FavoriteLoadingپسندیدہ کتابوں میں شامل کریں

فہرست مضامین

آغاز

غزلیں

ماجد صدیقی

آغاز

غزلیں

               ماجد صدیقی

 

آنکھوں میں ترا دیار بھی ہے

دل درد سے ہمکنار بھی ہے

پت جھڑ کا سکوت ہے لبوں پر

ہمراہ مرے بہار بھی ہے

تو میری نظر میں اجنبی بھی

مِلنا ترا یادگار بھی ہے

مَیں تیرے لئے ہوں مانتا ہوں

مجھ کو غمِ روزگار بھی ہے

جیتا ہوں کہ جی رہا ہوں ماجدؔ

جینا ہے کہ ناگوار بھی ہے

٭٭٭

 

آئینۂ خیال بہ دستِ صبا دیا

ہر گل کو ہم نے یوں بھی تمہارا پتہ دیا

فرصت تمہاری دید نے دی جب بھی درد سے

اِک چاند جگمگا اُٹھا اِک چاند بُجھ گیا

کر دیں یہ کس نے ذہن پہ عُریاں حقیقتیں

کہرام سا یہ کس نے نظر میں اُٹھا دیا

ماجدؔ ہو اِس سے شکوہ بہ لب تم جوہر نفس

سوچو تو زندگی کو ابھی تم نے کیا دیا

٭٭٭

 

آتا ہے یاد اَب بھی سراپا وہ خواب سا

اُترا جو میری تشنہ لبی پر سحاب سا

اقرارِ مُدّعا پہ ٹھٹکتے ہوئے سے ہونٹ

آنکھوں پہ کھنچ رہا تھا حیا کا نقاب سا

اُس کو بھی اَن کہی کے سمجھنے میں دیر تھی

کہنے میں کچھ مجھے بھی ابھی تھا حجاب سا

تھی اُس سے جیسے بات کوئی فیصلہ طلب

تھا چشم و گوش و لب کو عجب اضطراب سا

تھا حرف حرف کیا وہ نگاہوں پہ آشکار

منظر وہ کیا تھا مدِّ مقابل کتاب سا

ماجدؔ نگاہ میں ہے وہ منظر ابھی تلک

جب سطحِ آرزو پہ پھٹا تھا حباب سا

٭٭٭

آج تک جس شخص کی نظروں میں تھے معتوب ہم

ذکر اُس کا چھیڑ بیٹھے بھی تو کس اسلوب ہم

روز جینے کا نیا اِک تجربہ درپیش ہے

روز اِک سولی پہ ہوتے ہیں یہاں مصلوب ہم

کھُل کے آنا ہی پڑا آخر سرِ میداں ہمیں

یُوں تو رہنے کو رہے ہیں مُدّتوں محجوب ہم

وہ کھُلی آنکھوں سے ہم کو دیکھتا ہی رہ گیا

ضد پہ اُترے بھی تو اِک دن اُس سے نپٹے خوب ہم

شوخیِ طرزِ بیاں الزام کیا کیا لائے گی

جانے کس کس شوخ سے ٹھہریں گے کل منسوب ہم

یہ بھی گر شرطِ سخن ٹھہری تو ماجدؔ ایک دن

شاعری کرنے کو ڈھونڈیں گے کوئی محبوب ہم

٭٭٭

 

اجنبی تھا وہ مجھ سے ملا بھی نہ تھا

اُس سا لیکن کوئی آشنا بھی نہ تھا

اِس اندھیرے میں کیسے وہ پہنچا یہاں

دل میں میرے تو جلتا دیا بھی نہ تھا

کھُل گئی جانے کیسے زباں خلق کی

اُس سے رشتہ کوئی برملا بھی نہ تھا

جانے وہ ہم سے کیوں جھینپتا رہ گیا

بھید اُس پر ہمارا کھُلا بھی نہ تھا

حق بجانب تھا مجھ سے وہ اغماض میں

اُس سے میرا کچھ ایسا گلہ بھی نہ تھا

ہاں بجا ہے وہ اچّھا نہ ہو گا مگر

تیرا ماجدؔ کچھ ایسا بُرا بھی نہ تھا

٭٭٭

انگ انگ میں تیرے جذب ہو کے رہ جاؤں

یہ مری تمّنا تھی مَیں کہ آج پتّھر ہوں

رہ بہ رہ خزاؤں سے سامنا نظر کا ہے

دل کہ ایک صحرا ہے دیکھ دیکھ ڈرتا ہوں

کیا کہوں عجب سا ہے حادثہ مرا لوگو

سر بہ سر بہاراں ہوں پر خزاں سے ابتر ہوں

مقتلِ تمّنا ہے پیش و پس مرے ماجدؔ

مَیں کہ جیسے مجرم ہوں چین کس طرح پاؤں

٭٭٭

 

اپنے اندر اُلجھ گیا ہوں باہر کیسے نکلوں مَیں

اپنے آپ کو غیر نگہ سے جانے کب جا دیکھوں مَیں

کِس پر تنگ ہوئی یوں دُنیا کس نے حشر یہ دیکھا ہے

جب بھی سانس نیا لیتا ہوں زہر نیا اِک چکّھوں مَیں

یہ بھی عجب کیفیتِ غم ہے اپنے آپ میں گم ہو کر

سرتا پا دل بن جاتا ہوں پہروں بیٹھا دھڑکوں میں

چہرے پر اک دھول جمی ہے برس برس کا رنگ لیے

دل بے چارہ آس بندھائے ساتھ گلوں کے مہکوں مَیں

کون غنی ہے جس کے در کے دونوں پَٹ ہوں کھُلے ہوئے

کس دہلیز کو منزل مانوں کس آنگن میں ٹھہروں مَیں

کوئی تو شاید اپنی خبر کو بھی اے ماجدؔ آ پہنچے

ایک نظر باہر بھی دیکھوں در تو اپنا کھولوں مَیں

٭٭٭

اُن دنوں اُس خاک پر بارش تھی جیسے نُور کی

آنکھ کا سُرمہ بنی تھی ریت کیمبل پور کی

چکھ سکے اُس سے نہ کچھ ہم پر نشہ دیتی رہی

ہاں نظر کی شاخ پر اِک بیل تھی انگور کی

حُسن کے مدِّ مقابل عشق!! اور بے چارگی؟

دل میں ہے تصویر جیسے محفل بے نُور کی

ابر مانگا تھا کہ آندھی لے اڑی برگ و ثمر!

خوب اے موجِ ہوا! کلفت ہماری دور کی

شاخ ہی سُوکھی تو پھر جھڑنے سے کیا انکار تھا

کیا کہیں آخر یہ صورت کس طرح منظور کی

اَب جراحت ہی سے ممکن ہے مداوا درد کا

اور ہی صورت ہے محرومی کے اِس ناسور کی

کھولنے پائے نہ اُس پر ہم لبِ اظہار تک

یُوں حقیقت کھُل گئی ماجدؔ دلِ  رنجُور کی

٭٭٭

 

بزم آرا ہیں لوگ ہم تنہا

لے کے بیٹھے ہیں تیرا غم تنہا

کارواں کو ترس گئے ہوں گے

چلنے والے قدم قدم تنہا

کیوں مرے ہو کے دور رہتے ہو

چاند ہے آسماں پہ کم تنہا

ساتھ دیتا ہے کب کوئی ماجدؔ

دل ہی سہتا ہے ہر ستم تنہا

٭٭٭

 

پہنچے بہ کوئے دل کہ نظر سے گزر گئے

رنگینیاں بکھیر گئے تم جدھر گئے

حاصل تجھے ہے تیرے قدر و رُخ سے یہ مقام

اور ہم بزورِ نطق دلوں میں اُتر گئے

آیا جہاں کہیں بھی میّسر ترا خیال

نِکلے دیارِ شب سے بہ کوئے سحر گئے

جن کے چمن کو تُو نے بہارِ خیال دی

ماجدؔ ترے وہ دوست کہاں تھے کدھر گئے

٭٭٭

 

پھول کہو یا دل کے فسانے

حرف لکھے کُچھ، بادِ صبا نے

برف سے اُجلے چہروں والے

آ جاتے ہیں جی کو جلانے

داغ رُخِ مہ کا دُکھ میرا

میری حقیقت کون نہ جانے

فکر و نظر پر دھُول جمائی

آہوں کی بے درد ہوا نے

دو آنکھوں کے جام لُنڈھا کر

دو ہونٹوں کے پھُول کھِلانے

دونوں ہاتھ نقاب کی صُورت

رکھنے، اور رُخ پر سے ہٹانے

ماجدؔ انجانے میں ہم بھی

بیٹھ رہے کیوں جی کو جلانے

٭٭٭

تم بھُول گئے کہ یاد آئے

ہم اتنا بھی سوچنے نہ پائے

مرتے ہیں ہمیں ترے نہ ہوتے

روتے ہیں ہمیں ترے بِن آئے

گزرے ہیں تری گلی سے لیکن

دل تھامے ہوئے نظر چُرائے

ہم بھی ترے مُدّعی ہوئے تھے

ہم بھی غمِ ہجر ساتھ لائے

ظُلمت سے نظر چُرانے والو

شب، خونِ جگر نہ چاٹ جائے

سہلا نہ سکے اگر تو ماجدؔ

موسم، کوئی تِیر ہی چلائے

٭٭٭

 

تُجھ سے کہنے کی بس اَب یہی بات ہے

آج پھر چاند کی چودہویں رات ہے

اپنی خواہش، کہ گُل پیرہن ہو چلیں

اور فضائے چمن، وقفِ حالات ہے

چار سُو ایک ہی منظرِ بے سکوں

چار سُو خشک پتّوں کی برسات ہے

اَب تو ماجدؔ خزاں کے نہ منکر رہو

شاخ پر اَب تو کوئی کوئی پات ہے

٭٭٭

 

تھا نہ جانے کون سے بے رحم ڈر کا سامنا

مَیں نہ کر پایا کبھی اپنی نظر کا سامنا

کرچیاں اُتری ہیں آنکھوں میں اندھیری رات کی

اور اُدھر مژدہ کہ لو کیجو سحر کا سامنا

ننھی ننھی خواہشوں کا مدفنِ بے نُور سا

زندگی ہے اب تو جیسے اپنے گھر کا سامنا

تجربہ زنداں میں رہنے کا بھی مجھ کو دے گیا

بعد جانے کے ترے دیوار و در کا سامنا

پیرہن کیا جسم کا حصہ سمجھئے اَب اسے

تا بہ منزل ہے اِسی گردِ سفر کا سامنا

دیکھنے زیبا ہیں کب ایسے کھنڈر بعدِ خزاں

کون اب کرنے چلے شاخ و شجر کا سامنا

کچھ کہو یہ کس جنم کی ہے سزا ماجدؔ تمہیں

روز و شب کیوں ہے یہ تخلیق ہُنر کا سامنا

٭٭٭

تھا میّسر ہی نہ پیرایۂ اظہار ہمیں

ورنہ اِس شہر میں کیا کیا تھے نہ آزار ہمیں

کن بگولوں کے حصاروں میں کھڑے دیکھتے ہیں

اَب کے پت جھڑ میں سلگتے ہوئے گلزار ہمیں

وقت بدلا ہے تو گوشوں میں چھُپے بیٹھے ہیں

وہ جو کرتے رہے رُسوا سرِ بازار ہمیں

کل تھا کس رنگ میں اور آج سرِ بزمِ وفا

کیا نظر آیا ہے وہ حُسنِ طرح دار ہمیں

کب سے دیتا ہے صدا کوئی پری وش ماجدؔ

عنبر و عود لٹاتے ہوئے اُس پار ہمیں

٭٭٭

 

تو مُدّعا ہو اور ترا غم ہمسفر ملے

پھر کیوں نہ ہر قدم پہ نئی راہگزر ملے

اَب ہم سے مستیاں وہ، طلب کر نہ اے صبا!

مدّت ہوئی کسی کی نظر سے نظر ملے

حُسنِ حبیب اَب لب و رُخسار تک نہیں

اَب تو جنوں بضد ہے کہ حُسنِ نظر ملے

اِک عمر سے گھرے ہیں اِسی بے بسی میں ہم

تجھ تک اُڑان کو نہ مگر بال و پر ملے

مُطرب! بہ رقص گا، مرے ماجدؔ کی یہ غزل

تجھ سے مرا وہ سروِ چراغاں اگر ملے

٭٭٭

 

تو پھُول تھا، مہک تھا صدا کی ادا بھی تھا

مَیں پھر بھی تُجھ سے تیرا پتہ پوچھتا رہا

جل بُجھ کے رہ گیا ہوں بس اپنی ہی آگ میں

کِس زاویے پہ آ کے مقابل ترے ہوا

شب بھر ترے جمال سے چُنتا رہا وہ پھُول

پھُوٹی سحر تو میں بھی سحر کی مثال تھا

مَیں ہی تو تھا کہ جس نے دکھایا جہان کو

تیشے سے اِک پہاڑ کا سینہ چِھدا ہوا

بدلا ہے گلستاں نے نیا پیرہن اگر

گُدڑی پہ ہم نے بھی نیا ٹانکا لگا لیا

مَیں تھا اور اُس کا وقتِ سفر تھا اور ایک دھند

ہاں اُس کے بعد پھر کبھی دیکھا نہ زلزلہ

بعدِ خزاں ہے جب سے تہی دست ہو گئی

سہلا رہی ہے شاخِ برہنہ کو پھر ہوا

مَیں تو ہوا تھا تِیر کے لگتے ہی غرقِ آب

تالاب بھر میں خون مرا پھیلتا گیا

ہر اِک نظر پہ کھول دیا تُو نے اپنا آپ

دل کا جو بھید تھا اُسے ماتھے پہ لکھ لیا

واضح ہیں ہر کسی پہ ترے جسم کے خطوط

تُو تو چھپی سی چیز تھی تُو نے یہ کیا کیا

اِک بات یہ بھی مان کہ ماجدؔ غم و الم

پیروں کی خاک میں نہ اِنہیں سر پہ تو اُٹھا

٭٭٭

 

جب بھی ہوتا ہے بہ احساسِ گراں ہوتا ہے

کیا کہوں ذکر ترا کیسے رواں ہوتا ہے

بِن ترے بھی مجھے محسوس ہوا ہے اکثر

جیسے پہلو میں کوئی ماہِ رواں ہوتا ہے

دیکھتا ہوں گلِ تر روز، بعنوانِ دگر

روز دل سے گزرِ شعلہ رُخاں ہوتا ہے

زندگی میں غمِ جاناں کا یہی حال رہا

جِس طرح پھول سرِ جُوئے رواں ہوتا ہے

درد کی آخری حد چھو کے مَیں کیوں گھبراؤں

رات ڈھلتی ہے تو کچھ اور سماں ہوتا ہے

ایک ہم ہی نہیں ماجدؔ رُخِ بے رنگ لئے

جو بھی ہو شعلہ بیاں، سوختہ جاں ہوتا ہے

٭٭٭

جھانکے جو بام پر سے سُورج تری ہنسی کا

ہم بھی کریں مداوا، یخ بستہ خامشی کا

کھِلتے ہوئے لبوں پر مُہریں لگا کے بیٹھیں

تھا کیا یہی تقاضا ہم سے کلی کلی کا

اَب آنکھ بھی جو اُٹھے، جی کانپتا ہے اپنا

کیا حشر کر لیا ہے ہمّت رہی سہی کا

پھر سنگ بھی جو ہوتی اپنی زباں تو کیا تھا

دعوےٰ اگر نہ ہوتا ہم کو سخنوری کا

بستر لپیٹ کر ہم اُٹھ جائیں رہ سے اُس کی

مقصد نہیں تھا شاید ایسا تو مدّعی کا

ماجدؔ لبوں کے غنچے چٹکے دھُواں اُگلتے

تھا یہ بھی ایک پہلو افسردہ خاطری  کا

٭٭٭

 

جھُلسے بدن کو گاہ نمو آشنا کرے

کیا کیا سلوک ہم سے چمن کی ہوا کرے

جاؤں درِ بہار پہ کاسہ بدست میں

ایسا تو وقت مجھ پہ نہ آئے خدا کرے

ہم کیوں کریں دراز کہیں دستِ آرزو

اپنی بلا سے کوئی مسیحا ہُوا کرے

ہاں ہاں مری نگاہ بھی سورج سے کم نہیں

آنکھوں میں کس کی دم کہ مرا سامنا کرے

ہاں ہاں مجھے ضیائے تخیّل عطا ہوئی

ایسا کوئی ملے بھی تو اِس دل میں جا کرے

ماجدؔ یہ طرزِ حُسنِ بیاں اور یہ رفعتیں

دل اس سے بڑھ کے اور تمّنا بھی کیا کرے

٭٭٭

 

جو مجتمع ہو رہا ہوں پل پل مجھے بتا میں بکھر نہ جاؤں

یہ تحفۂ زیست تجھ کو لوٹا کے تجھ پہ احسان دھر نہ جاؤں

یہ ایک لمحہ کہ جان لُوں تو اِسی میں ایٹم سی قوّتیں ہیں

مجھے ہے جینا اگر تو پہنائیوں میں اِس کی اُتر نہ جاؤں

سیاہ راتیں چٹان بھی ہیں تو میرے قدموں کی خاک ہوں گی

یہ کس طرح ہو کہ جستجو میں تری، سحر تا سحر نہ جاؤں

غمِ زمانہ تری حقیقت سے چشم پوشی بڑی خطا ہے

مگر مجھے وہم ہے کہ ہستی سے ہی تری میں مکر نہ جاؤں

چمن کے گُلہائے ناز پرور! نہ مجھ مسافر کا حال پوچھو

یہ بارشِ گرد ہو نہ درپے تو میں بھی تم سا نکھر نہ جاؤں

دلوں میں یاروں کے وسوسے ہیں تو میں بھی کیوں دل کو دشت کر لوں

گمان تک بھی کروں جو ایسا تو جاں سے ماجدؔ گزر نہ جاؤں

٭٭٭

 

جو مرحلۂ زیست ہے پہلے سے کڑا ہے

کیا جُرم نجانے دِلِ وحشی نے کیا ہے

جو آنکھ جھکی ہے ترے سجدے میں گرے ہے

جو ہاتھ تری سمت اُٹھا، دستِ دُعا ہے

اُس درد کا ہمسر ہے ترا پیار نہ تُو ہے

تجھ سے کہیں پہلے جو مرا دوست ہوا ہے

آتا ہے نظر اور ہی اَب رنگِ گلستاں

خوشبُو ہے گریزاں تو خفا موجِ صبا ہے

دل ہے سو ہے وابستۂ سنگِ درِ دوراں

اور اِس کا دھڑکنا ترے قدموں کی صدا ہے

ماجدؔ ہے کرم برق کا پھر باغ پہ جیسے

پھر پیڑ کے گوشوں سے دھواں اُٹھنے لگا ہے

٭٭٭

جگمگائیں گے نگر آخر شب

چاند اُبھرے گا مگر آخرِ شب

سانس کی نَے سے پکارے گا تجھے

غم باندازِ دِگر آخرِ شب

طے کرے گی رُخِ جاناں کی ضیا

دل سے آنکھوں کا سفر آخر شب

خامشی گرد کی صورت پس و پیش

چاندنی خاک بہ سر آخرِ شب

پرتوِ  کاہکشاں ٹھہرے گی

پیار کی راہگزر آخرِ شب

دل کو ویراں ہی نہ کر دے ماجدؔ

آرزوؤں کا مفر آخرِ شب

٭٭٭

 

چہرے کو دیکھئے، مری آنکھوں میں جھانکئے

میرے کہے پہ آپ بھروسہ نہ کیجئے

کھِلتے ہوئے گلوں کی مہک تھی، مری نظر

پھر کیا ہوا مجھے، یہ مُجھی سے نہ پوچھئے

اچّھا نہ ہو گا مَیں بھی اگر لب کشا ہُوا

میری زباں سے زنگ نہ چُپ کا اُتارئیے

ماجدؔ درِ بہار پہ پہنچے تو ہو مگر

اپنی جبیں سے آپ پسینہ بھی پونچھئے

٭٭٭

 

حشر کیا ہو گا بھلا جینے کی اِس تدبیر کا

سوچ پر بھی ہے گماں جب حلقۂ زنجیر کا

کس کا یہ سندیس آنکھوں میں مری لہرا گیا

صفحۂ بادِ صبا پر عکس ہے تحریر کا

سنگِ راہ کا توڑنا بھی تھا سَر اپنا پھوڑنا

ہاں اثر دیکھا تو یوں اِس تیشۂ تدبیر کا

ہم نے بھی اُس شخص کو پایا تو تھا اپنے قریب

پر اثر دیکھا نہیں کچھ خواب کی تعبیر کا

ہم تلک پہنچی ہے جو ماجدؔ یہی میراث تھی

فکر غالبؔ کی اور اندازِ تکلّم میرؔ کا

٭٭٭

 

حصولِ منزلِ ایقاں کا اہتمام کریں

گزر رہی ہے جو ساعت اُسے امام کریں

ہمیں وہ لوگ، کہ ہم جنس جن سے کترائیں

ہمیں وہ لوگ، کہ یزداں سے بھی کلام کریں

مِلی فلک سے تو جو آبرو، ملی اِس کو

ہمیں بھی چاہیئے انساں کا احترام کریں

ہوا نہ کوہِ الم جن سے آج تک تسخیر

ہزار موسم مہتاب کو غلام کریں

ہر ایک شخص جو بپھرا ہوا مِلے ہے یہاں

حدودِ ارض میں اُس کو تو پہلے رام کریں

گرفت میں ہیں جو ماجدؔ اُنہی پہ بس کیجے

نہ آپ اُڑتے پرندوں کو زیرِ دام کریں

٭٭٭

حُسن اور مقتضی جفاؤں کا

پھر گیا رُخ کدھر ہواؤں کا

وحشتِ غم ہے دل میں یوں جیسے

کوئی میلہ لگا ہو گاؤں کا

سایۂ ابر بھی چمن سے گیا

خوب دیکھا اثر دعاؤں کا

جو گریباں کبھی تھا زیبِ گلو

اَب وہ زیور بنا ہے پاؤں کا

اُن سے نسبت ہمیں ہے یُوں ماجدؔ

ربط جیسے ہو دھوپ چھاؤں کا

٭٭٭

 

خون میں برپا رہتی تھی جو ہلچل سی

ابکے لگے ہے ٹھہری وہ ٹھنڈے جل سی

ایسی کیوں ہے آنکھ نہیں بتلا سکتی

نندیا ہے کہ گرانی سے ہے بوجھل سی

لا فانی ہے یہ تو کتابیں کہتی ہیں

روح نجانے رہتی ہے کیوں بے کل سی

رات کا اکھوا ہے کہ نشانِ بدامنی

دور افق پر ایک لکیر ہے کاجل سی

منظر منظر تلخ رُوئی ہے وہ ماجد

اتری لگے جو آنکھوں آنکھوں حنظل سی

٭٭٭

 

دیکھیے یہ بھی اِک اِختراعِ جنوں

جی میں ہے پایۂ عرش کو تھام لوں

ہے یہی طرّۂ امتیازِ جنوں

مَیں جو روؤں تو پھر مُسکرا بھی سکوں

پیار آتش سہی پر یہ کیا شرط ہے

چاندنی رات میں بھی سُلگتا رہوں

یہ روش بھی کچھ ایسی بُری تو نہیں

چوٹ کھاؤں مگر مُسکراتا رہوں

احترامِ شبِ وصل ہو گر مجھے

مَیں شبِ ہجر کا نام تک بھی نہ لُوں

مجھ کو بھی حق پہنچتا ہے ماجدؔ کہ مَیں

ساتھ پھولوں کے مہکوں گلستاں بنوں

٭٭٭

 

دل پہ چھایا ہے وہ احساسِ گراں

چھوڑتا ہی نہیں اندیشۂ جاں

جب بھی گزرے ہیں تری یاد میں دن

کھِل اُٹھے پھُول سرِ جوئے رواں

سُونا سُونا ہے نظر کا دامن

چھُپ گیا ہے وہ مرا چاند کہاں

شعلۂ گل سے دئیے تک ماجدؔ

اُٹھ رہا ہے مری آہوں کا دھُواں

٭٭٭

 

دل کو تسکیں جو صنم دیتے ہیں

شہد میں گھول کے سم دیتے ہیں

دل کو پتھّر نہ سمجھنا مری جاں

لے تجھے ساغرِ جم دیتے ہیں

ظرف کی داد یہی ہو جیسے

دینے والے ہمیں غم دیتے ہیں

دست کش ہو کے بھی دیکھیں تو سہی

یوں بھی کیا اہلِ کرم دیتے ہیں

چھینتے ہیں وہ نوالے ہم سے

اور بقا کو ہمیں بم دیتے ہیں

خود خزاں رنگ ہیں لیکن ماجدؔ

ہم بہاروں کو جنم دیتے ہیں

٭٭٭

 

دلا دیا ہے جو سیلاب سا بہاؤ مجھے

کوئی تو راہ کا پتّھر بھی اب دکھاؤ مجھے

بہت سے نقش ہیں تشنہ ابھی مصّورِ حسن

یہ جگ ہنسے گا ابھی سامنے نہ لاؤ مجھے

نکل گیا ہوں سلامت ہی حادثوں سے تو مَیں

چِتا میں رکھ کے نہ یادوں کی اَب جلاؤ مجھے

اُدھر ہیں لوگ نگاہوں میں جن کی راکھ ہوں میں

اِدھر ہو تم کہ بتاتے ہو اِک الاؤ مجھے

تناوری پہ مری بس کہاں وجود مرا

اُتر بھی جاؤ جو پاتال تک نہ پاؤ مجھے

پیمبرِ گل تر ہوں غزل ہوں ماجدؔ کی

نظر پڑوں تو کبھی آ کے گنگناؤ مجھے

٭٭٭

دھوپ میں جھلسا ہوں مَیں کچھ دیر سستانے تو دو

پوچھنا حالِ سفر بھی ہوش میں آنے تو دو

دیکھنا اُبھروں گا پہلو میں یدِ بیضا لیے

ظلمتِ شب میں ذرا مجھ کو اُتر جانے تو دو

نطق ہونٹوں سے مرے پھوٹے گا بن کر چاندنی

میری آنکھوں سے یہ چُپ کا زہر بہہ جانے تو دو

جز ادائے سجدۂ بے چارگی کر لے گا کیا

موجۂ سیلاب کو دہلیز تک آنے تو دو

پھر مری صحنِ گلستاں میں بحالی دیکھنا

اِک ذرا یہ موسمِ بے نم گزر جانے تو دو

ٹھیک ہے ماجدؔ فسانے تھیں تمہاری چاہتیں

یہ فسانے پر ہمیں اِک بار دُہرانے تو دو

٭٭٭

 

دل میں آنا تو بہاروں سا سماتے جانا

اور خیمے دمِ رُخصت یہ، اُڑاتے جانا

ہر خطِ جسم کو اِس طرح اُجاگر کرنا

ہر رہِ زیست مقابل کی مٹاتے جانا

اک تو پہلے ہی سراپا ہے قیامت جیسا

اِس پہ ترشے ہوئے ملبوس سجانے جانا

کھینچ کر تارِ نظر خود متوجہ کرنا

کوئی دیکھے تو تغافل بھی جتاتے جانا

دعوتِ لمس بھی تتلی سی ہر اِک پل دینا

اور بڑھیں ہاتھ تو چکر سا دِلاتے جانا

کِس کا قصّہ لیے بیٹھے ہو یہ ماجدؔ صاحب

کس کی خاطر ہے یہ ہر بات بڑھاتے جانا

٭٭٭

 

ذرا سا ہم پہ تھا الزام حق سرائی کا

ہماری سمت ہوا رُخ بھری خدائی کا

ظہورِ آب ہے محتاجِ جُنبشِ طوفاں

کہ اتنا سہل اُترنا کہاں ہے کائی کا

یہ اختلاط کا چرچا ہے تجھ سے کیا اپنا

بنا دیا ہے یہ کس نے پہاڑ رائی کا

وفا کی جنس ہے ہر جنسِ خوردنی جیسے

کہ زر بھی ہاتھ میں کاسہ ہوا گدائی کا

چُکا دیا ہے خیالوں کی زر فشانی سے

جو قرض ہم پہ تھا خلقت کی دلربائی کا

خبر ضرور تھی طوفان کی تجھے ماجدؔ

تری پکار میں انداز تھا دُہائی کا

٭٭٭

 

رستے میں جو شام پڑ گئی ہے

ہاں مرحلہ یہ بھی دیدنی ہے

دشوار نہ تھی کچھ ایسی رہ بھی

کیوں سانس اُکھڑ اُکھڑ گئی ہے

دیکھا تھا جو دُکھ عروج پر بھی

اَب شام اُسی کی ڈھل چلی ہے

کِس چاند کی ضَو زمیں پہ لایا

یہ جسم ترا، کہ چاندنی ہے

ماجدؔ ترے ہونٹ چُوم لوں مَیں

کیا بات پتے کی تُو نے کی ہے

٭٭٭

 

رات کٹتی ہے سلگتے، مری جاں آنکھوں میں

دیکھ تسکین کی صورت ہے کہاں آنکھوں میں

دلِ ناداں کی پیمبر ہیں اِنہیں دیکھ ذرا

ہے کوئی غم تری جانب نگراں آنکھوں میں

پہلوئے دل میں مہکتا ہے وہی اِک گل تر

تیرتا ہے وہی اِک ماہ رواں آنکھوں میں

نہ کسی غم کا چراغاں نہ کسی یاد کے دیپ

کب سے ماجدؔ ہے اندھیروں کا سماں آنکھوں میں

٭٭٭

 

رہ بہ رہ پھر وہی اندیشۂ غم

پھر وہی ہم ہیں وہی دشتِ ستم

زندگانی سے الجھنا ہے مجھے

رہنے دیجے گا مجھی تک مرا غم

ہم گرفتارِ بلا ٹھہریں گے

وقت پھیلائے گا پھر دامِ ستم

وقت اِک شعلۂ لرزاں ماجدؔ

زندگی ایک خیال مبہم

٭٭٭

 

صُورتِ خار دے چبھن، صُورت گُل کھِلا مجھے

تجھ پہ ہے اَب یہ فیصلہ، چاہیئے انتہا مجھے

بھید مری سرشت کا اِس سے کھُلے گا اور بھی

مَیں کہ گلوں کی خاک ہوں لے تو اُڑے ہوا مجھے

کھائے نہ تن پہ تِیر بھی، لائے نہ جوئے شِیر بھی

کیسے فرازِ ناز سے شوخ وہ، مِل گیا مجھے

وہ کہ مثالِ مہر ہے، وہ کہ ہے رشکِ ماہ بھی

اے مرے نطق و لب کی ضو! سامنے اُس کے لا مجھے

دست درازیِ خزاں! ہے تجھے مجھ پہ اختیار

کر تو دیا برہنہ تن، اور نہ اَب ستا مجھے

اے مری ماں! مری زمیں! تجھ سے کہوں تو کیا کہوں؟

چھین کے گود سے تری، لے گئی کیوں خلا مجھے

جب سے جلے ہیں باغ میں برق سے بال و پر مرے

کہنے لگی ہے خلق بھی ماجدِؔ بے نوا مجھے

٭٭٭

غزل لکھوں تو کِسے اپنا مُدّعا مانوں

کوئی صنم بھی تو ہو مَیں جِسے خُدا مانوں

مری ضیا سے مُنّور، مجھی سے بیگانہ

مَیں ایسے عہد کو کس طرح با صفا مانوں

حضور! آپ نے جو کچھ کہا، درست کہاں

مرا مقام ہی کیا ہے جو مَیں بُرا مانوں

جو میرے سر پہ ٹھہرتا تلک نہیں ماجدؔ

مَیں ایسے ابرِ گریزاں کو کیوں رِدا مانوں

٭٭٭

 

فن سے مرے کہ ہے جو فرازِ کمال پر

پہنچا ہے اُس کا ذکر ہر اک بُک سٹال پر

ہونٹوں پہ رقص میں وُہی رنگینی نگاہ

محفل جمی ہوئی کسی ٹیبل کی تال پر

شیشے کے اِک فریم میں کچھ نقش قید تھے

میری نظر لگی تھی کسی کے جمال پر

ساڑھی کی سبز ڈال میں لپٹی ہوئی بہار

کیا کچھ شباب تھا نہ سکوٹر کی چال پر

ہنستی تھی وہ تو شوخیِ خوں تھی کُچھ اس طرح

جگنو سا جیسے بلب دمکتا ہو گال پر

رکھا بٹن پہ ہاتھ تو گھنٹی بجی اُدھر

در کھُل کے بھنچ گیا ہے مگر کس سوال پر

میک اَپ اُتر گیا تو کھنڈر سی وہ رہ گئی

جیسے سحر کا چاند ہو ماجدؔ زوال پر

٭٭٭

 

قّصۂ دہر کا عنواں ہونا

ہے میّسر مجھے انساں ہونا

کتنا مشکل ہے ترے غم کا حصول

کتنا مشکل ہے پریشاں ہونا

تو مری روح میں، وجدان میں ہے

تجھ کو حاصل ہے مری جاں ہونا

مہر کو سر پہ سجانا پل بھر

پھر شبِ سردِ زمستاں ہونا

پھُولنا شاخ پہ غنچہ غنچہ

اور اِک ساتھ پریشاں ہونا

کب تلک خوفِ ہوا سے آخر

ہو میسّر، تہِ داماں ہونا

تھے کبھی ہم بھی گلستاں ماجدؔ

اَب وطیرہ ہے بیاباں ہونا

٭٭٭

کشید خاک سے آتش تو کی جلانے کو

کوئی نمو کا بھی رُخ دیجیے زمانے کو

لگے بھی ہاتھ تو کس کے ستم کشانِ جہاں

سجا رہا ہے جو کولہو میں دانے دانے کو

لہو میں لتھڑے ہوئے پاؤں لے کے دھرتی سے

چلا ہے چاند پہ انساں قدم جمانے کو

کسی بھی عہد میں وحشت کا تھا نہ یہ انداز

ہر ایک ہاتھ میں کب جال تھے بچھانے کو

ہر ایک شخص سے ہر ایک شخص بیگانہ

یہ کیا ہوا ہے یکایک مرے زمانے کو

وُہ سُن کے زخم بھی ماجدؔ ترے کُریدیں گے

جنہیں چلا ہے حکایاتِ غم سُنانے کو

٭٭٭

 

کانٹوں کے درمیاں گلِ تر کا نشاں بھی دیکھ

پاگل نہ بن، رُتوں کو کبھی مہرباں بھی دیکھ

ہاتھوں میں میرے، صفحۂ سادہ پہ کر نظر

اظہارِ غم کو ترسی ہوئی انگلیاں بھی دیکھ

تو اور سراپا بس میں ہمارے ہو! ہائے ہائے!!

ہم پر یہ ایک تہمتِ اہلِ جہاں بھی دیکھ

تھا زیست میں بہار کا طوفاں بھی پل دو پل

اِس بحر میں تموّجِ گردِ خزاں بھی دیکھ

سہمی ہوئی حیات کو یُوں مختصر نہ جان

لمحے میں جھانک اور اسے بیکراں بھی دیکھ

ردّی کے بھاؤ بیچا گیا ہوں کسی کے ہاتھ

لے کُو بکُو بکھرتی مری داستاں بھی دیکھ

ماجدؔ ہے جس کا شور سماعت میں اَب تلک

اُس سیلِ تند و تیز کے چھوڑے نشاں بھی دیکھ

٭٭٭

کچھ اِن دنوں عجب انداز سے جیوں ہوں مَیں

ہر ایک شخص سے جیسے چھپا پھروں ہوں مَیں

ہوئی ہے ایک ادا ہی ٹھٹک کے رہ جانا

سکون سے جو قدم دو قدم چلوں ہوں مَیں

گہے اڑوں ہوں مَیں برگِ خزاں زدہ کی مثال

گہے  بصُورتِ غنچہ مہک اُٹھوں ہوں مَیں

نظر نہیں ہے جب اپنے ہی عجز پر ماجدؔ

کسی کے پیار پہ الزام کیوں دھروں ہوں مَیں

٭٭٭

 

کھول کوئی در لطف کا اپنے، اِن آنکھوں میں رنگ بھروں

ہاتھ مرے ہاتھوں میں دے دے جینے کا سامان کروں

لازم ہے اِک دورِ طرب کے بعد مجھے تو بھُول بھی جا

مَیں اک بار تجھے پھر چاہوں عہد نیا آغاز کروں

چاروں اور رہی اِک ظلمت جو سوچا سو دیکھا ہے

چاند کبھی تو اُبھرے گا یہ آس لگا کر بھی دیکھوں

اے کہ تلاشِ بہار میں تُو بھی غرق ہے، برگِ آوارہ

کاش مجھے بھی پر لگ جائیں مَیں بھی تیرے ساتھ اُڑوں

شہر میں ہر اک شخص تھا جیسے ایک یہی تلقین لیے

مَیں شبنم کو پتّھر جانوں مَیں پھُولوں کو خار کہوں

گلشن میں یہ کنجِ سخن بھی اُجڑا بن کہلاتا ہے

مَیں جِس پھلواری سے ماجدؔ پہروں بیٹھا پھُول چُنوں

٭٭٭

کوئی بستی نہ دیوار و در سامنے

پھیلتے جا رہے ہیں کھنڈر سامنے

اپنی جانب لپکتے قدم دیکھ کر

مُسکراتے ہیں گل شاخ پر سامنے

یاد میں تھیں صبا کی سی اٹکھیلیاں

جانے کیا کچھ رہا رات بھر سامنے

زندگی ہے کہ آلام کی گرد سے

ہانپتی ہے کوئی راہگزر سامنے

رات تھی جیسے جنگل کا تنہا سفر

چونک اُٹھے جو دیکھی سحر سامنے

آئنے ہیں مقابل جِدھر دیکھیے

اپنی صورت ہے با چشمِ ترا سامنے

ہم ہیں ماجدؔ سُلگتے دئیے رات کے

بُجھ گئے بھی تو ہو گی سحر سامنے

٭٭٭

 

کاش! مَیں جس کے اُوپر ہوں اِک خوں سا

اپنے اندر کے اُس شخص کو دیکھتا

پاگلوں کی طرح وہ تجھے چاہنا

تھا مری سوچ کا وہ بھی اِک زاویہ

مُرغ تھا زد پہ تِیرِ قضا کی مگر

آشیاں تھا کھُلے بازوؤں دیکھتا

ساغرِ مئے پیے، ساتھ خوشبو لیے

در بدر ٹھوکریں کھا رہی تھی ہوا

وہ تو وہ اُس کے ہونے کا احساس بھی

تھا مہک ہی مہک، رنگ ہی رنگ تھا

چاند نکلا ہے ڈوبے گا کچھ دیر میں

چاہیئے بھی ہمیں اِس سمے اور کیا

کیسے بخشے گا آئینِ گلشن ہمیں

ہم نے مَسلا  اِسے، دل کہ اِک پھُول تھا

عمر بھر ہم بھی خوشیوں کے منکر رہے

شکر ہے یہ بھی اِک مرحلہ طے ہوا

کیوں ہمیں چھُو کے ماجدؔ گزرنے لگی

آگ میں کیوں جھُلسنے لگی ہے صبا

٭٭٭

 

کیا ہے مدّھم اگر پڑی آواز

دبنے والی نہیں مری آواز

تیری نظریں کہ آبشار گرے

میرا دامن کہ گونجتی آواز

یوں ہُوا ہے کہ ذکر سے تیرے

تیرے پیکر میں ڈھل گئی آواز

ہائے کس جذبۂ جواں سے ہے

نکھری نکھری دھُلی دھُلی آواز

کوئی غنچہ چٹک رہا ہو گا

تھی توانا بھری بھری آواز

نامُرادی کا کیا گلہ ماجدؔ

ہم نے اُٹھنے ہی جب نہ دی آواز

٭٭٭

 

کب صبا تیرا پتہ لائے گی

کب یہ اُمید بھی بر آئے گی

صبح کی خیر مناؤ لوگو

شب کوئی دم ہے گزر جائے گی

ایسے منظر ہیں پسِ پردۂ حُسن

آنکھ دیکھے گی تو شرمائے گی

دل کو پت جھڑ کی حکایت نہ سناؤ

یہ کلی تاب نہیں لائے گی

مَیں بھی ہوں منزلِ شب کا راہی

رات بھی سُوئے سحر جائے گی

پیار خوشبُو ہے چھُپائے نہ بنے

بات نکلی تو بکھر جائے گی

دل سے باغی ہے تمّنا ماجدؔ

ہو کے اب شہر بدر جائے گی

٭٭٭

گہ تجھ کو، گاہ نورِ سحر دیکھتا رہوں

جلوہ ترا برنگِ دِگر دیکھتا رہوں

دِل کے دئیے سے اُٹھتی رہیں یاد کی لَویں

تیرا جمال شعلہ بہ سر دیکھتا رہوں

پل پل برنگِ برق ترا سامنا رہے

رہ رہ کے اپنی تابِ نظر دیکھتا رہوں

پہروں رہے خیال ترا ہمکنار دل

دن رات تیری راہگزر دیکھتا ہوں

ماجدؔ سناؤں شہر بہ تشریح اب کِسے

اِس سے تو آپ اپنا ہنر دیکھتا ہوں

٭٭٭

 

گُل بہ گُل حُسن، میرا طلب گار تھا

جانے میں کیوں گلستاں سے بیزار تھا

سامنے اُس کے خاموش تھے اِس طرح

ہر خطا کا ہمیں جیسے اقرار تھا

زندگی جب نثارِ غمِ دہر تھی

اُس کا ملنا بھی ایسے میں بیکار تھا

مُنہ سے کہنا اگرچہ نہ آیا اُسے

بور تھا مجھ سے وہ سخت بیزار تھا

زندگی ہم سے ماجدؔ گریزاں تو تھی

جُرم اپنا بھی کچھ اِس میں سرکار تھا

٭٭٭

 

گل ہیں خوشبُو ہیں کہکشاں ہیں ہم

تو ہے عنوانِ دل، بیاں ہیں ہم

کل بھی تھا ساتھ ولولوں کا ہجوم

آج بھی میرِ کارواں ہیں ہم

اِک تمنّا کا ساتھ بھی تو نہیں

کس بھروسے پہ یوں رواں ہیں ہم

دل میں سہمی ہے آرزوئے حیات

کن بگولوں کے درمیاں ہیں ہم

جانتی ہیں ہمیں ہری شاخیں

زرد پتّوں کے ترجمان ہیں ہم

دل کا احوال کیا کہیں ماجدؔ

گو بظاہر تو گلستاں ہیں ہم

٭٭٭

 

لو مَیں بھی ہر بات تمہی سی کہتا ہوں

لو مَیں بھی جذبات کی رَو میں کہتا ہوں

مجھ میں بھی ہے ایک سقم آئنوں سا

جو کچھ ہو محسوس وہی کچھ کہتا ہوں

سچ پوچھو تو پستی کا سر کرنا کیا

دریا بھی ہوں تو اُلٹے رُخ بہتا ہوں

ہوں محروم اِک ایک چلن سے دُنیا کے

ماجدؔ جانے میں کس جگ میں رہتا ہوں

٭٭٭

 

لکھو تم ہمیں چِٹھیاں دوستو

تمہیں ایسی فرصت کہاں دوستو

یہ دشتِ سخن اور یہ خاموشیاں

سلگتی ہے جیسے زباں دوستو

چمن میں مرے حال پر ہر کلی

بجاتی ہے اب تالیاں دوستو

کوئی بات جیسے نہ لوٹائے گا

خدا بھی برنگِ بُتاں دوستو

جِسے ڈھونڈتے ہو وہ ماجدؔ بھلا

غمِ جاں سے فارغ کہاں دوستو

٭٭٭

 

لے ہاتھ سے ہاتھ اَب مِلا بھی

کھُل جائے گا حرفِ مدّعا بھی

کیا ہم سے مِلا سکے گا آنکھیں

ہو تجھ سے کبھی جو سامنا بھی

سہمی تھی مہک گلوں کے اندر

ششدر سی مِلی ہمیں ہوا بھی

جس شخص سے جی بہل چلا تھا

وہ شخص تو شہر سے چلا بھی

کیوں نام ترا نہ لیں کسی سے

اَب قید یہ ہم سے تُو اُٹھا بھی

ماجدؔ کو علاوہ اِس سخن کے

ہے کسبِ معاش کی سزا بھی

٭٭

 

لب پہ آئے، بکھر گئے نغمے

دل کو بے چین کر گئے نغمے

جنبشِ لب سے وا ہوئے غنچے

صورتِ گل نکھر گئے نغمے

دُور تک تیرا ساتھ قائم تھا

دُور تک ہم سفر گئے نغمے

دھڑکنوں کی زباں سے نکلے تھے

پتّھروں تک بکھر گئے نغمے

اُڑ گئے جیسے اوس کے ہمراہ

تھے جو ماجدؔ سحر سحر نغمے

٭٭٭

 

لے کر مہِ شب تاب سے کرنوں کا بہاؤ

ہَولے سے مرے دل میں کہیں سے اُتر آؤ

چُپ چاپ ہو جیسے کوئی بن باس پہ نکلے

اے دل کی تمّناؤ! کوئی حشر اُٹھاؤ

کچھ ماند تو پڑ جائیں گے باتوں کی نمی سے

آؤ کہ دہکتے ہیں خموشی کے الاؤ

پھرتا ہے کچھ اس طور سے مغرور و گریزاں

ہے وقت بھی جیسے ترے ابرو کا تناؤ

اُترے ہیں جو اِس میں تو کھُلے گا کبھی ماجدؔ

لے جائے کہاں جھومتے دریا کا بہاؤ

٭٭٭

 

مَیں جو اُس کے قدموں میں ریت سا بکھر جاتا

چاند سا بدن اُس کا اور بھی نکھر جاتا

کیوں نظر میں چُبھتا تھا عکس اِک گریزاں سا

تھا اگر وہ کانٹا ہی پار تو اُتر جاتا

وہ یونہی گھرا رہتا ہجر کے حصاروں میں

اور میں کہ طوفاں تھا اُلجھنوں سے ڈر جاتا

عمر بھر کو دے جاتا نشۂ شباب اپنا

اور بھی جو کچھ لمحے پاس وہ ٹھہر جاتا

دوش پر ہواؤں کے برگِ زرد سا ماجدؔ

ڈھونڈنے اُسے اِک دن میں بھی در بہ در جاتا

٭٭٭

 

میں ابھی موت سے بچ کر نکلا

موت کیسی؟ یہ مرا ڈر نکلا

اشک تھے سو تو چھُپائے مَیں نے

پھول کالر پہ سجا کر نِکلا

مَیں تو ہوں مُہر بلب بھی لیکن

کام کچھ یہ بھی ہے دُوبھر نکلا

یہ الگ بات کہ پیچھا نہ کیا

گھر سے تو اُس کے برابر نکلا

خاک سے جس کا اُٹھایا تھا خمیر

ہم رکابِ مہ و اختر نکلا

مَیں کہ عُریاں نہ ہُوا تھا پہلے

بن کے اُس شوخ کا ہمسر نکلا

غم کی دہلیز نہ چھوڑی میں نے

میں نہ گھر سے کبھی باہر نکلا

جو اُڑاتا مجھے ہم دوشِ صبا

مجھ میں ایسا نہ کوئی پر نکلا

اُس نے بے سود ہی پتھر پھینکے

حوصلہ میرا سمندر نکلا

درد اظہار کو پہنچا ماجدؔ

دل سے جیسے کوئی نشتر نکلا

٭٭٭

 

موسموں کو نئے عنوان دیا کرتے ہیں

نذرِ صرصر بھی ہمیں برگ ہُوا کرتے ہیں

اپنے احساس نے اِک رُوپ بدل رکھا ہے

بُت کی صورت جِسے ہم پُوج لیا کرتے ہیں

اُن سے شکوہ؟ مری توبہ! وہ دلوں کے مالک

جو بھی دیتے ہیں بصد ناز دیا کرتے ہیں

ہم کہ شیرینیِ لب جن سے ہے ماجدؔ منسُوب

کون جانے کہِ ہمیں زہر پِیا کرتے ہیں

٭٭٭

 

مہک اُٹھیں یہ فضائیں جو لب ہلائیں کبھی

ہمیں بھی چھیڑ کے دیکھیں تو یہ ہوائیں کبھی

یہ اِن لبوں ہی تلک ہے ابھی ضیا جن کی

بنیں گی نُور کے سوتے یہی صدائیں کبھی

وُہ خوب ہے پہ اُسے اِک ہمیں نے ڈھونڈا ہے

جو ہو سکے تو ہم اپنی بھی لیں بلائیں کبھی

کبھی تو موت کا یہ ذائقہ بھی چکھ دیکھیں

وہ جس میں جان ہے اُس سے بچھڑ بھی جائیں کبھی

وہ حُسن جس پہ حسیناؤں کو بھی رشک آئے

اُسے بھی صفحۂ قرطاس پر تو لائیں کبھی

وہی کہ جس سے تکلّم کو ناز ہے ہم پر

وہ رنگ بھی تو زمانے کو ہم دکھائیں کبھی

ہمِیں پہ ختم ہے افسردگی بھی، پر ماجدؔ

کھلائیں پھول چمن میں جو مسکرائیں کبھی

٭٭٭

 

مَیں برگ ہوں خاک ہوں ہوا ہوں

اے کاش یہ جان لوں کہ کیا ہوں

تجھ کو جو بہ غور دیکھتا ہوں

مَیں خود ہی پہ رشک کر رہا ہوں

منسوب ہے مجھ سے یہ ستم بھی

انجان دلوں سے کھیلتا ہوں

آؤ کہ یہ رُت نہ پھر ملے گی

مَیں آپ کی راہ دیکھتا ہوں

حالات سے مانگ کر خدائی

حالات سے کھیلنے لگا ہوں

شرماؤ گے دیکھ کر مجھے تُم

مَیں بھی تو تمہارا آئنہ ہوں

آگے کا سلوک جانے کیا ہو

غنچہ سا چمن میں کھِل چلا ہوں

قسمت میں شرر لکھے ہیں ماجدؔ

انگارہ صفت دہک رہا ہوں

 

مجھ برگِ خشک سے کہ ابھی ہوں جو ڈال پر

آنے لگا ہے حرف، چمن کے جمال پر

ممنوع جب سے آبِ فراتِ نمو ہوا

کیا کچھ گئی ہے بِیت، گلستاں کی آل پر

مانندِ زخم، محو شجر سے بھی ہو گئے

چاقو کے ساتھ نام کھُدے تھے جو چھال پر

گُرگانِ باتمیز بھی ملتے ہیں کُچھ یہاں

کیجے نہ اعتبار دکھاوے کی کھال پر

ماجدؔ رہیں نصیب یہ دانائیاں اُنہیں

قدغن لگا رہے ہیں جو برقِ خیال پر

٭٭٭

 

نہ سہی چاند پہ منہ اپنے پہ تھُوکا جائے

دل کا یہ زہر کسی طور تو اگلا جائے

تُو نہیں ہے تو تری سمت سے آنے والی

کیوں نہ اِن شوخ ہواؤں ہی سے لپٹا جائے

بے نیازی یہ کہیں عجز نہ ٹھہرے اپنا

اُس جھُکی شاخ سے پھل کوئی تو چکھا جائے

بے گُل و برگ سی وہ شاخِ تمّنا ہی سہی

دل کے اِس صحن میں ہاں کچھ تو سجایا جائے

چونک اُٹّھے وہ شہنشاہِ تغزّل ماجدؔ

یہ سخن تیرا جو غالبؔ کو سُنایا جائے

٭٭٭

 

نظر کی شاخ پہ اِس طرح اَب سجاؤں تجھے

کہ ایک آن بھی خود سے جُدا نہ پاؤں تجھے

یہ چہچہے، یہ سحر، پَو پھٹے کا منظرِ شب

ترا ہی عکس ہیں کِس طرح مَیں بھلاؤں تجھے

مہک مہک ترا اِک رنگ گل بہ گل تری لَے

تجھے لکھوں بھی تو کیا، کیسے گنگناؤں تجھے

نظر لگے نہ تمّنائے وصل کو میری

صبا کا بھیس بدل لے گلے لگاؤں تجھے

سحر کا عکس ہے ماجدؔ تری غزل کا نکھار

یہ ایک مژدۂ جاں بخش بھی سُناؤں تجھے

٭٭٭

 

نشہ تری چاہت کا اُترنے کا نہیں ہے

یہ لمحۂ جاوید گزرنے کا نہیں ہے

کیا پُوچھتے ہو حدّتِ نظارہ سے دل میں

وہ زخم ہوا ہے کہ جو بھرنے کا نہیں ہے

لب بھینچ کے رکھوں تو چٹکتی ہے خموشی

اور ذکر بھی ایسا ہے جو کرنے کا نہیں ہے

کیوں سمت بڑھاتے ہو مری، برف سے لمحے

موسم مرے جذبوں کا ٹھٹھرنے کا نہیں ہے

اک عمر میں آیا ہے مرے ہاتھ سمٹنا

شیرازۂ افکار بکھرنے کا نہیں ہے

وہ راج ہے اِس دل کے اُفق پر تری ضو کا

سورج کوئی اَب اور اُبھرنے کا نہیں ہے

ماجدؔ کو اگر بعدِ مؤدت تری درپیش

ہو موت سی آفت بھی تو مرنے کا نہیں ہے

٭٭٭

 

وُہ یاد آئے تو کس طرح مَیں بھلاؤں اُسے

یہ کیفیت بھی مگر کیسے اَب سُجھاؤں اُسے

دل و نظر سے جو اُس پر کھُلا نہ راز اپنا

تو حرف و صوت سے احساس کیا دلاؤں اُسے

کھُلی ہے سامنے اُس کے مری نظر کی کتاب

حکایتِ غم دل پڑھ کے کیا سُناؤں اُسے

وہ ساز بھی ہے تو ہے میرے لمس کا محتاج

یہ جان لے تو نئی زندگی دلاؤں اُسے

غزل یہ اُس کی سماعت کو کہہ تو دی ماجدؔ

کوئی سبیل بھی نکلے تو اَب سناؤں اُسے

٭٭٭

 

نظر اُٹھے بھی تو خُود ہی کو دیکھتا ہوں مَیں

نجانے کون سے جنگل میں آ بسا ہوں مَیں

یہ کس ہجوم میں تنہا کھڑا ہوا ہوں مَیں

یہ اپنے آپ سے ڈرنے سا کیوں لگا ہوں مَیں

وگرنہ شدّتِ طوفاں کا مجھ کو ڈر کیا تھا

لرز رہا ہوں کہ اندر سے کھوکھلا ہوں مَیں

یہ کیوں ہر ایک حقیقت لگے ہے افسانہ

یہ کس نگاہ سے دُنیا کو دیکھتا ہوں مَیں

برس نہ مجھ پہ ابھی تندیِ ہوائے چمن

نجانے کتنے پرندوں کا گھونسلا ہوں مَیں

تمہاری راہ میں وہم و گماں کا جال تو تھا

مجھے یہ دُکھ ہے کہ اِس میں اُلجھ گیا ہوں میں

یہ کس طرح کی ہے دِل سوزی و خنک نظری

یہ آ کے کون سے اعراف پر کھڑا ہوں مَیں

اِس اپنے عہد میں، اِس روشنی کے میلے میں

قدم قدم پہ ٹھٹکنے سا کیوں لگا ہُوں مَیں

مری زمیں کو مجھی پر نہ تنگ ہونا تھا

بجا کہ چاند کو قدموں میں روندتا ہوں مَیں

سکوتِ دہر کو توڑا تو مَیں نے ہے ماجدؔ

یہ ہنس دیا ہوں نجانے کہ رو دیا ہوں مَیں

٭٭٭

 

ہے جنوں عطر، آگہی خوشبُو

ذات اپنی ہی دے اُٹھی خوشبُو

دل معطّر ہے یادِ حسن کے ساتھ

لب پہ ہے ذکرِ یار کی خوشبُو

اَب بھی ہیں سلسلے وُہی تیرے

گل پیمبر، پیمبری خوشبُو

آنے لگتی ہے تیرے نام کے ساتھ

ہر گماں سے یقین کی خوشبو

جسم مہکا ہے پھر کوئی ماجدؔ

ہے پریشاں گلی گلی خوشبُو

٭٭٭

 

ہم نے تو درد سے بھی آنکھ لڑا لی یارو

پھر بھی اُمّید کی آغوش ہے خالی یارو

شکر ہے تم نے یہ راہیں نہیں دیکھیں اَب تک

ہم تو در در پہ گئے بن کے سوالی یارو

آنکھ ہی دید سے محروم ہے ورنہ ہر سو

ہے وہی عارض و رخسار کی لالی یارو

جانے کس دور کا رہ رہ کے سُناتی ہے پیام

زرد پتّوں سے یہ بجتی ہوئی تالی یارو

عظمتِ رفتۂ فن لوٹ کے آتی دیکھو

طرز اب کے ہے وہ ماجدؔ نے نکالی یارو

٭٭٭

 

ہر لمحہ اِک بند کلی اور بول مرے تھے بادِ صبا

جس کا کھِلنا یا مرجھانا بس سے مرے باہر بھی نہ تھا

پھول کھِلے تو مَیں خود چھپ کر بیٹھ رہا ویرانوں میں

بِیت گیا جب موسمِ گل تو اُجڑے بن میں کُود پڑا

مَیں مجرم ہوں مَیں نے زہر سمویا اپنی سانسوں میں

اے جیون اے عادلِ دوراں،للہ مجھ پر رحم نہ کھا

اے جینے کے رستے مجھ پر اور بھی کچھ ہو بند ابھی

مَیں کہ نہیں ہوں اندھا بھی تُو میری آنکھیں کھول ذرا

ٹُنڈ شجر اور شاخیں، اُجڑی آنکھیں جیسے بیوہ کی

کس موسم کا ماتھا ماجدؔ مَیں نے بڑھ کر چوم لیا

٭٭٭

 

ہم خاک ہوئے تری خوشی کو

ہاں دیکھ ہماری سادگی کو

اے واہمۂ فراقِ جاناں

پیروں میں کچل نہ دوں تجھی کو

تم مجھ سے جُدا ہوئے تو ہوتے

پھر دیکھتے میری بے کلی کو

ظلمت ہی جہاں نظر نظر ہو

چاہے کوئی کیسے روشنی کو

یہ لُطفِ سخن کہاں تھا ماجدؔ

بیتے ہیں برس سخنوری کو

٭٭٭

 

ہر شخص رہنما ہے کِسے رہنما کریں

صورت کوئی بنے تو سفر ابتدا کریں

ہاں کچھ تو والدین کو بھیجا کریں ضرور

پیسے نہیں تو خط ہی کبھی لکھ دیا کریں

مانگے اگر حساب کوئی صاحبِ دکان

پھیکی سی اک ہنسی نہ فقط ہنس دیا کریں

ماجدؔ بطرزِ نو سخن آرا تو ہوں ضرور

لوگوں کے تبصروں سے نہ لیکن ڈرا کریں

٭٭٭

 

ہوں اگر تنہا تو تنہا ہی نہ رہنا سیکھ لوں

کیوں کسی کو کھینچ لانے کی تمّنا میں کروں

اپنی ان محرومیوں میں کچھ مرا بھی ہاتھ ہے

مَیں نہ چاہوں تو بھلا اِس طرح رسوا کیو ں پھروں

تلخ و شیریں جو بھی ہے چکھنا تو ہے مجھ کو ضرور

جو بھی کچھ آئے سو آئے کیوں نہ ہاتھوں ہاتھ لوں

ہوں مقیّد وقت کا جس سمت چاہے لے چلے

دوپہر بھی ہوں تو میں کیوں شام بننے سے ڈروں

شش جہت بکھری ہے ماجدؔ میری چاہت کی مہک

مَیں اگر جانوں تو اپنے عہد کا گلزار ہوں

٭٭٭

 

ہو نہ محتاجِ پرسشِ احوال

یُوں تو ہو گا یہ جی کچھ اور نڈھال

وہ ترا بام ہو کہ ہو سرِ دار

پستیوں سے مجھے کہیں تو اُچھال

گُل بہ آغوش ہیں مرے ہی لیے

یہ شب و روز یہ حسیں مہ و سال

دن ترے پیار کا اُجالا ہے

شب ترے عارضوں کا مدّھم خال

مَیں مقّید ہوں اپنی سوچوں کا

بُن لیا مَیں نے شش جہت اِک جال

بے رُخی کی تو آپ ہی نے کی

آپ سے کچھ نہ تھا ہمیں تو ملال

ہے اسی میں تری شفا ماجدؔ

لکھ غزل اور اِسے گلے میں ڈال

٭٭٭

 

یہ ٹھان لی ہے کہ دل سے تجھے بھُلا دوں گا

اَب اپنے آپ کو یوں عُمر بھر سزا دوں گا

ہُوا یہ سایۂ ابلق بھی اَب جو نذرِ خزاں

تو راہ چلتے مسافر کو اور کیا دوں گا

سموم عام کروں گا اِسی کے ذرّوں سے

فضائے دہر کو اَب پیرہن نیا دوں گا

وہ کیا ادا ہے مجھے جس کی بھینٹ چڑھنا ہے

یہ فیصلہ بھی کسی روز اَب سُنا دوں گا

سزا سُناؤ تو اِس جُرم زیست کی مُجھ کو

صلیبِ درد کی بُنیاد تک ہلا دوں گا

ہر ایک شخص کا حق کچھ نہ کچھ ہے مجھ پہ ضرور

میں اپنے قتل کا کس کس کو خوں بہا دوں گا

جو سانس ہے تو یہی آس ہے کہ اب ماجدؔ

شبِ سیاہ کو بھی رُوپ چاند سا دوں گا

٭٭٭

یہ کیسا خنجر سا میرے پہلو میں لحظہ لحظہ اُتر رہا ہے

کہ دل بھی چنگیزیِ غمِ جاں کو جیسے تسلیم کر رہا ہے

یہ کونسی عمرِ نوح بخشی گئی ہے مجھ کو کہ عہدِ نو میں

گمان اِک ایک پل پہ جیسے صدی صدی کا گزر رہا ہے

لدا پھندا ہے ہر ایک ساعت اِسی سے آنگن دل و نظر کا

یہی تمّنا کا اک شجر ہے چمن میں جو بارور رہا ہے

دل و نظر کی خموشیوں میں چھنکتے قدموں یہ کون آیا

کہ مثلِ مہتاب نطق میرا، لبوں سے میرے اُبھر رہا ہے

یہ زندگی ہے کہ انتشارِ خرام، ابرِ رواں کا ماجدؔ

یہ کیسا منظر نگاہ میں ہے کہ لحظہ لحظہ بکھر رہا ہے

٭٭٭

 

یہ حال ہے اب اُفق سے گھر تک

ہوتا نہیں چاند کا گزر تک

یہ آگ کہاں دبی پڑی تھی

پہنچی ہے جو اَب دل و جگر تک

دیکھا تو یہ دل جہاں نما تھا

محدود تھے فاصلے نظر تک

ہوں راہیِ منزلِ بقا اور

آغاز نہیں ہُوا سفر تک

تھے رات کے زخم یا ستارے

بُجھ بُجھ کے جلے ہیں جو سحر تک

ہے ایک ہی رنگ، دردِ جاں کا

ماجدؔ نمِ چشم سے شرر تک

٭٭٭

یہ دورِ کرب جو بھی کہے سو کہے مجھے

لیکن شکستِ عزم کا طعنہ نہ دے مجھے

جس موج کو گلے سے لگاتا ہوں بار بار

ایسا نہ ہو یہ موجِ الم لے بہے مجھے

میں خود ہی کھِل اُٹھوں گا شگفتِ بہار پر

موسم یہ ایک بار سنبھالا تو دے مجھے

سایہ ہوں اور رہینِ ضیا ہے مرا وجود

سورج کہیں نہ ساتھ ہی لے کر ڈھلے مجھے

ماجدؔ ہو کوئی ایسی تمّنا کہ رات دن

بادِ صبا کے ساتھ اُڑاتی پھرے مجھے

٭٭٭

مصنف کی اجازت سے، تشکر مصنف جن سے کتاب کی کمپوزنگ فائل کا حصول ہوا

ان پیج سے تبدیلی، پروف ریڈنگ اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید