FavoriteLoadingپسندیدہ کتابوں میں شامل کریں

فہرست مضامین

اسوہ حسنہ کے  مالک نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم

 اللہ تعالیٰ اپنے  نبی پر اور مسلمانوں پر اپنا احسان جتاتا ہے  کہ نبی کے  ماننے  والوں اور ان کی نافرمانی سے  بچنے  والوں کے  لئے  اللہ نے  نبی کے  دل کو نرم کر دیا ہے  اگر اس کی رحمت نہ ہوتی تو اتنی نرمی اور آسانی نہ ہوتی، حضرت قتادہ فرماتے  ہیں  ما صلہ ہے  جو معرفہ کے  ساتھ عرب ملا دیا کرتے  ہیں  جیسے  آیت (فبما نقضھم) الخ، میں اور نکرہ کے  ساتھ بھی ملا دیتے  ہیں  جیسے  آیت (عما قلیل) میں اسی طرح یہاں ہے، یعنی اللہ کی رحمت سے  تو ان کے  لئے  نرم دل ہوا ہے، حضرت حسن بصری فرماتے  ہیں  یہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم کے  اخلاق ہیں  جن پر آپ کی بعثت ہوئی ہے  یہ آیت ٹھیک اس آیت جیسی ہے  آیت (لقد جاءکم) الخ، یعنی تمہارے  پاس تم ہی میں سے  ایک رسول آئے  جس پر تمہاری مشقت گراں گزرتی ہے  جو تمہاری بھلائی کے  حریص ہیں  جو مومنوں پر شفقت اور رحم کرنے  والے  ہیں، مسند احمد میں ہے  کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے  حضرت ابو امامہ باہلی کا ہاتھ پکڑ کر فرمایا اے  ابو امامہ بعض مومن وہ ہیں  جن کے  لئے  میرا دل تڑپ اٹھتا ہے، (فظاً) سے  مراد یہاں سخت کلام ہے ۔ کیونکہ اس کے  بعد (غلیظ القلب) کا لفظ ہے، یعنی سخت دل، فرمان ہے  کہ نبی ا کرم تم سخت کلام اور سخت دل ہوتے  تو یہ لوگ تمہارے  پاس سے  منتشر ہو جاتے  اور تمہیں  چھوڑ دیتے  لیکن اللہ تعالیٰ نے  انہیں  آپ کے  جاں نثار و شیدا بنا دیا ہے  اور آپ کو بھی ان کے  لئے  محبت اور نرمی عطا فرمائی، اور تا کہ ان کے  دل آپ سے  لگے  رہیں  حضرت عبد اللہ بن عمرو فرماتے  ہیں  میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی صفوں کو اگلی کتابوں میں بھی پاتا ہوں کہ آپ سخت کلام سخت دل بازاروں میں شور مچانے  والے  اور برائی کا بدلہ لینے  والے  نہیں  بلکہ درگزر کرنے  والے  اور معافی دینے  والے  ہیں، ترمذی کی ایک غریب حدیث میں ہے  رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم فرماتے  ہیں  لوگوں کی آؤ بھگت خیر خواہی اور چشم پوشی کا مجھے  اللہ کی جانب سے  اسی طرح کا حکم کیا گیا ہے  جس طرح فرائض کی پابندی کا، چنانچہ اس آیت میں بھی فرمان ہے  تو ان سے  درگزر کر، ان کے  لئے  استغفار کر، اور کاموں کا مشورہ ان سے  لیا کر، اسی لئے  حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی عادت مبارک تھی کہ لوگوں کو خوش کرنے  کے  لئے  اپنے  کاموں میں ان سے  مشورہ ان سے  لیا کرو، اسی لئے  حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی عادت مبارک تھی کہ لوگوں کو خوش کرنے  کے  لئے  اپنے  کاموں میں ان سے  مشورہ کیا کرتے  تھے، جیسے  کہ بدر والے  دن قافلے  کی طرف بڑھنے  کے  لئے  مشورہ لیا اور صحابہ نے  کہا کہ اگر آپ سمندر کے  کنارے  پر کھڑا کر کے  ہمیں فرمائیں گے  کہ اس میں کود پڑو اور اس پار نکلو تو ہم سرتابی نہ کریں گے  اور اگر ہمیں برک انعماد تک لے  جانا چاہیں  تو بھی ہم آپ کے  ساتھ ہیں  ہم وہ نہیں  کہ موسیٰ علیہ السلام کے  صحابیوں کی طرح کہہ دیں ٠ کہ تو اور تیرا رب لڑ لے  ہم تو یہاں بیٹھے  ہیں  بلکہ ہم تو آپ کے  دائیں بائیں صفیں باندھ کر جم کر دشمنوں کا مقابلہ کریں گے، اسی طرح آپ نے  اس بات کا مشورہ بھی لیا کہ منزل کہاں ہو؟ اور منذر بن عمرو نے  مشورہ دیا کہ ان لوگوں سے  آگے  بڑھ کر ان کے  سامنے  ہو، اسی طرح احد کے  موقع پر بھی آپ نے  مشورہ کیا کہ آیا مدینہ میں رہ کر لڑیں یا باہر نکلیں اور جمہور کی رائے  یہی ہوئی کہ باہر میدان میں جا کر لڑنا چاہئے  چنانچہ آپ نے  یہی کیا اور آپ نے  جنگ احزاب کے  موقع پر بھی اپنے  اصحاب سے  مشورہ کیا کہ مدینہ کے  پھلوں کی پیداوار کا تہائی حصہ دینے  کا وعدہ کر کے  مخالفین سے  مصالحت کر لی جائے ؟ تو حضرت سعد بن عبادہ اور حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے  اس کا انکار کیا اور آپ نے  مجھے  اس مشورے  کو قبول کر لیا اور مصالحت چھوڑ دی، اسی طرح آپ نے  حدیبیہ والے  دن اس امر کا مشورہ کیا کہ آیا مشرکین کے  گھروں پر دھاوا بول دیں ؟ تو حضرت صدیق نے  فرمایا ہم کسی سے  لڑنے  نہیں  آئے  ہمارا ارادہ صرف عمرے  کا ہے  چنانچہ اسے  بھی آپ نے  منظور فرما لیا، اسی طرح جب منافقین نے  آپ کی بیوی صاحبہ ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما پر تہمت لگائی تو آپ نے  فرمایا اے  مسلمانو مجھے  مشورہ دو کہ ان لوگوں کا میں کیا کروں جو میرے  گھر والوں کو بدنام کر رہے  ہیں ۔ اللہ کی قسم میرے  گھر والوں میں کوئی برائی نہیں  اور جس شخص کے  ساتھ تہمت لگا رہے  ہیں  واللہ میرے  نزدیک تو وہ بھی بھلا آدمی ہے  اور آپ نے  حضرت عائشہ کی جدائی کے  لئے  حضرت علی اور حضرت اسامہ سے  مشورہ لیا، غرض لڑائی کے  کاموں میں اور دیگر امور میں بھی حضور صلی اللہ علیہ و سلم صحابہ سے  مشورہ کیا کرتے  تھی، اس میں علماء کا اختلاف ہے  کہ یہ مشورے  کا حکم آپ کو بطور وجوب کے  دیا تھا یا اختیاری امر تھا تاکہ لوگوں کے  دل خوش رہیں، حضرت ابن عباس فرماتے  ہیں  اس آیت میں حضرت ابوبکر و عمر سے  مشورہ کرنے  کا حکم ہے  (حاکم) یہ دونوں حضور صلی اللہ علیہ و سلم کے  حواری اور آپ کے  وزیر تھے  اور مسلمانوں کے  باپ ہیں  (کلبی) مسند احمد میں ہے  رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے  ان دونوں بزرگوں سے  فرمایا اگر تمہاری دونوں کی کسی امر میں ایک رائے  ہو جائے  تو میں تمہارے  خلاف کبھی نہ کروں گا، حضور صلی اللہ علیہ و سلم سے  سوال ہوتا ہے  کہ عزم کے  کیا معنی ہیں  تو آپ نے  فرمایا جب عقلمند لوگوں سے  مشورہ کیا جائے  پھر ان کی مان لینا (ابن مردویہ) ابن ماجہ میں آپ کا یہ فرمان بھی مروی ہے  کہ جس سے  مشورہ کیا جائے  وہ امین ہے، ابو داؤد ترمذی نسائی وغیرہ میں بھی یہ روایت ہے، امام ترمذی علیہ الرحمہ اسے  حسن کہتے  ہیں، اور روایت میں ہے  کہ جب تم میں سے  کوئی اپنے  بھائی سے  مشورہ لے  تو اسے  چاہئے  بھلی بات کا مشورہ دے  (ابن ماجہ) پھر فرمایا جب تم کسی کام کا مشورہ کر چکو پھر اس کے  کرنے  کا پختہ ارادہ ہو جائے  تو اب اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرو اللہ تعالیٰ بھروسہ کرنے  والوں کو دوست رکھتا ہے ۔ پھر دوسری آیت کا ارشاد بالکل اسی طرح کا ہے  جو پہلے  گزرا ہے  کہ آیت (وما النصر الا من عند اللہ العزیز الحکیم) یعنی مدد صرف اللہ ہی کی طرف سے  ہے  جو غالب ہے  اور حکمتوں والا ہے، پھر حکم دیتا ہے  کہ مومنوں کو توکل اور بھروسہ ذات باری پر ہی ہونا چاہئے ۔ پھر فرماتا ہے  نبی کو لائق نہیں  کہ وہ خیانت کرے، ابن عباس فرماتے  ہیں  بدر کے  دن ایک سرخ رنگ چادر نہیں  ملتی تھی تو لوگوں کے  کہا شاید رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے  لے  لی ہو اس پر یہ آیت اتری (ترمذی) اور روایت میں ہے  کہ منافقوں نے  حضور صلی اللہ علیہ و سلم پر کسی چیز کی تہمت لگائی تھی جس پر آیت (وما کان) اتری، پس ثابت ہوا کہ اللہ کے  رسول رسولوں کے  سردار صلی اللہ علیہ و سلم پر ہر قسم کی خیانت سے  بیجا طرف داری سے  مبرا اور منزہ ہیں  خواہ وہ مال کی تقسیم ہو یا امانت کی ادائیگی ہو، حضرت ابن عباس سے  یہ بھی مروی ہے  کہ نبی جانب داری نہیں  کر سکتا کہ بعض لشکریوں کو دے  اور بعض کو ان کا حصہ نہ پہنچائے، اس آیت کی یہ تفسیر بھی کی گئی ہے  کہ یہ نہیں  ہو سکتا کہ نبی اللہ کی نازل کردہ کسی چیز کو چھپا لے  اور امت تک نہ پہنچائے۔

 یغل کے  معنی اور خائن

 یغل کو “یے ” کے  پیش سے  بھی پڑھا گیا ہے  تو معنی یہ ہوں گے  کہ نبی کی ذات ایسی نہیں  کہ ان کے  پاس والے  ان کی خیانت کریں، چنانچہ حضرت قتادہ اور حضرت ربیع سے  مروی ہے  کہ بدر کے  دن آپ کے  اصحاب نے  مال غنیمت میں سے  تقسیم سے  پہلے  کچھ لیے  لیا تھا اس پر یہ آیت اتری (ابن جریر) پھر خائن لوگوں کو ڈرایا جاتا ہے  اور سخت عذاب کی خبر دی جاتی ہے ۔ احادیث میں بھی اس کی بابت کچھ سخت وعید ہے  چنانچہ مسند احمد کی حدیث میں ہے  کہ سب سے  بڑا خیانت کرنے  والا وہ شخص ہے  جو پڑوسی کے  کھیت کی زمین یا اس کے  گھر کی زمیں دبا لے  اگر ایک ہاتھ زمین بھی نا حق اپنی طرف کر لے  گا تو ساتوں زمینوں کا طوق اسے  پہنایا جائے  گا مسند کی ایک اور حدیث میں ہے  جسے  ہم حاکم بنائے  اگر اس کا گھر   نہ ہو تو وہ گھر بنا سکتا ہے، بیوی نہ ہو تو کر سکتا ہے ، اس کے  سوا اگر کچھ اور لے  گا تو خائن ہو گا، یہ حدیث ابو داؤد میں بھی دیگر الفاظ سے  منقول ہے، ابن جریر کی حدیث میں ہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم فرماتے  ہیں  میں تم میں سے  اس شخص کو پہچانتا ہوں جو چلاتی ہوئی بکری کو اٹھائے  ہوئے  قیامت کے  دن آئے  گا اور میرا نام لے  لے  کر مجھے  پکارے  گا میں کہہ دوں گا کہ میں اللہ تعالیٰ کے  پاس تجھے  کام نہیں  آسکتا میں تو پہنچا چکا تھا اسے  بھی میں پہچانتا ہوں جو اونٹ کو اٹھائے  ہوئے  آئے  گا جو بول رہا ہو گا یہ بھی کہے  گا کہ اے  محمد صلی اللہ علیہ و سلم اے  محمد صلی اللہ علیہ و سلم میں کہوں گا میں تیرے  لئے  اللہ کے  پاس کسی چیز کا مالک نہیں  ہوں میں تو تبلیغ کر چکا تھا اور میں اسے  بھی پہچانوں گا جو اسی طرح گھوڑے  کو لادے  ہوئے  آئے  گا جو ہنہنا رہا ہو گا وہ بھی مجھے  پکارے  گا اور میں کہہ دوں گا کہ میں تو پہنچا چکا تھا آج کچھ کام نہیں  آسکتا اور اس شخص کو بھی میں پہچانتا ہوں جو کھالیں لئے  ہوئے  حاضر ہو گا اور کہہ رہا ہو یا محمد صلی اللہ علیہ و سلم یا محمد صلی اللہ علیہ و سلم میں کہوں گا میں اللہ کے  پاس کسی نفع کا اختیار نہیں  رکھتا میں تجھے  حق و باطل بتا چکا تھا، یہ حدیث صحاح ستہ میں نہیں، مسند احمد میں ہے  کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے  قبیلہ ازد کے  ایک شخص کو حاکم بنا کر بھیجا جسے  ابن البتیہہ کہتے  تھے  یہ جب زکوٰۃ وصول کر کے  آئے  تو کہنے  لگے  یہ تو تمہارا ہے  اور یہ مجھے  تحفہ میں ملا ہے  نبی صلی اللہ علیہ و سلم ممبر پر کھڑے  ہو گئے  اور فرمانے  لگے  ان لوگوں کو کیا ہو گیا ہے  ہم انہیں  کسی کام پر بھیجتے  ہیں  تو آ کر کہتے  ہیں  یہ تمہارا اور یہ ہمارے  تحفے  کا یہ اپنے  گھروں میں ہی بیٹھے  رہتے  پھر دیکھتے  کہ انہیں  تحفہ دیا جاتا ہے  یا نہیں ؟ اس ذات کی قسم جس کے  ہاتھ میں محمد صلی اللہ علیہ و سلم کی جان ہے  تم میں سے  جو کوئی اس میں سے  کوئی چیز بھی لے  لے  گا وہ قیامت کے  دن اسے  گردن پر اٹھائے  ہوئے  لائے  گا اونٹ ہے  تو چلا رہا ہو گا۔ گائے  ہے  تو بول رہی ہو گی بکری ہے  تو چیخ رہی ہو گی پھر آپ نے  ہاتھ اس قدر بلند کئے  کہ بغلوں کی سفیدی ہمیں نظر آنے  لگی اور تین مرتبہ فرمایا اے  اللہ کیا میں نے  پہنچا دیا؟ مسند احمد کی ایک ضعیف حدیث میں ہے  ایسے  تحصیلداروں اور حاکموں کو جو تحفے  ملیں وہ خیانت ہیں  یہ روایت صرف مسند احمد میں ضعیف ہے  اور ایسا معلوم ہوتا ہے  کہ گویا اگلی مطول روایت کا ما حاصل ہے، ترمذی میں ہے  حضرت معاذ بن جبل میں رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے  ہیں  مجھے  رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے  یمن میں بھیجا جب میں چل دیا تو آپ نے  مجھے  بلوایا جب میں واپس آیا تو فرمایا میں نے  تمہیں  صرف ایک بات کہنے  کے  لئے  بلوایا ہے  کہ میری اجازت کے  بغیر تم جو کچھ لو گے  وہ خیانت ہے  اور ہر خائن اپنی خیانت کو لئے  ہوئے  قیامت کے  دن آئے  گا بس یہی کہنا تھا جاؤ اپنے  کام میں لگو، مسند احمد میں ہے  کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے  ایک روز کھڑے  ہو کر خیانت کا ذکر کیا اور اس کے  بڑے  بڑے  گناہ اور وبال بیان فرما کر ہمیں ڈرایا پھر جانوروں کو لئے  ہوئے  قیامت کے  دن آئے  حضور صلی اللہ علیہ و سلم سے  فریاد رسی کی عرض کرنے  اور آپ کے  انکار کر دینے  کا ذکر کیا جو پہلے  بیان ہو چکا ہے  اس میں سونے  چاندی کا ذکر بھی ہے، یہ حدیث بخاری مسلم میں بھی ہے، مسند احمد میں ہے  کہ رسول مقبول صلی اللہ علیہ و سلم نے  فرمایا اے  لوگ جسے  ہم عامل بنائیں اور پھر وہ ہم سے  ایک سوئی یا اس سے  بھی ہلکی چیز چھپائے  تو وہ خیانت ہے  جسے  لے  کر وہ قیامت کے  دن حاضر ہو گا، یہ سن کر ایک سانولے  رنگ کے  انصاری حضرت سعید بن عبادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کھڑے  ہو کر کہنے  لگے  حضور صلی اللہ علیہ و سلم میں تو عامل بننے  سے  دستبردار ہوتا ہوں، فرمایا کیوں ؟ کہا آپ نے  جو اس طرح فرمایا، آپ نے  فرمایا ہاں اب بھی سنو ہم کوئی کام سونپیں اسے  چاہئے  کہ تھوڑا بہت سب کچھ لائے  جو اسے  دیا جائے  وہ لے  لے  اور جس سے  روک دیا جائے  رک جائے، یہ حدیث مسلم اور ابو داؤد میں بھی ہے  حضرت رافع فرماتے  ہیں  کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ و سلم عموماً نماز عصر کے  بعد بنو عبدالاشہل کے  ہاں تشریف لے  جاتے  تھے  اور تقریباً مغرب تک وہیں  مجلس رہتی تھی ایک دن مغرب کے  وقت وہاں سے  واپس چلے  وقت تنگ تھا تیز تیز چل رہے  تھے  بقیع میں آ کر فرمانے  لگے  تف ہے  تجھے  تف ہے  تجھے  میں سمجھا آپ مجھے  فرما رہے  ہیں  چنانچہ میں اپنے  کپڑے  ٹھیک ٹھاک کرنے  لگا اور پیچھے  رہ گیا بلکہ یہ قبر فلاں شخص کی ہے  اسے  میں نے  قبیلے  کی طرف عامل بنا کر بھیجا تھا اس نے  ایک چادر لے  لی وہ چادر اب آگ بن کر اس کے  اوپر بھڑک رہی ہے ۔ (مسند احمد) حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے  ہیں  رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم مال غنیمت کے  اونٹ کی پیٹھ کے  چند بال لیتے  پھر فرماتے  میرا بھی اس میں وہی حق ہے  جو تم میں سے  کسی ایک کا، خیانت سے  بچو خیانت کرنے  والے  کی رسوائی قیامت کے  دن ہو گی سوئی دھاگے  تک پہنچا دو اور اس سے  حقیر چیز بھی اللہ تعالیٰ کی راہ میں نزدیک والوں اور دور والوں سے  جہاد کرو، وطن میں بھی اور سفر میں بھی جہاد جنت کے  دروازوں میں سے  ایک دروازہ ہے  جہاد کی وجہ سے  اللہ تعالیٰ مشکلات سے  اور رنج و غم سے  نجات دیتا ہے، اللہ کی حدیں نزدیک و دور والوں میں جاری کرو اللہ کے  بارے  میں کسی ملامت کرنے  کی ملامت تمہیں  نہ روکے  (مسند احمد) اس حدیث کا بعض حصہ ابن ماجہ میں بھی مروی ہے، حضرت ابو مسعود انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے  ہیں  کہ مجھے  جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے  عامل بنا کر بھیجنا چاہا تو فرمایا اے  ابو مسعود جاؤ ایسا نہ ہو کہ میں تمہیں  قیامت کے  دن اس حال میں پاؤں کہ تمہاری پیٹھ پر اونٹ ہو جو آواز نکال رہا ہو جسے  تم نے  خیانت سے  لے  لیا ہو، میں نے  کہا حضور صلی اللہ علیہ و سلم پھر تو میں نہیں  جاتا آپ نے  فرمایا اچھا میں تمہیں  زبردستی بھیجتا بھی نہیں  (ابو داؤد) ابن مردویہ میں ہے  رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم فرماتے  ہیں  اگر کوئی پتھر جہنم میں ڈالا جائے  تو ستر سال تک چلتا رہے  لیکن تہہ کو نہیں  پہنچتا خیانت کی چیز کو اسی طرح جہنم میں پھینک دیا جائے  گا، پھر خیانت والے  سے  کہا جائے  گا جا اسے  لے  آ، یہی معنی ہیں  اللہ کے  اس فرمان کے  آیت (ومن یغلل یات بما غل یوم القیامتہ) مسند احمد میں ہے  کہ خیبر کی جنگ والے  دن صحابہ کرام آنے  لگے  اور کہنے  لگے  فاں شہید ہے  فلاں شہید ہے  جب ایک شخص کی نسبت یہ کہا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے  فرمایا ہرگز نہیں  میں نے  اسے  جہنم میں دیکھا ہے  کیونکہ اس نے  غنیمت کے  مال کی ایک چادر خیانت کر لی تھی پھر آپ نے  فرمایا اے  عمر بن خطاب تم جاؤ اور لوگوں میں منادی کر دو کہ جنت میں صرف ایماندار ہی جائیں گے  چنانچہ میں چلا اور سب میں یہ ندا کر دی، یہ حدیث مسلم اور ترمذی میں بھی ہے  امام ترمذی اسے  حسن صحیح کہتے  ہیں، ابن جریر میں ہے  کہ ایک دن حضرت عمر نے  حضرت عبد اللہ بن انیس سے  صدقات کے  بارے  میں تذکرہ کرتے  ہوئے  فرمایا کہ تم نے  رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کا یہ فرمان نہیں  سنا؟ کہ آپ نے  صدقات میں خیانت کرنے  والے  کی نسبت فرمایا اس میں جو شخص اونٹ یا بکری لے  لے  وہ قیامت والے  دن اسے  اٹھائے  ہوئے  آئے  گا۔ حضرت عبد اللہ نے  فرمایا ہاں یہ روایت ابن ماجہ میں بھی ہے، ابن جریر میں حضرت سعد بن عبادہ سے  مروی ہے  کہ انہیں  صدقات وصول کرنے  کے  لئے  حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے  بھیجنا چاہا اور فرمایا اے  سعد ایسا نہ ہو کہ قیامت کے  دن تو بلبلاتے  اونٹ کو اٹھا کر لائے  تو حضرت سعد کہنے  لگے  کہ نہ میں اس عہدہ کو لوں اور نہ ایسا ہونے  کا احتمال رہے  چنانچہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے  بھی اس کام سے  انہیں  معاف رکھا، مسند احمد میں ہے  کہ حضرت مسلم بن عبدالملک کے  ساتھ روم کی جنگ میں حضرت سالم بن عبد اللہ بھی تھے  ایک شخص کے  اسباب میں کچھ خیانت کا مال بھی نکلا سردار لشکر نے  حضرت سالم سے  اس کے  بارے  میں فتویٰ پوچھا تو آپ نے  فرمایا مجھ سے  میرے  باپ عبد اللہ نے  اور ان سے  ان کی باپ عمر بن خطاب نے  بیان کیا ہے  کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے  فرمایا جس کے  اسباب میں تم چوری کا مال پاؤ اسے  جلا دو، راوی کہتا ہے  میرا خیال ہے  یہ بھی فرمایا اور اسے  سزا دو، چنانچہ جب اس کا مال بازار میں نکالا تو اس میں ایک قرآن شریف بھی تھا حضرت سالم سے  پھر اس کی بابت پوچھا گیا آپ نے  فرمایا اسے  بیچ دو اور اس کی قیمت صدقہ کر دو، یہ حدیث ابو داؤد اور ترمذی میں بھی ہے، امام علی بن مدینی اور امام بخاری وغیرہ فرماتے  ہیں  یہ حدیث منکر ہے، امام دارقطنی فرماتے  ہیں  صحیح یہ ہے  کہ یہ حضرت سالم کا اپنا فتویٰ ہے، حضرت امام احمد اور ان کے  ساتھیوں کا قول بھی یہی ہے، حضرت حسن بھی یہی کہتے  ہیں  حضرت علی فرماتے  ہیں  اس کا اسباب جلا دیا جائے  اور اسے  مملوک کی حد سے  کم مارا جائے  اور اس کا حصہ نہ دیا جائے، ابو حنیفہ مالک شافعی اور جمہور کا مذہب اس کے  برخلاف ہے  یہ کہتے  ہیں  اس کا اسباب نہ جلایا جائے  بلکہ اس کے  مثل اسے  تعزیر یعنی سزا دی جائے، امام بخاری فرماتے  ہیں  رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے  خائن کے  جنازے  کی نماز سے  انکار کر دیا اور اس کا اسباب نہیں  جلایا، واللہ اعلم، مسند احمد میں ہے  کہ قرآن شریفوں کے  جب تغیر کا حکم کیا گیا تو حضرت ابن مسعود فرمانے  لگے  تم میں سے  جس سے  ہو سکے  وہ اسے  چھپا کر رکھ لے  کیونکہ جو شخص جس چپز کو چھپا کر رکھ لے  گا اسی کو لے  کر قیامت کے  روز آئے  گا، پھر فرمانے  لگے  میں نے  ستر دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی زبانی پڑھا ہے  پس کیا میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی پڑھائی ہوئی قرأت کو چھوڑ دوں ؟ امام وکیع بھی اپنی تفسیر میں اسے  لائے  ہیں، ابو داؤد میں ہے  کہ آنحضور صلی اللہ علیہ و سلم کی عادت مبارکہ تھی کہ جب مال غنیمت آتا تو آپ حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو حکم دیتے  ایک مرتبہ ایک شخص اس کے  بعد بالوں کا ایک گچھا لے  کر آیا اور کہنے  لگا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم میرے  پاس یہ رہ گیا تھا آپ نے  فرمایا کیا تو نے  حضرت بلال کی منادی سنی تھی؟ جو تین مرتبہ ہوئی تھی اس نے  کہا ہاں فرمایا پھر تو اس وقت کیوں نہ لایا؟ اس نے  عذر بیان کیا آپ نے  فرمایا اب میں ہرگز نہ لوں گا تو ہی اسے  لے  کر قیامت کے  دن آنا۔ اللہ دو عالم پھر فرماتا ہے  کہ اللہ کی شرع پر چل کر اللہ تعالیٰ کی رضامندی کے  مستحق ہونے  والے  اس کے  ثوابوں کو حاصل کرنے  والے  اس کے  عذابوں سے  بچنے  والے  اور وہ لوگ جو اللہ کے  غضب کے  مستحق ہوئے  اور جو مر کر جہنم میں ٹھکانا پائیں گے  کیا یہ دونوں برابر ہو سکتے  ہیں ؟ قرآن کریم میں دوسری جگہ ہے  کہ اللہ کی باتوں کو حق ماننے  والا اور اس سے  اندھا رہنے  والا برابر نہیں، اسی طرح فرمان ہے  کہ جن سے  اللہ کا اچھا وعدہ ہو چکا ہے  اور جو اسے  پانے  والا ہے  وہ اور دنیا کا نفع حاصل کرنے  والا برابر نہیں ۔ پھر فرماتا ہے  کہ بھلائی اور برائی والے  مختلف درجوں پر ہیں، وہ جنت کے  درجوں میں ہیں  اور یہ جہنم کے  طبقوں میں جیسا کہ دوسری جگہ ہے  آیت (ولکل درجات مما عملوا) ہر ایک کے  لئے  ان کے  اعمال کے  مطابق درجات ہیں ۔ پھر فرمایا اللہ ان کے  اعمال دیکھ رہا ہے  اور عنقریب ان سب کو پورا بدلہ دے  گا نہ نیکی ماری جائے  گی اور نہ بدی بڑھائی جائے  گی بلکہ عمل کے  مطابق ہی جزا سزا ہو گی۔ پھر فرماتا ہے  کہ مومنوں پر اللہ کا بڑا احسان ہے  کہ انہی کی جنس سے  ان میں اپنا پیغمبر بھیجا تاکہ یہ اس سے  بات چیت کر سکیں پوچھ گچھ کر سکیں ساتھ بیٹھ اٹھ سکیں اور پوری طرح نفع حاصل کر سکیں، جیسے  اور جگہ ہے  آیت (ومن ایاۃ ان خلق لکم من انفسکم ازواجا) الخ، یہاں بھی یہی مطلب ہے  کہ تمہاری جنس سے  تمہارے  جوڑے  اس نے  پیدا کئے  اور جگہ ہے  آیت (قل انما انا بشر مثلکم) الخ، کہہ دے  کہ میں تو تم جیسا ہی انسان ہوں میری طرف وحی کی جاتی ہے  کہ تم سب کا معبود ایک ہی ہے، اور فرمان ہے  آیت (وما ارسلنا من قبلک من المرسلین الا انھم لیاکلون الطعام ویمشون فی الاسواق) یعنی تجھ سے  پہلے  بھی ہم نے  مردوں کو وحی کی تھی جو بستیوں کے  رہنے  والے  تھے  اور ارشاد ہے  آیت (یا معشر الجن والانس الم یاتکم رسل منکم) یعنی اے  جنو اور انسانو کیا تمہارے  پاس تم میں سے  ہی رسول نہیں  آئے  تھے ؟ الغرض یہ پورا احسان ہے  کہ مخلوق کی طرف انہی میں سے  رسول بھیجے  گئے  تاکہ وہ پاس بیٹھ اٹھ کر بار بار سوال جواب کر کے  پوری طرح دین سیکھ لیں، پس اللہ عزوجل فرماتا ہے  کہ وہ اللہ کی آیتیں یعنی قرآن کریم انہیں  پڑھاتا ہے  اور اچھی باتوں کا حکم دے  کر اور برائیوں سے  روک کر ان کی جانوں کی پاکیزگی کرتا ہے  اور شرک و جاہلیت کی نا پاکی کے  اثرات سے  زائل کرتا ہے  اور انہیں  کتاب اور سنت سکھاتا ہے ۔ اس رسول صلی اللہ علیہ و سلم کے  آنے  سے  پہلے  تو یہ صاف بھٹکے  ہوئے  تھے  ظاہر برائی اور پوری جہالت میں تھے ۔

۶۵۱

غزوات سچے  مسلمان اور منافق کو بے  نقاب کرنے  کا ذریعہ بھی تھے

 یہاں جس مصیبت کا بیان ہو رہا ہے  یہ احد کی مصیبت ہے  جس میں ستر صحابہ شہید ہوئے  تھے  تو مسلمان کہنے  لگے  کہ یہ مصیبت کیسے  آ گئی؟ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے  یہ تمہاری اپنی طرف سے  ہے، حضرت عمر بن خطاب کا بیان ہے  کہ بدر کے  دن مسلمانوں نے  فدیہ لے  کر جن کفار کو چھوڑ دیا تھا اس کی سزا میں اگلے  سال ان میں سے  ستر مسلمان شہید کئے  گئے  اور صحابہ میں افراتفری پڑ گئی، حضور رسالت مآب صلی اللہ علیہ و سلم کے  سامنے  کے  چار دانت ٹوٹ گئے  آپ کے  سر مبارک پر خود تھا وہ بھی ٹوٹا اور چہرہ مبارک لہولہان ہو گیا، اس کا بیان اس آیت مبارکہ میں ہو رہا ہے ۔ (ابن ابی حاتم، مسند احمد بن حنبل) حضرت علی سے  مروی ہے  کہ جبرائیل رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے  پاس آئے  اور فرمایا اے  محمد صلی اللہ علیہ و سلم آپ کی قوم کا کفار کو قیدی بنا کر پکڑ لینا اللہ تعالیٰ کو پسند نہ آیا اب انہیں  دو باتوں میں سے  ایک کے  اختیار کر لینے  کا حکم دیجئے  یا تو یہ کہ ان قیدیوں کو مار ڈالیں یا یہ کہ ان سے  فدیہ وصول کر کے  چھوڑ دیں مگر پھر ان مسلمانوں سے  اتنی ہی تعداد شہید ہو گی حضور علیہ السلام نے  لوگوں کو جمع کر کے  دونوں باتیں پیش کیں تو انہوں نے  کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم یہ لوگ ہمارے  قبائل کے  ہیں  ہمارے  رشتے  دار بھائی ہیں  ہم کیوں نہ ان سے  فدیہ لے  کر انہیں  چھوڑ دیں اور اس مال سے  ہم طاقت قوت حاصل کر کے  اپنے  دوسرے  دشمنوں سے  جنگ کریں گے  اور پھر جو ہم میں سے  اتنے  ہی آدمی شہید ہوں گے  تو اس میں ہماری کیا برائی ہے، چنانچہ جرمانہ وصول کر کے  ستر قیدیوں کو چھوڑ دیا اور ٹھیک ستر ہی کی تعداد مسلمانوں کی اس کے  بعد غزوہ احد میں شہید ہوئی (ترمذی نسائی) پس ایک مطلب تو یہ ہوا کہ خود تمہاری طرف سے  یہ سب ہوا یعنی تم نے  بدر کے  قیدیوں کو زندہ چھوڑنا اور ان سے  جرمانہ جنگ وصول کرنا اس شرط پر منظور کیا تھا کہ تمہارے  بھی اتنے  ہی آدمی شہید ہوں وہ شہید ہوئے، دوسرا مطلب یہ ہے  کہ تم نے  رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی نافرمانی کی تھی اس باعث تمہیں  یہ نقصان پہنچا تیر اندازوں کو رسول کرم علیہ الصلوٰۃ والتسلیم نے  حکم دیا تھا کہ وہ اپنی جگہ سے  نہ ہٹیں لیکن وہ ہٹ گئے، اللہ تعالیٰ ہر چیز قادر ہے  جو چاہے  کرے  جو ارادہ ہو حکم دے  کوئی نہیں  جو اس کا حکم ٹال سکے ۔ دونوں جماعتوں کی مڈ بھیڑ کے  دن جو نقصان تمہیں  پہنچا کہ تم دشمنوں کے  مقابلے  سے  بھاگ کھڑے  ہوئے  تم میں سے  بعض لوگ شہید بھی ہوئے  اور زخمی بھی ہوئے  یہ سب اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر سے  تھا اس کی حکمت اس کی مقتضی تھی، اس کا ایک سبب یہ بھی تھا کہ ثابت قدم غیر متزلزل ایمان والے  صابر بندے  بھی معلوم ہو جائیں اور منافقین کا حال بھی کھل جائے  جیسے  عبد اللہ بن ابی بن سلول اور اس کے  ساتھی جو راستے  میں ہی لوٹ گئے  ایک مسلمان نے  انہیں  سمجھایا بھی کہ آؤ، اللہ کی راہ میں جہاد کرو یا کم از کم ان حملہ اوروں کو تو ہٹاؤ لیکن انہوں نے  ٹال دیا کہ ہم تو فنون جنگ سے  بے  خبر ہیں  اگر جانتے  ہوتے  تو ضرور تمہارا ساتھ، یہ بھی مدافعت میں تھا کہ وہ مسلمانوں کے  ساتھ تو رہتے  جس سے  مسلمانوں کی گنتی زیادہ معلوم ہوتی، یا دعائیں کرتے  رہتے  یا تیاریاں ہی کرتے، ان کے  جواب کا ایک مطلب یہ بھی بیان کیا گیا ہے  کہ اگر ہمیں معلوم ہوتا کہ تم سچ مچ دشمنوں سے  لڑو گے  تو تو ہم بھی تمہارا ساتھ دیتے  لیکن ہم جانتے  ہیں  کہ لڑائی ہونے  کی ہی نہیں  سیرۃ محمد بن اسحاق میں ہے  کہ ایک ہزار آدمی لے  کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم میدان احد کی جانب بڑھے  آدھے  راستے  میں عبد اللہ ابی بن سلول بگڑ بیٹھا اور کہنے  لگا اوروں کی مان لی اور مدینہ سے  نکل کھڑے  ہوئے  اور میری نہ مانی اللہ کی قسم ہمیں نہیں  معلوم کہ ہم کس فائدے  کو نظر انداز رکھ کر اپنی جانیں دیں ؟ لوگوں کیوں جانیں کھو رہے  ہو جس قدر نفاق اور شک و شبہ والے  لوگ تھے  اس کی آواز پر لگ گئے  اور تہائی لشکر لے  کر یہ پلید واپس لوٹ گیا، حضرت عبد اللہ بن عمرو بن حرام بنو سلمہ کے  بھائی ہر چند انہیں  سمجھاتے  رہے  کہ اے  میری قوم اپنے  نبی کو اپنی قوم کو رسوا نہ کروا انہیں  دشمنوں کے  سامنے  چھوڑ کر پیٹھ نہ پھیرو لیکن انہوں نے  بہانہ بنا دیا کہ ہمیں معلوم ہے  کہ لڑائی ہونے  ہی کی نہیں  جب یہ بیچارے  عاجز آ گئے  تو فرمانے  لگے  جاؤ تمہیں  اللہ غارت کرے  اللہ کے  دشمنو! تمہاری کوئی حاجت نہیں  اللہ اپنے  نبی صلی اللہ علیہ و سلم کا مددگار ہے  چنانچہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم بھی انہیں  چھوڑ کر آگے  بڑھ گئے ۔ جناب باری ارشاد فرماتا ہے  کہ وہ اس دن بہ نسبت ایمان کے  کفر سے  بہت ہی نزدیک تھے، اس سے  معلوم ہوتا ہے  کہ انسان کے  احوال مختلف ہیں  کبھی وہ کفر سے  قریب جاتا ہے  اور کبھی ایمان کے  نزدیک ہو جاتا ہے، پھر فرمایا یہ اپنے  منہ سے  وہ باتیں بناتے  ہیں  جو ان کے  دل میں نہیں، جیسے  ان کا یہی کہنا کہ اگر ہم جنگ جانتے  تو ضرور تمہارا ساتھ دیتے، حالانکہ انہیں  یقیناً معلوم تھا کہ مشرکین دور دراز سے  چڑھائی کر کے  مسلمانوں کو نیست و نابود کر دینے  کی ٹھان کر آئے  ہیں  وہ بڑے  جلے  کٹے  ہوئے  ہیں  کیونکہ ان کے  سردار بدر والے  دن میدان میں رہ گئے  تھے  اور ان کے  اشراف قتل کر دئیے  گئے  تھے  تو اب وہ ان ضعیف مسلمانوں پر ٹوٹ پڑے  ہیں  اور یقیناً جنگ عظیم برپا ہونے  والی ہے، پس جناب باری فرماتا ہے  ان کے  دلوں کی چھپی ہوئی باتوں کا مجھے  بخوبی علم ہے، یہ وہ لوگ ہیں  جو اپنے  بھائیوں کے  بارے  میں کہتے  ہیں  اگر یہ ہمارا مشورہ مانتے  یہیں  بیٹھے  رہتے  اور جنگ میں شرکت نہ کرتے  تو ہرگز نہ مارے  جاتے، اس کے  جواب میں جناب باری جل و علا کا ارشاد ہوتا ہے  کہ اگر یہ ٹھیک ہے  اور تم اپنی اس بات میں سچے  ہو کہ بیٹھ رہنے  اور میدان جنگ میں نہ نکلنے  سے  انسان قتل و موت سے  بچ جاتا ہے  تو چاہئے  کہ تم مرو ہی نہیں  اس لئے  کہ تم تو گھروں میں بیٹھے  ہو لیکن ظاہر ہے  کہ ایک روز تم بھی چل بسو گے  چاہے  تم مضبوط برجوں میں پناہ گزین ہو جاؤ پس ہم تو تمہیں  تب سچا مانیں کہ تم موت کو اپنی جانوں سے  ٹال دو، حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما فرماتے  ہیں  یہ آیت عبد اللہ بن ابی بن سلول اور اس کے  ساتھیوں کے  بارے  میں اتری ہے ۔

۱۶۹

بیئر معونہ کے  شہداء اور جنت میں ان کی تمنا؟

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے  کہ گو شہید فی سبیل اللہ دنیا میں مار ڈالے  جاتے  ہیں  لیکن آخرت میں ان کی روحیں زندہ رہتی ہیں  اور رزق پاتی ہیں، اس آیت کا شان نزول یہ ہے  کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے  چالیس یا ستر صحابیوں کو بیئر معونہ کی طرف بھیجا تھا یہ جماعت جب اس غار تک پہنچی جو اس کنویں کے  اوپر تھی تو انہوں نے  وہاں پڑاؤ کیا اور آپس میں کہنے  لگے  کون ہے ؟ جو اپنی جان خطرہ میں ڈال کر اللہ کے  رسول صلی اللہ علیہ و سلم کا کلمہ ان تک پہنچائے  ایک صحابی اس کے  لئے  تیار ہوئے  اور ان لوگوں کے  گھروں کے  پاس آ کر با آواز بلند فرمایا اے  بیئر معونہ والو سنو میں اللہ کے  رسول صلی اللہ علیہ و سلم کا قاصد ہوں میری گواہی ہے  کہ معبود صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے  اور محمد صلی اللہ علیہ و سلم اس کے  بندے  اور اس کے  رسول ہیں  یہ سنتے  ہی ایک کافر اپنا تیر سنبھالے  ہوئے  اپنے  گھر سے  نکلا اور اس طرح تاک کر لگایا کہ ادھر کی پسلی سے  ادھر کی پسلی میں آرپار نکل گیا، اس صحابی کی زبان سے  بیساختہ نکلا حدیث (فزت ورب الکعبۃ) کعبے  کے  اللہ کی قسم میں اپنی مراد کو پہنچ گیا اب کفار نشانات ٹٹولتے  ہوئے  اس غار پر جا پہنچے  اور عامر بن طفیل نے  جو ان کا سردار تھا ان سب مسلمانوں کو شہید کر دیا حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے  ہیں  کہ ان کے  بارے  میں قرآن اترا کہ ہماری جانب سے  ہماری قوم کو یہ خبر پہنچا دو کہ ہم اپنے  رب سے  ملے  وہ ہم سے  راضی ہو گیا اور ہم اس سے  راضی ہو گئے  ہم ان آیتوں کو برابر پڑھتے  رہے  پھر ایک مدت کے  بعد یہ منسوخ ہو کر اٹھا لی گئیں اور آیت (ولا تحسبن) الخ، اتری (محمد بن جریر) صحیح مسلم شریف میں ہے  حضرت مسروق فرماتے  ہیں  ہم نے  حضرت عبد اللہ سے  اس آیت کا مطلب پوچھا تو حضرت عبد اللہ نے  فرمایا ہم نے  رسول صلی اللہ علیہ و سلم سے  اس آیت کا مطلب دریافت کیا تھا تو آپ نے  فرمایا ان کی روحیں سبز رنگ پرندوں کے  قالب میں ہیں ۔ عرش کی قندیلیں ان کے  لئے  ہیں  ساری جنت میں جہاں کہیں  چاہیں  چریں چگیں اور ان قندیلوں میں آرام کریں ان کی طرف ان کے  رب نے  ایک مرتبہ نظر کی اور دریافت فرمایا کچھ اور چاہتے  ہو؟ کہنے  لگے  اے  اللہ اور کیا مانگیں ساری جنت میں سے  جہاں کہیں  سے  چاہیں  کھائیں پئیں اختیار ہے  پھر کیا طلب کریں اللہ تعالیٰ نے  ان سے  پھر یہی پوچھا تیسری مرتبہ یہی سوال کیا جب انہوں نے  دیکھا کہ بغیر کچھ مانگے  چارہ ہی نہیں  تو کہنے  لگے  اے  رب! ہم چاہتے  ہیں  کہ تو ہماری روحوں کو جسموں کی طرف لوٹا دے  ہم پھر دنیا میں جا کر تیری راہ میں جہاد کریں اور مارے  جائیں اب معلوم ہو گیا کہ انہیں  کسی اور چیز کی حاجت نہیں  تو ان سے  پوچھنا چھوڑ دیا کہ کیا چاہتے  ہو؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم فرماتے  ہیں  جو لوگ مر جائیں اور اللہ کے  ہاں بہتری پائیں وہ ہرگز دنیا میں آنا پسند نہیں  کرتے  مگر شہید کہ وہ تمنا کرتا ہے  کہ دنیا میں دوبارہ لوٹایا جائے  اور دوبارہ راہ اللہ میں شہید ہو کیونکہ شہادت کے  درجات کو وہ دیکھ رہا ہے  (مسند احمد) صحیح مسلم شریف میں بھی یہ حدیث ہے، مسند احمد میں ہے  کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے  حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے  فرمایا اے  جابر تمہیں  معلوم بھی ہے ؟ کہ اللہ تعالیٰ نے  تمہارے  والد کو زندہ کیا اور ان سے  کہا اے  میرے  بندے  مانگ کیا مانگتا ہے ؟ تو کہا اے  اللہ دنیا میں پھر بھیج تا کہ میں دوبارہ تیری راہ میں مارا جاؤں، اللہ تعالیٰ نے  فرمایا یہ تو میں فیصلہ کر چکا ہوں کہ کوئی یہاں دوبارہ لوٹایا نہیں  جائے  گا، ان کا نام حضرت عبد اللہ بن عمرو بن حرام انصاری تھا اللہ تعالیٰ ان سے  رضامند ہو، صحیح بخاری شریف میں ہے  حضرت جابر فرماتے  ہیں  میرے  باپ کی شہادت کے  بعد میں رونے  لگا اور ابا کے  منہ سے  کپڑا ہٹا ہٹا کر بار بار ان کے  چہرے  کو دیکھ رہا تھا۔ صحابہ مجھے  منع کرتے  تھے  لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم خاموش تھے  پھر حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے  فرمایا جابر رو مت جب تک تیرے  والد کو اٹھایا نہیں  گیا فرشتے  اپنے  پروں سے  اس پر سایہ کئے  ہوئے  ہیں، مسند احمد میں ہے  کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے  فرمایا جب تمہارے  بھائی احد والے  دن شہید کئے  گئے  تو اللہ تبارک و تعالیٰ نے  ان کی روحیں سبز پرندوں کے  قالب میں ڈال دیں جو جنتی درختوں کے  پھل کھائیں اور جنتی نہروں کا پانی پئیں اور عرش کے  سائے  تلے  وہاں لٹکتی ہوئی قندیلوں میں آرام و راحت حاصل کریں جب کھانے  پینے  رہنے  سہنے  کی یہ بہترین نعمتیں انہیں  ملیں تو کہنے  لگے  کاش کہ ہمارے  بھائیوں کو جو دنیا میں ہیں  ہماری ان نعمتوں کی خبر مل جاتی تاکہ وہ جہاد سے  منہ نہ پھیریں اور اللہ کی راہ کی لڑائیوں سے  تھک کر نہ بیٹھ رہیں  اللہ تعالیٰ نے  ان سے  فرمایا تم بے  فکر رہو میں یہ خبر ان تک پہنچا دیتا ہوں چنانچہ یہ آیتیں نازل فرمائیں، حضرت ابن عباس سے  یہ بھی مروی ہے  کہ حضرت حمزہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور آپ کے  ساتھیوں کے  بارے  میں آیتیں اتریں (مستدرک حاکم) یہ بھی مفسرین نے  فرمایا ہے  کہ احد کے  شہیدوں کے  بارے  میں یہ آیتیں نازل ہوئیں ۔ ابوبکر بن مردویہ میں حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے  روایت ہے  کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے  مجھے  دیکھا اور فرمانے  لگے  جابر کیا بات ہے  کہ تم مجھے  غمگین نظر آتے  ہو؟ میں نے  کہا یا رسول اللہ میرے  والد شہید ہو گئے  جن پر بار قرض بہت ہے  اور میرے  چھوٹے  چھوٹے  بہن بھائی بہت ہیں  آپ نے  فرمایا سن میں تجھے  بتاؤں جس کسی سے  اللہ نے  کلام کیا پردے  کے  پیچھے  سے  کلام کیا لیکن تیرے  باپ سے  آمنے  سامنے  بات چیت کی فرمایا مجھ سے  مانگ جو مانگے  گا دوں گا تیرے  باپ نے  کہا اللہ عزوجل میں تجھ سے  یہ مانگتا ہوں کہ تو مجھے  دنیا میں دوبارہ بھیجے  اور میں تیری راہ میں دوسری مرتبہ شہید کیا جاؤں، رب عزوجل نے  فرمایا یہ بات تو میں پہلے  ہی مقرر کر چکا ہوں کہ کوئی بھی لوٹ کر دوبارہ دنیا میں نہیں  جائے  گا۔ کہنے  لگے  پھر اے  اللہ میرے  بعد والوں کو ان مراتب کی خبر پہنچا دی جائے  چنانچہ اللہ تعالیٰ نے  آیت (ولا تحسبن) الخ، فرمائی، بیہقی میں اتنا اور زیادہ ہے  کہ حضرت عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے  فرمایا میں تو اے  اللہ تیری عبادت کا حق بھی ادا نہیں  کر سکا، مسند احمد میں ہے  شہید لوگ جنت کے  دروازے  پر نہر کے  کنارے  سے  گنبد سبز میں ہیں، صبح شام انہیں  جنت کی نعمتیں پہنچ جاتی ہیں، دونوں احادیث میں تطبیق یہ ہے  کہ بعض شہداء وہ ہیں  جن کی روحیں پرندوں کے  قالب میں ہیں  اور بعض وہ ہیں  جن کا ٹھکانا یہ گنبد ہے  اور یہ بھی ہو سکتا ہے  کہ وہ جنت میں سے  پھرتے  پھراتے  یہاں جمع ہوتے  ہوں اور پھر یہ کھانے  یہیں  کھلائے  جاتے  ہوں واللہ اعلم، یہاں پر وہ حدیث بھی وارد کرنا بالکل برمحل ہو گا جس میں ہر مومن کے  لئے  یہی بشارت ہے  چنانچہ مسند احمد میں ہے  کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے  فرمایا مومن کی روح ایک پرند میں ہے  جو جنت کے  درختوں کے  پھل کھاتی پھرتی ہے  یہاں تک کہ قیامت والے  دن جبکہ اللہ تعالیٰ سب کو کھڑا کرے  تو اسے  بھی اس کے  جسم کی طرف لوٹا دے  گا، اس حدیث کے  راویوں میں تین جلیل القدر امام ہیں  جو ان چار اماموں میں سے  ہیں  جن کے  مذاہب مانے  جا رہے  ہیں، ایک تو امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ آپ اس حدیث کو روایت کرتے  ہیں، امام محمد بن ادریس شافعی رحمہ اللہ سے  ان کے  استاد ہیں  حضرت امام مالک بن انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ پس امام احمد امام شافعی امام محمد بن ادریس شافعی رحمہ اللہ سے  ان کے  استاد ہیں ۔ حضرت امام مالک بن انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ پس امام احمد امام شافعی امام مالک تینوں زبردست پیشوا اس حدیث کے  راوی ہیں ۔ پس اس حدیث سے  ثابت ہوا کہ ایمانداروں کی روح جنتی پرند کی شکل میں جنت میں رہتی ہے  اور شہیدوں کی روحیں جیسے  کے  پہلے  گزر چکا ہے  سبز رنگ کے  پرندوں کے  قالب میں رہتی ہیں  یہ روحیں مثل ستاروں کے  ہیں  جو عام مومنین کی روحوں کو یہ مرتبہ حاصل نہیں، یہ اپنے  طور پر آپ ہی اڑتی ہیں، اللہ تعالیٰ سے  جو بہت بڑا مہربان اور زبردست احسانوں والا ہے  ہماری دعا ہے  کہ وہ ہمیں اپنے  فضل و کرم سے  ایمان و اسلام پر موت دے  آمین۔ پھر فرمایا کہ یہ شہید جن جن نعمتوں اور آسائشوں میں ہیں  ان سے  بے  حد مسرور اور بہت ہی خوش ہیں  اور انہیں  یہ بھی خوشی اور راحت ہے  کہ ان کے  بھائی بند جو ان کے  بعد راہ اللہ میں شہید ہوں گے  اور ان کے  پاس آئیں گے  انہیں  آئندہ کا کچھ خوف نہ ہو گا اور اپنے  پیچھے  چھوڑی ہوئی چیزوں پر انہیں  حسرت بھی نہ ہو گی، اللہ ہمیں بھی جنت نصیب کرے، حضرت محمد بن اسحاق فرماتے  ہیں  مطلب یہ ہے  کہ وہ خوش ہیں  کہ ان کے  کئی اور بھائی بند بھی جو جہاد میں لگے  ہوئے  ہیں  وہ بھی شہید ہو کر ان کی نعمتوں میں ان کے  شریک حال ہوں گے  اور اللہ کے  ثواب سے  فائدہ اٹھائیں گے، حضرت سدی فرماتے  ہیں  شہید کو ایک کتاب دی جاتی ہے  کہ فلاں دن تیرے  پاس فلاں آئے  گا اور فلاں دن فلاں آئے  گا پس جس طرح دنیا والے  اپنی کسی غیر حاضر کے  آنے  کی خبر سن کر خوش ہوتے  ہیں  اسی طرح یہ شہداء ان شہیدوں کی آنے  کی خبر سے  مسرور ہوتے  ہیں، حضرت سعید بن جبیر فرماتے  ہیں  مطلب یہ ہے  کہ جب شہید جنت میں گئے  اور وہاں اپنی منزلیں اور رحمتیں دیکھیں تو کہنے  لگے  کاش کہ اس کا علم ہمارے  ان بھائیوں کو بھی ہوتا جو اب تک دنیا میں ہی ہیں  تاکہ وہ جواں مردی سے  جان توڑ کر جہاد کرتے  اور ان جگہوں میں جا گھستے  جہاں سے  زندہ آنے  کی امید نہ ہوتی تو وہ بھی ہماری ان نعمتوں میں حصہ دار بنتے  پس نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے  لوگوں کو ان کے  اس حال کی خبر پہنچا دی اور اللہ تعالیٰ نے  ان سے  کہ دیا کہ میں نے  تمہاری خبر تمہارے  نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو دے  دی ہے  اس سے  وہ بہت ہی مسرور و محفوظ ہوئے، بخاری مسلم میں بیر معونہ والوں کا قصہ بیان ہو چکا ہے  جو ستر شخص انصاری صحابی تھے  اور ایک ہی دن صبح کے  وقت کو بے  دردی سے  کفار نے  تہ تیغ کیا تھا جن قاتلوں کے  حق میں ایک ماہ نماز کی قنوت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے  بد دعا کی تھی اور جن پر لعنت بھیجی تھی جن کے  بارے  میں قرآن کی یہ آیت اتری تھی کہ ہماری قوم کو ہماری خبر پہنچاؤ کہ ہم اپنے  رب سے  ملے  وہ ہم سے  راضی ہوا اور ہم اس سے  راضی ہو گئے، وہ اللہ کی نعمت و فضل کو دیکھ دیکھ کر مسرور ہیں، حضرت عبدالرحمن فرماتے  ہیں  یہ آیت (یستبشرون) تمام ایمانداروں کے  حق میں ہے  خواہ شہید ہوں خواہ غیر۔ بہت کم ایسے  موقع ہیں  کہ اللہ تعالیٰ اپنے  نبیوں کی فضیلت اور ان کے  ثوابوں کا ذکر نہ ہو۔ پھر ان سچے  مومنین کا بیان تعریف کے  ساتھ ہو رہا ہے ۔ جنہوں نے  حمراء اسد والے  دن حکم رسول پر باوجود زخموں سے  چور ہونے  کے  جہاد پر کمر کس لی تھی، مشرکین نے  مسلمانوں کو مصیبتیں پہنچائیں اور اپنے  گھروں کی طرف واپس چل دئیے ۔ لیکن پھر انہیں  اس کا خیال آیا کہ موقع اچھا تھا مسلمان ہار چکے  تھے  زخمی ہو گئے  تھے  ان کے  بہادر شہید ہو چکے  تھے  اگر ہم اور جم کر لڑتے  تو فیصلہ ہی ہو جاتا نبی صلی اللہ علیہ و سلم ان کا یہ ارادہ معلوم کر کے  مسلمانوں کو تیار کرنے  لگے  کہ میرے  ساتھ چلو ہم ان مشرکین کے  پیچھے  جائیں تاکہ ان پر رعب طاری ہو اور یہ جان لیں کہ مسلمان ابھی کمزور نہیں  ہوئے  احد میں جو لوگ موجود تھے  صرف انہی کو ساتھ چلنے  کا حکم ملا ہاں صرف حضرت جابر بن عبد اللہ کو ان کے  علاوہ بھی ساتھ لیا اس آواز پر بھی مسلمانوں نے  لبیک کہی باوجود یہ کہ زخموں میں چور اور خون میں شرابور تھے  لیکن اللہ اور اس کے  رسول صلی اللہ علیہ و سلم کی اطاعت کے  لئے  کمر بستہ ہو گئے، حضرت عکرمہ کا بیان ہے  کہ جب مشرکین احد سے  لوٹے  تو راستے  میں سوچنے  لگے  کہ نہ تو تم نے  محمد (صلی اللہ علیہ و سلم) کو قتل کیا نہ مسلمانوں کی عورتوں کو پکڑا افسوس تم نے  کچھ نہ کیا واپس لوٹو جب یہ خبر حضور صلی اللہ علیہ و سلم کو پہنچی تو آپ نے  مسلمانوں کو تیاری کا حکم دیا یہ تیار ہو گئے  اور مشرکین کے  تعاقب میں چل پڑے  یہاں تک کہ حمراء الاسد تک یا “بیئر ابی عینیہ” تک پہنچ گئے ۔ مشرکین کے  دل رعب و خوف سے  بھر گئے  اور یہ کہہ کر مکہ کی طرف چل دئیے  اگلے  سال دیکھا جائے  گا حضور صلی اللہ علیہ و سلم بھی واپس مدینہ تشریف لائے، یہ بھی بالاستقلال ایک الگ لڑائی گنی جاتی ہے  اسی کا ذکر اس آیت میں ہے  احد کی لڑائی پندرہ شوال بروز ہفتہ ہوئی تھی سولہویں تاریخ بروز اتوار منادی رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے  ندا دی کہ لوگو دشمن کے  تعاقب میں چلو اور وہی لوگ چلیں جو کل میدان میں تھے، اس آواز پر حضرت جابر حاضر ہوئے  اور عرض کرنے  لگے  یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کل کی لڑائی میں مَیں نہ تھا اس لئے  کہ میرے  والد حضرت عبد اللہ نے  مجھ سے  کہا بیٹے  تمہارے  ساتھ یہ چھوٹی چھوٹی بہنیں ہیں  اسے  تو نہ میں پسند کروں اور نہ تو کہ انہیں  یہاں تنہا چھوڑ کر دونوں ہی چل دیں ایک جائے  گا اور ایک یہاں رہے  گا۔ مجھ سے  یہ نہیں  ہو سکتا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے  ہم رکاب تم جاؤ اور میں بیٹھا رہوں اس لئے  میری خواہش ہے  کہ تم اپنی بہنوں کے  پاس رہو اور میں جاتا ہوں اس وجہ سے  میں تو وہاں رہا اور میرے  والد آپ کے  ساتھ آئے  اب میری عین تمنا ہے  کہ آج مجھے  اجازت دیجئے  کہ میں آپ کے  ساتھ چلوں چنانچہ آپ نے  اجازت دی حضور صلی اللہ علیہ و سلم کا سفر اس غرض سے  تھا کہ دشمن دہل جائے  اور پیچھے  آتا ہوا دیکھ کر سمجھ لے  کہ ان میں بہت کچھ قوت ہے  اور ہمارے  مقابلہ سے  یہ عاجز نہیں، قبیلہ بنو عبدالاشہل کے  ایک صحابی کا بیان ہے  کہ غزوہ احد میں ہم دونوں بھائی شامل تھے  اور سخت زخمی ہو کر ہم لوٹے  تھے، جب اللہ کے  رسول صلی اللہ علیہ و سلم کے  منادی نے  دشمن کے  پیچھے  جانے  کی ندا دی تو ہم دونوں بھائیوں نے  آپس میں کہا کہ افسوس نہ ہمارے  پاس سواری ہے  کہ اس پر سوار ہو کر اللہ کے  نبی کے  ساتھ جائیں نہ زخموں کے  مارے  جسم میں اتنی طاقت ہے  کہ پیدل ساتھ ہو لیں افسوس کہ یہ غزوہ ہمارے  ہاتھ سے  نکل جائے  گا ہمارے  بیشمار گہرے  زخم ہمیں آج جانے  سے  روک دیں گے  لیکن پھر ہم نے  ہمت باندھی مجھے  اپنے  بھائی کی نسبت ذرا ہلکے  زخم تھے  جب میرے  بھائی بالکل عاجز آ جاتے  قدم نہ اٹھتا تو میں انہیں  جوں توں کر کے  اٹھا لیتا جب تھک جاتا اتار دیتا یونہی جوں توں کر کے  ہم لشکر گاہ تک پہنچ ہی گئے ۔ (رضی اللہ عنہما) (سیرت ابن اسحاق) صحیح بخاری شریف میں ہے  کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے  حضرت عروہ سے  کہا اے  بھانجے  تیرے  دونوں باپ انہی لوگوں میں سے  ہیں  جن کے  بارے  میں آیت (الذین استجابوا) الخ، آیت اتری ہے  یعنی حضرت زبیر اور حضرت صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہما جبکہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو احد کی جنگ میں نقصان پہنچا اور مشرکین آگے  چلے  تو آپ کو خیال ہوا کہ کہیں  یہ پھر واپس نہ لوٹیں لہٰذا آپ نے  فرمایا کوئی ہے  جو ان کے  پیچھے  جائے  اس پر ستر شخص اس کام کے  لئے  مستعد ہو گئے  جن میں ایک حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ تھے، دوسرے  حضرت زبیر رضی اللہ عنہ تھے، یہ روایت اور بہت سی اسناد سے  بہت سی کتابوں میں ہے، ابن مردویہ میں ہے  کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے  حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے  فرمایا کہ تیرے  دونوں باپ ان لوگوں میں سے  ہیں  لیکن یہ مرفوع بیان کرنا محض خطا ہے  اس لئے  بھی کہ اس کی اسناد میں ثقہ راویوں کا اختلاف ہے  جو حضرت عائشہ کے  باپ دادا میں سے  نہیں  صحیح یہ ہے  کہ یہ بات حضرت عائشہ نے  اپنے  بھانجے  حضرت اسماء بنت ابی بکر کے  لڑکے  عروہ سے  کہی ہے، حضرت ابن عباس کا بیان ہے  کہ اللہ تعالیٰ نے  ابو سفیان کے  دل میں رعب ڈال دیا اور باوجودیکہ کہ وہ احد کی لڑائی میں قدرے  کامیاب ہو گیا تھا لیکن تاہم مکہ کی طرف چل دیا نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے  فرمایا کہ ابو سفیان تمہیں  نقصان پہنچا کر لوٹ گیا ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے  اس کے  دل کو مرعوب کر دیا ہے، احد کی لڑائی شوال میں ہوئی تھی اور تاجر لوگ ذی قعدہ میں مدینہ آتے  تھے  اور بدر صغریٰ میں اپنے  ڈیرے  ہر سال اس ماہ میں ڈالا کرتے  تھے  اس دفعہ بھی اس واقعہ کے  بعد لوگ آئے  مسلمان اپنے  زخموں میں چور تھے ۔ حضور صلی اللہ علیہ و سلم سے  اپنی تکالیف بیان کرتے  تھے  اور سخت صدمہ میں تھے ۔ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے  لوگوں کو اس بات پر آمادہ کیا کہ وہ آپ کے  ساتھ چلیں اور فرمایا کہ یہ لوگ اب کوچ کر جائیں گے  اور پھر حج کو آئیں گے  اور پھر اگلے  سال تک یہ طاقت انہیں  حاصل نہیں  ہو گی لیکن شیطان نے  اپنے  دوستوں کو دھمکانا اور بہکانا شروع کر دیا اور کہنے  لگا کہ ان لوگوں نے  تمہارے  استیصال کے  لئے  لشکر تیار کر لئے  ہیں  جس بنا پر لوگ ڈھیلے  پڑ گئے  آپ نے  فرمایا سنو خواہ تم میں سے  ایک بھی نہ چلے  میں تن تنہا جاؤں گا پھر آپ کے  رغبت دلانے  پر حضرت ابوبکر، حضرت عمر، حضرت عثمان، حضرت علی، حضرت زبیر، حضرت سعد، حضرت طلحہ، حضرت عبدالرحمن بن عوف، حضرت عبد اللہ بن مسعود، حضرت حذیفہ بن یمان، حضرت ابوعبیدہ بن جراح وغیرہ ستر صحابہ آپ کے  زیر رکاب چلنے  پر آمادہ ہوئے ۔ رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین، یہ مبارک لشکر ابو سفیان کی جستجو میں بدر صغریٰ تک پہنچ گیا انہی کی اس فضیلت اور جاں بازی کا ذکر اس مبارک آیت میں ہے، حضور صلی اللہ علیہ و سلم اس سفر میں مدینہ سے  آٹھ میل حمراء اسد تک پہنچ گئے ۔ مدینہ میں اپنا نائب آپ نے  حضرت ابن ام مکتوم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بنایا تھا۔ وہاں آپ نے  پیر منگل بدھ تک قیام کیا پھر مدینہ لوٹ آئے، اثناء قیام میں قبیلہ خزاعہ کا سردار معبد خزاعی یہاں سے  نکلا تھا یہ خود مشرک تھا لیکن اس پورے  قبیلے  سے  حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی صلح و صفائی تھی اس قبیلہ کے  مشرک مومن سب آپ کے  خیر خواہ تھے  اس نے  کہا کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم کے  ساتھیوں کو جو تکلیف پہنچی اس پر ہمیں سخت رنج ہے  اللہ تعالیٰ آپ کو کامیابی کی خوشی نصیب فرمائے، حمراء اسد پر آپ پہنچے  مگر اس سے  پہلے  ابو سفیان چل دیا تھا گو اس نے  اور اس کے  ساتھیوں نے  واپس آنے  کا ارادہ کیا تھا کہ جب ہم ان پر غالب آ گئے  انہیں  قتل کیا مارا پیٹا زخمی کیا پھر ادھورا کام کیوں چھوڑیں واپس جا کر سب کو تہ تیغ کر دیں، یہ مشورے  ہو ہی رہے  تھے  کہ معبد خزاعی وہاں پہنچا ابو سفیان نے  اس سے  پوچھا کہو کیا خبریں ہیں  اس نے  کہا آنحضور مع صحابہ کے  تم لوگوں کے  تعاقب میں آ رہے  ہیں  وہ لوگ سخت غصے  میں ہیں  جو پہلے  لڑائی میں شریک نہ تھے  وہ بھی شامل ہو گئے  ہیں  سب کے  تیور بدلے  ہوئے  ہیں  اور بھرپور طاقت کے  ساتھ حملہ آور ہو رہے  ہیں  میں نے  تو ایسا لشکر کبھی دیکھا نہیں، یہ سن کر ابو سفیان کے  ہاتھوں کے  طوطے  اڑ گئے  اور کہنے  لگا اچھا ہی ہوا جو تم سے  ملاقات ہو گئی ورنہ ہم تو خود ان کی طرف جانے  کے  لئے  تیار تھے، معبد نے  کہا ہرگز یہ ارادہ نہ کرو اور میری بات کا کیا ہے  غالباً تم یہاں سے  کوچ کرنے  سے  پہلے  ہی لشکر اسلام کے  گھوڑوں کو دیکھ لو گے  میں ان کے  لشکر ان کے  غصے  ان کی تیاری اور اوالوالعزمی کا حال بیان نہیں  کر سکتا میں تو تم سے  صاف کہتا ہوں کہ بھاگو اور اپنی جانیں بچاؤ میرے  پاس ایسے  الفاظ نہیں  جن سے  میں مسلمانوں کے  غیظ و غضب اور تہورو شجاعت اور سختی اور پختگی کا بیان کر سکوں، پس مختصر یہ ہے  کہ جان کی خیر مناتے  ہو تو فوراً یہاں سے  کوچ کرو، ابو سفیان اور اس کے  ساتھیوں کے  چھکے  چھوٹ گئے  اور انہوں نے  یہاں سے  مکہ کی راہ لی، قبیلہ عبدالقیس کے  آدمی جو کاروبار کی غرض سے  مدینہ جا رہے  تھے  ان سے  ابو سفیان نے  کہا کہ تم حضور صلی اللہ علیہ و سلم کو یہ خبر پہنچا دینا کہ ہم نے  انہیں  تہ تیغ کر دینے  کے  لئے  لشکر جمع کر لئے  ہیں  اور ہم واپس لوٹنے  کا ارادہ میں ہیں، اگر تم نے  یہ پیغام پہنچا دیا تو ہم تمہیں  سوق عکاظ میں بہت ساری کشمش دیں گے  چنانچہ ان لوگوں نے  حمراء اسد میں آ کر بطور ڈراوے  کے  نمک مرچ لگا کر یہ وحشت اثر خبر سنائی لیکن صحابہ نے  نہایت استقلال اور پامردی سے  جواب دیا کہ ہمیں اللہ کافی ہے  اور وہی بہترین کارساز ہے، جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے  فرمایا میں نے  ان کے  لئے  ایک پتھر کا نشان مقرر کر رکھا ہے  اگر یہ لوٹیں گے  تو وہاں پہنچ کر اس طرح مٹ جائیں گے  جیسے  گزشتہ کل کا دن، بعض لوگوں نے  یہ بھی کہا ہے  کہ یہ آیت بدر کے  بارے  میں نازل ہوئی ہے  لیکن صحیح تر یہی ہے  کہ حمراء اسد کے  بارے  میں نازل ہوئی۔ مطلب یہ ہے  کہ اللہ تعالیٰ کے  دشمنوں نے  انہیں  پژمردہ دل کرنے  کے  لئے  دشمنوں کے  سازو سامان اور ان کی کثرت و بہتات سے  ڈرایا لیکن وہ صبر کے  پہاڑ ثابت ہوئے  ان کے  غیر متزلزل یقین میں کچھ فرق نہ آیا بلکہ وہ توکل میں اور بڑھ گئی اور اللہ کی طرف نظریں کر کے  اس سے  امداد طلب کی، صحیح بخاری شریف میں حضرت عبد اللہ بن عباس سے  مروی ہے  کہ آیت (حسبنا اللہ) الخ، حضرت ابراہیم نے  آگ میں پڑتے  وقت پڑھا تھا اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ و سلم نے  اس وقت جب کہ کافروں کے  ٹڈی دل لشکر سے  لوگوں نے  آپ کو خوف زدہ کرنا چاہا اس وقت پڑھا، تعجب کی بات ہے  کہ امام حاکم نے  اس روایت کو رد کر کے  فرمایا ہے  کہ یہ بخاری مسلم میں نہیں ۔ بخاری کی ایک روایت میں ہے  کہ احد کے  موقع پر جب حضور صلی اللہ علیہ و سلم کو کفار کے  لشکروں کی خبر دی گئی تو آپ نے  یہی کلمہ فرمایا اور روایت میں ہے  کہ حضرت علی کی سردار کے  ماتحت جب حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے  ایک چھوٹا سا لشکر روانہ کیا اور راہ میں خزاعہ کے  ایک اعرابی نے  یہ خبر سنائی تو آپ نے  یہ فرمایا تھا۔ ابن مردویہ کی حدیث میں ہے  آپ فرماتے  ہیں  جب تم پر کوئی بہت بڑا کام آ پڑے  تو تم آیت (حسبنا اللہ) آخر تک پڑھو مسند احمد میں ہے  کہ دو شخصوں کے  درمیان حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے  فیصلہ کیا تو جس کے  خلاف فیصلہ صادر ہوا تھا اس نے  یہی کلمہ پڑھا آپ نے  اسے  واپس بلا کر فرمایا بزدلی اور سستی پر اللہ کی ملامت ہوتی ہے  دانائی دور اندیشی اور عقلمندی کیا کرو پھر کسی امر میں پھنس جاؤ تو یہی پڑھ لیا کرو، مسند کی اور حدیث میں ہے  کس طرح بے  فکر اور فارغ ہو کر آرام پاؤں حالانکہ صاحب صور نے  صور منہ میں لے  رکھا ہے  اور پیشانی جھکائے  حکم اللہ کا منتظر ہے  کہ کب حکم ہوا اور وہ صور پھونک دے، صحابہ نے  کہا حضور صلی اللہ علیہ و سلم ہم کیا پڑھیں آپ نے  فرمایا آیت (حسبنا اللہ ونعم الوکیل) (علی اللہ توکلنا) پڑھو ام المومنین حضرت زینب اور ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے  مروی ہے  کہ حضرت زینب نے  فخر سے  فرمایا میرا نکاح خود اللہ نے  کر دیا ہے  اور تمہارے  نکاح ولی وارثوں نے  کئے  ہیں، صدیقہ نے  فرمایا میری برأت اور پاکیزگی کی آیت اللہ تعالیٰ نے  آسمان سے  اپنے  پاک کلام میں نازل فرمائی ہیں  حضرت زینب اسے  مان گئیں اور پوچھا یہ بتاؤ تم نے  حضرت صفوان بن معطل کی سواری پر سوار ہوتے  وقت کیا پڑھا تھا، صدیقہ نے  فرمایا دعا (حسبی اللہ ونعم الوکیل) یہ سن کر ام المومنین حضرت زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے  فرمایا تم نے  ایمان والوں کا کلمہ کہا تھا، چنانچہ اس آیت میں بھی رب رحیم کا ارشاد ہے  کہ ان توکل کرنے  والوں کی کفایت اللہ تعالیٰ نے  کی اور ان کے  ساتھ جو لوگ برائی کا ارادہ رکھتے  تھے  انہیں  ذلت اور بربادی کے  ساتھ پسپا کیا، یہ لوگ اللہ تعالیٰ کے  فضل و کرم سے  اپنے  شہروں کی طرف بغیر کسی نقصان اور برائی کے  لوٹے  دشمن اپنی مکاریوں میں ناکام رہا، ان سے  اللہ خوش ہو گیا کیونکہ انہوں نے  اس کی خوشی کا کام انجام دیا تھا اللہ تعالیٰ بڑے  فضل و کرم والا ہے ۔ ابن عباس کا فرمان ہے  کہ نعمت تو یہ تھی کہ وہ سلامت رہے  اور فضل یہ تھا کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے  تاجروں کے  ایک قافلہ سے  مال خرید لیا جس میں بہت ہی نفع ہوا اور اس کل نفع کو آپ نے  اپنے  ساتھیوں میں تقسیم فرما دیا۔ حضرت مجاہد فرماتے  ہیں  کہ ابو سفیان نے  حضور صلی اللہ علیہ و سلم سے  کہا اب وعدے  کی جگہ بدر ہے  آپ نے  فرمایا ممکن ہے  چنانچہ وہاں پہنچے  تو یہ ڈرپوک آیا ہی نہیں  وہاں بازار کا دن تھا مال خرید لیا جو نفع سے  بکا اسی کا نام غزوہ بدر صغریٰ ہے ۔ پھر فرماتا ہے  کہ یہ شیطان تھا جو اپنے  دوستوں کے  ذریعہ تمہیں  دھمکا رہا تھا اور گیدڑ بھبکیاں دے  رہا تمہیں  چاہئے  کہ ان سے  نہ ڈرو صرف میرا ہی خوف دل میں رکھو کیونکہ ایمان داری کی یہی شرط ہے  کہ جب کوئی ڈرائے  دھمکائے  اور دینی امور سے  تمہیں  باز رکھنا چاہئے  تو مسلمان اللہ پر بھروسہ کرے  اس کی طرف سمٹ جائے  اور یقین مانے  کہ کافی اور ناصر وہی ہے  جیسے  اور جگہ ہے  آیت (الیس اللہ بکاف عبدہ) الخ، کیا اللہ جل شانہ اپنے  بندوں کو کافی نہیں  یہ لوگ تجھے  اس کے  سوا اوروں سے  ڈرا رہے  ہیں  (یہاں تک کہ فرمایا) تو کہہ کہ مجھے  اللہ کافی ہے  توکل کرنے  والوں کو اسی پر بھروسہ کرنا چاہئے  اور جگہ فرمایا اولیاء شیطان سے  لڑو۔ شیطان کا مکر بڑا بودا ہے ۔ اور جگہ ارشاد ہے  یہ شیطانی لشکر ہے  یاد رکھو شیطانی لشکر ہی گھاٹے  اور خسارے  میں ہے  اور جگہ ارشاد ہے  آیت (کتب اللہ لا غلبن انا ورسلی) الخ، اللہ تعالیٰ لکھ چکا ہے  کہ غلبہ یقیناً مجھے  اور میرے  رسولوں کو ہی ہو گا اللہ قوی اور عزیز ہے ۔ اور جگہ ارشاد ہے  آیت (ولینصرن اللہ من ینصرہ) الخ جو اللہ کی مدد کرے  گا اس کی امداد فرمائے  گا اور فرمان ہے  آیت (یا ایھا الذین امنوا ان تنصروا اللہ ینصرکم) الخ، اے  ایمان والو اگر تم اللہ کی مدد کرو گے  تو اللہ تمہاری بھی مدد کرے  گا اور آیت میں ہے  آیت (انا لننصر رسلنا) الخ، بالیقین ہم اپنے  رسولوں کی اور ایمان داروں کی مدد دینا میں بھی کریں گے  اور اس دن بھی جس دن گواہ کھڑے  ہوں گے  جس دن ظالموں کو عذر معذرت نفع نہ دے  گی ان کے  لئے  لعنت ہے  اور ان کے  لئے  برا گھر ہے ۔

۱۷۶

مشفق نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم اور عوام

 چونکہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم لوگوں پر بے  حد مشفق و مہربان تھے  اس لئے  کفار کی بے  راہ روی آپ پر گراں گزرتی تھی وہ جوں جوں کفر کی جانب بڑھتے  رہتے  تھے  حضور صلی اللہ علیہ و سلم کا دل غمزدہ ہوتا تھا اس لئے  جناب باری آپ کو اس سے  روکتا ہے  اور فرماتا ہے  حکمت الٰہیہ اسی کی مقتضی ہے  ان کا کفر آپ کو یا اللہ کو کوئی نقصان نہیں  پہنچائے  گا۔ یہ لوگ اپنا اخروی حصہ برباد کر رہے  ہیں  اور اپنے  لئے  بہت بڑے  عذابوں کو تیار کر رہے  ہیں  ان کی مخالفت سے  اللہ تعالیٰ آپ کو محفوظ رکھے  گا آپ ان پر غم نہ کریں ۔ پھر فرمایا میرے  ہاں کا یہ بھی مقررہ قاعدہ ہے  کہ جو لوگ ایمان کو کفر سے  بدل ڈالیں وہ بھی میرا کچھ نہیں  بگاڑتے  بلکہ اپنا ہی نقصان کر رہے  ہیں  اور اپنے  لئے  المناک عذاب مہیا کر رہے  ہیں ۔ پھر اللہ تعالیٰ کافروں کا اللہ کے  مہلت دینے  پر اترانا بیان فرماتے  ہیں  ارشاد ہے ۔ آیت (ایحسبون انما نمدلھم) الخ، یعنی کیا کفار کا یہ گمان ہے  کہ ان کے  مال و اولاد کی زیادتی ہماری طرف سے  ان کی خیریت کی دلیل ہے ؟ نہیں  بلکہ وہ بے  شعور ہیں  اور فرمایا آیت (فذرنی ومن یکذب) الخ، یعنی مجھے  اور اس بات کے  جھٹلانے  والوں کو چھوڑ دے  ہم انہیں  اس طرح آہستہ آہستہ پکڑیں گے  کہ انہیں  علم بھی نہ ہو۔ اور ارشاد ہے  آیت (ولا تعجبک اموالھم واولادھم) الخ، یعنی ان کے  مال اور اولاد سے  کہیں  تم دھوکے  میں نہ پڑ جانا اللہ انہیں  ان کے  باعث دنیا میں بھی عذاب کرنا چاہتا ہے  اور کفر پر ہی ان کی جان جائے  گی پھر فرماتا ہے  کہ یہ طے  شدہ امر ہے  کہ بعض احکام اور بعض امتحانات سے  اللہ جانچ لے  گا اور ظاہر کر دے  گا کہ اس کا دوست کون ہے ؟ اور اس کا دشمن کون ہے ؟ مومن صابر اور منافق فاجر بالکل الگ الگ ہو جائیں گے  اور صاف نظر آنے  لگیں گے ۔ اس سے  مراد احد کی جنگ کا دن ہے  جس میں ایمانداروں کا صبر و استقامت پختگی اور توکل فرمانبرداری اور اطاعت شعاری اور منافقین کی بے  صبری اور مخالفت تکذیب اور نا موافقت انکار اور خیانت صاف ظاہر ہو گئی، غرض جہاد کا حکم ہجرت کا حکم دونوں گویا ایک آزمائش تھی جس نے  بھلے  برے  میں تمیز کر دی۔ سدی فرماتے  ہیں  کہ لوگوں نے  کہا تھا اگر محمد صلی اللہ علیہ و سلم سچے  ہیں  تو ذرا بتائیں تو کہ ہم میں سے  سچا مومن کون ہے  اور کون نہیں ؟ اس پر آیت (ما کان اللہ) الخ، نازل ہوئی (ابن جریر) ۔ پھر فرمان ہے  اللہ کے  علم غیب کو تم نہیں  جان سکتے  ہاں وہ ایسے  اسباب پیدا کر دیتا ہے  کہ مومن اور منافق میں صاف تمیز ہو جائے  لیکن اللہ تعالیٰ اپنے  رسولوں میں سے  جسے  چاہے  پسندیدہ کر لیتا ہے، جیسے  فرمان ہے  آیت (عالم الغیب فلا یظھر علی غیبہ احداً) اللہ عالم الغیب ہے  پس اپنے  غیب پر کسی کو مطلع نہیں  کرتا مگر جس رسول کو پسند کر لے  اس کے  بھی آگے  پیچھے  نگہبان فرشتوں کو چلاتا رہتا ہے ۔ پھر فرمایا اللہ پر اس کے  پیغمبروں پر ایمان لاؤ یعنی اطاعت کرو شریعت کے  پابند رہو یاد رکھو ایمان اور تقوے  میں تمہارے  لئے  اجر عظیم ہے ۔

 خزانہ اور کوڑھی سانپ

 پھر ارشاد ہے  کہ بخیل شخص اپنے  مال کو اپنے  لئے  بہتر نہ سمجھے  وہ تو اس کے  لئے  سخت خطرناک چیز ہے، دین میں تو معیوب ہے  ہی لیکن بسا اوقات دنیوی طور پر بھی اس کا انجام اور نتیجہ ایسا ہی ہوتا ہے ۔ حکم ہے  کہ بخیل کے  مال کا قیامت کے  دن اسے  طوق ڈالا جائے  گا۔ صحیح بخاری میں ہے  رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم فرماتے  ہیں  جسے  اللہ مال دے  اور وہ اس کی زکوٰۃ ادا نہ کرے  اس کا مال قیمت کے  دن گنجا سانپ بن کر جس کی آنکھوں پر دو نشان ہوں گے  طوق کی طرح اس کے  گلے  میں لپٹ جائے  گا اور اس کی باچھوں کو چیرتا رہے  گا اور کہتا جائے  گا کہ میں تیرا مال ہوں میں تیرا خزانہ ہوں پھر آپ نے  اسی آیت (ولا یحسبن الذین یبخلون) الخ، کی تلاوت فرمائی، مسند احمد کی ایک حدیث میں یہ بھی ہے  کہ یہ بھاگتا پھرے  گا اور وہ سانپ اس کے  پیچھے  دوڑے  گا پھر اسے  پکڑ کر طوق کی طرح لپٹ جائے  گا اور کاٹتا رہے  گا۔ مسند ابو یعلی میں ہے  جو شخص اپنے  پیچھے  خزانہ چھوڑ کر مرے  وہ خزانہ ایک کوڑھی سانپ کی صورت میں جس کی دو آنکھوں پر دو نقطے  ہوں گے  ان کے  پیچھے  دوڑے  گا یہ بھاگے  گا اور کہے  گا تو کون ہے ؟ یہ کہے  گا میں تیرا خزانہ ہوں جسے  تو اپنے  پیچھے  چھوڑ کر مرا تھا یہاں تک کہ وہ اسے  پکڑ لے  گا اور اس کا ہاتھ چبا جائے  گا پھر باقی جسم بھی، طبرانی کی حدیث میں ہے  جو شخص اپنے  آقا کے  پاس جا کر اس سے  اپنی حاجت طلب کرے  اور وہ باوجود گنجائش ہونے  کے  نہ دے  اس کے  لئے  قیامت کے  دن زہریلا اژدہا پھن سے  پھنکارتا ہوا بلایا جائے  گا، دوسری روایت میں ہے  کہ جو رشتہ دار محتاج اپنے  مالدار رشتہ دار سے  سوال کرے  اور یہ اسے  نہ دے  اس کی سزا یہ ہو گی اور وہ سانپ اس کے  گلے  کا ہار بن جائے  گا (ابن جریر) ابن عباس فرماتے  ہیں  اہل کتاب جو اپنی کتاب کے  احکامات کو دوسروں تک پہنچانے  میں بخل کرتے  تھے  ان کی سزا کا بیان اس آیت میں ہو رہا ہے، لیکن صحیح بات پہلی ہی ہے  گو یہ قول بھی آیت کے  عموم میں داخل ہے  بلکہ یہ بطور اولیٰ داخل ہے  واللہ سبحانہ و تعالیٰ اعلم۔ پھر فرماتا ہے  کہ آسمانوں اور زمین کی میراث کا مالک اللہ ہی ہے  اس نے  جو تمہیں  دے  رکھا ہے  اس میں سے  اس کے  نام خرچ کرو تمام کاموں کا مرجع اسی کی طرف ہے  سخاوت کرو تاکہ اس دن کام آئے  اور خیال رکھو کہ تمہاری نیتوں اور دلی ارادوں اور کل اعمال سے  اللہ تعالیٰ خبردار ہے ۔

۱۸۱

کافروں کا قرض حسنہ پر احمقانہ تبصرہ اور ان کی ہٹ دھرمی پہ مجوزہ سزا

حضرت ابن عباس فرماتے  ہیں  کہ جب یہ آیت اتری کہ کون ہے  جو اللہ کو قرض حسنہ دے  اور وہ اسے  زیادہ در زیادہ کر کے  دے  تو یہود کہنے  لگے  کہ اے  نبی تمہارا رب فقیر ہو گیا ہے  اور اپنے  بندوں سے  قرض مانگ رہا ہے  اس پر یہ آیت (لقد سمع اللہ) الخ، نازل ہوئی۔ ابن ابی حاتم میں ہے  کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ یہودیوں کے  مدرسے  میں گئے  یہاں کا بڑا معلم فخاص تھا اور اس کے  ماتحت ایک بہت بڑا عالم اشیع تھا لوگوں کا مجمع تھا اور وہ ان سے  مذہبی باتیں سن رہے  تھے  آپ نے  فرمایا فخاص اللہ سے  ڈر اور مسلمان ہو جا اللہ کی قسم تجھے  خوب معلوم ہے  کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم اللہ تعالیٰ کے  سچے  رسول ہیں  وہ اس کے  پاس سے  حق لے  کر آئے  ہیں  ان کی صفتیں توراۃ و انجیل میں تمہارے  ہاتھوں میں موجود ہیں  تو فخاص نے  جواب میں کہا ابوبکر سن اللہ کی قسم اللہ ہمارا محتاج ہے  ہم اس کے  محتاج نہیں  اس کی طرف اس طرح نہیں  گڑگڑاتے  جیسے  وہ ہماری جانب عاجزی کرتا ہے  بلکہ ہم تو اس سے  بے  پرواہ ہیں ٠ ہم غنی اور تونگر ہیں  اگر وہ غنی ہوتا تو ہم سے  قرض طلب نہ کرتا جیسے  کہ تمہارا پیغمبر صلی اللہ علیہ و سلم کہہ رہا ہے  ہمیں تو سود سے  روکتا ہے  اور خود سود دیتا ہے  اگر غنی ہوتا تو ہمیں سود کیوں دیتا، اس پر حضرت صدیق اکبر کو سخت غصہ آیا اور فخاص کے  منہ پر زور سے  مارا اور فرمایا اللہ کی قسم جس کے  ہاتھ میں میری جان ہے  اگر تم یہود سے  معاہدہ نہ ہوتا تو میں تجھ اللہ کے  دشمن کا سر کاٹ دیتا جاؤ بد نصیبو جھٹلاتے  ہی رہو اگر سچے  ہو۔ فخاص نے  جا کر اس کی شکایت سرکار محمدی صلی اللہ علیہ و سلم میں کی آپ نے  صدیق اکبر سے  پوچھا کہ اسے  کیوں مارا؟ حضرت صدیق نے  واقعہ بیان کیا لیکن فخاص اپنے  قول سے  مکر گیا کہ میں نے  تو ایسا کہا ہی نہیں ۔ اس بارے  میں یہ آیت اتری۔ پھر اللہ تعالیٰ انہیں  اپنے  عذاب کلی خبر دیتا ہے  کہ ان کا یہ قول اور ساتھ ہی اسی جیسا ان کا بڑا گناہ یعنی قتل انبیاء ہم نے  ان کے  نامہ اعمال میں لکھ لیا ہے ۔ ایک طرف ان کا جناب باری تعالیٰ کی شان میں بے  ادبی کرنا دوسری جانب نبیوں کو مار ڈالنا ان کاموں کی وجہ انہیں  سخت تر سزا ملے  گی۔ ان کو ہم کہیں  گے  کہ جلنے  والے  عذاب کا ذائقہ چکھو، اور ان سے  کہا جائے  گا کہ یہ تمہارے  پہلے  کے  کرتوت کا بدلہ ہے  یہ کہہ کر انہیں  ذلیل و رسوا کن عذاب پر عذاب ہوں گے، یہ سراسر عدل و انصاف ہے  اور ظاہر ہے  کہ مالک اپنے  غلاموں پر ظلم کرنے  والا نہیں  ہے ۔ پھر ان کے  اس خیال میں جھوٹا ثابت کیا جا رہا ہے  جو یہ کہتے  تھے  کہ آسمانی کتابیں جو پہلے  نازل ہوئیں ان میں اللہ تعالیٰ نے  ہمیں یہ حکم دے  رکھا ہے  کہ جب تک کوئی رسول ہمیں یہ معجزہ نہ دکھائے  کہ اس کی امت میں سے  جو شخص قربانی کرے  اس کی قربانی کو کھا جانے  کے  لئے  آسمان سے  قدرتی آگ آئے  اور کھا جائے  ان کی اس قول کے  جواب میں ارشاد ہوتا ہے  کہ پھر اس معجزے  والے  پیغمبروں کو جو اپنے  ساتھ دلائل اور براہین لے  کر آئے  تھے  تم نے  کیوں مار ڈالا؟ انہیں  تو اللہ تعالیٰ نے  یہ معجزہ بھی دے  رکھا تھا کہ ہر ایک قبول شدہ قربانی آسمانی آگ کھا جاتی تھی لیکن تم نے  انہیں  بھی سچا نہ جانا ان کی بھی مخالفت اور دشمنی کی بلکہ انہیں  قتل کر ڈالا، اس سے  صاف ظاہر ہے  کہ تمہیں  تمہاری اپنی بات کا بھی پاس و لحاظ نہیں  لہٰذا تم حق کے  ساتھی نہ ہو نہ کسی نبی کے  ماننے  والے  ہو۔ تم یقیناً جھوٹے  ہو۔ پھر اللہ تعالیٰ اپنے  نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو تسلی دیتا ہے  کہ ان کے  جھٹلانے  سے  آپ تنگ دل اور غمناک نہ ہوں اگلے  اوالوالعزم پیغمبروں کے  واقعات کو اپنے  لئے  باعث تسلی بنائیں کہ وہ بھی باوجود دلیلیں ظاہر کر دینے  کے  اور باوجود اپنی حقانیت کو بخوبی واضح کر دینے  کے  پھر بھی جھٹلائے  گئے  زبر سے  مراد آسمانی کتابیں ہیں  جو ان صحیفوں کی طرح آسمان سے  آئیں جو رسولوں پر اتاری گئی تھیں اور “منیر” سے  مراد واضح جلی اور روشن اور چمکیلی ہے ۔

۱۸۵

موت و حیات اور یوم حساب

 تمام مخلوق کو عام اطلاع ہے  کہ ہر جاندار مرنے  والا ہے  جیسے  فرمایا آیت (کل من علیھا فان ویبقی وجہ ربک ذوالجلال والا کرام) یعنی اس زمین پر جتنے  ہیں  سب فانی ہیں  صرف رب کا چہرہ باقی ہے  جو بزرگی اور انعام والا ہے، پس صرف وہی اللہ وحدہٗ لا شریک ہمیشہ کی زندگی والا ہے  جو کبھی فنا نہ ہو گا، جن انسان کل کے  کل مرنے  والے  ہیں  اسی طرح فرشتے  اور حاملان عرش بھی مر جائیں گے  اور صرف اللہ وحدہٗ لا شریک دوام اور بقاء والا باقی رہ جائے  گا پہلے  بھی وہی تھا اور آخر بھی وہی رہے  گا، جب سب مر جائیں گے  مدت ختم ہو جائے  گی صلب آدم سے  جتنی اولاد ہونے  والی تھی ہو چکی اور پھر سب موت کے  گھاٹ اتر گئے  مخلوقات کا خاتمہ ہو گیا اس وقت اللہ تعالیٰ قیامت قائم کرے  گا اور مخلوق کو ان کے  کل اعمال کے  چوٹے  بڑے  چھپے  کھلے  صغیرہ کبیرہ سب کی جزا سزا ملے  گی کسی پر ذرہ برابر ظلم نہ ہو گا یہی اس کے  بعد کے  جملہ میں فرمایا جا رہا ہے، حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے  ہیں  حضور صلی اللہ علیہ و سلم کے  انتقال کے  بعد ہمیں ایسا محسوس ہوا کہ گویا کوئی آرہا ہے  ہمیں پاؤں کی چاپ سنائی دیتی تھی لیکن کوئی شخص دکھائی نہیں  دیتا تھا اس نے  آ کر کہا اے  اہل بیت تم پر سلام ہو اور اللہ کی رحمت و برکت، ہر جان موت کا مزہ چکھنے  والی ہے  تم سب کو تمہارے  اعمال کا بدلہ پورا پورا قیامت کے  دن دیا جائے  گا۔ ہر مصیبت کی تلافی اللہ کے  پاس ہے، ہر مرنے  والے  کا بدلہ ہے  اور ہر فوت ہونے  والے  کا اپنی گم شدہ چیز کو پا لینا ہے  اللہ ہی پر بھروسہ رکھو اسی سے  بھلی امیدیں رکھو سمجھ لو کہ سچ مچ مصیبت زدہ وہ شخص جو ثواب سے  محروم رہ جائے  تم پر اللہ کی طرف سے  سلامتی نازل ہو اور اس کی رحمتیں اور برکتیں (ابن ابی حاتم) حضرت علی کا خیال ہے  کہ یہ خضر علیہ السلام تھے  حقیقت یہ ہے  کہ پورا کامیاب وہ انسان ہے  جو جہنم سے  نجات پا لے  اور جنت میں چلا جائے، حضور علیہ السلام فرماتے  ہیں  جنت میں ایک کوڑے  جتنی جگہ مل جانا دنیا و ما فیہا سے  بہتر ہے  اگر تم چاہو تو پڑھو آیت (فمن زحزح عن النار وادخل الجنۃ فقد فاز) آخری ٹکڑے  کے  بغیر یہ حدیث بخاری و مسلم وغیرہ میں بھی ہے  اور کچھ زیادہ الفاظ کے  ساتھ ابن ابی حاتم میں ہے  اور ابن مردویہ میں بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کا ارشاد ہے  جس کی خواہش آگ سے  بچ جانے  اور جنت میں داخل ہو جانے کی ہو اسے  چاہئے  کہ مرتے  دم تک اللہ پر اور قیامت پر ایمان رکھے  اور لوگوں سے  وہ سلوک کرے  جسے  خود اپنے  پسند کرتا ہو، یہ حدیث پہلے  آیت (ولا تموتن الا وانتم مسلمون) کی تفسیر میں گزر چکی ہے، مسند احمد میں بھی اور وکیع بن جراح کی تفسیر میں بھی یہی حدیث ہے ۔ اس کے  بعد دنیا کی حقارت اور ذلت بیان ہو رہی ہے  کہ یہ نہایت ذلیل فانی اور زوال پذیر چیز ہے  ارشاد ہے  آیت (بل تؤثرون الحیوۃ الدنیا والاخرۃ خیر وابقی) یعنی تم تو دنیا کی زندگی پر ریجھے  جاتے  ہو حالانکہ دراصل بہتری اور بقاء والی چیز آخرت ہے، دوسری آیت میں ہے  تمہیں  جو کچھ دیا گیا ہے  یہ تو حیات دنیا کا فائدہ ہے  اور اس کی بہترین زینت اور باقی رہنے  والی تو وہ زندگی ہے  جو اللہ کے  پاس ہے، حدیث شریف میں ہے  اللہ کی قسم دنیا آخرت کے  مقابلہ میں صرف ایسی ہی ہے  جیسے  کوئی شخص اپنی انگلی سمندر میں ڈبو لے  اس انگلی کے  پانی کو سمندر کے  پانی کے  مقابلہ میں کیا نسبت ہے  آخرت کے  مقابلہ میں دنیا ایسی ہی ہے، حضرت قتادہ کا ارشاد ہے  دنیا کیا ہے  ایک یونہی دھوکے  کی جگہ ہے  جسے  چھوڑ چھاڑ کر تمہیں  چل دینا ہے  اس اللہ کی قسم جس کے  سوا کوئی لائق عبادت نہیں  کہ یہ تو عنقریب تم سے  جدا ہونے  والی اور برباد ہونے  والی چیز ہے  پس تمہیں  چاہئے  کہ ہوش مندی برتو اور یہاں اللہ کی اطاعت کر لو اور طاقت بھر نیکیاں کما لو اللہ کی دی ہوئی طاقت کے  بغیر کوئی کام نہیں  بنتا۔

آزمائش لازمی ہے  صبر و ضبط بھی ضروری

 پھر انسانی آزمائش کا ذکر ہو رہا ہے  جیسے  ارشاد ہے  آیت (ولنبلونکم بشئی من الخوف والجوع) الخ، مطلب یہ ہے  کہ مومن کا امتحان ضرور ہوتا ہے  کبھی جانی کبھی مالی کبھی اہل و عیال میں کبھی اور کسی طرح یہ آزمائش دینداری کے  انداز کے  مطابق ہوتی ہے، سخت دیندار کی ابتلاء بھی سخت اور کمزور دین والے  کا امتحان بھی کمزور، پھر پروردگار جل شانہ صحابہ کرام کو خبر دیتا ہے  کہ بدر سے  پہلے  مدینہ میں تمہیں  اہل کتاب سے  اور مشرکوں سے  دکھ دینے  والی باتیں اور سرزنش سننی پڑے  گی، پھر تسلی دیتا ہوا طریقہ سکھاتا ہے  کہ تم صبر و ضبط کر لیا کرو اور پرہیز گاری پر تو یہ بڑا بھاری کام ہے، حضرت اسامہ بن زید فرماتے  ہیں  نبی صلی اللہ علیہ و سلم اور آپ کے  اصحاب مشرکین سے  اور اہل کتاب سے  بہت کچھ درگزر فرمایا کرتے  تھے  اور ان کی ایذاؤں کو برداشت کر لیا کرتے  تھے  اور رب کریم کے  اس فرمان پر عامل تھے  یہاں تک کہ جہاد کی آیتیں اتریں، صحیح بخاری شریف میں اس آیت کی تفسیر کے  موقعہ پر ہے  کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم اپنے  گدھے  پر سوار ہو کر حضرت اسامہ کو اپنے  بھتیجے  بٹھا کر حضرت سعد بن عباد کی عیادت کے  لئے  بنو حارث بن خزرج کے  قبیلے  میں تشریف لے  چلے  یہ واقعہ جنگ بدر سے  پہلے  کا ہے  راستہ میں ایک مخلوط مجلس بیٹھی ہوئی ملی جس میں مسلمان بھی تھے  یہودی بھی تھی۔ مشرکین بھی تھے  اور عبد اللہ بن ابی بن سلول بھی تھا یہ بھی اب تک کفر کے  کھلے  رنگ میں تھا مسلمانوں میں حضرت عبد اللہ بن رواحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی تھے، حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی سواری سے  گردوغبار جو اڑا تو عبد اللہ بن ابی سلول نے  ناک پر کپڑا رکھ لیا اور کہنے  لگا غبار نہ اڑاؤ حضور صلی اللہ علیہ و سلم پاس پہنچ ہی چکے  تھے  سواری سے  اتر آئے  سلام کیا اور انہیں  اسلام کی دعوت دی اور قرآن کی چند آیتیں سنائیں تو عبد اللہ بول پڑا سنئے  صاحب آپ کا یہ طریقہ ہمیں پسند نہیں  آپ کی باتیں حق ہی سہی لیکن اس کی کیا وجہ کہ آپ ہماری مجلسوں میں آ کر ہمیں ایذاء دیں اپنے  گھر جائیے  جو آپ کے  پاس آئے  اسے  سنائیے ۔ یہ سن کر حضرت عبد اللہ بن رواحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے  فرمایا حضور صلی اللہ علیہ و سلم بیشک آپ ہماری مجلسوں میں تشریف لایا کریں ہمیں تو اس کی عین چاہت ہے  اب ان کی آپس میں خوب جھڑپ ہوئی ایک دوسرے  کو برا بھلا کہنے  لگا اور قریب تھا کہ کھڑے  ہو کر لڑنے  لگیں لیکن حضور صلی اللہ علیہ و سلم کے  سمجھانے  بجھانے  سے  آخر امن و امان ہو گیا اور سب خاموش ہو گئے ۔ آپ اپنی سواری پر سوار ہو کر حضرت سعد کے  ہاں تشریف لے  گئے  اور وہاں جا کر حضرت سعد سے  فرمایا کہ ابو حباب عبد اللہ بن ابی سلول نے  آج تو اس طرح کیا حضرت سعد نے  کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم آپ جانے  دیجئے  معاف کیجئے  اور درگزر کیجئے  قسم اللہ کی جس نے  آپ پر قرآن اتارا اسے  آپ سے  اس لئے  بے  حد دشمنی ہے  اور ہونی چاہئے  کہ یہاں کے  لوگوں نے  اسے  سردار بنانا چاہا تھا اسے  چودھراہٹ کی پگڑی بندھوانے  کا فیصلہ ہو چکا تھا ادھر اللہ تعالیٰ نے  آپ کو اپنا نبی برحق بنا کر بھیجا لوگوں نے  آپ کو نبی مانا اس کی سرداری جاتی رہی جس کا اسے  رنج ہے  اسی باعث یہ اپنے  جلے  دل کے  پھپولے  پھوڑ رہا ہے  جو کہہ دیا کہہ دیا آپ اسے  اہمیت نہ دیں چنانچہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے  درگزر کر لیا اور یہی آپ کی عادت تھی اور آپ کے  اصحاب کی بھی، یہودیوں سے  مشرکوں سے  درگزر فرماتے  سنی ان سنی کر دیا کرتے  اور اس فرمان پر عمل کرتے، یہی حکم آیت (ودکثیر) میں ہے  جو حکم عفو و درگزر کا اس آیت (ولتسمعن) میں ہے ۔ بعد ازاں آپ کو جہاں کی اجازت دی گئی اور پہلا غزوہ بدر کا ہوا جس میں لشکر کفار کے  سرداران قتل و غارت ہوئے  یہ حالت اور شوکت اسلام دیکھ کر اب عبد اللہ بن ابی بن سلول اور اس کے  ساتھی گھبرائے  بجز اس کے  کوئی چارہ کار انہیں  نظر نہ آیا کہ بیعت کر لیں اور بظاہر مسلمان جائیں ۔ پس یہ کلیہ قاعدہ یاد رکھنا چاہئے  کہ ہر حق والے  پر جو نیکی اور بھلائی کا حکم کرتا رہے  اور جو برائی اور خلاف شرع کام سے  روکتا رہے  اس پر ضرور مصیبتیں اور آفتیں آتی ہیں  اسے  چاہئے  کہ ان تمام تکلیفوں کو جھیلے  اور اللہ کی راہ میں صبر و ضبط سے  کام لے  اسی کی پاک ذات پر بھروسہ رکھے  اسی سے  مدد طلب کرتا رہے  اور اپنی کامل توجہ اور پورا رجوع اسی کی طرف رکھے ۔

۱۸۷

بدترین خرید و فروخت!

 اللہ تعالیٰ یہاں اہل کتاب کو ڈانٹ رہا ہے  کہ پیغمبروں کی وساطت سے  جو عہد ان کا جناب باری سے  ہوا تھا کہ حضور پیغمبر الزمان صلی اللہ علیہ و سلم پر ایمان لائیں گے  اور آپ کے  ذکر کو اور آپ کی بشارت کی پیش گوئی کو لوگوں میں پھیلائیں گے  انہیں  آپ کی تابعداری پر آمادہ کریں گے  اور پھر جس وقت آپ آ جائیں تو دل سے  آپ کے  تابعدار ہو جائیں گے  لیکن انہوں نے  اس عہد کو چھپا لیا اور اللہ تعالیٰ اس کے  ظاہر کرنے  پر جن دنیا اور آخرت کی بھلائیوں کا ان سے  وعدہ کیا تھا ان کے  بدلے  دنیا کی تھوڑی سی پونجی میں الجھ کر رہ گئے  ان کی یہ خریدو فروخت بد سے  بدتر ہے، اس میں علماء کو تنبیہ ہے  کہ وہ ان کی طرح نہ کریں ورنہ ان پر بھی وہی سزا ہو گی جو ان کو ملی اور انہیں  بھی اللہ کی وہ ناراضگی اٹھانی پڑے  گی جو انہوں نے  اٹھائی علماء کرام کو چاہئے  کہ ان کے  پاس جو نفع دینے  والا دینی علم ہو جس سے  لوگ نیک عمل جم کر سکتے  ہوں اسے  پھیلاتے  رہیں  اور کسی بات کو نہ چھپائیں، حدیث شریف میں سے  جس شخص سے  علم کا کوئی مسئلہ پوچھا جائے  اور وہ اسے  چھپائے  تو قیامت کے  دن آگ کی لگام پہنایا جائے  گا۔ دوسری آیت میں ریاکاروں کی مذمت بیان ہو رہی ہے، بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے  جو شخص جھوٹا دعویٰ کر کے  زیادہ مال کمانا چاہے  اسے  اللہ تعالیٰ اور کم کر دے  گا، بخاری و مسلم کی دوسری حدیث میں ہے  جو نہ دیا گیا ہو اس کے  ساتھ آسودگی جتنانے  والا دو چھوٹے  کپڑے  پہننے  والے  کی مثل ہے، مسند احمد میں ہے  کہ ایک مرتبہ مروان نے  اپنے  دربان رافع سے  کہا کہ حضرت عبد اللہ بن عباس کے  پاس جاؤ اور ان سے  کہو کہ اگر اپنے  کام پر خوش ہونے  اور نہ کئے  ہوئے  کام پر تعریف پسند کرنے  کے  باعث اللہ کا عذاب ہو گا تو ہم سے  کوئی اس سے  چھٹکارا نہیں  پا سکتا، حضرت عبد اللہ نے  اس کے  جواب میں فرمایا کہ تمہیں  اس آیت سے  کیا تعلق؟ یہ تو اہل کتاب کے  بارے  میں ہے  پھر آپ نے  (واذ اخذ اللہ) سے  اس آیت کے  ختم تک تلاوت کی اور فرمایا کہ ان سے  نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے  کسی چیز کے  بارے  میں سوال کیا تھا تو انہوں نے  اس کا کچھ اور ہی غلط جواب دیا اور باہر نکل کر گمان کرنے  لگے  کہ ہم نے  آپ کے  سوال کا جواب دے  دیا جس کی وجہ سے  آپ کے  پاس ہماری تعریف ہو گی اور سوال کے  اصلی جواب کے  چھپا لینے  اور اپنے  جھوٹے  فقرہ چل جانے  پر بھی خوش تھے، اسی کا بیان اس آیت میں ہے، یہ حدیث بخاری وغیرہ میں بھی ہے  اور صحیح بخاری شریف میں یہ بھی ہے  کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم میدان جنگ میں تشریف لے  جاتے  تو منافقین اپنے  گھروں میں گھسے  بیٹھے  رہتے  ساتھ نہ جاتے  پھر خوشیاں مناتے  کہ ہم لڑائی سے  بچ گئے  اب جب اللہ کے  نبی صلی اللہ علیہ و سلم واپس لوٹتے  تو یہ باتیں بناتے  جھوٹے  سچے  عذر پیش کرتے  اور قسمیں کھا کھا کر اپنے  معذور ہونے  کا آپ کو یقین دلاتے  اور چاہتے  کہ نہ کئے  ہوئے  کام پر بھی ہماری تعریفیں ہوں جس پر یہ آیت اتری، تفسیر ابن مردویہ میں ہے  کہ مروان نے  حضرت ابو سعید سے  اس آیت کے  بارے  میں اسی طرح سوال کیا تھا جس طرح اوپر گزرا کہ حضرت ابن عباس سے  پچھوایا تو حضرت ابو سعید نے  اس کا مصداق اور اس کا شان نزول ان منافقوں کو قرار دیا جو غزوہ کے  وقت بیٹھ جاتے  اگر مسلمانوں کو نقصان پہنچا تو بغلیں بجاتے  اگر فائدہ ہوا تو اپنا معذور ہونا ظاہر کرتے  اور فتح و نصرت کی خوشی کا اظہار کرتے  اس پر مروان نے  کہا کہاں یہ واقعہ کہاں یہ آیت؟ تو حضرت ابو سعید نے  فرمایا کہ یہ زید بن ثابت بھی اس سے  واقف ہیں  مروان نے  حضرت زید سے  پوچھا آپ نے  بھی اس کی تصدیق کی پھر حضرت ابو سعید نے  اونٹنیاں جو صدقہ کی ہیں  چھین لیں گے  باہر نکل کر حضرت زید نے  کہا میری شہادت پر تم میری تعریف نہیں  کرتے ؟ حضرت ابو سعید نے  فرمایا تم نے  سچی شہادت ادا کر دی تو حضرت زید نے  فرمایا پھر میں بھی سچی شہادت دینے  پر مستحق تعریف تو ہوں مروان اس زمانہ میں مدینہ کا امیر تھا، دوسری روایت میں ہے  کہ مروان کا یہ سوال رافع بن خدیج سے  ہی پہلے  ہوا تھا، اس سے  پہلے  کی روایت میں گزر چکا ہے  کہ مروان نے  اس آیت کی بابت حضرت عبد اللہ بن عباس سے  پچھوایا تھا تو یاد رہے  کہ ان دونوں میں کوئی تضاد اور نفی کا عنصر نہیں  ہم کہہ سکتے  ہیں  کہ آیت عام ہے  اس میں بھی شامل ہے  اور اس میں بھی، مروان والی روایت میں بھی ممکن ہے  پہلے  ان دونوں صاحبوں نے  جواب دیئے  پھر مزید تشفی کے  طور پر حبر الامہ حضرت عبد اللہ بن عباس سے  بھی مروان نے  بذریعہ اپنے  آدمی کے  سوال کیا ہو، واللہ اعلم، حضرت ثابت بن قیس انصاری خدمت نبوی صلی اللہ علیہ و سلم میں حاضر ہو کر عرض کرتے  ہیں  کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم مجھے  تو اپنی ہلاکت کا بڑا اندیشہ ہے  آپ نے  فرمایا کیوں ؟ جواب دیا ایک تو اس وجہ سے  کہ اللہ تعالیٰ نے  اس بات سے  روکا ہے  کہ جو نہ کیا ہو اس پر تعریف کو پسند کریں اور میرا یہ حال ہے  کہ میں تعریف پسند کرتا ہوں، دوسری بات یہ ہے  کہ تکبر سے  اللہ نے  روکا ہے  اور میں جمال کو پسند کرتا ہوں تیسرے  یہ کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی آواز سے  بلند آواز کرنا ممنوع ہے  اور میں بلند آواز ہوں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے  فرمایا کیا تو اس بات سے  خوش نہیں  کہ تیری زندگی بہترین اور باخیر ہو اور تیری موت شہادت کی موت ہو اور تو جنتی بن جائے  خوش ہو کر کہنے  لگے  کیوں نہیں  یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم یہ تو بہت ہی اچھی بات ہے  چنانچہ یہی ہوا کہ آپ کی زندگی انتہائی اچھی گزری اور موت شہادت کی نصیب ہوئی، مسیلمہ کذاب سے  مسلمانوں کی جنگ میں آپ نے  شہادت پائی۔ تحسبنھم کو یحسبنھم پڑھا گیا ہے، پھر فرمان ہے  کہ تو انہیں  عذاب سے  نجات پانے  والے  خیال نہ کر انہیں  عذاب ضرور ہو گا اور وہ بھی درد ناک، پھر ارشاد ہے  کہ ہر چیز کا مالک اور ہر چیز پر قادر اللہ تعالیٰ ہے  اسے  کوئی کام عاجز نہیں  کر سکتا پس تم اس سے  ڈرتے  رہو اور اس کی مخالفت نہ کرو اس کے  غضب سے  بچنے  کی کوشش کرو اس کے  عذابوں سے  اپنا بچاؤ کر لو نہ تو کوئی اس سے  بڑا نہ اس سے  زیادہ قدرت والا۔

۱۹۰

مظاہر کائنات دلیل رب ذوالجلال دعوت غور و فکر

 طبرانی میں ہے  حضرت ابن عباس فرماتے  ہیں  کہ قریش یہودیوں کے  پاس گئے  اور ان سے  پوچھا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام تمہارے  پاس کیا کیا معجزات لے  کر آئے  تھے  انہوں نے  کہا اژدھا بن جانے  والی لکڑی اور چمکیلا ہاتھ، پھر نصرانیوں کے  پاس گئے  ان سے  کہا تمہارے  پاس حضرت عیسیٰ (علیہ اسلام) کیا نشانیاں لائے  تھے  جواب ملا کہ مادر زاد اندھوں کو بینا کر دینا اور کوڑھی کو اچھا کر دینا اور مردوں کو زندہ کر دینا۔ اب یہ قریش آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کے  پاس آئے  اور آپ سے  کہا اللہ تعالیٰ سے  دعا کیجئے  کہ ہمارے  لئے  صفا پہاڑ کو سونے  کا بنا دے  آپ نے  دعا کی جس پر یہ آیت (ان فی خلق السموات والارض) الخ، اتری یعنی نشان قدرت دیکھنے  والوں کیلئے  اسی میں بڑی نشانیاں ہیں  یہ اسی میں غور و فکر کریں گے  تو ان قدرتوں والے  اللہ تعالیٰ کے  سامنے  جھک جائیں گے  لیکن اس روایت میں ایک اشکال ہے  وہ یہ کہ یہ سوال مکہ شریف میں ہوا تھا اور یہ آیت مدینہ شریف میں نازل ہوئی واللہ اعلم۔ آیت کا مطلب یہ ہے  کہ آسمان جیسی بلند اور وسعت مخلوق اور زمین جیسی پست اور سخت اور لمبی چوڑی مخلوق پھر آسمان میں بڑی بڑی نشانیاں مثلاً چلنے  پھرنے  والے  اور ایک جاٹھہرنے  والے  ستارے  اور زمین کی بڑی بڑی پیداوار مثلاً پہاڑ، جنگل، درخت، گھس، کھیتیاں، پھل اور مختلف قسم کے  جاندار، کانیں، الگ الگ ذائقے  والے  اور طرح طرح کی خوشبوؤں والے  اور مختلف خواص والے  میوے  وغیرہ کیا یہ سب آیات قدرت ایک سوچ سمجھ والے  انسان کی رہبری اللہ عزوجل کی طرف نہیں  کر سکتیں ؟ جو اور نشانیاں دیکھنے  کی ضرورت باقی رہے  پھر دن رات کا آنا جانا اور ان کا کم زیادہ ہونا پھر برابر ہو جانا یہ سب اس عزیز و حلیم اللہ عزوجل کی قدرت کاملہ کی پوری پوری نشانیاں ہیں  جو پاک نفس والے  ہر چیز کی حقیقت پر نظریں ڈالنے  کے  عادی ہیں  اور بیوقوفوں کی طرح آنکھ اندھے  اور کان کے  بہرے  نہیں  جن کی حالت اور جگہ بیان ہوئی ہے  کہ وہ آسمان اور زمین کی بہت سی نشانیاں پیروں تلے  روندتے  ہوئے  گزر جاتے  ہیں  اور غور و فکر نہیں  کرتے، ان میں سے  اکثر باوجود اللہ تعالیٰ کو ماننے  کے  پھر بھی شرک سے  نہیں  بچ سکے ۔ اب ان عقلمندوں کی صفتیں بیان ہو رہی ہیں  کہ وہ اٹھتے  بیٹھتے  لیٹتے  اللہ کا نام لیا کرتے  ہیں ، بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے  کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے  عمران بن حصین سے  فرمایا کھڑے  ہو کر نماز پڑھا کرو اگر طاقت نہ ہو تو بیٹھ کر اور یہ بھی نہ ہو سکے  تو لیٹے  لیٹے  ہی سہی، یعنی کسی حالت میں اللہ عزوجل کے  ذکر سے  غافل مت رہو دل میں اور پوشیدہ اور زبان سے  اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتے  رہا کرو، یہ لوگ آسمان اور زمین کی پیدائش میں نظریں دوڑاتے  ہیں  اور ان کی حکمتوں پر غور کرتے  ہیں  جو اس خالق یکتا کی عظمت و قدرت علم و حکمت اختیار رحمت پر دلالت کرتی ہیں ، حضرت شیخ سلیمان درانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے  ہیں  گھر سے  نکل کر جس چیز پر میری نظر پڑتی ہے  میں دیکھتا ہوں کہ اس میں اللہ کی ایک ساعت غور و فکر کرنا رات بھر کے  قیام کرنے  سے  افضل ہے، حضرت فضیل رحمۃ اللہ علیہ فرماتے  ہیں  کہ حضرت حسن کا قول ہے  کہ غورو فکر ایک نور ہے  جو تیرے  دل پر اپنا پر تو ڈالے  گا او بسا اوقات یہ بیت پڑھتے  ۔

اذا المراء کانت لہٗ فکرۃ ففی کل شئی لہٗ عبرۃ

 یعنی جس انسان کو باریک بینی اور سوچ سمجھ کی عادت پڑ گئی اسے  ہر چیز میں ایک عبرت اور آیت نظر آتی ہے  حضرت عیسیٰ فرماتے  ہیں  خوش نصیب ہے  وہ شخص جس کا بولنا ذکر اللہ اور نصیحت ہو اور اس کا جب رہنا غور و فکر ہو اور اس کا دیکھنا عبرت اور تنبیہ ہو، لقمان حکیم کا نصیحت آموز مقولہ بھی یاد رہے  کہ تنہائی کی گوشہ نشینی جس قدر زیادہ ہو اور اسی قدر غور و فکر اور دور اندیشی کی عادت زیادہ ہوتی ہے  اور جس قدر یہ بڑھ جائے  اسی قدر راستے  انسان پر وہ کھل جاتے  ہیں  جو اسے  جنت میں پہنچا دیں گے، حضرت وہب بن منبہ فرماتے  ہیں  جس قدر مراقبہ زیادہ ہو گا اسی قدر سمجھ بوجھ تیز ہو گی اور جتنی سمجھ زیادہ ہو گی اتنا علم نصیب ہو گا اور جس قدر علم زیادہ ہو گا نیک اعمال بھی بڑھیں گے، حضرت عمر بن عبدالعزیز کا ارشاد ہے  کہ اللہ عزوجل کے  ذکر میں زبان کا چلانا بہت اچھا ہے  اور اللہ کی نعمتوں میں غور و فکر افضل عبادت ہے، حضرت مغیث اسود مجلس میں بیٹھے  ہوئے  فرماتے  کہ لوگو قبرستان ہر روز جایا کرو تا کہ تمہیں  انجام کا خیال پیدا ہو پھر اپنے  دل میں اس منظر کو حاضر کرو کہ تم اللہ کے  سامنے  کھڑے  ہو پھر ایک جماعت کو جہنم میں لے  جانے  کا حکم ہوتا ہے  اور ایک جماعت جنت میں جاتی ہے  اپنے  دلوں کو اس حال میں جذب کر دو اور اپنے  بدن کو بھی وہیں  حاضر جان لو جہنم کو اپنے  سامنے  دیکھو اس کے  ہتھوڑوں کو اسکی آگ کے  قید خانوں کو اپنے  سامنے  لاؤ اتنا فرماتے  ہی دھاڑیں مار مار کر رونے  لگتے  ہیں  یہاں تک کہ بیہوش ہو جاتے  ہیں  حضرت عبد اللہ بن مبارک فرماتے  ہیں  ایک شخص نے  ایک راہب سے  ایک قبرستان اور کوڑا کرکٹ پاخانہ پیشاب ڈالنے  کی جگہ پر ملاقات کی اور اس سے  کہا اے  بندہ حق اس وقت تیرے  پاس دو خزانے  ہیں  ایک خزانہ لوگوں کا یعنی قبرستان اور دوسرا خزانہ مال کا یعنی کوڑا کرکٹ۔ پیشاب پاخانہ ڈالنے  کی جگہ۔ حضرت عبد اللہ بن عمر کھنڈرات پر جاتے  اور کسی ٹوٹے  پھوٹے  دروازے  پر کھڑے  رہ کر نہایت حسرت و افسوس کے  ساتھ بھرائی ہوئی آواز میں فرماتے  اے  اجڑے  ہوئے  گھرو تمہارے  رہنے  والے  کہاں گئے ؟ پھر خود فرماتے  سب زیر زمین چلے  گئے  سب فنا کا جام پی چکے  صرف اللہ تعالیٰ کی جات ہی ہمیشہ کی مالک بقاء ہے، حضرت عبد اللہ بن عباس کا ارشاد ہے  دو رکعتیں جو دل بستگی کے  ساتھ ادا کی جائیں اس تمام نماز سے  افضل ہیں  جس میں ساری رات گزار دی لیکن دلچسپی نہ تھی، حسن بصری فرماتے  ہیں  ابن آدم اپنے  پیٹ کے  تیسرے  حصے  میں کھا تیسرے  حصے  میں پانی پی اور تیسرا حصہ ان سانسوں کیلئے  چھوڑ جس میں تو آخرت کی باتوں پر اپنے  انجام پر اور اپنے  اعمال پر خور و فکر کر سکے، بعض حکیموں کا قول ہے  جو شخص دنیا کی چیزوں پر عبرت حاصل کئے  بغیر نظر ڈالتا ہے  اس غفلت کی وجہ سے  اس کی دلی آنکھیں کمزور پڑ جاتی ہیں ، حضرت عامر بن قیس فرماتے  ہیں  کہ میں نے  بہت سے  صحابہ سے  سنا ہے  کہ ایمان کی روشنی اور تو غور فکر اور مراقبہ میں ہے، مسیح ابن مریم سیدنا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا فرمان ہے  کہ ابن آدم اے  ضعیف انسان جہاں کہیں  تو ہو اللہ تعالیٰ سے  ڈرتا رہ، دنیا میں عاجزی اور مسکینی کے  ساتھ رہ، اپنا گھر مسجدوں کو بنا لے، اپنی آنکھوں کو رونا سکھا، اپنے  جسم کو صبر کی عادت سکھا، اپنے  دل کو غور و فکر کرنے  والا بنا، کل کی روزی کی فکر آج نہ کر، امیر المومنین حضرت عمر بن عبدالعزیز ایک مرتبہ مجلس میں بیٹھے  ہوئے  رو دیئے  لوگوں نے  وجہ پوچھی تو آپ نے  فرمایا میں نے  دنیا میں اور اس کی لذتوں میں اور اس کی خواہشوں میں غور فکر کیا اور عبرت حاصل کی جب نتیجہ پر پہنچا تو میری امنگیں ختم ہو گئیں حقیقت یہ ہے  کہ ہر شخص کیلئے  اس میں عبرت و نصیحت ہے  اور وعظ و پند ہے، حسین بن عبدالرحمن نے  بھی اپنے  اشعار میں اس مضمون کو خوب نبھایا ہے، پس اللہ تعالیٰ نے  اپنے  ان بندوں کی مدح و ثنا بیان کی جو مخلوقات اور کائنات سے  عبرت حاصل کریں اور نصیحت لیں اور ان لوگوں کی مذمت بیان کی جو قدرت کی نشانیوں پر غور نہ کریں ۔ مومنوں کی مدح میں بیان ہو رہا ہے  کہ یہ لوگ اٹھتے  بیٹھتے  لیٹتے  اللہ سبحانہ کا ذکر کرتے  ہیں  زمین و آسمان کی پیدائش میں غور و فکر کرتے  ہیں  اور کہتے  ہیں  کہ اے  اللہ تو نے  اپنی مخلوق کو عبث اور بے  کار نہیں  بنایا بلکہ حق کے  ساتھ پیدا کیا ہے  تاکہ بروں کو برائی کا بدلہ اور نیکوں کو نیکیوں کا بدلہ عطا فرمائے، پھر اللہ کی پاکیزگی بیان کرتے  ہیں  تو اس سے  منزہ ہے  کہ کسی چیز کو بے  کار بنائے  اے  خالق کائنات اے  عدل و انصاف سے  کائنات کو سجانے  والے  اے  نقصان اور عیبوں سے  پاک ذات ہمیں اپنی قوت و طاقت سے  ان اعمال کی توفیق اور ہمارا رفیق فرما جن سے  ہم تیرے  عذابوں سے  نجات پالیں اور تیری نعمتوں سے  مالا مال ہو کر جنت میں داخل ہو جائیں، یہ یوں بھی کہتے  ہیں  کہ اے  اللہ جسے  تو جہنم میں لے  گیا اسے  تو نے  برباد اور ذلیل و خوار کر دیا مجمع حشر کے  سامنے  اسے  رسوا کیا، ظالموں کا کوئی مددگار نہیں  انہیں  نہ کوئی چھڑا سکے  نہ بچا سکے  نہ تیرے  ارادے  کے  درمیان آسکے، اے  رب ہم نے  پکارنے  والے  کی پکار سن لی جو ایمان اور اسلام کی طرف بلاتا ہے، مراد اس سے  آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم ہیں  جو فرماتے  ہیں  کہ اپنے  رب پر ایمان لاؤ ہم ایمان لا چکے  اور تابعداری بجا لائے  پس ہمارے  ایمان اور فرماں برداری کی وجہ سے  ہمارے  گناہوں کو معاف فرما ان کی پردہ پوشی کر اور ہماری برائیوں کو ہم سے  دور کر دے  اور ہمیں صالح اور نیک لوگوں کے  ساتھ ملا دے  تو نے  ہم سے  جو وعدے  اپنے  نبیوں کی زبانی کئے  ہیں  انہیں  پورے  کر اور یہ مطلب بھی بیان کیا گیا ہے  کہ جو وعدہ تو نے  ہم سے  اپنے  رسولوں پر ایمان لانے  کا لیا تھا لیکن پہلا معنی واضح ہے، مسند احمد کی حدیث میں ہے  عسقلان دو عروس میں سے  ایک ہے  یہیں  سے  قیامت کے  دن اللہ تعالیٰ ستر ہزار شہیداء ٹھائیں گے  جو وفد بن کر اللہ کے  پاس جائیں گے  یہیں  شہیدوں کی صفیں ہوں گی جن کے  ہاتھوں میں ان کے  کٹے  ہوئے  سر ہوں گے  ان کی گردن کی رگوں سے  خون جاری ہو گا یہ کہتے  ہوں گے  اے  اللہ ہم سے  جو وعدے  اپنے  رسولوں کی معرفت تو نے  کئے  ہیں  انہیں  پورے  کر ہمیں قیامت کے  دن رسوا نہ کر تو وعدہ خلافی سے  پاک ہے  اللہ تعالیٰ فرمائے  گا میرے  یہ بندے  سچے  ہیں  اور انہیں  نہر بیضہ میں غسل کروائیں گے  جس غسل کے  بعد پاک صاف گورے  چٹے  رنگ کے  ہو کر نکلیں گے  اور ساری جنت ان کے  لئے  مباح ہو گی جہاں چاہیں  جائیں آئیں جو چاہیں  کھائیں پئیں ۔ یہ حدیث غریب ہے  اور بعض تو کہتے  ہیں  موضوع ہے  واللہ اعلم۔ ہمیں قیامت کے  دن تمام لوگوں کے  مجمع میں رسوا نہ کر تیرے  وعدے  سچے  ہیں  تو نے  جو کچھ خبریں اپنے  رسولوں کی زبانی پہنچائی ہیں  سب اٹل ہیں  قیامت کا روز ضرور آنا ہے  پس تو ہمیں اس دن کی رسوائی سے  نجات دے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم فرماتے  ہیں  کہ بندے  پر رسوائی ڈانٹ ڈپٹ مار اور شرمندگی اس قدر ڈالی جائے  گی اور اس طرح اللہ تعالیٰ کے  سامنے  کھڑا کر کے  اسے  قائل معقول کیا جائے  گا کہ وہ چاہے  گا کہ کاش مجھے  جہنم میں ہی ڈال دیا جاتا (ابو یعلیٰ) اس حدیث کی سند بھی غریب ہے، احادیث سے  یہ بھی ثابت ہے  کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم رات کو تہجد کیلئے  جب اٹھتے  تب سورہ آل عمران کی ان دس آخری آیتوں کی تلاوت فرماتے  چنانچہ بخاری شریف میں ہے  حضرت عبد اللہ بن عباس فرماتے  ہیں  میں نے  اپنی خالہ حضرت میمونہ کے  گھر رات گزاری یہ ام المومنین حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی بیوی صاحبہ تھیں حضور صلی اللہ علیہ و سلم جب آئے  تو تھوڑی دیر تک آپ حضرت میمونہ سے  باتیں کرتے  رہے  پھر سو گئے  جب آخری تہائی رات باقی رہ گئی تو آپ اٹھ بیٹھے  اور آسمان کی طرف نگاہ کر کے  آیت (ان فی خلق السموات) سے  آخر سورت تک کی آیتیں تلاوت فرمائیں پھر کھڑے  ہوئے  مسواک کی وضو کیا اور گیارہ رکعت نماز ادا کی حضرت بلال کی صبح کی اذان سن کر پھر دو  رکعتیں صبح کی سنتیں پڑھیں پھر مسجد میں تشریف لا کر لوگوں کو صبح کی نماز پڑھائی۔ صحیح بخاری میں یہ روایت دوسری جگہ بھی ہے  کہ بسترے  کے  عرض میں تو میں سویا اور لمبائی میں آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم اور ام المومنین حضرت میمونہ لیٹیں آدھی رات کے  قریب کچھ پہلے  یا کچھ بعد حضور صلی اللہ علیہ و سلم جاگے  اپنے  ہاتھوں سے  اپنی آنکھیں ملتے  ہوئے  ان دس آیتوں کی تلاوت کی پھر ایک لٹکی ہوئی مشک میں سے  پانی لے  کر بہت اچھی طرح کامل وضو کیا میں بھی آپ کی بائیں جانب آپ کی اقتدار میں نماز کیلئے  کھڑا ہو گیا حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے  اپنا داہنا ہاتھ میرے  سر پر رکھ کر میرے  کان کو پکڑ کر مجھے  گھما کر اپنی دائیں جانب کر لیا اور دو دو رکعت کر کے  چھ مرتبہ یعنی بارہ رکعت پڑھیں پھر وتر پڑھا اور لیٹ گئے  یہاں تک کہ مؤذن نے  آ کر نماز کی اطلاع کی آپ نے  کھڑے  ہو کر دو ہلکی رکعتیں ادا کیں اور باہر آ کر صبح کی نماز پڑھائی، ابن مردویہ کی اس حدیث میں ہے  حضرت عبد اللہ فرماتے  ہیں  مجھے  میرے  والد حضرت عباس نے  فرمایا کہ تم آج کی رات حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی آل میں گزارو اور آپ کی رات کی نماز کی کیفیت دیکھو رات کو جب سب لوگ عشاء کی نماز پڑھ کر چلے  گئے  میں بیٹھا رہا جب حضور صلی اللہ علیہ و سلم جانے  لگے  تو مجھے  دیکھ کر فرمایا کون عبداللہ؟ میں نے  کہا جی ہاں فرمایا کیوں رکے  ہوئے  ہو میں نے  کہا والد صاحب کا حکم ہے  کہ رات آپ کے  گھر گزاروں تو فرمایا بہت اچھا آؤ گھر جا کر فرمایا بستر بچھاؤ ٹاٹ کا تکیہ آیا اور حضور صلی اللہ علیہ و سلم اس پر سر رکھ کر سو گئے  یہاں تک کہ مجھے  آپ کے  خراٹوں کی آواز آنے  لگی پھر آپ جاگے  اور سیدھی طرح بیٹھ کر آسمان کی طرف دیکھ کر تین مرتبہ دعا (سبحان الملک القدوس) پڑھا پھر سورہ آل عمران کے  خاتمہ کی یہ آیتیں پڑھیں اور روایت میں ہے  کہ آیتوں کی تلاوت کے  بعد حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے  یہ دعا پڑھی (اللھم اجعل فی قلبی نورا وفی سمعی نورا وفی بصری نورا وعن یمینی نورا وعن شمالی نورا ومن بین یدی نورا ومن خلفی نورا ومن فوقی نورا ومن تحتی نورا واعظم لی نورا یوم القیامتہ) (ابن مردویہ) یہ دعا بعض صحیح طریق سے  بھی مروی ہے  اس آیت کی تفسیر کے  شروع میں طبرانی کے  حوالے  سے  جو حدیث گزری ہے  اس سے  تو یہ معلوم ہوتا ہے  کہ یہ آیت مکی ہے  لیکن مشہور اس کے  خلاف ہے  یعنی یہ کہ یہ آیت مدنی ہے  اور اس کی دلیل میں یہ حدیث پیش ہو سکتی ہے  جو ابن مردویہ میں ہے  کہ حضرت عطاء۔ حضرت ابن عمر حضرت عبید بن عمیر۔ حضرت عائشہ صدیقہ کے  پاس آئے  آپ کے  اور ان کے  درمیان پردہ تھا حضرت صدیقہ نے  پوچھا عبید تم کیوں نہیں  آیا کرتے ؟ حضرت عبید نے  جواب دیا اماں جان صرف اس لئے  کہ کسی شاعر کا قول ہے  زرغباتزد دحبا یعنی کم کم آؤ تا کہ محبت بڑھے ، حضرت ابن عمر نے  کہا اب ان باتوں کو چھوڑو ام المومنین ہم یہ پوچھنے  کیلئے  حاضر ہوئے  ہیں  کہ سب سے  زیادہ عجیب بات جو آپ نے  آنحضرت محمد صلی اللہ علیہ و سلم کی دیکھی ہو وہ ہمیں بتائیں ۔ حضرت عائشہ رو دیں اور فرمانے  لگیں حضور صلی اللہ علیہ و سلم کے  تمام کام عجیب تر تھے، اچھا ایک واقعہ سنو ایک رات میری باری میں حضور صلی اللہ علیہ و سلم میرے  پاس آئے  اور میرے  ساتھ سوئے  پھر مجھ سے  فرمانے  لگے  عائشہ میں اپنے  رب کی کچھ عبادت کرنا چاہتا ہوں مجھے  جانے  دے  میں نے  کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم اللہ کی قسم میں آپ کا قرب چاہتی ہوں اور یہ بھی میری چاہت ہے  کہ آپ اللہ عزوجل کی عبادت بھی کریں، اب آپ کھڑے  ہوئے  اور ایک مشک میں سے  پانی لے  کر آپ نے  ہلکا سا وضو کیا اور نماز کے  لئے  کھڑے  ہو گئے  پھر جو رونا شروع کیا تو اتنا روئے  کہ داڑھی مبارک تر ہو گئی پھر سجدے  میں گئے  اور اس قدر روئے  کہ زمین تر ہو گئی پھر کروٹ کے  بل لیٹ گئے  اور روتے  ہی رہے  یہاں تک کہ حضرت بلال نے  آ کر نماز کیلئے  بلایا اور آپ کے  آنسو رواں دیکھ کر دریافت کیا کہ اے  اللہ کے  سچے  رسول صلی اللہ علیہ و سلم آپ کیوں رو رہے  ہیں  اللہ تعالیٰ نے  تو آپ کے  تمام اگلے  پچھلے  گناہ معاف فرما دیئے  ہیں ، آپ نے  فرمایا بلال میں کیوں نہ روؤں ؟ مجھ پر آج کی رات یہ آیت اتری ہے  آیت (ان فی خلق السموات) الخ، افسوس ہے  اس شخص کیلئے  جو اسے  پڑھے  اور پھر اس میں غور و تدبر نہ کرے ۔ عبد بن حمید کی تفسیر میں بھی یہ حدیث ہے  اس میں یہ بھی ہے  کہ جب ہم حضرت عائشہ کے  پاس گئے  ہم نے  سلام کیا تو آپ نے  پوچھا تم کون لوگ ہو؟ ہم نے  اپنے  نام بتائے  اور آخر میں یہ بھی ہے  کہ نماز کے  بعد آپ اپنی داہنی کروٹ پر لیٹے  رخسار تلے  ہاتھ رکھا اور روتے  رہے  یہاں تک کہ آنسوؤں سے  زمین تر ہو گئی اور حضرت بلال کے  جواب میں آپ نے  یہ بھی فرمایا کہ کیا میں شکر گزار بندہ نہ بنوں ؟ اور آیتوں کے  نازل ہونے  کے  بارے  میں عذاب النار تک آپ نے  تلاوت کی، ابن مردویہ کی ایک ضعیف سند والی حدیث میں حضرت ابوہریرہ سے  مروی ہے  کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سورہ آل عمران کے  آخر کی دس آیتیں ہر رات کو پڑھتے  اس روایت میں مظاہر بن اسلم ضعیف ہیں  ۔

۱۹۵

دعا کیجئے  قبول ہو گی بشرطیکہ؟

 یہاں استجاب کے  معنی میں اجاب کے  ہیں  اور یہ عربی میں برابر مروج ہے  حضرت ام سلمہ نے  ایک روز حضور صلی اللہ علیہ و سلم سے  پوچھا کہ کیا بات ہے  عورتوں کی ہجرت کا کہیں  قرآن میں اللہ تعالیٰ نے  ذکر نہیں  کرتا اس پر یہ آیت اتری، انصاری کا بیان ہے  کہ عورتوں میں سب سے  پہلی مہاجرہ عورت جو ہودج میں آئیں حضرت ام سلمہ ہی تھیں ام المومنین سے  یہ بھی مروی ہے  کہ صاحب عقل اور صاحب ایمان لوگوں نے  جب اللہ تعالیٰ سے  دعائیں مانگیں جن کا ذکر پہلے  کی آیتوں میں تھا تو اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے  بھی ان کی منہ مانگی مراد انہیں  عطا فرمائی، اسی لئے  اس آیت کو “ف” سے  شروع کیا، جیسے  اور جگہ ہے  آیت (واذا سألک عبادی) الخ، یعنی میرے  بندے  تجھ سے  میرے  بارے  میں سوال کریں تو کہہ دے  کہ میں تو ان کے  بہت ہی نزدیک ہوں جب کوئی پکارنے  والا مجھے  پکارتا ہے  میں اس کی پکار کو قبول فرما لیتا ہوں پس انہیں  بھی چاہئے  کہ میری مان لیا کریں اور مجھ پر ایمان رکھیں ممکن ہے  کہ وہ رشد و ہدایت پالیں پھر قبولیت دعا کی تفسیر ہوتی ہے  اور اللہ تعالیٰ خبر دیتا ہے  کہ میں کسی عامل کے  عمل کو رائیگاں نہیں  کرتا بلکہ ہر ایک کو پورا پورا بدلہ عطا فرماتا ہوں خواہ مرد ہو خواہ عورت، ہر ایک میرے  پاس ثواب میں اور اعمال کے  بدلے  میں یکساں ہے، پس جو لوگ شرک کی جگہ کو چھوڑیں اور ایمان کی جگہ آ جائیں دار الکفر سے  ہجرت کریں بھائیوں دوستوں پڑوسیوں اور اپنوں کو اللہ کے  نام پر ترک کر دیں مشرکوں کی ایذائیں سہ سہ کر تھک کر بھی عاجز آ کر بھی ایمان کو نہ چھوڑیں بلکہ اپنے  پیارے  وطن سے  منہ موڑ لیں جبکہ لوگوں کا انہوں نے  کوئی نقصان نہیں  کیا تھا جس کے  بدلے  میں انہیں  ستایا جاتا بلکہ ان کا صرف یہ قصور تھا کہ میری راہ پہ چلنے  والے  تھے  صرف میری توحید کو مان کر دنیا کی دشمنی مول لے  لی تھی، میری راہ پر چلنے  کے  باعث طرح طرح سے  ستائے  جاتے  تھے  جیسے  اور جگہ ہے  آیت (یخرجون الرسول وایاکم ان تومنوا باللہ ربکم) یہ لوگ رسول صلی اللہ علیہ و سلم کو اور تمہیں  صرف اس بنا وطن سے  نکال دیتے  ہیں  کہ تم اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھتے  ہو جو تمہارا رب ہے، اور ارشاد ہے  آیت (وما نقموا منھم الا ان یومنوا باللہ العزیز الحمید) ان سے  دشمنی اسی وجہ سے  ہے  کہ اللہ عزیز و حمید پر ایمان لائے  ہیں  پھر فرماتا ہے  انہوں نے  جہاد بھی کئے  اور یہ شہید بھی ہوئے  یہ سب سے  اعلیٰ اور بلند مرتبہ ہے  ایسا شخص اللہ کی راہ میں جہاد کرتا ہے  اس کی سواری کٹ جاتی ہے  منہ خاک و خون میں مل جاتا ہے ۔ بخاری و مسلم میں ہے  کہ ایک شخص نے  کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم اگر میں صبر کے  ساتھ نیک نیتی سے  دلیری سے  پیچھے  نہ ہٹ کر اللہ کی راہ میں جہاد کروں اور پھر شہید کر دیا جاؤں تو کیا اللہ تعالیٰ میری خطائیں معاف فرما دے  گا؟ آپ نے  فرمایا ہاں پھر دوبارہ آپ نے  اس سے  سوال کیا کہ ذرا پھر کہنا تم نے  کیا کہا تھا؟ اس نے  دوبارہ اپنا سوال دھرا دیا آپ نے  فرمایا ہاں مگر قرض معاف نہ ہو گا یہ بات جبرائیل ابھی مجھ سے  کہہ گئے ۔ پس یہاں فرمایا ہے  کہ میں ان کی خطا کاریاں معاف فرما دوں گا اور انہیں  ان جنتوں میں لے  جاؤں گا جن میں چاروں طرف نہریں بہہ رہی ہیں  جن میں کسی میں دودھ ہے  کسی میں شہد کسی میں شراب کسی میں صاف پانی اور وہ نعمتیں ہوں گی جو نہ کسی کان نے  سنیں نہ کسی آنکھ نے  دیکھیں نہ کسی انسانی دل میں کبھی خیال گزرا۔ یہ ہے  بدلہ اللہ کی طرف سے  ظاہر ہے  کہ جو ثواب اس شہنشاہ عالی کی طرف سے  ہو وہ کس قدر زبردست اور بے  انتہا ہو گا؟ جیسے  کسی شاعر کا قول ہے  کہ اگر وہ عذاب کرے  تو وہ بھی مہلک اور برباد کر دینے  والا اور اگر انعام دے  تو وہ بھی بے  حساب قیاس سے  بڑھ کر کیونکہ اس کی ذات بے  پرواہ ہے، نیک اعمال لوگوں کو بہترین بدلہ اللہ ہی کے  پاس ہے، حضرت شداد بن اوس فرماتے  ہیں  لوگوں اللہ تعالیٰ کی قضا پر غمگین اور بے  صبرے  نہ ہو جایا کرو سنو مومن پر ظلم و جور نہیں  ہوتا اگر تمہیں  خوشی اور راحت پہنچے  تو اللہ تعالیٰ کی حمد اور اس کا شکر کرو اور اگر برائی پہنچے  تو صبر و ضبط کرو اور نیکی اور ثواب کی تمنا رکھو اللہ تعالیٰ کے  پاس بہترین بدلے  اور پاکیزہ ثواب ہیں  ۔

۱۹۶

دنیا کا سامان تعیش دلیل نجات نہیں

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے  کہ ان کافروں کی بدمستی کے  سامان تعیش ان کی راحت و آرام ان کی خوش حالی اور فارغ البالی کی طرف اے  نبی آپ نظریں نہ ڈالیں یہ سب عنقریب زائل ہو جائے  گا اور صرف ان کی بداعمالیاں عذاب کی صورت میں ان کیلئے  باقی رہ جائیں گی ان کی یہ تمام نعمتیں آخرت کے  مقابلہ میں بالکل ہیچ ہیں  اسی مضمون کی بہت سی آیتیں قرآن کریم میں ہیں  مثلاً آیت (مایجادل فی ایات اللہ الا الذین کفروا فلا یغررک تقلبھم فی البلاد) اللہ کی آیتوں میں کافر ہی جھگڑتے  ہیں  ان کا شہروں میں گھومنا پھرنا تجھے  دھوکے  میں نہ ڈالے، دوسری جگہ ارشاد ہے  آیت (ان الذین یفترون علی اللہ الکذب) الخ، جو لوگ اللہ پر جھوٹ باندھتے  ہیں  وہ فلاح نہیں  پاتے  دنیا میں چاہے  تھوڑا سا فائدہ اٹھا لیں لیکن آخر تو انہیں  ہماری طرف ہی لوٹنا ہے  پھر ہم انہیں  ان کے  کفر کی پاداش میں سخت تر سزائیں دیں گے  ارشاد ہے  انہیں  ہم تھوڑا سا فائدہ پہنچا کر پھر گہرے  عذابوں کی طرف بے  بس کر دیں گے  اور جگہ ہے  کافروں کو کچھ مہلت دے  دے  اور جگہ ہے  کیا وہ شخص جو ہمارے  بہترین وعدوں کو پالے  گا اور وہ جو دنیا میں آرام سے  گزار رہا ہے  لیکن قیامت کے  دن عذابوں کیلئے  حاضری دینے  والا ہے  برابر ہو سکتے  ہیں  ؟ چونکہ کافروں کا دنیوی اور اخروی حال بیان ہوا اس لئے  ساتھ ہی مومنوں کا ذکر ہو رہا ہے  کہ یہ متقی گروہ قیامت کے  دن نہروں والی، بہشتوں میں ہو گا، ابن مردویہ میں ہے  رسول کریم افضل الصلوٰۃ واتسلیم فرماتے  ہیں  انہیں  ابرار اس لئے  کہا جاتا ہے  کہ یہ ماں باپ کے  ساتھ اور اولاد کے  ساتھ نیک سلوک کرتے  تھے  جس طرح تیرے  ماں باپ کا تجھ پر حق ہے  اسی طرح تیری اولاد کا تجھ پر حق ہے  یہی روایت حضرت ابن عمرو سے  موقوفاً بھی مروی ہے  اور موقوف ہونا ہی زیادہ ٹھیک نظر آتا ہے  واللہ اعلم۔ حضرت حسن فرماتے  ہیں  ابرار وہ ہیں  جو کسی کو ایذاء نہ دیں، حضرت عبد اللہ بن مسعود فرماتے  ہیں  ہر شخص کیلئے  خواہ نیک ہو خواہ بد موت اچھی چیز ہے  اگر نیک ہے  تو جو کچھ اس کیلئے  اللہ کے  پاس ہے  وہ بہت ہی بہتر ہے  اور اگر بد ہے  تو اللہ کے  عذاب اور اس کے  گناہ جو اس کی زندگی میں بڑھ رہے  تھے  اب ان کا بڑھنا ختم ہوا پہلے  کی دلیل آیت (وما عنداللہ خیر للابرار) ہے  اور دوسری کی دلیل آیت (لا یحسبن الذین کفروا انما نملی لھم خیر لانفسھم) الخ، ہے  یعنی کافر ہماری ڈھیل دینے  کو اپنے  حق میں بہتر نہ خیال کریں یہ ڈھیل ان کے  گناہوں میں اضافہ کر رہی ہے  اور ان کے  لئے  رسوا کن عذاب ہیں  حضرت ابوالدردائ سے  بھی یہی مروی ہے ۔

۱۹۹

ایمان والوں اور مجاہدین کے  قابل رشک اعزاز

 اللہ تعالیٰ اہل کتاب کے  اس فرقے  کی تعریف کرتا ہے  جو پورے  ایمان والا ہے  قرآن کریم کو بھی مانتا ہے  اور اپنے  نبی کی کتاب پر بھی ایمان رکھتا ہے  اللہ تعالیٰ کا ڈر دل میں رکھ کر اللہ تعالیٰ فرمانوں کی بجا آوری میں نہایت تندہی کے  ساتھ مشغول ہے  رب کے  سامنے  عاجزی اور گریہ و زاری کرتا رہتا ہے  پیغمبر آخر الزمان صلی اللہ علیہ و سلم کے  جو پاک اوصاف اور صاف نشانیاں ان کی کتابوں میں ہیں  اسے  دنیا کے  بدلے  چھپاتا نہیں  بلکہ ہر ایک کو بتاتا ہے  اور آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی رسالت کو مان لینے  کی رغبت دلاتا ہے ۔ ایسی جماعت اللہ تعالیٰ کے  پاس اجر پائے  گی خواہ وہ یہودیوں کی ہو خواہ نصرانیوں کی، سورہ قصص میں یہ مضمون اس طرح بیان ہوا ہے  آیت (الذین اتیناھم الکتاب) جنہیں  ہم نے  اس سے  پہلے  کتاب دے  رکھی ہے  وہ اس پر بھی ایمان لاتے  ہیں  اور جب یہ کتاب ان کے  سامنے  پڑھی جاتی ہے  تو صاف کہ دیتے  ہیں  کہ ہم اس پر ایمان لائے  یہ برحق کتاب ہمارے  رب کی ہے  ہم تو پہلے  سے  ہی اسے  مانتے  تھے  انہیں  انکے  صبر کا دوہرا اجر دیا جائے  گا اور جگہ ہے  جنہیں  ہم نے  کتاب دی اور جسے  وہ اسے  صحیح طور پر پڑھتے  ہیں  وہ تو اس قرآن پر بھی فوراً ایمان لاتے  ہیں  اور جگہ ارشاد ہے  آیت (ومن قوم موسیٰ امتہ یھدون بالحق وبہ یعدلون) حضرت موسیٰ کی قوم میں سے  بھی ایک جماعت حق کی ہدایت کرنے  والی اور حق کے  ساتھ عدل کرنے  والی ہے  دوسرے  مقام پر بیان ہے  آیت (لیسوا سواء) الخ، یعنی اہل کتاب سب یکساں نہیں  ان میں ایک جماعت راتوں کے  وقت بھی اللہ کی کتاب پڑھنے  والی ہے  اور سجدے  کرنے  والی اور جگہ ہے  اے  نبی صلی اللہ علیہ و سلم تم کہو کہ لوگوں تم ایمان لاؤ یا نہ لاؤ جنہیں  پہلے  سے  علم دیا گیا ہے  جب ان کے  سامنے  اس کلام مجید کی آیتیں تلاوت کی جاتی ہے  تو وہ اپنے  چہروں کے  بل سجدے  میں گر پڑتے  ہیں  اور کہتے  ہیں  کہ ہمارا رب پاک ہے  یقیناً اس کا وعدہ سچا ہے  اور سچا ہو کر رہنے  والا ہے  یہ لوگ روتے  ہوئے  منہ کے  بل گرتے  ہیں  اور خشوع و خضوع میں بڑھ جاتے  ہیں  یہ صفتیں یہودیوں میں پائی گئیں گو بہت کم لوگ ایسے  تھے  مثلاً حضرت عبد اللہ بن سلام اور آپ ہی جیسے  اور جگہ ہے  آیت (لتجدن اشد الناس عداوۃ للذین امنوا الیھود والذین اشرکوا) اسے  خالدین فیھا آخر آیت تک، مطلب یہ ہے  کہ ایمان والوں سے  عداوت اور دشمنی رکھنے  میں سب سے  زیادہ بڑھے  ہوئے  یہود ہیں  اور مشرک اور ایمان والوں سے  محبت رکھنے  میں پیش پیش نصرانی ہیں ، اب فرماتا ہے  ایسے  لوگ اللہ تعالیٰ کے  ہاں اجر عظیم کے  مستحق ہیں ، حدیث میں یہ بھی آ چکا ہے  کہ حضرت جعفر بن ابو طالب نے  جب سورہ مریم کی تلاوت شاہ نجاشی کے  دربار میں بادشاہ اراکین سلطت اور علماء نصاریٰ کے  سامنے  کی اور اس میں آپ پر رقت طاری ہوئی تو سب حاضرین دربار مع بادشاہ رو دیئے  اور اس قدر متاثر ہوئے  کہ روتے  روتے  ان کی داڑھیاں تر ہو گئیں، صحیح بخاری مسلم میں ہے  کہ نجاشی کے  انتقال کی خبر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے  اپنے  اصحاب کو دی اور فرمایا کہ تمہارا بھائی حبشہ میں انتقال کر گیا ہے  اور اس کے  جنازے  کی نماز ادا کرو اور میدان میں جا کر صحابہ کی صفیں مرتب کر کے  آپ نے  ان کے  جنازے  کی نماز ادا کی۔ ابن مردویہ میں ہے  کہ جب نجاشی فوت ہوئے  تو حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے  فرمایا اپنے  بھائی کیلئے  استغفار کرو تو بعض لوگوں نے  کہا دیکھئے  حضور صلی اللہ علیہ و سلم ہمیں اس نصرانی کیلئے  استغفار کرنے  کا حکم دیتے  ہیں  جو حبشہ میں مرا ہے  اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ گویا اس کے  مسلمان ہونے  شہادت قرآن کریم نے  دی، ابن جریر میں ہے  کہ ان کی موت کی خبر حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے  دی کہ تمہارا بھائی اصحمہ انتقال کر گیا ہے  پھر حضور صلی اللہ علیہ و سلم باہر نکلے  اور جس طرح جنازے  کی نماز پڑھاتے  تھے  اسی طرح چار تکبیروں سے  نماز جنازہ پڑھائی اس پر منافقوں نے  وہ اعتراض کیا اور یہ آیت اتری ابو داؤد میں ہے  حضرت عائشہ فرماتی ہیں  کہ نجاشی کے  انتقال کے  بعد ہم یہی سنتے  رہے  کہ ان کی قبر پر نور دیکھا جاتا ہے، مستدرک حاکم میں ہے  کہ نجاشی کا ایک دشمن اس کی سلطنت پر حملہ آور ہوا تو مہاجرین نے  کہا کہ آپ اس سے  مقابلہ کرنے  کیلئے  چلئے  ہم بھی آپ کے  ساتھ ہیں  آپ ہماری بہادری کے  جوہر دیکھ لیں گے  اور جو حسن سلوک آپ نے  ہمارے  ساتھ کیا ہے  اس کا بدلہ بھی اتر جائے  گا لیکن نجاشی رحمۃ اللہ علیہ نے  فرمایا کہ آپ لوگوں کی امداد کے  ساتھ بچاؤ کرنے  سے  اللہ کی امداد کا بچاؤ بہتر ہے  اس بارے  میں یہ آیت نازل ہوئی۔ حضرت مجاہد رحمۃ اللہ علیہ فرماتے  ہیں  اس سے  مراد اہل کتاب کے  مسلمان لوگ ہیں ، حضرت حسن بصری فرماتے  ہیں  اس سے  مراد وہ اہل کتاب ہیں  جو حضور صلی اللہ علیہ و سلم سے  پہلے  تھے  اسلام کو پہچانتے  تھے  اور حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی تابعداری کا بھی شرف انہیں  حاصل ہوا تو انہیں  اجر بھی دوہرا ملا ایک تو حضور صلی اللہ علیہ و سلم سے  پہلے  کے  ایمان کا دوسرا اجر آپ پر ایمان لانے  کا، بخاری مسلم میں حضرت ابو موسیٰ سے  مروی ہے  کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے  فرمایا تین قسم کے  لوگوں کو دوہرا اجر ملتا ہے  جن میں سے  ایک اہل کتاب کا وہ شخص ہے  جو اپنے  نبی پر ایمان لایا اور مجھ پر ایمان لایا اور باقی دو کو بھی ذکر کیا، اللہ کی آیتوں کو تھوڑی قیمت پر نہیں  بیچتے  یعنی اپنے  پاس علمی باتوں کو چھپاتے  نہیں  جیسے  کہ ان میں سے  ایک رزیل جماعت کا شیوہ تھا بلکہ یہ لوگ تو اسے  پھیلاتے  اور خوب ظاہر کرتے  ہیں  ان کا بدلہ ان کے  رب کے  پاس ہے  اللہ تعالیٰ جلد حساب لینے  والا ہے  یعنی جلد سمیٹنے  اور گھیرنے  اور شمار کرنے  والا ہے ۔ پھر فرماتا ہے  کہ اسلام جیسے  میری پسندیدہ دین پر جمے  رہو شدت اور نرمی کے  وقت مصیبت اور راحت کے  وقت غرض کسی حال میں بھی اسے  نہ چھوڑو یہاں تک کہ دم نکلے  تو اسی پر نکلے  اور اپنے  ان دشمنوں سے  بھی صبر سے  کام لو جو اپنے  دین کو چھپاتے  ہیں  امام حسن بصری وغیرہ علماء سلف نے  یہی تفسیر بیان فرمائی ہے  مرابطہ کہتے  ہیں  عبادت کی جگہ میں ہمیشگی کرنے  کو اور ثابت قدمی سے  جم جانے  کو اور کہا گیا ہے  ایک نماز کے  بعد دوسری نماز کے  انتظار کو یہی قوم ہے  حضرت عبد اللہ بن عباس سہل بن حنیف اور محمد بن کعب قرضی کا صحیح مسلم شریف اور نسائی میں ہے  رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم فرماتے  ہیں  آؤ میں تمہیں  بتاؤں کہ کس چیز سے  اللہ تعالیٰ گناہوں کو مٹا دیتا ہے  اور درجوں کو بڑھاتا ہے، تکلیف ہوتے  ہوتے  بھی کامل وضو کرنا دور سے  چل کر مسجدوں میں آنا ایک نماز کے  بعد دوسری نماز کا انتظار کرنا یہی رباط ہے  یہی مرابط ہے  یہی اللہ تعالیٰ کی راہ کی مستعدی ہے، ابن مردویہ میں ہے  کہ ابو سلمہ سے  ایک دن حضرت ابوہریرہ نے  پوچھا اے  میرے  بھتیجے  جانتے  ہو اس آیت کا شان نزول کیا ہے ؟ انہوں نے  کہا مجھے  معلوم نہیں  آپ نے  فرمایا سنو اس وقت کوئی غزوہ نہ تھا یہ آیت ان لوگوں کے  حق میں نازل ہوئی ہے  جو مسجدوں کو آباد رکھتی تھی اور نمازوں کو ٹھیک وقت پر ادا کرتے  تھے  پھر اللہ کا ذکر کرتے  تھے  انہیں  یہ حکم دیا جاتا ہے  کہ تم پانچوں نمازوں پر جمے  رہو اور اپنے  نفس کو اور اپنی خواہش کو روکے  رکھو اور مسجدوں میں بسیرا کرو اور اللہ سے  ڈرتے  رہو۔ یہی اعمال موجب ایمان ہیں ، ابن جریر کی حدیث میں ہے  کیا میں تمہیں  وہ اعمال نہ بتاؤں جو گناہوں کا کفارہ ہو جاتے  ہیں  ناپسندیدگی کے  وقت کامل وضو کرنا اور ایک نماز کے  بعد دوسری نماز کا انتظار کرنا تمہاری مستعدی اسی میں ہونی چاہئے  اور حدیث میں زیادہ قدم رکھ کر چل کر مسجد میں آنا بھی ہے، اور روایت میں ہے  کہ گناہوں کی معافی کے  ساتھ ہی درجے  بھی ان اعمال سے  بڑھتے  رہتے  ہیں  اور یہی اس آیت کا مطلب ہے  لیکن یہ حدیث بالکل غریب ہے، ابو سلمہ بن عبدالرحمن فرماتے  ہیں  یہاں “رابطوا” سے  مطلب انتظار نماز ہے، لیکن اوپر بیان ہو چکا ہے  کہ یہ فرمان حضرت ابوہریرہ کا ہے  واللہ اعلم۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے  کہ “رابطوا” سے  مراد دشمن سے  جہاد کرنا اسلامی ملک کی حدود کی نگہبانی کرنا اور دشمنوں کو اسلامی شہروں میں نہ گھسنے  دینا ہے  اس کی ترغیب میں بھی بہت سی حدیثیں ہیں  اور اس پر بھی بڑے  ثواب کا وعدہ ہے، صحیح بخاری شریف میں ہے  ایک دن کی یہ تیاری ساری دنیا سے  اور جو اس میں ہے  سب سے  افضل ہے، مسلم شریف کی حدیث میں ہے  ایک دن رات کی جہاد کی تیاری ایک ماہ کے  کامل روزوں اور ایک ماہ کی تمام شب بیداری سے  افضل ہے  اور اسی تیاری کی حالت میں موت آ جائے  تو جتنے  اعمال صالحہ کرتا تھا سب کا ثواب پہنچتا رہتا ہے  اور اللہ تعالیٰ کے  پاس سے  روزی پہنچائی جاتی ہے  اور فتنوں سے  امن پاتا ہے، مسند احمد میں ہے  ہر مرنے  والے  کے  اعمال ختم ہو جاتے  ہیں  مگر جو شخص اللہ تعالیٰ کی راہ کی تیاری میں ہو اور اسی حالت میں مر جائے  اس کا عمل قیامت تک بڑھتا رہتا ہے  اور اسے  فتنہ قبر سے  نجات ملتی ہے  ابن ماجہ کی روایت میں یہ بھی ہے  کہ قیامت کے  دن اسے  امن ملے  گا، مسند کی اور حدیث میں ہے  اسے  صبح شام جنت سے  روزی پہنچائی جاتی ہے  اور قیامت تک اس کے  مرابط کا اجر ملتا رہتا ہے، مسند احمد میں ہے  جو شخص مسلمانوں کی سرحد کے  کسی کنارے  پر تین دن تیاری میں گزارے  اسے  سال بھر تک کی اور جگہ کی اس اس تیاری کا اجر ملتا ہے ، امیر المومنین حضرت عثمان بن عفان نے  اپنے  منبر پر خطبہ پڑھتے  ہوئے  ایک مرتبہ فرمایا میں تمہیں  رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے  اپنی سنی ہوئی بات سناتا ہوں میں نے  اب تک ایک خاص خیال سے  اسے  نہیں  سنایا آپ نے  فرمایا ہے  اللہ جل شانہ کی راہ میں ایک رات کا پہرہ ایک ہزار راتوں کی عبادت سے  افضل ہے  جو تمام راتیں قیام میں اور تمام دن صیام میں گزارے  جائیں ۔ دوسری روایت میں اس حدیث کو اب تک بیان نہ کرنے  کی وجہ خلیفہ رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے  یہ بیان فرمائی ہے  کہ مجھے  ڈر تھا کہ اس فضیلت کے  حاصل کرنے  کیلئے  کہیں  تم سب مدینہ چھوڑ کر میدان جنگ میں نہ چل دو اب میں سنا دیتا ہوں ہر شخص کو اختیار ہے  کہ جو بات اپنے  لئے  پسند کرتا ہے  اس کا پابند ہو جائے  دوسری روایت میں یہ بھی ہے  کہ آپ نے  فرمایا کہ میں نے  رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی بات پہنچا دی لوگوں نے  کہا ہاں آپ نے  فرمایا اے  جناب باری تعالیٰ تو گواہ رہ، ترمذی شریف میں ہے  کہ حضرت شرجیل بن سمط محافظت سرحد میں تھے  اور زمانہ زیادہ گزر جانے  کے  بعد کچھ تنگ دل ہو رہے  تھے  کہ حضرت سلمان فارسی ان کے  پاس پہنچے  اور فرمایا آؤ میں تجھے  پیغمبر صلی اللہ علیہ و سلم کی ایک حدیث سناؤں آپ نے  فرمایا ہے  ایک دن سرحد کی حفاظت ایک مہینہ کے  صیام و قیام سے  افضل ہے  اور جو اسی حالت میں مر جائے  وہ فتنہ قبر سے  محفوظ رہتا ہے  اور اس کے  اعمال قیامت تک جاری رہتے  ہیں  ۔ ابن ماجہ میں ہے  کہ ایک رات اللہ تعالیٰ کی راہ میں پہرہ دینا تاکہ مسلمان امن سے  رہیں  ہاں نیت نیک ہو گو وہ رات رمضان کی نہ ہو ایک سو سال کی عبادت سے  افضل ہے  جس کے  دن روزے  میں اور جس کی راتیں تہجد میں گزری ہوں اور ایک دن کی رب العزت کی راہ میں تیاری تا کہ مسلمان با حفاظت رہیں  طلب ثواب کی نیت سے  ماہ رمضان کے  بغیر اللہ کے  نزدیک ایک ہزار سال کے  روزوں اور تہجد سے  افضل ہے، مسلمان با حفاظت رہیں  طلب ثواب کی نیت سے  ماہ رمضان کے  بغیر اللہ کے  نزدیک ایک ہزار سال کی برائیاں اس کے  نامہ اعمال میں نہیں  لکھی جائیں گی اور نیکیاں لکھی جائیں گی اور اس مرابط کا اجر قیامت تک اسے  ملتا رہے  گا یہ حدیث غریب ہے  بلکہ منکر ہے  اس کے  ایک راوی عمرو بن صبح متہم ہیں ، ابن ماجہ کی ایک اور غریب حدیث میں ہے  کہ ایک رات کی مسلم لشکر کی چوکیداری ایک ہزار سال کی راتوں کے  قیام اور دنوں کے  صیام سے  افضل ہے  ہر سال کے  تین سو ساٹھ دن اور ہر دن مثل ایک ہزار سال کے  اس کے  راوی سعید بن خالد کو ابو زرعہ وغیرہ ہیں  ائمہ نے  اسے  ضعیف کہا ہے  بلکہ امام حاکم فرماتے  ہیں  اس کی روایت سے  موضع حدیثیں بھی ہیں ، ایک منقطع حدیث میں ہے  لشکر اسلام کے  چوکیدار پر اللہ تعالیٰ کا رحم ہو (ابن ماجہ) حضرت سہل بن حنظلہ فرماتے  ہیں  کہ حنین والے  دن ہم رسول کریم صلی اللہ علیہ و سلم کے  ساتھ چلے  شام کی نماز میں نے  حضور صلی اللہ علیہ و سلم کے  ساتھ ادا کی اتنے  میں ایک گھوڑا سوار آیا اور کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم میں آگے  نکل گیا تھا اور فلاں پہاڑ پر چڑھ کر میں نے  نگاہ ڈالی تو دیکھا کہ قبیلہ ہوازن کے  لوگ میدان میں جمع ہو گئے  ہیں  یہاں تک کہ ان کی اونٹنیاں، بکریاں، عورتیں اور بچے  بھی ساتھ ہیں  حضور صلی اللہ علیہ و سلم مسکرائے  اور فرمایا انشاء اللہ یہ سب کل مسلمانوں کی مال غنیمت ہو گا پھر فرمایا بتاؤ آج کی رات پہرہ کون دے  گا؟ حضرت انس بن ابو مرثد نے  کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم میں حاضر ہوں آپ نے  فرمایا جاؤ سواری لے  کر آؤ وہ اپنے  گھوڑے  پر سوار ہو کر حاضر ہوئے  آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے  فرمایا اس گھاٹی پر چلے  جاؤ اور اس پہاڑی کی چوٹی پر چڑھ جاؤ خبردار تمہاری طرف سے  ان کے  ساتھ کوئی چھیڑ چھاڑ صبح تک نہ ہو، صبح جس وقت نماز کیلئے  حضور صلی اللہ علیہ و سلم تشریف لائے  دو سنتیں ادا کیں اور لوگوں سے  پوچھا کہو تمہارے  پہرے  دار سوار کی تو کوئی آہٹ نہیں  سنی لوگوں نے  کہا نہیں  یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم، اب تکبیر کہی گئی اور آپ نے  نماز شروع کی آپ کا خیال اسی گھاٹی کی طرف تھا نماز سے  سلام پھیرتے  ہی آپ نے  فرمایا خوش ہو جاؤ تمہارا گھوڑے  سوار آ رہا ہے  ہم نے  جھاڑیوں میں جھانک کر دیکھا تو تھوڑی دیر میں ہمیں بھی دکھائی دے  گئے  آ کر حضور صلی اللہ علیہ و سلم سے  کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم میں اس وادی کے  اوپر کے  حصے  پر پہنچ گیا اور ارشاد کے  مطابق وہیں  رات گزاری صبح میں نے  دوسری گھاٹی بھی دیکھ ڈالی لیکن وہاں بھی کوئی نہیں  آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے  فرمایا کیا رات کو وہاں سے  تم نیچے  بھی اترے  تھے، جواب دیا نہیں  صرف نماز کیلئے  اور قضاء حاجت کیلئے  تو نیچے  اترا تھا آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے  فرمایا تم نے  اپنے  لئے  جنت واجب کر لی اب تم اس کے  بعد کوئی عمل نہ کرو تو بھی تم پر کوئی حرج نہیں ، (ابو داؤد و نسائی) مسند احمد میں ہے  ایک غزوہ کے  موقعہ پر ایک رات کو ہم بلند جگہ پر تھے  اور سخت سردی تھی یہاں تک کہ لوگ زمین میں گڑھے  کھود کھود کر اپنے  اوپر ڈھالیں لے  لے  کر پڑے  ہوئے  تھے  آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم نے  اس وقت آواز دی کہ کوئی ہے  جو آج کی رات ہماری چوکیداری کرے  اور مجھ سے  بہترین دعا لے  تو ایک انصاری کھڑا ہو گیا اور کہا حضور صلی اللہ علیہ و سلم میں تیار ہوں آپ نے  اسے  پاس بلا کر نام دریافت کر کے  اس کے  لئے  بہت دعا کی ابو ریحانہ یہ دعائیں سن کر آگے  بڑھے  اور کہنے  لگے  یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم میں بھی پہرہ دوں گا آپ نے  مجھے  بھی پاس بلا لیا اور نام پوچھ کر میرے  لئے  بھی دعائیں کیں لیکن اس انصاری صحابی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے  یہ دعا کم تھی پھر آپ نے  فرمایا اس آنکھ پر جہنم کی آنچ حرام ہے  جو اللہ کے  ڈر سے  روئے  اور اس آنکھ پر بھی جو راہ اللہ میں شب بیداری کرے، مسند حمد میں ہے  رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم فرماتے  ہیں  جو شخص مسلمانوں کے  پیچھے  سے  ان کا پہرہ دے  اپنی خوشی سے  بغیر سلطان کی اجرت و تنخواہ کے  وہ اپنی آنکھوں سے  بھی جہنم کی آگ کو نہ دیکھے  گا مگر صرف قسم پوری ہونے  کے  لئے  جو اس آیت میں ہے  آیت (وان منکم الا واردھا) یعنی تم سب اس پر وارد ہو گئے، صحیح بخاری میں ہے  دینار کا بندہ برباد ہوا اور کپڑوں کا بندہ اگر مال دیا جائے  تو خوش ہے  اور اگر نہ دیا جائے  تو ناخوش ہے، یہ بھی برباد ہوا اور خراب ہوا اگر اسے  کانٹا چبھ جائے  تو نکالنے  کی کوشش بھی نہ کی جائے  خوش نصیب ہوا اور پھلا خوب پھولا وہ شخص جو اللہ کی راہ میں جہاد کے  لئے  اپنے  گھوڑے  کی لگام تھامے  ہوئے  ہے  بکھرے  ہوئے  بال ہیں  اور گرد آلود قدم ہیں  اگر چوکیداری پر مقرر کر دیا گیا ہے  تو چوکیدارہ کر رہا ہے  اور اگر لشکر کے  اگلے  حصے  میں مقرر کر دیا گیا ہے  تو وہیں  خوش ہے  لوگوں کی نظروں میں اتنا گرا پڑا ہے  کہ اگر کہیں  جانا چاہے  تو اجازت نہ ملے  اور اگر کسی کی سفارش کرے  تو قبول نہ ہو، الحمد اللہ اس آیت کے  متعلق خاصی حدیثیں بیان ہو گئیں اللہ تعالیٰ کے  اس فضل و کرم پر ہم اس کا شکر ادا کرتے  ہیں  اور شکر گزاری سے  رہتی دنیا تک فارغ نہیں  ہو سکتے ۔ تفسیر ابن جریر میں ہے  کہ حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے  امیر المومنین خلیفۃ المسلمین حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو میدان جنگ سے  ایک خط لکھا اور اس میں رومیوں کی فوج کی کثرت ان کی آلات حرب کی حالت اور ان کی تیاریوں کی کیفیتیں بیان کی اور لکھا کہ سخت خطرہ کا موقعہ ہے، یہاں سے  فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کا جواب گیا جس میں حمد و ثنا کے  بعد تحریر تھا کہ کبھی کبھی مومن بندوں پر سختیاں بھی آ جاتی ہیں  لیکن اللہ تعالیٰ ان کے  بعد آسانیاں بھیج دیتا ہے ۔ سنو ایک سختی دو آسانیوں پر غالب نہیں  آ سکتی سنو پروردگار عالم کا فرمان ہے  آیت (یاایہا الذین امنوا اصبروا) حضرت عبد اللہ بن مبارک رحمۃ اللہ علیہ نے  سن ١٧٠ یا ١٧٧ھ میں شہر طرسوس میں حضرت محمد بن ابراہیم بن سکینہ کو جبکہ وہ ان کو وداع کرنے  آئی تھی اور یہ جہاد کو جا رہے  تھے  یہ اشعار لکھوا کر حضرت فضیل بن عیاض رحمۃ اللہ علیہ کو بھجوائے

 یا عابد الحرمین لو ابصرتنا

لعلمت انک فی العبادۃ تلعب

من کان یخضب خدہ بلموعہ

فنحورنا بلمائنا تتخضب

من کان یتعب خلیہ فی باطل

فنخیولنا یوم الصبیحتہ تتعب

ریح العبیر لکم ونحن عبیرنا

رھج السنابک والغبار الاطیب

ولقد اتانا من مقال نبینا

قول صحیح صادق لا یکذب

لا یستوی غبار خیل اللہ فی

انف امری ودخان نار تلھب

ھذا کتاب اللہ ینطق بیننا

لیس الشھید بمیت لا یکذب

اے  مکہ مدینہ میں رہ کر عبادت کرنے  والے  اگر تو ہم مجاہدین کو دیکھ لیتا تو بالیقین تجھے  معلوم ہو جاتا کہ تیری عبادت تو ایک کھیل ہے، ایک وہ شخص ہے  جس کے  آنسو اس کے  رخساروں کو تر کرتے  ہیں  اور ایک ہم ہیں  جو اپنی گردن اللہ کی راہ میں کٹوا کر اپنے  خون میں آپ نہا لیتے  ہیں ۔ ایک وہ شخص ہے  جس کا گھوڑا باطل اور بے  کار کام میں تھک جاتا ہے  اور ہمارے  گھوڑے  حملے  اور لڑائی کے  دن ہی تھکتے  ہیں ۔ اگر کئ خوشبوئیں تمہارے  لئے  ہیں  اور ہمارے  لئے  اگر کئ خوشبو گھوڑوں کے  ٹاپوں کی خاک اور پاکیزہ گرد و غبار ہے ۔ یقین مانو ہمیں نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی یہ حدیث پہنچ چکی ہے  جو سراسر راستی اور درستی والی بالکل سچی ہے  کہ جس کسی کے  نام میں اس اللہ تعالیٰ کے  لشکر کی گرد بھی پہنچ گئی اس کے  ناک میں شعلے  مارنے  والی جہنم کی آگ کا دھواں بھی نہ جائے  گا اور لو یہ ہے  اللہ تعالیٰ کی پاک کتاب جو ہم میں موجود ہے  اور صاف کہہ رہی ہے  اور سچ کہہ رہی ہے  کہ شہید مردہ نہیں ۔

محمد بن ابراہیم فرماتے  ہیں  جب میں نے  مسجد حرام میں پہنچ کر حضرت فضیل بن عیاض رحمۃ اللہ علیہ کو یہ اشعار دکھائے  تو آپ پڑھ کر زار زار روئے  اور فرمایا ابو عبدالرحمن نے  اللہ تعالیٰ کی رحمتیں ان پر ہوں صحیح اور سچ فرمایا اور مجھے  نصیحت نامہ میرے  پاس لائے  اس کے  بدلے  میں تمہیں  ایک حدیث لکھواتا ہوں وہ یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے  ایک شخص نے  درخواست کی کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم مجھے  ایسا عمل بتائے  جس سے  میں مجاہد کا ثواب پالوں، آپ نے  فرمایا کیا تجھ میں یہ طاقت ہے  کہ نماز ہی پڑھتا رہے  اور تھکے  نہیں  اور روزے  رکھتا چلا جائے  اور کبھی بے  روزہ رہے  اس نے  کہا حضور صلی اللہ علیہ و سلم اس کی طاقت کہاں ؟ میں اس سے  بہت ہی ضعیف ہوں آپ نے  فرمایا اگر تجھ میں اتنی طاقت ہوتی اور تو ایسا کر بھی سکتا تو بھی مجاہد فی سبیل اللہ کے  درجے  کو نہ پہنچ سکتا، تو یہ بھی جانتا ہے  کہ مجاہد کے  گھوڑے  کی رسی دراز ہو جائے  اور وہ ادھر ادھر چر جائے  تو اس پر بھی مجاہد کو نیکیاں ملتی ہیں ۔ اس کے  بعد اللہ تعالیٰ حکم دیتا ہے  کہ اللہ سے  ڈرتے  رہو اور ہر حال میں ہر وقت ہر معاملہ میں اللہ کا خوف کیا کرو۔ جناب رسول ا کرم حضرت محمد مصطفےٰ صلی اللہ علیہ و سلم نے  حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو جب یمن کی طرف بھیجا تو فرمایا اے  معاذ جہاں بھی ہو اللہ کا خوف دل میں رکھ اور اگر تجھ سے  کوئی برائی ہو جائے  تو فوراً کوئی نیکی بھی کر لے  تا کہ وہ برائی مٹ جائے  اور لوگوں سے  خلق و مروت کے  ساتھ پیش آیا کر۔

پھر فرماتا ہے  کہ یہ چاروں کام کر لینے  سے  تم اپنے  مقصد میں کامیاب اور با مراد ہو جاؤ گے  دنیا اور آخرت میں فلاح و نجات پالو گے ۔ حضرت محمد بن کعب قرظی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے  ہیں  مطلب یہ ہے  کہ اللہ فرماتا ہے  تم میرا لحاظ رکھو میرے  خوف سے  کانپتے  رہو مجھ سے  ڈرتے  رہو میرے  اور اپنے  معاملہ میں متقی رہو تو کل جبکہ تم مجھ سے  ملو گے  نجات یافتہ اور با مراد ہو جاؤ گے ۔

 

سورۂ مائدہ

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما فرماتے  ہیں  کہ یہ سورت مدینہ شریف میں اتری ہے، حضرت عبد اللہ بن زبیر اور حضرت زید بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہما بھی یہی فرماتے  ہیں، حضرت ابن عباس سے  یہ بھی مروی ہے  کہ جب یہ سورت اتری تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے  فرمایا اب روک رکھنا نہیں، مستدرک حاکم میں حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے  مروی ہے  کہ سورۃ نساء میں پانچ آیتیں ایسی ہیں  کہ اگر ساری دنیا بھی مجھے  مل جائے  جب بھی مجھے  اس قدر خوشی نہ ہو جتنی ان آیتوں سے  ہے  یعنی آیت (ان اللہ لا یظلم مثقال ذرۃ) الخ، اللہ تعالیٰ کسی پر ذرہ برابر ظلم نہیں  کرتا اور جس کسی کی جو نیکی ہوتی ہے  اس کا ثواب بڑھا چڑھا کر دیتا ہے  اور اپنی طرف سے  جو بطور انعام اجر عظیم دے  وہ جداگانہ ہے  اور آیت (ان تجتنبوا کبائر ما تنہون عنہ) الخ، اگر تم کبیرہ گناہوں سے  بچ جاؤ تو ہم تمہارے  صغیرہ گناہ خود ہی معاف فرما دیں گے  اور تمہیں  عزت والی جگہ جنت میں لے  جائیں گے  اور آیت (ان اللہ لا یغفر ان یشرک بہ و یغفر مادون ذالک لمن یشاء) یعنی اللہ تعالیٰ اپنے  ساتھ شریک کرنے  والے  کو تو نہیں  بخشتا باقی جس گنہگار کو چاہے  بخش دے  اور آیت (ولو انہم اذ ظلموا انفسہم جاؤک) الخ، یعنی یہ لوگ گناہ سرزد ہو چکنے  کے  بعد تیرے  پاس آ جاتے  اور خود بھی اللہ تعالی سے  اپنے  گناہ کی بخشش طلب کرتے  ہیں  اور رسول صلی اللہ علیہ و سلم بھی ان کے  لئے  استغفار طلب کرتا تو بیشک وہ اللہ تعالیٰ کو معافی اور مہربانی کرنے  والا پاتے  امام حاکم فرماتے  ہیں  یوں تو اس کی اسناد صحیح ہے  لیکن اس کی ایک راوی عبدالرحمن کے  اپنے  باپ سے  سننے  میں اختلاف ہے، عبدالرزاق کی اس روایت میں آیت (ولو انہم) الخ، کے  بدلے  آیت (ومن یعمل سوء او یظلم نفسہ ثم یستغفر اللہ یجد اللہ غفورا رحیما) ہے  یعنی جس شخص سے  کوئی برا کام ہو جائے  یا اپنے  نفس پر ظلم کر گزرے  پھر اللہ تعالیٰ سے  معافی مانگ تو بے  شک وہ اللہ تعالیٰ کو بخشنے  والا مہربان پائے  گا دونوں احادیث میں تطبیق اس طرح ہے  کہ ایک آیت کا بیان کرنا پہلی حدیث میں یا تو رہ گیا ہے  اور اس کا بیان دوسری حدیث میں ہے  تو چار آیتیں پہلی حدیث اور پانچویں آیت اس حدیث (ومن یعمل) الخ، کی مل کر پانچ ہو گئیں یا یہ ہے  کہ آیت (ان اللہ لا یظلم مثقال ذرۃ) والی آیت پوری ہے  اور آیت (وان تک حسنتہ) کو الگ آیت شمار کیا ہے  تو دونوں احادیث میں پانچ پانچ آیتیں ہو گئیں (واللہ اعلم۔ مترجم) ابن جریر میں حضرت عبد اللہ بن عباس سے  مروی ہے  کہ اس سورت میں آٹھ آیتیں ہیں  جو اس امت کے  لئے  ہر اس چیز سے  بہتر ہیں  جن پر سورج نکلتا اور غروب ہوتا ہے  پہلی آیت (یرید اللہ لیبین لکم) الخ، اللہ تعالیٰ چاہتا ہے  کہ اپنے  احکام تم پر صاف صاف بیان کر دے  اور تمہیں  ان اچھے  لوگوں کی راہ راست دکھاوے  جو تم سے  پہلے  گزر چکے  ہیں  اور تم پر مہربانی کرے  اللہ تعالیٰ دانا اور حکمت والا ہے، دوسری آیت (یرید اللہ ان یخفف عنکم وخلق الانسان ضعیفا) یعنی انسان چونکہ ضعیف پیدا کیا گیا ہے  اللہ تعالیٰ اس پر تخفیف کرنا چاہتا ہے، باقی آیتیں وہی جو اوپر گزریں ابن ابی ملیکہ فرماتے  ہیں  میں نے  حضرت ابن عباس سے  سورۃ نساء کی بابت سنا پس میں نے  قرآن پڑھا اور میں اس وقت چھوٹا بچہ تھا (حاکم)

۱

محبت و مودت کا آفاقی اصول

اللہ تعالیٰ اپنے  تقوے  کا حکم دیتا ہے  کہ جسم سے  اسی ایک ہی کی عبادتیں کی جائیں اور دل میں صرف اسی کا خوف رکھا جائے، پھر اپنی قدرت کاملہ کا بیان فرماتا ہے  کہ اس نے  تم سب کو ایک ہی شخص یعنی حضرت آدم علیہ السلام سے  پیدا کیا ہے، ان کی بیوی یعنی حضرت حوا علیہما السلام کو بھی انہی سے  پیدا کیا، آپ سوئے  ہوئے  تھے  کہ بائیں طرف کی پسلی کی پچھلی طرف سے  حضرت حوا کو پیدا کیا، آپ نے  بیدار ہو کر انہیں  دیکھا اور اپنی طبیعت کو ان کی طرف راغب پایا اور انہیں  بھی ان سے  انس پیدا ہوا، حضرت ابن عباس فرماتے  ہیں  عورت مرد سے  پیدا کی گئی ہے  اس لئے  اس کی حاجت و شہوت مرد میں رکھی گئی ہے  اور مرد زمین سے  پیدا کئے  گئے  ہیں  اس لئے  ان کی حاجت زمین میں رکھی گئی ہے ۔ پس تم اپنی عورتوں کو روکے  رکھو، صحیح حدیث میں ہے  عورت پسلی سے  پیدا کی گئی ہے  اور سب سے  بلند پسلی سب سے  زیادہ ٹیڑھی ہے  پس اگر تو اسے  بالکل سیدھی کرنے  کو جائے  گا تو توڑ دے  گا اور اگر اس میں کچھ کجی باقی چھوڑتے  ہوئے  فائدہ اٹھانا چاہے  گا تو بے  شک فائدہ اٹھا سکتا ہے  ۔پھر فرمایا ان دونوں سے  یعنی آدم اور حوا سے  بہت سے  انسان مردو عورت چاروں طرف دنیا میں پھیلا دیئے  جن کی قسمیں صفتیں رنگ روپ بول چال میں بہت کچھ اختلاف ہے، جس طرح یہ سب پہلے  اللہ تعالیٰ کے  قبضے  میں تھے  اور پھر انہیں  اس نے  ادھر ادھر پھیلا دیا، ایک وقت ان سب کو سمیٹ کر پھر اپنے  قبضے  میں کر کے  ایک میدان میں جمع کرے  گا۔ پس اللہ سے  ڈرتے  رہو اس کی اطاعت عبادت بجا لاتے  رہو، اسی اللہ کے  واسطے  سے  اور اسی کے  پاک نام پر تم آپس میں ایک دوسرے  سے  مانگتے  ہو، مثلاً یہ کہ ان میں تجھے  اللہ کو یاد دلا کر اور رشتے  کو یاد دلا کر یوں کہتا ہوں اسی کے  نام کی قسمیں کھاتے  ہو اور عہد و پیمان مضبوط کرتے  ہو، اللہ جل شانہ سے  ڈر کر رشتوں ناتوں کی حفاظت کرو انہیں  توڑو نہیں  بلکہ جوڑو صلہ رحمی نیکی اور سلوک آپس میں کرتے  رہو ارحام بھی ایک قرأت میں ہے  یعنی اللہ کے  نام پر اور رشتے  کے  واسطے  سے، اللہ تمہارے  تمام احوال اور اعمال سے  واقف ہے  خوب دیکھ بھال رہا ہے، جیسے  اور جگہ ہے  آیت (واللہ علی کلی شئی شہید) اللہ ہر چیز پر گواہ اور حاضر ہے، صحیح حدیث میں ہے  اللہ عزوجل کی ایسی عبادت کر کہ گویا تو اسے  دیکھ رہا ہے  پس اگر تو اسے  نہیں  دیکھ رہا تو وہ تو تجھے  دیکھ ہی رہا ہے، مطلب یہ ہے  کہ اس کا لحاظ رکھو جو تمہارے  ہر اٹھنے  بیٹھنے  چلنے  پھرنے  پر نگراں ہے، یہاں فرمایا گیا کہ لوگو تم سب ایک ہی ماں باپ کی اولاد ہو ایک دوسرے  پر شفقت کیا کرو، کمزور اور ناتواں کا ساتھ دو اور ان کے  ساتھ اچھا سلوک کرو، صحیح مسلم شریف کی ہو حدیث میں ہے  کہ جب قبیلہ مضر کے  چند لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے  پاس چادریں لپیٹے  ہوئے  آئے  کیونکہ ان کے  جسم پر کپڑا تک نہ تھا تو حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے  کھڑے  ہو کر نماز ظہر کے  بعد وعظ بیان فرمایا جس میں اس آیت کی تلاوت کی پھر آیت (یا ایہا الذین امنوا اتقوا اللہ ولتنظر) الخ، کی تلاوت کی پھر لوگوں کو خیرات کرنے  کی ترغیب دی چنانچہ جس سے  جو ہو سکا ان لوگوں کے  لئے  دیا درہم و دینار بھی اور کھجور و گیہوں بھی یہ حدیث، مسند اور سنن میں خطبہ حاجات کے  بیان میں ہے  پھر تین آیتیں پڑھیں جن میں سے  ایک آیت یہی ہے ۔

۲

یتیموں کی نگہداشت اور چار شادیوں کی اجازت

اللہ تعالیٰ یتیموں کے  والیوں کو حکم دیتا ہے  کہ جب یتیم بلوغت اور سمجھداری کو پہنچ جائیں تو ان کے  جو مال تمہارے  پاس ہو انہیں  سونپ دو، پورے  پورے  بغیر کمی اور خیانت کے  ان کے  حوالے  کرو، اپنے  مالوں کے  ساتھ ملا کر گڈمڈ کر کے  کھا جانے  کی نیت نہ رکھو، حلال رزق جب اللہ رحیم تمہیں  دے  رہا ہے  پھر حرام کی طرف کیوں منہ اٹھاؤ؟ تقدیر کی روزی مل کر ہی رہے  گی اپنے  حلال مال چھوڑ کر لوگوں کے  مالوں کو جو تم پر حرام ہیں  نہ لو، دبلا پتلا جانور دے  کر موٹا تازہ نہ لو، بوٹی دے  کر بکرے  کی فکر نہ کرو، ردی دے  کر اچھے  کی اور کھوٹا دے  کر کھرے  کی نیت نہ رکھو، پہلے  لوگ ایسا کر لیا کرتے  تھے  کہ یتیموں کی بکریوں کے  ریوڑ میں سے  عمدہ بکری لے  لی اور اپنی دبلی پتلی بکری دے  کر گنتی پوری کر دی، کھوٹا درہم اس کے  مال میں ڈال کر کھرا نکال لیا اور پھر سمجھ لیا کہ ہم نے  تو بکری کے  بدلے  بکری اور درہم کے  بدلے  درہم لیا ہے ۔ ان کے  مالوں میں اپنا مال خلط ملط کر کے  پھر یہ حیلہ کر کے  اب امتیاز کیا ہے ؟ ان کے  مال تلف نہ کرو، یہ بڑا گناہ ہے، ایک ضعیف حدیث میں بھی یہی معنی آخری جملے  کے  مروی ہیں، ابو داؤد کی حدیث میں ایک دعا میں بھی (حوب) کا لفظ گناہ کے  معنی میں آیا ہے، حضرت ابو ایوب نے  جب اپنی بیوی صاحبہ کو طلاق دینے  کا ارادہ کیا تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے  انہیں  فرمایا تھا کہ اس طلاق میں گناہ ہے، چنانچہ وہ اپنے  ارادے  سے  باز رہے، ایک روایت میں یہ واقعہ حضرت ابو طلحہ اور ام سلیم کا مروی ہے ۔ پھر فرماتا ہے  کہ تمہاری پرورش میں کوئی یتیم لڑکی ہو اور تم اس سے  نکاح کرنا چاہتے  ہو لیکن چونکہ اس کا کوئی اور نہیں  اس لئے  تم تو ایسا نہ کرو کہ مہر اور حقوق میں کمی کر کے  اسے  اپنے  گھر ڈال لو اس سے  باز رہو اور عورتیں بہت ہیں  جس سے  چاہو نکاح کر لو، حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں  ایک یتیم لڑکی تھی جس کے  پاس مال بھی تھا اور باغ بھی جس کی پرورش میں وہ تھی اس نے  صرف اس مال کے  لالچ میں بغیر اس کا پورا مہر وغیرہ مقرر کرنے  کے  اس سے  نکاح کر لیا جس پر یہ آیت اتری میرا خیال ہے  کہ اس باغ اور مال میں یہ لڑکی حصہ دار تھی، صحیح بخاری شریف میں ہے  کہ حضرت ابن شہاب نے  حضرت عائشہ سے  اس آیت کا مطلب پوچھا تو آپ نے  فرمایا بھانجے، یہ ذکر اس یتیم لڑکی کا ہے  جو اپنے  ولی کے  قبضہ میں ہے  اس کے  مال میں شریک ہے  اور اسے  اس کا مال و جمال اچھا لگتا ہے  چاہتا ہے  کہ اس سے  نکاح کر لے  لیکن جو مہر وغیرہ اور جگہ سے  اسے  ملتا ہے  اتنا یہ نہیں  دیتا تو اسے  منع کیا جا رہا ہے  کہ وہ اس اپنی نیت چھوڑ دے  اور کسی دوسری عورت سے  جس سے  چاہے  اپنا نکاح کر لے، پھر اس کے  بعد لوگوں نے  رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے  اسی کی بابت دریافت کیا اور آیت (ویستفتونک فی النساء) الخ، نازل ہوئی وہاں فرمایا گیا ہے  کہ جب یتیم لڑکی کم مال والی اور کم جمال والی ہوتی ہے  اس وقت تو اس کے  والی اس سے  بے  رغبتی کرتے  ہیں  پھر کوئی وجہ نہیں  کہ مال و جمال پر مائل ہو کر اس کے  پورے  حقوق ادا نہ کر کے  اس سے  اپنا نکاح کر لیں، ہاں عدل و انصاف سے  پورا مہر وغیرہ مقرر کریں تو کوئی حرج نہیں، ورنہ پھر عورتوں کی کمی نہیں  اور کسی سے  جس سے  چاہیں  اظہار نکاح کر لیں دو دو عورتیں اپنے  نکاح میں رکھیں اگر چاہیں  تین تین رکھیں اگر چاہیں  چار چار، جیسے  اور جگہ یہ الفاظ ان ہی معنوں میں ہیں، فرماتا ہے  آیت (جاعل الملائکۃ رسلا اولی اجنحۃ مثنی و ثلث ورباع) یعنی جن فرشتوں کو اللہ تعالیٰ اپنا قاصد بنا کر بھیجتا ہے  ان میں سے  بعض دو دو پروں والے  ہیں  بعض تین تین پروں والے  بعض چار پروں والے  فرشتوں میں اس سے  زیادہ پر والے  فرشتے  بھی ہیں  کیونکہ دلیل سے  یہ ثابت شدہ ہے، لیکن مرد کو ایک وقت میں چار سے  زیادہ بیویوں کا جمع کرنا منع ہے  جیسے  کہ اس آیت میں موجود ہے  اور جیسے  کہ حضرت ابن عباس اور جمہور کا قول ہے، یہاں اللہ تعالیٰ اپنے  احسان اور انعام بیان فرما رہا ہے  پس اگر چار سے  زیادہ کی اجازت دینی منظور ہوتی تو ضرور فرما دیا جاتا، حضرت امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے  ہیں  حدیث جو قرآن کی وضاحت کرنے  والی ہے  اس نے  بتلا دیا ہے  کہ سوائے  رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے  کسی کے  لئے  چار سے  زیادہ بیویوں کا بہ یک وقت جمع کرنا جائز نہیں  اسی پر علماء کرام کا اجماع ہے، البتہ بعض شیعہ کا قول ہے  کہ نو تک جمع کرنی جائز ہیں، بلکہ بعض شیعہ نے  تو کہا ہے  کہ نو سے  بھی زیادہ جمع کر لینے  میں بھی کوئی حرج نہیں  کوئی تعداد مقرر ہے  ہی نہیں، ان کا استدلال ایک تو رسول کریم صلی اللہ علیہ و سلم کے  فعل سے  ہے  جیسا کہ صحیح حدیث میں آ چکا ہے  کہ آپ کی نو بیویاں تھیں اور بخاری شریف کی معلق حدیث کے  بعض راویوں نے  گیارہ کہا ہے، حضرت انس سے  مروی ہے  کہ آپ نے  پندرہ بیویوں سے  عقد کیا تیرہ کی رخصتی ہوئی ایک وقت میں گیارہ بیویاں آپ کے  پاس تھیں ۔ انتقال کے  وقت آپ کی نو بیویاں تھیں رضی اللہ تعالیٰ عنہما اجمعین، ہمارے  علماء کرام اس کے  جواب میں فرماتے  ہیں  کہ یہ آپ کی خصوصیت تھی امتی کو ایک وقت میں چار سے  زیادہ پاس رکھنے  کی اجازت نہیں، جیسے  کہ یہ حدیثیں اس امر پر دلالت کرتی ہیں، حضرت غیلان بن سلمہ ثقفی رضی اللہ تعالیٰ عنہ جب مسلمان ہوتے  ہیں  تو ان کے  پاس ان کی دس بیویاں تھیں ۔ حضور صلی اللہ علیہ و سلم ارشاد فرماتے  ہیں  کہ ان میں سے  جنہیں  چاہو چار رکھ لو باقی کو چھوڑ دو چنانچہ انہوں نے  ایسا ہی کیا پھر حضرت عمر کی خلافت کے  زمانے  میں اپنی ان بیویوں کو بھی طلاق دے  دی اور اپنے  لڑکوں کو اپنا مال بانٹ دیا، حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو جب یہ معلوم ہوا تو آپ نے  فرمایا شاید تیرے  شیطان نے  بات اچک لی اور تیرے  دل میں خیال جما دیا کہ تو عنقریب مرنے  والا ہے  اس لئے  اپنی بیویوں کو تو نے  الگ کر دیا کہ وہ تیرا مال نہ پائیں اور اپنا مال اپنی اولاد میں تقسیم کر دیا میں تجھے  حکم دیتا ہوں کہ اپنی بیویوں سے  رجوع کر لے  اور اپنے  اولاد سے  مال واپس لے  اگر تو نے  ایسا نہ کیا تو تیرے  بعد تیری ان مطلقہ بیویوں کو بھی تیرا وارث بناؤں گا کیونکہ تو نے  انہیں  اسی ڈر سے  طلاق دی ہے  اور معلوم ہوتا ہے  کہ تیری زندگی بھی اب ختم ہونے  والی ہے  اور اگر تو نے  میری بات نہ مانی تو یاد رکھ میں حکم دوں گا کہ لوگ تیری قبر پر پتھر پھینکیں جیسے  کہ ابو رغال کی قبر پر پتھر پھینکے  جاتے  ہیں  (مسند احمد شافعی ترمذی ابن ماجہ دار قطنی بیہقی وغیرہ) مرفوع حدیث تک تو ان سب کتابوں میں ہے  ہاں حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ والا واقعہ صرف مسند احمد میں ہی ہے  لیکن یہ زیادتی حسن ہے، اگرچہ امام بخاری نے  اسے  ضعیف کہا ہے  اور اس کی اسناد کا دوسرا طریقہ بتا کر اس طریقہ کو غیر محفوظ کہا ہے  مگر اس تعلیل میں بھی اختلاف ہے  واللہ اعلم اور بزرگ محدثین نے  بھی اس پر کلام کیا ہے  لیکن مسند احمد والی حدیث کے  تمام راوی ثقہ ہیں  اور شرط شیخین پر ہیں  ایک اور روایت میں ہے  کہ یہ دس عورتیں بھی اپنے  خاوند کے  ساتھ مسلمان ہوئی تھیں ملاحظہ ہو (سنن نسائی)، اس حدیث سے  صاف ظاہر ہو گیا کہ اگر چار سے  زیادہ کا ایک وقت میں نکاح میں رکھنا جائز ہوتا تو حضور صلی اللہ علیہ و سلم ان سے  یہ نہ فرماتے  کہ اپنی ان دس بیویوں میں سے  چار کو جنہیں  تم چاہو روک لو باقی کو چھوڑ دو کیونکہ یہ سب بھی اسلام لا چکی تھیں، یہاں یہ بات بھی خیال میں رکھنی چاہئے  کہ ثقفی کے  ہاں تو یہ دس عورتیں بھی موجود تھی اس پر بھی آپ نے  چھ علیحدہ کرا دیں پھر بھلا کیسے  ہو سکتا ہے  کہ کوئی شخص نئے  سرے  سے  چار سے  زیادہ جمع کرے ؟ واللہ سبحانہ و تعالیٰ اعلم باالصواب

چار سے  زائد نہیں، وہ بھی بشرط انصاف ورنہ ایک ہی بیوی!

“دوسری حدیث” ابو داؤد ابن ماجہ وغیرہ میں ہے  حضرت امیرہ اسدی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے  ہیں  میں نے  جس وقت اسلام قبول کیا میرے  نکاح میں آٹھ عورتیں تھیں میں نے  رسول کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے  ذکر کیا آپ نے  فرمایا ان میں سے  جن چار کو چاہو رکھ لو، اس کی سند حسن ہے  اور اس کے  شواہد بھی ہیں  راویوں کے  ناموں کا ہیر پھیر وغیرہ ایسی روایات میں نقصان دہ نہیں  ہوتا “تیسری حدیث” مسند شافعی میں ہے  حضرت نوفل بن معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے  ہیں  کہ میں نے  جب اسلام قبول کیا اس وقت میری پانچ بیویاں تھیں مجھ سے  حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے  فرمایا ان میں سے  پسند کر کے  چار کو رکھ لو اور ایک کو الگ کر دو میں نے  جو سب سے  زیادہ عمر کی بڑھیا اور بے  اولاد بیوی ساٹھ سال کی تھیں انہیں  طلاق دے  دی، پس یہ حدیثیں حضرت غیلان والی پہلی حدیث کی شواہد ہیں  جیسے  کہ حضرت امام بیہقی نے  فرمایا۔ پھر فرماتا ہے  ہاں اگر ایک سے  زیادہ بیویوں میں عدل و انصاف نہ ہو سکنے  کا خوف ہو تو صرف ایک ہی پر اکتفا کرو اور اپنی کنیزوں سے  استمتاع کرو جیسے  اور جگہ ہے  آیت (ولن تستطیعوا ان تعدلوا بین النساء ولو حرصتم) یعنی گو تم چاہو لیکن تم سے  نہ ہو سکے  گا کہ عورتوں کے  درمیان پوری طرح عدل و انصاف کو قائم رکھ سکو پس بالکل ایک ہی طرف جھک کر دوسری کو مصیبت میں نہ ڈال دو، ہاں یاد رہے  کہ لونڈیاں میں باری وغیرہ کی تقسیم واجب نہیں  البتہ مستحب ہے  جو کرے  اس نے  اچھا کیا اور جو نہ کرے  اس پر حرج نہیں ۔ اس کے  بعد کے  جملے  کے  مطلب میں بعض نے  تو کہا ہے  کہ یہ قریب ہے  ان معنی کے  کہ تمہارے  عیال یعنی فقیری زیادہ نہ ہو جیسے  اور جگہ ہے  آیت (وان خفتم) یعنی اگر تمہیں  فقر کا ڈر ہو، عربی شاعر کہتا ہے ۔

فما یدری الفقیر متی غناہ

وما یدری الغنی متی یعیل

یعنی فقیر نہیں  جانتا کہ کب امیر ہو جائے  گا، اور امیر کو معلوم نہیں  کہ کب فقیر بن جائے  گا، جب کوئی مسکین محتاج ہو جائے  تو عرب کہتے  ہیں  (عال الرج)  یعنی یہ شخص فقیر ہو گیا غرض اس معنی میں یہ لفظ مستعمل تو ہے  لیکن یہاں یہ تفسیر کچھ زیادہ اچھی نہیں  معلوم ہوتی، کیونکہ اگر آزاد عورتوں کی کثرت فقیری کا باعث بن سکتی ہے  تو لونڈیوں کی کثرت بھی فقیری کا سبب ہو سکتی ہے، پس صحیح قول جمہور کا ہے  کہ مراد یہ ہے  کہ یہ قریب ہے  اس سے  کہ تم ظلم سے  بچ جاؤ، عرب میں کہا جاتا ہے (عال فی الحکم) جبکہ ظلم و جور کیا ہو،  ابو طالب کے  مشہور قصیدے  میں ہے  ۔

بمیزان قسط لا یخبس شعیرۃ

لہ شاہدمن نفسہ غیر عائل

ضمیر بہترین ترازو ہے

یعنی ایسی ترازو سے  تولتا ہے  جو ایک جو برابر کی بھی کمی نہیں  کرتا اس کے  پاس اس کا گواہ خود اس کا نفس ہے  جو ظالم نہیں  ہے  ابن جریر میں ہے  کہ جب کوفیوں نے  حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر ایک خط کچھ الزام لکھ کر بھیجے  تو ان کے  جواب میں خلیفہ رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے  لکھا کہ (انی لست بمیزان اعول) میں ظلم کا ترازو نہیں  ہوں، صحیح ابن حبان وغیرہ میں ایک مرفوع حدیث اس جملہ کی تفسیر میں مروی ہے  کہ اس کا معنی ہے  تم ظلم نہ کرو، ابو حاتم رحمۃ اللہ علیہ فرماتے  ہیں  اس کا مرفوع ہونا تو خطا ہے  ہاں یہ حضرت عائشہ کا قول ہے  اسی طرح لا تعولوا کے  یہی معنی میں یعنی تم ظلم نہ کرو حضرت عبد اللہ بن عباس، حضرت عائشہ، حضرت مجاہد، حضرت عکرمہ، حضرت حسن، حضرت ابو مالک، حضرت ابو زرین، حضرت نخعی، حضرت شعبی، حضرت ضحاک، حضرت عطاء خراسانی، حضرت قتادہ، حضرت سدی اور حضرت مقاتل بن حیان وغیرہ سے  بھی مروی ہیں ۔ حضرت عکرمہ رحمۃ اللہ علیہ نے  بھی ابو طالب کا وہی شعر پیش کیا ہے، امام ابن جریر نے  اسے  روایت کیا ہے  اور خود امام صاحب بھی اسی کو پسند فرماتے  ہیں ۔ پھر فرماتا ہے  اپنی بیویوں کو ان کے  مہر خوش دلی سے  ادا کر دیا کرو جو بھی مقرر ہوئے  ہوں اور جن کو تم نے  منظور کیا ہو، ہاں اگر عورت خود اپنا سارا یا تھوڑا بہت مہر اپنی خوشی سے  مرد کو معاف کر دے  تو اسے  اختیار ہے  اور اس صورت میں بے شکل مرد کو اس کا اپنے  استعمال میں لانا حلال طیب ہے، نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے  بعد کسی کو جائز نہیں  کہ بغیر مہر واجب کے  نکاح کرے  نہ یہ کہ جھوٹ موٹ مہر کا نام ہی نام ہو، ابن ابی حاتم میں حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا قول مروی ہے  کہ تم میں سے  جب کوئی بیمار پڑے  تو اسے  چاہئے  کہ اپنی بیوی سے  اس کے  مال کے  تین درہم یا کم و بیش لے  ان کا شہد خرید لے  اور بارش کا آسمانی پانی اس میں ملالے  تو تین تین بھلائیاں مل جائیں گی آیت (ہنیأ امریأ) تو مال عورت اور شفاء شہد اور مبارک بارش کا پانی۔ حضرت ابو صالح فرماتے  ہیں  کہ لوگ اپنی بیٹیوں کا مہر آپ لیتے  تھے  جس پر یہ آیت اتری اور انہیں  اس سے  روک دیا گیا (ابن ابی حاتم اور ابن جریر) اس حکم کو سن کر لوگوں نے  رسول مقبول صلی اللہ علیہ و سلم سے  پوچھا کہ ان کا مہر کیا ہونا چاہئے ؟ آپ نے  فرمایا جس چیز پر بھی ان کے  ولی رضامند ہو جائیں (ابن ابی حاتم) حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے  اپنے  خطبے  میں تین مرتبہ فرمایا کہ بیوہ عورتوں کا نکاح کر دیا کرو، ایک شخص نے  کھڑے  ہو کر پوچھا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم ایسی صورت میں ان کا مہر کیا ہو گا؟ آپ نے  فرمایا جس پر ان کے  گھر والے  راضی ہو جائیں، اس کے  ایک راوی ابن سلمانی ضعیف ہیں، پھر اس میں انقطاع بھی ہے ۔

۵

کم عقل اور یتیموں کے  بارہ میں احکامات

اللہ سبحانہ و تعالیٰ لوگوں کو منع فرماتا ہے  کہ کم عقل بیویوں کو مال کے  تصرف سے  روکیں، مال کو اللہ تعالیٰ نے  تجارتوں وغیرہ میں لگا کر انسان کا ذریعہ معاش بنایا ہے، اس سے  معلوم ہوا کہ کم عقل لوگوں کو ان کے  مال کے  خرچ سے  روک دینا چاہئے، مثلاً نابالغ بچہ ہو یا مجنون و دیوانہ ہو یا کم عقل بے  وقوف ہو اور بے  دین ہو بری طرح اپنے  مال کو لٹا رہا ہو، اسی طرح ایسا شخص جس پر قرض بہت چڑھ گیا ہو جسے  وہ اپنے  کل مال سے  بھی ادا نہیں  کر سکتا اگر قرض خواہ حاکم وقت سے  درخواست کریں تو حاکم وہ سب مال اس کے  قبضے  سے  لے  لے  گا اور اسے  بے  دخل کر دے  گا، حضرت ابن عباس فرماتے  ہیں  یہاں (سفہاء) سے  مراد تیری اولاد اور عورتیں ہیں، اسی طرح حضرت ابن مسعود حکم بن عبینہ حسن اور ضحاک رحمۃ اللہ سے  بھی مروی ہے  کہ اس سے  مراد عورتیں اور بچے  ہیں، حضرت سعید بن جبیر فرماتے  ہیں  یتیم مراد ہیں، مجاہد عکرمہ اور قتادہ کا قول ہے  کہ عورتیں مراد ہیں، ابن ابی حاتم میں ہے  رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے  فرمایا بیشک عورتیں بیوقوف ہیں  مگر جو اپنے  خاوند کی اطاعت گزار ہوں، ابن مردویہ میں بھی یہ حدیث مطول مروی ہے، حضرت ابوہریرہ فرماتے  ہیں  کہ اس سے  مراد سرکش خادم ہیں ۔ پھر فرماتا ہے  انہیں  کھلاؤ پہناؤ اور اچھی بات کہو ابن عباس فرماتے  ہیں  یعنی تیرا مال جس پر تیری گزر بسر موقوف ہے  اسے  اپنی بیوی بچوں کو نہ دے  ڈال کر پھر ان کا ہاتھ تکتا پھرے  بلکہ اپنا مال اپنے  قبضے  میں رکھ اس کی اصلاح کرتا رہ اور خود اپنے  ہاتھ سے  ان کے  کھانے  کپڑے  کا بندوبست کر اور ان کے  خرچ اٹھا، حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے  ہیں  تین قسم کے  لوگ ہیں  کہ وہ اللہ تعالیٰ سے  دعا کرتے  ہیں  لیکن اللہ تعالیٰ قبول نہیں  فرماتا، ایک وہ شخص جس کی بیوی بد خلق ہو اور پھر بھی وہ اسے  طلاق نہ دے  دوسرا وہ شخص جو اپنا مال بیوقوف کو دے  دے  حالانکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے  بیوقوف کو اپنا مال نہ دو تیسرا وہ شخص جس کا فرض کسی پر ہو اور اس نے  اس قرض پر کسی کو گواہ نہ کیا ہو۔ ان سے  بھلی بات کہو یعنی ان سے  نیکی اور صلہ رحمی کرو، اس آیت سے  معلوم ہوا کہ محتاجوں سے  سلوک کرنا چاہئے  اسے  جسے  بالفعل تصرف کا حق نہ ہو اس کے  کھانے  کپڑے  کی خبر گیری کرنی چاہئے  اور اس کے  ساتھ نرم زبانی اور خوش خلقی سے  پیش آنا چاہئے ۔ پھر فرمایا یتیموں کی دیکھ بھال رکھو یہاں تک کہ وہ جوانی کو پہنچ جائیں، یہاں نکاح سے  مراد بلوغت ہے  اور بلوغت اس وقت ثابت ہوتی ہے  جب اسے  خاص قسم کے  خواب آنے  لگیں جن میں خاص پانی اچھل کر نکلتا ہے، حضرت علی فرماتے  ہیں  مجھے  رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کا یہ فرمان بخوبی یاد ہے  کہ احتلام کے  بعد یتیمی نہیں  اور نہ تمام دن رات چپ رہتا ہے ۔ دوسری حدیث میں ہے  تین قسم کے  لوگوں سے  قلم اٹھا لیا گیا ہے، بچے  سے  جب تک بالغ نہ ہو، سوتے  سے  جب جاگ نہ جائے، مجنوں سے  جب تک ہوش نہ آ جائے، پس ایک تو علامت بلوغ یہ ہے  دوسری علامت بلوغ بعض کے  نزدیک یہ ہے  کہ پندرہ سال کی عمر ہو جائے  اس کی دلیل بخاری مسلم کی حضرت ابن عمر والی حدیث ہے  جس میں وہ فرماتے  ہیں  کہ احد والی لڑائی میں مجھے  حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے  اپنے  ساتھ اس لئے  نہیں  لیا تھا کہ اس وقت میری عمر چودہ سال کی تھی اور خندق کی لڑائی میں جب میں حاضر کیا گیا تو آپ نے  قبول فرما لیا اس وقت میں پندرہ سال کا تھا حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمۃ اللہ علیہ کو جب یہ حدیث پہنچی تو آپ نے  فرمایا نابالغ بالغ کی حد یہی ہے، تیسری علامت بلوغت کی زیر ناف کے  بالوں کا نکلنا ہے، اس میں علماء کے  تین قول ہیں  ایک یہ کہ علامت بلوغ ہے  دوسرے  یہ کہ نہیں  تیسرے  یہ کہ مسلمانوں میں نہیں  اور ذمیوں میں ہے  اس لئے  کہ ممکن ہے  کسی دوا سے  یہ بال جلد نکل آتے  ہوں اور ذمی پر جواب ہوتے  ہی جزیہ لگ جاتا ہے  تو وہ اسے  کیوں استعمال کرنے  لگا؟ لیکن صحیح بات یہ ہے  کہ سب کے  حق میں یہ علامت بلوغت ہے  کیونکہ اولاً تو جبلی امر ہے  علاج معالجہ کا احتمال بہت دور کا احتمال ہے  ٹھیک یہی ہے  کہ یہ بال اپنے  وقت پر ہی نکلتے  ہیں، دوسری دلیل مسند احمد کی حدیث ہے، جس میں حضرت عطیہ قرضی کا بیان ہے  کہ بنو قریظہ کی لڑائی کے  بعد ہم لوگ حضور صلی اللہ علیہ و سلم کے  سامنے  پیش کئے  گئے  تو آپ نے  حکم دیا کہ ایک شخص دیکھے  جس کے  یہ بال نکل آئے  ہوں اسے  قتل کر دیا جائے  اور نہ نکلے  ہوں اسے  چھوڑ دیا جائے  چنانچہ یہ بال میرے  بھی نہ نکلے  تھے  مجھے  چھوڑ دیا گیا، سنن اربعہ میں بھی یہ حدیث ہے  اور امام ترمذی اسے  حسن صحیح فرماتے  ہیں، حضرت سعد کے  فیصلے  پر راضی ہو کر یہ قبیلہ لڑائی سے  باز آیا تھا پھر حضرت سعد نے  یہ فیصلہ کیا کہ ان میں سے  لڑنے  والے  تو قتل کر دئیے  جائیں اور بچے  قیدی بنا لئے  جائیں غرائب ابی عبید میں ہے  کہ ایک لڑکے  نے  ایک نوجوان لڑکی کی نسبت کہا کہ میں نے  اس سے  بدکاری کی ہے  دراصل یہ تہمت تھی حضرت عمر نے  اسے  تہمت کی حد لگانی چاہی لیکن فرمایا دیکھ لو اگر اس کے  زیر ناف کے  بال اگ آئے  ہوں تو اس پر حد جاری کر دو ورنہ نہیں  دیکھا تو آگے  نہ تھے  چنانچہ اس پر سے  حد ہٹا دی۔ پھر فرماتا ہے  جب تم دیکھو کہ یہ اپنے  دین کی صلاحیت اور مال کی حفاظت کے  لائق ہو گئے  ہیں  تو ان کے  ولیوں کو چاہئے  کہ ان کے  مال انہیں  دے  دیں ۔ بغیر ضروری حاجت کے  صرف اس ڈر سے  کہ یہ بڑے  ہوتے  ہی اپنا مال ہم سے  لے  لیں گے  تو ہم اس سے  پہلے  ہی ان کے  مال کو ختم کر دیں ان کا مال نہ کھاؤ۔ جسے  ضرورت نہ ہو خود امیر ہو کھاتا پیتا ہو تو اسے  تو چاہئے  کہ ان کے  مال میں سے  کچھ بھی نہ لے، مردار اور بہے  ہوئے  خون کی طرح یہ مال ان پر حرام محض ہے، ہاں اگر والی مسکین محتاج ہو تو بے  شک اسے  جائز ہے  کہ اپنی پرورش کے  حق کے  مطابق وقت کی حاجت اور دستور کے  موجب اس مال میں سے  کھا پی لے  اپنی حاجت کو دیکھئے  اور اپنی محنت کو اگر حاجت محنت سے  کم ہو تو حاجت کے  مطابق لے  اور اگر محنت حاجت سے  کم ہو تو محنت کا بدلہ لے  لے، پھر ایسا ولی اگر مالدار بن جائے  تو اسے  اس کھائے  ہوئے  اور لئے  ہوئے  مال کو واپس کرنا پڑے  گا یا نہیں ؟ اس میں دو قول ہیں  ایک تو یہ کہ واپس نہ دینا ہو گا اس لئے  کہ اس نے  اپنے  کام کے  بدلے  لے  لیا ہے  امام شافعی کے  ساتھیوں کے  نزدیک یہی صحیح ہے، اس لئے  کہ آیت میں بغیر بدل کے  مباح قرار دیا ہے  اور مسند احمد وغیرہ میں ہے  کہ ایک شخص نے  کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم میرے  پاس مال نہیں  ایک یتیم میری پرورش میں ہے  تو کیا میں اس کے  کھانے  سے  کھا سکتا ہوں آپ نے  فرمایا ہاں اس یتیم کا مال اپنے  کام میں لا سکتا بشرطیکہ حاجت سے  زیادہ نہ اڑا نہ جمع کر نہ یہ ہو کہ اپنے  مال کو تو بچا رکھے  اور اس کے  مال کو کھاتا چلا جائے، ابن ابی حاتم میں بھی ایسی ہی روایت ہے، ابن حبان وغیرہ میں ہے  کہ ایک شخص نے  حضور صلی اللہ علیہ و سلم سے  سوال کیا کہ میں اپنے  یتیم کو ادب سکھانے  کے  لئے  ضرورتاً کس چیز سے  ماروں ؟ فرمایا جس سے  تو اپنے  بچے  کو تنبیہ کرتا ہے  اپنا مال بچا کر اس کا مال خرچ نہ کر نہ اس کے  مال سے  دولت مند بننے  کی کوشش کر، حضرت ابن عباس سے  کسی نے  پوچھا کہ میرے  پاس بھی اونٹ ہیں  اور میرے  ہاں جو یتیم پل رہے  ہیں  ان کے  بھی اونٹ ہیں  میں اپنی اونٹنیاں دودھ پینے  کے  لئے  فقیروں کو تحفہ دے  دیتا ہوں تو کیا میرے  لئے  جائز ہے  کہ ان یتیموں کی اونٹنیوں کا دودھ پی لوں ؟ آپ نے  فرمایا اگر ان یتیموں کی گم شدہ اونٹنیوں کی کو تو ڈھونڈ لاتا ہے  ان کے  چارے  پانی کی خبر گیری رکھتا ہے  ان کے  حوض درست کرتا رہتا ہے  اور ان کی نگہبانی کیا کرتا ہے  تو بیشک دودھ سے  نفع بھی اٹھا لیکن اس طرح کہ نہ ان کے  بچوں کو نقصان پہنچے  نہ حاجت سے  زیادہ لے، (موطا مالک) حضرت عطاء بن رباح حضرت عکرمہ حضرت ابراہیم نخعی حضرت عطیہ عوفی حضرت حسن بصری رحمۃ اللہ علیہم اجمعین کا یہی قول ہے  دوسرا قول یہ ہے  کہ تنگ دستی کے  دور ہو جانے  کے  بعد وہ مال یتیم کو واپس دینا پڑے  گا اس لئے  کہ اصل تو ممانعت ہے  البتہ ایک وجہ سے  جواز ہو گیا تھا جب وہ وجہ جاتی رہی تو اس کا بدل دینا پڑے  گا جیسے  کوئی بے  بس اور مضطر ہو کر کسی غیر کا مال کھا لے  لیکن حاجت کے  نکل جانے  کے  بعد اگر اچھا وقت آیا تو اسے  واپس دینا ہو گا، دوسری دلیل یہ ہے  کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ جب تخت خلافت پر بیٹھے  تو اعلان فرمایا تھا کہ میری حیثیت یہاں یتیم کے  والی کی حیثیت ہے  اگر مجھے  ضرورت ہی نہ ہوئی تو میں بیت المال سے  کچھ نہ لوں گا اور اگر محتاجی ہوئی تو بطور قرض لوں گا جب آسانی ہوئی پھر واپس کر دوں گا (ابن ابی الدنیا) یہ حدیث سعید بن منصور میں بھی ہے  اور اس کو اسناد صحیح ہے، بیہقی میں بھی یہ حدیث ہے، ابن عباس سے  آیت کے  اس جملہ کی تفسیر میں مروی ہے  کہ بطور قرض کھائے  اور بھی مفسرین سے  یہ مروی ہے، حضرت عبد اللہ بن عباس فرماتے  ہیں  معروف سے  کھانے  کا مطلب یہ ہے  کہ تین انگلیوں سے  کھائے  اور روایت میں آپ سے  یہ مروی ہے  کہ وہ اپنے  ہی مال کو صرف اپنی ضرورت پوری ہو جانے  کے  لائق ہی خرچ کرے  تا کہ اسے  یتیم کے  مال کی حاجت ہی نہ پڑے، حضرت عامر شعبی فرماتے  ہیں  اگر ایسی بے  بسی ہو جس میں مردار کھانا جائز ہو جاتا ہے  تو بیشک کھا لے  لیکن پھر ادا کرنا ہو گا، یحییٰ بن سعید انصار اور ربیعہ سے  اس کی تفسیریوں مروی ہے  کہ اگر یتیم فقیر ہو تو اس کا ولی اس کی ضرورت کے  موافق دے  اور پھر اس ولی کو کچھ نہ ملے  گا، لیکن عبارت یہ ٹھیک نہیں  بیٹھتا اس لئے  کہ اس سے  پہلے  یہ جملہ بھی ہے  کہ جو غنی ہو وہ کچھ نہ لے، یعنی جو ولی غنی ہو تو یہاں بھی یہی مطلب ہو گا جو ولی فقیر ہو نہ یہ کہ جو یتیم فقیر ہو، دوسری آیت میں ہے  آیت (ولا تقربوا مال الیتیم الا بالتی ہی احسن حتی یبلغ اشدہ) یعنی یتیم کے  مال کے  قریب بھی نہ جاؤ ہاں بطور اصلاح کے  پھر اگر تمہیں  حاجت ہو تو حسب حاجت بطریق معروف اس میں سے  کھاؤ پیو پھر اولیاء سے  کہا جاتا ہے  کہ جب وہ بلوغت کو پہنچ جائیں اور تم دیکھ لو کہ ان میں تمیز آ چکی ہے  تو گواہ رکھ کر ان کے  مال ان کے  سپرد کر دو، تا کہ انکار کرنے  کا وقت ہی نہ آئے، یوں تو دراصل سچا شاہد اور پورا نگراں اور باریک حساب لینے  والا اللہ ہی ہے  وہ خوب جانتا ہے  کہ ولی نے  یتیم کے  مال میں نیت کیسی رکھی؟ آیا خورد برد کیا تباہ و برباد کیا جھوٹ سچ حساب لکھا اور دیا یا صاف دل اور نیک نیتی سے  نہایت چوکسی اور صفائی سے  اس کے  مال کا پورا پورا خیال رکھا اور حساب کتاب صاف رکھا، ان سب باتوں کا حقیقی علم تو اسی دانا و بینا نگران و نگہبان کو ہے، صحیح مسلم شریف میں ہے  رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے  حضرت ابوذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے  فرمایا اے  ابوذر میں تمہیں  ناتواں پاتا ہوں اور جو اپنے  لئے  چاہتا ہوں وہی تیرے  لئے  بھی پسند کرتا ہوں خبردار ہرگز دو شخصوں کا بھی سردار اور امیر نہ بننا نہ کبھی کسی یتیم کا ولی بننا۔

۶

وراثت کے  مسائل

مشرکین عرب کا دستور تھا کہ جب کوئی مر جاتا تو اس کی بڑی اولاد کو اس کا مال مل جاتا چھوٹی اولاد اور عورتیں بالکل محروم رہتیں اسلام نے  یہ حکم نازل فرما کر سب کی مساویانہ حیثیت قائم کر دی کہ وارث تو سب ہوں گے  خواہ قرابت حقیقی ہو یا خواہ قرابت حقیقی ہو یا خواہ بوجہ عقد زوجیت کے  ہو یا بوجہ نسبت آزادی ہو حصہ سب کو ملے  گا گو کم و بیش ہو، ” ام کجہ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کرتی ہیں  کہ حضور میرے  دو لڑکے  ہیں  ان کے  والد فوت ہو گئے  ہیں  ان کے  پاس اب کچھ نہیں  پس یہ آیت نازل ہوئی، یہی حدیث دوسرے  الفاظ سے  میراث کی اور دونوں آیتوں کی تفسیر میں بھی عنقریب انشاء اللہ آئے  گی واللہ اعلم، دوسری آیت کا مطلب یہ ہے  کہ جب کسی مرنے  والے  کا ورثہ بٹنے  لگے  اور وہاں اس کا کوئی دور کا رشتہ دار بھی آ جائے  جس کا کوئی حصہ مقرر نہ ہو اور یتیم و مساکین آ جائیں تو انہیں  بھی کچھ نہ کچھ دے  دو۔ ابتداء اسلام میں تو یہ واجب تھا اور بعض کہتے  ہیں  مستحب تھا اور اب بھی یہ حکم باقی ہے  یا نہیں ؟ اس میں بھی دو قول ہیں، حضرت ابن عباس تو اسے  باقی بتاتے  ہیں  حضرت مجاہد حضرت ابن مسعود حضرت ابو موسیٰ حضرت عبدالرحمن بن ابوبکر حضرت ابو العالیہ حضرت شعبی حضرت حسن حضرت سعید بن جیر حضرت ابن سیرین حضرت عطاء بن ابو رباح حضرت زہری حضرت یحییٰ بن معمر رحمۃ اللہ علیہم اجمعین بھی باقی بتاتے  ہیں، بلکہ یہ حضرات سوائے  حضرت ابن عباس کے  وجوب کے  قائل ہیں، حضرت عبیدہ ایک وصیت کے  ولی تھے ۔ انہوں نے  ایک بکری ذبح کی اور تینوں قسموں کے  لوگوں کو کھلائی اور فرمایا اگر یہ آیت نہ ہوتی تو یہ بھی میرا مال تھا، حضرت عروہ نے  حضرت مصعب کے  مال کی تقسیم کے  وقت بھی دیا، حضرت زہری کا بھی قول ہے  کہ یہ آیت محکم ہے  منسوخ نہیں، ایک روایت میں حضرت ابن عباس سے  مروی ہے  کہ یہ وصیت پر موقوف ہے ۔ چنانچہ جب عبدالرحمن بن حضرت ابوبکر کے  انتقال کے  بعد ان کے  صاحبزادے  حضرت عبد اللہ نے  اپنے  باپ کا ورثہ تقسیم کیا اور یہ واقعہ حضرت مائی عائشہ کی موجودگی کا ہے  تو گھر میں جتنے  مسکین اور قرابت دار تھے  سب کو دیا اور اسی آیت کی تلاوت کی، حضرت ابن عباس کو جب یہ معلوم ہوا تو فرمایا اس نے  ٹھیک نہیں  کیا اس آیت سے  تو مراد یہ ہے  کہ جب مرنے  والے  نے  اس کی وصیت کی ہو (ابن ابی حاتم) بعض حضرات کا قول ہے  کہ یہ آیت بالکل منسوخ ہی ہے  مثلاً حضرت عبد اللہ بن عباس فرماتے  ہیں  یہ آیت منسوخ ہے ۔ اور ناسخ آیت (یوصیکم اللہ) ہے، حصے  مقرر ہونے  سے  پہلے  یہ حکم تھا پھر جب حصے  مقرر ہو چکے  اور ہر حقدار کو خود اللہ تعالیٰ نے  حق پہنچا دیا تو اب صدقہ صرف وہی رہ گیا جو مرنے  والا کہہ گیا ہو حضرت سعید بن مسیب رحمۃ اللہ علیہ بھی یہی فرماتے  ہیں  کہ ہاں اگر وصیت ان لوگوں کے  لئے  ہو تو اور بات ہے  ورنہ یہ آیت منسوخ ہے، جمہور کا اور چاروں اماموں کا یہی مذہب ہے، امام ابن جریر نے  یہاں ایک عجیب قول اختیار کیا ہے  ان کی لمبی اور کئی بار کی تحریر کا ماحصل یہ ہے  کہ مال وصیت کی تقسیم کے  وقت جب میت کے  رشتہ دار آ جائیں تو انہیں  بھی دے  دو اور یتیم مسکین جو آ گئے  ہوں ان سے  نرم کلامی اور اچھے  جواب سے  پیش آؤ، لیکن اس میں نظر ہے  واللہ اعلم، حضرت ابن عباس وغیرہ فرماتے  ہیں  تقسیم سے  مراد یہاں ورثے  کی تقسیم ہے، پس یہ قول امام ابن جریر رحمہ اللہ کے  خلاف ہے، ٹھیک مطلب آیت کا یہ ہے  کہ جب یہ غریب لوگ ترکے  کی تقسیم کے  وقت آ جائیں اور تم اپنا اپنا حصہ الگ الگ کر کے  لے  رہے  ہو اور یہ بیچارے  تک رہے  ہوں تو انہیں  بھی خالی ہاتھ نہ پھیرو ان کا وہاں سے  مایوس اور خالی ہاتھ واپس جانا اللہ تعالیٰ رؤف و رحیم کو اچھا نہیں  لگتا بطور صدقہ کے  راہ اللہ ان سے  بھی کچھ اچھا سلوک کر دو تا کہ یہ خوش ہو کر جائیں، جیسے  اور جگہ فرمان باری ہے  کہ کھیتی کے  کٹنے  کے  دن اس کا حق ادا کرو اور فاقہ زدہ اور مسکینوں سے  چھپا کر اپنے  باغ کا پھل لانے  والوں کی اللہ تعالیٰ نے  بڑی مذمت فرمائی ہے  جیسے  کہ سورۃ نون میں ہے  کہ وہ رات کے  وقت چھپ کر پوشیدگی سے  کھیت اور باغ کے  دانے  اور پھل لانے  کے  لئے  چلتے  ہیں  وہاں اللہ کا عذاب ان سے  پہلے  پہنچ جاتا ہے  اور سارے  باغ کو جلا کر خاک سیاہ کر دیتا ہے  دوسروں کے  حق برباد کرنے  والوں کا یہی حشر ہوتا ہے، حدیث شریف میں ہے  جس مال میں صدقہ مل جائے  یعنی جو شخص اپنے  مال سے  صدقہ نہ دے  اس کا مال اس وجہ سے  غارت ہو جاتا ہے ۔ پھر فرماتا ہے  ڈریں وہ لوگ جو اگر اپنے  پیچھے  چھوڑ جائیں یعنی ایک شخص اپنی موت کے  وقت وصیت کر رہا ہے  اور اس میں اپنے  وارثوں کو ضرر پہنچا رہا ہے  تو اس وصیت کے  سننے  والے  کو چاہئے  کہ اللہ کا خوف کرے  اور اسے  ٹھیک بات کی رہنمائی کرے  اس کے  وارثوں کے  لئے  ایسی بھلائی چاہئے  جیسے  اپنے  وارثوں کے  ساتھ بھلائی کرانا چاہتا ہے  جب کہ ان کی بربادی اور تباہی کا خوف ہو، بخاری و مسلم میں ہے  کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم حضرت سعد بن ابی وقاص کے  پاس ان کی بیماری کے  زمانے  میں ان کی عیادت کو گئے  اور حضرت سعد نے  کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم میرے  پاس مال بہت ہے  اور صرف میری ایک لڑکی ہی میرے  پیچھے  ہے  تو اگر آپ اجازت دیں تو میں اپنے  مال کی دو تہائیاں اللہ کی راہ میں صدقہ کر دوں آپ نے  فرمایا نہیں  انہوں نے  کہا پھر ایک تہائی کی اجازت دیجئے  آپ نے  فرمایا خیر لیکن ہے  یہ بھی زیادہ تو اگر اپنے  پیچھے  اپنے  وارثوں کو توانگر چھوڑ کر جائے  اس سے  بہتر ہے  تو کہ تو انہیں  فقیر چھوڑ کر جائے  کہ وہ دوسروں کے  سامنے  ہاتھ پھیلاتے  پھریں، حضرت ابن عباس فرماتے  ہیں  لوگ ایک تہائی سے  بھی کم یعنی چوتھائی کی ہی وصیت کریں تو اچھا ہے  اس لئے  کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم  نے  تہائی کو بھی زیادہ فرمایا ہے  فقہاء فرماتے  ہیں  اگر میت کے  وارث امیر ہوں تب تو خیر تہائی کی وصیت کرنا مستحب ہے  اور اگر فقیر ہوں تو اس سے  کم کی وصیت کرنا مستحب ہے، دوسرا مطلب اس آیت کا یہ بھی بیان کیا گیا ہے  کہ تم یتیموں کا اتنا ہی خیال رکھو جتنا تم تمہاری چھوٹی اولاد کا تمہارے  مرنے  کے  بعد چاہتے  ہو اور لوگ خیال رکھیں جس طرح تم نہیں  چاہتے  کہ ان کے  مال دوسرے  ظلم سے  کھا جائیں اور وہ بالغ ہو کر فقیر رہ جائیں اسی طرح تم دوسروں کی اولادوں کے  مال نہ کھا جاؤ، یہ مطلب بھی بہت عمدہ ہے  اسی لئے  اس کے  بعد ہی یتیموں کا مال ناحق مار لینے  والوں کی سزا بیان فرمائی، کہ یہ لوگ اپنے  پیٹ میں انگارے  بھرنے  والے  اور جہنم و اصل ہونے  والے  ہیں، بخاری و مسلم میں ہے  حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے  فرمایا سات گناہوں سے  بچو جو ہلاکت کا باعث ہیں  پوچھا گیا کیا کیا؟ فرمایا اللہ کے  ساتھ شرک، جادو، بے  وجہ قتل، سود خوری، یتیم کا مال کھا جانا، جہاد سے  پیٹھ موڑنا، بھولی بھالی ناواقف عورتوں پر تہمت لگانا، ابن ابی حاتم میں ہے  صحابہ نے  حضور صلی اللہ علیہ و سلم سے  معراج کی رات کا واقعہ پوچھا جس میں آپ نے  فرمایا کہ میں نے  بہت سے  لوگوں کو دیکھا کہ ان کے  ہونٹ نیچے  لٹک رہے  ہیں  اور فرشتے  انہیں  گھسیٹ کر ان کا منہ خوب کھول دیتے  ہیں  پھر جہنم کے  گرم پتھر ان میں ٹھونس دیتے  ہیں  جو ان کے  پیٹ میں اتر کر پیچھے  کے  راستے  سے  نکل جاتے  ہیں  اور وہ بے  طرح چیخ چلا رہے  ہیں  ہائے  ہائے  مچا رہے  ہیں ۔ میں نے  حضرت جبرائیل سے  پوچھا یہ کون لوگ ہیں ؟ کہا یہ یتیموں کا مال کھا جانے  والے  ہیں  جو اپنے  پیٹوں میں آگ بھر رہے  ہیں  اور عنقریب جہنم میں جائیں گے، حضرت سدی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے  ہیں  یتیم کا مال کھا جانے  والا قیامت کے  روز اپنی قبر سے  اس طرح اٹھایا جائے  گا کہ اس کے  منہ آنکھوں نتھنوں اور روئیں روئیں سے  آگ کے  شعلے  نکل رہے  ہوں گے  ہر شخص دیکھتے  ہی پہچان لے  گا کہ اس نے  کسی یتیم کا مال ناحق کھا رکھا ہے ۔ ابن مردویہ میں ایک مرفوع حدیث بھی اسی مضمون کے  قریب قریب مروی ہے  اور حدیث میں ہے  میں تمہیں  وصیت کرتا ہوں کہ ان دونوں ضعیفوں کا مال پہنچا دو عورتوں کا اور یتیم کا، ان کے  مال سے  بچو، سورۃ بقرہ میں یہ روایت گزر چکی ہے  کہ جب یہ آیت اتری تو جن کے  پاس یتیم تھے  انہوں نے  ان کا اناج پانی بھی الگ کر دیا اب عموماً ایسا ہوتا کہ کھانے  پینے  کی ان کی کوئی چیز بچ رہتی تو یا تو دوسرے  وقت اسی باسی چیز کو کھاتے  یا سڑنے  کے  بعد پھینک دی جاتی گھر والوں میں سے  کوئی اسی ہاتھ بھی نہ لگاتا تھا یہ بات دونوں طرف ناگوار گزری حضور صلی اللہ علیہ و سلم کے  سامنے  بھی اس کا ذکر آیا ہے  اس پر آیت (ویسألو نک عن الیتامی) الخ، اتری جس کا مطلب یہ ہے  کہ جس کام میں یتیموں کی بہتری سمجھو کرو چنانچہ اس کے  بعد پھر کھانا پانی ایک ساتھ ہوا۔

۱۱

زید مسائل میراث جن کا ہر مسلمان کو جاننا فرض ہے

یہ آیت کریمہ اور اس کے  بعد کی آیت اور اس سورت کے  خاتمہ کی آیت علم فرائض کی آیتیں ہیں، یہ پورا علم ان آیتوں اور میراث کی احادیث سے  استنباط کیا گیا ہے، جو حدیثیں ان آیتوں کی گویا تفسیر اور توضیح ہیں، یہاں ہم اس آیت کی تفسیر لکھتے  ہیں  باقی جو میراث کے  مسائل کی پوری تقریر ہے  اور اس میں جن دلائل کی سمجھ میں جو کچھ اختلاف ہوا ہے  اس کے  بیان کرنے  کی مناسب جگہ احکام کی کتابیں ہیں  نہ کہ تفسیر، اللہ تعالیٰ ہماری مدد فرمائے، علم فرائض سیکھنے  کی رغبت میں بہت سی حدیثیں آئی ہیں، ان آیتوں میں جن فرائض کا بیان ہے  یہ سب سے  زیادہ اہم ہیں، ابو داؤد اور ابن ماجہ میں ہے  علم دراصل تین ہیں  اور اس کے  ماسوا فضول بھرتی ہے، آیات قرآنیہ جو مضبوط ہیں  اور جن کے  احکام باقی ہیں، سنت قائمہ یعنی جو احادیث ثابت شدہ ہیں  اور فریضہ عادلہ یعنی مسائل میراث جو ان دو سے  ثابت ہیں ۔ ابن ماجہ کی دوسری ضعیف سند والی حدیث میں ہے  کہ فرائض سیکھو اور دوسروں کو سکھاؤ۔ یہ نصف علم ہے  اور یہ بھول بھول جاتے  ہیں  اور یہی پہلی وہ چیز ہے  جو میری امت سے  چھن جائے  گی، حضرت ابن عینیہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے  ہیں  اسے  آدھا علم اس لئے  کہا گیا ہے  کہ تمام لوگوں کو عموماً یہ پیش آتے  ہیں، صحیح بخاری شریف میں اس آیت کی تفسیر میں حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے  مروی ہے  کہ میں بیمار تھا آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ میری بیمار پرسی کے  لئے  بنو سلمہ کے  محلے  میں پیادہ پا تشریف لائے  میں اس وقت بیہوش تھا آپ نے  پانی منگوا کر وضو کیا پھر وضو کے  پانی کا چھینٹا مجھے  دیا جس سے  مجھے  ہوش آیا، تو میں نے  کہا حضور صلی اللہ علیہ و سلم میں اپنے  مال کی تقسیم کس طرح کروں ؟ اس پر آیت شریفہ نازل ہوئی، صحیح مسلم شریف نسائی شریف وغیرہ میں بھی یہ حدیث موجود ہے، ابو داؤد ترمذی ابن ماجہ مسند امام احمد بن حنبل وغیرہ میں مروی حے  کہ حضرت سعد بن ربیع رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بیوی صاحبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے  پاس آئیں اور کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم یہ دونوں حضرت سعد کی لڑکیاں ہیں، ان کے  والد آپ کے  ساتھ جنگ احد میں شریک تھے  اور وہیں  شہید ہوئے  ان کے  چچا نے  ان کا کل مال لے  لیا ہے  ان کے  لئے  کچھ نہیں  چھوڑا اور یہ ظاہر ہے  کہ ان کے  نکاح بغیر مال کے  نہیں  ہو سکتے، آپ نے  فرمایا اس کا فیصلہ خود اللہ کرے  گا چنانچہ آیت میراث نازل ہوئی، آپ نے  ان کے  چچا کے  پاس آدمی بھیج کر حکم بھیجا کہ دو تہائیاں تو ان دونوں لڑکیوں کو دو اور آٹھواں حصہ ان کی ماں کو دو اور باقی مال تمہارا ہے، بہ ظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے  کہ حضرت جابر کے  سوال پر اس سورت کی آخری آیت اتری ہو گی جیسے  عنقریب آ رہا ہے  انشاء اللہ تعالیٰ اس لئے  کہ ان کی وارث صرف ان کی بہنیں ہی تھیں لڑکیاں تھیں ہی نہیں  وہ تو کلالہ تھے  اور یہ آیت اسی بارے  میں یعنی حضرت سعد بن ربیع کے  ورثے  کے  بارے  میں نازل ہوئی ہے  اور اس کے  راوی بھی خود حضرت جابر ہیں  ہاں حضرت امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے  اس حدیث کو اسی آیت کی تفسیر میں وارد کیا ہے  اس لئے  ہم نے  بھی ان کی تابعداری کی، واللہ اعلم مطلب آیت کا یہ ہے  کہ اللہ تعالیٰ تمہیں  تمہاری اولاد کے  بارے  میں عدل سکھاتا ہے، اہل جاہلیت تمام مال لڑکوں کو دیتے  تھے  اور لڑکیاں خالی ہاتھ رہ جاتی تھیں تو اللہ تعالیٰ نے  ان کا حصہ بھی مقرر کر دیا ہاں دونوں کے  حصوں میں فرق رکھا، اس لئے  کہ مردوں کے  ذمہ جو ضروریات ہیں  وہ عورتوں کے  ذمہ نہیں  مثلاً اپنے  متعلقین کے  کھانے  پینے  اور خرچ اخراجات کی کفالت تجارت اور کسب اور اسی طرح کی اور مشقتیں تو انہیں  ان کی حاجت کے  مطابق عورتوں سے  دوگنا دلوایا، بعض دانا بزرگوں نے  یہاں ایک نہایت باریک نکتہ بیان کیا ہے  کہ اللہ تعالیٰ اپنے  بندوں پر بہ نسبت ماں باپ کے  بھی زیادہ مہربان ہے، ماں باپ کو ان کی اولادوں کے  بارے  میں وصیت کر رہا ہے، پس معلوم ہوا کہ ماں باپ اپنی اولاد پر اتنے  مہربان نہیں  جتنا مہربان ہمارا خالق اپنی مخلوق پر ہے ۔ چنانچہ ایک صحیح حدیث میں ہے  کہ قیدیوں میں سے  ایک عورت کا بچہ اس سے  چھوٹ گیا وہ پاگلوں کی طرح اسے  ڈھونڈتی پھرتی تھی اور جیسے  ہی ملا اپنے  سینے  سے  لگا کر اسے  دودھ پلانے  لگی آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم نے  یہ دیکھ کر اپنے  اصحاب سے  فرمایا بھلا بتاؤ تو کیا یہ عورت باوجود اپنے  اختیار کے  اپنے  بچے  کو آگ میں ڈال دے  گی؟ لوگوں نے  کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم ہرگز نہیں  آپ نے  فرمایا اللہ کی قسم اللہ تعالیٰ اپنے  بندوں پر اس سے  بھی زیادہ مہربان ہے ۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے  ہیں  کہ پہلے  حصہ دار مال کا صرف لڑکا تھا، ماں باپ کو بظور وصیت کے  کچھ مل جاتا تھا اللہ تعالیٰ نے  اسے  منسوخ کیا اور لڑکے  کو لڑکی سے  دوگنا دلوایا اور ماں باپ کو چھٹا چھٹا حصہ دلوایا اور تیسرا حصہ بھی اور بیوی کو آٹھواں حصہ اور چوتھا حصہ اور خاوند کو آدھا اور پاؤ۔ فرماتے  ہیں  میراث کے  احکام اترنے  پر بعض لوگوں نے  کہا یہ اچھی بات ہے  کہ عورت کو چوتھا اور آٹھواں حصہ دلوایا جا رہا ہے  اور لڑکی کو آدھوں آدھ دلوایا جا رہا ہے  اور ننھے  ننھے  بچوں کا حصہ مقرر کیا جا رہا ہے  حالانکہ ان میں سے  کوئی بھی نہ لڑائی میں نکل سکتا ہے، نہ مال غنیمت لا سکتا ہے  اچھا تم اس حدیث سے  خاموشی برتو شاید رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو یہ بھول جائے  ہمارے  کہنے  کی وجہ سے  آپ ان احکام کو بدل دیں، پھر انہوں نے  آپ سے  کہا کہ آپ لڑکی کو اس کے  باپ کا آدھا مال دلوا رہے  ہیں  حالانکہ نہ وہ گھوڑے  پر بیٹھنے  کے  لائق نہ دشمن سے  لڑنے  کے  قابل، آپ بچے  کو ورثہ دلا رہے  ہیں  بھلا وہ کیا فائدہ پہنچا سکتا ہے ؟ یہ لوگ جاہلیت کے  زمانہ میں ایسا ہی کرتے  تھے  کہ میراث صرف اسے  دیتے  تھے  جو لڑنے  مرنے  کے  قابل ہو سب سے  بڑے  لڑکے  کو وارث قرار دیتے  تھے  (اگر مرنے  والے  کے  لڑکے  لڑکیاں دونوں ہو تو تو فرما دیا کہ لڑکی کو جتنا آئے  اس سے  دوگنا لڑکے  کو دیا جائے  یعنی ایک لڑکی ایک لڑکا ہے  تو کل مال کے  تین حصے  کر کے  دو حصے  لڑکے  کو اور ایک حصہ لڑکی کو دے  دیا جائے  اور اگر صرف لڑکی کو دے  دیا جائے  اب بیان فرماتا ہے  کہ اگر صرف لڑکیاں ہوں تو انہیں  کیا ملے  گا؟ مترجم) لفظ فوق کو بعض لوگ زائد بتاتے  ہیں  جیسے  آیت (فاضربوا فوق الاعناق آیت میں لفظ فوق زائد ہے  لیکن ہم یہ نہیں  مانتے  نہ اس آیت میں نہ اس آیت میں، کیونکہ قرآن میں کوئی ایسی زائد چیز نہیں  ہے  جو محض بے  فائدہ ہو اللہ کے  کلام میں ایسا ہونا محال ہے، پھر یہ بھی خیال فرمائیے  کہ اگر ایسا ہی ہوتا تو اس کے  بعد آیت (فلہن) نہ آتا بلکہ (فلہما) آتا۔ ہاں اسے  ہم جانتے  ہیں  کہ اگر لڑکیاں دو سے  زیادہ نہ ہوں یعنی صرف دو ہوں تو بھی یہی حکم ہے  یعنی انہیں  بھی دو ثلث ملے  گا کیونکہ دوسری آیت میں دو بہنوں کو دو ثلث دلوایا گیا ہے  اور جبکہ دو بہنیں دو ثلث پاتی ہیں  تو دو لڑکیوں کو دو ثلث کیوں نہ ملے  گا؟ ان کے  لئے  تو دو تہائی بطور اولی ہونا چاہئے، اور حدیث میں آچکا ہے  دو لڑکیوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے  دو تہائی مال ترکہ کا دلوایا جیسا کہ اس آیت کی شان نزول کے  بیان میں حضرت سعد کی لڑکیوں کے  ذکر میں اس سے  پہلے  بیان ہو چکا ہے  پس کتاب و سنت سے  یہ ثابت ہو گیا اسی طرح اس کی دلیل یہ بھی ہے  کہ ایک لڑکی اگر ہو یعنی لڑکا نہ ہونے  کی صورت میں تو اسے  آدھوں آدھ دلوایا گیا ہے  پس اگر دو کو بھی آدھا ہی دینے  کا حکم کرنا مقصود ہوتا تو یہیں  بیان ہو جاتا جب ایک کو الگ کر دیا تو معلوم ہوا کہ دو کا حکم وہی ہے  جو دو سے  زائد کا ہے  واللہ اعلم۔ پھر ماں باپ کا حصہ بیان ہو رہا ہے  ان کے  ورثے  کی مختلف صورتیں ہیں، ایک تو یہ کہ مرنے  والے  کی اولاد ایک لڑکی سے  زیادہ ہو اور ماں باپ بھی ہوں تو تو انہیں  چھٹا چھٹا حصہ ملے  گا یعنی چھٹا حصہ ماں کو اور چھٹا حصہ باپ کو، اگر مرنے  والے  کی صرف ایک لڑکی ہی ہے  تو آدھا مال تو وہ لڑکی لے  لے  گی اور چھٹا حصہ ماں لے  لے  گی چھٹا حصہ باپ کو ملے  گا اور چھٹا حصہ جو باقی رہا وہ بھی بطور عصبہ باپ کو مل جائے  گا پس اس حالت میں باپ فرض اور تنصیب دونوں کو جمع کر لے  گا یعنی مقررہ چھٹا حصہ اور بطور عصبہ بچت کا مال دوسری صورت یہ ہے  کہ صرف ماں باپ ہی وارث ہوں تو ماں کو تیسرا حصہ مل جائے  گا اور باقی کا کل ماں باپ کو بطور عصبہ کے  مل جائے  گا تو گویا دو ثلث مال اس کے  ہاتھ لگے  گا یعنی بہ نسبت مال کے  دگنا باپ کو مل جائے  گا اب اگر مرنے  والی عورت کا خاوند بھی ہے  مرنے  والے  مرد کی بیوی ہے  یعنی اولاد نہیں  صرف ماں باپ ہیں  اور خاوند سے  یا بیوی تو اس پر تو اتفاق ہے  کہ خاوند کو آدھا اور بیوی کو پاؤ ملے  گا، پھر علماء کا اس میں اختلاف ہے  کہ ماں کو اس صورت میں اس کے  بعد کیا ملے  گا؟ تین قول ہیں  ایک تو یہ کہ جو مال باقی رہا اس میں سے  تیسرا حصہ ملے  گا دونوں صورتوں میں یعنی خواہ عورت خاوند چھوڑ کر مری ہو خواہ مرد عورت چھوڑ کر مرا ہو اس لئے  کہ باقی کا مال ان کی نسبت سے  گویا کل مال ہے  اور ماں کا حصہ باپ سے  آدھا ہے  تو اس باقی کے  مال سے  تیسرا حصہ یہ لے  لے  اور وہ تیسرے  حصے  جو باقی رہے  وہ باپ لے  لے  گا حضرت عمر حضرت عثمان اور بہ اعتبار زیادہ صحیح روایت حضرت علی رضی اللہ عنہم کا یہی فیصلہ ہے، حضرت ابن مسعود اور حضرت زید بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہما کا یہی قول ہے، ساتوں فقہاء اور چاروں اماموں اور جمہور علماء کا بھی فتویٰ ہے  دوسرا قول یہ ہے  کہ ان دونوں صورتوں میں بھی ماں کو کل مال کا ثلث مل جائے  گا، اس لئے  کہ آیت عام ہے  خاوند بیوی کے  ساتھ ہو تو اور نہ ہو تو عام طور پر میت کی اولاد نہ ہونے  کی صورت میں ماں کو ثلث دلوایا گیا ہے، حضرت ابن عباس کا یہی قول ہے، حضرت علی اور حضرت معاذ بن جبل سے  بھی اسی طرح مروی ہے ۔ حضرت شریح اور حضرت داؤد ظاہری بھی یہی فرماتے  ہیں، حضرت ابو الحسین بن لبان بصری بھی اپنی کتاب ایجاز میں جو علم فرائض کے  بارے  میں ہے  اسی قول کو پسند کرتے  ہیں، لیکن اس قول میں نظر ہے  بلکہ یہ قول ضعیف ہے  کیونکہ آیت نے  اس کا یہ حصہ اس وقت مقرر فرمایا ہے  جبکہ کل مال کی وراثت صرف ماں باپ کو ہی پہنچتی ہو، اور جبکہ زوج یا زوجہ سے  اور وہ اپنے  مقررہ حصے  کے  مستحق ہیں  تو پھر جو باقی رہ جائے  گا بیشک وہ ان دونوں ہی کا حصہ ہے  تو اس میں ثلث ملے  گا، کیونکہ اس عورت کو کل مال کی چوتھائی ملے  گی اگر کل مال کے  بارہ حصے  کئے  جائیں تو تین حصے  تو یہ لے  گی اور چار حصے  ماں کو ملے  گا باقی بچے  پانچ حصے  وہ باپ لے  لے  گا لیکن اگر عورت مری ہے  اور اس کا خاوند موجود ہے  تو ماں کو باقی مال کا تیسرا حصہ ملے  گا اگر کل مال کا تیسرا حصہ اس صورت میں بھی ماں کو دلوایا جائے  تو اسے  باپ سے  بھی زیادہ پہنچ جاتا ہے  مثلاً میت کے  مال کے  چھ حصے  کئے  تین تو خاوند لے  گیا دو ماں لے  گئی تو باپ کے  پلے  ایک ہی پڑے  گا جو ماں سے  بھی تھوڑا ہے، اس لئے  اس صورت میں چھ میں سے  تین تو خاوند کو دئے  جائیں گے  ایک ماں کو اور دو باپ کو، حضرت امام ابن سیرین رحمۃ اللہ علیہ کا یہی قول ہے، یوں سمجھنا چاہئے  کہ یہ قول دو قولوں سے  مرکب ہے، ضعیف یہ بھی ہے  اور صحیح قول پہلا ہی ہے  واللہ اعلم، ماں باپ کے  احوال میں سے  تیسرا حال یہ ہے  کہ وہ بھائیوں کے  ساتھ ہوں خواہ وہ سگے  بھائی ہوں یا صرف باپ کی طرف سے  یا صرف ماں کی طرف سے  تو وہ باپ کے  ہوتے  ہوئے  اپنے  بھائی کے  ورثے  میں کچھ پائیں گے  نہیں  لیکن ہاں ماں کو تہائی سے  ہٹا کر چھٹا حصہ دلوائیں گے  اور اگر کوئی اور وارث ہی نہ ہو اور صرف ماں کے  ساتھ باپ ہی ہو تو باقی مال کل کا کل باپ لے  لے  گا اور بھائی بھی شریعت میں بہت سے  بھائیوں کے  مترادف ہیں  جمہور کا یہی قول ہے، ہاں حضرت ابن عباس سے  مروی ہے  کہ آپ نے  ایک مرتبہ حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے  کہا کہ دو بھائی ماں کو ثلث سے  ہٹا کر سدس تک نہیں  لے  جاتے  قرآن میں اخوۃ جمع کا لفظ ہے  دو بھائی اگر مراد ہوتے  اخوان کہا جاتا خلیفہ ثالث نے  جواب دیا کہ پہلے  ہی سے  یہ چلا آتا ہے  اور چاروں طرف یہ مسئلہ اسی طرح پہنچا ہوا ہے  تمام لوگ اس کے  عامل ہیں  میں اسے  نہیں  بدل سکتا، اولاً تو یہ اثر ثابت ہی نہیں  اس کے  راوی حضرت شعبہ کے  بارے  میں حضرت امام مالک کی جرح موجود ہے  پھر یہ قول ابن عباس کا نہ ہونے  کی دوسری دلیل یہ ہے  کہ خود حضرت ابن عباس کے  خاص اصحاب اور اعلی شاگرد بھی اس کے  خلاف ہیں  حضرت زید فرماتے  ہیں  دو کو بھی اخوۃ کہا جاتا ہے، الحمد للہ میں نے  اس مسئلہ کو پوری طرح ایک علیحدہ رسالے  میں لکھا ہے  حضرت سعید بن قتادہ سے  بھی اسی طرح مروی ہے، ہاں میت کا اگر ایک ہی بھائی ہو تو ماں کو تیسرے  حصے  سے  ہٹا نہیں  سکتا، علماء کرام کا فرمان ہے  کہ اس میں حکمت یہ ہے  کہ میت کے  بھائیوں کی شادیوں کا اور کھانے  پینے  وغیرہ کا کل خرچ باپ کے  ذمہ ہے  نہ کہ ماں کے  ذمے  اس لئے  متقضائے  حکمت یہی تھا کہ باپ کو زیادہ دیا جائے، یہ توجیہ بہت ہی عمدہ ہے، لیکن حضرت ابن عباس سے  بہ سند صحیح مروی ہے  کہ یہ چھٹا حصہ جو ماں کا کم ہو گیا انہیں  دیدیا جائے  گا یہ قول شاذ ہے  امام ابن جریر فرماتے  ہیں  حضرت عبد اللہ کا یہ قول تمام امت کے  خلاف ہے، ابن عباس کا قول ہے  کہ کلالہ اسے  کہتے  ہیں  جس کا بیٹا اور باپ نہ ہو۔ پھر فرمایا وصیت اور قرض کے  بعد تقسیم میراث ہو گی، تمام سلف خلف کا اجماع ہے  کہ قرض وصیت پر مقدم ہے  اور فحوائے  آیت کو بھی اگر بغور دیکھا جائے  تو یہی معلوم ہوتا ہے، ترمذی وغیرہ میں ہے  حضرت علی بن ابو طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے  ہیں  تم قرآن میں وصیت کا حکم پہلے  پڑھتے  ہو اور قرض کا بعد میں لیکن یاد رکھنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے  قرض پہلے  ادا کرایا ہے، پھر وصیت جاری کی ہے، ایک ماں زاد بھائی آپس میں وارث ہوں گے  بغیر علاتی بھائیوں کے، آدمی اپنے  سگے  بھائی کا وارث ہو گا نہ اس کا جس کی ماں دوسری ہو، یہ حدیث صرف حضرت حارث سے  مروی ہے  اور ان پر بعض محدثین نے  جرح کی ہے، لیکن یہ حافظ فرائض تھے  اس علم میں آپ کو خاص دلچسپی اور دسترس تھی اور حساب کے  بڑے  ماہر تھے  واللہ اعلم۔ پھر فرمایا کہ ہم نے  باپ بیٹوں کو اصل میراث میں اپنا اپنا مقررہ حصہ لینے  والا بنایا اور جاہلیت کی رسم ہٹا دی بلکہ اسلام میں بھی پہلے  بھی ایسا ہی حکم تھا کہ مال اولاد کو مل جاتا ماں باپ کو صرف بطور وصیت کے  ملتا تھا جیسے  حضرت ابن عباس سے  پہلے  بیان ہو چکا یہ منسوخ کر کے  اب یہ حکم ہوا تمہیں  یہ نہیں  معلوم کہ تمہیں  باپ سے  زیادہ نفع پہنچے  گا یا اولاد نفع دے  گی امید دونوں سے  نفع کی ہے  یقین کسی پر بھی ایک سے  زیادہ نہیں، ممکن ہے  باپ سے  زیادہ بیٹا کام آئے  اور نفع پہنچائے  اور ممکن ہے  بیٹے  سے  زیادہ باپ سے  نفع پہنچے  اور وہ کام آئے، پھر فرماتا ہے  یہ مقررہ حصے  اور میراث کے  یہ احکام اللہ کی طرف سے  فرض ہیں  اس میں کسی کمی پیشی کی کسی امید یا کسی خوف سے  گنجائش نہیں  نہ کسی کو محروم کر دینا لائق سے  نہ کسی کو زیادہ دلوا دینا، اللہ تعالیٰ علیم و حکیم ہے  جو جس کا مستحق ہے  اسے  اتنا دلواتا ہے  ہر چیز کی جگہ کو وہ بخوبی جانتا ہے  تمہارے  نفع نقصان کا اسے  پورا علم ہے  اس کا کوئی کام اور کوئی حکم حکمت سے  خالی نہیں  تمہیں  چاہئے  کہ اس کے  احکام اس کے  فرمان مانتے  چلے  جاؤ۔

۱۲

وراثت کی مزید تفصیلات

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے  کہ اے  مرد و تمہاری عورتیں جو چھوڑ کر مریں اگر ان کی اولاد نہ ہو تو اس میں سے  آدھوں آدھ حصہ تمہارا ہے  اور اگر ان کے  بال بچے  ہوں تو تمہیں  چوتھائی ملے  گا، وصیت اور قرض کے  بعد۔ ترتیب اس طرح ہے  پہلے  قرض ادا کیا جائے  پھر وصیت پوری کی جائے  پھر ورثہ تقسیم ہو، یہ ایسا مسئلہ ہے  جس پر تمام علماء امت کا اجماع ہے، پوتے  بھی اس مسئلہ میں حکم میں بیٹیوں کی ہی طرح ہیں  بلکہ ان کی اولاد در اولاد کا بھی یہی حکم ہے  کہ ان کی موجودگی میں خاوند کو چوتھائی ملے  گا۔ پھر عورتوں کو حصہ بتایا کہ انہیں  یا چوتھائی ملے  گا یا آٹھواں حصہ چوتھائی تو اس حالت میں کہ مرنے  والے  خاوند کی اولاد نہ ہو، اور آٹھواں حصہ اس حالت میں کہ اولاد ہو، اس چوتھائی یا آٹھویں حصے  میں مرنے  والے  کی سب بیویاں شامل ہیں  چار ہوں تو ان میں یہ حصہ برابر برابر تقسیم ہو جائے  گا تین یا دو ہوں تب بھی اور اگر ایک ہو تو اسی کا یہ حصہ ہے  آیت (من بعد وصیتہ) کی تفسیر اس سے  پہلی آیت میں گزر چکی ہے ۔ (کلالہ) مشتق ہے  اکلیل سے  اکلیل کہتے  ہیں  اس تاج وغیرہ کو جو سر کو ہر طرف سے  گھیر لے، یہاں مراد یہ ہے  کہ اس کے  وارث ارد گرد حاشیہ کے  لوگ ہیں  اصل اور فرع یعنی جڑیا شاخ نہیں، صرف ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے  کلالہ کا معنی پوچھا جاتا ہے  تو آپ فرماتے  ہیں  میں اپنی رائے  سے  جواب دیتا ہوں اگر ٹھیک ہو تو اللہ کی طرف سے  ہے  اور اگر غلط ہو تو میری اور شیطان کی طرف سے  ہے  اور اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ و سلم اس سے  بری الذمہ ہیں، کلالہ وہ ہے  جس کا نہ لڑکا ہو نہ باپ، حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ جب خلیفہ ہوئے  تو آپ نے  بھی اس سے  موافقت کی اور فرمایا مجھے  ابوبکر کی رائے  سے  خلاف کرتے  ہوئے  شرم آتی ہے  (ابن جریر وغیرہ) ابن عباس فرماتے  ہیں  حضرت صلی اللہ علیہ و سلم کا سب سے  آخری زمانہ پانے  والا میں ہوں میں نے  آپ صلی اللہ علیہ و سلم سے  سنا فرماتے  تھے  بات وہی ہے  جو میں نے  کہی ٹھیک اور درست یہی ہے  کہ کلالہ اسے  کہتے  ہیں  جس کا نہ ولد ہو والد، حضرت علی، ابن مسعود، ابن عباس، زید بن ثابت رضوان اللہ علیہم اجمعین، شعبی، نخعی، حسن، قتادہ، جابر بن زید، حکم رحمۃ اللہ علیہم اجمعین بھی یہی فرماتے  ہیں، اہل مدینہ اہل کوفہ اہل بصرہ کا بھی یہی قول ہے  ساتوں فقہاء چاروں امام اور جمہور سلف و خلف بلکہ تمام یہی فرماتے  ہیں، بہت سے  بزرگوں نے  اس پر اجماع نقل کیا ہے  اور ایک مرفوع حدیث میں بھی یہی آیا ہے، ابن لباب فرماتے  ہیں  کہ حضرت ابن عباس سے  یہ بھی مروی ہے  کہ کلالہ وہ ہے  جس کی اولاد نہ ہو لیکن صحیح قول پہلا ہی ہے  اور ممکن ہے  کہ راوی نے  مراد سمجھی ہی نہ ہو پھر فرمایا کہ اس کا بھائی یا بہن ہو یعنی ماں زاد، جیسے  کہ سعد بن وقاص وغیرہ بعض سلف کی قرات ہے، حضرت صدیق وغیرہ سے  بھی یہی تفسیر مروی ہے  تو ان میں سے  ہر ایک کے  لئے  چھٹا حصہ ہے  اگر زیادہ ہوں تو ایک ثلث میں سب شریک ہیں، ماں زاد بھائی باقی وارثوں سے  کئی وجہ سے  مختلف ہیں، ایک تو یہ کہ یہ باوجود اپنے  ورثے  کے  دلانے  والے  کے  بھی وارث ہوتے  ہیں  مثلاً ماں دوسرے  یہ کہ ان کے  مرد و عورت یعنی بہن بھائی میراث میں برابر ہیں  تیسرے  یہ کہ یہ اسی وقت وارث ہوتے  ہیں  جبکہ میت کلالہ ہو پس باپ دادا کی یعنی پوتے  کی موجودگی میں یہ وارث نہیں  ہوتے، چوتھے  یہ کہ انہیں  ثلث سے  زیادہ نہیں  ملتا تو گو یہ کتنے  ہی ہوں مرد ہوں یا عورت، حضرت عمر کا فیصلہ ہے  کہ ماں زاد بہن بھائی کا ورثہ آپس میں اس طرح بٹے  گا کہ مرد کے  لئے  دوہرا اور عورت کے  لئے  اکہرا، حضرت زہری فرماتے  ہیں  حضرت عمر ایسا فیصلہ نہیں  کر سکتے  تاوقتیکہ انہوں نے  حضور صلی اللہ علیہ و سلم سے  یہ سنا ہو، آیت میں اتنا تو صاف ہے  کہ اگر اس سے  زیادہ ہوں تو ثلث میں شریک ہیں، اس صورت میں علماء کا اختلاف ہے  کہ اگر میت کے  وارثوں میں خاوند ہو اور ماں ہو یا دادی ہو اور دو ماں زاد بھائی ہوں اور ایک یا ایک سے  زیادہ باپ کی طرف سے  بھائی ہوں تو جمہور تو کہتے  ہیں  کہ اس صورت میں خاوند کو آدھا ملے  گا اور ماں یا دادی کو چھٹا حصہ ملے  گا اور ماں زاد بھائی کو تہائی ملے  گا اور اسی میں سگے  بھائی بھی شامل ہوں گے  قدر مشترک کے  طور پر جو ماں زاد بھائی ہے، امیر المومنین حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے  زمانہ میں ایک ایسی ہی صورت پیش آئی تھی تو آپ نے  خاوند کو آدھا دلوایا اور ثلث ماں زاد بھائیوں کو دلوایا تو سگے  بھائیوں نے  بھی اپنے  تئیں پیش کیا آپ نے  فرمایا تم ان کے  ساتھ شریک ہو، حضرت عثمان سے  بھی اسی طرح شریک کر دینا مروی ہے، اور دو روایتوں میں سے  ایک روایت ایسی ہے  ابن مسعود اور زید بن ثابت اور ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہم سے  بھی مروی ہے، حضرت سعید بن مسیب، قاضی شریح، مسروق، طاؤس، محمد بن سیرین، ابراہیم نخعی، عمر بن عبدالعزیز، ثوری اور شریک رحہم اللہ کا قول بھی یہی ہے، امام مالک اور امام شافعی اور امام اسحق بن راھویہ بھی اسی طرف گئے  ہیں، ہاں حضرت علی بن ابو طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس میں شرکت کے  قائل نہ تھے  بلکہ آپ اولاد ام کو اس حالت میں ثلث دلواتے  تھے  اور ایک ماں باپ کی اولاد کو کچھ نہیں  دلاتے  تھے  اس لئے  کہ یہ عصبہ ہیں  اور عصبہ اس وقت پاتے  ہیں  جب ذوی الفرض سے  بچ جائے، بلکہ وکیع بن جراح کہتے  ہیں  حضرت علی سے  اس کے  خلاف مروی ہی نہیں، حضرت ابی بن کعب حضرت ابو موسیٰ اشعری کا قول بھی یہی ہے، ابن عباس سے  بھی مشہور یہی ہے، شعبی، ابن ابی لیلی، ابو حنیفہ، ابو یوسف، محمد بن حسن، حسن بن زیادہ، زفر بن ہذیل، امام احمد، یحییٰ بن آدم، نعیم بن حماد، ابو ثور، داؤد ظاہری بھی اسی طرف گئے  ہیں  ابوالحسن بن لبان فرضی نے  بھی اسی کو اختیار کیا ہے، ملاحظہ ہو ان کی کتاب الایجاز پھر فرمایا یہ وصیت کے  جاری کرنے  کے  بعد ہے، وصیت ایسی ہو جس میں خلاف عدل نہ ہو کسی کو ضرر اور نقصان نہ پہنچایا گیا ہو نہ کسی پر جبر و ظلم کیا گیا ہو، کسی وارث کا نہ ورثہ مارا گیا ہو نہ کم و بیش کیا گیا ہو، اس کے  خلاف وصیت کرنے  والا اور ایسی خلاف شرع وصیت میں کوشش کرنے  والا اللہ کے  حکم اور اس کی شریعت میں اس کے  خلاف کرنے  والا اور اس سے  لڑنے  والا ہے  رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم فرماتے  ہیں  وصیت میں کسی کو ضرر و نقصان پہنچانا کبیرہ گناہ ہے  (ابن ابی حاتم) نسائی میں حضرت ابن عباس کا قول بھی اسی طرح مروی ہے  بعض روایتوں میں حضرت ابن عباس سے  اس فرمان کے  بعد آیت کے  اس ٹکڑے  کی تلاوت کرنا بھی مروی ہے، امام ابن جریر کے  قول کی مطابق ٹھیک بات یہی ہے  کہ یہ مرفوع حدیث نہیں  موقوف قول ہے، ائمہ کرام کا اس میں اختلاف ہے  کہ وارث کے  لئے  جو اقرار میت کر جائے  آیا وہ صحیح ہے  یا نہیں ؟ بعض کہتے  ہیں  صحیح نہیں  ہے  اس لئے  کہ اس میں تہمت لگنے  کی گنجائش ہے، حدیث شریف میں بہ سند صحیح آ چکا ہے  کہ اللہ تعالیٰ نے  ہر حقدار کو اس کا حق پہنچا دیا ہے  اب وارث کے  لئے  کوئی وصیت نہیں، مالک احمد بن حنبل ابو حنیفہ کا قول یہی ہے، شافعی کا بھی پہلا قول یہی تھا لیکن آخری قول یہ ہے  کہ اقرار کرنا صحیح مانا جائے  گا طاؤس حسن عمر بن عبدالعزیز کا قول بھی یہی ہے، حضرت امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ بھی اسی کو پسند کرتے  ہیں  اور اپنی کتاب صحیح بخاری شریف میں اسی کو ترجیح دیتے  ہیں، ان کی دلیل ایک یہ روایت بھی ہے  کہ حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے  وصیت کی کہ فزاریہ نے  جس چیز پر اپنے  دروازے  بند کر رکھے  ہوں وہ نہ کھولے  جائیں، حضرت امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے  پھر فرمایا ہے  کہ بعض لوگ کہتے  ہیں  بہ سبب وارثوں کے  ساتھ بدگمانی کے  اسکا یہ اقرار جائز نہیں، لیکن میں کہتا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے  تو فرمایا ہے  بدگمانی سے  بچو بدگمانی تو سب سے  زیادہ جھوٹ ہے، قرآن کریم میں فرمان اللہ موجود ہے  کہ اللہ تعالیٰ تمہیں  حکم دیتا ہے  کہ جس کی جو امانت ہو وہ پہنچا دو، اس وارث اور غیر وارث کی کوئی تخصیص نہیں، یہ یاد رہے  کہ یہ اختلاف اس وقت ہے  جب اقرار فی الواقع صحیح ہو اور نفس الامر کے  مطابق ہو اور اگر صرف حیلہ سازی ہو اور بعض وارثوں کو زیادہ دینے  اور بعض کو کم پہنچانے  کے  لئے  ایک بہانہ بنا لیا ہو تو بالاجماع اسے  پورا کرنا حرام ہے  اور اس آیت کے  صاف الفاظ بھی اس کی حرمت کا فتویٰ دیتے  ہیں  (اقرار فی الواقع صحیح ہونے  کی صورت میں اس کا پورا کرنا ضروری ہے  جیسا کہ دوسری جماعت کا قول ہے  اور جیسا کہ حضرت امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کا مذہب ہے ۔ مترجم) پھر فرمایا یہ اللہ عزوجل احکام ہیں  اللہ عظیم و اعلیٰ علم و حلم والا ہے ۔

۱۳

نا فرمانوں کا حشر

اور جو شخص اللہ تعالیٰ کی اور اس کے  رسول صلی اللہ علیہ و سلم کی نافرمانی کرے  اور اس کی مقرر کی ہوئی حدوں سے  آگے  نکل جائے  اسے  وہ جہنم میں ڈال دے  گا جس میں ہمیشہ رہے  گا ایسوں کے  لئے  اہانت کرنے  والا عذاب ہے، یعنی یہ فرائض اور یہ مقدار جسے  اللہ تعالیٰ نے  مقرر کیا ہے  اور میت کے  وارثوں کو ان کی قرابت کی نزدیگی اور ان کی حاجت کے  مطابق جتنا جسے  دلوایا ہے  یہ سب اللہ ذوالکرم کی حدود ہیں  تم ان حدوں کو نہ توڑو نہ اس سے  آگے  بڑھو۔ جو شخص اللہ عزوجل کے  ان احکام کو مان لے، کوئی حیلہ حو آلہ کر کے  کسی وارث کو کم بیش دلوانے  کی کوشش نہ کرے  حکم الہ اور فریضہ الہ جوں کا توں بجا لائے  اللہ کا وعدہ ہے  کہ وہ اسے  ہمیشہ لینے  والی نہروں کی جنت میں داخل کرے  گا، یہ کامیاب نصیب ور اور مقصد کو پہنچنے  والا اور مراد کو پانے  والا ہو گا، اور جو اللہ کے  کسی حکم کو بدل دے  کسی وارث کے  ورثے  کو کم و بیش کر دے  رضائے  الٰہی کو پیش نظر نہ رکھے  بلکہ اس کے  حکم کو رد کر دے  اور اس کے  خلاف عمل کرے  وہ اللہ کی تقسیم کو اچھی نظر سے  نہیں  دیکھتا اور اس کے  حکم کو عدل نہیں  سمجھتا تو ایسا شخص ہمیشہ رہنے  والی رسوائی اور اہانت والے  درد ناک اور ہیبت ناک عذابوں میں مبتلا رہے  گا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم فرماتے  ہیں  کہ ایک شخص ستر سال تک نیکی کے  عمل کرتا رہتا ہے  پھر وصیت کے  وقت ظلم و ستم کرتا ہے  اس کا خاتمہ برے  عمل پر ہوتا ہے  اور وہ جہنمی بن جاتا ہے  اور ایک شخص برائی کا عمل ستر سال تک کرتا رہتا ہے  پھر اپنی وصیت میں عدل کرتا ہے  اور خاتمہ اس کا بہتر ہو جاتا ہے  تو جنت میں داخل جاتا ہے، پھر اس حدیث کے  راوی حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے  ہیں  اس آیت کو پڑھو آیت (تلک حدود اللہ) سے  عذاب (مہین) تک۔ سنن ابی داؤد کے  باب الاضرار فی الوصیۃ میں ہے  رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم فرماتے  ہیں  کہ ایک مرد یا عورت اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں ساٹھ سال تک لگے  رہے  ہیں  پھر موت کے  وقت وصیت میں کوئی کمی بیشی کر جاتے  ہیں  تو ان کے  لئے  جہنم واجب ہو جاتی ہے  پھر حضرت ابوہریرہ نے  آیت (من بعد وصیتہ) سے  آخر آیت تک پڑھی ترمذی اور ابن ماجہ میں بھی یہ حدیث ہے، امام ترمذی اسے  غریب کہتے  ہیں، مسند احمد میں یہ حدیث تمام و کمال کے  ساتھ موجود ہے ۔

۱۵

سیاہ کار عورت اور اس کی سزا

ابتدائے  اسلام میں یہ حکم تھا کہ جب عادل گواہوں کی سچی گواہی سے  کسی عورت کی سیاہ کاری ثابت ہو جائے  تو اسے  گھر سے  باہر نہ نکلنے  دیا جائے  گھر میں ہی قید کر دیا جائے  اور جنم قید یعنی موت سے  پہلے  اسے  چھوڑا نہ جائے، اس فیصلہ کے  بعد یہ اور بات ہے  کہ اللہ ان کے  لئے  کوئی اور راستہ پیدا کر دے، پھر جب دوسری صورت کی سزا تجویز ہوئی تو وہ منسوخ ہو گئی اور یہ حکم بھی منسوخ ہوا، حضرت ابن عباس فرماتے  ہیں  جب تک سورۃ نور کی آیت نہیں  اتری تھی زنا کار عورت کے  لئے  یہی حکم رہا پھر اس آیت میں شادی شدہ کو رجم کرنے  یعنی پتھر مار مار کر مار ڈالنے  اور بے  شادی شدہ کو کوڑے  مارنے  کا حکم اترا، حضرت عکرمہ، حضرت سعید بن جبیر، حضرت حسن، حضرت عطاء خرسانی ٫ حضرت ابو صالح، حضرت قتادہ، حضرت زید بن اسلم اور حضرت ضحاک کا بھی یہی قول ہے  کہ یہ آیت منسوخ ہے  اور اس پر سب کا اتفاق ہے، حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے  ہیں  کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم پر جب وحی اترتی تو آپ پر اس کا بڑا اثر ہوتا اور تکلیف محسوس ہوتی اور چہرے  کا رنگ بدل جاتا پس اللہ تعالیٰ نے  ایک دن اپنے  نبی پر وحی نازل فرمائی کیفیت وحی سے  نکلے  تو آپ نے  فرمایا مجھ سے  حکم الٰہی لو اللہ تعالیٰ نے  سیاہ کار عورتوں کے  لئے  راستہ نکال دیا ہے  اگر شادی شدہ عورت یا شادی شدہ مرد سے  اس جرم کا ارتکاب ہو تو ایک سو کوڑے  اور پتھروں سے  مار ڈالنا اور غیر شادی شدہ ہوں تو ایک سو کوڑے  اور ایک سال کی جلا وطنی (مسلم وغیرہ) ترمذی وغیرہ میں بھی یہ حدیث الفاظ کچھ تبدیلی کے  ساتھ سے  مروی ہے، امام ترمذی اسے  حسن صحیح کہتے  ہیں، اسی طرح ابو داؤد میں بھی، ابن مردویہ کی غریبف حدیث میں کنوارے  اور بیاہے  ہوئے  کے  حکم کے  ساتھ ہی یہ بھی ہے  کہ دونوں اگر بوڑھے  ہوں تو انہیں  رجم کر دیا جائے  لیکن یہ حدیث غریب ہے، طبرانی میں ہے  حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے  فرمایا سورۃ نساء کے  اترنے  کے  بعد اب روک رکھنے  کا یعنی عورتوں کو گھروں میں قاید رکھنے  کا حکم نہیں  رہا، امام احمد کا مذہب اس حدیث کے  مطابق یہی ہے  کہ زانی شادی شدہ کو کوڑے  بھی لگائے  جائیں گے  اور رجم بھی کیا جائے  گا اور جمہور کہتے  ہیں  کوڑے  نہیں  لگیں گے  صرف رجم کیا جائے  گا اس لئے  کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے  حضرت ماعز رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اور غامدیہ عورت کو رجم کیا لیکن کوڑے  نہیں  مارے، اسی طرح دو یہودیوں کو بھی آپ نے  رجم کا حکم دیا اور رجم سے  پہلے  بھی انہیں  کوڑے  نہیں  لگوائے، پھر جمہور کے  اس قول کے  مطابق معلوم ہوا کہ انہیں  کوڑے  لگانے  کا حکم منسوخ ہے  واللہ اعلم۔ پھر فرمایا اس بے  حیائی کے  کام کو دو مرد اگر آپس میں کریں انہیں  ایذاء پہنچاؤ یعنی برا بھلا کہہ کر شرم و غیرہ دلا کر جوتیاں لگا کر، یہ حکم بھی اسی طرح پر رہا یہاں تک کہ اسے  بھی اللہ تعالیٰ نے  کوڑے  اور رجم سے  منسوخ فرمایا، حضرت عکرمہ عطاء حسن عبد اللہ بن کثیر فرماتے  ہیں  اس سے  مراد بھی مرد و عورت ہیں، سدی فرماتے  ہیں  مراد وہ نوجوان مرد ہیں  جو شادی شدہ نہ ہوں حضرت مجاہد فرماتے  ہیں  لواطت کے  بارے  میں یہ آیت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم فرماتے  ہیں  جسے  تم لوطی فعل کرتے  دیکھو تو فاعل مفعول دونوں کو قتل کر ڈالو، ہاں اگر یہ دونوں باز آجائیں اپنی بدکاری سے  توبہ کریں اپنے  اعمال کی اصلاح کر لیں اور ٹھیک ٹھاک ہو جائیں تو اب انکے  ساتھ درشت کلامی اور سختی سے  پیش نہ آؤ، اس لئے  کہ گناہ سے  توبہ کر لینے  والا مثل گناہ نہ کرنے  والے  کے  ہے ۔ اللہ تعالیٰ توبہ قبول کرنے  والا اور درگزر کرنے  والا ہے، بخاری و مسلم میں ہے  رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم فرماتے  ہیں  اگر کسی کی لونڈی بدکاری کرے  تو اس کا مالک اسے  حد لگا دے  اور ڈانٹ ڈپٹ نہ کرے، یعنی حد لگ جانے  کے  بعد پھر اسے  عار نہ دلایا کرے  کیونکہ حد کفارہ ہے ۔

۱۷

عالم نزع سے  پہلے  توبہ؟

مطلب یہ ہے  کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ اپنے  ان بندوں کی توبہ قبول فرماتا ہے  جو ناواقفیت کی وجہ سے  کوئی برا کام کر بیٹھیں پھر توبہ کر لیں گو یہ توبہ فرشتہ موت کو دیکھ لینے  کے  بعد عالم نزع سے  پہلے  ہو، حضرت مجاہد وغیرہ فرماتے  ہیں  جو بھی قصداً یا غلطی سے  اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرے  وہ جاہل ہے  جب تک کہ اس سے  باز نہ آ جائے ۔ ابو العالیہ فرماتے  ہیں  صحابہ کرام فرمایا کرتے  تھے  کہ بندہ جو گناہ کرے  وہ جہالت ہے، حضرت قتادہ بھی صحابہ کے  مجمع سے  اس طرح کی روایت کرتے  ہیں  عطاء اور حضرت ابن عباس سے  بھی اسی طرح مروی ہے ۔ توبہ جلدی کر لینے  کی تفسیر میں منقول ہے  کہ ملک الموت کو دیکھ لینے  سے  پہلے، عالم سکرات کے  قریب مراد ہے، اپنی صحت میں توبہ کر لینی چاہئے، غر غرے  کے  وقت سے  پہلے  کی توبہ قبول ہے، حضرت عکرمہ فرماتے  ہیں  ساری دنیا قریب ہی ہے، اس کے  متعلق حدیثیں سنئے  رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم فرماتے  ہیں  کہ اللہ تعالیٰ اپنے  بندوں کی توبہ قبول فرماتا ہے  جب تک سانسوں کا ٹوٹنا شروع نہ ہو، (ترمذی) جو بھی مومن بندہ اپنی موت سے  مہینہ بھر پہلے  توبہ کر لے  اس کی توبہ اللہ تعالیٰ قبول فرما لیتا ہے  یہاں تک کہ اس کے  بعد بھی بلکہ موت سے  ایک دن پہلے  تک بھی بلکہ ایک سانس پہلے  بھی جو بھی اخلاص اور سچائی کے  ساتھ اپنے  رب کی طرف جھکے  اللہ تعالیٰ اسے  قبول فرماتا ہے، حضرت عبد اللہ بن عمرو فرماتے  ہیں  جو اپنی موت سے  ایک سال پہلے  توبہ کرے  اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول فرماتا ہے  اور جو مہینہ بھر پہلے  توبہ کرے  اللہ تعالیٰ اس کی توبہ بھی قبول فرماتا ہے  اور جو ہفتہ بھر پہلے  توبہ کرے  اللہ تعالیٰ اس کی توبہ بھی قبول فرماتا ہے  اور جو ایک دن پہلے  توبہ کرے  اللہ تعالیٰ اس کی توبہ بھی قبول فرماتا ہے، یہ سن کر حضرت ایوب نے  یہ آیت پڑھی تو آپ نے  فرمایا وہی کہتا ہوں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے  سنا ہے، مسند احمد میں ہے  کہ چار صحابی جمع ہوئے  ان میں سے  ایک نے  کہا میں نے  رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے  سنا ہے  جو شخص اپنی موت سے  ایک دن پہلے  بھی توبہ کر لے  اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول فرماتا ہے، دوسرے  نے  پوچھا کیا سچ مچ تم نے  حضور صلی اللہ علیہ و سلم سے  ایسے  ہی سنا ہے ؟ اس نے  کہا ہاں تو دوسرے  نے  کہا تم نے  یہ سنا ہے ؟ اس نے  کہا ہاں، اس نے  کہا میں نے  تو حضور صلی اللہ علیہ و سلم سے  یہاں تک سنا ہے  کہ جب تک اس کے  نرخرے  میں روح نہ آ جائے  توبہ کے  دروازے  اس کے  لئے  بھی کھلے  رہتے  ہیں، ابن مردویہ میں مروی ہے  کہ جب تک جان نکلتے  ہوئے  گلے  سے  نکلنے  والی آواز شروع نہ ہو تب تک توبہ قبول ہے، کئی ایک مرسل احادیث میں بھی یہ مضمون ہے، حضرت ابو قلابہ فرماتے  ہیں  کہ اللہ تعالیٰ نے  جب ابلیس پر لعنت نازل فرمائی تو اس نے  مہلت طلب کی اور کہا تیری عزت اور تیرے  جلال کی قسم کہ ابن آدم کے  جسم میں جب تک روح رہے  گی میں اس کے  دل سے  نہ نکلوں گا، اللہ تعالیٰ عزوجل نے  فرمایا مجھے  اپنی عزت اور اپنے  جلال کی قسم کہ میں بھی جب تک اس میں روح رہے  گی اس کی توبہ قبول کروں گا، ایک مرفوع حدیث میں بھی اس کے  قریب قریب مروی ہے  پس ان تمام احادیث سے  معلوم ہوتا ہے  کہ جب تک بندہ زندہ ہے  اور اسے  اپنی حیاتی کی امید ہے  تب تک وہ اللہ تعالیٰ کی طرف جھکے  توبہ کرے  تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول فرماتا ہے  اور اس پر رجوع کرتا ہے  اللہ تعالیٰ اس علیم و حکیم ہے، ہاں جب زندگی سے  مایوس ہو جائے  فرشتوں کو دیکھ لے  اور روح بدن سے  نکل کر حلق تک پہنچ جائے  سینے  میں گھٹن لگے  حلق میں اٹکے  سانسوں سے  غرغرہ شروع ہو تو اس کی توبہ قبول نہیں  ہوتی۔ اسی لئے  اس کے  بعد فرمایا کہ مرتے  دم تک جو گناہوں پر اڑا رہے  اور موت دیکھ کر کہنے  لگے  کہ اب میں توبہ کرتا ہوں تو ایسے  شخص کی توبہ قبول نہیں  ہوتی، جیسے  اور جگہ ہے  آیت (فلما راوا باسنا قالوا امنا باللہ وحدہ) (دو آیتوں تک) مطلب یہ ہے  کہ ہمارے  عذابوں کا معائنہ کر لینے  کے  بعد ایمان کا اقرار کرنا کوئی نفع نہیں  دیتا اور جگہ ہے  آیت (یوم یاتی بعض ایات ربک) الخ، مطلب یہ ہے  کہ جب مخلوق سورج کو مغرب کی طرف سے  چڑھتے  ہوئے  دیکھ لے  گی اس وقت جو ایمان لائے  یا نیک عمل کرے  اسے  نہ اس کا عمل نفع دے  گا نہ اس کا ایمان ۔ پھر فرماتا ہے  کہ کفر و شرک پر مرنے  والے  کو بھی ندامت و توبہ کوئی فائدہ نہ دے  گی نہ ہی اس فدیہ اور بدلہ قبول کیا جائے  گا چاہے  زمین بھر کر سونا دینا چاہئے  حضرت ابن عباس وغیرہ فرماتے  ہیں  یہ آیت اہل شرک کے  بارے  میں نازل ہوئی ہے، مسند احمد میں ہے  رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم فرماتے  ہیں  اللہ تعالیٰ اپنے  بندیکی توبہ قبول کرتا ہے  اور اسے  بخش دیتا ہے  جب تک پردہ نہ پڑ جائے  پوچھا گیا پردہ پڑنے  سے  کیا مطلب ہے ؟ فرمایا شرک کی حالت میں جان نکل جانا۔ ایسے  لوگوں کے  لئے  اللہ تعالیٰ نے  سخت درد ناک المناک ہمیشہ رہنے  والے  عذاب تیار کر رکھے  ہیں ۔

۱۹

عورت پر ظلم کا خاتمہ

صحیح بخاری میں ہے  حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے  ہیں  کہ قبل اسلام جب کوئی شخص مر جاتا ہے  تو اس کے  وارث اس کی عورت کے  پورے  حقدار سمجھے  جاتے  اگر ان میں سے  کوئی چاہتا تو اپنے  نکاح میں لے  لیتا اگر وہ چاہتے  تو دوسرے  کسی کے  نکاح میں دے  دیتے  اگر چاہتے  تو نکاح ہی نہ کرنے  دیتے  میکے  والوں سے  زیادہ اس عورت کے  حقدار سسرال والے  ہی گنے  جاتے  تھے  جاہلیت کی اس رسم کے  خلاف یہ آیت نازل ہوئی، دوسری روایت میں یہ بھی آیا ہے  کہ وہ لوگ اس عورت کو مجبور کرتے  کہ وہ مہر کے  حق سے  دست بردار ہو جائے  یا یونہی بے  نکاحی بیٹھی رہے، یہ بھی مروی ہے  کہ اس عورت کا خاوند مرتے  ہی کوئی بھی آ کر اس پر اپنا کپڑا ڈال دیتا اور وہی اس کا مختار سمجھا جاتا، تو روایت میں ہے  کہ یہ کپڑا ڈالنے  والا اسے  حسین پاتا تو اپنے  نکاح میں لے  لیتا اگر یہ بدصورت ہوتی تو اسے  یونہی روکے  رکھتا یہاں تک کہ مر جائے  پھر اس کے  مال کا وارث بنتا۔ یہ بھی مروی ہے  کہ مرنے  والے  کا کوئی گہرا دوست کپڑا ڈال دیتا پھر اگر وہ عورت کچھ فدیہ اور بدلہ دے  تو وہ اسے  نکاح کرنے  کی اجازت دیتا ورنہ یونہی مر جاتی حضرت زید بن اسلم فرماتے  ہیں  اہل مدینہ کا یہ دستور تھا کہ وارث اس عورت کے  بھی وارث بن جاتے  غرض یہ لوگ عورتوں کے  ساتھ بڑے  بری طرح پیش آتے  تھے  یہاں تک کہ طلاق دیتے  وقت بھی شرط کر لیتے  تھے  کہ جہاں میں چاہوں تیرا نکاح ہو اس طرح کی قید و بند سے  رہائی پانے  کی پھر یہ صورت ہوتی کہ وہ عورت کچھ دے  کر جان چھڑاتی، اللہ تعالیٰ نے  مومنوں کو اس سے  منع فرما دیا، ابن مردویہ میں ہے  کہ جب ابو قیس بن اسلت کا انتقال ہوا تو ان کے  بیٹے  نے  ان کی بیوی سے  نکاح کرنا چاہا جیسے  کہ جاہلیت میں یہ دستور تھا اس پر یہ آیت نازل ہوئی حضرت عطاء فرماتے  ہیں  کہ کسی بچے  کی سنبھال پر اسے  لگا دیتے  تھے  حضرت مجاہد فرماتے  ہیں  جب کوئی مر جاتا تو اس کا لڑکا اس کی بیوی کا زیادہ حقدار سمجھا جاتا اگر چاہتا خود اپنی سوتیلی ماں سے  نکاح کر لیتا اور اگر چاہتا دوسرے  کے  نکاح میں دے  دیتا مثلاً بھائی کے  بھتیجے  یا جس کو چاہے، حضرت عکرمہ کی روایت میں ہے  کہ ابو قیس کی جس بیوی کا نام کبینہ تھا رضی اللہ عنہا اس نے  اس صورت کی خبر حضور صلی اللہ علیہ و سلم کو دی کہ یہ لوگ نہ مجھے  وارثوں میں شمار کر کے  میرے  خاوند کا ورثہ دیتے  ہیں  نہ مجھے  چھوڑتے  ہیں  کہ میں اور کہیں  اپنا نکاح کر لوں اس پر یہ آیت نازل ہوئی، ایک روایت میں ہے  کہ کپڑا ڈالنے  کی رسم سے  پہلے  ہی اگر کوئی عورت بھاگ کھڑی ہو اور اپنے  میکے  آجائے  تو وہ چھوٹ جاتی تھی، حضرت مجاہد فرماتے  ہیں  جو یتیم بچی ان کی ولایت میں ہوتی اسے  یہ روکے  رکھتے  تھے  اس امید پر کہ جب ہماری بیوی مر جائے  گی ہم اس سے  نکاح کر لیں گے  یا اپنے  لڑکے  سے  اس کا نکاح کرا دیں گے، ان سب اقوال سے  معلوم ہوا کہ ان تمام صورتوں کی اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے  ممانعت کر دی اور عورتوں کی جان اس مصیبت سے  چھڑا دی واللہ اعلم ۔ ارشاد ہے  عورتوں کی بود و باش میں انہیں  تنگ کر کے  تکلیف دے  دے  کر مجبور نہ کرو کہ وہ اپنا سارا مہر چھوڑ دیں یا اس میں سے  کچھ چھوڑ دیں یا اپنے  کسی اور واجبی حق وغیرہ سے  دست بردار ہونے  پر آمادہ ہو جائیں کیونکہ انہیں  ستایا اور مجبور کیا جا رہا ہے، حضرت ابن عباس فرماتے  ہیں  مطلب یہ ہے  کہ عورت ناپسند ہے  دل نہیں  ملا چھوڑ دینا چاہتا ہے  تو اس صورت میں حق مہر کے  علاوہ بھی وغیرہ تمام حقوق دینے  پڑیں گے  اس صورت حال سے  بچنے  کے  لئے  اسے  ستانا یا طرح طرح سے  تنگ کرنا تا کہ وہ خود اپنے  حقوق چھوڑ کر چلے  جانے  پر آمادہ ہو جائے  ایسا رویہ اختیار کرنے  سے  قرآن پاک نے  مسلمانوں کو روک دیا ابن سلمانی فرماتے  ہیں  ان دونوں آیتوں میں سے  پہلے  آیت امر جاہلیت کو ختم کرنے  اور دوسری امر اسلام کی اصلاح کے  لئے  نازل ہوئی، ابن مبارک بھی یہی فرماتے  ہیں ۔ مگر اس صورت میں کہ ان سے  کھلی بے  حیائی کا کام صادر ہو جائے، اس سے  مراد بقول اکثر مفسرین صحابہ تابعین وغیرہ زنا کاری ہے، یعنی اس صورت میں جائز ہے  کہ اس سے  مہر لوٹا لینا چاہئے  اور اسے  تنگ کرے  تا کہ خلع پر رضامند ہو، جیسے  سورۃ بقرہ کی آیت میں ہے  آیت (ولا یحل لکم) الخ، یعنی تمہیں  حلال نہیں  کہ تم انہیں  دیئے  ہوئے  میں سے  کچھ بھی لے  لو مگر اس حالت میں دونوں کو اللہ کی حدیں قائم نہ رکھ سکنے  کا خوف ہو۔ بعض بزرگوں نے  فرمایا ہے  آیت (فاحشۃ مبینتہ) سے  مراد خاوند کے  خلاف کام کرنا اس کی نافرمانی کرنا بد زبانی کج خلقی کرنا حقوق زوجیت اچھی طرح ادا نہ کرنا وغیرہ ہے، امام ابن جریر فرماتے  ہیں  آیت کے  الفاظ عام ہیں  زنا کو اور تمام مذکورہ عوامل بھی شامل ہیں  یعنی ان تمام صورتوں میں خاوند کو مباح ہے  کہ اسے  تنگ کرے  تا کہ وہ اپنا کل حق یا تھوڑا حق چھوڑ دے  اور پھر یہ اسے  الگ کر دے  امام صاحب کا یہ فرمان بہت ہی مناسب ہے  واللہ اعلم، یہ روایت بھی پہلے  گزر چکی ہے  کہ یہاں اس آیت کے  اترنے  کا سبب وہی جاہلیت کی رسم ہے  جس سے  اللہ نے  منع فرما دیا، اس سے  معلوم ہوتا ہے  کہ یہ پورا بیان جاہلیت کی رسم کو اسلام میں سے  خارج کرنے  کے  لئے  ہوا ہے، ابن زید فرماتے  ہیں  مکہ کے  قریش میں یہ رواج تھا کہ کسی شخص نے  کسی شریف عورت سے  نکاح کیا موافقت نہ ہوئی تو اسے  طلاق دے  دی لیکن یہ شرط کر لیتا تھا کہ بغیر اس کی اجازت کے  یہ دوسری جگہ نکاح نہیں  کر سکتی اس بات پر گواہ مقرر ہو جاتے  اور اقرار نامہ لکھ لیا جاتا اب اگر کہیں  سے  پیغام آئے  اور وہ عورت اراضی ہو تو یہ کہتا مجھے  اتنی رقم دے  تو میں تجھے  نکاح کی اجازت دوں گا اگر وہ ادا کر دیتی تو تو خیر ورنہ یوں نہ اسے  قید رکھتا اور دوسرا نکاح نہ کرنے  دیتا اس کی ممانعت اس آیت میں نازل ہوئی، بقول مجاہد رحمۃ اللہ علیہ یہ حکم اور سورۃ بقرہ کی آیت کا حکم دونوں ایک ہی ہیں ۔ پھر فرمایا عورتوں کے  ساتھ خوش سلوکی کا رویہ رکھو ان کے  ساتھ اچھا برتاؤ برتو، نرم بات کہو نیک سلوک کرو اپنی حالت بھی اپنی طاقت کے  مطابق اچھی رکھو، جیسے  تم چاہتے  ہو کہ وہ تمہارے  لئے  بنی سنوری ہوئی اچھی حالت میں رہے  تم خود اپنی حالت بھی اچھی رکھو جیسے  اور جگہ فرمایا آیت (ولہن مثل الذی علیہن بالمعروف یع) نی جیسے  تمہارے  حقوق ان پر ہیں  ان کے  حقوق بھی تم پر ہیں ۔

بہترین زوج محترم

رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم فرماتے  ہیں  تم سب سے  بہتر شخص وہ ہے  جو اپنی گھر والی کے  ساتھ بہتر سے  بہتر شخص وہ ہے  جو اپنی گھر والی کے  ساتھ بہتر سے  بہتر سلوک کرنے  والا ہو میں اپنی بیویوں سے  بہت اچھا رویہ رکھتا ہوں، نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم اپنی بیویوں کے  ساتھ بہت لطف و خوشی بہت نرم اخلاقی اور خندہ پیشانی سے  پیش آتے  تھے، انہیں  خوش رکھتے  تھے  ان سے  ہنسی دل لگی کی باتیں کیا کرتے  تھے، ان کے  دل اپنی مٹھی میں رکھتے  تھے، انہیں  اچھی طرح کھانے  پینے  کو دیتے  تھے  کشادہ دلی کے  ساتھ ان پر خرچ کرتے  تھے  ایسی خوش طبعی کی باتیں بیان فرماتے  جن سے  وہ ہنس دیتیں، ایسا بھی ہوا ہے  کہ حضرت عائشہ صدیقہ کے  ساتھ آپ نے  دوڑ لگائی اس دوڑ میں عائشہ صدیقہ آگے  نکل گئیں کچھ مدت بعد پھر دوڑ لگی اب کے  حضرت عائشہ پیچھے  رہ گئیں تو آپ نے  فرمایا معاملہ برابر ہو گیا، اس سے  بھی آپ کا مطلب یہ تھا کہ حضرت صدیقہ خوش رہیں  ان کا دل بہلے  جس بیوی صاحبہ کے  ہاں آپ کو رات گزارنی ہوتی وہیں  آپ کی کل بیویاں جمع ہو جاتیں دو گھڑی بیٹھتیں بات چیت ہوتی کبھی ایسا بھی ہوتا کہ ان سب کے  ساتھ ہی حضور صلی اللہ علیہ و سلم رات کا کھانا تناول فرماتے  پھر سب اپنے  اپنے  گھر چلی جاتیں اور آپ وہیں  آرام فرماتے  جن کی باری ہوتی، اپنی بیوی صاحبہ کے  ساتھ ایک ہی چادر میں سوتے  کرتا نکال ڈالتے  صرف تہبند بندھا ہوا ہوتا عشاء کی نماز کے  بعد گھر جا کر دو گھڑی ادھر ادھر کی کچھ باتیں کرتے  جس سے  گھر والیوں کا جی خوش ہوتا الغرض نہایت ہی محبت پیار کے  ساتھ اپنی بیویوں کو آپ رکھتے  تھے ۔

پس مسلمانوں کو بھی چاہئے  کہ اپنی بیویوں کے  ساتھ اچھی طرح راضی خوشی محبت پیار سے  رہیں، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے  فرماں برداری کا دوسرا نام اچھائی ہے، اس کے  تفصیلی احکام کی جگہ تفسیر نہیں  بلکہ اسی مضمون کی کتابیں ہیں  والحمد للہ پھر فرماتا ہے  کہ باوجود جی نہ چاہنے  کے  بھی عورتوں سے  اچھی بود و باش رکھنے  میں بہت ممکن ہے  کہ اللہ تعالیٰ بہت بڑی بھلائی عطا فرمائے، ممکن ہے  نیک اولاد ہو جائے  اور اس سے  اللہ تعالیٰ بہت سی بھلائیاں نصیب کرے، صحیح حدیث میں ہے  مومن مرد مومنہ عورت کو الگ نہ کرے  اگر اس کی ایک آدھ بات سے  ناراض ہو گا تو ایک آدھ خصلت اچھی بھی ہو گی۔ پھر فرماتا ہے  کہ جب تم میں سے  کوئی اپنی بیوی کو طلاق دینا چاہے  اور اس کی جگہ دوسری عورت سے  نکاح کرنا چاہے  تو اسے  دئے  ہوئے  مہر میں سے  کچھ بھی واپس نہ لے  چاہے  خزانہ کا خزانہ دیا ہوا ہو۔

حق مہر کے  مسائل

سورۂ آل عمران کی تفسیر میں قنطار کا پورا بیان گزر چکا ہے  اس لئے  یہاں دوبارہ بیان کرنے  کی ضرورت نہیں، اس سے  ثابت ہوتا ہے  کہ مہر میں بہت سارا مال دینا بھی جائز ہے، امیر المومنین حضرت عمر فاروق نے  پہلے  بہت لمبے  چوڑے  مہر سے  منع فرما دیا تھا پھر اپنے  قول سے  رجوع کیا، جیسے  کہ مسند احمد میں ہے  کہ آپ نے  فرمایا عورتوں کے  مہر باندھنے  میں زیادتی نہ کرو اگر یہ دنیوی طور پر کوئی بھی چیز ہوتی یا اللہ کے  نزدیک یہ تقوی کی چیز ہوتی تو تم سب سے  پہلے  اس پر اللہ کے  رسول صلی اللہ علیہ و سلم عمل کرتے  حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے  اپنی کسی بیوی کا یا کسی بیٹی کا مہر بارہ اوقیہ سے  زیادہ مقرر نہیں  کیا (تقریباً سوا سو روپیہ) انسان زیادہ مہر باندھ کر پھر مصیبت میں پڑ جاتا ہے  یہاں تک کہ رفتہ رفتہ اس کی بیوی اسے  بوجھ معلوم ہونے  لگتی ہے  اور اس کے  دل میں اس کی دشمنی بیٹھ جاتی ہے  اور کہنے  لگتا ہے  کہ تو نے  تو میرے  کندھے  پر مشک لٹکا دی، یہ حدیث بہت سی کتابوں میں مختلف الفاظ سے  مروی ہے  ایک میں ہے  کہ آپ نے  ممبر نبوی پر کھڑے  ہو کر فرمایا لوگو تم نے  کیوں لمبے  چوڑے  مہر باندھنے  شروع کر دئے  ہیں ؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم اور آپ کے  زمانہ کے  آپ کے  اصحاب نے  تو چار سو درہم (تقریباً سو روپیہ) مہر باندھا ہے  اگر یہ تقویٰ اور کرامت کے  زاد ہونے  کا سبب ہوتا تو تم زیادہ حق مہر ادا کرنے  میں بھی ان پر سبقت نہیں  لے  سکتے  تھے  خبردار آج سے  میں نہ سنوں کہ کسی نے  چار سو درہم سے  زیادہ کا مہر مقرر کیا یہ فرما کر آپ نیچے  اتر آئے  تو ایک قریشی خاتون سامنے  آئیں اور کہنے  لگیں امیر المومنین کیا آپ نے  چار سو درہم سے  زیادہ کے  حق مہر سے  لوگوں کو منع فرما دیا ہے ۔ آپ نے  فرمایا ہاں کہا کیا آپ نے  اللہ کا کلام جو اس نے  نازل فرمایا ہے  نہیں  سنا؟ کہا وہ کیا ؟ کہا سنئیے  اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے  آیت (واتیتم احدہن قنطارا) الخ، تم نے  انہیں  خزانہ دیا ہو حضرت عمر؟ نے  فرمایا اللہ مجھے  معاف فرما عمر سے  تو ہر شخص زیادہ سمجھدار ہے  پھر واپس اسی وقت ممبر پر کھڑے  ہو کر لوگوں سے  فرمایا لوگو میں نے  تمہیں  چار سو درہم سے  زیادہ کے  مہر سے  روک دیا تھا لیکن اب کہتا ہوں جو شخص اپنے  مال میں سے  مہر میں جتنا چاہے  دے  اپنی خوشی سے  جتنا مہر مقرر کرنا چاہے  کرے  میں نہیں  روکتا، اور ایک روایت میں اس عورت کا آیت کو اس طرح پڑھنا مروی ہے  آیت (واتیتم احدہن قنطارا) (من ذہب) حضرت عبد اللہ بن مسعود کی قرات میں بھی اسی طرح ہے  اور حضرت عمر کا یہ فرمانا بھی مروی ہے  کہ ایک عورت عمر پر غالب آ گئی اور روایت میں ہے  کہ آپ نے  فرمایا تھا گوذی القصہ یعنی یزیدین حصین حارثی کی بیٹی ہو پھر بھی مہر اس کا زیادہ مقرر نہ کرو اور اگر تم نے  ایسا کیا تو وہ زائد رقم میں بیت المال کے  لئے  لے  لوں گا اس پر ایک دراز قد چوڑی ناک والی عورت نے  کہا حضرت آپ یہ حکم نہیں  دے  سکتے ۔ پھر اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے  کہ تم اپنی بیوی کو دیا ہوا حق مہر واپس کیسے  لے  سکتے  ہو؟ جبکہ تم نے  اس سے  فائدہ اٹھایا یا ضرورت پوری کی وہ تم سے  اور تم اس سے  مل گئی یعنی میاں بیوی کے  تعلقات بھی قائم ہو گئے، بخاری و مسلم کی اس حدیث میں ہے  ایک شخص نے  اپنی بیوی پر زنا کا الزام لگایا اور حضور صلی اللہ علیہ و سلم کے  سامنے  پیش ہوا۔ بیوی نے  بھی اپنے  بے  گناہ ہونے  شوہر نے  اپنے  سچا ہونے  کی قسم کھائی پھر ان دونوں کا قسمیں کھانا اور اس کے  بعد آپ کا یہ فرمان کہ اللہ تعالیٰ کو بخوبی علم ہے  کہ تم دونوں میں سے  کون جھوٹا ہے ؟ کیا تم میں سے  کوئی اب بھی توبہ کرتا ہے ؟ تین دفعہ فرمایا تو اس مرد نے  کہا میں نے  جو مال اس کے  مہر میں دیا ہے  اس کی بابت کیا فرماتے  ہیں ؟ آپ نے  فرمایا اسی کے  بدلے  تو یہ تیرے  لئے  حلال ہوئی تھیں اب اگر تو نے  اس پر جھوٹی تہمت لگائی ہے  تو پھر اور ناممکن بات ہو گی اسی طرح ایک اور حدیث میں ہے  کہ حضرت نفرہ نے  ایک کنواری لڑکی سے  نکاح کیا جب اس سے  ملے  تو دیکھا کہ اسے  زنا کا حمل ہے  حضور صلی اللہ علیہ و سلم سے  ذکر کیا آپ نے  اسے  الگ کرا دیا اور مہر دلوا دیا اور عورت کو کوڑے  مارنے  کا حکم دیا اور فرمایا جو بچہ ہو گا وہ تیرا غلام ہو گا اور مہر تو اس کی حلت کا سبب تھا (ابوداؤد) غرض آیت کا مطلب بھی یہی ہے  کہ عورت اس کے  بیٹے  پر حرام ہو جاتی ہے  اس پر اجماع ہے، حضرت ابو قیس نے  ان کی بیوی سے  نکاح کی خواہش کی جو ان کی سوتیلی ماں تھیں اس پر اس بیوی صاحبہ نے  فرمایا بیشک تو اپنی قوم میں نیک ہے  لیکن میں تو تجھے  اپنا بیٹا شمار کرتی ہوں خیر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے  پاس جاتی ہوں جو وہ حکم فرمائیں وہ حاضر ہوئیں اور حضور صلی اللہ علیہ و سلم کو ساری کیفیت بیان کی آپ نے  فرمایا اپنے  گھر لوٹ جاؤ پھر یہ آیت اتری کہ جس سے  باپ نے  نکاح کیا اس سے  بیٹے  کا نکاح حرام ہے، ایسے  واقعات اور بھی اس وقت موجود تھے  جنہیں  اس ارادے  سے  باز رکھا گیا ایک تو یہی ابو قیس والا واقعہ ان بیوی صاحبہ کا نام ام عبید اللہ ضمرہ تھا دوسرا واقعہ خلف کا تھا ان کے  گھر میں ابو طلحہ کی صاحبزادی تھیں اس کے  انتقال کے  بعد اس کے  لڑکے  صفوان نے  اسے  اپنے  نکاح میں لانا چاہا تھا سہیلی میں لکھا ہے  جاہلیت میں اس نکاح کا معمول تھا جسے  باقاعدہ نکاح سمجھا جاتا تھا اور بالکل حلال گنا جاتا تھا اسی لئے  یہاں بھی فرمایا گیا کہ جو پہلے  گزر چکا سو گزر چکا، جیسے  دو بہنوں کو نکاح میں جمع کرنے  کی حرمت کو بیان فرما کر بھی یہی کیا گیا کنانہ بن خزیمہ نے  اپنے  باپ کی بیوی سے  نکاح کیا تھا نصر اسی کے  بطن سے  پیدا ہوا تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کا فرمان ہے  کہ میری اوپر کی نسل بھی باقاعدہ نکاح سے  ہی ہے  نہ کہ زنا سے  تو معلوم ہوا کہ یہ رسم ان میں برابر جاری تھی اور جائز تھی اور اسے  نکاح شمار کرتے  تھے، حضرت ابن عباس فرماتے  ہیں  جاہلیت والے  بھی جن جن رشتوں کو اللہ نے  حرام کیا ہے، سوتیلی ماں اور دو بہنوں کو ایک ساتھ نکاح میں رکھنے  کے  سوا سب کو حرام ہی جانتے  تھے  پس اللہ تعالیٰ نے  اپنے  کلام پاک میں ان دونوں رشتوں کو بھی حرام ٹھہرایا حضرت عطا اور حضرت قتادہ بھی یہی فرماتے  ہیں  یاد رہے  کہ سہیلی نے  کنانہ کا جو واقعہ نقل کیا ہے  وہ غور طلب ہے  بالکل صحیح نہیں، واللہ اعلم۔ بہر صورت یہ رشتہ امت مسلمہ پر حرام ہے  اور نہایت قبیح امر ہے ۔ یہاں تک کہ فرمایا یہ نہایت فحش برا کام بغض کا ہے ۔ دونوں میاں بیوی میں خلوت و صحبت ہو چکی ہے  پھر مہر واپس لینا کیا معنی رکھتا ہے ۔ پھر فرمایا کہ عقد نکاح جو مضبوط عہد و پیمان ہے  اس میں تم جکڑے  جا چکے  ہو، اللہ کا یہ فرمان تم سن چکے  ہو کہ بساؤ تو اچھی طرح اور الگ کرو تو عمدہ طریقہ سے  چنانچہ حدیث میں بھی ہے  کہ تم ان عورتوں کو اللہ کی امانت کے  طور پہ لیتے  ہو اور ان کو اپنے  لئے  اللہ تعالیٰ کا کلمہ پڑھ کر یعنی نکاح کے  خطبہ تشہد سے  حلال کرتے  ہو، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو معراج والی رات جب بہترین انعامات عطا ہوئے، ان میں ایک یہ بھی تھا کہ آپ سے  فرمایا گیا تیری امت کا کوئی خطبہ جائز نہیں  جب تک وہ اس امر کی گواہی نہ دیں کہ تو میرا بندہ اور میرا رسول ہے  (ابن ابی حاتم)

نکاح کے  احکامات

صحیح مسلم شریف میں حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے  مروی ہے  کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے  اپنے  حجۃ الوداع کے  خطبہ میں فرمایا تم نے  عورتوں کو اللہ کی امانت کے  طور پہ لیا ہے  اور انہیں  اللہ تعالیٰ کے  کلمہ سے  اپنے  لئے  حلال کیا ہے ۔ اس کے  بعد اللہ تعالیٰ سوتیلی ماؤں کی حرمت بیان فرماتا ہے  اور ان کی تعظیم اور توقیر ظاہر کرتا ہے  یہاں تک کہ باپ نے  کسی عورت سے  صرف نکاح کیا ابھی وہ رخصت ہو کر بھی نہیں  آئی مگر طلاق ہو گئی یا باپ مر گیا وغیرہ تو بھی وہ سبب اور برا راستہ ہے  اور جگہ فرما ہے  آیت (ولا تقربوا الفواحش) الخ، یعنی کسی برائی بے  حیائی اور فحش کام کے  قریب بھی نہ جاؤ یا وہ بالکل ظاہر ہو خواہ پوشیدہ ہو اور فرمان ہے  آیت (ولا تقربوا الزنا) الخ، زنا کے  قریب نہ جاؤ یقیناً وہ فحش کام اور بری راہ ہے  یہاں مزید فرمایا کہ یہ کام بڑے  بغض کا بھی ہے  یعنی فی نفسہ بھی بڑا برا امر ہے  اس سے  باپ بیٹے  میں عداوت پڑ جاتی ہے  اور دشمنی قائم ہو جاتی ہے، یہی مشاہدہ میں آیا ہے  اور عموماً یہ بھی لکھا گیا ہے  کہ جو شخص کسی عورت سے  دوسرا نکاح کرتا ہے  وہ اس کے  پہلے  خاوند سے  بغض ہی رکھتا ہے  یہی وجہ ہے  کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کی بیویاں امہات المومنین قرار دے  گئیں اور امت پر مثل ماں کے  حرام کی گئیں کیونکہ وہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی بیویاں ہیں  اور آپ مثل باپ کے  ہیں، بلکہ اجماعاً ثابت ہے  کہ آپ کے  حق باپ دادا کے  حقوق سے  بھی بہت زیادہ اور بہت بڑے  ہیں  بلکہ آپ کی محبت خود اپنی جانوں کی محبت پر بھی مقدم ہے  صلوات اللہ وسلامہ علیہ یہ بھی کہا گیا ہے  کہ یہ کام اللہ کے  بغض کا موجب ہے  اور برا راستہ ہے  اب جو ایسا کام کرے  وہ دین سے  مرتد ہے  اسے  قتل کر دیا جائے  اور اس کا مال بیت المال میں بطور فے  کے  داخل کر لیا جائے، سنن اور مسند احمد میں مروی ہے  کہ ایک صحابی کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے  اس شخص کی طرف بھیجا جس نے  اپنے  باپ کی بیوی سے  باپ کے  بعد نکاح کیا تھا کہ اسے  قتل کر ڈالو اور اس کے  مال پر قبضہ کر لو، حضرت براء بن عازب فرماتے  ہیں  کہ میرے  چچا حارث بن عمیر اپنے  ہاتھ میں نبی صلی اللہ علیہ و سلم کا دیا ہوا جھنڈا لے  کر میرے  پاس سے  گزرے  میں نے  پوچھا کہ چچا حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے  آپ کو کہاں بھیجا ہے ؟ فرمایا اس شخص کی طرف جس نے  اپنے  باپ کی بیوی سے  نکاح کیا ہے  مجھے  حکم ہے  کہ میں اس کی گردن ماروں (مسند احمد)

سوتیلی ماں سے  نکاح حرام ہے

مسئلہ اس پر تو علماء کا اجماع ہے  کہ جس عورت سے  باپ نے  مباشرت کر لی خواہ نکاح کر کے  خواہ ملکیت میں لا کر خواہ شبہ سے  وہ عورت بیٹے  پر حرام ہے، ہاں اگر جماع نہ ہوا ہو تو صرف مباشرت ہوئی ہو یا وہ اعضاء دیکھے  ہوں جن کا دیکھنا اجنبی ہونے  کی صورت میں حلال نہ تھا تو اس میں اختلاف ہے  امام احمد تو اس صورت میں بھی اس عورت کو لڑکے  پر حرام بتاتے  ہیں، حافظ ابن عسا کر کے  اس واقعہ سے  بھی اس روایت کی تصدیق ہوتی ہے  کہ حضرت خدیج حمصی نے  جو حضرت معاویہ کے  مولی تھے  حضرت معاویہ کے  لئے  ایک لونڈی خریدی جو گورے  رنگ کی اور خوبصورت تھی اسے  برہنہ ان کے  پاس بھیج دیا ان کے  ہاتھ میں ایک چھڑی تھی اس سے  اشارہ کر کے  کہنے  لگے  اچھا نفع تھا اگر یہ ملبوس ہوتی پھر کہنے  لگے  اسے  یزید بن معاویہ کے  پاس لے  جاؤ پھر کہا نہیں  نہیں  ٹھہرو ربیعہ بن عمرو حرسی کو میرے  پاس بلا لاؤ یہ بڑے  فقیہ تھے  جب آئے  تو حضرت معاویہ نے  ان سے  یہ مسئلہ پوچھا کہ میں نے  اس عورت کے  یہ اعضاء مخصوص دیکھے  ہیں، یہ برہنہ تھی۔ اب میں اسے  اپنے  لڑکے  یزید کے  پاس بھیجنا چاہتا ہوں تو کیا اس کے  لئے  یہ حلال ہے ؟ حضرت ربیعہ نے  فرمایا امیر المومنین ایسا نہ کیجئے  یہ اس کے  قابل نہیں  رہی فرمایا تم ٹھیک کہتے  ہو اچھا جاؤ عبد اللہ بن مسعدہ فزاری کو بلا لاؤ وہ آئے  وہ تو گندم گوں رنگ کے  تھے  اس سے  حضرت معاویہ نے  فرمایا اس لونڈی کو میں تمہیں  دیتا ہوں تا کہ تمہاری اولاد سفید رنگ پیدا ہو یہ عبد اللہ بن مسعدہ وہ ہیں  جنہیں  رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے  حضرت فاطمہ کو دیا تھا آپ نے  انہیں  پالا پرورش کیا پھر اللہ تعالیٰ کے  نام سے  آزاد کر دیا پھر یہ حضرت معاویہ کے  پاس چلے  آئے  تھے ۔

۲۳

کون سی عورتیں مردوں پر حرام ہیں ؟

نسبی، رضاعی اور سسرالی رشتے  سے  جو عورتیں مرد پر حرام ہیں  ان کا بیان آیہ کریمہ میں ہو رہا ہے، حضرت ابن عباس فرماتے  ہیں  سات عورتیں بوجہ نسب حرام ہیں  اور سات بوجہ سسرال کے  پھر آپ نے  اس آیت کی تلاوت کی جس میں بہن کی لڑکیوں تک نسبی رشتوں کا ذکر ہے  جمہور علماء کرام نے  اس آیت سے  استدلال کیا ہے  کہ زنا سے  جو لڑکی پیدا ہوئی وہ بھی اس زانی پر حرام ہے  کیونکہ یہ بھی بیٹی ہے  اور بیٹیاں حرام ہیں، یہی مذہب ابو حنیفہ مالک اور احمد بن حنبل کا ہے، امام شافعی سے  کچھ اس کی اباحت میں بھی بحث کی گئی ہے  اس لئے  کہ شرعاً یہ بیٹی نہیں  پس جیسے  کہ ورثے  کے  حوالے  سے  یہ بیٹی کے  حکم سے  خارج ہے  اور ورثہ نہیں  پاتی اسی طرح اس آیت حرمت میں بھی وہ داخل نہیں  ہے  واللہ اعلم، (صحیح مذہب وہی ہے  جس پر جمہور ہیں ۔ (مترجم) پھر فرماتا ہے  کہ جس طرح تم پر تمہاری سگی ماں حرام ہے  اسی طرح رضاعی ماں بھی حرام ہے  بخاری و مسلم میں ہے  کہ رضاعت بھی اسے  حرام کرتی ہے  جسے  ولادت حرام کرتی ہے  صحیح مسلم میں ہے  رضاعت سے  بھی وہ حرام ہے  جو نسب سے  ہے، بعض فقہاء نے  اس میں سے  چار صورتیں بعض نے  چھ صورتیں مخصوص کی ہیں  جو احکام کی فروع کی کتابوں میں مذکور ہیں  لیکن تحقیقی بات یہ ہے  کہ اس میں سے  کچھ بھی مخصوص نہیں  اس لئے  کہ اسی کے  مانند بعض صورتیں نسبت میں بھی پائی جاتی ہیں  اور ان صورتوں میں سے  بعض صرف سسرالی رشتہ کی وجہ سے  حرام ہیں  لہٰذا حدیث پر اعتراض خارج از بحث ہے  والحمد للہ۔ آئمہ کا اس میں بھی اختلاف ہے  کہ کتنی مرتبہ دودھ پینے  سے  حرمت ثبات ہوتی ہے، بعض تو کہتے  ہیں  کہ تعداد معین نہیں  دودھ پیتے  ہی حرمت ثابت ہو گئی امام مالک یہی فرماتے  ہیں، ابن عمر سعید بن مسیب عروہ بن زبیر اور زہری کا قول بھی یہی ہے، دلیل یہ ہے  کہ رضاعت یہاں عام ہے  بعض کہتے  ہیں  تین مرتبہ جب پئے  تو حرمت ثابت ہو گئی، جیسے  کہ صحیح مسلم میں ہے  حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے  فرمایا ایک مرتبہ کا چوسنا یا دو مرتبہ کا پی لینا حرام نہیں  کرتا یہ حدیث مختلف الفاظ سے  مروی ہے، امام احمد، اسحاق بن راہویہ، ابو عبیدہ، ابو ثور بھی یہی فرماتے  ہیں، حضرت علی، حضرت عائشہ، حضرت ام الفضل، حضرت ابن زبیر، سلیمان بن یسار، سعید بن جبیر رحمہم اللہ سے  بھی یہی مروی ہے  بعض کہتے  ہیں  پانچ مرتبہ کے  دودھ پینے  سے  حرمت ثابت ہوتی ہے  اس سے  کم نہیں، اس کی دلیل صحیح مسلم کی یہ روایت ہے  حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے  ہیں  کہ پہلے  قرآن میں دس مرتبہ کی دودھ پلائی پر حرمت کا حکم اترا تھا پھر وہ منسوخ ہو کر پانچ رہ گئے  حضور صلی اللہ علیہ و سلم کے  فوت ہونے  تک وہ قرآن میں پڑھا جاتا رہا دوسری دلیل سہلہ بنت سہیل کی روایت ہے  کہ ان کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے  حکم دیا کہ حضرت سالم کو جو حضرت ابو حذیفہ کے  مولی تھے  پانچ مرتبہ دودھ پلا دیں، حضرت عائشہ اسی حدیث کے  مطابق جس عورت کے  گھر کسی کا آنا جانا دیکھتیں اسے  یہی حکم دیتیں، امام شافعی اور ان کے  اصحاب کا فرمان بھی یہی ہے  کہ پانچ مرتبہ دودھ پینا معتبر ہے  (مترجم کی تحقیق میں بھی راجح قول یہی ہے  واللہ اعلم) یہ بھی یاد رہے  کہ جمہور کا مذہب یہ ہے  کہ یہ رضاعت دودھ چھٹنے  سے  پہلے  یعنی دو سال کے  اندر اندر کی عمر میں ہو، اس کا مفصل بیان آیت (حولین کاملین) کی تفسیر میں سورۃ بقرہ میں گزر چکا ہے، پھر اس میں بھی اختلاف ہے  کہ اس رضاعت کا اثر رضاعی ماں کے  خاوند تک بھی پہنچے  گا یا نہیں ؟ تو جمہور کا اور آئمہ اربعہ کا فرمان تو یہ ہے  کہ پہنچے  گا اور بعض سلف کا قول ہے  کہ صرف دودھ پلانے  والی تک ہی رہے  گا اور رضاعی باپ تک نہیں  پہنچے  گا اس کی تفصیل کی جگہ احکام کی بڑے  بڑی کتابیں ہیں  نہ کہ تفسیر (صحیح قول جمہور کا ہے  واللہ اعلم۔ مترجم) پھر فرماتا ہے  ساس حرام ہے  جس لڑکی سے  نکاح ہوا مجرد نکاح ہونے  کے  سبب اس کی ماں اس پر حرام ہو گئی خواہ صحبت کرے  یا نہ کرے، ہاں جس عورت کے  ساتھ نکاح کرتا ہے  اور اس کی لڑکی اس کے  اگلے  خاوند سے  اس کے  ساتھ ہے  تو اگر اس سے  صحبت کی تو وہ لڑکی حرام ہو گی اگر مجامعت سے  پہلے  ہی اس عورت کو طلاق دے  دی تو وہ لڑکی اس پر حرام نہیں، اسی لئے  اس آیت میں یہ قید لگائی بعض لوگوں نے  ضمیر کو ساس اور اس کی پرورش کی ہوئی لڑکیوں دونوں کی طرف لوٹایا ہے  وہ کہتے  ہیں  کہ ساس بھی اس وقت حرام ہوتی ہے  جب اس کی لڑکی سے  اس کے  داماد نے  خلوت کی ورنہ نہیں، صرف عقد سے  نہ تو عورت کی ماں حرام ہوتی ہے  نہ عورت کی بیٹی، حضرت علی فرماتے  ہیں  کہ جس شخص نے  کسی لڑکی سے  نکاح کیا پھر دخول سے  پہلے  ہی طلاق دے  دی تو وہ اس کی ماں سے  نکاح کر سکتا ہے  جیسے  کہ ربیبہ لڑکی سے  اس کی ماں کو اسی طرح کی طلاق دینے  کے  بعد نکاح کر سکتا ہے  حضرت زید بن ثابت سے  بھی یہی منقول ہے  ایک اور روایت میں بھی آپ سے  مروی ہے  آپ فرماتے  تھے  جب وہ عورت غیر مدخولہ مر جائے  اور یہ خاوند اس کی میراث لے  لے  تو پھر اس کی ماں کو لانا مکروہ ہے  ہاں اگر دخول سے  پہلے  طلاق دے  دی ہے  تو اگر چاہے  نکاح کر سکتا ہے  حضرت ابوبکر بن کنانہ فرماتے  ہیں  کہ میرا نکاح میرے  باپ نے  طائف کی ایک عورت سے  کرایا ابھی رخصتی نہیں  ہوئی تھی کہ اس کا باپ میرا چچا فوت ہو گیا اس کی بیوی یعنی میری ساس بیوہ ہو گئی وہ بہت مالدار تھیں میرے  باپ نے  مجھے  مشورہ دیا کہ اس لڑکی کو چھوڑ دوں اور اس کی ماں سے  نکاح کر لوں میں نے  حضرت ابن عباس سے  یہ مسئلہ پوچھا تو آپ نے  فرمایا تمہارے  لئے  یہ جائز ہے  پھر میں نے  حضرت ابن عمر سے  پوچھا تو انہوں نے  فرمایا یہ جائز نہیں  میں نے  اپنے  والد سے  ذکر کیا انہوں نے  تو امیر معاویہ کو ہی سوال کیا حضرت امیر معاویہ نے  تحریر فرمایا کہ میں نہ تو حرام کو حلال کروں نہ حلال کر حرام تم جانو اور تمہارا کام تم حالت دیکھ رہے  ہو معاملہ کے  تمام پہلو تمہاری نگاہوں کے  سامنے  ہیں ۔ عورتیں اس کے  علاوہ بھی بہت ہیں ۔ غرض نہ اجازت دی نہ انکار کیا چنانچہ میرے  باپ نے  اپنا خیال اس کی ماں کی طرف سے  ہٹا لیا حضرت عبد اللہ بن زبیر فرماتے  ہیں  کہ عورت کی لڑکی اور عورت کی ماں کا حکم ایک ہی ہے  اگر عورت سے  دخول نہ کیا ہو تو یہ دونوں حلال ہیں، لیکن اس کی اسناد میں مبہم راوی ہے، حضرت مجاہد کا بھی یہی قول ہے، ابن جبیر اور حضرت ابن عباس بھی اسی طرف گئے  ہیں، حضرت معاویہ نے  اس میں توقف فرمایا ہے  شافعیوں میں سے  ابو الحسن احمد بن محمد بن صابونی سے  بھی بقول رافعی یہی مروی ہے  حضرت عبد اللہ بن مسعود سے  بھی اسی کے  مثل مروی ہے  لیکن پھر آپ نے  اپنے  اس قول سے  رجوع کر لیا ہے  طبرانی میں ہے  کہ قبیلہ فزارہ کی شاخ قبیلہ بنو کمخ کے  ایک شخص نے  ایک عورت سے  نکاح کیا پھر اس کی بیوہ ماں کے  حسن پر فریفتہ ہوا تو حضرت ابن مسعود سے  مسئلہ پوچھا کہ کیا مجھے  اس کی ماں سے  نکاح کرنا جائز ہے  آپ نے  فرمایا ہاں چنانچہ اس نے  اس لڑکی کو طلاق دے  کر اس کی ماں سے  نکاح کر لیا اس سے  اولاد بھی ہوئی پھر حضرت ابن مسعود مدینہ آئے  اور اس مسئلہ کی تحقیق کی تو معلوم ہوا کہ یہ حلال نہیں  چنانچہ آپ واپس کوفے  گئے  اور اس سے  کہا کہ اس عورت کو الگ کر دے  یہ تجھ پر حرام ہے  اس نے  اس فرمان کی تعمیل کی اور اسے  الگ کر دیا جمہور علماء اس طرف ہیں  لڑکی تو صرف عقد نکاح سے  حرام نہیں  ہوتی تاوقتیکہ اس کی ماں سے  مباشرت نہ کی ہو ہاں ماں صرف لڑکی کے  عقد نکاح ہوتے  ہی حرام ہو جاتی ہے  گو مباشرت نہ ہوئی ہو، حضرت ابن عباس فرماتے  ہیں  کہ جب کوئی شخص اپنی بیوی کو دخول سے  پہلے  طلاق دے  دے  یا وہ عورت مر جائے  تو اس کی ماں اس پر حلال نہیں  چونکہ مبہم ہے  اس لئے  اسے  ناپسند فرمایا، حضرت ابن مسعود، عمران بن حصین، مسروق، طاؤس، عکرمہ، عطا، حسن، مکحول، ابن سیرین، قتادہ اور زہری سے  بھی اسی طرح مروی ہے، چاروں اماموں ساتوں فقہاء اور جمہور علماء سلف و خلف کا یہی مذہب ہے  والحمد للہ امام ابن جریج فرماتے  ہیں  ٹھیک قول انہی حضرات کا ہے  جو ساس کو دونوں صورتوں میں حرام بتلاتے  ہیں  اس لئے  کہ اللہ تعالیٰ نے  ان کی حرمت کے  ساتھ دخول کی شرط نہیں  لگائی جیسے  کہ لڑکی کی ماں کے  لئے  یہ شرط لگائی ہے  پھر اس پر اجماع ہے  جو ایسی دلیل ہے  کہ اس کا خلاف کرنا اس وقت جائز ہی نہیں  جب کہ اس پر اتفاق ہو اور ایک غریب حدیث میں بھی یہ مروی ہے  گو اس کی سند میں کلام ہے  کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے  فرمایا جبکہ کوئی مرد کسی عورت سے  نکاح کرے  اگر اس نے  اس کی ماں سے  نکاح کیا ہے  پھر ملنے  سے  پہلے  ہی اسے  طلاق دے  دی ہے  تو اگر چاہے  اس کی لڑکی سے  نکاح کر سکتا ہے، گو اس حدیث کی سند کمزور ہے  لیکن اس مسئلہ پر اجماع ہو چکا ہے  جو اس کی صحت پر ایسا گواہ ہے  جس کے  بعد دوسری گواہی کی ضرورت نہیں، (ٹھیک مسئلہ یہی ہے  واللہ اعلم۔ مترجم) پھر فرماتا ہے  تمہاری پرورش کی ہوئی وہ لڑکیاں جو تمہاری گود میں ہوں وہ بھی تم پر حرام ہیں  بشرطیکہ تم نے  ان سوتیلی لڑکیوں کی ماں سے  صحبت کی ہو جمہور کا فرمان ہے  کہ خواہ گود میں پلی ہوں حرام ہیں  چونکہ عموماً ایسی لڑکیاں اپنی ماں کے  ساتھ ہی ہوتی ہیں  اور اپنے  سوتیلے  باپوں کے  ہاں ہی پرورش پاتی ہیں  اس لئے  یہ کہہ دیا گیا ہے  یہ کوئی قید نہیں  جیسے  اس آیت میں ہے  آیت (ولا تکرہوا فتیاتکم علی البغاء ان اردن تحصنا) یعنی تمہاری لونڈیاں اگر پاکدامن رہنا چاہتی ہوں تو تم انہیں  بدکاری پر بے  بس نہ کرو، یہاں بھی یہ قید کہ اگر وہ پاکدامن رہنا چاہیں  صرف بااعتبار واقعہ کے  غلبہ کے  ہے  یہ نہیں  کہ اگر وہ خود ایسی نہ ہوں تو انہیں  بدکاری پر آمادہ کرو، اسی طرح اس آیت میں ہے  کہ گود میں چاہے  نہ ہوں پھر بھی حرام ہی ہیں ۔ بخاری و مسلم میں ہے  کہ حضرت ام حبیبہ نے  کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم آپ میری بہن ابو سفیان کی لڑکی عزہ سے  نکاح کر لیجئے ۔ آپ نے  فرمایا کیا تم یہ چاہتی ہو؟ ام المومنین نے  کہا ہاں میں آپ کو خالی تو رکھ نہیں  سکتی پھر میں اس بھلائی میں اپنی بہن کو ہی کیوں نہ شامل کروں ؟ آپ نے  فرمایا ان کی وہ بیٹی جو ام سلمہ سے  ہے ؟ کہا ہاں ۔ فرمایا اولاً تو وہ مجھ پر اس وجہ سے  حرام ہے  کہ وہ میری ربیبہ ہے  جو میرے  ہاں پرورش پا رہی ہے  دوسری یہ کہ اگر ایسا نہ ہوتا تو بھی وہ مجھ پر حرام تھیں اس لئے  کہ وہ میرے  دودھ شریک بھائی کی بیٹی میری بھتیجی ہیں ۔ مجھے  اور اس کے  باپ ابو سلمہ کو ثوبیہ نے  دودھ پلایا ہے ۔ خبردار اپنی بیٹیاں اور اپنی بہنیں مجھ پر پیش نہ کرو، بخاری کی روایت ہے  یہ الفاظ ہیں  کہ اگر میرا نکاح ام سلمہ جسے  نہ ہوا ہوتا تو بھی وہ مجھ پر حلال نہ تھیں، یعنی صرف نکاح کو آپ نے  حرمت کا اصل قرار دیا، یہی مذہب چاروں اماموں ساتوں فقیہوں اور جمہور سلف و خلف کا ہے، یہ بھی کہا گیا ہے  کہ اگر وہ اس کے  ہاں پر پرورش پاتی ہو تو بھی حرام ہے  ورنہ نہیں، حضرت مالک بن اوس بن حدثان فرماتے  ہیں  میری بیوی اولاد چھوڑ کر مر گئیں مجھے  ان سے  بہت محبت تھی اس وجہ سے  ان کی موت کا مجھے  بڑا صدمہ ہوا حضرت علی سے  میری اتفاقیہ ملاقات ہوئی تو آپ نے  مجھے  مغموم پا کر دریافت کیا کہ کیا بات ہے ؟ میں نے  واقعہ سنایا تو آپ نے  فرمایا تجھ سے  پہلے  خاوند سے  بھی اس کی کوئی اولاد ہے ؟ میں نے  کہا ہاں ایک لڑکی ہے  اور وہ طائف میں رہتی ہے  فرمایا پھر اس سے  نکاح کر لو میں نے  قرآن کریم کی آیت پڑھی کہ پھر اس کا کیا مطلب ہو گا؟ آپ نے  فرمایا یہ تو اس وقت ہے  جبکہ اس نے  تیرے  ہاں پرورش پائی ہو اور وہ بقول تمہارے  طائف میں رہتی ہے  تیرے  پاس ہے  ہی نہیں  گو اس کی اسناد صحیح ہے  لیکن یہ قول بالکل غریب ہے، حضرت امام مالک کا بھی یہی قول بتایا ہے، ابن حزم نے  بھی اسی کو اختیار کیا ہے، ہمارے  شیخ حافظ ابو عبد اللہ نسبی نے  ہم سے  کہا کہ میں نے  یہ بات شیخ امام تقی الدین ابن تیمیہ کے  سامنے  پیش کی تو آپ نے  اسے  بہت مشکل محسوس کیا اور توقف فرمایا واللہ اعلم۔ حجور سے  مراد گھر ہے  جیسے  کہ حضرت ابو عبیدہ سے  مروی ہے  کہ ہاں جو کنیز ملکیت میں ہو اور اس کے  ساتھ اس کی لڑکی ہو اس کے  بارے  میں حضرت عمر سے  سوال ہوا کہ ایک کے  بعد دوسری جائز ہو گی یا نہیں ؟ تو آپ نے  فرمایا اسے  پسند نہیں  کرتا، اس کی سند منقطع ہے، حضرت ابن عباس نے  ایسے  ہی سوال کے  جواب میں فرمایا ہے  ایک آیت سے  یہ حلال معلوم ہوتی ہے  دوسری آیت سے  حرام اس لئے  میں تو ایسا ہرگز نہ کروں، شیخ ابو عمر بن عبد اللہ فرماتے  ہیں  کہ علماء میں اس مسئلہ میں کوئی اختلاف نہیں  کہ کسی کو حلال نہیں  کہ کسی عورت سے  پھر اس کی لڑکی سے  بھی اسی ملکیت کی بنا پر وطی کرے  اس لئے  کہ اللہ تعالیٰ نے  اسے  نکاح میں بھی حرام قرار دے  دیا ہے  یہ آیت ملاحظہ ہو اور علماء کے  نزدیک ملکیت احکام نکاح کے  تابع ہے  مگر جو روایت حضرت عمر اور حضرت ابن عباس سے  کی جاتی ہے  لیکن آئمہ فتاویٰ اور ان کے  تابعین میں سے  کوئی بھی اس پر متفق نہیں ۔ حضرت قتادہ فرماتے  ہیں  ربیبہ کی لڑکی اور اس لڑکی کی لڑکی اس طرح جس قدر نیچے  یہ رشتہ چلا جائے  سب حرام ہیں، حضرت ابو العالیہ سے  بھی اسی طرح یہ روایت قتادہ مروی ہے  آیت (دخلتم بہن) سے  مراد حضرت ابن عباس تو فرماتے  ہیں  ان سے  نکاح کرنا ہے  حضرت عطا فرماتے  ہیں  کہ وہ رخصت کر دئے  جائیں کپڑا ہٹا دیا جائے  چھیڑ ہو جائے  اور ارادے  سے  مرد بیٹھ جائے  ابن جریج نے  سوال کیا کہ اگر یہ کام عورت ہی کے  گھر میں ہوا ہو فرمایا وہاں یہاں دونوں کا حکم ایک ہی ہے  ایسا اگر ہو گیا تو اس کی لڑکی اس پر حرام ہو گئی۔ امام ابن جریر فرماتے  ہیں  کہ صرف خلوت اور تنہائی ہو جانے  سے  اس کی لڑکی کی حرمت ثابت نہیں  ہوتی اگر مباشرت کرنے  اور ہاتھ لگانے  سے  اور شہوت سے  اس کے  عضو کی طرف دیکھنے  سے  پہلے  ہی طلاق دے  دی ہے  تو تمام کے  اجماع سے  یہ بات ثابت ہوتی ہے  کہ لڑکی اس پر حرام نہ ہو گی تاوقتیکہ جماع نہ ہوا ہو۔ پھر فرمایا تمہاری بہوئیں بھی تم پر حرام ہیں  جو تمہاری اولاد کی بیویاں ہوں یعنی لے  پالک لڑکوں کی بیویاں حرام نہیں، ہاں سگے  لڑکے  کی بیوی یعنی بہو اپنے  کسر پر حرام ہے  جیسے  اور جگہ ہے  آیت (فلما قضی زید منہا وطرا زوجنکہا لکیلا یکون علی المومنین حرج فی ازواج ادعیاۂم الخ، یعنی جب زید نے  اس سے  اپنی حاجت پوری کر لی تو ہم نے  اسے  تیرے  نکاح میں دے  دیا تا کہ مومنوں پر ان کے  لے  پالک لڑکوں کی بیویوں کے  بارے  میں کوئی تنگی نہ رہے، حضرت عطاء فرماتے  ہیں  کہ ہم سنا کرتے  تھے  کہ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم نے  حضرت زید کی بیوی سے  نکاح کر لیا تو مکہ کے  مشرکوں نے  کائیں کائیں شروع کر دی اس پر یہ آیت اور آیت (وما جعل ادعیاءکم ابناءکم) اور آیت (ما کان محمد ابا احد من رجالکم) نازل ہوئیں یعنی بیشک صلبی لڑکے  کی بیوی حرام ہے ۔ تمہارے  لئے  پالک لڑکے  شرعاً تمہاری اولاد کے  حکم میں نہیں  آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم میں سے  کسی مرد کے  باپ نہیں، حسن بن محمد فرماتے  ہیں  کہ یہ آیتیں مبہم ہیں  جیسے  تمہارے  لڑکوں کی بیویاں تمہاری ساسیں، حضرت طاؤس ابراہیم زہری اور مکحول سے  بھی اسی طرح مروی ہے  میرے  خیال میں مبہم سے  مراد عام ہیں ۔ یعنی مدخول بہا اور غیر مدخول دونوں ہی شامل ہیں  اور صرف نکاح کرتے  ہی حرمت ثابت ہو جاتی ہے ۔ خواہ صحبت ہوئی ہو یا نہ ہوئی ہو اس مسئلہ پر اتفاق ہے  اگر کوئی شخص سوال کرے  کہ رضاعی بیٹے  کی حرمت کیسے  ثابت ہو گی کیونکہ آیت میں تو صلبی بیٹے  کا ذکر ہے  تو جواب یہ ہے  کہ وہ حرمت آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کی اس حدیث سے  ثابت ہے  کہ آپ نے  فرمایا رضاعت سے  وہ حرام ہے  جو نسبت سے  حرام ہے ۔ جمہور کا مذہب یہی ہے  کہ رضاعی بیٹے  کی بیوی بھی حرام ہے  بعض لوگوں نے  تو اس پر اجماع نقل کیا ہے ۔ پھر فرماتا ہے  دو بہنوں کا نکاح میں جمع کرنا بھی تم پر حرام ہے  اسی طرح ملکیت کی لونڈیوں کا حکم ہے  کہ دو بہنوں سے  ایک ہی وقت وطی حرام ہے  مگر جاہلیت کے  زمانہ میں جو ہو چکا اس سے  ہم درگزر کرتے  ہیں  پس معلوم ہوا کہ اب یہ کام آئندہ کسی وقت جائز نہیں، جیسے  اور جگہ ہے  آیت (لا یذوقون فیہا الموت الا الموتۃ الاولی یعنی وہاں موت نہیں  آئے  گی ہاں پہلی موت جو آنی تھی سو آچکی تو معلوم ہوا کہ اب آئندہ کبھی موت نہیں  آئے  گی، صحابہ تابعین ائمہ اور سلف و خلف کے  علماء کرام کا اجماع ہے  کہ دو بہنوں سے  ایک ساتھ نکاح کرنا حرام ہے  اور جو شخص مسلمان ہو اور اس کے  نکاح میں دو بہنیں ہوں تو اسے  اختیار دیا جائے  گا کہ ایک کو رکھ لے  اور دوسری کو طلاق دے  دے  اور یہ اسے  کرنا ہی پڑے  گا حضرت فیروز فرماتے  ہیں  میں جب مسلمان ہوا تو میرے  نکاح میں دو عورتیں تھیں جو آپس میں بہنیں تھیں پس آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم نے  مجھے  حکم دیا کہ ان میں سے  ایک کو طلاق دے  دو (مسند احمد) ابن ماجہ ابو داؤد اور ترمذی میں بھی یہ حدیث ہے  ترمذی میں بھی یہ ہے  کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے  فرمایا ان میں سے  جسے  چاہو ایک کو رکھ لو اور ایک کو طلاق دے  دو، امام ترمذی اسے  حسن کہتے  ہیں، ابن ماجہ میں ابو خراش کا ایسا واقعہ بھی مذکور ہے  ممکن ہے  کہ ضحاک بن فیروز کی کنیت ابو خراش ہو اور یہ واقعہ ایک ہی ہو اور اس کے  خلاف بھی ممکن ہے  حضرت دیلمی نے  رسول مقبول صلعم سے  عرض کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم میرے  نکاح میں دو بہنیں ہیں  آپ نے  فرمایا ان سے  جسے  چاہو ایک کو طلاق دے  دو (ابن مردویہ) پس دیلمی سے  مراد ضحاک بن فیروز ہیں  رضی اللہ تعالیٰ عنہ یہ یمن کے  ان سرداروں میں سے  تھے  جنہوں نے  اسود عنسی متنبی ملعون کو قتل کیا چنانچہ دو لونڈیوں کو جو آپس میں سگی بہنیں ہوں ایک ساتھ جمع کرنا ان سے  وطی کرنا بھی حرام ہے، اس کی دلیل اس آیت کا عموم ہے  جو بیویوں اور  اور لونڈیوں پر مشتمل ہے  حضرت ابن مسعود سے  اس کا سوال ہوا تو آپ  نے  مکروہ بتایا سائل نے  کہا قرآن میں جو ہے  آیت (الا ماملکت ایمانکم) یعنی وہ جو جن کے  تمہارے  دائیں ہاتھ مالک ہیں  اس پر حضرت ابن مسعود نے  فرمایا تیرا اونٹ بھی تو تیرے  داہنے  ہاتھ کی ملکیت میں ہے  جمہور کا قول بھی یہی مشہور ہے  اور آئمہ اربعہ وغیرہ بھی یہی فرماتے  ہیں  گو بعض سلف نے  اس مسئلہ میں توقف فرمایا ہے  حضرت عثمان بن عفان سے  جب یہ مسئلہ پوچھا گیا تو آپ نے  فرمایا ایک آیت اسے  حلال کرتی ہے  دوسری حرام میں تو اس سے  منع کرتا سائل وہاں سے  نکلا تو راستے  میں ایک صحابی سے  ملاقات ہوئی اس نے  ان سے  بھی یہی سوال کیا انہوں نے  فرمایا اگر مجھے  کچھ اختیار ہوتا تو میں ایسا کرنے  والے  کو عبرت ناک سزا دیتا، حضرت امام مالک فرماتے  ہیں  میرا گمان ہے  کہ یہ فرمانے  والے  غالباً علی کا نام اس لئے  نہیں  لیا کہ وہ عبدالملک بن مروان کا مصاحب تھا اور ان لوگوں پر آپ کا نام بھاری پڑتا تھا حضرت الیاس بن عامر کہتے  ہیں  میں نے  حضرت علی بن ابی طالب سے  سوال کیا کہ میری ملکیت میں دو لونڈیاں ہیں  دونوں آپس میں سگی بہنیں ہیں  ایک سے  میں نے  تعلقات قائم کر رکھے  ہیں  اور میرے  ہاں اس سے  اولاد بھی ہوئی ہے  اب میرا جی چاہتا ہے  کہ اس کی بہن سے  جو میری لونڈی ہے  اپنے  تعلقات قائم کروں تو فرمائیے  شریعت کا اس میں کیا حکم ہے ؟ آپ نے  فرمایا پہلی لونڈی کو آزاد کر کے  پھر اس کی بہن سے  یہ تعلقات قائم کر سکتے  ہو، اس نے  کہا اور لوگ تو کہتے  ہیں  کہ میں اس کا نکاح کرا دوں پھر اس کی بہن سے  مل سکتا ہوں، حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے  فرمایا دیکھو اس صورت میں بھی خرابی ہے  وہ یہ کہ اگر اس کا خاوند اسے  طلاق دے  دے  یا انتقال کر جائے  تو وہ پھر لوٹ کر تمہاری طرف آجائے  گی، اسے  تو آزاد کر دینے  میں ہی سلامتی ہے، پھر آپ نے  میرا ہاتھ پکڑ کر فرمایا سنو آزاد عورتوں اور لونڈیوں کے  احکام حلت و حرمت کے  لحاظ سے  یکساں ہیں  ہاں البتہ تعداد میں فرق ہے  یعنی آزاد عورتیں چار سے  زیادہ جمع نہیں  کر سکتے  اور لونڈیوں میں کوئی تعداد کی قید نہیں  اور دودھ پلائی کے  رشتہ سے  بھی اس رشتہ کی وہ تمام عورتیں حرام ہو جاتی ہیں  جو نسل اور نسب کی وجہ سے  حرام ہیں  (اس کے  بعد تفسیر ابن کثیر کے  اصل عربی نسخے  میں کچھ عبارت چھوٹی ہوئی ہے  بہ ظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے  کہ وہ عبارت یوں ہو گی کہ یہ روایت ایسی ہے  کہ اگر کوئی شخص مشرق سے  یا مغرب سے  صرف اس روایت کو سننے  کے  لئے  سفر کر کے  آئے  اور سن کے  جائے  تو بھی اس کا سفر اس کے  لئے  سود مند رہے  گا اور اس نے  گویا بہت سستے  داموں بیش بہا چیز حاصل کی۔ واللہ اعلم۔ مترجم) یہ یاد رہے  کہ حضرت علی سے  بھی اسی طرح مروی ہی جس طرح حضرت عثمان سے  مروی ہے  چنانچہ ابن مردونیہ میں ہے  کہ آپ نے  فرمایا دو لونڈیوں کو جو آپس میں بہنیں ہوں ایک ہی وقت جمع کر کے  ان سے  مباشرت کرنا ایک آیت سے  حرام ہوتا ہے  اور دوسری سے  حلال حضرت ابن عباس فرماتے  ہیں  لونڈیاں مجھ پر میری قرابت کی وجہ سے  جو ان سے  ہے  بعض اور لونڈیوں کو حرام کر دیتی ہیں  لیکن انہیں  خود آپس میں جو قرابت ہو اس سے  مجھ پر حرام نہیں  ہوتیں، جاہلیت والے  بھی ان عورتوں کو حرام سمجھتے  تھے  جنہیں  تم حرام سمجھتے  ہو مگر اپنے  باپ کی بیوی کو جو ان کی سگی ماں نہ ہو اور دو بہنوں کو ایک ساتھ ایک وقت میں نکاح میں جمع کرنا وہ حرام نہیں  سمجھتے  تھے  لیکن اسلام نے  آ کر ان دونوں کو بھی حرام قرار دیا اس وجہ سے  ان دونوں کی حرمت کے  بیان کے  ساتھ ہی فرما دیا کہ جو نکاح ہو چکے  وہ ہو چکے  حضرت ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے  ہیں  کہ جو آزاد عورتیں حرام ہیں  وہی لونڈیاں بھی حرام ہیں  ہاں تعداد میں حکم ایک نہیں  یعنی آزاد عورتیں چار سے  زیادہ جمع نہیں  کر سکتے  لونڈیوں کے  لئے  یہ حد نہیں، حضرت شعی بھی یہی فرماتے  ہیں  ابو عمرو فرماتے  ہیں  حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے  اس بارے  میں جو فرمایا ہے  وہی سلف کی ایک جماعت بھی کہتی ہے  جن میں سے  حضرت ابن عباس بھی ہیں  لیکن اولاً تو اس کی نقل میں خود انہی حضرات سے  بہت کچھ اختلاف ہوا ہے  دوسرے  یہ کہ اس قول کی طرف سمجھدار پختہ کار علماء کرام نے  مطلقاً توجہ نہیں  فرمائی اور نہ اسے  قبول کیا حجاز عراق شام بلکہ مشرق و مغرب کے  تمام فقہاء اس کے  خلاف ہیں  سوائے  ان چند کے  جنہوں نے  الفاظ کو دیکھ، سوچ سمجھ اور غور و خوض کئے  بغیر ان سے  علیحدگی اختیار کی ہے  اور اس اجماع کی مخالفت کی ہے  کامل علم والوں اور سچی سمجھ بوجھ والوں کا تو اتفاق ہے  کہ دو بہنوں کو جس طرح نکاح میں جمع نہیں  کر سکتے  دو لونڈیوں کو بھی جو آپس میں بہنیں ہوں بہ وجہ ملکیت کے  ایک ساتھ نکاح میں نہیں  لا سکتے  اسی طرح مسلمانوں کا اجماع ہے  کہ اس آیت میں ماں بیٹی بہن وغیرہ حرام کی گئی ہیں  ان سے  جس طرح نکاح حرام ہے  اسی طرح اگر یہ لونڈیاں بن کر ما تحتی میں ہوں تو بھی جنسی اختلاط حرام ہے  غرض نکاح اور ملکیت کے  بعد کی دونوں حالتوں میں یہ سب کی سب برابر ہیں، نہ ان سے  نکاح کر کے  میل جول حلال نہ ملکیت کے  بعد میل جول حلال اسی طرح ٹھیک یہی حکم ہے  کہ دو بہنوں کے  جمع کرنے  ساس اور دوسرے  خاوند سے  اپنی عورت کی لڑکی ہو اس کے  بارے  میں خود ان کے  جمہور کا بھی یہی مذہب ہے  اور یہی دلیل ان چند مخالفین پر پوری سند اور کامل حجت ہے  الغرض دو بہنوں کو ایک وقت نکاح میں رکھنا بھی حرام اور دو بہنوں کو بطور لونڈی کہہ کر ان سے  ملنا جلنا بھی حرام۔

۲۴

میدان جنگ سے  قبضہ میں آنے  والی عورتیں اور متعہ

یعنی خاوندوں والی عورتیں بھی حرام ہیں، ہاں کفار عورتیں جو میدان جنگ میں قید ہو کر تمہارے  قبضے  میں آئیں تو ایک حیض گزارنے  کے  بعد وہ تم پر حلال ہیں، مسند احمد میں حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے  روایت ہے  کہ جنگ اوطاس میں قید ہو کر ایسی عورتیں آئیں جو خاوندوں والیاں تھیں تو ہم نے  نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے  ان کی بابت سوال کیا تب یہ آیت اتری ہم پر ان سے  ملنا حلال کیا گیا ترمذی ابن ماجہ اور صحیح مسلم وغیرہ میں بھی یہ حدیث ہے، طبرانی کی روایت میں ہے  کہ یہ واقعہ جنگ خیبر کا ہے، سلف کی ایک جماعت اس آیت کے  عموم سے  استدلال کر کے  فرماتی ہے  کہ لونڈی کو بیچ ڈالنا ہی اس کے  خاوند کی طرف سے  اسے  طلاق کامل کے  مترادف ہے، ابراہیم سے  جب یہ مسئلہ پوچھا گیا تو حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے  فرمایا جب کوئی خاوند والی لونڈی بیچی جائے  تو اس کے  جسم کا زیادہ حقدار اس کا مالک ہے، حضرت ابی بن کعب حضرت جابر بن عبداللہ، حضرت ابن عباس کا بھی یہی فتویٰ ہے  کہ اس کا بکنا ہی اس کی طلاق ہے، ابن جریر میں ہے  کہ لونڈی کی طلاقیں چھ ہیں، بیچنا بھی طلاق ہے  آزاد کرنا بھی ہبہ کرنا بھی برات کرنا بھی اور اس کے  خاوند کا طلاق دینا بھی (یہ پانچ صورتیں تو بیان ہوئیں چھٹی صورت نہ تفسیر ابن کثیر میں ہے  نہ ابن جریر میں ۔ مترجم) حضرت ابن المسیب فرماتے  ہیں  کہ خاوند والی عورتوں سے  نکاح حرام ہے  لیکن لونڈیاں ان کی طلاق ان کا بک جانا ہے، حضرت معمر اور حضرت حسن بھی یہی فرماتے  ہیں  ان بزرگوں کا تو یہ قول ہے  لیکن جمہور ان کے  مخالف ہیں  وہ فرماتے  ہیں  کہ بیچنا طلاق نہیں  اس لئے  کہ خریدار بیچنے  والے  کا نائب ہے  اور بیچنے  والا اس نفع کو اپنی ملکیت سے  نکال کر بیچ رہا ہے، ان کی دلیل حضرت بریرہ والی حدیث ہے  جو بخاری و مسلم وغیرہ میں ہے  کہ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے  جب انہیں  خرید کر آزاد کر دیا تو ان کا نکاح مغیث سے  فسخ نہیں  ہوا بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے  انہیں  فسخ کرنے  اور باقی رکھنے  کا اختیار دیا اور حضرت بریرہ نے  فسخ کرنے  کو پسند کیا یہ واقعہ مشہور ہے، پس اگر بک جانا ہی طلاق ہوتا جیسے  ان بزرگوں کا قول ہے  تو آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم حضرت بریرہ کو ان کے  بک جانے  کے  بعد اپنے  نکاح کے  باقی رکھنے  نہ رکھنے  کا اختیار نہ دینے، اختیار دینا نکاح کے  باقی رہنے  کی دلیل ہے، تو آیت میں مراد صرف وہ عورتیں ہیں  جو جہاد میں قبضہ میں آئیں واللہ اعلم۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے  کہ محصنات سے  مراد پاک دامن عورتیں ہیں  یعنی عفیفہ عورتیں جو تم پر حرام ہیں  جب تک کہ تم نکاح اور گواہ اور مہر اور ولی سے  ان کی عصمت کے  مالک نہ بن جاؤ خواہ ایک ہو خواہ دو خواہ تین خواہ چار ابو العالیہ اور طاؤس یہی مطلب بیان فرماتے  ہیں ۔ عمر اور عبید فرماتے  ہیں  مطلب یہ ہے  کہ چار سے  زائد عورتیں تم پر حرام ہیں  ہاں کنیزوں میں یہ گنتی نہیں ۔ پھر فرمایا کہ یہ حرمت اللہ تعالیٰ نے  تم پر لکھ دی ہے  یعنی چار کی پس تم اس کی کتاب کو لازم پکڑو اور اس کی حد سے  آگے  نہ بڑھو، اس کی شریعت اور اس کے  فرائض کے  پابند رہو، یہ بھی کہا گیا ہے  کہ حرام عورتیں اللہ تعالیٰ نے  اپنی کتاب میں ظاہر کر دیں ۔ پھر فرماتا ہے  کہ جن عورتوں کا حرام ہونا بیان کر دیا گیا ان کے  علاوہ اور سب حلال ہیں، ایک مطلب یہ بھی کہا گیا ہے  کہ ان چار سے  کم تم پر حلال ہیں، لیکن یہ قول دور کا قول ہے  اور صحیح مطلب پہلا ہی ہے  اور یہی حضرت عطا کا قول ہے، حضرت قتادہ اس کا یہ مطلب بیان کرتے  ہیں  کہ اس سے  مراد لونڈیاں ہیں، یہی آیت ان لوگوں کی دلیل ہے  جو دو بہنوں کے  جمع کرنے  کی حلت کے  قائل ہیں  اور ان کی بھی جو کہتے  ہیں  کہ ایک آیت اسے  حلال کرتی ہے  اور دوسری حرام۔ پھر فرمایا تم ان حلال عورتوں کو اپنے  مال سے  حاصل کرو چار تک تو آزاد عورتیں اور لونڈیاں بغیر تعین کے  لیکن ہو بہ طریق شرع۔ اسی لئے  فرمایا زنا کاری سے  بچنے  کے  لئے  اور صرف شہوت رانی مقصود نہیں  ہونا چاہئے ۔ پھر فرمایا کہ جن عورتوں سے  تم فائدہ اٹھاؤ ان کے  اس فائدہ کے  مقابلہ میں مہر دے  دیا کرو، جیسے  اور آیت میں ہے  و کیف تاخذونہ وقد افضی بعضکم الی بعض یعنی تم مہر کو عورتوں سے  کیسے  لو گے  حالانکہ ایک دوسرے  سے  مل چکے  ہو اور فرمایا و اتوا النساء صدقاتہن نحلۃ عورتوں کے  مہر بخوشی دے  دیا کرو اور جگہ فرمایا ولا یحل لکم ان تاخذوا مما اتیتمو ہن شیأا الخ، تم نے  جو کچھ عورتوں کو دے  دیا ہو اس میں سے  واپس لینا تم پر حرام ہے، اس آیت سے  نکاح متعہ پر استدلال کیا ہے  بیشک متعہ ابتداء اسلام میں مشروع تھا لیکن پھر منسوخ ہو گیا، امام شافعی اور علمائے  کرام کی ایک جماعت نے  فرمایا ہے  کہ دو مرتبہ متعہ مباح ہوا پھر منسوخ ہوا۔ بعض کہتے  ہیں  اس سے  بھی زیادہ بار مباح اور منسوخ ہوا، اور بعض کا قول ہے  کہ صرف ایک بار مباح ہوا پھر منسوخ ہو گیا پھر مباح نہیں  ہوا۔ حضرت ابن عباس اور چند دیگر صحابہ سے  ضرورت کے  وقت اس کی اباحت مروی ہے، حضرت امام احمد بن حنبل سے  بھی ایک روایت ایسی ہی مروی ہے  ابن عباس ابی بن کعب سعید بن جیبر اور سدی سے  منہن کے  بعد الی اجل مسمی کی قرات مروی ہے، مجاہد فرماتے  ہیں  یہ آیت نکاح متعہ کی بابت نازل ہوئی ہے، لیکن جمہور اس کے  برخلاف ہیں  اور اس کا بہترین فیصلہ بخاری و مسلم کی حضرت علی والی روایت کر دیتی ہے  جس میں ہے  کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے  خیبر والے  دن نکاح متعہ سے  اور گھریلو گدھوں کے  گوشت سے  منع فرما دیا، اس حدیث کے  الفاظ کتب احکام میں مقرر ہیں، صحیح مسلم شریف میں حضرت سیرہ بن معبد جہنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے  مروی ہے  کہ فتح مکہ کے  غزوہ میں وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کے  ساتھ تھے  آپ نے  ارشاد فرمایا اے  لوگو میں نے  تمہیں  عورتوں سے  متعہ کرنے  کی رخصت دی تھی یاد رکھو بیشک اب اللہ تبارک و تعالیٰ نے  اسے  قیامت تک کے  لئے  حرام کر دیا ہے  جس کے  پاس اس قسم کی کوئی عورت ہو تو اسے  چاہئے  کہ اسے  چھوڑ دے  اور تم نے  جو کچھ انہیں  دے  رکھا ہو اس میں سے  ان سے  کچھ نہ لو، صحیح مسلم شریف کی ایک اور روایت میں ہے  کہ آپ نے  حجۃ الوداع میں یہ فرمایا تھا، یہ حدیث کئی الفاظ سے  مروی ہے، جن کی تفصیل کی جگہ احکام کی کتابیں ہیں، پھر فرمایا کہ تقرر کے  بعد بھی اگر تم بہ رضامندی کچھ طے  کر لو تو کوئی حرج نہیں، اگلے  جملے  کو متعہ پر محمول کرنے  والے  تو اس کا یہ مطلب بیان کرتے  ہیں  کہ جب مدت مقررہ گزر جائے  پھر مدت کو بڑھا لینے  اور جو دیا ہو اس کے  علاوہ اور کچھ دینے  میں کوئی گناہ نہیں، سدی کہتے  ہیں  اگر چاہے  تو پہلے  کے  مقرر مہر کے  بعد جو دے  چکا ہے  وقت کے  ختم ہونے  سے  پیشتر پھر کہہ دے  کہ میں اتنی اتنی مدت کے  لئے  پھر متعہ کرتا ہوں پس اگر اس نے  رحم کی پاکیزگی سے  پہلے  دن بڑھا لئے  تو جب مدت پوری ہو جائے  تو پھر اس کا کوئی دباؤ نہیں  وہ عورت الگ ہو جائے  گی اور حیض تک ٹھہر کر اپنے  رحم کی صفائی کر لے  گی ان دونوں میں میراث نہیں  نہ یہ عورت اس مرد کی وارث نہ یہ مرد اس عورت کا، اور جن حضرات نے  اس جملہ کو نکاح مسنون کے  مہر کی کے  مصداق کہا ہے  ان کے  نزدیک تو مطلب صاف ہے  کہ اس مہر کی ادائیگی تاکیداً بیان ہو رہی ہے  جیسے  فرمایا مہر بہ آسانی اور بہ خوشی دے  دیا کرو، اگر مہر کے  مقرر ہو جانے  کے  بعد عورت اپنے  پورے  حق کو یا تھوڑے  سے  حق کو چھوڑ دے  صاف کر دے  اس سے  دست بردار ہو جائے  تو میاں بیوی میں سے  کسی پر کوئی گناہ نہیں، حضرت حضرمی فرماتے  ہیں  کہ لوگ اقرار دیتے  ہیں  پھر ممکن ہے  کہ تنگی ہو جائے  تو اگر عورت اپنا حق چھوڑ دے  تو جائز ہے، امام ابن جریر بھی اسی قول کو پسند کرتے  ہیں، حضرت ابن عباس فرماتے  ہیں  مراد یہ ہے  کہ مہر کی رقم پوری پوری اس کے  حوالے  کر دے  پھر اسے  بسنے  اور الگ ہونے  کا پورا پورا اختیار دے، پھر ارشاد ہوتا ہے  کہ اللہ علیم و حکیم ہے  ان کا احکام میں جو حلت و حرمت کے  متعلق ہیں  جو رحمتیں ہیں  اور جو مصلحتیں ہیں  انہیں  وہی بخوبی جانتا ہے ۔

۲۵

آزاد عورتوں سے  نکاح اور کنیزوں سے  متعلق ہدایات

ارشاد ہوتا ہے  کہ جسے  آزاد مسلمان عورتوں سے  نکاح کرنے  کی وسعت قدرت نہ ہو، ربیعہ فرماتے  ہیں  طول سے  مراد قصد و خواہش یعنی لونڈی سے  نکاح کی خواہش، ابن جریر نے  اس قول کو وارد کر کے  پھر اسے  خود ہی توڑ دیا ہے، مطلب یہ کہ ایسے  حالات میں مسلمانوں کی ملکیت میں جو لونڈیاں ہیں  ان سے  وہ نکاح کر لیں، تمام کاموں کی حقیقت اللہ تعالیٰ پر واضح ہے، تم حقائق کو صرف سطحی نگاہ سے  دیکھتے  ہو، تم سب آزاد اور غلام ایمانی رشتے  میں ایک ہو، لونڈی کا ولی اس کا سردار ہے  اس کی اجازت کے  بغیر اس کا نکاح منعقد نہیں  ہو سکتا، اسی طرح غلام بھی اپنے  سردار کی رضامندی حاصل کئے  بغیر اپنا نکاح نہیں  کر سکتا۔ حدیث میں ہے  جو غلام بغیر اپنے  آقا کی اجازت کے  اپنا نکاح کر لے  وہ زانی ہے، ہاں اگر کسی لونڈی کی مالکہ کوئی عورت ہو تو اس کی اجازت سے  اس لونڈی کا نکاح وہ کرائے  جو عورت کا نکاح کراسکتا ہے، کیونکہ حدیث میں ہے  عورت عورت کا نکاح نہ کرائے  نہ عورت اپنا نکاح کرائے، وہ عورتیں زنا کار ہیں  جو اپنا نکاح آپ کرتی ہیں ۔ پھر فرمایا عورتوں کے  مہر خوش دلی سے  دے  دیا کرو، گھٹا کر کم کر کے  تکلیف پہنچا کر لونڈی سمجھ کر کمی کر کے  نہ دو، پھر فرماتا ہے  کہ دیکھ لیا کرو یہ عورتیں بدکاری کی طرف از خود مائل نہ ہوں، نہ ایسی ہوں اگر کوئی ان کی طرف مائل ہو تو یہ جھک جائیں، یعنی نہ تو علانیہ زنا کار ہوں نہ خفیہ بدکردار ہوں کہ ادھر ادھر آشنائیاں کرتی پھریں اور چپ چاپ دوست آشنا بناتی پھریں، جو ایسی بد اطوار ہوں ان سے  نکاح کرنے  کو اللہ تعالیٰ منع فرما رہا ہے  احصن کی دوسری قرات احصن بھی ہے، کہا گیا ہے  کہ دونوں کا معنی ایک ہی ہے، یہاں احصان سے  مراد اسلام ہے  یا نکاح والی ہو جانا ہے، ابن ابی حاتم کی ایک مرفوع حدیث میں ہے  کہ ان کا احصان اسلام اور عفت ہے  لیکن یہ حدیث منکر ہے  اس میں ضعف بھی ہے  اور ایک راوی کا نام نہیں، ایسی حدیث حجت کے  لائق نہیں  ہوتی، دوسرا قول یعنی احصان سے  مراد نکاح ہے  حضرت ابن عباس مجاہد عکرمہ طاؤس سعید بن جبیر حسن قتادہ وغیرہ کا یہی قول ہے، امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ سے  بھی ابو علی طبری نے  اپنی کتاب ایضاح میں یہی نقل کیا ہے، مجاہد فرماتے  ہیں  لونڈی کا محصن ہونا یہ ہے  کہ وہ کسی آزاد کے  نکاح میں چلی جائے، اسی طرح غلام کا احصان یہ ہے  کہ وہ کسی آزاد مسلمہ سے  نکاح کرلے، ابن عباس سے  بھی یہ منقول ہے، شعبی اور نخعی بھی یہی کہتے  ہیں، یہ بھی کہا گیا ہے  کہ ان دونوں قرآتوں کے  اعتبار سے  معنی بھی بدل جاتے  ہیں، احصن سے  مراد تو نکاح ہے  اور احصن سے  مراد اسلام ہے، امام ابن جریر اسی کو پسند فرماتے  ہیں، لیکن بظاہر مراد یہاں نکاح کرنا ہے  واللہ اعلم، اسی لئے  کہ سیاق آیات کی دلالت اسی پر ہے، ایمان کا ذکر تو لفظوں میں موجود ہے  بہر دو صورت جمہور کے  مذہب کے  مطابق آیت کے  معنی میں بھی اشکال باقی ہے  اس لئے  کہ جمہور کا قول ہے  کہ لونڈی کو زنا کی وجہ سے  پچاس کوڑے  لگائے  جائیں گے  خواہ وہ مسلمہ ہو یا کافرہ ہو شادی شدہ یا غیر شادی شدہ ہو باوجود یہ کہ آیت کے  مفہوم کا تقاضا یہ ہے  کہ غیر محصنہ لونڈی پر حد ہی نہ ہو، پس اس کے  مختلف جوابات دیئے  گئے  ہیں، جمہور کا قول ہے  کہ بیشک “جو بولا گیا” مفہوم پر مقدم ہے  اس لئے  ہم نے  ان عام احادیث کو جن میں لونڈیوں کو حد مارنے  کا بیان ہے  اس آیت کے  مفہوم پر مقدم کیا، صحیح مسلم کی حدیث میں ہے  کہ حضرت علی نے  اپنے  خطبے  میں فرمایا لوگو اپنی لونڈیوں پر حدیں قائم رکھو خواہ وہ محصنہ ہوں یا نہ ہوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے  مجھے  اپنی لونڈی کے  زنا پر حد مارنے  کو فرمایا چونکہ وہ نفاس میں تھی اس لئے  مجھے  ڈر لگا کہ کہیں  حد کے  کوڑے  لگنے  سے  یہ مرنہ جائے  چنانچہ میں نے  اس وقت اسے  حد نہ لگائی اور حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں واقعہ بیان کیا تو آپ نے  فرمایا تم نے  اچھا کیا جب تک وہ ٹھیک ٹھاک نہ ہو جائے  حد نہ مارنا، مسند احمد میں ہے  کہ آپ نے  فرمایا جب یہ نفاس سے  فارغ ہو تو اسے  پچاس کوڑے  لگانا۔ حضرت ابوہریرہ فرماتے  ہیں  میں نے  حضور صلی اللہ علیہ و سلم سے  سنا فرماتے  تھے  جب تم میں سے  کسی کی لونڈی زنا کرے  اور زنا ظاہر ہو جائے  تو اسے  وہ حد مارے  اور برا بھلا نہ کہے  پھر اگر دوبارہ زنا کرے  تو بھی حد لگائے  اور ڈانٹ جھڑک نہ کرے، پھر اگر تیسری مرتبہ زنا کرے  اور ظاہر ہو تو اسے  بیچ ڈالے  اگرچہ ایک رسی کے  ٹکڑے  کے  بدلے  ہی ہو، اور صحیح مسلم میں ہے  کہ جب تین بار یہ فعل اس سے  سرزد ہو تو چوتھی دفعہ فروخت کر ڈالے، عبد اللہ بن عیاش بن ابو ربیعہ فحرومی فرماتے  ہیں  کہ ہم چند قریش نوجوانوں کو حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے  امارت کی لونڈیوں سے  کئی ایک پر حد جاری کرنے  کو فرمایا ہم نے  انہیں  زنا کی حد میں پچاس پچاس کوڑے  لگائے  دوسرا جواب ان کا ہے  جو اس بات کی طرف گئے  ہیں  کہ لونڈی پر احصان بغیر حد نہیں  وہ فرماتے  ہیں  کہ یہ مارنا صرف بطور ادب سکھانے  اور باز رکھنے  کے  ہے، ابن عباس اسی طرف گئے  ہیں  طاؤس سعید ابو عبید داؤد ظاہری کا مذہب بھی یہی ہے  ان کی بڑی دلیل مفہوم آیت ہے  اور یہ شرط ہے  مفہوموں میں سے  ہے  اور اکثر کے  نزدیک یہ محض حجت ہے  اس لئے  ان کے  نزدیک ایک عموم پر مقدم ہو سکتا ہے  اور ابوہریرہ اور زید بن خالد کی حدیث جس میں ہے  کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم سے  پوچھا گیا کہ جب لونڈی زنا کرے  اور وہ محصنہ نہ ہو یعنی اس کا نکاح نہ ہوا ہو تو کیا جائے ؟ آپ نے  فرمایا اگر وہ زنا کرے  تو اسے  حد لگاؤ پھر زنا کرے  تو پھر کوڑے  لگاؤ پھر بیچ ڈالو گو ایک رسی کے  ٹکڑے  کے  قیمت پر ہی کیوں نہ بیچنا پڑے، راوی حدیث ابن شہاب فرماتے  ہیں  نہیں  جانتا کہ تیسری مرتبہ کے  بعد یہ فرمایا یا چوتھی مرتبہ کے  بعد۔ پس اس حدیث کے  مطابق وہ جواب دیتے  ہیں  کہ دیکھو یہاں کی حد کی مقدار اور کوڑوں کی تعداد بیان نہیں  فرمائی جیسے  کہ محصنہ کے  بارے  میں صاف فرما دیا ہے  اور جیسے  کہ قرآن میں مقرر طور پر فرمایا گیا کہ محصنات کی نسبت نصف حد ان پر ہے، پس آیت و حدیث میں اس طرح تطبیق دینا واجب ہو گئی واللہ اعلم۔ اس سے  بھی زیادہ صراحت والی وہ روایت ہے  جو سعید بن منصور نے  بروایت ابن عباس نقل کی ہے  کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے  فرمایا کسی لونڈی پر حد نہیں  جب تک کہ وہ احصان والی نہ ہو جائے  یعنی جب تک نکاح والی نہ ہو جائے  پس جب خاوند والی بن جائے  تو اس پر آدھی حد ہے  بہ نسبت اس حد کے  جو آزاد نکاح والیوں پر ہے، یہ حدیث ابن خزیمہ میں بھی ہے  لیکن وہ فرماتے  ہیں  اسے  مرفوع کہنا خطا ہے  یہ موقوف ہے  یعنی حضرت ابن عباس کا قول ہے، بیہقی میں بھی یہ روایت ہے  اور آپ کا بھی یہی فیصلہ ہے  اور کہتے  ہیں  کہ حضرت علی اور حضرت عمر والی حدیثیں ایک واقعہ کا فیصلہ ہیں، اور حضرت ابوہریرہ والی حدیث دوسرے  واقعہ کا فیصلہ ہیں  اور حضرت ابوہریرہ والی حدیث کے  بھی کئی جوابات ہیں  ایک تو یہ کہ یہ محمول ہے  اس لونڈی پر جو شادی شدہ ہو اس طرح ان دونوں احادیث میں تطبیق اور جمع ہو جاتی ہے  دوسرے  یہ کہ اس حدیث میں لفظ حد کسی راوی کا داخل کیا ہوا ہے  اور اس کی دلیل جواب کا فقرہ ہے، تیسرا جواب یہ ہے  کہ یہ حدیث دو صحابیوں کی ہے  اور وہ حدیث صرف ایک صحابی کی ہے  اور ایک والی پر دو والی مقدم ہے، اور اسی طرح یہ حدیث نسائی میں بھی مروی ہے  اور مسلم کی شرط پر اس کی سند ہے  کہ حضرت عباد بن تمیم اپنے  چچا سے  جو بدری صحابی تھے  روایت کرتے  ہیں  کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے  فرمایا ہے  کہ جب لونڈی زنا کرے  تو اسے  کوڑے  لگاؤ پھر جب زنا کرے  تو کوڑے  مارو پھر جب زنا کرے  تو کوڑے  لگاؤ پھر جب زنا کرے  تو بیچ دو اگرچہ ایک رسی کے  ٹکڑے  کے  بدلے  ہی بیچنا پڑے ۔ چوتھا جواب یہ ہے  کہ یہ بھی بعید نہیں  کہ کسی راوی نے  جلد کو حد خیال کر لیا ہو یا لفظ حد کا اطلاق کر دیا ہو اور اس نے  جلد کو حد خیال کر لیا ہو یا لفظ حد کا اطلاق تادیب کے  طور پر سزا دینے  پر کر دیا ہو جیسے  کہ لفظ حد کا اطلاق اس سزا پر بھی کیا گیا ہے  جو بیمار زانی کو کھجور کا ایک خوشہ مارا گیا تھا جس میں ایک سو چھوٹی چھوٹی شاخیں تھیں، اور جیسے  کہ لفظ حد کا اطلاق اس شخص پر بھی کیا گیا ہے  جس نے  اپنی بیوی کو اس لونڈی کے  ساتھ زنا کیاجسی بیوی نے  اس کے  لئے  حلال کر دیا تھا حالانکہ اسے  سو کوڑوں کا لگنا تعزیر کے  طور پر صرف ایک سزا ہے  جیسے  کہ امام احمد وغیرہ سلف کا خیال ہے ۔ حد حقیقی صرف یہ ہے  کہ کنوارے  کو سو کوڑے  اور شادی شدہ ہوئے  کو رجم واللہ اعلم۔ ابن ماجہ وغیرہ میں حضرت ٰسعید بن جبیر کا فرمان ہے  کہ لونڈی نے  جب تک نکاح نہیں  کیا اسے  زنا پر مارا نہ جائے، اس کی اسناد تو صحیح ہے  لیکن معنی دو ہو سکتے  ہیں  ایک تو یہ کہ بالکل مارا ہی نہ جائے  نہ حد نہ اور کچھ توتو یہ قول بالکل غریب ہے، ممکن ہے  آیت کے  الفاظ پر نظر کر کے  یہ فتویٰ دے  دیا ہو اور حدیث نہ پہنچی ہو، دوسرے  معنی یہ ہیں  کہ حد کے  طور پر نہ مارا جائے  اگر یہ معنی مراد لئے  جائیں تو اس کے  خلاف نہیں  کہ اور کوئی سزا کی جائے، پس یہ قیاس حضرت ابن عباس وغیرہ کے  فتوے  کے  مطابق ہو جائے  گا واللہ اعلم۔ تیسرا جواب یہ ہے  کہ آیت میں دلالت ہے  کہ محصنہ لونڈی پر بہ نسبت آزاد عورت کے  آدھی حد ہے، لیکن محصنہ ہونے  سے  پہلے  کتاب و سنت کے  عموم میں یہ بھی شامل ہے  کہ اسے  بھی سو کوڑے  مارے  جائیں جیسے  اللہ تبارک و تعالیٰ کا فرمان ہے (آیت الزانیۃ والزانی فاجلدوا کل واحد منہما مائۃ جلدۃ) یعنی زنا کار عورت زنا کار مرد کو ہر ایک کو سو سو کوڑے  مارو اور جیسے  حدیث میں ہے  حضور صلی اللہ علیہ و سلم فرماتے  ہیں  میری بات لے  لو میری بات سمجھ لو اللہ نے  ان کے  لئے  راستہ نکال لیا اگر دونوں جانب غیر شادی شدہ ہیں  تو سو کوڑے  اور ایک سال کی جلا وطنی اور اگر دونوں طرف شادی شدہ ہیں  تو سو کوڑے  اور پتھروں سے  رجم کر دینا۔ یہ حدیث صحیح مسلم شریف کی ہے  اور اسی طرح کی اور حدیثیں بھی ہیں، حضرت داؤد بن علی ظاہری کا یہی قول ہے  لیکن یہ سخت ضعیف ہے  اس لئے  کہ اللہ تعالیٰ نے  محصنہ لونڈیوں کو بہ نسبت آزاد کے  آدھے  کوڑے  مارنے  کا عذاب بیان فرمایا یعنی پچاس کوڑے  تو پھر جب تک وہ محصنہ نہ ہوں اس سے  بھی زیادہ سزا کی سزا وار وہ کیسے  ہو سکتی ہیں ؟ حالانکہ قاعدہ شریعت یہ ہے  کہ احصان سے  پہلے  کم سزا ہے  اور احصان کے  بعد زیادہ سزا ہے  پھر اس کے  برعکس کیسے  صحیح ہو سکتا ہے ؟ دیکھئے  شارع علیہ السلام سے  آپ کے  صحابہ غیر شادی شدہ لونڈی کے  زنا کی سزا پوچھتے  ہیں  اور آپ انہیں  جواب دیتے  ہیں  کہ اسے  کوڑے  مارو لیکن یہ نہیں  فرماتے  کہ ایک سو کوڑے  لگاؤ پس اگر اس کا حکم وہی ہوتا جو داؤد سمجھتے  ہیں  تو اسے  بیان کر دینا حضور صلی اللہ علیہ و سلم پر واجب تھا اس لئے  کہ ان کا یہ سوال تو صرف اسی وجہ سے  تھا کہ لونڈی کے  شادی شدہ ہو جانے  کے  بعد اسے  کوڑے  مارنے  کا بیان نہیں  ورنہ اس قید کے  لگانے  کی کیا ضرورت تھی کہ سوال میں کہتے  وہ غیر شادی شدہ ہے  کیونکہ پھر تو شادی شدہ اور غیر شادی شدہ میں کوئی فرق ہی نہ رہا اگر یہ آیت اتری ہوئی نہ ہوتی لیکن چونکہ ان دونوں صورتوں میں سے  ایک کا علم تو انہیں  ہوچکا تھا اس لئے  دوسری کی بابت سوال کیا اور حضور صلی اللہ علیہ و سلم سے  آپ پر درود پڑھنے  کی نسبت پوچھا تو آپ نے  اسے  بیان فرمایا اور فرمایا سلام تو اسی طرح ہے  جس طرح تم خود جانتے  ہو، اور ایک روایت میں ہے  کہ جب اللہ تعالیٰ کا فرمان (آیت یا ایھا الذین امنوا صلوا علیہ و سلموا تسلیما) نازل ہوا اور صلوٰۃ و سلام آپ پر بھیجنے  کا اللہ تعالیٰ نے  حکم دیا تو صحابہ نے  کہا کہ سلام کا طریقہ اور اس کے  الفاظ تو ہمیں معلوم ہیں  صلوٰۃ کی کیفیت بیان فرمائے ۔ پس ٹھیک اسی طرح یہ سوال ہے  مفہوم آیت کا چوتھا جواب ابو ثور کا ہے  جو داؤد کے  جواب سے  زیادہ بودا ہے، وہ فرماتے  ہیں  جب لونڈیاں شادی شدہ ہو جائیں تو ان کی زنا کاری کی حد ان پر آدھی ہے  اس حد کی جو شادی شدہ آزاد عورتوں کی زنا کاری کی حد تو ظاہر ہے  کہ آزاد عورتوں کی حد اس صورت میں رجم ہے  اور یہ بھی ظاہر ہے  کہ رجم آدھا نہیں  ہو سکتا تو لونڈی کو اس صورت میں رجم کرنا پڑے  گا اور شادی سے  پہلے  اسے  پچاس کوڑے  لگیں گے، کیونکہ اس حالت میں آزاد عورت پر سو کوڑے  ہیں ۔ پس دراصل آیت کا مطلب سمجھنے  میں اس سے  خطا ہوئی اور اس میں جمہور کا بھی خلاف ہے  بلکہ امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ تو فرماتے  ہیں  کسی مسلمان کا اس میں اختلاف ہی نہیں  کہ مملوک پر زنا کی سزا میں رجم ہے  ہی نہیں، اس لئے  کہ آیت کی دلالت کرنی ہے  کہ ان پر محصنات کا نصف عذاب ہے  اور محصنات کے  لفظ میں جو الف لام ہے  وہ عہد کا ہے  یعنی وہ محصنات جن کا بیان آیت کے  شروع میں ہے  (آیت ان ینکح المحصنات) میں گزر چکا ہے  اور مراد صرف آزاد عورتیں ہیں ۔ اس وقت یہاں آزاد عورتوں کا نکاح کے  مسئلہ کی بحث نہیں  بحث یہ ہے  کہ پھر آگے  چل کر ارشاد ہوتا ہے  کہ ان پر زنا کاری کی جو سزا تھی اس سے  آدھی سزا ان لونڈیوں پر ہے  تو معلوم ہوا کہ یہ اس سزا کا ذکر ہے  جو آدھی ہو سکتی ہو اور وہ کوڑے  ہیں  کہ سو سے  آدھے  پچاس رہ جائیں گے  رجم یعنی سنگسار کرنا ایسی سزا ہے  جس کے  حصے  نہیں  ہو سکتے  واللہ اعلم، پھر مسند احمد میں ہے  ایک واقعہ ہے  جو ابو ثور کے  مذہب کی پوری تردید کرتا ہے  اس میں ہے  کہ صفیہ لونڈی نے  ایک غلام سے  زناکاری کی اور اسی زنا سے  بچہ ہوا جس کا دعویٰ زانی نے  کیا مقدمہ حضرت عثمان کے  پاس پہنچا آپ نے  حضرت علی کو اس کا تصفیہ سونپا، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے  فرمایا اس میں وہی فیصلہ کروں گا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کا ہے  بچہ تو اس کا سمجھا جائے  گا جس کی یہ لونڈی ہے  اور زانی کو پتھر مارے  جائیں گے  پھر ان دونوں کو پچاس پچاس کوڑے  لگائے، یہ بھی کہا گیا ہے  کہ مراد مفہوم سے  تنبیہ ہے  اعلیٰ کے  ساتھ ادنیٰ پر یعنی جب کہ وہ شادی شدہ ہوں تو ان پر بہ نسبت آزاد عورتوں کے  آدھی حد ہے  پس ان پر رجم تو سرے  سے  کسی صورت میں ہے  ہی نہیں  نہ قبل از نکاح نہ بعد نکاح، دونوں حالتوں میں صرف کوڑے  ہیں  جس کی دلیل حدیث ہے، صاحب مصباح یہی فرماتے  ہیں  اور حضرت امام شافعی سے  بھی اسی کو ذکر کرتے  ہیں، امام بیہقی اپنی کتاب سنن و آثار میں بھی اسے  لائے  ہیں  لیکن یہ قول لفظ آیت سے  بہت دور ہے  اس طرح کہ آدھی حد کی دلیل صرف آیت ہے  اس کے  سوا کچھ نہیں  پس اس کے  علاوہ میں آدھا ہونا کس طرح سمجھا جائے  گا؟ اور یہ بھی کہا گیا ہے  کہ مطلب یہ ہے  کہ شادی شدہ ہونے  کی حالت میں صرف امام ہی حد قائم کر سکتا ہے  اس لونڈی کا مالک اس حال میں اس پر حد جاری نہیں  کر سکتا امام احمد رحمۃ اللہ علیہ کے  مذہب میں ایک قول یہی ہے  ہاں شادی سے  پہلے  اس کے  مالک کو حد جاری کرنے  کا اختیار ہے  بلکہ حکم ہے  لیکن دونوں صورتوں میں حد آدھی ہی آدھی رہے  گی اور یہ بھی دور کی بات ہے  اس لئے  کہ آیت میں اس کی دلالت بھی نہیں، اگر اگر یہ آیت نہ ہوتی تو ہم نہیں  جان سکتے  تھے  کہ لونڈیوں کے  بارے  میں آدھی حد ہے  اور اس صورت میں انہیں  بھی عموم میں داخل کر کے  پوری حد یعنی سو کوڑے  اور رجم ان پر بھی جاری کرنا واجب ہو جاتا جیسے  کہ عام روایتوں سے  ثابت ہے، حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے  مروی ہے  کہ لوگو اپنے  ماتحتوں پر حدیں جاری کرو شادی شدہ ہوں یا غیر شادی شدہ اور وہ عام حدیثیں جو پہلے  گزرچکی ہیں  جن میں خاوندوں والی اور خاوندوں کے  بغیر کوئی تفصیل نہیں، حضرت ابوہریرہ کی روایت والی حدیث جس سے  جمہور نے  دلیل ]پکڑی ہے  یہ ہے  کہ جب تم میں سے  کسی کوئی زنا کرے  اور پھر اس کا زنا ظاہر ہو جائے  تو اسے  چاہئے  کہ اس پر حد جاری کرے  اور ڈانٹ ڈپٹ نہ کرے  (ملخص) الغرض لونڈی کی زنا کاری کی حد میں کئی قول ہیں  ایک تو یہ کہ جب تک اس کا نکاح نہیں  ہوا اسے  پچاس کوڑے  مارے  جائیں گے  اور نکاح ہو جانے  کے  بعد بھی یہی حد رہے  گی اور اسے  جلاوطن بھی کیا جائے  گا یا نہیں ؟ اس میں تین قول ہیں  ایک یہ کہ جلا وطنی ہو گی دوسرے  یہ کہ نہ ہو گی تیسرے  یہ کہ جلا وطنی میں آدھے  سال کو ملحوظ رکھا جائے  گا یعنی چھ مہینے  کا دیس نکالا دیا جائے  گا پورے  سال کا نہیں، پورا سال آزاد عورتوں کے  لئے  ہے، یہ تینوں قول امام شافعی کے  مذہب میں ہیں، لیکن امام ابو حنیفہ کے  نزدیک جلا وطنی تعزیر کے  طور پر ہے  وہ حد میں سے  نہیں  امام کی رائے  پر موقوف ہے  اگر چاہے  جلا وطنی دے  یا نہ دے  مرد و عورت سب اسی حکم میں داخل ہیں  ہاں امام مالک کے  مذہب میں ہے  کہ جلا وطنی صرف مردوں کے  لئے  ہے  عورتوں پر نہیں  اس لئے  کہ جلا وطنی صرف اس کی حفاظت کے  لئے  ہے  اور اگر عورت کو جلا وطن کیا گیا تو حفاظت میں سے  نکل جائے  گی اور مردوں یا عورتوں کے  بارے  میں دیس نکالے  کی حدیث صرف حضرت عبادہ اور حضرت ابوہریرہ سے  ہی مروی ہے  کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم نے  اس زانی کے  بارے  میں جس کی شادی نہیں  ہوئی تھی حد مارنے  اور ایک سال دیس نکالا دینے  کا حکم فرمایا تھا (بخاری) اس سے  معنی مراد یہی ہے  کہ اس کی حفاظت رہے  اور عورت کو وطن سے  نکالے  جانے  میں یہ حفاظت بالکل ہی نہیں  ہو سکتی واللہ اعلم۔ دوسرا قول یہ ہے  کہ لونڈی کو اس کی زنا کاری پر شادی کے  بعد پچاس کوڑے  مارے  جائیں گے  اور ادب دکھانے  کے  طور پر اسے  کچھ مار پیٹ کی جائے  گی لیکن اس کی کوئی مقرر گنتی نہیں  پہلے  گزرچکا ہے  کہ شادی سے  پہلے  اسے  مارا نہ جائے  گا جیسے  حضرت سعید بن مسیب کا قول ہے  لیکن اگر اس سے  یہ مراد لی جائے  کہ سرے  سے  کچھ مارنا ہی نہ چاہئے  تو یہ محض تاویل ہی ہو گی ورنہ قول ثانی میں اسے  داخل کیا جاسکتا ہے  جو یہ ہے  کہ شادی سے  پہلے  سو کوڑے  اور شادی کے  بعد پچاس جیسے  کے  داؤد کا قول ہے  اور یہ تمام اقوال سے  بودا قول ہے  اور یہ کہ شادی سے  پہلے  پچاس کوڑے  اور شادی کے  بعد رجم جیسے  کہ ابو ثور کا قول ہے  لیکن یہ قول بھی بودا ہے ۔ واللہ سبحانہ و تعالیٰ اعلم بالصواب۔ پھر فرمان ہے  کہ لونڈیوں سے  نکاح کرنا ان شرائط کی موجودگی میں جو بیان ہوئیں ان کے  لئے  جنہیں  زنا میں واقع ہونے  کا خطرہ ہو اور تجرد اس پر بہت شاق گزر رہا ہو اور اس کی وجہ سے  سخت تکلیف میں ہو تو بیشک اسے  پاکدامن لونڈیوں سے  نکاح کر لینا جائز ہے  گو اس حالت میں بھی اپنے  نفس کو روکے  رکھنا اور ان سے  نکاح نہ کرنا بہت بہتر ہے  اس لئے  کہ اس سے  جو اولاد ہو گی وہ اس کے  مالک کے  لونڈی غلام ہو گی ہاں اگر خاوند غریب ہو تو اس کی یہ اولاد اس کے  آقا کی ملکیت امام شافعی کے  قول قدیم کے  مطابق نہ ہو گی۔ پھر فرمایا اگر تم صبر کرو تو تمہارے  لئے  افضل ہے  اور اللہ غفور و رحیم ہے، جمہور علماء نے  اس آیت سے  استدلال کیا ہے  کہ لونڈی سے  نکاح جائز ہے  لیکن یہ اس وقت جب آزاد عورتوں سے  نکاح کرنے  کی طاقت نہ ہو اور نہ ہی رکے  رہنے  کی طاقت ہو، بلکہ زنا واقع ہو جانے  کا خوف ہو۔ کیونکہ اس میں ایک خرابی تو یہ ہے  کہ اولاد غلامی میں جاتی ہے  دوسرے  ایک طرح ہے  کہ آزاد عورت کو چھوڑ کر لونڈیوں کی طرف متوجہ ہونا۔ ہاں جمہور کے  مخالف امام ابو حنیفہ اور ان کے  ساتھی کہتے  ہیں  یہ دونوں باتیں شرط نہیں  بلکہ جس کے  نکاح میں کوئی آزاد عورت نہ ہو اسے  لونڈی سے  نکاح جائز ہے  وہ لونڈی خواہ مومنہ ہو خواہ اہل کتاب میں سے  ہو۔ چاہے  اسے  آزاد عورت سے  نکاح کرنے  کی طاقت بھی ہو اور اسے  بدکاری کا خوف بھی نہ ہو، اس کی بڑی دلیل یہ آیت والمحصنات من الذین اوتوا الکتاب من قبلکم یعنی آزاد عورتیں ان میں سے  جو تم سے  پہلے  کتاب اللہ دئے  گئے ۔ پس وہ کہتے  ہیں  یہ آیت عام ہے  جس میں آزاد اور غیر آزاد سب ہی شامل ہیں  اور محصنات سے  مراد پاکدامن باعصمت عورتیں ہیں  لیکن اس کی ظاہری دلالت بھی اسی مسئلہ پر ہے  جو جمہور کا مذہب ہے ۔ واللہ اعلم۔

۲۶

پچاس سے  پانچ نمازوں تک

فرمان ہوتا ہے  کہ اے  مومنو اللہ تعالیٰ ارادہ کر چکا ہے  کہ حلال و حرام تم پر کھول کھول کر بیان فرما دے  جیسے  کہ اس سورت میں اور دوسری سورتوں میں اس نے  بیان فرمایا وہ چاہتا ہے  کہ سابقہ لوگوں کی قابل تعریف راہیں  تمہیں  سمجھا دے  تاکہ تم بھی اس کی اس شریعت پر عمل کرنے  لگ جاؤ جو اس کی محبوب اور اس کی پسندیدہ ہیں  وہ چاہتا ہے  کہ تمہاری توبہ قبول فرمالے  جس گناہ سے  جس حرام کاری سے  تم توبہ کرو وہ فوراً قبول فرما لیتا ہے  وہ علم و حکمت والا ہے، اپنی شریعت اپنی اندازے  اپنے  کام اور اپنے  فرمان میں وہ صحیح علم اور کامل حکمت رکھتا ہے، خواہش نفسانی کے  پیروکار یعنی شیطانوں کے  غلام یہود و نصاریٰ اور بدکاری لوگ تمہیں  حق سے  ہٹانا اور باطل کی طرف جھکانا چاہتے  ہیں، اللہ تعالیٰ اپنے  حکم احکام میں یعنی روکنے  اور ہٹانے  میں، شریعت اور اندازہ مقرر کرنے  میں تمہارے  لئے  آسانیاں چاہتا ہے  اور اسی بنا پر چند شرائط کے  ساتھ اس نے  لونڈیوں سے  نکاح کر لینا تم پر حلال کر دیا۔ انسان چونکہ پیدائشی کمزور ہے  اس لئے  اللہ تعالیٰ نے  اپنے  احکام میں کوئی سختی نہیں  رکھی۔ یہ فی نفسہ بھی کمزور اس کے  ارادے  اور حوصلے  بھی کمزور یہ عورتوں کے  بارے  میں بھی کمزور، یہاں آ کر بالکل بیوقوف بن جانے  والا۔ چنانچہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم شب معراج میں سدرۃ المنتہی سے  لوٹے  اور حضرت موسیٰ کلیم اللہ علیہ السلام سے  ملاقات ہوئی تو آپ نے  دریافت کیا کہ آپ پر کیا فرض کیا گیا؟ فرمایا ہر دن رات میں پچاس نمازیں تو کلیم اللہ نے  فرمایا واپس جائیے  اور اللہ کریم سے  تخفیف طلب کیجئے  آپ کی امت میں اس کی طاقت نہیں  میں اس سے  پہلے  لوگوں کا تجربہ کر چکا ہوں وہ اس سے  بہت کم ہیں  گھبرا گئے  تھے  اور آپ کی امت تو کانوں آنکھوں اور دل کی کمزوری میں ان سے  بھی بڑھی ہوئی ہے  چنانچہ آپ واپس گئے  دس معاف کرا لائے  پھر بھی یہی باتیں ہوئیں پھر گئے  دس ہوئیں یہاں تک کہ آخری مرتبہ پانچ رہ گئیں ۔

۲۹

خرید و فروخت اور اسلامی قواعد و ضوابط؟

اللہ تعالیٰ اپنے  ایماندار بندوں کو ایک دوسرے  کے  مال باطل کے  ساتھ کھانے  کی ممانعت فرما رہا ہے  خواہ اس کمائی کی ذریعہ سے  ہو جو شرعاً حرام ہے  جیسے  سود خواری قمار بازی اور ایسے  ہی ہر طرح کی حیلہ سازی چاہے  اسے  جواز کی شرعی صورت دے  دی ہو اللہ کو خوب معلوم ہے  کہ اصل حقیقت کیا ہے، حضرت ابن عباس سے  سوال ہوتا ہے  کہ ایک شخص کپڑا خریدتا ہے  اور کہتا ہے  اگر مجھے  پسند آیا تو تو رکھ لوں گا ورنہ کپڑا اور ایک درہم واپس کر دونگا آپ نے  اس آیت کی تلاوت کر دی یعنی اسے  باطل مال میں شامل کیا۔ حضرت عبداللہ فرماتے  ہیں  یہ آیت محکم ہے  یعنی منسوخ نہیں  نہ قیامت تک منسوخ ہو سکتی ہے، آپ سے  مروی ہے  کہ جب یہ آیت اتری تو مسلمانوں نے  ایک دوسرے  کے  ہاں کھانا چھوڑ دیا جس پر یہ آیت (آیت لیس علی الاعمی) اتری تجارۃ کو تجارۃ بھی پڑھا گیا ہے ۔ یہ استثنا منقطع ہے  گویا یوں فرمایا جارہا ہے  کہ حرمت والے  اسباب سے  مال نہ لو ہاں شرعی طریق پر تجارت سے  نفع اٹھانا جائز ہے  جو خریدار اور بیچنے  والے  کی باہم رضامندی سے  ہو۔ جیسے  دوسری جگہ ہے  کسی بے  گناہ جان کو نہ مارو ہاں حق کے  ساتھ ہو تو جائز ہے  اور جیسے  دوسری آیت میں ہے  وہاں موت نہ چکھیں گے  مگر پہلی بار کی موت۔ حضرت امام شافعی اس آیت سے  استدلال کر کے  فرماتے  ہیں  خرید و فروخت بغیر قبولیت کے  صحیح نہیں  ہوتی اس لئے  کہ رضامندی کی پوری سند یہی ہے  گو صرف لین دین کر لینا کبھی کبھی رضامندی پر پوری دلیل نہیں  بن سکتا اور جمہور اس کے  برخلاف ہیں، تینوں اور اماموں کا قول ہے  کہ جس طرح زبانی بات چیت رضامندی کی دلیل ہے  اسی طرح لین دین بھی رضامندی کی دلیل ہے ۔ بعض حضرات فرماتے  ہیں  کم قیمت کی معمولی چیزوں میں تو صرف دینا لینا ہی کافی ہے  اور اسی طرح بیوپار کا جو طریقہ بھی ہو لیکن صحیح مذہب میں احتیاطی نظر سے  تو بات چیت میں قبولیت کا ہونا اور بات ہے  واللہ اعلم۔ مجاہد فرماتے  ہیں  خرید و فروخت ہو یا بخشش ہو سب کے  لئے  حکم شامل ہے ۔ ابن جریر کی مرفوع حدیث میں ہے  تجارت ایک دوسرے  کی رضامندی سے  ہی لین دین کرنے  کا نام ہے  گویا کسی مسلمان کو جائز نہیں  کہ دوسرے  مسلمان کو تجارت کے  نام سے  دھوکہ دے، یہ حدیث مرسل ہے  پوری رضامندی میں مجلس کے  خاتمہ تک کا اختیار بھی ہے ۔ بخاری و مسلم میں ہے  حضور صلی اللہ علیہ و سلم فرماتے  ہیں  دونوں بائع مشتری جب تک جدا نہ ہوں با اختیار ہیں ۔ بخاری شریف میں ہے  جب دو شخص خرید و فروخت کریں تو دونوں کو الگ الگ ہونے  تک مکمل اختیار ہوتا ہے  اسی حدیث کے  مطابق امام احمد امام شافعی اور ان کے  سب ساتھیوں جمہور سلف و خلف کا بھی یہی فتویٰ ہے  اور اس پوری رضامندی میں شامل ہے  خرید و فروخت کے  تین دن بعد تک اختیار دینا رضامندی میں شامل ہے  بلکہ یہ مدت گاؤں کی رسم کے  مطابق سال بھر کی بھی ہو سکتی ہے  امام مالک کے  نزدیک صرف لین دین سے  ہی بیع صحیح ہو جاتی ہے ۔ شافعی مذہب کا بھی یہی خیال ہے  اور ان میں سے  بعض فرماتے  ہیں  کہ معمولی کم قیمت چیزوں میں جنہیں  لوگ بیوپار کے  لئے  رکھتے  ہوں صرف لین دین ہی کافی ہے ۔ بعض اصحاب کا اختیار سے  مراد یہی ہے  جیسے  کہ متفق علیہ ہے ۔ پھر فرماتا ہے  اللہ تعالیٰ کے  بیان کردہ حرام کاموں کا ارتکاب کر کے  اور اس کی نافرمانیاں کر کے  اور ایک دوسرے  کا بیجا طور پہ مال کھا کر اپنے  آپ کو ہلاک نہ کرو اللہ تم پر رحیم ہے  ہر حکم اور ہر ممانعت رحمت والی ہے ۔

احترام زندگی

مسند احمد میں ہے  کہ حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ذات السلاسل والے  سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے  بھیجا تھا آپ فرماتے  ہیں  مجھے  ایک رات احتلام ہو گیا سردی بہت سخت تھی یہاں تک کہ مجھے  نہانے  میں اپنی جان جانے  کا خطرہ ہو گیا تو میں نے  تیمم کر کے  اپنی جماعت کو صبح کی نماز پڑھادی جب وہاں سے  ہم لوگ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں واپس حاضر ہوئے  تو میں نے  یہ واقعہ کہہ سنایا آپ نے  فرمایا کیا تونے  اپنے  ساتھیوں کو جنبی ہونے  کی حالت میں نماز پڑھا دی؟ میں نے  کہا حضور صلی اللہ علیہ و سلم جاڑا سخت تھا اور مجھے  اپنی جان جانے  کا اندیشہ تھا تو مجھے  یاد پڑا کہ اللہ تعالیٰ نے  فرمایا ہے  اپنے  تئیں ہلاکت نہ کر ڈالو اللہ رحیم ہے  پس میں نے  تیمم کر کے  نماز صبح پڑھا دی تو آپ ہنس دئیے  اور مجھے  کچھ نہ فرمایا۔ ایک روایت میں ہے  کہ اور لوگوں نے  حضور صلی اللہ علیہ و سلم سے  یہ واقعہ بیان کیا تب آپ کے  دریافت کرنے  پر حضرت عمرو بن عاص نے  عذر پیش کیا۔ بخاری و مسلم میں ہے  جو شخص کسی لوہے  سے  خودکشی کرے  گا وہ قیامت تک جہنم کی آگ میں لوہے  سے  خود کشی کرتا رہے  گا، اور جو جان بوجھ کر مرجانے  کی نیت سے  زہر کھالے  گا وہ ہمیشہ ہمیشہ جہنم کی آگ میں زہر کھاتا رہے  گا اور روایت میں ہے  کہ جو شخص اپنے  تئیں جس چیز سے  قتل کرے  گا وہ قیامت والے  دن اسی چیز سے  عذاب کیا جائے  گا۔ حضور صلی اللہ علیہ و سلم کا ارشاد ہے  کہ تم سے  پہلے  کے  لوگوں میں سے  ایک شخص کو زخم لگے  اس نے  چھری سے  اپنا ہاتھ کاٹ ڈالا تمام خون بہ گیا اور وہ اسی میں مرگیا تو اللہ عزوجل نے  فرمایا میرے  بندے  نے  اپنے  تئیں فنا کرنے  میں جلدی کی اسی وجہ سے  میں نے  اس پر جنت کو حرام کیا اسی لئے  اللہ تعالیٰ یہاں فرماتا ہے  جو شخص بھی ظلم و زیادتی کے  ساتھ حرام جانتے  ہوئے  اس کا ارتکاب کرے  دلیرانہ طور سے  حرام پر کار بند رہے  وہ جہنمی ہے، پس ہر عقل مند کو اس سخت تنبیہ سے  ڈرنا چاہئے  دل کے  کان کھول کر اللہ تعالیٰ کے  اس فرمان کو سن کر حرام کاریوں سے  اجتناب کرنا چاہئے ۔ پھر فرماتا ہے  کہ اگر تم بڑے  بڑے  گناہوں سے  بچتے  رہو گے  تو ہم تمہارے  چھوٹے  چھوٹے  گناہ معاف فرما دیں گے  اور تمہیں  جنتی بنادیں گے ۔ حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے  مرفوعا مروی ہے  کہ اس طرح کی کوئی اور سخت و عیدیں ملی جس کی تعمیل میں تمہیں  اپنے  اہل و مال سے  الگ ہو جانا چاہئے  پھر ہم اس کے  لئے  اپنے  اہل و مال سے  جدا نہ ہو جائیں کہ وہ ہمارے  کبیرہ گناہوں کے  وہ ہمارے  چھوٹے  موٹے  گناہوں سے  معاف فرماتا ہے  پھر اس آیت کی تلاوت کی۔ اس آیت کے  متعلق بہت سی حدیثیں بھی ہیں  تھوڑی بہت ہم یہاں بیان کرتے  ہیں ۔ مسند احمد میں حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے  مروی ہے  کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے  فرمایا جانتے  ہو جمعہ کا دن کیا ہے ؟ میں نے  جواب دیا کہ یہ وہ دن ہے  جس میں اللہ تعالیٰ نے  ہمارے  باپ کو پیدا کیا آپ نے فرمایا مگر اب جو میں جانتا ہوں وہ بھی سن لو جو شخص اس دن اچھی طرح غسل کر کے  نماز جمعہ کے  لئے  مسجد میں آئے  اور نماز ختم ہونے  تک خاموش رہے  تو اس کا یہ عمل اگلے  جمعہ تک کے  گناہوں کا کفارہ ہو جاتا ہے  جب تک کہ وہ قتل سے  بچا۔ ابن جریر میں ہے  کہ ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے  خطبہ سناتے  ہوئے  فرمایا اس اللہ کی قسم جس کے  ہاتھ میری جان ہے  تین مرتبہ یہی فرمایا پھر سرنیچا کر لیا ہم سب نے  بھی سر نیچا کر لیا اور ہم سب رونے  لگے  ہمارے  دل کانپنے  لگے  کہ اللہ جانے  اللہ کے  رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے  کس چیز کے  لئے  قسم کھائی ہے  اور پھر کیوں خاموشی اختیار کی ہے ؟ تھوڑی دیر کے  بعد آپ نے  سراٹھایا اور آپ کا چہرہ بشاش تھا جس سے  ہم اس قدر خوش ہوئے  کہ اگر ہمیں سرخ رنگ اونٹ ملتے  تو اس قدر خوش نہ ہوتے، اب آپ فرمانے  لگے  جو بندہ پانچوں نمازیں پڑھے، رمضان کے  روزے  رکھے، زکوٰۃ ادا کرتا رہے  اور سات کبیرہ گناہوں سے  بچا رہے  اس کے  لئے  جنت کے  سب دروازے  کھل جائیں گے  اور اسے  کہا جائے  گا کہ سلامتی کے  ساتھ اس میں داخل ہو جاؤ۔

سات کبیرہ گناہ

جن سات گناہوں کا اس میں ذکر ہے  ان کی تفصیل بخاری مسلم میں اس طرح ہے  گناہوں سے  بچو جو ہلاک کرنے  والے  ہیں  پوچھا گیا کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم وہ کون سے  گناہ ہیں ؟ فرمایا اللہ کے  ساتھ شرک کرنا اور جس کا قتل حرام ہو اسے  قتل کرنا ہاں کسی شرعی وجہ سے  اس کا خون حلال ہو گیا ہو تو اور بات ہے ۔ جادو کرنا، سود کھانا اور یتیم کا مال کھانا اور میدان جنگ سے  کفار کے  مقابلے  میں پیٹھ دکھانا اور بھولی بھالی پاک دامن مسلمان عورتوں کو تہمت لگانا۔ ایک روایت میں جادو کے  بدلے  ہجرت کر کے  پھر واپس اپنے  دیس میں قیام کر لینا ہے ۔ یہ یاد رہے  کہ ان سات گناہوں کو کبیرہ کہنے  سے  یہ مطلب نہیں  کہ کبیرہ گناہ صرف یہی ہیں  جیسے  کہ بعض اور لوگوں کا خیال ہے  جن کے  نزدیک مفہوم مخالف معتبر ہے ۔ دراصل یہ بہت انتہائی بے  معنی قول اور غلط اصول ہے  بالخصوص اس وقت جبکہ اس کے  خلاف دلائل موجود ہوں اور یہاں تو صاف لفظوں میں اور کبیرہ گناہوں کا بھی ذکر موجود ہے ۔ مندرجہ ذیل حدیثیں ملاحظہ ہوں ۔ مستدرک حاکم میں ہے  کہ حجۃ الوداع میں رسول مقبول صلی اللہ علیہ و سلم نے  فرمایا لوگو سن لو اللہ تعالیٰ کے  ولی صرف نمازی ہی ہیں  جو پانچوں وقت کی فرض نمازوں کو باقاعدہ بجا لاتے  ہیں  جو رمضان شریف کے  روزے  رکھتے  ہیں  ثواب حاصل کرنے  کی نیت رکھے  اور فرض جان کر ہنسی خوشی زکوٰۃ ادا کرتے  ہیں  اور ان تمام کبیرہ گناہوں سے  دور رہتے  ہیں  جن سے  اللہ تعالیٰ نے  روک دیا ہے ۔ ایک شخص نے  پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم وہ کبیرہ گناہ کیا ہیں ؟ آپ نے  فرمایا شرک، قتل، میدان جنگ سے  بھاگنا، مال یتیم کھانا، سود خوری، پاکدامنوں پر تہمت لگانا، ماں باپ کی نافرمانی کرنا، بیت اللہ الحرام کی حرمت کو توڑنا جو زندگی اور موت میں تمہارا قبلہ ہے  سنو جو شخص مرتے  دم تک ان بڑے  گناہوں سے  اجتناب کرتا رہے  اور نماز و زکوٰۃ کی پابندی کرتا رہے  وہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے  ساتھ جنت میں سونے  کے  محلوں میں ہو گا۔ حضرت طیسلہ بن میامن فرماتے  ہیں  مجھ سے  ایک گناہ ہو گیا جو میرے  نزدیک کبیرہ تھا، میں نے  حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے  اس کا ذکر کیا تو آپ نے  فرمایا وہ کبیرہ گناہ نہیں  کبیرہ گناہ نو ہیں ۔ اللہ کے  ساتھ شرک کرنا کسی کو بلا وجہ مار ڈالنا، میدان جنگ میں دشمنان دین کو پیٹھ دکھانا، پاکدامن عورتوں کو تہمت لگانا، سود کھانا، یتیم کا مال ظلم سے  کھا جانا، مسجد حرام میں الحاد پھیلانا اور ماں باپ کو نافرمانی کے  سبب رلانا، حضرت طیسلہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے  ہیں  کہ اس بیان کے  بعد بھی حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے  محسوس کیا کہ خوف کم نہیں  ہوا تو فرمایا کیا تمہارے  دل میں جہنم کی آگ میں داخل ہونے  کا ڈر اور جنت میں جانے  کی چاہت ہے ؟ میں نے  کہا بہت زیادہ فرمایا کیا تمہارے  ماں باپ زندہ ہیں ؟ میں نے  کہا صرف والدہ حیات ہیں، فرمایا بس تم ان سے  نرم کلامی سے  بولا کرو اور انہیں  کھانا کھلاتے  رہا کرو اور ان کبیرہ گناہوں سے  بچتے  رہا کرو تو تم یقیناً جنت میں جاؤ گے  اور روایت میں ہے  کہ حضرت طیسلہ بن علی نہدی حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے  میدان عرفات میں عرفہ کے  دن پیلو کے  درخت تلے  ملے  تھے  اس وقت حضرت عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے  سر اور چہرے  پر پانی بہا رہے  تھے  اس میں یہ بھی ہے  کہ جب حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے  تہمت لگانے  کا ذکر کیا تو میں نے  پوچھا کیا یہ بھی مثل قتل کے  بہت بڑا گناہ ہے ؟ آپ نے  فرمایا ہاں ہاں اور ان گناہوں کے  ذکر میں جادو کا ذکر بھی ہے  اور روایت میں ہے  کہ میری ان کی ملاقات شام کے  وقت ہوئی تھی اور میں نے  ان سے  کبائر کے  بارے  میں سوال کیا تو انہوں نے  فرمایا میں نے  رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے  سنا ہے  کہ کبائر سات ہیں  میں نے  پوچھا کیا کیا؟ تو فرمایا شرک اور تہمت لگانا میں نے  کہا کیا یہ بھی مثل خون ناحق کے  ہے ؟ فرمایا ہاں ہاں اور کسی مومن کو بے  سبب مار ڈالنا، لڑائی سے  بھاگنا، جادو اور سود خواری، مال یتیم کھانا، والدین کی نافرمانی اور بیت اللہ میں الحاد پھیلانا جو زندگی میں اور موت میں تمہارا قبلہ ہے، مسند احمد میں ہے  کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے  فرمایا جو اللہ کا بندہ اللہ کے  ساتھ کسی کو شریک نہ کرے  نماز قائم رکھے  زکوٰۃ ادا کرے  رمضان کے  روزے  رکھے  اور کبیرہ گناہوں سے  بچے  وہ جنتی ہے، ایک شخص نے  پوچھا کبائر کیا ہیں ؟ آپ نے  فرمایا اللہ کے  ساتھ شرک کرنا مسلمان کو قتل کرنا لڑائی والے  دن بھاگ کھڑا ہونا۔ ابن مردویہ میں ہے  کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے  اہل یمن کو ایک کتاب لکھوا کر بھجوائی جس میں فرائض اور سنن کی تفصیلات تھیں دیت یعنی جرمانوں کے  احکام تھے  اور یہ کتاب حضرت عمرو بن حزم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے  ہاتھ اہل یمن کو بھجوائی گئی تھی اس کتاب میں یہ بھی تھا کہ قیامت کے  دن تمام کبیرہ گناہوں میں سب سے  بڑا کبیرہ گناہ یہ ہے  کہ انسان اللہ کے  ساتھ کسی کو شریک کرے  اور ایماندار شخص کا قتل بغیر حق کے  اور اللہ کی راہ میں جہاد کے  میدان میں جا کر لڑتے  ہوئے  نامردی سے  جان بچانے  کی خاطر بھاگ کھڑا ہونا اور ماں باپ کی نافرمانی کرنا اور نا کردہ گناہ عورتوں پر الزام لگانا اور جادو سیکھنا اور سود کھانا اور مال یتیم برباد کرنا۔ ایک اور روایت میں کبیرہ گناہوں کے  بیان میں جھوٹی بات یا جھوٹی شہادت بھی ہے  اور حدیث میں ہے  کہ کبیرہ گناہوں کے  بیان کے  وقت آپ ٹیک لگا کر بیٹھے  ہوئے  تھے  لیکن جب یہ بیان فرمایا کہ جھوٹی گواہی اور جھوٹی بات اس وقت آپ تکیے  سے  ہٹ گئے  اور بڑے  زور سے  اس بات کو بیان فرمایا اور بار بار اسی کو دہراتے  رہے  یہاں تک کہ ہم نے  دل میں سوچا کاش اب آپ نہ دہرائیں ۔ بخاری مسلم میں ہے  حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے  جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے  دریافت کیا کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم سے  دریافت کیا کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم کونسا گناہ سب سے  بڑا ہے ؟ آپ نے  فرمایا کہ تو اللہ تعالیٰ کا کسی کو شریک کرے  یہ جانتے  ہوئے  کہ تجھے  صرف اسی نے  پیدا کیا ہے ؟ میں نے  پوچھا اس کے  بعد؟ فرمایا یہ کہ تو اپنے  بچے  کو اس ڈر سے  قتل کر دے  کہ وہ تیرے  ساتھ کھائے  گا، میں نے  پوچھا پھر کونسا گناہ بڑا ہے ؟ فرمایا یہ کہ تو اپنی پڑوسن سے  بدکاری کرے  پھر حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے  یہ (آیت والذین لا یدعون مع اللہ الہا اخر، الا من تاب) تک پڑھی ابن ابی حاتم میں ہے  کہ حضرت عبداللہ بن عمرو بن رضی اللہ تعالیٰ عنہ مسجد الحرام میں حطیم کے  اندر بیٹھے  ہوئے  تھے  جو ایک شخص نے  شراب کے  بارے  میں سوال کیا تو آپ نے  فرمایا مجھ جیسا بوڑھا بڑی عمر کا آدمی اس جگہ بیٹھ کر اللہ کے  رسول صلی اللہ علیہ و سلم پر جھوٹ نہیں  بول سکتا شراب کا پینا تمام گناہوں سے  بڑا گناہ ہے ؟ یہ کام تمام خباثتوں کی ماں ہے  شرابی تارک نماز ہوتا ہے  وہ اپنی ماں اور خالہ اور پھوپھی سے  بھی بدکاری کرنے  سے  نہیں  چوکتا یہ حدیث غریب ہے ۔ ابن مردویہ میں ہے  کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور دوسرے  بہت سے  صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین ایک مرتبہ ایک مجلس میں بیٹھے  ہوئے  تھے  وہاں کبیرہ گناہوں کا ذکر نکلا کہ سب سے  بڑا گناہ کیا ہے ؟ تو کسی کے  پاس مصدقہ جواب نہ تھا اس لئے  انہوں نے  حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ کو بھیجا کہ تم جا کر حضرت عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے  دریافت کر آؤ میں گیا تو انہوں نے  جواب دیا کہ سب سے  بڑا گناہ شراب پینا ہے  میں نے  واپس آ کر اس مجلس میں یہ جواب سنا دیا اس پر اہل مجلس کو تسکین نہ ہوئی اور سب حضرات اٹھ کر حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے  گھر چلے  اور خود ان سے  دریافت کیا تو انہوں نے  بیان کیا کہ لوگوں نے  نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے  سامنے  ایک واقعہ بیان کیا کہ بنی اسرائیل کے  بادشاہوں میں سے  ایک نے  ایک شخص کو گرفتار کیا پھر اس سے  کہا کہ یا تو تو اپنی جان سے  ہاتھ دھو ڈال یا ان کاموں میں سے  کسی ایک کو کر یعنی یا تو شراب پی یا خون ناحق کر یا زنا کر یا سور کا گوشت کھا اس غور و تفکر کے  بعد اس نے  جان جانے  کے  ڈر سے  شراب کو ہلکی چیز سمجھ کر پینا منظور کر لیا جب شراب پی لی تو پھر نشہ میں وہ ان تمام کاموں کو کر گزرا جن سے  وہ پہلے  رکا تھا۔ حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے  یہ واقعہ گوش گزار فرما کر ہم سے  فرمایا جو شخص شراب پیتا ہے  اللہ تعالیٰ اس کی نمازیں چالیس رات تک قبول نہیں  فرماتا اور جو شراب پینے  کی عادت میں ہی مرجائے  اور اس کے  مثانہ میں تھوڑی سی شراب ہو اس پر اللہ جنت کو حرام کر دیتا ہے ۔ اگر شراب پینے  کے  بعد چالیس راتوں کے  اندر اندر مرے  تو اس کی موت جاہلیت کی موتی ہوتی ہے، یہ حدیث غریب ہے، ایک اور حدیث میں جھوٹی قسم کو بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے  کبیرہ گناہوں میں شمار فرمایا ہے  (بخاری وغیرہ) ابن ابی حاتم میں جھوٹی قسم کے  بیان کے  بعد یہ فرمان بھی ہے  کہ جو شخص اللہ کی قسم کھا کر کوئی بات کہے  اور اس نے  مچھر کے  پر برابر زیادتی کی اس کے  دل میں ایک سیاہ داغ ہو جاتا ہے  جو قیامت تک باقی رہتا ہے ۔ ابن ابی حاتم میں ہے  کہ انسان کا اپنے  ماں باپ کو گالی دینا کبیرہ گناہ ہے  لوگوں نے  پوچھا حضور صلی اللہ علیہ و سلم اپنے  ماں باپ کو کیسے  گالی دے  گا؟ آپ نے  فرمایا اس طرح کہ اس نے  دوسرے  کے  باپ کو گالی دی اس نے  اس کے  باپ کو اس نے  اس کی ماں کو برا کہا اس نے  اس کی ماں کو۔ بخاری شریف میں ہے  سب سے  بڑا کبیرہ گناہ یہ ہے  کہ آدمی اپنے  ماں باپ پر لعنت کرے  لوگوں نے  کہا یہ کیسے  ہو سکتا ہے  فرمایا دوسرے  کے  ماں باپ کو کہہ کر اپنے  ماں باپ کو کہلوانا۔ صحیح حدیث میں ہے  مسلمان کو گالی دینا فاسق بنا دیتا ہے  اور اسے  قتل کرنا کفر ہے ۔ ابن ابی حاتم میں ہے  کہ اکبر الکبائر یعنی تمام کبیرہ گناہوں میں بڑا گناہ کسی مسلمان کی آبرو ریزی کرنا ہے  اور ایک گالی کے  بدلے  دو گالیاں دینا ہے ۔ ترمذی میں ہے  رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے  فرمایا جس شخص نے  دو نمازوں کو عذر کے  بغیر جمع کیا وہ کبیرہ گناہوں کے  دروازوں میں سے  ایک دروازے  میں گھسا۔ ابن ابی حاتم میں ہے  کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی کتاب جو ہمارے  سامنے  پڑھی گئی اس میں یہ بھی تھا کہ دو نمازوں کو بغیر شرعی عذر کے  جمع کرنا کبیرہ گناہ ہے، اور لڑائی کے  میدان سے  بھاگ کھڑا ہونا اور لوٹ کھسوٹ کرنا بھی کبیرہ گناہ ہے، الغرض ظہر عصر یا مغرب عشاء پہلے  وقت یا پچھلے  وقت بغیر کسی شرعی رخصت کے  جمع کر کے  پڑھنا کبیرہ گناہ ہے ۔ پھر جو شخص کہ بالکل ہی نہ پڑھے  اس کے  گناہ کا تو کیا ٹھکانہ ہے ؟ چنانچہ صحیح مسلم شریف میں ہے  کہ بندے  اور شرک کے  درمیان نماز کا چھوڑ دینا ہے، سنن کی ایک حدیث میں ہے  کہ ہم میں اور کافر میں فرق کرنے  والی چیز نماز کا چھوڑ دینا ہے، جس نے  اسے  چھوڑا اس نے  کفر کیا اور روایت میں آپ کا یہ فرمان بھی منقول ہے  کہ جس نے  عصر کی نماز ترک کر دی اس کے  اعمال غارت ہوئے  اور حدیث میں ہے  جس سے  عصر کی نماز فوت ہوئی گویا اس کا مال اس کا اہل و عیال بھی ہلاک ہو گئے، ابن ابی حاتم میں ہے  کہ ایک شخص نے  رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے  سوال کیا کہ کبیرہ گناہ کیا کیا ہیں ؟ آپ نے  فرمایا اللہ کے  ساتھ شرک کرنا، اللہ کی نعمت اور اس کی رحمت سے  ناامید ہونا اور اس خفیہ تدبیروں سے  بے  خوف ہو جانا اور یہ سب سے  بڑا گناہ ہے  اسی کے  مثل ایک روایت اور بھی بزار میں مروی ہے  لیکن زیادہ ٹھیک یہ ہے  کہ وہ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہا پر موقوف ہے، ابن مردویہ میں ہے  حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتے  ہیں  سب سے  کبیرہ گناہ اللہ عزوجل کے  ساتھ بدگمانی کرنا ہے، یہ روایت بہت ہی غریب ہے، پہلے  وہ حدیث بھی گزرچکی ہے  جس میں ہجرت کے  بعد کفرستان میں آ کر بسنے  کو بھی کبیرہ گناہ فرمایا ہے، یہ حدیث ابن مردویہ میں ہے، سات کبیرہ گناہوں میں اسے  بھی گنا گیا ہے  لیکن اس کی اسناد میں اختلاف ہے  اور اسے  مرفوع کہنا بالکل غلط ہے  ٹھیک بات وہی ہے  جو تفسیر ابن جریر میں مروی ہے  کہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کوفے  کی مسجد میں ایک مرتبہ منبر پر کھڑے  ہو کر لوگوں کو خطبہ سنا رہے  تھے  جس میں فرمایا لوگو کبیرہ گناہ سات ہیں  اسے  سن کر لوگ چیخ اٹھے  آپ نے  اسی کو پھر دوہرایا پھر دوہرایا پھر فرمایا تم مجھ سے  ان کی تفصیل کیوں نہیں  پوچھتے ؟ لوگوں نے  کہا امیر المومنین فرمائیے  وہ کیا ہیں ؟ آپ نے  فرمایا اللہ کے  ساتھ شرک کرنا جس جان کو مار ڈالنا اللہ نے  حرام کیا ہے  اسے  مار ڈالنا پاکدامن عورتوں پر تہمت لگانا یتیم کا مال کھانا سود خوری کرنا لڑائی کے  دن پیٹھ دکھانا اور ہجرت کے  بعد پھر دارالکفر میں آبسنا۔ راوی حدیث حضرت محمد بن سہل رحمۃ اللہ علیہ نے  اپنے  والد حضرت سہل بن خیثمہ رحمۃ اللہ علیہ سے  پوچھا کہ اسے  کبیرہ گناہوں میں کیسے  داخل کیا تو جواب ملا کہ پیارے  بچے  اس سے  بڑھ کر ستم کیا ہو گا؟ کہ ایک شخص ہجرت کر کے  مسلمانوں میں ملے  مال غنیمت میں اس کا حصہ مقرر ہو جائے  مجاہدین میں اس کا نام درج کر دیا جائے  پھر وہ ان تمام چیزوں کو چھوڑ کر اعرابی بن جائے  اور دارالکفر میں چلا جائے  اور جیسا تھا ویسا ہی ہو جائے، مسند احمد میں ہے  کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے  اپنے  حجۃ الوداع کے  خطبہ میں فرمایا خبردار خبردار اللہ کے  ساتھ کسی کو شریک نہ کرو خون ناحق سے  بچو (ہاں شرعی اجازت اور چیز ہے) زنا کاری نہ کرو چوری نہ کرو۔ وہ حدیث پہلے  گزرچکی ہے  جس میں ہے  کہ وصیت کرنے  میں کسی کو نقصان پہنچانا بھی کبیرہ گناہ ہے  ابن جریر میں ہے  کہ صحابہ نے  ایک مرتبہ کبیرہ گناہوں کو دہرایا کہ اللہ کے  ساتھ شریک کرنا یتیم کا مال کھانا لڑائی سے  بھاگ کھڑا ہونا، پاکدامن بے  گناہ عورتوں پر تہمت لگانا، ماں باپ کی نافرمانی کرنا، جھوٹ بولنا، دھوکہ دینا، خیانت کرنا، جادو کرنا، سود کھانا یہ سب کبیرہ گناہ ہیں  تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے  فرمایا اور اس گناہ کو کیا کہو گے ؟ جو لوگ اللہ کے  عہد اور اپنی قسموں کو تھوڑی تھوڑی قیمت پر بیچتے  پھرتے  ہیں  آخر آیت تک آپ نے  تلاوت کی۔ اس کی اسناد میں ضعف ہے  اور یہ حدیث حسن ہے، پس ان تمام احادیث میں کبیرہ گناہوں کا ذکر موجود ہے ۔ اب اس بارے  میں سلف صالحین رحمۃ اللہ علیہم اجمعین کے  جو اقوال ہیں  وہ ملاحظہ ہوں، ابن جریر میں منقول ہے  چند لوگوں نے  مصر میں حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے  پوچھا کہ بہت سی باتیں کتاب اللہ میں ہم ایسی پاتے  ہیں  کہ جن پر ہمارا عمل نہیں  اس لئے  ہم امیر المومنین حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے  اس بارے  میں دریافت کرنا چاہتے  ہیں، حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہا انہیں  لے  کر مدینہ آئے  اپنے  والد سے  ملے  آپ نے  پوچھا کب آئے  ہو؟ جواب دیا کہ چند دن ہوئے ۔ پوچھا اجازت سے  آئے  ہو؟ اس کا بھی جواب دیا پھر اپنے  ساتھ آنے  والے  لوگوں کا ذکر اور مقصد بیان کیا آپ نے  فرمایا انہیں  جمع کرو سبھی کو ان کے  پاس لائے  اور ان میں سے  ہر ایک کو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے  پوچھا تجھے  اللہ اور اسلام حق کی قسم بتاؤ تم نے  پورا قرآن کریم پڑھا ہے ؟ اس نے  کہا ہاں فرمایا کیا تونے  اسے  اپنے  دل میں محفوظ کر لیا ہے  اس نے  کہا نہیں  اور اگر ہاں کہتا تو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہا اسے  کماحقہ دلائل سے  عاجز کر دیتے  پھر فرمایا کیا تم سب نے  قرآن حکیم کے  مفہوم کو نگاہوں میں زبان میں اور اعمال میں ڈھال لیا ہے  پھر ایک ایک سے  یہی سوال کیا پھر فرمایا تم عمر کو اس مشقت میں ڈالنا چاہتے  ہو کہ لوگوں کو بالکل کتاب اللہ کے  مطابق ہی ٹھیک ٹھاک کر دے، ہمارے  رب کو پہلے  سے  ہی ہماری خطاؤں کا علم تھا پھر آپ نے  آیت ان تجتنبوا الخ، کی تلاوت کی۔ پھر فرمایا کیا اہل مدینہ کو تمہارے  آنے  کا مقصد معلوم ہے ؟ انہوں نے  کہا نہیں  فرمایا اگر انہیں  بھی اس کا علم ہوتا تو مجھے  اس بارے  میں انہیں  بھی وعظ کرنا پڑتا۔ اس کی اسناد حسن ہے  اور متن بھی گو یہ روایت حسن کی حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے  ہے  جس میں انقطاع ہے  لیکن پھر بھی اتنے  سے  نقصان پر اس کی پوری شہرت بھاری ہے ۔ ابن ابی حاتم میں ہی حضرت علی رضی  اللہ تعالیٰ عنہا فرماتے  ہیں  کبیرہ گناہ یہ ہیں  اللہ کے  ساتھ شریک کرنا، کسی کو مار ڈالنا، یتیم کا مال کھانا، پاکدامن عورتوں کو تہمت لگانا، لڑائی سے  بھاگ جانا، ہجرت کے  بعد دارالکفر میں قیام کر لینا، جادو کرنا، ماں باپ کی نافرمانی کرنا، سود کھانا، جماعت سے  جدا ہونا، خرید و فروخت کا عہد توڑ دینا، پہلے  گزرچکا ہے  کہ حضرت ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے  ہیں  بڑے  سے  بڑا گناہ اللہ کے  ساتھ شریک کرنا ہے  اور اللہ تعالیٰ کی وسعت رحمت سے  مایوس ہونا اور اللہ کی رحمت سے  ناامید ہونا ہے  اور اللہ عزوجل کی پوشیدہ تدبیروں سے  بے  خوف ہونا ہے ۔ ابن جریر میں آپ ہی سے  روایت ہے  کہ سورۃ نساء کی شروع آیت سے  لے  کر تیس آیتوں تک کبیرہ گناہ کا بیان ہے  پھر آپ نے (آیت ان تجتنبوا) کی تلاوت کی، حضرت بریدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتے  ہیں  کبیرہ گناہ اللہ کے  ساتھ شریک کرنا ماں باپ کو ناخوش کرنا آسودگی کے  بعد کے  بچے  ہوئے  پانی کو حاجت مندوں سے  روک رکھنا اپنے  پاس کے  نر جانور کو کسی کی مادہ کے  لئے  بغیر کچھ لئے  نہ دینا، بخاری و مسلم کی ایک مرفوع حدیث میں ہے  بچا ہوا پانی نہ روکا جائے  اور نہ بچی ہوئی گھاس روکی جائے، اور روایت میں ہے  تین قسم کے  گنہگاروں کی طرف قیامت کے  دن اللہ تعالیٰ نظر رحمت سے  نہ دیکھے  گا اور نہ ہی ان کی فرد جرم ہٹائے  گا بلکہ ان کے  لئے  درد ناک عذاب ہیں  ایک وہ شخص جو جنگل میں بچے  ہوئے  پانی پر قبضہ کر کے  مسافروں کو اس سے  روکے ۔ مسند احمد میں ہے  جو شخص زائد پانی کو اور زائد گھاس کو روک رکھے  اللہ قیامت کے  دن اس پر اپنا فضل نہیں  کرے  گا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں  کبیرہ گناہ وہ ہیں  جو عورتوں سے  بیعت لینے  کے  ذکر میں بیان ہوئے  ہیں  یعنی (آیت علی ان لا یشر کن باللہ شیأا الخ) میں ۔ حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس آیت کو اللہ تعالیٰ کے  عظیم الشان احسانوں میں بیان فرماتے  ہیں  اور اس پر بڑی خوشنودی کا اظہار فرماتے  ہیں  یعنی (آیت ان تجتنبوا) کو۔ ایک مرتبہ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے  سامنے  لوگوں نے  کہا کبیرہ گناہ سات ہیں  آپ نے  کئی کئی مرتبہ فرمایا سات ہیں، دوسری روایت میں ہے  آپ نے  فرمایا سات ہلکا درجہ ہے  ورنہ ستر ہیں، ایک اور شخص کے  کہنے  پر آپ نے  فرمایا وہ سات سو تک ہیں  اور سات بہت ہی قریب ہیں  ہاں یہ یاد رکھو کہ استغفار کے  بعد کبیرہ گناہ کبیرہ نہیں  رہتا اور اصرار اور تکرار سے  صغیرہ گناہ صغیرہ نہیں  رہتا، اور سند سے  مروی ہے  کہ آپ نے  فرمایا جس گناہ پر بھی جہنم کی وعید اللہ تعالیٰ کے  غضب لعنت یا عذاب کی ہے  وہ کبیرہ گناہ ہے  اور روایت میں ہے  جس کام سے  اللہ منع فرمادے  اس کا کرنا کبیرہ گناہ ہے  یعنی کام میں بھی اللہ عزوجل کی نافرمانی ہو وہ بڑا گناہ ہے  تابعین کے  اقوال بھی ملاحظہ ہوں، عبیدہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے  ہیں  کبیرہ گناہ یہ ہیں  اللہ تعالیٰ کے  ساتھ شرک، قتل نفس بغیر حق، میدان جہاد میں پیٹھ پھیرنا، یتیم کا مال اڑانا، سود خوری، بہتان بازی، ہجرت کے  بعد وطن دوستی۔ راوی حدیث ابن عون نے  اپنے  استاد محمد سے  پوچھا کیا جادو کبیرہ گناہ میں نہیں ؟ فرمایا یہ بہتان میں آگیا، یہ لفظ بہت سی برائیوں پر مشتمل ہے، حضرت عبید بن عمیر رحمۃ اللہ علیہ نے  کبیرہ گناہوں پر آیات قرآنی بھی تلاوت کر کے  سنائیں شرک پر (آیت ومن یشرک باللہ فکانما خر من السماء الخ،) یعنی اللہ کے  ساتھ شرک کرنے  والا گویا آسمان سے  گر پڑا اور اسے  پرندے  لپک لے  جائیں یا ہوا اسے  دور دراز نامعلوم اور بدترین جگہ پھینک دے ۔ یتیم کے  مال پر ان الذین یاکلون اموال الیتمی ظلما الخ، یعنی جو لوگ ظلم سے  یتیموں کا مال ہڑپ کر لیتے  ہیں  وہ سب پیٹ میں جہنم کے  انگارے  بھرتے  ہیں ۔ سود خواری پر الذین یاکلون الربا الخ، یعنی جو لوگ سود خواری کرتے  ہیں  وہ قیامت کے  دن مخبوط الحواس اور پاگل بن کر کھڑے  ہوں گے ۔ بہتان پر والذین یرمون المحصنات الخ، جو لوگ پاکدامن بے  خبر باایمان عورتوں پر تہمت لگائیں ۔ میدان جنگ سے  بھاگنے  پر یاایہا الذین امنوا اذالقیتم الذین کفروا زحفا ایمان والو جب کافروں سے  مقابلہ ہو جائے  تو پیٹھ نہ دکھاؤ، ہجرت کے  بعد کفرستان میں قیام کرنے  پر ان الذین ارتدوا علی ادبار ہم یعنی لوگ ہدایت کے  بعد مرتد ہو جائیں، قتل مومن پر ومن یقتل مومنا متعمدا فجزا وہ جہنم خالد افیہا یعنی جو شخص کسی مسلمان کو جان بوجھ کر مار ڈالے  اس کی سزا جہنم کا ابدی داخلہ ہے ۔ حضرت عطا رحمۃ اللہ علیہ سے  بھی کبیرہ گناہوں کا بیان موجود ہے  اور اس میں جھوٹی گواہی ہے، حضرت مغیرہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے  ہیں  یہ کہا جاتا تھا کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہا اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو برا کہنا بھی کبیرہ گناہ ہے ، میں کہتا ہوں علماء کی ایک جماعت نے  اسے  کافر کہا ہے  جو صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کو برا کہے  حضرت امام مالک بن انس رحمۃ اللہ علیہ سے  یہ مروی ہے، امام محمد بن سیرین رحمۃ اللہ علیہ فرماتے  ہیں  میں یہ باور نہیں  کر سکتا کہ کسی کے  دل میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی محبت ہو اور وہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے  دشمنی رکھے  (ترمذی) حضرت زید بن اسلم رحمۃ اللہ علیہ اس آیت کی تفسیر میں فرماتے  ہیں  کبائر یہ ہیں ۔ اللہ کے  ساتھ شرک کرنا اللہ کی آیتوں اور اس کے  رسولوں سے  کفر کرنا جادو کرنا اولاد کو مار ڈالنا اللہ تعالیٰ سے  اولاد اور بیوی کی نسبت دینا اور اسی جیسے  وہ اعمال اور وہ اقوال ہیں  جن کے  بعد کوئی نیکی قبول نہیں  ہوتی ہاں کی ایسے  گناہ ہیں  جن کے  ساتھ دین رہ سکتا ہے  اور عمل قبول کر سکتا ہے  ایسے  گناہوں کو نیکی کے  بدلے  اللہ عزوجل معاف فرما دیتا ہے، حضرت قتادہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے  ہیں  ۔ اللہ تعالیٰ نے  مغفرت کا وعدہ ان سے  کیا ہے  جو کبیرہ گناہوں سے  بچیں اور ہم سے  یہ بھی ذکر کیا گیا ہے  ۔ کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے  فرمایا ہے  کہ کبیرہ گناہ سے  بچو ٹھیک ٹھاک اور درست رہو اور خوش خبری سنو۔ مسند عبدالرزاق میں بہ سند صحیح رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے  مروی ہے  کہ آپ نے  فرمایا میری شفاعت صرف متقیوں اور مومنوں کے  لئے  ؟ نہیں  نہیں  بلکہ وہ خطا کاروں اور گناہوں سے  آلودہ لوگوں کے  لئے  بھی ہے ۔ اب علماء کرام کے  اقوال سنئے  جن میں یہ بتایا گیا ہے  کہ کبیرہ گناہ کسے  کہتے  ہیں  بعض تو کہتے  ہیں  کبیرہ گناہ وہ ہے  جس پر حد شرعی ہو۔ بعض کہتے  ہیں  جس پر قرآن میں یا حدیث میں کسی سزاکا ذکر ہو۔ بعض کا قول ہے  جس سے  دین داری کم ہوتی ہو اور دیانت داری میں کمی واقع ہوتی ہو۔ قاضی ابو سعید ہروی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے  ہیں  جس کا حرام ہونا لفظوں سے  ثابت ہو اور جس نافرمانی پر کوئی حد ہو جیسے  قتل وغیرہ اسی طرح ہر فریضہ کا ترک اور جھوٹی گواہی اور جھوٹی روایت اور جھوٹی قسم۔ قاضی روبانی فرماتے  ہیں  کبائر ساتھ ہیں  بے  وجہ کسی کو مار ڈالنا، زنا، لواطت، شراب نوشی، چوری، غصب، تہمت اور ایک آٹھویں گواہی اور اسی کے  ساتھ یہ بھی شامل کئے  گئے  ہیں  سود خواری، رمضان کے  روزے  کا بلا عذر ترک کر دینا، جھوٹی قسم، قطع رحمی، ماں باپ کی نافرمانی، جہاد سے  بھاگنا، یتیم کا مال کھانا، ماپ تول میں خیانت کرنا نماز وقت سے  پہلے  یا وقت گزار کے  بے  عذر ادا کرنا، مسلمان کو بے  وجہ مارنا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم پر جان کر جھوٹ باندھنا آپ کے  صحابیوں کو گالی دینا اور قدرت کے  بھلی باتوں کا حکم نہ کرنا بری باتوں سے  نہ روکنا، قرآن سیکھ کر بھول جانا، جاندار چیز کو آگ سے  جلانا، عورت کا اپنے  خاوند کے  پاس بے  سبب نہ آنا، رب کی رحمت سے  ناامید ہو جانا، اللہ کے  مکر سے  بے  خوف ہو جانا، اہل علم اور عاملان قرآن کی برائیاں کرنا، ظہار کرنا، سور کا گوشت کھانا، مردار کھانا، ہاں اگر بوجہ ضرورت اور اضطراب کے  کھایا ہو تو ادویات کے  مصداق ہے ۔ امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے  ہیں  ان میں سے  بعض میں توقف کی گنجائش ہے ؟ کبائر کے  بارے  میں بزرگان دین نہ بہت سی کتابیں بھی تصنیف فرمائی ہیں  ہمارے  شیخ حافظ ابو عبداللہ ذہبی رحمۃ اللہ علیہ نے  بھی ایک کتاب لکھی ہے  جس میں ستر کبیرہ گناہ گنوائے  ہیں ۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے  کہ کبیرہ گناہ وہ ہے  جس پر شارع علیہ السلام نے  جہنم کی وعید سنائی ہے  ۔ اس قسم کے  گناہ ہی اگر گنے  جائیں تو بہت نکلیں گے  اور اگر کبیرہ گناہ ہر اس کام کو کہا جائے  جس سے  شارع علیہ السلام نے  روک دیا ہے  تو بہت ہی ہو جائیں گے  ۔ واللہ اعلم

۳۲

جائز رشک اور جواب با صواب

 حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے  ایک مرتبہ کہا تھا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم مرد جہاد کرتے  ہیں  اور ہم عورتیں اس ثواب سے  محروم ہیں، اسی طرح میراث میں بھی ہمیں بہ نسبت مردوں کے  آدھا ملتا ہے  اس پر یہ آیت نازل ہوئی (ترمذی) اور روایت میں ہے  کہ اس کے  بعد پھر (آیت انی لا اضیع عمل عامل منکم من ذکر اوانثی الخ،) اتری۔ اور یہ بھی روایت میں ہے  کہ عورتوں نے  یہ آرزو کی تھی کہ کاش کہ ہم بھی مرد ہوتے  تو جہاد میں جاتے  اور روایت میں ہے  کہ ایک عورت نے  خدمت نبوی میں حاضر ہو کر کہا تھا کہ دیکھئے  مرد کو دو عورتوں کے  برابر حصہ ملتا ہے  دو عورتوں کی شہادت مثل ایک مرد کے  سمجھی جاتی ہے  گو پھر اس تناسب سے  عملاً ایک نیکی کی آدھی نیکی رہ جاتی ہے  اس پر یہ آیت نازل ہوئی، سدی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے  ہیں  مردوں نے  کہا تھا کہ جب دوہرے  حصے  کے  مالک ہم ہیں  تو دوہرا اجر بھی ہمیں نہیں  ملتا؟ اور عورتوں نے  درخواست کی تھی کہ جب ہم پر جہاد فرض ہی نہیں  ہمیں تو شہادت کا ثواب کیوں نہیں  ملتا؟ اس پر اللہ تعالیٰ نے  دونوں کو روکا اور حکم دیا کہ میرا فضل طلب کرتے  رہو۔ حضرت ابن عباس؟ سے  یہ مطلب بیان کیا گیا ہے  کہ انسان یہ آرزو نہ کرے  کہ کاش کہ فلاں کا مال اور اولاد میرا ہوتا؟ اس پر اس حدیث سے  کوئی اشکال ثابت نہیں  ہو سکتا جس میں ہے  کہ حسد کے  قابل صرف دو ہیں  ایک مالدار جو راہ اللہ اپنا مال لٹاتا ہے  اور دوسرا کہتا ہے  کاش کہ میرے  پاس بھی مال ہوتا تو میں بھی اسی طرح فی سبیل اللہ خرچ کرتا رہتا پس یہ دونوں اللہ تعالیٰ کے  نزدیک اجر میں برابر ہیں  اس لئے  کہ یہ ممنوع نہیں  یعنی ایسی نیکی کی حرص بری نہیں  کسی نیک کام حاصل ہونے  کی تمنا یا حرص کرنا محمود ہے  اس کے  برعکس کسی کی چیز اپنے  قبضے  میں لینے  کی نیت کرنا ہر طرح مذموم ہے  جس طرح دینی فضیلت حاصل کرنے  کی حرض جائز رکھے  ہی اور دنیوی فضیلت کی تمنا ناجائز ہے  پھر فرمایا ہر ایک کو اس کے  عمل کا بدلہ ملے  گا خیر کے  بدلے  خیر اور شر کے  بدلے  شر اور یہ بھی مراد ہو سکتی ہے  کہ ہر ایک کو اس کے  حق کے  مطابق ورثہ دیا جاتا ہے ، پھر ارشاد ہوتا ہے  کہ ہم سے  ہمارا فضل مانگتے  رہا کرو آپس میں ایک دوسرے  کی فضیلت کی تمنا بے  سود امر ہے  ہاں مجھ سے  میرا فضل طلب کرو تو میں بخیل نہیں  کریم ہوں وہاب ہوں دوں گا اور بہت کچھ دوں گا۔ جناب رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم فرماتے  ہیں  لوگو اللہ تعالیٰ سے  اس کا فضل طلب کرو اللہ سے  مانگنا اللہ کو بہت پسند ہے  یاد رکھو سب سے  اعلیٰ عبادت کشادگی اور وسعت و رحمت کا انتظار کرنا اور اس کی امید رکھنا ہیں  اللہ علیہم ہے  اسے  خوب معلوم ہے  کہ کون دئیے  جانے  کے  قابل ہے  اور کون فقیری کے  لائق ہے  اور کون آخرت کی نعمتوں کا مستحق ہے  اور کون وہاں کی رسوائیوں کا سزا وار ہے  اسے  اس کے  اسباب اور اسے  اس کے  وسائل وہ مہیا اور آسان کر دیتا ہے ۔

۳۳

مسئلہ وراثت میں موالی؟ وارث اور عصبہ کی وضاحت و اصلاحات

بہت سے  مفسرین سے  مروی ہے  کہ موالی سے  مراد وارث ہیں  بعض کہتے  ہیں  عصبہ مراد ہیں ؟ چچا کی اولاد کو بھی موالی کہا جاتا ہے  جیسے  حضرت فضل بن عباس کے  شعر میں ہے ۔ پس مطلب آیت کا یہ ہوا کہ اے  لوگو! تم میں سے  ہر ایک کے  لئے  ہم نے  عصبہ مقرر کر دئیے  ہیں  جو اس مال کے  وارث ہوں گے  جسے  ان کے  ماں باپ اور قرابتدار چھوڑ مریں اور تمہارے  منہ بولے  بھائی ہیں  تم جن کی قسمیں کھا کر بھائی بنے  ہو اور وہ تمہارے  بھائی بنے  ہیں  انہیں  ان کی میراث کا حصہ دو جیسے  کہ قسموں کے  وقت تم میں عہد و پیمان ہو چکا تھا، یہ حکم ابتدائے  اسلام میں تھا پھر منسوخ ہو گیا اور حکم ہوا کہ جن سے  عہد و پیمان ہوئے  وہ نبھائے  جائیں اور بھولے  نہ جائیں لیکن میراث انہیں  نہیں  ملے  گی صحیح بخاری شریف میں حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے  مروی ہے  کہ موالی سے  مراد وارث ہیں  اور بعد کے  جملہ سے  مراد یہ ہے  کہ مہاجرین جب مدینہ شریف میں تشریف لائے  تو یہ دستور تھا کہ ہر مہاجر اپنے  انصاری بھائی بند کا وارث ہوتا اس کے  ذو رحم رشتہ دار وارث نہ ہوتے  پس آیت نے  اس طریقے  کو منسوخ قرار دیا اور حکم ہوا کہ ان کی مدد کرو انہیں  فائدہ پہنچاؤ ان کی خیر خواہی کرو لیکن میراث انہیں  نہیں  ملے  گی ہاں وصیت کر جاؤ۔ قبل از اسلام یہ دستور تھا کہ دو شخصوں میں عہد و پیمان ہو جاتا تھا کہ میں تیرا وارث اور تو میرا وارث اسی طرح قبائل عرب عہد و پیمان کر لیتے  تھے  پس حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے  فرمایا جاہلیت کی قسمیں اور اس قسم کے  عہد اس آیت نے  منسوخ قرار دے  دیئے  اور فرمایا معاہدوں والوں کی بہ نسبت ذی رحم رشتہ دار کتاب اللہ کے  حکم سے  زیادہ ترجیح کے  مستحق ہیں ۔ ایک روایت میں ہے  کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے  جاہلیت کی قسموں اور عہدوں کے  بارے  میں یہاں تک تاکید فرمائی کہ اگر مجھے  سرخ اونٹ دئیے  جائیں اور اس قسم کے  توڑنے  کو کہا جائے  جو دارالندوہ میں ہوئی تھی تو میں اسے  بھی پسند نہیں  کرتا، ابن جریر میں ہے  حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم فرماتے  ہیں  میں اپنے  بچپنے  میں اپنے  ماموؤں کے  ساتھ حلف طیبین میں شامل تھا میں اس قسم کو سرخ اونٹوں کے  بدلے  بھی توڑنا پسند نہیں  کرتا پس یاد رہے  کہ قریش و انصار میں جو تعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے  قائم کیا تھا وہ صرف الفت و یگانگت پیدا کرنے  کے  لئے  تھا، لوگوں کے  سوال کے  جواب میں بھی حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا یہ فرمان مروی ہے  کہ جاہلیت کے  حلف نبھاؤ ۔ لیکن اب اسلام میں رسم حلف کالعدم قرار دے  دی گئی ہے  فتح مکہ والے  دن بھی آپ نے  کھڑے  ہو کر اپنے  خطبہ میں اسی بات کا اعلان فرمایا داؤد بن حصین رحمۃ اللہ علیہ کہتے  ہیں  میں حضرت ام سعد بنت ربیع رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے  قرآن پڑھتا تھا میرے  ساتھ ان کے  پوتے  موسیٰ بن سعد بھی پڑھتے  تھے  جو حضرت ابوبکر کی گود میں یتیمی کے  ایام گزار رہے  تھے  میں نے  جب اس آیت میں عاقدت پڑھا تو مجھے  میری استانی جی نے  روکا اور فرمایا عقدت پڑھو اور یاد رکھو یہ آیت حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور ان کے  صاحبزادے  حضرت عبدالرحمن رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے  بارے  میں نازل ہوئی ہے  کہ عبدالرحمن اسلام کے  منکر تھے  حضرت صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے  قسم کھا لی کہ انہیں  وارث نہ کریں گے  بالآ خر جب یہ مسلمانوں کے  بے  انتہاحسن اعمال سے  اسلام کی طرف آمادہ ہوئے  اور مسلمان ہو گئے  تو جناب صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو حکم ہوا کہ انہیں  ان کے  ورثے  کے  حصے  سے  محروم نہ فرمائیں لیکن یہ قوم غریب ہے  اور صحیح قول پہلا ہی ہے  الغرض اس آیت اور ان احادیث سے  ان کا قول رد ہوتا ہے  جو قسم اور وعدوں کی بنا پر آج بھی ورثہ پہنچنے  کے  قائل ہیں  جیسے  کہ امام ابوحنفیہ رحمۃ اللہ علیہ اور ان کے  ساتھیوں کا خیال ہے  اور امام احمد رحمۃ اللہ علیہ سے  بھی اس قسم کی ایک روایت ہے ۔ جسے  جمہور اور امام مالک اور امام شافعی سے  صحیح قرار دیا ہے  اور مشہور قول کی بنا پر امام احمد کا بھی اسے  صحیح مانتے  ہیں، پس آیت میں ارشاد ہے  کہ ہر شخص کے  وارث اس کے  قرابتی لوگ ہیں  اور کوئی نہیں ۔ بخاری و مسلم میں ہے  رسول مقبول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم فرماتے  ہیں  حصہ دار وارثوں کو ان کے  حصوں کے  مطابق دے  کر پھر جو بچ رہے  تو عصبہ کو ملے  اور وارث وہ ہیں  جن کا ذکر فرائض کی دو آیتوں میں ہے  اور جن سے  تم سے  مضبوط عہد و پیمان اور قسموں کا تبادلہ ہے  یعنی آس آیت کے  نازل ہونے  سے  پہلے  کے  وعدے  اور قسمیں ہوں خواہ اس آیت کے  اترنے  کے  بعد ہوں سب کا یہی حکم ہے  کہ ایسے  حلف برداروں کو میراث نہ ملے  اور بقول حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ ان کا حصہ نصرت امداد خیر خواہی اور وصیت ہے  میراث نہیں  آپ فرماتے  ہیں  لوگ عہدو پیمان کر لیا کرتے  تھے  کہ ان میں سے  جو پہلے  مرے  گا بعد والا اس کا وارث بنے  گا پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے (آیت والو الارحام الخ) نازل فرما کر حکم دیا کہ ذی رحم محرم ایک سے  اولی ہے  البتہ اپنے  دوستوں کے  ساتھ حسن سلوک کرو یعنی اگر ان سے  مال کا تیسرا حصہ دینے  کی وصیت کر جاؤ تو جائز ہے  یہی معروف و مشہور امر اور بہت سے  سلف سے  بھی مروی ہے  کہ یہ آیت منسوخ ہے  اور ناسخ (آیت اولو الارحام) والی ہے ۔ حضرت سعید بن جبیر رحمۃ اللہ علیہ فرماتے  ہیں  انہیں  ان کا حصہ دو یعنی میراث۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے  ایک صاحب کو اپنا بیٹا بناتے  تھے  اور انہیں  اپنی جائیداد کا جائز وارث قرار دیتے  تھے  پس اللہ تعالیٰ نے  ان کا حصہ وصیت میں تو برقرار رکھا میراث کا مستحق موالی یعنی ذی رحم محرم رشتہ داروں اور عصبہ کو قرار دے  دیا اور سابقہ رسم کو ناپسند فرمایا کہ صرف زبانی دعوؤں اور بنائے  ہوئے  بیٹوں کو ورثہ نہ دیا جائے  ہاں ان کے  لئے  وصیت میں سے  دے  سکتے  ہو۔ امام ابن جریر رحمۃ اللہ علیہ فرماتے  ہیں  میرے  نزدیک مختار قول یہ ہے  کہ انہیں  حصہ دو یعنی نصرت نصیحت اور معونت کا یہ نہیں  کہ انہیں  ان کے  ورثہ کا حصہ دو تو یہ معنی کرنے  سے  پھر آیت کو منسوخ بتلانے  کی وجہ باقی نہیں  رہتی نہ یہ کہنا پڑتا ہے  کہ یہ حکم پہلے  تھا اب نہیں  رہا۔ بلکہ آیت کی دلالت صرف اسی امر پر ہے  کہ جو عہد و پیمان آپس میں امداد و اعانت کے  خیر خواہی اور بھلائی کے  ہوتے  تھے  انہیں  وفا کرو پس یہ آیت محکم اور غیر منسوخ ہے  لیکن امام صاحب کے  قول میں ذرا اشکال سے  اس لئے  کہ اس میں تو شک نہیں  کہ بعض عہد و پیمان صرف نصرت و امداد کے  ہی ہوتے  تھے  لیکن اس میں بھی شک نہیں  کہ بعض عہد و پیمان ورثے  کے  بھی ہوتے  تھے  جیسے  کہ بہت سے  سلف صالحین سے  مروی ہے  اور جیسے  کہ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی تفسیر بھی منقولی ہیں ۔ جس میں انہوں نے  صاف فرمایا ہے  کہ مہاجر انصار کا وارث ہوتا تھا اس کے  قرابتی لوگ وارث نہیں  ہوتے  تھے  نہ ذی رحم رشتہ دار وارث ہوتے  تھے  یہاں تک کہ یہ منسوخ ہو گیا پھر امام صاحب کیسے  فرما سکتے  ہیں  کہ یہ آیت محکم اور غیر محکم منسوخ ہے  واللہ تعالیٰ اعلم۔

۳۴

مرد عورتوں سے  افضل کیوں ؟

 جناب باری ارشاد فرماتا ہے  کہ مرد عورت کا حاکم رئیس اور سردار ہے  ہر طرح سے  اس کا محافظ و معاون ہے  اسی لئے  کہ مرد عورتوں سے  افضل ہیں  یہی وجہ ہے  کہ نبوۃ ہمیشہ مردوں میں رہی بعینہ شرعی طور پر خلیفہ بھی مرد ہی بن سکتا ہے  حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم فرماتے  ہیں  وہ لوگ کبھی نجات نہیں  پاسکتے  جو اپنا والی کسی عورت کو بنائیں ۔ (بخاری) اسی طرح ہر طرح کا منصب قضا وغیرہ بھی مردوں کے  لائق ہی ہیں ۔ دوسری وجہ افضیلت کی یہ ہے  کہ مرد عورتوں پر اپنا مال خرچ کرتے  ہیں  جو کتاب و سنت سے  ان کے  ذمہ ہے  مثلاً مہر نان نفقہ اور دیگر ضروریات کا پورا کرنا۔ پس مرد فی نفسہ بھی افضل ہے  اور بہ اعتبار نفع کے  اور حاجت براری کے  بھی اس کا درجہ بڑا ہے ۔ اسی بنا پر مرد کو عورت پر سردار مقرر کیا گیا جیسے  اور جگہ فرمان ہے (آیت وللرجال علیھن درجۃ الخ،) ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتے  ہیں  مطلب یہ ہے  کہ عورتوں کو مردوں کی اطاعت کرنی پڑے  گی اس کے  بال بچوں کی نگہداشت اس کے  مال کی حفاظت وغیرہ اس کا کام ہے  ۔ حضرت حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے  ہیں  ایک عورت نے  نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے  سامنے  اپنے  خاوند کی شکایت کی کہ ایک انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنی بیوی صاحبہ کو لئے  ہوئے  حاضر خدمت ہوئے  اس عورت نے  حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے  کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم میرے  اس خاوند نے  مجھے  تھپڑ مارا ہے ۔ پس آپ نے  بدلہ لینے  کا حکم دیا ہی تھا جو یہ آیت اتری اور بدلہ نہ دلوایا گیا ایک اور روایت کہ ایک انصار رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنی بیوی صاحبہ کو لئے  ہوئے  حاضر خدمت ہوئے  اس عورت نے  حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے  کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم میرے  اس خاوند نے  مجھے  تھپڑ مارا جس کا نشان اب تک میرے  چہرے  پر موجود ہے  آپ نے  فرمایا اسے  حق نہ تھا وہیں  یہ آیت اتری کہ ادب سکھانے  کے  لئے  مرد عورتوں پر حاکم ہیں ۔ تو آپ نے  فرمایا میں نے  اور چاہا تھا اور اللہ تعالیٰ نے  اور چاہا ۔ شعبہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے  ہیں  مال خرچ کرنے  سے  مراد مہر کا ادا کرنا ہے  دیکھو اگر مرد عورت پر زنا کاری کی تہمت لگائے  تو لعان کا حکم ہے  اور اگر عورت اپنے  مرد کی نسبت یہ بات کہے  اور ثابت نہ کر سکے  تو اسے  کوڑے  لگیں گے ۔ پس عورتوں میں سے  نیک نفس وہ ہیں  جو اپنے  خاوندوں کی اطاعت گزار ہوں اپنے  نفس اور خاوند کے  مال کی حفاظت والیاں ہوں جسے  خود اللہ تعالیٰ سے  محفوظ رکھنے  کا حکم دیا ہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم فرماتے  ہیں  بہتر عورت وہ ہے  کہ جب اس کا خاوند اس کی طرف دیکھے  وہ اسے  خوش کر دے  اور جب حکم دے  بجا لائے  اور جب کہیں  باہر جائے  تو اپنے  نفس کو برائی سے  محفوظ رکھے  اور اپنے  خاوند کے  مال کی محافظت کرے  پھر آپ نے  اس آیت کی تلاوت فرمائی مسند احمد میں ہے  کہ آپ نے  اس آیت کی تلاوت فرمائی۔ مسند احمد میں ہے  کہ آپ نے  فرمایا جب کوئی پانچوں وقت نماز ادا کرے  رمضان کے  روزے  رکھے  اپنی شرمگاہ کی حفاظت کرے  اپنے  خاوند کی فرمانبرداری کرے  اس سے  کہا جائے  گا کہ جنت کے  جس دروازے  سے  تو چاہے  جنت میں چلی جا، پھر فرمایا جن عورتوں کی سرکشی سے  ڈرو یعنی جو تم سے  بلند ہونا چاہتی ہو نافرمانی کرتی ہو بے  پرواہی برتتی ہو دشمنی رکھتی ہو تو پہلے  تو اسے  زبانی نصیحت کرو ہر طرح سمجھاؤ اتار چڑھاؤ بتاؤ اللہ کا خوف دلاؤ حقوق زوجیت یاد دلاؤ اس سے  کہو کہ دیکھو خاوند کے  اتنے  حقوق ہیں  کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے  فرمایا کہ اگر میں کسی کو حکم کر سکتا کہ وہ ماسوائے  اللہ تعالیٰ کے  دوسرے  کو سجدہ کرے  تو عورت کو حکم کرتا کہ وہ اپنے  خاوند کو سجدہ کرے ۔ وہ اپنے  شوہر کو سجدہ کرے  کیونکہ سب سے  بڑا حق اس پر اسی کا ہے  بخاری شریف میں ہے  کہ جب کوئی شخص اپنی بیوی کو اپنے  بسترے  پر بلائے  اور وہ انکار کر دے  تو صبح تک فرشتے  اس پر لعنت بھیجتے  رہتے  ہیں  صحیح مسلم میں ہے ۔ کہ جس رات کوئی عورت روٹھ کر اپنے  خاوند کے  بستر کو چھوڑے  رہے  تو صبح تک اللہ کی رحمت کے  فرشتے  اس پر لعنتیں نازل کرتے  رہتے  ہیں ، تو یہاں ارشاد فرماتا ہے  کہ ایسی نافرمان عورتوں کو پہلے  تو سمجھاؤ بجھاؤ پھر بستروں سے  الگ کرو، ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے  ہیں  یعنی سلائے  تو بستر ہی پر مگر خود اس سے  کروٹ موڑ لے  اور مجامعت نہ کرے ، بات چیت اور کلام بھی ترک کر سکتا ہے  اور یہ عورت کی بڑی بھاری سزا ہے ، بعض مفسرین فرماتے  ہیں  ساتھ سلانا ہی چھوڑ دے ، حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے  سوال ہوتا ہے  کہ عورت کا حق اس کے  میاں پر کیا ہے ؟ فرمایا یہ کہ جب تو کھا تو اسے  بھی کھلا جب تو پہن تو اسے  بھی پہنا اس کے  منہ پر نہ مار گالیاں نہ دے  اور گھر سے  الگ نہ کر غصہ میں اگر تو اس سے  بطور سزا بات چیت ترک کرے  تو بھی اسے  گھر سے  نہ نکال پھر فرمایا اس سے  بھی اگر ٹھیک ٹھاک نہ ہو تو تمہیں  اجازت ہے  کہ یونہی سی ڈانٹ ڈپٹ اور مار پیٹ سے  بھی راہ راست پر لاؤ۔ صحیح مسلم میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے  حجۃ الوداع کے  خطبہ میں ہے  کہ عورتوں کے  بارے  میں فرمایا اللہ تعالیٰ سے  ڈرتے  رہا کرو وہ تمہاری خدمت گزار اور ماتحت ہیں  تمہارا حق ان پر یہ ہے  کہ جس کے  آنے  جانے  سے  تم خفا ہو اسے  نہ آنے  دیں اگر وہ ایسا نہ کریں تو انہیں  یونہی سے  تنبیہ بھی تم کر سکتے  ہو لیکن سخت مار جو ظاہر ہو نہیں  مار سکتے  تم پر ان کا حق یہ ہے  کہ انہیں  کھلاتے  پلاتے  پہناتے  اڑھاتے  رہو۔ پس ایسی مار نہ مارنی چاہیے  جس کا نشان باقی رہے  جس سے  کوئی عضو ٹوٹ جائے  یا کوئی زخم آئے ۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے  ہیں  کہ اس پر بھی اگر وہ باز نہ آئے  تو فدیہ لو اور طلاق دے  دو۔ ایک حدیث میں ہے  کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے  فرمایا اللہ کی لونڈیوں کو مارو نہیں  اس کے  بعد ایک مرتبہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ آئے  اور عرض کرنے  لگے  یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم عورتیں آپ کے  اس حکم کو سن کر  بہت سی عورتیں شکایتیں لے  کر آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے  پاس آئیں تو آپ نے  لوگوں سے  فرمایا سنو میرے  پاس عورتوں کی فریاد پہنچی یاد رکھو تم میں سے  جو اپنی عورتوں کو زدو کوب کرتے  ہیں  وہ اچھے  آدمی نہیں  (ابو داؤد وغیرہ) حضرت اشعث رحمۃ اللہ علیہ فرماتے  ہیں  ایک مرتبہ میں حضرت فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا مہمان ہوا اتفاقاً اس روز میاں بیوی میں کچھ ناچاقی ہو گئی اور حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے  اپنی بیوی صاحبہ کو مارا پھر مجھ سے  فرمانے  لگے  اشعث تین باتیں یاد رکھ جو میں نے  آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے  سن کر یاد رکھی ہیں  ایک تو یہ کہ مرد سے  یہ نہ پوچھا جائے  گا کہ اس نے  اپنی عورت کو کس بنا پر مارا؟ دوسری یہ کہ وتر پڑھے  بغیر سونا مت اور اور تیسری بات راوی کے  ذہن سے  نکل گئی (نسائی) پھر فرمایا اگر اب بھی عورتیں تمہاری فرمانبردار بن جائیں تو تم ان پر کسی قسم کی سختی نہ کرو نہ مارو پیٹو نہ بیزاری کا اظہار کرو۔ اللہ بلندیوں اور بڑائیوں والا ہے ۔ یعنی اگر عورتوں کی طرف سے  قصور سرزد ہوئے  بغیر یا قصور کے  بعد ٹھیک ہو جانے  کے  باوجود بھی تم نے  انہیں  ستایا تو یاد رکھو ان کی مدد پر ان کا انتقام لینے  کے  لئے  اللہ تعالیٰ ہے  اور یقیناً وہ بہت زرو اور زبردست ہے ۔

۳۵

میاں بیوی مصالحت کی کوشش اور اصلاح کے  اصول

 اوپر اس صورت کو بیان فرمایا کہ اگر نافرمانی اور کج بحثی عورتوں کی جانب سے  ہو اب یہاں اس صورت کا بیان ہو رہا ہے  اگر دونوں ایک دوسرے  سے  نالاں ہوں تو کیا کیا جائے ؟ پس علماء کرام فرماتے  ہیں  کہ ایسی حالت میں حاکم ثقہ سمجھدار شخص کو مقرر کرے  جو یہ دیکھے  کہ ظلم و ذیادتی کس طرح سے  ہے ؟ اس ظالم کو ظلم سے  روکے، اگر اس پر بھی کوئی بہتری کی صورت نہ نکلے  تو عورت والوں میں سے  ایک اس کی طرف سے  اور مرد والوں میں سے  ایک بہتر شخص اسکی جانب سے  منصب مقرر کر دے  اور دونوں مل کر تحقیقات کریں اور جس امر میں مصلحت سمجھیں اس کا فیصلہ کر دیں یعنی خواہ الگ کرا دیں خواہ میل ملاپ کرا دیں لیکن شارع نے  تو اسی امر کی طرف ترغیب دلائی ہے  کہ جہاں تک ہو سکے  کوشش کریں کہ کوئی شکل نباہ کی نکل آئے ۔ اگر ان دونوں کی تحقیق میں خاوند کی طرف سے  برائی بہت ہو تو اس کی عورت کو اس سے  الگ کر لیں اور اسے  مجبور کریں گے  کہ اپنی عادت ٹھیک ہونے  تک اس سے  الگ رہے  اور اس کے  خرچ اخراجات ادا کرتا رہے  اور اگر شرارت عورت کی طرف سے  ثابت ہو تو اسے  نان نفقہ نہیں  دلائیں اور خاوند سے  ہنسی خوشی بسر کرنے  پر مجبور کریں گے ۔ اسی طرح اگر وہ طلاق کا فیصلہ دیں تو خاوند کو طلاق دینی پڑے  گی اگر وہ آپس میں بسنے  کا فیصلہ کریں تو بھی انہیں  ماننا پڑے  گا، بلکہ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے  ہیں  اگر دونوں پنچ اس امر پر متفق ہوں گئے  کہ انہیں  رضامندی کے  ساتھ ایک دوسرے  سے  اپنے  تعلقات نباہنے  چاہیں  اور اس فیصلہ کے  بعد ایک کا انتقال ہو گیا تو جو راضی تھا وہ اس کی جائیداد کا وارث بنے  گا لیکن جو ناراض تھا اسے  اس کا ورثہ نہیں  ملے  گا (ابن جریر) ایک ایسے  ہی جھگڑے  میں حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے  حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہا اور حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو منصف مقرر کیا تھا اور فرمایا تھا کہ اگر تم ان میں میل ملاپ کرنا چاہو تو میل ہو گا اور اگر جدائی کرانا چاہو تو جدائی ہو جائے  گی۔ ایک روایت میں ہے  کہ عقیل بن ابو طالب نے  فاطمہ بنت عتبہ بن ربیعہ نے  نکاح کیا تو اس نے  کہا تو وہ پوچھتی عتبہ بن ربیعہ اور شیبہ بن ربیعہ کہاں ہیں ؟ یہ فرماتے  تیری بائیں جانب جہنم میں اس پر وہ بگڑ کر اپنے  کپڑے  ٹھیک کر لیتیں ایک مرتبہ حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے  پاس آئیں اور واقعہ بیان کیا خلیفۃ المسلمین اس پر ہنسے  اور حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ان کا پنچ مقرر کیا حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ تو فرماتے  تھے  ان دونوں میں علیحدگی کرا دی جائے  لیکن حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتے  تھے  بنو عبد مناف میں یہ علیحدگی میں ناپسند کرتا ہوں، اب یہ دونوں حضرات حضرت عقیل رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے  گھر آئے  دیکھا تو دروازہ بند ہے  اور دونوں میاں بیوی اندر ہیں  یہ دونوں لوٹ گئے  مسند عبدالرزاق میں ہے  کہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی خلافت کے  زمانے  میں ایک میاں بیوی اپنی ناچاقی کا جھگڑا لے  کر آئے  اس کے  ساتھ اس کی برادری کے  لوگ تھے  اور اس کے  ہمراہ اس کے  گھرانے  کے  لوگ بھی، علی رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے  دونوں جماعتوں میں سے  ایک ایک کو چنا اور انہیں  منصف مقرر کر دیا پھر دونوں پنچوں سے  کہا جانتے  بھی ہو تمہارا کام کیا ہے ؟ تمہارا منصب یہ ہے  کہ اگر چاہودونوں میں اتفاق کرا دو اور اگر چاہو تو الگ الگ کرا دو یہ سن کرعورت نے  تو کہا میں اللہ تعالیٰ کے  فیصلہ پر راضی ہوں خواہ ملاپ کی صورت میں ہو جدائی کی صورت میں مرد کہنے  لگا مجھے  جدائی نا منظور ہے  اس پر حضرت علی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے  فرمایا نہیں  نہیں  اللہ کی قسم تجھے  دونوں صورتیں منظور کرنی پڑیں گی۔ پس علماء کا اجماع ہے  کہ ایسی صورت میں ان دونوں منصفوں کو دونوں اختیار ہیں  یہاں تک کہ حضرت ابراہیم نخعی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے  ہیں  کہ انہیں  اجتماع کا اختیار ہے  تفریق کا نہیں، حضرت امام مالک رحمۃ اللہ علیہ سے  بھی یہی قول مروی ہے، ہاں احمد ابو ثور اور داؤد کا بھی یہی مذہب ہے  ان کی دلیل (آیت ان یرید اصلاحاالخ،) والا جملہ ہے  کہ ان میں تفریق کا ذکر نہیں، ہاں اگر یہ دونوں دونوں جانب سے  وکیل ہیں  تو بیشک ان کا حکم جمع اور تفریق دونوں میں نافذ ہو گا اس میں کسی کو پھر یہ بھی خیال رہے  کہ یہ دونوں پنچ حاکم کی جانب سے  مقرر ہوں گے  اور فیصلہ کریں گے  چاہے  ان سے  فریقین ناراض ہوں یا یہ دونوں میاں بیوی کی طرف سے  ان کو بنائے  ہوئے  وکیل ہوں گے، جمہور کا مذہب تو پہلا ہے  اور دلیل یہ ہے  کہ ان کا نام قرآن حکیم نے  حکم رکھا ہے  اور حکم کے  فیصلے  سے  کوئی خوش یا ناخوش بہر صورت اس کا فیصلہ قطعی ہو گا آیت کے  ظاہری الفاظ بھی جمہور کے  ساتھ ہی ہیں، امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کا نیا قول یبھی یہی ہے  اور امام ابوحنیفہ اور ان کے  اصحاب کا بھی یہی قول ہے ، لیکن مخالف گروہ کہتا ہے  کہ اگر یہ حکم کی صورت میں ہوتے  تو پھر حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس خاوند کو کیوں فرماتے ؟ کہ جس طرح عورت نے  دونوں صورتوں کو ماننے  کا اقرار کیا ہے  اور اسی طرح تو بھی نہ مانے  تو تو جھوٹا ہے ۔ واللہ اعلم۔ امام ابن عبدالبر رحمۃ اللہ علیہ فرماتے  ہیں  علماء کرام کا اجماع ہے  کہ دونوں پنچوں کا قول جب مختلف ہو تو دوسرے  کے  قول کا کوئی اعتبار نہیں  اور اس امر پر بھی اجماع ہے  کہ یہ اتفاق کرانا چاہیں  تو ان کا فیصلہ نافذ ہے  ہاں اگر وہ جدائی کرانا چاہیں  تو بھی ان کا فیصلہ نافذ ہے  یا نہیں ؟ اس میں اختلاف ہے  لیکن جمہور کا مذہب یہی ہے  کہ اس میں بھی ان کا فیصلہ نافذ ہے  گو انہیں  وکیل نہ بنایا گیا ہو۔

۳۶

حقوق العباد اور حقوق اللہ

 اللہ تبارک و تعالیٰ اپنی عبادت کا حکم دیتا ہے  اور اپنی توحید کے  ماننے  کو فرماتا ہے  اور اپنے  ساتھ کسی کو شریک کرنے  سے  روکتا ہے  اس لئے  کہ جب خالق رزاق نعمتیں دینے  والا تمام مخلوق پر ہر وقت اور ہر حال میں انعام کی بارش برسانے  والا صرف وہی ہے  تو لائق عبادت بھی صرف وہی ہوا۔ حضرت معاذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے  جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم بہت زیادہ جاننے  والے  ہیں  آپ نے  فرمایا یہ کہ وہ اسی کی عبادت کریں اسی کے  ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں پھر فرمایا جانتے  ہو جب بندے  یہ کریں تو ان کا حق اللہ تعالیٰ کے  ذمہ کیا ہے  ؟ یہ کہ انہیں  وہ عذاب نہ کرے، پھر فرماتا ہے  ماں باپ کے  ساتھ احسان کرتے  رہو وہی تمہارے  عدم سے  وجود میں آنے  کا سبب بنے  ہیں ۔ قرآن کریم کی بہت سی آیتوں میں اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے  اپنی عبادت کے  ساتھ ہی ماں باپ سے  سلوک و احسان کرنے  کا حکم دیا ہے  جیسے  فرمایا (آیت ان اشکر لی ولو الدیک اور وقضی ربک ان لا تعبدو الا اباہ وبالوالدین احسانا) یہاں بھی یہ بیان فرما کر پھر حکم دیتا ہے  کہ اپنے  رشتہ داروں سے  بھی سلوک و احسان کرتے  رہو ۔ حدیث میں ہے  مسکین اور صدقہ دینا اور صلہ رحمی کرنا بھی، اسی حسن سلوک کی شاخ ہے  پھر حکم ہوتا ہے  کہ یتیموں کے  ساتھ بھی سلوک و احسان کرو اس لئے  کہ ان کی خبر گیری کرنے  والا ان کے  سر پر محبت سے  ہاتھ پھیرنے  والا ان کے  ناز، لاڈ اٹھانے  والا نہیں  محبت کے  ساتھ کھلانے  پلانے  والا ان کے  سر سے  اٹھ گیا ہے ۔ پھر مسکینوں کے  ساتھ نیکی کرنے  کا ارشاد کیا کہ وہ حاجت مند ہے  ہاتھ میں محتاج ہیں  ان کی ضرورتیں تم پوری کرو ان کی احتیاج تم رفع کرو ان کے  کام تم کر دیا کرو۔ فقیرو مسکین کا پورا بیان سورۃ براۃ کی تفسیر میں آئے  گا انشاء اللہ