FavoriteLoadingپسندیدہ کتابوں میں شامل کریں

 

 

فہرست مضامین

میاں بیوی کے حقوق اور اسلام

 

 

 

                جمع و ترتیب: اعجاز عبید

 

 

 

 

اسلام میں میاں بیوی کے حقوق

 

 

                احتشام الحق سلفی

 

 

والدین کے بعدانسان کا جو سب سے قریبی تعلق قائم ہوتا ہے وہ زوجین کا تعلق ہے۔ ایک مرد کا ایک عورت سے اور ایک عورت کا ایک مرد سے ازدواجی رشتے کی بنیاد پر محبت و الفت کا اٹوٹ رشتہ قائم ہوتا ہے۔ قرآن نے اس رشتہ کو قدرتی نشانیوں میں شمار کیا ہے:﴾ ومن آیاتہ ان خلق لکم من انفسکم ازواجا لتسکنوا الیھا وجعل بینکم مودة ورحمة ان فی ذلک لآیات لقوم یتفکرون﴿ (ترجمہ):”اللہ تعالی کی نشانیوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ اس نے تمہارے لیے تمہاری ہی جنس سے جوڑے پیدا کئے۔ تاکہ تم ان کے ذریعے سکون حاصل کرو اور تمہارے درمیان محبت اور رحمت رکھ دی۔ بے شک اس میں بہت سی نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو غورو فکر کرتے ہیں۔”

اسلام میں اس رشتے کی بنیاد انتہائی پائیدار ہے۔ اس کے لیے مرد و عورت دونوں پر ذمہ داریاں اور ایک دوسرے پر دونوں کے جائز حقوق متعین کئے گئے ہیں جن سے خاندان کی بنیاد مضبوط ہوتی ہے اور معاشرہ میں امن وسکون کا ماحول پیدا ہوتا ہے۔

 

                بیوی کے حقوق

 

اسلام نے بیوی کو درج ذیل حقوق عطا کیے ہیں :

 

(۱)    حسن معاشرت: اس میں ہر وہ برتاؤ شامل ہے جو ایک عورت کے لیے ذہنی سکون کا باعث ہے۔ اسلام شوہر کو یہ حکم دیتا ہے کہ وہ اپنی بیوی کے ساتھ حسن معاشرت کا برتاؤ کرے۔ اللہ تعالی فرماتا ہے:﴾وعاشروھن بالمعروف فان کرھتموھن فعسی ان تکرھوا شیئا ویجعل اللہ فیہ خیرا کثیرا﴿ (ترجمہ) “ان کے ساتھ معروف کے مطابق زندگی گزارو۔ اگر تم ان کو ناپسند کرتے ہو تو یہ بھی ہوسکتا ہے کہ تم ایک چیز کو ناپسند کرو اور اللہ نے اس میں بڑی بھلائی رکھی ہو۔ ”

 

حسن معاشرت کے لیے ضروری ہے کہ بیوی کے احترام انسانیت کو ملحوظ رکھا جائے، ان کے لیے لباس، رہائش، کھانے پینے،علاج و معالجہ میں، دوستوں اور رشتہ داروں سے تعلقات قائم رکھنے میں وہی پسند کیا جائے جو شوہر اپنے لیے پسند کرے۔ حسن معاشرت کا مفہوم بڑ اوسیع ہے۔مولانا جلال الدین عمری اپنی کتاب اسلام کا عائلی نظام میں لکھتے ہیں : “….بیوی کے ساتھ اس کی معاشرت ’معروف ‘ کے مطابق ہونی چاہیے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ اس کے حقوق ٹھیک ٹھیک ادا کیے جائیں اور اس کی جائز اور معقول ضروریات پوری کی جائیں۔ اس کے ساتھ ناروا سلوک نہ کیا جائے، بلکہ پیار اور محبت کا برتاؤ کیا جائے۔ ترش روئی اور سخت کلامی سے اجتناب کیا جائے۔ یہ سب باتیں معروف میں آتی ہیں۔ اس کے خلاف جو رویہ اختیار کیا جائے گا وہ غیر معروف اور منکر ہو گا۔”

حسن معاشرت میں یہ بھی داخل ہے کہ بیوی اپنے والدین کے ساتھ اچھے تعلقات قائم رکھے، ان سے ملنا جلنا باقی رکھے، اس کے لیے شوہر کی جانب سے اسے حق ہے کہ وہ ان فرائض کو بجا لائے،نیز اپنی ملکیت سے با اختیار طور پراور شوہر کی ملکیت سے اجازت لے کر والدین کی مالی امداد بھی کر سکتی ہے اور اگر والدین محتاج ہوں تو اس کی ہمدردی کے سب سے زیادہ حقدار خود اس کے والدین ہی ہیں۔

(۲) تر بیت: اسلام ہر مرد پر یہ ذمہ داری عائد کرتا ہے کہ جس طرح وہ اپنی بیوی کے مصالح دنیوی کا خیال رکھے اسی طرح اس کے اخروی مصالح کا بھی پورا پورا انتظام کرے۔ اگر اس کی تربیت میں کسی طرح کی کمی رہ گئی ہے تو مرد اس کی تربیت کرے تاکہ وہ دنیا میں ایک اچھی زندگی گزار سکے۔

(۳) عدل ومساوات:اسلام نے ایک مرد کو چار شادی تک کرنے کی اجازت دی ہے۔ لیکن اس شرط کے ساتھ کہ ان کے درمیان عدل ومساوات سے کام لے۔ ہر ایک کے حقوق برابر ادا کرے۔ اخراجات اور دیگر ضروریات کی ادائیگی اور تعلق میں کسی قسم کے امتیازی سلوک سے کام نہ لے۔ اگر شوہر ان کے درمیان عدل سے کام نہیں لیتا ہے تو بیوی کو حق ہے کہ وہ اس حق کی پامالی کے خلاف دعوی دائر کرے۔

(۴) مالی حقوق: اسلام عورت کو بیوی کی حیثیت سے کئی ذرائع سے مالی حق عطا کرتا ہے۔ اس کا سب سے پہلا مالی حق مہر ہے۔ جو شادی کے بعد اسے سب سے پہلے حاصل ہوتا ہے۔ مہر کی مقدار متعین نہیں ہے۔ یہ عورت اور اس کے ولی کا اختیار ہے کہ وہ شادی کے لیے جتنے پر رضامند ہو جائیں۔ البتہ یہ ملکیت ولی کو حاصل نہیں ہو گی۔ نہ شوہر کو یہ حق ہے کہ اس کی اس ملکیت یا کسی اور ملکیت میں دست درازی کر کے اسے بے اختیار کر دے۔

اسلام نے عورت کو معاشی تگ و دو سے آزاد رکھا ہے۔ یہ مرد کی ذمہ داری ہے کہ اس کا نان و نفقہ، رہائش اور دیگر لازمی ضروریات کو پوری کرے۔ بلکہ مرد کو عورت پر جو ایک درجہ فضیلت ہے اس کی وجہ یہ بھی ہے کہ مرد اس جوکھم کو بر داشت کرتا ہے۔

شوہر کی زندگی میں اسے جہاں مہر نفقہ اور رہائش کی شکل میں مالی حق حاصل ہے اسی طرح اسلام شوہر کی وفات کے بعد بھی اس کی زندگی کو غیر محفوظ صورت حال میں نہیں رکھتا ہے بلکہ شوہر کی چھوڑی ہوئی جائیداد سے اسے ترکہ کی شکل میں مالی حق عطا کرتا ہے اس کے علاوہ اولاد کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ والدین کے نفقہ کو واجبی طور پر پورا کریں۔

(۵)خلع:    اسلام پر اکثر یہ اعتراض عائد ہوتا ہے کہ اسلام مردوں کو تو یہ اختیار دیتا ہے کہ وہ جب تک چاہیں عورت کو اپنی زوجیت میں رکھیں اور جب چاہیں اسے طلاق دے دیں۔ حالانکہ یہ بات بھی درست نہیں ہے کہ مرد جب چاہے طلاق دے دے۔ لیکن جس طرح اسلام مرد کو یہ اختیار دیتا ہے کہ وہ عورت سے نباہ نہ ہونے کی صورت میں اسے طلاق دے دے، اسی طرح عورت کو بھی یہ حق حاصل ہے کہ اگر نباہ کی صورت نہیں ہے اور مرد اسے چھوڑنے کے لیے راضی بھی نہیں ہے تو عدالت میں دعوی کر کے قاضی کے ذریعہ نکاح کو فسخ کرالے۔

 

                شوہر کے حقوق

 

(۱)اطاعت: اسلام نے عورت کو شوہر کا مطیع و فرمانبردار بننے کا حکم دیا ہے اور اس کی نافرمانی سے روکا ہے۔ نافرمان عورت کے لیے سخت وعید سنائی ہے۔ البتہ اگر شوہر کا حکم شریعت کے احکام سے متصادم ہو تو شریعت کا حکم شوہر کے حکم سے برترسمجھاجائے گا۔ شوہر کا حکم ٹھکرا دیا جائے گا اور شریعت کی پیروی کی جائے گی۔ شوہر کا حق ہے کہ بیوی اس کی اطاعت و فرمانبرداری کرے۔

(۲) قلبی طمانیت اور ذہنی سکون:   بیوی کو اللہ نے سکون کا ذریعہ بنایا ہے۔ اس لیے عورت کا یہ فرض ہے کہ وہ مرد کے لیے ایسا ماحول فراہم کرے جس میں اس کو ذہنی سکون اور قلبی طمانیت حاصل ہو۔ شوہر کو ذہنی سکون تب حاصل ہو گا جب بیوی اس کی پسندیدگی وناپسندیدگی کا لحاظ رکھے۔ اس کے غائبانہ میں گھر میں ایسے شخص کو نہ آنے دے جسے وہ ناپسند کرتا ہے۔ گھر کو اس طرح سے منظم رکھے جیسی اس کی خواہش ہے اور جہاں تک شریعت کی طرف سے حکم امتناعی نہیں ہے لباس و پوشاک اور جسم و چال ڈھال میں زیبائش اختیار کرے تاکہ اس کا شوہر اس کو دیکھے تو خوش ہو جائے۔ اس کے گھر اور املاک کی حفاظت کرے، اس میں کسی طرح کی خیانت سے کام نہ لے۔ البتہ گھر کے نفقہ میں شوہر بخل سے کام لیتا ہو یا گھر کی لازمی اور بنیادی ضرورتیں پوری نہ ہوتی ہوں تو اسی قدر استعمال کرے جتنی ضرورت ہو۔ نیز شوہر کی قلبی طمانیت اور ذہنی سکون کے لیے اس کے والدین کی نگہداشت اور ان کی ضرورت کی تکمیل میں بیوی کو شوہر کا ہر ممکن تعاون کرنا چاہیے۔

(۳) بچوں کی پرورش و پرداخت: معاش کی ذمہ اسلام نے مردوں پر رکھی ہے۔ عورت کو گھر کی ملکہ اور ذمہ دار بنایا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ بچوں کی پرورش و پرداخت میں شوہر کا تعاون کرے۔ ایام شیر خوارگی میں اس کو دودھ پلائے۔ اس کی دیکھ ریکھ کرے۔ بڑے ہوں تو اس کی اچھی تربیت کرے۔ اس کو کھلائے پلائے، صاف صفائی کا خیال رکھے اور پڑھنے لکھنے میں اس کی توجہ مبذول کرائے۔

(۴) طلاق: اسلام ازدواجی رشتہ کو گھٹن کی حالت میں باقی نہیں رکھنا چاہتا ہے جس سے انسانی جان خطرے میں پڑ جائے۔ ایسی صورت کے پیدا ہونے اور بناؤ کی کوئی صورت نہ رہنے پر اسلام یہ اجازت دیتا ہے کہ رشتہ ختم کرکے سکون و اطمینان کی زندگی اختیار کر لی جائے اور نئے سرے سے دونوں افراد اپنی زندگی بسالیں۔ اس کے لیے اسلام نے شوہر کو طلاق کا حق عطا کیا ہے۔ لیکن اسے حلال چیزوں میں سب سے ناپسندیدہ شے شمار کیا ہے۔ اس کا استعمال اس صورت میں ہے جب بناؤ کی صورت باقی نہ رہے۔ پھر اس کا جو طریقہ بتایا ہے اس میں اس کی گنجائش پیدا کی ہے کہ انسان اگر اس اقدام پر مجبور ہو تو اقدام کرنے کے بعد اور قطعی فیصلہ سے قبل دونوں کو اس ازدواجی زندگی کی قدر کا احساس ہوسکے۔

(۵) ترکہ میں حصہ:جس طرح ایک عورت کو شوہر کی وفات کے بعد شوہر کی جائیداد سے مالی حق حاصل ہوتا ہے اسی طرح ایک مرد کو اس کی بیوی کی جائیداد سے اس کی وفات کے بعد مالی حق ملتا ہے۔

 

                زوجین کے باہمی حقوق

 

وظیفہ زوجیت:ازدواجی تعلق انسان کی ایک لازمی خواہش جنسی خواہش کی تسکین کا ذریعہ ہے۔ شادی کے بعد ایک عورت کا حق ہے کہ اس کی جنسی خواہش کی تکمیل کی جائے۔ مرد اگراس حق کو ادا کرنے کا اہل نہیں ہے تو اسلام عورت کو یہ اختیار دیتا ہے کہ وہ اس سے اپنا رشتہ ختم کر لے۔ کیونکہ اسلام میں عصمت کی پامالی دین کی پامالی ہے۔ اسلام آزادانہ جنسی تسکین کا قائل نہیں ہے۔ کسی مرد کی زوجیت میں رہتے ہوئے کوئی عورت آزادانہ جنسی تعلق نہیں قائم کرسکتی ہے بھلے ہی وہ اس کی تکمیل سے عاجز ہو یا اس کی ادائیگی نہ کرتا ہو۔ اسلام نے اس سلسلے میں سخت تاکید کی ہے۔نبی ا نے فرمایا : ان لربک علیک حقا، ولزوجک علیک حقا ولاھلک علیک حقا فاعط کل ذی حق حقہ “بے شک تیرے رب کا تجھ پر حق ہے، تیرے زوج کا تجھ پر حق ہے اور تیرے اہل کا تجھ پر حق ہے پس ہر حقدار کو اس کا حق ادا کرو۔”

جس طرح بیوی کا یہ حق ہے کہ شوہر کی جنسی خواہش کی تسکین کرے، اسی طرح شوہر کا بھی یہ حق ہے کہ بیوی اس کی جنسی خواہش کی تسکین کے لیے تیار رہے۔شوہر کی اس خواہش کو ٹھکرا دینا یا اس سے انکار کرنا اسلام میں ممنوع ہے کیونکہ ایسی صورت میں ایک انسان فتنہ میں مبتلا ہوسکتا ہے اور اس کی عصمت پامال ہوسکتی ہے اور اسلام کے نزدیک عصمت کی اہمیت انسانی جان کے برابر ہے۔ شادی شدہ شخص کے ذریعہ اس کی پامالی کی سزا سنگساری یعنی موت ہے۔

بچے کی پیدائش :جیسا کہ اوپر مذکور ہوا کہ شادی جنسی تسکین اور افزائش نسل کا جائز ذریعہ ہے۔ یہ کہا جا سکتا ہے کہ اللہ تعالی نے جنسی خواہش ودیعت ہی اس لیے کی ہے کہ دنیا میں انسانی نسل کی بقا اور ارتقا کا عمل جاری رہے۔ اس کا ذریعہ شادی کو بنا یا گیا ہے۔ پھر یہ کہ انسان کے اندر اولاد کی فطری خواہش پائی جاتی ہے۔ اس لیے بچے کی پیدائش بیوی اور شوہر دونوں کا حق ہے۔ دونوں میں سے کسی کو یہ اختیار نہیں ہے کہ وہ اس خواہش کا انکار کرے۔ خواہ اولاد کی تعداد کتنی ہی کیوں نہ ہو۔ اولاد اللہ کی نعمتوں میں ایک ایسی نعمت ہے جو انسان کی نسل کو اس کے بعد باقی رکھتی ہے۔ اس طرح بچے کی پیدائش کی خواہش بھی زوجین کا باہمی حق ہے۔ جدید تعلیم، سرکاری اشتہارات اور بنیادی وجوہات کو غلط رنگ دے کر بڑھتی ہوئی عالمی آبادی سے پیدا ہونے والے مسائل کی رپورٹوں کی وجہ سے مسلم گھرانوں میں بھی ایسے خیالات جڑ پکڑ چکے ہیں کہ چھوٹا گھرانا سکھی اور خوشحال ہوتا ہے۔ ظاہر ی طور پر چھوٹے گھرانوں میں مسائل کم پیدا ہوتے نظر آتے ہیں اس سے وقتی طور پر ایسے خیالات میں قدرے صداقت بھی نظر آنے لگتی ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ بھی زندگی اور اس کے مسائل سے فرار کی ایک راہ ہے۔

لیکن بچوں کی پیدائش کے لیے کسی غیر فطری طریقہ کو اختیار نہیں کیا جا سکتا ہے۔ مثلاً اگر نا اہل ہو تو کسی دوسرے کا مادہ منویہ مستعار لے کر بیوی کی رحم میں طبی طریقے سے ڈال کر بچے کی افزائش کرنا۔ اسی طرح عورت بانجھ ہو تو مرد اپنے مادہ منویہ کو کسی دوسری عورت کے رحم میں ڈال کر بچے کی افزائش کرے۔ اسلام حرمت نسب کا خاص خیال رکھتا ہے۔ اور ایسے دروازوں کو بند رکھنا چاہتا ہے جو فساد کا باعث ہیں۔ اس طرح سے بچوں کی پیدائش سے جہاں نسب کا اختلاط ہوتا ہے وہیں ترکہ کی تقسیم میں فساد کا باعث ہے۔

 

 

                زوجین کے حقوق و فرائض

 

اَلرِّجَالُ قَوّٰمُوْنَ عَلَی النِّسَآء بِمَا فَضَّلَ اللّٰہُ بَعْضَھُمْ عَلٰی بَعْضٍ وَّبِمَآ اَنْفَقُوْا مِنْ اَمْوَالِھِمْ، فَالصّٰلِحٰتُ قٰنِتٰتٌ حٰفِظٰتٌ لِّلْغَیْبِ بِمَا حَفِظَ اللّٰہُ، وَالّٰتِیْ تَخَافُوْنَ نُشُوْزَھُنَّ فَعِظُوْھُنَّ وَاھْجُرُوْھُنَّ فِی الْمَضَاجِعِ وَاضْرِبُوْھُنَّ، فَاِنْ اَطَعْنَکُمْ فَلَا تَبْغُوْا عَلَیْھِنَّ سَبِیْلاً، اِنَّ اللّٰہَ کَانَ عَلِیًّا کَبِیْرًا. ﴿النساء ۴ : ۴۳﴾

’’مرد عورتوں پر قوام ہیں، اِس لیے کہ اللہ نے ایک کو دوسرے پر فضیلت دی ہے، اور اِس لیے کہ مرد اپنا مال خرچ کرتے ہیں۔ پھر جو نیک عورتیں ہیں، وہ فرماں بردار ہوتی ہیں، رازوں کی حفاظت کرتی ہیں، اِس بنا پر کہ اللہ نے بھی رازوں کی حفاظت کی ہے۔ اور جن سے تمھیں سرکشی کا اندیشہ ہو، اُنھیں نصیحت کرو، اور اُن کے بستروں میں اُنھیں تنہا چھوڑ دو اور ﴿اِس پر بھی نہ مانیں تو﴾ اُنھیں سزا دو۔ پھر اگر وہ اطاعت کریں تو اُن پر الزام کی راہ نہ ڈھونڈو۔ بے شک، اللہ بہت بلند ہے، وہ بہت بڑا ہے۔‘‘

اِس آیت سے اوپر کے پیرے میں اللہ تعالیٰ نے یہ حقیقت واضح فرمائی ہے کہ انسان کے لیے جدوجہد اور مسابقت کا اصلی میدان اُس کی خلقی صفات نہیں ہیں، اِس لیے کہ خلقی صفات کے لحاظ سے بعض کو بعض پر فی الواقع ترجیح حاصل ہے۔ اللہ تعالیٰ نے کسی کو ذہنی، کسی کو جسمانی، کسی کو معاشی اور کسی کو معاشرتی برتری کے ساتھ پیدا کیا اور دوسروں کو اُس کے مقابلے میں کم تر رکھا ہے۔ مردو عورت کا معاملہ بھی یہی ہے۔ اِن میں زوجین کا تعلق ایک کو فاعل اور دوسرے کو منفعل بنا کر پیدا کیا گیا ہے۔ ہر شخص جانتا ہے کہ فعلیت جس طرح غلبہ، شدت اور تحکم چاہتی ہے، انفعالیت اِسی طرح نرمی، نزاکت اور اثر پذیری کا تقاضا کرتی ہے۔ اِس لحاظ سے دیکھیے تو اِن میں سے ہر ایک کو دوسرے پر برتری حاصل ہے۔ یہ اِن کی خلقی صفات ہیں۔ اِن میں اگر مسابقت اور تنافس کا رویہ اختیار کیا جائے گا تو یہ فطرت کے خلاف جنگ ہو گی جس کا نتیجہ اِس کے سوا کچھ نہیں نکل سکتا کہ بالآخر دونوں اپنی بربادی کا ماتم کرنے کے لیے باقی رہ جائیں۔

اللہ تعالیٰ نے بتایا ہے کہ اِس کے مقابلے میں ایک دوسرا میدان بھی ہے اور وہ اکتسابی صفات کا میدان ہے۔ یہ نیکی، تقویٰ، عبادت، ریاضت اور علم و اخلاق کا میدان ہے۔ قرآن نے اِس کے لیے جگہ جگہ ایمان اور عمل صالح کی جامع تعبیر اختیار فرمائی ہے۔ مسابقت اور تنافس کا میدان درحقیقت یہی ہے۔ اِس میں بڑھنے کے لیے کسی پر کوئی پابندی نہیں، بلکہ مسابقت اِس میدان میں اتنی ہی محمود ہے، جتنی خلقی صفات کے میدان میں مذموم ہے۔ مرد بڑھے تو اُسے بھی اپنی جدوجہد کا پھل ملے گا اور عورت بڑھے تو وہ بھی اپنی تگ و دو کا ثمرہ پائے گی۔ بانو، باندی، آزاد، غلام، شریف، وضیع، خوب صورت، بدصورت اور بینا و نابینا، سب کے لیے یہ میدان یکساں کھلا ہوا ہے۔ دوسروں پر فضیلت کی خواہش ہو تو انسان کو اِس میدان میں خدا کا فضل تلاش کرنے کے لیے نکلنا چاہیے۔ اپنی محنت غلط میدان میں برباد کرنے سے لاحاصل تصادم اور بے فائدہ تنازعات کے سوا کچھ بھی حاصل نہیں ہوتا۔ حوصلہ آزمانے اور ارمان نکالنے کے لیے صحیح میدان یہ ہے۔ جس کو اترنا ہو، وہ اِس میدان میں اترے۔ ارشاد فرمایا ہے:

وَلَا تَتَمَنَّوْا مَا فَضَّلَ اللّٰہُ بِہٰ بَعْضَکُمْ عَلٰی بَعْضٍ، لِلرِّجَالِ نَصِیْبٌ مِّمَّا اکْتَسَبُوْا وَلِلنِّسَآء نَصِیْبٌ مِّمَّا اکْتَسَبْنَ، وَسْئَلُوا اللّٰہَ مِنْ فَضْلِہٰ، اِنَّ اللّٰہَ کَانَ بِکُلِّ شَیْء عَلِیْمًا.﴿النساء ۴ : ۲۳﴾

’’اور جس چیز میں اللہ نے ایک کو دوسرے پر فضیلت دی ہے، اُس کی تمنا نہ کرو۔ جو کچھ مردوں نے کمایا ہے، اُن کو بھی اُس میں سے حصہ ملے گا اور جو کچھ عورتوں نے کمایا ہے، وہ بھی اُس میں سے اپنا حصہ پائیں گی۔ ہاں، اللہ سے اُس کا فضل چاہو، یقیناً اللہ ہر چیز کو جانتا ہے۔‘‘

اِسی ہدایت کو رہنما اصول قرار دے کر اللہ تعالیٰ نے آیۂ زیر بحث میں خاندان کی تنظیم کے لیے اپنا قانون بیان فرمایا ہے۔ خاندان کا ادارہ بھی، اگر غور کیجیے تو ایک چھوٹی سی ریاست ہے۔ جس طرح ہر ریاست اپنے قیام و بقا کے لیے ایک سربراہ کا تقاضا کرتی ہے، اِسی طرح یہ ریاست بھی ایک سربراہ کا تقاضا کرتی ہے۔ سربراہی کا مقام اِس ریاست میں مرد کو بھی دیا جا سکتا تھا اور عورت کو بھی۔ قرآن نے بتایا ہے کہ یہ مرد کو دیا گیا ہے۔ آیت میں اِس کے لیے ’قَوَّامُوْنَ عَلَی النِّسَآءِ‘ کی تعبیر اختیار کی گئی ہے۔ عربی زبان میں ’قام‘ کے بعد ’علی‘ آتا ہے تو اِس میں حفاظت، نگرانی، تولیت اور کفالت کا مضمون پیدا ہو جاتا ہے۔ سربراہی کی حقیقت یہی ہے اور اِس میں یہ سب چیزیں لازم و ملزوم ہیں۔ اپنے اِس فیصلے کے حق میں قرآن نے دو دلیلیں دی ہیں۔ استاذ امام اِن کی وضاحت میں لکھتے ہیں :

’’ایک یہ کہ اللہ تعالیٰ نے مرد کو عورت پر فضیلت بخشی ہے۔ مرد کو بعض صفات میں عورت پر نمایاں تفوق حاصل ہے جس کی بنا پر وہی سزاوار ہے کہ قوامیت کی ذمہ داری اُسی پر ڈالی جائے۔مثلاً محافظت و مدافعت کی جو قوت و صلاحیت یا کمانے اور ہاتھ پاؤں مارنے کی جو استعداد و ہمت اُس کے اندر ہے، وہ عورت کے اندر نہیں ہے۔ یہ امر ملحوظ رہے کہ یہاں زیر بحث کلی فضیلت نہیں ہے، بلکہ صرف وہ فضیلت ہے جو مرد کی قوامیت کے استحقاق کو ثابت کرتی ہے۔ بعض دوسرے پہلو عورت کی فضیلت کے بھی ہیں، لیکن اُن کو قوامیت سے تعلق نہیں ہے۔ مثلاً عورت گھر در سنبھالنے اور بچوں کی پرورش و نگہداشت کی جو صلاحیت رکھتی ہے، وہ مرد نہیں رکھتا۔اِسی وجہ سے قرآن نے یہاں بات ابہام کے انداز میں فرمائی ہے جس سے مرد اور عورت، دونوں کا کسی نہ کسی پہلو سے صاحب فضیلت ہونا نکلتا ہے، ۲۱ لیکن قوامیت کے پہلو سے مرد ہی کی فضیلت کا پہلو راجح ہے۔

دوسری یہ کہ مرد نے عورت پر اپنا مال خرچ کیا ہے۔ یعنی بیوی بچوں کی معاشی اور کفالتی ذمہ داری تمام اپنے سر اٹھائی ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ ذمہ داری مرد نے اتفاقیہ یا تبرعاً نہیں اٹھائی ہے، بلکہ اِس وجہ سے اٹھائی ہے کہ یہ ذمہ داری اُسی کے اٹھانے کی ہے۔ وہی اِس کی صلاحیتیں رکھتا ہے اور وہی اِس کا حق ادا کر سکتا ہے۔ ‘‘ ﴿تدبر قرآن ۲/۱۹۲﴾

میاں اور بیوی کے تعلق میں شوہر کو قوام قرار دینے کے بعد خاندان کے نظم کو صلاح و فلاح کے ساتھ قائم رکھنے کے لیے عورتوں سے جس چیز کا تقاضا کیا گیا ہے، وہ یہ ہے :

۱۔ اُنھیں اپنے شوہر کے ساتھ موافقت اور فرماں برداری کا رویہ اختیار کرنا چاہیے۔

۲۔ شوہر کے رازوں اور اُ س کی عزت و ناموس کی حفاظت کرنی چاہیے۔

پہلی بات تو محتاج وضاحت نہیں، اِس لیے کہ نظم خواہ ریاست کا ہو یا کسی ادارے کا،اطاعت اور موافقت کے بغیر ایک دن کے لیے بھی قائم نہیں رہ سکتا۔ یہ نظم کی فطرت ہے۔ اِسے نہ مانا جائے تو وہ نظم نہیں،بلکہ اختلال و انتشار ہو گا جس کے ساتھ کوئی ادارہ بھی وجود میں نہیں آتا۔

رہی دوسری بات تو اِس کے لیے قرآن نے ’حٰفِظٰتٌ لِّلْغَیْبِ‘ کی تعبیر اختیار کی ہے۔ عام طور پر اِس کے معنی پیٹھ پیچھے کی حفاظت کے لیے گئے ہیں۔ ہم نے اِسے رازوں کی حفاظت کرنے والی کے معنی میں لیا ہے۔ اِس کا یہی مفہوم ہمارے نزدیک صحیح ہے۔ استاذ امام امین احسن اصلاحی نے اِس کی وضاحت میں لکھا ہے :

’’…یہ معنی لینے کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ ’غیب‘ کا لفظ راز کے مفہوم کے لیے مشہور ہے۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ یہاں ترکیب کلام ایسی ہے کہ پیٹھ پیچھے کے معنی لینے کی گنجایش نہیں۔ تیسری یہ کہ عورت اور مرد کے درمیان رازوں کی امانت داری کا مسئلہ سب سے زیادہ اہمیت رکھنے والا مسئلہ ہے۔ یہ دونوں ایک دوسرے کے قدرتی امین ہیں۔ بالخصوص عورت کا مرتبہ تو یہ ہے کہ وہ مرد کے عیوب و محاسن، اُس کے گھر در، اُس کے اموال و املاک اور اُس کی عزت و ناموس، ہر چیز کی ایسی راز دان ہے کہ اگر وہ اُس کا پردہ چاک کرنے پر آ جائے تو مرد بالکل ہی ننگا ہو کر رہ جائے۔ اِس وجہ سے قرآن نے اِس صفت کا خاص طور پر ذکر فرمایا۔ اِس کے ساتھ ’حَفِظَ اللّٰہُ‘ کا جو اضافہ ہے، اُس سے اِس صفت کی عالی نسبی کا اظہار مقصود ہے کہ اُن کی اِس صفت پر خدا کی صفت کا ایک پرتو ہے، اِس لیے کہ خدا نے بھی اپنے بندوں اور بندیوں کے رازوں کی حفاظت فرمائی ہے۔ ورنہ وہ لوگوں کا پردہ چاک کرنے پر آ جاتا تو کون ہے جو کہیں منہ دکھانے کے قابل رہ جاتا۔‘‘ ﴿تدبر قرآن ۲/۲۹۲﴾

قرآن نے فرمایا ہے کہ صالح بیویوں کا رویہ ہمیشہ یہی ہوتا ہے۔ اِس سے یہ بات آپ سے آپ نکلی کہ جو عورتیں سرکشی اور تمرد اختیار کریں یا گھر کے راز دوسروں پر افشا کرتی پھریں،وہ خدا کی نگاہ میں ہرگز صالحات نہیں ہیں۔

لیکن کوئی عورت اگر اِس طرح کی سرکشی پر اتر ہی آئے تو مرد کیا اُس کی تادیب کر سکتا ہے ؟ قرآن نے اِس کا جواب اثبات میں دیا ہے۔ آیۂ زیر بحث میں اِس سرکشی کے لیے ’نشوز‘ کا لفظ آیا ہے۔ اِس کے معنی سر اٹھانے کے ہیں، مگر اِس کا زیادہ استعمال اُس سرکشی اور شوریدہ سری کے لیے ہوتا ہے جو کسی عورت کی طرف سے اُس کے شوہر کے مقابل میں ظاہر ہو۔ یہ لفظ عورت کی ہر کوتاہی، غفلت یا بے پروائی یا اپنے ذوق اور رائے اور اپنی شخصیت کے اظہار کی فطری خواہش کے لیے نہیں بولا جاتا، بلکہ اُس رویے کے لیے بولا جاتا ہے، جب وہ شوہر کی قوامیت کو چیلنج کر کے گھر کے نظام کو بالکل تلپٹ کر دینے پر آمادہ نظر آتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ معاملہ یہاں تک پہنچ رہا ہو تو مرد اپنا گھر بچانے کے لیے تین صورتیں اختیار کر سکتا ہے۔

پہلی یہ کہ عورت کو نصیحت کی جائے۔ آیت میں اِس کے لیے ’وعظ‘ کا لفظ ہے جس کے معنی یہ ہیں کہ اِس میں کسی حد تک زجر و توبیخ بھی ہو سکتی ہے۔

دوسری یہ کہ اُس سے بے تکلفانہ قسم کا خلا ملا ترک کرد یا جائے تاکہ اُسے اندازہ ہو کہ اُس نے اپنا رویہ نہ بدلا تو اِس کے نتائج غیر معمولی ہو سکتے ہیں۔

تیسری یہ کہ عورت کو جسمانی سزا دی جائے۔ یہ سزا، ظاہر ہے کہ اتنی ہی ہو سکتی ہے جتنی کوئی معلم اپنے زیر تربیت شاگردوں کو یا کوئی باپ اپنی اولاد کو دیتا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اِس کی حد ’غیر مبرح‘ کے الفاظ سے متعین فرمائی ہے۔ اِس کے معنی یہ ہیں کہ ایسی سزا نہ دی جائے جو کوئی پایدار اثر چھوڑے۔

آیت کے انداز بیان سے واضح ہے کہ اِن تینوں میں ترتیب و تدریج ملحوظ ہے۔ یعنی پہلی کے بعد دوسری اور دوسری کے بعد تیسری صورت اُسی وقت اختیار کرنی چاہیے، جب آدمی مطمئن ہو جائے کہ بات نہیں بنی اور اگلا قدم اٹھانے کے سوا چارہ نہیں رہا۔ مرد کے تادیبی اختیارات کی یہ آخری حد ہے۔ قرآن نے فرمایا ہے کہ اگر اِس سے اصلاح ہو جائے تو عورت کے خلاف انتقام کی راہیں نہیں ڈھونڈنی چاہییں۔ چنانچہ ’اِنَّ اللّٰہَ کَانَ عَلِیًّا کَبِیْرًا‘ کے الفاظ میں تنبیہ کی گئی ہے کہ سب سے بلند اور سب سے بڑا خدا ہے۔ وہ جب آسمان و زمین کا مالک ہو کر بندوں کی سرکشی سے درگذر فرماتا ہے اور توبہ و اصلاح کے بعد نافرمانیوں کو معاف کر دیتا ہے تو اُس کے بندوں کو بھی دوسروں پر اختیار پا کر اپنے حدود سے تجاوز نہیں کرنا چاہیے۔

٭٭٭

ماخذ:

http://www.misbahmagazine.com/archives/1226

 

 

 

 

زوجین کے حقوق

 

 

                جاوید احمد غامدی

 

 

یٰآَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا، لَا یَحِلُّ لَکُمْ اَنْ تَرِثُوا النِّسَآء کَرْھًا وَلَا تَعْضُلُوْھُنَّ لِتَذْھَبُوْا بِبَعْضِ مَآ اٰتَیْتُمُوْھُنَّ اِلَّآ اَنْ یَّاْتِیْنَ بِفَاحِشَۃٍ مُّبَیِّنَۃٍ وَعَاشِرُوْھُنَّ بِالْمَعْرُوْفِ، فَاِنْ کَرِھْتُمُوْھُنَّ فَعَسٰٓی اَنْ تَکْرَھُوْا شَیْئًا وَّیَجْعَلَ اللّٰہُ فِیْہِ خَیْرًا کَثِیْرًا.﴿النساء ۴ :۹۱﴾ ’’ایمان والو، تمھارے لیے جائز نہیں کہ زبردستی عورتوں کے وارث بن جاؤ اور نہ یہ جائز ہے کہ جو کچھ اُنھیں دیا ہے، اُس کا کچھ حصہ واپس لینے کے لیے اُ نھیں تنگ کرو۔ ہاں، اُس صورت میں کہ وہ کسی کھلی ہوئی بدکاری کا ارتکاب کریں۔ اور اُن سے بھلے طریقے کا برتاؤ کرو، اِس لیے کہ تمھیں وہ پسند نہیں ہیں تو ہو سکتا ہے کہ تم کوئی چیز ناپسند کرو اور اللہ اُسی میں تمھارے لیے بہت بڑی بہتری پیدا کر دے۔ ‘‘

یہ عورتوں کے حقوق اور اُن سے متعلق صحیح رویے کا بیان ہے۔

پہلی بات یہ فرمائی ہے کہ عورتیں کوئی مال مواشی نہیں ہیں کہ جس کو میراث میں ملیں، وہ اُنھیں لے جا کر اپنے باڑے میں باندھ لے۔ اُن کی حیثیت ایک آزاد ہستی کی ہے۔ وہ اپنی مرضی کی مالک ہیں اور حدود الٰہی کے اندر اپنے فیصلے کرنے کے لیے پوری طرح آزاد ہیں۔ اِس ہدایت کی ضرورت اِس لیے پیش آئی کہ عرب جاہلیت کے بعض طبقوں میں یہ رواج تھا کہ مرنے والے کی جائداد اور اُس کے مال مواشی کی طرح اُس کی بیویاں بھی وارثوں کی طرف منتقل ہو جاتی تھیں اور وہ اگر اُس کے بیٹے بھی ہوتے تو بغیر کسی تردد کے اُن کے ساتھ زن و شو کا تعلق قائم کر لیتے تھے۔ قرآن نے اِس قبیح رسم کا خاتمہ کر دیا اور واضح فرمایا کہ عورتیں اپنے فیصلے کرنے کے لیے پوری طرح آزاد ہیں۔ اُن کی مرضی کے بغیر کوئی چیز اُن پر مسلط نہیں کی جا سکتی۔

دوسری بات یہ فرمائی ہے کہ بیوی اگر ناپسند بھی ہو تو اُس سے اپنا دیا دلایاواپس لینے کے لیے اُس کو ضیق میں ڈالنے اور تنگ کرنے کی کوشش کسی بندۂ مومن کے لیے جائز نہیں ہے۔ اِس طرح کا رویہ صرف اُس صورت میں گوارا کیا جا سکتا ہے، جب وہ کھلی ہوئی بدکاری کرنے لگے۔ اِس قسم کی کوئی چیز اگر اُس سے صادر نہیں ہوئی ہے، وہ اپنی وفاداری پر قائم ہے اور پاک دامنی کے ساتھ زندگی بسر کر رہی ہے تو محض اِس بنیاد پر کہ بیوی پسند نہیں ہے، اُس کو تنگ کرنا عدل و انصاف اور فتوت و شرافت کے بالکل منافی ہے۔ اخلاقی فساد، بے شک قابل نفرت چیز ہے،لیکن محض صورت کے ناپسند ہونے یا کسی ذوقی عدم مناسبت کی بنا پر اُسے شریفانہ معاشرت کے حقوق سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔

تیسری بات یہ فرمائی ہے کہ ناپسندیدگی کے باوجود اُن کے ساتھ اِ س طرح کا برتاؤ کرو جو شریفوں کے شایان شان ہو، عقل و فطرت کے مطابق ہو، رحم و مروت پر مبنی ہو، اُس میں عدل و انصاف کے تقاضے ملحوظ رہے ہوں۔ اِس کے لیے آیت میں ’وَعَاشِرُوْھُنَّ بِالْمَعْرُوْفِ‘ کے الفاظ آئے ہیں۔ ’معروف‘ کا لفظ قرآن مجید میں خیر وصلاح کے رویوں اور شرفا کی روایات کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ یہاں بھی یہ اِسی مفہوم میں ہے۔ مدعا یہ ہے کہ بیوی پسند ہو یا ناپسند، بندۂ مومن سے اُس کے پروردگار کا تقاضا یہی ہے کہ وہ ہر حال میں نیکی اور خیر کا رویہ اختیار کرے اور فتوت و شرافت کی جو روایت انسانی معاشروں میں ہمیشہ سے قائم رہی ہے، اُس سے سرمو انحراف نہ کرے۔ چنانچہ فرمایا ہے کہ ناپسندیدگی کے باوجود شوہر اگر اُس سے اچھا برتاؤ کرتا ہے تو ہو سکتا ہے کہ دنیا اور آخرت کی برکتوں کے بہت سے دروازے اِسی کے ذریعے سے اُس کے لیے کھول دیے جائیں۔

اِس آخری بات کے لیے جو الفاظ آیت میں آئے ہیں، استاذ امام امین احسن اصلاحی نے اُن کی وضاحت میں لکھا ہے:

’’یہاں لفظ اگرچہ ’عسٰی‘ استعمال ہوا ہے جو عربی میں صرف اظہار امید اور اظہار توقع کے لیے آتا ہے، لیکن عربیت کے ادا شناس جانتے ہیں کہ اِس طرح کے مواقع میں، جیسا کہ یہاں ہے، اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک قسم کا وعدہ مضمر ہوتا ہے۔ اِس اشارے کے پیچھے جو حقیقت جھلک رہی ہے، و ہ یہی ہے کہ جو لوگ ظاہری شکل و صورت کے مقابل میں اعلیٰ اخلاقی اور انسانی اقدار کو اہمیت اور اُن کی خاطر اپنے جذبات کی قربانی دیں گے، اُن کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے خیر کثیر کا وعدہ ہے۔ جن لوگوں نے اِ س وعدے کے لیے بازیاں کھیلی ہیں، وہ گواہی دیتے ہیں کہ یہ بات سو فی صدی حق ہے اور خدا کی بات سے زیادہ سچی بات کس کی ہو سکتی ہے۔‘‘ ﴿تدبر قرآن ۲/۰۷۲﴾

اِس سے واضح ہے کہ جب ناپسندیدگی کے باوجود اللہ تعالیٰ کا مطالبہ یہ ہے تو عام حالات میں بیوی کے ساتھ کوئی غلط رویہ اللہ کی کس قدر ناراضی کا باعث ہو گا۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبۂ حجۃ الوداع میں فرمایا ہے :

إن لکم من نسائکم حقًا ولنسائکم علیکم حقًا، فأما حقکم علی نسائکم فلا یوطئن فرشکم من تکرھون ولا یأذن فی بیوتکم لمن تکرھون. الا وحقھن علیکم ان تحسنوا الیھن فی کسوتھن وطعامھن.﴿ابن ماجہ، رقم ۱۵۸۱﴾ ’’عورتوں پر تمھارا حق ہے اور تم پر بھی اُن کے حقوق ہیں۔ تمھارا حق تو یہ ہے کہ تمھارے ناپسندیدہ کسی شخص کو وہ نہ تمھارا بستر پامال کرنے دیں نہ تمھارے گھر میں آنے کی اجازت دیں۔ سنو! اور اُن کا حق یہ ہے کہ ﴿اپنی استطاعت کے مطابق﴾ اُنھیں اچھے سے اچھا کھلاؤ اور اچھے سے اچھا پہناؤ۔’’

http://www.javedahmadghamidi.com/meezan/view/rights_and_obligations_of_the_spouses/ur

 

 

 

ازدواجی زندگی میں شوہر کے فرائض اور بیوی کے حقوق

 

 

                (۱) میاں کے تعلقات کی اہمیت

 

اسلام نے جو معاشرتی نظام قائم کیا ہے اس کی بنیادآپسی بھائی چارہ میل جول اور باہمی محبت و الفت پر ہے اور معاشرتی نظام میں بنیادی اہمیت زوجین یعنی میاں بیوی کے تعلقات پر ہے۔میاں بیوی کے تعلقات کی درستگی ہی کے باعث کوئی بھی معاشرہ مضبوط ومستحکم رہ سکتا ہے۔ غرض مرد و عورت کے تعلقات کی بہتری کسی معاشرے کی صحت کی علامت اور اس کی ترقی کیلئے بنیادی اینٹ کی حیثیت رکھتی ہے اور جس معاشرہ میں ان دونوں کے تعلقات میں بگاڑ پیدا ہو جائے تو وہ معاشرہ کبھی پنپ نہیں سکتا بلکہ بہت جلد زوال و ادبار کا شکار ہو کر بکھر جاتا ہے۔اور اسلامی نقطہ نظر سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے۔ چنانچہ بعض حدیثوں میں آتا ہے کہ میاں بیوی کے تعلقات میں اگر بگاڑ پیدا ہو جائے تو اس کی وجہ سے سب سے زیادہ خوشی شیطان کو ہوتی ہے جو اس تاک میں رہتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ابلیس اپنا تخت پانی پر بچھاتا ہے پھر اپنے کارندوں ( چیلوں ) کو بھیجتا ہے ( تاکہ وہ لوگوں کو گمراہ کریں ) تو ان میں سب سے زیادہ مقرب کارندہ وہ ہو گا جو سب سے زیادہ فتنہ گر ہو چنانچہ جب کو ئی کا رندہ ( چیلہ ) آ کر اسے یہ رپوٹ دیتا ہے کہ اس نے فلاں فلاں کام کیا ہے تو کہتا ہے کہ تو نے کچھ نہیں کیا۔ پھر اُن میں سے کوئی ایک کارندہ آکر کہتا ہے کہ میں نے فلاں شخص اور اس کی بیوی کے درمیان جدائی پیدا کر دی ہے تو وہ اسے قریب کر لیتا ہے اور کہتا ہے کہ تو بہت اچھا ہے یعنی تو نے واقعی کچھ کام کیا ہے اور بعض حدیثوں میں مذکور ہے ـ:لَیْسَ مِنَّا مَنْ خَبَّبَ اِمْرَأۃً عَلٰی زَوْجِھَا۔ رواہ مسلم کتاب صٖفات المنافقین ۴؍۲۱۶۷مطبوعہ ریاض۔ رسول اللہ ﷺ نے فر مایا کہ جس شخص نے کسی عورت کو اس کے شوہر کے خلاف اکسا کر بگاڑ پیدا کر دیا تو وہ ہمارا آدمی نہیں ہے ا س اعتبار سے جو شخص کسی عورت کو بھڑ کا کر میاں بیوی کے درمیان نفاق ڈالتا ہے یا تفریق پیدا کرتا ہے یا جھگڑا کھڑا کر دیتا ہے تو وہ حدیث بالا کی رو سے شیطان کا ایجنٹ ہے۔نیز اس حدیث سے ضمناً یہ حقیقت بھی واضح ہو تی ہے کہ مردوں کے مقابلہ میں عورتیں بہت جلد بد گمان ہو جاتی ہیں اور بد گمانی میں مبتلا ہو کر اپنے شوہر کے بارے میں بری رائے قائم کر لیتی ہیں اور شکوک و شبہات میں مبتلا ہو کر آمادہ جنگ ہو جاتی ہیں۔

 

                 ۱۔حسن معاشرت کے چند اصول

 

میاں بیوی کے تعلقات کی درستی کسی بھی معاشرے کی مضبوطی اور اس کے استحکام کیلئے ایک بنیادی اور اساسی اہمیت کی چیز ہے۔ ظاہر ہے کہ میاں بیوی کے میل ملاپ اور ان کے اتحاد و اتفاق ہی کی بدولت ایک نئے خاندان کی بنیاد پڑتی ہے اور مختلف خاندان کا مجموعہ ہی معاشرہ یا سماج یا سوسائٹی کہلاتا ہے لہذا جن خاندانوں میں باہمی جھگڑے پائے جاتے ہیں یا جن میں اتحاد و یگانگت موجود نہ ہو۔ یا جن میں میاں بیوی کے درمیان تفرقہ اور انتشار پیدا ہو چکا ہو وہ معاشرہ اور سماج حد درجہ کھوکھلا ہو گا اور بہت جلد زوال واد بار کا شکار ہو جائے گا اس اعتبار سے میاں بیوی کے درمیان محبت و الفت اور باہمی ہم آہنگی پیدا ہونا بہت ضروری ہے تاکہ دونوں مل کر اپنے حقوق و فرائض بخوبی ادا کر سکیں اور اپنی اولاد کی بھی صحیح تر بیت کر سکیں۔ جن کے نازک کندھوں پر اگلے خاندانوں کو سنبھالنے اور انہیں قائم رکھنے کا بار بوجھ رکھا جائے گا۔ مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ میاں بیوی کے درمیان کبھی کوئی اختلاف پیدا ہی نہ ہو۔ ظاہر ہے کہ اختلاف ضرور پیدا ہوں گے اور زندگی کے مختلف موڑوں پر ان میں اتار چڑھاؤ بھی آئے گا۔ایک دوسرے سے کچھ نہ کچھ شکایتیں تو ہوتی ہی رہتی ہیں اور ایسا ہونا ایک فطری بات ہے کیونکہ زندگی ہمیشہ یکساں نہیں رہتی بلکہ اس میں نشیب و فراز آتے رہتے ہیں اس لئے میاں بیوی دونوں کو ایک دوسرے کو بر داشت کرنے اور جہاں تک ہو سکے آپسی اختلافات کو کم سے کم کرنے کی کو شش کرتے رہنا چاہئے اس کے بغیر گاڑی چل نہیں سکتی۔

قرآن و حدیث میں زوجین کے درمیان حسن معاشرت کے سلسلے میں چند قیمتی اور پیارے اصول بیان کئے گئے ہیں جن پر اگر عمل کیا جائے تو خاندانی نظام مضبوط ومستحکم ہو سکتا ہے۔ چنانچہ اس سلسلے میں (۱) پہلا اور بنیادی اصول یہ ہے کہ زوجین یعنی میاں بیوی کے درمیان آپس میں محبت و مروت کا تعلق اس طرح قائم ہو جائے گویا کہ دونوں ایک جان دو قالب کی حیثیت رکھتے ہوں۔اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ وَ مِنْ اٰ یٰتِہٖ اَنْ خَلَقَ لَکُمْ مِنْ اَنْفُسِکُمْ اَزْوَاجاً لِّتَسْکُنُوْا اِلَیْھَا وَجَعَلَ بَیْنَکُمْ مَوَدَۃً وَّرَحْمَۃً ( سورہ روم :۲۱ ) ترجمہ: اور اس کی ( ربوبیت کی ) نشانیوں میں سے ہے یہ بات کہ اس نے تمہارے لئے تم ہی میں سے بیویاں پیدا کیں تا کہ تم ان کے ذریعہ راحت حاصل کر سکو اور اس نے تمہارے درمیان محبت و مہربانی پیدا کر دی ہے۔

چنانچہ زوجین میں جب تک ایک دوسرے کے ساتھ محبت و مہربانی کا تعلق پیدا نہ ہو اور ان دونوں کے درمیان خلوص اور ایثار کے جذبات نہ پائے جاتے ہوں بلکہ ایک دوسرے کو لوٹنے یا محض وقتی اور عارضی اغراض کے تحت محض جنسی لذت حاصل کر نا مقصود ہو (جیسا کہ آ ج کل مغربی ممالک میں اس کا رواج چل پڑا ہے ) یا وہ محض ایک تجارتی بندھن ہو ( جیسا کہ موجودہ ہندستا نی معاشرہ اس کی تصویر پیش کر ر ہا ہے ) تو ایسے تعلقات پائیدار نہیں ہو سکتے۔ بلکہ وہ کچے دھاگوں کی طرح ٹوٹ جاتے ہیں۔

 

                ۲۔ کسی کی خامی نہیں خوبی دیکھو!

 

اور اس سلسلے میں دوسرااصول یہ ہے کہ مرد و عورت دونوں اختلافِ مزاج کے باعث ایک دوسرے کو برداشت کر نے کی عادت ڈالیں۔ چنانچہ اس بارے میں مردوں کو عورتوں کے ساتھ حسن معاشرت پر ابھارتے ہوئے ارشاد باری ہے کہ جہاں تک ہو سکے وہ ان کے ساتھ اچھا برتاؤ کرتے ہو ئے تعلقات کو نبھا نے کی کو شش کریں۔ اور یہ بات یاد رکھیں کہ اگر کسی عورت میں کوئی خامی مو جود ہو تو اس میں کو ئی خوبی بھی ہو سکتی ہے۔ وَعاَشِرُوْھُنَّ بِا لْمَعْرُوْفِ فَاِنْ کَرِ ھْتُمُوْھُنَّ فَعَسٰی اَنْ تَکْرَھُوْا شَئْیًا وَّیَجْعَلَ اللّٰہُ فِیْہٖ خَیْراً کَثِیْراً ( سورہ نساء آیت ۱۹) ترجمہ: تم عورتوں کے ساتھ اچھی زندگی بسر کرو اگر وہ تمہیں نا پسند ہوں تو ہو سکتا ہے کہ تم کو ایک چیز پسند نہ آئے مگر اللہ نے اس میں بہت سی بھلائی رکھ چھوڑی ہو۔اس اصول کی تشریح و تفصیل حدیث نبوی میں اس طرح آئی ہے لَایَغْرِکْ مُؤْمِنٌ مُؤْمَنَۃً اِنْ کَرِہَ مِنْھَا خُلُقًا رَضِیَ مِنْھَا آخَرُ۔ رسول اللہ ﷺ نے فر مایا کہ مومن شخص کسی مومن عورت سے بالکلیہ بغض نہ رکھے اگر وہ اس کی کسی ایک عادت کو نا پسند کر تا ہو تو اس کی کسی دوسری عادت سے راضی ہو گا۔مسلم کتاب الرضاع ۲؍ ۱۰۹۱۔یہ بات جس طرح عورت پر صادق آتی ہے اسی طرح مرد پر بھی صادق آسکتی ہے۔ یعنی کسی مرد میں اگر کوئی خامی ہو تو اس میں کچھ خوبیاں بھی ہو سکتی ہیں۔ لہٰذا زندگی کی گاڑی کھینچنے کیلئے ضروری ہے کہ میاں بیوی جہاں تک ہو سکے ایک دوسر ے کو بر داشت کرتے رہیں اور کوئی غیر دانشمندانہ اقدام کرنے سے احتراز کریں۔

 

                زوجین کے درمیان صلح و صفائی

 

اس سلسلے میں تیسرا اصول یہ ہے کہ میاں بیوی کی زندگی ہمیشہ ایک حالت پر قائم نہیں رہتی بلکہ اس میں مختلف موڑوں پر نشیب و فراز آتے رہتے ہیں۔ لہٰذا ایسے موقعوں پر جہاں تک ہو سکے دونوں کو ایک دوسرے کا لحاظ کرتے ہوئے آپس ہی میں سمجھوتہ کر لینا چاہئے اور دونوں کو خدا سے ڈرتے ہوئے اور اس کے حدود کو قائم رکھتے ہوئے ایک دوسرے کے حقوق خلوص اور باہمی خیر خواہی کے ساتھ ادا کرتے رہنا چاہئے۔ جیساکہ اس سلسلے میں ارشاد باری ہے وَاِنِ مْرأ ۃٍ خَافَتْ مِنْ بَعْلھَا نُشُوْزًا اَوْ اِعْرَاضًا فَلَا جُنَاحَ عَلَیْھِمَا اَنْ یُّصْلِحَابَیْنِھَمَا صُلْحًا الخ۔ اور اگرکسی عورت کو اپنے خاوند کی طرف سے زیادتی اور بے اعتنائی کا اندیشہ ہو تو میاں بیوی پر کچھ گناہ نہیں ہے کہ وہ آپس میں کسی قرار داد پر صلح کر لیں اور صلح کر لینا اچھی بات ہے طبیعتوں میں ( تھوڑا بہت ) بخل تو ہوتا ہی ہے ( لہٰذا) اگر تم اچھا برتاؤ اور احتیاط کرو تو اللہ کو تمہارے کاموں کی پوری خبر ہے ( سنا:۱؍ ۱۲۸

اس آیت میں مردوں کی زیادتی کی طرف اشارہ ہے اس کے بر عکس اگر زیادتی یا سر کشی عورتوں کی طرف سے ہو ( یعنی با وجود ان کی خاطر مدارات کے ) تو اس صورت میں ان کی تادیب کے حسب ذیل تین طریقے بتائے گئے ہیں۔

(۱) اول یہ کہ ان کو نرمی اور ملائمت کے ساتھ سمجھایا جائے اور انہیں زندگی کے نشیب وفراز سے آگاہ کرتے ہوئے انہیں نا فرمانی سے باز آنے کی تلقین کی جائے۔ (۲) اگر اس پر بھی باز نہ آئیں تو ان پر نا راضگی کا اظہار کرتے ہوئے ان کے بستر علیحدہ کر دیئے جائیں،بستر چھوڑنے کا مطلب یہ نہیں کہ گھر سے باہر چلے جاؤ بلکہ گھر کے اندر ہی رہو، بلکہ تادیب کیلئے کمرہ بدل دو یا بستر بدل دو مگر بالکل بات چیت ختم نہ کرو اس حدیث سے مختلف فقہاء نے یہ مسئلہ نکالا ہے کہ مرد کو چار ماہ سے زیادہ باہر جانا بلا عورت کی اجازت کے جائز نہیں۔

(۳) لیکن اگر وہ پھر بھی سیدھی نہ ہوں تو آخری چارہ کار کے طور پر انہیں ہلکی مار دی جائے۔اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے وَالّٰتِیْ تَخَافُوْنَ نُشُوْزَھُنَّ فَعِظُوْاھُنَّ وَاھْجُرُوْھُنَّ فِی الْمَضَاجِعَ وَاضْرِبُوْھُنَّ فَاِنْ اَطَعْنَکُمْ فَلَا تَبْغُوْا عَلَیْھِنَّ سَبِیْلًا اِنَّ اللّٰہَ کَانَ عَلِیًْاکَبِیْراً۔اور جن بیبیوں سے تمہیں نافر مانی ( اور سر چڑھنے ) کا اندیشہ ہو تو انہیں سمجھاؤاور (اگر وہ اپنی ہٹ پر قائم رہیں تو) ان کے بستر الگ کر دو (اور اگر وہ اس پر بھی نہ مانیں تو) انہیں مارو پھر اگر وہ تمہارا کہنا مان لیں تو ان پر (ناحق) الزام لگانے کی کو شش نہ کرو بے شک اللہ (سب کے ) اوپر اور (بہت ) بڑا ہے (لہٰذا) اگر تم زیادتی کرو گے تو وہ تم کو سزا دے گا ( سورہ نساٗ : ۳۴)

لیکن یاد رہے کہ عورتوں کو مارنے کا مطلب بے تحاشا پیٹنا نہیں ہے بلکہ جیسا کہ اس کی شرح خود حدیث نبوی میں آئی ہے انہیں بطور تادیب ہلکی سی مار مارنا ہے تا کہ وہ نافر مانی سے باز آ جائیں۔اس کے بارے میں حجۃ الوداع کے موقع پر نبی کریم ﷺ نے امت کو جو آخری نصیحت فر مائی کہ ـ وَاضْرِبُوْاھُنَّ ضَرْبًاغَیْرَمَبْرَحٍ یعنی اول تو مار کا مر حلہ آنا ہی نہ چاہئے اور اگر آئے بھی تو اس صورت کو صرف اس وقت استعمال کیا جائے جب اس کے علاوہ کوئی چارہ باقی نہ رہے اور اس میں یہ قید لگا دی کہ وہ مار تکلیف دینے والی نہ ہو یعنی اس مار سے تکلیف دینا مقصود نہ ہو بلکہ تادیب اور اصلاح مقصود ہو،الٹے تکلیف دینے والی ایسی مار جائز نہیں کہ نشان پڑ جائے۔اس کے متعلق ایک خطبہ میں منجملہ اور باتوں کے یہ بات بھی ارشاد فر مائی کہ آپ نے فر مایا یہ بری بات ہے کہ تم میں سے ایک شخص اپنی بیوی کو اس طرح مارتا ہے جیسے آقا غلام کو مارتا ہے اور دوسری طرف اسی سے اپنی جنسی خواہش بھی پوری کرتا ہے (صحیح بخاری کتاب النکاح حدیث نمبر ۵۲۰۴)یہ کتنی بد اخلاقی اور بے غیرتی کی بات ہے کہ آدمی اپنی بیوی کو اس طرح مارے جیسے آقا اپنے غلام کو مارتا ہے آپ ﷺ نے کبھی زندگی میں کسی عورت پر ہاتھ نہ اٹھا یا یہی آپ کا طریقہ ہے اور مارنے کی جو اجازت ہے وہ نا گزیر حالات کے اندر ہے بلکہ آپ کی سنت تو یہ ہے آپ کے چہرے پر تبسم ہوتا تھا۔

ایک حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے فر مایا کہ مسلمانو! عورتوں کے بارے میں اللہ سے ڈرو کیونکہ تم نے انہیں اللہ کی امانت میں لے رکھا ہے اور ان کی شرمگاہوں کو اللہ کے کلمہ ( نکاح کے بول ) کے ذریعہ حلال کر لیا ہے تمہارا حق ان پر یہ ہے کہ وہ تمہارے بستروں پر کسی ایسے آدمی کو نہ بٹھائیں جنہیں تم نا پسند کرتے ہو اور اگر وہ ایسا کریں تو تم انہیں ( بطور سزا) ہلکی مار مارو اور ان کا حق تم پر یہ ہے کہ تم معروف طریقہ سے ان کے کھانے کپڑے کا بوجھ اٹھاؤ ( مسلم کتاب الحج ۲؍ ۸۹۰)

(۶) نوویؒ نے تحریر کیا ہے کہ اس حدیث میں عورتوں کو اپنے شوہروں کے بستروں پر نا پسندیدہ لوگوں کو بٹھانے سے جو منع کیا گیا ہے ان میں اجنبی مرد اور عورتیں اور بیوی کے محرم رشتہ دار بھی شامل ہیں۔ جن کا گھر میں داخل ہونا اور بیٹھنا شوہروں کی نظر میں نا پسندیدہ ہو۔ اور فقہاء کے نزدیک بیوی کو ایسے تمام لوگوں کو اپنے شوہر کے گھر میں داخل ہو نے کی اجازت دینا جائز نہیں ہے سوائے ان لوگوں کے جن کے بارے میں گمان ہو کہ ان کا داخلہ شوہر کی نظر میں نا پسندیدہ نہیں ہے۔ نیز یہ مرد کو حکم ہے کہ عورت کے چہرے پرنہ مارے حدیث میں ہے لَاتَضْرِبُ الْوَجْہِ۔ کہ عورت کے چہرے پر نہ مارو( ابو داؤد کتاب ا لنکاح ۲؍۲۰۶)

لیکن اگر ان تمام کوششوں کے باوجود بھی زوجین کے درمیان سمجھوتہ نہ ہو سکے بلکہ آپسی اختلافات بر قرار رہیں تو پھر اس صورت میں مرد عورت دونوں کی جانب سے ایک ایک پنچ یا ثالث کو بٹھا کر تصفیہ کر نے کی کوشش کرنا چاہئے جیساکہ اس سلسلے میں ارشاد باری ہے۔ وَاِنْ خِفْتُمْ شِقَاقَ بَیْنِھِمَافَابْعَثُوْاحَکَمًامِّنْ اَھْلِہٖ وَحَکَمًامِّنْ اَھْلِھَااِنْ یُّرِیْدَااِصْلَاحًایُوَفِّقِ اللّٰہُ بَیْنَھْمَا اِنَّ اللّٰہَ کَانَ عَلِیْمًاخَبِیْراً۔ اور اگر تم کو میاں بیوی کی باہمی کھٹ پٹ کا اندیشہ ہو تو ایک منصف شخص کو مرد کی طرف سے اور ایک منصف شخص عورت کی طرف سے مقرر کرو۔ اگر یہ صلح کرانا چاہیں تو اللہ میاں بیوی کے درمیان ملاپ کرا دے گا یقیناً اللہ سب کچھ جاننے والا بہت باخبر ہے (نساء :۳۵)

اگر خدا نخواستہ اس کے بعد بھی مصالحت نہ ہو سکے تو پھر آخری چارہ کار کے طور پر طلاق ہو سکتی ہے لیکن طلاق دینے سے پہلے یہ ساری کوششیں ضرور ہونی چاہئیں یہ نہیں کہ ذرا ذرا سی بات پر طلاق داغ ڈالی۔ طلاق تو مرض کا آخری علاج ہے جب کوئی دوسری دوا کار گر نہ رہ جائے۔اس بحث سے شریعت کا مزاج اور اس کی حکمت عملی بھی واضح ہو گئی کہ وہ ہر حال میں حسَ معاشرت پر زور دیتی ہے اور حقوق العباد کے سلسلے میں ایک دوسرے کی رعایت کرنے کی تاکید کرتی ہے اور یہ اسلام کے نظام معاشرت کے پیش بہا اصول ہیں جو پورے انسانی معاشرے کے لئے قابل تقلید ہیں۔اگر ان اصولوں پر صحیح معنیٰ میں اور پوری ایمانداری کے ساتھ عمل کیا جائے تو پھر دنیا کے تمام معاشرتی اور سماجی جھگڑے فسادات دور ہو سکتے ہیں اور پورا انسانی معاشرہ امن و امان اور چین وسکون کا گہوارہ بن سکتا ہے۔ضرورت ہے کہ اسلامی اصولوں کو صحیح طور پر سمجھا جائے اور پھر اس پر پورے خلوص کے ساتھ عمل کیا جائے مگر شرط یہ ہے کہ پہلے مسلمان اپنی شریعت،اپنے قانون پر پوری طرح عمل پیرا ہو جائیں تاکہ وہ دوسروں کیلئے اچھا نمونہ بن سکیں کیونکہ کسی دین کے اصول اچھے ہونے کے با وجود وہ صرف کتابوں میں بند ہوں اور عملی دنیا میں ان کا کوئی وجود نہ ہو تو پھر ایسے قیمتی اصولوں کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا لوگ پہلے کسی قوم کے عمل وکردار کو دیکھتے ہیں اور اس کے بعد کسی اور کی طرف نظر ڈالتے ہیں اگر کسی قوم کا عمل صحیح نہ ہو تو وہ یہی سمجھتے ہیں کہ اس قوم کا دین ہی صحیح نہیں ہے۔ اب ہم میاں بیوی کے حقوق و فرائض کو بیان کرتے ہیں۔

 

                مرد کے فرائض اور بیوی کے حقوق

 

اللہ تعالیٰ نے مردوں کو عورتوں پر ایک درجہ میں فضیلت ضرور عطا کی ہے۔ مگر جس طرح مردوں کے حقوق ہیں اسی طرح عورتوں کے بھی حقوق ہیں جن کی ادائیگی مردوں پر واجب قرار دی گئی ہے۔اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے وَلَھُنَّ مِثْلُ الَّذِیْ عَلَیْھِنَّ بِالْمَعْرُوْفِ وَلِلرِّجَالِ عَلَیْہِنَّ دَرَجَۃًاور عورتوں کے بھی معروف طریقے سے ہی حقوق ہیں جیسے ان پر عائد ہو تے ہیں۔لیکن مرووں کو ان پر ایک درجہ فضیلت ہے (سور بقرہ آیت ۲۲۸)

مگر اکثر مرد اپنی مردانگی کے غرور میں یعنی اپنے آپ کو برتر اور عورتوں کو کمتر سمجھتے ہوئے ان کے حقوق غصب کر لیتے ہیں اور ان کا کوئی حق تسلیم کر نے سے انکار کرتے ہوئے من مانی کر نے لگ جاتے ہیں یہ شرعی اور اخلاقی نقطۂ نظر سے ایک معیوب اور بری بات ہے جس طرح عورت اپنے فرائض اور واجبات ادا کر نے کی ذمہ دار ہے بالکل اسی طرح مرد بھی اپنے فرائض واجبات ادا کر نے کا ذمہ دار ہے۔اللہ تعالیٰ نے اس دنیا میں ہر شخص کو ذمہ دار بنا کر پیدا کیا ہے یہاں پر کوئی بھی شخص اپنی ذمہ داری سے آزاد نہیں ہے۔اللہ کے نبی کا ارشاد ہے کُلُّکُمْ رَعٍ وَکُلُّکُمْ مَسْؤُلٌ عَنْ رَّ عِیَّتِہٖ وَالرَّجُلُ رَا ع ٍعَلیٰ اَہْلِ بَیْتِہٖ وَھُوَ مَسْئُولٌعَنْ رَّعِیَّتِہٖ۔رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فر مایا کہ تم میں سے ہر شخص ذمہ دار ہے اور ہر شخص سے اسکی ذمہ داری کے بارے میں پو چھا جائے گا اور آدمی بھی اپنے گھر والوں کا ذمہ دار ہے اور اس سے اسکی ذمہ داری کے بارے میں پو چھا جائے گا کہ بیوی بچے جو تمہارے ماتحت تھے ان کا کیا حق ادا کیا۔

 

                کامل ایمان والا کون ہے؟

 

اللہ تعالیٰ کی کامل اطاعت و فرماں برداری ایمان کا تقاضا ہے اور ایمان کی علامت اور اس کی کسوٹی اچھے عادات و اطوار ہیں جو حسن معاشرت کے طالب ہیں اور حسن معاشرت کا اولین اور پہلا زینہ بیوی اور بچوں کے حقوق ادا کرنا اور ان کے ساتھ اچھا برتاؤ کرنا ہے اس اعتبار سے جو شخص اپنی بیوی کے ساتھ اچھا برتاؤ نہیں کرتا وہ اخلاق و کردار کے لحاظ سے اچھا شخص نہیں ہو سکتا اور جو شخص اخلاق و کردار میں ناقص  وناکارہ ہو وہ درجہ ایمان ہی میں ناقص و کمزور ہو گا گویا کہ اس کے سینے میں ایمان کی حرارت سرے سے موجود ہی نہیں ہے۔یہی وہ حقیقت ِعظمیٰ ہے جو اس حدیث نبوی میں بیان کی گئی ہے اَکْمَلَ الْمُؤْمِنِیْنَ اِیْمَانًااَحْسَنُھُمْ خُلُقًا وَخِیَارُکُمْ خِیَارُکُمْ لِنِسَائِھِمْ خُلُقًا۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فر مایا کہ ایمان کے اعتبار سے کامل ترین شخص وہ ہے جس کے اخلاق سب سے اچھے ہوں اور تم میں سب سے بہتر وہ لوگ ہیں جو اپنی عورتوں کے ساتھ سلوک کر نے والے ہوں ( تر مذی کتاب الرضاع ص ۴۲۶جلد ۳)

اللہ رب العزت کا ارشاد پہلے گزر چکا ہے جس میں عورتوں کے ساتھ بھلائی کا حکم دیا گیا ہے وَعَاشِرُوْھُنَّ بِا لْمَعْرُوْفِ۔ کہ عورتوں کے ساتھ بھلائی کا معاملہ کرو اس میں تمام مسلمانوں سے خطاب ہے کہ تم خواتین کے ساتھ معروف یعنی نیکی کے ساتھ اچھا سلوک کر کے زندگی گزارو اور ان کے ساتھ اچھی معاشرت برتو ان کو تکلیف نہ پہنچاؤ یہ عام ہدایت ہے اور حضور ﷺ نے اس آیت کی تشریح اپنے اقوال و افعال سے فر مائی۔ جب تک اسلام نہیں آیا تھا اور جب تک آپ کی تعلیمات نہیں آئی تھیں اس وقت تک عورت کو ایسی مخلوق سمجھا جاتا تھا جو معاذ اللہ گویا انسانیت سے خارج ہے اور اس کے ساتھ بھیڑ بکریوں جیسا سلوک ہوتا تھا۔اس کوا نسانیت کے حقوق لوگ دینے سے انکار کرتے تھے۔حضور ﷺ نے پہلی بار اس دنیا کو جو آسمانی ہدایت سے بے خبر تھی خواتین کے حقوق کا احساس دلایا آپ ﷺ نے فر مایا خِیَارُکُمْ خِیَارْکُمْ لِنِسَائِھِمْ وَاَنَا خِیَارُکُمْ لِنِّسَائِیْ۔ تم میں بہترین وہ لوگ ہیں جوا پنی خواتین کے ساتھ اچھا برتاؤ کرتے ہیں اور میں تم میں اپنی خواتین کے ساتھ بہترین برتاؤ کرنے ولا ہوں ( ترمذی ماجاء فی المرأۃ علیٰ زوجھا حدیث نمبر ۱۱۷۲)صحیح بخاری میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ ﷺ نے فر مایا اِسْتَوْصُوْا بِا لِنّسَاء خَیْراً۔ کہ میں تم کو عورتوں کے بارے میں بھلائی کی نصیحت کرتا ہوں تم میری اس نصیحت کو قبول کر لو۔ اس سے پہلی حدیث میں حضور ﷺ نے اپنی زندگی کو مثال بنا کر پیش کیا کہ کسی بندے کی اچھائی کا پتہ لگانا ہو تو اس کے دوستوں سے نہ پو چھیں پو چھنا ہو تو اس کی بیوی سے ذرا پو چھیں کہ یہ کیسا انسان ہے اگر بیوی کہے اس کی معاشرت اچھی ہے تو وہ اچھا انسان ہے۔ حضور ﷺ کا ارشاد ہے ایمان والوں میں سب سے کامل ایمان والا وہ ہے جس کے اخلاق اچھے ہوں ( ترمذی کتاب الرضاع جلد ۳ ص ۴۶۶)

 

                 گھر یلو زندگی پورے تمدن کی بنیاد

 

مرد وعورت کے جو تعلقات ہیں اور انسان کی جو گھریلو زندگی ہے وہ پورے تمدن کی بنیاد ہوتی ہے اور اس پر پورے معاشرے اور سماج کی عمارت کھڑی ہوتی ہے اگر مرد و عورت کے تعلقات ٹھیک ہیں، خوشگوار ہیں اور دونوں ایک دوسرے کے حقوق ادا کر رہے ہیں تو اس سے گھر کا نظام درست ہوتا ہے اولاد درست ہوتی ہے اور اولاد کے درست ہو نے سے معاشرہ سدھر تا ہے اس پر پو رے معاشرے کی عمارت کھڑی ہوتی ہے لیکن اگر گھر کا نظام خراب ہو اور میاں بیوی کے درمیان رات دن تو تو میں میں ہوتی ہو تو اس سے اولاد پر برا اثر پڑے گا اور اس کے نتیجہ میں جو قوم تیار ہو گی اس کے بارے میں آپ تصور کر سکتے ہیں کہ کسی شائستہ قوم کے افراد بن سکتے ہیں یا نہیں۔ اور یاد رکھیں کہ دو باتیں بڑی عام ہیں ایک یہ کہ عورت کی زبان قابو میں نہیں رہتی دوسرے مرد کے ہاتھ قابو میں نہیں رہتے جب تک ایک دوسرے کے حقوق نہ جانیں گے۔اسی طرح کے جھگڑے کھڑے ہوں گے۔اس لئے تفصیل سے ان کے حقوق کو بیان کیا گیا۔

 

                خوشگوار زندگی گزارنے کا ایک گُر

 

اللہ تعالیٰ نے عورت کی تخلیق اپنی ابدی حکمت و مصلحت کی بنا پر کچھ اس انداز میں کی ہے کہ اس کی فطرت و طبیعت میں تھوڑی سی کجی یعنی ٹیڑھا پن بھی رکھ دیا ہے جسے برداشت کر نے کی مرد کو تاکید کی گئی ہے اور عورت سے فائدہ اٹھانے کیلئے ایسا کرنا بہت ضروری ہے۔ چنانچہ حدیث نبوی میں صراحت مو جود ہے کہ عورت کا ٹیڑھا پن کبھی درست نہیں ہو سکتا اور اگر کوئی اسے درست کرنا چاہے گا تو اس کا نتیجہ دونوں کے درمیان جدائی یعنی طلاق کی صورت میں ظاہر ہو گا لہٰذا دانش مندی کا تقاضا یہ ہے کہ عورت کی اس فطرت اوراس کی نفسیات کے پیش نظر عورت کا استعمال بڑی ہوشیاری سے کیا جائے اس طرح جو مرد عورت کی نفسیات کو پہچان کر اسے ہینڈل کر نے کی صلاحیت رکھتے ہوں وہ ایک خوشگوار اور کامیاب زندگی گزار سکیں گے۔

دیکھے حدیث نبوی میں فطرت انسانی کے ان رازوں سے پردہ کس طرح اٹھایا گیا جو اس بات میں حکمت و دانش کے پیش بہا موتیوں کی حیثیت رکھتے ہیں۔

اِسْتَوْصُوْا بِا لِنّسَاء فَاِنَّ الْمَرْأَۃَ خُلِقَتْ مِنْ ضِلَعٍ وَاِنَّ اَعْوَجَ شَئْیٌ فِی الضِّلَعِ اَعْلَاہُ فَاِنْ ذَھَبْتَ تُقِیْمَہَ کَسَرْتَہُ وَاِنْ تَرَکْتَہُ لَمْ یَزَلْ اَعْوَجٌ فَا سْتَوْاصُوْابِالِنّسَاء۔حضور اقدس ﷺ نے ارشاد فر مایا کہ عورتوں کے ساتھ اچھا سلوک کرو کیونکہ عورت پسلی سے پیدا کی گئی ہے اور پسلی ( کی ہڈی) میں زیادہ ٹیڑھا پن اس کے اوپری حصہ میں ہوتا ہے۔ لہٰذا اگر تم اسے سیدھا کرنا چاہو تو اسے توڑ دو گے اور اگر اس ٹیڑھے پن کو رہنے دو گے تو وہ بر قرار رہے گا لہٰذا تم عورتوں سے حسن سلوک سے پیش آؤ۔ ( بخاری کتاب الانبیاء، مسلم کتاب الرضاع ۲؍ ۱۰۹۱)ایک حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے فر مایا کہ عورت پسلی کی ہڈی کی طرح ہے اگر تم اسے سیدھا کرنا چاہو گے تو تم توڑ دو گے اور اگر اس سے فائدہ اٹھانا چاہو تو تمہیں اس کے ٹیڑھا پن کو برداشت کرتے ہوئے اس سے فائدہ اٹھانا ہو گا( بخاری کتاب النکاح ۶؍ ۱۲۵)

 

                 خوبی دیکھو

 

ایک حدیث میں حضور ﷺ نے فر مایا کہ عورت پسلی کی ہڈی سے پیدا کی گئی ہے وہ تمہارے لئے کسی ایک حالت پر قائم نہیں رہ سکتی۔ لہٰذا تم اگر اس سے لطف اندوز ہونا چاہو تو تمہیں اس کے ٹیڑھے پن کو برداشت کرنا پڑے گا اور اگر تم اسے سیدھا کرنا چاہو تو اسے توڑ دوگے اور اس کا توڑنا طلاق ہو گا ( صحیح مسلم کتاب الرضاع ۲؍۱۰۹۱) حافظ ابن حجر ؒ نے تحریر کیا ہے کہ پسلی کی ہڈی میں زیادہ ٹیڑھا پن اس کے اوپری حصہ میں ہوتا ہے اس سے مراد( ایک قول کے مطابق ) دراصل عورت کی زبان درازی کی طرف اشارہ ہے جو ایک ضرب المثل ہے ان احادیث میں حضور ﷺ نے عورت کے مزاج کے متعلق بڑی اچھی تشبیہ بیان فر مائی ہے اور ایسی عجیب و غریب اور حکیمانہ تشبیہ ہے کہ ایسی تشبیہ ملنا مشکل ہے۔ یہ جو فرمایا کہ عورت پسلی سے پیدا کی گئی ہے۔بعض لوگوں نے اس کی تشریح یوں کی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے آدم علیہ السلام کو پیدا فر مایا اس کے بعد حوا علیھا السلام کو انہی کی پسلی سے پیدا کیا۔

اور بعض علماء نے اس کی دوسری تشریح یہ بھی کی ہے کہ رسول اللہ عورت کی تشبیہ دیتے ہوئے فر ما رہے ہیں کہ عورت کی مثال پسلی کی سی ہے کہ جس طرح پسلی دیکھنے میں ٹیڑھی معلوم ہوتی ہے لیکن پسلی کا حسن اور صحت ٹیڑھا ہونے ہی میں ہے چنانچہ کوئی شخص اگر یہ چاہے کہ اس پسلی کو سیدھا کر دوں و تو جب اسے سیدھا کرنا چاہے گا تو وہ سیدھی نہیں ہو گی البتہ ٹوٹ جائیگی پھر وہ پسلی نہیں رہے گی اب دوبارہ اس کو ٹیڑھا کر کے پلستر کے ذریعہ جوڑنا ہو گا اس طرح حدیث شریف میں عورت کے بارے میں یہی فرمایا اِنْ ذَھَبْتَ تُقِیْمُھَا کَسَرْتَھاَ اگر اس پسلی کو سیدھا کرنا چاہو گے تو وہ پسلی ٹوٹ جائیگی وَاِنِ اسْتَمْتَعْتَ بِھَا اِسْتَمْتَعْتَ بِھَا وَفِیھَا عِوَجٌ اور اگر اس سے فائدہ اٹھانا چاہو گے تو اس کے ٹیڑھے ہونے کے باوجود فائدہ اٹھاؤ گے یہ عجیب و غریب و حکیمانہ تشبیہ حضور اقدس ﷺ نے بیان فر مائی کہ اس کی صحت ہی اس کے ٹیڑھے ہونے میں ہے اگر وہ سیدھی ہو گی تو وہ بیمار ہے صحیح نہیں ہے ( اصلاحی خطبات )

 

                یہ عورت کی مذمت کی بات نہیں ہے

 

بعض لوگ اس تشبیہ کو عورت کی مذمت میں استعمال کرتے ہیں کہ عورت ٹیڑھی پسلی سے پیدا کی گئی ہے لہٰذا اسکی اصل ٹیڑھی ہے چنانچہ بہت سے لوگ یہ کہتے ہیں کہ یہ عورت ٹیڑھی پسلی کی مخلوق ہے گویا اس کو عورت کی مذمت اور برائی کے طور پر استعمال کرتے ہیں حالانکہ خود حضور اقدسﷺ کے ارشاد کا منشاء یہ نہیں ہے۔

 

                 عورت کا ٹیڑھا پن ایک فطری تقاضا ہے

 

بات یہ ہے کہ اللہ نے مرد کو کچھ اوصاف دے کر پیدا کیا ہے اور عورت کو کچھ اوصاف دے کر پیدا کیا ہے دونوں کی فطرت اور مزاج میں فرق ہے اس فرق کی وجہ سے مرد عورت کے بارے میں یہ محسوس کرتا ہے کہ یہ میری طبیعت اور فطرت کے خلاف ہے حالانکہ عورت کا تمہاری فطرت اور طبیعت کے خلاف ہو نا کوئی عیب نہیں ہے۔چونکہ یہ ان کی فطرت کا تقاضا ہے کہ وہ ٹیڑھی ہو۔ جیسے کوئی شخص پسلی کو یہ کہے کہ یہ پسلی کے اندر جو ٹیڑھا پن ہے وہ اس کے اندر عیب ہے ظاہر ہے وہ عیب نہیں ہے بلکہ اس کی فطرت کا تقاضا ہے کہ وہ ٹیڑھی ہو اس لئے آنحضرت ﷺ یہ ارشاد فرما رہے ہیں اگر تمہیں کوئی ایسی بات نظر آتی ہے جو تمہاری طبیعت کے خلاف ہے اور اس کی وجہ سے تم اس کو ٹیڑھا سمجھ رہے ہو تو اس کو اس بنا پر کنڈم نہ کرو بلکہ یہ سمجھو کہ یہ اس کی فطرت کا تقاضا ہے اگر تم اس کو سیدھا کرنا چاہو گے تو وہ ٹوٹ جائیگی اور اگر فائدہ اٹھانا چاہو گے تو اسکے ٹیڑھے پن سے بھی ٹیڑھا ہونے کی حالت میں بھی فائدہ اٹھا سکو گے۔ حضور ﷺ چونکہ مرد اور عورت کی نفسیات سے واقف ہیں اس لئے حضور ﷺ نے سارے جھگڑے کی جڑ پکڑ لی۔ کہ سارے جھگڑے صرف اس بنا پر ہوتے ہیں کہ مرد یہ چاہتا ہے کہ جیسا میں خود ہوں یہ بھی ویسی بن جائے تو بھائی یہ تو ویسی بننے سے رہی اگر ویسی بنا نا چاہو گے تو ٹوٹ جائیگی اس لئے اس فکر کو تو چھوڑ دو ہاں ! جو چیزیں اس کے حق میں اس کے حالات کے لحاظ سے اس کے لئے عیب ہیں اس کی اصلاح کی فکر کرو اور ان کی اصلاح کی فکر بھی مرد کی ذمہ داری ہے لیکن اگر تم یہ چاہو کہ وہ تمہارے مزاج اور طبیعت کے موافق ہو جائے یہ نہیں ہو سکتا ( اصلاحی خطابات )

 

                 عورت کو پسلی سے پیدا کر نے میں ایک اور حکمت

 

عورت کو اللہ نے مرد کی پسلی سے نکالا اس میں بھی ایک میسج اور پیغام ہے وہ یہ کہ یہاں بیوی کے درمیان گہرا تعلق ہے۔ ہم نے عورت کو تمہاری پسلی سے نکالا پاؤں سے اس لئے نہیں بنایا کہ تم اسے پاؤں کی جوتی نہ سمجھ لینا اور سر سے اس لئے نہیں بنا یا کہ تم اس کو سر پر نہ بٹھا لینا بلکہ ہم نے اسے پسلی سے بنایا ہے اور یہی تمہارے دل کے سب سے زیادہ قریب ہے لہذا اے خاوند! تم اپنی بیوی کو دل کے قریب رکھنا تمہاری زندگی اچھی گزر جائے گی( مثالی ازدواجی زندگی کے سنہرے اصول)

خلاصہ یہ کہ عورت کے اچھے وصف کی طرف نگاہ کرو اس سے تمہارے کو تسلی ہو گی اور بد سلوکی کے راستے بھی بند ہوں گے۔لہٰذا خاوندوں کو چاہئے کہ اپنی بیویوں کے ساتھ اچھا سلوک کریں۔

 

                بیوی کے ساتھ آپ ﷺ کا سلوک

 

جب نبی کریم ﷺ دنیا سے تشریف لے گئے،اس وقت نو ازواج مطہرات آپ ﷺ کے نکاح میں تھیں اور ازواج مطہرات آسمان سے نازل کئے ہوئے فرشتے نہیں تھے وہ اسی معاشرے کے افراد تھے اور ان کے درمیان وہ باتیں بھی ہوا کرتی تھیں جو سوکنوں کے درمیان آپس میں ہوا کرتی ہیں وہ مسائل بھی کھڑے ہوتے تھے جو بعض اوقات شوہر اور بیوی میں کھڑے ہو جاتے ہیں۔ لیکن حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فر ماتی ہیں کہ ساری عمر نہ صرف یہ کہ آپ ﷺ نے کسی خاتون پر ہاتھ نہیں اٹھایا بلکہ جب بھی آپ ﷺ گھر کے اندر داخل ہوئے تو چہرہ انور پر تبسم ہو تا تھا تو سرکار دو عالم ﷺ کی سنت یہی ہے کہ ان پر ہاتھ نہ اٹھایا جائے بلکہ ان کے ساتھ پیار و محبت اور نرمی کا بر تاؤ کیا جائے۔

 

                 میاں بیوی کے تعلقات کی عمدہ ترین مثال

 

ھُنَّ لِبَاسٌ لَّکُمْ وَاَنْتُمْ لِبَاسٌ لِّھُنَّ۔ شادی کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ انسان گناہوں سے بچ جائے کہ میاں اپنی بیوی کے ذریعہ اور بیوی اپنے میاں کے ذریعہ گناہوں سے بچ جائیں اس لئے کہ ان دونوں کو زندگی کاساتھی کہتے ہیں۔اللہ تعالیٰ کی فر ماں برداری والی زندگی میں ایک دوسرے کے معاون بن جاتے ہیں ان کا ایک دوسرے کے ساتھ تعلق اتنا مضبوط ہے کہ قرآن مجید نے اس تعلق کے بارے میں ایسی مثالیں دی ہیں کہ دنیا کا کوئی مذہب ایسی مثالیں پیش نہ کر سکا۔ ھُنَّ لِبَاسٌ لَّکُمْ وَاَنْتُمْ لِبَاسٌ لَّھُنَّ۔ تمہاری بیویاں تمہارا لباس ہیں اور تم اپنی بیویوں کا لباس ہو۔

 

                 میاں بیوی کو لباس کیوں کہا گیا؟

 

لباس کے دو فائدے ہیں ایک تو اس سے انسان کے بدن کے عیب چھپ جاتے ہیں۔اگر بے لباس مرد کو کہیں کہ لوگوں میں چلا جائے تو شرم کے مارے اس کو پسینہ آ جائے اور اگر کوئی زبر دستی اسے لوگوں کے سامنے بے لباس کر دے تو جی چاہے گا کہ زمین پھٹے اور میں اندر اتر جاؤں۔تو لباس کے ذریعہ انسان اپنے جسم کے اعضاء کو چھپاتا ہے۔ یہ قدرتی شرم و حیا کا تقاضا ہے اور دوسرا فائدہ یہ کہ انسان کو زینت بخشتا ہے جسم تو دو چادر سے بھی چھپ جاتا ہے مگر ہم عموماً اچھا لباس پہن کر جب چلتے ہیں تو لوگ شخصیت کو دیکھ کر متاثر ہوتے ہیں۔ معلوم ہوا کہ کپڑوں نے انسان کی شخصیت کو زیبایش بخشی یہ لباس کا دوسرا فائدہ ہے۔اسی طرح میاں بیوی کے تعلق سے یہ دو اہم فائدے ہیں۔ بیوی نہ ہو تو خاوند اپنے جنسی تقاضوں کے پیچھے معلوم نہیں کہاں کہاں منہ مارتا پھرے اور لوگوں کے سامنے ذلت اور رسوائی اٹھاتا پھرے۔ یوں میاں بیوی کی زندگی کی وجہ سے اس کی شخصیت کے عیب چھپ گئے۔ دوسری بات یہ کہ اگر مرد کو اکیلا رہنا پڑے تو گھر کے اندر بے ترتیبی ہو گی اور اس کی زندگی میں جمال نہیں ہو گا بیوی کے آنے سے انسان کی زندگی کو زینت نصیب ہو جاتی ہے ایک تیسری چیز جو سمجھ میں آتی ہے وہ یہ کہ لباس انسان کے جسم کے سب سے زیادہ قریب ہوتا ہے کوئی بھی چیز ایسی نہیں جو لباس سے زیادہ انسان کے جسم کے قریب ہو۔ قرآن مجید میں جو لباس کی مثال دی ہے اس سے بتانا مقصود ہے کہ میاں بیوی کو یہ پیغام مل جائے کہ اے خاوند! اب زندگی میں سب سے زیادہ قریب ترین ہستی تمہاری بیوی ہے اور بیوی کو یہ پیغام دیا گیا ہے کہ تیرے لئے اب زندگی میں قریب ترین ہستی تمہارا خاوند ہے تم دونوں لباس کی طرح ایک دوسرے کے جسم کے قریب ہو جب کو ئی چیز اتنی قریب ہو تی ہے تو صاف ظاہر ہے کہ اس سے انسان کو محبت ہوتی ہے ( مثالی ازدواجی زندگی کے چند سنہرے اصول)

 

                 ہمارے معاشرے کی خواتین دنیا کی حوریں ہیں

 

حضرت تھانویؒ فر مایا کرتے تھے کہ ہمارے معاشرے کی خواتین دنیا کی حوریں ہیں اور اس کہ وجہ یہ بیان فر مایا کرتے تھے کہ ان کے اندر وفا داری کا وصف ہے۔ ہاں جب سے مغربی تہذیب و تمدن کا وبال آیا ہے اس وقت سے رفتہ رفتہ یہ وصف بھی ختم ہوتا جاتا ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کے اندر وفاداری کا ایسا وصف رکھا ہے کہ چاہے جو کچھ ہو جائے لیکن یہ اپنے شوہر پر جان نثار کرنے کیلئے تیار ہے اور اس کی نگاہ شوہر کے علاوہ کسی اور پر نہیں پڑتی۔ یہ اسلام کی برکت ہے کہ مشرق میں آج بھی ایسی جوانیاں ہوتی ہیں جو اپنے گھر سے قدم نکالتی ہیں تو ان کے دلوں میں کسی غیر مرد کا دخل نہیں ہوتا۔کئی ایسی بھی ہوتی ہیں کہ مرد کا سایہ سر سے اٹھ گیا تو بچوں کی خاطر اپنی پوری زندگی ایسے ہی گذار دیتی ہیں جس عورت کا خاوند فوت ہو جائے اس کی تو بہار خزاں میں تبدیل ہو گئی مگر یہ خزاں کے موسم میں بھی اپنے پروں کے نیچے اپنے چھوٹے چھوٹے معصوم بچوں کو چھپا کر اپنی زندگی گزار دیتی ہیں شعر:

چمن کا رنگ گو تو نے سرا سراے خزاں بدلا ٭نہ ہم نے شاخ گل چھوڑی نہ ہم نے آشیاں بدلا۔

 

                بیوی شوہر کیلئے کتنی قربانی دیتی ہے

 

یہ حدیث پہلے گزر چکی ہے جس میں حضور ﷺ نے فر مایا کہ میں تمہیں عورتوں کے ساتھ بھلائی کی نصیحت کرتا ہوں تم اس نصیحت کو قبول کر لو یہ وہی جملہ ہے جو پہلے حدیث میں آ چکا ہے اور اگلا جملہ آپ ﷺ نے ارشاد فر مایا فَاِنَّمَا ھُنَّ عَوَانٌ عِنْدَکُمْ۔اس لئے کہ وہ خواتین تمہارے پاس تمہارے گھروں میں مقید اور ماتحت رہتی ہیں۔ نبی کریم ﷺ نے یہ خواتین کا ایسا وصف بیان فر مایا کہ اگر مرد صرف اس وصف پر غور کر لے تو اس کو کبھی ان کے ساتھ بد سلوکی کا خیال بھی نہ آئے۔ہمارے حضرت حکیم الامت قدس سرہ فرمایا کرتے تھے کہ ایک نادان غیر تعلیم یافتہ لڑکی سے سبق لو کہ صرف دو بول پڑھ کر جب ایک شوہر سے تعلق قائم ہو گیا۔ایک نے کہا میں نے نکاح کیا دوسرے نے کہا میں نے قبول کیا۔اس لڑکی نے اس دو بول کی ایسی لاج رکھی کہ ماں کو اس نے چھوڑا باپ کو اس نے چھوڑا بہن بھائیوں کو اس نے چھوڑا اپنے خاندان کو چھوڑا پورے کنبے کو چھوڑا اور شوہر کی ہو گئی اور اس کے سا تھ آکر اسی کی ہو گئی تو اس دو بول کی اس نادان لڑکی نے اتنی لاج رکھی اور اتنی وفاداری کی تو حضرت فر ماتے ہیں کہ ایک نادان لڑکی تو دو بول کا اتنا بھرم رکھتی ہے کہ سب کچھ چھوڑ کر ایک کی ہو گئی لیکن تم سے یہ نہ ہو سکا کہ تم یہ دو بول لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ پڑھ کر اس اللہ کے ہو جاتے جس کے لئے یہ دو بول پڑھے تھے تم سے تو وہ نادان لڑکی اچھی کہ یہ دو بول پڑھ کر اتنی لاج رکھتی ہے تم سے اتنی لاج بھی نہیں رکھی جا سکتی کہ اس اللہ کے ہو جاؤ۔

 

                 عورت کو اجازت کے بغیر باہر جانا جائز نہیں

 

حضور ﷺ نے یہ جو فرمایا کہ یہ تمہارے گھروں میں مقید اور پابند رہتی ہیں اس کا مطلب یہ ہے کہ تمہاری اجازت کے بغیر ان کے لئے کہیں جانا جائز نہیں۔ لہٰذا اگر شوہر عورت سے کہہ دے کہ تم گھر سے باہر نہیں جا سکتیں حتی کہ اپنے عزیز و اقارب اور اپنے ماں باپ سے ملنے کیلئے جانے سے منع کر دے تو عورت کو ان سے ملاقات کیلئے گھر سے باہر جانا جائز نہیں البتہ اگر والدین اپنی بیٹی سے ملنے کیلئے اس کے گھر آ جائیں تو اب شوہر ان کے والدین کو ملاقات کیلئے روک نہیں سکتا۔ غرض حضور اکرم ﷺ فرماتے ہیں کہ دیکھو! اس نے تمہاری خاطر کتنی بڑی قربانی دی ہے اگر با لفرض معاملہ بر عکس ہوتا اور تم سے کہا جاتا کہ تمہاری شادی ہو گی لیکن تمہیں اپنا خاندان چھوڑنا پڑے گا اپنے ماں باپ چھوڑ نے ہوں گے تو یہ تمہارے لئے کتنا مشکل کام ہوتا۔ایک اجنبی ماحول،اجنبی گھر،اجنبی آدمی کے ساتھ زندگی بھر نباہ کیلئے وہ مقید ہو گئی اس لئے نبی کریم فر ما رہے ہیں کہ کیا تم اس قربانی کا لحاظ نہیں کر و گے ؟ اس قربانی کا لحاظ کرو اور اس کے ساتھ اچھا معاملہ کرو۔

 

                 دونوں مل کر زندگی کی گاڑی کو چلائیں

 

عورت کو مرد کی اجازت کے بغیر باہر جانا جائز نہیں یہ تو قانون کی بات تھی لیکن حسن سلوک کی بات یہ ہے کہ وہ اس کی خوشی کا خیال رکھے یہ اس کی خوشی کا خیال رکھے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے بھی اپنے درمیان یہ تقسیم کار فر ما رکھی تھی کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ گھر کے باہر کے کام انجام دیتے تھے اور حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا گھر کے اندر کے تمام کام انجام دیتی تھیں قانون کی باریکیوں میں ہر وقت نہ پڑے رہیں بلکہ شوہر بیوی کے ساتھ اور بیوی شوہر کے ساتھ خوش اسلوبی کا معاملہ کریں اور یہ فطری تقسیم بھی ہے کہ گھر کے کام بیوی کے ذمہ اور باہر کے کام شوہر کے ذمہ ہوں اور اس طرح دونوں مل کر زندگی کی گاڑی کو چلائیں۔

 

                عورت کا نفقہ واجب ہے

 

عورتوں کے ساتھ حسن سلوک پہلا تقاضا یہ ہے کہ ان کا نان و نفقہ پا بندی کے ساتھ ادا کیا جائے انہیں بلا وجہ مارا نہ جائے اور نہ کوئی تکلیف دی جائے اگر ان سے کوئی خطا سرزد ہو جائے تو انہیں گھر سے باہر نہ کیا جائے بلکہ گھر کے اندر رکھتے ہوئے منا سب طریقہ سے ان کو تنبیہ کی جائے۔ چنانچہ ایک مرتبہ ایک صحابی نے آقاء نا مدار ﷺ سے دریافت کیا کہ ہم میں سے کسی ایک شخص پر بیوی کے کیا حقوق وفرائض عائد ہوتے ہیں ؟ تو آپ ﷺ نے فر مایا اَنْ تُطْعِمَھَا اِذَا طَعِمْتَ وَتَکْسُوْھَا اِذَاکْتَسَیْتَ،وَلَا تَضْرِبِِ الْوَجْہَ،وَلَا تُقَبِحْ وَلَا تَھْجُرْ اِلَّا فِی الْبَیْتِ۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جب تم کھاؤ تو اسے بھی کھلاؤ اور جب پہنو ( یا کماؤ) تو اسے بھی پہناؤ۔ اس کے منہ پر مت مارو، برا بھلا مت کہو اور اگر اسے ( بطور سز ا کچھ وقفہ کیلئے ) چھوڑنا ہو تو اپنے ہی گھر میں رکھو۔اس حدیث سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ شوہر اپنی بیوی کو چھوڑ کر کوئی چیز نہ کھائے بلکہ جب بھی وہ کوئی چیز کھائے تو اپنی رفیقہ حیات کو بھی اس میں شریک کرے۔ بہر حال اس سے ثابت ہے کہ عورتوں کے نفقہ ہی میں نہیں بلکہ ان کی خاطر مدارات میں بھی کوئی کمی نہ ہو نا چاہئے اور یہ چیز حسن معاشرت کیلئے بہت ضروری ہے۔ اس سلسلہ میں دو باتیں بھی ذہن میں رکھنے کی ہیں جن پر حکیم الامت حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے مواعظ میں جا بجا زور دیا ہے۔ ایک بات یہ کہ کھانے پینے میں اچھا سلوک کرو یہ نہ ہو کہ صرف ــ،قوتِ لا یموت، دے دی یعنی اتنا کھانا دے دیا جس سے موت نہ آئے بلکہ احسان کرو اور اس احسان کا مطلب یہ ہے کہ انسان اپنی آمدنی کے معیار کے مطابق فراخی اور کشادگی کے ساتھ گھر کا خرچ اس کو دے البتہ ہر آدمی کی ضرورت اس کے حالات کے لحاظ سے مختلف ہوتی ہے لہٰذا کشادگی کا معیار بھی الگ الگ ہے اب جو شخص کم آمدنی والا ہے اس کی کشادگی کا معیار اور ہے اور جو متوسط آمدنی والا ہے اس کا معیار اور ہے اور جو زیادہ آمدنی والا ہے اس کی کشادگی کا معیار اور ہے اس لئے ہر شخص کی آمدنی کے معیار کے اعتبار سے کشادگی ہونی چاہئے یہ نہ ہو کہ شوہر بیچارے کی آمدنی تو کم ہے اور ادھر بیوی صاحبہ نے دولت مند قسم کے لوگوں کے گھر میں جو چیزیں دیکھیں ان کی نقل اتارنے کی فکر لگ گئی اور شوہر سے اس کی فرمائش ہونے لگیں۔اس قسم کی فرمائشوں کا کوئی جواز نہیں۔ لیکن شوہر کو چاہئے کہ اپنی آمدنی کو مد نظر رکھتے ہوئے کشادگی سے کام لے بخل اور کنجوسی نہ کرے۔ دوسری بات حضرت تھانوی نے یہ ارشاد فر مائی کہ نفقہ صرف یہ نہیں کہ کھانے کا انتظام کر دیا اور کپڑے کا انتظام کر دیا بلکہ نفقہ کا ایک حصہ یہ بھی ہے کہ کھانے اور کپڑے کے علاوہ بھی کچھ رقم بطور جیب خرچ کے بیوی کو دی جائے جس کو وہ آزادی کے ساتھ اپنی خواہش کے مطابق صرف کر سکے۔ بعض لوگ کھانے اور کپڑے کا انتظام تو کر دیتے ہیں لیکن جیب خرچ کا اہتمام نہیں کرتے لہٰذا جیب خرچ بھی دینا ضروری ہے اس لئے کہ انسان کی بہت سی ضروریات ایسی ہوتی ہیں جن کو بیان کرتے ہوئے انسان شرماتا ہے یا اس کے بیان کرتے ہوئے الجھن محسوس ہوتی ہے اسلئے کچھ رقم بیوی کے پاس ایسی ضروریات کیلئے بھی ہونی چاہئے تاکہ وہ دوسرے کی محتاج نہ ہو یہ نفقہ کا ایک حصہ ہے۔حضرت تھانویؒ نے فر مایا جو لوگ جیب خرچ نہیں دیتے وہ اچھا نہیں کرتے۔یاد رکھیں کہ ایک مسلمان جب اپنی بیوی کے نفقہ کو بوجھ نہ سمجھتے ہوئے اسے خوش دلی کے ساتھ اور ثواب کی نیت سے ادا کرتا ہے تو یہ اس کے لئے صدقہ یعنی اجر و ثواب کا باعث بن جاتا ہے۔ بلکہ وہ اپنی بیوی کے منہ میں لقمہ ڈالے گا اس کا بھی اجر وثواب اس کو ملے گا اِذَا اَنْفَقَ الرَّجُلُ عَلیٰ اَھْلِہٖ یَحْتَسِبُھَا فَھُوَ لَہُ صَدَقَۃٌ۔ رسول اللہ ﷺ نے فر مایا کہ جب کوئی شخص اپنے اہل و عیال پر ثواب کی نیت سے خرچ کرتا ہے تو اس کے لئے صدقہ بن جاتا ہے ( بخاری کتاب الایمان ۱؍۲۰) دوسری حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے فر مایا کہ تم جو بھی نفقہ اللہ کی رضامندی کی خاطر خرچ کرو گے اس پر تمہیں اجر و ثواب ضرور دیا جائیگا یہاں تک کہ اس لقمہ پر بھی جو تم اپنی بیوی کے منہ میں ڈالتے ہو۔حوالہ بالا۔

اس لئے اگر کسی کو بیوی مل جائے تو اس کی قدر کرے اس لئے کہ دنیا کی بہترین چیز نیک عورت ہے۔

ایک حدیث میں اللہ کے نبی کا ارشاد ہے کہ مجھے تمہاری دنیا سے تین چیزیں محبوب ہیں (۱) خوشبو(۲) نیک عورت اور نماز کہ وہ میری آنکھوں کی ٹھنڈک ہے۔

ایک حدیث میں ارشاد فر مایا کہ پوری دنیا ایک متاع ہے اور دنیا کا بہترین متاع نیک سیرت عورت ہے ( مسلم کتاب الرضاع)۔

 

                 دو عورتوں کے درمیان برابری

 

اگر کسی شخص کی ایک سے زیادہ بیویاں ہوں تو اس پر واجب ہے کہ وہ ان دونوں کے درمیان برابری کا برتاؤ کرے یعنی دونوں کو یکساں یعنی برابر قسم کا نفقہ اور ہر ایک کی باری بھی ایک جیسی ہو ان ظاہری معاملات میں اس کے لئے کسی ایک بیوی کی حق تلفی جائز نہیں ہے اب رہا دلی رجحان یا محبت کا معاملہ تو اس میں برابری مطلوب نہیں ہے بلکہ دلی رجحان کے معاملے میں برابری ہو ہی نہیں سکتی جیسا کی سورہ نسا ء کی آیت نمبر ۱۲۹ میں موجود ہے اور آپ ﷺ نے فر مایا کہ جس شخص کی دو بیویاں ہوں اور وہ ان دونوں کے درمیان برابری نہ کرتے ہوئے ایک کی طرف مائل ہو جائے تو وہ قیامت کے دن اس حال میں آئے گا کہ اس کا آدھا دھڑ گرا ہو ا ہو گا۔(کتاب ابوداؤد کتاب النکاح ۲؍ ۴۰۱)

 

                 بلا وجہ طلاق دینا سخت گناہ کا باعث ہے

 

نکاح کا مقصد نسل انسانی کا تحفظ گناہوں سے بچنا اور نظام تمدن و معاشرت کی اصلاح ہے مگر طلاق کی وجہ سے یہ تمام مقاصد نہ صرف فوت ہو جاتے ہیں بلکہ بعض معاشرتی جھگڑے اور مسائل بھی کھڑے ہو جاتے ہیں اسی وجہ سے اسلام میں طلاق کا جواز صرف ناگزیر حالات ہی میں روا رکھا گیا ہے جبکہ مرد عورت کے تعلقات میں اتنا بگاڑ پیدا ہو جائے کہ مزید اصلاح کی کوئی امید ہی باقی نہ رہ جائے اسی وجہ سے اللہ کے نزدیک طلاق حلال چیزوں میں سب سے زیادہ نا پسندیدہ شئے قرار دی گئی ہے لہٰذا اسلام میں طلاق کے جواز کا یہ مطلب نہیں کہ لوگ اٹھے اٹھے بیٹھے بیٹھے ذرا ذرا سی بات پر طلاق دے ڈالیں اور آپس کے تمام رشتوں ناتوں کو کاٹ کر رکھ دیں۔ جیسا کہ آج کل لوگ کر رہے ہیں یہ بات اللہ تعالیٰ کو ہر گز پسند نہیں بہر حال کسی شخص کیلئے ایک عورت کو بلا وجہ طلاق دے کر دوسری عورت سے نکاح کرنا جائز نہیں ایسا کرنا شرعی اعتبار سے برُا کام ہے اللہ کے نبی نے اس کو سختی سے منع فر مایا لہٰذا کوئی شخص بلا وجہ اپنی عورت کو طلاق نہ دے۔

اللہ ہم سب کو ان تمام باتوں پر عمل کی توفیق عطا کرے۔

٭٭٭

http://deeneefiza.blogspot.in/2013/12/blog-post_5321.html

 

 

 

حقوق الزوجین

                عادل سہیل


                خاوند  کا رُتبہ و حیثیت

 

اِس موضوع پر بات کرتے ہوئے کچھ ڈر سا لگتا ہے ، کیونکہ ہمارے معاشرے میں اور مسلم معاشرے میں عام طور پر خواتین کا اثر و رسوخ یا واضح الفاظ میں یہ کہنا چاہیے کہ خواتین کا رعب و دبدبہ مناسب حدود سے بہت باہر ہو چکا ہے اور اکثر مرد حضرات۔۔”’بے چارگی ”’ کی حالت میں نظر آتے ہیں اور کچھ اسی طرح کا معاملہ دوسری طرف بھی ہے کہ مرد حضرات بھی کم نہیں کرتے اور جہاں بھی موقعہ ملے اپنی مردانگی کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہیں۔

اِنشاء اللہ تعالیٰ اِس مضمون میں مختصر طور پر یہ بیان کروں گا کہ میاں بیوی کے لیے اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے کیا حقوق اور کیا فرائض مقرر کیئے گئے ہیں، سب سے پہلے یہ بات جاننے اور اس پر ایمان لانے والی ہے کہ مرد عورت سے افضل ہیں اور بلند درجہ رکھتے ہیں،

اللہ العلیم الحکیم کا فرما ن ہے (الرِّجَالُ قَوَّامُونَ عَلَی النِّسَاءِ بِمَا فَضَّلَ اللّہُ بَعضَہُم عَلَی بَعضٍ وَبِمَا اَنفَقُوا مِن اَموَالِہِم ) ( مرد عورتوں سے برتر ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالی نے ان میں سے کچھ کو کچھ پرفضیلت دی ہے اور اِس لیے کہ مرد عورتوں پراپنے مال میں سے خرچ کرتے ہیں،،،،،،) سورۃ النساء /آیت ٣٤

::::: ایک فلسفہ اور اُس کا جواب ::::: اللہ سُبحانہُ و تعالیٰ اکیلا خالق ہے اور اُس کے عِلاوہ جو کچھ ہے اُس کی مخلوق ہے، لہذا جِس کو اُس نے جیسا چاہا ویسا بنایا اور جو دینا چاہا عطاء فرمایا اور جو نہ دینا چاہا اُس سے روک لیا، مَردوں کو عورتوں پر برتری بھی اِسی طرح اکیلے لا شریک خالق و مالک و داتا، اللہ تعالیٰ نے اپنی مرضی سے دی ہے، کِسی کے لیے کوئی گُنجائش نہیں کہ وہ کوئی فلسفہ گھڑ کر اللہ تعالیٰ کے کِسی بھی کام کا اِنکار کرے یا اُس پر اعتراض کرے، ایسا کرنے والا دائرۂاسلام سے خارج ہو جاتا ہے، مثلاً اگر کوئی یا سوچے کہ عورتیں مرد سب برابر ہیں، ایک گاڑی کے دو پہیے ہیں، مرد کی برتری کیسی ؟ ایسا کہنے والے بے چارے یہ تک بھی نہیں جانتے کہ گاڑیوں کے چلنے کا کیا نظام ہوتا ہے، پہیے دو ہوں یا دس اُن کو گھمانے اور اُن کے ذریعے گاڑی چلانے کے لیے کوئی قوت درکار ہوتی ہے اور وہ قوت مہیا کرنے والی چیز کو انجن کہا جاتا ہے، اگر انجن کام نہ کرے یا مُناسب قوت مہیا نہ کرے تو برابری کا دعویٰ کرنے والیاں پہیہ صاحبات کب تک اور کیسے گھومتی ہیں ؟ اور اُن کی شخصیت اور اُن کے خاندان کی گاڑی کہاں پہنچتی ہے ؟ اور جِس معاشرے میں یہ پہیے کِسی تحکم (Control ) کے بغیر گھومتے ہیں اُس معاشرے کی گاڑی کہاں پہنچتی ہے ؟ یہ باتیں درست عقل رکھنے والا ہر شخص جانتا ہے، دیکھتا اور سُنتا ہے، لہذا یہ فلسفہ عملی طور پر خود کو جھوٹا ثابت کرتا ہے، اور یہ بات روزِ روشن کی طرح صاف اور واضح نظر آتی ہے کہ مَرد و عورت کِسی بھی معاشرے میں ہوں کِسی بھی دِین اور دِین کے کِسی بھی مذہب و مسلک سے وابستہ ہوں،کِسی بھی صورت ایک گاڑی کے دو پہیے قرار نہیں پا سکتے ہیں۔

 

                 فلسفہ در فلسفہ اور اُس کا جواب

 

مرد و عورت کی برابری کے دعویٰ دار، اور عورت کی آزادی اور کارِ حیات میں برابر کی شرکت کے طلبگاروں میں سے کچھ لوگ بغیر انجن کے پہیے گھمانے والے فلسفے کو ذرا اِسلامی رنگ دیتے ہوئے ایک اور فلسفہ شامل کرتے ہیں کہ، مرد کے برتر ہونے کی وجہ یہ کہ وہ عورت پر خرچ کرتا ہے، اور یہ اِس لیے ہوتا ہے کہ عورت کو خود کمانے کا موقع نہیں دِیا جاتا، اگر عورت خود کمائے تو پھر مرد کو اُس پر خرچ کرنے کی ضرورت رہتی ہے نہ عورت کو مرد سے خرچہ لینے کی، لہذ ثابت ہوا کہ عورتیں مَردوں کے برابر ہیں مگر اُنہیں اُن کی صلاحیات استعمال کرنے کا موقع نہیں دِیا جاتا،

اِن بے چاروں کو اللہ تعالیٰ کے فرمان میں یہ نظر نہیں آتا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی ایک مخلوق مَرد کو دوسری مخلوق عورت پر اپنی مرضی سے افضلیت عطاء فرمائی، اور مَردوں کا عورتوں پر خرچ کرنے والا معاملہ دُنیا کے مادی اسباب میں سے ایک سبب بنایا ہے، نہ کہ اکلوتا اور حقیقی سبب کہ اگر اِسے ختم کر لیا جائے تو افضلیت بھی ختم ہو جائے گی، اور ”’ صاحب ”’ اور ”’ بیگم”’ برابر ہو جائیں گے،

اِس مضمون کا موضوع عورت کی آزادی یا برابری نہیں، اِس موضوع پر بات پھر کِسی وقت ہو گی اِنشاء اللہ تعالیٰ، فی الحال اتنا ہی کہنا کافی ہو گا اِنشاء اللہ کہ معاشرتی اور دینی معاملات میں عورت و مرد کی برابری کی سوچ یا اِس کی بنیاد پر گھڑا گیا کوئی بھی فلسفہ اللہ تعالیٰ کے ایک کام کا اِنکار اور اُس پر اعتراض ہے، جو یقیناً ایسا کُفر ہے جو اسلام سے خارج کر دیتا ہے،اِسلام سے خارج کرنے والے کاموں کا تعارف عقیدے کے تعارفانہ رواں خاکہ جات (Flow Charts ) میں مُیسر ہے،

اللہ تعالیٰ سب مُسلمانوں کو اپنا اور اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا تابع فرمان بننے کی توفیق عطا فرمائے اور اِسی تابع فرمانی پر ہمارے خاتمے فرمائے اور اِسی پر ہمارا حشر فرمائے،

اللہ تعالیٰ کے اِس مذکورہ بالا ( اُوپر ذِکر کیے گئے) فرمان سے ہمیں پتہ چلا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی مکمل ترین بے عیب حکمت سے مَردوں کو عورتوں پر برتری عطاء فرمائی ہے، یہ برتری بحیثیتِ جنس عام ہے یعنی مَرد بہر صورت عورت پر برتر ہے، رہا معاملہ مختلف رشتوں کے حقوق کا تو وہ اللہ تعالیٰ نے او ر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مختلف رکھے ہیں جو کہ مَرد کی عورت پر برتری کو ختم نہیں کرتے اور نہ ہی عورت کی عِزت و احترام میں کمی کرتے ہیں، میاں بیوی کے رشتے میں منسلک ہونے کے بعد مَرد کی حیثیت اور حق کتنا بڑھ جاتا ہے یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زُبانی سنیئے :

(١) عبداللہ بن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ ُ کہتے ہیں، کہتے ہیں جب معاذ ابن جبل رضی اللہ عنہُ شام سے واپس آئے تو اُنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سجدہ کیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا ( مَا ہَذا یا مُعَاذ ؟)( یہ کیا معاذ ؟ ) معاذ رضی اللہ عنہ ُ نے عرض کیا ::: میں شام گیا تھا وہاں میں نے دیکھا کہ عیسائی اور یہودی اپنے اپنے مذہبی رہنماؤں اور عالِموں کو سجدہ کرتے ہیں، لہذا میرے دِل میں یہ خواہش پیدا ہوئی کہ ہم آپ کو سجدہ کریں ::: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا (فَلا تَفعَلُوا فَاِنِی لَو کُنت ُ آمِراً احداً ان یَسجُدَ لِغَیرِ اللَّہِ لامَرت ُ المَراَئۃَ ان تَسجُدَ لِزَوجِہَا وَالَّذِی نَفسُ مُحَمدٍ بِیدِہِ لا تُؤَدِّی المَراۃُ حَق َّ رَبِّہَا حَتٰی تُؤَدِّی حَق َّ زَوجِہَا وَلَو سَاَئلَہَا نَفسَہَا وَہِیَ عَلَی قَتبٍ لَم تَمنَعہ ُ)( تُم سب ایسا مت کرو (یعنی مجھے سجدہ مت کرو)، اگر میں کِسی یہ حُکم دینے والا ہوتا کہ وہ اللہ کے عِلاوہ کِسی اور کو سجدہ کرے ( یعنی اگر یہ کام حلال ہوتا ) تو عورت کو حُکم دیتا کہ اپنے خاوند کو سجدہ کرے، اُس کی قسم جِس کے ہاتھ میں محمد(صلی اللہ علیہ وسلم) کی جان ہے، عورت اپنے رب کا حق اُس وقت تک ادا نہیں کر سکتی جب تک کہ وہ اپنے خاوند کا حق ادا نہ کرے، اور (خاوند کا حق اتنا زیادہ ہے کہ ) اگر بیوی اُونٹ کے کاٹھی پر بیٹھی ہو اور خاوند اپنی بیوی کو ( اپنی جنسی طلب پوری کرنے کے لیے ) بلائے تو بھی وہ خاوند کو منع نہیں کرے گی ) صحیح ابن حبان / حدیث ٧١٤١ او ١٣٩٠، سنن ابن ماجہ /حدیث١٨٥٣/کتاب النکاح/باب٤، المستدرک الحاکم / حدیث ٧٣٢٥،کتاب البر و الصلۃ، سلسلۃ الاحادیث الصحیحۃ / حدیث ٣٣٦٦، ٣٤٩٠، ١٢٠٣۔

::::: (٢) انس بن مالک رضی اللہ عنہ ُ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ( لا یَصلَحُ لِبَشرٍ ان یَسجُدَ لِبشرٍ ولَو صَلَحَ ان یَسجُدَ بَشَرٌ لِبشرٍ لامرتُ المراۃَ ان تَسجُدَ لَزوجِہا مِن عَظَمِ حَقِہِ عَلِیہَا، والذِی نَفسِی بِیَدہِ لَو ان مِن قَدمِیِ اِلیٰ مَفرَقِ راسِہِ قَرحَۃً تَنبَجس بالقیحِ و الصدیدِ ثُمَ اقبَلَت تَلحَسہُ ما ادَت حَقَہ ُ ) ( کِسی اِنسان کے لیے حلال نہیں کہ وہ کِسی اِنسان کو سجدہ کرے، اگر ایسا کرنا حلال ہوتا تو عورت پر خاوند کے حق کی عظمت ( بڑائی ) کی وجہ سے میں ضرور عورت کو حُکم دیتا کہ وہ اپنے خاوند کو سجدہ کرے ) اِمام النسائی کی کتاب، عِشرۃ النساء /حدیث ٢٦٨ /باب حق الرجُلِ علیٰ المراۃِ، مُسند احمد (عالم الکتب کی پہلی طباعت میں )/ حدیث ١٢٦٤١، اِمام الالبانی نے صحیح قرار دِیا، صحیح الجامع الصغیر و زیادتہُ ٧٧٢٥،

٭٭٭

ماخذ: اردو ویب

 

 

 

حقوق زوجین

 

زندگی کی لطافت رفاقت میں ہے

                عبدالرافع رسول

 

معاشرے میں مختلف النوع خوفناکیاں سراٹھارہی ہیں۔ خواتین کے ظلم و جبر کا ہدف بننا بھی انہی خوفناکیوں میں سے ہے۔ آفاقی تعلیمات کو چھوڑ کر جب ایک انسان ہوائے نفس کا مطیع بن جاتا ہے تواس کا لازمی نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ انسانی اپنے اصل زمرے سے نکل کر وحشی بن جاتا ہے،پھراسے شائستگی، نرمی، خیر، اخلاق، انصاف، عدل، پیار محبت اور ہمدردی کی کیا توقع رکھی جا سکتی ہے۔یاد رہے کہ قوموں کی شناخت اصول، آدرش اور کسی مقصد حیات سے ہوتی ہے۔مگرایسالگ رہا ہے کہ ہمارے ہاں اصولوں اور آدرشوں کا سینہ چھلنی کیا جا رہا ہے،لیکن یہ بھی اٹل حقیقت ہے کہ ا صولوں اور آدرشوں کا سینہ چھلنی کرنے والے گروہ ملامتوں اور نفرتوں کا نشانہ بنے رہتے ہیں۔ زمینی حقیقتیں بڑی سخت جان اورایسی بڑی منہ زور ہوتی ہیں کہ آنکھیں بند کر لیں تو بھی صاف دکھائی دیتی رہتی ہیں۔جب معاشرہ شروفسادکے الاؤ کی نذر ہو جاتا ہے تو پھر لاکھ دفعہ دل و دماغ کی شورش کو تھپکیاں دے کر سلادینے کی کوشش کی جائے لیکن انہیں سلایانہیں جا سکتا۔جب ایک مرد منتقم المزاج اور چڑچڑا ہو،صنف نازک کے خلاف اسکے سینے میں بل کھاتی کدورت ہو۔تو بھلا آگ سے کبھی پھول کھلا کرتے ہیں۔بادی النظر میں وٹلب کے دلدوز واقعے کے پس منظر میں یہی بات نظر آ رہی ہے کہ دین سے دوری اور میاں بیوی کے حقوق سے لاتعلقی کی وجہ سے ایک شوہر اپنی بیوی کا قاتل بن گیا۔ا س سطور کے لکھنے کا مقصد یہ ہے کہ میاں بیوی دونوں کو یہ احساس دلایا جائے کہ انکی ازدواجی زندگی کی خوشگواری کا راز کن باتوں میں مضمر ہے اور یہ کہ ان کے گھر میں سکھ چین کیسے آسکتا ہے۔ان سطور کو حوالہ قلم کرنے کا یہ ہرگز مقصد نہیں کہ عورتوں کو مردوں کے مقابلے میں صف آرا ہونا چا ہئے،بلکہ مقصد یہ ہے کہ معاشرے میں میاں بیوی کی معاندانہ رقابت ختم کس طرح ہوسکتی ہے۔دونوں میں صبر و تحمل، حلم و بردباری، عفو و درگزر اور رواداری کا جذبہ اور اچھے اخلاق کیسے نمو پا جائیں۔ کیوں کہ وٹلب کے دلخراش واقعے نے سنجیدہ اور فہمیدہ فکر کے حاملین کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔

جب اپنی شریک حیات کے حوالے سے مرد کا غور و فکر، عقل و خرد، تشخیص و توجہ، مصلحت اندیشی و بار آوری اور صحیح و منطقی بنیادوں پر استوار ہو تو پھر شوہر کے ہاتھوں اس کی زوجہ کبھی ہراسان اور پریشان نہیں ہوسکتی۔ پھرگھر ’’گل اور باغباں ‘‘ کا منظر پیش کرے گا،اسلام کے نقطہ نگاہ سے شوہر کا فریضہ ہے کہ گھر میں اپنی اہلیہ کا خیال بالکل ایسے رکھے جیسے نازک پھول کا خیال رکھا جاتا ہے۔ پھول کے ساتھ زور زبردستی کیجئے تو وہ ایک لحظہ میں بکھر کر رہ جاتا ہے۔ لیکن اگر آپ نے پھول کی نزاکت کو سمجھا اور اس کے ساتھ نزاکت آمیز سلوک کیا تو وہ باعث زینت ہو گا، اپنا اثر دکھائے گا، اپنے محاسن ظاہر اور نمایاں کرے گا۔ جسمانی اور جذباتی نزاکتوں والی صنف نازک کو اس نظر سے دیکھنے کی ہمیشہ ضرورت ہے۔کیوں کہ عورت میں اس زنانہ نزاکت کو محفوظ رکھا گیا ہے جس کے زیر اثر اس کے تمام جذبات، خصوصیات اور خواہشات ہوتی ہیں۔ اس سے یہ توقع کیونکر ہونی چاہیئے کہ وہ عورت ہوتے ہوئے بھی مردوں کی مانند کام کرے، اپنی خواہشات مردوں کے مطابق بنائے۔ عورت کے نسوانی انداز کو، جو اس کی ایک فطری اور قدرتی چیز ہے اور جو اس کے تمام جذبات اور سرگرمیوں کا محور بھی ہے، اسلامی طرز فکر میں ملحوظ رکھا گیا ہے۔

صنف نازک پر ظلم ڈھانے کے اسباب و علل پر غورکیا جائے تو یہ بات الم نشرح ہو جاتی ہے کہ یہ محض ا نسان کی جہالت کا نتیجہ ہے۔ جاہل انسان کا مزاج یہ ہوتا ہے کہ اسے کوئی دیکھتا ہے نہ کوئی طاقت اس کی نگرانی کر رہی ہے، ایسے میں حالات کی ستم ظریفی یہ ہوتی ہے کہ عورت کی قدر و منزلت اور مقام و اہمیت کو نہیں سمجھاجاتا۔اگراسکی حقیقت کوسمجھاجاتاتویہ عقدہ خودبخود کھل جاتا ہے کہ عورت وفا پیشہ اور ایثار و محبت کا لازوال شاہکار ہے۔ماں، بیوی، بہن، بیٹی چاہے وہ ان میں سے کسی بھی روپ میں ہو اس کا ہر رشتہ تقدس کا داعی ہے وہ عہد وفا کی سچی اور کردار کی بے داغ ہوتی ہے لیکن افسوس کہ آج کے معاشرے میں اس کو وہ اہمیت حاصل نہیں ہے جس کی وہ حقدار ہے مرد اسے کمزور بلکہ کمتر شئی سمجھتا ہے حالانکہ جس دین اسلام کے ہم ماننے والے ہیں اس نے عورت کو اس کا صحیح مقام و مرتبہ دیا، اسے عزت و توقیر عطا کی،اسلام نے عورت کو ظلم کی کال کوٹھری سے نکال کر اسے اس مقام پر بٹھا دیا جس کی وہ حقدار تھی۔لیکن المیہ یہ ہے کہ اسلام نے عورت کا جو معتبر اور قابل قدر کردار متعین کیا تھا ہم آج اسے ملحوظ خاطر نہیں رکھتے۔

بدقسمتی سے اس وقت بھی عصر ماضی کی طرح عالمی سطح پر خواتین لا متناہی اور لا ینحل مسائل سے دوچار ہیں اور وہ شدید رنج و الم برداشت کر رہی ہیں۔ خاندان، سماج اور معاشرے کے کثیر الجہت مظالم سے وہ تنگ ہے۔ بالفاظ دیگر وہ گھر کے اندر بھی مظلوم ہے اور معاشرے میں بھی، گھر کے اندر عورتوں پر مردوں کا سب سے بڑا ظلم یہ ہے کہ مرد، عورت کو اپنی شریکہ حیات نہیں سمجھتابلکہ ایک نوکرانی سے بھی گئی گذری شئی اسی لئے وہ پیار اور محبتوں کے تمام جذبات و احساسات کو عورت پر نثار نہیں کرتا حالانکہ اسے یہ کرنا چاہئے۔ بدمعاش قسم کے مرد گھر کے باہر غیر اخلاقی حرکتوں، عیاشیوں اور شہوانی مشغلوں میں مصروف ہیں جبکہ اپنے گھر کے اندراس کی طرف سے ایک سرد مہری اور بے رخی کا انداز اور رویہ قائم ہے جو بالآخر منتقم المزاجی، بد اخلاقی اور زور زبردستی کی حد تک پہنچ جاتا ہے۔حالانکہ گھر کو خوشحال بنانے کے لئے سب سے اہم بات میاں و بیوی کا باہمی تعاون اور تال میل ہوتا ہے۔ ایک والد اپنی بیٹی کو معلوم نہیں کیسی کیسی زحمتیں گوارا کر کے پیار محبت سے پالتاپوستا ہے۔ وہ جوانی کی دہلیز پر قدم رکھتی جو ماں باپ کے گھر میں ہنوز بچی ہی شمار کی جاتی ہے، لیکن جب اس کا نکاح ہو جاتا ہے اور وہ اپنے شوہر کے گھر چلی جاتی ہے جہاں اس سے یکبارگی یہ توقع لگائی جاتی ہے کہ وہ میکے کی ہر بات سمجھے، ہر کام انجام دے اور ہر ہنر سے واقف ہو۔ اس سے ذرا سی غلطی ہوئی نہیں کہ چڑھائی کر دی جاتی ہے جو ہرگز قرین انصاف نہیں۔

انہی اوران جیسے بسیاروجوہات کے باعث آج عورت کو معاشرے اور خاندان میں نہ صرف متعصبانہ رویوں کا نشانہ بنایا جاتا ہے بلکہ اسے طرح طرح ہراساں اور مبتلائے رنج و غم رکھا جاتا ہے۔آزاد خیال سوچ کا المیہ یہ ہے کہ وہ عورت کو تجارتی مال او ر کاروباری تشہیر کے ایک ذریعے سے زیادہ خیال نہیں کرتی۔ آزاد خیال اشرافیہ اسے کاروبار اور منافعوں کی بڑھوتری کے لئے ایک آلہ کار کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ایک طرف اگر ظالمانہ ذہنیت رکھنے والوں کا عورتوں پر ظلم و جبر غیر انسانی فعل اور غلامی ہے تودوسری طرف مغرب میں عورتوں کے جسموں کو اشیاء( products)بیچنے اور منافع کمانے کے لئے استعمال کرنا بھی ان کی نجات نہیں ہے۔

واضح رہے کہ دنیا کی آدھی آبادی عورتوں پر مشتمل ہے اور انسانی زندگی کا دار و مدار جتنا شوہروں پر ہے اتنا ہے زوجات پر بھی ہے جبکہ فطری طور پر عورتیں خلقت کے انتہائی اہم امور سنبھال رہی ہیں۔ خلقت کے بنیادی امور جیسے عمل پیدائش اور تربیت اولاد عورتوں کے ہاتھ میں ہے۔ جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ عورتوں کا مقام بہت ہی اہمیت کا حامل ہے۔اس لئے ایک شوہر اپنی بیوی کو ایسی مخلوق کے طور پر دیکھے کہ جو بلند انسانوں کی پرورش کر کے معاشرے کی فلاح و بہبود اور سعادت و کامرانی کی راہ ہموار کر سکتی ہے، تب اندازہ ہو گا کہ زوجہ کے حقوق کیا ہیں اور گھر اور معاشرے میں اس کی آزادی کی نوعیت کیا ہے۔ اگرچہ ایک کنبہ تو میاں بیوی دونوں سے مل کے تشکیل پاتا ہے اور دونوں ہی اس کے معرض وجود میں آنے اور بقا میں بنیادی کردار کے حامل ہیں لیکن گھر کی فضا کی طمانیت اور آشیانے کا سکھ و چین زوجہ اور اس کے زنانہ مزاج پر موقوف ہے۔انسان کو جن چیزوں کی بہت زیادہ ضرورت ہے ان میں ایک سکون و چین ہے۔ انسان کی خو ش بختی اس میں مضمر ہے کہ ذہنی تلاطم اور اضطراب سے محفوظ و مطمئن رہے۔ انسان کو یہ نعمت کنبے اور خاندان سے ملتی ہے،سب کی حقیقت و ماہیت ایک ہے۔ سب ایک ہی حقیقت سے تعلق رکھتے ہیں۔ سب کا جوہر اور سب کی حقیقت ایک ہے۔ البتہ بعض خصوصیات کے لحاظ سے کچھ فرق ضرور ہے چنانچہ ان کے فرائض بھی الگ الگ ہیں۔  اس لئے لازم ہے کہ دونوں مخالف صنف ایک دوسرے کی معیت میں طمانیت حاصل کریں۔ جس طرح گھر میں داخل ہونے پر داخلی فضا پر محیط سکون و چین، مہربان، محبتی اور امانتدار اور پاکدامن بیوی پر نظر پڑنا ایک شوہر کے لئے باعث سکون و طمانیت ہوتا ہے۔عین اسی طرح ایک بیوی کے لئے بھی ایسے میاں اور ایسے مہربان و صالح سرتاج کا وجود، جو اس سے محبت کرے اور مستحکم قلعے کی مانند اس کا پاسبان ہو، باعث سکون و اطمینان اور موجب خوش بختی و سعادت ہوتی ہے بالفاظ دیگر شوہر کو قلبی سکون کے لئے گھر کی فضا میں بیوی کی ضرورت ہوتی ہے اور بیوی کو سکون و چین کے لئے گھر میں شوہر کی احتیاج ہوتی ہے۔اس طرح دونوں کو سکون و چین کے لئے ایک دوسرے کی ضرورت ہے۔

یہ جو اسلام خاندان کے اندر نیک بیوی کے کردار کو اتنی زیادہ اہمیت دیتا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ ایک پاکدامن بیوی نے خاندان کے فریضے کو سنبھالناہے لیا تاکہ اس معاشرے کی انسانی نسلیں با شعور اور قابل افتخار ہوں۔ اس لئے میاں بیوی کا معاملہ، گھر اور خاندان کا معاملہ بہت ہی اہم اور حیاتی نوعیت کا ہے۔ یعنی اگر بیوی خاتون خانہ کے بجائے بہت بڑی ماہر ڈاکٹر یاایجوکیشنلسٹ بن جائے مگر گھر کے فرائض سے عہدہ برآ نہ ہو سکے تو یہ اس کے لئے ایک بڑا نقص اور کمی ہے۔ گھر کی مالکہ کا وجود ضروری ہے، بلکہ گھرکا محور ہی یہی ہے۔یہ تو جاہلانہ عادات و اطوار ہیں جس کی بنیاد میاں بیوی کچھ کام ایسے کر جاتے ہیں، جن کا اسلام اور اس کے نورانی احکامات سے کوئی لینا دینا نہیں ہے اورجسے بالآخر ان کا گھراجڑ جاتا ہے۔میاں بیوی کی اسلامی تربیت ہو تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ کنبہ اپنے شایان شان مقام و منزل پر پہنچ گیا ہے۔ اگر معاشرے میں دونوں علم و اخلاقی کمالات پر فائز ہو جائیں تو گھر کی فضا زیادہ پاکیزہ اور محبت آمیز ہو جائے گی، بچوں کی درست تربیت ہوسکے گی،جسے معاشرہ سدھرجائے گا، زندگی کی مشکلات زیادہ آسانی سے برطرف ہوں گی۔

میاں بیوی دونوں کے مزاج کی کچھ الگ الگ خصوصیات ہیں۔جیساکہ عرض کیا جا چکا ہے کہ شوہر کو اپنی بیوی سے یہ توقع نہیں رکھنی چاہئے کہ گھرکے اندر وہ اس کے شانہ بشانہ کام کرے، زوجہ پر شوہر کا جاہلانہ انداز میں اپنی طاقت کے استعمال، زیادہ روی، تحکمانہ روئے اور جبر و اکراہ کا کوئی حق نہیں ہے۔ یہ خیال نہ کیا جائے کہ شوہر مالک ہے اور گھر کے کام، بچوں کی نگہداشت وغیرہ کو اس نے ایک سینئر نوکر کے سپرد کر دیا ہے اور وہ سینئر نوکر اس کی بیوی ہے وہ جس طرح چاہے جاہلانہ تحکمانہ برتاؤ کر سکتا ہے۔مرد نے جاہلانہ تحکمانہ رویہ اپنایا، عورت کو خادمہ کی حیثیت سے دیکھا تو یہی جھگڑے کی جڑ ہے۔اسی طرح ایک بیوی اپنے شوہر سے عورتوں جیسا برتاؤ اور اسلوب کی توقع نہ رکھے۔ دونوں کے مزاج اور فطرت کے الگ الگ تقاضے ہیں اور انسانی معاشرے میں، میاں بیوی کے سماجی نظام کی مصلحت اسی میں ہے کہ گھروں کے اندر ایک صنف اپنے دوسرے صنف کے مزاج اور ان کے فطری تقاضوں کا مکمل طور پر لحاظ رکھے۔ اگر اس کا خیال رکھا گیا تو دونوں کی خوش بختی و کامیابی کی راہ ہموار ہو گی اورپھرکسی کو بھی دوسرے کے ساتھ زیادتی اور نا انصافی کرنے کا موقع نہیں ملے گا۔ گھر کے اندر جہاں میاں بیوی کے درمیان گہرا محبت و الفت کا رشتہ ہے، دونوں ایک دوسرے کے کام بڑے شوق اور رغبت سے انجام دیتے ہیں۔ لیکن رغبت اور دلچسپی سے کوئی کام انجام دینا اور بات ہے اور اگر کوئی شخص یہ سمجھتا ہے یا اپنے انداز سے یہ ظاہر کرتا ہے کہ عورت ایک خادمہ کی طرح مرد کی خدمت کرے اور اسے اپنا فرض سمجھے تو یہ ایک الگ بات ہے۔ واضح رہے کہ اسلام نے عورت کو اپنے شوہر کی خادمہ نہیں بلکہ اس کی شریک حیات قرار دیا ہے۔

٭٭٭

ماخذ:

http://kashmiruzma.net/full_story.asp?Date=27_2_2014&ItemID=33&cat=8#.VcWTPEYqupo

تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید