FavoriteLoadingپسندیدہ کتابوں میں شامل کریں

 

پت جھڑ

 

 

گلزار کی نظمیں

 

 

                جمع و ترتیب: حسنین حیدر

 

 

 

 

 

مکمل نظم

 

نظم اُلجھی ہوئی ہے سینے میں

شعر اٹکے ہوئے ہیں ہونٹوں پر

لفظ کاغذ پہ بیٹھتے ہی نہیں

اُڑتے پھرتے ہیں تتلیوں کی طرح

کب سے بیٹھا ہوا ہوں میں جانم

سادہ کاغذ پہ لکھ کے نام ترا

بس ترا نام ہی مکمل ہے

اس سے بہتر بھی نظم کیا ہوگی !

٭٭٭

 

 

 

 

عادتاً ہی

 

سانس لینا بھی کیسی عادت ہے

جیئے جانا بھی کیا روایت ہے

کوئی آہٹ نہیں بدن میں کہیں

کو ئی سایہ نہیں ہے آنکھوں میں

پاؤں بے حس ہیں چلتے جاتے ہیں

اِک سفر ہے جو بہتا رہتا ہے

کتنے برسوں سے کتنی صدیوں سے

سانس لیتے ہیں، جیتے رہتے ہیں

عادتیں بھی عجیب ہو تی ہیں

٭٭٭

 

 

 

 

 

رُخصت

 

جیسے جھنّا کے چٹخ جائے کسی ساز کا تار

جیسے ریشم کی کسی ڈور سے انگلی کٹ جائے

ایسے اِک ضرب سی پڑتی ہے کہیں سینے میں

کھینچ کر توڑنی پڑ جاتی ہے جب تجھ سے نظر

تیرے جانے کی گھڑی ، سخت گھڑی ہے جاناں !

٭٭٭

 

 

 

 

دِل ڈھونڈتا ہے

 

دِل ڈھونڈتا ہے پھر وہی فُرصت کے رات دن

جاڑوں کی نرم دھوپ اور آنگن میں لیٹ کر

آنکھوں پہ کھینچ کر ترے آنچل کے سائے کو

اوندھے پڑے رہیں، کبھی کروٹ لئے ہوئے

یا گرمیوں کی رات کو پُروائی جب چلے

بستر پہ لیٹے دیر تلک جاگتے رہیں

تاروں کو دیکھتے رہیں چھت پر پڑے ہوئے

برفیلے موسموں کی کسی سرد رات میں

جا کر اسی پہاڑ کے پہلو میں بیٹھ کر

وادی میں گونجتی ہوئی خاموشیاں سنیں

دِل ڈھونڈتا ہے پھر وہی فُرصت کے رات دن

٭٭٭

 

 

 

 

اس موڑ سے

 

اس موڑ سے جاتے ہیں کچھ سست قدم رستے ، کچھ تیز قدم راہیں

پتھر کی حویلی کو شیشے کے گھروندوں میں ، تِنکوں کے نشیمن تک

صحرا کی طرف جا کر اِک راہ بگولوں میں کھو جاتی ہے چکرا کر

رُک رُک کے جھجکتی سی

اِک موت کی ٹھنڈی سی وادی میں اُتری ہے

اِک راہ اُدھڑتی سی ، چھلتی ہو ئی کانٹوں سے جنگل سے گزرتی ہے

اِک دوڑ کے جاتی ہے اور کود کے گرتی ہے انجان خلاؤں میں

اِ س موڑ پہ بیٹھا ہوں جس موڑ سے جاتی ہیں ہر ایک طرف راہیں

اِک روز تو یوں ہو گا اس موڑ پر آ کر تم ،

رُک جا ؤ گی کہہ دو گی

وہ کون سا راستہ ہے

٭٭٭

 

 

 

چھوڑ آئے ہم وہ گلیاں

 

چھوڑ آئے ہم وہ گلیاں

جہاں ترے پیروں کے

کنول کھلا کرتے تھے

ہنسے تو دو گالوں میں

بھنور پڑا کر تے تھے

تری کمر کے بل پر

ندی مڑا کرتی تھی

ہنسی تری سُن سُن کر

فصل پکا کرتی تھی

جہاں تری ایڑی سے

دھُوپ اُڑا کرتی تھی

سنا ہے اس چوکھٹ پر

اب شام رہا کرتی ہے

دِل دَرد کا ٹکڑا ہے

پتھر کی کلی سی ہے

اِک اندھا کنواں ہے یا

اِک بند گلی سی ہے

اِک چھوٹا سا لمحہ ہے

جو ختم نہیں ہوتا

مَیں لاکھ جلا تا ہوں

یہ بھسم نہیں ہوتا

٭٭٭

 

 

 

فراق

 

وہ شب جس کو تم نے گلے سے لگا کر

مقدس لبوں کی حسیں لوریوں میں

سُلایا تھا سینے پہ ہر روز

لمبی کہانی سنا کر

وہ شب جس کی عادت بگاڑی تھی تم نے

وہ شب آج بستر پہ اوندھی پڑی رو رہی ہے

٭٭٭

 

 

 

 

 

آئینہ

 

یہ آئینہ بولنے لگا ہے

مَیں جب گزرتا ہوں سیڑھیوں سے

یہ باتیں کرتا ہے……. آتے جاتے میں پوچھتا ہوں

” کہاں گئی وہ پھتوئی تیری

یہ کوٹ نکٹائی تجھ پہ پھبتی نہیں ، یہ مصنوعی لگ رہی ہے !”

یہ میری صورت پہ نکتہ چینی تو ایسے کرتا ہے جیسے مَیں اس کا

عکس ہوں اور وہ جائزہ لے رہا ہے میرا

” تمہارا ماتھا کشادہ ہونے لگا ہے لیکن

تمہارے اَبرو سکڑ رہے ہیں

تمہاری آنکھوں کا فاصلہ کمتا جا رہا ہے

تمہارے ماتھے کی بیچ والی شکن بہت گہری ہوئی ہے!”

کبھی کبھی بے تکلفی سے بُلا کے کہتا ہے طیار بھو لو

تم اپنے دفتر کی میز کی داہنی طرف کی دراز میں رکھ کے

بھول آئے ہو مسکراہٹ

جہاں پہ پوشیدہ ایک فائل رکھی تھی تم نے

وہ مسکراہٹ بھی اپنے ہونٹوں پہ چسپاں کر لو

اس آئینے کو پلٹ کے دیوار کی طرف بھی لگا چکا ہوں

یہ چپ تو ہو جاتا ہے مگر پھر بھی دیکھتا ہے

یہ آئینہ دیکھتا بہت ہے

یہ آئینہ بولتا بہت ہے

٭٭٭

 

 

 

 

اِک نظم

 

یہ راہ بہت آسان نہیں

جس راہ پہ ہاتھ چھڑا کر تم

یوں تن تنہا چل نکلی ہو!

اس خوف سے شاید، راہ بھٹک جاؤ نہ کہیں

ہو موڑ پہ میں نے نظم کھڑی کر رکھی ہے !

تھک جاؤ اگر

اور تم کو ضرورت پڑ جائے

اک نظم کی اُنگلی تھام کے واپس آ جانا

٭٭٭

 

 

 

 

 

رات

 

مری دہلیز پر بیٹھی ہوئی زانوں پہ سر رکھے

یہ شب افسوس کرنے آئی ہے کہ میرے گھر پہ

آج ہی جو مرگیا ہے دن

وہ دن ہمزاد تھا اس کا !

وہ آئی ہے کہ میرے گھر میں اس کو دفن کر کے

ایک دیا دہلیز پر رکھ کر

نشانی چھوڑ دے کہ محو ہے یہ قبر

اس میں دوسرا آ کر نہیں لیٹے

مَیں شب کو کیسے بتلاؤں

بہت دن مرے آنگن میں یوں آدھے ادھورے سے

کفن اوڑھے پڑے ہیں کتنے سالوں سے

جنہیں مَیں آج تک دفنا نہیں پایا

٭٭٭

 

 

 

 

سکیچ

 

یاد ہے اِک دن

میرے میز پہ بیٹھے بیٹھے

سگریٹ کی ڈبیہ پر تم نے

چھوٹے سے اِک پودے کا

ایک سکیچ بنایا تھا

آ کر دیکھو

اس پودے پر پھول آیا ہے

٭٭٭

 

 

 

 

خواب کی دستک

 

صبح صبح اِک خواب کی دستک پر دروازہ کھولا، دیکھا

سرحد کے اُس پار کچھ مہمان آئے ہیں

آنکھوں سے مانوس تھے سارے

چہرے سارے سُنے سنائے

پاؤں دھوئے ، ہاتھ دھُلائے

آنگن میں آسن لگوائے

اور تنور پہ مکی کے کچھ موٹے موٹے روٹ پکائے

پوٹلی میں مہمان مِرے

پچھلے سالوں کی فصلوں کا گڑ لائے تھے

آنکھ کھلی تو دیکھا گر میں کوئی نہیں تھا

ہاتھ لگا کر دیکھا تو تنور ابھی تک بُجھا نہیں تھا

اور ہو نٹوں پر میٹھے گڑ کا ذائقہ اب تک چپک رہا تھا

خواب تھا شاید

خواب ہی ہو گا

سرحد پر کل رات، سُنا ہے، چلی تھی گو لی

سرحد پر کل رات، سُنا ہے

کچھ خوابوں کا خون ہوا تھا

٭٭٭

 

 

 

انجل

 

نیند کی چادر چیر کے باہر نکلا تھا میں

آدھی رات اِک فون بجا تھا………

دُور کسی موہوم سرے سے

اِک انجان آواز نے چھو کر پوچھا تھا :

” آپ ہی وہ شاعر ہیں جس نے

اپنی کچھ نظمیں سوناں کے نام لکھی ہیں ؟

میرا نام بھی سوناں ہو تو؟”

اِک پتلی سی جھلی جیسی خاموشی کا لمبا وقفہ

“میرے نام ایک نظم لکھو نا

مجھ کو اپنے اِک چھوٹے سے شعر میں سِی دو،

انجل لکھنا

شاید میری آخری شب ہے

آخری خواہش ہے ، میں آپ کو سونپ کے جاؤں ؟”

فون بُجھا کر

دھجی دھجی نیند میں پھر جا لیٹا تھا میں!

اس کے بہت دنوں کے بعد مجھے معلوم ہوا تھا

دَرد سے دَرد بُجھانے کی اِک کوشش میں تم،

کینسر کی اُس آگ پہ میر ی نظمیں چھڑکا کرتی تھیں

نیند بھری وہ رات کبھی یاد آئے تو،

اب بھی ایسا ہوتا ہے

ایک دھُواں سا آنکھوں میں بھر جا تا ہے

٭٭٭

 

 

 

 

ریشم کا یہ شاعر

 

توت کی شاخ پہ بیٹھا کوئی

بُنتا ہے ریشم کے تاگے

لمحہ لمحہ کھول رہا ہے

پتہ پتہ بین رہا ہے

اِک اِک سانس کو کھول کے اپنے تن پر لپٹاتا جاتا ہے

اپنی ہی سانسوں کا قیدی

ریشم کا یہ شاعر اِک دن

اپنے ہی تاگوں میں گھٹ کر مر جائے گا

٭٭٭

 

 

 

 

 

کاش اِک بار

 

رات چپ چاپ دَبے پاؤں چلی جاتی ہے

صرف خاموش ہے، روتی نہیں، ہنستی بھی نہیں

کانچ کا نیلا سا گنبد بھی اُڑا جاتا ہے

خالی خالی کوئی بجرا سا بہا جاتا ہے

چاند کی کرنوں میں وہ روز سا ریشم بھی نہیں

چاند کی چکنی ڈلی ہے کہ گھلی جاتی ہے

اور سناٹوں کی اِک دھُول اُڑی  جاری ہے

کاش اِک بار کبھی نیند سے اُٹھ کر تم بھی

ہجر کی راتوں میں یہ دیکھو تو کیا ہوتا ہے

٭٭٭

 

رُوح دیکھی ہے کبھی؟

 

رُوح دیکھی ہے؟

کبھی رُوح کو محسوس کیا ہے؟

جاگتے جیتے ہوئے دُودھیا کہرے سے لپٹ کر

سانس لیتے ہوئے اُس کہرے کو محسوس کیا ہے ؟

یا شکارے میں کسی جھیل پہ جب رات بسر ہو

اور پانی کے چھپاکوں میں بجا کر تی ہیں ٹلّیاں

سُبکیاں لیتی ہواؤں کے کبھی بَین سُنے ہیں ؟

چودھویں رات کے برفاب سے اس چاند کو جب

ڈھیر سے سائے پکڑنے کے لیے بھاگتے ہیں

تم نے ساحل پہ کھڑے ہو کے کبھی

ماں کی گہناتی ہوئی کوکھ کو محسوس کیا ہے ؟

جسم سو بار جلے تب بھی وہی مٹی ہے

رُوح اِک بار جلے گی تو وہ کندن ہوگی

رُوح دیکھی ہے ؟ کبھی رُوح کو محسوس کیا ہے ؟

٭٭٭

 

 

 

 

 

بسیرا

 

دِل میں ایسے ٹھہر گئے ہیں غم

جیسے جنگل میں شام کے سائے

جاتے جاتے سہم کے رُک جائیں

مڑ کے دیکھیں اُداس راہوں پر

کیسے بجھتے ہوئے اُجالوں میں

دُور دھُول دھُول اُڑتی ہے

٭٭٭

 

 

 

 

 

طوائف

 

کھیت کے سبزے میں بے سُدھ سی پڑی ہے دُبکی

ایک پگڈنڈی کی کچلی ہوئی اَدھ مُوئی سی لا ش

تیز قدموں کے تلے دَرد سے کُرلاتی ہوئی

دو کناروں پر جواں سِٹّوں کے چہرے تک کر

چپ سی رہ جاتی ہے یہ سوچ کے بس

یہ مری کو کھ کچل دیتے نہ رہگیر اگر

میر ے بیٹے بھی جواں ہو گئے ہو تے اب تک

میری بیٹی بھی تو اب شادی کے قابل ہوتی

٭٭٭

 

 

 

 

تیری آواز

 

نیلے نیلے سے شب کے گنبد میں

تان پورہ ملا رہا ہے کوئی!

ایک شفاف کانچ  کا دریا!

جب چھلک جاتا ہے کنارے سے

دیر تک گونجتا ہے کانوں میں

پلکیں جھپکا کے تکتی ہیں شمعیں

اور فانوس گنگناتے ہیں

جیسے بِلّور کی رواں بوندیں

میں نے مندروں کی طرح کانوں میں

تیری آواز پہن رکھی ہے

٭٭٭

 

 

 

 

احتیاط

 

دیکھو آہستہ چلو

اور بھی آہستہ چلو

دیکھنا سوچ سمجھ کر ذرا پاؤں رکھنا

زور سے بج نہ اُٹھے پیروں کی آواز کہیں

کانچ کے خواب ہیں بکھرے ہوئے تنہائی میں

خواب ٹوٹا تو کوئی جاگ نہ جائے دیکھا

کو ئی جاگا تو وہیں خواب بھی مر جائے گا

٭٭٭

 

 

 

 

 

فیصلہ

 

تمہارے غم کی ڈلی اُٹھا کر

زباں پہ رکھ لی ہے دیکھو میں نے

میں قطرہ قطرہ ہی جی رہا ہوں

پگھل پگھل کر گلے سے اُترے گا آخری قطرہ دَرد کا جب

میں سانس کی آخری گرہ کو بھی کھول دوں گا

کہ دَرد ہی دَرد کی مجھے تو

دُعا ملی اپنی زندگی سے

٭٭٭

 

 

 

 

سود در سود

 

اتنی مہلت کہاں کہ گھنٹوں سے

سر اُٹھا کر فلک کو دیکھ سکوں

اپنے ٹکڑے اُٹھاؤں دانتوں سے

ذرہ ذرہ کریدتا جاؤں

چھیلتا جاؤں ریت سے افشاں

وقت بیٹھا ہوا ہے گردن پر

توڑتا  جا رہا ہے ٹکڑوں میں

زندگی دے کے بھی نہیں چکتے

زندگی کے جو قرض دینے ہیں

٭٭٭

 

 

 

 

 

انتظار

 

ٹھہرے ٹھہرے سے شانت ساگر میں

پھولے پھولے سے باد بانوں نے

اپنے بوجھل اُداس سینوں میں

سانس بھر بھر کے تھام رکھی ہے

آج ساحل پہ گر پڑا ہے سکوت

آج پانی پہ رُک گئی ہے صبا

ٹھہری ٹھہری ہے زندگی ساری

تجھ سے ملنے کا انتظار سا ہے

٭٭٭

 

 

 

 

 

 

بوچھاڑ

 

میں کچھ کچھ بھو لتا جاتا ہوں اب تجھ کو

ترا چہرہ بھی دھُندلا نے لگا ہے اب تخیل میں

بدلنے لگ گیا ہے اب وہ صبح و شام کا معمول جس میں

تجھ سے ملنے کا بھی اِک معمول شامل تھا

تیرے خط آتے رہتے تھے تو مجھ کو یاد رہتے تھے تری آواز کے سُر بھی

تری آواز کو کاغذ پہ رکھ کے ، میں نے چاہا تھا کہ “پن” کر لوں

و ہ جیسے تتلیوں کے پَر لگا لیتا ہے کوئی اپنی البم میں

ترا “ب”  کو دبا کر بات کرنا “واؤ”  پر ہونٹوں کا چھلا گول

ہو کر گھوم جاتا تھا

بہت دن ہو گئے دکھا نہیں، نہ خط ملا کوئی

بہت دن ہو گئے سچی

تری آواز کی بوچھاڑ میں بھیگا نہیں ہوں میں

٭٭٭

 

 

 

 

دونوں

 

دیر تک بیٹھے ہوئے دونوں نے بارش دیکھی

وہ دکھا تی تھی مجھے بجلی کے تاروں پہ لٹکتی ہوئی بوندیں

جو تعاقب میں تھیں اِک دوسرے کے

اور اِک دوسرے کو چھوتے ہی تاروں سے ٹپک جاتی تھیں

مجھ کو یہ فکر کہ بجلی کا کرنٹ

چھو گیا ننگی کسی تار سے تو آگ کے لگ جانے کا باعث ہو گا

اس نے کاغذ کی کئی کشتیاں پانی پر اُتار یں

اور یہ کہہ کے بہا دیں کہ سمند ر میں ملیں گے

مجھ کو یہ فکر کہ اس بار بھی سیلا ب کا پانی

کو د کے اُترے گا کہسار سے جب

توڑ کے لے جائے گا یہ کچے کنارے !

اوک میں بھر کے وہ برسات کا پانی

اَدھ بھر ی جھیلوں کو ترساتی رہی

اور بہت چھوٹی تھی ، کمسن تھی ، وہ معصوم بہت تھی

آبشاروں کے ترنم پہ قدم رکھتی تھی اور گونجتی تھی

اور میں عمر کے افکار میں گم

تجربے ہمراہ لئے

ساتھ ہی ساتھ میں بہتا ہوا، چلتا ہوا، بہتا گیا

٭٭٭

 

 

 

 

 

 

بیمار یاد

 

اِک یاد بڑی بیمار تھی کل

کل ساری رات اُس کے ماتھے پر

برف سے ٹھنڈے چاند کی پٹی رَکھ رَکھ کر

اِک اِک بوند دِلا سا دے کر

از حد کو شش کی اس کو زندہ رکھنے کی

پو پھٹنے سے پہلے لیکن

آخری ہچکی لے کر وہ خاموش ہوئی

٭٭٭

 

 

 

 

 

مون سون

 

بارش آتی ہے تو پانی کو بھی لگ جاتے ہیں پاؤں

دَرو دِیوار سے ٹکرا کے گزرتا ہے گلی سے

اور اُچھلتا ہے چھپاکوں میں

کسی میچ میں جیتے ہوئے لڑکوں کی طرح

جیت کر آتے ہیں جب میچ گلی کے لڑکے

جو تے پہنے ہوئے کینوس کے

اُچھلتے ہوئے گیندوں کی طرح

درو دیوار سے ٹکرا کے گزرتے ہیں

وہ پانی کے چھپاکوں کی طرح …….. !

٭٭٭

 

 

 

 

 

چاند گھر

 

کتنا عرصہ ہوا کو ئی اُمید جلائے

کتنی مدت ہوئی کسی قندیل پہ جلتی روشنی رکھے

چلتے پھرتے اِس سنسان حویلی میں

تنہائی سے ٹھوکر کھا کے

کتنی بار گرا ہوں میں

چاند اگر نکلے تو اب اس گھر میں روشنی ہوتی ہے

ورنہ اندھیرا رہتا ہے !

٭٭٭

 

 

 

 

انکشاف

 

نام سوچا نہ تھا کبھی اپنا

جو بھی یوں جس کسی کے جی آیا

اس نے ویسے ہی بس پُکار لیا

تم نے اِک موڑ پر اچانک جب

مجھ کو گلزار کہہ کے دی آواز

اِک سیپی سے کھل گیا موتی

مجھ کو اِک معنی مل گئے جیسے

اب مرا نام خوبصورت ہے

پھر سے اس نام سے بُلا ؤ تو!

٭٭٭

 

 

 

 

کھنڈر

 

میں کھنڈروں کی زمیں پر کب سے بھٹک رہا ہوں

قدیم راتوں کی ٹوٹی قبروں پر میلے کتبے

دلوں کی ٹوٹی ہوئی صلیبیں گری پڑی ہیں

شفق کی ٹھنڈی چھاؤں سے راکھ اُڑ رہی ہے

جگہ جگہ گرز وقت کے چور ہو گئے

جگہ جگہ ڈھیر ہو گئیں ہیں عظیم صدیاں

 

میں کھنڈروں کی زمیں پر کب سے بھٹک رہا ہوں

یہیں مقدس ہتھیلیوں سے گری ہے مہندی

دیوں کی ٹوٹی ہوئی لویں زنگ کھا گئی ہیں

یہیں پہ ہاتھوں کی روشنی جل کے بُجھ گئی ہے

سپاٹ چہروں کے خالی پنے کھُلے ہوئے ہیں

حروف آنکھوں کے مٹ چکے ہیں

 

میں کھنڈروں کی زمیں پر کب سے بھٹک رہا ہوں

یہیں کہیں

زندگی کے معنی گرے ہیں اور گِر کے

کھو گئے ہیں

٭٭٭

 

 

 

 

بُڑھیا رے

 

بُڑھیا رے ترے ساتھ تو میں نے

جینے کی ہر شے بانٹی ہے

 

دانہ پانی، کپڑا لتّا، نیندیں اور جگراتے سارے

اولادوں کے جننے سے بسنے تک اور بچھڑنے تک

عمر کا ہر حصہ بانٹا ہے

تیرے ساتھ جدائی بانٹی، روٹھ، صلاح تنہائی بھی

ساری کارستانیاں بانٹیں، جھوٹ بھی سچ بھی

میرے درد سہے ہیں تُو نے

تیری ساری پیڑیں میرے پیروں سے ہو کر گزری ہیں

ساتھ جیے ہیں

ساتھ مریں

یہ کیسے ممکن ہو سکتا ہے

دونوں میں سے ایک کو اِک دن

دوجے کو شمشان پہ چھوڑ کر

تنہا واپس لوٹنا ہوگا

 

بُڑھیا رے!

٭٭٭

 

 

 

 

 

ریڈ

 

سرد موسم میں یہ برفیلی بلا خیز ہوائیں

گھر کی دیواروں میں سوراخ بہت ہیں

اور ہوا گھسی ہے سوراخوں سے یوں سیٹی بجاتی

جس طرح ریڈ میں آتے ہیں حوالدار تلاشی لینے

تیز سنگینیں چبھوتے ہوئے دھمکاتے ہوئے

٭٭٭

 

 

 

 

 

معنی کا عذاب

 

چوک سے چل کر، منڈی اور بازار سے ہو کر

لال گلی سے گزری ہے کاغذ کی کشتی

بارش کے لا وارث پانی پر بیٹھی بیچاری کشتی

شہر کی آوارہ گلیوں میں سہمی سہمی گھوم رہی ہے

پوچھ رہی ہے

ہر کشتی کا ساحل ہوتا ہے تو کیا میرا بھی کوئی ساحل ہوگا

 

بھولے بھالے اک بچے نے

بے معنی کو معنی دے کر

ردی کے کاغذ پر کیسا ظلم کیا ہے

٭٭٭

 

 

 

 

 

کرید

 

جی چاہے کہ

پتھر مار کے سورج ٹکڑے ٹکڑے کر دوں

سارے فلک پر بکھرا دوں ‌اس کانچ کے ٹکڑے

جی چاہے کہ

لمبی ایک کمند بنا کر

دور افق پر ہُک لگاؤں

کھینچ کے چادر چیر دوں ساری

جھانک کے دیکھوں پیچھے کیا ہے

شاید کوئی اور فلک ہو!

٭٭٭

 

 

 

 

 

اعتراف

 

مجھ کو بھی ترکیب سکھا کوئی یار جلاہے!

اکثر تجھ کو دیکھا ہے کہ تانا بنتے

جب کوئی تاگا ٹوٹ گیا یا ختم ہوا

پھر سے باندھ کے

اور سرا کوئی جوڑ کے اس میں

آگے بننے لگتے ہو

تیرے اس تانے میں لیکن

اک بھی گانٹھ گرہ بُنتر کی

کوئی دیکھ نہیں سکتا ہے

میں نے تو اک بار بُنا تھا ایک ہی رشتہ

لیکن اس کی ساری گرہیں

صاف نظر آتی ہیں میرے یار جلاہے!

٭٭٭

 

 

 

 

 

نٹ کھٹ

 

گیلی گیلی سی دھوپ کے گچھّے

ٹھنڈی ٹھنڈی سی آگ کی لپٹیں

سرخ چمکیلا گُل مہر کا پیڑ

 

نیم تاریک بند کمرے سے

جب بھی دروازہ کھول کر نکلوں

سرخ چمکیلی دھوپ کا چھینٹا

ایسے لگتا ہے آنکھ پر آ کر

جیسے چنچل شریر اِک بچّہ

چوری چوری کواڑ سے کودے

“ہاہ” کہہ کر ڈرائے اور ہنس دے

٭٭٭

 

 

 

 

 

پت جھڑ

 

جب جب پت جھڑ میں پیڑوں سے پیلے پیلے

پتے میرے لان میں آ کر گرتے ہیں

رات کو چھت پر جا کر میں

آکاش کو تکتا رہتا ہوں

لگتا ہے کمزور سا پیلا چاند بھی

پیپل کئے سوکھے پتے سا

لہراتا لہراتا میرے لان میں آ کر اترے گا

٭٭٭

 

 

 

 

 

عادتیں

 

سانس لینا بھی کیسی عادت ہے

جیے جانا بھی کیا روایت ہے

کوئی آہٹ نہیں بدن میں کہیں

کوئی سایہ نہیں ہے آنکھوں میں

پاؤں بے حس ہیں، چلتے جاتے ہیں

اک سفر ہے جو بہتا رہتا ہے

کتنے برسوں سے، کتنی صدیوں سے

جیے جاتے ہیں، جیے جاتے ہیں

عادتیں بھی عجیب ہوتی ہیں

٭٭٭

ماخذ:

http://raikhtablog.blogspot.com/2015/03/blog-post_54.html

تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید