FavoriteLoadingپسندیدہ کتابوں میں شامل کریں

اسلام میں خواتین کا مقام اور پردہ

حافظ محمداسحاق زاہد

پیش کش: عندلیب، اعجاز عبید

 

 

 

پیش لفظ

کویت میں بسنے والے اردو دان حضرات کی دینی راہنمائی کے لئے مرکز دعوۃ ا لجالیات ایک عرصے سے سرگرم ہے۔اس مرکز کے ذمہ داران، دعاۃ اور منسلک احباب اپنے تئیں ہر ممکن کوشش کرتے ہیں کہ کویت میں قرآن وسنت کی سچی اور کھری دعوت روز افزوں ترقی کرے اور اس سلسلے میں الحمد للہ متعدد ہفتہ وار دروس جاری ہیں جن میں مرکز کے دعاۃ قرآن وسنت کی روشنی میں لوگوں کے عقائد و اعمال کی اصلاح پر بھر پور توجہ دیتے ہیں۔ معروف علماء کرام کی کیسٹیں لوگوں کو فراہم کی جاتی ہیں اور ہزاروں کی تعداد میں مختلف موضوعات پر لٹریچر چھپوا کر مفت تقسیم کیا جاتا ہے۔اور الحمد للہ ان جہود کے بڑے اچھے نتائج برآمد  ہو رہے ہیں۔اللہ تعالی ان کوششوں کو شرف قبولیت سے نوازے۔ (آمین )

مرکز کی طرف سے اب تک جو لٹریچر تقسیم کیا گیا ہے اس میں ایک چیز کی کمی بڑی شدت سے محسوس کی جا رہی تھی اور وہ ہے ’پردے ‘کے بارے میں اسلامی تعلیمات پر کوئی مختصر سا رسالہ۔ اور کئی احباب نے اس کی طرف مرکز کے ذمہ داران کی توجہ مبذول کرائی۔چنانچہ ان کی اسی رغبت کے پیشِ نظر اور اسلامی معاشرے میں بڑھتی ہوئی بے پردگی کو مد نظر رکھتے ہوئے یہ رسالہ ترتیب دیا گیا ہے۔ہم خاص طور پر اپنی مسلمان بہنوں سے گزارش کرتے ہیں کہ وہ کم از کم ایک مرتبہ ضرور یہ رسالہ پڑھیں تاکہ انہیں معلوم ہو کہ اسلام نے ان کی عزت کے تحفظ کے لئے کون کون سے ضابطے اور اُصول مقرر کئے ہیں۔اور پردے میں کون کونسی حکمتیں پنہاں ہیں کہ جن کے پیش نظر خاتونِ اسلام پر پردہ فرض کیا گیا ہے۔

یاد رہے کہ یہ رسالہ بعض اہل خیر کے خرچہ پر مفت تقسیم کے لئے چھپوایا گیا ہے ہم جہاں ان کے لئے دعا گو ہیں کہ اللہ تعالیٰ انہیں جزائے خیر دے اور انہیں دین و دنیا کی خیر و بھلائی نصیب فرمائے وہاں ہم اپنے تمام بھائیوں اور اپنی تمام بہنوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ قرآن وسنت کی نشر و اشاعت میں ہمارا ساتھ دیں، اللہ تعالیٰ سب کا حامی ناصر ہو۔ (آمین )

 

اسلام میں خواتین کا مقام

محترم خواتین !

ایک عرصہ سے مغربی ذرائع ابلاغ اور مغرب زدہ افراد اور تنظیموں کی طرف سے مسلسل یہ پروپیگنڈہ کیا جا رہا ہے کہ اسلام نے عورت کو کچھ نہیں دیا اور اسے اس کے بنیادی حقوق سے محروم کر دیا ہے۔حالانکہ یہ محض ایک جھوٹ ہے اور اس کی کوئی حقیقت نہیں بلکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ کیونکہ عورت کو جو مقام اسلام نے دیا ہے وہ اسے کسی دوسرے مذہب سے نہیں ملا۔درج ذیل سطور میں ہم ان کے اس جھوٹے دعوے کا جائزہ لیں گے اور جاہلیت کے زمانے کی عورت اور خاتونِ اسلام کے درمیان ایک موازنہ پیش کریں گے تاکہ یہ بات اچھی طرح سے واضح ہو جائے کہ پہلے عورت کتنی حقیر سمجھی جاتی تھی اور اسلام نے اسے کتنا بڑا مقام عطا کیا۔

لڑکی کا وجود عار تصور کیا جاتا

لڑکی کا وجود عار تصور کیا جاتا اور اسے زندہ در گور کر دیا جاتا تھا

فرمان الٰہی ہے :

{وَإِذَا بُشِّرَ أَحَدُہُمْ بِالْأُنْثٰی ظَلَّ وَجْہُہُ مُسْوَدًّا وَّہُوَ کَظِیْمٌ ٭ یَتَوَارٰی مِنَ الْقَوْمِ مِنْ سُوْئِ مَا بُشِّرَ بِہٖ أَیُمْسِکُہُ عَلٰی ہُوْنٍ أَمْ یَدُسُّہُ فِیْ التُّرَابِ أَلاَ سَائَ مَا یَحْکُمُوْنَ} [ النحل : 58،59 ]

’’ اور جب ان میں سے کسی کو لڑکی کی خوشخبری سنائی جاتی ہے تو اس کا چہرہ سیاہ ہو جاتا ہے اور دل ہی دل میں گھٹنے لگتا ہے، جو بری خبر اسے دی گئی ہے اس کی وجہ سے لوگوں سے منہ چھپائے پھرتا ہے۔ سوچتا ہے کہ کیا اس کو ذلت ورسوائی کے باوجود اپنے پاس رکھے، یا اسے زندہ در گور کر دے، آہ ! کیا ہی برے فیصلے کرتے ہیں۔ ‘‘

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے زمانۂ جاہلیت کے لوگوں کی حالت کو بیان فرمایا ہے کہ ان میں سے کسی کو جب اس کے گھر میں بیٹی پیدا ہونے کی خبر دی جاتی تو اس کا چہرہ کالا سیاہ ہو جاتا اور مارے شرم کے وہ لوگوں سے چھپتا پھرتا۔اور غم میں نڈھال ہو کر سوچتا رہتا کہ اب اس لڑکی کے وجود کو ذلت ورسوائی کے ساتھ برداشت کر لے یا اسے زندہ در گور کر دے۔

امام بغویؒ کہتے ہیں :

’’ عرب میں یہ رواج عام تھا کہ جب کسی کے گھر میں بیٹی پیدا ہوتی اور وہ اسے زندہ باقی رکھنا چاہتا تو اسے اونی جبہ پہنا کر اونٹوں اور بکریوں کو چرانے کے لئے دور دراز بھیج دیتا۔اور اگر اسے مارنا چاہتا تو وہ جب 6 سال کی ہو جاتی تو کسی جنگل میں ایک گڑھا کھودتا، پھر گھر آ کر اپنی بیوی سے کہتا کہ اسے خوب اچھا لباس پہنا دو تاکہ وہ اسے اس کے ننھیال ( یا اس کے دادا دادی) سے ملا لائے۔ پھر جب اس گڑھے تک پہنچتا تو اسے کہتا : اس گڑھے کے اندر دیکھو، چنانچہ وہ اسے دیکھنے کے لئے جھکتی تو یہ اسے پیچھے سے دھکا دے دیتا وہ اس میں گر جاتی اور یہ اس کے اوپر مٹی ڈال دیتا۔ ‘‘ [ معالم التنزیل : ج 5 ص 25 ]

یہ تو تھا زمانۂ جاہلیت میں کسی عورت کا مقام کہ اس کا وجود ہی عار تصور کیا جاتا اور اسے زندہ در گور کر دیا جاتا۔جبکہ اسلام نے گھر میں بیٹی کی پیدائش کو باعث برکت قرار دیا اور اسے زندہ درگور کرنا حرام کر دیا۔

رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے :

إِنَّ اﷲَ حَرَّمَ عَلَیْکُمْ عُقُوْقَ الْأُمَّہَاتِ، وَوَأْدَ الْبَنَاتِ

[ بخاری :الإستقراض باب ما ینہی عن إضاعۃ المال، 2408، مسلم : الأقضیۃ باب النہی عن کثرۃ المسائل، 1715 ]

’’ اللہ تعالیٰ نے تم پر ماؤں کی نافرمانی کرنا اور بیٹیوں کو زندہ درگور کرنا حرام کر دیا ہے۔ ‘‘

اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیٹیوں کی تعلیم و تربیت کی فضیلت بیان کرتے ہوئے فرمایا:

مَنْ بُلِیَ مِنْ ہٰذِہِ الْبَنَاتِ شَیْئًا فَأَحْسَنَ إِلَیْہِنَّ کُنَّ لَہُ سِتْرًا مِنَ النَّارِ

[بخاری : الأدب باب رحمۃ الولد وتقبیلہ،5995، مسلم : البر والصلۃ باب فضل الإحسان إلی البنات، 2629 ]

’’ جس شخص کو ان بیٹیوں کی وجہ سے کسی طرح آزمائش میں ڈالا جاتا ہے، پھر وہ ان سے اچھائی کرتا ہے، تو یہ اس کے لئے جہنم سے پردہ بن جائیں گی۔ ‘‘

اس حدیث میں ’ اچھائی ‘سے مراد ہر قسم کی اچھائی ہے۔ یعنی اس کی پرورش اچھی طرح سے کرے، اس سے اچھا سلوک کرے اور اس کی تعلیم و تربیت کا اہتمام اچھے انداز سے کرے۔ پھر جب وہ جوان ہو جائے تواس کی شادی کے لئے ایک اچھے اور پابندِ اسلام خاوند کا انتخاب کرے۔

اور حضرت انسؓ  سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

مَنْ عَالَ جَارِیَتَیْنِ حَتّٰی تَبْلُغَا جَائَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ أَنَا وَہُوَ، وَضَمَّ أَصَابِعَہُ [ مسلم: 2631 ]

’’ جو شخص دو لڑکیوں کی پرورش کرے یہاں تک کہ وہ بالغ ہو جائیں، تو وہ اور میں قیامت کے دن ایسے ہوں گے جیسے میری یہ انگلیاں ہیں۔‘‘

اور سنن ترمذی وغیرہ میں اس روایت کے الفاظ یوں ہیں :

مَنْ عَالَ جَارِیَتَیْنِ دَخَلْتُ أَنَا وَہُوَ الْجَنَّۃَ کَہَاتَیْنِ وَأَشَارَ بِأُصْبَعَیْہِ

[ الترمذی : البر والصلۃ باب ما جاء فی النفقۃ علی البنات، 1914، وہو فی الصحیحۃ، 297، وفی صحیح الترمذی للألبانی :ج 2 ص 179 ]

’’ جس نے دو لڑکیوں کی پرورش کی، وہ اور میں جنت میں ایسے داخل ہوں گے جیسے میری یہ دو انگلیاں ہیں۔ ‘‘

ماں کا درجہ

عورت اگر ماں ہو تو اسلام نے اس کے ساتھ حسنِ سلوک کی ترغیب دی ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے اپنے حق کے بعد سب سے پہلے ماں باپ کا حق بیان کیا ہے پھر دوسروں کے حقوق کا تذکرہ کیا ہے۔اور بار بار ان سے اچھا سلوک کرنے کی تلقین کی ہے اور انھیں جھڑکنے حتیٰ کہ اف تک کہنے سے منع فرمایا ہے۔ اورر سول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جب ایک شخص نے سوال کیا کہ لوگوں میں سب سے زیادہ کون اچھے سلوک کا مستحق ہے ؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

تمھاری ماں۔اس نے کہا : پھر کون ؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:تمھاری ماں! اس نے کہا : پھر کون ؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تمھاری ماں! اس نے کہا : پھر کون ؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تمھارا باپ۔

[ بخاری : الأدب باب من أحق الناس بحسن الصحبۃ : 5971، مسلم : 2548 ]

اس کے علاوہ اور کئی احادیث کتبِ حدیث میں موجود ہیں جن میں خصوصاً ماں کا حق نمایاں کر کے بیان کیا گیا ہے۔

 

بیوی کے حقوق

اور عورت اگر بیوی ہو تو اسلام نے اس کے حقوق کی بھی پاسداری کی ہے اور اس کے چند حقوق درجِ ذیل ہیں :

1: نکاح کے لئے اجازت طلبی

رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے :

لاَ تُنْکَحُ الْأَیِّمُ حَتّٰی تُسْتَأْمَرَ،وَلَا تُنْکَحُ الْبِکْرُ حَتّٰی تُسْتَأْذَنَ

’’کسی بیوہ کا نکاح اس وقت تک نہ کیا جائے جب تک اس سے مشورہ نہ کر لیا جائے اور کسی کنواری لڑکی کا نکاح اس وقت تک نہ کیا جائے جب تک اس سے اجازت نہ لے لی جائے۔ ‘‘

’’صحابہ کرامؓ نے عرض کی : اے اللہ کے رسول ؐ! کنواری لڑکی کی اجازت کیسے ہو گی ؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس کی خاموشی اس کی اجازت سمجھی جائے گی۔‘‘

[ بخاری : النکاح باب لا ینکح الأب وغیرہ، 5136]

2: مہر کی ادائیگی

فرمانِ الٰہی ہے :

{وَآتُوْا النِّسَائَ صَدُقَاتِہِنَّ نِحْلَۃً } [ النساء :4 ]

’’ اور عورتوں کو ان کے مہر راضی خوشی دو۔ ‘‘

3: نان و نفقہ

رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقعہ پر میدانِ عرفات میں صحابہ کرامؓ  کے جم غفیر سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا تھا :

فَاتَّقُوْا اﷲَ فِیْ النِّسَاءِ فَإِنَّکُمْ أَخَذْتُمُوْہُنَّ بِأَمَانِ اﷲِ وَاسْتَحْلَلْتُمْ فُرُوْجَہُنَّ بِکَلِمَۃِ اﷲِ، وَلَکُمْ عَلَیْہِنَّ أَنْ لَّا یُوْطِئْنَ فُرُشَکُمْ أَحَدًا تَکْرَہُوْنَہُ۔۔۔وَلَہُنَّ عَلَیْکُمْ رِزْقُہُنَّ وَکِسْوَتُہُنَّ بِالْمَعْرُوْفِ

’’ تم عورتوں کے متعلق اللہ سے ڈرو کیونکہ تم نے انھیں اللہ کی امان کے ساتھ لیا ہے اور انھیں اللہ کے کلمہ کے ساتھ اپنے لئے حلال کیا ہے۔اور تمھارا ان پر حق یہ ہے کہ وہ تمھارے بستروں پر کسی ایسے شخص کو نہ آنے دیں جنھیں تم نا پسند کرتے ہو۔۔۔۔۔۔اور ان کا تم پر حق یہ ہے کہ تم انھیں معروف طریقے کے مطابق کھانا اور لباس مہیا کرو۔ ‘‘

[مسلم :الحج باب حجۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم : ۱۲۱۸، ابن حبان : 1457 ]

4: معروف طریقے کے مطابق بود و باش

فرمان الٰہی ہے :

{ وَعَاشِرُوْہُنَّ بِالْمَعْرُوْفِ فَإِنْ کَرِہْتُمُوْہُنَّ فَعَسٰی أَنْ تَکْرَہُوْا شَیْئًا وَیَجْعَلَ اﷲُ فِیْہِ خَیْرًا کَثِیْرًا } [ النساء : 19]

’’ اور ان کے ساتھ اچھے طریقے سے بود و باش رکھو، گو تم انھیں نا پسند کرو لیکن عین ممکن ہے کہ تم کسی چیز کو برا جانو اور اللہ تعالیٰ اس میں بہت سی بھلائی کر دے۔ ‘‘

اور رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے :

خَیْرُکُمْ خَیْرُکُمْ لِأَہْلِہٖ، وَأَنَا خَیْرُکُمْ لِأَہْلِیْ

’’ تم میں سب سے بہتر شخص وہ ہے جو اپنے اہل کے لئے بہتر ہو اور میں تم سب کی نسبت اپنے اہل کے لئے زیادہ بہتر ہوں۔ ‘‘

[ ترمذی : المناقب باب فضل أزواج النبی صلی اللہ علیہ وسلم، 3895، ابن ماجہ : 1977، ابن حبان، 4177 وہو فی صحیح الجامع۔ 3314 والصحیحۃ۔ 285 ]

5: بیوی کا حق بھی خاوند کے حق کی طرح ہے

فرمان الٰہی ہے :

{وَلَہُنَّ مِثْلُ الَّذِیْ عَلَیْہِنَّ بِالْمَعْرُوْفِ وَلِلرِّجَالِ عَلَیْہِنَّ دَرَجَۃٌ}

’’ اور معروف طریقے کے مطابق عورتوں کے بھی ویسے ہی حق ہیں جیسے ان پر مردوں کے ہیں،ہاں مردوں کو عورتوں پر فضیلت ہے۔ ‘‘ [ البقرۃ: 228]

6: بیویوں میں عدل و انصاف

فرمان الٰہی ہے :

{ فَإِنْ خِفْتُمْ أَلاَّ تَعْدِلُوْا فَوَاحِدَۃً أَوْ مَا مَلَکَتْ أَیْمَانُکُمْ ذٰلِکَ أَدْنٰی أَلاَّ تَعُوْلُوْا } [ النساء : 3]

’’ لیکن اگر تمھیں یہ خوف ہو کہ تم ان میں عدل وانصاف نہ کر سکو گے تو ایک ہی کافی ہے، یا تمھاری ملکیت کی لونڈی۔یہ اس اعتبار سے زیادہ مناسب ہے کہ تم بے انصافی کے مرتکب نہیں ہو گے۔ ‘‘

اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے :

مَنْ کاَنَتْ لَہُ امْرَأَتَانِ فَمَالَ إِلیٰ أَحَدِہِمَا،جَاءَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ وَشِقُّہُ مَائِلٌ

[ ابوداؤد: النکاح باب فی القسم بین النسائ،2133، الترمذی: النکاح باب ما جاء فی التسویۃ بین الضرائر،1141، صححہ الألبانی فی صحیح ابی داؤد ج ۲ ص 400 ]

’’ جس شخص کی دو بیویاں ہوں اور وہ ان میں سے ایک ہی کی طرف مائل ہوا (اور دوسری کو نظر انداز کر دیا ) تو قیامت کے دن وہ اس حالت میں آئے گا کہ اس کے جسم کا ایک حصہ ایک پہلو پر جھکا ہو گا۔‘‘

7: موت کے بعد بھی بیوی سے وفا

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ :

’’مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں میں سے کسی پر کبھی اتنی غیرت نہیں آئی جتنی حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا پر آتی تھی حالانکہ میں نے انھیں نہیں دیکھا تھا۔ لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اکثر و بیشتر اس کا تذکرہ کرتے رہتے تھے۔اور بعض اوقات بکری ذبح کرتے تو اس کے گوشت کے کچھ ٹکڑے حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کی سہیلیوں کو بھی بھیجا کرتے۔اس پر میں کبھی کبھی یہ بھی کہہ دیتی کہ شاید دنیا میں اور کوئی عورت ہے ہی نہیں سوائے خدیجہؓ  کے ؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے: اس کے یہ یہ فضائل تھے اور میری اولاد بھی اسی سے ہوئی۔‘‘

[ بخاری: مناقب الأنصار باب تزویج النبی ؐ خدیجۃ وفضلہا 3818، مسلم : 2437 ]

محترم خواتین !

بیٹی، ماں اور بیوی کے حقوق کے متعلق قرآن و حدیث کی جو نصوص ہم نے ذکر کی ہیں ایک طرف انھیں سامنے رکھیں اور دوسری جانب زمانۂ جاہلیت کی عورت کی حالت بھی مد نظر رکھیں۔اس سے آپ کو بخوبی اندازہ ہو جائے گا کہ اسلام نے عورت کو معاشرے میں کتنا بڑا مقام دیا ہے اور اس کی کس طرح سے تکریم اور عزت افزائی کی ہے۔

زمانۂ جاہلیت کی عورت وراثت سے محروم تھی

زمانۂ جاہلیت میں لوگ صرف مردوں کو وراثت کا حقدار سمجھتے تھے اور عورتوں اور بچوں کو اس سے محروم رکھا جاتا تھا۔اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی :

{ وَلِلرِّجَالِ نَصِیْبٌ مِّمَّا تَرَکَ الْوَالِدَانِ وَالْأَقْرَبُوْنَ وَلِلنِّسَاءِ نَصِیْبٌ مِّمَّا تَرَکَ الْوَالِدَانِ وَالْأَقْرَبُوْنَ مِمَّا قَلَّ مِنْہُ أَوْ کَثُرَ نَصِیْبًا مَّفْرُوْضًا }

[ النساء : ۷ ]

’’ والدین اور قریبی رشتہ دار جو مال چھوڑ جائیں اس میں مردوں کا حصہ ہوتا ہے اور والدین اور قریبی رشتہ دار جو مال چھوڑ جائیں اس میں عورتوں کا بھی حصہ ہوتا ہے، چاہے مال تھوڑا ہو یا زیادہ۔اور یہ حصے اللہ کی طرف سے مقرر کر دئیے گئے ہیں۔ ‘‘

تو اسلام نے عورت کو بھی وراثت کا حقدار قرار دیا اور اسے اس سے محروم نہیں کیا۔اور ترکہ میں عورت کو کتنا حصہ دیا گیا ہے اس کی تفصیل سورۃ النساء کے دوسرے رکوع میں موجود ہے۔

باپ کی بیوی کو اس کی موت کے بعد حلال سمجھا جاتا تھا

زمانۂ جاہلیت میں ایک بیٹا اپنے باپ کی وفات کے بعد اس کی بیوی (اپنی سوتیلی ماں ) سے نکاح کر لیتا تھا۔جبکہ اسلام نے اسے حرام کر دیا اور اسے بدکاری، غضب کا موجب اور بدترین شیوہ قرار دیا۔

فرمان الٰہی ہے :

{ وَلاَ تَنْکِحُوْا مَا نَکَحَ آبَاؤُکُمْ مِّنَ النِّسَائِ إِلاَّ مَا قَدْ سَلَفَ إِنَّہُ کَانَ فَاحِشَۃً وَّمَقْتًا وَّسَائَ سَبِیْلاً } [ النساء :22]

’’ اور ان عورتوں سے نکاح مت کرو جن سے تمھارے باپوں نے نکاح کیا ہے، مگر جو گزر چکا ہے۔ یہ بے حیائی کا کام اور بغض کا سبب اور بڑی بری راہ ہے۔ ‘‘

تو یہ بھی اسلام میں عورت کی تکریم کی ایک واضح دلیل ہے۔

دو بہنوں سے بیک وقت نکاح

زمانۂ جاہلیت میں دو بہنوں سے بیک وقت نکاح کرنا درست تھا جبکہ اسلام نے اسے حرام قرار دے دیا۔

فرمان الٰہی ہے :

{ حُرِّمَتْ عَلَیْکُمْ أُمَّہَاتُکُمْ…وَأَنْ تَجْمَعُوْا بَیْنَ الْأُخْتَیْنِ إِلاَّ مَا قَدْ سَلَفَ } [ النساء : 23]

’’ تم پر حرام کر دی گئی ہیں تمھاری مائیں … اور دو بہنوں کو (ایک شخص کے نکاح میں ) جمع کرنا بھی حرام ہے، الا یہ کہ جو (عہدِ جاہلیت میں ) گزر چکا۔‘‘

ایامِ حیض میں عورت کو الگ تھلگ کر دیا جاتا

زمانۂ جاہلیت میں عورت کے مخصوص ایام شروع ہوتے تو اسے بالکل الگ تھلگ کر دیا جاتا۔اس کا خاوند نہ اس کے ساتھ کھاتا اور نہ اسے اپنے بستر پر آنے دیتا۔ جبکہ اسلام نے عورت کے ساتھ اس ناروا سلوک کو ناجائز قرار دیا۔

رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ازواجِ مطہراتؓ  کے مخصوص ایام میں ان کے ساتھ کھاتے پیتے، ان سے خدمت لیتے اور ان کے ساتھ آرام فرماتے۔ صرف ایک چیز جسے اسلام نے ان ایام میں حرام قرار دیا وہ ہے بیوی سے صحبت، اس کے علاوہ باقی تمام معاملات کو جائز قرار دیا گیا۔

حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں کہ:

’’ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیویوں سے(جبکہ وہ حیض کی حالت میں ہوتیں ) تہ بند سے اوپر مباشرت کرتے تھے۔‘‘ [ مسلم : 294]

اور حضرت عائشہؓ  سے روایت ہے وہ کہتی ہیں کہ :

’’میں حیض کی حالت میں ایک برتن سے پانی پیتی پھر وہی ( بچا ہوا ) پانی میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیتی تو آپؐ بھی برتن کی اسی جگہ پر منہ رکھ کر پانی پیتے جہاں سے میں نے پانی پیا ہوتا۔اور حیض ہی کی حالت میں کھانے کے دوران میں اپنے دانتوں کے ساتھ ایک ہڈی سے کچھ گوشت توڑتی پھر وہی ہڈی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پیش کرتی تو آپ بھی اسی جگہ پر منہ رکھ کر گوشت توڑتے جہاں سے میں نے توڑا ہوتا۔‘‘ [ مسلم : 300 ]

اور حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ:

’’ یہودیوں میں جب کوئی عورت مخصوص ایام میں ہوتی تو وہ اپنے گھروں میں نہ اس کے ساتھ کھاتے پیتے اور نہ ہی اس سے مجامعت کرتے۔ تو صحابۂ کرامؓ  نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے بارے میں سوال کیا، جس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری :

{ وَیَسْئَلُوْنَکَ عَنِ الْمَحِیْضِ قُلْ ہُوَ أَذًی فَاعْتَزِلُوْا النِّسَائَ فِیْ الْمَحِیْضِ وَلاَ تَقْرَبُوْہُنَّ حَتّٰی یَطْہُرْنَ … الخ }

’’ اور وہ آپ سے حیض کے متعلق سوال کرتے ہیں، تو آپؐ انہیں بتا دیجئے کہ وہ گندگی ہے لہذا حالتِ حیض میں عورتوں سے الگ رہو اور جب تک وہ پاک نہ ہو جائیں ان کے قریب نہ جاؤ۔ ‘‘ (البقرۃ : 222)

تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

اِصْنَعُوْا کُلَّ شَیْئٍ إِلاَّ النِّکَاحَ

’’ تم سب کچھ کر سکتے ہو سوائے ہم بستری کے۔ ‘‘ [ مسلم : 302 ]

خواتین اسلام !

مذکورہ بالا 5 نکات کی روشنی میں آپ کو خوب اندازہ ہو گیا ہوگا کہ اسلام نے عورت کو کیا مقام دیا ہے۔اس لئے مغربی ذرائع ابلاغ کے گمراہ کن پروپیگنڈے سے متاثر ہو کر قطعاً اس احساس میں مبتلا نہیں ہونا چاہیے کہ اسلام نے عورت کو محروم کر دیا ہے اور اس سے اس کے بنیادی حقوق سلب کر لئے ہیں۔یہ محض ایک افتراء اور جھوٹ ہے جس کی حقیقت پچھلے صفحات میں کھل چکی ہے اور خواتین اسلام کو یہ بات اچھی طرح سے یاد رکھنی چاہیے کہ یہ جو اسلام نے انھیں پردہ کرنے، اپنی نظریں جھکانے، گھر سے بغیر ضروری حاجت کے نہ نکلنے اور اپنی زینت کو ظاہر نہ کرنے کا حکم دیا ہے یہ صرف اور صرف انہی کی عزت و حرمت کے تحفظ کے لئے ہے اور اس میں انہی کی خیرو بھلائی مقصود ہے۔

مزید برآں

گزشتہ صفحات میں اگرچہ یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ جو مقام و مرتبہ اسلام نے عورت کو دیا ہے اور جس طرح اسلام نے اس کی عصمت کے تحفظ کے لئے قوانین اور ضابطے وضع کئے ہیں، ایسا کسی اور دین میں نہیں ہے۔ لیکن ہم اپنی ماؤں بہنوں کے مزید اطمینان کے لئے عرض کرتے ہیں کہ عبادات کے اجرو ثواب کا اور جنت کی نعمتوں کا جہاں مردوں سے وعدہ کیا گیا ہے وہاں عورتوں کو بھی یکساں طور پر اس میں شریک کیا گیا ہے۔

اللہ رب العزت کا فرمان ہے :

{ فَاسْتَجَابَ لَہُمْ رَبُّہُمْ أَنِّیْ لاَ أُضِیْعُ عَمَلَ عَامِلٍ مِّنْکُمْ مِّنْ ذَکَرٍ أَوْ أُنْثیٰ بَعْضُکُمْ مِّنْ بَعْضٍ} [آل عمران :195]

’’ پس ان کے رب نے ان کی دعا قبول فرما لی کہ تم میں سے کسی عمل کرنے والے کے عمل کو خواہ وہ مرد ہو یا عورت میں ضائع نہیں کرتا، تم سب آپس میں برابر ہو۔ ‘‘

یعنی اجرو ثواب میں تمھارے درمیان مساوات ہے اور مرد و عورت میں کوئی فرق نہیں۔

اور فرمایا :

{ مَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِّنْ ذَکَرٍ أَوْ أُنْثیٰ وَہُوَ مُؤْمِنٌ فَلَنُحْیِیَنَّہُ حَیَاۃً طَیِّبَۃً وَلَنَجْزِیَنَّہُمْ أَجْرَہُمْ بِأَحْسَنِ مَا کاَنُوْا یَعْمَلُوْنَ}

’’ جو کوئی مرد یا عورت نیک کام کرے گا، بشرطیکہ با ایمان ہو، ہم اسے یقینی طور پر پاکیزہ اور عمدہ زندگی عطا کریں گے اور انھیں ان کے اعمال سے زیادہ اچھا بدلہ دیں گے۔ ‘‘ [ النحل : 97]

اور سورۃ الأحزاب میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

{ إِنَّ الْمُسْلِمِیْنَ وَالْمُسْلِمَاتِ وَالْمُؤْمِنِیْنَ وَالْمُؤْمِنَاتِ وَالْقٰنِتِیْنَ وَالْقٰنِتَاتِ وَالصّٰدِقِیْنَ وَالصّٰدِقَاتِ وَالصّٰبِرِیْنَ وَالصّٰبِرَاتِ وَالْخٰشِعِیْنَ وَالْخٰشِعَاتِ وَالْمُتَصَدِّقِیْنَ وَالْمُتَصَدِّقَاتِ وَالصَّائِمِیْنَ وَالصَّائِمَاتِ وَالْحٰفِظِیْنَ فُرُوْجَہُمْ وَالْحٰفِظَاتِ وَالذَّاکِرِیْنَ اﷲَ کَثِیْرًا وَّالذَّاکِرَاتِ أَعَدَّ اﷲُ لَہُمْ مَّغْفِرَۃً وَّأَجْرًا عَظِیْمًا} [ الأحزاب : 35]

’’ بے شک مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں، مومن مرد اور مومن عورتیں، فرمانبرداری کرنے والے مرد اور فرمانبرداری کرنے والی عورتیں، راست باز مرد اور راست باز عورتیں، صبر کرنے والے مرد اور صبر کرنے والی عورتیں، عاجزی کرنے والے مرد اور عاجزی کرنے والی عورتیں، صدقہ کرنے والے مرد اور صدقہ کرنے والی عورتیں، روزہ رکھنے والے مرد اور روزہ رکھنے والی عورتیں، اپنی شرمگاہ کی حفاظت کرنے والے مرد اور حفاظت کرنے والی عورتیں، بکثرت اللہ کا ذکر کرنے والے مرد اور ذکر کرنے والی عورتیں، ان سب کے لئے اللہ تعالیٰ نے مغفرت اور بڑا ثواب تیار کر رکھا ہے۔ ‘‘

عورت کے لیے بعض احکامات میں رخصت

اسلام نے عورت کی فطری کمزوریوں اور اس کی بعض مجبوریوں کے پیشِ نظر اسے کئی احکامات میں رخصت بھی دی ہے۔ مثلاً :

1۔ حیض ونفاس کے ایام میں خاتونِ اسلام کو نماز اور روزے معاف ہیں۔

2۔حیض ونفاس کے مخصوص ایام میں جو نمازیں رہ جاتی ہیں ان کی قضا بھی نہیں ہے، صرف روزوں کی قضا لازم ہے۔

3۔حمل اور رضاعت کے ایام میں عورت کو روزے قضا کرنے کی رخصت دی گئی ہے۔

4۔ حالتِ حیض میں طوافِ وداع، جو کہ واجباتِ حج میں سے ہے، معاف ہو جاتا ہے۔

تو یہ رخصتیں بھی اس بات کی دلیل ہیں کہ اسلام نے عورت کو ہرگز نظر انداز نہیں کیا اور نہ ہی اس پر ظلم کیا ہے۔بلکہ اس کی فطری مجبوریوں کا خیال رکھا گیا ہے اور اسے اس کی طاقت سے زیادہ کسی امر کا مکلف نہیں کیا گیا۔سو خواتینِ  اسلام کو بھی ان اسلامی تعلیمات کو بسروچشم قبول کر لینا چاہیے جو کہ خود انہی کی عصمت کے تحفظ کی ضمانت دیتی ہیں۔اللہ تعالیٰ سب کو اس کی توفیق مرحمت فرمائے۔

عورت کے تحفظ کے لئے اسلام کے چند مخصوص احکام

وہ مسلمان خواتین و حضرات جنہیں اس بات پر یقینِ کامل ہے کہ ان کی کامیابی و کامرانی دینِ الٰہی کو مضبوطی سے تھامنے، اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے احکامات کے سامنے اپنے آپ کو جھکا دینے اور پاکیزگی، پاکدامنی اور حیا و غیرت کے تقاضوں کو پورا کرنے میں ہے، انھیں ایک عرصے سے ’نئے عالمی نظام ‘ کے ان خطرناک پروگراموں کا سامنا ہے جو حق و باطل، معروف و منکر، اچھے اور برے اور مسلمان اور کافر کے درمیان فرق ختم کر دینے کے اصولوں پر بنائے گئے ہیں۔انہی پروگراموں میں سے سب سے خطرناک پروگرام مسلمان خاتون کو حیا، عزت اور غیرت کے محفوظ مقامات سے نکال کر فتنوں کی سیڑھیوں پر لا کھڑا کرنا اور اسلامی معاشرے میں بے حیائی، عریانی اور بے غیرتی کو عام کرنا ہے۔اور حقوقِ نسواں، آزادیِ خواتین اور مردوں سے ان کی مساوات کے گمراہ کن دعووں کے ساتھ مغرب زدہ لوگوں کے ذریعے ایسے افکار کو پھیلانا ہے جن کے خطرناک نتائج خود مغربی معاشرہ پہلے ہی بھگت چکا ہے اور اب تباہی و بربادی کے کنارے پر پہنچ چکا ہے۔

یہ زہریلے افکار کہیں طاقت کے ذریعے اور کہیں بھاری بھرکم مالی امداد کا لالچ دے کر اور کہیں پرانے قرضے معاف کرنے اور نئے قرضے فراہم کرنے کی ترغیب دلا کر۔ الغرض یہ کہ تمام ممکنہ وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے انہیں نہ صرف پھیلایا جا رہا ہے بلکہ ان پر عمل کروایا جا رہا ہے اور ان کا نقطۂ آغاز سرکاری و غیر سرکاری سکول ہیں،جہاں نو نہال بچوں اور بچیوں کی اس طرح سے تربیت کرنا مقصود ہے کہ وہ جب جوانی کی دہلیز پر قدم رکھیں تو ان میں عفت، پاکدامنی، حیا اور غیرت نام کی کوئی چیز موجود نہ ہو۔اس کے علاوہ ذرائع ابلاغ اور الیکٹرانک میڈیا کو تو ایسے لگتا ہے کہ بس اسی مشن کی ترویج کے لئے ہی مسخر کر دیا گیا ہے جس سے بے حیائی کا ایسا طوفان امڈ آیا ہے کہ اللہ کی پناہ۔جرائد و مجلات کے اولیں صفحات پر نیم عریاں تصویریں اور ان کے اندر عشق ومحبت کی سرا سر جھوٹی اور گمراہ کن داستانیں، ٹی وی کی سکرین پر ہونے والا ننگا ناچ، مختلف ثقافتی پروگراموں میں خواتین کے حسن کی نمائش اور انٹر نیٹ پر مردو زن کی برہنہ تصاویر وغیرہ۔ یہ ایسی چیزیں ہیں جو شرم و حیا اور غیرت کا مذاق اڑا رہی ہیں۔ إنا ﷲ وإنا إلیہ راجعون

ہم اس مختصر سے رسالے کے ذریعے اپنی ان مسلمان ماؤں،بہنوں اور بیٹیوں کو بیدار کرنا چاہتے ہیں جو مغرب سے درآمد شدہ باطل اور گمراہ کن افکار اور فتنوں کے طوفان سے متاثر ہو چکی ہیں اور انھیں یاد دلاتے ہیں کہ دنیا و آخرت میں ان کی بھلائی دینِ اسلام کی تعلیمات پر عمل کرنے میں ہے۔اور ان کی کامیابی و کامرانی اسلام کے ان ضابطوں اور اصولوں کو عملی جامہ پہنانے میں ہے جو کہ خود انہی کے تحفظ کے لئے اللہ تعالیٰ نے اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے مقرر کئے ہیں۔فرمان الٰہی ہے :

{ وَمَا کاَنَ لِمُؤْمِنٍ وَّلاَ مُؤْمِنَۃٍ إِذَا قَضَی اﷲُ وَرَسُوْلُہُ أَمْرًا أَنْ یَّکُوْنَ لَہُمُ الْخِیَرَۃُ مِنْ أَمْرِہِمْ وَمَنْ یَّعْصِ اﷲَ وَرَسُوْلَہُ فَقَدْ ضَلَّ ضَلاَلاً مُّبِیْنًا} [الأحزاب :36]

’’ اور ( دیکھو ) کسی مومن مرد و عورت کو اللہ اور اس کے رسول ؐکے فیصلہ کے بعد اپنے کسی امر کا اختیار باقی نہیں رہتا، ( یاد رکھو ) اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولؐ کی جو نافرمانی کرے گا وہ صریح گمراہی میں پڑے گا۔ ‘‘

اور اسی طرح ہم اس رسالے کے ذریعے اپنے ان مسلمان بھائیوں کو بھی جگانا چاہتے ہیں جنھوں نے مغرب زدہ ذرائع ابلاغ کے لائے ہوئے طوفانِ بد تمیزی سے متاثر ہو کر اپنی بیویوں، بیٹیوں اور بہنوں کو کھلی چھوٹ دے رکھی ہے کہ وہ جو چاہیں دیکھیں اور جو چاہیں سنیں اور جب چاہیں اور جیسے چاہیں اپنے گھروں سے باہر چلی جائیں اور جس سے چاہیں ملاقاتیں کرتی رہیں۔ہم انہیں یاد دلاتے ہیں کہ وہ اپنے گھر والوں کے ذمہ دار ہیں اور قیامت کے روز ان سے ان کی اس ذمہ داری کے متعلق سوال کیا جائے گا۔

جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے :

کُلُّکُمْ رَاعٍ وَکُلُّکُمْ مَّسْئُوْلٌ عَنْ رَعِیَّتِہٖ، فَالْإِمَامُ رَاعٍ، وَہُوَ مَسْئُوْلٌ عَنْ رَعِیَّتِہٖ، وَالرَّجُلُ رَاعٍ فِیْ أَہْلِہٖ، وَہُوَ مَسْئُوْلٌ عَنْ رَعِیَّتِہٖ، وَالْمَرْأَۃُ رَاعِیَۃٌ فِیْ بَیْتِ زَوْجِہَا، وَہِیَ مَسْئُوْلَۃٌ عَنْ رَعِیَّتِہَا…فَکُلُّکُمْ رَاعٍ وَکُلُّکُمْ مَسْئُوْلٌ عَنْ رَعِیَّتِہٖ

’’ تم میں سے ہر شخص ذمہ دار ہے اور ہر شخص سے اس کی ذمہ داری کے متعلق پوچھ گچھ ہو گی۔لہذا وقت کا حکمران ذمہ دار ہے اور اس سے اس کی ذمہ داری کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔اور آدمی اپنے گھر والوں کا ذمہ دار ہے اور اس سے بھی اس کی ذمہ داری کے متعلق باز پرس کی جائے گی۔اور عورت اپنے خاوند کے گھر میں ذمہ دار ہے اور اس سے بھی اس کی ذمہ داری کے بارے میں پوچھا جائے گا … سو تم میں سے ہر شخص ذمہ دار ہے اور ہر شخص سے اس کی ذمہ داری کے متعلق سوال کیا جائے گا۔ ‘‘

[بخاری : الجمعۃ باب الجمعۃ فی القری والمدن : 893، مسلم :1829]

لہذا مسلمانو ! اس ذمہ داری کا احساس کرو اور اپنی بیویوں، بہنوں اور بیٹیوں کو ان اسلامی تعلیمات کا پابند بناؤ جو کہ ان کے تحفظ کے لئے مشروع کی گئی ہیں۔اور وہ یہ ہیں :

گھروں میں استقرار

خواتینِ اسلام کے لئے اللہ تعالیٰ نے جو خاص ضابطے مقرر کئے ہیں ان میں سے ایک اہم ضابطہ یہ ہے کہ وہ اپنے گھروں ہی میں ٹھہری رہیں اور بغیر ضروری حاجت کے گھروں سے باہر نہ جائیں۔

فرمان الٰہی ہے :

{ وَقَرْنَ فِیْ بُیُوْتِکُنَّ } [الأحزاب :33]

’’ اور اپنے گھروں میں ٹک کر رہو۔‘‘

اس آیت سے معلوم ہوا کہ عورت کا دائرۂ عمل گھر کی چاردیواری کے اندر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسے مسجد میں با جماعت نماز، جمعہ اور جہاد جیسی اہم عبادات سے مستثنیٰ کیا گیا ہے۔ اور اکیلے سفر کرنے سے اسے منع کر دیا گیا ہے۔بلکہ حج بیت اللہ جیسے اہم فریضۂ الٰہی کی ادائیگی کے لئے بھی سفر کرنے کی صرف اس صورت میں اسے اجازت دی گئی ہے کہ اس کے ساتھ اس کا خاوند یا محرم موجود ہو۔اس سے ثابت ہوا کہ بنیادی طور پر عورت کی جائے قرار اس کا گھر ہے اور بغیر ضروری حاجت کے گھر سے نکلنا اس کے لئے درست نہیں ہے۔

اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے :

اَلْمَرْأَۃُ عَوْرَۃٌ، فَإِذَاخَرَجَتْ اِسْتَشْرَفَہَا الشَّیْطَانُ، وَأَقْرَبُ مَا تَکُوْنُ مِنْ رَحْمَۃِ رَبِّہَا وَہِیَ فِیْ قَعْرِ بَیْتِہَا

[ ابن حبان :ج 12 ص 413 : 5599 وصحح إسنادہ الأرناؤط، وأخرج الجزء الأول منہ الترمذی : 1773 وصحح إسنادہ الشیخ الألبانی فی المشکوٰۃ :3109 ]

’’ خاتون ستر ( چھپانے کی چیز ) ہے، اس لئے جب وہ گھر سے نکلتی ہے تو شیطان اس کی تاک میں رہتا ہے اور وہ اپنے رب کی رحمت کے سب سے زیادہ قریب اس وقت ہوتی ہے جب وہ اپنے گھر کے اندر ہوتی ہے۔ ‘‘

اور گھر چونکہ عورت کا اصل مقر ہے اس لئے کسی کے گھر میں داخل ہونے سے پہلے اللہ تعالیٰ نے اجازت طلب کرنے کا حکم دیا ہے تاکہ گھروں کی عزت و حرمت محفوظ رہے اور شکوک و شبہات پیدا نہ ہوں۔بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کی آنکھ پھوڑنے کی اجازت دی ہے جو بغیر اجازت کے کسی کے گھر میں جھانک کر دیکھے۔اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں گھر اور چاردیواری کی حرمت کا تحفظ کتنی اہمیت کا حامل ہے۔

اوررسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عورت کی اس نماز کو افضل قرار دیا ہے جو کہ وہ اپنے گھر کے اندر ادا کرے۔چنانچہ حضرت ام حمیدؓ  نے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ (مسجد نبویؐ میں ) نماز پڑھنے کی رغبت ظاہر کی تو آپؐ نے فرمایا کہ مجھے معلوم ہے کہ تم میرے ساتھ نماز پڑھنا پسند کرتی ہو لیکن گھر میں نماز پڑھنا تمھارے لئے بہتر ہے۔ [ احمد ج 6 ص 371، ابن حبان ج 5 ص 596 : 2217 وإسنادہ قوی ]

تو یہ اس بات کی واضح دلیل ہے کہ عورت کی بھلائی اسی میں ہے کہ وہ اپنے گھر کے اندر رہے اور بغیر کسی ضروری حاجت کے گھر سے باہر نہ نکلے۔

مرد و زن کا اختلاط حرام

آج کل ’حقوقِ نسواں‘ کے تحفظ کے دعویدار گمراہ کن پروپیگنڈہ کرتے ہوئے یہ دعوت دے رہے ہیں کہ عورتوں کو مردوں کے شانہ بشانہ چلنا چاہیے اور کسی بھی میدان میں انھیں مردوں سے پیچھے نہیں رہنا چاہیے۔ حالانکہ یہ دعوت عورتوں کو بربادی کی طرف دھکیلنے کے برابر ہے،کیونکہ اس کے پیچھے دعویداروں کا مقصد عورتوں کی ترقی نہیں بلکہ ان کا اصل مقصد شرم وحیا کا خون کرنا ہے۔ تاکہ جو شخص جب چاہے، جہاں چاہے اور جسے چاہے اپنے دامِ فریب میں گرفتار کر کے اس کی عزت کو تار تار کر دے۔ جیسا کہ آج کل بصد افسوس ہو رہا ہے !

ہماری بہنوں کو یاد رکھنا چاہیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورت کو مردوں کے لئے سب سے خطرناک فتنہ قرار دیا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ:

’’ جب کوئی مردکسی اجنبی عورت کے ساتھ خلوت میں ہوتا ہے تو ان کے ساتھ تیسرا شیطان ہوتا ہے۔‘‘

بنا بریں! عورتوں کا مردوں سے اختلاط مرد و زن دونوں کے لئے باعثِ فتنہ ہے اور اس سے دونوں کا دین وایمان خطرے میں پڑ جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے تمام دروازوں کو بند کر دیا ہے جو مردو زن کے اختلاط کی طرف لے جاتے ہیں۔مثلاً :

1۔ عورت کو اللہ تعالیٰ نے غیر محرم مرد کے ساتھ پست اور نرم آواز میں بات کرنے سے منع فرما دیا ہے تاکہ کوئی مریض دل والا اس کے متعلق شک و شبہ کا اظہار نہ کرے۔ ( سورۃ الأحزاب :آیت 32)

لہذا جب نرم لب و لہجے میں بات تک کرنے کی اجازت نہیں ہے تو مردو زن کے اختلاط کو کیسے درست قرار دیا جا سکتا ہے ؟

2۔ اللہ تعالیٰ نے مومن مردوں کو اجنبی عورتوں سے اپنی نظروں کو جھکانے کا اور اسی طرح مومنہ عورتوں کو بھی اجنبی مردوں سے اپنی نظروں کو جھکانے کا حکم دیا ہے۔ ( سورۃ النور : آیات 30، 31)

اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے غیر محرم عورتوں کو دیکھنا آنکھوں کا زنا قرار دیا ہے۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے :

’’ آنکھوں کا زنا دیکھنا ہے اور کانوں کا زنا سننا ہے۔اور زبان کا زنا بات چیت کرنا ہے اور ہاتھ کا زنا پکڑنا ہے اور پاؤں کا زنا چلنا ہے۔‘‘ [ متفق علیہ ]

لہذا جب غیر محرم مرد و عورت کا ایک دوسرے کو دیکھنا حرام ہے تو ان کی آپس میں میل ملاقات اور گھومنا پھرنا کیسے جائز ہو سکتا ہے ؟

3۔ جو خواتین رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز ادا کرتیں اور وہ اپنے گھروں کو واپس لوٹنے لگتیں تو انھیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم حکم دیا کرتے تھے کہ :

اِسْتَأْخِرْنَ فَإِنَّہُ لَیْسَ لَکُنَّ أَنْ تُحَقِّقْنَ الطَّرِیْقَ ( وَسَطَہَا )، عَلَیْکُنَّ بِحَافَاتِ الطَّرِیْقِ،فَکَانَتِ الْمَرْأَۃُ تَلْصَقُ بِالْجِدَارِ حَتّٰی إِنَّ ثَوْبَہَا لَیَتَعَلَّقُ بِالْجِدَارِ مِنْ لُصُوْقِہَا

’’ تم پیچھے ہٹ جاؤ، کیونکہ تمھارے لئے جائز نہیں کہ تم راستے کے عین درمیان میں چلو، تم پر لازم ہے کہ تم راستے کے کناروں پر چلو۔اس پر وہ خواتین دیوار کے ساتھ چمٹ کر چلتی تھیں حتیٰ کہ ان کی چادریں ( جن سے انھوں نے پردہ کیا ہوتا ) دیواروں سے اٹک جاتی تھیں۔‘‘ [ ابو داؤد:5272 وصححہ الشیخ الألبانی فی الصحیحۃ : 856 ]

تو آپ اندازہ فرمائیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب نماز کی ادائیگی کے بعد گھروں کو واپس لوٹنے والی عورتوں کو مردوں کے راستے سے دور رہنے کی تلقین فرمائی تو عام طور پر مردو عورت کا اختلاط کیسے درست ہوسکتا ہے؟

4۔ حضرت عقبہ بن عامر الجہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

’’ تم ( غیر محرم ) عورتوں کے پاس جانے سے پرہیز کرو۔تو ایک انصاری نے کہا : اے اللہ کے رسولؐ ! آپؐ اَلْحَمْو (یعنی خاوند کے بھائی ’دیور‘ ) کے متعلق کیا کہتے ہیں ؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :’دیور‘ موت ہے۔ ‘‘ [ بخاری : النکاح باب لا یخلون رجل بامرأۃ، 5232، مسلم :الأدب، 2083]

اس حدیث میں ذرا غور کریں کہ جب دیور ( خاوند کا بھائی ) اپنی بھابھی کے لئے موت ہے تو عام مرد و عورت کا آپس میں اختلاط کتنا خطرناک ہو سکتا ہے۔

5۔ حضرت ابن عباس 5 سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

لاَ یَخْلُوَنَّ رَجُلٌ بِامْرَأَۃٍ إِلاَّ وَمَعَہَا ذُوْ مَحْرَمٍ، وَلاَ تُسَافِرِ الْمَرْأَۃُ إِلاَّ مَعَ ذِیْ مَحْرَمٍ

’’ کوئی شخص کسی عورت کے ساتھ ہرگز خلوت میں نہ جائے، ہاں اگر اس کے ساتھ کوئی محرم ہو تو ٹھیک ہے۔اور اسی طرح کوئی عورت محرم کے بغیر سفر نہ کرے۔‘‘

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان سن کر ایک شخص کھڑا ہوا اور کہنے لگا : اے اللہ کے رسولؐ ! میری بیوی حج کے لئے روانہ ہو گئی ہے اور میرا نام فلاں فلاں غزوہ کے لئے لکھ لیا گیا ہے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جاؤ، اپنی بیوی کے ساتھ حج کرو۔

[ بخاری: الحج، باب حج النساء،2826، مسلم : الحج، 1341 ]

مذکورہ بالا دلائل اس بات کے ثبوت کے لئے کافی ہیں کہ مردو زن کا اختلاط قطعاً جائز نہیں ہے۔ لہذا مسلمان خواتین کو مغرب زدہ لوگوں کے فریب میں نہیں آنا چاہیے اور قرآن و حدیث کے ان واضح دلائل کے سامنے اپنے آپ کو جھکا دینا چاہیے۔

بے پردگی حرام ہے

بناؤ سنگھار کر کے اور بے پردہ ہو کر گھروں سے نکلنا خواتین پر حرام ہے۔اللہ تعالیٰ نے خواتین کو اپنے گھروں کے اندر ٹھہرے رہنے کا حکم دینے کے بعد فرمایا ہے :

{ وَلاَ تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاہِلِیَّۃِ الْأُوْلیٰ } [الأحزاب :33]

’’ اور قدیم زمانۂ جاہلیت کی طرح بناؤ سنگھار کا اظہار مت کرو۔‘‘

یعنی اگر تمھیں کسی ضرورت کے پیشِ نظر گھروں سے باہر نکلنا پڑے تو اس طرح مت نکلو جیسا کہ زمانۂ جاہلیت کی عورتیں بناؤ سنگھار کو ظاہر کرتے ہوئے نکلتی تھیں۔ بلکہ خوشبو لگائے بغیر اور مکمل با پردہ ہو کر گھروں سے باہر جایا کرو۔اس آیت میں تبرج سے منع کیا گیا ہے اور اس سے مراد یہ ہے کہ :

1۔ عورت بے پردہ ہو کر غیر محرم مردوں کے سامنے نہ آئے۔

2۔ اور نیم عریاں لباس پہنے ہوئے اپنی زینت یا اعضاء زینت میں سے کسی عضو کو ان کے سامنے ظاہر نہ کرے۔

3۔ اور مٹک مٹک کر نہ چلے جس سے مردوں کی جنسی خواہش بھڑک اٹھے۔

4۔ اور وہ غیر محرم مردوں سے نرم اور پست آواز میں گفتگو نہ کرے جس سے ان کے دلوں میں برے خیالات پیدا ہوں۔

5۔ اور وہ غیر محرم مردوں سے مصافحہ نہ کرے اور ان کے ساتھ اختلاط سے پرہیز کرے۔

یہ تمام صورتیں اس تبرج میں شامل ہیں جس سے اللہ تعالیٰ نے ایمان والی خواتین کو منع کر دیا ہے اور اسے جاہلیت کے اعمال میں سے ایک عمل قرار دیا ہے۔

اور اسی طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :

{وَالْقَوَاعِدُ مِنَ النِّسَائِ اللاَّتِیْ لَا یَرْجُوْنَ نِکَاحًا فَلَیْسَ عَلَیْہِنَّ جُنَاحٌ أَنْ یَّضَعْنَ ثِیَابَہُنَّ غَیْرَ مُتَبَرِّجَاتٍ بِزِیْنَۃٍ وَأَنْ یَسْتَعْفِفْنَ خَیْرٌ لَّہُنَّ …} [النور :60]

’’ اور وہ بوڑھی عورتیں جنھیں نکاح کی خواہش نہ رہی ہو، ان کے لئے گناہ کی بات نہیں کہ وہ اپنی اوڑھنی یا برقعہ وغیرہ اتار دیں، بشرطیکہ وہ اپنا بناؤ سنگھار نہ دکھاتی پھریں اور اس سے بھی پرہیز کریں تو ان کے لئے بہتر ہے۔‘‘

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے عمر رسیدہ خواتین کو غیر محرم مردوں کے سامنے اوڑھنی یا برقعہ وغیرہ اتارنے کی اجازت دی ہے لیکن اس شرط کے ساتھ کہ ان کا بناؤ سنگھار ظاہر نہ ہو۔اس سے ثابت ہوا کہ اگر ان کا بناؤ سنگھار ظاہر ہوتا ہو تو انہیں بھی چادر یا برقعہ وغیرہ اتارنے کی اجازت نہیں ہے۔اسی لئے اللہ تعالیٰ نے اس کے فوراً بعد یہ فرمایا ہے کہ اگر وہ اس سے بھی پرہیز کریں یعنی برقعہ وغیرہ نہ اتاریں تو یہ ان کے حق میں بہتر ہے۔ لہذا جب عمر رسیدہ خواتین کو بناؤ سنگھار کے اظہار کی اجازت نہیں او ران کے لئے برقعہ پہننا بہتر ہے تو جوان عورتوں کو اس کی اجازت کیسے ہو سکتی ہے کہ وہ خوشبو سے معطر ہو کر اور مکمل میک اپ کئے ہوئے بغیر پردہ کے پھرتی رہیں۔

اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بناؤ سنگھار کو ظاہر کرنے والی خواتین کو درج ذیل الفاظ میں سخت وعید سنائی ہے :

’’ دو قسم کے جہنمیوں کو میں نے نہیں دیکھا ہے۔ایک تو وہ لوگ ہیں جن کے پاس گائے کی دموں کی مانند کوڑے ہوں گے جن سے وہ لوگوں کو ہانکیں گے اور دوسری وہ خواتین ہیں جو ایسا لباس پہنیں گی کہ گویا برہنہ ہوں گی۔لوگوں کے دلوں کو اپنی طرف لبھانے والی اور تکبر سے مٹک کر چلنے والی ہوں گی۔ان کے سر اونٹوں کی کہانوں کی مانند ایک طرف جھکے ہوں گے۔ایسی عورتیں جنت میں داخل نہیں ہوں گی اور نہ اس کی خوشبو پائیں گی حالانکہ اس کی خوشبو تو بہت دور سے محسوس کی جائے گی۔‘‘ [ مسلم :الجنۃ باب النار یدخلہا الجبارون :2128 ]

اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے :

أَیُّمَا امْرَأَۃٍ اِسْتَعْطَرَتْ فَمَرَّتْ بِالْقَوْمِ لِیَجِدُوْا رِیْحَہَا فَہِیَ زَانِیَۃٌ [ ابو داؤد : الترجل باب فی طیب المرأۃ، 4167، الترمذی : الإستئذان باب ما جاء فی کراہیۃ خروج المرأۃ متعطرۃ، 2937، النسائی: الزینۃ باب ما یکرہ للنساء من الطیب،5126]

’’ جو عورت خوشبو لگا کر کچھ لوگوں کے پاس سے گزرے تاکہ وہ اس کی خوشبو کو محسوس کر سکیں تو وہ بد کار عورت ہے۔‘‘

ان دونوں حدیثوں سے معلوم ہوا کہ بناؤ سنگھار کو ظاہر کرتے ہوئے بے پردہ ہو کر گھروں سے باہر نکلنا کبیرہ گناہ ہے۔

پردہ کرنا فرض ہے

خواتینِ اسلام پر اپنے پورے جسم کا پردہ کرنا فرض ہے۔ہم درجِ ذیل سطور میں قرآن و حدیث سے پردے کی فرضیت کے دلائل ذکر کریں گے تاکہ اس موضوع پر کسی قسم کا شک و شبہ باقی نہ رہے۔یاد رہے کہ مغرب زدہ لوگ پردے کو رجعت پسندی قرار دیتے ہیں اور ان کا دعویٰ یہ ہے کہ پردہ اسلام کے اوائل میں تو درست تھا اب یہ قابلِ عمل نہیں رہا۔حالانکہ تمام ائمہ دین، علماء کرام اور مجتہدین امت کا اس بات پر اتفاق ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد قرآن وسنت کے احکامات تا قیامت باقی ہیں اور جس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت قیامت تک کے لوگوں کے لئے ہے اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت بھی قیامت تک کے لوگوں کے لئے ہے اور اس میں کوئی رد وبدل نہیں ہو سکتا۔پھر یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ پردے کی فرضیت کا حکم نازل ہونے کے بعد تمام خواتینِ اسلام نے اس حکم کی پابندی کی، چنانچہ وہ بلا ضرورت گھروں سے باہر نہیں نکلتی تھیں اور جب کسی ضرورت کے پیش نظر گھر سے باہر جاتیں تو مکمل با پردہ ہو کر جاتیں۔پھر مسلمان خواتین کا یہ عمل صحابۂ کرامؓ  کے دور میں اور پھر تابعین ؒ کے عہد میں بھی جاری رہا۔اور یہی وہ زمانے ہیں جن کے بہترین زمانہ ہونے کی شہادت خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دی ہے۔پھر اس کے بعد بھی یہ مبارک عمل کبھی منقطع نہیں ہوا حتیٰ کہ چودھویں صدی ہجری میں جب خلافتِ اسلامیہ کا خاتمہ ہوا اور امتِ مسلمہ بصد افسوس چھوٹے چھوٹے ملکوں میں منقسم ہو گئی اور مغربی افکار کی نشر و اشاعت کا آغاز ہوا تو اکثر مسلمان خواتین نے پردے کو خیر باد کہہ دیا۔اورآہستہ آہستہ بیشتر اسلامی ممالک میں بے حیائی اور عریانی نے حیا اور غیرت کی جگہ لے لی۔ سو پردہ دورِ حاضر کے علماء کی اختراع نہیں بلکہ یہ اسلام کی بہترین صدیوں میں بھی تھا اور اس کے بعد بھی کئی صدیوں تک جاری رہا۔اس لئے اسے رجعت پسندی یا دقیانوسیت قرار دینا ایک بہت بڑی غلط فہمی ہے جس کا ازالہ کرنا از حد ضروری ہے۔

خواتینِ اسلام ! اب آپ فرضیتِ پردہ کے متعلق واضح دلائل ملاحظہ فرمائیں تاکہ آپ کو یہ معلوم ہو کہ پردہ قرآن و حدیث سے ایک ثابت شدہ حکم ہے۔اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے خواتینِ اسلام کو اس کا پابند کیا ہے اور یہی پاکباز خواتین کا شیوہ اور طرزِ عمل رہا ہے۔

* فرمان الٰہی ہے :

{وَإِذَا سَأَلْتُمُوْہُنَّ مَتَاعًا فَاسْئَلُوْہُنَّ مِنْ وَّرَائِ حِجَابٍ ذٰلِکُمْ أَطْہَرُ لِقُلُوْبِکُمْ وَقُلُوْبِہِنَّ } [ الاحزاب : 53]

’’ اور جب تم ان سے کوئی چیز طلب کرو تو پردے کے پیچھے سے طلب کرو، یہ تمھارے اور ان کے دلوں کے لئے کامل پاکیزگی ہے۔‘‘

یہ آیت آیۃ الحجاب(پردے کی آیت )کے نام سے معروف ہے، کیونکہ پردے کی فرضیت کے متعلق یہ پہلی آیت تھی۔اور یہ ماہِ ذو القعدہ پانچ ہجری میں نازل ہوئی اور اس کے شانِ نزول کے بارے میں حضرت انسؓ  کی روایت میں ہے کہ حضرت عمرؓ  نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی : اے اللہ کے رسول ؐ! آپؐ کے پاس اچھے برے ہر طرح کے لوگ آتے ہیں، تو کاش آپ امہات المؤمنین کو پردہ کرنے کا حکم دیں۔اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ [ بخاری : 4790 ]

یہ آیت اگرچہ امہات المؤمنینؓ کے بارے میں نازل ہوئی، لیکن اس میں پردے کا حکم تمام خواتینِ اسلام کے لئے تھا اور اب تک ہے اور اسی طرح رہے گا۔ کیونکہ اس آیت کے نزول کے بعد رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جہاں اپنی ازواج مطہراتؓ  کو پردہ کرنے کا حکم دیا وہاں تمام صحابۂ کرامؓ نے بھی اپنی خواتین کو اس پر عمل درآمد کرنے کا حکم دیا۔اور پھر پردہ کرنے کی جو حکمت اس آیت میں ذکر گئی ہے کہ یہ تمھارے اور ان کے دلوں کے لئے کامل پاکیزگی ہے، یہی حکمت اس بات کی دلیل ہے کہ آیت میں پردہ کرنے کا حکم عام ہے اور اس میں تمام خواتینِ اسلام شامل ہیں۔کیونکہ جب پردہ کرنے سے امہات المؤمنینؓ جیسی پاکباز خواتین کے دل پاکیزہ رہیں گے تو باقی خواتین کے لئے تو اس پر عمل کرنا اور بھی ضروری ہو گا تاکہ ان کے دلوں میں بھی پاکیزگی آئے۔

* فرمان الٰہی ہے :

{ یٰا أَیُّہَا النَّبِیُّ قُلْ لِأَزْوَاجِکَ وَبَنَاتِکَ وَنِسَائِ الْمُؤْمِنِیْنَ یُدْنِیْنَ عَلَیْہِنَّ مِنْ جَلاَبِیْبِہِنَّ ذٰلِکَ أَدْنیٰ أَنْ یُّعْرَفْنَ فَلاَ یُؤْذَیْنَ }

’’ اے نبیؐ ! اپنی بیویوں سے اور اپنی بیٹیوں سے اور تمام مسلمانوں کی عورتوں سے کہہ دو کہ وہ اپنے اوپر اپنی چادریں لٹکا لیا کریں۔اس سے بہت جلد ان کی شناخت ہو جایا کرے گی پھر انھیں ستایا نہیں جائے گا۔‘‘ [ الأحزاب : 59 ]

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہراتؓ  اور آپؐ کی صاحبزادیوں سمیت تمام خواتینِ اسلام کو حکم دیا ہے کہ وہ ایک بڑی چادر کے ذریعے سر سے لیکر پاؤں تک مکمل پردہ کیا کریں۔اور اس کی حکمت یہ بیان فرمائی کہ اس سے ان کی پہچان ہو جائے گی کہ یہ شریف گھرانوں کی با عزت اور با حیا خواتین ہیں اس لئے کوئی شخص انھیں ستانے کی جرأت نہیں کر سکے گا۔اور اس آیت سے معلوم ہوا کہ پردہ کرنا شرافت اور حیا کی علامت ہے اور اس کے برعکس بے پردگی بے حیائی کی علامت ہے۔

اور اس آیت میں اس بات کی دلیل بھی ہے کہ چہرہ سمیت پورے جسم کا پردہ کرنا فرض ہے۔کیونکہ عربی زبان میں ( جلباب ) اس کھلی چادر کو کہتے ہیں جس سے پورا جسم ڈھک جائے اور بالکل یہی معنی امہات المؤمنینؓ اور صحابیاتؓ نے بھی اس آیت سے اخذ کیا تھا۔چنانچہ حضرت ام سلمہؓ  کہتی ہیں :

’’ جب یہ آیت نازل ہوئی تو انصار کی خواتین گھونگٹ بنائے ہوئے گھروں سے اس طرح نکلتی تھیں کہ گویا ان کے سروں پر کوے بیٹھے ہوں اور انھوں نے سیاہ رنگ کی چادریں اوڑھ رکھی ہوتی تھیں۔ ‘‘ [ مصنف عبد الرزاق ]

اور حضرت عائشہؓ  کہا کرتی تھیں :

’’ اللہ تعالیٰ انصاری خواتین پر رحم فرمائے، جب یہ آیت نازل ہوئی تو انھوں نے اپنی چادریں پھاڑ کر ان سے اپنے چہرے ڈھانپ لئے اور وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے یوں با وقار انداز میں نماز پڑہتیں کہ جیسے ان کے سروں پر کوے بیٹھے ہوں۔ ‘‘ [ ابن مردویہ ]

نیز اس آیت میں اس بات کی دلیل بھی ہے کہ پردہ کرنے کا حکم تمام خواتین اسلام کے لئے ہے نہ کہ صرف امہات المؤمنینؓ کیلئے۔کیونکہ اس میں اللہ تعالیٰ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا ہے کہ وہ جہاں اپنی بیویوں اور بیٹیوں کو پردہ کرنے کا حکم دیں وہاں دیگر مومنوں کی تمام خواتین کو بھی اس کا حکم دیں۔

* فرمان الٰہی ہے :

{وَقُلْ لِّلْمُؤْمِنَاتِ یَغْضُضْنَ مِنْ أَبْصَارِہِنَّ وَیَحْفَظْنَ فُرُوْجَہُنَّ وَلاَ یُبْدِیْنَ زِیْنَتَہُنَّ إِلاَّ مَا ظَہَرَ مِنْہَا وَلْیَضْرِبْنَ بِخُمُرِہِنَّ عَلیٰ جُیُوْبِہِنَّ وَلاَ یُبْدِیْنَ زِیْنَتَہُنَّ إِلاَّ لِبُعُوْلَتِہِنَّ أَوْ آبٰائِہِنَّ أَوْ آبٰائِ بُعُوْلَتِہِنَّ أَوْ أَبْنَائِہِنَّ أَوْ أَبْنَائِ بُعُوْلَتِہِنَّ أَوْ إِخْوَانِہِنَّ أَوْ بَنِیْ إِخْوَانِہِنَّ أَوْ بَنِیْ أَخَوَاتِہِنَّ أَوْ نِسَائِہِنَّ أَوْ مَا مَلَکَتْ أَیْمَانُہُنَّ أَوِ التَّابِعِیْنَ غَیْرِ أُوْلِی الْإِرْبَۃِ مِنَ الرِّجَالِ أَوِ الطِّفْلِ الَّذِیْنَ لَمْ یَظْہَرُوْا عَلیٰ عَوْرَاتِ النِّسَائِ وَلاَ یَضْرِبْنَ بِأَرْجُلِہِنَّ لِیُعْلَمَ مَا یُخْفِیْنَ مِنْ زِیْنَتِہِنَّ } [ النور : 31]

’’ ایمان والی عورتوں سے کہہ دو کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی عزت کی حفاظت کریں اور اپنی زینت کو ظاہر نہ کریں، سوائے اس کے جو ظاہر ہے۔ اور اپنے گریبانوں پر اپنی اوڑھنیاں ڈالے رکھیں اور اپنا بناؤ سنگھار کسی کے سامنے ظاہر نہ کریں سوائے اپنے شوہروں کے یا اپنے باپ کے یا اپنے خسر کے یا اپنے لڑکوں کے یا اپنے خاوند کے لڑکوں کے یا اپنے بھائیوں کے یا اپنے بھتیجوں کے یا اپنے بھانجوں کے یا اپنے میل جول کی عورتوں کے یا اپنے غلاموں کے یا ایسے نوکروں کے جو شہوت والے نہ ہوں یا ایسے بچوں کے جو عورتوں کے پردے کی باتوں سے مطلع نہ ہوں۔اور اس طرح زور زور سے پاؤں مار کر نہ چلیں کہ ان کی پوشیدہ زینت معلوم ہو جائے۔‘‘

مذکورہ آیت میں کئی باتیں انتہائی قابلِ توجہ ہیں :

1۔اللہ تعالیٰ نے ایمان والی خواتین کو حکم دیا ہے کہ وہ اپنی عزت کی حفاظت کریں اور یہ بغیر پردے کے ممکن نہیں۔کیونکہ جب پردہ نہیں ہو گا تو مرد بے پردہ عورت کی طرف متوجہ ہو گا، نظریں ملیں گی اور پھر انجام عورت کی بے عزتی ہو گا۔ سو پردہ کرنے سے عزت کا تحفظ ہوتا ہے اور بے پردگی سے ایسا نہیں ہو سکتا۔

2۔اللہ تعالیٰ نے عورتوں کو اپنی زینت ( بناؤ سنگھار ) کو ظاہر کرنے سے منع فرمایا ہے، سوائے اس زینت کے جو مجبوراً یا خود بخود ظاہر ہو جائے۔اس سے ثابت ہوا کہ پردہ کرنا عورت پر فرض ہے کیونکہ بغیر پردہ کے زینت کو چھپانا ممکن نہیں۔اور اس آیت میں اس بات کی دلیل بھی ہے کہ چہرے کا پردہ کرنا بھی ضروری ہے کیونکہ زیب و زینت کا سب سے بڑا مظہر چہرہ ہے، لہذا اسے چھپانا لازم ہے۔

3۔اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے کہ خواتین اپنے گریبانوں پر اوڑھنیاں ڈالے رکھیں۔ یعنی اپنا سر، چہرہ، گردن اور سینہ اچھی طرح سے چھپا کر رکھیں۔ اور حضرت عائشہؓ  کہا کرتی تھیں :

’’ اللہ تعالیٰ اولیں مہاجر عورتوں پر رحم فرمائے، جب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی تو انھوں نے اپنی چادریں پھاڑ کر اپنے چہروں کو چھپا لیا۔‘‘

[ بخاری : تفسیر القرآن باب قولہ ولیضربن بخمرہن … :4758]

اور ابن ابی حاتم نے حضرت صفیہؓ  سے روایت کیا ہے، وہ کہتی ہیں کہ ہم نے حضرت عائشہؓ  کے سامنے قریشی خواتین کی فضیلت کا ذکر کیا تو وہ کہنے لگیں : ہاں ٹھیک ہے! قریشی خواتین فضیلت والی ہیں لیکن میں نے انصاری خواتین سے زیادہ افضل خواتین نہیں دیکھیں۔وہ اللہ تعالیٰ کی کتاب کی سب سے زیادہ تصدیق کرنے والی اور اس پر سب سے زیادہ مضبوط ایمان والی ہیں۔چنانچہ جب سورۃ النور میں یہ حکم نازل ہوا کہ { وَلْیَضْرِبْنَ بِخُمُرِہِنَّ عَلیٰ جُیُوْبِہِنَّ} یعنی وہ اپنے گریبانوں پر اپنی اوڑھنیاں ڈالے رکھیں، تو ان کے مردوں نے انہیں یہ حکم پڑھ کر سنایا، اس پر وہ صبح کے وقت جب نماز پڑھنے کے لئے گئیں تو اپنی چادروں کے ساتھ یوں گھونگٹ بنا کر گئیں کہ جیسے ان کے سروں پر کوے بیٹھے ہوں۔‘‘ [ فتح الباری ]

اس سے معلوم ہوا کہ ان خواتینِ اسلام نے اللہ تعالیٰ کے اس حکم کو فوراً عملی جامہ پہنایا اور اس کی تعمیل میں کسی حیل و حجت سے کام نہ لیا۔ اور دراصل یہی جذبۂ اطاعت و فرمانبرداری آج بھی امتِ مسلمہ کی خواتین سے مطلوب ہے۔ کاش کوئی ہو جو ایسا کر کے دکھائے !!

4۔نیز اللہ تعالیٰ نے خواتین کو زور زور سے پاؤں مار کر چلنے سے بھی منع فرمایا ہے تاکہ ان کی پوشیدہ زینت ظاہر نہ ہو۔اس سے معلوم ہوا کہ اپنے خوبصورت لباس کو ظاہر کرنا اور زیورات پہن کر اور اسی طرح میک اپ وغیرہ کر کے اپنے حسن کی نمائش کرنا اور غیر محرم مردوں کو دعوتِ نظارہ دینا، یہ سب عورتوں پر حرام ہے۔

فرضیتِ پردہ کی چوتھی دلیل حضرت عائشہؓ  کی روایت ہے۔ وہ کہتی ہیں :

’’ ہم رسول اللہ کے ساتھ حالتِ احرام میں تھیں، جب مرد ہمارے سامنے آتے تو ہم میں سے ہر خاتون اپنی کھلی چادر کو اپنے سر سے چہرے پر لٹکا لیا کرتی تھی اور جب وہ گزر جاتے تو ہم اپنا چہرہ ننگا کر لیتیں۔‘‘

[ احمد، ابو داؤد، ابن ماجہ، الدار قطنی، البیہقی ]

اس حدیث میں پردے کی فرضیت کا واضح ثبوت موجود ہے کیونکہ پردہ فرض تھا تو تبھی تو وہ پاکباز خواتین حالتِ احرام میں بھی غیر محرم مردوں کے سامنے آنے پر اپنے چہروں کو چھپا لیا کرتی تھیں۔ اور اس سے اس بات کا اندازہ بھی لگایا جا سکتا ہے کہ جب احرام کی حالت میں وہ اس قدر پردے کی پابندی کرتی تھیں تو اس کے علاوہ باقی ایام میں وہ کس قدر اس کی پابندی کرتی ہو ں گی۔

نیز اس میں اس بات کا ثبوت بھی ہے کہ چہرے کا پردہ کرنا لازمی امر ہے، کیونکہ جب احرام کی حالت میں غیر محرم مردوں کے سامنے چہرہ ننگا رکھنے کی اجازت نہیں تو کسی اور حالت میں چہرے کو ننگا رکھنا کیسے جائز قرار دیا جا سکتا ہے؟

اور کوئی شخص یہ دعویٰ نہیں کر سکتا کہ ایسا تو محض امہات المؤمنینؓ ہی کرتی تھیں جنھیں پردہ کرنے کا حکم دیا گیا تھا کیونکہ باقی صحابیاتؓ بھی اسی طرح ہی کیا کرتی تھیں۔ جیسا کہ حضرت اسماء بنت ابی بکرؓ  سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں:

’’ ہم ( غیر محرم ) مردوں سے اپنے چہروں کو چھپا لیا کرتی تھیں۔‘‘

[ ابن خزیمہ، الحاکم : صحیح علی شرط الشیخین ]

واقعہ افک میں ہے کہ حضرت عائشہؓ  نے کہا :

’’ اور صفوان پردے کا حکم نازل ہونے سے قبل مجھے دیکھا کرتا تھا، اس نے جب مجھے پہچانا تو إِنَّا ﷲِ وَإِنَّا إِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ پڑھنے لگا۔اس پر میں بیدار ہو گئی اور میں نے فوراً اپنی چادر سے اپنا چہرہ چھپا لیا۔ ‘‘ [ بخاری ومسلم ]

اور حضرت عائشہؓ  ہی سے روایت ہے کہ :

’’ مومنہ عورتیں اپنی چادروں میں لپٹی ہوئی فجر کی نماز رسول اللہ للہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے ادا کر تی تھیں۔پھر نماز ختم ہونے کے بعد اپنے گھروں کو واپس پلٹتیں تو اندھیرے کی وجہ سے انھیں کوئی پہچان نہیں سکتا تھا۔ ‘‘ [ بخاری ومسلم ]

یہ حدیث بھی اس بات کی دلیل ہے کہ پردہ کرنا تمام خواتینِ اسلام پر فرض ہے اور یہی اوائلِ اسلام سے پاکباز خواتین کا شیوہ رہا ہے۔

حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام خواتین کو عیدگاہ میں آنے کا حکم دیا تو بعض عورتوں نے کہا :

ہم میں سے کسی کے پاس چادر نہ ہو تو وہ کیا کرے ؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اسے اس کی بہن چادر پہنائے۔ [ بخاری ومسلم ]

اس حدیث سے ثابت ہوا کہ عہدِ نبوت کی تمام خواتین اپنے چہروں سمیت پورے جسم کا پردہ کرتی تھیں اور یہ بھی کہ کسی خاتون کے لئے جائز نہیں کہ وہ بغیر پردہ کے گھر سے باہر نکلے کیونکہ اگر بغیر پردہ کے گھر سے نکلنا جائز ہوتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کم از کم ان خواتین کو ضرور اجازت دے دیتے جن کے پاس پردہ کرنے کے لئے چادریں نہیں ہوتی تھیں۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ حکم کہ جس خاتون کے پاس چادر نہ ہو اسے اس کی بہن چادر پہنائے، یہ اس بات کی دلیل ہے کہ بغیر پردہ کے گھر سے نکلنا عورت پر حرام ہے۔

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

’’ جو شخص اپنے کپڑے تکبر کے ساتھ گھسیٹتا ہے، اللہ تعالیٰ روزِ قیامت اس کی طرف دیکھنا تک گوارا نہیں کرے گا۔ یہ سن کر حضرت ام سلمہؓ  نے کہا : تو عورتیں اپنی چادروں کے کناروں کا کیا کریں؟ ( یعنی وہ انہیں کہاں تک لٹکا سکتی ہیں ؟ ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ایک بالشت تک لٹکا لیا کریں، تو ام سلمہؓ  نے کہا : تب تو پیر ننگے ہو جائیں گے ! تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : وہ ایک ہاتھ تک انھیں لٹکا لیا کریں، اس سے زیادہ نہیں۔‘‘

[ احمد، و أصحاب السنن، قال الترمذی : حسن صحیح ]

اس حدیث میں ذرا غور فرمائیں کہ اس وقت کی پاکباز خواتین کس قدر پورے جسم کے پردے کا خیال کرتی تھیں کہ انھیں اپنے پاؤں تک کو ننگا کرنا گوارا نہ تھا۔ جبکہ اس دور کی خواتین پاؤں تو کیا، پنڈلیوں بلکہ گھٹنوں تک اپنی ٹانگیں ننگی کر کے پھرتی رہتی ہیں اور انھیں ذرا بھی احساس نہیں ہوتا کہ وہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کا ارتکاب کر رہی ہیں۔

اللہ تعالیٰ تمام مسلمان عورتوں کو ہدایت دے اور ان اسلامی تعلیمات پر عمل کرنے کی توفیق دے۔ (آمین ثم آمین)

خواتین و حضرات !

اگر آپ نے فرضیت پردہ کے دلائل کو بغور پڑھ لیا ہے تو اب آپ ذرا اپنے ضمیر سے پوچھیں کہ کیا اس کے بعد بھی کسی خاتون کے لئے جائز ہے کہ وہ پردہ کئے بغیر گھر سے باہر نکلے؟اپنا لباس، اپنے زیورات اور اپنی زیب وزینت کو غیر محرم مردوں کے سامنے ظاہر کرے اور انھیں دعوتِ نظارہ دیتی رہے ؟ کیا یہ دلائل جاننے کے بعد بھی کسی سرپرست یا والدین کے لئے یہ درست ہو سکتا ہے کہ وہ اپنی بیوی، یا بیٹی، یا بہن کو پردہ کے بغیر گھر سے باہر جانے کی اجازت دے ؟ کیا قرآن و حدیث کی ان واضح تعلیمات کو جاننے کے بعد یہ ضروری نہیں ہو جاتا کہ خواتین اسلام سرِ تسلیم خم کرتے ہوئے فوراً ان پر عمل در آمد کریں اور پردے کی پابندی شروع کر دیں ؟ اور کیا والدین کے لئے ضروری نہیں ہو جاتا کہ وہ بچپن ہی سے اپنی بیٹیوں کو پردے کا پابند بنائیں تاکہ وہ بڑی ہو کر بھی اس کی پابندی کرتی رہیں اور پھر جب ان کی شادی ہو جائے تو وہ اپنی بیٹیوں کو بھی اس کا پابند بنائیں ؟

ہم اپنے غیور بھائیوں اور لائقِ احترام ماؤں اور بہنوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ سے ڈریں اور سب مل کر مغرب کے گمراہ کن افکار کا مقابلہ کریں اور اپنی بیویوں، بیٹیوں اور بہنوں کو عفت وپاکدامنی کا تاج پہنا کر انھیں بے پردگی، اختلاط اور عریانی سے محفوظ رکھیں۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کی حفاظت فرمائے اور ہمیں اپنے احکامات پر عمل کرنے کی توفیق دے۔ (آمین ثم آمین)

٭٭٭

پیشکش: عندلیب، صراط الہدیٰ فورم

ماخذ:

http://www.siratulhuda.com/forums/archive/index.php/t-2180.html

تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید