FavoriteLoadingپسندیدہ کتابوں میں شامل کریں

 

فہرست مضامین

شمائل ترمذی

حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کا بیان

ترمذی

 

حضورِ اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے کھانا تناول فرمانے کا طریقہ

 

ابو جحیفہ رضی اللہ تعالی عنہ کہتے ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ میں ٹیک لگا کر کھانا نہیں کھاتا۔

 

“حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں ، کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم جب کھانا تناول فرماتے تو اپنی انگلیاں چاٹ لیا کرتے تھے۔”

 

انس بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کھجوریں لائی گئیں تو حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم ان کو نوش فرما رہے تھے اور اس وقت بھوک کی وجہ سے اپنے سہارے سے تشریف فرما نہیں تھے بلکہ اکڑوں بیٹھ کر کسی چیز پر سہارا لگائے ہوئے تھے۔

 

کعب بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم اپنی انگلیاں تین مرتبہ چاٹ لیا کر تے تھے۔

 

کعب بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت شریفہ تین انگلیوں سے کھانا تناول فرمانے کی تھی اور ان کو چاٹ بھی لیتے تھے۔

 

 

حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی مہر نبوت کا ذکر

 

جابر بن سمرہ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی مہر نبوت کو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دونوں مونڈھوں کے درمیان دیکھا جو سرخ رسولی جیسی تھی ۔ اور مقدار میں کبوتر کے انڈے جیسی تھی۔

 

حضورِ صلی اللہ علیہ وسلم کے عمامہ کا ذکر

 

“حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم جب عمامہ باندھتے تو اس کے شملہ کو اپنے دونوں مونڈھوں کے درمیان یعنی پچھلی جانب ڈال لیتے تھے نافع یہ کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہ کو ایسے ہی کرتے دیکھا عبید اللہ جو نافع کے شاگرد ہیں وہ کہتے ہیں ، کہ میں نے اپنے زمانہ میں حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ کے پوتے قاسم بن محمد کو اور حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کے پوتے سالم بن عبداللہ کو ایسے ہی کرتے دیکھا۔”

 

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ خطبہ دیا اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سر مبارک پر سیاہ عمامہ تھا۔ یعنی چکنی پٹی تھی۔

 

عمرو بن حریث رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے سر مبارک پر سیاہ عمامہ دیکھا۔

 

عمرو بن حریث رضی اللہ تعالی عنہ ہی سے روایت ہے کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ خطبہ ارشاد فرمایا اور حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے سر مبارک پر سیاہ عمامہ تھا۔

 

حضرت جابر رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ میں جب شہر میں داخل ہوئے تو حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے سر مبارک پر سیاہ عمامہ تھا

 

حضورِ اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی لنگی کا ذکر

 

ابوبردة کہتے ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا نے ہمیں ایک پیوند لگی ہوئی چادر اور ایک موٹی لنگی دکھائی اور یہ فرمایا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ان دو کپڑوں میں ہوا تھا۔

 

“عبید بن خالد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ، کہ میں مدینہ منورہ میں ایک مرتبہ جا رہا تھا کہ میں نے ایک شخص کو اپنے پیچھے سے یہ کہتے سنا کہ لنگی اوپر اٹھاؤ کہ اس سے (نجاست ظاہری اور باطنی تکبر وغیرہ سے) نظافت بھی زیادہ حاصل رہتی اور کپڑا زمین پر گھسٹ کر خراب اور میلا ہونے سے محفوظ رہتا ہے میں نے کہنے والے کی طرف متوجہ ہو کر دیکھا تو آپ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم تھے۔ میں نے عرض کیا کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم یہ ایک معمولی سی چادر ہے (اس میں کیا تکبر ہو سکتا ہے اور کیا اس کی حفاظت کی ضرورت ہے) حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر کوئی مصلحت تیرے نزدیک نہیں تو کم از کم میرا اتباع تو کہیں گیا ہی نہیں میں نے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد پر حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی لنگی کو دیکھا تو نصف ساق تک تھی۔”

 

“سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ، کہ حضرت عثمان رضی اللہ تعالی عنہ لنگی نصف ساق تک رکھتے تھے اور فرماتے تھے کہ یہی ہیئت تھی میرے آقا حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی لنگی کی۔”

 

حذیفہ بن الیمان رضی اللہ تعالی عنہ کہتے ہیں کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میری پنڈلی کا یا اپنی پنڈلی کا حصہ پکڑ کر یہ فرمایا کہ یہ حد ہے لنگی کی اگر تجھے اس پر قناعت نہ ہو تو اس سے کچھ نیچی سہی اگر اس پر بھی قناعت نہ ہو تو لنگی کا ٹخنوں پر کوئی حق نہیں ۔ لہذا ٹخنوں تک نہیں پہنچنا چاہیئے ۔

 

حضورِ اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی رفتار کا ذکر

 

ابوہریرة رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ حسین کوئی نہیں دیکھا۔ (چمک اور روشنی چہرہ میں اس قدر تھی) گویا کہ آفتاب آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہی کے چہرہ مبارک پر چمک رہا ہے۔ میں نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے زیادہ تیز رفتار بھی کوئی نہیں دیکھا زمین گویا لپٹی جاتی تھی۔ (کہ ابھی چند منٹ ہوئے یہاں تھے اور ابھی وہاں) ہم لوگ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ چلنے میں مشقت سے ساتھ ہوتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنی معمولی رفتار کے ساتھ چلتے تھے۔

 

ابراہیم بن محمد کہتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ جب آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ذکر فرماتے تو یہ فرماتے تھے کہ جب آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم چلتے تھے تو ہمت اور قوت سے پاؤں اٹھاتے (عورتوں کی طرح سے پاؤں زمین سے گھسیٹ کر نہیں چلتے تھے۔ چلنے میں تیزی اور قوت کے لحاظ سے ایسا معلوم ہوتا تھا کہ) گویا اونچائی سے اتر رہے ہیں ۔

 

حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم جب تشریف لے چلتے تو کچھ جھک کر چلتے گویا کہ بلندی سے اتر رہے ہیں ۔

 

حضورِ اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے قناع کا ذکر

 

حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم اپنے سر مبارک پر کپڑا اکثر رکھا کرتے تھے اور حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ کپڑا چکناہٹ کی وجہ سے تیلی کا کپڑا معلوم ہوتا تھا۔

 

قیلہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو مسجد (میں کچھ ایسی عاجزانہ صورت) میں گوٹ مارے بیٹھے دیکھا کہ میں رعب کی وجہ سے کانپنے لگی۔

 

حضورِ اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی نشست کا ذکر

 

 

عبد کے چچا عبداللہ بن زید کہتے ہیں کہ میں نے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کو مسجد میں چت لیٹے ہوئے دیکھا۔ اس وقت حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ایک پاؤں کو دوسرے پاؤں پر رکھے ہوئے تھے۔

 

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم جب مسجد میں تشریف رکھتے تھے تو گوٹ مار کر تشریف رکھتے تھے۔

 

حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے تکیہ کا ذکر

 

جابر بن سمرة رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک تکیہ پر ٹیک لگائے ہوئے دیکھا جو بائیں جانب رکھا ہوا تھا۔

 

ابو بکرہ رضی اللہ تعالی عنہ کہتے ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ ارشاد فرمایا کہ کیا میں تم لوگوں کو کبیرہ گناہوں میں سب سے بڑا گناہ بتاؤں صحابہ نے عرض کیا کہ ضرور یا رسول اللہ ارشاد فرمائیں ۔ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ جل جلالہ کے ساتھ کسی کو شریک بنانا اور والدین کی نافرمانی کرنا اور جھوٹی گواہی دینا یا جھوٹی بات کرنا (راوی کو شک ہے کہ ان دونوں میں سے کون سی بات فرمائی تھی) اس وقت حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کسی چیز پر ٹیک لگائے ہوئے تشریف فرما تھے اور جھوٹ کا ذکر فرماتے وقت اہتمام کی وجہ سے بیٹھ گئے اور بار بار ارشاد فرماتے رہے حتی کہ ہم لوگ یہ تمنا کرنے لگے کہ کاش اب حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم سکوت فرمائیں بار بار ارشاد نہ فرمائیں ۔

 

ابو جحیفة رضی اللہ تعالی عنہ کہتے ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ میں تو ٹیک لگا کر کھانا نہیں کھاتا۔

 

جابر بن سمرة رضی اللہ تعالی عنہ کہتے ہیں کہ میں نے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک تکیہ پر ٹیک لگائے ہوئے دیکھا

 

حضورِ اقدس صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا تکیہ کے علاوہ کسی اور چیز پر ٹیک لگانے کی ضرورت

 

حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی طبیعت ناساز تھی اس لئے حجرہ شریف سے حضرت اسامہ پر سہارا کئے ہوئے تشریف لائے اور صحابہ کو نماز پڑھائی۔ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت ایک یمنی منقش چادر لئے ہوئے تھے۔

 

“فضل بن عباس رضی اللہ تعالی عنہما فرماتے ہیں کہ میں حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے مرض الوفات کی حالت میں حاضر ہوا، حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے سر مبارک پر اس وقت زرد پٹی بندھی ہوئی تھی۔ میں نے سلام کیا حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جواب کے بعد ارشاد فرمایا کہ اے فضل اس پٹی سے میرے سر کو خوب زور سے باندھ دو ۔ پس میں نے تعمیل ارشاد کی۔ پھر حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے اور میرے مونڈھے پر ٹیک لگا کر کھڑے ہوئے اور مسجد کو تشریف لے گئے۔ اس حدیث میں ایک مفصل قصہ ہے”

 

حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے حلیہ کا بیان

 

“حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ، کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نہ زیادہ لانبے تھے ، نہ کوتاہ قد، ہتھیلیاں اور دونوں پاؤں پُر گوشت تھے (یہ صفات مردوں کے لئے محمود ہیں اس لئے کہ قوت اور شجاعت کی علامت ہیں۔ عورتوں کے لئے مذموم ہیں) حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا سر مبارک بھی بڑا تھا۔ اور اعضاء کے جوڑ کی ہڈیاں بھی بڑی تھیں ۔ سینہ سے لے کر ناف تک بالوں کی ایک باریک دھاری تھی۔ جب حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم چلتے تھے گویا کہ کسی اونچی جگہ سے نیچے کو اتر رہے ہیں حضرت علی فرماتے ہیں کہ میں نے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم جیسا نہ حضور سے پہلے دیکھا اور نہ بعد میں دیکھا۔”

 

“حضرت براء رضی اللہ عنہ ہی سے یہ بھی روایت ہے کہ میں نے کسی پٹھوں والے کو سرخ جوڑے میں حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ حسین نہیں دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بال مونڈھوں تک رہے ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بال کے دونوں مونڈھوں کے درمیان کا حصہ ذرا زیادہ چوڑا تھا۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نہ زیادہ لانبے تھے نہ ٹھگنے۔”

 

“حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نہ بہت لانبے قد کے تھے نہ پستہ قد (جس کو ٹھگنا کہتے ہیں) بلکہ آپ کا قد مبارک درمیانہ تھا اور نیز رنگ کے اعتبار سے نہ بالکل سفید تھے چونہ کی طرح ، نہ بالکل گندم گوں کہ سانولا بن جائے (بلکہ چودھویں رات کے چاند سے زیادہ روشن پُر نور اور کچھ ملاحت لئے ہوئے تھے) حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے بال نہ بالکل سیدھے تھے نہ بالکل پیچدار (بلکہ ہلکی سی پیچیدگی اور گھونگریالہ پن تھا) چالیس برس کی عمر ہو جانے پر حق تعالی جل شانہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نبی بنایا اور پھر دس برس مکہ مکرمہ میں رہے (اس میں کلام ہے جیسا کہ فوائد میں آتا ہے)۔”

 

“حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم درمیانہ قد تھے ، نہ زیادہ طویل نہ کچھ ٹھگنے، نہایت خوبصورت معتدل بدن والے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بال نہ بالکل پیچیدہ تھے نہ بالکل سیدھے (بلکہ تھوڑی سی پیچیدگی اور گھونگریالہ پن تھا) نیز آپ گندمی رنگ کے تھے ۔ جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم راستہ چلتے تو آگے کو جھکے ہوئے چلتے۔”

 

“حضرت حسن رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے ماموں ہند بن ابی ہالہ سے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا حلیہ مبارک دریافت کیا اور وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے حلیہ مبارک کو بہت ہی کثرت سے اور وضاحت سے بیان کیا کرتے تھے۔ مجھے یہ خواہش ہوئی کہ وہ ان اوصاف جمیلہ میں سے کچھ میرے سامنے بھی ذکر کریں تاکہ میں ان کے بیان کو اپنے لئے حجت اور سند بناؤں ۔ (اور ان اوصاف جمیلہ کو ذہن نشین کرنے اور ممکن ہو سکے تو اپنے اندر پیدا کرنے کی کوشش کروں ، حضرت حسن رضی اللہ تعالہ عنہ کی عمر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے وقت سات سال کی تھی۔ اس لئے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اوصاف جمیلہ میں اپنی کمسنی کی وجہ سے تامل اور کمال تحفظ کا موقع نہیں ملا تھا) ماموں جان نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حلیہ شریف کے متعلق یہ فرمایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خود اپنی ذات و صفات کے اعتبار سے شاندار تھے۔ اور دوسروں کی نظروں میں بھی بڑے رتبہ والے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ مبارک ماہ بدر کی طرح چمکتا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا قد مبارک بالکل متوسط قد والے آدمی سے کسی قدر طویل تھا۔ لیکن لانبے قد والے سے پست تھا، سر مبارک اعتدال کے ساتھ بڑا تھا، بال مبارک کسی قدر بل کھائے ہوئے تھے۔ اگر سر کے بالوں میں اتفاقا خود مانگ نکل آتی تو مانگ رہنے دیتے، ورنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خود مانگ نکالنے کا اہتمام نہ فرماتے (یہ مشہور ترجمہ ہے اس بناء پر یہ اشکال پیش آتا ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا قصداً مانگ نکالنا روایات سے ثابت ہے۔ اس اشکال کے جواب میں علماء یہ فرماتے ہیں کہ اس کو ابتدائے زمانہ پر حمل کیا جائے کہ اول حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو اہتمام نہیں تھا، لیکن بندہ ناچیز کے نزدیک یہ جواب اس لئے مشکل ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت شریفہ مشرکین کی مخالفت اور اہل کتاب کی موافقت کی وجہ سے مانگ نہ نکالنے کی تھی، اس کے بعد پھر مانگ نکالنی شروع فرما دی، اس لئے اچھا ترجمہ جس کو بعض علماء نے ترجیح دی ہے وہ یہ ہے کہ اگر بسہولت مانگ نکل آتی تو نکال لیتے اور اگر کسی وجہ سے بسہولت نہ نکلتی اور کنگھی وغیرہ کی ضرورت ہوتی تو اس وقت نہ نکالتے، کسی دوسرے وقت جب کنگھی وغیرہ موجود ہوتی نکال لیتے)”

 

“جابر بن سمرہ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں ، کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فراخ دہن تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں کی سفیدی میں سرخ ڈورے پڑے ہوئے تھے، ایڑی مبارک پر بہت کم گوشت تھا۔”

 

“حضرت جابر رضی اللہ تعالی عنہ ہی سے منقول ہے وہ فرماتے ہیں ، کہ میں ایک مرتبہ چاندنی رات میں حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ رہا تھا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت سرخ جوڑا زیب تن فرما تھے، میں کبھی چاند کو دیکھتا اور کبھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو، بالآخر میں نے یہ ہی فیصلہ کیا کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم چاند سے کہیں زیادہ جمیل وحسین اور منور ہیں ۔”

 

ابو اسحاق کہتے ہیں کہ کسی شخص نے حضرت براء سے پوچھا کہ کیا حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ مبارک تلوار کی طرح شفاف تھا۔ انہوں نے کہا کہ نہیں بلکہ بدر کی طرح روشن گولائی لئے ہوئے تھا۔

 

“ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں، کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم اس قدر صاف شفاف حسین و خوبصورت تھے کہ گویا کہ چاندی سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا بدن مبارک ڈھالا گیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بال مبارک قدرے خمدار گھونگریالے تھے۔”

 

“جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالی عنہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد نقل فرماتے ہیں ، کہ مجھ پر سب انبیاء علیہم الصلوة والسلام پیش کئے گئے یعنی مجھے دکھائے گئے۔ پس حضرت موسیٰ علیہ السلام کو میں نے دیکھا تو وہ ذرا پتلے دبلے بدن کے آدمی تھے گویا کہ قبیلہ شنوئیہ کے لوگوں میں سے ہیں، اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو دیکھا تو ان سب لوگوں میں سے جو میری نظر میں ہیں عروة بن مسعود ان سے زیادہ ملتے جلتے معلوم ہوئے۔ اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کو دیکھا تو میرے دیکھے ہوئے لوگوں میں سے میں خود ہی ان کے ساتھ مشابہ ہوں ، ایسے ہی جبرائیل علیہ السلام کو دیکھا تو ان کے ساتھ زیادہ مشابہ ان لوگوں میں سے جو میری نظر میں ہیں وہ دحیہ کلبی ہیں ۔”

 

“سعید جریری رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے ابو الطفیل رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا، کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھنے والوں میں اب روئے زمین پر میرے سوا کوئی نہیں رہا۔ میں نے ان سے کہا کہ مجھ سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا کچھ حلیہ بیان کیجئے۔ انہوں نے فرمایا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سفید رنگ تھے۔ ملاحت کے ساتھ یعنی سرخی مائل اور معتدل جسم والے تھے۔”

 

“ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں ، کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے اگلے دانت مبارک کچھ کشادہ تھے یعنی ان میں کسی قدر ریخیں تھیں گنجان نہ تھے جب حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم تکلم فرماتے تو ایک نور سا ظاہر ہوتا جو دانتوں کے درمیان سے نکلتا تھا۔”

 

“حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم ایک مردِ میانہ قد تھے۔ (قدرے درازی مائل جیسا کہ پہلے گزر چکا) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دونوں مونڈھوں کے درمیان قدرے اوروں سے زیادہ فاصلہ تھا۔ (جس سے سینہ مبارک چوڑا ہونا بھی معلوم ہو گیا) گنجان بالوں والے ، جو کان کی لو تک ہوتے تھے ،آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایک سرخ دھاری کا جوڑا یعنی لنگی اور چادر تھی۔ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ حسین کبھی کوئی چیز نہیں دیکھی۔”

 

“ابراہیم بن محمد جو حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کی اولاد میں سے ہیں (یعنی پوتے ہیں) وہ فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے حلیہ مبارک کا بیان فرماتے تو کہا کرتے تھے، کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نہ زیادہ لانبے تھے، نہ زیادہ پستہ قد بلکہ میانہ قد لوگوں میں تھے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بال مبارک نہ بالکل پیچدار تھے نہ بالکل سیدھے۔ بلکہ تھوڑی سی پیچیدگی لئے ہوئے تھے، نہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم موٹے بدن کے تھے نہ گول چہرہ کے البتہ تھوڑی سی گولائی آپ کے چہرہ مبارک میں تھی (یعنی چہرہ انور نہ بالکل گول تھا نہ بالکل لانبا بلکہ دونوں کے درمیان تھا) حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا رنگ سفید سرخی مائل تھا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک آنکھیں نہایت سیاہ تھیں اور پلکیں دراز، بدن کے جوڑوں کی ہڈیاں موٹی تھیں (مثلاً کہنیاں اور گھٹنے) اور ایسے ہی دونوں مونڈھوں کے درمیان کی جگہ بھی موٹی اور پُر گوشت تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بدن مبارک پر (معمولی طور سے زائد) بال نہیں تھے (یعنی بعض آدمی ایسے ہوتے ہیں کہ ان کے بدن پر بال زیادہ ہو جاتے ہیں حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے بدن مبارک پر خاص خاص حصوں کے علاوہ جیسے بازو پنڈلیاں وغیرہ ان کے علاوہ اور کہیں بال نہ تھے) آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سینہ مبارک سے ناف تک بالوں کی لکیر تھی آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ہاتھ اور قدم مبارک پُر گوشت تھے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے چلتے تو قدموں کو قوت سے اٹھاتے گویا کہ پستی کی طرف چل رہے ہیں، جب آپ کسی کی طرف توجہ فرماتے تو پورے بدن مبارک کے ساتھ توجہ فرماتے تھے (یعنی یہ کہ صرف گردن پھیر کر کسی کی طرف متوجہ نہیں ہوتے تھے۔ اس لئے کہ اس طرح دوسروں کے ساتھ لا پرواہی ظاہر ہوتی ہے اور بعض اوقات متکبرانہ حالت ہو جاتی ہے، بلکہ سینہ مبارک سمیت اس طرف رخ فرماتے )۔ بعض علماء نے اس کا مطلب یہ بھی فرمایا ہے کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم توجہ فرماتے تو تمام چہرہ مبارک سے فرماتے ، کن اکھیوں سے نہیں ملاحظہ فرماتے تھے۔ مگر یہ مطلب اچھا نہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دونوں مبارک شانوں کے درمیان مہر نبوت تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ختم کرنے والے تھے نبیوں کے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سب سے زیادہ سخی دل والے تھے۔ اور سب سے زیادہ سچی زبان والے تھے۔ سب سے زیادہ نرم طبیعت والے تھے۔ اور سب سے زیادہ شریف گھرانے والے تھے۔ (غرض آپ صلی اللہ علیہ وسلم دل و زبان، طبیعت، خاندان اوصاف ذاتی اور نسبتی ہر چیز میں سب سے زیادہ افضل تھے) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جو شخص یکایک دیکھتا مرعوب ہو جاتا تھا۔ (یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا وقار اس قدر زیادہ تھا کہ اول وہلہ میں دیکھنے والا رعب کی وجہ سے ہیبت میں آ جاتا تھا) اول تو جمال و خوبصورتی کے لئے بھی رعب ہوتا ہے شوق افزوں مانع عرض تمنا آداب حسن بارہا دل نے اٹھائے ایسی لذت کے مزے اس کے ساتھ جب کمالات کا اضافہ ہو تو پھر رعب کا کیا پوچھنا۔ اس کے علاوہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کو جو مخصوص چیزیں عطا ہوئیں، ان میں رعب بھی اللہ تعالی کی طرف سے عطا کیا گیا۔ اور جو شخص پہچان کر میل جول کرتا تھا وہ (آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق کریمہ و اوصاف جمیلہ کا گھائل ہو کر) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو محبوب بنا لیتا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا حلیہ بیان کرنے والا صرف یہ کہہ سکتا ہے کہ میں نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جیسا با جمال  و با کمال نہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے دیکھا نہ بعد میں دیکھا۔ (صلی اللہ علیہ وسلم)”

 

حضورِ اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے سالن کا ذکر

 

زہدم کہتے ہیں کہ میں حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ تعالی عنہ کے پاس تھا انکے پاس کھانے میں مرغی کا گوشت آیا مجمع میں سے ایک آدمی پیچھے ہٹ گیا ابو موسیٰ نے اس سے ہٹنے کی وجہ دریافت کی اس نے عرض کیا کہ میں نے مرغی کو گندگی کھاتے دیکھا ہے اس لئے میں نے مرغی نہ کھانے کی قسم کھا رکھی ہے۔ حضرت ابو موسیٰ نے فرمایا کہ آؤ اور بے تکلف کھاؤ میں نے خود حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کو مرغی کا گوشت نوش فرماتے دیکھا اگر ناجائز یا نا پسند ہوتی تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کیسے تناول فرماتے ۔

 

سفینہ رضی اللہ تعالی عنہ کہتے ہیں کہ میں نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حباری کا گوشت کھایا ہے ۔

 

“زہدم کہتے ہیں کہ ہم ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ تعالی عنہ کے پاس تھے ان کے پاس کھانا لایا گیا۔ جس میں مرغی کا گوشت بھی تھا مجمع میں ایک آدمی قبیلہ بنو تیم کا بھی تھا جو سرخ رنگ کا تھا، بظاہر آزاد شدہ غلام معلوم ہوتا تھا۔ اس نے یکسوئی اختیار کی ابو موسیٰ نے اسے متوجہ ہونے کو کہا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مرغی تناول فرمانے کا ذکر فرمایا اس نے عذر کیا کہ میں نے اس کو کچھ ایسی ہی چیز کھاتے دیکھا جس کی وجہ سے مجھے اس سے کراہت آتی ہے اس لئے میں نے اس کے نہ کھانے کی قسم کھا رکھی ہے۔”

 

ابو اسید رضی اللہ تعالی عنہ کہتے ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ زیتون کا تیل کھانے میں بھی استعمال کر اور مالش میں بھی اس لئے کہ بابرکت درخت کا تیل ہے۔

 

حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ بھی ارشاد نقل کرتے ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ زیتون کا پھل کھاؤ اور مالش کرو اس لئے کہ وہ مبارک درخت سے پیدا ہوتا ہے

 

حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کو کدو مرغوب تھا ایک مرتبہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کھانا آیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کسی دعوت پر تشریف لے گئے (راوی کو شک ہے کہ یہ قصہ کس موقع کا ہے) جس میں کدو تھا چونکہ مجھے معلوم تھا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ مرغوب ہے اس لئے اس کے قتلے ڈھونڈ کر میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کر دیتا تھا۔

 

جابر بن طارق رضی اللہ تعالی عنہ کہتے ہیں کہ میں حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو کدو کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے کئے جا رہے تھے ۔ میں نے عرض کیا کہ اس کا کیا بنے گا۔ فرمایا کہ اس سے سالن میں اضافہ کیا جائے گا۔

 

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا فرماتی ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ فرمایا کہ سرکہ بھی کیسا اچھا سالن ہے۔

 

نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ کیا تم کھانے پینے کی خاطر خواہ نعمتوں میں نہیں ہو حالانکہ میں نے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ ان کے ہاں معمولی قسم کی کھجوروں کی مقدار نہ ہوتی تھی کہ جس سے شکم سیر ہو جائے۔

 

حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کو ذراع یعنی دست کا گوشت مرغوب تھا اور اسی میں حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کو زہر دیا گیا۔ گمان یہ ہے کہ یہود نے زہر دیا تھا۔

 

یوسف رضی اللہ تعالی عنہ کہتے ہیں کہ میں نے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک مرتبہ دیکھا کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک روٹی کا ٹکڑا لے کر اس پر ایک کھجور رکھی اور فرمایا کہ یہ سالن ہے اور نوش فرمایا۔

 

عبد اللہ بن جعفر رضی اللہ تعالی عنہ کہتے ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا پیٹھ کا گوشت بہترین گوشت ہے۔

 

حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ ایک درزی نے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک مرتبہ دعوت کی میں بھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حاضر ہوا اس نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں جو کی روٹی اور کدو گوشت کا شوربا پیش کیا۔ میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ پیالہ کی سب جانبوں سے کدو کے ٹکڑے تلاش فرما رہے تھے۔ اس وقت سے مجھے کدو مرغوب ہو گیا۔

 

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا فرماتی ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کو میٹھا اور شہد بے انتہا پسند تھا۔

 

حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہما فرماتی ہیں کہ انہوں نے پہلو کا بھنا ہوا گوشت حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے تناول فرمایا اور پھر بلا وضو کئے نماز پڑھی۔

 

عبد اللہ بن حارث رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بھنا ہوا گوشت مسجد میں کھایا۔

 

مغیرہ بن شعبہ کہتے ہیں کہ میں ایک رات حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ مہمان ہوا کھانے میں ایک پہلو بھنا ہوا لایا گیا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم چاقو لے کر اس میں سے کاٹ کاٹ کر مجھے مرحمت فرما رہے تھے اسی دوران میں حضرت بلال نے آ کر نماز کی تیاری کی اطلاع دی۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ خاک آلود ہوں اسکے دونوں ہاتھ۔ کیا ہوا اس کو کہ ایسے موقع پر خبر کی اور پھر چھری رکھ کر نماز کے لئے تشریف لے گئے۔ مغیرہ کہتے ہیں کہ دوسری بات میرے ساتھ یہ پیش آئی کہ میری مونچھ بہت بڑھ رہی تھی۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ لاؤ مسواک پر رکھ کر ان کو کتر دوں یا یہ فرمایا کہ مسواک پر رکھ کر ان کو کتر دو۔ راوی کو الفاظ میں شک ہے کہ کیا لفظ فرمائے؟

 

ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کہیں سے گوشت آیا۔ اس میں سے دست (یعنی بونگ) حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش ہوا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو دانتوں سے کاٹ کر تناول فرمایا (یعنی چھری وغیرہ سے نہیں کاٹا)۔

 

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا فرماتی ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لا کر دریافت فرمایا کرتے تھے کہ کچھ کھانے کو رکھا ہے جب معلوم ہوتا کہ کچھ نہیں تو فرماتے کہ میں نے روزہ کا ارادہ کر لیا ہے ایک مرتبہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے میں نے عرض کیا کہ ہمارے پاس ایک ہدیہ آیا ہوا رکھا ہے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ کیا چیز ہے میں نے عرض کیا کہ کھجور کا ملیدہ ۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے روزہ کا ارادہ کر رکھا تھا۔ پھر حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں سے تناول فرمایا۔

 

ام منذر رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم میرے یہاں تشریف لائے ۔ ہمارے یہاں کھجور کے خوشے لٹکے ہوئے تھے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم ان میں سے تناول فرمانے لگے حضرت علی رضی اللہ عنہ جو حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے وہ بھی نوش فرمانے لگے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا ہاتھ روک دیا کہ تم ابھی بیماری سے اٹھے ہو تم مت کھاؤ وہ رک گئے اور حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تناول فرماتے رہے ام منذر کہتی ہیں کہ پھر میں نے تھوڑے سے جو اور چقندر لے کر پکائے۔ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی سے فرمایا کہ یہ کھاؤ یہ تمھارے لئے مناسب ہے۔

 

“حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ بونگ کا گوشت کچھ لذت کی وجہ سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو زیادہ پسند نہ تھا، بلکہ گوشت چونکہ گاہے گاہے پکتا تھا اور یہ جلدی گل جاتا ہے اس لئے حضور صلی اللہ علیہ وسلم اس کو پسند فرماتے تھے، تاکہ جلدی سے فارغ ہو کر اپنے مشاغل میں مصروف ہوں ۔”

 

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا فرماتی ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ سرکہ بہترین سالن ہے۔

 

“حضرت ام ہانی رضی اللہ تعالی عنہا (حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی چچا زاد بہن) فرماتی ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم (فتح مکہ میں) میرے پاس تشریف لائے اور یہ فرمایا کہ تیرے پاس کچھ کھانے کو ہے؟ میں نے عرض کیا کہ سوکھی روٹی اور سرکہ، حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ لے آؤ وہ گھر سالن سے خالی نہیں جس میں سرکہ نہ ہو۔”

 

ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ عائشہ کی فضیلت تمام عورتوں پر ایسی ہے جیسے کہ ثرید کی فضیلت تمام کھانوں پر۔

 

حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ عائشہ کی فضیلت تمام عورتوں پر ایسی ہے ۔ جیسے ثرید کی فضیلت ہے تمام کھانوں پر۔

 

ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک مرتبہ پنیر کا ٹکڑا نوش فرما کر وضو فرماتے دیکھا اور پھر ایک دفعہ دیکھا کہ بکری کا شانہ نوش فرمایا اور وضو نہیں فرمایا۔

 

حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت صفیہ رضی اللہ تعالی عنہا کا ولیمہ کھجور اور ستو سے فرمایا تھا۔

 

سلمیٰ رضی اللہ تعالی عنہا کہتی ہیں کہ امام حسن اور عبداللہ بن عباس اور عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہم ان کے پاس تشریف لے گئے اور فرمایا کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کو جو کھانا پسند تھا اور اس کو رغبت سے نوش فرماتے تھے وہ ہمیں پکا کر کھلاؤ۔ سلمیٰ نے کہا پیارے بچو اب وہ کھانا پسند نہیں آئے گا (وہ تنگی میں ہی پسند ہوتا تھا) انہوں نے فرمایا کہ نہیں ضرور پسند آئے گا وہ اٹھیں اور تھوڑے سے جو لے کر ہانڈی میں ڈالے اور اس پر ذرا سا زیتون کا تیل ڈالا اور کچھ مرچیں اور زیرہ وغیرہ پیس کر ڈالا اور پکا کر رکھا کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ پسند تھا۔

 

جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے گھر تشریف لائے تو ہم نے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے بکری ذبح کی حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے (دلداری کے لئے اظہار مسرت کی طرز پر) فرمایا کہ بظاہر ان لوگوں کو یہ ہے کہ ہمیں گوشت مرغوب ہے امام ترمذی کہتے ہیں کہ اس حدیث میں اور بھی قصہ ہے جس کو مختصر کر دیا گیا۔

 

“ابو عبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے ہانڈی پکائی، چونکہ آقائے نامدار علیہ الصلوة والسلام کو بونگ کا گوشت زیادہ پسند تھا اس لئے میں نے ایک بونگ پیش کی۔ پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسری طلب فرمائی، میں نے دوسری پیش کی۔ پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے تیسری طلب فرمائی، میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بکری کی دو ہی بونگیں ہوتی ہیں ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے اگر تو چپ رہتا تو میں جب تک مانگتا رہتا، اس دیگچی سے بونگیں نکلتی رہتیں ۔”

 

حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کو ہانڈی اور پیالہ کا بچا ہوا کھانا مرغوب تھا۔

 

حضرت جابر رضی اللہ تعالی عنہ بھی نقل کرتے ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ارشاد فرمایا کہ سرکہ بھی کیا ہی اچھا سالن ہے

 

“حضرت جابر رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم ایک مرتبہ ایک انصار عورت کے مکان پر تشریف لے گئے میں بھی حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھا انہوں نے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے بکری ذبح کی حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں کچھ تناول فرمایا اس کے بعد کھجور کی چنگیری میں کچھ تازہ کھجوریں لائیں حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں سے بھی تناول فرمایا پھر ظہر کی نماز کے لئے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کر کے نماز ادا کی ، پھر تشریف لانے پر انہوں نے بچا ہوا گوشت سامنے رکھا حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو تناول فرمایا اور عصر کی نماز کے لئے دوبارہ وضو نہیں کیا اس پہلے والے وضو سے نماز ادا فرمائی۔”

 

حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی روٹی کا ذکر

 

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات تک حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل وعیال نے مسلسل دو دن کبھی جو کی روٹی سے پیٹ بھر کر کھانا نہیں کھایا۔

 

ابو امامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں جو کی روٹی کبھی نہیں بچتی تھی

 

ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے گھر والے کئی کئی رات پے درپے بھوکے گذار دیتے تھے کہ رات کو کھانے کے لئے کچھ موجود نہیں ہوتا تھا اور اکثر غذا آپ کی جو کی روٹی ہوتی تھی گو کبھی کبھی گہیوں کی روٹی بھی مل جاتی تھی ۔

 

سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے کسی نے پوچھا کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی سفید میدہ کی روٹی بھی کھائی ہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اخیر عمر تک کبھی میدہ آیا بھی نہیں ہو گا۔ پھر سائل نے پوچھا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں تم لوگوں کے یہاں چھلنیاں تھیں ؟ انہوں نے فرمایا کہ نہیں تھیں سائل نے پوچھا کہ پھر جو کی روٹی کیسے پکاتے تھے؟ (چونکہ اس میں تنکے وغیرہ زیادہ ہوتے ہیں) سہل نے فرمایا کہ اس آٹے میں پھونک مار لیا کرتے جو موٹے موٹے تنکے ہوتے تھے وہ اڑ جاتے تھے۔ باقی گوندھ لیتے تھے۔

 

حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی کھانا میز پر تناول نہیں فرمایا نہ چھوٹی طشتریوں میں نوش فرمایا نہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کبھی چپاتی پکائی گئی ۔ یونس کہتے ہیں میں نے قتادہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ پھر کھانا کس چیز پر رکھ کر کھاتے تھے؟ انہوں نے جواب دیا کہ یہی چمڑے کے دسترخوان پر۔

 

مسروق رضی اللہ تعالی عنہ کہتے ہیں کہ میں حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہ کے پاس گیا انہوں نے میرے لئے کھانا منگایا اور یہ فرمانے لگیں کہ میں کبھی پیٹ بھر کر کھانا نہیں کھاتی مگر میرا رونے کو دل چاہتا ہے ۔ آپ نے فرمایا کہ مجھے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ حالت یاد آتی ہے جس پر ہم سے مفارقت فرمائی ہے کہ کبھی ایک دن میں دو مرتبہ گوشت یا روٹی سے پیٹ بھر کر کھانے کی نوبت نہیں آئی

 

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا فرماتی ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام عمر میں کبھی جو کی روٹی سے بھی دو دن پے درپے پیٹ نہیں بھرا

 

حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی اخیر تک میز پر کھانا تناول نہیں فرمایا اور نہ چپاتی نوش فرمائی۔

 

حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے بالوں میں کنگھا کرنے کا بیان

 

“حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا فرماتی ہیں کہ میں حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے بالوں میں کنگھا کرتی تھی، حالانکہ میں حائضہ ہوتی تھی۔”

 

“حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں ، کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم اپنے سر مبارک پر اکثر تیل کا استعمال فرماتے تھے اور اپنی داڑھی مبارک میں اکثر کنگھی کیا کرتے تھے۔ اور اپنے سر مبارک پر ایک کپڑا ڈال لیا کرتے تھے جو تیل کے کثرت استعمال سے ایسا ہوتا تھا جیسے تیلی کا کپڑا ہو۔”

 

“حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم اپنے وضو کرنے میں ، کنگھی کرنے میں، جوتا پہننے میں (غرض ہر امر میں) دائیں کو مقدم رکھتے تھے، یعنی پہلے دائیں جانب کنگھا کرتے پھر بائیں جانب۔”

 

“عبد اللہ مغفل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کنگھی کرنے کو منع فرماتے تھے۔ مگر گاہے بگاہے۔”

 

حمید بن عبد الرحمن ایک صحابی سے نقل کر تے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم گاہے بگاہے کنگھی کیا کرتے تھے۔

 

اس بیان میں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم انگوٹھی کو دائیں ہاتھ میں پہنا کر تے تھے

 

حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم انگوٹھی دائیں ہاتھ میں پہنا کرتے تھے۔

 

حماد بن سلمہ کہتے ہیں کہ میں نے عبد الرحمن بن ابی رافع کو داہنے ہاتھ میں انگوٹھی پہنے دیکھا میں نے اس سے وجہ پوچھی تو انہوں نے کہا کہ میں نے عبداللہ بن جعفر کو داہنے ہاتھ میں انگوٹھی پہنے دیکھا اور وہ یہ کہتے تھے کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم داہنے ہاتھ میں انگوٹھی پہنتے تھے۔

 

عبد اللہ بن جعفر رضی اللہ تعالی عنہ سے دوسرے طریقہ سے بھی نقل کیا گیا ہے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم داہنے ہاتھ میں انگوٹھی پہنتے تھے۔

 

جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم بھی داہنے ہاتھ میں انگوٹھی پہنا کر تے تھے۔

 

صلت بن عبداللہ کہتے ہیں کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ داہنے ہاتھ میں انگوٹھی پہنا کرتے تھے اور مجھے جہاں تک خیال ہے کہ یہ کہا کرتے تھے کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم بھی داہنے ہاتھ میں پہنتے تھے۔

 

ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک چاندی کی انگوٹھی بنوائی۔ اس کا نگینہ ہتھیلی کی جانب رہتا تھا اس میں محمد رسول اللہ کندہ کرایا تھا۔ اور لوگوں کو منع فرما دیا تھا کہ کوئی شخص اپنی انگوٹھی پر یہ کندہ نہ کرائے۔ یہ وہی انگوٹھی تھی جو معقیب سے حضرت عثمان کے زمانہ میں بیر اریس میں گر گئی تھی۔

 

امام محمد باقر فرماتے ہیں کہ حضرت امام حسن و امام حسین رضی اللہ تعالی عنہما اپنے بائیں ہاتھ میں انگوٹھی پہنا کرتے تھے۔

 

حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کی جاتی ہے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم داہنے ہاتھ میں انگوٹھی پہنتے تھے۔ اور حضرت انس ہی سے یہ بھی بعض لوگوں نے نقل کیا ہے کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم بائیں ہاتھ میں انگوٹھی پہنتے تھے۔

 

“حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں ، کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے سونے کی انگوٹھی بنوائی۔ جس کو اکے بعد وہ انگوٹھی پھینک دی اور فرمایا کہ اس کو کبھی نہیں پہنوں گا اور صحابہ نے بھی اپنی انگوٹھیاں پھینک دیں ۔”

 

ان احادیث کا ذکر جن میں حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے پینے کا طرز وارد ہوا ہے

ا

عمرو بن شعیب اپنے باپ سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کو کھڑے اور بیٹھے دونوں طرح پانی پیتے دیکھا ہے۔

 

ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے زمزم کا پانی کھڑے ہونے کی حالت میں نوش فرمایا۔

 

حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم پانی پینے میں تین سانس لیا کرتے تھے اور یہ فرماتے تھے کہ اس طریقہ سے پینا زیادہ خوشگوار اور خوب سیراب کرنے والا ہے ۔

 

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم جب پانی نوش فرماتے دو دفعہ سانس لیتے تھے۔

 

کبشہ رضی اللہ تعالی عنہا کہتی ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم میرے گھر تشریف لائے وہاں ایک مشکیزہ لٹک رہا تھا۔ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اس مشکیزہ کے منہ سے پانی نوش فرمایا۔ میں نے اٹھ کر مشکیزہ کے منہ کو کتر لیا۔

 

ثمامہ کہتے ہیں کہ حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ پانی تین سانس میں پیتے تھے اور کہتے تھے کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم ایسا ہی کرتے تھے۔

 

حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم میری والدہ ام سلیم کے گھر تشریف لے گئے وہاں مشکیزہ لٹکا ہوا تھا ۔ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے کھڑے اس میں سے پانی نوش فرمایا ام سلیم کھڑی ہوئیں مشکیزہ کا منہ کتر کر رکھ لیا۔

 

حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالی عنہ کہتے ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے پانی نوش فرما لیتے تھے۔

 

ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کو زمزم کا پانی پلایا اور حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہوئے نوش فرمایا۔

 

نزال بن سبرہ کہتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس جب وہ مسجد کوفہ کے میدان (جو ان کا دارالقضاء تھا) تشریف فرما تھے۔ ایک کوزہ پانی لایا گیا انہوں نے ایک چلو پانی لے کر کلی کی اور ناک میں پانی ڈالا اور پھر اپنے منہ اور ہاتھوں پر مسح کیا پھر کھڑے ہو کر پانی پیا اور فرمایا کہ یہ اس شخص کا وضو ہے جو پہلے سے با وضو ہو۔ ایسے ہی میں نے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کو کرتے دیکھا۔

 

ان روایات کا ذکر حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے بستر کے بارہ میں وارد ہوئی ہیں

 

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے سونے اور آرام فرمانے کا بستر چمڑے کا ہوتا تھا ۔ جس میں کھجور کے درخت کی چھال بھری ہوئی تھی۔

 

ان کلمات کا ذکر جو حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کھانے سے قبل کھانے کے بعد فرمایا کرتے تھے۔

 

حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ نے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کیا ہے کہ حق تعالی جل جلالہ عم نو آلہ بندہ کی اس بات پر بہت ہی رضامندی ظاہر فرماتے ہیں کہ ایک لقمہ کھانا کھائے یا گھونٹ پیوے حق تعالی شانہ کا اس پر شکر ادا کرے۔

 

“حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم ایک مرتبہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھے ، کہ کھانا سامنے لایا گیا میں نے آج جیسا کھانا کہ جو ابتداء یعنی کھانے کے شروع کے وقت نہایت بابرکت معلوم ہوتا ہو اور کھانے کے ختم کے وقت بالکل بے برکت ہو گیا ہو کبھی نہیں دیکھا تھا۔ اس لئے حیرت سے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا۔ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ شروع میں ہم لوگوں نے بسم اللہ کے ساتھ کھانا شروع کیا تھا اور اخیر میں فلاں شخص نے بدون بسم اللہ پڑھے کھایا اس کے ساتھ شیطان شریک ہو گیا۔”

 

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا فرماتی ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جب کوئی شخص کھانا کھائے اور بسم اللہ پڑھنا بھول جائے تو کھانے کے درمیان جس وقت یاد آئے بسم اللہ اولہ و آخرہ پڑھے۔

 

عمر بن ابی سلمة رضی اللہ عنہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کھانا رکھا ہوا تھا آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا بیٹا قریب ہو جاؤ اور بسم اللہ کہہ کر دائیں ہاتھ سے اپنے قریب سے کھانا شرع کرو۔

 

“ابو سعید خدری رضی اللہ تعالی عنہ کہتے ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم جب کھانے سے فارغ ہوتے تو یہ دعا پڑھتے الْحَمْدُ لِلَّہ الَّذِي أَطْعَمَنَا وَسَقَانَا وَجَعَلَنَا مُسْلِمِينَ تمام تعریف اس ذات پاک کے لئے ہیں جس نے ہمیں کھانا کھلایا، پانی پلایا اور ہمیں مسلمان بنایا ۔”

 

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا فرماتی ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم چھ آدمیوں کے ساتھ کھانا تناول فرما رہے تھے کہ ایک بدوی آیا اس نے دو لقموں میں سب کو نمٹا دیا ۔ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اگر یہ بسم اللہ پڑھ کر کھاتا تو یہ کھانا سب کو کافی ہو جاتا ۔

 

ابوامامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے جب دستر خوان اٹھایا جاتا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم یہ دعا پڑھتے الحمد للہ حمدا کثیراطیبا مبارکا فیہ غیر مودع ولامستغنی عنہ ربنا۔ (تمام تعریف حق تعالی شانہ کے لئے مخصوص ہے ایسی تعریف جو پاک ہے ریا وغیرہ اوصاف رذیلہ سے جو مبارک ہے ایسی حمد جو نہ چھوڑی جا سکتی اور نہ اس پر استغناء کیا جاسکتا ہے اے اللہ ہمارے شُکر کو قبول فرما)۔

 

چاشت کی نماز

 

عبد اللہ بن شقیق رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم صلوة الضُحٰی پڑھتے تھے؟ انہوں نے یہ فرمایا کہ معمولا تو نہیں پڑھتے تھے ہاں سفر سے جب لوٹتے تو ضرور پڑھتے۔

 

حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم صلوة والضحی یعنی چاشت کی چھ رکعات پڑھا کرتے تھے۔

 

“عبدالرحمن ایک تابعی کہتے ہیں کہ مجھے حضرت ام ہانی رضی اللہ عنہا کے سوا اور کسی نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صلوة الضُحٰی کی خبر نہیں پہنچائی۔ البتہ حضرت ام ہانی رضی اللہ عنہا نے یہ فرمایا کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم اس روز جس دن مکہ مکرمہ فتح ہوا تھا ان کے مکان پر تشریف لے گئے اور غسل فرما کر آٹھ رکعات نماز پڑھی، میں نے ان آٹھ رکعات سے زیادہ مختصر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی کبھی کوئی نماز نہیں دیکھی۔ لیکن باوجود مختصر ہونے کے رکوع، سجود پورے پورے فرما رہے تھے۔ یہ نہیں کہ مختصر ہونے کی وجہ سے رکوع اور سجدے ناقص ہوں ۔”

 

ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ صلوة الضُحٰی کبھی تو اس قدر اہتمام سے پڑھتے تھے کہ ہم لوگوں کا یہ خیال ہوتا تھا کہ اب کبھی نہیں چھوڑیں گے اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کبھی (فرض ہونے کے خوف سے یا کسی اور مصلحت سے) ایسا ترک فرماتے تھے کہ ہم یہ سمجھتے تھے کہ بالکل چھوڑ دی اب کبھی نہیں پڑھیں گے۔

 

ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم ہمیشہ زوال کے وقت چار رکعت پڑھتے تھے میں نے عرض کیا کہ آپ ان چار رکعتوں کا بڑا اہتمام فرماتے ہیں ۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آسمان کے دروازے زوال کے وقت سے ظہر کی نماز تک کھلے رہتے ہیں میرا دل چاہتا ہے کہ میرا کوئی کار خیر اس وقت آسمان پر پہنچ جائے میں نے عرض کیا کہ ان کی ہر رکعت میں قرات کی جائے۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں قرات کی جائے میں نے عرض کیا کہ ان میں دو رکعت پر سلام پھیرا جائے۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں چاروں رکعات ایک ہی سلام سے ہونی چاہیں ۔

 

عبد اللہ بن سائب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم زوال کے بعد ظہر سے قبل چار رکعت پڑھتے تھے اور یہ فرمایا کرتے تھے کہ اس وقت میں آسمان کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں میرا دل چاہتا ہے کہ میرا کوئی عمل صالح اس وقت بارگاہ عالی تک پہنچے۔

 

حضرت علی رضی اللہ عنہ ظہر سے قبل چار رکعت پڑھتے تھے اور یہ فرمایا کرتے تھے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ بھی ان چار رکعت کو پڑھتے تھے اور ان میں طویل قرات پڑھتے تھے۔

 

معاذہ رضی اللہ عنہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کیا حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم چاشت کی نماز پڑھتے تھے۔ انہوں نے فرمایا کہ ہاں چار رکعت (کم سے کم) پڑھتے تھے اور اس سے زائد جتنا چاہتے پڑھ لیتے۔

 

 

حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کو خواب میں دیکھنے کا تذکرہ

 

ابن سیرین کہتے ہیں کہ علم حدیث (اور ایسے ہی اور دینی علوم سب) دین میں داخل ہیں ۔ لہٰذا علم حاصل کرنے سے قبل یہ دیکھو کہ اس دین کو کس شخص سے حاصل کر رہے ہیں ۔

 

“طارق بن اشیم سے بھی یہ ارشاد منقول ہے کہ جس نے مجھے خواب میں دیکھا، اس نے حقیقتاً مجھ ہی کو دیکھا اس لئے کہ شیطان میری صورت نہیں بنا سکتا۔”

 

“کلیب رحمة اللہ علیہ کہتے ہیں کہ مجھے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد مبارک سنایا کہ جو مجھے خواب میں دیکھتے ہیں وہ حقیقتاً مجھ ہی کو خواب میں دیکھتے ہیں اس لئے کہ شیطان میرا شبیہ نہیں بن سکتا۔ کلیب رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے اس حدیث کا حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ سے تذکرہ کیا اور یہ بھی کہا کہ مجھے خواب میں زیارت اقدس میسر ہوئی اس وقت مجھے حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ کا خیال آیا میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے کہا کہ میں نے اس خواب کی صورت کو حضرت حسن رضی اللہ عنہ کی صورت کے بہت مشابہ پایا ، اس پر حضرت ابن عباس نے اس کی تصدیق فرمائی کہ واقعی حضرت حسن آپ کے بہت مشابہ تھے۔”

 

“یزید فارسی کلام اللہ شریف لکھا کرتے تھے۔ ایک مرتبہ خواب میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت سے مشرف ہوئے۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ اس وقت حیات تھے، ان سے خواب عرض کیا انہوں نے اول ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سنایا کہ جو خواب میں دیکھتا ہے وہ حقیقتاً مجھ ہی کو دیکھتا ہے اس لئے کہ شیطان میری صورت نہیں بنا سکتا۔ یہ ارشاد سنا کر پوچھا کیا خواب کی دیکھی ہوئی صورت کا حلیہ بیان کر سکتے ہو؟ میں نے عرض کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا بدن اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اقامت دونوں چیزیں معتدل اور درمیانی (یعنی جسم مبارک نہ زیادہ موٹا اور نہ زیادہ دبلا ایسے قد نہ زیادہ لمبا نہ زیادہ کوتاہ بلکہ معتدل) آپ کا رنگ گندمی مائل بسفید، آنکھیں سرمگیں خندہ دہن خوب صورت گول چہرہ داڑھی نہایت گنجان جو پورے چہرہ انور کا احاطہ کئے ہوئے تھی اور سینہ کے ابتدائی حصہ پر پھیلی ہوئی تھی۔ عوف رضی اللہ عنہ جو اس روایت کے ایک راوی ہیں وہ کہتے ہیں کہ مجھے یاد نہیں رہا کہ میرے استاد یزید نے جو اس خواب کے دیکھنے والے ہیں ان مذکورہ صفات کے ساتھ اور کیا کیا صفتیں بیان فرمائی تھیں ۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اگر تم حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو عالم حیات میں دیکھتے تو اس سے زیادہ حلیہ اقدس نہ بتا سکتے، گویا بالکل ہی صحیح حلیہ بیان کر دیا۔”

 

ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے بھی حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد مروی ہے کہ جس نے مجھے خواب میں دیکھا اس نے واقعی امر دیکھا۔

 

حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ارشاد فرمایا کہ جو شخص مجھے خواب میں دیکھے اس نے حقیقتاً مجھ ہی کو دیکھا اس لئے کہ شیطان میری صورت نہیں بنا سکتا۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی ارشاد فرمایا کہ مومن کا وہ خواب (جو فرشتہ کے اثر سے ہوتا ہے) نبوت کے چھیالیس اجزاء میں سے ایک جزو ہوتا ہے۔

 

عبد اللہ بن مبارک بڑے ائمہ حدیث میں سے ہیں ۔ فقہا اور صوفیہ میں بھی ان کا شمار ہے بڑے شیخ عابد زاہد تھے اور حدیث کے حافظوں میں گنے جاتے ہیں ۔ تاریخ کی کتابوں میں بڑے فضائل ان کے لکھے ہیں وہ فرماتے ہیں کہ اگر کبھی قاضی اور فیصل کنندہ بننے کی نوبت آئے تو منقولات کا اتباع کیجیو۔

 

حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات در باب اشعار

 

ابوہریرة رضی اللہ عنہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کرتے ہیں کہ شاعران عرب کے کلام میں بہترین کلمہ لبید کا یہ مقولہ ہے أَلا کُلُّ شَيْئٍ مَا خَلا اللَّہ بَاطِل۔ اللہ تعالی کے علاوہ سب چیزیں باطل ہیں۔

 

“حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا سے کسی نے پوچھا کیا حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کبھی شعر بھی پڑھتے تھے؟ انہوں نے فرمایا کہ ہاں ۔ مثال کے طور پر کبھی عبداللہ بن رواحہ کا کوئی شعر بھی پڑھ لیتے تھے ( اور کبھی کبھی کسی اور کا بھی) چنانچہ کبھی طرفہ کا یہ مصرعہ بھی پڑھ لیا کرتے تھے ومایائتیک بالاخبار من لم تزود یعنی تیرے پاس خبریں کبھی وہ شخص بھی لے آتا ہے جس کو تو نے کسی قسم کا معاوضہ نہیں دیا، یعنی واقعات کی تحقیق کے لئے کسی جگہ کے حالات معلوم کرنے کے لئے تنخواہ دینا پڑتی ہے ، سفر کا خرچ دے کر آدمی کو حالات معلوم کرنے کے لئے بھیجنا پڑتا ہے، مگر کبھی گھر بیٹھے بٹھائے کوئی آ کر خود ہی سارے حالات سنا جاتا ہے ، کسی قسم کا خرچ بھی اس کے لئے نہیں کرنا پڑتا۔ بعض علماء نے لکھا ہے کہ یہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی مثال ارشاد فرمائی کہ بلا کسی اجرت اور معاوضہ کے گھر بیٹھے جنت دوزخ آخرت قیامت پچھلے انبیاء کے حالات اور آئندہ آنے والے واقعات سناتا ہوں پھر بھی یہ کفار قدر نہیں کرتے ۔ اس حدیث میں دو شاعروں کا ذکر ہے ، حضرت عبداللہ بن رواحہ تو مشہور صحابی ہیں حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت سے پہلے یہ مسلمان ہو گئے تھے اور حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ہی غزوہ موتہ میں شہید ہو گئے تھے۔ طرفہ عرب کا مشہور شاعر ہے ادب کی مشہور کتاب سبعہ معلقہ میں دوسرا معلقہ اسی کا ہے ۔ اس نے اسلام کا زمانہ نہیں پایا۔”

 

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ سب سے زیادہ سچا کلمہ جو کسی شاعر نے کہا ہے وہ لبید بن ربیعہ کا یہ کلمہ ہے الا کل شئی ماخلا اللہ باطل۔ آگاہ ہو جاؤ اللہ جل شانہ کے سوا دنیا کی ہر چیز فانی ہے اور امیہ بن ابی الصلت قریب تھا کہ اسلام لے آئے ۔

 

“جندب بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ایک پتھر حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلی میں لگ گیا تھا، جس کی وجہ سے وہ خون آلود ہو گئی، تو حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ شعر پڑھا جس کا ترجمہ: یہ تو ایک انگلی ہے جس کو اس کے سوا کوئی مضرت نہیں پہنچی کہ خون آلود ہو گئی، اور یہ بھی رائیگاں نہیں بلکہ اللہ جل شانہ کی راہ میں یہ تکلیف پہنچی جس کا ثواب ہو گا۔”

 

حضرت شرید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں ایک مرتبہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سواری پر آپ کے پیچھے بیٹھا ہوا تھا اس وقت میں نے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کو امیہ کے سو شعر سنائے ہر شعر پر حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے تھے اور سناؤ۔ اخیر میں حضور اقدس صلی اللہ علیہ نے ارشاد فرمایا کہ اس کا اسلام لے آنا بہت ہی قریب تھا ۔

 

“حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کے لئے مسجد میں منبر رکھایا کرتے تھے، تاکہ اس پر کھڑے ہو کر حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے مفاخرت کریں ۔ یعنی حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی تعریف میں فخریہ اشعار پڑھیں یا حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے مدافعت کریں ، یعنی کفار کے الزامات کا جواب دیں۔ یہ شک راوی کا ہے اور حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم یہ بھی فرماتے تھے کہ حق تعالیٰ جل شانہ روح القدس سے حسان کی امداد فرماتے ہیں ۔ جب تک کہ وہ دین کی امداد کرتے ہیں ۔”

 

“حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا کہتی ہیں کہ ایک مرتبہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے گھر والوں کو ایک قصہ سنایا ایک عورت نے کہا یہ قصہ حیرت اور تعجب میں بالکل خرافہ کے قصوں جیسا ہے (عرب میں خرافہ کے قصے ضرب المثل تھے) حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ جانتی بھی ہو خرافہ کا اصل قصہ کیا تھا؟ خرافہ بنو عذرہ کا ایک شخص تھا جس کو جنات پکڑ کر لے گئے تھے۔ ایک عرصہ تک انہوں نے اس کو اپنے پاس رکھا پھر لوگوں میں چھوڑ گئے۔ وہاں کے زمانہ قیام کے عجائبات وہ لوگوں سے نقل کرتا تھا تو وہ متحیر ہوتے تھے اس کے بعد سے لوگ ہر حیرت انگیز قصے کو حدیث خرافہ کہنے لگے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ایک مرتبہ گیارہ عورتیں یہ معاہدہ کر کے بیٹھیں کہ اپنے اپنے خاوند کا پورا پورا حال سچا سچا بیان کر دیں کچھ چھپائیں گی نہیں ایک عورت ان میں سے بولی کہ میرا خاوند ناکارہ دبلے اونٹ کے گوشت کی طرح ہے (گویا بالکل گوشت کا ایک ٹکڑا ہے جس میں زندگی باقی ہی نہیں رہی اور گوشت بھی اونٹ کا جو زیادہ مرغوب بھی نہیں ہوتا) اور گوشت بھی سخت دشوار گزار پہاڑ کی چوٹی پر رکھا ہو کہ نہ پہاڑ کا راستہ سہل ہے جس کی وجہ سے وہاں چڑھنا ممکن ہو اور نہ وہ گوشت ایسا ہے کہ اس کی وجہ سے سو دقت اٹھا کر اس کے اتارنے کی کوشش ہی کی جائے اور اس کو اختیار کیا ہی جائے ۔ دوسری بولی (کہ میں اپنے خاوند کی بات کہوں تو کیا کہوں ؟ اس کے متعلق کچھ کہہ نہیں سکتی) مجھے یہ ڈر ہے کہ اگر اس کے عیوب شروع کروں تو پھر خاتمہ کا ذکر نہیں اگر کہوں تو ظاہری اور باطنی عیوب سب ہی کہوں ۔ تیسری بولی کہ میرا خاوند لم ڈھینگ ہے یعنی بہت زیادہ لمبے قد کا آدمی ہے، اگر میں کبھی کسی بات پر بول پڑوں تو فوراً طلاق، اور چپ رہوں تو اَدھر لٹکی رہوں ۔ چوتھی نے کہا کہ میرا خاوند تہامہ کی رات کی طرح معتدل مزاج ہے، نہ گرم ہے، نہ ٹھنڈا نہ اس سے کسی کا خوف ہے نہ ملال۔ پانچویں نے کہا کہ میرا خاوند جب گھر میں آتا ہے تو چیتا بن جاتا ہے اور جب باہر جاتا ہے تو شیر بن جاتا ہے اور جو کچھ گھر میں ہوتا ہے اس کی تحقیقات نہیں کرتا۔ چھٹی بولی کہ میرا خاوند اگر کھاتا ہے تو سب نمٹا دیتا ہے اور جب پیتا ہے تو سب چڑھا جاتا ہے جب لیٹتا ہے تو اکیلا ہی کپڑے میں لپٹ جاتا ہے میری طرف ہاتھ بھی نہیں بڑھاتا جس سے میری پراگندگی معلوم ہو سکے۔ ساتویں کہنے لگی کہ میرا خاوند صحبت سے عاجز نامرد اور اتنا بے وقوف کہ بات بھی نہیں کرسکتا، دنیا میں کوئی بیماری کسی میں ہو گی وہ اس میں موجود ہے۔ اخلاق ایسے کہ میرا سر پھوڑ دے یا بدن زخمی کر دے یا دونوں ہی کر گزرے۔ آٹھویں نے کہا کہ میرا خاوند چھونے میں خرگوش کی طرح نرم ہے اور خوشبو میں زعفران کی طرح مہکتا ہوا ہے۔ نویں نے کہا کہ میرا خاوند رفیع الشان بڑا مہمان نواز اونچے مکان والا بڑی راکھ والا ہے دراز قد والا ہے اس کا مکان مجلس اور دارالمشورہ کے قریب ہے۔ دسویں نے کہا کہ میرا خاوند مالک ہے مالک کا کیا حال بیان کروں وہ ان سب سے جو اب تک کسی نے تعریف کی ہے یا ان سب تعریفوں سے جو میں بیان کروں گی، بہت ہی زیادہ قابل تعریف ہے۔ اس کے اونٹ بکثرت ہیں جو اکثر مکان کے قریب بٹھائے جاتے ہیں ۔ چراگاہ میں چرنے کے لئے کم جاتے ہیں وہ اونٹ جب باجہ کی آواز سنتے ہیں تو سمجھ لیتے ہیں کہ اب ہلاکت کا وقت آگیا۔ گیارہویں عورت ام زرعہ نے کہا میرا خاوند ابوزرع تھا۔ ابو زرع کی کیا تعریف کروں ؟ زیوروں سے میرے کان جھکا دئیے، (اور کھلا کھلا کر چربی سی میرے بازو پر کر دیئے مجھے ایسا خوش و خرم رکھتا تھا کہ میں خود پسندی اور عجب میں اپنے آپ کو بھلی لگنے لگی، مجھے اس نے ایسے ایک غریب گھرانہ سے پایا تھا جو بڑی تنگی کے ساتھ چند بکریوں پر گزارہ کرتے تھے اور وہاں سے ایسے خوشحال خاندان میں لے آیا تھا جن کے یہاں گھوڑے اونٹ کھیتی کے بیل اور کسان تھے، (یعنی ہر قسم کی ثروت موجود تھی ان سب کے علاوہ) اس کی خوش خلقی کہ میری کسی بات پر بھی مجھے برا نہیں کہتا تھا، میں دن چڑھے تک سوتے رہتی تو کوئی جگا نہیں سکتا تھا، کھانے پینے میں ایسی ہی وسعت کہ میں سیر ہو کر چھوڑ دیتی تھی (اور ختم نہ ہوتا تھا) ابو زرع کی ماں (میری خوش دامن) بھلا اس کی کیا تعریف کروں اس کے بڑے بڑے برتن ہمیشہ بھر پور رہتے تھے۔ اس کا مکان نہایت وسیع تھا، (یعنی مالدار بھی تھی اور عورتوں کی عادت کے موافق بخیل بھی نہیں ۔ اس لئے مکان کی وسعت سے مہمانوں کی کثرت مراد لی جاتی ہے) ابو زرع کا بیٹا بھلا اس کا کیا کہنا وہ بھی نور علی نور ایسا پتلا دبلا چھریرے بدن کا کہ اس کے سونے کا حصہ (یعنی پسلی وغیرہ) ستی ہوئی ٹہنی یا ستی ہوئی تلوار کی طرح سے باریک بکری کے بچہ کا ایک دست اس کے پیٹ بھرنے کے لئے کافی (یعنی بہادر کے سونے کے لئے لمبے چوڑے انتظامات کی ضرورت نہ تھی۔ سپاہیانہ زندگی ذرا سی جگہ میں تھوڑا بہت لیٹ لیا، اسی طرح کھانے میں بھی مختصر مگر بہادری کے مناسب گوشت کے دو چار ٹکڑے اس کی غذا تھی)۔ ابو زرع کی بیٹی بھلا اس کی کیا بات ماں کی تابعدار، باپ کی فرمانبردار، موٹی تازی سوکن کی جلن تھی (یعنی سوکن کو اس کے کمالات سے جلن پیدا ہو عرب میں مرد کے لئے چھریرا ہونا اور عورت کے لئے موٹی تازی ہونا ممدوح شمار کیا جاتا) ابوزرع کی باندی کا بھی کیا کمال بتاؤں ، ہمارے گھر کی بات کبھی بھی باہر جا کر نہ کہتی تھی، کھانے تک کی چیز بھی بے جا اجازت خرچ نہ کرتی تھی۔ گھر میں کوڑا کباڑ نہیں ہونے دیتی تھی۔ مکان کو صاف شفاف رکھتی تھی، ہماری یہ حالت تھی کہ لطف سے دن گزر رہے تھے کہ ایک دن صبح کے وقت جب دودھ کے برتن بلوئے جا رہے تھے، ابوزرع گھر سے نکلا۔ راستہ میں ایک عورت پڑی ہوئی ملی جس کی کمر کے نیچے چیتے جیسے دو بچے اناروں سے کھیل رہے تھے، (چیتے کے ساتھ تشبیہ کھیل کود میں ہے اور اناروں سے یا توحقیقةً انار مراد ہیں کہ ان کو لڑھکا کر کھیل رہے تھے، یا دو اناروں سے اس عورت کے پستان مراد ہیں) پس وہ کچھ ایسی پسند آئی کہ مجھے طلاق دے دی اور اس سے نکاح کر لیا، (طلاق اس لئے دی کہ سوکن ہونے کی وجہ سے اس کو رنج نہ ہو اور اس کی وجہ سے مجھے طلاق دینے سے اس کے دل میں ابو زرع کی وقعت ہو جائے) ایک روایت میں ہے کہ اس سے نکاح کر لیا نکاح کے بعد وہ مجھے طلاق دینے پر اصرار کرتی رہی، آخر مجھے طلاق دے دی، اس کے بعد میں نے ایک اور سردار شریف آدمی سے نکاح کر لیا جو شہسوار ہے اور سپہ گر ہے، اس نے مجھے بڑی نعمتیں دیں اور ہر قسم کے جانور اونٹ، گائے، بکری وغیرہ وغیرہ ہر چیز میں سے ایک ایک جوڑا مجھے دیا اور یہ بھی کہا کہ ام زرع خود بھی کھا اور اپنے میکہ میں جو چاہے بھیج دے لیکن بات یہ ہے کہ اگر میں اس کی ساری عطاؤں کو جمع کروں تب ابوزرع کی چھوٹی سے چھوٹی عطا کے برابر نہیں ہے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ قصہ سنا کر مجھ سے یہ ارشاد فرمایا کہ میں بھی تیرے لئے ایسا ہی ہوں جیسا کہ ابوزرع ام زرع کے واسطے ۔”

 

“براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے کسی نے پوچھا ، کیا تم سب لوگ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کو چھوڑ کر جنگ حنین میں بھاگ گئے تھے۔ انہوں نے فرمایا کہ نہیں حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے پشت نہیں پھیری بلکہ فوج میں سے بعض جلد بازوں نے (جن میں اکثر قبیلہ بنوسلیم اور مکہ کے نومسلم نوجوان تھے) قبیلہ ہوازن کے سامنے تیروں کی وجہ سے منہ پھیر لیا تھا حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم (جن کے ساتھ اکابر صحابہ کا ہونا ظاہر ہے) اپنے خچر پر سوار تھے اور ابو سفیان اس کی لگام پکڑے ہوئے تھے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت یہ فرما رہے تھے انا النبی لا کذب انا ابن عبدالمطلب میں بلا شک وشبہ نبی ہوں اور عبد المطلب کی اولاد (پوتا) ہوں ۔”

 

حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم عمرة القضاء کے لئے مکہ مکرمہ تشریف لے گئے تو عبداللہ بن رواحہ (اپنی گردن میں تلوار ڈالے ہوئے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی کی مہار پکڑے ہوئے) آگے آگے چل رہے تھے اور یہ اشعار پڑھ رہے تھے ۔ خَلُّوا بَنِي الْکُفَّارِ عَنْ سَبِيلِہ الی قولی ۔۔۔عَنْ خَلِيلِہ اے کافر زادو ہٹو۔ آپ کا راستہ چھوڑو ۔ آج حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے مکہ مکرمہ آنے سے روک دینے پر جیساکہ تم گذشتہ سال کر چکے ہو ہم تم لوگوں کی ایسی خبر لیں گے کہ کھوپڑیوں کو تن سے جدا کر دیں گے اور دوست کو دوست سے بھلا دیں گے حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے ابن رواحہ کو روکا کہ اللہ کے حرم میں اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے یہ شعر پڑھتے جا رہے ہو۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ عمر روکو مت یہ اشعار اثر کرنے میں تیر برسانے سے زیادہ سخت ہیں۔

 

جابر بن سمرة رضی اللہ تعالی عنہ کہتے ہیں کہ میں حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں سو مجلسوں سے زیادہ بیٹھا ہوں جن میں صحابہ اشعار پڑھتے تھے اور جاہلیت کے زمانے کے قصے اور قصائص نقل فرماتے تھے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم (ان کو روکتے نہیں تھے) خاموشی سے سنتے تھے بلکہ کبھی کبھی ان کے ساتھ ہنسنے میں بھی شرکت فرماتے تھے ۔

 

حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی انگوٹھی مبارک کا ذکر

 

حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم جب بیت الخلاء میں تشریف لے جاتے تو اپنی انگوٹھی نکال کر تشریف لے جاتے ۔

 

“حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ، کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی انگوٹھی چاندی کی تھی اور اس کا نگینہ حبشی تھا۔”

 

“حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں ، کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے چاندی کی انگوٹھی بنوائی تھی اس سے خطوط وغیرہ پر مہریں لگاتے تھے پہنتے تھے۔”

 

حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی انگوٹھی چاندی کی تھی اور اس کا نگینہ بھی اس ہی کا تھا۔

 

حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ ہی سے مروی ہے کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے جب اہل عجم کو تبلیغی خطوط لکھنے کا ارادہ کیا تو لوگوں نے عرض کیا کہ عجم بلامہر والے خط کو قبول نہیں کرتے اس لئے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے انگوٹھی بنوائی جسکی سفیدی گویا اب بھی میری نظروں کے سامنے پھر رہی ہے۔

 

حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی انگوٹھی کا نقش محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تھا اس طرح کہ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ایک سطر میں تھا رسول دوسری سطر میں لفظ اللہ تیسری سطر (بعض علماء نے لکھا ہے کہ اس کی صورت محمد رسول اللہ تھی کہ اللہ پاک کا نام اوپر تھا یہ مہر گول تھی اور نیچے سے پڑھی جاتی تھی ۔ مگر محققین کی رائے یہ ہے کہ کسی حدیث سے یہ ثابت نہیں ہوتا بلکہ ظاہر الفاظ سے (محمد رسول اللہ) معلوم ہوتا تھا۔

 

حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے کسریٰ اور قیصر اور نجاشی کے پاس تبلیغی خطوط لکھنے کا قصد فرمایا تو لوگوں نے عرض کیا حضور!(صلی اللہ علیہ وسلم) یہ لوگ بدون مہر کے خطوط قبول نہیں کرتے ہیں اس لئے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مہر بنوائی جس کا حلقہ چاندی کا تھا اس میں محمد رسول اللہ منقش تھا۔

 

“ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے چاندی کی ایک انگوٹھی بنوائی وہ انگوٹھی حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے دست مبارک میں رہی، پھر حضرت ابوبکر کے پھر حضرت عمر کے پھر حضرت عثمان کے پھر ان ہی کے زمانہ میں بیر اریس میں گر گئی تھی۔ اس انگوٹھی کا نقش محمد رسول اللہ تھا۔”

 

حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے بعض نام اور بعض القاب کا ذکر

 

حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم سے راستہ میں ملا۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے جا رہے تھے تذکرةً حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ میرا نام محمد ہے اور احمد اور نبی الرحمة ہے اور نبی التوبہ ہے اور میں مقفی ہوں اور حاشر ہوں اور نبی ملاحم ہوں ۔

 

جبیر بن مطعم رضی اللہ تعالی عنہ کہتے ہیں کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ میرے بہت سے نام ہیں منجملہ ان کے محمد اور احمد ہے اور ماحی ہے جس کے معنی مٹانے والے کے ہیں حق تعالی شانہ نے میرے ذریعے کفر کو مٹایا ہے اور ایک نام حاشر ہے کہ حق تعالی شانہ قیامت میں حشر کے لئے سب سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اٹھائیں گے اور تمام امت حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد حشر کی جائے گی ۔ اور اٹھائی جائے گی۔ تو گویا حضور صلی اللہ علیہ وسلم تمام امت کے حشر کا سبب بنے اور ایک نام میرا عاقب ہے جس کے معنی پیچھے آنے کے ہیں ۔ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم سب انبیاء سے پیچھے تشریف لائے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نہیں آئے گا ۔

 

حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے پیالہ کا ذکر

 

“حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ کہتے ہیں کہ میں نے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کو اس پیالہ سے پینے کی سب انواع پانی، نبیذ، شہد،دودھ سب چیزیں پلائی ہیں ۔”

 

ثابت کہتے ہیں کہ حضرت نضر بن انس کی میراث سے یہ پیالہ آٹھ لاکھ درہم میں فروخت ہوا تھا اور امام بخاری نے بصرہ میں اس پیالہ سے پانی بھی پیا لوگ کہتے ہیں کہ وہ اور پیالہ تھا۔

 

حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے پینے کی چیزوں کے احوال میں

 

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کو پینے کی سب چیزوں میں میٹھی اور ٹھنڈی چیز مرغوب تھی۔

 

ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں اور خالد بن ولید دونوں حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کے گھر گئے (ام المومنین حضرت میمونہ ان دونوں حضرات کی خالہ تھیں) وہ اک برتن میں دودھ لے کر آئیں حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں سے تناول فرمایا میں دائیں جانب تھا اور خالد بن ولید بائیں جانب مجھ سے ارشاد فرمایا کہ اب پینے کا حق تیرا ہے (کہ تو دائیں جانب ہے) اگر تو اپنی خوشی سے چاہے تو خالد کو ترجیح دے دے میں نے عرض کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جھوٹے پر میں کسی کو ترجیح نہیں دے سکتا۔ اس کے بعد حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جب کسی شخص کو حق تعالیٰ شانہ کوئی چیز کھلائیں تو یہ دعا پڑھنی چاہیے۔

 

حضورِ اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے پھلوں کا ذکر

 

عبد اللہ بن جعفر رضی اللہ تعالی عنہ کہتے ہیں حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم ککڑی کو تازہ کھجور کے ساتھ نوش فرماتے تھے۔

 

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا فرماتی ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم تربوز کو تازہ کھجوروں کے ساتھ نوش فرماتے تھے۔

 

حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ کہتے ہیں کہ میں نے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کو خربوزہ اور کھجور اکٹھے کھاتے دیکھا۔

 

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا فرماتی ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم تربوز کو تر کھجوروں کے ساتھ تناول فرماتے تھے۔

 

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ کہتے ہیں کہ لوگ جب کسی نئے پھل کو دیکھتے تو اس کو حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لا کر پیش کر دیتے تو حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعاپڑھتے ۔ اللَّهُمَّ بَارِکْ لَنَا فِي ثِمَارِنَا وَبَارِکْ لَنَا فِي مَدِينَتِنَا وَبَارِکْ لَنَا فِي صَاعِنَا وَفِي مُدِّنَا اللَّهُمَّ إِنَّ إِبْرَاهِيمَ عَبْدُکَ وَخَلِيلُکَ وَنَبِيُّکَ وَإِنِّي عَبْدُکَ وَنَبِيُّکَ وَإِنَّهُ دَعَاکَ لِمَکَّةَ وَإِنِّي أَدْعُوکَ لِلْمَدِينَةِ بِمِثْلِ مَا دَعَاکَ بِهِ لِمَکَّةَ وَمِثْلِهِ مَعَهُ قَالَ ثُمَّ يَدْعُو أَصْغَرَ وَلِيدٍ يَرَاهُ فَيُعْطِيهِ ذَلِکَ الثَّمَرَ ۔ ترجمہ۔ اے اللہ تعالی ہمارے پھلوں میں برکت عطا فرما اور ہمارے شہر میں برکت فرما اور ہماری اس چیز سے جو صاع اور مد سے ناپی جاتی ہے اس میں برکت عطا فرما اے اللہ تعالی واقعی حضرت ابراہیم تیرے بندے اور تیرے دوست اور تیرے نبی تھے اور بے شک میں بھی تیرا بندہ اور تیرا نبی ہوں انہوں نے (جن چیزوں کی) دعا (اپنے آباد کردہ) شہر مکہ مکرمہ کے لئے کی ہے ۔ (جس کا بیان آیت فاجعل افئدۃ الی من الثمرات) میں ہے کہ لوگوں کے قلوب مکہ کی طرف مائل فرما دئیے اور پھلوں کی روزی ان لوگوں کو میسر فرما وہی دعا اس سے دوچند مقدار میں مدینہ منورہ کے لئے کرتا ہوں ۔

 

“ربیع رضی اللہ تعالی عنہا فرماتی ہیں کہ مجھے میرے چچا معاذ بن عفراء نے تازہ کھجوروں کا ایک طبق جن پر چھوٹی چھوٹی روئیں دار لکڑیاں بھی تھیں دے کر حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجا۔ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کو ککڑی مرغوب تھی، میں جس وقت ککڑیاں لے کر حاضر خدمت ہوئی حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بحرین کے کچھ زیورات آئے ہوئے رکھے تھے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں ایک ہاتھ بھر کر مجھے مرحمت فرمایا۔”

 

حضورِ اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی تلوار کا بیان

 

حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی تلوار کے قبضہ کی ٹوپی چاندی کی تھی

 

سعید بن ابی الحسن نے بھی یہی نقل کیا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی تلوار کے قبضہ کی موٹھ چاندی کی تھی۔

 

ابن سیرین کہتے تھے کہ میں نے اپنی تلوار سمرہ کے موافق بنوائی اور وہ کہتے تھے کہ ان کی تلوار حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی تلوار کے موافق بنوائی گئی ہے وہ قبیلہ بنو حنیفہ کی تلوار کے طریق پر تھی۔

 

ہود کے نانا مزیدة کہتے ہیں حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ کے دن جب شہر میں داخل ہوئے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی تلوار پر سونا اور چاندی تھا طالب جو اس حدیث کے ایک راوی ہیں وہ کہتے ہیں کہ میں نے اپنے استاد سے پوچھا کہ چاندی کس جگہ تھی انہوں نے فرمایا کہ قبضہ کی ٹوپی چاندی کی تھی۔

 

حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی حیاء کا ذکر

 

ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم شرم و حیاء میں کنواری لڑکی جو اپنے پردہ میں ہو سے کہیں زیادہ بڑھے ہوئے تھے جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی بات ناگوار ہوتی تو ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ سے پہچان لیتے۔ (حضور صلی اللہ علیہ وسلم غایت شرم کی وجہ سے اظہار ناپسندیدگی بھی نہ فرماتے تھے)۔

 

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ (حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیاء اور شرم کی وجہ سے) مجھے کبھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے محل شرم دیکھنے کی ہمت نہیں پڑی اور کبھی نہیں دیکھا۔

 

حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے خضاب فرمانے کا ذکر

 

“ابو رمثہ کہتے ہیں ، کہ میں حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اپنے لڑکے کو ساتھ لے کر حاضر ہوا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیا یہ تیرا بیٹا ہے۔ میں نے عرض کیا کہ ہاں حضرت! یہ میرا بیٹا ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس کے گواہ رہیں ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کی جنایت کا بدلہ اس پر نہیں (فائدہ میں اس کی وضاحت آئے گی) ابو رمثہ کہتے ہیں، کہ اس وقت میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بعض بالوں کو سرخ دیکھا۔ امام ترمذی کہتے ہیں ، کہ خضاب کے بارے میں یہ حدیث سب سے زیادہ صحیح اور واضح ہے۔”

 

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کسی نے پوچھا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے خضاب کیا؟ انہوں نے کہا کہ ہاں کیا۔

 

“جہذمہ جو بشیر بن خصاصیہ کی بیوی ہیں وہ فرماتی ہیں کہ میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو مکان سے باہر تشریف لاتے ہوئے دیکھا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے غسل فرما رکھا تھا، اس لئے سر مبارک کو جھاڑ رہے تھے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سر مبارک پر حنا کا اثر تھا۔”

 

“حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں، کہ میں نے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کو بالوں کو خضاب کیا ہوا دیکھا۔”

 

حضورِ اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے خود کا ذکر

 

حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ کے دن جب شہر میں داخل ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سر مبارک پر خود تھی (حضور صلی اللہ علیہ وسلم جب خود اتار چکے اور اطمینان ہو گیا تو) کسی نے آکر عرض کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم یہ ابن خطل کعبہ کا پردہ پکڑے ہوئے ہے۔ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کو قتل کر دو۔

 

حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ ہی سے مروی ہے کہ جب حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ کے وقت شہر میں داخل ہوئے تو حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے سر مبارک پر خود تھی۔ جب حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو اتار دیا تو ایک آدمی آیا اس نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ابن خطل کعبہ کے پردے سے لپٹا ہوا ہے ۔ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ امن والوں میں نہیں اس کو قتل کر ڈالو ۔ زہری کہتے ہیں مجھے یہ بات معلوم ہوئی کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس روز محرم نہیں تھے۔

 

حضورِ اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے خوشبو لگانے کا ذکر

 

حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ کہتے ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سکہ تھا اس میں سے خوشبو استعمال فرماتے تھے۔

 

ثمامہ کہتے ہیں کہ حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ خوشبو کو رد نہیں کرتے تھے اور یہ فرماتے تھے کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم بھی خوشبو کو رد نہ فرمایا کرتے تھے۔

 

“ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ارشاد فرمایا کہ مردانہ خوشبو وہ ہے جس کی خوشبو پھیلتی ہوئی ہو اور رنگ غیر محسوس ہو (جیسے کیوڑہ وغیر) اور زنانہ خوشبو وہ ہے جس کا رنگ غالب ہو اور خوشبو مغلوب (جیسے حنا، زعفران وغیرہ)۔”

 

ابو عثمان نہدی تابعی کہتے ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جس شخص کو ریحان دیا جائے اس کو چاہئے کہ لوٹائے نہیں اس لئے (اس کی اصل) جنت سے نکلتی ہے۔

 

جریر بن عبداللہ بجلی حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کی خدمت میں (معائنہ کے لئے) پیش کئے گئے ۔ انہوں نے چادر اتار کر صرف لنگی میں چل کر اپنا امتحان کرایا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ چادر لے (معائنہ ہو چکا) پھر قوم کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا کہ میں نے جریر سے زیادہ خوبصورت کبھی کسی کو نہیں دیکھا کہ سوائے حضرت یوسف علیہ السلام کی صورت کے جیساکہ ہم تک پہنچا۔

 

“حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہ کہتے ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ تین چیزیں نہیں لوٹانی چاہئیں تکیے اور تیل، خوشبو اور دودھ۔”

 

حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے روزوں کا ذکر

 

حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے حضور اقدس صلی اللہ کو رمضان و شعبان کے سوا دو ماہ کامل روزے رکھتے نہیں دیکھا۔

 

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم پیر جمعرات کے روزہ کا اکثر اہتمام فرماتے تھے۔

 

عبد اللہ بن شقیق رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے روزے رکھنے کے متعلق پوچھا انہوں نے فرمایا کہ کبھی حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم متواتر روزے رکھتے کہ ہمارا یہ خیال ہوتا کہ اس ماہ میں افطار ہی نہیں فرمائیں گے اور کبھی ایسا مسلسل افطار فرماتے تھے کہ ہمارا یہ خیال ہوتا کہ اس ماہ میں روزہ ہی نہیں رکھیں گے۔ لیکن مدینہ منورہ تشریف آوری کے بعد سے رمضان المبارک کے علاوہ کسی تمام ماہ کے روزے نہیں رکھے (ایسے ہی کسی ماہ کو کامل افطار گزار دیا ہو یہ بھی نہیں کیا۔ (کمافی ابی داؤد) حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے اس معمول کے متعلق کسی قدر تفصیل اگلی حدیث میں آئے گی۔

 

“حضرت انس رضی اللہ عنہ سے کسی نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ کے روزوں کے متعلق پوچھا، انہوں نے فرمایا کہ عادت شریفہ اس میں مختلف تھی کسی ماہ میں تو اتنی کثرت سے روزے رکھتے تھے جس سے یہ خیال ہو جاتا ہے کہ اس میں افطار فرمانے کا ارادہ ہی نہیں ہے اور کسی ماہ میں ایسا مسلسل افطار فرماتے تھے۔ جس سے ہم یہ سمجھتے کہ اس ماہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا روزوں کا ارادہ ہی نہیں ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت شریفہ یہ بھی تھی کہ اگر تم حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو رات کو سوتا ہوا دیکھنا چاہو تو یہ بھی مل جاتا ہے اور اگر نماز پڑھتا ہوا دیکھنا چاہو تو یہ بھی میسر ہو جاتا۔”

 

“حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے بھی حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ عادت شریفہ مروی ہے کہ کسی ماہ میں اکثر حصہ روزہ رکھتے تھے جس سے ہمارا خیال ہوتا تھا کہ اس میں افطار کا ارادہ نہیں اور کسی ماہ میں اکثر ہی ایسے افطار فرماتے تھے جس سے ہمیں خیال ہوتا کہ اس میں روزہ نہیں رکھیں گے، لیکن کسی ماہ میں بجز رمضان المبارک کے تمام ماہ روزہ نہیں رکھتے تھے۔”

 

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ شعبان سے زیادہ کسی ماہ میں روزے نہیں رکھتے تھے۔

 

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اعمال پیر اور جمعرات کے دن حق تعالیٰ شانہ کی عالی بارگاہ میں پیش ہوتے ہیں میرا دل چاہتا ہے کہ میرے اعمال روزہ کی حالت میں پیش ہوں ۔

 

“حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم (کبھی) ہر مہینہ کے تین روزے اس طرح بھی رکھتے تھے کہ ایک مہینہ میں ہفتہ، اتوار، پیر کو روزہ رکھ لیتے اور دوسرے ماہ میں منگل ، بدھ ، جمعرات کو۔”

 

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ عاشورہ کا روزہ زمانہ جاہلیت میں قریش رکھا کرتے تھے اور حضور اکرم صلی اللہ بھی (ہجرت سے) قبل تطوعاً رکھ لیا کرتے تھے (لیکن ہجرت کے بعد) جب مدینہ منورہ تشریف لائے تو خود بھی (اہتمام سے) رکھا اور امت کو بھی (وجوباً) حکم فرمایا۔ مگر جب رمضان المبارک نازل ہوا تو وہی فرض روزہ بن گیا اور عاشورہ کی فرضیت منسوخ ہو گئی (اب استحباب باقی ہے جس کا دل چاہے رکھے اور جس کا دل چاہے نہ رکھے) ۔

 

“علقمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کیا حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم ایام کو عبادت کے لئے مخصوص فرمایا کرتے تھے، انہوں نے فرمایا کہ (نہیں) حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اعمال دائمی ہوتے تھے تم میں سے اس بات کی کون طاقت رکھتا ہے جس کی حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم طاقت رکھتے تھے ۔”

 

“حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم ایک مرتبہ تشریف لائے تو میرے پاس ایک عورت بیٹھی ہوئی تھی۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ یہ کون ہے؟ میں نے عرض کیا کہ فلانی عورت ہے جو رات بھر نہیں سوتیں ۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نوافل اس قدر اختیار کرنے چاہییں جن کا تحمل ہو سکے، حق تعالیٰ جل شانہ ثواب دینے سے نہیں گھبراتے، یہاں تک کہ تم عمل کرنے سے گھبرا جاؤ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ کو وہی عمل زیادہ پسند تھا جس پر آدمی نباہ کر سکے۔”

 

ابو صالح رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ اور حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک کون سا عمل زیاد پسند تھا؟ دونوں نے یہ جواب دیا کہ جس عمل پر مداومت کی جائے خواہ کتنا ہی کم ہو ۔

 

“عوف بن مالک کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اور حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک کون سا عمل زیاد پسند تھا؟ دونوں نے یہ جواب دیا کہ جس عمل پر مداومت کی جائے خواہ کتنا ہی کم ہو ۔ کہتے ہیں کہ میں ایک شب حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسواک فرمائی پھر وضو فرمایا پھر نماز کی نیت باندھ لی، میں نے بھی حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا اقتداء کیا اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سورہ بقرہ شروع فرمائی اور جب آیت رحمت پر گزرتے وہاں وقفہ فرما کر حق تعالیٰ جل شانہ سے رحمت کا سوال فرماتے اور ایسے ہی جب آیت عذاب پر گزرتے وہاں وقفہ فرما کر حق تعالیٰ شانہ سے اس عذاب سے پناہ مانگتے۔ پھر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تقریباً اتنی ہی دیر رکوع فرمایا رکوع میں سبحان ذی الجبروت والملکوت والکبریاء والعظمة یہ دعا پڑھتے رہے پاک ہے وہ ذات جو حکومت اور سلطنت والی نہایت بزرگی اور عظمت و بڑائی والی ہے۔ پھر رکوع ہی کی مقدار کے موافق سجدہ کیا اور اس میں بھی یہی دعا پڑھی (پھر دوسری رکعت میں) سورہ آل عمران اور اسی طرح (ایک ایک رکعت میں) ایک ایک سورة پڑھتے تھے ۔”

 

عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ ہر مہینہ کے شروع میں تین دن روزہ رکھا کرتے تھے اور جمعہ کے دن بہت کم افطار فرماتے تھے۔

 

“حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کو (رمضان کے علاوہ) شعبان سے زیادہ کسی ماہ میں روزے رکھتے نہیں دیکھا۔ شعبان کے اکثر حصہ میں آپ روزے رکھتے تھے، بلکہ (قریب قریب) تمام مہینہ کے روزے رکھتے تھے۔”

 

حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی زرہ کا بیان

 

حضرت زبیر رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت فرماتے ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے بدن مبارک پر احد کی لڑائی میں دو زرہ تھیں (ایک ذات الفضول دوسری فضہ) حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک چٹان کے اوپر چڑھنے کا ارادہ فرمایا مگر (وہ اونچی اور دو زرہوں کا وزن) نیز غزوہ احد میں وہ تکلیفیں جو حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچی تھیں کہ جن کی وجہ سے چہرہ مبارک خون آلود ہو گیا تھا۔ غرض اس وجہ سے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم اس چٹان پر نہ چڑھ سکے اس لئے حضرت طلحہ کو نیچے بٹھا کر ان کے ذریعے سے اس چٹان پر چڑھے زبیر کہتے ہیں کہ میں نے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ طلحہ نے ( جنت کو یا میری شفاعت کو) واجب کر لیا۔

 

سائب بن یزید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے بدن مبارک پر جنگ احد میں دو زرہیں تھیں جن کو اوپر نیچے پہن رکھا تھا۔

 

حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے سُرمہ کا بیان

 

“ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں ، کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم سونے سے قبل ہر آنکھ میں تین سلائی اثمد کے سرمہ کی ڈالا کرتے تھے اور ایک روایت میں ابن عباس ہی سے منقول ہے کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک سرمہ دانی تھی۔ جس سے سونے کے وقت تین تین سلائی آنکھ میں ڈالا کرتے تھے۔”

 

“حضرت جابر رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں ، کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اثمد کا سرمہ ضرور ڈالا کرو۔ وہ نگاہ کو روشن بھی کرتا ہے اور پلکیں بھی خوب اگاتا ہے۔”

 

ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما فرماتے ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ نے یہ ارشاد فرمایا کہ تمہارے سب سرموں میں سرمہ اثمد بہترین سرمہ ہے آنکھ کو بھی روشنی پہنچاتا ہے اور پلکیں بھی اگاتا ہے ۔

 

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے بھی حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی نقل کیا کہ اثمد ضرور ڈالا کرو وہ نگاہ کو بھی روشن کرتا ہے پلکیں بھی اگاتا ہے۔

 

حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے سفید بال جانے کا ذکر

 

“ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں ، کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بوڑھے ہو گئے (اس کی کیا وجہ ؟ حالانکہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا اعتدال اس کا مقتضی تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جوان ہی رہتے یا آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی عمر شریف کا مقتضی یہ تھا کہ آپ اس وقت تک جوان رہتے)۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ مجھے سورئہ ہود، سورئہ واقعہ، سورئہ مرسلات، سورئہ عم یتسائلون ، سورئہ اذا الشمس کورت، ان سورتوں نے بوڑھا بنا دیا۔”

 

حضرت جابر رضی اللہ تعالی عنہ سے کسی نے پوچھا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سر مبارک میں سفید بال تھے؟ انہوں نے کہا کہ صرف چند بال مانگ پر تھے جو تیل لگانے کی حالت میں ظاہر نہیں ہوتے تھے۔

 

“قتادہ کہتے ہیں، کہ میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا، کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم خضاب کیا کرتے تھے۔ انہوں نے فرمایا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بالوں کی سفیدی اس مقدار ہی کو نہ پہنچی تھی کہ خضاب کی نوبت آتی۔ سفیدی حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے صرف دونوں کنپٹیوں میں تھوڑی سی تھی، البتہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ حنا اور کتم سے خضاب فرمایا کر تے تھے۔”

 

“حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں، میں نے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے سر مبارک اور داڑھی شریف میں چودہ سے زائد سفید بال نہیں گنے۔”

 

حضرت جابر سے کسی نے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے سفید بالوں کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کہ جب حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم تیل کا استعمال فرماتے تھے تو وہ محسوس نہیں ہوتے تھے۔ ورنہ کچھ سفیدی کہیں کہیں محسوس ہوتی تھی۔

 

“ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں ، کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے سفید بال تقریباً بیس تھے”

 

“ابو رمثہ تیمی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ، کہ اپنے بیٹے کو ساتھ لئے ہوئے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ۔ لوگوں نے مجھے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں بتلایا (کہ یہ تشریف فرما ہیں غالباً یہ پہلے سے پہچانتے نہ ہوں گے۔) میں نے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دیکھا تو مجھے یہ کہنا پڑا کہ واقعی آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اللہ کے سچے نبی ہیں ۔ اس وقت حضور صلی اللہ علیہ وسلم دو سبز کپڑے پہنے ہوئے تھے (یعنی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی لنگی بھی سبز تھی اور چادر بھی سبز تھی) اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے چند بالوں پر بڑھاپے کے آثار غالب ہو گئے تھے لیکن وہ بال سرخ تھے”

 

“ابو حجیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ۔ لوگوں نے عرض کیا یا رسول اللہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر کچھ ضعف وغیرہ اثر، بڑھاپے کا محسوس ہونے لگا ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے سورئہ ہود جیسی سورتوں نے ضعیف کر دیا۔”

 

 

حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے سونے کا ذکر

 

حضرت براء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم جس وقت آرام فرماتے تھے تو اپنا دایاں ہاتھ دائیں رخسار کے نیچے رکھتے تھے اور یہ دعا پڑھتے رَبِّ قِنِي عَذَابَکَ يَوْمَ تَبْعَثُ عِبَادَکَ اے اللہ مجھے قیامت کے دن اپنے عذاب سے بچائیو۔

 

“حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم جب بستر پر لیٹتے، اللَّهُمَّ بِاسْمِکَ أَمُوتُ وَأَحْيَا اے اللہ میں تیرے ہی نام سے مرتا (سوتا) اور تیرے ہی نام سے زندہ ہوں گا۔ (سو کر اٹھوں گا) اور جب جاگتے تو یہ دعا پڑھتے الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَحْيَانًا بَعْدَمَا أَمَاتَنَا وَإِلَيْهِ النُّشُورُ تمام تعریفیں اللہ جل جلالہ کے لئے ہیں جس نے موت کے بعد زندگی عطا فرمائی اور اسی پاک ذات کی طرف قیامت میں لوٹنا ہے ۔”

 

“حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم ہر شبانہ جب بستر پر لیٹتے تو دونوں ہاتھوں کو دعا مانگنے کی طرح ملا کر ان پر دم فرماتے تھے اور سورہ اخلاص اور معوذتین تین مرتبہ پڑھ کر تمام بدن پر سر سے پاؤں تک جہاں جہاں ہاتھ جاتا پھیر لیا کرتے تھے تین مرتبہ ایسے ہی کرتے، سر سے ابتدا فرماتے اور پھر منہ اور بدن کا اگلا حصہ پھر بقیہ بدن۔”

 

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم ایک مرتبہ سوئے اور خراٹے لینے لگے۔ حضور اقدس صلی اللہ علیہ کی یہ عادتِ شریفہ تھی کہ جب سوتے خراٹے لیتے تھے۔ پس حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے آ کر تیاری نماز کی اطلاع دی حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے گئے اور نماز پڑھائی وضو نہیں کیا۔ اس حدیث میں ایک قصہ بھی ہے۔

 

حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنے بستر پر تشریف لاتے تو یہ دعا پڑھتے۔ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَطْعَمَنَا وَسَقَانَا وَکَفَانَا وَآوَانَا فَکَمْ مِمَّنْ لا کَافِيَ لَهُ وَلا مُؤْوِي ۔ تمام تعریفیں اللہ جل جلالہ عما نو آلہ کے لئے ہیں جس نے شکم سیر فرمایا اور سیراب کیا اور ہماری مہمات کے لئے خود کفایت فرمائی اور سونے کے لئے ٹھکانہ مرحمت فرمایا بہت سے لوگ ایسے ہیں جن کو نہ کوئی کفایت کرنے والا ہے اور نہ کوئی ٹھکانہ دینے والا ہے ۔

 

ابوقتادة رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم (سفر میں رات کو چلنے کے بعد) اگر اخیر شب میں کچھ سویرے کسی جگہ پڑاؤ ڈالتے تو دائیں کروٹ لیٹ کر آرام فرماتے اور اگر صبح کے وقت ٹھہرنا ہوتا تو اپنا دایاں بازو کھڑا کرتے اور ہاتھ پر سر رکھ کر آرام فرما لیتے۔

 

حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے سینگی پچھنے لگوانے کا ذکر

 

حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے موضع ملل میں (جو مکہ اور مدینہ منورہ کے درمیان ایک جگہ ہے) حالتِ احرام میں پشت قدم پر سینگی لگوائی ۔

 

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے کسی نے سینگی لگوانے کی اجرت کا مسئلہ پوچھا کہ جائز ہے یا نہیں ۔ انہوں نے فرمایا کہ ابو طیبہ نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سینگی لگائی تھی۔ آپ نے دو صاع کھانا (ایک روایت میں کھجور بھی آیا) مرحمت فرمایا اور ان کے آقاؤں سے سفارش فرما کر ان کے ذمہ جو محصول تھا اس میں کمی کرا دی اور یہ بھی ارشاد فرمایا کہ سینگی لگانا بہترین دوا ہے۔

 

حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ سینگی لگوائی اور مجھے اس کی مزدوری دینے کا حکم فرمایا میں نے اس کو ادا کیا۔

 

ابن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے گردن کی دونوں جانب پچھنے لگوائے اور دونوں شانوں کے درمیان اور اس کی اجرت بھی مرحمت فرمائی۔ اگر ناجائز ہوتی تو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کیسے مرحمت فرماتے۔

 

حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم گردن کی دونوں جانبوں میں اور ہر دو شانوں کے درمیان سینگی لگواتے تھے اور عموماً 17 یا19 یا 21تاریخ میں اس کا استعمال فرماتے تھے۔

 

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک سینگی لگانے والے کو بلایا جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سینگی لگائی۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے ان کا روزانہ کا محصول دریافت فرمایا تو انہوں نے تین صاع بتلایا۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک صاع کم کرا دیا اور سینگی لگانے کی اجرت مرحمت فرمائی۔

 

حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر شریف کا ذکر

 

امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ خطبہ میں یہ فرمایا کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال تریسٹھ سال کی عمر میں ہوا۔ حضرات شیخین یعنی حضرت ابوبکر صدیق اور حضرت عمر رضی اللہ عنہما کا وصال بھی تریسٹھ سال کی عمر میں ہوا میری بھی اس وقت تریسٹھ سال کی عمر ہے۔

 

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نبوت کے بعد تیرہ برس مکہ مکرمہ میں رونق افروز رہے ان تیرہ برس میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہوتی رہی اس کے بعد مکہ مکرمہ سے ہجرت فرمائی اور دس سال مدینہ منورہ میں قیام رہا اور تریسٹھ سال کی عمر میں وصال ہوا۔

 

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے بھی یہی مروی ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال تریسٹھ سال کی عمر میں ہوا۔

 

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے یہ منقول ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال پینسٹھ سال کی عمر میں ہوا ۔

 

دغفل بن حنظلہ سدوسی سے بھی یہی روایت ہے کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال پینسٹھ سال کی عمر میں ہوا۔

 

“حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نہ زیادہ لمبے قد کے تھے نہ پستہ قد نیز رنگ کے لحاظ سے بالکل سفید تھے نہ بالکل گندمی رنگ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بال مبارک نہ بالکل پیچیدہ تھے نہ بالکل سیدھے (بلکہ ہلکی ہلکی سی پیچیدگی اور گھونگریالہ پن لئے ہوئے) چالیس سال کی عمر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نبوت ملی اس کے بعد دس سال حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ مکرمہ میں قیام فرمایا اور دس سال مدینہ منورہ میں ساٹھ سال کی عمر میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوا۔ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر مبارک اور داڑھی شریف میں تقریباً بیس بال بھی سفید نہیں ہوں گے۔”

 

حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی قرأت کا ذکر

 

حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ تلاوت میں ہر آیت کو جدا جدا کر کے علیحدہ علیحدہ اس طرح پڑھتے کہ الحمد للہ رب العٰلمین پر ٹھہرتے پھر الرحمن الرحیم پر وقف کرتے پھر مٰلک یوم الدین پڑھتے ۔

 

قتادة رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی قرات کی کیفیت پوچھی تو انہوں نے فرمایا کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ (مد والے حروف کو) مد کے ساتھ کھینچ کر پڑھتے تھے۔

 

حضرت ام ہانی رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم (مسجد حرام میں قرآن شریف پڑھتے تھے اور میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم) کے پڑھنے کی آواز رات کو اپنے گھر کی چھت پر سے سنا کرتی تھی۔

 

عبد اللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کو فتح مکہ کے دن انا فتحنا لک فتحا مبینا لیغفر لک اللہ ماتقدم من ذنبک وما تاخر پڑھتے دیکھا۔ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم ترجیع کے ساتھ پڑھ رہے تھے۔ معاویہ بن قرة (جو اس حدیث کے ایک راوی ہیں وہ) کہتے ہیں کہ اگر لوگوں کے جمع ہو جانے کا ڈر نہ ہوتا تو میں اس لہجہ میں پڑھ کر سناتا۔

 

قتادة رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ حق تعالیٰ جل شانہ نے ہر نبی کو حسین صورت اور حسین آواز والا مبعوث فرمایا ہے۔ اسی طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حسین صورت اور جمیل آواز والے تھے۔ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم قرآن شریف (گانے والوں کی طرح) آواز بنا کر نہیں پڑھتے تھے۔

 

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی قرات کی آواز ( صرف اس قدر بلند ہوتی تھی کہ) آپ اگر کوٹھڑی میں پڑھتے تو صحن والے سن لیتے تھے۔

 

عبد اللہ بن ابی قیس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم قرآن شریف آہستہ پڑھتے تھے یا پکار کر انہوں نے فرمایا کہ دونوں طرح معمول تھا میں نے کہا الحمد للہ اللہ کا شکر و احسان ہے جس نے ہر طرح سہولت عطا فرمائی (کہ بمقتضائے وقت جیسا مناسب ہو آواز سے یا آہستہ اسی طرح پڑھ سکے)۔

 

یعلی کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ام سلمہ ام المؤمنین سے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی قرات کی کیفیت پوچھی انہوں نے ایک ایک حرف علیحدہ علیحدہ صاف صاف کیفیت بتائی۔

 

حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے کھانے کے وقت وضو کا ذکر

 

ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم جب بیت الخلاء سے فراغت پر باہر تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں کھانا حاضر کیا گیا اور وضو کا پانی لانے کے لئے پوچھا گیا ۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے وضو کا اسی وقت حکم ہے جب نماز کا ارادہ کروں ۔

 

ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم ایک مرتبہ استنجے سے فارغ ہو کر تشریف لائے ۔ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کھانا پیش کیا گیا۔ صحابہ نے پوچھا کہ کیا وضو نہیں فرمائیں گے؟ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ کیا اس وقت مجھے نماز پڑھنی ہے کہ وضو کروں ؟

 

سلمان فارسی رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے تورات میں پڑھا تھا کھانے سے فراغت کے بعد وضو (یعنی ہاتھ دھونا) برکت کا سبب ہے میں نے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ مضمون عرض کیا تو حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ کھانے سے قبل اور کھانے کے بعد وضو (یعنی ہاتھ منہ دھونا) برکت کا سبب ہے۔

 

حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی گریہ و زاری کا ذکر

 

عبد اللہ بن شخیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ رہے تھے اور رونے کی وجہ سے آپ کے سینہ سے ایسی آواز نکل رہی تھی جیسے ہنڈیا کا جوش ہوتا ۔

 

عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مجھ سے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ ارشاد فرمایا کہ قرآن شریف سناؤ ( شاید حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس لئے ارشاد فرمایا ہو کہ بہت سی وجوہ اس کی ہو سکتی ہیں مثلاً یہی کہ قرآن شریف سننے کی سنت بھی حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے فعل سے ثابت ہو جائے) میں نے عرض کیا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم آپ ہی پر تو نازل ہوا ہے اور آپ ہی کو سناؤں ۔ (شاید ابن مسعود رضی اللہ عنہ کو یہ خیال ہوا کہ سنان تبلیغ اور یاد کرانے کے واسطے ہوتا ہے) حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ میرا دل چاہتا ہے کہ دوسرے سے سنوں ۔ میں نے امتثال حکم میں سنانا شروع کیا اور سورہ نساء (جو چوتھے پارہ کے پونے سے شروع ہوتی ہے) پڑھنا شروع کی اور جب اس آیت پر پہنچا فکیف اذاجئنا من کل امة بشہید وجئنا بک علی ھٰؤلآء شہیدا۔ تو میں نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ کے چہرہ مبارک کی طرف دیکھا کہ دونوں آنکھیں گریہ کی وجہ سے بہہ رہی تھیں۔

 

“عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ایک مرتبہ سورج گرہن ہوا۔ (یہ قصہ جمہور کے نزدیک ا ہجری کا ہے) حضور اقدس صلی اللہ مسجد میں تشریف لے گئے اور نماز شروع فرما کر اتنی دیر تک کھڑے رہے۔ گویا رکوع کرنے کا ارادہ ہی نہیں ہے ( دوسری روایت میں ہے کہ سورہ بقرہ پڑھی تھی) اور پھر رکوع اتنا طویل کیا کہ گویا رکوع سے اٹھنے کا ارادہ ہی نہیں پھر ایسے ہی رکوع کے بعد سر اٹھا کر قومہ میں بھی اتنی دیر تک کھڑے رہے گویا سجدہ کرنا ہی نہیں ہے پھر سجدہ کیا اور اس میں بھی سر مبارک زمین پر اتنی دیر تک رکھے رہے گویا سر مبارک اٹھانا ہی نہیں اسی طرح سجدہ سے اٹھ کر جلسہ اور پھر جلسہ کے بعد دوسرے سجدہ میں غرض ہر ہر رکن اس قدر طویل ہوتا تھا کہ گویا یہی رکن اخیر تک کیا جائے گا۔ دوسرا کوئی رکن نہیں ہے۔ (اسی طرح دوسری رکعت پڑھی اور اخیر سجدہ میں) شدت غم اور جوش سے سانس لیتے تھے اور روتے تھے اور حق تعالیٰ شانہ کی بارگاہ عالی میں یہ عرض کرتے تھے کہ اے اللہ تو نے مجھ سے یہ وعدہ کیا تھا کہ میری موجودگی تک امت کو عذاب نہ ہو گا اے اللہ تو نے ہی یہ وعدہ کیا تھا کہ جب تک یہ لوگ استغفار کرتے رہیں گے عذاب نہیں ہو گا، اب ہم سب کے سب استغفار کرتے ہیں (حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد اس مضمون کی طرف اشارہ ہے جو کلام اللہ شریف میں نویں پارہ کے اخیر میں ہے (وَمَا كَانَ اللّٰهُ لِيُعَذِّبَهُمْ وَاَنْتَ فِيْهِمْ  وَمَا كَانَ اللّٰهُ مُعَذِّبَهُمْ وَهُمْ يَسْتَغْفِرُوْنَ ) 8۔ الانفال:33) اس آیت شریفہ کا ترجمہ یہ ہے کہ اللہ جل شانہ ایسا نہ کریں گے کہ ان لوگوں میں آپ کے موجود ہوتے ہوئے ان کو عذاب دیں اور اس حالت میں بھی ان کو عذاب نہ دیں گے کہ وہ استعغفار کرتے رہتے ہوں) حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز سے فارغ ہوئے تو آفتاب نکل چکا تھا۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بعد وعظ فرمایا جس میں اللہ تعالی کی حمد و ثناء کے بعد یہ مضمون فرمایا کہ شمس و قمر کسی کی موت یا حیات کی وجہ سے گہن نہیں ہوتے، بلکہ یہ حق تعالیٰ جل شانہ کی دو نشانیاں ہیں ( جن سے حق سبحانہ اپنے بندوں کو عبرت دلاتے ہیں اور ڈراتے ہیں) جب یہ گہن ہو جایا کریں تو اللہ جل جلالہ کی طرف فورا متوجہ ہو جایا کرو۔ اور استغفار و نماز شروع کر دیا کرو۔”

 

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک لڑکی قریب الوفات تھیں ۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو گود میں اٹھایا اور اپنے سامنے رکھ لیا۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ہی رکھے رکھے ان کی وفات ہو گئی ام ایمن (جو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک باندی تھیں) چلا کر رونے لگیں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا اللہ کے نبی کے سامنے ہی چلا کر رونا شروع کر دیا۔ (چونکہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے آنسو بھی ٹپک رہے تھے اس لئے انہوں نے عرض کیا کہ (حضور صلی اللہ علیہ وسلم) آپ بھی تو رو رہے ہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ رونا ممنوع نہیں یہ اللہ کی رحمت ہے (کہ بندوں کے قلوب کو نرم فرمائیں اور ان میں شفقت و رحمت کا مادہ عطا فرمائیں) پھر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مومن ہر حال میں خیر ہی میں رہتا ہے حتی کہ خود اس کا نفس نکالا جاتا ہے اور وہ حق تعالیٰ شانہ کی حمد کرتا ہے۔

 

“حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم اپنی صاحبزادی (ام کلثوم رضی اللہ عنہا) کی قبر پر تشریف فرما تھے اور آپ کے آنسو جاری تھے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ارشاد فرمایا کہ قبر میں وہ شخص اترے جس نے آج رات مجامعت نہ کی ہو۔”

 

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کی پیشانی کو ان کی وفات کے بعد بوسہ دیا۔ اس وقت حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے آنسو ٹپک رہے تھے۔

 

حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے گزارہ کے بیان میں

 

“ابن سیرین کہتے ہیں ، کہ ہم ایک مرتبہ ابوہریرہ کے پاس تھے ۔ ان پر ایک لُنگی اور ایک چادر تھی وہ دونوں کتان کی تھیں اور گیروی رنگ میں رنگی ہوئی تھیں ۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ان میں سے ایک سے ناک صاف کیا پھر تعجب سے کہنے لگے کہ اللہ اللہ! آج ابوہریرہ کتان کے کپڑے سے ناک صاف کرتا ہے اور ایک وہ زمانہ تھا کہ جب میں منبر نبوی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور حضرت عائشہ کے حجرہ کے درمیان شدت بھوک کی وجہ سے بے ہوش پڑا ہوا ہوتا تھا۔ اور لوگ مجھے مجنوں سمجھ کر میری گردن کو پاؤں سے دباتے تھے اور حقیقتا مجھے جنون وغیرہ کچھ نہیں تھا بلکہ شدت بھوک کی وجہ سے یہ حالت ہو جاتی تھی۔”

 

“مالک بن دینار فرماتے ہیں ، کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی روٹی سے اور گوشت سے شکم سیری نہیں فرمائی مگر حالت ضفف۔ مالک بن دینار کہتے ہیں ، کہ میں نے ایک بدوی سے ضفف کے معنی پوچھے تو اس نے لوگوں کے ساتھ کھانے کے معنی بتائے۔”

 

 

حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے گزر اوقات کا ذکر

 

حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ کبھی حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے دسترخوان پر صبح کے کھانے میں یا شام کے کھانے میں روٹی اور گوشت دونوں چیزیں جمع نہیں ہوتی تھیں مگر حالت ضعف میں ۔

 

نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ کیا تم لوگ کھانے پینے میں اپنی مرضی کے موافق منہمک نہیں ہو (اور جتنا دل چاہے تم لوگ نہیں کھاتے ہو) حالانکہ میں نے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے یہاں ردی کھجوریں پیٹ بھر نہیں تھیں ۔

 

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ہم لوگ یعنی حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل و عیال وہ ہیں کہ ایک ایک ماہ تک ہمارے یہاں آگ نہیں جلتی تھی صرف کھجور اور پانی پر گزارا تھا۔

 

حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم لوگوں نے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم سے شدت بھوک کی شکایت کی اور اپنے پیٹ پر بندھے ہوئے پتھر دکھلائے کہ ہر شخص کے پیٹ پر بھوک کی شدت کی وجہ سے ایک ایک پتھر بندھا ہوا تھا۔ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پیٹ پر دو پتھر بندھے ہوئے دکھلائے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو شدت بھوک ہم سے زیادہ تھی اور ہم سے زیادہ وقت بدوں کھائے گزر چکا تھا۔

 

“حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم ایسے وقت دولت خانہ سے باہر تشریف لائے کہ اس وقت نہ تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت شریفہ باہر تشریف لانے کی تھی نہ کوئی شخص حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اس وقت دولت خانہ پر حاضر ہوتا تھا۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی باہر تشریف آوری پر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ موجود تھے۔ پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوبکر سے خلاف معمول بے وقت آنے کا سبب دریافت فرمایا۔ انہوں نے عرض کیا کہ جمال جہاں آرا کی زیارت اور سلام کے لئے حاضر ہوا ہوں ( حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے کمال تناسب کی وجہ سے تھا کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کو اگر خلاف عادت باہر تشریف آوری کی نوبت آئی تو اس یک جان دو قالب پر بھی اس کا اثر ہوا) بندہ کے نزدیک یہی وجہ اولیٰ ہے اور یہی کمال تناسب بڑی وجہ ہے نبوی دور کے ساتھ خلافت صدیقیہ کے اتصال کی کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد اگر مناسب تامہ نہ ہونے کی وجہ وقتی احکام میں کچھ تغیر ضرور ہوتا اور صحابہ کرام کے لئے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے فراق کے ساتھ یہ دوسرا مرحلہ مل کر رنج و ملال کو ناقابل برداشت بنانے والا ہوتا بخلاف صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اس درجہ اتصال اور قلبی یک جہتی تھی کہ جن مواقع پر جو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا طرز عمل تھا وہی اکثر حضرت ابوبکر صدیق کا بھی تھا۔ چنانچہ حدیبیہ کا قصہ مشہور ہے جس کا ذکر حکایات صحابہ میں گزر چکا ہے مسلمانوں نے نہایت دب کر ایسی شرائط پر کفار سے صلح کی تھی کہ بعض صحابہ رضی اللہ عنہم اس کا تحمل بھی نہ کرسکے اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ نہایت جوش میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور حاضر ہو کر عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا آپ صلی اللہ علیہ اللہ تعالیٰ کے برحق نبی نہیں ہیں؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بے شک۔ حضرت عمر نے کہا کیا ہم حق پر اور دشمن باطل پر نہیں ؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بے شک ۔ حضرت عمر نے کہا پھر ہم کو دین کے بارے میں یہ ذلت کیوں دی جا رہی ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں اللہ کا رسول ہوں اور اس کی نافرمانی نہیں کر سکتا وہی مددگار ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے یہ نہیں کہا تھا کہ ہم مکہ جائیں گے اور طواف کریں گے؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کہا بے شک لیکن کیا میں نے یہ بھی کہا تھا کہ اسی سال مکہ میں جائیں گے؟ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا نہیں یہ تو نہیں کہا تھا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم، بس تو مکہ میں ضرور جائے گا اور طواف کرے گا۔ اس کے بعد حضرت عمر رضی اللہ عنہ اسی جوش میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا اے ابوبکر! کیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کے برحق نبی نہیں ہیں؟ حضرت ابوبکر نے فرمایا بے شک۔ حضرت عمر! کیا ہم حق پر اور دشمن باطل پر نہیں؟ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ! بے شک ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ! پھر ہم کو دین کے بارے میں یہ ذلت کیوں دی جا رہی ہے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ! اے آدمی! یہ بلا تردد سچے رسول ہیں اور اللہ کی ذرا نافرمانی کرنے والے نہیں ہیں وہی ان کا مددگار ہے تو ان کی رکاب کو مضبوط پکڑے رہ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ! کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے یہ نہیں کہا تھا کہ ہم مکہ جائیں گے اور طواف کریں گے؟ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ! کیا تجھ سے یہ وعدہ کیا تھا کہ اسی سال مکہ جائیں گے حضرت عمر رضی اللہ عنہ! نہیں یہ تو نہیں فرمایا تھا ۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ! بس تو مکہ میں ضرور جائے گا اور طواف کرے گا۔ بخاری شریف میں یہ قصہ مفصل مذکورہ ہے اور بھی اس قسم کے متعدد واقعات حیرت انگیز ہیں ۔ حتیٰ کہ اگر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اجتہادی خطا ہوئی تو اس میں حضرت ابوبکر شریک ہیں جیساکہ بدر کے قیدیوں کے معاملہ میں جس کا قصہ سورہ انفال کے اخیر میں ہے۔ اس صورت میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا اس وقت خلاف معمول باہر آنا دل را بدل رہ یست، حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے قلب اطہر کا اثر تھا گو بھوک بھی لگی ہوئی ہو۔ بعض علماء نے لکھا ہے کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا آنا بھی بھوک کے تقاضے کی وجہ سے تھا لیکن حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ انور کو دیکھ کر اس کا خیال بھی جاتا رہا اسی لئے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے استفسار پر اس کا ذکر نہیں کیا۔ بعض علماء نے لکھا ہے کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی تشریف آوری بھوک ہی کی وجہ سے تھی مگر اس کا ذکر اس لئے نہیں کیا کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو گرانی نہ ہو کہ دوست کی تکلیف اپنی تکلیف پر غالب ہو جایا کرتی ہے) تھوڑی ہی دیر گزری تھی کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ حاضر خدمت ہوئے۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے بے وقت حاضری کا سبب پوچھا انہوں نے عرض کیا کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بھوک کی وجہ سے حاضر ہوا ہوں ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ بھوک تو کچھ میں بھی محسوس کر رہا ہوں ۔ اس کے بعد تینوں حضرات ابو آلہیثم انصاری کے مکان پر تشریف لے گئے وہ اہل ثروت لوگوں میں سے تھے کھجوروں کا بڑا باغ تھا۔ بکریاں بھی بہت سی تھی۔ البتہ خادم ان کے پاس کوئی نہیں تھا اس لئے گھر کا کام سب خود ہی کرنا پڑتا تھا۔ یہ حضرات جب ان کے مکان پر پہنچے تو معلوم ہوا کہ وہ گھر والوں کے لئے میٹھا پانی لینے گئے ہیں جو خادم نہ ہونے کی وجہ سے خود ہی لانا پڑتا تھا۔ لیکن ان حضرات کے پہنچنے پر تھوڑی دیر گزری تھی کہ وہ بھی مشکیزہ کو جو مشکل سے اٹھتا تھا۔ بدقت اٹھاتے ہوئے واپس آ گئے اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت سے مشرف ہو کر (اپنی خوش قسمتی پر ناز کرتے اور زبان حال ہم نشین جب میرے ایام بھلے آئیں گے بن بلائے میرے گھر آپ چلے آئیں گے پڑھتے ہوئے) حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو لپٹ گئے اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ و سلم پر اپنے ماں باپ کو نثار کرنے لگے۔ یعنی عرض کرتے تھے کہ میرے ماں باپ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر قربان ہوں ۔ اس کے بعد باغ میں چلنے کی درخواست کی وہاں پہنچ کر فرش بچھایا اور دین و دنیا کے سردار مایہ فخر مہمان کو بٹھا کر ایک خوشہ (جس میں طرح طرح کی کچی پکی آدھ کچری کھجوریں تھیں) سامنے حاضر کیا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ سارا خوشہ توڑنے کی کیا ضرورت تھی؟ اس میں ابھی کچھ کچی بھی ہیں جو ضائع ہوں گی۔ پکی پکی چھانٹ کر کیوں نہ توڑیں؟ میزبان نے عرض کیا تاکہ اپنی پسند سے پکی اور گری ہر نوع کی حسب رغبت نوش فرمائیں ۔ تینوں حضرات نے کھجوریں تناول فرمائیں اور پانی نوش فرمایا اس کے بعد حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے (جن کا ہر ہر لحظہ تعلیم امت تھا) ارشاد فرمایا کہ اس ذات پاک کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے یہ بھی اس نعیم میں شامل ہے جس کا سوال قیامت میں ہو گا اور سورہ الہٰکم التکاثر کے ختم پر حق تعالیٰ شانہ نے اس کا ذکر فرمایا ان کے شکر کے متعلق سوال ہو گا کہ ہماری نعمتوں کا کس درجہ شکر ادا کیا اللہم لا احصی ثناء علیک انت کما اثنیت علی نفسک پھر اس وقت کی نعمتوں کا اظہار کے طور پر فرمایا کہ) ٹھنڈا سایہ، ٹھنڈا پانی اور ترو تازہ کھجوریں ۔ اس کے بعد میزبان کھانے کی تیاری کے لئے جانے لگے۔ تو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ فرط محبت میں کیفما اتفق مت ذبح کر دینا۔ بلکہ ایسا جانور ذبح کرنا جو دودھ کا نہ ہو میزبان نے ایک بکری کا بچہ ذبح کیا اور بعجلت تمام کھانا تیار کر کے حاضر خدمت کیا اور مہمانوں نے تناول فرمایا۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے (اس وقت یہ ملاحظہ فرما کر کہ مشتاق میزبان سب کام خود ہی کر رہا ہے اور شروع میں میٹھا پانی بھی خود ہی لاتے دیکھا تھا) دریافت فرمایا کہ تمہارے پاس کوئی خادم نہیں ۔ نفی میں جواب ملنے پر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر کہیں سے غلام آ جائیں تو تم یاد دلانا اس وقت تمہاری ضرورت کا خیال رکھا جائے گا۔ اتفاقاً ایک جگہ سے دو غلام آئے تو ابو آلہیثم نے حاضر ہو کر وعدہ عالی جاہ کی یاد دہانی کرائی۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ان دونوں غلاموں میں سے جو دل چاہے پسند کر لو۔ جو تمہاری ضرورت کے مناسب ہو (یہ جان نثار حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں اپنی کیا رائے رکھتے اس لئے) درخواست کی کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہی میرے لئے پسند فرمائیں (وہاں بجز دینداری کے اور کوئی وجہ ترجیح اور پسندیدگی کی ہو ہی نہیں سکتی تھی اس لئے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ مشورہ دینے والا امین ہوتا ہے اس لئے میں امین ہونے کی حیثیت سے فلاں غلام کو پسند کرتا ہوں اس لئے کہ میں نے اس کو نماز پڑھتے دیکھا ہے لیکن میری ایک وصیت اس کے بارے میں یاد رکھیو کہ اس کے ساتھ بھلائی کا معاملہ کیجیو (اول حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مشورہ کے ضابطہ کو ذکر فرما کر گویا اس پر تنبیہ فرمائی کہ میری جو پسندیدگی ہے وہ ذمہ دارانہ اور امانتداری کی ہے پھر ایک کو پسند فرما کر وجہ ترجیح بھی ظاہر فرمائی کہ وہ نمازی ہے۔ یہ وجہ ہے اس کو راجح قرار دینے کی۔ ہمارے زمانہ میں ملازم کا نمازی ہونا گویا عیب ہے کہ آقا کے کام کا حرج ہوتا ہے) ابو آلہیثم خوش خوش اپنی ضرورتوں کے لئے ایک مددگار ساتھ لے کر گھر گئے اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان عالی شان بھی بیوی کو سنادیا۔ بیوی نے کہا کہ حضور اکرم صلی اللہ کے ارشاد کی کماحقہ تعمیل نہ ہوسکے گی اور اس درجہ بھلائی کا معاملہ کہ ارشاد عالی جاہ کا امتثال ہو جائے ہم سے نہ ہوسکے گا اس لئے اس کو آزاد ہی کر دو کہ اسی سے امتثال ارشاد ممکن ہے سراپا شجاع اور مجسم اخلاص خاوند نے فوراً آزاد کر دیا اور اپنی دقتوں اور تکالیف کی ذرا بھی پرواہ نہ کی۔ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کو جب واقعہ اور جانثار صحابی کے ایثار کا حال معلوم ہوا تو اظہار مسرت اور بیوی کی مدح کے طور پر ارشاد فرمایا کہ ہر نبی اور اس کے جانشینوں کے لئے حق تعالیٰ شانہ دو باطنی مشیر اور اصلاح کار پیدا فرماتے ہیں جن میں سے ایک مشیر تو بھلائی کی ترغیب دیتا اور برائی سے روکتا ہے دوسرا مشیر تباہ و برباد کرنے میں ذرا بھی کمی نہیں کرتا۔ جو شخص اس کی برائی سے بچا دیا جائے وہ ہر قسم کی برائی سے روک دیا گیا۔”

 

سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ امت محمدیہ میں سب سے پہلا شخص جس نے کافر کا خون بہایا ہو میں ہی ہوں اور ایسے ہی پہلا وہ شخص جس نے جہاد میں تیر پھینکا ہو میں ہوں ہم لوگ (یعنی صحابہ کی جماعت ابتداء اسلام میں) ایسی حالت میں جہاد کیا کرتے تھے کہ ہمارے پاس کھانے کی کوئی چیز نہ تھی۔ درختوں کے پتے اور کیکر کی پھلیاں ہم لوگ کھایا کرتے تھے جس کی وجہ سے ہمارے جبڑے زخمی ہو گئے تھے اور پتے کھانے کی وجہ سے پاخانہ میں بھی اونٹ اور بکری کی طرح مینگنیاں نکلا کرتی تھیں اس کے بعد بھی قبیلہ بنو اسد کے لوگ اسلام کے بارے میں مجھ کو دھمکاتے ہیں اگر میرے دین سے ناواقفیت کا یہی حال ہے جیسا یہ لوگ بتاتے ہیں تو خسر الدنیا والآخرة دنیا اس تنگی وعسرت میں گئی اور دین کی یہ حالت کہ نماز سے بھی زیادہ واقفیت نہ ہوئی ۔

 

خالد بن عمیر اور شویس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عتبہ بن غزوان کو حکم فرمایا کہ تم اپنے رفقاء کے ساتھ (جو تین سو مجاہد تھے) عجم کی طرف چلے جاؤ اور جب منتہائے سرزمین عرب پر پہنچو جہاں کی سرزمین عجم بہت ہی قریب رہ جائے تو وہاں قیام کرنا (مقصد ان کی روانگی کا یہ تھا کہ دربار عمری میں یہ اطلاع پہنچی تھی کہ عجم کا ارادہ عرب پر حملہ کرنے کا ہے اور بہ روایت دیگر یزدجر نے عجم سے امداد منگائی ہے جس کا یہ راستہ تھا اس لئے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس لشکر کو ناکہ بندی کے لئے ارسال فرمایا تھا) وہ لشکر چلا اور جب مربد بصرہ پر پہنچے وہاں عجیب طرح کے سفید سفید پتھروں پر نظر پڑی لوگوں نے اول تعجب سے ایک دوسرے سے پوچھا کہ یہ کیا چیز ہیں ؟ تو انہوں نے کہا کہ یہ بصرہ ہیں (بصرہ اصل لغت میں سفید مائل پتھروں کو کہتے ہیں اس کے بعد پھر شہر کا نام پڑ گیا تو گویا انہوں نے جواب دیا کہ یہ بھی ایک قسم کے پتھر ہیں) اس کے بعد حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی ہدایت کے موافق آگے بڑھے اور جب دجلہ کے چھوٹے پل کے قریب پہنچے تو لوگوں نے تجویز کیا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی متعینہ جگہ یہی ہے اس لئے وہیں پڑاؤ ڈال دیا۔ راوی نے اس جگہ تمام قصہ (یعنی خراسان کے لشکر کے آنے کا اور عتبہ کے فتح کرنے کا پورا قصہ) مفصل ذکر کیا (مگر امام ترمذی کا چونکہ اس جگہ ذکر کرنے سے مقصود اس وقت کی تنگ حالی کا بیان کرنا تھا۔ جس کا ذکر اس حدیث کے اخیر میں ہے اس لئے تمام حدیث کو مختصر کر کے اس جملہ کو ذکر کر دیا۔) حضرت عتبہ رضی اللہ عنہ نے فتح کے بعد ایک خطبہ بھی پڑھا تھا جو عربی حاشیہ میں نقل کیا گیا اس میں دنیا کی بے ثباتی آخرت کا دائمی گھر ہونا وغیرہ امور ارشاد فرمائے تھے۔ چنانچہ حمد و صلوة کے بعد فرماتے ہیں کہ دنیا ختم ہو رہی ہے اور منہ پھیر کر جا رہی ہے دنیا کا حصہ اتنا ہی باقی رہ گیا جیساکہ کسی برتن کا پانی ختم ہو جائے اور اخیر میں ذرا سا قطرہ اس میں رہ جائے تم لوگ اس دنیا سے ایک ایسے عالم کی طرف جا رہے ہو جو ہمیشہ رہنے والا ہے کبھی ختم ہونے والا نہیں ہے۔ لہٰذا ضروری ہے کہ بہترین ماحضر کے ساتھ اس عالم سے جاؤ اس لئے کہ ہمیں یہ بتایا گیا ہے کہ جہنم (جو اللہ کے نافرمانوں کا گھر ہے) اتنی گہری ہے کہ اگر اس کے اوپر کے کنارے سے ایک ڈھیلا پھینکا جائے تو ستر برس تک بھی وہ جہنم کے نیچے کے حصے میں نہیں پہنچتا اور آدمیوں سے اس مکان کو بھرا جائے گا کس قدر عبرت کا مقام ہے نیز ہمیں یہ بتایا گیا ہے کہ جنت (جو اللہ کے فرمانبردار بندوں کا مکان ہے) اس قدر وسیع ہے کہ اس کے دروازہ کی چوڑائی میں ایک جانب سے دوسری جانب تک چالیس برس کی مسافت ہے اور آدمیوں ہی سے وہ بھی پر کی جائے گی۔ (اس لئے ایسے اعمال اختیار کرو جن کی وجہ سے پہلے مکان سے نجات ملے اور اس مکان میں جو اللہ کی رضا کا مکان ہے داخلہ نصیب ہو اس کے بعد اپنا گذشتہ حال بیان کیا کہ میں نے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اپنی یہ حالت دیکھی ہے کہ میں ان سات آدمیوں میں سے ہوں جو اس وقت حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھے۔ ہمارے پاس کھانے کے لئے درختوں کے پتوں کے سوا کچھ نہ تھا اس کے کھانے سے ہمارے منہ چھل گئے تھے۔ مجھے اتفاقا ایک چادر مل گئی تھی جس کو میں نے اپنے اور سعد رضی اللہ عنہ کے درمیان نصف نصف تقسیم کر لیا (حق تعالیٰ شانہ نے اس تنگ حالی اور تکالیف کا دنیا میں بھی یہ اجر مرحمت فرمایا کہ) ہم سات میں سے کوئی بھی ایسا نہیں جو کسی جگہ کا امیر نہ ہوا (چونکہ یہ جماعت بڑی تکالیف برداشت کرنے اور مجاہدات کے بعد امیر ہوئی ہے اس لئے اس کا معاملہ اپنی جماعتوں کے ساتھ بہترین معاملہ ہے جو تم کو بعد میں آنے والے امراء کے تجربہ حال سے معلوم ہو گا اس لئے کہ) تم ان امراء کا عنقریب تجربہ کرنے والے ہو جو بعد میں آنے والے ہیں ۔

 

حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ میں اللہ کے راستہ میں اس وقت خوف دلایا گیا ہوں جس وقت کوئی بھی نہیں ڈرایا گیا اور اس قدر ستایا گیا ہوں کہ کوئی شخص بھی نہیں ستایا گیا۔ مجھے تیس شب و روز ایسے گزرے ہیں کہ میرے اور بلال کے کھانے کے لئے کوئی چیز ایسی نہ تھی جس کو کوئی جاندار کھا سکے بجز اس تھوڑی سی مقدار کے جو بلال کے بغل میں چھپی ہوئی تھی۔

 

نوفل بن ایاس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں عبدالرحمن بن عوف جو عشرہ مبشرہ میں سے ایک صحابی ہیں ہمارے ہم نشین تھے اور حقیقت میں بہترین ہم نشین تھے۔ ایک مرتبہ ہم ان کے ساتھ کسی جگہ سے لوٹے واپسی میں ان کے ساتھ ہی ان کے مکان پر چلے گئے ۔ انہوں نے گھر جا کر اول غسل کیا جب وہ غسل سے فارغ ہو چکے تو ایک بڑے برتن میں روٹی اور گوشت لایا گیا۔عبدالرحمن رضی اللہ عنہ اس کو دیکھ کر رونے لگے میں نے پوچھا کہ کیا بات ہوئی کیوں روتے ہو؟ کہنے لگے کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کو وصال تک کبھی بھی اس کی نوبت نہیں آئی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر والوں نے جو کی روٹی ہی سے شکم سیری فرمائی ہو۔ اب حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد جہاں تک میرا خیال ہم لوگوں کی یہ ثروت کی حالت کسی بہتری کے لئے نہیں ہے۔

 

حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی گفتگو کیسی ہوتی

 

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی گفتگو تم لوگوں کی طرح لگاتار جلدی جلدی نہیں ہوتی تھی۔ بلکہ صاف صاف ہر مضمون دوسرے سے ممتاز ہوتا تھا پاس بیٹھنے والے اچھی طرح سے ذہن نشین کر لیتے تھے۔

 

حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ کہتے ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم (بعض مرتبہ) کلام کو (حسب ضرورت) تین تین مرتبہ دہراتے تاکہ آپ کے سننے والے اچھی طرح سمجھ لیں ۔

 

“حضرت امام حسن رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے ماموں ہند بن ابی ہالہ سے جو حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے اوصاف اکثر بیان فرماتے ہیں عرض کیا کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی گفتگو کی کیفیت مجھ سے بیان فرمائیے، انہوں نے فرمایا کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم (آخرت کے) غم میں متواتر مشغول رہتے ۔ (ذات و صفات باری تعالی یا امت کی بہبود کے) ہر وقت سوچ میں رہتے تھے ان امور کی وجہ سے کسی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو بے فکری اور راحت نہ ہوتی تھی (یا یہ کہ امور دینویہ کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو راحت نہ ملتی بلکہ دنیوی امور کے علاوہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو راحت اور چین ملتا تھا چنانچہ حدیث میں ہے کہ میری آنکھ کی ٹھنڈک نماز ہے) اکثر اوقات خاموش رہتے تھے بلا ضرورت گفتگو نہ فرماتے تھے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی تمام گفتگو ابتدا سے انتہا تک منہ بھر کر ہوتی تھی (یہ نہیں کہ نوک زبان سے کٹتے ہوئے حروف کے ساتھ آدھی بات زبان سے کہی اور آدھی متکلم کے ذہن میں رہی جیساکہ موجودہ زمانہ کے متکبرین کا دستور ہے) جامع الفاظ کے ساتھ(جن کے الفاظ تھوڑے ہوں اور معانی بہت ہوں) کلام فرماتے تھے، چنانچہ ملا علی قاری نے ایسی چالیس احادیث اپنی شرح میں جمع کی ہیں جو نہایت مختصر ہیں عربی حاشیہ پر نقل کر دیں ہیں جو یاد کرنا چاہے اس کو دیکھ کر یاد کر لے) آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا کلام ایک دوسرے سے ممتاز ہوتا تھا نہ اس میں فضولیات ہوتی تھی اور نہ کوتاہیاں کہ مطلب پوری طرح واضح نہ ہو ،آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سخت مزاج نہ تھے نہ کسی کی تذلیل فرماتے تھے، اللہ کی نعمت خواہ کتنی ہی تھوڑی ہو اس کو بہت بڑا سمجھتے تھے اسکی مذمت نہ فرماتے تھے البتہ کھانے کی اشیاء کی نہ مذمت فرماتے نہ تعریف فرماتے (مذمت نہ فرماتے تو ظاہر ہے کہ حق تعالی شانہ کی نعمت ہے زیادہ تعریف نہ فرمانا اس لئے تھا کہ اس سے حرص کا شبہ ہوتا ہے البتہ اظہار رغبت یا کسی دلداری کی وجہ سے کبھی کبھی خاص خاص چیزوں کی تعریف بھی فرمائی ہے ) دنیا اور دنیاوی امور کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو کبھی غصہ نہ آتا تھا (چونکہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو ان کی پرواہ بھی نہ ہوتی تھی اس لئے کبھی دنیوی نقصان پر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو کبھی غصہ نہ آتا تھا) البتہ کسی دینی امر اور حق بات سے کوئی شخص تجاوز کرتا تو اس وقت آپ کے غصہ کی کوئی شخص تاب نہ لا سکتا تھا اور کوئی اس کو روک بھی نہ سکتا تھا۔ یہاں تک کہ آپ اس کا انتقام نہ لے لیں ۔ اپنی ذات کے لئے نہ کسی پر ناراض ہوتے تھے نہ اس کا انتقام لیتے تھے جب کسی وجہ سے کسی جانب اشارہ فرماتے تو پورے ہاتھ سے اشارہ فرماتے (اس کی وجہ بعض علماء نے یہ بتلائی ہے کہ انگلیوں سے اشارہ تواضع کے خلاف ہے اس لئے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم پورے ہاتھ سے اشارہ فرماتے اور بعض علماء نے یہ تحریر فرمائی کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت شریفہ انگلی سے توحید کی طرف اشارہ فرمانے کی تھی اس لئے غیراللہ کی طرف انگلی سے اشارہ نہ فرماتے تھے) جب کسی بات پر تعجب فرماتے تو ہاتھ پلٹ لیتے تھے اور جب بات کرتے تو ملا لیتے (کبھی گفتگو کے ساتھ ہاتھوں کو بھی حرکت فرماتے) اور کھلی داہنی ہتھیلی کو بائیں انگوٹھی کے اندرونی حصہ پر مارتے اور جب کسی پر ناراض ہوتے تو اس سے منہ پھیر لیتے اور بے توجہی فرماتے اور یا درگزر فرماتے اور جب خوش ہوتے تو حیا کی وجہ سے آنکھیں گویا بند فرما لیتے ۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی اکثر ہنسی تبسم ہوتی تھی ۔ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دندان مبارک اولے کی طرح چمکدار سفید ظاہر ہوتے تھے۔”

 

حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے لباس کا ذکر

 

اسماء رضی اللہ تعالی عنہا فرماتی ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے کرتہ کی آستین پہنچے تک ہوتی تھی۔

 

“حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں ، کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم حضرت اسامہ پر سہارا لگائے ہوئے مکان میں تشریف لائے۔ اس وقت حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک یمنی منقش کپڑا تھا جس میں حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم لپٹے ہوئے تھے۔ پس حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے باہر تشریف لا کر صحابہ کو نماز پڑھائی۔”

 

“ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ، کہ جب حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کوئی کپڑا پہنتے تو اظہار مسرت کے طور پر اس کا نام لیتے۔ مثلاً اللہ تعالی نے یہ کرتہ مرحمت فرمایا۔ ایسے ہی عمامہ، چادر وغیرہ۔ پھر یہ دعا پڑھتے۔ اللھم لک الحمد کما کسوتنیہ اسالک خیرہ وخیر ماصنع لہ واعوذ بک من شرہ وشر ماصنع لہ (ترجمہ) اے اللہ تیرے ہی لئے تمام تعریفیں ہیں ۔ اور اس کپڑے کے پہننے پر تیرا ہی شکر ہے۔ یا اللہ تجھ ہی سے اس کپڑے کی بھلائی چاہتا ہوں (کہ خراب نہ ہو ضائع نہ ہو) اور ان مقاصد کی بھلائی اور خوبی چاہتا ہوں ۔ جن کے لئے یہ کپڑا بنایا گیا ہے اور تجھ ہی سے اس کپڑے کے شر سے پناہ مانگتا ہوں اور ان چیزوں کے شر سے پناہ مانگتا ہوں جن کے لئے یہ کپڑا بنایا گیا ہے۔ کپڑے کی بھلائی برائی تو ظاہر ہے اور جس چیز کے لئے بنایا گیا اس کا مطلب یہ ہے کہ گرمی، سردی اور زینت وغیرہ جس غرض کے لئے پہنا گیا اس کی بھلائی یہ ہے کہ اللہ تعالی کی رضا میں استعمال ہو عبادت پر معین ہو اور اس کی برائی یہ ہے کہ اللہ کی نافرمانی میں استعمال ہو، عجب و تکبر وغیرہ پیدا کرے۔”

 

حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یمنی منقش چادر کپڑوں میں زیادہ پسندیدہ تھی۔

 

“ابو جحیفہ فرماتے ہیں ، کہ میں نے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کو سرخ جوڑا پہنے ہوئے دیکھا۔ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی دونوں پنڈلیوں کی چمک گویا اب میرے سامنے ہے۔ سفیان جو حدیث کے راوی ہیں فرماتے ہیں ، کہ میں جہاں تک سمجھتا ہوں وہ سرخ جوڑا منقش جوڑا تھا۔”

 

“حضرت براء رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں ، کہ میں نے کبھی کسی سرخ جوڑے والے کو حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ حسین نہیں دیکھا۔ اس وقت حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے بال مبارک مونڈھوں کے قریب تک تھے۔”

 

“ابو رمثہ کہتے ہیں ، کہ میں نے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کو دو سبز چادریں اوڑھے ہوئے دیکھا۔”

 

قیلہ بنت مخرمہ رضی اللہ عنہ کہتی ہیں کہ میں نے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کو اس حال میں دیکھا کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس دو پرانی لنگیاں تھیں جو زعفران میں رنگی ہوئیں تھیں ۔ لیکن زعفران کا کوئی اثر ان پر نہیں رہا تھا اور اس حدیث میں ایک طویل قصہ بھی ہے۔

 

“حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں ، کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ سفید کپڑوں کو اختیار کیا کرو کہ یہ بہترین لباس میں سے ہے ۔ سفید کپڑا ہی زندگی کی حالت میں پہننا چاہیے اور سفید کپڑے میں مردوں کو دفن کرنا چاہیے۔”

 

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا فرماتی ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم ایک مرتبہ صبح کو مکان سے باہر تشریف لے گئے تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بدن پر سیاہ بالوں کی چادر تھی۔

 

“قرة بن ایاس فرماتے ہیں، کہ میں حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں قبیلہ مزینہ کی ایک جماعت کے ساتھ بیعت کے لئے حاضر ہوا تھا تو حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے کرتہ کا تکمہ000 کھلا ہوا تھا۔ میں نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے گریبان میں ہاتھ ڈال کر تبرکاً مہر نبوت کو چھوا۔”

 

“مغیرہ بن شعبہ کہتے ہیں ، کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک رومی جبہ زیب تن فرما رکھا تھا۔ جس کی آستینیں تنگ تھیں ۔”

 

“سمرة بن جندب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ، کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ سفید کپڑے پہنا کرو ۔ اس لئے کہ وہ زیادہ پاک وصاف رہتا ہے اور اسی میں اپنے مردوں کو کفنایا کرو۔”

 

حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے منقول ہے کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم سب کپڑوں میں کرتے کو زیادہ پسند فرماتے تھے۔

 

ام سلمہ رضی اللہ عنہما سے بعض لوگوں نے یہ بھی نقل کی ہے کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کو پہننے کے لئے سب کپڑوں میں سے کرتہ پسند تھا۔

 

حضورِ اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے مزاح اور دل لگی کے بیان میں

 

“حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے ساتھ میل جول میں مزاح فرماتے تھے، چنانچہ میرا ایک چھوٹا بھائی تھا حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم اس سے فرماتے یا ابا عمیر ما فعل النغیر اے ابو عمیر وہ نغیرہ کہاں جاتی رہی؟”

 

“ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ کہتے ہیں ، کہ صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ ہم سے مذاق بھی فرمالیتے ہیں ، حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہاں مگر میں کبھی غلط بات نہیں کہتا۔”

 

“حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ، کہ کسی شخص نے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی، کوئی سواری کا جانور مجھے عطا فرما دیا جائے۔ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایک اونٹنی کا بچہ تم کو دیں گے ۔ سائل نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ صل اللہ علیہ و آلہ وسلم! میں اونٹنی کے بچہ کا کیا کروں گا؟ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہر اونٹ کسی اونٹ کا بچہ ہوتا ہے”

 

“حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ کہتے ہیں ، کہ ایک شخص جنگل کے رہنے والے جن کا نام زاہر بن حرام تھا ، وہ جب حاضر خدمت ہوتے جنگل کے ہدایا سبزی ترکاری وغیرہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا کرتے تھے اور وہ جب مدینہ منورہ سے واپس جانے کا ارادہ کرتے تھے تو حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم شہری سامان خورد و نوش کا ان کو عطا فرماتے ایک مرتبہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ زاہر ہمارا جنگل ہے اور ہم اس کے شہر ہیں حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کو ان سے خصوصی تعلق تھا زاہر کچھ بد شکل بھی تھے ایک مرتبہ کسی جگہ کھڑے ہوئے وہ اپنا کوئی سامان فروخت کر رہے تھے کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور پیچھے سے ان کی کولی (جپھی) اس طرح بھری کی وہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ نہ سکے انہوں نے کہا ارے کون ہے مجھے چھوڑ دے لیکن جب کن انکھیوں وغیرہ سے دیکھ کر حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کو پہچان لیا تو اپنی کمر کو بہت اہتمام سے پیچھے کر کے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے سینہ مبارک سے ملنے لگے (کہ جتنی دیر بھی تلبس رہے ہزاروں نعمتوں اور لذتوں سے بڑھ کر ہے) حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ کون شخص ہے جو اس غلام کو خریدے ؟ زاہر نے عرض کی کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم اگر آپ مجھے فروخت فرمادیں تو کھوٹا اور قیمت پائیں گے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں اللہ کے نزدیک تو تم کھوٹے نہیں ہو یا یہ فرمایا کہ بیش قیمت ہو ۔”

 

حسن رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک بوڑھی عورت حاضر ہوئی اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) دعا فرما دیجئے کہ حق تعالی شانہ مجھے جنت میں داخل فرما دے۔ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جنت میں بوڑھی عورت داخل نہیں ہو سکتی وہ عورت رونے لگی حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس سے کہہ دو کہ جنت میں بڑھاپے کی حالت میں داخل نہیں ہو گی بلکہ حق تعالی جل شانہ سب اہل جنت عورتوں کو نو عمر کنواریاں بنا دیں گے اور حق تعالی جل شانہ کے اس قول انا انشائناھن انشاء فجعلناھن ابکارا۔ الایة میں اس کا بیان ہے جس کا ترجمہ اور مطلب یہ ہے کہ ہم نے ان عورتوں کو خاص طور پر بنایا ہے ۔ یعنی ہم نے ان کو ایسا بنایا کہ وہ کنواریاں ہیں ۔ (بیان القرآن) یعنی ہمیشہ کنواریاں ہی رہتی ہیں صحبت کے بعد پھر کنواریاں بن جاتی ہیں ۔

 

حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو ایک مرتبہ مزاحا یا ذالاذنین فرمایا اے دو کان والے۔

 

حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی مہر نبوت کا ذکر

 

سائب بن یزید کہتے ہیں کہ مجھ کو میری خالہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے گئیں اور عرض کیا کہ یہ میرا بھانجا بیمار ہے ۔ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے سر پر ہاتھ پھیرا اور میرے لئے دعائے برکت کی اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو فرمایا تو میں نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو کا پانی پیا۔ میں اتفاقاً یا قصداً حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پس پشت کھڑا ہوا تو میں نے مہر نبوت دیکھی جو مسہری کی گھنڈیوں جیسی تھی

 

رمیثہ کہتی ہیں کہ میں نے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ مضمون سنا اور میں اس وقت حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے اتنی قریب تھی کہ اگر چاہتی تو مہر نبوت کو چوم لیتی۔ وہ مضمون یہ ہے کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم سعد بن معاذ کے حق میں یہ ارشاد فرما رہے تھے کہ ان کی موت کی وجہ سے حق تعالی جل شانہ کا عرش بھی ان کی روح کی خوشی میں جھوم گیا۔

 

“علباء بن احمر کہتے ہیں ، کہ مجھ سے عمرو بن اخطب صحابی رضی اللہ تعالی عنہ نے یہ قصہ بیان کیا۔ ایک مرتبہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے کمر ملنے کے لئے ارشاد فرمایا میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی کمر ملنی شروع کی تو اتفاقاً میری انگلی مہر نبوت پر لگ گئی علباء کہتے ہیں کہ میں نے عمرو سے پوچھا کہ مہر نبوت کیا چیز تھی انہوں نے جواب دیا کہ چند بالوں کا مجموعہ تھا۔”

 

“بردة بن الحصیب رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ منورہ تشریف لائے تو حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ ایک خوان لے کر آئے جس میں تازہ کھجوریں تھیں اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا۔ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ سلمان یہ کیسی کھجوریں ہیں ۔ انہوں نے عرض کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھیوں پر صدقہ ہیں ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہم لوگ صدقہ نہیں کھاتے اس لئے میرے پاس سے اٹھا لو (اس میں علماء کا اختلاف ہے کہ ہم لوگ سے کیا مراد ہے ۔ بعض کے نزدیک حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات ہے جسے جمع کے لفظ سے تشریفاً تعبیر فرمایا اور بعض کے نزدیک جماعت انبیاء مراد ہیں اور بعض کے نزدیک حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے وہ اقارب جن کو زکوة کا مال دینا جائز نہیں مراد ہیں ۔ بندہ ناچیز کے نزدیک یہ تیسرا احتمال راجح ہے اور علامہ مناوی کے اعتراضات جو اس تیسری صورت میں ہیں زیادہ وقیع نہیں) دوسرے دن پھر ایسا ہی واقعہ پیش آیا کہ سلمان کھجوروں کا طباق لائے اور حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد پر سلمان نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے لئے ہدیہ ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے خود ہی نوش فرمایا۔ (چنانچہ بیجوری نے اسکی تصریح کی ہے۔ حضرت سلمان کا اس طرح پر دونوں دن لانا حقیقت میں حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے آقا بنانے کا امتحان تھا اس لئے کہ سلمان رضی اللہ تعالی عنہ پرانے زمانے کے علماء میں سے تھے اڑھائی سو برس اور بعض کے قول پر ساڑھے تین سو برس ان کی عمر ہوئی۔ انہوں نے حضور اقدس صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی علامات میں جو پہلی کتب میں پڑھ رکھی تھیں یہ بھی دیکھا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم صدقہ نوش نہیں فرماتے اور ہدیہ قبول فرماتے ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دونوں مونڈھوں کے درمیان مہر نبوت ہے ، پہلی دونوں علامتیں دیکھنے کے بعد) پھر حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی پشت مبارک پر مہر نبوت دیکھی تو مسلمان ہو گئے سلمان رضی اللہ تعالی عنہ اس وقت یہود بنی قریظہ کے غلام بنے ہوئے تھے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو خریدا (مجازاً خریدا کے لفظ سے تعبیر کر دیا ورنہ حقیقت میں انہوں نے حضرت سلمان رضی اللہ تعالی عنہ کو مکاتب بنایا تھا۔ مکاتب بنانا اس کو کہتے ہیں کہ، آقا غلام سے معاملہ کر لے کہ اتنی مقدار جو آپس میں طے ہو جائے کما کردے دو، پھر تم آزاد ہو) اور بدل کتابت بہت سے درہم قرار پائے اور نیز یہ کہ حضرت سلمان انکے لئے (تین سو) کھجور کے درخت لگائیں اور ان درختوں کے پھل لانے تک ان کی خبر گیری کریں ۔ پس حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دست مبارک سے وہ درخت لگائے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا معجزہ تھا کہ سب درخت اسی سال پھل لے آئے مگر ایک درخت نہ پھلا۔ تحقیق سے معلوم ہوا کہ وہ درخت حضرت سلمان فارسی کے ہاتھ کا لگایا ہوا تھا۔ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے دست مبارک کا نہیں ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو نکالا اور دوبارہ اپنے دست مبارک سے لگایا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا دوسرا معجزہ یہ ہوا کہ بے موسم لگایا ہوا درخت بھی اسی سال پھل لے آیا۔”

 

“ابونضرة کہتے ہیں ، کہ میں نے ابو سعید رضی اللہ تعالی عنہ سے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مہر نبوت کا حال پوچھا ، تو انہوں نے یہ بتلایا کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی پشت مبارک پر ایک گوشت کا ابھرا ہوا ٹکڑا تھا۔”

 

“عبد اللہ بن سرجس کہتے ہیں کہ میں حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس وقت مجمع تھا، میں نے اس طرح حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پس پشت چکر لگایا (راوی نے اس جگہ غالباً چکر لگا کر فعلی صورت بیان کی) حضور صلی اللہ علیہ وسلم میرا منشاء سمجھ گئے اور اپنی پشت مبارک سے چادر اتاردی۔ میں نے مہر نبوت کی جگہ کو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دونوں شانوں کے درمیان مٹھی کے ہم شکل دیکھا، جس کے چاروں طرف تل تھے جو گویا مسوں کے برابر معلوم ہوتے تھے۔ پھر میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آیا اور میں نے عرض کیا اللہ تعالی جل شانہ، آپ کی مغفرت فرمائے (یا اللہ تعالی نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی مغفرت فرما دی جیسا کہ سورة فتح میں اللہ جل شانہ کا ارشاد ہے لیغفر لک اللہ ماتقدم من ذنبک)۔”

 

“ابراہیم بن محمد جو حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کے پوتے ہیں وہ کہتے ہیں، کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ جب حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی صفات بیان کیا کرتے تو یہ صفتیں بیان کرتے، اور حدیث مذکورہ سابق ذکر کی۔ منجملہ ان کے یہ بھی کہتے، کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے دونوں مونڈھوں کے درمیان مہر نبوت تھی، اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم خاتم النبیین تھے۔۔”

 

حضورِ اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے موزہ کے بیان میں

 

“بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں، کہ نجاشی نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سیاہ رنگ کے دو سادے موزے ہدیةً بھیجے تھے۔ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو پہنا اور وضو کے بعد ان پر مسح بھی فرمایا۔”

 

“مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں، کہ دحیہ کلبی نے دو موزے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی نذر کئے تھے ایک دوسری روایت میں موزوں کے ساتھ جبہ کے پیش کرنے کا ذکر بھی ہے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو پہنا یہاں تک کہ وہ پھٹ گئے۔ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی تحقیق نہیں فرمائی کہ وہ مذبوح جانور کی کھال کے تھے یا غیر مذبوح۔”

 

 

 حضورِ اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے نعلین (جوتا) شریف کے ذکر میں

 

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ جب کوئی شخص تم میں سے جوتا پہنے تو دائیں سے ابتداء کرنی چاہیے اور جب نکالے تو بائیں سے پہلے نکالے دایاں پاؤں جوتا پہننے میں مقدم ہونا چاہیے اور نکالنے میں مؤخر۔

 

“قتادہ کہتے ہیں ، کہ میں نے حضرت انس سے دریافت کیا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے نعل شریف کیسے تھے تو انہوں نے فرمایا کہ ہر ایک جوتے میں تسمے تھے۔”

 

“ابن عباس فرماتے ہیں ، کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے نعلین شریف کے تسمہ دوہرے تھے۔”

 

“عیسیٰ کہتے ہیں ، کہ حضرت انس نے ہمیں دو جوتے نکال کر دکھائے ان پر بال نہیں تھے مجھ سے اس کے بعد ثابت نے یہ بتلایا کہ وہ دونوں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے نعلین شریف تھے۔”

 

عبید بن جریج نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ آپ بغیر بالوں کے چمڑے کا جوتا پہنتے ہیں اس کی کیا وجہ ہے ۔ انہوں نے فرمایا کہ میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسا ہی جوتا پہنتے ہوئے اور اس میں وضو فرماتے ہوئے دیکھا ہے اس لئے میں ایسے ہی جوتے پسند کرتا ہوں ۔

 

“ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ بھی یہی نقل فرماتے ہیں، کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے نعلین شریف کے دو تسمے تھے۔”

 

“عمرو بن حریث فرماتے ہیں ، میں نے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسے جوتوں میں نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے جن میں دوسرا چمڑا سلا ہوا تھا۔”

 

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ فرماتی ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم اپنے کنگھی کرنے میں اور جوتا پہننے میں اور اعضاء وضو کے دھونے میں حتی الوسع دائیں سے ابتدا فرمایا کرتے تھے۔

 

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے نعلین شریف کے دو تسمے تھے۔ ایسے ہی حضرت ابوبکر صدیق اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے جوتہ میں بھی دوہرا تسمہ تھا ایک تسمہ کی ابتداء حضرت عثمان نے فرمائی۔

 

“حضرت جابر رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں ، کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا کہ کوئی شخص بائیں ہاتھ سے کھائے یا جوتا پہنے۔”

 

“ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ، کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ایک جوتی پہن کر کوئی نہ چلے یا دونوں پہن کر چلے یا دونوں نکال دے۔”

 

حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے نوافل گھر میں پڑھنے کا ذکر

 

عبد اللہ بن سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ نوافل مسجد میں پڑھنا افضل ہے یا گھر میں؟ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم دیکھتے ہو کہ میرا گھر مسجد سے کتنا قریب ہے۔ (جس کی وجہ سے مسجد میں آنے میں کسی قسم کی دقت یا رکاوٹ نہیں ہوتی۔ (لیکن اس کے باوجود) فرائض کے علاوہ مجھے اپنے گھر میں نماز پڑھنا مسجد سے زیادہ پسند ہے۔

 

حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے ہنسنے کے بیان میں

 

ابن ربیعہ کہتے ہیں کہ حضرت علی کرم اللہ وجہ کے پاس (ان کے زمانہ خلافت میں) ایک مرتبہ (گھوڑا وغیرہ) کوئی سواری لائی گئ آپ نے رکاب میں پاؤں رکھتے ہوئے بسم اللہ کہا اور جب سوار ہو چکے تو الحمد للہ کہا پھر یہ دعا پڑھی سبحن الذی سخرلنا ھذا وما کنا لہ مقرنین وانا الی ربنا لمنقلبون۔ پاک ہے وہ ذات جس نے اس کو ہمارے لئے مسخر فرما دیا اور ہم کو اس کے مطیع بنانے کی طاقت نہ تھی اور واقعی ہم سب لوگ اللہ ہی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں علماء فرماتے ہیں کہ سواری چونکہ اسباب ہلاکت میں سے ہے اس لئے سواری کی تسخیر پر حق تعالی جل شانہ کے شکریہ کے ساتھ اپنی موت کے ذکر کو بھی متصل فرمادیا کہ ہم آخر کار مرنے کے بعد لوٹ کر اسی کی طرف جانے والے ہیں ۔) پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے الحمد للہ تین مرتبہ کہا پھر اللہ اکبر تین مرتبہ کہا پھر سبحنک انی ظلمت نفسی فاغفرلی فانہ لا یغفر الذنوب الا انت۔ تیری ذات ہر عیب سے پاک ہے اور میں نے تیری نعمتوں کا شکریہ ادا کرنے میں اور اوامر کی اطاعت نہ کرنے میں اپنے ہی نفس پر ظلم کیا ہے ۔ پس یا اللہ! آپ میری مغفرت فرمائیں ۔ کیونکہ مغفرت تو آپ کے سوا اور کوئی کر ہی نہیں سکتا اس دعا کے بعد حضرت علی رضی اللہ عنہ ہنسے۔ ابن ربیعہ کہتے ہیں کہ میں نے ہنسنے کی وجہ پوچھی تو حضرت علی نے فرمایا کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اسی طرح دعائیں پڑھی تھیں ۔ اور اس کے بعد حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم سے تبسم کی وجہ پوچھی تھی جیساکہ تم نے مجھ سے پوچھی تو حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تھا کہ حق تعالی جل شانہ بندہ کے اس کہنے پر کہ میرے گناہ تیرے سوا کوئی معاف نہیں کر سکتا ۔ خوش ہوتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ میرا بندہ جانتا ہے کہ میرے سوا کوئی شخص گناہ معاف نہیں کر سکتا ۔ اللھم رب اغفرلی ولوالدی وانہ لایغفر الذنوب الا انت اللھم لا احصی ثناء علیک لک الکبریاء والعظمة۔

 

حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے ہنسنے کے بیان میں

 

حضرت جابر رضی اللہ تعالی عنہ کہتے ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی پنڈلیاں کسی قدر باریک تھیں اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ہنسنا صرف تبسم ہوتا تھا ۔ جب میں حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کرتا تو دل میں سوچتا کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سرمہ لگائے ہوئے ہیں حالانکہ اس وقت سرمہ لگائے ہوئے نہیں ہوتے تھے۔

 

عبد اللہ بن حارث رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ تبسم کرنے والا نہیں دیکھا۔

 

عبد اللہ بن حارث رضی اللہ عنہ ہی کی یہ بھی روایت ہے کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کاہنسنا تبسم سے زیادہ نہیں ہوتا تھا۔

 

“حضرت ابوذر رضی اللہ تعالی عنہ کہتے ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ میں اس شخص کو خوب جانتا ہوں جو سب سے اول جنت میں داخل ہو گا، اور اس سے بھی خوب واقف ہوں جو سب سے آخر میں جہنم سے نکالا جائے گا ۔ قیامت کے دن ایک آدمی دربار الٰہی میں حاضر کیا جائے گا اسکے لئے یہ حکم ہو گا کہ اس کے چھوٹے چھوٹے گناہ اس پر پیش کئے جائیں کہ تو نے فلاں دن فلاں گناہ کئے ہیں تو وہ اقرار کرے گا ۔ اس لئے کہ انکار کی کوئی گنجائش نہیں ہو گی اور اپنے دل میں نہایت ہی خوفزدہ ہو گا کہ ابھی صغائر ہی کا نمبر ہے ۔ کبائر پر دیکھیں کیا گزرے؟ کہ اس دوران میں یہ حکم ہو گا کہ اس شخص کے ہر گناہ کے بدلے ایک ایک نیکی دی جائے وہ شخص یہ حکم سنتے ہی خود بولے گا کہ میرے تو ابھی بہت سے گناہ باقی ہیں جو یہاں نظر نہیں آتے ۔ ابوذر رضی اللہ تعالی عنہ کہتے ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم اس کا مقولہ نقل فرما کر ہنسے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دندان مبارک ظاہر ہوئے ۔ ہنسی اس بات پر تھی کہ جن گناہوں کے اظہار سے ڈر رہا تھا ان کے اظہار کا خود طالب بن گیا ۔”

 

جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے مسلمان ہونے کے بعد سے کسی وقت مجھے حاضری سے نہیں روکا ۔ اور جب مجھے دیکھتے تو ہنستے اور دوسری روایت میں ہے کہ تبسم فرماتے تھے۔

 

عامر بن سعید کہتے ہیں کہ میرے والد سعد نے فرمایا کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ خندق کے دن ہنسے ۔ حتی کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دندان مبارک ظاہر ہو گئے۔ عامر کہتے ہیں کہ میں نے پوچھا کہ کس بات پر ہنسے تھے ؟ انہوں نے کہا کہ ایک کافر ڈھال لئے ہوئے تھا اور سعد بڑے تیر انداز لیکن وہ اپنی ڈھال ادھر ادھر کر لیتا تھا جس کی وجہ سے اپنی پیشانی کا بچاؤ کر رہا تھا۔ (گویا مقابلہ میں سعد کا تیر نہ لگنے دیتا تھا۔ حالانکہ یہ مشہور تیر انداز تھے) سعد نے ایک مرتبہ تیر نکالا (اور اس کی کمان میں کھینچ کر انتظار میں رہے ) جس وقت اس نے ڈھال سے سر اٹھایا فورا ایسا لگایا کہ پیشانی سے چوکا نہیں اور فوراً گر گیا ۔ ٹانگ بھی اوپر اٹھ گئی ۔ پس حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم اس قصہ پر ہنسے میں نے پوچھا کہ اس میں کونسی ہنسنے کی بات ہے انہوں نے فرمایا کہ سعد کے اس فعل پر ۔

 

عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ کہتے ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ میں اس شخص کو جانتا ہوں جو سب سے اخیر میں آگ سے نکلے گا وہ ایک ایسا آدمی ہو گا کہ زمین پر گھسٹتا ہوا دوزخ سے نکلے گا کہ ( جہنم کے عذاب کی سختی کی وجہ سے سیدھے چلن پر قادر نہ ہو گا) اس کو حکم ہو گا کہ جا جنت میں داخل ہو جا ۔ وہ وہاں جا کر دیکھے گا کہ لوگوں نے تمام جگہوں پر قبضہ کر رکھا ہے ۔ سب جگہیں پر ہو چکی ہیں لوٹ کر بارگاہ الہی میں اس کی اطلاع کر یگا وہاں سے ارشاد ہو گا کہ کیا دنیوی منازل کی حالت بھی یاد ہے (کہ جب جگہ پر ہو جائے تو آنے والے کی گنجائش نہیں ہوتی اور پہلے جانے والے جس جگہ چاہیں قبضہ کر لیں اور بعد میں آنے والوں کے لئے جگہ نہ رہے اس عبارت کا ترجمہ اکابر علماء نے یہ ہی تحریر فرمایا ہے مگر بندہ ناچیز کے نزدیک اگر اس کا مطلب یہ کہا جائے تو زیادہ اچھا معلوم ہوتا ہے کہ دنیا کی وسعت اور فراخی بھی یاد ہے کہ تمام دنیا کتنی بڑی تھی۔ اور یہ اس لئے یاد دلایا تاکہ آئندہ تمام دنیا سے دس گنا زائد اس کو عطا فرمانے کا اعلان ہونے والا ہے تو ساری دنیا کا ایک مرتبہ تصور کرنے کے بعد اس عطیہ کی کثرت کا اندازہ ہو) وہ عرض کرے گا کہ رب العزت خوب یاد ہے اس پر ارشاد ہو گا کہ اچھا کچھ تمنائیں کرو جس نوع سے دل چاہتا ہے وہ اپنی تمنائیں بیان کرے گا وہاں سے ارشاد ہو گا کہ اچھا تم کو تمہاری تمنائیں اور خواہشات بھی دیں اور تمام دنیا سے دس گنا زائد عطا کیا وہ عرض کرے گا کہ یا اللہ آپ بادشاہوں کے بادشاہ ہو کر مجھ سے تمسخر فرماتے ہیں (کہ وہاں ذرا سی بھی جگہ نہیں ہے اور آپ تمام دنیا سے دس گنا زائد مجھے عطا فرما رہے ہیں) ابن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ کہتے ہیں کہ میں نے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ جب اس شخص کا یہ مقولہ نقل فرما رہے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو ہنسی آ گئی حتی کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دندان مبارک بھی ظاہر ہوئے۔

 

حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سر مبارک کے بالوں کا بیان

 

“حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما فرماتے ہیں ، حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم اولاً بالوں کو بغیر مانگ نکال کے ویسے ہی چھوڑ دیا کرتے تھے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ مشرکین مانگ نکالا کرتے تھے اور اہل کتاب نہیں نکالتے تھے۔ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم ابتداء ان امور میں جن میں کوئی حکم نازل نہیں ہوتا تھا اہل کتاب کی موافقت کو پسند فرماتے تھے ۔ لیکن اس کے بعد یہ منسوخ ہو گیا اس لئے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم مخالفتِ اہل کتاب کرنے لگے۔”

 

“حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں، کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بال مبارک نصف کانوں تک تھے۔”

 

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا فرماتی ہیں کہ میں اور حضور اقدس صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ایک ہی برتن میں غسل کیا کرتے اور حضور اقدس صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بال مبارک ایسے پٹھوں سے جو کان کی لو تک ہوا کرتے ہیں ان سے زیادہ تھے۔ اور ان سے کم تھے جو مونڈھوں تک ہوتے ہیں ۔ یعنی نہ زیادہ لمبے تھے نہ چھوٹے بلکہ متوسط درجہ کے تھے۔

 

حضرت براء فرماتے ہیں کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم متوسط القامۃ تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دونوں شانوں کا درمیانی حصہ وسیع تھا۔ آپ کے بال کانوں کی لو تک ہوتے تھے۔

 

“قتادہ رضی اللہ تعالی عنہ کہتے ہیں ، کہ میں نے حضرت انس سے پوچھا کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بال مبارک کیسے تھے۔ انہوں نے فرمایا کہ نہ بالکل پیچیدہ نہ بالکل کھلے ہوئے بلکہ تھوڑی سی پیچیدگی اور گھنگریالہ پن لئے ہوئے تھے جو کانوں کی لو تک پہنچتے تھے۔”

 

ام ہانی رضی اللہ تعالی عنہا فرماتی ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت کے بعد ایک مرتبہ مکہ مکرمہ تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بال مبارک چار حصے مینڈھیوں کے طور پر ہو رہے تھے۔

 

ام ہانی رضی اللہ تعالی عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو چار گیسوؤں والا دیکھا۔

 

حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بال مبارک نصف کانوں تک ہوتے تھے۔

 

حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق و عادات میں

 

حضرت جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی کسی شخص کے کوئی چیز مانگنے پر انکار نہیں فرمایا۔

 

“حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک شخص نے حاضری کی اجازت چاہی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ شخص اپنے قبیلہ کا کیسا برا آدمی ہے۔ یہ ارشاد فرمانے کے بعد اس کو حاضری کی اجازت مرحمت فرمادی اور اس کے اندر آنے پر اس کے ساتھ نہایت نرمی سے باتیں کیں جب وہ چلا گیا تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے پوچھا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بارے میں حاضر ہونے سے پہلے تو یہ لفظ ارشاد فرمایا تھا، پھر اس قدر نرمی سے اس کے ساتھ کلام فرمایا یہ کیا بات ہے۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ عائشہ! بدترین لوگوں میں سے ہے وہ شخص کہ لوگ اس کی بدکلامی کی وجہ سے اس کو چھوڑ دیں ۔”

 

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم اول تو تمام لوگوں سے زیادہ ہر وقت ہی سخی تھے (کہ کوئی بھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی سخاوت کا مقابلہ نہیں کر سکتا تھا کہ خود فقیرانہ زندگی بسر کرتے تھے اور عطاؤں میں بادشاہوں کو شرمندہ کرتے تھے۔ نہایت سخت احتیاج کی حالت میں ایک عورت نے چادر پیش کی اور سخت ضرورت کے درجہ میں پہنی۔ جب ہی ایک شخص نے مانگ لی اور اس کو مرحمت فرما دی۔ قرض لے کر ضرورت مندوں کی ضرورت کو پورا کرنا اور قرض خواہ کے سخت تقاضے کے وقت کہیں سے اگر کچھ آگیا اور ادائے قرض کے بعد بچ گیا تو جب تک وہ تقسیم نہ ہو جائے گھر نہ جانا ایسے مشہور واقعات اتنی کثرت سے ہیں کہ ان کا احاطہ ہو ہی نہیں سکتا) بالخصوص رمضان المبارک میں تمام مہینہ اخیر تک بہت ہی فیاض رہتے ( کہ خود حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی گیارہ مہینے کی فیاضی بھی اس مہینے کی فیاضی کے برابر نہ ہوتی تھی) اور اس مہینہ میں بھی جس وقت حضرت جبرائیل علیہ السلام تشریف لا کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کلام اللہ شریف سناتے اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھلائی اور نفع پہنچانے میں تیز بارش لانے والی ہوا سے بھی زیادہ سخاوت فرماتے تھے۔

 

“خارجہ کہتے ہیں کہ ایک جماعت زید بن ثابت کے پاس حاضر ہوئی اور عرض کیا کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے کچھ حالات سنائیں انہوں نے فرمایا کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے کیا حالات سناؤں ( وہ احاطہ بیان سے باہر ہیں) میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ہمسایہ تھا (اس لئے تو یا ہر وقت حاضر باش تھا اور اکثر حالات سے واقف اس کے ساتھ ہی کاتب وحی بھی تھا) جب حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہوتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے بلا بھیجتے میں حاضر ہو کر اس کو لکھ لیتا تھا (حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہم لوگوں کے ساتھ غایت درجہ دلداری اور بے تکلفی فرماتے تھے جس قسم کا تذکرہ ہم کرتے تھے حضور صلی اللہ علیہ وسلم بھی ہمارے ساتھ ویسا ہی تذکرہ فرماتے تھے۔ جب ہم لوگ کچھ دنیاوی ذکر کرتے تو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بھی اس قسم کا تذکرہ فرماتے (یہ نہیں کہ بس آخرت ہی کا ذکر ہمارے ساتھ کرتے ہوں اور دنیا کی بات سننا بھی گوارا نہ کریں) اور جس وقت ہم آخرت کی طرف متوجہ ہوتے تو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بھی آخرت کے تذکرے فرماتے، یعنی جب آخرت کا کوئی تذکرہ شروع ہو جاتا تو اسی کے حالات اور تفصیلات حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بیان فرماتے اور جب کچھ کھانے پینے کا ذکر ہوتا تو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بھی ویسا ہی تذکرہ فرماتے۔ (کھانے کے آداب، فوائد، لذیذ کھانوں کا ذکر، مضر کھانوں کا تذکرہ وغیرہ وغیرہ۔ چنانچہ گذشتہ ابواب میں بہت سے ارشادات حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اس نوع کے گزر چکے ہیں کہ سرکہ کیا ہی اچھا سالن ہے، زیتون کا تیل استعمال کیا کرو کہ مبارک درخت سے ہے وغیرہ) یہ سب کچھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کے حالات کا تذکرہ کر رہا ہوں ۔”

 

“حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ قوم کے بدترین شخص کی طرف سے بھی حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم تالیف قلوب کے خیال سے اپنی توجہ اور اپنی خصوصی گفتگو مبذول فرماتے تھے، (جس کی وجہ سے اس کو اپنی خصوصیت کا خیال ہو جاتا تھا) چنانچہ خود میری طرف بھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی توجہات عالیہ اور کلام کا رخ بہت زیادہ رہتا تھا، حتیٰ کہ میں یہ سمجھنے لگا کہ میں قوم کا بہترین شخص ہوں اسی وجہ سے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سب سے زیادہ توجہ فرماتے ہیں ۔ میں اسی خیال سے ایک دن دریافت کیا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ میں افضل ہوں یا ابوبکر رضی اللہ عنہ؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ابوبکر ( رضی اللہ عنہ)۔ پھر میں نے پوچھا کہ میں افضل ہوں یا عمر رضی اللہ عنہ؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا عمر ( رضی اللہ عنہ)۔ پھر میں نے پوچھا کہ میں افضل ہوں یا عثمان رضی اللہ عنہ ؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ عثمان (رضی اللہ عنہ)؟۔”

 

حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے دس برس حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کی مجھے کسی بات پر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اف تک بھی نہیں فرمایا نہ کسی کام کے کرنے پر یہ فرمایا کہ کیوں کیا اور اسی طرح نہ کبھی کسی کام کے نہ کرنے پر یہ فرمایا کہ کیوں نہیں کیا۔ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم اخلاق میں تمام دنیا سے بہتر تھے (ایسے خلقت کے اعتبار سے بھی حتی کہ) میں نے کبھی کوئی ریشمی کپڑا یا خالص ریشم یا کوئی اور نرم چیز ایسی چھوئی جو حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی بابرکت ہتھیلی سے زیادہ نرم ہو اور میں نے کبھی کسی قسم کا مشک یا کوئی عطر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پسینہ کی خوشبو سے زیادہ خوشبو دار نہیں سونگھا۔

 

حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص بیٹھا تھا جس پر زرد رنگ کا کپڑا تھا۔ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت شریفہ یہ تھی کہ ناگوار بات کو منہ در منہ منع نہ فرماتے تھے اس لئے سکوت فرمایا اور جب وہ شخص چلا گیا تو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حاضرین سے ارشاد فرمایا کہ تم لوگ اس کو زرد کپڑے سے منع کر دیتے تو اچھا ہوتا۔

 

“حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نہ تو طبعا فحش گو تھے نہ بتکلف فحش بات فرماتے تھے، نہ بازاروں میں چلا کر (خلاف وقار) باتیں کرتے تھے۔ برائی کا بدلہ برائی سے نہیں دیتے تھے، بلکہ معاف فرما دیتے تھے اور اس کا تذکرہ بھی نہ فرماتے تھے۔”

 

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دست مبارک سے اللہ تعالیٰ کے راستہ میں جہاد کے علاوہ کبھی کسی کو نہیں مارا۔ نہ کبھی کسی خادم کو نہ کسی عورت (بیوی باندی وغیرہ) کو۔

 

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے کبھی نہیں دیکھا کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ذات کے لئے کبھی کسی ظلم کا بدلہ لیا ہو۔ البتہ اللہ کی حرمتوں میں سے کسی حرمت کا مرتکب ہوتا (یعنی مثلاً کسی حرام فعل کا کوئی مرتکب ہوتا۔ شراح حدیث نے لکھا ہے کہ اسی میں آدمیوں کے حقوق بھی داخل ہیں تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ غصے والا کوئی شخص نہیں ہوتا تھا۔ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم جب کبھی دو امروں میں اختیار دئیے جاتے تو ہمیشہ سہل کو اختیار فرماتے تاوقتیکہ اس میں کسی قسم کی معصیت وغیرہ نہ ہو ۔

 

حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم دوسرے دن کے لئے کسی چیز کو ذخیرہ بنا کر نہیں رکھتے تھے۔

 

“حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ کسی ضرورت مند نے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ سوال کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ میرے پاس تو اس وقت کچھ موجود نہیں ہے۔ تم میرے نام سے خرید لو جب کچھ آ جائے گا تو میں ادا کر دوں گا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ کے پاس جو کچھ تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم دے چکے ہیں (اور جو چیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قدرت میں نہیں ہے اس کا حق تعالیٰ شانہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مکلف نہیں بنایا۔) حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا یہ مقولہ نا گوار گزرا تو ایک انصاری صحابی رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) جس قدر جی چاہے خرچ کیجئے اور عرش کے مالک سے کمی کا اندیشہ نہ کیجئے (کہ جو ذات پاک عرش بریں کی مالک ہے اس کے یہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دینے کیا کمی ہو سکتی ہے)۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو انصاری کا یہ کہنا بہت پسند آیا اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تبسم فرمایا جس کا اثر چہرہ انور پر ظاہر ہوتا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ حق تعالیٰ شانہ نے مجھے اس کا حکم فرمایا ہے۔”

 

ربیع کہتی ہیں کہ میں ایک طباق کھجوروں کا اور کچھ چھوٹی چھوٹی پتلی پتلی ککڑیاں لے کر حاضر خدمت ہوئی تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اپنا دستِ مبارک بھر کر سونا اور زیور مرحمت فرمایا۔

 

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم ہدیہ قبول فرماتے تھے اور اس پر بدلہ بھی دیا کرتے تھے۔

 

“حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مجھ سے (میرے چھوٹے بھائی) حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے اپنے والد حضرت علی رضی اللہ عنہ سے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنے اہل مجلس کے ساتھ کا طرز پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیشہ خندہ پیشانی اور خوش خلقی کے ساتھ متصف رہتے تھے (یعنی چہرہ انور پر تبسم اور بشاشت کا اثر نمایاں ہوتا تھا) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نرم مزاج تھے (یعنی کسی بات میں لوگوں کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی موافقت کی ضرورت ہوتی تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سہولت سے موافق ہو جاتے تھے) نہ آپ سخت گو تھے اور نہ سخت دل تھے۔ نہ آپ چلا کر بولتے تھے نہ فحش گوئی اور بدکلامی فرماتے تھے نہ عیب گیر تھے کہ دوسروں کے عیوب پکڑیں نہ زیادہ مبالغہ سے تعریف کرنے والے نہ زیادہ مذاق کرنے والے نہ بخیل (تین لفظ) اس جگہ نقل کیے گئے تینوں کا ترجمہ لکھ دیا) آپ صلی اللہ علیہ وسلم ناپسند بات سے اعراض فرماتے تھے۔ یعنی ادھر التفات نہ فرماتے گویا سنی ہی نہیں دوسرے کی کوئی خواہش اگر آپ کو پسند نہ آتی تو اس کو مایوس بھی نہ فرماتے تھے اور اس کا وعدہ بھی نہ فرماتے تھے آپ نے تین باتوں سے اپنے آپ کو بالکل علیحدہ فرما رکھا تھا۔ جھگڑے سے اور تکبر سے اور بیکار بات سے اور تین باتوں سے لوگوں کو بچا رکھا تھا، نہ کسی کی مذمت فرماتے تھے، نہ کسی کو عیب لگاتے تھے، نہ کسی کے عیوب تلاش فرماتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم صرف وہی کلام فرماتے تھے جو باعث اجر وثواب ہو جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم گفتگو فرماتے تو حاضرین مجلس اس طرح گردن جھکا کر بیٹھتے جیسے ان کے سروں پر پرندے بیٹھے ہوں ( کہ ذرا بھی حرکت ان میں ہوتی تھی کہ پرندہ ذرا سی حرکت سے اڑجاتا ہے) جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم چپ ہو جاتے تب وہ حضرات کلام کرتے (یعنی حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی گفتگو کے درمیان کوئی شخص نہ بولتا تھا جو کچھ کہنا ہوتا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے چپ ہونے کے بعد کہتا تھا) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کسی بات میں نزاع نہ کرتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے جب کوئی شخص بات کرتا تو اس کے خاموش ہونے تک سب ساکت رہتے ۔ ہر شخص کی بات (توجہ سے سننے میں) ایسی ہوتی جیسے پہلے شخص کی گفتگو یعنی بے قدری سے کسی کی بات نہیں سنی جاتی تھی، ورنہ عام طور پر یہ ہوتا ہے کہ مجلس کی ابتداء میں تو توجہ تام ہوتی ہے پھر کچھ دیر ہونے سے اکتانا شروع کر دیتے ہیں اور کچھ بے توجہی سی ہو جایا کرتی ہے) جس بات سے سب ہنستے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی تبسم فرماتے اور جس سے سب لوگ تعجب کرتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی تعجب میں شریک رہتے یہ نہیں کہ سب سے الگ چپ چاپ بیٹھے رہیں بلکہ معاشرت اور طرز کلام میں شرکاء مجلس کے شریک حال رہتے) اجنبی مسافر آدمی کی سخت گفتگو اور بے تمیزی کے سوال پر صبر فرماتے (یعنی گاؤں کے لوگ جا بے جا سوالات کرتے آداب کی رعایت نہ کر کے ہر قسم کے سوالات کرتے۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان پر گرفت نہ فرماتے ان پر صبر کرتے) اور اس وجہ سے وہ لوگ ہر قسم کے سوالات کر لیتے تھے۔ بعض صحابہ رضی اللہ عنہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس اقدس تک مسافروں کو لے کر آیا کرتے تھے (تاکہ ان کے ہر قسم کے سوالات سے خود بھی منتفع ہوں اور ایسی باتیں جن کو ادب کی وجہ سے یہ حضرات خود نہ پوچھ سکتے تھے وہ بھی معلوم ہو جائیں) آپ یہ بھی تاکید فرماتے رہتے تھے کہ جب کسی طالب حاجت کو دیکھو تو اس کی امداد کیا کرو ( اگر آپ کی کوئی تعریف کرتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کو گوارا نہ فرماتے البتہ) بطور شکریہ اور ادائے احسان کے کوئی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعریف کرتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سکوت فرماتے۔ یعنی حد سے تجاوز کرتا تو روک دیتے۔ کسی کی گفتگو قطع نہ فرماتے تھے کہ دوسرے کی بات کاٹ کر اپنی شروع نہ فرمائیں ۔ البتہ اگر کوئی حد سے تجاوز لگتا تو اسے روک دیتے تھے یا مجلس سے تشریف لے جاتے تاکہ وہ خود رک جائے ۔”

 

حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی عبادت کا ذکر

 

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم اس درجہ نوافل پڑھا کرتے تھے کہ پاؤں پر ورم ہو جاتا تھا کسی نے عرض کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر اگلے پچھلے سب گناہوں کی معافی کی بشارت نازل ہو چکی ہے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس درجہ کیوں مشقت برداشت فرماتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں شکر گزار بندہ نہ بنوں ؟۔

 

مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم اس قدر لمبی نفلیں پڑھتے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قدم مبارک ورم کر گئے تھے۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس قدر مشقت برداشت کرتے ہیں حالانکہ حق تعالیٰ جل شانہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اول و آخر کے سب گناہ بخش دئیے ہیں ۔ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ( کہ جب حق تعالیٰ جل شانہ نے مجھ پر اتنا انعام فرمایا) تو کیا میں اس کا شکر ادا نہ کروں ؟۔

 

اسود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی رات کی نماز یعنی تہجد اور وتر کے متعلق استفسار کیا کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کا کیا معمول تھا انہوں نے فرمایا کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم (عشاء کی نماز کے بعد) شب کے نصف اول میں استراحت فرماتے تھے اس کے بعد تہجد پڑھتے تھے۔ یہاں تک کہ اخیر شب ہو جاتی تب وتر پڑھتے۔ اس کے بعد اپنے بستر پر تشریف لے آتے۔ اگر رغبت ہوتی تو اہل کے پاس تشریف لے جاتے یعنی صحبت کرتے پھر صبح کی اذان کے بعد فوراً اٹھ کر اگر غسل کی ضرورت ہوتی تو غسل فرماتے ورنہ وضو فرما کر نماز کے لئے تشریف لے جاتے۔

 

“حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں ایک رات (لڑکپن میں) اپنی خالہ حضرت میمونہ (ام المومنین رضی اللہ عنہا) کے یہاں سویا۔ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے اہل تکیہ کے طولانی حصہ پر سر رکھے ہوئے تھے اور میں تکیہ کے چوڑائی پر سر رکھے ہوئے تھا (قاضی عیاض وغیرہ حضرات نے بجائے تکیہ کے بسترے کا ترجمہ فرمایا ہے لیکن جب کہ لفظ کا اصل ترجمہ تکیہ ہی ہے اور تکیہ مراد لینے میں کوئی بُعد بھی نہیں تو پھر بستر مراد لینے کی ضرورت نہیں ہے کہ مثلاً تکیہ لمبائی پر حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم سر مبارک رکھ کر قبلہ کی طرف منہ کر کے لیٹ گئے اور ابن عباس تکیہ کے چوڑان پر سر رکھ کر (یعنی قبلہ کی طرف سر رکھ کر لیٹ گئے ہوں) حضور اقدس صلی اللہ (اپنی اہلیہ سے تھوڑی باتیں فرمانے کے بعد) سو گئے اور تقریباً سو گئے اور تقریباً نصف رات ہونے پر یا اس سے کچھ پہلے بیدار ہوئے اور اپنے چہرہ مبارک پر ہاتھ پھیر کر نیند کے آثار کو دور فرمانے لگے اور پھر سورة آل عمران کے اخیر رکوع ان فی خلق السموات و الارض کو تلاوت فرمایا (علماء کہتے ہیں کہ جاگنے کے بعد تھوڑا سا قرآن شریف پڑھ لینا چاہئے کہ اس سے نشاط پیدا ہوتا ہے اور ان آیات کا پڑھنا مستحب ہے) اس کے بعد مشکیزہ کی طرف جو پانی سے بھرا ہوا لٹک رہا تھا تشریف لے گئے اور اس سے (برتن میں پانی لے کر) وضو کیا اور نماز کی نیت باندھ لی۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں بھی وضو کر کے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے (بائیں جانب) برابر کھڑا ہو گیا، حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے (اس لئے کہ مقتدی کو دائیں جانب کھڑا ہونا چاہئے) میرے سر پر دست مبارک رکھ کر میرا کان مروڑا (تنبیہ کے لئے ایسا کیا ہو اور ایک روایت میں ہے کہ اونگھنے لگا تو حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا کان پکڑا) ایک روایت میں ہے کہ کان پکڑ کر دائیں جانب کو کھینچا تاکہ سنت کے موافق امام کے دائیں جانب کھڑے ہو جائیں پھر حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم دو دو رکعت پڑھتے رہے۔ معن رضی اللہ عنہ جو اس کے راوی ہیں وہ کہتے ہیں کہ چھ مرتبہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے دو دو رکعت پڑھی ہو گی۔ ملا علی قاری نے لکھا ہے کہ امام اعظم ابو حنیفہ رحمة اللہ علیہ کے نزدیک تہجد کی بارہ رکعتیں ہیں) پھر وتر پڑھ کر لیٹ گئے صبح نماز کے لئے جب بلال بلانے آئے تو دو رکعت سنت مختصر قرات سے پڑھ کر صبح کی نماز کے لئے تشریف لے گئے ۔”

 

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ کہتے ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم تہجد (مع وتر کبھی) تیرہ رکعت پڑھا کرتے تھے۔

 

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ جب کبھی کسی عارض کی وجہ سے رات کو تہجد نہیں پڑھ سکتے تھے تو دن میں چاشت کے وقت بارہ رکعتیں پڑھ لیا کرتے تھے۔

 

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ارشاد فرمایا کہ جب رات کو تہجد کے لئے اٹھو تو شروع میں اول دو مختصر رکعتیں پڑھ لو۔

 

حضرت زید بن خالد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے ایک دن یہ ارادہ کیا کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کو آج غور سے دیکھوں گا۔ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مکان یا خیمہ کی چوکھٹ پر سر رکھ کر لیٹ گیا (تاکہ غور سے دیکھتا رہوں) حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے اول دو مختصر رکعتیں پڑھیں ۔ اس کے بعد طویل طویل دو دو رکعتیں پڑھیں (تین دفعہ طول کا لفظ اس کی زیادتی طول بیان کرنے کے لئے فرمایا) پھر ان سے مختصر دو رکعتیں پڑھیں پھر ان سے بھی مختصر دو رکعتیں پڑھیں پھر وتر پڑھے یہ سب تیرہ رکعتیں ہوئی۔

 

ابوسلمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے دریافت کیا کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم رمضان المبارک میں تہجد کی کتنی رکعتیں پڑھتے تھے۔ انہوں نے فرمایا کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رمضان اور غیر رمضان میں گیارہ رکعت سے زیادہ نہیں پڑھتے تھے ( گویا آٹھ رکعت تہجد اور تین رکعت وتر چنانچہ خود اس کی تفصیل فرماتی ہیں) کہ اول چار رکعت پڑھتے تھے یہ نہ پوچھ کہ وہ کتنی طویل ہوتی تھیں اور کس عمدگی کے ساتھ بہترین حالت یعنی خشوع و خضوع سے پڑھی جاتی تھیں اسی طرح پھر چار رکعت اور پڑھتے ان کی بھی لمبائی اور عمدگی کا حال کچھ نہ پوچھ۔ پھر تین رکعات پڑھتے تھے یعنی وتر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم وتر سے پہلے سو جاتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میری آنکھیں سوتی ہیں لیکن دل جاگتا رہتا ہے۔ (یہ انبیاء علیہم السلام کا خاصہ ہے کہ ان کے قلوب جاگتے رہتے ہیں )۔

 

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم رات کو گیارہ رکعت پڑھا کرتے تھے جس میں ایک رکعت وتر ہوتی تھی۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم لیٹتے تو اپنی دائیں کروٹ پر آرام فرماتے۔

 

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رات کو نو رکعات پڑھتے تھے ۔

 

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم ایک رات تہجد میں صرف ایک ہی آیت کا تکرار فرماتے رہے۔

 

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ( زمانہ ضعف میں) نوافل میں قرآن شریف چونکہ زیادہ پڑھتے تھے اس لئے بیٹھ کر تلاوت فرماتے اور رکوع میں تشریف لے جاتے اور کھڑے ہونے کی حالت میں رکوع فرماتے پھر سجدہ کرتے اور اسی طرح دوسری رکعت ادا فرماتے۔

 

عبد اللہ بن شقیق رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے نوافل کے متعلق دریافت کیا انہوں نے فرمایا کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رات کے طویل حصہ میں نوافل کھڑے ہو کر پڑھتے تھے۔ اور طویل حصہ میں نوافل بیٹھ کر پڑھتے تھے۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت شریفہ یہ تھی کہ جب کھڑے ہو کر قرآن مجید پڑھتے تو رکوع وسجود بھی کھڑے ہونے کی حالت میں ادا فرماتے اور جب قرآن مجید بیٹھ کر پڑھتے تو رکوع وسجود بھی بیٹھنے ہی کی حالت میں ادا فرماتے۔

 

حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نوافل بیٹھ کر پڑھتے اور اس میں کوئی سورت پڑھتے تو اس قدر ترتیل سے پڑھتے کہ وہ سورت اپنے سے لمبی سورت سے بھی بڑھ جاتی تھی۔

 

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم وصال کے قریب زمانہ میں اکثر نوافل بیٹھ کر پڑھا کرتے تھے۔

 

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ دو رکعتیں ظہر سے قبل اور دو ظہر کے بعد اور دو مغرب کے بعد اپنے گھر میں اور دو عشاء کے بعد وہ بھی گھر میں پڑھیں ۔

 

ابن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھ سے (میری بہن ام المومنین) حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کہتی تھیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم صبح صادق کے بعد جس وقت مؤذن اذان کہتا ہے اس وقت دو مختصر رکعتیں پڑھا کرتے تھے۔

 

“ابن عمر رضی اللہ عنہ سے ہی یہ مروی ہے کہ میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے آٹھ رکعتیں یاد کی ہیں ۔ دو ظہر سے قبل، دو ظہر کے بعد۔ دو مغرب کے بعد، دو عشاء کے بعد مجھے میری بہن حفصہ رضی اللہ عنہا نے صبح کی دو رکعتوں کی بھی خبر دی ہے جن کو میں نے نہیں دیکھا تھا۔”

 

عبد اللہ بن شقیق رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز (علاوہ فرض) کے متعلق سوال کیا۔ تو انہوں نے دو رکعت ظہر سے قبل اور دو ظہر کے بعد اور دو مغرب کے بعد اور دو عشاء کے بعد اور دو صبح کی نماز سے قبل بتلائیں ۔

 

“عاصم بن ضمرہ کہتے ہیں کہ ہم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز (علاوہ فرض) کے متعلق استفسار کیا۔ جن کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم دن میں پڑھتے تھے (رات کے نوافل) یعنی تہجد وغیرہ ان کو پہلے سے معلوم ہوں گی۔ تہجد کی روایات بالخصوص کثرت سے منقول اور مشہور ہے) حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ تم اس کی طاقت کہاں رکھ سکتے ہو (یعنی جس اہتمام و انتظام اور خشوع و خضوع سے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پڑھتے تھے وہ کہاں ہو سکتا ہے اس سے مقصود تنبیہ تھی کہ محض سوال اور تحقیق سے کیا فائدہ؟ جب تک عمل کی سعی نہ ہو ۔ ہم نے عرض کیا کہ جو طاقت رکھ سکتا ہو گا وہ پڑھے گا۔ اور طاقت نہیں رکھے گا وہ معلوم کر لے گا۔ تاکہ دوسروں کو بتلا سکے اور خود عمل کرنے کی کوشش کرے. اس پر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ صبح کے وقت جب آفتاب آسمان پر اتنا اوپر چڑھ جاتا جتنا اوپر عصر کی نماز کے وقت ہوتا ہے اس وقت حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دو رکعت (صلوة الاشراق) پڑھتے تھے اور جب مشرق کی طرف اس قدر اوپر ہو جاتا جس قدر ظہر کی نماز کے وقت مغرب کی طرف ہوتا ہے، تو اس وقت چار رکعت (چاشت کی نماز جس کا مفصل ذکر دوسرے باب میں آ رہا ہے) پڑھتے تھے۔ ظہر سے قبل چار رکعت پڑھتے تھے اور ظہر کے بعد دو رکعت (یہ چھ رکعتیں سنت مؤکدہ ہیں) اور عصر سے قبل چار رکعت پڑھتے تھے چار رکعت کے درمیان بیٹھ کر ملائکہ مقربین اور انبیاء مومنین پر سلام بھیجتے تھے۔”

 

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ہی مروی ہے کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا گیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اتنی طویل نماز پڑھتے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قدم مبارک ورم کر آتے آپ صلی اللہ سے عرض کیا گیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اتنی طویل نماز پڑھتے ہیں حالانکہ آپ کے سب اگلے اور پچھلے گناہ معاف ہو چکے ہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کیا میں شکر گزار بندہ نہ بنوں ؟۔

 

عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے ایک شب حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اتنا طویل قیام فرمایا کہ میں نے ایک برے کام کا ارادہ کر لیا کسی نے پوچھا کہ کس کام کا ارادہ کر لیا کہنے لگے کہ میں نے ارادہ کیا کہ میں بیٹھ جاؤں اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو تنہا چھوڑ دوں ۔

 

“حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے ایک رات حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی ( بعض روایات میں آیا ہے کہ یہ قصہ رمضان المبارک کی رات کا تھا اس لئے محتمل ہے کہ یہ تہجد کی نماز ہو یا تراویح ہو) حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز شروع فرما کر یہ دعا پڑھی۔ اللہ اکبر ذوالملکوت والجبروت والکبریاء والعظمة (اللہ جل جلالہ عم نو آلہ کی ذات و صفات سب سے برتر ہے وہ ایسی ذات ہے جو بڑی بادشاہت والی ہے۔ بڑے غلبہ والی ہے بڑائی اور بزرگی وعظمت والی ذات ہے) پھر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے (سورہ فاتحہ پڑھ کر) سورہ بقرہ تلاوت فرمائی پھر رکوع کیا۔ یہ رکوع قیام ہی جیسا تھا ( اس کے دو مطلب علماء فرماتے ہیں اور دونوں محتمل ہیں ایک تو یہ کہ رکوع تقریباً اتنا ہی طویل تھا کہ جتنا قیام۔ یعنی اگر قیام مثلاً ایک گھنٹہ کا تھا تو تقریباً ایک ہی گھنٹہ کا رکوع بھی تھا۔ اس قول کے موافق اس حدیث سے یہ مسئلہ ثابت ہوتا ہے کہ اگر رکوع سجدہ نماز میں معمول سے زیادہ لمبا ہو جائے تو نماز ہو جاتی ہے۔ دوسرے یہ کہ جیسے قیام معمول سے زائد تھا۔ ایسے ہی یہ رکوع بھی معمول رکوع سے طویل تھا ۔ اس صورت میں قیام کے ایک گھنٹہ ہونے کی صورت میں رکوع اگر پندرہ منٹ کا بھی ہو گیا تو اس حدیث کا مصداق بن گیا۔ اس قول کے موافق نماز اپنے عام معمول کے موافق رہی یعنی جو رکن لمبا ہوتا ہے جیسا کھڑا ہونا وہ لمبا رہا اور جو مختصر ہوتا تھا جیسے رکوع یا سجدہ وہ مختصر رہا البتہ ہر رکن عام نمازوں کے اعتبار سے بڑھا ہوا تھا۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اس رکوع میں سبحان ربی العظیم سبحان ربی العظیم فرماتے رہتے۔ پھر رکوع سے سر مبارک اٹھا کر کھڑے ہوئے اور یہ کھڑا ہونا بھی رکوع ہی جیسا تھا۔ اس وقت لربی الحمد لربی الحمد فرماتے رہے پھر سجدہ ادا کیا اور وہ سجدہ بھی کھڑے ہونے کے برابر ہی تھا۔ اس میں سبحان ربی الاعلی سبحان ربی الاعلیٰ فرماتے رہے پھر سجدہ سے اٹھ کر بیٹھے یہ بھی سجدہ کی طرح طویل تھا اس میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم رب اغفر لی رب اغفرلی فرماتے رہے۔ غرض سورہ نساء، سورہ مائدہ یا سورہ انعام راوی کو ان اخیر کی دو سورتوں میں شک ہو گیا ہے کہ کونسی تھی لیکن اول کی تین محقق ہیں ۔ غرض تینوں سورتیں وہ اور ان دونوں میں سے ایک سورت یہ چاروں سورتیں تلاوت فرمائیں۔”

 

حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کا ذکر

 

حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جس روز حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے تھے مدینہ کی ہر چیز منور اور روشن بن گئی تھی ( اور جب انوار کی کثرت ہوتی ہے تو اس قسم کی روشنی محسوس بھی ہو جاتی ہے۔ رمضان المبارک کی اندھیری راتوں میں بسا اوقات انوار کی کثرت سے روشنی ہو جاتی ہے اور جس دن حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوا تو مدینہ کی ہر چیز تاریک بن گئی تھی ہم لوگ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد مٹی سے ہاتھ بھی نہ جھاڑنے پائے تھے کہ ہم نے اپنے قلوب میں تغیر پایا تھا۔

 

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ تشریف لائے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشانی مبارک پر بوسہ دیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دونوں بازؤں پر ہاتھ رکھ کر یہ فرمایا ہائے نبی ہائے صفی اور ہائے خلیل۔

 

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتے ہیں کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد تشریف لائے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشانی مبارک کو بوسہ دیا۔

 

حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مجھے جس وقت حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا آخری دیدار نصیب ہوا وہ وقت تھا جب کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مرض الوفات میں دو شنبہ کے روز صبح کی نماز کے وقت دولت کدہ کا پردہ اٹھایا کہ امتیوں کی نماز کا آخری معائنہ فرمالیں ۔ لوگ اس وقت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی اقتداء میں صبح کی نماز ادا کر رہے تھے (صحابہ رضی اللہ عنہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ کر فرطِ خوشی میں پیچھے ہٹنے لگے اس خیال سے کہ شاید آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لاتے ہوں اس لئے کہ اس سے پہلے بھی بیماری کے ایام میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نماز پڑھاتے رہے اور جس وقت حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو افاقہ ہوتا تھا تشریف لا کر جماعت میں شرکت فرماتے تھے) حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اشارہ فرمایا کہ اپنی جگہ کھڑے رہو اور اسی دن وصال ہو گیا۔

 

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ وصال کے وقت میں نے حضور عالی (صلی اللہ علیہ وسلم) کو اپنے سینہ پر سہارا دے رکھا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیشاب کے لئے طشت منگوایا اور پیشاب سے فراغت حاصل کی اور اس کے بعد پھر وصال ہو گیا۔

 

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ وصال کے وقت حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب ایک پیالہ میں پانی رکھا ہوا تھا کہ اس میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بار بار ہاتھ ڈالتے تھے اور چہرہ مبارک پر پھیرتے تھے (کہ یہ شدت حرارت اور گھبراہٹ کے وقت سکون کا سبب ہوتا ہے) اس وقت حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بارگاہ الٰہی میں یہ دعا فرما رہے تھے کہ یا اللہ موت کے شدت پر میری امداد فرما۔

 

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی شدت تکلیف کے بعد اب مجھے کسی شخص کے مرض الموت میں تکلیف نہ ہونے پر رشک نہیں ہوتا۔

 

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال دو شنبہ کے روز ہوا۔

 

امام باقر رحمة اللہ علیہ سے منقول ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال دو شنبہ کے روز ہوا۔ یہ روز اور سہ شنبہ کا روز انتظام میں گزرا اور منگل بدھ کی درمیانی شب میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو قبر شریف میں اتارا گیا۔ سفیان رضی اللہ عنہ جو اس حدیث کے راوی ہیں وہ کہتے ہیں کہ امام باقر رحمة اللہ علیہ کی حدیث میں وہی ہے جو گزرا لیکن اور روایت میں یہ بھی ہے کہ اخیر حصہ شب میں پھاؤڑوں کی آواز آتی تھی۔

 

حضرت ابوسلمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال دو شنبہ کے روز ہوا اور سہ شنبہ کو دفن کئے گئے۔

 

سالم بن عبید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کو مرض الوفات میں بار بار غشی ہوتی تھی اور جب افاقہ ہوتا تو زبان سے یہ نکلتا کہ نماز کا وقت ہو گیا یا نہیں اور نماز کا وقت ہو جانے کا حال معلوم ہونے پر چونکہ مسجد تک تشریف لے جانے کی طاقت نہ تھی اس لئے ارشاد عالی ہوتا کہ بلال رضی اللہ عنہ سے کہو کہ نماز کی تیاری کریں اور صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نماز پڑھائیں ۔ متعدد مرتبہ ایسا ہی ہوا۔ (لیکن ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ طبعی طور پر نرم دل پیدا ہوئے تھے رقت اکثر طاری ہو جاتی تھی اور پھر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کا تعلق ان کی بیٹی حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بھی جانتی تھیں کہ میرے باپ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خالی جگہ نہ دیکھی جائے گی اس لئے) حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے درخواست کی کہ میرا باپ ابوبکر رقیق القلب ہے جب حضور اکرم صلی اللہ کی جگہ پر کھڑے ہو کر نماز پڑھائیں گے تو رونے لگیں گے اور نماز پڑھانے کی طاقت نہیں رکھیں گے اس لئے کسی اور کو فرما دیجئے کہ نماز پڑھائیں اسی طرح حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے متعدد مرتبہ سوال وجواب پر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ تم یوسف علیہ السلام کے قصہ والی عورتیں بننا چاہتی ہو۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہو کہ نماز پڑھائیں ۔

 

حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم جب مرض الوفات کی سخت تکلیف برداشت فرما رہے تھے تو حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا کہ ہائے ابا کی تکلیف! حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ آج کے بعد تیرے باپ پر کچھ تکلیف نہیں رہے گی۔ بے شک آج تیرے باپ پر وہ اٹل چیز اتری ہے یعنی موت جو قیامت تک کبھی کسی سے ٹلنے والی نہیں ۔

 

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جس کے دو بچے ذخیرہ آخرت بن جائیں تو حق تعالیٰ شانہ ان کی بدولت اس کو ضرور جنت میں داخل فرمائیں گے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جس کا ایک ہی بچہ ذخیرہ بنا ہو اس کا کیا حکم ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس کا ایک ہی بچہ چل دیا وہ بھی بخش دیا جائے گا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے پوچھا کہ جس کا ایک بچہ بھی نہ مرا ہو تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ان کے لئے میں ذخیرہ آخرت بنوں گا اس لئے کہ میری وفات کا رنج آل واولاد سب سے زیادہ ہو گا۔

 

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دفن میں صحابہ رضی اللہ عنہم کا اختلاف ہوا ( کسی نے مسجد نبوی کو پسند کیا اور کسی نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہم کے قرب کی وجہ سے بقیع کو کسی کا خیال جد اعلیٰ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے مدفن پر پہنچانے کا ہوا تو کسی کا وطن اصلی مکہ مکرمہ واپس لانے کا ۔ غرض مختلف رائیں ہو رہی تھیں) کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں نے خود حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک بات سنی ہے جو مجھے خوب یاد ہے کہ انبیاء علیہم السلام کا وصال اسی جگہ ہوتا ہے جہاں ان کا پسندیدہ دفن ہو۔ اس لئے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ کے وصال ہی کی جگہ دفن کرنا چاہئے۔

حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی میراث کا ذکر

 

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ میرے وارث دینار اور درہم تقسیم نہ کریں میرے ترکہ سے اہل و عیال کا نفقہ اور میرے عامل کا نفقہ نکالنے کے بعد جو کچھ بچے وہ صدقہ ہے۔

 

“حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا فرماتی ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ دینار چھوڑا نہ درہم، نہ بکری، نہ اونٹ۔ راوی کہتے ہیں کہ مجھے غلام اور باندی کے ذکر میں شک ہو گیا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا نے یہ بھی فرمایا تھا کہ نہ غلام نہ باندی یا نہیں فرمایا۔”

 

عمرو بن الحارث جو ام المومنین حضرت جویریہ رضی اللہ عنہا کے بھائی ہیں کہتے ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ترکہ میں صرف ہتھیار اور اپنی سواری کا خچر اور کچھ حصہ زمین کا چھوڑا تھا اور ان کو بھی صدقہ فرما گئے تھے۔

 

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس تشریف لائیں اور دریافت فرمایا کہ تمہارا کون وارث ہو گا۔ انہوں نے فرمایا کہ میرے اہل و عیال۔ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے پوچھا پھر میں اپنے والد کے متروکہ کی وارث کیوں نہیں بنی۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد کی وجہ سے کہ ہمارا کوئی وارث نہیں ہوتا۔ البتہ (میں وقف کا متولی ہونے کی وجہ سے) جن لوگوں کا روزینہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے مقرر فرما رکھا تھا اس کو میں بھی ادا کروں گا اور جن لوگوں پر حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم خرچ فرمایا کرتے تھے ان پر میں بھی خرچ کروں گا۔

 

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے بھی یہی روایت ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ہمارا کوئی وارث نہیں ہوتا۔ ہم انبیاء علیہ السلام کی جماعت جو مال چھوڑتی ہے وہ صدقہ ہوتا ہے۔

 

مالک بن اوس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا تو ان کے پاس عبدالرحمن بن عوف اور طلحہ اور سعد بن ابی وقاص بھی تشریف لائے۔ (اس کے تھوڑی دیر بعد) حضرت عباس اور حضرت علی رضی اللہ عنہ جھگڑتے ہوئے تشریف لائے۔ عمر رضی اللہ عنہ نے ان سب حضرات کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا کہ اس ذات پاک کی قسم دے کر پوچھتا ہوں جس کے حکم سے زمین و آسمان قائم ہیں کیا تمہیں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد کا علم ہے ہم انبیاء کی جماعت کسی کو اپنا وارث نہیں بناتے جو کچھ ہم ترکہ چھوڑ جاتے ہیں وہ سب صدقہ ہوتا ہے ان سب حضرات نے فرمایا کہ بے شک یہ حضور صلی اللہ وسلم نے فرمایا ہے اس حدیث میں ایک طویل قصہ ہے۔

 

“عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ کہتے ہیں کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جس شخص نے مجھے خواب میں دیکھا، اس نے حقیقتاً مجھ ہی کو دیکھا اس لئے کہ شیطان میری صورت نہیں بنا سکتا۔”

 

ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے بھی آپ کا یہ ارشاد منقول ہے کہ جس نے خواب میں مجھے دیکھا اس نے حقیقتا مجھ ہی کو دیکھا ہے اس لئے کہ شیطان میری صورت نہیں بنا سکتا۔

 

“ابوالبختری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ حضرت عباس رضی اللہ عنہ اور حضرت علی رضی اللہ عنہ دونوں حضرات حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں ان کے پاس تشریف لائے ہر ایک دوسرے پر اعتراض کر رہا تھا اور اس کو انتظام کے ناقابل بتا رہا تھا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اکابر صحابہ حضرت طلحہ، حضرت زبیر، حضرت عبدالرحمن بن عوف، حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہم، ان سب حضرات کو متوجہ فرما کر یہ فرمایا کہ تمہیں خدا کی قسم دے کر پوچھتا ہوں کیا تم سب نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ نہیں سنا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا مال صدقہ ہوتا ہے بجز اس کے جو وہ اپنے اہل کو کھلائے ہم انبیاء علیہ السلام کی جماعت کسی کو اپنا وارث نہیں بناتے۔ اس حدیث میں ایک قصہ ہے۔”

 

حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے کردار کے بارے میں  مختلف روایات

 

“امام محمد باقر رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے کسی نے پوچھا کہ آپ کے یہاں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا بستر کیسا تھا انہوں نے فرمایا کہ چمڑے کا تھا جس کے اندر کھجور کے درخت کی چھال بھری ہوئی تھی ۔ حضرت میں حفصہ رضی اللہ تعالی عنہا سے کسی نے پوچھا کہ آپ کے گھر میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا بستر کیسا تھا انہوں نے بتایا کہ ایک ٹاٹ تھا جس کو دوہرا کر کے ہم حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے نیچے بچھا دیا کرتے تھے ۔ ایک روز مجھے خیال ہوا کہ اس کو چوہرا کر کے بچھا دیا جائے تو زیادہ نرم ہو جائے گا میں نے ایسے ہی بچھا دیا ۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح کو دریافت کیا کہ میرے نیچے رات کو کیا چیز بچھائی تھی ؟میں نے عرض کیا کہ وہی روز مرہ کا بستر تھا رات کو اسے چوہرا کر دیا تھا کہ زیادہ نرم ہو جائے ۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کو پہلے ہی حال پر رہنے دو، اس کی نرمی رات کو مجھے تہجد سے مانع ہوئی۔”

 

حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک درزی نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کی۔ کھانے میں ثرید تھا اور اس پر کدو پڑا ہوا تھا۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو کدو چونکہ مرغوب تھا اس لئے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس پر سے کدو نوش فرمانے لگے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اس کے بعد سے میرے لئے کوئی کھانا تیار نہیں کیا گیا جس میں مجھے کدو ڈلوانے کی قدرت ہو اور کدو اس میں نہ ڈالا گیا ہو۔

 

حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ارشاد فرمایا کہ میری تعریف میں مبالغہ حد سے افزوں نہ کرو جیسے نصاریٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تعریف میں مبالغہ کیا (کہ اللہ کا بیٹا ہی بنا دیا) میں اللہ تعالیٰ کا بندہ ہوں اس لئے مجھے اللہ کا بندہ اور اس کا رسول کہو۔

 

حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ کسی عورت نے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ مجھے کچھ تخلیہ میں عرض کرنا ہے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کسی سڑک کے راستہ پر بیٹھ جائیں وہیں آ کر سن لوں گا۔

 

حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم مریضوں کی عیادت فرماتے تھے جنازوں میں شرکت فرماتے تھے گدھے پر سوار ہو جاتے تھے غلاموں کی دعوت قبول فرما لیتے تھے آپ بنو قریظہ کی لڑائی کے دن ایک گدھے پر سوار تھے جس کی لگام کھجور کے پھرٹوں کی اور کاٹھی بھی اس کی تھی۔

 

حضرت انس رضی اللہ عنہ ہی کہتے ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی جو کی روٹی اور کئی دن کی باسی پرانی چکنائی کی دعوت کی جاتی۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم (اس کو بھی بے تکلف) قبول فرما لیتے ۔ آپ کی ایک زرہ ایک یہودی کے پاس رہن تھی۔ اخیر عمر تک حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس کے چھڑانے کے لائق دام نہیں ہوئے۔

 

حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک پرانے پالان پر حج کیا۔ اس پر ایک کپڑا پڑا ہوا تھا جو چار درہم کا بھی نہیں ہو گا۔ (یہ بھی ممکن ہے کہ اس پر سے مراد حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات والا ہو یعنی آپ معمولی سی چادر اوڑھے ہوئے تھے جو چار درہم کی بھی نہیں تھی بعض فضلائے درس کے نزدیک یہ مطلب زیادہ پسندیدہ ہے۔ لیکن بندہ ناچیز کے نزدیک پہلا مطلب زیادہ راجح ہے اور اس باب کی گیارہویں حدیث اس کی تائید کرتی ہے) اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا مانگ رہے تھے کہ یا اللہ اس حج کو ایسا حج فرمائیو جس میں ریا اور شہرت نہ ہو۔

 

حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ صحابہ رضی اللہ عنہم کے نزدیک حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ محبوب کوئی شخص دنیا میں نہیں تھا اس کے باوجود پھر بھی وہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ کر اس لئے کھڑے نہیں ہوتے تھے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ پسند نہیں تھا۔

 

“حضرت امام حسن رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے ماموں ہند بن ابی ہالہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا وہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حالات اکثر بیان کرتے تھے اور مجھے ان کے سننے کا اشتیاق تھا تو انہوں نے میرے پوچھنے پر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حلیہ شریف کا ذکر فرمایا کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بلند پایہ وبلند مرتبہ تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ انور بدر کی طرح چمکتا تھا اور پورا حلیہ شریف (جیسا کہ شروع کتاب میں پہلے باب کی ساتویں حدیث میں مفصل گزر چکا ہے) بیان فرمایا امام حسن رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے (بعض وجوہ سے) اس حدیث کا امام حسین رضی اللہ عنہ سے ایک عرصہ تک ذکر نہیں کیا۔ ایک عرصہ کے بعد ذکر کیا تو معلوم ہوا کہ وہ مجھ سے پہلے اس حدیث کو سن چکے تھے اور صرف یہی نہیں کہ ماموں جان سے یہ حدیث سن لی ہو بلکہ والد صاحب حضرت علی رضی اللہ عنہ سے حضور اکرم صلی اللہ کے مکان میں تشریف لے جانے اور باہر تشریف لانے اور حضور اکرم صلی اللہ کا طرز وطریقہ بھی معلوم کر چکے تھے ۔ چنانچہ حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ سے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے مکان پر تشریف لے جانے کے حالات دریافت کیے تو آپ نے فرمایا کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم مکان میں تشریف رکھنے کے وقت کو تین حصوں پر منقسم فرماتے تھے۔ ایک حصہ حق تعالیٰ شانہ کی عبادت میں خرچ فرماتے یعنی نماز وغیرہ پڑھتے تھے۔ دوسرا حصہ گھر والوں کے ادائے حقوق میں خرچ فرماتے تھے مثلاً ان سے ہنسنا بولنا بات کرنا ان کے حالات کی تحقیق کرنا تیسرا حصہ خاص اپنی ضروریات راحت و آرام کے لئے رکھتے تھے پھر اس اپنے والے حصہ کو بھی دو حصوں پر اپنے اور لوگوں کے درمیان تقسیم فرما دیتے۔ اس طرح کہ خصوصی حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اس وقت میں داخل ہوتے ان خواص کے ذریعہ سے مضامین عوام تک پہنچتے۔ ان لوگوں سے کسی چیز کو اٹھا کر نہ رکھتے تھے (یعنی نہ دین کے امور میں نہ دنیوی منافع میں ۔ غرض ہر قسم کا نفع بلا دریغ پہنچاتے تھے) امت کے اس حصہ میں آپ کا یہ طرز تھا کہ ان آنے والوں میں اہل فضل یعنی اہل علم وعمل کو حاضری کی اجازت میں ترجیح دیتے تھے۔ اس وقت کو ان کے فضلِ دینی کے لحاظ سے ان پر تقسیم فرماتے تھے بعض آنے والے ایک حاجت لے کر آتے اور بعض حضرات دو دو حاجتیں لے کر حاضر خدمت ہوتے اور بعض حضرات کئی کئی حاجتیں لے کر حاضر ہوتے۔ حضور اکرم صلی اللہ ان کی تمام حاجتیں پوری فرمایا کرتے تھے اور ان کو ایسے امور میں مشغول فرماتے جو خود ان کی اور تمام امت کی اصلاح کے لئے مفید اور کار آمد ہوں مثلاً ان دینی امور کے بارے میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوالات کرنا اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنی طرف سے مناسب امور کی ان کو اطلاع فرمانا اور ان علوم ومعارف کے بعد حضور صلی اللہ علیہ وسلم یہ بھی فرمادیا کرتے تھے کہ جو لوگ یہاں موجود ہیں وہ ان مفید اور ضروری اصلاحی امور کو غائبین تک بھی پہنچا دیں اور نیز یہ بھی ارشاد فرمایا کرتے تھے کہ جو لوگ کسی عذر (پردہ یا دوری یا شرم یا رعب) کی وجہ سے مجھ سے اپنی ضرورتوں کا اظہار نہیں کرسکتے تم لوگ ان کی ضرورتیں مجھ تک پہنچا سکو تو حق تعالیٰ شانہ قیامت کے دن اس شخص کو ثابت قدم رکھیں گے۔ لہٰذا تم لوگ اس میں ضرور کوششیں کیا کرو۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں ضروری اور مفید ہی باتوں کا تذکرہ ہوتا تھا اور ایسے ہی امور کو حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ سے خوشی سے سنتے تھے اس کے علاوہ لایعنی اور فضول باتیں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں نہ ہوتی تھیں۔ صحابہ رضی اللہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں دینی امور کے طالب بن کر حاضر ہوتے تھے اور بلا کچھ چکھے وہاں سے نہیں آتے تھے ( چکھنے سے مراد امور دینیہ کا حاصل کرنا بھی ہوسکتا ہے اور حسی چکھنا بھی مراد ہو سکتا ہے اس لئے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جو کچھ موجود ہوتا اس سے تواضع فرماتے اور خصوصی احباب کا جب مجمع ہوتا ہے تو موجودہ چیز کی تواضع ہوتی ہی ہے) صحابہ کرام حضور اقدس صلی اللہ علی وسلم کی مجلس سے ہدایت اور خیر کے لئے مشعل اور رہنما بن کر نکلتے تھے کہ وہ ان علوم کو حسب ارشاد دوسروں تک پہنچاتے رہتے تھے۔ امام حسین رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے باہر تشریف آوری کے متعلق دریافت کیا تو فرمایا کہ حضور صلی اللہ علیہ ضروری امور کے علاوہ اپنی زبان کو محفوظ رکھتے تھے، فضول تذکروں میں وقت ضائع نہیں فرماتے تھے۔ آنے والوں کی تالیف قلوب فرماتے ان کو مانوس فرماتے۔ متوحش نہیں فرماتے تھے (یعنی تنبیہ وغیرہ میں ایسا طرز اختیار نہ فرماتے جس سے ان کو حاضری میں وحشت ہونے لگے یا ایسے امور ارشاد نہ فرماتے تھے جن کی وجہ سے دین سے نفرت ہونے لگے) ہر قوم کے کریم اور معزز کا اکرام و اعزاز فرماتے اور اس کو خود اپنی طرف بھی اسی قوم پر متولی اور سردار مقرر فرما دیتے لوگوں کو عذاب الٰہی سے ڈراتے ( یا مضر امور سے بچنے کی تاکید فرماتے یا لوگوں کو دوسروں سے احتیاط رکھنے کی تاکید فرماتے) اور خود اپنی بھی لوگوں کے تکلیف پہنچانے یا نقصان پہنچانے سے حفاظت فرماتے لیکن باوجود خود احتیاط رکھنے اور احتیاط کی تاکید کے کسی سے اپنی خندہ پیشانی اور خوش خلقی کو نہیں ہٹاتے تھے۔ اپنے دوستوں کی خبر گیری فرماتے اور لوگوں کے حالات آپس کے معاملات کی تحقیق فرما کر ان کی اصلاح فرماتے اچھی بات کی تحسین فرما کر اس کی تقویت فرماتے اور بری بات کی برائی فرما کر اس کو زائل فرماتے اور روک دیتے، حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہر امر میں اعتدال اور میانہ روی اختیار فرماتے نہ کہ تلون اور گڑبڑ کہ کبھی کچھ فرمادیا اور کبھی کچھ لوگوں کی اصلاح سے غفلت نہ فرماتے تھے کہ مبادہ وہ دین سے غافل ہو جائیں یا کسی امر میں حد سے بڑھ جانے کی وجہ سے دین سے اکتا جائیں (اس لئے حضور اکرم صلی اللہ ان کے حالات سے غفلت نہ فرماتے تھے) ہر کام کے لئے آپ کے یہاں ایک خاص انتظام تھا۔ امرِ حق میں نہ کبھی کوتاہی فرماتے تھے، نہ حد سے تجاوز فرماتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہونے والے خلقت کے بہترین افراد ہوتے تھے۔ آپ کے نزدیک افضل وہی ہوتا تھا جس کی خیر خواہی عام ہو، یعنی ہر شخص کی بھلائی چاہتا ہو آپ کے نزدیک بڑے رتبے والا وہی ہوتا تھا جو مخلوق کی غمگساری اور مدد میں زیادہ حصہ لے۔ حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس کے حالات دریافت کئے تو انہوں نے فرمایا کہ آپ کی نشست وبرخاست سب اللہ کے ذکر کے ساتھ ہوتی تھی اور جب کسی جگہ آپ تشریف لے جاتے تو جہاں جگہ ملتی وہیں تشریف رکھتے اور اسی کا لوگوں کو حکم فرماتے کہ جہاں خالی جگہ مل جائے وہاں بیٹھ جایا کریں ۔ لوگوں کے سروں کو پھلانگ کر آگے نہ جایا کریں یہ امر جدا گانہ ہے کہ جس جگہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم تشریف رکھتے وہی جگہ پھر صدر مجلس بن جاتی، آپ حاضرین مجلس میں سے ہر ایک کا حق ادا فرماتے یعنی بشاشت اور بات چیت میں جتنا اس کا حق ہوتا اس کو پورا فرماتے کہ آپ کے پاس ہر بیٹھنے والا یہ سمجھتا تھا کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرا سب سے زیادہ اکرام فرما رہے ہیں ، جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھتا یا کسی امر میں آپ کی طرف مراجعت کرتا تو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس بیٹھے رہتے یہاں تک کہ وہی خود اٹھنے کی ابتدا کرے۔ جو آپ سے کوئی چیز مانگتا آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کو مرحمت فرماتے یا اگر نہ ہوتی تو نرمی سے جواب فرماتے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خندہ پیشانی اور خوش خلقی تمام لوگوں کے لئے عام تھی، آپ تمام خلقت کے شفقت میں باپ تھے اور تمام خلقت حقوق میں آپ کے نزدیک برابر تھی۔ آپ کی مجلس، مجلس علم وحیا اور صبر وامانت تھی (یعنی یہ چاروں باتیں اس میں حاصل کی جاتی تھیں یا یہ کہ یہ چاروں باتیں اس میں موجود ہوتی تھیں) نہ اس میں شور و شغب ہوتا تھا نہ کسی کی عزت وآبرو اتاری جاتی تھی آپس میں سب برابر شمار کئے جاتے تھے (حسب ونسب کی بڑائی نہ سمجھتے تھے البتہ) ایک دوسرے پر فضیلت تقویٰ سے ہوتی تھی ہر شخص دوسرے کے ساتھ تواضع سے پیش آتا تھا، بڑوں کی تعظیم کرتے تھے، چھوٹوں پر شفقت کرتے تھے، اہل حاجت کو ترجیح دیتے تھے، اجنبی مسافر آدمی کی خبر گیری کرتے تھے۔”

 

حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اگر مجھے بکری کا ایک پیر بھی دیا جائے تو میں قبول کروں گا اور اگر اس کی دعوت کی جائے تو میں ضرور جاؤں گا ۔

 

حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم (میری عیادت کے لئے) تشریف لائے نہ خچر پر سوار تھے نہ ترکی گھوڑے پر (یعنی نہ گھٹیا سواری تھے نہ بڑھیا بلکہ پیادہ تشریف لائے)۔

 

عمرة کہتی ہیں کہ کسی نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم دولت کدہ پر کیا کرتے تھے؟ انہوں نے فرمایا کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم آدمیوں میں سے ایک آدمی تھے اپنے کپڑے میں خود ہی جوں تلاش کر لیتے تھے اور خود ہی بکری کا دودھ نکال لیتے تھے اور اپنے کام خود ہی کر لیتے تھے۔

 

حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے کجاوہ پر حج کیا۔ جس پر ایک کپڑا تھا جس کی قیمت ہمارے خیال میں چار درہم ہو گی۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا کرتے تھے کہ خدایا اس حج کو ریا اور شہرت سے مبرا فرمائیو۔

 

یوسف بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا نام یوسف تجویز فرمایا تھا اور مجھے اپنی گود میں بٹھلایا تھا اور میرے سر پر دستِ مبارک پھیرا تھا۔

 

٭٭٭

 

تشکر: محمد فرقان

ماخذ:

http://esnips.com/web/hadees

ایکسل سے تبدیلی، پروف ریڈنگ اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید