہوں۔

(توضیح القرآن)

 

یہی لوگ ہیں جن پر ان کے رب کی طرف سے عنایتیں ہیں، اور رحمت ہے، اور یہی لوگ ہدایت یافتہ ہیں (۱۵۷)

یعنی جن لوگوں نے ان مصائب پر صبر کیا اور کفران نعمت نہ کیا بلکہ ان مصائب کو وسیلہ ذکر و شکر بنایا تو ان کو اے پیغمبر ہماری طرف سے بشارت سُنا دو۔

(تفسیرعثمانی)

 

بیشک صفا اور مروہ اللہ کے نشانات ہیں، پس جو کوئی خانہ کعبہ کا حج کرے، یا عمرہ تو اس پر کوئی حرج نہیں کہ ان دونوں کا طواف کرے، اور جو خوشی سے کوئی نیکی کرے تو بیشک اللہ قدردان، جاننے والا ہے (۱۵۸)

تشریح:صفا اور مروہ مکہ مکرمہ میں دو پہاڑیاں ہیں، جب حضرت ابراہیم علیہ السلام اپنی اہلیہ حضرت ہاجرہؓ کو اپنے دودھ پیتے صاحبزادے اسماعیل علیہ السلام کے ساتھ چھوڑ کر گئے تو حضرت ہاجرہؓ پانی کی تلاش میں ان پہاڑیوں کے درمیان دوڑی تھیں، حج اور عمرے میں اللہ تعالی نے ان کے درمیان سعی کرنا واجب قرار دیا ہے، اگرچہ سعی واجب ہے مگر یہاں ‘‘ کوئی گناہ نہیں ’’ کے الفاظ اس لئے استعمال فرمائے گئے ہیں کہ زمانہ ٔ جاہلیت میں یہاں دو بت رکھ دئے گئے تھے جو اگرچہ بعد میں ہٹا لئے گئے مگر بعض صحابہ کو یہ شک ہوا کہ شاید ان پہاڑیوں کے درمیان دوڑنا جاہلیت کی نشانی ہونے کی وجہ سے گناہ ہو، آیت نے یہ شک دور کر دیا۔

(توضیح القرآن)

 

بیشک جو لوگ چھپاتے ہیں جو اللہ نے کھلی نشانیاں اور ہدایت نازل کی، اس کے بعد کہ ہم نے اسے کتاب میں لوگوں کے لیے واضح کر دیا، یہی لوگ ہیں جن پر اللہ لعنت کرتا ہے، اور ان پر لعنت کرتے ہیں لعنت کرنے والے (۱۵۹)

سوائے ان لوگوں کے جنہوں نے توبہ کی اور اصلاح کی اور واضح کر دیا، پس یہی لوگ ہیں جنہیں میں معاف کرتا ہوں اور میں معاف کرنے والا رحم کرنے والا ہوں (۱۶۰)

بیشک جو لوگ کافر ہوئے اور وہ (کافر) ہی مر گئے یہی لوگ ہیں جن پر لعنت ہے اللہ کی، اور اس کے فرشتوں کی، اور تمام لوگوں کی(۱۶۱)

وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے، ان سے عذاب ہلکا نہ ہو گا اور نہ انہیں مہلت دی جائے گی(۱۶۲)

تشریح:پچھلی آسمانی کتابوں میں آپﷺ کے متعلق جو بشارتیں نازل ہوئیں تھیں ان کو یہ لوگ چھپایا کرتے تھے، ان آیتوں میں علم کو چھپانے کی وعید اور توبہ کرنے والوں کے لئے معافی کا وعدہ ارشاد فرمایا گیا ہے۔

 

اور تمہارا معبود یکتا معبود ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں، نہایت مہربان، رحم کرنے والا(۱۶۳)

تشریح:یعنی معبود حقیقی تم سب کا ایک ہی ہے اس میں تعدّد کا احتمال بھی نہیں سو اب جس نے اس کی نافرمانی کی بالکل مردود اور غارت ہوا دوسرا معبود ہوتا تو ممکن تھا کہ اس سے نفع کی توقع باندھی جاتی یہ آقائی اور پادشاہی اور استادی اور پیری نہیں کہ ایک جگہ موافقت نہ آئی تو دوسری جگہ چلے گئے یہ تو معبودی اور خدائی ہے نہ اس کے سوا کسی کو معبود بنا سکتے ہو اور نہ کسی سے اس کے علاوہ خیر کی توقع کر سکتے ہو۔ جب آیت والٰھکم الٰہ واحد نازل ہوئی تو کفار مکّہ نے تعجب کیا کہ تمام عالم کو معبود اور سب کا کام بنانے والا ایک کیسے ہوسکتا ہے اور اس کی دلیل کیا ہے اس پر آیت اِنَّ فِیْ خَلْقِ السَّمٰوٰت الخ نازل ہوئی اور اس میں اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کی نشانیاں بیان فرمائیں۔

(تفسیرعثمانی)

 

بیشک زمین اور آسمانوں کی پیدائش میں، اور رات اور دن کے بدلتے رہنے میں، اور (اس) کشتی میں جو سمندر میں بہتی ہے (ان چیزوں کے ) جو لوگوں کو نفع دیتی ہیں، اور جو اللہ نے آسمانوں سے پانی اتارا، پھر اس سے زمین کو زندہ کیا، اس کے مرنے کے بعد، اس میں ہر قسم کے جانور پھیلائے، اور ہواؤں کے بدلنے میں اور زمین وآسمان کے درمیان تابع بادلوں میں نشانیاں ہیں (ان) لوگوں کے لیے (جو) عقل والے ہیں (۱۶۴)

تشریح:اللہ تعالی نے قرآن کریم میں جگہ جگہ کائنات کے ان حقائق کی طرف توجہ دلائی ہے جو ہماری آنکھوں کے سامنے پھیلے پڑے ہیں اور اگر ان پر معقولیت کے ساتھ غور کیا جائے تووہ اللہ تعالی کے وجود اور اس کی توحید پر دلالت کرتے ہیں،  چونکہ روزہ مرہ ان کو دیکھتے دیکھتے ہماری نگاہیں ان کی عادی ہو گئی ہیں، اس لئے ان میں کوئی حیرت کی بات ہمیں محسوس نہیں ہوتی ورنہ ان میں سے ایک ایک چیز ایسے محیرالعقول نظام کا حصہ ہے جس کی تخلیق اللہ تعالی کی قدرت کاملہ کے سوا کائنات کی کسی طاقت کے بس میں نہیں ہے، آسمان اور زمین کی تمام مخلوقات جس طرح کام کر رہی ہیں، چاند اور سورج جس طرح ایک لگے بندھے نظام الاوقات کے تحت دن رات سفر میں ہیں، سمندر جس طرح نہ صرف پانی کا ذخیرہ کئے ہوئے ہے،  بلکہ کشتیوں کے ذریعے خشکی کے مختلف حصوں کو جوڑے ہوئے ہے اور ان کی ضرورت کاسامان ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کر رہا ہے، بادل اور ہوائیں جس انداز میں انسانوں کی زندگی کا سامان مہیا کر رہے ہیں ان سب چیزوں کے بارے میں بدترین حماقت کے بغیر یہ سمجھنا ممکن نہیں ہے کہ یہ سب کچھ خود بخود کسی خالق کے بغیر ہو رہا ہے، مشرکین عرب بھی یہ مانتے تھے کے یہ ساری کائنات اللہ تعالی کی پیدا کی ہوئی ہے، لیکن ساتھ ہی وہ عقیدہ رکھتے تھے کہ ان تمام کاموں میں کئی دیوتا اس کے مددگار ہیں، قرآن کریم فرماتا ہے کہ جس ذات کی قدرت اتنی عظیم ہے کہ یہ سارا نظام کائنات اس نے بلا شرکت غیر ے پیدا کر دیا ہے آخر اسے چھوٹے چھوٹے کاموں کے لئے کسی شریک یا مددگار کی کیا ضرورت ہے، لہذا جو شخص بھی اپنی عقل کو کام میں لائے گا اسے کائنات کی ہر چیز میں اللہ تعالی کی توحید نظر آئے گی۔

(توضیح القرآن)

 

اور جو لوگ اللہ کے سوائے کوئی شریک بناتے ہیں وہ ان سے محبت کرتے ہیں جیسے اللہ کی محبت اور جو لوگ ایمان لائے (انہیں ) اللہ کی محبت سب سے زیادہ ہے، اور اگر دیکھ لیں جنہوں نے ظلم کیا( اس وقت کو ) جب یہ عذاب دیکھیں گے کہ تمام قوت اللہ کے لیے ہے اور یہ کہ اللہ کا عذاب سخت ہے (۱۶۵)

تشریح:کیا خوب ہوتا اگر یہ ظالم مشرکین جب دنیا میں کسی مصیبت کو دیکھتے تواس کے وقوع میں غور کر کے یہ سمجھ لیا کرتے کہ سب قوت حق تعالی ہی کو ہے اور دوسرے سب اس کے سامنے عاجز ہیں، چنانچہ اس مصیبت کو نہ کوئی روک سکا نہ ٹال سکا اور نہ ایسے وقت میں اور کوئی یاد رہا اور اس مصیبت کی شدت میں غور کر کے یہ سمجھ لیا کرتے کہ اللہ تعالی کا عذاب آخرت میں جو دار الجزا ہے اور بھی سخت ہو گا تواس طرح غور کرنے سے تراشیدہ معبودوں کا عجز اور حق تعالی کی قدرت و عظمت منکشف ہو کر توحید و ایمان اختیار کر لیتے۔

(خلاصہ تفسیر معارف القرآن)

 

جب بیزار ہو جائیں گے وہ جن کی پیروی کی گئی ان سے جنہوں نے پیروی کی تھی اور وہ عذاب دیکھ لیں گے، اور ان سے تمام وسائل کٹ جائیں گے (۱۶۶)

تشریح:یعنی وہ وقت ایسا ہو گا کہ متبوع اپنے تابعداروں سے بیزار ہو جائیں گے اور بُت پرست اور بتوں میں کوئی علاقہ باقی نہ رہے گا، عذاب الہٰی دیکھ کر ایک دوسرے کے دشمن ہو جائیں گے۔

(تفسیرعثمانی)

 

اور وہ کہیں گے جنہوں نے پیروی کی تھی کاش ہمارے لیے دوبارہ (دنیا میں لوٹ جا نا ہوتا ) تو ہم ان سے بیزاری کرتے جیسے انہوں نے ہم سے بیزاری کی، اسی طرح اللہ ان کے عمل انہیں حسرتیں بنا کر دکھائے گا اور وہ آگ سے نکلنے والے نہیں (۱۶۷)

اور مشرکین اس وقت کہیں گے کہ اگر کسی طرح ہم کو پھر دنیا میں لوٹ جانا نصیب ہو تو ہم بھی ان سے اپنا انتقام لیں گے اور جیسا یہ آج ہم سے جُدا ہو گئے ہم بھی ان کو جواب دے کر جُدا ہو جائیں  گے، لیکن اس آرزو محال سے بجز افسوس کچھ نفع نہ ہو گا۔

(تفسیرعثمانی)

 

اے لوگو! کھاؤ اس میں سے جو زمین میں ہے حلال اور پاک اور پیروی نہ کرو شیطان کے قدموں کی بیشک وہ تمہارا کھلا دشمن ہے (۱۶۸)

وہ  تمہیں حکم دیتا ہے صرف برائی اور بے حیا ئی کا، اور یہ کہ تم اللہ ( کے بارے میں ) کہو جو تم نہیں جانتے (۱۶۹)

تشریح:مشرکین عرب کی ایک گمراہی یہ تھی کہ انہوں نے کسی آسمانی تعلیم کے بغیر مختلف چیزوں کے بارے میں حلال و حرام کے فیصلے خود گھڑ رکھے تھے مثلاً مردار جانور کو کھانا ان کے نزدیک جائز تھا مگر بہت سے حلال جانوروں کو انہوں نے اپنے اوپر حرام کر رکھا تھا، جس کی تفصیل سورۂ انعام میں آئے گی، یہ آیت ان کی اسی گمراہی کی تردید میں نازل ہوئی ہیں۔

(توضیح القرآن)

 

اور جب انہیں کہا جاتا ہے اس کی پیروی کرو جو اللہ نے اتارا تو وہ کہتے ہیں بلکہ ہم اس کی پیروی کریں گے جس پر ہم نے پایا اپنے باپ، دادا کو، بھلا اگرچہ ان کے باپ دادا کچھ نہ سمجھتے ہو ں اور ہدایت یافتہ نہ ہوں (۱۷۰)

تشریح:جب کوئی ان مشرک لوگوں سے کہتا ہے کہ اللہ تعالی نے جو حکم اپنے پیغمبرﷺ کے پاس بھیجا ہے اس پر چلو تو جواب میں کہتے ہیں کہ نہیں بلکہ ہم تواسی طریقہ پر چلیں گے جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے، حق تعالی ان پر رد فرماتے ہیں کیا ہر حالت میں یہ لوگ اپنے باپ دادا ہی کے طریقے پر چلیں گے اگرچہ ان کے باپ دادا دین کی نہ کچھ سمجھ رکھتے ہوں اور نہ کسی آسمانی کتاب کی ہدایت رکھتے ہوں۔

(ماخوذ خلاصہ تفسیر معارف القرآن)

 

اور جن لوگوں نے کفر کیا ان کی مثال اس شخص کی حالت کے مانند ہے جو اس کو پکارتا ہے جو نہیں سنتا سوائے پکارنے اور چلانے ( کی آواز کے ) وہ بہرے گونگے، اندھے ہیں پس وہ نہیں سمجھتے (۱۷۱)

تشریح:اس آیت سے جس طرح باپ داداؤں کی اندھی تقلید و اتباع کی مذمت ثابت ہوئی، اسی طرح جائز تقلید و اتباع کے شرائط اور ایک ضابطہ بھی معلوم ہو گیا، جس کی طرف دو لفظوں میں اشارہ فرمایا ہے لایعقلون اور لایھتدون، کیونکہ اس سے معلوم ہوا کہ ان آبا و اجداد کی تقلید و اتباع کو اس لئے منع کیا گیا ہے کہ انہیں نہ عقل تھی نہ ہدایت، ہدایت سے مراد وہ احکام ہیں جو اللہ تعالی کی طرف سے صریح طور پر نازل کئے گئے اور عقل سے مراد وہ جو بذریعہ اجتہاد و نصوص شرعیہ سے استنباط کئے گئے۔

(معارف القرآن)

 

اے وہ لوگ! جو ایمان لائے ہو، تم پاکیزہ چیزوں میں سے کھاؤ جو ہم نے تمہیں دی ہیں اور تم اللہ کا شکر کرو اگر تم اس کی بندگی کرتے ہو(۱۷۲)

تشریح:آیت مذکورہ میں جیسے حرام کھانے کی ممانعت کی گئی ہے اسی طرح حلال طیب چیزوں کے کھانے اور اس کے شکر گزار ہونے کی ترغیب بھی ہے کیونکہ جس طرح حرام کھانے سے اخلاق رزیلہ پیدا ہوتے ہیں عبادت کا ذوق جاتا رہتا ہے دعا قبول نہیں ہوتی، اسی طرح حلال کھانے سے ایک نور پیدا ہوتا ہے اخلاق رذیلہ سے نفرت اخلاق فاضلہ کی رغبت پیدا ہوتی ہے، عبادت میں دل لگتا ہے، گناہ سے دل گھبراتا ہے، دعا قبول ہوتی ہے۔

 

در حقیقت (ہم نے ) تم پر حرام کیا ہے مردار اور خون اور سور کا گوشت، اور جس پر اللہ کے سوا ( کسی اور کا نام) پکارا گیا، پس جو لاچار ہو جائے مگر نہ سر کشی کرنے والا ہو، نہ حد سے بڑھنے والا تو اس پر کوئی گناہ نہیں بیشک اللہ بخشنے والا اور رحم کرنے والا ہے (۱۷۳)

تشریح:اس آیت میں تمام حرام چیزوں کا احاطہ کرنا مقصود نہیں بلکہ مقصد یہ جتلانا ہے کہ جن جانوروں کو تم نے حرام سمجھ رکھا ہے وہ تو اللہ نے حرام نہیں کئے، تم خوامخواہ ان کی حرمت اللہ کے ذمے لگا رہے ہو، البتہ کئی چیزیں ایسی ہیں جن کو تم حرام نہیں سمجھتے مگر اللہ نے انہیں حرام قرار دیا ہے، حرام چیزیں وہ نہیں ہیں جو تم سمجھ رہے ہو حرام تووہ ہیں جنہیں تم نے حلال سمجھا ہوا ہے۔

 

بیشک جو لوگ وہ چھپاتے ہیں جو اللہ نے (بصورت) کتاب نازل کیا اور اس سے وصول کرتے ہیں تھوڑی قیمت یہی لوگ ہیں جو اپنے پیٹوں میں آگ بھرتے ہیں اور ان سے بات نہیں کرے گا اللہ قیامت کے دن نہ انہیں پاک کرے گا، اور ان کے لیے درد ناک عذاب ہے (۱۷۴)

یہی لوگ ہیں جنہوں نے ہدایت کے بدلے گمراہی مول  لی اور مغفرت کے بدلے عذاب سو کس قدر وہ آگ پر بہت صبر کرنے والے ہیں (۱۷۵)

یہ اس لیے کہ اللہ نے حق کے ساتھ کتاب نازل کی اور بیشک جن لوگوں نے کتاب میں اختلاف کیا وہ ضد میں دور (جا پڑے ہیں )(۱۷۶)

تشریح:آیات مذکورہ سے معلوم ہوا کہ جو شخص مال کے لالچ سے حکم شرعی کو بدل دے وہ جو یہ مال حرام کھاتا ہے گویا اپنے پیٹ میں جہنم کے انگارے بھر رہا ہے، اور بعض محقق علماء نے فرمایا کہ مال حرام درحقیقت جہنم کی آگ ہی ہے اگرچہ اس کا آگ ہونا دنیا میں محسوس نہیں ہوتا مگر مرنے کے بعد اس کا یہ عمل آگ کی شکل میں سامنے آ جائے گا۔

 

نیکی یہ نہیں کہ تم اپنے منہ مشرق یا مغرب کی طرف کر لو مگر نیکی یہ ہے جو ایمان لائے اللہ پر، اور یوم آخرت پر، اور فرشتوں اور کتابوں پر، اور نبیوں پر اور اس کی محبت پر مال دے رشتہ داروں کو، اور یتیموں، اور مسکینوں کو اور مسافروں کو اور سوال کرنے والوں کو اور گردنوں ( کے آزاد کرانے ) اور نماز قائم کرے اور زکوٰۃ ادا کرے اور جب وہ وعدہ کریں تو اسے پورا کر یں اور صبر کرنے والے سختی میں اور تکلیف میں، اور جنگ کے وقت، یہی لوگ سچے ہیں اور یہی لوگ پرہیز گار ہیں (۱۷۷)

تشریح:روئے سخن ان اہل کتاب کی طرف ہے جنہوں نے قبلے کے مسئلے پر بحث و مباحثہ اس انداز سے شروع کر رکھا تھا جیسے دین میں اس سے زیادہ اہم کوئی مسئلہ نہیں ہے، مسلمانوں سے کہا جا رہا ہے کہ قبلے کے مسئلے کی جتنی وضاحت ضروری تھی وہ ہو چکی ہے، اب آپ کو دین کے دوسرے اہم مسائل کی طرف توجہ دینی چاہئے اور اہل کتاب سے بھی یہ کہنا چاہئے کہ قبلے کے مسئلے پر بحث سے زیادہ ضروری بات یہ ہے کہ اپنا ایمان درست کرو اور وہ صفات پیدا کرو جو ایمان کو مطلوب ہیں، اس سلسلے میں آگے قرآن کریم نے نیکی کے مختلف شعبے بیان فرمائے ہیں اور اسلامی قانون کے مختلف احکام کی وضاحت کی ہے جو ایک ایک کر کے آگے آرہے ہیں۔

(توضیح القرآن)

 

اے ایمان والو! تم پر فرض کیا گیا قصاص مقتولوں (کے بارے ) میں آزاد کے بدلے آزاد اور غلام کے بدلے غلام اور عورت کے بدلے عورت۔

تشریح:قصاص کا مطلب ہے برابر کا بدلہ لینا، اس آیت میں حکم دیا گیا ہے کہ اگر کسی شخص کو جان بوجھ کر ناحق قتل کر دیا جائے اور قاتل کا جرم ثابت ہو جائے تو مقتول کے وارث کو حق حاصل ہے کہ وہ قاتل سے قصاص کا مطالبہ کرے، جاہلیت کے زمانے میں اگرچہ قصاص تولیا جاتا تھا لیکن اس میں نا انصافی یہ تھی کہ انہوں نے مختلف انسانوں کے جو درجے اپنے خیال میں مقرر کر رکھے تھے ان کے لحاظ سے اگر نچلے درجے کے کسی شخص نے اونچے درجے کے کسی آدمی کو قتل کر دیا تو ورثاء کا مطالبہ یہ ہوتا تھا کہ قاتل کے بجائے اس کے قبیلے کے کسی دوسرے آدمی کو قتل کیا جائے جو رتبے میں مقتول کے برابر ہو، چنانچہ اگر ایک غلام نے کسی آزاد آدمی کو قتل کر دیا ہو تو مطالبہ میں یہ ہوتا تھا کہ ہم قاتل غلام کے بجائے کسی آزاد آدمی کو قتل کریں گے، اسی طرح اگر قاتل عورت ہو اور مقتول مرد تو کہا جاتا تھا کہ قاتل عورت کے بجائے قبیلے کا کوئی مرد قتل کیا جائے، اس کے برعکس اگر قاتل مقتول سے اوپر کے درجے کا ہو مثلاً قاتل مرد ہو اور مقتول عورت تو قاتل کا قبیلہ کہتا تھا کہ ہماری کسی عورت کو قتل کر دو قاتل مرد سے قصاص نہیں لیا جائے گا، اس آیت نے جاہلیت کی اس ظالمانہ رسم کو ختم فرما دیا اور اعلان کیا کہ جان ہر ایک کی برابر ہے اور قصاص ہر صورت میں قاتل ہی سے لیا جائے گا چاہے وہ مرد ہو یا عورت غلام ہو یا آزاد۔

(توضیح القرآن)

 

دستور کے مطابق پیروی کرے اور اسے اچھے طریقے سے ادا کرے یہ تمہارے رب کی طرف سے آسانی اور رحمت ہے پس جس نے اس کے بعد زیادتی کی تو اس کے لیے درد ناک عذاب ہے (۱۷۸)

اور تمہارے لیے قصاص میں زندگی ہے، اے عقل والو ! تاکہ تم پرہیز گار ہو جاؤ(۱۷۹)

تشریح:بنی اسرائیل کے قانون میں قصاص تو تھا لیکن دیت یا خوں بہا کا کوئی تصور نہیں تھا، اس آیت نے مقتول کے ورثاء کو یہ حق دیا کہ اگر وہ چاہیں تو مقتول کا قصاص معاف کر کے خوں بہا کے طور پر کچھ رقم کا مطالبہ کریں، ایسی صورت میں ان کو چاہئے کہ رقم کی مقدار معقولیت کی حد میں رکھیں اور قاتل کو چاہئے کہ خوش اسلوبی سے اس کی ادائیگی کرے۔

اگر خوں بہا لے کر وارثوں نے قصاص معاف کر دیا ہو تو اب ان کے لئے قاتل کی جان لینا جائز نہیں ہے، اگر وہ ایسا کریں گے تو یہ زیادتی ہو گی جس کی بنا پر دنیا و آخرت دونوں میں سزا کے مستحق ہوں گے۔

(توضیح القرآن)

 

تم پر فرض کیا گیا ہے کہ جب تم میں سے کسی کو موت آئے اگر وہ مال چھوڑے تو وصیت کرے ماں باپ کے لیے اور رشتہ داروں کے لیے دستور کے مطابق، یہ لازم ہے پرہیز گاروں پر (۱۸۰)

تشریح:یہ آیت اس دور میں نازل ہوئی تھی جب مرنے والے کے ترکے میں وارثوں کے حصے متعین نہیں ہوئے تھے، چنانچہ سارا ترکہ مرنے والے کے لڑکوں کو مل جاتا تھا، اس آیت نے یہ فرض قرار دیا کہ ہر انسان مرنے سے پہلے اپنے والدین اور دوسرے رشتہ داروں کے حق میں وصیت کر کے جائے اور یہ واضح کرے کہ ان میں سے کس کا کتنا حصہ دیا جائے گا، بعد میں سورۂ نساء کی آیات نمبر۱۱تا ۴۱ میں تمام وارثوں کی تفصیل اور ان کے حصے خود اللہ تعالی نے مقرر فرما دئیے، اس کے بعد جس کا اس آیت میں ذکر ہے وہ فرض تو نہیں رہی، البتہ اگر کسی شخص کے ذمے کوئی حق ہو لتو اس کی وصیت کرنا اب بھی فرض ہے، نیز جو لوگ شرعی اعتبار سے وارث نہیں ہیں ان کے لئے اپنے ترکے کے ایک تہائی کی حد تک وصیت کرنا اب بھی جائز ہے۔

(توضیح القرآن)

 

پھر جو کوئی بھی اسے بدل دے اس کے بعد کہ اس نے اس کو سنا تو اس کا گناہ صرف ان لوگوں پر ہے جنہوں نے اسے بدلا، بیشک اللہ سننے والا اور جاننے والا ہے (۱۸۱)

پس جو کوئی وصیت کرنے والے سے طرفداری اور گناہ کا خوف کرے پھر صلح کرا دے ان کے درمیان اس میں کوئی گناہ نہیں بیشک اللہ بخشنے والا رحم کرنے والا ہے (۱۸۲)

تشریح:جن لوگوں نے مرنے والے کی زبان سے کوئی وصیت سنی ہو ان کے لئے ہرگز جائز نہیں ہے کہ وہ اس میں کوئی کمی بیشی کریں، اس کے بجائے ان کے لئے وصیت پر عمل کرنا واجب ہے۔

اگر کوئی وصیت کرنے والا نا انصافی سے کام لے اور کوئی اسے سمجھابجھا کر اپنی وصیت میں مرنے سے پہلے پہلے تبدیلی کرنے پر آمادہ کر دے تو یہ جائز ہے۔

(توضیح القرآن)

 

اے لوگو! جو ایمان لائے ہو (مؤمنو) تم پر روزے فرض کیے گئے ہیں جیسے تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیے گئے تھے تاکہ تم پرہیز گار بن جاؤ(۱۸۳)

گنتی کے چند دن ہیں پس تم میں سے جو کوئی بیمار ہو یا سفر پر ہو گنتی پوری کرے بعد کے دنوں میں، اور ان پر ہے جو طاقت رکھتے ہیں ایک نادار کو کھانا کھلانا، پس جو خوشی سے نیکی کرے وہ اس کے لیے بہتر ہے، اور اگر تم روزہ رکھو تو تمہارے لیے بہتر ہے اگر تم جانتے ہو(۱۸۴)

تشریح:شروع میں جب روزے فرض کئے گئے تو یہ آسانی بھی دی گئی تھی کہ اگر کوئی شخص روزہ رکھنے کے بجائے فدیہ ادا کر دے تو یہ بھی جائز ہے، بعد میں آیت نمبر:۱۸۵نازل ہوئی جو آگے آ رہی ہے اس آیت نے اس سہولت کو واپس لے لیا اور یہ حتمی حکم دے دیا گیا کہ جو شخص بھی رمضان کا مہینہ پائے وہ روزے رکھے، تاہم فدیہ کی سہولت ان لوگوں کے لئے اب بھی باقی رکھی گئی ہے جو نہایت بوڑھے ہوں اور ان میں روزہ رکھنے کی بالکل طاقت نہ ہو اور آئندہ ایسی طاقت پیدا ہونے کی امید بھی نہ ہو۔

(توضیح القرآن)

 

رمضان کا مہینہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا، قرآن لوگوں کے لیے ہدایت ہے اور ہدایت کی روشن دلیلیں اور فرقان (حق کو باطل سے جدا کرنے والا) پس جو تم میں سے یہ مہینہ پائے اسے چاہیے کہ روزے رکھے، اور جو بیمار ہو یا سفر پر ہو وہ بعد کے دنوں میں گنتی پوری کرے اللہ تمہارے لیے آسانی چاہتا ہے اور دشواری نہیں چاہتا اور تا کہ تم گنتی پوری کرو اور تاکہ تم اللہ کی بڑائی بیان کرو اس پر کہ اس نے تمہیں ہدایت دی اور تاکہ تم شکر ادا کرو(۱۸۵)

تشریح:رمضان کے مہینے میں قرآن کریم نازل ہوا، قرآن لوگوں کے لئے ہدایت کا ذریعہ ہے اور ہدایت پانے کی واضح دلیلیں اس میں موجود ہیں، قرآن کریم اپنی واضح دلیلوں کی وجہ سے حق و باطل کے درمیان فیصلہ کرنے والا ہے، جو شخص رمضان کا مہینہ پائے اس کو ضرور اس میں روزہ رکھنا چاہئے اور وہ فدیہ کی اجازت جو اوپر مذکور تھی منسوخ و موقوف ہوئی(تاہم فدیہ کی سہولت ان لوگوں کے لئے اب بھی باقی رکھی گئی ہے جو نہایت بوڑھے ہوں اور ان میں روزہ رکھنے کی بالکل طاقت نہ ہو اور آئندہ ایسی طاقت پیدا ہونے کی امید بھی نہ ہو)جو شخص ایسا بیمار ہو جس میں روزہ رکھنا مشکل یا مضر ہو یا شرعی سفر میں ہو تو اس کو رمضان میں روزہ نہ رکھنے کی اجازت ہے اور بجائے ایام رمضان کے دوسرے ایام میں ان چھوٹے ہوئے روزوں کی قضاء کرے، یہ اللہ کی جانب سے تم پر آسانی کی گئی تاکہ تم اللہ کے شکر گزار بندے بنو۔

اس آیت میں ایک لطیف اشارہ ان تکبیرات کی طرف بھی ہے جو رمضان کے فوراً بعد عید کی نماز میں کہی جاتی ہیں۔

(توضیح القرآن)

 

مسئلہ:ایک روزہ کا فدیہ نصف صاع گندم یا اس کی قیمت ہے، نصف صاع ہمارے مروجہ سیر اسی تولہ کے حساب سے تقریباً پونے دوسیر ہوتے ہیں اس کی بازاری قیمت معلوم کر کے کسی غریب مسکین کو مالکانہ طور پر دے دینا ایک روزہ کا فدیہ ہے بشرطیکہ کسی مسجد، مدرسہ کی خدمت کے معاوضہ میں نہ ہو۔ ۔

(معارف القرآن)

 

مسئلہ:اگر کسی کو فدیہ ادا کرنے کی بھی وسعت نہ ہو تووہ فقط استغفار کرے اور دل میں نیت رکھے کہ جب ہوسکے گا ادا کروں گا۔

(معارف القرآن)

 

اور جب میرے بندے آپ سے میرے متعلق پوچھیں تو میں قریب ہوں میں قبول کرتا ہوں، پکارنے والے کی دعا جب وہ مجھ سے مانگے پس چاہیے کہ وہ میرا حکم مانیں اور مجھ پر ایمان لائیں تا کہ وہ ہدایت پائیں (۱۸۶)

تشریح:رمضان کے ذکر کے عین درمیان اس آیت کو لانے کی وجہ شاید یہ ہو کہ پیچھے رمضان کی گنتی پوری کرنے کا جو ذکر آیا تھا اس سے کسی کو خیال ہوسکتا تھا کہ رمضان گزرنے کے بعد شاید اللہ تعالی سے وہ قرب باقی نہ رہے جو اس مبارک مہینے میں حاصل ہوا تھا، اس آیت نے اس خیال کی تردید کرتے ہوئے واضح فرما دیا کہ اللہ تعالی ہر آن اپنے بندوں سے قریب ہے اور ان کی پکار سنتا ہے۔

 

تمہارے لیے جائز کر دیا گیا روزہ کی رات میں اپنی عورتوں سے بے پردہ ہونا وہ تمہارے لیے لباس ہیں اور تم ان کے لیے لباس ہو، اللہ نے جان لیا کہ تم اپنے تئیں خیانت کرتے تھے سو اس نے تم کو معاف کر دیا اور تم سے در گزر کی، پس اب ان سے ملو اور جو اللہ نے تمہارے لیے لکھ دیا ہے طلب کرو اور کھاؤ اور پیو یہاں تک کہ واضح ہو جائے تمہاری لیے فجر کی سفید دھاری سیاہ دھاری سے، پھر تم رات تک روزہ پورا کرو اور ان سے نہ ملو جب تک اعتکاف کرنے والے ہو مسجدوں میں ( حالت اعتکاف میں ) یہ اللہ کی حدیں پس ان کے قریب نہ جاؤ اسی طرح واضح کرتا ہے اللہ لوگوں کے لیے اپنے حکم تاکہ وہ پرہیزگار ہو جائیں (۱۸۷)

تشریح:شروع شروع میں حکم یہ تھا کہ اگر کوئی شخص روزہ افطار کرنے کے بعد ذرا سا بھی سوجائے تواس کے لئے رات کے وقت بھی نہ کھانا جائز ہوتا تھا نہ جماع کرنا، بعض حضرات سے اس حکم کی خلاف ورزی سرزد ہوئی اور انہوں نے رات کے وقت اپنی بیویوں سے جماع کر لیا، یہ آیت اس خلاف ورزی کی طرف اشارہ کر رہی ہے اور ساتھ ہی جن حضرات سے یہ غلطی ہوئی تھی ان کی معافی کا اعلان کر کے آئندہ کے لئے یہ پابندی اٹھا رہی ہے۔

(توضیح القرآن)

 

اور اپنے مال آپس میں نہ کھاؤ نا حق اور اس کے حاکموں تک (رشوت) نہ پہنچاؤ تاکہ تم لوگوں کے مال سے کوئی حصہ کھاؤ گناہ سے (نا جائز طور پر) اور تم جانتے ہو(۱۸۸)

تشریح:پچھلی آیتوں میں روزے کے احکام مذکور تھے جس میں حلال چیزوں کے استعمال کو ایک معین زمانے میں اور معین وقت میں حرام کر دیا گیا ہے، اس کے بعد مال حرام حاصل کرنے اور اس کے استعمال کرنے کی ممانعت اسی مناسبت سے ذکر کی گئی کہ عبادت صوم کا اصل منشاء یہی ہے کہ انسان کچھ عرصے حلال چیزوں سے بھی صبر کا خوگر ہو جائے گا تو حرام چیزوں سے بچنا آسان ہو جائے گا، نیز یہ مناسبت بھی ہے کہ جب روزہ ختم ہوا افطار کے لئے مال حلال مہیا کرنا چاہئے، جس نے دن بھر روزہ رکھا شام کو مال حرام سے افطار کیا اس کا روزہ اللہ کے نزدیک قبول نہیں۔

(توضیح القرآن)

 

اور آپ سے نئے چاند کے بارہ میں پوچھتے ہیں، آپ کہہ دیں یہ لوگوں کے لیے اور حج کے لیے (پیمانہ)اوقات ہیں اور نیکی یہ نہیں کہ تم گھروں میں آؤ ان کی پشت سے، بلکہ نیکی وہ یہ ہے جو پرہیز گاری کرے اور گھروں میں ان کے دروازوں سے آؤ اور اللہ سے ڈرو  تاکہ تم کامیابی حاصل کرو(۱۸۹)

تشریح:اس آیت سے معلوم ہوا کہ چاند کے ذریعے تمہیں تاریخوں اور مہینوں کا حساب معلوم ہو جائے گا جس پر تمہارے معاملات اور عبادات حج وغیرہ کی بنیاد ہے۔

(معارف القرآن)

 

بعض اہل عرب کا یہ معمول تھا کہ اگر حج کا احرام باندھنے کے بعد انہیں کسی ضرورت سے گھر واپس جانا پڑتا تووہ گھر کے عام دروازے سے داخل ہونے کو نا جائز سمجھتے تھے اور ایسی صورت میں گھر کے پچھلے حصے سے داخل ہوتے تھے خواہ اس کے لئے انہیں گھر میں نقیب ہی کیوں نہ لگانی پڑے، یہ آیت اس فضول رسم کو بے بنیاد قرار دے رہی ہے۔

(توضیح القرآن)

 

اور تم اللہ کے راستہ میں ان سے لڑو جو تم سے لڑتے ہیں  اور زیادتی نہ کرو، بیشک اللہ زیادتی کرنے والوں کو دوست نہیں رکھتا(۱۹۰)

تشریح:یہ آیات اس وقت نازل ہوئی تھیں جب مکہ کے مشرکین نے آنحضرتﷺ اور آپ کے صحابہ کو صلح حدیبیہ  کے موقع پر عمرہ ادا کرنے سے روک دیا تھا اور یہ معاہدہ کیا تھا کہ وہ اگلے سال آ کر عمرہ کریں گے، جب اگلے سال عمرہ کا ارادہ کیا گیا تو کچھ صحابہ کو یہ خطرہ ہوا کہ کہیں مشرکین مکہ عہد شکنی کر کے ہم سے لڑائی شروع نہ کر دیں اگرایسا ہوا تو مسلمانوں کو یہ مشکل پیش آئے گی کے حدود حرم میں اور خاص طور پر ذیقعدہ کے مہینے میں لڑائی کیسے کریں جبکہ اس مہینے میں جنگ نا جائز ہے، ان آیات نے وضاحت فرمائی کہ اپنی طرف سے تو جنگ نہ کی جائے، البتہ اگر کفار معاہدہ توڑ کر جنگ شروع کر دیں توایسی صورت میں مسلمانوں کے لئے جنگ جائز ہے اور اگر وہ حدود حرم اور محترم مہینے کی حرمت کا لحاظ کئے بغیر حملہ آور ہو جائیں تومسلمانوں کے لئے بھی ان کی زیادتی کا بدلہ لینا درست ہے۔

(توضیح القرآن)

 

اور انہیں مار ڈالو جہاں انہیں پاؤ اور انہیں نکال دو جہاں سے انہوں نے تمہیں نکالا، اور  فتنہ  زیادہ سنگین ہے قتل سے، اور ان سے مسجد حرام (خانہ کعبہ) کے پاس نہ لڑو یہاں تک کہ وہ یہاں تم سے لڑیں پس اگر وہ تم سے لڑیں تو تم ان سے لڑو، اسی طرح سزا ہے کافروں کی(۱۹۱)

پھر اگر وہ باز آ جائیں تو بیشک اللہ بخشنے والا رحم کرنے والا ہے  (۱۹۲)

تشریح:لفظ‘‘ فتنہ’’ قرآن کریم میں مختلف معنوں میں استعمال ہوا ہے جن میں سے ایک معنی ظلم اور تشدد کے بھی ہیں اور شاید یہاں یہی معنی مراد ہوں، مشرکین مکہ نے مسلمانوں کو اپنے دین پر عمل سے روکنے کے لئے  بدترین تشدد روا رکھا ہوا تھا، لہذا بظاہر یہاں مقصد یہ ہے کہ اگرچہ کسی کو قتل کرنا اپنی ذات میں کوئی اچھی بات نہیں  ہے لیکن فتنہ اس کے مقابلے میں زیادہ سخت برائی ہے اور جہاں فتنے کا سد باب قتل کے بغیر ممکن نہ ہو وہاں قتل کے سوا چارہ نہیں ہے۔

(توضیح القرآن)

 

اور تم ان سے لڑو یہاں تک کہ کوئی  فتنہ نہ ر ہے اور دین اللہ کے لیے ہو جائے، پس اگر وہ باز آ جائیں تو نہیں (کسی پر) زیادتی سوائے ظالموں کے (۱۹۳)

تشریح:یہاں یہ بات سمجھنے کی ہے کہ جہاد کا اصل مقصد کسی کو اسلام پر مجبور کرنا نہیں ہے، یہی وجہ ہے کہ عام حالات میں کوئی شخص کفر پر اصرار کرے تب بھی جزیہ کے ذریعے اسلامی حکومت کے قوانین کی اطاعت کر کے اپنے مذہب پر قائم رہ سکتا ہے، لیکن جزیرۂ عرب کا حکم مختلف ہے، یہ وہ ملک ہے جہاں رسول کریمﷺ کو براہ راست بھیجا گیا اور جہاں کے لوگوں نے آنحضرتﷺ کے معجزات اپنی آنکھوں سے دیکھے اور آپﷺ کی تعلیمات براہ راست سنیں، ایسے لوگ اگر ایمان نہ لائیں تو پچھلے انبیاء علیہم السلام کے زمانوں میں انہیں عذاب عام کے ذریعے ہلاک کیا گیا، آنحضرتﷺ  کے زمانے میں عذاب عام موقوف فرما دیا گیا، لیکن یہ حکم دیا گیا کہ جزیرۂ عرب میں کوئی کافر مستقل شہری کی حیثیت میں نہیں رہ سکتا، یہاں اس کے لئے تین ہی راستے ہیں یا اسلام لائے یا جزیرۂ عرب سے باہر چلا جائے یا جنگ میں قتل ہو جائے۔

(توضیح القرآن)

 

حرمت والا مہینہ بدلا ہے، حرمت والے مہینہ کا، اور حرمتوں کا بدلہ ہے، پس جس نے تم پر زیادتی کی تو تم اس پر زیادتی کرو جیسی اس نے تم پر زیادتی کی، اور اللہ سے ڈرو اور جان لو کہ اللہ ساتھ ہے پرہیز گاروں کے (۱۹۴)

تشریح:یعنی اگر کوئی شخص مہینے کی حرمت پامال کر کے تم سے لڑائی کرے تو تم بھی اس سے بدلہ لے سکتے ہو۔

(توضیح القرآن)

 

اور اللہ کی راہ میں خرچ کرو اور (اپنے آپ کو) اپنے ہاتھوں نہ ڈالو ہلاکت میں اور نیکی کرو، بیشک اللہ نیکی کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے (۱۹۵)

تشریح:اشارہ یہ ہے کہ اگر تم نے جہاد میں خرچ کرنے سے بخل سے کام لیا اور اس کی وجہ سے جہاد کے مقاصد حاصل نہ ہوسکے تو یہ اپنے پاؤں پر کلہاڑی مارنے کی مرادف ہو گا، کیونکہ اس کے نتیجے میں دشمن مضبوط ہو کر تمہاری ہلاکت کاسبب بنے گا۔

(توضیح القرآن)

 

اور پورا کرو حج اور عمرہ اللہ کے لیے، پھر اگر تم روک دیئے جاؤ  تو جو قربانی میسر آئے (اللہ کے حضور پیش کر دو)

تشریح:مطلب یہ ہے کہ جب کوئی شخص حج یا عمرے کا احرام باندھ لے تو جب تک حج یا عمرے کے اعمال پورے نہ ہو جائیں احرام کھولنا جائز نہیں، البتہ کوئی ایسی مجبوری پیش آسکتی ہے کہ احرام باندھنے کے بعد مکہ مکرمہ تک پہنچنا ممکن نہ رہے،  چنانچہ خود آنحضرتﷺ کو یہ صورت پیش آئی کہ آپ اور آپ کے صحابہ عمرے کا احرام باندھ کر روانہ ہوئے،  لیکن جب حدیبیہ کے مقام پر پہنچے تو مشرکین مکہ نے آگے بڑھنے سے روک دیا، اسی موقع پر یہ آیات نازل ہوئیں، اور ان میں ایسی صورت حال کا یہ حل بتایا گیا کہ ایسی صورت میں قربانی کر کے احرام کھولا جا سکتا ہے، امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے مسلک میں یہ قربانی حدود حرم میں ہونی چاہئے، جیسا کے اگلے جملے میں فرمایا گیا ہے، اور اپنے سر اس وقت تک نہ منڈاؤ جب تک قربانی اپنی جگہ نہ پہنچ جائے، نیز اس کے بعد جس حج یا عمرے کا احرام باندھا تھا اس کی قضا بھی ضروری ہے،  چنانچہ آنحضرتﷺ نے اس عمرے کی قضا اگلے سال فرمائی۔

(توضیح القرآن)

 

اور اپنے سر نہ منڈاؤ یہاں تک کہ قربانی اپنی  جگہ پہنچ جائے، پھر جو کوئی تم میں سے بیمار ہو  یا اس کے سر میں تکلیف ہو تو وہ بدلہ دے روزے سے، یا صدقہ سے یا قربانی سے

تشریح:احرام کی حالت میں سر منڈانا جائز نہیں ہوتا، لیکن اگر کسی شخص کو بیماری یا کسی تکلیف کی وجہ سے سر منڈانا پڑ جائے تو اس کو یہ فدیہ دینا ہو گا جو یہاں مذکور ہے، احادیث کی روشنی میں اس کی تفصیل یہ ہے کہ یا تین روزے رکھے جائیں یا چھ مسکینوں کو صدقہ الفطر کے برابر صدقہ کیا جائے یا ایک بکری قربان کی جائے۔

(توضیح القرآن)

 

پھر جب تم امن میں ہو تو جو فائدہ اٹھائے حج کے ساتھ عمرہ (ملا کر) تو اسے جو قربانی میسر آئے (دے دے ) پھر جو نہ پائے  تو وہ روزے رکھ لے تین دن کے حج (کے ایام)  میں اور سات جب تم واپس آ جاؤ، یہ دس پورے ہوئے، یہ اس کے لیے ہے جس کے گھر والے مسجد حرام میں موجود نہ ہو (نہ رہتے ہوں ) اور تم اللہ سے ڈرو اور جان لو کہ اللہ سخت عذاب والا ہے (۱۹۶)

تشریح:اوپر اس صورت میں قربانی کا حکم بیان ہوا تھا جب کسی شخص کو دشمن نے روک دیا ہو، اب یہ بتایا جا رہا ہے کہ قربانی امن کے عام حالات میں بھی واجب ہوسکتی ہے، جب کوئی شخص حج کے ساتھ عمرہ بھی جمع کرے یعنی قرن یا تمتع کا احرام باندھے (اگر صرف حج کا احرام باندھا ہو جسے افراد کہتے ہیں تو قربانی واجب نہیں ہے )البتہ اگر کوئی شخص قران یا تمتع کے باوجود قربانی کی استطاعت نہ رکھتا ہو تو وہ قربانی کے بدلے دس روزے رکھ سکتا ہے، جن میں سے تین روزے عرفہ کے دن (یعنی نو ذوالحجہ)تک پورے ہو جانے چاہئیں اور سات روزے حج سے فارغ ہونے کے بعد رکھنے ہوں گے۔

تمتع یا قران کے ذریعے حج اور عمرہ دونوں کو جمع کرنا صرف ان لوگوں کے لئے جائز ہے جو باہر سے حج کے لئے آئیں، جو لوگ حدود حرم یا حنفی مسلک کے مطابق حدود میقات میں رہتے ہوں وہ صرف افراد کرسکتے ہیں تمتع یا قران نہیں کرسکتے۔

(توضیح القرآن)

 

حج کے مہینے مقرر ہیں پس جس نے ان میں حج لازم کر لیا تو وہ نہ بے پردہ ہو، نہ گالی دے نہ جھگڑا کرے حج میں اور تم جو نیکی کرو گے اللہ اسے جانتا ہے اور تم زاد راہ لے لیا کرو، پس بے شک بہتر زاد راہ تقوی ہے، اور اے عقل والو! مجھ سے ڈرتے رہو(۱۹۷)

تشریح:بعض لوگ حج کو روانہ ہوتے وقت اپنے ساتھ کھانے پینے کا سامان ساتھ نہیں رکھتے تھے، ان کا کہنا یہ تھا کہ ہم اللہ پر توکل کرتے ہوئے حج کریں گے، لیکن جب راستے میں کھانے کی ضرورت پڑتی توبسا اوقات وہ لوگوں سے مانگنے پر مجبور ہو جاتے تھے، اس آیت کریمہ نے یہ بتلایا کہ توکل کا یہ مطلب نہیں ہوتا کے انسان ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھ جائے، بلکہ اسباب کو اختیار کرنا شریعت کا تقاضا ہے، اور بہترین زادِ راہ تقوی ہے، یعنی وہ زاد راہ جس کے ذریعے انسان دوسروں کے سامنے ہاتھ پھیلانے سے محفوظ رہے۔

(توضیح القرآن)

 

تم پر کوئی گناہ نہیں اگر تم اپنے رب کا فضل تلاش کرو (تجارت کرو) پھر جب تم عرفات سے لوٹو تو اللہ کو یا د کرو مشعر حرام کے نزدیک (مزدلفہ میں ) اور اللہ کو یاد کرو جیسے اس نے تمہیں ہدایت دی اور اگر اس سے پہلے تم نا واقفوں میں سے تھے (۱۹۸)

تشریح:بعض حضرات حج کے سفر میں کوئی تجارت کرنے کو نا جائز سمجھتے تھے، یہ آیت ان کی غلط فہمی دور کرنے کے لئے نازل ہوئی ہے اور اس نے بتا دیا کے سفر حج میں روزی کمانے کا کوئی مشغلہ اختیار کرنا جائز ہے بشرطیکہ اس سے حج کے ضروری کام متاثر نہ ہوں۔

وَاذْكُرُوْهُ کَمَا هَدَاكُمْ :حج کے دوران عرفات سے آ کر مزدلفہ میں رات گزاری جاتی ہے اور اگلی صبح طلوع آفتاب سے پہلے پہلے وقوف کیا جاتا ہے جس میں اللہ تعالی کا ذکر ہوتا ہے اور دعائیں مانگی جاتی ہیں، جاہلیت میں بھی اہل عرب اللہ کا ذکر تو کرتے تھے، مگر اس کے ساتھ اپنے دیوتاؤں کا ذکر بھی شامل کر لیتے تھے، بتایا جا رہا ہے کہ مؤمن کا ذکر خالص اللہ تعالی کے لئے ہی ہونا چاہئے جیسا کہ اللہ تعالی نے ہدایت فرمائی ہے۔

(توضیح القرآن)

 

پھر تم لوٹو جہاں سے لوگ لوٹیں، اور اللہ سے مغفرت چاہو، بیشک اللہ بخشنے والا، رحم کرنے والا ہے (۱۹۹)

تشریح:جاہلیت میں اہل عرب نے یہ طریقہ مقرر کر رکھا تھا کہ اور تمام انسان نو ذوالحجہ کو عرفات کے میدان میں وقوف کرتے تھے مگر قریش اور بعض دوسرے قبائل جو حرم کے قریب رہتے تھے اور خمس کہلاتے تھے، عرفات جانے کے بجائے مزدلفہ میں رہتے تھے اور وہیں وقوف کرتے تھے ان کا کہنا یہ تھا کہ ہم حرم کے مجاور ہیں اور عرفات چونکہ حدود حرم سے باہر ہے اس لئے ہم وہاں نہیں جائیں گے، نتیجہ یہ کہ عام لوگوں کو نویں تاریخ کا دن عرفات میں گزارنے کے بعد رات کو مزدلفہ کے لئے روانہ ہونا پڑتا تھا، اس آیت نے یہ رسم ختم کر دی اور قریش کے لوگوں کو بھی یہ حکم دیا کے وہ عام لوگوں کے ساتھ عرفات میں وقوف کریں اور انہی کے ساتھ روانہ ہو کر مزدلفہ آئیں۔

(توضیح القرآن)

 

پھر جب تم حج کے مراسم ادا کر چکو تو اللہ کو یاد کرو جیسے کہ تم اپنے باپ دادا کو یاد کرتے تھے یا اس سے بھی زیادہ یاد کرو، پس کوئی آدمی کہتا ہے، اے ہمارے رب ! ہمیں  دنیا میں (بھلائی)دے اور اس کے لئے نہیں ہے آخرت میں کچھ حصہ(۲۰۰)

اور ان میں سے جو کوئی کہتا ہے اے ہمارے رب ہمیں دے دنیا میں بھلائی اور آخرت میں بھلائی، اور دوزخ کے عذاب سے بچا لے (۲۰۱)

اور یہی لوگ ہیں ان کے لئے حصہ ہے اس میں سے جو انہوں نے کمایا، اور اللہ جلد حساب لینے والا ہے (۲۰۲)

تشریح:جاہلیت میں ایک طریقہ یہ بھی تھا کہ حج کے بنیادی ارکان سے فارغ ہو کر جب منی میں جمع ہوتے تو بعض لوگ ایک پورا دن اپنے آبا و اجداد کی تعریفیں کرنے اور ان کے کارنامے بیان کرنے میں گزارا کرتے تھے، یہ اشارہ اس رسم کی طرف ہے اور بعض لوگ دعائیں تو مانگتے مگر چونکہ وہ آخرت کے قائل نہیں تھے اس لئے ان کی دعا صرف دنیا کی بہتری تک محدود ہوتی تھی اگلے جملے میں بتایا گیا ہے کہ ایک مؤمن کو دنیا اور آخرت دونوں کی بھلائی مانگنی چاہئے۔

(توضیح القرآن)

 

اور تم اللہ کو یا د کرو گنتی کے چند (مقررہ) دنوں میں، پس جو دو دن جلدی چلا گیا تو اس پر کوئی گناہ نہیں اور جس نے تا خیر کی اس پر کوئی گناہ نہیں (یہ اس کے لئے ہیں ) جو ڈرتا رہا اور تم اللہ سے ڈرو اور جان  لو کہ تم اس کہ طرف جمع کئے جاؤ گے (۲۰۳)

تشریح:منیٰ میں تین دن گزارنا سنت ہے اور اس دوران جمرات پر کنکریاں مارنا واجب ہے، البتہ ۱۲تاریخ کے بعد منی سے چلا جانا جائز ہے، ۱۳ تاریخ تک رکنا ضروری نہیں، اور اگر کوئی رکنا چاہے تو۱۳ تاریخ کو بھی رمی کر کے واپس جا سکتا ہے۔

(توضیح القرآن)

 

اور لوگوں میں (کوئی ایسا بھی ہے ) کہ اس کی باتیں تمہیں بھلی معلوم ہوتی ہیں دنیوی زندگی( کے امور) میں اور وہ اللہ کو گواہ بناتا ہے اپنے دل کی بات پر حالانکہ وہ سخت جھگڑالو ہے (۲۰۴)

اور جب وہ لوٹے تو زمین (ملک) میں دوڑتا پھرے،  تاکہ اس میں فساد کرے، اور تباہ کرے کھیتی اور نسل، اور اللہ فساد کو ناپسند کرتا ہے (۲۰۵)

اور جب اس کو کہا جائے کہ اللہ سے ڈر تو اس کو عزت (غرور) گناہ پر آمادہ کرے تو اس کے لئے جہنم کافی ہے، اور البتہ وہ برا ٹھکانہ ہے (۲۰۶)

تشریح:بعض روایات میں ہے کہ اخنس بن شریق نامی ایک شخص مدینہ منورہ آیا تھا، اور اس نے آنحضرتﷺ کے پاس آ کر بڑی چکنی چپڑی باتیں کیں، اور اللہ کو گواہ بنا کر اپنے ایمان لانے کا اظہار کیا،  لیکن جب واپس گیا توراستے میں مسلمانوں کی کھیتیاں جلا دیں اور ن کے مویشیوں کو ذبح کر ڈالا، یہ آیات اس پس منظر میں نازل ہوئیں تھیں، البتہ ہر قسم کے منافقوں پر پوری اترتی ہیں۔

(توضیح القرآن)

 

اور لوگوں میں (ایک وہ ہے ) جو اپنی جان بیچ ڈالتا ہے اللہ کی رضا حاصل کرنے کے لئے اور اللہ بندوں  پر مہربان ہے (۲۰۷)

تشریح:اس آیت میں مؤمن و مخلص کا یہ حال بیان کیا ہے کہ وہ اللہ تعالی کی رضا حاصل کرنے کے لئے اپنی جان کی بھی بازی لگا دیتا ہے، یہ ان مخلص صحابہ کرامؓ کی شان میں نازل ہوئی ہے جنہوں نے بے مثال قربانیاں اللہ کی راہ میں پیش کی ہیں، مستدرک، حاکم، ابن جریر، مسند ابن ابی حاتم وغیرہ میں بسند صحیح منقول ہے کہ یہ آیت حضرت صہیب رومی رضی اللہ عنہ کے اس واقعہ میں ناز ل ہوئی ہے کہ جب وہ مکہ سے ہجرت کر کے مدینہ کے لئے روانہ ہوئے توراستہ میں کفار قریش کی ایک جماعت نے راستہ روک لیا، یہ دیکھ کر حضرت صہیب رومی اپنی سواری سے اتر کر کھڑے ہو گئے اور ان کے ترکش میں جتنے تیر تھے سب نکال لئے، اور قریش کی اس جماعت سے خطاب کیا کہ اے قبیلۂ قریش !تم سب جانتے ہو کہ میں تیر اندازی میں تم سب سے زیادہ ماہر ہوں، میرا تیر کبھی خطا نہیں کرتا اور اب میں اللہ کی قسم کھاتا ہوں کہ تم میرے پاس اس وقت تک نہ پہنچ سکوگے جب تک میرے ترکش میں ایک تیر بھی باقی ہے اور تیروں کے بعد میں تلوار سے کام لوں گا جب تک مجھ میں دم رہے گا پھر جوتم چاہو کر لینا اور اگر تم نفع کا سودا چاہتے ہو تومیں تمہیں اپنے مال کا پتہ دیتا ہوں جو مکہ مکرمہ میں رکھا ہے تووہ مال لے لو اور میرا راستہ چھوڑ دو، اس پر قریش کی جماعت راضی ہو گئی اور حضرت صہیب رومی نے صحیح سالم آنحضرتﷺ کی خدمت میں پہنچ کر واقعہ سنایا تو رسول اللہ ﷺ نے دو مرتبہ فرمایا تمہارا بیوپار نفع بخش رہا، تمہاری بیع نفع بخش رہی، اس واقعہ میں آیت مذکورہ کے نزول نے اس کلام کی تصدیق کر دی جو رسول اللہﷺ کی زبان مبارک سے نکلا تھا۔ اور بعض مفسرین نے کچھ دوسرے صحابہ کرام کے ایسے ہی واقعات کو آیت کا شان نزول بتلایا ہے۔

(مظہری از معارف القرآن)

 

اے ایمان والو! تم اسلام میں پورے پورے داخل ہو جاؤ اور شیطان کے قدموں کی پیروی نہ کرو بیشک وہ تمہارا کھلا دشمن ہے (۲۰۸)

تشریح:پہلی آیت میں مومن مخلص کی مدح فرمائی تھی جس سے نفاق کا ابطال منظور تھا، اب فرماتے ہیں کہ اسلام کو پورا پورا قبول کرو یعنی ظاہر اور باطن اور عقیدہ اور عمل میں صرف احکام اسلام کا اتباع کرو، یہ نہ ہو کہ اپنی عقل یا کسی دوسرے کے کہنے سے کوئی حکم تسلیم کر لو، یا کوئی عمل کرنے لگو، سو اس سے بدعت کا قلع قمع مقصود ہے،  کیونکہ بدعت کی حقیقت یہی ہے کہ کسی عقیدہ یا کسی عمل کو کسی وجہ سے مستحسن سمجھ کر اپنی طرف سے دین میں شمار کر لیا جائے، مثلاً نماز اور روزہ جو کہ افضل عبادات ہیں اگر بدون حکم شریعت کوئی اپنی طرف سے مقرر کرنے لگے جیسے عید کے دن عید گاہ میں نوافل کا پڑھنا یا ہزارہ روزہ رکھنا یہ بدعت ہو گا، خلاصہ ان آیات کا یہ ہوا کہ اخلاص کے ساتھ ایمان لاؤ اور بدعات سے بچتے رہو، چند حضرات یہود سے مشرف بہ اسلام ہوئے مگر احکام اسلام کے ساتھ احکام تورات کی بھی رعایت کرنی چاہتے تھے مثلاً ہفتہ کے دن کو معظم سمجھنا اور اونٹ کے گوشت اور دودھ کو حرام ماننا اور تورات کی تلاوت کرنا، اس پر یہ آیت نازل ہوئی جس سے بدعت کا انسداد کامل فرمایا گیا۔

(تفسیرعثمانی)

 

پھر اگر تم اس کے بعد ڈگمگا گئے جبکہ تمہارے پاس واضح احکام آگے، تو جان لو کہ اللہ غالب حکمت والا ہے (۲۰۹)

تشریح:یعنی شریعت محمدی کے صاف صاف احکام معلوم ہونے کے بعد بھی اگر کوئی اس پر قائم نہ ہو،  بلکہ دوسری طرف بھی نظر رکھے تو خوب سمجھ لو کہ اللہ سب پر غالب ہے جس کو چاہے سزا دے، کوئی اس کے عذاب کو روک نہیں سکتا، بڑا حکمت والا ہے جو کرتا ہے حق اور مصلحت کے موافق کرتا ہے، خواہ عذاب دے یا کچھ ڈھیل دے، یعنی نہ جلد باز ہے نہ بھولنے والا نہ خلاف انصاف اور غیر مناسب امر کو کرنے والا۔

(تفسیرعثمانی)

 

کیا وہ صرف (یہ) انتظار کرتے ہیں کہ اللہ ان کے پاس آئے سائبانوں میں بادل کے، اور فرشتے، اور قصہ طے ہو جائے، اور تمام کام اللہ کی طرف لوٹیں گے (۲۱۰)

تشریح:مختلف کفار اور خاص طور پر یہود مدینہ اس قسم کے مطالبات کرتے تھے کہ اللہ تعالی براہ راست ہمیں نظر آ کر ہمیں ایمان لانے کا حکم کیوں نہیں دیتا ؟یہ آیت اس قسم کے مطالبات کا جواب دے رہی ہے، اور وہ یہ کہ یہ دنیا آزمائش کے لئے بنائی گئی ہے کہ انسان اپنی عقل استعمال کرے اور کائنات میں پھیلے ہوئے واضح دلائل کی روشنی میں اللہ کی توحید اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے، اسی لئے اس آزمائش میں اصل قیمت ایمان بالغیب کی ہے، اگر اللہ تعالی براہ راست نظر آ جائیں تو آزمائش کیا ہوئی اور اللہ تعالی کی سنت یہ ہے کہ جب غیب کی چیزیں انسان کو آنکھوں سے نظر آ جائیں تو پھر ایمان معتبر نہیں ہوتا اور ایسا اسی وقت ہو گا جب یہ کائنات ختم کر کے سزا اور جزا کا مرحلہ آ جائے گا۔

(توضیح القرآن)

 

پوچھو بنی اسرئیل سے ہم نے انہیں کتنی کھلی نشانیاں دیں ؟ اور جو اللہ کی نعمت بدل ڈالے اس کے بعد کے وہ اس کے پاس آ گئی تو بیشک اللہ سخت عذاب دینے والا ہے (۲۱۱)

تشریح:آپ علماء بنی اسرائیل سے ذرا پوچھئے توسہی ہم نے ان کو یعنی ان کے بڑوں کو کتنی واضح دلیلیں دی تھیں مگر ان لوگوں نے بجائے اس کے کہ اس سے ہدایت حاصل کرتے اور الٹی گمراہی پر کمر باندھی پھر دیکھو سزائیں بھی بھگتیں۔

مثلاً تورات ملی چاہئے تو یہ تھا کہ اس کو قبول کرتے مگر انکار کیا آخر کوہ طور گرانے کی ان کو دھمکی دی گئی،   اور حق تعالی کا کلام سنا، چاہئے تو یہ تھا کہ سر آنکھوں پر رکھتے مگر شبہات نکالے، آخر بجلی سے ہلاک ہوئے، اور دریا میں شگاف کر کے فرعون سے نجات دی گئی، احسان مانتے مگر گوسالہ پرستی شروع کی جس پر سزائے قتل دی گئی، اور من وسلوی نازل ہوا شکر کرنا چاہئے تھا نافرمانی کی وہ سڑنے لگا، اور اس سے نفرت ظاہر کی تو وہ موقوف ہو گیا اور کھیتی کی مصیبت سرپر پڑی، اور انبیاء علیہم السلام کا سلسلہ ان میں جاری رہا غنیمت سمجھنے کے بجائے ان کو قتل کرنا شروع کر دیا جس پر یہ سزا دی گئی کہ ان سے حکومت وسلطنت چھین لی گئی، اسی طرح بہت سے معاملات اسی سورہ بقرہ کے شروع میں بھی مذکور ہو چکے ہیں۔

اور ہمارا قانون ہی یہ ہے کہ جو شخص اللہ تعالی کی ایسی بڑی نعمت دلائل واضحہ کو بدلتا ہے اس کے پاس پہنچنے کے بعد، یعنی بجائے اس کے کہ اس سے ہدایت حاصل کرے اور الٹا گمراہ بنتا ہے تو یقیناً حق تعالی ایسے شخص کو سخت سزا دیتے ہیں۔

(خلاصہ تفسیر از معارف القرآن)

 

آراستہ کی گئی کافروں کے لئے دنیا کی زندگی، اور وہ ہنستے ہیں ان پر جو ایمان لائے اور جو پرہیزگار ہوئے وہ قیامت کے دن ان سے بالا تر ہوں گے، اور اللہ جسے چاہتا ہے رزق دیتا ہے بے شمار(۲۱۲)

تشریح:یہ فقرہ دراصل کفار کے اس باطل دعوی کا جواب ہے کہ اللہ تعالی چونکہ ہمیں خوب رزق دے رہا ہے، اس لئے یہ اس بات کی علامت ہے کہ وہ ہمارے عقائد اور اعمال سے ناراض نہیں ہے، جواب دیا گیا ہے کہ دنیا میں رزق کی فراوانی کسی کے حق پر ہونے کی دلیل نہیں، دنیوی رزق کے لئے اللہ کے نزدیک الگ معیار مقرر ہے، یہاں اللہ تعالی جس کو چاہتا ہے بے حساب رزق دے دیتا ہے، خواہ وہ کافر ہی کیوں نہ ہو۔

(توضیح القرآن)

 

لوگ ایک امت تھے پھر اللہ نے نبی بھیجے خوشخبری دینے والے اور ڈرانے والے اور ان کے ساتھ بر حق کتاب نازل کی، تاکہ فیصلہ کرے لوگوں کے درمیان جس میں انہوں نے اختلاف کیا اور جنہیں (کتاب) دی گئی تھی انہوں نے اختلاف نہیں کیا، مگر اس کے بعد جبکہ ان کے پاس واضح احکام آ گئے، آپس کی ضد کی وجہ سے پس اللہ نے ان لوگوں  کو ہدایت دی جو ایمان لائے اس سچی بات پر جس میں انہوں نے اختلاف کیا تھا، اپنے اذن سے اور اللہ ہدایت دیتا ہے جسے وہ چاہتا ہے سیدھے راستہ کی طرف(۲۱۳)

تشریح:حضرت آدم علیہ السلام کے وقت سے ایک ہی سچا دین رہا ایک مدت تک اس کے بعد دین میں لوگوں نے اختلاف ڈالا تو خدا تعالیٰ نے انبیاء کو بھیجا جو اہل ایمان و طاعت کو ثواب کی بشارت دیتے تھے اور اہل کفر و معصیت کو عذاب سے ڈراتے تھے اور ان کے ساتھ سچی کتاب بھی بھیجی تاکہ لوگوں کا اختلاف اور نزاع دور ہو اور دین حق ان کے اختلافات سے محفوظ اور قائم رہے اور احکام الٰہی میں انہی لوگوں نے اختلاف ڈالا جن کو وہ کتاب ملی تھی جیسے یہود و نصاریٰ تورات و انجیل میں اختلاف و تحریف کرتے تھے اور یہ نزاع بے سمجھی سے نہیں کرتے تھے بلکہ خوب سمجھ کر محض حب دنیا اور ضد اور حسد سے ایسا کرتے تھے سوا اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے اہل ایمان کو طریقہ حق کی ہدایت فرمائی اور گمراہوں کے اختلافات سے بچا لیا جیسے آپ کی امت کو ہر عقیدہ اور ہر عمل میں امر حق کی تعلیم فرمائی اور یہود و نصاریٰ کے اختلاف اور افراط و تفریط سے ان کو محفوظ رکھا۔

فائدہ: اس آیت سے دو باتیں معلوم ہوئیں ایک تو یہ کہ اللہ نے جو کتابیں اور نبی متعدد بھیجے تو اس واسطے نہیں کہ ہر فرقہ کو جدا طریقہ بتلایا ہو بلکہ سب کے لئے اللہ نے اصل میں ایک ہی راستہ مقرر کیا جس وقت اس راہ سے بچلے تو اللہ نے نبی کو بھیجا اور کتاب اتاری کہ اس کے موافق چلیں، اس کے بعد پھر بہکے تو دوسرا نبی اور کتاب اللہ پاک نے اسی ایک راہ کے قائم کرنے کو بھیجا، اس کی مثال ایسی ہے جیسے کہ تندرستی ایک ہے اور بیماریاں بے شمار، جب ایک مرض پیدا ہوا تو اس کے موافق دوا اور پرہیز فرمایا، جب دوسرا مرض پیدا ہوا تو دوسری دوا اور پرہیز اس کے موافق فرمایا، اب آخر میں ایسا طریقہ اور قاعدہ فرما دیا جو سب بیماریوں سے بچائے اور سب کے بدلے کفایت کرے اور وہ طریقہ اسلام ہے جس کے لئے پیغمبر آخرالزماں صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن شریف بھیجے گئے۔

دوسری بات یہ معلوم ہو گئی کہ سنت اللہ یہی جاری ہے کہ برے لوگ ہر نبی مبعوث کے خلاف ہر کتاب الٰہی میں اختلاف کو پسند کرتے رہے اور اس میں ساعی رہے تو اب اہل ایمان کو کفار کی بدسلوکی اور فساد سے تنگدل ہونا نہ چاہیے۔

(تفسیرعثمانی)

 

کیا تم خیال کرتے ہو کہ جنت میں داخل ہو جاؤ گے ؟اور جب کہ(ابھی) تم پر (ایسی حالت) نہیں آئی جیسے تم سے پہلے لوگوں پر گزری۔ انہیں پہنچی سختی اور تکلیف، اور وہ ہلا دئیے گے، یہاں تک کہ رسول اور وہ جو ان کے ساتھ ایمان لائے کہنے لگے اللہ کی مدد کب آئے گی ؟ آگاہ رہو بیشک اللہ کی مدد قریب ہے (۲۱۴)

تشریح:مشقت و محنت کے درجات مختلف ہیں، ادنی درجہ نفس و شیطان سے مزاحمت کر کے یا دین حق کے مخالفین کے ساتھ مخالفت کر کے اپنے عقائد کادرست کرنا ہے اور یہ ہر مؤمن کو حاصل ہے، آگے اوسط اور اعلی درجات ہیں جس درجہ کی محنت و مشقت ہو گی اسی درجہ کا دخول جنت ہو گا، اس طرح محنت و مشقت سے خالی کوئی نہ رہا، ایک حدیث میں آنحضرتﷺ نے فرمایا: سب سے زیادہ سخت بلائیں اور مصیبتیں انبیاء علیہم السلام کو پہنچتی ہیں ان کے بعد جو ان کے قریب تر ہیں۔

(معارف القرآن)

 

وہ آپ سے پوچھتے ہیں کیا کچھ خرچ کریں ؟ آپ کہہ دیں جو مال تم خرچ کرو، سو ماں باپ کے لئے اور قربت داروں کے لئے، اور یتیموں، اور محتاجوں، اور مسافروں کے لئے، اور تم جو نیکی کرو گے تو بیشک اللہ اسے جاننے والا ہے (۲۱۵)

تشریح:بعض اصحاب جو مالدار تھے انہوں نے آپﷺ سے دریافت کیا تھا کہ مال میں سے کیا خرچ کریں اور کس پر خرچ کریں، اس پر یہ حکم ہوا کہ قلیل ہو یا کثیر جو کچھ خدا کے لئے خرچ کرو وہ والدین اور اقارب اور یتیم اور محتاج اور مسافروں کے لئے ہے، یعنی حصول ثواب کے لئے خرچ کرنا چاہو تو جتنا چاہو کرو اس کی کوئی تعین و تحدید نہیں، البتہ یہ ضرور ہے کہ جو مواقع ہم نے بتلائے ان میں صرف کرو۔

(تفسیرعثمانی)

 

تم پر جنگ فرض کی گئی اور وہ تمہیں ناگوار ہے، اور ممکن ہے کہ تم ایک چیزناپسند کرو اور وہ تمہارے لئے بہتر ہو اور ممکن ہے کہ تم ایک چیز پسند کرو اور وہ تمہارے لئے بری ہو، اور اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے (۲۱۶)

تشریح:جب تک آپﷺ مکہ میں رہے آپ کو  مقاتلہ کی اجازت نہ ہوئی، جب مدینہ کو ہجرت فرمائی تو مقاتلہ کی اجازت ہوئی، مگر صرف ان کفار سے جو خود اہل اسلام سے مقاتلہ کریں، اس کے بعد علی العموم کفار سے مقاتلہ کی اجازت ہو گئی اور جہاد فرض ہوا، اگر دشمنان دین مسلمانوں پر چڑھائی کریں تومسلمانوں پر جہاد فرض عین ہے ورنہ فرض کفایہ، بشرطیکہ جملہ شرائط جہاد جو کتب فقہ میں مذکور ہیں پائی جائیں، البتہ جن لوگوں سے مسلمان مصالحت اور معاہدہ کر لیں یا ان کے امن اور حفاظت میں آ جائیں تو ان سے لڑائی کرنا یا ان کے مقابلہ میں ان کے کسی مخالف کو مدد دینا ہرگز مسلمانوں کو جائز نہیں۔

(تفسیرعثمانی)

 

یہ بات ضروری نہیں کہ جس چیز کو تم اپنے حق میں نافع یا مضر سمجھو وہ واقع میں بھی تمہارے حق میں ویسی ہی ہوا کرے بلکہ ہوسکتا ہے کہ تم ایک چیز کو اپنے لئے مضر سمجھو اور وہ مفید ہو اور کسی چیز کو مفید خیال کر لو اور وہ مضر ہو، تم نے توسمجھ لیا کہ جہاد میں جان و مال سب کا نقصان ہے اور ترک جہاد میں دونوں کی حفاظت، اور یہ نہ جانا کہ جہاد میں دنیا و آخرت کے کیا کیا منافع ہیں اور اس کے ترک میں کیا کیا نقصان ہیں، تمہارے نفع و نقصان کو خدا ہی خوب جانتا ہے تم اسے نہیں جانتے، اس لئے وہ جو حکم دے اس کو حق سمجھو اور اپنے اس خیال کو چھوڑو۔

(تفسیرعثمانی)

 

وہ آپ سے سوال کرتے ہیں حرمت والے مہینہ میں جنگ (کے بارہ) میں، آپ کہہ دیں اس  میں جنگ کرنا بڑا (گناہ) ہے اور اللہ کے راستہ سے روکنا اور اس کو (اللہ کو) نہ ماننا اور مسجد حرام (سے روکنا) اور اس کے لوگوں کو وہاں سے نکالنا، اللہ کے نزدیک بہت بڑا گناہ ہے، اور فتنہ، قتل سے (بھی) بڑا گناہ ہے اور وہ ہمیشہ تم سے لڑتے رہیں گے، یہاں تک کہ اگر وہ کر سکیں تو تمہیں تمہارے دین سے پھیر دیں۔

تشریح:سورۂ توبہ(۹:۳۶) میں چار مہینوں کو اشہر حرم کہا گیا ہے، یعنی حرمت والے مہینے، آنحضرتﷺ نے ان کی تشریح کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ یہ چار مہینے رجب، ذوالقعدہ، ذوالحجہ اور محرم ہیں، ان مہینوں میں جنگ منع ہے، البتہ اگر کوئی دشمن حملہ کر دے تو اپنا دفاع کیا جا سکتا ہے، ایک مرتبہ ایک سفر کے دوران چند صحابہ کی کچھ مشرکین سے جھڑپ ہو گئی اور مشرکین میں سے ایک آدمی عمرو بن ضمری مسلمانوں کے ہاتھوں مارا گیا، یہ واقعہ جمادی الثانیہ کی ۲۹ تاریخ کی شام کو واقع ہوا، لیکن اس شخص کے قتل ہوتے ہی رجب کا چاند نظر آ گیا، اس پر مشرکین نے مسلمانوں کے خلاف ایک طوفان مچا دیا کہ یہ لوگ حرمت والے مہینوں کا بھی پاس نہیں کر رہے ہیں، یہ آیت اس پروپیگنڈے کے پس منظر میں نازل ہوئی ہے، جواب کا خلاصہ یہ ہے کہ اول تو عمرو بن امیہ کا قتل غلط فہمی میں ہوا جان بوجھ کر حرمت والے مہینے میں قتل نہیں کیا گیا، لیکن جو لوگ اس واقعے پر طوفان کھڑا کئے ہوئے ہیں، بلکہ جو لوگ حقیقۃً مسجد حرام میں عبادت کے اہل ہیں، ان کے لئے زندگی اجیرن بنا کر انہیں یہاں سے نکلنے پر مجبور کرتے ہیں اور اللہ تعالی کے ساتھ کفر کی روش اختیار کئے ہوئے ہیں۔

(توضیح القرآن)

 

اور تم میں سے جو پھر جائے اپنے دین سے اور وہ مر جائے (اس حال میں کہ) وہ کافر ہو تو یہی لوگ ہیں جن کے عمل ضائع ہو گئے دنیا میں اور آخرت میں، اور یہی لوگ دوزخ والے ہیں، وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے (۲۱۷)

تشریح:دین اسلام سے پھر جانا اور اسی حالت پر اخیر تک قائم رہنا، ایسی سخت بلا ہے کہ عمر بھر کے نیک کام ان کے ضائع ہو جاتے ہیں، کسی بھلائی کے مستحق نہیں رہتے، دنیا میں نہ ان کی جان و مال محفوظ رہے نہ نکاح قائم رہے نہ ان کو میراث ملے نہ آخرت میں ثواب ملے اور نہ کبھی نجات نصیب ہو، ہاں اگر پھر اسلام قبول کر لے تو صرف اس اسلام کے بعد کے اعمال حسنہ کی جزا پوری ملے گی۔

(تفسیرعثمانی)

 

بے شک جو ایمان لائے، اور جن لوگوں نے ہجرت کی، اور اللہ کے راستہ میں جہاد کیا یہی لوگ اللہ کی رحمت کی امید رکھتے ہیں اور اللہ بخشنے والا، رحم کرنے والا ہے۔ (۲۱۸)

تشریح:آیات سابقہ سے جماعت اصحاب مذکورہ بالا کو یہ تو معلوم ہو گیا کہ ہمارے اوپر اس بارہ میں کوئی مواخذہ نہیں، مگر یہ تردد ان کو تھا کہ دیکھئے اس جہاد کا ثواب بھی ملتا ہے یا نہیں، اس پر یہ آیت اتری کہ جو لوگ ایمان لائے اور ہجرت کی اور اللہ کے واسطے اس کے دشمنوں سے لڑے، اپنی کوئی غرض اس لڑائی میں نہ تھی وہ بیشک اللہ کی رحمت کے امیدوار اور اس کے مستحق ہیں اور اللہ اپنے بندوں کی خطائیں بخشنے والا اور ان پر انعام فرمانے والا ہے وہ ایسے تابعداروں کو محروم نہ کرے گا۔

(تفسیرعثمانی)

 

وہ آپ سے پوچھتے ہیں شراب اور جوئے کے بارے میں، آپ کہہ دیں کہ ان دونوں میں بڑا گناہ ہے اور لوگوں کے لئے فائدہ بھی ہے (لیکن) ان کا گناہ ان کے فائدے سے بہت بڑا ہے۔

تشریح:چونکہ اہل عرب صدیوں سے شراب کے عادی تھے، اس لئے اللہ تعالی نے اس کی حرمت کے اعلان میں تدریج سے کام لیا، پہلے سورۂ نحل (۱۶:۶۷)میں ایک لطیف اشارہ دیا کہ نشہ لانے والی شراب اچھی چیز نہیں ہے، پھر سورۃ البقرۃ کی اس آیت میں قدرے وضاحت سے فرمایا کہ شراب پینے کے نتیجے میں انسان سے بہت سی ایسی حرکتیں سرزد ہو جاتی ہیں جو گناہ ہیں اور اگرچہ اس میں کچھ فائدے بھی ہیں، مگر گناہ کے امکانات زیادہ ہیں، پھر سورۂ نساء (۴:۴۳)میں یہ حکم آیا کے نشے کی حالت میں نماز نہ پڑھو بالآخر سورۂ مائدہ (۵:۹۰۔ ۹۱)میں شراب کو ناپاک اور شیطانی عمل قرار دے کر اس سے مکمل پرہیز کرنے کا صاف صاف حکم دے دیا گیا۔

(توضیح القرآن)

 

اور وہ آپ سے پوچھتے ہیں کہ وہ کیا کچھ خرچ کریں ؟ آپ کہہ دیں زائد از ضرورت اسی طرح اللہ تمہارے لئے احکام واضح کرتا ہے تاکہ تم غور و فکر کرو(۲۱۹)

تشریح:بعض صحابہ سے منقول ہے کہ انہوں نے صدقہ کا ثواب سن کر اپنی ساری پونجی صدقہ کر دی یہاں تک کہ اپنے اور اپنے اہل و عیال کے لئے کچھ نہ چھوڑا اور گھر والے بھوکے رہ گئے، اس آیت نے بتلایا کہ صدقہ وہی درست ہے جو اپنے گھر والوں کی ضرورت پوری کرنے کے بعد کیا جائے، چنانچہ آنحضرتﷺ نے متعدد احادیث میں اس پر زور دیا ہے کہ صدقہ اتنا ہونا چاہئے کہ گھر والے محتاج نہ ہو جائیں۔

(توضیح القرآن)

 

دنیا میں اور آخرت میں، اور وہ آپ سے یتیموں کے بارے میں پوچھتے ہیں، آپ کہہ دیں ان کی اصلاح بہتر ہے، اور اگر ان کو (اپنے ساتھ) ملا لو تو وہ تمہارے بھائی ہیں، اور اللہ خرابی کرنے والوں اور اصلاح کرنے والوں کو خوب جانتا ہے، اور اگر اللہ چاہتا تو تم کو ضرور مشقت میں ڈال دیتا، بیشک اللہ غالب حکمت والا ہے (۲۲۰)

تشریح:جب قرآن کریم نے یتیموں کا مال کھانے پر سخت وعید سنائی (سورۂ نساء۴:۱۔ ۲)تو بعض صحابہ جن کی سرپرستی میں کچھ یتیم تھے، اتنی احتیاط کرنے لگے کہ ان کا کھانا الگ پکواتے اور انہیں الگ ہی کھلاتے، یہاں تک کہ اگر ان کا کچھ کھانا بچ جاتا تو خراب ہو جاتا، اس میں تکلیف بھی تھی اور نقصان بھی، اس آیت نے واضح کر دیا کہ اصل مقصد یہ ہے کہ یتیموں کی مصلحت کا پورا خیال رکھا جائے، سرپرستوں کو مشکل میں ڈالنا مقصد نہیں ہے، لہذا ان کا کھانا ساتھ پکانے اور ساتھ کھلانے میں کوئی حرج نہیں ہے، بشرطیکہ معقولیت اور انصاف کے ساتھ ان کے مال سے ان کے کھانے کا خرچ وصول کیا جائے، پھر اگر غیر ارادی طور پر کچھ کمی بیشی ہو بھی جائے تو معاف ہے، ہاں جان بوجھ کر ان کو نقصان نہ پہنچایا جائے، رہی یہ بات کہ کون انصاف اور اصلاح سے کام لے رہا ہے اور کس کی نیت خراب ہے، اسے اللہ تعالی خوب جانتا ہے۔

(توضیح القرآن)

 

اور مشرک عورتوں سے نکاح نہ کرو یہاں تک کہ وہ ایمان لائیں، اور البتہ مسلمان باندی کسی مشرک عورت سے بہتر ہے اگرچہ تمہیں وہ بھلی لگے، اور مشرکوں سے نکاح نہ کرو یہاں تک کہ وہ ایمان لائیں، اور البتہ مسلمان غلام بہتر ہے مشرک سے اگرچہ وہ تمہیں بھلا لگے، وہی لوگ دوزخ کی طرف بلاتے ہیں، اور ا للہ بلاتا ہے اپنے حکم سے جنت اور بخشش کی طرف، اور لوگوں کے لئے اپنے احکام واضح کرتا ہے تاکہ وہ نصیحت پکڑیں (۲۲۱)

تشریح:پہلے مسلمان مرد اور کافر عورت اور اس کے برعکس دونوں صورتوں میں نکاح کی اجازت تھی، اس آیت سے اس کو منسوخ کر دیا گیا، اگر مرد یا عورت مشرک ہو تو اس کا نکاح مسلمان سے درست نہیں، یا نکاح کے بعد ایک مشرک ہو گیا تو نکاح سابق ٹوٹ جائے گا، یہود و نصاریٰ کے مردوں سے مسلمان عورتوں کا نکاح بھی درست نہیں، البتہ یہود و نصاریٰ کی عورتوں سے مسلمان مرد کا نکاح درست ہے، بشرطیکہ وہ اپنے دین پر قائم ہوں، دہریہ اور ملحد نہ ہوں، جیسے کہ اکثر یہودو نصاریٰ آج کل کے نظر آتے ہیں۔

(ملخص تفسیرعثمانی)

 

اور وہ آپ سے حالت حیض کے بارے میں پوچھتے ہیں ، آپ کہہ دیں کہ وہ گندگی ہے ، پس تم عورتوں سے الگ رہو حالت حیض میں ، اور ان کے قریب نہ جاو ، یہاں تک کہ وہ پاک ہو جائیں ، پس جب وہ پاک ہو جائیں تو تم ان کے پاس آؤ جہاں سے اللہ نے تمہیں حکم دیا ، بیشک اللہ دوست رکھتا ہے توبہ کرنے والوں کو اور دوست رکھتا ہے ، پاک رہنے والوں کو(۲۲۲)

تشریح:حیض کہتے ہیں اس خون کو جو عورتوں کی عادت ہے اس حالت میں مجامعت کرنا، نماز، روزہ سب حرام ہیں اور خلاف عادت جو خون آئے وہ بیماری ہے اس میں مجامعت نماز روزہ سب درست ہیں، اس کا حال ایسا ہے جیسا زخم یا فصد سے خون نکلے، یہود اور مجوس حالت حیض میں عورت کے ساتھ کھانے اور ایک گھر میں رہنے کو بھی جائز نہ سمجھتے تھے اور نصاریٰ مجامعت سے بھی پرہیز نہ کرتے تھے، آپﷺ سے پوچھا گیا تواس پر یہ آیت اتری آپﷺ نے اس پر صاف فرما دیا کہ مجامعت اس حالت میں حرام ہے، ان کے ساتھ کھانا پینا رہنا سہنا سب درست ہیں، یہود کا افراط اور نصاریٰ کی تفریط دونوں مردود ہو گئیں۔

پاک ہونے میں تفصیل ہے کہ اگر حیض اپنی پوری مدت یعنی دس دن پر موقوف ہو تو اسی وقت سے مجامعت درست ہے اور اگر دس دن سے پہلے ختم ہو گیا مثلاً چھ روز کے بعد اور عورت کی عادت بھی چھ روز کی تھی تو مجامعت خون کے موقوف ہوتے ہی درست نہیں، بلکہ جب عورت غسل کر لے یا نماز کا وقت ختم ہو جائے اس کے بعد مجامعت درست ہو گی اور اگر عورت کی عادت سات یا آٹھ دن کی تھی تو ان دنوں کے پورا کرنے کے بعد مجامعت درست ہو گی۔

(تفسیرعثمانی)

 

تمہاری عورتیں تمہاری کھیتی ہیں، پس تم اپنی کھیتی میں آؤ جہاں سے چاہو اور اپنے لئے آگے بھیجو ( آگے کی تدبیر کرو) اور اللہ سے ڈرو، اور تم جان لو کہ تم اللہ سے ملنے والے ہو، اور خوشخبری دیں ایمان والوں کو(۲۲۳)

تشریح:اس آیت میں اللہ تعالی نے ایک لطیف کنایہ استعمال کر کے میاں بیوی کے خصوصی ملاپ کے بارے میں چند حقائق بیان فرمائے ہیں، پہلی بات تو یہ واضح فرمائی ہے کہ میاں بیوی کا یہ ملاپ صرف لذت حاصل کرنے کے مقصد سے نہیں ہونا چاہئے، بلکہ اسے انسانی نسل کی بڑھوتری کا ذریعہ سمجھنا چاہئے، جس طرح ایک کاشتکار اپنی کھیتی میں بیج ڈالتا ہے تواس کا اصل مقصد پیداوار کا حصول ہوتا ہے اسی طرح یہ عمل بھی دراصل انسانی نسل باقی رکھنے کا ایک ذریعہ ہے، دوسری حقیقت یہ بیان فرمائی ہے کہ جب اس عمل کا اصل مقصد یہ ہے تو یہ عمل نسوانی جسم کے اسی حصہ میں ہونا چاہئے جو اس کام کے لئے پیدا کیا گیا ہے، پیچھے کا جو حصہ اس کام کے لئے نہیں بنایا گیا، اس کو فطرت کے خلاف جنسی لذت کے لئے استعمال کرنا حرام ہے، تیسری بات یہ بتائی گئی ہے کہ نسوانی جسم کا جو اگلا حصہ اس غرض کے لئے بنایا گیا ہے اس تک پہنچنے کے لئے راستہ کوئی بھی اختیار کیا جا سکتا ہے، یہودیوں کا خیال یہ تھا کہ اس حصے میں مباشرت کرنے کے لئے بس ایک ہی طریقہ جائز ہے یعنی سامنے کی طرف سے، اگر مباشرت آگے ہی کے حصے میں ہو لیکن اس تک پہنچنے کے لئے راستہ پیچھے کا اختیار کیا جائے تووہ کہتے تھے کہ اولاد بھینگی پیدا ہوتی ہے، اس آیت نے یہ غلط فہمی دور کر دی۔

(توضیح القرآن)

 

اور اپنی قسموں کے لئے اللہ (کے نام) کو نشانہ نہ بناؤ کہ تم حسن سلوک کرو اور پرہیزگاری اور لوگوں کے درمیان صلح کرانے (سے باز رہو) اور اللہ سننے والا اور جاننے والا ہے (۲۲۴)

تشریح:بعض مرتبہ انسان کسی وقتی جذبے سے مغلوب ہو کر قسم کھا لیتا ہے کہ فلاں کام نہیں کروں گا، حالانکہ وہ نیک کام ہوتا ہے، مثلاً ایک مرتبہ حضرت مسطحؓ سے ایک غلطی ہو گئی تھی تو حضرت صدیق اکبرؓ نے یہ قسم کھا لی تھی کہ آئندہ وہ ان کی مالی مدد نہیں کریں گے، یا جیسے روح المعانی میں ایک روایت نقل کی ہے کہ حضرت عبداللہ بن رواحہؓ نے اپنے بہنوئی کے بارے میں قسم کھا لی تھی کہ وہ ان سے بات نہیں کریں گے، اور نہ ان کی بیوی سے ان کی صلح کرائیں گے، یہ آیت ایسی قسم کھانے سے منع کر رہی ہے، کیونکہ اس طرح اللہ کا نام ایک غلط مقصد میں استعمال ہوتا ہے، اور صحیح حدیث میں آنحضرتﷺ نے فرمایا ہے کہ اگر کوئی شخص ایسی نامناسب قسم کھا لے تو اسے توڑ دینا چاہئے اور اس کا کفار ہ ادا کرنا چاہئے۔

 

تمہیں نہیں پکڑتا اللہ تمہاری لغو قسموں پر، لیکن تمہیں پکڑتا ہے اس پر جو تمہارے دلوں نے کمایا (ارادہ سے کیا) اور اللہ بخشنے والا برد بار ہے (۲۲۵)

تشریح:لغو قسم سے مراد تووہ قسم ہے جو قسم کھانے کے ارادے سے نہیں بلکہ تکیہ کلام کے طور سے زبان پر آ جائے، خاص طور پر عربوں میں اس کا بہت رواج تھا کہ بات بات میں وہ واللہ کہہ دیتے تھے، اسی طرح بعض اوقات انسان ماضی کے کسی واقعے پر قسم کے ارادے ہی سے قسم کھاتا ہے، لیکن اس کے اپنے خیال کے مطابق وہ قسم صحیح نہیں ہوتی ہے، جھوٹ بولنے کا ارادہ نہیں ہوتا، لیکن بعد میں پتہ چلتا ہے کہ جو بات قسم کھا کر کہی تھی وہ حقیقت میں صحیح نہیں تھی، ان دونوں طرح کی قسموں کو لغو کہا جاتا ہے، اس آیت نے بتایا کہ اس پر گناہ نہیں ہوتا، البتہ انسان کو چاہئے کہ وہ قسم کھانے میں احتیاط سے کام لے اور ایسی قسم سے بھی پرہیز کرے۔

(توضیح القرآن)

 

ان لوگوں کے لئے جو اپنی عورتوں کے (پاس نہ جانے کی ) قسم کھاتے ہیں انتظار کرنا ہے چار مہینہ، پھر اگر وہ رجوع کر لیں تو بیشک اللہ بخشنے والا، رحم کرنے والا ہے (۲۲۶)

اور اگر انہوں نے طلاق  ہی کی ٹھان لی ہو تو بیشک اللہ سننے والا اور جاننے والا ہے (۲۲۷)

تشریح:عربوں میں یہ ظالمانہ طریقہ رائج تھا کہ وہ یہ قسم کھا بیٹھتے تھے کہ اپنی بیوی کے پاس نہیں جائیں گے، نتیجہ یہ کہ بیوی غیر معین مدت تک لٹکی رہتی تھی، نہ اسے بیوی جیسے حقوق ملتے تھے اور نہ وہ کہیں اور شادی کرسکتی تھی، ایسی قسم کو ایلاء کہا جاتا ہے، اس آیت نے یہ قانون بنا دیا کہ جو شخص ایلاء کرے وہ یا تو چار مہینے کے اندر اندر اپنی قسم توڑ کر کفارہ ادا کرے اور اپنی بیوی سے معمول کے ازدواجی تعلقات بحال کر لے، ورنہ چار مہینے تک اگر اس نے اپنی قسم نہ توڑی تو بیوی اس کے نکاح سے نکل جائے گی، آیت میں جو کہا گیا ہے کہ‘‘ اور اگر انہوں نے طلاق ہی کی ٹھان لی ہو’’ اس کا مطلب یہی ہے کہ وہ چار مہینے قسم توڑے بغیر گزار دیں تو نکاح خود بخود ختم ہو جائے گا۔

(توضیح القرآن)

 

اور طلاق یافتہ عورتیں اپنے تئیں انتظار کریں تین حیض تک اور ان کے لئے جائز نہیں کہ وہ چھپائیں جو اللہ نے ان کے رحموں میں پیدا کیا اگر وہ اللہ پر اور یوم آخرت پر ایمان رکھتی ہیں، اور ان کے خاوند ان کی واپسی کے زیادہ حق دار ہیں اس (مدت) میں اگر وہ بہتری حسن سلوک کرنا چاہیں۔

تشریح:یہ مطلقہ عورتوں کی عدت کا بیان ہے، یعنی طلاق کے بعد انہیں تین مرتبہ ایام ماہواری پورے ہونے تک عدت گزارنی ہو گی، جس کے بعد وہ کہیں اور نکاح کرسکیں گی، لیکن سورۂ احزاب (۳۳:۴۹)میں واضح کر دیا گیا ہے کہ عدت گزارنا اسی وقت واجب ہے جب میاں بیوی کے درمیان خلوت ہو چکی ہو، اگر اس سے پہلے ہی طلاق ہو گئی تو عدت واجب نہیں، نیز سورۂ طلاق(۶۵:۴)میں بتایا گیا ہے کہ جن عورتوں کو حیض ہمیشہ کے لئے بند ہو گیا ہو یا ابھی آنا شروع نہ ہوا ہو ان کی عدت تین مہینے ہے، اور اگر عورت حاملہ ہو تو اس کی عدت بچے کی پیدائش پر ختم ہو جائے گی۔

(توضیح القرآن)

 

اور عورتوں کے لئے (حق) ہے جیسے عورتوں پر (مردوں کا) حق ہے دستور کے مطابق، اور مردوں کا ان پر ایک درجہ (برتری) ہے اور اللہ غالب حکمت والا ہے (۲۲۸)

تشریح :جاہلیت کے دور میں عورت کا کوئی حق تسلیم نہیں کیا جاتا تھا، اس آیت نے بتایا کہ شوہر اور بیوی کے حقوق ایک دوسرے کے برابر ہیں البتہ اتنا ضرور ہے کہ زندگی کے سفر میں اللہ تعالی نے مرد کو امیر اور نگران بنایا ہے جیسا کہ قرآن کریم نے سورۂ نساء(۴:۳۴) میں واضح فرمایا ہے، اس لحاظ سے ایک کو ایک درجہ فوقیت حاصل ہے۔

(توضیح القرآن)

 

طلاق دو بار ہے، پھر روک لینا ہے دستور کے مطابق، یا رخصت کر دینا ہے حسن سلوک سے، اور نہیں تمہارے لئے جائز کہ جو تم نے انہیں دیا ہے اس سے کچھ واپس لے لو، سوائے اس کے کہ دونوں اندیشہ کریں کہ اللہ کے حدود قائم نہ رکھ سکیں گے، پھر اگر تم ڈرو کہ وہ دونوں اللہ کے حدود قائم نہ رکھ سکیں گے تو گناہ نہیں ان دونوں پر کہ عورت اس کا بدلہ (فدیہ) دے دے، یہ اللہ کے حدود ہیں پس ان سے آگے نہ بڑھو، اور جو اللہ کے حدودسے آگے بڑھتا ہے پس وہی لوگ ظالم ہیں (۲۲۹)

تشریح:اس آیت نے ایک ہدایت تو یہ دی ہے کہ اگر طلاق دینی ہی پڑ جائے تو زیادہ سے زیادہ دو طلاقیں دینی چاہئیں، کیونکہ اس طرح میاں بیوی کے درمیان تعلقات بحال ہونے کا امکان رہتا ہے،  چنانچہ عدت کے دوران شوہر کو طلاق سے رجوع کرنے کا حق رہتا ہے، اور عدت کے بعد دونوں کی باہمی رضا مندی سے نیا نکاح نئے مہر کے ساتھ ہوسکتا ہے، لیکن جیسا کہ اگلی آیت میں فرمایا گیا ہے کہ تین طلاقوں کے بعد دونوں راستے بند ہو جاتے ہیں اور تعلقات کی بحالی کا کوئی طریقہ باقی نہیں رہتا، دوسری ہدایت یہ دی گئی ہے کہ شوہر طلاق سے رجوع کا فیصلہ کرے یا علیحدگی کا، دونوں صورتوں میں معاملات خوش اسلوبی سے طے کرنے چاہئیں، عام حالات میں شوہر کے لئے حلال نہیں ہے کہ وہ طلاق کے بدلے مہر واپس کرنے یا معاف کرنے کا مطالبہ کرے، ہاں اگر طلاق کا مطالبہ عورت کی طرف سے ہو اور شوہر کی کسی زیادتی کے بغیر ہو، مثلاً بیوی شوہر کو پسند نہ کرتی ہو اور اس بنا پر دونوں کو یہ اندیشہ ہو کہ وہ خوشگوار ی کے ساتھ نکاح کے حقوق ادا نہ کرسکیں گے تو اس صورت یہ جائز قرار دے دیا گیا ہے کہ عورت مالی معاوضے کے طور پر مہر یا اس کا کچھ حصہ واپس کر دے یا اگر اس وقت تک وصول نہ کیا ہو تو معاف کر دے۔

(توضیح القرآن)

 

پس اگر اس کو طلاق دے دی تو جائز نہیں اس کے لئے اس کے بعد یہاں تک کہ وہ اس کے علاوہ کسی(دوسرے ) خاوند سے نکاح کر لے، پھر اگر وہ اسے طلاق دے دے تو گناہ نہیں ان دونوں پر اگر وہ رجوع کر لیں، بشرطیکہ وہ خیال کریں کہ وہ اللہ کی حدود قائم رکھیں گے، اور یہ اللہ کی حدود ہیں، وہ انہیں جاننے والوں کے لئے واضح کرتا ہے (۲۳۰)

تشریح:یعنی اگر زوج اپنی عورت کو تیسری بار طلاق دے گا تو پھر وہ عورت اس کے لئے حلال نہ ہو گی تاوقتیکہ وہ عورت دوسرے شخص سے نکاح نہ کر لے اور دوسرا خاوند اس سے صحبت کر کے اپنی خوشی سے طلاق نہ دیوے اس کی عدت پوری کر کے پھر زوج اول سے نکاح جدید ہوسکتا ہے اس کو حلالہ کہتے ہیں اور حلالہ کے بعد زوج اول کے ساتھ نکاح ہونا جب ہی ہے کہ ان کو حکم خداوندی کے قائم رکھنے یعنی ایک دوسرے کے حقوق ادا کرنے کا خیال اور اس پر اعتماد ہو ورنہ ضرور نزاع باہمی اور اتلاف حقوق کی نوبت آئے گی اور گناہ میں مبتلا ہوں گے۔

(تفسیرعثمانی)

 

اور جب تم عورتوں کو طلاق دے دو پھر وہ اپنی عدت پوری کر لیں تو ان کو دستور کے مطابق روکو یا دستور کے مطابق رخصت کر دو، ا ور تم انہیں نقصان پہنچانے کیلئے نہ روکو تا کہ، تم زیادتی کرو، اور یہ جو کرے گا بے شک اس نے اپنے اوپر ظلم کیا، اور اللہ کے احکام کا مذاق نہ ٹھہراؤ، اور تم پر جو اللہ کی رحمت ہے اسے یاد کرو اور جو اس نے تم پر کتاب اور حکمت اتاری، وہ اس سے تمہیں نصیحت کرتا ہے اور تم اللہ سے ڈرو اور جان لو کہ اللہ ہر چیز کا جاننے والا ہے (۲۳۱)

تشریح:جاہلیت میں ایک ظالمانہ طریقہ یہ تھا کہ لوگ اپنی بیویوں کو طلاق دیتے اور جب عدت گزرنے کے قریب ہوتی تو رجوع کر لیتے، تاکہ وہ دوسرا نکاح نہ کرسکے، پھر اس کے حقوق ادا کرنے کے بجائے کچھ عرصے کے بعد پھر طلاق دیتے اور عدت گزرنے سے پہلے رجوع کر لیتے اور اس طرح وہ غریب بیچ میں لٹکی رہتی نہ کسی اور سے نکاح کرسکتی اور نہ شوہر سے اپنے حقوق حاصل کرسکتی یہ آیت اس ظالمانہ طریقے کو حرام قرار دے رہی ہے۔

(توضیح القرآن

 

اور جب تم عورتوں کو طلاق دے دو پھر وہ پوری کر لیں اپنی عدت تو انہیں اپنے خاوندوں سے نکاح کرنے سے نہ روکو، جب وہ راضی ہو ں آپس میں دستور کے مطابق، یہ اس کو نصیحت کی جاتی ہے جو تم میں سے ایمان رکھتا ہے اللہ پر اور یوم آخرت پر، یہی تمہارے لئے زیادہ ستھرا ہے اور زیادہ پاکیزہ ہے، اور اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے (۲۳۲)

 

تشریح: ایک عورت کو اس کے شوہر نے ایک یا دو طلاق دی اور پھر عدت میں رجعت بھی نہ کی جب عدت ختم ہو چکی تو دوسرے لوگوں کے ساتھ شوہر اول نے بھی نکاح کا پیغام دیا عورت بھی اس پر راضی تھی مگر عورت کے بھائی کو غصہ آیا اور نکاح کو روک دیا، اس پر یہ حکم اترا کہ عورت کی خوشنودی اور بہبودی کو ملحوظ رکھو، اسی کے موافق نکاح ہونا چاہیے، اپنے کسی خیال اور ناخوشی کو دخل مت دو، اور یہ خطاب عام ہے نکاح سے روکنے والے سب کو، خواہ شوہر اول جس نے کہ طلاق دی ہے وہ دوسری جگہ عورت کو نکاح کرنے سے روکے یا عورت کے ولی اور وارث عورت کو پہلے شوہر سے یا کسی دوسری جگہ نکاح کرنے سے مانع ہوں سب کو روکنے سے ممانعت آ گئی، ہاں اگر خلاف قاعدہ کوئی بات ہو مثلاً غیر کفو میں عورت نکاح کرنے لگے یا پہلے شوہر کی عدت کے اندر کسی دوسرے سے نکاح کرنا چاہے تو بیشک ایسے نکاح سے روکنے کا حق ہے بالمعروف فرمانے کا یہی مطلب ہے۔

(ماخوذ تفسیرعثمانی)

 

اور مائیں اپنی اولاد کو پورے دو سال دودھ پلائیں، جو کوئی دودھ پلانے کی مدت پوری کرنا چاہے اور ان (ماؤں ) کا کھانا اور ان کا لباس باپ پر (واجب ہے )دستور کے مطابق

 

تشریح:طلاق کے احکام کے درمیان بچے کو دودھ پلانے کا ذکر اس مناسبت سے آیا ہے کہ بعض اوقات یہ مسئلہ ماں باپ کے درمیان جھگڑے کاسبب بن جاتا ہے، لیکن جو احکام یہاں بیان کئے گئے ہیں وہ طلاق کی صورت کے ساتھ مخصوص نہیں ہیں، بلکہ تمام حالات کے لئے ہیں، پہلی بات تو اس میں یہ واضح کی گئی ہے کہ دودھ زیادہ سے زیادہ دوسال تک پلایا جا سکتا ہے، اس کے بعد ماں کا دودھ چھڑانا ہو گا، دوسری بات یہ بتائی گئی ہے کہ اگر ماں باپ بچے کی مصلحت سمجھیں تو پہلے بھی دودھ چھڑا سکتے ہیں، دوسال پورے کرنا شرعاً واجب نہیں ہے، تیسری بات یہ کہ دودھ پلانے والی ماں کا خرچ اس کے شوہر یعنی بچے کے باپ پر واجب ہے، اگر نکاح قائم ہو تب تو یہ خرچ نکاح کی وجہ سے واجب ہے اور اگر طلاق ہو گئی تو عدت کے دوران دودھ پلانا مطلقہ ماں پر واجب ہے اور اس دوران اس کا نفقہ طلاق دینے والے شوہر پر ہے، عدت کے بعد نفقہ تو ختم ہو جائے گا،  لیکن مطلقہ عدت کے بعد دودھ پلانے کی اجرت کا مطالبہ کرسکتی ہے۔

(توضیح القرآن)

 

اور کسی کو تکلیف نہیں  دی جاتی مگر اس کی وسعت (برداشت) کے مطابق، ماں کو نقصان نہ پہنچایا جائے اس کے بچہ کے سبب اور نہ باپ کو اس کے بچہ کے سبب، اور وارث پر بھی ایسا ہی (واجب) ہے پھر اگر وہ دونوں دودھ چھڑانا چاہیں آپس کی رضا مندی اور مشورہ سے تو دونوں پر کوئی گناہ نہیں اور اگر تم چاہو کہ اپنی اولاد کو دودھ پلاؤ تو تم پر کوئی گناہ نہیں جب تم دستور کے مطابق (ان کے ) حوالے کر دو جو تم نے ٹھہرایا تھا اور اللہ سے ڈرو اور جان لو کہ اللہ جو کچھ تم کرتے ہو اسے دیکھنے والا ہے (۲۳۳)

تشریح:ماں اگر کسی معقول عذر کی وجہ سے دودھ نہ پلائے تو اسے مجبور نہ کیا جائے، دوسری طرف اگر بچہ ماں کے سوا کسی اور کا دودھ نہ لیتا ہو تو ماں کے لئے انکار جائز نہیں، کیونکہ اس صورت میں یہ انکار باپ کو بلا وجہ ستانے کی مرادف ہے۔

اگر کسی بچہ کا باپ زندہ نہ ہو تو دودھ پلانے کے سلسلے میں جو ذمہ داری باپ کی ہے وہ بچے کے وارثوں پر عائد ہو گی، یعنی جو لوگ بچے کے مرنے کی صورت میں اس کے ترکے کے حق دار ہوں گے انہی پر یہ بھی واجب ہے کہ وہ اس بچے کو دودھ پلانے اور اس کا خرچ برداشت کرنے کی ذمہ داری اٹھائیں۔

(توضیح القرآن)

 

اور تم میں سے جو لوگ وفات پا جائیں اور چھوڑ جائیں بیویاں وہ (بیوائیں ) اپنے کو انتظار میں رکھیں چار ماہ دس دن، پھر جب وہ اپنی مدت کو پہنچ جائیں (عدت پوری کر لیں ) تو اس میں تم پر کوئی گناہ نہیں جو وہ اپنے حق میں کریں دستور کے مطابق اور تم جو کچھ کرتے ہو اللہ اس سے باخبر ہے (۲۳۴)

تشریح:پہلے گزر چکا ہے کہ طلاق کی عدت میں تین حیض انتظار کرے، اب فرمایا کہ موت کی عدت میں چار مہینے دس دن انتظار کرے، سو اس مدت میں اگر معلوم ہو گیا کہ عورت کو حمل نہیں تو نکاح کی مختلف ہو گی ورنہ وضع حمل کے بعد مختلف ہو گی، اس کی تشریح سورۂ طلاق میں آئے گی، حقیقت میں تین حیض یا چار مہینے دس دن حمل کے انتظار اور اس کے دریافت کرنے کے لئے مقرر فرمائے۔

جب بیوہ عورتیں اپنی عدت پوری کر لیں یعنی غیر حاملہ چار ماہ دس روز اور حاملہ مدت حمل تو ان کو دستور شریعت کے موافق نکاح کر لینے میں کچھ گناہ نہیں اور زینت اور خوشبو سب حلال ہیں۔

(تفسیرعثمانی)

 

اور تم پر اس میں کوئی گناہ نہیں کہ تم عورتوں کو اشارہ  کنایہ میں نکاح کا پیغام دو، یا چھپاؤ اپنے دلوں میں، اللہ جانتا ہے تم جلد ان سے ذکر کر دو گے،   لیکن ان سے چھپ کر (نکاح کا) وعدہ نہ کرو مگر یہ کہ تم دستور کے مطابق بات کرو، اور نکاح کی گرہ باندھنے کا ارادہ نہ کرو یہاں تک  کہ عدت اپنی مدت کو پہنچ جائے اور جان لو کہ جو کچھ تمہارے دلوں میں ہے اللہ جانتا ہے سو تم اس سے ڈرو اور جان لو کہ اللہ بخشنے والا تحمل والا ہے (۲۳۵)

تشریح:جو عورت عدت گزار رہی ہو اس کو صاف لفظوں میں نکاح کا پیغام دینا اور یہ بات پکی کر لینا جائز نہیں ہے کہ عدت کے بعد تم مجھ سے نکاح کرو گی، البتہ اس آیت نے کوئی مناسب اشارہ دینے کی مختلف دی ہے، جس سے وہ عورت سمجھ جائے کہ اس شخص کا ارادہ عدت کے بعد پیغام دینے کا ہے، مثلاً کوئی اتنا کہلوا دے کہ میں بھی کسی مناسب رشتے کی تلاش میں ہوں۔

(توضیح القرآن)

 

تم پر کوئی گناہ نہیں اگر تم عورتوں کو طلاق دو جبکہ تم نے انہیں ہاتھ نہ لگا یا ہو، یا ان کے لئے مہر مقرر نہ کیا ہو، اور انہیں خرچ دو خوشحال پر اس کی حیثیت کے مطابق اور تنگدست پر اس کی اس کی حیثیت کے مطابق، خرچ دستور کے مطابق (دینا) نیکو کاروں پر لازم ہے (۲۳۶)

اور اگر تم انہیں طلاق دو اس سے پہلے کہ تم نے انہیں ہاتھ لگایا ہو اور ان کے لئے تم مہر مقرر کر چکے ہو تو اس کا نصف (دے دو) جو تم نے مقرر کیا، سوائے اس کے کہ وہ معاف کر دیں، یا وہ (وارث) معاف کر دے جس کے ہاتھ میں عقدۂ نکاح ہے اور اگر تم معاف کر دو تو یہ پرہیز گاری کے قریب تر ہے اور باہم احسان کرنا نہ بھولو بیشک جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اسے دیکھنے والا ہے (۲۳۷)

تشریح:یہ وہ صورت ہے جس میں دونوں مرد و عورت نے نکاح کے وقت کوئی مہر مقرر نہیں کیا تھا اور پھر دونوں کے درمیان خلوت کی نوبت آنے سے پہلے ہی طلاق ہو گئی، اس صورت میں شوہر پر مہر واجب نہیں ہوتا، لیکن کم از کم ایک جوڑا کپڑا دینا واجب ہے، اور کچھ مزید تحفہ دے دے تو زیادہ بہتر ہے (اس تحفہ کو اصطلاح میں متعہ کہا جاتا ہے )اور اگر نکاح کے وقت مہر کی مقدار طے کر لی گئی تھی، پھر خلوت سے پہلے ہی طلاق ہو گئی تواس صورت میں آدھا مہر واجب ہو گا۔

(توضیح القرآن)

 

تم نمازوں کی حفاظت کرو (خصوصاً) درمیانی  نماز کی، اور اللہ کے لئے فرمانبردار (بن کر ) کھڑے رہو(۲۳۸)

تشریح:آیت نمبر:۱۵۳ سے اسلامی عقائد اور احکام کا جو بیان شروع ہوا تھا وہ اب ختم ہو رہا ہے، آیت نمبر:۱۵۳ میں یہ بیان نماز کی تاکید سے شروع ہوا تھا اب آخر میں دوبارہ نماز کی یہ اہمیت بیان کی جا رہی ہے کہ جنگ کے شدید حالات میں بھی امکان کی آخری حد تک اس کا خیال رکھنا ضروری ہے، بیچ  کی نماز سے مراد عصر کی نماز ہے، اس کا خاص طور پر اس لئے ذکر کیا گیا ہے کہ عام طور سے اس وقت لوگ اپنا کاروبار سمیٹنے میں مشغول ہوتے ہیں اور اس مشغولیت میں بے پروائی ہونے کا امکان زیادہ ہے۔

 

پھر اگر تمہیں ڈر ہو تو پیادہ پا یا سوار (ادا کرو) پھر جب امن پاؤ تو اللہ کو یاد کرو جیسا کہ اس نے تمہیں سکھایا ہے جو تم نہ جانتے تھے (۲۳۹)

تشریح:جنگ کی حالت میں جب باقاعدہ نماز پڑھنے کا موقع نہ ہو اس بات کی مختلف ہے کہ انسان کھڑے کھڑے اشارے سے نماز پڑھ لے البتہ چلتے ہوئے پڑھنا جائز نہیں اگر کھڑا ہونے کا بھی موقع نہ ہو تو نماز قضا کرنا بھی جائز ہے۔

(توضیح القرآن)

 

اور جو لوگ تم میں سے وفات پا جائیں اور بیویاں چھوڑ جائیں تو اپنی بیویوں کے لئے ایک سال تک نان نفقہ کی وصیت کریں نکالے بغیر، پھر اگر وہ خود نکل جائیں تو تم پر کوئی گناہ نہیں جو وہ اپنے تئیں دستور کے مطابق کریں اور اللہ غالب حکمت والا ہے (۲۴۰)

تشریح:آخر میں طلاق کے جو مسائل چل رہے تھے ان کا ایک تکملہ ضمنی طور پر بیان ہوا ہے جو مطلقہ عورتوں کے حقوق سے متعلق ہے، زمانۂ جاہلیت میں بیوہ عورت کی عدت ایک سال ہوتی تھی،  لیکن اسلام نے پیچھے آیت نمبر: ۲۳۴ میں عدت کی مدت گھٹا کر چار مہینے دس دن مقرر کر دی، جس وقت زیر نظر آیت نازل ہوئی ہے اس وقت تک میراث کے احکام نہیں آئے تھے اور جیسا کے اوپر آیت نمبر: ۱۸۰ میں گزرا لوگوں پر یہ واجب تھا کہ وہ اپنے رشتہ داروں کے حق میں وصیت کیا کریں کہ ان کے ترکے سے کس کو کتنا دیا جائے، لہذا اس آیت میں اسی اصول کے تحت یہ حکم دیا گیا ہے کہ اگرچہ بیوہ کی عدت چار مہینے دس دن ہے، لیکن اس کے شوہر کو چاہئے کہ وہ اپنی بیوی کے حق میں یہ وصیت کر جائے کہ اسے سال بھر تک اس کے ترکے سے نفقہ بھی دیا جائے اور اس کے گھر میں رہائش بھی فراہم کی جائے، البتہ وہ خود اپنا یہ حق چھوڑ دے اور چار مہینے دس دن کے بعد شوہر کے گھر سے چلی جائے تو کچھ حرج نہیں، ہاں چار مہینے دس دن سے پہلے اس کے لئے بھی شوہر کے گھر سے نکلنا جائز نہیں ہے، اگلے جملے میں جو کہا گیا ہے کہ ہاں اگر وہ خود نکل جائیں تو اپنے حق میں قاعدے کے مطابق وہ جو کچھ بھی کریں اس میں تم پر کوئی گناہ نہیں ہو گا، اس میں قاعدے سے مراد یہی ہے کہ وہ عدت پوری کرنے کے بعد نکلیں، پہلے نہیں، لیکن یہ سارا حکم میراث کے احکام آنے سے پہلے تھا، جب سورۂ نساء میں میراث کے احکام آ گئے اور بیوی کا حصہ ترکے میں مقرر کر دیا گیا توسال بھر کے نفقے اور رہائش کا یہ حق ختم ہو گیا۔

 

اور مطلقہ عورتوں کے لئے دستور کے مطابق نان نفقہ لازم ہے پرہیز گاروں پر(۲۴۱)

اسی طرح تمہارے لئے اللہ اپنے احکام واضح کرتا ہے تا کہ تم سمجھو(۲۴۲)

تشریح:مطلقہ عورتوں کو فائدہ پہنچانے کا لفظ بڑا عام ہے اس میں عدت کے دوران کا نفقہ بھی داخل ہے اور اگر ابھی مہر نہ دیا گیا ہو تو وہ بھی داخل ہے نیز اوپر آیت نمبر:۲۳۶ میں جس تحفے کا ذکر ہے وہ بھی اس میں شامل ہے۔ یہ تحفہ اس صورت میں بھی مستحب ہے کہ مطلقہ عورت کو مہر کے علاوہ یہ تحفہ بھی دیا جائے ان تمام احکام سے یہ بات واضح ہو رہی ہے کہ اول تو طلاق کوئی پسندیدہ چیز نہیں ہے اور اس کا اقدام اسی وقت کرنا چاہئے جب کوئی اور صورت باقی نہ رہی ہو، دوسرے جب یہ اقدام کیا جائے تو نکاح کے تعلق کا اختتام بھی شرافت فراخ دلی اور احترام سے خوشگوار ماحول میں ہونا چاہئے، دشمنی کے ماحول میں نہیں۔

(توضیح القرآن)

 

کیا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا ؟ جو اپنے گھروں سے نکلے موت کے ڈر سے، اور وہ ہزاروں تھے سو اللہ نے انہیں کہا کہ تم مر جاؤ، پھر انہیں زندہ کیا بیشک اللہ فضل والا ہے لوگوں پر، لیکن اکثر لوگ شکر ادا نہیں کرتے (۲۴۳)

اور تم اللہ کے راستہ میں لڑو اور جان لو کہ اللہ سننے والا اور جاننے والا ہے (۲۴۴)

تشریح:یہاں سے آیت نمبر: ۲۶۰ تک دو مضمون ایک ساتھ بیان ہوئے ہیں، بنیادی مقصد جہاد کی ترغیب دینا ہے لیکن بعض منافقین اور کمزور طبیعت کے لوگ جہاد میں جانے سے اس لئے کتراتے تھے کہ انہیں موت کا خوف تھا، اس لئے دوسرا مضمون ساتھ ساتھ بیان ہوا ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ موت اور زندگی اللہ تعالی کے ہاتھ میں ہے وہ چاہے تو جنگ کے بغیر بھی موت دے دے اور چاہے تو شدید جنگ کے درمیان بھی انسانوں کی حفاظت کر لے،  بلکہ اس کی قدرت میں یہ بھی ہے کہ وہ مرنے کے بعد بھی انسانوں کو زندہ کر دے، اس قدرت کا عمومی مظاہرہ تو آخرت میں ہو گا لیکن اللہ تعالی نے اس دنیا میں بھی چند ایسے نمونے دنیا کو دکھا دئیے ہیں جن میں بعض لوگوں کو مرنے کے بعد بھی زندہ کیا گیا ہے، اس کی ایک مثال اس آیت ۲۴۳ میں دی گئی ہے، ایک اشارہ آیت نمبر: ۲۵۳ میں حضرت عیسی علیہ السلام کی طرف کیا گیا ہے جن کے ہاتھوں اللہ تعالی نے کئے مردوں کو زندہ کیا تیسرا حوالہ حضرت ابراہیم علیہ السلام اور نمرود کے مکالمے (آیت نمبر:۲۵۸)میں اللہ تعالی کے موت اور زندگی دینے سے متعلق ہے، چوتھا واقعہ آیت نمبر:۲۵۹ میں حضرت عزیر علیہ السلام کا بیان فرمایا گیا ہے اور اس سے اگلی آیت (نمبر۲۶۰)میں پانچواں واقعہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کا ہے جس میں انہوں نے اللہ تعالی سے عرض کیا تھا کہ اللہ تعالی مردوں کو کیسے زندہ کرتے ہیں۔

(توضیح القرآن)

 

کون ہے جو اللہ کو قرض دے اچھا قرض، پھر وہ اسے کئی گنا زیادہ بڑھا دے، اللہ تنگی (بھی) دیتا ہے اور فراخی(بھی) دیتا ہے اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے۔ (۲۴۵)

تشریح:اللہ کو قرض دینے سے مراد اللہ تعالی کے راستے میں خرچ کرنا ہے، اس میں غریبوں کی امداد بھی داخل ہے اور جہاد کے مقاصد میں خرچ کرنا بھی ہے، اسے قرض مجازاً کہا گیا ہے،  کیونکہ اس کا بدلہ ثواب کی صورت میں دیا جائے گا، اور اچھے طریقے کا مطلب یہ ہے کہ اخلاص کے ساتھ اللہ تعالی کو راضی کرنے کے لئے دیا جائے، دکھاوا یا دنیا میں بدلہ لینا مقصود نہ ہو، اور اگر جہاد کے لئے یا کسی غریب کی مدد کے طور پر قرض ہی دیا جائے تو اس پر کسی سود کا مطالبہ نہ ہو، کفار اپنی جنگی ضروریات کے لئے سود پر قرض لیتے تھے، مسلمانوں کو تاکید کی گئی ہے کہ اگرچہ دنیا میں تو انہیں سود نہیں ملے گا،  لیکن آخرت میں اللہ تعالی اس کا ثواب اصل سے بدرجہا زیادہ عطا فرمائیں گے، جہاں تک اس خطرے کا تعلق ہے کہ اس طرح خرچ کرنے سے مال میں کمی ہو جائے گی، اس کے جواب میں فرمایا گیا ہے کہ تنگی اور وسعت اللہ ہی کے قبضے میں ہیں، جو شخص اللہ کے دین کے خاطر اپنا مال خرچ کرے گا اللہ تعالی اس کو تنگی پیش آنے نہیں دیں گے بشرطیکہ وہ اللہ کے حکم کے مطابق خرچ کرے۔

(توضیح القرآن)

 

کیا تم نے بنی اسرائیل کی ایک جماعت کی طرف نہیں دیکھا ؟ موسی کے بعد جب انہوں نے اپنے نبی سے کہا ہمارے لئے ایک بادشاہ مقرر کر دیں تاکہ ہم لڑیں اللہ کے راستہ میں، اس نے کہا ہو سکتا ہے، کہ اگر تم پر جنگ فرض کی جائے تو تم نہ لڑو، وہ کہنے لگے اور ہمیں کیا ہوا کہ ہم اللہ کی راہ میں نہ لڑیں گے، اور البتہ ہم اپنے گھروں سے اور اپنی آل اولاد سے نکالے گئے ہیں، پھر جب ان پر جنگ فرض کی گئی تو ان میں سے چند ایک کے سوا(سب) پھر گئے، اور اللہ ظالموں کو جاننے والا ہے (۲۴۶)

تشریح:یہاں نبی سے مراد حضرت سموئیل علیہ السلام ہیں جو حضرت موسی علیہ السلام کے تقریباً ساڑھے تین سو سال بعد پیغمبر بنائے گئے تھے، سورۂ مائدہ(۵:۲۴)میں مذکور ہے کہ فرعون سے نجات پانے کے بعد حضرت موسی علیہ السلام نے بنی اسرائیل کو ان عمالقہ سے جہاد کرنے کی دعوت دی تھی جو بنی اسرائیل کے وطن فلسطین پر قابض ہو گئے تھے مگر بنی اسرائیل نے انکار کر دیا، جس کی سزاء میں انہیں صحرائے سینا میں محصور کر دیا گیا اور اسی حالت میں حضرت موسی علیہ السلام کی وفات ہو گئی، بعد میں حضرت یوشع علیہ السلام کی قیادت میں فلسطین کا ایک بڑا علاقہ فتح ہوا، حضرت یوشع علیہ السلام آخر عمر تک ان کی نگرانی کرتے رہے اور ان کے معاملات کے تصفیے کے لئے قاضی مقرر کئے، تقریباً تین سو سال تک نظام اسی طرح چلتا رہا کہ بنی اسرائیل کا کوئی بادشاہ یا حکمران نہیں بلکہ قبیلوں کے سردار حضرت یوشع علیہ السلام کے مقرر کئے ہوئے نظام کے تحت قاضی ہوا کرتے تھے، اسی لئے اس دور کو قاضیوں کا زمانہ کہا جاتا تھا، بائبل کی کتاب قضاۃ میں اسی زمانہ کی تاریخ بیان کی گئی ہے، چونکہ اس دور میں پوری قوم کا کوئی متفقہ حکمران نہیں تھا، اس لئے آس پاس کی قومیں ان پر حملہ آور ہوتی تھیں، آخر میں فلسطین کی بت پرست قوم نے ان پر حملہ کر کے انہیں سخت شکست دی اور وہ متبرک صندوق بھی اٹھا کر لے گئے جس میں حضرت موسی اور حضرت ہارون علیہما السلام کی کچھ یادگاریں، تورات کا نسخہ اور آسمانی غذا ‘‘من’’ کا مرتبان محفوظ تھا اور جسے بنی اسرائیل تبرک کے لئے جنگوں کے موقع پر آگے رکھا کرتے تھے، حالات کے اس پس منظر میں ایک قاضی حضرت سموئیل علیہ السلام کو نبوت کا منصب عطا ہوا، ان کے دور میں بھی فلسطینیوں کا ظلم وستم جاری رہا تو بنی اسرائیل نے ان سے درخواست کی کہ ان پر کوئی بادشاہ مقرر کر دیا جائے، اس کے نتیجے میں طالوت کو بادشاہ بنایا گیا جس کا واقعہ یہاں سے مذکور ہے، بائبل میں دو کتابیں حضرت سموئیل علیہ السلام کی طرف منسوب ہیں ان میں سے پہلی کتاب میں بنی اسرائیل کی طرف سے بادشاہ مقرر کرنے کی فرمائش بھی ذکر کی گئی ہے، مگر بادشاہ کا نام طالوت کے بجائے ساؤل مذکور ہے نیز بعض تفصیلات میں فرق بھی ہے۔

(توضیح القرآن)

 

اور کہا انہیں ان کے نبی نے بیشک اللہ نے تمہارے لئے طالوت کو بادشاہ مقرر کر دیا وہ بولے کیسے ہم پر اس کی بادشاہت ہو سکتی ہے ؟ ہم اس سے زیادہ بادشاہت کے حق دار ہیں اور اسے وسعت نہیں دی گئی مال سے، اس نے کہا بیشک اللہ نے اسے تم پر چن لیا ہے اور اسے زیادہ وسعت دی ہے علم اور جسم میں اور اللہ جسے چاہتا ہے اپنا ملک دیتا ہے، اور اللہ وسعت والا جاننے والا ہے (۲۴۷)

اور انہیں ان کے نبی نے کہا بیشک اس کی حکومت کی نشانی یہ ہے کہ تمہارے پاس تابوت آئے گا اس میں تمہارے رب کی طرف سے سامان تسکین ہو گا اور بچی ہوئی چیزیں جو آل موسی اور آل ہارون نے چھوڑی تھیں اسے فرشتے اٹھا لائیں گے، بیشک اس میں تمہارے لئے نشانی ہے اگر تم ایمان والے ہو(۲۴۸)

تشریح:جب بنی اسرائیل نے طالوت کو بادشاہ ماننے سے انکار کیا اور ان کے بادشاہ مقرر ہونے پر کوئی نشانی طلب کی تو اللہ تعالی نے حضرت سموئیل علیہ السلام سے کہلوایا کہ ان کے منجانب اللہ ہونے کی نشانی یہ ہو گی کہ اشدودی قوم کے لوگ جو متبرک صندوق اٹھا کر لے گئے تھے ان کے زمانے میں، اللہ کے فرشتے وہ صندوق تمہارے پاس اٹھا کر لے آئیں گے، اسرائیلی روایات کے مطابق اللہ کا کرنا ایسا ہوا کہ اشدودیوں نے وہ صندوق ایک مندر میں لے جا کر رکھا مگر اس کے بعد وہ طرح طرح کی مصیبتوں سے دوچار ہونا شروع ہو گئے، کبھی ان کے بت اوندھے پڑے ہوئے ملتے، کبھی گلٹیوں کی وبا پھیل جاتی، کبھی چوہوں کی کثرت پریشان کرتی، آخر کار ان کے نجومیوں نے انہیں یہ مشورہ دیا کہ یہ ساری آفتیں اس صندوق کی وجہ سے ہیں،  چنانچہ انہوں نے وہ صندوق بیل گاڑیوں پر رکھ کر انہیں شہر سے باہر ہنکا دیا، بائبل میں فرشتوں کے صندوق لانے کا ذکر نہیں ہے، مگر قرآن کریم نے صاف کہا ہے کہ اسے فرشتے لے کر آئیں گے، اگر بائبل کی یہ روایت درست مانی جائے کہ ان لوگوں نے خود صندوق کو باہر نکال دیا تھا تو ممکن ہے کہ بیل گاڑیوں نے اسے شہر سے باہر چھوڑ دیا ہو اور وہاں سے اسے فرشتے اٹھا کر بنی اسرائیل کے پاس لے آئے ہوں اور یہ بھی ممکن ہے کہ بیل گاڑیوں پر ہنکانے کا قصہ ہی غلط ہو اور فرشتے اسے براہ راست اٹھا لائے ہوں، واللہ اعلم۔

(توضیح القرآن)

 

پھر جب طالوت لشکر کے ساتھ باہر نکلا، اس نے کہا بیشک اللہ ایک نہر سے تمہاری آزمائش کرنے والا ہے، پس جس نے اس سے (پانی) پی لیا وہ مجھ سے نہیں، اور جس نے اسے نہ چکھا وہ بیشک مجھ سے ہے، سوائے اس کے جو اپنے ہاتھ سے ایک چلو بھر لے، پھر چند ایک کے سوا انہوں نے اسے پی لیا، پس جب وہ (طالوت) اور جو اس کے ساتھ ایمان لائے تھے اس کے پار ہوئے انہوں نے کہا آج ہمیں طاقت نہیں جالوت اور اس کے لشکر کے ساتھ (مقابلہ کی)، جو لوگ یقین رکھتے تھے کہ وہ اللہ سے ملنے والے ہیں انہوں نے کہا، بارہا چھوٹی جماعتیں غالب ہوئی ہیں اللہ کے حکم سے بڑی جماعتوں پر، اور اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے (۲۴۹)

تشریح:یہ دریائے اردن تھا اور یہ امتحان بظاہر یہ دیکھنے کے لئے لیا گیا تھا کہ لشکر کے کتنے لوگ ہیں جو اپنے امیر کی اطاعت کا ایسا جذبہ رکھتے ہیں کہ اس پر اپنی خواہشات کو بھی قربان کر دیں کیونکہ اس طرح کی جنگ میں ایسی مضبوط اطاعت کے بغیر کام نہیں چلتا۔

(توضیح القرآن)

 

اور جب جالوت اور اس کے لشکر کے آمنے سامنے ہوئے تو انہوں نے کہا اے ہمارے رب ! ہمارے (دلوں میں) صبر ڈال دے اور ہمارے قدم جما دے اور ہماری مدد کر قوم کافروں پر(۲۵۰)

پھر انہوں نے اللہ کے حکم سے انہیں شکست دی اور داؤد نے جالوت کو قتل کیا اور اللہ نے اسے ملک اور حکمت عطا کی اور اسے سکھائی جو چاہا اور اگر اللہ نہ ہٹاتا بعض لوگوں کو بعض لوگوں کے ذریعہ، تو زمین ضرور تباہ ہو جاتی اور لیکن اللہ تمام جہانوں پر فضل والا ہے (۲۵۱)

تشریح:جالوت دشمن کی فوج کا بڑا قوی ہیکل پہلوان تھا، سموئیل(علیہ السلام)کے نام پر جو پہلی کتاب بائبل میں ہے اس میں مذکور ہے کہ وہ کئی روز تک بنی اسرائیل کو چیلنج دیتا رہا کہ کوئی اس کے مقابلے کے لئے آئے، مگر کسی کو ا س سے دوبدو لڑنے کی جرأت نہ ہوئی، داؤد علیہ السلام اس وقت نوعمر نوجوان تھے، ان کے تین بھائی جنگ میں شریک تھے، مگر وہ چونکہ سب سے چھوٹے تھے اس لئے اپنے بوڑھے والد کی خدمت کے لئے ان کے پاس رہ گئے تھے، جب میدان جنگ شروع ہوئے کئی دن گزر گئے تو ان کے والد نے انہیں اپنے تین بھائیوں کی خبر لینے کے لئے میدان جنگ بھیجا، یہ وہاں پہنچے تو دیکھا کہ جالوت مسلسل چیلنج دے رہا ہے اور کوئی اس سے لڑنے کے لئے آگے نہیں بڑھ رہا ہے، تو انہیں غیرت آئی اور انہوں نے طالوت سے مختلف مانگی کہ وہ جالوت کے مقابلے کے لئے جانا چاہتے ہیں، ان کی نوعمری کے پیش نظر شروع میں طالوت اور دوسرے لوگوں کو بھی تردد ہوا، لیکن ان کے اصرار پر انہیں مختلف مل گئی، انہوں نے جالوت کے سامنے جا کر اللہ کا نام لیا اور ایک پتھر اس کی پیشانی پر مارا جو اس کے سر میں گھس گیا اور وہ زمین پر گر پڑا، یہ اس کے پاس گئے اور خود اسی کی تلوار لے کر اس کا سر قلم کر دیا، (۱۔ سموئیل، باب۱۷)یہاں تک بائبل اور قرآن کریم کے بیان میں کوئی تعارض نہیں ہے،  لیکن اس کے بعد بائبل میں یہ کہا گیا ہے کہ طالوت (یا ساؤل)کو حضرت داؤد علیہ السلام کی مقبولیت سے حسد ہو گیا تھا، چنانچہ بائبل میں ان کے خلاف بہت سی ناقابل یقین باتیں ذکر کی گئی ہیں، بظاہر یہ داستانیں ان بنی اسرائیل کی کاروائی ہے جو شروع سے طالوت کے مخالف تھے، قرآن کریم نے جن الفاظ میں طالوت کی تعریف کی ہے ان میں حسد جیسی بیماری کی گنجائش نہیں ہے، بہر حال حضرت داؤد علیہ السلام کے اس کارنامے نے انہیں ایسی مقبولیت عطا کی کہ بعد میں وہ بنی اسرائیل کے بادشاہ بھی بنے اور اللہ تعالی نے انہیں نبوت سے بھی سرفراز فرمایا اور ان کے ذریعے پہلی بار ایسا ہوا کہ نبوت اور بادشاہت ایک ہی ذات میں جمع ہوئیں۔

(توضیح القرآن)

 

یہ اللہ کے احکام ہیں ہم وہ آپ کو ٹھیک ٹھیک سناتے ہیں اور بے شک آپ ضرور رسولوں میں سے ہیں (۲۵۲)

تشریح:طالوت بادشاہ کا واقعہ بیان کرنے کے بعد اللہ تعالی نے اس طرف توجہ دلائی ہے کہ آنحضرتﷺ کی زبان مبارک پر ان آیات کا جاری ہونا آپ کے رسول ہونے کی دلیل ہے اس لئے آپ کے پاس ان واقعات کو جاننے کا وحی کے سوا کوئی ذریعہ نہیں ہے، اور ٹھیک ٹھیک کے الفاظ سے شاید اس طرف اشارہ مقصود ہے کہ اہل کتاب نے ان واقعات کو بیان کرنے میں کہیں مبالغے سے کام لیا ہے اور کہیں من گھڑت قصے مشہور کر دئے ہیں قرآن کریم ان میں سے صرف صحیح باتیں بیان کرتا ہے۔

(توضیح القرآن)

 

یہ رسول ہیں، ہم نے ان میں سے بعض کو بعض پر فضیلت دی۔ ان میں (بعض) سے اللہ نے کلام کیا اور ان میں سے بعض کے درجے بلند کیے، اور ہم نے مریم کے بیٹے عیسیٰ (علیہ السلام) کو کھُلی نشانیاں دیں اور ہم نے روح القدس سے اس کی تائید کی، اور اگر اللہ چاہتا تو وہ باہم نہ لڑتے جو ان کے بعد ہوئے، اس کے بعد جب کہ ان کے پاس کھلی نشانیاں آ گئیں، لیکن انہوں نے اختلاف کیا، پھر ان میں سے کوئی ایمان لایا، اور ان میں سے کسی نے کفر کیا، اور اگر اللہ چاہتا تو باہم نہ لڑتے، لیکن اللہ جو چاہتا ہے کرتا ہے (۲۵۳)

تشریح:ِتلْکَ الرُّسُلُ فَضَّلْنَا:مطلب یہ ہے کہ تھوڑی بہت فضیلت تو مختلف انبیاء کرامؑ کو ایک دوسرے پر دی گئی ہے،  لیکن بعض انبیاء کرامؑ کو دوسروں پر بدرجہا زیادہ فضیلت حاصل ہے اور یہ نبی کریمﷺ کی طرف ایک لطیف اشارہ ہے۔

(توضیح القرآن)

 

وَلَوْ شَاءَ اللّٰهُ :قرآن کریم نے بہت سے مقامات پر یہ حقیقت بیان فرمائی ہے کہ اللہ تعالی کی قدرت میں یہ تھا کہ وہ تمام انسانوں کو زبردستی ایمان لانے پر مجبور کر دیتا اور اس صورت میں سب کا دین ایک ہی ہو جاتا اور کوئی اختلاف پیدا نہ ہوتا، لیکن اس سے وہ سارا نظام تلپٹ ہو جاتا جس کے لئے یہ دنیا بنائی گئی ہے اور انسان کو اس میں بھیجا گیا ہے، انسان کو یہاں بھیجنے کا مقصد اس کا یہ امتحان لینا ہے کہ اللہ کے بھیجے ہوئے پیغمبروں سے ہدایت کا راستہ معلوم کرنے کے بعد کون ہے جو اس ہدایت پر اپنی مرضی سے چلتا ہے اور کون ہے جو اس کو نظر انداز کر کے اپنی من گھڑت خواہشات کو اپنا رہنما بناتا ہے، اس لئے اللہ نے زبردستی لوگوں کو ایمان پر مجبور نہیں کیا،  چنانچہ آگے آیت نمبر:۲۵۶ میں صراحت کے ساتھ یہ بات کہہ دی گئی ہے کہ دین میں کوئی زبردستی نہیں ہے، حق کے دلائل واضح کر دئے گئے ہیں، اس کے بعد جو کوئی حق کو اختیار کرے گا وہ اپنے ہی فائدے کے لئے ایسا کرے گا اور جو شخص اسے نظر انداز کر کے شیطان کے سکھائے ہوئے راستے پر چلے گا وہ اپنا نقصان کرے گا۔

(توضیح القرآن)

 

اے ایمان والو! جو ہم نے تمہیں دیا ہے اس میں سے خرچ کرو، اس سے پہلے کہ وہ دن آ جائے جس میں نہ خرید و فروخت ہو گی، نہ دوستی اور نہ سفارش، اور کافر، وہی ظالم ہیں (۲۵۴)

تشریح:انفاق مال کا حکم:اس سورت میں عبادات و معاملات کے متعلق احکام بیان فرمائے جن سب کی تعمیل نفس کو ناگوار اور بھاری ہے اور تمام اعمال میں زیادہ دشوار انسان کو جان اور مال کا خرچ کرنا ہوتا ہے اور احکام الہی اکثر جو دیکھے جاتے ہیں یا جان کے متعلق ہیں یا مال کے، اور گناہ میں بندہ کو جان یا مال کی محبت اور رعایت ہی اکثر مبتلا کرتی ہے، گویا ان دونوں کی محبت گناہوں کی جڑ اور اس سے نجات جملہ طاعات کی سہولت کا منشاء ہے، اس لئے ان احکامات کو بیان فرما کر قتال اور انفاق کو بیان فرمانا مناسب ہوا۔

(تفسیر عثمانی و معارف القرآن)

 

وَالْکَافِرُوْنَ هُمُ الظَّالِمُوْنَ:یعنی کفار نے اپنے اوپر ظلم کیا جس کی شامت سے ایسے ہو گئے کے آخرت میں نہ کسی کی دوستی سے ان کو نفع ہوسکے اور نہ سفارش سے۔

(تفسیر عثمانی)

 

اللہ ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں، زندہ ہے، سب کو تھامنے والا، نہ اسے اونگھ آتی ہے اور نہ ہی نیند۔ اسی کا ہے جو آسمانوں اور زمین میں ہے، کون ہے جو سفارش کرے اس کے پاس کی مختلف کے بغیر، وہ جانتا ہے جو ان کے سامنے ہے اور جو ان کے پیچھے ہے اور وہ نہیں احاطہ کر سکتے اس کے علم میں سے کسی چیز کا مگر جتنا وہ چاہے، اس کی کرسی سمائے ہوئے ہے آسمانوں اور زمین کو، اس کی حفاظت ان کو نہیں تھکاتی، اور وہ بلند مرتبہ، عظمت والا ہے (۲۵۵)

(آیۃ الکرسی)یہ آیت قرآن کریم کی عظیم ترین آیت ہے، احادیث میں اس کے بڑے فضائل و برکات مذکور ہیں۔

اس آیت میں اللہ جل شانہ کی توحید ذات و صفات کا بیان ایک عجیب و غریب انداز میں بیان کیا گیا ہے کہ جس میں اللہ جل شانہ کا موجود ہونا، زندہ ہونا، سمیع و بصیر ہونا، تغیرات اور تاثرات سے بالاتر ہونا، تمام کائنات کا مالک ہونا، صاحب عظمت و جلال ہونا، کہ اس کے آگے کوئی بغیر اس کی مختلف کے بول نہیں سکتا، ایسی قدرت کاملہ کا مالک ہونا کہ سارے عالم اور اس کی کائنات کو پیدا کرنے، باقی رکھنے اور ان کا نظام محکم قائم رکھنے سے اسے نہ کوئی تھکان پیش آتا ہے، نہ سستی، ایسے علم محیط کا مالک ہونا جس سے کوئی کھلی یا چھپی چیز کا کوئی ذرہ یا قطرہ باہر نہ رہے۔

(معارف القرآن)

 

زبردستی نہیں دین میں، بیشک ہدایت گمراہی سے جدا ہو گئی ہے، پس جو گمراہ کرنے والے کو نہ مانے اور اللہ پر ایمان لائے، پس تحقیق اس نے حلقہ کو مضبوطی سے تھام لیا، ٹوٹنا نہیں اس کو، اور اللہ سننے والا جاننے والا ہے (۲۵۶)

تشریح:جب دلائل توحید بخوبی بیان فرما دی گئیں جس سے کافر کا کوئی عذر باقی نہ رہا تواب زور سے کسی کو مسلمان کرنے کی کیا حاجت ہوسکتی ہے عقل والوں کو خود سمجھ لینا چاہئے، اور نہ شریعت کا یہ حکم ہے کہ زبردستی کسی کو مسلمان بناؤ: أَفَأَنْتَ تُكْرِهُ النَّاسَ حَتّٰى يَكُوْنُوْا مُؤْمِنِيْنَ(یونس:۹۹)خود نص موجود ہے اور جو جزیہ کو قبول کرے گا اس کا جان و مال محفوظ ہو جائے گا۔

(تفسیر عثمانی)

 

جو لوگ ایمان لائے اللہ ان کا مددگار ہے، وہ انہیں نکالتا ہے اندھیروں سے روشنی کی طرف، اور جو لوگ کافر ہوئے ان کے ساتھی گمراہ کرنے والے ہیں، وہ انہیں نکالتے ہیں روشنی سے اندھیروں کی طرف، یہی لوگ دوزخی ہیں، وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے (۲۵۷)

تشریح:اس آیت سے ایمان کا سب سے بڑی نعمت اور کفر کا سب سے بڑی مصیبت ہونا بھی معلوم ہوا اور یہ بھی کہ کافروں کی دوستی میں بھی ظلمت ہے۔

(تفسیر عثمانی)

 

کیا آپ نے اس شخص کی طرف نہیں دیکھا جس نے ابراہیم (علیہ السلام) سے ان کے رب کے بارہ میں جھگڑا کیا کہ اللہ نے اسے بادشاہت دی تھی، جب ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا میرا رب وہ ہے جو زندہ کرتا اور مارتا ہے اس نے کہا میں زندہ کرتا ہوں اور مارتا ہوں، ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا بیشک اللہ سورج کو مشرق سے نکالتا ہے پس تو اسے لے آ مغرب سے تو وہ کافر حیران رہ گیا، اور اللہ نا انصاف لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا(۲۵۸)

تشریح:یہ بابل کا بادشاہ نمرود تھا جو خدائی کا بھی دعوے دار تھا، اس نے جو دعوی کیا کہ میں زندگی اور موت دیتا ہوں اس کا مطلب یہ تھا کہ بادشاہ ہونے کی وجہ سے جس کو چاہوں موت کے گھاٹ اتار دوں اور جس کو چاہوں موت کا مستحق ہونے کے باوجود معاف کر کے آزاد کر دوں، اور اس طرح اسے زندگی دے دوں، ظاہر ہے کہ اس کا جواب قطعی طور پر غیر متعلق تھا، اس لئے کہ گفتگو زندگی اور موت کے اسباب سے نہیں ان کی تخلیق سے ہو رہی تھی،  لیکن حضرت ابراہیم علیہ السلام نے دیکھا کہ وہ یا تو موت اور حیات کی تخلیق کا مطلب ہی نہیں سمجھتا یا کٹ حجتی پر اتر آیا ہے، اس لئے انہوں نے ایک ایسی بات فرمائی جس کا اس کے پاس کوئی جواب نہ تھا، مگر لاجواب ہو کر حق کو قبول کرنے کے بجائے اس نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو قید کیا، پھر آگ میں ڈالنے کا حکم دیا، جس کا ذکر قرآن کریم نے سورہ انبیاء (۶۸تا۷۱)سورۂ عنکبوت(۲۴)اور سورۂ صافات(۹۷)میں فرمایا ہے۔

(توضیح القرآن)

 

یا اس شخص کے مانند جو ایک بستی سے گزرا، اور وہ اپنی چھتوں پر گری پڑی تھی، اس نے کہا اللہ اس کے مرنے کے بعد اسے کیونکر زندہ کرے گا؟ تو اللہ نے اسے ایک سو سال مردہ رکھا پھر اسے اٹھایا (زندہ کیا)، اللہ نے پوچھا، تو کتنی دیر رہا؟ اس نے کہا میں ایک دن یا دن سے کچھ کم رہا، اس نے کہا بلکہ تو ایک سو سال رہا ہے، پس تو اپنے کھانے پینے کی طرف دیکھ، وہ سڑ نہیں گیا، اور اپنے گدھے کی طرف دیکھ، اور ہم تجھے لوگوں کے لئے ایک نشانی بنائیں گے، اور ہڈیوں کی طرف دیکھ ہم انہیں ‌کس طرح جوڑتے ہیں پھر انہیں گوشت پہناتے ہیں، پھر جب اس پر واضح ہو گیا تو اس نے کہا میں جان گیا کہ اللہ ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے (۲۵۹)

تشریح:آیت نمبر:۲۵۹ اور ۲۶۰ میں اللہ تعالی نے دوایسے واقعے ذکر فرمائے ہیں جن میں اس نے اپنے دو خاص بندوں کو اس دنیا ہی میں مردوں کو زندہ کرنے کا مشاہدہ کرایا، پہلے واقعے میں ایک ایسی بستی کا ذکر ہے جو مکمل طور پر تباہ ہو چکی تھی اس کے تمام باشندے مر کھپ چکے تھے اور مکانات چھتوں سمیت گر کر مٹی میں مل گئے تھے ایک صاحب کا وہاں سے گزر ہوا تو انہوں نے دل میں سوچا کہ اللہ تعالی اس ساری بستی کو کس طرح زندہ کرے گا، بظاہر اس سوچ کا منشاء خدانخواستہ کوئی شک کرنا نہیں تھا بلکہ حیرت کا اظہار تھا، اللہ تعالی نے انہیں اپنی قدرت کا مشاہدہ اس طرح کرایا جس کا اس آیت میں ذکر ہے، یہ صاحب کون تھے اور یہ بستی کونسی تھی یہ بات قرآن کریم نے نہیں بتائی، اور کوئی مستند روایت بھی ایسی نہیں ہے جس کے ذریعے یقینی طور پر ان باتوں کا تعین کیا جا سکے۔

(توضیح القرآن)

 

اور جب ابراہیم نے کہا میرے رب! مجھے دکھا دے تو کیونکر مردہ کو زندہ کرتا ہے، اللہ نے کہا کیا تو نے یقین نہیں کیا؟ اس نے کہا کیوں نہیں ؟ بلکہ (چاہتا ہوں ) تاکہ میرے دل کو اطمینان ہو جائے، اس نے کہا پس تو چار پرندے پکڑ لے، پھر ان کو اپنے ساتھ ہلا لے، پھر رکھ ہر پہاڑ پر ان کے ٹکڑے، پھر انہیں بُلا، وہ تیرے پاس دوڑتے ہوئے آئیں گے، اور جان لے کہ اللہ غالب حکمت والا ہے (۲۶۰)

تشریح:اس سوال و جواب کے ذریعے اللہ تعالی نے یہ بات صاف کر دی کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی یہ فرمائش خدانخواستہ کسی شک کی وجہ سے نہیں تھی، انہیں اللہ تعالی کی قدرت کاملہ پر پورا یقین تھا،  لیکن آنکھوں سے دیکھنے کی بات ہی کچھ اور ہوتی ہے، اس سے نہ صرف مزید اطمینان حاصل ہوتا ہے، بلکہ اس کے بعد انسان دوسروں سے یہ کہہ سکتا ہے کہ جو کچھ کہہ رہا ہوں دلائل سے اس کا علم حاصل کرنے کے علاوہ آنکھوں سے دیکھ رہا ہوں۔

(توضیح القرآن)

 

ان لوگوں ‌کی مثال جو خرچ کرتے ہیں اپنے مال اللہ کے راستہ میں، ایک دانہ کے مانند ہے جس سے سات بالیں اگیں، ہر بال میں سو دانے ہوں، اور اللہ جس کے لئے چاہتا ہے بڑھاتا ہے اور اللہ وسعت والا جاننے والا ہے (۲۶۱)

تشریح:اللہ کے راستے میں خرچ کرنے سے سات سوگنا ثواب ملتا ہے اور اللہ تعالی جس کا ثواب چاہیں اور بڑھا سکتے ہیں، واضح رہے کہ اللہ کے راستے میں خرچ کا قرآن کریم نے بار بار ذکر کیا ہے اور اس سے مراد ہر وہ خرچ ہے جو اللہ تعالی کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے کیا جائے اس میں زکوٰۃ صدقات اور خیرات سب داخل ہیں۔

(توضیح القرآن)

 

جو لوگ اپنے مال اللہ کے راستہ میں خرچ کرتے ہیں، پھر نہیں رکھتے خرچ کرنے کے بعد کوئی احسان، نہ کوئی تکلیف (پہنچاتے ہیں ) ان کے لئے ان کے رب کے پاس اجر ہے، نہ کوئی خوف ان پر اور نہ وہ غمگین ہوں گے (۲۶۲)

تشریح:اس آیت میں صدقہ کے قبول ہونے کی دو منفی شرطیں بیان فرمائی گئی ہیں ایک یہ کہ دے کر احسان نہ جتائیں، دوسرے یہ کہ جس کو دیں اس کو عملاً ذلیل و خوار نہ سمجھیں اور کوئی ایسا برتاؤ نہ کریں جس سے وہ اپنی حقارت و ذلت محسوس کرے یا اس کو ایذاء پہنچے۔

(معارف القرآن)

 

اچھی بات کرنا اور درگزر کرنا بہتر ہے اس خیرات سے جس کے بعد ایذا دینا ہو، اور اللہ بے نیاز بُردبار ہے (۲۶۳)

تشریح:مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی سائل کسی سے مانگے اور کسی وجہ سے دے نہ سکتا ہو تو اس سے نرم الفاظ میں معذرت کر لینا اور اگر وہ مانگنے پر ناروا اصرار کرے تواس کی غلطی سے درگزر کرنا اس سے کہیں بہتر ہے کہ انسان دے تو دے مگر بعد میں احسان جتلائے یا اسے ذلیل کر کے تکلیف پہنچائے۔

(توضیح القرآن)

 

اے ایمان والو! اپنے خیرات احسان جتلا کر اور ستا کر ضائع نہ کرو، اس شخص کی طرح جو اپنا مال لوگوں کے دکھلاوے کو خرچ کرتا ہے اور اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان نہیں ‌رکھتا، پس اس کی مثال اس صاف پتھر جیسی ہے جس پر مٹی ہو، پھر اس پر تیز بارش برسے تو اسے چھوڑ دے بالکل صاف، وہ اس پر کچھ قدرت نہیں رکھتے جو انہوں نے کمایا اور اللہ راہ نہیں ‌دکھاتا کافروں کو(۲۶۴)

تشریح:چٹان پر اگر مٹی جمی ہو تو یہ امید ہوسکتی ہے کہ اس پر کوئی چیز کاشت کر لی جائے،  لیکن اگر بارش مٹی کو بہا لے جائے تو چٹان کے چکنے پتھر کاشت کے قابل نہیں رہتے، اسی طرح صدقہ خیرات سے آخرت کے ثواب کی امید ہوتی ہے،  لیکن اگر اس کے ساتھ ریا کاری یا احسان جتانے کی خرابی لگ جائے تو وہ صدقے کو بہا لے جاتی ہے اور ثواب کی کوئی امید نہیں رہتی۔

(توضیح القرآن)

 

اور (ان کی) مثال جو اپنے مال خرچ کرتے ہیں خوشنودی حاصل کرنے کو اللہ کی، اور اپنے دلوں کے ثبات و یقین کو، (ایسی ہے ) جیسے بلندی پر ایک باغ ہے اس پر تیز بارش پڑی تو اس نے دگنا پھل دیا، پھر اگر تیز بارش نہ پڑی تو پھوار (ہی کافی ہے )، اور اللہ جو تم کرتے ہو دیکھنے والا ہے (۲۶۵)

تشریح:تیز بارش سے مراد بہت مال خرچ کرنا اور پھوار سے مراد تھوڑا مال خرچ کرنا اور دلوں کو ثابت کرنے سے مراد یہ ہے کہ ثابت کریں دلوں کو ثواب پانے میں، یعنی ان کو یقین ہے کہ خیرات کا ثواب ضرور ملے گا، سواگر نیت درست ہے تو بہت خرچ کرنے میں بہت ثواب ملے گا اور تھوڑی خیرات میں بھی فائدہ ہو گا، جیسے خالص زمین پر باغ ہے تو جتنا بارش برسے گی اتنا ہی باغ کو فائدہ پہنچے گا۔

(تفسیر عثمانی)

 

کیا تم میں سے کوئی پسند کرتا ہے کہ اس کا ایک باغ ہو کھجور اور انگوروں کا، اس کے نیچے نہریں بہتی ہوں، اس کے لئے اس میں ہر قسم کے پھل ہوں، اور اس پر بڑھاپا آ گیا ہو، اور اس کے بچے بہت کمزور ہوں، تب اس پر ایک بگولا آ پڑا، اس میں آگ تھی تو وہ (باغ) جل گیا، اسی طرح اللہ تمہارے لئے نشانیاں واضح کرتا ہے تا کہ تم غور و فکر کرو(۲۶۶)

یہ مثال ان کی ہے جو لوگوں کو دکھانے کے لئے صدقہ خیرات کرتے ہیں یا خیرات کر کے احسان رکھتے ہیں اور ایذا پہنچاتے ہیں، یعنی جیسے کسی شخص نے جوانی اور قوت کے وقت باغ تیار کیا تاکہ ضعیفی اور بڑھاپے میں اس سے میوہ کھائے اور ضرورت کے وقت کام آئے، پھر جب بڑھاپا آیا اور میوے کی پوری حاجت ہوئی تب وہ باغ عین حالت احتیاج میں جل گیا، یعنی صدقہ مثل باغ میوہ دار کے ہے اس کا میوہ آخرت میں کام آئے، جب کسی کی نیت بری ہے تووہ باغ جل گیا پھر اس کا میوہ جو ثواب ہے کیونکر نصیب ہو، حق سبحانہ اسی طرح کھول کر سمجھاتا ہے تم کو آیتیں تاکہ غور کرو اور سمجھو۔

(تفسیر عثمانی)

 

اے ایمان والو! خرچ کرو اس میں سے پاکیزہ چیزیں جو تم کماؤ، اور اس میں سے جو ہم نے نکالا تمہارے لئے زمین سے، اور اس میں سے گندی چیز خرچ کرنے کا ارادہ نہ کرو، جبکہ تم خود اس کو لینے والے نہیں ہو، مگر یہ کہ تم چشم پوشی کر جاؤ اور جان لو کہ اللہ بے نیاز، خوبیوں والا ہے (۲۶۷)

تشریح:یعنی عند اللہ صدقہ کے مقبول ہونے کی یہ بھی شرط ہے کہ مال حلال کمائی کا ہو، حرام کا مال اور شبہ کا مال نہ ہو اور اچھی سے اچھی چیز اللہ کی راہ میں دے بُری چیز خیرات میں نہ لگائے کہ اگر کوئی ایسی ویسی چیز دے تو جی نہ چاہے لینے کو مگر شرما شرمائی۔ پر خوشی سے ہرگز نہ لے اور جان لو کہ اللہ بے پرواہ ہے تمہارا محتاج نہیں اور خوبیوں والا ہے اگر بہتر سے بہتر چیز دل کے شوق اور محبت سے دے تو پسند فرماتا ہے۔

(تفسیر عثمانی)

 

شیطان تم کو تنگددستی سے ڈراتا ہے اور تمہیں بے حیائی کا حکم دیتا ہے اور اللہ تم سے  اپنی بخشش اور فضل کا وعدہ کرتا ہے اور اللہ وسعت والا، جاننے والا ہے (۲۶۸)

تشریح:جب کسی کے دل میں خیال آئے کہ اگر خیرات کروں گا تو مفلس ہو جاؤں گا، اور حق تعالیٰ کی تاکید سن کر بھی اس کی ہمت نہ ہو، اور دل چاہے کہ اپنا مال خرچ نہ کرے اور وعدۂ الہٰی سے اعراض کر کے وعدۂ شیطانی پر طبیعت کو میلان اور اعتماد ہو تو اس کو یقین کر لینا چاہیے کہ یہ مضمون شیطان کی طرف سے ہے، یہ نہ کہے کہ ”شیطان کی تو ہم نے کبھی صورت بھی نہیں دیکھی، حکم کرنا تو درکنار رہا” اور اگر یہ خیال آئے کہ صدقہ خیرات سے گناہ بخشے جائیں گے اور مال میں بھی ترقی اور برکت ہو گی تو جان لے کہ یہ مضمون اللہ کی طرف سے آیا ہے اور خدا کا شکر کرے اور اللہ کے خزانہ میں کمی نہیں، سب کے ظاہر و باطن، نیت  و عمل کو خوب جانتا ہے۔

(معارف القرآن)

 

وہ جسے چاہتا ہے حکمت (دانائی) عطا کرتا ہے اور جسے حکمت دی گئی تحقیق اسے دی گئی بہت بھلائی، اور عقل والوں کے سوا کوئی نصیحت قبول نہیں کرتا(۲۶۹)

تشریح:یعنی جس کو چاہتا ہے دین کی باتوں میں دانائی اور خیرات کر نے میں سمجھ عنایت کرتا ہے کہ کس نیت سے اور کس مال سے اور کس کو اور کس طرح محتاج کو دینا چاہیے اور جس کو سمجھ عنایت ہوئی اس کو بڑی نعمت اور بڑی خوبی ملی۔

(تفسیر عثمانی)

 

حکمت:کسی جگہ اس سے مراد قرآن ہے، کسی جگہ حدیث، کسی جگہ علم صحیح، کہیں عمل صالح، کہیں قول صادق، کہیں عقل سلیم، کہیں فقہ فی الدین، کہیں اصابت رائے، اور کہیں خشیۃ اللہ اور آخری معنی تو خود حدیث میں بھی مذکور ہے راسۃ الحکمۃ خشیۃ اللہ یعنی اصل حکمت خدا تعالی سے ڈرنا ہے، اور آیت ویعلمہم الکتاب والحکمۃ میں حکمت کی تفسیر صحابہ و تابعین سے حدیث وسنت منقول ہے، اور بعض حضرات نہ یہ فرمایا ہے کہ آیت زیر نظر یوت الحکمۃ میں یہ سب چیزیں مراد ہیں

(بحر محیط جلد:۲ ص:۳۲)

 

ارشاد قرآنی سے بھی اس کی طرف اشارہ نکلتا ہے کہ جس شخص کو حکمت دیدی گئی اس کو خیر کثیر دیدی گئی، واللہ اعلم۔

(ماخوذ معارف القرآن)

 

جو تم خرچ کرو گے کوئی خیرات، یا تم کوئی نذر مانو گے تو بے شک اللہ اسے جانتا ہے اور ظالموں کے لئے کوئی مددگار نہیں (۲۷۰)

تشریح:یعنی جو کچھ خیرات کی جائے تھوڑی یا بہت، بھلی نیت سے یا بری نیت سے، چھپا کر یا لوگوں کو دکھا کر، یا منت مانی جائے کسی طرح کی تو بیشک خدا تعالیٰ کو پورا علم ہے سب کا، اور جو لوگ انفاق مال اور نذر میں حکم الہٰی کے خلاف کرتے ہیں ان کا کوئی مددگار نہیں، اللہ جو چاہے ان پر عذاب کرے، منت قبول کرنے سے واجب ہو جاتی ہے، اب اگر ادا نہ کی تو گنہگار ہو گا اور نذر اللہ کے سوا کسی کی جائز نہیں مگر یہ کہے کہ اللہ کے واسطے فلانے شخص کو دوں گا یا اس نذر کا ثواب فلاں کو پہنچے تو کچھ مضائقہ نہیں۔

(تفسیر عثمانی)

 

تم اگر خیرات ظاہر (اعلانیہ) دو تو یہ اچھی بات ہے، اور اگر تم اس کو چھپاؤ، اور تنگدستوں کو پہنچاؤ تو وہ تمہارے لئے (زیادہ) بہتر ہے، اور وہ دور کر دے گا تمہارے کچھ گناہ، اور جو تم کرتے ہو اللہ اس سے با خبر ہے (۲۷۱)

تشریح:اگر لوگوں کے دکھانے کی نیت نہ ہو تو خیرات کرنا لوگوں کے روبرو بھی بہتر ہے،  تاکہ اوروں کو بھی شوق اور رغبت ہو اور چھپا کر خیرات کرنا بھی بہتر ہے،  تاکہ لینے والا نہ شرمائے۔ خلاصہ یہ کہ اظہار و اخفاء دونوں بہتر ہیں مگر ہر موقع اور مصلحت کا لحاظ ضروری بات ہے۔

(تفسیر عثمانی)

 

ان کی ہدایت آپ کا ذمہ نہیں لیکن اللہ جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے اور تم جو مال خرچ کرو گے تو اپنے (ہی) واسطے، اور خرچ نہ کرو گے مگر اللہ کی رضا حاصل کرنے کے لئے، اور تم جو مال خرچ کرو گے تمہیں پورا پورا ملے گا، اور تم پر زیادتی نہ کی جائے گی۔ (۲۷۲)

تشریح:بعض انصاری صحابہ کے کچھ غریب رشتہ دار تھے مگر چونکہ وہ کافر تھے اس لئے وہ ان کی امداد نہیں کرتے تھے اور اس انتظار میں تھے کہ وہ اسلام لے آئیں تو ان کی امداد کریں، بعض روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ خود آنحضرتﷺ نے بھی یہی ہدایت فرمائی تھی، اس پر یہ آیت نازل ہوئی(روح المعانی)اس طرح مسلمانوں کو بتایا گیا کہ آپ پر ان کے اسلام لانے کی کوئی ذمہ داری عائد نہیں ہوتی اور اگر آپ ان غریب کافروں پر بھی اللہ کی خوشنودی حاصل کرنے کی نیت سے کچھ خرچ کریں گے تو اس کا بھی پورا پورا ثواب ملے گا۔

(توضیح القرآن)

 

(یہاں یہ بات بھی سمجھ لیجئے کہ اس صدقہ سے مراد صدقۂ نفلی ہے جس کا ذمی کو بھی دینا جائز ہے، صدقۂ واجبہ مراد نہیں ہے، کیونکہ وہ سوائے مسلمان کے کسی دوسرے کو دینا جائز نہیں، )

(مظہری، معارف القرآن)

 

تنگدستوں کے لئے جو رکے ہوئے ہیں اللہ کی راہ میں، وہ ملک میں چلنے پھرنے کی طاقت نہیں رکھتے، انہیں سمجھے ناواقف ان کے سوال نہ کرنے سے مالدار، تو انہیں ان کے چہرہ سے پہچان لیتا ہے، وہ سوال نہیں کرتے لوگوں سے لپٹ لپٹ کر، اور تم جو مال خرچ کرو گے تو بیشک اللہ اس کو جاننے والا ہے (۲۷۳)

تشریح:حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ یہ آیت اصحاب صفہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے، یہ وہ صحابہ تھے جنہوں نے اپنی زندگی علم دین حاصل کرنے کے لئے وقف کر دی تھی اور آنحضرتﷺ کے پاس مسجد نبوی سے متصل ایک چبوترے پر آ پڑے تھے، طلب علم کی وجہ سے وہ کوئی معاشی مشغلہ اختیار نہیں کرسکتے تھے مگر مفلسی کی سختیاں ہنسی خوشی برداشت کرتے تھے کسی سے مانگنے کا سوال نہیں تھا، اس آیت نے بتایا کہ ایسے لوگ امداد کے زیادہ مستحق ہیں جو ایک نیک مقصد سے پوری امت کے فائدے کے لئے مقید ہو کر رہ گئے ہیں اور سختیاں جھیلنے کے باوجود اپنی ضرورت کسی کے سامنے ظاہر نہیں کرتے۔

(توضیح القرآن)

 

یعنی ایسوں کا دینا بڑا ثواب ہے جو اللہ کی راہ اور اس کے دین کے کام میں مقید ہو کر چلنے پھرنے کھانے کمانے سے رک رہے ہیں اور کسی پر اپنی حاجت ظاہر نہیں کرتے جیسے حضرتﷺ کے اصحاب تھے۔ اہل صفہ نے گھر بار چھوڑ کر حضرت کی صحبت اختیار کی تھی علم دین سیکھنے کو اور مفسدین فتنہ پردازوں پر جہاد کرنے کو، اسی طرح اب بھی جو کوئی قرآن کو حفظ کرے یا علم دین میں مشغول ہو تو لوگوں پر لازم ہے کہ ان کی مدد کریں۔ اور چہرہ سے ان کو پہچاننا اس کا مطلب یہ ہے کہ ان کے چہرے زرد اور بدن دبلے ہو رہے ہیں اور آثار جدوجہد ان کی صورت سے نمودار ہیں۔

(تفسیر عثمانی)

 

جو لوگ اپنے مال خرچ کرتے ہیں رات میں اور دن کو، پوشیدہ اور ظاہر، پس ان کے لئے ہے ان کا اجر، اُن کے رب کے پاس، نہ ان پر کوئی خوف ہو گا اور نہ وہ غمگین ہوں گے (۲۷۴)

تشریح:اس آیت میں ان لوگوں کے اجر عظیم اور فضیلت کا بیان ہے جو اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کے عادی ہیں، تمام حالات و اوقات میں رات میں اور دن میں خفیہ اور علانیہ ہر طرح فی سبیل اللہ خرچ کرتے رہتے ہیں، اس کے ضمن میں یہ بھی بتلا دیا کہ صدقہ و خیرات کے لئے کوئی وقت مقرر نہیں، نہ رات اور دن کی کوئی تعیین ہے، اس طرح خفیہ اور علانیہ دونوں طرح سے اللہ کی راہ میں خرچ کرنا ثواب ہے، بشرطیکہ اخلاص کے ساتھ خرچ کیا جائے، نام و نمود مقصود نہ ہو، خفیہ خرچ کرنے کی فضیلت بھی اسی حد تک ہے کہ علانیہ خرچ کرنے کے لئے کوئی ضرورت داعی نہ ہو اور جہاں ایسی ضرورت ہو وہاں علانیہ کرنا ہی افضل ہے۔

روح المعانی میں بحوالہ ابن عساکر نقل کیا ہے کہ حضرت صدیق اکبرؓ نے چالیس ہزار دینار اللہ کی راہ میں اسی طرح خرچ کئے کہ دس ہزار دن میں دس ہزار رات میں دس ہزار خفیہ اور دس ہزار علانیہ، بعض مفسرین نے اس آیت کا شانِ نزول اسی واقعہ صدیق اکبرؓ کو لکھا ہے اس کے شانِ نزول کے متعلق اور بھی مختلف اقوال ہیں۔

(معارف القرآن)

 

جو لوگ سُود کھاتے ہیں وہ (قیامت کے دن) نہ کھڑے ہوں گے مگر جیسے وہ شخص کھڑا ہو جس کے حواس کھو دئے ہوں شیطان نے چھو کر، یہ اس لئے کہ انہوں نے کہا تجارت درحقیقت سُود کے مانند ہے۔ حالانکہ اللہ نے تجارت کو حلال کیا، اور سُود کر حرام کیا۔

تشریح:”سود”یا “ربا” ہر اس زیادہ رقم کو کہا جاتا ہے جو کسی قرض پر طے کر کے وصول کی جائے، مشرکین کا کہنا تھا کہ جس طرح ہم کوئی سامان فروخت کر کے نفع کماتے ہیں اور اس کو شریعت نے حلال قرار دیا ہے، اسی طرح  اگر قرض دے کر کوئی نفع کمائیں تو کیا حرج ہے ؟ان کے اس اعتراض کا جواب تو یہ تھا کہ سامانِ تجارت کا تو مقصد ہی یہ ہے کہ اسے بیچ کر نفع کمایا جائے، لیکن نقدی اس کام کے لئے نہیں بنائی گئی کہ اسے سامان ِ تجارت بنا کر اس سے نفع کمایا جائے، وہ تو ایک تبادلے کا ذریعہ ہے،  تاکہ اس کے ذریعہ اشیائے ضرورت خریدی اور بیچی جا سکیں، نقدی کا نقدی سے تبادلہ کر کے اسے بذات خود نفع کمانے کا ذریعہ بنا لیا جائے تو اس سے بے شمار مفاسد پیدا ہوتے ہیں، لیکن اللہ تعالی نے یہاں بیع اور سود کے درمیان فرق کی تفصیل بیان کرنے کے بجائے ایک حاکمانہ جواب دیا ہے کہ جب اللہ تعالی نے بیع کو حلال اور سود کو حرام قرار دے دیا ہے تو ایک بندے کا کام یہ نہیں ہے کہ وہ اللہ تعالی سے اس حکم کی حکمت اور اس کا فلسفہ پوچھتا پھرے اور گویا عملاً یہ کہے کہ جب تک مجھے اس کا فلسفہ سمجھ میں نہیں آ جائے گا میں اس حکم پر عمل نہیں کروں گا، واقعہ یہ ہے کہ اللہ تعالی کے ہر حکم میں یقیناً کوئی نہ کوئی حکمت ضرور ہوتی ہے،  لیکن ضروری نہیں کہ وہ ہر شخص کی سمجھ میں بھی آ جائے، لہذا اگر اللہ تعالی پر ایمان ہے تو پہلے اس کے ہر حکم پر سرتسلیم خم کرنا چاہئے، اس کے بعد اگر کوئی شخص اپنے مزید اطمینان کے لئے حکمت اور فلسفہ سمجھنے کی کوشش کرے تو کوئی حرج نہیں،  لیکن اس پر اللہ تعالی کے حکم کی تعمیل کو موقوف رکھنا ایک مؤمن کا طرز عمل نہیں۔

(توضیح القرآن)

 

پس جس کو نصیحت پہنچی اس کے رب کی طرف سے پھر وہ باز آ گیا تو اس کے لئے جو ہو چکا اور اس کا معاملہ اللہ کے سپرد ہے اور جو پھر (سود کی طرف) لوٹے تو وہی دوزخ والے ہیں، وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے (۲۷۵)

 

تشریح:مطلب یہ ہے کہ جن لوگوں نے سود کی حرمت نازل ہونے سے پہلے لوگوں سے سود وصول کیا ہے، چونکہ اس وقت تک سود کے حرام ہونے کا اعلان نہیں ہوا تھا اس لئے وہ پچھلے معاملات معاف ہیں، اور ان کے ذریعے جو رقمیں وصول کی گئی ہیں وہ واپس کرنے کی ضرورت نہیں، البتہ حرمت کے اعلان کے وقت جو سود کسی پر واجب الادا ہو وہ لینا جائز نہیں ہو گا،  بلکہ اسے چھوڑنا ہو گا جیسا کہ آیت نمبر۲۷۸ میں حکم دیا گیا ہے۔

(توضیح القرآن)

 

اللہ سود کو مٹاتا ہے اور خیرات کو بڑھاتا ہے، اور اللہ ہر ایک (کسی) ناشکرے گنہگار کو پسند نہیں کرتا(۲۷۶)

 

تشریح:اللہ سود کے مال کو مٹاتا ہے، یعنی اس میں برکت نہیں ہوتی،  بلکہ اصل مال بھی ضائع ہو جاتا ہے،  چنانچہ حدیث میں ارشاد ہے کہ سود کا مال کتنا ہی بڑھ جائے انجام اس کا افلاس ہے اور خیرات کے مال کو بڑھانے سے یہ مطلب ہے کہ اس مال میں زیادتی ہوتی ہے اور اللہ برکت دیتا ہے اور اس کا ثواب بڑھایا جاتا ہے۔

(تفسیرعثمانی)

 

بے شک جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک عمل کیے، اور نماز قائم کی اور زکوٰۃ ادا کی ان کے لئے ان کا اجر ہے ان کے رب کے پاس، اور نہ ان پر کوئی خوف ہو گا او نہ وہ غمگین ہوں گے (۲۷۷)

تشریح:اس آیت میں سود لینے والے کے مقابلہ میں اہل ایمان کے اوصاف اور ان کا انعام ذکر کر دیا، جو سود خور کے اوصاف و حالات اور اس کے حکم کے خلاف اور ضد ہیں جس سے سود خور کی پوری تہدید و تشنیع بھی ظاہر ہو گئی۔

(تفسیرعثمانی)

 

اے ایمان والو! تم اللہ سے ڈرو اور جو سود باقی رہ گیا ہے وہ چھوڑ دو اگر تم ایمان والے ہو(۲۷۸)

تشریح: یعنی ممانعت سے پہلے جو سود لے چکے سو لے چکے، لیکن ممانعت کے بعد جو چڑھا اس کو ہرگز نہ مانگو۔

(تفسیرعثمانی)

 

پھر اگر تم نہ چھوڑو گے تو اللہ اور اس کے رسول سے جنگ کے لئے خبردار ہو جاؤ اور اگر تم نے توبہ کر لی تو تمہارا اصل زر تمہارے لئے ہے، نہ تم ظلم کرو نہ تم پر ظلم کیا جائے گا۔ (۲۷۹)

تشریح:یعنی پہلے سود جو تم لے چکے ہو اس کو اگر تمہارے اصل مال میں محسوب کریں اور اس میں سے کاٹ لیویں تو تم پر ظلم ہے اور ممانعت کے بعد کا سود چڑھا ہوا اگر تم مانگو تو یہ تمہارا ظلم ہے۔

(تفسیرعثمانی)

 

اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کو سخت وعید سنائی گئی، جس کا مضمون یہ ہے کہ اگر تم نے سود کو نہ چھوڑا تو اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے اعلان جنگ سن لو، یہ وعید شدید ایسی ہے کہ کفر کے سوا اور کسی بڑے سے بڑے گناہ پر قرآن میں ایسی وعید نہیں آئی۔

(معارف القرآن)

 

اور اگر وہ تنگدست ہو تو کشادگی ہونے تک مہلت دے دو، اور اگر (قرض) بخش دو تو تمہارے لئے زیادہ بہتر ہے اگر تم جانتے ہو(۲۸۰)

تشریح:یعنی جب سود کی ممانعت آ گئی اور اس کا لینا دینا موقوف ہو گیا تو اب تم مدیون مفلس سے تقاضا کرنے لگو یہ ہرگز نہ چاہیے بلکہ مفلس کو مہلت دو اور توفیق ہو تو بخش دو۔

(تفسیرعثمانی)

 

اور اس دن سے ڈرو (جس دن) تم اللہ کی طرف لوٹائے جاؤ گے پھر ہر شخص کو پورا پورا دیا جائے گا جو اس نے کمایا اور وہ ظلم نہ کیے جائیں گے (ان پر ظلم نہ ہو گا)(۲۸۱)

 

تشریح:یعنی قیامت کو تمام اعمال کی جزاء اور سزا ملے گی تو اب ہر کوئی اپنا فکر کر لے اچھے کام کرے یا بُرے سود لے یا خیرات کرے۔

(تفسیرعثمانی)

 

اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو (مومنو!) جب تم ایک مقررہ مدت تک (کے لئے ) ادھار کا معاملہ کرو تو اسے لکھ لیا کرو، اور چاہیے کہ لکھ دے  کاتب تمہارے درمیان انصاف سے، اور کاتب لکھنے سے انکار نہ کرے، جیسے اس کو سکھایا ہے اللہ نے، اسے چاہیے کہ لکھ دے، اور جس پر حق (قرض) ہے وہ لکھاتا جائے اور اپنے رب اللہ سے ڈرے، اور نہ اس سے کچھ کم کرے، پھر اگر وہ جس پر حق (قرض) ہے وہ بے عقل یا کمزور ہے یا وہ لکھانے کی قدرت نہیں رکھتا تو چاہیے کہ اس کا سرپرست انصاف سے لکھا دے۔ اور اپنے مردوں میں سے دو گواہ کر لو پھر اگر دو مرد نہ ہوں تو ایک مرد اور دو عورتیں جن کو تم گواہ پسند کرو( تاکہ) اگر ان میں سے ایک بھول جائے تو ان میں سے ایک(دوسری) کو یاد دلا دے، اور گواہ انکار نہ کریں جب بلائے جائیں، اور تم لکھنے میں سستی نہ کرو(خواہ معاملہ) چھوٹا ہو یا بڑا، ایک میعاد تک، یہ زیادہ انصاف ہے اور گواہی کے لئے زیادہ مضبوط ہے اللہ کے نزدیک اور زیادہ قریب ہے کہ تم شبہ میں نہ پڑو، اس کے سوائے کہ سودا ہاتھوں ہاتھ کا ہو جسے تم آپس میں لیتے رہتے ہو تو کوئی گناہ نہیں تم پر کہ تم وہ نہ لکھو، اور جب تم سودا کرو تو گواہ کر لیا کرو، اور نہ لکھنے والا نقصان کرے نہ گواہ، اور اگر تم (ایسا) کرو گے تو یہ بے شک تم پر گناہ ہے، اور تم اللہ سے ڈرو، اور اللہ تمہیں سکھاتا ہے، اور اللہ ہر چیز کا جاننے والا ہے (۲۸۲)

تشریح:یہ قرآن کریم کی سب سے طویل آیت ہے اور اس میں سود کی حرمت بیان کرنے کے بعد ادھار خرید و فروخت کے سلسلے میں اہم ہدایات دی گئی ہیں جن کا مقصد یہ ہے کہ معاملات صفائی کے ساتھ ہوں، اگر کوئی ادھار کسی کے ذمے واجب ہو رہا ہو تو اسے ایسی تحریر لکھنی یا لکھوانی چاہئے جو معاملے کی نوعیت کو واضح کر دے، اس تحریر میں پوری بات لاگ لپیٹ کے بغیر لکھنی چاہئے اور کسی کا حق مارنے کے لئے تحریر میں کتر بیونت سے پرہیز کرنا چاہئے۔

(توضیح القرآن)

 

اور اگر تم سفر پر ہو اور کوئی لکھنے والا نہ پاؤ تو گرو ی رکھنا چاہیے قبضہ میں، پھر اگر تم میں کوئی کسی کا اعتبار کرے تو جس شخص کو امین بنایا گیا ہے اسے چاہیے کہ لوٹا دے اس کی امانت، اور اپنے رب سے ڈرے، اور تم گواہی نہ چھپاؤ، اور جو شخص اسے چھپائے گا تو بیشک اس کا دل گنہگار ہے، اور تم جو کچھ کرتے ہو اللہ اسے جاننے والا ہے (۲۸۳)

تشریح:یعنی اگر سفر میں قرض اور ادھار کا معاملہ کرو اور دستاویز کے لئے کوئی کاتب نہ ملے تو قرض کے عوض کوئی چیز مدیون کو رہن رکھ دینی چاہیے۔

فائدہ:سفر میں رہن کی حاجت بہ نسبت حضر زیادہ ہو گی، کیونکہ حضر میں کتابت و شہادت سے بھی بسہولت صاحب دَین کا اطمینان ممکن ہے، اس لئے سفر میں رہن کا حکم ہوا، ور نہ حَضر میں اور کاتب کی موجودگی میں بھی رہن درست ہے جیسا کہ حدیث میں موجود ہے اور اگر صاحبِ دَین کو مدیون پر اعتماد اور اس کا اعتبار ہو اور اس لئے رہن کا طالب نہ ہو تو مدیون کو لازم ہے کہ صاحبِ دَین کا حق تمام و کامل ادا کر دے اور خدا سے ڈرتا رہے صاحبِ حق کے حق میں امانت سے معاملہ کرے۔

(تفسیر عثمانی)

 

اللہ کے لئے ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے، اور اگر تم ظاہر کرو جو تمہارے دلوں میں ہے یا تم اسے چھپاؤ اللہ تم سے اس کا حساب لے گا، پھر جس کو وہ چاہے بخش دے گا اور جس کو وہ چاہے عذاب دے، اور اللہ ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے (۲۸۴)

تشریح:اس سورت میں اصول و فروع عبادات و معاملات جانی و مالی ہر قسم کے احکامات بہت کثرت سے مذکور فرمائے اور شاید اس سورت کو سنام القرآن فرمانے کی یہی وجہ ہو اس لئے مناسب ہے، کہ بندوں کو پوری تاکید و تہدید بھی ہر طرح سے فرما دی جائے،  تاکہ تعمیل احکام مذکورہ میں کوتاہی سے اجتناب کریں، سو اسی غرض کے لئے آخر سورت میں احکام کو بیان فرما کر اس آیت کو بطور تہدید و تنبیہ ارشاد فرما کر تمام احکام مذکورہ سابقہ کی پابندی پر سب کو مجبور کر دیا اور طلاق و نکاح قصاص و زکاۃ بیع و بروا وغیرہ میں جو اکثر صاحب حیلوں اور اپنی ایجاد کردہ تدبیروں سے کام لیتے ہیں اور نا جائز امور کو جائز بنانے میں خود رائی اور سینہ زوری سے کام لیتے ہیں ان کو بھی اس میں پوری تنبیہ ہو گئی، دیکھئے جس کو ہم پر استحقاق عبادت حاصل ہو گا اس کو مالک ہونا چاہیے اور جو ہماری ظاہری اور مخفی تمام اشیاء کا محاسبہ کر سکے اس کو تمام امور کا علم ہونا ضروری ہے اور جو ہماری تمام چیزوں کا حساب لے سکے اور ہر ایک کے مقابلہ میں جزاء و سزا دے سکے اس کو تمام چیزوں پر قدرت ہونی ضروری ہے سو انہی تین کمالات یعنی ملک اور علم اور قدرت کو یہاں بیان فرمایا اور انہی کا آیۃ الکرسی میں ارشاد ہو چکا ہے، مطلب یہی ہے کہ ذات پاک سبحانہ، تمام چیزوں کی مالک اور خالق اس کا علم سب کو محیط اس کی قدرت سب پر شامل ہے تو پھر اس کی نافرمانی کسی امر ظاہر یا مخفی میں کر کے بندہ کیونکر نجات پا سکتا ہے۔

(تفسیر عثمانی)

 

رسول نے مان لیا جو کچھ اس کی طرف اُترا اس کے رب کی طرف سے اور مومنوں نے (بھی)، سب ایمان لائے اللہ پر، اور اس کے فرشتوں پر، اور اس کی کتابوں پر، اور اس کے رسولوں پر۔ ہم کسی ایک کے درمیان فرق نہیں کرتے اس کے رسولوں میں سے اور انہوں نے کہا ہم نے سنا اور ہم نے اطاعت کی، تیری بخشش چاہیے اے ہمارے رب! اور تیری طرف لوٹ کر جانا ہے۔ (۲۸۵)

تشریح:پہلی آیت سے جب یہ معلوم ہوا کہ دل کے خیالات پر بھی حساب اور گرفت ہے تو اس پر حضرات صحابہ گھبرائے اور ڈرے اور ان کو اتنا صدمہ ہوا کہ کسی آیت پر نہ ہوا تھا، آپﷺ سے شکایت کی تو آپ نے فرمایا قُوْلُوْا سَمِعْنَا وَ اَطَعْنَا یعنی اشکال نظر آئے یا دقت مگر حق تعالیٰ کے ارشاد کی تسلیم میں ادنیٰ توقف بھی مت کرو اور سینہ ٹھوک کر سَمِعْنَا وَاَطَعْنَا عرض کر دو آپ کے ارشاد کی تعمیل کی تو انشراح کے ساتھ یہ کلمات زبان پر بے ساختہ جاری ہو گئے، مطلب ان کا یہ ہے کہ ہم ایمان لائے اور اللہ کے حکم کی اطاعت کی یعنی اپنی دِقت اور خلجان سب کو چھوڑ کر ارشاد کی تعمیل میں مستعدی اور آمادگی ظاہر کی حق تعالیٰ کو یہ بات پسند ہوئی تب یہ دونوں آیتیں اتریں اول یعنی اٰمَنَ الرَّسُوْلُ الخ اس میں رسول کریم اور ان کے بعد صحابہ کہ جن کو اشکال مذکور پیش آیا تھا ان کے ایمان کی حق سبحانہ، نے تفصیل کے ساتھ مدح فرمائی جس سے ان کے دلوں میں اطمینان ترقی پاوے اور خلجان سابق زائل ہو اس کے بعد دوسری آیت لَایُکَلِّفُ اللّٰہُ نَفْساً الخ میں فرما دیا کہ مقدور سے باہر کسی کو تکلیف نہیں دی جاتی، اب اگر کوئی دل میں گناہ کا خیال اور خطرہ پائے اور اس پر عمل نہ کرے تو کچھ گناہ نہیں اور بھول چوک بھی معاف ہے غرض صاف فرما دیا کہ جن باتوں سے بچنا طاقت سے باہر ہے جیسے برے کام کا خیال و خطرہ یا بھول چوک ان پر مواخذہ نہیں ہاں جو باتیں بندہ کے ارادے اور اختیار میں ہیں ان پر مواخذہ ہو گا، اب آیت سابقہ کو سن کر جو صدمہ ہوا تھا اس کے معنی بھی اسی پچھلے قاعدہ کے موافق لینے چاہئیں،  چنانچہ ایسا ہی ہوا اور خلجان مذکور کا اب ایسا قلع قمع ہو گیا کہ سبحان اللہ۔

فائدہ: جدا نہیں کرتے کسی کو اس کے پیغمبروں میں سے یعنی یہود اور نصاریٰ کی طرح نہیں کہ کسی پیغمبر کو مانا اور کسی پیغمبر کو نہ مانا۔

(تفسیر عثمانی)

 

اللہ کسی کو تکلیف نہیں دیتا مگر اس کی گنجائش (کے مطابق)، اس کے لئے (اجر) ہے جو اس نے کمایا، اور اس پر (عذاب) ہے جو اس نے کمایا، اے ہمارے رب! ہمیں نہ پکڑ، اگر ہم بھول جائیں یا ہم چوکیں، اے ہمارے رب! ہم پر بوجھ نہ ڈال جیسے تو نے ڈالا ہم سے پہلے لوگوں پر، اے ہمارے رب! ہم سے نہ اٹھوا جس کی ہم کو طاقت نہیں اور درگزر کر تو ہم سے، اور ہمیں بخش دے، اور ہم پر رحم کر، تو ہمارا آقا ہے، پس ہماری مدد کر کافروں کی قوم پر(۲۸۶)

تشریح:اول آیت پر حضرات صحابہ کو بڑی پریشانی ہوئی تھی ان کی تسلی کے لئے یہ دو آیتیں اٰمن الرسول الخ اور لا یکلف اللہ نفسا الخ نازل ہوئیں، اب اس کے بعد ربنا لا تؤاخذنا آخر سورت تک نازل فرما کر ایسا اطمینان دیا گیا کہ کسی صعوبت اور دشواری کا اندیشہ بھی باقی نہ چھوڑا،  کیونکہ جن دعاؤں کا ہم کو حکم ہوا ہے ان کا مقصود یہ ہے کہ بیشک ہر طرح کا حق حکومت اور استحقاق عبادت تجھ کو ہم پر ثابت ہے مگر اے ہمارے رب اپنی رحمت و کرم سے ہمارے لئے ایسے حکم بھیجے جائیں جن کے بجا لانے میں ہم پر صعوبت اور بھاری مشقت نہ ہو نہ بھول چوک میں ہم پکڑے جائیں نہ مثل پہلی امتوں کے ہم پر شدید حکم اتارے جائیں، نہ ہماری طاقت سے باہر کوئی حکم ہم پر مقرر ہو، اس سہولت پر بھی ہم سے جو قصور ہو جائے اس سے درگزر اور معافی اور ہم پر رحم فرمایا جائے۔ حدیث میں ہے کہ یہ سب دعائیں مقبول ہوئیں۔ اور جب اس دشواری کے بعد جو حضرات صحابہ کو پیش آ چکی تھی اللہ کی رحمت سے اب ہر ایک دشواری سے ہم کو امن مل گیا تو اب اتنا اور بھی ہونا چاہیے کہ کفار پر ہم کو غلبہ عنایت ہو ورنہ ان کی طرف سے مختلف دقتیں دینی اور دنیاوی ہر طرح کی مزاحمتیں پیش آ کر جس صعوبت سے اللہ اللہ کر کے اللہ کے فضل سے جان بچی تھی کفار کے غلبہ کی حالت میں پھر وہی کھٹکا موجب بے اطمینانی ہو گا۔

(تفسیر عثمانی)

٭٭٭

ماخذ:

http://anwar-e-islam.org

تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید