FavoriteLoadingپسندیدہ کتابوں میں شامل کریں

خاکے

اُردو اکیڈمی جدہ

﴿سعودی عرب﴾

کتابت: سید عبد الشکور قادری عمر

 مصحح: سید جمال اللہ قادری

 ناشر: ڈاکٹر اوصاف سعید

 

خاکے

عوض سعید

 قوی مرحوم کے نا م

 

پیشِ لفظ

میرے والد گرامی عوض سعید ایک منفرد افسانہ نگار شاعر اور خاکہ نویس تھے۔ وہ ان چند افسانہ نگاروں میں سے تھے جنہوں نے اردو میں مختصر کہانی  کی سطح کو بلند کیا۔

عوض سعید کا فن جس بات سے سروکار رکھتا ہے وہ ہے انسان کی دنیاوی پوزیشن اور اس کے عمل اور ردّ عمل کو اپنے زاویہ سے دیکھنا۔ یہی ان کے تحریری اسلوب اور ہیئت کا جدید انداز ہے تجربہ ہے۔

 والد ماجد مرحوم کی مختلف تصنیفات میں سے ’’ خاکے‘‘ ایک منفرد نوعیت کی کتاب ہے جس میں اردو شعر و ادب کی چند عظیم شخصیات کے بارے میں بڑے ہی دلچسپ انداز کی تحریر ملتی ہے۔

 مجھے نہایت مسرّت ہو رہی ہے کہ اپنے والد مرحوم کی تصانیف کی دوبارہ اشاعت عمل میں آ رہی ہے۔ اس کی اشاعت کا سہرا میرے ماموں جناب مغنی تبسّم کے سر جاتا ہے جن کا شمار اس وقت اردو کے قدیم اور عظیم ناقدین اور شعراء میں کیا جاتا ہے۔ جناب مغنی تبسّم میرے والد کے برادر نسبتی سے زیادہ ان کے سچّے دوست اور دیرینہ ہمدم و رفیق کار رہے ہیں۔ پیشِ نظر کتاب میں خود جناب مغنی تبسّم پر لکھا ہوا والد صاحب کا خاکہ ان دونوں کے درمیان گہرے دوستانہ مراسم کا غمّاز ہے۔

 میں اردو اکیڈمی جدہ کا ممنون و مشکور ہوں کہ اس کتاب کی تزئین و ترتیب اور کمپیوٹر کے ذریعہ کتابت و طباعت میں معاونت کی۔ اس کتاب کی دوبارہ اشاعت کا مقصد صرف والد مرحوم کی تصنیفات کو زندہ رکھنا اور انہیں خراج عقیدت پیش کرنا ہے۔ لہذا اس کتاب کے ذریعہ ہونے والی آمدنی کو میں اردو اکیڈمی جدہ کی جانب سے سرکاری مدارس کے غریب و نادار طلبہ میں

’’ تقسیمِ یونیفارم ‘‘ کی اسکیم کے لئے وقف کرتا ہوں۔

مجھے امید ہے کہ قارئین کے لئے یہ کتاب نہایت دلچسپ ثابت ہوگی۔

اوصاف سعید

 

خلیل الرحمن اعظمی

عوض سعید

 عوض سعید نہ تو میرا بچپن کا لنگوٹیا یار ہے اور نہ آغاز شباب کی سرمستیوں کا ساتھی لیکن آج سے کئی سال پہلے جب میں نے ’’ادب لطیف ‘‘میں اس کا افسانہ ’’بیدل صاحب‘‘ پڑھا تو ایسا معلوم ہوا کہ یہ شخص اپنے ہی قبیلہ کا ہے۔ مجھے اپنی اس کمزوری کا ہمیشہ سے اعتراف رہا ہے کہ میں اچھے سے اچھا افسانہ پڑھ کر عام طور پر بھول جاتا ہوں۔ پھر اگر کوئی اس کا پلاٹ بتانے لگے اس کے واقعات کو دوہرائے اور اسکے آغاز اور نقطۂ عروج پر روشنی ڈالے تو مجھے ایسا محسوس ہوتا کہ میں یہ کہانی پہلی بار سن رہا ہوں۔ لیکن میری اس کمزوری پر بعض ایسی کہانیاں قابو حاصل کر لیتی ہیں۔ جن میں لکھنے والے نے کسی ایسے کردار کی تخلیق کی ہو جس سے بے اختیار ملنے کو جی چاہنے لگے۔ نہ جانے کیوں مجھے ایسا محسوس ہونے لگتا ہے جیسے یہ کردار میرے آس پاس ہی کہیں موجود ہے اور کسی نہ کسی دن اس سے اچانک ملاقات ہو جائے گی اور یہ ملاقات دوستی میں تبدیل ہو جائے گی۔ نئی پود کے افسانہ نگاروں میں عوض کی اس خصوصیت نے مجھے اس کی طرف کھینچا اور میں اس کے تخلیق کئے ہوئے کرداروں کے ساتھ خود اس کی شخصیت کے تصوّر میں مگن رہنے لگا۔ ایک دن اچانک مجھے معلوم ہوا کہ وہ حیدرآباد چھوڑ کر دہلی آ گیا ہے اور اب مستقل یہیں قیام کرے گا لیکن اس عجیب و غریب شخص نے مجھ سے ملنے کا موقع نکالا بھی تو کب یعنی جب وہ دہلی میں کچھ عرصہ گزار کر اور وہاں کی زندگی سے اکتا کر ہمیشہ کے لیے دکن کی طرف لوٹ رہا تھا۔ پہلی نظر میں اسے دیکھ کر مجھے کچھ دھچکا سا لگا۔ یوں تو اس کے خدوخال کافی تیکھے اور جاذب نظر ہیں اور اسے دیکھ کر تھوڑی دیر کے لیے عظمت اللہ خان کی دلاویز نظم ’’آندھرا دیش کی سندر پتری‘‘ کے بعض مصرعے یاد آنے لگتے ہیں لیکن وہ کچھ ایسا گم سم اور خاموش سا آدمی ہے کہ بالکل مٹی کا مادھو معلوم ہوتا ہے یا ایک ایسے سیاح کی مانند جو کسی اجنبی دیس میں پہنچ گیا ہو جہاں قدم قدم پر زبانِ یار من ترکی کا احساس اسے ستا تا ہو۔ بہر حال اس سوئے ہوے آدمی کو جگانے میں مجھے خاصی دیر لگی۔ لیکن جب چوبیس گھنٹے گزر جانے کے بعد وہ کچھ مانوس سا ہو گیا تو اب اس کی خاموشی بھی خوبصورت معلوم ہونے لگی۔

 عوض کو قریب سے دیکھنے کے بعد میرا کچھ ایسا اندازہ ہے کہ اس کے افسانے عام افسانہ نگاروں کی طرح اس کے تجربات و مشاہدات کا عکس ہی نہیں ہیں بلکہ اس کی شخصیت کی تکمیل بھی کرتے ہیں۔ عوض سعید نام کا جو آدمی ہے وہ ایک ’’ادھوری شخصیت‘‘ ہے۔ اس سے پورے طور پر ملنے کے لیے اس کے تخلیق کئے ہوئے کرداروں کے ساتھ بسر کرنا ہوگا۔ چنانچہ اس کے افسانہ ’’خون صد ہزار انجم‘‘ کا بہاری ’’پہلی تنخواہ کا عبدالصمد کمپوڈر’’ نیکی کا بھوت‘‘ کا وہ کردار جس کا نام اس نے حرامی رکھا ہے ’’ریت کے محل‘‘ کا بدصورت کارٹونسٹ، ’’کوئلہ جل بھئی و راکھ‘‘ کا ٹیوٹر اور ’’کفارہ‘‘ کا ٹرومین یہ سب خود اپنی جگہ پر ایک مستقل کردار اور کسی نہ کسی سماجی قدر کے نمائندہ ہیں۔ لیکن اس کے باوجود عوض سعید نام کے افسانہ نگار کی شخصیت کا پس منظر بھی ہیں۔

 اُردو کے پرانے اور نئی نسل کے بہت سے افسانہ نگاروں کی کہانیاں میرے زیرِ مطالعہ رہی ہیں۔ مجھے کچھ ایسا لگتا ہے کہہ ہمارے بعض فنکار افسانہ نگار سے زیادہ ’’منشی‘‘ اور مضمون نگار‘‘ ہیں۔ کہانیوں سے کاٹ کر کہانی بنانا، واقعات کی کھتولی تیار کرنا، اہم سیاسی اور سماجی مسائل پر واعظانہ قسم کے مکالمے یا تقریریں اپنے افسانوی اشخاص کی زبان سے ادا کرنا، جنسی زندگی کے بارے میں ممنوعہ لٹریچر سے حاصل کی ہوئی معلومات پیش کر کے اس پر کچے ذہن کے نوجوانوں کی طرح للچانا یہ سب ایسی باتیں ہیں جن کی وجہ سے رسالوں میں چھپنے والے افسانوں کا مطالعہ میرے لیے ہمیشہ ایک آزمائش کا مرحلہ رہا ہے۔ کم ہی ایسی کہانیاں ملتی ہیں جنھیں شروع کر دینے کے بعد ختم کرنے کو جی چاہے اور جب ختم ہو جائیں تو اس افسانہ نگار کی دوسری کہانی کا انتظار شروع ہو جائے۔ ایسے افسانہ نگاروں کی ’’ذات‘‘ ممکن ہے قریب سے دیکھنے پر دل چسپ نظر آئے لیکن ان کی تحریریں پڑھ کر ہمیں کسی بھی ’’شخصیت‘‘ کا سراغ نہیں ملتا اور نہ ہی انھیں ڈھونڈنے کو جی چاہتا ہے۔ عوض ایک ایسا افسانہ نگار ہے جس کی کہانیاں پڑھنے والوں کو اسے ڈھونڈنے پر اکساتی ہیں اور جب ملنے پر بھی اس سے ملاقات نا مکمل رہ جاتی ہے تو پھر اس کی تحریروں میں اسے دوبارہ تلاش کرنے کو جی چاہتا ہے۔

 

مخدوم محی الدّین

 یہ غالباً 52ء یا  53ء کے آس پاس کی بات ہو گی میں اور شاذ روز کی طرح گپیں ہانکتے ہوئے رائل ہوٹل سے اپنے گھر لوٹ رہے تھے کہ اچانک ہماری نگاہیں ایک دُبلے پتلے لمبے لمبے بالوں والے آدمی کے چہرے پر آ کر جم سی گئیں۔

 اس کے ارد گرد دو چار آدمی اور بھی تھے۔ پتہ نہیں ہمیں یہ احساس کیوں ہوا کہ ان چار آدمیوں میں سے کوئی ایک مخدوم ضرور ہے۔ اس وقت تک ہم نے مخدوم کی تصویر ضرور دیکھی تھی لیکن ان کی ذات ہمارے لیے بہر حال ایک نایاب سی تھی پھر ایک بار ذہن کی سلیٹ پر یہی احساس اُجاگر ہوا کہ اس ٹولی میں سب سے اچھا ناک نقشہ رکھنے والا آدمی ہی ضرور مخدوم ہے۔

 شاذ نے کہا چہرہ دیکھ کر خوش ہونے سے زیادہ بہتر یہی ہے کہ آگے بڑھ کر اُن سے ہاتھ ملا لیں اور کہیں کہ آپ کے ہزاروں مداحوں میں ہم بھی ایک ہیں۔ ہم نے آگے بڑھ کر فرط احترام سے جس آدمی سے ہاتھ ملایا وہ ہاتھ مخدوم کے نہ تھے سردار سلیم کے تھے جسے غلط فہمی میں ہم دونوں نے مخدوم سمجھ لیا تھا پھر راستہ بھر شاذ مجھ پر کڑھتا ہی رہا کہ تم نے کس آدمی سے مجھے ملوا دیا یہ علیٰحدہ بات ہے کہ آگے چل کر یہی سردار سلیم ہمارا قریبی یار بن گیا لیکن مخدوم سے ملنے کا کوئی موقع ہاتھ نہ آیا۔ جب اریب اور سری نواس لاہوٹی سے جان پہچان بڑھی تو میں نے لاہوٹی سے کہا کبھی ہمارا مخدوم سے تعارف کروا دو۔ ایک دن یہ تمنا بھی لاہوٹی نے پوری کر دی۔

 ’’اِن سے ملو نوجوان افسانہ نگار عوض سعید، ایک نرم اور ملائم ہاتھ آگے بڑھا۔ مجھے لگا جیسے تازہ ہوا کا ایک خوشگوار جھونکا میرے اردگرد کہیں لہرا رہا ہو۔

 میں پہلی ہی ملاقات میں ان کی شخصیت کے طلسم کا اسیر ہو کر رہ گیا۔ پھر میں گھر آنے کی بجائے اریب کی تلاش میں نکل پڑا تا کہ ان کو یہ خوشخبری سنا سکوں کہ میں نے بھی مخدوم کے درشن کیے ہیں۔

 پھر جب اریب ملے تو میں نے کچھ ڈرامائی رنگ دیتے ہوئے مخدوم سے ملنے کی ساری روداد سنا دی۔ اور چلتے چلتے یہ بھی کہا کہ جو کام آپ سے نہ ہو سکا وہ لاہوٹی نے کر دکھایا۔ ’’بھئی تم چاہو تو ہم تمہیں بنّے بھائی سے بھی ملوا دیں۔ لوئی آرگاں پبلو نرودا تو اپنے یار ہی ہیں۔ اسی طرح ملتے رہو تو شاید ان سے بھی ملا دیں۔ ‘‘ میں نے اریب کی شرارت کو بھانپتے ہوے بڑی سادگی سے کہا۔ ذرا دیکھ لیجیے، کہیں یہ لوگ آس پاس ہی نہ ہوں۔ ‘‘

 اریب ہنس پڑے اور آگے نکل گئے۔ میں نے گھر پہنچ کر مخدوم سے ملاقات کا ایک اور خاکہ ذہن میں بنا لیا لیکن مدتوں یہ بات سلام دعا سے آگے نہ بڑھی اور میں دلی چلا گیا۔

 یہ غالباً 1957ء کی بات ہو گی۔ دلی میں فیض کے ساتھ مخدوم کی آمد کے بھی بڑے چرچے تھے۔ ان دنوں دہلی میں ایشین کانفرنس کی تیاریاں بڑے زوروں پر تھیں۔ ڈسمبر کا مہینہ پھر دلی کی بے پناہ سردی لیکن اس کے باوجود ہر با ذوق کے قدم وگیان بھون ہی کی طرف بڑھ رہے تھے۔

 میرے ساتھ جامعہ ملّیہ کے چند طالب علم تھے جن کی خواہش تھی کہ وہ اپنے محبوب شاعر کی بارگاہ میں حاضری دیں اور موقع ملے تو اپنے گھر لے اڑیں۔ اِن دنوں مخدوم سے خود میری واجبی واجبی سی ملاقات تھی چنانچہ وہی ہوا جس کا مجھے خدشہ تھا۔ مشاعرے کی ریل پیل میں اس رات میری ملاقات اُن سے کچھ اتنی سرسری رہی کہ میں ان کے مدّاحوں کے لیے صرف آٹو گراف ہی لے سکا۔ فیض جب ڈائس پر آئے تو اپنے وقت کے ایک مشہور ترقی پسند شاعر نیاز حیدر نے عقیدت مندی کے جذبے سے سرشار آگے بڑھ کر ان کے پیر چھُو لیئے۔ فیض کے شگفتہ چہرے پر اچانک سنجیدگی ہویدا ہو گئی اور سامعین نے پر جوش انداز میں تالیاں بجانا شروع کر دیں اور فیض صاحب کی بیگم ایلیس نے چھوٹے بچے کی طرح ہنسنا شروع کر دیا۔

 جب مشاعرہ شروع ہوا تو سامعین کی زبان پر دو ہی نام تھے۔ فیض اور مخدوم فرمائش کے طومار میں کہیں سے آواز ابھری۔ ’’وہ‘‘

 اور وہ کے ساتھ ہی بعض منچلوں نے بہ اشتیاق کھڑکیوں اور دروازے کی طرف دیکھا مگر دور دور تک وہاں کوئی نہ تھا۔ پھر جب مخدوم نے اپنے سحر آگیں ترنم میں اپنی نظم ’وہ‘‘ سنائی تو کھڑکیوں کی طرف اٹھنے والی للچائی ہوئی نگاہیں شرم و جھینپ کے بوجھ تلے جھُک کر رہ گئیں۔

 پھر مختلف گوشوں سے بیک وقت کئی آوازیں اُٹھیں۔ چارہ گر، چاند تاروں کا بن، انتظار، اور جب وہ فرمائشوں کا احترام کرتے کرتے تھک سے گئے اور رات بھیگنے لگی تو انہوں نے معذرت چاہی مگر دور سے کسی با ذوق منچلے نے پھر ہانک لگائی۔

 ’’آج کی رات نہ جا۔ ‘‘

 بعض لوگ سو سو جتن سے شہرت کے پیچھے بھاگتے ہیں اور شہرت اتنی ہی ان سے پناہ مانگتی ہے لیکن یہ شہرت سے جتنا جی چراتے رہے شہرت کی اپسرا اتنی ہی ان سے ہم آغوش ہوتی رہی۔ چنانچہ اپنی زندگی ہی میں انھوں نے کچھ اتنی شہرت بٹور لی کہ اگر وہ چپ بھی ہو جاتے تو کوئی فرق نہ پڑتا۔

 وہ بورژوا طبقے میں جتنے مقبول اور ہر دل عزیز تھے اتنے ہی نچلے اور متوسط طبقے میں چاہے اور پوجے جاتے تھے۔ طبعاً بڑے سادہ مزاج آدمی تھے۔ چنانچہ جب کبھی ان کی چیزیں رسائل کی زینت بنتی تھیں تو وہ بغیر پرچے کا انتظار کیئے بلا جھجک بک اسٹال جا کر سارے پرچے خرید لیتے۔ ایسے وقت وہ بڑے معصوم لگتے۔ یہ معصومیت ہی در اصل ان کی شخصیت کی سب سے بڑی پہچان تھی۔

 جب تک کوئی خاص واقعہ انھیں Haunt نہ کرتا اس وقت تک وہ اپنے قلم کو جنبش نہ دیتے۔ ایسے وقت کوئی اُن سے نئی نظم کی فرمائش کر بھی لے تو وہ مسکراتے ہوے کہتے۔ ’’میرا حال اس کسان کا سا ہے جس کی فصل بارانِ رحمت پر آس لگائے بیٹھی رہتی ہے مگر کچھ لوگ ہیں جن کے دماغوں میں نل لگے ہوئے ہیں ٹوٹی کھولی اور شعر نکلنے لگے۔

 جب تک میں دہلی میں رہا حیدرآباد کی ادبی فضا سے کٹا کٹا سا رہا۔ اور جب دِلّی کی تیز رفتار زندگی سے اکتا کر دو بارہ میں حیدرآباد آیا تو مخدوم کو زیادہ قریب سے دیکھنے کا موقع ملا۔ ان کے مزاج میں زندہ دلی کوٹ کوٹ کر بھری تھی۔ جب کبھی وہ کسی محفل میں کوئی دلچسپ بات یا لطیفہ سناتے تو محفل زعفران زار  بن جاتی تھی۔ میں نے انہیں کبھی اداس نہیں دیکھا۔ ہر وقت ہونٹوں پر ایک دل فریب مسکراہٹ رقصاں، لگتا تھا جیسے زندگی کے سارے زہر کو انھوں نے چاٹ لیا ہو۔

 ایک دن عابد روڈ پر اچانک ملے تو کہنے لگے، ’’تم تو چھپے رستم نکلے۔ میں نے تمہاری دو ایک چیزیں خاصے اچھے پرچوں میں دیکھی ہیں۔ ‘‘

 ’’کون سے پرچے؟‘‘

 انھوں نے دو ایک ادبی پرچوں کے نام ضرور لیئے لیکن اُن پرچوں میں میری کہانیاں نہیں تھیں۔ شاید حافظہ نے انھیں چکمہ دے دیا ہو۔

 پھر کسی نے مجھے بتایا کہ مخدوم افسانے نہیں پڑھتے۔ کبھی’’ نیا ادب‘‘ میں ایک افسانہ پڑھا تھا اُسی کو آج تک سناتے رہتے ہیں۔

 ایک دن میں اورینٹ میں شاذ کے ساتھ بیٹھا تھا کہ اچانک مخدوم داخل ہوے، اور الٹے پاوں جانے بھی لگے، تو شاذ نے آگے بڑھ کر کہا۔ ’’کم از کم چائے ہی نوش فرمائیے۔ ‘‘

 یہاں نہیں کہیں اور نوش فرمائیں گے۔ در اصل میں یہاں شاہد کو دیکھنے آیا تھا کہہ کر وہ تیزی سے آگے بڑھ گئے۔ شاذ نے میرے قریب آ کر سرگوشی کے انداز میں کہا ’’معاملہ اپنی اپنی صلیبیں اٹھانے کا ہے‘‘۔

 مخدوم صاحب کے ساتھ بیٹھنے کا جو مزہ ہے وہ یہاں کہاں۔ ہم سیدھے جانسن[1] پہنچے اور محبت کے اس خوب صورت پیکر کے ساتھ بیٹھنے کا یہ میرا پہلا موقع تھا۔ وہ آج سُنانے سے زیادہ سُننے کے موڈ میں تھے۔ وہ بڑی دیر تک شاذ کی نظمیں سنتے رہے۔ ہمارے اصرار کے باوجود انھوں نے کچھ نہیں سنایا۔ رخصت ہونے سے قبل میں نے لبرٹی لیتے ہوئے اُن سے پوچھا۔ ’’یہاں یہ بات عام ہے کہ آپ افسانوی ادب نہیں پڑھتے۔ ٬ ‘‘

 ’’یہ تم سے کس نے کہا۔ بھئی ہم افسانے بھی پڑھتے ہیں۔ ’’نیا ادب‘‘ میں، میں نے ایک کہانی پڑھی تھی جو ابھی تک میرے ذہن میں محفوظ ہے۔ ‘‘

 یاروں نے جو کہا تھا وہ کچھ غلط نہ تھا وہ آخر وقت تک اس انداز میں مسکراتے رہے جیسے کہہ رہے ہوں تم نے جو کچھ سنا ہے وہ سب کچھ سچ ہے۔

 ان کی روپوشی اور جیل سے رہائی کے بعد لاہوٹی نے جو مجھے ان سے متعارف کروایا تھا شاذ نے اس سلسلہ کو اور آگے بڑھایا۔ یوں بھی مخدوم کی محبتیں کچھ اس طرح بٹی ہوئی تھیں کہ کچھ پتہ ہی نہ چلتا تھا کہ وہ کسے زیادہ عزیز رکھتے ہیں لیکن یہ ایک حقیقت تھی کہ وہ حیدرآباد کے نوجوان شاعروں میں شاذ ہی کو زیادہ پسند کرتے تھے۔ ویسے میں نے کسی شاعر یا ادیب کی برائی کرتے انھیں کبھی نہیں دیکھا۔ ہنسنے ہنسانے کے موڈ میں ہوں تو وہ علیٰحدہ بات ہے۔

 ایک دن اُردو ہال میں تقریر کرتے ہوے شاذ کا نام لیئے بغیر ایک شعر پڑھا اور کہا ذرا شاعر موصوف کی حالت دیکھیئے اپنی قبر کے آپ ہی مجاور بھی ہیں اور روز صبح اُٹھ کر پابندی سے اسے جھاڑو بھی دیتے ہیں۔ ‘‘ جھاڑو دینے کے منظر کو انھوں نے ہاتھ نچا کر اس طرح بیان کیا کہ ہال میں بیٹھنے والے سب ہی لوگ بے ساختہ ہنس پڑے۔ شاید اس محفل میں شاذ بھی ہوتا تو اپنی بے بسی پر ہنس پڑتا۔

 دراصل مخدوم کی شخصیت کے بانکپن کے سب ہی اسیر تھے۔ یہ نا ممکن تھا کہ کوئی ایک بار ان سے ملے اور دوسری بار ملنے کی تمنا نہ کرے۔

 ایسی پرکشش شخصیت میں نے صرف مخدوم اور اختر الایمان ہی کی دیکھی ہے ویسے شخصیتوں کا موازنہ کوئی ایسی ڈھنگ کی بات بھی نہیں ہے مگر مخدوم سے مل کر ایسا لگتا تھا جیسے ہم آسمان سے اتری ہوئی محبّت کی انجیل سے بغل گیر ہو رہے ہوں۔ محبت کی یہ طہارت ان کی شخصیت ہی میں نہیں ان کی بے شمار نظموں میں بھی جا بجا ملتی ہے۔

 مخدوم محض انقلاب کے داعی ہی نہ تھے، محبت کا سر چشمہ بھی تھے انھیں سمجھنے کے لیے ان کی نظم ’’چارہ گر‘‘ ہی کافی ہے۔

 مخدوم عرب نژاد تھے۔ ان کا خاندانی نام ’’ابو سعید محمد مخدوم محی الدین خدری‘‘ تھا۔ عربوں کی بے پناہ خوبیوں کے ساتھ ان کی ذات میں چند کمزوریاں بھی در آئی تھیں۔ ذہانت، خود داری، حلم، بردباری، ایثار اور قربانی کے جذبے کے ساتھ وہ قدرے غصیلے اور جذباتی بھی تھے۔ ان کے جذباتی ہونے کا عکس جا بجا ان کی پُر جوش تقریروں میں کہیں نہ کہیں عیاں ہو جاتا تھا۔ تنقید سننے یا سہنے کا حوصلہ ان کی ذات میں ذرا کم کم ہی پایا جاتا تھا۔

 وہ پارٹی سے کچھ اتنے جڑے ہوے تھے کہ ذرا بھی کسی نے ایک چبھتا ہوا جملہ کسا وہ آپے سے باہر ہو گئے۔ پھر انھیں لاکھ سمجھائیں وہ اکھڑ سے جاتے تھے۔

 مجھے اورینٹ کی وہ سلگتی شام آج بھی یاد ہے جب انھوں نے غصّہ کے عالم میں اپنے ہی ایک ساتھی کے گال پر طمانچہ جڑ دیا تھا۔

 اس واقعہ سے محفل میں جو بدمزگی پیدا ہوئی تھی اس کی تفصیل یہاں غیر ضروری ہے لیکن مخدوم بہر حال مخدوم تھے۔ انہیں سر آنکھوں پر بٹھانا جیسے سب کا مقدّر بن چکا تھا۔

 مخدوم کی شخصیت کے کئی گوشے ہیں۔ کچھ روشن اور کچھ نیم تاریک۔ ان گوشوں کی تہہ تک پہنچنے کا میں اگر بیڑہ بھی اٹھاؤں تو شاید میرے ہاتھ کچھ نہ لگے۔ بزم سے لے کر رزم تک کی منزلوں میں اگر کسی نے ان کا ساتھ دیا ہو تو ان میں سب سے نمایاں نام راج بہادر گوڑ ہی کا ہے۔ مخدوم پر لکھنے کا صحیح حق تو کچھ وہی اداکرسکتے ہیں۔ اس حق کا استعمال زینت ساجدہ نے ’’من ترا حاجی بگوئم‘‘ میں بڑی خوبصورتی سے کیا ہے۔ ویسے مخدوم کے قریبی یاروں میں کبھی ظفرالحسن بھی تھے مگر پتہ نہیں مخدوم پر لکھے ہوے ان کے خاکہ نے مجھے متاثر کیوں نہیں کیا۔

 شاید آپ کو یقین نہ ہو مخدوم نے کبھی کوئی غیر مطبوعہ چیز نہیں لکھی، خواہ وہ نظم ہو یا غزل۔ وہ کب اور کس طرح لوگوں کے دلوں کو چھوتی ہوئی ہند و پاک کی سرحدوں کو پار کر جاتی تھی یہ کوئی نہیں بتا سکتا۔

 مخدوم نے پہلے سامع کی قدر کی اور بعد میں قاری کی۔ خواہ وہ سنٹرل جیل کا چوکیدار عمر خاں ہو یا عزیزیہ ہوٹل کا کراری آواز والا یعقوب۔ اورینٹ کا متّو سوامی ہو یا جانسن کا کوئی بیرہ۔ گو مخدوم نے اپنی ان کمزوریوں کو خوب صورت لطیفوں کا روپ دے دیا تھا۔ لیکن لطیفوں کی اس تہہ میں چھپے ہوئے مخدوم یہی نہیں کچھ اور بھی تھے۔ میں نے انہیں لطیفے سناتے ہوے بھی کبھی کبھی سوچ کی گہری وادیوں میں گم ہوتے دیکھا ہے۔ مجھے یاد ہے جب ان کا لاڈلا بیٹا نصرت ان سے اجازت لیئے بغیر کچھ مدت کے لیے کہیں غائب ہو گیا تھا، تو وہ بڑے آزردہ خاطر تھے۔ اُسے ڈانٹا ڈپٹا نہیں بلکہ پیار سے لپٹا لیا۔ میں سمجھتا ہوں کمزور لمحوں میں کبھی مخدوم نے کسی کو ڈانٹا بھی ہو تو اسی طرح گلے بھی لگایا ہو گا۔ مگر کون جانے

 مخدوم کی پہلو دار شخصیت کا عکس ان کی ذات سے قطع نظر ان کی شاعری میں بھی ملتا ہے۔ میں سرور صاحب کے اس جُملے سے پوری طرح متفق ہوں کہ ’’ایک سرگرم سیاسی کارکن ہونے اور ایک خاص سیاسی فلسفے میں ایمان رکھنے کے ساتھ ساتھ مخدوم نے شاعری اور سیاست کے علیٰحدہ علیٰحدہ رول کو ملحوظ رکھا ہے یہی وجہ ہے کہ ان کی شاعری میں حسن بھی ہے اور اثر بھی۔ ‘‘

 یہ بات تو رہی سرور صاحب کی مگر یہاں تو مجھے ان یادوں کوسمیٹنا ہے جو مخدوم کے گزر جانے کے بعد میرے لیے ہی نہیں ان کے ہزاروں چاہنے والوں کے لیے ایک قیمتی اثاثہ بن چکی ہیں۔

 مخدوم کے بارے میں، میں نے یہ بات سُن رکھی تھی کہ وہ کسی کی سفارش نہیں کرتے۔ اور کبھی مجبوراً کرتے بھی ہیں تو اس طرح کہ سفارش کروانے والا اپنا سرپیٹ کر رہ جائے۔ یا پھر زندگی بھر سفارش کا نام نہ لے۔

 اریب سنایا کرتے تھے کہ ایک صاحب سفارش کے سلسلہ میں جب ان سے رجوع ہوے تو انھوں نے ٹالنے کی مقدور بھر کوشش کی جب بات بنتی نظر نہ آئی تو ان کے ساتھ اچانک ہو لیئے اور کہا۔ ’’چلو آج تمہاری سفارش ہی سے نمٹ لیں۔ ‘‘ ایک آفس میں داخل ہوے تو آفیسر نے معذرت کے لہجے میں کہا۔ ’’مخدوم صاحب آپ تو جانتے ہی ہیں یہاں کوئی پوسٹ خالی نہیں ہے۔ ‘‘

 مخدوم نے جواباً کہا۔ ’’میں نے بھی ان سے یہی کہا تھا کہ یہاں کوئی پوسٹ خالی نہیں ہے۔ مگر یہ مانتے ہی نہیں ‘‘

 اس دل چسپ واقعہ کو سننے کے بعد میرے دل میں مخدوم سے جو سفارش کروانے کی خواہش تھی وہ دب کر رہ گئی۔ دراصل مجھے ذاتی مکان کی ضرورت تھی۔ میں نے اریب جیسے لا ابالی آدمی کو مخدوم کے ذریعہ وجئے نگر کالونی میں مکان حاصل کرتے دیکھا تو یہ خواہش پھر سے ابھرنے لگی۔ پھر جیلانی صاحب نے ایک دن سرگوشی میں کہا ’’میرا یہ مکان بھی مخدوم صاحب ہی نے دلوایا تھا۔ ‘‘

 ان دنوں مکانوں کی قیمتیں گری ہوئی تھیں تھوڑا بہت اثاثہ رکھنے والا آدمی بھی اقساط پر کالونی میں مکان خرید سکتا تھا۔

 مخدوم سے ملنے سے پہلے میں نے اُن سے وقت لے رکھا تھا۔ مجھے یاد ہے انھوں نے کہا تھا میں بڑا سحر خیز ہوں۔ زیادہ سے زیادہ تمہیں ساڑھے  سات تک ایم ایلز کوارٹرس آنا ہو گا۔ ‘‘ لیکن میں نے آنے کی غایت نہیں بتائی کچھ اس ڈر سے بھی کہ کہیں یہ سڑک ہی پر میرا کام چلتا نہ کر دیں۔

 پروگرام کے مطابق صبح ہی صبح میں نے اور فاطمہ نے جب ان کے گھر دستک دی تو وہ اخبار بینی میں غرق تھے۔ جوں ہی ہمیں آتے دیکھا۔ مُسکراتے ہوے کہا۔

 ’’آؤ آؤ مجھ سے کوئی خاص کام معلوم ہوتا ہے، تب ہی تو میاں بیوی ایک ساتھ آئے ہیں۔ ‘‘ قبل اس کے کہ میں اپنی بات چھیڑتا درمیان میں چائے آ گئی۔

 چائے پیتے پیتے انھوں نے فاطمہ سے مخاطب ہو کر کہا۔ ’’اِن دنوں تمہاری صحت کیسی ہے؟

 ’’ٹھیک ہے۔ ‘‘

 ’’کیا ٹھیک ہے تم مجھے اینیمک سی لگ رہی ہو۔ کسی اچھے ڈاکٹر کو فوری بتاؤ۔ یہ مولانا آخر کیا کرتے ہیں۔ ‘‘

 ’’موجودہ ڈاکٹر نے تو یہ بات نہیں کہی۔ ‘‘ میں نے دبے لہجے میں کہا۔

 ’’پھر تو وہ سرے سے ڈاکٹر ہی نہ ہو گا۔ ‘‘ مخدوم نے بڑے اعتماد سے کہا۔

 اصل موضوع درمیان ہی میں کہیں پھنس کر رہ گیا تو میں نے مکان کی بات چھیڑ دی۔ فاطمہ نے بھی درمیان میں ایک لقمہ دیا، ’’سنا ہے کہ آپ نے اریب صاحب کو بھی مکان دلوایا تھا۔ ‘‘

 ’’مگر تم لوگوں نے بہت دیر کر دی، اریب ہی کیا میں نے بہت سے قریبی لوگوں سے کہا تھا کہ قسطوں ہی پر سہی کسی نہ کسی طرح مکان خرید لو مگر ان لوگوں کے کان پر جوں تک نہ رینگی۔ اب تو کچھ ہونے سے رہا۔ بہر حال ان حضرت نے بڑی دیر کر دی۔ تم گھر جا کر ان کی گوش مالی ضرور کرنا۔ ‘‘

 ع اس سے ملنے اس کے گھر بے کار گئے

کا احساس لیے میں گھر لوٹ آیا۔

 ان ہی دنوں کسی مشاعرے کے سلسلہ میں اپنا یار زبیر بھی آیا ہوا تھا۔ میں نے اُسے رات کے کھانے پر بلوایا تھا کہ اسی بہانے کچھ گپ شپ ہو سکے۔ زبیر کو اپنے ساتھ لانے کی ذمہ داری میں نے شاذ کو سونپ رکھی تھی۔ آٹھ بجے یہ لوگ میرے مکان پر آنے والے تھے، جب ۱۲  بج گئے تو میں نے دل ہی دل میں زبیر اور شاذ کو گالیاں دیں۔ ٹیبل پر رکھی ہوئی چیزیں ٹھنڈی ہو چکی تھیں۔ پھر اچانک ہی کسی نے دروازہ کھٹکھٹایا۔ میں سمجھ گیا کہ یہ شاذ ہوگا یا پھر زبیر۔ میرا خیال ٹھیک ہی نکلا۔ لیکن اچانک مخدوم، شاہد صدیقی، اریب، لاہوٹی اور راہی معصوم رضا کو ایک ساتھ دیکھ کر وہ ساری کوفت جاتی رہی۔

 وہ سب کھا پی کر آئے تھے۔ تکلفاً انھوں نے دو ایک چیزیں چکھیں پھر گھر ہی پر شعری محفل اس طرح سجی کہ اس کی مہک آج تک میرے ذہن میں محفوظ ہے۔

 مخدوم کی شخصیت ہی کچھ ایسی تھی کہ حیدرآباد کے سارے شاعران کے آگے پیچھے رہا کرتے تھے۔ یہاں تک کہ مشاعرے کے منتظمین بھی انہیں بلوانے سے پہلے پڑھنے والوں کی فہرست ان کے سامنے رکھ دیا کرتے تھے۔ کانٹ چھانٹ کا حق صرف مخدوم ہی کو تھا۔ ایسے میں کوئی نوجوان شاعر آ دھمکتا تو وہ بڑی شوخی سے اسے چھیڑتے ہوے کہتے۔ ’’دیکھوں اس لمبی فہرست میں تمہارا نام بھی کہیں ہے کہ نہیں۔ ‘‘ تلاش بسیار کے بعد جب وہ مایوسی سے اپنا سر ہلاتا تو وہ کہتے۔ کوئی بات نہیں آئندہ ضرور رہے گا۔ ‘‘

 جب لمبی فہرست کا قد بونوں جیسا ہو کر رہ جاتا تو وہ مسکراتے ہوے کہتے۔

 ’’مختصر مفید‘‘

 دوسری طرف مختصر فہرست کو اس طرح لمبی کر دیتے کہ سننے والوں کو ایک طویل مسافت طئے کرنے کا احساس ہوتا۔ اس لمبی فہرست کی تیاری کے اسباب کا پتہ اس وقت چلتا جب وہ اریب سے کہتے۔ ’’پتہ نہیں تم نے کن کن شاعروں کی سفارش کر دی تھی کہ بے چارے سب ہی ہوٹ ہو کر رہ گئے۔ ‘‘ شاہد صدیقی کہیں قریب ہی سے جواب دیتے۔ ’’کسی شاعر کے لیے خواہ مخواہ ہوٹ ہو جانا بھی بڑے ظرف کی بات ہے۔ پتہ نہیں اس ظرف کے مظاہرے میں آج سارے نوجوان کیوں پیش پیش رہے۔ ‘‘ لیکن شاذ تو کامیاب رہا۔

 مخدوم کا شروع ہی سے یہ وطیرہ رہا ہے کہ وہ اپنے آنے جانے کا حساب ذہن کی ڈائری میں محفوظ کر لیا کرتے تھے۔ کب کہاں اور کتنی دیر انھیں ٹھہرنا ہو گا وہ وہاں اتنی ہی دیر ٹھہرتے، پتہ نہیں اس میں ان کے مزاج کی سیما بیت کا دخل تھا یا کچھ اور۔ کبھی کبھی ایسا لگتا جیسے وہ ہوا کے دوش پر اُڑے جا رہے ہوں اور مزے کی بات تو یہ تھی کہ وہ ہر روپ میں بڑے تیکھے اور انوکھے سے آدمی لگتے تھے۔

 بہت پرانی بات ہے۔ مخدوم باہر کے ایک طویل سفر سے تازہ تازہ لوٹے تھے۔ اُردو ہال میں ایک شان دار مشاعرہ تھا۔ ان ہی دنوں مغنی کی بہن صدیقہ شبنم بھی لندن سے یہاں آئی ہوئی تھیں۔ وہ اس سنہری موقع کو گنوانا نہیں چاہتی تھیں جس میں مخدوم بھی شامل ہوں۔

 مغنی نے صدیقہ کے اشتیاق کو بھانپتے ہوے جب اُن سے تعارف کروایا تو ساتھ ساتھ یہ بھی کہا کہ یہ شعر بھی کہتی ہیں بس اتنا کہنا تھا کہ مخدوم نے شاعروں کی فہرست میں صدیقہ کا نام بھی جڑوا دیا۔

 تعارف کے بعد جب صدیقہ نے ڈرتے ڈرتے اپنی نئی غزل سُنائی تو کئی با ذوق حضرات نے اسے سراہا اور بھرپور داد دی۔

 مخدوم اس بات پر خوش تھے کہ صدیقہ نے اچھی غزل سنا کر ان کے انتخاب کی لاج رکھ لی۔

 پھر وہ جب بھی ملتے تو کہتے۔ ’’صدیقہ سے کہو وہ اسی طرح شعر کہتی رہے۔ وہ شعری رموز سے بھی واقف ہے اور خوش لحن بھی۔ ‘‘

 مخدوم کی برسوں پہلے کہی ہوئی وہ بات کچھ غلط بھی ثابت نہیں ہوئی۔ صدیقہ شبنم کا شعری مجموعہ اب نکلنے ہی کو ہے۔

 مخدوم زیادہ تر اریب ہی کے گھر آیا جایا کرتے تھے۔ بشرطیکہ انہیں فرصت ہی فرصت ہو۔ ویسے وہ بڑے مصروف آدمی تھے۔ ایک دن میں اریب کے گھر گیا تو میں نے انہیں گھر سے بہت دُور ایک بڑے پتھر پر بیٹھا دیکھا، مجھے گمان گزرا کہ یہ اریب نہیں کوئی اور ہوگا لیکن صفیہ نے مجھے بتایا کہ وہ اریب ہی ہے جس سے ملنے تم آئے ہو۔ میرے چہرے کی حیرانی کو صفیہ نے بھانپتے ہوے کہا۔ ’’کوئی خاص بات نہیں یہ بھی موصوف کی ایک ادا ہے۔ تم جا کر انہیں یہاں لے آؤ ‘‘۔

 میں نے قریب پہنچ کر انھیں اپنے گھر نہیں خود ان کے گھر آنے کی دعوت دی تو وہ شُش شش کہہ کر چپ ہو گئے۔ لگتا تھا جیسے دن ہی سے چڑھا رکھی ہو۔

 لیکن جب مخدوم صفیہ کے گھر پہنچے تو صفیہ نے ہنستے ہنستے ساری روداد سنا دی۔

 ’’عوض بے چارہ تو مُنہ لٹکائے ابھی ابھی واپس آیا ہے۔ ‘‘۔ ذرا آپ ہی جا کر اریب کو منا لائیے۔

 ’’اچھا تو پھر ہم ہی ان کی گوشمالی کرتے ہیں۔ ‘‘ یہ کہہ کر وہ تیزی سے اریب کے قریب پہنچے۔ چند لمحوں بعد میں نے دیکھا مخدوم آگے آگے چل رہے تھے۔ اور پیچھے پیچھے اریب۔

 اور جب انھوں نے آخری بار اپنی دھرتی کو خدا حافظ کہا تو اب بھی آگے آگے وہی تھے اور ان کے پیچھے ہزاروں سوگواروں کا ایک لمبا قافلہ۔

 

ابراہیم جلیس

 بعض شخصیتیں ایسی ہوتی ہیں جن کے پیچھے ایک تاریخ ہوتی ہے۔ ابراہیم جلیس ان ہی میں سے ایک تھے۔ اس تاریخ ساز شخصیت کے ہر بُنِ مو کا احاطہ دہی لوگ کر سکتے ہیں جنہیں ان کے قرب کی دولت میسر ہوئی ہو۔ میرے لیے تو ابراہیم جلیس کی صرف دو ملاقاتیں ہی سرمایہ ہیں۔ مجھے سنہ اور تاریخ ٹھیک طرح یاد نہیں۔ غالباً ٤٨    اور ٥٠   کے درمیان شاذ کے ساتھ پہلی بار جلیس سے ملنے کا اتفاق ہوا تھا۔ یہ اس وقت کی بات ہے جب ہم ہائی اسکول کے طالب علم تھے۔ فصیح الدین اکثر ان کے سر پر سوار رہتے اور کسی نا کسی طرح ’’پرچم‘‘ کے لیے جلیس سے مضمون لکھوا لیتے۔

 دوسری طرف نقوش، ساقی، ہمایوں، ادبی دنیا، نیا دور اور ادب لطیف میں ابراہیم جلیس چھائے ہوے رہتے۔ دراصل جلیس ’’زرد چہرے‘‘ کی اشاعت ہی سے شہرت پا چکے تھے۔ اور مقبولیت میں کسی طرح کرشن چندر سے کم نہ تھے۔ پھر چور بازار، تکونہ دیس دو ملک ایک کہانی نے انہیں لازوال شہرت بخشی، جلیس کے ہزاروں مداحوں میں ہم بھی تھے۔ اس لیے ہماری عین خواہش تھی کہ کسی نہ کسی طرح اس قد آور ادیب سے ملا جائے۔

 اس زمانے میں ہمارے ایک ساتھی فضل اللہ ہوا کرتے تھے۔ وہ بھی جلیس کے بڑے مداحوں میں سے تھے۔ ہم نے جب ان سے رجوع کیا تو انہوں نے ہم سے وہ کاپیاں طلب کین جن میں ہمارے چند مزاحیہ مضامین بکھرے پڑے تھے تاکہ وہ جلیس کو دکھا سکیں کہ ہم لوگوں کو آگے لکھنا بھی چاہیے یا

 شاذ اس وقت اپنے احباب کے لیے مزاح نگار مصلح الدین تھے۔ شاعر نہیں تھے۔ میرا کل اثاثہ ایک کہانی دو مزاحیہ مضامین تھے جس کے بل بوتے پر میں پکی روشنائی سے اپنا نام لکھوانا چاہتا تھا۔ فضل صاحب نے ایک دن یہ کہہ کر ہم سے کاپیاں لے لیں کہ ملاقات تو بعد میں بھی ہو سکتی ہے لیکن جلیس کی رائے ہم نوداردانِ بساطِ ادب کے لیے ضروری ہے۔ کاپیاں ان کے حوالے کر دی گئیں۔ لیکن عرصہ دراز تک ہمارے کانوں میں ذرا سے ردّ و بدل کے ساتھ یہی بات سنائی دیتی رہی کہ امروز فردا میں کاپیاں رائے کے ساتھ واپس کر دی جائیں گی۔ اور آخر ایک دن کاپیاں واپس آ گئیں۔ اس میں جلیس کی رائے درج نہ تھی۔ جو چیزیں انھیں پسند آئی تھیں اس پر انھوں نے رائٹ کا نشان لگا دیا تھا۔ زیادہ نشانات شاذ کے حصّے میں آئے تھے۔ میرے حصّے میں ایک نشان آیا تھا جو میری کہانی کے سرپر منڈلا رہا تھا۔

 ہمیں یہ بھی شک تھا کہ کہیں فضل صاحب نے یہ حرکت نہ کی ہو۔ اس لیے ہم نے جلیس سے ملنے کی ٹھان لی۔ ایک دن ’’نظامیہ رستوران‘‘ پہنچے تو جلیس اپنے مداحوں میں گھرے ہوے چہک رہے تھے۔ مجھے یاد ہے شاذ نے بیرے کے ہاتھ میں ایک چٹّھی تھما دی اور اشارہ سے بیرے کو سمجھا دیا تھا کہ جلیس تک یہ چٹّھی پہنچا دے۔

 تاجدار قلم ابراہیم جلیس۔

 ’’ہم لوگ آپ سے ملنے کے مشتاق ہیں۔ پانچ منٹ کے لیے زحمت کیجیے۔ ‘‘

 شاذ نے غالباً کچھ اس طرح کی عبارت لکھی تھی۔ چٹّھی ملتے ہی وہ فوری ہماری طرف آئے۔ اور مسکراتے ہوۓ کہا۔ ’’بھئی آپ لوگوں نے یہ تاجدار قلم کیا لکھ دیا۔ ‘‘

 جب ہم لوگوں نے کاپیوں پر لگائے ہوے نشانات کی تشریح چاہی تو انھوں نے قدرے رکتے ہوے مجھ سے کہا کہ ’’آپ افسانے لکھیئے اور شاذ سے کہا کہ وہ مزاح میں اپنا زور آزمائیں۔

 شاذ مزاح نگار بنتے بنتے رہ گئے اور آگے چل کر شاعر بن گئے۔ اور میں نے افسانہ نگاری شروع کر دی جو اب تک جاری ہے۔ جلیس کی نظامیہ والی وہ ملاقات آج تک میرے ذہن میں محفوظ ہے۔

 غالباً 1962ء میں وہ پاکستان سے حیدرآباد آئے تھے۔ معین فاروقی نے ان کے اعزاز میں ایک دعوت کی تھی۔ فاروقی نے میرا تعارف کراتے ہوے کہا۔

 ’’یہ میرے دوست عوض سعید ہیں____‘‘

 ’’افسانہ نگار عوض سعید‘‘ جلیس نے اس طرح کہا جیسے میرا نام اب ان کے لیے نیا نہیں رہا۔

 میں خوش ہو گیا کہ جلیس کو کم از کم میرا نام یاد ہے۔

 آج ابراہیم جلیس ہم میں نہیں رہے لیکن مجھے احساس ہو رہا ہے کہ میرے ہاتھ میں ایک کاپی آج بھی ہے جس پر خلوص سے نشان لگانے والا کوئی نہیں۔

**

 

خورشید احمد جامی

 کچھ برس ادھر کی بات ہے۔ ہوٹل کے ایک گوشہ میں بھانت بھانت کے لوگوں کے درمیان چھریرے بدن کا ایک سانولا سا آدمی ہاتھوں کو نچاتا ہوا کسی ادبی شخصیت کو مذاق کا ہدف بنا رہا تھا۔ اس کے چہرے پر زمانے کے نشیب و فراز کی ایک کہنہ تاریخ درج تھی۔

 وہ عجیب و غریب انداز میں ہنس رہا تھا اور اس کے تتّبع میں سامنے بیٹھے ہوے اس کے شاگرد بھی بے پناہ انداز میں قہقہے لگا رہے تھے۔ جب کھنکتے ہوے قہقہے آہستہ آہستہ کھوکھلے ہونے لگے تو اس نے شیروانی کی نچلی جیب میں بڑے ہی پُر اسرار انداز میں ہاتھ ڈالا۔ پھر فاتحانہ انداز میں ادھر ادھر نظریں دوڑائیں اور دیکھتے ہی دیکھتے ٹیبل پر کاغذوں کا ایک پلندہ آ گیا۔ پہلے تو میں سمجھا کہ یہ شخص کچھ کرتب دکھائے گا۔ یا پھر غزلیں سنائے گا مگر اس نے نہ کوئی کرتب ہی دکھا یا اور نہ غزلیں ہی سنائیں۔ اس نے پلندہ میں سے ایک پرچی بڑی ہی احتیاط سے نکالی اور سامنے بیٹھے ہوے ’’چہیتوں‘‘ کے ہاتھ میں تھما دی۔

 جب یہ تماشہ ختم ہوا تو میں نے آگے بڑھ کر اسے اپنے وجود کا احساس دلایا۔

 ’’میں اگر بھول نہیں رہا ہوں تو آپ ہی کو ‘‘

 میرے ادھورے جملے کو اس نے ایک Adjective لگا کر اس انداز سے پورا کیا کہ میں اُس کی زندہ دلی کا قائل ہو کر رہ گیا۔

 پھر اس نے بیرے کو اشارے سے دو چائے کا آرڈر دیا۔ بیرے نے خلافِ توقع کمزور آواز میں ہانک لگائی اور اپنی میلی بوسیدہ ڈائری میں ٢٥ کا بڑا ہندسہ نوٹ کر کے نیچے ایک لمبی لکیر کھینچ دی۔

 اس نے اپنے احباب سمیت صبح سے دو پہر تک کچھ اتنی چائے پی لی تھی کہ بیرے نے اپنے حافظہ پر بھروسہ نہ کرتے ہوے احتیاطاً چائے کی پیالیوں کی تعداد اور قیمت غالباً درج کر لی تھی۔

 وہ چائے کی چسکیاں لیتا ہوا باتوں میں مشغول ہو گیا۔ میں نے ایک غزل گو شاعر کی تعریف کرتے ہوے اس کی رائے بھی دریافت کی۔

 اب اس کا go سر چڑھ کر بول رہا تھا۔ ’’کیا کہہ رہے ہیں آپ، غزل ان کے باپ نے بھی نہ کہی ہو گی۔ وہ کیا کہیں گے۔

 غزل ________ ہیں ہیں  (منھ سے نکلتی ہوئی سرسراہٹ﴾ غزل تو اب دربدر کی ٹھوکریں کھا کر ایک ایسی ہتھنی بن گئی ہے جو بغیر آنکس کے دو قدم چل بھی نہیں سکتی۔ ‘‘ یہ کہہ کر اس نے غصّے کے عالم میں مجھے اپنی چند غزلیں سنائیں جو اتنی خوب صورت اور بھر پور تھیں کہ جی چاہتا تھا کہ اس سے غزلیں ہی سنتے رہیں۔ لیکن وہ داد و تحسین سے بے نیاز ابھی تک اس شاعر کے پیچھے پڑا ہوا تھا جس کا ذکر تھوڑی دیر پہلے میں نے اس سے کیا تھا۔

 میں نے جب اپنے سر پر ڈولتے ہوے Fan کو اچانک بند ہوتے ہوے دیکھا تو میں نے بیرے کو آواز دینے کی کوشش کی لیکن اس نے ہاتھ کے اشارے سے مجھے روک دیا۔

 ’’یہ سالے سب بدتمیز ہیں۔ یہ شاعر کا احترام کیا جانیں۔ چلو کسی دوسرے رستوران میں جگہ دیکھیں۔ ‘‘

 مختلف ہوٹلوں کا چکّر کاٹتے کاٹتے جب میں گھر پہنچا تو آدھی رات گزر چکی تھی اس پہلی ’’ہوش ربا‘‘ ملاقات کے بعد پتہ نہیں میں کیوں اُن سے مُنہ چھپاتا رہا۔ جب تک میری رہائش پرانے شہر میں رہی کہیں نہ کہیں ان سے مڈ بھیڑ ہو جایا کرتی تھی۔ آفس آتے جاتے کہیں ان پر نظر پڑ جاتی اور میرا ہاتھ اچانک سلام کے لیے اُٹھ جاتا۔ وہ بڑے خاص انداز میں سلام کا جواب دیتے۔ جیسے پوچھ رہے ہوں۔ ’’شام کو تو ملاقات ہوگی نا۔ ‘‘

 پھر ایک دن راستے میں انھیں آتا دیکھ کر میں کنی کاٹ ہی رہا تھا کہ ہجوم میں سے کسی نے ہاتھ لہرایا۔ میں نے دل میں سوچا۔ اپنی ہی انا کی بھٹّی میں جلے بھنے رہنے کے باوجود اس آدمی کی ذات میں ابھی اگلی شرافتیں باقی ہیں۔

 جامی صاحب کو چائے سے کہیں زیادہ چائے خانہ کی عادت تھی۔ مالکانِ ہوٹل انھیں کس نگاہ سے دیکھتے تھے وہ تو وہی جانیں۔ لیکن بیرے ان کی بڑھیا ٹِپ کو پا کر بڑے خوش دکھائی دیتے تھے۔ پرانے شہر کی ہوٹلوں میں بیروں کو ٹپ دینے کی ابتدائ شاید جامی صاحب ہی نے کی ہو۔

 وہ بڑے کھُلے ہاتھ والے آدمی تھے۔ ان کی شاہ خرچی کی ذمہ داری کس نے لے رکھی تھی۔ اس پر ابھی تک راز کے پردے پڑے ہوے ہیں۔ یہ ناممکن تھا کہ کوئی ان کی موجودگی میں بلِ pay کرے۔ ایک دفعہ میں نے بل ادا کرنے کی کوشش کی تو بیرے نے پیسے لینے سے اس طرح انکار کیا جیسے کہہ رہا ہو۔ ’’کیا آپ مجھے شاعر صاحب سے پٹوائیں گے۔ ‘‘

 ایک دن میں نے مدینہ ہوٹل میں انھیں پہلی بار تنہا دیکھا تو مجھے خوشی بھی ہوئی اور حیرانی بھی۔ میں نے موقع کو غنیمت جان کر پوچھا۔ ’’جامی صاحب حیرت ہے کہ آج آپ تنہا دکھائی دے رہے ہیں۔ ‘‘

 ’’تنہا کون نہیں ہے عوض صاحب۔ آپ بھی ہیں اور میں بھی۔ بلکہ سب ہی۔ ‘‘ پھر میر کی تنہائی سے لے کر آج کی تنہائی تک کا فاصلہ انھوں نے منٹوں میں اس طرح طے کیا کہ مجھے اُنھیں خدا حافظ کہنے میں دیر نہیں لگی۔

 جامی صاحب سے ملنا میرے معمولات میں کبھی نہیں رہا۔ لیکن جب بھی ان سے ملاقات ہوتی تو ان کی تنی ہوئی گردن تنی سی رہتی۔ جیسے گردن کو کسی نے رسّی سے باندھ دیا ہو۔

 میں نے کبھی ان کی شیروانی کے بٹن کھُلے نہیں دیکھے کالر کے بند ہکوں میں ان کے چہرے سے زیادہ نمایاں مجھے ان کی گردن دکھائی دیتی۔ یہ اَکڑی سی گردن اسی وقت جھکتی جب کسی شاعر کی کوئی خوب صورت غزل انھیں قائل کر دے۔ مگر ایسا بہت کم دیکھنے میں آتا۔

 غزل ان کی میراث ہو یا نہ ہو مگر وہ غزل ہی کو اپنی میراث سمجھتے تھے۔ غزل کے میدان میں وہ جتنے قد آور دکھائی دیتے ان کی نظمیں انھیں اتنا ہی جھکا دیتیں۔

 شاعر کی حیثیت سے انھوں نے اپنی زندگی کا بڑا حصہ جس گم نامی اور گوشہ نشینی میں گزارا اس کا انہیں شدید احساس تھا، مشاعروں سے انہیں بڑی نفرت تھی۔ شہرت کے اس سستے زینے کو انھوں نے اپنی زندگی ہی میں ٹھکرا دیا تھا۔ لیکن دوسری طرف معیاری رسائل کی طرف بھی ایک لمبی مدّت تک انھوں نے پلٹ کر نہیں دیکھا۔ نتیجہ نقصان کی صورت میں یہ ہوا کہ ایک خوب صورت شاعر حیدرآباد کی چہار دیواری ہی میں بند ہو کر رہ گیا۔ پتہ نہیں گھاٹے کے اس سودے کو انھوں نے کس دل سے قبول کیا ہو۔

 شاذ نے باتوں باتوں میں ایک دن اچانک مجھ سے کہا۔ ’’یار عوض یہ ہماری کتنی ٹریجڈی ہے کہ جامی جیسے شاعر کو بھی باہر کی دنیا قطعی نہیں جانتی ماننے کی بات تو الگ رہی۔ ‘‘

 ’’دراصل انہیں کسی جوہری کا انتظار ہے، جو گھور میں پڑے ہوے ہیرے کو اپنے گلے لگا لے۔

 وہ انہیں تلاش بسیار کے باوجود مل نہیں رہا ہے۔ جب مل جائے گا تو یہ ساری گم نامی آناً فاناً جاتی رہے گی۔

 ’’یار بدمعاشی کی باتیں مت کرو۔ میں نے ایک راستہ ڈھونڈا ہے۔ میں ان کی چند منتخب غزلیں ’فنون‘ کو بھجوا رہا ہوں۔ احمد ندیم قاسمی بہت اچھے شاعر ہی نہیں شعر کے بڑے پارکھ بھی ہیں۔ تمہارا کیا خیال ہے۔ قاسمی صاحب چھاپیں گے نا۔ ‘‘

 ’’یقیناً چھاپیں گے بشرطیکہ تم لفافے پر صحیح ٹکٹ لگا سکو۔ ‘‘

 مُدّتوں بعد احمد ندیم قاسمی کا جو خط شاذ کو ملا، وہ کچھ یوں تھا۔

 ’’آپ نے حیدرآباد کے جن بزرگ شاعر کا کلام بھجوایا تھا وہ غزلوں کے انبار میں کہیں دب سا گیا ہے۔ میں اسے تلاش کر رہا ہوں، مطمئن رہیے۔ ‘‘

 جب فنون کا شاندار غزل نمبر چھپ کر آ گیا تو شاعروں کے ہجوم میں بھی خورشید احمد جامی الگ سے پہچانے جا رہے تھے۔

 اس طرح سے احمد ندیم قاسمی ہی وہ پہلے جوہری تھے جنھوں نے جامی صاحب کو فنون کے ذریعہ اہلِ ذوق سے متعارف کروایا۔

 جامی صاحب اپنی ساری قلندری کے باوجود شہرت کے ہمیشہ متمنّی رہے ’’رخسارِ سحر‘‘ کی اشاعت کے بعد ہی دراصل ادبی دنیا نے انھیں صحیح طور پر پہچانا۔ اور وہ دیکھتے ہی دیکھتے نئی غزل کے ایک نمائندہ شاعر تسلیم کر لئے گئے۔ بعد کو مغنی تبسّم، گوپی چند نارنگ، کمار پاشی، اخترحسن، وحید اختر، خلیل الرحمن اعظمی، شمس الرحمن فاروقی اور عالم خوندمیری جیسے معتبر لکھنے والوں نے ان کے فن کو سراہا۔

 وہ خوش تھے کہ عمر کے آخری حصّے ہی میں سہی، لوگوں نے انھیں تسلیم تو کیا۔ لیکن اندر سے انھیں یہ یقین ہی نہ آتا تھا کہ کبھی اونٹ اس کروٹ بھی بیٹھ سکتا ہے۔

 جب بھی ملاقات ہوتی تو یہ ضرور پوچھ لیا کرتے کہ فلاں پرچے میں میری غزل آ رہی ہے۔ وہ کیسا پرچہ ہے۔

 میرے ’’یوں ہی سا ہے‘‘ کہنے پر وہ بُرا سا مُنہ بنا لیتے، مگر فرمائش پر اپنا کلام ضرور بھجواتے، دراصل مدّتوں گمنامی کے خول میں بند رہنے کے بعد ان کے ہاں اتنا وقت ہی نہ تھا کہ وہ مزید اپنی صلاحیتوں کو ضائع کریں۔ وہ ایک خاص موڑ پر پہنچ کر دوسرے احمد فراز بن گئے۔

 یوں کہنے کو تو اورینٹ ہی ان کا اڈّہ تھا لیکن شامیں ان کی کہیں اور گزرتی تھیں۔ میں نے عالمِ سرمستی میں بھی انہیں کوئی ایسی نازیبا حرکت کرتے نہیں دیکھا جو ملنے والے پر گراں گزرے۔ وہ زندگی بھر مجرّد ہی رہے، پتہ نہیں اس میں محبت کی ناکامی کا دخل تھا یا ان کی حد سے بڑھی ہوئی انانیت کا۔

 گرانڈ ہوٹل کے پیچھے اُردو گلی میں انھوں نے اپنے لیے جو ایک کمرہ لے رکھا تھا اس کی دو چابیاں تھیں، ایک چابی ہمیشہ محمود کاردار کے یہاں رہتی جو ان کا ایک عزیز شاگرد تھا۔ دوسری چابی ان کی جیب ہی میں پڑی رہتی۔

 دراصل ان کے پاوں میں ایک چکر سا تھا وہ گھر پر شاذ ہی رہتے تھے اس لیے اپنے ملنے والوں کو کبھی انھوں نے گھر آنے کی دعوت نہیں دی، ان کے اس وصف کے باوجود ان کے چاہنے والے کسی نہ کسی طرح ان سے مل ہی لیتے۔ ویسے وہ بڑے وضع دار آدمی تھے۔ احباب کی خاطر تواضع میں اس طرح آگے رہتے تھے جیسے قدرت نے انھیں اسی کام کے لئے پیدا کیا ہو۔ بعض زندہ دل اورینٹ آتے ہی اس غرض سے تھے کہ انھیں وہاں کسی طرح مفت کی چائے مل جائے۔ ان ’’مفت خوروں‘‘ کے لیے جامی صاحب ہی ایک موزوں شخص تھے۔

 پھر ایک دن اورینٹ میں کسی نے بیہودگی کی تو ان کی خلقی شرافت آڑے آ گئی وہ اورینٹ سے چپ چاپ اُٹھ کر اپنے کمرے میں آ گئے۔ پھر زندگی بھر انھوں نے اورینٹ کی دہلیز پر قدم نہ رکھا۔

 جامی صاحب کی شخصیت اس کتاب کی مانند تھی جس کے اوراق کسی نے درمیان ہی سے اڑا لئے ہوں۔ اب لوگوں کو کیا پڑی تھی کہ وہ بظاہر اس بند کتاب کا مطالعہ اپنی کھلی آنکھوں سے کرتے، شائد اسی لیے بعض مخصوص حلقوں میں وہ معتوب بھی رہے۔

 انھوں نے مانگی ہوئی ادھار زندگی کا کوئی حساب چکایا ہو یا نہ ہو لیکن قیمت عروجِ ہنر کا سارا حساب وہ اپنی زندگی ہی میں شاید چُکا چکے تھے

رات چپ چاپ ہے راتوں کے مسافر ہیں اداس

کوئی دل چسپ کہانی بھی نہیں وقت کے پاس

 

عالَم صاحب

 عالم صاحب کی شخصیت کے ہر بُنِ مُو کا احاطہ وہی شخص زیادہ بہتر طور پر کرسکتا ہے جو اُن کا ہم پیالہ اور ہم نوالہ رہا ہو۔ یوں کہنے کو تو ہم پیالہ ہم بھی رہے ہیں اور ہم نوالہ ہونے کے باب میں کوئی بات قطعیت کے ساتھ اس لیے نہیں کہی جاسکتی کہ عالم صاحب نے ایسا موقع کبھی آنے ہی نہ دیا۔

 ان کی شخصیت کچھ اتنی دل چسپ اور Controversial رہی ہے کہ پتہ نہیں چلتا کہ وہ کہاں سے شروع ہوتے اور کہاں جا کر ختم ہوتے ہیں۔

 ان کی شخصیت کا آغاز کبھی انجام سے شروع ہوتا ہے اور کبھی انجام ہی آغاز بن جاتا ہے۔ دراصل شخصیت کے اسی خالی خانے میں بیٹھ کر وہ زندگی اور کائنات کا مطالعہ کرتے ہیں۔

 عالم صاحب دوستی کے باب میں بڑے فراخ دل واقع ہوے ہیں۔ ایک چار سالہ بچہ بھی ان کا دوست ہے اور ایک اسی سالہ بوڑھا بھی۔

 بوڑھے پر مجھے ایک بات یاد آئی۔ ایک دن عالم صاحب سے مجھے ملنا ضروری تھا۔ اپائنٹمنٹ کے لیے جب میں نے فون کیا تو اُن کا فون خراب تھا۔ مایوسی کے عالم میں جب میں ان کے گھر کے قریب پہنچا تو میں نے دیکھا کہ ایک بوڑھا آدمی ان کے گھر کے سامنے ایک چبوترے پر بیٹھا رو رہا ہے۔

 ’’میں نے سوچا۔ کوئی خاص بات ضرور ہے۔ ‘‘

 ’’کیا بات ہے حضرت آپ رو کیوں رہے ہیں۔ ‘‘

 ’’عالم صاحب مجھ سے ملنا نہیں چاہتے۔ ‘‘

 ’’نہ ملنے کی کوئی وجہ۔ ؟‘‘

 ’’میں نے اقبال کی نظم ’’مسجد قرطبہ‘‘ نہیں پڑھی ہے۔ ان کا خیال ہے کہ جس آدمی نے ’’مسجد قرطبہ‘‘ نہ پڑھی ہو اس سے ملنا نہیں چاہیے۔ ‘‘

 ’’تو پھر پڑھ لیجئے‘‘

 ’’وہ تو پڑھ لیتا لیکن اس کے ساتھ اُنھوں نے ایک شرط بھی رکھی ہے کہ میں سار تر ،کامو٬ ایلیٹ٬ کافکا اور جان دین کو بھی پڑھوں۔

 یہ کہہ کر وہ آدمی زار و قطار رونے لگا۔ میں نے ہمّت بندھائی اور مشورہ دیا کہ عالم صاحب سے ملنے کا خیال اب چھوڑ دیجیے اور مغنی تبسّم سے ملئے۔

 مغنی کے نام کے ساتھ ہی انہوں نے جھرجھری لے کر کہا۔ ’’مغنی ہی وہ پہلے آدمی ہیں جنہوں نے مجھے عالم صاحب کے پاس بھجوا دیا تھا۔ ‘‘ یہ کہہ کر وہ آدمی پھر ایک بار زار و قطار رونے لگا اور میں عالم سے ملے بغیر گھر چلا آیا۔

 ٹیلی فون پر عالم صاحب کی گفتگو کچھ اتنی مختصر ہوتی ہے کہ ان کی کفایتِ لفظی کا قائل ہونا پڑتا ہے۔

 ’’عالم صاحب مجھے آپ سے کچھ کام ہے۔ ‘‘

 ’’بولو بولو‘‘

 ’’بات یہ ہے عالم صاحب کہ ‘‘

 ’’ہاں ہاں میں سمجھ گیا۔ ‘‘

 عالم صاحب کچھ سمجھے ہوں یا نہ سمجھے ہوں لیکن ان کا مخاطب یہ ضرور سمجھ جاتا ہے کہ عالم صاحب فلسفہ کی گتّھیوں کو سلجھانے اور الجھانے میں مصروف ہیں۔ ایسے وقت ان کو چھیڑنا کچھ مناسب نہیں ہے پھر یوں بھی خاموش ٹیلی فون پر کس نے کس سے بات کی ہے۔

 ان تمام باتوں کے با وصف بعض ایسے زندہ دل بھی ہیں جو عالمِ سرگوشی میں عالم صاحب کے ڈیڈ فون پر بھی ان سے تبادلہ خیال کرتے ہیں۔

 عالم صاحب کے ادبی مقام اور مرتبہ کو دیکھتے ہوے بہت سے ادیب اور شاعر دُور دراز سے اپنی کتابیں رائے اور تبصرے کے لیے ان کے ہاں بھجواتے ہیں اور رائے اور تبصرہ دیکھنے ہی کی خواہش ہی میں دوچار برس ہی کے بعد اللہ کو پیارے ہو جاتے ہیں۔ ایسے موقعوں پر جب بھی میں عالم صاحب کو کھویا کھویا سا پاتا ہوں تو احساس ہوتا ہے کہ شاید مرنے والا عالم گزیدہ ہی ہو۔

 لیکن آج کل عالم صاحب نے ایسے لوگوں کے لیے اپنے دل میں ایک نرم گوشہ بنا لیا ہے۔ چناں چہ جب بھی کوئی کتاب انہیں بھیجی جاتی ہے تو وہ اس پر رائے دینے کے ساتھ ساتھ پیش لفظ بھی لکھ کر کسی دوسری کتاب کا انتظار کرنے لگتے ہیں۔ اور یہ چکّر چلتا رہتا ہے۔ لیکن دوسری طرف ان سے مضمون لکھوانا بھی جوئے شیر لانے سے کم نہیں۔ اس بات کی گواہی مغنی سے لی جاسکتی ہے کہ انھیں

 عمیق حنفی کی ایک طویل نظم ’’سلسلۃالجرس‘‘ پر مضمون لکھوانے کے لیے کتنے نہ پاپڑ بیلنے پڑے۔

 مغنی کی مسلسل یاد دہانی کے باوجود جب وہ ’’شعر و حکمت‘‘ کے لیے عمیق والا مضمون لکھ نہ سکے تو مغنی نے کسی بہانے سے ان ک گھر پر بلوا لیا۔ غالباً وہ چُھٹّی کا دن تھا۔ عالم صاحب نے صاف محسوس کر لیا کہ اب وہ بری طرح پھنس گئے ہیں۔

 جب مغنی نے میز پر کچھ کاغذات بکھیر دیئے تو عالم نے مایوسی سے کہا۔ ’’مغنی یہ کیا کر رہے ہو۔ میں لکھوں گا ضرور۔ عمیق مجھے پسند بھی ہے۔ لیکن میں روا روی میں اس پر کچھ لکھنا نہیں چاہتا۔ ‘‘ لیکن مغنی کے اصرار کے آگے وہ بالکل ہی بے بس ہو کر رہ گئے۔ اور مضمون لکھ ڈالا۔ ابھی شاذ اور مغنی کا قرض ان پر باقی ہے۔

 عالم صاحب کی شخصیت کا ایک دل چسپ پہلو ان کے وہ وعدے ہیں جو کبھی پورے نہیں ہوتے۔

 کوئی ایرا غیرا ادیب یا شاعر بھی جب ان کے گھر پہنچ کر یہ کہے۔ عالم صاحب مجھے آپ سے اپنی کتاب کا دیباچہ لکھوانا ہے تو وہ بڑی خندہ پیشانی کے ساتھ کہیں گے۔ ’ضرور‘‘

 دراصل وہ کچھ اتنے با مروّت ہیں کہ انکار نہیں کر پاتے۔ اور ایک منزل ایسی بھی آ جاتی ہے کہ لوگ تھک ہار کر ان کا پیچھا چھوڑ دیتے ہیں اور بعض اتنے با ہمت ہوتے ہیں کہ ان سے پیش لفظ لکھوانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔ جس کی شاعری کو وہ پسند نہیں کرتے اس پر بھی ایسا پیش لفظ لکھتے ہیں کہ وہ اپنی جگہ مطمئن ہو جائے۔ اور ایسے ہی موقعوں پر اکثر سنجیدہ ادبی ذوق رکھنے والوں کو یہ شکایت ہو جاتی ہے کہ عالم صاحب ہر ایرے غیرے کی کیوں تعریف کرتے ہیں۔ لیکن تاڑنے والوں کی نظریں عالم صاحب کے توصیفی جملوں کے پیچھے چھُپے ہوے ذم اور طنز تک پہنچ ہی جاتی ہیں۔

 مجھے وہ لوگ زیادہ پسند آتے ہیں جن کی کمزوریاں خوبیوں سے زیادہ دل کش ہوں۔ عالم بھی ان ہی میں سے ایک ہیں۔ جن لوگوں کو صرف ان کی خوبیوں سے سابقہ رہا ہے وہ ان کے زیادہ قریب نہیں ہونے پائے۔

 یہ بڑی عجیب بات ہے کہ ملنے والے پر جوں جوں ان کی کمزوریوں کا انکشاف ہوتا ہے وہ ان سے زیادہ قریب ہونے لگتا ہے۔ یہاں تک کہ اس کی کمزوریاں اس کے لیے زلفِ گرہ گیر بن جاتی ہیں اور وہ اس کے دام سے کبھی نکلنے نہیں پاتا۔ جو لوگ ان کی خوبیوں کے زیادہ معترف ہیں وہ ان کے دوست نہیں اور ان کے چاہنے والے جو دوست ہیں وہ ان کی خوبیوں کو کچھ زیادہ اہمیت نہیں دیتے۔

 ٹی۔ ایس۔ ایلیٹ کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ ادب اور فن کے بارے میں کوئی نیا نظریہ پیش کرتا تو ساری ادبی دنیا میں ہل چل مچ جاتی۔ اور نئے ادیب اور نقاد اس کے خیال کولے اڑتے۔ لیکن کچھ ہی دن بعد وہ خود اپنے نظریہ کی تنسیخ کر دیتا۔ اور اپنے مقلدین کو عجیب و غریب شش و پنج میں مبتلا کر دیتا۔ یہی حال ایک زمانہ تک عالم صاحب کا بھی رہا ہے۔

 وہ مخالفین سے بھی اپنی علمیت کا لوہا منوا لیتے ہیں۔ کمیونسٹ پارٹی کی بعض پالیسیوں پر انھوں نے سخت تنقیدیں کیں اور اب بھی کرتے رہتے ہیں۔ اس کے باوجود بہت سے کمیونسٹ رہنما آج بھی ان کے دوست ہیں۔ یہی نہیں جب بھی مارکسزم پر کوئی سمینار یا سمپوزیم ہو تو اس میں عالم صاحب کو تقریر کرنے کے لیے اصرار سے بلواتے بھی ہیں اور یہی حال اسلامی اداروں اور تنظیموں کا ہے کہ عالم صاحب کے مذہبی خیالات سے شدید اختلاف کے باوجود عالم صاحب سے ان کو مفر ممکن نہیں۔

 عام طور پر احباب میں یہ بات مشہور ہے کہ عالم صاحب روپے پیسے کے معاملے میں محتاط واقع ہوے ہیں۔ لیکن حقیقتِ حال یہ ہے کہ اگر عالم صاحب کے ہاتھ میں پیسہ دے دیا جاۓ اور حساب پوچھنے والا کوئی نہ ہو تو وہ اسے نہایت بے دردی کے ساتھ خرچ کر دیتے ہیں ان کے محتاط ہونے کا اصل راز شاید یہ ہے کہ پہلی تاریخ کو پوری تنخواہ مسز عالم کے قبضے میں چلی جاتی ہے اور ہر روز وہ انھیں اتنا جیب خرچ دیتی ہیں کہ وہ بس کا ٹکٹ اور سگریٹ خرید سکیں۔

 سُنا ہے کہ اب مسز عالم نے انہیں کچھ چھُوٹ دے دی ہے جس کے نتیجے میں اب عالم صاحب کے بینک اکاؤنٹ میں ڈپازٹ کے علاوہ بھی کچھ رقم رہنے لگی ہے۔

 ثبوت کے لیے اگر آپ اُن کے پاس چندہ مانگنے جائیں تو وہ فوری دس بیس روپے کا چیک لکھ کر آپ کے حوالہ کر دیں گے اور بینک میں پیش کرنے پر وہ چیک واپس نہیں ہوگا۔

 عالم صاحب کو ان کی قابلیت اور علمیت کے اعتبار سے کسی یونیورسٹی کا وائس چانسلر ہونا چاہیے تھا لیکن وہ آئے دن اپنی ترقی کی راہ میں خود ہی حائل ہوتے رہے۔

 جب جب بھی انہیں پروفیسر شپ کے یا ہیڈ بننے کے مواقع آئے انھوں نے بڑی خوب صورتی کے ساتھ اپنے آپ کو بچا لیا۔ آخر مجبور ہو کر یونیورسٹی کو روٹیشن سسٹم لانا پڑا اور اس سسٹم کے تحت ان کو جب مجبور ہو کر شعبہ فلسفہ کا صدر بننا پڑا تو انھوں نے راہ فرار یہ نکالی کہ کشمیر میں وزیٹنگ پرفیسر بن کر چلے گئے۔

 عالم صاحب ہمیشہ دوسروں کو بڑے صائب مشورے دیا کرتے ہیں۔ لیکن جب خود کا معاملہ آتا ہے تو ان کی حکمتِ عملی کچھ ایسی رہتی ہے کہ بنا بنایا کام منٹوں میں خراب ہو کر رہ جاتا ہے۔ اور تو اور وہ اپنے خاندان، بیوی بچوں کو بھی غلط مشورے دیتے رہے ہیں۔ چنانچہ خدیجہ عالم اگر عالم صاحب کے مشوروں پر کاربند نہ ہوتیں تو یقیناً آج مرکزی حکومت یا ریاستی حکومت میں وزیر ہوتیں یا کہیں کی گورنر ہوتیں۔ نتیجہ یہ ہوا کہ انہیں سیاست سے کنارہ کش ہونا پڑا۔ لیکن ان کے بچوں نے بہت جلد جان لیا کہ عالم صاحب کے مشوروں پر عمل کرنے کا کیا انجام ہوتا ہے۔ چنانچہ جاوید عالم کسی یونیورسٹی میں اب ریڈر ہیں۔ معلوم ہوا ہے کہ بہت جلد پروفیسر بننے والے ہیں۔

 عالم صاحب ایک عمدہ استاد ہی نہیں ایک اچھے مقرر بھی ہیں۔ عام رائے سے انحراف کا جذبہ عالم صاحب کی ذات میں شروع ہی سے رہا ہے جو آج بھی قائم ہے۔ مخالف اینگل پر بات کرنا ان کا ایک خاص وصف ہے۔ مثلاً موضوع اگر یہ ہو کہ اُردو کو ذریعہ تعلیم بنانا چاہیے تو ظاہر ہے عام مقرّرین کی تقریریں موضوع کی حمایت ہی میں ہوں گی لیکن عالم صاحب اس انداز میں تقریر کریں گے جیسے اُردو کو ذریعہ تعلیم بنانا نہایت مہلک ہے۔

 ہر پڑھا لکھا آدمی یہ جانتا ہے کہ عالم صاحب ایک سلجھا ہوا تجزیاتی ذہن رکھتے ہیں۔ بات اگر غالب کی چل رہی ہو تو وہ مومن کا ذکر چھیڑ دیں گے اور میر کو درمیان میں اس طرح لاتے رہیں گے کہ آپ کے پلے یہ بات مشکل ہی سے پڑے گی کہ عالم صاحب نے مومن کو غالب پر فوقیت دی ہے یا غالب کو میر پر۔ یا وہ تینوں ہی کو ایک ہی رُتبے اور مرتبے کا شاعر سمجھتے ہیں۔

 عالم صاحب ایک خالص علمی آدمی ہیں انھیں نہ موسیقی سے کوئی لگاؤ ہے اور نہ وہ ان ڈور آوٹ ڈور گیمس میں کوئی دل چسپی رکھتے ہیں۔ رمی سے تو انہیں ایک چڑسی ہے اگر کوئی زبردستی ان کے ہاتھ میں پتّے تھما بھی دے تو بازی ختم ہونے تک وہ کوئی چال ہی نہیں چلیں گے تاوقتیکہ ان کا کوئی ساتھی ان کے ہاتھ سے نہ چھین لے۔

 عالم صاحب سگریٹ بھی زیادہ پیتے ہیں خاص طور پر اس وقت جب موضوع ترسیل کی ناکامی کا المیہ ہو۔

 کبھی کبھی کسی ادبی محفل میں ایسی تقریر بھی کر جاتے ہیں کہ لوگ عالم صاحب کے چہرے کو تکتے ہی رہ جاتے ہیں۔ ایک جانے پہچانے شاعر کے شعری مجموعہ پر عالم صاحب کو ایک مضمون پڑھنا تھا اور حسب عادت وہ بغیر مضمون ہی کے جلسہ گاہ پہنچ گئے اور تقریر کچھ اس طرح شروع کر دی۔

 اقبال کے بعد جدید عہد کا سب سے بڑا شاعر یہی ہے۔ عالم صاحب کی اس توصیف سے شاعر صاحب بہت خوش ہوے۔ اور کئی دنوں تک عالم صاحب سے اصرار کرتے رہے کہ وہ اپنے ظاہر کردہ خیالات کو ضبط تحریر میں لے آئیں لیکن عالم صاحب وعدوں پر ہی ٹالتے رہے یہاں تک کہ بات آئی گئی ہو گئی۔

 پچھلے دنوں مجھے ایک صاحب سے ملنے کا اتفاق ہوا جو بمبئی سے آئے ہوے تھے۔ اور بطورِ خاص عالم سے ملنا چاہتے تھے۔

 انھوں نے عالم کا پتہ پوچھا تو میں نے کہا۔ وہ تو کافی دُور رہتے ہیں۔ شاید آپ ان کے گھر صحیح خطوط پر پہنچ نہ پائیں۔ یہ گمان مجھے اس لیے بھی گزرا کہ وہ بار بار عالم کو عالمِ ہی کہہ رہے تھے یہ علیٰحدہ بات ہے کہ وہ عالمِ بھی ہیں اور عالم بھی۔

 اُردو ادب کے ساتھ ساتھ سارے عالمی ادب کے اتار چڑھاؤ اور اس کی منفی اور مثبت قدروں کی شناسائی جتنی عالم صاحب کو ہے وہ بہت کم لوگوں کے حصّے میں آئی ہے۔ عالم جب بات کرتے ہیں تو ایسا لگتا ہے جیسے کسی گہرے سمندر کی تہہ سے کئی صدف بہ یک وقت باہر نکل کر ساحل پر آ گئے ہوں۔

 اور یہ اپنی اپنی توفیق کی بات ہے کہ کوئی ان قیمتی موتیوں کو ہاتھ بڑھا کر اٹھا لے یا ایک نظر ڈالے بغیر آگے بڑھ جائے۔

 عالم صاحب اپنے پرانے یاروں کا بھی بڑا خیال رکھتے ہیں۔ ان کے ایک ایسے ہی یار نے اپنے قرض کے ایک کاغذ پر بطورِ ضامن ان سے دستخط لے لیئے اور ہمیشہ کی طرح اپنے کاموں میں مصروف ہو گئے۔

 دو ایک برس بعد ہی عالم صاحب نے اپنے گھر کے سامنے ایک مشکوک آدمی کو دیکھا جو صورت شکل سے ’’بیلف‘‘ سالگ رہا تھا۔ اس کے ساتھ دو تین اور بھی آدمی تھے جو عالم صاحب کے چہرے کی بجاۓ ان کے مکان کا جائزہ لے رہے تھے۔ عالم صاحب نے معاملے کی نزاکت کو بھانپ لیا اور ایک لمحہ ضائع کیے بغیر ایک خطیر رقم اس آدمی کے ہاتھ میں تھما دی اور اپنے پرانے یار سے ملاقات ہونے پر کبھی یہ نہ پوچھا کہ بھلے آدمی تم نے ایسا کیوں کیا۔

 سلیمان اریب سے عالم کے بڑے گہرے مراسم تھے یہاں تک کہ صفیہ اور اریب کی شادی میں بھی ان کا زبردست ہاتھ رہا ہے۔ اس ضمن میں ایک واقعہ بھی سن لیجے۔

 جب صفیہ اور اریب کی شادی کا معاملہ کھٹائی میں پڑ گیا تو اریب نے عالم کو سمجھا بجھا کر اپنے ہونے والے خسر کے پاس بھجوا دیا کہ وہ انھیں اپنا داماد قبول کر لیں جبکہ لڑکی شادی کے لیے ہر طرح راضی ہے۔ یوں بھی صفیہ کے والد عالم صاحب سے اچھی طرح واقف تھے۔ صفیہ بھی پر امید تھیں کہ یہ معاملہ عالم صاحب ہی کے ہاتھوں طے پاسکے گا۔

 عالم صاحب گئے تو تھے اریب کی سفارش کرنے لیکن ہر دو کے درمیان مکالمے کچھ اتنے دل چسپ اور طولانی ہو گئے کہ کہانی کہیں درمیان ہی میں دب کر رہ گئی۔

 وہ مکالمے کچھ یوں تھے۔

 ’’کیا اریب واقعی بہت شراب پیتا ہے۔ ؟‘‘

 ’’جی ہاں صحیح سنا ہے، آپ نے۔ ‘‘

 ’’کیا وہ شراب چھوڑ نہیں سکتا۔ ؟‘‘

 ’’بہت پرانی عادت ہے بے چارے کی۔ ‘‘

 ’’کیا یہ سچ ہے کہ وہ بے روزگار بھی ہے۔ ‘‘

 جی ہاں بے روزگار تو ہے ہی اس پر طرفہ یہ کہ ایک ادبی پرچہ بھی نکالتا ہے جس کا نام ’’صبا‘‘ ہے۔ ‘‘

 ’’اچھا یہ بھی کرتا ہے۔ ‘‘

 ’’جی ہاں۔ جی ہاں۔ ‘‘

 غرض کہ جب عالم صاحب باہر آئے تو صفیہ نے سر پیٹتے ہوے کہا۔ عالم صاحب آپ نے تو سارا معاملہ چوپٹ کر دیا۔ اب تو بات بالکل بگڑ گئی ہے۔ جواباً عالم نے صفیہ سے کہا ذرا سوچو میں یہ کس طرح جھوٹ کہہ سکتا تھا کہ اریب بے روزگار نہیں ہے اریب شرابی نہیں ہے اریب ایک ادبی پرچے کا ایڈیٹر بھی نہیں ہے۔

 عالم کے بارے میں بعض لوگوں کا خیال ہے کہ وہ اُردو میں لکھنے کی بجائے صرف انگریزی ہی میں لکھتے ہوتے تو آج ہندوستان میں ان کے کیلی بر کے دو ایک ہی دانشور ہوتے۔

 جہاں بات علمی سطح کی ہو وہاں ہم عالم صاحب کا ذکر کئے بغیر دو قدم بھی آگے نہیں چل سکتے۔

 ایک صاحب جو عالم کے سخت مخالف تھے ایک تقریب میں اچانک اُن سے میری ملاقات ہو گئی۔ اِدھر اُدھر کی دو ایک باتوں کے بعد انھوں نے عالم کے بارے میں کچھ اتنا زہر اُگلا کہ طبیعت مُکدّر ہو کر رہ گئی۔ وہ غصّے میں ڈوبے ہوے تو تھے ہی دولہا سے گلے ملے بغیر جاتے جاتے مجھ سے کہا۔ ’’آدمی کچھ نہ ہو عالم ضرور ہو۔ ‘‘

 اس وقت وہ آدمی مجھے منٹو کی کسی کہانی کے کردار کی طرح لگا۔ میں نے سوچا یہ آدمی تھوڑی دیر اور ٹھہر گیا ہوتا تو شاید ایک آدھ اچھی کہانی ہاتھ آ ہی جاتی۔

 عرصے پہلے کی بات ہے۔ عالم صاحب کے ایک مداح نے مجھے ایک خط لکھا تھا۔

 ’’کیا یہ ممکن نہیں کہ حیدرآباد کے لوگ ہمیں عالم کو دیدیں اور معاوضے میں یہاں کے سارے ادیبوں اور شاعروں کو لے لیں۔ ‘‘

 چونکہ یہ سراسر گھاٹے ہی کا سودا تھا۔ اس لیے از راہ مذاق میں نے بھی ’’ایک جنّاتی نام یہاں سے لکھ بھیجا۔ اس کے بعد یوں ہوا کہ انھوں نے خط و کتابت ہی بند کر دی۔

 آج عالم صاحب جب بھی مجھ سے ملتے ہیں تو وہ خط مجھے یاد آتا ہے اور میں ایک گہری سوچ میں ڈوب جاتا ہوں کہ عالم صاحب نے تو تنقید کی ایک بھی کتاب نہیں لکھی۔

**

 

سلیمان اریب

 اَریب سے میری پہلی ملاقات ۱۹۵۳ ء میں ہوئی۔ وہ ہندی پر چار سبھا کے آفس کے قریب لاہوٹی سے باتیں کرتا ہوا پتہ نہیں کہاں جا رہا تھا۔ جب اسے اس بات کا علم ہوا کہ میں بھی افسانہ نگار ہوں تو اس نے بڑی محبت سے عوامی مصنفین میں مجھے کہانی سنانے کی دعوت دی اور ساتھ ساتھ یہ بھی کہا کہ اگر کہانی زیادہ پسند کی گئی تو وہ اسے ’’شاہراہ‘‘ کو بھجوا دے گا۔

 اس زمانے میں، حیدرآباد میں عوامی مصنفین کا بڑا زور تھا جو ترقی پسند مصنّفین کا بدلا ہوا نام تھا جس کا سکریٹری بھی غالباً وہی تھا۔ ماہناموں میں ’’شاہراہ‘‘ کی بڑی دھوم تھی اور دو ماہی رسالوں میں پرکاش پنڈت کے پرچے ’’فنکار‘‘ نے اپنے لیے ایک خاص جگہ بنا لی تھی۔

 اس نے رخصت ہونے سے قبل پھر ایک بار ’’شاہراہ‘‘ کے ناتے سے کہانی کی فرمائش کی تو مجھے اس کا یہ سرپرستانہ انداز یک لخت پسند نہ آیا۔ میں نے قدرے ناگواری سے کہا اب اس قصّے کو رہنے دیجئے، کوئی اور بات کیجئے اریب صاحب۔ بہر حال بات آئی گئی ہو گئی، نہ اس نے میری صاف گوئی کا برا مانا نہ میں نے اس کی محبت بھری سفارش کا سہارا لیا لیکن جب بھی وہ مجھ سے ملتا اس سلسلہ میں مجھے ضرور چھیڑتا۔

 پھر ایک دن میں ’’صبا‘‘ کے آفس میں بیٹھا تھا کہ ڈاکیہ نے کئی ایک پرچوں اور کئی خطوں کے ساتھ ایک لمبا لفافہ بھی اس کے ہاتھ میں تھما دیا۔ ان خطوں میں کسی نے اس کی تازہ غزل کی تعریف کی تھی تو کسی نے اسے مشاعرے کی قبل از قبل اطلاع دی تھی۔ جب اس نے بڑی دیر تک اس لمبے لفافے کو ہاتھ نہیں لگایا تو مجھے تشویش ہوئی پھر اچانک شائد اسے یاد آ گیا کہ وہ لفافہ چاک کرنا بھول گیا ہے۔ اس لفافے میں اقبال متین کا افسانہ تھا جسے پرکاش پنڈت نے معذرت کے ساتھ واپس کر دیا تھا۔ جب میں نے اس کی طرف معنی خیز نظروں سے دیکھا تو اس نے قدرے مسکراتے ہوے کہا۔ ’’میں لکھ چکا ہوں۔ ‘‘ اس نے اس سلسلہ میں ایک خط لکھا اور وہ کہانی بالآخر چھپ گئی۔ یہاں یہ سب کچھ لکھنے کا یہ مطلب نہیں کہ اقبال متین جیسے افسانہ نگار کو کسی سہارے کی ضرورت تھی۔ یہ تو اریب کی محبت تھی خلوص تھا جو اسے چپ بیٹھنے نہ دیتا تھا۔ وہ تو یاروں کا یار تھا۔

 اقبال متین کے علاوہ سردار سلیم بھی اس کا قریبی یار تھا جو خیر سے میرا بھی دوست تھا۔ ان دنوں کمرہ نمبر ۱۷  پر روزانہ حاضری دینا اس کا معمول تھا۔ سردار ایک ذہین مگر نرا جذباتی آدمی تھا۔ میں اسے اکثر چھیڑا کرتا تھا کہ تم اریب کی شخصیت سے مرعوب ہو بلکہ اس سے ڈرتے بھی ہو۔ دبلا پتلا سردار جو پینے کے بعد اکثر پہلوان بن جایا کرتا تھا کافی بھڑک اُٹھتا۔ پھر اس کا کھردرا ہاتھ میری ٹھوڑی پر ہوتا۔ ’’جی کیا فرمایا عوض سعید صاحب آپ نے۔ سردار اریب سے ڈرتا ہے سردار کسی کے باپ سے نہیں ڈرتا۔ ٬

پھر اس کی زبان قینچی کی طرح چلنے لگتی۔ جب تک وہ اریب کی شان میں کچھ نہ کہتا ہمارا جی نہ بھرتا۔

 قدرے بدلی ہوئی صورت میں یہی حال اقبال متین کا بھی تھا لیکن یہ آدمی کچھ اتنا ہوشیار تھا کہ اریب سے لے کر محلہ کا بیکری والا تک اس کا دوست تھا۔ یہ گنجا صلیب بر دوش آدمی نہ ناراض ہی ہوتا اور نہ کبھی برہم۔ مگر میں نے یہ ٹھان رکھی تھی کہ کسی بہانے اُسے غصّہ دلایا جائے۔ آسان صورت یہی تھی کہ اریب کی شخصیت کو درمیان میں لایا جائے۔

 پھر ایک دن وہ سردار کے ساتھ سڑک سے جاتا ہوا دکھائی دیا تو میں نے اِدھر اُدھر کی باتوں کے بعد اپنے ترکش سے ایک تیر نکالا اور چلا دیا۔ ’’میرا خیال ہے تمہارا مجموعہ اریب کی رائے کے بغیر بھی مجموعہ ہی رہتا۔ لیکن پھر بھی دیباچہ کے لیے تمہیں اریب کے گھر کے کئی چکر کاٹنے پڑے۔ ‘‘

 اس بار وہ خلافِ توقع غصّہ سے بھڑک اُٹھا اور بات نے تلخی اختیار کر لی۔ اس کے بعد میں نے اسے کبھی نہ چھیڑا۔

 میں نے ایک دن اس سے پوچھا۔ ’’اریب میں آخر کیا کشش ہے جو لوگ اس سے ملنے کے لیے مچلتے ہیں۔ ‘‘

 جواباً اس نے سرگوشی کے انداز میں کہا۔ ’’پیارے وہ بڑا نفیس آدمی ہے۔ ایک دم نفیس۔ ‘‘ مگر مجھے اس کی شرافت قائل کرتی ہی نہ تھی۔ شائد اس کی وجہ یہ ہو کہ میں نے اپنی کوتاہ بینی کے سبب اسے سمجھنے کی کوشش نہ کی ہو۔ مگر ان ساری باتوں کے بعد جب اریب مسکراتا ہوا ہم سے ملتا تو لگتا جیسے واقعی وہ ایک اونچا آدمی ہے۔ قد آور۔

 اسے اپنے احباب کے ساتھ چندہ کر کے چائے اور شراب پینے میں زیادہ مسرت ہوتی تھی۔ لیکن اس کے مزاج کا اُکھڑ پن اور حد سے بڑھی ہوئی انا کے سبب اکثر پینے پلانے کی محفلوں میں بدمزگی پیدا ہو جاتی تھی۔ چوتھے اور پانچویں پیگ کے بعد وہ عموماً بہک جاتا تھا۔ اور مینڈک کی طرح ٹرانے لگتا تھا۔ ایسے وقت میں اس کی زد سے بچ نکلنا مشکل ہوتا۔ وہ حالت نشہ میں کچھ ایسا پاگل ہو جاتا تھا کہ اسے یہ خبر تک نہ ہوتی تھی کہ مخالف اس کے مسلسل تھوک اڑانے پر احتجاج کر رہا ہے۔ اتفاقاً کبھی بار میں اس کا کوئی عزیز ساتھی (ایسے ساتھیوں میں سردار سلیم، اقبال متین اور عزیز قیسی کے نام لیے جا سکتے ہیں)۔ اس کی کسی دُکھتی رگ پر ہاتھ رکھ دیتا تو وہ بپھر جاتا تھا۔ لیکن کہی ہوئی بات اگر اس کے ذہن میں جونک کی طرح چمٹ جاتی تو وہ اسے فوراً جھٹک کر بچوں کی طرح رونے لگتا۔ اور بار سے یک لخت اُٹھ کر کہیں اور چلا جاتا۔ اس کے سارے احباب چیخ اُٹھتے۔ ’’ اریب ٹھیرو۔ رک جاؤ‘‘ میری جان اریب۔ آخر چلا گیا مردود۔ ‘‘

 وہ بڑا نفاست پسند اور خوش پوشاک واقع ہوا تھا۔ لباس خواہ وہ کسی قسم کا کیوں نہ ہو اس کے جسم پر خوب سجتا تھا لیکن وجے نگر کالونی میں منتقل ہونے سے پہلے اس کے ہاتھ میں ایک زنگ خوردہ سی چیز چمٹی رہتی تھی جسے وہ سیکل کہتا۔ اور اس احتیاط سے اس پر سوار ہوتا تھا جیسے ہندوستان کا کوئی باشندہ صحرائے عرب کے کسی ناقے  پر پہلی مرتبہ بیٹھ رہا ہو۔

 وہ بہ یک وقت ’’صبا‘‘ کا ایڈیٹر بھی تھا۔ مینجر بھی تھا اور منشی بھی لیکن خطوط نویسی کے معاملے میں بڑا ہی غیر ذمہ دار اور کاہل واقع ہوا تھا۔ اس کی کوتاہ قلمی کا یہ عالم تھا کہ وہ شاعروں ، ادیبوں اور ساتھیوں کو جواب دیتا بھی تھا تو صرف چند سطور میں۔ چہرے پر بال بکھرائے اور منہ میں چار مینار سگریٹ دبائے دو تین گھنٹوں کی غوطہ زنی کے بعد بھی وہ مشکل سے چند خطوط کے جوابات دے سکتا تھا۔ ایسے وقت کمرہ نمبر ۱۷ پر دوست احباب اچانک ہلّہ بول دیتے تو وہ ان خطوط کو پوسٹ بھی نہ کر پاتا تھا۔ اس کے اس فن کارانہ لا ابالی پن نے بہت سے لکھنے والوں کو اس سے دور کر دیا تھا۔ مگر مزے کی بات یہ تھی کہ کسی خاتون کی کوئی چیز’’ صبا‘‘ میں چھپنے کے لیے آ جاتی تو اس کی کوتاہ قلمی زود نویسی میں بدل جاتی اور اس کا سست رو قلم بجلی کی طرح چلنے لگتا۔

 دراصل عورت اور شراب اس کی دو ایسی کمزوریاں تھیں جس کے ہالے میں اس کا چہرہ صاف دکھائی دیتا تھا۔ اگر کسی نے اسے ’’بزمِ خیام‘‘ میں مدعو کیا ہو تو وہ صبا کو پریس میں پھینک آنے کا خیال کئے بغیر اچانک غائب ہو جایا کرتا تھا۔

 مجھے یاد ہے اس نے مجھے اور شاذ کو ایک بنگلے کے نیچے کھڑا کر کے کسی کو تاہ قامت خاتون سے ایک طولانی گفتگو شروع کر دی تھی۔ ’’صبا‘‘ کی وہ مہم جس کا ہلکا سا خاکہ لئے ہم چل پڑے تھے وہ اسے شاید بھلا چکا تھا۔ جب کافی دیر ہو گئی تو شاذ نے کاغذ کے ایک پُرزے پر مخدوم کا یہ مصرعہ لکھ بھیجا۔

 ’’مورِ بے جان سے سلیمان بہت کھیل چکا۔ ‘‘ اور وہ مارے خفّت کے نیچے اُتر آیا تھا۔ دوسرے دن بھی صبا کی خریداری اور اشتہارات کی مہم کسی وجہ سے سرد پڑ جاتی تو وہ خود پرہنس پڑتا اور پھر جب سر پر کام کا بھوت سوار ہو جاتا تو وہ صبا کے لیے اپنی زنگ خوردہ سیکل پر مارا مارا حیدرآباد کی سڑکوں پر گھوما کرتا اور جب کافی تھک جاتا تو کہہ اٹھتا۔

سیکل سوار بن کے گنہگار ہم ہوئے

 اریب کو کمرہ نمبر ۱۷ سے بڑی محبت تھی’ ۱۷ جہاں ادیب، شاعر موسیقار کاتب سب ہی یک جا ہوتے تھے اور ایک طویل عرصے تک کرایہ ادا نہ کرسکنے کے سبب اسے قرقی کا نوٹس ملتا تھا، تو ’۱۷‘ سے چند دنوں کے لیے ادیب، شاعر، صحافی سب ہی ایک ایک کر کے غائب ہو جایا کرتے تھے اور تنہا اریب رہ جاتا تھا۔

 اریب پر کبھی کبھار خوش فہمی کا بھوت بھی سوار ہو جایا کرتا تھا۔ ایک واقعہ جو ایک لطیفہ سے کم نہیں ہے یہ ہے کہ اس نے یہ سوچے بغیر کہ سیاست میں اس کا کیا مقام ہے بلدیہ کا الکشن لڑنے کی ٹھان لی۔ یہ غالباً ۵۳۔ ۵۴ء کی بات ہے وہ بنجارہ ہلز کے حلقے سے کونسلر کی سیٹ کے لیئے ایک امیدوار کی حیثیت سے کھڑا ہو گیا۔ وحید اختر، شاذ اور دوسرے احباب اس کی کینوسینگ (Canvassing) کے لیے مقرر کیے گئے تھے جو یا تو اپنی تازہ نظمیں ایک دوسرے کو سناتے تھے یا اریب کے بھولپن پر ہنستے تھے۔ لطف کی بات یہ تھی کہ خود اریب بھی اس مسخرہ پن میں شامل رہتا تھا۔ اپنی ضمانت ضبط کروانے کے بعد بجاۓ شرمندہ ہونے کے اس طرح خوش ہوا جیسے اس نے ایک بہت بڑا تیر مار لیا ہو۔

 اریب کی حسِ ظرافت بھی کافی تیز تھی۔ وہ اپنی ذات کو مذاق کا ہدف بنا کر خود بھی ہنستا تھا اور دوسروں کو بھی ہنساتا تھا۔

 جن دنوں وہ اے۔ سی گارڈز کے چھوٹے سے خستہ مکان میں رہتا تھا اکثر میں اور شاذ کمرہ نمبر ۱۷ سے بازار گھاٹ کے چوراہے تک اس کے ساتھ پیدل چل کر آتے اور باتوں میں منہمک ہو جاتے۔

 باتوں باتوں میں فلمی اداکاروں اور شاعروں کے معاوضے کی بات چل نکلی تو شاذ نے کہا۔ ’’کیوں نہ ہم تینوں فلمی دنیا میں چلے جائیں تاکہ اس کرب سے نجات ملے۔ ’’اریب صاحب آپ فلمی شاعر نہ سہی اپنے لمبے قد کے سبب ہیرو تو بن سکتے ہیں لیکن ہماری ٹریجڈی تو یہ ہے کہ ہمارا قد چھوٹا ہے۔ ‘‘ اریب نے بے ساختہ کہا۔ ’’تو پھر کیرکٹر ایکٹر‘‘ یہ کہہ کر وہ قہقہے لگانے لگا اور ہم بھی اس کے قہقہوں میں شامل ہو گئے۔

 اریب کے گھر چوری کی خبر جب اخباروں میں چھپی تو بیشتر احباب بجائے افسوس کرنے کے ہنستے ہی رہے کیوں کہ انھیں اس بات کا پورا اطمینان تھا کہ اریب کے ہاں چور کے منصب اور مقام کی کوئی چیز ہی نہیں ہے۔

وضع داری، شرافت محبت اور خلوص کے باب میں وہ ان لوگوں سے کہیں بہتر تھا جو محض دوستی اور محبت کا ڈھونگ رچاتے ہیں۔ وہ جتنا اونچا پورا تھا اتنا ہی کم خوراک بھی تھا۔ دعوتوں میں جہاں اکثر ادیب شاعر حضرات اچھے کھانے پر ٹوٹ پڑتے تھے وہاں وہ بڑے سلیقے اور تہذیب کا مظاہرہ کرتا تھا۔ لیکن بنتِ عنب سے ہم آغوش ہونے کے بعد اس کی یہ ساری خوبیاں دھر ی کی دھری رہ جاتی تھیں۔ ایسے وقت کسی کی زبان سے ایک کلمہ بھی اس کے مزاج کے ناموافق نکل جاۓ تو وہ بپھر جاتا تھا۔ کبھی کبھار جب اس کے غصّے کا پارہ چڑھ جاتا تو وہ اپنے مخالف کے سر پر گلاس پھینک مارنے میں بھی دریغ نہ کرتا۔ مگر صبح جب اس سے ملاقات ہوتی تو سب سے پہلا آدمی وہی ہوتا جو اپنے رُوٹھے ہوے ساتھی کو پیار سے گلے لگاتا چاہے اس کا ادبی قد صفر کے برابر کیوں نہ ہوتا۔ اس لیے اگر ہم رات کے سلیمان اریب اور دن کے اریب کا محاسبہ کریں تو اس کی تہہ در تہہ شخصیت کے ساتھ بہت دور تک جانا ہوگا۔ جذباتی اور یک طرفہ نگاہ رکھنے والوں کو بھلا کیا پڑی تھی کہ وہ یہ درد سرمول لیتے۔ اس لیے وہ اسے بہ آسانی نامعقول آدمی کہنے سے بھی جھجکتے نہ تھے۔

اریب نے شاعری سے پہلے مجاز اور اختر شیرانی کی طرح بڑی بوہمیین زندگی گزاری تھی ایسے وقت اس نے اخلاق کے سارے سکہ بند پیمانے توڑ بھی دیئے ہوں تو کوئی تعجب کی بات نہیں۔

 وہ اپنی بے شمار خامیوں اور خوبیوں سمیت اپنی ذات میں بڑی کشش رکھتا تھا۔ کوئی بڑا شاعر یا ادیب ایسا نہ تھا جو حیدرآباد آئے اور اس سے نہ ملے۔ کوئی شعری محفل ایسی نہ ہوتی جس میں اس کی شرکت ناگزیر نہ سمجھی گئی ہو۔

 وہ اعلی سوسائیٹی سے لے کر ادنی سوسائیٹی تک کا منظورِ نظر تھا۔ شادی سے پہلے لڑکیاں اس کی کمزوری تھی اور شادی کے بعد صفیہ اس کی کمزوری بن گئی تھی۔ وہ صفیہ کے بغیر شائد سانس بھی نہ لے سکتا تھا۔ محبت کی شادی کی اس سے اچھی مثال شاید ہی ملے۔

 وہ سماج کے مروّجہ اخلاقی پیمانے پر کبھی پورا نہ اُترا اور اسے اس بات کا غم بھی نہ تھا کہ وہ ایک شاعر بدمست کی حیثیت سے شہرت حاصل کر رہا ہے۔ ہمارے لیے مقدم اس کی وہ خوب صورت شاعری تھی جس کے بل بوتے پر وہ سر اُونچا کیے پھرا کرتا تھا۔ ارد گرد پھیلی ہوئی خود غرضی، منافقت اور جھوٹ سے اسے اللہ واسطے کا بیر تھا۔ کیوں کہ وہ اپنی ذات سے ایک سچا، خوددار اور کھرا آدمی تھا۔ اس بگڑے ہوے معاشرے میں جہاں سانس لیتے ہوے بھی احتیاط برتنی پڑتی ہے وہ اسے پے درپے ٹھوکر لگاتا رہا۔ اگر وہ مجلسی آدمی ہوتا تو کسی بگڑے نواب زادے کا شریکِ بزم بن جاتا مگر وہ خود اپنی انا کے بل بوتے پر اپنا ہی لہو زندگی بھر پیتا رہا۔ اریب مرنے سے چند دن پہلے دلّی ریڈیو کے مشاعرے سے جب حیدرآباد لوٹا تو گمان نہیں گزرتا تھا کہ یہ آدمی چند ماہ بعد ہمیں دھوکہ دے جائے گا۔

 انور معظم کے گھر اریب سے ملاقات ہوئی تو اس نے باتوں میں کہا۔ ’’تمہیں ایک بات سناتا ہوں تم یقین نہیں کرو گے اور میرا بھی یقین کرنے کو جی نہیں چاہتا۔ مگر دلّی میں بہت سے لوگوں نے مجھے بتایا کہ شاذ نے میری شرکت کے خلاف ریڈیو والوں کو ایک شکایتی خط لکا تھا۔ ‘‘ میں اور انور معظم نے اسے سمجھایا کہ وہ تو باہر کے مشاعروں میں آئے دن جاتا رہتا ہے وہ بھلا ایسی گھٹیا حرکت کیوں کرنے چلا۔

 دوسرے دن میں نے شاذ سے اس باب میں پوچھا۔ تو اس نے کہا۔ ’’یہ سراسر بہتان ہے۔ ہو سکتا ہے یہ چند مسخروں کی شرارت ہو اگر میری کوئی تحریر ریڈیو والے بتا دیں تو میں مان لوں کیوں کہ شکایتی تحریر پر نام اور پتہ لکھا نہ ہو تو اسے فائل کر دیا جاتا ہے۔ ‘‘

 اسی شام عابد روڈ کی ایک دکان سے شاذ نے فون ملا کر ریسیور میرے ہاتھ میں تھما دیا کہ تم اریب سے بات کرو اور کہہ دو کہ یہ سب بکواس ہے وہ اپنے ذہن کو صاف کر لیں۔ میں نے شاذ کے حوالے سے صرف اتنا کہا کہ شاذ کے نام سے کسی نے آپ سے شرارت کی ہے وہ کہہ رہا ہے آپ اپنے دل سے اس بدگمانی کو نکال دیں یا اس کا ٹھوس ثبوت فراہم کریں۔

 اریب نے اپنی بیٹھی ہوئی آواز میں کہا۔ مجھے کسی ثبوت کے فراہم کرنے کی ضرورت نہیں۔ شاذ جب کہہ رہا ہے تو میرے لیے یہی کافی ہے اس سے کہہ دو میرا دل صاف ہے۔ ‘‘

 اس بات سے اریب کے مزاج کا اندازہ ہوتا تھا کہ دوستوں کے لیے اس کے دل میں کتنی جگہ تھی حالانکہ شاذ سے اس کے تعلقات ایک مدّت سے استوار نہ تھے۔ اریب کی بیماری کے زمانے میں مغنی تبسّم اور انور بالالتزام کینسر ہاسپٹل جایا کرتے تھے۔ کبھی کبھار میں بھی چلا جاتا تھا کیوں کہ اریب کو جا کر دیکھنے کے لیے بڑے دل گُردے کی ضرورت تھی۔ اسے دیکھ کر دم گھٹ جاتا تھا اور ہر لمحہ یہ خیال ذہن کو کچو کے لگاتا تھا کہ یہ آدمی اب ہم میں نہیں رہے گا اور اس المیہ سے دوچار ہونے کو کسی طرح جی نہ چاہتا تھا۔ اریب جو کھانا کھانے کے بعد کم از کم دوگلاس پانی پینے کا عادی تھا آخری زمانے میں پانی کے لیے ترس گیا۔ کیوں کہ وہ نہ پانی پی سکتا تھا اور نہ اسے پچاسکتا تھا۔ اس کرب اور بے چارگی کے عالم میں بھی کسی ساتھی کے آنے پر اس کا ہاتھ مصافحہ کے لیے ضرور آگے بڑھتا اور وہ ہر دوا خانہ آنے والے ساتھی کا مسکراہٹ کے ساتھ استقبال کرتا۔

 ایک دن میں اور مغنی اس کے پاس بہت دیر تک بیٹھے رہے۔ وہ کسی سوچ میں گم تھا پھر ڈریسنگ کے لیے ایک نوجوان نرس بوڑھے وارڈ بوائے کے ساتھ اریب کے کمرے میں داخل ہوئی تو ہم لوگ اُٹھ کر باہر آ گئے۔ بہت دیر تک ہم دونوں کمرے کے باہر ہی ٹہلتے رہے۔ نرس اور وارڈ بوائے کے جانے کے بعد ہم اس کے بیڈ کے قریب کرسی کھِسکا کر بیٹھ گئے۔ اس نے بہ مشکل اپنے زخم آلود حلق سے آواز نکالی۔ ’’تم لوگ خواہ مخواہ میرے لیے اتنی تکلیف اٹھا رہے ہو۔ مجھے بڑا دُکھ ہوتا ہے کہ میرے دوستوں کو تکلیف اٹھانی پڑ رہی ہے۔ ‘‘ یہ کہہ کر وہ کچھ آبدیدہ سا ہو گیا۔

 ’’ایسا نہ سوچیے۔ اس میں تکلیف کی کیا بات ہے۔ ‘‘ ہم لوگ کہتے رہے۔

 ہ تھوڑی دیر یوں ہیک کھڑکی کی طرف دیکھتا رہا پھر اس پر اچانک غنودگی طاری ہو گئی۔ اس وقت جھما جھم بارش ہو رہی تھی بادل گرج گرج کر برس رہے تھے۔ ہوائیں جیسے نوحہ کناں تھیں۔ مغنی نے دھیرے سے کہا۔ آؤ سامنے ہوٹل میں چائے پیئیں۔ مغنی کے چہرے سے کبیدگی ٹپک رہے تھی۔ ہوٹل میں داخل ہونے تک ہم بھیگ چکے تھے۔ چاۓ پیتے پیتے مغنی نے کہا۔ ایک نظم سینے۔

 پھر انہوں نے وہ نظم سُنائی جو اریب کی بیماری کے آخری دنوں کی یاد گار تھی۔

یہ بادل برستے رہیں

یہ بادل برستے رہیں

میں نے سوچا تھا ایسا

کہ بادل برستے رہیں

مجھے خوف تھا آنہ جائے کہیں

وہ ’’موعود‘‘ جوراستے میں کسی پیڑ کے نیچے شاید کھڑا ہے

تبھی میں نے سوچا تھا

بادل برستے رہیں

نہ جانے وہ کس سوچ میں گم تھے۔

یکلخت رونے لگے

بجلیاں چیخنے اور تڑپنے لگیں

میں بہت خوش ہوا

کہ بادل برسنے لگے

میں اُٹھا

اپنے بستر پر پہنچا

لحاف اوڑھ کر سو رہا

یک بیک فون۔

سمجھا وہی ہوگا۔

(جو اب نہ جانے کہاں ہے)

مگر آج تک میرے کانوں میں بجتی ہیں وہ گھنٹیاں

جو بہت دیر تک مجھے سے فریاد کرتی رہیں

موت کی

 یکبارگی مجھے لگا جیسے موت کا عقاب کینسر ہاسپٹل کی عمارت کے اردگرد کہیں منڈلا رہا ہے۔ ہوا کے ہر زخمی جھونکے اور بارش کے ہر اداس قطرے پر اریب کی آخری سانس کا گمان ہو رہا تھا۔ وہ خوف کے بطن سے جنم لینے والے وسوسوں کی آخری گمبھیر رات تھی جس میں ڈوبا ہوا میں گھر لوٹا تھا۔

 پھر،۔ سپٹمبر کی وہ صبح بھی آئی جب عالم خوند میری اور مغنی نے میرے گھردستک دی۔ میں سمجھ گیا کہ آج حیدرآباد کا امیج کرچی کوچی ہو کر ہوا میں تحلیل ہو چکا ہے۔

دیکھنا

درد کے نواح میں

اُفق کی سمت

لاش جا رہی ہے

کون لوگ جا رہے ہیں شام کی طرف؟

 ***

 

قاضی سلیم

 قاضی سلیم کے ساتھ سب سے بڑی مشکل یہی ہے کہ وہ جتنے بھلے آدمی ہیں اتنے ہی بھلے شاعر بھی ہیں سادگی، شرافت، وضع داری، دوست نوازی، نیک نفسی ہیر پھیر کر ان ہی کی شخصیت پر آ کر ختم ہو جاتی ہے بلکہ دم توڑ دیتی ہے اور پھر ان کی ذات کے کشکول میں کچھ باقی نہیں رہتا۔ نہ قاضی نہ سلیم۔ بس ایک قلندر۔ میں نے قاضی سلیم کو ہمیشہ لٹتے ہوے دیکھا ہے۔ کسی کو لُوٹتے ہوے نہیں۔ اس کا اندازہ آپ بہ آسانی ان کی صحت سے بھی لگا سکتے ہیں۔ اُن کے قریبی دوست انور معظم انھیں صرف قاضی کہتے ہیں۔ پتہ نہیں لفظ سلیم ان کے حلق کے نیچے کیوں نہیں اترتا۔ ایک دفعہ انھوں نے بڑی مسرّت کے ساتھ کہا۔ سنو۔ قاضی آ رہے ہیں۔ میں نے ہڑبڑا کر کہا تو میں پھر چلتا ہوں۔

 ’’عجیب آدمی ہو بلکہ بد ذوق بھی ہو۔ قاضی یہاں نہیں رائل ہوٹل میں ہم سے ملیں گے۔ ‘‘ میں نے جواباً کہا۔ ‘‘ میں قاضی سے صرف ایک بار مل چکا ہوں۔ اب دوسری بار ملنے کی حسرت نہیں ہے۔

 انھوں نے میری شرارت کو بھانپتے ہوے کہا۔ ’’ براتیوں میں ہمارے علاوہ صرف مغنی ہی رہیں گے‘‘

 عقد کی محفل میں قاضی کی آمد کے ساتھ ہی جس طرح براتیوں کی آنکھوں میں اچانک چمک پیدا ہو جاتی ہے اسی طرح جب قاضی سلیم کسی ادبی محفل میں براجمان ہوتے ہیں تو ان کے مداح فرطِ احترام سے اٹھ کھڑے ہوتے ہیں ایسے میں اچانک اُن کا کوئی لنگوٹیا یار مل جائے تو وہ اسے اس طرح ٹکر ٹکر دیکھتے ہیں جیسے کہہ رہے ہوں اس میں بھلا میرا کیا قصور ہے۔

 میں نے جدید شاعروں میں صرف قاضی سلیم ہی کو ایک ایسا شخص پایا ہے جس نے نام و نمود، سستی شہرت اور تشہیر سے اپنے آپ کو بچائے رکھا بلکہ وہ مدّتوں اپنی ہی ذات کو مذاق کا ہدف بناتے رہے۔

 ’’شاعری جتنی نکھر رہی ہے گمنامی اتنی ہی بڑھتی جا رہی ہے‘‘ بے تکلّف محفلوں میں ان کا کہا ہوا یہ دل چسپ جملہ آج بھی گونجتا ہے۔

 قاضی سلیم نے جب بھی بنت عنب کو چھوا تو اس طرح کہ اس کے احترام میں اضافہ ہی ہوا۔ ایسے لوگوں میں ایک نام راشد آذر کا بھی ہو سکتا ہے۔ مجھے تو یہاں اس قاضی سلیم کے بارے میں کچھ کہنا ہے جس نے نجات سے پہلے بھی شعر کی پوجا کی ہے اور نجات کے بعد بھی۔ تاہم یہ موضوع میرا نہیں مغنی تبسم اور انور معظم کا ہے۔ جو بیک وقت ان کے دوست بھی ہیں اور ان کے نقّاد بھی۔

 میرے نزدیک خاکہ نگاری سے بڑا جھوٹ اور کوئی نہیں ہے اندر کے آدمی کو بھلا کب اور کس نے جانا ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ قاضی سلیم کی شخصیت مختلف نقابوں میں لپٹی ہوئی نہیں ہے کہ ایک چہرے پر سو چہروں کا گمان ہو یا ڈھونڈنے پر ایک پرزہ کہیں مل جاۓ تو دوسرا کہیں اور ہو۔ اور شخصیت کی ڈور بظاہر ہم تھامے ہوے ہوں اور سرا کسی اور کا ہاتھ میں ہو۔

 ویسے نرے شریف اور سیدھے آدمی پر ٹیڑھا خاکہ لکھنا ایسا ہی ہے جیسے جھوٹ اور سچ کی کڑیاں جوڑے ہوے آدمی اچانک ’’بولو رام‘‘ ہو جائے۔

 میری سمجھ میں نہیں آ رہا ہے کہ میں قاضی سلیم پر کیا لکھوں ویسے میں ان سے اتنی بار مل چکا ہوں کہ ذرا سی محنت پر ایک خیالی لیکن سچی مووی تیار ہو سکتی ہے۔ اورنگ آباد کی کچھ ہموار اور کچھ نا ہموار سڑکوں پر ایک تیکھے نقوش والا اہم آدمی دوسروں کی سکوٹر پر بیٹھا کہیں جا رہا ہے۔ راستے میں وہ کسی بھی آدمی کا ذرا سا اشارہ پاتے ہی جگہ جگہ رکتا ہے، ان کی خیریت پوچھتا ہے اور آگے بڑھ جاتا ہے۔ مزید آگے جانے پر ایک اور گروہ بھی ملتا ہے جو سکوٹر کے پیچھے بیٹھنے والے اسی اہم آدمی کو یہ مژدہ سناتا ہے کہ ان کے سارے کاموں کی تکمیل ہو چکی ہے، اور اس بھلے مانس کو یہ تک یاد نہیں رہتا کہ اس نے کب اور کس کی مدد کی ہے۔

 قاضی سلیم نے ہمیشہ آدھے سر کے درد کی اذیتیں جھیلی ہیں گو اب وہ اس ہولناک درد سے چھٹکارا پا چکے ہیں لیکن بام کی شیشی آج بھی ان کی جیب میں ضرور رہتی ہے کہ کل کہاں کہیں اچانک کسی ساتھی کو یہ درد لاحق ہو جائے تو وہ اس کی پیشانی پر بام مل سکیں۔

 یہ ناممکن ہے کہ قاضی سلیم نے اپنے لیے کسی کو آواز دی ہو یا کسی کا دروازہ کھٹکھٹایا ہو۔ وہ ہمیشہ دوسروں کے کام آتے رہے ہیں۔ ایک ایسا آدمی جس نے اوروں کے لیے اپنے دل کے سارے دروازے وا کر دیئے ہوں۔ ایسے آدمی کو آپ قلندر نہیں تو اور کیا کہیں گے۔ وہ اپنی سیدھی سادی محبت میں ڈوبی ہوئی شخصیت کے لحاظ سے مزاجاً مجھے کہیں کہیں اختر الایمان کی طرح لگتے ہیں۔

 کنکریاں تلاش کرنے بیٹھیں تو موتی ہاتھ لگے۔ یہ بھی کوئی بات ہوئی۔ خاکہ نگار کے لیے تو بات اُس وقت بنتی ہے، جب موتی تلاش کرنے نکل پڑیں تو ڈھیر ساری کنکریاں ہاتھ لگے۔ بھلا ہو قاضی سلیم کی شخصیت کا جن کی بنیاد میں جیسے کوئی ٹیڑھی اینٹ رکھی ہی نہ گئی ہو ویسے اچھی بھلی خوب صورت عمارت کو بھی سرنگ لگا کر ڈھایا بھی جاسکتا ہے مگر یہ کام تو تانترک نقّادوں کا ہے میرا نہیں۔

 قاضی سلیم کے بارے میں، میں اتنا ہی جانتا ہوں جتنا ایک دوست اور مدّاح جان سکتا ہے۔ مجھے سنہ یاد نہیں شاید ٥٠ یا ٥٢ کے آس پاس کی بات ہو، بھوپال سے کوثر چاند پوری کی ادارت میں ’’جادہ‘‘ نامی ایک پرچہ نکلا کرتا تھا جس میں قاضی سلیم بہ التزام چھپا کرتے تھے۔ اس وقت ان کی چند نظمیں میرے علاوہ شاذ کو بھی بڑی اچھی لگی تھیں۔ ہم ایسے نوواردانِ بساطِ ادب کے لیے یہ وہ دور تھا جب کوئی ہمیں گھاس بھی نہ ڈالتا تھا۔ ایسے میں اچانک ایک دن ملّے پلّی روڈ پر قاضی سلیم سے ملاقات ہو گئی، بلکہ زبردستی ہم لوگوں نے اپنا نام انھیں ذہن نشین کروانے کی کوشش شروع کر دی جب انھیں یہ معلوم ہوا کہ دسویں جماعت کے طالب علم بھی ان کے مداح ہیں تو وہ خوش ہو گئے۔ اور چلتے چلتے مطالعہ کے سلسلہ میں کچھ نصیحتیں داغ دیں آج بھی قاضی سلیم سے ملاقات ہوتی ہے تو مجھے ان کی وہ عجیب و غریب نصیحتیں بے اختیار یاد آ جاتی ہیں۔

 قاضی سلیم بڑے مخلص آدمی ہیں۔ میرا خیال ہے اگر انھیں چڑھتے ہوے دریا میں بھی پھینک دیا جائے تو خشکی پر کھڑے ہوئے اپنے یاروں سے یہ ضرور پوچھیں گے کہ تم لوگ کیسے ہو؟

 ایک ایسا آدمی جس نے ایک خوش حال گھرانے میں جنم لیا ہو جسے آسودگی کی ساری نعمتیں میسر ہوں۔ ایسے آدمی کے برتاؤ میں تفاخر کی جھلکیاں ضرور ملیں گی لیکن قاضی سلیم اس کے بالکل برعکس ہیں اور بڑے آدمی ہونے کی صحیح پہچان بھی شاید یہی ہے۔

 زندگی نے ہمیشہ ان سے ایسے کام لیے جو ان کے شاعرانہ مزاج سے میل نہیں کھاتے تھے مثلاً بیڑی کے پتّوں کا کاروبار اور وکالت۔

 جس زمانے میں وہ اورنگ آباد میں وکالت کیا کرتے تھے ان ہی دنوں اتفاقاً انور سے ان کی مڈ بھیڑ ہو گئی۔ اِدھر اُدھر کی باتوں کے بعد جب انور نے ان سے پوچھا کہ وکالت کیسی چل رہی ہے۔ تو انھوں نے مُسکراتے ہوے کہا خوب چل رہی ہے۔ آج ہی ایک آدمی کو ٤٤ سال کی سزا کروا دی ہے پھر انور نے پوچھا وکیل کون تھا تو انھوں نے کہا میں تھا تو پھر انور نے حیرت سے پوچھا کہ ٤٤ سال کی سزا کیسے ہو گئی اس پر انھوں نے جواب دیا کہ ٤٤ سال سے زیادہ ہو ہی نہیں سکتی تھی۔

 وکالت سے انھوں نے کچھ کمایا بھی ہے یا نہیں یہ اب بھی ایک راز ہے لیکن کہا جاتا ہے کہ بیڑی کے پتوں کے کاروبار نے ان کی معاشیات پر اچھا اثر ڈالا تھا۔

 دروغ بر گردنِ راوی کسی زمانے میں وہ گھنے جنگل میں کھڑے بیڑی کے پتّے تڑوایا کرتے تھے۔ ایک دن اچانک کہیں سے ایک ناگ اپنا پھن پھیلائے ان کے قریب آ کر جھومنے لگا مزدوروں نے اپنے مالک کو بچانے کے لیے جب اپنی لاٹھیاں سنبھال لیں تو قاضی سلیم نے انھیں یہ کہتے ہوے منع کر دیا کہ ڈرو نہیں یہ مجھے نہیں ڈسے گا اس کا نسخہ بھی میرے پاس ہے۔ سارے مزدور حیران تھے کہ مالک کے پاس آخر کیا دوائی ہے کہ وہ ناگ سے بھی نہیں ڈر رہے ہیں۔ ان کی حیرانی اور بڑھ گئی جب قاضی سلیم نے بڑی شتابی کے ساتھ اپنی جیب سے کاغذ نکالا اور سانپ کو مخاطب کر کے اپنی تازہ نظم سنانی شروع کر دی سانپ تھوڑی دیر یونہی جھومتا رہا پھر ترسیل کی ناکامی کا المیہ بن کر اچانک کہیں جنگلوں میں غائب ہو گیا۔

 پتہ نہیں مجھے اس واقعہ پر کیوں شک ہے لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ قاضی سلیم نے کلام سنانے کے سلسلہ میں کبھی بخل سے کام نہیں لیا۔ جب بھی موقع ہاتھ آیا اسے ضائع ہونے نہیں دیا۔ ان کی اس فیاضی سے بہرہ ور ہونے والوں کی فہرست بڑی طویل ہے، قاضی سلیم کے کلام سنانے کا انداز بے حد تیکھا اور نرالا ہے۔ کبھی کبھی ایسا لگتا ہے جیسے وہ دھیرے دھیرے اپنے سننے والوں کو Hypnotizeکر رہے ہوں۔

 ادب میں جب بھی جمود کا نعرہ بلند ہوا، قاضی سلیم نے اپنی دل موہ لینے والی نظموں کے ذریعہ اس کی تردید کر دی۔

 جس زمانے میں وہ ممبئی اسمبلی کے ممبر تھے کہتے ہیں وہ دور ان کی شاعری کے لیے بڑا پُر بہار تھا۔ ام ال ایز ہاسٹل میں کبھی کبھی شرارتوں کا ماحول بھی بن جاتا تھا ان کے روز ملنے والے یاروں میں باقر مہدی بھی تھے۔ پہلے یہ بیڑی کا پتّہ کٹواتے تھے یار لوگوں نے ان کا پتّہ کاٹنے سے بھی دریغ نہ کیا، اس کا قصّہ کچھ یوں ہے کہ باقر مہدی کو ظ انصاری کے تہنیتی جلسہ میں مضمون سنانا تھا تو ایک رات پہلے یہ مضمون اجتماعی طور پر لکھا گیا جن میں قاضی سلیم نہ صرف شامل تھے بلکہ اس مضمون کو وہی اپنے قلم سے لکھ رہے تھے اور اس مشترکہ مضمون نے اپنے مزے دار فقروں سے کافی غیر سنجیدہ صورت اختیار کر لی تھی دوسرے دن جب باقر مہدی نے یہی مضمون جلسہ میں سنایا تو ظ انصاری کی ناراضگی کا کوئی ٹھکانہ نہ تھا۔

 جب جلسہ ختم ہوا تو باقر مہدی نے ظ انصاری کے گھر پہنچ کر اپنی صفائی میں قاضی سلیم کے ہاتھ کا تحریر کردہ مضمون ان کے سامنے رکھ دیا۔ ’’دراصل یہ مضمون قاضی سلیم نے کہا تھا۔ میں صرف سنانے کا گنہگار ہوں‘‘۔ یہ کام ختم کر کے باقر مہدی قاضی سلیم کے ہاں پہنچے اور ان کو اطلاع دی کہ تمہارا پتّہ کٹوا دیا ہے۔ قاضی سلیم نے پوچھا، کہاں سے تو باقر مہدی نے کہا۔ ظ انصاری کے ہاں سے چند ہی دنوں بعد انہی باقر مہدی نے ان کا پتّہ ایک اور جگہ کٹوا دیا۔

 قاضی سلیم کی ایک عجیب و غریب عادت ہے کہ ان کے ہاں آئے ہوے شعری مجموعوں کو وہ بغور پڑھتے ہیں نہ صرف پڑھتے ہیں بلکہ اس پر اصلاح بھی دیتے ہیں۔ پتہ نہیں اس میں میر و غالب شامل ہیں یا نہیں لیکن ان کے معاصر شعرا کے ساتھ یہ سلوک اکثر و بیشتر ہوتا رہتا ہے۔

 ایک دفعہ باقر مہدی کو بلراج کومل کے مجموعہ کی ضرورت آن پڑی تو قاضی سلیم سے انہوں نے مجموعہ مانگا۔ قاضی سلیم نے وہ مجموعہ انہیں دے دیا۔ باقر مہدی دلی جا رہے تھے وہ یہ مجموعہ اپنے ساتھ لے گئے اور کومل کو مجموعہ دکھایا اور کہا۔ ’’آپ قاضی سلیم کے بڑے معترف ہیں۔ وہ آپ کی شاعری کے ساتھ جو سلوک کرتے ہیں وہ ملاحظہ کیجیئے۔ ممبئی واپس آ کر باقر نے پھر قاضی سلیم کو اطلاع دی کہ تمہارا پتّہ کٹوا دیا ہے۔

 قاضی سلیم نے پوچھا اس بار کہاں سے باقر مہدی نے کہا بلراج کومل کے یہاں سے۔ اس ایکٹیویٹی سے قاضی سلیم کی جو حالت ہوئی ہوگی وہ محتاج بیان نہیں۔ لیکن اب بھی باقر مہدی کے لیے قاضی سلیم کے دل میں وہی جگہ ہے جو پہلے کبھی تھی اور باقر مہدی کا بھی کچھ یہی حال ہے۔

 جیسا کہ میں نے آگے کہیں کہا ہے کہ قاضی سلیم کلام سنانے کے باب میں بڑے فراخ دل واقع ہوئے ہیں ان کی اس فراخدلی کی داستان بھی ذراسُن لیجیئے۔

 ایک دن میں مغنی کے گھر بیٹھا گپیں ہانک رہا تھا کہ اچانک قاضی سلیم گھر میں داخل ہوئے۔ وہ بخار میں پھُنک رہے تھے اور طبیعت کچھ اتنی نڈھال تھی کہ آتے ہی مغنی کے بستر پر لیٹ گئے۔ دھیمے لہجے میں میری خیریت دریافت کی۔ پھر مغنی نے بلانکٹ لا کر انہیں اُڑھا دی۔ وہ سردی سے کپکپا رہے تھے جو دوائیں انہوں نے اپنے ساتھ لائی تھیں اسے وہ وقفہ وقفہ سے استعمال کر رہے تھے۔ مغنی نے انور کا فون نمبر میرے ہاتھ میں تھماتے ہوئے کہا کہ انھیں ذرا یہاں بلا لیں۔ میں نے انور کو ساری تفصیل سنا دی تو وہ کچھ پریشان سے ہو گئے اور فوری مغنی کے گھر پہنچ گئے۔ ادھر قاضی سلیم نے دھیرے دھیرے بلانکٹ سے اپنا سر نکالا اور گمبھیر آواز میں اپنی تازہ نظم سنانی شروع کر دی۔

 ’’یہ کیا ہے قاضی، عوض تو کہہ رہا تھا کہ تم بیمار ہو۔ عجیب آدمی ہے خواہ مخواہ مجھے پریشان کر دیا۔ ‘‘

 میں نے قاضی سلیم کی طرف جب رحم طلب نگاہوں سے دیکھا تو انھوں نے قدرے جھینپتے ہوے انداز میں کہا یار طبیعت تو اب بھی خراب ہے لیکن اپنے یاروں کے سامنے نظم سنانے کا جو لطف ہے وہ اوروں کے ہاں کہاں۔

 میرا بے اختیار جی چاہا کہ اس معصوم پیکر کو اپنے گلے سے لگا لوں اور کہوں کہ قاضی صاحب شاید ایسی خوب صورت رات ہمیں پھر نصیب نہ ہو۔

 واقعی وہ رات قاضی سلیم کی خوب صورت نظموں سے مہک رہی تھی۔

 پھر رات ڈھلے رخصت ہونے سے قبل میں نے قاضی سلیم سے پوچھا کہیں اس exertionسے آپ کا بخار نہ بڑھ گیا ہو۔

 انھوں نے مسکراتے ہوے کہا۔ ’’نہیں ایسی کوئی بات نہیں۔ مجھے تو ایسا لگ رہا ہے جیسے میرا بخار اب نارمل ہو گیا ہو۔ ‘‘

**

 

اقبال متین

 اقبال متین کے کردار کی نقاب کشائی کرتے ہوے پتہ نہیں مجھے کافکا کے ناول دی کیسل (The castle) کی بے معنویت کیوں یاد آ رہی ہے۔

 اقبال متین کی شخصیت تو ترقّی پسندی کے الاؤ میں جل کر کندن بن چکی ہے اگر ایسا نہ ہوتا تو وہ ہر راستہ چلنے والے رہرو کو ’’پیارے‘‘ کہہ کر مخاطب نہ کرتا۔ گھر کے بھنگی سے لے کر دفتر میں کام کرنے والے چپراسی تک ، اپنے لاڈلے بیٹے نوید سے لے کر اس بد صورت مہاجن تک جس سے اس نے قرض لے رکھا ہے۔ سب ہی کو ’’پیارے‘‘ کہہ کر یوں پکارے گا کہ آپ اس کی شرافت اور بے بسی کے قائل ہو جائیں گے۔

 اقبال متین جس کے سر کے کناروں پر صرف چھدرے چھدرے بال رہ گئے ہیں اس شخصیت کا نام ہے، جسے روایتوں اور محبتوں نے جنم دیا ہے جسے قرض خواہوں نے پالا ہے جو خود کبھی ساہوکار تھا۔ آج ایک ملنگ فقیر ہے جو بچہ کہاں جائیگا کہنے کی بجائے یہ کہے گا کہ پیارے تو آج اداس کیوں ہے۔ جبکہ وہ خود آج دیوداس کا آخری روپ ہے۔

 اقبال متین کے لیے میرے دل میں کوئی محبت نہیں ہے۔ بھلا ایسے بے وقوف آدمی سے کون محبت کرے گا جو سب ہی کو برا بر چاہتا ہو۔ لیکن جب کبھی میں اداسیوں کے ہالہ میں بند ہو جاتا ہوں تو اقبال متین ہی کی طرف بھاگتا ہوں۔

 اقبال متین محبت اور خلوص کے اس کنوئیں کا نام ہے جو خود چل کر پیاسے کے پاس آتا ہے، مگر جب پیاسا خود چلتا ہوا اس کے پاس آتا ہے تو اس کی حالت دیدنی ہو جاتی ہے۔

 میں نے اقبال متین کو بڑے بڑے ستم سہتے ہوے دیکھا ہے۔ بڑے سے بڑے عذاب کو جھیلتے ہوے دیکھا ہے۔ دکھ اور غموں کی آخری سرحد پر اس سے ملاقات کی ہے۔ اس کی لاڈلی بیوی منیر اس سے جُدا ہوئی۔ بارہ سالہ فرید نے اس سے منہ موڑا۔ پپن نے پلک جھپکتے ہی آنکھیں پھیر لیں۔ گو متین لڑکھڑاتا رہا لیکن نیچے گرنے سے پہلے اس نے کسی کا آسرا نہ لیا۔ رویا اس لیے نہیں کہ وہ دوسروں کو روتا ہوا دیکھ نہیں سکتا تھا۔ ہنستا اس لیے ہے کہ وہ سب کو ہنستا ہوا دیکھنا چاہتا ہے۔ مگر اس گنجے اقبال متین کو روتے ہوے میں نے صرف ایک بار دیکھا تھا۔ پپّن کی موت کے بہت دنوں بعد۔

 میں نے اس کے ہاتھ میں ماچس کی ایک نئی ڈبیہ دیکھی تھی۔ وہ نئی ماچس کی ڈبیہ ڈھونڈ ڈھانڈ کر اس لیے ماچس خرید تا تھا کہ پپن کو ماچس کے لیبل جمع کرنے کا شوق تھا۔

 اب پّپن آسمان کی پہنائیوں میں چلا گیا تو اس کے ہاتھ میں ماچس کی ڈبیہ صرف انگلیاں جلانے کے لیے ہی باقی رہ گئی اس کا دل تو کب کا جل کر خاکستر ہو چکا تھا۔

 لیکن اقبال متین بظاہر آج بھی ہنستا ہے۔ جب اس کے ابّا تعلقدار تھے تو غالباً وہ اس وقت بھی بابو ہی تھا اور آج بھی وہ کلرک ہی ہے۔ جاگیر ایڈمنسٹریشن آفس کی ایک معمولی کرسی پر بیٹھا  فائیلوں پر جاگیرات کے مرثیے پڑھتا ہے اور فائل مکمل اس طرح کرتا ہے جیسے جاگیرات کے کتبہ پر آخری پھول چڑھا رہا ہو۔

 وہ جتنا چھوٹا ہے کہانی اتنی ہی بلند لکھتا ہے۔ اقبال متین کی کوئی محبوبہ نہیں ہے، کہانی ہی اس کی محبوبہ ہے جس کے چونچلوں سے وہ اتنا واقف ہے کہ آپ اسے بہ آسانی ادب کا فرہاد کہہ سکتے ہیں۔ جس کے ہاتھ میں تیشہ کی جگہ قلم ہے۔ ایک ایسا قلم جس پر جان چھڑکنے کو جی چاہتا ہے۔ مگر بسااوقات جی یہ کہنے کو بھی چاہتا ہے کہ بس کرو پیارے کب تک دھوکہ دو گے۔ آج الفاظ تو اپنے معنی کھو چکے ہیں۔ کرداروں کی دھوپ چھاؤں میں کب تک پڑے رہو گے۔ لیکن اقبال متین چکمہ باز نہیں ہے۔ کم از کم کہانیوں میں چکمے نہیں دے گا۔ عام زندگی میں موقع پڑنے پر آپ کو چکمہ بھی دے گا۔ آپ کو پریشان بھی کرے گا۔ اور ساتھ ساتھ خود بھی پریشان ہو گا۔ کبھی کبھی دوسروں کو پریشانی میں مبتلا کر کے خود ہی میٹھی نیند سوجائے گا یہ سمجھ کر کہ پریشانی اور دُکھ تو آدمی کا مقدّر ہے۔

 اقبال متین جیسا نرا شریف اور بدھو آدمی میں نے بہت کم دیکھا ہے۔ آپ اگر اس کی آنکھوں میں دھُول جھونک کر جیب کاٹ لیں تو سرِبازار وہ آپ کو چور نہیں کہے گا۔ اپنی جیب کٹوا کر بھی وہ خود ہی کو چور سمجھے گا۔ یہاں تک کہ وہ اپنی پرانی سیکل کو آفس کے کمپاؤنڈ سے اٹھاتے ہوے بھی ایسا محسوس کرے گاجیسے وہ چوری کر رہا ہو۔

 اقبال متین شرافتوں، محبتوں اور خلوص کا اسیر ہے۔ یہ وہ زندانی ہے جو زندگی کے نگار خانے میں اپنی آخری سزا کاٹ رہا ہے۔ عجیب آدمی ہے اقبال متین بھی۔ مزاج کرشن چندر کا پایا ہے لیکن کہانیاں بیدی کی طرح لکھتا ہے۔ لیکن بہ یک وقت دونوں افسانہ نگاروں پر جان چھڑکتا ہے۔ جان تو وہ مہندر ناتھ پر بھی چھڑکتا ہے۔ اقبال متین کیسا افسانہ نگار ہے مجھے اس کی وکالت کرنی نہیں ہے۔ جس شخص نے اس کی کہانی کا دیا ہوا نام یا’’ گریویارڈ‘‘ پڑھی ہے وہ اقبال متین کے فن سے متاثر ہوے بغیر نہیں رہ سکتا۔ اقبال متین کا قاری خود آج افسانہ نگار بن گیا ہے۔ آپ خود اندازہ لگائیے کہ وہ کب سے ادب کی اس کھیتی میں اپنا ہل چلا رہا ہوگا لیکن وہ اپنے سے چھوٹے افسانہ نگاروں سے ملتے ہوے خود کو بونا سمجھتا ہے۔ ایسے موقعوں پر اس کا ادبی قد دھندلاہٹوں میں کہیں چھپ جاتا ہے لیکن شاید یہیں وہ آپ کو دھوکہ دے جاتا ہے۔ وہ یقیناً سمجھتا ہے کہ وہ ادب کے ایک بونے سے مل رہا ہے جس کے کاسے میں ایک بھی ایسا سکّہ نہیں ہے جس سے وہ متاثر ہو سکے۔ لیکن وہ اس کی تعریف کرنے سے نہیں جھجکے گا۔ اس منزل پر پہنچ کر مجھے اقبال متین سے ایک کدسی ہو جاتی ہے۔

 میرے لیے یہ ایک سانحہ ہے کہ اقبال متین سے میری گہری دوستی ہو گئی اور متین کے لیے شاید میری شخصیت ایک عذاب ہے جسے وہ خوشی سے سہہ جاتا ہے۔

 اقبال متین کو لوگ احترام سے متین بھائی کہتے ہیں اور میں صرف اقبال متین کہتا ہوں، عمر میں، میں اس سے کم ہوں۔ اصولاً مجھے متین بھائی کہنا چاہیے۔ لیکن بھلا ہو اقبال متین کی زنگ خوردہ شرافت کا جو ہم ایسے مُنہ پھٹ لوگوں کو بھی انگیز کر جاتا ہے۔

 وہ مجھے بے حد چاہتا بھی ہے اور دُکھ بھی دیتا ہے۔ اپنے چاہنے والوں کو دُکھ دینا بھی شاید چاہت کی ایک علامت ہے۔ وہ کبھی ٹھرّا پیتا تھا آج کل ٹھرّے کی جگہ بیٹی نے لے لی ہے۔ پتہ نہیں وہ کب رفیق بیٹی پھینک کر وہسکی کی آغوش میں پناہ لے لے۔

 اقبال متین کچھ بھی کرسکتا ہے بشرطیکہ وہ لمحہ اس کے ہاتھ آ جائے جو ہر وقت اس کی گرفت میں آتے آتے رہ جاتا ہے۔ عرصہ پہلے اقبال متین نے اپنی جاگیر کو لات مارکر ایک پان کی دکان کھول لی تھی اور خود پان کی دکان پر آلتی پالتی مارکر اس طرح بیٹھ گیا تھا جیسے وہ بڑے باپ کا بیٹا نہیں چوکِ اسپاں میں جنم لینے والا ایک معمولی آدمی ہو۔

 جن لوگوں نے اس کے ہاتھ کے بنے ہوے پان کھائے ہوں گے چُونے کی تلخی انھیں ابھی تک یاد ہو گی۔ پان پر چونا پھیرتے ہوے تو لوگوں نے اسے دیکھا ہو گا۔ لیکن مکھن لگاتے ہوے آج تک کسی نے نہیں دیکھا۔ وہ آج بھی اپنی شخصیت پر چونا ہی پھیرتا رہتا ہے۔

 لوگ کہتے ہیں وہ بچپن میں خوب صورت تھا۔ جوانی میں بھی بھلا سا لگتا تھا۔ اب تو وہ اندھوں میں کانا راجہ بن کر رہ گیا ہے۔ دوسرے الفاظ میں آپ یوں کہہ سکتے ہیں کہ گنجے لوگوں کی قطار میں سب سے صحت مند اور شاداب گنجا اقبال متین ہی ہے مگر ابھی تک اس کا دل جوان ہے۔ کسی بھی خوب صورت چہرے کو دیکھ کر ٹھنڈی سانس بھرتا ہے۔

 جوان جسم بھی شاید اقبال متین کی ایک کمزوری ہے ایک بار میں عابد روڈ کی ایک گلی سے اس کے ساتھ جا رہا تھا۔ میری سوچ کی منزل کہیں اور تھی اور اقبال متین کی نظریں اس مزدورنی کا تعاقب کر رہی تھیں جس کا جسم صحت مند تھا۔ اگر اس کی شخصیت میں یہ عیب نہ ہوتا تو وہ ڈھیر ساری اچھی کہانیاں کبھی لکھ نہ پاتا۔

 اقبال متین کی آنکھیں بہت کمزور ہیں۔ اس لیے ہمیشہ عینک سے اپنی آنکھوں کو ڈھانکے رکھتا ہے لیکن جب کہانیاں لکھنے بیٹھتا ہے تو شیو کی آنکھ والی شخصیت بن جاتا ہے اور آدمی اس سے ڈرنے لگتا ہے کہ کہیں کہانی میں وہ اس کی چھپی ہوئی شخصیت کا سرِبازار بھانڈا نہ پھوڑ دے۔ اور اکثر ایسا ہوا بھی ہے وہ اپنی کہانیوں میں ہی شخصیتوں اور کرداروں کو اجاگر کرتے ہوے بڑا بے رحم ہو جاتا ہے لیکن سلیقہ مندی کو اپنے ہاتھ سے جانے نہیں دیتا۔ جب کہانی کا کردار روتا ہے تو وہ ہنستا ہے اور جب وہ خود شاہراہوں پر ہنستا ہوا گزرتا ہے تو اس کے کہانیوں کے کردار منہ چھپاۓ سسکیاں بھرتے ہیں۔

 میں اور میرے ایک دوست خالد ریس کے رسیا ہیں۔ ریس کھیلنے سے زیادہ ہمیں ریس دیکھنے میں مزہ آتا ہے۔ اقبال متین جب ریس کھیلتا ہے تو اس کے ہاتھ ایک کہانی لگتی ہے۔ ہم جب ریس کھیلتے ہیں تو پیسہ ضائع ہوتا ہے۔ مگر اقبال متین نے دو ایک بار ہی ریس کا مزہ چکھا۔ ڈربی کے دن وہ ہمارے ساتھ تھا وہ ہجوم میں بری طرح پھنس گیا تھا۔ اس ریل پیل میں جانے کس موٹے نے اُسے دھکہ لگایا کہ اس کا اکلوتا ریشمی شرٹ پیچھے سے اچھا خاصا پھٹ گیا اس پر طرفہ یہ کہ وہ تیس روپے بھی ریس میں ہار چکا تھا۔

 وہ خفّت کے مارے ٹکر ٹکر ہمیں دیکھ رہا تھا۔ خالد کا ہنسی سے برا حال تھا اور میں ہنستا ہوا سوچ رہا تھا۔ اب اقبال متین کو ہارے ہوے تیس روپے کون دے گا جو خود اس کے لیے اس دن کا آخری اثاثہ تھا۔ پھر اس کے بعد کسی نے اسے ریس کورس پر نہیں دیکھا۔ نہ اسے ریس سے دلچسپی ہے نہ رہی سے۔ ہاں وہ بنت عنب کا دیوانہ ہے۔ بڑی محبت سے پیتا ہے اور پینے کے دوران بڑی اچھی اور دل چسپ باتیں بھی کرتا ہے۔ موقع ملے تو جدیدیت پر اپنا غبار بھی اُتارتا ہے۔ خاس طور پر جب محفل میں شاذ بھی اور مغنی اگر موجود ہوں تو گویا انھوں نے جام نہ چھلکا نے کی شاید قسم کھا رکھی ہے)  اس طرح مغنی سے بات کرے گا جیسے مغنی ہی اس رویہ کے خالق ہوں۔

 جہاں تک میں نے اقبال متین کو سمجھا ہے۔ میں یہ بات دو ٹوک کہہ سکتا ہوں کہ اقبال متین کا ذہن نئے تجربوں، ابہام کی نزاکتوں اور باریکیوں کا متحمل نہیں ہے یا یہ بھی ہو سکتا ہے کہ میں نے اسے سمجھنے میں غلطی کی ہو۔

 جدیدیت کے آئینے میں اگر اقبال متین کے چہرے کو بغور دیکھا جائے تو شاید وہ آپ کو حقیرسا لگے۔ وہ ادب میں فیشن کا قائل نہیں ہے اور جب فیشن خود ایک راستہ پر پہنچ کر ادب بن گیا ہو۔ وہاں بھی آپ کو اقبال متین نہیں ملے گا زندگی کی بے معنویت کا وہ سرے سے قائل ہی نہیں۔ وہ بے مایہ اور بے ڈھب زندگی میں بھی ایک معنویت ڈھونڈے گا۔ اس منزل پر پہنچ کر وہ سب ساتھیوں سے بچھڑ جاتا ہے۔ کبھی کبھی وہ اجنبی نہ ہوتے ہوئے بھی اجنبی سا لگتا ہے اور یہ اجنبیت ہی اس کی شخصیت کی سب سے بڑی پہچان ہے۔

 وہ قرض میں سر سے پاوں تک ڈوبا ہوا ہے لیکن خود کو چہرے سے مطمئن ظاہر کرنے کی سعی لاحاصل کرتا ہے۔

 کبھی کبھی تو۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ کبھی کبھی تو میں نے مروتاً لکھا ہے۔ اکثر واپس جانے کے لیے اس کے ہاں رکشہ اور بس کا کرایہ تک نہیں ہوتا۔ ان چھوٹی چھوٹی باتوں کے لیے بھی اسے اپنے آفس کے ساتھیوں کے آگے ہاتھ پھیلانا پڑتا ہے۔ پانچ روپے قرض لے کر وہ سات روپے ادا کرتا ہے۔ ایسے نازک موقعوں پر اگر کوئی یار اس سے بغل گیر ہو جائے تو وہ ان روپوں کو اس انداز سے خرچ کرتا ہے جیسے قرض کی رقم اسی پر خرچ کرنے کے لیے لی گئی ہو۔

 ہوٹل سے نکلتے ہوے اس کا کوئی دوست کھا پی کر سگریٹ کا دھُواں اُڑاتا ہوا یہ کہے ’’متین بھائی اب میں چلتا ہوں۔ آپ مغل پورہ کا رکشہ لے لیجئے۔ ‘‘ تو وہ کھسیانہ ہو کر کہے گا ہاں پیارے رکشہ تو لینا ہی پڑے گا۔ مگر پسینے میں شرابور مغل پورہ تک پیدل ہی چلا جائے گا۔ اپنے دوست کو گالی نہیں دے گا کیوں کہ اس نے پیدا ہوتے ہی سب کو پیارے کہنے کا عذاب اپنی گردن پر سنبھال لیا ہے۔ رکشہ لینے ہی پر مجھے ایک بات یاد آئی۔ ایک محفل سے اُٹھ کر ہم عابد روڈ آئے۔ مجھے ملے پلّی جانا تھا اور متین کی رہائش گا مغل پوہ کا آخری کونا تھی۔

 ’’ متین یار رکشہ لے لو۔ ‘‘

 ’’ہاں پیارے میں لیتا ہوں۔ تُو تو اطمینان سے گھر چلا جا میری جان۔ ‘‘

 کہنے کو تو میں نے رکشہ لے لی، مگر جب پلٹ کر اقبال متین کو دیکھا تو وہ گم صم ابھی تک سڑک پر کھڑا تھا۔ مجھے حیرانی ہوئی کہ اقبال متین گھر جاتا کیوں نہیں۔ لیکن جب رکشہ والے نے تیزی سے پیڈل گھمانا شروع کر دیا تو اقبال متین مجھ سے دور ہو گیا۔ دوسرے دن اقبال متین نے مجھے بتایا کہ وہ رات بہت دیر سے گھر پہنچا۔ اسے مغل پورہ پیدل ہی جانا پڑا۔

 اس دن کے بعد سے میں جب کبھی اس کے کان کے قریب جا کر اس سے کچھ پوچھتا ہوں تو وہ مسکرا دیتا ہے۔ جیسے کہہ رہا ہو۔ تو کیا مجھے ہمیشہ یہی سمجھتا ہے کہ میں سدا کا ننگا ہوں۔ اس سدا ننگے انسان نے بارہاٹیکسیوں کے کرائے بھی خود ہی ادا کیئے ہیں۔

 میں اکثر محبت اور کبیدگی کے جذبات کے ساتھ اقبال متین کا استقبال کرتا ہوں۔ کبھی کبھار جب وہ لمبی مدّت تک مجھ سے نہیں ملتا ہے تو میں اداس سا ہو جاتا ہوں۔ بے محالہ اس سے ملنے کو جی چاہتا ہے۔ اس سے مل کر اکثر خوش بھی ہوتا رہا ہوں اور کبھی کبھار اُداس اور گمبھیر بھی۔ دوسری صورت میں مجھے اپنی کمینگی سے زیادہ اپنی بے بسی پر افسوس ہوتا ہے۔

 تنخواہ کا دن اقبال متین کے لیے روز محشر سے کم نہیں ہوتا۔ یہی وہ دن ہے جہاں آپ اسے اس کے اصلی روپ میں دیکھ سکتے ہیں۔ جہاں وہ دیوتا اور ملنگ فقیر کی جگہ ایک عام انسان سا لگتا ہے جسے اپنی بیوی کے ساتھ اپنے بچوں کی ابھی فکر ہو اور ساتھ ساتھ تنخواہ کی بھی۔

 وہ تنخواہ جو اس کے زینے کا ایک زینہ ہے۔ ایک ذریعہ ہے۔ وہ اسے بڑے جتن کے ساتھ بچا کر لے جانا چاہتا ہے مگر اکثر ناکام رہتا ہے اور جب اس مہم میں کامیاب ہو جاتا ہے تو اس کے گورے چٹّے چہرے پر ظفر مندی کی ایک جھلک ہویدا ہو جاتی ہے۔

 اقبال متین سے میری باری اس وقت ہوئی جب وہ سب کچھ لٹا کر چراغ علی لین کے ایک مکان میں رہا کرتا تھا۔ وہاں سے اُکتا کر وہ پھر ایک بار مغل پورہ کی بستی میں جابسا ہے۔ فرق صرف یہی ہے کہ آج سے چند برس پہلے مغل پورہ ہی میں اس کا ایک اچھا خاصہ ذاتی مکان تھا۔ اب وہ کرایہ کے ایک بے ڈھنگے سے بد شکل مکان میں رہتا ہے۔ کل وہ مکان چھوڑ کر کسی posh لوکیلیٹی میں ایک خوب صورت بنگلہ بھی خرید لے تو آپ کو تعجب نہیں کرنا چاہیے۔ کیونکہ وہ آج کل لاٹریوں کے ٹکٹ ہی میں اپنی قسمت کا حل تلاش کر رہا ہے۔

 اقبال متین کی خوبصورت رفیقہ حیات منیر کا جب انتقال ہوا تو سب لوگ یہی سمجھتے رہے کہ اب وہ اس غم کے بعد دوسری شادی نہیں کرے گا لیکن اس نے دوسری شادی کرنے میں کچھ ایسی پھرتی دکھائی کہ سب لوگ انگشت بدنداں رہ گئے۔ جب اس کے دس سالہ بچے  پپن کا اچانک انتقال ہوا تو سب لوگوں نے یہی سمجھا کہ اب اقبال متین کی صحت کا خدا ہی حافظ ہے۔ پہلے ہی سے ہاتھوں میں رعشہ ہے چائے پیتا ہے تو پیالی اُٹھاتے ہوئے اس کا ہاتھ کانپتا ہے لیکن پپن اور نشو کے مرنے کے بعد بھی متین جی رہا ہے کون جانے وہ جی بھی رہا ہے یا ہمیں دھوکہ دے رہا ہے۔

**

 

مُغنی تبسّم

 مجھے یاد نہیں کہ میری مغنی سے پہلی ملاقات کب اور کہاں ہوئی تھی ہاں یہ احساس ضرور ہے کہ میں انہیں آج بھی رگِ جاں کے قریب پاتا ہوں۔ اس قرب کے باوجود اگر میں یہ کہوں کہ مغنی کی شخصیت کی نقاب کشائی کا اہل میں ہی ہوں تو یہ میری خوش فہمی ہوگی کیونکہ مغنی کی شخصیت کی گہرائی تک پہنچنا کم از کم میرے بس کی بات نہیں۔ اس لیے مغنی کی شخصیت کا تجزیہ کرنا میرے لیے واقعی مشکل کام ہے۔ مشکل ان معنی میں کہ وہ ٢٢ + ٢٢= ٤٤ والی شخصیت نہیں بلکہ ٢٢+ ٢٢= ٥٥ والی شخصیت ہے۔

 ممکن ہے قدیر الزماں مغنی کی تہہ دار شخصیت کے اس چیلنج کو قبول کر لیں۔ ویسے کسی بھی چیلنج کو قبول کرنا اور پھر حواس باختہ ہو جانا قدیر زماں کے لیے معمولی سی بات ہے۔ یہ تو جملہ معترضہ تھا مجھے تو یہاں مغنی تبسّم کی شخصیت کے بارے میں کچھ کہنا ہے۔

 مغنی سے جب صرف جان پہچان تھی تو ان کا بیشتر وقت ’’پارٹی‘‘ کے کاموں میں گزرتا تھا۔ ایک طرف والدِ بزرگ وار حاجی۔ دوسری طرف فرزندِ ارجمند کامریڈ اور ٥٠ یا ٥٢ کا سنہ۔ عجیب زمانہ تھا وہ بھی۔

 پھر جب آگے بڑھے تو پیچھے مڑ کر یہ بھی نہ دیکھا کہ صبح کا انتظار کرنے والے ساتھیوں پر رات کیسے گزرتی ہے۔

 مغنی کی شخصیت کا ایک جُز ان کی اپنی ’’نرگیسیت‘‘ بھی ہے اور وہ اس آئینے کو بڑی مضبوطی سے تھامے رہتے ہیں جس میں ان کے چہرے کا عکس مٹتا اور اُبھرتا رہتا ہے۔ وہ باہر نکلنے سے پہلے اپنے آپ کو سنوار نے میں کافی وقت صرف کرتے ہیں وہ اس وقت تک آئینے کے سامنے سے نہیں ہٹتے جب تک کہ ان کا کوئی ساتھی اِنتظار سے تنگ آ کر یہ نہ کہے۔

 ’’مغنی صاحب اگر آپ مصروف ہوں تو میں پھر کبھی آ جاؤں گا۔ ‘‘

 جواباً وہ صرف یہی کہتے۔ ’’معاف کیجیئے گا کچھ دیر ہو گئی میں آ رہا ہوں۔ ‘‘

 ادبی اور علمی بحثوں میں اچانک کوئی چونکانے والی بات کہہ کر اپنے ساتھیوں کو بحث میں الجھا دینا اور پھر دور کھڑے ہو کر تماشہ دیکھنا مغنی کا وصف خاص ہے۔ ایسے موقعوں پر انہیں اس شرارت سے کوئی بھی باز نہیں رکھ سکتا۔ ویسے مغنی فطرتاً ایک شریف اور وضع دار آدمی بھی ہیں۔ باہر سے آنے والے ساتھیوں کا خیر مقدم کرنا، اور انہیں ایرپورٹ یا اسٹیشن تک پہنچا کر خدا حافظ کہنا مغنی کے معمولات میں سے ایک ہے۔

 مغنی سے سوبار مل کر بھی یہی احساس ہوتا ہے۔

 اصغر سے ملے لیکن اصغر کو نہیں جانا۔

 مغنی کی شخصیت اس بند کمرے کی مانند ہے جس پر تالا پڑا ہوا ہے اور چابی کسی اور کے پاس نہیں خود ان ہی کی جیب میں ہے اس لیے یہاں جو بھی باتیں میں ان کے بارے میں کہوں گا ضروری نہیں کہ آپ بھی اس سے متفق ہوں۔

 انور معظم کی طرح مغنی بھی اپنے دوستوں کے گھر شاذ ہی جاتے ہیں۔ اکثر صورتوں میں تو ان کے ساتھیوں ہی کو ان کے گھر کا طواف کرنا پڑتا ہے۔

 ایک دفع وہ صبح ہی صبح میرے گھر آئے دروازے کو کھٹکھٹانے کے بعد اوصاف کو آواز دی (اوصاف میرے بچے کا نام ہے)

 میں نے فاطمہ سے کہا۔ یہ مغنی کی آواز معلوم ہو رہی ہے ضرور کوئی مرا ہوگا۔

 فاطمہ نے ناگواری سے میری طرف دیکھا اور کہا۔ ’’چپ بھی ہو جائیے بھائی اگر سُن لیں گے تو کیا کہیں گے۔ ‘‘

 پھر مغنی نے اندر آ کر جب چُپ کی چادر اوڑھ لی تو میں سمجھ گیا کہ کوئی خاس بات ضرور ہے۔ پھر وہی بات انہوں نے کہی جو میرے دل میں تھی۔ اپنے ایک عزت کی موت۔

 حلقہ احباب ذوق اور میراجی مغنی کی سب سے بڑی کمزوری ہے اور ان کی یہی کمزوری انہیں ادب کے بعض مخصوص حلقوں میں معتوب بھی کرتی ہے۔ اس کے با وصف میرا جی اور راشد کے ادبی سرمایہ کی شیرازہ بندی میں وہ برسوں سے جٹے ہوے ہیں۔ اس کٹھن مہم میں انھوں نے اپنے دو ایک شاگردوں کو بھی شامل کر لیا ہے۔

 مغنی کے ورغلانے ہی پر ایک نے اپنے تھیسیس کے لیے راشد کا انتخاب کیا ہے دوسرے نے ان کے زیر اثر میراجی کا۔

 مغنی نے احتیاط کو ملحوظ رکھتے ہوے اپنے دونوں شاگردوں پر کڑی نظر رکھی ہے کہ کہیں وہ ہتّھے سے نہ نکل جائیں۔ چنانچہ ان کے پہلے شاگرد نے اس بھاری پتّھر کو چومنے سے بہتر یہی سمجھا کہ چند برس کے لیے کہیں فرار ہو جائیں اور اس طرح ایک دن وہ لاپتہ ہو گئے سنا ہے کہ انھوں نے اپنی نجات کا راستہ رحمت آباد کی درگاہ میں ڈھونڈ لیا ہے۔ کوئی عجب نہیں کہ وہ وہاں یہ دعا بھی کرتے رہے ہوں کہ معبود مجھے مغنی اور راشد سے بچائے رکھ۔

 دوسرے شاگرد کے بارے میں ایک اطلاع مجھے یہ ملی کہ وہ میراجی کی بھٹکی ہوئی روح کے تعاقب میں دور نکل پڑے ہیں۔ اور ہنوز انھیں لو ہے کے ان تین گولوں کے حصول میں کامیابی نصیب نہیں ہوئی ہے جو میراجی کے ہاتھ میں گھوما کرتے تھے۔

 مغنی کی نگرانی میں ریسرچ کرنا گویا پُل صراط پرسے گزرنا ہے اس پل صراط سے وہی سرکش گزر سکتے ہیں جن کے دل میں خالص لگن اور سودا ہو۔

 دوستی اور یاری کے باب میں مغنی کی محبت کا انداز ہی کچھ نرالا ہے۔ وہ جی جان سے ہر ایک کو چاہیں گے مگر اس طرح کہ اسے کانوں کان خبر نہ ہو لیکن جب جذبہ محبت غالب آ ہی جائے تو زبان ان کے اظہار کا ذریعہ بن جاتی ہے۔

 وہ رات مجھے اچھی طرح یاد ہے جب انھوں نے شاذ کو خلوص سے گلے لگاتے ہوے کہا تھا۔ شاذ تم فیض سے اچھے شاعر ہو میں تم پر ضرور مضمون لکھوں گا۔

 یہ بات مغنی نے یوں ہی نہیں پوری سنجیدگی کے ساتھ کہی تھی۔

 ’’مغنی صاحب یہ تو آپ کی محبت اور عنایت ہے ورنہ یہ بندہ خاک۔ ‘‘

 ’’تم نہیں جانتے شاذ کہ تم فیض سے بہر حال اچھے شاعر ہو۔ ‘‘

 ’’یہ خاکسار بہر حال اپنے آپ کو فیض سے کچھ کم ہی سمجھتا ہے لیکن خدا جھوٹ نہ بلوائے مغنی صاحب میں بڑا بول نہیں بولتا۔ خدا نے مجھے کچھ اتنی عزّت دی ہے کہ میری شہرت ہندوستان اور پاکستان ہی میں نہیں بلکہ افغانستان میں بھی ہے۔ اب تو مڈل ایسٹ اور اسٹیٹس میں بھی شاذ ہی کی باتیں ہوتی ہیں۔ یار عوض تم چپ کیوں ہو کیا میں یہ باتیں غلط کہہ رہا ہوں۔ ‘‘

 ’’نہیں شاذ تم ٹھیک ہی کہہ رہے ہو تمہاری شہرت آج کل فلم اسٹاروں سے کچھ کم نہیں ہے۔ ‘‘

 ’’اب آئے ہو راستے پر۔ ‘‘

 منظر بدلا تو کچھ پرانے چہرے پھر مجھے دکھائی دئیے ان چہروں میں قاضی سلیم کا بھی چہرہ تھا اور انور معظم کا بھی مصحف اقبال کا بھی اور مغنی کا بھی۔

 رائل ہوٹل کے کمرے میں داخل ہو کر میں نے اپنی نشست سنبھالی ہی تھی کہ مجھے ایک آواز آئی واہ کیا بات کہہ دی ہے اقبال پھر سے یہ شعر سناؤ سناتے رہو

جس سے لی تھیں اسی کو لوٹا دیں

یہ رہیں صبحیں، یہ تری شامیں

 یہ مغنی تھے جن پر اس شعر نے ایک وجدانی سی کیفیت طاری کر دی تھی اور جب ایک اور منظر بدلا تو اقبال نے انور معظم سے کہا۔ ’’مغنی صاحب کی محبت اور ان کی شعر فہمی پر ہمیں فخر ہے وہ کبھی جھوٹی تعریف نہیں کرتے۔ ‘‘ انور نے مسکرا کر میری طرف دیکھا اور کہا۔ ’’اس میں کیا کلام ہے۔ ‘‘

 مغنی کی کم آمیزی بھی ان کے لیے ایک ہتھیار کا کام دیتی ہے اور انھیں ناگہانی جملوں سے بچاتی ہے۔ کبھی کبھی تو اہم سے اہم مسئلہ بھی ان کی کم گوئی اور خاموشی کی نذر ہو جاتا ہے۔ مغنی نہ کسی کو مشورہ دیتے ہیں اور نہ کسی کا مشورہ سنتے ہیں۔

 ایک دن مجھے ان سے مل کر ایک مشکل دور کرنی تھی یعنی میں مشورہ کا طلب گار تھا۔ وہ میری باتیں بڑی دیر تک سنتے رہے پھر ایک گہری سوچ میں ڈوب گئے۔ میں ان کے استغراق کو دیکھ کر یہ سمجھ بیٹھا کہ وہ میری مشکل کا کوئی نہ کوئی حل ضرور نکالیں گے۔

 کافی غور و خوض کے بعد انھوں نے جو جملہ مجھ سے کہا۔ وہ یہ تھا۔

 ’’کل ایوانِ اردو میں‘‘ ایک ادبی نشست ہے فرصت ہو تو آ جائیے۔ ‘‘

 پھر اس کے بعد میں نے یہ عہد کر لیا کہ کبھی مغنی سے مشورہ نہ طلب کیا جائے۔

 ڈریسنگ کے باب میں مغنی بڑے اپٹوڈیٹ اور موڈرن بھی ہیں۔ وہ اپنے قیمتی کپڑوں کی آئرننگ خود ہی کرتے ہیں۔ دھوبی کی آئرننگ پر انھیں بھروسہ نہیں۔ کپڑوں پر جو کریز مغنی پیدا کرتے ہیں اگر دھوبی بھی اسے دیکھ لے تو شاید شرمندہ ہو جائے۔

 ایک دن میں جب ان کے گھر پہنچا تو وہ سوٹ میں ملبوس تھے۔ میں نے مغنی سے پوچھا۔ کیا آپ باہر جا رہے ہیں۔ ‘‘ مغنی نے کہا ’’ نہیں‘‘۔

 پھر میں نے پوچھا۔ ’’کیا مغنی صاحب آپ باہر سے آ رہے ہیں؟‘‘

 انھوں نے کہا۔ ’’ نہیں‘‘۔

 میں گھر چلا آیا اور شعر و حکمت کے بند ہو جانے کے اسباب پر غور کرنے لگا۔

 مغنی تبسّم جن کے ہونٹوں پر تبسّم کی کلیاں ذرا کم ہی چٹکتی ہیں میرے ان دو ڈھائی دوستوں میں سے ہیں جن سے مل کر ہمیشہ خوشی ہوتی ہے خواہ وہ کسی موڈ یا رنگ میں کیوں نہ ہوں۔ ہاں مغنی ان ہی لوگوں کے لیے بوجھ بن سکتے ہیں جن کے کان ذہانت کی خوشبو سے نا آشنا ہوں۔

 مغنی کے مزاج میں فنکاروں کی سی قلندری بھی ہے۔ تشہیر اور نام و نمود کے امام ضامن کو کبھی انھوں نے اپنے ہاتھ پر نہیں باندھا۔ ملک کے بڑے بڑے ادبی سمیناروں میں شرکت کی لیکن کسی بھی اخبار کو آپ نے آنے جانے کی اطلاع نہیں دی۔ خوب تعریفیں بٹوریں لیکن اس کا ذکر کسی کے سامنے نہیں کیا۔

 چپ چاپ گئے اور خاموشی سے لوٹ آئے۔ ایسی باتیں بڑا ظرف مانگتی ہیں۔

 شاید یہ جان کر آپ کو حیرت ہو کہ کبھی بھٹکی ہوئی روحوں سے بھی مغنی کا تعلق خاطر رہا ہے۔ وہ رات کے کسی بھی حصّے میں کبھی تنہا اور کبھی اپنے مخصوص احباب کے ساتھ جس روح کو بھی بلوانا ہوتا۔ اسے بلواتے اور اس سے کچھ سوالات کرتے اور یہ سلسلہ رات دیر گئے تک چلتا رہتا۔

 ان کے اصرار پر ایک دن میں نے بھی اس تماشہ میں شامل ہونے کی کوشش کی۔ بات چیت کے لیے میں نے اپنے ایک مرحوم ساتھی کا انتخاب کیا جو میرے بلاوے پر آتا ہی نہ تھا۔

 میں نے تھک ہار کر مغنی کی طرف دیکھا تو انھوں نے آنکھوں ہی آنکھوں میں میری ہمت بندھائی لیکن کنکشن کی غلطی سے ایک عجیب و غریب روح نے اچانک مجھے آ دبوچا اور بات شروع ہو گئی۔ میں ایک دم بوکھلاسا گیا۔

 میرے چہرے پر آئی ہوئی گھبراہٹ کی لکیروں کو پڑھتے ہوئے مغنی نے کہا۔

 ’’کبھی کبھی غلطی سے خبیث روحوں سے بھی ہمارا سابقہ پڑ جاتا ہے۔ ‘‘۔

 ’’ہاں معاملہ ہی کچھ ایسا ہے میں نے گھبراہٹ بھرے لہجے میں کہا۔

 ’’کون تھا وہ۔ ۔ ۔ ۔ ؟مغنی نے تفصیل جاننا چاہی۔

 لیکن میں گریز سے کام لیتا رہا جب ان کا اصرار کافی بڑھ گیا تو میں نے بڑی مایوسی سے کہا ’’ وہ میراجی تھے اور آپ ہی کو پوچھ رہے تھے۔ ‘‘

 مغنی کی شخصیت اکہری نہیں بلکہ دوہری ہے اور دوہری بھی اس طرح کہ شخصیت کا ایک سرا کہیں اور ہے تو دوسرا کہیں اور۔ ۔ ۔ جیسے زمین و آسمان آپس میں گلے مل رہے ہوں۔

 اس خاموش اور شانت سمندر میں کب طوفان آ جائے کوئی بتا نہیں سکتا۔

 میں نے انہیں کئی روپ میں دیکھا ہے، محبت کی آخری سیڑھی چڑھے ہوئے بھی اور دُور کھڑے ہو کر اُسے الوداع کرے ہوے بھی۔ یاروں کی محفل میں جان ڈالے ہوے بھی آنا فاناً اسے برباد کرتے ہوے بھی۔

 انھوں نے اپنے لیے ایک شیڈول بنا لیا ہے جو ہر سال تبدیل ہوتا رہا ہے۔ کبھی شاذ کو فیض پر فوقیت دے دی تو کبھی دبلے پتلے مصحف اقبال کو اچانک پہلوانوں کے اکھاڑے میں کھڑا کر دیا کبھی ایک کا ہاتھ تھاما تو کبھی دوسرے کا گریباں چاک کیا کبھی کھائی میں گرے ہوے کسی اَدھ موئے شاعر کو آواز دی تو دوسری طرف خاصے بھلے شاعر کو کنویں میں ڈھکیل دیا۔

 ان کا یہ کھیل تماشہ نجی محفلوں میں مدت سے جاری ہے لیکن جب لکھنے کا معاملہ آتا ہے تو ان کا و طیرہ کچھ اور ہی ہوتا ہے۔ جب کبھی وہ سنجیدگی سے موضوع کو چھوتے ہیں تو اس میں جان ڈال کر ہی رہتے ہیں۔

جدید کہانیوں اور نظموں کا تجزیہ وہ کچھ اس خوب صورتی سے کرتے ہیں کہ معنی و مفاہیم کے کئی گوشے دھیرے دھیرے لکھنے والے کے ذہن میں روشن ہونے لگتے ہیں اور بالآخر وہ اپنی عجیب و غریب باتوں اور تجزیہ کے سہارے ادیب کی شخصیت کو پوری طرح جکڑ لیتے ہیں پھر فنکار کے لیے ان کے اس سحر سے نکلنا مشکل ہو جاتا ہے۔ کبھی کبھی تو وہ کسی تخلی کو سونگھ کر بھی اس کے اچھے یا برے ہونے کا فیصلہ کر دیتے ہیں اس منزل پر بھی وہ متاثر کیے بغیر نہیں رہ سکتے۔ مجھے یاد نہیں انھوں نے سنجیدگی کا لحاف اوڑھے میرے کتنے افسانوں کے پرخچے اڑائے اور کتنی کہانیوں کو بانس پر چڑھایا لیکن وہ مجھے ہر عالم اور ہر روپ میں بڑے پیارے لگے۔

 مغنی مزاجاً قلندر بھی ہیں اور قدرے دنیا دار بھی۔ کبھی وہ اپنے وجود کو سمندر میں پھینکے ہوئے اس لکڑی کے ٹکڑے کی طرح سمجھتے ہیں جسے لہراتی ہوئی موجیں اِدھر اُدھر بے سمت بھٹکاتی رہتی ہیں۔ اس موڑ پر پہنچ کر وہ زندگی کی بے معنویت کے قائل ہو جاتے ہیں اور زندگی کے اس عذاب سے نجات پانے کے لیے اپنے آپ کو Swift کرتے رہتے ہیں اور اس Swifting ہی کو انسان کا اصلی مقدر سمجھتے ہیں لیکن دیر ہی سے سہی اس خول سے نکل بھی آتے ہیں۔

 مغنی کی ڈاک ہمیشہ بھاری بھر کم ہوتی ہے۔ ان کے گھر آئے ہوے رسالے اور کتابیں مطالعہ کے انتظار میں جیسے اُونگھتے رہتے ہیں۔ لیکن وہ صرف انھیں سونگھ کر رکھ دیتے ہیں۔ انہیں ہاتھ نہیں لگاتے لیکن جب ان پر پڑھنے کا دورہ پڑتا ہے تو انھیں کسی بات کا دھیان نہیں ہوتا ایسے وقت وہ اس صوفی کی طرح دکھائی دیتے ہیں جس پر اچانک وجدانی کیفیت طاری ہو گئی ہو اور جبر و د کا مسئلہ حلق میں پھنس کر رہ گیا ہو۔

 مغنی کو بھولے سے بھی اپنی کتابیں یا رسائل نہ دیجئے وہ انھیں اپنی ٹیڑھی میڑھی لائبریری میں اس طرح محفوظ کر دیتے ہیں کہ انھیں ڈھونڈتے ڈھونڈتے آنکھیں پتھرا جاتی ہیں مگر ان کی صحت پر ذرا بھی اثر نہیں پڑتا۔ وہ مخصوص انداز میں کچھ اس طرح مُسکراتے ہیں کہ کبھی کبھی جی جل اٹھتا ہے۔ دوسری طرف ان کی مروتوں کا یہ عالم ہے کہ گھر آنے جانے والا کوئی بھی دوست یا عزیز اپنی پسند کی کوئی بھی کتاب اس طرح اُٹھا لے جاتا ہے جیسے یہ اس کی اپنی ملکیت ہو۔ ایسے وقت بھی ان کے ہونٹوں پر وہی مخصوص مسکراہٹ رینگتی رہتی ہے۔

 ایک دن وہ بڑے ’’موڈ‘‘ میں تھے۔ گھر آتے ہی بستر پر لیٹ گئے، میرے ساتھ شاذ اور راشد آذر بھی تھے۔ راشد اور شاذ کی بھوکی نگاہیں بک شلف میں پھنسی ہوئی کتابوں کا طواف کر رہی تھیں جیسے اب کوئی ناگہانی حادثہ ہونے والا ہو۔ مغنی نے لیٹے لیٹے اس صورتِ حال کا جائزہ لیا اور دھیمے لہجے میں کہا۔ ’’یہ سب کتابیں لے لو میری پوری لائبریری تم ہی لوگوں کے لیئے ہے۔ ‘‘

 مغنی کا یہ کہنا ہی تھا کہ راشد اور شاذ کتابوں پر ٹوٹ پڑے جو بھی کتابیں ہاتھ لگیں، کار میں اسے ٹھونسنا شروع کر دیا جیسے یہاں کوئی مال غنیمت تقسیم ہو رہا ہو۔ میرے حصّے میں صرف ساقی فاروقی کا مجموعہ ’’پیاس کا صحرا‘‘ ہی آیا جو میری تسکین کا باعث بنا۔ ادھر راشد اور شاذ میری نادانی پر ہنس رہے تھے۔ اور میں انھیں جواب بھی کیا دیتا یہ تو اپنی اپنی پسند کا معاملہ تھا۔

 دوسرے دن ملاقات ہوئی تو میں نے سارا حال کہہ سنایا لیکن وہ حسبِ عادت زیرِ لب مسکرا رہے تھے جیسے کوئی اہم واقعہ ہوا نہ ہو۔ انھیں ذرا بھی اس بات کا ملال نہیں تھا کہ یاروں نے ان کی ڈھیر سار کتابیں ہڑپ کر لی ہیں۔ ان کی شخصیت کا یہ تضاد انوکھا بھی ہے اور دل چسپ بھی۔

 میں نے مُغنی کو ہمیشہ اپنے یاروں سے کہیں زیادہ اپنے مخالفین کی مدد کرتے دیکھا ہے۔ ان کی اس حکمت عملی سے کبھی کبھی انہیں فائدہ کی جگہ نقصان بھی پہنچا ہے۔

 بعض لوگ اپنی خوبیوں سے کہیں زیادہ اپنی شخصی کمزوریوں سے پہچانے جاتے ہیں لیکن مغنی اپنی خوبیوں ہی کے سبب جانے جاتے ہیں۔ ان کی اپنی شخصی کمزوریاں کبھی ان کی خوبیوں پر حاوی ہونے نہیں پاتیں۔

 مغنی جیسا شاہ خرچ آدمی میں نے ذرا کم ہی دیکھا ہے۔ وقت بے وقت اپنی جیب سے سوکا نوٹ وہ اس طرح نکالتے ہیں جیسے وہ سو کا نوٹ نہ ہو کاغذ کا کوئی بے کار پرزہ ہو۔ پتہ نہیں ان کی شاہ خرچی کب انہیں لے ڈوبے۔ بہ ظاہر اس طرح ڈوبنے کے دُور دُور تک کوئی آثار نہیں ہیں۔ ویسے آنے والے کل کے بارے میں کون کیا کہہ سکتا ہے۔

 مغنی کا مزاج جواریوں جیسا ہے۔ وہ زندگی ہی کو ایک جوا سمجھتے ہیں اسلئے ان کے ہاں ہار جیت کا کوئی علیٰحدہ خانہ نہیں ہے۔ ایک ہی خانہ ہے جس میں ان کے سب و روز کا حساب بڑھتا اور گھٹتا رہتا ہے۔

 مغنی شروع ہی سے بڑے Active اور مصروف آدمی رہے ہیں۔ کوئی ادبی اور تہذیبی سرگرمیاں ایسی نہیں جہاں ان کا عمل دخل نہ ہو۔ دوسروں کے لیے کوئی مسئلہ بننے سے پہلے ، ایک ایک کر کے وہ سارے اہم کام اپنے ذمہ لے لیتے اور انھیں اس سلیقے سے منزل تک پہنچاتے کہ آدمی حیرت سے ان کا مُنہ تکتا رہ جاتا۔ اس صورت حال کے پیشِ نظر اگر کوئی ان سے یہ کہے کہ مغنی صاحب آپ نے یہ کیا بکھیڑے پال رکھے ہیں۔ طالب علموں کو ڈھنگ سے پڑھا دیا وقت پر کلاس لے لی۔ کیا آپ کیلئے یہ کافی نہیں ہے۔

 ’’نہیں۔ ۔ ۔ ۔ یہی سب کچھ نہیں ہے کچھ اور بھی ہے۔ ‘‘

 کچھ اور بھی ہے سننے کے بعد جی تو یہی چاہتا کہ انہیں آگے کی منزل پر تنہا چھوڑ کر کسی چور دروازے کے ذریعہ فرار ہو جائیں مگر مصروفیتوں کے دلدل میں پھنسے رہنے کا مزا تن آسان لوگ کیا جانیں۔

 مے نوشی خیام کی ذات پر ختم ہوئی ہو یا نہ ہو مگر چائے نوشی کے سارے راستے مغنی کی ذات پر آ کر ختم ہو جاتے ہیں۔ وہ اس کثرت سے چائے پیتے ہیں کہ کبھی کبھی گمان گزرتا کہ کھانا برابر نہ کھاتے ہوں۔ ویسے کم خوراکی کے سبب وہ  اب بھی اسی طرح جوان ہیں جیسے پچیس تیس برس پہلے کبھی تھے۔ ماہ و سال کی کالی گھٹائیں ان کے سر سے چمٹتی نہیں بلکہ گزر جاتی ہیں کوئی عجب نہیں کہ وہ آئندہ بیس برس تک اسی طرح جوان رہیں۔

 عالمِ مستی میں کبھی کبھی وہ یہ بھی بھول جاتے ہیں کہ کون سی بات کہاں کہنی ہے لاشعور میں پھنسے ہوے سارے کوڑا کرکٹ کو وہ مخاطب کے مُنھ پر اس طرح دے مارتے ہیں جیسے مخاطب دوست نہ ہو محض ایک دشمن ہو۔ کتھارسس کی یہ شئے بھی عجیب شئے ہے مگر گنہگاروں کی اس دنیا میں مغنی مجھے کبھی کبھی اس فرشتے کی طرح لگتے ہیں جس کے پر اچانک کسی نے کاٹ لیے ہوں۔

 میں نے مغنی جیسے یار باش آدمی ذرا کم ہی دیکھے ہیں۔ دوستوں کے آڑے وقت کام آنے کو وہ ایک عبادت سمجھتے ہیں اور اس عبادت میں خلل اسی وقت پڑتا ہے جب ان کی جیب خالی ہو۔ ویسے شاہ خرچی کے معاملہ میں وہ کچھ اتنے آگے نکل چکے ہیں کہ کبھی احساس ہوتا ہے جیسے وہ دستِ غیب کا علم بھی جانتے ہوں۔

 میرا خیال ہے مغنی کی یہی کچھ خامیاں ہیں اور اِن ہی خامیوں کے بل بوتے پر اُن کی شخصیت کی عمارت کھڑی ہے۔

***

 

جیلانی بانو

 مختلف ادبی شخصیتوں کا احاطہ کرنا بہت سوں کے لیے محبوب مشغلہ ہو سکتا ہے لیکن میرے نزدیک خاکہ نگاری تو دودھاری تلوار ہے ذرا پینترا ٹیڑھا ہوا اور کہنے والا دھم سے نیچے آ رہا لیکن یہاں معاملہ اس لیے بھی دیگر ہے کہ جیلانی بانو کی شخصیت میں نہ کوئی ایسی پیچیدگی ہے اور نہ نفسیات کی کوکھ سے جنم لینے والا ایسا تضاد جس کا سرا ڈھونڈنے پر بھی نہ ملے۔

 جیلانی بانو سے مل کر قدم قدم پر یہی احساس ہوتا ہے جیسے ہم جیلانی بانو سے نہ ملے ہوں غلطی سے کسی اور خاتون سے ملے ہوں جسے اچھے کپڑے پہننے اچھے کھانے پکانے اور ساتھ ساتھ سلائی کی مشین چلانے کا ایک خبط ہو۔ ایسا ہی احساس مجھے واجدہ تبسّم سے پہلی بار مل کر ہوا تھا لیکن یہاں مجھے بانو کی شخصیت کا احاطہ کرنا ہے۔

 مجھے سنہ تو یاد نہیں ٥٣ یا ٥٥ء کی شاید بات ہو۔ ایک پوسٹ مین ہوا کرتا تھا جس کا نام رزاق تھا۔ ملّے پلّی کا علاقہ اسی کے سپرد تھا۔ 108/A کے گھر حاضری دینا اس کا معمول تھا۔ وہ خطوط کے علاوہ رسائل کا ایک بنڈل روز پھینک جاتا تھا اور بڑی دیر تک ٹھہرا بھی رہتا تھا جیسے وہ گھر نہ ہو پوسٹ آفس کا سارٹنگ آفس ہو۔ کبھی کبھار حبیب نگر کے چوراہے پر مڈ بھیڑ ہو جاتی تو میں پوچھتا۔ ’’کوئی خط۔ ۔ ۔ ؟‘‘ تو کہتا۔ ’’آج تو نہیں ہے میاں۔ ‘‘

 جواباً میں اُسے چھیڑتے ہوے کہتا۔ ’’کل کب تھا۔ ‘‘ تو وہ ہنستا ہوا 108/A پر پہنچ کر اپنی سیکل کو یوں روکتا جیسے وہ تھوڑی دیر آرام کرنا چاہتا ہو۔

 کبھی کبھار دو ایک خط ہمارے ہاتھ تھماتا ہوا وہ 108/A کی طرف اشارہ کرتا ہوا کہتا۔ ’’آدھا بوجھ تو میرا یہیں ختم ہو جاتا ہے۔ ‘‘

 پھر بعد میں مجھے معلوم ہوا کہ یہ سارٹنگ آفس نہیں افسانہ نگار جیلانی بانو کا گھر ہے جو علامہ حیرت بدایونی کی صاحبزادی ہیں۔

 اس وقت تک میرے ذہن میں حیدرآباد کے ادیبوں اور شاعروں میں مخدوم ، شاہد صدیقی، سلیمان اریب ، کنول پرشاد کنول ، اقبال متین، عزیز قیسی ، زینت ساجدہ اور عاتق شاہ ہی کے نام تھے لیکن جیلانی بانو کے نام اور کام سے میں واقف نہ تھا اور نہ ہی دل کے کسی کو نے میں ایسی خواہش تھی کہ بانو کو پڑھا جائے۔ گو ماہ نامہ’’ چراغ‘‘ میں پکّی روشنائی سے جیلانی بانو کا نام بھی آیا کرتا تھا پھر سلیمان اریب سے ملاقات ہوئی۔ ’’سب رس‘‘ کے جب وہ مدیر ہوے تو ان سے ملاقاتیں بڑھنے لگیں۔ ان کے پیچھے جوان ادیبوں کا ایک قافلہ ہوا کرتا تھا ان میں چند سکہ بند ادیب بھی تھے جو لکھتے کم تھے اور اپنا ڈھنڈورہ زیادہ پیٹتے تھے۔ لیکن مزاجاً اریب ایک معقول انسان تھے۔

 اس وقت تک شاذ اور وحید اختر نے باقاعدہ لکھنا شروع نہیں کیا تھا۔ پوسٹ مین رزاق کی تبدیلی ہو چکی تھی اور اس کی جگہ ایک نئے پوسٹ مین نے لے لی تھی۔

 پوسٹ مین کی آواز اب ہمارے لیے نامانوس نہ تھی اور آج تو کچھ نہیں ہے کہنے والے ڈاکیہ کی جگہ، آج بھی بہت کچھ ہے۔ کہنے والا ڈاکیہ ہمارے درمیان آ چکا تھا۔ عجیب طفلانہ دور تھا وہ بھی۔ آج ان باتوں کو سوچ کر ہنسی آتی ہے۔

 ادبی محفلوں میں اور خانگی نشستوں میں جیلانی بانو کا ذکر خیر بھی اکثر آتا رہتا ہے۔ ’’عوامی مصنفین‘‘ سے تعلق رکھنے والا کوئی شاعر یا ادیب کہتا۔ ’’بھلا جیلانی بانو سے افسانے کا کیا تعلق؟ افسانہ تو مشاہدہ کی دین ہے وہ تو ایک پردہ نشیں لڑکی ہے کوئی کہتا۔ ’’وہ حیدرآباد میں پیدا ہو کر بھی اپنے آپ کو ابھی تک بدایونی ہی سمجھتی ہیں وہ تو نان ملکی ہیں۔ کوئی دل جلا کہتا۔ یوروپین غیر ملکی۔ میرے ذہن میں آتا کیا واقعی بدایوں ہندوستان میں نہیں ہے یا پھر ہم لوگ خود جلا وطن ہیں۔

 پھر کچھ عرصہ بعد کسی نے یہ خبر دی کہ پاکستان کے ایک معتبر رسالہ’’ ادبِ لطیف‘‘ میں جیلانی بانو کی ایک کہانی چھپی ہے جس میں مخدوم کو غلط رنگ میں پیش کیا گیا ہے جب مخدوم کے کانوں تک یہ بات پہنچی تو انہیں یقین نہیں آیا کہ ایسا ہو بھی سکتا ہے لیکن بہت سارے لوگوں نے جب اس کی تصدیق کی تو مخدوم نے یہی بہتر سمجھا کہ علامہ حیرت بدایونی سے اس کی تصدیق کی جائے۔

 ایک دن مخدوم علامہ کے گھر گئے ان سے کچھ چھیڑ چھاڑ کی اور کہا آپ کے گھر تو ایک شیطان جنم لے رہا ہے۔ پھر انہوں نے علامہ سے کہا۔ بانو کو بلوایا جائے میں اس سے ملنا چاہتا ہوں۔ بانو کے لیے کسی اہم شاعر اور ادیب سے ملنے کا شاید یہ پہلا موقع تھا۔ مخدوم نے جب بانو سے اس کہانی کی بات کی تو بانو نے وہ رسالہ ان کے ہاتھ تھما دیا۔

 دوسرے دن مخدوم نے رسالہ لوٹاتے ہوے کہا۔ ’’اس میں میرے تعلق سے کوئی بات ہی نہیں ہے۔ ‘‘ چنانچہ جیلانی بانو کی کہانیوں کے مجموعہ ’’روشنی کے مینار‘‘ پر احمد ندیم قاسمی کے ساتھ مخدوم کی بھی توصیفی رائے درج ہے۔

 ان ہی دنوں یہ بات مشہور تھی کہ جیلانی بانو پہلے تو کسی ادیب اور شاعر سے ملتی ہی نہیں اور اگر ملتی بھی ہیں تو گفتگو کی تان ندیم بھائی کا کہانی کے لیے خط آیا ہے یا طفیل صاحب نے نقوش کے افسانہ نمبر کے لیے ٹیلیگرام بھجوایا ہے یا مرزا ادیب نے ان کی گفتگو کا محور یہی کچھ ہوتا۔ وہ اپنی ذات کے علاوہ کوئی اور بات کرتی ہی نہیں۔ ظاہر ہے ان باتوں کو سننے کے لیے کس کے ہاں اتنا وقت ہے۔ جیلانی بانو سے ملنے اور افسانے پر بات کرنے کی ذہن کے کسی گوشے میں جو خواہش تھی وہ ان باتوں کو سننے کے بعد دب سی گئی۔

 پھر جب وہ شاعر اور ڈرامہ نگار دوست انور معظم سے بیاہی گئیں تو گاہے گاہے ان سے ملاقاتیں ہوتی رہیں۔ گفتگو کے دوران نہ نقوش ہی درمیان میں آ ٹپکا۔ اور نہ فنون۔ اور بانو نے کبھی اپنی اچھی کہانیوں کی نشاندہی کی۔ یہ تو کوئی دوسری جیلانی بانو نکلیں۔ پھر ایک بار مجھے حیرت ہوئی اور یہ حیرت آج تک بھی باقی ہے اس وقت بھی جبکہ میں ان پر خاکہ لکھنے بیٹھا ہوں۔

 احمد ندیم قاسمی کی شرافتوں کے سب ہی قائل ہیں۔ انہیں ایک بہت ہی اچھا افسانہ نگار اور شاعر ماننے پر مجبور ہیں۔ اگر ذکر احمد ندیم قاسمی کا ہو یا محمد طفیل کا ، جمیل جالبی کا ہویا مرزا ادیب کا فیض کا ہویا سجاد ظہیر کا مخدوم کا ہو یا کسی اور محبوب شاعر اور ادیب کا۔ جیلانی بانو اسی صورت میں ان کا ذکر اور تعریف کریں گی جب آپ نے خود ان کا ذکر چھیڑا ہو یا بات ہی کچھ ایسی نکل آئے کہ ان کا ذکر ناگزیر ہو مگر وہ اپنی کہانیوں اور کتابوں کے ذکر سے اپنے آپ کو یوں محفوظ رکھیں گی جیسے وہ افسانہ نگار نہیں کوئی اور مخلوق ہوں۔

 اُردو ادب کا وہ قاری جو افسانہ نگار اور شاعر سے کہانیاں اور نظمیں سننے کا برسوں سے عادی رہا ہو اسے جیلانی بانو سے مل کر یقینی مایوسی ہوگی۔ کیوں کہ وہ گھر آئے ہوے مہمان کی تواضع موسم کے مطابق چائے آئسکریم یا کسی ٹھنڈے مشروب سے کریں گی اور کہانی کہیں درمیان ہی میں لٹکتی رہ جائے گی ہاں اگر کوئی خاص ادبی محفل ہو تو وہ افسانہ ضرور سنائیں گی۔

 جیلانی بانو کی طرح انور معظم کے احباب کا دائرہ بھی کچھ سکڑا ہوا ہے گھر ہی ان دونوں کی کائنات ہے اس لیے اور شاعروں اور ادیبوں کی طرح ان کی زندگی اور گھر میں کوئی بے ترتیبی نہیں ملے گی۔

 جیلانی بانو موسیقی اور پینٹنگ کا بھی ایک خاص ذوق رکھتی ہیں۔ فائن آرٹس کی طرف ان کا یہ جھکاؤ ان کے ایک فطری آرٹسٹ ہونے کی ایک دلیل بھی ہے حد تو یہ ہے کہ وہ کلاسیکل میوزک ، پکّے گانوں راگ اور راگنیوں کی بھی نبض شناس ہیں ان کی خوب صورت کہانی ’’دیوداسی‘‘ در اصل راگ جیے جیونتی ہی کا ایک روپ ہے۔

 بانو کہانی کے پہلے جملے کو بڑی اہمیت دیتی ہیں۔ کہانی کا پہلا جملہ اگر خوب صورت اور بھر پور نہ ہو تو وہ کہانی لکھنے کے بعد کہیں چھپنے کے لیے نہیں بھیجتیں لیکن اچھی کہانی کے لیے یہ کوئی بندھا ٹکا فارمولہ نہیں ہے۔

 جیلانی بانو کو ادب میں زندہ رکھنے کے لیے ان کی ایک کہانی ’’پرایا گھر‘‘ ہی کافی ہے پرایا گھر کی شانِ نزول کے بارے میں جب میں نے پوچھا تو انہوں نے کہا یہ کہانی ایک جملے کو سُن کر لکھی گئی ہے۔ ہوا یوں کہ بانو کہیں رکشہ میں جا رہی تھیں انھوں نے ایک آدمی کو دیکھا جو اپنے ساتھی سے کہہ رہا تھا۔

 ’’جاؤ جاؤ خدا حافظ، اپنے گھر جانا نہ بھولنا۔ ‘‘

 اب خاکہ اختتام کو پہنچ رہا ہے تو مجھے دھیرے دھیرے اس ان دیکھے آدمی کی یاد آ رہی ہے۔ میں اس کی گمبھیر آواز سن رہا ہوں۔ ’’جاؤ جاؤ خدا حافظ اپنے گھر جانا نہ بھولنا۔ ‘‘

 مجھے ایسا لگ رہا ہے جیسے ہم سب لکھنے والے آج اپنے ہی گھر میں بے گھر ہو چکے ہیں بالکل بانو کی کہانی’’ پرایا گھر‘‘ کے عنوان کی طرح۔

***

 

عزیز قیسی

 برسوں پُرانی بات ہے ایک کالا کلوٹا نوجوان جسے دیکھ کر پال رابسن کی یاد تازہ ہو جاتی تھی ڈائس پر کھڑا اپنی ایک جوشیلی نظم سُنانے کے بعد داد نہ ملنے پر سامعین سے الجھ رہا تھا اور لوگ خواہ مخواہ کی مار کُٹائی سے بچنے کے لیے عالمِ بے بسی میں کبھی آہ اور کبھی واہ کے نعرے بلند کر رہے تھے۔ ایسے عجیب و غریب ماحول میں یہ آدمی مجھے بڑا پیارا لگا۔ میری زبان سے بے ساختہ نکل گیا اچھا شاعر ہے۔ میری بغل میں بیٹھے ہوے صاحب نے چونک کر مجھے نیچے سے اُوپر تک اس طرح دیکھا جیسے وہ میری قابل رحم حالت کا اندازہ لگا رہے ہوں۔ ’’گھبراؤ نہیں عدالت میں کوئی کام ہو تو بتا دینا میں اس سے کہہ دوں گا‘‘۔

 ’’سول کورٹ میں جج کے بعد آج کل سب سے اہم آدمی یہی ہے۔ ‘‘

 اس اہم آدمی سے میری پہلی مڈ بھیڑ معظم جاہی مارکٹ کے چوراہے پر اس طرح ہوئی کہ برسوں گزر جانے پر بھی ایسا لگتا ہے کہ یہ حادثہ ابھی ابھی ہوا ہے۔

 یہ وہ زمانہ تھا جب قیسی کے نام اور کام سے سب ہی کے کان آشنا تھے اور ہماری حیثیت ادب میں نووارد کی سی تھی۔

 ’’قیسی یہ نوجوان اپنا عوض سعید ہے میں نے ’’سب رس‘‘ کے لیے اس سے ایک کہانی لی ہے۔ ‘‘

 یہ اریب تھے۔

 ’’تو مولانا آپ ہی وہ ذاتِ شریف ہیں جنہوں نے احسن علی مرزا کے پرچے میں بکواس کی تھی۔ قیسی شاعر ہی نہیں افسانہ نگار بھی ہے۔ قیسی افسانہ نگار نہیں ہے تو سالے تم کیا ہو؟‘‘

 اسی دوران شاہد صدیقی آ دھمکے تو اریب نے کہا۔ ’’تو ہو جائے دو دو ہاتھ۔ ‘‘ شاید ان کا روئے سخن رمی کی طرف تھا۔

 شاہد نے کہا۔ ’’تو پھر انہیں بھی ساتھ رکھ لو۔ ‘‘

 ’’یہ تو بالکل بدّھو ہے۔ نرا افسانہ نگار۔ یہ رمی کیا کھیلے گا۔ چلو رمی نہ سہی ججاک ہی سہی۔ ‘‘

 ’’ارے ممتاز ذرا ٹھہرنا۔ میں اوپر آ رہا ہوں۔ ‘‘ کہہ کر شاہد مجرد گاہ کی سیڑھیاں پھلانگتے ہوے اُوپر چڑھ گئے۔ اور میں اریب کے چنگل سے بچ بچا کر گھر لوٹ آیا۔

 ان دنوں مجرد گاہ ادیبوں کا ایک مرکز تھا اور اریب اس کے سرپرست۔ ہوٹل ہویا بار جب عزیز قیسی موجود ہو تو بِل Pay کرنے کا سوال ہی پیدا نہ ہوتا۔ یہ لامتناہی سلسلہ اس وقت ختم ہوا جب عزیز قیسی نے حیدرآباد سے تنگ آ کر ممبئی میں رہائش اختیار کر لی۔

 اپنی برجستہ گوئی، بذلہ سنجی اور لطیفے بازی میں وہ شاہد صدیقی سے کسی طرح پیچھے نہ تھا۔

 مزاجاً  اُکھڑ مگر دل کا بڑا نرم اور اگر غصے سے مغلوب ہو جائے تو اپنے ساتھی کا بھی حلیہ بگاڑ کر رکھ دیتا ہے خاص طور پر اس وقت جب پینے کے دوران کوئی اسے ماں کی گالی دیدے یہ الگ بات ہے کہ ابھی تک اس نے جوڈو اور کراٹے کا صحیح مظاہرہ نہیں کیا ہے۔

 ایک دن میں نے اپنے ایک دوست کے سوجھے ہوئے چہرے کو دیکھ کر جب ان کی خیریت دریافت کی تو انھوں نے مسکراتے ہوے کہا۔ ’’یہ قیسی صاحب کی عنایت ہے۔ ‘‘

 جب تک وہ حیدرآباد میں رہا بیسیوں بار اس سے ملاقاتیں رہیں لیکن ۱۹۵۸ میں جب میری بمبئی میں اچانک اس سے ملاقات ہوئی تو وہ فلم انڈسٹری کی خاک چھان رہا تھا اور حفیظ قیصر ان دنوں ایک فلمی پرچے سے وابستہ تھا۔ وہاں رنجیت اسٹوڈیو میں میں نے پہلی بار منوج اور دھرمیندر کو دیکھا جو فلمی دنیا سے اکتا کر اپنے وطن لوٹنے کی تیاری کر رہے تھے۔ اور قیصر بڑی تندہی سے منوج کی پبلسٹی میں لگا ہوا تھا۔

 نعیم زبیری کو میرے ساتھ دیکھ کر اس نے کہا تم اس بور آدمی کے ساتھ یہاں کدھر آ گئے جس نے دن میں تمہیں میرین ڈرائیو کی سیر کروا دی۔ ہم نے ایک پرسُکون ہوٹل میں کافی کے دو پیالے پیئے اور باتوں اور لطیفوں کا ایک دل چسپ سلسلہ شروع ہو گیا۔

 جب کافی دیر ہو گئی تو میں نے کپڑے جھاڑتے ہوے کہا۔ ’’قیسی یار کبھی ہم کو بھی یہاں کھپا دو۔ ‘‘

 ’’مرنا اگر ہے تو یہاں مستقلاًآجاؤ اور ساتھ میں نواب کو بھی لے آؤ مزہ آ جائے گا۔ ‘‘

 قیسی کوئی بائیس برس سے ممبئی ہی میں مقیم ہے۔ فلم میں اس نے بہت کچھ کمایا بھی ہے اور ساتھ ساتھ گنوایا بھی‘‘

 وہ ایک شاہ خرچ آدمی ہے۔ آج اس کے ہاں ہزاروں روپے بھی ہوں تو وہ آنے والے کل کے بارے میں کبھی نہیں سوچے گا۔ اس کے ہاتھوں کی مضبوط گرفت ہمیشہ آج پر رہتی ہے کل پر نہیں۔ اور آنے والے کل پر تکیہ کرتے ہوئے شاید ہی کسی نے اُسے دیکھا ہو۔

 اریب نے کسی وقت اُسے لکھا تھا کہ تم کار خریدنے کے بعد ہی حیدرآباد لوٹ آنا۔ ایک اچھا فلیٹ تو اس نے خرید لیا ہے لیکن ایک خوب صورت اور قیمتی کار ابھی تک حسرتوں کی منزل ہی میں کہیں پھنسی ہوئی ہے۔

 قیسی ایک اچھا شاعر ہی نہیں ایک اچھا سکرپٹ رائٹر بھی ہے۔ مگر اس کی تند مزاجی اور اس کے زہریلے سچ نے اسے ابھی تک اس مقام پر نہیں پہنچایا جہاں اسے بہت پہلے پہنچ جانا چاہیے تھا۔

 ہماری رنجشیں، ہماری تنہائیاں ناقابل تقسیم ہیں لیکن قیسی سے ہر بار مل کر ایسا لگتا ہے جیسے ہم اپنی تنہائیوں کے تابوت کو دور کہیں چھوڑ آئے ہوں اور جیسے قیسی زندگی کے ہر زہر کا مزہ چکھ چکا ***

 

وحید اختر

 کسی کی ڈھکی چھُپی شخصیت کے ہر بُنِ مو کو چھیڑنا ایسا ہی ہے جیسے کوئی خواہ مخواہ بھڑکے چھتّے میں ہاتھ ڈال دے۔

 پھر وحید اختر جیسی پیچیدہ اور گنجلک شخصیت کا احاطہ کرنا گویا پل صراط پر سے گزرنا ہے۔ اس پل صراط سے ممکن ہے انور معظم، قاضی سلیم، شاذ تمکنت گزرسکتے ہوں جن کا وحید کے ساتھ رات دن کا ساتھ رہا ہے۔

 وحید اختر سے مل کر آپ کو ذرا بھی خوشی نہیں ہوگی کیوں کہ شدید دل آزاری اور اپنے مقابل کسی بھی آدمی کو کمتر اور حقیر سمجھنا اس کا وصفِ خاص ہے۔ go کا یہ عالم ہے کہ وہ اپنے عہد کے کسی بھی ادیب اور شاعر کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں۔

 مین نے آج تک وحید اختر کی زبان سے کسی شاعر یا ادیب کی تعریف نہیں سُنی۔ ہاں مذمّت ضرور سُنی ہے۔ مذاق اُڑاتے ہوئے ضرور دیکھا ہے مگر اس کے باوجود وہ اپنے مضامین میں ان تمام ادیبوں، شاعروں کا ضرور احاطہ کرے گا جن کا وہ نجی محفلوں میں با رہا مذاق اُڑاتا رہا ہے۔ یہ اور بات ہے کہ اس کی تنقیدی ترازو کے دونوں پلڑے برابر نہ ہوں۔ اکثر صورتوں میں تو وہ آنکھوں میں دھول جھونک کر کچھ اس سلیقے سے ڈنڈی مارتا ہے کہ کچھ پتہ ہی نہیں چلتا۔ ان دھاندلیوں کے باوجود وہ کئی اچھے نقّادوں سے اچھا نقّاد ہے۔ اچھا شاعر تو وہ ہے ہی۔

 جیسا کہ میں نے آپ سے کہا ہے اپنے آگے دوسروں کو ہیچ اور حقیر سمجھنے کا جذبہ وحید کے خمیر میں کوٹ کوٹ کر بھرا ہے۔ اس کے ثبوت کے لیے کبھی آپ اس سے مل کر دیکھئے۔ وہ مصافحہ کے دو منٹ بعد ہی فقرہ بازی پر اُتر آئے گا۔ پہلے آپ کو خاص انداز سے دیکھے گا پھر مسکرائے گا۔ اس کے ہونٹوں کی چُبھتی ہوئی مسکراہٹ صاف چغلی کھائے گی کہ وہ آپ کو بخشے گا نہیں۔

 ’’ہم نے آپ کا شعری مجموعہ با دلِ ناخواستہ پڑھا ہے۔ ہمارا خیال ہے بعض کتابوں کی عدم اشاعت ہی میں ادب کی خدمت کا پہلو نمایاں ہوتا ہے۔ آپ کی کتاب بھی اسی زمرے میں آسکتی ہے۔ آپ نے اپنی اوقات سے کہیں زیادہ پیسہ فضول اس مجموعہ پر لگا دیا بہتر ہوتا کہ آپ اپنے لئے کچھ نئے کپڑے سلوالیتے۔ ‘‘

 اس ریمارک کے بعد وہ اسے زندگی بھر کے لیئے اپنا دشمن بنا لیتا۔ اگر کوئی اس سے کہے وحید اختر ہم نے آپ کا شعری مجموعہ خریدا ہے آج کل وہی زیر مطالعہ ہے۔ اس پر وہ خوش نہیں ہوگا کہ ایک کتاب فروخت ہو گئی اور نہ اس بھلے مانس سے وہ اپنی نظموں اور غزلوں کے تعلق سے کچھ پوچھے گا۔ اس کا جواب تو یہی ہوگا کہ آپ نے خواہ مخواہ ہمارا مجموعہ خریدنے کی حماقت کی۔ ہماری شاعری آپ کے پلّے پڑنے سے تو رہی۔

 اس طرزِ عمل نے وحید کے کئی دشمن پیدا کر دئیے۔ آپ اسے اسکاچ پلائیں یا فرسٹ کلاس ڈنر کھلائیں وہ اس سے قطعی مرعوب نہیں ہوگا۔ میں نے بڑے بڑے جغادریوں کو ایسی محفلوں میں جھُکتے ہوئے دیکھا ہے لیکن وحید اختر واحد آدمی ہے جو ایسی محفلوں میں بھی اکڑا رہتا ہے اور فقرہ بازی سے باز نہیں آتا۔

 اگر اس کا کوئی یار اسے گھر پر کھانے پر بلائے تو وہ ضرور جائے گا۔ دسترخوان یا ٹیبل پر کچھ زیادہ بھری ہوئی پلیٹیں نظر آ جائیں تو وہ کہے گا۔ ’’ خواہ مخواہ آپ نے اتنا سارا اہتمام کر دیا۔ اپنے بال بچوں کا تو خیال کیا ہوتا۔ ‘‘ اس کا ساتھی خفیف ساہو کر کچھ اس انداز سے مسکرائے گا جیسے کہہ رہا ہو۔ ظالم تو یہ نہ کہہ کر بھی تو چپ رہ سکتا تھا۔ جو آدمی دس برس کی عمر سے مرثیہ لکھتا ہو اس کے مزاج کی یہ شقاوت عجیب بات ہے۔

 وحید اختر کی زندگی میں ہمیں جگہ جگہ بڑے تضادات بھی ملتے ہیں وہ اپنے خطوط میں ایک الگ ہی وحید اختر کے روپ میں جلوہ گر ہوتا ہے۔ ایک پیارے اور مخلص ساتھی کا لبادہ اوڑھے۔

 اور جب اس سے آپ کا سامنا ہوگا تو وہ دوسرا روپ دھار لے گا بہ ایں ہمہ وحید ایک وضع دار آدمی بھی ہے۔ وہ تعلقات اور دوستی کی قدر کرنا بھی جانتا ہے۔ جہاں وہ عالم صاحب، مغنی تبسم، انور معظم کو خط لکھے گا وہیں علی گڑھ سے وہ مظہر کاتب کو بھی ضرور خط لکھے گا اور حیدرآباد آئے گا تو مظہر سے ضرور ملے گا۔ خواہ مظہر کے حالات اس دوران کتنے ہی ناگفتہ بہ کیوں نہ ہو گئے ہوں۔ یہ وحید کی یاری ہی کا نہیں اس کی بڑائی اور ظرف کا بھی ثبوت ہے۔

 وہ چھوٹی چھوٹی باتوں کا بھی بڑا خیال رکھتا ہے۔ مثلاً حیدرآباد سے علی گڑھ جاتے ہوے اس کی خواہش ہوگی کہ دوست احباب اسے see off کرنے اسٹیشن ضرور آئیں۔ جو لوگ اسے اسٹیشن پہنچ کر خدا حافظ کہتے ان کی یاد اور خلوص کو وہ برسوں بھلا نہیں پاتا بر خلاف اس کے جو لوگ ان تکلفات میں نہیں پڑتے وہ انہیں بے ٹوک خبیث، مردود اور ملعون کہتے ہوے بھی نہیں جھجکے گا۔

 تعلقات اچھے ہوں تو اپنے ساتھیوں کا ذکر اپنے کسی مضمون میں ضرور کرے گا اور اگر تعلقات کشیدہ ہوں ﴿جس کا ہر وقت احتمال رہتا ہے)  اسے بڑے سلیقے سے نیچا دکھانے کی کوشش کرے گا۔

 ’’جاہل‘‘ اس کا تکیہ کلام ہے۔ اس کے مخصوص احباب میں یہ تکیہ کلام کچھ اتنا مشہور ہو چکا ہے کہ اگر مغنی یا انور تکیہ کلام جاہل کہہ کر چُپ ہو جائیں تو پلٹ کر آپ ضرور دیکھئے آس پاس ہی کہیں وحید اختر ضرور ملے گا۔

 وحید اختر کا کوئی دوست نہیں مگر وحید کے سب دوست ہیں۔ وحید سب کا دوست ہے۔ مگر وحید کا کوئی دوست نہیں۔ کوئی بیس بائیس برس پہلے وحید اور شاذ ایک دوسرے کو ٹوٹ کر چاہتے تھے۔ بڑی یاری تھی ان دونوں میں۔

 پھر ایک زمانہ آیا کہ وحید نے کہنا شروع کر دیا۔ یہ ہماری بدبختی ہے کہ لوگ ہمارا نام شاذ کے نام کے ساتھ لیتے ہیں جواباً شاذ نے بھی یہی کہنا شروع کر دیا۔ حیرت ہے کہ شاذ کا نام وحید اختر جیسے بے روح شاعر کے ساتھ کس طرح آسکتا ہے جبکہ وہ احمد ندیم قاسمی کے فنون، محمد طفیل کے نقوش، نذیر چودھری کے سویرا اور مرزا ادیب کے ادبِ لطیف میں وحید سے آگے چھپتا رہا ہے۔

 ٥٤ اور ٥٥ء کے آس پاس جب شاذ وحید اور شحنہ نے مل کر سہ ماہی ’’گجر‘‘ کی داغ بیل ڈالی تھی۔ ان دنوں گجر کا کوئی باقاعدہ آفس نہ تھا۔ عارضی طور پر صبا ۱۰۰ مجرد گاہ کے پتے پر ڈاک آیا کرتی تھی۔ ڈاک کے معاملے میں وحید سے زیادہ شاذ بے صبرا رہا کرتا تھا۔ صبح نو بجے سے پہلے ہی یہ دونوں ۱۷ پر آ دھمکتے تھے۔ اریب اپنی عادت کے مطابق دس گیارہ بجے آفس آتے تو وہ شاذ اور وحید کو صبح ہی صبح دیکھ کر حیران ہو جاتے کیوں کہ اریب کی صبح عموماً ۱۱ بجے شروع ہوتی تھی۔

 ’’نوجوان بہت جلد آ گئے ہو۔ ‘‘ جواباً وہ یک زبان ہو کر اریب سے کہتے گجر کی ڈاک اریب بے ساختہ ہنس پڑتے پھر اس کے بعد یوں ہوا کہ جب کبھی یہ لوگ ۱۷ پر آتے تو اریب مسکرتے ہوے کہتے۔ ڈاک۔

 اور تینوں بہ یک وقت ہنس پڑتے اور ڈاک کا یہ سلسلہ اس  وقت ختم ہوا جب شحنہ نے تنگ آ کر اپنے ہی ہاتھوں اپنے پرچے کا گلا گھونٹ دیا۔

 ان دنوں شاذ، انور، بشر نواز، وحید اختر اور بے شمار احباب سروس سے لگے نہیں تھے۔ کبھی کبھار کوئی بھلا مانس صبا کی وی پی چھڑا لیتا تو اریب آگے پیچھے کا خیال کے بغیر پیسے خرچ کر دیا کرتے تھے۔

 ان دنوں گرانی نام کو نہ تھی۔ انور اپنے ساتھ ایک چونّی رکھ کر ۱۷ پر آیا کرتے تھے۔ کبھی کبھار انور معظّم کی یہی چونّی اریب کے رکشا کے کام آ جایا کرتی تھی۔ شاذ کی جیب ہمیشہ خالی رہا کرتی تھی۔ وحید تنگ دستی کی معراج سے گزر رہے تھے۔

 شاذ اور وحید اپنی طویل نظمیں لکھ لکھ کر اپنی تہی جیبی کا انتقام لیا کرتے۔ چائے جیسی چیز بھی چندہ کر کے پی جاتی تھی۔ ’’آج چائے کون پلائے گا۔ ‘‘ کمرہ نمبر ۱۷ میں اریب کی آواز گونجتی۔

 ہم نہیں پلاسکتے ہمارا اسکالرشپ بند ہو چکا ہے۔ وحید ممیاتا۔ اریب کہتے ’’چلو معاف کیا۔ کیوں کہ یہ نوجوان پیسے آنے پر سخی حاتم بن جاتا ہے۔ ‘‘

 اجی حاتم طائی کے قصّے کو چھوڑیئے جناب۔ چائے کا بندوبست کیجئے۔ کسی کونے سے شاذ کی آواز آتی۔ چائے جیسی پھٹیچر چیز کے لیے اتنا انتظار چائے کیا ہوئی محبوبہ دلنواز ہوئی۔ ہم تو چل دیئے بھئی۔ ‘‘

 ان کمزور لمحات میں کبھی س۔ الف عشرت ۱۷ پر آ جاتے تو وحید کا طنز اور بھی شدت اختیار کر لیتا۔ ’’لیجئے یہ بھی آ گئے۔ ‘‘

 ایک آدمی بھی بڑھ جا تا تو چائے کے لالے پڑ جاتے۔ ان دنوں میں سروس میں نیا نیا لگا تھا۔ حالت اتنی بُری نہ تھی۔ چائے سے نکل کر ’’این جی‘‘ تک پہنچ جاتے تو یہ سمجھتے کہ بہت بڑا تیر مار لیا۔

 کبھی کبھار جب انور، وحید کے ساتھ لطیف رسٹورنٹ میں لقمی کباب کھا کر باہر نکلتے تو وحید کو سگریٹ کی طلب ہوتی۔ دونوں برکلے کی سگریٹ خرید کر دھواں اُڑاتے ہوے جب ۱۷ میں داخل ہوتے تو اریب مسکراتے ہوے کہتے۔

 ’’آج تو نوجوان کی حالت بہتر معلوم ہو رہی ہے۔ ‘‘

 حالات بدل چکے ہیں۔ زمانہ بدل چکا ہے۔ آج وحید اختر علی گڑھ یونیورسٹی میں فلاسفی کا ریڈر ہے ۱۸ سو کے قریب پاتا ہے۔ شاذ بھی لکچر ر ہے اور خوش ہے۔ انور معظم تو ہیڈ ہونے کے علاوہ اعزازی ڈپٹی ڈائرکٹر بھی بن چکے ہیں لیکن اریب ہم میں نہیں۔ اریب جو ہم سب کا غمگسار تھا۔

 مخدوم، شاہد صدیقی، شرماجی، لاہوٹی، سردار سلیم، قیصر، حمید الماس قیسی، مغنی، پروفیسر قادری، عالم صاحب، وحید، شاذ، اقبال متین ۱۷ پر اکثر اکٹھا ہوتے۔ سردار سلیم سب ہی کا پیارا دوست تھا۔ اقبال متین کا گھر تو ایک طرح سے دوستوں کی آماجگاہ تھا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ ان کا دیوالیہ نکل گیا۔

 اریب اپنی وضع داری سے مدّتوں صبا کو گھسیٹتے رہے۔ وحید اختر نے بے کاری سے مجبور ہو کر عذرا میں نوکری کر لی۔ اور شاذ غالباً آثار قدیمہ میں عارضی کلرک بن گئے۔

 اریب کی کاہلی کے پیش نظر کبھی کبھار صبا کی فولڈنگ سے لے کر پتے تک ہم سب مل کر لکھا کرتے تھے۔ شاذ کا انگریزی اور اردو کا خط بہت خوب صورت تھا۔ اریب شاذ کے خط کو دیکھ کر اس طرح خوش ہوتے تھے جیسے وہ ان کا اپنا خط ہو وہ وحید اختر کی طرف پرچہ بڑھاتے ہوے کہتے۔

 ’’دیکھو نوجوان کا خط۔ ‘‘ اور وحید اختر کے ہونٹوں پر طنزیہ مسکراہٹ پھیل جاتی۔ ’’ہاں انھوں نے بڑی محنت سے کتابت سیکھی ہے’’ مردود تم سات جنم میں بھی ایسا نہ لکھ سکوگے‘‘۔ جواباً شاذ وحید سے کہتا۔

 صبا کے خریداروں میں غیر ادیبوں میں دو ایک وکیل حضرات بھی تھے۔ ایک دن بشر نواز بھی ہمارے ساتھ پتے لکھ رہے تھے۔ وحید نے لکھتے لکھتے اچانک اپنا قلم تھام کر بے تحاشہ ہنستے ہوے اریب سے مخاطب ہو کر کہا۔ ذرا بشر نواز کو دیکھیے انھوں نے Advocate کا املا ای سے لکھا ہے۔ لیکن بشر نواز ہنستا ہوا برابر یہی کہتا رہا کہ Aاور ای سے کوئی خاص فرق نہیں پڑتا۔ ہم نے پرچہ بروقت پہنچنے کے خیال سے املا میں ذراسی تبدیلی کر دی ہے کیونکہ گزشتہ بار جب ہم نے صحیح املا لکھا تھا تو صبا واپس آ گیا تھا۔

 وحید اختر کی دوہری شخصیت کو سمجھنے کے لیے اس کے ساتھ آپ کو بہت دور تک جانا ہوگا۔ وہ خود ستائی کے ساتھ ساتھ سچ بولنے کا عذاب بھی سہ لیتا ہے اور ڈینگیں مارنا تو اس کی عادت ہی ہے۔ فطرت کی اس دھُوپ چھاؤں میں کہیں نہ کہیں وہ گڈمڈ ہوتا ہوا ضرور ملے گا۔

 ایک دن میں وحید اختر، قاضی سلیم اور اقبال متین اسٹار میں بیٹھے تھے وحید کی زبان ہمیشہ کی طرح چل رہی تھی کہ درمیان میں ایک پروفیسر کا ذکر آ گیا۔ قاضی سلیم کہنے لگے وہ تو ہمارے استاد رہ چکے ہیں۔ ‘‘

 آپ کے اُستاد تو اب ہمارے شاگرد بن چکے ہیں وہ آج کل ہمارے مضامین اپنے نام سے ادبی محفلوں میں دھڑلے سے سناتے ہیں اس طرح ہم نے آپ کے اُستاد کو اپنا شاگرد بنا لیا ہے۔

 پھر بات افسانے اور ناول پر چل نکلی تو وحید نے کہا بعض نا سمجھ حضرات کو خواہ مخواہ یہ گمان ہے کہ ہم افسانے اور ناول نہیں پڑھتے اب ان بیوقوفوں کو بھلا کون بتائے کہ ہندوستان کے بڑے سے بڑے ادبی سمینار میں ہماری شرکت ضروری سمجھی گئی ہے چنانچہ ایک ادبی سمینار میں تو ہم نے قرۃ العین حیدر کے سامنے عبداللہ حسین کے ناول ’’اُداس نسلیں‘‘ کو تکنیکی لحاظ سے آگ کا دریا سے بہتر ثابت کیا ہے اس پر قرّۃالعین حیدر ہم سے ناراض ہو گئی ہیں۔ وہ ناراض ہوا کرے اس سے کیا فرق پڑتا ہے۔ ہم تو سچ کہہ کر ہی رہیں گے اور تو اور ان کی انگریزی بھی کوئی ایسی خاص نہیں ہے۔ خود ہماری انگریزی بھی قرۃالعین حیدر سے کسی طرح کم نہیں۔ ‘‘ ہم تو وحید اختر کی باتوں سے مزے لیتے رہے لیکن قاضی سلیم سے رہا نہ گیا وہ قرۃالعین حیدر کی تائید میں ڈٹ گئے۔

 میں نے موضوع بدلتے ہوے وحید سے پوچھا تم تو شاعر بھی ہو اور نقاد بھی۔ میرا خیال ہے کہ قاضی سلیم جتنے پیارے شاعر ہیں انھیں وہ مناسب مرتبہ نہیں مل سکا جس کے وہ صحیح معنوں میں مستحق تھے۔ مگر یہ تمہارا خیال غلط ہے لوگ تو انہیں آج بھی ہم سے بہتر شاعر سمجھتے ہیں۔ کیا سمجھ میں آیا ہم سے بہتر شاعر۔

 قاضی سلیم خوش تھے کہ وحید اختر نے اس بات کا اعتراف تو کر لیا لیکن دوسرے ہی لمحے اس نے یہ کہہ کر ساری خوش فہمیوں پر پانی پھیر دیا کہ وحید اختر کے مقابل قاضی سلیم کو بہتر شاعر سمجھنے والے سب ہی لوگ اول درجے کے بیوقوف ہیں۔ ‘‘

 وحید اختر سنجیدہ ہونے کے ساتھ ساتھ بڑا witty بھی ہے۔ اس کا Sense of Humour بھی بڑا sharpہے۔

 اس کی فقرہ بازی، برجستہ گوئی کے آگے کسی کا چراغ نہیں جلتا۔ دروغ بر گردنِ راوی جب وہ حیدرآباد سے اورنگ آباد گیا تو اس کے دوست محمد نواب نے اسے اپنا مہمان بنایا۔ اورنگ آباد پہنچنے کے بعد جب اس کی ملاقات شفیق فاطمہ شعریٰ سے ہوئی تو انھوں نے از راہ خلوص وحید اختر کو کھانے پر مدعو کرتے ہوے انکساری سے کہا۔ دال روٹی حاضر ہے۔

 وحید اختر کے ساتھ محمد نواب بھی تھے۔ نواب کی طرف اشارہ کرتے ہوے وحید نے برجستہ کہا۔ ’’دال روٹی تو ہم ان کے ہاں کھا ہی رہے ہیں اگر آپ کچھ اور کھِلا سکتی ہیں تو کھلائیے۔ ‘‘

 ایک دن وحید اختر کے ایک بزرگ دوست نے اسے صبح کے وقت گھر پر بُلوایا ناشتے کے لیے۔ جب وہ گھر پہنچا تو اس کے میزبان دوست نے پہلے پانی اور لوٹا لا کر رکھا۔ پھر آہستہ سے چائے بھی بھجوائی۔ ناشتے سے پہلے یہ چائے دیکھ کر اسے تشویش ہوئی پھر دسترخوان بھی بچھا دیا۔ چائے پینے کے بعد اس نے پیالیاں بھی اٹھا دیں اور خالی دسترخوان کو جھٹکنا شروع کر دیا۔

 پچھلے دنوں میں، مغنی، شاذ راشد کے گھر بیٹھے پی رہے تھے۔ راشد نے تالاب کا منظر دیکھنے کے لیے ہلکے سے بلب لگا رکھے تھے روشنی نہیں تھی۔ ہم سب کو اندھیرا بھلا لگ رہا تھا۔ شاذ روشنی کے لیے مچل رہا تھا۔ جب راشد نے بلب جلایا تو چھک سے سارے چہروں پر روشنی پھیل گئی۔ وحید اختر نے تیز روشنی میں باری باری ایک ایک چہرے کو دیکھتے ہوے کہا۔ ’’لاحول ولا کتنے مکروہ چہرے دیکھنے کو مل رہے ہیں اس سے تو اندھیرا ہی بہتر تھا۔ ‘‘

 کسی وقت وحید کے ایک دوست نے حیدرآباد سے اسے اطلاع دی کہ وہ اپنی بیوی کے ساتھ چند دن علی گڑھ میں اس کے مہمان رہیں گے اور ایک دن وحید نے دیکھا کہ ان کے وہی دوست چھ سات بچوں سمیت اس کے گھر آ دھمکے ہیں اور ایک بد ہیئت سا آدمی سر پر بڑاسا ہولڈال اور ٹرنک اُٹھائے وحید کے مختصر مکان کا جائزہ لے رہا ہے۔

 وحید نے اپنے دوست کی طرف قہر آلود نگاہیں ڈالتے ہوے کہا۔ ’’پہلے آپ اس ٹانگے والے کو تو یہاں سے بڑھائیے۔ ‘‘ مہمان دوست نے خفیف ہوتے ہوے کہا۔ ’’ارے بھی یہ تو میرے چچا ہیں۔ ‘‘

 مگر کس خوشی میں انھوں نے یہ خستہ حالت بنا رکھی ہے کہ ہم انہیں ٹانگے والا سمجھنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ مزے کی بات یہ تھی کہ وحید نے اپنے کہے ہوے ریمارک پر ذرا بھی ندامت محسوس نہیں کی۔

 وحید اختر کے دل میں شروع ہی سے بڑا آدمی بننے کی حسرت اور تمنا رہی ہے۔ اس کا احساس قدم قدم پر ہوتا ہے۔ ثبوت کے لیے کرسی نامہ، اور اسی قبیل کی کئی نظمیں پیش کی جاسکتی ہیں۔

 وہ لکھے گا تو کرسی نامہ، لیکن اندر سے اس کی خواہش ہوگی کہ کاش اُسے بھی وہ جادوئی کرسی مل گئی ہوتی جس کے بل بوتے پر وہ کسی کو بھی بھی تگنی کا ناچ نچاسکتا یہ اس کی چھُپی ہوئی شخصیت کا ایک اور تضاد ہے۔

 وحید اختر بہ حیثیت شاعر اور نقّاد کسی تعارف کا محتاج نہیں۔ ہند و پاک کے لگ بھگ سب ہی معتبر نقادوں نے اس کی شعری اور تنقیدی صلاحیتوں کا کھُلے دل سے اعتراف کیا ہے۔ خاص طور پر سردار جعفری نے اس کی طویل نامکمل نظم جو ایپک کہی جاسکتی ہے تعریف کرتے ہوے کہا تھا۔ ’’ شہر ہوس‘‘ کو پڑھنے کے بعد ایسا لگتا ہے کہ اردو شاعری عظمتوں کی سرحدوں میں داخل ہو چکی ہے۔ سردار جعفری کے اس Tributeٹری بیوٹ کے بعد بھی وحید اختر میں ذرا بھی تبدیلی نہیں آئی۔

 وہ آج بھی وہی وحید اختر ہے جنھیں آپ نے دیکھا ہے پڑھا ہے۔ حال ہی میں ایک بے تکلف محفل میں وحید اختر نے عظمتوں کی سرحدوں کا ذکر کرتے ہوے خود ہی ہنسنا شروع کر دیا۔ انور معظم نے اسے چھیڑتے ہوے کہا۔ ’’آخر تم ہنس کیوں رہے ہو۔ ‘‘

 مگر اس نے انور کے سوال کا کوئی جواب نہیں دیا۔

 وہ بدستور ہنستا رہا۔ یہاں تک کہ اس کی ہنسی ہونٹوں کے کنارے پر آ کر جم سی گئی۔ وہ اپنی ہنسی میں کچھ نہ کہتے ہوے بھی سب کچھ کہہ چکا تھا۔

 وحید اختر اس منزل پر پہنچ کر ایک بڑا شاعر ہی نہیں ایک بڑا آدمی بھی بن جاتا ہے۔

***

 

شہر یار

 پہلی سیڑھی پر کھڑا ہوا آدمی جب دوسری منزل پر نظر ڈالتا ہے تو لگتا ہے جیسے وہ اُوپر ہے۔ اگر گر پڑنا احساس ہی نہیں سچائی بھی ہے تو خاکہ سے بڑا جھوٹ اور کیا ہو سکتا ہے۔ ؟

 کسی شخصیت کا محاکمہ ایسا ہی ہے جیسے کوئی آسمان کی پہنائیوں میں تیرتے ہوے کسی پرندے کو ہاتھ بڑھا کر پکڑ لے۔ اندر کے آدمی کو بھلا کب اور کس نے جانا ہے۔

 شہریار پر خاکہ لکھنے بیٹھا ہوں تو یہ ساری سچائیاں مُنھ پھاڑے مجھے تک رہی ہیں۔ شہر یار سے میری دوستی کی عمر اس کی شاعری کی عمر سے کہیں زیادہ کہنہ ہے۔ اس کے با وصف اس کی شخصیت کے ہر بُن مو کو قلم کی گرفت میں لانا میرے بس کی بات نہیں، ممکن ہے جسے میں شہر یار سمجھ رہا ہوں وہ کوئی اور ہو۔ اور میں جسے کنور سمجھ رہا ہوں وہ سرے سے شہریار ہی نہ ہو۔ لیکن شہر یار کسی بھی روپ میں سہی ذہن و دل پر کچھ اس طرح رنگ جماتا ہے کہ اس سے ایک بار ملنے کے بعد جی یہی چاہتا ہے کہ وہ بار بار ملے۔ حالانکہ بار بار اس سے ملنے میں ایک خطرہ یہ بھی ہے کہ اگر وہ کسی بات پر کنکوے کی طرح اکڑا ہوا ہو تو بحث سے قطع نظر لڑائی کی صورت بھی پیدا ہو سکتی ہے۔ اس کے غصے سے لدے ہوے چہرے کو دیکھ کر لگتا ہے جیسے ’’بھیمڑی کانفرنس‘‘ پھر ایک بار منعقد ہو رہی ہو۔

 میں نے اس عالم میں با رہا دیکھا ہے۔ لیکن دوسرے دن وہ کچھ اس طرح ملتا ہے کہ پچھلی شب کی ساری بدمزگی دیکھتے ہی دیکھتے دھُل سی جاتی ہے۔

 شہریار یاروں کا یار بھی ہے اور دشمنوں کے لیے اپی ہوئی تلوار بھی۔ وہ آپ کو تباہی کے آخری دہانے پر پہنچا کر خدا حافظ بھی کہہ سکتا ہے اور آپ کو سمندر میں ڈوبتا ہوا دیکھ کر چھلانگ بھی لگاسکتا ہے۔ اپنی شخصیت کے ان گڈمڈ ہوتے ہوئے سایوں میں وہ کبھی درخت کی اس لچکتی شاخ کی طرح دکھائی دے گا جس پر اچانک ایک بڑا پھل نکل آیا ہو۔ اور کبھی اتنا اکیلا کہ اس کا سایہ بھی اس سے پناہ مانگے۔

 رشید احمد صدیقی کی طرح علی گڑھ بھی اس کی کمزوری ہے۔ لیکن اس کی یہ کمزوری اس کا بڑا ہتھیار بھی ہے۔ شاید اس کی ادھوری شخصیت کی تھوڑی بہت تکمیل علی گڑھ ہی کی مرہون منّت ہو۔ بلند شہر نے اسے کچھ بھی نہ دیا ہو جہاں اس نے پہلی سانس لی۔

 میں نے ایسے شاعر ذرا کم ہی دیکھے ہیں جو سردار جعفری کے لیے بھی اتنے ہی قابل قبول ہوں جتنے شمس الرحمن فاروقی کے لیئے ہو سکتے ہیں۔ شہر یار بھی ایسے ہی دو ایک شاعروں میں سے ہے۔ لیکن شعر و ادب کو شہریار نے جو کچھ بھی دیا ہو اس کا حساب ہمارے پاس ہویا نہ ہو۔ مغنی تبسم کے ہاں ضرور ہے جو خیر سے اس کے دوست بھی ہیں اور اس کے نقاد بھی۔

 دوست تو ہم بھی ہیں۔ لیکن نقاد نہیں۔ یہ علیٰحدہ بات ہے کہ شہر یار اپنی شاعری کا ایک طرح سے خود ہی نقاد ہے۔ اس لیے تو ابھی تک زندہ ہے۔

 یہ میری ٹریجڈی یا خوش بختی ہے کہ میرے احباب کا دائرہ محدود ہے یاروں کے اس سکڑے سمٹے دائرہ میں ایک نمایاں نام شہر یار کا بھی ہے۔

 اس کی شخصیت کو جو چیز اسے اور ساتھیوں سے اُونچا کرتی ہے وہ اس کا اپنا اعتماد ہے۔ آپ اس سے گھنٹوں باتیں کیجئے وہ اپنا ذکر کہیں نہیں لائے گا۔ صرف آپ کے بارے میں پوچھتا رہے گا۔ گفتگو کے دوران اپنی ذات کو کچھ اس خوبصورتی سے بچا لے گا کہ آپ حیران ہو جائیں گے کیا یہ اسم اعظم، ساتواں در والا شہریار ہے یا کوئی اور۔

 گمن اور امراؤ جان کی کہیں بات چھڑ بھی جائے تو بات کو طول اس لیے نہیں دے گا کہ کہیں اس کی بڑائی کا پہلو نہ نکل آئے۔

 بنتِ عنب اس پر مفتون ہو یا نہ ہو لیکن وہ اس کا بڑا عاشق ہے اس عاشقی میں عزتِ سادات کو کچھ اس طرح سنبھالے رہتا ہے جیسے کسی چاک گریباں کو اچانک پاسِ گریباں کا خیال آ جائے۔

 ویسے وہ سرشاری کا تو قائل ہے لیکن بے خبری کا نہیں۔

 مغنی کا خیال ہے جب سے فلم امرو جان میں اس کے گانے ہٹ ہوئے ہیں۔ اس سے اس کی ذات کو فائدہ پہنچا ہو یا نہ ہو لیکن اس کے ساتھ کسی ادبی ورکشاپ یا ہوٹل میں قیام کرتے ہوئے ایک فائدہ یہ بھی رہتا ہے کہ وہاں کی سست روسروس اچانک تیز ہو جاتی ہے بشرطیکہ ہوٹل کے مالک کو یہ پتہ چل جائے کہ یہاں امراؤ جان کا شاعر ٹھہرا ہوا ہے لیکن میرا تجربہ دیگر ہے۔ پچھلے برس جب وہ حیدرآباد آیا تھا تو مُغنی نے اپنے گھر کے قریب لکڑی کے پل سے لگے ہوے ایک ہوٹل میں اسے ٹھہرایا تھا۔ ہوٹل میں سوائے سروس کے ہر چیز ٹھیک ٹھاک تھی۔

 ’’یار عجیب ہوٹل میں ٹھہرے ہو۔ بیل بجانے پر بھی کوئی پرسانِ حال نہیں۔ ‘‘

 ’’سب چلتا ہے یار، یہی کیا غنیمت ہے کہ میں مغنی کے گھر کے بالکل قریب ہوں۔ ‘‘

 دراصل وہ یہ نہیں چاہتا تھا کہ مغنی نے جس ہوٹل میں اسے ٹھہرایا ہے اس کی اس طرح مذمت کی جائے۔ لیکن مجھ سے رہا نہ گیا۔ میں نے نیچے اُتر کر مینیجر سے جب سروس کی شکایت کی تو مینیجر نے جو جواب مجھے دیا وہ حیران کن تھا۔ ارے اس فلمی کوی کی بات کر رہے ہو ایک دن بل پے کرنے کی بجائے نیچے آ کر مجھ سے پوچھنے لگا۔

اس شہر میں ہر شخص پریشان سا کیوں ہے

 میں نے سوچا۔ بے چارہ خود پریشان ہے۔ اس لیے سارے شہر کے لوگوں کو پریشان سمجھ رہا ہے۔

 میں مینجر کے اس جواب سے لاجواب ہو کر جب گھر پہنچا تو اس کے چند مداح میرے منتظر تھے کہ میں انہیں اس ہوٹل کا پتہ بتا سکوں جہاں وہ ٹھہرا ہوا ہے۔

 دراصل اس کے چاہنے والوں کی تعداد کچھ اتنی زیادہ ہے کہ کبھی کبھی رشک کرنے کو جی چاہتا ہے۔

 مجھے ٹھیک طرح یاد نہیں ہے۔ غالباً پہلی بار ماہ نامہ صبا میں کنور اخلاق محمد خاں کے نام سے اس کی ایک غزل شائع ہوئی تھی۔ جتنا نام غیر ادبی تھا۔ غزل بھی کچھ اسی طرح کی تھی جیسے ہی کنور اخلاق کے لبادہ کو اتار کر اس نے شہریار کا روپ دھار لیا اس کی شاعری اچانک چمک اٹھی۔ اور وہ گمنامی کے ڈربے سے باہر نکل آیا۔ لیکن یہاں مجھے سرسری طور پر بھی شہریار کی شاعری کے بارے میں کچھ کہنا نہیں ہے کہ یہ معاملہ نقادوں کے مُنہ سے نوالہ چھین لینے کے برابر ہے۔

 مجھے تو اس شہریار سے غرض ہے، جو اپنی چند خامیوں اور بے شمار خوبیوں کی وجہ سے مجھے ہمیشہ عزیز رہا ہے۔

 شہریار کی خامیاں ڈھونڈنے میں مجھے کنکریوں کی جگہ ہمیشہ موتی ہی ملے۔ ٥٦ ء میں وہ بی اے کا طالب علم تھا۔ خلیل الرحمن اعظمی کے ساتھ رہا کرتا تھا حالانکہ اس کا گھر علی گڑھ ہی میں تھا۔ خلیل صاحب سے اسے کچھ اتنی محبت و عقیدت تھی کہ وہ اپنے گھر کو ایک طرح سے بھلا ہی چکا تھا۔

 دوسری طرف خلیل صاحب کی زبان کنور صاحب کہتے ہوتے تھکتی نہ تھی۔ حالانکہ کنور عمر اور مرتبہ میں ان سے کافی چھوٹا تھا۔

 بسم اللہ محل اور آنند بھون میں اکٹھا ہونے والے قلندروں میں سب سے چھوٹا اور بانکا قلندر کنور ہی تھا۔ خلیل صاحب کا سب سے زیادہ لاڈلا اور چہیتا۔ اُس کی تربیت سے لے کر اسے ادبی دنیا میں متعارف کرانے کا سہرا خلیل صاحب ہی کے سر جاتا ہے۔ لیکن کبھی کبھار ادبی سطح پر وہ ان سے اختلاف بھی کرتا تھا۔

 علی گڑھ میں اسے بڑی محبتیں ملیں۔ خواہ وہ خلیل الرحمن اعظمی ہوں کہ سرور صاحب جذبی خود ہوں کہ منیب الرحمن۔ رشیدالاسلام ہوں کہ مجنوں گورکھپوری۔ لیکن علی گڑھ کے باہر بھی اس کے چاہنے والوں کی تعداد کچھ کم نہیں ہے۔ کبھی کبھی میں ڈرنے لگتا ہوں کہ کہیں اس کی یہ مقبولیت اسے لے نہ ڈوبے۔

 شہریار کی خوبی یا خامی ایک یہ بھی ہے کہ وہ ناپسندیدگی کے اظہار کی ضرورت کو فضول شئے سمجھتا ہے۔ اور محتاط رہتا ہے لیکن الجھنا نہیں چاہتا۔ بجائے لڑنے جھگڑنے کے چپ ہو جاتا ہے مگر جب وہ ایک بار کسی کو پسند کر لے تو ہمیشہ اس کی Supportکرے گا۔

 اس بھلے مانس سے میں پہلی بار زبیر رضوی کے ساتھ دلی میں ملا تھا۔ ٥٦ ۔ ٥٧ کے آس پاس۔ پہلی ملاقات ہی میں اس نے محبت اور رفاقت کا کچھ ایسا ثبوت دیا کہ میں اسی کا ہو کر رہ گیا۔ اس وقت وہ صرف کنور تھا اور شاعری کو تختہ مشق بنائے ہوے تھا۔

 اس نے بڑی محبت سے ہمیں علی گڑھ آنے کی دعوت دی اور اس محبت بھری دعوت کے جواب میں جب ہم اور زبیر علی گڑھ پہنچے تو اسٹیشن پر خلیل الرحمن اعظمی ہمارے منتظر تھے۔

 جب ہمیں ٹرین سے اترتے دیکھا تو آگے بڑھ کر پیار سے گلے لگایا خیریت پوچھی اور اس طرح ہم شہاب شہریار اور خلیل صاحب آنند بھون پہنچ گئے۔ جو کبھی خلیل صاحب کا گھر تھا۔

 کچھ دیر ادھر اُدھر کی باتوں کے بعد جب شہاب جعفری سے غزل سنانے کی فرمائش کی گئی تو اس نے پے درپے کوئی دس غزلیں سناڈالیں۔ شہر یار نے اسے ٹوکا۔ ’’حد کرتے ہو یار، کیا اپنا پورا قلمی دیوان سناڈالوگے۔ ‘‘ زبیر رضوی اتفاقاً اپنی بیاض گھر ہی پر بھول آئے تھے۔ اس لیے انہیں اپنی چند غزلوں اور گیتوں ہی پر اکتفا کرنا پڑا۔ اور جب خلیل صاحب نے غزل شروع کی تو محفل میں ایک سناٹا سا چھا گیا۔

یہ بھی ہم بھول گئے نام ہمارا کیا تھا

پوچھ کر گردشِ دوراں سے بتا دے ہم کو

 جب شعر خوانی ختم ہوئی تو شہاب نے موقع کو غنیمت جان کر پنکج ملک کے کئی گیت سناڈالے۔

کون دیس ہے جانا بابو سے لے کر

 یہ کون آج آیا سویرے سویرے

 دو دن کس طرح علی گڑھ میں گزر گئے۔ کچھ پتہ ہی نہ چلا۔ جب دلی پہنچے تو میری غنودگی کو دیکھتے ہوے زبیر نے کہا کچھ خبر بھی ہے ہم دلی پہنچ چکے ہیں۔

 تمہیں جامعہ نگر جانا ہے اور مجھے اپنے گھر محلہ قبرستان۔ ‘‘

 پھر دلّی میں ایک لمبا عرصہ گزارنے کے بعد جب میں حیدرآباد پہنچا تو مجھے کنور کا ایک خط ملا۔ ’’ذرا کان قریب لاؤ ، میں نے اپنا نام شہر یار رکھ لیا ہے۔ اس نام سے خلیل صاحب اور انور خوش ہیں۔ ‘‘

 میں نے سوچا۔ نام بدل کر وہ کون ساتیر مارے گا۔ نہ شخصیت ہی بدلے گی اور نہ شاعری۔ لیکن معاملہ اس کے برعکس ہوا۔ ’’سویرا‘‘ میں جب اس کی نظمیں چھپنے لگیں تو لوگ شہریار کے توسط سے کنور کو جاننے لگے۔ اس نے اپنے اصلی نام کو قلمی نام میں اس طرح چھپا لیا کہ مجھے کنور کو بھولنے اور شہریار کو یاد کرنے میں کئی برس لگ گئے۔ لیکن وہ اپنی نظموں اور تحریر کے ذریعہ برابر اپنی یاد دلاتا رہا۔

 وہ کبھی بیڈ منٹن بھی کھیلتا رہا ہے۔ لیکن بال سے نہیں شیٹل کاک سے شاید وہ بال کی تیزی کی بجائے شٹل کی نرم رفتاری کا زیادہ قائل ہو۔ اس طرح اس کا رشتہ شاعری سے جوڑنا ممکن ہو تو صاف نظر آتا ہے کہ وہ اپنے احساس کو قاری پر پھینک مارنے کی بجائے نرم رفتار شٹل کی طرح اپنے قاری تک پہنچانا چاہتا ہے۔

 حیرت کی بات ہے کہ اس نے پی ایچ ڈی کی ڈگری کیسے حاصل کی۔ میرے خیال میں پی ایچ ڈی ہی ایک ایسا در ہے جو اسم  اعظم سے بھی نہیں کھل سکتا۔ اس کے شعری رویہ کو دیکھتے ہوے اس کے تھیسیس کا تحقیقاتی کردار بھی مجھے کچھ مشکوک سا نظر آتا ہے۔ خواہ اس کی تحقیق کا موضوع اردو تنقید پر مغربی تنقید کے اثرات ہویا انیسویں صدی میں اُردو۔

 مجھے اب بھی یقین نہیں ہے کہ شاعر شہریار کا مزاج تحقیقی بوجھ بھی سہار سکے۔ چاہے وہ اپنی نظموں پر نظر ثانی کا قائل نہ ہو لیکن اس کا نثری اظہار اس کا انداز گفتگو سماعتِ ثانی کا مطالبہ کرتا ہے۔ خاس طور پر اس وقت جبکہ وہ عالمِ سرشاری میں ہو۔

 شہریار بڑا یار باش آدمی ہے۔ اپنے دوست کے لیے وہ سب کچھ کرے گا جو اس کے بس میں ہوگا۔ کبھی کبھی تو اس کی گرم جوشی کا یہ عالم ہوتا ہے کہ دوست کہیں پیچھے رہ جاتا ہے۔ اور وہ آگے نکل جاتا ہے۔ شاید وہ اپنے آپ کو مکمل طور پر حوالے کرنے کا قائل نہیں ہے۔

 اسم اعظم کا علم جسے ہو گیا وہ بن گیا فاتح عالم کی بات تو میں نے سنی تھی۔ اب یہ راز بھی سمجھ میں آنے لگا ہے کہ ہندوستان کے ہر بڑے مشاعرے میں اسے کیوں بلایا جاتا ہے جبکہ وہ یکسر مشاعروں کا شاعر نہیں ہے۔ یہ اور بات ہے کہ مشاعرے اس کے لیے کبھی آمدنی کا ذریعہ نہیں رہے۔ تاش کے مشغلے کی طرح مشاعرہ بھی اس کے لیے مالی نقصان کا ذریعہ ہے۔

 آرام پسندی، شہزادگی، شاہ خرچی، بے نیازی، محبت، خلوص رفاقت، لڑائی جھگڑا دشمنی اور انتقام کا اگر کوئی نام ہو سکتا ہے تو شہریار اور صرف شہریار ہی ہے۔

 دراصل اپنے لئے اس نے ایک one pointپروگرام بنا رکھا ہے دوست کو کوئی کام کرنا ہو یا دوست کے کسی دشمن سے بدلہ لینا ہو اسے تکمیل تک پہنچائے بغیر دم نہیں لیتا۔ اپنی ذات کے لیے کبھی اس نے لڑائی نہیں کی۔ اس کی زیادہ تر لڑائیاں اور نفرتیں دوستوں ہی کے لیے ہوئی ہیں۔ بہ ایں ہمہ اس کے پاس اخلاقی معیارات بھی ہیں۔ وہ ایسے ہی لوگوں کو اپنا یار بناتا ہے جو اپنا ایک کردار رکھتے ہوں۔

 ایسے ویسے ملاقاتیوں اور دوستوں کے لیے اس کا رویہ بالکل برعکس رہتا ہے۔

 وہ خیر سے اُردو کا استاد بھی ہے۔ اُردو کے استاد اور بھی ہوں گے لیکن شہریار کا معاملہ دیگر ہے۔ یونیورسٹی ہویا اس کا گھر وہ ہمیشہ اپنے شاگردوں میں گھرا رہتا ہے۔ وہ اس پر جان چھڑکتے ہیں اور یہ ان پر مرا جاتا ہے۔

 مرتا تو وہ رمی پر بھی ہے۔ رات رات بھر کلب میں رمی کھیلنے کے بعد پتہ نہیں وہ شاعری کے لیے کب وقت نکالتا ہے۔

 میں نے رمی کے ایسے دیوانوں کو ذرا کم ہی دیکھا ہے۔

 بنیادی طور پر اس کا temperament جواریوں کا سا ہے۔ اس لیے اسے یہ غرض نہیں ہوتی کہ وہ رمی میں جیت رہا ہے یا ہار رہا ہے۔ جس آدمی کی شخصیت میں سرے سے ہار جیت کا کوئی خانہ ہی نہ ہو بھلا ایسے قلندر کے بارے میں کیا کہا جا سکتا ہے؟

 مگر کون جانے کب اور کس وقت وہ پھر شہر یار سے اچانک کنور بن جائے اور ہم اس کا مُنہ تکتے ہی رہ جائیں۔

***

 

راشد آذر

 مجھے یہ دعویٰ نہیں ہے کہ میں نے راشد آذر کو قریب سے دیکھا ہے لیکن اس کا یہ مطلب تو نہیں کہ اس سے میری یاری نہیں ہے یا رفاقت کی خوشبو سے اس کی شخصیت عاری ہے۔

 وہ شاعر اچھا ہے یا آدمی اس سلسلہ میں کوئی حتمی رائے دینا مشکل بھی ہے اور آسان بھی۔ پھر ایک خاکہ نگار کو کیا پڑی کہ وہ تنقید نگار کے مُنہ کا نوالہ خواہ مخواہ جھپٹ لے۔ اپنی شخصیت کو مذاق کا ہدف بنانا بڑے جی گردے اور ظرف کا کام ہے۔ یہ ظرف میں نے صرف راشد آذر کی تیکھی شخصیت ہی میں دیکھا ہے۔ سیاست میں ’’Committed‘‘ ہونا ایک اچھی علامت ہے۔ لیکن وہ ادب میں بھی ایک Committed شاعر کی حیثیت سے جانا پہچانا جاتا ہے۔ وہ اقبال متین کی طرح ہر ملنے جلنے والے کو پیارے یا میری جان کہہ کر مخاطب نہیں کرتا۔ اقبال متین کے ذکر پر ایک واقعہ یاد آ گیا۔ پروانہ ہال میں اس کی کتاب کی رسمِ اجراء کی تقریب منائی جانے والی تھی۔ اس نے پہلے ہی طے کر رکھا تھا کہ صدر اقبال متین ہی رہیں گے۔

 اقبال متین بھی ایک طرح سے خوش ہی تھے۔ جلسہ کوئی ٧ بجے شروع ہونے والا تھا۔ میں ٹھیک سوا سات بجے جب پروانہ ہال پہنچا تو لوگ آہستہ آہستہ آتے جاتے دکھائی دے رہے تھے۔ جوں ہی اس کی نگاہیں مجھ سے ٹکرائیں وہ لپک کر میرے قریب آیا۔ کہاں ہے بھئی آپ کے اقبال متین، سات بج چکے ہیں۔

 میں نے جواباً اس سے کہا۔ ’’ابھی تو صرف سات بج کر پندرہ منٹ ہی ہوئے ہیں۔ ‘‘

 ’’کیا مطلب۔ ؟‘‘

 ’’مطلب یہ کہ کچھ دیر انتظار کر لو۔ صدر تو مرتا جیتا کسی طرح آ ہی جاتا ہے۔ ‘‘

 پھر اس نے شاذ سے مخاطب ہو کر قدرے ناراضگی سے کہا۔ ’’مجھے وقت کی پابندی نہ کرنے والے لوگ ایک آنکھ نہیں بھاتے۔ ‘‘

 ’’میری جان وقت کے معاملہ میں تم انگریزوں سے بھی دو ہاتھ آگے ہو۔ وہ وقت پر آتا ہے۔ تم وقت سے آدھ گھنٹہ پہلے آ جاتے ہو۔ تھوڑا سا انتظار کر لو۔ اس کے بعد تم چاہو تو کسی کو بھی صدارت سونپ سکتے ہو۔ ‘‘

 ’’اب ان کا انتظار فضول ہے۔ تم ان کی جگہ صدر بننے کے لے بالکل تیار ہو جاؤ۔

 ’’بلکہ ابھی کرسی صدارت پر جا کر بیٹھ جاؤ۔ ‘‘

 شاذ نے کہا۔ ’’میں ایک شرط پر صدارت قبول کرتا ہوں۔ میں صدر بننے کے بعد اس جگہ سے نہیں ہٹوں گا۔ ‘‘

 ’’کوئی سوال ہی نہیں ہے۔ دیر سے آنے والے کو کچھ سزا بھی تو ملنی چاہئے۔ ‘‘ راشد نے اطمینان کے لہجے میں کہا۔

 کچھ دیر سوچنے کے بعد شاذ نے مجھ سے پوچھا۔ تمہارا کیا خیال ہے عوض۔ ؟ وہاں تو گاڑی چھوٹ جانے والا منظر تھا۔ پتہ نہیں میں نے روا روی میں کیا کہا۔ شاید حامی ہی بھری ہو۔ لیکن جب میں نے اپنی نشست سنبھالی تو مائیک کے ذریعہ شاذ کو ڈائس پر آ کر صدارت کرنے کی دعوت دی جا رہی تھی۔ مغنی تبسم نے اپنی کرسی سنبھال لی تھی اور دوسرے ساتھی بھی تھے جو راشد کی شاعری پر پیپر پڑھنے کے لیے آ بیٹھے تھے۔ جس جگہ اقبال متین کو بیٹھنا تھا اب اس جگہ شاذ براجمان تھے اور اقبال متین کا دور دور تک پتہ نہ تھا۔

 لوگوں نے کافی دیر بعد جب اقبال متین کو جلسہ گاہ میں داخل ہوتے ہوے دیکھا تو اُن کی نگاہیں صاف چغلی کھا رہی تھیں کہ دیکھیں اب کیا ہوتا ہے۔ شاید اقبال متین نے بھی شدید انداز میں یہی محسوس کیا ہو کہ یہاں تو پانسہ ہی پلٹ گیا ہے۔ ایک طرف شاذ ہے جس سے ان کی یاری ہے۔ دوسری طرف صدارت اور انگریز راشد۔

 متین نے اپنی عافیت اسی میں سمجھی کہ کیوں نہ اپنی شخصیت کو بھول بھال کر سامع بن جائیں۔ اور عام لوگوں کے ساتھ بیٹھ کر اپنے عوامی ادیب ہونے کا ثبوت دیں۔ لیکن شاذ نے اشارۃً انھیں ڈائس پر آنے کی دعوت دے ہی دی۔ ڈائس پر پہنچنے پر بھی وہ ایک معصوم سامع کی طرح چپ چاپ بیٹھے رہے۔ کبھی کبھی شاذ اور راشد کی طرف مُڑ کر اس طرح دیکھتے جیسے کہہ رہے ہوں۔ یہ سب کیا ہو رہا ہے پیارے۔ دیر سے آنے کی اتنی بڑی سزا آج تک کسی نے کسی کو دی ہے مگر راشد وقت کی پابندی کے معاملہ میں بڑا سفاک اور ظالم ہے۔ وہ پلک جھپکتے ہی وہ سب کچھ کر جاتا ہے جس کی توقع بھی نہیں کی جاسکتی۔

 اقبال متین یوں بھی دیگر تو تھے ہی۔ جاتے جاتے اپنے ترکش سے تیر نکالا اور راشد پر چلا دیا۔

 ’’جناب کیا آپ فلاں صاحب کے ذریعہ اپنی کتاب کی رونمائی کرواتے اور اگر وہ وقت پر نہ آئے ہوتے تو کیا آپ ایسا کرسکتے تھے۔ ہر گز نہیں آپ گھنٹوں ان کا انتظار کرتے۔ ‘‘

 اقبال متین کا کہا ہوا وہ سخت جملہ آج تک راشد کے حلق میں مچھلی کے کانٹے کی طرح پھنساہوا ہے۔

 راشد کو اگر کوئی بات ناگوار گزرے تو وہ مخاطب کے سامنے ہی سب کچھ کھری کھری سناڈالتا ہے۔ تاکہ غیبت کی نوبت ہی نہ آئے۔ میں نے بارہا شاذ سے اس کو اس طرح الجھتا دیکھا ہے۔

 ایک بار اکبر حیدرآبادی۔ لندن سے حیدرآباد آئے ہوئے تھے۔ راشد نے انہیں بوٹ کلب سکندرآباد میں دعوت دے رکھی تھی۔ شاذ اور راشد کے ساتھ میں بھی تھا۔ ابھی محفل کا رنگ جمنے بھی نہ پایا تھا کہ راشد نے کہا۔

 ’’شاذ تم میں ایک قباحت یہ ہے کہ تم اپنی غزلیں گوانے کے لیے موسیقاروں کے پاس وقت بے وقت پہنچ جاتے ہو۔ یہ تمہارے مرتبے کے خلاف ہے۔ شاعر کو ان باتوں سے بے نیاز ہونا چاہیے۔ ‘‘

 ’’چونکہ تمہاری غزلیں کوئی نہیں گاتا۔ اس لیے تمہیں اس بات کا دکھ ہے۔ ‘‘

 ’’اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ ‘‘

 ’’بہت فرق پڑتا ہے۔ جس شاعر کی غزل بیگم اختر گائے۔ جسے راستہ چلتے چلتے لوگ ’’کب تک میرے مولا‘‘ کہہ کر پکارے۔ جو ہند و پاک کے ہر بڑے اور اہم پرچے میں اہتمام سے چھپتا ہو جسے بڑے بڑے مشاعروں میں مدعو کیا جاتا ہو اس محفل میں۔ خدا جھوٹ نہ بلوائے کوئی بھی نہیں ہے۔ میں یہ بات ڈنکے کی چوٹ پر کہہ رہا ہوں۔ ‘‘ شاذ کا پارہ چڑھ گیا تھا۔ اکبر ٹکر ٹکر شاذ کو اس طرح دیکھ رہے تھے جیسے وہ کہہ رہے ہوں۔ یہ کس جگہ آ کر پھنس گئے۔

 میری طبیعت بھی کچھ مکدّرسی ہو کر رہ گئی تھی۔ شاذ پر جب اپنی بڑائی کا بھوت سوار ہو جاتا ہے تو دنیا کا بڑے سے بڑا عامل بھی اس بھوت کو اپنی گرفت میں لے نہیں سکتا۔ جب تک خود شاذ اسے اجازت نہ دے۔ پھر وہاں تو کسی بھی عامل یا جادوگر کا دور دور تک پتہ نہ تھا۔ چند قریبی ساتھی تھے جو وقت کاٹنے کے لیے کلب آ گئے تھے۔ لیکن مقام اور مرتبے کی خودساختہ چکّی میں پس کر رہ گئے۔

 راشد اور شاذ کی دوستی آج بھی اسی طرح برقرار ہے۔ جیسے پہلے تھی۔ شاذ کی سالگرہ کی تاریخ راشد کے ذہن میں کچھ اس طرح چپکی ہوئی ہے کہ وہ کہیں بھی ہو اس دن بطور خاص اسے بار لے جاتا ہے۔ اسی طرح شاذ بھی اس کی سالگرہ پر اپنی جیب ہلکی کرتا ہے۔

 راشد اپنی بے شمار خوبیوں اور چند بھیانک خامیوں کے باوجود مجھے ایک بھلاسا آدمی لگتا ہے۔

 لیکن برسوں گزر جانے کے باوجود میری اس کی یاری میں ایک فاصلہ سا ہے۔

 راج بھون روڈ کے جس خوب صورت بنگلے میں وہ رہتا ہے اس کا نام ’’تمنا‘‘ ہے اور ہر آدمی اپنے دل میں ایک تمنا لئے رہتا ہے۔ تمناؤں اور آرزوؤں سے گھرے ہوئے لوگوں میں بھی وہ بہ آسانی پہچانا جاسکتا ہے اس کی شخصیت کی یہی ایک پہچان نہیں ہے۔ اسے جاننے اور سمجھنے کے لیے کبھی کبھی پاتال میں بھی جانا پڑتا ہے۔ لیکن پاتال میں جانے کے بعد واپس صحیح و سلامت پہنچنے کی بھی کوئی ضمانت نہیں ہے۔

 اب یہی دیکھئے ناکہ اس کے دل میں کئی خانے ہیں۔ ہر ایک خانے میں اس نے اپنی پسند کی چیز رکھ چھوڑی ہے۔ ایک خانے میں اس کا اپنا السیشین ہے۔ دوسرے خانے میں دو ایک دوست ہیں۔ تیسرے خانے میں اس کی اپنی کار ہے۔ جس میں اس کے علاوہ بہ مشکل تین آدمی بیٹھ سکتے ہیں۔ چو تھا آدمی خواہ اس کا قریبی دوست ہی کیوں نہ ہو۔ اس میں بہر حال وہ بیٹھ نہیں سکتا جب تک کہ وہ خود اجازت نہ دے۔ اگر وہ ہمت کر کے خود سے بیٹھ بھی جائے تو وہ بلا تکلف کہہ دے گا۔

 ’’مولانا۔ ذرابس، یا سکوٹر سے آ جائیے۔ ‘‘

 لیکن کبھی کبھی اس کی ذات میں چھپا ہوا راشد علی خاں جب سرنکالتا ہے تو وہ ایک دوسرا ہی آدمی لگتا ہے۔ ایسے وقت میں وہ اپنے کسی بھی شناسا کو پیدل جاتے ہوے دیکھ کر اپنی کار میں گھسیٹ لے تو آپ کو تعجب نہیں کرنا چاہیے۔

 دراصل راشد آزر کی شخصیت تضاد سے کچھ اس طرح بھری ہوئی ہے کہ اس کے بارے میں کوئی حتمی رائے نہیں دی جاسکتی۔ کبھی کبھی یہ بھی احساس ہونے لگتا ہے کہ یہ شخص دانستہ طور پر اپنی شخصیت کو پُراسرار بنانے پر تلا ہوا ہے۔ علم، عقل اور سائنس کے چوکھٹے پر ہر شے کو پرکھنے والا جب واہموں کا شکار ہو جاتا ہے تو اس کا سائنٹیفک نقطہ نگاہ تو ایک طرف دھرا رہ جاتا ہے اور وہ اچانک سفید ٹوپی اوڑھے شہر کے ہنگاموں سے دُور اپنے مرشد کی تلاش میں نکل پڑتا ہے۔

 جب وہ تیزی سے کار چلاتا ہوا میڑچل روڈ پر نظر آ جائے تو سمجھ جائیے کہ وہ ذہنی تناؤ کا شکار ہے۔ مگر جب وہ وہاں سے لوٹتا ہے تو ایک اور ہی راشد آذر دکھائی دیتا ہے۔ اور یہی وہ منزل ہے جہاں وہ چپکے سے اپنے اندر کے راشد علی خان کو ٹٹولتا ہے، اُسے پکارتا ہے مگر جب سوال ہی اچانک جواب بن جائے تو وہ بظاہر مسکراتا ہوا کہیں اور نکل پڑتا ہے، ایک بے نام سمت کی اور ایک انجانے راستے کی طرف۔

 اس نے کبھی کلر کی بھی کی اور وکالت بھی۔ اہم عہدوں پر بھی فائز رہا لیکن دوسری طرف اس نے وقفے وقفے سے ایک ایک کر کے ساری ملازمتیں بھی چھوڑ دیں۔ ہٹ دھرمی اکھڑ پن اور سچ کے زہر نے اُسے کہیں بھی قدم جمانے نہیں دیا۔

 آج بھی اس کا کچھ یہی عالم ہے۔ آج یہاں تو کل وہاں اس نے اپنی آدھی عمر اسی طرح نوکریاں ڈھونڈنے، پانے اور گنوانے میں گزار دی۔ اس معاملہ میں وہ بڑا Adventurousہے۔

 راشد ہمیشہ ہی سے سیلف میڈ آدمی رہا ہے۔ اس نے جو بھی کام کئے اپنے بل بوتے پر کئے۔ کبھی دوسروں پر تکیہ نہیں کیا۔ جب ماں منسٹر تھیں تو وہ ٹاپئسٹ تھا۔ اس نے کبھی اپنی والدہ محترمہ سے یہ نہیں پوچھا کہ آپ کار سے اتر کر جب اسمبلی ہال میں داخل ہوتی ہیں تو وہیں آفس کے کسی کونے میں بیٹھا وہ کون آدمی ہے جو ٹائپ رائٹر پر جھکا اپنی انگلیاں چلایا کرتا ہے، مگر منسٹرماں کو پتہ تھا کہ اس کا لاڈلا اپنے پاوں پر کھڑے ہونے کا فن خوب جانتا ہے اور جو خود داری اُسے ورثہ میں ملی ہے وہی اس کا صحیح معنی میں پاسپاں بھی ہے۔

 میں نے راشد کے کردار کے سب ہی گہرے رنگ دیکھے ہیں۔ لیکن ہر رنگ میں کہیں نہ کہیں اس نے اپنی شخصیت کی چھاپ ضرور چھوڑی ہے۔

 اُسے لا ابالی زندگی گزارنے والوں سے بڑی کد رہی ہے، زندگی میں وہ سلیقے اور قرینے کا قائل ہے۔ اور اپنے ہر دوست کو اسی انداز میں دیکھنا چاہتا ہے آپ شدید گرمی کے عالم میں اپنی بشرٹ کے دو ایک بٹن کھلے بھی رکھ دیں تو وہ آپ کے پاس پہنچ کر اسے ٹھیک کر دے گا۔ کالر مڑا تڑا ہو تو اس پر اس طرح ہاتھ رکھے گا جیسے وہ کالر نہ ہو دکھتی رگ ہو۔ آپ لاکھ برا مانیں وہ ’’سلیقہ‘‘ کہہ کر آپ کو چپ کرا دے گا۔

 کبھی کبھی اس سے مل کر ایسا بھی لگتا ہے جیسے ہم آدمی کی بجاۓ کسی بڑھیا لانڈری میں دھُلے ہوئے صاف ستھرے مُکلف کپڑے سے مل رہے ہوں۔ اس کے با وصف اس کے کئی دوست اور آشنا ہیں۔ حبیب حیدرآبادی سے بھی اس کی یاری ہے وہ حبیب کو ٹوٹ کر چاہتا ہے اور حبیب بھی اسے بے حد عزیز رکھتے ہیں۔ اس کا اندازہ مجھے اس وقت ہوا جب حبیب اچانک کچھ عرصے کے لیے حیدرآباد آئے تھے۔ ان کے آنے کی کسی کو اطلاع نہ تھی۔ اس باغ و بہار آدمی کو میں نے حد درجہ اداس پایا تو مجھے حیرانی سی ہوئی۔ میں نے جب ان سے خیریت پوچھی تو انھوں نے مجھ سے کہا۔ ’’دراصل عوض۔ لندن سے اچانک آنے کی وجہ صرف یہ ہے کہ ان دنوں میری والدہ عثمانیہ ہاسپٹل میں ہیں اور وہ بھی کوما کنڈیشن میں۔ ان کے بچنے کی امید ذرا کم ہی ہے۔ لیکن پتہ نہیں اس وقت مجھے راشد کیوں یا آ رہا ہے۔ کیا تم اس سے ملنے کی کوئی سبیل نکال سکتے ہو۔ ؟

 راشد ابھی اور اسی وقت مل سکتا ہے لیکن۔ ۔ ۔ ۔ ۔ میرے لیکن پر انھوں نے اس طرح حیرانی سے مجھے دیکھا کہ یک بیک میرا ہاتھ ٹیلیفون کی طرف بڑھ گیا۔ ’’بات صرف اتنی ہے کہ وہ شاذ کے گھر کھانے پر مدعو ہے۔ اور۔ ‘‘

 پھر مزید وقت ضائع کیے بغیر میں نے نمبر ڈائیل کیا اور راشد کو بلوا کر مختصر الفاظ میں حبیب کی پریشانی کی ساری روداد سُنا دی۔

 ’’عوض یہ میرے لیے فخر کی بات ہے کہ انھوں نے ایسے وقت مجھے یاد کیا۔ تم فوراً انھیں یہاں لے آؤ۔ میں باہر کھڑا اُن کا انتظار کروں گا۔ ‘‘

 جب ہم آٹو رکشا میں شاذ کے گھر پہنچے تو وہ دعوت کو ادھورا چھوڑ کر واقعی سڑک پر کھڑا حبیب صاحب کا انتظار کر رہا تھا۔

 یہ میرے لیے فخر کی بات ہے حبیب صاحب کہ آپ نے مجھے ایسے وقت یاد کیا۔ آپ نے مجھے وہ بار بار یہی جملہ دہراتا رہا۔

 یکبارگی مجھے لگا جیسے راشد لانڈری میں دھُلا ہوا مکلف کپڑا ہی نہیں ایک اچھا اور درد مند دوست بھی ہے۔

***

 

نعیم زُبیری

 میری زندگی میں حادثوں کا ہمیشہ بڑا دخل رہا ہے۔ نعیم زبیری کی دوستی بھی ان ہی حادثوں میں سے ایک ہے۔ پہلی ملاقات پر جب میں نے اسے چائے پیش کی تو وہ طشتری پھوڑ بیٹھا۔ دوسری دفعہ کپ اس کے ہاتھ سے چھوٹ گیا۔ میں نے سوچا۔ عجیب ہونق آدمی سے سابقہ پڑا ہے۔ بعد میں معلوم ہوا کہ یہ حضرت مراسلہ نگار ہونے کے ساتھ ساتھ افسانہ نگار بھی ہیں اور آئے دن کپ اور ساسر پھوڑنا ان کا محبوب مشغلہ ہے۔

 اب مجھے موصوف کے حدود اربعہ کو سمجھنے میں آسانی ہو گئی۔ ایک دن وہ عجیب و غریب انداز میں میرے پاس آیا۔ اس وقت وہ سرتاپا ایک پراسرار آدمی لگ رہا تھا۔

 ’’میں نے ایک ادبی انجمن قائم کی ہے۔ ‘‘ ارتقائے ادب۔ ‘‘

 ’’اچھا تو پھر۔ ‘‘

 ’’پھر کیا۔ چغد تمہیں بھی آنا ہوگا۔ ‘‘ وہ یہ (Adjective) اس بے تکلفی سے کہہ گیا کہ میں اس کے چہرے کو حیرت سے تکتا ہی رہ گیا۔ پھر اس نے بڑی ڈھٹائی کے ساتھ ان شاعروں اور ادیبوں کے نام گنوائے جو میرے حافظہ میں دور دور تک نہ تھے۔

 ’’یہ کون لوگ ہیں۔ ؟٬ میں نے اپنی معلومات میں اضافہ کرنے کی نیت سے پوچھا۔

 ’’یہی اپنے سمیع اللہ قریشی، محمود الحسن اور مرزا طغرل بیگ اور کون؟‘‘

 ’’تب تو تمہاری انجمن میں شریک ہونا ہی پڑے گا۔ ‘‘

 میرے اس جواب پر اس نے بڑے اعتماد سے کہا۔ ’’ظاہر ہے۔ ‘‘

 اور میں بڑی دیر تک اس ’’ظاہر ہے‘‘ کے مزے لوٹتا رہا۔

 ارتقائے ادب کے دوچار جلسے میں نے بھی اٹنڈ کیے۔ کچھ نہیں تو میں نے وہاں ایک خاص بات یہ دیکھی کہ ایک صاحب کونے میں بیٹھے ہمیشہ ’’نے‘‘ کی غلطی نکالا کرتے تھے جن کا تعلق یوپی سے تھا۔ اور وہ شاید غلطی سے دکن میں پیدا ہو گئے تھے۔

 ان کی پیدائش کے اس گھپلے سے فائدہ اٹھا کر وقتاً فوقتاً ہم نے بھی اپنی گرامر کچھ درست کر لی۔ لیکن یہ علیٰحدہ بات ہے کہ وہ ہمیں قواعد سیکھاتے سیکھاتے خود اپنی زبان بھول بیٹھے۔ اور اس طرح ثواب جاریہ کا سلسلہ اچانک ٹوٹ گیا۔

 اپنی انجمن کا دیوالیہ نکالنے کے بعد وہ مدتوں خوش خوش اس طرح پھرتا رہا جیسے دوجہاں کی نعمتیں اسے اچانک میسر آ گئی ہوں۔ ان دنوں نعیم اپنی ساری حماقتوں کے باوجود مجھے عزیز تھا اور آج بھی اپنی خوبیوں اور کامیوں سمیت وہ میرا سب سے قریبی یار ہے۔

 شروع شروع میں، میں نے اسے ایک یوں ہی سا افسانہ نگار سمجھ رکھا تھا۔ لیکن ایک دن اچانک کسی نے کہا۔ کہ وہ عوامی مصنفین کے جلسے میں اپنی تازہ کہانی سُنا رہا ہے۔ میں نے سوچا۔ وہ بھی اور افسانہ نگاروں اور شاعروں کی طرح ریل کا پہیہ ضرور جام کرے گا۔ کیوں کہ ۵۳ ۔ ۵۴ء  تک ادب کا کچھ یہی حال تھا۔ لیکن جب اس نے ہانپتے کانپتے اپنی کہانی ’’بیڈ نمبر 26‘‘ ختم کی تو مجھے احساس ہوا کہ یہ کم بخت تو آگے چل کر بہت سوں کا بیڑہ غرق کر دے گا۔ لیکن نعیم کی یہ شرافت تھی کہ اس نے اپنا ہی بیڑہ غرق کر لیا۔ اور رفتہ رفتہ لوگ بھول گئے کہ نعیم زبیری نام کا کوئی افسانہ نگار بھی کبھی حیدرآباد میں ہوا کرتا تھا۔

 وہ کہانی جس کا میں نے اُوپر ذکر کیا ہے وہ ’’پریت لڑی‘‘ میں شائع ہوئی تھی۔ وہ مدّتوں پریت لڑی کا پرچہ ہاتھ میں تھامے حیدرآباد کی سڑکوں پر گھومتا رہا۔ لیکن پھر بھی لوگ یہ ماننے کے لیے تیار نہیں ہوے کہ وہ کہانی نام کی کوئی چیز بھی ہے۔ پھر ایسا ہوا کہ اس نے پے درپے ہلکی پھلکی فارمولا ٹائپ کہانیاں بھی لکھ دیں جو مقامی روزناموں اور گمنام پرچوں میں چھپتی رہیں۔

 نعیم کا خیال ہے کہ کوئی پرچہ خراب نہیں ہوتا۔ لکھنے والا خراب یا اچھا ہو سکتا ہے۔ چنانچہ اس کے لکھنے اور چھپنے کا ایک طویل سلسلہ اسی استدلال کو صحیح ثابت کرنے ہی میں گزر گیا۔ نعیم پھر ایک بار گم نامی کے غار میں جا چھپا۔ اور صرف مقامی ادیب بن کر رہ گیا۔ اس جملے سے خواہ مخواہ یہ احساس ابھرتا ہے کہ وہ کبھی شہرت کا حامل بھی رہا ہو۔ شہرت سے تو وہ ہمیشہ کوسوں دور رہا ہے۔ نعیم نے شروع ہی سے اگر معیاری پرچوں کی طرف توجہ کی ہوتی تو اس نے آج گمنامی کی برکتوں کو یوں دو دو ہاتھوں لوٹا نہ ہوتا۔

 ایک دن میرے اصرار پر اس نے اپنی کہانی ’’شکست‘‘ ادب لطیف کو بھجوائی۔ مرزا ادیب نے لکھا کہ شکست ایک اعلیٰ درجے کی تخلیق ہے۔ لیکن یہ لکھ کر انھوں نے ادب لطیف کی ادارت ہی چھوڑ دی۔ اور ادب لطیف دوسروں کے قبضے میں چلا گیا۔ اور اس طرح نعیم پھر ایک بار مارا گیا۔ اور شکست کی اشاعت کسی معیاری پرچے کی بجائے ایک معمولی سے پرچے میں ہو گئی۔

 شکست کی اشاعت کے بعد اس کے ایک قاری نے باغ عامہ سے گزرتے ہوے نعیم کو دیکھ کر ایک ہانک لگائی۔ ’’نعیم بھائی کہانی پسند آئی۔ ‘‘

 پتہ نہیں اپنے اس اکلوتے قاری کی تعریف سے وہ آج تک کیوں شرمندہ ہے۔ کبھی کبھی وہ پر لطف انداز میں یہ بھی کہتا ہے۔ ’’کیا زمانہ آ گیا ہے۔ نعیم بھائی کہانی پسند آئی کہہ کر سیکل سے اُلٹے منہ گر جانے والا قاری بھی اب ڈھونڈو نہیں ملتا۔

 پھر کافی عرصہ گزر جانے کے بعد میں نے اسے ورغلایا کہ ’’اوراق‘‘ کے لیے وہ ڈاکٹر وزیر آغا کے نام ایک کہانی داغ  دے۔ پہلے تو وہ ٹال مٹول کرتا رہا۔ پھر جب میرا اصرار بڑھا تو اس نے کہانی بھجوا دی۔ اور جب وزیر آغا نے مہینوں گزر جانے کے بعد بھی کوئی جواب نہیں دیا تو وہ نہ مایوس ہی ہوا اور نہ اداس۔

 لیکن ایک دن اچانک میرے پاس ’’اوراق‘‘ کا افسانہ نمبر آیا تو اس میں اس کی کہانی بھی شامل تھی۔ ایک دن ملاقات ہونے پر میں نے اس سے پوچھا۔ ’’نعیم کیا تمہارے پاس بھی اوراق آیا ہے؟‘‘ اس نے طنزیہ انداز میں کہا۔ ’’اوراق تو نہیں معین فاروقی کا انگارے ضرور آیا ہے۔ ‘‘

 ’’کیا اس میں بھی تمہاری کہانی شامل ہے؟‘‘ میں نے شرارت سے پوچھا۔

 میری شرارت کو اس نے بھانپتے ہوئے کہا۔ ’’مذاق چھوڑو۔ پہلے یہ بتاؤ اوراق میں میری کہانی شامل بھی ہے یا نہیں۔ ‘‘

 پھر جب میں نے گھر پہنچ کر اسے اوراق کا افسانہ نمبر دکھایا تو وہ کچھ بوکھلاسا گیا۔ مین نے پہلی بار نعیم کی آنکھوں میں ایک خاص قسم کی چمک دیکھی۔

 ’’مردود، وہ پرچہ مجھے دے دو۔ ‘‘

 کافی ستانے کے بعد میں نے اس کے ہاتھ میں اوراق تھما دیا۔ جس میں میری بھی کہانی شامل تھی۔ لیکن شاید بعد میں نعیم بھائی کہانی پسند آئی کہنے والے قاری نے اسے ہتھیا لیا اور کسی کباڑیئے کے ہاں اسے فروخت کر دیا۔

 مجھے حبیب نگر والا وہ تنگ اور تاریک کمرہ آج بھی یاد ہے۔ جہاں اسے میں نے کئی بار خُون اُگلتے دیکھا تھا۔ اُسے دق تھی اور وہ دق کے تیسرے اسٹیج پر بھی اس طرح مطمئن تھا جیسے اسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔ اب تو وہ کچھ اتنا بھلا چنگا ہو گیا ہے کہ آپ اس سے بہ آسانی ہاتھا پائی کرسکتے ہیں۔

 دوستی کے باب میں اس کے سوچنے کا انداز اور رویہ عام شرفا سے بالکل جدا ہے۔ مہینوں بعد بھی آپ اس سے ملیں تو آپ سے یہ نہیں پوچھے گا کہ تم اب تک کہاں روپوش تھے۔ اس کی اس سرد مہری سے اُکتا کر اگر اس کا کوئی ساتھی خدا حافظ کہنے کے لیے ہاتھ بڑھا دے تو وہ فوراً اسے خدا حافظ کہہ دے گا۔ خواہ وہ شخص اس کا محسن ہی کیوں نہ ہو۔

 اس کے قریبی دوست پدما راؤ کو بھی اس سے یہی شکایت ہے کہ خدا حافظ کہنے پر وہ مروتاً بھی کبھی یہ نہیں کہے گا۔ ابھی تو آپ آئے ہیں، کچھ دیر رُک جائیے۔ ایسے وقت اس کا لمبا ہاتھ اور لمبا ہو جاتا ہے۔ کبھی کبھی تو وہ اپنے ساتھی کو رخصت کرتے ہوے انگلیوں کی بجائے کہنی سے بھی کام لیتا ہے۔ اور اپنے اس عمل کو اس نے ’’اضطراری کیفیت‘‘ کا نام دے رکھا ہے۔

 اس کے دوستوں کا حلقہ کافی وسیع ہے۔ ان میں تعلیم یافتہ بھی ہیں اور اُن پڑھ بھی۔ شریف بھی ہیں اور حد درجہ بدمعاش بھی۔ نعیم دوستی کے معاملہ میں کچھ اتنا چالاک ہے کہ پتہ نہیں چلتا کہ وہ کس قماش کے ساتھی کو زیادہ عزیز رکھتا ہے۔

 وہ ریس نہیں کھیلتا۔ شراب نہیں پیتا۔ عشق نہیں کرتا۔ حتی کہ پان تک نہیں کھاتا۔ ہاں سپاری ضرور کھاتا ہے۔ بلکہ پھانکتا ہے۔ اگر آپ پلیٹ بھر سپاری بھی اس کے سامنے رکھ دیں تو اسے ’’گرین پیس‘‘ سمجھ کر کھا جاۓ گا۔ وہ ایسے ہی گھر میں زیادہ دیر بیٹھ سکتا ہے جہاں اچھی چائے کے ساتھ سپاری بھی اسے کھانے کو ملے۔

 چائے بھی اس کی کمزوری ہے۔ کھانے سے اُسے کوئی خاص رغبت نہیں۔ اچھی پتی کی بنی ہوئی چائے کا وہ دیوانہ ہے۔ اس سلسلہ میں اس کی دیوانگی کا یہ عالم ہے کہ اگر اسے یہ علم ہو جائے کہ ناگپور میں چائے کے ڈیلر کے پاس ایک نئی اور قیمتی پتی آئی ہے تو وہ بے اختیار وہاں بھی پہنچ جائے گا خواہ اسے قرض ہی کیوں نہ لینا پڑے۔

 وہ لائف انشورنس کی افادیت کا بھی قائل ہے۔ اپنی پالیسی کو ’’Mature‘‘ ہونے کی منزل تک پہنچانے سے پہلے ہی ایک گمبھیر سانس کے ساتھ چپکے سے چٹ فنڈ میں شامل ہو جاتا ہے۔ اور ہراج کے موقع پر بولی دینے والوں میں سب سے اونچی اسی کی آواز ہوتی ہے۔ ان تمام الجھنوں کے باوجود اس کے ہاں اسکوٹر بھی ہے وہ ایسے ساتھیوں کو ضرور لفٹ دیتا ہے جن کے ہال کنویینس نہ ہو۔ وہ تو اس معاملہ میں اتنا شریف ہے کہ راستے میں اپنے دھوبی کو پیدل جاتا دیکھ کر بھی لفٹ دینے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتا خواہ اس کے سر پر کپڑوں کا انبار ہی کیوں نہ ہو۔

 بے کاری کے دنوں میں کبھی وہ صحافت سے بھی وابستہ رہا۔ ایک ہفتہ دار پرچے کی ادارت بھی کی۔ پبلشر کا بیڑہ غرق کرنے کے بعد صحافت سے اچانک ناطہ توڑ لیا۔ نئی کتابیں خریدنا اور ’’عالمِ کڑکی‘‘ میں انھیں پڑھ کر فٹ پاتھ پر بیٹھنے والے کسی بھی کباڑئیے کو اونے پونے داموں بیچ دینا اس کا ایک خاص مشغلہ ہے۔ اس لیے اس کے بک شلف میں آئے دن کتابیں گھٹری رہتی ہیں۔ نعیم کتابوں کے سلسلہ میں حد درجہ غیر ذمہ دار ہے۔ اس لیے اگر وہ کبھی آپ سے کوئی کتاب مانگے اسے ہر گز نہ دیجیئے۔ اگر مانگی ہوئی کتاب پرڈسٹ کور نہ ہو تو اس کی بدصورتی کو ڈھانکنے کے لیے وہ کوئی خوب صورت سا کور چڑھا دے گا تو آپ خوش ہو جائیں گے کہ نعیم کتنا معقول آدمی ہے۔ ایک ماہ بعد اس کے بُک شلف میں وہ کتاب نہ ہو گی پوچھنے پر وہ اطمینان سے کہے گا۔ تمہاری کتاب مرزا صاحب لے گئے ہیں۔ واضح رہے کہ وہ کبھی جھوٹ نہیں بولتا۔ بیشتر صورتوں میں تو اسے یہ بھی یاد نہیں رہتا کہ اس کے شلف سے کون کتاب اٹھا لے گیا۔ ورنہ ذاتی طور پر وہ بڑا ایمان دار واقع ہوا ہے۔ وہ آپ سے اپنی کسی بھی کتاب کا مطالبہ نہیں کرے گا۔ خواہ آپ اس کتاب کو ردّی ہی میں کیوں نہ بیچ دیں۔ بہر حال نعیم ایک ٹیپکل آدمی ہے۔

 ڈریسنگ کے باب میں نعیم بڑا قدامت پسند واقع ہوا ہے۔ جیسے فیشن کی دنیا نے اسے چھوکر تک نہ دیکھا ہو۔ لیکن صفائی کا بڑا خیال رکھتا ہے۔ خواہ بشرٹ کی جگہ وہ کوئی چغہ ہی پہنا ہوا کیوں نہ ہو۔

 کسی وقت ٹینو پال کا اشتہار معلوم ہوتا تھا۔ اب اس نے ایجنسی بدل دی ہے۔ جب وہ بھانت بھانت کے عجیب و غریب کپڑے اپنے جسم سے لپٹائے سڑکوں پر نظر آتا ہے تو لوگ اُسے ٹورسٹ سمجھ کر آگے بڑھ جاتے ہیں۔

 ادب کے سلسلہ میں وہ بڑا کومیٹیڈ ہے اس لیے شدید مایوسی کے عالم میں بھی وہ گرتے پڑتے اندھیرے کو بھی اُجالا سمجھنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ شاید اسی لئے میں نے کبھی اسے گہری سوچ میں ڈوبا ہوا نہیں پایا۔ مشورہ دئیے بغیر وہ ایک منٹ بھی زندہ نہیں رہ سکتا۔ اس کے ملنے والوں میں بعض بھلے مانس ایسے بھی ہیں کہ اگر وہ مخالف سمت سے سڑک پار کر بھی رہا ہو تو چیختے ہوے کہیں گے۔ نعیم بھائی آپ سے کنسلٹ کرنا ہے۔ ایسے وقت وہ اپنے اسکوٹر کی رفتار کو تیز کرنے کی بجائے بریک لگا دیتا ہے۔ اور اس کا چہرہ پھول کی طرح کھل اٹھتا ہے۔

 وہ دواؤں اور پرہیز کے باوجود اکثر بیمار رہتا ہے۔ ایسے وقت اس کا کوئی قریبی سالا اس سے مشورہ کے لیے اچانک گھر آ جائے تو اس کی بیماری آناً فاناً جاتی رہتی ہے۔

 بہ حیثیت افسانہ نگار وہ ابھی حلقوں میں کم جانا پہچانا جاتا ہے۔ جس کا اظہار اس نے اپنی کتاب کے پیش لفظ میں بڑے تیکھے انداز میں کیا ہے۔ کہیں کہیں بعض سخن گسترانہ باتیں بھی ایک خاص تناظر میں آ گئی ہیں۔ جو نعیم کی جدید ادب سے بے خبری کی غماز ہیں۔ اس کے باوجود وہ کئی مشہور افسانہ نگاروں پر بھاری پڑتا ہے۔

 نعیم بہ یک وقت ایک اچھا افسانہ نگار بھی ہے اور ایک ٹریڈ یونین لیڈر بھی۔ بہ حیثیت ٹریڈ یونین لیڈر وہ آئے دن ہوا میں اڑتا رہتا ہے۔ وہ آج مدراس میں رہتا ہے تو کل دلّی میں۔ یونین اس سے چمٹی ہوئی ہے یا وہ اس کا اسیر ہے۔ اس راز تک پہنچنے کی کبھی کسی نے کوشش نہیں کی۔

 نعیم کی شخصیت کی سب سے بڑی اور ہولناک خرابی یہی ہے کہ وہ سچ کے پل صراط پر بھی بغیر ڈگمگائے گزر جاتا ہے۔ وہ اپنے اس وصف کے باعث اپنے ساتھیوں میں معتوب بھی ہے اور عزیز بھی۔

 اپنی بے شمار خامیوں اور خوبیوں سمیت مجھے نعیم بہت عزیز ہے اور نعیم کوئی آج کا دوست بھی نہیں ہے ربع صدی سے وہ میرا تعاقب کر رہا ہے۔ زیادہ صحیح تو یہ بات ہے کہ میں ہی اس کی دل فریب، عجیب و غریب شخصیت کا اسیر ہوں۔ نعیم سے ملنے اور اسے خواہ مخواہ گالیاں دینے میں مجھے بڑا مزہ آتا ہے اور کبھی کبھی جب وہ آپ جناب پر آ جاتا ہے تو مجھے کوئی دوسراہی نعیم زبیری لگتا ہے اور اس سے ملنے اور بات کرنے میں وہ لطف محسوس نہیں ہوتا۔ لیکن وہ جلد ہی اپنے اس خول سے باہر آ جاتا ہے۔ دراصل یہی وہ نعیم زبیری ہے جو میرا برسوں کا یار ہے۔

***

 

مُصحف اقبال توصیفی

 خالد نے جب مجھ سے آ کر کہا کہ مجھے مصحف اقبال توصیفی پر خاکہ لکھنا ہوگا تو میں بظاہر خوش ہوتے ہوئے بھی اداس ہو کر رہ گیا تھا، یہ اداسی یوں ہی نہ تھی۔ میری جگہ کوئی اور بھی ہوتا تو وہ نہ صرف اداس ہو جاتا بلکہ پریشان بھی۔

 ذرا سوچئے تو ایک نرے شریف آدمی پر بھلا کیا خاک اسکیچ لکھاجاسکتا ہے یہی ناکہ اقبال بے حد شریف اور مخلص انسان ہے۔ اس کے آگے کچھ لکھنا کم از کم میرے بس کی بات نہیں۔ میری نظر میں اقبال پر خاکہ یہیں ختم ہو جاتا ہے۔ اس سے آگے میں جو کچھ بھی لکھوں گا یا کہوں گا وہ سراسر مبالغہ ہی ہوگا۔ مگر جب لکھنا ہی ٹھیرا تو مجھے کچھ نہ کچھ کہنا ہی ہوگا۔

 آپ نے فانی مرحوم کی وہ تصویر شاید دیکھی ہو جن کی گود میں ایک ننھا منا بچہ بیٹھا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ دراصل یہ بچہ مصحف اقبال ہی ہے۔ ثبوت کے لیے مغنی صاحب سے پوچھیئے جنہوں نے فانی پر ریسرچ کی ہے۔

 اقبال توصیفی کچھ اتنا دبلا پتلا واقع ہوا ہے کہ مزید کمی و بیشی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ ایک بار اقبال کو آتے ہوے دیکھ کر احمد جلیس نے کہا تھا۔ ایسا لگتا ہے کہ آج ہوا کا رخ اس طرف ہے۔ مطلب یہ کہ وہ خود سے چل نہیں سکتا جب تک کہ ہوا اُسے اڑا نہ لے جائے۔ جلیس کے اس دلچسپ کومنٹ کے بعد اس کا خلوص میری نظر میں مشتبہ ہو جاتا ہے۔

 وہ اب تک مجھے سے بیسیوں بار مل چکا ہے۔ میں سمجھتا ہوں اس کا کریڈیٹ بھی ان ہواؤں ہی کو جاتا ہے جس کی بدولت وہ مجھ سے آج تک ملتا رہتا ہے۔ اور یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اقبال سے ملاقات کا موقع ہمیں اسی وقت میسرآتا ہے جب ہوائیں تیز چل رہی ہوں۔ وہ ایسے موقعوں پر یہی کہے گا۔ موسم اچھا تھا اس لیے چلا آیا۔ حالانکہ بات کچھ اور ہو گی۔ بہر حال مصحف اقبال کچھ اتنا مخلص ہے کہ اس کی بات کا یقین کرنا ہی پڑتا ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ طویل مدت تک اس سے ملاقات نہ ہونے پر ہم نے جو پہلی دعا مانگی اس کا مخاطب شور مچاتی ہوئی ہوائیں ہی تھیں۔

 وہ جس محکمہ سے وابستہ ہے وہاں اکثر و بیشتر اُسے کیمپ پر رہنا پڑتا ہے۔ آج آندھرا توکل کیرالا۔ کبھی اُتّر پردیش تو کبھی مدھیہ پردیش پہاڑ کی بڑی بڑی چٹانوں، نہروں کے سینے پر لگائے ہوے بڑے بڑے پلوں پر سے گزرتے ہوے اس پر کیا بیتتی ہوگی اس کا اندازہ شاید ہم نہ کرسکیں۔ ایک دفعہ تو ایسا بھی ہوا کہ جب وہ جیپ کار میں اپنے ساتھیوں کے ساتھ گھنے جنگل سے گزر رہا تھا۔ عین جیپ کے سامنے ایک خونخوار شیر آ کر کھڑا ہو گیا۔ ڈرائیور نے حاضر دماغی سے کام لیتے ہوئے جیپ روک دی۔ شیر نے اقبال کے دبلے پتلے جسم پر ایک نظر ڈالی اور بڑی مایوسی سے آگے بڑھ گیا۔ شیر کے منہ سے نکل آنا شاید ایسے ہی موقعوں پر کہا جاتا ہے۔ جب آدمی شیر کے مُنہ سے بچ نکل آتا ہے تو کوئی بھی مہم سرکرسکتا ہے۔ مثلاً اپنا مجموعہ چھپواسکتا ہے، جلسے منعقد کرواسکتا ہے اپنی تعریفیں سن کر جھینپ بھی سکتا ہے۔ خوش بھی ہو سکتا ہے۔ لیکن حقیقت حال کچھ اور ہے۔ دراصل ہند و پاک کے کونے کونے میں مصحف اقبال کے مداح بکھرے ہوے ہیں جو اس کے شعری مجموعہ کے منتظر ہیں۔

 اگر اقبال نے ان کے خاموش مطالبہ کی پا بجائی کتابی صورت میں کی ہے تو وہ اس طرح اپنے دیرینہ قرض سے سبکدوش ہو رہا ہے۔

 اقبال ایک سیدھا سادہ مخلص مگر ذہین لڑکا ہے۔ میں لڑکا اسے اس لیے کہہ رہا ہوں کہ وہ چھیتس برس کا ہونے کے باوجود اب بھی ہائی اسکول کا طالب علم دکھائی دیتا ہے۔ خوش نصیب ہیں وہ لوگ جو اپنی عمروں سے پندرہ برس کم دکھائی دیتے ہیں۔ اقبال کو اس سے ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ دعوتوں میں اسے آج بھی بچوں کے دسترخوان پر بٹھا دیا جاتا ہے۔

 وہ جب نامپلی ہائی اسکول میں آٹھویں جماعت کا طالب علم تھا۔ اسے کتابوں کے ساتھ ساتھ اسپورٹس سے بھی دل چسپی تھی۔ وہ فٹ بال کا اچھا کھلاڑی بھی تھا۔ وہ بچے جن کا قد انڈر 5فٹ ہوا کرتا تھا۔ ان کے لیے کسی زمانے میں خاص ٹورنمنٹ ہوا کرتے تھے۔ اقبال کی شرکت ایسے میاچس میں ناگزیر تھی۔ وہ بال کے ساتھ ہوا کی طرح اڑتا تھا۔ کبھی کبھی تو وہ بال سے پہلے ہی گول میں داخل ہو جاتا تھا۔ دروغ بر گردن راوی ایک دفعہ تو وہ بھاگتے ہوئے فٹبال گراونڈ سے ہاکی گراونڈ میں داخل ہو گیا تھا۔

 شاذ کی طرح اقبال موسیقی پر جان چھڑکنے والوں میں سے نہیں ہے۔ مہدی حسن کی خوب صورت آواز کے زیر و بم سے اس کے کان آشنا ہیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ مہدی حسن کا ذکر کیے بغیر ہمارا پیٹ نہیں بھرتا۔ وہ ذکر کیے بغیر شکم سیر رہتا ہے۔

 بہت سوں کا خیال ہے کہ اقبال کی شخصیت شاعرانہ مزاج سے عاری ہے شاعرانہ مزاج پر ایک واقعہ یاد آیا۔ ایک دن معظم جاہی مارکٹ کے قریب خالد شاعروں سے زیادہ ان کے مزاج اور ذات کی تہہ داری کا احاطہ کر رہے تھے۔ میرے ساتھ وہ بھی تھا۔ مزاجاً اقبال شاعر معلوم نہیں ہوتے، بلکہ ان سے مل کر ایسا لگتا ہے کہ ہم ایسے آدمی سے مل رہے ہیں جو حساب کتاب کا پکا ہو۔ وقت کا اسیر ہو۔ اتنے بجے گھر پہنچنا ہوگا۔ گھر پہنچ کر ان drawingsکو دیکھنا ہوگا۔ جو ڈرافٹس مین گھر چھوڑ گیا ہے۔ خالد یہ شوشہ چھوڑ کر مزے لیتے رہے۔ لیکن وہ شاعری ہی کو شاعر کا مزاج قرار دینے کی سعی لا حاصل میں لگا رہا۔

 ’’جس جگہ بیٹھ گئے آگ لگا کر اُٹھے‘‘ کے بمصداق دلچسپی اور تفریح تو کسی طرح ہماری ہو ہی جاتی ہے۔ لیکن اقبال ایسے موقعوں پر خواہ مخواہ پسپا ہو جاتا ہے۔

 مان لیجیے کہ اقبال نے خالد سے یہ بات کہی ہو۔ ’’بھئی خالد صاحب ہم نے اپنی وہ دونوں غزلیں وزیر آغا صاحب کو بھجوا دیں۔ ‘‘

 اچانک خالد کہہ اٹھیں گے۔ ’’یار حد ہو گئی شاذ اور عوض سعید کا تو انتظار کیا ہوتا۔ وہ بھی اوراق کے لیے اپنی چیزیں بھجوانے والے تھے۔ کیوں عوض صاحب کیا خیال ہے آپ کا۔ ‘‘

 میں قدرے ہنستے ہوئے کہوں گا۔ ’’ہاں اقبال آپ نے بڑی جلد بازی سے کام لیا۔ شاذ نے غالباً آپ سے کہا بھی تھا کہ اس سلسلہ میں اسے یاد دلائیں۔ یہ بات آپ نے اتنی دیر میں کہی ہے کہ اوراق کا خاص شمارہ نکل بھی چکا ہوگا۔ ’’وہ جھینپ کر کہے گا۔ واقعی ہم سے غلطی ہو گئی۔ پتہ نہیں شاذ صاحب میرے متعلق کیا سونچیں گے۔ شاذ کچھ سوچے یا نہ سوچے۔ مگر وہ گہری سوچ میں مبتلا ہو جائے گا۔ اقبال کو سوچ کے گہرے سمندر میں ڈوبتا دیکھ کر ہم لوگ Webster اور Sexton کے بارے میں گفتگو شروع کر دیں گے۔ اور وہ نڈھال لہجے میں خدا حافظ کہتا ہوا رنجیدہ لوٹ جاۓ گا۔

 شاذ سے اس کی بڑی یاری ہے۔ وہ اسے کچھ اتنا چاہتا ہے کہ اس کی بچی کچی محبت بھی ہمارے حصے میں ذرا کم ہی آتی ہے۔ چند برس پہلے شاذ اور اقبال توصیفی نے ایک ہی زمین اور بحر میں کئی ہم طرح غزلیں کہی تھیں جو پونم اور دوسرے جرائد میں جڑواں بچے کی شکل میں چھپتی رہیں۔ جب یہ دل چسپ سلسلہ ختم ہوا تو خلیل الرحمن اعظمی نے خیریت دریافت کرتے ہوۓ کسی سے پوچھا۔

 ’’آج کل یہ ادب کے شنکر جے کشن کیسے ہیں۔ ‘‘

 ایک دن وہ دلا پھندا ہمارے گھر آیا۔ وہ بڑا مسرور دکھائی دے رہا تھا۔

 ’’کیا بات ہے آج بڑے خوش دکھائی دے رہے ہو۔ ؟‘‘

 ’’مغنی صاحب نے میری کتاب کے لیے بڑے اچھے ٹائیٹل بنائے ہیں۔ انتخاب کے لیے آپ کے علاوہ فاطمہ بھا بی کو زحمت دوں گا۔ ‘‘

 میں نے فاطمہ کو آواز دے کر یہ خوش خبری سنائی۔

 ’’بھابی رکھنے کے لیے ایک سفید چادر لائیے۔ ‘‘ یہ کہہ کر وہ چپ ہو گیا۔ میری حیرانی کو بھانپتے ہوئے اس نے کہا۔ ‘‘ مغنی صاحب نے کہا ہے کہ یہ ٹائیٹل اگر سفید اور دھُلی دھُلائی چادر پر رکھ کر دیکھیں تو زیادہ بھلے لگیں گے۔ اور انتخاب میں بھی سہولت رہے گی۔ غرض کہ سفید چادر بچھا دی گئی جس پر مغنی کے بنائے ہوے کوئی پچیس ٹائیٹل سلیقے سے رکھ دیئے گئے۔ فاطمہ نے کہا۔ ’’بھائی نے کتنے اچھے ٹائیٹل بنائے ہیں۔ ‘‘

 میں نے کہا وہ تو ٹھیک ہے لیکن اقبال بے چارہ کہاں تک سفید چادر لیئے لوگوں کے گھروں پر پھرتا رہے گا۔ ’’اقبال نے جواباًمسکراتے ہوئے کہا۔ دراصل میں آج گھر سے سفید چادر لانا ہی بھول گیا۔ اقبال سنجیدہ ہونے کے ساتھ ساتھ  وٹی wittyبھی ہے۔

 لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ’’ فائزہ‘‘ کا سرورق مغنی نے بڑی خوب صورتی سے بنایا ہے۔

 میری پہلی کتاب ’’سائے کا سفر‘‘ کی اشاعت میں مغنی ہی کا ہاتھ رہا تھا۔ انھوں نے میری بعض کہانیوں کی کتابت عجیب و غریب انداز میں کروائی تھی۔ ایک کہانی کی کتابت سیدھی اور اُلٹی تھی۔ کہانی کے مطالعہ کے لیے آدمی کو بیک وقت مشرق اور مغرب کی طرف رخ کر کے کہانی پڑھنی ہوتی تھی۔ اس تکلیف دہ مرحلے سے گزرتے ہوے پتہ نہیں قاری پر کیا گزری ہوگی۔ لیکن ایک فائدہ مجھے ضرور ہوا کہ وہ کہانی ان جھٹکوں کی وجہ سے پڑھنے والوں کو یاد رہ گئی۔ لیکن اقبال اس لحاظ سے خوش قسمت ہے کہ مغنی نے رحم کھا کر اسے بخش دیا ورنہ مغنی کا بس چلے تو سرِ ورق پر صرف کتاب کا نام لکھ کر سارے صفحات یوں ہی خالی چھوڑ دیں۔

 اقبال پر بہت کچھ لکھنے کے بعد بھی مجھے احساس بھی ہو رہا ہے کہ میں نے اقبال کی شخصیت کا بھر پور جائزہ نہیں لیا ہے۔ مثلاً اس کا حافظہ بے حد کمزور ہے۔ وہ کہیں اور کسی وقت بھی اپنی چیز بھول سکتا ہے۔ وہ سگریٹ کم پیتا ہے لیکن اپنا سگریٹ کا پیکٹ بھول کر دوسروں کی ماچس کی ڈبیہ بڑے اطمینان سے جیب میں رکھ لیتا ہے۔ ایک دفعہ تو ایسا ہوا کہ اس نے وقفے وقفے سے سگریٹ سلگاتے ہوے ماچس کی تین ڈبیاں اپنے جیب میں رکھ لیں۔ اور خود خالی سیگریٹ منھ میں دبائے ماچس کے لیے تڑپتا رہا۔ اور اس کے تمام ساتھی اس کا مُنھ تکتے رہ گئے۔

 ہندی کے مشہور کوی نرمل جی سے اس کی گاڑھی چھنتی ہے۔ نرمل جی کا خیال ہے کہ جدید شاعروں میں اقبال سے اچھا کوئی شاعر حیدرآباد میں ڈھونڈنے پر بھی نہ ملے۔ یہ نرمل جی کی ذاتی رائے ہے۔ اقبال اگر چاہیں تو اس راۓ کو رد بھی کرسکتے ہیں۔

 اقبال کے کئی نام ہیں۔ اُسے کوئی اس کے اصلی نام مغنی کہہ کر پکارتا ہے۔ کوئی مصحف کہتا ہے۔ کوئی توصیفی۔ فائزہ کے خیر مقدمی جلسے کے بعد ان ناموں میں ایک اور نام کا بھی اضافہ ہو جائے تو کوئی بعید نہیں۔ لیکن وہ اس نام کو بھی بھول جائے گا۔ کیونکہ

ع یہ بھی ہم بھول گئے نام ہمارا کیا تھا

کی نازک منزل پر وہ کب کا پہنچ چکا ہے۔

نہ اتنی تیز چلے، سرپھری ہوا سے کہو

شجر پہ ایک ہی پتّا دکھائی دیتا ہے

آ کے پتھر تو مرے صحن میں دوچار گرے

جتنے اس پیڑ کے پھل تھے پسِ دیوار گرے

 ایسے عجیب و غریب شعر کہنے والا شکیب جلالی بھی بدایوں ہی کا ایک سپوت تھا سچ کی مٹی سے مصحف اقبال کا خمیر اٹھا ہے۔ میرا خیال ہے فائزہ اقبال کو بہت آگے لے جائے گا۔ اتنا آگے کہ وہ خود تھک ہار کر پیچھے رہ جاۓ گا۔

 لیکن کیا عجب ہے کہ ایک دن وہ دامن جھٹک کر ننھے بِلّو کا ہاتھ تھامے کسی موڑ پر ہمیں اچانک مل جائے۔

***

 

حبیب حیدر آبادی

 کسی کتاب کی رونمائی اور شادی کی رسم میں تمیز کرنا ان دنوں قدرے مشکل سا ہو گیا ہے۔ فرق صرف براتیوں اور مہمانوں کے تناسب کا ہے۔ یوں بھی کتاب کی رونمائی کا مقصد یہی ہوتا ہے کہ ہم صاحب کتاب کی خدمت میں ہدیہ عقیدت پیش کریں۔ جاتے جاتے گلے لگا کر انہیں مبارک باد دیں۔ پھر چائے پیئیں اور رخصت ہو جائیں۔

 میرے نزدیک صاحبِ اولاد ہونے سے بہتر یہی ہے کہ آدمی کم از کم صاحبِ کتاب ہی کہلائے۔ بشرطیکہ وہ واقعی کتاب ہو۔ لیکن گھاٹے کا احتمال دونوں صورتوں میں برابر ہی کا ہے۔ یہ اور بات ہے کہ صاحبِ کتاب کہلانے میں قباحت یہی ہے کہ مصنف کو ہر لمحہ میدان حشر سے گزرنا پڑتا ہے۔ کبھی کبھی تو ایسا بھی ہوتا ہے کہ صرف کتاب باقی رہ جاتی ہے اور صاحب کتاب کو چراغ لے کر ڈھونڈنے کی نوبت آ جاتی ہے۔

 کتا ب کے ٹائیٹل پر ہماری سب سے پہلی ملاقات حبیب صاحب سے ہی ہوتی ہے۔ بعد میں ہمیں کچھ دوسرے چہرے دیکھنے کو ملتے ہیں جن میں بیشتر چہروں کا تعلق ان کے خاندان ہی سے ہے۔ یہ اور بات ہے کہ یہ چہرے مجھے بے حد عزیز ہیں۔ لیکن ایسی بھی کیا بے بسی کہ آدمی اپنی پہلی ہی کتاب میں اپنے سارے خاندان والوں کو یوں اکٹھا کر لے۔ لیکن ان تمام باتوں کے باوجود اُردو میں یہ اپنی نوعیت کی پہلی کتاب ہے۔ یہ میرا نہیں مصنف کا خیال ہے۔

 اگر اتفاقاً اُردو میں یہ اپنی نوعیت کی دوسری کتاب نکل آئے تو اس کی ذمہ داری مجھ پر نہیں مصنف پر ہوگی۔ لیکن حبیب صاحب کی شگفتہ مزاجی اور ذہانت کو دیکھتے ہوئے یہ قیاس کیا جاسکتا ہے کہ کتاب ان کے خیال کے عین مطابق ہی ہوگی۔ کچھ اس قسم کی خوش فہمی کتاب کے نام اور اس کے عنوان سے بھی پیدا ہو جاتی ہے۔ یوں بھی میں نے یہ کتاب کچھ اِدھر اُدھر ہی سے دیکھی ہے۔ اس لیے حتمی رائے دینے میں معذوری بھی ہے اور لاچاری بھی۔ مگر جو کچھ بھی میں نے پڑھا ہے۔ اس کی ہر سطر میں شگفتہ مزاجی کے ساتھ مزاح کی زیریں لہریں بھی ہیں جو اس کا سب سے بڑا حسن ہے۔ اور وصف بھی۔

 حبیب صاحب ایک تخلیقی فن کا رہیں۔ قیاس تو یہی کہتا ہے کہ وہ اس ایک کتاب ہی پر اکتفا نہ کریں گے۔ کیوں کہ آدمی کو بگڑتے دیر نہیں لگتی۔ اور جب آدمی اپنی ہی تباہی پر تُل جائے تو اس کا نتیجہ کتاب کی رونمائی کی صور ت میں ظاہر ہوہی جاتا ہے۔

 حبیب صاحب نے کتاب کی قیمت بھی اپنی تر و تازہ صحت کے حساب سے رکھی ہے۔ قیمت کی جگہ ایک لکیر کھینچ کر کاتب صاحب نے ڈرانے دھمکانے کے لیے روپوں کے علاوہ پونڈ، ڈالر، پینیس کا بھی ذکر کیا ہے۔ جب صورتِ حال یہ ہو تو کوئی غیبی طاقت ہی حبیب صاحب کے اخراجات کی پا بجائی کروا سکتی ہے۔ یوں بھی ہمارے مذہب میں مایوسی کفر ہے اور حبیب صاحب کی ذات میں مذہب کا elementکچھ زیادہ ہی ہے۔ یقین ہے وہ اپنی ساری کتابوں کو فروخت کروا کر ہی دم لیں گے۔

 ویسے مصنف بن کر آدمی خواہ مخواہ بی پی کا مریض تو بن ہی جاتا ہے۔ خواہ وہ حیدرآباد کا مصنف ہو یا انگلستان کا۔ کبھی کبھی دواؤں سے زیادہ دعائیں ہی مریض کی صحت یابی کی ضامن بن جاتی ہیں۔ یوں بھی آدمی کے ہاتھ مجبوری کے عالم ہی میں بے اختیار دعا کے لیے اُٹھ جاتے ہیں۔ کتاب چھپنے کے بعد حبیب صاحب کو اس طرح دعا مانگتے میں نے بھی دیکھا ہے۔ وہ بار بار یہی کہہ رہے تھے۔ معبود تو کسی اور کی لاج رکھ یا نہ رکھ۔ مگر انگلستان میں رہنے والے ایک جلاوطن ’’justice of peace‘‘ کی لاج ضرور رکھ لے۔

 ویسے تجھے علم ہے کہ میں نے بذریعہ Ship دنیا کے کونے کونے میں اپنی کتابیں پھیلا دی ہیں۔ معبود تو میری لاج رکھ لے۔ مجھے دوسروں کی عزت سے کوئی سروکار نہیں ہے۔

 حبیب صاحب کی شخصیت کئی خانوں میں بٹی ہوئی ہے۔ وہ اپنے بچوں کے لیے ایک شفیق باپ ہیں۔ اپنی نصف بہتر صدیقہ شبنم کے لیے ایک تابعدار شوہر ہیں۔ ادیب بھی ہیں اور شاعر بھی۔ برٹش کی کئی بڑی کمپنیوں کے ڈائرکٹر بھی ہیں اور مجسٹریٹ بھی۔ یاروں کے یار ہیں اور دشمنوں کے لیے اُپی ہوئی تلوار بھی۔ بیک وقت ہنستے بھی ہیں اور ساتھ ساتھ زار و قطار روتے بھی جاتے ہیں۔ مرشد بھی ہیں اور مرید بھی۔ بہر حال ان کے مزاج کا کوئی ٹھکانہ نہیں۔ کب وہ کیا کر گزریں گے۔ یہ کوئی نہیں بتاسکتا۔

 جب یہ ڈھیر ساری خوبیاں اور خامیاں بہ یک وقت ایک آدمی کی شخصیت میں اکٹھا ہو جائیں تو شخصیت کا مطالعہ ایک خام خاکہ نگار کے لیے ایک کڑا امتحان بن جاتا ہے۔ اس کارگہِ شیشہ گراں سے ممکن ہے صدیقہ شبنم صحیح و سالم گزر جائیں جو اُن کی رفیقہ حیات بھی ہے اور ایک مثالی دوست بھی۔ میرا معاملہ دیگر ہے۔ اگر میں حبیب صاحب کی ملاقاتوں اور دوستی کا حساب لگاؤں اور اسے اپنا ایک سرمایہ اور اثاثہ سمجھوں تو وہ بڑا محدود ہے۔ محدود ان معنیٰ میں کہ وہ لندن میں رہتے ہیں اور میں حیدرآباد میں۔ لیکن جب دوستی اور خلوص کے سرمایہ کی ٹھہری تو مجھے حبیب صاحب کی دوستی اور فراقت کا قد اس نیم کے پیڑ کی طرح لگتا ہے جس کی ٹھنڈی اور نرم چھاؤں میں کسی بھی لمحے سستانے کو جی چاہتا ہے۔

 شگفتہ مزاجی اور مزاح کی وہ ساری خوبیاں جو زندہ قوموں کی ذات سے منسوب کی جاتی ہیں وہ چور دروازے سے حبیب صاحب کی شخصیت میں در آئی ہیں۔ اگر آپ کبھی اتفاقاً لندن جائیں اور احباب کی محفل کو زعفران زار بنی دیکھیں تو سمجھ جائیے کہ وہاں حبیب صاحب ضرور موجود ہیں۔ اگر کوئی خاتون عدالت کے کٹہرے میں کھڑی ہو کر اپنے شہر سے طلاق کی طلب گار ہو رہی ہو تو وہاں بھی آپ کو حبیب صاحب ہی ملیں گے۔

 کیونکہ وہ ’’justice of peace‘‘ بھی ہیں۔ بنے بنائے ہوئے کاموں کو بگاڑنا اور بگڑے کاموں کو بنانا حبیب صاحب کا محبوب مشغلہ ہے۔

 اس میدان میں وہ آپ اپنے حریف ہیں وہ قبرستان میں بھی ہنسنے اور رونے سے باز نہیں آتے۔ ہندوستان کا کوئی ایسا مزار نہیں ہے جہاں جا کر انھوں نے زیارت نہ کی ہو۔ فرق صرف اتنا ہے کہ وہ مزار کی صورت شکل دیکھ کر ہی پھول چڑھاتے ہیں۔ کسی مزار پر ڈھیر سارے گلاب بکھیر دئیے۔ کسی قبر پر ادھوری فاتحہ پڑھ دی۔ یہی نہیں جاتے جاتے قبرستان کے چوکیدار کو وہ یہ ضرور کہیں گے کہ میاں میرے باہر جانے تک ان گلاب کو ہاتھ نہ لگانا۔ بے چارے نے زندگی بھر سہرے کے پھول نہیں دیکھے تھے۔

 وہ جب کبھی حیدرآباد آتے ہیں تو میرے لیے ان کا سب سے پہلا سوال یہی ہوتا ہے کہ عوض تمہاری صحت بہت گر گئی ہے۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ فاطمہ تمہیں بہت ستا رہی ہے۔ اور جب میرے غیاب میں فاطمہ سے مڈ بھیڑ ہو جائے تو ان کا تخاطب کچھ اس طرح ہو جاتا ہے۔ ’’ فاطمہ تمہارا مغموم چہرہ صاف چغلی کھا رہا ہے کہ یہ عوض سعید تمہیں بہت تنگ کر رہا ہے‘‘۔ غرض وہ اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھیں گے جب تک کہ میاں اور بیوی میں تو تو میں میں نہ ہو جائے۔

 دوسری طرف حبیب کی محبت کی یہ عالم ہے کہ اپنے ہر عزیزدوست کو وہ چوٹی کا لکھنے والا سمجھتے ہیں خواہ وہ تحت الثریٰ ہی میں کیوں نہ چھپا بیٹھا ہو۔ ایک دن تو از راہ عنایت انھوں نے حیدرآباد کے کوئی سودوسو لکھنے والوں کے ساتھ مجھے بھی چوٹی پر چڑھا دیا۔ اور مقاماتِ آہ و فغاں اور بھی ہیں کہہ کر آگے نکل گئے۔

 ہمارے احباب میں بعض ایسے بھی پر مذاق لوگ ہیں جن کی باتوں اور لطیفوں پر اس وقت تک ہنسی نہیں آتی جب تک کہ انھوں نے ہنسی کے مقام کی نشان دہی نہ کی ہو۔ خود ہماری ہی مثال لے لیجئے۔ لیکن حبیب صاحب کا معاملہ اس کے بالکل برعکس ہے۔ جب وہ جملے بازی کے دوش بہ دوش لطیفے بازی پر اُتر آتے ہیں تو سامع کے ساتھ ساتھ لطیفہ کا انگ انگ بھی ہنسنے لگتا ہے۔

 میں یہ یہاں کہہ کر ان کے رتبے اور مرتبے کو کم کرنا نہیں چاہتا کہ وہ محض ایک لطیفہ باز آدمی ہیں۔ وہ شاعر بھی ہیں اور ادیب بھی۔ انگلینڈ کے سارے ادبی ماحول کو سنوارنے اور بگاڑنے میں ان کا زبردست ہاتھ رہا ہے۔ کتنے ایسے انگریز تھے جنھوں نے حبیب صاحب سے اُردو سیکھی اور اپنی مادری زبان بھول بیٹھے۔ اُردو کی اس سے بڑی اور کیا خدمت ہو سکتی ہے۔

 چار مینار کے اطراف و اکناف میں نے بعض ایسے انگریز سیاح بھی دیکھے جو حبیب صاحب کو یاد کر کے ہابیل ہابیل کہہ رہے تھے اور زار و قطار روتے بھی جا رہے تھے۔ مجھے یہ دیکھ کر حیرت سی ہوئی کہ انگریز روتے بھی ہیں۔ دروغ بر گردن راوی آج کل وہ انگریزوں کو عربی زبان بھی سیکھا رہے ہیں۔

 حبیب صاحب نے اپنی کتاب میں ایک جگہ لکھا ہے کہ لندن میں وہ رات کو ٹرین میں سفر کر رہے تھے کہ ایک انگریز غنڈے نے اچانک ان پر حملہ کر دیا۔ وہ چاہتا تھا کہ چلتی ٹرین سے انھیں باہر پھینک دے تاکہ ان کا قصہ تمام ہو جائے۔ آگے چل کر انھوں نے یہ بھی لکھا کہ ان کی مدافعت سے وہ انگریز لہولہان ہو چکا تھا اور جب آدمی کے defenseکا یہ عالم ہو تو ایک نہیں کئی انگریز حبیب صاحب جیسے لوگوں کے طفیل اللہ کو پیارے ہو سکتے ہیں ویسے حبیب صاحب کا فنِ سپہ گری مکہ بازی اور کراٹے سے دور کا بھی تعلق نہیں ہے۔ یہ اور بات ہے کہ وہ اپنی مدافعت میں حملہ آور کی شکل کو کچھ اتنی بگاڑ دیتے ہیں کہ ایک لمحہ کے لیے وہ عالمِ بے بسی میں انگریز کی بجائے خود کو ایک رنگ دار سمجھنے لگتا ہے۔ اگر ہر رنگ دار حبیب صاحب کے نقشِ قدم پر چلنے لگے تو وہ دن دُور نہیں کہ انگریزوں کو اپنا وطن ہی چھوڑنا پڑے۔

 ٥٥ء میں جب وہ حیدرآباد آئے تھے تو ان کے ساتھ صدیقہ بھی تھیں اور ان کی گڑیا جیسی خوب صورت بچی سلمیٰ بھی۔ سلمیٰ کی سالگرہ کی دعوت میں چند قریبی عزیز ہی شامل تھے۔ میں فاطمہ مغنی اور دو ایک اور شتہ دار۔

 میں نے جب مغنی سے تحفے کی بات کی تو مغنی نے کہا کہ آج تعطیل کے سبب شہر کی ساری دکانیں بند ہیں آپ ہم مل کر پیسے ہی رکھ دیں گے۔

 ان کے گھر پہنچنے کے بعد ہم دونوں نے ان کے ہاتھ میں اپنے اپنے لفافے تھما دیئے۔ یہاں بھی وہ اپنی چھیڑ چھاڑ سے باز نہ آئے۔ ’’صدیقہ یہ مغنی اور عوض کو دیکھو ان دونوں نے اپنے آگے پیچھے کا خیال کیے بغیر اپنی ساری پونجی ان لفافوں میں رکھ دی ہے۔ اب یہ بے چارے مہینہ بھر کیا کھا کر جئیں گے۔ اب بھی وقت ہے اپنے اپنے لفافے واپس لے لو۔ میں اس واقعہ کا کہیں بھی ذکر نہ کروں گا۔ ‘‘

 ہنسنے اور رونے پر حبیب صاحب کو ذرا بھی اختیار نہیں ہے۔ وہ کہاں اور کس موڑ پر بے ساختہ ہنس دیں۔ اس کی کوئی گیر نٹی نہیں دے سکتا۔ ان کی اس ہنسی نے کتنے بنتے ہوئے کام بگاڑے اس کی فہرست بڑی طویل ہے۔ صرف دو ایک واقعات ہی سُن لیجئے۔

 حبیب صاحب کی ایک خالہ زاد بہن کی شادی تقریباً طئے پاچکی تھی۔ دولہے کی والدہ محترمہ دیگر امور طئے کرنے کے لیئے جب ان کے گھر آئیں تو چائے نوشی کے درمیان حبیب صاحب نے ان محترمہ کے چہرے کا بغائر جائزہ لیا۔ ان کے چہرہ مبارک کو دیکھ کر حبیب صاحب کے مُنہ سے بے ساختہ ہنسی نکل گئی۔ مہمانوں نے تھوڑی دیر ضبط کا مظاہرہ کیا۔ پھر وہ خود بھی ان کی ہنسی میں شامل ہو گئے۔ اس طرح بنا بنایا ہوا پیام اچانک ٹوٹ گیا۔

 اسی طرح ایک مشاعرے کی صدارت کے لیے وہ حلف یار جنگ کے پاس گئے۔ اس خیال کے ماتحت کہ صدارت کے ساتھ ساتھ کچھ فنڈ بھی ان سے حاصل کر لیں۔ حلف یار جنگ کچھ ہکلاتے بھی تھے۔ خاص طور پر ’’ر‘‘ کو کھینچ کر ادا کرتے تھے۔ انھوں نے مشاعرے کی صدارت کی رے کو کچھ اس طرح کھینچا کہ حبیب صاحب نے حسبِ عادت ہنسنا شروع کر دیا۔ اس کے بعد کیا ہوا اس کے یہاں لکھنے اور کہنے کی ضرورت نہیں ہے۔

 حبیب صاحب اس شخص کو آدمی نہیں سمجھتے جس کی ذات میں حس ظرافت نام کو نہ ہو۔ انہوں نے اس سلسلہ میں حال ہی میں ایک سروے بھی کیا ہے۔ جسے طبع کرواتے ہوے وہ جھجک رہے ہیں کہ مبادا کہیں اپنے عزیزوں اور دوستوں سے تعلقات نہ بگڑ جائیں۔ یوں بھی حبیب صاحب تعلقات کو بڑی اہمیت دیتے ہیں۔ ایک دفعہ کسی کے ہو گئے سو ہو گئے۔ خواہ وہ آدمی ان کی دھجیاں ہی بکھیر کر کیوں نہ رکھ دے۔

 فانی کی ازسر نو دریافت مغنی تبسم کا ایک ادبی کارنامہ ہے۔ لیکن حبیب صاحب کے کارنامے کی نوعیت کچھ جُدا ہے۔ وہ گاہے گاہے فانی سے ملتے بھی رہے ہیں۔ کسی وقت ان کے ہاں وہ یاد گار تصویر بھی تھی جس میں گنڈی پیٹ کی سیر کے دوران فانی کے ساتھ حبیب صاحب کو بھی سینہ تانے دیکھا جا سکتا تھا۔ سُنا ہے کہ وہ یادگار تصویر انھوں نے ایک ایسے تہہ خانے میں چھپا دی ہے کہ جہاں وہ مغنی کی نظر سے محفوظ رہ سکے۔ بظاہر یہ ایک تحقیق کا مسئلہ ہے کہ فانی نے گنڈی پیٹ کی بھی سیرکی ہے۔

 حبیب صاحب ہمیشہ لیفٹ کو مُڑنے کے بعد رائٹ کو مڑ کر  پھر لیفٹ کی تلاش کرتے ہیں ان کی اس چالاکی نے انھیں بڑے دکھ دیئے ہیں۔ اس عمل کے دوران وہ جانے پہچانے راستے بھی بھول جاتے ہیں۔ اس طرح وہ راستہ بھٹک جاتے ہیں یوں بھی راستہ بھٹکنا دانش مندی کی علامت ہے۔ اس دانش مندی کے بل بوتے پر وہ غلطی سے کئی ایسے گھروں میں جاگھسے جہاں کے در و دیوار سے چیخ و پکار کی آوازیں بہ آسانی سنی جاسکتی تھیں۔

 اگر کبھی آپ نے حبیب صاحب کو گھر پر دعوت دی ہو اور وہ وقت پر نہ پہنچ سکے ہوں تو احتیاطاً فوری اپنے پڑوس میں بھی انھیں تلاش کر لیجئے۔ اس وقت کا انتظار مت کیجئے۔ جب ڈگمگاتے قدموں کے ساتھ کوئی پڑوسی آ کر یہ کہے۔ ’’لیجئے یہ پھر ہمارے گھر آ گئے‘‘۔

 جب ہنسی اچانک قہقہہ کا درجہ اختیار کر جاتی ہے تو ان کے نرخرے سے ایک عجیب سی آواز نکلتی ہے جس کا سرتال سے کوئی علاقہ نہیں ہوتا۔ ایسے وقت ہنسی اور اپنے قہقہوں کو تھامنا ان کے لیے مشکل ہو جاتا ہے۔ لطیفے خوشگوار ہوتے ہیں یا ان کی دل چسپ باتیں ان میں حد فاصل قائم کرنا مشکل بھی ہے اور دشوار بھی۔

 دوسری طرف ان کے رونے کا یہ عالم ہے کہ کیا کوئی صوفی روئے گا۔ بس وہ لمحہ ان کی گرفت میں آ جائے۔ ایک قوالی کی محفل میں تو انھوں نے ہوالحق کا ایسا نعرہ بلند کیا کہ قوال ہارمونیم چھوڑ کر بھاگ گھڑا ہوا۔

 حبیب صاحب کو کبھی اپنے گھر پر قوالیاں کروانے کا بھی شوق رہا ہے جو شاید اب تک بھی باقی ہو۔

 آپ کو یہ جان کر شاید حیرت ہو کہ حبیب صاحب نے آنجہانی مہاراجہ کشن پر شاد کی شعری محفلوں میں بھی شرکت کی ہے۔ انہیں کلام سناتے ہوے بھی دیکھا ہے۔ جب یہ باتیں حبیب صاحب مجھے سُنا رہے تھے تو میں فرطِ حیرت میں ڈوبا ہوا تھا۔

 ’’اس وقت آپ کی کیا عمر رہی ہوگی۔ ‘‘ میرے اس سوال پر حبیب صاحب نے کہا۔ ‘‘

 ’’یہی کوئی پانچ برس۔ ‘‘

 یہ بھی عجیب اتفاق ہے کہ ہر وہ پرانی محفل جس میں حبیب صاحب نے بطور معزز مہمان کی شرکت کی تھی۔ اس وقت بھی ان کی عمر پانچ ہی برس کی تھی۔

 اس طرح پانچ برس کی عمر میں انھوں نے وہ ساری ادبی محفلیں دیکھ لیں جو اب تاریخ کا ایک سنہری باب بن چکی ہیں۔ لیکن ان کی شاداب اور تر و تازہ صحت کو دیکھتے ہوے یہ اندازہ ہی نہیں ہوتا کہ کبھی حبیب صاحب خواجہ حسن نظامی کی صحبتوں میں بھی رہے ہوں۔ ن۔ م۔ راشد کے ساتھ انھوں نے کچھ دن گزارے ہی تھے کہ وہ اللہ کو پیارے ہو گئے۔ فیض نے جب یہ صورت حال دیکھی تو انگلینڈ سے بھاگ کھڑے ہوئے۔ ایک سخت جان ساقی فاروقی ہی ہے جو آج بھی حبیب صاحب سے نمٹ رہا ہے۔

 حبیب صاحب ادیب اور شاعر ہونے کے ساتھ ساتھ حاجی بھی ہیں وہ کس حد تک حاجی ہیں۔ لگے ہاتھوں اس کا ایک دل چسپ واقعہ بھی سُن لیجئے۔

 ادائی حج کے ارکان کی ترتیب میں اگر فرق ہو جائے تو ایک بکرے کی قربانی لازمی ہو جاتی ہے۔ مزدلفہ سے منٰی واپس آ کر شیطان کو کنکریاں مارنے کے بعد ہی اپنے بال کٹوانے ہوتے ہیں۔ لیکن حبیب صاحب نے غلطی یہ کی کہ شیطان کو کنکریاں مارنے سے پہلے ہی اپنے بال ترشوا لیے۔ اس طرح حج کے ارکان کی ترتیب ہی بدل کر رکھ دی۔ ان دنوں حبیب صاحب اپنے برادرنسبتی کے ساتھ جدہ میں ٹھہرے ہوئے تھے۔ جن کی حیثیت ایک گواہ کی سی تھی۔ ایک دن وہ حبیب صاحب کو لئے ایک مولانا کے پاس گئے اور ساری تفصیل سناڈالی۔

 مولانا نے تفصیل سننے کے بعد تنبیہاً کہا۔ اس غلطی کا کفارہ یہی ہے کہ آپ کے بہنوئی پر ایک بکرے کی قربانی اب لازمی ہو گئی ہے۔ ورنہ ہمیشہ کے لیے ان پر بیوی حرام ہو جائیگی۔

 جب مولانا نے اپنی بات ختم کی تو حبیب صاحب نے اپنے لاڈلے سالے صاحب کی طرف دیکھ کر کہا۔ ’’یہاں تک تو تم مجھے لے آئے۔ اب اگر اپنی بہن کی زندگی چاہتے ہو تو فوری ایک بکرے کی قیمت ادا کر دو۔ ‘‘

 گھبراہٹ کے عالم میں ان کے برادرنسبتی نے جھٹ ان کے حکم کی تعمیل کر دی بہن کسے عزیز نہیں ہوتی۔

 پچھلے دنوں کسی اہم کام کے سلسلے میں ساوتھ کے ایک بہت بڑے سالیسیٹر (solicitor) کے گھر پہلی بار حبیب صاحب کو جانے کا اتفاق ہوا۔ لائیر (Lawyer) کی بیوی نے جب شربت سے ان کی تواضع کی تو شربت کا گلاس تھامتے ہوے حبیب صاحب نے اس سے پوچھا:

’’Are you happy with your husband?‘‘

 یہ کہہ کر وہ اپنی عادت کے مطابق ہنسنے لگے اور ان کے ساتھ ساتھ وہ محترمہ بھی ہنسنے لگیں۔ محترمہ کی کھسیانی ہنسی سے فائدہ اٹھا کر حبیب صاحب نے بے ساختہ کہا:

 “I am the justice of peace in England if

you need my services I can help you.”

 حبیب صاحب کو ہر دم یہی گمان رہتا ہے کہ دنیا کا ہر شوہر اپنی بیوی کوستا رہا ہوگا اور دنیا کی ہر بیوی اپنے شوہر سے عاجز آ چکی ہوگی۔ بہر حال یہ ایک نفسیاتی نکتہ ہے۔ کبھی کبھی وہ مذاق ہی مذاق میں کچھ اتنے پھکڑ ہو جاتے ہیں کہ ان کی پہچان مشکل ہو جاتی ہے ایک دن مجھ سے ملے تو بے اختیار ہو کر کہا۔

 ’’تمہارے خاندان کے سب لوگ مر جائیں مگر تم زندہ رہے یہی بس ہے۔ ‘‘

 آئیے اس زندہ دل جلاوطن کا خیرمقدم کریں۔ جو پتہ نہیں اپنے سینے میں کتنی اُداسیوں کو چھپائے ہوۓ ہے۔

***

 

انور رشید

 ڈاکٹر اریک برن ” Eric Berne” نے اپنی خوب صورت کتاب “The mind in action” میں Neurosisکے بارے میں ایک جگہ لکھا ہے۔ ’’وہ آدمی جو ہمیشہ اپنی صحت اور اپنے مخالفین سے بدلہ لینے کے بارے مین سوچتا رہتا ہے۔ وہ ہمیشہ Neurosis کا شکار رہتا ہے۔ اسے یہ خواہ مخواہ وہم یا یقین ہو جاتا ہے کہ لوگ اس کے مخالف ہیں۔ کچھ یہی حال انور رشید کا ہے۔ ویسے کسی کا “Neurotic” ہونا کوئی ایسا عارضہ نہیں ہے۔ لیکن جب بات عارضہ ہی کی نکل آئی ہے تو یوں سمجھ لیجئے کہ وہ کئی نت نئے نفسیاتی عارضوں کا شکار ہے۔ شائد سب سے بڑا عارضہ اس کا اپنا ادیب ہونا ہے۔

 عمر کے تفاوت کے باوجود انور رشید سے میری جان پہچان بہت پرانی ہے۔ یہ اس کی اعلیٰ ظرفی ہے کہ مجھے وہ اپنے دوستوں کی فہرست میں ہمیشہ شامل رکھتا ہے۔ ویسے سچی بات تو یہ ہے کہ میں اس کا کوئی قریبی یار نہیں ہوں جس کے ساتھ شب و روز کا حساب جڑا ہو۔ تاہم ایسا بھی نہیں ہے کہ وہ میرے لیے یک سراجنبی ہو۔

 مجھے یہ اعتراف کرنے دیجئے کہ انور رشید کی شخصیت کے بارے میں میں کچھ زیادہ نہیں جانتا۔ اس لیے اس کی شخصیت کے تار و پود کی عکاسی میرے لیے مشکل ہے لیکن اس کی خواہش ہے کہ میں اس پر کچھ لکھوں۔ اپنی ہر خواہش کے اظہار کے لیے آدمی یوں بھی آزاد ہوتا ہے۔ لیکن یہاں مسئلہ اس کی خواہش کی تکمیل کا ہے۔ جس کے لیے پتہ نہیں یہ احساس مجھے کیوں ہو رہا ہے کہ اس کام کے لیے میں سرے سے نا اہل ہوں۔

 وہ لوگ جو اپنی شخصیت کو منوانے کے لیے ہمہ وقت مار کٹائی پر اتر آتے ہیں۔ ان لوگوں پر مجھے بڑاترس آتا ہے۔ انور رشید کا تعلق اسی قبیلہ سے ہے۔ یہ تو رہا باہر کا انور رشید۔ اندر کا انور رشید کچھ اور ہے۔ سیدھا سادہ، مخلص اور یار باش۔

 اس کی شخصیت کے اُن رنگوں کو پہچاننا مشکل ہے جو دور سے تو ہلکے پھلکے مدھم اور سُبک لگتے ہیں۔ لیکن قریب آنے پر یہ رنگ اچانک گہرے اور پیچیدہ ہو جاتے ہیں۔

 مجھے اس بات سے سروکار نہیں ہے کہ وہ کس سطح کا افسانہ نگار ہے اس کے حدود اربعہ کیا ہیں۔ میرے لیے یہی غنیمت ہے کہ وہ میرے ملنے جلنے والوں میں ایک الگ ڈھنگ کا آدمی ہے۔ ایک عجیب و غریب آدمی۔

 وہ آدمی جو اپنے اعمال ناموں کا حساب بظاہر تو خود چکاتا ہو لیکن دانستہ یا غیر دانستہ انداز میں دوسروں کو بھی اپنے ساتھ شامل کر لیتا ہو اس کی شخصیت کے چومکھے سائے کے ساتھ دور تک چلنا ممکن ہے۔ عزیز آرٹسٹ کے لیے آسان ہو لیکن میرے لیے مشکل ہے۔

 انور رشید سے مل کر ہمیشہ یہی احساس ہوتا ہے جیسے کوئی مضطرب اور بے چین روح کسی کا پیچھا کر رہی ہو۔

 نوواردانِ بساطِ ادب کے جم غفیر میں شروع شروع اسے پہچاننے میں ایک دیوار سی حائل رہی۔ لیکن جب اس نے ’’مسلخ میں بھیڑوں کا ماتم‘‘ جیسی کہانی لکھ دی تو وہ کئی لوگوں کا منظورِ نظر بن گیا۔ لیکن نقادوں کے بہی کھاتے میں دور دور تک اس کا نام نہ تھا۔ نتیجتاً وہ نقادوں کا ازلی دشمن بن کر رہ گیا۔ کسی دل جلے نے ایک دن کہا۔

 انور رشید کم علمی کو اپنا زیور لا علمی اور جہالت کو اپنا ہتھیار سمجھتا ہے۔ شاید اسی لیئے پڑھے لکھے لوگ اسے ایک آنکھ نہیں بھاتے۔ لیکن اس کی بیشتر کہانیاں پڑھنے کے بعد یہ احساس ضرور ہوتا ہے کہ وہ دماغ کے نچلے دریچوں کو کھولنے کے فن سے پوری طرح آشنا ہے۔

 اس کے کہانی سُنانے کا انداز بھی بڑا نرالا ہے۔ جیسے کوئی بہت بڑا خطیب اکتائے ہوے۔ مجمع پر مسلسل تیربرسا     رہا ہو۔

 معمار ادب کے ایک جلسے میں جب اس نے اپنی ایک کہانی سنائی تو صدرِ جلسہ نریندر لوتھر صاحب نے شاذ سے خواہش کی کہ وہ کہانی پر کچھ کہیں۔ شاذ نے چپ سادھ لی۔ دو ایک نقادوں نے بھی جب گریز سے کام لیا تو اس کے غصّے کا پارہ اچانک چڑھ گیا۔

 ’’انور رشید کو بے ساکھیوں کی ضرورت نہیں ہے۔ ‘‘

 جب وہ یہ کہہ کر ڈائس سے نیچے اُتر رہا تھا تو میں نے دیکھا اس کے پاوں بُری طرح لڑکھڑا رہے تھے۔

 مجھے بے ساکھیوں کی ضرورت نہیں ہے کہنے والے اس خود سر افسانہ نگار کو جب میں نے اپنے ہی مجموعہ کی رونمائی کے سلسلہ میں باقر مہدی کو بمبئی جا کر بلاتے دیکھا تو مجھے کوئی حیرانی نہیں ہوئی۔ مجھے حیرانی اس وقت بھی نہیں ہوئی تھی جب انور رشید نے سر راہ مجھ سے مل کر کہا تھا۔ ’’عوض بھائی پچھلے دنوں میں نے باقر مہدی کی عینک اُتار لی تھی۔ ‘‘

 ’’وجہ۔ ؟‘‘

 ’’کیوں کہ وہ مجھ سے ملنے سے کترا رہا تھا۔ یہ میں اچھا کیا یا برا کیا۔ ‘‘

 میں نے مسکراتے ہوے کہا۔ ’’اچھا ہی کیا‘‘

 وہ میرے طنز کو بھانپ گیا اور موضوع بدل کر دوسری باتیں کرنے لگا۔

 پھر ایک دن کسی نے میرے دروازے پر دستک دی۔ اس کے ساتھ قدرے چھدرے بالوں والا ایک دُبلا پتلا آدمی بھی تھا۔ جس کی موٹی موٹی سرخ آنکھیں چشمہ کے اندر سے جھانک رہی تھیں۔

 ’’ہاں اچھی طرح یاد ہے۔ ‘‘

 ’’پھر بمبئی میں اختر الایمان کے گھر۔ ۔ ۔ مگر یہ مغنی کہاں ہے۔ مجھے آج ہی اس سے ملنا۔ ‘‘

 یہ باقر مہدی تھے۔ جن کے نام ہی سے لوگ بدکتے ہیں۔ لیکن یہ آدمی پتہ نہیں کیوں مجھے پسند ہے۔ ’’زوال کے مقابل‘‘ کی رونمائی کے بعد وہ میرے ساتھ ہو لیا۔ اس کی خواہش تھی کہ مغنی بھی اس کے ساتھ رہیں۔ لیکن مغنی ٹال گئے اور وہ مسلسل کڑھتا رہا۔

 ہمیں کہیں اور نہیں راجہ لعل راجہ کے ہاں جانا تھا۔ ٹیکسی فراٹے بھرتی ہوئی پرانے شہر کی طرف دوڑ رہی تھی۔ ہمارے ساتھ عالم، اختر حسن بھی تھے اور انور رشید بھی۔

 شعر و شاعری کا دور ختم ہوا تو میں نے سرگوشی کے انداز میں باقر مہدی سے ریس کا ذکر چھیڑ دیا۔ ریس کے ذکر کے ساتھ ہی اس کی آنکھوں میں ایک چمک سی ہویدا ہو گئی۔ اس نے مجھے بتایا کہ وہ ریس کا رسیا ہے اور مشہور جاکی این روبن تو اس کا قریبی یار ہے۔

 ادھر محفل جم چکی تھی۔ لوگوں کے ہاتھوں میں چھوٹے بڑے تاریخی قسم کے جام لہرا رہتے تھے۔ اور کیمرہ بدستور چل رہا تھا۔ راجہ کی حویلی کی تاریخی سیڑھیاں کچھ اس طرح تھیں کہ ہر آدمی اپنا پہلا قدم ڈالنے سے پہلے دوسراقدم بے سوچے سمجھے ڈال رہا تھا۔

 محترم میزبان نے باقر مہدی کو نیچے اتارنے کے لیے جس لڑکے کو مقرّر کیا تھا وہ لڑکا دیکھتے ہی دیکھتے بڑی شتابی کے ساتھ نیچے اتر گیا۔ اور باقر مہدی ٹیڑھی میڑھی سیڑھیوں ہی کے آس پاس کہیں رہ گئے۔ لیکن تھوڑی ہی دیر بعد میں نے دیکھا۔ ایک آدمی سیڑھیوں سے اچانک پھسل کر زمین پر آ رہا۔ وہ ہولناک انداز میں چیخ رہا تھا۔

 ’’میں مر رہا ہوں۔ کوئی مجھے فوری دوا خانہ لے چلے۔ ‘‘ ایسا لگتا تھا جیسے وہ تھوڑی ہی دیر بعد تڑپتا ہوا مر جائے گا۔

 انور رشید چیخ رہا تھا۔ آخر بے چارہ کو ہم لوگوں نے مار ہی ڈالا۔

 باقر مہدی کو اس حال میں دیکھ کر میری سٹی گم ہو چکی تھی۔ اختر حسن، عالم حیران تھے کہ یہ سب کچھ کیسے ہو گیا۔ مگر اسے کیا خبر تھی کہ انور رشید کی دوستی اس کے لیے اتنی مہنگی پڑے گی۔

 باقر مہدی اپنی ہڈی پسلی تڑوا کر کسی ناکسی طرح بمبئی پہنچ گئے۔ اور انور رشید حسبِ معمول اپنے دوسرے کاموں میں جٹ گیا۔ پتہ نہیں وہ اس بار پھر کس کو لے ڈوبے گا۔ کیوں کہ اس کا دوسرا مجموعہ ان دنوں پریس کی چکّی میں پس رہا ہے۔

 انور رشید اپنی ذات سے انجمن نہ سہی لیکن اس کے دوستوں اور یاروں کی تعداد کچھ زیادہ ہی ہے۔ ان میں کچھ شاعر و ادیب ہیں۔ کچھ بیوپاری ہیں۔ کچھ آرٹسٹ اور ایک بڑی تعداد ان لوگوں کی ہے جن کا علم و ادب کی دنیا سے دُور کا بھی تعلق نہیں اور ایسے ہی لوگوں کی صحبت میں وہ اپنے آپ کو زیادہ مطمئن پاتا ہے۔ اور یہ کوئی حیران کن بات بھی نہیں ہے۔ مگر مسئلہ اُس وقت ٹیڑھا ہو جاتا ہے جب وہ کسی نرے جاہل، نیم پاگل آدمی کو لیے کسی بھی دوست کے گھر آ دھمکتا ہے۔ خود بور ہویا نہ ہو دوسروں کو بور ضرور کرتا ہے۔

 انور رشید ایک مخلص آدمی بھی ہے اور ایک زبردست کرتب باز بھی۔ برسوں برانی بات ہے۔ آر۔ ٹی۔ سی والوں کی جانب سے ایک سالانہ تقریب تھی۔ ادبی تقریب اور تہذیبی پروگرام کا ایک اہم حصہ ’’شبِ افسانہ‘‘ بھی تھا۔ جہاں میرے علاوہ اقبال متین اور اور انور رشید کو بھی اپنی کہانیاں سُنانی تھیں۔ شاعروں اور افسانہ نگاروں کے لیے آر ٹی سی والوں نے فری بس کا انتظام بھی کر رکھا تھا۔ تاکہ وہ پیدل چل کر آنے کی زحمت سے بچ سکیں۔ اقبال متین بس ہی کے ذریعہ مہدی پٹنم جانے پر تلے ہوے تھے۔ لیکن میں نے اسکوٹر کو ترجیح دی۔

 جب ہم جلسہ گاہ پہنچے وہیں انور رشید سے ہماری ملاقات ہو گئی۔ ہزاروں کا مجمع تھا۔ اور زینت ساجدہ صدارت کر رہی تھیں۔ زینت نے سب سے عمدہ تعارف اقبال متین ہی کا کروایا۔ آج جس جگہ میں بیٹھی ہوں۔ وہاں اقبال متین کو بیٹھنا چاہیے تھا۔ اور حیدرآباد کو یہ فخر حاصل ہے کہ یہاں اقبال متین موجود ہے۔ ‘‘ مگر ان توصیفی جملوں کا اُلٹا ہی اثر ہوا۔ وہ اپنی طویل اور اُکتا دینے والی کہانی کے سبب جلد ہی ہوٹ ہو کر رہ گئے۔ شاعروں کو مشاعروں میں ہوٹ ہوتے ہوے میں نے بارہا دیکھا تھا۔ لیکن اچھے اور با رعب افسانہ نگار کو ہوٹ ہوتے ہوے دیکھنے کا یہ پہلا موقع تھا۔ میری آپ سے گزارش ہے۔ اقبال متین کہے جا رہے تھے۔ لیکن اس گزارش کا ہجوم پر کچھ بھی اثر نہیں ہو رہا تھا۔

 لگتا تھا جیسے وہ ایک تفریح کے موڈ میں ہوں۔ اقبال متین فوری تاڑ گئے کہ غلطی سننے والوں کی نہیں ہے خود ان ہی کی ہے جب زینت ساجدہ کی تحکم آمیز آواز بھی مجمع کو چپ نہ کرا سکی تو اقبال متین نے خود ہی مجمع سے مخاطب ہو کر پھر ایک بار التجا کی کہ وہ اس ادھوری کہانی کو مختصر کر کے زبانی سنائیں گے پس ذرا صبر کی ضرورت ہے۔ یہ کہہ کر انھوں نے اپنی کتاب نظروں سے ہٹا لی۔ اور اچانک افسانہ نگار سے داستان گو بن بیٹھے۔ لوگوں نے کچھ تالیاں بجائیں اور وہ مطمئن اپنی جگہ پر آ کر بیٹھ گئے۔ میں نے بھی جیسے تیسے اپنی کہانی سنا ہی دی۔ کہانی سُنانے کے دوران لوگ ٹکر ٹکر میرے چہرے کو یوں دیکھ رہے تھے جیسے کہہ رہے ہوں۔ آخر یہ مردود کیا کہنا چاہتا ہے۔

 لیکن جب انور رشید کی باری آئی تو اس نے ڈائس پر پہنچ کر اپنی گرج دار آواز میں لوگوں کو للکارا۔ ۔ ’’میں یہاں آپ سے گزارش کرنے نہیں آیا ہوں کہ آپ میری کہانی سنیں۔ نہ بھی سنیں تب بھی کوئی فرق نہیں پڑتا۔ ‘‘

 اس جملہ کے بعد ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ لوگ اسے بھی ہوٹ کر دیتے۔ لیکن معاملہ خلاف توقع دیگر تھا۔ جب اس نے اپنی کہانی جو ایک ہنگامی موضوع پر مبنی تھی ختم کی تو لوگ تعریف کے ڈونگے برسانے لگے۔ اور پھر وہ ایک فاتح کی طرح ڈائس پر آ کر بیٹھ گیا۔

 اقبال متین اور میں نے جب اس کی پیٹھ ٹھونکی تو وہ اور بھی خوش ہو گیا۔ لیکن اقبال متین کو یہ کہے بغیر نہ رہ سکا کہ ’’اقبال بھائی آپ کو گزارش کرنے کی ضرورت ہی نہ تھی۔ کہانی سنانا اپنا کام ہے۔ اور کہانی سننا ان کا فریضہ۔ اگر وہ سننا نہ چاہیں تو ہمیں گزارش یا التجا کرنے کی کیا ضرورت ہے۔ اقبال بھائی کم از کم آپ کو ‘‘ وہ بڑی دیر تک منہ ہی مُنہ میں بڑبڑاتا رہا۔ کچھ چڑھا بھی رکھی تھی اس لیے جب یہ تان ٹوٹتی نظر نہ آئی تو میں نے دوسری باتوں میں اسے الجھا دیا۔ کچھ دیر بعد وہ ایک دم چپ سا ہو کر رہ گیا۔ پھر وہ رات اپنے گھر پہنچا بھی تھا یا نہیں۔ کون جانے۔

 اس کے پاوں میں ایک چکر سا ہے۔ جب تک وہ حیدرآباد کے گلی کو چوں اور ٹھرے خانوں کا طواف نہ کر لے۔ اسے چین نہیں آتا۔ میں نے شاذ ہی اسے خوش دیکھا ہو۔ ہمیشہ نت نئی الجھنوں میں گرفتار۔ اور ہر الجھن ایسی کہ آدمی پناہ مانگے۔ لیکن انور رشید کی خوبی یہی ہے کہ وہ مصائب کو بھی بآسانی جھیل جاتا ہے۔

 ایک دن یوسف اعظمی کے ساتھ وہ بھی میرے گھر بیٹھا تھا۔ اِدھر اُدھر کی باتوں کے بعد اس نے ہانک لگائی۔

 ’’عوض بھائی میں نے ادب کی بڑی خدمت کی ہے۔ ‘‘ میں نے یوسف اعظمی کی طرف دیکھا تو وہ معصوم بچے کی طرح مسکرا رہا تھا۔

 ’’یہ تم بابائے اُردو کب سے بن گئے کچھ پتہ ہی نہ چلا۔ ‘‘

 عوض بھائی میں نے حقیقتاً اُردو کی خدمت کی ہے۔ ہو سکتا ہے آپ لوگ میری بات سے متفق نہ ہوں۔

 ہمارے متفق یا غیر متفق ہونے سے پہلے ہی وہ اچانک اُٹھ کر چلا گیا۔

 انور رشید آج بھی جب ملتا ہے تو اپنی ادھوری شخصیت کے ان ہی گہرے اور اُجلے رنگوں کے سبب پہچانا جاتا ہے۔ مگر کون جانے اس کی شخصیت کے یہ سارے گہرے اور اُجلے رنگ سچے بھی ہیں یا جھوٹے۔

***

 

نرمل جی

 اگر آپ نے ابھی تک کسی ایسے آدمی کو نہیں دیکھا جو ہجوم میں بھی اپنی انفرادیت قائم رکھتا ہو اور جو سچ کے پل صراط سے بھی بغیر قدم ڈگمگاۓ گزر جاتا ہو۔ تو آپ نرمل جی سے مل لیجیے۔

 ان سے میری یاری کی تاریخ کچھ ایسی کہنہ بھی نہیں ہے کہ پرانے کتبوں کی یاد تازہ ہو جائے۔ لیکن کبھی کبھی یوں بھی ہوتا ہے کہ دوسروں کے گناہوں کا کفّارہ خاکہ نگار کو خود ادا کرنا پڑتا ہے خواہ وہ اس کا اہل ہو یا نہ ہو۔

 میں جب کبھی نرمل جی کی تصویر کھینچنا چاہتا ہوں تو لگتا ہے جیسے یہ میری اپنی تصویر ہے۔ یہ تصویر دوسرے آدمی کی بھی ہو سکتی ہے اور آنے والے آدمی کی بھی۔ لیکن اس کی گردن پر لٹکا ہوا وہ رنگین جھولا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ؟

 کہیں ایسا تو نہیں کہ نرمل جی کی شخصیت محض ایک جھولا ہی ہو۔ اور نرمل جی کچھ بھی نہ ہوں یا نرمل جی بہت کچھ ہوں اور وہ جھولا محض ان کی شناخت کا ایک زینہ ہو۔ آخر کوئی تو وسیلہ ہو جس کے سہارے ہم نرمل جی اور ان کی شخصیت کے گڈمڈ ہوتے ہوے سایوں کے ساتھ کچھ دور ہی سہی۔ مگر قدم ملا کر چل تو سکیں۔

 گر اہم گرین کے الفاظ میں اندر کا آدمی اکثر ہماری نگاہوں سے اوجھل ہی رہتا ہے۔ ایسے میں ہماری عکسی آنکھ کیا دیکھ سکتی ہے۔ کیا نرمل جی کو یوں ہی لنڈورا چھوڑ دیا جائے۔ ان پر کچھ نہ لکھا جائے۔ مگر ایسا بھی کیا۔ یہ تو سراسر ان کے ساتھ بے ایمانی ہوگی۔ جس شخص نے نوجوان ادیبوں اور شاعروں کی ایسی پیٹھی تیار کی ہو جو ادبی دنیا میں کاسہ بکف نہ ہو۔ ایسے آدمی کے لیے نقاد کا تیکھا قلم چاہئے۔ خاکہ نگار تو محض اپنے مشاہدہ کا اسیر ہو کر رہ جاتا ہے۔

 ہندی ادب میں وہ کس پائے کا شاعر، افسانہ نگار اور ناول نویس ہے وہ جانے یا ہندی کے لیکھک۔

 مجھے تو یہاں اس کی شخصیت کے تارو پود کا محاکمہ کرنا ہے۔ ویسے شخصیت کو ناپنے کا آلہ آج تک کسی نے ایجاد نہیں کیا۔

 صورت شکل، چال ڈھال اور اپنے مخصوص لباس میں وہ سرتاپا ادیب ہی ادیب دکھائی دیتا ہے۔ ویسے کسی کا اپنے حلیے بشرے سے ادیب دکھائی دینا اور بات ہے اور ادیب ہونا ایک علیٰحدہ بات ہے۔ اتفاق سے نرمل جی کی طرحدار اور دل چسپ شخصیت ان دونوں شرطوں کو کچھ اس طرح پوری کرتی ہیں کہ ایک دفعہ ملنے کے بعد آدمی اسی کا ہو کر رہ جاتا ہے۔ خواہ وہ آدمی ہندی کا ہو یا تلگو کا، اردو کا ہو یا کسی اور زبان کا۔

 بڑے بڑے قدرے پکے ہوے بال۔ آنکھوں پر موٹے موٹے شیشوں کا چشمہ، منہ میں کڑوا میٹھا پان، کھدّر کا کرتہ، جیکٹ اور چپل۔ یہی نرمل جی کی شخصیت کے کچھ اجزائے ترکیبی ہیں۔ کپڑے ہمیشہ اتنے دھُلے دھلائے اور مُکلف کہ گمان گزرتا جیسے وہ ایک عدد لانڈری کا مالک بھی ہو۔

 نرمل جی کو میں نے اندر سے بڑا  دُکھی پایا ہے۔ وہ جب بھی قہقہہ لگاتا تو لگتا ہے جیسے وہ اپنے قہقہوں میں انسان کے ازلی غم کو چھُپانا چاہ رہا ہو۔

 میں نے نرمل جی کو ہر حال میں دیکھا ہے فاقہ مستی میں بھی۔ اور کبھی کبھی خوش حالی میں بھی۔ روز گار کی تلاش میں ٹھوکریں کھاتے ہوئے بھی۔ اور گلی گلی دکھ کے کنکر چنتے ہوے بھی۔ بھری جیب کو خالی کرتے ہوے بھی۔ اور خالی جیب کو تیزی سے بھرتے ہوے بھی مگر ہر حال میں مست و مگن جیسے وہ آدمی نہ ہو پہنچا ہوا فقیر ہو۔

 زندگی کے عذاب کو ہنستے کھیلتے جھیلنے والوں میں اگر کسی کا نام سرفہرست آسکتا ہے تو وہ نرمل جی ہیں۔ تہی جیب بھی ہوں تو وہی مستی۔ جیب بھاری ہو تو جلد سے جلد اسے جھٹکنے کی فکر۔ نہ رہے بانس نہ بجے بانسری۔ کوئی تو ایسی حد ہو جہاں نرمل جی بے بس ہوئے ہوں۔

 انھوں نے اپنے پیچھے نوجوان ادیبوں اور شاعروں کی جو پیٹھی تیار کی ہے اس پر اُنھیں بڑا فخر ہے۔ مزاحمت کی صورت اس وقت نکل آتی ہے جب اُن کا کوئی چیلہ انھیں گرو تسلیم کرنے سے صاف انکار کر دے۔ اور اپنے حدود کو نہ پہچانے ’’دوچار نظمیں رسالوں میں کیا چھپیں کہ اپنے آپ کو تیس مار خاں سمجھ بیٹھے۔ اور اپنے باپ کو بھی بھول بیٹھے۔ ‘‘

 ویسے نرمل جی ایک بے ریا آدمی ہیں۔ جھوٹ، کپٹ، بناوٹ اور تصنع سے دور جس کا ظاہر بھی وہی باطن بھی وہی۔

 اُوم پر کاش نرمل جسے لوگ پیار اور احترام سے نرمل جی بھی کہتے ہیں۔ اس کے ملنے جلنے والوں کا دائرہ بہت وسیع ہے۔ ہندی اُردو کے بڑے بڑے شاعروں اور ادیبوں سے اس کی یاری رہی ہے۔ اور ساتھ ساتھ کنجڑے بھٹیاروں کو بھی اس نے اپنے دل میں جگہ دے رکھی ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ مختلف حالات میں یہ جگہ تبدیل ہوتی رہتی ہے۔

 کسی وقت گلزار حوض کے بہت پیچھے اس نے ایک چھوٹا موٹا ڈربہ نما مکان کرائے پر لے رکھا تھا۔ اس مکان کی خوبی یا خامی یہ تھی کہ ہر آنے جانے والے کو نرمل جی سے ملنے کے لئے بہ یک وقت کئی مکانوں کو پھلانگتے ہوے اس طرح جانا پڑتا تھا جیسے گلی گلی ٹھوکریں کھانا انسان کا مقدّر ہو۔ کتنی دفعہ ایسا بھی ہوا کہ ہم گئے تو تھے نرمل جی سے ملنے لیکن کسی اور سے مل آئے اور ملاقات کا قرض باقی ہی رہا۔ یہ مشکل ہے کہ کوئی نرمل جی کے گھر جائے اور بغیر کچھ کھاۓ پیے لوٹے۔

 ’’بولیے مہاراج کچوری چلے گی۔ یا بیگن کا بھرتہ ہی کافی ہے۔ ویسے بھوجن تو تیار ہوہی رہا ہے۔ تھوڑی سی بھانگ بھی رکھی ہوئی ہے۔ مگر ہاں اپنے اقبال جی کیسے ہیں انھوں نے تو ہمارے ہاں آنا جانا ہی چھوڑ دیا ہے۔ ‘‘

 ’’مارو گولی یار اقبال کو۔ سناؤ پنڈت جی کا کیا حال ہے۔ آپ نے ریس میں کچھ مال دال بنایا ہے کہ نہیں۔ ‘‘

 خالد کی نظر تو ہمیشہ مال ہی پر رہتی ہے۔ ویسے پنڈت جی نے انفارمیشن تو دی تھی لیکن کچھ لفڑے درمیان میں ایسے آ گئے کہ ہم گھر سے باہر نکل ہی نہ سکے۔ تھوڑی سی بھانگ پی لی کچھ مستی کی اور سوگئے۔ گرو ہم نے اپنا استعفیٰ تیار کر لیا ہے۔ ویسے یہ بات اپنی حد تک ہی رکھنا۔ لو پوری کچوری آ گئی۔ آج اشنان کرنے میں بری ٹھنڈ لگ رہی تھی لیکن ہم مزدور ادیبوں کے لیے سردی کیا گرمی کیا۔ مگر اکبال جی سے یہ ضرور کہنا کہ وہ ہم سے ملیں۔ ‘‘

 ’’مارئیے اکبال جی کو۔ پتہ نہیں کن بکھیڑوں میں پڑے ہوں۔ اب استعفیٰ تیار کر لیا ہے تو پکڑ لیجے پنڈت جی کو۔ آخر وہ کس کام آئیں گے۔ کچھ بڑے بھاؤ والے گھوڑے پکڑیئے۔ کچھ آپ کے ساتھ عوض صاحب کا کام بھی بن جائے۔ ‘‘

 ’’کیا کریں گرو کچھ پیسہ ٹکا بھی تو ہو۔ ‘‘

 ’’ماریئے پیسے ٹکے کو گُھس جائیے ریس کورس میں اور پکڑ لیجئے پنڈت جی کو۔ ‘‘

 ’’سعید جی یہ ہمارے گرو جو ہیں۔ بڑ کائیاں آدمی ہیں۔ کسی کو بھی ریس کے کنویں میں ڈھکیل کر بڑے پریم سے قہقہہ لگاتے ہیں۔ آدمی جئے یا مرے انھیں اس کی کوئی فکر نہیں ہوتی۔ ‘‘

 میں نے دیکھا محرابوں میں دھنسی ہوئی کتابوں میں دھرم ویر بھارتی کی ناول سورج کا ساتواں گھوڑا بھی شامل ہے۔ جگدمبا پرشاد ڈِکشٹ کی مردہ گھر بھی۔ مگر رگھوویرسہائے سرویشیوردیال سکسینہ مکتی بودھ آج نظر نہیں آ رہے ہیں۔ ’’نرمل جی آج طاق میں بہت کم کتابیں دکھائی دے رہی ہیں۔ کوئی ایسی ویسی بات ‘‘

 ’’کیا بتائیں مہاراج۔ وہ اپنا بال کشن ہے نا۔ سالے نے چُوہے کی طرح ساری الماریاں کھود ڈالیں۔ مگر وہ کتابیں لائے گا ضرور۔ اوم پرکاش نرمل جس آدمی کا نام ہے وہ اسے بخشے گا نہیں۔

 وہ گرو ہی کیا جو اپنے چیلوں کو محبت کے ساتھ پھٹکار نہ کرے۔ مگر بال کشن جیسے تیز و طرار آدمی کو بھی میں نے نرمل جی کا احترام کرتے ہوئے بہت دیکھا ہے۔ خواہ نرمل جی عام بول چال کی سطح سے ہٹ کر گالی گلوج ہی پر کیوں نہ اُتر آئیں۔ دوسرے دن اگر وہ بال کشن کو محبت سے گلے لگا رہے ہوں تو کوئی تعجب کی بات نہیں۔

 کبھی وہ ریس کا اتنا رسیا رہا ہے کہ میں نے اس مست رام کو ایک دن ریس کورس پر گھومنے والے گھوڑوں کے آگے پیچھے آتے جاتے اس طرح دیکھا جیسے وہ ہندی کا مشہور لیکھک نہ ہو گھوڑوں کا ڈاکٹر ہو۔

 میں نے جب اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر اس کی خیریت دریافت کی تو اس نے پلٹ کر کہا میں نے اپنے آدمی کو پنڈت جی کے پاس بھجوا دیا ہے۔ صحیح انفارمیشن مل جائے تو آپ بھی چالیس پچاس لگا دیجیے۔ ویسے اپنی گھوڑی بہت تیار ہے ضرور جیت جائے گی۔ ‘‘

 تھوڑی دیر بعد پیڈک ’’Paddock‘‘ میں اور گھوڑوں کے ساتھ جب نرمل جی کی گھوڑی بھی مجھے نظر آئی تو مجھے یہ دیکھ کر حیرانی ہوئی کہ اس کے پاوں میں سفید پٹیاں بندھی ہوئی تھیں۔

 شام کو سلطان بازار کے قریب جب ان سے دوبارہ میری ملاقات ہوئی تو وہ ایک موچی کی دکان پر کھڑے اپنی پھٹی ہوئی چپل کی مرمت کروا رہے تھے۔ مجھے جوں ہی دیکھا کہنے لگے۔ ’’میں اگر ٹوپیوں کی دکان بھی کھول لوں تو آنے والی نسل بے سر کی پیدا ہوگی اب رہا خسارہ کا سودا وہ تو میری جنم پتری میں پہلے ہی لکھا ہے۔ ‘‘

 ہندی ادب اور تہذیبی سرگرمیوں کا جہاں ذکر ہو۔ وہاں اوم پرکاش نرمل کا نام ضرور آئے گا۔ یہ ناممکن ہے کہ ہندی کا کوئی بڑا لیکھک یا شاعر حیدرآباد آئے اور نرمل جی سے ملے بغیر چلا جائے۔ خواہ وہ کتنا ہی قد آور شاعر اور ادیب کیوں نہ ہو۔

 دراصل لکھنا پڑھنا اس کی زندگی کا ایک اہم حصہ ہے۔ مگر ساتھ ساتھ وہ ایک اچھا گر ہست بھی ہے۔ یہ اور بات ہے کہ وہ وفاداری کے روایتی تصور کا کچھ زیادہ قائل نہیں۔

 نرمل جی جیسا کھرا ، منھ پھٹ اور مخلص آدمی میں نے کم ہی دیکھا ہے۔ اس کے مزاج کی تہہ میں ایک عجیب طرح کی بغاوت دھیمے دھیمے سلگتی رہتی ہے اور جب راکھ کے ڈھیر کے نیچے چھپی ہوئی یہ ساری چنگاریاں اچانک شعلوں کا روپ دھار لیتی ہیں تو وہ یک بہ یک نرمل جی سے اوم پرکاش بن جاتا ہے۔

 نرمل جی کی خامیوں کو جب بھی میں نے قلم کی گرفت میں لینا چاہا تو مجھے لگا جیسے تڑکے روشنی اور سائے ایک دوسرے سے مل رہے ہوں۔

 زندگی کی دھُوپ چھاؤں میں کبھی کبھی آدمی کو اپنی مرضی کے خلاف جھکنا بھی پڑتا ہے۔ اور چوٹ کھا کر سنبھلنا بھی۔ میں نہیں سمجھتا کہ نرمل جی کی شخصیت ان باتوں سے ماورا رہی ہو۔ کیوں کہ انسان نہ مکمل طور پر برا ہوتا ہے اور نہ تمام تر اچھا۔

 بہت زمانہ پہلے کی بات ہے۔ ڈاکٹر منیب الرحمن حیدرآباد آۓ ہوے تھے۔ ان کی آمد سے فائدہ اٹھاتے ہوئے جب سلیمان اریب نے ان کے اعزاز میں ایک ادبی نشست رکھی تو میں نے وہاں بے شمار ادیبوں کے درمیان ایک لمبے لمبے بالوں والے اجنبی کو دیکھا۔ جس کی آنکھیں گہرے چشمے میں کچھ ڈھکی ہوئی سی لگ رہی تھیں۔ میں نے سرگوشی کے انداز میں اریب سے پوچھا۔ ’’وہ بڑے بالوں ولا اجنبی کون ہے۔ ‘‘

 اریب نے جواباً کہا۔ ’’اپنے ہی قبیلہ کا آدمی ہے۔ ‘‘

 میں نے شرارتاً کہا۔ یعنی ایک دم فراڈ۔ اریب ہنس پڑے۔

 اور جب اس فراڈ سے میں پہلی بار ملا تو مجھے لگا جیسے کوئی بند کمرے سے اچانک اُٹھ کر کھلی فضا میں آ گیا ہو۔ مجھے اس کی شخصیت کے طلسم نے اپنا اسیر کر کے ہی چھوڑا۔ لیکن جب اوم پرکاش نرمل عالمِ سرمستی میں ہو تواُس سے ملنا خطرہ سے خالی نہیں۔ بے ہنگم گالیوں کے درمیان اس کا ایگو Ego آہستہ آہستہ اس طرح جاگتا ہے جیسے کوئی سویا ہوا شیر اچانک اُٹھ کر چنگھاڑ رہا ہو۔ بس کوئی اسے ذرا سا چھیڑ دے۔ نہ چھیڑیں تب بھی وہ ایک آدھ پنجہ ضرور مارے گا۔ میرے ساتھ تو کبھی ایسا واقعہ نہیں ہوا لیکن بعض گھائل لوگوں کی فریاد تو یہی ہے۔

 جن دنوں وہ ’’کلپنا‘‘ سے وابستہ تھا ایک دوبرس نہیں بلکہ چودہ برس۔ جب بھی وہ مجھ سے ملتا تو سرگوشی کے انداز میں کہتا۔ ’’آئیے نیچے چل کر چائے پانی کر لیں۔ بدری وشال جی ابھی آفس نہیں آئے ہیں۔ بلاوا آنے تک کم از کم چاۓ تو حلق میں انڈیل لیں۔ ‘‘

 مگر تھوڑی ہی دیر بعد وہ کپڑے جھاڑ کر اُٹھ کھڑا ہوتا۔ ‘‘ مہاراج بلاوا آ ہی گیا۔ ‘‘

 ’’آپ کو کیسے پتہ۔ ؟‘‘

 ’’میں نے کار کی آواز سن لی ہے۔ اب ہم اتوار ہی کومل سکیں گے۔ ‘‘

 پھر نرمل جی اتوار کو ملیں یا سوموار کو۔ اس سے ہمیں کوئی غرض نہ ہوتی۔

 سلطان بازار مارکٹ سے لگی ہوئی ایک پرانی حویلی کے ایک تنگ اور نیم تاریک کمرے میں وہ کرسی پر پاؤں پھیلائے اس طرح بیٹھا تھا جیسے وہ ایڈیٹر نہ ہو بلکہ ایک عام سا آدمی ہو۔ روشن دان سے آنے والی مدھم روشنی میں اس کا سرا پا ایسا لگتا جیسے وہ ہچکاک کی کسی فلم کا کردار ہو۔ کب اور کس وقت کیا کر دے کچھ پتہ نہیں۔ نرمل جی کے کمرے کے برابر ہی ایک کمرہ تھا جس میں ایک بوڑھا آدمی بیٹھا بہی کھاتہ کھولے حساب جوڑنے میں لگا رہتا۔

 معاوضہ کے سلسلہ میں جب بھی کوئی تاخیر ہوتی تو ہم بجائے نرمل جی سے رجوع ہونے کے بدری و شال جی سے مل لیتے۔ اور ہمیں منٹوں میں چیک مل جاتا اور بعد کو ہمیں یہی افسوس ہوتا کہ ہم نے نرمل جی کے پیچھے اتنا وقت کیوں ضائع کیا۔ دراصل اس قسم کے کاموں کے لیے وہ بڑے نا اہل تھے۔

 ایک دفعہ بدری وشال جی مجھے فوری معاوضہ کا چیک دینا چاہتے تھے لیکن دُور دُور تک نرمل جی کا پتہ نہ تھا۔ میں نے اپنا بھرم رکھتے ہوے بدری وشال جی سے کہا۔ ’’پھر کسی وقت منی آرڈر یا چیک میرے نام بھجوا دیجے۔ شاید نرمل جی کے آنے میں کچھ اور دیر ہو جائے۔ ‘‘

 ادھر جب وہ آفس میں داخل ہوا تو بلاوے کی غرض و غائت کا اسے علم ہو چکا تھا۔ وہ بڑی شتابی کے ساتھ ہندی میں چیک لکھ کر لایا۔ بدری وشال جی نے دستخط کیے اور میں سعید بن محمد کے ساتھ نرمل جی کو خدا حافظ کہتا ہوا کلپنا کے آفس سے نیچے اُتر گیا۔

 اس وقت جن نگاہوں سے نرمل جی نے مجھے دیکھا۔ وہ نگاہیں آج بھی میرا پیچھا کرتی ہیں۔

 ایک جرنلسٹ سے لے کر ایک ایڈیٹر تک۔ ایک ٹیچر سے لے کر ایک سیلس مین تک بیگاری کی کوئی ایسی شاہراہ نہیں جہاں نرمل جی نے قدم نہ رکھا ہو۔ اب تو وہ خیر سے ہندی اکیڈیمی کا ڈائرکٹر بھی بن چکا ہے۔ وہ کچھ بھی نہ ہوتا تب بھی کوئی فرق نہ پڑتا۔ کیوں کہ وہ کل بھی نرمل جی ہی تھا اور آج بھی نرمل جی ہی ہے۔

 آج جب میں نرمل جی پر خاکہ لکھنے بیٹھا ہوں تو تنقید کی ترازو کا ایک پلڑا اس کی خوبیوں سے کچھ زیادہ ہی جھُکتا جا رہا ہے۔ اور اس کی اپنی ذاتی کمزوریاں ذرا کم ہی گرفت میں آ رہی ہیں۔ پتہ نہیں یہ اس کی شخصیت کا اعجاز ہے یا میری بے بضاعتی۔

 ہو سکتا ہے۔ نرمل جی کہیں کہیں اس کے برعکس بھی ہوں۔ راجہ دو بے اگر زندہ ہوتا اور اس خاکہ کو اس نے قلمبند کیا ہوتا تو نرمل جی کے خاکے کی نوعیت ہی شاید کچھ اور ہوتی۔ کیوں کہ وہ اس کے شب و روز کا حساب چکانے والوں میں ایک نمایاں درجہ رکھنے والا رفیق تھا۔ اور ایک منفرد شاعر بھی۔

 ادبی سطح پر وہ نرمل جی کا دوست بھی تھا اور مخالف بھی۔

 مرتے دم تک اس نے نرمل جی کو شاعر نہیں مانا اسے محض ایک افسانہ نگار ناول نویس اور جرنلسٹ ہی سمجھتا رہا۔ مگر اس فتوی کے باوجود جب کبھی راجہ دوبے رُوٹھ جاتا تو نرمل جی اسے کسی نہ کسی طرح منا لیتے۔ کبھی کبھی تو ہاتھا پائی کی نوبت بھی آ جاتی۔ ایک دوسرے سے نہ ملنے کی قسمیں کھائی جاتیں۔ لیکن انجام ہمیشہ بخیر ہی ہوتا۔ کیوں کہ ہر دو اک دوسرے کو ٹوٹ کر چاہتے تھے۔

 کبھی کبھی وہ ملتے جلتے اچانک غائب بھی ہو جاتے۔ جب وہ ایک لمبے عرصے کے لیے غائب ہو گئے تو پھر ایک دن کسی نے سُنایا کہ نرمل جی نے ادب کا دھندا چھوڑ کر بیوپار شروع کر دیا ہے۔ اس کی تصدیق کے لیے جب ہم جام باغ روڈ سے لگی ہوئی آئرن سٹیل کی دکان پر پہنچے تو نرمل جی وہاں اس طرح آرام سے بیٹھے دکھائی دیئے جیسے وہ دکان نہ ہو ڈرائنگ روم ہو۔

 میں نے دل میں سوچا یار یہ آدمی کہاں آ کر پھنس گیا۔ اس نے جیسے ہی خالد کے ساتھ مجھے آتے دیکھا۔ فوراً چائے والے کو آواز دی۔ اور خالد کی طرف مخاطب ہو کر کہا۔

 ’’گرو آج من بڑا اداس ہے۔ بڑا دکھی ہے۔ جیب میں پیسہ ٹکا بھی کم ہے۔ ‘‘

 ’’پھر چائے نہ منگوائی ہوتی۔ ‘‘

 ’’چائے کا ان باتوں سے کیا سمبندھ ہے گرو۔ یہ چکر تو صبح سے لے کر شام تک چلتا ہی ہے۔ ‘‘

 باتوں کے دوران جب بھی کوئی گاہک آ دھمکتا تو ان کے چہرے پر خوشی کی بجائے جھلاہٹ کی لکیریں نمودار ہو جاتیں۔ جیسے یاروں سے گپ شپ ہی سب کچھ ہو۔ بیوپار کوئی اہم نہ ہو۔

 ’’سیٹھ جی نٹ بولٹ۔ ‘‘

 ’’چھ آنے مندم‘‘

 ’’سیٹھ جی۔ پانی کا میٹر، سکروڈرائیور‘‘

 ’’کہہ تو دیا ہے نا۔ نہیں ہے۔ چل بھاگ یہاں سے۔

 ’’ہاں تو میں کہہ رہا تھا گرو اوم کار جی نے اس بار ‘‘

 اور آج جب بھی میں کسی دکان پر تالا پڑا دیکھتا ہوں تو بے اختیار مجھے نرمل جی کی یاد آتی ہے۔ کیوں کہ کسی بھی جمی جمائی دکان کا شیرازہ بکھیرنے میں اس کا زبردست ہاتھ رہا ہے۔

 وہ پیدا تو ہوا راجستھان کے ریگزاروں میں لیکن دکن کی آب و ہوا اسے کچھ ایسی راس آ گئی کہ وہ یہیں کا ہو کر رہ گیا۔ لیکن اپنے گاوں امرسر کے سارے گلی کوچے۔ کھیت کھلیان۔ خاص طور پر وہ بھجن منڈلیاں جن میں وہ بڑھ چڑھ کر حصہ لیا کرتا تھا۔ آج بھی اس کے ذہن میں اسی طرح تازہ ہیں۔

 جب بھی بھولے بھٹکے وہ اپنے دیس جاتا ہے تو گاوں اور اس کے آس پاس کے سینکڑوں لوگ اسے دیکھتے ہی کہہ اٹھتے۔ ’’ارے یہ تو اپنا وہی اوم پرکاش ہے جو کبھی نو ٹنکیوں میں بہروپ بھرا کرتا تھا۔ اور منڈلیوں میں بھجن گایا کرتا تھا۔

 منڈلی گا رہی ہے۔ شام نے بجائی آج مُرلیا۔

 اور نرمل جی بند سُروں میں ہوری کے بول گنگنا رہے ہیں۔

 مانو مانو جی چھیل نند لال۔ کبھی کسی ناٹک میں لالہ لو بھی لال کا رول ادا کر رہے ہیں۔ بڑھی ہوئی توند۔ ناک پر سیاہ چشمہ۔ کانوں میں لٹکی ہوئی لمبی لمبی گھنٹیاں۔ گھنٹیوں کا مقصد اگر پیسے کے علاوہ کوئی بات ہو تو کان ہلا دینا تاکہ گھنٹیوں کے شور میں آواز دب جائے۔

 آج میں سوچتا ہوں کہ جس لالہ لو بھی لال کو نرمل جی نے گاؤں کے اسٹیج پر زندہ رکھا کہیں وہی لالہ لوبھی لال کسی اور روپ میں اب تک اس کا پیچھا تو نہیں کر رہا ہے۔

  ****

 

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

مصنف کے صاحب زادے جناب اوصاف سعید کی اجازت اور تشکر کے ساتھ

 (http://ausafsayeed.com, http://awazsayeed.com)

تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید



[1] حیدرآباد کا ایک بار اور رستوران۔