FavoriteLoadingپسندیدہ کتابوں میں شامل کریں

فہرست مضامین

پڑوسیوں کے  حقوق

 اپنے  پڑوسیوں کا خیال رکھو ان ان کے  ساتھ بھی برتاؤ اور نیک سلوک رکھو خواہ وہ قرابت دار ہوں یا نہ ہو، خواہ مسلمان یا یہودو نصرانی ہوں یہ بھی کہا گیا ہے  کہ جارذی القربی سے  مراد بیوی ہے  اور جار الجنت سے  مراد مرد رفیق سفر ہے، پڑوسیوں کے  حق میں بہت سی حدیثیں آئی ہیں  کچھ سن لیجئے ۔ مسند احمد میں بیان ہے  رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم فرماتے  ہیں  مجھے  حضرت جبرئیل پڑوسیوں کے  بارے  میں یہاں تک وصیت و نصیحت کرتے  ہیں  کہ مجھے  گمان ہوا کہ شاید یہ پڑوسیوں کو وارث بنا دیں گے، فرماتے  ہیں  بہتر ساتھی اللہ کے  نزدیک وہ ہے  جو اپنے  ہمراہیوں کے  ساتھ خوش سلوک زیادہ ہو اور پڑوسیوں کو وارث بنا دیں گے، فرماتے  ہیں  بہتر ساتھی اللہ کے  نزدیک وہ ہے  جو ہمسایوں سے  نیک سلوک میں زیادہ ہو، فرماتے  ہیں  انسان جو نہ چاہیے  کہ اپنے  پڑوسی کی آسودگی بغیر خود شکم سیر ہو جائے ۔ ایک مرتبہ آپ صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے  سوال کیا زنا کے  بارے  میں تم کیا کہتے  ہو ؟ لوگوں نے  کہا وہ حرام ہے  اللہ نے  اور اس کے  رسول سے  اسے  حرام کیا ہے  اور قیامت تک وہ حرام ہی رہے  گا، آپ نے  فرمایا سنو دس عورتوں سے  زناکاری کرنے  والا اس شخص کے  گناہ سے  کم گنہگار ہے  جو اپنے  پڑوسی کی عورت سے  زنا کرے  پھر دریافت فرمایا تم چوری کی نسبت کیا کہتے  ہو؟ انہوں نے  جواب دیا کہ اسے  بھی اللہ تعالیٰ نے  اس کے  رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے  حرام کیا ہے  اور وہ بھی قیامت تک حرام ہے  آپ نے  فرمایا سنو دس گھروں سے  چوری کرنے  والے  گناہ کا اس شخص کے  گناہ سے  ہلکا ہے  جو اپنے  پڑوسی کے  گھر سے  کچھ چرائے، بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے  حضرت ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہا سوال کرتے  ہیں  کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمکون سا گناہ سب سے  بڑا ہے ؟ آپ نے  فرمایا یہ کہ تو اللہ کے  ساتھ شریک ٹھہرائے  حالانکہ اسی ایک نے  تجھے  پیدا کیا ہے  میں نے  پوچھا پھر کونسا؟ فرمایا یہ کہ تو اپنی پڑوسن سے  زناکاری کرے ۔ ایک انصاری صحابی رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتے  ہیں  آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہونے  کے  لئے  گھر سے  چلا وہاں پہنچ کر دیکھتا ہوں کہ ایک صاحب کھڑے  ہیں  اور حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ان کی طرف متوجہ ہیں  میں نے  خیال کیا کہ شاید انہیں  آپ سے  کچھ کام ہو گا حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کھڑے  ہیں  اور ان سے  باتیں ہو رہی ہیں  بڑی دیر ہو گئی یہاں تک کہ مجھے  آپ کے  تھک جانے  کے  خیال نے  بے  چین کر دیا بہت دیر کے  بعد آپ لوٹے  اور میرے  پاس آئے  میں نے  کہا حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم تم نے  انہیں  دیکھا میں نے  کہا ہاں خوب اچھی طرح دیکھا فرمایا جانتے  ہو وہ کون تھے ؟ وہ جبرئیل علیہ السلام تھے  مجھے  پڑوسیوں کے  حقوق کی تاکید کرتے  رہے  یہاں تک ان کے  حقوق بیان کئے  کہ مجھے  کھٹکا ہوا کہ غالباً آج تو پڑوسی کو وارث ٹھہرا دیں گے  (مسند احمد) مسند عبد بن حمید میں ہے  حضرت جابر بن عبد اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے  ہیں  ایک شخص عوالی مدینہ سے  آیا اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور حضرت جبرئیل علیہ الصلوٰۃ والسلام اس جگہ نماز پڑھ رہے  تھے  جہاں جنازوں کی نماز پڑھی جاتی ہے  جب آپ فارغ ہوئے  تو اس شخص نے  کہا حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے  ساتھ یہ دوسرا شخص کون نماز پڑھ رہا تھا آپ نے  فرمایا تم نے  انہیں  دیکھا؟ اس نے  کہا ہاں فرمایا تو نے  بہت بڑی بھلائی دیکھی یہ جبرئیل تھے  مجھے  پڑوسی کے  بارے  میں وصیت کرتے  رہے  یہاں تک کہ میں نے  دیکھا کہ عنقریب اسے  وارث بنا دیں گے  آٹھویں حدیث بزار میں ہے  حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے  فرمایا پڑوسی تین قسم کے  ہیں  ایک حق والے  یعنی ادنی، دو حق والے  اور تین حق والے  یعنی اعلیٰ، ایک حق والا وہ ہے  جو مشرک ہو اور اس سے  رشتہ داری نہ ہو، دو حق والا وہ ہے  جو مسلمان ہو اور رشتہ دار نہ ہو، ایک حق اسلام دوسرا حق پڑوس، تین حق والا وہ ہے  جو مسلمان بھی ہو پڑوسی بھی ہو اور رشتے  ناتے  کا بھی ہو تو حق اسلام کا حق ہمسائیگی حق صلہ رحمی تین تین حق اس کے  ہو گئے ۔ حدیث مسند احمد میں ہے  حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے  رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے  دریافت کیا کہ میرے  دو پڑوسی ہیں  میں ایک کو ہدیہ بھیجنا چاہتی ہوں تو کسے  بھیجواؤں ؟ آپ نے  فرمایا جس کا دروازہ قریب ہو۔ دسویں حدیث طبرانی میں ہے  کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے  وضو کیا لوگوں نے  آپ کے  وضو کے  پانی کو لینا اور ملنا شروع کیا آپ نے  پوچھا ایسا کیوں کرتے  ہو؟ انہوں نے  کہا اللہ اور اس کے  رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی محبت میں آپ نے  فرمایا جسے  یہ خوش لگے  کہ اللہ اور اس اس کا رسول اس سے  محبت کریں تو اسے  چاہئے  کہ جب بات کرے  سچ کرے  اور جب امانت دیا جائے  تو ادا کرے ۔ (تفسیر ابن کثیر میں یہ حدیث یہیں  پر ختم ہے  لیکن شاید اگلا جملہ اس کا سہوا رہ گیا ہے  جس کا صحیح تعلق اس مسئلہ سے  ہے  وہ یہ کہ اسے  چاہیے  پڑوسی کے  ساتھ سلوک و احسان کرے ۔ مترجم) گیارھویں حدیث مسند احمد میں ہے  کہ قیامت کے  دن سب سے  پہلے  جو جھگڑا اللہ کے  سامنے  پیش ہو گا وہ دو پڑوسیوں کا ہو گا۔ پھر حکم ہوتا ہے  صاحب بالجنت کے  ساتھ سلوک کرنے  کا۔ اس سے  مراد بہت سے  مفسرین کے  نزدیک عورت ہے  اور بہت سے  فرماتے  ہیں  مراد سفر کا ساتھی ہے  اور یہ بھی مروی ہے  کہ اس سے  مراد دوست اور ساتھی ہے  عام اس سے  کہ سفر میں وہ یا قیام کی حالت میں ابن سبیل سے  مراد مہمان ہے  اور یہ بھی جو سفر میں کہیں  ٹھہر گیا ہو اگر مہمان بھی یہاں مراد لی جائے  کہ سفر میں جاتے  جاتے  مہمان بنا تو دونوں ایک ہو گئے، اس کا پورا بیان سورۃ براۃ کی تفسیر میں آ رہا ہے  انشاء اللہ تعالی۔

غلاموں کے  بارے  میں احکامات

 پھر غلاموں کے  بارے  میں فرمایا جا رہا ہے  کہ ان کے  ساتھ بھی نیک سلوک رکھو اس لئے  کہ وہ غریب تمہارے  ہاتھوں اسیر ہے  اس پر تو تمہارا کامل اختیار ہے  تو تمہیں  چاہیے  کہ اس پر رحم کھاؤ اور اس کی ضرورت کا اپنے  امکان بھر خیال رکھو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم تو اپنے  آخری مرض الموت میں بھی اپنی امت کو اس کی وصیت فرما گئے  فرماتے  ہیں  لوگو نماز کا اور غلاموں کا خوب خیال رکھنا بار بار اسی کو فرماتے  رہے  یہاں تک کہ زبان رکنے  لگی مسند کی حدیث میں ہے  آپ فرماتے  ہیں  تو جو خود کھائے  وہ بھی صدقہ ہے  جو اپنے  بچوں کو کھلائے  وہ بھی صدقہ ہے  جو اپنی بیوی کھلائے  وہ بھی صدقہ ہے  جو اپنے  خادم کو کھلائے  وہ بھی صدقہ ہے  مسلم میں ہے  کہ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے  ایک مرتبہ دراوغہ سے  فرمایا کہ کیا غلاموں کو تم نے  ان کی خوراک دے  دی ؟ اس نے  کہا اب تک نہیں  دی فرمایا جاؤ دے  کر آؤ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے  فرمایا ہے  انسان کو یہی گناہ کافی ہے  کہ جن کی خوراک کا وہ مالک ہے  ان سے  روک رکھے، مسلم میں ہے  مملوکہ ماتحت کا حق ہے  کہ اسے  کھلایا پلایا پہنایا اڑھایا جائے  اور اس کی طاقت سے  زیادہ کام اس سے  نہ لیا جائے ، بخاری شریف میں ہے  جب تم میں سے  کسی کا خادم اس کا کھانا لے  کر آئے  تو تمہیں  چاہیے  کہ اگر ساتھ بٹھا کر نہیں  کھلاتے  تو کم از کم اسے  لقمہ دو لقمہ دے  دو خیال کرو کہ اس نے  پکانے  کی گرمی اور تکلیف اٹھائی ہے  اور روایت میں ہے  کہ چاہیے  تو یہ کہ اسے  اپنے  ساتھ بٹھا کر کھلائے  اور اگر کھانا کم ہو تو لقمہ دو لقمے  ہی دے  دیا کرو، آپ فرماتے  ہیں  تمہارے  غلام بھی تمہارے  بھائی ہیں، اللہ تعالیٰ نے  انہیں  تمہارے  ماتحت کر دیا ہے  پس جس کے  ہاتھ تلے  اس کا بھائی ہو اسے  اپنے  کھانے  سے  کھلائے  اور اپنے  پہننے  میں سے  پہنائے  اور ایسا کام نہ کرے  کہ وہ عاجز ہو جائے  اگر کوئی ایسا ہی مشکل کام آ پڑے  تو خود بھی اس کا ساتھ دے  (بخاری مسلم) پھر فرمایا کہ خودبین، معجب، متکبر، خود پسند، لوگوں پر اپنی فوقیت جتانے  والا، اپنے  آپ کو تولنے  والا اپنے  تیئں دوسروں سے  بہتر جاننے  والا اللہ کا پسندیدہ بندہ نہیں، وہ گو اپنے  آپکو بڑا سمجھے  لیکن اللہ تعالیٰ کے  ہاں وہ ذلیل ہے  لوگوں کی نظروں میں وہ حقیر ہے  بھلا کتنا اندھیر ہے  کہ خود تو اگر کسی سے  سلوک کرے  تو اپنا احسان اس پر رکھے  لیکن رب کی نعمتوں کا جو اللہ تعالیٰ نے  اسے  دے  رکھی ہیں  شکر بجا نہ لائے  لوگوں میں بیٹھ کر فخر کرے  کہ میں اتنا بڑا آدمی ہوں میرے  پاس یہ بھی ہے  اور وہ بھی ہے  حضرت ابورجاہروی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے  ہیں  کہ ہربدخلق متکبر اور خود پسند ہوتا ہے  پھر اسی آیت کو تلاوت کیا اور فرمایا ہر ماں باپ کا نافرمان سرکش اور بد نصیب ہوتا ہے  پھر آپ نے  (آیت وبرا بوالدتی ولم یجعلنی جبارا شقیا) پڑھی، حضرت عوام بن حوشب رحمۃ اللہ علیہ بھی یہی فرماتے  ہیں  حضرت مطرب رحمۃ اللہ علیہ فرماتے  ہیں  مجھے  حضرت ابوذر رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی ایک روایت ملی تھی میرے  دل میں تمنا تھی کہ کسی وقت خود حضرت ابوذر رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے  مل کر اس روایت کو انہی کی زبانی سنوں چنانچہ ایک مرتبہ ملاقات ہو گئی تو میں نے  کہا مجھے  یہ خبر ملی ہے  کہ آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی ایک حدیث بیان فرماتے  ہیں  کہ اللہ تعالیٰ تین قسم کے  لوگوں کو دوست رکھتا ہے  اور تین قسم کے  لوگوں کو ناپسند فرماتا ہے  حضرت ابوذر رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے  فرمایا ہاں یہ سچ ہے  میں بھلا اپنے  خلیل صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم پر بہتان کیسے  باندھ سکتا ہوں ؟ آپ نے  اسی آیت کی تلاوت کی اور فرمایا اسے  تو تم کتاب اللہ میں پاتے  بھی ہو، بنو ہجیم کا ایک شخص رسول مقبول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے  کہتا ہے  مجھے  کچھ نصیحت کیجئے  آپ نے  یرمایا کپڑا ٹخنے  سے  نیچا نہ لٹکاؤ کیونکہ یہ تکبر اور خود پسندی ہے  جسے  اللہ ناپسند رکھتا ہے ۔

۳۷

اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ سے  کترانے  والے  بخیل لوگ

 ارشاد ہوتا ہے  کہ جو لوگ اللہ کی خوشنودی کے  موقعہ پر مال خرچ کرنے  سے  جی چراتے  ہیں  مثلاً ماں باپ کو دینا قرابت داروں سے  اچھا سلوک نہیں  کرتے  یتیم مسکین پڑوسی رشتہ دار غیر رشتہ دار پڑوسی ساتھی مسافر غلام اور ماتحت کو ان کی محتاجی کے  وقت فی سبیل اللہ نہیں  دیتے  اتنا ہی نہیں  بلکہ لوگوں کو بھی بخل اور فی سبیل اللہ خرچ نہ کرنے  کا مشورہ دیتے  ہیں ۔ حدیث شریف میں ہے  کونسی بیماری بخل کی بیماری سے  بڑ ھ کر ہے ؟ اور حدیث میں ہے  لوگو بخیلی سے  بچو اسی نے  تم سے  اگلوں کو تاخت و تاراج کیا اسی کے  باعث ان سے  قطع رحمی اور فسق و فجور جیسے  برے  کام نمایاں ہوئے  پھر فرمایا یہ لوگ ان دونوں برائیوں کے  ساتھ ہی ساتھ ایک تیسری برائی کے  بھی مرتکب ہیں  یعنی اللہ کی نعمتوں کو چھپاتے  ہیں  انہیں  ظاہر نہیں  کرتے  نہ ان کے  کھانے  پینے  میں وہ ظاہر ہوتی ہیں  نہ پہننے  اوڑھنے  میں نہ دینے  لینے  میں جیسے  اور جگہ ہے  (آیت ان الانسان لربہ لکنود وانہ علی ذالک لشھید) یعنی انسان اپنے  رب کا نا شکرا ہے  اور وہ خود ہی اپنی اس حالت اور اس خصلت پر گواہ ہے  پھر (آیت وانہ لحب الخیر لشدید) وہ مال کی محبت میں مست ہے، پس یہاں بھی فرمان ہے  کہ اللہ کے  فضل کو یہ چھپاتا رہتا ہے  پھر انہیں  دھمکایا جاتا ہے  کہ کافروں کے  لئے  ہم نے  اہانت آمیز عذاب تیار کر رکھے  ہیں، کفر کے  معنی ہیں  پوشیدہ رکھنا اور چھپالینا پس بخیل بھی اللہ کی نعمتوں کا چھپانے  والا ان پر پردہ ڈال رکھنے  والا بلکہ ان کا انکار کرنے  والے  قرار دیا ہے  پس وہ نعمتوں کا کافر ہوا، حدیث میں ہے  اللہ جب کسی بندے  پر اپنی نعمت انعام فرماتا ہے  تو چاہتا ہے  کہ اس کا اثر اس پر ظاہر ہو، دعا نبوی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم میں ہے  (حدیث واجعلنا شا کرین لنعمتکم رحمۃ اللہ علیہ مثنین بھا علیک قابلیھاواتھما علینا) اے  اللہ ہمیں اپنی نعمتوں پر شکر گزار بنا اور ان کی وجہ سے  ہمیں اپنا ثنا خوان بنا ان کا قبول کرنے  والا بنا اور ان کی نعمتوں کو ہمیں بھرپور عطا فرما، بعض سلف کا قول ہے  کہ یہ آیت یہودیوں کے  اس بخل کے  بارے  میں ہے  جو وہ اپنی کتاب میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی صفات کے  چھپانے  میں کرتے  تھے  اسی لئے  اس کے  آخر میں ہے  کہ کافروں کے  لئے  ذلت آمیز عذاب ہم نے  تیار کر رکھے  ہیں ۔ کوئی شک نہیں  کہ اس آیت کا اطلاق ان پر بھی ہو سکتا ہے  لیکن یہ بظاہر یہاں مال کا بخل بیان ہو رہا ہے  گو علم کا بخل بھی اس میں بطور اولیٰ داخل ہے ۔ خیال کیجئے  کہ بیان آیت اقرباضعفا کو مال دینے  کے  بارے  میں ہے  اسی طرح اس کے  بعد والی آیت میں ریاکاری کے  طور پر فی سبیل اللہ مال دینے  کی مذمت بھی بیان کی جا رہی ہے ۔ پہلے  ان کا بیان ہوا جو ممسک اور بخیل ہیں  کوڑی کوڑی کو دانتوں سے  تھام رکھتے  ہیں  پھر ان کا بیان ہوا جو دیتے  تو ہیں  لیکن بد نیتی اور دنیا میں اپنی واہ واہ ہونے  کی خاطر دیتے  ہیں  چنانچہ ایک حدیث میں ہے  کہ جن تین قسم کے  لوگوں سے  جہنم کی آگ سلگائی جائے  گی وہ یہی ریاکار ہوں گے  ریاکار عالم ریاکار غازی، ریا کار سخی ایسا سخی کہے  گا باری تعالیٰ تیری ہر ہر راہ میں میں نے  اپنا مال خرچ کیا تو اسے  اللہ تعالیٰ کی جناب سے  جواب ملے  گا کہ تو جھوٹا ہے  تیرا ارادہ تو صرف یہ تھا کہ تو سخی اور جواد مشہور ہو جائے  سو وہ ہو چکا یعنی تیرا مقصود دنیا کی شہرت تھی وہ میں نے  تجھے  دنیا میں ہی دے  چکا پس تیری مراد حاصل ہو چکی اور حدیث میں ہے  کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے  حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے  فرمایا کہ تیرے  باپ نے  اپنی سخاوت سے  جو چاہتا تھا وہ اسے  مل گیا۔ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے  سوال ہوتا ہے  کہ عبد اللہ بن جدعان تو بڑا سخی تھا جس نے  مساکین وفقراء کے  ساتھ بڑے  سلوک کئے  اور نام الہ بہت سے  غلام آزاد کئے  تو کیا اسے  ان کا نفع نہ ملے  گا؟ آپ نے  فرمایا نہیں  اس سے  تو عمر بھر میں ایک دن بھی نہ کہا کہ اے  اللہ میرے  گناہوں کو قیامت کے  دن معاف فرما دینا۔ اسی لئے  یہاں بھی فرماتا ہے  کہ ان کا ایمان اللہ اور قیامت پر نہیں ۔ ورنہ شیطان کے  پھندے  میں نہ پھنس جاتے  اور بد کو بھلا نہ سمجھ بیٹھتے  یہ شیطان کے  ساتھی ہیں  اور شیطان ان کا ساتھی ہے  ساتھی کی برائی پر ان کی برائی بھی سوچ لو عرب شاعر کہتا ہے

عن المرء لا تسال وسل عن قرینہ

فکل قرین بالمقارن یقتدی

انسان کے  بارے  میں نہ پوچھ اس کے  ساتھیوں کا حال دریافت کر لے ۔ ہر ساتھی اپنے  ساتھی کا ہی پیرو کار ہوتا ہے  پھر ارشاد فرماتا ہے  کہ انہیں  اللہ پر ایمان لانے  اور صحیح راہ پر چلنے  اور ریاکاری کو چھوڑ دینے  اور اخلاص و یقین پر قائم ہو جانے  سے  کونسی چیز مانع ہے ؟ ان کا اس میں کیا نقصان ہے ؟ بلکہ سرا سر فائدہ ہے  کہ ان کی عاقبت سنور جائے  گی یہ کیوں اللہ کی راہ میں مال خرچ کرنے  سے  تنگ دلی کر رہے  ہیں  اللہ کی محبت اور اس کی رضامندی حاصل کرنے  کی کوشش کیوں نہیں  کرتے ؟ اللہ انہیں  خوب جانتا ہے  ان کی بھلی اور بری نیتوں کا اسے  علم ہے  اہل توفیق اور غیر اہل توفیق سب اس پر ظاہر ہیں  وہ بھلوں کو عمل صالح کی توفیق عطا فرما کر اپنی خوشنودی کے  کام ان سے  لے  کر اپنی قربت انہیں  عطا فرماتا ہے  اور بروں کو اپنی عالی جناب اور زبردست سرکاری سے  دھکیل دیتا ہے  جس سے  ان کی دنیا اور آخرت برباد ہوتی ہے، عیاذ اباللہ من ذالک

۴۰

بے  مثال خریدار؟

 باری تعالیٰ رب العالمین فرماتا ہے  کہ میں کسی پر ظلم نہیں  کرتا، کسی کی نیکی کو ضائع نہیں  کرتا، بلکہ بڑھا چڑھا کر قیامت کے  روز اس کا اجر و ثواب عطا فرماؤں گا جیسے  اور آیت میں ہے  (آیت ونضع الموازین القسط الخ،) ہم عدل کی ترازو رکھیں گے ۔ اور فرمایا کہ حضرت لقمان نے  اپنے  صاحبزادے  سے  فرمایا تھا (آیت یا بنی انھا ان تک مثقال حبۃ من خرد دل الخ،) اے  بیٹے  اگر کوئی چیز رائی کے  دانے  برابر ہو گو وہ کسی پتھر میں یا آسمانوں میں ہو یا زمین کے  اندر ہو اللہ سے  اسے  لا حاضر کرے  گا، بیشک اللہ تعالیٰ باریک بین خریدار ہے ۔ اور جگہ فرمایا (آیت یومئذ یصدر الناس الخ،) اس دن لوگ اپنے  مختلف احوال پر لوٹیں گے  تاکہ انہیں  ان کے  اعمال دکھائے  جائیں پس جس نے  ذرہ برابر نیکی کی ہو گی وہ اسے  دیکھ لے  گا اور جس نے  ذرہ برابر برائی کی ہو گی وہ اسے  دیکھ لے  گا، بخاری و مسلم کی شفاعت کے  ذکر والی مطول حدیث میں ہے  کہ پھر اللہ فرمائے  گا لوٹ کر جاؤ اور جس کے  دل میں رائی کے  دانے  برابر ایمان دیکھو اسے  جہنم سے  نکال لاؤ۔ پس بہت سی مخلوق جہنم سے  آزاد ہو گی حضرت ابو سعید یہ حدیث بیان فرما کر فرماتے  اگر تم چاہو تو آیت قرآنی کے  اس جملے  کو پڑ ھ لو (آیت  ان اللہ لا یظلم مثقال ذرۃ الخ،) ابن ابی حاتم میں حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا فرمان مروی ہے  کہ قیامت کے  دن کسی اللہ کے  بندے  یا بندی کو لایا جائے  گا اور ایک پکارنے  والا سب اہل محشر کو با آواز بلند سنا کر کہے  گا یہ فلاں کا بیٹا یا بیٹی ہے  اس کا نام یہ ہے  جس کسی کا کوئی حق اس کے  ذمہ باقی ہو یا آئے  اور لے  جائے  اس وقت یہ حالت ہو گی کہ عورت چاہے  گی کہ اس کا کوئی حق اس کے  باپ پر یا ماں پر یا بھائی پر یا شوہر پر ہو تو دوڑ کر آئے  اور لے  رشتے  ناتے  کٹ جائیں گے  کوئی کسی کا پر سان حال نہ ہو گا اللہ تعالیٰ اپنا جو حق چاہے  معاف فرما دے  گا لیکن لوگوں کے  حقوق میں سے  کوئی حق معاف نہ فرمائے  گا اسی طرح جب کوئی حقدار آئے  گا تو فریق ثانی سے  کہا جائے  گا کہ ان کے  حق ادا کر یہ کہے  گا دنیا تو ختم ہو چکی آج میرے  ہاتھ میں کیا ہے  جو میں دوں ؟ پس اس کے  نیک اعمال لئے  جائیں گے  اور حقداروں کو دئیے  جائیں گے  اور ہر ایک کا حق اسی طرح ادا کیا جائے  گا اب یہ شخص اگر اللہ کا دوست ہے  تو اس کے  پاس ایک رائی کے  دانے  برابر نیکی بچ رہے  گی جسے  بڑھا چڑھا کر صرف اسی کی بنا پر اللہ تعالیٰ اسے  جنت میں لے  جائے  گا پھر آپ نے  اسی آیت کی تلاوت کی اور اگر وہ بندہ اللہ کا دوست نہیں  ہے  بلکہ بد بخت اور سرکش ہے  تو یہ حال ہو گا کہ فرشتہ کہے  گا کہ باری تعالیٰ اس کی سب نیکیاں ختم ہو گئیں اور ابھی حقدار باقی رہ گئے  حکم ہو گا کہ ان کی برائیاں لے  کر اس پر لاد دو پھر اسے  جہنم واصل کرو اعاذنا اللہ منہا۔ اس موقوف اثر کے  بعض شواہد مرفوع احادیث میں بھی موجود ہیں ۔ ابن ابی حاتم میں ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا فرمان ہے  کہ (آیت “من جاء بالحسنۃ فلہ عشر امثالھا “) اعراب کے  بارے  میں اتری ہے  اس پر ان سے  سوال ہوا کہ پھر مہاجرین کے  بارے  میں کیا ہے  آپ نے  فرمایا اس سے  بہت ہی اچھی (آیت”ان اللہ لا یظلم الخ”) حضرت سعید بن جبیر رحمۃ اللہ علیہ فرماتے  ہیں  مشرک کے  بھی عذابوں میں اس کے  باعث کمی کر دی جاتی ہے  ہاں جہنم سے  نکلے  گا تو نہیں، چنانچہ صحیح حدیث میں ہے  کہ حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے  رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے  پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم آپ کے  چچا ابو طالب کی پشت پناہ بنے  ہوئے  تھے  آپ کو لوگوں کی ایذاؤں سے  بچاتے  رہتے  تھے  آپ کی طرف سے  ان سے  لڑتے  تھے  تو کیا انہیں  کچھ نفع بھی پہنچے  گا آپ نے  فرمایا ہاں وہ بہت تھوڑی سی آگ میں ہے  اور اگر میرا یہ تعلق نہ ہوتا تو جہنم کے  نیچے  کے  طبقے  میں ہوتا۔ لیکن یہ بہت ممکن ہے  کہ یہ فائدہ صرف ابو طالب کے  لئے  ہی ہو یعنی اور کفار اس حکم میں نہ ہوں اس لئے  کہ مسند طیالسی کی حدیث میں ہے  اللہ تعالیٰ مومن کی کسی نیکی پر ظلم نہیں  کرتا دنیا میں روزی وغیرہ کی صورت میں اس کے  پاس کوئی نیکی نہ ہو گی اجر عظیم سے  مراد اس آیت میں جنت ہے ۔ اللہ تعالیٰ اپنے  فضل و کرم لطف و رحم سے  اپنی رضامندی عطا فرمائے  اور جنت نصیب کرے ۔ آمین مسند احمد کی ایک غریب حدیث میں ہے  حضرت ابو عثمان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے  ہیں  مجھے  خبر ملی کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے  فرمایا ہے  اللہ تعالیٰ اپنے  مومن بندے  کو ایک نیکی کے  بدلے  ایک لاکھ نیکی کا ثواب دے  گا مجھے  بڑا تعجب ہوا اور میں نے  کہا حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے  مل کر ان سے  خود پوچھ آؤں چنانچہ میں نے  سامان سفر درست کیا اور اس روایت کی چھان بین کے  لئے  روانہ ہوا معلوم ہوا کہ وہ تو حج کو گئے  ہیں  تو میں بھی حج کی نیت سے  وہاں پہنچا ملاقات ہوئی تو میں نے  کہا ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ میں نے  سنا آپ نے  ایسی حدیث بیان کی ہے  ؟ کیا یہ سچ ہے ؟ آپ نے  فرمایا کیا تمہیں  تعجب معلوم ہوتا ہے  ؟ تم نے  قرآن میں نہیں  پڑھا؟ کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے  جو شخص اللہ کو اچھا قرض دے  اللہ اسے  بہت بہت بڑھا کر عنایت فرماتا ہے  اور دوسری آیت میں ساری دنیا کو کم کہا گیا ہے  اللہ تعالیٰ کی قسم میں نے  آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے  سنا ہے  کہ ایک نیکی کو بڑھا کر اس کے  بدلے  دو لاکھ ملیں گی۔ یہ حدیث اور طریقوں سے  بھی مروی ہے، پھر قیامت کے  دن کی سختی اور ہولناکی بیان فرما رہا ہے  کہ اس دن انبیاء علیہ السلام کو بطور گواہ کے  پیش کیا جائے  گا جیسے  اور آیت میں ہے (آیت واشرقت الارض بنور ربھا و وضع الکتاب وجی بالنبیین والشھداء) زمین اپنے  رب کے  نور سے  چمکنے  لگے  گی نامہ اعمال دئیے  جائیں گے  اور نبیوں اور گواہوں کو لاکھڑا کریں گے ، صحیح بخاری شریف میں ہے  کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے  حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے  فرمایا مجھے  کچھ قرآن پڑھ کر سناؤ حضرت عبد اللہ نے  کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم میں آپ کو پڑھ کر سناؤں گا آپ پر تو اترا ہی ہے  فرمایا ہاں لیکن میرا جی چاہتا ہے  کہ دوسرے  سے  سنوں پس میں نے  سورہ نساء کی تلاوت شروع کی پڑھتے  پڑھتے  جب میں نے  اس آیت فکیف کی تلاوت کی تو آپ نے  فرمایا بس کرو میں نے  دیکھا کہ آپ کی آنکھوں سے  آنسو جاری تھے ۔ حضرت محمد بن فضالہ انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتے  ہیں  کہ قبیلہ بنی ظفر کے  پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم آئے  اور اس چٹان پر بیٹھ گئے  جواب تک انکے  محلے  میں ہے  آپ کے  ساتھ ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ معاذ بن جبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور دیگر صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی تھے  آپ نے  ایک قاری سے  فرمایا قرآن پڑھو پڑھتے  پڑھتے  جب اس آیت فکیف تک پہنچا تو آپ اس قدر روئے  کہ دونوں رخسار اور داڑھی تر ہو گئی اور عرض کرنے  لگے  یا رب جو موجود ہیں  ان پر تو خیر میری گواہی ہو گی لیکن جن لوگوں کو میں نے  دیکھا ہی نہیں  ان کی بابت کیسے ؟ (ابن ابی حاتم) ابن جریر میں ہے  کہ آپ نے  فرمایا میں ان پر گواہ ہوں جب تک کہ ان میں ہوں پس جب تو مجھے  فوت کرے  گا تب تو تو ہی ان پر نگہبان ہے، ابو عبد اللہ قرطبی رحمۃ اللہ علیہ نے  اپنی کتاب تذکرہ میں باب باندھا ہے  کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی اپنی امت پر شہادت کے  بارے  میں کیا آیا ہے ؟ اس میں حضرت سعید بن مسیب رحمۃ اللہ علیہ کا یہ قول لائے  ہیں  کہ ہر دن صبح شام نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم پر آپ کی امت کے  اعمال پیش کئے  جاتے  ہیں  مع ناموں کے  پاس آپس قیامت کے  دن ان سب پر گواہی دیں گے  پھر یہی آیت تلاوت فرمائی لیکن اولاً تو یہ حضرت سعید کا خود کا قول ہے، دوسرے  یہ کہ اس کی سند میں انقطاع ہے، اس میں ایک راوی مبہم ہے  جس کا نام ہی نہیں  تیسرے  یہ حدیث مرضوع کے  بیان ہی نہیں  کرتے  ہاں امام قرطبی رحمۃ اللہ علیہ اسے  قبول کرتے  ہیں  وہ اس کے  لانے  کے  بعد فرماتے  ہیں  کہ پہلے  گزر چکا ہے  کہ اللہ تعالیٰ کے  سامنے  ہر چیز اور ہر جمعرات کو اعمال پیش کئے  جاتے  ہیں  پس وہ انبیاء پر اور ماں باپ پر ہر جمعہ کو پیش کئے  جاتے  ہیں  اور اس میں کوئی تعارض نہیں  ممکن ہے  کہ ہمارے  نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم پر ہر جمعہ کو بھی پیش ہوتے  ہوں اور ہر دن بھی (ٹھیک یہی ہے  کہ یہ بات صحت کے  ساتھ ثابت نہیں  واللہ اعلم۔ مترجم) پھر فرماتا ہے  کہ اس دن کافر کہے  گا کاش میں کسی زمین میں سما جاؤں پھر زمین برابر ہو جائے  گی۔ کافر نا قابل برداشت ہولناکیوں رسوائیوں اور ڈانٹ ڈپٹ سے  گھبرا اٹھے  گا، جیسے  اور آیت میں ہے (آیت یوم ینظر المرء) الخ جس دن انسان اپنے  آگے  بھیجے  ہوئے  اعمال اپنی آنکھوں دیکھ لے  گا اور کافر کہے  گا کاش کہ میں مٹی ہو گیا ہوتا۔ پھر فرمایا یہ ان تمام بد افعالیوں کا اس دن اقرار کریں گے  جو انہوں نے  کی تھیں اور ایک چیز بھی پوشیدہ نہ رکھیں گے  ایک شخص نے  حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے  کہا حضرت ایک جگہ تو قرآن میں ہے  کہ مشرکین قیامت کے  دن کہیں  گے (آیت واللہ ربنا ما کنا مشرکین اللہ) کی قسم رب کی قسم ہم نے  شرک نہیں  کیا اور دوسری جگہ ہے  کہ (آیت لایکتمون اللہ حدیثا) اللہ سے  بات بھی نہ چھپائیں گے  پھر ان دونوں آیتوں کا کیا مطلب ہے ؟ آپ نے  فرمایا اس کا اور وقت ہے  اس کا وقت اور ہے  اور جب موحدوں کو جنت میں جاتے  ہوئے  دیکھیں گے  تو کہیں  گے  آؤ تم بھی اپنے  شرک کا انکار کرو کیا عجب کام چل جائے ۔ پھر ان کے  منہ پر مہریں لگ جائیں گی اور ہاتھ پاؤں بولنے  لگیں گے  اب اللہ تعالیٰ سے  ایک بات بھی نہ چھپائیں گے  (ابن جریر) مسند عبدالزاق میں ہے  کہ اس شخص نے  آن کر کہا تھا بہت سی چیزیں مجھ پر قرآن میں مختلف نظر آ رہا ہے، آپ نے  فرمایا کیا مطلب تجھے  کیا قرآن میں شک ہے ؟ اس نے  کہا شک تو نہیں  ہاں میری سمجھ میں اختلاف نظر آ رہا ہے، آپ نے  فرمایا جہاں جہاں اختلاف تجھے  نظر آیا ہو ان مقامات کو پیش کر تو اس نے  یہ دو آیتیں کی تطبیق سمجھا دی۔ ایک اور روایت میں سائل کا نام بھی آیا ہے  کہ وہ حضرت نافع بن ارزق تھے  یہ بھی ہے  کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے  ان سے  یہ بھی فرمایا کہ شاید تم کسی ایسی مجلس سے  آ رہے  ہو جہاں ان کا تذکرہ ہو رہا ہو گا یا تم نے  کیا ہو گا کہ میں جاتا ہوں اور ابن عباس سے  دریافت کرتا ہوں اگر میرا یہ گمان صحیح ہے  تو تمہیں  لازم ہے  کہ جواب سن کر انہیں  بھی جا کر سنادو پھر یہی جواب دیا۔

۴۳

بتدریج حرمت شراب اور پس منظر

اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے  ایمان دار بندوں کو نشے  کی حالت میں نماز پڑھنے  سے  روک رہا ہے  کیونکہ اس وقت نمازی کو معلوم ہی نہیں  ہوتا کہ وہ کیا کہہ رہا ہے  اور ساتھ ہی محل نماز یعنی مسجد میں آنے  سے  روکا جا رہا ہے  اور ساتھ جنبی شخص جسے  نہانے  کی حاجت کو محل نماز یعنی مسجد میں آنے  سے  روکا جا رہا ہے  ۔ ہاں ایسا شخص کسی کام کی وجہ سے  مسجد کے  ایک دروازے  سے  داخل ہو کر دوسرے  دروازے  سے  نکل جائے  تو جائز ہے  نشے  کی حالت میں نماز کی قریب نہ جانے  کا حکم شراب کی حرمت سے  پہلے  تھا جیسے  اس حدیث سے  ظاہر ہے  جو ہم نے  سورہ بقرہ کی (آیت یسالونک عن الخمر والمیسر الخ) کی تفسیر میں بیان کی ہے  کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے  جب وہ آیت حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے  سامنے  تلاوت کی تو آپ نے  دعا مانگی کہ اے  اللہ شراب کے  بارے  میں اور صاف صاف بیان نازل فرما پھر نشے  کی حالت میں نماز کے  قریب نہ جانے  کی یہ آیت اتری اس پر نمازوں کے  وقت اس کا پینا لوگوں نے  چھوڑ دیا اسے  سن کر بھی جناب فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے  یہی دعا مانگی تو (آیت “یا ایھا الذین امنو انما الخمر والمیسر والا نصاب والا زلام رجس من عمل الشیطان فاجتنبوہ لعلکم تفلحون سے  فھل انتم منتھون) تک نازل ہوئی جس میں شراب سے  بچنے  کا حکم صاف موجود ہے  اسے  سن کر فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے  فرمایا ہم باز آئے ۔ اسی روایت کی ایک سند میں ہے  کہ جب سورۃ نساء کی یہ آیت نازل ہوئی اور نشے  کے  وقت نماز پڑھنے  کی ممانعت ہوئی اس قوت یہ دستور تھا کہ جب نماز کھڑی ہوتی تو ایک شخص آواز لگاتا کہ کوئی نشہ والا نماز کے  قریب نہ آئے، ابن ماجہ شریف میں ہے  حضرت سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے  ہیں  میرے  بارے  میں چار آیتیں نازل ہوئی ہیں، ایک انصاری نے  بہت سے  لوگوں کی دعوت کی ہم سب نے  خوب کھایا پیا پھر شرابیں پیں اور مخمور ہو گئے  پھر آپس میں فخر جتانے  لگے  ایک شخص نے  اونٹ کے  جبڑے  کی ہڈی اٹھا کر حضرت سعد کو ماری جس سے  ناک پر زخم آیا اور اس کا نشان باقی رہ گیا اس وقت تک شراب کو اسلام نے  حرام نہیں  کیا تھا پس یہ آیت نازل ہوئی یہ حدیث صحیح مسلم شریف میں بھی پوری مروی ہے  ابن ابی حاتم کی روایت میں ہے  کہ عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے  دعوت کی سب نے  کھانا کھایا پھر شراب پی اور مست ہو گئے  اتنے  میں نماز کا وقت آ گیا ایک شخص کو امام بنایا اس نے  نماز میں سورۃ (آیت قل یا ایھاالکافرون) میں اس طرح پڑھا (آیت ما اعبد ما تعبدون ونحن نعبد ما تعبدون) اس پر یہ آیت اتری اور نشے  کی حالت میں نماز کا پڑھنا منع کیا گیا۔ یہ حدیث ترمذی میں بھی ہے  اور حسن ہے ۔ ابن جریر کی روایت میں ہے  کہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہا حضرت عبدالرحمن اور تیسرے  ایک اور صاحب نے  شراب پی اور حضرت عبدالرحمن نماز میں امام بنائے  گئے  اور قرآن کی قرات خلط ملط کر دی اس پر یہ آیت اتری۔ ابو داؤد اور نسائی میں بھی یہ روایت ہے  ابن جریر کی ایک اور روایت میں ہے  کہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے  امامت کی اور جس طرح پڑھنا چاہیے  تھانہ پڑھ سکے  اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور ایک روایت میں مروی ہے  کہ حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے  امامت کرائی اور اس طرح پڑھا (آیت”قل ایھا الکافرون اعبدما تعبدما تعبدون وانتم عابدون ما اعبدو انا عابد ما عبدتم ما عبدتم لکم دینکم ولی دین،) پس یہ آیت نازل ہوئی اور اس حالت میں نماز پڑھنا حرام کر دیا گیا حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتے  ہیں  کہ شراب کی حرمت سے  پہلے  لوگ نشہ کی حالت میں نماز کے  لئے  کھڑے  ہوتے  تھے  پس اس آیت سے  انہیں  ایسا کرنے  سے  روک دیا گیا (ابن جریر) حضرت قتادہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے  ہیں  اس کے  نازل ہونے  کے  بعد لوگ اس سے  رک گئے  پھر شراب کی مطلق حرمت نازل ہونے  کے  بعد لوگ اس سے  بالکل تائب ہو گئے  پھر شراب کی مطلق حرمت نازل ہوئی حضرت ضحاک رحمۃ اللہ علیہ فرماتے  ہیں  اس سے  شراب کا نشہ مراد نہیں  بلکہ نیند کا خمار مراد ہے، امام ابن جریر رحمۃ اللہ علیہ فرماتے  ہیں  ٹھیک یہی ہے  کہ مراد اس سے  شراب کا نشہ ہے  اور یہاں خطاب ان سے  کیا گیا ہے  جو نشہ میں ہیں  لیکن اتنے  نشہ میں بھی نہیں  کہ احکام شرع ان پر جاری ہی نہ ہو سکیں کیونکہ نشے  کی ایسی حالت والا شخص مجنون کے  حکم میں ہے، بہت سے  اصولی حضرات کا قول ہے  کہ خطاب ان لوگوں سے  ہے  جو کلام کو سمجھ سکیں ایسے  نشہ والوں کی طرف نہیں  جو سمجھتے  ہی نہیں  کہ ان سے  کیا کہا جا رہا ہے  اس لئے  کہ خطاب کا تکلیف کی سمجھنا شرط ہے  اور یہ بھی کہا گیا ہے  کہ گو الفاظ یہ ہیں  کہ نشہ کی حالت میں نماز نہ پڑھو لیکن مراد یہ ہے  کہ نشے  کی چیز کھاؤ پیو بھی نہیں  اس لئے  کہ دن رات میں پانچ وقت نماز فرض ہے  تو کیسے  ممکن ہے  کہ ایک شرابی ان پانچویں وقت نمازیں ٹھیک وقت پر ادا کر سکے  حالانکہ شراب برابر پی رہا ہے  واللہ اعلم پس یہ حکم بھی اسی طرح ہو گا جس طرح یہ حکم ہے  کہ ایمان والو اللہ سے  ڈرتے  رہو جتنا اس سے  ڈرنے  کا حق ہے  اور نہ مرنا تم مگر اس حالت میں کہ تم مسلمان ہو۔ تو اس سے  مراد یہ ہے  کہ ایسی تیاری ہر وقت رکھو اور ایسے  پاکیزہ اعمال ہر وقت کرتے  رہو کہ جب تمہیں  موت آئے  تو اسلام پر دم نکلے  یہ جو اس آیت میں ارشاد ہوا ہے  کہ یہاں تک کہ تم معلوم کر سکو جو تم کہہ رہے  ہو یہ نشہ کی حد سے  یعنی نشہ کی حالت میں اس شخص کو سمجھا جائے  گا نہ ہی اسے  عاجزی اور خشوع خضوع حاصل ہو سکتا ہے، مسند احمد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم فرماتے  ہیں  جب تم میں سے  اگر کوئی نماز میں اونگھنے  لگے  تو اسے  چاہیے  کہ وہ نماز چھوڑ کر سو جائے  جب تک کہ وہ جاننے  لگے  کہ وہ کیا کہہ رہا ہے، بخاری اور نسائی میں بھی یہ حدیث ہے  اور اس کے  بعض طرق میں یہ الفاظ بھی ہیں  کہ ممکن ہے  کہ وہ اپنے  لئے  استغفار کرے  لیکن اس کی زبان سے  اس کے  خلاف نکلے ۔

آداب مسجد اور مسائل تیمم

 پھر فرمان ہے  کہ جنبی نماز کے  قریب نہ جائے  جب تک غسل نہ کرلے  ہاں بطور گزر جانے  کے  مسجد میں گزرنا جائز ہے ، حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے  ہیں  ایسی ناپاکی کی حالت میں مسجد میں جانا ناجائز ہے  ہاں مسجد کے  ایک طرف سے  نکل جانے  میں کوئی حرج نہیں  مسجد میں بیٹھے  نہیں  اور بھی بہت سے  صحابہ اور تابعین کا یہی قول ہے  حضرت یزید بن ابو حبیب فرماتے  ہیں  بعض انصار جو مسجد کے  گرد رہتے  تھے  اور جنبی ہوتے  تھے  گھر میں پانی نہیں  ہوتا تھا اور گھر کے  دروازے  مسجد سے  متصل تھے  انہیں  اجازت مل گئی کہ مسجد سے  اسی حالت میں گزر سکتے  ہیں ۔ بخاری شریف کی ایک حدیث سے  بھی یہ بات صاف طور پر ثابت ہوتی ہے  کہ لوگوں کے  گھروں کے  دروازے  مسجد میں تھے  چنانچہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے  اپنے  آخری مرض الموت میں فرمایا تھا کہ مسجد میں جن جن لوگوں کے  دروازے  پڑتے  ہیں  سب کو بند کر دو حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا دروازہ رہنے  دو۔ اس سے  یہ بھی معلوم ہوا کہ آپ کے  بعد آپ کے  جانشین حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہوں گے  تو انہیں  ہر وقت اور بکثرت مسجد میں آنے  جانے  کی ضرورت رہے  گی تاکہ مسلمانوں کے  اہم امور کا فیصلہ کر سکیں اس لئے  آپ نے  سب کے  دروازے  بند کرنے  اور صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا دروازہ کھلا رکھنے  کی ہدایت فرمائی، بعض سنن کی اس حدیث میں بجائے  حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے  حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا نام ہے  وہ بالکل غلط ہے  صحیح یہی ہے  جو صحیح میں ہے  اس آیت سے  اکثر ائمہ نے  دلیل پکڑی ہے  کہ جنبی شخص کو مسجد میں ٹھہرانا حرم ہے  ہاں گزر جانا جائز ہے، اسی طرح حیض و نفاس والی عورتوں کو بھی بعض کہتے  ہیں  ان دونوں کے  گزرنا بھی جائز نہیں  ممکن ہے  مسجد میں آلودگی ہو اور بعض کہتے  اگر اس بات کا خوف نہ ہو انکا گزرنا بھی جائز ہے ۔صحیح مسلم شریف کی حدیث میں ہے  کہ آنحضرت نے  حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے فرمایا کہ مسجد سے  مجھے  بوریا اٹھا دو تو ام المومنین نے  عرض کیا حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم میں حیض سے  ہوں آپ نے  فرمایا تیرا حیض تیرے  ہاتھ میں نہیں  اس سے  ثابت ہوتا ہے  کہ حائضہ مسجد میں آ جا سکتی ہے  اور نفاس والی کے  لئے  بھی یہی حکم ہے ۔ یہ دونوں بطور راستہ چلنے  کے  جا آ سکتی ہیں ۔ ابو داؤد میں فرمان رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ہے  کہ میں حائض اور جنبی کے  لئے  مسجد کو حلال نہیں  کرتا ۔ امام ابو مسلم خطابی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے  ہیں  اس حدیث کو ایک جماعت نے  ضعیف کہا ہے  کیونکہ”افلت”اس کا راوی مجہول ہے ۔ لیکن ابن ماجہ میں یہ روایت ہے  اس میں افلت کی وجہ معدوم ذہلی ہیں ۔ پہلی حدیث بروایت حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا اور دوسری بروایت حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا ہے  لیکن ٹھیک نام حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا ہی ہے ۔ ایک اور حدیث ترمذی میں ہے  جس میں ہے  کہ اے  علی اس مسجد میں جنبی ہونا میرے  اور تیرے  سوا کسی کو حلال نہیں  یہ حدیث بالکل ضعیف ہیں  واللہ اعلم۔ اس آیت کی تفسیر میں حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے  ہیں  مطلب یہ ہے  کہ جنبی شخص بغیر غسل کئے  نماز نہیں  پڑھ سکتا لیکن اگر وہ مسافر ہو اور پانی نہ ملے  تو پانی کے  ملنے  تک پڑھ سکتا ہے ۔ ابن عباس سعید بن جبیر اور ضحاک سے  بھی یہی مروی ہے، حضرت مجاہد حسن حکم زید اور عبدالرحمن سے  بھی اس کے  مثل مروی ہے، عبد اللہ بن کثیر رحمۃ اللہ علیہ فرماتے  ہیں  ہم سنا کرتے  تھے  کہ یہ آیت سفر کے  حکم میں ہے، اس حدیث سے  بھی مسئلہ کی شہادت ہو سکتی ہے  کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم بہتر ہے  (سنن اور احمد) امام ابن جریر رحمۃ اللہ علیہ فرماتے  ہیں  ان دونوں قولوں میں اولیٰ قول ان ہی لوگوں کا ہے  جو کہتے  ہیں  اس سے  مراد صرف گزر جانا ہے  کیونکہ جس مسافر کو جنب کی حالت میں پانی نہ ملے  اس کا حکم تو آگے  صاف بیان ہوا ہے  پس اگر یہی مطلب یہاں بھی لیا جائے  تو پھر دوسرے  جملہ میں اسے  لوٹانے  کی ضرورت باقی نہیں  رہتی پس معنی آیت کے  اب یہ ہوئے  کہ ایمان والو نماز کے  لئے  مسجد میں نہ جاؤ جب کہ تم نشے  میں ہو جب تک تم اپنی بات کو آپ نہ سمجھنے  لگو اسی طرح جنب کی حالت میں بھی مسجد میں نہ جاؤ جب تک نہا نہ لو ہاں صرف گزر جانا جائز ہے  عابر کے  معنی آنے  جانے  یعنی گزر جانے  والے  ہیں  اس کا مصدر عبراً اور عبورًا آتا ہے  جب کوئی نہر سے  گزرے  تو عرب کہتے  ہیں  عبرفلان النھر فلاں شخص نے  نہر سے  عبور کر لیا اسی طرح قوی اونٹنی کو جو سفر کاٹتی ہو عبرالاسفار کہتے  ہیں ۔ امام ابن جیریر جس قول کی تائید کرتے  ہیں  یہی قول جمہور کا ہے  اور آیت سے  ظاہر بھی یہی ہے  یعنی اللہ تعالیٰ اس ناقص حالت نماز سے  منع فرما رہا ہے  جو مقصود نماز کے  خلاف ہے  اسی طرح نماز کی جگہ میں بھی ایسی حالت میں آنے  کو روکتا ہے  جو اس جگہ کی عظمت اور پاکیزگی کے  خلاف ہے  واللہ اعلم۔ پھر جو فرمایا کہ یہاں تک کہ تم غسل کر لو امام ابوحنیفہ، امام مالک اور شافعی اسی دلیل کی روشنی میں کہتے  ہیں  کہ جنبی کو مسجد میں ٹھہرنا حرام ہے  جب تک غسل نہ کر لے  یا اگر پانی نہ ملے  یا پانی ہو لیکن اس کے  استعمال کی قدرت نہ ہو تو تیمم کر لے ۔ حضرت امام احمد رحمۃ اللہ علیہ فرماتے  ہیں  جب جنبی نے  وضو کر لیا تو اسے  مسجد میں ٹھہرنا جائز ہے  چنانچہ مسند احمد اور سنن سعید بن منصور میں مروی ہے ۔ حضرت عطا بن یسار رحمۃ اللہ علیہ فرماتے  ہیں  کہ میں نے  رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے  صحابہ کو دیکھا کہ وہ جنبی ہوتے  اور وضو کر کے  مسجد میں بیٹھے  رہتے  واللہ اعلم۔ پھر تیمم کی اجازت کا فتویٰ دیا ہے  کیونکہ آیت میں عموم ہے  حضرت مجاہد رحمۃ اللہ علیہ فرماتے  ہیں  ایک انصاری بیمار تھے  نہ تو کھڑے  ہو کر وضو کر سکتے  تھے  نہ ان کا کوئی خادم تھا جو انہیں  پانی دے  انہوں نے  آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے  اس کا ذکر کیا اس پر یہ حکم اترا یہ روایت مرسل ہے، دوسری حالت میں تیمم کے  جواز کی وجہ  سفر ہے  خواہ لمبا سفر اور خواہ چھوٹا۔ غائط نرم زمین کو یہاں سے  کنایہ کیا گیا ہے  پاخانہ پیشاب سے  لا مستم کی دوسری قرات لمستم ہے  اس کی تفسیر میں دو قول ہیں  ایک یہ کہ مراد جماع ہے  جیسے  اور آیت میں ہے (آیت وان طلقتموھن من قبل ان تمسوھن الخ،) یعنی اگر تم اپنی بیویوں کو ایمان والی عورتوں سے  نکاح کرو پھر مجامعت سے  پہلے  انہیں  طلاق دے  دو تو ان کے  ذمہ عدت نہیں، یہاں بھی لفظ (آیت من قبل ان تمسوھن) ہے  حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے  مروی ہے  کہ اولا مستم النساء سے  مراد مجامعت ہے ۔ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہا حضرت ابی بن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرت مجاہد رضی اللہ تعالیٰ عنہا حضرت طاؤس رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرت حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرت عبید بن عمیر حضرت سعید بن جبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرت شعبی رحمۃ اللہ علیہ حضرت قتادہ رحمۃ اللہ علیہ حضرت مقاتل رحمۃ اللہ علیہ بن حیان سے  بھی یہی مروی ہے ۔ سعید بن جبیر رحمۃ اللہ علیہ فرماتے  ہیں  ایک مرتبہ اس لفظ پر مذاکرہ ہوا تو چند موالی نے  کہا یہ جماع نہیں  اور چند عرب نے  کہا جماع ہے، میں نے  حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے  اس کا ذکر کیا آپ نے  پوچھا تم کن کے  ساتھ تھے  میں نے  کہا موالی کے  فرمایا موالی مغلوب ہو گئے  لمس اور مس اور مباشرت کا معنی جماع ہے، اللہ تعالیٰ نے  یہاں کنایہ کیا ہے، بعض اور حضرات نے  اس سے  مراد مطلق چھونا لیا ہے ۔ خواہ جسم کے  کسی حصہ کو عورت کے  کسی حصہ سے  ملایا جائے  تو وضو کرنا پڑے  گا۔ لمس سے  مراد چھونا ہے ۔ اور اس سے  بھی وضو کرنا پڑے  گا۔ فرماتے  ہیں  مباشرت سے  ہاتھ لگانے  سے  بوسہ لینے  سے  وضو کرنا پڑے  گا۔ لمس سے  مراد چھونا ہے، ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی عورت کا بوسہ لینے  سے  وضو کرنے  کے  قائل تھے  اور اسے  لمس میں داخل جانتے  تھے  عبیدہ، ابوعثمان ثابت ابراہیم زید بھی کہتے  ہیں  کہ لمس سے  مراد جماع کے  علاوہ ہے  حضرت عبداللہ بن عمر فرماتے  ہیں  کہ انسان کا اپنی بیوی کا بوسہ لینا اور اسے  ہاتھ لگانا ملامست ہے  اس سے  وضو کرنا پڑے  گا (موطا مالک) دار قطنی میں خود عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے  بھی اسی طرح مروی ہے  لیکن دوسری روایت آپ سے  اس کے  خلاف بھی پائی جاتی ہے  آپ با وضو تھے  آپ نے  اپنی بیوی کا بوسہ لیا پھر وضو نہ کیا اور نماز ادا کی۔ پس دونوں روایتوں کو صحیح ماننے  کے  بعد یہ فیصلہ کرنا پڑے  گا کہ آپ وضو کو مستحب جانتے  تھے  واللہ اعلم۔ مطلق چھونے  سے  وضو کے  قائل امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ اور ان کے  ساتھی امام مالک رحمۃ اللہ علیہ ہیں  اور مشہور امام احمد بن حنبل سے  بھی یہی روایت ہے ۔ اس قول کے  قائل کہتے  ہیں  کہ یہاں دو قراتیں ہیں  (آیت لا مستم اور لمستم اور لمس کا اطلاق ہاتھ لگانے  پر بھی قرآن کریم میں آیا ہے  چنانچہ ارشاد ہے (آیت ولو نزلنا علیکم کتابا فی قرطاس فلمسوہ بایدیھم) ظاہر ہے  کہ یہاں ہاتھ لگانا ہی مراد ہے  اسی طرح حضرت ماعز بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو رسول اللہ کا یہ فرمانا کہ شاید تم نے  بوسہ لیا ہو گا ہاتھ لگایا ہو گا وہاں بھی لفظ لمست ہے ۔ اور صرف ہاتھ لگانے  کے  معنی میں ہی اور حدیث میں ہے (حدیث والیدز ناھا اللمس ہاتھ کا “زنا”چھونا اور ہاتھ لگانا ہے  حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتی ہیں  بہت کم دن ایسے  گزرتے  تھے  کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ہمارے  پاس آ کر بوسہ نہ لیتے  ہوں یا ہاتھ نہ لگاتے  ہوں ۔ بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے  کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے  بیع ملامست سے  منع فرمایا یہ بھی ہاتھ لگانے  کے  بیع ہے  پس یہ لفظ جس طرح جماع پر بولا جاتا ہے  ہاتھ سے  چھونے  پر بھی بولا جاتا ہے  شاعر کہتا ہے  ولمست کفی کفہ اطلب الغنی میرا ہاتھ اس کے  ہاتھ سے  ملا میں تونگری چاہتا تھا۔ ایک اور روایت میں ہے  کہ ایک شخص سرکار محمد میں حاضر ہو کر عرض کرتا ہے  کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اس شخص کے  بارے  میں کیا فیصلہ ہے  جو ایک جنبیہ عورت کے  ساتھ تمام وہ کام کرتا ہے  جو میاں بیوی میں ہوتے  ہیں  سوائے  جماع کے  تو (آیت اقم الصلوٰۃ) نازل ہوتی ہے  اور حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم فرماتے  ہیں  وضو کر کے  نماز ادا کر لے  اس پر حضرت معاذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ پوچھتے  ہیں  کیا یہ اسی کے  لئے  خاص ہے  یا سب مسلمانوں کے  لئے  کام ہے  آپ جواب دیتے  ہیں  تمام ایمان والوں کے  لئے  ہے، امام ترمذی رحمۃ اللہ علیہ اسے  زائدہ کی حدیث سے  یہ کہتے  ہیں  کہ اسے  وضو کا حکم اسی لئے  دیا کہ اس نے  عورت کو چھوا تھا جماع نہیں  کیا تھا۔ اس کا جواب یہ دیا جاتا ہے  کہ اولاً تو یہ منقطع ہے  ابن ابی لیلی اور معاذ کے  درمیان ملاقات کا ثبوت نہیں  دوسرے  یہ کہ ہو سکتا ہے  اسے  وضو کا حکم فرض نماز کی ادائیگی کے  لئے  دیا ہو جیسے  کہ حضرت صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہا والی حدیث ہے  کہ جو بندہ کوئی گناہ کرے  پھر وضو کر کے  دو رکعت نماز ادا کرے  تو اللہ تعالیٰ اس کے  گناہ معاف فرما دیتا ہے  یہ پوری حدیث سورۃ آل عمران میں (آیت ذکرو اللہ فاستغفر والذنوبھم) کی تفسیر میں گزر چکی ہے، امام ابن جریر رحمۃ اللہ علیہ فرماتے  ہیں  ان دونوں قولوں میں سے  اولیٰ قول ان کا ہے  جو کہتے  ہیں  کہ مراد اس سے  جماع نہ کہ اور۔ کیونکہ صحیح مرفوع حدیث میں آ چکا ہے  کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے  اپنی کسی بیوی صاحبہ کا بوسہ لیا اور بغیر وضو کئے  نماز پڑھی، حضرت مائی عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں  آنحضرت رسول مقبول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم وضو کرتے  بوسہ لیتے  پھر بغیر وضو کیے  نماز پڑھتے ۔ حضرت حبیب رحمۃ اللہ علیہ فرماتے  ہیں  مائی عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے  فرمایا حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اپنی کسی بیوی کا بوسہ لیتے  نماز کو جاتے  میں نے  کہا وہ آپ ہی ہوں گی تو آپ مسکرا دیں، اس کی سند میں کلام ہے  لیکن دوسری سندوں سے  بغیر وضو کیے  ثابت ہے  کہ اوپر کے  راوی یعنی حضرت صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے  سننے  والے  حضرت عروہ بن زبیر رحمۃ اللہ علیہ ہیں  اور روایت میں ہے  کہ وضو کے  بعد حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم میرا بوسہ لیا اور پھر وضو کیے  بغیر نماز ادا کی، حضرت ام المومنین ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں  کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم بوسہ لیتے  حالانکہ آپ روزے  سے  ہوتے  پھر نہ تو روزہ جاتا نہ نیا وضو کرتے  (ابن جریر) حضرت زینت بنت خزیمہ فرماتی ہیں  حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم بوسہ لینے  کے  بعد وضو نہ کرتے  اور نماز پڑھتے  اللہ تعالیٰ فرماتے  ہیں  اگر پانی نہ پاؤ تو پاک مٹی سے  تیمم کر لو، اس سے  اکثر فقہا نے  استدلال کیا ہے  کہ پانی نہ پانے  والے  کے  لئے  تیمم کی اجازت پانی کی تلاش کے  بعد ہے ۔ کتب فروع میں تلاش کی کیفیت بھی لکھی ہے  بخاری و مسلم میں ہے  کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے  ایک شخص کو دیکھا کہ الگ تھلگ ہے  اور لوگوں کے  ساتھ اس نے  نماز جماعت کے  ساتھ نہیں  پڑھی تو آپ نے  اس سے  پوچھا تو نے  لوگوں کے  ساتھ نماز کیوں نہ پڑھی؟ کیا تو مسلمان نہیں ؟ اس نے  کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ہوں تو مسلمان لیکن جنبی ہو گیا اور پانی نہ ملا آپ نے  فرمایا پھر اس صورت میں تجھے  مٹی کافی تھی۔ تیمم کے  لفظی معنی قصد کرنے  کے  ہیں ۔ عرب کہتے  ہیں  تیممک اللہ بحفظہ یعنی اللہ اپنی حفاظت کے  ساتھ تیرا قصد کرے ، امراء القیس کے  شعر میں بھی یہ لفظ اسی معنی میں آیا ہے، صعید کے  معنی میں کہا گیا ہے  کہ ہر وہ چیز جو زمین میں سے  اوپر کو چڑھے  پس اس میں مٹی ریت درخت پتھر گھاس بھی داخل ہو جائیں گے ۔ امام مالک رحمۃ اللہ علیہ کا قول یہی ہے  اور کہا گیا ہے  کہ جو چیز مٹی کی جنس سے  ہو جیسے  ریت ہڑتال اور چونا یہ مذہب ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کا ہے  اور یہ بھی کہا گیا کہ صرف مٹی ہے  مگر یہ قول ہے  حضرت امام شافعی اور امام احمد بن حنبل اور ان کے  تمام ساتھیوں کا ہے  اس کی دلیل ایک تو قرآن کریم کے  یہ الفاظ ہیں (آیت فتصبح صعیدا ازلقا) یعنی ہو جائے  وہ مٹی پھسلتی دوسری دلیل صحیح مسلم شریف کی یہ حدیث ہے  کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے  فرمایا ہمیں تمام لوگوں پر تین فضیلتیں دی گئی ہیں  ہماری صفیں مثل فرشتوں کی صفوں کے  ترتیب دی گئیں ہمارے  لئے  تمام زمین مسجد بنائی گئی اور زمین کی مٹی ہمارے  لئے  پاک اور پاک کرنے  والی بنائی گئی جبکہ ہم پانی نہ پائیں اور ایک سند سے  بجائے  تربت کے  ترابت کا لفظ مروی ہے ۔ پس اس حدیث میں احسان کے  جتاتے  وقت مٹی کی تخصیص کی گئی، اگر کوئی اور چیز بھی وضو کے  قائم مقام کام آنے  والی ہوتی تو اس کا ذکر بھی ساتھ ہی کر دیتے ۔ یہاں یہ لفظ طیب اسی کے  معنی میں آیا ہے ۔ مراد حلال ہے  اور کہا گیا ہے  کہ مراد پاک ہے  جیسے  حدیث میں ہے  رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم فرماتے  ہیں  پاک مٹی مسلمانوں کا وضو ہے  گو دس سال تک پانی نہ پائے  پھر جب پانی ملے  تو اسے  اپنے  جسم سے  بہائے  یہ اس کے  لئے  بہتر ہے ، امام ترمذی رحمۃ اللہ علیہ اسے  حسن صحیح کہتے  ہیں  حافظ ابو الحسن قطان رحمۃ اللہ علیہ بھی اسے  صحیح کہتے  ہیں  ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتے  ہیں  سب سے  زیادہ پاک مٹی کھیت کی زمین کی مٹی ہے  بلکہ تفسیر ابن مردویہ میں تو اسے  مرفوعاً وارد کیا ہے  پھر فرمان ہے  کہ اسے  اپنے  چہرے  پر اور ہاتھ پر ملنا کافی ہے  اور اس پر اجماع ہے، لیکن کیفیت تیمم میں ائمہ کا اختلاف ہے ۔ جدید مذہب شافعی یہ ہے  کہ دو دفعہ کر کے  منہ اور دونوں ہاتھوں کا کہنیوں تک مسح کرنا واجب ہے  اس لئے  کہ یدین کا اطلاق بغلوں تک اور کہنیوں تک ہوتا ہے  جیسے  آیت وضو میں اور اسی لفظ کا اطلاق ہوتا ہے  اور مراد صرف ہتھیلیاں ہی ہوتی ہیں  جیسے  کہ چور کی حد کے  بارے  میں فرمایا (آیت”فاقطعو اایدیھما”) کہتے  ہیں  یہاں تیمم کے  حکم میں ہاتھ کا ذکر مطلق ہے  اور وضو کے  حکم سے  مشروط ہے  اس لئے  اس مطلق کو اس مشروط پر محمول کیا جائے  گا کیونکہ طہوریت جامع موجود ہے  اور بعض لوگ اس کی دلیل میں دار قطنی والی روایت پیش کرتے  ہیں  کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے  فرمایا تیمم کی دو ضربیں ہیں  ایک مرتبہ ہاتھ مار کر منہ پر ملنا اور ایک مرتبہ ہاتھ مار کر دونوں کہنیوں تک ملنا، لیکن یہ حدیث صحیح نہیں  اس لئے  کہ اس کی اسناد میں ضعف ہے  حدیث ثابت نہیں ۔ ابو داؤد کی ایک حدیث میں ہے  کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے   اپنے  ہاتھ ایک دیوار پر مارے  اور منہ پر ملے  پھر دوبارہ ہاتھ مار کر اپنی دونوں بازوؤں پر ملے ۔ لیکن اس کی اسناد میں محمد بن ثابت عبدی ضعیف ہیں  انہیں  بعض حافظان حدیث نے  ضعیف کہا ہے، اور یہی حدیث بعض ثقہ راویوں نے  بھی روایت کی ہے  لیکن وہ مرفوع نہیں  کرتے  بلکہ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا فعل بتاتے  ہیں  امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کی دلیل یہ حدیث بھی ہے  کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم پیشاب کر رہے  ہیں  میں نے  آپ کو سلام کیا لیکن آپ نے  جواب نہ دیا فارغ ہو کر آپ ایک دیوار کے  پاس گئے  اور اپنے  دونوں ہاتھ اس پر مار کر منہ پر ملے  پھر میرے  سلام کا جواب دیا (ابن جریر) یہ تو تھا امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کا جدید مذہب۔ آپ کا خیال یہ ہے  کہ ضربیں تو تیمم میں دو ہیں  لیکن دوسری ضرب میں ہاتھوں کو پہنچوں تک ملنا چاہیے، تیسرا قول یہ ہے  کہ صرف ایک ہی ضرب یعنی ایک ہی مرتبہ دونوں ہاتھوں کا مٹی پر مار لینا کافی ان گرد آلود ہاتھوں کو منہ پر پھیر لے  اور دونوں پر پہنچے  تک مسند احمد میں ہے  کہ ایک شخص امیر المومنین حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے  پاس آیا کہ میں جنبی ہو گیا اور مجھے  پانی نہ ملا تو مجھے  کیا کرنا چاہیے  آپ نے  فرمایا نماز نہ پڑھنی چاہیے  دربار میں حضرت عمار رضی اللہ تعالیٰ عنہا بھی موجود تھے  فرمانے  لگے  امیر المومنین کیا آپ کو یاد نہیں  کہ میں اور آپ ایک لشکر میں تھے  اور ہم جنبی ہو گئے  تھے  اور ہمیں پانی نہ ملا تو آپ نے  تو نماز نہ پڑھی اور میں نے  مٹی میں لوٹ پوٹ کر نماز ادا کر لی جب میں واپس پلٹے  اور آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی خدمت میں پہنچے  تو میں نے  اس واقعہ کا بیان حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے  کیا تو آپ نے  فرمایا مجھے  اتنا کافی تھا پھر حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے  اپنے  ہاتھ زمین پر مارے  اور ان میں پھونک ماردی اور اپنے  منہ کو ملا اور ہتھیلیوں کو ملا۔ مسند احمد میں ہے  کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے  فرمایا تیمم میں ایک ہی مرتبہ ہاتھ مارنا جو چہرے  کے  لئے  دونوں ہاتھوں کی ہتھیلیوں کے  لئے  ہے، مسند احمد میں ہے  حضرت شقیق رحمۃ اللہ علیہ فرماتے  ہیں  کہ میں حضرت عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا اور حضرت ابو موسی رض اللہ تعالیٰ عنہا کے  پاس بیٹھا ہوا تھا حضرت ابو لیلیٰ رحمۃ اللہ علیہ نے  حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے  کہا کہ اگر کوئی شخص پانی نہ پائے  تو نماز نہ پڑھے  اس پر حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے  فرمایا کیا تمہیں  یاد نہیں  جبکہ مجھے  اور آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے  اونٹوں کے  بارے  میں بھیجا تھا وہاں میں جنبی ہو گیا اور مٹی میں لوٹ پوٹ لیا واپس آ کر حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے  یہ واقعہ بیان کیا تو آپ ہنس دئیے  اور فرمایا اپنے  چہرے  پر ایک بار ہاتھ پھیر لئے  اور ضرب ایک ہی رہی، تو حضرت عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے  فرمایا لیکن حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے  اس پر قناعت نہیں  کی یہ سن کر حضرت ابوموسی نے  فرمایا پھر تم اس آیت کا کیا کرو گے  جو سورہ نساء میں ہے  کہ پانی نہ پاؤ تو پاک مٹی کا قصد کرو اس کا جواب حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نہ دے  سکے  اور فرمانے لگے سنو ہم نے  لوگوں کو تیمم کی رخصت دیدی تو بہت ممکن ہے  کہ پانی جب انہیں  ٹھنڈا معلوم ہو گا تو وہ تیمم کرنے  لگیں گے سورۃ مائدہ میں فرمان ہے  (آیت فاسحوابوجوھکم وایدیکم منہ) اسے  اپنے  چہرے  اور ہاتھ پر ملو۔ اس سے  حضرت امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ نے  دلیل پکڑی ہے  کہ تیمم کا پاک مٹی سے  ہونا اور اس کا بھی غبار آلود ہونا جس سے  ہاتھوں پر غبار لگے  اور وہ منہ اور ہاتھ پر ملا جائے  ضروری ہے  جیسے  کہ حضرت ابو جہم رضی اللہ تعالیٰ عنہا والی حدیث میں گزرا ہے ۔ کہ انہوں نے  حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو استنجا کرتے  ہوئے  دیکھا اور سلام کیا اس میں یہ بھی ہے  کہ فارغ ہو کر ایک دیوار کے  پاس گئے  اور اپنی لکڑی سے  کھرچ کر پھر ہاتھ مار کر تیمم کیا۔ پھر فرمان ہے  کہ اللہ تعالیٰ تم پر تمہارے  دین میں تنگی اور سختی کرنا نہیں  چاہتا بلکہ وہ تمہیں  پاک صاف کرنا چاہتا ہے  اسی لئے  پانی نہ پانے  کے  وقت مٹی کے  ساتھ تیمم کر لینے  کو مباح قرار دے  کر تم پر اپنی نعمت کا اتمام فرمایا تاکہ تم شکر کرو۔ پس یہ امت اس نعمت کے  ساتھ مخصوص ہے  جیسے  کہ بخاری و مسلم میں ہے  حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم فرماتے  ہیں  مجھے  پانچ چیزیں ایسی دی گئی ہیں  جو مجھ سے  پہلے  کسی کو نہیں  دی گئیں، مہینے  بھر کی راہ تک میری مدد رعب سے  کی گئی ہے ، میرے  لئے  ساری زمین مسجد اور پاک کرنے  والی بنائی گئی ہے  میرے  جس امتی کو جہاں نماز کا وقت آ جائے  وہ وہیں  پڑھ لے  اس کی مسجد اور اس کا وضو وہیں  اس کے  پاس موجود ہے، میرے  لئے  غنیمت کے  مال حلال کیے  گئے  جو مجھ سے  پہلے  کسی کے  لئے  حلال نہ تھے، مجھے  شفاعت دی گئی تمام انبیاء صرف اپنی قوم کی طرف بھیجے  جاتے  رہے  لیکن میں تمام دنیا کی طرف بھیجا گیا اور صحیح مسلم کے  حوالے  سے  وہ حدیث بھی پہلے  گزر چکی ہے  کہ تمام لوگوں پر ہمیں تین فضیلتیں عنایت کی گئی ہماری صفیں فرشتوں کی صفوں کی طرح بنائی گئیں ہمارے  لئے  زمین مسجد بنائی گئی اور اپنے  ہاتھ پر مسح کر۔پانی نہ ملنے  کے  وقت اللہ معاف کرنے  والا اور بخشنے  والا ہے  اس کی عفو و در گزر شان ہے  کہ اس نے  تمہارے  لئے  پانی نہ ملنے  کے  وقت تیمم کو مشروع کر کے  نماز ادا کرنے  کی اجازت مرحمت فرمائی اگر یہ رخصت نہ ہوتی تو تم ایک گونہ مشکل میں پڑ جاتے  کیونکہ اس آیت کریمہ میں نمازکو ناقص حالت میں ادا کرنا منع کیا گیا ہے  مثلاً نشے  کی حالات میں ہو یا جنابت کی حالت میں ہو یا بے  وضو ہو تو جب تک اپنی باتیں خود سمجھنے  جتنا ہوش اور باقاعدہ غسل اور شرعی طریق پر وضو نہ ہو نماز نہیں  پڑھ سکتے  لیکن بیماری کی حالت میں اور پانی نہ ملنے  کی صورت میں غسل اور وضو کے  قائم مقام تیمم کر دیا، پس اللہ تعالیٰ اس احسان پر ہم اس کے  شکر گزار ہیں  الحمدا للہ ۔ تیمم کی رخصت نازل ہونے  کا واقعہ بھی سن لیجئے  ہم اس واقعہ کو سورۃ نساء کی اس آیت کی تفسیر میں اسی لئے  بیان کرتے  ہیں  کہ سورۃ مائدہ میں جو تیمم کی آیت ہے  وہ نازل ہوئی یہ اس کے  بعد کی ہے  اس کی دلیل یہ ہے  کہ یہ واضح ہے  کہ یہ آیت شراب کی حرمت سے  پہلے  نازل ہوئی تھی اور شراب جنگ احد کے  کچھ عرصہ کے  بعد نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم بنو نصیر کے  یہودیوں کا محاصرہ کئے  ہوئے  تھے  حرام ہوئی اور سورۃ مائدہ قرآن میں نازل ہونے  والی آخری سورتوں میں سے  ہے  بالخصوص اس سورت کا ابتدائی حصہ لہٰذا مناسب یہی ہے  کہ تیمم کا شان نزول یہیں  بیان کیا جائے ۔ اللہ نیک توفیق دے  اسی کا بھروسہ ہے ۔ مسند احمد میں ہے  کہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے  حضرت اسماء رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے  ایک ہار مل گیا لیکن نماز کا وقت اس کی تلاش میں فوت ہو گیا اور ان کے  ساتھ پانی نہ تھا ۔ انہوں نے  بے  وضو نماز ادا کی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے  پاس پہنچ کر اس کی شکایت کی اس پر تیمم کا حکم نازل ہوا، حضرت اسید بن حضیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہنے  لگے  اے  ام المومنین عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا آپ کو جزائے  خیر دے  اللہ کی قسم جو تکلیف آپ کو پہنچتی ہے  اس کا انجام ہم مسلمانوں کے  لئے  خیر ہی خیر ہوتا ہے ۔ بخاری میں ہے  حضرت صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں  ہم اپنے  کسی سفر میں تھے  بیداء میں یا ذات الجیش میں میرا ہار ٹوٹ کر کہیں  گر پڑا جس کے  ڈھونڈنے  کے  لئے  حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم مع قافلہ ٹھہر گئے  اب نہ تو ہمارے  پاس پانی تھا نہ وہاں میدان میں کہیں  پانی تھا لوگ میرے  والد حضرت ابوبکر صدیق صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے  پاس میری شکایتیں کرنے  لگے  کہ دیکھو ہم ان کی وجہ سے  کیسی مصیبت میں پڑ گئے  چنانچہ میرے  والد صاحب میرے  پاس آئے  اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم میری ران پر اپنا سر مبارک رکھ کر سو گئے  تھے  آتے  ہی مجھے  کہنے  لگے  تو نے  حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو اور لوگوں کو روک دیا اب نہ تو ان کے  پاس پانی ہے  نہ یہاں اور کہیں  پانی نظر آتا ہے  الغرض مجھے  خوب ڈانٹا ڈپٹا اور اللہ جانے  کیا کیا کہا اور میرے  پہلو میں اپنے  ہاتھ سے  کچو کے  بھی مارتے  رہے  لیکن میں نے  ذرا سی بھی جنبش نہ کی کہ ایسا نہ ہو کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے  آرام میں خلل واقع ہو ساری رات گزر گئی صبح کو لوگ جاگے  لیکن پانی نہ تھا اللہ نے  تیمم کی آیت نازل فرمائی اور سب نے  تیمم کیا حضرت اسید بن حضیر رضی اللہ تعالیٰ عنہا کہنے  لگے  اے  ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے  گھرانے  والو یہ کچھ تمہاری پہلی ہی برکت نہیں، اب جب ہم نے  اس اونٹ کو اٹھایا جس پر یہ سوار تھی تو اس کے  نیچے  سے  ہی ہار مل گیا ۔ مسند احمد میں ہے  کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اپنی اہلیہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے  ہمراہ ذات الجیش سے  گزرے ۔ ام المومنین رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا یمنی خر مہروں کا ہار ٹوٹ کر کہیں  گر پڑا تھا اور گم ہو گیا تھا اس کی تلاش میں یہاں ٹھہر گئے  ساری رات آپ کے  ہم سفر مسلمانوں نے  اور آپ نے  یہیں  گزاری صبح اٹھے  تو پانی بالکل نہی تھا پس اللہ تعالیٰ نے  اپنے  نبی پر پاک مٹی سے  تیمم کر کے  پاکی حاصل کرنے  کی رخصت کی آیت اتاری اور مسلمانوں نے  حضور کے  ساتھ کھڑے  ہو کر زمین پر اپنے  ہاتھ مارے  اور جو مٹی ان سے  لت پت ہوئی اسے  جھاڑے  بغیر اپنے  چہرے  پر اور اپنے  ہاتھوں پر مونڈھوں تک اور ہاتھوں کے  نیچے  سے  بغل تک مل لی۔ ابن جریر کی روایت میں ہے  کہ اس سے  پہلے  حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا پر سخت غصہ ہو کر گئے  تھے  لیکن تیمم کی رخصت کے  حکم کو سن کر خوشی خوشی اپنی صاحبزادی صاحبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے  پاس آئے  اور کہنے  لگے  تم بڑی مبارک ہو مسلمانوں کو اتنی بڑی رخصت ملی پھر مسلمانوں نے  زمین پر ایک ضرب سے  چہرے  ملے  اور دوسری ضرب سے  کہنیوں اور بغلوں تک ہاتھ لے  گئے  ابن مردویہ میں روایت ہے  حضرت اسلع بن شریک رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتے  ہیں  میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی اونٹنی کو چلا رہا تھا۔ جس پر حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سوار تھے  جاڑوں کا موسم تھا رات کا وقت تھا سخت سردی پڑ رہی تھی اور میں جنبی ہو گیا ادھر حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے  کوچ کا ارادہ کیا تو میں نے  اپنی اس حالت میں حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی اونٹنی کو چلانا پسند نہ کیا ساتھ ہی یہ بھی خیال آیا کہ اگر سرد پانی سے  نہاؤں گا تو مر جاؤں گا یا بیمار پڑ جاؤں گا تو میں نے  چپکے  سے  ایک انصاری کو کہا کہ آپ اونٹنی کی نکیل تھام لیجئے  چنانچہ وہ چلاتے  رہے  اور میں نے  آگ سلگا کر پانی گرم کر کے  غسل کیا پھر دوڑ بھاگ کر قافلہ میں پہنچ گیا آپ نے  مجھے  فرمایا اسلع کیا بات ہے ؟ اونٹنی کی چال کیسے  بگڑی ہوئی ہے ؟ میں نے  کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم میں اسے  نہیں  چلا رہا تھا بلکہ فلاں انصاری صاحب چلا رہے  تھے  آپ نے  فرمایا یہ کیوں ؟ تو میں نے  سارا واقعہ کہہ سنایا اس پر اللہ عزوجل نے (آیت”لا تقربوا الصلوٰۃ “سے “غفورا،) تک نازل فرمائی یہ روایت دوسری سند سے  بھی مروی ہے ۔

۴۴

یہودیوں کی ایک مذموم خصلت

 اللہ تبارک و تعالیٰ بیان فرماتا ہے  کہ یہودیوں کی ایک مذموم خصلت یہ بھی ہے  کہ وہ گمراہی کو ہدایت پر ترجیح دیتے  ہیں ، نبی آخر الزماں صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم پر جو کتاب نازل ہوئی اس سے  بھی روگردانی کرتے  ہیں  اور اللہ کا دیا ہوا جو علم ان کے  پاس ہے  اسے  بھی پس پشت ڈال دیتے  ہیں  خود اپنی کتابوں میں نبی موعود کی بشارتیں پڑھتے  ہیں  لیکن اپنے  مریدوں سے  چڑھاوا لینے  کے  لالچ میں ظاہر نہیں  کرتے  بلکہ ساتھ ہی یہ چاہتے  ہیں  کہ خود مسلمان بھی راہ راست سے  بھٹک جائیں اللہ کی کتاب کے  مخالف ہو جائیں ہدایت کو اور سچے  علم کو چھوڑ دیں، اللہ تعالیٰ تمہارے  دشمنوں سے  خوب با خبر ہے  وہ تمہیں  ان سے  مطلع کر رہا ہے  کہ کہیں  تم ان کے  دھوکے  میں نہ آ جاؤ۔ اللہ کی حمایت کافی ہے  تم یقین رکھو کہ وہ اپنی طرف جھکنے  والوں کی ضرور حمایت کرتا ہے  وہ اس کا مددگار بن جاتا ہے ۔ تیسری آیت میں لفظ من سے  شروع ہوئی ہے  اس میں من بیان جنس کے  لئے  ہے  جیسے (آیت “فاجتنبو االرجس من الاوثان”) میں پھر یہودیوں کے  اس فرقے  کی جس تحریف کا ذکر ہے  اس سے  مراد یہ ہے  کہ وہ کلام اللہ کے  مطلب کو بدل دیتے  ہیں  اور خلاف منشائے  الٰہی تفسیر کرتے  ہیں  اور ان کا یہ فعل جان بوجھ کر ہوتا ہے  قصداً افترا پردازی کے  مرتکب ہوتے  ہیں ، پھر کہتے  ہیں  کہ اے  پیغمبر جو آپ نے  کہا ہم نے  سنا لیکن ہم ماننے  کے  نہیں  خیال کیجئے  ان کے  کفر و الحاد کو دیکھئے  کہ جان کر سن کر سمجھ کر کھلے  لفظوں میں اپنے  ناپاک خیال کا اظہار کرتے  ہیں  اور کہتے  ہیں  آپ سنئے  اللہ کرے  آپ نہ سنیں ۔ یا یہ مطلب کہ آپ سنئے  آپ کی نہ سنی جائے  لیکن پہلا مطلب زیادہ اچھا ہے  یہ کہنا ان کا بطور تمسخر اور مذاق کے  تھا اور اللہ انہیں  لعنت کرے  علاوہ ازیں راعنا کہتے  جس سے  بظاہر یہ سمجھا جاتا ہے  کہ یہ لوگ کہتے  ہیں  ہماری طرف کان لگائے  لیکن وہ اس لفظ سے  مراد یہ لیتے  تھے  کہ تم بڑی رعونت والے  ہو۔ اس کا پورا مطلب (آیت”یاایھا الذین امنوالا تقولو اراعناالخ”) کی تفسیر میں گزر چکا ہے ، مقصد یہ ہے  کہ جو ظاہر کرتے  تھے  اس کے  خلاف اپنی زبانوں کو موڑ کر طعن آمیز لہجہ میں کہتے  اور حقیقی مفہوم میں اپنے  دل میں مخفی رکھتے  تھے  دراصل یہ لوگ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی بے  ادبی اور گستاخی کرتے  تھے  پس انہیں  ہدایت کی گئی ہے  کہ وہ ان دو معنی والے  الفاظ کا استعمال چھوڑ دیں اور صاف صاف کہیں  کہ ہم نے  سنا، مانا، آپ ہماری عرض سنئے ! آپ ہماری طرف دیکھئے ! یہ کہنا ہی ان کے  لئے  بہتر ہے  اور یہی صاف سیدھی سچی اور مناسب بات ہے  لیکن ان کے  دل بھلائی سے  دور ڈال دیئے  گئے  ہیں  ایمان کامل طور سے  ان کے  دلوں میں جگہ ہی نہیں  پاتا، اس جملے  کی تفسیر بھی پہلے  گزر چکی ہے  مطلب یہ ہے  کہ نفع دینے  والا ایمان ان میں نہیں ۔

۴۷

قرآن حکیم کا اعجاز تاثیر

 اللہ عزوجل یہود و نصاریٰ کو حکم دیتا ہے  کہ میں نے  اپنی زبردست کتاب اپنے  بہترین نبی کے  ساتھ نازل فرمائی ہے  جس میں خود تمہاری اپنی کتاب کی تصدیق بھی ہے  اس پر ایمان لاؤ اس سے  پہلے  کہ ہم تمہاری صورتیں مسخ کر دیں یعنی منہ بگاڑ کر دیں آنکھیں بجائے  ادھر کے  ادھر ہو جائیں، یا یہ مطلب کہ تمہارے  چہرے  مٹا دیں آنکھیں کان ناک سب مٹ جائیں پھر یہ مسخ چہرہ بھی الٹا ہو جائے ۔ یہ عذاب ان کے  بد اعمال کا بدلہ ہے  یہی وجہ ہے  کہ یہ حق سے  ہٹ کر باطل کی طرف ہدایت سے  پھر کر ضلالت کی جانب بڑھے  چلے  جا رہے  ہیں  بایں ہمہ اللہ تعالیٰ انہیں  احساس دلا رہے  ہیں  کہ اب بھی باز آ جاؤ اور اپنے  سے  پہلے  ایسی حرکت کرنے  والوں کی صورتوں کے  مسخ ہونے  کو یاد کرو کہیں  ایسا نہ ہو کہ ان کی طرح تمہارا منہ الٹ دوں گا تاکہ تمہیں  پچھلے  پیروں چلنا پڑے  تمہاری آنکھیں گدی کی طرف کردوں اور اسی جیسی تفسیر بعض نے (آیت  انا جعلنا فی اعناقھم الخ،) کی آیت میں بھی کی ہے  غرض یہ ان کی گمراہی اور ہدایت سے  دور پڑ جانے  کی بری مثال بیان ہوئی ہے ، حضرت مجاہد رحمۃ اللہ علیہ سے  مروی ہے  کہ مطلب یہ ہے  کہ ہم تمہیں  سچ مچ حق کے  راستے  سے  ہٹا دیں اور گمراہی کی طرف متوجہ کر دیں، ہم تمہیں  کافر بنا دیں اور تمہارے  چہرے  بندروں جیسے  کر دیں، ابو زید رحمۃ اللہ علیہ فرماتے  ہیں  کہ لوٹا دینا یہ تھا کہ ارض حجاز سے  بلاد شام میں پہنچا دیا۔ یہ بھی مذکور ہے  کہ اسی آیت کو سن کر حضرت کعب احبار رضی اللہ تعالیٰ عنہ مشرف با اسلام ہوئے  تھے ۔ ابن جریر میں ہے  کہ حضرت ابراہیم رحمۃ اللہ علیہ کے  سامنے  حضرت کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے  اسلام کا تذکرہ ہوا تو آپ نے  فرمایا حضرت کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے  زمانے  میں مسلمان ہوئے  یہ بیت المقدس جاتے  ہوئے  مدینہ میں آئے  حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ان کے  پاس گئے  اور فرمایا اے  کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ مسلمان ہو جاؤ انہوں نے  جواب دیا تم تو قرآن میں پڑھ چکے  ہو کہ جنہیں  توراۃ کا حامل بنایا گیا انہوں نے  اسے  کما حقہ قبول نہ کیا۔ ان کی مثال اس گدھے  کی سی ہے  جو بوجھ لادے  ہوئے  ہو اور یہ بھی تم جانتے  ہو کہ میں بھی ان لوگوں میں سے  ہوں جو توراۃ اٹھوائے  گئے  اس پر حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے  اسے  چھوڑ دیا یہ یہاں سے  چل کر حمص پہنچے  وہاں سنا کہ ایک شخص جو ان کے  گھرانے  میں سے  تھا اس آیت کی تلاوت کر رہا ہے  جب اس نے  آیت ختم کی انہیں  ڈر لگنے  لگا کہ کہیں  سچ مچ اس آیت کی وعید مجھ پر صادق نہ آ جائے  اور میرا منہ مسخ کر پلٹ نہ جائے  یہ جھٹ سے  کہنے  لگے  “یارب اسلمت”میرے  اللہ میں ایمان لایا۔ پھر حمص سے  ہی واپس اپنے  وطن یمن میں آئے  اور یہاں سے  اپنے  تمام گھر والوں کو لے  کر سارے  کنبے  سمیت مسلمان ہو گئے، ابن ابی حاتم میں حضرت کعب رضی اللہ عنہ کے  اسلام کا واقعہ اس طرح مروی ہے  کہ ان کے  استاد ابو مسلم جلیلی ان کے  حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہونے  میں دیر لگانے  کی وجہ سے  ہر وقت انہیں  ملامت کرتے  رہتے  تھے  پھر انہیں  بھیجا کہ دیکھیں کہ آپ وہی پیغمبر ہیں  جن کی خوشخبری اور اوصاف توراۃ میں ہیں ؟ یہ آئے  تو فرماتے  ہیں  جب میں مدینہ شریف پہنچا تو ایک شخص قرآن کریم کی اس آیت کی تلاوت کر رہا تھا کہ اے  اہل کتاب ہماری نازل کردہ کتاب تمہارے  پاس موجود کتاب کی تصدیق کرتی ہے  بہتر ہے  کہ اس پر اس سے  پہلے  ایمان لاؤ کہ ہم تمہارے  منہ بگاڑ دیں اور انہیں  الٹا کر دیں ۔ میں چونک اٹھا اور جلدی جلدی غسل کرنے  بیٹھ گیا اور اپنے  چہرے  پر ہاتھ پھیرتا جاتا تھا کہ کہیں  مجھے  ایمان لانے  میں دیر نہ لگ جائے  اور میرا چہرہ الٹا نہ ہو جائے  ۔ پھر میں بہت جلد آ کر مسلمان ہو گیا، اس کے  بعد اللہ تعالیٰ فرماتے  ہیں  یا ہم ان پر لعنت کریں جیسے  کہ ہفتہ والوں پر ہم نے  لعنت نازل کی یعنی جن لوگوں نے  ہفتہ والے  دن حیلے  کے  لئے  شکار کھیلا حالانکہ انہیں  اس کام سے  منع کیا گیا تھا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ بندر اور سور بنا دئیے  گئے  ان کا مفصل واقعہ سورۃ اعراف میں آئے  گا انشا اللہ تعالیٰ ارشاد ہوتا ہے  الٰہی کام پورے  ہو کر ہی رہتے  ہیں  وہ جب کوئی حکم کر دے  تو کوئی نہیں  جو اس کی مخالفت یا ممانعت کر سکے ۔ پھر خبر دیتا ہے  کہ اللہ تعالیٰ اپنے  ساتھ شرک کئے  جانے  کے  گناہ کو نہیں  بخشتا، یعنی جو شخص اللہ تعالیٰ سے  اس حال میں ملاقات کرے  کہ وہ مشرک ہو اس پر بخشش بہت سی حدیثیں ہیں  ہم یہاں بقدر آسانی ذکر کرتے  ہیں  ۔

گناہوں کی تین دیوان

پہلی حدیث بحوالہ مسند احمد۔ اللہ تعالیٰ کے  نزدیک گناہوں کے  تین دیوان ہیں، ایک تو وہ جس کی اللہ تعالیٰ کچھ پرواہ نہیں  کرتا دوسرا وہ جس میں اللہ تعالیٰ کچھ نہیں  چھوڑتا۔ تیسرا وہ جسے  اللہ تعالیٰ ہرگز نہیں  بخشتا۔ پس جسے  وہ بخشتا نہیں  وہ شرک ہے  اللہ عزوجل خود فرماتا ہے  کہ اللہ تعالیٰ اپنے  ساتھ شریک کئے  جانے  کو معاف نہیں  فرماتا اور جگہ ارشاد ہے  جو شخص اللہ کے  ساتھ شریک کر لے، اللہ اس پر جنت کو حرام کر دیتا ہے ۔ اور جس دیوان میں اللہ کے  ہاں کوئی وقعت نہیں  وہ بندے  کا اپنی جان پر ظلم کرنا ہے  اور جس کا تعلق اس سے  اور اللہ کی ذات سے  ہے  مثلاً کسی دن کا روزہ جسے  اس نے  چھوڑ دیا یا نماز چھوڑ دی تو اللہ تعالیٰ اسے  بخش دے  گا اور جس دیوان (اعمالنامہ) میں سے  موجود کسی فرد کو اللہ نہیں  چھوڑتا وہ بندوں کے  آپس میں مظالم ہیں  جن کا بدلہ اور قصاص ضروری ہے ۔ دوسری حدیث بحوالہ مسند بزار۔ الفاظ کے  ہیر پھیر کے  ساتھ مطلب وہی ہے ۔ تیسری حدیث بحوالہ مسند احمد ممکن ہے  اللہ تعالیٰ ہر گناہ کو بخش دے  مگر وہ شخص جو کفر کی حالت میں مرا دوسرا وہ جس نے  ایمان دار کو جان بوجھ کر قتل کیا۔ چوتھی حدیث بحوالہ مسند احمد۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے  اے  میرے  بندے  تو جب تک میری عبادت کرتا رہے  گا اور مجھ سے  نیک امید رکھے  گا میں بھی تیری جتنی خطائیں ہیں  انہیں  معاف فرماتا رہوں گا میرے  بندے  اگر تو ساری زمین بھر کی خطائیں بھی لے  کر میرے  پاس آئے  گا تو میں بھی زمین کی وسعتوں جتنی مغفرت کے  ساتھ تجھ سے  ملوں گا بشرطیکہ تو نے  میرے  ساتھ کسی کو شریک نہ کیا ہو۔ پانچویں حدیث بحوالہ مسند احمد۔ جو بندہ لا الہ الا اللہ کہے  پھر اسی پر اس کا انتقال ہو وہ ضرور جنت میں جائے  گا یہ سن کر حضرت ابو ذررضی اللہ تعالیٰ عنہ نے  دریافت کیا کہ اگر اس نے  زنا اور چوری بھی کیا ہو آپ نے  فرمایا گو اس نے  زناکاری اور چوری بھی کی ہو تین مرتبہ یہی سوال جواب ہوا۔ چوتھے  سوال پر آپ نے  فرمایا چاہے  ابوذر کی ناک خاک آلود ہو پس حضرت ابو ذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ وہاں سے  اپنی چادر گھسیٹتے  ہوئے  یہ فرماتے  ہوئے  نکلے  کہ چاہے  ابوذر کی ناک خاک آلود ہو اور اس کے  بعد جب کبھی آپ یہ حدیث بیان فرماتے  یہ جملہ ضروری کہتے  ۔ یہ حدیث دوسری سند سے  قدرے  زیادتی کے  ساتھ بھی مروی ہے ، اس میں ہے  حضرت ابو ذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے  ہیں  میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے  ساتھ مدینہ کے  میدان میں چلا جا رہا تھا احد کی طرف ہماری نگاہیں  تھیں کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے  فرمایا اے  ابوذر میں کہا لبیک یا رسول اللہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے  فرمایا سنو میرے  پاس احد پہاڑ کے  برابر سونا ہو تو میں نہ چاہوں گا کہ تیسری شام کو اس میں سے  کچھ بھی باقی رہ جائے  بجز اس دینار کے  جسے  میں قرضہ چکا نے  کے  لئے  رکھ لوں باقی تمام مال میں اس طرح راہ للہ اس کے  بندوں کو دے  ڈالوں اور آپ نے  دائیں بائیں اور سامنے  لپیں پھینکیں ۔ پھر کچھ دیر ہم چلتے  رہے  پھر حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے  مجھے  پکارا اور فرمایا جن کے  پاس یہاں زیادتی ہے  وہی وہاں کمی والے  ہوں گے  مگر جو اس طرح اور اس طرح کرے  یعنی آپ نے  اپنے  دائیں سامنے  اور بائیں لپیں (ہتھیلیاں) بھر کر دیتے  ہوئے  اس عمل کی وضاحت کی، پھر کچھ دیر چلنے  کے  بعد فرمایا ابوذر میں ابھی آتا ہوں تم یہیں  ٹھہرو آپ تشریف لے  گئے  اور میری نگاہوں سے  اوجھل ہو گئے  اور مجھے  آوازیں سنائی دینے  لگیں دل بے  چین ہو گیا کہ کہیں  تنہائی میں کوئی دشمن آ گیا ہو میں نے  قصد کیا کہ وہاں پہنچوں لیکن ساتھ ہی حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا یہ فرمان یاد آ گیا کہ میں جب تک نہ آؤں تم یہیں  ٹھہرے  رہنا چنانچہ میں ٹھہرا رہا یہاں تک کہ آپ تشریف لے  آئے  تو میں نے  کہا حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم یہ آوازیں کیسی آ رہی تھیں آپ نے  فرمایا میرے  پاس حضرت جبرئیل آئے  تھے  اور فرما رہے  تھے  کہ آپ کی امت میں سے  وفات پانے  والا اللہ تعالیٰ کے  ساتھ کسی کو شریک نہ کرے  تو وہ جنت میں جائے  گا میں نے  کہا گو زنا اور چوری بھی اس سے  سرزد ہوئی ہو تو فرمایا ہاں گو زنا اور چوری بھی ہوئی ہو، یہ حدیث بخاری مسلم میں بھی ہے  کہ حضرت ابو ذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے  ہیں  رات کے  وقت نکلا دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم تنہا تشریف لے  جا رہے  ہیں  تو مجھے  خیال ہوا کہ شاید اس وقت آپ کسی کو ساتھ لے  جانا نہیں  چاہتے  تو میں چاند کی چاندنی میں حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے  پیچھے  ہو لیا آپ نے  جب مڑ کر مجھے  دیکھا تو پوچھا کون ہے  میں نے  کہا ابوذر اللہ مجھے  آپ پر سے  قربان کر دے  تو آپ نے  فرمایا آؤ میرے  ساتھ چلو تھوڑی دیر ہم چلتے  رہے  پھر آپ نے  فرمایا زیادتی والے  ہی قیامت کے  دن کمی والے  ہوں گے  مگر وہ جنہیں  اللہ تعالیٰ نے  مال دیا پھر وہ دائیں بائیں آئے  پیچھے  نیک کاموں میں خرچ کرتے  رہے  پھر کچھ دیر چلنے  کے  بعد آپ نے  مجھے  ایک جگہ بٹھا کر جس کے  ارد گرد پتھر تھے  فرمایا میری واپس تک یہیں  بیٹھے  رہو پھر آپ آگے  نکل گئے  یہاں تک کہ میری نظر سے  پوشیدہ ہو گئے  آپ کو زیادہ دیر لگ گئی پھر میں نے  دیکھا کہ آپ تشریف لا رہے  ہیں  اور زبان مبارک سے  فرماتے  آ رہے  ہیں  گو زنا کیا ہو یا چوری کی ہو جب میرے  پاس پہنچے  تو میں رک نہ سکا پوچھا کہ اے  نبی اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اللہ مجھے  آپ پر قربان کرے  اس میدان کے  کنارے  آپ کس سے  باتیں کر رہے  تھے  میں نے  سنا کوئی آپ کو جواب بھی دے  رہا تھا آپ نے  فرمایا وہ جبرئیل تھے  یہاں میرے  پاس آئے  اور فرمایا اپنی امت کو خوش خبری سنا دو کہ جو میرے  اور اللہ کے  ساتھ اس نے  کسی کو شریک نہ کیا وہ جنتی ہو گا میں نے  کہا اے  جبرئیل گو اس نے  چوری کی ہو اور زنا کیا ہو فرمایا ہاں میں نے  پھر یہی سوال کیا سوال کیا جواب دیا ہاں میں نے  پھر یہی فرمایا ہاں اور اگرچہ اس نے  شراب پی ہو۔ چھٹی حدیث بحوالہ مسند عبد بن حمید ایک شخص حضور کے  پاس آیا، اور کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم جنت واجب کر دینے  والی چیزیں کیا ہیں ؟ آپ نے  فرمایا جو شخص بغیر شرک کئے  مرا اس کے  لئے  جنت واجب ہے  اور جو شرک کرتے  ہوئے  مرا اس کے  لئے  جہنم واجب ہے ، یہی حدیث اور طریق سے  مروی ہے  جس میں ہے  کہ جو شخص اللہ تعالیٰ کے  ساتھ شرک نہ کرتا ہوا مرا اس کے  لئے  بخشش حلال ہے  اگر اللہ چاہے  اسے  عذاب کرے  اگر چاہے  بخش دے  اللہ کے  ساتھ کسی کو شریک کرنے  والے  کو نہیں  بخشتا اس کے  سوا جسے  چاہے  بخش دے  (ابن ابی حاتم) اور سند سے  مروی ہے  کہ آپ نے  فرمایا بندے  پر مغفرت ہمیشہ رہتی ہے  جب تک کہ پردے  نہ پڑ جائیں دریافت کیا گیا کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم پردے  پڑ جانا کیا ہے ؟ فرمایا شرک، جو شخص شرک نہ کرتا ہو اور اللہ تعالیٰ سے  ملاقات کرے  اس کے  لئے  بخشش الٰہی حلال ہو گئی اگر چاہیے  عذاب کرے  اگر چاہے  بخش دے  پھر آپ نے  (آیت ان اللہ لا یغفر الخ،) تلاوت فرمائی (مسند ابو یعلیٰ) ساتویں حدیث بحوالہ مسند احمد، جو شخص مرے  اللہ کے  ساتھ شریک نہ کرتا ہو وہ جنت میں داخل ہو گا آٹھویں حدیث بحوالہ مسند احمد۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ایک مرتبہ صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے  پاس آئے  اور فرمایا تمہارے  رب عزوجل نے  مجھے  اختیار دیا کہ میری امت میں سے  ستر ہزار کا بے  حساب جنت میں جانا پسند کروں یا اللہ تعالیٰ کے  پاس جو چیز میرے  لئے  میری امت کی بابت پوشیدہ محفوظ ہے  اسے  قبول کر لوں، تو بعض صحابہ نے  کہا کیا اللہ تعالیٰ آپ کے  لئے  یہ محفوظ چیز بچا کر بھی رکھے  گا؟ آپ یہ سن کر اندر تشریف لے  گئے  پھر تکبیر پڑھتے  ہوئے  باہر آئے  اور فرمانے  لگے  میرے  رب نے  مجھے  ہر ہزار کے  ساتھ ستر ہزار کو جنت عطا کرنا مزید عطا فرمایا اور وہ پوشیدہ حصہ بھی، حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ جب یہ حدیث بیان فرما چکے  تو حضرت ابو رہم نے  سوال کیا کہ وہ پوشیدہ محفوظ کیا ہے ؟ اس پر لوگوں نے  انہیں  کچھ کچھ کہنا شروع کر دیا کہ کہاں تم اور کہاں حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے  لئے  اختیار کردہ چیز؟ حضرت ایوب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے  فرمایا سنو جہاں تک ہمارا گمان ہے  جو گمان یقین کے  قریب ہے  یہ ہے  کہ وہ چیز جنت میں جانا ہے  ہر اس شخص کا جو سچے  دل سے  گواہی دے  کہ اللہ ایک ہے  اس کے  سوا کوئی معبود نہیں  اور محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اس کے  بندے  اور رسول ہیں ۔ نویں حدیث بحوالہ ابن ابی حاتم۔ ایک شخص حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم میرا بھتیجا حرام سے  باز نہیں  آتا آپ نے  فرمایا اس کی دینداری کیسی ہے ، کہا نمازی ہے  اور توحید والا ہے  آپ نے  فرمایا جاؤ اور اس سے  اس کا دین بطور سبہ کے  طلب کرو اگر انکار کرے  تو اس سے  خرید لو، اس نے  جا کر اس سے  طلب کیا تو اس نے  انکار کر دیا اس نے  آ کر حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو خبر دی تو آپ نے  فرمایا میں نے  اسے  اپنے  دین پر چمٹا ہوا پایا اس پر (آیت “ان اللہ لا یغفرالخ”) نازل ہوئی۔ دسویں حدیث بحوالہ حافظ یعلیٰ ایک شخص رسول کے  پاس آیا اور کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم میں کوئی حاجت یا حاجت والا نہیں  چھوڑا یعنی زندگی میں سب کچھ کر چکا آپ نے  فرمایا کیا تو یہ گواہی نہیں  دیتا کہ اللہ کے  سوا کوئی معبود نہیں  اور محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اللہ کے  رسول ہیں، تین مرتبہ اس نے  کہا ہاں آپ نے  فرمایا یہ ان سب پر غالب آ جائے  گا۔ گیارہویں حدیث بحوالہ مسند احمد ۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے  ضخم بن جوش یمامی رحمۃ اللہ علیہ سے  کہا کہ اے  یمامی کسی شخص سے  ہرگز یہ نہ کہنا کہ اللہ تعالیٰ تجھے  نہیں  بخشے  گا یا تجھے  جنت میں داخل نہ کرے  گا، یمامی رحمۃ اللہ علیہ نے  کہا حضرت یہ بات تو ہم لوگ اپنے  بھائیوں اور دوستوں سے  بھی غصے  غصے  میں کہہ جاتے  ہیں  آپ نے  فرمایا خبردار ہرگز نہ کہنا سنو میں نے  رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے  سنا ہے  آپ نے  فرمایا بنی اسرائیل میں دو شخص تھے  ایک تو عبادت میں بہت چست چالاک اور دوسرا اپنی جان پر زیادتی کرنے  والا اور دونوں میں دوستانہ اور بھائی چارہ تھا عابد بسا اوقات اس دوسرے  کو کسی نہ کسی گناہ میں دیکھتا رہتا تھا اے  شخص باز رہ جواب دیتا تو مجھے  میرے  رب پر چھوڑ دے  کیا تو مجھ پر نگہبان بنا کر بھیجا گیا ہے  ؟ ایک مرتبہ عابد نے  دیکھا کہ وہ پھر کسی گناہ کے  کام کو کر رہا ہے  جو گناہ اسے  بہت بڑا معلوم ہوا تو کہا افسوس تجھ پر باز آ اس نے  وہی جواب دیا تو عابد نے  کہا اللہ کی قسم اللہ تجھے  ہرگز نہ بخشے  گا یا جنت نے  دے  گا اللہ تعالیٰ نے  ان کے  پاس فرشتہ بھیجا جس نے  ان کی روحیں قبض کر لیں جب دونوں اللہ تعالیٰ کے  ہاں جمع ہوئے  تو اللہ تعالیٰ نے  اس گنہگار سے  فرمایا جا اور میری رحمت کی بنا پر جنت میں داخل ہو جا اور اس عابد سے  فرمایا کیا تجھے  حقیقی علم تھا؟ کیا تو میری چیز پر قادر تھا؟ اسے  جہنم کی طرف لے  جاؤ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے  یہ بیان فرمایا اس کی قسم جس کے  ہاتھ میں ابو القاسم کی جان ہے  اس نے  ایک کلمہ زبان سے  ایسا نکال دیا جس نے  اس کی دنیا اور آخرت برباد کر دی۔ بارہویں حدیث بحوالہ طبرانی جس نے  اس بات کا یقین کر لیا کہ میں گناہوں کی بخشش پر قادر ہوں تو میں اسے  بخش ہی دیتا ہوں اور کوئی پرواہ نہیں  کرتا جب تک کہ وہ میرے  ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتے ۔ تیرہویں حدیث بحوالہ بزار، ابو یعلیٰ جس عمل پر اللہ تعالیٰ نے  ثواب کا وعدہ کیا ہے  اسے  تو مالک ضرور پورا فرمائے  گا اور جس پر سزا کا فرمایا ہے  وہ اس کے  اختیار میں ہے  چاہے  بخش دے  یا سزا دے  حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے  ہیں  ہم صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا قاتل کے  بارے  میں اور یتیم کا مال کھا جانے  والے  کے  بارے  میں اور پاک دامن عورتوں پر تہمت لگانے  والے  کے  بارے  میں اور جھوٹی گواہی دینے  والے  کے  بارے  میں کوئی شک و شبہ ہی نہیں  کرتے  تھے  یہاں تک کہ (آیت ان اللّٰہ  یغفر الخ،) اتری اور اصحاب رسول گمراہی سے  رک گئے  (ابن ابی حاتم) ابن جریر کی یہ روایت اس طرح پر ہے  کہ جن گناہوں پر جہنم کا ذکر کتاب اللہ میں ہے  اسے  کرنے  والے  کے  جہنمی ہونے  میں ہمیں کوئی شک ہی نہیں  تھا یہاں تک کہ ہم پر یہ آیت اتری جب ہم نے  اسے  سنا تو ہم شہادت کے  لئے  رک گئے  اور تمام امور اللہ تعالیٰ کی طرف سونپ دئیے ۔ بزار میں آپ ہی کی ایک روایت ہے  کہ کبیرہ گناہ کرنے  والوں کے  لئے  استغفار کرنے  سے  ہم رکے  ہوئے  تھے  یہاں تک کہ ہم نے  حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے  یہ آیت سنی اور آپ نے  یہ بھی فرمایا کہ میں نے  اپنی شفاعت کو اپنی امت میں سے  کبیرہ گناہ کرنے  والوں کے  لئے  موخر کر رکھا ہے  ابو جعفر رازی کی روایت میں آپ کا یہ فرمان ہے  کہ جب (آیت”یا عبادی الذین اسرفوا الخ”) نازل ہوئی یعنی اے  میرے  وہ بندو جنہوں نے  اپنی جانوں پر ظلم کیا ہے  تم میری رحمت سے  مایوس نہ ہو جاؤ تو ایک شخص نے  کھڑے  ہو کر پوچھا حضور شرک کرنے  والا بھی ؟ آپ کو اس کا یہ سوال ناپسند آیا پھر آپ نے  ان (آیت اللہ لا یغفر الخ،) پڑھ کر سنائی ۔ سورۃ تنزیل کی یہ آیت مشروط ہے  توبہ کے  ساتھ پس جو شخص جس گناہ سے  توبہ کرے  اللہ اس کی طرف رجوع کرتا ہے  گو بار بار کرے  پس مایوس نہ ہونے  کی آیت میں توبہ کی شرط ضرور ہے ۔ ورنہ اس میں شرک بھی آ جائے  گا اور پھر مطلب صحیح نہ ہو گا کیونکہ اس آیت میں وضاحت کے  ساتھ یہاں موجود ہے  کہ اللہ کے  ساتھ شرک کرنے  والے  کی بخشش نہیں  ہے، ہاں اس کے  سوا جسے  چاہے  یعنی اگر اس نے  توبہ بھی نہ کی ہو اس مطلب کے  ساتھ اس آیت میں جو امید دلانے  والی ہے  اور زیادہ امید کی آس پیدا ہو جاتی ہے  واللّٰہ اعلم۔ پھر فرماتا ہے  اللہ کے  ساتھ جو شرک کرے  اس نے  بڑے  گناہ کا افترا باندھا، جیسے  اور آیت میں ہے  شرک بہت بڑا ظلم ہے  بخاری مسلم میں حضرت ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہا سب سے  بڑا گناہ کیا ہے  رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم فرماتے  ہیں  تمہیں  سب سے  بڑا کبیرہ گناہ بتاتا ہوں وہ اللہ تعالیٰ کے  ساتھ شریک کرنا ہے  پھر آپ نے  اسی آیت کا یہ آخری حصہ تلاوت فرمایا پھر ماں باپ کی نافرمانی کرنا پھر آپ نے  یہ آیت تلاوت فرمائی کہ (آیت ان اشکر لی ولو الدیک الی المصیر میرا شکر کر اور اپنے  ماں باپ کا شکریہ کر میری طرف لوٹنا ہے ۔

۵۱

مونہہ پر تعریف و توصیف کی ممانعت

 یہود و نصاریٰ کا قول تھا کہ ہم اللہ تعالیٰ کی اولاد اور اس کہ چہیتے  ہیں  اور کہتے  تھے  کہ جنت میں صرف یہود جائیں گے  یا نصرانی ان کے  اس قول کی تردید میں یہ (آیت الم تر الخ،) نازل ہوئی اور یہ قول حضرت مجاہد رحمۃ اللہ علیہ کے  خیال کے  مطابق اس آیت کا شان نزول ہی ہے  کہ یہ لوگ اپنے  بچوں کو امام بناتے  تھے  اور کہتے  تھے  کہ یہ بے  گناہ ہے، یہ بھی مروی ہے  کہ ان کا خیال تھا کہ ہمارے  جو بچے  فوت ہو گئے  ہیں  وہ ہمارے  لئے  قربت الہ کا ذریعہ ہیں  ہمارے  سفارشی ہیں  اور ہمیں وہ بچا لیں گے  پس یہ آیت اتری۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ یہودیوں کا اپنے  بچوں کا آگے  کرنے  کا واقعہ بیان کر کے  فرماتے  ہیں  وہ جھوٹے  ہیں  اللہ تعالیٰ کسی گنہگار کو بے  گناہ کی وجہ سے  چھوڑ نہیں  دیتا، یہ کہتے  تھے  کہ جیسے  ہمارے  بچے  بے  خطا ہیں  ایسے  ہیں  ہم بھی بے  گناہ ہیں  اور کہا گیا ہے  کہ یہ آیت دوسروں کو بڑھی چڑھی مدح و ثنا بیان کرنے  کے  رد میں اتری ہے، صحیح مسلم شریف میں ہے  کہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے  حکم دیا کہ ہم مدح کرنے  والوں کے  منہ مٹی سے  بھر دیں، بخاری و مسلم میں ہے  کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے  ایک مرتبہ ایک شخص کو دوسرے  کی مدح و ستائش کرتے  ہوئے  سن کر فرمایا افسوس تو نے  اپنے  ساتھی کی گردن توڑ دی پھر فرمایا اگر تم میں سے  کسی کو ایسی ہی ضرورت کی وجہ سے  کسی کی تعریف کرنی بھی ہو تو یوں کہے  کہ فلاں شخص کے  بارے  میں میری رائے  یہ ہے  اللہ کے  نزدیک پسندیدہ عمل یہی ہے  کہ کسی کی منہ پر تعریف نہ کی جائے ۔ مسند احمد میں حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا قول ہے  کہ جو کہے  میں مومن ہوں وہ کافر ہے  اور جو کہے  کہ میں عالم ہوں وہ جاہل ہے  اور جو کہے  میں جنتی ہوں جہنمی ہے، ابن مردویہ میں آپ کے  فرمان میں یہ بھی مروی ہے  کہ مجھے  تم پر سب سے  زیادہ خوف اس بات کا ہے  کہ کوئی شخص خود پسندی کرنے  لگے  اور اپنی سمجھ پر آپ فخر کرنے  بیٹھ جائے، مسند احمد میں ہے  کہ حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بہت ہی کم حدیث بیان فرماتے  اور بہت کم جمعے  ایسے  ہوں گے  جن میں آپ نے  یہ چند حدیثیں نہ سنائی ہوں کہ جس کے  ساتھ اللہ کا ارادہ بھلائی کا ہوتا ہے  اسے  اپنے  دین کی سمجھ عطافرماتا ہے  اور یہ مال میٹھا اور سبز رنگ ہے  جو اسے  اس کے  حق کے  ساتھ لے  گا اسے  اس میں برکت دی جائے  گی تم لوگ آپس میں ایک دوسرے  کی مدح و ستائش سے  پرہیز کرو اس لئے  کہ یہ دوسرے  پر چھری پھیرنا ہے  یہ پچھلا جملہ ان سے  ابن ماجہ میں بھی مروی ہے  حضرت ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے  ہیں  کہ انسان کے  پاس ایک صبح کو اپنے  دین میں سے  کچھ بھی نہیں  ہوتا (اس کی وجہ یہ ہوتی ہے) کہ وہ صبح کسی سے  اپنا کام نکالنے  کے  لئے  ملا، اس کی تعریف شروع کر دی اور اس کی مدح سرائی شروع کی اور قسمیں کھا کر کہنے  لگا آپ ایسے  ہیں  اور ایسے  ہیں  حالانکہ نہ وہ اس کے  نقصان کا مالک ہے  نہ نفع اور بسا ممکن ہے  کہ ان تعریفی کلمات اور اس کا تفصیلی بیان (آیت فلا تزکو انفسکم) کی تفسیر میں آئے  گا انشاء اللہ تعالیٰ پس یہاں ارشاد ہوتا ہے  کہ اللہ تعالیٰ ہی ہے  وہ جسے  چاہے  پاک کر دے  کیونکہ تمام چیزوں کی حقیقت اور اصلیت کا عالم وہی ہے، پھر فرمایا کہ اللہ ایک دھاگے  کے  وزن کے  برابر بھی کسی کی نیکی نہ چھوڑے  گا، فتیل کے  معنی ہیں  کھجور کی گٹھلی کے  درمیان کا دھاگہ اور مروی ہے  کہ وہ دھاگہ جسے  کوئی اپنی انگلیوں سے  بٹ لے، پھر فرماتا ہے  ان کی افترا پردازی تو دیکھو کہ کس طرح اللہ عزوجل کی اولاد اور اس کے  محبوب بننے  کے  دعویدار ہیں ؟ اور کیسی باتیں کر رہے  ہیں  کہ ہمیں تو صرف چند دن آگ میں رہنا ہو گا کس طرح اپنے  بروں کے  نیک اعمال پر اعتماد کیے  بیٹھے  ہیں ؟ حالانکہ ایک کا عمل دوسرے  کو کچھ نفع نہیں  دے  سکتا جیسے  ارشاد ہے (آیت تلک امۃ قد خلت الخ،) یہ ایک گروہ ہے  جو گزر چکا ان کے  اعمال ان کے  ساتھ اور تمہارے  اعمال تمہارے  ساتھ پھر فرماتا ہے  ان کا یہ کھلا کذب و افترا ہی ان کے  لئے  کافی ہے  “جبت”کے  معنی حضرت فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ وغیرہ سے  جادو اور طاغوت کے  معین شیطان کے  مروی ہیں، یہ بھی کہا جاتا ہے  کہ جبت جبش کا لفظ ہے  اس کے  معنی شیطان کے  ہیں، شرک بت اور کاہن کے  معنی بھی بتائے  گئے  ہیں  بعض کہتے  ہیں  کہ اس سے  مراد حی بن اخطب ہے، بعض کہتے  ہیں  کعب بن اشرف ہے، ایک حدیث میں ہے  فال اور پرندوں کو ڈانٹنا یعنی ان کے  نام یا ان کے  اڑنے  یا بولنے  یا ان کے  نام سے  شگون لینا اور زمین پر لکیریں کھینچ کر معاملہ طے  کرنا اور جبت ہے، حسن کہتے  ہیں  جبت شیطان کی غنغناہٹ ہے، طلاغوت کی نسبت سوال کیا گیا تو فرمایا کہ یہ کاہن لوگ ہیں  جن کے  پاس شیطان آتے  تھے  مجاہد فرماتے  ہیں  انسانی صورت کے  یہ شیاطین ہیں  جن کے  پاس لوگ اپنے  جھگڑے  لے  کر آتے  ہیں  اور انہیں  حاکم مانتے  ہیں  حضرت امام مالک فرماتے  ہیں  اس سے  مراد ہر چیز ہے  جس کی عبادت اللہ کے  سوا کی جائے  پھر فرمایا کہ ان کی جہالت بے  دینی اور خود اپنی کتاب کے  ساتھ کفر کی نوبت یہاں تک پہنچ گئی ہے  کہ کافروں کو مسلمانوں پر ترجیح اور افضلیت دیتے  ہیں، ابن ابی حاتم میں ہے  کہ حی بن اخطب اور کعب بن اشرف مکہ والوں کے  پاس آئے  تو اہل مکہ نے  ان سے  کہا تم اہل کتاب اور صاحب علم ہو بھلا بتاؤ تو تم بہتر ہیں  یا محمد (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) انہوں نے  کہا تم کیا ہو؟ اور وہ کیا ہیں ؟ تو اہل مکہ نے  کہا ہم صلہ رحمی کرتے  ہیں  تیار اونٹنیاں ذبح کر کے  دوسروں کو کھلاتے  ہیں  لسی پلاتے  ہیں  غلاموں کو آزاد کرتے  ہیں  حاجیوں کو پانی پلاتے  ہیں  اور محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم تو صنبور ہیں  ہمارے  رشتے  ناتے  تڑوا دئیے ۔ ان کا ساتھ حاجیوں کے  چوروں نے  دیا جو قبیلہ غفار میں سے  ہیں  اب بتاؤ ہم اچھے  یا وہ؟ تو ان دونوں نے  کہا تم بہتر ہو اور تم زیادہ سیدھے  راستے  پر ہو اس پر یہ آیت اتری دوسری روایت میں ہے  کہ انہی کے  بارے  میں (آیت ان شانئک ھو الابتر) اتری ہے، بنو وائیل اور بنو نضیر کے  چند سردار جب عرب میں حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے  خلاف آگ لگا رہے  تھے  اور جنگ عظیم کی تیاری میں تھے  اس قوت جب یہ قریش کے  پاس آئے  تو قریشیوں نے  انہیں  عالم و درویش جان کر ان سے  پوچھا کہ بتاؤ ہمارا دین اچھا ہے  یا محمد کا ؟ تو ان لوگوں نے  کہا تم اچھے  دین والے  اور ان سے  زیادہ صحیح راستے  پر ہو اس پر ہی آیت اتری اور خبر دی گئی کہ یہ لعنتی گروہ ہے  اور ان کا ممد و معاون دنیا اور آخرت میں کوئی نہیں  اس لئے  کہ صرف کفار کو اپنے  ساتھ ملانے  کے  لئے  بطور چاپلوسی اور خوشامد کے  یہ کلمات اپنی معلومات کے  خلاف کہہ رہے  ہیں  لیکن یاد رکھ لیں کہ یہ کامیاب نہیں  ہو سکتے  چنانچہ یہی ہوا زبردست لشکر لے  کر سارے  عرب کو اپنے  ساتھ ملا کر تمام تر قوت و طاقت اکٹھی کر کے  ان لوگوں کو مدینہ شریف پر چڑھائی کی یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو مدینہ کے  اردگرد خندق کھودنی پڑی لیکن بالآخر دنیا نے  دیکھ لیا ان کی ساری سازشیں ناکام ہوئیں یہ خائب و خاسر رہے، نامراد و ناکام پلٹے، دامن مراد خالی رہا بلکہ نامرادی مایوسی اور نقصان عظیم کے  ساتھ لوٹنا پڑا۔ اللہ تعالیٰ نے  مومنوں کی مدد آپ کی اور اپنی قوت و عزت سے  (کافروں کو) اوندھے  منہ گرا دیا، فالحمد اللہ الکبیر المتعال

۵۳

یہودیوں کی دشمنی کی انتہا اور اس کی سزا

یہاں بطور انکار کے  سوال ہوتا ہے  کہ کیا وہ ملک کے  کسی حصہ کے  مالک ہیں  ؟ یعنی نہیں  ہیں، پھر ان کی بخیلی بیان کی جاتی ہے  کہ اگر ایسا ہوتا ہے  تو یہ کسی کو ذرا سا بھی نفع پہنچانے  کے  دوا دار نہ ہوتے  خصوصاً اللہ کے  اس آخری پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو اتنا بھی نہ دیتے  جتنا کھجور کی گٹھلی کے  درمیان کا پردہ ہوتا ہے  جیسے  اور آیت میں ہے (قل لو انتم تملکون خزائن رحمۃ ربی الخ،) یعنی اگر تم میرے  رب کی رحمتوں کے  خزانوں کے  مالک ہوتے  تو تم تو خرچ ہو جانے  کے  خوف سے  بالکل ہی روک لیتے  گو ظاہر ہے  کہ وہ کم نہیں  ہو سکتے  تھے  لیکن تمہاری کنجوسی تمہیں  ڈرا دیتی اسی لئے  فرما دیا کہ انسان بڑا ہی بخیل ہے، ان کے  ان بخیلانہ مزاج کے  بعد ان کا حسد واضح کیا جا رہا ہے  کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے  ہم نے  آل ابراہیم کو جو بنی اسرائیل سے  نہیں  اس لئے  ان سے  حسد کی آگ میں جل رہے  ہیں  اور لوگوں کو آپ کی تصدیق سے  روک رہے  ہیں  ۔ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے  ہیں  یہاں الناس سے  مراد ہم ہیں  کوئی اور نہیں ، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے  ہم نے  آل ابراہیم کو جو بنی اسرائیل کے  قبائل میں اولاد ابراہیم سے  ہیں  نبوۃ دی کتاب نازل فرمائی جینے  مرنے  کے  آداب سکھائے  بادشاہت بھی دی اس کے  باوجود ان میں سے  بعض تو مومن ہوئے  اس انعام و ا کرام کو مانا لیکن بعض نے  خود بھی کفر کیا اور دوسرے  لوگوں کو بھی اس سے  روکا حالانکہ وہ بھی بنی اسرائیل ہی تھے  تو جبکہ یہ اپنے  والوں سے  بھی منکر ہو چکے  ہیں  تو پھر اے  نبی آخر الزمان آپ کا انکار ان سے  کیا دور ہے ؟ جب کہ آپ ان میں سے  بھی نہیں، یہ بھی مطلب ہو سکتا ہے  کہ بعض اس پر یعنی محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم پر ایمان لائے  اور بعض نہ لائے  پس یہ کافر اپنے  کفر میں بہت سخت اور نہایت پکے  ہیں  اور ہدایت و حق سے  بہت ہی دور ہیں  پھر انہیں  ان کی سزا سنائی جا رہی ہے  کہ جہنم کا جلنا انہیں  بس ہے، ان کے  کفر و عناد کی ان کی تکذیب اور سرکشی کی یہ سزا کافی ہے ۔

۵۶

عذاب کی تفصیل اور نیک لوگوں کا انجام بالخیر

اللہ کی آیتوں کے  نہ ماننے  اور رسولوں سے  لوگوں کو برگشتہ کرنے  والوں کی سزا اور ان کے  بد انجام کا ذکر ہوا انہیں  اس آگ میں دھکیلا جائے  گا جو انہیں  چاروں طرف سے  گھیر لے  گی اور ان کے  روم روم کو سلگا دے  اور یہی نہیں  بلکہ یہ عذاب دائمی ایسا ہو گا ایک چمڑا جل گیا تو دوسرا بدل دیا جائے  گا جو سفید کاغذ کی مثال ہو گا ایک ایک کافر کی سو سو کھالیں ہوں گی ہر ہر کھال پر قسم قسم کے  علیحدہ علیحدہ عذاب ہوں گے  ایک ایک دن میں ستر ہزار مرتبہ کھال الٹ پلٹ ہو گی ۔ یعنی کہہ دیا جائے  گا کہ جلد لوٹ آئے  وہ پھر لوٹ آئے  گی ۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے  سامنے  جب اس آیت کی تلاوت ہوئی تو آپ پڑھنے  والے  سے  دوبارہ سنانے  کی فرمائش کرتے  وہ دوبارہ پڑھتا تو حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے  ہیں  میں آپ کو اس کی تفسیر سناؤں ایک ایک ساعت میں سو سو بار بدلی جائے  گی اس پر حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے  فرمایا میں نے  رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے  یہی سنا ہے  (ابن مردویہ وغیرہ) دوسری روایت میں ہے  کہ اس وقت کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے  کہا تھا کہ مجھے  اس آیت کی تفسیر یاد ہے  میں نے  اسے  اسلام لانے  سے  پہلے  پڑھا تھا آپ نے  فرمایا اچھا بیان کرو اگر وہ وہی ہوئی جو میں نے  رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے  سنی ہے  تو ہم اسے  قبول کریں گے  ورنہ ہم اسے  قابل التفات نہ سمجھیں گے  تو آپ نے  فرمایا ایک ساعت میں ایک سو بیس مرتبہ اس پر حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے  فرمایا میں نے  اسی طرح حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے  سنا ہے  حضرت ربیع بن انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے  ہیں  پہلی کتاب میں لکھا ہوا ہے  کہ ان کی کھالیں چالیس ہاتھ یا چھہتر ہاتھ ہوں گی اور ان کے  پیٹ اتنے  بڑے  ہوں گے  کہ اگر ان میں پہاڑ رکھا جائے  تو سما جائے  ۔ جب ان کھالوں کو آگ کھا لے  گی تو اور کھالیں آ جائیں گی ایک حدیث میں اس سے  بھی زیادہ مسند احمد میں ہے  جہنمی جہنم میں اس قدر بڑے  بڑے  بنا دیئے  جائیں گے  کہ ان کے  کان کی نوک سے  کندھا سات سو سال کی راہ پر ہو گا اور ان کی کھال کی موٹائی ستر ذراع ہو گی اور کچلی مثل احد پہاڑ کے  ہوں گی اور یہ بھی کہا گیا ہے  کہ مراد کھال سے  لباس ہے  لیکن یہ ضعیف ہے  اور ظاہر لفظ کے  خلاف ہے  اس کے  مقابلوں میں نیک لوگوں کے  انجام کو بیان کیا جاتا ہے  کہ وہ جنت عدن میں ہوں گے  جس کے  چپے  چپے  پر نہریں جاری ہوں گی جہاں چاہیں  انہیں  لے  جائیں اپنے  محلات میں باغات میں راستوں میں غرض جہاں ان کے  جی چاہیں  وہیں  وہ پاک نہریں بہنے  لگیں گی، پھر سب سے  اعلیٰ لطف یہ ہے  کہ یہ تمام نعمتیں ابدی اور ہمیشہ رہنے  والی ہوں گی نہ ختم ہوں گی پھر ان کے  لئے  وہاں حیض و نفاس سے  گندگی اور پلیدی سے، میل کچیل اور بو باس سے، رذیل صفتوں اور بے  ہودہ اخلاق سے  پاک بیویاں ہوں گی اور گھنے  لمبے  چوڑے  سائے  ہوں گے  جو بہت فرحت بخش بہت ہی سرور انگیز راحت افزا دل خوش کن ہوں گے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم فرماتے  ہیں  جنت میں ایک درخت ہے  جس کے  سائے  تلے  ایک سو سال تک بھی ایک سوار چلا جائے  تو اس کا سایہ ختم نہ ہو یہ شجرۃ الخلد ہے  (ابن جزیر)

۵۸

امانت اور عدل و انصاف

 رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم فرماتے  ہیں  جو تیرے  ساتھ امانت داری کا برتاؤ کرے  تو اس کی امانت ادا کر اور جو تیرے  ساتھ خیانت کرے  تو اس سے  خیانت مت کر (مسند احمد و سنن) آیت کے  الفاظ وسیع المعنی ہیں ۔ ان میں اللہ تعالیٰ عزوجل کے  حقوق کی ادائیگی بھی شامل ہے  جیسے  روزہ نماز زکوٰۃ کفارہ نذر وغیرہ، اور بندوں کے  آپس کے  کل حقوق بھی شامل ہیں  جیسے  امانت دار کا حق اسے  دلوایا جائے  گا یہاں تک کہ بے  سینگ والی بکری کو اگر سینگوں والی بکری نے  مارا ہے  تو اس کا بدلہ بھی اسے  دلوایا جائے  گا حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے  ہیں  کہ شہادت کی وجہ سے  تمام گناہ مٹ جاتے  ہیں  مگر امانت نہیں  مٹنے  لگی کوئی شخص اللہ کی راہ میں شہید بھی ہوا تو اسے  بھی قیامت کے  دن لایا جائے  گا اور کہا جائے  گا کہ اپنی امانت ادا کر وہ جواب دے  گا کہ دنیا تو اب ہے  نہیں  میں کہاں سے  اسے  ادا کروں ؟ فرماتے  ہیں  پھر وہ چیز اسے  جہنم کی تہہ میں نظر آئے  گی اور کہا جائے  گا کہ جا اسے  لے  آ وہ اسے  اپنے  کندھے  پر لاد کر لے  چلے  گا لیکن وہ گر پڑے  گی وہ پھر اسے  لینے  جائے  گا بس اسی عذاب میں وہ مبتلا رہے  گا حضرت زاذان اس روایت کو سن کر حضرت براء رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے  پاس آ کر بیان کرتے  ہیں  وہ کہتے  ہیں  میرے  بھائی نے  سچ کہا پھر قرآن کی اس آیت کو پڑھتے  ہیں  ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ وغیرہ فرماتے  ہیں  ہر نیک و بد کے  لئے  پر یہی حکم ہے، ابو العالیہ فرماتے  ہیں  جس چیز کا حکم دیا گیا اور جس چیز سے  منع کیا گیا وہ سب امانت ہے ۔ حضرت ابی بن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے  ہیں  عورت اپنی شرم گاہ کی امانت دار ہے، ربیع بن انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے  ہیں  جو جو معاملات تیرے  اور دوسرے  لوگوں کے  درمیان ہوں وہ سب اسی میں شامل ہے، حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے  ہیں  اس میں یہ بھی داخل ہے  کہ سلطان عید والے  دن عورتوں کو خطبہ سنائے ۔ اس آیت کی شان نزول میں مروی ہے  کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے  مکہ فتح کیا اور اطمینان کے  ساتھ بیت اللہ شریف میں آئے  تو اپنی اونٹنی پر سوار ہو کر طواف کیا۔ حجر اسود کو اپنی لکڑی سے  چھوتے  تھے  اس کے  بعد عثمان بن طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو جو کعبہ کی کنجی برادر تھے  بلایا ان سے  کنجی طلب کی انہوں نے  دینا چاہی اتنے  میں حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے  کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اب یہ مجھے  سونپئے  تاکہ میرے  گھرانے  میں زمزم کا پانی پلانا اور کعبہ کی کنجی رکھنا دونوں ہی باتیں رہیں  یہ سنتے  ہی حضرت عثمان بن طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے  اپنا ہاتھ روک لیا حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے  دوبارہ طلب کی پھر وہی واقعہ ہوا آپ نے  سہ بارہ طلب کی حضرت عثمان نے  یہ کہہ کر دے  دی کہ اللہ کی امانت آپ کو دیتا ہوں حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کعبہ کا دروازہ کھول اندر گئے  وہاں جتنے  بت اور تصویریں تھیں سب توڑ کر پھینک دیں حضرت ابراہیم کا بت بھی تھا جس کے  ہاتھ فال کے  تیر تھی آپ نے  فرمایا اللہ ان مشرکین کو غارت کرے  بھلا خلیل اللہ کو ان سیروں سے  کیا سروکار؟ پھر ان تمام چیزوں کو برباد کر کے  ان کی جگہ پانی ڈال کر ان کے  نام و نشان مٹا کر آپ باہر آئے  کعبہ کے  دروازے  پر کھڑے  ہو کر آپ نے  کہا کوئی معبود نہیں  بجز اللہ کے  وہ اکیلا ہے  جس کا کوئی شریک نہیں  اس نے  اپنے  وعدے  کو سچا کیا اپنے  بندے  کی مدد کی اور تام لشکروں کو اسی اکیلے  نے  شکست دی پھر آپ نے  ایک لمبا خطبہ دیا جس میں یہ بھی فرمایا کہ جاہلیت کے  تمام جھگڑے  اب میرے  پاؤں تلے  کچل دئیے  گئے  خواہ مالی ہوں خواہ جانی ہوں بیت اللہ کی چوکیداری کا اور حاجیوں کو پانی پلانے  کا منصب جوں کا توں باقی رہے  گا اس خطبہ کو پورا کر کے  آپ بیٹھے  ہی تھے  جو حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے  آگے  بڑھ کر کہا حضور چابی مجھے  عنایت فرمائی جائے  تاکہ بیت اللہ کی چوکیداری کا اور حاجیوں کو زمزم پلانے  کا منصب دونوں یکجا ہو جائیں لیکن آپ نے  انہیں  نہ دی مقام ابراہیم کو کعبہ کے  اندر سے  نکال کر آپ نے  کعبہ کی دیوار سے  ملا کر رکھ دیا اور اوروں سے  کہہ دیا کہ تمہارا قبلہ یہی ہے  پھر آپ طواف میں مشغول ہو گئے  ابھی وہ چند پھیرے  ہی پھرے  تھے  جو حضرت جبرئیل نازل ہوئیے  اور آپ نے  اپنی زبان مبارک سے  اس آیت کی تلاوت شروع کی، اس پر حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے  فرمایا میرے  ماں باپ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم پر فدا ہوں میں نے  تو اس سے  پہلے  آپ کو اس آیت کی تلاوت کرتے  نہیں  سنا اب آپ نے  حضرت عثمان بن طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بلایا اور انہیں  کنجی سونپ دی اور فرمایا آج کا دن وفا کا نیکی اور سلوک کا دن ہے  یہ وہی عثمان بن طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ وہی ہیں  جن کی نسل میں آج تک کعبۃ اللہ کی کنجی چلی آتی ہے  یہ صلح حدیبیہ اور فتح مکہ کے  درمیان اسلام لائے  جب ہی خالد بن ولید اور عمرو بن عاص بھی مسلمان ہوئے  تھے  ان کا چچا عثمان بن طلحہ احمد کی لڑائی میں مشرکوں کے  ساتھ تھا بلکہ ان کا جھنڈا بردار تھا اور وہیں  بحالت کفر مارا گیا تھا۔ الغرض مشہور تو یہی ہے  کہ یہ آیت اسی بارے  میں اتری ہے  اب خواہ اس بارے  میں نازل ہوئی ہو یا نہ ہوئی ہو بہرصورت اس کا حکم عام ہے  جیسے  حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت محمد بن حنفیہ کا قول ہے  کہ ہر شخص کو دوسرے  کی امانت کی ادائیگی کا حکم ہے  پھر ارشاد ہے  کہ فیصلے  عدل کے  ساتھ کرو حاکموں کو احکم الحاکمین کا حکم ہو رہا ہے  کہ کسی حالت میں عدل کا دامن نہ چھوڑو، حدیث میں ہے  اللہ حاکم کے  ساتھ ہوتا ہے  جب تک کہ وہ ظلم نہ کرے  جب ظلم کرتا ہے  تو اسے  اسی کا طرف سونپ دیتا ہے ، ایک اثر میں ہے  ایک دن کا عدل چالیس سال کی عبادت کے  برابر ہے، پھر فرماتا ہے  یہ ادائیگی امانات کا اور عدل و انصاف کا حکم اور اسی طرح شریعت کے  تمام احکام اور تمام ممنوعات تمہارے  لئے  بہترین اور نافع چیزیں ہیں  جن کا امر پروردگار نے  تمہیں  دیا ہے  (ابن ابی حاتم) اور روایت میں ہے  حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے  اس آیت کے  آخری الفاظ پڑھتے  ہوئے  اپنا انگوٹھا اپنے  کان میں رکھا اور شہادت کی انگلی اپنی آنکھ پر رکھی (یعنی اشارے  سے  سننا دیکھنا کان اور آنکھ پر انگلی رکھ کر بتا کر) فرمایا میں نے  اسی طرح پڑھتے  اور کرتے  رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو دیکھا ہے، راوی حدیث حضرت ابو زکریا رحمۃ اللہ علیہ فرماتے  ہیں  ہمارے  استاد مضری رحمۃ اللہ علیہ نے  بھی اسی طرح پڑھ کر اشارہ کر کے  ہمیں بتایا اپنے  داہنے  ہاتھ کا انگوٹھا اپنی دائیں آنکھ پر رکھا اور اس کے  پاس کی انگلی اپنے  داہنے  کان پر رکھی (ابن ابی حاتم) یہ حدیث اسی طرح امام ابو داؤد نے  بھی روایت کی ہے  اور امام ابن حبان نے  بھی اپنی صحیح میں اسے  نقل کیا ہے ۔ اور حاکم نے  مستدرک میں اور ابن مردویہ نے  اپنی تفسیر میں بھی اسے  وارد کیا ہے، اس کی سند میں جو ابو یونس ہیں  وہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے  مولی ہیں  اور ان کا نام سلیم بن جیر رحمۃ اللہ علیہ ہے ۔

۵۹

مشروط اطاعت امیر

 صحیح بخاری شریف میں بروایت حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ مروی ہے  کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے  ایک چھوٹے  سے  لشکر میں حضرت عبد اللہ بن حذافہ بن قیس کو بھیجا تھا ان کے  بارے  میں یہ آیت اتری ہے ، بخاری و مسلم میں ہے  کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے  ایک لشکر بھیجا جس کی سرداری ایک انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو دی ایک مرتبہ وہ لوگوں پر سخت غصہ ہو گئے  اور فرمانے  لگے  کیا تمہیں  رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے  میری فرمانبرداری کا حکم نہیں  دیا؟ سب نے  کہا ہاں بیشک دیا ہے، فرمانے  لگے  اچھا لکڑیاں جمع کرو پھر آگ منگوا کر لکڑیاں جلائیں پھر حکم دیا کہ تم اس آگ میں کود پڑو ایک نوجوان نے  کہا لوگو سنو آگ سے  بچنے  کے  لئے  ہی تو ہم نے  دامن رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم میں پناہ لی ہے  تم جلدی نہ کرو جب تک کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے  ملاقات نہ ہو جائے  پھر اگر آپ بھی یہی فرمائیں تو بے  جھجھک اس آگ میں کود پڑھنا چنانچہ یہ لوگ واپس حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوئے  اور سارا واقعہ کہہ سنایا آپ نے  فرمایا اگر تم اس آگ میں کود پڑھتے  تو ہمیشہ آگ ہی میں جلتے  رہتے ۔ سنو فرمانبرداری صرف معروف میں ہے ۔ ابو داؤد میں ہے  کہ مسلمان پر سننا اور ماننا فرض ہے  جی چاہے  یا طبیعت رو کے  لیکن اس وقت تک کہ (اللہ تعالیٰ اور رسول کی) نافرمانی کا حکم نہ دیا جائے، جب نافرمانی کا حکم ملے  تو نہ سنے  نہ مانے ۔ بخاری و مسلم میں ہے  حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے  ہیں  ہم سے  رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے  بیعت لی کہ کام کے  اہل سے  اس کام کو نہ چھینیں ۔ لیکن جب تم ان کا کھلا کفر دیکھو جس کے  بارے  میں تمہارے  پاس کوئی واضح الٰہی دلیل بھی ہو، بخاری شریف میں ہے  سنو اور اطاعت کرو اگرچہ تم پر حبشی غلام امیر بنایا گیا ہو چاہے  کہ اس کا سر کشمکش ہے، مسلم شریف میں ہے  حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے  ہیں  مجھے  میرے  خلیل (یعنی رسالت مآب صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) نے  سننے  کی وصیت کی اگرچہ ناقص ہاتھ پاؤں والا حبشی غلام ہی ہو، مسلم کی ہی اور حدیث میں ہے  کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے  حجۃ الوداع کے  خطبہ میں فرمایا چاہے  تم پر غلام عامل بنایا جائے  جو تمہیں  کتاب اللہ کے  مطابق تمہارا ساتھ چاہے  تو تم اس کی سنو اور مانو ایک روایت میں غلام حبشی اعضاء کٹا کے  الفاظ ہیں، ابن جریر میں ہے  نیکوں اور بدوں سے  بد تم ہر ایک اس امر میں جو مطابق ہو ان کی سنو اور مانو کہ میرے  بعد نیک سے  نیک اور بد سے  بد تم کو ملیں گے  تم پر ایک میں نے  جو حق پر ہو اس کا سننا اور ماننا تم سے  اور ان کے  پیچھے  نمازیں پڑھتے  رہو اگر وہ نیکی کریں گے  ۔ تو ان کے  لئے  نفع ہے  اور تمہارے  لئے  بھی اور اگر وہ بدی کریں گے  تو تمہارے  لئے  اچھائی ہے  اور ان پر گناہوں کا بوجھ ہے ، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے  ہیں  رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے  فرمایا بنو اسرائیل میں مسلسل لگاتار رسول آیا کرتے  تھے  ایک کے  بعد ایک اور میرے  بعد کوئی نبی نہیں  مگر خلفاء بکثرت ہوں گے  لوگوں نے  پوچھا پھر حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ہمیں کیا حکم دیتے  ہیں ؟ فرمایا پہلے  کی بیعت پوری کرو پھر اس کے  بعد آنے  والے  کی ان کا حق انہیں  دے  دو اللہ تعالیٰ ان سے  ان کی رعیت کے  بارے  میں سوال کرنے  والا ہے ۔ آپ فرماتے  ہیں  جو شخص اپنے  امیر کا کوئی ناپسندیدہ کام دیکھے  اسے  صبر کرنا چاہیے  جو شخص جماعت کے  بالشت بھر جدا ہو گیا پھر وہ جاہلیت کی موت مرے  گا (بخاری و مسلم) ارشاد ہے  جو شخص اطاعت سے  ہاتھ کھینچ لے  وہ قیامت کے  دن اللہ تعالیٰ سے  حجت و دلیل بغیر ملاقات کرے  گا اور جو اس حالت میں مرے  کہ اس کی گردن میں بیعت نہ ہو وہ جاہلیت کی موت مرے  گا (مسلم) حضرت عبدالرحمن رحمۃ اللہ علیہ فرماتے  ہیں  میں بیت اللہ شریف میں گیا دیکھا تو حضرت عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ کعبہ کے  سایہ میں تشریف فرما ہیں  اور لوگوں کا ایک مجمع جمع ہے  میں بھی اس مجلس میں ایک طرف بیٹھ گیا اس وقت حضرت عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے  یہ حدیث بیان کی فرمایا ایک سفر میں ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے  ساتھ تھے  ایک منزل میں اترے  کوئی اپنا خیمہ ٹھیک کرنے  لگا کوئی اپنے  نیز سنبھالنے  لگا کوئی کسی اور کام میں مشغول ہو گیا، اچانک ہم نے  سنا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم فرما رہے  ہیں  ہر نبی پر اللہ کی طرف سے  فرض ہوتا ہے  کہ اپنی امت کو تمام نیکیاں جو وہ جانتا ہے  ان کی تربیت انہیں  دے  اور تمام برائیوں سے  جو اس کی نگاہ میں ہیں  انہیں  آگاہ کر دے ۔ سنو میری امت کی عافیت کا زمانہ اول کا زمانہ ہے  آخر زمانے  میں بڑی بڑی بلائیں آئیں گی اور ایسے  ایسے  امور نازل ہوں گے  جنہیں  مسلمان ناپسند کریں گے  اور ایک ہر ایک فتنہ برپا ہو گا ایک ایسا وقت آئے  گا کہ مومن سمجھ لے  گا اسی میں میری ہلاکت ہے  پھر وہ ہٹے  گا۔ تو دوسرا اس سے  بھی بڑا آئے  گا جس میں اسے  اپنی ہلاکت کا کامل یقین ہو گا بس یونہی لگا تار فتنے  اور زبردست آزمائشیں اور کال تکلیفیں آتی رہیں  گے  پس جو شخص اس بات کو پسند کرے  کہ جہنم سے  بچ جانے  اور جنت کا مستحق ہو اسے  چاہیے  کہ مرتے  دم تک اللہ تعالیٰ پر اور قیامت کے  دن پر ایمان رکھے  اور لوگوں سے  وہ برتاؤ کرے  جو خود اپنے  لئے  پسند کرتا ہے  سنو جس نے  امام سے  بیعت کر لی اس نے  اپنا ہاتھ اس کے  قبضہ میں اور دل کی تمنائیں اسے  دے  دیں ۔ اور اپنے  دل کا پھل دے  دیا اب اسے  چاہیے  کہ اس کی اطاعت کرے  اگر کوئی دوسرا اس سے  خلاف چھیننا چاہے  تو اس کی گردن اڑا دو، عبدالرحمن فرماتے  ہیں  میں یہ سن کر قریب گیا اور کہا آپ کو میں اللہ تعالیٰ کی قسم دیتا ہوں کیا خود آپ نے  اسے  رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی زبانی سنا ہے ؟ تو آپ نے  اپنے  دونوں ہاتھ اپنے  کان اور دل کی طرف بڑھا کر فرمایا میں نے  حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے  اپنے  ان دو کانوں سے  سنا اور میں نے  اسے  اپنے  اس دل میں محفوظ رکھا ہے  مگر آپ کے  چچا زاد بھائی حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہمیں ہمارے  اپنے  مال بطریق باطل سے  کھانے  اور آپس میں ایک دوسرے  سے  جنگ کرنے  کا حکم دیتے  ہیں  حالانکہ اللہ تعالیٰ نے  ان دونوں کاموں سے  ممانعت فرمائی ہے ، ارشاد ہے (آیت”یا ایھا الذین امنوا لا تاکلوا اموالکم الخ،) اسے  سن کر حضرت عبداللہ ذرا سی دیر خاموش رہے  پھر فرمایا اللہ کی اطاعت میں ان کی اطاعت کرو اور اگر اللہ کی نافرمانی کا حکم دیں تو اسے  نہ مانو اس بارے  میں حدیثیں اور بھی بہت سی ہیں، اسی آیت کو تفسیر میں حضرت سدی رحمۃ اللہ علیہ سے  مروی ہے  کہ رسول مقبول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے  ایک لشکر بھیجا جس کا امیر حضرت خالد بن ولید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بنایا اس لشکر میں حضرت عمار بن یاسر رحمۃ اللہ علیہ بھی تھے  یہ لشکر جس قوم کی طرف جانا چاہتا تھا چلا رات کے  وقت اس کی بستی کے  پاس پہنچ کر پڑاؤ کیا ان لوگوں کو اپنے  جاسوسوں سے  پتہ چل گیا اور چھپ چھپ کر سب راتوں رات بھاگ کھڑے  ہوئے ۔ صرف ایک شخص رہ گیا اس نے  ان کے  ساتھ جانے  سے  انکار کر دیا انہوں نے  اس کا سب اسباب جلا دیا یہ شخص رات کے  اندھیرے  میں خالد رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے  لشکر میں آیا اور حضرت عمار رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے  ملا اور ان سے  کہا کہ اے  ابو الیقظان میں اسلام قبول کر چکا ہوں کہ اللہ کے  سوا کوئی معبود نہیں  اور یہ کہ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اس کے  بندے  اور اس کے  رسول ہیں  میری ساری قوم تمہارا آنا سن کر بھاگ گئی ہے  صرف میں باقی رہ گیا ہوں تو کیا کل میرا یہ اسلام مجھے  نفع دے  گا؟ اگر نفع نہ دے  تو میں بھی بھاگ جاؤں حضرت عمار رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے  فرمایا یقیناً یہ اسلام تمہیں  نفع دے  گا تم نہ بھاگو بلکہ ٹھہرے  رہو صبح کے  وقت جب حضرت خالد رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے  لشکر کشی کی تو سوائے  اس شخص کے  وہاں کسی کو نہ پایا اسے  اس کے  مال سمیت گرفتار کر لیا گیا جب حضرت عمار رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو معلوم ہوا تو آپ حضرت خالد رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے  پاس آئے  اور کہا اسے  چھوڑ دیجئے  یہ اسلام لا چکا ہے  اور میری پناہ میں ہے  حضرت خالد رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے  فرمایا تم کون ہو جو کسی کو پناہ دے  سکو؟ اس پر دونوں بزرگوں میں کچھ تیز کلامی ہو گئی اور قصہ بڑھا یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی خدمت میں سارا واقعہ بیان کیا گیا۔ آپ نے  حضرت عمار رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی پناہ کو جائز قرار دیا اور فرمایا آئندہ امیر کی طرف سے  پناہ نہ دینا پھر دونوں میں کچھ تیز کلامی ہونے  لگی اس پر حضرت خالد رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے  حضور سے  کہا اس ناک کٹے  غلام کو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کچھ نہیں  کہتے ؟ دیکھئے  تو یہ مجھے  برا بھلا کہہ رہا ہے ؟ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے  فرمایا خالد رضی اللہ تعالیٰ عنہ عمار رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو برا نہ کہو۔ عمار رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو گالیاں دینے  والے  کو اللہ گالیاں دے  گا، عمار رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے  دشمنی کرنے  والے  سے  اللہ دشمنی رکھے  گا، عمار رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر جو لعنت بھیجے  گا اس پر اللہ کی لعنت نازل ہو گی اب تو حضرت خالد رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو لینے  کے  دینے  پڑھ گئے  حضرت عمار رضی اللہ تعالیٰ عنہ غصہ میں چلا رہے  تھے  آپ دوڑ کر ان کے  پاس گئے  دامن تھام لیا معذرت کی اور اپنی تقصیر معاف کرائی تب تک پیچھا نہ چھوڑا جب تک کہ حضرت عمار رضی اللہ تعالیٰ عنہ راضی نہ ہو گئے، پس اللہ تعالیٰ نے  یہ آیت نازل فرمائی (امر امارت و خلافت کے  متعلق شرائط وغیرہ کا بیان آیت”واذقال ربک للملائکۃ انی جاعل فی الارض خلیفۃ”کی تفسیر میں گزر چکا ہے  ہاں ملاحظہ ہو۔ مترجم) حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے  بھی یہ رویات مروی ہے  (ابن جریر اور ابن مردویہ) حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ وغیرہ فرماتے  ہیں  اولی الامر سے  مراد سمجھ بوجھ دین والے  ہیں  یعنی علماء کی ظاہر بات تو یہ معلوم ہوتی ہے  آگے  حقیقی علم اللہ کو ہے  کہ یہ لفظ عام ہیں  امراء علماء دونوں اس سے  مراد ہیں  جیسے  کہ پہلے  گزرا قرآن فرماتا ہے (آیت لولا ینھاھم الربانیون الخ،) یعنی ان کے  علماء نے  انہیں  جھوٹ بولنے  اور حرام کھانے  سے  کیوں نہ روکا؟ اور جگہ ہے (آیت  فاسئلوااھل الذکر الخ،) حدیث کے  جاننے  والوں سے  پوچھ لیا کرو کہ اگر تمہیں  علم نہ ہو، صحیح حدیث میں ہے  میری اطاعت کرنے  والا اللہ کی اطاعت کرنے  والا ہے  اور جس نے  میری نافرمانی کی اس نے  اللہ کی نافرمانی کی ہے  پس یہ ہیں  احکام علماء امراء کی اطاعت کرو یعنی اس کی سنتوں پر عمل کرو اور حکم والوں کی اطاعت کرو یعنی اس چیز میں جو اللہ کی اطاعت ہو، اللہ کے  فرمان کے  خلاف اگر ان کا کوئی حکم ہو تو اطاعت نہ کرنی چاہیے  ایسے  وقت علماء یا امراء کی ماننا حرام ہے  جیسے  کہ پہلی حدیث گزر چکی کہ اطاعت صرف معروف میں ہے  یعنی فرمان الہ و فرمان رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے  دائرے  میں مسند احمد میں ہے  اس سے  بھی زیادہ صاف حدیث ہے  جس میں ہے  کسی کی اطاعت اللہ تعالیٰ کے  فرمان کے  خلاف جائز نہیں ۔ آگے  چل کر فرمایا کہ اگر تم میں کسی بارے  میں جھگڑ پڑے  تو اسے  اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی طرف لوٹاؤ یعنی کتاب اللہ اور سنت رسول کی طرف جیسے  کہ حضرت مجاہد رحمۃ اللہ علیہ کی تفسیر ہے  پس یہاں صریح اور صاف لفظوں میں اللہ عزوجل کا حکم ہو رہا ہے  کہ لوگ جس مسئلہ میں اختلاف کریں خواہ وہ مسئلہ اصول دین سے  متعلق ہو خواہ فروغ دین سے  متعلق اس کے  تصفیہ کی صرف یہی صورت ہے  کہ کتاب و سنت کو حکم مان لیا جائے  جو اس میں ہو وہ قبول کیا جائے، جیسے  اور آیت قرآنی میں ہے (آیت وما اختلفتم فیہ من شیء فحکمہ الی اللہ) یعنی اگر کسی چیز میں تمہارا اختلاف ہو جائے  اس کا فیصلہ اللہ کی طرف ہے  پس کتاب و سنت جو حکم دے  اور جس مسئلہ کی صحت کی شہادت دے  وہی حق ہے  باقی سب باطل ہے، قرآن فرماتا ہے  کہ حق کے  بعد جو ہے  ضلالت و گمراہی ہے، اسی لئے  یہاں بھی اس حکم کے  ساتھ ہی ارشاد ہوتا ہے  اگر تم اللہ تعالیٰ پر اور قیامت پر ایمان رکھتے  ہو، یعنی اگر تم ایمان کے  دعوے  میں سچے  ہو تو جس مسئلہ کا تمہیں  علم نہ ہو یعنی جس مسئلہ میں اختلاف ہو، جس امر میں جدا جدا آراء ہوں ان سب کا فیصلہ کتاب اللہ اور حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے  کیا کرو جو ان دونوں میں ہو مان لیا کرو، پس ثابت ہوا کہ جو شخص اختلافی مسائل کا تصفیہ کتاب و سنت کی طرف سے  نہ لے  جائے  وہ اللہ پر اور قیامت پر ایمان نہیں  رکھتا ۔ پھر ارشاد ہوتا ہے  کہ جھگڑوں میں اور اختلافات میں کتاب اللہ و سنت رسول کی طرف فیصلہ لانا اور ان کی طرف رجوع کرنا ہی بہتر ہے ، اور یہی نیک انجام خوش آئند ہے  اور یہی اچھے  بدلے  دلانے  والا کام ہے، بہت اچھی جزا اسی کا ثمر ہے ۔

۶۰

حسن سلوک اور دوغلے  لوگ

 اوپر کی آیت میں اللہ تعالیٰ نے  ان لوگوں کے  دعوے  کو جھٹلایا ہے  جو زبانی تو اقرار کرتے  ہیں  کہ اللہ تعالیٰ کی تمام اگلی کتابوں پر اور اس قرآن و حدیث کی طرف رجوع نہیں  کرتے  بلکہ کسی اور طرف لے  جاتے  ہیں ، چنانچہ یہ آیت ان دو شخصوں کے  بارے  میں نازل ہوئی جن میں کچھ اختلاف تھا ایک تو یہودی تھا دوسرا انصاری، یہودی تو کہتا تھا کہ چل محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے  فیصلہ کرا لیں اور انصاری کہتا تھا کعب بن اشرف کے  پاس چلو یہ بھی کہا گیا ہے  کہ یہ آیت ان منافقوں کے  بارے  میں اتری ہے  بظاہر مسلمان کہلاتے  ہیں  ان منافقوں کے  بارے  میں اتری ہے  جو بھی مسلمان ہونے  کا دعویٰ کرتے  تھے  لیکن درپردہ احکام جاہلیت کی طرف جھکنا چاہتے  تھے، اس کے  سوا اور اقوال بھی ہیں، آیت اپنے  حکم اور الفاظ کے  اعتبار سے  عام ہے  ان تمام واقعات پر مشتمل ہے  ہر اس شخص کی مذمت اور برائی کا اظہار کرتی ہے  جو کتاب و سنت سے  ہٹ کر کسی اور باطل کی طرف اپنا فیصلہ لے  جائے  اور یہی مراد یہاں طاغوت سے  ہے  (یعنی قرآن و حدیث کے  سوا کی چیز یا شخص) صدور سے  مراد تکبر سے  منہ موڑ لینا، جیسے  اور آیت میں ہے (آیت”واذاقیل لھم اتبعوا ما انزل اللہ قالو ابل نتبع ما وجدنا علی اباونا “) یعنی جب ان سے  کہا جائے  کہ اللہ کی اتاری ہوئی وحی کی فرمانبرداری کرو تو جواب دیتے  ہیں  کہ ہم تو اپنے  باپ دادا کی پیروی پر ہی اڑے  رہیں  گے، ایمان والوں کو جواب یہ نہیں  ہوتا بلکہ ان کا جواب دوسری آیت میں اس طرح مذکور ہے  (آیت انما کان قول المومنین الخ،) یعنی ایمان والوں کو جب اللہ رسول کے  فیصلے  اور حکم کی طرف بلایا جائے  تو ان کا جواب یہی ہوتا ہے  کہ ہم نے  سنا اور ہم نے  تہ دل سے  قبول کیا، پھر منافقوں کی مذمت میں بیان ہو رہا ہے  کہ ان کے  گناہوں کے  باعث جب تکلیفیں پہنچتی ہیں  اور تیری ضرورت محسوس ہوتی ہے  تو دوڑے  بھاگے  آتے  ہیں  اور تمہیں  خوش کرنے  کے  لئے  عذر معذرت کرنے  بیٹھ جاتے  ہیں  اور قسمیں کھا کر اپنی نیکی اور صلاحیت کا یقین دلانا چاہتے  ہیں  اور کہتے  ہیں  کہ آپ کے  سوا دوسروں کی طرف ان مقدمات کے  لے  جانے  سے  ہمارا مقصود صرف یہی تھا کہ ذرا دوسروں کا دل رکھا جائے  آپس میں میل جول نبھ جائے  ورنہ دل سے  کچھ ہم ان کی اچھائی کے  معتقد نہیں، جیسے  اور آیت میں (آیت”فتری الذین فی قوبھم مرض سے  نادمین”) تک بیان ہوا ہے ، یعنی تو دیکھے  گا کہ بیمار دل یعنی منافق یہود و نصاریٰ کی باہم دوستی کی تمام تر کوششیں کرتے  پھرتے  ہیں  اور کہتے  ہیں  کہ ہمیں ان سے  اختلاف کی وجہ سے  آفت میں پھنس جانے  کا خطرہ ہے  بہت ممکن ہے  ان سے  دوستی کے  بعد اللہ تعالیٰ فتح دیں یا اپنا کوئی حکم نازل فرمائیں اور یہ لوگ ان ارادوں پر پشیمان ہونے  لگیں جو ان کے  دلوں میں پوشیدہ ہیں، حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے  ہیں  ابو برزہ اسلمی ایک کاہن شخص تھا، یہود اپنے  بعض فیصلے  اس سے  کراتے  تھے  ایک واقعہ میں مشرکین بھی اس کی طرف دوڑے  اس میں یہ آیتیں (آیت الم تر سے  ترفیقا) تک نازل ہوئیں، اللہ تعالیٰ فرماتے  ہیں  کہ اس قسم کے  لوگ یعنی منافقین کے  دلوں میں جو کچھ ہے ؟ اس کا علم اللہ تعالیٰ کو کامل ہے  اس پر کوئی چھوٹی سے  چھوٹی چیز بھی مخفی نہیں  وہ ان کے  ظاہر و باطن کا اسے  علم ہے  تو ان سے  چشم پوشی کر ان کے  باطنی ارادوں پر ڈانٹ ڈپٹ نہ کر ہاں انہیں  نفاق اور دوسروں سے  شر و فساد وابستہ رہنے  سے  باز رہنے  کی نصیحت کر اور دل میں اترنے  والی باتیں ان سے  کہ بلکہ ان کے  لئے  دعا بھی کر۔

۶۴

اطاعت رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ہی ضامن نجات ہے

 مطلب یہ ہے  کہ ہر زمانہ کے  رسول کی تابعداری اس کی امت پر اللہ کی طرف سے  فرض ہوتی ہے  منصب رسالت یہی ہے  کہ اس کے  سبھی احکامات کو اللہ کے  احکام سمجھا جائے، حضرت مجاہد رحمۃ اللہ علیہ فرماتے  ہیں  باذن اللہ سے  یہ مراد ہے  کہ اس کی توفیق اللہ تعالیٰ کے  ہاتھ ہے  اس کی قدرت و مشیت پر موقوف ہے، جیسے  اور آیت میں ہے (آیت اذتحسونھم باذنہ) یہاں بھی اذن سے  مراد امر قدرت اور مشیت ہے  یعنی اس نے  تمہیں  ان پر غلبہ دیا۔ پھر اللہ تعالیٰ عاصی اور خطا کاروں کو ارشاد فرماتا ہے  کہ انہیں  رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے  پاس آ کر اللہ تعالیٰ سے  استغفار کرنا چاہیے  اور خود رسول سے  بھی عرض کرنا چاہیے  کہ آپ ہمارے  لئے  دعائیں کیجئے  جب وہ ایسا کریں گے  تو یقیناً اللہ ان کی طرف رجوع کرے  گا انہیں  بخش دے  گا اور ان پر رحم فرمائے  گا ابو منصور صباغ نے  اپنی کتاب میں جس میں مشہور قصے  لکھے  ہیں  لکھا ہے  کہ عتبی کا بیان ہے  میں حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی تربت کے  پاس بیٹھا ہوا تھا جبکہ ایک اعرابی آیا اور اس نے  کہا اسلام علیکم یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم میں نے  قرآن کریم کی اس آیت کو سنا اور آپ کے  پاس آیا ہوں تاکہ آپ کے  سامنے  اپنے  گناہوں کا استغفار کروں اور آپ کی شفاعت طلب کروں پھر اس نے  یہ اشعار پڑھی

باخیر من دفنت بالقاع اعظمہ

فطاب من طیبھن القاع والا کم

نفسی الفداء لقبر انت ساکنہ

فیہ لعاف وفیہ الجودو الکرم

جن جن کی ہڈیاں میدانوں میں دفن کی گئی ہیں  اور ان کی خوشبو سے  وہ میدان ٹیلے  مہک اٹھے  ہیں  اے  ان تمام میں سے  بہترین ہستی، میری جان اس قبر پر سے  صدقے  ہو جس کا ساکن تو ہے  جس میں پارسائی سخاوت اور کرم ہے، پھر اعرابی تو لوٹ گیا اور مجھے  نیند آ گئی خواب میں کیا دیکھتا ہوں حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم مجھ سے  فرما رہے  ہیں  جا اس اعرابی کو خوش خبری سنا اللہ نے  اس کے  گناہ معاف فرما دئیے  (یہ خیال رہے  کہ نہ تو یہ کسی حدیث کی کتاب کا واقعہ ہے  نہ اس کی کوئی صحیح سند ہے، بلکہ آیت کا یہ حکم حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی زندگی میں ہی تھا وصال کے  بعد نہیں  جیسے  کہ جاء وک کا لفظ بتلا رہا ہے  اور مسلم شریف کی حدیث میں ہے  کہ ہر انسان کا ہر عمل اس کی موت کے  ساتھ منقطع ہو جاتا ہے  واللہ اعلم۔ مترجم) پھر اللہ تعالیٰ اپنی بزرگ اور مقدس ذات کی قسم کھا کر فرماتے  ہے  کہ کوئی شخص ایمان کی حدود میں نہیں  آ سکتا جب تک کہ تمام امور میں اللہ کے  اس آخر الزمان افضل تر رسول کو اپنا سچا حاکم نہ مان لے  اور آپ کے  ہر حکم ہر فیصلے  ہر سنت اور ہر حدیث کو قابل قبول اور حق صریح تسلیم نہ کرنے  لگے، دل کو اور جسم کو یکسر تابع رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نہ بنا دے ۔ غرض جو بھی ظاہر و باطن چھوٹے  بڑے  کل امور میں حدیث رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو اصل اصول سمجھے  وہی مومن ہے ۔ پس فرمان ہے  کہ تیرے  احکام کو یہ کشادہ دلی سے  تسلیم کر لیا کریں اپنے  دل میں پسندیدگی نہ لائیں تسلیم کلی تمام احادیث کے  ساتھ رہے، نہ تو احادیث کے  ماننے  سے  رکیں نہ انہیں  بے  اثر کرنے  کے  اسباب ڈھونڈیں نہ ان کے  مرتبہ کی کسی اور چیز کو سمجھیں نہ ان کی تردید کریں نہ ان کا مقابلہ کریں نہ ان کے  تسلیم کرنے  میں جھگڑیں جیسے  فرمان رسول ہے  اس کی قسم جس کے  ہاتھ میری جان ہے  تم میں سے  کوئی صاحب ایمان نہیں  ہو سکتا جب تک کہ وہ اپنی خواہش کو اس چیز کا تابع نہ بنا دے  جسے  میں لایا ہوں، صحیح بخاری شریف میں ہے  کہ حضرت زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا کسی شخص سے  نالیوں سے  باغ میں پانی لینے  کے  بارے  میں جھگڑا ہو پڑا تو حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے  فرمایا زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ تم پانی پلا لو اس کے  بعد پانی کو انصاری کے  باغ میں جانے  دو اس پر انصاری نے  کہا ہاں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم یہ تو آپ کے  پھوپھی کے  لڑکے  ہیں  یہ سن کر آپ کا چہرہ متغیر ہو سکتا ہے  اور فرمایا زبیر تم پانی پلا لو پھر پانی کو روکے  رکھو یہاں تک کہ باغ کی دیواروں تک پہنچ جائے  پھر اپنے  پڑوسی کی طرف چھوڑ دو پہلے  تو حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے  ایک ایسی صورت نکالی تھی کہ جس میں حضرت زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو تکلیف نہ ہو اور انصاری کشادگی ہو جائے  لیکن جب انصاری نے  اسے  اپنے  حق میں بہتر نہ سمجھا تو آپ نے  حضرت زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ان کا پورا حق دلوایا حضرت زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے  ہیں  جہاں تک میرا خیال ہے  یہ (آیت فلا وربک الخ) اسی بارے  میں نازل ہوئی ہے، مسند احمد کی ایک مرسل حدیث میں ہے  کہ یہ انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ بدری تھے  اور روایت میں ہے  دونوں میں جھگڑا یہ تھا کہ پانی کی نہر سے  پہلے  حضرت زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا کھجوروں کا باغ پڑتا تھا پھر اس انصاری کا انصاری کہتے  تھے  کہ پانی دونوں باغوں میں ایک ساتھ آئے ۔ ابن ابی حاتم میں ہے  کہ یہ دونوں دعویدار حضرت زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت حاطب بن ابو بلتہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ تھے  آپ کا فیصلہ ان میں یہ ہوا کہ پہلے  اونچے  والا پانی پلا لے  پھر نیچے  والا۔ دوسری ایک زیادہ غریب روایت میں شان نزول یہ مروی ہے  کہ دو شخص اپنا جھگڑا لے  کر دربار محمد میں آئے  آپ نے  فیصلہ کر دیا لیکن جس کے  خلاف فیصلہ تھا اس نے  کہا حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم آپ ہمیں حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے  پاس بھیج دیجئے  آپ نے  فرمایا بہت اچھا ان کے  پاس چلے  جاؤ جب یہاں آئے  تو جس کے  موافق فیصلہ ہوا تھا اس نے  ساراہی واقعہ کہہ سنایا حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے  اس دوسرے  سے  پوچھا کیا یہ سچ ہے ؟ اس نے  اقرار کیا آپ نے  فرمایا اچھا تم دونوں یہاں ٹھہرو میں آتا ہوں اور فیصلہ کر دیتا ہوں تھوڑی دیر میں تلوار تانے  آ گئے  اور اس شخص کی جس نے  کہا تھا کہ حضرت ہمیں عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے  پاس بھیج دیجئے  گردن اڑا دی دوسرا شخص یہ دیکھتے  ہی دوڑا بھاگا آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے  پاس پہنچا اور کہا حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم میرا ساتھی تو مار ڈالا گیا اور اگر میں بھی جان بچا کر بھاگ کر نہ آتا تو میری بھی خیر نہ تھی، آپ نے  فرمایا میں عمر کو ایسا نہیں  جانتا تھا کہ وہ اس جرات کے  ساتھ ایک مومن کا خون بہا دے  گا اس پر یہ آیت اتری اور اس کا خون برباد گیا اور اللہ تعالیٰ نے  حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بری کر دیا، لیکن یہ طریقہ لوگوں میں اس کے  بعد بھی جاری نہ ہو جائے  اس لئے  اس کے  بعد ہی یہ آیت اتری (آیت ولوانا کتبنا) جو آگے  آتی ہے  (ابن ابی حاتم) ابن مردویہ میں بھی یہ روایت ہے  جو غریب اور مرسل ہے  اور ابن لہیعہ راوی ضعیف ہے  واللہ اعلم۔ دوسری سند سے  مروی ہے  دو شخص رسول مقبول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے  پاس اپنا جھگڑا لائے  آپ نے  حق والے  کے  حق میں ڈگری دے  دی لیکن جس کے  خلاف ہوا تھا اس نے  کہا میں راضی نہیں  ہوں آپ نے  پوچھا تو کیا چاہتا ہے ؟ کہا یہ کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے  پاس چلیں دونوں وہاں پہنچے  جب یہ واقعہ جناب صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے  سنا تو فرمایا تمہارا فیصلہ وہی ہے  جو حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے  کیا وہ اب بھی خوش نہ ہوا اور کہا حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے  پاس چلو وہاں گئے  پھر وہ ہوا جو آپ نے  اوپر پڑھا (تفسیر حافظ ابو اسحاق)

۶۶

عادت جب فطرت ثانیہ بن جائے  اور صاحب ایمان کو بشارت رفاقت

اللہ خبر دیتا ہے  کہ اکثر لوگ ایسے  ہیں  کہ اگر انہیں  ان منع کردہ کاموں کا بھی حکم دیا جاتا جنہیں  وہ اس قوت کر رہے  ہیں  تو وہ ان کاموں کو بھی نہ کرتے  اس لئے  کہ ان کی ذلیل طبیعتیں حکم الہ کی مخالفت پر ہی استوار ہوئی ہیں، پس اللہ تعالیٰ نے  اس حقیقت کی خبردی ہے  جو ظاہر نہیں  ہوئی لیکن ہوتی تو کس طرح ہوتی ؟ اس آیت کو سن کر ایک بزرگ نے  فرمایا تھا کہ اگر اللہ تعالیٰ ہمیں یہ حکم دیتا تو یقیناً ہم کر گزرتے  لیکن اس کا شکر ہے  کہ اس نے  ہمیں اس سے  بچالیا۔ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو یہ بات پہنچی تو آپ نے  فرمایا بیشک میری امت میں ایسے  ایسے  لوگ بھی ہیں  جن کے  دلوں میں ایمان پہاڑوں سے  بھی زیادہ مضبوط اور ثابت ہے ۔ (ابن ابی حاتم) اس روایت کی دوسری سند میں ہے  کہ کسی ایک صحابہ رضوان اللہ علیہم نے  یہ فرمایا تھا سدی کا قول ہے  کہ ایک یہودی نے  حضرت ثابت بن قیس بن شماس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے  فخریہ کہا کہ اللہ تعالیٰ نے  ہم پر خود ہمارا قتل بھی فرض کیا تو بھی ہم کر گزریں گے  اس پر حضرت ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے  فرمایا واللہ اگر ہم پر یہ فرض ہوتا تو ہم بھی کر گزرتے  اس پر یہ آیت اتری اور روایت میں ہے  کہ جب یہ آیت اتری تو آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے  فرمایا اگر یہ حکم ہوتا تو اس کے  بجا لانے  والوں میں ایک ابن ام عبد رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی ہوتے  ہیں  (ابن ابی حاتم) دوسری روایت میں ہے  کہ آپ نے  اس آیت کو پڑھ کر حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی طرف ہاتھ سے  اشارہ کر کے  فرمایا کہ یہ بھی اس پر عمل کرنے  والوں میں سے  ایک ہیں ۔ ارشاد الٰہی ہے  کہ اگر یہ لوگ ہمارے  احکام بجا لاتے  اور ہماری منع کردہ چیزوں اور کاموں سے  رک جاتے  تو یہ ان کے  حق میں اس سے  بہتر ہوتا کہ اور دنیا اور آخرت کی بہتر راہ کی رہنمائی کرتے  پھر فرماتا ہے اور جو شخص اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ و سلم کے  احکام پر عمل کرے  اور منع کردہ کاموں سے  باز رہے  اسے  اللہ تعالیٰ عزت کے  گھر میں لے  جائے  گا نبیوں کا رفیق بنائے  گا اور صدیقوں کو جو مرتبے  میں نبیوں کے  بعد ہیں  ان کا مصاحب بنائے  گا شہیدوں مومنوں اور صالحین جن کا ظاہر باطن آراستہ ہے  ان کا ہم جنس بنائے  گا حیال تو کرو یہ کیسے  پاکیزہ اور بہترین رفیق ہے  صحیح بخاری شریف میں ہے  حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتی ہیں  میں نے  نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے  سنا تھا کہ ہر نبی کو اس کے  مرض کے  زمانے  میں دنیا میں رہنے  اور آخرت میں جانے  کا اختیار دیا جاتا ہے  جب حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم بیمار ہوئے  تو شدت نقاہت سے  اٹھ نہیں  سکتے  تھے  آواز بیٹھ گئی تھی لیکن میں نے  سنا کہ آپ فرما رہے  ہیں  ان کا ساتھ جن پر اللہ نے  انعام کیا جو نبی ہیں ، صدیق ہیں ، شہید ہیں، اور نیکو کار ہیں، یہ سن کر مجھے  معلوم ہو گیا کہ اب آپ کو اختیار دیا گیا ہے  ۔ یہی مطلب ہے  جو دوسری حدیث میں آپ کے  یہ الفاظ وارد ہوئے  ہیں  کہ اے  اللہ میں بلند و بالا رفیق کی رفاقت کا طالب ہوں یہ کلمہ آپ نے  تین مرتبہ اپنی زبان مبارک سے  نکالا پھر فوت ہو گئے  علیہ افضل الصلوٰۃ والتسلیم ۔

اس آیت کے  شان نزول کا بیان

 ابن جریر میں ہے  کہ ایک انصاری حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے  پاس آئے  آپ نے  دیکھا کہ سخت مغموم ہیں  سبب دریافت کیا تو جواب ملا کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم یہاں تو صبح شام ہم لوگ آپ کی خدمت میں آبیٹھے  ہیں  دیدار بھی ہو جاتا ہے  اور دو گھڑی صحبت بھی میسر ہو جاتی ہے  لیکن کل قیامت کے  دن تو آپ نبیوں کی اعلیٰ مجلس میں ہوں گے  ہم تو آپ تک پہنچ بھی نہ سکیں گے  حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے  کچھ جواب نہ دیا اس پر حضور جبرئیل یہ آیت لائے  آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے  آدمی بھیج کر انہیں  یہ خوشخبری سنا دی۔ یہی اثر مرسل سند بھی مروی ہے  جو سند بہت ہی اچھی ہے، حضرت ربیع رحمۃ اللہ علیہ فرماتے  ہیں  صحابہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے  کہا کہ یہ ظاہر ہے  کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا درجہ آپ پر ایمان لانے  والوں سے  یقیناً بہت ہی بڑا ہے  پس جب کہ جنت میں یہ سب جمع ہوں گے  تو آپس میں ایک دوسرے  کو کیسے  دیکھیں گے  اور کیسے  ملیں گے  ؟ پس یہ آیت اتری اور حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے  فرمایا اوپر کے  درجہ والے  نیچے  والوں کے  پاس اتر آئیں گے  اور پربہار باغوں میں سب جمع ہوں گے  اور اللہ کے  احسانات کا ذکر اور اس کی تعریفیں کریں گے  اور جو چاہیں  گے  پائیں گے  ناز و نعم سے  ہر وقت رہیں  گے ۔ ابن مردویہ میں ہے  ایک شخص حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے  پاس آئے  اور کہنے  لگے  یا رسول اللہ میں آپ کو اپنی جان سے  اپنے  اہل عیال سے  اور اپنے  بچوں سے  بھی زیادہ محبوب رکھتا ہوں ۔ میں گھر میں ہوتا ہوں لیکن شوق زیارت مجھے  بیقرار کر دیتا ہے  صبر نہیں  ہو سکتا دوڑتا بھاگتا آتا ہوں اور دیدار کر کے  چلا جاتا ہوں لیکن جب مجھے  آپ کی اور اپنی موت یاد آتی ہے  اور اس کا یقین ہے  کہ آپ جنت میں نبیوں کے  سب سے  بڑے  اونچے  درجے  میں ہوں گے  تو ڈر لگتا ہے  کہ پھر میں حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے  دیدار سے  محروم ہو جاؤں گا، آپ نے  تو کوئی جواب نہیں  دیا لیکن یہ آیت نازل ہوئی۔ اس روایت کے  اور بھی طریقے  ہیں ، صحیح مسلم شریف میں ہے  ربیعہ بن کعب اسلمی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے  ہیں  میں رات کو حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی خدمت میں رہتا اور پانی وغیرہ لا دیا کرتا تھا ایک بار آپ نے  مجھ سے  فرمایا کچھ مانگ لے  میں نے  کہا جنت میں میں آپ کی رفاقت کا طالب ہوں فرمایا اس کے  سوا اور کچھ؟ میں نے  کہا وہ بھی یہی فرمایا میری رفاقت کے  لئے  میری مدد کر بکثرت سجدے  کیا کر، مسند احمد میں ہے  ایک شخص نے  آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے  کہا میں اللہ کے  لا شریک ہونے  کی اور آپ کے  رسول ہونے  کی گواہی دیتا ہوں اور رمضان کے  روزے  رکھتا ہوں تو آپ نے  فرمایا جو مرتے  دم تک اسی پر رہے  گا وہ قیامت کے  دن نبیوں صدیقوں اور شہیدوں کے  ساتھ اس طرح ہو گا پھر آپ نے  اپنی دو انگلیاں اٹھا کر اشارہ کر کے  بتایا۔ لیکن یہ شرط ہے  کہ ماں باپ کا نافرمان نہ ہو مسند احمد میں ہے  جس نے  اللہ کی راہ میں ایک ہزار آیتیں پڑھیں وہ انشاء اللہ قیامت کے  دن نبیوں کے  صدیقوں شہیدوں اور صالحوں کے  ساتھ لکھا جائے  گا، ترمذی میں ہے  سچا امانت دار، تاجر نبیوں، صدیقوں اور شہیدوں کے  ساتھ ہو گا، ان سب سے  زیادہ زبردست بشارت اس حدیث میں ہے  جو صحاج اور مسانید وغیرہ میں صاحبہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ اجمعین کی ایک زبردست جماعت ہے  بہ تواتر مروی ہے  کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے  اس شخص کے  بارے  میں دریافت کیا گیا جو ایک قوم سے  محبت رکھتا ہے  لیکن اس سے  ملا نہیں  تو آپ نے  فرمایا (حدیث المرء مع من احب) ہر انسان اس کے  ساتھ ہو گا جس سے  وہ محبت رکھتا تھا حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے  ہیں  مسلمان جس قدر اس حدیث سے  خوش ہوئے  اتنا کسی اور چیز سے  خوش نہیں  ہوئی، حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے  ہیں  واللہ میری محبت تو آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے  ہے  حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے  ہے  اور حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے  ہے  تو مجھے  امید ہے  کہ اللہ مجھے  بھی انہی کے  ساتھ اٹھائے  گا گو میرے  اعمال ان جیسے  نہیں  (یا اللہ تو ہمارے  دل بھی اپنے  نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور ان کے  چاہنے  والوں کی محبت سے  بھر دے  اور ہمارا حشر بھی انہی کے  ساتھ کر دے  آمین) رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم فرماتے  ہیں  جنتی لوگ اپنے  سے  بلند درجہ والے  جنتیوں کو ان کے  بالا خانوں میں اس طرح دیکھیں گے  جیسے  تم چمکتے  ستارے  کو مشرق یا مغرب میں دیکھتے  ہو ان میں بہت کچھ فاصلہ ہو گا صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے  کہا یہ منزلیں تو انبیاء کرام کے  لئے  ہی مخصوص ہوں گی؟ کیوں اور وہاں تک کیسے  پہنچ سکتا ہے  ؟ آپ نے  فرمایا کیوں نہیں  اس کی قسم جس کے  ہاتھ میں میری جان ہے  ان منزلوں تک وہ بھی پہنچیں گے  جو اللہ پر ایمان لائے  رسولوں کو سچا جانا اور مانا (بخاری مسلم) ایک حبشی حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوتا ہے  آپ فرماتے  ہیں  جو پوچھنا ہو پوچھو اور سمجھو وہ کہتا ہے  یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم آپ کو صورت میں رنگ میں نبوت میں اللہ عزوجل نے  ہم پر فضیلت دے  رکھی ہے  اگر میں بھی اس چیز پر ایمان لاؤں جس پر آپ ایمان لائے  ہیں  اور ان احکام کو بجا لاؤں جنہیں  آپ بجا لا رہے  ہیں  تو کیا جنت میں آپ کا ساتھ ملے  گا ؟ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے  فرمایا ہاں اس اللہ تعالیٰ کی قسم جس کے  ہاتھ جگمگاتا ہوا نظر آئے  گا ۔ لا الہ الا اللہ کہنے  والے  سے  اللہ کا وعدہ ہے  اور سبحان اللہ وبحمدہ کہنے  والے  کے  لئے  ایک لاکھ چوبیس ہزار نیکیاں لکھی جاتی ہیں  اس پر ایک اور صاحب نے  کہا حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم جب یہ حقائق ہیں  تو پھر ہم کیسے  ہلاک ہو سکتے  ہیں ؟ تو آپ نے  فرمایا ایک انسان قیامت کے  دن اس قدر اعمال لے  کر آئے  گا اگر کسی پہاڑ پر رکھے  جائیں تو وہ بھی بوجھل ہوئے  لیکن ایک ہی نعمت جو ؟ ؟ ؟ کے  مقابل کھڑی ہو گی جو صرف اس کی نعمتوں کا شکریہ ادا کرنے  کا نتیجہ ہو گی اس کے  سامنے  مذکورہ اعمال کم نظر آئیں گے  محض اس کا شکریہ میں ہی یہ اعمال کم نظر آئیں گے  ہاں یہ اور بات ہے  کہ اللہ تعالیٰ اپنی رحمت کاملہ سے  اسے  ڈھانک لے  اور جنت دے  دے  اور یہ آیتیں اتریں (آیت ھل اتی علی الانسان سے  ملکا کبیرا) تک۔ تو حبشی صحابی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہنے  لگایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کیا جنت میں جن جن چیزوں کو آپ کی آنکھیں دیکھیں گی میری آنکھیں بھی دیکھ سکیں گی؟ آپ نے  فرمایا ہاں اس پر وہ حبشی فرط شوق میں روئے  اور اس قدر روئے  کہ اسی حالت میں فوت ہو گئے  رضی اللہ تعالیٰ عنہ و ارضاہ حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے  ہیں  میں نے  دیکھا کہ ان کی نعش مبارک کو خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم قبر میں اتار رہے  تھے  یہ روایت غریب ہے  اور اس میں اصولی خامیاں بھی ہیں  اس کی سند بھی صغیف ہے ۔ ارشاد الٰہی ہے  یہ خاص اللہ کی عنایت اور اس کا فضل ہے  اس کی رحمت سے  ہی یہ اس کے  قابل ہوئے  نہ کہ اپنے  اعمال سے ، اللہ خوب جاننے  والا ہے  اس بخوبی معلوم ہے  کہ مستحق معلوم ہدایت و توفیق کون ہے ؟

۷۱

طاقتور اور متحد ہو کر زندہ رہو

 اللہ رب العزت مسلمانوں کو حکم دیتا ہے  کہ وہ ہر وقت اپنے  بچاؤ کے  اسباب تیار رکھیں ہر وقت ہتھیار بند رہیں  تاکہ دشمن ان پر با آسانی کامیاب نہ ہو جائے ۔ ضرورت کے  ہتھیار تیار رکھیں اپنی تعداد بڑھاتے  رہیں  قوت مضبوط کرتے  رہیں  منظم مردانہ وار جہاد کے  لئے  بیک آواز اٹھ کھڑے  ہوں چھوٹے  چھوٹے  لشکروں میں بٹ کر یا متحدہ فوج کی صورت میں جیسا موقعہ ہو آواز سنتے  ہی ہوشیار رہیں  کہ منافقین کی خصلت ہے  کہ خود بھی اللہ تعالیٰ کی راہ سے  جی چرائیں اور دوسروں کو بھی بزدل بنائیں، جیسے  عبداللہ بن ابی بن سلول سردار منافقین کا فعل تھا اللہ تعالیٰ اسے  رسوا کرے  اس کا کردار یہ تھا کہ اگر حکمت الہیہ سے  مسلمانوں کو دشمنوں کے  مقابلہ میں کامیابی نہ ہوتی دشمن ان پر چھا جاتا انہیں  نقصان پہنچاتا ان کے  آدمی شہید ہوتے  تو یہ گھر بیٹھا خوشیاں مناتا اور اپنی دانائی پر اکڑتا اور اپنا اس جہاد میں شریک نہ ہونا اپنے  حق میں اللہ تعالیٰ کا انعام قرار دیتا لیکن بے  خبر یہ نہیں  سمجھتا کہ جو اجر و ثواب ان مجاہدین کو ملا اس سب سے  یہ بد نصیب یک لخت محروم رہا اگر یہ بھی ان میں شامل ہو یا تو غازی کا درجہ پاتا اپنے  صبر کے  ثواب سمیٹتا یا شہادت کے  بلند مرتبے  تک پہنچ جاتا، اور اگر مسلمان مجاہدین کا اللہ کا فضل معاون ہوتا یعنی یہ دشمنوں پر غالب آ جاتے  ان کی فتح ہوتی دشمنوں کو انہوں نے  پامال کیا اور مال غنیمت لونڈی غلام لے  کر خیر عافیت ظفر اور نصرت کے  ساتھ لوٹتے  تو یہ انگاروں پر لوٹتا اور ایسے  لمبے  لمبے  سانس لے  کر ہائے  وائے  کرتا ہے  اور اس طرح پچھتاتا ہے  اور ایسے  کلمات زبان سے  نکالتا ہے  گویا یہ دین تمہارا نہیں  بلکہ اس کا دین ہے  اور کہتا افسوس میں ان کے  ساتھ نہ ہوا ورنہ مجھے  بھی حصہ ملتا اور میں بھی لونڈی، غلام، مال، متاع والا بن جاتا الغرض دنیا پر ریجھا ہوا اور اسی پر مٹا ہوا ہے ۔ پس اللہ کی راہ میں نکل کھڑے  ہونے  والے  مومنوں کو چاہیے  کہ ان سے  جہاد کریں جو اپنے  دین کو دنیا کے  بدلے  فروخت کر رہے  ہیں  اپنے  کفر اور عدم ایمان کے  باعث اپنی آخرت کو برباد کر کے  دنیا بناتے  ہیں ۔ سنو! اللہ کی راہ کا مجاہد کبھی نقصان نہیں  اٹھاتا اس کے  دونوں ہاتھوں میں لڈو ہیں  قتل کیا گیا تو اجر موجود غالب رہا تو ثواب حاضر۔ بخاری مسلم میں ہے  کہ اللہ کی راہ کے  مجاہد کا ضامن خود اللہ عزوجل ہے  یا تو اس فوت کر کے  جنت میں پہنچائے  گا جس جگہ سے  وہ چلا ہے  وہیں  اجر و غنیمت کے  ساتھ صحیح سالم واپس لائے  گا فالحمد اللہ۔

۷۵

شیطان کے  دوستوں سے  جنگ لازم ہے ۔

اللہ تعالیٰ مومنوں کو اپنی راہ کے  جہاد کی رغبت دلاتا ہے  اور فرماتا ہے  کہ وہ کمزور بے  بس لوگو جو مکہ میں ہیں  جن میں عورتیں اور بچے  بھی ہیں  جو وہاں کے  قیام سے  اکتا گئے  ہیں  جن پر کفار نت نئی مصیبتیں توڑ رہے  ہیں ۔ جو محض بے  بال و پر ہیں  انہیں  آزاد کراؤ، جو بے  کس دعائیں مانگ رہے  ہیں  کہ اسی بستی یعنی مکہ سے  ہمارا نکلنا ممکن ہو، مکہ شریف کو اس آیت میں بھی قریہ کہا گیا ہے (آیت وکاین من قریۃ ھی اشد قوۃ من قریتک التی اخرجتک) بہت سی بستیاں اس بستی سے  زیادہ طاقتور تھیں جس بستی سے  (یعنی وہاں کے  رہنے  والوں نے) تمہیں  نکالا۔ اسی مکہ کے  رہنے  والے  مسلمان کافروں کے  ظلم کے  شکایت بھی کر رہے  ہیں  اور ساتھ ہی اپنی دعاؤں میں کہہ رہے  ہیں  کہ اے  رب کسی کو اپنی طرف سے  ہمارا ولی اور مددگار بنا کر ہماری امداد کو بھیج۔ صحیح بخاری شریف میں ہے  حضرت عبد اللہ بن عباس انہی کمزوروں میں تھے  اور روایت میں ہے  کہ آپ نے (آیت الا المستضعفین من الرجال والنساء والولدان) پڑھ کر فرمایا میں اور میری والدہ صاحبہ بھی انہی لوگوں میں سے  ہیں  جنہیں  اللہ تعالیٰ نے  معذور رکھا۔ ارشاد ہے  ایماندار اللہ تعالیٰ نے  معذور رکھا ۔ ارشاد ہے  ایماندار اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری اور اس کی رضا جوئی کے  لئے  جہاد کرتے  ہیں  اور کفار اطاعت شیطان میں لڑتے  ہیں  تو مسلمانوں کو چاہیے  کہ شیطان کے  دوستوں سے  جو جو اللہ کے  دشمن ہیں  دل کھول کر جنگ کریں اور یقین مانیں کہ شیطان کے  ہتھکنڈے  اور اس کے  مکر و فریب سب نقش بر آب ہیں ۔

۷۷

اولین درس صبر و ضبط

واقعہ بیان ہو رہا ہے  کہ ابتدائے  اسلام میں جب مکہ شریف میں تھے  کمزور تھے  حرمت والے  شہر میں تھے  کفار کا غلبہ تھا یہ انہی کے  شہر میں تھے  وہ بکثرت تھے  جنگی اسباب میں ہر طرح فوقیت رکھتے  ہیں، اس لئے  اس وقت اللہ تعالیٰ نے  مسلمانوں کو جہاد و قتال کا حکم نہیں  دیا تھا، بلکہ ان سے  فرمایا تھا کہ کافروں کی ایذائیں سہتے  چلے  جائیں ان کی مخالفت برداشت کریں، ان کے  ظلم و ستم برداشت کریں، جو احکام اللہ نازل ہو چکے  ہیں  ان پر عامل رہیں  نماز ادا کرتے  رہیں  زکوٰۃ دیتے  رہا کریں، گو ان میں عموماً مال کی زیادتی بھی نہ تھی لیکن تاہم مسکینوں اور محتاجوں کے  کام آنے  کا اور ان کی ہمدردی کرنے  کا انہیں  حکم دیا گیا تھا مصلحت الٰہی کا تقاضہ یہ تھا کہ سردست یہ کفار سے  نہ لڑیں بلکہ صبر و ضبط سے  کام لیں ادھر کافی بڑی دلیری سے  ان پر ستم کے  پہاڑ توڑ رہے  تھے  ہر چھوٹے  بڑے  کو سخت سے  سخت سزائیں دے  رہے  تھے، مسلمانوں کا ناک میں دم کر رکھا تھا اس لئے  ان کے  دل میں رہ رہ کر جوش اٹھتا تھا اور زبان سے  الفاظ نکل جاتے  تھے  کہ اس روز مرہ کی مصیبتوں سے  تو یہی بہتر ہے  کہ ایک مرتبہ دل کی بھڑاس نکل جائے، دو دو ہاتھ میدان میں ہو لیں کاش کہ اللہ تعالیٰ ہمیں جہاں کا حکم دے  دے، لیکن اب تک حکم نہیں  ملا تھا، جب انہیں  ہجرت کی اجازت ملی اور مسلمان اپنی زمین، زر، رشتہ، کنبے، اللہ عزوجل کے  نام پر قربان کر کے  اپنا دین لے  کر مکہ سے  ہجرت کر کے  مدینے  پہنچے  یہاں انہیں  اللہ تعالیٰ نے  ہر طرح کی سہولت دی امن کی جگہ دی امداد کے  لئے  انصار مدینہ دئیے، تعداد میں کثرت ہو گئی قوت و طاقت قدر بڑھ گئی تو اب اللہ حاکم مطلق کی طرف سے  اجازت ملی کہ اپنے  لڑنے  والوں سے  لڑو، جہاد کا حکم اترتے  ہی بعض لوگ سٹپٹائے، خوف زدہ ہوئے  جہاد کا تصور کر کے  میدان میں قتل کئے  جانے  کا تصور عورتوں کے  رنڈاپے  کا خیال، بچوں کی یتیمی کا منظر آنکھوں کے  سامنے  آگیا گھبراہٹ میں کہہ اٹھے  کہ اے  اللہ ابھی سے  جہاد کیوں فرض کر دیا کچھ تو مہلت دی ہوتی۔ اسی مضمون کو دوسری آیتوں میں اس طرح بیان کیا گیا ہے  ۔ (آیت ویقول الذین امنوا لولا نزلت سورۃ) الخ، مختصر مطلب یہ ہے  کہ ایماندار کہتے  ہیں  کوئی سورت کیوں نازل نہیں  کی جاتی جب کوئی سورت اتاری جاتی ہے  اور اس میں جہاد کا ذکر ہوتا ہے  تو بیمار دل لوگ چیخ اٹھتے  ہیں  ٹیڑھے  تیوروں سے  تجھے  گھورتے  ہیں  اور موت کی غشی والوں کی طرح اپنی آنکھیں بند کر لیتے  ہی ان پر افسوس ہے  حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ اور آپ کے  ساتھی مکہ شریف میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے  پاس آتے  ہیں  اور کہتے  ہیں  اے  نبی اللہ ہم کفر کی حالت میں منع کرتے  ہیں  جن سے  کفار کی جرأت بڑھ گئی ہے ۔ اور وہ ہمیں ذلیل کرنے  لگے  ہیں  تو آپ ہمیں مقابلہ کی اجازت کیوں نہیں  دیتے ؟) لیکن آپ نے  جواب دیا مجھے  اللہ کا حکم یہی ہے  کہ ہم درگزر کریں کافروں سے  جنگ نہ کریں ۔ پھر جب مدینہ کی طرف ہجرت ہوئی اور جہاد کے  احکام نازل ہوئے  تو لوگ ہچکچانے  لگے  اس پر یہ آیت اتری (نسائی حاکم ابن مردویہ) سدی فرماتے  ہیں  صرف صلوٰۃ و زکوٰۃ کا حکم ہی تھا تو تمنائیں کرتے  تھے  کہ جہاد فرض ہو جب فریضہ جہاد نازل ہوا تو کمزور دل لوگ انسانوں سے  ڈرنے  لگے  جیسے  اللہ سے  ڈرنا چاہیے  بلکہ اس سے  بھی زیادہ کہنے  لگے  اے  رب تو نے  ہم پر جہاد کیوں فرض کیا کیوں ہمیں اپنی موت کے  صحیح وقت تک فائدہ نہ اٹھانے  دیا۔ انہیں  جواب ملتا ہے  کہ دنیوی نفع بالکل نا پائیدار اور بہت ہی کم ہے  ہاں متقیوں کے  لئے  آخرت دنیا سے  بہتر اور پاکیزہ تر ہے ۔ حضرت مجاہد فرماتے  ہیں  یہ آیت یہودیوں کے  بارے  میں اتری ہے، جواباً کہا گیا کہ پرہیزگاروں کا انجام آغاز سے  بہت ہی اچھا ہے ۔ تمہیں  تمہارے  اعمال پورے  پورے  دیئے  جائیں گے  کامل اجر ملے  گا ایک بھی نیک عمل غارت نہ کیا جائے  گا ناممکن ہے  کہ ایک بال برابر ظلم اللہ تعالیٰ کی طرف سے  کسی پر کیا جائے ۔ اس جملے  میں انہیں  دنیا سے  بے  رغبتی دلائی جا رہی ہے  آخرت کی طرف توجہ دلائی جا رہی ہے  جہاد کی رغبت دی جا رہی ہے  ۔ حضرت حسن فرماتے  ہیں  اللہ اس بندے  پر رحم کرے  جو دنیا کے  ساتھ ایسا ہی رہے  ساری دنیا اول سے  آخرت تک اس طرح ہے  جیسے  کوئی سویا ہوا شخص اپنے  خواب میں اپنی پسندیدہ چیز کو دیکھے  لیکن آنکھ کھلتے  ہیں  معلوم ہو جاتا ہے  کہ کچھ نہ تھا۔ حضرت ابو مصہر کا یہ کلام کتنا پیارا ہے

ولا خیر فی الدنیا لمن لم یکن لہ

من اللہ فی دار المقام نصیب

فان تعجب الدنیا رجالا فانھا

متاع قلیل والزوال قریب

یعنی اس شخص کے  لئے  دنیا بھلائی سے  یکسر خالی ہے  جسے  کل آخرت کا کوئی حصہ ملنے  والا نہیں ۔ گو دنیا کو دیکھ دیکھ کر بعض لوگ ریجھ رہے  ہیں  لیکن دراصل یہ یونہی سا فائدہ ہے  اور وہ بھی جلد فنا ہو جانے  والا۔ پھر ارشاد باری ہے  کہ آخرش موت کا مزا ہر ایک چکھنا ہی ہے  کوئی ذریعہ کسی کو اس سے  بچا نہیں  سکتا، جسے  فرمان ہے (آیت کل من علیھا فان) جتنے  یہاں ہیں  سب فانی ہیں، اور جگہ ارشاد ہے  (آیت کل نفس ذائقۃ الموت) ہر ہر جاندار مرنے  والا ہے  فرماتا ہے (آیت وما جعلنالبشر من قبلک الخلد) تجھ سے  اگلے  لوگوں میں سے  بھی کسی کے  لئے  ہم نے  ہمیشہ کی زندگی مقرر نہیں  کی۔ مقصد یہ ہے  کہ خواہ جہاد کر لے  یا نہ کرے  ذات اللہ کے  سوا موت کا مزا تو ایک نہ ایک روز ہر کسی کو چکھنا ہی پڑے  گا۔ ہر ایک کا ایک وقت مقرر ہے  اور ہر ایک کی موت کی جگہ معین ہے، حضرت خالد بن ولید رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس قوت جبکہ آپ بستر مرگ پر ہیں  فرماتے  ہیں  اللہ کی قسم فلاں جگہ فلاں جگہ غرض بیسیوں لڑائیوں میں سینکڑوں معرکوں میں گیا ثابت قدمی پامردی کے  ساتھ دلیرانہ جہاد کئے  آؤ دیکھ لو میرے  جسم کا کوئی عضو ایسا نہ پاؤ گے  جہاں کوئی نہ کوئی نشان نیزے  یا برچھے  یا تیر یا بھالے  کا تلوار اور ہتھیار کا نہ ہو لیکن چونکہ میدان جنگ میں موت نہ لکھی تھی اب دیکھو اپنے  بسترے  پر اپنی موت کے  پنجے  سے  بلند و بالا مضبوط اور مضبوط قلعے  اور محل بھی بچا نہیں  سکتے  ۔ بعض نے  کہا مراد اس سے  آسمان کے  برج ہیں، لیکن یہ قول ضعیف ہے  صحیح یہی ہے  کہ مراد محفوظ مقامات ہیں  یعنی کتنی ہی حفاظت موت سے  کی جائے ۔ لیکن وہ اپنے  وقت سے  آگے  پیچھے  نہیں  ہو سکتی زہیر کا شعر ہے  کہ موت سے  بھاگنے  والا گو زینہ لگا کر اسباب آسمانی بھی جمع کر لے  تو بھی اسے  کوئی نفع نہیں  پہنچ سکتا، ایک قول ہے  مشیدہ بہ تشدید مشید بغیر تشدید ایک ہی معنی میں ہیں  اور بعض ان دونوں میں فرق کے  قائل ہیں  کہتے  ہیں  کہ اول کا معنی مطول دوسرے  کا معنی مزین یعنی چونے  سے  ابن جریر اور ابن ابی حاتم میں اس موقعہ پر ایک مطول قصہ بزبان حضرت مجاہد مروی ہے  کہ اگلے  زمانے  میں ایک عورت حاملہ تھی جب اسے  درد ہونے  لگے  اور بچی تولد ہوئی تو اس نے  اپنے  ملازم سے  کہا کہ جاؤ کہیں  سے  آگ لے  آؤ وہ باہر نکلا تو دیکھا کہ دروازے  پر ایک شخص کھڑا ہے  پوچھتا ہے  کہ کیا ہوا لڑکی یا لڑکا ؟ اس نے  کہا لڑکی ہوئی ہے  کہا سن یہ لڑکی ایک سو آدمیوں سے  زنا کرائے  گی پھر اس کے  ہاں اب جو شخص ملازم ہے  اسی سے  اس کا نکاح ہو گا اور ایک مکڑی اس کی موت کا باعث بنے  گی۔ یہ شخص یہیں  سے  پلٹ آیا اور آتے  ہی ایک تیز چھری لے  کر اس لڑکی کے  پیٹ کو چیر ڈالا اور اسے  مردہ سمجھ کر وہاں سے  بھاگ نکلا اس کی ماں نے  یہ حال دیکھ کر اپنی بچی کے  پیٹ کو ٹانکے  دئیے  اور علاج معالجہ شروع کیا جس سے  اس کا زخم بھر گیا اب ایک زمانہ گزر گیا ادھر یہ لڑکی بلوغت کو پہنچ گئی اور تھی بھی اچھی شکل و صورت کی بد چلنی میں پڑ گئی ادھر ملازم سمندر کے  راستے  کہیں  چلا گیا کام کاج شروع کیا اور بہت رقم پیدا کی کل مال سمیٹ کر بہت مدت بعد یہ پھر اسی اپنے  گاؤں میں آ گیا ایک بڑھیا عورت کو بلا کر کہا کہ میں نکاح کرنا چاہتا ہوں گاؤں میں جو بہت خوبصورت عورت ہو اس سے  میرا نکاح کرا دو، یہ عورت گئی اور چونکہ شہر بھر میں اس لڑکی سے  زیادہ خوش شکل کوئی عورت نہ تھی یہیں  پیغام بھیجا، منظور ہو گیا، نکاح بھی ہو گیا اور وداع ہو کر یہ اس کے  ہاں آ بھی گئی دونوں میاں بیوی میں بہت محبت ہو گئی، ایک دن ذکر اذکار میں اس عورت نے  اس سے  پوچھا آپ کون ہیں  کہاں سے  آئے  ہیں  یہاں کیسے  آ گئے ؟ وغیرہ اس نے  اپنا تمام ماجرا بیان کر دیا کہ میں یہاں ایک عورت کے  ہاں ملازم تھا اور وہاں سے  اس کی لڑکی کے  ساتھ یہ حرکت کر کے  بھاگ گیا تھا اب اتنے  برسوں کے  بعد یہاں آیا ہوں تو اس لڑکی نے  کہا جس کا پیٹ چیر کر تم بھاگے  تھے  میں وہی ہوں یہ کہہ کر اپنے  اس زخم کا نشان بھی اسے  دکھایا تب تو اسے  یقین ہو گیا اور کہنے  لگا جب تو وہی ہے  تو ایک بات تیری نسبت مجھے  اور بھی معلوم ہے  وہ یہ کہ تو ایک سو آدمیوں سے  مجھ سے  پہلے  مل چکی ہے  اس نے  کہا ٹھیک ہے  یہ کام تو مجھ سے  ہوا ہے  لیکن گنتی یاد نہیں ۔ اس نے  کہا کہ مجھے  تیری نسبت ایک اور بات بھی معلوم ہے  وہ یہ کہ تیری موت کا سبب ایک مکڑی بنے  گی، خیر چونکہ مجھے  تجھ سے  بہت زیادہ محبت ہے  میں تیرے  لئے  ایک بلند و بالا پختہ اور اعلیٰ محل تعمیر کرا دیتا ہوں اسی میں تو رہ تاکہ وہاں تک ایسے  کیڑے  مکوڑے  پہنچ ہی نہ سکیں چنانچہ ایسا ہی محل تیار ہوا اور یہ وہاں رہنے  لگی، ایک مدت کے  بعد ایک روز دونوں میاں بیوی بیٹھے  ہوئے  تھے  کہ اچانک چھت پر ایک مکڑی دکھائی دی اسے  دیکھتے  ہیں  اس شخص نے  کہا دیکھو آج یہاں مکڑی دکھائی دی عورت بولی اچھا یہ میری جان لیوا ہے  ؟ تو میں اس کی جان لوں گی غلاموں کو حکم دیا کہ اسے  زندہ پکڑ کر میرے  سامنے  لاؤ نوکر پکڑ کر لے  آئے  اس نے  زمین پر رکھ کر اپنے  پیر کے  انگوٹھے  سے  اسے  مل ڈالا اس کی جان نکل گئی لیکن اس میں سے  پیپ کا ایک آدھ قطرہ اس کے  انگوٹھے  کے  ناخن اور گوشت کے  درمیان اڑ کر چپک گیا اس کا زہر چڑھا پیر سیاہ پڑ گیا اور اسی میں آخر مر گئی، حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر جب باغی چڑھ دوڑے  تو آپ نے  امت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی خیر خواہی اور ان کے  اتفاق کی دعا کے  بعد دو شعر پڑھے  جن کا مطلب بھی یہی ہے  کہ موت کو ٹالنے  والی کوئی چیز اور کوئی حیلہ کوئی قوت اور کوئی چالاکی نہیں، حضر کے  بادشاہ ساطرون کو کسرفی شاپور ذوالا کناف نے  جس طرح قتل کیا وہ واقعہ بھی ہم یہاں لکھتے  ہیں، ابن ہشام میں ہے  جب شاہ پور عراق میں تھا تو اس کے  علاقہ یر ساطرون نے  چڑھائی کی تھی اس کے  بدلے  میں جب اس نے  چڑھائی کی تو یہ قلعہ بند ہو گیا دو سال تک محاصرہ رہا لیکن قلعہ فتح نہ ہو سکا ایک روز ساطرون کی بیٹی نضیرہ اپنے  باپ کے  قلعہ کا گشت لگا رہی تھی اچانک اس کی نظر شاہ پور پر پڑھ گئی یہ اس وقت شاہانہ پر تکلف ریشمی لباس میں تاج شاہی سر پر رکھے  ہوئے  تھا نضیرہ کے  دل میں آیا کہ اس سے  میری شادی ہو جائے  تو کیا ہی اچھا ہو؟ چنانچہ اس نے  خفیہ پیغام بھیجنے  شروع کیے  اور وعدہ ہو گیا کہ اگر یہ لڑکی اس قلعہ پر شاہ پور کا قبضہ کرا دے  تو شاہ پور اس سے  نکاح کر لے گا اس کا باپ ساطرون بڑا شرابی تھا اس کی ساری رات نشہ میں کٹتی تھی اس کی لڑکی نے  موقعہ پا کر رات کو اپنے  باپ کو نشہ میں مد ہوش دیکھ کر اس کے  سرہانے  سے  قلعہ کے  دروازے  کی کنجیاں چپکے  سے  نکال لیں اور اپنے  ایک با اعتماد غلام کے  ہاتھ ساطرون تک پہنچا دیں جس سے  اس نے  دروازہ کھول لیا اور شہر میں قتل عام کرایا اور قابض ہو گیا یہ بھی کہا گیا کہ اس قلعہ میں ایک جادو تھا جب تک اس طلسم کو توڑا نہ جائے  قلعہ کا فتح ہونا ناممکن تھا اس لڑکی نے  اس کے  توڑنے  کا گر اسے  بتا دیا کہ ایک چت کبرا کبوتر لے  کر اس کے  پاؤں کسی با کرہ کے  پہلے  حیض کے  خون سے  رنگ لو پھر اس کبوتر کو چھوڑو وہ جا کر قلعہ کی دیوار پر بیٹھے  تو فوراً وہ طلسم ٹوٹ جائے  گا اور قلعہ کا پھاٹک کھل جائے  گا چنانچہ شاہ پور نے  یہی کیا اور قلعہ فتح کر کے  ساطرون کو قتل کر ڈالا تمام لوگوں کو تیغ کیا اور تمام شہر کو اجاڑ دیا اور اس لڑکی کو اپنے  ہمراہ لے  گیا اور اس سے  نکاح کر لیا۔ ایک رات جبکہ لڑکی نضیرہ اپنے  بسترے  پر لیٹی ہوئی تھی اسنے  نیند نہ آ رہی تھی سلملا رہی تھی اور بے  چینی سے  کروٹیں بدل رہی تھی تو شاہ پور نے  پوچھا کیا بات ہے  اس نے  کہا میرے  بستر میں کچھ ہے  جس سے  مجھے  نید نہیں  آ رہی، شمع جلائی گئی بستر ٹٹولا گیا تو گل آس کی ایک بتی نکلی شاہ پور اس نزاکت پر حیران رہ گیا کہ ایک اتنی چھوٹی سی بتی بستر میں ہونے  پر اسے  نیند نہیں  آئی؟ پوچھا تیرے  والد کے  ہاں تیرے  لئے  کیا ہوتا تھا؟ اس نے  کہا نرم ریشم کا بسترا تھا صرف باریک نرم ریشمی لباس تھا صرف نلیوں کا گودا کھایا کرتی تھی اور صرف انگوری خالص شراب پیتی تھی۔ یہ انتظام میرے  باپ نے  میرے  لئے  کر رکھا تھا۔ یہ تھی بھی ایسی کہ اس کی پنڈلی کا گودا تک باہر سے  نظر آتا تھا ۔ ان باتوں سے  شاہ پور پر ایک اور رنگ چڑھا دیا اور اس نے  کہا جس باپ نے  تجھے  اس طرح پالا پوسا اس کے  ساتھ تو نے  یہ سلوک کیا کہ میرے  ہاتھوں اسے  قتل کرایا اس کے  مالک کو تاخت و تاراج کرایا پھر مجھے  تجھ سے  کیا امید رکھنی چاہیے ؟ اللہ جانے  میرے  ساتھ تو کیا کرے ؟ اسی وقت حکم دیا کہ اس کے  سر کے  بال گھوڑے  سے  باندھ دیئے  جائیں اور گھوڑے  کو بے  لگام چھوڑ دیا جائے ، چنانچہ یہی ہوا گھوڑا بد کا بھاگا اچھلنے  کودنے  لگا اور اس کی ٹاپوں سے  زمین پر پچھاڑیں کھاتے  ہوئے  اس کے  جسم کا چورا چورا ہو گیا۔ چنانچہ اس واقعہ کو عرب شعراء نے  نظم بھی کیا ہے  اس کے  بعد اللہ تعالیٰ فرماتے  ہیں  کہ اگر انہیں  خوش حالی پھلواری اولاد و کھیتی ہاتھ لگے  تو کہتے  ہیں  یہ اللہ کی طرف سے  ہے  اور اگر قحط سالی پڑے  تنگ روزی ہو موت ہونے  کا یہ پھل ہے  صاحب ایمان بننے  کا،  فرعونی بھی اسی طرح برائیوں کو حضرت موسیٰ اور مسلمانوں سے  منسوب بد شگونی لیا کرتے  تھے  جیسے  کہ قرآن نے  اس کا ذکر کیا ہے  ایک آیت میں ہے (آیت”ومن الناس من یعبد اللہ علی حرف”) الخ یعنی بعض لوگ ایسے  بھی ہیں  جو ایک کنارے  کھڑے  رہ کر اللہ کی عبادت کرتے  ہیں  یعنی اگر بھلائی ملی تو باچھیں کھل جاتی ہیں  اور اگر برائی پہنچے  تو الٹے  پیروں پلٹ جاتے  ہیں  ۔ یہ ہیں  جو دونوں جہان میں برباد ہوں گے  پس یہاں بھی ان منافقوں کی جو بظاہر مسلمان ہیں  اور دل کے  کھوٹے  ہیں  برائی بیان ہو رہی ہے ۔ کہ جہاں کچھ نقصان ہوا اور بہک گئے  کہ اسلام لانے  کی وجہ سے  ہمیں نقصان ہوا۔ سدی فرماتے  ہیں  کہ حسنہ سے  مراد یہاں بارشوں کا ہونا جانوروں میں زیادتی ہونا بال بچے  بہ کثرت ہونا خوشحالی میسر آنا وغیرہ ہے  اگر یہ ہوا تو  کہتے  کہ یہ سب من جانب اللہ ہے  اور اگر اس کے  خلاف ہو تو اس بے  برکتی کا باعث رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو بتاتے  اور کہتے  یہ سب تیری وجہ سے  ہے  یعنی ہم نے  اپنے  بڑوں کی راہ چھوڑ دی اور اس نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی تابعداری اختیار کی اس لئے  اس مصیبت میں پھنس گئے  اور اس بلا میں گرفتار ہوئے  پس پروردگار ان کے  ناپاک قول اور اس پلید عقیدے  کی تردید کرتے  ہوئے  فرماتا ہے  کہ سب کچھ اللہ کی طرف سے  ہے ، اس کی قضا و قدر ہر بھلے  برے  فاسق فاجر نیک بد مومن کافر پر جاری ہے، بھلائی برائی سب اس کی طرف سے  ہے  پھر ان کے  اس قول کی جو محض شک و شبہ کم علمی بے  وقوفی جہالت اور ظلم کی بنا پر ہے  تردید کرتے  ہوئے  فرماتا ہے  کہ انہیں  کیا ہو گیا ہے ؟ بات سمجھنے  کی قابلیت بھی ان سے  جاتی رہی۔ “ایک غریب حدیث جو (آیت کل من عند اللہ) کے  متعلق ہے  اسے  بھی سنئے  ” بزار میں ہے  ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے  ساتھ بیٹھے  تھے  کہ کچھ لوگوں کے  ہمراہ حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ آئے  ان دونوں کی آوازیں بلند ہو رہی تھیں اور حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے  قریب آ کر دونوں صاحب بیٹھ گئے  تو حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے  دریافت کیا کہ بلند آواز گفتگو کیا ہو رہی تھی؟ ایک شخص نے  کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ تو کہہ رہے  تھے  ؟ حضرت عمر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے  کہا میں کہہ رہا تھا کہ دونوں باتیں اللہ جل شانہ کی طرف سے  ہیں  آپ نے  فرمایا یہی بحث اول اول حضرت جبرئیل اور حضرت میکائیل وہی کہتے  تھے  جو ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ تم کہ رہے  ہو۔ پس آسمان والوں میں جب اختلاف ہوا تو زمین والوں میں تو ہونا لازمی تھا، آخر حضرت اسرافیل کی طرف فیصلہ گیا اور انہوں نے  فیصلہ کیا کہ حسنات اور سیات دونوں اللہ مختار کل کی طرف سے  ہیں، پھر آپ نے  دونوں کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا میرا فیصلہ سنو اور یاد رکھو اگر اللہ تعالیٰ اپنی نافرمانی کے  عمل کو نہ چاہتا تو ابلیس کو پیدا ہی نہ کرتا، لیکن شیخ الاسلام امام تقی الدین ابو العباس حضرت ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے  ہیں  یہ حدیث موضوع ہے  اور تمام ان محدثین کا جو حدیث کی پرکھ رکھتے  ہیں  اتفاق ہے  کہ یہ روایت گھڑی ہوئی ہے  ۔ پھر اللہ تعالیٰ اپنے  نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے  خطاب فرماتے  ہیں  جس سے  مراد عموم ہے  یعنی سب سے  ہی خطاب ہے  کہ تمہیں  جو بھلائی پہنچتی ہے  وہ اللہ کا فضل لطف رحمت اور جو برائی پہنچتی ہے  وہ خود تمہاری طرف سے  تمہارے  اعمال کا نتیجہ ہے، جیسے  اور آیت میں ہے (آیت وما اصابکم من مصیبۃ فما کسبت ایدیکم ویعفو عن کثیر) یعنی جو مصیبت تمہیں  پہنچتی ہے  ۔ وہ تمہارے  بعض اعمال کی وجہ سے  اور بھی تو اللہ تعالیٰ بہت سی بد اعمالیوں سے  دو گزر فرماتا رہتا ہے (آیت  فمن نفسک) سے  مراد بسبب گناہ ہے  یعنی شامت اعمال آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے  منقول ہے  کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے  فرمایا جس شخص کا ذرا سا جسم کسی لکڑی سے  جل جائے  یا اس کا قدم پھسل جائے  یا اسے  ذرا سی محنت کرنی پڑے  جس سے  پسینہ آ جائے  تو وہ بھی کسی نہ کسی گناہ پر ہوتا ہے  اور ابھی تک تو اللہ تعالیٰ جن گناہوں سے  چشم پوشی فرماتا ہے  جنہیں  معاف کر دیتا ہے  وہ بہت سارے  ہیں، اس مرسل حدیث کا مضمون ایک متصل حدیث میں بھی ہے  حضور فرماتے  ہیں  اس کی قسم جس کے  ہاتھ میں میری جان ہے  کہ ایمان دار کو رنج یا جو بھی تکلیف و مشقت پہنچتی ہے  یہاں تک کہ جو کانٹا بھی لگتا ہے  اسے  اللہ تعالیٰ اس کی خطاؤں کا کفارہ بنا دیتا ہے، ابو صالح فرماتے  ہیں  مطلب اس آیت کا یہ ہے  کہ جو برائی تجھے  پہنچتی ہے  اس کا باعث تیرا گناہ ہے  ہاں اسے  مقدر کرنے  والا اللہ تعالیٰ آپ ہے، حضرت مطرف بن عبد اللہ فرماتے  ہیں  تم تقدیر کے  بارے  میں کیا جانتے  ہو؟ کیا تمہیں  سورہ نساء کی یہ آیت کافی نہیں، پھر اس آیت کو پڑھ کر فرماتے  ہیں  اللہ سبحانہ کی قسم لوگ اللہ سبحانہ کی طرف سونپ نہیں  دئیے  گئے  انہیں  حکم دیئے  گئے  ہیں  اور اسی کی طرف وہ لوٹتے  ہیں  یہ قول بہت قوی اور مضبوط ہے  قدریہ اور جبریہ کی پوری تردید کرتا ہے، تفسیر اس بحث کا موضوع نہیں ، پھر فرماتا ہے  کہ تیرا کام اے  نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم شریعت کی تبلیغ کرنا ہے  اس کی رضامندی اور ناراضگی کے  کام کو اس کے  احکام اور اس کی ممانعت کو لوگوں تک پہنچا دینا ہے، اللہ کی گواہی کافی ہے  کہ اس نے  تجھے  رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم بنا کر بھیجا ہے، اسی طرح کی گواہی اس امر پر بھی کافی ہے  کہ تو نے  تبلیغ کر دی تیرے  ان کے  درمیان جو ہو رہا ہے  کہ اسے  بھی وہ مشاہدہ کر رہا ہے  یہ جس طرح کفار عناد اور تکبر تیرے  ساتھ برتتے  ہیں  اسے  بھی وہ دیکھ رہا ہے ۔

۸۰

ظاہر و باطن نبی ا کرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا مطیع بنا لو

 اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے  کہ میرے  بندے  اور رسول حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا تابعدار صحیح معنی میں میرا ہی اطاعت گزار ہے  آپ کا نافرمان میرا نافرمان ہے، اس لئے  کہ آپ اپنی طرف سے  کچھ نہیں  کہتے  جو فرماتے  ہیں  وہ وہی ہوتا ہے  جو میری طرف سے  وحی کیا جاتا ہے،حضور صلی اللہ علیہ و سلم فرماتے  ہیں  کہ میری ماننے  والا اللہ تعالیٰ کی ماننے  والا ہے  اور جس نے  میری نافرمانی کی اس نے  اللہ کی بات نہ مانی جس نے  امیر کی اطاعت کی اور جس نے  امیر کی نافرمانی کی اس نے  میری نافرمانی کی  یہ حدیث بخاری و مسلم میں ثابت ہے، پھر فرماتا ہے  جو بھی منہ موڑ کر بیٹھ جائے  تو اس کا گناہ اے  نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم آپ پر نہیں  آپ کا ذمہ تو طرف پہنچا دینا ہے، جو نیک نصیب ہوں گے  مان لیں گے  نجات اور اجر حاصل کر لیں گے  ہاں ان کی نیکیوں کا ثواب آپ کو بھی ہو گا کیونکہ دراصل اس راہ کا راہبر اس نیکی کے  معلم آپ ہی ہیں ۔ اور جو نہ مانے  نہ عمل کرے  تو نقصان اٹھائے  گا بدنصیب ہو گا اپنے  بوجھ سے  آپ مرے  گا اس کا گناہ آپ پر نہیں  اس لئے  کہ آپ نے  سمجھانے  بجھانے  اور راہ حق دکھانے  میں کوئی کسر اٹھا نہیں  رکھی۔ حدیث میں ہے  اللہ اور اس کے  رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی اطاعت کرنے  والا رشد و ہدایت والا ہے  اور اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا نافرمان اپنے  ہی نفس کو ضرور نقصان پہنچانے  والا ہے، پھر منافقوں کا حال بیان ہو رہا ہے  کہ ظاہری طور پر اطاعت کا اقرار کرتے  ہیں  موافقت کا اظہار کرتے  ہیں  لیکن جہاں نظروں سے  دور ہوئے  اپنی جگہ پر پہنچے  تو ایسے  ہو گئے  گویا ان تلوں میں تیل ہی نہ تھا جو کچھ یہاں کہا تھا اس کے  بالکل برعکس راتوں کو چھپ چھپ کر سازشیں کرنے  بیٹھ گے  حالانکہ اللہ تعالیٰ ان کی ان پوشیدہ چالاکیوں اور چالوں کو بخوبی جانتا ہے  اس کے  مقرر کردہ زمین کے  فرشتے  ان کی سب کرتوتوں اور ان کی تمام باتوں کو اس کے  حکم سے  ان کے  نامہ اعمال میں لکھ رہے  ہیں  پس انہیں  ڈانٹا جا رہا ہے  کہ یہ کیا بیہودہ حرکت ہے ؟ جس نے  تمہیں  پیدا کیا ہے  اس سے  تمہاری کوئی بات چھپ سکتی ہے ؟ تم کیوں ظاہر و باطن یکساں نہیں  رکھتے، ظاہر باطن کا جاننے  والا تمہیں  تمہاری اس بیہودہ حرکت پر سزا دے  گا ایک اور آیت میں بھی منافقوں کی اس خصلت کا بیان ان الفاظ میں فرمایا ہے (آیت”ویقولون امنا باللہ وبالرسول واطعنا”) الخ پھر اپنے  نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو حکم دیتا ہے  کہ آپ ان سے  درگزر کیجئے  بردباری برتئے، ان کی خطا معاف کیجئے ، ان کا حال ان کے  نام سے  دوسروں سے  نہ کہئے، ان سے  بالکل بے  خوف رہیے  اللہ پر بھروسہ کیجئے  جو اس پر بھروسہ کرے  جو اس کی طرف رجوع کرے  اسے  وہی کافی ہے ۔

۸۲

کتاب اللہ میں اختلاف نہیں  ہمارے  دماغ میں فتور ہے

اللہ تعالیٰ اپنے  بندوں کو حکم دیتا ہے  کہ وہ قرآن کو غور و فکر تامل و تدبر سے  پڑھیں اس سے  تغافل نہ برتیں، بے  پرواہی نہ کریں اس کے  مستحکم مضامین اس کے  حکمت بھرے  احکام اس کے  فصیح و بلیغ الفاظ پر غور کریں، ساتھ یہ خبر دیتا ہے  کہ یہ پاک کتاب اختلاف، اضطراب، تعارض اور تضاد سے  پاک ہے  اس لئے  کہ حکم و حمید اللہ کا کلام ہے  وہ خود حق ہے  اور اسی طرح اس کا کلام بھی سراسر حق ہے، چنانچہ اور جگہ فرمایا (آیت افلا یتدبرون القرآن ام علی قلوب اقفالھا) یہ لوگ کیوں قرآن میں غور و خوض نہیں  کرتے ؟ کیا ان کے  دلوں پر سنگین قفل لگ گئے  ہیں، پھر فرماتا ہے  اگر یہ قرآن اللہ کی طرف سے  نازل شدہ نہ ہوتا جیسے  کہ مشرکین اور منافقین کا زعم ہے  یہ اگر یہ فی الحقیقت کسی کا اپنی طرف سے  وضع کیا ہوا ہوتا یا کوئی اور اس کا کہنے  والا ہوتا تو ضروری بات ًتھی کہ اس میں انسانی طبائع کے  مطابق اختلاف ملتا، یعنی ناممکن ہے  کہ انسانی اضطراب و تضاد سے  مبرا ہو لازماً یہ ہوتا کہ کہیں  کچھ کہا جاتا اور کہیں  کچھ اور یہاں ایک بات کہی تو آگے  جا کر اس کے  خلاف بھی کہہ گئے ۔ چنانچہ عالموں کا قول بیان کیا گیا ہے  کہ وہ کہے  ہیں  ہم اس پر ایمان لائے  یہ سب ہمارے  رب کی طرف سے  ہیں  یعنی محکم اور متشابہ کو محکم کی طرف لوٹا دیتے  ہیں  اور ہدایت پالیتے  ہیں  اور جن کے  دلوں میں کجی ہے  بد نیتی ہے  وہ محکم متشابہ کی طرف موڑ توڑ کر کے  گمراہ ہو جاتے  ہیں ۔ یہی وجہ ہے  جو اللہ تعالیٰ نے  پہلے  صحیح مزاج والوں کی تعریف کی اور دوسری قسم کے  لوگوں کی برائی بیان فرمائی عمرو بن شعیب سے  مروی ہے  عن ابیہ عن جدہ والی حدیث میں ہے  کہ میں ہے  کہ میں اور میرے  بھائی ایک ایسی مجلس میں شامل ہوئے  کہ اس کے  مقابلہ میں سرخ اونٹوں کا مل جانا بھی اس کے  پاسنگ برابر بھی قیمت نہیں  رکھتا ہم دونوں نے  دیکھا کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے  دروازے  پر چند بزرگ صحابہ کھڑے  ہوئے  ہیں  ہم ادب کے  ساتھ ایک طرف بیٹھ گئے  ان میں قرآن کریم کی کسی آیت کی بابت مذاکرہ ہو رہا تھاجس میں اختلافی مسائل بھی تھے  آخر بات بڑھ گئی اور زور زور سے  آپس میں بات چیت ہونے  لگی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم اسے  سن کر سخت غضبناک ہو کر باہر تشریف لائے  چہرہ مبارک سرخ ہو رہا تھا ان پر مٹی ڈالتے  ہوئے  فرمانے  لگے  خاموش رہو تم سے  اگلی امتیں اسی باعث تباہ و برباد ہو گئیں، کہ انہوں نے  اپنے  انبیاء سے  اختلاف کیا اور کتاب اللہ کی ایک آیت کو دوسری آیت کے  خلاف سمجھایاد رکھو قرآن کی کوئی آیت دوسری آیت کے  خلاف اسے  جھٹلانے  والی نہیں  بلکہ قرآن کی ایک ایک آیت ایک دوسرے  کی تصدیق کرتی ہے  تم جسے  جان لو عمل کرو جسے  نہ معلوم کر سکو اس کے  جاننے  والے  کے  لئے  چھوڑ دو۔ دوسری آیت میں ہے  کہ صحابہ تقدیر کے  بارے  میں مباحثہ کر رہے  تھے، راہی کہتے  ہیں  کہ کاش کہ میں اس مجلس میں نہ بیٹھتا۔ حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے  ہیں  کہ میں دوپہر کے  وقت حاضر حضور ہوا تو بیٹھا ہی تھا کہ ایک آیت کے  بارے  میں دو شخصوں کے  درمیان اختلاف ہوا ان کی آوازیں اونچی ہوئیں تو آپ نے  فرمایا تم سے  پہلی امتوں کی ہلاکت کا باعث صرف ان کا کتاب اللہ کا اختلاف کرنا ہی تھا (مسند احمد) ۔ پھر ان جلد باز لوگوں کو روکا جا رہا ہے  جو کسی امن یا خوف کی خبر پاتے  ہی بے  تحقیق بات ادھر سے  ادھر تک پہنچا دیتے  ہیں  حالانکہ ممکن ہے  وہ بالکل ہی غلط ہو، صحیح مسلم شریف میں ہے  جو شخص کوئی بات بیان کرے  اور وہ گمان کرتا ہو کہ یہ غلط ہے  وہ بھی جھوٹوں میں کا ایک جھوٹا ہے، یہاں پر ہم حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ والی روایت کا ذکر کرنا بھی مناسب سمجھتے  ہیں  کہ جب انہیں  یہ خبری پہنچا کہ حضور علیہ السلام نے  اپنی بیویوں کو طلاق دے  دی تو آپ اپنے  گھر سے  چلے  مسجد میں آئے  یہاں بھی لوگوں کو یہی کہتے  سنا تو بذات خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے  پاس پہنچے  اور خود آپ سے  دریافت کیا کہ کیا یہ سچ ہے ؟ کہ آپ نے  اپنی ازواج مطہرات کو طلاق دے  دی؟ آپ نے  فرمایا غلط ہے  چنانچہ فاروق اعظم نے  اللہ کی بڑائی بیان کی۔ صحیح مسلم میں ہے  کہ پھر مسجد کے  دروازے  پر کھڑے  ہو کر بہ آواز بلند فرمایا لوگو رسول مقبول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے  اپنی بیویوں کو طلاق نہیں  دی۔ اسی پر یہ آیت نازل ہوئی۔ پس حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ وہ ہیں  جنہوں نے  اس معاملہ کی تحقیق کی ۔ علمی اصطلاح میں استنباط کہتے  ہیں  کسی چیز کو اس کے  منبع اور مخزن سے  نکالنا مثلاً جب کوئی شخص کسی کان کو کھود کر اس کے  نیجے  سے  کوئی چیز نکالے  تو عرب کہتے  ہیں  “استنبط الرجل “پھر فرماتا ہے  اگر اللہ تعالیٰ کا فضل و رحم تم پر نہ ہوتا تو تم سب کے  سب سوائے  چند کامل ایمان والوں کے  شیطان کے  تابعدار بن جاتے  ایسے  موقعوں پر محاورۃ معنی ہوتے  ہیں  کہ تم کل کے  کل شامل ہو چنانچہ عرب کے  ایسے  شعر بھی ہیں ۔

۸۴

حکم جہاد امتحان ایمان ہے

رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو حکم ہو رہا ہے  کہ آپ تنہا اپنی ذات سے  اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کریں چاہیے  کوئی بھی آپ کا ساتھ نہ دے، ابو اسحاق حضرت براء بن عازب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے  دریافت فرماتے  ہیں  کہ ایک مسلمان اکیلا تنہا ہو اور دشمن ایک سو ہوں تو کیا وہ ان سے  جہاد کرے ؟ آپ نے  فرمایا ہاں تو کہا پھر قرآن کی اس آیت سے  تو ممانعت تاکید ہوتی ہے  کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے  اپنے  ہاتھوں آپ ہلاکت میں نہ پڑو تو حضرت براء نے  فرمایا اللہ تعالیٰ اسی آیت میں اپنے  نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے  فرماتا ہے  اللہ کی راہ میں لڑ تجھے  فقط تیرے  نفس کی تکلیف دی جاتی ہے  اور حکم دیا جاتا ہے  کہ مومنوں کو بھی اس سے  مراد اللہ کی راہ میں خرچ کرنے  سے  رکنے  والا ہے  اور روایت میں ہے  کہ جب یہ آیت ہلاکت اتری تو آپ نے  صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے  فرمایا مجھے  میرے  رب نے  جہاد کا حکم دیا ہے  پس تم بھی جہاد کرو یہ حدیث غریب ہے ۔ پھر فرماتا ہے  مومنوں کو دلیری دلا اور انہیں  جہاد کی رغبت دلا، چنانچہ بدر والے  دن میدان جہاد میں مسلمانوں کی صفیں درست کرتے  ہوئے  حضور علیہ السلام نے  فرمایا اٹھو اور بڑھو اس جنت کی طرف جس کی چوڑائی آسمان و زمین ہے، جہاد کی ترغیب کی بہت سی حدیثیں ہیں، بخاری میں ہے  جو اللہ پر اور اس کے  رسول پر ایمان لائے ، صلوٰۃ قائم کرے، زکوٰۃ دیتا رہے، رمضان کے  روزے  رکھے  اللہ پر اس کا حق ہے  کہ وہ اسے  جنت میں داخل کرے  اللہ کی راہ میں ہجرت کی ہو جہاں پیدا ہوا ہے  وہیں  ٹھہرا رہا ہو، لوگوں نے  کہا حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کیا لوگوں کو اس کی خوشخبری ہم نہ دے  دیں ؟ آپ نے  فرمایا سنو جنت میں سو درجے  ہیں  جن میں سے  ایک درجے  میں اس قدر بلندی ہے  جتنی زمین و آسمان میں اور یہ درجے  اللہ نے  ان کے  لئے  تیار کیے  ہیں  جو اس کی راہ میں جہاد کریں ۔ پس جب تم اللہ سے  جنت مانگو تو جنت الفردوس طلب کرو وہ بہترین جنت ہے  اور سب سے  اعلیٰ ہے  اس کے  اوپر رحمٰن کا عرش ہے  اور اسی سے  جنت کی سب نہریں جاری ہوتی ہیں، مسلم کی حدیث میں ہے  جو شخص رب ہونے  پر اسلام کے  دین ہونے  پر محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے  رسول و نبی ہونے  پر راضی ہو جائے  اس کے  لئے  جنت واجب ہے  حضرت ابو سعید اسے  سن کر خوش ہو کر کہنے  لگے  حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم دوبارہ ارشاد ہو آپ نے  دوبارہ اسی کو بیان فرما کر کہا ایک اور عمل ہے  جس کے  باعث اللہ تعالیٰ اپنے  بندے  کے  سو درجے  بلند کرتا ہے  ایک درجے  سے  دوسرے  درجے  تک اتنی بلندی ہے  جتنی آسان و زمین کے  درمیان ہے  پوچھا وہ عمل کیا ہے ؟ فرمایا اللہ کی راہ میں جہاد۔ ارشاد ہے  جب آپ جہاد کے  لئے  تیار ہو جائیں گے  مسلمان آپ کی تعلیم سے  جہاد پر آمادہ ہو جائیں گے  تو پھر اللہ کی مدد شامل حال ہو گی اللہ تعالیٰ کفر کی کمر توڑ دے  گا کفار کی ہمت پست کر دے  گا ان کے  حوصلے  ٹوٹ جائیں گے  پھر کیا مجال کہ دنیا میں بھی انہیں  مغلوب کرے  اور یہیں  انہیں  عذاب بھی دے  اسی طرح آخرت میں بھی اسی کو قدرت حاصل ہے، جیسے  اور آیت میں ہے ۔ (آیت ولو یشاء اللہ لا نتصر منھم) الخ، اگر اللہ چاہے  ان سے  از خود بدلہ لے  لے ، لیکن وہ ان کو اور تمہیں  آزما رہا ہے  ۔ جو شخص کسی امر خیر میں کوشش کرے  تو اسے  بھی اس خیر بھلائی کا ثواب ملے  گا، اور جو اس کے  خلاف کوشش کرے  اور بد نتیجہ برآمد کرے  اس کی کوشش اور نیت کا اس پر بھی ویسا ہی بوجھ ہو گا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم فرماتے  ہیں  سفارش کرو اجر پاؤ گے  اور اللہ اپنے  نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی زبان پر وہ جاری کرے  گا جو چاہے، یہ آیت ایک دوسرے  کی سفارش کرنے  کے  بارے  میں نازل ہوئی ہے، اس مہربانی کو دیکھئے  فرمایا محض شفاعت پر ہی اجر مل جائے  گا خواہ اس سے  کام بنے  یا نہ بنے، اللہ ہر چیز کا حافظ ہے، ہر چیز پر حاضر ہے، ہر چیز کا حساب لینے  والا ہے، ہر چیز پر قادر ہے، ہر چیز کو دوام بخشنے  والا ہے، ہر ایک کو روزی دینے  والا ہے، ہر انسان کے  اعمال کا اندازہ کرنے  والا ہے ۔

سلام کہنے  والے  کو اس سے  بہتر جواب دو

مسلمانو! جب تمہیں  کوئی مسلمان سلام کرے  تو اس کے  سلام کے  الفاظ سے  بہتر الفاظ سے  اس کا جواب دو، یا کم سے  کم انہی الفاظ کو دوہرا دو پس زیادتی مستحب ہے  اور برابری فرض ہے، ابن جریر میں ہے  ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا السلام علیکم یا رسول اللہ آپ نے  فرمایا وعلیک السلام و رحمۃ اللہ و برکاتہ پھر ایک صاحب آئے  انہوں نے  السلام علیک و رحمۃ اللہ و برکاتہ آپ نے  جواب میں فرمایا و علیک تو اس نے  کہا اے  اللہ کے  نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم فلاں اور فلاں نے  آپ کو سلام کیا تو آپ نے  جواب دیا کچھ زیادہ دعائیہ الفاظ کے  ساتھ دیا جو مجھے  نہیں  دیا آپ نے  فرمایا تم نے  ہمارے  لئے  کچھ باقی ہی نہ چھوڑا اللہ کا فرمان ہے  جب تم پر سلام کیا جائے  تو تم اس سے  اچھا جواب دو یا اسی کو لوٹا دو اس لئے  ہم نے  وہی الفاظ لوٹا دئیے  یہ روایت ابن ابی حاتم میں بھی اسی طرح مروی ہے ، اسے  ابوبکر مردویہ نے  بھی روایت کیا مگر میں نے  اسے  مسند میں نہیں  دیکھا واللہ اعلم اس حدیث سے  یہ بھی معلوم ہوا کہ سلام کے  کلمات میں سے  زیادتی نہیں، اگر ہوتی تو آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اس آخری صحابی کے  جواب میں وہ لفظ کہہ دیتے  ۔ مسند احمد میں ہے  کہ ایک شخص حضور کے  پاس آئے  اور السلام علیکم یا رسول اللہ کہہ کر بیٹھ گئے  آپ نے  جواب دیا اور فرمایا دس نیکیاں ملیں، دوسرے  آئے  اور السلام علیکم و رحمۃ اللہ یا رسول اللہ کہہ کر بیٹھ گئے  آپ نے  فرمایا بیس نیکیاں ملیں، پھر تیسرے  صاحب آئے  انہوں نے  کہا السلام علیکم و رحمۃ و برکاتہ آپ نے  فرمایا تیس نیکیاں ملیں، امام ترمذی اسے  حسن غریب بتاتے  ہیں ، حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس آیت کو عام لیتے  ہیں  اور فرماتے  ہیں  کہ خلق اللہ میں سے  جو کوئی سلام کرے  گا اسے  جواب دو گو وہ مجوسی ہو، حضرت قتادہ فرماتے  ہیں  سلام کا اس سے  بہتر جواب دینا تو مسمانوں کے  لئے  ہے  اور اسی کو لوٹا دینا اہل ذمہ کے  لئے  ہے، لیکن اس تفسیر میں ذرا اختلاف ہے  جیسے  کہ اوپر کی حدیث میں گزر چکا ہے  مراد یہ ہے  کہ اس کے  سلام سے  اچھا جواب دیں اور اگر مسلمان سلام کے  سبھی الفاظ کہہ دے  تو پھر جواب دینے  والا انہی کو لوٹا دے ، ذمی لوگوں کو خود کریں تو جواب میں اتنے  ہی الفاظ کہہ دے، بخاری و مسلم میں ہے  جب کوئی یہودی تمہیں  سلام کرے  تو خیال رکھو یہ کہ دیتے  ہیں  السام علیک تو تم کہ دو و علیک صحیح مسلم میں ہے  یہود و نصاریٰ کو تم پہلے  سلام نہ کرو اور جب راستے  میں مڈ بھیڑ ہو جائے  تو انہیں  تنگی کی طرف مضطر کر، امام حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے  ہیں  سلام نفل ہے  اور جواب سلام فرض ہے  اور علماء کرام کا فرمان بھی یہی ہے ، پس اگر جواب نہ دے  گا تو گنہگار ہو گا اس لئے  کہ جواب سلام کا اللہ کا حکم ہے  اس کے  بعد اللہ تعالیٰ اپنی توحید بیان فرماتا ہے  اور الوہیت اور اپنا یکتا ہونا ظاہر کرتا ہے  اور اس میں ضمنی مضامین بھی ہیں  اسی لئے  دوسرے  جملے  کو لام سے  شروع کیا جو قسم کے  جواب میں آتا ہے، تو اگلا جملہ خبر ہے  اور قسم بھی ہے  کہ وہ عنقریب تمام مقدم و موخر کو میدان محشر میں جمع کرے  گا اور وہاں ہر ایک کو اس کے  عمل کا بدلہ دے  گا، اس اللہ سمیع بصیر سے  زیادہ سچی بات والا اور کوئی نہیں ، اس کی خبر اس کا وعدہ اس کی وعید سب سچ ہے، وہی معبود برحق ہے ، اس کے  سوا کوئی مربی نہیں ۔

۸۸

منافقوں سے  ہوشیار رہو

اس میں اختلاف ہے  کہ منافقوں کے  کس معاملہ میں مسلمانوں کے  درمیان دو قسم کے  خیالات داخل ہوئے  تھے ، حضرت زید بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے  ہیں  کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم جب میدان احد میں تشریف لے  گئے  تب آپ کے  ساتھ منافق بھی تھے  جو جنگ سے  پہلے  ہی لوٹ آئے  تھے  ان کے  بارے  میں بعض مسلمان تو کہتے  تھے  کہ انہیں  قتل کر دینا چاہیے  اور بعض کہتے  تھے  نہیں  یہ بھی ایماندار ہیں، اس پر یہ آیت اتری تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے  فرمایا یہ شہر طیبہ ہے  جو خود بخود میل کچیل کو اس طرح دور کر دے  گا جس بھٹی لوہے  کے  میل کچیل کو چھانٹ دیتی ہے ۔ (بخاری و مسلم) ابن اسحاق میں ہے  کہ کل لشکر جنگ احد میں ایک ہزار کا تھا، عبد اللہ بن ابی سلول تین سو آدمیوں کو اپنے  ہمراہ لے  کر واپس لوٹ آیا تھا اور حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے  ساتھ پھر سات سو ہی رہ گئے  تھے، حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے  ہیں  مکہ سے  نکلے ، انہیں  یقین تھا کہ حب رسول سے  ان کی کوئی روک ٹوک نہیں  ہو گی کیونکہ بظاہر کلمہ کے  قائل تھے  ادھر جب مدنی مسلمانوں کو اس کا علم ہوا تو ان میں سے  بعض کہنے  لگے  ان نا مرادوں سے  پہلے  جہاد کرو یہ ہمارے  دشمنوں کے  طرف دار ہیں  اور بعض نے  کہا سبحان اللہ جو لوگ تم جیسا کلمہ پڑھتے  ہیں  تم ان سے  لڑو گے ؟ صرف اس وجہ سے  کہ انہوں نے  ہجرت نہیں  کی اور اپنے  گھر نہیں  چھوڑے ، ہم کس طرح ان کے  خون اور ان کے  مال اپنے  اوپر حلال کر سکتے  ہیں ؟ ان کا یہ اختلاف رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے  سامنے  ہوا آپ خاموش تھے  جو یہ آیت نازل ہوئی (ابن ابی حاتم) حضرت سعید بن معاذ کے  لڑکے  فرماتے  ہیں  حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر جب تہمت لگائی گئی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے  ممبر پر کھڑے  ہو کر فرمایا کوئی ہے  جو مجھے  عبد اللہ بن ابی کی ایذا سے  بچائے  اس پر اوس و خزرج کے  درمیان جو اختلاف ہوا اس کی بابت یہ آیت نازل ہوئی ہے، ان کی ہدایت کی کوئی راہ نہیں ۔ یہ تو چاہتے  ہیں  کہ سچے  مسلمان بیھ ان جیسے  گمراہ ہو جائیں ان کے  دلوں میں اس قدر عداوت ہے، تو تمہیں  ممانعت کی جاتی ہے  کہ جب تک یہ ہجرت نہ کریں انہیں  اپنا نہ سمجھو، یہ خیال نہ کرو کہ یہ تمہارے  دوست اور مددگار ہیں، بلکہ یہ خود اس لائق ہیں  کہ ان سے  باقاعدہ جہاد کیا جائے ۔ پھر ان میں سے  ان حضرات کا استثنا کیا جاتا ہے  جو کسی ایسی قوم کی پناہ میں چلے  جائیں جس سے  مسلمانوں کا عہد و پیمان صلح و سلوک ہو تو ان کا حکم بھی وہی ہو گا جو معاہدہ والی قوم کا ہے ، سراقہ بن مالک مدلجی فرماتے  ہیں  جب جنگ بدر اور جنگ احد میں مسلمان غالب آئے  اور آس پاس کے  لوگوں میں اسلام کی بخوبی اشاعت ہو گئی تو مجھے  معلوم ہوا کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا ارادہ ہے  کہ خالد بن ولید کو ایک لشکر دے  کر میری قوم بنو مدلج کی گوشمالی کے  لئے  روانہ فرمائیں تو میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا میں آپ کو احسان یاد دلایا ہوں لوگوں نے  مجھ سے  کہا خاموش رہ لیکن حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے  فرمایا اسے  کہنے  دو، کہو کیا کہنا چاہتے  ہو؟ میں نے  کہا مجھے  معلوم ہوا ہے  کہ آپ میری قوم کی طرف لشکر بھیجنے  والے  ہیں  میں چاہتا ہوں کہ آپ ان سے  صلح کر لیں اس بات پر کہ اگر قریش اسلام لائیں تو وہ بھی مسلمان ہو جائیں گے  اور اگر وہ اسلام نہ لائیں تو ان پر بھی آپ چڑھائی نہ کریں، حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے  حضرت خالد بن ولید کا ہاتھ اپنے  ہاتھ میں لے  کر فرمایا ان کے  ساتھ جاؤ اور ان کے  کہنے  کے  مطابق ان کی قوم سے  صلح کر آؤ پس اس بات پر صلح ہو گئی کہ وہ دشمنان دین کی قسم کق مدد نہ کریں اور اگر قریش اسلام لائیں تو ہی بھی مسلمان ہو جائیں پس اللہ نے  یہ آیت اتاری کہ یہ چاہتے  ہیں  کہ تم بھی کفر کرو جیسے  وہ کفر کرتے  ہیں  پھر تم اور وہ برابر ہو جائیں پس ان میں سے  کسی کو دوست نہ انو، یہی روایت ابن مردویہ میں ہے  کہ تم بھی کفر کرو جیسے  وہ کفر کرتے  ہیں  پھر تم وہ برابر ہو جاؤ پس ان میں سے  کسی کو دوست نہ جانو، یہی روایت ابن مردویہ میں ہے  اور ان میں ہی آیت “الاالذین یصلون”الخ نازل ہوئی پس جو بھی ان سے  مل جاتا وہ انہی کی طرح پر امن رہتا کلام کے  الفاظ سے  زیادہ مناسبت اسی کو ہے، صحیح بخاری شریف میں صلح حدیبیہ کے  قصے  میں ہے  کہ پھر جو چاہتا ہے  کہ کفار کی جماعت میں داخل ہو جاتا ہے  اور امن پا لیتا ہے  جو چاہتا ہے  مدنی مسلمانوں سے  ملتا اور عہد نامہ کی وجہ سے  مامون ہو جاتا ہے  حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا قوم ہے  کہ اس حکم کو پھر اس آیت نے  منسوخ کر دیا کہ “فاذا انسلخ الاشھر الحرم فاقتلواالمشرکین حیث وجدتموھم”الخ یعنی جب حرمت والے  مہینے  گزر جائیں تو مشرکین سے  جہاد کرو جہاں کہیں  انہیں  پاؤ۔ ایک دوسری جماعت کا ذکر ہو رہا ہے  جسے  مستثنیٰ کیا ہے  جو میدان میں لائے  جاتے  ہیں  لیکن یہ بیچارے  بے  بس ہوتے  ہیں  وہ نہ تو تم سے  لڑنا چاہتے  ہیں  نہ تمہارے  ساتھ مل کر اپنی قوم سے  لڑنا پسند کرتے  ہیں  بلکہ وہ ایسے  بیچ کے  لوگ ہیں  جو نہ تمہارے  دشمن کہے  جاسکتے  ہیں  نہ دوست۔ یہ بھی اللہ کا فضل ہے  کہ اس نے  ان لوگوں کو تم پر مسلط نہیں  کیا اگر وہ چاہتا تو انہیں  زور و طاقت دیتا اور ان کے  دل میں ڈال دیتا کہ وہ تم سے  لڑیں پس اگر یہ تمہاری لڑائی سے  باز رہیں  اور صلح و صفائی سے  یکسو ہو جائیں تو تمہیں  بھی ان سے  لڑنے  کی اجازت نہیں ، اسی قسم کے  لوگ تھے  جو بدر والے  دن بنو ہاشم کے  قبیلے  میں سے  مشرکین کے  ساتھ آئے  تھے  جو دل سے  اسے  ناپسند رکھتے  تھے  جیسے  حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ وغیرہ یہی وجہ تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے  حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے  قتل کو منع فرما دیا تھا اور حکم دیا تھا کہ انہیں  زندہ گرفتار کر لیا جائے ۔ پھر ایک اور گروہ کا ذکر کیا جاتا ہے  جو بظاہر تو اوپر والوں جیسا ہے  لیکن دراصل نیت میں بہت کھوٹ ہے  یہ لوگ منافق ہیں  حضور کے  پاس آ کر اسلام ظاہر کر کے  اپنے  جان و مال مسلمانوں سے  محفوظ کرا لیتے  ہیں  ادھر کفار میں مل کر ان کے  معبود ان باطل کی پرستش کر کے  ان میں سے  ہونا ظاہر کر کے  ان سے  فائدہ اٹھاتے  رہتے  ہیں  تاکہ ان کے  ہاتھوں سے  بھی امن میں رہیں، دراصل یہ لوگ کافر ہیں، جیسے  اور جگہ ہے  اپنے  شیاطین کے  پاس تنہائی میں جا کر کہتے  ہیں  ہم تمہارے  ساتھ ہیں  یہاں بھی فرماتا ہے  کہ جب کبھی فتنہ انگیزی کی طرف لوٹائے  جاتے  ہیں  تو جی کھول کر پوری سرگرمی سے  اس میں حصہ لیتے  ہیں  جیسے  کوئی اوندھے  منہ گرا ہوا ہو۔ “فتنہ”سے  مراد یہاں شرک ہے  حضرت مجاہد فرماتے  ہیں  کہ یہ لوگ بھی مکہ والے  تھے  یہاں آ کر بطور ریا کاری کے  اسلام قبول کرتے  تھے  وہاں جا کر ان کے  بت پوجتے  تھے  تو مسلمانوں کو فرمایا جاتا ہے  کہ اگر یہ انی دو غلی روش سے  باز نہ آئیں ایذا رسانی سے  ہاتھ نہ روکیں صلح نہ کریں تو انہیں  امن امان نہ دو ان سے  بھی جہاد کرو، انہیں  بھی قیدی بناؤ اور جہاں پاؤ پتل کردو، بے  شک ان پر ہم نے  تمہیں  ظاہر غلبہ اور کھلی حجت عطا فرمائی ہے ۔

۹۲

قتل مسلم، قصاص و دیت کے  مسائل اور قتل خطا

ارشاد ہوتا ہے  کہ کسی مسلمان کو لائق نہیں  کہ کسی حال میں اپنے  مسلمان بھائی کا خون ناحق کرے  صحیح میں ہے  رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم فرماتے  ہیں  کسی مسلمان کا جو اللہ کی ایک ہونے  کی اور میرے  رسول ہونے  کی شہادت دیتا ہو خون بہانا حلال نہیں  مگر تین حالتوں میں ایک تو یہ کہ اس نے  کسی کو قتل کر دیا ہو، دوسرے  شادی شدہ ہو کر زنا کیا ہو، تیسرے  دین اسلام کو چھوڑ دینے  والا جماعت سے  علیحدہ ہونے  والا۔ پھر یہ بھی یاد رہے  کہ جب ان تینوں کاموں میں سے  کؤی کام کسی سے  واقع ہو جائے  تو رعایا میں سے  کسی کو اس کے  قتل کا اختیار نہیں  البتہ امام یا نائب امام کو بہ عہدہ قضا کا حق ہے، اس کے  بعد استثناء منقطع ہے، عرب شاعروں کے  کلام میں بھی اس قسم کے  استثناء بہت سے  ملتے  ہیں، اس آیت کے  شان نزول میں ایک قول تو یہ مروی ہے  کہ عیاش بن ابی ربیعہ جو ابوجہل کا ماں کی طرف سے  بھائی تھا جس ماں کا نام اسماء بنت مخرمہ تھا اس کے  بارے  میں اتری ہے  اس نے  ایک شخص کو قتل کر ڈالا تھا جسے  وہ اسلام لانے  کی وجہ سے  سزائیں دے  رہا تھا یہاں تک کہ اس کی جان لے  لی، ان کا نام حارث بن زید عامری تھا، حضرت عیاش رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے  دل میں یہ کانٹا رہ گیا اور انہوں نے  ٹھان لی کہ موقعہ پا کر اسے  قتل کر دوں گا اللہ تعالیٰ نے  کچھ دنوں بعد قاتل کو بھی اسلام کی ہدایت دی وہ مسلمان ہو گئے  اور ہجرت بھی کر لی لیکن حضرت عیاش رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو یہ معلوم نہ تھا، فتح مکہ والے  دن میہ ان کی نظر پڑے  یہ جان کر کہ یہ اب تک کفر پر ہیں  ان پر اچانک حملہ کر دیا اور قتل کر دیا اس پر یہ آیت اتری دوسرا قول یہ ہے  کہ یہ آیت حضرت ابو درداء رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے  بارے  میں نازل ہوئی ہے  جبکہ انہوں نے  ایک شخص کافر پر حملہ کیا تلوار سونتی ہی تھی تو اس نے  کلمہ پڑھ لیا لیکن ان کی تلوار چل گئی اور اسے  قتل کر ڈالا، جب حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے  یہ واقعہ بیان ہوا تو حضرت ابو درداء رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے  اپنا یہ عذر بیان کیا کہ اس نے  صرف جان بچانے  کی غرض سے  یہ کلمہ پڑھا تھا، آپ ناراض ہو کر فرمانے  لگے  کیا تم نے  اس کا دل چیر کر دیکھا تھا؟ یہ واقعہ صحیح حدیث میں بھی ہے  لیکن وہاں نام دوسرے  صحابی کا ہے ، پھر قتل خطا کا ذکر ہو رہا ہے  کہ اس میں دو چیزیں واجب ہیں  ایک تو غلام آزاد کرنا دوسرے  دیت دینا، اس غلام کے  لئے  بھی شرط ہے  کہ وہ ایماندار ہو، کافر کو آزاد کرنا کافی نہ ہو گا چھوٹا نابالغ بچہ بھی کافی نہ ہو گا جب تک کہ وہ اپنے  ارادے  سے  ایمان کا قصد کرنے  والا اور اتنی عمر کا نہ ہو مذہب یہ ہے  کہ مسلمان گردن کا آزاد کرنا ہے  اگر یہ مسلمان ہو تو میں اسے  آزاد کر دوں، آپ نے  اس لونڈی سے  پوچھا کیا تو گواہی دیتی ہے  کہ اللہ کے  سوا کوئی معبود نہیں ؟ اس نے  کہا ہاں، آپ نے  فرمایا اس بات کی بھی گواہی دیتی ہے  کہ میں اللہ کا رسول ہوں ؟ اس نے  کہا ہاں فرمایا کیا مرنے  کے  بعد جی اٹھنے  کی بھی تو قائل ہے ؟ اس نے  کہا ہاں، آپ نے  فرمایا اسے  آزاد کر دو اس نے  اسناد صحیح ہے  اور صحابی کون تھے ؟ اس کا مخفی رہنا سند میں مضر نہیں، یہ روایت حدیث کی اور بہت سی کتابوں میں اس طرح ہے  کہ آپ نے  اس سے  پوچھا اللہ کہاں ہے ؟ اس نے  کہا آسمانوں میں دریافت کیا میں کون ہوں ؟ جواب دیا آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ہیں  آپ نے  فرمایا سے  آزاد کر دو۔ یہ ایماندار ہے  پس ایک تو گردن آزاد کرنا واجب ہے  دوسرے  خوں بہا دینا جو مقتول کے  گھر والوں کو سونپ دیا جائے  گا یہ ان کے  مقتول کا عوض ہے  یہ دیت سو اونٹ ہے  پانچ سو قسموں کے  بیس تو دوسری سال کی عمر کی اونٹنیاں اور بیس اسی عمر کے  اونٹ اور بیس تیسرے  سال میں لگی ہوئی اونٹنیاں اور بیس پانچویں سال میں لگی ہوئی اور بیس چوتھے  سال میں لگی ہوئی یہی فیصلہ قتل خطا کے  خون بہا کا رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے  کیا ہے  ملاحظہ ہو سنن و مسند احمد۔ یہ حدیث یہ روایت حضرت عبد اللہ موقوف بھی مروی ہے، حضرت علی رضی  اللہ تعالیٰ عنہ اور ایک جماعت سے  بھی یہی منقول ہے  اور یہ بھی کہا گیا ہے  کہ دیت چار چوتھائیوں میں بٹی ہوئی ہے  یہ خون بہا قاتل کے  عاقلہ اور اس کے  عصبہ یعنی وارثوں کے  بعد کے  قریبی رشتہ داروں پر ہے  اس کے  اپنے  مال پر نہیں  امام شافعی فرماتے  ہیں  میرے  خیال میں اس امر میں کوئی بھی مخالف نہیں  کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے  دیت کا فیصلہ انہی لوگوں پر کیا ہے  اور یہ حدیث خاصہ میں کثرت سے  مذکور ہے  امام صاحب جن احادیث کی طرف اشارہ کرتے  ہیں  وہ بہت سی ہیں، بخاری و مسلم میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے  مروی ہے  کہ ہذیل قبیلہ کی دو عورتیں آپس میں لڑیں ایک نے  دوسرے  کو پتھر مارا وہ حاملہ تھی بچہ بھی ضائع ہو گیا اور وہ بھی مر گئی قصہ آنحضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے  پاس تو آپ نے  یہ فیصلہ کیا کہ وہ اس بچہ کے  عوض تو ایک لونڈی یا غلام دے  اور عورت مقتولہ کے  بدلے  دیت قاتلہ عورت کے  حقیقی وارثوں کے  بعد کے  رشتے  داروں کے  ذمے  ہے، اس سے  یہ بھی معلوم ہوا کہ جو قتل عمد خطا سے  ہو وہ بھی حکم میں خطاء محض کے  ہے ۔ یعنی دیت کے  اعتبار سے  ہاں اس میں تقسیم ثلث پر ہو گی تین حصے  ہونگے  کیونکہ اس میں شباہت عمد یعنی بالقصد بھی ہے، صحیح بخاری شریف میں ہے  بنو جذیمہ کی جنگ کے  لئے  حضرت خالد بن ولید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو حضور نے  ایک لشکر پر سردار بنا کر بھیجا انہوں نے  جا کر انہیں  دعوت اسلام دی انہوں نے  دعوت تو قبول کر لی لیکن بوجہ لا علمی بجائے  اسلمنا یعنی ہم مسلمان ہوئے  کے  “صبانا “کہا یعنی ہم بے  دین ہوئے ، حضرت خالد بن ولید رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے  انہیں  قتل کرنا شروع کر دیا جب حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو یہ خبر پہنچی تو آپ نے  ہاتھ اٹھا کر جناب باری میں عرض کی یا اللہ خالد کے  اس فعل میں اپنی بیزاری اور بیزاری اور برات تیرے  سامنے  ظاہر کرتا ہوں، پھر حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بلا کر انہیں  بھیجا کہ جاؤ ان کے  مقتولوں کی دیت چکا،ؤ اور جو ان کا مالی نقصان ہوا ہو اسے  بھی کوڑی کوڑی چکا،ؤ، اس سے  ثابت ہوا کہ امام یا نائب امام کی خطا کا بوجھ بیت المال پر ہو گا۔ پھر فرمایا ہے  کہ خوں بہا جو واجب ہے  اگر اولیاء مقتول از خود اس سے  دست بردار ہو جائیں تو انہیں  اختیار ہے  وہ بطور صدقہ کے  اسے  معاف کر سکتے  ہیں ۔ پھر فرمان ہے  کہ اگر مقتول مسلمان ہو لیکن اس کے  اولیاء حربی کافر ہوں تو قاتل پر دیت نہیں، قاتل پر اس صورت میں صرف آزادگی گردن ہے  اور اگر اس کے  ولی وارث اس قوم میں سے  ہوں جن سے  تمہاری صلح اور عہد و پیمان ہے  تو دیت دینی پڑے  گی اگر مقتول مومن تھا تو کامل خوں بہا اور اگر مقتول کافر تھا تو بعض کے  نزدیک تو پوری دیت ہے  بعض کے  نزدیک آدھی بعض کے  نزدیک تہائی، تفصیل کتب احکام میں ملاحظہ ہو اور قاتل پر مومن بردے  کو آزاد کرنا بھی لازم ہے  اگر کسی کو اس کی طاقت بوجہ مفلسی کے  نہ ہو تو اس کے  ذمے  دو مہینے  کے  روزے  ہیں  جو لگاتار پے  درپے  رکھنے  ہوں گے  اگر کسی شرعی عذر مثلاً بیاری یا حیض یا نفاس کے  بغیر کوئی روزہ بیچ میں سے  چھوڑ دیا تو پھر نئے  سرے  سے  روزے  شروع کرنے  پڑیں گے، سفر کے  بارے  میں دو قول ہیں  ایک تو  یہ کہ یہ بھی شرعی عذر ہے  دوسرے  یہ کہ یہ عذر نہیں ۔ پھر فرماتا ہے  قتل خطا کجی توبہ کی یہ صورت یہ ہے  کہ غلام آزاد نہیں  کر سکتا تو روزے  رکھ لے  اور جسے  روزوں کی بھی طاقت نہ ہو تو  وہ مسکینوں کو کھلا سکتا ہے  یا نہیں ؟ تو ایک قول تو یہ ہے  کہ ساٹھ مسکینوں کو کھلا دے  جیسے  کہ ظہار کے  کفارے  میں ہے، وہاں صاف بیان فرما دیا یہاں اس لئے  بیان نہیں  کیا گیا کہ یہ ڈرانے  اور خوف دلانے  کا مقام ہے  آسانی کی صورت اگر بیان کر دی جاتی تو ہیبت وہظمت اتنی باقی نہ رہتی، دوسرا قول یہ ہے  کہ روزے  کے  نیچے  کچھ نہیں  اگر ہوتا تو بیان کے  ساتھ ہی بیان کر دیا جاتا، حاجب کخ وقت سے  بیان کو موخر کرنا ٹھیک نہیں  (یہ بظاہر قول ثانی ہی صحیح معلوم ہوتا ہے  واللہ اعلم۔ مترجم) اللہ علیم و حکیم ہے، اس کی تفسیر کئی مرتبہ گزر چکی ہے ۔

قتل عمداً اور قتل مسلم

 قتل خطا کے  بعد اب قتل عمداً کا بیان ہو رہا ہے، اس کی سختی برائی اور انتہائی تاکید والی ڈراؤنی وعید فرمائی جا رہی ہے  یہ وہ گناہ جسے  اللہ تعالیٰ نے  شرک کے  ساتھ ملا دیا ہے  فرماتا ہے  والذین لا یدعون مع اللہ الھا اخر ولا یقنتلون النفس حرم اللہ الا بالحق الخ، یعنی مسلمان بندے  وہ ہیں  جو اللہ کے  ساتھ کسی اور کو معبود ٹھہرا کر نہیں  پکارتے  اور نہ وہ کسی شخص کو ناحق قتل کرتے  ہیں، دوسری جگہ فرمان ہے  قل تعالوا اتل ماحرم ربکم علیکم الخ، یہاں بھی اللہ کے  حرام کئے  ہوئے  کاموں کا ذکر کرتے  ہیں  شرک کا اور قتل کا ذکر فرمایا ہے  اور بھی اس مضمون کی آیتیں بہت سی ہیں  اور حدیث بھی اس باب میں بہت سی منقول ہوئی ہیں، بخاری مسلم میں ہے  کہ سب سے  پہلے  خون کا فیصلہ قیامت کے  دن ہو گا، ابوداؤد میں ہے  ایماندار نیکیوں اور بھلائیوں میں بڑھتا رہتا ہے  جب تک کہ خون ناحق نہ کرے  اگر ایسا کر لیا تو تباہ ہو جاتا ہو جاتا ہے، دوسری حدیث میں ہے  ساری دنیا کا زوال اللہ کے  نزدیک ایک مسلما کے  قتل سے  کم درجے  کا ہے  اور حدیث میں ہے  اگر تمام روئے  زمین کے  اور آسمان کے  لوگ کسی ایک مسلمان کے  قتل میں شریک ہوں تو اللہ سب کے  اوندھے  منہ جہنم میں ڈال دے، اور حدیث میں ہے  جس شخص نے  کسی مسلمان کے  قتل میں آدھے  کلمے  سے  بھی اعانت کی وہ قیامت کے  دن اللہ کے  سامنے  اس حالت میں آئے  گا اس کی پیشانی میں لکھا ہو گا کہ یہ شخص اللہ کی رحمت سے  محروم ہے، حضرت ابن عباس کا تو قول ہے  کہ جس نے  مومن کو قصداً قتل کیا اس کی توبہ قبول ہی نہیں، اہل کوفہ جب اس مسئلہ میں اختلاف کرتے  ہیں  تو ابن جیبر ابن عباس کے  پاس آ کر دریافت کرتے  ہیں  آپ فرماتے  ہیں  یہ آخری آیت ہے  جسے  کسی آیت نے  منسوخ نہیں  کیا، اور آپ فرماتے  ہیں  کہ دوسری آیت والذین لایدعون جس میں تو یہ ذکر ہے  کہ وہ اہل شرک کے  بارے  میں نازل ہوئی ہے، پس جبکہ کسی شخص نے  اسلام کی حالت میں کسی مسلمان کو غیر شرعی وجہ سے  قتل کیا اس کی سزا جہنم ہے  اور اس کی توبہ قبول نہیں  ہو گی، حضرت مجاہد سے  جب یہ قول عباس بیان ہوا تو فرمانے  لگے  مگر جو نادم ہو، سالم بن ابولجعد فرماتے  ہیں، حضرت ابن عباس جب نابینا ہو گئے  تھے  ایک مرتبہ ہم ان کے  پاس بیٹھے  ہوئے  تھے  جو ایک شخص آیا اور آپ کو آواز دذے  کر پوچھا کہ اس کے  بارے  میں آپ کیا فرماتے  ہیں  جس نے  کسی مومن کو جان بوجھ کر مار ڈالا آپ نے  فرمایا اس کی سزا جہنم ہے  جس میں وہ ہمیشہ رہے  گا اللہ کا اس پر غضب ہے  اس پر اللہ کی لعنت ہے  اور اس کے  لئے  عذاب عظیم تیار ہے، اس نے  پھر پوچھا اگر وہ توبہ کرے  نیک عمل کرے  اور ہدایت پر جم جائے  تو؟ فرمانے  لگے  اس کی ماں اسے  روئے  اسے  توبہ اور ہدایت کہاں ؟ اس کی قسم جس کے  ساتھ میں میرا نفس ہے  میں نے  تمہارے  نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے  بنا ہے  اس کی ماں اسے  روئے  جس نے  مومن کو جان بوجھ مار ڈالا ہے  وہ قیامت کے  دن اسے  دائیں یا بائیں ہاتھ سے  تھامے  ہوئے  رحمان کے  عرش کے  سامنے  آئے  گا اس کی رگوں سے  خون بہہ رہا ہو گا اور اللہ سے  کہے  گا کہ اے  اللہ اس سے  پوچھ کہ اس نے  مجھے  کیوں قتل کیا؟ اس اللہ عظیم کی قسم جس کے  ہاتھ میں عبد اللہ کی جان ہے  کہ اس آیت کے  نازل ہونے  کے  بعد حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی وفات تک اسے  منسوخ کرنے  والی کوئی آیت نہیں  اتری، اور روایت میں اتنا اور بھی ہے  کہ نہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم کے  بعد کوئی وحی اترے  گی حضرت زید بن ثابت، حضرت ابوہریرہ، حضرت عبد اللہ بن عمر، حضرت ابو سلمہ بن عبدالرحمن، عبید بن عمیر، حسن، قتادہ، ضحاک بھی حضرت بن عباس کے  خیال کے  ساتھ ہیں ۔ ابن مردویہ میں ہے  کہ مقتول اپنے  قاتل کو پکڑ کر قیامت کے  دن اللہ کے  سامنے  لائے  گا دوسرے  ہاتھ سے  اپنا سر اٹھائے  ہوئے  ہو گا اور کہے  گا میرے  رب اس سے  پوچھ کہ اس نے  مجھے  کیوں قتل کیا؟ قاتل کہے  گا پروردگار اس لئے  کہ تیری عزت ہو اللہ فرمائے  گا پس یہ میری راہ میں ہے ۔ دوسرا مقتول بھی اپنے  قاتل کو پکڑے  ہوئے  لائے  گا اور یہی کہے  گا، قاتل جواباً کہے  گا اس لئے  کہ فلاں کی عزت ہو اللہ فرمائے  گا قاتل کا گناہ اس نے  اپنے  سر لے  لیا پھر اسے  آگ میں جھونک دیا جائے  گا جس گڑھے  میں ستر سال تک تو نیچے  چلا جائے  گا۔ مسند احمد میں ہے  ممکن ہے  اللہ تعالیٰ تمام گناہ بخش دے، لیکن ایک تو وہ شخص جو کفر کی حالت میں مرا دو سرا وہ جو کسی مومن کا قصداً قاتل بنا۔ ابن مردویہ میں بھی ایس ہی حدیث ہے  اور وہ بالکل غریب ہے، محفوظ وہ حدیث ہے  جو بحوالہ مسند بیان ہوئی۔ ابن مردویہ میں اور حدیث ہے  کہ جنن بوجھ کر ایماندار کو مار ڈالنے  کافر ہے ۔ یہ حدیث منکر ہے  اور اس کی اسناد میں بہت کلام ہے ۔ حمید کہتے  ہیں  میرے  پاس ابوالعالیہ آئے  میرے  دوست بھی اس وقت میرے  پاس تھے  ہم سے  کہنے  لگے  تم دونوں کم عمر اور زیادہ یادداشت والے  ہو آؤ میرے  ساتھ بشر بن عاصم کے  پاس چلو جب وہاں پہنچے  تو بشر سے  فرمایا انہیں  بھی وہ حدیث سنا دو انہوں نے  سنانی شروع کی کہ عتبہ بن مالک لیثی نے  کہا رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے  ایک چھوٹا سا لشکر بھیجا تھا اس نے  ایک قوم پر چھاپہ مارا وہ لوگ بھاگ کھڑے  ہوئے  ان کے  ساتھ ایک شخص بھاگا جا رہا تھا اس کے  پیچھے  ایک لشکری بھاگا جب اس کے  قریب ننگی تلوار لئے  ہوئے  پہنچ گیا تو اس نے  کہا میں تو مسلمان ہوں ۔ اس نے  کچھ خیال نہ کیا تلوار چلا دی۔ اس واقعہ کی خبر حضور صلی اللہ علیہ و سلم کو ہوئی تو آپ بہت ناراض ہوئے  اور سخت سست کہا یہ خبر اس شخص کو بھی پہنچی۔ ایک روز رسول ا کرم صلی اللہ علیہ و سلم خطبہ پڑھ رہے  تھے  کہ اس قاتل نے  حضور صلی اللہ علیہ و سلم اللہ کی اس نے  تو یہ بات محض قتل سے  بچنے  کے  لئے  کہی تھی آپ نے  اس کی طرف سے  نگاہ پھیر لی اور خطبہ ساتے  رہے ۔ اس نے  دوبارہ کہا آپ نے  پھر منہ موڑ لیا، اس سے  صبر نہ ہو سکا، تیسری باری کہا تو آپ نے  اس کی طرف توجہ کی اور ناراضگی آپ کے  چہرے  سے  ٹپک رہی تھی، فرمانے  لگے  مومن کے  قاتل کی کوئی بھی معذرت قبول کرنے  سے  اللہ تعالیٰ انکار کرتے  ہیں  تین بار یہی فرمایا یہ روایت نسائی میں بھی ہے  پس ایک مذہب تو یہ ہوا کہ قاتل مومن کی توبہ نہیں  دوسرا مذہب یہ کے  کہ توبہ اس کے  اور اللہ کے  درمیان ہے  جمہور سلف و خلف کی یہی مذہب ہے  کہ اگر اس نے  توبہ کی اللہ کی طرف رجوع کیا خشوع خضوع میں لگا رہا نیک اعمال کرنے  لگ گیا تو اللہ اس کی توبہ قبول کر لے  گا اور مقتول کو اپنے  پاس سے  عوض دے  کر اسے  راضی کر لے  گا اللہ فرماتا ہے  الا من تاب الخ، یہ خبر اور خبر میں نسخ کا احتمال نہیں  اور اس آیت کو مشرکوں کے  بارے  میں اور اس آیت کو مومنوں کے  بارے  میں خاص کرنا بظاہر خلاف قیاس ہے  اور کسی صاف دلیل کا محتاج ہے  واللہ اعلم۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے  قل یا عبادی الذین اسرفوا علی انفسھم الخ، اے  میرے  وہ بندو جنہوں نے  اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے  تم میری رحمت سے  مایوس نہ ہو۔ یہ آیت اپنے  عموم کے  اعتبار سے  ہر گناہ پر محیط ہے  خواہ کفرو شرک ہو خواہ شک و نفاق ہو خواہ قتل وفسق ہو خواہ کچھ ہی ہو، جو اللہ کی طرف رجوع کرے  اللہ اس کی طرف مائل ہو گا جو توبہ کرے  اللہ اسے  معاف فرمائے  گا۔ فرماتا ہے  ان اللّٰہ لایغفر ان یشرک بہ الخ، اللہ تعالیٰ شرک کو بخشتا نہیں  اس کے  سوا کے  تمام گناہ جسے  چاہے  بخش دے ۔ اللہ اس کی کریمی کے  صدقے  جائیے  کہ اس نے  اسی سورت میں اس آیت سے  پہلے  بھی جس کی تفسیر اب ہم کر رہے  ہیں  اپنی عام بخشش کی آیت بیان فرمائی اور پھر اس آیت کے  بعد ہی اسے  دوہرا دیا اسی طرح اپنی عام بخشش کا اعلان پھر کیا تا کہ بندوں کو اس کی کامل فطرت سے  کامل امید بند جائے  واللہ اعلم۔ بخاری مسلم کی وہ حدیث بھی اس موقعہ پر یاد رکھنے  کے  قابل ہے  جس میں ہے  کہ ایک نبی اسرائیلی نے  ایک سو قتل کئے  تھے ۔ پھر ایک عالم سے  پوچھتا ہے  کہ کیا میر توبہ قبول ہو سکتی ہے  وہ جواب دیتا ہے  کہ تجھ میں اور تیری توبہ میں کون ہے  جو حائل ہے ؟ جاؤ اس بدبستی کو چھوڑ کر نیکوں کے  شہر میں بسو چنانچہ یہ اس نے  ہجرت کی مگر راستے  میں ہی فوت ہو گیا اور رحمت کے  فرشتے  اسے  لے  گئے  یہ حدیث پوری پوری کئی مرتبہ ہو چکی ہے  جبکہ بنی اسرائیل میں یہ ہے  تو اس اُمت مرحومہ کے  لئے  قاتل کی توبہ کے  لئے  دروازے  بند کیوں ہوں ؟ ہم پر تو پہلے  بہت زیادہ پابندیاں تھیں جن سب سے  اللہ نے  ہمیں آزاد کر دیا اور رحمۃ للعالمین جیسے  سردار انبیاء کو بھیج کر وہ دین ہمیں دیا جو آسانیوں اور راحتوں والا سیدھا صاف اور واضح ہے، لیکن یہاں جو سزا قاتل کی بیان فرمائی ہے  اس سے  مرادیہ ہے  کہ اس کی سزا یہ ہے  کہ اسے  سزا ضرور دی جائے ۔ چنانچہ حضرت ابوہریرہ اور سلف کی ایک جماعت بھی یہی فرماتی ہے، بلکہ اس معنی کی ایک حدیث بھی ابن مردویہ میں ہے  لیکن سنداً وہ صحیح نہیں  اور اسی طرح ہر وعید کا مطلب یہی ہے  کہ اگر کوئی عمل صالح وغیرہ اس کے  مقابل میں نہیں  تو اس بدی کا بدلہ وہ ہے  جو وعید میں واضح بیان ہوا ہے  اور یہی طریقہ وعید کے  بارے  میں ہمارے  نزدیک نہایت درست اور احتیاط والا ہے ۔ واللہ اعلم بالصواب، اور قاتل کا مقدر جہنم بن گیا۔ چاہے  اس کی وجہ توبہ کی عدم قبولیت کہا جائے  یا اس کے  متبادل کسی نیک عمل کا مفقود ہونا خواہ بقول جمہور دوسرا نیک عمل نجات دہندہ نہ ہونے  کی وجہ سے  ہو۔ وہ ہمیشہ جہنم میں نہ رہے  گا بلکہ یہاں خلود سے  مراد بہت دیر تک رہنا ہے  جیسا کہ متواتر احادیث سے  ثابت ہے  کہ جہنم میں سے  وہ بھی نکل آئیں گے  جن کے  دل میں رائی کے  چھوٹے  سے  چھوٹے  دانے  برابر بھی ایمان ہو گا۔ اوپر جو ایک حدیث بیان ہوئی ہے  کہ ممکن ہے  اللہ تعالیٰ تمام گناہوں کو بجز کفر اور قتل مومن کے  معاف فرما دے ۔ اس میں “عسی” ترجی کا مسئلہ ہے  ان دونوں صورتوں میں ترجی یعنی اُمید گو اٹھ جائے  پھر بھی وقوع پذیر ہوتا یعنی ایسا ہونا یعنی ایسا ہونا ان دونوں میں سے  ایک بھی ممکن نہیں  اور وہ قتل ہے، کیونکہ شرک وکفر کا معاف نہ ہونا تو الفاظ قرآن سے  ثابت ہو چکا اور جو حدیثیں گزریں جن میں قاتل کو مقتول لے  کر آئے  گا وہ بالکل ٹھیک ہیں  چونکہ اس میں انسانی حق ہے  وہ توبہ سے  ٹل نہیں  جاتا ۔ بلکہ انسانی حق تو توبہ ہونے  کی صورت میں بھی حقدار کو پہنچانا ضروری ہے  اس میں جس طرح قتل ہے  اسی طرح چوری ہے  غضب ہے  تہمت ہے  اور دوسرے  حقوق انسان ہیں  جن کا توبہ سے  معاف نہ ہونا اجماعاً ثابت ہے  بلکہ توبہ کے  لئے  صحت کی شرط ہے  کہ ان حقوق کو ادا کرے ۔ اور جب ادائیگی محال ہے  تو قیامت کے  روز اس کا مطالبہ ضروری ہے ۔ لیکن مطالبہ سے  سزا کا واقع ہونا ضروری نہیں ۔ ممکن ہے  کہ قاتل کے  اور سب اعمال صالحہ مقتول کو جے  دئے  جائیں یا بعض دے  دیے  جائیں اور اس کے  پاس پھر بھی کچھ رہ جائیں اور یہ بخش دیا جائے  اور یہ بھی ممکن ہے  کہ قاتل کا مطالبہ اللہ تعالیٰ اپنے  فضل و کرم سے  اپنے  پاس سے  اور اپنی طرف سے  حورو قصور اور بلند درجات جنت دے  کر پورا کر دے  اور اس کے  عوض وہ اپنے  قاتل سے  درگزر کرنے  پر خوش ہو جائے  اور قاتل کو اللہ تعالیٰ بخش دے  وغیرہ۔ واللہ اعلم۔ جان بوجھ کر مارا ڈالنے  والے  کے  لئے  کچھ تو دنیوی احکام ہیں  اور کچھ اخروی۔ دنیا میں تو اللہ نے  مقتول کے  ولیوں کو اس پر غلبہ دیا ہے  فرماتا ہے  ومن قتل مظلوما فقد جعلنا لولیہ سلطانا الخ، جو ظلم سے  قتل کیا جائے  ہم نے  اس کے  پیچھے  والوں کو غلبہ دیا ہے  کہ انہیں  اختیار ہے  کہ یا تو وہ بدلہ لیں یعنی قاتل کو بھی قتل کرائیں یا معاف کر دیں یا دیت یعنی خون بہا یعنی جرمانہ وصول کر لیں اور اس کے  جرمانہ میں سختی ہے  جو تین قسموں پر مشتمل ہے ے  تیس تو چوتھے  سال کی عمر میں لگے  ہوئے  اونٹ، تیس پانچویں سال میں لگے  ہوئے، چالیس حاملہ اونٹنیاں جیسے  کہ کتب احکام میں ثابت ہیں، اس میں ائمہ نے  اختلاف کیا ہے  کہ اس پر غلام کا آزاد کرنا یا دو ماہ کے  پے  درپے  روزے  رکھے  یا کھانا کھلانا ہے  یا نہیں ؟ پس امام شافعی اور ان کے  اصحاب اور علماء کی ایک جماعت تو اس کی قائل ہے  کہ جب خطا میں یہ حکم ہے  تو عمداً میں بطور ادنیٰ یہی حکم ہونا چاہئے  اور ان پر جواباً جھوٹی غیر شرعی قسم کے  کفارے  کو پیش کیا گیا ہے  اور انہوں نے  اس کا عذر عمداً چھوڑ دی ہوئی دی نماز کو قضا قرار دیا ہے  جیسے  کہ اس پر اجماع ہے  خطا میں، امام احمد کے  اصحاب اور دوسرے  کہتے  ہیں  قتل عمداً ناقابل کفارہ ہے ۔ اس لئے  اس یعنی کفارہ نہیں  اور اسی طرح جھوٹی قسم اور ان کے  لئے  ان دونوں صورتوں میں اور عمداً چھوٹی ہوئی نماز میں فرق کرنے  کی کوئی راہ نہیں، اسلئے  کہ یہ لوگ حضرت واثلہ بن اسقع کے  پاس آئے  اور کہا کوئی ایسی حدیث بھی ہے  جو مسند احمد میں مروی ہے  کہ لوگ حضرت واثلہ بن اسقع کے  پاس آئے  اور کہا کوئی ایسی حدیث سناؤ جس میں کمی زیادتی نہ ہو تو وہ بہت ناراض ہوئے  اور فرمانے  لگے  کیا تم قرآن لے  کر پڑھتے  ہو تو اس میں کمی زیادتی بھی کرتے  ہو؟ انہوں نے  کہا حضرت ہمارا مطلب یہ ہے  کہ خود رسول صلی اللہ علیہ و سلم سے  آپ نے  جو سنی ہو کہا ہم حضور صلی اللہ علیہ و سلم کے  پاس اپنوں میں سے  ایک آدمی کو بابت حاضر ہوئے  جس نے  بوجہ قتل جے  اپنے  تئیں جہنمی بنا لیا تھا۔ تو آپ نے  فرمایا اس کی طرف سے  ایک غلام آزاد کرو اس کے  ایک ایک عضو بدلہ اس کا ایک عضو اللہ تعالیٰ جہنم سے  آزاد کر دے  گا۔

۹۴

مسلمان کے  ہاتھوں مسلمان کا قتل ناقابل معافی جرم ہے

 ترمذی وغیرہ کی ایک حدیث میں ہے  کہ بنو سلیم کا ایک شخص بکریاں چراتا ہوا صحابہ کی ایک جماعت کے  پاس سے  گزرا اور سلام کیا تو صحابہ آپس میں کہنے  لگے  یہ مسلمان تو ہے  نہیں  صرف اپنی جان بچانے  کے  لئے  سلام کرتا ہے  چنانچہ اسے  قتل کر دیا اور بکریاں لے  کر چلے  آئے، اس پر یہ آیت اتری، یہ حدیث تو صحیح ہے  لیکن بعض نے  اس میں تو صحیح ہے  لیکن بعض نے  اس میں علتیں نکالی ہیں  کہ سماک راوی کے  سوائے  اس طریقے  کا اور کوئی مخرج ہی اس کا نہیں، اور یہ کہ عکرمہ سے  اس کے  روایت کرنے  کے  بھی قائل ہے، اور یہ کہ اس آیت کے  شان نزول میں اور واقعات بھی مروی ہیں، بعض کہتے  ہیں  محکم بن جثامہ کے  بارے  میں اتری ہے  بعض کہتے  ہیں  اسامہ بن زید کے  بارے  میں نازل ہوئی ہے  اور اس کے  علاوہ بھی اقوال ہیں، لیکن میرے  خیال میں یہ سب نا قابل تسلیم ہے  سماک سے  اسے  بہت سے  ائمہ کبار نے  روایت کیا ہے، عکرمہ سے  صحیح دلیل لی گئی ہے، یہی روایت دوسرے  طریق سے  حضرت ابن عباس سے  صحیح بخاری میں مروی ہے، سعید بن منصور میں یہی مروی ہے، ابن جریر اور ابن ابی حاتم میں ہے  کہ ایک شخص کو اس کے  والد اور اس کی قوم نے  اپنے  اسلام کی خبر پہنچانے  کے  لئے  رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں بھیجا، راستے  میں اسے  حضور صلی اللہ علیہ و سلم کے  بھیجے  ہوئے  ایک لشکر سے  رات کے  وقت ملاقات ہوئی اس نے  ان سے  کہا کہ میں مسلمان ہوں لیکن انہیں  یقین نہ آیا اور اسے  دشمن سمجھ کر قتل کر ڈالا ان کے  والد کو جب یہ علم ہوا تو یہ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوئے  اور واقعہ بیان کیا چنانچہ آپ نے  انہیں  ایک ہزار دینار دئے  اور دیت دی اور انہیں  عزت کے  ساتھ رخصت کیا، اس پر یہ آیت اتری، محکم بن جثامہ کا واقعہ پہ ہے  کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے  اپنا ایک چھوٹا سا لشکر اخسم کی طرف بھیجا جب یہ لشکر بطل اخسم میں پہنچا تو عامر بن اضبط اشجعی اپنی سواری پر سوار مع اسباب کے  آرہے  تھے  پاس پہنچ کر سلام کیا سب تو رک گئے  لیکن محکم بن جثامہ نے  آپس کی پرانی عداوت کی بنا پر اس پر جھپٹ کر حملہ کر دیا، انہیں  قتل کر ڈالا اور ان کا اسباب قبضہ میں کر لیا پھر ہم حضور صلی اللہ علیہ و سلم کے  پاس پہنچے  اور آپ یہ واقعہ بیان کیا اس پر یہ آیت اتری۔ ایک اور روایت میں ہے  کہ عامر نے  اسلامی طریقہ کے  مطابق سلام کیا تھا لیکن جاہلیت کی پہلی عداوت کے  باعث محکم نے  اسے  تیر مار کر مار ڈالا یہ خبر پا کر عامر کے  لوگوں سے  محکم بن جثامہ نے  مصالحانہ گفتگو کی لیکن عینیہ نے  کہا نہیں  نہیں  اللہ کی قسم جب تک اس کی عورتوں پر بھی وہی مصیبت نہ آئے  جو میری عورتوں پر آئی۔ چنانچہ محکم اپنی دونوں چادریں اوڑھے  ہوئے  آئے  اور رسول کریم صلی اللہ علیہ و سلم کے  سامنے  بیٹھ گئے  اس اُمید پر کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم ان کے  لئے  استغفارریں لیکن آپ نے  فرمایا اللہ تجھے  معاف نہ کرے  یہ یہاں سے  سخت نادم شرمسار روتے  ہوئے  اُٹھے  اپنی چادریوں سے  اپنے  آنسو پونچھتے  جاتے  تھے  سات روز بھی نہ گزرنے  پائے  تھے  انتقال کر گئے ۔ لوگوں نے  انہیں  دفن کیا لیکن زمین نے  ان کی نعش اگل دی، حضور صلی اللہ علیہ و سلم سے  جب یہ ذکر ہوا تو آپ نے  فرمایا تمہارے  اس ساتھی سے  نہایت بدتر لوگوں کو زمین سنبھال لیتی ہے  لیکن اللہ کا ارادہ ہے  کہ وہ تمہیں  مسلمان کی حرمت دکھائے  چنانچہ ان کے  لاشے  کو پہاڑ پر ڈال دیا گیا اور اُوپر سے  پتھر رکھ دئے  گئے  اور یہ آیت نازل ہوئی (ابن جریر) صحیح بخاری شریف میں تعلیقاً مروی ہے  کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے  مقداد سے  فرمایا جبکہ انہوں نے  قوم کفار کے  ساتھ جو مسلمان مخفی ایمان والا تھا اسے  قتل کر دیا تھا باوجودیکہ اس نے  اپنے  سلام کا اظہار کر دیا تھا کہ تم بھی مکہ میں اسی طرح ایمان چھپائے  ہوئے  تھے ۔ بزار میں یہ واقعہ پورا اس طرح مرودی وے  کہ رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے  ایک چھوٹا سا لشکر بھیجا تھا جس میں حضرت مقداد بھی تھے  جب دشمنوں کے  پاس پہنچے  تو دیکھا کہ سب تو اِدھر اُدھر ہو گئے  ہیں  ایک شخص مالدار وہاں رہ گیا ہے  اس نے  انہیں  دیکھتے  ہی اشھد ان الا اللّٰہ الا اللّٰہ کہا۔ تاہم انہوں نے  حملہ کر دیا اور اسے  قتل کر ڈالا، ایک شخص جس نے  یہ واقعہ دیکھا تھا وہ سخت برہم ہوا اور کہنے  لگا مقداد نے  اسے  قتل کر ڈالا جس نے  کلمہ پڑھا تھا؟ میں اس کا ذکر حضور صلی اللہ علیہ و سلم سے  کروں گا، جب یہ لشکر واپس پہنچا تو اس شخص نے  یہ واقعہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم سے  عرض کیا آپ حضرت مقداد کو بلوایا اور فرمایا تم نے  یہ کیا کیا؟ کل قیات کے  دن تم لا اللّٰہ الا اللّٰہ کے  سامنے  کیا جواب دو گے ؟ پس اللہ تعالیٰ نے  یہ آیت اُتاری اور آپ نے  فرمایا کہ اے  مقداد وہ شخص مسلمان تھا جس طرح تو مکہ میں اپنے  ایمان کو مخفی رکھتا تھا پھر تو نے  اس کے  اسلام ظاہر کرنے  کے  باوجود اسے  مارا؟ اس کے  بعد اللہ تعالیٰ فرماتا ہے  کہ جس غنیمت کے  لالچ میں تم غفلت برتتے  ہو اور سلام کرنے  والوں کے  ایمان میں شک وشبہ کر کے  انہیں  قتل کر ڈالتے  ہو یاد رکھو وہ غنیمت اللہ کی طرف سے  ہے  اس کے  پاس بہت سے  غنیمتیں ہیں  جو وہ تمہیں  حلال ذرائع سے  دے  گا اور وہ تمہارے  لئے  اس مال سے  بہت بہتر ہوں گے ۔ تم بھی اپنا وہ وقت یاد کرو کہ تم بھی ایسے  ہی لاچار تھے  اپنے  ضعف اور اپنی کمزوری کی وجہ سے  ایمان ظاہر کرنے  کی جرأت نہیں  کر سکتے  تھے  قوم میں چھپے  لگے  پھرتے  تھے  آج اللہ خالق کل نے  تم پر احسان کیا تمہیں  قوت دی اور تم کھلے  بندوں اپنے  اسلام کا اظہار کر رہے  ہو، تو جو بے  اسباب اب تک دشمنوں کے  پنجے  میں پھنسے  ہوئے  ہیں  اور ایمان کا اعلان کھلے  طور پر نہیں  کر سکے  جب وہ اپنا ایمان ظاہر کریں تمہیں  تسلیم کر لینا چاہئے  اور آیت میں ہے  واذ کرو اذا نتم قلیل الخ، یاد کرو جبکہ تم کم تھے  کمزور تھے ۔ الغرض ارشاد ہوتا ہے  کہ جس طرح یہ بکری کا چرواہا اپنا ایمان چھپائے  ہوئے  تھا اسی طرح اس سے  پہلے  جبکہ بے  سرو سامانی اور قلت کی حالت میں تم مشرکوں کے  درمیان تھے  ایمان چھپائے  پھرتے  تھے، یہ مطلب بھی بیان کیا گیا ہے  کہ تم بھی پہلے  اسلام والے  نہ تھے  اللہ نے  تم پر احسان کیا اور تمہیں  اسلام نصیب فرمایا، حضرت اسامہ نے  قسم کھائی تھی کہ اس کے  بعد بھی کسی لا الہ الا اللّٰہ کہنے  والے  کو قتل نہ کروں گا کیونکہ انہیں  بھی اس بارے  میں پوری سرزنش ہوئی تھی۔ پھر تاکیداً دوبارہ فرمایا کہ نجوبی تحقیق کر لیا کرو، پھر دھمکی دی جاتی ہے  کہ اللہ جل شانہ کو اپنے  اعمال سے  غافل نہ سمجھو، جو تم کر رہے، وہ سب کی پوری طرح خبر رکھتا ہے ۔

۹۵

مجاہد اور عوام میں فرق

 صحیح بخاری میں ہے  کہ جب اس آیت کے  ابتدائی الفاظ اترے  کہ گھروں میں بیٹھ رہنے  والے  جہاد کرنے  والے  مومن برابر نہیں، تو آپ اسے  حضرت زید کو بلوا کر لکھوا رہے  تھے  اس وقت حضرت ابن ام مکتوم نابینا آئے  اور کہنے  لگے  حضور صلی اللہ علیہ و سلم میں تو نابینا ہوں معذور ہوں اس پر الفاظ غیر اولی الضرر نازل ہوئے  یعنی وہ بیٹھ رہنے  والے  جو بے  عذر ہوں ان کا ذکر ہے ۔ اور روایت میں ہے  کہ حضرت زید اپنے  ساتھ قلم دوات اور شانہ لے  کر آئے  تھے  اور حدیث میں ہے  کہ ام مکتوم نے  فرمایا تھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم اگر مجھ میں طاقت ہوتی تو میں ضرور جہاد میں شامل ہوتا اس پر وہ آیت اتری اس وقت حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی ران حضرت زید کی ران پر تھی ان پر اس قدر بوجھ پڑا قریب تھا کہ ران ٹوٹ جائے ۔ وہ حدیث میں ہے  کہ جس وقت ان آیات کی وحی اتری اور اس کے  بعد طمانیت آپ پر نازل ہوئی میں آپ کے  پہلو میں تھا اللہ کی قسم مجھ پر رسول صلی اللہ علیہ و سلم کی ران کا ایسا بوجھ پڑا کہ میں نے  اس سے  زیادہ بوجھل چیز زندگی بھر کوئی اٹھائی پھر وحی ہٹ جانے  کے  بعد آپ نے  عظیما تک آیت لکھوائی اور میں نے  اسے  شانے  کی ہڈی پر لکھ لیا اور حدیث میں یہ الفاظ بھی ہیں  کہ ابھی تو ابن ام مکتوم کے  الفاظ ختم بھی نہ ہوئے  تھے  جو آپ پر وحی نازل ہونا شروع ہوئی، حضرت زید فرماتے  ہیں  وہ منظر اب تک میری نگاہوں کے  سامنے  ہے  گویا میں دیکھ رہا ہوں کہ بعد میں اترے  ہوئے  الفاظ کو میں نے  ان کی جگہ پر اپنی تحریر میں بعد میں بڑھایا ہے، حضرت ابن عباس فرماتے  ہیں  مراد بدر کی لڑائی میں جانے  والے  اور اس میں حاضر نہ ہونے  والے  ہیں، غزوہ بدر کے  موقعہ پر حضرت عبد اللہ بن جعش اور حضرت عبد اللہ بن ام مکتوم آ کر حضور سے  کہنے  لگے  ہم دونوں نابینا ہیں  کیا ہمیں رخصت ہیں ؟ تو انہیں  آیت قرآنی میں رخصت دی گئی، پس مجاہدین کو جس قسم کے  بیٹھ رہنے  والوں پر فضلیت دی گئی ہے  وہ وہ ہیں  جو صحت وتندرستی والے  ہوں، پس پہلے  تو مجاہدین کو جس قسم کے  بیٹھ رہنے  والوں پر فضلیت دی گئی ہے  وہ وہ ہیں  جو صحت وتندرستی والے  ہوں، پس پہلے  تو مجاہدین کو بیٹھ رہنے  والوں پر مطلقاً فضلیت تھی لیکن اسی وحی میں جو الفاظ اترے  اس نے  ان لوگوں کو جنہیں  مباح عذر ہوں عام بیٹھ رہنے  والوں سے  مستثنیٰ کر دیا جیسے  اندھے  لنگڑے  لولے  اور بیمار، یہ مجاہدین کے  درجے  میں ہیں ۔ پھر مجاہدین کی جو فضلیت بیان ہوئی ہے  وہ ان لوگوں پر بھی ہے  جو بے  وجہ جہاد میں شامل نہ ہوئے  ہوں، جیسے  کہ ابن عباس کی تفسیر گزری اور یہ ہونا بھی چاہئے  بخاری میں ہے  رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے  فرمایا مدینہ میں ایسے  لوگ بھی ہیں  کہ تم جس جہاد کے  لئے  سفر کرو اور جس جنگل میں کوچ کرو وہ تمہارے  ساتھ اجر میں یکساں ہیں، صحابہ نے  کہا باوجود یکہ وہ مدینے  میں مقیم ہیں، آپ نے  فرمایا اس لئے  کہ انہیں  عذر نے  روک رکھا ہے  اور روایت میں ہے  کہ تم جو خرچ کرتے  ہو اس کا ثواب بھی جو تمہیں  ملتا ہے  انہیں  بھی ملتا ہے، اسی مطلب کو ایک شاعر نے  ان الفاظ میں

یارا حلین الی البیت العتیق لقد

سر تم جسو ماو سرنا نحن ارواحا

انا اقمنا علی عذروعن قدر

ومن اقام علی عذر فقدراحا

 یعنی اے  اللہ کے  گھر کے  حج کو جانے  والو! اگر تم اپنے  جسموں سمیت اس طرف چل رہے  ہو لیکن ہم بھی اپنی روحانی روش سے  اسی طرف لپکے  جا رہے  ہیں، سنو ہماری جسمانی کمزوری اور عذر نے  ہمیں روک رکھا ہے  اور ظاہر ہے  کہ عذر سے  رک جانے  والا کچھ جانے  والے  سے  کم نہیں  پھر فرمایا ہے  ہر ایک سے  اللہ تعالیٰ کا وعدہ جنت کا اور بہت بڑے  اجر کا ہے، اس سے  یہ بھی معلوم ہوا کہ جہاد فرض عین نہیں  بلکہ فرض کفایہ ہے، پھر ارشاد ہے، مجاہدین کو غیر مجاہدین پر بڑی فضلیت ہے ۔ پھر ان کے  بلند درجات ان کے  گناہوں کی معافی اور ان پر جو برکت و رحمت ہے  اس کا بیان فرمایا اور اپنی عام بخشش اور عام رحم کی خبر دی۔ بخاری مسلم میں ہے  جنت میں سو درجے  ہیں  جنہیں  اللہ تعالیٰ نے  راہ کے  مجاہدین کے  لئے  تیار کیا ہے  ہر دو درجوں میں اس قدر فاصلہ ہے  جتنا آسمان و زمین میں، اور حدیث میں ہے  حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے  فرمایا جو شخص اللہ کی راہ میں تیر چلائے  اسے  جنت کا درجہ ملتا ہے  ایک شخص نے  پوچھا درجہ کیا ہے ؟ آپ نے  فرمایا وہ تمہارے  یہاں کے  گھروں کے  بالا خانوں جتنا نہیں  بلکہ دو درجوں میں سو سال کا فاصلہ ہے ۔

۹۷

بے  معنی عذر مسترد ہوں گے  ہجرت اور نیت

 محمد بن عبدالرحمن ابوالا سود فرماتے  ہیں  اہل مدینہ سے  جنگ کرنے  کے  لئے  جو لشکر تیار کیا گیا اس میں میرا نام بھی تھا۔ میں حضرت ابن عباس کے  مولیٰ حضرت عکرمہ سے  ملا اور اس بات کا ذکر کیا تو انہوں نے  مجھے  اس میں شمولیت کرنے  سے  بہت سختی سے  روکا۔ اور کہا سنو حضرت ابن عباس سے  میں نے  سنا ہے  کہ بعض مسلمان لوگ جو حضور صلی اللہ علیہ و سلم کے  زمانے  میں مشرکوں کے  ساتھ تھے  اور ان کی تعداد بڑھاتے  تھے  بسا اوقات ایسا بھی ہوتا کہ ان میں سے  کوئی تیر سے  ہلاک کر دیا جاتا یا مسلمانوں کی تلواروں سے  قل کر دیا جاتا، انہی کے  بارے  میں یہ آیت اتری ہے  یعنی موت کے  وقت ان کا اپنی بے  طاقتی کا حیلہ اللہ تعالیٰ کے  ہاں قبول نہیں  ہوتا اور روایت میں ہے  کہ ایسے  لوگ جو اپنے  ایمان کو مخفی رکھتے  تھے  جب وہ بدر کی لڑائی میں کافروں کے  ساتھ آ گئے  تو مسلمانوں کے  ہاتھوں ان میں سے  بھی بعض مارے  گئے  جس پر مسلمان غمگین ہوئے  کہ افسوس یہ تو ہمارے  ہی بھائی تھے، اور ہمارے  ہی ہاتھوں مارے  گئے  ان کے  لئے  استغفار کرنے  لگے  اس اس پر یہ آیت اتری۔ پس باقی مادہ مسلمانوں کی طرف یہ آیت لکھ یکہ ان کا کوئی عذر نہ تھا کہا یہ نکلے  اور ان سے  مشرکین ملے  اور انہوں نے  تقیہ کیا پس یہ آیت اتری ومن الناس من یقول امنا باللّٰہ الخ، حضرت عکرمہ فرماتے  ہیں  یہ آیت ان لوگوں کے  بارے  میں اتری ہے  جو اسلام کا کلمہ پڑھتے  تھے  اور تھے  مکے  میں ہی ان میں علی ابن امیہ بن خلف اور ابوقیس بن ولید بن مغیرہ اور ابو منصور بن حجاج اور حاث بن زمعہ تھے  ضحاک کہتے  ہی یہ ان منافقوں کے  بارے  میں اتری ہے  جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی ہجرت کے  بعد مکے  میں رہ گئے  پھر بدر کی لڑائی میں مشرکوں کے  ساتھ آئے  ان میں سے  بعض میدان جنگ میں کام بھی آ گئے ۔ مقصد یہ ہے  کہ آیت کا حکم عام ہے  ہر اس شخص کا جو ہجرت پر قادر ہو پھر بھی مشرکوں میں پڑا رہے  اور دین پر مضبوط نہ رہے  اوہ اللہ تعالیٰ کے  نزدیک ظالم ہے  اور اس آیت کی رو سے  اور مسلمانوں کے  اجماع سے  رہ حرام کام کا مرتکب ہے  اس آیت میں ہجرت سے  گریز کرنے  کو ظلم کہا گیا ہے، ایسے  لوگوں سے  ان کے  نزع کے  عالم میں فرشتے  کہتے  ہیں  کہ تم یہاں کیوں ٹھہرے  رہے ؟ کیوں ہجرت نہ کی؟ یہ جواب دیتے  ہیں  کہ ہم اپنے  شہر سے  دوسرے  شہر کہیں  نہیں  جاسکتے  تھے  خ، جس کے  جواب میں فرشتے  کہتے  ہیں  کیا اللہ تعالیٰ کی زمین میں کشادگی نہ تھی؟ ابوداؤد میں ہے  جو شخص مشرکین میں مل جا رہے  انہی کے  ساتھ رہے  سہے  وہ بھی انہی جیسا ہے ۔ سدی فرماتے  ہیں  جبکہ حضرت عباس عقیل اور نوفل گرفتار کئے  گئے  تو آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم نے  فرمایا عباس تم اپنا فدیہ بھی دو اور پنے  بھتیجے  کا بھی، حضرت عباس نے  کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کیا ہم آپ کے  قبلے  کی طرف نمازیں نہیں  پڑھتے  تھے ؟ کیا ہم کلمہ شہادت ادا نہیں  کرتے  تھے ؟ آپ نے  فرمایا عباس تم نے  بحث تو چھیڑی لیکن اس میں تم ہار جاؤ گے  سنو اللہ جل شانہ فرماتا ہے  پھر آپ نے  یہی تلاوت فرمائی یعنی تم نے  ہجرت کیوں نہ کی؟ پھر جن لوگوں کو ہجرت کے  چھوڑ دینے  پر ملامت نہ ہو گی ان کا ذکر فرماتا ہے  کہ جو لوگ مشرکین کے  ہاتھوں سے  نہ چھوٹ سکیں اور اگر کبھی چھوٹ بھی جائیں تو راستے  کا علم انہیں  نہیں  ان سے  اللہ تعالیٰ درگزر فرمائے  گا، “عسی” کلمہ اللہ کے  کلام میں وجوب اور یقین کے  لئے  ہوتا ہے ۔ اللہ درگزر کرنے  والا اور بہت ہی معافی دینے  والا ہے ۔ حضرت ابوہریرہ کا بیان ہے  کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے  عشاء کی نماز میں سمع اللہ لمن حمد کہنے  کے  بعد سجدے  میں جانے  سے  پہلے  یہ دعا مانگی اے  اللہ عیاش ابو ربیعہ کو سلمہ بن ہشام کو ولید بن ولید کو اور تمام بے  بس نا طاقت مسلمانوں کو کفار کے  پنجے  سے  رہائی دے  اے  اللہ اپنا سخت عذاب قبیلہ مضر پر ڈال اے  اللہ ان پر ایسی قحط سالی نازل فرما جیسی حضرت یوسف کے  زمانے  میں آئی تھی۔ ابن ابی حاتم میں حضرت ابوہریرہ سے  مروی ہے  کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے  سلام یپھرنے  کے  بعد قبلے  کی طرف منہ کئے  ہوئے  ہاتھ اٹھا کر دعا مانگی اے  اللہ ولید بن ولید کو عشا بن ابو ربیعہ کو سلمہ بن ہشام کو اور تمام ناتواں بے  طاقت مسلمانوں کو اور جو بے  حیلے  کی طاقت رکھتے  ہیں  نہ راہ پانے  کی کافروں کے  ہاتھوں سے  نجات دے ۔ ابن جریر میں ہے  حضور صلی اللہ علیہ و سلم ظہر کی نماز کے  بعد یہ دعا مانگا کرتے  تھے ۔ اس حدیث کے  شواہد صحیح میں بھی اس سند کے  سوا اور سندوں میں بھی ہیں  کہ جیسے  کہ پہلے  گزرا۔ حضرت ابن عباس فرماتے  ہیں  میں اور میری والدہ ان ضعیف عورتوں اور بچوں میں تھے  جن کا ذکر اس آیت میں ہے ۔ ہمیں اللہ نے  معذور رکھا۔ ہجرت کی ترغیب دیتے  ہوئے  اور مشرکوں سے  الگ ہونے  کی ہدایات کرتے  ہوئے  فرماتا ہے  کہ اللہ کی راہ میں ہجرت کرنے  والا ہراساں نہ ہو وہ جہاں جائے  گا اللہ تعالیٰ اس کے  لئے  اسباب پناہ تیار کر دے  گا اور وہ بہ آرام وہاں اقامت کر سکے  گا مراغم کے  ایک معنی یایک جگہ سے  دوسری جگہ جانے  کے  بھی ہیں، مجاہد فرماتے  ہیں  وہ اپنے  دکھ سے  بچاؤ کی بہت سی صورتیں پالے  گا، امن کے  بہت سے  اسباب اسے  مل جائیں گے، دشمنوں کے  شر سے  بچ جائے  گا اور وہ روزی بھی پائے  گا گمراہی کی جگہ ہدایت اسے  ملے  گی اس کی فقیری تونگری سے  بدل جائے  ارشاد ہوتا ہے  جو شخص بہ نیت ہجرت اپنے  گھر سے  نکلا پھر ہجرت گاہ پہنچنے  سے  پہلے  ہی راستے  میں اسے  موت آ گئی اسے  بھی ہجرت اللہ کی طرف اور اس کے  رسول کی طرف ہو اس کی ہجرت اللہ کی رضامندی اور رسول کی خوشنودی کا باعث ہو گی اور جس کی ہجرت دنیا حاصل کرنے  کے  لئے  ہو یا کسی عورت سے  نکاح کرنے  کے  لئے  ہو تو اسے  اصل ہجرت کا ثواب نہ ملے  گا بلکہ اس کی ہجرت اس کے  بارے  میں ہے  جس نے  ننانوے  قتل کئے  تھے  پھر ایک عابد کو قتل کر کے  سو پورے  کئے  پھر ایک عالم سے  پوچھا کہ کیا اس کی توبہ قبول ہو سکتی ہے ؟ اس نے  کہا تیری توبہ کے  اور تیرے  درمیان کوئی چیز حائل نہیں  تو اپنی بستی سے  ہجرت کر کے  فلاں شہر چلا جا جہاں اللہ کے  عابد بندے  رہتے  ہیں  چنانچہ یہ ہجرت کر کے  اس طرف چلا راستہ میں ہی تھا جو موت آ گئی۔ رحمت اور عذاب کے  فرشتوں میں اس کے  بارے  میں اختلاف ہوا بحث یہ تھی کہ یہ شخص توبہ کر کے  ہجرت مگر چلا تو سہی یہ وہاں پہنچا تو نہیں  پھرا نہیں  حکم کیا گیا کہ وہ اس طرف کی اور اس طرف کی زمین ناپیں جس بستی سے  یہ شخص قریب ہو اس کے  رہنے  والوں میں اسے  ملا دیا جائے  پھر زمین کو اللہ تعالیٰ نے  حکم دیا کہ بری بستی کی جانب سے  دور ہو جا اور نیک بستی والوں کی طرف قریب ہو جا، جب زمین ناپی گئی تو توحید والوں کی بستی سے  ایک بالشت برابر قریب نکلی اور اسے  رحمت کے  فرشتے  لے  گئے ۔ ایک روایت میں ہے  کہ موت کے  وقت یہ اپنے  سینے  کے  بل نیک لوگوں کی بستی کی طرف گھسیٹتا ہوا گیا۔ مسند احمد کی حدیث میں ہے  جو شخص اپنے  گھر سے  اللہ کی راہ میں ہجرت کی نیت سے  نکلا پھر آپ نے  اپنی تینوں انگلیوں یعنی کلمہ کی انگلی بیچ کی انگلی اور انگوٹھے  کو ملا کر کہا۔ پھر فرمایا کہاں ہیں  مجاہد؟ پھر وہ اپنی سواری پر سے  گر پڑا یا اسے  کسی جانور نے  کاٹ لیا یا اپنی موت مر گیا تو اس کا ہجرت کا ثواب اللہ کے  ذمے  ثابت ہو گیا (راوی کہتے  ہیں  اپنی موت مرنے  کے  لئے  جو کلمہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے  استعمال کیا) واللہ میں نے  اس کلمہ کو آپ سے  پہلے  کسی عربی کی زبانی نہیں  سنا اور جو شخص غضب کی حالت میں قتل کیا گیا وہ جگہ کا مستحق ہو گیا، حضرت خالد بن خرام ہجرت کر کے  حبشہ کی طرف چلے  لیکن راہ میں ہی انہیں  ایک سانب نے  ڈس لیا اور اسی میں ان کی روح قبض ہو گئی ان کے  بارے  میں یہ آیت اتری۔ حضرت زبیر فرماتے  ہیں  میں چونکہ ہجرت کر کے  حبشہ پہنچ گیا اور مجھے  ان کی خبر مل گئی تھی کہ یہ بھی ہجرت کر کے  آرہے  ہیں  اور میں جانتا تھا کہ قبیلہ بنو اسد سے  ان کے  سوا اور کوئی ہجرت کر کے  آنے  کا نہیں  اور کم و بیش جتنے  مہاجر تھے  ان کے  ساتھ رشتے  کنبے  کے  لوگ تھے  لیکن میرے  ساتھ کوئی نہ تھا میں ان کا یعنی حضرت خالد کا بے  چینی سے  انتظار کر رہا تھا جو مجھے  ان کی اس طرح کی اچانک شہادت کی خبر ملی تو مجھے  بہت ہی رنج ہوا۔ یہ اثر بہت ہی غریب ہے، یہ بھی وجہ ہے  کہ یہ قصہ مکے  کا ہے  اور آیت مدینے  میں اتری ہے ۔ لیکن بہت ممکن ہے  کہ راوی کا مقصود یہ ہو کہ آیت کا حکم عام ہے  گوشان نزول یہ نہ ہو واللہ اعلم۔ اور وایت میں ہے  کہ حضرت ضمرہ بن جندب ہجرت کر کے  رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی طرف چلے  لیکن آپ کے  پاس پہنچنے  سے  پہلے  ہی راستے  میں انتقال کر گئے  ان کے  بارے  میں یہ آیت شریفہ نازل ہوئی اور روایت میں ہے  کہ حضرت سعد بن ابی ضمرہ جن کو آنکھوں سے  دکھائی نہ دیتا تھا جب وہ آیت الا المستضعفین الخ، سنتے  ہیں  تو کہتے  ہیں  میں مالدار ہوں اور چارہ کار بھی رکھتا ہوں مجھے  ہجرت کرنی چاہئے  چنانچہ سامان سفر تیار کر لیا اور حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی طرف چل کھڑے  ہوئے  لیکن ابھی تنعیم میں ہی تھے  جو موت آ گئی ان کے  بارے  میں یہ آیت نازل ہوئی۔ طبرانی میں ہے  رسول اللہ نے  فرمایا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے  جو شخص میری راہ میں غزوہ کرنے  کے  لئے  نکلا صرف میرے  وعدوں کو سچا جان کر اور میرے  رسولوں پر ایمان رکھ کر بس وہ اللہ کی ضمانت میں ہے  یا تو وہ لشکر کے  ساتھ فوت ہو کر جنت میں پہنچے  گا یا اللہ کی ضمانت میں واپس لوٹے  گا اجرو غنیمت اور فضل رب لے  کر۔ اگر وہ اپنی موت مر جائے  یا مار ڈالا جائے  یا گھوڑے  سے  گر جائے  یا اونٹ پر سے  گر پڑے  یا کوئی زہریلا جانور کاٹ لے  یا اپنے  بستر پر کسی طرح فوت ہو جائے  وہ شہید ہے ۔ ابوداؤد میں اتنی زیادتی بھی ہے  کہ وہ جتنی ہے  بعض الفاظ ابو داؤد میں نہیں  ہیں ۔ ابو یعلیٰ میں ہے  جو شخص حج کے  لئے  نکلا پھر مر گیا قیامت تک اس کے  لئے  حج کا ثواب لکھا جاتا ہے، جو عمرے  کے  لئے  نکلا اور راستے  میں فوت ہو گیا اس کے  لئے  قیامت تک عمرے  کا اجر لکھا جاتا ہے ۔ جو جہاد کے  لئے  نکلا اور فوت ہو گیا اس کے  لئے  قیامت تک کا ثواب لکھا جاتا ہے ۔ یہ حدیث بھی غریب ہے ۔۱۰۱

صلوٰۃ قصر؟

 فرمان الٰہی ہے  کہ تم کہیں  سفر میں جا رہے  ہو۔ یہی الفاظ سفر کے  لئے  سورہ مزمل میں بھی آئے  ہیں ۔ تو تم پر نماز کی تخفیف کرنے  میں کوئی گناہ نہیں، یہ کمی یا تو کمیت میں یعنی بجائے  چار رکعت کے  دو رکعت ہے  جیسے  کہ جمہور نے  اس آیت سے  سمجھا ہے  گو پھر ان میں بعض مسائل میں اختلاف ہوا ہے  بعض تو کہتے  ہیں  یہ شرط ہے  کہ سفر اطاعت کا ہو مثلاً جہاد کے  لئے  یا حج و عمرے  کے  لئے  یا طلب و زیارت کے  لئے  وغیرہ۔ ابن عمر عطا یحییٰ اور ایک روایت کی رو سے  امام مالک کا یہی قول ہے، کیونکہ اس سے  آگے  فرمان ہے  اگر تمہیں  کفار کی ایذا رسانی کا خوف ہو، بعض کہتے  ہیں  اس قید کی کوئی ضرورت نہیں  کہ سفر قربت الہیہ کا ہو بلکہ نماز کی کمی ہر مباح سفر کے  لئے  ہے  جیسے  اضطرار اور بے  بسی کی صورت میں مردار کھانے  کی اجازت ہے، ہاں یہ شرط ہے  کہ سفر معصیت کا نہ ہو، امام شافعی وغیرہ ائمہ کا یہی قول ہے، ایک شخص نے  رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے  سوال کیا کہ میں تجارت کے  سلسلے  میں دریائی سفر کرتا ہوں تو آپ نے  اسے  دو رکعتیں پڑھنے  کا حکم دیا، یہ حدیث مرسل ہے، بعض لوگوں کا مذہب ہے  کہ ہر سفر میں نماز کو قصر کرنا جائز ہے  سفر خواہ مباح ہو خواہ ممنوع ہو یہاں تک کہ اگر کوئی ڈاکہ ڈالنے  کے  لئے  اور مسافروں کو ستانے  کے  لئے  نکلا ہوا ہے  اسے  بھی نماز قصر کرنے  کی اجازت ہے، ابوحنیفہ ثوری اور داؤد کا یہی قول ہے  کہ آیت عام ہے، لیکن یہ قول جمہور کے  قول کے  خلاف ہے ۔ کفار سے  ڈر کی جو شرط لگائی ہے  یہ باعتبار اکثریت کے  ہے  آیت کے  نازل ہونے  کے  وقت چونکہ عموماً یہی حال تھا اس لئے  آیت میں بھی اسے  بیان کر دیا گیا، ہجرت کے  بعد سفر مسلمانوں کے  سب کے  سب خوف والے  ہی ہوتے  تھے  قدم قدم پر دشمن کا خطرہ رہتا تھا بلکہ مسلمان سفر کے  لئے  نکل ہی نہ سکتے  تھے  بجز اس کے  کہ یا تو جہاد کو جائیں یا کسی خاص لشکر کے  ساتھ جائیں اور یہ قاعدہ ہے  کہ جب منطوق بہ اعتبار غالب کے  آئے  تو اس کا مفہوم معتبر نہیں  ہوتا۔ جیسے  اور آیت میں ہے  اپنے  لونڈیوں کو بدکاری کے  لئے  مجبور نہ کرو اگر وہ پاکدامنی کرنا چاہیں  اور جیسے  فرمایا ان کی بیٹیاں جو تمہاری پرورش میں ہیں  جن عورتوں سے  تم نے  محبت کی ہے ۔ پس جیسے  کہ ان دونوں آیتوں میں قید کا بیان ہے  لیکن اس کے  ہونے  پر ہی حکم کا دارومدار نہیں  بلکہ بغیر اس کے  بھی حکم وہی ہے  یعنی لونڈیوں کو بدکاری کے  لئے  مجبور کرنا حرام ہے  چاہے  وہ پاکدامنی میں ہو یا نہ ہو، حالانکہ دونوں جگہ قرآن میں یہ قید موجود ہے، پس جس طرح ان دونوں موقعوں میں بغیر ان قیود کے  بھی حکم یہی ہے  اسی طرح یہاں بھی گو خوف نہ تو بھی محض سفر کی وجہ سے  نماز کو قصر کرنا جائز ہے، مسند احمد میں ہے  کہ حضرت یعلیٰ بن امیہ نے  حضرت عمر فاروق سے  پوچھا کہ نماز کی تخفیف کا حکم تو خوف کی حالت میں ہے  اور اب تو امن ہے ؟ حضرت عمر نے  جواب دیا کہ یہی خیال مجھے  ہوا تھا اور یہی سوال میں نے  رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے  کیا تھا تو آپ نے  فرمایا یہ اللہ تعالیٰ کا صدقہ ہے  جو اس نے  تمہیں  دیا ہے  تم اس کے  صدقے  کو قبول کرو۔ مسلم اور سنن وغیرہ میں بھی یہ حدیث ہے  بالکل صحیح روایت ہے ۔ ابو حنظلہ خداء نے  حضرت عمر سے  سفر کی نماز کا پوچھا تو آپ نے  فرمایا دو رکعت ہیں  انہوں نے  کہا قرآن میں تو خوف کے  وقت دو  رکعت ہیں  اور اس وقت تو پوری طرح امن و امان ہے  تو آپ نے  فرمایا یہی سنت ہے  رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی (ابن ابی شیبہ) ایک اور شخص کے  سوال پر حضرت عمر نے  فرمایا تھا آسمان سے  تو یہ رخصت اتر ی ہے  اب اگر تم چاہو تو اسے  لوٹا دو، حضرت ابن عباس فرماتے  ہیں  مکہ اور مدینہ کے  درمیان ہم نے  باوجود امن کے  رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے  ساتھ دو رکعت پڑھیں (نسائی وغیرہ) اور حدیث میں ہے  کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم مدینہ سے  مکے  کی طرف چلے  تو اللہ کے  سوا کسی سے  خوف نہ تھا اور آپ برابر دو رکعت ہی ادا فرماتے  رہے ۔ بخاری کی حدیث میں ہے  کہ واپسی میں بھی یہی دو رکعت آپ پڑھتے  رہے  اور مکے  میں اس سفر میں آپ نے  دس روز قیام کیا تھا۔ مسند احماد میں حضرت حارثہ سے  روایت ہے  کہ میں نے  نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے  ساتھ منی میں ظہر کی اور عصر کی نماز دو دو رکعت پڑھی ہیں  حالانکہ اس وقت ہم بکثرت تھے  اور نہایت ہی پر امن تھے، صحیح بخاری میں ہے  حضرت عبد اللہ کے  ساتھ (سفر میں) دو رکعت پڑھی ہیں، لیکن حضرت عثمان صلی اللہ علیہ و سلم کی چار رکعات کا ذکر آیا تو آپ نے  انا للہ الخ، پڑھ کر فرمایا میں نے  تو حضور صلی اللہ علیہ و سلم کے  ساتھ بھی منی میں دو رکعت پڑھ ہیں  اور صدیق اکبر کے  ساتھ بھی اور عمر فاروق کے  ساتھ بھی کاش کہ بجائے  ان چار رکعات کے  میرے  حصے  میں دو ہی مقبول رکعات آئیں، پس یہ حدیثیں کھلم کھلا دلیل ہیں  اس بات کی کہ سفر کی دو رکعات کے  لئے  خوف کا ہونا شرط نہیں  بلکہ نہایت امن و اطمینان کے  سفر میں بھی دو گانہ ادا کر سکتا ہے، اسی لئے  علماء کرام نے  فرمایا ہے  کہ یہاں کیفیت میں یعنی قرآت قومہ رکوع سجود وغیرہ میں قصر اور کمی مراد ہے  نہ کہ کمیت میں یعنی تعداد رکعات میں تخفیف کرنا، ضحاک، مجاہد اور سدی کا یہی قول ہے  جیسے  کہ آ رہا ہے، اس کی ایک دلیل اما مالک کی رویت کردہ یہ حدیث بھی ہے  کہ حضرت عائشہ فرماتی ہیں  نماز دو دو رکعتیں ہی سفر حضر میں فرض کی گئی تھی پھر سفر میں تو وہی دو رکعتیں رہیں  اور اقامت کی حالت میں دو اور بڑھا دی گئیں، پس علماء کی یہ جماعت کہتی ہے  کہ اصل نماز دو رکعتیں تھی تو پھر اس آیت میں قصر سے  مراد کمیت یعنی رکعتوں کی تعداد میں کمی کیسے  ہو سکتی ہے ؟ اس قول کی بہت بڑی تائید صراحتاً اس حدیث سے  بھی ہوتی ہے  جو مسند احمد میں حضرت عمر کی روایت سے  ہے  کہ بہ زبان نبی صلی اللہ علیہ و سلم سفر کی دو رکعتیں ہیں  اور ضحی کی نماز بھی دو رکعت ہے  اور عید الفطر کی نماز بھی دو رکعت ہے  اور جمعہ کی نماز بھی دو رکعت ہے  یہ یہی پوری نماز ہے  قصر والی نہیں، یہ حدیث نسانی، ابن ماجہ اور صحیح ابن حبان میں بھی ہے  اس کی سندبہ شرط مسلم ہے ۔ اس کی روای ابن ابی لیلیٰ کا حضرت عمر سے  سننا ثابت ہے  جیسے  کہ امام مسلم نے  اپنی صحیح کے  مقدمہ میں لکھا ہے  اور خود اس روایت اور اس کے  علاوہ بھی صراحتاً موجود ہے  اور یہی ٹھیک بھی ہے  انشاء اللہ۔ گو بعض محدثین سننے  پر فیصلہ دینے  کے  قائل نہیں، لیکن اسے  مانتے  ہوئے  بھی اس سند میں کمی واقع نہیں  ہوتی کیونکہ بعض طرق میں ابن ابی لیلیٰ کا ایک ثقہ سے  اور ان کا حضرت عمر سے  سننا مروی ہے، اور ابن ماجہ میں ان کا کعب ابن عجرہ سے  روایت کرنا اور ان کا حضرت عمر سے  روایت کرنا سے  روایت کرنا بھی مروی ہے  فاللہ اعلم۔ مسلم و غریہ میں حضرت عبد اللہ بن عباس سے  مروی ہے  کہ اللہ تعالیٰ نے  تمہارے  نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ و سلم کی زبانی نماز کو اقامت کی حالت میں چار رکعت فرض کی ہے  اور سفر میں دو رکعت اور خوف میں ایک رکعت پس جیسے  کہ قیام میں اس سے  پہلے  اور اس کے  پیچھے  نماز پڑھتے  تھے  یا پڑھی جاتی تھی اسی طرح سفر میں بھی اور اس روایت میں اور حضرت عائشہ والی روایت میں جو اوپر گزری کہ حضر میں اللہ تعالیٰ نے  دو رکعتیں ہی فرض کی تھیں گویا مسافات سے  مشروط ہیں  اس لئے  کہ اصل دوہی تھیں بعد میں دو اور بڑھا دی گئیں پھر حضر کی چار رکعت ہو گئیں تو اب کہہ سکتے  ہیں  کہ اقامت کی حالت میں فرض چار رکعتیں ہیں ۔ جیسے  کہ ابن عباس کی اس روایت میں ہے  واللہ اعلم۔ الغرض یہ دونوں روایتیں اسے  ثابت کرتی ہیں  کہ سفر میں دو رکعت نماز ہی پوری نماز سے  کم نہیں  اور یہی حضرت عمر کی روایت سے  بھی ثابت ہو چکا ہے ۔ مراد اس میں قصر کمیت ہے  جیسے  کہ صلوٰۃ خوف میں ہے  اسی لئے  فرمایا ہے  اگر تم ڈرو اس بات سے  کہ کافر تمہیں  فتنے  میں ڈال دیں گے  اور اس کے  بعد فرمایا جب وقت ان میں ہو اور نماز پڑھو تو بھی۔ پھر قصر کا مقصود صفت اور کیفیت بھی بیان فرما دی امام المحدثین حضرت بخاری نے  کتاب صلوٰۃ خوف کو اسی آیت واذاضرمبتم سے  مھینا تک لکھ کر شروع کیا ہے، ضحاک اس کی تفسیر میں فرماتے  ہیں  کہ یہ لڑائی کے  وقت ہے  انسان اپنی سواری پر نماز دو تکبیریں پڑھ لے  اس کا منہ جس طرف بھی ہو اسی طرف صحیح ہے ۔ سدی فرماتے  ہیں  کہ سفر میں جب تو نے  دو رکعت پڑھیں تو وہ قصر کی پوری مقدار ہے  ہاں جب کافروں کی فتنہ انگریزی کا خوف ہو تو ایک ہی رکعت قصر ہے  البتہ یہ کسی سنین خوف کے  بغیر جائز نہیں ۔ مجاہد فرماتے  ہیں  اس آیت سے  مراد وہ دن ہے  جبکہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے  تمام صحابہ کے  ساتھ حسب معمول چار رکعتیں پوری ادا کیں پھر مشرکین نے  سامان واسباب کو لوٹ لینے  کر ارادہ کیا، ابن جریر اسے  مجاہد اور سدی اور جابر اور ابن عمر سے  روایت کرتے  ہیں  اور اسی کو اختیار کرتے  ہیں  اور اسی کو کہتے  ہیں  کہ یہی ٹھیک ہے ۔ حضرت خالد بن اسید حضرت عبد اللہ بن عمر سے  کہتے  ہیں  صلوٰۃ خوف کے  قصر کا حکم تو ہم کتاب اللہ میں پاتے  ہیں  لیکن صلوٰۃ مسافر کے  قصر کا حکم کتاب اللہ میں نہیں  ملتا تو حضرت ابن عمر جواب دیتے  ہیں  ہم نے  اپنے  نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو سفر میں نماز کو قصر کرتے  ہوئے  پایا اور ہم نے  بھی اس پر عمل کیا۔ خیال فرمائیے  کہ اس میں قصر کا اطلاق صلوٰۃ خوف پر کیا اور آیت سے  مراد بھی صلوٰۃ خوف لی اور صلوٰۃ مسافر کو اس میں شامل نہیں  کیا اور حضرت ابن عمر نے  بھی اس کا اقرار کیا۔ اس آیت سے  مسافرت کی نماز کا قصر بیان نہیں  فرمایا بلکہ اس کے  لئے  فعل رسول صلی اللہ علیہ و سلم کو سند بتایا۔ اس سے  زیادہ صراحت والی روایت ابن جریر کی ہے  کہ حضرت سماک آپ سے  صلوٰۃ پوچھتے  ہیں  آپ فرماتے  ہیں  سفر کی نماز دو رکعت ہے  اور یہی دو رکعت سفر کی پوری نماز ہے  قصر نہیں، قصر تو صلوٰۃ خوف میں ہے  کہ امام ایک جماعت کو ایک رکعت پڑھاتا ہے  دوسری جماعت دشمن کے  سامنے  ہے  پھر یہ چلے  گئے  وہ آ گئے  ایک رکعت امام نے  انہیں  پڑھائی تو امام کی دو رکعت ہوئیں اور ان دونوں جماعتوں کی ایک ایک رکعت ہوئی۔

۱۰۲

صلوٰۃ خوف کے  مسائل

 نماز خوف کی کئی قسمیں مختلف صورتیں اور حالتیں ہیں، کبھی تو ایسا ہوتا ہے  کہ دشمن قبلہ کی طرف کبھی دشمن دوسری جانب ہوتا ہے، نماز بھی کبھی چار رکعت ہوتی ہے  کبھی تین رکعت جیسے  مغرب اور فجر کی دو صلوٰۃ سفر، کبھی جماعت سے  ادا کرنی ممکن کرتی ہے  کبھی لشکر اس طرح باہم گتھے  ہوئے  ہوتے  ہیں  کہ نماز با جماعت ممکن ہی نہیں  ہوتی بلکہ الگ الگ قبلہ کی طرف اور غیر قبلہ کی طرف پیدل اور سوار جس طرح ممکن ہو پڑھی جاتی ہے  بلکہ ایسا بھی ہوتا ہے  جو جائز بھی ہے  کہ دشمنوں کے  حملوں سے  بچتے  بھی جائیں ان پر برابر حملے  بھی کرتے  جائیں اور نماز بھی ادا کرتے  جائیں، ایسی حالت میں صرف ایک رکعت ہی نماز پڑھی جاتی ہے  جس کے  جواز میں علماء کا فتویٰ ہے  اور دلیل حضرت عبد اللہ بن عباس کی حدیث ہے  جو اس سے  اگلی آیت کی تفسیر میں بیان ہو چکی ہے  عطا، جابر، حسن، مجاہد، حکم، قتادہ، حماد، طاؤس، ضحاک، محمد بن نصر، مروزی، ابن حزم اجمعین کا یہی فتویٰ ہے، صبح کی نماز میں ایک ہی رکعت اس حالت میں رہ جاتی ہے، اسحق راہویہ فرماتے  ہیں  ایسی دوڑ دھوپ کے  وقت ایک ہی رکعت کافی ہے ۔ ارشاد ہے  ادا کر لے  اگر اس قدر پر بھی قادریہ ہو تو سجدہ کر لے  یہ بھی ذکر اللہ ہے، اور لوگ کہتے  ہیں  صرف ایک تکبیر ہی کافی ہے  لیکن یہ ہو سکتا ہے  کہ ایک سجدہ اور ایک تکبیر سے  مراد بھنی ایک رکعت ہو۔ جیسے  کہ حضرت امام احمد بن حنبل اور ان کے  اصحاب کا فتویٰ ہے  اور یہی قول ہے  جابر بن عبداللہ، عبد اللہ بن عم کعب وغیرہ صحابہ کا رضی اللہ عنہم اجمعین، سدی بھی فرماتے  ہیں  لیکن جن لوگوں کا قول صرف ایک تکبیر کا ہی بیان ہوا ہے  اس کا بیان کرنے  والے  اسے  پوری رکعت پر محمول نہیں  کرتے  بلکہ صرف تکبیر ہی جو ظاہر ہے  مراد لیتے  ہیں  جیسے  کہ اسحاق بن راہویہ کا مذہب ہے، امیر عبدالوہاب بن بخت مکی بھی اسی طرف گئے  ہیں  وہ یہاں تک کہتے  ہیں  کہ اگر اس پر بھی قدرت نہ ہو تو اسے  اپنے  نفس میں بھی نہ چھوڑے  یعنی نیت ہی کر لے  واللہ اعلم۔ (لیکن صرف نیت کے  کر لینے  یا صرف اللہ اکبر کہہ لینے  پر اکتفا کرنے  یا صرف ایک ہی سجدہ کر لینے  کی کوئی دلیل قرآن حدیث سے  نظر سے  نہیں  گزری۔ واللہ اعلم مترجم) بعض علماء نے  ایسے  خاص اوقات میں نماز کو تاخیر کر کے  پڑھنے  کی رخصت بھی دی وے  ان کی دلیل یہ ہے  کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے  جنگ خندق میں سورج ڈوب جانے  کے  بعد ظہر عصر کی نماز پھڑ تھی پھر مغرب عشاء، پھر اس کے  بعد بنو قریظہ کی جنگ کے  دن ان کی طرف جنہیں  بھیجا تھا انہیں  تاکید کر دی تھی کہ تم میں سے  کوئی بھی بنو قریظہ تک پہنچنے  سے  پہلے  عصر کی نماز نہ پڑھے  یہ جماعت ابھی راستے  میں ہی تھی تو عصر کا وقت آگیا بعض نے  کہا حضور صلی اللہ علیہ و سلم کا مقصد اس فرمان سے  صرف یہی تھا کہ ہم جلدی بنو قریظہ پہنچیں کر نماز پڑھی جبکہ سورج غروب ہو چکا تھا۔ جب اس بات کا ذکر حضور صلی اللہ علیہ و سلم سے  ہوا تو آپ نے  دونوں جماعتوں میں سے  کسی ایک کو بھی ڈانٹ ڈپٹ نہیں  کی ہم نے  اس پر تفصیلی بحث اپنی کتاب السیرۃ میں کی ہے  اور اسے  ثابت کیا ہے  کہ صحیح بات کے  قریب وہ جماعت تھی جنہوں نے  وقت پر نماز ادا کر لی گو دوسری جماعت بھی معذور تھی، مقصود یہ ہے  کہ اس جماعت نے  جہاد کے  موقعہ پر دشمنوں پر تاخت کرتے  ہوئے  ان کے  قلعے  کی طرف یورش جاری رکھتے  ہوئے  نماز کو موخر کر دیا، دشمنوں کا یہ گروہ ملعون یہودیوں کا تھا جنہوں نے  عہد توڑ دیا تھا اور صلح کے  خلاف کیا تھا۔ لیکن جمہور کہتے  ہیں  صلوٰۃ خوف کے  نازل ہونے  سے  یہ سب منسوخ ہو گیا یہ واقعات اس آیت کے  نازل ہونے  سے  پہلے  کے  ہیں  صلوٰۃ خوف کے  حکم کے  بعد اب جہاد کے  وقت نماز کو وقت سے  ٹالنا جائز نہیں  رہا، ابوسعید کی روایت سے  بھی یہی ظاہر ہے  جسے  شافعی نے  مروی کی ہے، لیکن صحیح بخاری کے  باب الصلوٰۃ عند منا ھضتہ الحصون الخ، میں ہے  کہ اوزاعی فرماتے  ہیں  اگر فتح کی تیاری ہو اور نماز با جماعت کا امکان نہ ہو تو ہر شخص الگ الگ اپنی اپنی نماز اشارے  سے  ادا کر لے  اگر یہ بھی نہ ہو سکتا ہو تو نماز میں تاخیر کر لیں یہاں تک کہ جنگ ختم ہو یا امن ہو جائے  اس وقت دو رکعتیں پڑھ لیں اور اگر امن نہ ملے  تو ایک رکعت ادا کر لیں صرف تکبیر کا کہہ لینا کافی نہیں ۔ ایسا ہو تو نماز کو دیر کر کے  پڑھیں جبکہ اطمینان نصیب ہو جائے  حضرت مکحول کا فرمان بھی یہی ہے  حضرت انس بن مالک فرماتے  ہیں  کہ ستر کے  قلعہ کے  محاصرے  میں میں موجود تھا صبح صادق کے  وقت دست بدست جنگ شروع ہوئی اور سخت گھمسان کا رن پڑا ہم لوگ نماز نہ پڑھ سکے  اور برابر جہاد میں مشغول رہے  جب اللہ تعالیٰ نے  ہمیں قلعہ پر قابض کر دیا اس وقت ہم نے  دن چڑھے  نماز پڑھی اس جنگ میں ہمارے  امام حضرت ابو موسیٰ تھے  حضرت انس فرماتے  ہیں  اس نماز کے  متبادل ساری دنیا کی تمام چیزیں بھی مجھے  خوش نہیں  کر سکتیں امام بخاری اس کے  بعد جنگ خندق میں حضور صلی اللہ علیہ و سلم کا نمازوں کو تاخیر کرنے  کا ذکر کرتے  ہیں  پھر بنو قریظہ والا واقعہ اور حضور صلی اللہ علیہ و سلم کا فرمان کہ تم بنو قریظہ پہنچنے  سے  پہلے  عصر کی نماز نہ پڑھنا وارد کرتے  ہیں  گویا امام ہمام حضرت امام بخاری اسی سے  اتفاق کرتے  ہیں  کہ ایسی اشد لڑائی اور پورے  خطرے  اور قرب فتح کے  موقع پر اگر نماز موخر ہو جائے  تو کوئ حرج نہیں  حضرت ابو موسیٰ نے  اس پر اعتراض کیا ہو اور یہ لوگ یہ بھی کہتے  ہیں  کہ خندق کے  موقع پر بھی صلوٰۃ خوف کی آیتیں موجود تھیں اس لئے  کہ یہ آیتیں غزوہ ذات الرقاع میں نازل ہوئی ہیں  اور یہ غزوہ غزوہ خندق سے  پہلے  کا ہے  اور اس پر جمہور علماء سیرو مغازی کا اتفاق ہے، محمد بن اسحق، موسیٰ بن عقبہ واقدی، محمد بن سعد، کاتب واقدی اور خطیفہ بن خیاط وغیرہ بھی اسی کے  قائل ہیں، ہاں امام بخاری وغیرہ کا قول ہے  کہ غزوہ ذات الرقاع خندق کے  بعد ہوا تھا بہ سبب بحوالہ حدیث ابوموسیٰ کے  اور یہ خود خیبر میں ہی آئے  تھے  واللہ اعلم، لیکن سب سے  زیادہ تعجب تو اس امر پر ہے  کہ قاضی ابو یوسف مزنی ابراہیم بن اسمٰعیل بن علیہ کہتے  ہیں  کہ صلوٰۃ خوف منسوخ ہے  رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے  غزوہ خندق میں میں دیر کر کے  نماز پڑھنے  سے ۔ یہ قول بالکل ہی غریب ہے  اس لئے  کہ غزوہ خندق کے  بعد کے  صلوٰۃ کے  بعد کی صلوٰۃ خوف کی حدیثیں ثابت ہیں، اس دن کی نماز کی تاخیر کو مکحول اور اوزاعی کے  قول پر ہی محمول کرنا زیادہ قوی اور زیادہ درست ہے  یعنی ان کا وہ قول جو بحوالہ بخاری بیان ہوا کہ قرب فتح اور عدم اکان صلوٰۃ خوف کے  باوجود تاخیر جائز ہے  واللہ اعلم۔ آیت میں حکم ہوتا ہے  کہ جب تو انہیں  با جماعت نماز پڑھائے ۔ یہ حالت پہیلی کے  سوا ہے  اس وقت یعنی انتہائی خوف کے  وقت تو ایک ہی رکعت جائز ہے  اور وہ بھی الگ، الگ، پیدل سوار قبلہ کی طرف منہ کر کے  یا نہ کر کے، جس طرح ممکن ہو، جیسے  کہ حدیث گزر چکی ہے ۔ یہ امامت اور جماعت کا حال بیان ہو رہا ہے  جماعت کے  واجب ہونے  پر یہ آیت بہترین اور مضبوط دلیل ہے  کہ جماعت کی وجہ سے  بہت کمی کر دی گئی۔ اگر جماعت واجب نہ ہوتی تو صرف ایک رکعت جائز نہ یک جاتی۔ بعض نے  اس سے  ایک اور استدلال بھی کیا ہے  وہ کہتے  ہیں  کہ اس میں چونکہ یہ لفظ ہیں  کہ جب تو ان میں ہو اور یہ خطاب نبی کریم علیہ افضل الصلوٰۃ والتسلیم سے  ہے  تو معلوم ہوا کہ صلوٰۃ خوف کا حکم آپ کے  بعد منسوخ ہے، یہ استدلال بالکل ضعیف ہے، یہ استدلال تو ایسا ہی ہے  جیسا استدلال ان لوگوں کا تھا جو زکوٰۃ کو خلفائے  راشدین سے  روک بیٹھے  تھے  اور کہتے  تھے  کہ قرآن میں ہے  خذمن اموالھم صدقۃ الخ، یعنی تو ان کے  مالوں سے  زکوٰۃ لے  جس سے  تو انہیں  پاک صاف کر اور تو ان کے  لۓ رحمت کی دعا کر تیری دعا کر تیری دعا ان کے  لئے  باعث تسکین ہے ۔ تو ہم آپ کے  بعد کسی کو زکوٰۃ نہ دیں گے  بلکہ ہم آپ اپنے  ہاتھ سے  خود جسے  چاہیں  دیں گے  اور صرف اسی کو دیں گے  جس کو دعا ہمارے  لئے  سبب سکون بنے ۔ لیکن یہ استدلال ان کا بے  معنی تھا اسی لئے  کہ صحابہ نے  اسے  رد کر دیا اور انہیں  مجبور کیا کہ یہ زکوٰۃ ادا کریں بلکہ ان میں سے  جن لوگوں نے  اسے  روک لیا تھا ان سے  جنگ کی۔ آئیے  ہم آیت کی صفت بیان کرنے  سے  پہلے  اس کا شان نزول بیان کر دیں ابن جریر میں ہے  کہ بنو بخار کی ایک قوم نے  حضور صلی اللہ علیہ و سلم سے  سوال کیا کہ ہم برابر اِدھر اُدھر آمد و رفت کیا کرتے  ہیں، ہم نماز کس طرح پڑھیں تو اللہ عزوجل نے  اپنا یہ قول نازل فرمایا واذا ضربتم فی الارض فلیس علیکم جناح ان تقصروا من الصلوٰۃ اس کے  بعد سال بھر تک کوئی حکم نہ آیا پھر جبکہ آپ ایک غزوے  میں ظہر کی نماز کے  لئے  کھڑے  ہوئے  تو مشرکین کہنے  لگے  افسوس کیا ہی اچھا موقعہ ہاتھ سے  جاتا رہا کاش کہ نماز کی حالت میں ہم یکبارگی ان پر حملہ کر دیتے، اس پر بعض مشرکین نے  کہا یہ موقعہ تو تمہیں  پھر بھی ملے  گا اس کے  تھوڑی دیر بعد ہی یہ دوسری نماز (یعنی نماز عصر) کے  لئے  کھڑے  ہوں گے، لیکن اللہ تعالیٰ نے  عصر کی نماز سے  پہلے  اور ظہر کی نماز کے  بعد ان خفتم والی پوری دو آیتوں تک نازل فرما دیں اور کافر ناکام رہے  خود اللہ تعالیٰ وقدوس نے  صلوٰۃ خوف کی تعلیم دی۔ گو یہ سیاق نہایت ہی غریب ہے  لیکن اسے  مضبوط کرنے  والی اور روایتیں بھی ہیں، حضرت ابو عیاش زرقی فرماتے  ہیں  عسفان میں ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کے  ساتھ تھے  خالد بن ولید اس وقت اسلام نہیں  لائے  تھے  اور مشرکین کے  لشکر کے  سردار تھے  یہ لوگ ہمارے  سامنے  پڑاؤ ڈالے  تھے  خالد بن ولید اس وقت اسلام نہیں  لائے  تھے  اور مشرکین کے  لشکر کے  سردار تھے  یہ لوگ ہمارے  سامنے  پڑاؤ ڈالے  تھے  تب ہم نے  قبلہ رخ، ظہر کی نماز جب ہم نے  ادا کی تو مشرکوں کے  منہ میں پانی بھر آیا اور وہ کہنے  لگے  افسوس ہم نے  موقعہ ہاتھ سے  کھو دیا وقت تھا کہ یہ نماز میں مشغول تھے  اِدھر ہم ان پر دفعۃً دھاوا بول دیتے  پھر ان میں کے  بعض جاننے  والوں نے  کہا خیر کوئی بات نہیں  اس کے  بعد ان کی ایک اور نماز کا وقت آ رہا ہے  اور وہ نماز تو انہیں  اپنے  بال بچوں سے  بلکہ اپنی جانوں سے  بھی زیادہ عزیز ہے  اس وقت سہی۔ پس ظہر عصر کے  درمیان اللہ عزوجل نے  حضرت جبرئیل علیہ السلام کو نازل فرمایا اور آیت اذا کنت فیھم اتاری چنانچہ عصر کی نماز کے  وقت ہمیں رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے  حکم دیا ہم نے  ہتھیار سجا لئے  اور اپنی دو صفوں میں سے  پہلی صف آپ کے  ساتھ سجدے  میں گئی اور دوسری صف کھڑی کی کھڑی ان کی نگہبانی کرتی رہی جب سجدوں سے  فارغ ہو کر یہ لوگ کھڑے  ہو گئے  تو اب دوسری صف والے  سجدے  میں گئے  جب یہ دونوں سجدے  کر چلے  تو اب پہلی صف والے  دوسری صف کی جگہ چلے  گئے  اور دوسری صف والے  پہلی صف والوں کی جگہ آ گئے، پھر قیام رکوع اور قومہ سب نے  حضور صلی اللہ علیہ و سلم کے  ساتھ ہی ساتھ ادا کیا اور جب آپ سجدے  میں گئے  تو صف اوّل آپ کے  ساتھ سجدے  میں گئی اور دوسری صف والے  کھڑے  ہوئے  پہرہ دیتے  رہے  جب یہ سجدوں سے  فارغ ہو گئے  اور التحیات میں بیٹھے  تب دوسری صف کے  لوگوں نے  سجدے  کئے  اور التحیات میں سب کے  سب ساتھ مل گئے  اور سلام بھی حضور صلی اللہ علیہ و سلم کے  ساتھ سب نے  ایک ساتھ پھیرا۔ صلوٰۃ خوف ایک بار تو آپ نے  یہاں عسفان میں پڑھی اور دوسری مرتبہ بنو سلیم کی زمین میں ۔ یہ حدیث مسند احمد ابوداؤد اور نسائی میں بھی ہے  اس کی اسناد صحیح ہے  اور شاہد بھی بکثرت ہیں  بخاری میں بھی یہ روایت اختصار کے  ساتھ ہے  اور اس میں ہے  باوجود یکہ سب لوگ نماز میں تھے  لیکن ایک دوسرے  کی چوکیداری کر رہے  تھے ۔ ابن جریر میں ہے  کہ سلیمان بن قیس یشکری نے  حضرت جابر بن عبد اللہ سے  پوچھا نماز کے  قصر کرنے  کا حکم کب نازل ہوا؟ تو آپ نے  فرمایا قریشیوں کا ایک قافلہ شام سے  آ رہا تھا ہم اس یک طرف چلے ۔ وادی نخل میں پہنچے  تو ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے  پاس پہنچ گیا اور کہنے  لگا کیا آپ مجھ سے  ڈرتے  نہیں ؟ آپ نے  فرمایا نہیں  اس نے  کہا آپ کو مجھ سے  اس وقت کون بچا سکتا ہے ؟ آپ نے  فرمایا اللہ مجھ تجھ سے  بچا لے  گا پھر تلوار کھینچ لی اور ڈرایا دھمکایا، پھر کوچ کی منادی ہوئی اور آپ ہتھیار سجا کر چلے ۔ پھر اذان ہوئی اور صحابہ دو حصوں میں تقسیم ہو گئے  ایک حصہ آپ کے  ساتھ نماز ادا کر رہا تھا اور دوسرا حصہ پہرہ دے  رہا تھا جو آپ کے  متصل تھے  وہ دور رکعت آپ کے  ساتھ پڑھ کر پیچھے  والوں کی جگہ چلے  گئے  اور پیچھے  والے  اب آگے  بڑھ اور ان اگلوں کی جگہ کھڑے  ہو گئے  انہیں  بھی حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے  دور رکعت پڑھائیں پھر اسلام پھیر دیا پس حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی چار رکعت ہوئیں اور سب کی دو دو ہوئیں اور اللہ تعالیٰ نے  نماز کی کمی کا اور ہتھیار لئے  رہنے  کا حکم نازل فرمایا۔ مسند احمد ہے  کہ جو شخص تلوار تانے  رسول صلی اللہ علیہ و سلم پر حملہ اور ہوا تھا یہ دشمن کے  قبیلے  میں سے  تھا اس کا نام غورث بن حارث تھا جب آپ نے  اللہ کا نام لیا تو اس کے  ہاتھ سے  تلوار چھوٹ گئی آپ نے  تلوار اپنے  ہاتھ میں لے  لی اور اس سے  کہا اب تو بتا کہ تجھے  کون بچائے  گا تو وہ معافی مانگنے  لگا کہ مجھ پر آپ رحم کیجئے  آپ نے  فرمایا کیا تو اللہ کے  ایک ہونے  کی اور میرے  رسول ہونے  کی شہادت دیتا ہے ؟ اس نے  کہا یہ تو نہیں  ہاں میں اقرار کرتا ہوں کہ آپ سے  لڑوں گا نہیں  اور اس لوگوں کا ساتھ نہ دوں گا جو آپ سے  برسر پیکار ہوں آپ نے  اسے  معافی  دی۔ جب یہ اپنے  والوں میں آیا تو کہنے  لگا روئے  زمین پر حضور صلی اللہ علیہ و سلم سے  بہتر کوئی شخص نہیں ۔ اور روایت میں ہے  کہ یزید فقیر نے  حضرت جابر سے  پوچھا کہ سفر میں جو دو رکعت ہیں  کیا یہ قصر کہلاتی ہیں ؟ آپ نے  فرمایا یہ پوری نماز ہے  قصر تو بوقت جہاد ایک رکعت ہے  پھر صلوٰۃ خوف کا اسی طرح ذکر کیا اس میں یہ بھی ہے  کہ آپ کے  سلام کے  ساتھ آپ کے  پیچھے  والوں نے  اور ان لوگوں نے  سلام پھیرا اور اس میں دونوں حصہ فوج کے  ساتھ ایک ایک رکعت پڑھنے  کا بیان ہے  پس سب کی ایک ایک رکعت ہے  پھر صلوٰۃ خوف کا اسی طرح ذکر کیا اس میں یہ بھی ہے  کہ آپ کے  سلام کے  ساتھ آپ کے  پیچھے  والوں نے  ان لوگوں نے  سلام پھیرا اور اس میں دونوں حصہ فوج کے  ساتھ ایک ایک رکعت پڑھنے  کا بیان ہے  پس سب کی ایک ایک رکعت ہوئی اور حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی دو رکعتیں ۔ اور روایت میں ہے  کہ ایک جماعت آپ کے  پیچھے  صف بستہ نماز میں تھی اور ایک جماعت دشمن کے  مقابل تھی پھر ایک رکعت کے  بعد آپ کے  پیچھے  والے  اگلوں کی جگہ آ گئے  اور پہ پیچھے  آ گئے ۔ یہ حدیث بہت سی کتابوں میں بہت سی سندوں کے  ساتھ حضرت جابر سے  مروی ہے ۔ ایک اور حدیث جو بہ روایت سالم عن ابیہ مروی ہے  اس میں یہ بھی ہے  کہ پھر کھڑے  ہو کر صحابہ نے  ایک ایک رکعت اپنی اپنی ادا کر لی۔ اس حدیث کی بھی بہت سی سندیں اور بہت سے  الفاظ ہیں  حافظ ابوبکر بن مردویہ نے  ان سب کو جمع کر دیا، اور اسی طرح ابن جریر نے  بھی، ہم اسے  کتاب احکام کبیر میں لکھنا چاہتے  ہیں  انشاء اللہ۔ خوف کی نماز میں ہتھیار لئے  رہنے  کا حکم بعض نے  نزدیک تو  بطور وجوب کے  ہے  کیونکہ آیت کے  ظاہری الفاظ ہیں  امام شافعی کا بھی یہی قول ہے  اور اسی کی تائید اس آیت کے  پچھلے  فقرے  سے  بھی ہوتی ہے  کہ بارش یا بیماری کی وجہ سے  ہتھیار اتار رکھنے  میں تم پر گناہ نہیں  اپنا بچاؤ ساتھ لئے  رہو، یعنی ایسے  تار رہو کہ وقت آتے  ہی بے  تکلف و بے  تکلیف ہتھیار سے  آراستہ ہو جاؤ۔ اللہ نے  کافروں کے  لئے  اہانت والا عذاب تیار کر رکھا ہے ۔

۱۰۳

صلوٰۃ خوف کے  بعد کثرت ذکر

 جناب باری غراسمہ اس آیت میں حکم دیتا ہے  کہ نماز خوف کے  بعد اللہ کا ذکر بکثرت کیا کرو، گو ذکر اللہ کا حکم اور اس کی ترغیب و تاکید اور نمازوں کے  بعد بلکہ ہر وقت ہی ہے، لیکن یہاں خصوصیت سے  اس لئے  بیان فرمایا کہ یہاں بہت بڑی رخصت عنایت فرمائی ہے  نماز میں تخفیف کر دی، پھر حالت نماز میں اِدھر اُدھر ہٹنا جانا اور آنا مصلحت کے  مطابق جائز رکھا، جیسے  حرمت والے  مہینوں کے  متعلق فرمایا ان میں اپنی جانوں پر ظلم نہ کرو، جب کہ اور اوقات میں بھی ظلم ممنوع ہے  لیکن ان کے  مہینوں میں اس سے  بچاؤ کی مزید تاکید کی، تو فرمان ہوتا ہے  کہ اپنی ہر حالت میں اللہ عزوجل کا ذکر کرتے  رہو، اور جب اطمینان حاصل ہو جائے  ڈر خوف نہ رہے  تو باقاعدہ خشوع خضوع سے  ارکان نماز کو پابندی کے  مطابق شرع بجالاؤ، نماز پڑھنا وقت مقرہ پر منجانب اللہ فرض عین ہے، جس طرح حج کا وقت معین ہے  اسی طرح نماز کا وقت بھی مقرر ہے، ایک وقت کے  بعد دوسرا پھر دوسرے  کے  بعد تیسرا پھر فرماتا ہے  دشمنوں کی تلاش میں کم ہمتی نہ کرو چستی اور چالاکی سے  گھاٹ کی جگہ بیٹھ کر ان کی خبر لو، اگر قتل و زخم و نقصان تمہیں  پہنچتا ہے  تو کیا انہیں  نہیں  پہنچتا؟ اسی مضمون کو ان الفاظ میں بھی ادا کیا گیا ہے  ان یمسکم قرح الخ، پس مصیبت اور تکلیف کے  پہنچنے  میں تم اور وہ برابر ہیں، لیکن بہت بڑا فرق یہ ہے  کہ تمہیں  ذات عزاسمہ سے  وہ اُمیدیں اور وہ آسرے  ہیں  جو انہیں  نہیں، تمہیں  اجرو ثواب بھی ملے  گا تمہاری نصرت و تائید بھی ہو گی، جیسے  کہ خود باری تعالیٰ نے  خبر دی ہے  اور وعدہ کیا، نہ اس کی خبر جھوٹی نہ اس کے  وعدے  ٹلنے  والے، پس تمہیں  بہ نسبت ان کے  بہت تنگ و دو چاہئے  تمہارے  دلوں میں جہاد کا ولولہ ہونا چاہئے، تمہیں  اس کی رغبت کامل ہونی چاہئے، تمہارے  دلوں میں اللہ کے  کلمے  کو مستحکم کرنے  توانا کرنے  پھیلانے  اور بلند کرنے  کی تڑپ ہر وقت موجود رہنی چاہئے  اللہ تعالیٰ جو کچھ مقرر کرتا ہے  جو فیصلہ کرتا ہے  جو جاری کرتا ہے  جو شرع مقرر کرتا ہے  جو کام کرتا ہے  سب میں پوری خبر کا مالک صحیح اور سچے  علم والا ساتھ ہی حکمت والا بھی ہے، ہر حال میں ہر وقت سزا وار تعریف و حمد وہی ہے ۔

۱۰۵

حقیقت چھپ نہیں  سکتی

 اللہ تعالیٰ نبی ا کرم صلی اللہ علیہ و سلم سے  فرماتا ہے  کہ یہ قرآن کریم جو آپ پر اللہ نے  اُتارا ہے  وہ مکمل طور پر اور ابتداء تا انتہا حق ہے، اس کی خبریں بھی حق اس کے  فرمان بھی برحق۔ پھر فرماتا ہے  تاکہ تم لوگوں کے  درمیان وہ انصاف کرو جو اللہ تعالیٰ تمہیں  سمجھائے، بعض علمائے  اصول نے  اس سے  استدلال کیا ہے  کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو اجتہاد سے  حکم سے  حکم کرنے  کا اختیار دیا گیا تھا، اس کی دلیل بخاری مسلم کی حدیث بھی ہے  کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے  اپنے  دروازے  پر دو جھگڑنے  والوں کی آواز سنی تو آپ باہر آئے  اور فرمانے  لگے  میں ایک انسان ہوں جو سنتا ہوں اس کے  مطابق فیصلہ کرتا ہوں بہت ممکن ہے  کہ یہ ایک شخص زیادہ حجت باز اور چرب زبان ہو اور میں اس کی باتوں کو صحیح جان کر اس کے  حق میں فیصلہ دے  دوں اور جس کے  حق میں فیصلہ کر دوں فی الواقع وہ حقدار نہ ہو تو وہ سمجھ لے  کہ وہ اس کے  لئے  جہنم کا ٹکڑا ہے  اب اسے  اختیار ہے  کہ لے  لے  یا چھوڑ دے ۔ مسند احمد میں ہے  کہ دو انصاری ایک ورثے  کے  بارے  میں حضور صلی اللہ علیہ و سلم کے  پاس اپنا قضیہ لائے  واقعہ کو زمانہ گزر چکا تھا دونوں کے  پاس گواہ کوئی نہ تھا تو اس وقت آپ نے  وہی حدیث بیان فرمائی اور فرمایا کہ میرے  فیصلے  کی بنا پر اپنے  بھائی کا حق نہ لے  لے  اگر ایسا کرے  گا تو قیامت کے  دن اپنی گردن میں جہنم کی آگ لٹکا کر آئے  گا اب تو وہ دونوں بزرگ رونے  لگے  اور ہر ایک کہنے  لگا میں اپنا حق بھی اپنے  بھائی کو دے  رہا ہوں، حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے  فرمایا اب تم جاؤ اپنے  طور پر جہاں تک تم سے  ہو سکے  ٹھیک ٹھیک حصے  تقسیم کرو پھر قرعہ ڈال کر حصہ لے  لو اور ہر ایک دوسرے  کو اپنا رہا سہا غلطی کا حق معاف کر دو۔ ابو داؤد میں بھی یہ حدیث ہے  اور اس میں یہ الفاظ ہیں  کہ میں تمہارے  درمیان اپنی سمجھ سے  ان امور میں فیصلہ کرتا ہوں جن میں کوئی وحی مجھ پر نازل شدہ نہیں  ہوتی، ابن مردویہ میں ہے  کہ انصار کا ایک گروہ ایک جہاد میں حضور صلی اللہ علیہ و سلم کے  ساتھ تھا وہاں ایک شخص کی ایک چادر کسی نے  چرا لی اور اس چوری کا گمان طعمہ بن ابیرق کی طرف تھا حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں یہ قصہ پیش ہوا چور نے  اس چادر کو ایک شخص کے  گھر میں اس کی بے  خبری میں ڈال دیا اور اپنے  کنبہ قبیلے  والوں سے  کہا میں نے  چادر فلاں کے  گھر میں ڈال دی ہے  تم رات کو حضور صلی اللہ علیہ و سلم کے  پاس جاؤ اور آپ سے  ذکر کرو کہ ہمارا ساتھی تو چور نہیں  چور فلاں یہ اور ہم نے  پتہ لگا لیا ہے  کہ چادر بھی اس کے  گھر میں موجود ہے  اس طرح آپ ہمارے  ساتھ کی تمام لوگوں کی ربربو بریت کر دیجئے  اور اس کی حمایت کیجئے  ورنہ ڈر ہے  کہ کہیں  وہ ہلاک نہ ہو جائے  آپ نے  ایسا ہی کیا اس پر یہ آیتیں اتری اور جو لوگ اپنے  جھوٹ کو پوشیدہ کر کے  حضور صلی اللہ علیہ و سلم کے  پاس آئے  تھے  ان کے  بارے  میں یستخفون سے  دو دو آیتیں نازل ہوئیں، پھر اللہ عزوجل نے  فرمایا جو برائی اور بدی کا کام کرے  اس سے  مراد بھی یہی لوگ ہیں  اور چور کے  اور اس کے  حمایتوں کے  بارے  میں اترا کہ جو گناہ اور خطا کرے  اور نا کردہ گناہ کے  ذمہ الزام لگائے  وہ بہتان باز اور کھلا گنہگار ہے، لیکن یہ سیاق غریب ہے  بعض بزرگوں سے  مروی ہے  کہ یہ آیت بنو ابیرق کے  چور کے  بارے  میں نززل ہوئی ہے، یہ قصہ مطلوب ترمذی کتاب التفسیر میں بزبانی حضرت قتادہ اس طرح مروی ہے  کہ ہمارے  گھرانے  کے  بنو ابیرق قبیلے  کا ایک گھر تھا جس میں بشر، بشیر اور مبشر تھے، بشیر ایک منافق شخص تھا اشعار کو کسی اور کی طرف منسوب کر کے  خوب مزے  لے  لے  کر پڑھا کرتا تھا، اصحاب رسول صلی اللہ علیہ و سلم جانتے  تھے  کہ یہی خبیث ان اشعار کا کہنے  والا ہے، یہ لوگ جاہلیت کے  زمانے  سے  ہی فاقہ مست چلے  آتے۔  مدینے  کے  لوگوں کا اکثر کھانا جو اور کھجوریں تھیں، ہاں تونگر لوگ شام کے  آئے  ہوئے  قافلے  والوں سے  میدہ خرید لیتے  جسے  وہ خود اپنے  لئے  مخصوص کر لیتے، باقی گھر والے  عموماً جو اور کھجوریں ہی کھاتے، میرے  چچا رفاعہ یزید نے  بھی شام کے  آئے  ہوئے  قافلے  سے  ایک بورا میدہ کا خریدا اور اپنے  بالا خانے  میں اسے  محفوظ کر دیا جہاں ہتھیار زرہیں  تلواریں وغیرہ بھی رکھی ہوئی تھیں رات کو چوروں نے  نیچے  سے  نقب لگا کر اناج بھی نکال لیا اور ہتھیار بھی چرا لے  گئے، صبح میرے  پاس آئے  اور سارا واقعہ بیان کیا، اب ہم نجس کرنے  لگے  تو پتہ چلا کہ آج رات کو بنو بیرق کے  گھر میں آگ جل رہی تھی اور کچھ کھا پکار رہے  تھے  غالباً وہ تمہارے  ہاں سے  چوری کر گئے  ہیں، اس سے  پہلے  جب اپنے  گھرانے  والوں سے  پوچھ گچھ کر رہے  تھے  تو اس قبیلے  کے  لوگوں نے  ہم سے  کہا تھا کہ تمہارا چور لبید بن سہل ہے، ہم جانتے  تھے  کہ لبید کا یہ کام نہیں  وہ ایک دیانتدار سچا مسلمان شخص تھا۔ حضرت لبید کو جب یہ خبر ملی تو وہ آپے  سے  باہر ہو گئے  تلوار تانے  بنو ابیرق کے  پاس آئے  اور کہنے  لگے  یا تو تم میری چوری ثابت کر ورنہ میں تمہیں  قتل کر دونگا ان لوگوں نے  ان کی برات کی اور معافی چاہ لی وہ چلے  گئے، ہم سب کے  سب پوری تحقیقات کے  بعد اس نتیجہ پر پہنچے  کہ چوری بنو ابیرق نے  کی ہے، میرے  چچا نے  مجھے  کہا کہ تم جا کر رسول صلی اللہ علیہ و سلم کو خبر تو دو، میں نے  جا کر حضور صلی اللہ علیہ و سلم سے  سارا واقعہ بیان کیا اور یہ بھی کہا کہ آپ ہمیں ہمارے  ہتھیار دلوا دیجئے  غلہ کی واپسی کی ضرورت نہیں، حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے  مجھے  اطمینان دلایا کہ اچھا میں اس کی تحقیق کروں گا، یہ خبر جب بنو ابیرق کو ہوئی تو انہوں نے  اپنا ایک آدمی آپ کے  پاس بھیجا جن کا نام اسید بن عروہ تھا انہوں نے  آ کر کہا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم یہ تو ظلم ہو رہا ہے، بنو ابیرق کو ہوئی تو صلاحیت اور اسلام والے  لوگ ہیں  انہیں  قتادہ بن نعمان اور ان کے  چچا چور کہتے  ہیں  اور بغیر کسی ثوب اور دلیل کے  چور کا بدنما الزام ان پر رکھتے  ہیں  وغیرہ، پھر جب میں خدمت نبوی میں پہنچا تو آپ نے  مجھ سے  فرمایا یہ تو تم بہت برا کرتے  ہو کہ دیندار اور بھلے  لوگوں کے  ذمے  چوری چپکاتے  ہو جب کہ تمہارے  پاس اس کا کوئی ثبوت نہیں، میں چپ چاپ واپس چلا آیا اور دل میں سخت پشیمان اور پریشان تھا خیال آتا تھا کہ کاش کہ میں اس مال سے  چپ چاپ دست بردار ہو جاتا اور آپ سے  اس کا ذکر ہی نہ کرتا تو اچھا تھا، اتنے  میں میرے  چچا آئے  اور مجھ سے  پوچھا تم نے  کیا کیا؟ میں نے  سارا واقعہ ان سے  بیان کیا جسے  بن کر انہوں نے  کہا اللّٰہ المستعان اللہ ہی سے  ہم مدد چاہتے  ہیں، ان کا جانا تھا جو حضور صلی اللہ علیہ و سلم پر وحی میں یہ آیتیں اتریں پس خائنین سے  مراد بنو ابیرق ہیں، آپ کو استغفار کا حکم ہوا یہ آپ نے  حضرت قتادہ کو فرمایا تھا، پھر ساتھ ہی فرما دیا گیا کہ اگر یہ لوگ استفغار کریں تو اللہ انہیں  بخش دے  گا، پھر فرمایا نا کردہ گناہ کے  ذمہ گناہ تھوپنا بدترین جرم ہے، اجرا عظیما تک یعنی انہوں نے  جو حضرت لبید کی نسبت کہا کہ چور یہ ہیں  جب یہ آیتیں اتریں تو حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے  بنو ابریق سے  ہمارے  ہتھیارو دلوائے  میں انہیں  لے  کر اپنے  چچا کے  پاس آیا یہ بیچارے  بوڑھے  تھے  آنکھوں سے  بھی کم نظر آتا تھا مجھ سے  فرمانے  لگے  بیٹا جاؤ یہ سب ہتھیار اللہ کے  نام خیرات کر دو، میں آج تک اپنے  چچا کی نسبت قدرے  بدگمان تھا کہ یہ دل سے  اسلام میں پورے  طور پر داخل نہیں  ہوئے  لیکن اس واقعہ نے  بدگمانی میرے  دل سے  دور کر دی اور میں ان کے  سچے  اسلام کا قائل ہو گیا، بشیر یہ سن کر مشرکین میں جا ملا اور سلافہ بنت سعد بن سمیہ کے  ہاں جا کر اپنا قیام کیا، اس کے  بارے  میں اس کے  بعد کی آیتیں ومن یشاقق الرسول سے  بعیدا تک نازل ہوئیں اور حضرت حسان نے  اس کے  اس فعل کی مذمت اور اس کی ہجو اپنے  شعروں میں کی، ان اشعار کو سن کر اس عورت کو بڑی غیرت آئی اور بشیر کا سب اسباب اپنے  سر پر رکھ کر ابطح میدان میں پھینک آئی اور کہا تو کوئی بھلائی لے  کر میرے  پاس نہیں  آیا بلکہ حسان کی ہجو کے  اشعار لے  کر آیا ہے  میں تجھے  اپنے  ہاں نہیں  ٹھہراؤں گی، یہ روایت بہت سی کتابوں میں بہت سی سندوں سے  مطول اور مختصر مروی ہے ۔ ان منافقوں کی کم عقلی کا بیان ہو رہا ہے  کہ وہ جو اپنی سیاہ کاریوں کو لوگوں سے  چھپاتے  ہیں  بھلا ان سے  کیا نتیجہ؟ اللہ تعالیٰ سے  تو پوشیدہ نہیں  رکھ سکتے، پھر انہیں  خبردار کیا جا رہا ہے  کہ تمہارے  پوشیدہ راز بھی اللہ سے  چھپ نہیں  سکتے، پھر فرماتا ہے  مانا کہ دنیوی حاکموں کے  ہاں جو ظاہر داری پر فیصلے  کرتے  ہیں  تم نے  غلبہ حاصل کر لیا، لیکن قیامت کے  دن اللہ کے  سامنے  جو ظاہر و باطن کا عالم ہے  تم کیا کر سکو گے ؟ وہاں کسے  وکیل بنا کر پیش کرو گے  جو تمہارے  جھوٹے  دعوے  کی تائید کرے، مطلب یہ ہے  کہ اس دن تمہاری کچھ نہیں  چلے  گی۔

۱۱۰

سچی توبہ کبھی مسترد نہیں  ہوتی

 اللہ تعالیٰ اپنا کرم اور اپنی مہربانی کو بیان فرماتا ہے  کہ جس گناہ سے  جو کوئی توبہ کرے  اللہ اس کی طرف مہربانی سے  رجوع کرتا ہے، ہر وہ شخص جو رب کی طرف جھکے  رب اپنی مہربانی سے  اور اپنی وسعت رحمت سے  اسے  ڈھانپ لیتا ہے  اور اس کے  صغیرہ کبیرہ گناہ کو بخشش دیتا ہے، چاہے  وہ گناہ آسمان و زمین اور پہاڑوں سے  بھی بڑے  ہوں، بنو اسرائیل میں جب کوئی گناہ کرتا تو اس کے  دروازے  پر قدرتی حروف میں کفارہ لکھا ہوا نظر آ جاتا جو اسے  ادا کرنا پڑتا اور انہیں  یہ بھی حکم تھا کہ ان کے  کپڑے  پر اگر پیشاب لگ جائے  تو اتنا کپڑا کتروا ڈالیں اللہ نے  اس اُمت پر آسانی کر دی پانی سے  دھو لینا ہی کپڑے  کی پاکی رکھی اور توبہ کر لینا ہی گناہ کی معافی، ایک عورت نے  حضرت عبد اللہ بن مفضل سے  سوال کیا کہ عورت نے  بدکاری کی پھر جب بچہ ہوا تو اسے  مار ڈالا آپ نے  فرمایا اس کی سزا جہنم ہے  وہ روتی ہوئی واپس چلی تو آپ نے  اسے  بلایا اور آیت ومن یعمل الخ، پڑھ کر سنائی تو اس نے  اپنے  آنسو پونچھ ڈالے  اور واپس لوٹ گئی، حضور صلی اللہ علیہ و سلم فرماتے  ہیں  جس مسلمان سے  کوئی گناہ سرزد ہو جائے  پھر وہ وضو کر کے  دو رکعت نماز ادا کر کے  اللہ سے  استغفار کرے  تو اللہ اس کے  اس گناہ کو بخش دیتا ہے  پھر آپ نے  یہ آیت اور آیت والذین اذا فعلوافا حشۃ الخ، کی تلاوت کی۔ اس حدیث کا پورا بیان ہم نے  مسند ابوبکر میں کر دیا ہے  اور کچھ بیان سورہ آل عمران کی تفسیر میں بھی گزرا ہے، حضرت ٍابو درداء فرماتے  ہیں  رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی عادت مبارک تھی کہ مجلس میں سے  اُٹھ کر اپنے  کسی کام کے  لئے  کبھی جاتے  اور واپس تشریف لانے  کا ارادہ بھی ہوتا جوتی یا کپڑا کچھ نہ کچھ چھوڑ جاتے، ایک مرتبہ آپ اپنی جوتی چھوڑے  ہوئے  اُٹھے  ڈولچی پانی کی ساتھ لے  چلے  میں بھی آپ کے  پیچھے  ہو لیا آپ کچھ دور جا کر بغیر حاجت پوری کئے  واپس آئے  اور فرمانے  لگے ۔ میرے  پاس میرے  رب کی طرف سے  ایک آنے  والا آیا اور مجھے  یہ پیغام دے  گیا، پھر آپ نے  آیت ومن یعمل الخ، پڑھی اور فرمایا میں اپنے  صحابہ کو یہ خوشخبری سنانے  کے  لئے  راستے  میں ہی لوٹ آیا ہوں اس سے  پہلے  چونکہ آیت من یعمل سوایجزبہ یعنی ہر برائی کرنے  والے  کو اس کی برائی کا بدلہ ملے  گا اتر چکی تھی اس لئے  صحابہ بہت پریشان تھے، میں نے  کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کسی نے  زنا کیا ہو؟ چور کی ہو؟ پھر وہ استفغار کرے  تو اسے  بھی اللہ بخش دے ؟ آپ نے  فرمایا ہاں، میں نے  دوبارہ پوچھا آپ نے  کہا ہاں میں نے  سہ بارہ دریافت کیا تو آپ نے  فرمایا ہاں گو ابو دراداء کی ناک خاک آلود ہو، پس حضرت ٍابو درداء جب یہ حدیث بیان کرتے  اپنی ناک پر مار کر بتاتے ۔ اس کی اسناد ضعیف ہے  اور یہ حدیث غریب ہے ۔ پھر فرمایا گناہ کرنے  والا اپنا ہی برا کرتا ہے  جیسے  اور جگہ ہے  کوئی دوسرے  کا بوجھ نہیں  اٹھائے  گا، ایک دوسرے  کو نفع نہ پہنچا سکے  گا، ہر شخص اپنے  کرتوت کا ذمہ دار ہے، کوئی بوجھ بٹائی نہ ہو گا، اللہ کا علم، اللہ کی حکمت اور الٰہی عدل و رحمت کے  خلاف ہے  کہ ایک گناہ کرے  اور دوسرا پکڑا جائے ۔ پھر فرماتا ہے  جو خود برا کام کر کے  کسی بے  گناہ کے  سر تھوپ دے  جیسے  بنو ابیرق نے  لبید کا نام لے  دیا جو واقعہ تفصیل وار اس سے  اگلی آیت کی تفسیر میں بیان ہو چکا ہے، یا مراد زید بن سمین یہودی ہے  جیسے  بعض اور مفسرین کا خیال ہے  کہ اس چوری کی تہمت اس قبیلے  نے  اس بے  گناہ شخص کے  ذمہ لگائی تھی اور خود ہی خائن اور ظلم تھے، آیت گو شانِ نزول کے  اعتبار سے  خاص ہے  لیکن حکم کے  اعتبار سے  عام ہے  جو بھی ایسا کرے  وہ اللہ کی سزا کا مستحق ہے ۔ اس کے  بعد کی آیت ولولا الخ، کا تعلق بھی اسی واقعہ سے  ہے  یعنی لبید بن عروہ اور ان کے  ساتھیوں نے  بنو ابیرق کے  چوروں کی حضور صلی اللہ علیہ و سلم کے  سامنے  برات اور ان کی پاکدامنی کا اظہار کر کے  حضور صلی اللہ علیہ و سلم کو اصلیت سے  دور رکھنے  کا سارا کام پورا کر لیا تھا، لیکن اللہ تعالیٰ نے  جو آپ کی عصمت کا حقیقی نگہبان ہے  آپ کو اس خطرناک موقعہ پر خائنوں کی طرف داری سے  بچا لیا اور اصلی واقعہ صاف کر دیا۔ کتاب سے  مراد قرآن اور حکم سے  مراد سنت ہے ۔ نزول وحی سے  پہلے  آپ جو نہ جانتے  تھے  ان کا علم پروردگار نے  آپ کو بذریعہ وحی کر دیا جیسے  اور آیت میں ہے  وکذلک اوجینا الیک روحا من امرنا سے  پوری سوت تک اور آیت میں ہے  وما کنت ترجوا ان یلقی الیک الکتاب الخ، اسی لئے  یہاں بھی فرمایا۔ یہ سب باتیں اللہ کا فضل ہیں  جو آپ کے  شامل حال ہے ۔

۱۱۴

اچھے  کاموں کی دعوت اور برے  کاموں سے  روکنے  کے  علاوہ تمام باتیں قابل مواخذہ ہیں !

 لوگوں کے  اکثر کلام بے  معنی ہوتے  ہیں  سوائے  ان کے  جن کی باتوں کا مقصد دوسروں کی بھلائی اور لوگوں میں میل ملاپ کرانا ہو، حضرت سفیان ثوری کی عیادت کے  لئے  لوگ جاتے  ہیں  ان میں سعید بن حسان بھی ہیں  تو آپ فرماتے  ہیں  سعید تم نے  ام صالح کی روایت سے  جو حدیث بیان کی تھی آج اسے  پھر سناؤ، آپ سندبیان کر کے  فرماتے  ہیں  حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے  فرمایا انسان کی تمام باتیں قابل مواخذہ ہیں  بجز اللہ کے  ذکر اور اچھے  کاموں کے  بتانے  اور برے  کاموں سے  روکنے  کے، حضرت سفیان نے  کہا یہی مضمون اس آیت میں ہے، یہی مضمون آیت یوم یقول الروح الخ، میں ہے  یہی مضمون سورہ والعصر میں ہے  مسند احمد میں فرمان رسول صلی اللہ علیہ و سلم ہے  کہ لوگوں کی آپس میں محبت بڑھانے  اور صلح صفائی کے  لئے  جو بھی بات کہے  اِدھر کہنے  کی تین صورتوں میں اجازت دیتے  ہوئے  سنا ہے  “جہاد کی ترغیب میں، لوگوں میں صلح کرانے  اور میاں بیوی کو ملانے  کی صورت میں ” یہ ہجرت کرنے  والیوں اور بیعت کرنے  والیوں میں سے  ہیں ۔ ایک اور حدیث میں وہ کیا میں تمہیں  ایک ایسا عمل بتاؤں ؟ جو روزہ نماز اور صدقہ سے  بھی افضل ہے  لوگوں نے  خواہش کی تو آپ نے  فرمایا وہ آپس میں اصلاح کرانا ہے  فرماتے  ہیں  اور پس کا فساد نیکیوں کو ختم کر دیتا ہے  (ابوداؤد وغیرہ) بزار میں ہے  حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے  حضرت ابو ایوب سے  فرمایا آمیں تجھے  ایک تجارت بتاؤں لوگ جب لڑ جھگڑے  رہے  ہوں تو ان میں مصالحت کرا دے  جب ایک دوسرے  سے  رنجیدہ ہوں تو انہیں  ملا دے ۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے  کہ ایسی بھلی باتیں رب کی رضامندی خلوص اور نیک نیتی سے  جو کرے  وہ اجر عظیم پائے  گا۔ جو شخص غیر شرعی طریق پر چلے  یعنی شرعی طریق پر چلے  یعنی شرع ایک طرف ہو اور اس کی راہ ایک طرف ہو۔ فرمان رسول صلی اللہ علیہ و سلم کچ ہو اور اس کا مقصد عمل ہو۔ حالانکہ اس پر حق واضح ہو چکا ہو دلیل دیکھ چکا ہو پھر بھی رسول صلی اللہ علیہ و سلم کی مخالفت کر کے  مسلمانوں کی صاف راہ سے  ہٹ جائے  تو ہم بھی اسے  ٹیڑھی اور بری راہ پر ہی لگا دیتے  ہیں  اسے  وہی غلط راہ اچھی اور بھلی معلوم ہونے  لگتی ہے  یہاں تک کہ بیچوں جہنم میں جا پہنچتا ہے ۔ مومنوں کی راہ کے  علاوہ راہ اختیار کرنا دراصل رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی مخالفت اور دشمنی کے  مترادف ہے  جو کبھی تو شارع علیہ السلام کی صاف بات کے  خلاف اور کبھی اس چیز کے  خلاف ہوتا ہے  جس پر ساری اُمت محمدیہ متفق ہے  جس میں انہیں  اللہ نے  بوجہ ان کی شرافت و کرامت کے  محفوظ کر رکھا ہے ۔ اس بارے  میں بہت سی حدیثیں بھی ہیں  اور ہم نے  بھی احادیث اصول میں ان کا بڑا حصہ بیان کر دیا ہے، بعض علماء تو اس کے  تواتر معنی کے  قائل ہیں، حضرت امام شافعی غور و فکر کے  بعد اس آیت سے  اُمت کے  اتفاق کی دلیل ہونے  پر استدلال کیا ہے  حقیقتاً یہی موقف بہترین اور قوی تر ہے، بعض دیگر ائمہ نے  اس دلالت کو مشکل اور دور از آیت بھی بتایا ہے، غرض ایسا کرنے  والے  کی رسی اللہ میاں بھی ڈھیلی چھوڑ دیتے  ہیں ۔ جیسے  فرمان ہے  سنستدر جھم اور فلمازاغوا اور نذرھم یعنی ہم ان کی بے  خبری میں آہستہ آہستہ مہلت بڑھاتے  رہتے  ہیں، ان کے  بہکتے  ہی ہم بھی ان کے  دلوں کو ٹیڑھا کر دیتے  ہیں، ہم انہیں  ان کی سرکشی میں گم چھوڑ دیتے  ہیں، بالاخر ان کے  جائے  بازگشت جہنم بن جاتی ہے  جیسے  فرمان ہے  ظالموں کو ان کے  ساتھیوں کے  ساتھ قبروں سے  اٹھائیں گے، اور جیسے  فرمایا ظالم آگ کو دیکھ کر جان لے  گا کہ اس میں کودنا پڑے  گا لیکن کوئی صورت چھٹکارے  کی نہ پائے  گی۔

۱۱۶

مشرک کی پہچان اور ان کا انجام

 اس سورت کے  شروع میں پہلی آیت کے  متعلق ہم پوری تفسیر کر چکے  ہیں  اور وہیں  اس آیت سے  تعلق رکھنے  والی حدیثیں بھی بیان کر دی ہیں، حضرت علی فرمایا کرتے  تھے  قرآن کی کوئی آیت مجھے  اس آیت سے  زیادہ محبوب نہیں  (ترمذی) مشرکین سے  دنیا اور آخرت کی بھلائی دور ہو جاتی ہے  اور وہ راہ حق سے  دور ہو جاتے  ہیں  وہ اپنے  آپ کو اور اپنے  دونوں جہانوں کو برباد کر لیتے  ہیں، یہ مشرکین عورتوں کے  پرستار ہیں، حضرت کعب فرماتے  ہیں  ہر صنم کے  ساتھ ایک جنبیہ عورت ہے، حضرت عائشہ فرماتی ہیں  اِنَاثًا سے  مراد بت ہیں، یہ قول اور بھی مفسرین کا ہے، ضحاک کا قول ہے  کہ مشرک فرشتوں کو پوجتے  تھے  اور انہیں  اللہ کی لڑکیاں مانتے  تھے  اور کہتے  تھے  کہ ان کی عبادت ہے  ہماری اصل غرض اللہ عزوجل کی نزدیکی حاصل کرنا ہے  اور ان کی تصویریں عورتوں کی شکل پر بناتے  تھے  پھر حکم کرتے  تھے  اور تقلید کرتے  تھے  اور کہتے  تھے  کہ یہ صورتیں فرشتوں کی ہیں  جو اللہ کی لڑکیاں ہیں ۔ یہ تفسیر آیت افرایتم الات الخ، کے  مضمون سے  خوب ملتی ہے  جہاں ان کے  بتوں کے  نام لے  کر اللہ تعالیٰ نے  فرمایا ہے  کہ یہ خوب انصاف ہے  کہ لڑکے  تو تمہارے  اور لڑکیاں میری؟ اور آیت میں ہے  وجعلوا الملانکۃ الذین عبادالرحمن اناثا الخ، ان لوگوں نے  اللہ تعالیٰ اور جنات میں نسب نکالے  ہیں، ابن عباس فرماتے  ہیں  مراد مردے  ہیں، حسن فرماتے  ہیں  ہر بے  روح چیز اناث ہے  خواہ خشک لکڑی ہو خواہ پتھر ہو، لیکن یہ قول غریب ہے ۔ پھر ارشاد ہے  کہ دراصل یہ شیطانی پوجا کے  پھندے  میں تھے، شیطان کو رب نے  اپنی رحمت سے  کر دیا اور اپنی بارگاہ سے  نکال باہر کیا ہے، اس نے  بھی بیڑا اٹھا رکھا ہے  کہ اللہ کے  بندوں کو معقول تعداد میں بہکائے، قتادہ فرماتے  ہیں  یعنی ہر ہزار میں سے  نو سو ننانوے  کو جنم میں اپنے  ساتھ لے  جائے  گا، ایک بچ رہے  گا جو جنت کا مستحق ہو گا، شیطان نے  کہا ہے  کہ میں انہیں  حق سے  بہکاؤں گا اور انہیں  اُمید دلاتا رہوں گا یہ توبہ ترک کر بیٹھیں گے، خواہشوں کے  پیچھے  پڑ جائیں گے  موت کو بھول بیٹھیں گے  نفس پروری اور آخرت سے  غافل ہو جائیں گے، جانوروں کے  کان کا کر یا سوراخ دار کر کے  اللہ کے  سوا دوسروں کے  نام کرنے  کی انہیں  تلقین کروں گا، اللہ کی بنائی ہوئی صورتوں کو بگاڑنا سکھاؤں گا جیسے  جانوروں کو خصی کرنا۔ ایک حدیث میں اس سے  بھی ممانعت آئی ہے  (شاہد مراد اس سے  نل منقطع کرنے  کی غرض سے  ایسا کرنا ہے) ایک معنی یہ بھی کئے  گئے  ہیں  کہ چہرے  پر گودنا گدوانا، جو صحیح مسلم کی حدیث میں ممنوع ہے  اور جس کے  کرنے  والے  پر اللہ کی لعنت وارد ہوئی ہے، ابن مسعود سے  صحیح سند سے  مروی ہے  کہ گود نے  والیوں اور گدوانے  والیوں، پیشانی کے  بال نوچنے  والیوں اور نچوانے  والیوں اور دانتوں میں کشادگی کرنے  والیوں پر جو حسن و خوبصورتی کے  لئے  اللہ کی بناوٹ کو بگاڑتی ہیں  اللہ کی لعنت ہے  میں ان پر لعنت کیوں نہ بھیجوں ؟ جن پر رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے  لعنت کی ہے  اور جو کتاب اللہ میں موجود ہے  پھر آپ نے  آیت ومااتا کم الرسول الخ، پڑھی بعض اور مفسرین کرام سے  مروی ہے  کہ مراد اللہ کے  دین کو بدل دینا ہے  جیسے  اور آیت میں ہے  فاقم وجھک للذین حنیفافطرۃ اللہ التی فرطا الناس علیھالا تبدیل لخلق اللہ یعنی اپنا چہرہ قائم رکھ کر اللہ کے  یکطرفہ دین کا رخ اختیار کرنا یہ اللہ کی وہ فطرت ہے  جس پر تمام انسانوں کو اس نے  پیدا کیا ہے  اللہ کی خلق میں کوئی تبدیلی نہیں، اس سے  پچھلے  (آخری) جملے  کو اگر امر کے  معنی میں لیا جائے  تو یہ تفسیر ٹھیک ہو جاتی ہے  عینی اللہ کی فطرف کو نہ بدلو لوگوں کو میں نے  جس فطرت پر پیدا کیا ہے  اسی پر رہنے  دو، بخاری و مسلم میں ہے  ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے  لیکن اس کے  ماں باپ پھر اسے  یہودی یا نصرانی یا مجوسی بنا لیتے  ہیں  جیسے  بکری کا صحیح سالم بچہ بے  عیب ہوتا ہے  لیکن پھر لوگ اس کے  کان وغیرہ کاٹ دیتے  ہیں  اور اسے  عیب دار کر دیتے  ہیں، صحیح مسلم میں ہے  اللہ عزوجل فرماتا ہے  میں نے  اپنے  بندوں کو یکسوئی والے  دین پر پیدا کیا لیکن شیطان نے  آ کر انہیں  بہکا دیا پھر میں نے  اپنے  حلال کو ان پر حرام کر دیا۔ شیطان کو دوست بنانے  والا اپنا نقصان کرنے  والا ہے  جس نقصان کی کبھی تلافی نہ ہو سکے ۔ کیونکہ شیطان انہیں  سز باغ دکھاتا رہتا ہے  غلط راہوں میں ان کی فلاح و بہود کا یقین دلاتا ہے  دراصل وہ بڑا فریب اور صاف دھوکا ہوتا ہے، چنانچہ شیطان قیامت کے  دن صاف کہے  گا اللہ کے  وعدے  سچے  تھے  اور میں تو وعدہ خلاف ہوں ہی میرا کوئی زور تم پر تھا ہی نہیں  میری پکار کو سنتے  ہی کیوں تم مست و بے  عقل بن گئے ؟ اب مجھے  کیوں کوستے  ہو؟ اپنے  آپ کو برا کہو۔ شیطانی وعدوں کو صحیح جاننے  والے  اس کی دلائی ہوئی اُمیدوں کو پوری ہونے  والی سمجھنے  والے  آخرش جہنم واصل ہو ں گے  جہاں سے  چھٹکارا محال ہو گا۔ ان بدبختوں کے  ذکر کے  بعد اب نیک لوگوں کا حال بیان ہو رہا ہے  کہ جو دل سے  میرے  ماننے  والے  ہیں  اور جسم سے  میر تابعداری کرنے  والے  ہیں  میرے  احکام پر عمل کرتے  ہیں  میر منع کردہ چیزوں سے  باز رہتے  ہیں  میں انہیں  اپنی نعمتیں دوں گا انہیں  جنتوں میں لے  جاؤں گا جن کی نہریں جہاں یہ چاہیں  خود بخود بہنے  لگیں جن میں زوال، کمی یا نقصان بھی نہیں  ہے، اللہ کا یہ وعدہ اصل اور بالکل سچا ہے  اور یقیناً ہونے  والا ہے  اللہ سے  زیادہ سچی بات اور کس کی ہو گی؟ اس کے  سوا کوئی معبود برحق نہیں  نہ ہی کوئی اس کے  سوا مربی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم اپنے  خطبے  میں فرمایا کرتے  تھے  سب سے  زیادہ سچی بات اللہ کا کلام ہے  اور سب سے  بہتر ہدایت محمد صلی اللہ علیہ و سلم کی ہدایت ہے  اور تمام کاموں میں سب سے  برا کام دین میں نئی بات نکالنا ہے  اور ہر ایسی نئی بات کا نام بدعت ہے  اور ہر بدعت گمراہی اور ہر گمراہی جہنم میں ہے ۔

۱۲۳

صائب گناہوں کا کفارہ

 حضرت قتادہ فرماتے  ہیں  ہم سے  ذکر کیا گیا کہ اہل کتاب اور مسلمان میں چرچہ ہونے  لگا اہل کتاب تو یہ کہ کر اپنی فضلیت جتا رہے  تھے  کہ ہمارے  نبی تمہارے  نبی سے  پہلے  کے  ہیں  اور ہماری کتاب بھی تمہاری کتاب سے  پہلے  کی ہے  اور مسلمان کہہ رہے  تھے  کہ ہمارے  نبی خاتم الانبیاء ہیں  اور ہماری کتاب تمام اگلی کتابوں کی تصدیق کرنے  والے  وے  اس پر یہ آیتیں اتریں اور مسلمانوں کی سابقہ دین والوں پر فضلیت بیان ہوئی، مجاہد سے  مروی ہے  کہ عرب نے  کہا نہ تو ہم مرنے  کے  بعد جئیں گے  نہ ہمیں عذاب ہو گا یہودیوں نے  کہا صرف ہم ہی جنتی ہیں، یہی قول نصرانیوں کا بھی تھا اور کہتے  تھے  آگ ہمیں صرف چند دن ستائے  گی، آیت کا مضمون یہ ہے  کہ صرف اظہار کرنے  اور دعویٰ کرنے  سے  صداقت و حقانیت ثابت نہیں  ہوتی بلکہ ایماندار وہ ہے  جس کا دل صاف ہو اور عمل شاہد ہوں اور اللہ تعالیٰ کی دلیل اس کے  ہاتھوں میں ہو، تمہاری خواہشیں اور زبانی دعوے  کوئی وقعت نہیں  رکھتے  نہ اہل کتاب کی تمنائیں اور بلند باتیں، نجات کا مدار ہیں  بلکہ وقار و نجات اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی فرماں برداری اور رسولوں کی تابعداری میں ہے، برائی کرنے  والے  کسی نسبت کی وجہ سے  اس برائی کے  خمیازے  سے  چھوٹ جائیں ناممکن ہے  بلکہ رتی رتی بھلائی اور برائی قیامت کے  دن اپنی آنکھوں سے  اپنے  سامنے  دیکھ لیں گے، یہ آیت صحابہ پر بہت گراں گزری تھی اور حضرت صدیق نے  کہا تھا کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم اب نجات کیسے  ہو گی؟ جبکہ ایک ایک عمل کا بدلہ ضروری ہے  تو آپ نے  فرمایا اللہ تعالیٰ تجھے  بخشے  ابوبکر یہ سزا وہی ہے  جو کبھی تیری بیماری کی صورت میں ہوتی ہے  کبھی تکلیف کی صورت میں کبھی صدمے  اور غم ورنج کی صورت میں اور کبھی بلاؤ مصیبت کش شکل میں (مسند احمد) اور روایت میں ہے  حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے  فرمایا ہر برائی کرنے  والا دنیا میں بدلہ پالے  گا۔ ابن مردویہ میں ہے  حضرت عبد اللہ بن عمر نے  اپنے  غلام سے  فرمایا دیکھو جس جگہ حضرت عبد اللہ بن زبیر کو سولی دی گئی ہے  وہاں تم نہ چلنا، غلام بھول گیا، اب حضرت عبد اللہ کی نظر ابن زبیر پر پڑی تو فرمانے  لگے  والہل جہاں تک میری معلومات ہیں  میری گواہی ہے  کہ تو روزے  دار اور نمازی اور رشتے  ناتے  جوڑے  والا تھا مجھے  اللہ سے  اُمید ہے  کہ جو لغزشیں تجھ سے  ہو گئیں ان کا بدلہ دنیا میں ہی مکمل ہو اب تجھے  اللہ کوئی عذاب نہیں  دے  گا پھر حضرت مجاہد کی طرف دیکھ کر فرمانے  لگے  میں نے  حضرت ابوبکر سے  سنا ہے  وہ فرماتے  تھے  رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے  میں نے  سنا جو شخص برائی کرتا ہے  اس کا بدلہ دنیا میں ہی پالیتا ہے، دوسری روایت میں ہے  کہ حضرت ابن عمر نے  حضرت ابن زبیر کو سولی پر دیکھ کر فرمایا اے  ابوحبیب اللہ تجھ پر حم کرے  میں نے  تیرے  والد کی زبان سے  یہ حدیث سنی ہے، ابن مردویہ غم ناک ہو گئے  انہیں  یہ معلوم ہونے  لگا کہ گویا ہر ہر عمل کا بدلہ ہی ملنا جب ٹھہرا تو تو نجات مشکل ہو جائے  گی آپ نے  فرمایا سنو صدیق تم اور تمہارے  ساتھی یعنی مومن تو دنیا میں ہی بدلہ دئے  جاؤ گے  اور ان مصیبتوں کے  باعث تمہارے  گناہ معاف ہو جائیں گے  قیامت کے  دن پاک صاف اٹھو گے  ہاں اور لوگ کی برائیاں جمع ہوتی جاتی ہیں  اور قیامت کے  دن انہیں  سزا دی جائے  گی، یہ حدیث ترمدذی نے  بھی روایت کی ہوے  اور کہا ہے  کہ اس کاروای موسیٰ بن عبیدہ ضعیف ہے  اور دوسرا روای مولی بن سباع مجہول ہے  اور بھی بہت سے  طریق سے  اس روایت کا ماحصل مروی ہے ۔ ایک اور حدیث میں ہے، حضرت عائشہ نے  کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم یہ آیت سب سے  زیادہ ہم پر بھاری پڑتی ہے  تو آپ نے  فرمایا مومن کا یہ بدلہ وہی ہے  جو مختلف قسم کی پریشانیوں اور تکلیفوں کی صورت میں اسے  دنیا میں ہی مل جاتا ہے  اور حدیث میں ہے  کہ آپ نے  فرمایا یہاں تک کہ مومن اپنی نقدی جیب میں رکھ لے  پھر ضرورت کے  وقت تلاش کرے  تھوڑی دیر نہ ملے  پھر جیب میں ہاتھ ڈالنے  سے  نکل آئے  تو اتنی دیر میں جو اسے  صدمہ ہوا اس سے  بھی اس کے  گناہ معاف ہوتے  ہیں  اور یہ بھی اس کی برائیوں کا بدلہ ہو جاتا ہے  یونہی مصائب دنیا اسے  یونہی مصائب دنیا اسے  کندن بنا دیتے  ہیں  کہ قیامت کا کوئی بوجھ اس پر نہیں  رہتا جس طرح سونا بھٹی میں تپا کر نکال لیا جائے  اس طرں دنیا میں پاک صاف ہو کر اللہ کے  پاس جاتا ہے، ابن مردویہ میں ہے  رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے  اس آیت کے  بارے  میں سوال کیا گیا تو آپ نے  فرمایا مومن کو ہر چیز میں اجر دیا جاتا ہے  یہاں تک کہ موت کی سختی کا بھی، مسند احمد میں ہے  جب بندے  کے  گناہ زیادہ ہو جاتے  ہیں  اہو انہیں  دور کرنے  والے  بکثرت نیک اعمال ہوتے  ہیں  تو اللہ اس پر کوئی غم ڈال دیتا ہے  جس سے  اس کے  گناہ معاف ہو جاتے  ہیں، سعیدین منصور لائے  ہیں  کہ جب صحابہ پر اس آیت کا مضمون گراں گزرا تو حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے  ان سے  فرمایا ٹھیک ٹھاک رہو اور ملے  جلے  رہو مسلمان کی ہر تکلیف اس کے  گناہ کا کفارہ ہے  یہاں تک کہ کانٹے  کا لگنا بھی اس سے  کم تکلیف بھی روایت میں ہے  کہ جب صحابہ رو رہے  تھے  اور رنج میں تھے  اس وقت حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے  ان سے  یہ فرمایا، ایک شخص نے  حضور صلی اللہ علیہ و سلم سے  پوچھا کہ ہماری ان بیماریوں میں ہمیں کیا ملتا ہے ؟ آپ نے  فرمایا یہ تمہارے  گناہوں کا کفارہ ہوتی ہیں ” اسے  بن کر حضرت کعب بن عجزہ نے  دعا مانگی کہ یا اللہ مرتے  دم تک مجھ سے  بخار جدا نہ ہو لیکن حج وعمہ جہاد اور نماز با جماعت سے  محروم نہ ہوں ان کی یہ دعا قبول ہوئی جب ان کے  جسم پر ہاتھ لگایا جاتا تو بخار چڑھا رہتا، رضی اللہ تعالیٰ عنہ (مسند) حضور صلی اللہ علیہ و سلم سے  ایک مرتبہ کہا گیا کہ کیا ہر برائی کا بدلہ دیا جائے  گا؟ آپ نے  فرمایا ہاں، اسی جیسا اور اسی جتنا لیکن ہر بھلائی کا بدلہ دس گنا کر کے  دیا جائیگا پس اس پر افسوس ہے  جس کی اکائیاں دہائیوں سے  بڑھ جائیں، (ابن مردویہ) حضرت حسن فرماتے  ہیں  اس سے  مراد کافر ہیں  جیسے  اور آیت میں ہے  وھل نجازی الا الکفور ابن عباس اور سعید بن جبیر فرماتے  ہیں  یہاں برائی سے  مراد شرک ہے ۔ یہ شخص اللہ کے  سوا اپنا کوئی ولی اور مددگار نہ پائے  گا، ہاں یہ اور بات ہے  کہ توبہ کر لے ، امام ابن جری فرماتے  ہیں  ٹھیک بات یہی ہے  کہ ہر برائی کو یہ آیت شامل ہے  جیسے  کہ احادیث گزر چکیں واللہ اعلم۔ بدعملیوں کی سزا کا ذکر کرے  اب نیک اعمال کی جزا کا بیان فرما رہا ہے  بدی یک سزا یا تو دنیا میں ہی ہو جاتی ہے  اور بندے  کے  لئے  یہی اچھا یا آخرت میں ہوتی ہے  اللہ اس سے  محفوظ رکھے، ہم اللہ تعالیٰ سے  سوال کرتے  ہیں  کہ وہ ہمیں دونوں جہان کی عافیت عطا فرمائے  اور مہربانی اور درگزر کرے  اور اپنی پکڑ اور ناراضگی سے  بچالے، اعمال صالحہ کو اللہ تعالیٰ پسند فرماتا ہے  اور اپنے  احسان و کر ورحم سے  انہیں  قبول کرتا ہے  کسی مرد عورت کے  کسی نیک عمل کو وہ ضائع نہیں  کرتا ہاں یہ شرط ہے  کہ کوہ ایماندار ہو، ان نیک لوگوں کو وہ اپنی جنت میں داخل کرے  گا اور ان کی حسنات میں کوئی کمی نہیں  آنے  دے  گا، فتیل کہتے  ہیں  اس گٹھلی کے  درمیان جو ہلکا سا چھلکا ہوتا ہے  اس کو مگر یہ دونوں تو کھجور کے  بیج میں ہوتے  ہیں  اور قطمیر کہتے  ہیں  اس بیج کے  اوپر کے  لفافے  کو اور یہ تینوں لفظ اس موقعہ پر قرآن میں آئے  ہیں ۔ پھر فرمایا اس سے  اچھے  دین والا کون ہے ؟ جو نیک نیتی کے  ساتھ اس کے  فرمان کے  مطابق اس کے  احکام بجا لائے  اور ہو بھی وہ محسن یعنی شریعت کا پابند دین حق اور ہدایت پر چلنے  والا رسول کی حدیث پر عمل کرنے  والا ہر نیک عمل کی قبولیت کے  لئے  یہ دونوں باتیں شرط ہیں  یعنی خلوص اور وحی کے  مطابق ہونا، خلوص سے  یہ مطلب کہ فقط اللہ کی رضامندی مطلوب ہو اور ٹھیک ہونان یہ ہے  کہ شرعیت کی ماتحتی میں ہو، پس ظاہر تو قرآن حدیث کے  موافق ہونے  سے  ٹھیک ہو جاتا ہے  اور باطن نیک نیتی سے  سنور جاتا ہے، اگر ان دو باتوں میں سے  ایک بھی نہ ہو تو وہ عمل فاسد ہوتا ہے، اخلاص نہ ہونے  سے  منافقت آجاتی ہے  لوگوں کی رضا جوئی اور انہیں  کھانا مقصود ہو جاتا ہے  اور عمل قابل قبول نہیں  رہتا سنت کے  موافق نہ ہونے  سے  ضلالت وجہالت کا مجموعہ ہو جات ہے  اور اس سے  بھی عمل پایہ قبولیت سے  گر جاتا ہے  اور چونکہ مومن کا عمل ریاکاری اور شرعیت کے  مخالفت سے  بچا ہوا ہوتا ہے  اس لئے  اس کا عمل سب سے  اچھا عمل ہو جاتا ہے  جو اللہ کو پسند آتا ہے  اور اس کی جزا کا بلکہ اور گناہوں کی بخشش کا سبب بن جاتا ہے ۔

اعزاز خلیل کیوں اور کیسے  ملا؟

 اسی لئے  اس کے  بعد ہی فرمایا ملت ابراہیم حنیف کی پیروی کرو یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کی اور آپ کے  قدم بہ قدم چلنے  والوں کی بھی قیامت تک ہوں، جیسے  اور آیت میں ہے  ان اولی الناس بابراھیم الخ، یعنی ابراہیم علیہ السلام سے  قریب تر وہ لوگ ہیں  جو ان کے  ہر حکم یک تعمیل کرتے  رہے  اور نبی ہوئے ۔ دوسری آیت میں فرمایا ثم اوجینا الیک الخ، پھر ہم نے  تیری طرف وحی کی کہ ابراہیم حنیف کی مل کی پیروی کر جو مشرک نہ تھے، حنیف کہتے  ہیں  قصداً شرک سے  بیزار اور پوری طرح حق کی طرف متوجہ ہونے  والا جسے  کوئی روکنے  والا روک نہ سکے  اور کوئی ہٹانے  والا ہٹا نہ سکے ۔ پھر حضرت خلیل اللہکی اتباع کی تاکید اور ترغیب کے  لئے  ان کا وصف بیان کیا کہ وہ اللہ کے  دوست ہیں، یعنی بندہ ترقی کر کے  جس اعلیٰ سے  اعلیٰ درجے  تک پہنچ سکتا ہے  اس تک وہ پہنچ گئے  خلت کے  درجے  سے  کوئی بڑا درجہ نہیں  محبت کا یہ اعلیٰ تر مقام ہے  اور یہاں تک حضرت ابراہیم عروج کر گئے  ہیں  اس کی وجہ کی کامل اطاعت ہے  جیسے  فرمان ہے  وابراھیم الذی وی o یعنی ابراہیم کو جو حکم ملا وہ اسے  بخوشی بجا لائے، کبھی اللہ کی مرضی سے  منہ نہ موڑا، کبھی عبادت سے  نہ اکتائے  کوئی چیز نہیں  عبادت الہیہ سے  مانع نہ ہوئی اور آیت میں ہے  واذاہتلی ابراہیم ربہ بکلمات فاتمھن الخ، جب جب جس جس طرح اللہ عزاسمہ نے  ان کی آزمائش لی وہ پورے  اترے  جو جو اللہ تعالیٰ نے  فرمایا انہوں نے  دکھایا۔ فرمان ہے  کہ ابراہیم مکمل یکسوئی سے  توحید کے  رنگ میں شرک سے  بچتا ہوا ہمارا تابع فرمان بنا رہا۔ حضرت معاد نے  یمن میں صبح کی نماز میں جب یہ آیت پڑھی تو ایک شخص نے  کہا لقدقررت عین ام الراہیم ابراہیم کی ماں کی آنکھیں ٹھنڈی ہوئیں، بعض لوگ کہتے  ہیں  کہ خلیل اللہ لقب کی یہ وجہ ہوئی کہ ایک مرتبہ قحط سالی کے  موقعہ پر آپ اپنے  ایک دوست کے  پاس مصر میں یا موصل میں گئے  تاکہ وہاں سے  کچھ اناج غلہ لے  آئیں یہاں کچھ نہ ملا خالی ہات لوٹے  جب اپنی بستی کے  قریب پہنچے  تو خیال آیا آؤ اس ریت کے  تودے  میں سے  اپنی بوریاں بھر کر لے  چلو تاکہ گر والوں کو قدرے  تسکین ہو جائے  چنانچہ بھر لیں اور جانوروں پر لاد کے  لے  چلے، اللہ تعالیٰ کی قدرت سے  وہ ریت سچ مچ آٹا بن گئی آپ تو گھر پہنچ کر لیٹ رہے  تھے  کہ ہارے  تہ تھے  ہی آنکھ لگ گئی گھر والوں نے  بوریاں کھولیں اور انہیں  بہترین آٹے  بھر ہوا پایا آٹا گوندھا روٹیاں پکائیں جب یہ جاگے  اور گھر میں سب کو خوش خوش پایا اور روٹیاں بھی تیار دیکھیں تو تعجب سے  پوچھنے  لگے  آٹا کہاں سے  آیا؟ جو تو تم نے  روٹیاں پکائیں انہوں نے  کہا آپ ہی تو اپنے  دوست کے  ہاں سے  لائے  ہیں  اب آپ سمجھ گئے  اور فرمایا ہاں یہ میں اپنے  دوست اللہ عزوجل سے  لایا ہوں پس اللہ نے  بھی آپ کو اپنا دووست بنا لیا اور خلیل اللہ نام رکھ دیا، لیکن اس کی صحت اور اس واقعہ میں ذرا تامل ہے، زیادہ سے  زیادہ یہ ہے  کہ یہ بنی اسرائی کی روایت ہو جسے  ہم سچا نہیں  کہہ سکتے  گو جھٹلا بھی نہیں  سکتے  حقیقت یہ ہے  کہ آپ کہ یہ لقب اس لئے  ملا کہ آپ کے  دل میں اللہ تعالیٰ کی محبت حد درجہ کی تھی کامل اطاعت شعاری اور فرمانبرداری تھی اپنی عبادتوں سے  اللہ تعالیٰ کو خوش کر لیا تھا، نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے  بھی اپنے  آخری خطبہ میں فرمایا تھا، لوگو اگر میں زمین والوں میں سے  کسی کو خلیل اور ولی دوست بنانے  والا ہوتا تو ابکر بن ابو قحافہ کو بناتا بلکہ تمہارے  ساتھی اللہ تعالیٰ نے  خلیل ہیں، (بخاری مسلم) اور روایت میں ہے  اللہ اعلیٰ وا کرم نے  جس طرح ابراہیم کو خلیل بنا لیا تھا اسی طرح مجھے  بھی اپنا خلیل کر لیا ہے ، ایک مرتبہ اصحاب رسول آپ کے  انتظار میں بیٹھے  ہوئے  آپ میں ذکر تذکرے  کررہے  تھے  ایک کہہ رہا تھا تعجب ہے  کہ اللہ نے  اپنی مخلوق میں سے  حضرت ابراہیم کو اپنا خلیل بنایا دوسرے  نے  کہا اس سے  بھی بڑھ کر مہربانی یہ کہ حضرت موسیٰ سے  خود باتیں کیں اور انہیں  کلیم بنایا، ایک نے  کہا اور عیسیٰ تو روح اللہ اور کلمۃ اللہ ہے ، ایک نے  کہا آدم صفی اللہ اور اللہ تعالیٰ کے  پسندیدہ ہیں، حضور صلی اللہ علیہ و سلم جب باہر تشریف لائے  سلام کیا اور یہ باتیں سنیں تو فرمایا بیشک تمہارا قول صحیح ہے، ابراہیم خلیل اللہ ہیں  اور موسیٰ کلیم اللہ ہیں  اور عیسیٰ رو اللہ اور کلمۃ اللہ ہیں  اور دم صفی اللہ ہیں  اور اسی طرح محمد صلی اللہ علیہ و سلم ہیں، مگر میں حقیقت بیان کرتا ہوں کچھ فخر کے  طور پر نہیں  کہتا کہ میں حبیب اللہ ہو، میں سب سے  پہلا شفاعت کرنے  والا ہوں اور سب سے  پہلے  شفاعت قبول کیا جانے  والا ہوں اور سب سے  پہلے  جنت کے  دروازے  پر دستک دینے  والا ہوں اللہ میرے  لئے  جنت کو کھول دے  گا اور مجھے  اس میں داخل کرے  گا اور میرے  ساتھ مومن فقراء ہوں گے  قیامت کے  دن تمام اگلوں پچھلوں سے  زیادہ ا کرام و عزت والا ہوں یہ بہ بطورفخر کے  نہیں  بلکہ بطور سچائی کو معلوم کرانے  کیلئے  میں تم سے  کہہ رہا ہوں، یہ حدیث اس سند سے  تو غریب ہے  لیکن اس کے  بعض کے  شاہد موجود ہیں ۔ حضرت ابن عباس فرماتے  ہیں  کیا تم اس سے  تعجب کرتے  ہو کہ خلت صرف حضرت ابراہیم کے  لئے  تھی اور کلام حضرت موسیٰ کے  لئے  تھا اور دیدار حضرت محمد صلی اللہ علیہ و سلم کے  لئے ۔ صلوات اللہ وسلامہ علیھم اجمعین (مستدرک حاکم) اسی طرح کی روایت حضرت انس بن مالک اور بہت سے  صحابہ تابعین اور سلف وخلف سے  مروی ہے، ابن ابی حاتم میں ہے  حضرت ابراہیم علیہ السلام کی عادت تھی کہ مہانوں کیساتھ کھائیں ۔ ایک دن آپ مہمان کی جستجو میں نکلے  لیکن کوئی نہ ملا واپس آئے  گھر میں داخل ہوئے  تو دیکھا کہ ایک شخص کھڑا ہوا ہے  پوچھاے  اللہ کے  بندے  تجھے  میرے  گھر میں آنے  کی اجازت کس نے  دی؟ اس نے  کہا اس مکان کے  حقیقی مالک نے ، پوچھا تم کون ہو؟ کہا میں ملک الموت ہوں مجھے  اللہ تعالیٰ نے  اپنے  ایک بندے  کے  پاس اس لئے  بھیجا ہے  کہ میں اسے  یہ بشارت سنا دوں کہ اللہ تعالیٰ نے  اسے  پانا خلیل بنا لیا ہے، یہ سن کر حضرت نے  کہا پھر تو مجھے  ضرور بتائیے  کہ وہ بزرگ کون ہیں ؟ اللہ عزوجل کی قسم اگر وہ زمین کے  کسی دور کے  گوشے  میں بھی ہوں گے  میں ضرور جا کر ان سے  ملاقات کروں گا پھر دریافت فرمایا کیا سچ مچ میں ہی ہوں ؟ فرشیت نے  کہا ہاں آپ ہی ہیں ۔ آپ نے  پھر دریافت فرمایا کہ آپ مجھے  یہ بھی بتائیں گے  کہ کس بنا پر کن کاموں پر اللہ تعالیٰ نے  مجھے  اپنا خلیل بنایا؟ فرشتے  نے  فرمایا اس لئے  کہ تم ہر ایک کو دیتے  رہتے  ہو اور خود کسی سے  کچھ طلب نہیں  کرتے  اور روایت میں ہے ۔ جب حضرت ابراہیم علیہ الصلوٰۃ والسلام کو خلیل اللہ کے  ممتاز اور مبارک لقب سے  اللہ نے  ملقب کیا تب سے  تو ان کے  دل میں اس قدر خوف رب اور ہیبت رب سما گئی کہ ان کے  دل کا اچھلنا دور سے  اس طرح سنا جاتا تھا جس طرح فضا میں پرند کے  پرواز کی آواز۔ صحیح حدیث میں جناب رسول آخر الزمان صلی اللہ علیہ و سلم کی نسبت بھی وارد ہے  کہ جس وقت اللہ تعالیٰ کا خوف آپ پر غالب آ جاتا تھا تو آپ کے  رونے  کی آواز جسے  آپ ضبط کرتے  جاتے  تھے  اس طرح دور و نزدیک والوں کو سنائی دیتی تھی جیسے  کسی ہنڈیا کے  کھولنے  کی آواز ہو۔ پھر فرمایا کہ زمین وآسمان میں جو کچھ ہے  سب اللہ کی ملکیت میں اور اس غلامی میں اور اسی کا پیدا ہوا ہے ۔ جس طرح جب جو تصرف ان میں وہ کرنا چاہتا ہے  بغیر کسی روک ٹوک کے  بلامشورہ غیرے  اور بغیر کسی کی شراکت اور مدد کے  کر گزرتا ہے  کوئی نہیں  جو اس کے  ارادے  سے  اسے  باز رکھ سکے  کوئی نہیں  کو اس کے  حکم میں حائل ہو سکے  کوئی نہیں  کو اس کی مرضی کو بدل سکے  وہ عظمتوں اور قدرتوں والا وہ عدل وحکمت والا وہ لطف و رحم والا واحد وصمد اللہ ہے ۔ اس کا علم ہر چھوٹی بڑی چیز کو گھیرے  ہوئے  ہے، مخفی سے  مخفی اور چھوٹی سے  چھوٹی اور دور سے  دور والی چیز بھی اس پر پوشیدہ نہیں، ہماری نگاہوں سے  جو پوشیدہ نہیں، ہماری نگاہوں سے  جو پوشیدہ ہیں  اس کے  علم میں سب ظاہر ہیں ۔

۱۲۷

یتیموں کے  مربیوں کی گوشمالی اور منصفانہ احکام

 صحیح بخاری شریف میں ہے  حضرت عائشہ فرماتی ہے  اس سے  مراد وہ شخص ہے  جس کی پرورش میں کوئی یتیم بچی ہو جس کا ولی وارث بھی وہی مال میں شریک ہو گیا ہو اب چاہتا یہ ہو کہ اس یتیم سے  میں نکاح کر لوں اس بنا پر اور جگہ اس کی شادی روکتا ہو ایسے  شخص کے  بارے  میں یہ آیت اتری ہے، ایک روایت میں ہے  کہ اس آیت کے  اترنے  کے  بعد جب پھر لوگوں نے  حضور صلی اللہ علیہ و سلم سے  ان یتیم لڑکیوں کے  بارے  میں سوال کیا تو اللہ تعالیٰ نے  آیت کے  اترنے  کے  بعد جب پھر لوگوں نے  حضور صلی اللہ علیہ و سلم سے  ان یتیم لڑکیوں کے  بارے  میں سوال کیا تو اللہ تعالیٰ نے  آیت ویستفتونک الخ، نازل فرمائی۔ فرماتی ہیں  کہ اس آیت میں جو یہ فرمایا گیا ہے  ومایتلی علیکم فی الکتاب اس سے  مراد پہلی آیت وان خفتم ان لا تقسطوا فی الیتامی الخ، ہے  آپ سے  بھی منقول ہے  کہ یتیم لڑکیوں کے  ولی وارث جب ان کے  پاس مال کم پاتے  یا وہ حسین نہ ہوتیں تو ان سے  نکاح کرنے  سے  باز رہتے  اور اگر مالدار اور صاحب جمال پاتے  تو نکاح کی رغبت کرتے  لیکن اس حال میں بھی چونکہ ان لڑکیوں کا اور کوئی محافظ نہیں  ہوتا تھا ان کے  مہر اور حقوق میں کمی کرتے  تھے  تو اللہ تعالیٰ نے  انہیں  روک دیا کہ بغیر پورا مہر اور پورے  حقوق دینے  کے  نکاح کر لینے  کی اجازت نہیں ۔ مقصد یہ ہے  کہ ایسی یتیم بچی جس سے  اس کے  ولی کو نکاح حلال ہو تو وہ اس سے  نکاح کر سکتا ہے  بشرطیکہ جو مہر اس جیسی اس کے  کنبے  قبیلے  کی اور لڑکیوں کو ملا ہے  اسے  بھی اتنا ہی دے  اور اگر ایسا نہ کے  تو اسے  چاہئے  اس سے  نکاح بھی نہ کرے ۔ اس سورت کے  شروع کی اس مضمون کی پہلی آیت کا بھی یہی مطلب ہے  اور کبھی ایسا بھی ہوتا ہے  کہ اس یتیم بچی سے  خود اس سورت کے  شروع کی اس مضمون کی پہلی آیت کا بھی یہی مطلب ہے  اور کبھی ایسا بھی ہوتا ہے  کہ اس یتیم بچی سے  خود اس کا ایسا ولی جسے  اس سے  نکاح کرنا حلال ہے  اسے  اپنے  نکاح میں لانا نہیں  چاہتا خواہ کسی وجہ سے  ہو لیکن یہ جان کر کہ جب یہ دوسرے  کے  نکاح میں چلی جائے  گی تو جو مال میرے  اس لڑکی کے  درمیان شراکت میں وہ بھی میرے  قبضے  سے  جاتا رہے  گا۔ تو ایسے  ناواجبی فعل سے  اس آیت میں روک دیا گیا۔ یہ بھی مروی ہے  کہ جاہلیت میں دستور تھا کہ یتیم لڑکی کا والی جب لڑکی کو اپنی ولایت میں لیتا تو اس پر ایک کپڑا ڈال دیتا اب کسی کی مجال نہ تھی کہ اس سے  خود آپ نکاح کر لیتا اور مال بھی ہضم کر جاتا اور اگر وہ صورت شکل میں اچھی نہ ہوتی اور مالدار ہوتی تو اسے  دوسری جگہ نکاح کرنے  سے  روک دیتا وہ بیچاری یونہی مر جاتی اور یہ اس کا مال قبضہ میں کر لیتا۔ اس سے  اللہ تعالیٰ اس آیت میں منع فرما رہا ہے ۔ حضرت ابن عباس سے  اس کے  ساتھ ہی یہ بھی مروی ہے  کہ جاہلیت والے  چھوٹے  لڑکوں کو وارث نہیں  سمجھتے  تھے  اس رسم کو بھی قرآن نے  ختم دیا اور ہر ایک کو حصہ دیوایا اور فرمایا کہ لڑکی اور لڑکے  کو خواہ چھوٹے  ہوں خواہ بڑے  حصہ ضرور دو۔ البتہ لڑکی کو آدھا اور لڑکے  کو پورا یعنی دو لڑکوں کے  برابر اور یتیم لڑکیوں کے  بارے  میں انصاف کا حکم دیا کہ جب جمال و مال والی سے  خود تم اپنا نکاح کر لیتے  ہو تو پھر ان سے  بھی کر لیا کرو جو مال وجمال میں کم ہوں پھر فرمایا یقین مانو کہ تمہارے  تمام اعمال سے  اللہ تعالیٰ باخبر ہے ۔ تمہیں  چاہئے  کہ خیر کے  کام کرو فرماں برداری کرو اور نیک جزا حاصل کرو۔

۱۲۸

میاں بیوی میں صلح و خیر کا اصول

 اللہ تعالیٰ میاں بیوی کے  حالات اور ان کے  احکام بیان فرما رہا ہے  کبھی مرد اس سے  ناخوش ہو جاتا ہے  کبھی چاہنے  لگتا ہے  اور کبھی الگ کر دیتا ہے ۔ پس پہلی حالت میں جبکہ عورت کو اپنے  شوہر کی ناراضگی کا خیال ہے  اور اسے  خوش کرنے  کے  لئے  اپنے  تمام حقوق سے  یا کسی خاص حق سے  وہ دست برداری کرنا چاہے  تو کر سکتی ہے ۔ مثلاً اپنا کھانا کپڑا چھوڑ دے  یا شب باشی کا حق معاف کر دے  تو دونوں کے  لئے  جائز ہے ۔ پھر اسی کی رغبت دلاتا ہے  کہ صلح ہی بہتر ہے ۔ حضرت سودہ بنت زمعہ جب بہت بڑی عمر کی ہو جاتی ہیں  اور انہیں  معلوم ہوتا ہے  کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے  اسے  قبول فرما لیا۔ ابوداؤد میں ہے  کہ اسی پر یہ آیت اتری۔ ابن عباس فرماتے  ہیں  میاں بیوی جس بات پر رضامند ہو جائیں وہ جائز ہے ۔ آپ فرماتے  ہیں  حضور صلی اللہ علیہ و سلم کے  وصال کے  وقت آپ کی نوبیویاں تھیں جن میں سے  آپ نے  آٹھ کو باریاں تقسیم کر رکھی تھیں ۔ بخاری مسلم میں ہے  کہ حضرت سودہ کا دن بھی حضور صلی اللہ علیہ و سلم حضرت عائشہ کو دیتے  تھے ۔ حضرت عروہ کا قول ہے  کہ حضرت سودہ کو بڑی عمر میں جب یہ معلوم ہوا کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم راضی ہو جائیں اور میں آپ کی بیویوں میں ہی آخر دم تک رہ جاؤں ۔ حضرت عائشہ کا بیان ہے  کہ حضور رات گزارنے  میں اپنی تمام بیویوں کو برابر کے  درجے  پر رکھا کرتے  تھے  عموماً ہر روز سب بیویوں کے  ہاں آتے  بیٹھتے  بولتے  چالتے  مگر ہاتھ نہ بڑھاتے  پھر آخر میں جن بیوی صاحبہ کی باری ہوتی ان کے  ہاں جاتے  اور رات وہیں  گزارتے  ۔ پھر حضرت سودہ کا واقعہ بیان فرماتے  جو اوپر گزار (ابوداؤد) معجم ابولعباس کی ایک مرسل حدیث میں ہے  کہ حضور نے  حضرت سودہ کو اطلاق کی خبر اپنا کلام نازل فرمایا اور اپنی مخلوق میں سے  آپ کو برگزیدہ اور اپنا پسندیدہ بنایا آپ مجھ سے  رجوع کر لیجئے  میری عمر بڑی ہو گئی ہے  مجھے  مرد کی خاص خواہش نہیں  رہی لیکن یہ چاہت ہے  کہ قیامت کے  دن آپ کی بیویوں میں اٹھائی جاؤں چنانچہ آپ نے  یہ منظور فرمالیا اور رجوع کر لیا پھر یہ کہنے  لگیں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم میں اپنی باری کا دن اور رات آپ کی محبوب حضرت عائشہ کو ہبہ کرتی ہوں ۔ بخاری شریف میں آتا ہے  کہ اس آیت سے  مراد یہ ہے  کہ ایک بڑھیا عورت جو اپنے  خاوند کو دیکھتی ہے  کہ وہ اس سے  محبت نہیں  کر سکتا بلکہ اسے  الگ کرنا چاہتا ہے  تو وہ کہتی ہے  کہ میں اپنے  حق چھوڑتی ہوں تو مجھے  جدا نہ کر تو آیت دونوں کی رخصت دیتی ہے  یہی صورت اس وقت بھی ہے  کہ جب کسی کو دو بیویاں ہوں اور ایک سے  اس کی بوجہ اس کے  بڑھاپے  یا بدصورتی کے  محبت نہیں  کر سکتا بلکہ اسے  الگ کرنا چاہتا ہے  تو وہ کہتی ہے  کہ میں اپنے  حق چھوڑتی ہوں تو مجھے  جدانہ کر بڑھاپے  یا بدصورتی کے  محبت نہ ہوا اور وہ اے  جد کرنا چاہتا ہو اور یہ بوجہ اپنے  لگاؤ یا بعض اور مصالح کے  الگ ہونا پسند نہ کرتی تو اسے  حق ہے  کہ اپنے  بعض یا سب حقوق سے  الگ ہو جائے  اور خاوند اس کی بات کو منظور کر کے  اسے  جدا نہ کرے ۔ ابن جریر میں ہے  کہ ایک شخص نے  حضرت عمر سے  ایک سوال (جسے  اس کی بیہودگی کی وجہ سے) آپ نے  ناپسند فرمایا اور اسے  کوڑا مار دیا پھر ایک اور نے  اسی آیت کی بابت سوال کیا تو آپ نے  فرمایا کہ ہاں یہ باتیں پوچھنے  کی ہیں  اس سے  ایسی صورت مراد ہے  کہ مثلاً ایک شخص کی بیوی ہے  لیکن وہ بڑھیا ہو گئی ہے  اولاد نہیں  ہوتی اس نے  اولاد کی خاطر کسی جوان عورت سے  اور نکاح کیا پھر یہ دونوں جس چیز پر آپس میں اتفاق کر لیں جائز ہے ۔ حضرت علی سے  جب اس آیت کی نسبت پوچھا گیا تو آپ نے  فرمایا کہ اس سے  مراد وہ عورت ہے  جو بوجہ اپنے  بڑھاپے  کے  یا بدصورتی کے  یا بد خلقی کے  یا گندگی کے  اپنے  خاوند کی نظروں میں گر جائے  اور اس کی چاہت یہ ہو کہ خاوند مجھے  نہ چھوڑے  تو یہ اپنا پورا یا ادھورا مہر معاف کر دے  یا اپنی باری معاف کر دے  وغیرہ تو اس طرح صلح کر سکتے  ہیں  سلف اور ائمہ سے  برابری اس کی یہی تفسیر مروی ہے  بلکہ تقریباً اس پر اتفاق ہے  میرے  خیال سے  تو اس کا کوئی مخلاف نہیں  واللہ اعلم۔ محمد بن مسلم کی صاحبزادی حضرت رافع بن خدیج کے  گھر میں تھیں بوجہ بڑھاپے  کے  یا کسی اور امر کے  یہ انہیں  چاہتے  نہ تھے  یہاں تک کہ طلاق دینے  کا ارادہ کر لیا اس پر انہوں نے  کہا آپ مجھے  طلاق تو نہ دیجئے  اور جو آپ چاہیں  فیصلہ کریں مجھے  منظور ہے ۔ اس پر یہ آیت اتری۔ ان دونوں آیتوں میں ذکر ہے  اس عورت کا جس سے  اس کا خاوند بگڑا ہوا ہو اسے  چاہئے  کہ اپنی بیوی سے  کہہ دے  کہ اگر وہ چاہے  تو اسے  طلاق دے  دے  اور اگر وہ چاہے  تو اس بات کو پسند کر کے  اس کے  گھر میں رہے  کہ وہ مال کی تقسیم میں اور باری کی تقسیم میں اس پر دوسری بیوی کو ترجیح دے  گا اب اسے  اختیار ہے  اگر یہ دوسری شق کو منظور کر لے  تو شرعاً خاوند کو جائز ہے  کہ اسے  باری نہ دے  اور جو مہر وغیرہ اس نے  چھوڑا ہے  اسے  اپنی ملکیت سمجھے ۔ حضرت رافع بن خدیج انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بیوی صاحبہ جب سن رسید ہو گئیں تو انہوں نے  ایک نوجوان لڑکی سے  نکاح کیا اور پھر اسے  زیادہ چاہنے  لگے  اور اسے  پہلی بیوی پر مقدم رکھنے  لگے  آخر اس سے  تنگ آ کر طلاق طلب کی آپ نے  دے  دی پھر عدت ختم ہونے  کے  قریب لوٹا لی، لیکن پھر وہی حال ہوا کہ جوان بیوی کو زیادہ چاہنے  لگے  اور اس کی طرف جھک گئے  اس نے  پھر طلاق مانگی آپ نے  دوبارہ طلاق دے  دی پھر لوٹا لیا لیکن پھر وہی نقشہ پیش آیا پھر اس نے  قسم دی کہ مجھے  طلاق دے  دو تو آپ نے  فرمایا دیکھو اب یہ تیسری آخری طلاق ہے  اگر تم چاہو تو میں دے  دوں اور اگر چاہو تو اسی طرح رہنا منظور کرو اس نے  سوچ کر جواب دیا کہ اچھا مجھے  اسے  طرح منظور ہے  چنانچہ وہ اپنے  حقوق سے  دست بردار ہو گئیں اور اسی طرح رہنے  سہنے  لگیں ۔ اس جملے  کا صلح خیر ہے  ایک معنی تو یہ بیان کیا گیا ہے  کہ خاوند کا اپنی بیوی کو یہ اختیار دینا کہ اگر تو چاہے  تو اسی طرح رہ کر دوسری بیوی کے  برابر تیرے  حقوق نہ ہوں اور اگر تو چاہے  تو طلاق لے  لے، یہ بہتر ہے  اس سے  کہ یونہی دوسری کو اس پر ترجیح دئے  ہوئے  رہے ۔ لیکن اس سے  اچھا مطلب یہ ہے  کہ بیوی اپنا کچھ چھوڑے  دے  اور خاوند اسے  طلاق نہ دے  اور آپس میں مل کر رہیں  یہ طلاق دینے  اور لینے  سے  بہتر ہے، جیسے  کہ خود نبی اللہ علیہ صلوات اللہ نے  حضرت سودہ بنت زمعہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو اپنی زوجیت میں رکھا اور انہوں نے  اپنا دن حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ہبہ کر دیا۔ آپ کے  اس فعل میں بھی آپ کی امت کے  لئے  بہترین نمونہ ہے  کہ نا موافقت کی صورت میں بھی طلاق کی نوبت نہ آئے ۔ چونکہ اللہ اعلیٰ و اکبر کے  نزدیک صلح افتراق سے  بہتر ہے  اس لئے  یاں فرما دیا کہ صلح خیر ہے ۔ بلکہ ابن ماجہ وغیرہ کی حدیث میں ہے  تمام حلال چیزوں میں سے  سب سے  زیادہ ناپسند چیز اللہ کے  نزدیک طلاق ہے ۔ پھر فرمایا تمہارا احسان اور تقویٰ کرنا یعنی عورت کی طرف کی ناراضگی سے  درگزر کرنا اور اسے  باوجود ناپسندیگی کے  اس کا پورا حق دینا باری میں لین دین میں برابری کرنا یہ بہترین فعل ہے  جسے  اللہ بخوبی جانتا ہے  اور جس پر وہ بہت اچھا بدلہ عطا فرمائے  گا۔ پھر ارشاد ہوتا ہے  کہ گو تم چاہو کہ اپنی کئی ایک بیویوں کے  درمیان ہر طرح بالکل پورا عدل و انصاف اور برابری کرو تو بھی تم کر نہیں  سکتے ۔ اس لئے  کہ گو ایک ایک رات کی باری باندھ لو لیکن محبت چاہت شہوت جماع وغیرہ میں برابری کیسے  کر سکتے  ہو؟ ابن ملکیہ فرماتے  ہیں  یہ بات حضرت عائشہ کے  بارے  میں نازل ہوئی ہے  حضور صلی اللہ علیہ و سلم انہیں  بہت چاہتے  تھے، اسی لئے  ایک حدیث میں ہے  کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم عورتوں کے  درمیان صحیح طور پر مساوات رکھتے  تھے  لیکن پھر بھی اللہ تعالیٰ سے  دعا کرتے  ہوئے  فرماتے  تھے  الٰہی یہ وہ تقسیم ہے  جو میرے  بس میں تھی اب جو چیز میرے  قبضہ سے  باہر ہے  یعنی دلی تعلق اس میں تو مھے  ملامت نہ کرنا (ابو داؤد) اس کی اسناد صحیح ہے  لیکن امام ترمذی فرماتے  ہیں  دوسری سند سے  یہ مرسلاً مروی ہے  اور وہ زیادہ صحیح ہے ۔ پھر فرمایا بالکل ہی ایک جانب جھک نہ جاؤ کہ دوسری کو لٹکا دو وہ نہ بے  خاوند کی رہے  نہ خاوند والی وہ تمہاری زوجیت میں ہو اور تم اس سے  بے  رخی برتو نہ تو اسے  طلاق ہی دو اپنا دوسرا نکاح کر لے  نہ اس کے  وہ حقوق ادا کرو جو ہر بیوی کے  لئے  اس کے  میاں پر ہیں ۔ حضور صلی اللہ علیہ و سلم فرماتے  ہیں  جس کی دو بیویاں ہوں پھر وہ بالکل ہی ایک کی طرف جھک جائے  تو قیامت کے  دن اللہ کے  سامنے  اس طرح آئے  گا کہ اس کا آدھا جسم ساقط ہو گا (احمد وغیرہ) امام ترمذی فرماتے  ہیں  یہ حدیث مرفوع طری سے  سوائے  ہمام کی حدیث کے  پہچانی نہیں  جاتی۔ پھر فرماتا ہے  اگر تم اپنے  کاموں کی اصلاح کر لو اور جہاں تک تمہارے  اختیار میں ہو عورتوں کے  درمیان عدل و انصاف اور مساوات برتو ہر حال میں اللہ سے  ڈرتے  رہا کرو، اس کے  باوجود اگر تم کسی وقت کسی ایک کی طرف کچھ مائل ہو گئے  ہو اسے  اللہ تعالیٰ معاف فرما دے  گا۔ پھر تیسری حالت بیان فرماتا ہے  کہ اگر کوئی صورت بھی نباہ کی نہ و اور دونوں الگ ہو جائیں تو اللہ ایک کو دوسرے  سے  بے  نیاز کر دے  گا، اسے  اس سے  اچھا شوہر اور اسے  اس سے  اچھی بیوی دے  دے  گا۔ اللہ کا فضل بہت وسیع ہے  وہ بڑے  احسانوں والا ہے  اور ساتھ ہی وہ حکیم ہے  تمام افعال ساری تقدیریں اور پوری شریعت حکمت سے  سراسر بھرپور ہے ۔

۱۳۱

مانگو تو صرف اللہ اعلیٰ و اکبر سے  مانگو

اللہ تعالیٰ مطلع کرتا ہے  کہ زمین و آسمان کا مالک اور حاکم وہی ہے  فرماتا ہے  جو احکام تمہیں  دیئے  جاتے  ہیں  کہ اللہ سے  ڈرو اس کی وحدانیت کو مانو اس کی عبادت کرو اور کسی اور کی عبادت نہ کرو یہی احکام تم سے  پہلے  کے  اہل کتاب کو بھی دئے  گئے  تھے  اور اگر تم کفر کرو (تو اللہ کا کیا بگاڑو گے ؟) وہ تو زمین آسمان کا تنہا مالک ہے، جیسے  کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے  اپنی قوم سے  فرمایا تھا کہ اگر تم اور تمام روئے  زمین کے  انسان کفر کرنے  لگو تو بھی اللہ تعالیٰ بے  پرواہ اور لائق ستائش ہے  اور جگہ فرمایا فکفروا وتولوا واستغنی اللہ واللہ غن حمید انہوں نے  کفر کیا اور منہ موڑ لیا اللہ نے  ان سے  بے  نیازی کی اور اللہ بہت ہی بے  نیاز اور تعریف کیا گیا ہے ۔ اپنے  تمام بندوں سے  غنی اور اپنے  تمام کاموں میں حمد کیا گیا ہے ۔ آسمان و زمین کی ہر چیز کا وہ مالک ہے  اور ہر شخص کے  تمام افعال پر وہ گواہ ہے  اور ہر چیز کا وہ عالم اور شاہد ہے ۔ وہ قادر ہے  کہ اگر تم اس کی نافرمانیاں کرو تو وہ تمہیں  برباد کر دے  اور غیروں کو آباد کر دے، جیسا کہ دوسری آیت میں ہے  وان تنولوایستبدل قوما غیر کم ثملایکونوا امثالکم ٭ اگر تم منہ موڑو گے  تو اللہ تعالیٰ تمہیں  بدل کر تمہارے  سوا اور قوم کو لائے  گا جو تم جیسے  نہ ہوں گے  بعض سلف سے  منقول ہے  کہ اس آیت پر غور کرو اور سوچہ کہ گنہگار بندے  اللہ اکبر و اعلیٰ کے  نزدیک کس قدر ذلیل اور فرومایہ ہیں ؟ اور آیت میں یہ بھی فرمایا ہے  کہ اللہ مقتدر پر یہ کام کچھ مشکل نہیں ۔ پھر فرماتا ہے  اے  وہ شخص جس کا پورا قصد اور جس کی تمام تر کوشش صرف دنیا کے  لئے  ہے  تو جان لے  کہ دونوں جہاں دنیا اور آخرت کی بھلائیاں اللہ کے  قبضے  میں ہیں، تو جب اس سے  دونوں ہی طلب کرے  گا تو وہ تجھے  دے  گا اور تجھے  بے  پرواہ کر دے  گا اور آسودہ بنا دے  گا اور جگہ فرمایا بعض لوگ وہ ہیں  جو کہتے  ہیں  اللہ تعالیٰ ہمیں دنیا دے  ان کا کوئ حصہ آخرت میں نہیں  اور یاسے  بھی ہیں  جو دعائیں کرتے  ہیں  کہ اے  ہمارے  رب ہمیں دنیا کی بھلائیاں دے  اور آخرت میں بھی بھلائیاں عطا فرما اور جہنم کے  عذاب سے  ہمیں نجات عطا فرما۔ یہ ہیں  جنہیں  ان کے  اعمال کا پورا حصہ ملے  گا اور جگہ ہے  جو شخص آخرت کی کھیتی کا ارادہ رکھے  ہم اس کی کھیتی میں زیادتی کریں گے  اور آیت میں ہے  من کان یرید العاجلۃ الخ جو شخص دنیا طلب ہو تو ہم جسے  چاہیں  جتنا چاہیں  دنیا میں دے  دیں امام ابن جریر نے  اس آیت کے  یہ معنی بیان کئے  ہیں  کہ جن منافقوں نے  دنیا کی جستجو میں ایمان قبول کیا تھا انہیں  دنیا چاہے  مل گئی یعنی مسلمان سے  مال غنیمت میں حصہ مل گیا، لیکن آخرت میں ان کے  لئے  الہ العلمین کے  پاس جو تیاری ہے  وہ انہیں  وہاں ملے  گی یعنی جہنم کی آگ اور وہاں کے  گوناگوں عذاب تو امام صاحب مذکور کے  نزدیک یہ آیت مثل آیت من کان یریدالحیوۃ الدنیا وزینتھا الخ، کے  ہے ۔ کوئی شک نہیں  کہ اس آیت کے  معنی تو بظاہر یہی ہیں  لیکن پہلی آیت کو بھی اسی معنی میں لینا ذرا غور طلب امر ہے  کیونکہ اس آیت کے  الفاظ تو صاف بتا رہے  ہیں  کہ دنیا اور آخرت کی بھلائی دنیا الہ العالمین کے  ہاتھ ہے  تو ہر شخص کو چاہئے  کہ وہ اپنی ہمت ایک ہی چیز کی جستجو میں خرچ نہ کر دے  بلکہ دونوں چیزوں کے  حاصل کرنے  کی کوشش کرے  جو تمہیں  دنیا دیتا ہے  وہی آخرت کا مالک بھی ہے  اور آخرت دے  سکتا ہے  یہ بڑی پست ہمتی ہو گی کہ تم اپنی آنکھیں بند کر لو اور بہت دینے  والے  سے  تھوڑا مانگو، نہیں  نہیں  بلکہ تم دنیا اور آخرت کے  بڑے  بڑے  کاموں اور بہترین مقاصد کو حاصل کرنے  کی کوشش کرو، اپنا نصب العین صرف دنیا کو نہ بنا لو، عالی ہمتی اور بلند پردازی سے  وسعت نظری کو کام میں لا کر عیش جاودانی کی کوشش وسعی کرو یاد رکھو دونوں جہان کا مالک وہی ہے  ہر ہر نفع اسی کے  ہاتھ میں ہے  کوئی نہیں  جسے  اس کے  ساتھ شراکت ہو یا اس کے  کاموں میں دخل ہوسعادت و شقاوت اس نے  تقسیم کی ہے  خزانوں کی کنجیاں اس نے  اپنی مٹھی میں رکھ لی ہیں، وہ ہر ایک مستحق کو جانتا ہے  اور جس کا وہ مستحق ہوتا ہے  اسے  وہی پہچانتا ہے، بھلا تم غور تو کرو کہ تمہیں  دیکھنے  سننے  کی طاقت دینے  والے  کا اپنا دیکھنا سننا کیسا ہو گا۔

۱۳۵

انصاف اور سچی گواہی تقوے  کی روح ہے

اللہ تعالیٰ ایمانداری کو حکم دیتا ہے  کہ وہ عدل و انصاف پر مبوطی سے  جمے  رہیں  اس سے  ایک انچ اندھر ادھر نہ سرکیں، ایسا نہ ہو کہ ڈر کی وجہ سے  یا کسی لالچ کی بنا پر یا کسی خوشامد میں یا کسی پر رحم کھا کر یا کسی سفارش سے  عدل و انصاف چھوڑ بیٹھیں ۔ سب مل کر عدل کو قائم و جاری کریں ایک دوسری کی اس معاملہ میں مدد کریں اور اللہ کی مخلوق میں عدالت کے  سکے  جما دیں ۔ اللہ کے  لئے  گواہ بن جائیں جیسے  اور جگہ ہے  واقیموا الشھادۃ للہ الخ، یعنی گواہیاں اللہ کی رضا جوئی کے  لئے  دو جو بالکل صحیح صاف سچی اور بے  لاگ ہوں ۔ انہیں  بدبو نہیں، چھپاؤ نہیں، چبا کر نہ بولو صاف صاف سچی شہادت دوچاہے  وہ تمہارے  اپنے  ہی خلاف ہو تم حق گوئی سے  نہ رکو اور یقین رکھو کہ اللہ تعالیٰ اپنے  فرماں بردار غلاموں کی مخلصی کی صورتیں بہت سی نکال دیتا ہے  کچھ اسی پر موقوف نہیں  کہ جھوٹی شہادت سے  ہی اس کا چھٹکارا ہو۔ گو سچی شہادت ماں باپ کے  خلاف ہوتی ہو گو اس شہادت سے  رشتے  داروں کا نقصان پہنچتا ہو، لیکن تم سچ ہاتھ سے  نہ جانے  دو گواہی سچی دو، اس لئے  کہ حق ہر ایک پر غالب ہے، گواہی کے  وقت نہ تونگر کا لحاظ کرو نہ غریب پر رحم کرو، ان کی مصلحتوں کو اللہ اعلیٰ و اکبر تمسے  بہت بہتر جانتا ہے، تم ہر صورت اور ہر حالت میں سچی شہادت ادا کرو، دیکھو کسی کے  برے  میں آ کر خود اپنا برا نہ کر لو، کسی کی دشمنی میں عصبیت اور قومیت میں فنا ہو کر عدل و انصاف ہاتھ سے  نہ جانے  دو بلکہ ہر حال ہر آن عدل و انصاف کا مجسمہ بنے  رہو، جیسے  اور جگہ فرمان باری ہے ۔ ولا یجرمنکم شنان قوم علی ان لاتعللوا عدلوا ھوا قرب للتقوی کسی قوم کی عداوت تمہیں  خلاف عدل کرنے  پر آمادہ نہ کر دے  عدل کرتے  رہو یہی تقویٰ کی شان کے  قریب تر ہے، حضرت عبد اللہ بن رواحہ کو جب رسول کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے  خیبر والوں کی کھیتیوں اور باغوں کا اندازہ کرنے  کو بھیجا تو انہوں نے  آپ کو رشوت دینا چاہی کہ آپ مقدار کم بتائیں تو آپ نے  فرمایا سنو اللہ کی قسم نبی صلی اللہ علیہ و سلم مجھے  تمام مخلوق سے  زیادہ عزیز ہیں  اور تم میرے  نزدیک کتوں اور خنزیروں سے  بدتر ہو لیکن باوجود اس کے  حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی محبت میں آ کر یا تمہاری عداوت کو سامنے  رکھ کر ناممکن ہے  کہ میں انصاف سے  ہٹ جاؤں اور تم میں عدل نہ کروں ۔ یہ سن کر وہ کہے  لگے  بس اسی سے  تو زمین و آسمان قائم ہے ۔ یہ پوری حدیث سورہ مائدہ کی تفسیر میں آئے  گی انشاء اللہ تعالیٰ پھر فرماتا ہے  اگر تم نے  شہادت میں تحریف کی یعنی بدل دی غلط گوئی سیک املیا واقعہ کے  خلاف گواہی دی دبی زبان سے  پیچیدہ الفاظ کہے  واقعات غلط پیش کر دئے  یا کچھ چھپا لیا کچھ بیان کیا تو یاد رکھو اللہ جیسے  باخبر حاکم کے  سامنے  یہ چال چل نہیں  سکتی وہاں جا کر اس کا بدلہ پاؤ گے  اور سزا بھگتو گے، حضور رسول مقبول صلی اللہ علیہ و سلم کا ارشاد ہے  بتہرین گواہ وہ ہیں  جو دریافت کرنے  سے  پہلے  ہی سچی گواہی دے  دیں ۔

۱۳۶

ایمان کی تکمیل مکمل اطاعت میں مضمر ہے

ایمان والوں کو حکم دیا جارہا ہے  کہ ایمان میں پورے  پورے  داخل ہو جائیں تمام احکام کو کل شریعت کو ایمان کی تمام جزئیات کو مان لیں، یہ خیال نہ ہو کہ اس میں تحصیل حاصل ہے  نہیں  بلکہ تکمیل کامل ہے ۔ ایمان لائے  ہو تو اب اسی پر قائم رہو اللہ جل شانہ کو مانا ہے  تو جس طرح وہ منوائے  مانتے  چلے  جاؤ۔ یہی مطلب ہر مسلمان کی اس دعا کا ہے  کہ ہمیں صراط مستقیم کی ہدایت کر، یعنی ہماری ہدایت کو ثابت رکھ مدام رکھ اس میں ہمیں مضبوط کر اور دن بدن بڑھتا تارہ، اسی طرح یہاں بھی مومنوں کو اپنی ذات پر اور اپنے  رسول صلی اللہ علیہ و سلم پر ایمان لانے  کو فرمایا ہے  اور آیت میں ایمانداروں سے  خطاب کر کے  فرمایا اللہ سے  ڈرو اور اس کے  رسول صلی اللہ علیہ و سلم پر ایمان لاؤ۔ پہلی کتاب سے  مراد قرآن ہے  اور اس سے  پہلے  کی کتاب سے  مراد تمام نبیوں پر جو جو کتابیں نازل ہوئیں سب ہیں ۔ قرآن کے  لئے  لفظ “نزل” بولاگ یا اور دیگر کتابوں کے  لئے  انزل اس لئے  کہ قرآن بتدریج وقتاً فوقتاً تھوڑا تھوڑا کر کے  اترا اور باقی کتابیں پوری پوری ایک ساتھ نازل ہوئیں، پھر فرمایا جو شخص اللہ جل شانہ کے  ساتھ اس کے  فرشتوں کے  ساتھ اس کی کتابوں کے  ساتھ اس کے  رسولوں کے  ساتھ آخرت کے  دن کے  ساتھ کفر کرے  وہ راہ ہدایت سے  بہک گیا اور بہت دور غلط راہ پڑ گیا گمراہی میں راہ حق سے  ہٹ کر راہ باطل پہ چلا گیا۔

۱۳۷

صحبت بد سے  بچو

 ارشاد ہو رہا ہے  کہ جو ایمان لا کر پھر مرتد ہو جائے  پھر وہ مومن ہوا کر کافر بن جائے  پھر اپنے  کفر پر جم جائے  اور اسی حالت میں مر جائے  تو نہ اس کی توبہ قبول نہ اس کی بخشش کا امکان اس کا چھٹکارا، نہ فلاح، نہ اللہ اسے  بخشے، نہ راہ راست پر لائے ۔ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس آیت کی تلاوت فرما کر فرماتے  تھے  مرتد سے  تین بار کہا جائے  کہ توبہ کر لے ۔ پھر فرمایا یہ منافقوں کا حال ہے  کہ آخرش ان کے  دلوں پر مہر لگ جاتی ہے  پھر وہ مومنوں کو چھوڑ کافروں سے  دوستیاں گانٹھتے  ہیں، ادھر بظاہر مومنوں سے  ملے  جلے  رہتے  ہیں  اور کافروں میں بیٹھ کر ان مومنوں کا مذاق اڑاتے  ہیں  اور کہتے  ہیں  ہم تو انہیں  بیوقوف بنا رہے  ہیں  دراصل ہم تو تمہارے  ساتھ ہیں، پس اللہ تعالیٰ ان کے  مقصود اصلی کو ان کے  سامنے  پیش کر کے  اس میں ان کی ناکامی کو بیان فرماتا ہے  کہ تم چاہتے  ہو ان کے  پاس تمہاری عزت ہو مگر یہ تمہیں  دھوکا ہوا ہے  اور تم غلطی کر رہے  ہو بگوش ہوش سنو عزتزوں کا مالک تو اللہ تعالیٰ وحدہٗ لا شریک لہٗ ہے ۔ وہ جسے  چاہے  عزت دیتا ہے  اور آیت میں ہے  من کان یریدالعزۃ الخ اور فرمایا واللہ العزۃ الخ، یعنی عزت اللہ کے  لئے  ہے  اور اس کے  رسول اور مومنوں کا حق ہے، لیکن منافق بے  سمجھ لوگ ہیں ۔ مقصود یہ ہے  کہ اگر حقیقی عزت چاہتے  ہو تو اللہ کے  نیک بندوں کے  اعمال اختیار کرو اس کی عبادت کی طرف جھک جاؤ اور اس جناب باری سے  عزت کے  خواہاں بنو، دنیا اور آخرت میں وہ تمہیں  وقار بنا دے  گا، مسند احمد میں حنبل کی یہ حدیث اس جگہ یاد رکھنے  کے  قابل ہے  کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے  فرمایا جو شخص فخر و غرور کے  طور پر اپنی عزت ظاہر کرنے  کے  لئے  اپنا نسب اپنے  کفار باپ دادا سے  جوڑے  اور نو تک پہنچ جائے  وہ بھی ان کے  ساتھ دسواں جہنمی ہو گا۔ پھر فرمان ہے  جب میں تمہیں  منع کر چکا کہ جس مجلس میں اللہ کی آیتوں سے  انکار کیا جا رہا ہو اور ان کا مذاق اڑایا جا رہا ہو اس میں نہ بیٹھو، پھر بھی اگر تم ایسی مجلسوں میں شریک ہوتے  رہو گے  تو یاد رکھو میرے  ہاں تم بھی ان کے  شریک کار سمجھے  جاؤ گے ۔ ان کے  گناہ میں تم بھی انہی جیسے  ہو جاؤ گے  جیسے  ایک حدیث میں ہے  کہ جس دستر خوان پر شراب نوشی ہو رہی ہے  اس پر کسی ایسے  شخص کو نہ بیٹھنا چاہئے  جو اللہ پر اور قیامت پر ایمان رکھتا ہو اس آیت میں جس ممانعت کا حو آلہ دیا گیا ہے  وہ سورہ انعام کی جو مکیہ ہے  یہ آیت الخ، جب تو انہیں  دیکھے  جو میری آیتوں میں غوطے  لگانے  بیٹھ جاتے  ہیں  تو تو ان سے  منہ موڑ لے ۔ حضرت مقاتل بن حیان فرماتے  ہیں  اس آیت کا یہ حکم انکم اذا مثلھم اللہ تعالیٰ کے  اس فرمان وما علی الذین یقون من حسابھم من شئی ولکن ذکری اللعلھم یتقون سے  منسوخ ہو گیا ہے  یعنی متقیوں پر ان کے  احسان کا کوئی بوجھ نہیں  لکین نصیحت ہے  کیا عجب کہ وہ بچ جائیں ۔ پھر فرمان باری ہے  اللہ تعالیٰ تمام منافقوں کو اور سارے  کافروں کو جہنم میں جمع کرنے  والا ہے ۔ یعنی جس طرح یہ منافق ان کافروں کے  کفر میں یہاں شریک ہیں  قیامت کے  دن جہنم میں بھی اور ہمیشہ رہین والے  وہاں کے  سخت تر دل ہلا دینے  والے  عذابوں کے  سہنے  میں بھی ان کے  شریک حال رہیں  گے ۔ وہاں کی سزاؤں میں وہاں کی قید و بند میں طوق و زنجیر میں گرم پانی کے  کڑوے  گھونٹ اتارنے  میں اور پیپ کے  لہو کے  زہر مار کرنے  میں بھی ان کیساتھ ہوں گے  اور دائمی سا کا اعلان سب کو ساتھ سنا دیا جائے  گا۔

۱۴۱

عمل میں صفر، دعویٰ میں اصلی مسلمان

منافقوں کی بد باطنی کا ذکر ہے  کہ مسلمانوں کی بربادی اس کی پستی کی تلاش میں لگے  رہتے  ہیں  ٹوہ لیتے  رہتے  ہیں، اگر کسی جہاد میں مسلمان کامیاب و کامران ہو گئے  اللہ کی مدد سے  یہ غالب آ گئے  تو ان کے  پیٹ میں گھسنے  کے  لئے  آ آ کر کہتے  ہیں  کیوں جی ہم بھی تو تمہارے  ساتھی ہیں  اور اگر کسی وقت مسلمانوں کی آزمائش کے  لئے  اللہ جل شانہ نے  کافروں کو غلبہ دے  دیا جیسے  احد میں ہوا تھا گو انجام کار حق ہی غالب رہا تو یہ ان کی طرف لپکتے  ہیں  اور کہتے  ہیں  دیکھو پوشیدہ طور پر تو ہم تمہاری تائید ہی کرتے  رہے  اور انہیں  نقصان پہنچاتے  رہے  یہ ہماری ہی چالاکی تھی جس کی بدولت آج تم نے  ان پر فتح پا لی۔ یہ ہیں  ان کے  کرتوت کہ دو کشتیوں میں پاؤں رکھ چھوڑتے  ہیں  “دھوبی کا کتا گھر کا نہ گھاٹ کا” گو یہ اپنی اس مکاری کو اپنے  لئے  باعث فخر جانتے  ہوں لیکن دراصل یہ سرا ان کی بے  ایمانی اور کم یقینی کی دلیل ہے  بھلا کچا رنگ کب تک رہتا ہے ؟ گاجر کی پونگی کب تک بجے  گی؟ کاغذ کی ناؤ کب تک چلے  گی؟ وقت آ رہا ہے  کہ اپنے  کئے  پر نادم ہوں گیں اپنی بیوقوفی پر ہاتھ ملیں گے  اپنے  شرمناک کرتوت پر ٹسوے  بہائیں گے  اللہ کا سچا فیصلہ سن لیں گے  اور تمام بھلائیوں سے  ناامید ہو جائیں گے ۔ بھرم کھل جائے  گا ہر راز فاش ہو جائے  گا اندر کا باہر آ جائے  گا یہ پالیسی اور حکمت عملی یہ مصلحت وقت اور مقتضائے  موقعہ نہایت ڈراؤنی صورت سے  سامنے  آ جائے  گا اور عالم الغیب کے  بے  پناہ عذابوں کا شکار بن جائیں گے  ناممکن ہے  کہ کافروں کو اللہ تعالیٰ مومنوں پر غالب کر دے، حضرت علی سے  ایک شخص نے  اس کا مطلب پوچھا تو آپ نے  اول جملے  کے  ساتھ ملا کر پڑھ دیا۔ مطلب یہ تھا کہ قیامت کے  دن ایسا نہ و گا، یہ بھی مروی ہے  کہ سبیل سے  مراد حجت ہے، لیکن تاہم اس کے  ظاہری معنی مراد لینے  میں بھی کوئی مانع نہیں  یعنی یہ ناممکن ہے  کہ اللہ تعالیٰ اب سے  لے  کر قیامت تک کوئی ایسا وقت لائے  کہ کافر اس قدر غلبہ حاصل کر لیں کہ مسلمانوں کا نام مٹا دیں یہ اور بات ہے  کہ کسی جگہ کسی وقت دنیاوی طور پر انہیں  غلبہمل جائے  لیکن انجام کار مسلمانوں کے  حق میں ہی مفید ہو گا دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی فرمان الٰہی ہے  انا لننصررسلنا والذین امنوافی الحیوۃ الدنیا الخ، ہم اپنے  رسولوں اور ایماندار بندوں کو مدد دینا میں بھی ضرور دیں گے  اور یہ معنی لینے  میں ایک لطافت یہ بھی ہے  کہ منافقوں کے  دلوں میں مسلمانوں کو ذلت اور بربادی کا شکار دیکھنے  کا جو انتظار تھا مایوس کر دیا گیا کہ کفار کو مسلمانوں پر اللہ تعالیٰ اس طرح غالب نہیں  کرے  گا کہ تم پھولے  نہ سماؤ اور کچھ لوگ جس ڈر سے  مسلمانوں کا ساتھ کھلے  طور پر نہ دیتے  تھے  ان کے  ڈر کو بھی زائل کر دیا کہ تم یہ نہ سمجھو کہ کسی وقت بھی مسلمان مٹ جائیں گے  اسی مطلب کی وضاحت آیت فتری الذین فی قلوبھم مرض الخ، میں کر دی ہے ۔ اس آیت کریمہ سے  حضرات علماء کرام نے  اس امر پر بھی استدلال کیا ہے  کہ مسلمان غلام کو کافر کے  ہاتھ بیچنا جائز نہیں، کیونکہ اس صورت میں ایک کافر کو ایک مسلمان پر غالب کر دینا ہے  اور اس میں مسلمان کی ذلت ہے  جن بعض ذی علم حضرات نے  اس سودے  کو جائز رکھا ہے  ان کا فیصلہ ہے  کہ وہ اپنی ملک سے  اس کو اسی وقت آزاد کر دے ۔

۱۴۲