FavoriteLoadingپسندیدہ کتابوں میں شامل کریں

 

 

 

ہلدی بیچاری کیا کرے

 

 

                   سبین علی

 

 

                   sabeenali14@yahoo.com

 

 

 

 

گاڈ سیو دا کنگ

 

 

اس کے اطراف میں گھیرا تنگ کیا جا رہا تھا۔ چاروں طرف ڈھول باجوں اور سنگینوں سے لیس لاٹھیوں نے اسے گھیرے میں لیا ہوا تھا۔ مگر وہ اپنے چھ بچوں کو مدتوں سے شروع کی گئی کہانی مکمل سنا دینا چاہتا تھا۔ کہانیاں اتنی آسانی سے کبھی مکمل نہیں ہوتیں۔ شیر اور چوہے سے لے کر خوب صورت بارہ سنگھے اور دو سینگوں والے فاتح سے لے کر ان ایب اوریجنلز تک جن کی قدر کبھی کانگرو کے برابر بھی نہ رہی تھی۔

نا اا اا اا اا اا ا انگوووو ونیا اا اا اا اا بیگی تھی بابا اا اا

سی تھی اووم انگووونیا اا اا ا

انگووونیا اا اا ا

بھاگتے بھاگتے اس کا سانس پھول چکا تھا۔

پانچ سمندروں پر حکمرانی کا خواب۔ ۔ ۔ ۔ نہیں نہیں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ وہ خواب نہیں تھا حرص تھی، تجارت کی منافع کی منڈی کی حرص تھی۔

وہی حرص جو ایک گدھے کو ہری گھاس کی چاہ میں گھنے جنگل میں گھیر لاتی ہے۔ مگر وہ گدھے نہ تھے وہ لومڑی سے زیادہ شاطر، کی یا سے زیادہ سیانے اور ریٹل سے زیادہ خطرناک تھے۔

انہوں نے مغرب سے لے کر مشرق تک کوئی قطعہ ارض نہ چھوڑا جہاں اپنے نوکیلے پنجوں کے نشان ثبت نہ کیے ہوں۔

ان کے سفینے جس ساحل پر بھی لنگر انداز ہوتے وہ بستیان تاراج ہو جاتیں۔ وہاں بسنے والے انسان چرند پرند حیوان سبھی انواع اتنی تیزی سے معدوم ہونے لگتیں کہ قرنوں نے ایسے سانحے نہ دیکھے ہوں گے۔

تیروں کی بوچھاڑ شروع ہو چکی تھی۔

سیو نگوبا ا اا ا۔ ۔ ۔ ۔ ۔

لاشوں کی بنیاد پر نئی کالونیاں تعمیر ہوتیں اوہ گاڈ سیو۔ ۔ ۔ ۔ ۔

گاڈسیو دا۔ ۔ ۔ ۔ پورا براعظم اجاڑ دو۔ نئی بستیاں بسائی جائیں گی جس میں مہذب اقوام بسیرا کریں گی۔ چند سکے انعام ایک جان کا۔ ۔ ۔ ۔ گاڈ سیو۔ ۔ ۔ ۔ یہ جاندار کانگرو سے بھی بدتر نکما اور فالتو ہے۔ شوٹ ہم۔

لے پانی بھیج دو۔

گاڈ سیو دا۔ ۔ ۔ ۔ ۔

ہر صحت مند کو فوج میں جبری بھرتی کرو۔

اس سیارے کی سب سے خونیں جنگی لڑی جانے والی ہے۔

غلہ محفوظ کرو، قحط برپا کر دو

گاڈ سیو دا کنگ۔ ۔ ۔ ۔ سفید خون کی بڑی قیمت ہے۔

اس عورت نے بندوق تان لی تھی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تا حیات قید میں ڈال دو۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ گاڈ سیو۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

بچا لاؤ یہ اپنا آدمی ہے۔

کیا ہوا جو سرعام کسی غریب ملک کے دو تین بیکار انسان مار دیے ؟

ڈالر دو

گاڈ سیو۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

صرف انچاس ہزار ڈالر

سیو نگوبا اا اا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

قاتل ہوں یا ڈینٹسٹ اپنے ملک لوٹ چکے۔

سب قانونی دستاویزات مکمل تھیں

لکیر پیٹو

کف افسوس ملو ان گماشتے حکمرانوں پر۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کے کانوں میں گاڈ سیو دا کنگ کی صدائیں صدیوں سے گونج رہی تھیں۔

وہ صدائیں جو اسے معدوم کر دیں گی۔

وہ کنگ نہیں تھا

درندہ بھی نہ تھا

کنگ وہی ہیں جن کے پاس کاغذ کے ٹکڑوں کو بھی سونے کے مماثل قرار دینے کی طاقت ہے۔

پلک جھپکنے مین اس کرہ زمین کو نابود کر دینے کی طاقت۔ ۔ ۔ فضاؤں اور سمندروں پر دسترس کی طاقت

کاغذ کے ٹکرے جیت گئے

کنگ ہمیشہ بچا لیے جاتے ہیں۔

اور جانور ان کا کیا ہے ؟

 

نا اا انگونیا بیگی تھا ابابا

گھیرا مکمل ہو چکا تھا۔

کہانی کا اختتام کبھی نہیں ہوتا۔

ریسٹ ان پیس سیسل۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

گاڈسیو دا کنگز۔

سیو نگوبا

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

 

پس نوشت: افریقی لوگ گانے کا اردو مفہوم

نا اا اا انگوووو ونیا اا اا اا اا بیگی تھی بابا اا اا

(بابا یہاں ایک شیر آ رہا ہے )

سی تھی اووم انگووونیا اا اا ا

انگووونیا اا اا ا

(اوہ ہاں یہ ایک شیر ہی ہے )

سیو نگوبا

(ہم فتح کرنے جا رہے ہیں)

نا اا انگونیا بیگی تھا ابابا

((یہاں ایک شیر ہے بابا)

گاڈ سیو دا کنگ برطانیہ کا قومی ترانہ رہا ہے اور اس کے علاوہ یہ برطانیہ کے زیر قبضہ کئی نو آبادیاتی ممالک کا بھی قومی ترانہ رہا۔

٭٭٭

 

 

 

 

کتن والی

 

 

سوت کو مختلف رنگوں میں رنگ کر امتزاج اور توازن کو صغریٰ مائی جانے کس طرح قائم رکھتی تھی اور یہ بھی کسی کے علم میں نہیں تھا کہ کچی آبادی میں بسنے کی بجائے جولاہوں کے اس مختصر کنبے نے جھگی بڑی نہر اور راج باہ کے بیچ میں موجود جگہ پر کیوں ڈال رکھی تھی۔ پہلے پہل یہ علاقہ مضافات میں شمار کیا جاتا تھا مگر کچھ سال بعد ہی شہر کے اندر شامل ہو چکا تھا۔

فیکے جولا ہے کی انگلیاں پاور لوموں کے بیم سے اترے ویسٹ تانے کو بل دے کر سوت بٹنے کی اتنی عادی ہو چکی تھیں کہ خواہ وہ حقے کی تازہ چلم کو کش لگا رہا ہوتا یا کسی گاہک کو اپنی چرب زبانی سے گھیر کر کھیسوں کی افادیت پر دلائل دے رہا ہوتا، اس کی ٹیڑھی انگلیاں مسلسل گولے کو گھماتی اور بل دیتی رہتیں۔ ایک ہی لڑکا تھا جو ویوینگ فیکٹری میں وائینڈرپر بابنیں بھرتا تھا۔ اگرکھیس جتئی کا کوئی گاہک مل جاتا تو ان کی آبائی کھڈی چلتی ورنہ فیکا جولاہا سوت بٹ کر چارپائیاں بننے والا بان بنا ڈالتا۔

بابا فیکا اور صغریٰ جسے عرف عام میں سب مائی جولاہی کہتے تھے فیصل آباد شہر میں بس کر خود کو قدرے آسودہ محسوس کرنے لگے تھے۔ پاور لومز کی کثرت میں انہیں نا صرف سوت آسانی سے دستیاب ہوتا بلکہ دستی کھڈی پر بنی دریاں کھیس اور چتئیاں بھی آسانی سے بک جاتیں۔ صغریٰ جولاہی اور بابے فیکے پر بڑھاپے کی آمد آمد تھی۔ ان کی انگلیوں پر سوتر کے گولوں کو بل دیتے اور تانے بانے میں الجھتے الجھتے گٹھے پڑھ چکے تھے۔

مائی دبلی پتلی اور چست تھی۔ ہر کام بڑی محنت اور نفاست سے کرتی، تیکھے نقوش مگر رنگ دھوپ میں جل کر سیاہی مائل ہو چکا تھا۔ بڑی روشن آنکھیں جن کی نظر عمر کے ساتھ کمزور ہو رہی تھی۔ بال کہیں سفید کہیں سیاہ اور کہیں کہیں لال مہندی کے آثار کا پتا بتاتے۔ اکثر چھوٹے پھولوں والے پرنٹ کا گول گلے والا کرتا جس کی اطراف میں جیبیں لگی ہوتیں اور سادہ شلوار پہنتی۔ ایک ہاتھ میں کانچ کا موٹا کڑا، انگلیوں میں مختلف رنگوں کے کانچ کے چھلے اور کانوں میں چاندی کی بالیاں پہنے رکھتی۔ اس کی انگلیوں میں پرکھوں کا ہنر تھا تو فطرت میں رنگوں کے استعمال اور نمونے بنانے کی صلاحیت ودیعت ہوئی تھی۔ عام سی جھگی کو اس نے نفاست سے سجایا ہوا تھا۔ لال اینٹوں کے فرش پر جیومیٹری کی اشکال والے نمونوں سے مزین صاف ستھری دری پڑی ہوتی۔ جھگی کے دروازے پر پڑا پھولدار پردہ، مٹی کا چولہا جس پر نقش نگار بنے تھے، چھوٹی دیواریں اور گاچنی سے لیپ کیے ہوئے پیندے والے چمکتے برتن غرضیکہ جھگی کی ہر چیز اس کی نفاست کی گواہی دیتی۔

اُس سال سردی کی شدید لہر اور نہر کنارے پڑنے والی گہری دھند فیکے کو نمونیے کا تحفہ دے چکی تھی کھانس کھانس کر بدحال ہو جاتا تو بلغم کے ساتھ کبھی چونی کبھی اٹھنی جتنا خون بھی لگا ہوتا۔ دھیرے دھیرے اس کا وجود متروک سکوں کی مانند ختم ہوتا جا رہا تھا۔ کھڈی پر باریک تانا چڑھانے کا کام ان کے لڑکے بھولے کو نہیں آتا تھا۔ اگر بابا فیکا کسی طرح تانا باندھ دیتا تو بھولا کھڈی پر سادہ بنائی کر لیتا تھا۔

گھر کی صفائی ستھرائی اور ہانڈی چولہا کرتے وقت مائی بہت شوق سے ریڈیو سنتی۔ کئی خبریں اور باتیں اس کے لیے بالکل انوکھی اور حیرانی کا باعث ہوتیں۔ کبھی ماہیے سنتی تو دھیان اپنے چہرے پر نمودار ہوتی جھریوں کی طرف بھی چلا جاتا۔

سوتر منڈی اور ملوں سے لے کر فیکے جولا ہے تک ایک وقت میں سب لوگوں کا روزگار خوب پھلا پھولا تھا۔ ہفتے میں ایک دن بجلی کا ناغہ ہوتا۔ کسی علاقے میں یہ ناغہ جمعے کو ہوتا اور کسی علاقے میں اتوار کو۔ اور اسی دن مزدوروں کی ہفتہ وار چھٹی ہوتی۔ ہر مزدور کم سہی لیکن رات کو دیہ اڑی لے کر گھر آتا۔ مگر یہ سب اسی رفتار سے نمو پذیر نہ رہا۔ ریڈیو ساندل بار پنجابی پروگرام میں میزبان اکثر کہا کرتا تھا! محنت کش اس قوم کا ہاتھ ہیں۔ کئی بار یہ سن کر اس کی سوچوں کا تانتا بندھ جاتا کہ مجھ جولاہی کے ان ہاتھوں نے کتنے سوت بٹے ہیں پر جھگی سے باہر درختوں کی ٹھنڈی چھاؤں اور بہتی نہر پر ان کا کیا حق ؟ پھر سوچتی کہ ملک کی بڑی بڑی باتوں اور آنے والے وقت پر اس کا اتنا ہی اختیار ہے جتنا گھاس کا موسموں پر۔ سورج اپنا سفر مختصر یا طویل کرتے وقت گھاس سے صلاح مشورہ کبھی نہیں کرتا۔ گھاس ہی خود کو موسموں کے مطابق ڈھال لیتی ہے۔

غیر محسوس طریقے سے پاوڈر کا زہر پورے شہر یا شاید پورے ملک کی رگوں میں اتارا جا رہا تھا۔ مائی جولاہی کو تو ملک کے طول و عرض کا اندازہ تھا نہ ہی شہروں کے نام یاد تھے۔ اس غریب نے تو پاس ہی صدیوں سے بسنے والا شہر لاہور تک نہ دیکھا تھا۔ سنا کرتی تھی کہ جنہے لہور نئیں ویکھیا اوہ جمیا ای نئیں تو کئی بار دل ہی دل میں ارداہ کرتی کہ اگر اس بار اچھی بچت ہوئی تو داتا دربار کا عرس دیکھنے کے بہانے ہی لہور شہر دیکھ لے گی۔

مگر اسے اتنا ضرور علم تھا کہ لڑکوں بالوں اور دیہ اڑی پر کام کرنے والے غریب مزدوروں کی کثیر تعداد آہستہ آہستہ ہیروئین کی پڑیوں کے نشے کی عادی ہو چکی جن میں بھولا بھی شامل تھا۔ ان کے وجود کے نئے نکور سکے دیا سلائی کی آنچ پر دہکتے سفید سے سیاہ ہوتے پاؤڈر کو اپنے اندر تحلیل کرتے کھوٹے ہوتے جا رہے تھے۔ کبھی وہ سوچتی کہ اگر یہ سب اسے نظر آ رہا ہے تو بڑوں کو بھی نظر آتا ہو گا ایک دن وہ کوئی جادو کی چھڑی گھمائیں گے تو جیسے یہ پڑیاں گلی گلی بکنے لگی تھیں ایک دن اچانک غائب بھی ہو جائیں گی اور اس کا بھولا جو اب وائینڈر پر بابنیں بھرنے کا کام قد نکلنے کی وجہ سے چھوڑ چکا ہے پھر سے اپنے باپ کی کھڈی سنبھال لے گا۔

انہی دنوں فیکا جولاہا گرمیوں کا موسم آنے سے قبل ہی مٹی میں جا سمایا۔ بھولا کبھی لوموں پر کام کر لیتا تو کبھی سوت بٹ لیتا۔ کہیں اسی تو کہیں سو روپیہ دیہ اڑی ملتی تھی جس میں سے پچاس روپے کی پڑی آ جاتی۔ اگر پڑی نہ پیتا تو سارا بدن ٹوٹنے لگتا اور وہ ماہی بے آب کی مانند تڑپتا مٹی میں پلسیٹیاں لیتا ہائے ہائے کرتا رہتا۔ مائی جولاہی سے اکلوتی اولاد کی یہ حالت دیکھی نہ جاتی۔ اسی مجبوری میں اجرت پر کبھی کسی کی چارپائیوں کے سنگے نکال آتی تو کہیں کسی کے گھر میں رضائیوں کے نگندنے بھر آتی کہ جسم و جان کا رشتہ برقرار رہے۔

کچھ عرصہ تو اسی طرح چلتا رہا مگر جب بھولا بالکل ہی کام سے جانے لگا تو مائی جولاہی نے ہمت پکڑی کہ کسی طرح کھڈی پھر سے چلنے لگے۔

بی بی جی ہم ہنر مند ہیں بھیک مانگ کر نہیں کھاتے، رب سوہنے کا کرم کہ کھڈی کی صورت روزی کی آس لگائی ہوئی ہے۔ بس اتنی حسرت ہے کہ کہیں سے سوتر مل جائے تو مہینوں کا بیکار پڑا بھولا کھڈی جوڑ لے۔

مائی جولاہی عاصمہ سے منت سماجت کر رہی تھی۔

عاصمہ ایک کالج میں تاریخ کی لیکچرار تھی۔ اکثر گھر کے کام کاج کے لیے اسے کسی کام کرنے والی عورت کی ضرورت پیش آتی رہتی۔ مائی جولاہی کئی بار ان کی رضائیاں نگند چکی تھی۔ جب اسے پتا چلا کہ عاصمہ بی بی کے میاں کی ویونگ فیکٹری ہے تو مائی نے بڑی آس لگاتے ہوئے اسے اپنا دکھڑا کہہ سنایا۔ عاصمہ ایک خداترس عورت تھی اسے مائی جولاہی کے سب حالات کا علم ہوا تو دل میں اس غریب عورت کے لیے ہمدردی جاگ اٹھی۔

مائی کھیسوں کا تو رواج ہی کم ہوتا جا رہا ہے۔ اچھا خیر میں تمہیں فیکٹری سے ویسٹ منگوا دوں گی تم دیکھ لینا اس سے کیا بنتا ہے، عاصمہ نے مائی جولاہی کو دلاسا دیا۔

کچھ دن بعد جب عاصمہ کے گھر سے مائی جولاہی سوت لے کر نکلی تو اس کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہ تھا۔ اس کی آنکھیں کچھ ادھورے اور کچھ ان دیکھے خواب پھر سے بننے لگیں۔ جھگی کی طرف اٹھتے ہر قدم کے ساتھ ازلی تفکرات کے تانے میں خوابوں کا بانا جوڑتی رہی کہ اس بار بھولے کا علاج کرا لے گی۔ کچی آبادی میں کوئی ڈھائی مرلے کا مکان بھی لے گی، بھولے کے سر سہرہ سجے گا تو سونا آنگن کھل اٹھے گا۔

بھولا جو اپنے نشے کی لت سے تنگ آ چکا تھا مگر جان چھڑانے کا کوئی راستہ اس کے سامنے نہیں تھا سوت دیکھ کر بہت خوش ہوا۔ اگر موٹے بانے کے ساتھ ایک دن میں ایک دری بنا لیتا تو سو روپے کی بچت لازمی تھی۔

مائی جولاہی نے اپنی ماہر انگلیوں سے تانا باندھنا شروع کیا تو بھولا بھی ساتھ لگ گیا۔ بانے کے لیے مائی نے سوت کو لال نیلے پیلے جامنی اور کالے رنگوں میں رنگ کر ڈیزائین بھولے کو سمجھانا شروع کیے۔ بھولا جو پاور لوموں پر کام کرنے کی وجہ سے دستی کھڈی پر ڈیزائین والے کھیس دریاں بنانا اچھی طرح سے سیکھ نہیں پایا تھا ایک مفعول بنا ماں کی ہدایات پر عمل کرتا رہا۔ جب دیگر کی بانگ کے ساتھ دری کھڈی سے اتاری تو طمانیت کا احساس اس کی ساری تھکن اتار گیا ان تخلیقی رنگوں میں امید کی کرن تھی۔ مائی نے اگلے ہی دن دری بغل میں دابی اور عاصمہ بی بی کے گھر پہنچ گئی۔ کھڈی چالو ہونے پر اس کی خوشی دیدنی تھی اس کا پہلا خواب تعبیر ہونے جا رہا تھا۔

عاصمہ جسے آرٹ کی کچھ سمجھ بوجھ بھی تھی بوڑھی ان پڑھ جولاہی کی فنکارانہ چابک دستی اور نفاست سے رنگوں کا استعمال دیکھ کر حیران رہ گئی۔ مائی کی چوٹ نشانے پر پڑی تھی، اس نے جان لیا تھا کہ اپنے ہنر کو بدلتے وقت کے ساتھ ہم آہنگ کرنے میں ہی ان کی بقا ہے۔ اپنی اجرت لیتے ہوئے مائی نے بڑی امید کے ساتھ عاصمہ سے ایک اور تقاضا کیا۔

بی بی جی اگر تُسی برا نا مانو تے اپنے کالج کی دوسری استانیوں کو بھی میری بنی دریاں دکھانا۔ تہاڈی مہربانی نال مجھ غریبنی کا آٹا دال لگا رہے گا۔

اچھا مائی تم ایسا کرو کچھ دریاں بنا کر تیار رکھو دو ہفتے بعد میری کچھ سہیلیاں آ رہی اس دن سب کو دریاں دکھانا شاید بک جائیں۔ عاصمہ نے ہمدردی میں ہامی بھرتے ہوئے کہا۔

پر بی بی جی روز پچاس روپے تو بھولے کی پڑی کے چاہیں، پڑی نہ ملے تو وہ کھڈی پر بھی نہ کھلو سکے۔ مائی نے فکر مندی سے کہا۔

مائی جتنا مجھ سے ہو سکا میں تیرا ساتھ دے تو رہی ہوں تیرے بیٹے کا کہیں سے علاج ہو جاتا تو اچھا تھا۔ عاصمہ نے تاسف سے کہا۔

بی بی جی اللہ وارث ہے صغریٰ نے بڑے حوصلے سے امید بھرے لہجے میں جواب دیا۔

بھولے نے بھی جی جان سے ماں کا ساتھ دیا۔ ان کی بنی دریاں کچھ منفرد نمونوں کی بنا پر اور کچھ عاصمہ کی مدد کی وجہ سے خوب بکیں۔ اس کی کئی کولیگز نے مائی جولاہی سے اپنی اپنی پسند کے مطابق سائی دے کر مختلف طرز کے کھیس اور دریاں بنوائیں۔ عاصمہ کے دل میں مائی جولاہی کے فن اور مشقت کی وجہ سے جو انسیت اور ہمدردی پیدا ہو چکی تھی وہ صغریٰ کے لیے کسی بڑے آسرے سے کم نہ تھی۔

جیسے بجھنے سے قبل ایک بار چراغ پوری تمکنت سے جگمگاتا ہے اسی طرح کچھ عرصہ ان کا ہنر بھی جگمگایا۔ بھولے نے خراب صحت کے باوجود اپنی ماں کا ساتھ نبھاتے ہوئے منفرد سے منفرد نمونے بنائے گویا اپنی محنت کا سارا نچوڑ اور مائی کے فن کی ساری مہارت کھڈی میں ڈال کر کوئی عجوبے تخلیق کرنے بیٹھا ہو۔ مائی کے خوابوں کو ایک نیا جزیرہ مل گیا تھا کبھی خواب دیکھتی کہ اس کی بنی دریوں کی مانگ سارے شہر میں ہے۔ کبھی خواب میں ڈھیر سارا سوت نظر آتا تو کبھی بے شمار رنگ اور کبھی ایک کی بجائے دو دو کھڈیاں نظر آتیں۔ لیکن خوابوں کے برعکس بھولے کی دن بدن کمزور ہوتی صحت بدصورت حقیقت بن کر سامنے موجود ہوتی۔

جب سے عاصمہ کو شوگر کا مرض لاحق ہوا اسے ڈاکٹر نے صبح سویرے واک کرنے کی تاکید کی تھی۔ اکثر وہ نہر کنارے بنے ٹریک پر چہل قدمی کرنے جاتی جہاں بہت سے لوگ موجود ہوتے بڑی سڑک کے ساتھ والی نہر سے کچھ آگے جا کر راج باہ نکلتی۔ وہاں قریب ہی مائی جولاہی کی جھونپڑی تھی۔ ایک بار وہ مائی کی جھونپڑی میں گئی تو اس کا دل جیسے کسی نے مٹھی میں لے کر جکڑ لیا۔ بوڑھی عورت کا اکلوتا سہارا اس کا بیٹا بھولا سوکھ کر ڈھانچہ بنتا جا رہا تھا۔ اندر کو دھنسی ہوئی آنکھیں، سوکھے چمڑے جیسی جلد، جلے ہاتھ، زرد چہرہ، عاصمہ کو لگا جیسے وہ میوزیم میں رکھا کسی فاقہ زدہ شخص کا قدیم سنگی مجسمہ دیکھ رہی ہو۔

بھولے سے باریک کھیس پہلے ہی نہیں بنتے تھے اب موٹے سوت سے رنگین دریاں بنانا بھی اس کے لیے مشکل ہو رہا تھا۔ صغریٰ اپنے ناتواں کندھوں پر جوان بیٹے کا بوجھ بڑی استقامت سے اٹھائے ہوئے تھی۔ بھولے کا کہیں آنا جانا اور جھونپڑی سے نکلنا بہت محدود ہو چکا تھا۔ صغریٰ خود ہی بنت کرتی اور کسی نہ کسی طرح پیسے بچا کر اس کے لیے پڑی لے آتی وہ اپنے اکلوتے بیٹے کو نشہ ٹوٹنے پر بری طرح تڑپتا نہیں دیکھ سکتی تھی۔ محنت و مشقت کی آدھی سے زائد کمائی اس طرح لٹ جاتی۔ پھر بھی وہ اپنی ہمت کسی مشکل وقت کے لیے بچائی نقدی کی مانند جوڑے رکھتی۔ لوگوں کے سامنے وہ نہ تو بھولے کی کمزور صحت کا رونا روتی اور نہ ہی نشہ کرنے پر اس کی برائی کرتی۔ سیاہ رات اپنے آنچل میں چمکتے ہوں یا گرہن لگے، چاند سمیٹ ہی لیتی ہے۔

گھر گھر جا کر دریاں منتیں کر کے بیچتی اور سوچتی کہ ساری بیبیاں ایک طرح کی کیوں نہیں ہوتیں ؟ گلی کوچوں کی خاک چھانتی مائی طرح طرح کی باتیں سنتی۔ مائی جولاہی، جھلی، کملی، سوکھا وان، نمانی کئی ناموں سے مخاطب کی جاتی۔ مگر مائی جولاہی تو جیسے بہری ہو چکی تھی۔ اسے تو بس اتنا پتا تھا کہ دریاں بیچنا اور پڑیاں خریدنا ہیں۔

وہ اکثر یہ خواب دیکھتی اور کبھی خواب دکھایا جاتا کہ گھوڑے پر سوار کوئی شہزادہ آئے گا جو پلک جھپکنے میں اس کے بھولے کو بھلا چنگا کر دے گا پھر اپنی جادوئی چھڑی گھمائے گا اور ساری پڑیاں یک دم غائب ہو جائیں گی۔ اس کے کمزور ہاتھوں کی بنی مزین دریاں ہر ڈرائینگ روم کی زینت بنیں گی۔ اسے اندازہ تھا کہ اس سپنے کی تعبیر نا ممکنات جیسی بن چکی ہے پھر بھی سارا دن وہ اپنے خواب کو خود ہی سچ کرنے کے عمل میں جٹی رہتی۔ اس کی خود داری اور اپنی انگلیوں پر مان برقرار تھا ورنہ پیٹ کا تنور بھرنے کو ہتھیلی پھیلانا کونسا مشکل تھا۔

عاصمہ ریفریشرکورس پر لاہور گئی ہوئی تھی۔ کئی دنوں بعد لوٹی تو پھر اپنی نوکری اور گھر بار کی مصروفیت میں گم رہی چند ایک بار دل میں خیال آیا کہ مائی کا پتا کرے لیکن خیال خیال ہی رہا۔ کئی مہینوں بعد مائی اس کے گھر آئی۔ تھکی ماندی مضمحل اور کمزور، ایسا لگ رہا تھا کہ روئی کی پُونی کی بجائے کسی نے مائی کا وجود تکلے کی سوئی میں پرو ڈالا ہے۔ سمندر جیسی ڈونگھی آنکھوں کے گرد کالی ریت کی لکیریں زمانوں کے تھکا دینے والے سفر کا احوال بیان کر رہی تھیں۔ جھریوں کی چادر اوڑھے کالی جلد کی سلوٹیں جسم کا لباس بنی تھیں۔

عاصمہ اس کی یہ حالت دیکھ کر افسردگی سی پوچھنے لگی! مائی یہ کیا حالت بنا لی؟ اور اب تیرے بھولے کا کیا حال ہے ؟

بس بی بی جی کیا بتاؤں اب تو اس کا ہاتھ پانی بھی میں خود کرتی ہوں نامراد پڑی پینے جوگا بھی نہیں رہ گیا۔ منجی سے جا لگا ہے۔ صغریٰ نے ایک آہ بھری سمندر میں گرداب اٹھا اور پاتال میں اتر گیا۔

یہ لو کچھ پیسے رکھ لو عاصمہ نے چند نوٹ اس کی طرف بڑھائے۔

نہ بی بی جی پیسے رین دیں۔ پڑی تو مل رہی پر لے کر کیا کرنی۔ آٹا کسی چکی ہٹی میں نہیں مل رہا۔ آپ تو سارے سال جوگی کنک اکٹھی لے کر رکھتی ہیں جی، بس اپنی ڈرمی سے تھوڑا آٹا ڈال دیو۔

یہ کہتے ہوئے مائی کے کندھے جھکے ہوئے تھے اور حسرت بھری نظریں انگلیوں کے گٹھوں پر جمی تھیں۔

عاصمہ نے آٹا ڈال کر ساتھ کر دیا اور چلتے چلتے زبردستی چند روپے بھی مٹھی میں تھما دیے۔

انہی دنوں عاصمہ کو کسی دوسرے شہر ٹرانسفر ہو کر جانا پڑا۔ واپس فیصل آباد تبادلے کے لیے تین چار مہینے کتنے ہی پاپڑ بیلے اور دفتروں کی خاک چھانی تب جا کر دوسرے گرلز کالج میں پوسٹنگ ہوئی۔ اسی جھنجھٹ میں کئی مہینوں تک مائی کی کوئی خبر نہ لے سکی۔ ایک دن گوالے سے پوچھا تو اس نے بتایا کہ مائی جولاہی کا بھولا چل بسا تھا۔ اس نے دل میں ارادہ کیا کہ خود جا کر مائی جولاہی سے تعزیت کرے گی۔

اگلے ہی روز شام کے وقت اس کے بچوں نے باہر کھانے اور گھومنے کا پروگرام بنایا۔ اس کے میاں انہیں ایک بالکل نئے تعمیر ہوئے کینال پارک ریسٹورنٹ میں لے آئے۔ کھانے کے بعد بچے ادھر ادھر کھیلنے لگے۔ عاصمہ کے دل کو ہُڑک لگی ہوئی تھی۔ اس کے اندازے کے مطابق وہ ریسٹورنٹ جھگی کے قریب ہی بنا تھا۔ اسی تلاش میں وہ نہر کے ساتھ ساتھ چلتی کافی آگے نکل گئی۔ پرانی راج باہ کے ساتھ جولاہوں کی جھگی کا نام و نشان تک مٹا دیا گیا تھا۔ کھڈی کے لیے کھودی جگہ برابر تھی جس پر تازہ گھاس اگا دی گئی تھی مختلف کیاروں میں موسمی پھول اپنی اپنی بہار دکھا رہے تھے۔ نہر کنارے ساری گرین بیلٹ دیکھنے والوں کو بہت خوب صورت نظارہ دے رہی تھی۔ جہاں کبھی جھگی ہوا کرتی تھی اس جگہ کسی ریسٹورنٹ کے مونو گرام والا سیمنٹ کا بنچ نصب تھا۔ عاصمہ نے حیران ہو کر چاروں طرف نظر دوڑائی عینک اتار کر شیشے فلالین کے نرم رو مال سے صاف کیے پھر دوبارہ عینک لگا کر گہری نظر سے ادھر ادھر دیکھا اور لڑکھڑا کر بنچ پر بیٹھ گئی۔

وے سائیں تیرے چرخے نے

اج کت لیا کتن والینوں

٭٭٭

 

 

 

 

چھلاوے

 

بنتے بگڑتے ٹیلوں کے درمیان ریت کے چھلاوے رقصاں تھے سورج کی تپش جوں کی توں برقرار تھی مگر روشنی کی کرنیں زمین پر پہنچنے سے انکاری تھیں۔ مگر ریت کے پیالے تلے دم توڑتی قدروں کی کہانی سانس لے رہی تھی۔ وقت اور تہذیب کا سفر کبھی تھما نہیں تھم جائے تو شاید متعفن ہو جائے۔ تہذیب کے ٹیلے بھی کبھی کھائیوں میں بدل جاتے ہیں اور کبھی کھائیاں ٹیلوں جتنی بلند ہو جاتی ہیں۔ قریب رہنے والے حتی کہ اپنا وجود بھی نگاہوں سے اوجھل اور دور بسنے والے رگ جاں سے بھی قریب ٹھہرتے ہیں۔

نور دین پر کھانسی کا شدید دورہ پڑا تھا۔ کئی دنوں سے وہ مسجد کے بیرونی چھپر تلے ڈیرہ ڈالے ہوئے تھا۔ جدہ شہر کے اس گنجان محلے میں بہت سے پاکستانی بنگلہ دیشی اور ہندوستانی ملازمین رہائش پذیر تھے۔ چند پاکستانی ہمدرد پچھلے دوسال میں اسے وطن واپس بھجوانے کی کئی سنجیدہ کوششیں کر چکے تھے۔ چند ایک بار کئی لوگوں نے مل کر پیسے بھی جمع کیے تاکہ کچھ دے دلا کر پھر اسے ترحیل کے ذریعے سے وطن واپس بھیجا جا سکے۔ مگر حج سیزن کے بعد شہر کی مرکزی سڑکوں اور پلوں کے نیچے غیر قانونی مقیمین کا ایک جم غفیر موجود تھا جو ترحیل کے ذریعے ڈی پورٹ ہونے کی سہولت سے فائدہ اٹھا کر واپس جانا چاہتا تھا ایسے میں نور دین کی شنوائی کہاں ہوتی۔

گاڑی ریورس کرتے ہوئے میں نور دین کے قریب پہنچ چکا تھا لیکن ریت کے اتنے شدید غبار میں گاڑی سے باہر نکلنے کی ہمت نہیں ہو رہی تھی۔

سانحے ہوں یا واقعے خبریں ہوں یا تبصرے سب گرد کی تہوں میں تو کہیں ریت کے چھلاووں میں دب جاتے ہیں مگر کہانی سینہ با سینہ، نسل در نسل، ورق در ورق سفر جاری رکھتی ہے۔ نور دین کے لیے وہ دن بھی ایک ایسی ہی کہانی کا ورق تھا۔ ریت کے طوفان میں گرد و غبار سے بچنے کی خاطر اس نے اپنے سر کا رو مال ناک اور منہ پر لپیٹ لیا تھا جسے وہ گاہے گاہے سر سے اتارتا اور پھر نتھنوں میں گھستی ریت کے ڈر سے دوبارہ اوڑھ لیتا۔

ایسے سینکڑوں ہزاروں اوراق سے تحریر کردہ پتوکی کے نور دین کی زندگی بجائے خود ایک افسانہ تھی۔ اس کی زندگی میں اساطیری کہانیوں اور حکایتوں جیسے کئی موڑ تو آئے ہی تھے مگر کہانی کے باقی کردار کبھی اس کے پلے نہ پڑ سکے۔ اپنی زندگی کے حساب کتاب کا گوشوارہ دیکھتے وہ گھٹن اور تنہائی کے عالم میں اپنی یادوں کی کتاب سے ورق ورق پلٹتا اور ٹوٹی پھوٹی باتیں کرتا رہتا تھا۔

مجھے وہ اکثر پتوکی کے قریبی گاؤں میں مغرب کے بعد کا منظر بتاتا۔ اس کی چھوٹی سی نرسری، ہوا میں رچی موتیا چنبیلی کی مہک، گاؤں کے کمہار اور ان کے مشاق ہاتھوں میں گندھی مٹی لیور کے ساتھ پاؤں سے گھمانے والے چاک پر بہت خوب صورت گملوں میں ڈھلتی چلی جاتی۔ انہیں دیسی گملوں میں ایک دن قیمتی ان ڈور پودوں کی آرائش کرتے ہوئے ایک کانٹا بہت زور سے اس کے ہتھیلی میں چبھا تھا اس کا نشان آج تک موجود ہے۔ کئی بار وہ اس نشان کو دیکھ کر مسکراتا ہے گویا کانٹوں سے بھی رشتہ داری رہی ہو۔

گاؤں کی نیم پختہ مسجد میں عشاء کی نماز کے بعد گھر لوٹتا تو بیوی باورچی خانہ میں لکڑی کی چوکی پر چولہے کے قریب بیٹھی اس کی منتظر ہوتی۔

پھر اس کی یادوں کے مناظر بدلتے۔ بیٹے جوان ہوئے الگ سے کمانے لگے تو گھر میں تنگی کے بعد قدرے خوش حالی جھانکنے لگی۔ سچا عاشق رسول صل اللہ علیہ و سلم تھا۔ مدینے کی گلیوں میں گھومنے کی تمنا اور کعبہ کے دیدار کا اشتیاق عمر بھر کی حسرت تھی۔ کمیٹیاں ڈال کرپیسے جمع کیے اور کچھ الگ سے پس انداز کی ہوئی رقم سے اپنی بیوی بیٹے کے ہمراہ عمرے کے لیے ارض مقدس پہنچ گیا۔

یہ یں سے اس کی زندگی میں اساطیری کہانیوں جیسا انقلاب رونما ہوا۔

عمرہ کی ادائیگی کے بعد وہ اپنی بیوی بیٹے کے ہمراہ بلد کے بازار میں واقع اپنے کسی عزیز کی دکان پر اسے ملنے اور کچھ خریداری کرنے آیا۔ بازار میں شدید گرمی اور گھٹن کا احساس ہونے پر وہ ایک شاپنگ سنٹر میں موجود حمام میں غسل کی نیت سے گیا اور اپنے کپڑے اتار کے دروازے کے اوپر ہی لٹکا دیے۔ ابھی جسم بھی گیلا نہ ہوا تھا کہ کسی نے حمام کے باہر سے اس کے کپڑے اتارے اور چلتا بنا۔ وہ اندر آوازیں دیتا رہ گیا۔ اسی قمیض کی جیب میں رقم کے علاوہ پاسپورٹ شناختی کارڈ اور ہوائی ٹکٹ بھی موجود تھا۔

اس چور کا پتا چلنا تھا نہ چلا۔ واپسی میں فقط ایک دن تھا بڑی دوڑ دھوپ کے بعد بھی کچھ سجھائی نہ دیا تو کئی لوگوں نے مشورہ دیا کہ اپنی فیملی کو بھیج دے اور بعد میں کسی طرح سفارت خانے سے آؤٹ پاس لے کر وطن واپس چلا جائے۔

قونصلیٹ سے عارضی پاسپورٹ کے حصول کے لیے اسے اپنی شناخت ثابت کرنا تھا۔ پیچھے وطن میں موجود بیٹے کو تاکید کی کہ وطن جاتے ہی شناختی دستاویزات اور فارمس وغیرہ کی نقول ڈاک سے جدہ بھجوا دے۔

تب ڈاک بھی قدرے تاخیر سے پہنچا کرتی تھی۔ عارضی پاسپورٹ کے انتظار میں اس نے فارغ بیٹھنے کی بجائے اپنے واقف کار کی دکان پر چھوٹا موٹا کام کرنے کو ترجیح دی تاکہ اپنے میزبان پر بھی بوجھ نہ بنے۔ کوئی دو مہینے بعد اس نے ملنے والی اجرت ہنڈی سے پاکستان روانہ کر دی تاکہ اس رقم سے اس کا بیٹا کاغذات مکمل کروا کر اسے بھیج دے۔

شاید یہی اس کی زندگی کی فاش غلطی تھی۔ شناختی دستاویزات نہ پاکستان سے بھیجی گئیں نہ ہی جدہ پہنچیں۔ مگر ہر ماہ پس انداز کی

ہوئی رقم ہنڈی سے پاکستان بروقت پہنچتی رہی۔ پھر بیوی اور اولاد نے بھی اس کی طرف سے کان ڈھانپ لیے الٹا اسے کہتے کہ اچھا روزگار لگا ہوا ہے یہاں آ کر کیا کرنا ہے ؟ پاکستان میں کیا رکھا ہے سوائے مسائل کے ؟

دو سال بعد بڑی بیٹی بیوہ ہو کر مائیکے کی دہلیز پر آن بیٹھی اور نور دین کی ذمہ داریوں میں نیا اضافہ ہو گیا۔ ہر مہینے بیوہ بیٹی کی کفالت کے لیے اسے الگ سے پیسے بھیجنا پڑتے۔ بڑھاپے میں اعضاء جواب دینے لگے، وزن اٹھانا اور مزدوری کرنا دوبھر ہوا تو مانگنا شروع کر دیا۔ دو عشرے بیت گئے مگر وطن سے شناختی دستاویزات نہ آئیں –

کچھ عرصے سے وہ مسجد کے باہر بیٹھا رہتا تھا۔ بڑھاپا بجائے خود ایک بیماری ہے اوپر سے اپنوں کی خود غرضی اور بے اعتنائی نے اس کی صحت اتنی گرا دی کہ چند دنوں کا مہمان لگنے لگا۔

محلے داروں نے کئی بار اسے وطن بھجوانے کی کوشش کی۔ ہم وطن پاکستانیوں نے دے دلا کر ترحیل بھی بھیجا مگر قونصلیٹ سے آؤٹ پاس نہ مل سکا۔ کہا جاتا تھا اس کا پاکستان میں کوئی شناختی ریکارڈ موجود نہیں اس لیے مشکوک شہریت کی بنا پر اسے آؤٹ پاس نہیں مل سکتا۔ جب ایک بار ترحیل گیا  تو وہاں کے محکمہ والوں نے اس پر ترس کھا کر پھر چھوڑ دیا کہ کسی طرح اپنے وطن سے کاغذات منگوا لو تاکہ تمہارا سفارہ تمہیں آؤٹ پاس بنا دے

ریت کے غبار میں اس دن نور دین کو یوں بے یار و مدد گار پڑا دیکھ کر میرا دل بہت دکھا۔

مجھے یاد آیا جب میرا باپ فوت ہوا میں دبئی میں نوکری کرتا تھا اور بڑا بھائی انگلینڈ جا بسا تھا۔ محلے والوں نے دروازہ توڑ کر میت باہر نکالی تھی۔ نور دین کو دیکھ کر مجھے اپنا باپ بہت یاد آتا ہے اسے یوں پردیس میں اکیلے نہیں مرنا چاہیے۔

نور دین نے مجھے دیکھ کر کھانسی بمشکل روکتے ہوئے کہا پتر اپنا پاکستان کا فون نمبر تجھے دیا تھا بتا کیا کہتے ہیں میرے گھر والے ! کاغذ کب بھیجیں گے ؟ اب اخیر ویلا آ گیا ہے بڑی خواہش ہے اپنے گاؤں میں جا کر دم دوں۔ یہاں مر کھپ گیا تو جانے کوئی میرا جنازہ بھی کرے گا یا نہیں ؟

میں نے اسے حوصلہ دیتے ہوئے کہا

بابا تم فکر نہ کرو ہم کسی طرح تمہارا آؤٹ پاس بنوا دیں گے۔ اب تو سارا کچھ کمپیوٹر پر آ گیا ہوا ہے کہیں نہ کہیں تیرا نام بھی نادرا والوں کو مل جائے گا –

اچھا رب سوہنا بھلا کرے تیرا پتر۔ اپنی اولاد کو تو پروا نہیں جیوں یا مروں ان کی بلا اسے انہیں تو بس پیسے چاہیں خواہ سارا مہینہ بھیک مانگ کے جمع کروں۔ پر اب نہیں بھیجوں گا۔

یہ دیکھ دو ہزار ریال جمع ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کیا اتنے میں جہاز کا ٹکٹ آ جائے گا؟

بابا تم پیسوں کی فکر نہ کرو ٹکٹ بھی آ جائے گا بس حوصلہ نہ ہارو تمہیں ضرور واپس بھیجیں گے۔

میں ذرا تمہارے ڈیرے والوں کو فون کروں۔ انہوں نے تمہیں اکیلے باہر کیوں نکلنے دیا؟ یہ کیا مسجد کے باہر پڑے ہوئے ہو ؟ پھر دمے کا دورہ پڑ گیا تو پریشانی ہو گی۔ نور دین سنی ان سنی کرتے ہوئے کہنے لگا!

پتر کیا پاکستان فون کیا تجھے نمبر دیا تھا تو نے وعدہ کیا تھا تو فون کرے گا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ میرے کاغذ منگوائے گا۔ نور دین کو سہارا دے کر اٹھاتے ہوئے میں نے اسے اپنی گاڑی میں بیٹھے کا کہا تاکہ اسے اسکے سابقہ ڈیرے پر چھوڑ آؤں۔ مگر وہ بضد تھا ڈیرے پر نہیں بلکہ اس کے سامنے پاکستان اس کے گھر فون کروں۔

کھانس کھانس کر اس کی آنکھیں سرخ ہو چکی تھیں اور پسلیاں دھونکنی کی مانند چل رہی تھیں۔

میں نے کہا بابا تم یہاں سے چلو اللہ واپسی کی کوئی سبیل نکال دے گا۔ جو نمبر تو نے دیا تھا وہاں کئی بار فون کیا مگر۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

مگر کیا پتر۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ؟ بتا نا ابھی دو چار مہینے پہلے ہی پیسے بھیجے تھے گھر بات کی تھی۔

بابا وہاں سے کوئی جواب نہیں ملتا شاید نمبر بدل گیا ہے۔ کہتے ہیں کسی نور دین کو نہیں جانتے پر تو فکر نہ کر تیرا آؤٹ پاس ہم بنوا دیں گے۔ نور دین کی گردن ڈھلکنے لگی۔ بائیس سال سے کاغذات کا منتظر نور دین آؤٹ پاس لیے بغیر ہی اگلے سفر پر روانہ ہو گیا تھا۔

٭٭٭

 

 

 

 

 

پیرینٹس ڈے

 

 

وہ پیرینٹس ڈے کی صبح تھی اور سکول میں اتنی چہل پہل شروع نہیں ہوئی تھی۔ میں ٹیچر شازیہ سے کسی کام کی غرض سے ملنے کلاس فور کے ایک سیکشن میں داخل ہوئی۔ وہاں ایک معصوم مگر قدرے پریشان چہرے والی لڑکی اپنی ماں کے عقب میں ڈری سہمی کھڑی تھی۔ پہلی ہی نظر میں مجھے اس کے تاثرات ایسے لگے کہ ابھی زمین پھٹے اور وہ اس میں دفن ہو جائے۔ جھکا سر اور زمین پر گڑی نظریں وقفے وقفے سے اٹھا کر ادھر اُدھر دیکھتی کوئی جائے پناہ ڈھونڈتی محسوس ہوتیں۔ ٹیچر شازیہ اپنی کرسی پر بیٹھی اس کی طرف مڑ کر اسے کچھ سمجھا رہی تھیں۔

دیکھو ماں کے قدموں تلے جنت ہے۔ اس کی نافرمانی بڑی بد نصیبی ہے۔ اگر تم اپنی والدہ کا کہا نہیں مانو گی، انہیں دکھ دو گی تو تم زندگی میں کبھی خوش نہیں رہ پاؤ گی۔ اچھی لڑکیاں اپنے والدین اور استاد کا ہر کہنا مانتی ہیں۔

کمرے کی فضا میں عجیب سا تناؤ محسوس ہو رہا تھا۔ اس وقت تک اکثر بچوں کے والدین سکول نہیں آئے تھے۔ اس سیکشن میں صرف وہ بچی اور اس کی والدہ ہی ٹیچر کے پاس موجود تھیں۔ اس کی ماں کی آواز قدرے بلند ہو رہی تھی۔

مجھے اس سے کون سے کام کرانا ہوتے ہیں، یہی کبھی اپنے چھوٹے بھائیوں کو بہلا لیا۔ کبھی چائے بنا دی کبھی کبھار گھر میں ویکیوم کلینر سے صفائی کر دی۔ پھر بھی رزلٹ اچھا نہ آئے تو قصور اسی کا ہے۔ اوپر سے نافرمان اور میرا کہا بھی نہیں مانتی۔ سمجھا سمجھا کر تھک گئی ہوں اسے مگر آج کل کے بچے ماں باپ کی سنتے ہی کب ہیں۔ کئی بار تو میری آواز پر جواب تک نہیں دیتی۔

اس بچی کے سہمے ہوئے چہرے پر ایک رنگ آتا اور ایک جاتا رہا۔

آٹھ نو سال عمر کی اس نے بچی نے شلوار قمیض کے ساتھ چھوٹا سا دوپٹہ گلے میں ڈال رکھا تھا اور لمبے بالوں کی فرنچ نوڈ بنائی ہوئی تھی اس کی نظریں مسلسل فرش پر گڑی ہوئی تھیں۔ ٹیچر شازیہ کا والدین اور اساتذہ کی فرمانبرداری پر مشتمل لیکچر جاری تھا۔ اس کی ماں اور ٹیچر دونوں میں سے کوئی بھی اس کے چہرے کی طرف نہیں دیکھ رہا تھا۔ مجھے وہاں موجود پا کر شازیہ چند ثانیوں کے لیے خاموش ہوئی اور استفہامیہ نظروں سے مجھے دیکھنے لگی۔ اسے جواب دینے کی بجائے میں نے دوبارہ اس لڑکی کی طرف دیکھا جو دو سال قبل میری شاگرد رہ چکی تھی۔

وہ بہت حساس اور کم گو لڑکی تھی جو کبھی کلاس میں شرارت نہ کرتی تھی۔ کسی بھی بچے کو پڑنے والی ذرا سی ڈانٹ سے گھبرا جاتی اور پھر اسے سب اسباق بھول جاتے تھے۔ میں نے وہ سارا سال بڑی توجہ اور محنت سے اس میں اعتماد پیدا کیا تھا اور حوصلہ افزائی کر کے اسے ایک قابل سٹوڈنٹ کے طور پر نکھارا تھا۔ پھر سے اس حساس بچی کو یوں ناکام دیکھ کر مجھے بہت افسوس ہوا۔

بھلا اتنی پیاری، اتنی اچھی اور ذہین بیٹی بھی کسی کو پریشان کر سکتی ہے ؟

یہ کہتے ہوئے میں نے آگے بڑھ کر اس بچی کو گلے سے لگا لیا کمرے میں موجود اس کی ماں اور ٹیچر دونوں ہکا بکا میری شکل دیکھنے لگیں اور ایک معصوم سا آنسو ان دونوں کی نظر سے اوجھل ہی رہ گیا۔

٭٭٭

 

 

 

 

گگڑی

 

 

فہمیدہ کو اپنے ہی محلے کے متمول گھرانے میں کام کرتے ابھی صرف دو دن ہی ہوئے تھے، کہ کام سے جواب مل گیا۔ گھر کی مالکن بیچاری کیا کرتی، آخر وہ گھر کا کام صفائی ستھرائی کے لیے کرا تی تھی نہ کہ گھر کو مزید بد بو دار بنانے کے لیے۔ اور فہمیدہ، اس کو بہت سوں نے سمجھایا کہ صاف ستھری رہا کرو مگر اس کے کان پرتو جوں بھی رینگنے والی نہ تھی۔ وہ اتنی میلی کچیلی اور بد بودار تھی کہ جہاں سے گزرتی پہلے بدبو کا بھبھوکا نمو دار ہوتا۔ لوگ اپنی ناک بند کر لیتے۔ گلی میں سے گزرتی تو گھر کے اندر بیٹھی عورتیں بھی اس کی موجودگی سے با خبر ہو جاتیں۔ اس کے بال سنہرے رنگ کے گھنگھریلے سے تھے جو برسوں سے کنگھی سے محروم تھے کندھوں تک جھولتے رہتے۔ ان کے اندر مٹی تنکے دھاگے اور نجانے کیا کچھا ٹا پڑا تھا۔ قد اونچا لمبا رنگ کبھی گورا ہو گا مگر اب ہلکے بھورے دھبوں نے چہرہ ڈھانپ رکھا تھا۔ آنکھوں میں عجیب سی ویرانی تھی، ناخن گھس چکے تھے مگر میل کی لکیریں بہت نمایاں نظر آتیں۔ کپڑے بدلنے یا دھونے کی فرصت کسے نصیب تھی۔ جب گھس گھس کر پھٹنے کے قریب ہوتے تو کوئی دوسرا جوڑا زیب تن کرتی، پھر وہ مہینہ بھر اور کبھی اس سے بھی زیادہ دن چلتا۔ اس نے کبھی سر پر دوپٹہ نہیں اوڑھا تھا مگر گلے اور چھاتی کو لپیٹے رکھتی تھی۔ پاؤں میں قینچی چپل پہنے پاؤں گھسیٹ گھسیٹ کر چلتی تو عجیب بے ہنگم آوازیں نکلتیں۔ یہی حال کچھ اس کے گھر کا بھی تھا۔ وہ ایک نچلے درمیانے طبقے کے محلے میں رہتی تھی۔ پانچ مرلے کا گھر تھا جس کا پلستر جگہ جگہ سے اکھڑ چکا تھا۔ صرف دو کمرے اپنے پاس رکھ کر باقی گھر معمولی کرائے پر اٹھا رکھا تھا۔ گھر میں گندگی کا بسیرا تو ہونا ہی تھا۔ کوئی دروازہ آدھا ٹوٹا ہوا تھا تو کسی بھی کھڑکی کو جالی یا پردہ نصیب نہیں تھا۔ فرش جانے جانے کب سے اکھڑا تھا یا تھا ہی نہیں، صرف سرخ اینٹیں نمایاں تھیں۔ کوئی اس کے پاس بیٹھنا تو درکنار کھڑا ہونا بھی پسند نہیں کرتا تھا۔

اسے کبھی کسی نے مسکراتے یا روتے ہوئے نہیں دیکھا تھا، چہرہ سپاٹ مگر ایک کرب سا بہت نمایاں تھا۔ کبھی کبھی ایسے محسوس ہوتا جیسے شدید سر درد میں مبتلا ہو۔ بولتی بھی بہت کم تھی اور مزاج بہت روکھا، نہ بحث نہ تکرار، بس جو کام ملتا، کرتی اور اپنی راہ لیتی۔ اب بھلا اتنی میلی کو کام کون دیتا۔ دو چار دن بعد جواب مل جاتا اور ان دو چار دنوں کی اجرت کون دیتا ہے ؟

اللہ جو ساری مخلوق کا روزی رساں ہے اس نے اس گگڑی کی روزی کا وسیلہ بھی نکال ہی دیا۔ اسے بھینسوں کے باڑے میں ملازمت مل گئی۔ کوئی دوسری عورت یہ کام نہ کرتی مگر اس کے ساتھ پانچ وجود اور بھی تھے، ان کے پیٹ کا دوزخ بھرنا کوئی آسان کام نہ تھا۔ اور جب پیٹ کا دوزخ جل رہا ہو تو جنت کمانے کی فکر کسے ہوتی ہے۔ اسے کسی نے کبھی نماز پڑھتے نہیں دیکھا تھا اور جہاں روز فاقے ہوں، روزے کا کیا پتا چلتا، رکھا یا چھوڑ دیا۔ ایسے حلیے میں بھلا نماز ادا ہوتی ہے ؟ جمعہ تو درکنار اسے شاید عید کے دن بھی ستھرے کپڑے نصیب نہ تھے۔ عید بھی بھینسوں کا گوبر اٹھاتے گزرتی۔ باڑے کا مالک بھی اسے یونہی تنخواہ نہیں دیتا تھا۔ کوئی مرد بھی اتنے پیسوں میں اتنا سخت کام کرنے کو تیار نہیں ہوتا اور اوپر سے گگڑی عید شبرات کو بھی چھٹی نہیں مانگتی تھی۔

بھینسوں کے باڑے میں کام کوئی آسان نہ تھا مگر بھینسیں اتنی وحشی نہیں ہوتیں۔ اسے ان سے کوئی ڈر خوف محسوس نہیں ہوتا تھا۔ مالک پیسے کی پائی پائی کا حساب رکھتا مگر گگڑی کو تنگ نہیں کرتا تھا۔ دوسرا فائدہ ادھر کام کرنے کا یہ تھا کہ جب مشین لگا کر مکھن نکالا جاتا تو باقی بچی چھاچھ میں سے کچھ گگڑی کو دے دی جاتی۔ چار بیٹے اور ایک بیٹی سارا دن گھر میں اکیلے پڑے رہتے وہ دن میں کئی بار گھر کا چکر لگاتی۔ اس کے بچوں نے کبھی کسی سے نوالہ بھی نہیں مانگا تھا، پتا نہیں وہ کب پکاتی اور کب انھیں کھلا کر منہ اندھیرے کام کو نکل کھڑی ہوتی۔

ملکانی جی جن کا بیٹا کئی دنوں سے بخار میں جل رہا تھا، کبھی پیروں کبھی مولویوں اور کبھی ڈاکٹروں کے چکر کاٹ کاٹ کر عاجز آ گئی تھی۔ اس کی سمجھ میں نہ آیا کہ کیا کرے، آستانے پر نذرانہ چڑھایا، مولوی صاحب سے دم کرایا، دوا دارو سب کر کے دیکھ لیا، کچھ افاقہ نہ ہوا۔ ملکانی بے چین ہو گئی اکلوتے بیٹے نے کئی دنوں سے گلوکوز کے علاوہ کچھ نہ کھایا نا پیا۔ سوچ میں پڑ گئی یا الٰہی کیا کروں ؟ کسی نے کہا خون کا صدقہ دے۔ اس نے کالے رنگ کا دیسی پلا ہوا مرغا منگوایا اور فہمیدہ کو بلا بھیجا۔ پوچھا، فہمیدہ صدقہ لو گی؟ فہمیدہ ایک لمحے کے لیے ساکت ہو گئی۔ اس کی آنکھوں کی وحشت آخری حدوں کو چھونے لگی۔ پھر نظر جھکا کر بولی میں صدقہ نہیں لیتی۔ ملکانی نے کہا کوئی بات نہیں اب لے لو تمہارے بچوں نے شاید پچھلی بقر عید کا گوشت کھایا ہو گا۔ پھر جب اس کی نظر فہمیدہ کی نظر سے ملی تو وہ سہم گئی اور کہنے لگی، اچھا جاؤ کسی اور گھر میں دے آؤ۔ فہمیدہ نے مرغا بغل میں دابا اور مولوی صاحب کے گھر کو چل دی۔

لوگ اسے طرح طرح کی باتیں کرنے لگ گئے۔ کوئی کہتا اکڑ بڑی ہے اس کے اندر، کوئی کہتا بے نمازی ہے کوئی کہتا گگڑی میلی، کوئی کہتا اسے دین دنیا کا کچھ نہیں پتا۔ گگڑی کوئی پڑھی لکھی عورت تو تھی نہیں اسے بس اتنا پتا تھا کہ پیٹ کا دوزخ بھرنا ہے۔ کبھی کبھی اسے لگتا کہ جہنم کی آگ پیٹ کی آگ سے لگی ہے۔ اگر کوئی حلال طریقے سے اس دوزخ کی آگ کو بھجا سکے تو اس دوزخ کی آگ بھی ٹھنڈی ہو جائے گی۔ مگر صرف ایک روٹی، ایک نوالے اور ایک وقت کے کھانے سے بھجنے والی آگ بھجانے کی فکر کوئی نہیں کرتا، جہاں لوگ اپنے نفس کی بھوک کے بھانبھڑ لگائے بیٹھے ہوں انھیں اس سے کیا غرض کہ پیٹ کا دوزخ کیا ہوتا ہے۔

اس کے محلے کی نکڑ پر بڑے بڑے منجوں اور موڑھوں پر بیٹھے شرفا، سیاسی کارندے، انتخابی دفتر والے آنے جانے والی ہر عورت کو گھورنا اپنا حق سمجھتے تھے، بھلا گگڑی کیسے ان کی نظر بازی سے کیسے محفوظ رہتی۔ مگر گگڑی کو کچھ کہتے ہوے سب ڈرتے تھے۔ اس کی کم گوئی اور آنکھوں کی وحشت دیکھ کر سب سہم جاتے۔ ایک دن نئے کونسلر کو جانے کیا سوجھی کہ گگڑی کو چھیڑ بیٹھا۔ اری او فہمیدہ گگڑی، جگہ جگہ کام کرتی پھرتی ہے۔ لوگوں کے گھر صاف کرتی ہے اپنے گھر کی اور اپنی صفائی بھی کر لیا کر۔ یہ سننا تھا کے منجوں پر بیٹھے سب آدمی قہقہہ لگا کر ہنس دیے۔ ایک شخص بولا کچھ مت کہہ گالیاں سنائے گی۔ دوسرا بولا سنانے دے وہی تو سننی ہیں۔ گگڑی کا چہرہ پہلے سرخ ہوا پھر پیلا زرد، گلا رندھ گیا، مگر آنکھ سے کوئی آنسو نہ ٹپکا۔ بڑے جلال سے بولی ارے جب میاں جی زندہ تھے تو بھرجائی بھرجائی کرتے تیری زبان نہ تھکتی تھی۔ خیرات لینے، قرض لینے میرے دروازے پر کھڑا ہوتا تھا۔ او نامراد اب ہر آتی جاتی کو تکتا ہے۔ مشرک کہیں کا، پھر کسی کو سمجھ میں نہیں آیا کہ رندھے گلے کے ساتھ کیا کیا بولے گئی۔ شور سن کر گگڑی کے چاروں بیٹے آن موجود ہوئے جو سوکھی روٹی اور چھاچھ پر پل کر یوں کڑیل جوان بنتے جا رہے تھے۔ کونسلر نے گھبرا کر گھر کی راہ لی۔ شام تک سارے محلے میں یہ خبر جنگل کی آگ کی مانند پھیل گئی کے کونسلر کے بیٹے کا ایکسیڈنٹ ہو گیا ہے۔

وہ دن گگڑی کے کام کا آخری دن تھا، بیٹے بڑے ہو گئے تھے۔ انھوں نے گھر سنبھال لیا تھا۔ پھر ایک دن گگڑی نے اپنے بڑے بیٹے کی شادی کر دی۔ گھر میں بہو آئی تو اس کو فراغت نصیب ہوئی۔ اب وہ گگڑی نہیں رہی تھی۔ اس نے کہیں آنا جانا بالکل کم کر دیا تھا اور سادگی کے باوجود اس کا حلیہ بھی بہتر ہو گیا تھا۔ ایسے لگتا تھا جیسے اس کا امتحان ختم ہوا۔ مگر نہیں ایسا بھی نہیں تھا۔ وہ اپنی بہو کو ایک آنکھ نہ بھاتی تھی، بہو بڑی سلیقہ شعار اور گھر داری کی ماہر تھی۔ اور اسے اس بات کا بڑا ناز تھا۔ گگڑی نے گھر کے کسی معاملے میں دخل اندازی چھوڑ دی تھی۔ ایک دن بہو کہنے لگی یہ گھر میری سلیقہ شعاری سے سجا ہے میری ساس تو گگڑی ہے اس کو تو کچھ پتا نہیں کہ دنیا کیا ہوتی ہے اور کدھر جا رہی ہے۔ ساری عمر خود بھی میلی رہی گھر بھی میلا رکھا۔ گگڑی سے یہ تہمت برداشت نہ ہوئی۔ صدمے سے فالج کا حملہ ہوا اور گگڑی بیچاری چارپائی سے جا لگی، بیٹوں نے بڑی خدمت کی، بڑا علاج کروایا۔ مگر اس کا دل دنیا سے اچاٹ ہو چکا تھا۔ وہ جن انگاروں پر چلی، گگڑی کا سوانگ بھرا، کوئی سمجھ ہی نہ پایا کہ ایک اونچی ذات کی عورت بیوہ ہو کر بھیڑیوں سے بھری اس دنیا میں گگڑی کیوں بن جاتی ہے ؟

بیماری کی حالت میں ایک دن بہو سے کہنے لگی، اللہ سدا سہاگن رکھے تجھے۔ جوانی کی بیوگی کاٹنی بڑی مشکل ہے۔ بہو کی آنکھوں میں ندامت کے آنسو آ گئے۔ اسے جب تک سمجھ آئی بہت دیر ہو چکی تھی۔ واپسی کے سفر میں سفید لباس پہنے گگڑی بہت اجلی لگ رہی تھی۔ چاروں بیٹوں نے کلمہ شہادت پڑھتے ہوئے ماں کی چارپائی اٹھا لی۔ اور اسے اس کی آخری منزل کی جانب لے کر روانہ ہو گئے۔

٭٭٭

 

 

 

کافی مگ

 

رات گئے کچن صاف کرنے کے بعد وہ باہر کچرا پھینکنے گئی تو انواع و اقسام کے کھانے ‘ ادھ کھائے روسٹ اور بچے ہوئے کیک وہاں دیکھ کر اس کا دل کانپ اٹھا۔ پتا نہیں آج بھی پیچھے وطن میں موجود اس کے بچوں نے کچھ کھایا ہو گا یا نہیں ؟ پھر ایک لمبی سانس بھر کر واپس لوٹی تو مادام اپنے بیڈ روم میں جا چکی تھی۔ تبھی مادام کے چھوٹے بیٹے نے کچن میں انٹر کام پر کافی کا کہا۔ وہ سہمی ہوئی چڑیا کی مانند لرزتے ہاتھوں کافی کا مگ لیے اس کے کمرے کی جانب بڑھی۔ دروازہ کھولا تو وہ نیم دراز لیپ ٹاپ پر ویب کیم آن کیے کسی دوست کے ساتھ مشغول تھا۔

اگلے ہی دن مادام نے گھر پر پارٹی رکھی تھی۔ وہ دوپہر سے ہی رات کو آنے والے معزز مہمانوں کے لیے کھانے کی تیاری میں جٹی ہوئی تھی کہ مادام کا بڑا بیٹا فٹ بال کے ساتھ مختلف ٹرکس کرتا کچن میں داخل ہوا اور اسے کچھ سنیکس لے کر آنے کا کہا۔ کچھ دنوں میں ہی اسے دونوں بھائیوں کی پسند کا بخوبی اندازہ ہو چکا تھا۔

روز صبح صادق تک اس کی کمر تھک کر تختہ ہو چکی ہوتی۔ مادام اکثر اسے گھر سے لاتعلق نظر آتی۔ جس کا بیشتر وقت بیوٹی پارلرز اور شاپینگ مالز میں گزرتا، اور وہ گھر کے سب کاموں کے علاوہ شٹل کاک بنی کبھی مادام کے بڑے اور کبھی چھوٹے لڑکے کی بھوک مٹاتی رہتی۔

کئی بار سوچتی کہ مادام سے اس موضوع پر کھل کر بات کرے گی مگر دو معصوم بچے جن کی خاطر یہ مشقت کاٹ رہی تھی، اس کے تصور میں آتے اور وہ پھر خاموش ہو جاتی۔ کئی بار اس کا دل چاہتا کہ کوئی روزن نظر آئے اور وہ وہاں سے نکل جائے۔

انہی دنوں مادام پانچ دنوں کے ٹور پر بالی گئی۔ واپس لوٹی تو خادمہ غائب۔ مادام نے اپنے بیٹے کو ساتھ لیا اور پولیس میں رپورٹ درج کرائی۔ اسے یقین تھا کہ مفرور خادمہ ایک دو دنوں میں پکڑی جائے گی۔ پاسپورٹ کے بغیر آخر جا کہاں سکتی ہے ؟

دو دن بعد کچن میں مادام اسے بالوں سے پکڑ کر گھسیٹ رہی تھی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تو نے کیا سوچا تھا یہاں سے بھاگ جائے گی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ؟

اس نے بھی تہیہ کر لیا تھا کہ آج جو بھی ہو جائے مادام کو سب کہہ دے گی۔

مادام مادام !! میری بات تو سنیئے۔ وہ منمنائی۔

چپ رہ حرام خور۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کے بال نوچتے ہوئے مادام سے شیلف پر پڑا قیمتی کافی سیٹ گر کر ٹوٹ گیا تو وہ مزید آپے سے باہر ہو گئی۔ لاتیں گھونسے اور مکے برساتے ہوئے کہنے لگی!

تجھ کو یہاں لانے پر، تیرے ویزے پر اس لیے اتنا پیسہ خرچ کیا تھا کہ میرے لڑکے باہر مونہہ نہ ماریں۔ ۔ ۔ ۔ کتیا۔

٭٭٭

 

 

 

 

آنکھوں کے راز اور خول

 

دو سیاہ آنکھوں نے مجھ پر ایک کہانی لکھنے کا دباؤ ڈالا ہے۔ میں ٹیب ہاتھ میں لیے لکھنے بیٹھی ہوں اور ان کالی سیاہ آنکھوں کی تحریر کے پیچھے خیالات کا ایک سیل رواں ہے کہ بند توڑ کر بہتا چلا آ رہا ہے۔ کئی بار کہانی خود کو لکھواتی ہے جیسے بارش خود بخود برسنے لگ جاتی ہے مگر کئی بار کہانی لکھنے سے قبل یہ سوچنا پڑتا ہے کہ کیا لکھیں ؟ ہمارے ارد گرد ہر انسان ایک ماسٹر پیس کہانی ہے اور ہر چہرہ ایک شاہکار پینٹینگ۔ ہاں مگر چہرے صرف مصوری کے نمونے ہی نہیں بلکہ سبھی چہرے ایک راز ہیں اور آنکھیں وہ روزن جن سے کئی بار اندر کی جھلک نظر آ جاتی ہے۔ ہر انسان اپنے اوپر کئی خول چڑھائے پھرتا یے۔ کیا ضروری ہے کہ ان خولوں کو منافقت یا الگ الگ چہروں کے خول سمجھا جائے۔ بس کچھ ایسا ہر ذی روح کے اندر موجود ہے جو وہ پبلک نہیں کرنا چاہتا بلکہ شاید کسی کو بھی وہ سب دکھانا نہیں چاہتا۔

مصنف بھی ایسے ہی ہوتے ہیں۔ ادھر ادھر کی باتیں لکھیں گے، نظریات کے خول میں چھپیں گے۔ علامتوں استعاروں میں ملفوف ہونے کی کوشش کریں گے۔ مگر کئی بار شعوری یا لاشعوری طور پر اپنے اندرون کی ایک ہلکی سی درز کھول کر محض چند کرنوں کو باہر کی راہ دکھا دیتے ہیں۔

پھر بہت واہ واہ ہوتی ہے۔ ہاں یہ آپ سب کے ساتھ ہوا ہو گا کہ آپ کی توقع کے برعکس کسی سادہ سی اور عام سی تحریر کو بڑی پذیرائی مل جائے۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آیا ہم اپنے خول کے اندر جو سنبھالے بیٹھے ہیں کیا دیگر سب لوگوں کے اندر بھی کچھ ویسا ہی ہے ؟ لوگ اس تحریر کو پسند کرتے ہیں وہ وہ خود لکھنا چاہتے تھے مگر بوجوہ لکھ نہیں پاتے۔ جب کوئی اور وہی سب لکھ دیتا ہے تو کیسی طمانیت ملتی ہے۔ شاید وہ طمانیت اپنے اندر کا خول برقرار رہ جانے کی بھی ہوتی ہے۔

سننے اور پڑھنے والا کس طرح دل سے نکلی آواز اور تحریر کو پہچان جاتا ہے ؟ پھر وہی سوال کیا کہ اتنے تنوع میں جہاں انگلیوں کی پوریں تک نہیں ملتی آنکھوں کے نمونے نہیں ملتے پھر بھی ہم سب کے اندر اگر کچھ مشترک سا ہے تو وہ کیا ہے ؟

وہ بہت دلیر اور بڑے ادیب ہوتے ہیں یا بہت عام سے لوگ بھی جو اس اپنے اس فطری خول میں سے ایک کھڑکی کھول سکتے ہیں۔ اور اس کھڑکی سے نکل کر ہزاروں لوگوں کے دلوں میں نہاں خانوں تک پہنچ جاتے ہیں۔ ان عام سے لوگوں کی خاص سی آنکھیں وہ روزن ہیں جو من کے اندر چھپے راز آشکار کرتی ہیں اور محسوسات کی ترسیل بھی۔

میں ایک فاسٹ فوڈ ریسٹوران میں کھانے کا آرڈر دینے کے لیے اپنی باری کا انتظار کر رہی تھی کہ اپنے قریب کھڑی ایک لڑکی جس کی عمر پندرہ سولہ سال ہو گی کے چہرے نے مجھے کسی مقناطیس کی مانند اپنی طرف متوجہ کر لیا۔

اتنا سیاہ چہرہ میں نے کبھی نہیں دیکھا۔ میں نے تقریباً ہر افریقی نسل کے لوگ دیکھے ہیں۔ میانہ قد چپٹی ناک والوں سے لے کر طویل قامت اور حی الجثہ سیاہ فام جن کی رنگت کے شیڈ براؤن کافی، کاکاؤ سے لے کر سیاہی مائل تک ہوتے ہیں۔ مگر اتنی چمکیلی سیاہ رنگت کبھی نہیں دیکھی تھی۔ شاید اس کی جلد میں میلانن کے سب سے زیادہ پگمنٹ ہوں گے۔ مجھے کالے چہروں سے بے زاری نہیں ہوتی مگر مجھے یہ تسلیم کر لینے دیجیے کہ ایسا ہمیشہ سے نہ تھا۔ امی جی نے مجھے ایک بار کہا تھا کہ کسی بھی چہرے پر حقارت کی نگاہ نہیں کرتے، کسی کے چہرے کا تصور کر کے کبھی تھوکتے نہیں۔ یہ ان دنوں کی بات ہے جب بچوں کو ابتدائی آداب سکھائے جاتے ہیں۔ میں نے پوچھا امی جی کیوں بھلا؟

امی نے جواب دیا کہ اس لیے کہ ہر انسان کے چہرے پر رب کا ہاتھ پھرا ہوتا ہے۔

آخر دنیا میں اتنے زیادہ انسان ہیں ہر انسان کے چہرے پر اللہ تعالی اپنا ہاتھ کس طرح پھیر سکتا ہے ؟

“ھوالذی یصورکم فی الارحام کیف یشاء”

جواباً امی یہ کہتیں۔ ہاں مجھے کبھی بھی انہوں نے اس آیت کی اردو نہیں بتائی تھی نہ میں نے پوچھی یہاں تک کہ خود ترجمہ پڑھا اور اس آیت کا مفہوم نظر سے گزرا۔

اس کے باوجود مجھے چہروں میں چھپے اسرار کی پوری سمجھ کبھی نہیں آئی۔ ایک بار کسی چھوٹی سی افریقی بچی نے مجھ سے پوچھا تھا “کیا مجھ سے ہاتھ ملاؤ گی؟ ” ہاں کیوں نہیں ” میں نے اس کا ننھا سا ہاتھ تھام لیا تھا۔ اور شاید تب اس کے ہاتھ میں کالے چہروں کی محرومی کے ہزاروں بھید بھی تھے جو وہ چُپکے سے میری ہتھیلی کے ساتھ چِپکے چھوڑ گئی تھی۔

ریسٹورانٹ میں ملی اس پندرہ سولہ سال کی لڑکی جس کی جلد چمکدار میلانن پر مشتمل تھی موٹے بھرے بھرے ہونٹ اداس آنکھیں جھکی پلکیں، اس عمر میں ہر لڑکی بہت حسین ہوتی ہے پس وہ بھی تھی مگر اس کی گہری اداس آنکھوں میں کوئی پیغام تھا۔ کوئی کوڈ ورڈ جسے ڈی کوڈ کرنے کی ضرورت تھی۔ مجھے وہ نک سک سی سجی ایک عورت کی خادمہ لگ رہی تھی جس کی بھنوؤں کو اکھاڑ کر نئی شیپ سے ہمکنار کرنے کی کوشش تیز رنگ کی آئی برو پینسل سے کی گئی تھی۔ گہرے آئی میک اپ کے باوجود وہ مادام کوئی بڑا تاثر نہیں چھوڑ رہی تھی۔ مگر اس کم سن لڑکی کی سیاہ آنکھیں کوئی ایسا مقناطیس تھیں جو اپنی طرف کھینچتا تو تھا لیکن ان میں کوئی نظر بھر کر دیکھ بھی نہیں سکتا تھا۔

کچھ آنکھیں اور کچھ کہانیاں دنیا کی نظروں سے ہمیشہ اوجھل ہی رہ جاتی ہیں۔ افغان مہاجر کیمپ میں شربت گل کی آنکھوں کے شرارے اگر کیمرے کی آنکھ نے محفوظ نہ کر لیے ہوتے تو عسرت خودی اور درد میں چھپے راز کیا دنیا تک پہنچچ پاتے جو آج بھی راز ہی ہیں۔

درد اور دھتکارے جانے کا کرب کیسے کیسے شاہ پارے ترتیب دے جاتا ہے۔ اگر شربت گل مہاجر کیمپ میں سرخ رنگ کی پھٹی چادر کی بجائے کسی حکمران کے محل میں مراعات پا رہی ہوتی تو کیا اس کی آنکھوں میں وہ شرارے ہوتے ؟

شربت گل کی طرح اس کالی سیاہ لڑکی کا چہرہ بھی ایک راز تھا۔ مجھے ایک لمحے کے لیے اس کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے چاہے جانے کی ایک نظر محبت کی فریاد نظر آئی تھی کہ مجھے دیکھو! میرے چہرے پر بھی تو رب کا ہاتھ پھرا ہوا ہے۔

کسی احساس تلے اس نے نظریں اٹھا کر میری طرف دیکھا، آنکھیں چار ہوئیں تو میں نرمی اور محبت سے مسکرا دی۔ وہ حیران ہوئی پھر نظریں چرا گئی اس کی جلد کے کالے کاغذ پر تشکر کی ایک اجلی تحریر ابھری مگر جب دوبارہ اس نے نظریں قصداً میری طرف کیں شاید وہ جواباً مسکرانا چاہتی تھی تو اس بار اُن آنکھوں میں ایک پریشانی سی تھی کہ کہیں اس کے اندر کا خول میرے سامنے ٹوٹ نہ گیا ہو۔

اس کے خول کا بھرم رکھتے ہوئے میں نے نظریں ہٹائیں اور آگے بڑھ کر کھانے کا آرڈر دینے لگی۔

٭٭٭

 

 

 

 

پتلیاں

 

 

میں جاگتے جاگتے کچھ پل سوتا ہوں اور نہ چاہتے ہوئے بھی سوتے میں کچھ پل جاگتا رہتا ہوں۔ جیسے ٹنڈرا ریجن کے آس پاس برفیلے پانیوں میں کئی فٹ برف کے نیچے پانی بہتا رہتا ہے۔ اگرچہ معاشی دوڑ دھوپ اور سخت محنت نے میرے ذہن کو منجمد دریا بنا دیا ہے اور اس منجمد دریا پر بھاگتے بھاگتے میرے پاؤں شل ہو چکے ہیں، ۔ تیز تر ترقی اور اپنے ماضی کی غربت کے سب آثار مٹانے کے بعد اب مجھ میں پیچھے مڑ کر دیکھنے کی سکت نہیں بچی۔

مگر اس منجمد دریا کی ایک زیریں پرت پر خیالات کا سیل رواں مسلسل بہتا رہتا ہے۔

ایک مشین کی ابتدائی مکینیکل ڈیزائننگ کرتے ہوئے میرا لیپ ٹاپ گرم ہو گیا تھا میں نے دھیرے سے آنکھیں موند لیں ا۔

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

تم اوبسیشن کا شکار انجئنیر ہو کچھ کر دکھانے کا جنون یا تو تمہیں کہیں کا نہیں چھوڑے گا یا بہت بلندیوں تک لے جائے گا۔

سر کیا آپ میرے ہارڈ ورک اور ایفرٹس کو اوبسیشن سمجھتے ہیں ؟ میں نے اپنے پروفیسر سے سوال کیا۔

نہیں محض ہارڈ ورک نہیں۔ ۔ کچھ سائنسدان ایسے ہوتے ہیں جو ہارڈ ورک اپنے اندر کے کسی جذبے کی تسکین کے لیے کرتے ہیں۔

بھلے انہیں یا باقی دنیا کو اس سے کوئی فائدہ پہنچے یا نقصان مگر ان کا اوبسیشن انہیں چین نہیں لینے دیتا۔ وہ اپنی ایجادات سے دستبردار ہونے کو تیار نہیں ہوتے۔

پروفیسر نے جواب دیا۔

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

اشتہارات کے وقفے کے دوران ٹی وی کے اچانک بڑھنے والے والیم سے اکتا کر میں نے آنکھیں کھولیں اور پھر سے ڈیزائینگ کے کام میں جٹ گیا۔

اسی دوران ٹی وی پر نیشنل جیوگرافی کی ڈاکومنٹری چل رہی تھی اور میری آنکھوں کے سامنے سب مناظر دھند میں لپٹے سایوں کی مانند گزرتے جا رہے تھے۔ کچھ دنوں سے مجھے بہت جلد تھکن ہو جاتی ہے کنپٹیوں سے سفید بال اب پھیلتے پھیلتے پورے سر کو برفانی کرنے پر تلے ہوئے ہیں مگر میری مجموعی صحت ابھی بھی قابل رشک ہے۔

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

میرے بچپن کے ساتھی یار بیلی تو اب تک اپنے بڑھاپے کو کھلے دل سے تسلیم کر چکے ہوں گے، کیا کیا جائے ؟ یہ تیسری دنیا کے لوگ پیدا بھی جلد ہو تے ہیں اور بوڑھے بھی بہت جلدی ہو جاتے ہیں۔ انسانوں کا ایک ٹھاٹھیں مارتا سمندر ہے جس کا کوئی ساحل نظر نہیں آتا۔

مگر کہیں اندر ہی اندر میں ان سب کے لیے کیوں کڑھتا ہوں ؟

یہ زرد مدقوق چہروں، الجھے بالوں اور سرانڈ مارتے بدبو دار جسموں والے لوگ، یہ گوشت پوست سے ہی بنے ہیں۔ ۔ ان کی رگوں میں بھی گرم سرخ لہو بہہ رہا ہے۔ یہ بھی میری طرح خواب دیکھتے ہوں گے ان کے اندر بھی کچھ کر دکھانے کی جستجو ہو گی تو سہی۔

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

میں ایک میکینکل ڈیزائین انجئنیر ہوں مجھے ائیر کنڈینشن میں بیٹھنے کی بنسبت مشینوں کے درمیان رہنا پسند ہے۔ لوہے کی تپتی مشینوں کے بیچ گھومتے کام کرتے جب میرا پورا بدن پسینے سے شرابور ہو جاتا ہے تو مجھے عجیب سی تسکین ملتی ہے۔

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

نہ تنخواہ، نہ پینشن، نہ ہی میڈیکل لیو، سوشل سیکیورٹی اور میڈیکل انشورنس پر اٹھنے والے اخراجات، آپ کو ان روبوٹس پر صرف کاسٹ، مینٹیننس اینڈ ریپئیر یا آخر میں ریپلیسمنٹ پر خرچ کرنا ہو گا۔ کوئی لیبر یونین کا سر درد نہیں۔

ایک بڑی ملٹی نیشنل کمپنی کا مینیجر سپاٹ اور تاثرات سے عاری چہرے کے ساتھ یہ بریفینگ سن رہا تھا۔

میری کمپنی کے سبھی اہم انجئینیر بھی اس بریفینگ میں شامل تھے۔

جانے کیوں میرا سر گھوم رہا تھا؟

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

لیکچر تھیٹر میں پروفیسر کا لیکچر جاری تھا ـــٹیکنالوجی سرمایے کو سپورٹ کرتی ہے۔

لیکن سر اس سے امیر غریب سبھی اپنی اپنی اہلیت کے مطابق فائدہ اٹھاتے ہیں۔ ٹیکنالوجی غریب کو بھی فائدہ دے گی۔

پروفیسر نے مسکرا کر میری طرف دیکھا اور کہا !

ٹیکنالوجی کو اپنی تحقیق اور تکمیل کے لیے سرمایے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اور سرمایہ دار ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھاتا ہے۔ ۔ یہ دونوں ایک دوسرے کو براہ راست سپورٹ کرتے ہیں۔

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

آزاد تجارتی منڈیوں میں انسان بھی ایک ریسورس بن کر رہ گیا ہے جسے اس سے طاقتور قوم یا کمپنی اپنے مفادات کے مطابق جہاں چاہتی ہے استعمال میں لاتی ہے، اور اب سرمایے کو بہتر تحفظ دینے کے لیے انسانوں کی جگہ مشینیں لے لیں گی۔

انسان کی خصلت میں دوسرے انسانوں کو قابو اور زیردست رکھنے کی خواہش نے ہی شاید روبوٹس کی بنیاد ڈالی۔ اور روبوٹوں کو بھی وہ کسی نہ کسی سطح پر اس صلاحیت سے لیس کر رہا ہے۔

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

اسپرین کی دو گولیاں نگل کر میں نے پھر سر کرسی کی پشت سے ٹکا دیا۔

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

تنگ و تاریک گلیوں میں لاتعداد میلے کچیلے بچے کھیل رہے ہیں۔

بیروزگار آوارہ نوجوان گلی کی نکڑ پر فضول کھڑے رہے ہیں، جن کی آنکھوں میں خوابوں کی بجائے یاسیت جھلک رہی ہے۔

مختلف اوزار ہاتھ میں تھامے بے شمار مزدور کام ملنے کے منتظر آدھی سے زیادہ سڑک روکے کھڑے ہیں۔

خود پر لادا گیا بوجھ سہار نہ سکنے پر کمزور گدھا ریڑھے کے آگے ہوا میں معلق ہے اور اس تکلیف میں ڈھینچوں ڈھینچوں کرنے سے بھی عاجز ہے۔

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

میں نے اس اندرونی شور سے اکتا کر لیپ ٹاپ آن کر لیا۔

بوسٹن ڈائنامکس کا خوفناک آہنی کتا میرا مونہہ چڑا رہا ہے۔ ۔ یہ مشین ڈیرھ سو کلو وزن اٹھا کر اتنا تیز بھاگ سکے گی جتنا میں بچپن میں دریا کے بند کے ساتھ بھاگا کرتا تھا۔ پرانے پیپل کی کھوہ سے گانی والے طوطے نکالا کرتا تھا۔

نہیں اب میں ایسا گیا گزرا بھی نہیں کہ ایک مشین کے ساتھ اپنا تقابل کروں۔ ابھی تک میری صحت بہت اچھی ہے میں باقاعدہ ورزش بھی کرتا ہوں۔

بچپن میں ایک بار جب میں نے پرانے درخت کی کھوہ میں طوطے کے گھونسلے میں سے اس کے بچے نکالنے کے لیے ہاتھ ڈالا تو طوطوں کی بجائے کسی چکنی مگر سخت چیز سے ہاتھ ٹکرایا۔ اور پھر تقریباً پندرہ فٹ لمبا کالا سیاہ پھنیر سانپ جو ان بچوں کا صفایا کر چکا تھا میرے بازو اور پورے جسم سے رینگتا ہوا نیچے جنگلی گھاس میں اتر گیا۔

ریڑھ کی ہڈی سے شروع ہو کر ایک سرد لہر میرے جسم میں سرایت کر گئی۔ میرا پورا وجود سن ہو چکا تھا حتیٰ کہ میں اس دوران پلک جھپکنا تک بھول گیا۔

چند ثانیوں بعد اوسان بحال ہوئے تو میں نے درخت سے نیچے چھلانگ لگائی میرے دوست سانپ سے بے خبر میرا ذرد چہرہ دیکھ کر پوچھنے لگے کہ کیا ہوا؟

پھپ۔ ۔ ۔ ۔ پھپ۔ ۔ ۔ ۔ میرے حلق سے گھٹی گھٹی آواز نکلی۔

شاید میں خوش قسمت ہوں، طوطے کے بچے نگل کر سانپ کی بھوک مٹ چکی تھی جو اس نے مجھے ڈسنے کی کوشش نہیں کی۔

مکینیکل ڈیزائینگ میں میرا بہترین ڈیزائین ہونے کے باوجود جانے کیوں مجھے کبھی کبھی سنیک روبوٹ بہت بد شکل لگتا ہے۔ اسے دیکھ کر کچھ دنوں سے مجھے ایسے محسوس ہوتا ہے کہ یہ میرے جسم پر رینگ رہا ہے۔

اوں ہوں۔ ۔ ۔ ۔ اب میں ایسا بزدل بھی نہیں، سب منفی خیالات و جھٹک کر میں نے سوچا۔

یہ مشینیں ہم نے خود بنائی ہیں۔ یہ ہمیں بہت سے فوائد پہنچائیں گی ہمارا کام آسان کریں گی۔

ٹیکنالوجی نیوز کی سرخیاں میری ای میل میں پہنچ چکی تھیں۔ ۔

“بوسٹن ڈائنامکس گوگل نے خرید لی ”

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

مجھے گوگل سے ڈر لگنے لگا ہے آخر یہ چاہتا کیا ہے ؟

تم اوبسیشن کا شکار انجینئیر ہو۔ ۔ ۔ ۔ ۔ مجھے ڈر ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔

پروفیسر کی آواز ذہن کے دریچوں میں گونجی۔ ۔ ۔ ۔ ۔

اففف اگر کل کلاں کو واقعی یہ مشینیں انسانوں کی جگہ لے لیں گی تو کیا ہو گا؟

جب یہ آہنی مشینیں کالے، بھورے، پیلے انسانوں کے مقابل آ جائیں گی۔ ترقی یافتہ اقوام کی آدھی سے زیادہ افواج روبوٹوں پر مشتمل ہوں گی۔

کیا مشینیں انسانوں کو زیردست کر لیں گی؟

ای میل میں اگلی خبر چمک رہی تھی۔ ۔ ۔ ۔

دو ہزار پچاس تک روبوٹس پر مشتمل ٹیم فیفا کے رولز کے مطابق اس وقت کی عالمی چیمپیئن فٹبال ٹیم کو شکست دے دے گی۔

پروفیسر ڈینئل لی کیا چاہتا ہے ؟ میں کیا چاہتا ہوں ؟ یہ ساری ترقی یافتہ اقوام اس تماشے کا حصہ کیوں بن رہی ہیں ؟؟؟

میرے سامنے ہزاروں سوالیہ نشان فضا میں دھوئیں کے مرغولوں کی طرح رقصاں ہونے لگتے ہیں۔

دنیا کا پہلا فٹ بال یقیناً کسی انسان کی کھوپڑی ہی تھی۔

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

چالیس پچاس سال بعد روبو کپ جیتنے والی ٹیم کے قدموں میں میری یا ڈینیل لی کی کھوپڑی بھی ہو سکتی ہے۔

______________________________________________________

نوٹ: اس افسانے میں شامل کچھ اصطلاحات کی وضاحت

بوسٹن ڈائنامکس: سونی کارپوریشن اور امریکن آرمی کے لیے روبوٹس تیار کرنے والا ادارہ۔

بگ ڈاگ : بوسٹن کا آہنی کتا نما روبوٹ

روبو کپ: ہر سال منعقد ہونے والا روبوٹس فٹ بال ٹیموں کا عالمی مقابلہ

ڈینیل لی: ۰۵۰۲ روبو کپ ٹرسٹی

٭٭٭

 

 

 

 

چیونٹیاں

 

رات کے کسی پہر وہ گھبرا کر اٹھ بیٹھا سارا بدن پسینے سے شرابور تھا اور سانس دھونکنی کی مانند چل رہی تھی۔ جیسے ابھی ابھی کسی جکڑ بندی سے آزاد ہوا ہو۔ پچھلے کچھ مہینوں سے ایسا کئی بار ہو چکا تھا مگر خواب اسے یاد نہ رہتا صبح اٹھ کر وہ معمول کے مطابق اپنے سب کام انجام دیتا۔ ایسا تو بہت لوگوں کے ساتھ ہوتا ہے ہر شخص زندگی میں کئی بار خواب میں ڈرتا ہے یہ ایک عام سی بات ہے اور یہ سوچ کر وہ اس عارضی کیفیت کو ذہن سے جھٹک دیتا۔

وہ آرمرڈ کور کا ایک بہت بہادر سپاہی تھا۔ اونچا لمبا مضبوط جسم کا مالک، کھلے کھلے ہاتھ پاؤں اور چوڑے چکلے سینے کے ساتھ وہ اپنے چہرے مہرے سے ہی پہچانا جاتا کہ فوجی جوان ہے۔

اپنی سروس کے دوران اس نے کئی اہم اور خطرناک سمجھے جانے والے محاذوں پر مہم جوئی میں حصہ لیا تھا۔ جہاں دل حلق میں دھڑکتا اور کلیجے مونہہ کو آتے ہیں اس کے قدم ان محاذوں پر بھی لڑکھڑا نہ سکے تھے۔ بہترین پیشہ ورانہ عسکری خدمات پر وہ بہت جلد ترقی پاتے پاتے صوبیدار بن گیا تھا۔

ڈسپلن صرف اس کی نوکری تک محدود نہیں تھا بلکہ اس کی بیوی کے خیال میں سوتے جاگتے، اٹھتے بیٹھتے، کھاتے پیتے ہر جگہ یہ ڈسپلن ان کی زندگی پر حاوی ہو چکا تھا۔

اس کی بیوی گاؤں کی رہنے والی تھی مگر چھاؤنی میں رہتے رہتے بہت جلد فوجی گھرانوں کے سب طور طریقے سیکھ چکی تھی۔

ایک دن وہ یونٹ سے گھر واپس آیا تو باورچی خانے میں اپنے لیے خود ہی چائے بنانے لگا۔ چینی کا ڈبہ اٹھایا تو اندر بہت سی چیونٹیاں اپنی پسندیدہ خوراک سمیٹنے میں مشغول تھیں۔ اسے ایک جھٹکا لگا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

پتر غلام حسین تو اتنی شیکر دوپہر کو اکیلا کیوں کھیلتا رہتا ہے۔ جلدی واپس آ۔ آج بڑی لو چلی ہے مینوں لگتا ہے کہ آج ھنیری آئے گی۔

ابھی آیا بے بے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

یہ کہہ کر اس نے برگد کے پیڑ سے چھلانگ لگائی۔ پیڑ کے نیچے چیونٹیاں اپنی کالونی کی منتقلی میں مشغول تھیں۔ لاکھوں کی تعداد میں کالی بھوری اور سرخی مائل چیونٹیاں تیزی سے گردش کر رہی تھیں۔ بہت سی اپنے ساتھ باریک ریزوں جیسے سفید انڈے اٹھائے ہوئے تھیں۔ شاید زیر زمین سلگتی گرمی کے احساس سے گھبرا کر اپنی خندقوں سے باہر آ گئی تھیں، یا آنے والے طوفان سے وقت سے پہلے ہی با خبر ہو چکی تھیں اور اب اپنے انڈوں کے لیے محفوظ ٹھکانے کی تلاش میں سرگرداں تھیں۔

بے بے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بے بے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ وہ گھبرا کر چلایا

بے بے یہاں کیڑیوں کا بھوں ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بے بے ککی کیڑیاں میرے پاؤں پر چڑھ رہی ہیں۔

دور افق پر کالا سیاہ جھکڑ نمودار ہو رہا تھا اور تب تک بے بے پین کر کے دھوپ میں ڈالی گندم سمیٹ کر دالان سے ہوتی ہوئی اندر کمرے میں جا چکی تھی۔

اور سینکڑوں کی تعداد میں چیونٹیاں اس کے جسم پر رینگ رہی تھیں

بےے ےے بےے ےے ے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس نے ایک چیخ ماری۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

وہ اپنے گھر کے باورچی میں ہی موجود تھا۔ غصے سے چلایا!

زینت کتنی بار کہا باورچی خانے کی صفائی کا خاص دھیان رکھا کرو۔ مگر جانے کب تم اپنے اطوار بدلو گی؟

ارے کیا ہوا اتنا صاف ستھرا تو ہے۔ آپ بھی بلاوجہ ہی بگڑنے لگتے ہو۔ اس کی بیوی نے جواب دیا۔

تو یہ چیونٹیاں کہاں سے آئیں ؟ تمہیں اچھی طرح علم ہے کہ مجھے ان کیڑے مکوڑوں سے کتنی چڑ ہے۔ وہ بدستور خفا ہو رہا تھا۔

غلام حسین یہ تو بس چیونٹیاں ہیں زینت نے جواب دیا۔

بس جو کہہ دیا وہی کیا کرو، مجھے گھر میں ایسا کچھ نظر نہ آئے۔ اس نے گویا بات ختم کی۔

کچھ دن بعد وہ اپنے یونٹ میں ٹارک رینچ ہاتھ میں تھامے ٹینک کے کل پرزوں کا جائزہ لے رہا تھا کہ تیل کی پتلی لکیر کے پیچھے ایک بڑی کالی چیونٹی نمودار ہوئی۔ اسے دیکھنا تھا کہ وہ ایک جھٹکے سے اٹھا اور اپنے بھاری بوٹ تلے چیونٹی کو مسل کر رکھ دیا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

اوے پتر غلامے کیا ہوا چلا کیوں اٹھا ہے ؟

ابا دیکھ اس کالے کاڈھے نے کتنی زور سے کاٹا۔

بڑی نسل کی کالی چیونٹی کا سر اس کے پاؤں پر گوشت کے اندر تک پیوست ہو چکا تھا۔ ابا نے بہت کوشش سے اسے الگ کرنا چاہا مگر وہ اپنی گرفت چھوڑنے پر تیار نہ تھی۔ زور لگا کر کھینچا تو اس کا تھورکس الگ ہو گیا مگر سر جلد میں پیوست ہی رہا۔

نامراد نہ ہو تو۔ ۔ کس برے سے کاٹا۔ ۔ ابا نے کھینچ کر چیونٹی کا سر ماس میں سے باہر نکالتے ہوئے کہا۔

اس کی جلد میں شدید جلن ہو رہی تھی۔

اسی دوران سی او اندر داخل ہوا جس کے ساتھ کچھ غیر ملکی انجینئر بھی تھے۔

صوبیدار اپنے سی او کو بریفینگ دینے لگا۔

سر جی اس ٹینک کا ایک ایک پرزہ ٹارک رینچ سے کس دیا ہے۔ ہر کام پرسین سے کیا گیا ہے نہ تو فورس کا ایک یونٹ زیادہ لگا نہ ہی کم۔

اینی ڈیفیکلٹی۔ ۔ ۔ ۔ سی او نے پوچھا

نو سر۔ اٹس پرفیکٹ سر۔

ویل ڈن۔ یہ کہہ کر سی او آگے بڑھ گیا۔

مری ہوئی چیونٹی تیل کی باریک لکیر کے پیچھے سے غائب تھی۔ ادھر ادھر نظر دوڑائی تو اس کی ساتھی چیونٹیاں مری ہوئی چیونٹی کو گھسیٹتے ہوئے اپنی بل کی جانب رواں تھیں۔

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

بہت سی چیونٹیاں زرد پڑتی جنگلی گھاس میں رینگ رہی تھیں جہاں ایک زخمی سپاہی اپنی ٹانگ سے محروم ہو چکا تھا’ اور مٹی اس کے خون سے رنگی ہوئی تھی… کچھ چیونٹیاں خون اور جسم سے الگ ہو جانے والے حصے سے چپکی ہوئی تھیں۔ اس نے زخمی سپاہی کو طبی امداد دے کر پیچھے روانہ کیا۔ اسی وقت کمپنی کمانڈر نے پیچھے سے آ کر غلام حسین کے کندھے پر تھپکی دی جو خاموش کھڑا چیونٹیوں کو تک رہا تھا۔

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

زینت سارا دن گھر کے کاموں میں جتی رہتی۔ وہ نا صرف اپنے گھر کی بہت اچھی طرح صفائی ستھرائی کرتی بلکہ ہر کونا چمکا کر رکھ دیتی۔ اس کے علاوہ پورے گھر میں اکثر کیڑے مار دواؤں کا سپرے بھی کرتی اس کی کوشش ہوتی کہ گھر میں کوئی کیڑا پیدا نہ ہو۔ غلام حسین ایک اچھا شوہر تھا اور ماسوائے کیڑے مکوڑوں کے اس کے ساتھ کسی بات پر کبھی بگڑا بھی نہیں تھا۔

کرنل مظفر کی پوسٹینگ بہت عرصے بعد اس کینٹ میں ہوئی تھی۔ جب وہ میجر تھے تو غلام حسین ان کے ساتھ بطور اردلی کئی سال تک رہا۔ جتنی جانفشانی سے اس نے اپنے صاحب کی خدمت کی تھی اسے کرنل مظفر کے گھر کے ایک فرد کی حیثیت حاصل ہو گئی تھی۔ اگرچہ وہ ترقی پاتے ہوئے مختلف شہروں میں پوسٹ ہوتا رہا مگر کرنل کے خاندان سے اس کا رابطہ ہمیشہ برقرار رہا۔ کرنل کی والدہ ایک مشفق خاتون تھی۔ اور غلام حسین کو ان سے ہمیشہ بہت شفقت ملتی رہی۔

جب وہ ملاقات کے لیے کرنل مظفر کے گھر پہنچا تو بی اماں ایک درخت کے نیچے مسور کی دال اور چینی کا آمیزہ ڈال رہی تھی۔

یہ دیکھتے ہی وہ پھر ماضی میں پہنچ گیا۔

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

اردلی میجر صاحب کے سویپر سے جھگڑ رہا تھا۔ یہ سراسر تمہاری کوتاہی ہے جو گھر میں اتنی چیونٹیاں آ گئی ہیں۔ اگر اچھے سے صفائی کرو تو گھر میں کوئی کیڑا نظر نہ آئے۔ بی اماں بیچ بچاؤ کرانے آئیں تو سویپر اس کی شکایت کرنے لگا۔ بی بی جی پتا نہیں یہ اردلی غلام حسین چیونٹیوں سے اتنی نفرت کیوں کرتا ہے۔ جس دن کوئی چیونٹی نظر آ جائے خوامخواہ مجھ سے جھگڑتا ہے اور آج تو حد ہی ہو گئی ہے۔ اس نے جی کوٹھی کے پچھواڑے میں بانس کے اوپر مٹی کے تیل والے کپڑے کو آگ لگا کتنے ہی کاڈھے کیڑوں کو جلا دیا ہے۔

ہائے ہائے یہ تو نے کیا غضب کیا غلام حسین؟

ان بے ذبانوں نے تیرا کیا بگاڑا تھا؟ بی اماں ناراضی سے بولیں۔

بی اماں یہ نقصان دہ کیڑے ہیں اور بچوں والا گھر ہے اس لیے میں نے جلا دیئے۔ اس نے جواب دیا۔

ارے یہ تو کوئی نقصان نہیں پہنچاتے بس اپنا رزق تلاش کرتے پھرتے ہیں۔ ان کو مارا نہیں کرتے۔

بی اماں سمجھا رہی تھیں۔

بلکہ جب بارش ہو تو ان کو صدقہ ڈالتے ہیں ان کے بلوں میں پانی آ جاتا ہے تو بے چین ہو کر باہر نکلتے ہیں۔

اور اس دن کئی برسوں بعد وہ اسی طرح بی اماں کو چیونٹیوں کو صدقہ ڈالتے دیکھ رہا تھا۔ وہ اسے دیکھ کر بہت خوش ہوئیں اور کہنے لگیں مجھے مظفر نے بتایا تھا کہ تو صوبیدار ہو گیا ہے۔ بڑا چنگا لگا مجھے تیرا ترقی پانا۔ اب کی بار آؤ گے تو اپنی گھر والی کو بھی ساتھ لانا۔

جان چھڑانے والے انداز میں جی اچھا کہہ کر وہ اندر کرنل صاحب سے ملنے چلا گیا۔ صوبیدار بننے کے بعد وہ خود کو بھی ایک معتبر شخص سمجھنے لگا تھا۔

اسی رات وہ پھر خواب میں ڈرا۔ اگرچہ خواب پھر اسے یاد نہیں رہا تھا مگر پسینے سے شرابور دھونکنی کی مانند چلتی سانسوں میں اس کی چھٹی حس ایک عجیب الارم بجا رہی تھی۔

گرمیوں کی آمد آمد تھی۔ اس کے آبائی گاؤں میں گندم کی کٹائیاں شروع ہو چکی تھی اور ساتھ ہی مون سون ہواؤں کی وجہ سے طوفانی آندھیوں کا آغاز بھی ہو گیا تھا۔ مگر جس علاقے میں اس کی پوسٹینگ تھی وہاں گرمی کا موسم اتنی شدت سے نہیں آتا تھا۔ ابھی تک وہ لوگ کمروں میں بغیر پنکھا چلائے ہی سوتے تھے۔

پھر کچھ دنوں بعد اس نے ایک اور خوفناک خواب دیکھا۔

وہ ایک لق و دق وادی میں بھٹک رہا تھا، اس کا حلق پیاس کی شدت سے خشک ہو چکا تھا۔ ہونٹوں پر پپڑی جمی تھی اور زبان پر کانٹے اگ آئے تھے۔ پیاس کی شدت اسے ایک کنوئیں تک لے گئی۔ اس نے کنوئیں سے پانی نکالنے کے لیے اپنا ڈول رسی سے لٹکا کر کنوئیں میں ڈالا۔

منڈیر کے ساتھ لاتعداد چیونٹیاں قطار در قطار رینگ رہی تھیں۔ منڈیر پر چڑھنے کے بعد وہ کنوئیں کی چرخی پر رینگنے لگیں۔ رینگتے رینگتے چیونٹیاں رسی تک پہنچ گئیں اور رسی کو کتر دیا۔

ڈول رسی سے آزاد ہو کر کنوئیں کی تہہ میں گرنے لگا۔ رسی چرخی پر لپٹی رہ گئی جس پر چیونٹیاں ہی چیونٹیاں تھیں۔ ڈول مسلسل نیچے جا رہا تھا اور کنوئیں کی پاتال کا کچھ پتا نہیں چل رہا تھا۔ اس نے محسوس کیا جیسے وہ بھی کنوئیں کی تہہ میں مسلسل گرتا جا رہا ہو۔

وہ ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھا اس کا دل اتنی تیزی سے دھڑک رہا تھا گویا پسلیوں کو توڑ کر باہر نکل آئے گا۔ خوف اور وحشت سے اس کا حلق سوکھ رہا تھا مگر اتنی ہمت نہ تھی کہ اٹھ کر پانی کا گلاس حلق میں انڈیل سکے۔

کچھ دیر بعد اس کے اوسان بحال ہوئے۔ مگر نیند آنکھوں سے کوسوں دور تھی۔ اسے کمرے کے اندر شدید گھٹن کا احساس ہوا وہ یونہی بلا مقصد گھر کے پچھواڑے میں ٹہلنے لگا۔

خواب میں رینگتی چیونٹیاں اس کے حواس پر چھائی ہوئی تھیں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس رات پہلی بار اسے پورا خواب یاد رہا تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ خواب کی وحشت نے اسے پھر سے ماضی میں پہنچا دیا۔ جہاں وہ اپنے اسی خوف سے نفرت اور بیزاری سمجھ کر لڑتا رہا تھا۔

مٹی کے تیل میں تر کپڑا بانس کے اوپر بندھا تھا۔ اور گھر کی بیرونی دیوار کے ساتھ ادھ جلی مردہ چیونٹیاں، کچھ جلے ہوئے پر اور تیل کی بو پھیلی ہوئی تھی۔

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

اس نے اپنے ذہن سے اس خیال کو جھٹکا تو دوسرا آن موجود ہوا۔

اس کے گھر میں کمروں کے اندر فرش اور دیواروں کے ساتھ کیڑے مار سپرے کے بعد مردہ چیونٹیاں ایک لکیر کی صورت میں جم گئی تھیں۔ زینت جھاڑو لگا کر انہیں وہاں سے صاف کر رہی تھی اور وہ دور کھڑا دیکھ رہا تھا۔

اسی اثنا میں اس کے شیر خوار بچے کے بلک بلک کر رونے کی آواز اسے خیالوں سے واپس کھینچ لائی

 

اندر آیا، زینت پر نظر پڑی تو اس کے رونگٹے کھڑے ہو گئے، زینت کا وجود ٹھنڈا اور ساکت تھا۔ اس نے جلدی سے نبض ٹٹولی، آنکھوں کی پتلیاں دیکھیں مگر تب تک بہت دیر ہو چکی تھی۔ زینت ہمیشہ کے لیے اس سے جدا ہو چکی تھی۔ اس کا بچہ بھوک سے بلک رہا تھا اور خود اس کے اپنے حلق میں کانٹے اگے ہوئے تھے۔ وہ ہمیشہ کہا کرتا تھا کہ مرد رویا نہیں کرتے مگر اس وقت اس کا دل چاہا کہ اپنے منے کو ہاتھوں میں لیے وہ بھی بچوں کی طرح بلک بلک کر روئے۔

اپنے خود ساختہ خوف سے لڑتے لڑتے وہ بہت بری طرح ہار چکا تھا۔

٭٭٭

 

 

 

 

جامن کا پیڑ

 

 

خزاں کے پتے بھی پیغام رساں ہوتے ہیں جو گئے وقت کے قاصدوں کی مانند پیغام پہنچاتے اپنا سر قلم کروا لیتے ہیں۔ اس بستی کی ہواؤں نے کتنے ہی پتوں پر پیغام لکھ لکھ کر مجھے بھیجے تھے۔ کئی سر کٹے قاصد پیلا لباس پہنے میرے اردگرد پتنگوں کی مانند رقصاں ہیں۔ اور میں خشک ٹہنیوں کا الاؤ جلائے اس کے لکھے خطوط پڑھ رہا ہوں۔

جامن کے ٹہن کچے ہوتے ہیں پھر بھی انہیں پھلوں کے باغات کی حفاظت کی ذمہ داری سونپی جاتی ہے۔ مون سون ہواؤں کی وجہ سے جب تیز آندھیاں چلتی ہیں تو جامن کے بلند درخت ان ہواؤں کا زور توڑ کر آم کے کچے پھل ضائع ہونے سے بچاتے ہیں۔ کئی بار مجھے لگتا ہے کہ میں بھی کچے ٹہن والا جامن کا ایک پیڑ ہی ہوں۔

ابھی کچھ دیر میں میری بیوی آئے گی اور تڑخ کر پوچھے گی کہ مَیں اتنی سردی میں چھت پر کیا کر رہا ہوں۔ یہ بیویاں بھی عجیب ہوتی ہیں شکی وہمی یا شاید حقیقت کی وہ کھوج لگا لینے والی جو سات پردوں میں چھپا کر بھی رکھی گئی ہو تو ڈھونڈ نکالیں۔

آگ میں خشک لکڑیاں چٹخ چٹخ کر کوئلہ ہوتی جا رہی ہیں۔ میرے اندر اور باہر کی سلگتی آوازیں ہیولوں کی مانند دھوئیں کے مرغولوں کے ساتھ رقصاں ہیں۔

گوجرانوالہ سے کشمیر تک کا فاصلہ کچھ کم تو نہ تھا۔ مگر میرا اکثر وہاں جانا ہوتا۔ کبھی ادھار پر بھیجے سینیٹری ٹائلز اور فٹنگز کے پیسے وصول کرنے تو کبھی نئے گاہکوں کی تلاش میں جانا ہوتا۔ ابا کے گزرنے کے بعد بہت جلد مجھے اپنا خاندانی کاروبار سنبھالنا پڑا تھا۔ مجھے کشمیر کی سرسبز وادی چشمے آبشاریں اور دریائے نیلم اتنا ہی پر کشش لگتا جتنا کسی بھی میدانی علاقے سے آئے سیاح کو لگتا ہے۔ فرق صرف اتنا تھا کہ آئے دن اس وادی کے سفر نے ان سب نظاروں کو میری روٹین کا حصہ بنا دیا تھا۔

رات گہری ہونے کے ساتھ خنکی بھی بڑھتی جا رہی ہے۔ درختوں کی شاخوں میں سے شونکتی ہوا موسم کو مزید اداس کر رہی ہے سبز زرد اور جل کر بھورے ہوتے کئی پتے کوئلوں کی آنچ میں چرمرا رہے ہیں۔ جب بھی دھوئیں میں خیالات کے ہیولے واضح ہونے لگتے ہیں سانسوں میں چیڑ کی مہک محسوس ہونے لگتی ہے۔

میرے قدم زمین نے جکڑ لیے تھے کچھ لمحوں کے لیے وقت زمین آسمان ساری کائنات اور میرا جسم تک منجمد ہو چکے تھے _______ تھے ؟ نہیں _____ بلکہ وہ لمحہ تو آج تک منجمد ہے۔ وقت نے اس لمحے کو حنوط کر کے میرے دل کے نہاں خانوں میں بسا ڈالا ہے۔ پہلی نظر کی محبت میرے لیے ایک جگت بازی سے زیادہ اہمیت نہیں رکھتی تھی۔ اپنے یار بیلیوں کی محفل میں مَیں بارہا ایسی محبتوں کا مذاق اڑا چکا تھا۔ میرے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ کبھی میں خود بھی پہلی نظر میں یوں ڈھیر ہو جاؤں گا۔ وہ اس دنیا کی سب سے حسین لڑکی تھی یا کہ ساحرہ، جس نے مجھے جکڑ بندی کا شکار کر لیا تھا۔ کچھ خوبصورتیاں بیان نہیں کی جا سکتی صرف محسوس کی جا سکتی ہیں۔ کوئی بھی تشبیہ کوئی استعارہ کسی بھی شاعر کے اشعار صنوبر کی تصویر کشی نہیں کر سکتے۔ جیسے شدید سردی کے موسم میں کئی دنوں بعد سورج نکلے، اس کی نرم دھوپ محسوس تو کی جا سکتی ہے لیکن بیان نہیں کی جا سکتی۔ کتنی ہی دیر میں گرد و پیش سے بے خبر کالج روڈ پر سینیٹری فٹنگز کی ایک دکان کے سامنے کھڑا اسے جا تے دیکھتا رہا۔ جب محویت ٹوٹی تو احساس ہوا کہ وہ سارا منظر نامہ محض خالی فریم رہ گیا تھا۔ سڑک کنارے لگے درخت، کالج سے نکلنے والے اسٹوڈنٹس کا ہجوم، راہگیر شاید سبھی اُسی سمت روانہ ہو چکے تھے۔ اور میں اس خالی فریم میں جکڑا بل کھاتی سڑک پر کھڑا پتلا کسی روح سے پھونک دیا گیا تھا۔

جلتی لکڑیوں کے چٹخنے سے اڑنے والا شرارہ میری ہتھیلی کی پشت پر آ لگا ہے۔ ہاتھ میں تھمے کاغذ میں ایک سوراخ بھی ہو چکا ہے۔ یہ آگ کتنی بے مہر ہے یہ کیوں نہیں جانتی کہ کیا کچھ جلا رہی ہے۔ میں مانتا ہوں کہ میں بھی ابراہیم نہیں ہوں مگر پھر بھی۔

تب سردیوں کی آمد آمد تھی چناروں کے پتے چنگاریوں کی مانند سرخ ہو چکے تھے مگر صنوبر کے درخت یادوں کی طرح ہمیشہ ہریالے رہتے ہیں۔ اس شام مجھے واپس گوجرانوالہ آنا پڑا۔ مگر اگلے دن صبح صادق کے ساتھ ہی میں نے پھر جی ٹی روڈ سے ہوتے ہوئے کشمیر ہائی وے کا رخ کیا۔ راستوں کے مناظر، سڑکوں کے کنارے ایستادہ سنگ میل اور فاصلہ سب سمٹتے جا رہے تھے۔ دوپہر تک کالج کے سامنے میں گیان کی تلاش میں تپسیا کرتے کسی بدھ بھکشو کی مانند اس کا انتظار کرنے لگا۔ وجدان کی مانند نازل ہونے والی محبت یک طرفہ نہیں ہوتی۔ کسی نہ کسی سطح پر میری اور صنوبر کی روحیں کسی نامعلوم مقناطیسی دائرے میں داخل ہو چکی تھیں۔ جیسے ایک قطب نما زمین کی مقناطیسیت کو پہچانتا اور اپنا رخ قطب کی طرف متعین کر لیتا ہے۔ ایسے ہی میں کسی قطب نما کی مانند ہمیشہ کے لیے اس کے پیچھے ہولیا۔

صنوبر کا باپ میرا پرانا کسٹمر تھا۔ پچھلے دو سال سے وہ میری دوکان سے سینیٹری کا سامان کشمیر منگوا رہا تھا۔ یہ جان کر میں نے سکون سانس لی کہ اب صنوبر سے رابطہ اب اتنا مشکل نہیں رہے گا۔

چھت کی طرف آنے والی سیڑھیوں پر قدموں کی چاپ سنائی دے رہی ہے۔ یہ میری بیوی سمیرا ہے۔ میرے پاس اسے وضاحت دینے کے لیے کچھ نہیں ہے۔ شاید میرے سارے لفظ کہیں خرچ ہو گئے ہیں۔ یا اپنی بے وقعتی سے خود بھی واقف ہیں۔ وہ آئی گی مجھے دیکھے گی اور شاید غصہ کرے گی یا بغیر کچھ کہے واپس چلی جائے گی۔ دھواں میری آنکھوں میں چھبن پیدا کر رہا ہے۔ سامنے موجود سارے منظر گڈ مڈ ہو چکے ہیں۔

صنوبر اپنے کالج کے لانگ ٹرپ پر اسلام آباد آئی تھی۔ فون پر رابطے کے بعد وہیں سے ہماری باقاعدہ ملاقاتوں کا سلسلہ شروع ہوا۔ کئی مہینوں تک یہ سلسلہ کسی پارک اور کبھی کسی ریسٹورینٹ میں اس کے گھر والوں سے چھپ کر جاری رہا اور میرے گھر والوں کو تو یہی پتا تھا کہ کشمیر میں میرا کاروبار بہت پھیل رہا ہے۔ آئے دن فاصلے سمٹتے تین پہر کا سفر میرے لیے صرف ایک گام کی دوری پر ہوتا۔

محبت کے شجر پر سرخوشی اور چاہے جانے کا نشاط اکیلا نہیں کھلتا ساتھ خوف، وسوسوں اور اندیشوں کی زہریلی بوٹیاں بھی سر اٹھانے لگتی ہیں۔ صنوبر نے میری منتیں کیں کہ کورٹ میریج کے بعد اسے ساتھ گوجرانوالہ لے جاؤں کیونکہ اس کے والد کبھی اپنی ذات برادری سے باہر اس کا رشتہ طے نہیں کریں گے۔ ہو سکتا ہے اسے جان سے ہی مار ڈالیں۔ مگر نجانے کیوں میں ضرورت سے زیادہ اعتماد کا شکار رہا کہ ہماری شادی گھر والوں کی مرضی سے ہو جائے گی۔ میں سوچتا کہ آخر ایک مستحکم اور اچھے خاندان کے لڑکے کا رشتہ جسے ان کی بیٹی بھی پسند کرتی ہے محض ذات پات کی وجہ سے کیسے رد کر دیا جائے گا؟ میں اگر جامن کا پیڑ تھا تو صنوبر کا باپ چیڑ کا اونچا مضبوط اور سخت جان درخت۔ مجھے ہواؤں کو سینے پر روکنے کا مان تھا تو چیڑ کے درخت نے کبھی جھکنا نہیں سیکھا تھا۔

ایک اور خط میں آگ میں جھونک چکا ہوں، صنوبر کی تصویر سرخ کوئلوں پر دہک رہی ہے۔ جلتے ہوئے کاغذ میں سے بھی اس کی سبز آنکھیں مجھے تحیر اور بے یقینی سے دیکھ رہی ہیں۔ سمیرا کو جانے کیوں مجھ پر یقین نہیں آتا۔ یہ سارے خطوط صنوبر کی تصویریں میں نے گھر میں بنے ایک لاکر میں چھپا کر رکھی تھیں۔ پتا نہیں اس کو کس نے بتایا تھا۔ یا شک بیویوں کے خمیر میں رچا بسا ہوتا ہے کہ شادی کے کچھ ہی عرصے بعد صنوبر کی تصاویر اور خطوط سمیرا کے ہاتھ لگ چکے تھے۔ پہلی بار تو سمیرا بھی صنوبر کی تصویر دیکھ کر دم بخود رہ گئی پھر پرائی عورت سے جلن کا احساس ہماری زندگی میں زہر گھولنے لگا۔ ایک عورت دوسری عورت کا سایہ تک برداشت نہیں کرتی اور یہاں تو میں خود صنوبر کے وجود کی ایک پرچھائیں بن کر رہ گیا تھا۔

میری اور صنوبر کی محبت زیادہ دنوں چھپی نہ رہ سکی ایک دن اُسے کالج واپس چھوڑ رہا تھا کہ سامنے اس کا باپ راجہ پرویز خان کھڑا مل گیا۔ صنوبر کا گلابی رنگ پیلا پڑ گیا، وحشت زدہ آنکھوں میں خوف کی پرچھائیں لیے کانپتا وجود خزاں رسیدہ پتوں کی مانند لرزنے لگا۔ پرویز خان نے مجھے کھا جانے والی نظر سے دیکھتے ہوئے کہا کہ اگر دوبارہ اس شہر میں نظر آئے تو کاٹ ڈالے جاؤ گے۔ صنوبر کا وہ کالج میں آخری دن تھا اس کے چاروں طرف پہرے بٹھا دیے گئے تھے۔ فون مسلسل بند رابطے کی کوئی صورت نہ بچی تھی۔ چھپتے چھپاتے مظفر آباد پہنچا، صنوبر کی ایک سہیلی کی وساطت سے اس سے رابطہ کرنے کی کوشش کی تو علم ہوا کہ کالج چھڑوا دینے کے بعد صنوبر کی شادی بھی طے کر دی گئی ہے۔

کچھ دنوں بعد میرے تایا زاد بھائی کو پرویز خان کا پیغام آیا ــــ، تمہارا چچیرا بھائی اگر پیسوں کی اگرائی کرنے بھی یہاں آیا تو کاٹ ڈالا جائے گا۔ میرے ذمے اس کے تین چار لاکھ روپے ہیں جلد ہی سارا حساب تمہارے ہاتھ چکتا کر دوں گا۔ مگر وہ اپنی شکل لے کر کبھی یہاں نہ آئے۔

چیڑ کا پیڑ بہت اونچا سخت اور جاندار ہوتا ہے برفانی طوفان بھی اس کا کچھ بگاڑ نہیں سکتے وہ پہاڑوں کا پروردہ تھا، بھلا اسے میں کیسے زیر کرتا۔

معاملہ میرے گھر والوں تک پہنچا۔ یار بیلی مذاق اڑانے لگے کہ ہمیں کانوں کان خبر نہ ہونے دی اور معاملہ عشق میں اتنی اونچی اڑان پر چلا گیا۔ میرا وجود یخ بستہ ہواؤں کی زد پر تھا۔ کئی بار ایسا لگتا کہ ایک ایک کر کے میرے سارے ٹہن ٹوٹ جائیں گے۔ بے قراری سی بے قراری تھی۔ میری بے چینی دیکھ کر دوست کہتے یہ سب نارمل ہے ہر شخص عمر کے اس دور میں ان کیفیات سے گزرتا ہے۔ چھوڑو ٹینشن کوئی نئی لڑکی پھانسو بھول جاؤ گے اسے، لڑکی تو لائف میں آتی جاتی رہتی ہے۔ بلکہ بندہ اپنا ٹیسٹ بدلتا رہے تو اچھا ہے۔

کچھ مہینوں کی اداسی اور سٹریس کے بعد میں نے دھیان بٹانے یا شاید دوستوں کی نصیحت آزمانے کو بیک وقت دو تین لڑکیوں سے دوستی بھی کر لی۔ چلو یونہی سہی کچھ زندگی کا دستور تو بدلے۔

آگ بجھنے لگی ہے میں ایک خشک ٹہنی سے کوئلوں کو الٹ پلٹ کر دیکھ رہا ہوں۔ کچھ مزید خشک پتے اور ٹہنیاں ان کوئلوں پر رکھ دیے ہیں۔ ابھی تو کئی ورق جلانا باقی ہیں۔

ٍٍٍٍ یار تو شادی کر لے یا کہیں ریلیشن بنا لے۔ یہ پیار محبت کچھ نہیں، صرف جسم کا تقاضا ہے پورا ہو جائے گا تو سب بھول جائے گا تجھے۔ ـ

روز میرا کزن یہی نصیحت کرتا۔ لیکن کئی بے تکلف دوستیوں کے بعد بھی بے قراری جوں کی توں رہی۔ میں نے کبھی صنوبر کو چھوا تک نہیں تھا۔ میں اس کے ساتھ شادی کے پلان بناتا بچوں کے نام تک سوچتا لیکن شادی سے قبل جسمانی تعلق کا خیال کبھی دل میں نہ آیا۔ شاید گھر کا ماحول، مذہب کا اثر یا پھر اسی کے سنگ زندگی گزارنے کا پکا تہیہ جو تھا۔ میری حسیات کتنی کمزور تھیں جو یہ اندازہ ہی نہ لگا سکیں کہ وصال سے قبل ہی دائمی ہجر کا روگ لگے گا۔

الجھن کے اس دور میں دوستوں کی نصیحتوں کے بعد کئی اور لڑکیوں کے قریب ہوا کہ اگر لمس سے محبت کی تڑپ ختم ہو جاتی ہے تو میں بھی اسے بھلا سکوں گا۔ لیکن کوئی دوسرا لمس اندر ہی اندر کاٹتے اس احساس کہ شکست نہ دے سکا اور یہ سب افیئیر ڈھکوسلے ہی رہے۔ نہ تڑپ ختم ہوئی نہ ہی ہجر کا روگ۔ ماں کو سب باتوں کی سن گن ملی تو اس نے میرے لیے لڑکی تلاش کرنا شروع کر دی۔

رات آدھی سے زیادہ بیت چکی ہے۔ کشمیر اور شمالی علاقوں کی طرف سے آنے والی یخ بستہ ہواؤں نے میرے جسم میں سنسناہٹ بھر دی ہے۔ میری آنکھیں دھواں دھواں ہو رہی ہیں۔ کوئلوں میں دہکتے خطوط، سمیرا کی شکایتی نظریں، صنوبر کا صبیح چہرہ سبز آنکھیں سب گڈ مڈ ہو رہے ہیں۔

کاش میں کمزور ٹہنوں والا جامن کا اونچا درخت نہ ہوتا۔ کاش میں آندھیاں اپنے سینے پر روکنے کا وصف رکھتا۔

مجھے خود سے بہت شکایات ہیں۔ میں نے صنوبر کی بات کیوں نہ مانی؟ میں پرویز خاں سے کیوں ڈر گیا؟ اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اپنی محبت کا اقرار کرنے کی بجائے، صنوبر کا ہاتھ مانگنے کی بجائے اپنی جان کے ڈر سے چھپ کر بیٹھ گیا۔

اگر میں نے یہی کم ہمتی دکھانا تھی تو کیوں صنوبر سے عہد و پیمان باندھے ؟کیوں اس کو اپنی محبت کا یقین دلایا اور اسے میں اس حد تک لے گیا جہاں اس نے واپسی کا کوئی راستہ چنا ہی نہیں تھا۔

میری شادی ہو گئی۔ سمیرا ویسی ہی بیوی ہے جیسی سب بیویاں ہوتی ہیں۔ دو بچے بھی ہو گئے۔ ان برسوں میں جسم کی بھوک پیاس سب مٹا چکا ہوں مگر روح کی تشنگی ہے کہ مٹتی ہی نہیں۔ دل کا جان لیوا درد ہے کہ مجھے کسی پل قرار نہیں۔ اپنی بیوی کی قربت میں ہوں یا دوستوں کی محفل میں، کہیں کوئی کانٹا مسلسل مجھے کچوکے لگاتا رہتا ہے احساس کی شدت ہے جو کاٹتی چلی جاتی ہے۔

کیا واقعی مرد اپنی محبت میں نا پختہ ہوتا ہے۔ اگر اِس کی محبت خام ہی ہوتی ہے تو پھر میں خود کو نزاع کے عالم میں کیوں پاتا ہوں۔

ساری ٹہنیاں جل چکی ہیں۔ اب فقط راکھ بچی ہے ساری تصویریں سارے خطوط راکھ کر چکا ہوں کہ کم از کم سمیرا کو تو راضی رکھ سکوں۔ لیکن ان میں لکھا ایک ایک لفظ میرے دل پر نقش ہے۔ اس کی صورت کی شبیہ میرے تصور میں بسی ہے وہ شبیہ کئی صورتیں بدلتی ہے جن سے فرار فقط خود فریبی ہے۔

کاش صنوبر اپنی شادی کی رات زہر کھا کر خود کشی نہ کرتی۔ وہ جیتی رہتی بے شک کسی اور کی ہم سفر بن کر جیتی۔ کسی موٹے سیٹھ یا گنجے سرکاری ملازم کے بچے پیدا کرتی۔ انہیں بڑا کرتی آنکھوں میں کچھ الگ خواب بساتی اور میرے دل میں جب کبھی اس کا خیال آتا تو میں اس کے تصور سے مسکرا دیتا۔ اس دنیا کے کسی کونے میں سہی کسی اور کے پہلو میں سہی لیکن وہ موجود تو ہوتی مگر اس نے میری محبت میں موت کو گلے لگا لیا۔ میری جدائی میں جینا گورا نہ کیا اور میں۔ ۔ ۔ ۔ میں ان پچھتاؤں کے ساتھ کیوں جی رہا ہوں۔

جامن کے سارے ٹہن ٹوٹ گئے تھے وہ اپنے سینے پر آندھیوں کو نہ روک پایا۔ دور بہت دور چیڑ کا فلک بوس، ہرا بھرا مغرور درخت جو برف کے طوفانوں میں جیتا تھا اپنی انا کی اونچائی میں حد سے گزرنے کے بعد اوپر سے جل کر سیاہ ہو چکا تھا۔

جامن اور چیڑ دونوں سینکڑوں میل کی مسافت پر گڑے ایک دوسرے سے نظریں چرائے آج بھی ایستادہ ہیں۔ ادھورے اور محروم شجر۔

٭٭٭

 

 

 

 

کلمہ و مہمل

 

سرد اداس موسم میں رات جلد اتر آتی ہے۔ سب لوگ اپنے اپنے کمروں میں آرام کے لیے جا چکے ہیں اور میں رائٹینگ ٹیبل پر بیٹھی ہاتھ میں قلم تھامے اپنی یادوں کی ڈائری کھولے بیٹھے ہوں۔ میرے ارد گرد کئی کاغذ بکھرے پڑے ہیں۔ لفظ کے معنی اور مفہوم کی کھوج نے مجھے لکھنے کی ایسی عادت ڈالی کہ میں حروف سے الفاظ جوڑتی رہتی ہوں۔ دنیا میرے لیے ایک رنگین پہیلی ہے جو فلک سے زمین تک کسی پینٹینگ کی صورت میں اپنا دامن پھیلائے آویزاں ہے۔ میں نے اپنے اردگرد بکھرے کبھی نہ ختم ہونے والے سکوت میں بستیاں، دریا، پہاڑ، وادیاں، پھول، چشمے اور خوبصورت پرندے دیکھ کر سوچتی ہوں کہ یہ سب رنگ جب کلام کرتے ہوں گے تو کیسی آوازیں آتی ہوں گی ؟ جب جھرنا گرتا ہے، دریا ٹھاٹھیں مارتا ہے اور تیز ہوا میں بسی پتوں کی خوشبو ہمیں چھو کر گزرتی ہے تو سرگوشیوں کا سماں بھی بندھتا ہو گا؟ جب لوگ کسی دھن پر سر دھنتے ہیں تو ان کے اندر آخر کونسی تحریک ارتعاش پیدا کرتی ہے۔

باہر سے نامراد ہو کر میں نے اپنے اندر جھانک کر اندرونی آوازوں کو سننے کی کوشش کی تو بارہا مجھے ایسا لگا گویا باریک ریشم کے کئی تار آپس میں الجھ گئے ہیں اور میں انہیں سلجھانے کے جتن کر رہی ہوں کبھی کبھار یہ تار پھیل کر ایک چادر سی تان لیتے ہیں تو کبھی الجھنیں ہی الجھنیں حواس پر چھا جاتی ہیں۔

جب ہوش سنبھالا تو اپنے چاروں طرف ماں کو پایا۔ بن کہے جاننے والی ماں کے لیے میرا وجود کئی آزمائشوں سے بڑھ کر تھا۔ لوگوں کی ہمدردی اور تاسف بھری نظریں وہ پہلی تحریر تھی جو میں نے چہروں پر لکھی پڑھی۔ کئی بار افسردہ ہو کر ماں کو رات کے آخری پہر سجدے میں روتے گرگڑاتے دیکھا۔ ان کا خیال تھا کہ شاید اس طرح ان کے آنسو مجھ سے پوشیدہ رہیں گے مگر ایسا نہ تھا۔ میں ماں کو اس کی خوشبو سے پہچانتی تھی اور جس پل بھی وہ خوشبو مجھ سے دور ہوتی یا پریشان ہوتی تو مجھے علم ہو جاتا۔ ہاں مگر تب مجھے یہ بات سمجھ میں نہ آتی کہ آخر میں نے ایسا کیا کر دیا ہے جو ماں چھپ چھپ کر روتی ہے۔ اگر کسی پل ماں کی توجہ دوسری جانب ہوتی تو میں آ آ آؤ کی صورت آوازیں دینا شروع کر دیتی۔

میری پیدائشی طور پر سماعت اور نتیجتا گویائی سے محرومی نے میرے والدین کو جس دباؤ کا شکار کیا اس نے مجھے بہت حساس بنا دیا۔ میں نے بہت جلد لوگوں کے چہرے پڑھنا سیکھ لیے۔ لبوں کی جنبش سے لے کر آنکھوں کے کنارے تک ابھر آنے والی ہر لکیر میرے لیے پیغام رسانی کا کام کرتی۔ مسکراہٹ، غصہ، بیزاری، ہمدردی، نفرت یا محبت سب کی تحریر چہرے کے زاویوں اور آنکھوں میں الگ خطوط میں نمایاں ہوتیں۔ تاثرات کے رسم الخط میں لکھی یہ تحریریں اکثر اوقات بہت تکلیف دہ ہوتیں۔ کیونکہ جب بھی میں جواباً کچھ کہنے کی یا بتانے کی کوشش کرتی تو میری آ آؤ نما آوازوں سے دوسروں کے چہروں پر پیدا ہوئی بیزاری مجھے مزید کوئی آواز بلند کرنے سے روک دیتی۔ اس لیے خاموشی سے اپنے ماحول اور دنیا کے ساتھ مطابقت کو سیکھنے کا سلسلہ جاری رہا۔ کچھ ہی برسوں میں میں اپنے کئی چھوٹے موٹے کام خود سرانجام دینا سیکھ رہی تھی مگر میری سماجی نشو و نما بہت سست رہی۔ ہر وقت صرف ماں یا باپ کے آگے پیچھے پھرنا اور ہر کام ہر ادھوری بات پر صرف انہی پر انحصار کرنا میری مجبوری تھا۔ دوسرے لوگوں یا ہم عمر بچوں کے ساتھ کمیونیکیشن گیپ ایک بڑا مسئلہ تھا۔

کچھ برسوں بعد مجھ سے چھوٹے جڑواں بھائیوں کی آمد سے ماں کی ذمہ داریاں مزید بڑھ گئیں مگر گھڑی کی پھسلتی سوئیوں سے بھی زیادہ مصروف ماں کی پہلی ترجیح میری ذات ہی رہی۔ اسی دوران میری تعلیم و تربیت کے لیے مناسب اسکول کی تلاش شروع ہوئی تو مجھے معذور بچوں کے سکول میں داخل کرا دیا گیا۔ سپیشل ایجوکیشن اسکول میں جو پہلا مثبت احساس ملا وہ یہ تھا میں اس مشکل میں اکیلی نہیں ہو بلکہ دنیا میں ایسی لاتعداد کہانیاں بکھری پڑی ہیں اور اب مجھے اپنی محرومی پر دل گرفتہ ہونے کی بجائے اپنے اندر الجھی ریشم کی ڈوریوں کو سلجھانا ہے۔ سائین لینگویج سیکھنے کے ساتھ پڑھنا لکھنا شروع کیا تو مجھے اس بات کا ادراک ہوا کہ میں خود پر بھروسہ کر سکتی ہوں۔ خود پر بھروسہ کرتے ہوئے اپنے محسوسات کی ترسیل کے لیے میرا سب سے پہلا رشتہ پنسل رنگ اور برش سے جڑا۔

مجھے اپنے چھوٹے بھائیوں سے بے پناہ محبت شاید فطرت میں ودیعت ہوئی تھی۔ ماں کے ساتھ ان کے چھوٹے موٹے کام کرتی میں پھولی نہ سماتی۔ جب وہ میرے بالوں میں بنی ننھی پونیاں کھینچتے تو بجائے کوفت کے مجھے ان پر پیار آتا۔ میرا دل چاہتا کہ کہیں کسی پہاڑ کے دامن میں چشموں کے قریب ہم تینوں بہن بھائی سبز گھاس کے مخملی فرش پر اپنا چھوٹا سا گھر بنائیں اس میں دھواں اگلنے والی چمنی ہو، چھت کے کھپروں پر برف جمی ہو یا کسی درخت کے اوپر پیارا سا ٹری ہاؤس ہو اور اس ٹری ہاؤس میں بیٹھ کر میں گھنٹوں پرندوں اور بادلوں سے خامشی کی زبان میں ہم کلام رہوں۔ سب نظاروں سے رنگ چرا کر اپنی پینٹینگ میں بھر دوں۔ جہاں آبشاریں چشمے اور بارش کا پانی ہر روز پھولوں کا چہرہ دھو ڈالیں اور گھاس کی ایک ایک پتی کی نوک تک سنوار دیں۔ شبنم کے قطرے ہیروں کی مانند پنکھڑیوں کا زیور بنے رہیں۔ سورج شام کے ان نظاروں کو خدا حافظ کہنے لگے تو مہندی کا رنگ افق کے ہاتھوں پر پھیلا دے۔ مہندی سے یاد آیا مجھے مہندی بہت پسند ہے اس کی خوشبو مجھ سے ہم کلام ہوتی ہے اور چیڑ کے درختوں کی بھینی مہک مجھے کسی اور دنیا کی کہانی سناتی ہے۔ ہر مہک کی اپنی زبان میں الگ پیغام دیتی ہے۔

جلد ہی مجھے اپنے دونوں جڑواں بھائیوں کی ہر ادھوری بات سمجھ آنے لگی تھی اور وہ بھی باتیں کرنا سیکھنے کے علاوہ سائین لینگویج بھی سمجھنے لگے۔ ماں ان دونوں کو آیا کے پاس چھوڑ کر اسی طرح میرے ساتھ سائین لینگویج سیکھتی اور سپیچ تھیراپی سنٹر میں گھن چکر بنی رہتی۔ سماعت سے مکمل محرومی سپیچ تھیراپی میں سب سے بڑی رکاوٹ ثابت ہوئی۔ سائیں لینگویج سے حروف اور الفاظ کی پہچان کے بعد میں پڑھنا سیکھ گئی تھی مگر میرے والدین کی بڑی شدید خواہش تھی کہ میں کچھ ضروری اور اہم الفاظ کو ادا کرنا بھی سیکھ لوں۔ مگر کئی ماہ کی سپیچ تھیراپی کے بعد بھی میرے ٹوٹے حروف الفاظ کا روپ نہ دھار سکے۔ میں بہت کچھ کہنا چاہتی ہوں۔ کتنے ہی الفاظ میرے ذہن کی غلام گردشوں میں گلا گھٹ جانے سے ہلاک ہو جاتے ہیں۔ کئی الفاظ کونوں کھدروں میں چھپے، مفہوم ادا کرنے کی سعی لا حاصل کرتے حیراں لب بستہ، ڈرے سہمے ادھ موئے رہ جاتے ہیں۔ میں سوچتی ہوں کیا یہ کبھی کلمہ بننے کا شرف حاصل کر پائیں گے یا مہمل ہی رہیں گے ؟

بے معنی الفاظ کی محرومی کو تصاویر اور پینٹینگ میں ڈھالنے کا سلسلہ جاری رہا۔ کم سنی میں ہی قلم اور برش میری زباں بن گئے۔ جہاں تخیل کی سبز مخملی گھاس پر میرے خواب پرندوں کی صورت محو پرواز رہتے۔ پھر ایک دن ایسا ہوا کہ سبز مخملیں گھاس میں کنکھجورے رینگتے ہوئے داخل ہوئے اور میری تصوراتی دنیا کی خوبصورت تصویر میں پہلی سنگین بد صورتی سرسرانے لگی۔ یہ سکول بس کے کنڈیکٹر کا ہاتھ تھا جو سب سے نظریں بچا کر میری فراک کے اندر رینگتا رانوں تک چلا گیا۔ مجھے شدید الجھن ہونے لگی۔ میرا دل چاہا کہ میں چلا کر کسی سے کہوں یا اس کے ہاتھ پر کوئی کیڑے مار زہر انڈیل دوں اور یہ کنکھجورے جیسے ہاتھ پھر کبھی میرے جسم پر رینگنے کی کوشش نہ کریں۔ میں کچھ نہ کر پائی اور کسی کو بتا تو سکتی نہیں تھی مگر اس واقعے کے اثرات اس طرح نمایاں ہوئے کہ میں نے اجنبی لوگوں سے جھجکنا اور کترانا شروع کر دیا۔ سکول بس میں کھڑکی کی طرف سمٹ کر بیٹھتی اور کسی بھی محفل میں سب سے الگ گم سم بیٹھی رہتی۔ میرا ہاتھوں کی مدد سے شور شرابا اور چیخنا چلانا اپنی ہم جماعت لڑکیوں اور گھر والوں تک محدود ہو گیا تھا۔ میں نے سیکھ لیا کہ مجھے اپنی کمزوریوں کے ساتھ سمجھوتا کرنا ہے۔ اور لوگوں سے اپنی اس محرومی کو چھپانا بھی ہے۔

اس طرح میں نے آ آ آ اووو جیسے واولز میں چلانا چھوڑ دیا۔ اور سنجیدگی سے ساری توجہ اپنی پڑھائی کی جانب مرکوز کر دی۔ میں نے ہزاروں الفاظ پڑھنا سیکھے ان کا مفہوم سمجھا۔ بہت جلد میں یہ جان گئی تھی کہ اپنی زندگی کو کسی مثبت رخ سے سنوارنے کے لیے یہ حروف جو بامعنی الفاظ کو جنم دیتے ہیں، کلیدی حیثیت رکھتے ہیں۔ ٹین ایج میں پہنچ کر مہمل الفاظ کا کرب اور زیادہ بڑھ گیا۔ بڑی ہونے کے ساتھ جہاں مجھ سے وابستہ توقعات اور ذمہ داریوں میں اضافہ ہوا وہیں کئی جسمانی تبدیلیاں بھی چپکے چپکے آتی گئیں۔ لوگوں کے چہرے پر نئی طرز کی تحریر ابھرنے لگی۔ کئی آنکھیں ایکسرے مشین کی مانند میرے نمو پاتے جسم کا اسکین کرنے لگیں۔ وہی لوگ وہی راستے مگر راہگزر میں بیٹھا ہر شخص مجھے مشکوک نظروں سے گھورتا نظر آتا۔ میرے اڑوس پڑوس میں کئی انکل جو کبھی مجھے ایک گڑیا سمجھا کرتے تھے ان کی نظریں چوری چھپے میرے خدوخال کا جائزہ لیتیں تو میرا دل چاہتا کہ کوئی تو محرم راز ہو جسے یہ سب بتا سکوں۔ کچھ باتیں ایسی ہوتی ہیں جو آپ اپنے ہم عمر دوستوں سے تو بانٹ سکتے ہیں مگر اپنے والدین سے نہیں۔ اس عمر میں ایسا لگتا ہے کہ ماں یا باپ ہماری بات نہیں سمجھیں گے یا انہیں ہماری مشکلات کا صحیح ادراک نہیں ہو پائے گا اس لیے انہیں بتانے کا کوئی فائدہ نہیں۔

ہمارے گھر میں مہمانوں کو خدا کی رحمت سمجھا جاتا تھا۔ کوئی دن ایسا نہ ہوتا کہ گھر میں کوئی عزیز رشتہ دار، امی کی سہیلیاں یا ابو کے دوست نہ آتے۔ باورچی خانے میں گہما گہمی جاری رہتی۔ بڑھوتری کی اس عمر میں مجھے مہمانوں سے جھجھک ہونے لگی تھی۔ اس کی وجہ میرے جسم کے زاویوں میں تبدیلی نہیں تھی جیسا کہ سب لوگ یہی لکھتے ہیں۔ بلکہ اس کی اصل وجہ لوگوں کے چہروں پر ابھرتی تحریر میں تبدیلی تھی۔ یہ تبدیلی مجھے سینکڑوں پاؤں کے ساتھ رینگتے کیڑے کی مانند لگتی جیسے ایک دن کنڈیکٹر کا ہاتھ کنکھجورا بن گیا تھا۔ اسی دوران میری دوبارہ سے شروع ہونے والی سپیچ تھیراپی کو جاری ہوئے کئی ماہ گزر چکے تھے۔ ساتھ ساتھ سیکنڈری سکول کے امتحانات کی تیاری بھی کر رہی تھی۔ ماں نے مجھے خود انحصاری سکھانے کا تہیہ کیا ہوا تھا۔ مجھے کسی منزل تک پہنچانے کا جنون ان کی زندگی کا سب سے بڑا جذبہ تھا۔ دوسری بار سپیچ تھیراپی سے گزرتے وقت میں نے اپنے اندر کی سب توانائیوں کو سمیٹ کر ایک نقطے پر مرکوز کر لیا تھا۔ سپیچ تھیراپسٹ کے مطابق میرے حروف آ آ آو سے آں اور مآ تک ڈھل چکے تھے۔ تب ماں کی آنکھوں میں آس چمکتی تھی کہ میں جلد ہی حروف سے الفاظ ترتیب دے کر انہیں ادا کر سکوں گی۔

ایک دن جب ماں سو رہی تھیں گھر میں والد کے ایک مہمان آئے جنہیں ملازمہ ڈرائینگ روم میں بٹھا کر چلی گئی تھی۔ میں جو رات دیر گئے تک بھائیوں کی شرارتوں اور کھینچا تانی سے بچنے کے لیے ڈرائینگ روم میں اپنی واٹر کلر کی پینٹینگ مکمل کرتی رہی تھی، مہمان کی موجودگی سے لاعلم اس پینٹینگ کو لینے کے لیے وہاں چلی گئی۔ اچانک مجھے سامنے پا کر وہ شخص کھڑا ہو گیا۔ میں نے ہاتھ کے اشارے سے سلام کیا اور بتایا کہ والد گھر پر موجود نہیں ہیں۔ اس شخص نے بڑی دلچسپی سے مجھے دیکھا اور مجھ سے اشاروں میں بات کی۔

میری کچھ حسیات بہت تیز ہیں اور انہیں میں سے کوئی حس سائرن بجانے لگی تھی۔ مگر مجھے فوراً سمجھ نہیں آئی کہ کیا ہونے والا ہے۔ اچانک اس شخص نے شفقت کا چولا اتارا اور سر پر پھرنے والا ہاتھ میرے بدن پر رینگنے لگا۔ اور پھر وہ کنکھجورا ایک عفریت کی شکل میں ڈھلنے لگا۔ میرے سارے بدن میں خوف کی سرد لہر سرایت کرتی چلی گئی۔

میں کیا کروں ؟

کیسے خود کو اس شخص کی گرفت سے آزاد کراؤ؟

یہ ملازمہ اسے اندر کیوں بلا لائی۔ اور اب وہ خود کہاں چلی گئی؟ ماں سو رہی ہے اسے کیسے علم ہو گا کہ اپنے ہی گھر میں اس کی بیٹی کو کوئی ہراساں کر رہا ہے۔ پھر نجانے میرے اندر کہاں سے اتنی طاقت آ گئی کہ خود کو اس عفریت کی گرفت سے آزاد کراتے اسے ایک زور دار دھکا دیا اور چلا کر اونچی آواز میں کہا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

آں مآ مآ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

ماما۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ماما۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور وہ عفریت دروازہ کھول کر باہر نکل گیا۔

وہ مہمل شخص تو اپنے خبیث ارادے میں ناکام ہو کر باہر نکل گیا مگر اس دوران اپنا دفاع کرتے وقت میں نے اپنے اندر کی تمام تر توانائی کو سمیٹ کر مہمل سے ایک بامعنی کلمے کا سفر کیا تھا جس میں کئی ماہ کی سپیچ تھیراپی کی کوششیں بھی شامل تھیں۔ تب مجھے اس بات کا شدت سے احساس ہوا کہ سماعت کو بصارت پر فوقیت کیوں حاصل ہے۔ نابینا کتنی آسانی سے بول سکتے ہیں اور سیکھ سمجھ لیتے ہیں۔ مگر میرے لیے حروف جو کتابوں پر الفاظ کی صورت جگمگاتے ہیں ایک پہیلی کیوں بنے رہتے ہیں۔ کاغذ پر لکھے اس لفظ کا یہ مطلب ہے ؟ اتنی سی بات سیکھنے میں مجھے کتنی مشقت اٹھانا پڑتی رہی اور سننے والے کیسے آرام سے وہ سب الفاظ اپنی زبان سے ادا کر دیتے ہیں۔ جہاں میں ایک چھوٹا سا لفظ، جو دن رات میری ہر طرح کی ضرورت پوری کرتی مشکلیں سہتی، حوصلہ بڑھاتی ماں کے وجود کا اظہار کر رہا تھا۔

“ماما۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ماما۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ”

کس کرب سے گزر کر ادا کر پائی گویا اس لفظ کو میں نے اپنے شعور کی کوکھ سے خود جنم دیا ہو۔

اور ماں یہ لفظ سن کر خوشی سے سرشاری سے کتنا روئی تھی۔ کہ میں فوری طور پر خود پر گزری بات بھی نہ بتا پائی۔

اس حادثے کے بعد بجائے خوف زدہ ہونے کے میں نے ہمت اور جرأت سے حالات اور لوگوں کا سامنا کرنا سیکھا۔ زبان ہوتے ہوئے بھی زبان بریدہ ہونے کا احساس تو باقی رہا لیکن اسے اپنی رکاوٹ نہ بننے دیا مسلسل کوشش اور محنت سے تعلیمی مدارج طے کرتی چلی گئی۔ اپنی ہر محرومی اور اندرونی دباؤ کے مرتبان پر ایک ڈھکن رکھ دیا تھا۔ تعلیم مکمل کرنے کے بعد انفارمیشن ٹیکنالوجی سے منسلک ایک ادارے میں مجھے جاب مل گئی۔ یوں اپنی ذات کے ادراک کے سفر میں کئی اچھے برے دنوں سے گزرتی اعلی تعلیم کے دوران اور پھر نوکری پر اپنے بیرونی اور اندرونی دباؤ کے خلاف ڈٹی رہی ہوں۔

محبت شادی اپنا گھر بار یہ سب ابھی تک میرے لیے پہیلیاں ہی ہیں۔ شاید کسی دن یہ پہیلیاں بھی سلجھ جائیں یا شاید ہمیشہ الجھی رہیں۔ تنہائیاں کبھی کبھی عذاب بن جاتی ہیں۔ طاقت گفتار نہ ہو تو اپنا معمولی درد بھی بیان نہیں کیا جا سکتا۔ ماں بن کہے ہی سب سمجھ جاتی تھی مگر اسے جانے کی جلدی تھی وہ مجھے بہت جلد چھوڑ گئی۔ پھر یہ عالم ہوا کہ نوکری کے ساتھ اپنے کام کاج کرتے کبھی تھکن کا گلہ بھی نہ کر سکی۔ کسی کو یہ نہیں بتا سکی کہ سر میں درد بھی ہے۔ میری خواہش کیا ہے یا میں سوچ کیا رہی ہوں میرے بھی کچھ خواب ہیں۔ تنہائی سی تنہائی ہے۔ بھائی اور اسی سال گھر میں آنے والی بھابھیاں اپنے اپنے کمروں میں آرام کرنے جا چکے ہیں۔ اور منجمد کر دینے والے سرد موسم میں گیس ہیٹر جلائے میں اپنی یادوں کی پٹاری کھولے حروف سے الفاظ بن کر انہیں رقم کر رہی ہوں۔ یہ الفاظ ہی میری آواز ہیں۔ یہ اب مہمل نہیں رہے، کلمہ بن کر خاموشی کی زبان مین دیر تک مجھ سے گفتگو کرتے ہیں۔ یہی اب میرے سچے ساتھی ہیں۔

٭٭٭

 

 

 

 

کینچوا

 

احمد ساری رات نہ سو سکا تھا، بے چینی اور تلخی سے کبھی پہلو بدلتا تو کبھی کھجلی شروع کر دیتا اسی دوران رہی سہی کسر ٹونی نے بھونک بھونک کر پوری کر دی۔ ایک لمحے کے لیے بھی میرے بچے کو سکون کی نیند میسر نہ آئی تھی۔ ایسے میں بھلا ماں کو قرار کیسے آتا۔ ۔ ۔ ۔ آخر ہوا کیا اور کیوں ؟ انھیں سوچوں میں غلطاں و پیچاں رہی، کبھی عجیب واہمے ستاتے، کہیں کسی کی نظر نہ لگ گئی ہو میرے لعل کو ؟ کوئی نئی الرجی نہ ہو ؟

محض دو سال کا ہی تو تھا، گورے رنگ میں ویسے ہی سکن انفیکشن کی مدافعت کم ہوتی ہے، اگر احمد کو مچھر بھی کاٹ جاتا تو کئی دنوں اس کا نشان نہ جاتا تھا۔ اس لیے میں ہمیشہ بہت احتیاط کرتی۔ گھر کے کونوں کھدروں کی صفائی سے لے کر مچھر بھگانے والے سیال بھی تواتر سے لگائے رکھتی تھی۔

صبح ہوئی تو دیکھا کہ اس کی کہنیوں کے اندر ہلکے سفید اور سرخی مائل دانے بنے ہوئے تھے۔ میں ڈر گئی کہ کہیں خسرہ تو نہیں نکل رہا، مگر پھر سوچا کہ ساتھ بخار تو ہے نہیں اس لیے یہ خسرہ نہیں ہو سکتا۔ جب سے پاکستان گئی تھی احمد سارا دن ٹونی کے ساتھ کھیلتا رہتا، کئی بار روکنے کی کوشش کی مگر بے سود، اور ہمارا پالتو کتا ٹونی بھی گویا مہینوں سے احمد کا ہی منتظر تھا، جب بھی احمد اس کے کینل کے قریب جاتا وہ دم ہلا ہلا کر خوشی کا اظہار کرتا، اگر کھلا ہوتا یا رسی لمبی ہوتی تو اس کے پاؤں چاٹنے سے بھی باز نہ آتا۔ تب مجھے سخت کوفت ہوتی اور فوراً نہلانے کے بعد اس کے کپڑے تبدیل کرتی۔ دل میں ایک اور خدشے نے سر ابھارا کہیں ٹونی کی وجہ سے کوئی انفیکشن نہ ہو گیا ہو۔

جب صبح گھر والوں سے احمد کی نئی الرجی کا ذکر کیا تو اس کی دادی کہنے لگیں اتنے واہمے مت پالا کرو۔ بچوں کے سر پر چھوٹی موٹی تکلیفیں آتی رہتی ہیں۔ یہ کوئی ایسی خاص بات نہیں خشکی کی وجہ سے خارش ہوئی ہو گی اور فکر مت کرو ٹونی کی ساری ویکسین کروائی ہوئی ہے۔ مگر میرا دل کہہ رہا تھا کہیں نا کہیں کوئی گڑ بڑ ضرور ہے۔

ہمارے گھر کے ساتھ ایک کمرے، برآمدے، چھوٹے سے باورچی خانے اور غسل خانے پر مشتمل کوارٹر بنا ہوا تھا، جسے میری ساس نے ایک مجبور عورت کو بغیر کرائے کے رہنے پر دیا ہوا تھا، بدلے میں وہ گھر کے کاموں میں ہاتھ بٹا دیتی تھی۔ وہ کوارٹر ہمارے گھر کے پچھلے صحن سے جڑا تھا اور بیچ میں کوئی دیوار نہ تھی۔ سارا دن ہمارے بچے ادھر سے ادھر دندناتے پھرتے۔ اس عورت فوزیہ کے تین بچے تھے جن میں سے ایک بیٹا حارث معذور تھا۔

اس دن عرصے بعد جب کسی کام سے کوارٹر کا رخ کیا تو حارث کو دیکھ کر ٹھٹھک گئی۔ سانولی رنگ اور موٹی آنکھوں والا بچہ بہت خوبصورت تھا، اس کی کالی سیاہ سرمگیں آنکھیں تھیں جن کی سپیدی بہت نمایاں تھی۔ ان پر لمبی گھنی پلکیں سایہ فگن محسوس ہو رہی تھیں، سر پر چمکدار گھنے بال اور تیکھے نقوش تھے۔ وہ زمین پر رینگنے کی ناکام کوشش میں مصروف تھا۔ اس کا لباس اور پھر سارا وجود مٹی ہو رہا تھا۔ مگر مٹی اسے سمیٹنے میں ناکام نظر آ رہی تھی۔ اس کی آنکھیں گفتگو کر رہیں تھیں اور ہونٹوں کے کناروں میں نرم تبسم رقصاں تھا، گویا مٹی کو دوستی کا پیغام دے کر کچھ پانا چاہتا ہو۔

مجھے ایسا محسوس ہوا گویا کسی نے میرا دل مٹھی میں لے کر بھینچ دیا ہو۔ میں نے فوزیہ سے پوچھا اسے کیا ہوا تھا؟

باجی آپ کو نہیں پتا ؟ اس کو پولیو ہوا تھا جی۔ ۔ ۔ ۔ فوزیہ نے جواب دیا۔ پولیو۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ میں نے تاسف سے کہا …

کیوں اس کی ویکسین نہیں کرائی تھی؟ اور جب پولیو کا بخار ہوا تب ہسپتال میں داخل کرواتی اگر اچھی دیکھ بھال ہو جاتی تو نقصان اتنا شدید نہ ہوتا۔

نائیں باجی حفاظتی ٹیکے تو لگوائے تھے جی اس کو۔ اور جب کبھی قطرے پلانے والی آتی ہیں تو جی ہم ہر بار اس کو قطرے بھی پلواتے ہیں۔ فوزیہ نے معصومیت سے جواب دیا۔

مگر اب قطرے پلانے کا کیا فائدہ ؟ قطرے پہلے پلانے تھے نا۔ میں نے کہا

باجی بس جو ہونا تھا ہو گیا اب تو جی۔ بس سارا دن اس بیچارے کی دیکھ بھال میں گزر جاتا ہے، کیا کروں دوسرے بچوں کو دیکھنے کا بھی وقت نہیں ملتا۔ ابھی اسی مہینے کچھ دن اوپر ہوئے تھے کہ دوائی کھا لی، یہ بیچارہ تو محتاج ہو گیا اب اور کیا کرنے ہیں، اسے کون سنبھالے گا ؟

اوہو مجھے بیحد افسوس ہوا اسی لیے اتنی کمزور لگ رہی ہو میں نے فوزیہ سے کہا۔

اسی دوران میرا بیٹا احمد کھیلتا ہوا اندر آ گیا۔ حارث کی آنکھوں میں جگنو چمکنے لگے۔

وہ بے زبان کینچوے کی مانند اپنے سوکھے ہوئے اعضا زمین پر گھسیٹنے لگا۔ اس کی آنکھوں میں ایک پیغام ابھرا ّّاس کی احساسات کی ترسیل صرف

احمد اسے اپنی توتلی آوازیں دینے لگا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

حا لث حالث ادل آؤ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

اور یہ سن کر کینچوے کی آنکھوں کی چمک کئی گنا بڑھ گئی۔ مٹی پر گھسیٹتے ہوئے دو قدم جتنا بھی بڑھ نہ پایا تھا کہ فوزیہ نے اٹھا کر باہر صحن میں چارپائی پر لٹا دیا۔ میں نے تاسف سے اس کا ہاتھ پکڑا۔ سوکھے سرکنڈے جیسے بازو زخم خوردہ تھے۔ جا بجا دانے دھبے اور پیپ کے نشان کچھ اور ہی کہانی بیان کر رہے تھے۔

شام کو احمد کے چیک اپ کے لیے ڈاکٹر کے پاس گئی تو میرا شک یقین میں بدل گیا احمد کو سکیبیز کا انفیکشن ہوا تھا۔ ڈاکٹر نے دوا لکھ دی احتیاطی تدابیر بتائیں پھر حیرت سے پوچھا کہ آپ سکبیز تک کیسے جا پہنچیں ؟ میں نے جواب میں صرف مسکرانے پر اکتفا کیا۔

رات کو میں فوزیہ کے پاس گئی اور پوچھا کہ حارث کو خارش کب سے ہے ؟ باقی بچوں کو بھی ہوئی ہو گی ؟ فوزیہ نے کہا باجی ایک سال ہو گیا باقی سب کو تو دوا سے آرام آ گیا تھا مگر اس کا پتا نہیں تھا۔ میں سمجھی بستر پر پڑے رہنے سے زخم بن رہے ہیں۔

یہ بیچارہ تو کھجلا بھی نہیں سکتا، باجی ہم نے بڑی دوائیں لگائی ہیں اس کو، پر آرام نہیں آتا۔

میں نے اسے دوائیاں اور لوشن دیتے ہوئے کہا: دیکھو فوزیہ تم سمجھدار ہو اگر صفائی رکھو گی تو اس کا انفیکشن ٹھیک ہو گا۔ مگر صرف صفائی ہی نہیں، دوا کے ساتھ تین دن تک صبح شام اس کے کپڑے اور چاردیں تبدیل کرو اور پھر انہیں ابلتے ہوئے پانی میں دھونا۔ ایک ہفتے میں سب زخم ٹھیک ہو جائیں گے۔

دس پندرہ دن بعد کی بات ہے، صبح سویرے اخبار گیٹ کے نیچے سے نکال کر میں احمد کے پیچھے پیچھے فوزیہ کے کوارٹر تک جا پہنچی۔ احمد کو دیکھ کر حارث اسی طرح ہمکنے لگا۔ احمد ادھر ادھر پھدک رہا تھا، اور حارث کی نظریں اس کا طواف کر رہی تھیں پھر احمد اپنی تین پہیوں والی سائکل چلانے لگا۔ حارث نے اٹھنے کی ناکام کوشش کی گویا سائکل پر بیٹھنا چاہ رہا ہو۔ فوزیہ حسرت سے اسے تک رہی تھی۔ جب میری نظر حارث پر پڑی تو وہ انتہائی محویت اور محبت بھری نظروں سے مجھے دیکھنے لگا، گویا میرا شکریہ ادا کر رہا ہو۔ اس کے سارے زخم مندمل ہو چکے تھے۔

اس پل دو معصوم بچوں کے درمیان ان کہی آفاقی محبت ہر شے پر بھاری پڑ رہی تھی۔

فوزیہ گیلی آنکھوں کے کناروں کو پونچھتے ہوئے کہنے لگی :

باجی میں کیسے آپ کا شکریہ ادا کروں ؟ آپ نے مجھ غریب پر اور اس بچے پر ایسا احسان کیا ہے کہ عمر بھر چکا نہیں پاؤں گی۔ یہ سن کر میں مارے خفت و ندامت کے نظریں چرانے لگی۔ حارث کی آنکھوں کی چمک نے مجھے ضمیر کے کٹہرے میں لا کھڑا کیا تھا۔ میں نے اپنا شرمسار چہرہ اخبار میں چھپا لیا۔ تب سرخی پر نظر پڑی کہ ملک گیر پولیو مہم میں کئی پولیو ورکرز شدت پسندوں کے حملوں میں جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

مجھے لگ رہا تھا کہ مجھ سمیت سارا شہر ایک چمکیلی آنکھوں والے کینچوے جیسے بچے کے سامنے نظر اٹھانے کے قابل نہیں رہا۔

٭٭٭

 

 

 

 

لپ سٹک

 

 

گرمیوں کے طویل دن تھے اور لو ایسی چلتی کہ چمڑی بھی جھلس جائے۔ سکولوں کالجوں میں گرمیوں کی چھٹیاں تھیں اور بچوں کی موج مستیاں عروج پر۔ اچھل کود اور درختوں پر چڑھنا تو معمول کی بات تھی، صابرہ جو پانچ بھائیوں کی اکلوتی بہن ہونے کی وجہ سے، ایک تو لاڈلی کچھ زیادہ ہی تھی دوسرے حرکتیں بھی لڑکوں والی ہی اپنا لی تھیں، ایک دن درخت سے گری تو پاؤں میں گہری چوٹ لگ گئی، کوشش کی کہ اماں سے چھپا لے مگر کیا کرتی درد اتنا شدید تھا کہ ٹانگ بھی ہلائی نہ جا رہی تھی۔ کچھ ہی دیر میں پاؤں میں سرخی کے ساتھ سوجن بڑھ گئی، سب بھائی بھاگے اماں کو بلا لائے۔ ماں نے گود میں اٹھا کر بستر پر لٹایا اور ابا کو بلا بھیجا جب تک ابا آئے، صابرہ نے رو رو کر برا حال کر لیا تھا، سب گھر والے الگ پریشان کہ اب کیا کریں ایک پڑوسی نے مشورہ دیا کہ شہر لے جا کر ڈاکٹر سے پلستر چڑھوا لو۔ صابرہ کی پاؤں کی ہڈی ٹوٹ گی ہے۔ کسی دوسرے نے مشورہ دیا کہ نا بابا نا ایک تو اتنی گرمی اور لو، اب اگر پلستر کروایا تو ماس گل جائے گا۔ آخر کافی بحث کے بعد یہ طے پایا کہ صابرہ کے پاؤں کی ہڈی ساتھ والے گاؤں کے پہلوان سے چڑھائی جائے گی۔ ذرا شام ہوئی تو ابا صابرہ کو لے کر پہلوان کے پاس چلے گئے کہ ہڈی چڑھائی جا سکے۔ پہلوان کے آباء و اجداد پشتوں سے یہی کام کر رہے تھے، سب کو پورا بھروسہ تھا کہ صابرہ آٹھ دس دن میں بھلی چنگی ہو جائے گی۔ پہلوان نے لال رنگ کا تیز چبھنے والا تیل لگا کر جب مالش کی اور کھینچ کر ہڈی کو برابر کیا تو صابرہ کی اتنی چیخیں نکلیں کہ وہ نڈھال ہو گئی۔ ابا نے جلدی سے شربت کی بوتل منہ سے لگائی صابرہ کا دھیان بٹایا کہ پاؤں پر پٹیاں آرام سے لگ جائیں۔ لکڑی کے فٹے اوپر نیچے رکھ کر صاف پٹیاں باندھ دی گئیں اور صابرہ کی تکلیف میں کچھ کمی ہوئی۔ کوئی دس دن بعد پٹی کھلنی تھی۔ صابرہ نے دس دن بستر پر ہی گزارے اور خوشی خوشی ابا کے ساتھ پٹی کھلوانے گئی۔ پٹی تو کھل گئی مگر صابرہ نے جب پاؤں پر چلنا چاہا تو چال میں لنگ تھا۔ پہلوان نے مالش کا تیل ساتھ دیا اور کہا کہ گرم نمک کی ٹکور اور اس تیل کی مالش سے چند دنوں میں لنگ جاتا رہے گا۔

اس کی ماں کہتی تھی کہ ہونی کو کون ٹال سکتا ہے ؟ صابرہ کے مقدر میں لنگ کا دکھ لکھا تھا۔ ہزار حیلے کرنے کے باوجود لنگ کم تو ہو گیا مگر ختم نہ ہوا۔ اب گرمی، لو یا پہلوان کسی کو دوش دینے کا کوئی فائدہ ہی نہیں تھا یہ سوچ کر صابرہ نے بھی صبر کر لیا۔ اس چوٹ نے صابرہ کی زندگی ہی بدل دی، اگرچہ وہ اپنے ماں باپ کے علاوہ پانچوں بھائیوں کی آنکھ کا تارہ تھی مگر وہ شوخیاں باقی نہ رہیں تھیں۔ کھیل کود تو اسی دن چھوٹ گیا تھا آٹھویں کے بعد سکول بھی چھوڑ دیا کیوں کہ گاؤں میں لڑکیوں کا سکول آٹھویں تک ہی تھا۔ شہر جا کر پڑھنے کی ہمت اس لیے بھی نہ ہوئی کہ صابرہ کو کونسا پڑھ لکھ کر نوکری کرنا تھا۔ بچپن میں ہی دور رشتے کے تایا کے گھر نسبت طے تھی۔ تایا کا ایک ہی بیٹا تھا جسے تائی صرف دو سال کی عمر میں بلکتا چھوڑ کر چل بسی تھی۔ تایا نے سوتیلی ماں کے ظلم کے ڈر سے دوسری شادی نہیں کی اور اپنی بھری جوانی بھی اکیلے گزار دی تھی۔

ان سب باتوں سے قطع نظر صابرہ کے وہی خواب تھے، وہی امنگیں۔ سکول چھوٹا تو فارغ وقت میں خواتین کے ڈائجسٹ پڑھ کر وقت گزاری کرتی اور کبھی سلائی کڑھائی، کھانا پکانا۔ سلائی سے صابرہ کو بہت چڑ تھی صاف انکار کر دیتی، مگر کھانا پکانا سیکھا نے سے ماں نے جان نہ چھوڑی۔ ماں کہتی ارے بیٹی تو پرایا دھن ہے اگلے گھر بھی سدھارنا ہے۔ نہ ساس نہ نند ارے تو تو بڑی قسمت والی ہے، آگے کوئی جھنجھٹ نہیں۔ مگر جاتے ہی گھر تجھ کو سنبھالنا ہے۔ وہاں کوئی تجھے سکھانے والا نہیں ہے، جو سیکھنا ہے ابھی سیکھ۔

یہی بات اکثر صابرہ کی سہیلیاں بھی کرتیں اور اس کی قسمت پر رشک کرتیں کہ نہ ساس نہ نند۔ بس صابرہ ہو گی اور اس کا راج ہو گا۔

صابرہ کے تایا اور ہونے والے سسر غلام حسین زمیندارہ کرتے تھے۔ اور ملتان راجن پور میں آموں کے باغات تھے، کھیتوں میں تربوز اور خربوزے کی کی کاشت کرواتے، اللہ نے روزی میں خوب برکت دی تھی، کئی مزارعے تھے مگر ہر کام اپنی نگرانی میں کروانا ان کا شیوہ تھا۔ دوسری شادی نہیں کی تھی لہٰذا غلام حسین اور اس کے بیٹے احمد علی کی زندگی ڈیروں اور باغوں میں ہی بسر ہوئی تھی، مہینوں شہر کا رخ نہ کرتے۔ مگر عید شبرات اور دیگر تہوار لازما اپنے رشتہ داروں کے ساتھ ہی گزارتے۔ اکثر رشتہ دار اب فیصل آباد شہر میں آن بسے تھے اور شہر کے ایک اچھے علاقے میں غلام حسین نے ایک کنال کا پلاٹ بھی لے رکھا تھا، بس انتظار اس بات کا تھا کہ کب بیٹا جوان ہو اور کب اس کے سر پر سہرا سجائے۔ بن ماں کے اولاد کی پرورش کوئی آسان نہیں ہوتی، اور پھر اپنی ہمسفر کی جدائی کا داغ بھی بھر گہرا تھا ان باتوں نے غلام حسین کے دل میں بردباری، نرمی اور رحم دلی کی صفات پیدا کر دی تھیں۔

ادھر احمد علی نے بیس کا سن گزارا ادھر غلام حسین نے شہر میں مکان کی تعمیر شروع کر دی، اپنی اکلوتی اور لاڈلی بہو کو وہ گاؤں میں نہیں بسانا چاہتا تھا۔ مکان تو بن گیا مگر عورت کے بغیر مکان کبھی گھر نہیں بنتا۔ اس لیے اب غلام حسین نے سمدھیوں کے گھر کی دہلیز پکڑ لی کہ تاریخ دیں، اب کے برس بیٹے کی برات لے کرہی آئے گا۔

شادی کی تاریخ طے ہوئی، صابرہ کی ماں کی پیٹیاں اور ٹرنک کھل گئے۔ اس کے ابا نے پرانے شیشم کے درخت کٹوا کر فرنیچر بننے دیا تو ماں نے دو دو پیٹیاں رضائیوں بستروں سے بھر دیں۔

دوسری طرف کی تیاری بھی عروج پر تھی غلام حسین نے مردوں والے سب کام، گھر کی تزئین رنگ روغن کروا دیا تھا، مگر بری بنانے کے لیے سمجھ نہ آئی۔ا پنی سب سے چھوٹی بھاوج ثمینہ کو جو وہیں شہر میں ایک کالج میں ملازمت کرتی تھی بری کے لیے خریداری کا کہا۔ چھوٹی بھاوج نے بری کی تیاری شروع کی، درزیوں کو سوٹ سلنے گئے۔ جوتی کا ناپ منگوایا گیا اور آخر پر میک آپ کی خریداری کا مرحلہ آیا۔

دلہن کا رنگ ڈھنگ کیسا ہے کونسا شیڈ جچے کا کوئی اندازہ نہیں تھا، بس جو رواج تھا سب خرید لیا گیا، پرفیوم نیل پالش، فیس پوڈر بلش ان کاجل مسکارہ۔ لپ سٹک خریدتے وقت ثمینہ کو سمجھ نہ آئی کہ کون سے شیڈ لے۔ تین لپ سٹک میڈورہ کی لے چکی تو جانے دل میں کیا آیا کہ دو ریولون کے شیڈ بھی لے لیے ایک ٹیرا کوٹا اور ایک ریڈ رمل۔

آخر وہ دن بھی آ ہی گیا جب صابرہ بیاہ کر آ گئی، گھر میں خوشیوں کے شادیانے تھے چراغاں تھا۔ شادی میں شریک ہر شخص خوش تھا صابرہ کے دل میں ہزاروں امنگیں تھیں، شادی گھر اور صرف اس کا اپنا راج یہ خیال ہی اس کو سرشار کیے ہوئے تھا۔ جب مقلاوے سے واپس آئی تو سب مہمان رخصت ہو چکے تھے۔ ڈریسینگ ٹیبل کے سامنے کھڑی ہو کر خود پر نظر ڈالی اور بیوٹی باکس کا پہلی بار دھیان سے جائزہ لینے لگی۔ اس کے دل میں ایک عجیب سی خوشی کا احساس پیدا ہوا۔ صابرہ کو ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے وہ دنیا کی حسین ترین عورت ہو۔ چاہے جانے اور سرا ہے جانے کی ایک فطری خواہش نے دل میں انگڑائی لی تھی۔ پہلی بار آئینہ اس سے گفتگو کرنے لگا تھا اس کے ہونٹوں پر ادھ کھلی کلیوں جیسی مسکان کھلنے لگی تھی جیسے اس کے ہاتھوں پر محض مہندی نہ رچی ہو بلکہ بہار کی آمد کا اعلان کرتی ہوئی مہک ہو۔

، مگر دوسری جانب احمد علی کا موڈ شادی کے اگلے دن سے ہی سپاٹ سا تھا اور کسی نے خا طر خواہ دھیان نہیں دیا۔ جب اس نے میک اپ کیا اور ریڈ رمل کی لپ سٹک لگائی تو جانے کیوں احمد علی آگ بگولہ ہو گیا، کہنے لگا میں نے شادی کی رات کی بتا دیا تھا کہ مجھے یہ چونچلے نہیں پسند۔ صابرہ رسانیت سے بولی اچھا ابھی تو کوئی اور نہیں گھر میں آپ کے سوا، ابھی نئی نویلی دلہن ہوں یہ دیکھیے کتنی پیاری لپ سٹک ہے۔ میں کسی لگ رہی ہوں ؟ علی احمد نے دونوں شیڈ کی لپ سٹک اس کے ہاتھ سے چھینیں اور زور سے زمین پر پٹخ دیں۔ ایک لپ سٹک سٹور میں دور کہیں پیٹی کے نیچے گھسی اور نظروں سے اوجھل ہو گئی۔ صابرہ کے دل کے ساتھ ساتھ پاؤں میں بھی شدید ٹیس اٹھی۔ علی احمد کی ناراضی کے پیچھے پہلی بار اپنے لنگ کا احساس اس شدت سے ہوا تھا کہ ہڈی چڑھواتے بھی اتنی تکلیف نہ ہوئی تھی۔ ریڈ رمل کی لپ سٹک فرش پر کتنی دیر گھومنے کے بعد ڈریسنگ ٹیبل کے نیچے ٹوٹی پڑی تھی۔

خود آگاہی کا لمحہ بہت تکلیف دہ ہوتا ہے۔ یہ تکلیف دہ لمحہ کبھی کبھی پتھر کو بھی پارس بنانے کا فن سکھا جاتا ہے مگر اس وقت صابرہ تو محض پتھر بنی سب دیکھ رہی تھی ایسا جمود طاری ہوا کہ گویا ہر سوال سے محروم ہو گئی ہو۔ مگر آگاہی کے اس لمحے میں یہ جان گئی تھی کہ شادی شدہ زندگی کیا ہے اور یہ ادراک بھی ہوا کہ اسے اپنے مسائل اسے خود حل کرنے ہیں، یہاں اس کے پانچ بھائی یا ماں باپ نہیں تھے جو اسے ہتھیلی کا چھالا بنا کر رکھیں گے۔ کہاں سسر کو بات بتانی ہے اور کہاں خاموش رہنا ہے، کونسا مسلہ کیسے حل کرنا ہے ؟ یہ سب ایک وجدان کی طرح اس پر اترے۔ مگر اس دن کے بعد سے اس کے ہونٹ ہمیشہ کے لیے لپ سٹک اور معصوم ہنسی سے محروم ہو گئے تھے۔

اگلے دن جب گھر کی صفائی کرنے لگی تو اس کے پسندیدہ رسالے اور ڈائجسٹ پلنگ کے نیچے پھٹے ہوئے اس کا منھ چڑا رہے تھے۔

کچھ دنوں بعد غلام حسین بیٹے اور بہو کو چھوڑ کر راجن پور روانہ ہو گیا، علی احمد جانے کہاں نکل جاتا اور صابرہ گھر میں اکیلی پڑی رہتی۔ کیا پکانا ہے کیا پہننا ہے یہ سب اس نے شوہر پر چھوڑ دیا تھا جو مل جاتا صبر شکر کر کے لے لیتی۔ اکثر خاموش رہتی اور اپنی ہستی کی گرہیں کھولنے کی کوشش کرتی۔ غلام حسین نے ایک دم سے سارے گھر کی ذمہ داری بیٹے پر ڈال دی تھی اور خود دوبارہ سے زمینوں اور ڈیروں میں ہی بسیرا کر لیا تھا۔ شاید اپنے بیٹے کو ذمہ داری اور گھر گھرہستی سکھانے کا اس سے اچھا طریقہ اس کے ذہن میں نہیں تھا۔ علی احمد نے شہر میں ہی اپنا کاروبار شروع کیا اور دو تین سالوں کی محنت سے اپنے پاؤں جمانے میں کامیاب ہو گیا۔

صابرہ کے ہاں پہلے بیٹی پیدا ہوئی اور اگلے ہی سال بیٹا پھر ہر سال گھر میں ایک نیا وجود آن موجود ہوتا۔ کبھی کبھی اسے لگتا کہ اس کی زندگی پر ایک جمود طاری ہے اور وہ برف کی ایک مورتی کی طرح قطب شمالی کے کسی کونے میں پڑی دھوپ نکلنے کا انتظار کر رہی ہے۔ اس کی چچی کہا کرتی تھی کہ شوہر سے ذہنی ہم آہنگی نہ ہو تب بھی بچے تو آ ہی جاتے ہیں بلکہ کچھ زیادہ ہی آتے ہیں زن و شو کا تعلق ایک الگ چیز ہے اور دل میں جگہ بنا لینا الگ۔ اگر اس تعلق میں محبت و مودت کی چاشنی شامل ہو تو کیا ہی کہنے۔ اور اگر روکھا پن آ جائے تو یہ جمود طاری کر دیتا ہے۔ جھاڑن پکڑ کر گھر کی گرد صاف کرنا بہت آسان ہوتا ہے مگر اپنے وجود پر جمی گرد جھاڑنا آسان مرحلہ نہیں ہوتا۔ لگاتار چار بیٹیوں کی پیدائش سے علی احمد کچھ دلگرفتہ تھا تو وہیں غلام حسین بے حد خوش کہ اس کا آنگن چہکاروں سے بھر گیا تھا مدتوں تپتے صحراؤں میں سفر کرتے کرتے یہ گھر اسے گھنا سایہ دار شجر لگتا۔ صابرہ پر پہ در پہ اتنی ذمہ داریاں پڑی تھیں کہ دو دو سال میکے جانے کا وقت بھی نہ ملتا۔

وہ اپنے لنگ کی خامی سے واقف تھی اور اپنے اندر کوئی مزید کمزوری پیدا ہونے نہیں دینا چاہتی تھی۔ چھ بچوں کی پیدائش کے بعد بھی اس نے اپنا وزن بڑھنے نہیں دیا تھا۔ میک آپ سے محرومی کے باوجود صاف شفاف رنگت، متناسب بدن کے ساتھ وہ اپنے لباس کا بھی خیال رکھتی، شوہر سے چھپا کر کہیں نہ کہیں سے میگزین اور ڈائجسٹ منگوا ہی لیتی، نت نئے فیشن کی اندھا دھند تقلید تو نہیں کرتی تھی مگر وقت اور رواج کے مطابق کپڑے سلواتی۔ کچھ ان میگزینز سے سیکھتی تو کچھ لوگوں کو دیکھ کر۔ انسان سکول کے نصاب سے اتنا نہیں سیکھتا جتنا ایک انسان کو پڑھ کر سیکھتا ہے۔ کوئی دیکھ کر یہ اندازہ نہیں کر سکتا تھا کہ صابرہ آٹھویں پاس اور گاؤں میں پلی بڑھی ہے۔ چھوٹی موٹی باتوں پر شوہر آگ بگولہ ہو جاتا اور وہ بہت سکون سے یہ سب دیکھتی مگر اپنے حواس پر طاری نہ کرتی۔ سسر سے کبھی ان باتوں کی شکایت نہیں کی تھی۔ ایک اندرونی احساس اس کی رہنمائی کرتا کہ کہ کب اپنے اختیارات استعمال کرنا ہیں اور کب چپ سادھنا بہتر رہے گا۔ کہاں شوہر کی ڈوریاں کھینچنی ہیں، کب، کہاں اور کتنی ڈھیل دینی ہے۔

علی احمد بھی آخر ایک مرد تھا اور مرد شاذ و نادر ہی ایک عورت پر مطمئن ہوتا ہے۔ اپنی فطرت سے مجبور ہو کر اس نے کالونی میں نئے آ بسنے والے ایک گھرانے کی لڑکی میں دلچسپی لینا شروع کی، یہ لوگ بطور کرایہ دار یہاں رہ رہے تھے اور قدرے آزاد خیال تھے۔ صابرہ نے اسے اپنی طرف سے ایک لفظ بھی نہ کہا، خاموش تماشائی بنی سب دیکھتی رہی علی احمد سمجھتا کہ گاؤں کی بدھو عورت کو کیا پتا فون پر کس سے بات کر رہا ہے اور کس سے معاشقہ لڑ رہا ہے مگر اسے عورت کی حسیات کا درست طور پر اندازہ ہی نہیں تھا۔ تین مہینوں بعد جب غلام حسین گھر آیا تو بہو نے بہت طریقے سے ساری کہانی سسر کے گوش گزار کر دی، بہو کی پہلی شکایت تھی، اگرچہ غلام حسین کو اپنے بیٹے کے جارحانہ رویوں کا بخوبی علم تھا مگر اس سے قبل صابرہ نے شوہر کی کسی بھی بدسلوکی کا شکوہ تک نہیں کیا تھا۔ چند مہینوں بعد ہی وہ لوگ اس کالونی کو چھوڑ کر کہیں اور منتقل ہو گئے۔ تب تک غلام حسین نے آموں کے باغات کا رخ بھی نہیں کیا۔

علی احمد کا کئی بار دل چاہتا کہ اس کی ازدواجی زندگی کا یہ جمود ختم ہو مگر کبھی بھی کھل کر صابرہ سے کہہ نہ پایا۔ صابرہ نے بھی گویا قسم اٹھا رکھی تھی کہ کسی تقریب پر بھی بناؤ سنگھار نہیں کرے گی۔ کئی بار وہ سوچتا کہ اپنے رویے میں پہلے ہی تبدیلی لے آتا تو اچھا تھا مگر اس سوچ کو عملی جامہ پہنانے میں انا آڑے آ جاتی۔

بہت ہی غیر محسوس طریقے سے صابرہ سب سے اہم ہستی بنتی چلی گی۔ غلام حسین کے باغات کی ساری آمدن اب صابرہ کے ہاتھ میں دھری جاتی۔ احمد علی کو اس نے کبھی اتنی ڈھیل نہیں دی تھی کہ باپ کی کمائی پر عیش کرتا پھرے۔ صابرہ نے اپنی پانچوں بیٹیوں کو کبھی اپنی کمزوری نہیں سمجھا تھا بلکہ انہیں اپنی مضبوطی میں بدل دیا۔ اولاد کی اچھی تعلیم و تربیت کے ساتھ ساتھ وہ نئے دور کے تقاضوں سے کبھی بے بہرہ نہیں رہی اور خود کو اور اپنی بیٹیوں کو روایات کی پابندی کے باوجود وقت کے قدم سے قدم ملا کر چلنا سکھایا۔ اولاد جوان ہو رہی تھی بیٹا ماں کا فرمانبردار تھا تو بیٹیاں کسی بات سے انکار نہ کرتیں۔ صابرہ نے انہیں ذمہ داری کے ساتھ مناسب آزادی بھی دی تھی۔

صابرہ نے بڑی لڑکی کی نسبت طے کر دی تھی اور اُس عید پر ان کا سمدھیانہ اپنی بہو کی عیدی لے کر آیا۔ جس میں دیگر تحائف کے علاوہ اس کے داماد نے اپنی منگیتر کے لیے باڈی شاپ کی کاسمیٹیکس کا بیگ بھی بھیجا تھا۔ علی احمد کسی کام سے اپنی بیٹی کے کمرے کی طرف گیا۔ وہاں وہ اپنے تحائف کھولے بیٹھی تھی۔ لپ اسٹک اور کلرنگز کے اتنے سارے شیڈز دیکھ کر وہ پھولی نہیں سما رہی تھی۔ چھوٹی بہنیں بھی باری باری سب شیڈ لگا کر آزما رہی تھیں۔ ان کے چہرے پر کچھ عجیب اور کچھ مانوس سی مسرت رقصاں تھی۔ یہ دیکھ کر علی احمد چپ چاپ دروازے میں سے ہی لوٹ آیا۔

کتنے دن گزر گئے، علی احمد روزانہ سٹور میں جا کر اور کبھی اپنے کمرے میں موجود ڈریسینگ ٹیبل کے نیچے کچھ ڈھونڈتا رہتا تھا۔ ایک معصوم سی ہنسی، چھوٹی سی ایک خوشی کہیں نظر نہ آتی۔ اس کے کانوں میں جلترنگ سے بجتے اور کبھی بے ہنگم شور کان پھاڑنے لگتا۔

ایک دن پیچھے مڑ کر دیکھا تو صابرہ شگفتہ چہرے کے ساتھ لپ سٹک سے محروم ہاتھ باندھے کھڑی تھی اور اس کے ہونٹوں پر بہت مبہم، بہت گہرا اور غیر محسوس سا تبسم تھا۔

٭٭٭

 

 

 

 

 رات کی مسافر

 

میرے حلق میں تمبوں کی کڑواہٹ اتری ہوئی ہے – دیکھ پرچھائیں ______ میری حیاتی میں سَنھ لگا کر تو یہ کیوں چاہتی کہ میں تیری چاپلوسی کروں تجھے مکھن لگاؤں اور تو بھونگوں کی طرح میرے قدموں کی مٹی تلے کھڈیں نکال لے ؟

دیکھ میں نے پہلے بھی تیری کسی ہم شکل کے سامنے اپنا من مارا تھا تو ہر بار بھیس بدل کے کیوں آ جاتی ہے – یا شاید میری نِیہہ کی مٹی زیادہ کولی ہے – پر اگر مٹی کولی ہے تو یہ نا مراد “میں ” کیوں نہیں مرتی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ آخر کیوں نہیں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ؟ کئی بار اسے سولی چڑھایا، بھانبڑوں میں راکھ کیا، دھول مٹی میں رول چھوڑا مگر یہ پھر بھی سانس لیتی ہے – اب مجھے لگتا ہے کہ یہ “میں ” اتنی فالتو بھی نہیں تھی – کہیں نہ کہیں اس کا مان رکھ کر میں اپنا اور ____ شاید کسی اور کا بھی بھلا کر سکتی تھی _____ شاید ابھی بھی کر سکتی ہوں –

میں نے اپنے من کے اندر جھانک کر دیکھا تو ایک طرف بڑی خیر تھی خیر ہی خیر ………… نرمی نیکی بھلائی جو موتیوں جیسی سُچل تھی … مگر وہیں پاس ہی بند ڈھکن کے ایک مرتبان میں اتنا شر بھرا پڑا تھا جسے کسی دوسرے خناس کی ضرورت نہیں –

دیکھ وہ ڈھکن پڑا رہنے دے ____

اگر اسے اٹھائے گی تو نِرا فساد مچے گا، مجھے اس مرتبان سے بڑا ڈر لگتا ہے –

دریا کنارے ریت پر بیٹھی وہ عورت خود کلامی کے انداز میں مسلسل بڑبڑا رہی تھی کہیں اس کے الفاظ بے ربط تھے تو کہیں مربوط – چودھویں کا چاند وادیوں صحراؤں اور مرغزاروں میں ہر سو اپنی نرم نیلگوں چاندنی بکھیرے ہوئے تھا۔ اَسوج کی نیم خنک رات تھی اور خشک ٹہنیاں شوں شوں کرتی ہوا کے ساتھ نقارے بجا رہی تھیں – دور کھیتوں سے گیڈروں کی مدھم آوازیں اور وقفے وقفے سے بھونکتے کتوں کی بھاری صدائیں ماحول پر وحشت طاری کیے ہوئے تھیں – پتن کے قریب ہی کچا گھڑا پڑا تھا – جانے کتنی مدتیں بیت چکی تھیں مگر یہ کچا گھڑا کسی نے نہ ہٹایا نہ بھٹی میں پکایا وہ چاندنی راتوں میں چمکتا اور اماوس کی گھور اندھیری راتوں میں ڈراؤنا ہو جاتا –

ہاں کئی بار سنا ہے کہ چاندنی رات میں ذی شعور لوگوں پر بھی دیوانگی طاری ہو جاتی ہے – سمندر میں جوار بھاٹا اٹھتا ہے تنکے کہرے کے ساتھ لپٹے انجانی منزلوں کے راہی بن جاتے ہیں – اور رات کی رانی کے مہکتے پودوں میں دو مونہے سانپ بسیرا کر لیتے ہیں۔ میں نے اس کے بالمقابل بیٹھتے ہوئے کہا –

اندیشے اندھیرے اور وسوسے عفریت ہوتے ہیں لڑکی – اور خواہشیں وہ سنپولیے جنہیں چُلیاں بھر بھر دودھ پلاؤ تو بھی ڈستی ہی ہیں – اس نے کھوئے ہوئے لہجے میں کہا –

  • • کیا تم سوہنی ہو؟
  • • نہیں
  • • تو پھر کون ہو؟
  • • وہ کمہارن جسے محبتوں نے ڈبویا، حسرتوں نے ڈسا اور انا نے زندہ رکھا ہے –

بھلا کبھی محبتیں بھی ڈبوتی ہیں ؟ میں نے حیرت سے اس کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے پوچھا –

ہاں یک طرفہ محبت کچے گھڑے اور بہتی لہروں پر بنے آشیانوں نے ایک نہ ایک ڈوبنا ہی ہوتا ہے –

  • • کمہارنیں بہت خوبصورت ہوتی ہیں۔ یونہی تو مہینوال اپنا دیس تیاگ کر چناب کنارے بسیرا نہیں کر بیٹھا تھا –

پتا نہیں ان کی مٹی میں کونسا فسوں ہوتا ہے کہ کئی حسن کوزہ گر زمانے بھر کی خاک چھانتے ایسی خاص مٹی کی تلاش میں گرد و غبار بن کر رہ گئے –

شاید اس کمہارن کی بھی کوئی ایسی ہی داستان ہو گی –

  • • ہاں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ شاید۔ ۔ ۔ ۔ ۔

مگر شاہدہ کوئی جہاں زاد نہ تھی وہ تو کمہاروں کی معمولی بیٹی تھی اس کے آباء و اجداد نے چند پشتوں سے برتن بنانے کا کام چھوڑ کر کھیتی باڑی شروع کر دی تھی – دس بیگہے زمین دو بھوریاں اور دو نیلی راوی نسل کی بھینسیں بھی تھیں، گھر میں کھلا رزق تھا اور کھیتوں کی مٹی میں خوش حالی بسی تھی – مگر محض اچھی صورت کسی کمہارن کی ہستی کو معمولی کے درجے سے اوپر تو نہیں اٹھا دیتی – مگر پھر بھی اس کے اندر کچھ تو خاص تھا – جب چار کوس دور دوسرے گاؤں کے ہائی سکول میں پڑھنے جاتی تھی تو اس کی گلابی رنگت صبیح چہرے اور ہلکی شربتی آنکھوں کے سامنے صبح کی کرنیں، سبز کھیت، بھرے کھلیان، کیا ربیع کیا خریف سبھی مانند پڑتے دکھائی دیتے – لامبا قد، بھرا بھرا گداز جسم، گندم کی بالیوں جیسے چمکیلے بال، نرم اور ہر وقت گرم رہنے والی ہتھیلیاں اکثر پسینے سے بھری رہتیں اور سڈول کلائیاں کبھی چوڑیوں سے محروم نہ ہوتیں –

وہ اتنی دلیر تھی کہ گاؤں کے بہت سے لڑکے بالے بھی ایسے دلیر نہ تھے سکول جاتے کھیتوں کے بیچ پگڈنڈیوں پر چلتے دو تین بار اڑنے والا ہرا کچور سانپ اور ایک بار سنگچور بھی مار چکی تھی – کبھی کماد میں سے گزرتے جنگلی سؤروں کی آوازیں آتیں تو بھی اپنی راہ نہ بدلتی – سارے گاؤں میں ڈھاڈھی کے نام سے مشہور تھی – غصہ ناک پر دھرا رہتا – لیکن پھر بھی ایک مقام ایسا تھا جہاں اس کا سب غصہ کافور ہو کر حسرت و رنج میں ڈھل جاتا –

اس کا بہت دل چاہتا کہ شہر میں رہے میٹرک کے بعد آگے کالج تک پڑھے جیسے اس کے ماموں کے بیٹے بیٹیاں پڑھتے ہیں – ہمیشہ کپڑے استری لگا کر پہنے مگر گاؤں میں اکثر بجلی بند رہتی – پھر بھی ایک آدھ جوڑا استری کر کے تہہ لگا کر بکسے میِں ضرور رکھا ہوتا۔ اسے باقی گھر والوں کے برعکس ساگ کھانے سے چڑ تھی اور مرغی کا بھنا گوشت پسند تھا –

وہ جانے کب سے سے اپنے من کے صنم خانے میں ایک شہری بت کی مورت سجا کر اس کی پرستش کرنے لگی تھی – ایسا بت جس کا تن تو ماس کا تھا مگر من اس کے لیے محض ایک پتھر تھا- شاہدہ جو ہمیشہ سے دلیر تھی بغیر جھجھکے اپنے دل کا حال اس ماموں زاد سے کہہ گئی – جانے کس آس میں مالٹے کی پھانک کی بجائے اس نے جنگلی تمبے کا ٹکڑا منہ میں ڈال لیا تھا۔ کمتر سمجھے گئے لوگوں کو یہ دنیا نہ محبت کا حق دیتی ہے نہ ہی پسندیدگی کا – اس نے شاہدہ کا وہ مذاق اڑایا کہ اس کے روئیں روئیں میں سدا کے لیے کڑواہٹ اتر گئی – معمولی کا لفظ کھرچ کھرچ کر روح پر لکھ دیا گیا –

بے اختیاری میں محبت نا پسندیدہ شخصیت سے ہو جائے تو کیسی کڑی آزمائش ہے – اندر ہی اندر سیلی لکڑی کی مانند محبت سلگ سلگ کر عشق میں ڈھلی تو من کی اوکوں میں مشک بھرنے لگی – عشق کی مہک اس کے روئیں روئیں سے پھوٹی تو اس کی ماں کو بھی خبر ہوئی تب اس نے فیصلہ کیا کہ اپنے بھائی بھاوج سے بیٹی کی خوشیوں کے لیے دامن پھیلائے گی – شاہدہ نے ماں کا ارادہ جان کر اسے سختی سے سوالی بننے سے منع کیا کیونکہ جواب کا ادراک بہت پہلے ہی ہو چکا تھا – مگر وہ اپنے آپ سے سوال کرتی آخر انسان آسمانوں سے وسیع محبتوں کو پیمانوں میں ڈال کر کیوں ماپتا ہے – مال و زر، ذات پات اور رتبے کے باٹوں میں کیوں تولتا ہے – اگر وہ شہر والوں کے مطابق واقعی معمولی ہے تو پھر اس کے اندر غیر معمولی ہونے کا احساس کیوں ہے ؟ وہ کیوں اپنے اردگرد موجود دوسرے لوگوں سے مختلف سوچتی مختلف چاہتی ہے ؟

اکثر اسے آدھے سر کا درد اٹھتا تو نڈھال ہو جاتی – ماں باپ کو فکر ہوتی آخر سارے گاؤں سے زیادہ خوش شکل تھی تو کہیں اس کی موہنی صورت کو کسی کی نظر نہ لگ گئی ہو – کسی ویران راہگزر میں جن بھوت کا سایہ نہ پڑ گیا ہو – وہ ان کے اس خیال کو جھٹلاتے ہوئے کہتی، ” با شعور لڑکیوں کو جن بھوت نہیں چمٹتے بس سوچیں کھوکھلا کر دیتی ہیں – ” کئی بار اس سر درد کے ساتھ کانوں میں بھی اتنا شدید درد اٹھتا کہ شدت کرب سے دہری ہوئی جاتی –

میٹرک پاس کرنے کے بعد کالج جانے کا کوئی وسیلہ نہ بنا – تانگوں ریڑھوں کے پیچھے بھاگتے دھول اڑاتے گاؤں کے بچوں سے بیزار اس کی کوشش ہوتی کہ شہر اپنے ننھیال میں کسی دوسرے ماموں یا خالہ کے گھر وقت گزار آئے – اس قیام کے دوران دبے دبے طنز کے نشتر اس کی ذات پر برستے رہتے اور اس سنگ دل کی خصوصی تضحیک کا نشانہ الگ سے بنتی –

پرانے وقتوں میں ہر چودھویں کے چاند کچھ لوگ دو موہنے سانپوں سے خود کو ڈسوایا کرتے تھے کیونکہ اس کے زہر میں انہیں ایک زود نشہ اور درد میں بے خودی کی عجیب لذت ملتی تھی – اِسی طرح وہ اپنی انا کو اُس شخص کی تضحیک سے بار بار مجروح ہوتے چپ چاپ دیکھتی – شاید اس درد اور زہر میں کوئی نشاط تھا یا کوئی اور جاں فزا احساس؟ پھر اس کے بعد آدھے سر کے درد سے نڈھال سیلی چھال کی مانند سوں سوں سلگتی سرخ اور خشک آنکھیں ایک ہی منظر تکتی رہتیں –

یہ انا بھی بڑی نا مراد ہے رونے بھی نہیں دیتی وار بھی سہتی ہے ختم بھی نہیں ہوتی – اور یک طرفہ محبت اس بھی بڑھ کر تکلیف دہ نہ یہ محبت جان چھوڑتی ہے نہ انا – میں کہاں جاؤں ؟

دیکھ ………… مت روندو اسے کسی کے قدموں تلے – تم اتنی بھی معمولی نہیں –

معمولی______ اس لفظ سے تیز گھنٹیاں کان پھاڑنے لگتیں، ہاتھی چنگھاڑنے لگتے ہواؤں کا شور آندھیوں میں بدل جاتا –

تم بے وقعت کیوں ہو؟ مت تضحیک کرواؤ اپنی یہاں شہر میں بیٹھ کر -جاؤ اپنوں میں لوٹ جاؤ ساگ روٹی کھاؤ – کھیتوں کے سبزے میں گھومو – یہ بے مراد محبت اس قابل نہیں کہ اس کی کی خاطر یوں رسوا ہوا جائے – وہ اکثر سوچتے ہوئے خود سے باتیں کرتی –

ماموں زاد کی شادی اس کی کسی دوست سے طے ہو چکی تھی – تصویریں دیکھیں تو ایک نئی تلخی رگ رگ میں سرایت کر گئی -معمولی نقوش اور پھیکی رنگت مگر تھی ورکنگ لیڈی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اسے بہت حسد ہوا پھر یہ احساس شدت سے ابھرا کہ کوئی نقوش معمولی نہیں ہوتے – لیکن انسان کی قدر، اس کی محبت ہر عہد کے پیمانوں میں الگ طرز سے ماپی جاتی ہے – کاش وہ بھی کالج میں پڑھتی شہر میں رہتی – اپنے اس دور کے پیمانوں میں سے کسی پیمانے پر پوری اترتی –

الجھے افکار اسے کسی بے آب و گیاہ دشت میں بھٹکاتے رہتے جہاں دریا کا کوئی کنارہ نہ ملتا – اگر کنارہ مل بھی جاتا تو دوسری جانب اس کا منتظر بھی تو کوئی نہیں تھا – بھلے کوئی منتظر نہ ہوتا مگر یوں معمولی ہونے کا طنز بھی تو نہ کرتا –

شدید محبت اور شدید نا پسندیدگی کی دو انتہاؤں کے بیچ وہ ہچکولے کھاتی رہتی -کبھی کوشش کرتی کہ اپنے رکھ رکھاؤ اور سلیقے سے خود کو مہذب و برتر ثابت کرے اور کبھی سوچتی کہ وہ اپنی زندگی کو کس دھارے پر متعین کرے ؟ شہر جہاں اس کی شدید خواہش کے باوجود زمین تنگ تھی یا وہ گاؤں جس کی نرم مٹی میں اس کے لیے محبت و پذیرائی تھی مگر اسے گاؤں کی اس لگی بندھی زندگی کی چاہت تھی نہ ہی گاؤں میں بسنے والے ان کئی گھرو جوانوں کی پروا جو اس پر مرتے تھے –

ماں باپ نے خوب دیکھ بھال کر ان میں سے ہی کسی گبرو سے اس کی نسبت طے کر دی تھی۔ اس لڑکے کے پاؤں خوشی سے زمین پر نہ ٹکتے مگر شاہدہ اس سے بے نیاز ہی رہی۔ ماں نے تنکا تنکا جوڑ کر اکلوتی بیٹی کا داج اکٹھا کیا تھا۔ وہ چشم تصور میں اپنی گوری چٹی سرخ رنگت والی بیٹی کو دلہن بنی سب کی آنکھوں کو خیرہ کرتے دیکھتی – لیکن اسے باقی سب لڑکیوں کی طرح شادی گھر داری اور کھونٹے سے بندھی بے زار زندگی گزارنے سے الجھن ہوتی – وہ سوچتی کسی طرح سہی وہ بھی اپنی زندگی بدلنے پر قادر ہوتی –

  • • انسان کی شخصیت اور صورت سب کے سامنے عیاں ہوتی ہے لڑکی ………… کوئی انسان کو خرید سکتا ہے بیچ سکتا ہے غلام بنا سکتا ہے، جنس بے مایہ سمجھ کر دھتکار سکتا ہے – مگر سوچوں اور خوابوں پر کسی کا اختیار نہیں خود خواب دیکھنے والوں کا بھی نہیں – نہ تو انہیں کوئی نوچ کر پھینک سکتا ہے نہ ہی ان کی تہہ تک پہنچ پاتا ہے۔

اس کے خواب اس کی سوچیں بھی ایک سربمہر راز تھیں جن تک کسی کی بھی رسائی نہ تھی – انہیں سوچوں سے اس کی رنگت کچھ زیادہ ہی سرخ ہونے لگی تھی سر کا درد بھی بار بار اٹھتا اور کانوں میں ڈھول بجنے لگتے – لوگ دیکھ کر کہتے شادی قریب ہے بہت روپ چڑھ رہا ہے رنگت کیسی سرخ و سفید نکھر رہی ہے –

شدید سردی کا دن تھا – کہرے نے سبزے کو ڈھانپ رکھا تھا – وہ کئی دن سے سر کے درد سے نڈھال تو تھی ہی مگر اُس دن آنکھوں کے آگے اندھیرا بھی چھانے لگا – سرخ اور خشک آنکھیں جو کبھی نہ روئیں تھیں بند ہوتی جا رہی تھی – بھاوج نے تلوؤں کی زور زور سے مالش کی گھر میں دہائی پڑی تو اس کا بھائی جلدی سے ٹریکٹر ٹرالی لے آیا کہ اس میں ڈال کر شہر علاج کے لیے لے جائیں –

شاہدہ نے اپنی بھاوج کو اشارے سے کہا کہ ٹرنک سے استری شدہ جوڑا نکال کر لے آئے – معمولی حلیے میں وہ ڈاکٹر سے دوا لینے بھی کبھی نہ گئی تھی – بھاوج نے نیا جوڑا پہنایا اور ٹرالی میں پرالی کے اوپر چادر بچھا کر اس پر لٹا دیا –

جب ٹرالی دریا کے پل پر پہنچی تو اس معمولی لڑکی نے جسے ہمیشہ غیر معمولی ہونے کا احساس ہوتا رہا، کی سانس اکھڑنے لگی – بھائی بھاوج گھبرا گئے ٹرالی روکی شور کم ہوا تو اکھڑی سانسوں میں اس نے شادی سے انکار کر دیا –

وہ کیوں مرے کیوں جان گنوائے ؟ کیوں نہ وہ اپنی زندگی کو الگ طرز سے جی کر دیکھے اپنے لیے جئے اپنے لیے مرے، خود سے بھی محبت کر کے دیکھے – اور اس کا بھائی خاموشی سے مان گیا –

وہ اپنے گاؤں کے پرائمری سکول میں بچوں کو پڑھانے لگی – ہمیشہ کپڑے استری لگا کر پہنتی، بال سلیقے سے بنا کر رکھتی کتابوں اور خوشبوؤں سے محبت کرتی رہی –

مگر وقت کسی کا لحاظ نہیں کرتا حسین سے حسین صورتیں ہوں یا تخت و تاج سب مٹی میں ملا دیتا ہے پس اس کے صبیح چہرے پر بھی جھریوں کا جال بچھ گیا – تنا ہوا سر جھکنے لگا اور کمر خمیدہ ہونے لگی –

اب بھی چاندنی راتوں میں وہ دریا کے پتن پر جاتی ہے جہاں مدتوں سے ایک کچا گھڑا دھرا ہے – مگر دوسری پار شہر سے کبھی بلاوا نہیں آیا نہ کچے گھڑے کے ساتھ وہ اپنی میں کی بازی لگانے موجوں میں اتری – ابھی بھی رات کی رانی کے پھولوں میں دو مونہے سانپ سرسراتے ہیں ابھی بھی وہ محبت کے پرانے زخموں میں اترے زہر کی تلخی محسوس کرتی ہے –

میں پتن کے قریب دم بخود بیٹھی اس کی کہانی سنتی رہی اسی دوران بادل گھر گھر آنے لگے اور اسوج کا چاند بدلیوں میں چھپ گیا… شاید دور کہیں بارش بھی ہوئی تھی جو دریا میں پانی کی سطح بڑھ رہی تھی… ہر طرف گھور اندھیرا پھیلا ہوا تھا گیڈر اور جھینگر بھی خاموش ہو گئے تھے … میں نے گھڑے کی جانب دیکھا وہ وہیں پڑا تھا مگر اس کے قریب بیٹھی بوڑھی کمہارن اندھیرے میں کہیں گم ہو چکی تھی – میں نے بھی خاموشی سے اپنا گھڑا وہیں دھرا اور دریا کی مخالف سمت کو چل دی –

نوٹ: asterisks •• کا استعمال مکالموں کو الگ کرنے کے لیے کیا گیا ہے

٭٭٭

 

 

 

 

ایتھنے اور سموں

 

جولا ہے بہت پریشان تھے، انہیں ڈر تھا کہ کہیں کمہاروں کی بیٹی کی طرح ان کی بیٹی بھی کسی آفت کا شکار نہ ہو جائے۔ مگر سموں جولاہن جس کا خمیر جانے کس مٹی کا بنا تھا کسی کی بات پر کان نہ دھرتی تھی۔ حسن ہمیشہ مغرور ہوتا ہے یا مغرور سمجھ لیا جاتا ہے پس ایسا ہی کچھ معاملہ سموں کے ساتھ بھی تھا۔ سموں کی انگلیوں میں فن تھا اور دستکاری اس کے رگ و ریشے میں پیوست تھی۔ پھرآرٹس کی اعلی تعلیم نے اس کے ہنر کو گویا چار چاند لگا رکھے تھے۔ شاید اسی لیے اس کی بستی والوں کو ڈر تھا کہ کہیں کچے گھڑے کے ساتھ بیچ منجھدار ڈوب نہ جائے۔

سموں نے اپنے گرد کئی تانے بانے بنے ہوئے تھے جیسے کوکون اپنے گرد ریشم لپیٹ کر خود کو محفوظ رکھنے کی سعی کرتا ہے مگر یہی ریشم اس کی موت کا سبب بنتا ہے۔ بیچارہ یہ نہیں جانتا کہ اسی ریشم کی لیے پالا گیا ہے نہ کہ پروانہ بنانے کے لیے۔ تو سموں کا بھی یہی حال تھا اس کا فن، حسن، ذہانت اور فخر جہاں اس کی ہستی کو سنوارتے تھے وہیں کبھی بھی اس کو مٹانے کا سبب بھی بن سکتے تھے۔ کون جانے کہ ریشم کی چاہ میں کب کوکون کو بھاپ کے سپرد کر دیا جائے۔

گوری چٹی سنہرے بالوں اور ہلکی بھوری آنکھوں والی سموں کے دماغ میں نجانے کیوں ایک عجیب سی سرکشی بھری تھی۔ اپنی ذات کا ادراک اس کا سب سے قیمتی زیور تھا۔ اس کی انگلیوں میں گویا سحر تھا اور اپنے من کو کپڑے اور کاغذ پر پینٹ کرنا آتا تھا۔ وہ جس کام کا ارادہ کر لیتی، اسے پایہ تکمیل پہنچا کر ہی دم لیتی تھی۔

بستی کے باہر کئی بنجارے اس کی راہ تکتے مگر وہ سب سے بے نیاز تھی۔ وقت کے ساتھ ساتھ سب اپنی اپنی راہ ہو لیتے کہ اس پتھر کی مورت سے سر پھوڑنے کا کیا فائدہ۔ کبھی کبھی اسے محسوس ہوتا کہ ایک انجابی ڈور الگ سے اس کی روح کے تانے بانے کے بیچ میں اریب ڈال رہی ہے۔ بہت پر سکون نظر آنے کے باوجود اس کا دل چاہتا کہ اس ڈور کو کاٹ پھینکے اور آسانی سے سانس لے۔ مگر ہر طرف سے ڈوریوں میں جکڑی روح اپنے من میں اتنی شانت کیسے رہتی تھی ؟ اس بات کا بھید پانے کی آرزو دیوی دیوتاؤں کو بے چین کیے رکھتی۔ اس نے اپنا چرخہ چھوڑا تھا نہ ہی کھڈی۔ اس کے کاتنے، بننے، رنگنے اور سنوارنے کا ہنر اب دیسوں ملکوں سر چڑھ کر سر چڑھ کر بول رہا تھا۔

ایک دن پرانی دیویوں کو اس کے کاتنے سے سوت کی طرح جلن ہونے لگی۔ سموں کو ڈبونے کے لیے کوئی کچا گھڑا رکھنے کی کوشش کامیاب نہ ہو پائی تھی لہذا اس کو ارکنی کی طرح سبق سکھانے کا فیصلہ کیا گیا۔

ایک دن ایتھنے بھیس بدلے سموں کی بستی میں آن موجود ہوئی۔ ریشمی لباس میں ملبوس اور ریشم کی تہوں میں لپیٹے کئی ہتھکنڈے ساتھ لیے ہوئے تھی۔ جولا ہے گھبرا گئے کہ انھوں نے صدیوں دور دیس سے تاجروں کے بھیس میں آنے والے حملہ آوروں کی صعوبتیں جھیلی تھیں۔ ایتھنے کو امید تھی کہ سب سر جھکا کر ملیں گے مگر کم ذات جولا ہے اتنی جلد سر جھکانے کے عادی نہ تھے۔ گئے وقتوں میں اسی جرم کی پاداش میں ان کے آباء و اجداد کی انگلیاں کاٹ دی گئی تھیں کیوں کہ نہ تو اپنا فن مفت بیچنے کو تیار تھے اور نہ ہی اپنا پیشہ تبدیل کرنے کے عادی۔ اب ان جولاہوں نے اس چرخے کو گھروں اور گیتوں کی زینت بنا کر سپنننگ، ویوینگ اور سائزینگ کی دستکاریاں لگا لیں تھیں۔ جہاں کھیتوں کی چاندی کو ہنر مندی سے عمدہ معیار کے کپڑے میں بن کر سونا کمایا جا سکتا تھا۔

داؤ پیچ شروع ہوئے۔ سموں کے گرد مکڑی کے جالے بنے جانے لگے۔ کہیں اکسپورٹ کا کوٹہ، کہیں ڈیوٹی، کہیں وسائل کی عدم دستیابی اور کبھی بجلی کی بندش۔ دھیرے دھیرے فن محدود ہوتا گیا اور روٹی روزی کے لالوں نے جولاہوں کی نیندیں حرام کر دیں۔ ان حالات میں سموں کے فن کو سانس لینے کے لیے ہوا تک بھی کم محسوس ہوتی تھی۔ ایک آرٹسٹ اپنا فن کب تک کاغذ کینویس اور رنگوں کی قیمت پر بیچتا ہے ؟ اس لیے ایتھنے کو امید تھی کہ ایک دن سموں بلا مقابلہ ہی دستبردار ہو جائے گی۔

مگر ایسا نہیں تھا ایتھنے کو بالآخر سموں کے مقابل آنا ہی پڑا۔ وہ دیومالائی داستان کی دیوی تھی جس نے ان کہانیوں کے مطابق زیوس کے سر سے جنم لیا تھا، گویا وہ عقل ہی عقل تھی۔ تو دوسری جانب سموں سر تا پا حسن و فن سے سجی ایک زندہ حقیقت۔ ایتھنے کے اندر طاقت تھی ہنر تھا غرور تھا۔ اور دوسری جانب سموں کی رگ رگ میں صدیوں کا ہنر پرویا ہوا تھا، ہزاروں سال سے اس کی نانیاں دادیاں چرخہ لے کر بیٹھتیں تو کاتنے کے ساتھ ساتھ لمبی ہوک بھر کر ماہیے گاتیں، ان کے سینوں میں عشق کی تڑپ تھی ان کے پسینوں میں پہلی بارش کے بعد مٹی سے اٹھنے والی مہک تھی۔ ان کی آنکھوں میں جگنو چمکتے تھے اور چہرے پر روہی کی لہروں کا جال بچھا تھا۔ انھوں نے نسل در نسل اپنی اقدار کی حفاظت کی تھی۔ سموں ان کا مان تھی کیسے شکست تسلیم کر لیتی۔

دوسری جانب دیوی اپنے سب جال بچھائے منتظر تھی۔

سموں کہنے لگی کہ میں ارکنی نہیں ہوں کہ جس کے سامنے شکست خوردہ ہونے کی ذلت سے بچنے کے لیے تم نے اسے مکڑی بنا دیا تھا۔ تم ہماری بستی میں ایک دخیل کی مانند آئی ہو، اگر مہمان بن کر آتی تو ہم اپنے مہمانوں کو سر آنکھوں پر بٹھاتے ہیں، مگر تمہارے ارادے نیک نہیں لگتے۔

ایتھنے نے با رعب مگر میٹھے لہجے میں جواب دیا : تم لوگ نہ جانے کس غلط فہمی کا شکار ہو۔ میں تو تم لوگوں کی مدد کرنے آئی ہوں۔ ۔ ۔ ۔ کاتو، بنو، رنگو مگر میرے پاس بیچو۔ میرا نام لگا کر چھاپ دو۔ ۔ ۔ اچھے دام دلا دوں گی۔

سموں مسکراتے ہوئے بولی : یعنی تم تسلیم کرتی ہو کہ اب ہمارا فن تمہیں پیچھے چھوڑنے والا ہے مگر تم اپنی حاکمیت سے دستبردار ہونے کو تیار نہیں ہو۔

ایتھنے نے جواب دیا تمہارے صدیوں پرانے فن میں میں نے نئی روح پھونکی ہے تم لوگوں کو زندگی کے جدید طریقوں سے روشناس کرایا ہے، مگر تم لوگ جاہل کے جاہل ہی رہنا میری تجویز میں تم لوگوں کا فائدہ ہے۔ جب پیٹ بھرا ہو تو ایسے افکار بھلے لگتے ہیں۔ خالی پیٹ تو چاند بھی روٹی ہی نظر آتا ہے۔

ٹھیک ہے کہ ہم نے تم لوگوں سے کئی ہنر سیکھے ہیں مگر یہ ہنر اتنے مہنگے نہیں تھے کہ ان کے خراج میں اپنے وجود گروی رکھ دیے جائیں۔

اگر ہم اپنا و جود گروی نہ رکھیں تو تم کیا کرو گی ؟ کیا ہمیں بھی مکڑی بنا دو گی ؟ نہیں اب ہرگز ایسا ممکن نہیں۔

اب تم خود پر سجا انسانی حقوق کا خول اتنی آسانی سے اتار کر پھینک نہیں سکتی۔ سموں کی اس بات کے جواب میں ایتھنے کے ہونٹوں پر زہر آلود مسکراہٹ ابھری، کہنے لگی دیکھ لو کتنی قومیں مجھے خراج ادا کرتی ہیں تم جیسی حقیر ہستی آخر کب تک میرے سامنے ڈٹی رہے گی۔

مگر سموں اپنے ارادے کی پکی تھی ہار ماننے پر تیار نہ ہوئی۔ جانتی تھی کہ جدید دور میں جب دنیا گلوبل ولیج بن چکی ہے کوئی اس کی انگلیاں کاٹ کر نہیں لے جائے گا۔ اس کا فن، اس کا مان اور صدیوں کا ہنر اتنی آسانی سے خاک میں نہیں مل سکتا۔

ایتھنے لاجواب ہو کر خاموش ہو گئی مگر سموں کو لگا کہ یہ خاموشی کسی طوفان کا پیش خیمہ ہے۔

قمری مہینے کی آخری راتیں تھیں چاند کو جانے کس پہر طلوع ہونا تھا ؟ اندھیرا پھیل چکا تھا اور جھینگروں کی آوازیں رات کی گہرائی میں مزید اضافہ کر رہی تھیں۔ ٹمٹماتے تاروں نے آسمان کے آنچل پر پھیل پر اپنے رب کے بنائے نمونوں کو مزید روشن کر دیا تھا۔ اسی دوران ایتھنے کہیں اندھیرے میں گم ہو گئی اور سموں آنے والے وقت کی فکر میں غلطاں و پیچاں نیند کی وادیوں میں جا پہنچی۔

ہر صبح ایک نیا دن، نئی امید کے ساتھ طلوع ہوتا ہے۔ اور اسی نئی امید کو لے کر جب سموں نے دن کا آغاز کیا تو یہ دیکھ کر حیران رہ گئی کہ اس کی بستی کے سب گھروں سے چرخے غائب ہیں اور دستکاریوں سے راتوں رات کھڈیاں اکھاڑ لی گئی ہیں۔

اگرچہ کاتنے کے لیے ان سب کی انگلیاں تو سلامت تھیں مگر چرخے غائب تھے ؟

سموں اپنی بستی کے بڑے بوڑھوں کے پاس پہنچی کہ دریافت کرے ماجرا کیا ہے ؟

ایتھنے نے ان کی سب پرانی کھڈیاں خرید کر انھیں اپنی نئی ملوں میں کام دلا دیا تھا جہاں ان کو بہتر معاوضے کا لالچ دیا گیا تھا۔ اور مزید یہ کہ وہ کاروبار اور تجارت کے داؤ پیچ اور نفع نقصان کی فکر سے آزاد رہیں گے۔ بستی والوں کو کہا گیا تھا کہ اب ان کے مالی حالات سدھر جائیں گے قرض اتریں گے اور خوش حالی کا دور دورہ ہو گا۔

بستی سے باہر دور پرے دریا کنارے اپنی بستی کے سب چرخے جلتے دیکھ کر سموں کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ دھوئیں کے مرغولوں کے ساتھ پرانی وقتوں کی سوت کاتنے والی بڑھیا کے ماہیے نوحوں کی مانند فضا کو مغموم کیے ہوئے تھے۔ کتنی دیر تک وہ فضا میں بلند ہوتے شعلوں کو دیکھتی رہی پھر اچانک وہ تلخ مسکراہٹ سے ایتھنے کو دیکھنے لگی۔ چرخوں کی آگ بجھ نہیں رہی تھی اور ان سے بلند ہوتے شعلوں نے ایتھنے کے ریشمی لباس کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا۔

٭٭٭

 

 

 

 

مٹی کی ٹھوٹھیاں

 

 

زینب اور اس کے میاں اسلم یورپ سے لے کر مشرق وسطیٰ تک کے کئی ملکوں کی سیاحت کر چکے تھے۔ مگر اس بار وزٹ ویزے پر خلیجی ملک تک کا سفر انہیں ایسا لگ رہا تھا گویا ان کے جسم میں دل نہیں بلکہ لاکھوں امنگیں ایک ساتھ دھڑک رہی ہوں۔ زینب ساری تیاریاں مکمل کر کے اپنی بہو اور پوتوں کے تحائف بڑی احتیاط سے پیک کر رہی تھی کہ اس کے بیٹے مون کا فون آ گیا۔

پوچھنے لگا؛ امی جی ! ساری تیاری مکمل ہے نا؟ اچھا آتے ہوئے دو سو کے قریب مٹی کی ٹھوٹھیاں لیتی آئیں۔ کھیر کا اصل مزہ تو مٹی کی ٹھو ٹھی میں ہی آتا ہے۔

وہ کہنی لگی! ارے بیٹا مٹی کی ٹھو ٹھی۔

پھر کچھ یاد کر کے مسکرائی اور کہنے لگی؛ تم انگلینڈ میں پڑھے ‘کینڈین نیشنل ہو…اور کھیر ابھی تک مٹی کی ٹھو ٹھی میں پسند ہے۔ مگر دو سو۔ اتنی کیا کرنی ہیں ؟

رمضان میں افطار پارٹیوں پر کام آئیں گی، مون نے جواب دیا۔

زینب بہت زیادہ پڑھی لکھی نہ تھی مگر بہت با شعور، مہذب اور وقت کے ساتھ چلنے والی خاتون تھی جو رہتی تو شہر کے پرانے محلے میں تھی مگر ٹھاٹھ باٹھ کسی سے کم نہ تھے۔ میاں بیوی کی بہت اچھی ذہنی ہم آہنگی تھی۔

ان کے خاندان کے کچھ افراد انگلینڈ میں عرصے سے آباد تھے۔ اسلم کے بڑے بھائی بھی وہیں کے ہو رہے مگر سال دو سال بعد اپنی انگریز بیگم کے ہمراہ بسنت پر لاہور ضرور آتے۔

زینب کی جیٹھانی لیزا محلے بھر کی مرکز نگاہ رہتی۔ زینب لیزا سے پنجابی میں بات کرتی اور وہ انگریزی میں جواب دیتی۔ دونوں کی گفتگو دیکھنے والوں کے لیے کسی دلچسپ مکالمے سے کم نہ ہوتی۔ زینب اور اسلم بھی دو بار وزٹ ویزے پر انگلینڈ اور یورپ کی سیر کر چکے تھے۔

انگلینڈ جیسے سرد ملک میں رہنا ان کے لیے ایک آزمائش سے کم نہ تھا۔ زینب کو سمندر سے خوف آتا تھا مگر لیزا ہر ہفتے کسی نہ کسی بیچ کا پروگرام بنا لیتی۔ وہ ہر بار کہتی کہ یہاں جب بھی گھر سے نکلتے ہیں جس طرف بھی جائیں بالآخر سمندر ہی سامنے آ جاتا ہے۔ وہ ساحل سمندر پر بیٹھنے سے اکتاہٹ محسوس کرتی۔ اس کے جیٹھ مسکراتے ہوئے کہتے کی لاہور والوں کا کبھی کہیں اور دل نہیں لگ سکتا۔

ان کے دونوں بیٹے تایا کی مدد سے انگلینڈ کی بہترین درسگاہوں میں زیر تعلیم تھے۔ زینب کے اپنے جیٹھ اور جیٹھانی سے بہت خوشگوار تعلقات تھے۔ وہ جینریشن گیپ کی بڑی مخالف تھی۔ ہمیشہ کہتی کہ بڑوں کو نئی نسل کے مسائل سمجھنا چاہیں اور بات چیت سے، تیزی سے بدلتے وقت کے ساتھ تھوڑا خود کو بھی بدلنے سے یہ گیپ ختم ہو سکتا ہے۔

مگر لیزا کے ساتھ اتنے اچھے تعلقات کے باوجود زینب کے دل میں ایک خلش سی رہتی۔ اسے اپنے جیٹھ کے لا دین ہو جانے کا بہت افسوس تھا۔ لیزا اور اس کی دونوں بیٹیاں پروٹسٹنٹ کرسچیئن تھیں۔ اور زینب کا خیال تھا کہ لیزا سے شادی کے بعد ہی وہ کسی بھی دین کا پیروکار نہ رہا۔

انگلینڈ میں قیام کے دوران ہی اس نے فیصلہ کیا تھا کہ وہ اپنے بیٹوں کی شادیاں پاکستان میں ہی کرے گی تاکہ وہ جہاں بھی رہیں اپنے مذہب اور ثقافت کو فراموش نہ کریں۔

دونوں بیٹے تعلیم مکمل کرنے کی بعد کینیڈا کی شہریت حاصل کر چکے تھے۔ بڑے بیٹے کو ایک معروف پیٹرو کیمیکل کمپنی میں نوکری ملی تو وہ ایک خلیجی ملک میں منتقل ہو گیا۔ اگرچہ اس بوڑھے جوڑے کا بڑھاپا اکیلے ہی گزر رہا تھا مگر وہ بہت خوش تھے کی اپنے بچوں کو ایک اچھا اور محفوظ مستقبل فراہم کرنے میں کامیاب رہے تھے۔

زینب اور اسلم کا بیٹے کے پاس جانے میں اصل جوش و خروش اپنے دونوں پوتوں سے ملنے کی خوشی میں تھا۔ دو سال سے وہ لوگ سالانہ چھٹیوں میں لوڈ شیڈنگ سے گھبرا کر پاکستان آنے کی بجائے کینیڈا چلے جاتے تھے۔ جب سے ویزہ آیا تھا ان کا دل بلیوں اچھل رہا تھا ان کا بس نہیں چلتا تھا کہ اڑ کر پہنچ جائیں۔ اللہ اللہ کر کے انتظار کے دن کٹے اور وہ مٹی کی ٹھوٹھیوں سمیت ہزاروں آرزوؤں کو اپنی بوڑھی گٹھریوں میں باندھے عازم سفر ہوئے۔

وسیع و عریض خطے پر پھیلی تیل کی تنصیبات کے ساتھ منسلک کالونی دنیا کی بہترین سہولیات سے مزین تھی۔ اپنے والدین کی خدمت میں کوئی کسر نہ اٹھا رکھنے کے لیے مون نے اپنے گھر میں ایک بڑے کمرے کی تزئین و آرائش کرائی تھی۔ نیا فرنیچر پردے اور ان کی پسند کی کئی چیزوں کے علاوہ دو قیمتی موبائل فون بھی لا کر پہلے سے ہی رکھ چھوڑے تھے –

اسلم اور زینب کی بہو بیٹے سے ملنے کی خوشی دیدنی تھی۔ جب وہ پہنچے تو رمضان کا مہینہ تھا اور روز ہی کسی نہ کسی گھر سے افطار پارٹی کا دعوت نامہ موجود تھا۔ کتنے ہی برسوں بعد عید اپنے بچوں کے ساتھ منا نے کا جوش خروش الگ سے تھا۔

مون رات گئے گھر واپس آتا اور انہیں جہاں بھی جانا ہوتا، اپنی بہو کے ساتھ جاتے۔ جس نے سارا دن گھر داری کے علاوہ بچوں کو سکول چھوڑنے اور لانے کا کام بھی کرنا ہوتا۔ دونوں بچے امریکن سکول میں زیر تعلیم تھے۔ پردیس کی مصروف زندگی میں کچھ ہی دنوں میں وہ خود کو پھر سے اکیلا محسوس کرنے لگے۔

زینب اور اسلم کو اصل دھچکا تب لگا جب انہیں محسوس ہوا کہ ان کے دونوں پوتے دادا دادی سے دور دور رہتے ہیں۔ کئی بار ایسا ہوتا کہ اسلم یا زینب انہیں آواز دیتے تو جواب ندارد۔ زینب اسلم کو پھر وہی تسلی دیتی کہ انہیں بدلتے وقت کے تقاضوں کو سمجھنا چاہیے۔ اور انہیں خود بچوں کے ساتھ گھلنے ملنے کی کوشش کرنا چاہیے۔

بچوں کو ان کے لائے کھلونے کچھ خاص متاثر نہ کر سکے۔ ان کے پاس پہلے ہی ڈھیروں برانڈڈ کھلونے اور ان گنت ویڈیو گیمز تھیں جو ان کو سکول کے بعد مصروف رکھنے کے لیے کافی تھیں۔

مگر اسلم کا جی چاہتا وہ بچوں کے ساتھ کھیلے۔ انہیں پتنگ مین تناواں ڈالنا سکھائے، ہا تھ میں بیٹ پکڑ کر شارٹ لگانا سمجھائے۔ یہ سب خواہشیں اس وقت دم توڑ گئیں جب اسے علم ہوا کہ اس کے دونوں پوتے پنجابی تو درکنار اردو بھی نہیں سمجھ سکتے۔ تب ان دونوں کو ایسا محسوس ہوا گویا کسی نے مٹی کی ٹھوٹیوں میں کسٹرڈ جما کر ان کے آگے رکھ دیا ہو۔

انگلینڈ میں لیزا کے گھر قیام میں ان دونوں نے اپنے بچوں کے بہتر مستقبل کا جو خواب دیکھا تھا یہ اس کی ایسی تعبیر تھی جس پر نہ وہ رو سکتے تھے نہ خوش ہو سکتے تھے۔

انہوں نے اپنی مدھم ہوتی یاد داشت میں سے جتنے انگریزی کے جملے یاد تھے انہیں گرد جھاڑ جھاڑ کر صاف کیا۔ اور پھر سے ایک بار وہی پرانا تہیہ کیا کہ بچوں کے قدم کے ساتھ قدم ملا چلیں گے۔ کوئی جنریشن گیپ نہیں ائے گا۔

مگر بوڑھی ہڈیوں میں اب ڈھنگ سے چلنے کی سکت کہاں تھی کہ قدم سے قدم ملا کر چلتے۔ ٹوٹی پھوٹی انگریزی میں پوتوں سے بات کرنے کی کوشش کرتے تو جوابی الفاظ پلے نہ پڑتے مگر آگے سے روکھا سوکھا لہجہ تو سمجھ آ ہی جاتا تھا…۔ بڑھاپے، بیماری اور لینگیوج گیپ پر وہ خود کو بہت ہی بیکار وجود محسوس کرنے لگے۔

اسلم کے گھٹنوں کی تکلیف ایک دم بہت بڑھ گئی تھی۔ راوی کنارے سے لے کر ٹیمز کے قریب ایک ساتھ بسر ہوئے لمحات دونوں کی آنکھوں میں جہاں جگنو بن کر چمکتے وہیں کسی ایک کی دائمی جدا ئی کا تصور بھی سوہان روح بنا ہوا تھا۔ پندرہ بیس دنوں بعد ہی انہوں نے مون سے کہا کہ واپسی کی ٹکٹیں کنفرم کروا دے۔ گھٹنوں کی تکلیف انہیں یہاں قیام نہیں کرنے دے رہی۔ واپس جا کر کسی اچھے ڈاکٹر سے علاج کرائیں گے۔

وطن واپس روانہ ہوتے وقت دونوں کی عجیب جذباتی کیفیت تھی۔ خود کو خاصا سنبھالتے سنبھالتے بھی زینب پوتے کو پیار کرتے وقت آئی لو یو مائی سن کہتے ہوئے بے اختیار رو دی۔

گھر واپس پہنچے تو اگلے ہی دن کمرے کی صفائی کرتے ہوئے ایک مٹی کی ٹھوٹھی جو شاید پیکینگ کرتے وقت میز کے نیچے پڑی رہ گئی تھی اسے نظر آئی۔ زینب نے خاموشی سے وہ ٹھوٹھی اٹھائی اور قیمتی ڈیکوریشن پیسیز کے ساتھ ڈرائینگ روم میں رکھ دی۔

٭٭٭

 

 

 

 

پرزم Prism

 

نفرت بھی وبائی امراض کی مانند پھیلتی ہے وجود میں داخل ہونے کے بعد اس کا انکوبیشن پیریڈ کتنے عرصے کا ہو گا یہ اندازہ لگانا ذرا مشکل ہے۔ لیکن کسی نہ کسی دن یہ بیماری ظاہر ضرور ہو جاتی ہے۔ یقیناً مجھے بھی اس ائیر بورن وبا کے جراثیم ہوا میں سے لگے تھے کیونکہ یہ نہ تو میری فطرت میں تھے اور نہ ہی مجھے گھٹی میں دیے گئے تھے۔ زبان، ذات، مذہب، قومیت رنگت ہم سب تعصبات کے کتنے خانوں میں منقسم ہیں اور پھر بھی ہم انسان ایک ریس raceکہلاتے ہیں۔

امی نے مجھے بتایا تھا کہ جب میں پیدا ہوئی تو بہت خوب صورت تھی, گلابی رنگت تیکھے نقوش اور سنہرے ملائم بال تھے۔ کان میں اذان کے بعد امی کی سہیلی ایگنس نے جو سینٹ رافیل ہسپتال میں نرس تھی مجھے گود میں اٹھا کر ماں سے بڑے مان سے فرمائش کر ڈالی کہ تمہاری بیٹی کو گڑتی میں دوں گی۔ امی کا دل بہت وسیع تھا جس میں محبت تو کوٹ کوٹ کر بھری تھی مگر نفرت اور تعصب کا کوئی خانہ نہیں تھا پھر وہ ایگنس کا دل کیسے توڑتیں۔ اس لیے مجھے گھٹی ایک پروٹیسٹنٹ کرسچئین نے دی تھی۔ اس حوالے کی وجہ سے میرا اپنے متعلق بڑا مثبت خیال تھا کہ گھر میں شروع دن سے فراخ دلی پر مبنی ایسے ماحول کے بعد مجھے انسانوں سے نفرت کرنا یا تعصب برتنا کیسے آ سکتا ہے ؟

لیکن بسا اوقات زندگی میں کچھ ایسے واقعات یا سانحات رونما ہوتے ہیں کہ آپ کا خود اپنے متعلق لگایا اندازہ بھی فیل ہو جاتا ہے۔ دوسروں کے بارے میں اندازے لگانا اور درست رائے قائم کرنا تو اکثر ایک پہیلی بوجھنے جیسا ہی ہوتا ہے۔ ایسے ہی میرے کئی اندازے اپنے اور ناجیہ کے بارے میں بھی متضاد کیفیات کا شکار ہوتے رہے۔ ناجیہ کا داخلہ ہمارے سکول میں نویں کلاس میں ہوا تھا۔ اس کے والدین کچھ عرصہ قبل ہی ٹرانسفر ہو کر اس شہر میں آئے تھے۔ ناجیہ بھی میری طرح بہت شوخ اور زندہ دل لڑکی تھی اس لیے کلاس میں سب سے پہلے میری سہیلی بنی۔ ہم اکٹھی باسکٹ بال کھیلتی اور شرارتیں کرتیں۔ وہ گانوں اور غزلوں کی پیروڈی بنا کر اپنی استانیوں کی نقل اتارتی تو سبھی لڑکیاں ہنستے ہنستے لوٹ پوٹ ہو جاتیں۔ لیکن یہ سب زیادہ دیر تک جاری نہ رہا اور کچھ ہی عرصے بعد وہ نہ صرف مجھ سے بلکہ باقی لڑکیوں سے بھی کھچی کھچی رہنے لگی تھی۔

ناجیہ گہرے سانولے رنگ کی لڑکی تھی اس کے والد اندرون سندھ سے سرکاری ملازم تھے۔ شاید اس کے آباء و اجداد مچھیروں کی بستی سے رہے ہوں گے۔ اس کی جلد میں سمندر کی ملاحت گھلی تھی جب وہ مسکراتی تو اس کے ہونٹوں کے کنارے اوپر اٹھ جاتے اور سیاہی مائل گلابی مسوڑھے نمایاں ہو جاتے۔ جن میں سفید دانت اس طرح جگمگاتے جیسے بد رنگ سیپ میں موتی جڑے ہوں۔ اس کے بال گہرے سیاہ اور چمکیلے تھے جیسے دریائی مچھلی کی جلد دھوپ میں چمکتی ہے۔ اس کی آنکھوں کی سپیدی اور سیاہی دن اور رات کی مانند بہت نمایاں ہوتی۔

وہ سردیوں کا ایک کہر آلود دن تھا۔ میں جیومیٹری کے تھیورم حل کرتے اتنا پریشان نہیں ہوئی تھی جتنا ناجیہ کے سوالوں نے مجھے پریشان کیے رکھا۔ میری ہم جماعت سہیلیاں، ناجیہ اور میں پندرہ سال کی کھلنڈری لڑکیاں ہی تو تھیں۔ کیا ہمیں بھی کوئی وبا لگ سکتی تھی اس عمر میں جسم اور ارادوں میں بڑی قوت مدافعت ہوتی ہے دل سادہ اور معصوم ہوتے ہیں پھر بھی ہم سب لڑکیاں باری باری کسی وبا کی زد میں آتی گئیں۔

ایک لڑکی اپنے بیگ میں چھپا کر رکھی پروین شاکر کی خوشبو میں سے کوئی نظم پڑھ رہی تھی۔

چیپ رومانس۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

سو لولی۔ ۔ ۔ ۔ ۔

اف فف رومانٹک یار

نو نو۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ پروین نیور ٹرسٹ آن بوائیز۔

نظم کے ساتھ اچھلتے فقروں میں کئی ملی جلی آوازیں بلند ہو رہی تھیں کہ شہناز کہنے لگی تم لڑکیاں پروین شاکر کا مذاق بنا رہی ہو کہیں خود مذاق نہ بن جانا۔ یہ سننا تھا کہ شہناز کے چھوٹے قد اور چوکور شیشوں والی نظر کی عینک کا مذاق بن گیا۔ خوب ہنسی کے فوارے چھوٹے۔ شہناز کے مستقبل کے حوالے سے انیمیٹیڈ فلموں کے کرداروں جیسی قیاس آرائیاں کی گئیں۔ بریک کے بعد کا فری پیریڈ بیت بازی کی بجائے طنز و مزاح کا روپ دھار چکا تھا۔

طنز اور مزاح کے بیچ ایک خفیف لکیر ہوتی ہے۔ ایک لائین آف کنٹرول جو کبھی کبھی انسان کو پل صراط پر بھی لا کھڑا کرتی ہے۔ مذاق سے نکلتی بات طنز بن شہناز کے دل پر لگی تھی۔ بظاہر خندہ پیشانی سے مذاق برداشت کرنے کے باوجود اس کی پلکوں کے نم کنارے مسلسل نظر انداز ہو رہے تھے۔ میری بیسوں سہیلیاں تھیں مگر شہناز کی میرے علاوہ کوئی اور سہیلی نہیں تھی۔ گرم لہو کے صبر کا پیمانہ بھی بہت جلد لبریز ہو جاتا ہے۔ شہناز کے آنسو میرے غصے میں ڈھل گئے۔

دیکھو تم لوگ اس طرح کسی کی پرسنالٹی کا مذاق نہیں اڑا سکتیں۔ کیا ہوا اگر شہناز کا قد چھوٹا ہے یا وہ گلاسز پہنتی ہے۔ کیا اس کا دل نہیں ہے۔ کیا اس کے جذبات نہیں ہیں ؟

ساری کلاس میں ایک خاموشی چھا گئی۔

سوری شہناز ایک خفیف سی آواز ابھری کچھ دیر قبل کا کھلکھلاتا ماحول ایک دم سے سنجیدہ ہو گیا تھا۔

پروین شاکر کی خوشبو بند کر کے واپس بیگ میں ڈالی جا چکی تھی۔

مجھے تھوڑا افسوس ہوا۔ کچھ شہناز کے آنسوؤں پر، کچھ ہنسی مذاق کے تلخی میں ڈھل جانے پر۔ کتنا مزہ آ رہا تھا گپ شپ کا بیت بازی کا۔ مذاق طنز میں ڈھل جائے، نفرت یا تعصب کا لبادہ اوڑھ لے تو انسان کو پل صراط پر چلنا پڑتا ہے۔ اس پل صراط پر وہ اکیلا نہیں چلتا نسلوں کی نسلیں چلتی ہیں۔ میں خاموش ہوئی تو ناجیہ میرے سامنے محشر بنی کھڑی تھی۔

بہت سکون ملا نا تمہیں آج ____شہناز کی ہمدردی کر کے _____ نمبر بٹور کے ؟

کون سے نمبر بٹور کے ناجیہ ؟ یہ بھی تو دیکھو نا اس کے بھی کچھ احساسات ہیں۔

میں نے جارحانہ انداز میں جواب دیا۔

ہونہہ تم اور احساسات _____؟ کیا تمہیں کسی کو ہرٹ کرتے ہوئے کبھی اس کی فیلینگز کا اندازہ ہوا؟

ناجیہ کے لہجے میں ناگن کی سی پھنکار تھی۔

ٹھیک ہے تم خوب صورت ہو گوری چٹی ہو اور بہت ذہین بھی ______ مگر ایک سوال کا جواب تو دو؟

کو نسا سوال میں نے حیرت سے اس کا چہرہ تکتے ہوئے کہا۔

حسن کا معیار کیا ہے ؟ ہاؤ ڈو یو ڈیفائین بیوٹی؟

ناجیہ نے انتہائی سنجیدگی سے پوچھا۔

مجھے نہیں پتا_____ اس کے کڑے تیور دیکھ کر میں نے بیگانگی سے کندھے اچکاتے ہوئے کہا۔

یاد ہے پچھلے سال تم نے مجھے کیا کہا تھا؟ جب میں تمہارے ساتھ کسی لطیفے پر ہنس رہی تھی۔ میرے مسوڑھوں سے اوپر اٹھے ہونٹ اور کالی رنگت کے بیچ سفید دانت دیکھ کر تم نے کہا تھا ناجیہ مجھے ڈراؤ تو نہیں۔ ٹھیک ہے میں تمہاری نظر میں کالی اور بد شکل ٹھہری، کیا میرے احساسات نہیں تھے ؟ کیا کسی کی مسکراہٹ اتنی بد صورت ہو سکتی ہے کہ چھین لی جائے ؟ آج اپنی سہیلی کے چھوٹے قد کا مذاق بننے پر اتنا غصہ ہوئی، کیا مجھے کہے الفاظ بھول گئی ہو؟

آئی ایم سوری ناجیہ تم تو میری دوست ہو میں کبھی تمہیں ہرٹ نہیں کرنا چاہتی تھی بس یہ الفاظ زبان سے پھسل گئے۔ میں نے شرمساری سے وضاحت دینے کی ناکام کوشش کی۔

دل میں کہیں چھپے تھے تو زبان سے پھسلے۔ یہ تم گوری رنگت والوں کے دل میں تعصب کی بیماری کہاں سے جڑ پکڑ کر بیٹھ جاتی ہے۔ کیا خوبصورتی صرف جلد کی رنگت پر منحصر ہوتی ہے کہ انہیں اپنے علاوہ دنیا میں کوئی خوب صورت نظر نہیں آتا۔ میں جب آئینہ دیکھتی ہوں تو خود کو اچھی لگتی ہوں، میں اپنے بابا کو بہت پیاری لگتی ہوں آخر تم لوگوں کو کیوں نہیں لگتی____؟ اپنی شکل سے مجھے کوئی مسلہ نہیں تو کسی اور کو کیوں ہو؟ میرے گریڈز میری قابلیت میری اچیومنٹس زیادہ اہم ہیں میرے لیے۔

اور اس دن میں بہت دیر سوچتی رہی کہ کیا واقعی میری نیت اس کی شکل و رنگت کی ہنسی اڑانے کی تھی یا محض زبان کی پھسلن کسی کو اتنا ہرٹ کر سکتی ہے۔ اگر زبان پھسلی تو کہیں لاشعور میں دبا کوئی احساس تو نہیں۔

ناجیہ تو میٹرک کے بعد جانے کہاں چلی گئی مگر اُس دن اس نے مجھے ایسے آئینہ خانے میں لا کھڑا کیا جہاں میں نے انسانوں کے عکس ایک دوسرے زاویے سے دیکھنا شروع کیے۔ اس نے میری آنکھوں سے ایک پردہ، ایک جھلی بڑی بے دردی سے کھینچ کر الگ کی تھی جہاں ظاہری و باطنی تصویریں کسی پرزم سے گزر کر نئے ویو لینتھ میں تقسیم ہو کر نظر آنے لگیں۔ جہاں ہر ایک رنگ منتشر ہو کر کئی رنگوں میں ڈھل جاتا ہے اور میں اکثر کوئی کم تر صورت دیکھ کر خود سے سوال کرتی کہ آخر ____ خوبصورتی کیا ہے ؟ صرف ہمارے دیکھنے والی نظر، عدسوں کا فوکل لینتھ ______؟ یا یا پھر ہم تک پہنچنے والی روشنی کی موجیں ہمیں یہ صورت کس طرح دکھاتی ہے ؟ رئیل امیج ہیں کیا_____؟

خوب صورتی بھی وقت کی مانند ایک ریلیٹیو ویلیو ہی تو ہے۔ جس کے پیمانے ہر عہد میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔ پھر حقیقی خوب صورتی کیسی ہو گی؟

کئی برسوں بعد مجھے پتا چلا کہ کنساس سٹیٹ یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی مکمل کرنے کے بعد ناجیہ کی تقرری مقامی یونی ورسٹی میں بطور اسسٹنٹ پروفیسر ہوئی ہے۔ کسی سیلف میڈ لڑکی کی اتنی ترقی یقیناً قابل ستائش تھی… ایک دن اسے فون کر کے ملنے کا وقت طے کیا اور اس کے گھر پہنچ گئی… مبارک باد دینے کے علاوہ بچپن کی سہیلی سے ملنے کا اشتیاق بھی تھا۔ اس نے انہی دنوں نیا نیا گھر شفٹ کیا تھا۔ تب تک کافی سارا سامان ادھر ادھر بکھرا پڑا تھا اور کئی چیزوں کی مناسب سیٹینگ نہیں کی گئی تھی۔ وہ کچھ زیادہ نہیں بدلی تھی بس ڈھلتی عمر کے آثار نمودار ہونے لگے تھے۔ مجھے لاؤنج میں بٹھا کر وہ کچن میں چلی گئی۔ کچھ دیر بعد گھر کے اندرون سے چلانے کی آوازیں آنے لگیں۔ پس منظر میں برتن ٹوٹنے کے چھناکے بھی شامل تھے۔ ایسے میں مجھے وہاں بیٹھنا بہت فضول لگ رہا تھا۔ وہ ڈرائینگ روم میں آئی تو میں نے واپسی کی اجازت چاہی۔ وہ ہنسنے لگی اور کہا یہ سب دفع کرو تم کن باتوں میں پڑ گئی ہو۔ اپنے شوہر نامدار کو کچھ کھری کھری سنا رہی تھی، وہ ہے ہی اسی قابل۔

دیوار پر آویزاں تصویر میں ایک طویل قامت اور خوبرو شخص ناجیہ کے پہلو میں کھڑا تھا۔ اپنی شکل سے وہ ناجیہ سے قدرے کم عمر لگ رہا تھا۔

میں نے تصویر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا یہ ہے تمہارا ہزبینڈ؟

ہاں یہ موصوف گریڈ سترہ کا ملازم ہے۔ لو میریج ہوئی تھی ہماری۔ کافی بینیفیٹ دلائے ہیں میں نے اسے اور اس کی فیملی کو۔

یہ کہہ کر اس نے ایک فلک شگاف قہقہہ لگایا۔

اس کی ہنسی کی کھنک میں ایک احساس تفاخر تھا یا سرخوشی تھی لیکن وہ کھوکھلا قہقہہ نہ تھا۔

پھر پوچھنے لگی تم کہیں جاب کرتی ہو؟ شادی کی؟

میں نے نفی میں سر ہلاتے ہوئے کہا:

ایک پرائیویٹ ادارے کے آئی ٹی سیکشن میں جاب کرتی ہوں، شادی ہو ہی نہیں سکی۔

تمہاری شادی نہیں ہو سکی حیرت ہے مگر کیوں ؟ اس نے بھنویں سکیڑتے ہوئے پوچھا۔

ہمارے ہاں عموماً والدین ہی اولاد کی شادی کرتے ہیں، جب تک انہیں کوئی مناسب بر ملتا معاشرے کی نظر میں میری عمر ڈھل چکی تھی سو اب ایسے ہی گزر رہی ہے۔

مجھے لگا کہ میری مسکراہٹ میرا ساتھ نہیں دے پا رہی۔

یار آجکل کون پیرینٹس کے کیے رشتوں کی آس پر بیٹھا رہتا ہے۔ کہیں خود ٹرائی کرنا تھی نا! میری طرح۔

یہ کہہ کر اس نے ایک فلک شگاف قہقہہ لگایا اس کے ہونٹوں کے کنارے اسی طرح اوپر اٹھ گئے اور کالے مسوڑھوں کے بیچ سفید دانت نمایاں ہو گئے۔ دل ہی دل میں مجھے بہت سبکی کا احساس ہوا۔ ایسے لگا جیسے اس کے سب دانت الگ الگ شکلوں میں مجھ پر ہنس رہے ہوں مگر اس بار میں یہ بھی نہ کہہ پائی کہ ناجیہ مجھے ڈراؤ تو نہیں۔

٭٭٭

 

 

 

 

ہلدی بیچاری کیا کرے ؟

 

چل چنبیلی باغ میں میوہ کھلاؤں گی…

میوے کی ٹہنی ٹوٹ گئی

چادر بچھاؤں گی…

چادر کا پلو پھٹ گیا…

درزی کو بلاؤں گی …

درزی کی سوئی ٹوٹ گئی …

گھوڑا دوڑاؤں گی …

گھوڑے کی ٹانگ ٹوٹ گئی…

ہلدی لگاؤں گی…

 

میں اور فضہ ہتھیلیوں پر کبھی سیدھی کبھی الٹی کبھی اوپر کبھی نیچے تالی بجا بجا کر کھیل رہی تھیں۔ لنچ کی طرف دھیان ہی نہیں گیا اور میرا تو روز کا معمول تھا کھیلنے کودنے میں ہاف بریک گزر جاتی پھر بیتابی سے چھٹی کی گھنٹی کا انتظار…

میں نے کبھی لنچ کی طرف دھیان ہی نہیں دیا تھا اور فضہ لے کر ہی نہیں آتی تھی۔ عموماً نہ تو اس کے پاس لنچ ہوتا اور نہ ہی پیسے۔ ہماری دوسری سہیلیاں البتہ اپنا لنچ ضرور ختم کرتیں۔ تنگ آ کر امی کہتیں کہ کچھ بھی کھا لینا جو اسکول کی کینٹین سے مل جائے مگر بھوکی مت رہا کرو۔

فضہ کا معاملہ مختلف تھا، فضہ قدرے صحت مند، صاف گندمی رنگت والی، بھولی صورت اور گوپلو سی بچی تھی اور میں دبلی سی۔ اسکول میں میری فضہ کے علاوہ کسی سے خاص دوستی نہیں تھی۔ ہماری کلاس کی لڑکیاں اتنی لمبی لمبی اور تیز طرار تھیں کہ مجھے لگتا یہ مجھ سے کافی بڑی ہیں۔ اس لیے میں ویسے ہی ان سے خار کھاتی اور اگر کسی نے میری صحت کا مذاق اڑایا تو سمجھو دوستی کبھی ہو ہی نہیں سکتی۔ فضہ گم سم اور چپ چاپ، ہر بات ماننے والی اور کبھی نہ جھگڑنے والی لڑکی تھی۔

تیسری کلاس میں ہم دونوں ہی پکی سہیلیاں تھیں۔ میتھ کے سوالوں سے لے کر ٹیسٹ تک ہم دونوں ساتھ ہوتیں، کئی بار ٹیچر سے نظر بچا کر اپنی آنسر شیٹ ایک دوسرے کو دکھاتیں کبھی کبھی امی سے چھپا کر اپنی تصویروں کا البم اسکول بیگ میں چھپا کر لے آتیں۔ فضہ میری نسبت صحت مند تھی تو قدرے سست بھی تھی، ہر کام آہستہ اور سستی سے کرنا اور ہر ٹیچر سے بے انتہا ڈرنا۔ کئی بار میں فضہ سے کہتی کہ تم اتنا ڈرتی کیوں ہو؟حالانکہ تمہیں کبھی سزا نہیں ملتی۔

یہ الگ بات ہے کہ کبھی سزا والا کام کرتی تو سزا ملتی۔ فارغ وقت میں اپنے گھر کی باتیں اور بہن بھائیوں کے قصے سنائے جاتے۔ فضہ کی ایک چھوٹی بہن اور ایک بھائی بھی تھا۔ وہ کہتی کہ اس کی امی بہت سخت ہیں اوراسے اپنے ابو بہت یاد آتے ہیں اور جس دن فضہ نے مجھے بتایا کہ اس کے ابو فوت ہو گئے ہیں، اس وقت تک شاید مجھے فوت ہونے کا مطلب بھی نہیں پتا تھا۔

بیٹی کی جبلت میں باپ کی محبت ازل سے موجود ہوتی ہے خواہ باپ کی شکل بھی نہ دیکھی ہو … میں جب کبھی اپنے ابو کا تذکرہ کرتی، فضہ بے انتہا اداس ہو جاتی۔

فضہ کی امی کو میں نے ریفرنڈم پر دیکھا تھا چھوٹا قد، درمیانی صورت، قدرے موٹی سی اور خوش لباس خاتون تھیں … ہمارے اسکول کے ساتھ ہی ایک بڑا پلے گراؤنڈ تھا جہاں میں اکثر شام کو کھیلتی تھی۔ گراؤنڈ کے ساتھ ہی سرکاری ڈسپنسری اور اسکول تھا۔ جس دن ریفرنڈم ہوا، ہمارے لیے تو وہ کھیل کود اور چھٹی کا دن تھا، صبح سے شام تک گراؤنڈ میں اچھل کود ہوتی رہی۔ فضہ کی امی اور دس پندرہ خواتین اسکول کی بلڈنگ میں تھیں، ہماری ٹیچرز اس دن ووٹ ڈلوا رہی تھیں۔

پہلی بار میرے کان لفظ ووٹ سے آشنا ہوئے تھے۔ مجھے جرنلسٹ کو دیکھنے کا بہت شوق تھا، کیونکہ کئی بار میری امی مجھے کہتیں تھیں کہ لگتا ہے تم نے بڑی ہو کر جرنلسٹ بننا ہے، تب شاید اس پیشے کی بہت قدر تھی۔ مجھے کچھ علم نہیں تھا کہ یہ جرنلسٹ کیا بلا ہے۔ کسی نے کہا آج یہاں جرنلسٹ اور اخبار والے بھی آئیں گے، موقع اچھا تھا، میں انتظار کرتی رہی کہ دیکھوں یہ اخبار والے کیسے ہوتے ہیں ؟ اتنی جلدی کیسے لکھتے ہیں اور اتنی زیادہ باتیں انہیں کیسے پتا چلتی ہیں ؟

خیر مجھے زیادہ انتظار نہیں کرنا پڑا اور پولیس کے ساتھ ہی صحافیوں کی وین بھی آ گئی۔ انھوں نے عورتوں کو دیکھا، پھر آپس میں جانے کیا باتیں ہوئیں۔ انھوں نے دس پندرہ عورتوں کو کھینچ کر قریب قریب کھڑا کیا تاکہ فوٹو اتار کر اخبار میں لگا سکیں۔ اگلے دن اخبار میں فوٹو دیکھ کر گمان ہوتا تھا کہ بہت رش میں لی گئی تصویر ہے۔

پولیس والوں کو پتا نہیں کس بات کا غصہ تھا، نجانے کس جلدی میں تھے …؟ ٹیچرز کو حکم ہوا کہ جلدی سے ساری کاپیوں پر دستخط کر دو، حکم کی تعمیل ہوئی، انگوٹھے لگانے کا مرحلہ آیا تو پولیس والے، فضہ کی امی اور کئی دوسرے لوگ ہاتھ کی ہر انگلی کو سیاہی سے رنگ کر ٹھپے لگا رہے تھے۔

فضہ کی امی میں مجھے کوئی جاذبیت نظر نہیں آئی تھی مگر میری اور فضہ کی دوستی وقت کے ساتھ ساتھ گہری ہوتی چلی گئی۔ کم سنی سے لے بڑھوتری تک ہر سنگِ میل پر ہم ساتھ ہی تھیں۔ جب ہم پانچویں کلاس میں تھیں تو فضہ نے دوپٹا بھی اوڑھنا شروع کر دیا جب کہ کلاس کی بیشتر لڑکیاں اسکول یونیفارم میں دوپٹے کے بغیر ہی اسکول آ تی تھیں۔ فضہ کی اُٹھان بھی عام لڑکیوں سے زیادہ تھی۔ مگر اٹھان زیادہ ہونے سے کیا فرق پڑتا ہے، اصل بات ذہنی عمر کی ہوتی ہے اور ذہنی عمر میں شاید وہ ہم سب سے پیچھے تھی یا آگے، مگر ہمارے ساتھ نہیں تھی۔

تب میرا پسندیدہ مشغلہ انرجائل اور گلوکوز کو زبان پر رکھ کر ٹھنڈک کا مزہ لینا تھا، … بسکٹ کبھی میری دسترس سے محفوظ نہیں رہے تھے۔ کئی بار گھر میں مہمان موجود مگر اسی وقت منگوائے گئے بسکٹ غائب ملتے۔ امی نے کھانے پینے پر کبھی روک ٹوک نہیں لگائی تھی… اور چٹخارے لے لے کر فضہ کو یہ سارے قصے سنانا روٹین کا حصہ تھے۔ فضہ کی کہانیاں قدرے مختلف ہوتیں۔ اس کی امی ہر کھانے والی چیز لاک میں رکھتی تھیں اور یہ بات کم از کم مجھ سے ہضم نہیں ہوتی تھی۔

کئی بار مجھے لگتا کہ فضہ جھوٹ کہتی ہے۔ کوئی بھی امی بچوں سے کھانے کی چیزیں لاک میں کیوں رکھیں گی؟

فضہ ابھی بھی ویسی ہی تھی معصوم سی، قدرے موٹی، گپلی سی، کئی بار اس کی باتوں سے لگتا کہ وہ ماں کے اتنا قریب نہیں ہے، بلکہ اپنے مرحوم باپ کے زیادہ قریب ہے، کیوں کہ اس کی ہر بات کا محور اس کے ابو ہی ہوتے۔

کبھی اپنے ماموں اور خالاؤں کا تذکرہ بھی کرتی، مگر پھوپھو یا تا یا چچا کا ذکر کبھی نہیں سنا تھا۔ فضہ کی امی کہیں جاب کرتی تھیں، مگر اس نے کبھی زیادہ نہیں بتایا۔ اتنی گہری دوستی کے باوجود نہ کبھی فضہ نے مجھے اپنے گھر بلایا اور نہ ہی کبھی ہمارے گھر آئی۔ ظاہر ہے ایک بیوہ اور ورکنگ وومین کے پاس اپنے بچوں کو گھمانے کا وقت کہاں سے نکلتا ہو گا۔

ٹین ایج میں بھی اکٹھے قدم رکھا۔ تب سوچ کا انداز اور پسند نا پسند تبدیل ہو رہی تھی۔ میری بڑی بہن کالج میں پہنچ گئی تھی اور اب ہمارے موضوعات میں آگے کیا کرنا ہے ؟ کون سے مضامین اختیار کرنے ہیں ؟ سائنس پڑھنی ہے کہ آرٹس، شامل ہو گئے تھے۔ نہ جانے ہم سب لڑکیوں نے کب سے خود کو بہت بڑا سمجھنا شروع کر دیا تھا۔ اب ٹیچرز کے مذاق اُڑائے جاتے، کارٹون بنتے اور اُلٹے سیدھے ناموں سے نوازا جاتا …

دیکھنا تو سہی یہ جو سائنس کی ٹیچر ہیں …ان کی پی ایچ کافی کم لگتی ہے …

ایک قہقہہ بلند ہوتا…

بڑی ایسڈک ہیں … ہاہاہاہاہا…

ایک اور کھنکتا ہوا فلک شگاف قہقہہ …

اور اردو ٹیچر کو دیکھو اُف! کتنی موٹی ہیں کپڑے ایسے پہنتی ہیں جیسے گلو لگا کر ساتھ چپکائے ہوں …؟

پھر ایک قہقہہ…

مگر سب سے مدھم آواز فضہ کی ہی ہوتی۔

فضہ تمہارے ابو ڈاکٹر تھے نا؟

ہاں فضہ جواب دیتی،

اچھا تو تم بھی ڈاکٹر بنو گی؟

پتا نہیں فضہ جواب دیتی۔

مگر کیوں ؟

پتا نہیں امی کو پتا ہو گا۔

اس چھوٹے سے شہر کے لوگ ابھی مغربی تہذیب کے اتنے عادی نہیں ہوئے تھے۔ کوئی بھی انوکھا واقعہ لوگوں کے لیے نا صرف اچنبھے کا باعث ہوتا بلکہ رنگین موضوع سخن بھی بن جاتا۔ شہر کے پوش علاقے میں ایک آنٹی نے ریستوران کھولا تھا اور اس کا خوب چرچا تھا۔ ہم لڑکیاں بھلا کب باز رہنے والی تھیں، ایک دن انہیں ریستوران والی آنٹی کا تذکرہ چل رہا تھا کہ فضہ میرا بازو کھینچ کر الگ لے گئی۔

فضہ کا گلہ رُندھا ہوا تھا، کہنے لگی!

تم بھی سب کے ساتھ میری امی کا مذاق اڑا رہی ہو؟

میں نے حیرت سے پوچھا کیسے ؟

کہنے لگی کہ وہ ریستوران میری امی نے کھولا ہے۔

میں حیرت زدہ اس کا منہ تکتی رہ گئی، مگر دوبارہ کبھی اس کے سامنے اس کی امی کے متعلق کوئی بات نہ کر سکی۔

ہائی اسکول میں ہم دونوں الگ الگ سمتوں میں چل پڑیں، میں نے اسکول بدل لیا اور فضہ سے کبھی دوبارہ رابطہ نہیں رہا۔ اسکول پھر کالج پھر یونی ورسٹی نئی سے نئی سہیلیاں، نئے سے نئے لوگ مگر میں فضہ کو کبھی بھلا نہیں پائی۔ وقت اتنی جلدی بیت جاتا ہے کہ احساس ہی نہیں ہوتا اگر انسان کو یہ علم ہو جائے کہ سب سے قیمتی دولت کیا ہے تو وہ کبھی مادی چیزوں کے پیچھے لگ کر خود کو اتنا خوار نہ کرے۔ علم کیا ہے ؟

ڈگریاں تو حصول روزگار کا ذریعہ ہیں یا پڑھے لکھے ہونے کا ثبوت، وقت پیسہ اور انرجی ہمارے سب سے اہم اور قیمتی وسائل ہیں، ہم کبھی ایک کو دوسرے پر ترجیح دیتے ہیں اور کبھی ایک سے دوسرے کو تبدیل یا ری پلیس کرتے ہیں۔ وقت بچانا ہے انرجی خرچ کریں، کچھ وقت بچ جائے گا۔ انرجی چاہیے تو پیسہ خرچ کریں، پیسہ چاہیے تو وقت اور انرجی دونوں برباد کیجیے …

میں کبھی بھی اتنی سوشل نہیں رہی، زیادہ دوستیاں کرنا تعلقات بنانا یا نبھانا نہیں آتا، مگر میری بہن کافی زندہ دل اور دوستانہ مزاج کی ہیں۔

کالج یونیورسٹی میں اس کی بہت سہیلیاں تھیں اور وہ سب سے ملتی۔ اس ایک سہیلی فضہ کی فرسٹ کزن بھی تھی جو یونیورسٹی میں میری سینیئر تھی۔ ایک دن اس سے پتا چلا کہ فضہ کی شادی کو تو عرصہ ہو گیا، اس نے تو تب میٹرک بھی نہیں کیا تھا، جب پیا دیس سدھار گئی۔ مجھے حیرت بھی ہوئی اور تھوڑا سا دکھ بھی کہ اتنی کم سنی کی شادی، اس عمر میں تو مجھے اپنے بالوں کی چٹیا بنانا بھی نہیں آتی تھی۔ پھر میں نے خود ہی دل کو تسلی دی کہ یتیم لڑکی ہے، اس کی ماں نے جلد فرض ادا کرنا مناسب سمجھا ہو گا۔

یہ بیٹیاں بھی عجیب ہوتی ہیں۔ ہمیشہ ان کے فرض ماں باپ کی نیندیں اُڑائے رکھتے ہیں، خواہ ساری دنیا کا بوجھ اپنی جان پر اٹھائے پھرتی رہیں، پھر بھی بوجھ ہی کہلاتی ہیں۔

الیکشن در الیکشن کا سلسلہ چل نکلا تھا، ہر دو ڈھائی سال بعد کے انتخابات نے عجیب بے دلی کی فضا پیدا کی ہوئی تھی۔ وہی لوگ جو ریفرنڈم پر ہر انگلی سے ٹھپے لگا رہے تھے، کبھی بی بی کی اور کبھی دوسری پا رٹی میں موجود ہوتے۔ مہنگائی تو طے ہے کہ صرف اوپر کا سفر کرتی ہے نیچے کبھی نہیں آتی۔ یونیورسٹی میں طلبا کا موضوع سخن بھی الیکشن کے ساتھ سیاست اور ملکی نظام ہوتا پھر سے الیکشن کا میلہ سجا اور لمبی بحثیں شروع ہو گئیں۔

یونیورسٹی میں بہت سی سہیلیاں بنیں مگر فریال اور عائشہ سب سے قریبی تھیں۔ ہر بات پر کھل کر اظہار اور اختلاف رائے کے باوجود فضہ کے بعد اگر دوستی ہوئی تھی تو فریال اور عائشہ سے۔ فریال کے والد ایک سرکاری محکمے میں اہم پوسٹ سے ریٹائر ہوئے تھے وہ لوگ کئی شہروں میں رہے اور اس کا مشاہدہ ہم سب سے کہیں بہتر تھا۔ یونیورسٹی میں ہی ہماری جونیئرز میں ڈیرہ کے ایک سردار کی بیٹی ربیعہ بھی تھی، جب فریال کے والد کی پوسٹنگ ڈیرہ میں تھی تووہ دونوں تب سے اسکول کی سہیلیاں تھیں۔ فریال کے ساتھ ساتھ ربیعہ سے بھی گہری چھننے لگی۔

علم بڑا ہے یا پیسہ؟ کیا انسان پیسے کے بغیر علم حاصل کر سکتا ہے ؟ کیا تعلیم بکتی ہے ؟ کیا علم سے یا ڈگری سے کوئی غریب انسان، کسی کسان کا بیٹا، کسی فیکٹری مزدور کا بیٹا بزنس مین یا صنعت کار بن سکتا ہے ؟ کیا سرمائے کے حصول کے بغیر یہ سب ممکن ہے ؟ فریال کہتی نہیں …پڑھ لکھ کر وہ اچھی نوکری کر لے گا تھوڑا سا معیارِ زندگی بلند ہو جائے گا، مگر مزدور کا بیٹا مِل کا مالک نہیں بنتا۔

میں کہتی نہیں علم بڑا ہے۔ قائد اعظم کو دیکھو، نیلسن منڈیلا کو دیکھو، فریال صرف مسکرا دیتی۔ ایک دن اسی بحث و تکرار میں ربیعہ بھی شامل ہو گئی۔ میں، فریال اور عائشہ اس بات پر متفق تھیں کہ تعلیم سے انسان کا معیارِ زندگی کسی حد تک بہتر ہو سکتا ہے مگر ربیعہ کہنے لگی، ’’مجھے تمہارے شہر میں آ کر عجیب عجیب باتیں دیکھنے کو مل رہی ہیں، ساری لڑکیاں پڑھ رہی ہیں،

ارے پڑھ کر انھوں نے کون سا تیر مار لینا ہے، یہی کسی اسکول میں یا کالج میں استانیاں لگ جائیں گی۔ ‘‘

فریال مسکرا کر کہنے لگی، اچھا ہے نا۔

ربیعہ نے کہا اچھا خاک ہے، ان کو اتنی نوکریاں کون دے گا؟ جو کام ان کے باپ دادا کر رہے ہیں وہی ان لوگوں کو کرنے چاہئیں۔ اب دیکھو گرلز ہوسٹل کی جمعدارنی کی بیٹی بی اے کر رہی ہے۔ کل یہی لڑکی ہوسٹل کے باتھ روم دھونے پر تیار نہیں ہو گی… یہ سن کر مجھے خوامخواہ طیش آ گیا۔

مگر پھر بھی ضبط کر کے کہا ربیعہ کل کو جب ہماری قوم ترقی کرے گی تو ہم سب اپنے باتھ روم خود دھوئیں گے۔

ربیعہ کہنے لگی ارے یہ کچھ نہیں کر پائے گی۔ میں نے کہا کہ ہمارے اسکول کی خاتون چپراسی کی بیٹی کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج میں پڑھ رہی ہے، تعلیم سے کوئی نہ کوئی کسی نہ کسی حد تک تو ترقی کرے گا۔

فریال نے مجھے روکا کہنے لگی چھوڑ دو بحث، تعلیم ان جاگیر داروں کی سوچ تبدیل نہیں کر سکتی۔

میں نے کہا کہ اسی لیے تو میں ان لوگوں کی سیاست کی مخالف ہوں، کیا نظام لائیں گے یہ لوگ ہمارے ملک میں جن کی سوچ صرف لوگوں کو دستِ نگر بنائے رکھنے تک محدود ہے۔

ربیعہ چلی گئی مگر بحث جوں کی توں جاری رہی، علم بڑا ہے یا پیسہ ؟

میں نے کہا علم ہی بڑا ہے ہر حال میں علم ہی بڑا ہے … عائشہ جو اکثر میری باتوں پر متفق اور ہم خیال ہوتی تھی مایوسی سے کہنے لگی، نہیں یار… پیسہ ہی بڑا ہے۔ پچھلے سال ہمارے کالج کی سالانہ تقریبات میں وفاقی وزیر نیاز احمد  کی بیگم مہمان خصوصی تھی۔

گورنمنٹ کالج کی پرنسپل اس کے سامنے بچھی جا رہی تھیں، دیکھ کر بہت دکھ ہوا اور زیادہ دکھ تب ہوا جب اس وزیر کی جاہل بیوی نے مائیک ہاتھ میں لے کر صرف اتنا کہا،

’’تہاڈی میڈم نے کالج لئی بسا منگیاں سن… اسی اپنے کولوں دو بسا دے دتیاں نیں ‘‘

(آپ کی پرنسپل نے کالج ٹرانسپورٹ کے لیے بسوں کی درخواست کی تھی، ہم نے اپنے پاس سے دو بسیں آپ کے کالج کو دے دی ہیں )

نیاز احمد کا نام سیاسی حلقوں میں بہت معتبر نام تھا۔ مارشل لا ہو یا جمہوری دور، ہمیشہ حکومت میں رہے جاگیردار اور صنعت کار بھی تھے۔ اونچی فصیلوں والے محلات سے لے کر ذاتی طیارہ تک ملکیت میں تھا۔ اس الیکشن میں وہ خود قومی اسمبلی اور اس کا بیٹا صوبائی نشست کے لیے اُمید وار تھا۔ نیاز احمد کا نام بیچ میں آیا کہ نئی بحث شروع ہو گئی، نیاز احمد آج کل صنعت کاروں اور تاجروں کی پارٹی کے ساتھ تھا وہ ایسا سیاست دان تھا کہ جسے کسی بھی پارٹی کا ٹکٹ مل سکتا ہے۔

کبھی اس کو پا رٹی ٹکٹ پارٹی لیڈر کی وفا داری پر ملتا، کبھی برادری کی بنیاد پر کہ اس حلقے میں اس کی برادری کے ووٹرز زیادہ تھے، کبھی اس علاقے میں اثر و رسوخ کی بنیاد پر، کبھی دھونس کبھی دھاندلی، کبھی چندہ کہ یہی جمہوریت کے پھندے ہیں۔

عائشہ دکھ سے کہنے لگی، اتنے سا لوں سے میرے والد محنت کر رہے ہیں مگر کاروبار ترقی نہیں کر سکا۔ اس بار میرا بھائی نا چاہتے ہوئے بھی ان کی پارٹی کو سپورٹ کر رہا ہے کہ سیاست دانوں کی بیک سپورٹ ہو تو کاروبار میں ہی مدد مل جاتی ہے، اتنے سال والد نے ایمان داری محنت اور خلوص سے کام کیا۔ نتیجہ کیا، میں این سی اے میں نہیں پڑھ سکی کہ وسائل اتنے نہیں تھے، بڑی بہن کی شادی، گھر کے اخراجات۔ اب بھائی نے موجودہ حالات کے مطابق اپنا راستہ چُن لیا ہے۔ فریال نے کہا کہ بات وہی ہے، اپنے کاروبار کو سپورٹ دینے کے لیے یہ لوگ سیاست کرتے ہیں، ہماری خدمات کے دعوے اور منشور تمہارے جیسے کتابی لوگوں کو اُلو بنانے کے لیے ہوتے ہیں۔

اسی دن شام کو مجھے اپنی بہن کے ساتھ اس کی سہیلی کی سالگرہ میں جانا تھا، فضہ کی کزن کے گھر پارٹی تھی، میں نے اس لیے حامی بھر لی کہ شاید فضہ سے یا اس کی امی سے ملاقات ہو جائے، جب بھی فضہ کا ذہن میں خیال آتا تو پہلا احساس یہ ہوتا کہ اتنی کم عمری کی شادی، صرف پندرہ سال کی لڑکی، اب تو اس کے دو یا تین بچے بھی ہوں گے۔ پتا نہیں اب دیکھنے میں کیسی لگتی ہو گی؟

خوش شکل تو وہ تھی ہی اب کافی پیاری ہو گئی ہو گی۔

انھیں سوچوں میں گم شام کو تقریب میں پہنچ گئی، جب فضہ کی کزن سے اس کا پوچھا کہ فضہ کہاں ہے ؟ پارٹی میں آئی کیوں نہیں ؟ اس کے کتنے بچے ہیں ؟ ٹیلیفون نمبر ہی دے دو؟

اس نے طنزیہ نظروں سے میرے سوال سنے اور کہا تمہیں پتا ہے فضہ کی شادی کہاں ہوئی ہے ؟

جواب سن کر میں سکتے میں آ گئی، ایک چیخ میرے اندر اُٹھی مگر میں آج تک اس چیخ کو باہر نہیں نکال سکی۔ پیٹ میں ایک دم سے درد کی شدید لہر اُٹھی اور میں گھٹنوں کے بل بیٹھ گی۔

فضہ کی شادی پندرہ سال کی عمر میں نیاز احمد سے ہو گئی تھی۔ سب سوال فضول تھے، ایسی شادیاں جو صیغہ راز ہی میں رہتی ہیں۔ ایسی بیوی جو معاشرے میں آ کر شوہر کا نام تک نہیں بتا سکتی، ماں نہیں بن سکتی، نکاح ہو بھی جائے تو اعلان نہیں ہوتا……شادی نہیں ہوتی… پتا نہیں کیا ہوتی ہے ؟

ایک دم سے ذہن میں بے شمار فلیش بیکس آنے لگے …

چل چل چنبیلی! باغ میں میوہ کھلاؤں گی… ریستوران کی سرپرستی…

کاش میرے ابو زندہ ہوتے …

ریفرنڈم … سیاہی کے دھبے …

جاگیر داروں کی… صنعت کاروں کی حکومت… اُونچے محل…

میوے کی ٹہنی ٹوٹ گئی…

بڑے سرمایہ دار … ہیلی کاپٹر …

چادر کا پلو پھٹ گیا۔

شاہین اب اُونچی پرواز نہیں کرتا…

لارنس آف تھلیبیا… تھر کی لالیوں پر پلتا ہے …

اُڑان اب طیاروں کے ساتھ ہے … کاروبار کا تحفظ … کم سن لڑکیوں کی قربانی

، گھوڑے کی ٹانگ ٹوٹ گئی، ہلدی لگاؤں گی

اُونچی فصیلوں سے چیخ باہر نہیں آتی …

میرے درد کو جو زباں ملے …

تشنہ لب خاموش…

کسی نے سارے جسم کی سوئیاں نکال چھوڑی تھیں مگر آنکھوں کی رہنے دیں۔

زمانے کے ساتھ حیلے تراشنے والوں پر ایسا غضب پڑا …

باہرسے تو سب انسان ہی رہے، مگر اندر سے جون بدل گئی…

شیر کہلانے والے لگڑ بھگڑ کی طرح ہنسنے لگے …

شاہین کے بال و پر گرنے لگے، سراور گردن پروں سے محروم ہوئے …

پیٹ بڑھتا گیا…

پتا نہیں کیسی بھوک ہے جو مٹتی ہی نہیں ؟

آنکھیں اندھی رہیں، کچھ دکھائی دیا نہ سجھائی دیا، آنکھوں کے زخم بھی عجیب ہوتے ہیں، ہلدی بیچاری کیا کرے ؟

٭٭٭

 

 

 

 

خوارزم کے نمکین آنسو

 

نیبوکوف گہری نیند سے اٹھا تو اپنی خشک آنکھیں ملنے لگا۔ اس رات پھر اسے خواب میں ماہی گیروں کی کشتیاں مستول اور لنگر نظر آئے تھے۔ کشتی کے نچلے حصے میں برف اور نمک کے آمیزے سے محفوظ مچھلی کی بو خواب سے بیدار ہو جانے کے بعد بھی اس کے حواس پر چھائی ہوئی تھی۔ وہ کروٹ بدل کر دوبارہ سونے کی کوشش کرنے لگا۔

نیبوکوف فری لانس فوٹو گرافر تھا۔ وہ کئی ہفتوں سے ایک اخبار کے لیے ڈیموں کی افادیت اور ماس کو کی آبی پالیسیوں بارے جاری پروجیکٹ کی تصویری عکاسی کر رہا تھا۔

اسی پروجیکٹ کے دوران اسے دس سال قبل ارل جھیل کی ساحلی بستیوں میں گزرا وقت بہت یاد آنے لگا تھا۔ چند روز سے وہ مسلسل خواب میں ماہی گیروں کی کشتیوں نمکین ساحلوں اور اپنے پرانے دوست زولفیزار اور ڈی نیزا کو دیکھ رہا تھا۔ اخبار کی طرف سے معاوضے کی رقم ملتے ہی اس نے ازبکستان کی فلائیٹ لی اور اپنے پرانے ماہی گیر دوستوں سے ملنے چلا گیا۔

زولفیزار اور ڈی نیزا اسے اپنی بستی کے اسٹیشن پر خوش آمدید کہنے کے لیے موجود تھے۔ اسے ان دونوں کی حالت دیکھ کر بہت حیرت ہوئی۔ ان کے بالوں کی رنگت اڑی ہوئی، جلد چمڑے کی مانند خشک اور ہونٹوں پر پپڑیاں جمی تھیں۔ ان کے ہاتھوں کی پشت پر ایگزیما کے زخموں کے نشان نمایاں تھے۔

یہ کیا ہوا تمہیں زولفیزار؟

نیبوکوف تم فش ہاربر تک آؤ سب معلوم ہو جائے گا۔

ہاں زلفے میں ارل جھیل میں ڈولتی کشتیوں اور پس منظر میں غروب ہوتے سورج کی عکاسی کرنے کے لیے بیتاب ہوں۔

کچھ ہی دیر میں وہ پرانے ہاربر پر آن پہنچے۔

نیبوکوف اپنے دوستوں کو پیچھے چھوڑتا ہوا لکڑی کے بوسیدہ تختوں پر آگے بڑھا تو اس کی آنکھیں حیرت کی شدت سے پھٹنے لگیں۔

دور حد نظر تک ریت اڑ رہی تھی۔ کئی کشتیاں آدھی ریت میں دھنسی ہوئی تھیں اور کئی کشتیوں کے لنگر بھی ریت کے ژولیدہ لہریوں میں سے جھانکتے نظر آ رہے تھے۔ پھیکا زرد سورج گرد کا غلاف اوڑھے ارلکم صحرا میں آگ برسا رہا تھا۔

اس نے گھبرا کر پیچھے دیکھا ویران فش ہاربر میں ریت کے بگولے آسیبوں کی طرح رقصاں تھے۔ دور دور تک پانی کا نام و نشان نہیں تھا فقط اس کی سرخ آنکھوں میں دو نمکین آنسو تیر رہے تھے۔

دریا چہ خوارزم کے نمکین آنسو۔ ۔ ۔ ۔ ۔

٭٭٭

 

 

 

 

اضافت

 

چونے اور پتھر سے تعمیر شدہ صحرائی گھر کی ہر درز سے زندگی سانس لیتی محسوس ہوتی تھی۔ گھر کے باہر بڑھیا اپنی کرسی پر بیٹھی کوئی کپڑا سی رہی تھی۔ بڑھیا کے سامنے مکان کے داخلی دروازے کی دوسری جانب ایک خالی کرسی بھی دھری تھی۔ وہاں سورج کی مہربان اجلی دھوپ زندگی کی حرارت کا احساس دلا رہی تھی اور تازہ ہوا گنگناتی ہوئی گزرتی تو گوشے گوشے کو معطر کر دیتی۔ اسے یاد آیا ایسی ہی ایک بڑھیا کہانیوں میں چاند پر سوت کاتا کرتی تھی۔ کہیں یہ وہی بڑھیا تو نہیں۔ وہ اس وادی میں جہاں وقت بھی دبے پاؤں چلتا تھا خاموشی سے مکان کی جانب بڑھا تاکہ اُس بڑھیا سے تکلے کی سوئی سے لے کر چاند گرہن تک کی ہر الف لیلوی داستان سن لے۔

مگر اس وادی کی جانب قدم بڑھاتے ہی سارا منظر بدل گیا۔ گویا کچھ شرارتی بچوں نے افق کے دونوں کناروں کو تھام کر جھولا جھلانے والی چادر کی مانند اوپر اٹھا لیا ہو۔

ہاتھوں کی مٹھیاں بنا کر اس نے زور سے آنکھیں ملیں اور پھر حیران ہو کر چاروں طرف دیکھنے لگا۔ وہ ایک فلک بوس عمارت کے اوپر موجود تھا چاروں طرف آنکھوں کو چندھیا دینے والی روشنیاں فلک پر پھیلے ستاروں کے زمین سے محو کلام ہونے سے مانع تھیں اور مدھم سا چاند بہت پھیکا لگ رہا تھا۔ اس نے جنگلے کے ساتھ کھڑے سر جھکا کر نیچے دیکھا تو چکرا کر رہ گیا۔ بہت نیچے سڑکوں پر ٹریفک جگمگاتی روشنیوں کے نقطوں کی مانند تیزی سے دونوں سمتوں میں بہتی نظر آ رہی تھی اور گھڑی کی سوئیاں اتنی تیزی سے چل رہی تھیں کہ اسے بالوں میں اترتی سفیدی کا بھی احساس نہ ہوا۔

٭٭٭

 

 

 

ہمجولی چڑیا

 

 

سنہرے پروں والی چڑیا پکڑنے کی دھن میں اک ننھی بچی بستی سے بہت دور نکل گئی۔ شام ہونے کو آئی ’ فلک پر بادل چھا گئے۔ ہوا سرد ہوئی تو جنگل کی باڑ پر اداس بیٹھی سوچنے لگی اب واپس کیسے جاؤں۔

چلتے چلتے جب پاؤں تھک گئے تواسے اپنے ماں باپ بہت یاد آئے۔

اُس کی یہ بیچارگی دیکھ کر سنہرے پروں والی چڑیا دلاسہ دینے آئی، “اداس مت ہو پیاری ہمجولی”۔

اس چڑیا کو اپنے سامنے پا کر ننھی بچی کے دل میں اسے پکڑ لینے کی خواہش نے دم توڑ دیا۔

تب جا کر احساس ہوا کہ اتنی دور نکلنے کی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اسے پکڑنے کی کیا ضرورت تھی۔

یہ چوں چوں کرتی سنہری چڑیا تو روز اس کی کھڑکی پر آ کر سریلے نغمے سناتی ہے۔

٭٭٭

مصنفہ کے تشکر کے ساتھ جنہوں نے اس کی فائل فراہم کی

تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید