FavoriteLoadingپسندیدہ کتابوں میں شامل کریں

 

 

 

 

فہرست مضامین

یتیم پھر سے یتیم ہو گئے

 

 

مرتبہ

                   نسیم عباس نسیمی

                   نظر ثانی: اعجاز عبید

 

 

 


 

 

 

 

 

 

عجیب شخص تھا

انسانیت کی بات کرتا تھا

 

 

پیکرِ محبت و اخلاص اور محسنِ لاچار و بے کس عبدالستار ایدھی لا وارثوں کو ایک بار بھی لا وارث کر گئے ہر آنکھ اُن کی موت پر اشک بار ہے اور خود اُن کی اپنی آنکھیں اپنی یاد و محبت اور احسان و احترام میں خوشی کے آنسوؤں سے بھری رہیں گی کہ ایدھی صاحب اپنی آنکھیں بھی عطیہ کر گئے جو آج سے دو نابینا افراد کو نورِ بینائی سے منور کر رہی ہیں۔

ایدھی صاحب کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے ہر شخص نے اپنے اپنے ہنر کو آزمایا کوئی شعری قالب میں اپنی رنجیدگی کا اظہار کر رہا ہے تو کوئی پینٹنگ کے ذریعے ایدھی صاحب کے فلسفے کو رنگوں سے آویزاں کر رہا ہے کسی نے نثر میں مدح سرائی کی تو کوئی منقبت پڑھتے نظر آیا اور جو کچھ نہیں کر سکا تو اپنے خونِ جگر کو آنسووؤں کی زباں دے گیا۔

لاشیں گرانے والو اب بس کر دو تم بھی

کہ لاشیں اٹھانے والا تھک کے سو گیا ہے

عبدالستار ایدھی کی وفات پر کئی معروف شعراء کی جانب سے انہیں خراج تحسین پیش کیا گیا ہے،  ذیل میں انہیں پیش کیے گئے نذرانہ ہائے عقیدت کی ایک مختصر جھلک پیش کی جا رہی ہے :

موت اس کی ہے کرے جس کا زمانہ افسوس

یوں تو دنیا میں سبھی آتے ہیں مرنے کے لیے

اللہ تبارک و تعالیٰ مرحوم کی مغفرت کرے، درجات بلند فرمائے اور ہر کسی کو ان کے نقش قدم پر چل کر خدمت انسانی کی توفیق بخشے۔ ۔ !

 

نسیم عباس نسیمی

 

 

 

 

 

 

روشن تھے اک ستارہ تھے ایدھی چلے گئے

 

                   حسیب احمد حسیب

 

خدمت کا استعارہ تھے ایدھی چلے گئے

کتنوں کا جو سہارا تھے ایدھی چلے گئے

جیتے تھے دوسروں کے لیے وہ عظیم تھے

روشن تھے اک ستارہ تھے ایدھی چلے گئے

٭٭٭

 

 

 

 

 

اسی لیے تو وہ آنکھیں یہیں پہ چھوڑ گیا

 

                   شوکت رضا شوکت

 

اگرچہ زیر زمین سو گیا مرا ایدھی

مگر وفا کا سلیقہ زمین پہ چھوڑ گیا

بہت عزیز تھی اسے ملت کی دیکھ بھا ل

اسی لیے تو وہ آنکھیں یہیں پہ چھوڑ گیا

٭٭٭

 

 

 

 

آہ عبدالستار ایدھی

 

                   قمر حیدر قمر

 

دکھی دلوں کا آسرا چلا گیا

یتیم پھر یتیم ہو گئے

ہوائیں بے قرار ہیں

فضائیں سوگوار ہیں

ہر ایک دل اداس ہے

ہر ایک آنکھ اشکبار

وہ اک درخت سایہ دار کیا گیا

کہ لاکھوں لوگ بے امان ہو گئے

سلگتی تیز دھوپ ہے

نہ چھاؤں ہے نہ چھت کہیں

وہ بے نواؤں کی نوا

وہ بے رداؤں کی ردا

وہ باپ تھا وہ بھائی تھا

بشر تو کیا کہ جانور بھی اس کی شفقتوں میں تھے

ہر ایک جنس و عمر کے ستم رسیدہ

اس کی قربتوں میں تھے

وہ غمگسار آدمی

وہ افتخار آدمی

وہ سیرتوں کے آئنے میں کس قدر عظیم تھا

وہ سادہ لوح و سادہ دل وہ صابر و حلیم تھا

وہ آدمی کی شکل میں

فرشتۂ خدائے مہربان تھا

وہ ماورائے رنگ و نسل و مذہب و زبان تھا

وہ رحم کی چٹان تھا

کرم کا آسمان تھا

خلا جو پڑ گیا ہے اس کے جانے سے فضائے کائنات میں

وہ بھر نہیں سکے گا اب

تری مری حیات میں

قمر یہ میں نے لفظ تو نہیں لکھے

قلم کے چند اشک تھے

جو لوح پر بکھر گئے۔ .۔ ..

٭٭٭

 

 

 

 

تم کو نوبل کی ضرورت ہی نہیں ہے بابا

 

                   خالد عرفان

 

تم کو نوبل کی ضرورت ہی نہیں ہے بابا

کوئی اعزاز، کوئی تخت، کوئی تاجِ شہی

کوئی تمغہ نہیں دنیا میں تمہارے قد کا

تم نے اِس ملک کے لوگوں پہ حکومت کی ہے

تم نے خدمت نہیں کی، تم نے عِبادت کی ہے

 

کوئی مسند بھی تمہارے لیے تیار نہیں ہے

تم کسی اور ستائش کے بھی حقدار نہیں

لیکن آتی ہے کہیں سے صدائے برحق

جھلملاتی ہوئی آنکھوں کی نمی میں تم ہو

سب کے دکھ درد کے ساتھی ہو غمی میں تم ہو

سب کی خوشیوں میں ہو موجود، دکھوں میں تم ہو

سب کی سانسوں میں مہکتے ہو، دلوں میں تم ہو

 

اسی خدمت میں ہے پوشیدہ تمہارا نوبل

تم یہاں خاک نشینوں کے نمائندہ ہو

صرف بیواؤں، یتیموں کے لیے کام کرو

تم تو بس لاشیں اٹھانے کے لیے زندہ ہو

٭٭٭

 

 

 

 

ستار ایدھی

 

                   ضیاء شہزاد

 

ہائے وہ ستار ایدھی ہم سے رخصت ہو گیا

جنتی تھا اور وہ جنت میں جا کر سو گیا

جب تلک زندہ رہا انسانیت کا دکھ رہا

یوں جیا انسانیت کے غم میں بس وہ کھو گیا

٭٭٭

 

 

 

 

 

 

کوئی نہ کہنا کہ ایدھی مر گیا

 

                   سالک صدیقی

 

کتنے قطروں کو سمندر کر گیا

کام پورا کر کے اپنے گھر گیا

تا قیامت وہ رہے گا جاوداں

کوئی نہ کہنا کہ ایدھی مر گیا

٭٭٭

 

 

 

 

 

آخری وِرد سکھانے والا مر جائے تو روئے کون؟

 

                   احمد حماد

 

ایدھی صاحب سے تو ہم نے آنسو پونچھنا سیکھا تھا

لیکن جو برسات میں روئے اس کے آنسو پونچھے کون؟

عشق بلکتے اور بے خواب عزا داروں کا آخری وِرد

آخری وِرد سکھانے والا مر جائے تو روئے کون؟

٭٭٭

 

 

 

 

شاید ہم سب تھوڑے تھوڑے ایدھی ہو سکتے ہیں

 

                   سلمان حیدر

 

24 گھنٹوں میں اک گھنٹہ

ہفتے میں اک روز

سال میں ایک مہینہ یا پھر

جیون میں اک پل

ایک ایدھی کی یاد میں کتنے ایدھی ہو سکتے ہیں

شاید ہم سب تھوڑے تھوڑے ایدھی ہو سکتے ہیں

٭٭٭

 

 

 

 

 

 

استعارہ بُجھ گیا۔ ۔ ۔ اک ستارہ بُجھ گیا

 

                   جی ایم شاہ

 

چھ ارب دنیا میں بستی آدم و حوّا کی نسلیں آج پھر مغموم ہیں

بَین کرتی چار سو آواز کو جس نے سُنا

بے سہارا زندگی کو گود سے پھر گور تک جس نے چُنا

درد کو آرام کی لوری سناتا تھا جو دل

وہ مسیحائی کا تھا جو اک “ستارہ” بُجھ گیا

استعارہ بُجھ گیا۔ ۔ ۔ اک ستارہ بُجھ گیا

٭٭٭

 

 

 

 

 

کہاں سے دوسرا ایدھی ملے گا

 

                   شہزاد گوہیر

 

مسافر جانبِ منزل رواں ہیں

ترا جانا بہت مشکل لگے گا

ضرورت جب پڑے گی اس جہاں کو

کہاں سے دوسرا ایدھی ملے گا

٭٭٭

 

 

 

 

سڑکوں پہ شفا خانے بنانے والا

 

                   ریحان اعظمی

 

کچلی ہوئی لاشوں کو اٹھانے والا

سوئے ہوئے احساس جگانے والا

اب ایسا مسیحا نہ ملے گا ہم کو

سڑکوں پہ شفا خانے بنانے والا

٭٭٭

 

 

 

 

 

جو سہارا تھا غریبوں کا وہ اب روٹھ گیا

 

                   یونس ہمدم

 

آج رخصت ہوا ایدھی تو یہ احساس ہوا

خدمت خلق کا مضبوط قلعہ ٹوٹ گیا

ڈھونڈ کے لاتا تھا بے گور و کفن لاشوں کو

جو سہارا تھا غریبوں کا وہ اب روٹھ گیا

٭٭٭

 

 

 

 

ایدھی بابا تو اک فرشتہ تھا

 

 

                   یونس ہمدم

 

بعد مرنے کے یہ ہوا احساس

ایدھی بابا تو اک فرشتہ تھا

پھول کے ساتھ جیسے ہو خوشبو

قوم کے ساتھ ایسا رشتہ تھا

٭٭٭

 

 

 

 

ایدھی جی

 

                   حیدر یحیٰ

 

کیا سنتے ہو تم ایدھی جی

ہم لا چاروں کی بستی میں۔ ہم بیماروں کی نگری میں

تم ایدھی بن کے آئے تھے !

اک رحمت کی جو برکھا ہو، وہ برکھا بن کے چھائے تھے

تم بیماروں کا پیاراسجن، تم جیون کا سنگھار سجن

تم رہبر تھے تم شفقت تھے، تم رحمت کا اظہار سجن!

کیا سنتے ہو تم ایدھی جی؟اب کہاں سے لائیں ہم تم کو؟

تم روٹھ کے ہم سے چل نکلے اب کیسے منائیں ہم تم کو ؟

تم چھوڑ گئے اس بستی کو، اس نگری کو، اس ہستی کو

چارا گری جو عام ہوئی، اب کہاں سے لائیں اس ہستی کو

اب کون ہمارے غم بانٹے، اب کون ہمیں بہلائے گا؟

مر گئے کسی گولی سے ہم تو کون ہمیں نہلائے گا؟

کچھ بولو بھی تم ایدھی جی، کیا سنتے ہو تم ایدھی جی؟؟

جو خواب ہمارے ختم ہوئے، کیا بنتے ہو تم ایدھی جی؟؟

اب آس گئی، امید گئی، دلدار گیا، دلگیر گیا!

ہمدرد گیا، وہ دوست گیا، وہ انساں کا اک باب گیا!

جو اللہ کا اک دوست ہوا، جو لوگوں کا غمخوار ہوا،

حیدر تیری رات کا اک وہ سچا روشن خواب گیا!

٭٭٭

 

 

 

 

 

ناخداؤں کو یاد آؤں گا

 

                   ظفر قابل اجمیری

 

جن فضاؤں نے مجھ کو دیکھا ہے

ان فضاؤں کو یاد آؤں گا

اس عقیدت کے ساتھ ڈوبا ہوں

ناخداؤں کو یاد آؤں گا

٭٭٭

 

 

 

 

ایدھی علیل ہو کے جہاں سے چلا گیا

 

 

                   علی جان جعفری

 

انسانیت ہے کیا وہ جہاں کو بتا گیا

اپنے وطن سے عشق ہر اک کو سکھا گیا

چھوڑی نہ ارض پاک وطن ایک پل کو بھی

“ایدھی”علیل ہو کے جہاں سے چلا گیا

٭٭٭

 

 

 

 

 

فقیرِ وقت مگر طرز سروری کا حسن

 

                   سوز صاحب

 

طبیبِ ارضِ وطن نورِ بندگی کا حسن

دکھا دیا ہے ہمیں امن و دوستی کا حسن

کفن بھی عام لیا اور نذر کیں آنکھیں

صفات بندہِ مومن کا آئینہ ایدھی

نہیں ہے ایسا کہیں اورسادگی کا حسن

مثالِ سنت احمدﷺ کی روشنی کا حسن

خمیدہ پشت رہی خدمت بشر کے لیے

خراج؟وقت سفر؟آہَ سوز صاحب

کہ اس طرح سے نکھرتا ہے آدمی کا حسن

بڑھانا چاہتے ہیں قد و شاعری کا حسن

اقتباس: اعتقادِ سوز 9 جولائی 2016 شاعر سوز صاحب

٭٭٭

 

 

اب سوچتا ہوں ایسا گُہَر کون رہ گیا

 

                   حیدر حسنین جلیسی

 

ایدھی بھی دیکھو چَل دیئے راہِ اَبدَ کی سَمت

اِنسانِیّت کا ایک سُتوُں اور ڈھَ گیا

قُدرت جِسے خلوص پہ، خدمت پہ دَستَرَس

اب سوچتا ہوں ایسا گُہَر کون رہ گیا

٭٭٭

 

مرے چارہ گر میرے رہنما

 

                   نامعلوم

 

مرے چارہ گر مرے رہنما

یہ سفر بھی آج ختم ہوا

ترے حوصلے ترے ولولے

کئی دیے تجھ سے جلے ہوئے

تری زیست لازوال ہے

تری کوششوں کو کمال ہے

نہیں ہے یقیں تو نہیں ہے اب

تری محنتوں کا صلہ ہے سب

مرے اک فقیر سے بادشاہ

یہ سفر بھی آج ختم ہوا

٭٭٭

 

 

 

تو ہے چپ چاپ مگر تیرا ہنر بولتا ہے

 

                   نجف علی شاہ بخاری

 

برگ خاموش رہیں بھی تو شجر بولتا ہے

سبز موسم میں تو شاخوں پہ ثمر بولتا ہے

اس قدر قوم پہ احسان کیے تو نے

تو ہے چپ چاپ مگر تیرا ہنر بولتا ہے

٭٭٭

 

 

 

 

 

آدمی تھا کہ مُلک پاکستان

 

                   مسعود مُنّور

 

نام عبدالستار ایدھی تھا

زندگی سادگی سے کاٹ گیا

نیک اعمال کا کفن پہنا

قبرِ خدمت میں جا کے دفن ہوا

دیدہ ور شخص، صاحبِ ایمان

آدمی تھا کہ مُلک پاکستان

٭٭٭

 

 

 

 

 

کیا آدمی تھا شہر کو ویران کر گیا

 

                   حسنین کاوش

 

انسانیت کے دشت کو حیران کر گیا

کہنا پڑے گا واقعی احسان کر گیا

 

لوگوں کے کام آئیے تفریق کے بغیر

انسانیت یہی ہے وہ اعلان کر گیا

 

مسکین، بے سہارا، غریب اور یتیم پر

جو عمر بھر کمائی تھی سب دان کر گیا

 

جو کام کر نہ پائی تھیں مل کر حکومتیں

وہ کام ایک تنہا مسلمان کر گیا

 

انسانیت کی راہ پر آؤ نکل پڑیں

سب کے لئے وہ راستہ آسان کر گیا

 

آنسو سبھی کی آنکھ سے کاوشؔ چھلک گئے

کیا آدمی تھا شہر کو ویران کر گیا

٭٭٭

مآخذ:مختلف ویب سائٹس سے

تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید