FavoriteLoadingپسندیدہ کتابوں میں شامل کریں

 

 

کشمکش

 

 

                   نسترن احسن فتیحی

 

 

 

 

 

 

کوئی کہانی زندگی کا واضح اور مکمل چہرہ نہیں دکھا سکتی یہ بکھرے ہوئے ریزوں میں اپنی موجودگی درج کراتی رہے گی اور زندگی کی گزرگاہ پر اپنے اپنے حصوں کی کرچیاں سمیٹ کر ہر ہم اپنا وجود زخمی اور روح روشن کرتے رہے ہیں ، کرتے رہیں گے۔ تاکہ آنے والے زمانوں کے لئے اس راہگزر پر انسانیت کے ادراک کا جو دیا روشن ہے وہ ہمیشہ روشن رہے۔

 

 

 

 

انتساب

 

ابا محمد احسن اور امی حمیدہ احسن

جان ابا علی عباد فتیحی اور ممی زاہدہ فتیحی

کے نام

 

کہ جن کی شفقت، محبت، تربیت اور دعائیں ۔ ۔ ۔ زندگی کے سخت ترین سفر میں سائبان کی طرح ہر سرد گرم سے بچاتی رہیں ۔

نسترن احسن فتیحی

 

 

 

 

کشمکش

 

صبح صادق کا اجالا ابھی نہ پھیلا تھا۔ ۔ ۔ ۔ دور دور تک سناٹے اور تاریکی کا راج تھا، فضا میں حبس بہت تھا۔ ۔ ۔ میں تیز تیز قدم اٹھاتا چورا ہے تک پہنچا اور مجھے یہ دیکھ کر یک گونہ سکون ہوا کہ سڑک کنارے ایک سائیکل رکشہ موجود تھا۔ ۔ ۔ رکشے کے قریب جا کر میں نے ٹارچ کی روشنی میں دیکھا کہ رکشے والا ایک کثیف سا کپڑا منھ پر ڈالے رکشے کی سیٹ پر گہری نیند سو رہا ہے، ایک اضطراری کیفیت میں میں نے گھڑی دیکھی۔ ۔ ۔ ۔ ساڑھے تین بج چکے تھے۔ ۔ میری بس چار بجے کی تھی اور بس اسٹینڈ تک جانے میں یہاں سے آدھ گھنٹہ تو لگ جاتا ہے۔ ۔ ۔ اس لئے اب میرے پاس رکشے والے کو نیند سے جگانے کے علاوہ کوئی چارہ نہ تھا۔

” ارے بھئی۔ ۔ ۔ ۔ اٹھو۔ ۔ ۔ بس اسٹینڈ چلنا ہے۔ ” میری آواز سناٹے میں سر دھنتی رہ گئی۔ ۔ میں نے اس بار رکشے والے کے کاندھے کو ہلکے سے چھوا۔ ۔ ” اٹھو۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بس اسٹینڈ جا نا ہے –”

“مجھے نہیں جانا ہے صاحب۔ ۔ ۔ دوسرا رکشہ دیکھیں –” اس نے جھنجھلائے ہوئے انداز میں جواب دیا مگر مجھے برا نہیں لگا، آخر میں اس کی گہری نیند میں مخل ہوا تھا۔ مگر میرا اضطرار بڑھ رہا تھا، میں کسی بھی طرح یہ بس چھوڑنا نہیں چاہتا تھا۔

“چلو بھئی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہاں کوئی دوسرا رکشہ نہیں ہے۔ ” اس بار ذرا زور سے جھنجھوڑتے ہوئے میں نے کہا، میری آواز میں بے چارگی عود کر آئی تھی، مگر وہ راضی نہیں ہوا۔

“طبیعت ٹھیک نہیں ہے صاحب۔ ۔ ۔ ۔ مجھے نہیں جانا ہے۔ “اس بار اس نے چہرے سے کپڑا ہٹا کر کندھے پر رکھا اور اٹھ کر بیٹھتا ہوا بولا

میں نے موقع غنیمت جانا اور پائیدان پر اس کے پیر کے پاس زبردستی کے انداز میں اپنا بریف کیس رکھتے ہو یے کہا۔ ۔ ۔

“چلو بھا ئی۔ ۔ ۔ ۔ بس چھوٹ جائے گی، میرے پاس وقت بالکل نہیں کہ دوسرے رکشے کا انتظار کروں –”

“کہا نہ صاحب طبیعت ٹھیک نہیں ہے۔ “وہ بھی ایک ہی ضدّی تھا، مجھے غصہ آنے لگا مگر ضبط سے کام لیتے ہوئے کہا۔

” ارے تم کچھ زیادہ پیسے لے لینا۔ ۔ ۔ میرا جانا بہت ضروری ہے، بس تم یہ بس پکڑوا دو، بڑی مہربانی ہو گی۔ ”

میرے لجاجت بھرے انداز کا اثر تھا یا پیسے کی بات کا وہ رکشے سے اتر آیا۔ اور میں ایک لمحہ ضائع کئے بغیر اچک کر رکشے پر بیٹھ گیا۔

اس نے بڑی قباحت سے رکشہ آگے بڑھایا، اور میں نے پھر گھڑی دیکھی دس منٹ یہیں پر ضائع ہو چکے تھے۔ میری تشویش بڑھ گئی۔

“ذرا جلدی پہنچا دو بہت دیر ہو گئی ہے۔ ”

“کون سی بس لینی ہے صاحب “اس نے پیڈل پر اپنے جسم کا زور بڑھاتے ہوئے پوچھا۔

“دلّی والی پہلی بس۔ ۔ ۔ چار بجے ہی نکلتی ہے۔ ”

“اوہ اچھا۔ ۔ ۔ کہتے ہوئے اس میں کچھ تیزی آئی اور وہ پیڈل پر تیز تیز پیر مارنے لگا۔ ”

اب صبح کی سرخی نمودار ہو رہی تھی، اور تاریکی کی چادر سمٹتی جا رہی تھی، سڑک بالکل سنسان تھی اور رکشہ مناسب رفتار سے بھاگ رہا تھا۔ میں نے سوچا۔ ۔ ۔ قصبے نما اس شہر میں زندگی اب تک سوئی پڑی ہے۔ ۔ ۔ اور دلّی کی سڑکوں پر زندگی کب کی جا چکی ہو گی۔ ۔ ۔

” بس مل تو جائے گی نا ؟ ” میں نے فکر مندی سے پوچھا۔

“کیا ٹیم ہوا ہے صاحب۔ ۔ ۔ ۔ ؟”

” پونے چار۔ ۔ ۔ اب بس چھوٹنے میں پندرہ منٹ ہی رہ گئے ہیں ۔ ”

“اچھا۔ ۔ ۔ دیر تو ہو گئی ہے۔ ۔ ۔ پر میں پوری کوشش کروں گا کہ آپ کو بس مل جائے۔ ” اس نے پوری محنت سے رکشہ چلاتے ہوئے کہا۔

اس کی یقین دہانی اور اس کی محنت سے میرا دل اس کے لئے پسیجنے لگا، میں نے دیکھا کہ وہ ایک ادھیڑ عمر کا  نحیف سا شخص تھا، میں نے دل میں سوچا آج اسے اچھے پیسے دے کر خوش کر دوں گا -میری کاروباری سوچ نے فوراً نفع نقصان کا حساب لگایا اگراس نے بس پکڑوا دیا تو میں ایک بڑے نقصان سے بچ جاؤں گا۔ میں نے اس کا حوصلہ بڑھا نے کے لئے کہا۔ ۔ ” تم آج مجھ سے زیادہ پیسے لے لینا اور ڈاکٹر کو بھی دکھا لینا۔ ”

“آپ بہت بھلے مانس ہیں صاحب، دو دن سے طبیعت ڈھیلی تھی تو رکشہ نہیں کھینچا۔ ۔ ۔ تو دو دن سے کھانا بھی نہیں ملا ہے۔ ۔ ۔ اسی لئے آپ کو منع کر رہا تھا، وہ تو آپ کی مجبوری دیکھی تو چلا آیا-”

وہ اب جتنا تیز رکشہ چلا رہا تھا، اتنی ہی تیزی سے باتیں بھی کر رہا تھا۔

“ہم غریب لوگوں کا یہی تو ہے صاحب، کسی دن کام کی ہمت نہ ہو تو پھر بھوکے ہی مرو۔ ” اس نے اپنی پھولتی ہوئی سانسوں میں کہا۔ یہاں سڑک ہلکی چڑھائی کی طرف تھی اس لئے اسے کافی زور لگانا پڑ رہا تھا۔ وہ رکشہ چلاتے ہوئے پیڈل کو اوپر سے نیچے کی طرف زور لگاتے وقت پورے جسم سے کھڑا ہو جاتا، اور اس طرح وہ اپنے بیمار جسم سے پوری مشقت کر رہا تھا، لیکن میں اس سے یہ بھی نہ کہ سکتا تھا کہ وہ آرام آرام سے چلے – اس کی پرانی قمیض اس کے جسم سے بالکل چپک گئی تھی – درمیان میں کسی کسی وقت وہ انگلیوں کے پوروں سے اپنی پیشانی پر آئے پسینے کو سمیٹ کر ایک طرف جھٹک دیتا۔ ۔ ۔ مگر رکشے کی رفتار کم نہ کرتا۔ ۔ اب اسے دھن سوار ہو گئی تھی کہ مقررہ وقت سے پہلے وہ بس اسٹینڈ پہنچا دے۔

” مل جائے گی بس صاحب۔ ۔ ۔ ۔ چار تو ابھی نہیں بجے نا۔ ۔ ۔ اب زیادہ دور نہیں ہے۔ وہ اپنی پھولتی سانسوں میں بھی مسلسل باتیں کئے جا رہا تھا۔ ۔ ۔ جیسے مجھ سے زیادہ خود کو تسلی دے رہا ہو۔

میری نا امیدی بھی امید میں بدل رہی تھی۔ ۔ ۔ ۔ اور میں سوچ رہا تھا کہ آج اسے پچاس روپے کی جگہ دو سو ضرور دے دوں گا۔ دل اس اجنبی، غریب اور بیمار شخص کے لئے احساس تشکر سے بھر گیا۔

” وہ رہا بس اسٹینڈ صاحب۔ ۔ ۔ ۔ ” وہ خوشی سے چلایا۔ ۔ میرے چہرے پر بھی رونق دوڑ گئی۔ ۔ قریب پہنچنے پر دلی جانے والی پہلی بس بالکل سامنے ہی کھڑی نظر آ گئی، نکلنے کو بالکل تیار۔ ۔ ۔ وہ اسٹینڈ سے نکل کر گیٹ کے پاس کھڑی تھی ڈرائیور اپنی سیٹ پر موجود اور انجن اسٹارٹ۔ ۔ ۔ ۔ میں رکشہ پوری طرح رکنے سے پہلے ہی کود کر اترا اور جیب سے پرس نکال کر پیسے نکالنے لگا۔ ۔ ۔ رکشہ والا بھی ایک طرف رکشہ روک کر کنارے کھڑا فتح مندی سے میری طرف دیکھتے ہوئے اپنا پسینہ خشک کر رہا تھا۔ ۔ ۔ میں یہ دیکھ کر پریشان ہو گیا کہ پرس میں ایک بھی چھوٹا نوٹ موجود نہ تھا، سب پانچ سویا ہزار کے۔ ۔ ۔ ۔ میں نے بس کے دروازے سے لٹکے ہوئے کنڈکٹر کی طرف دیکھا جو مجھے رکشے سے اترتے ہوئے دیکھ کر میرا ہی منتظر تھا۔ ۔ ۔ ” جلدی کیجئے۔ ۔ ۔ ” وہ چلایا۔

” ٹکٹ لے لوں ؟ “۔ ۔ ۔ میں نے اس سے کہا –کیونکہ مجھے ٹکٹ سے زیادہ روپے کھلوانے کی فکر تھی۔

“آیئے بس میں ہی بن جائے گا۔ ” وہ پھر چلایا- بس اب اپنی جگہ سے کھسک رہی تھی۔ اس نے دروازے پر دب کر میرے چڑھنے کے لئے جگہ بنائی۔ میں نے رکشے والے کو اپنے پیچھے آنے کا اشارہ کیا۔ اور بریف کیس اٹھا کربس کی طرف لپکا میرے پیچھے رکشہ والا بھی تھا۔ چڑھنے سے پہلے میں نے کنڈکٹر سے کہا۔ ۔ ۔ ” چینج دے دو پانچ سو کا –” نہیں ہیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ آیئے۔ جلدی کیجئے۔ ” وہ اپنی کرخت آواز میں چیخا -“سو دو سو ہیں تو وہی دے دو اندر حساب کر لینا۔ ” میں نے ایک اور کوشش کی۔

“پہلے اندر آئے۔ ” وہ بد سطور بولا – میں بس پر چڑھ گیا، بس بہت آہستگی سے اب بھی رینگ رہی تھی، اور رکشے والا بس کے دروازے کا روڈ پکڑے ساتھ ساتھ چل رہا تھا۔ کنڈکٹر اب میری طرف مخاطب نہیں تھا بلکہ باہر آدھے دھڑ سے لٹکا ہوا آوازیں لگا رہا تھا۔ ۔ ۔ میں نے گھبرا کر رکشے والے کی طرف دیکھا، کیونکہ بس کی رفتار بڑھ رہی تھی اور کچھ مسافروں سے مخاطب ہوا۔ آپ کے پاس چینج ہے۔ رکشہ والا ساتھ ساتھ اب تقریباً دوڑ رہا تھا، اسی طرح بس کے دروازے کا روڈ پکڑے ہوئے، مسافر نفی میں سر ہلا رہے تھے اور میری نظریں سب کے چہروں سے پھسلتیہوئی ادھر سے ادھر جا رہی تھیں ۔ ۔ بس اب گیٹ سے باہر آ چکی تھی، میں نے دیکھا رکشے والا پیچھے چھوٹ گیا ہے۔ ۔ میں شاید چلّا کر ڈرائیور کو روکنا چاہتا تھا، مگر دیکھ رہا تھا کہ وہ اب نہیں رکے گا۔ ۔ اب میرے پاس ایک ہی طریقہ تھا کہ میں پانچ سو کا یہ نوٹ ساتھ دوڑتے ہوئے رکشے والے کی طرف پھینک کر اسے دے دوں ۔ مگر اسی کشمکش میں میں نے دیکھا کہ بس اپنی رفتار پکڑ چکی ہے، پھر بس کے پچھلے شیشے سے میں نے دیکھا کہ وہ بس کے پیچھے اب بھی دوڑ رہا تھا، اس کا دونوں ہاتھ اوپر اٹھا ہوا تھا اور وہ کچھ کہ بھی رہا تھا – دھیرے دھیرے وہ نظروں سے اوجھل ہوتا گیا مگر پانچ سو روپے کا وہ نوٹ میری مٹھی میں بھنچا ہوا تھا –

٭٭٭

 

 

 

پرچھائیں

 

صبا نے راستے پر چلتے چلتے اپنی پرچھائی کو دیکھا، کتنا بھی تیز قدم بڑھا لے وہ اس کے آگے ہی رہے گی — حقیر، بونی، بیہودہ پرچھائیں ، اسے اس کی کم مائے گی کا احساس کرانے کے لئے وہ اس کے سامنے رہ کر منھ چڑھاتی رہتی ہے۔ لیکن کبھی جب پیچھے جاتی ہے، نظروں سے اوجھل ہو جاتی ہے تو اپنا قد اتنا بڑا کر لیتی ہے کہ وہ نظروں میں نہ رہ کر بھی جیسے اسے دبوچ لیتی ہے اور وہ بے بس و کمزور پڑ کر اس کی موجودگی کے احساس سے نکل نہیں پاتی۔ یہ پرچھائیاں اتنی شکلیں کیوں بدلتی ہیں ، کیوں نہیں تھوڑی دیر اسے اکیلا چھوڑ دیتی ہیں ۔ اسے تو لگتا ہے کہ وہ وقت کا کوئی بھی پہر ہو، اجالا یا اندھیرا ہو وہ ان پرچھائیوں میں جیتے جیتے تھک گئی ہے۔ اپنی گنجلک سوچوں کے ساتھ وہ گھر پہنچ چکی تھی۔

صبا نے سبزی کا تھیلا ڈائننگ ٹیبل پر رکھا اور کرسی کھینچ کر بیٹھ گئی۔ اسے سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ اسے تھکن زیادہ ہے یا پیاس۔ گھر پہنچ کر تھیلے اور پرس سے چھٹکارا پانے کے بعد دو قدم بڑھا کر اب اس سے فرج تک بھی نہ جایا جا سکا، لیکن پیاس سے ہونٹ سوکھ رہے تھے، اکتوبر کے اوائل میں گرمی اتنی شدید نہیں ہوتی لیکن چڑھتے سورج کی دھلی دھلائی سفید دھوپ کی تپش نے جیسے جسم سے پانی ہی نہیں خون بھی نچوڑ لیا ہو۔ اس نے سامنے بڈ روم میں بستر پرا پنے دونوں پیر پھیلائے گود میں لیپ ٹاپ رکھے اپنی بڑی بیٹی پنکی کو دیکھا، وہ اپنے فیس بک کے دوستوں کی دنیا میں گم تھی، تبھی دوسرے کمرے سے راجو آیا پارے کی طرح تھرکتا ہوا۔ ۔ ۔ ۔

“آپ آ گئیں ممی ! بہت بھوک لگی ہے۔ “اس نے فرج پر رکھی ٹوکری سے ایک سیب اٹھایا۔

“ہاں لفٹ خراب ہے، چار منزل چڑھتے چڑھتے حالت خراب ہو گئی۔ ۔ ۔ ذرا پانی تو پلاؤ۔ ”

“یے۔ ۔ یے۔ ۔ یے۔ ۔ ” پاس کے کمرے سے شور کی آواز آئی۔ کوئی وکٹ گرا تھا، راجو اپنی آواز بھی اس شور میں شامل کرتا ہوا ادھر دوڑ گیا اور صبا کے الفاظ اس شور میں گم ہو گیے –

“منی۔ ۔ ۔ ۔ ” صبا نے پکارا۔ ۔ ۔ چھوٹی بیٹی کہیں دکھائی نہیں دے رہی تھی –”منی۔ ۔ ۔ ” صبا نے پھر پکارا-

“اف فوہ ممی فون پر ہوں –” منی نے بالکنی سے سر اندر کر کے اسے ایک جھڑکی دی-

صبا کی سانسیں برابر ہو چکی تھیں ، اس نے اٹھ کر فرج سے بوتل نکالی اور ٹیبل کے پاس آ کر گلاس سیدھا کر کے پانی اس میں ڈالنے لگی –

“ممی۔ ۔ ۔ ایک گلاس مجھے بھی۔ ۔ ۔ “سامنے سے بڑی بیٹی پنکی نے آواز لگائی-وہ گلاس اٹھا کر پنکی کو دے آئی، اس میں اس وقت قوت مدافعت نہ تھی۔ پھر خود پانی پی کر بوتل بھر کر واپس فرج میں رکھا اور ٹی وی روم میں گئی، وہاں راجو اپنے پاپا کے ساتھ ٹوینٹی ٹوینٹی میچ دیکھنے میں محو تھا، ان دونوں کی محویت میں کوئی فرق نہ آیا، اور صبا دو منٹ وہاں پر کھڑی ہو کر لوٹنے لگی پر شوہر اور بیوی ایک دوسرے کی طرف دیکھیں یا نہ دیکھیں ان دونوں کے بیچ ایک ٹیلی پیتھی ہوتی ہے، شاید اسی ٹیلی پیتھی سے اسکے شوہر بلال نے اس کی موجودگی اور واپسی کو اچانک محسوس کیا اور اس کی دلجوئی کرنے کے لئے جاتی ہوئی صبا سے کہا

۔ ۔ ۔ ” صبا دیکھو آج میچ میں بہت مزہ آ رہا ہے –”

“ہوں ۔ ۔ ” صبا کے قدم نہیں رکے۔ ۔ کیونکہ وہ بہت بے مزہ ہو چکی ہے۔ ۔ ۔ اپنے چہار طرف ہلتی ڈولتی پرچھائیوں سے – وہ یہ بھی جانتی ہے کہ وہ اگر رک بھی گئی تو یہ پرچھائیاں اس کے اپنے قد کو ہی بونا اور بد ہیئت کر کے دکھا دیں گی۔ وہ وہاں سے آ کر الماری سے اپنے لیے ایک سوتی ساڑی نکالتی ہے – “ممی جلدی کھانا بنا دو مجھے اور پاپا کو بہت بھوک لگی ہے -“صبا کی سماعت سے یہ آواز ٹکرائی۔ ۔ ۔ اور وہ اپنی سلک کی ساڑی اتار کر سوتی ساڑی باندھ کر باورچی خانے میں چلی گئی – آج دو اکتوبر کی چھٹی ہے اور آج ہی اتوار بھی ہے ایک چھٹی نہیں ملنے کا سب کو افسوس ہے اور آج اسی چھٹی کی وجہ سے سب گھر پر ہیں ورنہ اس وقت کون گھر میں رہتا ہے۔ ۔ ۔ کس نے کہاں کب کتنا کھایا کسی کو معلوم نہیں رہتا اس لیے چھٹی کے دن کو صبا کچھ اسپیشل ٹچ دینا چاہتی ہے، شوہر اور بچوں کے لئے اور اپنے لیے بھی۔ ۔ ۔ اسکے اندر چند دہائیوں پہلے والی ایک عورت زندہ ہے۔ ۔ ۔ ۔ جو ہر وقت اس کا دل مٹھیوں میں لے کر بھینچتی رہتی ہے -کبھی کبھی ملنے والی چھٹیوں کی اسےک لیے بھی وہی اہمیت ہے جو دوسروں کے لئے ہے۔ اس کا جسم بھی آج بے حس و حرکت بستر پر پڑا رہنا چاہتا ہے پر اس کے اندر والی عورت کا بھوت نکل کر اسے اپنے قابو میں کر لیتا ہے اور اسے بے حسی سے پڑے رہنے کی اجازت نہیں دیتا، صبا بڑی بیچارگی سے مدد کے لیے سب کی طرف دیکھتی ہے پر اسے وہاں کوئی دکھائی نہیں دیتا۔ ۔ ۔ پر کچھ لوگوں کی پرچھائیاں وہاں ہوتی ہیں ۔ ۔ ۔ ۔ بلال کی، راجو کی، پنکی اور منی کی۔ ۔ ۔ جو وہاں اتنے ہی موجود ہوتے ہے جتنی اس کی یادوں میں ماضی کی پرچھائیاں ۔ ۔ ۔ وہ کام کرتے کرتے کب ماضی کی پرچھائیوں کے ساتھ ہوتی ہے اور کب حال کی اسے خود پتا نہیں چلتا اسے اپنا زمانہ یاد آتا ہے وہ زمانہ جسے اسکے بچے پرانا زمانہ کہہ کر اس کی سوچوں کا مذاق اڑا دیتے ہیں اور اس وقت اسکے بڑے نیا زمانہ کہ کر جھڑک دیا کرتے تھے۔ مگر اُس زمانے کا موہ اسے جکڑے رہتا ہے، اس زمانے کی بڑی بڑی ڈیوڑھیاں ، آنگن، دالان اور ایک ہی چھت کے نیچے رہنے والے خاندان اور ان کی تہذیبیں سب غائب ہو گئی ہیں – صبا نے سوچا بادشاہ اور نواب کی بات تو وہ نہیں جانتی پر حویلیوں اور کوٹھیوں کو سکڑ سمٹ کر گھر میں بدلتے اس نے اس زمانے سے اس زمانے تک آتے آتے ہی دیکھا تھا –تب اسے بھی چھوٹے اور خوش و خرّم خاندان کا تصوّر بڑا بھلا لگتا تھا-پر اب لگتا ہے بڑے خاندان کے ساتھ بڑے بڑے سہا رے اور امداد بھی غائب ہو گیے –نہ جانے کب اور کیسے خوشی کی گٹھری وہیں چھوٹ گئی اور ہم اپنے ساتھ صرف بوجھ اٹھا لائے۔ ۔ ۔ ، چھوٹے بڑے کام کا بوجھ، تنہائی کا بوجھ لاتعلقی کا بوجھ۔ ۔ ۔ ۔ اور وہ پرانی تہذیبیں ہی ہیں جو اس کی نسوں میں دشمن بن کر دوڑ رہی ہیں اور یہ یوں ہی ایک نسل سے دوسری نسل تک پہونچنے کی کوشش کرتی ہیں پر جب کسی نسل کے ساتھ دم توڑتی ہیں تو پورے معاشرے کو مردہ بنا جاتی ہیں –

“ممی یی ی۔ ۔ ۔ ۔ ” راجو کی آواز نے اسے ماضی سے حال کی پرچھا ئیوں کے بیچ کھینچ لیا-

اس نے مکسر کا سویچ آف کیا، گلاس ٹرے میں لگا کراس میں موسممی کا جوس ڈالا اور سب کو جا جا کر جوس کا گلاس پکڑا دیا، فون کی گھنٹی بج رہی تھی، راجو نے صبا کو اپنی طرف دیکھتے ہوئے پا کر کہا، ۔ ۔ ۔ “ممی دو اوور بچے ہیں پلیز آپ دیکھ لیں ۔ ” صبا نے اپنا غصہ ضبط کر لیا اور فون کی طرف گئی۔ ۔ ۔

“رہنے دو ممی میرا ہے -“موبایل پر سگنل نہیں مل رہا ہے -”

صبا کا غصہ پھوٹ پڑا۔ ۔ ، “کس سے اتنی دیر سے بات کر رہی ہو-”

منی نے کھا جانے والی نظروں سے ماں کو دیکھا اور فون اٹھا لیا۔

” یہ تم نے کس طرح مجھے۔ ۔ ۔ ” اس سے پہلے کہ صبا کی بات پوری ہوتی، بلال کی آواز آئی،

” اب اس وقت تم لوگ لڑنے مت لگنا-”

صبا کو اپنی ساس یاد آ گئیں ، جو ہمیشہ ایسے موقعے پر بلال کو روک دیا کرتی تھیں ۔ “ماں کچھ بھی بچّے کی بھلائی کے لیے بولتی ہے تم بیچ میں مت بولا کرو- ” صبا کا دل بھر آیا، اس بار حال کی نہیں پیچھے سی ماضی کی پرچھائیوں نے اپنا قد بڑا کیا اور اسے دبوچ لیا۔ ۔ ۔ صبا باورچی خانے میں چلی گئی، اور تیزی سے سبزیاں کاٹنے، چاول دھونے اور پیاز تلنے میں لگ گئی۔

“ممی۔ ۔ ۔ ۔ ممی۔ ۔ ۔ ۔ کہ دیجئے میں گھر پر نہیں ہوں ۔ ” پنکی بغیر چپّل کے ہی ہاتھ میں موبائیل لئے دوڑ کر آئی-صبا نے اس کے بغیر چپّل کے پیروں کو چڑھ کر دیکھا، آج ہی اس نے بستر کی چادر بدلی ہے – پھر اپنے گیلے ہاتھوں کو دیکھا-

“لیجئے۔ ۔ ” پنکی اس سے ضد کر رہی ہے، وہ ساڑی کے آنچل سے ہاتھ پوچھ کر فون ریسیو کرتی ہے –

“کون آرتی۔ ۔ ؟۔ ۔ ۔ آدھے گھنٹے بعد کر لینا، وہ باتھ روم میں ہے۔ ۔ ۔ ہاں نہا رہی ہے –”

پنکی ماں سے ناراض ہو گئی کہ اسنے یہ کیوں نہیں کہا کہ وہ گھر پر ہی نہیں ہے –

“کیوں جھوٹ بولنے کی کیا ضرورت ہے ؟”

” آپ نہیں سمجھتی ہیں ممی آ کر بیٹھ جائے گی -”

“تو کون سا تم ضروری کام کر رہی ہو ؟”

” اتنے دن بعد دوستوں سے آن لائن ملی ہوں ، ”

“جن دوستوں سے تم کبھی ملی نہیں ان کے لیے بچپن کی دوست سے۔ ۔ ۔ ” اس کی بات پوری ہونے سے پہلے پنکی پیر پٹکتی ہوئی وہاں سے چلی جاتی ہے۔ ۔ ۔ اور صبا پھر سے اپنی پریشان سوچوں کے گرداب میں چکرانے لگتی ہے۔ ۔ ۔ ۔ ماں باپ نے پہلے بچوں کو دوست بنایا، پھر دھیرے دھیرے اب وہ کسی بات میں دخل اندازی برداشت نہیں کرتے، بلال پر اپنے کام کی اتنی تھکن رہتی ہے کہ اسے ان چیزوں سے جیسے کوئی مطلب نہیں ، سب اپنے اپنے محور پر بس گھوم رہے ہیں کسی کے پاس کسی کے لیے وقت نہیں ، جیسے سب کا ساتھ ہونا ایک اتفاقی بات ہو، جیسے کچھ اجنبیوں کا ایک ہی کوپے میں سفر کرنا، ایک دوسرے کو جاننا سمجھنا ایک اجنبیت کے ساتھ اور الگ الگ منزلوں کے انتظار میں –اور صبا کو اپنی دخل اندازی ایسی ہی لگتی ہے جیسے آپ کسی دوسرے کی برتھ پر زبردستی اپنے لئے جگہ بنائیں ، اور آپ کی اس جرءت پر لوگ آپ کو خشمگیں نگاہوں سے دیکھیں –

“کھانا تیار ہو چکا تھا گرم گرم کھانا۔ ۔ ۔ صبا کو خوشی ہے کہ وہ آج اپنے سارے کام پر اپنے بچوں اور شوہر کو ترجیح دے کر ان کے لیے تر و تازہ کھانا تیار کر پائی ہے، جو روز نہ کر پانے پر اس کے اندر دہائیوں پلے والی عورت اسے کچوکے لگاتی رہتی ہے۔ اور اسے اندر سے خوش نہیں رہنے دیتی مگر اس وقت صبا نے گنگناتے ہوئے ٹیبل پر کھانا لگایا سلاد، رائتہ، گوبھی-مٹر اور ٹماٹر کی سبزی، دال، زیرہ چاول اور گرم گرم گھی لگی روٹیاں ۔ وہ پنکی اور منی کو آواز دیتی ہوئی بلال اور راجو کو بلانے چلی جاتی ہے۔ ۔

” چلو کھانا تیار ہے۔ ” اسے ایک منٹ کی دیر بھی اب منظور نہیں ۔ ۔ ۔

” ارے صبا بور مت کرو لا سٹ اوور چل رہا ہے –”

صبا کو غصہ آتا ہے۔ ۔ “راجو تمہیں بھوک لگی تھی ؟؟؟”

” ممی یہیں پر پلیٹ میں لا دیں نا۔ ۔ پلیز۔ ۔ !”

“ہاں صبا۔ ۔ ۔ یہیں پر پلیٹ میں دے دو۔ ۔ ایک دن تو چھٹی کا ملا ہے اسے اپنے طور پر جینے دو۔ ۔ ۔ ”

وہ پلٹ کر جانے لگتی ہے ” تمہاری ممی کو اس کے علاوہ اور کچھ سمجھ میں نہیں آتا۔ ۔ ۔ کھانا کھانا بس ہر وقت کھانا۔ ۔ ۔ “بلال اور راجو ایک ساتھ ہنستے ہیں ۔ ۔ ۔ ۔ صبا کو لگتا ہے اس کی بونی پرچھائیں اس کے قدموں سے الگ ہو کر اس پر ہنس رہی ہے۔

صبا کا سر ناچ رہا ہے نہ جانے تھکن سے، مایوسی سے یا غصے سے، اس سے زیادہ اس کے اندر والی عورت مجروح ہوئی ہے –وہ تیزی سے ڈائننگ ٹیبل کے پاس آتی ہے۔ پنکی اپنا کھانا لے کر واپس لیپ ٹاپ کے پاس جا چکی ہے، منی اسے غصے میں دیکھ کر جلدی سے ٹیبل پر آ جاتی ہے اور اپنا کھانا لے کر کھانے لگتی ہے، صبا نے بلال اور راجو کو پلیٹ میں کھانا نکال کر انہیں تھما دیا اور خود اسٹڈی ٹیبل پر جا کر بیٹھ گئی ٹیبل پر کاپیوں کا انبار لگا ہے اسکول کے امتحان کی رپورٹ بھی تیار کرنی ہے آج کا دن اس نے یوں ہی برباد کر دیا۔ منی اس سے پوچھنا چاہتی ہے آپ نہیں کھائیں گی۔ ۔ ؟ پر نہیں پوچھ پاتی اس کا موڈ دیکھ کر ڈر گئی ہے –صبا اپنے کام میں لگ جاتی ہے وہ اپنے کام میں اتنی محو ہے کہ اسے احساس ہی نہیں ہوتا کب بجلی چلی گئی۔ پا ور کٹ ہوتے ہی راجو کو اپنے باہر کے دوست یاد آ جاتے ہیں اور وہ انکے ساتھ کھیلنے چلا جاتا ہے بلال اس کمرے سے اس کمرے میں آتے جاتے کھانس کھنکھار کر صبا کی توجہ کے متمنی ہیں ، ” صبا تم نے کھانا کھایا۔ ۔ ؟” بلال نے پوچھا،

“یہ کام ختم کر کے کھا لوں گی، “صبا نے مختصر جواب دیا –

“کھانا اچھا تھا -!!”بلال نے کہا-

صبا چپ ہے، وقت گزر جانے کے بعد الفاظ اپنی اہمیت کھو چکے ہیں –

“منی اور پنکی تو سو گئی ہیں _”بلال نے بات آگے بڑھائی۔ ۔ ۔ “ہاں ” صبا کی آواز جیسے بہت دور سے آواز آئی۔ ۔

“بہت بوریت ہے یار۔ ۔ ۔ کیا کروں ؟” بلال کی آواز میں احتجاج ابھر آیا۔

“سو جاؤ۔ ” صبا اپنے کام سے سر نہیں اٹھاتی۔ ۔ ۔ لیکن صبا نے محسوس کیا اس کے اندر کی چند دہائیوں پہلے والی مجروح عورت دور کھڑی حیران اور اجنبی نگاہوں سے اسے دیکھ رہی ہے جیسے وہ اسے نہیں پہچانتی –

٭٭٭

 

 

 

 

ڈائل ٹون

 

 

اُسے اچانک مایوسیوں نے آ گھیرا۔ ۔ ۔ جبکہ وہ سمجھتا تھا کہ مایوسی، تھکان۔ ۔ ۔ ، نا امیدی۔ ۔ ۔ جسیے چیزیں اس کی سرشت میں میں داخل نہیں ۔ ۔ ۔ لیکن وہ غلط سمجھتا تھا۔ ۔ ۔ آخر وہ بھی تو انسان ہے اور ہر انسان کی طرح اپنا زیادہ تر وقت اس عارضی دنیا کی فانی اور لایعنی اشیاء کے لئے تگ و دو کرتے اور حرص و ہوس میں گزارتے گزارتے اچانک تھکن محسوس کرنے لگا ہے۔ ۔ ۔ اور اس تھکن کی بنیادی وجہ شاید ادھر ملنے والی مسلسل ناکامی تھی۔ ۔ ۔

اس ناکامی نے اس کے اندر عجیب سے بے بسی، کڑھن اور جھلّاہٹ بھر دی تھی۔ ۔ ۔ وہ بجھا بجھا سا اپنے فلیٹ کی طرف بڑھ گیا۔ وہاں پہنچتے ہی جن سوالوں کا۔ ۔ ۔ جن منتظر نگاہوں کا اسے سامنا کرنا تھا وہ اس سے بچنا چاہتا تھا مگر۔ ۔ ۔ بے بس تھا۔

گھر پہنچ کر اس نے ایک لا تعلقی اور سنجیدگی کا انداز اپنایا اور کمرے میں جا کر ایک طرف بیگ پھینکا اور بستر پر دراز ہو گیا۔ ۔ ۔ بیوی اس کی آہٹ پا کر لپکتی ہوئی آئی مگر اس کی سنجیدگی دیکھ کر چہرہ کچھ بجھ سا گیا۔ ۔ ۔ اس کی نظروں میں وہی سوال تھا جس سے وہ بچنا چاہتا تھا۔ ۔ ۔ اس نے آنکھیں بند کر لیں ۔ ۔ ۔ اور بیوی نے بیویانہ سمجھ بوجھ کا پتہ دیتے ہوئے کولر آن کر دیا۔ ۔ ۔ کولر کی ہوا کا ٹھنڈا اور نم جھونکا دماغ پر چڑھی گرمی کو کم کرنے میں ذرا کارگر ثابت ہوا۔ ۔ ۔

’’ سنو۰یہ شربت پی لو۔ ۔ ۔ ‘‘ بیوی کی سریلی آواز بھی سرپر ہتھوڑے کی طری بجی۔ ۔ ۔ اس نے ڈرتے ڈرتے۔ ۔ ۔ آنکھیں کھولیں ۔ ۔ ۔ واقعی پیاس سے حلق خشک ہو رہا تھا۔ ۔ ۔ مسکراہٹوں کی پھوار گراتی ہاتھ

میں شربت کا گلاس لئے سامنے کھڑی بیوی اس وقت اچھی لگی۔ ۔ ۔ اس کا تناؤ ذرا کم ہوا۔ ۔ ۔ بستر پر ذرا سا اُٹھ کر تکئے کا سہارا کمر کو دیتے ہوئے اس نے گلاس پکڑ لیا۔ ۔ ۔ اب وہ سوچ رہا تھا خواہ مخواہ گھر آتے وقت وہ تناؤ میں تھا۔ ۔ ۔ اب تک اس کی بیوی پائیتانے بیٹھ چکی تھی اور وہ شربت کے ننھے ننھے گھونٹ لے کر نس نس میں دوڑتی ہوئی غصّے اور جھنجھلاہٹ کی چنگاری کو ٹھنڈا کر رہا تھا۔ ۔ ۔ تبھی بیوی نے بڑی لگاوٹ سے پوچھا۔ ۔ ۔

’’ آج گئے تھے کیا۔ ۔ ۔ ٹیلی فون ڈیپارٹمنٹ۔ ۔ ۔ ‘‘ اس نے شاکی نظروں سے بیوی کی طرف دیکھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بیویاں اگر اپنے بیویانہ حقوق سے باز آ جاتیں تو محبوباؤں کی ضرورت ہی ختم ہو جاتی۔ ۔ ۔

’’کیا تم ٹیلی فون کے اس چکر کو بھول نہیں سکتیں ۔ ۔ ۔ ‘‘ آخر کار جھلاہٹ لفظوں سے عیاں ہوہی گئی۔ ۔ ۔

’’ میں تو صرف پوچھ رہی تھی۔ ۔ ۔ ‘‘ اس نے ذرا روہانسی آواز میں کہا۔ ۔ ۔ اور جھٹک کر اٹھتی ہوئی وہاں سے چلی گئی جیسے اپنی اوڑھی ہوئی لگاوٹ اس کے قدموں میں جھاڑ کر چلی گئی ہو۔ ۔ ۔ جیسے مرغیاں اپنے پروں سے گرد جھاڑ کر کھڑی ہو جاتی ہیں ۔ ۔ ۔

اس نے جھنجھلا کر ایک ہی سانس میں شربت کا گلاس یوں چڑھایا جیسے جلتا ہوا الکوہل حلق میں انڈیلا ہو۔ ۔ ۔ اور گلاس ایک طرف پٹک کر لیٹ گیا۔ ۔ ۔

دروازہ کھلنے اور بند ہونے کی آواز اور جوتوں کی کھٹ کھٹ سے اندازہ ہوا کہ تینوں بچے بھی اسکول سے واپس آ گئے ہیں ۔ ۔ ۔

اب وہ متوقع تھا کہ بچے باری باری سے اس کے پاس آئیں گے اور سوالات کا سلسلہ شروع ہو جائے گا۔ ۔ ۔

’’ ڈائل ٹون آیا۔ ۔ ۔ ؟‘‘

’’ آج بھی نہیں ۔ ۔ ۔ ؟‘‘

’’ پندرہ دن ہو گئے ہمارے یہاں فون انسٹالڈ (installed) ہوئے۔ ‘‘

’’ پاپا گئے تھے۔ ۔ ۔ ؟‘‘

’’ میرے دوست کے یہاں تو تیسرے دن ہی ڈائل ٹون آ گیا تھا۔ ۔ ۔ ‘‘

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور یہ صرف اس کا خیال نہیں تھا بلکہ کان میں اس قسم کی آوازیں پڑ رہی تھیں ۔ ۔ ۔ بچے اپنی ماں کے کان اور جان کھا رہے تھے۔ ۔ ۔ کسی وقت بھی اس کی باری آ سکتی تھی۔ ۔ ۔

وہ ابھی آنے والی اس افتاد کے تناؤ میں ہی تھا کہ اچانک بجلی چلی گئی۔ ۔ ۔ کولر کے بند ہوتے ہی یہ آوازیں اور واضح اور قریب محسوس ہونے لگیں ۔ ۔ ۔ اور ماحول میں پھلی ہوئی گرمی میں حلول ہو کر اس کے دماغ کی نسوں میں ناقابلِ برداشت کھنچاؤ ڈالنے لگیں ۔ ۔ ۔ وہ بلبلا کر کھڑا ہو گیا۔ ۔ ۔ اور پہلے جوتے اور موزے اتار کر پھینکے پھر بنیان اور لنگی پہن کر کمرے سے باہر نکلا۔ ۔ ۔ بچوں پر ایک سخت سی نظر ڈالی۔ ۔ ۔

’’ اتنی دیر سے آ کر تم لوگ صرف باتیں بنا رہے ہو اب تک ڈریس چینج کیوں نہیں کیا۔ ۔ ۔ ‘‘

پھر وہ بیوی سے مخاطب ہوا۔ ۔ ۔

’’ لائیٹ آتے ہی کھانا نکالو۔ ۔ ۔ اس گرمی میں کھانا کیسے کھایا جا سکتا ہے۔ ‘‘ وہ بدبداتا۔ ۔ ۔ جھلّاتا بلا ارادہ ڈرائینگ روم کی طرف بڑھ گیا۔ ۔ ۔ اس کی جھلّاہٹ سے بظاہر ہر طرف سانپ سونگھ گیا تھا مگر جھلّاہٹ بھرے وہ الفاظ سب کی سماعت سے ہوتے ہوئے سب کے وجود میں حلول کر گئے تھے۔ ۔ ۔ اور اب ہر چہرہ تناؤ میں نظر آ رہا تھا۔

۔ ۔ ۔ بجلی تو سسرال سے روٹھی ہوئی بہو کی طرح غائب تھی۔ ۔ ۔ جسے نہ آنا تھا نہ آئی۔ ۔ ۔ اور سب کے تناؤ میں اضافہ ہی ہوتا چلا گیا۔ ۔ ۔ بیوی نے اپنی جھنجھلاہٹ بچوں پر نکالی اور انہیں ڈانٹ پھٹکار کر کھانا کھلا دیا۔ ۔ ۔ دونوں بیٹے اب بنیان اور نیکر پہنے بو کھلا بوکھلا کر بات بات پر ایک دوسرے سے گتھم گتھا ہو رہے تھے۔ ۔ ۔

ان کی بنیان جیسے پسینے سے نہیں بلکہ شرم سے پانی پانی ہو رہی تھی۔ ۔ ۔ اور کیوں نہ ہوتی بھائیوں کے بیچ کی محبت جو آج کل کے بجلی اور پانی کی طرح ناپید ہو گئی تھی۔ ۔ ۔

بڑی بیٹی البتہ ایک ہاتھ میں کھجور کا پنکھا لئے زور۔ زور سے ہلا رہی تھی اور دوسرے ہاتھ سے فلمی میگزین کی ورق گردانی کر رہی تھی۔ ۔ ۔ جب آس پاس آسودگی اور آسائش کے چہروں پر خراشیں پڑنے لگیں تو ایسے موقعے پر نئی نسل خوبصورت میگزین کی مردہ تصویروں کے روشن اور تابناک چہروں سے زندگی کی حرارت اور خوشی تلاش کرتی نظر آتی ہے۔ ۔ ۔

’’ چار بج گئے ہیں ۔ ۔ ۔ آ کر کھانا کھالو۔ ۔ ۔ ‘‘ بیوی کی آواز میں بلاوا کم اور دھمکی زیادہ تھی۔ ۔ ۔

وہ اٹھا اور ڈائینگ ٹیبل پر آ کر بیٹھ گیا۔ ۔ ۔ ایک ایک کرسی کھسکا کر اس کی بیوی اور بیٹی بھی بیٹھ گئیں ۔ ۔ ۔ کھانا کھاتے ہوئے اسے لگا کہ آج کی ساری روداد سنا کر شاید اس کے دل کا بوجھ کچھ ہلکا ہو جائے۔ ۔ ۔ اور سب کا تناؤ بھی۔ ۔ ۔

’’ میں گیا تھا ٹیلی فون ڈیپارٹمنٹ۔ ۔ ۔ مگر وہ آدمی تھا نہیں ۔ ۔ ۔ دو گھنٹے بیٹھا رہا تب جا کر آیا۔ ۔ ۔ ‘‘

’’ کیا کہا اس نے۔ ۔ ۔ ‘‘ بیٹی نے بڑی بے چینی سے پوچھا۔

’’ آج ایک نیا بہانہ۔ ۔ ۔ پرسوں بلایا ہے۔ ‘‘

’’ اُف کتنی کمیونیکیشن پروبلم ہم لوگ فیس (Face)کر رہے ہیں ۔ ۔ ۔ پاپا۔ ۔ ۔ میری کئی سہیلیوں کے یہاں تو انٹرنٹ کی سہولت بھی اب ہے۔ کئی کے پاس موبائل فون ہے۔ ۔ ۔ اور ایک ہم ہیں کہ معمولی سا فون اتنی بھاگ دوڑ کے بعد ملا بھی تو نہ اب تک نمبر ملا ہے نہ ہی ڈائل ٹون‘‘۔

’’ اوپر ساہنی صاحب کا فون بھی لگ گیا ہے۔ ۔ ۔ ‘‘ بیوی نے اطلاع دی تو اسے یاد آیا اس نے اور ساہنی نے ایک ساتھ ہی فون کے لئے اپلائی کیا تھا۔ ۔ ۔

شام گہری ہوئی تو گرمی سے پریشان لوگ اپنے اپنے فلیٹ سے باہر نکلنے لگے ہیں ۔ ۔ ۔ عورتیں اور بچے بھی ادھر اُدھر سے نکل کر فلیٹ کے سامنے بڑے لان میں جمع ہو رہے ہیں سب کے چہروں پر بے زاری جھلک رہی ہے۔ ۔ ۔ بجلی نہ ہونے سے نلکوں میں پانی بھی نہیں آ رہا ہے اور پانی نہ آنے سے برتن نہیں دھُلے ہیں ، تو کھانا کیسے بنے۔ ۔ ۔ بچّے البتہ نا سازگار ماحول میں بھی کھیل کود میں فوراً محو ہو جاتے ہیں اور یہاں بھی ان کا گروپ الگ طرح کے کھیلوں میں مصروف ہوتا جا رہا ہے۔

’’ ارے بھائی۔ ۔ ۔ کوئی ٹرانس فورمر جل گیا ہے۔ ۔ ۔ ابھی بجلی دفتر میں فون کیا تو معلوم ہوا۔ ۔ ۔ دو گھنٹے اور لگیں گے اسے ریپئر(repair) ہونے میں ۔ ‘‘ ساہنی نے اس کی طرف آتے ہوئے اطلاع دی۔ ۔ ۔

جب نیا نیا فون ہو تو جوش میں انسان اسے جلدی ہی کھڑکاتا ہے۔ اس نے سوچا اور روکھی سی ہوں سے ساہنی کو ٹالنا چاہا۔ ۔ ۔ مگر جس خطرے کواس نے پہلے ہی سونگھ لیا تھا وہ سامنے آیا اور ساہنی نے اگلا سوال داغا۔ ۔ ۔

’’ تمہارے فون کا کیا ہوا۔ ۔ ۔ ؟‘‘

’’ کچھ نہیں ۔ ۔ ۔ ویسا ہی ہے۔ ‘‘

’’ تم نے لائین مین کو پیسے نہیں دئے ہوں گے۔ ‘‘

’’ دئیے تھے نہ بھائی صاحب۔ ۔ ۔ پورے سو روپے۔ ‘‘ اس کی بیوی نہ جانے کب پیچھے آ کھڑی ہوئی تھی۔ ۔ ۔ اور اب ساہنی کی بات کا جواب دے رہی تھی۔

’’ آپ نے کچھ زیادہ دیا تھا کیا۔ ۔ ۔ ؟‘‘

’’ آجکل تین سو کا ریٹ چل رہا ہے۔ ‘‘ ساہنی نے اپنی خاص جانکاری ذرا دھیمی آواز میں ان لوگوں تک پہنچائی۔

۔ ۔ ۔ اور اس کا خون پھر بوائلنگ پوائنٹ پر پہنچنے لگا۔ اس کرپٹ سو سائٹی کا تانا بانا آخر ہم اپنے ہاتھ سے ہی تو تیار کرتے ہیں ۔ ۔ ۔ تو پھر بعد میں ہر قدم پر سر پکڑ کر روتے کیوں ہیں ۔ ۔ ۔ مگر وہ کس سے کرتا یہ سوال۔ اس لئے اپنے اس خیال کو خود تک ہی محدود رکھا۔

’’ ان سے کتنی بار کہا۔ ۔ ۔ رشوت نہیں دے سکتے تو کم سے کم ایس۔ ڈی۔ او سے ایک بار مل لیتے۔ ۔ ۔ یا کسی ایسے آدمی کو پکڑ تے جس کی پہنچ اوپر تک ہو۔ ۔ ۔ بھلا ایسا کرنے میں تو کوئی برائی نہیں ۔ ۔ ۔ ‘‘۔

وہ چپ رہتا ہے۔ ۔ ۔ کچھ کہنے کا فائدہ نہیں ۔ ۔ ۔ یہاں پر کمیونیکیشن پروبلم نہیں کمیونیکیشن گیپ ہے۔ اگر وہ اپنے دل کی کہے گا تو سمجھنا تو دور کوئی سننا بھی نہیں چاہے گا۔ جیسے ابھی خود اسے اپنی بیوی کی یا ساہنی کی باتیں گراں لگ رہی تھیں ۔ ۔ ۔ اس کے بیوی بچّے تو اس وقت صرف ایک ہی بات سننا چاہتے تھے کہ ایسا کیا کہا جائے کہ فون کی گھنٹی بج اٹھے۔ ۔ ۔ اور وہ سوچتا ہے کہ آخر جب اپلائی کر کے ایک سال وہ اپنی باری کا انتظار کر سکتا ہے تو ایک ماہ اور کیوں نہیں ۔ کچھ دیر اور آس پڑوس کے لوگ اسے طرح طرح کے مشورے دیتے رہے اور وہ صبر کے گھونٹ بھرتا رہا۔ ۔ ۔ وہ کسے سمجھاتا جبکہ اس کے اپنے بھی اس کی دانست میں ان نا سمجھوں کی بھیڑ میں شامل ہو گئے تھے۔ اچانک بجلی آ جانے سے پوری بلڈنگ جگمگا اُٹھی۔ ۔ ۔ اور ان تمام لوگوں میں خوشی اور اطمینان کی ایک لہر دوڑ گئی۔ ۔ ۔

کئی دن اور معمول کے مطابق یو نہی سرک گئے۔ ۔ ۔ اس نے ہر طرف کے پریشر سے گھبرا کر اپنے مزاج کے خلاف بھی کئی کام کئے۔ ۔ ۔ کئی پاور فُل لوگوں کے دروازے پر گیا۔ ۔ ۔ مگر ہوا کیا۔ ۔ ۔ اپنی بے چینی اور کمتری کا احساس اس کی انا کو کچو کے لگا گیا۔ ۔ ۔ معاملہ جہاں تھا وہاں رکا رہا۔ ۔ ۔ وہ سوچتا ایسا کوئی کام نہیں کرنا چاہئے جس میں اپنی انا سے سمجھوتا کرنا پڑے۔ ۔ ۔ اسے مجروح کرنا پڑے۔ ۔ ۔ بیوی کہتی۔ ۔ ۔ یہ انا، اصول، خود داری سب ناکامیاب لوگوں کے ڈھکوسلے ہیں ۔ ۔ ۔ بدلتے ہوئے وقت میں ان باتوں کی قیمت ویسے ہی گرتی جا رہی ہے جیسے ڈولر کے آگے انڈین کرنسی۔ اس لئے کبھی کبھی اپنے آور شوں کی چادر میں چھپنے کے بجائے اسے ایک طرف اٹھا کر پھینکنے کی طاقت بھی خود میں پیدا کرنی چاہئے۔ ۔ ۔ ورنہ زندگی کے یہ کھوکھلے اصول کبھی ہم سے بڑی قیمتی شے چھین لیتے ہیں ۔ ۔ ۔ اور ناکامی کی کالک قسمت پر تھوپ دیتے ہیں ۔ ۔ ۔ ‘‘

مگر اتنی بھاگ دوڑ اور تگ و دو کے بعد اسے لگ رہا تھا کہ وہ اپنے اصولوں کو پکڑ کر بیٹھا رہتا تو کم از کم آج اسے یہ تکلیف تو نہ ہوتی جو بار بار ان کے اور اُن کے آگے گڑ گڑا کر دوڑ کر بھی کچھ حاصل نہ کر پانے سے ہو رہی ہے۔

کچھ دنوں سے سب کی چبھتی نظروں کو وہ محسوس کر رہا تھا، جیسے اس ناکامی کی ساری ذمہ داری اسی پر عائد ہوتی ہو۔ ۔ ۔ یا ہر طرف ہر چیز ٹھیک ٹھیک چل رہی ہے۔ ۔ ۔ صرف اسی میں کوئی کمی ہے جو اب تک وہ ایک ادنیٰ سا کام نہیں کروا پایا۔ ۔ ۔ اس سسٹم سے کسی کو کوئی شکایت نہیں ۔ ۔ ۔ جہاں پر کام یوں ہوتا ہے جیسے وہ نوکری نہیں احسان کر رہے ہوں ۔ ۔ ۔ اب تو اسے بھی حیرت ہو رہی تھی کہ آخر ایسی کیا بات ہو گئی کہ فون انسٹالڈ (installed ) کرنے کے بعد بھی بیس دنوں سے اسے ڈائل ٹون اور نمبر نہیں دیا جا رہا ہے۔ ۔ ۔ صبر اور تحمل کی بھی کوئی حد ہوتی ہے۔ ۔ ۔ اب تو بچوں نے بھی پوچھنا چھوڑ دیا تھا۔ ۔ ۔ بیوی کی ضد بھی ڈھیلی پڑ گئی تھی۔ ۔ ۔ بس کبھی گھر میں اس طرح کا تذکرہ نکل جاتا کہ فلاں کے یہاں اتنی جلدی فون لگ گیا جبکہ ہم لوگوں نے کو اتنے دن ہو گئے۔ ۔ ۔ اور دور کیوں جایا جائے۔ ۔ ۔ آجکل تو ہر بات کے پیچھے ساہنی کی مثال دی جانے لگی تھی۔ ۔ ۔ اس طرح کے تبصرے اب اس کے اندر ایک ضد بنتے جا رہے تھے۔ ۔ ۔ اور اس نے ٹھان لیا تھا کہ کچھ بھی ہو وہ اب رشوت دے کر ہر گز کامیابی کی کوشش نہیں کرے گا۔ ۔ ۔ سیدھے راستے سے ہی کوشش کرتا رہے گا اور ا نہیں ایک نہ ایک دن مجبور ہو کر ڈائل ٹون دینا ہی پڑے گا۔ ۔ ۔ اور وہ ثابت کر دے گا کہ یہ ہمارے اوپر ہی منحصر ہے کہ ہم کون سا طریقہ اپنانا چاہتے ہیں ۔ کبھی کبھی اس کی بیوی اسے سمجھانے کی کوشش کرتی مگر وہ اس طرح کی باتیں سننا بھی نہیں چاہتا تھا اس لئے ہوا یہ کہ ایک سرد جنگ کا آغاز گھر میں ہو گیا۔ ۔ ۔

ادھر اس نے اپنی کوششیں تیز کر دیں ، وہ روزانہ ٹیلی کمیونیکیشن کے دفتر جا کر معلومات حاصل کرتا اور دیکھتا کہ وہ تنہا پریشان نہیں تھا۔ ۔ ۔ اس کے جیسے نہ جانے کتنے لوگ روزانہ اس دفتر کے چکر لگا یا کرتے۔ ۔ ۔ لیکن ایک دن ایسی ہی ایک مایوسی سے بھری تپتی دوپہر میں اس وقت اس کے حیرت کی انتہا نہ رہی جب نہ جانے کیوں اور کیسے اسے ٹیلی کمیونیکیشن کے دفتر میں یہ جواب ملا کہ۔ ۔ ۔

’’۔ ۔ ۔ آپ گھر جا کر فون رسیو کریں ۔ ۔ ۔ ابھی چند گھنٹوں میں ڈائل ٹون دیتا ہوں ۔ ۔ ۔

وہ حیران بھی تھا اور خوش بھی۔ ۔ ۔ آج کی یقین دہانی میں سچائی کی جھلک تھی۔ ۔ ۔ اسے یقین تھا کہ آج وہ سب کے سامنے سرخ رو ہو جائے گا۔ ۔ ۔ گھر آتے ہی اس نے بیوی کو یہ خوشخبری دی مگر یہاں بھی اسے حیرت ہوئی جب اس خبر سے بجائے خوش ہونے کے ایک طنزیہ سی ہنسی اُس کے چہرے پر کمان کی طرح کھینچ گئی۔ ۔ ۔ بیوی کے چہرے کے طنزیہ خطوط کو دیکھ کر اس نے سوچا کہ شاید اسے یقین نہیں آیا ہے کہ وہ آج بالکل صحیح خبر لے کر آیا ہے۔ ۔ ۔ خیر۔ ۔ ۔ کچھ دیر میں یقین بھی آ جائے گا۔ ۔ ۔ جب تک اس گرمی اور انتظار کی کوفت سے نجات پانے کے لئے اس نے سوچا کہ وہ نہا کر آ جائے۔ ۔ ۔

ابھی وہ باتھ روم سے نکل کر تولیہ سے اپنے گیلے بالوں کو خشک کرنے کے بعد آئینے کے سامنے کھڑا ہی ہوا تھا کہ ٹیلی فون کی گھنٹی بج اُٹھی۔ ۔ ۔ اس کے ہونٹوں پر ایک آسودہ سی اطمینان بخش مسکراہٹ ابھر آئی۔ ۔ ۔ آخر کار وہ جیت گیا۔ ۔ ۔ اور بغیر رشوت کے اپنی کوششوں میں اسے کامیابی ملی تھی۔ ۔ ۔ بیوی بچے سب فون کی طرف لپک چکے تھے۔ ۔ ۔ وہ اطمینان سے اپنے بالوں میں کنگھی کرتا رہا۔ ۔ ۔ گھر میں آئی خوشی کی یہ لہر اسے عجیب سا سکون دے رہی تھی۔ ۔ ۔ بیٹی نے فون اُٹھا کر اپنا نمبر نوٹ کیا۔ تبھی بیوی نے رسیور اس کے ہاتھ سے لیتے ہوئے بات شروع کی۔ ۔ ۔

’’تھینک یو۔ ۔ ۔ بھائی صاحب، مہربانی آپ کی۔ ۔ ۔ آگے بھی خیال رکھئے گا کبھی فون خراب ہو تو۔ ۔ ۔ آپ کو مل گیا تھا نا۔ ۔ ۔ ؟ پہلے بتا دینا چاہئے تھا۔ ۔ ۔ خواہ مخواہ اتنا انتظار کرنا پڑا۔ ۔ ۔ میں نے ساہنی صاحب سے آپ کا تحفہ بھیجا تھا۔ ۔ ۔ ٹھیک۔ ۔ ۔ ہنسی۔ ۔ ۔ ہاں ۔ ۔ ۔ ہاں ۔ ۔ ۔ کیوں نہیں ۔ ۔ ۔ ہم بھی ہمیشہ آپ کا خیال رکھیں گے۔ ۔ ۔ او۔ کے۔ تھینک یو۔ ۔ ۔ ‘‘

اب اس کی بیوی نے رسیور واپس کریڈل پر رکھ دیا تھا۔ ۔ ۔ اور وہ سُن سا کھڑا تھا۔ ۔ ۔ وہ ہار گیا تھا۔ ۔ ۔ یہ باتیں تیزاب کا تاثر رکھتی تھیں ۔ ۔ ۔ جو اس کے یقین، اس کے اعتماد۔ ۔ ۔ اور اس کے اندر کے سچے انسان کو جھلسا گئی تھیں ۔ ۔ ۔ اس نے آئینے میں دیکھا تو اسے لگا جیسے اس کا چہرہ مسخ ہو گیا تھا اور وہ سوچ رہا تھا کہ یہ مسخ شدہ چہرہ اس کا ہے یا ایک سیدھے اور سچے انسان کا۔ ۔ ۔ ؟

٭٭٭

 

 

 

نسل

 

 

جدنی محتاط قدموں سے آفیسرز کیمپ کی طرف بڑھ رہا تھا۔ ۔ ۔ سہمی ہوئی نظروں سے وہ چاروں طرف کسی کسی وقت دیکھ لیتا۔ جہاں کے ہر شجر و پتّے، ٹیلے اور میدان، چرند و پرند اس کے جانے پہچانے تھے۔ جہاں کی ہوا اس کی سانسوں کے ساتھ ہم آہنگ تھی، جہاں کے پانیوں کی کل کل اس کا آئینہ تھی۔ وہی علاقہ آج اس کے لئے کتنا اجنبی ہو گیا تھا۔ ۔ ۔ بلکہ اجنبی کر دیا گیا تھا۔

یہاں سے تاڑ کے پیڑوں کے جھنڈ کے بیچ بنی اس کی جھونپڑی صاف نظر آ  رہی تھی۔ بائیں طرف ایک ٹیلا اور دائیں طرف کچھ دور تک پھیلا نا ہموار میدان۔ ۔ ۔ کچھ لوگوں کی زندگی کی طرح جس میں کوئی بھی قدم سیدھا نہیں حالانکہ پہرے پر بیٹھے سپاہیوں نے اسے کئی بار دھتکارا تھا۔ ۔ ۔

’’ ادھر بھول سے پیر مت رکھنا۔ ۔ ۔ شکاری سمجھ کر گولی چلا دی تو دوش دینے کے لئے سمے نہیں ملے گا۔ ‘‘ مگر ضرورتوں کے لاتعداد گھڑیاں اپنے خوفناک پیے ج(تیز ) دانت دکھا دکھا کر اسے موت کے کوئیں کی طرف دھکیلتے تھے۔ شاید اسی کوئیں سے اسے ایک چلّو پانی ملنے کی آس تھی۔ آفیسرز کیمپ کے پیچھے سے جنگل شروع ہوتا تھا جسے فی الحال احتیاطی تدابیر کے طور پر خاردار تاروں کی باڑ نصب کر کے محفوظ کیا گیا تھا۔ باڑ کے اس طرف دس بارہ فٹ گہرے گڑھے کھود دئے گئے تھے۔ یہ ساری حفاظتی کاروائی اس شیر اور شیرنی کو جوڑے کے لئے کی گئی تھے جو ایک کمیاب نسل (Rare Breed) تھی۔ اور یہ نسل ختم ہونے پر آ گئی تھی۔ ۔

سب سے پہلے پاس کے گاؤں والوں نے سمڈیگا سے ذرا دور جہاں جنگل شروع ہوتے تھے اس نسل کے ایک شیر کو مردہ پایا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ سیدھے سادھے گاؤں والوں کو بھی اب ان حیوانوں کی اہمیت کا اندازہ تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس لئے انہیں مردہ شیر کو دیکھ کر حیرت بھی ہوئی اور فکر بھی۔ ۔ ۔ شیر آخر مرا کیسے ؟ یہاں کے باشندے اور جانور کبھی ایک دوسرے کی طرز زندگی میں مخل نہ ہوتے تھے۔ معاملات کی سنگینی کا اندازہ کر کے کچھ گاؤں والوں نے قریب کے تھانے میں خبر کر دی۔ پہلے تو پولس نے معمولی کاروائی کی پھر نہ جانے کیا ہوا پورے پولیس کے عملے کے سا تھا ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ اور پھر اس صوبے کے گورنر سب حرکت میں آ گئے

جدنی کو صرف اتنا سمجھ میں آیا کہ ایک شیر کی موت نے اس گاؤں کی کایا پلٹ دی تھی۔ وہی سڑک، وہی میدان، وہیں جنگل، وہی آسمان اور وہی زمین۔ ۔ ۔ مگر حالات یکسربدل گئے تھے۔ جب سے ان کے چہار طرف بکھرے قدرتی وسائل پر پابندی عائد کی گئی تھی۔ ۔ ۔ جدنی کو لگ رہا تھا کہ زمین ان کے لئے اور سخت اور اآسمان اور گرم ہو گیا ہے۔ اپنے ہی علاقے میں وہ نظر بند تھے پھوک پھوک کر قدم رکھنا تھا۔ جنگل کا بڑا حصّہ خاردار تاروں سے گھیر دیا گیا تھا، انہیں ایک کونے میں سمٹنے پر مجبور کر دیا تھا۔ وہ آزادی سے اب ندی کے کنار گھوم بھی نہیں سکتے تھے کیونکہ وہ شک کے گھیرے میں تھے۔ ۔ ۔ ۔ کہیں کوئی اس پانی کو زہر آلود نہ کر دے۔ نہ جانے کتنے لوگ ان حالات سے تنگ آ کر یہ علاقہ چھوڑ کر جا چکے تھے۔ بر سہا برس سے رہنے والے لوگ اگر جا رہے تھے تو دوسری طرف آفیسرز کیمپ لگائے جا رہے تھے۔ جنگل میں منگل کا سماں تھا۔ کالے کالے ننگ دھڑنگ وجود کی جگہ، رنگ برنگی پوشاکوں کے لہرانے کا سماں تھا۔ کڑوے کسیلے دھوئیں کے سا تھ  ابلتے ہوئے بھات ( چاول) کی جگہ، سرخ شعلوں کے درمیان بھونے جانے والے گوشت کی بو فضاؤں میں بکھر رہی تھی۔ ۔ ۔ ساتھ ہی میوزک، قہقہے، پکنک۔ ۔ ۔ اور خیرہ چشم زیورات، قیمتی ملبوسات، چہرے سے زیادہ چمکتے ہوئے ہیرے اور کندن کے آویز ے، گویا اسی طرح کی رنگ بھری اور امنگ بھر محفل۔ جدنی کی سمجھ میں کیا آتا۔ ۔ ۔ نہ جانے کونے تھے یہ لوگ ؟ کیوں آئے تھے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ؟ جدنی نے تو کبھی ایسی دنیا نہیں دیکھی تھی۔ ۔ ۔ اس کی دنیا تو اس کی جھونپڑی میں تھی۔ جس کے لئے وہ اس ناسازگار ماحول کو چھوڑ کر جا بھی نہیں سکتا تھا۔ اس کی مہوا جو پیٹ سے تھی، دو قدم بھی چلنے سے قاصر تھی تو دو کوس کیسے چلتی؟ اس لئے وہ یہیں جما ہوا تھا۔ اور آج آس کی ایک ڈور تھامے اس اجنبی ماحول کی طرف بڑھ رہا تھا۔ کیوں کہ اتنے دنوں میں اسے سبھاش بابو کا بڑا سہارا ہو گیا تھا۔ وہی سبھاش بابو جو سب لوگوں کے ساتھ شہر سے آئے تھے۔ لیکن اب اسے وہ سب کی طرح بالکل اجنبی نہیں لگتے تھے۔ انہوں نے کہا تھا۔ ۔ ۔ ’’ کیمپ میں آئے ہوئے لوگوں کی چاکری کر لو گے تو دو جوم ( وقت) کے کھانے کا بندوبست ہو جائے گا۔ اور آج تو مہوا تکلیف میں تھی، اس نے سبھاش بابو سے سنا تھا کہ شہر سے دیونا( ڈاکٹر) بھی آیا ہے۔ وہی کوئی دوائی دے تو کچھ آرام مل جائے اس کی مہوا کو۔ ۔ ۔ مہوا کی تکلیف کا خیال کرتے ہی وہ تیز قدم اٹھانے لگا۔

مہوا نے اپنے پیٹ کو دونوں ہاتھ سے تھام کر دیکھا۔ ۔ ۔ آج جیسے سارا بوجھ نیچے سرک گیا ہو۔ اسی لئے پیڑو اس بوجھ سے پھٹتا ہوا محسوس ہو رہا تھا۔ جیسے کوئی اندر بیٹھا آری چلا رہا ہو۔ وہ درد کی چُبھن سے پریشان ہو کر جھونپڑی کی نم آلود ز مین پر بیٹھ گئی اور دیوار کا سہارا پیٹھ کو دیتے ہوئے دونوں پیر پھیلا دئے۔ اماں تو کہتی تھی کہ جب زچگی کے دن قریب آتے ہیں تو پیٹ لٹک جاتا ہے، مگر ابھی تو اس کا ان گنا مہینہ ہی چل رہا ہے۔ ۔ ۔ پھر۔ ۔ ۔ یہ تکلیف ؟ اس نے ہاتھ سے پیٹ کو سہلایا جیسے درد کو اپنے چنگل میں کرنا چاہتی ہو۔ اور دوسرے ہاتھ کے ناخن سے لاشعوری طور پر زمین کی مٹی کریدتی رہی۔ اس کی نظریں بار بار جھونپڑی کی در کی طرف اٹھ جاتیں ہیں ۔ جہاں نہ کوئی پر دہ ہے نہ کوئی دروازہ۔ بس کھس اور پھوس کی دیواروں کے بیچ باہر اندر کرنے کے لئے تھوڑی کھلی جگہ چھوڑ دی گئی تھی اور اس کی بے چین نظریں اس طرف بار بار اٹھ رہی تھیں ۔ وہ کسے پکارے ؟ پانی کے لئے حلق خشک ہو رہا تھا۔ جدنی اسے تسلّی دے کر گیا تھا کہ جلدی لوٹے گا پر ابھی تک۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ جبکہ اسے معلوم ہے کہ کاکی بھی چلی گئی، گاؤں سے لوگوں کے ہجوم روز ہی نکل جاتا ہے۔ سب کو اپنی پڑی ہے سب پولس اور شہری بابوؤں سے ڈرتے ہیں ۔ ارے صاف صاف کہہ دیں ہم نے نہیں مارا شیر کو، بلکہ ہمارے یہاں پر رہنے سے شکاری لوگ ڈرتے ہیں جنگل کا رُخ کرنے سے۔ ۔ ۔ ہماری وجہ سے تو ان کی اور حفاظت ہوتی ہی۔ ۔ ۔ پر سب ڈرپوک ہیں سالے۔ ۔ ۔ اب مصیبت میں وہ کیسی نپٹ اکیلی رہ گئی۔ ۔ ۔ اس نے بے چین ہو کر سر سہلا یا۔ ۔ ۔ ’’بوہسوتنا‘‘۔ ( میر اسر درد کر رہا ہے ) اس کی بڑبڑاہٹ بڑی واضح تھی۔ خود ہی چونک کر ہنس پڑی۔ کسے سنا رہی ہے اپنی تکلیف۔ وہ اٹھی اور پانی کا لوٹا اٹھا کر حلق تر کیا اور جھونپڑی سے باہر نکلی۔ دور دور تک جدنی آتا ہوا دکھائی نہیں دیا۔ وہ کوئی پہلا بچہ تو جننے جا نہیں رہی تھی،یہ تیسرا تھا یہ اور بات ہے کہ اب بھی اس کی عمر اتنی کم ہے کہ شہری لڑکیوں کی شادی اس عمر میں کوئی سوچتا تک نہیں ۔ اب یہ تیسرا بچّہ تھا اس لئے اس تجربہ تو تھا ہی، اور وہ سمجھ رہی تھی کہ اب یہ تکلیف رکنے والی نہیں ۔ ۔ ۔ اس ہون(بچہ) کو دنیا میں آنے کی بڑی جلدی ہے۔ جیسے اس کے ذات برادری والوں کو بھی ہر بات کی ہمیشہ جلدی رہتی ہے۔ شادی بیاہ کی جلدی۔ ۔ ۔ بوڑھے ہونے کی جلدی۔ ۔ ۔ اسی طرح مرنے کی جلدی۔ اب ایک معمولی سے واقعے پر گاؤں چھوڑنے کی جلدی۔ اس کی شادی بھی تو جدنی سے تیرہ سال کی عمر میں کر دی گئی تھی اور سترہ سال کی عمر میں وہ پہلی بار ماں بن گئی، پھر یہ سلسلہ ہر سال چل پڑا اس طرح صرف انیس سال کی عمر میں وہ تیسری بار ماں بننے جا رہی تھی۔

جدنی کیمپ کے پاس پہنچا تو دیکھا۔ سبھاش بابو کئی لوگوں کی ساتھ کرسیوں پر بیٹھے باتوں میں مشغول ہیں ۔ وہ ایک کنارے کھڑا ہو گیا اور جب سبھاش کی نظر اس پر پڑی تو بڑے آدر بھاؤ سے اس نے دونوں ہاتھ جوڑ دئے۔ سبھاش نے سر کی جنبش سے جواب دے کر اشارہ کیا وہیں بیٹھ کر انتظار کرے اور باتوں میں پھر سے لگ گیا۔ جدنی تھوڑے فاصلے پر اکڑوں بیٹھ گیا اور بے دلی سے باتیں سننے لگا۔ دراصل مہوا کا تکلیف سے سیاہ پڑتا چہرہ اس کی نظروں میں گھوم رہا تھا۔ اس نے بے چینی سے سبھاش کی طرف دیکھا۔ مگر وہ بہت زور و شور سے کسی بحث میں مصروف تھا۔ اور ساتھ ہی کچھ لکھتا بھی جا رہا تھا۔ جدنی کو یاد آیا کہ سبھاش بابو نے بتایا تھا کہ وہ کسی اخبار کے دفتر میں کام کرتے ہیں اور آج کل یہاں کے خبروں کی رپورٹ تیار کر کے بھیجتے ہیں ۔ اس وقت بھی موضوع بحث وہی شیر تھا۔ ایک صاحب کہہ رہے تھے۔ ’’ یہ معلوم کرنا ضروری ہے کہ ان تسکروں کا ساتھ یہاں کے کچھ مقامی لوگ دے رہے تھے کہ نہیں ، کیونکہ اب شیر کی کھال کے علاوہ اس کی ہڈی، بون میرو اور چربی اور مختلف حصوں کی بڑھتی مانگ اور قیمتوں کی وجہ سے شیروں کا غیر قانونی شکار بڑھ گیا ہے، اور اگر مقامی لوگوں نے اس کام میں ان کا ساتھ دیا ہے تو ہم ان کے ذریعے ہی تسکروں کے اس گینگ تک پہنچنے میں کامیابی حاصل کر سکتے ہیں ۔ ‘‘

’’ پر اب یہ کام بہت مشکل ہے زیادہ تر لوگ گاؤں چھوڑ کر جا چکے ہے، کیونکہ یہاں کے مقامی لوگوں کی زندگی کا انحصار اس جنگل پر ہی تھا جہاں اب ہمارے اینٹی پوچنگ اسکوائیڈ کی تعیناتی کر دی گئی۔ اور اس حصّے میں داخل ہونا ممنوع قرار دے دیا گیا ہے۔ ’’ سبھاش نے کہا پھر اسے جدنی کا خیال آیا تو اسے اشارے سے اپنے پاس بلایا۔ اس کے قریب آنے پر سبھاش نے کہا۔ ’’ صاحب لوگوں کو اپنا نام بتاؤ۔ ‘‘ جدنی کی گھبراہٹ بھانپ کر اس نے پھر کہا۔ ’’ لُتم لُتم؟‘‘

’’ جدنی۔ ۔ ۔ صاحب !‘‘ اس نے بہ مشکل کہا۔ پھر سب اس سے تھوڑی دیر تک چند سوال کرتے

رہے اور وہاں سے اٹھ گئے۔ صرف سبھاش وہیں جما رہا۔ اور جدنی کو بیٹھنے کا اشارہ کیا۔ جدنی نے کندھے پر اپنا انگوچھا برابر کیا اور اس کے قدموں کے پاس بیٹھ گیا۔

’’ سب ٹھیک تو ہے سبھاش نے نرمی سے پوچھا۔ ‘‘

’’ نہیں صاحب۔ مہوا کی پیڑا بڑھ رہی ہے۔ کوئی دوائی کا جگاڑ ہو جاتا تو۔ ۔ ۔ اب تو ہم جنگل سے جڑی بھی نہیں لا سکتے نا۔ ۔ ۔ صاحب، اور ہمارے واسطے کو نو کام بھی ہو صاحب تو۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ‘‘

’’ ہاں ، ہاں کیوں نہیں ‘‘۔

’’ میں نے بات کر لی ہے، کچھ تو تم یہاں کے چائے، پانی کا کام دیکھ لینا۔ لیکن تمہارا ایک اہم کام یہ ہے کہ تم جنگل کے چپّے چپّے سے واقف ہو اس لئے جب گشت پر نکلنا ہو گا تم ہماری مدد کے لئے ساتھ رہو گے۔ ‘‘

’’ بڑی کرپا صاحب۔ ‘‘ جدنی احساس تشکر کے بارسے دب گیا۔

’’ اور سنو یہاں ہم اپنے آدمیوں سے تمہاری پہچان کروا دیں گے تم بھی نظر رکھنا کہ کوئی باہر کا آدمی ادھر آ کر شیرنی کو نقصان نہ پہنچائے۔ اس کو بچہ ہونے والا ہے، اگر اسے نہ بچایا گیا تو یہ نسل ختم ہو جائے گی۔ سمجھ گئے نا۔ ‘‘

’’ اچھا چلو اب تمہاری مہوا کو دیکھ آئیں ، اور اس کے لئے کچھ دوائی بھی میں اپنے دوست سے تمہیں دلوا دیتا ہوں ۔ ‘‘ پھر دونوں مہوا کا حال بتا کر چند دوائیوں کے ساتھ جھونپڑی پر واپس آئے تو دیکھا مہوا کا درد سے برا حال تھا۔ جدنی نے جلدی سے اسے درد روکنے کی دوا کھلائی اور سبھاش سے التجا کی۔ ۔ ۔ ’’ صاحب۔ ۔ ۔ یہاں تو اکیلی یہ مر جائے گی، جنگل سے ہو کر ایک سیدھا راستہ جاتا ہے جو چھوٹا پڑے گا۔ آپ کی کرپا ہو تو ہمیں اس سے جانے کی انومتی دلوا دیں ، پھر میں اسے اس کی ماں کے پاس چھوڑ کر لوٹ آتا۔ ‘‘ جدنی کی آنکھوں میں جو بے چارگی تھی اس نے سبھاش کو پگھلا دیا۔ اپنے آپ میں یہ ایک مشکل کام تھا مگر اس نے حامی بھر لی اور کہا تھوڑی دیر انتظار کرے وہ کاروائی پوری کروا کر آتا ہے۔ سبھاش کے جانے کے بعد جدنی نے اپنی کمسن بیوی کے سیاہ پڑے چہرے کو دیکھ کر پوچھا۔ ۔ ۔ ’’ تھوڑا جوم ( کھانا) لے گی۔ ‘‘ ’’نہ رے۔ اس دوائی سے تھوڑا چین ملا ہے۔ ‘‘ مہوا نے اپنی کمزور آواز میں کہا۔ ’’ اچھا اب تھوڑا آرام کر۔ ۔ ۔ اماں کے پاس چلنے کے لئے تجھے ہمت کرنا ہے، ورنہ یہاں اکیلی کیا کرے گی اس گھڑی۔ ‘‘

’’ یہ اتّے سارے لوگ یہاں کیا کرنے آئے ہیں رے جدنی۔ ‘‘ مہوا نے بڑی معصومیت سے پوچھا۔

’’ کیا کرے گی سن کر۔ ۔ ۔ وہی شیر جو مر گیا ہے نا اس کی نسل بچانے آئے ہیں ۔ شیرنی گا بھن ہے تجھے معلوم ہے سبھاش بابو بات کر رہے تھے کہ اس کے ایک بچے کی قیمت سات لاکھ (روپیہ ) ہو گی۔ اگر کوئی چڑیا گھر والا اس کو پوسنے ( پرورش) کے لئے لے جائے گا تو سرکار کو سات لاکھ روپیا دے گا۔ ‘‘

’’ سات لاکھ؟ باپ رے۔ ۔ ۔ ای سات لاکھ سمجھنے کے لئے تو ہمیں سات جنم لینے پڑیں گے۔ ہم تو جانوروں سے بھی برا بھاگ لے کر آئے ہیں رے جدنی۔ ‘‘ مارے غم کے اس کی آنکھوں کے کور بھیگنے لگے۔

’’ ہاں ! جانتی ہے ہم تو تو بتا بھی نہیں سکتے کہ ای ہمارا تیسرا بچہ ہے۔ ‘‘ “کا ہے۔ ۔ ۔ ؟”

’’ سبھاش با بو نے منع کیا ہے بتانے سے۔ ۔ ۔ کہہ رہے تھے کہ قانون بن گیا ہے کہ جس گھر میں تیسرا بچہ جنمے گا اس کو نہ سرکاری کام ملے گا۔ نہ کوئی اور سہولت، نہ دوائی، نہ ڈاکٹر۔ اور ہم کو کام دلوانے کا وعدہ کئے ہیں ۔ ‘‘

۔ ۔ صدمے اور حیرانی سے مہوا گنگ رہ گئی۔

٭٭٭

 

 

 

 

 

بین کرتی آوازیں

 

سارا نے بیچینی سے ٹہلنا شروع کیا۔ ۔ ۔ خیال بھی بلبلے کی طرح ہوتے ہیں ، کسی لمحے میں ایک خیال جیسے ہی پیدا ہوتا ہے ویسے ہی ختم ہو جاتا ہے پھر دوسرا۔ ۔ تیسرا اور نتیجے میں ایک تذبذب کی کیفیت، ایک اضطراب –اس کے اندر یہ اضطراب شور اور سناٹوں کے تصادم نے پیدا کیا ہے جو نہ جانے کب سے اس کا پیچھا کرتا رہا ہے اور جب اس کے اندر یہ تصادم بڑھتا ہے تو اس کے پیٹ میں کپکپی شروع ہو جاتی ہے اور وہ اٹھ کر ٹہلنے لگتی ہے۔ ۔ ۔ چہرہ ست جاتا ہے اور اسے ابکائی سی محسوس ہوتی ہے –اس کا یہ اضطراب دوسروں پر بہ آسانی عیاں ہو جاتا ہے اور اسی لئے وہ سب کی نظروں سے بچنے کے لئے پریس سے اٹھ کر اوپر آ جاتی ہے۔ اپنے پیچھے سوال جواب اور چہ مگوئیاں چھوڑ کر۔ ” کیا ہوا۔ ۔ ۔ ؟ پھر مائے گرین۔ ۔ ؟ آرام کرو۔ ۔ فضول کام میں سارا دن “۔ ۔ ۔ کتنی بڑبڑاہٹیں ۔ ۔ اس کا پیچھا کر رہی ہوتی ہیں ۔

یہ گھر اتنا چھوٹا بھی نہیں ہے، چھ کمرے ہیں مگر زمین کا پھیلاؤ نہ ہونے کی وجہ سے اوپر بڑھے ہیں ہاں اس میں رہنے والے افراد ضرور زیادہ ہیں ۔ ۔ اس پر یہ کہ نچلی منزل کے دو کمرے گودام ہی بنے رہتے، – ہمیشہ اوپر سے نیچے تک ٹھسا ٹھس بھرے ہوئے اخبار، گرد سے اٹی کچھ نصابی کتابیں ، سیاسی اشتہار کے پرچے اور کئی طرح کی رسید بک۔ ۔ اس کا دل چاہتا کہ اس سارے عذاب سے ان دونوں کمروں کو نجات دلا دے تاکہ اس کمرے کے ساتھ گھر کے مکیں بھی کچھ کھلی فضا میں سانس لے سکیں ۔

اس نے اوپر کی بالکنی سے نیچے جھانکا۔ ۔ ۔ دھوپ چھاؤں نے دیوار پر پرچھائیں سی بنا رکھی تھی۔ ۔ ۔ تم باہر مت نکلو خطرہ ہے – بہت ٹریفک ہے -سامنے آنا ضروری ہے کیا، ایک طرف رہو۔ ۔ ۔ اس سناٹے میں آواز گونجی مگر اس آواز کا باہر کی دنیا سے کوئی تعلق نہیں تھا –اس کے چاروں طرف آوازیں تھیں ۔ ۔ ۔ بے شمار آوازیں ، گاڑی کا ہارن۔ ۔ ، کوکر کی سیٹی۔ ۔ کسی کے ہنسنے اور چلانے کی آواز کوئی بہت قریب سے بولا تھا میرا بچہ بہت بیمار ہے۔ ۔ ۔ رام نام ستیہ ہے۔ ۔ ۔ کوئی مر گیا ہے۔ وہ بالکنی سے ہٹ گئی –آوازیں دھیمی ہوئیں ۔ ۔ ان آوازوں سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہے –یہ سب غیر حقیقی آوازیں ہیں ۔ ۔ مگر اس کے سناٹوں کی آواز حقیقی ہے اسے لے کر ڈوبنے لگتی ہے –اس نے ٹی وی کھول لیا۔ ۔ ایک چینل سے دوسرے چینل پر فلمیں ۔ ۔ ۔ رپورٹروں کے چیخنے کی آوازیں ۔ ۔ ۔ مضحکہ خیز مباحثوں کا پینل،یا کسی سیاسی لیڈر کا مسکراتا ہوا چہرہ۔ ۔ ۔ وہ چینل بدلنا بھول جاتی ہے جان بوجھ کر یا غلطی سے آواز کا گلا گھونٹ دیتی ہے، منسٹر کے مسکراتے ہوئے لب ہل رہے ہیں –ان کے پاس مسکرانے کی کیا وجہ ہے یہ کیسے مسکرا سکتے ہیں –کیا دنیا میں سب کچھ ٹھیک ٹھاک چل رہا ہے ؟ چل ہی رہا ہو گا تب ہی کہیں سے گانے کی آواز آ رہی ہے – وہ اپنے اندر اور باہر کی آواز کا گلا نہیں گھونٹ سکتی وہ کہیں نہ کہیں سے در آتی ہیں – اوراسکی سماعت سے ٹکرانے لگتی ہیں -وہ تیزی سے سیڑھیاں اتر کر نیچے آتی ہے “۔ سارا کھانا کھا لو نانی کہتی ہیں -”

“نانا نہیں آئے کیا ؟” وہ پوچھتی ہے خیالات کے بلبلوں کو لفظوں میں ڈھالنے کے لئے وہ نانا سے جرح کرنا چاہتی ہے۔

“نہیں -” جواب ملتا ہے –

ارے آج پھر مائے گرین کا اٹیک ہے کیا؟ تو آرام کرو-” ماموں زاد بہن نے اس کی طرف غور سے دیکھا –”۔ وہ گودام میں چلی جاتی ہے – اسی گودام کی وجہ سے اسے نانا کے کام اور گھر سے نفرت تھی –ہمیشہ سے۔ ۔ ۔ وہ موٹی سے عینک آنکھوں پر چڑھائے اپنے پریس کے کاموں میں لگے رہتے تھے جو گیرج میں چلتا ہے اور اسی گیرج میں چھوٹا پارٹیشن کر کے اس کا آفس بنا ہوا ہے –کمپوزر، پرنٹر اور پبلیشر کا سارا کام نانا ہمیشہ اکیلے ہی دیکھا کرتے تھے نہ جانے کب سے۔ ۔ وہ بہت چھوٹی تھی جب دعا مانگا کرتی کہ یا خدا باڑھ آ جائے اور یہ ساراکباڑسیلاب بہا کر لے جائے مگر نہ سیلاب آیا نہ پریس بند ہوئی۔ ہاں کبھی کبھی اخبار ضرور بند ہو جاتا جب پولیس نانا کو پکڑ کر لے جاتی کچھ دن ان کے مہمان رہ کر وہ اپنی ملیح سی مسکراہٹ کے ساتھ واپس آ جاتے اور اخبار پھر نکلنے لگتا۔ مگر نانا کی غیر حاضری والے دورانیہ میں جب ماموں پریس چلاتے تو وہ نصابی کتابیں اور رسید کی ہی چھپائی کروایا کرتے – وہ رفتہ رفتہ جان گئی تھی کہ نانا کے اخبار بکتے کم تھے اور گودام کی زینت زیادہ بن جاتے تھے پر اب اس پلیا روڈ پر”آج کی آواز “کا پریس کچھ زیادہ زور و شور سے چلنے لگا ہے کیونکہ اب وقار ماموں پوری طرح اس کام میں شریک ہو گئے ہیں اور اب کمپیوٹر پر کمپوزنگ ہوتی ہے۔ وہ بھی ماس کمنیکیشن کی پڑھائی کر کے اخبار سے منسلک ہو گئی ہے ایک مستقل کالم لکھنے کا کام اس کے سپرد ہے، نانا اب کام میں حصہ نہیں لے پاتے کبھی کبھی پریس کے آفس میں آ کر بیٹھ جاتے ہیں -ماموں کو اب دماغ کی نہیں کچھ کارندوں کی ضرورت ہے۔ ۔ پریس کی دوسری مشینوں کی طرح بیجان پرزے جو سوچنا نہ جانتے ہوں ، نانا اپنی ضعیفی کے باوجود سوچنا بھی جانتے ہیں اور ان کی اس سوچ کی ایک پہچان اور عزت بھی ہے۔ ” آج کی آواز” کے عزیز احمد سے ہر سوچنے والا دماغ واقف تھا۔ مگر ماموں کو اب پیسے کی ضرورت تھی عزت تو نانا نے ” آج کی آواز” کے لئے کما ہی لیا تھا۔ ماموں وقاراس سے بھی کمپوزنگ کے کاموں میں مدد لینے لگے تھے، مگر وہ اسے ایک کمپیوٹر کی طرح ہی کام کرنے کی اجازت دیتے ہیں انسان کی طرح نہیں –صبح چار بجے یہ اخبار وین پر لوڈ ہو کر اپنی منزل کی تلاش میں روانہ کر دئے جاتے ہیں –جب سے ماموں نے کام سنبھالا ہے پولس کم آنے لگی ہے۔ ماموں نئے زمانے کے پروردہ ہیں وہ جانتے ہیں کہ ہمارا قانون، ہماری پولیس اور ہماری نوکر شاہی اعلی ستائش کے لائق ادارے ہیں اور ان پر نکتہ چینی کرنا ایک غیر قانونی حرکت ہے۔ ۔ ۔ ان کے اخبار کے صفحات پر رنگیں خوبصورت تصاویر نے بھی کافی جگہ گھیر لی ہے، اردو زبان کی کم ہوتی ہوئی قدر کو بڑھانا وہ جانتے ہیں اسی لئے اب “آج کی آواز” کے صفحات پر خبریں کم اور اشتہار زیادہ رہتا ہے، کبھی کبھی ماموں اور نانا میں بحث ہو جاتی ہے اور نانا دلبرداشتہ ہو کر چپ ہو جاتے ہیں ۔ اور ہر ایسے موقعے پر وہ گودام میں چلی جاتی ہے – اس شور سے گھبرا کر پناہ لینے کی اب وہ بہترین جگہ بن چکی ہے، جہاں عجیب سی پراسرار خاموشی ہے –وہ خاموشی اس سے بات کرتی ہے، اخبار کی سرخیاں طرح طرح کی شکلوں میں اس پر منکشف ہونے لگتی ہیں – ان سرخیوں سے ہمکلام ہو کر اسے سکون ملتا ہے اور اس کا اضطراب کم ہونے لگتا ہے –وہ ان آوازوں کو آزاد کر دینا چاہتی ہے جنھیں اس گودام میں قید کر دیا گیا ہے۔ ۔ ۔ گودام کے سناٹوں میں ان آوازوں کا بین سر پٹکتا ہے اور اسے پا کر ہمکلام ہو جاتا ہے ان آوازوں سے دوستی کرنا اسے نانا نے ہی سکھایا ہے۔ ۔ جب وہ بہت چھوٹی تھی اس کی ماں نے اسے نانا کے گھر چھوڑ دیا تھا کیوں کہ اس کے والد کے فوت ہو جانے پر ماں نے دوسری شادی کر لی تھی اور اس نئے گھر میں اس کے لئے گنجائش نہ تھی۔ ۔ ۔ وہ ماں کے آنے پر بہت چیختی روتی اس کے پیروں سے لپٹ لپٹ جاتی مگر ماں کی جانے کیسی مجبوری تھی؟ سارہ نہیں سمجھ پاتی اور اگر زیادہ پچھاڑیں کھاتی تو گودام میں گھسیٹ کر بند کر دی جاتی کیونکہ اس وقت وہ اس گودام کے اندھیرے کمرے سے بہت ڈرتی تھی اس کی سسکیاں حلق میں گھٹ جاتیں ۔ ۔ اوپر تلے رکھے اخبار عجیب عجیب حیوانی شکلیں بنانے لگتے۔ جیسے اسے زندہ نگل جائیں گے۔ ۔ ماں کے چلے جانے کے بعد کبھی وقار ماموں کبھی نانی یا نانا اسے وہاں سے نکال لے جاتے۔ ۔ نانا نے ایک بار اس کے خوف کو سمجھ لیا پھر وہ اپنی انگلی پکڑا کراسے وہاں اکثر لے جایا کرتے اور اخبار کے پرانے پرچے کھول کر خبروں ، کہانیوں اور واقعات سے اس کی دوستی کراتے۔ پھر اس کی سمجھ میں آنے لگا کہ اس گھر کی بہترین جگہ یہ گودام ہے ماں کے آنے کا اسے اب انتظار نہ رہتا اور آنے پر پرواہ نہ رہتی۔ اب اسے کبھی زبردستی کھینچ کر گودام میں مقید نہ کرنا پڑتا ماں کے آنے پر وہ خود گودام میں آ جاتی اور ماں کے جانے کے بعد ہی نکلتی۔ کیونکہ اس نے محسوس کیا تھا کہ ماں اپنے شوہر کے سامنے اس کی موجودگی کو پسند نہیں کرتی –اس لئے ماں کی بے اعتنائی سے یہاں پناہ لیتے لیتے ان آوازوں سے اس کی گہری دوستی ہو گئی –وہ ایک ایک کی التجا سنتی، اسے لگتا تھا کہ پلیا روڈ کی اس دم گھونٹو فضا، نالیوں کی بدبو اور اندر باہر کے شور سے اس کا دل جیسے گھبرا جایا کرتا ہے، ویسے ہی اس گودام میں بہت سی سچی آوازوں کا گھبراتا ہو گا۔ ماموں کے نکالے ہوئے “آج کی آواز” میں زور شور سے اس قصبے اور شہر کی ترقی کی خبریں چھپتی ہیں مگر وہ جانتی ہے کہ یہ ترقی کسی منصوبے اور تخیل کے بغیر والی ترقی ہے۔ ۔ کوئی منصوبہ، سڑک، بجلی، پانی کچھ نہیں ۔ اسے یقین نہیں آتا کہ وہ دہلی جیسے شہر کا ہی ایک حصہ ہے۔ اس کے با وجود یہ بھی سچ ہے کہ شہر اور قصبوں کے مکان اور زمین کی قیمت بڑھتی جا رہی ہے۔ ۔ کیونکہ لوگوں کے پاس پیسے آ گئے ہیں ۔ کالا بازاری کے پیسے دھوکے اور کرپشن کے پیسے۔ ایسے پیسے والوں کی اطمینان کی خبروں کو ماموں “آج کی آواز” پر سجا دیتے ہیں کیونکہ انہیں بزنس کا طریقہ معلوم ہے۔ جہاں یقین نہ ہو وہاں امیدیں دھڑا دھڑ بک جاتی ہیں ۔ کھلے گریبان والی تصویروں سے سجا اخبار ہر پان اور نائی کی دکان کی زینت ضرور بنتا ہے۔ ایسے اخبار لفافے بنانے اور ریک پر بچھانے کے کام میں آنے کے لئے ردی میں بک کر بھی کچھ قیمت دے جاتے ہیں ۔ ۔ زندگی میں مایوسی پھیلانے والے کالم پڑھنے کی فرصت آج کسی کے پاس نہیں ہے۔ ۔ وقار ماموں اس کے لکھے کالم پر روز برستے ہیں ، مگر نانا کی طرح اسے بھی جھوٹی امیدوں کے پیچھے چند سچی آوازوں کی موت منظور نہیں ۔ ۔ ۔ نہیں وہ ان آوازوں کو مرنے نہیں دے گی۔ ۔ ۔ اخبار اور ٹی وی میں ان آوازوں کی جگہ نہیں تو کیا ہوا۔ ۔ ۔ وہ اپنے اخبار کے کالم میں انہیں جگہ دے گی۔ جب ہر خبر کے لئے روز اخبار کے عملے کے ساتھ یہاں وہاں کی خاک چھانتی ہے۔ اسے ہر خوشی، ہر خبر، یا ہر ظلم اور جبر کے پیچھے بین کرتی کچھ آوازیں جکڑنے لگتی ہیں ۔ مگر خبر بنانے والے ان آوازوں سے بچ بچا کر اپنی ذہانت اور مہارت سے ان خبروں کو پالش کر کے چمکا لیتے اور وہ ان آلائشوں کو اپنے لئے جمع کر لاتی۔ ۔ اسے سمجھ نہیں آتا کہ حکومت کی کون سی طاقت ان اداروں کو ایک کٹھ پتلی کی طرح استعمال کر لیتی ہے، اسی لئے وہ کوئی ریپ کیس ہو یا قتل، عوام پر کوئی جبر ہو یا کرپشن لوگوں کا غم و غصہ سڑکوں پر ضرور ابل پڑتا، وہ ہر بھیڑ ہر انتشار کا خود حصہ بن جاتی ہے۔ پوری طاقت سے اس غم اور غصے کو وہاں تک پہنچانے کے لئے جہاں اس کا ازالہ ہو سکے – مگر یہ غم و غصہ صرف ایک اجتماع ہوتا ہے، جس پر دھا را ایک سو چوالیس لاگو کر دیا جاتا ہے – وہ قانون جو ۱۸۵۷ میں انگریزوں کے خلاف بغاوت روکنے کے لئے بنا وہی قانون آج بھی لوگوں کے اجتماع کو روکنے کے لئے لاگو کر دیا جاتا ہے۔ ہمارے سیاست دان ان ہی لکیروں کو پیٹ رہے ہیں ، قانون آج بھی بنتے ہیں مگر اس میں انسانیت کی فلاح سے زیادہ ذاتی مفاد کی آمیزش ہوتی ہے – قانون بننے کے لئے کسی نربھیا کو بے موت مرنا پڑتا ہے کسی بستی کو جلنا ہوتا ہے۔ سڑکوں پر لو جہاد اور ریپ جیسی قانون شکنی کے بعد آرڈیننس تیار ہوتا ہے پھر اسے پاس کرنے نہ کرنے پر لڑا ئیاں ہوتی ہیں ملک کے کندھے پر اخراجات کا بوجھ بڑھتا جاتا ہے اور اس درمیان عوام اپنی امید اور نا امیدی کو، اپنے احتجاج اور مایوسی کو انڈیا گیٹ پر موم کے آنسؤں میں بات دیتے ہیں ۔ اور جب وہ ان آنسؤں کو اپنے کالم میں سمیٹ لاتی ہے تو وقار ماموں اسکے کچھ ایسے ہی کالم کو اس کے سامنے پھاڑ کر پھینک دیتے ہیں ۔ ۔ یہ کہتے ہوئے کہ جذباتیت سے بھری ہوئی تحریر ہے – جذبات اور تجارت کا گزارہ ایک ساتھ ممکن نہیں ، وہ کچھ روشنی، کچھ خوشی، کچھ رنگ تلاش کرنا چاہتی ہے مگر اپنی زمین سے دور خوشی اور رنگ کی تلاش میں بھی راکھ، دھواں اور خون کے علاوہ اسے کہیں کچھ نہیں ملتا – سرحد پار سے بھی بیشمار درد سمیٹ لاتی ہے، اس کا کالم سرخ دھبوں سے داغدار ہو جاتا ہے، پشاور کے بچوں کی موت کا درد سرحد پار کر کے اسکے اندر آ کر بیٹھ جاتا ہے اور اس درد کو وہ اوڑھ لیتی ہے، ہزاروں سوال تھے۔ ۔ ۔ جو اسے جینے نہیں دیتے تھے اس کے اندر خاموشی اور آوازوں کا تصادم جاری رہتا۔ اور وہ کالم میں اپنا درد انڈیل کر سارا بوجھ معاشرے پر منتقل کرنا چاہتی ہے۔ مگر کالم چھپا تو وقار ماموں نے اسے بالکل بدل دیا۔ ۔ استفسار پر انہوں نے اس سے کہا تم ابھی سیکھو۔ ۔ خبر اور درد کو الگ کرنا سیکھو،یہ تمہارا ٹریننگ پیریڈ ہے – اس کے اندر پھر ایک چیخ گھٹ گئی۔ وہ کہنا چاہتی تھی چین سے رہنے والے ان آہوں آنسؤں اور دھبوں کی صرف خبروں سے بھی اپنی دنیا کو پاک کیوں رکھنا چاہتے ہیں کیا اس ظلم پر وہ اپنے ہی اخبار میں ذرا سی جگہ نہیں پا سکتی۔ مگر کہہ نہ سکی، ماموں نے سختی سے کہا تم ان نقصانات سے واقف نہیں اس لئے ایسی جذباتیت سے کام لیتی ہو اپنا فوکس چینج کرو۔ ۔ وہ پھر نئی خبر کے پیچھے بھاگی۔ ۔ نئی آوازوں کے پیچھے، کبھی جن پتھ۔ ۔ جو سیاسی تحریکوں کے لئے ممنوع علاقہ ہے وہاں غبارے بیچنے والے اور سیر و تفریح کے شوقین کا جمگھٹا لگا رہتا۔ جیسے دنیا سیر و تفریح اور خرید و فروخت کے علاوہ اور کچھ نہیں ۔ ۔ مگر ماموں کو نہ جانے یہاں کون سی خبر نظر آتی ہے ان کا کیمرہ مین خوبصورت چہروں کا تعاقب کرتا ہے اور خبریں گڑھ لیتا ہے۔ ۔

“سارا تم کہاں ہو۔ ۔ نانی پریشان ہو رہی ہیں ۔ “فون پر اس کے ماموں زاد بھائی زید کی آواز آئی۔

“میں آ جاؤں گی اندھیرا ہونے سے پہلے ” اس نے فون کاٹ دیا آوازوں کے تعاقب میں وہ لوگ جنتر منتر پر آئے وہاں اس وقت ہندوستان کی اس چھ کروڑ آبادی کے نمائندے ہزاروں کی تعداد میں جمع ہو رہے تھے۔ ۔ وہاں میڈیا اور سیاست سے نظر انداز کئے ہوئے لوگ پولس اور قانون کی کینہ توز نظروں کو برداشت کرتے ہوئے اپنے کچھ بنیادی ضرورتوں کی مانگ لے کر جمع ہو رہے تھے –رہنے اور کھانے کا حق۔ ۔ کام اور جینے کا حق مگر یہ ڈھور ڈنگر تھے پالتو جانور کے برابر بھی ان کا حق نہیں تھا۔ یہ جسموں کو وہ انبار تھے جو نہ جانے کن دراڑوں سے نکل آتے ہیں جن کے لئے کوئی بستی، روزگار یا گوشۂ عافیت نہیں تھی۔ ۔ جو جمہوریت پر یقین رکھنے کے لئے ہڑتالوں ، ہنگاموں ، نعروں پر یقین رکھتے تھے۔ جن کے تنبو کا رنگ بے اعتنائی کی دھوپ میں بد رنگ ہو گیا تھا۔ راحت کا نیا کالم تیار تھا۔ ۔ ۔ یہ کسی ریپ کا قصہ نہیں تھا کہ وہ بہت غیر اہم خبر تھی کیونکہ اب ہر دن ایسی خبریں آتی تھیں ۔ ۔ ۔ یہ کوئی مسلمان اور ہندو خبر بھی نہیں تھی کہ اس پر تعصب کا الزام لگے یہ خبر تو اس چھ کروڑ عوام کی تھی جو توجہ اور انصاف مانگ رہی تھی جو بھک مری، باڑھ اور سوکھے کی زد میں تھی۔ ۔ گھر آ کر اس نے اطمینان سے اپنا کالم ماموں کے حوالے کیا اور سکون کی نیند سو گئی۔ ۔ دوسرے دن اخبار اس کے ہاتھ میں تھا ماموں نے کالم میں کچھ تبدیلی کی تھی اس کی تفصیلات کے ساتھ منسٹروں کے کچھ حسین وعدوں کا اضافہ تھا، ریلی کو بہتر ڈھنگ سے سنبھالنے کے لئے نظم و ضبط کی تعریف تھی۔ ہزاروں کی تعداد میں آئے اس طبقے کے نمائندوں کی آواز ضرورت اور مقصد کی ایک ہلکی سی آہٹ بھی اس کے کالم میں موجود نہ تھی۔ ۔ اپنے کالم کو دیکھ کر وہ حیران تھی۔ ۔ ۔ جملوں کی نشست و برخواست کی تبدیلی سے اسکے کالم کا مفہوم ہی بدل چکا تھا اور اسے لگ رہا تھا جیسےیہپوری دنیا ایک گودام ہے جس میں اسے پھر سے بند کر دیا گیا ہے جہاں کچھ خوفناک ہیولے اس کی چیخوں کو اس کے گلے میں گھونٹ دیتے ہیں اور اس کی سسکیاں بھی بین کرتی ان آوازوں میں شامل ہو کر اسے خوفزدہ کر رہی ہیں ۔ اور اس کے پیٹ میں کپکپی شروع ہو جاتی ہے اور اسے ابکائیاں محسوس ہوتی ہیں ۔ ۔ ۔ اس کی ماموں زاد بہن اس سے پوچھ رہی ہے۔ “کیا ہوا۔ ۔ ؟ پھر مائے گرین کا اٹیک ؟ “۔ ۔ ۔

٭٭٭

 

 

 

 

انگلی کی پور پر گھومتا چاند

 

کمرے میں اندھیرا در آیا تھا- زاہدہ بی نماز پڑھ کر بمشکل اٹھیں اور دھیرے دھیرے سنبھل کر چلتے ہوئے دریچے تک گئیں اور اس کے دونوں پٹ کھول دئے۔ کام والی لڑکی اب تک نہیں آئی تھی، انہوں نے آنکھیں سکوڑ کر کھڑکی کے قریب ہو کر باہر آنگن میں دیکھا مگر وہاں سناٹا اور اندھیرا کے علاوہ کوئی آہٹ نہ کوئی روشنی نظر آئی۔ وہ وہاں سے ہٹتے ہوئے بدبدائیں ۔ ۔ “دریچے اس لئے تو نہیں کھلے رکھے جاتے کہ ان سے تاریکی در آئے، مگر جب باہر اندھیرا ہو تو اجالا کہاں سے اندر آئے گا۔ “ضرور آس پڑوس میں کام کی لئے نکلی ہو گی تو اب تک نہ لوٹی ہو گی ورنہ آنگن والے کونے کی کمرے میں روشنی ضرور ہوتی اور انہیں یہ تسلی ہو جاتی کہ وہ بس اب آ ہی رہی ہو گی۔ اب وہ خود کسی کام کی نہیں رہ گئی تھیں چاہیں بھی تو لالٹین نہیں جلا پائیں گی نہ ماچس ملے گی نہ کمزور ہاتھوں سے شیشہ صاف ہو سکے گا۔ لائیٹ تو کبھی اس قصبے میں جلدی آتی ہی نہیں ۔ پھر بھی سوئچ بورڈ تک جا کر سوئچ آن کیا۔ ۔ جانے موبائل بھی کہاں رکھ کر بھول گئی ہیں ، اب قوی کمزور ہو گئے ہیں نہ ٹھیک سے دکھائی دیتا ہے نہ کچھ یاد رہتا ہے۔ انہوں نے کھڑکی کے قریب جا کر میز پر موبائل تلاش کرنا چاہا پر کچھ دکھائی نہ دیا۔ وہ مایوسی سے دریچے کے قریب لگے اپنے بستر پر بیٹھتے ہوئے ہاتھ بڑھا کر میز پر پھر کچھ ٹٹولنے کی کوشش کرنے لگیں اور مایوس ہو کر ہاتھ کھینچ لیا۔ انہیں مغرب کے وقت کمرے میں اندھیرا سخت نا پسند تھا مگر یہ لڑکی کبھی وقت پر کام کرنے نہیں آتی۔ ۔ اب جب وہ آئے گی تب ہی روشنی ہو گی یا موبائل اور چشمہ ملے گا۔ آج برسات کی یہ شام۔ ۔ یہ کا لی شام ان کی نظروں میں کیسی سیاہی لے کر اتر رہی ہے، اس سیاہی نے کیسی معصوم خوشیوں کو، کتنے نازک احساسات کو، رشتوں کی صداقت اور پاکیزگی کو اپنی چادر میں لپیٹ لیا ہے۔ انہیں لگا کہ ان کا دل انجانے بوجھ سے دبا جا رہا ہے۔ یہ نہ غربت کی سیاہی ہے نہ بجلی بتی کی کمی۔ یہ اندھیرا تو اپنوں سے دوری کا ہے۔ چار بیٹوں کی ماں ہوتے ہوئے وہ اس عمر میں تنہا رہ گئیں کہ ایک لائیٹ جلانے کے لئے اوروں کے رحم و کرم پر ہیں ۔ جس گھر میں اولاد ہوتے ہوئے روشنی نہیں آواز نہیں وہاں سے برکت اور خوشیاں تو روٹھ ہی جائیں گی۔ ” یا اللہ تو نے انسانوں کو زندگی صرف اس لئے عطا کی ہے کہ اس سے عبرت حاصل کی جائے -” وہ بدبداتی ہوئی اٹھیں اور دھیرے دھیرے چلتی ہوئی صحن میں نکل آئیں ۔ یہاں پر رکھی چوکی پر بیٹھتے ہوئے انہیں وہ دن یاد آئے جب اسی چوکی پر اپنے آخری وقت میں ان کے شوہر بیٹھا کرتے تھے کتنے تنہا، بے بس اور کمزور لگنے لگے تھے اپنے آخری دنوں میں اپنی کربناک سوچوں کے ساتھ پہروں اسی پر تنہا بیٹھے رہتے جبکہ اپنی زندگی میں کیا حاصل نہیں کیا۔ ۔ ۔ دولت عزت اور اتنے سارے بیٹے بہو اور پوتے پوتیاں ۔ ۔ جنھیں وہ ہر دولت سے بڑھ کر اپنی ملکیت سمجھتے تھے۔ اور سب سے چھوٹی چار بھائیوں کی اکلوتی بہن منی۔ ۔ ۔ ان کے گھر کی رونق، ان کی بیٹی، مگر آخیر وقت میں بچوں کی جدائی کا صدمہ انہیں کیسا لگا کہ زندگی سے ہی منھ موڑ گئے۔ ۔ میرے بارے میں بھی نہ سوچا، کم از کم دونوں ایک دوسرے کے سہا رے جی تو رہے تھے۔ ۔ ۔ ۔ وہ چوکی پر بیٹھے بیٹھے خاموشی سے باتیں کرنے لگیں ۔ جب جب وہ خاموشی کو خود سی مخاطب پاتیں تو ماضی کے لمحوں کے بے شمار جلتے بجھتے چراغ ان کے اندر روشنی بھر دیتے اور وہ باہر پھیلی تاریکی سی بالکل لا تعلق ہو جاتیں ۔ ۔ باہر کی تاریکی سے اندر کی روشنی تک سفرکرنا بڑی ریاضت سے سیکھا تھا انہوں نے، یہ سیکھتے سیکھتے چہرے کیسلوٹوں کی تہ میں کئی خوشیوں کی جوت، کیسے کیسے آنسؤں کی نمی سمٹ آئی تھی۔ اور چہرہ گئے وقتوں سے ساری ملاحت سمیٹ کر معصومیت اور نور کا ہالہ بن گیا تھا – وہ اندھیرے برآمدے میں نہ جانے کب تک یوں ہی بیٹھی رہیں ۔ اور خاموشی ان کے ساتھ آنکھ مچولی کھیلتی رہی، کبھی اپنے چاروں طرف بچوں کی ریل پیل محسوس کرتیں ، کبھی اپنے بزرگوں کے آگے خود کو دوڑتا بھاگتا محسوس کرتیں ۔ کبھی حسین پل کے چراغ ان کی جھریوں میں مسکراہٹ کا اجالا بکھیر دیتے، کبھی کسی کی جدائی کے لمحوں کی کسک آنکھوں میں نمی بن کر تیرنے لگتی۔ بچوں کی بہتر تعلیم نے انہیں دنیا میں وہ مقام دلایا کہ چاروں بیٹے چار ملک میں جا بسے۔ بس ایک بیٹی ہے جو اپنے ملک میں اور قریب کے شہر میں بس گئی اور ہر کچھ دن بعد آ جاتی ہے وہی ضد لے کر امی میرے ساتھ چلئے اور ہر بار وہ ٹال جاتی ہیں ، چار بیٹوں کی ہو تے داماد کے سر جا پڑوں ، اور کہیں بیٹوں کو شکایت نہ ہو جائے امی نے ان کے ساتھ رہنا گوارہ نہیں کیا۔ گئی تو تھیں سب جانے کس مصروفیت میں رہتے ہیں وہاں بھی تو انہیں سارا دن اجنبی ملک میں تنہا ہی رہنا تھا تو ایسی عمر میں مٹی کی پکار کو وہ کیسے ان سنا کر دیں ۔ ۔ ۔ بیٹوں نے ان کے لئے آسائش کا سارا سامان مہیا کر دیا ہے ہر سال آتے بھی ہیں کچھ نہ کچھ نئے زمانے کا تحفہ لے کر۔ بجلی سے چلنے والی بیشمار چیزیں جو یہاں آ کر ڈبہ بن جاتی ہیں ۔ اپنے والد کی موت کے بعد بیٹوں نے انہیں کتنا بڑا سا فون لا کر دیا امی آپ تنہا رہتی ہیں اسے ہر وقت پاس رکھا کریں ۔ پوتے نے کتنی مشکل سے انہیں سمجھایایہ واٹس اپ ہے یہ فیسبک میسنجر اور یہ فون رسیو کرنے کا طریقہ۔ وقت اور ضرورت نے انہیں فون کا استعمال تو سکھا دیا مگر اپنے بھلکڑ دماغ کا کیا علاج کریں ۔ بجلی تو آتی جاتی رہتی ہے کئی بار وہ موبائل چارج کرنا بھول جاتی ہیں ۔ اتنی پریشانیوں کے باوجود نہ جانے کون سی طاقت انہیں یہاں سے باندھے رکھتی ہے۔ سا رے گزرے ہوئے دن، سا رے زندہ خوبصورت لمحے ان کے اسی کھنڈر نما گھر اور جسم میں ایک ساتھ سانس لیتے ہیں ۔ اور سانس کی یہ ڈور وہ اپنے آخر وقت تک تھام کر رکھنا چاہتی ہیں مرنے سے پہلے نہیں مرنا چاہتیں ۔ آنگن میں اگ آئی خود رو جھاڑیاں جس طرح دہشت زدہ کھڑی لرزتی رہتی ہیں ویسے ہی ان کا دھواں دھواں وجود تنہائی میں دہشت زدہ سا یہاں وہاں ڈولتا رہتا ہے، کبھی بان کی ڈھیلی چارپائی پر تو کبھی نماز کی چوکی پر نماز ختم کر کے دعا مانگنے کے بعد آنگن کے کونے میں لگے اس گھنے درخت کو ایک ٹک دیکھے جاتیں جس کے نیچے خزاں رسیدہ پتوں کا ڈھیر سا جمع رہتا مگر خیالوں میں وہ روشن دن اجاگر ہوتے جب گرمی کی ہر شام اس کے نیچے صفائی کر کے پانی کا چھڑکاؤ ہوتا اور ایک تازہ اور ٹھنڈا پانی کا مٹکا وہاں رکھا جاتا مٹی کے کورے پیا لے کے ساتھ اور ہر آتا جاتا وہاں رک کر ٹھنڈا میٹھا پانی پیتا ان کے شوہر کے پاس بہتی ہوئی پروائی میں کچھ دیر بیٹھتا اور ایک کپ چائے پی کر رخصت ہوتا۔ اب ابتری ہے تنہائی ہے مگر پھر بھی وہ خود کو یہاں محفوظ و مامون سمجھتی ہیں ۔ یہاں کی ہوا اسی قبرستان سے گزر کر سرگوشیاں کرتی ہوئی آتی ہے جہاں ان کے سا رے بزرگ اور اپنے محو خواب ہیں ۔ کبھی کبھی تو تہجد پڑھتے وقت انہوں نے واضح طور پر محسوس کیا ہے کہ ان کے نورانی پیکر ان کے اس پاس موجود ہیں مسکراتی نظروں سے انہیں دیکھ رہے ہیں ۔ ۔ اور وہ بے چین ہو جاتیں ان کے ساتھ جانے کے لئے مگر دوسرے لمحے سب غائب ہو جاتے اور انہیں لگتا یہ ان کا واہمہ تھا۔ ۔ ۔ مگر بہت دیر تک کمرے کی فضا معطر رہتی۔ ۔ اور وہ سرشار سی بیٹھی دعاؤں کا ورد کرتی رہتیں ۔ جی چاہتا کوئی اس پاس ہوتا تو اس سے پوچھتی یہ عطر کی خوشبو تمہیں بھی آ رہی ہے۔

“اماں کمرے میں چلئے، رات ہو گئی۔ ”

کام والی کی آواز پر وہ چونک گئیں ۔ ۔ “تو کب آئی ؟۔ ”

“کب کی۔ ۔ ۔ کام بھی ختم، روٹی بنا دی ہے۔ وقت پر کھا لیجئے گا۔ “وہ انہیں اندر لے جا کر بستر پر بٹھاتی ہوئی بولی۔

“لالٹین جلایا ؟” انہوں نے پوچھا تو رانی ہنسنے لگی

“لائیٹ تو آ گئی اماں ۔ ۔ ۔ پھر لالٹین کس لئے۔ ”

“دیکھ مجھ سے بحث نہ کر، لائیٹ کا کیا ہے ابھی پھر چلی جائے گی۔ ” وہ ناراض ہوئیں ۔

اماں منی باجی منع کرتی ہیں ، کہ رات میں لالٹین نہ جلایا کرو۔ ۔ ۔

“میں منی سی تیری شکایت کروں گی، تو کبھی وقت پر نہیں آتی۔ ”

رانی ہنسنے لگی۔ ۔ ۔ ” اور جب آتی ہوں تو بھی آپ کو کہاں پتہ چلتا ہے۔ ”

رانی اپنا کام بھلے برے ختم کر کے چلتی بنی۔ ۔ وہ ان کی خاموش ویران آنکھوں میں کبھی نہ جھانکتی۔ جو اندھیرے کوئیں جیسی یادوں کا سارا کچرا سمیٹ کر کہیں دور ڈوب گئی تھیں ، ان کے جھری بھرے چہرے کی مسکراہٹ کے اجالے کو بھی نہ سمجھتی جو اپنے ضعیف ہاتھوں میں موبائل ڈھونڈھ کر مضبوطی سی تھامتیں اور بار بار اس سے پوچھتیں ۔ ۔ ۔ دیکھ تو رانی اس کی بیٹری تو ختم نہیں ہو گئی۔ ۔ رانی کام کر کے رخصت ہوئی تو ان کے چہار طرف اگر کوئی چیز ان کا دھیان بٹانے کی کوشش کر رہی تھی تو وہ اس کمرے میں موجود چھپکلی اور چوہے تھے۔ یہ جاندار ہمیشہ سناٹگی اور سونے پن میں اضافے کا باعث بنتے ہیں ، شاید اس لئے کہ یہ انسان کی کمی کا احساس دلاتے ہیں ۔ زاہدہ بی اب دھیرے سے تکیے کے سہارے نیم دراز ہو گئیں ۔

کیا یہ ان کا وہی گھر ہے ؟؟ ہنستا چہکتا مہکتا۔ ۔ ۔ نہیں یہ تو بالکل اجنبی ماحول ہے۔ ۔ کسی نے ایسے گھر اور گاؤں کی تمنا نہیں کی تھی۔ جانے یہ کیسی سیاہی ہے جس نے ان کے سارے جذبے سارے احساس کو نگل لیا ہے۔ ۔ ۔ زاہدہ بی نے ایک ٹھنڈی سانس لی۔ ۔ چار بیٹوں کے باوجود اس گھر میں سناٹگی وقت سے پہلے در آئی تھی۔ سب کے ہوتے ہوئے۔ ۔ ۔ اور اسی غم میں وہ چلے گئے اور اب یہ تنہائی ان کا مقدر ہے۔ ۔ یہ کیسا بکھراؤ ہے ؟۔ ۔ ۔ اور کیوں ہے یہ بکھراؤ۔ ۔ ۔ انہیں اب اپنے بچوں کا ایک ایک چہرہ یاد آنے لگا، ہر چہرے میں اب بھی وہی ملاحت وہی کشش ہے جو کبھی اس گھر اور یہاں کی محفلوں کی جان ہوا کرتا تھا۔ جو چہرے اس آنگن کی پیشانی کا چاند تھے وہ اب ایسے ہی غروب ہو چکے ہیں جیسے برسات کی اس کا لی شام نے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے آنگن میں بسیرا کر لیا ہو۔ وہ آج بھی دلوں میں موجود محبت اور خلوص کی حرارت کو محسوس کر سکتی ہیں مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ درمیان میں میلوں کی مسافت نے محبت کی اس حرارت کو نگل لیا ہے۔ دل ٹکروں میں تقسیم ہو کر دھڑک رہے ہیں اپنی اپنی زندگی پوری کر رہے ہیں ۔ مگر اب آنگن کی پیشانی پر کوئی چاند نظر نہیں آتا۔ ہلکی سی ٹوں ٹوں کی آواز نے انہیں ان کی سوچوں کے بھنور سے کھینچ لیا۔ وہ چونک کر سیدھی بیٹھ گئیں تکئے کے نیچے سے آواز آئی تھی تو موبائل یہاں ہے انہوں نے تکیہ اٹھایا موبائل کی اسکرین لائیٹ چمک رہی تھی۔ ان کے سارے چاند موبائل کی اسکرین پر فیس بک میسنجر میں اتر کر معدوم ہو گئے ہیں ۔ انہوں نے اپنے کانپتے لرزتے ہاتھوں میں مضبوطی سے موبائل کو تھاما اور نرمی سے اپنی انگلیوں کے پوروں سے فیس بک میسنجر کو چھوا گول گول چاند کی طرح کئی چہرے اسکرین پر جگمگا اٹھے۔ چشمہ نہیں تھا آس پاس اس لئے پیغام پڑھ نہیں سکتی تھیں ۔ اس لئے انہوں نے با ری با ری ہر چہرے کو ایسی نرمی سے چھوا جیسے اپنے بیٹوں کے چہرے کو چھو رہی ہوں ۔ وہ اس چاند کو چھو تو سکتی ہیں ۔ انہیں دل بھر کر اپنی انگلیوں کے پوروں سے اسکرین پر گھما بھی سکتی ہیں مگر انگلی کے پور پر گھومتا ہوا یہ چاند ان کی زندگی کے اندھیرے آنگن میں روشنی نہیں بکھیرتا۔ ۔ ۔ یہ ایک چھلاوہ ہے۔ یہ سارے کبھی کبھی ٹوں ٹوں کی آواز سے اپنے زندہ ہونے کا احساس کرا جاتے ہیں مگر اس چاند میں اتنی بھی طاقت نہیں ، اتنی بھی روشنی نہیں کہ ان کی آنکھوں سے ڈھلکتے ہوئے آنسو کسی کو نظر آ سکیں ۔

٭٭٭

 

 

کال بیلیا

 

دنیا نجانے کتنے پیروں پر گھومتی ہے کسے معلوم ؟ لیکن شاید اسی لئے یہ کہیں بہت تیز تو کہیں بہت سست رفتار سے گھومتی محسوس ہوتی ہے – مگر کال بیلیا قبیلے کی نرملا جوگن اپنے ان ہی دو پیروں سے سارے عالم کی خاک چھان چکی ہے – وہ پچھلے پانچ سال سے ایک ہی رفتار سے گھوم رہی ہے صرف اس لمحے کے انتظار میں جب اسے اپنے قبیلے میں ایک بار پھر واپس لوٹنا ہے – اسے اپنے دل میں اس ایک خواہش کے علاوہ اور کسی خواہش کا پتہ نہیں ملتا – لوگ کہتے ہیں ابھی اس کی عمر بہت کم ہے اور اسی کم عمری میں اس نے بہت شہرت حاصل کر لی ہے – پچیس سال کی عمر میں اسکے پاسپورٹ پر کتنے ہی ملکوں کا ویزہ لگ چکا ہے ساتھ ہی وہ اپنے وطن کے چپے چپے کی سیر بھی کر چکی ہے۔

لوگ عمر کا حساب نہ جانے کیوں دنوں ، ہفتوں ، مہینوں اور برسوں میں رکھتے ہیں –عمر کا حساب تو تجربوں ، حادثوں اور سفروں میں رکھنا چاہئے – اس کی زندگی کا سفر تو جیسے دو صدیوں پر محیط ہے – جی ہاں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ دو صدیاں ۔ ۔ ۔ کیونکہ وہ بیک وقت دو صدیوں میں ایک ساتھ جیتی آئی ہے – دو صدیوں میں ایک ساتھ جینے کی تکلیف کیسی ہوتی ہے یہ اس سے بہتر کوئی نہیں جان سکتا۔ ۔ ۔ صرف ایک اڑان سے وہ اکیسویں صدی سے ایسی جگہ پہنچ جایا کرتی تھی جہاں دنیا کا وہ حصہ جیسے اپنی رفتار بھول چکا ہو – گویا آج بھی وہ حصہ اور وہاں کے لوگ پندرھویں صدی عیسوی میں جی رہے ہوں اور المیہ یہ ہے کہ وہی اس کا مقدر تھا، اس کی مجبوری تھی۔ ۔ اکیسویں صدی کی جھلک دیکھ دیکھ کر پچھلی صدیوں جیسے حالات میں جینا اس کی قسمت تھی۔ اور اپنے اسی مقدر سے جب اس نے محبت کرنا سیکھ لیا تو تقدیر نے یہ کیسا موڑ لے لیا کہ پانچ سال سے وہ اس جگہ سے دور ہے اور ایک لمحہ بھی اسے چین نصیب نہیں – اپنے کال بیلیا قبیلے کی وہ عالمی شہرت یافتہ مگر ایسی بدقسمت رقاصہ ہے جو اپنے قبیلے سے دور رہنے پر مجبور ہے -اتنے دنوں تک اپنے ملک کے علاوہ وہ کوپن ہیگن، ڈنمارک جیسی جگہوں پر گھوم گھوم کر رقص کی تعلیم دیتی رہی – مگر اپنے قبیلے کی طرف نہیں جا سکی- پشکر، پالی، اجمیر، چتوڑ گڑھ، کی مٹی میں اس کے لئے جو کشش تھی وہ اسے کھینچتی ہے، اس کے ساتھ اب ایک چار سال کا بیٹا بھی ہے جو اپنے مستقبل سے بے خبر گداز بستر پر آرام سے سو رہا ہے۔ ۔ وہ گردن موڑ کر ہوٹل کی کھڑکی سے باہر دیکھنے لگی۔ ۔ ۔

وہاں سے پہاڑی کی ڈھلان پر چیڑ کے درختوں کے جھرمٹ میں نیچے دور تک گھاٹی نظر آ رہی تھی اس گھاٹی کے ساتھ کہیں نمایاں اور کہیں غائب ہو جانے والی پگڈنڈیاں سانپ کی مانند بل کھاتی نظر آ رہی تھیں – اس نے دور افق پر نظر دوڑائی سورج چھپ چکا تھا، آسمان کہیں زرد کہیں پیلا اور افق کے ساتھ سرخی مائل تھا –دور پہاڑی کے عقب سے جھانکتے ہوئے کیمپ کے آدھے حصے پر اندھیرا اتر آیا تھا اور وہاں کام بند ہو چکا تھا، جنوب کے سمت اڑنے والے جنگلی پرندوں کی قطاروں کے نیچے انسانوں کا ریلا اپنی اپنی منزلوں کی جانب رواں تھا، جن کے ہاتھوں اور کندھوں پر پھاؤڑا، بیلچہ اور دوسرے اوزاروں کا بوجھ تھا اور وہ اپنے تھکے ہوئے بیزار قدموں سے اپنے گھروں کی طرف جا رہے تھے۔

“گھر” یہ لفظ اس کے کال بیلیا قبیلے کے لئے گویا ایک گالی تھی۔ ۔ ایک بد دعا۔ اور اس بد دعا کو سینے سے لگائے وہ پشت در پشت جیتے چلے آ رہے تھے۔ ۔ اس نے اپنے بابا سے سنا تھا کہ بھگوان وشنو کے ماننے والے گرو جالندر ناتھ نے اپنے دو شاگردوں گورکھ ناتھ اور کنی پاؤ کو کوئی وردان دینے سے پہلے دو پیالے دے کر کہا تھا کہ تم نے آج تک جو ہنر اور فن مجھ سے سیکھا اسے ثابت کرنے کے لئے ان پیالوں کو کسی چیز سے بھر دو پھر وردان پاؤ گے – گورکھ ناتھ نے اس اپنے پیا لے کو پھل کے میٹھے اور مزیدار پکوان سے بھر دیا مگر کنی پاؤ نے اپنے پیا لے کو زہر سے بھر دیا تب ناراض ہو کر گرو نے کنی پاؤ کو شراپ(بد دعا) دیا کہ وہ پشت در پشت در در بھٹک کر سانپ کا زہر جمع کرے گا اور یہی اس کا ذریعہ معاش ہو گا-

اور اسی لئے ان کے قبیلے کے لوگ آج بھی ریگستان کے ویرانوں ، ٹیلوں اور جھاڑیوں میں سانپ ڈھونڈھتے ہیں ، پتھر توڑ کر، بھیک مانگ کر مزدوری کر کے جیتے ہیں ۔ ان کے ڈیرے بستی کے حاشیے پر لگائے جاتے ہیں –لوگوں کی خوشیوں میں رقص اور موسیقی کی محفل سجا کر سانپوں کے کرتب دکھا کر وہ ہر وقت خوش رہتے ہیں –

مگر نرملا جوگن ان سے مختلف تھی وہ سوال بہت کرتی تھی۔ ۔ ۔ یہ جانے بغیر کہ شراپ میں جینے والوں کو سوال کا حق نہیں ملتا – اس لئے پانچ سال تک وہ اپنے سوالوں کا جواب تلاش کرتی بھٹکتی رہی ہے – اتنے برسوں میں اس کے اندر صرف اور صرف ایک خواہش پروان چڑھی ہے، کہ وہ اپنے قبیلے میں جا کر بابا، ماں اور بھائی کی تین قبروں سے لپٹ جائے، ۔ ۔ وہ قبریں جو اس کے دل میں کھدی تھیں ۔ ۔ اور وہ خود ایک ایسی دنیا میں تھی جو نہ زندہ تھی نہ مردہ اور اسی لئے وہ دنیا اسے وحشت ناک معلوم ہوتی تھی کہ وہ مدتوں سے زندگی اور موت سے قطعاً بے گانہ اور لاتعلق ہو چکی تھی۔ اس کو اپنی اس بے جان دنیا میں زندگی کے انتہائی حقیر اور کمزور ہونے کا احساس اندر ہی اندر کاٹتا رہتا تھا، اسی لئے رقص پر تھرکتے ہوئے پیروں نے روح سے ناطہ توڑ لیا تھا-

تھکن، کمزوری، اندیشوں اور آلام کے بوجھ میں دبے رہنے کے باوجود ایک بے حس سی قوت انتہائی شدت سے کسی الاؤ کی مانند دہکتی اس کے دل میں باقی تھی جو اسے جینے پر مجبور کیے ہوئے تھی۔ اس کا اپنے بیٹے سے بھی بس ایساہی کچھ ناطہ تھا جتنا کہ اپنے رقص سے باقی رہ گیا تھا – نرملا جوگن نے اپنے باپ جوگی ناتھ اور بھائی ویروم جوگی سے سانپ کا زہر نکالنے کا ہنر نہیں سیکھا تھا وہ تو ماں کے کندھوں پر بیٹھ کر گھومر ڈالتے ڈالتے اور لور کے تال پر تھرکتے تھرکتے جانے کب زمین پر اتر کر اس سے قدم سے قدم ملا کر ناچنے لگی اور پندرہ سال کی عمر سے ہی شہرت کی سیڑھیاں طے کرتی گئی-

وہ اپنے قبیلے کی سب سے خوبصورت عورت تھی، ریگستان کی دھوپ اور ہوا کے اثر سے اس کے ہاتھوں اور چہرے کی جلد بھی دوسرے قبائلی باشندوں کے مانند سرخ تھی اور اس کے نقوش بہت پرکشش تھے۔ اپنی ہرنی جیسی خوابناک آنکھوں میں وہ بڑے بڑے رنگین خواب لئے پھرتی، جو سرخ ڈوروں کی شکل میں اس کی آنکھوں میں ہمہ وقت تحریر رہتے۔ سیاہ ریشمی لہنگا چنی کے رنگیں نقش و نگاراس خوبصورت سپیرن کے حسن میں ایسا نکھار پیدا کرتے کہ بڑے سے بڑا تکبر اس کے سامنے سرنگوں ہونے کو بے چیں ہو جاتا-

مگر حاشیے پر پھینکے ہوئے یہ لوگ اچھوت تھے۔ سب کی خوشیوں میں شریک ہو کر ناچ گا کر بستی سے باہر اپنے ڈیرے میں لوٹ جاتے نرملا کی باہر کی دنیا میں مانگ بڑھ رہی تھی اور اسے اچھوت ماننے والوں کی نظروں میں حرص – اس وقت تک اس سپیرن کو اندازہ ہی نہ تھا کہ سانپ صرف ریگستانی علاقے کی جھاڑیوں اور ٹیلوں میں بل بنا کر ہی نہیں رہتے بلکہ ان سے بھی خطرناک زہریلے سانپ انسانی شکلوں میں بڑی بڑی حویلیوں میں رہتے ہیں – بچپن سے وہ سانپوں کو بلوں میں دیکھتی آئی تھی – جب اس کا بابا خطرناک پھنیر ناگ کو بے بس کر کے اپنی ٹوکری میں ڈالتا تو اس کا دل خوشی سے جھوم جاتا اور وہ ماں کے کندھوں سے مچل کر اترتی اور بابا کی گود میں بیٹھ جاتی، وہ اپنی رنگیں پگڑی کو مضبوطی سے سر پر جماتا اور اپنی گھنی موچھوں کے درمیان ہولے سے مسکرا دیتا۔ ۔ نرملا کے لئے گھر کا مطلب ماں بابا اور بھائی کا ساتھ تھا۔ ۔ ۔ اپنی خانہ بدوشی میں زمین کے جس حصے پر یہ چاروں اپنا ڈیرہ جماتے وہی اس کا گھر ہوتا۔ ۔ ۔ پندرہ سال کی عمر سے وہ باہر کا سفر کرنے لگی۔ ۔ کم عمری میں اتنے مواقع ملنے سے اس کی سمجھ اور عقل کھلنے لگی، اسے ٹوٹی پھوٹی انگریزی بولنا آ گئی قبیلے کی کچھ اور عورتیں بھی باہر جاتی تھیں مگر اتنی جلدی جلدی نہیں اس لئے قبیلے میں اس کے خاندان کی حالت معاشی طور پر سب سے بہتر ہو گئی۔ ۔ ۔ نرملا جوگن اپنے بابا سے اپنے قبیلے کی حالت اور طور طریقوں پر سوال جواب کرنے لگی۔ ۔ ۔ اسے دوسری دنیاؤں کے سامنے اپنے قبیلے کی کسمپرسی تکلیف دینے لگی۔ ۔ وہ اپنے باپ سے کہتی۔ ۔ ۔ ” بابا اب دھوپ میں بھٹک کر سانپ کو ڈھونڈھنا چھوڑ دو-“۔

“ناگ کو ٹوکری میں بند کر کے اس کا تماشہ دکھانا چھوڑ دو”۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور اس کا باپ ہنستا ہوا پیار سے اس کے سر پر ہاتھ رکھ کر کہتا

” ؟ جانتی ہے ہمیں کال بیلیا کیوں کہا جاتا ہے ”

وہ نفی میں سر ہلا دیتی تو بتاتا۔ ۔

” کیونکہ ہم موت کے ساتھی ہیں کال مطلب موت اور بیلیا ساتھی کو کہتے ہیں ۔ ۔ ۔ ہم موت کے ساتھی ہیں جبھی تو ہم زہریلے سانپوں کے بلوں میں ہاتھ ڈال سکتے ہیں ، انہیں بیلی بنا سکتے ہیں اور سانپ کسی کو کاٹ لے تو اس کا زہر بھی اتار سکتے ہیں ، تو نے دیکھا تھا نا اس دن زمیندار کے بیٹے راجیش کو سانپ نے کاٹا تو تیرے بابا کے پاس کیسے دوڑے آئے سب، یہ ہنر ہے، یہ ہمارے پرکھوں کا اثاثہ ہے –”

اور نرملا سمجھ گئی اپنی قسمت سے راضی بہ رضا ہو کر اپنے قبیلے کے دوسرے لوگوں کے ساتھ مست رہنے لگی – مگر جس انسان کو اس کے بابا نے سانپ کے زہر سے بچایا تھا اسی نے بار بار اس کا راستہ روکنا شروع کیا – بہانے بہانے سے وہ یہاں وہاں اسے گھیرتا اور وہ غصے سے بل کھا کر رہ جاتی، چاہ کر بھی بابا کو یہ بات نہ بتا پاتی کہ اسنے جسے بچایا ہے وہ بھی ایک زہریلا سانپ ہے جسے بچانے کے بجائے مرنے دیا ہوتا۔

وہ ایک ٹھنڈی سانس لے کر کھڑکی سے ہٹ آئی اور اپنے نرم بستر پر لیٹ کر سوچنے لگی۔ اس کی زندگی میں یہ آسائشیں جن چیزوں کو کھو کر آئی ہیں وہ ایسی تو نہ تھیں کہ پیچھے مڑ کر دیکھا جائے مگر اپنا قبیلہ اپنے لوگ کتنے بھی قدامت پرست ہوں ، وہ علاقہ کتنا بھی بنیادی ضرورتوں سے محروم ہو، اپنی تہذیب کی جڑوں سے جڑ کر جینا اور مرنا انسان کی سب سے پہلی بنیادی ضرورت ہے۔ اس کی نظروں میں اس کی زندگی فلم کی طرح چلا کرتی اس کا بچپن، جوانی اس کی محبت۔ ۔ ۔ آنسو ڈھلک کر تکئے میں جذب ہو گئے۔ ۔ ۔ ذہن ماضی میں الجھتا چلا گیا۔ ۔ رقص و موسیقی کی وہ محفل جو گاؤں گھر کی ہر خوشی کے موقعے پر جمتی تھی۔ ۔ ۔ اور وہ اپنی سہیلیوں کے ساتھ مل کر گھومر ڈالتی اور وہ لور کے دھن پر دیوانہ وار ناچتی، اس کا منگیتر کچی گھوڑی کا رقص کرتا اور پورا قبیلہ مل کر موسیقی کی دھن میں اپنی ساری محرومیاں بھول جاتا۔ نیند اور یادوں کے خمار میں اسے لگا بین اور پنگی کی رسیلی دھن پر تیرتی ہوئی وہ جیسے اس علاقے میں پہنچ گئی ہو۔ جہاں اس کا بھائی ہاتھ میں بڑا بھا ری کونٹ لئے کنٹیلی جھاڑیاں کاٹتا چل رہا ہو، اسے کانٹے دار جھاڑیوں سے کیسی دشمنی تھی، وہ کونٹ اس کے ہاتھ سے کبھی علیحدہ نہ ہوتا۔ اس کا دوپٹہ جس جھاڑی سے الجھتا وہ بھائی کو آواز دیتی -اس سے صرف ایک سال ہی تو بڑا تھا۔ جبکہ اس کا منگیتر کرما جوگی ان دونوں سے بڑا تھا مگر سہل پسند اور ڈرپوک تھا۔ وہ ہمیشہ اس کا مذاق اڑاتی۔ اور ایک دن راجیش کنٹیلی جھاڑیوں کی طرح اس کی راہ میں حائل ہوا تووہ بھائی کو آواز دینے لگی۔ ۔ پھر کیا تھا وہ کونٹ سمیت راجیش کے سر پر حاوی ہو گیا اور اس دن بھی بابا بیچ میں نہ یا ہوتا تو راجیش کی جان چلی جاتی۔ ۔ بابا نے راجیش کو بچا دیا مگر ٹھاکر کو، سپیرے اور نیچ ذاتی کے کال بیلیا قبیلے کے لڑکے کی یہ جرات برداشت نہ ہوئی۔ ۔ ۔ جس قبیلے کو ان کے گاؤں میں مردے تک جلانے کی اجازت نہیں ، تاکہ یہ اچھوت اپنے مردے جلا کر ہوا، پانی سب دوشت(ناپاک ) نہ کر دیں ۔ انہیں حکم تھا کہ یہ اپنے مردے اپنی جھگیوں کے درمیان اپنے آنگن کے سامنے دفنایا کریں اور ہندو دھرم ماننے والا یہ قبیلہ ہمیشہ اپنے مردے دفناتا ہی آیا تھا اپنے آنگن میں اپنے دروازے کے سامنے۔ مگر ویروم کی یہ گستاخی نا قابل معافی ٹھہرائی گئی۔

نرملا گھبرا کر آٹھ بیٹھی۔ ۔ ۔ نیند میں بھی پانچ سال پرانی باتیں اس کا پیچھا نہیں چھوڑتیں ۔ ۔ ویروم کا غصے سے سرخ چہرہ اب بھی اس کی نظروں میں ویسے ہی گھومتا، ہر رات وہ اس عذاب سے گزرتی تھی دن مصروفیت میں نکل جاتا مگر رات اسے روندتی ہوئی گزرتی۔ ۔ جو پانچ سالوں پر محیط تھی۔ ۔ ۔ اسے لگتا ایک بار وہ اپنے قبیلے چلی جائے ماں بابا اور بھائی کی قبر پر تو شاید اسے قرار آ جائے۔ ۔ وہ راجیش کو اپنے ہاتھوں سے اس کے کئے کی سزا دے اور اپنے منگیتر کی بزدلی پر ایک بار اس کے منھ پر تھوک آئے۔ اس کا چہرہ آنسؤں سے بھیگ گیا۔ ۔ ۔ اس نے بیٹے کی طرف دیکھا۔ ۔ ۔ وہ اپنے مستقبل اور ماں کی دلی کیفیت سے بے خبر سو رہا تھا۔ اسی کی وجہ سے کرما جوگی بہانے بناتا ہے اسے گاؤں آنے سے روکتا ہے۔ ۔ اسے یاد آیا کیسے ٹھاکر نے موقع دیکھ کر ویروم کو اٹھوا لیا اور دو بار راجیش کی جان بچانے والا بابا ماں کو ساتھ لے کر ٹھاکر سے اپنے بیٹے کی زندگی کی بھک مانگنے پہنچا تو ٹھاکر نے اس کی جھولی میں بھی موت ڈال دیا خبرسن کر پاگلوں کی طرح روتی فریاد کرتی نرملا وہاں پہنچی تو ٹھاکر نے کال بیلیا قبیلے کی تاریخ میں اس رات کو قیامت کی رات بنا دیا۔ اس کے باپ اور بھائی کی لاش کو ڈیرے کے سامنے پھینک گئے۔ ۔ ۔ ماں غم سے نڈھال ہو گئی –اور نرملا کو انہوں نے اتنا ڈسا کہ اس کا جسم اس زہر سے نیلا پڑ گیا اور وہ اسے بھی کال بیلیوں کے ڈیرے پر مردوں کی سی حالت میں پھینک گئے – جب تک نرملا کے جسم میں سانس

لوٹی ماں نے زندگی سے منھ موڑ لیا تھا – اپنے ڈیرے میں وہ تنہا تھی اور سامنے تین قبریں ۔ ۔ ۔ اسے دنیا کی ہر چیز قبر کی طرح ساکت لگ رہی تھی۔ پھر اسے کرما نے سمجھا کر وہاں سے رخصت کر دیا کہ حالات ٹھیک ہوتے ہی وہ اسے بلا لے گا۔ ۔ ۔ مگر حالات ٹھیک نہ ہوئے، کرما خود آ کر اس سے مل جاتا اور ہر بار اس سے موٹی رقم وصول کرتا جلد شادی کا وعدہ کرتا اور اسے سمجھاتا کہ وہ گاؤں آنے کی غلطی نہ کرے ٹھاکر کو پتہ نہ چلے کہ تو نے اس کے بچے کو جنم دیا ہے ورنہ وہ پورے قبیلے کو ختم کر دے گا۔ اور وہ اس کی بات مانتی رہی۔ ۔ ۔ ناچتی رہی اور اس کے دل میں الاؤسلگتے رہے بالکل اس کے گاؤں کے اس ریت کے ٹیلے کی طرح جسمیں کوئلہ بنانے کے لئے لکڑیوں کے ڈھیرسجا کر چاروں طرف سے اسے ریت سے ڈھک دیا جاتا ہے اور اسمیں اندر ہی اندر آگ سلگائی جاتی تھی جس سے ہلکا ہلکا دھواں نکلتا رہتا تھا تین دن بعد آگ بجھ جاتی تو یہ ٹیلہ کرید کر اندر سے کوئلہ چن لیا جاتا۔ ۔ وہ بھی اسی ٹیلے کی طرح اندر ہی اندر پانچ سال سلگتی رہی ہے۔

صبح آٹھ کر نرملا جوگن نے اپنے پروگرام آرگنائزر سے چند دنوں کی چھٹی لی اور گاؤں جانے کا ارادہ کر لیا۔ اسے معلوم تھا کہ کرما اسے کبھی اجازت نہیں دے گا۔ مگر اب اسے پرواہ نہیں ۔ اسے یقین ہو چکا ہے، اس کے ساتھ برا ہونے سے کچھ بچ نہیں گیا ہے۔

نرملا جوگن گاؤں پہنچی تو اسے ایک اجنبیت کا احساس ہوا۔ ۔ ۔ ۔ سب تلاش معاش میں نکل چکے تھے۔

۔ وہ نظر اٹھا کر جدھر بھی دیکھتی اسے آسمان اور زمین کی بے پناہ وسعتوں میں سن سن کرتا سناٹا نظر آیا اسے اپنے اندر اور باہر خلا کا سامنا درپیش تھا۔ ۔ آسمان کی لا متناہی وسعتوں کے نیچے ریت کی بے پناہ مقدار پر سورج کی گرم کرنیں منعطف ہو کر انسانی سانسوں کو محدود تر کر رہی تھیں ، کسی چیز کو جنبش یا دم مارنے کا یارا نہ تھا اور ان لا تعداد اور غیر معمولی طور پر مہین کرنوں کے آپس میں خلط ملط ہوتے رہنے کے دوامی عمل کے علاوہ اور کوئی حرکت محسوس نہ ہوتی تھی۔ جہاں تک اس کی نگاہ جاتی دنیا محض ہوا سورج اور ریت بس ان تین چیزوں پر مشتمل دکھائی دیتی۔ وہ دھیمے قدموں سے چلتی ہوئی اپنے ڈیرے کے سامنے پہنچی جہاں تین قبریں موجود تھیں جن پر کچھ پتھر رکھ کر نمایاں کر دیا گیا تھا وہ بیٹے کی انگلی تھامے قبر کے پاس پہنچی۔ یہ وہ قبریں تھیں جنھیں گاؤں میں دو گز زمین کے حق سے محروم رکھا جاتا ہے۔ ان بے بس لمحوں کے درمیان کسی وقت اس کے دل میں نفرت اور بغاوت کی مٹی سے ایک آرزو پنپی اور اس نے اپنے ہاتھ سے ان قبروں کو چھو کر ایک وعدہ کیا۔ ۔ وہ دل ہی دل میں بولی بابا بھیا میں سپیرن سے وش کنیا بن کر آئی ہوں ۔ گزرتے ہوئے وقت کے ساتھ زہر کا پیالہ بھر بھر کر خود پیتی رہی، کنی پاؤ نے تو اس پورے قبیلے کو ایک زہر کا پیالہ بھر کر شراپ گرست کروا دیا تھا میں ہزاروں پیا لے پی کر خود کو اتنا زہریلا بنا چکی ہوں کہ اس دنیا میں سب کو شراپ دے سکوں ۔

شام ہوتے ہوتے قبیلے کے لوگوں میں اس کے آنے کی خبر پھیل گئی، کرما بہت خوف زدہ تھا۔

“کیوں آئی ہے تو، صبح ہوتے چلی جا ٹھاکر کو پتہ نہ چلے۔ ۔ ”

“نہیں جاؤں گی میں ، میں نے جرم نہیں کیا تو کیوں ڈروں ۔ ”

“وہ بچے کو نہیں چھوڑے گا، ہمیں بھی مروا دے گا۔ ”

تو نہ چھوڑے۔ ۔ یہ میری ذمہ داری نہیں ، میں اب کام نہیں کروں گی۔ سمجھا تو۔ ۔ ۔ ”

” باؤلی ہوئی ہے چھوری اپنے بچے کو کوئی مارتا ہے۔ ۔ کیسی ماں ہے تو؟”سمجھانے والوں میں سی کسی کی آواز آئی۔ ۔

یہ سن کر وہ تلخی سے ہنسی اور بولی “جب سوکھا پڑ جاتا ہے اور کہیں کوئی پھول پھل نہیں ملتے تو شہد کی مکھیاں اپنی ہی چھوٹی مکھیوں کو ڈنک مار مار کر ختم کر دیتی ہیں کہ اب انہیں کھلائیں گی کہاں سے۔ ۔ ۔ ۔ ”

“تو مر، مگر سن لے تیری وجہ سے ہم پر کوئی آفت آئی تو مجھ سے برا کوئی نہ ہو گا۔ کرما تلملاتا ہوا نکل گیا۔

نرملا ڈیرے سے نہ نکلی۔ یہ رات بھی اس پر بھاری تھی وہ خود کو نہ سویا ہوا محسوس کر رہی تھی نہ جاگتا ہوا، اس کے ڈیرے کی دیواریں ہوا سے ہل رہی تھیں ، چھت میں لگی پنیاں کھڑکھڑ کرتیں اور اپنی کمزوری اور کم مائے گی کا ماتم کرتی رہتیں ، وہ نہ تو ان آوازوں کو اندر آنے سے روک پانے پر قادر تھیں جو اس کے خلاف تھیں اور نہ ماضی میں اجنبی قدموں کو روکنے کی سکت ان میں تھی، جنہوں نے اس کا سب کچھ لوٹ لیا تھا۔ گرد و نواح کے تمام منظر پست واقع ہوئے تھے، زمین بالکل ساکت اور بے سایہ تھی، خلا کی لا متناہی وسعتوں میں اس کی حیثیت ایک پلیٹ فارم جیسی تھی۔ ۔ ۔ نرملا کو لگا کہ یہ بڑے سخت حالات ہیں اور بس وہ خود کو بہت مضبوط اور مستعد رکھنے کی کوشش کر رہی تھی۔ بہت رات تک جاگنے کی وجہ سے وہ دیر تک ڈیرے میں سوتی رہی، بیٹے کی اسے فکر نہ تھی آج تو اسے دیکھنے والے کافی تھے – وہ نہ جانے کس کے پاس تھا-

اگلی صبح ذرا دیر سے اٹھی تو رات کو پی ہوئی بوٹی کا اثر اتر چکا تھا۔ ۔ جسم کی تکان بھی زائل ہو چکی تھی -۔ ڈیرے پر سناٹا پسرا تھا اس تپتی دھوپ میں پورا ریگستان کھویا ہوا سا لگ رہا تھا، افق کا کہیں پتہ نہ تھا، لرزتی ہوئی زمین کے ہر حصے میں ہوا لہراتی ہوئی اوپر کو آٹھ رہی تھی گرد و غبار کے بگولے آٹھ آٹھ کر ادھر ادھر گھوم رہے تھے –دور دور تک زمین لرزتی نظر آ رہی تھی جس پر نگاہ ٹھہرنا محال تھا۔ بہت دور کچھ بونے بونے گرد سے اٹے درخت یا جھاڑیاں اکا دکا نظر آ رہی تھیں ۔ اس کی نظر ڈیرے کے سامنے تین قبروں پر ٹھہر گئی- وہ ڈیرے سے نکل کر قبر کے پاس آئی تب ہی کرما کا چھوٹا بھائی دوڑتا ہوا آیا۔ ۔ ۔ ٹھاکر کو پتہ چل گیا وہ ادھر ہی آ رہا ہے۔ ۔ ۔

“نرملا زہریلی ہنسی ہنسی۔ ۔ ۔ آنے دے آج اس سے بھی حساب چکتا ہو جائے۔ ۔ اور حقارت سے کرما کی طرف دیکھا جو خونی نگاہوں سے اسے دیکھ رہا تھا، “دانت پیس کر بولا “مجھے اسی بات کا ڈر تھا۔ ”

وہ حقارت سے زمین پر تھوک کر بولی۔ ۔ ” ڈرپوک”۔ ۔ ۔ مگر اس سے پہلے کہ وہ کچھ سمجھ پاتی۔ ۔ ۔

۔ ایک گولی چلی کرما کی بندوق سے دھواں نکل رہا تھا۔ اور نرملا آنکھوں میں حیرانی لئے سہ پہر کی گرم ریت پر اوندھے منہ ڈھے گئی- اس کا بیٹا کہیں سے نکل کر آ کھڑا ہوا تھا گاؤں اور اس کے حاشئے کی سرحد پر شاید اس کے قدم جرم کی دنیا کی طرف مڑنے کو تیار تھے۔ اور کرما مطمئن تھا کہ اس نے بر وقت سا رے قبیلے کو قبرستان بننے سے بچا لیا تھا۔

٭٭٭

 

 

 

 

خوشبو

 

 

جمنی نے کھانستے کھانستے اپنا سینہ دبا لیا – پھر کھانسی کے زور پر مشکل سے قابو پاتے ہوئے اس نے اپنی دھندلی نظروں کو ادھر ادھر گھماتے ہوئے بے حد نحیف آواز میں بیٹی کو پکارا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ للیا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ارے او للیا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ‘‘

للیا اس ایک کمرے کے کچّے مکان کے دروازے پر اپنے پیر پھیلائے یوں بیٹھی تھی جیسے کسی محل کی راج کماری ہو۔ اس کے سانولے تندرست چہرے پر بھولے پن کے ساتھ ساتھ ایک قِسم کا غرور بھی جھلکتا تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ماں کی پکار پر اس نے ناگواری سے اندر ایک جھلنگی چارپائی پر سمٹی ہوئی ماں کے کمزور و جود کی طرف دیکھا اور پھر اسی لاپرواہی سے چپ چاپ بیٹھی رہی۔

جمنی کو ایک بار پھر زور کی کھانسی اٹھی اور وہ کھانستے کھانستے رکی تو اس کی سانسیں تیز چل رہی تھیں ۔ ۔ ۔ اس نے اپنی آنکھوں میں آئے ہوئے پانی کو پوچھتے ہوئے ایک بار پھر بیٹی کو پکارا تو وہ پیر پٹکتی ہوئی اندر آئی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور قدرے جھنجھلائے ہوئے لہجے میں کہا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ سمجھ گئی۔ ۔ ۔ سمجھ گئی۔ تیرے پیٹ میں پھر آگ لگی ہے۔ اس لئے میں برتن دھونے جاؤں اور روٹی لا کر تیرے پیٹ کا دوزخ بھروں ۔ ‘‘

’’ ارے سن تو۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ذرا پانی دے دے۔ اپنے آپ ہی تو سب سمجھ لیتی ہے اپنے لئے نہیں ۔ ۔ ۔ اگر جانے کو کہتی ہوں تو تیرے لئے، نہیں گئی تو کھائے گی کیا۔ ‘‘ جمنی ذرا سانس لینے کے لئے رُکی، پھر بولی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کھانسی سے گلا سوکھ گیا ہے۔ ذرا لوٹے میں پانی دے اور جا کام پر۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ نہیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تو۔ ۔ ۔ اوشا بہن جی ناراض ہوں گی۔ روز نیا کام کہاں سے ڈھونڈھے گی۔ پگلی۔ ‘‘

’’۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ میں آج کام پر نہیں جاؤں گی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ للیا نے سرکشی سے کہاں اور لوٹا اٹھا کر جھپاک سے کمرے سے باہر نکل گئی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ‘‘

جمنی کو للیا کا یہ غصّہ بھی پیارا لگا اور اس کا دل ترس سے بھر گیا۔ سولہ سترہ کی عمر ہی کیا ہوتی ہے۔ کھیلنے اور کھانے کے دن۔ مگر اس کا باپ تو دو وقت کی روٹی کا انتظام کرنے کے قابل بھی نہیں ۔ ۔ ۔ جمنی نے ایک ٹھنڈی سانس لی اور اس کی آنکھیں ڈبڈبا آئیں ۔ جب وہ خود اس عمر کی تھی کتنی بے فکر، خوش اور مطمئن تھی اس کی زندگی۔ دیکھنے میں جیسی للیا ہے ویسی ہی وہ بھی تھی۱۶۔ ۱۷ برس کی عمر میں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس نے اپنے سوکھے سوکھے ہاتھ پیروں کو دیکھا۔ ان پچیس سالوں میں اس کا جسم غریبی، جد و جہد اور بھوک کی تپش میں پگھل کر ختم ہو چکا تھا۔ شادی کے بعد اس نے کچھ دن بھی تو سکھ کے نہیں دیکھے جبکہ شادی کے پہلے انیس برس ایسے گذارے تھے کہ غم اور فکر جیسے الفاظ سے بھی وہ ناآشنا تھی۔

للیا پانی لے کر آئی تو جمنی کے خیالوں کا تسلسل ٹوٹا، پانی لیتے ہوئے اس نے ممتا بھری نظروں سے للیا کو دیکھا۔ ۔ ۔ ‘‘ بیٹی۔ ۔ ۔ جا ضد مت کر آج نہیں گئی تو سارا دن بھوکی رہے گی۔ ، ،

‘‘ تجھے بھوک نہیں ؟ ’’۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ للیا نے سوجے ہوئے چہرے کے ساتھ پوچھا ’’نہیں رے مجھے اب بھوک نہیں لگتی۔ ‘‘ وہ تو زندہ ہوں اس لئے ایک روٹی حلق سے اتارنی پڑتی ہے ’’ جمنی نے ایک ٹھنڈی سانس لے کر کہا۔

‘‘ ہاں تجھے بھوک کیوں لگے گی۔ تجھے پوریاں ملیں تبھی کھائے گی۔ ’’ للیا کی بات سن کر جمنی چپ رہی تو للیا نے کہا۔ ۔ ۔ ‘‘ میں جا رہی ہوں ۔ اب سانجھ کو ہی لوٹوں گی تیری روٹی لے کر۔ ۔ ۔ ’’

‘‘ اری سن۔ ۔ ۔ جاتی ہوئی للیا کو اس نے جلدی سے پکارا۔ ۔ ۔ ‘‘ تو بہن جی سے کہنا تھوڑا آٹا ہی دے دیں ۔ روٹی مت لینا۔ گھر میں سانجھ کو چولھا جلتا ہے تو بہت اچھا لگتا ہے۔ ‘‘

ماں کی بات سن کر للیا کا پارہ پھر ساتویں آسمان پر چڑھ گیا۔ ۔ ۔ ‘‘ بس تجھے ہری ہری سوجھنے لگی۔ ۔ ۔ ایک تو میں سارا دن ادھر مر کر آؤں ۔ پھر یہاں تیرے لئے گرم روٹی پکاؤں دم نکلنے کو ہے اور شوقینی میں کمی نہیں آئی۔ ‘‘ للیا بڑبڑاتی ہوئی کمرے سے باہر نکل گئی۔

تو جمنی اپنے آپ سے ہی بولی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تو نہیں سمجھے گی رے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ مجھے روٹی کی بھوک نہیں ۔ مجھے تو سانجھ کو پکتی ہوئی روٹی کی خوشبو چاہئے۔ میرا پیٹ اسی سے بھر جائے گا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ روٹی کی خوشبو تو کیا جانے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ جمنی ڈوبنے لگی اپنے ماضی میں جہاں مٹھاس ہی مٹھاس تھی۔ ۔ ۔ یادوں کی مٹھاس یادوں کی کسک، پر نہ جانے یہ کون سا درد ہے جو اسے اچھا لگتا ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ آنسو کی لڑی اس کی آنکھوں سے ڈھلک کر اس کی میلی کچیلی ساڑی کے پلو میں جذب ہو گئی۔ اور آنکھوں کے سامنے اسے اپنا بچپن اور لڑکپن ڈولتا ہوا محسوس ہوا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کھانسی کے ایک اور زور دار دورے کے بعد وہ بالکل نڈھال ہو گئی۔ مگر یا دوں نے پیچھا نہ چھوڑا۔ ۔ ۔

اسےیاد آیا کہ جہاں اس نے ہوش سنبھالا تھا۔ ۔ ۔ وہ ایک بہت ہی کھاتا پیتا گھرانا تھا۔ ۔ ۔ جہاں اس کی ماں کام کرتی تھی اور اس بڑے سے گھر کے شاندار باورچی خانے کے پاس اس کی ماں کا کمرہ تھا۔ ۔ ۔ دونوں ماں بیٹی اسی کمرے میں رہتی تھیں ۔ اس گھر کا ہر کام اور خاص کر باورچی خانہ اس کی ماں کے سپرد تھا۔ ۔ ۔ وہ خود تو وہاں کے بچوں کے ساتھ ہر وقت کھیلتی رہتی تھی۔ اس گھر کے ہر فرد کے ساتھ رہ کر اس نے ہر ہنر اور پڑھنا لکھنا سیکھ لیا تھا حالانکہ وہ یہاں کے دوسرے بچوں کی طرح اسکول نہیں جاتی تھی اور ان کے جوٹھے کھانے اور اتارے کپڑے بھی اس کے حصّہ میں آتے تھے مگر اسے یہ سب کچھ برا نہیں لگتا تھا کیونکہ وہ اپنی حیثیت سے واقف تھی اور ساتھ ہی ان لوگوں کے خلوص اور محبت سے شاکی بھی نہیں تھی۔ اس نے اسی گھر میں ہوش سنبھالا اور یہیں اپنے شوق اور ان لوگوں کی کوششوں سے بہت کچھ سیکھ گئی۔ اس طرح گذرتے ہوئے وقت نے اس کے لاشعور میں اس ماحول کو اس طرح اتار دیا تھا کہ اسے کسی آہٹ کا گمان تک نہ ہوا۔ ۔ ۔ وہ بہت خوش اور مطمئن زندگی وہاں گذار رہی تھی۔ اسے اچھی طرح یاد تھا کہ بچپن سے ہی شام کو پکنے والی روٹی کی خوشبو اسے اتنی اچھی لگتی تھی وہ اس وقت چاہے کتنا بھی دلچسپ کھیل کھیل رہی ہو۔ ۔ ۔ روٹی کی اس مہک سے کھنچی چلی آتی اور للچائی ہوئی نظروں سے ماں کو دیکھتی جب کہ ماں کو اس کی اس عادت سے چڑ تھی اس لئے جمنی کو دیکھتے ہی وہ جھلا جاتی۔

بس دو چار روٹیاں بھی نکلنے نہیں دیتی اور موئی بلّی کی طرح سونگھتی ہوئی پہنچ جاتی ہے، اور بھی تو بچے ہیں اس گھر میں مگر کسی کو تیری طرح بھوک نہیں لگتی۔ اپنی اس جھنجھلاہٹ کے ساتھ وہ ایک روٹی اس کے ہاتھ میں اس طرح پکڑا دیتی جیسے کہ رہی ہو۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ جا مر۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ میرا پیچھا چھوڑ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ‘‘

جمنی نہ جانے کب سے اسی طرح ماں کی جھڑکیوں کے ساتھ شام میں پکنے والی روٹی کھاتی آ رہی تھی۔ ۔ ۔ اور اس وقت کی یہ ایک روٹی اسے دنیا کی ہر نعمت سے بڑھ کر اچھی لگتی مگر ایک وقت ایسا آیا کہ اسے اس طرح روٹی لے کر کھانے میں شرم آنے لگی۔ لیکن شام میں پکنے والی روٹی کی خوشبو سے اس کا وہی لگاؤ رہا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کی کشش اس کے لئے اب بھی اسی طرح باقی تھی۔ ۔ ۔ وہ کہیں بھی رہتی، کچھ بھی کرتی رہتی۔ ۔ ۔ اس وقت کی یہ خوشبو وہ اپنی سانسوں میں بھر لیتی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ روح میں اتار لیتی۔

اسے اس تلخ حقیقت کا احساس تک نہیں ہوا کہ وقت کتنی تیزی سے گذر گیا اور جب وقت کے گھومتے ہوئے پہئے کے نیچے اس کا اپنا وجود آیا تو وہ کرچی کرچی ہو کر بکھر گئی۔ تب اسے اس حقیقت کا احساس ہوا کہ وقت کے ایک ہی سردادر ظالم جھونکے نے گھر کے ہر فرد کو سوکھے پتوں کیطرح بکھیر دیا ہے۔ نہ جانے کب چپکے سے اس گھر کی بزرگ ہستی دادی امّاں نے اجل کی گود میں پناہ لے لی۔ ماں وقت سے پہلے کچھ ہی دن کی بیماری میں چل بسی، اور روحی آپا پیا کے دیس سدھاریں ۔ پھر گھر میں اس کی شادی کی بات ہونے لگی۔ ۔ اب وہ خود کو بہت اکیلا محسوس کرتی کیونکہ اس گھر میں جس جس کے بے حد قریب تھی وہ سب جا چکے تھے اب اسے سب سے زیادہ جس سے لگاؤ تھا وہ دادا ابّا تھے لیکن ان کے رعب اور دبدبے کے آگے ان کے سامنے نظر اٹھانے کی بھی ہمت اس میں نہیں تھی بس دور دور سے ہی ان کا ہر خیال رکھتی۔ ان کے سفید ریشم سے بالوں والا سران کے سفید کمزور پیرا سے اتنے بلند اتنے عظیم لگتے کہ اس کا دل چاہتا کہ وہ ان کے قدموں میں اپنا چہرہ چھپا کر خوب روئے اور کہے دادا ابّا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ مجھے اس گھر سے الگ مت کیجئے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ مجھے یہیں ایک کونے میں پڑا رہنے دیجئے۔ میں ماں کی طرح پورا گھر سنبھال لوں گی۔ لیکن میری شادی مت کیجئے۔ وہ جب جب سنتی کہ اس کے لئے کوئی رکشہ والا، کوئی مزدور یا کوئی درزی دیکھا جا رہا ہے تو وہ لرز جاتی۔ ۔ ۔ وہ جسے پچپن سے اس ستھرے ماحول کو اپنا سمجھا ہے وہ کیسے ایک جاہل شخص کی اجڈ باتوں ، گالیوں اور اوچھی حرکتوں کے ساتھ زندگی گذارسکے گی۔ وہ جانتی تھی کہ وہ خود ایک کم ذات، غریب اور بے سہارا لڑکی ہے۔ ایک سبزی بیچنے والی کی بیٹی جس نے بعد میں اپنا پیشہ چھوڑ کر اس گھر میں پناہ لے لی تھی۔ اسی لئے کبھی اس نے سنہرے سپنے نہیں سجائے تھے۔ پھر بھی وہ جانتی تھی کہ اس باغ کا پھول نہ ہونے کے باوجود اگر اسے یہاں سے اکھاڑ کر کہیں اور لگایا گیا تو وہ پھر سے کھل نہیں پائے گی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ مرجھا جائے گی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کیونکہ وہ یہاں کی آب و ہوا کی عادی ہو چکی تھی۔ اسے پہلی بار یہ تکلف دہ احساس ہوا کہ وہ اس گھر کا حصہ کبھی تھی ہی نہیں بلکہ صرف ایک نوکرانی تھی، مگر وہ اپنی قسمت کی لکیر نہیں بدل سکتی تھی۔ انیسواں سال پورا ہوتے ہی اس کی شادی ایک ٹیکسی ڈرائیور کے ساتھ کر دی گئی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ گھر والے یہ سوچ کر مطمئن تھے کہ روز پچاس روپے کمانے والے شخص کے ساتھ جمنی خوش رہے گی۔ ۔ ۔ جمنی نے بھی نکاح کے بول کے ساتھ خود کو اس ڈرائیور کے ساتھ بندھا پایا کہ کبھی اس بندھن سے بھاگنے کی کوشش نہیں کی۔ ۔ ۔ خود کو اس ماحول میں ڈھالنے کی پوری پوری کوشش کی اور کسی طرح غربت اور تنگدستی میں شب و روز گذرتے رہے۔ شادی کے ساتھ آٹھ سال بعد بیٹی ہوئی مگر اس وقت تک حالات اور بھی بد سے بدتر ہو چکے تھے۔ اس کے شوہر کے پینے کی لت بڑھ گئی تھی اور کام کرنے کی عادت کم ہو گئی اس لئے جمنی ہی ادھر ادھر کام کر کے گذارے کا انتظام کرتی۔ ۔ ۔ مگر اسے احساس تھا کہ وہ بیٹی کی اچھی پرورش تو کیا کرتی اسے پورا کھانا کپڑا بھی نہیں دے پاتی تھی اسے اپنا بچپن یاد آتا۔ ۔ ۔ اور للیا کو دیکھتی تو گھٹن اور دکھ کے احساس سے بھر جاتی دکھ کا یہ احساس اسے اندر ہی اندر دیمک کی طرح چاٹ گیا۔ ۔ ۔ اور بیالیس برس کی عمر میں ہی وہ معذور ہو کر چار پائی پر لیٹ گئی۔ اب اس کی ذمہ داریاں دو سال سے للیا ڈھو رہی تھی۔ ۔ ۔ جب سے اس نے کھاٹ پکڑی تھی شاید ہی کبھی گھر میں چولہا جلتا ہو۔

جمنی نے چونک کر ادھر اُدھر دیکھا تو اسے لگا کہ ماضی میں ڈوبتے ابھرتے اس کا پورا دن نکل گیا تھا اور شام اتر آئی تھی۔ اس نے اپنے سینے میں تیز جلن محسوس کی۔ ۔ ۔ بڑی مشکل سے ہاتھ بڑھا کر لوٹا اٹھایا اور پانی کا گھونٹ لیا تو لوٹا اس کے ہاتھ سے پھسل گیا اور وہ سر چار پائی کی پٹی پر ڈال کر ہانپنے لگی۔ جیسے ایک لمبا سفر کرتے کرتے اب تھک گئی تھی، ہار گئی تھی۔ تبھی للیا کو ٹھری میں داخل ہوئی۔ ۔ ۔ اس کے ہاتھ میں دو چار لکڑیاں اور ایک پوٹلی تھی۔ اس وقت اس کے چہرے پر خوشی کی دمک تھی۔

ماں دیکھ میں تیرے لئے آٹا لے آئی۔ تجھے بھوک لگی ہو گی نا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ؟ ابھی گرم گرم روٹی پکاتی ہوں ۔ ’’ للیا نے چہکتے ہوئے کہا تو جمنی نے اپنی دھندلی آنکھیں کھولیں ۔ ۔ ۔

کیا بات ہے رے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ آج بڑی خوش ہے۔ ‘‘

’’ ماں ! اوشا دیدی نے آج مجھے اپنا ایک سوٹ اور پانچ روپے دئے ہیں اور دیکھ تیرے لئے آٹا بھی۔ ۔ ۔ ‘‘

اس نے جلدی جلدی آٹا گوندھتے ہوئے کہا تو جمنی کے نحیف چہرے پر مسکراہٹ کی پرچھائیں آئی۔

للیا روٹی پکا رہی تھی اور جمنی کی نظریں پکتی ہوئی روٹی سے اٹھتی ہوئی بھاپ پر تھیں ۔ جو ماحول میں رچ بس کر اس کے روح میں اتر تی جا رہی تھی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ سیراب کرتی جا رہی تھی۔ للیا دو روٹی تھالی میں ڈال کر ماں کے قریب آئی اور اسے اٹھانے کے لئے سہارا دینے کی کوشش کی تو جمنی نے ہاتھ کے اشارے سے اسے منع کیا اور اپنی کمزور آواز میں کہا۔ ۔ ۔ یہ تو کھا لے بیٹی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ میرا پیٹ تو اس خوشبو سے ہی بھر گیا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ‘‘

للیا نے کچھ نہ سمجھتے ہوئے ماں کی طرف دیکھا۔ ۔ ۔ مگر اس وقت جمنی کے چہرے پر ایک ایسی تسلی تھی جیسے اس کے نحیف وجود میں روٹی کی خوشبو کی پیاس باقی نہ ہو جیسے اس کی زرد آنکھوں سے اس کے بچپن، لڑکپن اور جوانی کی تسکین جھانک رہی ہو-

٭٭٭

 

 

 

 

 

ادراک

 

وہ دریچے سے لگی خاموش کھڑی باہر ہوتی بارش کو دیکھ رہی ہے۔ ۔ ۔ اور بارش کی بوندوں نے موسم کو مزید سرد کر دیا ہے مگر ملیحہ کو اندازہ ہے کہ باہر کے مو سم سے زیادہ سرد اس کے جذبات ہو چکے ہیں ، اس نے شال کو اپنے گرد اچھی طرح لپیٹ لیا اور سرد ہواؤں کی زد میں کھڑی بوندوں کا تماشہ دیکھتی رہی۔ بارش کی ہر بوند گڑھے میں جمع پانی میں دائرہ بناتی جاتی ہے اور وہ دائرہ اس میں گم ہوتا جاتا ہے –وقت کی ندی میں بھی لمحوں کی برسات ہو رہی ہے اور لمحوں کے دائرے گم ہوتے جا رہے ہیں مگر اب وہ یہ جان گئی ہے کہ کچھ لمحے کبھی گم نہیں ہوتے ان کا وجود باقی رہتا ہے۔ ۔ ۔ ۔ ہمیشہ۔ ۔ کہیں نہ کہیں ۔ ۔ ۔ کسی تاریخ میں یا کسی دل میں یا کسی ذہن میں ۔ ۔ ۔ اور وہ دائرہ پھیلتا جاتا ہے اور پھیلتے پھیلتے ساری دنیا پر محیط ہو جاتا ہے اس لئے کہ اس لمحے میں بڑی قوت ہوتی ہے۔

اس نے بھی اپنے اندر کے برف کے صحرا کو پار کرتے ہوئے اپنے لئے ڈھیروں قوت جمع کر لی ہے، مگر اس کے اندر آنسو منجمد ہو چکے ہیں ، کیونکہ اس کے اندر خوشنما یادوں کی کوئی حرارت باقی نہیں – پر یہ تو اسے آج پتہ چلا کہ اب اس کے دل میں عرفان کے لئے نفرت، غصہ یا بدلہ جیسی کوئی چنگاری بھی باقی نہ رہ گئی تھی، عمر کی اس طویل مسافت کے بعد آج اچانک جب وہ سامنے آیا تو اس کے لئے سرد مہری کے علاوہ اس کے پاس کچھ بھی نہ تھا – بس ایک سوال تھا کہ اب اسے پلٹ کر دیکھنے کی کیا ضرورت آ پڑی مگر اسے بیٹوں کے درمیان چھوڑ کر وہ اپنے کمرے میں آ گئی کوئی چیخ پکار یا سوال جواب کئے بغیر، خاموش تو وہ اس دن بھی رہ گئی تھی جب ایک دن عرفان نے کہا اسے کسی اور سے محبت ہو گئی ہے، وہ ششدر کھڑی رہ گئی تھی اور اس پر سے ایک لمحے میں صدیاں بیت گئی تھیں ، درد اور بے یقینی، مایوسی اور امید کی کیفیت میں اس پر وقت آ کر ٹھہر سا گیا، کہیں ایسا بھی ہوتا ہے ؟ محبت کی تقدیس کو ایسے بھی پامال کیا جا سکتا ہے کہ کسی کی بے لوث محبت کو یوں ٹھکرا دیا جایے، کسی اجنبی ملک میں ا ایک اور عورت کے لئے۔ وہ عرفان کے ساتھ اپنے ملک، اپنے ہر رشتے سے دور اس کی والہانہ محبت کے ساتھ ہی تو آئی تھی، اگر اسے کسی اور سی محبت ہو گئی ہے تو پھر وہ کیا تھا۔ ۔ وہ دونوں کتنے خوش تھے، ان کے تین پھول سے بچے تھے۔ ۔ ۔ نہیں نہیں عرفان ایسا نہیں کر سکتا تھا اس سے ضرور کوئی لمحاتی غلطی سرزد ہو گئی ہے۔ مگر عرفان چلا گیا اور وہ بہت دنوں تک خود کو دھوکا دیتی رہی کہ وہ واپس آ جائے گا۔ ۔ ۔ اس کے لئے نہیں تو اپنے بچوں کے لئے۔ ۔ وہ جانتا تو تھا کہ یوروپ آنے کی ضد ملیحہ کی نہیں اس کی اپنی تھی، وہ یہ بھی جانتا تھا کہ ملیحہ کبھی اپنے ملک میں بھی تنہا نہیں نکلی اور اس کے پاس گریجوایشن کی ایک ڈگری کے علاوہ کچھ نہیں ۔ وہ یہ بھی جانتا تھا کہ وہ عرفان کے بغیر ایک پل ایک لمحہ نہیں رہ سکتی تھی، مگر وہ نہ لوٹا۔ ۔ ۔ اتنے سال کی اطاعت کا حساب برابر کرنے کا نہ جانے یہ کون سا طریقہ تھا، اس نے بس ملیحہ پر یہ احسان کیا کہ پس انداز کی ہوئی رقم اس کے پاس چھوڑ دی کہ وہ اپنے بچوں کے ساتھ اپنے ملک لوٹ جائے۔ ۔ ۔ اور بے یقینی اور مایوسی کی ایسی ہی کیفیت میں ملیحہ کو لگتا کہ وقت اس کے سینے میں اپنے خونی پنجے گاڑے ٹھہر گیا ہے، اور امید و مایوسی، بے یقینی اور انتظار میں ٹھہرے ہوئے وہ لمحے اس پر سے صدیاں بن کر گزر گئے۔ ٹھہرے ہوئیے ان لمحوں میں وہ انتظار کرتی رہی… زندگی جلد ہی پہلے کی طرح ہموار گزرے گی، جس میں چھوٹے چھوٹے ملول کرنے والے جھگڑے ہوں گے، ناراضگی اور تیکھا پن ہو گا، بچوں کی فکریں ہوں گی اور ان سب چیزوں کے ساتھ چہرے پر نقوش چھوڑتے لمحے ہوں گے۔ ۔ ۔ ایک ساتھ بچوں کو بڑا کرتے ہوئے کیسا لگتا ہو گا، کیسا لگتا ہو گا عاشق اور معشوق کا دھیرے دھیرے ضعیف ہونا۔ ۔ ۔ کمزور ہو کر اور مضبوطی سے ایک دوسرے کا ہاتھ تھام کر آگے بڑھنا۔ ۔ ۔ زندگی کی ڈگر پر آگے بڑھتے ہوئے دھندلی آنکھوں سے پیچھے مڑ کر ایک ساتھ گزارے ہوئے حسین پلوں کو دیکھنا۔ ۔ ؟ مگر اس کے ساتھ ایسا کچھ نہ ہوا، دل پر گزرے خزاں کے مو سم نے زندگی کے سارے رنگ اڑا دئے تھے اور زندگی کی چلچلاتی دھوپ میں وہ تن و تنہا کھڑی تھی، اس کے سر پر ذمہ داریوں کی ننگی تلوار جھول رہی تھی –اس کی ذرا سی لغزش، اس کی کم ہمتی اس کے ساتھ تین اور زندگیوں کو ہلاک کرنے کا موجب بن سکتی تھیں ۔ ۔ مگر عرفان کی بے وفائی نے اس کا قتل نہیں کیا تھا اس کی نسوں سے جینے کی خواہش نچوڑ لی تھی اور وہ اندر سے اتنی کھوکھلی ہو چکی تھی کہ اسے کوئی راستہ دکھائی نہ دیتا۔ ان دنوں وہ کیسے کیسے اپنا احتساب کیا کرتی۔ ۔ ۔ اسے لگتا کہ میاں بیوی کے رشتے کا توازن برقرار رکھنے کے لئے اس نے ہمیشہ اپنی ہی شخصیت کی تراش خراش کی، اس عورت کو اوڑھ لیا خود پر جیسی عرفان کو چاہئے تھی اور خود سے اس ملیحہ کو ہی دور کر دیا جو اس کی شخصیت کی پہچان تھی،یہاں تک کہ اس کے پیچھے پیچھے اپنوں سے کالے کوسوں دور چلی آئی۔ ۔ کہ اس برے وقت میں کسی کے گلے لگ کر رو بھی نہ سکی، کسی کی گود میں سر رکھ کر سسک بھی نہ سکی۔ ۔ اس نے کہاں کبھی سوچا تھا کہ وہ دو جدا جدا افراد تھے۔ اور اس کی خوشی کے لئے خود کو تراش تراش کر اتنا ہلکا کر دیا کہ وہ خود وجود سے عدم میں چلی گئی، اور ہوتے ہوئے بھی نہ رہی۔ دو جان ایک قالب ہونے کے لئے اس نے کب اپنے وجود کو ہی مٹا ڈالا اسے پتہ بھی نہ چلا۔ ۔ ۔ اور اچانک عرفان نے اسے احساس کرایا کہ وہ ایک منفرد وجود ہے اور اسے اپنے قلب سے جھاڑ کر الگ کر دیا۔ ۔ ۔ تب اسے احساس ہوا کہ وہ اپنی شخصیت اور شناخت کھو چکی ہے۔ اس میں مدغم ہو کر خود کو کھوکھلا اور اسے مضبوط کر چکی ہے، توازن برقرار رکھنے کے لئے وہ ہمیشہ خود کو ہی چھیلتی رہ گئی اور وہ رابعہ سے مسز عرفان بن کر رہ گئی۔ ۔ مگر پھر مسزعرفان کے چولے کو اتار پھینکنے کے لئے جانے کیسے اس نے اپنے وجود کے سارے بکھرے ٹکڑوں کو سمیٹ کر خود کو یکجا کیا تھا۔ ۔ ۔ پھر آئینے کے سامنے کھڑی ہوئی تو اسے لگا نہ جانے کب سے، مہینوں اور سال سے نہیں بلکہ شاید صدیوں سے اس نے آئینہ نہیں دیکھا تھا۔ ۔ ۔ اس کی آنکھوں کے گرد سیاہ حلقے اس کے اپنے تو نہیں تھے۔ ۔ ۔ سیاہ بالوں کی تہوں سے جھانکتی سفیدیکا ہلکا ہلکا اسٹروک وقت کے فنکار نے نہ جانے کب اس کے بالوں پر لگایا تھا۔ وہ اتنی بے خبر کیسے تھی کہ اسے احساس ہی نہ ہوا کہ اس کے سراپا کو کوئی یوں تبدیل کر رہا ہے، اور یہ اداس اترا ہوا چہرہ بھی اس کے پاس کوئی تھا؟۔ ۔ جو اس نے پہن لیا تھا۔ ۔ ۔ اسے تو یاد نہیں پڑتا کہ زندگی میں ایسا کوئی چہرہ خرید کر اس نے کبھی اپنے لئے رکھا ہو۔ ۔ ۔ مگر یہ تو تھا موجود۔ ۔ ۔ اپنی ساری کی ساری تلخ سچائیوں کے ساتھ۔ ۔ ۔ اس کے بے حس وجود پر جیسے کسی نے بے دلی سے اٹکا دیا ہو اور اسی چہرے کی طرف چھ نئی نکور پر امید نگاہیں اٹھتی تھیں ۔ ۔ ۔ منجھدار میں پھنسی ناؤ کو پار لگانے کے لیے اور وہ ان نگاہوں کی تاب نہ لا کر اپنے ہاتھوں اور پیروں کو دیکھتی انہیں اٹھا کر مدد کے لیے ان معصوم ہاتھوں کو تھام لینا چاہتی مضبوطی کے ساتھ کبھی نہ ڈوبنے دینے کا وعدہ لے کر۔ ۔ ۔ ۔ مگر یہ کیا اس کے ہاتھوں اور پیروں کی تو سکت ہی ختم ہو چکی تھی۔ ۔ وہ انہیں اٹھانا چاہتی پر اٹھانے کی طاقت نہ ملتی۔ ۔ ۔ عرفان اب اس کے لئے دفن ہو چکا تھا، مگر لگتا وہ دفن ہو چکی ہے، اگر پوری نہیں تو اس کا آدھ ادھورا وجود عرفان کے ساتھ ضرور دفن ہو چکا تھا۔ ۔ ۔ اسی لیے اسکے اندر کوئی حوصلہ، خواہش اور طاقت کی ہلکی سی رمق بھی باقی نہ تھی۔ مگر کوئی سمجھتا کیوں نہیں ۔ ۔ ۔ سب اس کی طرف کیوں امید بھری نظر سے دیکھتے ہیں ۔ سب کیوں سمجھتے ہیں کہ اب وہ ان بچوں کو زندگی عطا کرے گی۔ کیوں اس کے اندر جب اتنی ساری چیزیں ایک ساتھ مر چکی تھیں تو سننے اور سمجھنے کی صلاحیت بھی کیوں نہیں مر گئی۔ اسے لگتا وہ پہلے کی طرح کبھی کھڑی نہیں ہو پائے گی۔ وطن واپس لوٹنے کا خیال اسے اور کمزور کر دیتا،یہاں یہ تین معصوم چہرے اسے مرنے نہیں دیتے تھے، وہاں دو ضعیف چہرے کی مایوسی وہ کیسے سہ پائے گی –

وہ اپنی اس شکست خوردگی کے ساتھ وطن لوٹنا نہیں چاہتی تھی مگر سمجھ نہیں پا رہی تھی کہ یہ کون سی دنیا ہے۔ ۔ ۔ ۔ یہ وہ دنیا تو نہ تھی جسے آج تک اس نے عرفان کے ساتھ دیکھا سمجھا اور برتا تھا، یہ وہ دنیا بھی نہ تھی جو اس کے بچپن اور لڑکپن میں پھول بن کر اس کی راہوں میں بچھا تھا۔ ۔ ۔ ۔ یہ تو ایک الگ اجنبی اور نا مہربان دنیا تھی۔ ۔ ۔ جس کی اسے عادت نہ تھی۔ ۔ ۔ اسے لگتا وہ وقت جو گزر گیا وہ صرف ایک خواب تھا ؟۔ ۔ ۔ آنکھ کھلی اور تلخ حقیقت کی دھوپ میں اس کا پورا وجود، اس کی روح اور اس کے تین معصوم بچے جھلستے نظر آیے۔ ۔ اس کا دل چاہتا کوئی اسے زور سے جھنجھوڑ کر کہے کہ اب جاگ جاؤ اور یہ سخت جھلسا نے والے لمحات ایک بھیانک خواب ثابت ہوں ۔ ۔ ۔ مگر افسوس ایسا کچھ نہ ہوا۔ ۔ ۔ وہ سچ مچ حقیقت کی بے حد سخت اور گرم زمین پر تن و تنہا کھڑی تھی اور اسے یقیں نہ آتا کہ کبھی اس کے ہاتھ اپنے بچوں کے ہاتھوں کو مضبوطی عطا نہیں کر پائیں گے –وہ تنہا کیسے بچوں کی تعلیم تربیت کرے گی۔ ۔ اسے یقین نہ آتا کہ اس کا اپنا عرفان اتنا سنگ دل اور خود غرض تھا۔ ۔ عرفان کی محبت نے اسے اتنا کمزور، بے بس اور غیر ذمہ دار بنا دیا تھا۔ ۔ ۔ کیا باہر کی بے رحم دنیا سے سابقہ نہ پڑنا انسان کو اتنا کھوکھلا کر جاتا ہے، کیا محبت اور توجہ انسان کو ناکارہ بناتے ہیں ۔ ۔ پھر آج تک وہ جو سنتی سمجھتی اور دیکھتی آئی تھی۔ ؟۔ ۔ محبت کے لئے جو یقین رکھتی تھی وہ سب ایک حادثے میں ایسے بکھر گئے جسے ان کا وجود ہی نہ تھا اور وہ ایک زخمی پرندے کی طرح زندگی کی برہنہ شاخ پر بیٹھی تھی۔ ۔ ۔ اپنی پرواز کھو کر جینا اتنا المناک تھا کہ اس کے دل میں موت کی خواہش شدت سے جاگتی۔

وقت کی ندی میں لمحوں کی برسات پھر بھی نہ رکی اور زمانہ گزرتا ہی رہا –وہ سہمی ہوئی اپنی آغوش میں اپنے بچوں کو سمیٹے بیٹھی رہی۔ ۔ وقت اور موسم کے ساتھ لوگوں کے رویے تبدیل ہونے لگے پس انداز کی ہوئی رقم چھلاوے کی طرح ہاتھ سے پھسل گئی اور بھنور میں پھنسی ناؤ ڈوبنے لگی۔ سہارے کے لئے کس کی طرف دیکھتی۔ زندہ رہنے کی ننگی ضرورتیں بڑی ظالم ہوتی ہیں وہ غم اور خوشی کے ہر کہرے کو اپنی حدت سے پگھلا کر غائب کر دیتی ہیں ۔ ان ضرورتوں نے اس کے ارد گرد کے کہرے کو بھی کاٹنا شروع کر دیا اور اس کہرے کے پرے اسے تین بھیگے ہوئے بے حد ملائم چہرے نظر آئے — معصوم اور ملائم، اس نے ان چہروں کے ارد گرد اندھے بہرے اور گونگے۔ ۔ آسمان اور زمین کو دیکھا۔ ۔ ۔ اور ان بھیگے اور ملائم چہرے کی سا ری بارشیں اس کے مردہ دل پر برس گئیں ۔ اسے پہلی بار احساس ہوا کہ اپنے دکھ سے زیادہ بڑا ماں کا دکھ ہوتا ہے جو اسے مرنے کی اجازت بھی نہیں دیتا۔ ۔ اسی جینا تھا اور اپنے بچوں کے لئے جینا تھا، اس نے اپنے وجود کے سارے ٹکڑوں کو پھر ایک بار سنبھالا اور اس میں اپنا مردہ دل ڈال کر خود کو کھڑا کیا اور الماری کھول کر ایک بھولا بسرا کاغذ کا ٹکڑ ڈھونڈھ کر نکالا۔ وہ اس بے مایہ، بے قیمت کاغذ کے ٹکڑے کو غور سے دیکھتی رہی۔ جو وقت کے ساتھ اس کی طرح زردی مائل ہو گیا تھا۔ اس نے اسے حاصل کرنے کے بعد کبھی اس کے بارے میں سوچا تک نہیں تھا۔ ۔ ۔ اور ایکمقدس صحیفے کی طرح خوبصورت کپڑے میں لپیٹ کر بھول گئی تھی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بالکل اسی طرح جیسے کوئی مقدس صحیفہ جزدان میں لپیٹ کر پہنچ سے بھی زیادہ اونچی جگہ پر رکھ کرانسان بھول جاتا ہے۔ ۔ آج وہی کاغذ کا بے جان ٹکڑا کسی زندہ چیز کی طرح اس کی ہتھیلی پر دھڑک رہا تھا، اور اسے یقین دلا رہا تھا کہ وہ ملیحہ ابھی بھی زندہ ہے، بس اتنے سالوں میں عرفان کو پا کر وہی اسے بھول بیٹھی تھی۔ ۔ اسی یقین سے ذرا سی طاقت لے کر۔ پھر اس نے اپنی زندگی کی صلیب کو اپنے کاندھوں پر اٹھایا اور جینے کا شعور ڈھونڈھنے لگی۔ کم ہمتی، خوف اور بے یقینی نے بڑی ٹھوکریں لگائیں مگر ہر ٹھوکر اس کے اندر ضد بنتی گئی۔ وہ ضد ہمت میں ، پھر بے خوفی میں اور پھر یقین میں بدلنے لگی، اسے نہیں معلوم تھا کہ دنیا کے سامنے سرخ رو ہونا خدا کے سامنے سرخ رو ہونے سے زیادہ مشکل کام ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اپنی بقا۔ ۔ ۔ حیا اور یقین کے ساتھ قدم بڑھاتے ہوئے اس نے محسوس کیا کہ ایک غیر مرئ طاقت اس کے ساتھ ہے جو اس کی مدد کر رہی ہے۔ ایک این جی او میں نوکری ملنے کے بعد اپنی زندگی کے ہر ناروا سلوک کو اس نے منفی کرنا سکھ لیا جو اس کی راہ میں رکاوٹ بنتی تھی۔ ۔ ۔ اور وہ اپنے بچوں اور نوکری کے مضبوط سہارے کے ساتھ کمزوروں کی طاقت بننے کا کام کرنے لگی۔ ۔ ۔ اور ساتھ ہی اس نے اپنے وجود کے ہر گوشے کو پرانی والی ملیحہ کی ان آرزوؤں سے روشن کر لیا جسے کبھی قابل اعتنا ہی نہیں سمجھا تھا اور وہ مصروف ہوتی گئی۔ ۔ وہ اپنے بچوں کی ماں باپ اور دوست سب کچھ بن گئی۔ ۔

وقت کی ندی میں لمحوں کی بارش ہوتی رہی اور اس کے بچوں کے بھیگے معصوم چہروں پر اطمینان کی سرخی اور یقیں کا سورج جھلملانے لگا تھا۔ ۔ ۔ ۔ اس کی شخصیت کا وقار اس کے اپنے بل بوتے پر لوٹ رہا تھا لوگوں کا ناروا رویہ مثبت ہوتا جا رہا تھا اور وہ سوچ رہی تھی کہ بعض لمحوں میں بڑی قوت ہوتی ہے وہ کبھی فنا نہیں ہوتے بلکہ ان کا دائرہ پھیلتے پھیلتے پوری زندگی پر محیط ہو جاتا ہے بس اسے پہچاننے کی ضرورت ہے کہ وہ لمحہ کون سا ہے جسے آپ کو اپنی قوت بنانا ہے، جب ہم کمزور لمحے کو خود پر حاوی کر لیتے ہیں تو وہ ہمیں ناکامی کے بھنور میں ڈبو دیتی ہے اور جب ہم اس کمزور لمحے پر فتح پا لیتے ہیں تو اپنی ناؤ کو اس بھنور سے نکال لے جاتے ہیں جہاں اور بھی بہت سے جاندار لمحات وقت کی ندی پر برسنے کو تیار ملتے ہیں –آج وہ ایک کمزور عورت نہیں تھی۔ ۔ ۔ اس کا خود کا ایک گھر تھا۔ ۔ ۔ جس میں آنے والی ساری دھوپ، ہوا اور بارشیں اس کی تھیں ۔ ۔ ۔ گزرے ہوئے لمحے اسے کمزور اور اداس نہیں کرتے تھے۔ ۔ ۔ طاقت دیتے تھے مگر آج یہ کون سی کمزوری اس پر حاوی ہو گئی ہے۔ ۔ باہر بارش تھم چکی تھی دن کا اجالا اندھیرے سے گلے مل رہا تھا اور دریچے میں کھڑے کھڑے اس کے پاؤں جیسےشل ہو چکے تھے تب ہی اسے اپنے کمرے میں قدموں کی آہٹ سنائی دی اس نے مڑ کر دیکھا اس کے بیٹے تھے بڑا بیٹا آہستہ قدموں سے قریب آیا۔ ۔ باقی دوجو پیچھے کھڑے تھے ان میں سے ایک نے کمرے کا بلب روشن کیا۔

” ماں آپ یہاں کیوں کھڑی ہیں ۔ ۔ ۔ دیکھئے۔ ۔ ہم نے کافی بنائی ہے۔ ”

اس نے صرف سوالیہ نظروں سے بیٹے کی طرف دیکھا۔ تو وہ ٹرے ٹیبل پر رکھ کر اسے دھیرے سے کرسی پر بٹھاتے ہوئے بولا۔ ۔ ۔ “وہ گئے۔ ۔ ، اور کافی کا مگ اسے پکڑا دیا۔ ۔

“پر تم لوگوں نے کیا کہا۔ ” اس نے بہت تھکی ہوئی آواز میں پوچھا۔ ۔ آپ بتائے ہم نے کیا کہا ہو گا منجھلا اپنی کپ اٹھاتے ہوئے بولا –

“معلوم نہیں ۔ ۔ ۔ تم نے کیسے کیا کا مگر میں یہ بھی جانتی ہوں کہ ان سے تمہارا خون کا رشتہ ہے۔ ۔ ۔ خون کے رشتے نہ ٹوٹتے ہیں نہ ختم ہوتے ہیں ،یہ تو ہر زمانے میں باقی رہنے کے لئے پیدا ہوتے ہیں ، اور ہمیشہ چلتے ہیں -اب اچھی طرح چلیں یا بری طرح بس چلتے رہتے ہیں ، کبھی کبھی یہ گھسٹ گھسٹ کر بھی چلتے ہیں ۔ ۔ ۔ مگر چلتے ضرور ہیں ،یہ نہ مرتے ہیں نہ ٹوٹتے ہیں ۔ ۔ ۔ یہ اتنے سخت جان ہوتے ہیں کہ انسان مر جاتا ہے تب بھی یہ رشتے زندہ رہتے ہیں ۔ ۔ یادوں اور دعاؤں میں ، نذر و نیاز میں ۔ ۔ آنسؤں اور مسکراہٹوں میں ۔ ۔ اور یہ رشتے سینہ بہ سینہ سفر کرتے ہوئے بار بار دفنائے جانے کے باوجود سانس لیتے رہتے ہیں اور یہ کہانی بن کر زندہ رہتے ہیں اور جب ان کہانیوں کے ورق بھی زرد ہو جاتے ہیں اور پلٹنے کے قابل نہیں رہتے تب یہ رشتے شجروں میں زندہ رہتے ہیں مگر رہتے ضرور ہیں ۔ ۔ ”

“آپ کی کافی ٹھنڈی ہو رہی ہے ماں ” چھوٹا بیٹا جانے کب اس کے قدموں میں آ کر بیٹھ گیا تھا اس نے پیار سے اس کے گھنے بالوں پر ہاتھ پھیرا۔ ۔

“آپ نے صحیح کہا، ہم نے ان سے بالکل یہی کہا کہ اب آپ ہمارے لئے صرف ہمارے شجروں میں زندہ ہیں اور یہ آپ کی ہی چوائس تھی۔ ۔ ”

اس نے اپنے مگ کو ٹیبل پر رکھ کر اپنے دونوں بازو پھیلا دئے۔ اور اپنی آغوش میں انہیں لے لیا چھوٹا اس کے گھٹنوں پر سر رکھے پہلے ہی بیٹھا تھا اور رابعہ کو یقین ہو گیا تھا کہ محبت کبھی کسی کو کمزور نہیں کرتی اس کی شخصیت کی بقا کرتی ہے، یقین کو مستحکم کرتی ہے۔ جو چیز کمزور کرے، آپ کو اور آپ کے یقین کو توڑ دے وہ محبت نہیں ہوتی۔ ۔ عرفان کی محبت محبت نہیں تھی۔ محبت تو یہ ہے جسے اس نے بہت سہیج کر رکھا ہے۔ اور انہیں ایک ایسا انسان بنایا ہے جو اپنی زندگی میں آنے والی عورتوں کو ایک مکمل وجود سمجھیں گے۔ برا وقت لمحوں کیاس برسات میں شامل ضرور ہوتا ہے مگر اسے اپنی ساری زندگی پر محیط کر لینا اپنی ہی کمزوری ہوتی ہے۔ ۔ ۔ ۔ آج اس کی روح پورے غرور سے، سر بلندی سے اور فخر سے سر اٹھا کر اس نیلگوں آسمان کی بلندی کو چھونے کے لئے تیار تھی۔ اسے اس کا ادرک ہو چکا تھا وہ ایک الگ اور مکمل وجود تھی ہمیشہ سے۔ ۔ ۔ بس پہلے اس کا ادراک نہ تھا اب ہے۔

٭٭٭

 

 

 

 

تشنگی

 

میں تھک کر چور ہو چکی تھی۔ آج صبح سے میں نے مشینی انداز میں سارے کام کئے تھے۔ میں نے گھڑی پر نظر ڈالی، تو دن کے دو بج رہے تھے۔ پھر میری نظر اپنی ملگجی اور شکن آلود ساڑی پر گئی بہت دیر تک کچن میں کام کرنے سے مجھے گرمی بھی لگ رہی تھی۔ اور بس کے آنے سے پہلے مجھے تیار ہو جانا تھا، اس لئے نہانے کے ارادے سے کپڑے نکالنے کے لئے الماری کی طرف گئی۔ اور ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے ٹھٹھک گئی۔ آج ڈریسنگ ٹیبل کا شیشہ بہت چمک رہا تھا۔ اور اسمیں میرا سراپا بہت واضح ہو گیا تھا۔ مجھے لگا جیسے آج آئینہ کی ساری دھول مجھ پر آ گئی ہے۔ مجھے اپنا ملگجا سا سراپا اپنی ہی نظروں میں عجیب لگا۔ روز جب اسی آئینے پر دھول کی ہلکی سی پرت کے پیچھے میں اپنا چہرہ دیکھتی تو اس چہرہ پر چھائی تھکان مجھ سے چھپی رہتی تھی۔ آج صاف و شفاف آئینے میں اپنا تھکا اور ملگجا ساسراپا، وقت سے پہلے بالوں میں ایک دو چاندی کے تار۔ ۔ ۔ جیسے میری ہی محنت پر مجھے منھ چڑا رہے تھے۔ میں جلدی سے الماری کی طرف بڑھ گئی۔ وہاں بھی مجھے جھنجھلاہٹ ہوئی۔ کیا پہنوں جو اچھا بھی ہو اور یہ بھی نہ لگے کہ میں نے کوئی خاص تیاری کی ہے۔ دو چار اچھے جوڑے جو کہیں آنے جانے پر ہی نکلتے تھے۔ اور گھر میں پہننے کے سارے بے جوڑ، بد رنگ سے، اچانک میری نظر اپنی اس سوتی ساڑی پر رک گئی۔ جو قیمتی نہ سہی مگر مجھے بہت پسند تھی۔ آج کے لئے مجھے سب سے زیادہ یہی مناسب لگی اسے میں نے ڈیڑھ روپئے میں پریس کروا کر رکھا تھا اس لئے نکالنے کا دل بھی نہیں کر رہا تھا۔ مگر پھر یہ سوچ کر ایسے موقع پر ڈیڑھ روپئے کے پریس کی قربانی دی جا سکتی ہے۔ میں نے وہ ساڑی نکال لی۔ نہا کر نکلی تو کسی حد تک تھکان اور گرمی سے نجات مل چکی تھی۔ میرا موڈ بھی خوشگوار ہو گیا تھا۔ پہناوا بھی انسان کی شخصیت پر کتنا اثر ڈالتا ہے۔ میں نے بال سنوارتے ہوئے خود کو پھر سے آئینے میں دیکھا۔ زرد رنگ کی میرون باڈر والی ساڑی میں میں بڑی گریسنگ رہی تھی۔ بال میں ایک دو چاندی کے چمکتے ہوئے تار اس کپڑے سے بہت میچ کر رہے تھے۔ اب میں مطمئن تھی۔ عذرا کو آنے میں ابھی چند گھنٹوں کی دیر تھی۔ اور میں اپنا سارا کام ختم کر چکی تھی۔ میں باہر چھوٹے سے برامدے میں نکل آئی۔ بستر پر لیٹنے کی خواہش تھی مگر ساڑی کی کریز خراب ہونے کا ڈر تھا۔ اس لئے برآمدے ہی میں کرسی پر بیٹھ گئی۔ بادل گھِر آئے تھے۔ اور خوش گوار ٹھنڈی ہوا کے جھونکے بھلے لگ رہے تھے۔ میں نے کرسی کی پشت سے سرٹیک کر آنکھیں بند کر لیں ۔ اور کچھ دیر خالی الذہن سی بیٹھی رہی۔ دل پر کچھ عجیب سے احساسات کا غلبہ تھا، میں سمجھ نہیں پا رہی تھی کہ میں بہت خوش ہوں یا اس خوشی میں اداسی کا رنگ بھی گھلا ہوا ہے۔ ۔ ۔ آج صبح، جب سے ٹیلی گرام آیا تھا کہ عذرا شام کو یہاں آ رہی ہے، صرف چند گھنٹوں کے لئے۔ ۔ ۔ تب ہی سے میں نے ایک پل بھی ضائع نہیں کیا تھا۔ خوشی اور بے چینی کا احساس مجھ پر غالب تھا۔ لیکن اس خبر کے ساتھ ہی میں گھر کے کام میں اس قدر مصروف ہو گئی کہ اپنی اس کیفیت پر زیادہ دھیان نہ دے سکی۔ گھر کو نئے سرسے سے صاف کیا تھا۔ ایک ایک چیز کو صاف کر کے چمکایا تھا۔ بستر کی چادریں بدل ڈالی تھیں اور احمد کو آفس جانے سے پہلے سوبار تاکید کی تھی مجھے کچھ چیزیں بازار سے لادیں تاکہ شام کی پر تکلف چائے کا انتظام کر سکوں احمد نے فہرست پر سرسری سی نظر ڈالی تھی۔ اور آفس جانے سے قبل سامان لا کر دے دیا تھا۔ ایک دو بار میری ساری تیاریوں کو مسکراتی ہوئی نظروں سے دیکھا بھی تھا۔ مگر بولے کچھ بھی نہیں تھے، مگر میں جانتی تھی کہ وہ دکھاوے کے بہت خلاف ہیں ۔ اور میری ان تیاریوں کی ان کی نظروں میں کوئی اہمیت نہیں تھی۔ وہ اسے یقیناً فضول سمجھ رہے تھے۔ اسی لئے میں ان سے نظریں چراتے ہوئے کچن میں چلی گئی تھی، بہر چال آج اپنی سفید پوشی کا بھرم قائم رکھنے کے لئے میں نے کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی۔ کیوں کہ آج میری عزیز ترین سہیلی آنے والی تھی۔ ایک ایسی سہیلی جس سے میں ہمیشہ ہی مرعوب رہی ہوں ۔ خوشی، بے چینی اور کرب کا ملا چلا احساس جیسے مجھے میں گھل رہا تھا۔ آنکھیں بند کئے میں ڈوبنے لگی اپنے ماضی کے دھندلکے میں ۔ ۔ ۔ ۔ ایک بہت خوبصورت دور۔ ۔ ۔ دو لڑکیاں ہاتھ میں ہاتھ ڈالے ہر وقت مسکراتی اور کھلکھلاتی ہوئی، کبھی تتلیوں کے پیچھے بھاگتی ہوئی کبھی امرود اور جامن کے پیڑ پر چڑھی ہوئی۔ پھر وقت کا گھومتا ہوا پہیا یہ خوبصورت دور اپنے ساتھ لے گیا۔ اور اس دور کی خوش گوار، بے فکر اور انمول گھڑیاں ماضی کے کسی عمیق کھڈ میں جا گریں ۔

اب تھا ایک نیا دور۔ ۔ ۔ نئے عزم، نئی امنگوں کے ساتھ۔ ۔ ۔ لڑکپن کے حدود سے نکل کر جوانی میں قدم رکھتی ہوئی دو ننھّی کلیاں ۔ ۔ ۔ عذرا اور نسرین برسات کی پھوار سے دھلے اور نکھرے ہوئے اس تازہ کھلے پھول کی طرح جو ہر ایک کی توجہ اپنی طرف کھینچ لیتا ہے۔ عذرا بے حد چنچل، سانولی صورت اور تیکھے نقوش والی پیاری سی لڑکی۔ ہر وقت مسکراہٹیں بکھیرتی ہوئی، جیسے مسکراہٹ اس کی شخصیت کا ایک اہم حصّہ ہو اور اس کے بغیر اس کا وجود نامکمل۔ ۔ ۔ دوسری طرف میں ، دوسروں کی زبانی اپنی تعریف سن کر خوبصورتی کا احساس پیدا ہو گیا تھا۔ میرے سفید رنگ اور بڑی بڑی آنکھوں کے کئی متوالے تھے۔ یہ وہ دور تھا جو زندگی کا سب سے خوبصورت دور ہوتا ہے جہاں بہاریں ہوتی ہیں ، خوشیاں ہوتی ہیں ، سہانے خواب ہوتے ہیں ۔ روشن مستقبل کے سہانے خواب۔ اپنی زندگی کے اس خوبصورت دور میں میں نے محسوس کیا کہ میں ہر پل ہر لمحہ سر شار رہتی ہوں ۔ میرے وجود میں ایک بے نام سی خوشی ہر وقت گھلی ملی رہتی، ایک خواہ مخواہ کا غرور میری نس نس میں بس گیا تھا۔ میری ساری سہیلیاں کافی امیر و کبیر گھر کی لڑکیاں تھیں ۔ میرے پاس میری ساری دولت میری خوبصورتی تھی اچھی اچھی امیر لڑکیوں نے میری طرف دوستی کا ہاتھ بڑھایا۔ اور میں ان کی محبت میں اپنی اصلیت پہچاننے سے انکار کرنے لگی۔ مجھے اپنی امیر سہیلیوں کی ہر بات اچھی لگتی۔ میں ہر بات میں آنکھ بند کر کے ان کی تائید کرتی۔ ان کی آزادی اور بے فکری کی نقل کرتی۔ خود کو ان کے جیسا دکھانے کے لئے مجھے کیا کیا جتن کرنے پڑتے۔ وہ کالج میں روزانہ کھانے پینے پر دس سے بیس روپئے خرچ کر دیتیں اور ایسے موقع پر میری مٹھی میں دبا ہوا دو روپئے کا نوٹ پسیج پسیج جاتا۔ ہر بناوٹ کے باوجود میں اس وقت اپنی احساسِ کمتری نہیں چھپا پاتی۔ ویسے وقتی طور پر یہ بھول کر کہ میں نے ایک متوسط طبقے میں جنم لیا ہے، بہت اونچے اونچے خواب دیکھنے لگی تھی۔ میرے کچے ذہن پر آزاد اور امیر سہیلیوں کی لفّاظی اپنا رنگ جماتی چلی گئی۔ اعلیٰ تعلیم حاصل کرنا، اپنے پیروں پر کھڑا ہونا اور اس کے علاوہ بھی بہت کچھ تھا۔ جس کے میں خواب دیکھتی پھر بھی میرے اندر کچھ ایسا بھی تھا جو اس کے بالکل برعکس تھا۔ کبھی کبھی لگتا کہ میری ساری خوشیاں بڑی سطحی ہیں بلکہ ان ساری خوشیوں کے پیچھے ایک بے چینی، ایک اضطراب کی کیفیت بھی ہے۔ جسے میں شعوری طور پر خود سے دور رکھتی اور اسے اپنے آپ پر حادی نہیں ہونے دنیا چاہتی تھی۔ لیکن پھر مجھ میں بڑی تبدیلی آنے لگی میں سنجید گی سے اپنے حالات کا تجزیہ کرتی۔ آخر کار مجھے لگا کہ میں نے اپنے دکھ اور اضطراب کی وجہ جان لی ہے اپنے سے زیادہ اونچے طبقے کی سہیلیاں بنا کر، ہمیشہ میں نے اپنی انا کو مجروح کیا ہے۔ گھر میں چھوٹی بڑی ضرورتوں کے لئے پاپا کو جد و جہد کرتے دیکھتی۔ آرام کرنے کی عمر میں بھی انہیں کام کرنا پڑتا تھا، ہماری ضرورتوں کے لئے۔ اور پاپا کے متفکر چہرے کو دیکھ کر میرے دل سے خوشی کے سارے احساسات پھسل پھسل جاتے۔ پھر میرا دل چاہتا کہ پاپا کے ضعیف وجود سے چمٹی ہوئی پریشانیاں ، ممّی کے نازک سراپا سے الجھی ہوئی پریشانیوں کو ایک پل میں دور کر دوں ۔ کچھ تو کر سکوں سب کے لئے کہ ان کے پریشان چہروں پر خوشی، بے فکری اور ہنسی کی پھوار برسنے لگے۔ مگر کچھ بھی نہ کر سکی۔ میرے سارے چھوٹے بڑے خواب زمین بوس ہوتے چلے گئے۔ گریجویشن کے بعد میں گھر بیٹھ گئی۔ ان سہلیوں کا ساتھ چھوٹا اور میں نے اپنے حالات کا جائزہ لیا تو احساس ہوا کہ حالات سے سمجھوتا کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا۔ عذرا مجھ سے اکثر ملتی رہتی تھی۔ پھر شادی ہو گئی اور میں ایک نئے گھر اور نئے ماحول میں آ گئی اپنے شفیق والدین سے دور ان کے لئے کچھ کرنے کے عزم کو و ہیں کہیں چھوڑ کر۔ یوں تو زندگی بڑی مطمئن گذر رہی تھی۔ سب کچھ ہی تھا۔ سب سے بڑھ کر ایک اچھا چاہنے والا بلند کردار ساتھی۔ اور اس کے علاوہ زندگی کو سادگی سے گذارنے کے تمام ذرائع۔ پھر بھی میں کبھی کبھی بہت دکھی ہو جاتی، کیوں کہ میں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ ایک روایتی بیوی بن کر زندگی گذاروں گی۔ کیا کچھ بننے کے خواب دیکھے تھے مگر کچھ نہیں بن سکی۔ اس طرح گذرتے وقت کے ساتھ میں نے اپنے سارے احساسات کو تھپکیاں دے دے کر سلادیا۔ اور اس پر صبر کی سل رکھ دی۔ اب بہت کم ایسی باتیں سو چا کرتی اور اب میرے پاس ایسی باتیں سوچنے کا وقت ہی کہاں تھا۔ لیکن آج اتنے دنوں بعد۔

عذرا کی آمد کی خبر نے پھر مجھے جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ سارے سوتے ہوئے احساسات جاگ اٹھے تھے۔ اور میرے اندر وہی مصنوعی نسرین سرا بھار رہی تھی۔ جسے اپنے گھر کی ہر چیز بد رنگ اور پھیکی نظر آ رہی تھی۔ عذرا کے سامنے خود کو اچھے سے اچھا پیش کرنے کے لئے میں نے کتنی محنت کی تھی۔ آخر وہ ایک بڑے گھر کی فرد تھی۔ اور اب خود ہی وہ ایک بڑی پوسٹ پر تھی۔ میرا اضطراب بڑھنے لگا، مجھے انتظار کرنا مشکل لگ رہا تھا۔ اتنی دیر سے کلف والی پریس کی ہوئی ساڑی میں خود کو اسٹیچو بنائے بنائے مجھے تھکن محسوس ہونے لگی تھی۔ دونوں بچے گھر کو بے ترتیب نہ کر دیں ۔ اس لئے میں نے بڑی فراخ دلی سے انہیں پاس والے پارک میں جا کر کھیلنے کی اجازت دے دی تھی۔

آخر خدا خدا کر کے انتظار کی گھڑیاں ختم ہوئیں اور عذرا کے آنے پر اس کے خیر مقدم کے لئے میں دوڑی۔ احمد بھی آفس سے آ چکے تھے۔ بچوں کو پارک سے بلا کر میں نے پڑھنے بٹھا دیا تھا۔ عذرا اور میں ایک دوسرے سے اتنے دن کے بعد ملے تھے کہ ہم والہانہ ایک دوسرے سے بغل گیر ہو گئے۔ ہماری آنکھیں خوشی سے نمناک تھیں ۔ ہم دونوں بہت دیر تک ماضی کی سہانی یادوں کو کرید کرید کر خوش ہوتے رہے۔ عذرا بہت بدل گئی تھی، اب وہ ایک شوخ و شنگ لڑکی نہیں رہی تھی۔ بلکہ اس کی شوخی کی جگہ سنجید گی نے لے لی تھی۔ وہ کافی بھاری بھرکم بھی ہو گئی تھی۔ ہاں اس نے مجھے دیکھ کر کہا کہ۔ نسرین تم بالکل نہیں بدلیں صرف بالوں میں ذرا سفیدی جھلکنے لگی ہے احمد بھی عذرا سے ملے اور اس کی دلچسپ باتوں پر مسکراتے رہے۔ لیکن پھر جلد ہی انہوں نے ہم دونوں سہیلیوں کو اکیلا چھوڑ دیا عذرا نے میرے پیارے بچوں کی بہت تعریف کی۔ اور انہیں بہت سارے تحائف دئے۔ وہ مجھ سے اور میرے مختصر سے کنبے سے مل کر بہت خوش تھی۔ اور اس خوشی کا اظہار بار بار کر رہی تھی۔ لیکن ان سب کے باوجود اس عذرا میں اور پہلی والی عذرا میں ایک نمایاں فرق نظر آ رہا تھا۔ اور وہ یہ کہ عذرا کی جو آنکھیں ہر وقت مسکراتیہوئی سی نظر آتی تھیں ، آج ان آنکھوں میں ایک ویرانی سی تھی۔ آخر کار میں نے دل کی بات اس سے پوچھ ہی لی۔ عذرا پہلے تو میرا سوال سن کر مسکرائ پھر سنجیدہ ہو گئی، اور بڑی آہستگی سے میرا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر کہا۔ تم نے پوچھا ہے نسرین تو میں ضرور بتاؤں گی۔ میں بہت تنہا ہوں ۔ آج تم نے جس اپنے پن سے پوچھا ہے شاید اس خلوص کی گرمی میں میں پگھلنے لگی ہوں ۔ تمہیں نہیں معلوم کہ شادی کے دو سال بعد ہی میں نے شوہر سے علیٰحدگی اختیار کر لی تھی۔ میرے گلشنِ حیات میں کبھی کوئی پھول نہیں کھلا۔ ازدواجی زندگی میں ناکامی کے بعد میں نے پھر شادی نہیں کی۔ میری زندگی بڑی ویران ہے۔ تم جانتی ہو نسرین۔ اعلیٰ سوسائٹی بڑی کھوکھلی ہوتی ہے۔ وہاں صرف پیسوں کی کھنک ہے خلوص اور محبت کی گرمی نہیں اور میں نے اب جانا ہے۔ زندگی میں روپیہ ہی سب کچھ نہیں ۔ میں نے ایک غلط ساتھی کا انتخاب کیا تھا جو عیش پسند تھا۔ جو ہر رات اپنے لئے ایک بیوی خرید سکتا تھا۔ ایسے آدمی کے ساتھ میں ساری زندگی کیسے گذارتی۔ پھر مجھے شادی کے نام سے چڑھ ہو گئی۔ مگر آج تم سے مل کر لگا کہ میں غلط تھی۔ ہر آدمی میرے شوہر کی طرح تو نہیں ہوتا۔ تم اس معاملے میں بہت خوش قسمت ہو۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ عذرا اور بھی نہ جانے کیا کچھ کہ رہی تھی۔ مگر میں حیرت سے عذرا کو دیکھ رہی تھی۔ یہ عورت جس کو میں نے ہمیشہ رشک کی نگاہ سے دیکھا وہ کتنی دکھی ہے اور میں سوچ رہی تھی کہ وہ ہر طرح سے کامیاب اور مکمل زندگی جی رہی ہو گی۔

عذرا کو رخصت کر کے میں نڈھال سی بستر پر گر گئی۔ کیسی ہے یہ زندگی۔ کیا یہاں ہر انسان پیاسا ہے۔ ایک تشنگی کے احساس سے جھٹپٹا تا ہوا۔ اپنے آپ میں ادھورے پن کا احساس لئے ہوئے۔ اس تشنگی، اس پیاس کا نام ہی شاید زندگی ہے –

٭٭٭

 

 

 

 

ایڈہیسو(Adhesive)

 

 

نشی نے محسوس کیا کہ آج اچانک زندگی کا یہ روّیہ اس کے حوصلے پست کر رہا ہے۔ جیسے اس پر تصنع زندگی کو جھیلتے جھیلتے وہ ٹوٹ گئی تھی۔

زندگی کی آسائشوں کو پانے کی تمنّا، ترقّی کی طرح بڑھتے قدم نے اس دور کے انسانوں سے جو قربانی لی تھی وہ معمولی نہیں تھی۔ اپنے پل پل کا سکون تج کر، لمحوں لمحوں کی موت مر کر اس نے بھی تو آسائشوں کا محل تعمیر کرنا شروع کر دیا تھا۔ مگر اپنی ان کا وشوں سے اسے کبھی کوئی سچّی خوشی نہیں ملی تھی۔ نہ جانے یہ کرب صرف اس کی ذات کا ہے یا اس دور کا۔ اسے تو صرف اتنا پتا ہے کہ اکثر زندگی اپنی تمام تر رعنائیوں کے باوجود پھیکی اور بوجھل لگتی ہے، اور کبھی کبھی اسے اپنا آپ بڑا اجنبی اجنبی سا لگتا ہے۔ جیسےیہاں سے وہاں تک خلاء ہو اور گہرا سنّاٹا۔ ایک کامیاب زندگی کے لئے اس نے جتنے خواب دیکھے تھے اس کی تعبیر اس کے دامن میں تھی۔ اپنے شوہر راحُل اور بیٹے راجو کے ساتھ اپنے آراستہ گھر میں اسے کسی چیز کی کمی نہیں تھی۔ مگر کچھ نہیں تھا تو۔ ۔ ۔ فرصت کے چند لمحے۔ ۔ ۔ ساتھ گزار نے کے لئے چند حسین بے فکرے پل۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ گنتی کے یہ چند افراد ایک ہی چھت کے نیچے رہتے ہوئے بھی ایک دوسرے کے لئے کتنے اجنبی تھے۔ ۔ ۔ اپنے اپنے دائروں میں محبوس، ان دائروں میں ے پرائیوٹ کی کوئی تختی بھی نہیں لگی ہے۔ مگر یہ دائرے کہیں ایک دوسرے سے نہیں ٹکراتے۔

نِشی نے اپنے جاگتے ذہن اور سوئی آنکھوں سے چھٹکا را پانے کے لئے اپنی مندی مندی آنکھیں کھول دیں ۔ اور بڑی کسلمندی سے کمرے پر ایک طائرانہ نظر ڈالی۔ راحُل اس کے بغل میں اس ڈبل بیڈ پر کتنا بے ترتیب پڑا تھا۔ اس کے سونے کا انداز بتا رہا تھا کہ وہ کتنا تھکا ہوا ہے۔ ایسی بے خبری کی نیند تو کھردری سنگلاخ زمین کا احساس بھی گم کر دیتی ہے۔ پھر اس نرم گدّے، آرام دہ بستر کی کیا ضرورت؟ آج اتوار ہے، اگر صبح کے نو بجے سے پہلے راحُل کی نیند ٹوٹ بھی گئی تو وہ کروٹ بدل بدل کر سونے کی کوشش کرے گا۔ چھ دن کی افرا تفری کے بعد تو یہ اتوار آتا ہے۔ اس نے کروٹ بدل کر کمرے کے دوسری طرف بچھے بستر پر نظر ڈالی۔ جہاں اس کا آٹھ سالہ لڑکا سو رہا تھا۔ ممتا تڑپی۔ کتنی چھوٹی عمر سے اس کا بستر الگ کر دیا ہے، نہ جانے کب اس نے اسے سینے سے لگا کر سلایا ہو گا۔ اس مشینی زندگی نے تو شب و روز کا احساس ہی مٹا دیا ہے۔ اس ننھّی سی جان پر بھی پڑھائی کے علاوہ کتنا بوجھ ہے۔ کمپیوٹر کلاسِز، کر اٹے کلاسِز۔ ۔ ۔ ٹیوشن۔ ۔ ۔ کتنا فرق ہے راجو کے اور اس کے گزرے ہوئے بچپن میں ۔ آج کے حالات نے بچوں سے بھی ان کا بچپن، آزادی اور معصومیت چھین لی ہے۔ وقت سے پہلے بچّے میچیور نظر آتے ہیں ۔

آج وہ اپنی تمام تر توجہ راجو اور راحُل پر وقف کر دے گی۔ بالکل الگ سادن گزار نے کی ایک خواہش صبح کے پو کی طرح اس کے دل میں پھوٹ رہی تھی۔ اُس نے بستر پر لیٹے لیٹے ہی پلاننگ کی۔ آج ان دونوں کے اُٹھنے سے پہلے وہ اچھّا سا ناشتہ تیار کرے گی۔ روزانہ کی بریڈ اور آملیٹ سے وہ سب کتنے بور ہو چکے تھے۔ صبح کی فضا میں تلے ہوئے پراٹھے کی خوشبو عرصے سے شامل نہیں ہوئی۔ مگر اس ارادے کی تکمیل میں اسے قباحت محسوس ہوئی۔ جسم ساتھ نہیں دے رہا تھا۔ وہ چاہتے ہوئے بھی نہیں آٹھ پائی۔ ۔ ۔ آخر وہ بھی تو تھک جاتی ہے، اور آج تو وہ اس شعوری کوشش میں ہے کہ خود سے ان سارے جھمیلوں کو دور رکھے جو روز اُسے انچاہے ہی اپنے درمیان گھسیٹ لیتے ہیں ۔ آفس کی تھکا دینے والی دوڑ، وہاں کے ناپسندیدہ مسائل، پر انی اسکوٹر کی چڑھ دلانے والی آواز۔ چھوٹے چھوٹے دکھ، پریشانیاں ، واہمے۔ ۔ ۔ کتنا کچھ جڑا ہے اس سے بھی۔ جو اس کے اندر کے مضبوط درخت کو ٹہنی ٹہنی۔ ۔ ۔ پتّا پتّا بکھیر دیتا ہے۔ مگر وہ ایک ننگا پیڑ، ایک بے سایہ دار درخت بن کر رہنا نہیں چاہتی۔ اس لئے ان فرصت کی لمحوں میں وہ۔ ۔ ۔ ان بکھرے پلوں کو سمیٹ کر طاقت کی ایک لو دکھانا چاہتی ہے اور محسوس کرنا چاہتی ہے اپنے اندر سے پھوٹنے والی نئی کونپلوں کو اجو اس کے خالی پن کو بھر دیتی ہیں ، اسے مضبوط کرتی ہیں ۔ ۔ ۔ اور اسے اپنا بھرا پرا ہونا۔ ۔ ۔ ، مضبوط ہونا ہی اچھّا لگتا ہے۔

مگر وہ کسے الزام دے۔ اپنی شخصیت کے اس بکھراؤ کی ذمہ دار بھی تو وہ خود ہے۔ جب راحُل تنہا زندگی کی آسائشوں کو مہیا کرنے کے لئے جوجھ رہا تھا تب اس نے قناعت سے کام نہ لے کر بے صبری دکھائی تھی۔ تب ہر پل نئے دور کی تعلیمیافتہ عورت ہونے کا گمان اسے ملامت کرتا کہ وہ چاردیواری میں قید ایک خاموش تماش بین ہے۔ ۔ ۔ اور تب ہر رکاوٹ کو نظر انداز کر کے اس نے یہ چار دیواری لانگھ لی تھی۔ مگر اس وقت اسےا س کا بالکل اندازہ نہیں تھا کہ وہ اپنا کیا کچھ قربان کر رہی ہے۔ ۔ ۔ اب آج جب ان کے پاس سب کچھ ہے تو ان آسائشوں سے لطف اندوز ہونے کی فرصت نہیں ۔ یہ کیسا شراپ ہے اس دور کی زندگی کو۔ ۔ ۔ اس نے اپنی کربناک سوچوں سے پیچھا چھڑانے کے لئے خود کو بستر سے گھسیٹکر باہر نکالا۔ دھوپ اپنی پوری تمازت کے ساتھ سر پر چڑھ آئی تھی۔ دھیرے دھیرے سب ناشتے کی ٹیبل پر جمع ہو گئے۔ اور وہاں وہی روز کی طرح بریڈ، آملیٹ اور چائے کا شغل تھا۔ نشی خجل تھی۔ راحُل نے کچھ نہیں کہا تھا مگر نشی کو لگا کہ وہ تھوڑا شاکی ہے، مگر اتنا کم کہ وہ اس احساس کو صرف سونگھ سکتی ہے۔ تبھی راحُل کے نظروں کی شکایت راجو کی زبان سے پھسل پڑی۔ ’’ ممی آج تو کچھ اسپیشل ہونا چاہیے تھا۔ ‘‘

لنچ میں دیکھتی ہوں کچھ بنا سکی تو۔ ۔ ۔ ‘‘ نشی نے نظریں چراتے ہوئے کہا۔ چائے کی چسکی لیتے ہوئے نشی نے محسوس کیا وہ فاصلہ جو ان تینوں کے درمیان موجود تھا۔ ۔ ۔ ساتھ ہو کر بھی ساتھ نہ ہونے کا احساس نشی کو کتر رہا تھا۔ اس نے اپنے ٹوٹتے ہوئے ارادے کو مجتمع کر کے جمود کی اس کیفیت کو توڑنا چاہا۔ ۔ ۔ ’’ راحُل آج تمہارے پسند کی کوئی ڈش بناتی ہوں ۔ ۔ ۔ ، اگر مجھے تم بازار سے۔ ۔ ۔ ‘‘

 

نہیں ۔ ۔ ۔ آج میں کہیں نہیں جاؤں گا۔ ‘‘ راحُل نے بہت بے رخی سے اس کی بات بیچ میں ہی کاٹ دی۔ اور اخبار اُٹھا کر دوسرے کمرے میں چلا گیا۔ نشی نے بے بسی اور اُمید کی ملی جلی کیفیت کے ساتھ راجو کی طرف دیکھا۔ وہ بھی کسی اخبار پر جھکا سنڈے ریویو پر بچّوں کا کالم دیکھنے میں گم تھا-

’’ کین یو ہیلپ می راجو(Can you help me Raju)‘‘ اپنے ہی سوال کے کھوکھلے پن پر وہ کھسیانی ہو رہی تھی۔

’’سو ری ممّی۔ ۔ ۔ (Sorry Mummy) آج اتنا ہوم ورک ہے۔ آپ رہنے دیجئے ہم کچھ بھی کھالیں گے۔ ‘‘

نشی کے دل میں کرچ سی چبھ گئی اس لا تعلّقی سے۔ مگر اسکے اندر چند دہائیوں پہلے والی ایک عورت جو موجود تھی جسے اس نے اپنے بچپن میں دیکھا تھا، جانا تھا۔ وہ اسے ہی مورد الزام ٹھہرا رہی تھی، کہ اپنی شخصیت کے اس بکھراؤ کی ذمہ دار وہ خود ہے۔ اور اسے یقیناً اپنی شخصیت کا یہ بکھراؤ پسند نہیں تھا۔ اسے اب شدّت سے یہ احساس ہونے لگا تھا کہ وہ شخصیت کے جس روپ میں بھی ہوتی ہے اس کے ساتھ انصاف نہیں کر پاتی۔ تب اسے لگتا ہے وہ بکھر رہی ہے۔ دھبّا دھبّا لیکن دہ خود کو دھبّے کے روپ میں نہیں دیکھنا چاہتی۔ بہت جگہ تھوڑا۔ تھوڑا اور ایک دوسرے سے الگ۔ بلکہ ایک جگہ ہونا اور پورے طور پر ہونا کہیں بہتر لگتا ہے اسے، مگر وہ  شدّت سے محسوس کر رہی تھی کہ اس کی بکھری شخصیت کی کرچیاں ۔ اس کے ساتھ۔ ساتھ اب راجو اور راحُل کو بھی لہو لہان کر رہی ہیں ۔

تبھی راجو کی معصوم آواز نے اسے خیالات کے بھنور سے باہر نکالا۔ ’’ ممّی۔ ۔ ۔ دیکھئے۔ ۔ ۔ ‘‘ اس نے اخبار کی ایک خبر پر انگلی رکھتے ہوئے کہا۔ ’’ یہ کیا ایڈہیسِو ( Adhesive ) ایجاد ہوا ہے۔ جو انسانی جسم کو جوڑ سکے گا۔ اور آپریشن کے بعد اسٹیچنگ(Stitching) کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ اتنا ہی نہیں ۔ ۔ ۔ اس سے انسانی جسم کا کوئی بھی کٹا ہوا حصّہ دوسرے سے بہ آسانی چپکایا جا سکے گا۔ ‘‘

نشی نے خالی خالی نظروں سے راجو کی طرف دیکھا۔ مگر اس کے ذہن میں یہ سوال پھن پھیلائے کھڑا تھا۔ ’’ کیا کوئی ایسا ایڈہیسِو(Adhesive) نہیں جو انسان کی بکھری ہوئی شخصیت کی کرچیوں کو بھی جوڑ سکے۔ ۔ ۔ ۔ ؟‘‘

٭٭٭

 

 

 

 

وہ نقش زیر آب ہے

 

(ہارر فکشن )

 

ہم تعداد میں کل سترہ تھے، مختلف کنبوں اور جگہوں کے لوگ، مختلف عادات و اطوار اور مخلف طبائع کے لوگ کچھ دنوں کے لیے ایک کنبہ بن گئے تھے۔ اپنے اپنے گھروں سے ہزاروں کیلو میٹر دور نہ جانے کن انجانی خوشیوں کی تلاش میں آئے تھے۔ کیرالہ کے اس ٹور کے لئے لمبی مسافت طے کر کے یہاں پہنچے تھے۔

دراوڑ لنگواسٹک ایسوسی ایشن کا گسٹ ہاؤس تریوندرم میں شہر سے بیس کیلو میٹر کی دوری پر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بالکل سنسان سے علاقے میں کئی ربع زمین پر پھیلا ہوا یہ گیسٹ ہاؤس ناریل، کاجو اور کھجور کے جنگلوں میں گم نظر آتا، اس میں موجود کینٹین، لائبریری ایڈمنسٹریٹو بلاک سب ایک دوسرے سے دور اور الگ الگ تھے اور اچھی خاصی مسافت طے کر کے نظر آتے تھے۔ بھاگتی دوڑتی زندگی سے نکل کر آیے ہوئے اس گروپ کے لوگوں میں پہلے پہل بڑا کنفیوزن نظر آیا۔ ۔ ۔ کسی کی رائے میں یہ بڑی ایڈونچرس جگہ تھی۔ ۔ ۔ کسی کی رائے میں ویران اور سنسان علاقے کا ڈراؤنا پن ان کا مزہ ختم کر رہا تھا۔ ۔ ۔ کوئی اپنی فائیو اسٹار لگزری کی فکر میں رہی سہی سہولتوں سے بھی لطف اندوز ہونے کو تیار نہ تھا۔ ۔ اس گروپ میں دو ٹیچر اپنی فیملی کے ساتھ اور آٹھ طالبات اور تین طالب علم تھے۔ ایک استاد صرف اپنی بیوی کے ساتھ تھے، دوسرے استاد میرے شوہر تھے اور ہمارے ساتھ ہماری دونوں بچیاں تھیں جو سات سال اور چودہ سال کی تھیں ۔ میرے شوہر اور ان کے کلیگ پر ایم اے کے ان طالبات اور طالب علم کی ذمہ داری تھی۔ ان آٹھ لڑکیوں میں گوری، سانولی، گوار، ناگوار بعض اس میں دلکش تھیں بعض قبول صورت۔ لڑکے صرف تین تھے مگر سچ کہوں تو دس کے برابر، کام سنبھالنے میں بھی اور شرارت میں بھی۔ میری ان طالب علموں سے سفر کے دوران خوب دوستی ہو گئی تھی مگر صبیحہ ذرا ریزرو رہتی تھیں اس لئے ان سے الگ الگ نظر آتیں ۔

یہاں اتر کر سب سے پہلا تاثر عجیب تھا، سوچنے والے دماغ، دھڑکتے ہوئے دل، تیرتے ہوئے خون کا تعطل اور لا علمی کا لرزہ خیز ناقابل تصور پھیلاؤ۔ ۔ ۔ ۔ ہم میں سے کوئی بھی بہتر سے بہتر انتظامات اور تفریح کی خواہش کا بوجھ پھسلتے ہوئے لمحات کے ساتھ فضا میں پھینکنے کو تیار نہیں تھا۔ لمبے سفر کی میٹھی میٹھی تھکان اگر آرامدہ بستر کی طلب گار تھی تو نئی اور اندیکھی جگہ کو جاننے سمجھنے کا شوق بے پایاں قدموں کو بے چین رکھنے پر مصر۔ اس طرح فیصلہ یہ ہوا کہ آج کی رات اسی گیسٹ ہاؤس میں قیام اور کل ایک بہتر ہوٹل کی طرف کوچ۔ پہلے ہی دن اپنی ضروری سہولیات حاصل کر لینے کے بعد ہم نے سمندر کا کنارا اور غروب آفتاب کا مزہ لیا۔ ٹورسٹ پواینٹ نہ ہونے کی وجہ سے لوگوں نے بتایا کہ اس ساحل پر بھیڑ بھی کم ہوتی ہے اور گند گی بھی نہیں ہے۔ ۔ ۔ نوجوان اور بچے بہت خوش تھے ہم چار بڑے ایک کنارے ریت پر بیٹھ کر انہیں ساحل پر مستیاں کرتے دیکھتے رہے میری بچیوں کی دوستی اس سفر میں ان لڑکیوں سے ہو چکی تھی۔ ۔ ۔ ، میں عادتاً منظر کے حسن میں کھونے لگی اور وہاں سے آٹھ کر سمندر کی موجوں کو اپنے قدموں سے چھونے کی خواہش لئے ذرا آگے بڑھی۔ ۔ ۔ سمندر کی بیکراں وسعتیں ، اور اس کی بیچین و مضطرب مدو جزر سطح سمندر پر سر پٹک پٹک کر نہ جانے اپنی کس نہ خواندہ خواہش کا گلہ کر رہے تھے۔ ۔ ۔ ۔ ان بے پناہ وسعتوں کے سامنے انسانی وجود کی کم مائے گی اور سراسیمگی کے ساتھ انسان کی محدود طاقت کا ادراک بڑی آسانی سے ہو رہا تھا۔ ۔ ۔ ۔ اور میں نہ جانے کتنی دیر سمندر کے سحر میں گرفتار اور بے خبر تھی کہ اچانک مجھے اپنے اکیلے پن کا احساس ہوا۔ ۔ ۔ میں نے گھوم کر دیکھا تو میں سمندر کنارے تنہا کھڑی تھی، شام ڈھل چکی تھی اور یہاں وہاں چند اجنبی چہرے نظر آ رہے تھے، نیم تاریکی، نئی جگہ، اور ساحل پر تنہا۔ ۔ ۔ سمت کا اندازہ بھی نہیں ۔ ۔ ۔ خوف جیسے پانی سے اٹھا اور میری ریڑھ کی ہڈی میں سرائیت کر گیا۔ ۔ صدمہ الگ کہ مجھے اس طرح میرے بچے اور شوہر کیسے بھول گئے۔ ۔ اور بھول بھی گئے تو لوٹ کر کیوں نہ آئے۔ ۔ میں ڈبڈبائی آنکھوں سے اس طرف بھاگی جدھر سے آئی تھی مگر یقین تھا کہ تنہا گیسٹ ہاؤس تک نہیں پہنچ پاوں گی۔ ۔ دو مقامی عورتیں ایک جگہ نظر آئیں جو آپس میں الجھ رہی تھیں ، انہیں دیکھ کر جان میں جان آئی۔ ۔ ۔ مردوں کی طرف دیکھنا مجھے گوارا نہ تھا کہ ایسی صورتحال میں میں مان بیٹھی تھی کہ سب شرابی ہی ہوں گے، گرتی پڑتی ان عورتوں کے پاس پہنچ کر ایک ہی سانس میں پتہ بتاتے ہوئے مدد کی گہار لگائی مگر جلد ہی سمجھ میں آ گیا کہ وہ میری زبان سے ناواقف ہیں ان میں سے ایک کچھ بڑبڑاتی ہوئی ایک طرف چلی گئی، اس سے پہلے کہ میں دوسری کی طرف امید بھری نظر ڈالتی ایک خوفناک شکل کا آدمی ہندی میں مجھ سے بولا میڈم یہ پاگل ہے اس سے مت بات کرو۔ ۔ ۔ اس کی بیٹی غائب ہو گئی ہے تب سے اس کا فوٹو لے کر گھومتی رہتی ہے یہاں وہاں ۔ ۔ ۔ مجھے لگا وہ بات بنا رہا ہے مشکوک نظروں سے اسے دیکھ کر میں نے اس عورت کی طرف دیکھا۔ ۔ ۔ ادھیڑ عمر کی بدحال عورت میلی ساڑی اور ویران آنکھیں ۔ ۔ ۔ ۔ اس کے ہاتھ میں سچ مچ ایک پندرہ سال کی لڑکی کی تصویر تھی سانولی سی گٹھے ہوئے جسم کی بڑے پیارے انداز میں ہنس رہی تھی ایک موٹی سی چوٹی اسکے سینے پر جھولتی ہوئی اور اسکے سفید دانت بہت پرکشش تھے۔ ۔ ۔ اس عورت نے تصویر بالکل میری آنکھوں کے قریب کر دیا تو میں ہڑبڑا کر پیچھے ہٹی۔ ۔ ۔ مگر نظر تصویر پر ہی رہی۔ ۔ ۔ ۔ اس تصویر میں بڑی عجیب بات تھی میں اپنا مسئلہ بھولتی جا رہی تھی، اور تصویر مجھ پر حاوی ہو رہی تھی۔ ۔ ۔ مجھے لگا تصویر کی آنکھیں جاندار لڑکی کی ہیں اور وہ آنکھیں میری مشکل کو سمجھتی ہیں ۔ ۔ ۔ پھر مجھے کچھ ٹھیک سے یاد نہیں رہا لگا کہ وہ لڑکی میرے آگے آگے ہے اور میں اس کے پیچھے۔ ۔ ۔ ۔ ” ممی اٹھئے۔ ۔ ۔ سب ناشتے کے لئے باہر جانے کے لئے تیار ہو گئے ہیں ۔ ۔ ” سمن مجھے جھنجھوڑ رہی تھی۔ میں نے آنکھ کھول کر دیکھا میں گیسٹ ہاؤس کے کمرے میں تھی، سر درد سے میری کراہ نکل گئی، چائے کی تیز طلب محسوس ہوئی مگر معلوم تھا کہ چائے کے لیے بھی کینٹین جانا ہو گا، سمن پھر کمرے میں آئی ” آپ ابھی تک اٹھی نہیں سب تیار ہو چکے ہیں ”۔ ۔ “سنو۔ ۔ ” میں نے سمن کو پکڑ لیا کہ وہ پا رے کی طرح تھرکتی رہتی تھی۔ ” کل تم لوگ مجھے چھوڑ کر کیسے چلی گئیں ۔ “” ممی !۔ ۔ ۔ ۔ ” اس نے بڑی بوڑھیوں کی طرح آنکھیں نکال کر منھ بچکایا۔ آپ سے تو ابو بہت ناراض ہیں ، کل کتنا پریشان کیا آپ نے۔ “۔ ۔ ۔ “میں نے ؟؟؟ ” میری حیرانی دیکھ کر وہ بولی۔ ۔ ۔ ” اور نہیں تو کیا ہم لوگ جب ذرا آگے بڑھے تو آپ کو نہیں دیکھ کر، فوراً واپس گئے مگر آپ وہاں بھی نہیں تھیں سارے راستے ڈھونڈھتے ہوئے آئے، سب لوگ پریشان ہو گئے تھے۔ ۔ مگر آپ کہیں نہیں نظر آئیں ۔ کمرے پر آ کر دیکھا کہ آپ مزے سے سو رہی ہیں ۔ ” وہ عادتاً پوری داستان سنا کر یہ جا وہ جا۔ ۔ ۔ میں الجھی الجھی سی تیار ہوئی، باہر نکلی تو یہ لپک کر آئے۔ ۔ ۔ کل کس راستے سے واپس پہنچی، اندازہ ہے کتنا پریشان کیا تم نے ؟ اور کیا مزے سے گہری نیند سو رہی تھی۔ ۔ اتنی جلدی کیسے سو گئی ؟”افففف اتنے سارے سوال اور مجھے کچھ یاد نہیں ۔ ۔ ۔ ۔ میں نے ہونقوں کی طرح دیکھا تو بولے اور چابی تو میرے پاس تھی پھر تم نے۔ ۔ ۔ ” سر چلئے سب آ گئے ہیں ۔ ” عمران نے آواز دی تو میری جان بچی یہ اپنے کلیگ حامد کے ساتھ آگے بڑھ گئے، سب میری خیریت پوچھ رہے تھے۔ ۔ ۔ میں نے سر درد کا بتا کر سبکو ٹال دیا اور ہم کاجو کے گھنے درختوں کے بیچ سے گزرتے ہوئے کینٹین تک پہنچے، معلوم ہوا یہ دس بجے کے بعد ہی کھلتا ہے گیٹ کے باہر ایک اور کینٹین ہے سڑک کے کنارے وہاں جا سکتے ہیں ، ہمارا قافلہ ادھر مڑ گیا، میں سب سے ذرا پیچھے چل رہی تھی، حامد کی بیوی صبیحہ نے جو خود بھی انگریزی کی لکچرار تھیں مڑ کر بولیں ، آپ آگے آئیے پھر چھوٹ گئیں تو آج کا دن بھی آپ کو ڈھونڈھنے کی نذر ہو جائے گا، ان کے لہجے کے طنز کی کاٹ میں نے محسوس کیا، مگر چپ رہی۔ مجھے لگا کوئی تیزی سے میرے پیچھے سے نکل کر آگے چلا گیا۔ ۔ ۔ اور اوئی کی آواز کے ساتھ صبیحہ نیچے جھکیں سب رک کر انہیں دیکھنے لگے۔ ۔ کسی کیڑے نے کاٹ لیا ہے شاید ان کی ایک انگلی سے خون نکل رہا تھا، ادھر ادھر کچھ نظر نہ آیا، صبیحہ اب بڑبڑا رہی تھیں یہاں سے جلدی چلو میں اس جنگل میں نہیں رہ سکتی۔ ہم بڑھنے لگے۔ سب لوگ دھیان سے نیچے دیکھ کر چلو اتنی سوکھی پتیوں کے نیچے کچھ ہو سکتا ہے کسی نے کہا۔ میری توجہ بھی پوری طرح نیچے راستے پر رہی، تب اچانک ایک خوف کی لہر پھر میرے وجود میں سرائیت کر گئی۔ ۔ میں نے دیکھا میرے بغل میں پتیاں ایسے چرمرا رہی ہیں جیسے کوئی ان پر چل رہا ہو بالکل میرے ساتھ ساتھ۔ ۔ ۔ میں رک گئی تو پاس کی پتیوں کی چرمرا ہٹ بھی رک گئی میں پھر چلی تو وہی بات بالکل واضح طور پر محسوس کی، میں لپکتی ہوئی آگے گئی اور ان کا ہاتھ پکڑ کر چلنے لگی۔ انہوں نے حیران ہو کر مجھے دیکھا۔ اتنے لوگوں کے درمیان میں ایسی بے تکلفی دکھانے کی عادی نہیں تھی۔ حامد نے مسکرا کر انہیں دیکھا اور کہا۔ ۔ ۔ “علی بھابھی کو آپ پر بھروسہ نہیں رہا، کہیں آپ پھر نہ چھوڑ کر نکل جائیں ۔ ” مگر انہوں نے مجھے بغور دیکھ کر کھا۔ ۔ ۔ “طبیعت تو ٹھیک ہے ہاتھ اتنے ٹھنڈے کیوں ہیں ۔ ۔ ۔ میں کیا بتاتی کہ خود کسی مافوق الفطرت چیز یا عناصر پر یقین نہیں رکھتی تھی نہ ڈرتی تھی کبھی، مجھے سب سے زیادہ خوف انسانوں سے ہی آتا تھا، پہلی بار ان عجیب و غریب احساسات کا شکار تھی۔ ۔ حیرتاس بات کی تھی کہ باقی سب نارمل تھے۔ انہیں کچھ محسوس ہوا ہوتا تو لڑکیاں ضرور ڈر جاتیں ، باہر کی کینٹین سے ناشتہ کر کے ہم لوگ لائبریری چلے گئے۔ ۔ ۔ اس جنگل میں اتنی عالیشان لائبریری پا کر میں تو سرشار ہو گئی اور وہاں وقت گزرنے کا احساس ہی نہ ہوا، ہم لوگوں نے تین بجے تک وہاں وقت گزارا پھر بچوں کو بھوک کا احساس ہوا تو ہم اسی کینٹین میں جا بیٹھے جہاں ناشتہ کیا تھا۔ ۔ اب یہاں سے کسی ہوٹل کی تلاش کا وقت تھا مگر اب زیادہ تر لوگ یہاں رکنے کے خواہش مند تھے صرف حامد، صبیحہ اور دو لڑکیوں کو چھوڑ کر، اس لئے کھانے کے درمیان بحث ہوتی رہی۔ میرا سر درد ٹھیک ہو چکا تھا اور میں بھی چہک رہی تھی، سب کی رائے پوچھی جا رہی تھی۔ میری مضبوط دلیل یہ تھی کہ یہاں رہنے سے ہم لائبریری کا پورا فائدہ اٹھا سکیں گے، جس دن یا جس وقت گھومنے نہیں گئے اس وقت لائبریری میں گزاریں گے، لڑکوں کا کہنا تھا کے ساحل کا اصلی مزہ آبادی سے دور اسی ساحل پر آئے گا باقی لڑکیاں یہاں کے سستے کھانے اور رہنے کی وجہ سے خوش تھیں ، ہوٹل کی رہائش مہنگی پڑتی تو انہیں کچھ کنٹریبیوشن دینا ہوتا، یہاں رہتے ہوئے وہ اچھی شاپنگ کے لئے پیسے بچا سکتی تھیں ۔ کینٹین کے لوگ بھی رکنے کا فیور کر رہے تھے اور بہترین ٹورسٹ بس کروانے کا وعدہ بھی کر رہے تھے، ہم لوگ گومگو کی کیفیت میں واپس نکلے گیٹ پر وہی بدحال عورت بیٹھی ہوئی تھی۔ وہ ہمارے گروپ کو آتا دیکھ کر کھڑی ہوئی اور ایک ایک کو تصویر دکھانے لگی تو گارڈ نے اسے کھدیڑ دیا اور اس کے ہاتھ سے تصویر چھین لی، مجھے برا لگا، لڑکے لڑکیاں گارڈ سے اس کی کہانی سن رہے تھے، اور وہ بتا رہا تھا کہ بڑی ہنس مکھ اور زندہ دل لڑکی تھی،یہاں آنے والے طالب علموں کو اس پاس کے علاقوں میں گھمایا کرتی یہ اس کی ماں ہے اور یہ ہمیشہ اسے اجنبیوں کے ساتھ گھومنے سے روکتی تھی، ایک دن پراسرار طریقے سے غائب ہو گئی، میں نے بڑھ کر تصویر اس کے ہاتھ سے لے لی اور پلٹ کو اس عورت کی طرف دیکھا جو ذرا دوری پر کھڑی سونی نظروں سے ادھر ہی دیکھ رہی تھی میں نے وہ تصویر اسے جا کر تھما دیا اور جانے کیوں اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر کہا تمہاری بیٹی ضرور مل جائے گی۔ اور اسی وقت تصویر کی آنکھیں میری آنکھوں میں اترتی چلی گئیں ۔ میں ہلکا ہلکا سر درد لئے وہاں سے لوٹ آئی۔ گیسٹ ہاؤس کے سارے کمرے دائرے کی شکل میں بنے ہوئے تھے جیسے ایک دوسرے کے ہاتھ میں ہاتھ ڈالے میوزیکل چیر کھیلنے کھڑے ہوں اس کے درمیان کے کھلے حصے میں دائرے کی شکل میں ہی ایک ہوا گھر بنا ہوا تھا جس کی چھت سرخ ٹائل سے مزین تھی اور اس کے اندر پتھر کی بنچ بنی ہوئی تھی ان ساتھ ساتھ والے کمرے سے الگ ایک الگ اور ذرا زیادہ کشادہ اور بہتر سجا ہوا کمرہ بھی تھا جو لگتا تھا کے یہاں کے منتظم کا تھا مگر ابھی خالی تھا، اس کمرے میں وہ دونوں لڑکیاں اپنا قبضہ کر چکی تھیں جو ہوٹل جانا چاہتی تھیں ۔ ۔ ۔ چونکہ اپنے دوستوں سے لڑ چکی تھیں اس لئے وہ کمرے میں چلی گئیں ۔ باقی سب ہوا گھر میں بیٹھ گئے، میری بچیاں بہت خوش تھیں ۔ ۔ ۔ انہیں ایک الگ کمرہ ملا تھا اور کینٹین میں چپس، کولڈ ڈرنک اور چاکلیٹس تھیں ، ہوا گھر سے ذرا ہٹ کر منتظم کے کمرے کے پاس ایک پارک نما حصہ بھی تھا جس میں جھولا اور بچوں کے دلچسپی کی چیزیں تھیں ۔ ۔ ۔ اور جہاں اتنا کچھ ہو ان کی جنت وہیں تھی۔ ۔ ۔ جھولے سے ان کی ہنسی کی آوازیں آ رہی تھیں ۔ شام ہو گئی تھی میں نے کئی بار واپس آنے کے لئے آواز دی مگر نہ آئیں ۔ ۔ ۔ مجھے اب تشویش ہو رہی تھی اور میں اٹھ کر انہیں بلانے گئی۔ ۔ ۔ ” ممی آئے نا بہت مزہ آ رہا ہے۔ ۔ ۔ بہت اچھا جھولا ہے، اس پر بیٹھتے ہی اونچی اونچی پینگیں اپنے آپ پڑنے لگتی ہیں ، جیسے کوئی جھلا رہا ہو۔ ” میرے پورے جسم میں ایک سہرن دوڑ گئی، میں نے دوڑ کر جھولا روکا اور انہیں کھینچتی ہوئی وہاں سے لے آئی۔ بچیاں میرے اس انداز سے خائف ہو گئیں ، کیونکہ ان کے ساتھ میرا رویہ کبھی جارحانہ نہ رہا تھا جب میں ہوا گھر کے پاس پہنچی تو حامد اور صبیحہ انہیں بتا رہے تھے کہ وہ ہوٹل جا رہے ہیں ، میں نے بڑھ کر احتجاج کیا کہ اتنے بچوں کی ذمہ داری ان پر اکیلے چھوڑ کر کیوں جا رہے ہیں ، تو ان کا جواب تھا کہ گھومنے میں تو ساتھ ہی رہیں گے۔ ۔ ۔ انہوں نے اشارے سے مجھے کچ اور بولنے سے روک دیا اور وہ چلے گئے۔ تب ہی اچانک شمیم اور ناہید کمرے سے چیختی ہوئی باہر آئیں ۔ ۔ ۔ شمیم بری طرح رو رہی تھی ہم سب ہی دوڑ کر وہاں پہنچے۔ ۔ “کیا ہوا ؟؟” انہوں نے ڈانٹ کر پوچھا۔ ۔ ۔ اس نے روتے ہوئے کمرے کی طرف اشارہ کیا۔ ہم نے جا کر دیکھا، تو جو دوپٹہ وہ آج دن بھر اوڑھ کر گھوم رہی تھی اس کا پھندہ بنا کر کسی نے پنکھے سے لٹکا دیا تھا۔ ۔ ۔ ” کس کی شرارت ہے۔ ” یہ گرجے۔ ۔ لڑکوں نے کانوں کو ہاتھ لگایا کہ وہ تو ہوا گھر سے ہلے بھی نہیں ۔ ۔ میرا دل دھک دھک کر رہا تھا۔ ۔ ۔ تو اب سب کے سامنے اس وجود کی حرکتیں آنے لگیں ، میری بچیاں آ کر سہمی ہوئی میرے پیچھے کھڑی تھیں ، چہ میگوئیاں ہو رہی تھیں ، کسی کا خیال تھا کہ ان دونوں نے ہوٹل شفٹ ہونے کے لئے خود یہ ڈرامہ کیا ہے۔ کوئی سمجھ رہا تھا کہ ان لڑکیوں کو ڈرانے کے لئے ان میں سے کسی کی حرکت ہے جن سے ان کی لڑائی ہوئی تھی، جبکہ وہ کہ رہی تھیں کہ وہ مستقل کمرے میں تھیں ذرا دیر کو لیٹی تھیں کہ آنکھ جھپک گئی اور آنکھ کھلی تو یہ دیکھا، ان کا موڈ خراب ہو چکا تھا۔ پہلے سٹوڈنٹس کی لڑائی، پھر امتیاز کا چلے جانا اور اب یہ قصہ۔ ۔ لڑکیاں اس کمرے میں جانے کو اب تیار نہ تھیں ہمیں ان سے اپنا کمرہ بدلنا پڑا۔ ۔ میں نے سوچا اپنی بچیوں کو ان کے علیحدہ کمرے میں تنہا کیسے چھوڑوں مگر اس خوفناک کمرے میں بھی نہیں لے جانا چاہتی تھی، جا کر ان کے کمرے میں ہی سلایا، کھڑکیاں بند کیں اور آیتلکرسی پڑھوا کر یہ کہ کر نکل آئی کہ تھوڑی دیر میں آتی ہوں ۔ ۔ ڈرنا مت یہ سب بیوقوفی کی باتیں ہیں ۔ دو دو کے گروپ میں سب اپنے کمرے میں چلے گئے۔ ۔ میں اس کمرے میں آئی کسی نے دوپٹہ کھول کر شمیم کو دے دیا تھا، دعا پڑھ کر میں نے پھونکا اور نماز پڑھنے کی تیاری کرنے لگی، میرے نماز پڑھنے تک یہ کپڑے تبدیل کر کے بستر پر دراز ہو چکے تھے، ان کی عادت تھی بستر پر جاتے ہی سو جانے کی تو خراٹوں کی ہلکی ہلکی آواز آنے لگی تھی۔ میں نے عادتاً اپنی ڈائری اور پن نکالا دن بھر کی روداد لکھنا تھی اور بستر پر تکیے کا سہارا لے کر بیٹھ گئی۔ مگر میری توجہ دریچے کی طرف مبذول ہو گئی۔ ۔ میں نے نماز سے پہلے اسے بند کیا تھا، کھلا کیسے ؟ پھر ایک اندیکھا خوف میرے اندر سرایت کر گیا، سمندر کی بھیگی بھیگی خوشگوار ہوا کا جھونکا اچھا لگا مگر خوف بھی موجود تھا، ہمت کر کے اٹھی کھڑکی کا پٹ تیزی سے بند کرنا چاہا مگر یہ تو بالکل جامد تھا مجھ سے ہل بھی نہیں رہا تھا، میں نے دل کو تسلی دی انہوں نے ہوا کے لئے کھولا ہو گا اور کیچ لگا دیا ہو گا، مگر کوئی کیچ نہ تھا میں نے ایک بار پھر زور لگایا مگر بے سود۔ ۔ ۔ میں ڈر کر بستر کی طرف بھاگی، میرا حلق خشک ہو رہا تھا، اس میں کانٹے سے پڑ رہے تھے میں نے دعائیں پڑھنا شروع کیں مگر پانی کے لئے بوتل اٹھانے کی ہمت نہ ہوئی کیونکہ وہ دور رکھے سینٹرل ٹیبل پر تھا۔ ۔ ۔ مجھے اپنی بچیوں کی بھی فکر تھی کمرے سے نکل کر جانے کی ہمت نہیں تھی، دل کہ رہا تھا کہ انہیں اٹھا دوں مگر معلوم تھا کہ یہ مزید جھنجھلا جائیں گے اور میری بات کا یقیں نہیں کریں گے۔ ۔ میں دعائیں پڑھتی رہی کہ اس کے علاوہ کچھ کر نہ سکتی تھی۔ نیند نہیں آ رہی تھی ایسا خوف کبھی محسوس نہیں کیا تھا، کبھی روح یا بھوت کو نہیں مانتی تھی۔ ۔ ۔ مگر آج مان رہی تھی کہ کوئی اور طاقت یہاں موجود ہے۔ اچانک مجھے بہت شدید احساس ہوا کہ میری بچیاں تنہا کمرے میں غیر محفوظ ہیں میری آنکھوں سے آنسو رواں ہو گئے لگا حامد اور صبیحہ ہی عقلمند تھے، مجھے لگا اس وقت ہم پر بہت سارے بچوں کی ذمہ داری ہے اور میرے اندر ایک ماں کی ہمت جمع ہونے لگی، اپنے بچوں کے لئے کچھ بھی کر گزرنے کی ہمت۔ ۔ ۔ میں نے کھڑکی کی طرف دیکھا اب وہ ہوا سے ہل رہی تھی، میں نے اپنے خوف پر قابو پانے کا ارادہ کیا، میں خیال کے قوت کی قائل تھی، میں نے یاد کرنے کی کوشش کی کہ میں یہ مانتی ہوں کہ ہمارا ہر فعل اور ہر حرکت محض خیال کا اظہار ہوتا ہے۔ اور ہم میں سے وہی آدمی کامیاب ہوتا ہے جو مخالف خیالات سے پیدا ہونے والے تباہ کن اثرات سے مغلوب نہیں ہوتا، میرا خوف نامعلوم سے ہے مگر مجھے اس وقت اس نامعلوم سے مغلوب نہیں ہونا تھا، میں کھڑکی کے قریب گئی، میں نے کہا تم کون ہو ؟ تم جو بھی ہو اگر ہمارا آنا پسند نہیں تو کل ہم یہاں سے چلے جائیں گے، میرے بچوں کو تنگ مت کرنا۔ ۔ ۔ کوئی جواب نہیں آیا۔ میں نے دھیرے سے کھڑکی کو چھوا اس وقت وہ مجھ سے بند ہو گئی۔ اب میرا دماغ سناٹا محسوس کر رہا تھا نہ ڈر نہ فکر، مائگرین کا اثر بڑھتا ہوا لگا میں نے اپنی دوا کھائی اس بار ٹیبل سے اٹھا کر بوتل بھی لے آئی۔ ۔ میں بستر پر آئی اور ڈائری اور پن اٹھا لیا۔ ۔ ۔ ۔ بستر پر بیٹھ کر میں اس پر کچھ لکھ رہی تھی بہت تیزی سے مگر کیا مجھے نہیں معلوم تھا۔ ۔ ۔ ۔ لکھتے ہوئے سر کا درد تیز ہوتا ہوا محسوس ہوا پھر کچھ یاد نہیں رہا۔ ۔ ۔ دوسرے دن آنکھ کھلی۔ ۔ میرے شوہر اور بچے میرے پاس بیٹھے تھے مجھے آنکھ کھولتا دیکھ کر بہت خوش ہوئے، “کیسی طبیعت ہے اب۔ ۔ ۔ “” مجھے کیا ہوا۔ ۔ ۔ ” سا ری رات اتنا تیز بخار رہا۔ ” بڑی بیٹی نے کہا۔ میرا رات والا خوف زائل ہو چکا تھا، مگر باتیں یاد تھیں ، “تم چل سکوگی ناشتے کے لئے۔ ” یہ پوچھ رہے تھے – ” نہیں میرا یہیں لے آئیں میں ابھی لیٹوں گی “۔ ۔ مجھے کچھ دیر تنہائی کی ضرورت تھی ان لوگوں کے جاتے ہی۔ میں نے ڈائری تلاش کی جو گدے کے نیچے مل گئی، اسے کھول کر دیکھا اور میرے حیرت کی انتہا نہ رہی کہ اس پر ہندی میں کچھ لکھا ہوا تھا جو کہ ہرگز میری تحریر نہ تھی۔ ۔ ۔ میں نے پڑھا۔ ۔ ۔ تم ماں ہو۔ ۔ ۔ مجھے مکتی چاہئے یہاں سے۔ ۔ میری مکتی میں میری ماں کی مکتی ہے۔ ۔ کھڑکی کے باہر دیکھو اور جو نشان نظر آئے اس کی رپورٹ پولس کو دو۔ ۔ ۔ اس کی فکر مت کرنا، کہ تمہاری بات کا سب یقیں کیوں کریں گے یہاں کے لوگ آتما کو بہت مانتے ہیں ، تمہیں کیا بولنا ہے اس کی بھی فکر مت کرنا، جو بولنا ہے میں بولوں گی تمہارے ذریعے۔ آج تم کہیں مت جانا میرا کام آج ہی ختم ہو جائے گا پھر تم آزاد ہو۔ میں نے اس مکتی کے لئے تمہارا پانچ سال انتظار کیا ہے اور اپنی طاقت بہت بڑھا لی ہے، مگر میری مشکل صرف ایک ماں سمجھ سکتی تھی جو تم ہو اور تم سے پہلے کوئی ایسا نہیں آیا۔ ۔ ۔ اس لئے مجھے دھوکا مت دینا ورنہ میری طاقت تخریب میں بھی بدل سکتی ہے۔ میں نے ڈائری بند کر دی میری سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ اب مجھے کیا کرنا ہے، اپنا تماشہ بناؤں یا ضد کر کے یہاں سے نکل لوں ۔ ۔ ۔ مگر کسی نے مجھ سے مدد چاہی ہے، شاید اسی زندہ آنکھوں والی تصویر نے۔ ۔ ۔ اور میں نے مدد کرنے کا دل میں فیصلہ کر لیا۔ ۔ ۔ ناشتے کے بعد سب نے بہت ضد کی بیک واٹر چلنے کی مگر میں نے لائبریری میں رہنے کا اور آرام کا بہا نا کر دیا، بچوں کو تسلی دی کہ کل سے ضرور گھوموں گی، ان کے جاتے ہی میں کھڑکی پر گئی پیچھے کوئی نشان نظر نہ آیا، میں کھڑی رہی اچانک ایک جگہ پتے ہوا میں اڑ کر ڈھیر ہونے لگے اور قبر کی شکل لے لی۔ میں گیٹ تک گئی۔ ۔ چوکیدار سے پولس بلانے کو کہا۔ ۔ ۔ پھر مجھ پر سے میرا اختیار ختم ہو گیا۔ ۔ میں وہاں سے متعلق سارے آفیسر اور انتظامیہ سے ملی اور اس کانفیڈنس سے میں نے بات کی کہ سب حیران تھے کہ ایک دن میں میں نے اتنی تحقیقات کیسے کر لی، میں نے بتایا کہ پانچ سال سے ایک ماں اپنی بچی کے ڈھونڈھ رہی ہے جس کی قبر پیچھے ہے اور پانچ سال پہلے ممبئی سے جو چار لڑکے آیے تھے انہوں نے اس بچی کو گیسٹ ہاؤس کے کنارے والے کمرے میں تین دن تک بند رکھا اور جانے سے پہلے اس کا قتل کر کے پیچھے دفنا گئے اور انتظامیہ بے خبر رہی، تو اب اس کی استھیاں نکلوا کر سمندر کے حوالے کر دی جائے۔ ۔ تاکہ اس کی مکتی ہو اور اس کی ماں کو بھی سکون ملے کیونکہ وہ پاگل نہیں ہے بس بیٹی کے نہ ملنے کا غم ہے زندہ یا مردہ۔ ۔ ۔ ملنے پر وہ ٹھیک ہو جائے گی۔ آلہ قتل کا بھی پتہ بظاہر میں نے ہی بتایا، کسی نے پوچھا کے آپ کو یہ سب کیسے معلوم تو میں نے یہ کھا کہ مجھے اس لڑکی کی آتما نے بتایا اور وہ یہ چاہتی ہے کہ میرے دوستوں اور رشتے داروں کے آنے سے پہلے یہ سا را کم ختم ہونا چاہیے۔ ۔ پولس نے پیچھے کھدائی کروائی۔ ۔ ۔ تو کنکال مل گیا۔ ۔ ۔ انہوں نے اس کی ماں کو بلا کر آخری رسومات ادا کیں اور اس کی ماں نے وہ تصویر اور اس کی ہڈیاں سمندر کے نذر کر دیں ۔ ۔ ۔ پو لس کی ایک ٹیم تشکیل دی گئی ان لڑکوں کو ایرسٹ کروانے کے لئے، اور یہ سارا کام اس تیزی سے ہوا کے جب سارا گروپ لوٹ کر آیا تو یہاں سکون ہی سکون تھا نہ جانے کیوں کسی کی زبان پر دن کی ہلچل کا تذکرہ نہ تھا۔ ۔ دوسری حیرت اس وقت ہوئی جب سب نے آ کر خوش ہو کر یہ بتایا کہ ایک بہترین ٹورسٹ بس کا انتظام ہوا ہے جس سے ہم لوگ کنیا کماری جائیں گے کل علی الصبح۔ ۔ ۔ جلدی جلدی سب نے اپنا سامان رات میں ہی سمیٹا اور میں نے دل ہی دل میں اس پیاری سی لڑکی کو الوداع کہا صبح۔ بس میں بیٹھتے وقت میں نے ایک آخری بار یہاں کے ساحل سمندر پر جانے کی خواہش کی تو بس ادھر لے جائی گئی۔ ہم سب ساحل پر ذرا دیر کو اترے طلوع آفتاب کا حسن سمندر کے حسن کو اور بھی دوبالا کر رہا تھا۔ ۔ ۔ ۔ دل اور روح کی سا ری بالیدگی صاف ہو چکی تھی، خدا کے کنایات کے اسرار وہی جانے، کس کی کس میں مکتی اور موکچھ ہے۔ ۔ ۔ سمندر کے ساحل سے لے کر میرے دل کے اندر تک سکون ہی سکون تھا، لا علمی کا لرزہ خیز ناقابل تصور پھیلاؤ آج بھی موجود تھا۔ ۔ ۔ فرد کے وجود کا نا معلوم، تاریک، بے پایاں ، لامکاں ، بے زماں وسعتوں میں تحلیل ہو کر فنا ہو جانا اس کائنات کا سب سے المناک سانحہ ہے۔ ۔ انسانیطاقتوں کی کم مائے گی اور سراسیمگی کا ادراک بارہا ہوا تھا۔ مگر اس وقت اچانک کچھ ملاح اپنی مختصر سی لکڑی کی ناؤ پر مچھلی والی جا لی رکھ کر اس بے پایاں سمندر میں اترے اور اس خوفناک سمندر کا سینہ چاک کرتے ہوئے ہماری نظروں کے حدود سے دور ہوتے ہوئے ایک نقطے میں تبدیل ہو کر غائب ہو گئے۔ ۔ ۔ اور زبان سے بے ساختہ نکلا جزاک اللہ۔ ۔ ۔ ۔ خدا نے انسان کو حقیر اور کمتر بنا کر بھی ایک ایسی نعمت سے سرفراز کیا ہے کہ وہ کسی بھی طاقت کا سامنا کرنے کے لئے خود کو تیار کر ہی لیتا ہے۔ ۔ ۔ پلٹتے وقت میں نے سمندر کی موجوں کو دیکھا تو یہ خیال کوندھا۔ ۔ ۔ ۔ وہ موج پھر بکھر گئی۔ ۔ ۔ وہ نقش زیر آب ہے۔ ۔ ۔ کبھی کبھی میں اپنی ڈائری کا ورق پلٹ کر اس سادے ورق کو دیکھتی ہوں اور سوچتی ہوں کیا وہ سب میرا تخیل تھا یا حقیقت،یا پھر کوئی خواب جو میں نے تیز بخار کی شدت میں دیکھا۔ ۔ ۔ ۔ جو بھی تھا مگر میری بھوتنی بہت پیاری تھی، جس نے ایک عورت کے اندر کی ماں پر اعتبار کیا تھا-

٭٭٭

 

 

 

 

پرواہ کسے ہے !!!

 

 

تمہارا سب سے بہتر پرزنٹیشن ہونے کے باوجود یہ اسائنمنٹ باس نے منوج کو دے دیا اور اب وہ مزے سے کمپنی کے پیسے پر ناروے گھوم کر آئے گا، آشا کی ساتھی کلیگ نے اسے سنایا تو اس نے لاپرواہی سے کندھے اچکا دئے جیسے کہ رہی ہو۔ ۔ ۔ ” پرواہ کسے ہے -” اس کے بعد اور زیادہ انہماک سے کمپیوٹر پر جھک گئی۔ مگر اب آشا کا ذہن منتشر ہو چکا تھا، یہ صرف گھومنے اور نیا ملک دیکھنے کا فائدہ تو نہیں تھا یہ فائدہ تو معاشی بحران سے باہر نکلنے کا بھی تھا۔ مگر “پرواہ کسے ہے !” جیسا چھوٹا سا جملہ اس کا تکیہ کلام بن چکا تھا –اپنی زندگی میں ہر مشکل سے جوجھتے وقت وہ پرواہ کسے ہے کا گدا گھماتی اور منھ چڑھاتے ہر سوال کو آن کی آن میں زمین بوس کر دیتی۔ وہ جانتی تھی کہ ایسے کسی موقعے کا فائدہ وہ اپنی ضعیف ماں اور چھوٹے بچوں کی وجہ سے نہیں اٹھا سکتی تھی دن بھر آفس کی مصروفیت میں وہ اس بات کو بھول گئی۔ مگر شام میں گھر کے لئے نکلتے وقت جب وہ آٹو رکشہ میں بیٹھ رہی تھی منوج نے اپنی کار اس کے پاس روکی-

” آپ کو چھوڑ دوں ؟”

“نہیں مجھے راستے میں کچھ اور بھی کام ہے، بائی دی وے کانگریچولیشن! ”

“تھینکس۔ ۔ اٹس آل بیکاز آف یو –” وہ مسکراتے ہوئے کار آگے بڑھا لے گیا۔

اور وہ یہ سوچے بغیر نہ رہ سکی کہ اگر وہ بھی منوج کی طرح سارے موقعے کا فائدہ اٹھا پاتی تو آج تک کرائے کے آٹو میں سواری نہ کرتی۔ اسے یاد آیا بچپن سے اس کی بیباک، آزادانہ فطرت اور اس کی خود اعتمادی، اس کی ذہانت کو صبر کی آنچ دکھا کر اور تربیت نام کے ہتھوڑے سے ضرب لگا لگا کراس کی شخصیت کو ایک خاص سانچے میں ڈھال دیا گیا تھا-

اپنی گلی کے نکڑ پر اترتے ہوئے اسے یاد آیا کہ ماں کی دوا لینی ہے دوا لے کر مڑی تو سامنے پھل والے کی ریڑھی سے اپنے بچوں کے لئے پھل خریدتے ہوئے چند ندیدی آنکھوں اور خالی پیٹ والے بچوں کو اپنی طرف گھورتے پایا، ان آنکھوں میں نہ جانے کیا تھا کہ وہ پرواہ کسے ہے والے انداز میں کندھے نہ اچکا پائی مگر تیز تیز قدم اٹھاتی گلی میں داخل ہو گئی۔ ۔ ۔ گلی میں کچھ اوباش قسم کے لڑکے غول کی شکل میں ادھر ادھر کھڑے تھے اور اب بھوکی نظریں پھل کی تھیلی پر نہیں اس پر تھیں ۔ ۔ وہ بے نیازی دکھاتی سب سے بچتے بچاتے گھر میں داخل ہوئی اور باہر کی ساری فکر بھول گئی۔ ۔ ۔ اب ایک نیا محاذ سامنے تھا۔ ۔ کام والی نہیں آئی تھی، وہ پرس پھینک کر مشین کی طرح کام میں لگ گئی، مگر ماں کی مسلسل بڑبڑاہٹ اسے غصہ دلانے لگی۔ جب سوتے وقت وہ ماں کو دوا کھلانے آئی تو وہ پھر بولی۔

” کتنی بار کہا بائی بدل لے، تو نے کچھ کھایا بھی کہ نہیں ؟۔ ۔ ۔ اور پربھات کو فون تو کر اتنی دیر ہو گئی لگتا ہے پھر دوستوں کے ساتھ کہیں محفل جما کر بیٹھا ہو گا بیوی بچوں کی فکر ہی نہیں ، آخر کب آئے گا ؟ ”

“اوہ تو پرواہ کسے ہے ؟؟؟، سب ہو گیا نا۔ ۔ ۔ اب سو جاؤ۔ ۔ ۔ ” وہ جھلا کر بولی اور اپنے کمرے میں آ کر لیٹ گئی۔ ۔ ۔ ہر بات پر پرواہ کسے ہے کا گردان کرنے والی کا تکیہ آنسوؤں سے بھیگ گیا۔

٭٭٭

 

 

 

 

نئی عبارت

 

(میٹا فکشن )

(سبین محمود کو خراج عقیدت )

 

حادثے زندگی کا رخ ہمیشہ مخالف سمت میں موڑ دیتے ہیں ۔ ۔ ۔ میری خود فریبی کے سارے منصوبے کچھ سازشوں کی طرح مجھ پر ایک حادثے نے عیاں کر دئے اور میری بے خواب راتیں طویل ہو گئیں ، اور میں کھنڈر کی طرح ویران۔ ۔ کیونکہ میں اس اکیسویں صدی کی ایسی ماں ہوں جو اپنی بیٹی کے خون ناحق کے چھینٹے اس معاشرے کے چہرے پر دیکھ کر بیشمار سوالوں سے گھری اپنے اندرون میں جھانک رہی ہے۔ ۔ ۔ کچھ ایسے سوالوں کا جواب تلاش کر نے کے لئے جو میری سوچ کو متزلزل کر کے میرے دماغ کو چٹخا نے لگتی ہے، جس نے اپنی بیٹی کو یہ سکھایا تھا کہ وہ حیوان اور سامان بن کر زندگی نہ گزارے، اسے یہ سکھایا تھا کہ وہ ایک وجود ہے اور جس دن وہ خود اس وجود کی ذمہ داری قبول کر لے گی اس دن اس کی سا ری مشکل آسان ہو جائے گی۔ اور وہ میری امید سے زیادہ ایسی شخصیت بن گئی کہ مجھے اس پر فخر ہونے لگا، کچلی اور دبی ہوئی انسانیت کی بقا ہی اس کی زندگی کا نصب العین تھا، ۔ میں اکثر سوچنے پر مجبور ہو جاتی کہ وہ اسی لئے خاص بن گئی تھی کیونکہ اسے اپنی شخصیت کی پہچان اور قدر تھی وہ اپنی صلاحیت اور ہمت سے ایک ایسا آفتاب تھی جس سے کئی چاند روشن ہو رہے تھے۔ شروع میں میں اس مغالطے میں رہی کہ میں نے اسے اس عہد کی بناوٹی احتیاط پسندی سے آزاد کر کے نڈر بنا دیا ہے، مگر دھیرے دھیرے اس نے میری یہ غلط فہمی دور کر دی – وہ نڈر تھی اور بہادر تھی کیونکہ وہ حسیں خواب بنتی تھی اور ان کی تعبیریں ڈھونڈھتی تھی، وہ ایک عورت تھی اور اس کا سب سے حسیں پہلو اس کا محبت بھرا دل تھا، جبکہ میں اس کی راہ میں حائل تمام مشکلات سے ڈرنے لگی تھی میں نے گھر کے پنجرے میں اسے کبھی قید نہ کیا مگر ہمارا معاشرہ طرح طرح کی بندشیں لے کر اس کی راہ میں حائل ہونے لگا پھر بھی وہ بے کسوں اور بے زبانوں کی آواز بن گئی اور اس نے دبی کچلی آوازوں کو سہا را دینا بند نہ کیا۔ مجھے نظر آ رہا تھا کہ اس کی محبتوں کی اس رہگزر پر بڑی گھاتیں تھیں ۔ ۔ میں اسے اب اس ڈگر سے واپس نہ لا سکتی تھی کیونکہ۔ اس کو میں نے خود غرض اور خود پرست نہ بنایا تھا، اسے اب اس کا پورا ادراک تھا کہ زنانہ آزادی کا مطلب یہ ہے کہ اسے اپنی ذات سے متعلقہ تمام امور میں مرد کے شانہ بشانہ پورے مساوات کے ساتھ کام کرنے موقع ملے – اور شخصیت اس طبیعت کا نام ہے جسے بننے میں صدیاں لگتی ہیں نسلیں کھپ جاتی ہیں ۔ اسلئے وہ جان گئی تھی کہ اس کی شخصیت کے بنیادی عناصر، معنویت، سوچ، یقیں ، برداشت اور صبر سب کچھ مرد شخصیت سے قطعی مختلف ہے۔ ۔ ۔ ۔ یہ الگ بات ہے کہ زیادہ تر لوگ جن میں عورتیں بھی شامل ہوتی ہیں اس اختلاف کو ظاہری خط و خال میں دیکھنے کے عادی ہوتے ہیں مگر وہ جانتی تھی کہ۔ ایک عورت کی حیثیت سے یہ اختلاف معاشرتی مقام کا، اس کی اپنی قدر و قیمت کا اور شخصیتوں کا ہوتا ہے۔ جسے وہ خود بنا یا بگاڑ سکتی ہے، اور اس کی وہ شخصیت اتنی مضبوط ہو کر ابھری کہ مفاد پرستوں کی راہ میں نہ جانے کیسے پہاڑ کی طرح حائل ہو گئی اور عورت کو کمزور کہنے والے اس سے خائف ہو گئے۔ اور میری بیٹی کے خون ناحق سے اپنے چہرے کو داغدار کر لیا اور یہی داغ اس معاشرے کو جواب ہے کہ تم ایسے کتنے ہی کالے کارنامے انجام دو ہم ہر داغ کو شعلہ بنا کر اس میں تمہاری  انا کو بھسم کر دیں گے۔ اور اسی خون سے وہ ایک نئی عبا رت کو نئے انداز میں سماج کی پیشانی پر کندہ کر گئی ہے اسے تم کبھی مٹا نہ پاؤ گے اور ایک کی جگہ دس اور سبین پیدا ہو جائیں گی۔ ۔ میں جانتی ہوں میری بیٹی صرف سوچ کی مجرم تھی کیونکہ اس نے اپنی ہستی مٹا کر یہ ثابت کر دیا کہ آج کی عورت ذلت کی خاک اپنے سر پر ڈالنے کو تیار نہیں ہے اوراکیسویں صدی کی تختی سے اب مرد مجاہد اور جوان مرد جیسے لفظ مٹا دو کہ اب تم عورتوں اور بچوں پر دھوکے سے وار کرتے ہو۔ تم اپنے چہروں کو نقابوں میں چھپا کر بھاگتے رہو کیونکہ معاشرے کو بنانے اور سنوارنے کے لئے سبین جیسی بیٹیاں پیدا ہونے لگی ہیں اور میری جیسی مائیں فخر سے انہیں اس نیک عمل کے راستے پر قربان کر کے خود کھنڈ ہر کی طرح ویران ہونے کے لئے تیار بیٹھی ہیں ۔

٭٭٭

تشکر: مصنفہ جنہوں نے اس کی فائل فراہم کی

تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید