

فہرست مضامین
- تفسیر ابن مسعود
- محمد احمد عیسوی
- مولانا شمس الدین
- تفسیر ابن مسعود
- اردو ترجمہ: مولانا شمس الدین
- الاستعاذہ
- ۱۔ سورۃ الفاتحہ
- ۲۔ سورة البقرہ
- الٓمّٓۚ۱
- اَوْ كَصَیِّبٍ مِّنَ السَّمَآءِ فِیْهِ ظُلُمٰتٌ وَّ رَعْدٌ وَّ بَرْقٌ ۚ یَجْعَلُوْنَ اَصَابِعَهُمْ فِیْۤ اٰذَانِهِمْ مِّنَ الصَّوَاعِقِ حَذَرَ الْمَوْتِ ؕ وَ اللّٰهُ مُحِیْطٌۢ بِالْكٰفِرِیْنَ
- یَكَادُ الْبَرْقُ یَخْطَفُ اَبْصَارَهُمْ ؕ كُلَّمَاۤ اَضَآءَ لَهُمْ مَّشَوْا فِیْهِ ۙۗ وَ اِذَاۤ اَظْلَمَ عَلَیْهِمْ قَامُوْا ؕ وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ لَذَهَبَ بِسَمْعِهِمْ وَ اَبْصَارِهِمْ ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰی كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ
- الا ان اللہ ھو الغفور الرحیم
- وصد عن سبیل اللہ وکفر بہ والمسجد الحرام واخراج اھلہ منہ اکبر عنداللہ والفتنۃ اکبر من القتل۔
تفسیر ابن مسعود
عربی تالیف
محمد احمد عیسوی
اردو ترجمہ
مولانا شمس الدین
جمع و ترتیب
اعجاز عبید
ڈاؤن لوڈ کریں
پی ڈی ایف فائل
ورڈ فائل
ٹیکسٹ فائل
ای پب فائل
…..کتاب کا نمونہ پڑھیں
تفسیر ابن مسعود
تالیف فی العربیۃ: محمد احمد عیسوی
اردو ترجمہ: مولانا شمس الدین
جمع و ترتیب: اعجاز عبید
الاستعاذہ
اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم
شیطان مردود سے میں اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتا ہوں۔
۱۔ صاحب کشاف نے ۲/۳۴۳ میں حضرت ابن مسعودؓ سے روایت نقل کی ہے کہ میں نے جناب رسول اللہﷺ کے سامنے اعوذ باللہ السمیع العلیم من الشیطان الرجیم پڑھا تو آپ نے مجھے فرمایا اے ابن ام عبد تم اس طرح پڑھو اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم۔ مجھے جبرئیل نے لوح محفوظ سے لکھ کر اسی طرح پڑھایا ہے۔
۲۔ امام احمد کے بیٹے عبد اللہ نے اپنی اسناد کے ساتھ المسند ۵/۳۱۸ میں حضرت ابن مسعودؓ سے روایت نقل کی ہے کہ جناب رسول اللہﷺ اس طرح فرماتے تھے اللہم انی اعوذ بک من الشیطان من ہمزہ و نفثہ و نفخہ۔ اے اللہ میں شیطان کی طرف سے جنون، نفث اور تکبر سے تیری پناہ میں آتا ہوں۔ (ھمز، طعنہ زنی، جھاڑ پھونک)
۱۔ سورۃ الفاتحہ
علامہ قرطبی نے احکام القرآن ۱/۹۹ میں ابراہیم سے روایت کی ہے کہ حضرت ابن مسعودؓ سے دریافت کیا گیا تم نے اپنے مصحف میں فاتحۃ الکتاب کو کیوں نہیں لکھا تو کہنے لگے اگر میں اسے لکھتا تو پھر ہر سورت کے ساتھ اسے لکھنا پڑتا۔ کہتے ہیں میں نے کتابت کی بجائے مسلمانوں کے اسے یاد کر لینے پر اکتفا کر لیا۔
بسم اللہ الرحمن الرحیم
۱۔ واحدی نے اسباب النزول ص ۱۵/۱۶ میں حضرت ابن مسعودؓ سے روایت نقل کی ہے ہمیں دو سورتوں کے درمیان اس وقت فصل کرنے کی کوئی صورت نہ تھی یہاں تک کہ بسم اللہ نازل ہوئی۔
۲۔ طبری نے اپنے اسناد کے ساتھ حضرت ابن مسعودؓ سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ حضرت مریم نے عیسیٰؑ کو کاتبوں کے حوالے کیا تاکہ وہ تعلیم دیں تو معلم نے ان سے کہا۔ اکتب، لکھو ’بسم‘ لکھو تو عیسیٰؑ نے پوچھا بسم اللہ کیا ہے۔ اس نے کہا مجھے معلوم نہیں تو عیسیٰؑ نے فرمایا، با سے باء اللہ، اللہ کی رونق، سین سے سناء اللہ، اللہ تعالیٰ کا نور اور چمک اور میم سے مملکۃ اللہ، اللہ تعالیٰ کی حکومت مراد ہے۔ یہ غریب روایت ہے۔ (جامع البیان ۱/۱۲۱)
۳۔ طبری نے ابن مسعودؓ، ابو سعیدؓ سے نقل کیا ہے کہ جناب رسول اللہﷺ نے فرمایا حضرت مریم سلام اللہ علیہا نے حضرت عیسیٰؑ کو ایک کاتب کے سپرد کیا تاکہ وہ ان کو پڑھنے لکھنے کی تعلیم دے تو کاتب نے کہا لکھو اللہ عیسیٰؑ نے پوچھا کہ اللہ تعالیٰ کا معنی کیا ہے؟ پھر خود فرمایا اس کا معنی یہ ہے اللہ تعالیٰ تمام معبودوں کا معبود ہے (جامع الاحکام ۱/۱۲۵) (سند ضعیف ہے)
۴۔ طبری نے حضرت ابن مسعودؓ اور ابو سعید خدریؓ سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہﷺ نے فرمایا: حضرت عیسیٰؑ نے کہا۔ الرحمان یعنی آخرت و دنیا میں رحمت فرمانے والا اور الرحیم جس کی رحمت آخرت کے ساتھ مختص ہو۔
۵۔ قرطبی نے اپنے اسناد کے ساتھ حضرت ابن مسعودؓ سے نقل کیا ہے کہ جو شخص یہ چاہتا ہو کہ اللہ تعالیٰ اسے جہنم کے انیس زبانیہ سے محفوظ رکھے تو وہ بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھے۔ تو اللہ تعالیٰ اس کے ہر حرف کے بدلے ہر فرشتے سے بچاؤ کے لئے ایک ڈھال مہیا فرما دیں گے (بسم اللہ الرحمن الرحیم کے انیس حروف ہیں)
۶۔ سیوطی نے حضرت مسعودؓ سے روایت نقل کی ہے کہ بسم اللہ پڑھنے والے کو ہر حرف کے بدلے چار ہزار نیکیاں ملتی ہیں۔ اور چار ہزار برائیاں مٹائی جاتی ہیں اور چار ہزار درجات بلند ہوتے ہیں۔ (الدر ۱/۱۰)
قرطبی لکھتے ہیں کہ حضرت عمر اور ابن مسعودؓ سے مروی ہے کہ سورة فاتحہ کے ساتھ بسم اللہ کو آہستہ پڑھا جائے گا اور علماء کی بہت بڑی جماعت کا یہی مسلک ہے۔ (جامع الاحکام ۱/۸۳۔ ۱/۱۰۱)
مالک یوم الدین
مالک انصاف کے دن کا
۱۔ طبری نے اپنے اسناد کے ساتھ حضرت ابن مسعودؓ سے نقل کیا ہے۔ مالک یوم الدین سے مراد حساب کا دن ہے۔ صحابہ کرام کی ایک جماعت جس میں ابن عباسؓ بھی شامل ہیں اسی قول کو اختیار کیا ہے۔ (المستدرک ۲/۲۵۸)
۲۔ قرطبی نے ابن مسعودؓ سے نقل کیا کہ الدین اعمال کے بدلے اور حساب کو کہتے ہیں اور یہی قول ابن عباسؓ نے اختیار کیا ہے۔ (احکام ۱/۱۲۵)
اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَۙ
۱۔ طبری نے ۱۔ ۱۷۵ میں سند کے ساتھ حضرت ابن مسعودؓ اور کئی پیغمبرؑ سے اھدنا الصراط المستقیم کی تفسیر اسلام سے کی ہے۔ یعنی اسلام کی طرف ہماری راہنمائی فرما۔
۲۔ طبری نے ۱۔ ۱۷۳ میں اپنی سند کے ساتھ حضرت ابن مسعودؓ سے الصراط المستقیم کی تفسیر، کتاب اللہ نقل کی ہے۔ یعنی، قرآن کی طرف ہماری راہنمائی فرما۔
ابن کثیر نے ۱/۱۵ میں حضرت ابن مسعودؓ سے روایت بیان کی ہے کہ الصراط المستقیم وہ راہ ہے جس کی ایک جانب پر رسول اللہﷺ نے ہمیں چھوڑا اور دوسری جانب جنت میں جاتی ہے۔
سیوطی نے الدر ۱/۱۵ میں حضرت ابن مسعودؓ سے روایت بیان کی ہے کہ الصراط المستقیم وہ راہ ہے جس کی ایک جانب پر رسول اللہﷺ نے ہمیں چھوڑا اور دوسری جانب جنت میں جاتی ہے۔
سیوطی نے الدر ۱/۱۵ میں حضرت ابن مسعودؓ سے روایت کی ہے کہ یہ راستہ ہے حاضری کی جگہ ہے جہاں شیاطین آتے جاتے ہیں اے اللہ کے بندو! یہ راستے کی اتباع کرو اور الصراط المستقیم تو اللہ تعالیٰ کی کتاب ہے اسے مضبوطی سے تھام لو۔
صراط الذین انعمت علیہم غیر المغضوب علیہم ولا الضالین۔
طبری نے ۱/۱۸۸ میں طبری کی سند سے حضرت ابن مسعودؓ سے نقل کیا کہ المغضوب علیہم سے یہودی مراد ہیں۔
طبری نے ۱/۱۹۵ میں اپنی سند سے حضرت ابن مسعودؓ اور صحابہ کرام کی ایک جماعت سے نقل کیا کہ ’الضالین‘ سے نصاریٰ مراد ہیں۔
٭٭٭
۲۔ سورة البقرہ
بخاری نے اعمش سے نقل کیا کہ میں حجاج کو منبر پر یہ کہتے سنا: وہ سورة جس میں بقرہ کا تذکرہ ہے اور وہ سورة جس میں آل عمران کا تذکرہ ہے اور وہ سورة جس میں عورتوں کا تذکرہ ہے۔ اعمش کہتے ہیں میں نے یہ بات ابراہیم کو بتائی تو اس نے عبد الرحمان بن یزید کی وساطت سے حضرت ابن مسعودؓ کے متعلق نقل کی یا کہ میں ابن مسعودؓ کے ساتھ اس وقت موجود تھا جب انہوں نے جمرہ عقبہ کی رمی کی اور پھر فرمایا مجھے اس ذات کی قسم ہے جس کے قبضہ میں میری جان ہے جس ہستی پر سورة بقرہ اتری وہ اس جگہ ہے کھڑے ہوئے (اور جمرہ عقبہ کی رمی کی) (۲/۱۷۸)
۲۔ سیوطی نے الدر ۱/۱۹ میں حضرت ابن مسعودؓ روایت ہے کہ جناب رسول اللہﷺ نے فرمایا۔ وہ آدمی ناکام نہیں جو رات کے دوران اٹھا اور قیام میں سورة بقرہ و آل عمران شروع کی۔
۳۔ سیوطی نے الدر ۱/۲۱ میں حضرت ابن مسعودؓ سے روایت کی ہے کہ ایک شخص نے ان کے ان کے پاس سورة بقرہ اور آل عمران پڑھی تو آپ نے فرمایا تم نے دو سورتیں ایسی پڑھی ہیں جن میں اللہ تعالیٰ کا اسم اعظم ہے۔ یہ وہ اسم ہے جس کے ذریعہ جو دعا کی جائے وہ قبول ہوتی ہے۔ جب سوال کیا جائے تو (اس کا) سوال پورا کیا جاتا ہے۔
۴۔ سیوطی نے الدر ۱/۲۲ میں حضرت ابن مسعودؓ سے روایت کی ہے کہ جس شخص نے سورة بقرہ پڑھی اس نے بہت نیکیاں کمائیں اور بہت خوب کام کیا۔
حاکم نے مستدرک ۲/۲۵۹ میں نقل کیا ہے کہ حضرت ابن مسعودؓ نے فرمایا: تم اپنے گھروں میں سورة البقرہ پڑھا کرو جس گھر میں یہ سورت پڑھی جائے وہاں شیطان داخل نہیں ہوتا۔
حاکم نے مستدرک ۱/ ۵۶۱ پر حضرت ابن مسعودؓ کا یہ ارشاد نقل کیا ہے کہ ہر چیز کی ایک چوٹی ہے اور قرآن کی چوٹی سورة بقرہ ہے۔ جب شیطان یہ سنتا ہے کہ کسی گھر میں سورة بقرہ پڑھی جا رہی ہے تو شیطان اس گھر سے نکل جاتا ہے۔
ابن کثیر نے حضرت ابن مسعودؓ سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہﷺ نے فرمایا میں تم میں کسی کو اس حالت میں نہ پاؤں کہ وہ (تکبر سے) اپنا پاؤں ایک دوسرے پر رکھ کر استغناء کا اظہار کرے اور سورة بقرہ کی قرأت ترک کر دے۔ جس گھر میں سورة بقرہ پڑھی جائے شیطان اس سے بھاگ جاتا ہے خالی گھر وہ ہے جو کتاب اللہ سے خالی ہو۔
علامہ سیوطی نے ۱/ ۲۰ میں حضرت ابن مسعودؓ سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہﷺ کا ایک صحابی باہر نکلا اس کو شیطان ملا اور اس نے اسے پکڑ لیا دونوں نے کشتی کی تو صحابی رسول نے اس کو گرا دیا۔ شیطان کہنے لگا مجھے چھوڑو میں تمہیں ایک بات بتلاتا ہوں اس نے چھوڑ دیا۔ اس نے کہ بات بیان کرو۔ اس نے کہا، نہیں۔ صحابی رسول نے اس کو گرا دیا۔ شیطان کہنے لگا مجھے چھوڑو میں تمہیں ایک بات بتلاتا ہوں اس نے چھوڑ دیا۔ اس نے کہا بات بیان کرو۔ اس نے کہا نہیں۔ صحابی رسول نے اسے دوسری مرتبہ پکڑ کر پچھاڑ دیا۔ شیطان نے کہا مجھے چھوڑ دو میں تمہیں بات بتاتا ہوں۔ اس نے چھوڑ دیا۔ اس نے کہا وعدے کے مطابق حدیث سناؤ۔ اس نے کہا نہیں۔ اس نے تیسری مرتبہ پکڑا اور شیطان کو صحابی نے پچھاڑ دیا اور اس کے سینے پر بیٹھ گئے۔ اور اپنے انگوٹھے سے اس کے گلے کو دبانے لگے اس نے کہا مجھے چھوڑ دو۔ اس نے کہا میں تجھے اس وقت تک نہ چھوڑوں گا یہاں تک کہ تو مجھے حدیث نہ بیان کر لے اس نے کہا۔ سورة بقرہ کی کوئی سی آیت شیاطین کے درمیان پڑھی جائے وہ منتشر ہو جاتے ہیں۔ اور جس گھر میں یہ پڑھی جائے وہاں شیاطین کا داخلہ نہیں۔
سیوطی نے الدر ۱/ ۲۱ میں حضرت ابن مسعودؓ سے اس طرح روایت کی ہے کہ ایک عورت جناب رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی۔ اور کہنے لگی یا رسول! میں نے اپنے کو آپ کی رائے کے سپرد کر دیا۔ تو جناب رسول اللہﷺ نے اس شخص کو فرمایا جس نے اسے پیغام نکاح دیا تھا۔ کیا تمہیں کچھ قرآن آتا ہے۔ اس نے کہا جی ہاں! سورة البقرہ اور مفصلات کی ایک سورة۔ تو آپ نے فرمایا میں نے اس کا تیرے ساتھ نکاح کر دیا اس شرط پر کہ تو اس کو وہ سورت پڑھائے گا اور سکھائے گا۔
سیوطی نے الدر ۱ /۲۲ میں حضرت ابن مسعودؓ سے نقل کیا جس نے سورة بقرہ کے کسی ایک لفظ کا حلف اٹھایا تو اس پر اس کی ہر آیت پر قسم اٹھائے گا بوجھ ہو گا۔
الٓمّٓۚ۱
۱۔ طبری نے ۱ / ۲۰۷ میں حضرت ابن مسعودؓ اور کئی اصحاب رسولﷺ سے نقل کیا گیا ہے کہ الم یہ حرف ہے جس کو اسماء باری تعالیٰ شے مشتق کیا گیا ہے (اللہ کے مقدس ناموں کے حروف تہجی سے بنایا گیا ہے)
۲۔ طبری نے ۱/ ۲۰۶ میں حضرت ابن مسعودؓ سے مروی ہے کہ حم، طس، الم یہ اللہ تعالیٰ کا اسم اعظم ہیں۔ ابن عباسؓ سے بھی اسی طرح مروی ہے۔
۳۔ زاد المسیر ۱/۲۲ میں مذکور ہے کہ حضرت ابن مسعودؓ الم کا معنی انا اللہ اعلم۔ (میں اللہ جاننے والا ہوں) فرماتے تھے۔
۴۔ احکام قرطبی نے ۱ / ۱۳۴ میں ہے حضرت ابن مسعودؓ سے روایت ہے حروف مقطعات یہ وہ مخفی راز ہے جس کی تفسیر نہیں کی جاتی۔
۵۔ ترمذی نے حضرت ابن مسعودؓ سے روایت نقل کی ہے کہ جناب رسول اللہﷺ نے فرمایا۔ جس نے کتاب اللہ کا ایک حرف پڑھا اسے ایک نیکی ملے گی اور ایک نیکی کا بدلہ دس گنا ہے میں نہیں کہتا کہ الم ایک حرف ہے بلکہ الف ایک حرف، لام دوسرا اور میم تیسرا حرف ہے۔ (قرطبی فی الاحکام ۱۰/۳۲۰)
۶۔ السیوطی نے بیہقی سے الدر ۱ / ۲۸ میں اپنی سند کے ساتھ حضرت ابن مسعودؓ سے روایت کی ہے کہ جس نے سورة بقرہ کی دس آیات دن کی ابتداء میں پڑھ لیں تو شام تک شیطان اس کے قریب نہیں پھٹک سکتا اور اگر اس سے شام کو پڑھ لیں تو صبح تک شیطان اس کے قریب نہیں آسکتا اور وہ اہل و مال میں کوئی مناسب بات رونما ہوتی نہ پائے گا۔
۷۔ القرطبی سے احکام القرآن ۱ / ۱۳۳ میں دارمسی سے شعبی کے حوالہ سے حضرت ابن مسعودؓ سے نقل کیا کہ جس نے رات کے وقت سورة بقرہ کی دس آیات گھر میں پڑھیں وہاں شیطان نہیں داخل ہو سکتا یہاں تک کہ صبح ہو ان میں پہلی چار آیات اور آیت الکرسی اور اس کے بعد والی دو آیات اور تین آخری آیات للہ ما فی السموات والارض۔
ذٰلِكَ الْكِتٰبُ لَا رَيْبَ فِيْهِ ڔ ھُدًی لِّلْمُتَّقِيْنَ۔
اس کتاب میں کوئی شک نہیں راہ بتاتی ہے ڈر والوں کو۔
حاکم نے مستدرک ۲ / ۲۶۰ میں نقل کیا ہے کہ حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ نے فرمایا الم اللہ تعالیٰ کے مقدس نام کا ایک حرف اور الکتاب سے مراد قرآن مجید ہے۔
۲۔ طبری نے جامع ۱ /۲۲۸ میں نقل کیا ہے کہ حضرت عبد اللہ ابن عباس، حضرت عبد اللہ بن مسعود اور دیگر کئی صحابہؓ اجمعین نے لاریب فیہ کی تفسیر یہ کی ہے کہ اس میں کوئی شک نہیں۔
۳۔ طبری نے جامع ۱/۲۳۰ میں حضرت ابن عباس حضرت ابن مسعودؓ اور دیگر کئی صحابہؓ اجمعین سے نقل کیا ہے کہ یہ حضرات ھدی للمتقین کا ترجمہ یہ کرتے تھے ’’یہ اہل تقوی کے لیے روشنی ہے‘‘
۴۔ طبری نے جامع ۱/۲۳۳ میں حضرت ابن عباس حضرت ابن مسعودؓ اور دیگر کئی صحابہؓ اجمعین سے نقل کیا ہے کہ یہ حضرات ھدی للمتقین میں سے متقین سے مراد ’مومن‘ لیتے تھے۔
الذی یومنون بالغیب
جو یقین کرتے ہیں بن دیکھا پر۔
طبری نے جامع ۱/۲۳۸ میں لکھا ہے کہ حضرت ابن عباس حضرت ابن مسعودؓ اور دیگر کئی صحابہؓ اجمعین فرماتے تھے کہ الذین یومنون بالغیب سے مراد اہل عرب کے مومن ہیں۔
۲۔ طبری نے جامع ۱/۲۳۵ میں لکھا ہے کہ حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ نے فرمایا کہ الایمان سے مراد تصدیق ہے۔
۳۔ طبری نے جامع ۱/۲۳۶ میں لکھا ہے کہ حضرت ابن عباس، حضرت ابن مسعودؓ اور دیگر کئی صحابہؓ اجمعین نے فرمایا کہ الغیب میں غیب سے مراد وہ چیزیں جو بندوں سے مخفی ہیں مثلاً جنت اور جہنم کا معاملہ اور وہ تمام چیزیں جو اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں ذکر کی ہیں، عرب کے مومن اپنے پاس موجود کتاب یا علم کی بنیاد پر ان کی تصدیق نہیں کرتے تھے۔ (کر سکتے تھے)
۴۔ حاکم نے مستدرک ۲/۲۶۰ میں حضرت عبد الرحمن بن یزید سے نقل کیا ہے وہ فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ لوگوں نے حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ کے پاس حضرات صحابہ کرامؓ کے ایمان کا تذکرہ کیا تو حضرت ابن مسعودؓ نے فرمایا بیشک حضرت محمدﷺ کا معاملہ ان لوگوں کے لیے واضح تھا جنہوں نے آپ کی زیارت کی، قسم ہے اس ذات مقدس کی جس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں۔ بن دیکھے ایمان لانے سے زیادہ افضل کسی کا ایمان نہیں۔ پھر حضرت ابن مسعودؓ نے الم ذلک الکتاب لا ریب فیہ سے یومنون بالغیب تک تلاوت فرمائی۔
ومما رزقناھم ینفقون۔
اور ہمارا دیا کچھ خرچ کرتے ہیں۔
۱۔ طبری نے جامع ۱/۲۴۴ میں نقل کیا ہے کہ حضرت ابن عباس، حضرت ابن مسعودؓ اور دیگر کئی صحابہؓ اجمعین فرماتے ہیں کہ ومما رزقناھم ینفقون سے مراد وہ اخراجات ہیں جو آدمی اپنے اہل خانہ پر کرتا ہے۔ اس آیت مبارکہ کی یہ تفسیر زکوۃٰ کے احکام نازل ہونے سے پہلے کی ہے۔
۱۔ طبری نے جامع ۱/۲۴۵ میں نقل کیا ہے کہ حضرت ابن عباس، حضرت ابن مسعودؓ اور دیگر کئی صحابہؓ فرماتے تھے کہ والذین یومنون بما انزل الیک وما انزل من قبلک و بالآخرۃ ھم یوقنون۔ سے مراد اہل کتاب میں سے وہ لوگ ہیں جو ایمان لائے۔
۱۔ طبری نے جامع ۱۔ ۲۴۷ میں نقل کیا ہے کہ حضرت ابن عباس، حضرت ابن مسعودؓ اور دیگر کئی صحابہؓ فرماتے ہیں کہ الذین یومنون بالغیب سے مراد اہل عرب کے مومن ہیں اور الذین یومنون بما انزل الیک سے مراد اہل کتاب کے مومن ہیں، پھر ان دونوں گروہوں کا اکٹھا ذکر کیا اور فرمایا اولئک علی ھدی من ربھم واولئک ھم المفلحون۔
ختم اللہ علی قلوبہم الخ۔ مہر کر دی اللہ نے ان کے دل پر اور ان کے کان پر اور ان کی آنکھوں پر ہے پردہ۔
۱۔ طبری نے جامع ۱/۲۶۶ میں نقل کیا ہے کہ حضرت ابن عباس، حضرت ابن مسعودؓ اور دیگر کئی صحابہؓ ختم اللہ علی قلوبھم و علی سمعہم کی تفسیر یوں فرماتے تھے کہ پس وہ نہ سمجھتے ہیں نہ سنتے ہیں اور علی ابصارھم غشاوۃ سے پہلے تفسیر کے طور پر جعل کا لفظ مانتے تھے معنی یہ کہ ڈال دیا ان کی آنکھوں پر پردہ اور علی ابصارھم سے مراد ان کی آنکھیں ہیں معنی یہ کہ وہ دیکھتے نہیں۔
ومن الناس من یقول الخ
اور ایک لوگ وہ ہیں جو کہتے ہیں ہم یقین لائے اللہ پر اور پچھلے دن پر اور ان کو یقین نہیں۔
۱۔ طبری نے جامع ۱/۲۷۰ میں نقل کیا ہے کہ حضرت ابن عباس، حضرت ابن مسعودؓ اور دیگر کئی صحابہ کرامؓ فرماتے تھے کہ ومن الناس من یقول آمنا باللہ وبالیوم الآخر وما ھم بمومنون میں جن لوگوں کا تذکرہ ہے ان سے مراد منافق ہیں۔
فی قلوبھم مرضا الخ
ان کے دل میں آزار ہے پھر زیادہ دیا اللہ نے کو آزار۔
۱۔ طبری نے جامع ۱/۲۸۰ میں لکھا ہے کہ حضرت ابن عباس، حضرت ابن مسعودؓ اور دیگر کئی صحابہ کرام رضی الہ عنہم فرماتے تھے کہ فی قلوبھم مرض سے مراد یہ ہے کہ ان کے دل میں شک ہے۔
۲۔ طبری نے جامع ۱/ ۲۸۲ میں لکھا ہے کہ حضرت ابن عباس، حضرت ابن مسعودؓ اور دیگر کئی صحابہ کرامؓ فرماتے تھے کہ فزادھم اللہ مرضا کا معنی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے شکوک و شبہات میں اضافہ کر دیا ہے۔
واذا قیل لھم الخ
اور جب کہیے ان کو فساد نہ ڈالو ملک میں، کہیں ہمارا کام تو سنوارنا ہے۔
۱۔ طبری نے جامع ۱/۲۸۸ میں لکھا ہے کہ حضرت ابن عباس، حضرت ابن مسعودؓ اور دیگر کئی صحابہ کرامؓ فرماتے تے کہ واذا قیل لھم لا تفسدوا فی الارض قالوا انما نحن مصلحون میں جن لوگوں کا تذکرہ ہے ان سے مراد منافق ہیں اور لا تفسدوا فی الارض کی تفسیر اس طرح فرماتے تھے کہ بلا شبہ اصل فساد اور خرابی تو ہے ہی کفر اور نافرمانی کا عمل۔
قالوا انومن کما امن السفھاء
کہیں ہم اس طرح مسلمان ہوں جیسے مسلمان ہوئے بیوقوف۔
۱۔ طبری نے جامع ۱ / ۲۹۳ ۲۹۴ میں لکھا ہے کہ حضرت ابن عباس، حضرت ابن مسعودؓ اور دیگر کئی صحابہ کرامؓ فرماتے ہیں کہ قالوا انومن کما امن السفہاء
ذھب اللہ بنورہم۔
ارد گرد کو لے گیا اللہ ان کی روشنی اور چھوڑا ان کو اندھیروں میں (انہیں) نظر نہیں آتا۔
۱۔ طبری نے جامع ۱/ ۳۲۴ میں لکھا ہے کہ حضرت ابن عباس، حضرت ابن مسعودؓ اور دیگر کئی صحابہ کرامؓ اجمعین مَثَلُھُمْ كَمَثَلِ الَّذِی اسْـتَوْقَدَ نَارًا ۚ فَلَمَّآ اَضَاۗءَتْ مَا حَوْلَهٗ ذَھَبَ اللّٰهُ بِنُوْرِهِمْ وَتَرَكَھُمْ فِىْ ظُلُمٰتٍ لَّا يُبْصِرُوْنَ کی تفسیر میں فرماتے تھے کہ لوگوں کا خیال ہے کہ جناب نبی کریمﷺ کی مدینہ منورہ تشریف آوری کے وقت چند لوگ دائرہ اسلام میں داخل ہوئے پھر یہ منافق بن گئے پس ان کی حالت اس آدمی کی حالت جیسی ہے جو اندھیرے میں تھا پھر اس نے آگ روشن کی اس آگ نے تکلیف دہ چیزیں دور کر کے اس کے ارد گرد کو روشن کر دیا اب اسے نظر آنے لگا پس اس نے وہ سب کچھ پہچان لیا جس کے ذریعے یہ تکلیف دہ چیزوں سے بچ سکتا تھا۔
یہ آدمی یونہی کھڑا تھا کہ اچانک آگ بجھ گئی اب اسے پتہ ہی نہیں چل رہا کہ تکلیف دہ چیزوں سے یہ کس ذریعہ سے بچے، پس یہی کیفیت منافق کی بھی ہے۔ یہ شرک کے اندھیرے میں تھا پھر اسلام لایا یوں اس نے حلال و حرام اور اچھے برے کی پہچان کر لی تھی کہ اچانک کافر ہو گیا اب اسے حلال و حرام اور اچھے برے کی کوئی پہچان نہیں رہی۔
اور آیت کریمہ میں النور کے لفظ سے مراد آپﷺ کے لائے ہوئے دین پر ایمان لانا ہے اور الظلمۃ سے مراد ان کی منافقوں کی منافقت ہے۔
بُكْمٌ عُمْیٌ فَھُمْ لَا يَرْجِعُوْنَ
بہرے ہیں گونگے اندھے سو وہ نہیں پھریں گے۔
۱۔ طبری نے جامع ۱/۲۲۱ میں لکھا ہے کہ حضرت اہل عباس، حضرت ابن مسعودؓ اور دیگر کئی صحابہ کرامؓ فرماتے تھے کہ بکم سے مراد وہ لوگ ہیں جو بول نہیں سکتے۔
۲۔ طبری نے جامع ۱/ ۲۳۲ میں لکھا ہے کہ حضرت ابن عباس، حضرت ابن مسعودؓ اور دیگر کئی صحابہ کرامؓ اجمعین فرماتے تھے کہ فھم لایرجعون کا معنی ہے کہ اب وہ اسلام کی طرف نہیں لوٹیں گے۔
اَوْ كَصَیِّبٍ مِّنَ السَّمَآءِ فِیْهِ ظُلُمٰتٌ وَّ رَعْدٌ وَّ بَرْقٌ ۚ یَجْعَلُوْنَ اَصَابِعَهُمْ فِیْۤ اٰذَانِهِمْ مِّنَ الصَّوَاعِقِ حَذَرَ الْمَوْتِ ؕ وَ اللّٰهُ مُحِیْطٌۢ بِالْكٰفِرِیْنَ
یا جیسے مینہ پڑتا آسمان سے۔ اس میں ہیں اندھیرے اور گرج اور بجلی۔ ڈالتے ہیں انگلیاں اپنے کانوں میں مارے کڑک کے ڈر سے موت کے۔ اللہ گھیر رہا ہے منکروں کو قریب ہے بجلی کہ اچک لے ان کی آنکھیں، جس بار چمکتی ہے ان پر چلتے ہیں اس میں اور جب اندھیرا پڑا اکھرے رہے اور اگر چاہے اللہ لے جائے ان کے کان اور اور آنکھیں بیشک اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔
۱۔ طبری نے جامع ۱/ ۳۴۷ میں لکھا ہے کہ حضرت ابن عباس، حضرت ابن مسعودؓ اور دیگر چند صحابہ کرامؓ آیت مذکورہ کی تفسیر یوں فرمایا کرتے تھے کہ آیت مبارکہ میں مذکور لفظ الصیب کا معنی ہے بارش ہے۔
مزید فرماتے تھے کہ مدینہ منورہ کے دو منافق جناب رسول اللہﷺ کے ہاں سے بھاگ کر مشرکوں سے جا ملے۔ اللہ تعالیٰ نے یہاں جس بارش کا ذکر کیا ہے وہ انہی پر ہوئی تھی۔ اس بارش میں بادل بڑا سخت گرجا اور بجلیاں چمکیں۔ جب کبھی بادل کڑکتا یہ اس خوف سے اپنی انگلیاں اپنے کانوں میں ٹھونس لیتے کہ کہیں یہ کڑک ان کے کانوں میں داخل ہو کر انہیں ہلاک ہی نہ کر دے۔ اور جب بجلی چمکتی یہ چل پڑتے اور جب بجلی روشن نہ ہوتی انہیں سوجھائی نہ دیتا اپنی جگہ پر کھڑے ہو جاتے آگے نہ چلتے۔
اب یہ کہنے لگے کاش صبح جلدی ہو جائے ہم جناب رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضر ہو جائیں اور اپنے ہاتھ ان کے ہاتھ میں دے دیں۔ صبح ہوئی تو یہ دونوں آپﷺ کی خدمت اقدس میں حاضر ہو گئے اور مسلمان ہو گئے اور اپنے ہاتھ آپﷺ کے دست مبارک میں دے دئیے۔ اب پکے مسلمان ہو گئے۔ پس آس آیت مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے مدینہ منور کے منافقین کی مثال بیان فرمائی ہے۔
منافقین کی عادت یہ تھی کہ جب وہ جناب رحمت کائناتﷺ کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئے تو اپنی انگلیاں اپنے کانوں میں ڈال لیتے اس خوف سے کہ کہیں ان کے بارے میں کوئی حکم نہ نازل ہو جائے اور وہ مارے جائیں جیسے یہ دونوں منافق اپنی انگلیاں اپنے کانوں میں رکھ لیتے تھے۔
یَكَادُ الْبَرْقُ یَخْطَفُ اَبْصَارَهُمْ ؕ كُلَّمَاۤ اَضَآءَ لَهُمْ مَّشَوْا فِیْهِ ۙۗ وَ اِذَاۤ اَظْلَمَ عَلَیْهِمْ قَامُوْا ؕ وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ لَذَهَبَ بِسَمْعِهِمْ وَ اَبْصَارِهِمْ ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰی كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ
واذا اضآء لہم مشوا فیہکی تفسیر یہ ہے کہ جب ان کے مال زیادہ ہو گئے اور ان کے ہاں بچے پیدا ہونے لگے اور انہیں مال غنیمت کا حصہ ملنے لگا یا کوئی فتح حاصل ہوتی تو چل پڑتے اور کہتے کہ بیشک جناب رسول اللہﷺ کا دین سچا ہے یوں اس پر ڈٹ جاتے جیسے یہ دونوں منافق چلتے چلے جاتے تھے معنی یہ ہوا کہ جب جبلی ان دونوں کے لیے راستہ روشن کرتی تو یہ چل پڑتے۔
واذا اظلم علیہم قاموا کی تفسیر یہ ہے کہ جب ان منافقین کے مال ضائع ہوئے اور ان کے ہاں بچیاں پیدا ہونے لگیں اور کوئی اور مصیبت آئی تو انہوں نے کہا یہ سب کچھ حضرت محمدﷺ کے دین کی وجہ سے ہوا ہے پس یوں یہ دوبارہ کافر بن گئے۔ جیسے یہ دونوں منافق اس وقت رک جاتے تھے جب بجلی روشن نہ ہوتی۔
۲۔ قرطبی نے احکام ۱/ ۱۸۸ میں حضرت علی، حضرت ابن مسعودؓ اور حضرت ابن عباسؓ سے نقل کیا ہے کہ البرق لوہے کا ایک کوڑا ہے فرشتہ کے ہاتھ میں ہوتا ہے وہ اس کے ساتھ بادلوں کو ہانکتا ہے۔
یا ایہا الناس اعبدوا ربکم الذی خلقکم
لوگو! بندگی کرو اپنے رب کی جس نے بنایا تم کو اور تم سے اگلوں کو شاید تم پرہیز گاری پکڑو۔
۱۔ حاکم نے مستدرک ۳/ ۱۸ میں لکھا ہے کہ حضرت ابن عباس، حضرت ابن مسعودؓ اور چند اور صحابہ کرامؓ يٰٓاَيُّهَا النَّاسُ اعْبُدُوْا رَبَّكُمُ الَّذِیْ خَلَقَكُمْ وَالَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ کی تفسیر اس طرح فرماتے تھے کہ اس نے تمہیں پیدا کیا اور تم سے پہلے لوگوں کو پیدا کیا۔
: الذی جعل لکم الارض فراشا الخ
جس نے بنا دیا تم کو زمین بچھونا اور آسمان عمارت۔
۱۔ طبری نے جامع ۱ / ۳۶۵ میں لکھا ہے کہ حضرت ابن عباس، حضرت ابن مسعودؓ اور چند اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین الذی جعل لکم الارض فراشاً کی تفسیر یوں فرماتے تھے کہ زمین ایک ایسا بچھونا ہے جس پر لوگ چلتے ہیں اور یہ زمین بچھی ہوئی قالین اور ٹھہرنے کی جگہ ہے۔
۲۔ طبری نے جامع ۱ / ۳۶۷ میں لکھا ہے کہ حضرت ابن عباس، حضرت ابن مسعودؓ اور چند دیگر صحابہ کرامؓ والسماء بناء کی تفسیر یوں فرماتے تھے کہ آسمان زمین کے اوپر ایسے بنایا گیا ہے جیسے گنبد کی شکل ہوتی ہے اور یہ آسمان زمین کے اوپر چھت کی مانند ہے۔
فلا تجعلوا للہ الخ
سو نہ ٹھہراؤ اللہ کے برابر کوئی اور تم جانتے ہو۔
طبری نے ۱/ ۳۶۸ میں لکھا ہے کہ حضرت ابن عباس، حضرت ابن مسعودؓ اور چند اور صحابہ کرامؓ اجمعین فلا تجعلوا للہ اندادا میں اندادا کی تفسیر یوں فرماتے تھے کہ ہم پلہ اور ہمسر لوگ مراد ہیں جن کی تم اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کے کاموں میں فرمانبرداری کرتے تھے۔
ربیع نے المسند ۳ / ۸ میں لکھا ہے کہ حضرت ابن مسعودؓ فرماتے ہیں میں نے اللہ کے رسولﷺ دریافت کیا سب سے بڑا گناہ کونسا ہے تو آپﷺ نے فرمایا یہ کہ تو اللہ جل شانہ کا کوئی ہمسر بنا لے حالانکہ اللہ تعالیٰ نے تجھے پیدا کیا ہے اور وہی اللہ تعالیٰ انصاف فرمانے والے ہیں۔
حضرت امام احمد بن حنبلؒ نے مسند ۵ / ۱۸۶۔ ۱۸۷ میں لکھا ہے کہ حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ نے فرمایا ہے کہ دو بہت عمدہ باتیں ہیں ان میں سے پہلی تو میں نے جناب رسول اللہﷺ سے سنی اور دوسری میری اپنی طرف سے ہے۔ پہلی بات یہ ہے کہ جو آدمی یوں فوت ہوا کہ اس نے کسی کو اللہ تعالیٰ کا ہمسر بنا رکھا تھا تو وہ جہنم میں داخل ہو گا اور میں کہتا ہوں کہ جو آدمی یوں فوت ہوا کہ اس نے اللہ تعالیٰ کا کوئی شریک نہ بنا رکھا ہو اور نہ اس کے ساتھ کسی اور چیز کو شریک ٹھہرایا ہو وہ جنت میں داخل ہو گا۔
وان کنتم فی ریب مما نزلنا الخ
اور اگر ہو تم شک میں اس کلام سے جو اتارا ہم نے اپنے بندے پر تو لے آؤ ایک سورت اس قسم کی۔
امام رازی نے مفاتیح ۱/ ۲۲۷ میں لکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے فرمان مبارک مثلہٖ کی ضمیر مما نزلنا میں موجود مَا کی طرف لوٹ رہی ہے معنی یہ ہے کہ کوئی ایسی سورت لاؤ جو فصاحت اور حسن تنظیم میں اس قرآن مجید جیسی ہو۔ (یہ تفسیر حضرت عمر اور ابن مسعودؓ اور ان کے علاوہ چند اور صحابہ کرامؓ سے نقل کی گئی ہے)۔
فاتقوا النار التی الخ
تو بچو آگ سے جس کا ایندھن ہیں آدمی اور پتھر تیار ہے منکروں کے واسطے
۱۔ طبری نے جامع ۱ / ۳۸۱ میں لکھا ہے کہ حضرت ابن مسعودؓ وقودھا الناس و الحجارۃ کی تفسیر اس طرح فرماتے تھے کہ الحجارۃ سے مراد آگ پکڑنے والا پتھر ہے جسے اللہ تعالیٰ نے آسمان دنیا میں اس دن بنایا جس دن یہ آسمان اور زمین بنائی، اللہ تعالیٰ اسے کافروں کے لیے تیار فرما رہے ہیں۔
طبری نے جامع ۱/ ۳۸۲ میں لکھا ہے حضرت ابن مسعودؓ فرماتے تھے کہ الحجارۃ آگ پکڑنے والا ایک پتھر ہے جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے ہاں جیسا چاہا جس طرح چاہا بنایا۔
طبری نے جامع ۱/ ۳۸۲ میں لکھا ہے کہ حضرت ابن عباس، حضرت ابن مسعودؓ اور چند دیگر صحابہ کرامؓ اجمعین اتقوا النار التی وقودھا الناس والحجارۃ کی تفسیر یوں فرماتے تھے کہ الحجارۃ سے مراد آگ پکڑنے والا سیاہ رنگ کا پتھر ہے جس کے ذریعہ کافروں کو عذاب دیا جاتا ہے۔ آگ بھی ساتھ ہوتی ہے۔ قرطبی نے احکام ۱ / ۲۰۳ میں لکھا ہے کہ حضرت ابن مسعودؓ فرماتے ہیں۔ ایک دفعہ ہم جناب رسول اللہﷺ کے ساتھ تھے اچانک آپﷺ نے کسی چیز کے گرنے کی آواز سنی تو آپﷺ نے فرمایا تمہیں پتہ ہے یہ کس چیز کی آواز تھی فرماتے ہیں ہم نے عرض کیا اللہ تعالیٰ اور اس پیغمبرﷺ بہتر جانتے ہیں۔ آپﷺ نے فرمایا یہ ایک پتھر ہے جسے ستر ہزار سال پہلے جہنم میں گرایا گیا تھا وہ آگ میں نیچے کی جانب لڑھکتا رہا یہاں تک کہ وہ آج اپنی کھائی میں جا کر گرا ہے۔
سیوطی نے در ۱ / ۳۶ میں لکھا ہے کہ امام بیہقیؒ حضرت ابن مسعودؓ کا فرمان نقل کرتے ہیں بیشک تمہاری یہ دنیا والی آگ اس جہنم والی آگ کا سترواں حصہ ہے (تپش کے لحاظ سے) اور اگر اسے دو بار سمندر میں دھو کر نہ بھیجا گیا ہوتا تم اس سے کوئی فائدہ نہ اٹھا پاتے۔
سیوطی نے در ۱ / ۳۵ میں لکھا ہے کہ ابن ابی شیبہ نے اپنی مصنف میں حضرت ابن مسعودؓ کا یہ فرمان نقل کیا ہے کہ جب کوئی بندہ نماز میں ایسی آیت تلاوت کرے جس میں آگ کا ذکر ہو تو اسے چاہیے کہ وہ آگ سے الہ جل شانہ کی پناہ مانگے اور جب کوئی بندہ ایسی آیت تلاوت کرے جس میں جنت کا تذکرہ ہو تو اسے چاہیے اللہ جل شانہ سے جنت مانگے۔
و بشر الذین آمنوا الخ
اور خوشی سنا ان کو جو یقین لائے اور کام نیک کیے کہ ان کو ہیں باغ بہتی نیچے ان کے ندیاں۔
امام ابن کثیر نے اپنی تفسیر ۱ / ۹۰ میں لکھا ہے کہ ابن ابی حاتم نے حضرت ابن مسعودؓ کا یہ فرمان نقل کیا ہے کہ جنت کی نہریں کستوری کے ایک پہاڑ سے پھوٹتی ہیں۔
کلما رزقوا منہا من ثمرۃ الخ
جس بار ملے ان کو وہاں کا کوئی میوہ کھانے کہیں یہ وہی ہے جو ملا تھا ہم کو آگے۔
طبری نے جامع ۱ / ۳۸۵۔ ۳۸۶ میں لکھا ہے کہ حضرت ابن عباس، حضرت ابن مسعودؓ اور چند دیگر صحابہ کرامؓ اجمعین آیت مبارکہ قالوا ھذا الذی رزقنا من قبل کی تفسیر یوں فرماتے تھے کہ جنت میں جب جنتیوں کو کوئی پھل پیش کیا جائے گا تو وہ اسے دیکھ کر کہیں گے کہ یہ تو وہی پھل ہے جو پہلے ہیں دنیا میں دیا گیا تھا۔
واتوا بہ متشابہا
آوے گا ایک طرح کا۔
طبری نے جامع ۱ / ۳۹۰ میں لکھا ہے کہ حضرت ابن عباس، حضرت ابن مسعودؓ اور چند اور صحابہ کرامؓ واتوا بہ متشابہا کی تفسیر یوں فرماتے تھے کہ وہ پھل رنگ اور دیکھنے میں ملتا جلتا ہو گا ذائقہ میں ملتا جلتا نہیں ہو گا۔
ولہم فیھا ازواج مطہرۃ
اور ان کو ہیں وہاں عورتیں ستھری۔
طبری نے جامع ۱ / ۳۹۰ میں لکھا ہے کہ حضرت ابن عباس، حضرت ابن مسعودؓ اور چند دیگر صحابہ کرامؓ ازواج مطہرۃ کی تفسیر اس طرح فرماتے تھے کہ وہ ایسی بیویاں ہوں گی جنہیں ایام (حیض) آتے ہوں گے نہ وہ بے وضو ہوتی ہوں گی اور نہ ہی تھوک بلغم آتی ہو گی۔
وھم فیھا خالدون
اور ان کو وہاں ہمیشہ رہنا۔
سیوطی نے الدر ۱/ ۴۱ میں لکھا ہے کہ طبرانی وغیرہ نے حضرت ابن مسعودؓ کا یہ فرمان نقل کیا ہے وہ فرماتے ہیں اللہ جل شانہ کے رسول پاکﷺ نے فرمایا کہ جہنمیوں سے کہا جائے گا کہ تم دنیا میں موجود تمام کنکریوں کے تعداد کے برابر جہنم میں رہو گے تو جہنمی یہ بات سن کر خوش ہو جائیں اور اگر جنتیوں سے کہا جائے کہ تم دنیا کی تمام کنگریوں کی تعداد کے برابر جنت میں رہو گے تو وہ غمگین ہو جائیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان سب کے لیے ہمیشگی کا فیصلہ فرما دیا ہے۔
ان اللہ لا یستحی الخ
اللہ کچھ شرماتا نہیں کہ بیان کرے کوئی مثال ایک مچھر یا اس سے اوپر۔
طبری نے جامع ۱ / ۳۹۸ میں لکھا ہے کہ حضرت ابن عباس، حضرت ابن مسعودؓ اور چند دیگر صحابہ کرامؓ فرماتے تھے کہ جب اللہ تعالیٰ نے اپنے فرمان مثلہم کمثل الذی استوقد نارا اور او کصیب من السماء (یہ تین آیات) منافقین کی مثال بیان فرائی تو وہ کہنے لگے اللہ تعالیٰ ایسی مثالیں بیان کرنے سے بلند و برتر ہے۔ ان کے یہ کہنے پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت مبارکہ ان اللہ لا یستحی ان یضرب مثلا ما بعوضۃ۔۔۔ اولئک ھم الخسرون تک نازل فرمائی۔
یضل بہ کثیرا ویھدی بہ کثیرا و ما یضل بہ الا الفاسقین
گمراہ کرتا ہے اس سے بہتیرے اور راہ پر لاتا ہے اس سے بہتیرے اور گمراہ کرتا ہے انہی کو جو بے حکم ہیں۔
طبری نے جامع ۱/ ۰۸ میں لکھا ہے کہ حضرت ابن عباس، حضرت ابن مسعودؓ اور چند دیگر صحابہ کرامؓ عنہم اجمعین فرماتے ہیں کہ یضل بہ کثیرا سے مراد منافقین ہیں اور یہدی بہ کثیرا سے مراد ایمان والے ہیں۔
طبری نے جامع ۱ / ۰۹ میں لکھا ہے کہ حضرت ابن عباس، حضرت ابن مسعودؓ اور دیگر چند صحابہ کرامؓ سے منقول ہے کہ وما یضل بہ الا الفاسقین سے مراد منافقین ہیں۔
الذین ینقضون عہد اللہ من بعد میثاقہ
جو توڑتے ہیں اقرار اللہ مضبوط کیے پیچھے
امام ابن کثیر نے تفسیر ۱/ ۹۶ میں لکھا ہے کہ مفسر سدی نے اپنی سند کے ساتھ اپنی تفسیر میں لکھا ہے کہ حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان الذین ینقضون عہد اللہ من بعد میثاقہ کی تفسیر یوں فرمایا کرتے تھے کہ یہ وہ عہد جو اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں سے قرآن مجید میں لیا تھا تو انہوں نے اس کا اقرار بھی کر لیا تھا پھر اس کا انکار کر دیا یوں اسے توڑ دیا۔
کیف تکفرون الخ
تم کس طرح منکر ہو اللہ سے اور تھے تم مردے پھر اس نے تم کو جلایا پھر تم کو مارتا ہے پھر جلا دے پھر اسی پاس الٹے جاؤ گے۔
طبری نے جامع ۱/ ۴۱۸ میں لکھا ہے کہ حضرت ابن عباس، حضرت ابن مسعودؓ اور چند دیگر صحابہ کرامؓ اس آیت مبارکہ کیف تکفرون باللہ و کنتم امواتا فاحیاکم ثم یمیتکم ثم یحییکم ثم الیہ ترجعون کی تفسیر یوں بیان فرماتے تھے کہ اللہ تعالیٰ فرما رہے ہیں لوگو! تم کچھ بھی نہ تھے پس اس نے تمہیں پیدا کیا پھر وہی تمہیں موت دے گا پھر وہی تمہیں قیامت کے دن زندہ کرے گا۔
ھو الذی خلق لکم الخ
وہی ہے جس نے بنایا تمہارے واسطے جو کچھ زمین میں سب پھر چڑھ گیا آسمان کو تو ٹھیک کیا ان کو سات آسمان اور وہ ہر چیز سے واقف ہے۔
طبری نے جامع ۱ / ۴۳۵۔ ۴۳۶ میں لکھا ہے کہ حضرت ابن عباس، حضرت ابن مسعودؓ اور چند دیگر صحابہ کرامؓ مذکورہ بالا آیت مبارکہ کی تفسیر میں فرماتے تھے کہ بیشک اللہ تعالیٰ کا مقدس عرش پانی پر تھا جبکہ اس وقت تک اللہ تعالیٰ پانی سے پہلے بنائی چیزوں کے علاوہ کوئی چیز نہیں بنائی تھی۔ پھر جب اللہ تعالیٰ نے مخلوق بنانے کا ارادہ فرمایا تو پانی سے دھواں بنایا یہ دھواں پانی کے اوپر بلند ہو گیا پھر اس پر چھا گیا تو اللہ تعالیٰ نے اس کا نام آسمان رکھ دیا پھر پانی کو خشک کیا تو اسے ایک زمین کی شکل دے دی پھر اس زمین کو پھاڑا تو اس سے ہفتہ اور اتوار کے دو دنوں میں سات زمینیں بنا دیں۔ پھر زمین کو مچھلی پر رکھا (اور یہ وہی مچھلی ہے جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کی سورة القلم میں کیا ہے) اور مچھلی پانی میں تھی اور پانی ایک پتھر کی پشت پر تھا اور پتھر ایک فرشتہ کی پیٹھ پر تھا اور فرشتہ چٹان پر تھا اور چٹان ہوا میں تھی اور یہ وہی چٹان ہے جس کا ذکر حضرت لقمان نے کیا ہے یہ چٹان آسمان میں تھی نہ زمین میں، پھر مچھلی ہلی جلی تو زمین لرزنے لگی پس اللہ تعالیٰ نے اسی پر پہاڑ گار دیے تو قرار پکڑ گئی یوں پہاڑ زمین کے سامنے فخر کرنے لگے اسی بات کی طرف اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان مبارک اشارہ کر رہا ہے والقی فی الارض رواسی ان تمید بکم (اور ڈالے زمین میں بوجھ کہ کبھی جھک نہ پڑے تم کو لے کر)
اور اللہ تعالیٰ نے سوموار اور منگل کے دو دنوں میں اس زمین میں پہاڑ بنا دیے اور اہل زمین کے روزی کے ذرائع بنا دیے درخت بنا دیے اور جو زمین کے مناسب و موزوں تھا وہ سب کچھ بنا دیا اس بات کی طرف اللہ تعالیٰ نے اپنے اس فرمان مبارک میں اشارہ فرمایا ہے انکم لتکفرون بالذی خلق الارض فی یومین و تجعلون لہ اندادا ذلک رب العلمین وجعل فیھا رواسی من فوقھا وبارک فیھا (کیا تم منکر ہو اس سے جس نے بنائی زمین دو دن میں اور برابر کرتے ہو اس کے ساتھ اوروں کو وہ ہے رب جہان کا اور رکھے اس میں بوجھ اوپر سے اور برکت رکھی اس کے اندر۔ (وبارک فیھا کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ اس نے درخت پیدا کیے) وقدر فیھا اقواتھا (اور ٹھہرائیں اس میں خوراکیں اس کی۔ اس کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ اس زمین کے رہنے والوں کے لیے روزی کے ذرائع بنا دیے۔ فی اربعۃ ایام سواء للسائلین۔ (چار دن میں پوری پوچھنے والوں) فرماتے ہیں کہ جو آپ سے پوچھتے ہیں انہیں یوں بتا دیجیے (ثم استوی الی السماء وھی دخان (پھر چڑھا آسمان کو اور وہ دھواں ہو رہا تھا) یہ دھواں پانی کے سان لینے سے بنا تھا اللہ تعالیٰ نے اسے ایک آسمان بنا دیا پھر اسے پھاڑا تو جمعرات اور جمعۃ المبارک کے دو دنوں میں اس سے سات آسمان بنا دیے۔ اور جمعۃ المبارک کا یہ نام اس لیے رکھا گیا ہے کیونکہ اس دن آسمانوں اور زمین کی تخلیق مکمل ہو گئی تھی (واوحی فی کل سماء امرھا) (اور اتارا ہر آسمان میں حکم اس کا) اس کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ہر آسمان میں فرشتے پیدا کیے اور دریا اور سرد پہاڑ بنائے اور نہ معلوم کیا کچھا بنایا پھر آسمان دنیا کو ستاروں سے سجایا یہ ستارے آسمان کی زینت اور شیاطین سے حفاظت کا ذریعہ بنائے پس جب اللہ تعالیٰ اپنی پسند کی چیزیں بنا چکے تو عرش معلی پر متمکن ہوئے اسی کی طرف اشارہ فرمایا ہے اپنے اس فرمان مبارک میں خلق السموات والارض فی ستتہ ایام (اس نے پیدا کیا آسمانوں اور زمین کو چھ دن میں)
اور اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کانتا رتقا ففتقنا ھما (منہ بند تھے پھر ہم نے ان کو کھولا)
سیوطی نے الدر ۱ / ۴۴ میں لکھا ہے کہ حضرت ابن مسعودؓ فرماتے ہیں کہ آسمان اور زمین کے درمیان کا فاصلہ پانچ سو سال کی مسافت کے برابر ہے اور ہر دو آسمانوں کے درمیان کا فاصلہ بھی پانچ سو سال ہے اور ہر آسمان کا حجم پانچ سو سال کی مسافت جتنا ہے اور آسمان اور کرسی کے درمیان کا فاصلہ پانچ سو سال ہے اور کرسی اور پانی کے درمیان بھی پانچ سو سال کی مسافت ہے اور عرش مقدس پانی پر ہے اور اللہ تبارک و تعالیٰ عرش مقدس پر ہیں اور وہ تمہارے حالات کو جانتے ہیں۔
و اذ قال ربک للملائکۃ انی جاعل فی الارض خلیفۃ
اور جب کہا تیرے رب نے فرشتوں کو مجھ کو بناتا ہے زمین میں ایک نائب.
قرطبی نے احکام ۱/ ۲۲۵ میں لکھا ہے کہ حضرت ابن مسعود، حضرت ابن عباسؓ اور تمام علمائے تفسیر الخلیفہ سے حضرت آدمؑ مراد لیتے ہیں۔
طبری نے جامع ۱/ ۴۵۸۔ ۴۶۰ میں لکھا ہے کہ حضرت ابن عباس، حضرت ابن مسعودؓ اور چند دیگر صحابہ کرامؓ سے روایت ہے اللہ جل شانہ جب اپنی پسند کی چیزیں بنا کر عرش مقدس پر تشری فرما ہو گئے تو ابلیس کو آسمان دنیا کی بادشاہی دی اور یہ ابلیس فرشتوں کے ایسے خاندان سے تعلق رکھتا ہے جنہیں جن کہا جاتا ہے اور انہیں جن کہنے کی وجہ یہ ہے کہ یہ جنت کے خزانچی ہیں اور ابلیس اپنی اس بادشاہی کے ساتھ ساتھ خزانچی بھی تھا اس وجہ سے اس کے دل میں بڑائی نے انگڑائی لی اور اس نے کہا میرے کسی خصوصی مقام کی وجہ سے اللہ تعالیٰ مجھے یہ سب کچھ عطا کیا ہے۔
موسی بن ہارون کی بیان کردہ روایت کے الفاظ یوں ہی ہیں مگر ان کے علاوہ کسی اور شخص نے مجھ سے یہ الفاظ بیان کیے ہیں کہ شیطان نے کہا فرشتوں پر مجھے کوئی خصوصیت حاصل ہے اس کی وجہ سے یہ سب عطا ہوا ہے۔
جب اللہ تعالیٰ نے اس کا تکبر اور بڑائی دیکھی تو فرشتوں سے فرمایا میں زمین میں ایک نائب بنانے لگا ہوں فرشتوں نے عرض کیا وہ نائب کیسا ہو گا اللہ تعالیٰ نے فرمایا وہ ایسے لوگ ہوں گے جو زمین میں تباہی مچائیں گے اور ایک دوسرے سے حسد کریں گے اور ایک دوسرے کو قتل کریں گے فرشتوں نے عرض کیا پروردگار! کیا آپ ایسے لوگ پیدا کرنے لگے ہیں جو زمین میں خرابی پیدا کریں گے اور خونریزی کریں گے حالانکہ ہم آپ کی حمد و تسبیح کر رہے ہیں اور آپ کی تقدیس کے نغمہ الاپ رہے ہیں۔ اللہ جل شانہ نے فرمایا جو مجھے علم ہے وہ تمہیں نہیں، اس سے مراد ابلیس کی حالت ہے۔
اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے حضرت جبریل امینؑ کو مٹی لینے کے لیے زمین کی طرف بھیجا زمین کہنے لگی میں اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتی ہوں اس بات سے کہ تو مجھ میں کمی کرے یا مجھے پیدا کرے حضرت جبریل امین بغیر کچھ لیے واپس چلے گئے اور بارگاہ الٰہی میں عرض گزار ہوئے پروردگار! اس نے مجھ سے پناہ مانگی میں نے اسے پناہ دے دی۔
پھر اللہ تعالیٰ نے حضرت میکائیلؑ کو بھیجا زمین نے ان سے بھی پناہ مانگ لی وہ بھی لوٹ آئے انہوں نے بھی وہی کچھ کہا جو حضرت جبرئیلؑ نے کہا تھا۔ پھر اللہ جل شانہ نے موت کے فرشتے کو بھیجا تو زمین نے ان سے بھی پناہ مانگی لیکن انہوں نے فرمایا کہ میں اللہ جل شانہ کی پناہ مانگتا ہوں اس بات سے کہ میں اللہ تعالیٰ کا حکم پورا کیے بغیر واپس چلا جاؤں پس انہوں نے زمین اوپر والی سطح سے مٹی لے کر ملائی اور انہوں نے مٹی ایک جگہ سے نہ لی تھی بلکہ تھوڑی سی سرخ مٹی لی تھوڑی سی سفید اور تھوڑی سی سیاہ اولاد آدم کے رنگ مختلف ہونے کی وجہ یہی ہے۔ اور آدم کو آدم کہنے کی وجہ یہ ہے کہ ان کی مٹی زمین کی جلد (اوپر والی سطح) سے لی گئی ہے۔
جب ملک الموت یہ مٹی لے کر اوپر بارگاہ الٰہی میں حاضر ہوئے تو اللہ جل شانہ نے فرمایا جب زمین آپ کے سامنے گڑ گڑا رہی تھی تو آپ کو اس پر ترس کیوں نہیں آیا؟ انہوں نے عرض کیا میں آپ کا حکم اس کی بات سے زیادہ ضروری سمجھا، یہ سن کر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ آپ میں اولاد آدم کی ارواح قبض کرنے کی صلاحیت ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ مٹی اتنی تر کی (بھگوئی) کہ اس کے اجزاء ایک دوسرے سے چمٹنے لگے۔ پھر اسے یوں ہی پڑا رہنے دیا وہ ہمک دینے لگی اور رنگ وغیرہ بھی بدل گیا، اس بات کی طرف اللہ تعالیٰ کے فرمان من حما مسنون (الحجر: ۲۸) سے اشارہ ہے۔ حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ اس کا معنی کرتے ہیں مہک والی۔
پھر اللہ تعالیٰ نے فرشتوں سے کہا (میں بناتا ہوں ایک انسان مٹی کا۔ پھر جب ٹھیک بنا چکوں اور پھونکوں اس میں ایک اپنی جان تو گر پڑو اس کے آگے سجدے میں)۔
پس اللہ تعالیٰ نے حضرت آدمؑ کو اپنے دس مبارک سے بنایا تاکہ شیطان ان کے مقابلہ میں بڑائی نہ کر سکے (تاکہ اللہ تعالیٰ اسے کہیں کیا تو ایسی شخصیت کے مقابلہ میں بڑائی کا اظہار کرتا ہے جسے میں نے اپنے ہاتھ سے بنایا اور میں نے اس سے بڑائی کا اظہار نہیں کیا) یوں الہ تعالیٰ نے انہیں مکمل انسان بنا دیا۔
آپؑ مٹی کے مجسمے کی حالت میں چالیس سال رہے۔ یہ جمعۃ المبارک کے ایک دن جتنی مقدار ہے فرشتوں کا آپ کے پاس سے گزر ہوا تو انہیں دیکھ کر گھبرا گئے۔ ابلیس سب سے زیادہ گھبرایا۔ پس وہ اس کے پاس سے گزرتے ہوئے اسے ٹھوکر لگایا کرتا تو جسم سے ٹھیکری بجنے کی سی آواز نکلتی (اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے۔ کھنکھناتی مٹی سے جیسے ٹھیکرا۔ اور یہ اسے کہنا کہ کس کام کے لیے تجھے پیدا کیا گیا ہے؟ اور یہ اس جسم کے منہ میں گھسا اور پچھلے راستے سے نکل گیا اور فرشتوں سے کہنے لگا اس سے مت ڈرو بیشک تمہارا پروردگار بے نیاز ہے اور یہ پیٹ والا ہے اگر مجھے اس پر مسلط کیا گیا تو میں اسے ٹھکانے لگا دوں گا۔
بعض نے کہا ہے کہ یہ شیطان جب دیگر فرشتوں کے ہمراہ اس جسم کے پاس سے گزرتا تو کہتا اسے دیکھو کہ مخلوقات میں سے کوئی بھی اس جیسا نہیں، اگر اسے تم پر برتری دے دی گئی اور تمہیں اس کی فرمانبرداری کا حکم ملا تو کیا کرو گے؟ فرشتوں نے جواب دیا ہم اپنے پروردگار کے حکم کے سامنے سر تسلیم ختم کریں گے۔ مگر ابلیس نے دل میں ٹھان لی کہ اگر اسے مجھ پر برتری عطا کی گئی تو میں اس کی فرمانبرداری نہیں کروں گا اور اگر مجھے اس پر برتری ملی تو اس کا خاتمہ کر دوں گا۔
جب وہ وقت آیا جس کے بارے میں اللہ جل جلالہ نے ارادہ فرما رکھا تھا کہ اس وقت وہ اس جسم میں روح ڈالیں گے تو فرشتوں سے فرمایا جب میں روح اس میں پھونک دوں تو تم اسے سجدہ کرنا جب روح حضرت آدمؑ کے جسم میں ڈالی گئی تو وہ آپ کے سر میں داخل ہوئی اس سے آپ کو چھینک آ گئی فرشتوں نے آپ سے کہا الحمد للہ کہیے آپ نے الحمد للہ کہا تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا آپ کا پروردگار آپ پر رحم فرمائے۔ جب روح آپ کی آنکھوں میں داخل ہوئی تو آپ نے جنت کے پھل دیکھے، جب روح آپ کے پیٹ میں پہنچی تو آپ کو کھانے کی طلب ہوئی، آپ نے جنت کے پھلوں تک جلدی جلدی جانے کے لیے اس بات کا انتظار کیے بغیر کہ روح پاؤں تک پہنچے، چھلانگ لگا دی، اس واقعہ کی طرف اشارہ کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں خلق الانسان من عجل (بنا ہے آدمی شتابی کا)۔
(تب سجدہ کیا ان فرشتوں نے سارے اکٹھے مگر ابلیس نے نہ مانا کہ ساتھ پر ہو سجدہ کرنے والوں کے (الحجر)۔
(قبول نہ رکھا اور تکبر کیا اور وہ منکروں میں سے تھا) (البقرہ)
پس اللہ جل جلالہ نے اس سے پوچھا تجھ کو کیا مانع تھا کہ سجدہ نہ کیا اسے جسے میں نے اپنے ہاتھ سے بنایا ہے؟ تو شیطان نے کہا میں اس سے بہتر ہوں، میں مٹی سے بنے ہوئے انسان کو سجدہ نہ کروں گا۔ اللہ تعالیٰ نے اسے فرمایا (تو اتر یہاں سے تجھ کو نہ ملے گا (یعنی مناسب نہ تھا) کہ تکبر کرے یہاں سو نکل تو ذلیل ہے (الاعراف)
قالوا اتجعل فیھا من یفسد فیھا و یسفک الدماء و نحن نسبح بحمدک و نقدس لک
بولے کیا تو رکھے گا اس میں جو شخص فساد کرے وہاں اور کرے خون؟ اور ہم پڑھتے ہیں تیری خوبیاں اور یاد کرتے ہیں تیری پاک ذات کو۔
امام رازی نے مفاتیح ۱/ ۲۶۰ میں لکھا ہے کہ فرشتوں نے جو فساد اور خون ریزی کی بات بتائی تھی یہ پورے یقین سے بتائی تھی۔ حضرت ابن مسعودؓ اور دیگر چند صحابہ کرامؓ سے یوں ہی منقول ہے۔
طبری نے جامع ۱/ ۴۷۴ میں حضرت ابن عباس، حضرت ابن مسعودؓ اور دیگر چند اصحاب رسولؓ سے روایت نقل کی ہے کہ فرشتوں نے نحن نسبح بحمدک و نقدس لک میں یہ کہا کہ ہم آپ کی نماز پڑھتے ہیں۔
قال انی اعلم مالا تعلمون
کیا مجھ کو معلوم ہے جو تم نہیں جانتے؛
طبری نے جامع ۱/ ۴۷۷ میں حضرت ابن عباس، حضرت ابن مسعودؓ اور چند اور صحابہ کرامؓ سے نقل کیا ہے کہ انی اعلم مالا تعلمون سے مراد ابلیس کی حالت ہے۔
وَعَلَّمَ آدَمَ الأسْمَاءَ كُلَّهَا
اور سکھائے آدم کو نام سارے۔
پھر ساری مخلوق فرشتوں کے سامنے کی گئی تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا مجھے ان کے نام بتاؤ اگر تم اپنی اس بات میں سچے ہو کہ اولاد آدم زمین میں فساد مچائے گی اور خون بہائے گی۔ فرشتوں نے جواب دیا (تو سب سے نرالا ہے ہم کو معلوم نہیں مگر جتنا تو نے سکھا دیا تو ہی ہے اصل دانا پختہ کار۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا (اے آدم بتا دے ان کو نام ان کے پھر جب اس نے بتا دیے نام ان کے کہا میں نے نہ کہا تھا تم کو مجھ کو معلوم ہیں پردے آسمان اور زمین کے اور معلوم ہے جو تم ظاہر کرو اور جو تم چھپاتے ہو۔
حضرت ابن مسعودؓ فرماتے ہیں کہ فرشتوں کی یہ بات اتجعل فیھا من یفسد فیھا وہ ہے جو انہوں نے ظاہر کر دی تھی اور ما کنتم تکتمون (جو تم چھپاتے ہو) سے مراد شیطان کا وہ تکبر ہے جو اس نے اپنے دل میں چھپا رکھا تھا۔
ابن جوزی نے زاد ۱ / ۶۰ میں لکھا ہے کہ حضرت آدمؑ کی خلافت کا مطلب یہ ہے کہ آپؑ اللہ تعالیٰ کی شریعت اور اس کی توحید کے دلائل کے قیام اور اس کی مخلوق میں اس کا حکم نافذ کرنے میں اس کے نائب بنائے گئے تھے۔ حضرت ابن مسعودؓ اور مجاہد نے بھی یوں ہی فرمایا ہے۔
طبری نے جامع ۱ / ۴۵۲ میں حضرت ابن عباس حضرت ابن مسعودؓ اور دیگر صحابہ کرامؓ سے نقل کیا ہے کہ بیشک اللہ تعالیٰ نے فرشتوں سے کہا کہ میں زمین میں ایک نائب بنانے لگا ہوں تو انہوں نے پوچھا وہ نائب کیسا ہو گا؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا اس کی اولاد ہو گی جو زمین فساد کرے گی ایک دوسرے سے حسد کرے گی اور ایک دوسرے کو قتل کرے گی۔
طبری نے جامع ۱ / ۴۸ میں حضرت ابن عباس، حضرت ابن مسعودؓ اور دیگر چند صحابہ کرامؓ سے نقل کیا ہے کہ جب موت کے فرشتے کو حضرت آدمؑ کا جسم بنانے کے لیے زمین سے مٹی لانے کے لیے بھیجا گیا تو انہوں نے زمین کے اوپر اوپر سے مٹی لی اور اسے آپس میں ملا دی۔ انہوں نے مٹی ایک جگہ سے نہیں لی تھی بلکہ انہوں نے سرخ، سفید اور سیاہ مٹی لی تھی اسی وجہ سے حضرت آدمؑ کی اولاد کے رنگ مختلف ہیں اور حضرت آدمؑ کو آدم اس لیے کہا جاتا ہے کیونکہ انہیں زمین کی جلد سے لی گئی مٹی سے بنایا گیا ہے۔
وعلم آدم الاسماء کلہا ثُمَّ عَرَضَهُمْ عَلَی الْمَلائِكَةِ
اور سکھائے آدم کو نام سارے پھر وہ دکھائے فرشتوں کو)
طبری نے جامع ۱/۴۸۷ میں لکھا ہے کہ حضرت ابن عباس، حضرت ابن مسعودؓ اور دیگر چند صحابہ کرامؓ نے ثم عرضہم کی تفسیر یوں کی ہے کہ پھر مخلوق فرشتوں کے سامنے لائی گئی۔
قرطبی نے احکام ۱/ ۲۴۲ میں لکھا ہے کہ حضرت ابن مسعودؓ وغیرہ مفسرین نے اس کی تفسیر یوں فرمائی ہے اشخاص پیش کیے۔
فَقَالَ أَنْبِئُونِي بِأَسْمَاءِ هَؤُلاءِ إِنْ كُنْتُمْ صَادِقِينَ
تو کہا بتاؤ مجھ کو نام ان کے اگر ہو تم سچے۔
طبری نے جامع ۱/ ۴۹۰ میں لکھا ہے کہ حضرت ابن عباس، حضرت ابن مسعودؓ اور دیگر چند صحابہ کرامؓ نے ان کنتم صادقین کی تفسیر یوں فرمائی ہے کہ اگر تم سچے ہو اس بات میں کہ اولاد آدم زمین میں فساد مچائے گی اور خون ریزی کرے گی۔
امام رازی نے مفاتیح ۱/ ۲۶۵ میں حضرت ابن عباس اور حضرت ابن مسعودؓ کا یہ فران نقل کیا ہے کہ اگر تم سچے ہو اپنی اس بات میں کہ مخلوق میں سے تمہارے سوا کوئی عبادت کر سکتا ہے نہ اس کی صلاحیت رکھتا ہے اور نہ ہی اسے قائم کر سکتا ہے۔
وَأَعْلَمُ مَا تُبْدُونَ وَمَا كُنْتُمْ تَكْتُمُونَ
اور معلوم ہے جو تم ظاہر کرتے ہو اور جو تم چھپاتے ہو۔
طبری نے جامع ۱/ ۴۹۸ میں لکھا ہے کہ حضرت ابن عباس، حضرت ابن مسعودؓ اور دیگر چند صحابہ کرامؓ اس آیت کی تفسیر یوں فرماتے ہیں کہ جو بات وہ ظاہر کر رہے تھے وہ یہ تھی۔ اتجعل فیھا من یفسد فیہا۔ اور جو بات چھپائی جا رہی تھی وہ شیطان کا تکبر تھا جو اس نے اپنے دل میں چھپا رکھا تھا۔
وَإِذْ قُلْنَا لِلْمَلائِكَةِ اسْجُدُوا لآدَمَ فَسَجَدُوا إِلا إِبْلِيسَ أَبَی وَاسْتَكْبَرَ
اور جب ہم نے کہا فرشتوں کو سجدہ کرو آدم کو سجدہ۔ گر پڑے مگر ابلیس نے قبول نہ رکھا اور تکبر کیا۔
طبری نے جامع ۱/ ۵۰۳ میں حضرت ابن عباس، حضرت ابن مسعودؓ اور دیگر چند صحابہ کرامؓ سے نقل کیا ہے کہ ابلیس کو آسمان دنیا کی بادشاہی عطا کی گئی تھی۔ فرشتوں کے ایک قبیلہ جسے جن کے نام سے پکارا جاتا ہے سے اس کا تعلق ہے۔ اور جن انہیں اس لیے کہا جاتا ہے کیونکہ یہ قبیلہ جنت کا خزانچی ہے۔ ابلیس کے پاس اپنی بادشاہی بھی تھی اور خزانچی بھی تھا۔
وَقُلْنَا يَا آدَمُ اسْكُنْ أَنْتَ وَزَوْجُكَ الْجَنَّةَ
اور کہا ہم نے اے آدم بس تو اور تیری عورت جنت میں ۔
طبری نے جامع ۱/ ۵۱۲ میں حضرت ابن عباس حضرت ابن مسعودؓ اور دیگر چند صحابہ کرامؓ سے نقل کیا ہے کہ اللہ کے دشمن ابلیس پر جب لعنت کر دی گئی اور اسے جنت سے نکال باہر کر دیا گیا تو اس نے زمین پر آنے سے پہلے اللہ تعالیٰ کی عزت کی قسم اٹھا کر کہا وہ حضرت آدمؑ آپ کی اولاد اور آپ کی بیوی کو ضرور ورغلائے گا ہاں اللہ تعالیٰ کے چند مخلص بندے بچ رہیں گے
وقلنا یا آدم اسکن انت وزوجک الجنۃ
اور کہا ہم نے اے آدم بس تو اور تیری عورت جنت میں۔
۱۔ طبری نے جامع ۵۱۲۔ ۱ میں حضرت ابن عباس، حضرت ابن مسعودؓ اور دیگر چند صحابہ کرامؓ سے نقل کیا ہے کہ اللہ کے دشمن ابلیس پر جب لعنت کر دی گئی اور اسے جنت سے نکال باہر کر دیا گیا تو اس نے زمین پر آنے سے پہلے اللہ تعالیٰ کی عزت کی قسم اٹھا کر کہا وہ حضرت آدم آپ کی اولاد اور آپ کی بیوی کو ضرور ورغلائے گا ہاں اللہ تعالیٰ کے چند مخلص بندے بچ رہیں گے۔
۲۔ طبری نے جامع ۵۱۳/۱ میں حضرت ابن عباس، حضرت ابن مسعودؓ اور دیگر چند صحابہ کرامؓ سے نقل کیا ہے کہ شیطان کو ملعون قرار دے کر جنت سے نکال دیا گیا۔ حضرت آدمؑ کو جنت میں سکونت عطا فرما دی گئی۔ آپؑ اس میں تنہا تنہا چلتے تھے تسکین کے لیے بیوی تھی نہ کوئی اور جس سے آپ مانوس ہوتے تو اللہ تعالیٰ نے آپ پر نیند طاری کر دی پھر آپ کی بائیں جانب کی پسلیوں میں ایک پسلی لے لی اور وہاں گوشت رکھ دیا اور اس پسلی سے جناب حوا کو پیدا فرما دیا۔ جب آپؑ بیدار ہوئے تو اپنے سر مبارک کے پاس ایک عورت بیٹھی دیکھی جسے اللہ تعالیٰ نے آپ کی پسلی سے پیدا فرمایا تھا۔ آپ نے اس سے پوچھا تو کون ہے؟ انہوں نے جواب دیا میں ایک عورت ہوں مجھے آپ کی پسلی سے پیدا کیا گیا ہے۔ آپ نے پوچھا تجھے کس لیے پیدا کیا گیا ہے؟ انہوں نے جواب دیا آپ کی تسکین کی خاطر۔ فرشتوں نے آپ کا علم جانچنے کے لیے آپؑ سے پوچھا جناب ان کا نام کیا ہے؟ حضرت آدمؑ نے فرمایا حوا انہوں نے پوچھا حوا نام رکھنے کی وجہ کیا ہے؟ آپ نے فرمایا وجہ یہ ہے کہ یہ ایک زندہ چیز سے بنائی گئی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا
یٰۤاٰدَمُ اسْكُنْ اَنْتَ وَ زَوْجُكَ الْجَنَّةَ وَ كُلَا مِنْهَا رَغَدًا حَیْثُ شِئْتُمَا (اے آدم بس تو اور تیری عورت جنت میں اور کھاؤ اس میں سے محظوظ ہو کر جس جگہ چاہو۔
۱۔ طبری نے جامع ۵۱۵/۱ میں نقل کیا ہے کہ حضرت ابن عباس، حضرت ابن مسعودؓ اور دیگر چند صحابہ کرامؓ فرماتے ہیں۔ وکلا منہا رغدا میں الرغد سے مراد بے فکری ہے۔
ولا تقربا ہذہ الشجرۃ فتکونا من الظالمین
اور نزدیک نہ جاؤ اس درخت کے پھر تم بے انصاف ہو گے۔
۱۔ طبری نے جامع ۵۱۹/۱ میں لکھا ہے کہ حضرت ابن عباس، حضرت ابن مسعودؓ اور چند دیگر حضرت صحابہ کرامؓ نے فرمایا ولا تقربا ھذہ الشجرۃ میں درخت سے مراد انگور کا درخت ہے۔ جبکہ یہودیوں کا خیال یہ ہے کہ اس سے گندم کا پودا مراد ہے۔
۲۔ علامہ بغوی نے معالم ۴۲/۱ میں لکھا ہے کہ حضرت ابن مسعودؓ نے فرمایا اس سے مراد انگور کا درخت ہے۔
فَأَزَلَّهُمَا الشَّيْطَانُ عَنْهَا فَأَخْرَجَهُمَا مِمَّا كَانَا فِيهِ وَقُلْنَا اهْبِطُوا بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ
پھر ڈگمگایا ان کو شیطان نے اس سے پھر نکالا ان کو وہاں سے جس آرام میں تھے اور کہا ہم نے ان کو اترو تم سب ایک دوسرے کے دشمن ہو۔
۱۔ قرطبی نے احکام ۲۶۶ میں لکھا ہے کہ حضرت ابن مسعود، حضرت ابن عباسؓ اور علماء کرام کی اکثریت اس بات کی قائل ہے کہ جب شیطان نے حضرت آدم و حوا کو بہلایا پھسلایا اس وقت وہ انہیں نظر آ رہا تھا۔
۲۲۔ طبری نے جامع ۵۲۸/۱ میں حضرت ابن عباس، حضرت ابن مسعودؓ اور چند دیگر صحابہ کرامؓ اجمعین سے نقل کیا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے حضرت آدمؑ سے فرمایا کہ آپ اور آپ کی زوجہ محترمہ دونوں جنت میں رہو اور اس سے جہاں سے چاہو بے فکر ہو کر کھاؤ پیو مگر اس درخت کے قریب نہ جانا کہ کہ ورنہ تم ناانصاف لوگوں میں سے ہو جاؤ گے تو شیطان نے چاہا کہ وہ بھی ان کے پاس جنت میں جائے مگر جنت کے پہریداروں نے اسے روک دیا۔ اب یہ اونٹ کی طرح چار ٹانگوں والے بہت خوبصورت سانپ کے پاس گیا اور اس سے بات کی کہ وہ اسے اپنے منہ میں رکھ لے اور جنت میں حضرت آدمؑ کے پاس لے جائے۔ سانپ نے اسے اپنے جبڑے میں رکھ لیا اور پہریداروں کے پاس سے گزر کر جنت میں داخل ہو گیا اور پہریدار نہ جان سکے کہ اللہ تعالیٰ نے کیا ارادہ فرمایا ہے۔
اب شیطان نے سانپ کے جبڑے میں بیٹھے بیٹھے حضرت آدمؑ سے بات کی مگر حضرت آدمؑ اس کی بات کسی خاطر میں نہ لائے تو جبڑے سے باہر نکل آیا اور کہنے لگا آدم! کیا میں آپ کو ہمیشگی اور نہ ختم ہونے والی بادشاہی کے درخت کا راستہ دکھاؤں (طہ /۱۲۰) مزید کہا کیا میں تمہیں ایسے درخت کے بارے میں نہ بتاؤں کہ اگر تم اس سے کھاؤ تو تم بھی اللہ تعالیٰ کی طرح بادشاہ بن جاؤ یا تم دونوں ہمیشہ ہمیشہ زندہ رہو اور کبھی تم پر موت نہ آئے اور اس نے ان دونوں کو اللہ تعالیٰ کی قسم دے کر کہا میں تمہارا خیر خواہ ہوں (الاعراف/۲۱)
مقصد اس کا یہ تھا کہ ان کا لباس تار تار ہو اور ان کی ڈھکی ہوئی شرمگاہیں ظاہر ہو جائیں اسے علم تھا کہ ان کی شرمگاہیں ہیں کیونکہ یہ سب کچھ اس نے فرشتوں کی کتابوں میں پڑھ رکھا تھا۔ جبکہ حضرت آدمؑ یہ بات نہ جانتے تھے۔ اور ان دونوں کا لباس ناخن کا تھا۔
اب حضرت آدمؑ نے تو درخت کا پھل کھانے سے انکار کر دیا مگر حضرت حواء (علیہا السلام) آگے آئیں اور کھا لیا پھر حضرت آدمؑ سے کہنے لگیں آدم! تم بھی تو کھاؤ دیکھو میں نے کھایا ہے اس نے مجھے کوئی نقصان نہیں دیا۔ پس جب حضرت آدمؑ نے کھایا تو (ان کی شرمگاہیں کھل گئیں اور وہ جنت کے پتے اپنے اوپر چپکانے لگے) (الاعراف/۲۲)
۳۔ طبری نے تاریخ ۱۱۲/۱ میں لکھا ہے کہ حضرت ابن عباس، حضرت ابن مسعودؓ اور دیگر صحابہ کرامؓ اھبطو بعضکم لبعض عدو) کی تفسیر میں فرمایا کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے سانپ پر لعنت کی اس کی ٹانگیں کاٹ دیں اور اسے یوں ہی چھوڑ دیا کہ اپنے پیٹ کے بل چلے اور مٹی سے اپنی روزی تلاش کرے، اور حضرت آدم، حواء علیہا السلام، شیطان اور سانپ کو زمین کی طرف بھیج دیا۔
وَلَكُمْ فِي الأرْضِ مُسْتَقَرٌّ وَمَتَاعٌ إِلَی حِينٍ
اور تم کو زمین میں ٹھہرنا ہے اور کام چلانا ہے ایک مدت تک۔
۱۔ امام سیوطی نے الدر ۵۵/۱ میں لکھا ہے کہ ابو الشیخ نے حضرت ابن مسعودؓ سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان (ولکم فی الارض مستقر) کی یہ تفسیر نقل کی ہے کہ ایک ٹھکانا زمین کے اوپر ہے اور ایک ٹھکانا زمین کے نیچے ہے۔
ومتاع الی حین (کام چلانا ہے ایک مدت تک) کی تفسیر یہ فرمائی ہے کہ فائدہ اٹھانے کا وقت جنت یا جہنم کے دروازہ تک ہے۔
فَتَلَقَّى آدَمُ مِنْ رَبِّهِ كَلِمَاتٍ فَتَابَ عَلَيْهِ
پھر سیکھ لیں آدم نے اپنے رب سے کئی باتیں پھر متوجہ ہوا اس پر۔
۱۔ علامہ زمخشری نے کشاف ۶۳۔ ۶۴/۱ میں نقل کیا کہ حضرت ابن مسعودؓ نے فرمایا بیشک اللہ تعالیٰ کو بڑی پسند آئی وہ بات جو ہمارے جد امجد حضرت آدمؑ نے کہی تھی جبکہ ان سے لغزش سرزد ہو گئی اور وہ یہ تھی سبحنک اللہ وبحمدک و تبارک اسمک وتعالی جدک۔ لا الہ انت ظلمت نفسی فاغفرلی انہ لایغفر الذنوب الا انت۔
ترجمہ: اے اللہ جل جلالہ آپ کی ذات ہر عیب سے پاک ہے اور آپ ہی کی تعریفیں ہیں۔ آپ کا نام بابرکت ہے اور آپ کی شان بلند ہے۔ آپ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں۔ میں نے اپنے آپ پر ظلم کر لیا مجھے بخش دیجیے کیونکہ گناہ صرف آپ ہی معاف کر سکتے ہیں۔
۲۔ سیوطی نے الدر ۶۱/۱ میں لکھا ہے کہ خطیب نے اپنے امالی اور ابن عساکر نے نقل کیا ہے کہ حضرت ابن مسعودؓ فرماتے ہیں جناب نبی کریمﷺ نے فرمایا ہے جب حضرت آدمؑ نے درخت میں سے کھا لیا تو اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی فرمائی کہ میرے پڑوس سے چلے جاؤ مجھے میری عزت کی قسم میرا نافرمان میرے پڑوس میں نہیں رہ سکتا۔
حضرت آدمؑ زمین کی طرف چلے آئے۔ آپ کی رنگت سیاہ تھی۔ زمین رو پڑی اور گڑ گڑانے لگی۔ پھر اللہ تعالیٰ نے وحی فرمائی اے آدم! میری رضا جوئی کے لیے تیرہویں کا روزہ رکھو آپ نے روزہ رکھا تو آپ کے جسم اطہر کا تیسرا حصہ مفید ہو گیا پھر اللہ تعالیٰ نے وحی فرمائی اے آدم! میری خاطر آج چودھویں کا روزہ رکھو۔ آپؑ نے روزہ رکھا تو آپؑ کے جسم مبارک کے دو حصے سفید ہو گئے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے آپ کی طرف وحی فرمائی کہ اے آدم! میری خوشنودی کے لیے آج پندرہویں تاریخ کا روزہ رکھو۔ آپؑ نے روزہ رکھا تو آپ کے تمام جسم اطہر کی رنگت سفید ہو گئی اسی وجہ سے ان تین دنوں کو ایام بیض کا نام دیا گیا۔
يَا بَنِي إِسْرَائِيلَ اذْكُرُوا نِعْمَتِيَ الَّتِي أَنْعَمْتُ عَلَيْكُمْ وَأَوْفُوا بِعَهْدِي أُوفِ بِعَهْدِكُمْ
اے بنی اسرائیل یاد کرو احسان میرا جو میں نے کیا تم پر اور پورا کرو اقرار میرا تو میں پورا کروں گا اقرار تمہارا)۔
۱۔ طبری نے جامع ۵۰۹/۱۱ میں حضرت ابن مسعودؓ کا فرمان لکھا ہے کہ اسرائیل سے مراد حضرت یعقوبؑ ہیں۔
۲۔ سیوطی نے الدر ۶۳۔ ۶۴/۱ میں لکھا ہے کہ حضرت ابن عباسؓ اللہ تعالیٰ کے فرمان اوفو بعہدی کی تفسیر یوں فرماتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں میں نے جو تمہیں اپنی فرمانبرداری کا حکم دیا ہے اور حضرت محمد رسول اللہﷺ کے حوالے سے اپنی نافرمانی کرنے سے جو روکا ہے تو تم یہ وعدہ پورا کرو (اوف بعہدکم) یعنی میں تم سے راضی ہو جاؤں گا اور تمہیں جنت میں داخل کروں گا۔
ابن المنذر نے حضرت ابن مسعودؓ سے اس آیت مبارکہ کی ایسی ہی تفسیر نقل کی ہے۔
وَآمِنُوا بِمَا أَنْزَلْتُ مُصَدِّقًا لِمَا مَعَكُمْ وَلا تَكُونُوا أَوَّلَ كَافِرٍ بِهِ:
اور مانو جو کچھ میں نے اتارا ہے سچ بتاتا تمہارے پاس والے کو اور مت ہو تم پہلے منکر اس کے۔
۱۔ ابن جوزی نے زاد ۱۷۴/۱ میں لکھا ہے کہ حضرت ابن مسعودؓ اور حضرت ابن عباسؓ کا فرمان ہے کہ کافر بہ میں جو ہ ضمیر ہے اس سے مراد نازل کی جانے والی چیز ہے یعنی قرآن مجید۔
أَتَأْمُرُونَ النَّاسَ بِالْبِرِّ وَتَنْسَوْنَ أَنْفُسَكُمْ وَأَنْتُمْ تَتْلُونَ الْكِتَابَ
کیا حکم کرتے ہو لوگوں کو نیک کام کا اور بھولتے آپ کو اور تم پڑھتے ہو کتاب۔
۱۔ امام سیوطی نے الدر ۱/۶۵ میں لکھا ہے کہ حضرت امام احمد بن حنبل نے حضرت ابن مسعودؓ کی یہ روایت نقل فرمائی ہے کہ آپؓ نے سات بار دوہرا کر یہ فرمایا: ہلاکت و بربادی ہے اس کے لیے جو علم نہیں رکھتا اور اگر اللہ تعالیٰ چاہتے تو اسے ضرور علم عطا فرما دیتے۔ اور ہلاکت و بربادی ہے اس کے لیے جس کے پاس علم کی دولت تو ہے مگر علم سے دامن خالی ہے۔
وَاسْتَعِينُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلاةِ
اور قوت پکڑو محنت سہارنے سے اور نماز سے۔
۱۔ سیوطی نے الدر ۱/۶۶ میں لکھا ہے کہ امام بیہقی نے حضرت ابن مسعودؓ سے روایت نقل کی ہے وہ فرماتے ہیں جناب نبی کریمﷺ نے فرمایا صبر آدھا ایمان ہے اور یقین پورا ایمان ہے۔
وَإِذْ نَجَّيْنَاكُمْ مِنْ آلِ فِرْعَوْنَ يَسُومُونَكُمْ سُوءَ الْعَذَابِ يُذَبِّحُونَ أَبْنَاءَكُمْ وَيَسْتَحْيُونَ نِسَاءَكُمْ:
اور جب چھڑایا ہم نے تم کو فرعون کے لوگوں سے دیتے تم کو بری تکلیف ذبح کرتے تمہارے بیٹے اور جیتی رکھتے تمہاری عورتیں۔
۱۔ طبری نے تاریخ ۱/۳۸۸ میں لکھا ہے کہ حضرت ابن عباس، حضرت ابن مسعودؓ اور چند دیگر صحابہ کرامؓ سے روایت ہے:
فرعون کا قصہ یہ ہے کہ اس نے خوب میں دیکھا بیت المقدس سے ایک آگ آئی ہے اور مصر کے گھر اپنی لپیٹ میں لے لیے ہیں، اس نے قطبی جلا ڈالے ہیں اور بنی اسرائیل کو چھوڑ دیا ہے۔ اور مصر کے گھر تباہ و برباد کر کے رکھ دیے ہیں۔
فرعون نے جادوگر، کاہن، نجومی، قیافہ شناس اور اندازے لگانے والے جمع کیے اور ان سے اپنے کو اب کی تعبیر پوچھی، انہوں نے اسے کہا بنو اسرائیل جس شہر سے آئے ہیں یعنی بیت المقدس اس شہر سے ایک آدمی آئے گا جو مصر تباہ کر دے گا۔ یہ سن کر فرعون نے حکم جاری کیا بنو اسرائیل کے ہاں پیدا ہونے والے ہر بچے کو ذبح کر دیا جائے اور ہر بچی کو چھوڑ دیا جائے اور اپنی قوم قبط سے کہا اپنے غلاموں کا خیال رکھو جو باہر کام کرتے ہیں انہیں گھر بلا لو اور ان حقیر کاموں پر بنو اسرائیل کو لگا دو۔ یوں وہ اپنے غلاموں کے کام بنو اسرائیل سے کرانے لگا۔ اور ان لوگوں نے اپنے غلام گھروں میں بٹھا لیے۔ اس کی اسی حرکت کی طرف اللہ تعالیٰ نے اپنے اس ارشاد میں اشارہ فرمایا ہے (ان فرعون علا فی الارض) (فرعون چڑھ رہا تھا ملک میں) مطلب یہ کہ اس ملک میں جبر سے کام لیا (وجعل اھلہا شیعا) (اور کر رکھے تھے وہاں کے لوگ کئی جتھے) مراد بنو اسرائیل ہیں کہ انہیں اس نے حقیر کاموں لگا دیا (یستضعف طائفۃ منہم یذبح ابنائہم (القصص/۴) (کمزور کر کرھا ایک فرقے کو ان میں ذبح کرتا ان کے بیٹے)
پس بنو اسرائیل کے ہاں پیدا ہونے والا ہر بچہ ذبح کیا جانے لگا کوئی بچہ بڑا نہ ہو پاتا۔ اللہ تعالیٰ کے حکم سے بنو اسرائیل کے بوڑھے جلدی جلدی مرنے لگے۔ یہ صورتحال دیکھ کر قبطیوں کے بڑے لوگ فرعون کے پاس گئے اور اسے کہنے لگے موت نے ان کے گھروں میں ڈیرے ڈال لیے ہیں۔ عنقریب کام کاج کا سارا بوجھ ہمارے غلاموں پہ آنے والا ہے۔ کیونکہ ہم ان کے بیٹے ذبح کرتے جا رہے ہیں ان کا کوئی بچہ بڑا نہیں ہو پاتا جبکہ بڑے فنا کے گھاٹ اتر رہے ہیں تو ان کے بچوں کو زندہ رہنے دیا کر۔
فرعون نے کہا چلو ٹھیک ہے ایک سال ذبح کر لیا کرو اور ایک سال چھوڑ دیا کرو۔ حضرت ہارونؑ اس سال پیدا ہوئے جس سال بچے ذبح نہیں کیے جاتے تھے تو وہ زندہ چھوڑ دیے گئے جبکہ حضرت موسیٰؑ کی والدہ محترمہ اس سال حاملہ ہوئیں جس سال بچے ذبح کیے جاتے تھے۔
وَإِذْ فَرَقْنَا بِكُمُ الْبَحْرَ فَأَنْجَيْنَاكُمْ وَأَغْرَقْنَا آلَ فِرْعَوْنَ وَأَنْتُمْ تَنْظُرُونَ
اور جب ہم نے چیرا تمہارے بیٹھنے کے ساتھ دریا پھر بچا دیا تم کو اور ڈبو دیا فرعون کے لوگوں کو اور تم دیکھتے تھے۔
۱۔ بغوی نے معالم ۱/۴۹ میں لکھا ہے کہ حضرت ابن مسعودؓ نے فرمایا حضرت موسیٰؑ کے ساتھیوں کی تعداد چھ لاکھ ستر ہزار تھی۔
۲۔ قرطبی نے احکام ۱/۳۳۲ میں لکھا ہے حضرت ابن مسعودؓ نے فرمایا: حضرت موسیٰؑ بنی اسرائیل کو لے کر راتوں رات چلے گئے تو فرعون کو خبر ہو گئی۔ اس نے ایک بکری ذبح کرنے کا حکم دیا اور کہا بخدا اس کی کھال اترنے سے پہلے چھ لاکھ قبطیوں کا لشکر جمع ہو جائے گا۔
حضرت ابن مسعودؓ فرماتے ہیں حضرت موسیٰؑ چلتے چلتے دریا کے کنارے پر پہنچ گئے اور دریا سے فرمایا راستہ دو۔ دریا نے عرض کی جناب والا آپ نے بات بہت بڑی کر دی ہے۔ کہا میں نے پہلے کبھی کسی انسان کو راستہ دیا ہے کہ آپ کو دوں؟
حضرت ابن مسعودؓ فرماتے ہیں حضرت موسیٰؑ کے گھوڑے پر آپ کے ساتھ ایک آدمی سوار تھا اس نے آپ سے عرض کی اے اللہ کے نبی! آپ کو کہا جانے کا حکم دیا گیا ہے؟ آپ نے فرمایا یہیں دریا پر آنے کا حکم ہوا ہے۔ حضرت ابن مسعودؓ فرماتے ہیں اس آدمی نے آپ کا گھوڑا دریائی لہروں پر ڈال دیا وہ تیرتا تیرتا باہر نکل گیا۔ وہاں اس آدمی نے عرض کیا اے اللہ کے نبی! کہاں کا حکم ہے؟ آپ نے فرمایا یہیں کا حکم ہے۔ اس نے عرض کیا جناب والا اللہ کی قسم آپ نے جھوٹ نہ بولا نہ آپ سے جھوٹ کہا گیا۔ یہ کہہ کر اس نے پھر دوسری بار گھوڑا دریا میں ڈال دیا۔ گھوڑا تیرتا ہوا باہر نکل آیا۔ اس نے پھر پوچھا اے اللہ کے نبی آپ کو کہاں جانے کا حکم ہوا ہے؟ آپ نے فرمایا یہیں کا حکم ہے۔ اس نے کہا اللہ کی قسم! آپ نے جھوٹ بولا نہ آپ سے جھوٹ کہا گیا۔
حضرت ابن مسعودؓ فرماتے ہیں اسی جگہ اللہ تعالیٰ نے وحی فرمائی (ان اضرب بعصاک الحجر) (اپنا عصا مبارک سمندر پر ماریے) تو حضرت موسیٰؑ نے سمندر پر اپنا عصا مبارک مارا۔ فانفلق فکان کل فرق کالطود العظیم) (الشعراء:۶۳) (تو ہو گئی پر پھانک جیسے بڑا پہاڑ)
؎ بارہ قبائل کے لیے دریا میں بارہ راستے بن گئے۔ ہر خاندان کے لیے ایک ایسا راستہ بن گیا کہ وہ ایک دوسرے کو دیکھ بھی رہے تھے۔ صورت اس کی یہ تھی کہ پانی کے جو بڑے بڑے پہاڑ بنے تھے ان میں کھڑکیاں اور روشندان بن گئے جن کے ذریعے وہ ایک دوسرے کو دیکھ سکتے تھے۔
حضرت موسیٰؑ کے ساتھی جب دریا پار کر گئے تو فرعون لشکر دریا کے ان راستوں میں آ کے کھڑا ہو گیا اوپر سے دریا کا پانی آپس میں پہلے کی طرح مل گیا اور انہیں غرق کر کے ک رکھ دیا۔
بیان کیا جاتا ہے کہ یہ دریا بحر قلزم تھا اور حضرت موسیٰؑ کے گھوڑے پر سوار ہونے والی شخصیت حضرت یوشع بن نون کی تھی اور یہ کہ اللہ تعالیٰ نے دریا سے کہا تھا جب حضرت موسیٰؑ تجھے ماریں تو انہیں راستہ دے دینا۔ دریا نے وہ رات بڑی بے چینی میں گزاری۔ صبح ہوئی تو حضرت موسیٰؑ نے اسے مارا اور ابو خالد کی کنیت سے نوازا۔
وَإِذْ قُلْتُمْ يَا مُوسَى لَنْ نُؤْمِنَ لَكَ حَتَّى نَرَى اللَّهَ جَهْرَةًاور جب تم نے کہا اے موسیٰ! ہم یقین نہ کریں گے تم پر جب تک نہ دیکھ لیں اللہ کو سامنے۔
۱۔ ابن الجوزی نے زاد ۸۳/۱ میں حضرت ابن مسعودؓ اور حضرت ابن عباسؓ کے حوالے سے لکھا ہے کہ یہ بات جن لوگوں نے کی، وہ ستر پسندیدہ آدمی تھے۔
وَأَنْزَلْنَا عَلَيْكُمُ الْمَنَّ وَالسَّلْوَى
اور اتارا تم پر من اور سلویٰ ۔
۱۔ طبری نے جامع ۹۶/۲ میں لکھا ہے کہ حضرت ابن عباس، حضرت ابن مسعودؓ اور چند دیگر صحابہ کرامؓ نے فرمایا سلوی ایک پرندہ تھا جس کی شکل بٹیر جیسی تھی۔
وَإِذْ قُلْنَا ادْخُلُوا هَذِهِ الْقَرْيَةَ
اور جب کہا ہم نے داخل ہو اس شہر میں۔
۱۔ ابن جوزی نے زاد ۸۴/۱ میں حضرت ابن مسعودؓ اور حضرت ابن عباس اور چند اور مفسرین کرام سے نقل کیا ہے کہ بستی سے مراد بیت المقدس ہے۔
وَادْخُلُوا الْبَابَ سُجَّدًا وَقُولُوا حِطَّةٌ نَغْفِرْ لَكُمْ خَطَايَاكُمْ وَسَنَزِيدُ الْمُحْسِنِينَ فَبَدَّلَ الَّذِينَ ظَلَمُوا قَوْلا غَيْرَ الَّذِي قِيلَ لَهُمْ
اور داخل ہو دروازے میں سجدہ کر کے اور کہو گناہ اتریں تو بخشیں ہم تم کو تقصیریں تمہاری اور زیادہ بھی دیں گے نیکی کرنے والوں کو پھر بدل لی بے انصافوں نے بات سوائے اس کے جو کہہ دی تھی ان کو۔
۱۔ ابن کثیر نے اپنی تفسیر ۱/۱۴۰ میں نقل کیا ہے حضرت ابن مسعودؓ فرماتے ہیں انہیں کہا گیا تھا (ادخلوا الباب سجدا) داخل ہو دروازے میں سجدہ کر کے۔ مگر یہ دئیے گئے حکم کے برعکس سر اٹھا کر داخل ہوئے۔
۲۔ طبری نے جامع ۱۱۳/۲ میں لکھا ہے حضرت ابن مسعودؓ اس آیت مبارکہ (ادخلوا الباب سجدا وقولوا ھطۃ) (داخل ہو دروازے میں سجدہ کر کے اور کہو اتریں گناہ) کی تفسیر میں فرماتے تھے کہ انہوں نے یوں کہا حنطۃ حمراء فیھا شعیرۃ۔ جو ملی سرخ گندم دے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت مبارکہ نازل فرمائی (فبدل الذین ظلموا قول غیر الذی قیل لھم) (پھر بدل لی بے انصافوں نے بات سوائے اس کے جو کہہ دی تھی ان کو ۔
۳۔ طبری نے جامع ۲/۱۱۴ میں لکھا ہے حضرت ابن مسعودؓ نے فرمایا: ان یہودیوں نے یہ الفاظ کہے تھے ھطی سقایا ازبۃ ہزباء۔ عربی زبان میں ان الفاظ کا ترجمہ یہ ہے حبۃ حنطۃ حمراء شقوبۃ فیھا شعیرۃ سوداء۔ یعنی چمکدار سرخ گندم ہو جس میں سیاہ جو بھی ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے اس فرمان میں ان کی اسی حرکت کی طرف اشارہ فرمایا ہے فبدل الذین ظلمو قول غیر الذی قیل لھم۔
وَبَاءُوا بِغَضَبٍ مِنَ اللَّهِ ذَلِكَ بِأَنَّهُمْ كَانُوا يَكْفُرُونَ بِآيَاتِ اللَّهِ وَيَقْتُلُونَ النَّبِيِّينَ بِغَيْرِ الْحَقِّ
اور کما لائے غصہ اللہ کا۔ یہ اس پر کہ وہ تھے نہ مانتے حکم اللہ کا اور خون کرتے نبیوں کا ناحق۔
۱۔ ابن کثیر نے اپنی تفسیر ۱/۱۴۶ میں لکھا ہے حضرت ابن مسعودؓ نے فرمایا بنی اسرائیل دن کو تین تین سو انبیاء (علیہم السلام) کو شہید کیا کرتے تھے اور شام کو بازاروں میں خرید و فروخت بھی جاری رکھتے تھے۔
۲۔ امام احمد بن حنبلؒ نے اپنی مسند ۵/ ۳۳۲۔ ۳۳۳ میں روایت نقل فرمائی ہے حضرت ابن مسعودؓ فرماتے ہیں جناب رسول اللہﷺ نے فرمایا قیامت کے دن جنہیں سخت ترین سزا دی جائے گی ان میں ایک آدمی وہ ہو گا جسے کسی نبی نے قتل کیا ہو گا یا جس نے کسی نبی کو شہید کیا ہو گا اور ایک آدمی ہو گا جس نے گمراہی کی قیادت کی ہو گی اور ایک آدمی وہ ہو گا جس نے بطور سزا کسی کا ناک کان وغیرہ کاٹا ہو گا یعنی مثلہ کرنے والا۔
إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هَادُوا وَالنَّصَارَى وَالصَّابِئِينَ مَنْ آمَنَ بِاللَّهِ الخ
یوں ہے کہ جو لوگ مسلمان ہوئے اور جو لوگ یہودی ہوئے اور نصاریٰ اور صائبین اور جو کوئی یقین لایا۔۔۔ ۔
۱۔ واحدی نے اسباب ۲۳۔ ۲۴ میں لکھا ہے کہ حضرت ابن عباس حضرت ابن مسعودؓ اور چند دیگر صحابہ کرامؓ اجمعین نے اس آیت مبارکہ کے بارے میں فرمایا کہ آیت مبارکہ کا پہلا حصہ ان الذین آمنوا والذین ھادوا حضرت سلمان فارسی کی شان میں نازل ہوا جو کہ جندیسا پور کے معزز لوگوں میں سے تھے اور باقی حصہ یہودیوں کے بارے میں اترا ہے۔
۲۔ سیوطی نے الدر ۷۵۔ ۷۴/۱ میں لکھا ہے کہ ابو الشیخ نے روایت نقل کی ہے حضرت ابن مسعودؓ فرماتے ہیں۔ ہمیں خوب معلوم ہے یہودیوں کا یہودیت اور نصاریٰ کا نصرانیت کا نام کہاں سے پڑا۔ یہودیوں کا یہ نام ان کی اس بات کی وجہ سے پڑا جو یہ حضرت موسیٰؑ سے کہا کرتے تھے (انا ھدنا الیک) (الاعراف)
جب حضرت موسیٰؑ اللہ تعالیٰ کے پاس چلے گئے تو انہوں نے کہا یہ بات حضرت موسیٰؑ کو بڑی پسند آتی تھی۔ یوں انہیں یہود کہا جانے لگا۔
اور نصاریٰ کا نام نصرانیت ان کی اس بات سے پڑا جو حضرت عیسیٰؑ نے ان سے کہی تھی (من انصاری الی اللہ قال الحواریون نحن انصار اللہ) (آل عمران۔ ۵۲۔ الصف۔ ۱۴) یوں ان کا نام نصرانی پڑ گیا۔
فَوَيْلٌ لِلَّذِينَ يَكْتُبُونَ الْكِتَابَ بِأَيْدِيهِمْ ثُمَّ يَقُولُونَ هَذَا مِنْ عِنْدِ اللَّهِ لِيَشْتَرُوا بِهِ ثَمَنًا قَلِيلا فَوَيْلٌ لَهُمْ مِمَّا كَتَبَتْ أَيْدِيهِمْ وَوَيْلٌ لَهُمْ مِمَّا يَكْسِبُونَ
سو خرابی ہے ان کو جو لکھتے ہیں کتاب اپنے ہاتھ سے پھر کہتے ہیں کہ یہ اللہ کے پاس سے ہے کہ لیویں اس پر مول تھوڑا سو خرابی ہے ان کو اپنے ہاتھ کے لکھے سے اور خرابی ہے ان کو اپنی کمائی سے۔
۱۔ سیوطی نے الدر ۸۲/۱ میں لکھا ہے کہ سعید ابن منصور، ابن المنذر، طبرانی اور بیہقی نے حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ سے روایت نقل کی ہے، آپؓ نے فرمایا ویل جہنم میں بہنے والے ایک نالے کا نام ہے جس میں جہنمیوں کی پیپ بہتی ہے۔
۲۔ ابن ابی داؤد نے مصاحف ۱۶۰ میں نقل کیا ہے کہ حضرت ابن مسعودؓ قرآن مجید کی خرید و فروخت کو مکروہ سمجھتے تھے۔
قُلْ أَتَّخَذْتُمْ عِنْدَ اللَّهِ عَهْدًا فَلَنْ يُخْلِفَ اللَّهُ عَهْدَهُ
تو کہہ کیا لے چکے ہو اللہ کے ہاں سے اقرار تو البتہ خلاف نہ کرے گا اللہ اپنا اقرار۔
۱۔ علامہ بغوی نے معالم ۶۶/۱ میں لکھا ہے حضرت ابن مسعودؓ فرماتے ہی عہد سے مراد اللہ جل جلالہ کی وحدانیت کا عہد ہے۔
بَلَى مَنْ كَسَبَ سَيِّئَةً وَأَحَاطَتْ بِهِ خَطِيئَتُهُ فَأُولَئِكَ أَصْحَابُ النَّارِ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ۔
کیوں نہیں جس نے کمایا گناہ اور گھیر لیا اس کو اس سے گناہ نے سو وہی ہیں لوگ دوزخ کے وہ اسی میں رہ پڑے۔
۱۔ حضرت امام احمد بن حنبلؒ رحمۃ واسعۃ نے اپنی مسند ۳۱۲۔ ۳۱۳/۵ میں حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ سے روایت نقل کی ہے۔ وہ فرماتے ہیں جناب رحمت دو عالمﷺ نے فرمایا تم اپنے آپ کو چھوٹے چھوٹے گناہوں سے بچاؤ وہ اکٹھے ہو کر آدمی کو ہلاکت میں ڈال دیتے ہیں جناب رسول اللہﷺ نے ان کی اسی طرح مثال بیان فرمائی کہ کچھ لوگ جنگل بیابان میں اترے قوم کے کام کا وقت آیا تو ایک ایک آدمی جا کر ایک ایک لکڑی لاتا گیا۔ یہاں تک کہ ایک ڈھیر جمع ہو گیا۔ پھر انہوں نے آگ بھڑکائی اور جو چاہا اس آگ میں ڈال کر پکایا۔
وَإِذْ أَخَذْنَا مِيثَاقَ بَنِي إِسْرَائِيلَ لا تَعْبُدُونَ إِلا اللَّهَ وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا وَذِي الْقُرْبَى وَالْيَتَامَى وَالْمَسَاكِينِ وَقُولُوا لِلنَّاسِ حُسْنًا وَأَقِيمُوا الصَّلاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ۔
اور جب ہم نے لیا اقرار بنی اسرائیل کا بندگی نہ کر لو مگر اللہ کی اور ماں باپ سے سلوک نیک اور قرابت والے سے اور یتیموں سے اور محتاجوں سے اور کہیو لوگوں سے نیک بات اور کھڑی رکھو نماز اور دیتے رہیو زکوٰۃ۔
۱۔ طبری نے جامع ۲۹۷/۲ میں لکھا ہے حضرت ابن مسعودؓ واقیموا الصلاۃ کی تفسیر میں فرماتے ہیں نماز قائم کرنے سے مراد یہ رکوع و سجود اور تلاوت صحیح صحیح کی جائے، عاجزی کا اظہار ہو اور نماز میں تلاوت کی طرف پوری پوری توجہ رکھی جائے۔
وَآتَيْنَا عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ الْبَيِّنَاتِ وَأَيَّدْنَاهُ بِرُوحِ الْقُدُسِ
اور دیے عیسیٰ مریم کے بیٹے کو معجزے صریح اور قوت دی اس کو روح پاک سے۔
۱۔ سیوطی نے الدر ۸۶/۱ میں لکھا ہے حضرت ابن مسعودؓ فرماتے ہیں روح القدس سے مراد حضرت جبریل امین ہیں۔
وَكَانُوا مِنْ قَبْلُ يَسْتَفْتِحُونَ عَلَى الَّذِينَ كَفَرُوا فَلَمَّا جَاءَهُمْ مَا عَرَفُوا كَفَرُوا بِهِ
اور پہلے سے فتح مانگتے تھے کافروں پر۔ پھر جب پہنچا ان کو جو پہچان رکھا تھا اس سے منکر ہوئے۔
۱۔ سیوطی نے الدر ۸۸ میں لکھا ہے کہ امام بیہقی نے دلائل نبوت میں یہ روایت نقل کی ہے، حضرت ابن عباس، حضرت ابن مسعودؓ اور چند دیگر صحابہ کرامؓ اس آیت مبارکہ کی تفسیر میں فرماتے ہیں: اہل عرب جب یہودیوں کے پاس سے گزرتے تو انہیں تنگ کیا کرتے تھے، یہودی چونکہ تورات میں جناب محمد رسول اللہﷺ کا ذکر خیر پڑھا کرتے تھے اس لیے یہ اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے کہ اللہ وہ نبی بھیجے تاکہ ہم اس کے ہمراہ ہو کر اہل عرب سے لڑیں، مگر جب آقائے دو جہاںﷺ تشریف لے آئے تو انہوں نے آپ کا انکار کر دیا وجہ یہ تھی کہ آپ بنی اسرائیل میں سے کیوں نہیں ہوئے۔
فَبَاءُوا بِغَضَبٍ عَلَى غَضَبٍ
سو کما لائے غصہ پر غصہ۔
۱۔ ابن جوزی نے زاد المسیر ۱۱۴/۱ میں حضرت ابن مسعودؓ اور حضرت ابن عباسؓ کے حوالے سے لکھا ہے۔ پہلا غضب اس وجہ سے تھا کہ انہوں نے بچھڑے کو اپنا معبود بنایا اور دوسرا غضب اس لیے کہ انہوں نے ختمی مرتبت جناب محمد رسول اللہﷺ وسلم کا انکار کیا۔
وَمَا كَفَرَ سُلَيْمَانُ وَلَكِنَّ الشَّيَاطِينَ كَفَرُوا يُعَلِّمُونَ النَّاسَ السِّحْرَ وَمَا أُنْزِلَ عَلَى الْمَلَكَيْنِ بِبَابِلَ هَارُوتَ وَمَارُوتَ وَمَا يُعَلِّمَانِ مِنْ أَحَدٍ حَتَّى يَقُولا إِنَّمَا نَحْنُ فِتْنَةٌ فَلا تَكْفُرْ
اور کفر نہیں کیا سلیمان نے لیکن شیطانوں نے کفر کیا لوگوں کو سکھائے سحر اور اس علم کو جو اترا دو فرشتوں پر بابل میں ہاروت اور ماروت پر اور وہ نہ سکھاتے کسی کو جب تک نہ کہتے کہ ہم تو ہیں آزمانے کو سو تو مت کافر ہو۔
۱۔ ابن جوزی نے زاد ۱۲۳/۱ میں حضرت ابن مسعودؓ اور دیگر مفسرین کرام کے حوالے سے لکھا ہے کہ فرشتوں پر اترنے والی چیز جادو تھی۔
۲۔ قرطبی نے احکام ۴۶۔ ۴۷/۲ میں لکھا ہے حضرت ابن مسعودؓ نے کوفہ والوں سے فرمایا تھا تم بابل اور حیرہ کے درمیان میں بستے ہو۔
۳۔ بغوی نے معالم ۷۵/۱ میں لکھا ہے حضرت ابن مسعودؓ نے فرمایا: بابل کوفہ کی سرزمین ہے۔
۴۔ طبری نے جامع ۴۲۸/۲ میں لکھا ہے حضرت ابن مسعودؓ اور حضرت ابن عباسؓ فرماتے ہیں: جب انسانوں کی تعداد بہت بڑھ گئی اور انہوں نے اللہ جل جلالہ کی نافرمانی کرنا شروع کر دی تو فرشتوں، زمین اور پہاڑوں نے اللہ تعالیٰ سے ان کے خلاف ان الفاظ سے بد دعا کی اے پروردگار! انہیں تباہ و برباد کیوں نہیں کرتا۔
اللہ تعالیٰ نے فرشتوں سے کہا اگر میں شہوت اور شیطان تمہارے دلوں پر مسلط کر کے تمہیں زمین پر بھیجوں تو تم بھی ایسا ہی کرو۔ فرشتے آپس میں کہنے لگے اگر ہمیں یوں آزمایا گیا تو ہم گناہ کے پاس بھی نہ پھٹکیں گے۔
اللہ تعالیٰ نے ان سے فرمایا تم اپنے میں سے دو معزز فرشتے منتخب کر لو۔ انہوں نے ہاروت و ماروت کو چنا، چنانچہ ان دونوں کو زمین پر بھیج دیا گیا، پھر زہرہ نامی ستارے کو ایک پارسی عورت کی شکل دے کر ان کے پاس بھیجا گیا، اہل فارس اس کا نام بیزخت بتاتے تھے۔ پس یہ دونوں فرشتے گناہ میں مبتلا ہو گئے۔ اب باقی فرشتوں نے مومنوں کے لیے اللہ جل جلالہ سے ان الفاظ کے ساتھ مغفرت مانگی۔ ربنا وسعت کل شیئ رحمۃ وعلما فاغفر للذین تابو (اے ہمارے رب تیری رحمت و علم ہر چیز پر وسیع ہے تو توبہ کرنے ہے ہم کو بخش دے) گناہ میں مبتلا ہونے کے بعد انہوں نے بھی اہل زمین کے لیے مغفرت مانگی۔
الا ان اللہ ھو الغفور الرحیم
سنتا ہے! وہی معاف کرنے والا مہربان ہے۔
پھر انہیں کہا گیا کہ تم اپنے لیے دنیوی عذاب چنو گے یا اخروی تو انہوں نے دنیاوی عذاب چنا۔ (یہ اسرائیلیات سے ماخوذ ہے)
۵۔ طبری نے جامع ۴۶۰/۲ میں لکھا ہے حضرت ابن مسعودؓ آیت کریمہ وما انزل علی الملکین ببابل ھاروت و ماروت کی تفسیر میں فرماتے ہیں یہ اترنے والے دونوں فرشتے تھے۔ انہیں زمین پر اس لیے بھیجا گیا تاکہ یہ لوگوں کے درمیان فیصلے کریں۔
اور اس کی وجہ یہ ہوئی کہ فرشتوں نے انسانوں کے کیے ہوئے فیصلوں کا مذاق اڑایا تھا۔ چنانچہ ایک عورت فیصلے کے لیے اپنا معاملہ ان فرشتوں کے سامنے لے کر تو یہ اس سے انصاف نہ کر سکے۔ پھر یہ اوپر جانے لگے تو انہیں روک دیا گیا۔
۶۔ علامہ بغوی نے معالم ۶۷/۱ میں لکھا ہے حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ نے فرمایا ان دونوں کو قیامت تک کے لیے ان کے عقل و شعور سے لٹکا دیا گیا ہے۔
۷۔ علامہ ابن کثیر نے اپنی تفسیر ۲۰۶/۱ میں لکھا ہے حضرت ابن مسعودؓ روایت فرماتے ہیں آقائے دو جہاںﷺ نے فرمایا۔ جو آدمی کسی نجومی یا جادوگر کے پاس گیا اور اس کی بات کی تصدیق کی تو اس نے جناب محمد رسول اللہﷺ پر اترنے والی وحی مبارک کا انکار کیا۔
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا
اے ایمان والو۔
۱۔ حاکم نے مستدرک ۲۲۴/۲ میں لکھا ہے حضرت ابن مسعودؓ نے فرمایا ہم نے مکہ مکرمہ میں سورة بقرہ کئی سال تک پڑھی اس میں یا ایہا الذین آمنوا نہیں تھا۔ (یہاں سورة سے وہ بعض آیات مراد ہیں جو مکہ میں اتریں)
۲۔ ابن کثیر نے اپنی تفسیر ۲۱۳ /۱ میں لکھا ہے ایک آدمی حضرت ابن مسعودؓ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا میرے ذمہ کوئی کام لگا دیجیے۔ آپؓ نے فرمایا تو جب بھی سنے کہ اللہ تعالیٰ یا ایہا الذین آمنوا کے الفاظ سے مخاطب ہیں تو تو اسے غور سے سننا کیونکہ اس کے ذریعہ یا تو کسی نیکی کا حکم دیا جا رہا ہو گا یا کسی برائی سے روکا جا رہا ہو گا۔
وَدَّ كَثِيرٌ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ لَوْ يَرُدُّونَكُمْ مِنْ بَعْدِ إِيمَانِكُمْ كُفَّارًا حَسَدًا مِنْ عِنْدِ أَنْفُسِهِمْ مِنْ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمُ الْحَقُّ فَاعْفُوا وَاصْفَحُوا حَتَّى يَأْتِيَ اللَّهُ بِأَمْرِهِ
دل چاہتا ہے بہت کتاب والوں کا کسی طرح تم کو پھیر کر مسلمان ہوئے پیچھے کافر کر دیں حسد کر کے اپنے اندر بعد اس کے کہ کھل چکا ان پر حق سو درگزر کرو اور خیال میں نہ لاؤ جب تک بھیجے اللہ اپنا حکم۔
۱۔ ابن جوزی نے زاد ۱۳۲/۱ میں لکھا ہے حضرت ابن مسعودؓ اور حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ معافی اور درگزر کا حکم اللہ تعالیٰ کے اس حکم قاتلوا الذین لایؤمنون باللہ ولا بالیوم الآخر ولا یحرمون ما حرم اللہ ورسولہ (التوبہ/ ۲۹)۔ لڑو ان لوگوں سے جو یقین نہیں رکھتے اللہ پر اور نہ پچھلے دن پر نہ حرام جانیں جو حرام کیا اللہ نے اور اس کے رسول نے۔، کے ساتھ منسوخ ہو چکا ہے۔
وَمَا تُقَدِّمُوا لأنْفُسِكُمْ مِنْ خَيْرٍ تَجِدُوهُ عِنْدَ اللَّهِ
اور جو آگے بھیجو گے اپنے واسطے بھلائی وہ پاؤ گے اللہ کے پاس۔
۱۔ امام احمد بن حنبلؒ نے اپنی مسند ۳۲۳۔ ۳۲۴/۵ میں حضرت ابن مسعودؓ کی یہ روایت نقل فرمائی ہے۔ آپؓ بیان کرتے ہیں اللہ کے رسول محترمﷺ نے فرمایا: تم میں سے ایسا کون ہے جسے اس کے وارث کا مال اپنے مال سے زیادہ پسند ہو؟ صحابہ کرامؓ نے عرض کیا۔ اللہ کے رسول! ہم میں ہر ایک کو اپنا مال اپنے وارث کے مال سے زیادہ پسند ہے۔
جناب رسول اللہﷺ نے فرمایا خوب جان لو تم میں ایسا کوئی نہیں جسے اس کے وارث کا مال اپنے مال سے زیادہ پسند نہ ہو۔ دیکھو تمہارے مال میں سے تمہارا صرف وہی ہے جو تم راہ خدا میں خرچ کر کے آگے بھیج رہے ہو اور جو کچھ تم بچا رہے ہو یہ تو تمہارے وارث کا مال ہے۔
وَلِلَّهِ الْمَشْرِقُ وَالْمَغْرِبُ فَأَيْنَمَا تُوَلُّوا فَثَمَّ وَجْهُ اللَّهِ
اور اللہ ہی کی ہے مشرق اور مغرب سو جس طرف تم منہ کرو وہاں ہی متوجہ ہے اللہ)۔
۱۔ سیوطی نے الدر ۱۰۸/۱۰۹/۱ میں لکھا ہے کہ ابن المنذر نے حضرت ابن مسعودؓ اور دیگر کئی صحابہ کرامؓ سے اس آیت مبارکہ کی تفسیر یوں روایت کی ہے کہ ہجرت نبویﷺ کے بعد سولہ ماہ تک صحابہ کرامؓ بیت المقدس کو منہ کر کے نماز پڑھتے رہے۔ اس دوران آپﷺ جب بھی نماز پڑھتے تو اپنا سر مبارک آسمان کی طرف کر کے دیکھتے کہ آپﷺ کو کیا حکم دیا جائے گا چنانچہ کعبۃ اللہ شریف کی طرف منہ کرنے کے حکم سے یہ بیت المقدس والا حکم ختم کر دیا گیا۔
الَّذِينَ آتَيْنَاهُمُ الْكِتَابَ يَتْلُونَهُ حَقَّ تِلاوَتِهِ
جن کو ہم نے دی ہے کتاب وہ اس کو پڑھتے ہیں جو حق ہے پڑھنے کا۔
۱۔ طبری نے جامع ۵۶۶۔ ۵۶۷/۲ میں لکھا ہے حضرت ابن مسعودؓ اللہ جل جلالہ کے اس فرمان یتلونہ حق تلاوتہ کا ترجمہ یوں فرماتے تھے کہ وہ اس کتاب کی بات ایسے مانتے ہیں جیسے بات ماننے کا حق ہے۔
۲۔ ۲۔ طبری نے جامع ۵۶۷/۲ میں لکھا ہے حضرت ابن مسعودؓ نے فرمایا قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کتاب اللہ کی تلاوت کا حق یوں ادا ہوتا ہے کہ کتاب اللہ کی حلال کی ہوئی چیزوں کو حلال سمجھا جائے اور کتاب اللہ کی حرام کی ہوئی چیزوں کو حرام سمجھا جائے اور اسے یوں پڑھا جائے، جیسے اللہ جل جلالہ نے اسے اتارا ہے، اس کے کلمات کو ان کی جگہوں سے بدلا نہ جائے اور اس کا کوئی مفہوم ایسا بیان نہ کیا جائے جو درحقیقت اس کا مفہوم نہ ہو۔
وَإِذْ جَعَلْنَا الْبَيْتَ مَثَابَةً لِلنَّاسِ وَأَمْنًا وَاتَّخِذُوا مِنْ مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلًّى
اور جب ٹھہرایا یہ گھر کعبہ اجتماع کی جگہ لوگوں کی اور پناہ اور کر رکھو جہاں کھڑا ہوا ابراہیم نماز کی جگہ۔
۱۔ ابن جوزی نے زاد ۱۴۲/۱ میں لکھا ہے اور سدی نے اسے حضرت ابن مسعودؓ اور حضرت ابن عباسؓ کے حوالے سے ذکر کیا ہے کہ پتھر پر حضرت ابراہیمؑ کے کھڑے ہونے کا واقعہ یوں پیش آیا کہ حضرت ابراہیمؑ اپنے فرزند حضرت اسماعیل کو تلاش کر رہے تھے وہ نہ ملے تو آپ کی زوجہ محترمہ نے عرض کیا سواری سے نیچے اتریں۔ آپؑ نے اترنے سے ان کا فرمایا تو کہنے لگیں آئیے میں آپ کا سر مبارک دھو دوں۔ یہ کہہ کر وہ ایک پتھر لے آئیں آپؑ نے سواری پر رہتے ہوئے ہی اپنا ایک پاؤں مبارک اس پتھر پر رکھا تو انہوں نے سر کا ایک حصہ دھو دیا۔ زوجہ محترمہ نے پتھر سواری کی دوسری جانب رکھنے کے لیے اٹھایا تو دیکھا کہ آپؑ کے مبارک پاؤں کا نقش اس پتھر پر ثبت ہو چکا تھا زوجہ محترمہ نے پتھر دوسری جانب رکھا اور وہ حصہ بھی دھو دیا۔ آپؑ کا اس طرف والا پاؤں بھی پتھر پر اپنا نقش بنا چکا تھا۔ پس اللہ جل جلالہ نے اس پتھر کو اپنی معزز نشانیوں میں سے بنا لیا۔
وَعَهِدْنَا إِلَى إِبْرَاهِيمَ وَإِسْمَاعِيلَ أَنْ طَهِّرَا بَيْتِيَ لِلطَّائِفِينَ وَالْعَاكِفِينَ وَالرُّكَّعِ السُّجُودِ
اور کہہ دیا ہم نے ابراہیم اور اسماعیل کو کہ پاک رکھو گھر میرا واسطے طواف والوں کے اور اعتکاف والوں کے اور رکوع اور سجدے والوں کے۔
۱۔ سیوطی نے الدر ۱۳۶/۱ میں لکھا ہے جندی نے حضرت ابن مسعودؓ کا یہ فرمان نقل کیا ہے۔ لوگو! اس سے پہلے کہ بیت اللہ شریف اٹھا لیا جائے اور لوگ اس کی جگہ بھی بھول جائیں، کثرت سے اس کا طواف کیا کرو۔
سَيَقُولُ السُّفَهَاءُ مِنَ النَّاسِ مَا وَلاهُمْ عَنْ قِبْلَتِهِمُ الَّتِي كَانُوا عَلَيْهَا
اب کہیں گے بیوقوف لوگ کا ہے پر پھر گئے مسلمان لوگ اپنے قبلہ سے جس پر تھے۔
۱۔ ابن الجوزی نے زاد ۱۵۳/۱ لکھا ہے السفہاء سے مراد منافق ہیں۔ سدی نے یہ تفسیر حضرت ابن مسعودؓ اور حضرت ابن عباسؓ کے حوالے سے ذکر کی ہے۔
وَمِنْ حَيْثُ خَرَجْتَ فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَحَيْثُمَا كُنْتُمْ فَوَلُّوا وُجُوهَكُمْ شَطْرَهُ لِئَلا يَكُونَ لِلنَّاسِ عَلَيْكُمْ حُجَّةٌ إِلا الَّذِينَ ظَلَمُوا مِنْهُمْ فَلا تَخْشَوْهُمْ وَاخْشَوْنِي۔
اور جہاں سے تو نکلے منہ کر طرف مسجد حرام کے اور جس جگہ تم ہوا کرو منہ کرو اسی کی طرف کہ نہ رہے لوگوں کو تم سے جھگڑنے کی جگہ مگر جو ان میں بے انصاف ہیں سو ان سے مت ڈرو اور مجھ سے ڈرو۔
۱۔ طبری نے جامع ۲۰۳/۳ میں حضرت ابن عباس، حضرت ابن مسعودؓ اور چند دیگر صحابہ کرامؓ سے روایت کی ہے جب آپﷺ کا قبلہ بیت المقدس سے تبدیل کر کے بیت اللہ شریف کی طرف کیا گیا تو مکہ مکرمہ کے مشرک آپس میں کہنے لگے محمدﷺ کا دل اپنے دین سے پھر گیا ہے اسی لیے وہ تمہارے قبلہ کی طرف منہ کرنے لگے ہیں اور انہیں علم ہو گیا ہے کہ تم ان سے زیادہ سیدھے راستے پر ہو۔ عنقریب وہ تمہارے دین میں داخل ہو جائیں گے۔ تو اللہ جل جلالہ نے ان کے متعلق یہ آیت مبارکہ اتاری (وَمِنْ حَيْثُ خَرَجْتَ فَوَلِّ الخ)
فَاذْكُرُونِي أَذْكُرْكُم
تو تم یاد رکھو مجھے میں یاد رکھوں تم کو۔
۱۔ چار اشیاء: سیوطی نے الدر ۱/۱۴۹ میں لکھا ہے طبرانی، ابن مردویہ اور امام بیہقی نے حضرت ابن مسعودؓ سے یہ روایت نقل کی ہے۔ آپؓ فرماتے ہیں اللہ کے رسولﷺ نے فرمایا: جو چار چیزیں دے گا اسے چار چیزیں ملیں گی۔ اس کی وضاحت قرآن مجید میں ہے جو ذکر کرے گا اللہ تعالیٰ اسے یاد رکھے گا کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں (تم مجھے یاد کرو میں تمہیں یاد کروں) جو دعا کرے گا اس کی دعا قبول کی جائے گی کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں (مجھ کو پکارو کہ پہنچوں تمہاری پکار کو) (غافر/۶۰) جو شکر بجا لائے گا اس کی نعمتوں میں اضافہ کیا جائے گا کیونکہ اللہ جل شانہ فرماتے ہیں (اگر حق مانو گے تو اور دوں گا) (ابراہیم/۷) اور جو اللہ تعالیٰ سے بخشش طلب کرے گا اسے بخش دیا جائے گا کیونکہ فرمان حق تعالیٰ شانہ ہے (گناہ بخشواؤ اپنے رب سے بیشک وہ ہے بخشنے والا) نوح/۱۰)
الَّذِينَ إِذَا أَصَابَتْهُمْ مُصِيبَةٌ قَالُوا إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ
کہ جب ان کو پہنچے کچھ مصیبت کہیں ہم اللہ کا مال ہیں اور ہم کو اسی طرف پھر جانا ہے۔
۱۔ سیوطی نے الدر ۱/۱۵۷ میں لکھا ہے۔ ابن ابی شیبہ اور ابن ابی دنیا نے حضرت عوف بن عبد اللہؓ سے یہ روایت بیان کی ہے وہ فرماتے ہیں حضرت ابن مسعودؓ چل رہے تھے کہ آپ کے جوتے کا تسمہ ٹوٹ گیا آپ نے انا للہ و انا الیہ راجعون پڑھا۔ عرض کیا گیا ایسی چھوٹی سی چیز پر بھی انا للہ پڑھا جاتا ہے؟ آپؓ نے فرمایا ہاں۔ یہ بھی تو ایک مصیبت ہی ہے۔
أُولَئِكَ عَلَيْهِمْ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ۔
انہیں پر ہے لعنت اللہ کی اور فرشتوں کی اور لوگوں کی سب کی۔
۱۔ ابن جوزی نے زاد ۱/۱۶۷ میں حضرت ابن مسعودؓ اور حضرت قتادہ و حضرت مقاتل کے حوالے سے لکھا ہے کہ یہاں الناس سے مراد مومن لوگ ہیں۔
خَالِدِينَ فِيهَا لا يُخَفَّفُ عَنْهُمُ الْعَذَابُ وَلا هُمْ يُنْظَرُونَ
رہ پڑے اس میں نہ ہلکا ہو گا ان سے عذاب اور نہ ان کو فرصت ملے گی۔
۱۔ ابن جوزی نے زاد ۱/۱۶۷ میں حضرت ابن مسعودؓ اور حضرت مقاتل کے حوالے سے لکھا ہے خالدین فیھا میں ھا سے مراد لعنت ہے۔
إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالأرْضِ وَاخْتِلافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ وَالْفُلْكِ الَّتِي تَجْرِي فِي الْبَحْرِ بِمَا يَنْفَعُ النَّاسَ وَمَا أَنْزَلَ اللَّهُ مِنَ السَّمَاءِ مِنْ مَاءٍ فَأَحْيَا بِهِ الأرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا وَبَثَّ فِيهَا مِنْ كُلِّ دَابَّةٍ وَتَصْرِيفِ الرِّيَاحِ وَالسَّحَابِ الْمُسَخَّرِ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالأرْضِ لآيَاتٍ لِقَوْمٍ يَعْقِلُونَ
آسمان اور زمین کا بنانا اور رات اور دن کا بدلتے آنا اور کشتی جو لے کر چلتی ہے دریا میں جو چیزیں کام آویں لوگوں کے اور جو اللہ نے اتارا آسمان سے پانی پھر جلایا اس سے زمین کو مر گئے پیچھے اور بکھیرے اس میں سب قسم کے جانور اور پھیرنا پاؤں کا اور ابر جو حکم کے تابع ہے درمیان آسمان اور زمین کے ان میں نمونے ہیں عقلمند لوگوں کو۔
۱۔ ابن جوزی نے زاد ۱/۱۶۷ میں ذکر کیا ہے کہ اس آیت مبارکہ کا شان نزول یہ ہے مشرکوں نے ایک دفعہ آپﷺ سے کہا اگر آپ سچے ہیں تو یہ کوہ صفا سونے کا بنا دیں تب یہ آیت مبارکہ نازل ہوئی۔
سعدی نے حضرت ابن مسعودؓ اور حضرت ابن عباسؓ کے حوالے سے یہ بات ذکر کی ہے۔
إِذْ تَبَرَّأَ الَّذِينَ اتُّبِعُوا مِنَ الَّذِينَ اتَّبَعُوا وَرَأَوُا الْعَذَابَ وَتَقَطَّعَتْ بِهِمُ الأسْبَابُ
جب الگ ہو جاویں جن کے ساتھ ہوئے تھے اپنے ساتھ والوں سے اور دیکھیں عذاب اور ٹوٹ جاویں ان کے سب طرف کے علاقے۔
۱۔ ابن الجوزی نے زاد ۱/۱۷۱ میں لکھا ہے اسباب سے مراد اعمال ہیں۔ سدی نے اسے حضرت ابن مسعودؓ اور حضرت ابن عباسؓ کے حوالے سے ذکر کیا ہے۔
آیت ۱۶۷
كَذَلِكَ يُرِيهِمُ اللَّهُ أَعْمَالَهُمْ حَسَرَاتٍ عَلَيْهِمْ وَمَا هُمْ بِخَارِجِينَ مِنَ النَّارِ
اس طرح دکھاتا ہے اللہ ان کو ان کے کام افسوس دلانے کو۔
۱۔ قرطبی نے احکام ۲/۱۹۰ میں لکھا ہے۔ حضرت ابن مسعودؓ اور سدی نے فرمایا اعمال سے مراد وہ نیک عمل ہیں جو یہ لوگ کر نہ سکے اور جنت سے محروم رہ گئے۔
۲۔ طبری نے جامع ۳/۲۹۷ میں لکھا ہے حضرت ابن مسعودؓ نے ایک طویل قصہ ذکر فرمایا۔ اس میں آپؓ نے یہ بھی ارشاد فرمایا: ہر آدمی جنت کے ایک گھر اور جہنم کے ایک گھر کی طرف دیکھے گا۔ اور یہی حسرت کا دن ہو گا۔ آپؓ نے فرمایا جہنمی جنتیوں کو دیکھیں گے تو ان سے کہا جائے گا کاش تم نے عمل کیے ہوتے! تب انہیں حسرت ہو گی۔ آپؓ نے مزید فرمایا جنتی جہنم والا گھر کو دیکھیں گے تو آواز آئے گی۔ اگر اللہ تعالیٰ نے تم پر احسان نہ فرمایا ہوتا تو تم بھی اس گھر میں ہوتے۔
آیت ۱۶۸: يَا أَيُّهَا النَّاسُ كُلُوا مِمَّا فِي الأرْضِ حَلالا طَيِّبًا وَلا تَتَّبِعُوا خُطُوَاتِ الشَّيْطَانِ
اے لوگوں کھاؤ زمین کی چیزوں میں سے جو حلال ہے ستھرا اور نہ چلو قدموں پر شیطان کے۔
۱۔ حاکم نے مستدرک ۲/۳۱۳۔ ۳۱۴ میں لکھا ہے۔ حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ کی خدمت میں پیش کیا گیا آپؓ نے لوگوں سے فرمایا قریب آ جاؤ۔ لوگ اسے کھانے لگے۔ ان میں سے ایک آدمی ایک طرف بیٹھا رہا۔ آپؓ نے اسے فرمایا قریب آ جاؤ۔ اس نے عرض کیا میں اسے کھانے کا ارادہ نہیں رکھتا۔ آپؓ نے پوچھا کیوں؟ اس نے کہا میں نے اسے اپنے اوپر حرام کر لیا ہے تو حضرت ابن مسعودؓ نے فرمایا یہی کام تو شیطان کے قدموں میں سے ہے۔ پھر آپﷺ نے یہ آیت مبارکہ تلاوت فرمائی۔ یا ایہا الذین امنوا لاتحرموا طیبات ما احل اللہ لکم ولا تعتدوا ان اللہ لا یحب المعتدین (المائدہ/۸۷)
پھر آپؓ نے اسے فرمایا قریب آ جاؤ کھاؤ اور اپنی قسم کا کفارہ ادا کر دینا۔ یہ کسی چیز کو خود سے حرام قرار دے لینا شیطان کے قدموں میں سے ہے۔
إِنَّمَا حَرَّمَ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَةَ
یہی حرام کیا ہے تم پر مردہ اور لہو۔
۱۔ امام رازی نے مفاتیح ۲/۸۵ میں لکھا ہے کہ علماء کرام نے کسی جانور کے ذبح ہو جانے کے بعد اس کے پیٹ سے مردہ حالت میں نکلنے والے نامکمل بچے کے کھانے کے بارے میں اختلاف کیا ہے۔ امام شافعیؒ وغیرہ فرماتے ہیں ایسا بچہ کھایا جا سکتا ہے۔ حضرت علی، حضرت ابن مسعودؓ اور حضرت ابن عمرؓ سے بھی ایسا ہی مروی ہے۔
وَآتَى الْمَالَ عَلَى حُبِّهِ ذَوِي الْقُرْبَى وَالْيَتَامَى وَالْمَسَاكِين
اور دے دے مال اس کی حجت پر ناتے والوں کو اور یتیموں کو اور محتاجوں کو۔
۱۔ طبری نے جامع ۳/۳۴۰ میں حضرت ابن مسعودؓ سے اس آیت مبارکہ کی تفسیر یہ نقل کی ہے کہ آدمی مال اللہ تعالیٰ کے راستہ میں ایسی حالت میں دے کہ خود ٹھیک ٹھاک ہو مال کی آرزو ہو۔ فراخ دستی کی امید پیدا ہونے لگی ہو اور مال کے چلے جانے سے غربت کا اندیشہ ہو۔
وَالصَّابِرِينَ فِي الْبَأْسَاءِ وَالضَّرَّاءِ وَحِينَ الْبَأْسِ
اور ٹھہرنے والے سختی میں اور تکلیف میں اور وقت لڑائی کے۔
۱۔ طبری نے جامع ۳/۳۴۹ میں لکھا ہے حضرت ابن مسعودؓ نے فرمایا۔ الباساء سے مراد غربت اور و تنگدستی ہے اور الضراء سے مراد بیماری ہے۔
۲۔ طبری نے جامع ۳/ ۳۵۵ میں لکھا ہے حضرت ابن مسعودؓ نے فرمایا حین الباس سے مراد لڑائی کا وقت ہے۔
كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِصَاصُ فِي الْقَتْلَى الْحُرُّ بِالْحُرِّ وَالْعَبْدُ بِالْعَبْدِ وَالأنْثَى بِالأنْثَى
حکم ہوا تم پر بدلہ برابر مارے گیوں میں صاحب کے بدلے صاحب اور غلام کے بدلے غلام اور عورت کے بدلے عورت۔
۱۔ علامہ قرطبی نے احکام ۲/۲۲۸ میں لکھا ہے کہ امام اعظم ابو حنیفہ، امام ثوری، ابن ابی لیلی اور ان کے ساتھیوں کا اس بات پر اتفاق ہے کہ آزاد آدمی کو غلام کے قتل میں قتل کیا جائے گا جیسا کہ غلام کو آزاد کے بدلے میں قتل کیا جائے گا۔
یہ حکم حضرت علی المرتضیؓ اور حضرت ابن مسعودؓ سے مروی ہے۔
۲۔ قرطبی نے احکام ۲/ ۲۲۹ میں لکھا ہے کہ حکم نے حضرت علی المرتضیؓ اور حضرت ابن مسعودؓ کا یہ فرمان نقل کیا ہے اگر کسی آدمی نے جان بوجھ کر عورت کو قتل کیا تو اسے اس کے بدلہ میں قتل کیا جائے گا۔
كُتِبَ عَلَيْكُمْ إِذَا حَضَرَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ إِنْ تَرَكَ خَيْرًا الْوَصِيَّةُ لِلْوَالِدَيْنِ وَالأقْرَبِينَ
حکم ہوا تم پر جب حاضر ہو کسی کو تم میں موت اگر کچھ مال چھوڑے کہ دلوا مرے ماں باپ کو اور ناتے والوں کو۔
۱۔ علامہ بغوی نے معالم ۱/۱۲۷ میں لکھا ہے حضرت ابن مسعودؓ نے فرمایا وصیت پر عمل یوں ہو گا کہ پہلے سب سے زیادہ محتاج کو دیا جائے گا پھر اس کے بعد اسے جو اس پہلے سے کم محتاج ہو۔
كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ
حکم ہوا تم پر روزے کا جیسے حکم ہوا تھا تم سے اگلوں پر۔
۱۔ علامہ ابن کثیر نے اپنی تفسیر ۱/۳۰۶ میں لکھا ہے حضرت معاذ اور حضرت ابن مسعودؓ اور کئی اور صحابہ کرامؓ سے مروی ہے۔
شروع شروع میں روزہ ایسے فرض تھا جیسے پہلی امتوں پر فرض تھا یعنی ہر مہینہ کے تین دن روزہ ہوا کرتا تھا۔
۲۔ امام احمد بن حنبلؒ نے مسند احمد ۵/ ۳۲۹ میں حضرت ابن مسعودؓ سے یہ روایت بیان فرمائی ہے اللہ کے رسولﷺ ہر چاند کی ابتدا میں تین دن روزہ رکھا کرتے تھے اور ایسا بہت کم ہوا ہے کہ آپﷺ نے جمعۃ المبارک کا روزہ نہ رکھا ہو۔
۳۔ امام نسائی نے اپنی سنن ۴/۱۶۱ میں حضرت ابن مسعودؓ سے یہ روایت بیان کی ہے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے روزہ میرے لیے ہے اور میں ہی اس کا اجر دوں گا اور روزہ دار کے لیے دو خوشیاں ہیں۔ ایک خوشی اسے اس وقت ملے گی جب اپنے پروردگار سے ملے گا۔ اور ایک خوشی اسے افطار کے وقت ملتی ہے، روزہ دار کے منہ کی بو اللہ تعالیٰ کو عمدہ ترین کو شبو سے زیادہ پسند ہے۔
أَيَّامًا مَعْدُودَاتٍ فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَرِيضًا أَوْ عَلَى سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِنْ أَيَّامٍ أُخَرَ وَعَلَى الَّذِينَ يُطِيقُونَهُ فِدْيَةٌ طَعَامُ مِسْكِينٍ فَمَنْ تَطَوَّعَ خَيْرًا فَهُوَ خَيْرٌ لَهُ وَأَنْ تَصُومُوا خَيْرٌ لَكُمْ
کئی دن ہیں گنتی کے پھر جو کوئی تم میں بیمار ہو یا سفر میں تو گنتی چاہیے اور دنوں سے اور جن کو طاقت ہے تو بدلہ چاہیے ایک فقیر کا کھانا پھر جو کوئی کرے شوق سے نیکی تو اس کو بہتر ہے اور روزہ رکھو تو تمہارا بھلا ہے۔
۱۔ علامہ ابن کثیر نے اپنی تفسیر ۱/۳۰۶ میں حضرت ابن مسعود، حضرت ابن عباس اور دیگر صحابہ کرامؓ کے حوالے سے اس آیت مبارکہ کی تفسیر یوں فرمائی ہے۔
بیمار اور مسافر حالت مرض اور حالت سفر میں روزہ نہیں رکھیں گے کیونکہ انہیں تکلیف اٹھانا پڑے گی دوسرے دنوں میں ان چھوڑے ہوئے روزوں کی قضا کریں گے۔ اور جو تندرست ہو، سفر بھی نہ کر رہا ہو اور روزہ بھی رکھ سکتا ہو اسے روزہ رکھنے اور کھانا کھلا دینے میں اختیار ہے چاہے تو روزہ رکھ لے چاہے تو روزہ نہ رکھے اور ہر ایک روزہ کے بدلہ میں ایک مسکین کو کھانا کھلا دے۔ اگر اس نے ایک روزہ کے بدلہ میں ایک سے زیادہ مسکینوں کو کھانا کھلایا تو یہ اس کی نیکی ہو گی۔ اور اگر روزہ رکھے تو یہ کھانا کھلانے سے بہتر ہے۔
۲۔ ابن الجوزی نے زاد ۱/۱۸۶ میں لکھا ہے حضرت ابن مسعودؓ آیت مبارکہ و علی الذین یطیقونہ فدیۃ طعام مسکین کی تفسیر یوں فرمایا کرتے تھے کہ یطیقونہ سے مراد ہے جو لوگ روزہ کی مشقت برداشت کر سکتے ہیں، حضرت ابن مسعودؓ فرماتے ہیں پہلے یہی ہوا کرتا تھا جس نے چاہا روزہ رکھ لیا جس نے چاہا روزہ نہ رکھا اور ایک مسکین کو کھانا کھلا دیا فمن تطوع خیرا کا مطلب یہی ہے کہ جس نے کسی مسکین کو کھانا کھلا دیا تو یہ اس کے لیے بہتر ہے اور تم روزہ رکھو تو یہ تمہارے لیے زیادہ بہتر ہے (یہ اس آیت مبارکہ کا ترجمہ ہے۔ فھو خیر لہ وان تصوموا خیر لکم۔ آپؓ فرماتے ہیں لوگ ایسے ہی کیا کرتے تھے۔ یہاں تک کہ یہ آیت مبارکہ فمن شھد منکم الشہر فلیصمہ (البقرہ/۱۸۵) نازل ہوئی اور اس نے کھانا کھلانے والا حکم منسوخ کر دیا۔
۳۔ امام احمد بن حنبلؒ نے مسند احمد ۵/ ۳۱۱ میں حضرت ابن مسعودؓ سے یہ حدیث مبارکہ بیان کی ہے اللہ کے رسولﷺ حالت سفر میں روزہ بھی رکھتے تھے اور کبھی روزہ نہیں بھی رکھتے تھے دو رکعت فرض ضرور پڑھا کرتے تھے۔
شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِي أُنْزِلَ فِيهِ الْقُرْآنُ هُدًى لِلنَّاسِ وَبَيِّنَاتٍ مِنَ الْهُدَى وَالْفُرْقَانِ فَمَنْ شَهِدَ مِنْكُمُ الشَّهْرَ فَلْيَصُمْهُ وَمَنْ كَانَ مَرِيضًا أَوْ عَلَى سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِنْ أَيَّامٍ أُخَرَ
مہینہ رمضان کا جس میں نازل ہوا قرآن ہدایت واسطے لوگوں کے اور کھلی نشانیاں راہ کی اور فیصلہ پھر جو کوئی پاوے تم میں یہ مہینہ تو اس کو چاہیے روزہ رکھے اور جو کوئی ہو بیمار یا سفر میں تو گنتی چاہیے اور دنوں سے۔
۱۔ سیوطی نے الدر ۱/ ۱۸۶ میں لکھا ہے حضرت ابن مسعودؓ نے فرمایا۔ مہینوں کا سردار رمضان المبارک کا مہینہ ہے اور دنوں کا سردار جمعۃ المبارک کا دن ہے۔
۲۔ سیوطی نے الدر ۱/ ۱۸۴ میں لکھا ہے بیہقی نے حضرت ابن مسعودؓ سے یہ روایت بیان فرمائی ہے۔ حضرت ابن مسعودؓ فرماتے ہیں آقا و مولی جناب رسول اللہﷺ نے فرمایا۔
جب رمضان المبارک کی پہلی رات ہوتی ہے تو جنت کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں پھر پورا مہینہ ان میں سے ایک دروازہ بھی بند نہیں کیا جاتا۔ اور جہنم کے دروازے بند کر دئیے جاتے ہیں پھر پورا مہینہ ان میں سے ایک دروازہ بھی کھولا نہیں جاتا اور سرکش شیاطین جکڑ دئیے جاتے ہیں۔
اور آسمان اسے ایک پکارنے والا ہر رات پَو پھوٹنے تک یہ ندا لگاتا رہتا ہے اے بھلائی کے طلبگار بھلائی کو پورا کر اور خوش ہو جا اور اے شر کے طلبگار باز آ جا اور ہوش کر۔ کوئی ہے جو بخشش مانگے تو ہم اسے بخش دیں؟ کوئی ہے جو توبہ کرے تو ہم اس کی توبہ قبول فرما لیں؟ کوئی ہے جو ہمیں پکارے تو ہم اس کی پکار کا جواب دیں؟ کوئی ہے جو مانگے تو ہم اسے عطا کریں؟
اور اللہ تعالیٰ رمضان المبارک کی ہر رات افطار کے وقت ساٹھ ہزار آدمیوں کو جہنم سے خلاصی عطا فرماتے ہیں۔ اور مہینہ بھر جتنے لوگوں کو آگ سے آزادی ملتی ہے عید کے دن اتنے لوگوں کو جہنم سے آزادی بخشی جاتی ہے۔
۳۔ حضرت امام احمد بن حنبلؒ مسند احمد ۶/۴۹ میں حدیث بیان فرمائی ہے حضرت اشعث بن قیس حضرت ابن مسعودؓ کے پاس حاضر ہوئے تو آپؓ نے ان سے پوچھا آپ جانتے ہیں عاشورہ کیا ہے؟ بات یہ ہے کہ اللہ کے رسولﷺ رمضان المبارک کے روزے فرض ہونے سے پہلے اس دن کا روزہ رکھا کرتے تھے۔ جب رمضان المبارک کے روزے فرض ہو گئے تو اس دن کا روزہ چھوڑ دیا گیا۔
۴۔ سیوطی نے الدر ۱/۱۸۳ میں لکھا ہے ابن ابی شیبہ نے حضرت ابن مسعودؓ سے یہ حدیث بیان کی ہے آپؓ نے فرمایا: جس آدمی نے جان بوجھ کر رمضان المبارک کا ایک روزہ چھوڑا کہ نہ وہ سفر پر تھا نہ مریض تھا تو وہ اگرچہ زمانہ بھر روزے رکھے رمضان المبارک کے چھوڑے ہوئے روزے جتنا ثواب نہیں پاسکتا۔
۵۔ امام بخاریؒ نے بخاری ۳/۳۰ میں حضرت ابن مسعودؓ کی حدیث بیان فرمائی ہے۔ آپؓ نے فرمایا۔ جب کوئی روزہ رکھے تو داڑھی اور سر کے بالوں کو تیل لگائے اور بال سنوار کر رکھے۔
وَلِتُكْمِلُوا الْعِدَّةَ وَلِتُكَبِّرُوا اللَّهَ عَلَى مَا هَدَاكُمْ وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ
اور اس واسطے کہ پوری کرو گنتی اور بڑائی کرو اللہ کی اس پر کہ تم کو راہ بتائی اور شاید تم احسان مانو۔
۱۔ قرطبی نے احکام ۲/ ۲۸۲۔ ۲۸۳ میں لکھا ہے دار قطنی نے حضرت عمرؓ سے روایت بیان کی ہے آپؓ نے فرمایا پہلی رات کے چاند ایک دوسرے سے بڑے ہوتے رہتے ہیں۔ پس جب تم پہلی کا چاند دن کے وقت دیکھو تو اسی وقت تک روزہ نہ توڑنا جب تک دو گواہ یہ گواہی نہ دیں کہ انہوں نے اسے کل دیکھا تھا۔
حضرت ابن مسعود، حضرت ابن عمر اور حضرت انس بن مالکؓ کا فرمان بھی یوں ہی ہے۔
۲۔ امام احمد بن حنبلؒ نے مسند احمد ۵/۲۹۲ میں لکھا ہے کہ راوی حدیث عمرو بن الحارث الخزاعی کہتے ہیں میں نے حضرت ابن مسعودؓ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ میں نے آپﷺ کے ساتھ جتنے رمضان المبارک گزارے ہیں ان میں سے انتیس روزہ والے رمضان المبارک تیس روزوں والے رمضان المبارک سے زیادہ نہیں تھے۔
۳۔ سیوطی نے الدر ۱/۱۹۴ میں لکھا ہے سعید بن منصور، ابن ابی شیبہ اور مروزی نے حضرت ابن مسعودؓ کے حوالے سے لکھا ہے آپؓ عید کے روز یوں تکبیریں کہا کرتے تھے۔ اللہ اکبر اللہ اکبر۔ لا الہ الا اللہ واللہ اکبر وللہ الحمد۔
وَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الأبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الأسْوَدِ مِنَ الْفَجْرِ ثُمَّ أَتِمُّوا الصِّيَامَ إِلَى اللَّيْلِ
اور کھاؤ اور پیو جب تک کہ صاف نظر آوے تم کو دھاری سفید دھاری سیاہ سے فجر کی پھر پورا رکو روزہ رات تک۔
۱۔ امام نسائیؒ نے اپنی سنن ۱/۱۴۰ میں حضرت ابن مسعودؓ سے یہ حدیث بیان کی ہے آقائے دو جہاںﷺ نے فرمایا سحری کیا کرو کیونکہ سحری میں برکت ہے۔
۲۔ امام احمد بن حنبلؒ نے مسند احمد ۵/ ۲۳۸ میں حضرت ابن مسعودؓ سے یہ حدیث بیان فرمائی ہے۔
آپﷺ نے فرمایا حضرت بلالؓ کی اذان کی وجہ سے سحری کھانے سے نہ رک جایا کرو کیونکہ وہ تو نماز میں کھڑے آدمی کو سحری کی طرف لوٹ جانے کے لیے پکار رہے ہوتے ہیں اور سوئے ہوئے کو بیدار کرنے کے لیے نداء لگا رہے ہوتے ہیں۔ وہ یوں نہیں کہہ رہے ہوتے (یہ فرما کر آپﷺ نے اپنا ہاتھ بند کر لیا اور اسے اوپر کو اٹھا دیا بلکہ وہ یوں کہیں تو سحری سے رک جاؤ) راوی حدیث حضرت یحییٰ نے ہاتھ کی پہلی دو انگلیاں مٹھی سے الگ کر کے اس ارشاد کی وضاحت فرمائی۔
۳۔ طبری نے جامع ۳/ ۵۲۵ میں لکھا ہے کہ عامر بن مطر کہتے ہیں حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ کے گھر حاضر ہوا آپؓ نے سحری ہمارے سامنے رکھی ہم نے سحری کا کھانا کھایا پھر نماز کھڑی ہو گئی تو ہم گھر سے نکلے اور نماز پڑھی۔
۴۔ امام نسائیؒ نے اپنی سنن ۳/ ۱۴۳۔ ۱۴۴ میں روایت بیان فرمائی ہے حضرت ابو عطیہؒ فرماتے ہیں میں نے ام المومنین حضرت عائشہؓ کی خدمت میں عرض کیا دو صحابی رسول ہیں۔ ایک افطار میں جلدی کرتا ہے اور سحری میں تاخیر کرتا ہے جبکہ دوسرا افطار میں تاخیر کرتا ہے اور سحری میں جلدی۔ ام المومنینؓ نے دریافت فرمایا ان میں سے جو افطار میں جلدی اور سحری میں تاخیر کرتا ہے وہ کون ہے تو میں نے عرض کیا وہ حضرت ابن مسعودؓ ہیں۔ ام المومنینؓ نے فرمایا اللہ کے رسولﷺ بھی یوں ہی کیا کرتے تھے۔
ولا تباشروھن وانتم عاکفون فی المساجد
اور نہ لگو ان سے جب اعتکاف بیٹھے ہو مسجدوں میں۔۔
۱۔ ابن کثیر نے اپنی تفسیر میں ۱/۳۲۴ میں لکھا ہے حضرت ابن مسعودؓ اور محمد بن کعب وغیرہ مفسرین کرام اس آیت مبارکہ کی تفسیر یوں فرماتے تھے کہ اعتکاف کرنے والا حالت اعتکاف میں اپنی بیوی کے قریب نہ جائے۔
۲۔ سیوطی نے الدر ۱/۲۰۲ میں لکھا ہے حضرت علی المرتضیؓ اور حضرت ابن مسعودؓ نے فرمایا (نفلی) اعتکاف کرنے والے یہ روزہ رکھنا لازم نہیں ہاں اگر وہ خود سے روزہ رکھنا لازم کر لے تو الگ بات ہے۔
۳۔ قرطبی نے احکام ۲/ ۳۱۲ میں لکھا ہے حضرت علی المرتضیٰ اور حضرت ابن مسعودؓ سے مروی ہے اعتکاف صرف اسی مسجد میں ہو سکتا ہے جس میں جماعت ہوتی ہو۔ ‘
وَلا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ وَتُدْلُوا بِهَا إِلَى الْحُكَّامِ لِتَأْكُلُوا فَرِيقًا مِنْ أَمْوَالِ النَّاسِ بِالإثْمِ وَأَنْتُمْ تَعْلَمُونَ
اور نہ کھاؤ مال ایک دوسرے کے آپس میں ناحق اور نہ پہنچاؤ ان کو حاکموں تک کہ کھا جاؤ کاٹ کر لوگوں کے مال سے مارے گناہ کے اور تم کو معلوم ہے۔
۱۔ حضرت امام احمد بن حنبل کے صاحبزادے حضرت عبد اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے والد محترم سے حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ کی روایت کردہ یہ حدیث مبارکہ پڑھی ہے۔ اللہ کے رسولﷺ نے فرمایا مسلمان کا اپنے بھائی کو برا بھلا کہتا گناہ ہے اور اس کا خون بہانا کفر ہے اور بلا اجازت اس کا مال لینا ایسے ہی حرام ہے جیسے بلاوجہ شرعی اس کا خون بہانا حرام ہے یہ حدیث مبارکہ مسند احمد ۲/ ۱۳۲ پر موجود ہے۔
۲۔ ابن ماجہ نے اپنی سنن ۲/ ۱۰۱۶ میں حضرت ابن مسعودؓ سے یہ حدیث مبارکہ روایت فرمائی ہے کہ آقائے دو جہاںﷺ عرفات کے میدان میں اپنی اونٹنی پر سوار خطبہ ارشاد فرما رہے تھے تو اثنائے خطبہ میں آپﷺ نے صحابہ سے پوچھا جانتے ہو آج کونسا دن ہے یہ کونسا مہینہ ہے اور یہ کون سا شہر ہے؟ صحابہ نے عرض کیا یہ حرمت والا شہر ہے یہ حرمت والا مہینہ ہے اور آج حرمت والا دن ہے۔ تو اللہ کے رسولﷺ نے فرمایا سن رکھو بلا شبہ تمہارے مال اور خون کی ایک دوسرے پر ایسے ہی حرام ہیں جیسے اس مہینہ کی حرمت ہے اس شہر کی حرمت ہے اور آج کے دن کی حرمت ہے۔
۳۔ حضرت ربیع نے مسند ¾ میں حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ سے یہ حدیچ مبارکہ نقل فرمائی ہے کہ رحمت دو عالمﷺ نے فرمایا رشوت لے کر فیصلہ کرنا کفر ہے۔
والفتنۃ اشد من القتل
دین سے بچلانا مارنے سے زیادہ ہے۔
۱۔ ابن جوزی نے زاد ۱/۱۹۸ میں حضرت عبد اللہ بن مسعود اور حضرت عبد اللہ بن عباسؓ وغیرہ مفسرین کرام کے حوالے سے لکھا ہے کہ فتنہ سے مراد شرک ہے۔
وَأَتِمُّوا الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ لِلَّهِ
اور پورا کرو حج اور عمرہ اللہ کے واسطے۔
۱۔ طبری نے جامع ۴/۱۳ میں حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ سے اس آیت مبارکہ کی تفسیر یوں نقل کی ہے حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ فرماتے تھے قسم بخدا ار مسلمانوں پر تنگی کا اندیشہ نہ ہوتا اور اگر میں نے رحمت دو عالمﷺ سے اس بارے میں کچھ سنا ہوا نہ ہوتا تو میں فتوی دیتا کہ بلا شبہ عمرہ بھی حج کی طرح فرض ہے۔
۲۔ سیوطی نے الدر ۱/۲۰۸ میں حضرت ابن مسعودؓ کا یہ فرمان نقل کیا ہے کہ مسلمانو! تمہیں چار چیزیں قائم کرنے کا حکم دیا گیا ہے فرمان الٰہی ہے اقیموا السلوۃ واتوا الزکوۃ۔ اس کے علاوہ کئی اور مقامات پر بھی یہ آیت موجود ہے۔ اور دوسرا فرمان الٰہی ہے واتموا الحج والعمرۃ للہ۔ حج کو حج اکبر کہتے ہیں اور عمرہ کو حج اصغر سے تعبیر کیا جاتا ہے۔
۳۔ امام احمد بن حنبل نے مسند ۵/۲۴۴۔ ۲۴۵ میں حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ سے یہ حدیث مبارکہ روایت فرمائی ہے رحمت دو عالمﷺ نے فرمایا حج اور عمرہ ایک ساتھ کیا کرو کیونکہ یہ دونوں غربت اور گناہوں کو ایسے ختم کر دیتے ہیں جیسے چٹی، لوہے، سونے اور چاندی کی کھوٹ ختم کر دیتی ہے اور مقبول حج کا ثواب جنت ہی ہے۔
۵۔ علامہ بغوی نے معالم ۱/۱۴۵ میں لکھا ہے کہ حضرت علی المرتضیؓ سے فرمان الٰہی واتموا الحج والعمرۃ للہ کی تفسیر دریافت کی گئی تو آپؓ نے فرمایا حج و عمرہ کی تکمیل و اتمام یہ ہے کہ تو اپنے گھر کی دہلیز سے دونوں کا احرام باندھے۔ حضرت ابن مسعودؓ سے بھی ایسے ہی منقول ہے۔
فَإِنْ أُحْصِرْتُمْ فَمَا اسْتَيْسَرَ مِنَ الْهَدْيِ وَلا تَحْلِقُوا رُءُوسَكُمْ حَتَّى يَبْلُغَ الْهَدْيُ مَحِلَّهُ۔
اگر تم روکے گئے تو جو میسر ہو قربانی بھیجو اور حجامت نہ کرو سر کی جب تک پہنچ نہ چکے قربانی اپنے ٹھکانہ۔
۱۔ علامہ بغوی نے اپنی تفسیر معالم ۱/۱۴۸ میں لکھا ہے کہ علماء کی ایک بڑی جماعت کا مسلک یہ ہے کہ جو چیز بی عازم حج کے بیت اللہ شریک تک پہنچنے میں اور احرام باندھے رکھنے میں رکاوٹ بنے چاہے وہ دشمن ہو، بیماری ہو، زخم ہو، زاد راہ ختم ہو گیا ہو یا سواری گم ہو گئی تو اس کی وجہ سے احرام کھولنا جائز ہو گا۔ حضرت ابن مسعودؓ کا مسلک بھی یہی ہے۔
۲۔ علامہ طبری نے جامع ۴/۴۱ میں عبد الرحمن ابن یزید کے حوالے سے ایک واقعہ لکھا ہے کہ حضرت عمر بن سعید النخعی نے عمر کا آغاز کیا۔ جب آپ ذات شلقوق نامی جگہ پر پہنچے تو آپ کو بچھو کاٹ گیا آپ کے ساتھی اہل علم لوگوں کی تلاش میں باہر راستے پر نکل ائے۔ انہیں حضرت ابن مسعودؓ مل گئے۔ انہوں نے ساری صورت حال اپ کے سامنے رکھی۔ حضرت ابن مسعودؓ نے فرمایا حضرت عمر بن سعید ہدی مکہ مکرمہ کی جانب روانہ کر دیں اور تم آپس میں یہ طے کر لو کہ اسے فلاں دن ذبح کیا جائے گا چنانچہ جب وہ ذبح ہو جائے تو یہ احرام کھول دیں البتہ ان پر عمرہ کی قضا لازم رہے گی۔
۳۔ ابن جوزی نے حضرت ابن مسعودؓ اور حضرت حسن وغیرہ مفسرین کے حوالے سے لکھا ہے کہ ان کے نزدیک المحل سے مراد وہ علاقہ ہے جس پر حرم کا اطلاق ہوتا ہے۔
فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَرِيضًا أَوْ بِهِ أَذًى مِنْ رَأْسِهِ فَفِدْيَةٌ مِنْ صِيَامٍ أَوْ صَدَقَةٍ أَوْ نُسُكٍ فَإِذَا أَمِنْتُمْ فَمَنْ تَمَتَّعَ بِالْعُمْرَةِ إِلَى الْحَجِّ فَمَا اسْتَيْسَرَ مِنَ الْهَدْيِ فَمَنْ لَمْ يَجِدْ فَصِيَامُ ثَلاثَةِ أَيَّامٍ فِي الْحَجِّ وَسَبْعَةٍ إِذَا رَجَعْتُمْ
پھر جو کوئی تم میں مریض ہو یا اس کو دکھ دیا ہو اس کے سر نے تو بدلہ لیوے روزے یا جرات یا ذبح کرنا پھر جب تم کو خاطر جمع ہو تو جو کوئی فائدہ لیوے عمرہ ملا کر حج کے ساتھ تو جو میسر ہو قربانی پہنچا دے پھر جس کو پیدا نہ ہو روزے تین دن کے حج کے وقت میں اور سات دن جب پھر کر جاؤ۔
۱۔ سیوطی نے الدر ۱/۲۱۲۔ ۲۱۳ میں لکھا ہے کہ حضرت ابن مسعودؓ کے فرمان فان احصرتم کی تفسیر یوں فرمایا کرتے تھے جب آدمی حج کا احرام باندھ لے پھر رکاوٹ پیش آئے اور حج کو جا نہ سکے تو جو ہدی میسر ہو بھیج دے۔ پھر اگر اس نے ہدی کے اپنے مقام تک پہنچنے سے پہلے جلد بازی کی اور سر منڈوا لیا یا خوشبو لگا لی یا کوئی دوائی استعمال کر لی تو اس پر روزہ یا صدقہ یا قربانی کی صورت میں فدیہ لازم ہو جائے گا روزے تین ہوں گے اور صدقہ میں چھد مسکینوں کو تین صاع دینے ہوں گے ہر مسکین کو آدھا صاع ملے گا (صاع ایک وزن ہے) اور قربانی ایک بکری کی دینی ہو گی۔
اسی طرح اللہ جل جلالہ کے فرمان فاذا امنتم کی تفسیر آپؓ یوں فرمایا کرتے تھے جب عازم حج بیماری سے شفا پا گیا اور اسی حالت میں بیت اللہ شریف کو چلا گیا تو وہاں عمرہ ادا کرے اور حج والا احرام کھول دے۔ اب اگلے سال حج کرنا اس پر لازم ہو گیا۔ لیکن اگر یہ بیت اللہ شریف نہیں گیا اور وہیں سے واپس لوٹ آیا تو اب حج اور عمرہ دونوں اس کے ذمہ ہوں گے۔ اور اگر یہ لوٹا حج کے مہینوں میں یوں کہ حج تمتع کا ارادہ تھا مگر کر نہ سکا تو اب ایک بکری بطور ہدی دینا اس پر لازم ہو گیا پس اگر بکری دینے کی طاقت نہ رکھتا ہو تو تین روزے ایام حج میں ہی رکھے اور سات واپس آ کر رکھے۔
۲۔ قرطبی نے احکام ۲/۳۶۹ میں لکھا ہے کہ حج اور عمرہ اکٹھا ادا کرنے کے مختلف طریقوں میں سے ایک طریقہ ہے حج قرآن کا اس کی صورت یہ ہو گی کہ جب عازم حج مکہ مکرمہ میں وارد ہو تو حج اور عمرہ کا ایک ہی طواف اور ایک ہی سعی کرے۔ یا طواف بھی دو کرے اور سعی بھی دو کرے جیسا کہ امام اعظم ابوحنیفہؒ کا مذہب ہے اور حضرت علی المرتضیؓ و حضرت ابن مسعودؓ سے بھی یوں ہی منقول ہے۔
۳۔ علامہ قرطبی نے احکام ۲/۳۷۲۔ ۳۷۳ میں لکھا ہے کہ حج تمتع کرنے والوں کو متمتع اس لیے کہتے کیونکہ اس نے ایک ہی سفر میں دو سفروں کا فائدہ لے لیا ہے۔
اور ابن قاسم نے وجہ تسمیہ یہ بیان کی ہے۔ اسے متمتع اس لیے کہتے ہیں کیونکہ اس نے جب عمرہ ادا کر کے احرام کھول لیا تو حج کے شروع ہونے تک اس نے ان کاموں سے فائدہ اٹھا لیا جو محرم کے لیے جائز نہیں ہوتے۔ وجہ تسمیہ میں عمومیت زیادہ ہے۔
یہی وہ صورت ہے جسے حضرت عمر اور حضرت ابن مسعودؓ ناپسند فرمایا کرتے تھے۔ ان دونوں کا فرمان ہے یا ان میں سے کسی ایک شیخ کا فرمان ہے۔ کیا تم میں سے کوئی منیٰ میں یوں آئے گا کہ وہ حالت جنابت میں ہو؟
الْحَجُّ أَشْهُرٌ مَعْلُومَاتٌ
حج کے کئی مہینے ہیں معلوم۔
۱۔ طبری نے جامع ۴/۱۱۵ میں حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ کا فرمان لکھا ہے کہ الحج اشہر معلومات سے شوال، ذیقعدہ اور ذی الحجہ کے دس دن مراد ہیں۔
۲۔ طبری نے جامع ۴/۱۱۹ میں لکھا ہے کہ طارق بن شہاب کہتے ہیں میں نے حضرت ابن مسعودؓ سے اپنی ایک عورت کے بارے میں پوچھا کہ وہ حج کے ساتھ عمرہ بھی ادا کرنا چاہتی ہے تو حضرت ابن مسعودؓ نے فرمایا میں اللہ جل جلالہ کا یہ فرمان سن رہا ہوں الحج اشہر معلومات میں ان مہینوں کو سرف حج کی دائے گی کے مہینے سمجھتا ہوں۔
فَمَنْ فَرَضَ فِيهِنَّ الْحَجَّ فَلا رَفَثَ وَلا فُسُوقَ وَلا جِدَالَ فِي الْحَجِّ
پھر جس نے لازم کر لیا ان میں حج تو بے پردہ ہونا نہیں عورت سے نہ گناہ کرنا اور نہ جھگڑا کرنا حج میں۔
۱۔ ابن الجوزی نے زاد ۱/۲۱۰ میں لکھا ہے کہ حضرت ابن مسعودؓ نے فرمایا کہ فرض سے مراد ہے حج کا تلبیہ کہنا اور حج کا احرام باندھنا۔
۲۔ سیوطی نے الدر ۱/۲۲۳ میں لکھا ہے کہ ابن ابی شیبہ نے حضرت ابن مسعودؓ سے روایت کی ہے کہ فمن فرض فیھن الحج سے مراد تلبیہ ہے۔
۳۔ امام احمد بن حنبلؒ نے مسند احمد ۵/۳۴۳ میں حضرت ابن مسعودؓ کی وساطت سے لکھا ہے کہ آقائے دو جہاںﷺ تلبیہ یوں پڑھا کرتے تھے۔ لبیک اللہم لبیک۔ لبیک لا شریک لک۔ لبیک ان الحمد والنعمۃ لک۔
۳۔ ابن کثیر نے اپنی تفسیر ۱/۳۴۴ میں لکھا ہے کہ حضرت ابن عباسؓ فمن فرض فیھن الحج کی تفسیر یوں فرماتے تھے کہ جب کوئی حج کا تلبیہ کہہ لے تو پھر اس کے لیے مناسب نہیں کہ وہ کسی علاقے میں ٹھہر جائے۔
ابن ابی حاتم نے فرمایا ہے کہ حضرت ابن مسعودؓ اور حضرت ابن زبیرؓ وغیرہ سے ایسے ہی منقول ہے۔
۴۔ طبری نے جامع ۴/۱۳۰ میں لکھا ہے کہ حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ ولا جدال فی الحج کی تفسیر یوں فرماتے تھے کہ جدال سے مراد یہ ہے تو اپنے ساتھی سے اتنا جھگڑے کہ اسے غضبناک کر دے۔
فَإِذَا أَفَضْتُمْ مِنْ عَرَفَاتٍ فَاذْكُرُوا اللَّهَ عِنْدَ الْمَشْعَرِ الْحَرَامِ وَاذْكُرُوهُ كَمَا هَدَاكُمْ
پھر جب طواف کر چلو عرفات سے تو یاد کرو اللہ کو نزدیک مشعر حرام کے اور اس کو یاد کرو جس طرح تم کو سکھایا۔
۱۔ حضرت امام احمد بن حنبلؒ نے مسند ۵/۲۳۰ میں حضرت عبد اللہ مسعودؓ کی یہ روایت نقل فرمائی ہے کہ حضرت ابن مسعودؓ فرماتے ہیں میں نے ہمیشہ دیکھا کہ آقائے دو جہاںﷺ نے نماز کے اس وقت پر ادا فرمائی سوائے دو نمازوں کے۔ ایک نماز مغرب اور عشاء مزدلفہ میں اکٹھا ادا فرمائیں اور دوسری اسی دن کی نماز فجر بھی اس کے وقت سے پہلے ادا فرمائی۔
۲۔ حضرت امام احمد بن حنبلؒ نے مسند احمد ۵/۳۴۲ میں حضرت عبد الرحمن بن یزید کی روایت نقل فرمائی ہے، وہ فرماتے ہیں ہم نے حضرت عثمانؓ کے دور خلافت میں حضرت ابن مسعودؓ کے ہمراہ حج ادا کیا۔ جب ہم میدان عرفات میں ٹھہرے ہوئے تھے تو سورج غروب ہونے پر حضرت ابن مسعودؓ فرمانے لگے اگر امیر المومنینؓ یہاں سے کوچ فرمائیں تو آپؓ کا یہ فیصلہ بالکل درست ہو گا۔ راوی حدیث حضرت عبد الرحمن بن یزید کہتے ہیں میں نہیں جانتا حضرت ابن مسعودؓ کی بات جلدی مکمل ہوئی یا حضرت عثمانؓ نے کوچ کرنے کا حکم جلدی دیا۔ راوی حدیث کہتے ہیں لوگوں نے اپنے اونٹوں کو تیز دوڑا دیا مگر حضرت ابن مسعودؓ اتنا زیادہ تیز نہیں دوڑایا یہاں تک کہ ہم مزدلفہ پہنچ گئے۔ یہاں حضرت ابن مسعودؓ نے ہمیں نماز مغرب پڑھائی پھر رات کا کھانا منگوا کر کھایا پھر عشاء کی نماز ادا فرمائی اور سو گئے جب فجر کا بالکل ابتدائی وقت ہوا تو آپؓ اٹھے اور نماز فجر ادا فرمائی۔ راوی کہتے ہیں میں نے آپؓ سے عرض کیا آپ تو فجر کی نماز اس وقت ادا نہیں فرمایا کرتے (راوی کہتے ہیں آپؓ نماز فجر اچھی خاصی روشنی ہو جانے پر ادا فرمایا کرتے تھے) تو آپؓ نے فرمایا میں نے اس دن اس جگہ پر جناب رسول اللہﷺ کو نماز فجر اسی گھڑی ادا فرماتے دیکھا ہے۔
۳۔ امام نسائی نے اپنی سنن ۵/۲۶۰ میں حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ کی یہ حدیث نقل فرمائی ہے۔ آپؓ فرماتے ہیں بلا شبہ جناب نبی کریمﷺ نے مزدلفہ میں نماز مغرب اور عشاء ایک ہی اقامت کے ساتھ ادا فرمائی۔ آپﷺ نے ان دونوں نمازوں کے درمیان کوئی نفل ادا فرمائے نہ ان کے بعد۔
ثُمَّ أَفِيضُوا مِنْ حَيْثُ أَفَاضَ النَّاسُ۔
پھر طواف کر چلو جہاں سے سب لوگ چلیں۔
۱۔ حضرت امام احمد بن حنبلؒ نے اپنی مسند ۶/۶۲ میں حضرت محمد بن عبد الرحمن بن یزید کی روایت نقل فرمائی ہے حضرت محمد بن عبد الرحمن کہتے ہیں میرے والد محترم نے بتایا کہ میں حضرت ابن مسعودؓ کے ہمراہ تھا ہم جب جمرہ عقبہ کے پہنچے تو آپؓ نے فرمایا مجھے کچھ کنکریاں پکڑانا، میں نے سات کنکریاں آپؓ جمرہ کی طرف آئے اور بطنی الوادی کی جانب سے آپؓ نے جمرہ کو سات کنکریاں ماریں۔ اس دوران آپؓ اونٹنی پر سوار رہے۔ آپؓ ہر کنکری کے ساتھ تکبیر کہتے رہے اور یہ دعا مانگتے رہے اللہ ۱ یہ حج قبول فرما لے اور گناہ معاف فرما دے۔ پھر آپؓ نے فرمایا۔ یہیں کھری ہوا کرتی تھی وہ مقدس و مطہر ہستی جس پر سورة البقرہ نازل ہوئی۔
فَإِذَا قَضَيْتُمْ مَنَاسِكَكُمْ فَاذْكُرُوا اللَّهَ
پھر جب پورے کر چکو اپنے حج کے کام تو یاد کرو اللہ کو۔
۱۔ علامہ سیوطی نے الدر ۱/۲۱۱ میں لکھا ہے کہ کچھ حجاج مدینہ منورہ کی نواحی بستی ربذہ میں رہائش پذیر حضرت ابو ذر غفاریؓ کے پاس سے گذرے تو آپؓ نے ان سے فرمایا تم حج ادا کرنے کے لیے ہی اٹھ کھڑے ہوئے اب از سر نو اعمال شروع کرو۔
ابن ابی شیبہ نے یہ روایت نقل کی ہے کہ حضرت ابن مسعودؓ نے بھی کچھ لوگوں سے یہی بات ارشاد فرمائی تھی۔
وَاذْكُرُوا اللَّهَ فِي أَيَّامٍ مَعْدُودَاتٍ فَمَنْ تَعَجَّلَ فِي يَوْمَيْنِ فَلا إِثْمَ عَلَيْهِ وَمَنْ تَأَخَّرَ فَلا إِثْمَ عَلَيْهِ لِمَنِ اتَّقَى
اور یاد کرو اللہ کو کئی دن گنتی کے پھر جو کوئی جلدی چلا گیا دو دن میں اس پر نہیں گناہ اور جو رہ گیا اس پر نہیں گناہ جو کوئی ڈرتا ہے۔
۱۔ حاکم نے مستدرک ۱/ ۲۹۹۔ ۳۰۰ میں تحریر کیا ہے کہ حضرت عمیر بن سعید فرماتے ہیں حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ ہمارے ہاں تشریف لائے۔ آپؓ تکبیرات تشریق کی ابتدا یوم عرفہ کی نماز فجر سے کرتے اور ایام تشریق کے آخری دن کی نماز عصر پر اختتام فرماتے۔
۲۔ علامہ بغوی نے معالم ۱/۱۶۰ میں لکھا ہے اہل عراق کے نزدیک تکبیر تشریق یہ ہے کہ دو مرتبہ اللہ اکبر اللہ اکبر کہہ لیا جائے۔
۳۔ طبری نے جامع ۴/۲۱۷۔ ۲۱۸ میں لکھا ہے کہ حضرت ابن مسعودؓ فمن تعجل فی یومین فلا اثم علیہ کی تفسیر میں یہی فرماتے تھے کہ ایسا آدمی بخش دیا گیا اور اپؓ و من تاخر فلا اثم علیہ کی تفسیر بھی یوں ہی فرماتے کہ ایسا آدمی بخش دیا گیا۔
۵۔ طبری نے جامع ۴/۲۲۱۔ ۲۲۲ میں لکھا ہے حضرت ابن مسعودؓ اللہ جل جلالہ کے فرمان لمن اتقی کی تفسیر یوں فرماتے تھے جس نے حج کی ادائے گی کے دوران تقویٰ کا دامن تھامے رکھا اس کے پہلے یا آپ نے فرمایا اس کے گزرے ہوئے تمام گناہ معاف کر دئیے گئے۔
۶۔ علامہ بغوی نے معالم ۱/۱۶۱ میں لکھا ہے حضرت ابن مسعودؓ نے فرمایا گناہوں سے معافی اسی کے لیے ہے جو حج ا کرنے کے دوران اللہ تعالیٰ سے ڈرتا رہا۔
۷۔ قرطبی نے احکام ۳/۱۴ میں لکھا ہے کہ ہمیں یہ بتایا گیا کہ حضرت ابن مسعودؓ نے فرمایا بخشش تو اس کے لیے ہے جو حج سے واپس آ کر تمام گناہوں سے بچتا رہا۔
وَإِذَا قِيلَ لَهُ اتَّقِ اللَّهَ أَخَذَتْهُ الْعِزَّةُ بِالإثْمِ فَحَسْبُهُ جَهَنَّمُ وَلَبِئْسَ الْمِهَادُ
اور جو کہیے اس کو اللہ سے ڈر تو کھینچ لاوے اس کو غرور گناہ پر پھر بس ہے اس کو دوزخ اور بری تیاری ہے۔
۱۔ علامہ بغوی نے معالم ۱/ ۱۶۲ میں لکھا ہے حضرت ابن مسعودؓ سے روایت ہے کہ سب سے بڑے گناہوں میں سے یہ بھی ہے کہ کسی کو کہا جائے اے بندے اللہ سے ڈر تو جواب میں وہ کہے کہ تو اپنا کام کر۔
هَلْ يَنْظُرُونَ إِلا أَنْ يَأْتِيَهُمُ اللَّهُ فِي ظُلَلٍ مِنَ الْغَمَامِ وَالْمَلائِكَةُ
کیا لوگ یہی انتظار رکھتے ہیں کہ آوے اللہ ان پر ابر کے سائبانوں میں اور فرشتے)۔
۱۔ علامہ ابن کثیر نے ۱/ ۳۶۳ میں لکھا ہے کہ حافظ ابوبکر بن مردویہ نے حضرت ابن مسعودؓ کی یہ روایت نقل کی ہے آپ فرماتے ہیں جناب رسول اللہﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ قیامت کے دن سب اولین و آخرین کو جمع فرمائیں گے۔ لوگ یوں کھڑے ہوں گے کہ ان کی آنکھیں آسمانوں کی طرف لگی ہوں گی، اپنے فیصلے کے منتظر ہوں گے۔ اسی اثنا میں اللہ تبارک و تعالیٰ بادل کے سائے عرش سے کرسی کی جانب نزول فرمائیں گے۔
وَأَنْزَلَ مَعَهُمُ الْكِتَابَ بِالْحَقِّ لِيَحْكُمَ بَيْنَ النَّاسِ فِيمَا اخْتَلَفُوا فِيهِ وَمَا اخْتَلَفَ فِيهِ إِلا الَّذِينَ أُوتُوهُ مِنْ بَعْدِ مَا جَاءَتْهُمُ الْبَيِّنَاتُ بَغْيًا بَيْنَهُمْ فَهَدَى اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا لِمَا اخْتَلَفُوا فِيهِ مِنَ الْحَقِّ بِإِذْنِهِ
اور اتاری ان کے ساتھ کتاب سچی کہ فیصلہ کرے لوگوں میں جس بات میں جھگڑا کریں اور کتاب میں جھگڑا ڈالا نہیں مگر انہوں نے جن کو ملی تھی بعد اس کے کہ ان کو پہنچ چکے صاف آپس کی ضد سے پھر اب راہ دی اللہ نے ایمان والوں کو سچی بات کی جس میں وہ جھگڑتے تھے اپنے حکم سے۔
۱۔ ابن الجوزی نے لکھا ہے کہ حضرت ابن مسعودؓ فرماتے ہیں فیہ میں موجود ہ ضمیر سے مراد رحمت دو عالمﷺ کی ذات اطہر ہے۔
مستہم الْبَأْسَاءُ وَالضَّرَّاءُ وَزُلْزِلُوا حَتَّى يَقُولَ الرَّسُولُ وَالَّذِينَ آمَنُوا مَعَهُ مَتَى نَصْرُ اللَّهِ
پہنچی ان کو سختی اور تکلیف اور جھڑجھڑائے گئے یہاں تک کہ کہنے لگا رسول اور جو اس کے ساتھ ایمان لائے کب آوے گی مدد اللہ کی۔
۱۔ حضرت ابن کثیر نے اپنی تفسیر ۱/۳۶۶ میں لکھا ہے حضرت ابن مسعودؓ اور حضرت ابن عباسؓ و دیگر مفسرین فرماتے ہیں الباساء سے مراد غربت ہے اور الضراء سے مراد بیماری ہے۔ وزلزلوا کا معنی ہے انہیں دشمنوں کی طرف سے سخت خوف میں مبتلا کیا گیا اور ان کے بڑے بڑے امتحان لیے گئے۔
يَسْأَلُونَكَ مَاذَا يُنْفِقُونَ۔ تجھ سے پوچھتے ہیں کیا چیز خرچ کریں۔
۱۔ ابن الجوزی نے زاد ۱/۲۳۴ میں لکھا ہے اکثر مفسرین اس بات کے قائل ہیں کہ بلا شبہ یہ آیت مبارکہ منسوخ ہو چکی ہے۔
حضرت ابن مسعودؓ نے فرمایا ہے اسے زکوۃٰ والی آیت مبارکہ نے منسوخ کر دیا ہے۔
ویسالونک ماذا ینفقون قل العفوا
اور پوچھتے ہیں تجھ سے کیا خرچ کریں تو کہہ جو افزود ہو۔
۱۔ طبری نے جامع الاحکام القران ۴/۳۴۲ میں حضرت ابن مسعودؓ کی یہ حدیث نقل فرمائی ہے کہ۔ سرکار دو عالمﷺ نے ارشاد فرمایا ضرورت سے زائد مال میں سے سخاوت کیا کرو، اپنے زیر کفالت افراد سے ابتدا کیا کرو اور گزارہ کے مطابق روزی پر تمہیں ملامت نہ کی جائے گی۔
كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِتَالُ وَهُوَ كُرْهٌ لَكُمْ
حکم ہوا تم پر لڑائی کا اور وہ بری لگتی ہے تم کو۔
۱۔ حضرت امام احمد بن حنبلؒ نے اپنی مسند ۶/۴۱ میں حضرت ابن مسعودؓ سے مروی یہ حدیث مبارکہ نقل فرمائی ہے۔
حضرت ابن مسعودؓ فرماتے ہیں میں آقاﷺ سے عرض کیا اللہ کے رسول! اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ پسند کون سا عمل ہے؟ آپﷺ نے فرمایا نماز اپنے وقت پر ادا کرو۔ میں نے عرض کیا پھر اس کے بعد کون سا عمل زیادہ پسند ہے؟ آپﷺ نے فرمایا والدین سے حسن سلوک! میں نے عرض کیا پھر اس کے بعد کون سا عمل زیادہ پسند ہے؟ آقاﷺ نے فرمایا اللہ جل جلالہ کے راستے میں جہاد کرنا، حضرت ابن مسعودؓ فرماتے ہیں اگر میں اور پوچھتا تو آپﷺ یقیناً اور جواب دیتے جاتے۔
يَسْأَلُونَكَ عَنِ الشَّهْرِ الْحَرَامِ قِتَالٍ فِيهِ قُلْ قِتَالٌ فِيهِ كَبِيرٌ وَصَدٌّ عَنْ سَبِيلِ اللَّهِ وَكُفْرٌ بِهِ وَالْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَإِخْرَاجُ أَهْلِهِ مِنْهُ أَكْبَرُ عِنْدَ اللَّهِ وَالْفِتْنَةُ أَكْبَرُ مِنَ الْقَتْلِ
تجھ سے پوچھتے ہیں حرام کے مہینے کو اس میں لڑائی کرنی تو کہہ اس میں لڑائی بڑا گناہ ہے اور روکنا اللہ کی راہ سے اور اس کو نہ ماننا اور مسجدِ حرام سے روکنا اور نکال دینا اس کے لوگوں کو وہاں سے اس سے زیادہ گناہ ہے اللہ کے ہاں اور دین سے بچلانا مار ڈالنے سے زیادہ۔
۱۔ علامہ ابن کثیر نے اپنی تفسیر ۱/ ۳۶۸۔ ۳۶۹ میں لکھا ہے کہ سدی نے کہا کہ حضرت ابن عباس اور حضرت ابن مسعودؓ نے آیت مبارکہ یسالونک عن الشھر الحرام قتال فیہ قل قتال فیہ کبیر وصد عن سبیل اللہ کی تفسیر میں ایک طویل واقعہ ذکر کیا ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ جناب رسول اللہﷺ نے سات افراد پر مشتمل ایک جماعت لڑائی کے لیے بھیجی۔ حضرت عبد اللہ بن جحش الاسدیؓ کو ان کا امیر مقرر فرمایا۔ اس جماعت میں حضرت عمار بن یاسر، حضرت ابو حذیفہ بن عتبہ بن ربیعہ، حضرت سعد بن ابی وقاص، بنی نوفل کے حلیف، حضرت عتبہ بن غزوان، حضرت سہیل بن بیضاء، حضرت عامر بن فہیرہ، اور حضرت عمر بن خطابؓ کے حلیف حضرت واقد بن عبد اللہ الیربوعیؓ جیسی شخصیات موجود تھیں۔
آپﷺ نے امیر جماعت حضرت عبد اللہ بن جحشؓ کو ایک خط دیا اور فرمایا بطن ملل پر پہنچنے سے پہلے اسے پڑھنا نہیں ہے۔ جب آپؓ بطن ملل پر پہنچے تو خط کھولا اس میں لکھا تھا بطن نخلہ تک سفر جاری رکھو چنانچہ آپؓ اپنے ساتھیوں سے فرمایا جو موت کی تمنا رکھتا وہ ساتھ چلے اور وصیت کر لے۔ پس میں وصیت کر رہا ہوں اور اپنے آقاﷺ کے فرمان پر عمل پیرا ہوں۔ چنانچہ آپ چل چل دئیے۔ دو صحابی حضرت سعد بن ابی وقاص اور حضرت عتبہ بن غزوانؓ آپؓ کے ساتھ نہ جا سکے کیونکہ ان کے اونٹ گم ہو گئے تھے یہ ان کی تلاش میں بحران چلے گئے۔
حضرت عبد اللہ بن جحشؓ جب بطن نخلہ پہنچے تو وہاں حکم بن کیسان، مغیرہ بن عثمان، عمرو بن حضرمی اور عبد اللہ بن مغیرہ موجود تھے، مسلمان ان سے لڑے اور حکم بن کیسان اور عبد اللہ بن مغیرہ کو قید کر لیا جبکہ مغیرہ بھاگ گیا۔ عمرو بن حضرمی قتل ہو گیا۔ حضرت داؤد بن عبد اللہؓ نے اسے مارا تھا۔
یہ پہلا موقع ہے کہ سرکار دو عالمﷺ کے صحابہ کرام کو مال غنیمت ملا۔
جب یہ حضرات دونوں قیدیوں اور ہاتھ لگنے والا مال لے کر مدینہ منورہ پہنچے تو اہل مکہ نے چاہا فدیہ دے کر قیدی چھڑا لیے جائیں۔ آپﷺ نے فرمایا پہلے ہمیں یہ دیکھنے دو کہ ہمارے ان دو ساتھیوں پر کیا بیتی۔ جب حضرت سعد بن ابی وقاص اور ان کے ساتھی صحیح سلامت لوٹ آئے تو آپﷺ نے فدیہ لے کر قیدی چھور دئیے۔
اب مشرکین مکہ نے آپﷺ پر طعنہ زنی کی اور کہا (حضرت) محمدﷺ کا خیال یہ ہے کہ وہ اللہ جل جلالہ کی فرمانبرداری کرتے ہیں حالانکہ سب سے پہلے انہوں نے ہی حرمت والے مہینے کی حرمت ختم کی ہے۔ یعنی ہمارے ساتھی کو انہوں نے رجب کے مہینہ میں قتل کیا ہے۔ مسلمانوں نے اس کے جواب میں کہا کہ ہم نے انہیں جمادی الثانی میں مارا ہے۔
بعض لوگوں کا خیال ہے کہ یہ رجب کی پہلی رات تھی اور جمادی الثانیہ اپنے اختتام کو پہنچ چکا تھا۔ جب رجب کا آغاز ہوا تو مسلمانوں نے اپنی تلواریں نیام میں کر لیں۔
اس واقعہ پر اللہ جل جلالہ نے اہل مکہ کو عار دلانے کے لیے یہ آیت مبارکہ اتاری۔ یسالونک عن الشھر الحرام قتال فیہ قل قتال فیہ کبیر۔ یعنی اس ماہ محترم میں قتال حلال نہیں مگر اے اہل مکہ جو کرتوت تم نے کیے ہیں وہ حرمت والے مہینے میں قتل کرنے سے بڑے جرم ہیں۔ تم نے اللہ جل جلالہ کا انکار کیا ہے، تم نے جناب محمد رسول اللہﷺ اور آپ کے سحابہ کرامؓ کو اللہ جل جلالہ کے راستہ سے روکنے کی کوشش کی ہے ہم نے انہیں مسجد حرام سے دور کر دیا ہے، تمہارے یہ کرتوت اللہ جل جلالہ کے نزدیک حرمت والے مہینہ میں قتل سے بدتر برا جرم ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس بات کی طرف یوں اشارہ فرمایا ہے۔
وصد عن سبیل اللہ وکفر بہ والمسجد الحرام واخراج اھلہ منہ اکبر عنداللہ والفتنۃ اکبر من القتل۔
وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الْيَتَامَى قُلْ إِصْلاحٌ لَهُمْ خَيْرٌ وَإِنْ تُخَالِطُوهُمْ فَإِخْوَانُكُمْ
اور پوچھتے ہیں تجھ سے یتیموں کا حکم تو کہہ سنوارنا ان کا بہتر اور اگر خرچ ملا رکھو ان کا تو تمہارے بھائی ہیں۔
۱۔ علامہ ابن کثیر نے اپنی تفسیر ۱/ ۳۷۴۔ ۳۷۵ میں لکھا ہے کہ ابن جریر نے حضرت ابن عباسؓ کے حوالے سے اس آیت مبارکہ کی تفسیر یوں نقل کی ہے۔ حضرت ابن عباسؓ فرماتے ہیں جب یہ دو آیات مبارکہ اتریں۔ ولا تقربوا مال الیتیم الا بالتی ہی احسن (الانعام۔ ۱۵۲) اور پاس نہ جاؤ یتیم کے مال کے مگر جس طرح بہتر ہو۔ اور ان الزین یاکلوان اموال الیتامی ظلما انما یاکلوان فی بطونہم نارا و سیسلون سعیرا (النساء ۱۰) جو لوگ کھاتے ہیں مال یتیموں کا ناحق وہ یہی کھاتے ہیں اپنے پیٹ میں آگ اور اب بیٹھیں گے آگ میں۔
تو جن جن لوگوں کے زیر کفالت یتیم تھے انہوں نے اپنا کھانا پینا یتیموں کے کھانے پینے سے الگ کر لیا۔ اب صورتحال یہ ہو گئی کہ اگر کوئی کھانے کی چیز بچ جاتی تو اسے رکھ چھوڑتے کسی کو دیتے نہیں تھے پھر حسب ضرورت یا تو اسے خود کھا لیتے یا پھر خراب ہو کر ضائع ہو جاتی۔ اس صورتحال سے بڑی مشکلات پیش آنے لگیں تو صحابہ کرامؓ نے اس کا ذکر جناب رسول اللہﷺ سے کیا۔ اس موقع پر یہ آیت مبارکہ نازل ہوئی۔ یسالونک عن الیتامی قل اسلاح لھم خیر ان تخالطوھم فاخوانکم (پوچھتے ہیں تجھ سے یتیموں کا حکم تو کہہ سنوارنا ان کا بہتر ہے اور اگر خرچ ملا رکھو ان کا تو تمہارے بھائی ہیں) اس آیت مبارکہ کے نازل ہونے صحابہ کرامؓ نے اپنا مال زیر کفالت یتیموں کے مال کے ساتھ ملا لیا۔
سدی نے حضرت ابن عباس اور حضرت ابن مسعودؓ سے یوں ہی روایت نقل کی ہے۔
وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الْمَحِيضِ قُلْ هُوَ أَذًى فَاعْتَزِلُوا النِّسَاءَ فِي الْمَحِيضِ
اور پوچھتے ہیں تجھ سے حکم حیض کا تو کہہ وہ گندگی ہے تو تم پڑے رہو عورتوں سے حیض کے وقت۔
۱۔ علامہ سیوطی نے الدر ۱/۲۵۸ میں لکھا ہے کہ امام دارقطنی نے حضرت ابن مسعودؓ کا یہ فرمان نقل کیا ہے آپؓ نے فرمایا۔
عورتوں کی ماہواری کی مدت تین دن سے دس دن تک ہے۔ پس اگر دس دن سے بڑھ جائے تو وہ حیض نہیں استحاضہ ہے۔
نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَكُمْ فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنَّى شِئْتُمْ وَقَدِّمُوا لأنْفُسِكُمْ وَاتَّقُوا اللَّهَ
عورتیں تمہاری کھیتی ہیں تمہاری سو جاؤ اپنی کھیتی میں جہاں سے چاہو اور آگے کی تدبیر کرو اپنے واسطے اور ڈرتے رہو اللہ سے۔
۱۔ علامہ سیوطی نے الدر ۱/ ۲۶۳ میں لکھا ہے کہ سعید بن منصور، ابن حمید، دارمی اور بیہقی رحمہم اللہ نے ابو القعقاع الحرمی کے حوالے سے حضرت ابن مسعودؓ کا یہ واقعہ اپنی کتب میں نقل کیا ہے۔
ایک آدمی نے حضرت ابن مسعودؓ کی خدمت میں حاضر ہو کر پوچھا حضرت! میں اپنی بیوی سے جیسے چاہوں صحبت کر لوں؟ اپؓ نے فرمایا ہاں۔ اس نے پوچھا میں جس حصہ جسم میں چاہوں صحبت کر لوں؟ آپؓ نے فرمایا ہاں! وہاں موجود ایک آدمی اس کے سوال کا مقصد سمجھ گیا۔ اس نے حضرت ابن مسعودؓ سے عرض کیا حضرت یہ چاہتا ہے کہ یہ اپنی بیوی سے اس کی مقعد میں صحبت کرے۔ اب آپؓ نے فرمایا نہیں کر سکتا کیونکہ بیوی کی مقعد اس کے خاوند پر حرام ہے۔
۲۔ علامہ سیوطی نے الدر ۱/۶۲۸ میں لکھا ہے کہ مشہور محدث عبد الرزاق اور ابن ابی شیبہ نے حضرت ابو وائل کے حوالے سے حضرت ابن مسعودؓ کا ایک واقعہ نقل کیا ہے۔
ایک آدمی نے حضرت ابن مسعودؓ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ میں نے ایک کنواری لونڈی سے شادی کی ہے مگر مجھے اندیشہ ہے کہ وہ مجھے پسند نہیں کرتی۔
آپؓ نے فرمایا بلا شبہ محبت و الفت اللہ جل جلالہ کی جانب سے ہوتی ہے اور ناپسندیدگی کے بیچ شیطان بوتا ہے تاکہ اللہ تعالیٰ کا حلال کردہ کام لوگوں کی نظروں میں ناپسند ٹھہرا سکے تم ایسا کرنا جب وہ آ جائے تو اسے کہنا کہ میرے پیچھے کھڑی ہو کر دو رکعت نماز پڑھو اور یہ دعا کرنا اللہم بارک لی فی اھلی وبارک لہم فی وارزقنی منہم وارزقہم منی اللھم اجمع بیننا ماجمعت و فرق بیننا ازا فرقت الی خیر۔
۳۔ علامہ سیوطی نے الدر ۱/ ۲۶۸ میں لکھا ہے کہ ابن ابی شیبہ اور خرائطی نے مکارم الاخلاق میں حضرت علقمہ کے حوالے سے یہ نقل کیا ہے کہ حضرت ابن مسعودؓ جب اپنی بیوی سے صحبت کرتے تو بوقت انزال یہ دعا پڑھتے۔ اللہم لا تجعل للشیطان فیھا رزقتنا نسیبا۔
لِلَّذِينَ يُؤْلُونَ مِنْ نِسَائِهِمْ تَرَبُّصُ أَرْبَعَةِ أَشْهُرٍ
جو لوگ قسم کھا رہتے ہیں اپنی عورتوں سے ان کو فرصت ہے چار مہینے۔
۱۔ طبری نے جامع ۴/۴۷۹ میں لکھا ہے کہ حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ ایلاء کے بارے میں فرمایا کرتے تھے کہ جب چار ماہ گزر جائیں تو عورت کو طلاق بائنہ ہو جاتی ہے۔
۲۔ طبری نے جامع ۴/ ۴۸۰ میں لکھا ہے حضرت عبد اللہ بن انیس نے اپنی عورت سے ایلاء کیا اور کہیں چلے گئے چھ ماہ تک واپس نہیں آئے۔ پھر جب واپس آئے تو اس عورت کے پاس گئے کسی نے کہا اسے آپ کی طرف سے طلاق بائنہ ہو چکی ہے، اب یہ حضرت ابن مسعودؓ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور صورتحال کا تذکرہ کیا آپؓ نے فرمایا کوئی شک نہیں اسے طلاق بائنہ ہو چکی ہے پس تم اسے جا کر بتا دو اور اسے پیغام نکاح دو۔ انہوں نے جا کر اسے بتایا کہ تجھے طلاق بائن ہو چکی ہے اور ساتھ ہی پیغام نکاح بھی دے دیا۔ انہوں نے ملک شام میں رائج وزن کے حساب سے پانچ پاؤنڈ سونا بطور مہر اسے دیا۔
۳۔ قرطبی نے احکام ۳/۱۰۶ میں لکھا ہے ابن سیرین نے فرمایا قسم غصہ میں اٹھائی جائے یا خوشی میں وہ ایلاء ہی ہے۔
حضرت ابن مسعودؓ اور امام ثوری نے بھی یوں ہی ارشاد فرمایا ہے۔
فَإِنْ فَاءُوا فَإِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ
پھر اگر مل گئے تو اللہ بخشنے والا مہربانی۔
۱۔ علامہ سیوطی نے الدر ۱/۲۷۱ میں لکھا ہے حضرت ابن مسعودؓ نے فرمایا فئی سے مراد رضا مندی ہے۔
۲۔ سیوطی نے الدر ۱/ ۲۷۱ میں حضرت ابن مسعودؓ کا یہ ارشاد بھی نقل کیا ہے کہ فئی سے مراد صحبت کرنا ہے۔
۳۔ علامہ سیوطی نے الدر ۱/ ۲۷۱ پر ہی حضرت ابن مسعودؓ کا یہ فرمان بھی تحریر کیا ہے کہ جب میاں بیوی کسی بیماری، سفر، قید یا کسی اور عذر کی وجہ سے ملاقات نہ کر سکتے ہوں تو خاوند رجوع پر کسی کو گواہ بنا لے تو یہی اس کا رجوع سمجھا جائے گا۔
وَالْمُطَلَّقَاتُ يَتَرَبَّصْنَ بِأَنْفُسِهِنَّ ثَلاثَةَ قُرُوءٍ
اور طلاق والی عورتیں انتظار کروائیں اپنے تئیں تین حیض تک۔
۱۔ علامہ بغوی نے معالم ۱/۱۸۸ میں تحریر فرمایا ہے کہ علماء کی ایک جماعت اس بات کی قائل ہے کہ القرء سے مراد حیض ہے۔ حضرت عمر اور حضرت ابن مسعودؓ وغیرہ کا موقف بھی یہی ہے۔
۲۔ علامہ طبری نے جامع ۴/۲۶۰ میں لکھا ہے حضرت ابن مسعودؓ نے ایلاء کا شکار ہو جانے والی عورت بارے میں فرمایا جب چار ماہ گزر جائیں تو اسے طلاق بائن ہو جائے گی اب وہ تین قروء یعنی تین حیض عدت گزارے گی۔
وَبُعُولَتُهُنَّ أَحَقُّ بِرَدِّهِنَّ فِي ذَلِكَ إِنْ أَرَادُوا إِصْلاحًا
اور ان کے خاوندوں کو پہنچتا ہے پھیر لینا ان کا اتنی دیر میں اگر چاہیں صلح کرنی۔
۱۔ طبری نے جامع ۴/ ۵۰۲۔ ۵۰۳ میں حضرت علقمہ کے حوالے سے لکھا ہے وہ فرماتے ہیں ہم حضرت عمرؓ کی خدمت میں حاضر تھے کہ ایک عورت نے آ کر پوچھا حضرت! میرے خاوند نے مجھے ایک یا دو طلاقیں دیں پھر وہ رجوع کے لیے ایسے وقت میرے پاس آیا کہ میں حیض سے پاک ہو کر غسل کی تیاری کر رہی تھی میں نے غسل کے لیے پانی بھی رکھ لیا تھا دروازہ بھی بند کر لیا تھا حتی کہ کپڑے بھی اتار دئیے تھے تو اب میرے بارے میں کیا فیصلہ ہے؟ حضرت عمرؓ نے پاس بیٹھے حضرت ابن مسعودؓ دریافت فرمایا کہ آپ کی رائے کیا ہے؟ حضرت ابن مسعودؓ نے فرمایا جب تک اس کے لیے نماز نہ پڑھنا جائز نہیں ہوا تھا تب تک رجوع کرنا ٹھیک تھا لہذا میرا خیال ہے کہ یہ اس کی بیوی ہے نکاح ختم نہیں ہوا۔ حضرت عمرؓ نے فرمایا میری رائے بھی یہی ہے۔
۲۔ طبری نے جامع ۴/۵۰۴ میں حضرت نخعی کے حوالے سے لکھا ہے کہ حضرت عمرؓ نے حضرت ابن مسعودؓ سے اس آدمی کے بارے میں مشورہ طلب کیا جس نے اپنی بیوی کو ایک یا دو طلاقیں دی تھیں اور تیسرے حیض کے وقت رجوع کرنا چاہتا تھا، حضرت ابن مسعودؓ نے فرمایا جب تک وہ غسل نہیں کر لیتی یہ خاوند اس کا زیادہ حقدار ہے حضرت عمرؓ نے فرمایا میرے دل میں جو بات تھی آپ نے بھی اس کی موافقت کی ہے چنانچہ اس عورت کو اس کے خاوند کے حوالے کر دیا۔
الطَّلاقُ مَرَّتَانِ فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ
طلاق ہے دو بار تک پھر رکھنا موافق دستور کے یا رخصت کرنا نیکی سے۔
۱۔ طبری نے جامع ۴/۵۴۲ میں لکھا ہے کہ حضرت ابن مسعودؓ اللہ جل جلالہ کے فرمان الطلاق مرتان فامساک بمعروف او تسریح باحسان کی تفسیر یوں فرمایا کرتے تھے کہ مرد ایسے وقت اپنی عورت کو طلاق دے جب وہ حیض سے پاک ہو چکی ہو اور ابھی صحبت بھی اس سے نہ کی ہو۔ اب اسے یوں ہی رہنے دے یہاں ن تک کہ وہ اگلے حیض سے پاک ہو جائے تو دوسری طلاق دینا چاہے تو دے دے۔ دو طلاقیں دینے کے بعد اگر رجوع کرنا چاہتا ہے تو رجوع کر لے اگر ایک اور طلاق دینا چاہتا ہے تو طلاق دے لے ورنہ اسے یوں ہی رہنے دے۔ یہاں تک کہ وہ تین حیض مکمل کرے اور اپنے خاوند سے بائن ہو جائے۔
۲۔ قرطبی نے ۳/۱۲۶ میں تحریر کیا ہے کہ حضرت ابن مسعودؓ اور حضرت ابن عباسؓ نیز حضرت مجادہ وغیرہ دیگر کئی مفسرین کرام نے فرمایا ہے کہ اس آیت مبارکہ میں طلاق دینے کس سنت طریقہ بتایا جا رہا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جو آدمی دو طلاقیں دے لے وہ تیسری طلاق دینے میں اللہ تعالیٰ سے ڈرے۔ اب عورت کا کوئی حق مارے بگیر اسے چھور دے یا پھر اس کے ساتھ خوشگوار تعلقات قائم رکھتے ہوئے اسے اپنے پاس رکھ لے۔
۳۔ علامہ سیوطی نے الدر ۱/۲۷۸ میں لکھا ہے کہ امام بیہقی نے حضرت ابن عباس، حضرت ابن مسعودؓ اور دیگر کئی صحابہ کرامؓ کے حوالے سے روایت کی ہے۔ یہ تمام حضرات فرماتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان الطلاق مرتان میں وہ مدت بتائی جا رہی ہے جس میں رجوع ہو سکتا ہے جب کسی نے ایک طلاق دے لی ہے یا دو دے لی ہیں تو اب تیا تو اسے اپنے پاس رکھے اور رجوع کر لے یا پھر اس کے حوالے سے زبان بند رکھے۔ یہاں تک کہ وہ اپنی عدت گزارے پھر وہ جانے اور اس کا کام جانے۔
۴۔ علامہ قرطبی نے احکام ۳/۱۳۲ میں لکھا ہے یکمشت تین طلاقیں دینا طلاق بدعت ہے۔ حضرت علی المرتضیؓ اور حضرت ابن مسعودؓ نے فرمایا ایسا کرنے سے ایک ہی طلاق ہو گی۔
۵۔ حضرت امام مالکؒ نے موطا ۲/۵۵۰ میں لکھا ہے کہ انہیں یہ قصہ پہنچا ہے ایک آدمی نے حضرت ابن مسعودؓ کی خدمت میں حاضر ہو کر کہا میں نے اپنی بیوی کو آٹھ طلاقیں دی ہیں۔ حضرت نے اس سے پوچھا پھر تجھے کیا بتایا گیا؟ اس نے کہا مجھے بتایا گیا کہ اب وہ میری بیوی نہیں رہی حضرت ابن مسعودؓ نے فرمایا لوگوں نے سچی بات کی ہے۔ آپ نے مزید فرمایا جس آدمی نے اس طریقہ کے مطابق طلاق دی جو طریقہ اللہ تعالیٰ نے بتایا ہے تو طلاق ہو گئی کیونکہ اللہ تعالیٰ یہ معاملات واضح فرما چکے ہیں۔ اور آپ نے فرمایا جو اپنا معاملہ اپنے اپ پر مشتبہ بنائے گا ہم بھی اسے اسی پر چمٹا دیں گے، اپنے معاملات خود پر مشتبہ نہ بنایا کرو۔
فَإِنْ خِفْتُمْ أَلا يُقِيمَا حُدُودَ اللَّهِ فَلا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا فِيمَا افْتَدَتْ بِهِ
پھر اگر تم لوگ درو کہ وہ تھیک نہ رکھیں گے قاعدے اللہ کے تو نہیں گناہ دونوں پر جو بدلہ دے کر چھوٹے عورت۔
۱۔ علامہ بغوی نے معالم / ۱۹۳ میں لکھا ہے اہل علم کی خلع کے حوالے سے آراء مختلف ہیں۔ ان کی اکثریت اس بات کی قائل ہے کہ خلع طلاق بائن ہے اس سے طلاق کی تعداد کم ہو جاتی ہے۔
حضرت عمر، حضرت ابن مسعودؓ اور دیگر کئی صحابہ کرامؓ کی یہی رائے ہے۔
فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا أَنْ يَتَرَاجَعَا إِنْ ظَنَّا أَنْ يُقِيمَا حُدُودَ اللَّهِ۔
پھر اگر اس کو طلاق دی تو اب حلال نہیں اس کو وہ عورت اس کے بعد جب نکاح نہ کرے کسی خاوند سے اس کے سوائے پھر اگر وہ شخص اس کو طلاق دے تب گیا وہ نہیں ان دونوں پر کہ پھر مل جائیں اگر خیال کریں تو تھیک رکھیں قاعدے اللہ کے۔
۱۔ علامہ سیوطی نے الدر ۱/ ۲۸۴ میں لکھا ہے کہ ابن ابی شیبہ نے حضرت ابن مسعودؓ کا یہ فرمان مبارک نقل کیا ہے۔
عورت اپنے پہلے خاوند کے لیے اس وقت تک حلال نہیں ہوتی جب تک دوسرا خاوند اسے خود سے الگ نہ کر دے۔
۲۔ حضرت امام احمد بن حنبلؒ نے اپنی مسند ۶/ ۱۴۹۔ ۱۵۰ میں حضرت ابن مسعودؓ کی یہ روایت نقل کی ہے۔ آپ فرماتے ہیں سرکار دو عالمﷺ نے فرمایا۔ حلالہ کرنے والا اور حلالہ کروانے والا دونوں ملعون ہیں۔
۳۔ علامہ سیوطی نے الدر ۱/۲۸۵ میں لکھا ہے کہ محدث کبیر امام عبد الرزاق نے حضرت ابن مسعودؓ کا یہ فرمان نقل کیا ہے کہ۔ طلاق یافتہ لونڈی کا آقا اگر اس سے صحبت کرے تو بھی وہ اپنے پہلے خاوند کے لیے اس وقت تک حلال نہ ہو گی جب تک کسی اور سے نکاح نہ کر لے۔
وَإِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَبَلَغْنَ أَجَلَهُنَّ فَأَمْسِكُوهُنَّ بِمَعْرُوفٍ أَوْ سَرِّحُوهُنَّ بِمَعْرُوفٍ وَلا تُمْسِكُوهُنَّ ضِرَارًا لِتَعْتَدُوا وَمَنْ يَفْعَلْ ذَلِكَ فَقَدْ ظَلَمَ نَفْسَهُ وَلا تَتَّخِذُوا آيَاتِ اللَّهِ هُزُوًا
اور جب طلاق دی تم نے عورتوں کو پھر پہنچیں اپنی عدت تک تو رکھ لو ان کو دستور سے یا رخصت کر دو ان کو دستور سے اور مت بند کرو ان کے ستانے کو تو زیادتی کرو اور جو کوئی یہ کام کرے اس نے برا کیا اپنا اور مت ٹھہراؤ حکم اللہ کے ہنسی۔
۱۔ علامہ قرطبی نے نے احکام ۳/۱۵۷ میں تحریر کیا ہے کہ حضرت علی المرتضیؓ، حضرت ابن مسعودؓ اور حضرت ابو دردراءؓ کا فرمان ہے کہ۔
تین چیزوں میں مذاق نہیں چلتا۔ ان میں مزاق کرنے والا بھی سنجیدہ ہی سمجھا جائے گا۔ تین چیزیں یہ ہیں نکاح، طلاق، اور غلام آزاد کرنا۔
وَالْوَالِدَاتُ يُرْضِعْنَ أَوْلادَهُنَّ حَوْلَيْنِ كَامِلَيْنِ لِمَنْ أَرَادَ أَنْ يُتِمَّ الرَّضَاعَةَ
لڑکے والیاں دودھ پلاویں اپنے لڑکے کو دو برس پورے جو کوئی چاہے کہ پوری کرے مدت دودھ کی۔
۱۔ طبری نے جامع ۵/۳۶ میں حضرت ابن مسعودؓ کا یہ فرمان نقل کیا ہے کہ و سال مکمل ہو جانے کے بعد رضاعت نہیں ہوتی اسی طرح اگر دو برس کے مکمل ہونے سے پہلے دودھ چھڑا دیا تو اب اس کے بعد بھی رضاعت نہیں ہو گی۔
وَالَّذِينَ يُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ وَيَذَرُونَ أَزْوَاجًا يَتَرَبَّصْنَ بِأَنْفُسِهِنَّ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا
اور جو لوگ مر جائیں تم میں اور چھور جائیں عورتیں وہ انتظار کروائیں اپنے تئیں چار مہینے اور دس دن۔
۱۔ قرطبی نے احکام ۳/۱۸۲ میں لکھا ہے علماء کی ایک جماعت اس بات کی قائل ہے کہ طلاق اور وفات کی عدت کا آغاز اسی دن سے ہو جائے گا جس دن طلاق یا وفات ہوئی ہے۔
حضرت ابن عمر اور حضرت ابن مسعودؓ وغیرہ مفسرین کا فرمان بھی یہی ہے۔
۲۔ علامہ قرطبی نے احکام ۳/۱۸۴ میں لکھا ہے کہ ایسی لونڈی کی عدت کے بارے میں علماء کرام کی آراء مختلف ہیں جس نے اپنے آقا کا بچہ جنا ہو اور یہ آقا فوت ہو گیا ہو۔ حضرت علی المرتضیؓ اور حضرت ابن مسعودؓ کی رائے گرامی یہ ہے کہ اس کی عدت تین ماہواریاں ہیں۔
۳۔ حضرت امام احمد بن حنبلؒ نے مسند احمد ۶/۷۴۔ ۷۵ میں حضرت عبد اللہ بن عتبہ کے حوالے سے یہ قصہ لکھا ہے کہ حضرت ابن مسعودؓ سے ایک بار ایسے آدمی کے بارے پوچھا گیا جس نے ایک عورت سے نکاح کیا مہر مقرر نہیں کیا اور صحبت کرنے سے پہلے وفات پا گیا تو حضرت ابن مسعودؓ نے کوئی جواب نہیں دیا۔ لوگوں نے پھر پوچھا تو آپ نے فرمایا میں یہ مسئلہ تمہیں اپنے اجتہاد سے بتاؤں گا۔ اگر مسئلہ درست ہوا تو سمجھنا اللہ جل جلالہ نے مجھے اس کی توفیق عطا فرمائی ہے اور اگر مجھ سے غلطی ہو گئی تو اس غلطی کی نسبت میری طرف کرنا۔ مسئلہ یہ ہے کہ ایسی عورت کو اس کی ہم عمر عورتوں جتنا مہر دیا جائے اسے وراثت میں سے حصہ بھی ملے گا اور یہ عدت بھی گزارے گی۔
قبیلہ اشجع کا ایک آدمی کھڑا ہو کر کہنے لگا میں سرکار دو عالمﷺ کے بارے میں گواہی دیتا ہوں کہ آپﷺ نے یہ مسئلہ یوں ہی بتایا تھا حضرت ابن مسعودؓ نے اس سے فرمایا اس بات کے گواہ لاؤ۔ حضرت ابو الجراح نے اس بات کی گواہی دی۔
ولا تعزموا عقدۃ النکاح حتی یبلغ الکتاب اجلہ۔
اور نہ باندھو گرہ نکاح کی جب تک پہنچ چکے حکم اللہ کا اپنی مدت کو۔
۱۔ قرطبی نے احکام ۳/۷۲ میں تحریر کیا ہے کہ اہل علم کی ایک بڑی تعداد کی رائے ہے کہ عورت کے وارث کی اجازت کے بغیر نکاح نہیں ہو سکتا۔
حضرت عمر بن الخطاب اور حضرت ابن مسعودؓ و دیگر نے یہ روایت بیان فرمائی ہے۔
۲۔ قرطبی نے احکام ۳/ ۱۹۳۔ ۱۹۴ میں لکھا ہے کہ اگر کسی نے نکاح کر کے عدت کے دوران بیوی سے صحبت کر لی تو ان کے درمیان تفریق کرا دی جائے گی لیکن اس سے یہ نہیں ہو گا کہ یہ ہمیشہ کے لیے ایک دوسرے پر حرام ہو گئے ہیں بلکہ یہ موجودہ نکاح ختم ہو جائے گا اب عورت اس کی عدت بھی گزارے گی۔ عدت کے بعد یہی خاوند دوبارہ پیغام نکاح دے سکتا ہے۔ حضرت امام سفیان ثوری، اہل کوفہ اور امام شافعی رحمہم اللہ تعالیٰ کا یہی مذہب ہے۔ ان کی دلیل یہ ہے کہ علماء کرام کا اس بات پر اجماع ہے اگر کسی نے زنا کیا تو اس زنا کی وجہ سے ان دونوں کا نکاح حرام نہیں ہو جاتا۔ تو ایسے ہی اگر کسی نے عدت کے دوران اپنی بیوی سے صحبت کر لی تو یہ دوبارہ نکاح کر سکتے ہیں۔ علماء کرام نے فرمایا کہ حضرت علی المرتضیؓ کا یہی فرمان ہے محدث شہر امام عبد الرزاق نے اسے نقل کیا ہے۔ حضرت ابن مسعودؓ کا بھی ایسا ہی فرمان منقول ہے۔
وَإِنْ طَلَّقْتُمُوهُنَّ مِنْ قَبْلِ أَنْ تَمَسُّوهُنَّ وَقَدْ فَرَضْتُمْ لَهُنَّ فَرِيضَةً فَنِصْفُ مَا فَرَضْتُمْ
اور اگر طلاق دو ان کو ہاتھ لگانے سے پہلے اور ٹھیرا چکے ہو ان کا حق تو لازم ہو آدھا جو کچھ ٹھیرایا تھا۔
۱۔ علامہ بغوی ۱/۲۰۵ میں نقل کیا ہے علماء کرام کی ایک جماعت کا مذہب یہ ہے اگر کسی نے اپنی نئی نویلی دلہن کے ساتھ تنہائی تو اختیار کی مگر صحبت سے پہلے ہی اسے طلاق دے دی تو اس پر واجب ہے کہ اسے آدھا حصہ مہر دے مگر عورت پر لازم نہیں کہ وہ عدت گزارے۔
حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ
خبردار رہو نمازوں سے۔
۱۔ حضرت امام احمد بن حنبلؒ نے مسند احمد ۶/۴۱ میں حضرت ابن مسعودؓ کے حوالے سے یہ حدیث بیان فرمائی ہے۔ حضرت ابن مسعودؓ فرماتے ہیں میں نے آقاﷺ سے عرض کیا کون سا عمل اللہ جل جلالہ کو بہت زیادہ پسند ہے؟ آقا علیہ الصلوٰۃ و التسلیم نے فرمایا نمازیں اپنے وقت ادا کیا کرو۔
۲۔ حضرت امام احمد بن حنبلؒ نے ۶/۱۷۔ ۱۸ میں حضرت ابن مسعودؓ کی یہ روایت بیان فرمائی ہے۔ حضرت ابن مسعودؓ فرماتے ہیں۔
جسے یہ بات بھلی لگتی ہے کہ وہ کل قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے حضور مسلمان کی حالت میں پیش ہو اسے چاہیے کہ یہ نمازیں پورے ذوق و شوق سے اسی وقت ادا کرے جب ان کی اذان دی جائے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ تمہارے آقا علیہ الصلوٰۃ و التسلیم کے لیے ہدایت کے تمام طریقے واضح فرما دئیے ہیں۔ یہ نمازیں بھی ان میں سے ہی ہیں۔
۳۔ علامہ سیوطی نے الدر ۱/ ۲۸۹ میں لکھا ہے حضرت ابن مسعودؓ نے فرمایا: جس نے نماز ترک کر دی اس کا دین سے کوئی لینا دینا نہیں۔
والصلاۃ الوسطٰی
اور بیچ والی نماز سے۔
۱۔ امام ترمذیؒ نے ترمذی ۱/۲۹۳ میں حضرت ابن مسعودؓ کے حوالے سے حدیث مبارکہ بیان فرمائی ہے آقائے دو جہاںﷺ نے فرمایا صلاۃ الوسطی سے مراد عصر کی نماز ہے۔
۲۔ حضرت امام احمد بن حنبلؒ نے مسند ۵/۳۱۸ میں حضرت ابن مسعودؓ کی یہ روایت بیان فرمائی ہے حضرت ابن مسعودؓ فرماتے ہیں۔
مشرکوں نے آقا علیہ الصلوٰۃ و التسلیم نے فرمایا اللہ تعالیٰ کے پیٹ اور خبریں آگ سے بھرے انہوں نے ہمیں صلاۃ الوسطی سے روکے رکھا۔
وقوموا للہ قانتین
اور کھڑے رہو اللہ کے آگے ادب سے۔
۱۔ حضرت امام شافعیؒ نے مسند ۲/۱۱۹ میں حضرت ابن مسعودؓ کے حوالے سے یہ حدیث بیان فرمائی ہے۔ حضرت ابن مسعودؓ فرماتے ہیں۔
حبشہ کی ہجرت سے پہلے ہم لوگ سرکار دو عالمﷺ کو حالت نماز میں سلام کیا کرتے تو آقاﷺ حالت نماز میں ہی ہمارے سلام کا جواب مرحمت فرما دیا کرتے۔ حبشہ سے واپسی پر میں سلام کی غرض سے حاضر خدمت ہوا تو آقا علیہ الصلوٰۃ و التسلیم نماز ادا فرما رہے تھے میں نے سلام کیا مگر آقائے دو جہاںﷺ نے جواب نہ دیا مجھے وسوسوں نے آ گھیرا۔ چنانچہ میں وہیں بیٹھ گیا۔ جب آقائے دو جہاںﷺ نماز مکمل فرما چکے تو فرمایا اللہ تعالیٰ جو چاہتے ہیں نیا حکم اتارتے ہیں، نیا حکم یہ آیا ہے کہ نماز میں باتیں مت کرو۔
۲۔ سیوطی نے الدر ۳۰۶ میں لکھا ہے حضرت ابن مسعودؓ نے فرمایا قانت وہ ہے جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولﷺ کا فرمانبردار ہو۔
۳۔ علامہ سیوطی نے الدر ۱/۳۰۸ میں لکھا ہے طبرانی نے الاوسط میں یہ حدیچ شریف بیان کی ہے حضرت ابن مسعودؓ فرماتے ہیں سرکار دو عالمﷺ وتر کے علاوہ کسی نماز میں دعائے قنوت نہیں پڑھا کرتے تھے البتہ جب جنگ جاری ہوتی تو آپﷺ تمام نمازوں میں قنوت نازلہ پڑھتے اور مشرکین کے لیے بد دعا فرماتے۔
۴۔ امام ترمذی نے ۱۳/ ۳۱۲۔ ۳۱۳ میں یہ حیث نقل فرمائی ہے حضرت ابن مسعودؓ فرماتے ہیں رحمت کائناتﷺ نماز وتر میں رکوع کرنے سے پہلے دعائے قنوت پڑھا کرتے تھے۔ حضرت سفیان ثوری نے بھی ابان بن ابی عیاش سے یوں ہی روایت بیان فرمائی ہے۔
مَنْ ذَا الَّذِي يُقْرِضُ اللَّهَ قَرْضًا حَسَنًا فَيُضَاعِفَهُ لَهُ
کون شخص ہے ایسا کہ قرض دے اللہ کو اچھا قرض کہ وہ اس کو دونا کر دے۔
۱۔ علامہ طبری نے جامع ۵/۲۸۴۔ ۲۸۵ میں لکھا ہے۔ حضرت ابن مسعودؓ بیان فرماتے ہیں جب آیت کریمہ من ذا الذی یقرض اللہ قرضا حسنا نازل ہوئی تو صحابی رسول حضرت ابو الدحداحؓ نے عرض کیا اے اللہ کے رسول! کیا واقعی اللہ تعالیٰ ہم سے قرض لینا چاہتا ہے؟ سرکار دو عالمﷺ نے فرمایا ہاں! ابو دحداح۔
حضرت ابو دحداحؓ نے عرض کیا جناب اپنا دست مبارک آگے بڑھائیے۔ سرکار دو عالمﷺ نے اپنا دست مبارک انہیں پکرا دیا تو انہوں نے عرض کیا میں نے کھجور کے چھ سو درختوں والا اپنا باغ اپنے رب کو قرض دیا۔
اس کے بعد آپؓ اپنے باغ کو چل دیے۔ آپؓ کی زوجہ محترمہ حضرت ام دحداح وہاں اپنے بچوں میں موجود تھیں انہیں آواز دی۔ اے ام دحداح! حضرت ام دحداح نے کہا جی! آپؓ نے فرمایا اس باغ سے باہر نکل آؤ چھ سو درختوں کا یہ باغ میں نے اپنے پروردگار کو قرض دے دیا ہے۔
وَلَوْلا دَفْعُ اللَّهِ النَّاسَ بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ لَفَسَدَتِ الأرْضُ
اور اگر دفع نہ کرواے اللہ لوگوں کو ایک کو ایک سے تو خراب ہو جاوے ملک۔
١۔ علامہ قرطبی نے احکام ٣ْ ٢٦٠ میں لکھا ہے (ابو بکر الخطیب نے یہ حدیث مبارکہ نقل کی ہے) حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ بیان فرماتے ہیں۔ امام الانبیاءﷺ نے فرمایا: اگر تم میں چند عاجز لوگ چرنے والے جانور اور دودھ پیتے بچے نہ ہوتے تو ایمان والوں پر عذاب کب کا آ چکا ہو گا۔
۲۔ علامہ سیوطی نے الدر ۱/۳۲۰ میں لکھا ہے طبرانی نے یہ حدیث بیان کی ہے۔ حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ نے فرمایا کہ آقائے دو جہاںﷺ نے فرمایا! میری امت میں چالیس ایسے مرد ہمیشہ رہیں گے جن کے دل حضرت ابراہیمؑ کے دل جیسے ہوں گے، اللہ تعالیٰ ان کی وجہ سے اہل زمین سے مصائب دور فرماتے رہیں گے۔ ان لوگوں کو ابدال کہا جائے گا۔ انہوں نے یہ مقام نماز، روزے اور صدقہ کے ذریعے حاصل نہیں کیا ہو گا۔ صحابہ کرامؓ نے عرض اللہ کے رسول!ﷺ انہیں یہ مقام کسی وجہ سے ملا ہو گا۔ آقا علیہ الصلوٰۃ و التسلیم نے فرمایا دریا دلی اور مسلمانوں کی خیر خواہی کی وجہ سے۔
۳۔ علامہ سیوطی نے الدر ۱/۳۲۰ میں لکھا ہے کہ ابو نعیم نے حلیہ میں اور ابن عساکر نے بھی یہ حدیث بیان کی ہے۔ حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ بیان فرماتے ہیں کہ امام الانبیاءﷺ نے فرمایا:
مخلوق میں اللہ تعالیٰ کے تین سو بندے ایسے ہیں جن کے دل حضرت آدمؑ کے دل جیسے ہیں، اور مخلوق میں اللہ جل جلالہ کے چالیس بندے ایسے ہیں جن کے دل حضرت موسیٰؑ کے دل جیسے ہیں۔ اور مخلوق میں اللہ عز و جل کے سات بندے ایسے ہیں جن کے دل حضرت ابراہیمؑ کے دل جیسے ہیں، مخلوق میں اللہ کریم کے پانچ بندے ایسے ہیں جن کے دل حضرت جبرائیلؑ کے دل جیسے ہیں مخلوق میں اللہ کریم کے تین بندے ایسے ہیں جن کے دل حضرت میکائیلؑ کے دل جیسے ہیں اور مخلوق میں اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا ایک بندہ ایسا ہے جس کا دل حضرت اسرافیلؑ کے دل جیسا ہے۔
جب یہ ایک بندہ وفات پاتا ہے تو اللہ تعالیٰ تین میں سے کسی کو اس کی جگہ پر لے آتے ہیں، اور جب ان تین میں سے کوئی وفات پاتا ہے تو اللہ تعالیٰ پانچ میں سے کسی کو اس کی جگہ لے آتے ہیں اور جب ان پانچ میں سے کوئی وصال فرماتا ہے کہ تو اللہ تعالیٰ سات میں سے کسی کو اس کی جگہ پر لے آتے ہیں اور جب ان سات میں سے کوئی انتقال فرماتا ہے تو اللہ تعالیٰ چالیس میں سے کسی کو اس کی جگہ پر لے آتے ہیں اور جب چالیس میں سے کوئی رحلت فرماتا ہے تو اللہ تعالیٰ تین سو میں سے کسی کو اس کی جگہ پر لے آتے ہیں۔ اور جب تین سو میں سے کوئی اس جہان فانی کو الوداع کہتا ہے تو اللہ تعالیٰ عوام میں سے کسی اس کی جگہ پر لے آتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ ان کی وجہ سے زندہ کرتے ہیں مارتے ہیں، بارش برساتے ہیں، کھیتی اگاتے ہیں مصیبتیں دور فرماتے ہیں۔
لوگوں نے عرض کیا ان کی وجہ سے کیسے زندہ کرتے اور مارتے ہیں؟ حضرت ابن مسعودؓ نے فرمایا۔
وہ یوں کہ یہ نیک لوگ اللہ تعالیٰ سے لوگوں کی کثرت کا سوال کرتے ہیں تو لوگ کثیر ہو جاتے ہیں۔ یہ لوگ ظالموں کے لیے بد دعا کرتے ہیں تو ان کا قلع قمع کر دیا جاتا ہے، یہ لوگ بارش مانگتے ہیں تو لوگوں کو بارش عطاء ہوتی ہے، یہ لوگ دعا کرتے ہیں تو کھیتی پھل پھول لاتی ہے اور یہ لوگ دست دعا بلند کرتے ہیں تو آنے والی قسما قسم کی مصیبتیں ٹال دی جاتی ہیں۔
اللَّهُ لا إِلَهَ إِلا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ لا تَأْخُذُهُ سِنَةٌ وَلا نَوْمٌ لَهُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الأرْضِ مَنْ ذَا الَّذِي يَشْفَعُ عِنْدَهُ إِلا بِإِذْنِهِ يَعْلَمُ مَا بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ وَلا يُحِيطُونَ بِشَيْءٍ مِنْ عِلْمِهِ إِلا بِمَا شَاءَ وَسِعَ كُرْسِيُّهُ السَّمَاوَاتِ وَالأرْضَ وَلا يَئُودُهُ حِفْظُهُمَا وَهُوَ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ
اللہ اس کے سوائے کسی کی بندگی نہیں۔ جیتا ہے، سب کا تھامنے والا نہیں پکڑتی اس کو اونگھ اور نہ نیند اسی کا ہے جو کچھ آسمان اور زمین میں ہے کون ایسا ہے کہ سفارش کرے اس کے پاس مگر اس کے اذن سے جانتا ہے جو خلق کے روبرو ہے اور پیٹھ پیچھے اور یہ نہیں گھیر سکتے اس کے علم میں سے کچھ مگر ہو وہ چاہے گنجائش ہے اس کی کرسی میں اسمان اور زمین کو اور تھکنا نہیں ان کے تھامنے سے اور وہی ہے اوپر سب سے بڑا۔
علامہ ابن کثیر نے اپنی تفسیر ۱/۴۵۴ میں لکھا ہے ابن مردویہ نے حضرت ابن عمرؓ کی روایت بیان کی ہے وہ فرماتے ہیں حضرت عمر بن خطابؓ ایک دن لوگوں کے پاس تشریف لائے، لوگ خاموش بیٹھے تھے آپؓ نے فرمایا تم میں سے کون بتائے گا کہ قرآن مجید کی سب سے عظیم آیت کریمہ کونسی ہے؟ حضرت ابن مسعودؓ نے عرض کیا آپ باخبر آدمی سے آملے ہیں۔ میں اللہ کے رسولﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ قرآن مجید کی عظیم ترین آیت مبارکہ یہ ہے اللہ لا الہ الا ھو الحی القیوم۔
۲۔ امام ترمذی نے اپنی صحیح ۱۱/۱۵۔ ۱۶ میں لکھا ہے حضرت امام سفیان ثوری نے حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ کی حدیث کی وضاحت میں فرمایا۔ اللہ تعالیٰ نے آسمان و زمین میں کوئی چیز آیت الکرسی سے عظیم پیدا نہیں فرمائی۔
۳۔ علامہ سیوطی نے الدر ۱/۳۲۳ میں لکھا ہے علامہ محاملی نے فوائد میں حضرت ابن مسعودؓ کے حوالے سے یہ حدیث بیان فرمائی حضرت ابن مسعودؓ فرماتے ہیں کسی آدمی نے عرض کیا اے اللہ کے رسولﷺ مجھے کوئی ایسی چیز سکھا دیجیے۔ جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ مجھے نفع بخشے۔ آقا علیہ الصلوٰۃ و التسلیم نے فرمایا:
آیت الکرسی پڑھا کر۔ یہ تیری، تیری اولاد کی، تیرے گھر کی اور تیرے گھر کے ارد گرد گھروں کی حفاظت کرے گی۔
۴۔ ابن کثیر نے اپنی تفسیر ۱/۴۵۳ میں لکھا ہے کہ ابو عبید نے کتاب الغریب میں کہا کہا کہ حضرت ابن مسعودؓ نے فرمایا۔ ایک آدمی گھر سے باہر نکلا تو اسے ایک جن ملا۔ جن نے اسے کہا کیا تو مجھے پچھاڑ سکتا ہے؟ اگر تو مجھے پچھاڑ لے تو میں تجھے ایک ایسی آیت سکھاؤں گا اگر تو گھر داخل ہوتے وقت اسے پڑھے گا تو شیطان اس میں داخل نہیں ہو گا۔
چنانچہ انسان نے جن سے کشتی کی تو اس نے پچھاڑ ڈالا۔ پھر اسے کہا مجھے تم بڑے لاغر اور کمزور نظر آتے ہو تمہارے بازو ایسے ہیں جیسے کتے کی ٹانگیں ہوتی ہیں کیا تم سب جن ایسے ہی ہوتے ہو یا تم ان میں سے ایسے ہو؟ جن نے کہا میں تو ان میں سے سب سے طاقتور ہوں۔ تم دوبارہ مجھ سے کشتی کرو۔ چنانچہ انہوں نے دوبارہ کشتی کی تو انسان نے اسے پچھاڑ ڈالا۔ اب جن کہنے لگا آیت الکرسی پڑھا کرو کیونکہ جب بھی کوئی گھر داخل ہوتے ہوئے اسے پڑھتا ہے شیطان گدھے کی طرح گوز مارتے ہوئے اس کے گھر سے نکل جاتا ہے۔
۵۔ علامہ سیوطی نے الدر ۱/۳۲۸ میں تحریر کیا ہے کہ امام بیہقی نے اسماء صفات میں حضرت ابن عباس، حضرت ابن مسعودؓ اور چند دیگر صحابہ کرامؓ سے اس آیت مبارکہ اللہ لا الہ الا ھو الحی القیوم کی تفسیر یوں نقل فرمائی ہے۔
القیوم سے مراد قائم رکھنے والا ہے۔
البینہ سے مراد نیند کی وہ ہلکی سی مہک ہے جو چہرے کو چھوتی ہے تو انسان اونگھنے لگتا ہے۔
مابین ایدیھم سے مراد دنیا ہے اور ماخلفہم سے مراد آخرت ہے۔ لایحیطون بشیئ من علمہ کا مطلب یہ ہے کہ لوگوں کو اللہ تعالیٰ کے علم میں سے صرف اتنا ہی معلوم ہوتا ہے جتنا اللہ تعالیٰ چاہتے ہیں۔۔
وسع کرسیہ السموات والارض کا مطلب یہ ہے کہ تمام آسمان اور زمین کرسی کے وسط میں ہیں اور کرسی عرش کے سامنے رکھی ہے۔ جبکہ عرش اللہ تعالیٰ کے قدم رکھنے کی جگہ ہے۔
اور لایؤودہ سے مراد یہ ہے کہ اس پر یہ حفاظت والا کام بوجھل نہیں ہے۔
۶۔ علامہ سیوطی نے الدر ۱/ ۳۲۸ میں لکھا ہے ابن المنذر اور ابو شیخ نے یہ حدیث بیان فرمائی ہے۔ حضرت ابن مسعودؓ نے فرمایا:
ایک آدمی نے عرض کیا اے اللہ کے رسول!ﷺ مقام محمود کیا ہے؟ آقا علیہ الصلوٰۃ و التسلیم نے فرمایا یہ اس دن ملے گا جس دن اللہ جل جلالہ کرسی پر نزول فرمائیں گے۔ کرسی سے ایسی آوازیں آرہی ہوں گی جیسی تنگ ہونے کی وجہ سے نئے کجاوہ سے آتی ہیں۔ حالانکہ آسمان و زمین کے درمیان جتنی وسعت ہے اتنی اس کی وسعت ہو گی۔
۷۔ قرطبی نے احکام ۳/۲۷۷ میں تحریر کیا کہ علامہ بیہقی نے حضرت ابن مسعودؓ اور حضرت ابن عباسؓ کے حوالے سے فرمایا وسع کرسیہ سے مراد اللہ جل جلالہ کا علم ہے۔
لا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ قَدْ تَبَيَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَيِّ
زور نہیں دین کی بات میں کھل چکی ہے صلاحیت بے راہی سے۔
۱۔ علامہ بغوی نے ۳/۲۲۸ میں لکھا ہے کچھ لوگوں کا کہنا کہ یہ بات ابتداء اسلام کی جبکہ ابھی قتال کا حکم نہیں آیا تھا پھر بعد میں قتال والی آیت کریمہ کی وجہ سے یہ آیت منسوخ ہو گئی تھی۔
حضرت ابن مسعودؓ کا فرمان بھی یہی ہے۔
أَوْ كَالَّذِي مَرَّ عَلَى قَرْيَةٍ وَهِيَ خَاوِيَةٌ عَلَى عُرُوشِهَا قَالَ أَنَّى يُحْيِي هَذِهِ اللَّهُ بَعْدَ مَوْتِهَا فَأَمَاتَهُ اللَّهُ مِائَةَ عَامٍ ثُمَّ بَعَثَهُ قَالَ كَمْ لَبِثْتَ قَالَ لَبِثْتُ يَوْمًا أَوْ بَعْضَ يَوْمٍ قَالَ بَلْ لَبِثْتَ مِائَةَ عَامٍ فَانْظُرْ إِلَى طَعَامِكَ وَشَرَابِكَ لَمْ يَتَسَنَّهْ وَانْظُرْ إِلَى حِمَارِكَ وَلِنَجْعَلَكَ آيَةً لِلنَّاسِ
یا جیسے وہ شخص کہ گزرا ایک شہر پر اور وہ گرا پڑا تھا اپنی چھتوں پر بولا کہاں جلاوے گا اس کو اللہ مر گئے پیچھے پھر مار رکھا اس شخص کو اللہ نے سو برس پھر اٹھایا کہا تو کتنی دیر رہا بولا میں رہا ایک دن یا دن سے کچھ کم کہا بلکہ تو رہا سو برس اب دیکھ اپنا کھانا اور پینا سڑ نہیں گیا اور دیکھ اپنے گدھے کو اور تجھ کو ہم نے نمونہ کیا چاہیں لوگوں کے واسطے۔
۱۔ علامی سیوطی نے الدر ۱/ ۳۳۳ میں حضرت عکرمہ کے حوالے سے لکھا ہے ولنجعلک ایۃ اللناس۔ کی تفسیر یہ ہے جب حضرت عزیر کو دوبارہ زندہ کیا گیا تو ان کی عمر ایک سو چالیس سال تھی۔ مگر تھے بالکل جوان جبکہ ان کی اولاد کی عمر سو سال تھی مگر وہ بوڑھے ہو چکے تھے۔ ابن ابی حاتم نے حضرت ابن مسعودؓ سے ایسی ہی تفسیر نقل کی ہے۔
اور جب کہا ابراہیم نے اے رب دکھا مجھے کیونکر جلائے گا تو مردے۔
۱۔ ابن جوزی نے زاد ۱/ ۳۱۳ میں اس آیت کریمہ کا سبب نزول لکھا ہے اس میں یہ ہے کہ جب حضرات ابراہیمؑ کو یہ خوشخبری دی گئی کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنا خلیل بنا لیا ہے تب انہوں نے یہ سوال کیا تھا تاکہ معلوم کر لیں یہ خوشخبری بالکل صحیح ہے۔
سدی نے حضرت ابن مسعودؓ اور حضرت ابن عباسؓ کے حوالے سے یہ بات ذکر کی ہے۔
مَثَلُ الَّذِينَ يُنْفِقُونَ أَمْوَالَهُمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ كَمَثَلِ حَبَّةٍ أَنْبَتَتْ سَبْعَ سَنَابِلَ فِي كُلِّ سُنْبُلَةٍ مِائَةُ حَبَّةٍ وَاللَّهُ يُضَاعِفُ لِمَنْ يَشَاءُ
مثال ان کی جو خرچ کرتے ہیں اپنے مال اللہ کی راہ میں جیسے ایک دانہ اس سے اگیں سات بالیں ہر بال میں سو سو دانے اور اللہ بڑھاتا ہے جس کے واسطے چاہے۔
۱۔ حضرت امام احمد بن حنبل کے فرزند حضرت عبد اللہ نے فرمایا ہمیں حضرت ابن مسعودؓ کی یہ روایت پہنچی ہے۔ حضرت ابن مسعودؓ فرماتے ہیں آقا علیہ الصلوٰۃ و التسلیم نے فرمایا۔ بلا شبہ اللہ تعالیٰ انسان کی ایک نیکی کا بدلہ دس نیکیوں جتنا دیتے ہیں۔ یہاں تک کہ سات سو گنا تک بھی عطا فرماتے ہیں۔
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَنْفِقُوا مِنْ طَيِّبَاتِ مَا كَسَبْتُمْ وَمِمَّا أَخْرَجْنَا لَكُمْ مِنَ الأرْضِ وَلا تَيَمَّمُوا الْخَبِيثَ مِنْهُ تُنْفِقُونَ
اے ایمان والو خرچ کرو ستھری چیزیں اپنی کمائی میں سے اور جو ہم نے نکال دیا تم کو زمین میں سے اور نیت نہ رکھو گندی چیز پر کہ خرچ کرو۔
۱۔ امام رازیؒ نے مفاتیح ۲/۳۴۴ میں لکھا ہے حضرت ابن مسعودؓ اور حضرت مجاہد نے فرمایا الطیب سے مراد حلال ہے اور الخبیث سے حرام مراد ہے۔
۲۔ حضرت امام احمد بن حنبلؒ نے اپنی مسند ۵/ ۲۴۶۔ ۲۴۷ میں لکھا ہے حضرت ابن مسعودؓ نے فرمایا: کوئی آدمی اگر حرام کمائے اور اس میں سے راہ خدا میں خرچ کرے تو اس کے مال میں کوئی برکت نہ ہو گی اور اگر صدقہ کرے تو قبول نہ ہو گا اور اگر یہ مال چھوڑ کر مر گیا تو یہی مال اسے جہنم تک لے جانے کا ذریعہ بن جائے گا۔ بیشک اللہ تعالیٰ برائی، برائی سے نہیں مٹاتے بلکہ اچھائی کے ذریعے برائی مٹاتے ہیں اور بلا شبہ برائی، برائی مٹانے کے کام آ ہی نہیں سکتی۔
۳۔ علامہ سیوطی نے الدر ۱/۳۰۶ میں لکھا ہے حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ نے فرمایا۔ پاکیزہ مال زکوۃٰ نہ دینے سے گندہ ہو جاتا ہے اور گندہ مال زکوۃٰ کی دائے گی کے باوجود پاکیزہ نہیں ہوتا۔
الشَّيْطَانُ يَعِدُكُمُ الْفَقْرَ وَيَأْمُرُكُمْ بِالْفَحْشَاءِ وَاللَّهُ يَعِدُكُمْ مَغْفِرَةً مِنْهُ وَفَضْلا
شیطان وعدہ دیتا ہے تم کو تنگی کا اور حکم کرتا ہے بے حیائی کا اور اللہ وعدہ دیتا ہے اپنی بخشش کا۔
۱۔ علامہ سیوطی نے الدر ۱/۳۴۸ میں لکھا ہے حضرت ابن مسعودؓ نے فرمایا۔
انسان کی مثال اس چیز کی مانند ہے جو اللہ تعالیٰ اور شیطان مردود کے درمیان پڑی ہو۔ اگر اللہ جل جلالہ کو اس چیز سے کوئی کام ہو گا تو اللہ تعالیٰ اسے شیطان سے محفوظ رکھیں گے اور اگر اللہ تعالیٰ کو اس چیز سے کوئی کام نہ ہو گا تو اللہ تعالیٰ شیطان کو اس چیز تک جانے سے نہیں روکیں گے۔
۲۔ امام ترمذیؒ نے اپنی صحیح ۱۱/۱۰۹۔ ۱۱۰ میں حضرت ابن مسعودؓ کی یہ حدیث مبارکہ بیان فرمائی ہے۔ حضرت ابن مسعودؓ فرماتے ہیں آقا علیہ الصلوٰۃ و التسلیم نے فرمایا: بلا شبہ شیطان بھی انسان کو چھوتا ہے اور رحمان کی بھی انسان سے ملاقات رہتی ہے۔ شیطان کا چھونا یہ ہے کہ وہ اسے بربادی کا خوف دلائے گا اور سچ کی تکذیب پر ابھارے گا جبکہ رحمن کی ملاقات یہ ہے کہ وہ اسے اچھائی کا یقین دلائے گا اور سچ کی تصدیق کرنے کو کہے گا۔ تو جو بندہ اپنے دل میں یہ بات محسوس کرے اسے سمجھ لینا چاہیے کہ یہ اللہ جل جلالہ کی طرف سے ہے اور اللہ تعالیٰ کی تعریف کرنی چاہیے۔ اور جو بندہ اوپر والی بات اپنے دل میں محسوس کرے تو وہ شیطان مردود سے اللہ جل جلالہ کی پناہ مانگے۔ یہ باتیں بیان فرما کر بعد میں آپﷺ نے قرآن مجید کی یہ آیت مبارکہ تلاوت فرمائی الشیطان یعدکم انفقوہ ویامرکم بالفحشاء (شیطان وعدہ دینا ہے تم کو تنگی کا اور حکم کرتا ہے بے حیائی کا۔)
يُؤْتِي الْحِكْمَةَ مَنْ يَشَاءُ وَمَنْ يُؤْتَ الْحِكْمَةَ فَقَدْ أُوتِيَ خَيْرًا كَثِيرًا
دیتا ہے سمجھ جس کو چاہے اور جس کو کچھ ملی بہت خوب ملی۔
۱۔ حضرت امام احمد بن حنبلؒ نے مسند ۵/۲۳۷ اور ۶/۷۸۔ ۷۹ میں حضرت ابن مسعودؓ کے حوالے سے یہ حدیث مبارکہ بیان فرمائی ہے۔ آپؓ فرماتے ہیں رحمۃ اللعلمینﷺ نے فرمایا:
دو آدمیوں کے سوا کسی اور پر حسد کرنا جائز نہیں۔ ایک وہ آدمی جسے اللہ تعالیٰ نے مال عطا فرمایا تو وہ اسے راہ حق میں لٹا دے اور دوسرا وہ آدمی جسے اللہ جل جلالہ نے دانائی سے مالا مال کیا تو وہ اس کے ذریعے فیصلے کرتا ہے اور لوگوں کو یہ دانائی سکھاتا ہے۔
۲۔ ابن جوزیؒ نے زاد المعاد ۱/ ۳۲۴ میں حضرت ابن مسعودؓ کا فرمان تحریر کیا ہے کہ حکمت سے مراد، قرآن مجید ہے۔
۳۔ علامہ ابن کثیر نے اپنی تفسیر ۱/ ۴۷۶ میں لکھا ہے کہ ابن مردویہ نے حضرت ابن مسعودؓ کی یہ مرفوع حدیث نقل فرمائی ہے۔ اللہ جل جلالہ سے ڈرتے رہنا ہی اصل دانائی ہے۔
وَمَا لِلظَّالِمِينَ مِنْ أَنْصَارٍ
اور گنہگاروں کا کوئی مددگار نہیں۔
۱۔ علامہ سیوطی نے الدر ۱/ ۳۵۲ میں لکھا ہے کہ طبرانی نے حضرت ابن مسعودؓ کی یہ حدیث بیان فرمائی ہے۔ آپؓ فرماتے ہیں رحمت دو عالمﷺ نے فرمایا: لوگو! ظلم مت کرو ورنہ تم دعائیں کرو گے تو قبول نہ ہوں گی بارش مانگو گے تو بارش نہیں ہو گی اور مدد مانگو گے تو تمہاری مدد نہیں کی جائے گی۔
إِنْ تُبْدُوا الصَّدَقَاتِ فَنِعِمَّا هِيَ وَإِنْ تُخْفُوهَا وَتُؤْتُوهَا الْفُقَرَاءَ فَهُوَ خَيْرٌ لَكُمْ وَيُكَفِّرُ عَنْكُمْ مِنْ سَيِّئَاتِكُمْ
اگر کھل کر دو خیرات تو کیا اچھی اور اگر چھپاؤ اور فقیروں کو پہنچاؤ تو تم کو بہتر ہے اور اتارتا ہے کچھ گناہ تمہارے۔
۱۔ امام احمد بن حنبلؒ نے اپنی مسند ۵/۲۵۰۔ ۲۵۱ میں حضرت ابن مسعودؓ کی یہ روایت بیان فرمائی ہے، آپؓ فرماتے ہیں رسالت مآبﷺ نے فرمایا!
اپنا چہرہ آگ سے بچاؤ اگرچہ کھجور کے ایک ٹکڑے کے ذریعے ہو۔
۲۔ علامہ سیوطی نے الدر ۱/۳۵۵ میں لکھا ہے کہ ابن ابی شیبہ اور امام بیہقی نے حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ سے یہ روایت بیان کی ہے آپؓ فرماتے ہیں۔
ایک راہب نے کسی گرجے میں ساٹھ سال اللہ تعالیٰ کی عبادت کی۔ ایک دن ایک عورت وہاں آ نکلی۔ دونوں ایک دوسرے کی جانب مائل ہوئے۔ یہ راہب چھ راتیں اس سے منہ کالا کرتا رہا پھر شرمندہ ہوا تو بھاگ کر ایک مسجد میں چلا گیا وہاں تین دن ایسے رہا کہ کچھ کھایا پیا نہیں۔ کہیں سے ایک روٹی ملی تو اسے دو ٹکڑے کر کے ایک ٹکڑا اپنے داہنی جانب والے آدمی کو دے دیا اور دوسرا اپنی بائیں جانب بیٹھے آدمی کو تھما دیا۔
اب اللہ جل جلالہ نے موت کا فرشتہ اس کی طرف بھیجا اس نے اس کی روح نکال لی۔ پھر اس کی ساٹھ سالہ عبادت ایک پلڑے میں رکھی گئی اور چھ راتوں کا گناہ دوسرے پلڑے میں رکھا گیا۔ چھ راتوں والا پلڑا بھاری ہو گیا۔ پھر دوسری جانب وہ روٹی رکھی گئی تو وہ پلڑا بھاری ہو گیا۔
لِلْفُقَرَاءِ الَّذِينَ أُحْصِرُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ لا يَسْتَطِيعُونَ ضَرْبًا فِي الأرْضِ يَحْسَبُهُمُ الْجَاهِلُ أَغْنِيَاءَ مِنَ التَّعَفُّفِ تَعْرِفُهُمْ بِسِيمَاهُمْ لا يَسْأَلُونَ النَّاسَ إِلْحَافًا
دینا ہے ان مفلسوں کو جو اٹک رہے ہیں اللہ کی راہ میں چل پھر نہیں سکتے ملک میں سمجھے ان کو بیخبر محفوظ ان کے نہ مانگنے سے تو پہچانتا ہے ان کو ان کے چہرے سے نہیں مانگتے لوگوں سے لپٹ کر۔
۱۔ حضرت امام احمد بن حنبلؒ نے اپنی مسند ۵/ ۲۳۰ میں حضرت ابن مسعودؓ کی یہ روایت بیان فرمائی ہے۔ آپؓ فرماتے ہیں۔ امام الانبیاءﷺ نے فرمایا۔ مانگنے کے لیے چکر پہ چکر لگانے والا مسکین نہیں ہوتا اور نہ وہ مسکین ہے جو ایک کھجور یا دو کھجوروں یا ایک لقمہ یا دو لقموں کے لیے در در پہ جاتا ہے بلکہ مسکین وہ ہے جو سوال کرنے سے کترائے۔ لوگوں سے کچھ بھی نہ مانگے اور نہ ایسا انداز اختیار کرے کہ اسے صدقہ دیا جائے۔
۲۔ امام رازی نے مفاتیح ۲/ ۳۵۵ میں حضرت ابن مسعودؓ کے حوالے سے یہ روایت لکھی ہے۔ بیشک اللہ تعالیٰ پاکدامن اور سوال سے بچنے والے کو پسند فرماتے ہیں اور گندہ دھن بدگو لپٹ لپٹ کر مانگنے والے کو ناپسند فرماتے ہیں۔ اگر اسے زیادہ دیا جائے تو تعریفوں کے پل باندھ دے اور اگر کم دیا جائے تو مذمت کرنے میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھے۔
۳۔ حضرت امام احمد بن حنبلؒ نے اپنی مسند ۶/۲۰۰ میں حضرت ابن مسعودؓ کی یہ حدیث مبارکہ بیان فرمائی ہے۔ آپؓ فرماتے ہیں۔ رحمت دو جہاںﷺ نے فرمایا: جس نے بلا ضرورت کسی سے کوئی چیز مانگی وہ قیامت کے دن یوں آئے گا کہ اس کے چہرے میں خراش ہو گی۔ اور جس کے پاس پچاس درہم یا ان جتنا سونا ہو اسے صدقہ نہیں دیا جا سکتا۔
الَّذِينَ يَأْكُلُونَ الرِّبَا لا يَقُومُونَ إِلا كَمَا يَقُومُ الَّذِي يَتَخَبَّطُهُ الشَّيْطَانُ مِنَ الْمَسِّ ذَلِكَ بِأَنَّهُمْ قَالُوا إِنَّمَا الْبَيْعُ مِثْلُ الرِّبَا وَأَحَلَّ اللَّهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا
جو لوگ کھاتے ہیں سود نہ اٹھیں گے قیامت کو مگر جس طرح اٹھتا ہے جس کے حواس کھو دیے جن نے لپٹ کر یہ اس واسطے کہ انہوں نے کہا سودا کرنا بھی تو ویسا ہی ہے جیسے سود لینا اور اللہ نے حلال کیا سودا اور حرام کیا سود۔
۱۔ حضرت امام مالک رحمہ نے الموطا ۲/۶۸۲ میں لکھا ہے حضرت ابن مسعودؓ فرمایا کرتے تھے۔ اگر کوئی کسی کو قرض دے تو کسی قسم کے اضافے کی شرط نہ رکھے اگرچہ مٹھی بھر گھاس ہی کیوں نہ ہو۔ کیونکہ یہ بے سود ہے۔
۲۔ حاکم نے مستدرک ۲/۳۷ میں حضرت ابن مسعودؓ کی یہ روایت بیان کی ہے۔ آپؓ فرماتے ہیں رحمت دو عالمﷺ نے فرمایا:
سود کی تہتر قسمیں ہیں۔ ہلکی ترین قسم بھی ایسی جیسے بندہ اپنی ماں سے نکاح کر لے اور بلا شبہ سب سے بڑا سود یہ ہے کہ بندہ مسلم کو بے عزت کیا جائے۔
يَمْحَقُ اللَّهُ الرِّبَا وَيُرْبِي الصَّدَقَاتِ
مٹاتا ہے اللہ سود اور بڑھاتا ہے خیرات۔
۱۔ حضرت امام احمد بن حنبلؒ نے مسند ۵/۲۸۳ میں حضرت ابن مسعودؓ کی یہ روایت نقل فرمائی ہے۔ آپؓ فرماتے ہیں شفیع عاصیاںﷺ نے فرمایا: سود اگرچہ اضافہ کا نام ہے مگر انجام کار یہ قلت کا باعث بنتا ہے۔
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَذَرُوا مَا بَقِيَ مِنَ الرِّبَا إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ (٢٧٨) فَإِنْ لَمْ تَفْعَلُوا فَأْذَنُوا بِحَرْبٍ مِنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ
اے ایمان والو! ڈرو اللہ سے اور چھوڑ دو جو رہ گیا سود اگر تم کو یقین ہے۔ پھر اگر نہیں کرتے تو خبردار ہو جاؤ لڑنے کو اللہ سے اور اس کے رسول سے۔۔
۱۔ امام احمد بن حنبلؒ نے اپنی مسند ۵/۳۰۹ میں حضرت ابن مسعودؓ کی یہ روایت نقل فرمائی ہے۔ آپؓ فرماتے ہیں شافع محشرﷺ نے فرمایا! سود کھانے والے پرل، سودی معاملہ کے نمائندہ پر، اس معاملہ کے دونوں گواہوں پر اور اس کے لکھنے والے پر اللہ تعالیٰ کی لعنت برستی ہے۔ آپﷺ نے مزید فرمایا کہ سود اور زنا جو قوم بھی اختیار کرتی ہے اس پر اللہ جل جلالہ کا عذاب ضرور آتا ہے۔
وَإِنْ كَانَ ذُو عُسْرَةٍ فَنَظِرَةٌ إِلَى مَيْسَرَةٍ وَأَنْ تَصَدَّقُوا خَيْرٌ لَكُمْ
اور اگر ایک شخص ہے تنگی والا تو فرصت دینی چاہیے جب تک کشائش پاوے اور اگر خیرات کر دو تو تمہارا بھلا ہے۔
۱ علامہ ربیع نے مسند ۲/۴۶ میں حضرت ابن مسعودؓ کی یہ روایت نقل کی ہے۔ آپؓ فرماتے ہیں ساقی کوثرﷺ نے فرمایا۔
فقیر آدمی مانگنے کے لیے کسی کے پیچھے پڑ جانا حرام ہے اور کسی اور کی چیز پر دعوی جتانے والا اور اپنے ذمہ واجب چیز کا انکار کرنے والا دونوں نافرمان اور گنہگار ہیں۔
۲۔ علامہ بغوی نے معالم ۱/۲۵۴ میں حضرت ابن مسعودؓ کی یہ حدیث شریف نقل کی ہے، آپؓ فرماتے ہیں، رسالت مآبﷺ نے فرمایا:
تم سے پہلے زمانے میں فرشتے ایک آدمی کی روح اوپر لے کر گئے تو اس سے پوچھا تو نے کبھی کوئی نیک کام بھی کیا ہے؟ اس نے کہا نہیں فرشتوں نے اسے کہا یاد کر شاید کبھی کوئی نیک کام کیا ہو۔ اس نے کوئی نیک کام نہیں کیا البتہ ایک ہے کہ میں لوگوں کو جب ادھار دیتا تو اپنے بچوں سے کہتا کہ جو قرض لینے والوں میں سے جو ذرا صاحب حیثیت ہو اسے مہلت دیا کرو اور جو تنگدست ہو اس سے درگزر کا معاملہ کیا کرو، اس کی یہ بات سن کر اللہ جل جلالہ نے فرشتوں سے فرمایا تم بھی اس سے درگزر والا معاملہ کرو۔
وَلا يُضَارَّ كَاتِبٌ وَلا شَهِيدٌ
اور نقصان نہ کرے لکھنے والا نہ شاہد۔
۱۔ علامہ رازی نے مفاتیح ۲/۳۷۵ میں لکھا ہے اس آیت مبارکہ میں نقصان دینے سے جو ممانعت فرمائی گئی ہے ہو سکتا ہے اس سے مراد یہ ہو کہ جس کا حق بن رہا ہے وہ کاتب اور گواہ کو کوئی نقصان نہ دے یا یہ کہ انہیں ان کے کاموں سے نہ روکے۔
یہ حضرت ابن مسعودؓ حضرت عطاء اور حضرت مجاہد کا فرمان ہے۔
وَإِنْ تُبْدُوا مَا فِي أَنْفُسِكُمْ أَوْ تُخْفُوهُ يُحَاسِبْكُمْ بِهِ اللَّهُ فَيَغْفِرُ لِمَنْ يَشَاءُ وَيُعَذِّبُ مَنْ يَشَاءُ
اور اگر تم کھولو گے اپنی جی کی بات یا چھپاؤ گے حساب لے گا تم سے اللہ پھر بخشے گا جس کو چاہے گا اور عذاب کرے گا جس کو چاہے۔
۱۔ طبری نے جامع ۶/۱۱۰ میں لکھا ہے حضرت ضحاک فرماتے ہیں حضرت ابن مسعودؓ آیت مبارکہ وان تبدوا ما فی انفسکم او تخفوہ یحاسبکم بہ اللہ کی تفسیر میں فرمایا کرتے تھے آیت مبارکہ میں مذکور محاسبہ والی بات اس آیت مبارکہ لہا ماکسبت وعلیھا مااکتسبت کے نازل ہونے سے پہلے کی ہے۔ جب یہ آیت مبارکہ نازل ہوئی تو پہلی آیت منسوخ ہو گئی۔
۲۔ علامہ بغوی نے معالم ۱/ ۲۶۱۔ ۲۶۲ میں لکھا ہے حضرت ابوہریرہؓ فرماتے ہیں جب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت مبارکہ اتاری للہ ما فی السموات وما فی الارض وان تبدوا ما فی انفسکم او تخفوہ یحاسبکم بہ اللہ۔ تو صحابہ کرامؓ بڑے پریشان ہوئے۔ چنانچہ وہ سرکار دو عالمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور گھٹنوں کے بل کھڑے ہو کر عرض کیا اے اللہ کے رسولﷺ پہلے ہمیں جن کاموں کا حکم دیا گیا مثلاً نماز، روزہ، جہاد، صدقہ ان کی تو ہم طاقت رکھتے ہیں مگر اب جو آیت مبارکہ نازل ہوئی ہے یہ تو ہمارے بس کی بات نہیں۔ سرکر دو عالمﷺ نے فرمایا تم بھی اہل کتاب کی سی بات کہنا چاہتے ہو کہ سمعنا وعصینا۔ یوں نہ کہو بلکہ یوں کہو سمعنا واطعنا غفرانک ربنا الیک المصیر۔
صحابہ کرامؓ نے جب یہ کہہ لیا سمعنا واطعنا تو اللہ تعالیٰ نے پہلی آیت مبارکہ وان تبدوا الخ منسوخ فرما کر یہ آیت مبارکہ نازل فرمائی۔ لایکل اللہ نفسا الا وسعہا لا ما کسبت وعلیھا ما کتسبت ربنا لا تؤاخذنا ان نسینا او اخطنا۔ (اس دعا پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا میں نے تمہاری یہ دعا قبول کر لی) ربنا ولا تحملنا ما لا طاقۃ لنا بہ) اللہ تعالیٰ نے فرمایا میں نے یہ دعا قبول کی (واعف عنا واغفرلنا وارحمنا۔ انت مولانا فانصرنا علی القوم الکافرین۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا میں نے یہ دعا قبول کی۔
یہ تفسیر حضرت ابن مسعودؓ اور حضرت ابن عباس وغیرہما سے منقول ہے۔
آمَنَ الرَّسُولُ بِمَا أُنْزِلَ إِلَيْهِ مِنْ رَبِّهِ وَالْمُؤْمِنُونَ
مانا رسول نے جو کچھ اترا اس کو اس کے رب کی طرف سے اور مسلمانوں نے۔
۱۔ امام احمد بن حنبلؒ نے اپنی مسند ۵/۲۴۳ میں یہ روایت نقل فرمائی ہے، حضرت ابن مسعودؓ فرماتے ہیں۔ جناب خاتم الانبیاءﷺ سفر معراج میں جب سدرۃ المنتہی کے پاس پہنچے تو وہاں آپﷺ کو تین عمدہ چیزیں عطا کی گئیں۔ ۱۔ پانچ نمازیں۔ ۲۔ سورة بقرہ کی آخری آیات۔ ۳۔ ہر اس امتی کی بخشش جس نے اللہ جل جلالہ کے ساتھ شرک نہ کیا۔
۲۔ علامہ سیوطی نے الدر ۱/ ۳۷۸ میں لکھا کہ فریابی، ابو عبید، طبرانی اور محمد بن نصر نے حضرت ابن مسعودؓ کی یہ روایت نقل کی ہے۔
سورہ بقرہ کی یہ آخری آیات عر ش الٰہی کے نیچے پڑے خزانہ سے اتری ہیں۔
۳۔ علامہ سیوطی نے الدر ۱/۳۷۸ میں لکھا ہے خطیب نے تلخیص المتشابہ نامی کتاب میں حضرت ابن مسعودؓ کا یہ فرمان نقل کیا ہے۔ آپؓ نے فرمایا۔ جس نے سورة بقرہ کی آخری تین آیات کی تلاوت کی اس نے بہت تلاوت کی اور اچھا کام کیا۔
۴۔ علامہ زمخشری نے کشاف ۱/ ۱۷۳ میں لکھا ہے جناب رسالت مآبﷺ نے فرمایا:
اللہ تعالیٰ نے جنت کے خزانوں میں سے دو آیات نازل فرمائی ہیں۔ رحمن و رحیم ذات نے مخلوق کی تخلیق سے دو ہزار برس قبل اپنے دست قدرت سے یہ آیات لکھیں۔ جو بندہ عشاء کے بعد ان کی تلاوت کرے گا اسے رات کے قیام کا ثواب ملے گا۔
٭٭٭
ڈاؤن لوڈ کریں