FavoriteLoadingپسندیدہ کتابوں میں شامل کریں

مغراف فی تفسیر سورۂ ق

مولانا شاہ عین الحق پھلواروی رحمہ اللہ

تسہیل و حواشی :محمد تنزیل الصدیقی الحسینی

الحمد للّٰہ نحمدہ و نستعینہ و نستغفرہ و نؤمن بہ و نتوکل علیہ و نعوذ باللّٰہ من شرور انفسنا و من سیأت اعمالنا من یھدہ اللّٰہ فلا مضل لہ و من یضللہ فلا ھادی لہ و نشھد ان لا الٰہ الا اللّٰہ وحدہ لا شریک لہ و نشھد ان محمدا عبدہ و رسولہ.

اما بعد ! واضح ہو کہ قرآن شریف کے جملہ احکام کی تعمیل مسلمانوں پر لازم ہے۔ اسی لیے ضروری ہے کہ اسے سیکھیں، تلاوت کرتے رہیں، اور یہ نہ ہوسکے تو سن کر ہی اس پر عمل کریں۔ پس بعض نمازوں میں جہراً بھی تلاوت واجب کی گئی اور مسلمانوں کے لیے حضوری جماعت لازم و متحتم ہوئی، اور حضرت رسول اللہ ۖ کو ارشاد ہوا ( اور جو حکم کہ آپ کے لیے مخصوص نہ ہوا اس میں تمام مسلمان شامل ہیں )  :

    ( و ذکر فانّ الذکری تنفع المومنین ) [ الذاریات : ۵۵]

    ”آپ نصیحت کرتے رہیے اس لیے کہ وعظ و نصیحت مسلمانوں کو فائدہ بخش ہے۔”

اور حدیث شریف میں آیا ہے کہ

    ” انّما بعثت معلماً ” (۱)

” میں اسی لیے تمہاری طرف نبی بنا کر بھیجا گیا ہوں کہ تم لوگوں کو دین کی باتیں سکھاؤں۔ ”

اس ارشاد کی تعمیل کی غرض سے ہفتہ میں ایک بار بطور تعلیم دین و عظ و نصیحت فرض ہوئی، اور وہ دن جمعہ کا ہے اور وعظ و نصیحت یہی خطبہ ہے جو جمعہ کی نماز میں شرط ہے۔ پھر نمازِ جمعہ کا یہ اہتمام کیا گیا کہ تمام کاروبارِ دنیا موقوف کر کے آنا ضروری ٹھہرایا گیا اور فرمایا:

     ( اِذَا نُوْدِيَ لِلصَّلٰوۃِ مِنْ يَّوْمِ الْجُمُعَۃِ فَاسْعَوْا اِلٰى ذِكْرِ اللّٰهِ وَذَرُوا الْبَيْعَ ) [الجمعۃ : ۹ ] یعنی “جب صلوۃ جمعہ کی اذان سنو تو اللہ کی یاد ( یعنی خطبہ ) کی طرف دوڑو اور بیچ کھونچ[خرید و فروخت ] موقوف کر دو”.

اور حدیث شریف میں آیا ہے :

        عن أبی ھریرۃ و ابن عمر : ” انہما سمعا رسول اللّٰہ ۖ یقول علی اعواد منبرہ لینتہین اقوام عن ودعہم الجمعات او لیختمن اللّٰہ علی قلوبہم ثم لیکونن من الغافلین۔”رواہ مسلم و ابن ماجۃ (۲)

     حضرت ابو ہریرہ اور ابن عمر نے رسول اللہ ۖ کو منبر کے اوپر فرماتے سنا کہ ” لوگ جمعہ کی نماز کو ترک کرنے سے باز آئیں، ورنہ اللہ تعالیٰ ان کے دل پر مہر کر دے گا پھر اس کا یہ نتیجہ ہو گا کہ دین کی طرف سے لا پرواہی کرنے والوں میں ہو جائیں گے۔ ”

اور بلحاظِ شفقت اور آسانی کے صرف جمعہ کے دن ظہر میں سے دو رکعت کو کم کر کے ان کی جگہ دو خطبے مقرر کیے گئے اس لیے کہ اگر ہر روز ہوتا تو تکلیف ہوتی۔ ماہوار یا سا ل بسال ہوتا تو بعد بعید ہو جاتا اور جمعہ کے دن چاروں رکعتیں بھی بحال رہتیں اور دو خطبے بھی تو حرج لازم آتا۔

اور چونکہ نصیحت کے لیے استماع اور حضورِ قلب ضروری ہے۔ خطبہ کے وقت سکوت اور سکون محض کی تاکید فرمائی۔

    ( فَاسْتَمِعُوْا لَهٗ وَاَنْصِتُوْا )        [ الاعراف : ۲۰۴]

     “چپ چاپ سنتے رہو”

اور حدیث شریف میں آیا ہے :

    ” عن ابی ھریرۃ ان النبی ۖ قال اذا قلت لصاحبک یوم الجمعۃ انصت و الامام یخطب فقد لغوت۔ ” رواہ البخاری (۳)

    [ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب تم اپنے ساتھی سے جمعہ کے دن خاموش رہنے کے لیے کہو اور امام خطبہ دے رہا ہو تو تم نے یقیناً لغو کام کیا۔]

اور نصیحت کے لیے بہترین کلام، کلام اللہ ہے اس لیے فرمایا :

        ( فَذَكِّرْ بِالْقُرْاٰنِ مَنْ يَّخَافُ وَعِيْدِ ) [ق :۴۵] “آپ بذریعہ قرآن کے نصیحت فرمائیں، اس کو جو میرے عذاب سے ڈرتا ہے۔ ”

اور حدیث میں آیا ہے :

        ” ان ھذا القرآن حبل اللّٰہ و النور المبین و الشفآء النافع۔ ” رواہ الحاکم عن ابن مسعود (٤)”یہ قرآن اللہ کی ڈوری ہے، اور جگمگاتا نور ہے اور دل کے روگ کی نافع شفا ہے۔ ”

اس ارشاد کی تعمیل کی غرض سے رسول اللہ ۖ نے جمعہ کے دن سورئہ ق کا پڑھنا خطبہ میں اختیار فرمایا۔

        عن ام ھشام بنت حارثۃ بن النعمان قالت : ما أخذت ق والقرآن المجید الا علی لسان رسول اللّٰہ ۖ کان یقرأ بہا کل یوم جمعۃ علی المنبر اذا خطب الناس۔” رواہ احمد (۵)ام ہشام صحابیہ فرماتی ہیں کہ ” میں نے سورئہ ق حضرت ہی کے زبان مبارک سے سیکھ کر یاد کر لی آپ اس سورت کو منبر پر ہر جمعہ کے خطبہ میں پڑھا کرتے تھے۔ ”

اس حدیث سے جمعہ کے خطبے میں اس سورہ کا پڑھنا مسنون ثابت ہوتا ہے۔ اس کی تخصیص میں یہ بھید ہے کہ

( اوّل ) تذکیر اور وعظ کے لیے سب سے زیادہ مؤثر آلہ موت کی یاد دہانی ہے، اور قیامت کا ہولناک واقعہ سنانا، اللہ کے نافرمان بندوں کے دنیا دین میں رسوا ہونے کا بیان اور یہ سورہ باوجود اس قدر مختصر ہونے کے ان تمام بیانات کی جامع ہے۔

( دوسرے ) ساری خوبیوں کی اصل اللہ کی بھیجی ہوئی کتاب پر اور رسول پر ایمان لانا ہے اور یہ سورت بتمامہا اسی کے اثبات میں اتری ہے۔

( تیسرے ) رسول اللہؐ کی اور مسلمانوں کی اس سورت میں نہایت تسلی فرمائی ہے اور صبر کا حکم دیا ہے پس ہر ہفتے اس کا اعادہ مجمع عام میں مسلمانوں کے پر زور اور غم دیدہ دل کی نہایت تشفی کا باعث ہے۔

( چوتھے ) منکرین ہمیشہ آپ کی نبوت کے انکار میں نئے نئے عذر پیش کرتے، کبھی شاعر کہتے، کبھی کاہن، کوئی مجنون بتلاتا، تو کوئی معلم، کوئی مفتری کہتا، کوئی اساطیر اوّلین کا ناقل، جس کے سبب سے ان کے تزلزل رائے کا بخوبی پتہ لگتا ہے، اور جناب سیّد المرسلین رسول بر حق کا ہمیشہ ایک دعوے کو مختلف دلائل سے ثابت کرتے رہنا اور بر ملا ہزاروں آدمیوں کے رُو برو بار بار اپنے دعویٰ کا بڑے زور سے ظاہر کرتے رہنا دلیل ہے آپ کے استقلال اور آپ کے دعویٰ کے قوت کی۔

( پانچویں ) قیامت کے دن شیطان اور کفار میں جھگڑا اور اس کے جواب میں جناب باری عزاسمہ کا ارشاد ( مَا یُبَدَّلُ الْقَوْلُ لَدَیَّ ) [ق : ۲۹] “ہمارے یہاں ہر لحظہ ردّ و بدل نہیں ہوا کرتی۔ ” اس میں مذکور ہے۔ تو گویا ہر جمعہ میں ایک سورۃ التزام جس میں بار بار ایک ہی مضمون آتا رہتا ہے۔ اس میں تغیر و تبدل نہیں ہوتا اسی کیفیت کی یاد دہانی اور اشارہ ہے۔

نظر بریں وجوہات اس سورت کی تفسیر لکھنے کی میرے دل میں تحریک پیدا ہوئی کہ عام خلق خدا کو اس کے سمجھنے کا ثواب ملے اور اس پر عمل کی توفیق ہو اور اس صورت سے نبی ۖ کی ہر ہفتے میں جمعہ کے خطبہ میں اس کو اختیار کرنے سے جو غرض تھی، وہ باقی رہے۔

و اللّٰہ أسالہ ان یجعلہ خالصا لوجھہ الکریم و ینفعنی بہ اولا ثم کل من یرید ان یسلک الصراط المستقیم انہ تعالیٰ جواد کریم و صلّی اللّٰہ علیہ رسولہ محمد و الہ و صحبہ بالتسلیم۔

حواشی

(۱) سنن الدارمی : کتاب المقدمۃ، باب فی فضل العلم والعالم۔ سنن ابن ماجہ : کتاب المقدمۃ، باب فضل العلما والحث علی طلب العلم۔علامہ سندھی اور شیخ البانی کے مطابق بہ لحاظ اسناد حدیث ضعیف ہے۔

(۲) صحیح مسلم : کتاب الجمعۃ، باب التغلیظ فی ترک الجمعۃ۔ سنن ابن ماجہ : کتاب المساجد و الجماعات، باب التغلیظ فی التخلف عن الجماعۃ۔مسند أحمد : و من مسند بنی ہاشم، بدایۃ مسند عبد اللّٰہ بن العباس۔صحیح مسلم کے سوا بقیہ روایات میں سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی جگہ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا نام ہے۔

(۳) صحیح بخاری : کتاب الجمعۃ، باب الانصات یوم الجمعۃ والامام یخطب واذا قا ل لصاحبہ انصت۔صحیح مسلم : کتاب الجمعۃ، باب فی الانصات یوم الجمعۃ فی الخطبۃ۔ سنن ابن ماجہ : کتاب اقامۃ الصلاۃ و السنۃ فیھا، باب ما جاء فی الاستماع للخطبۃ والانصات لہا۔

(۴) سنن الدارمی : کتاب فضائل القرآن، باب  فضل من قرأ القرآن۔ المستدرک علی الصحیحین للحاکم : کتاب فضائل القرآن، باب اخبار فی فضائل القرآن جملۃ۔ امام حاکم کے مطابق یہ حدیث صحیح ہے تاہم امام شمس الدین الذہبی اسے ضعیف قرار دیتے ہیں۔

(۵) مسند احمد : مسند القبائل، حدیث ام ہشام بن حارثہ بن النعمان رضی اللہ عنہا۔ صحیح مسلم : کتاب الجمعۃ، باب تخفیف الصلاۃ و الخطبۃ۔

٭٭

( ق )

یہ حرف اور جو ایسے ایسے حروف سورتوں کے شروع میں مذکور ہیں، ان کے معنوں کو سوائے اللہ اور رسول ۖ کے کوئی نہیں جانتا۔ ہر دوست اپنے دوست کے لیے کچھ نہ کچھ اشارے رکھتا ہے جن کو اغیار نہیں سمجھ سکتے۔ ہم مسلمانوں کو اپنے مقام پر پر ٹھہرنا چاہیے، اور آگے بڑھنے کی جرأت نہ کرنی چاہیے جس قدر معلوم ہے، اس پر شکر احسان ہے، اور جو مخفی ہے اس پر ایمان ہے۔

 ( وَ القُرْاٰنِ الْمَجِیْدِ )[۱] “قسم ہے قرآن کی جو بزرگ ہے”

 اس لیے کہ اس کا اتارنے والا مجید اور پروردگار عالم اور جس پر اتارا گیا وہ سیّد اولادِ آدم، جو فرشتہ اس کے لانے کے لیے انتخاب کیا گیا، وہ تمام ملائکہ میں محترم، جس شہر میں اوّل نازل ہوا یعنی مکہ وہ امّ القریٰ اور حرم، جہاں کی ایک رکعت نماز کا ثواب دوسری جگہ کی لاکھ رکعت کے برابر۔ جس ماہ میں اترا یعنی رمضان وہ تمام مہینوں سے بزرگی و برکات و فضل میں ممتاز۔ جس شب میں نازل ہوا یعنی لیلۃ القدر اس کے فضائل بے انتہا۔ جس امت کے لیے اترا وہ خیر الامم۔ اس کے تلاوت کا ثواب نا محدود۔ اس کے تفکر و تدبر سے حصول مقصود خود وہ مضامین جو اس کے مندرج ہیں، پاکیزہ و بابرکت و پر زور جو جہاں بھر کے مختلف اقوام کے رہنمائی کے لیے قیامت تک کافی۔ اس کے قصص پُر اثر اور نتیجہ خیز اس پر کذب و فحش سے پاک اس کی تمثیلیں ابلغ تمثیلات ہر ایک دعویٰ راست اور دلائل موصل الی المطلوب [مطلب تک پہنچانے والی].

ایسی محترم چیز کی قسم کھا کر کفار سے یہ کہا جاتا ہے کہ آپ ہماری طرف سے بھیجے ہوئے رسول ہیں، اور قیامت کے عذاب سے تم لوگوں کو ڈرانے کی غرض سے بھیجے گئے ہیں۔

آدمی کا قاعدہ ہے کہ جب کوئی تعجب خیز بات سنتا ہے، تو اوّلاً اس کی صحت میں شک کرتا ہے، مگر جب دیکھتا ہے کہ کہنے والا نہایت راست گو، دیانتدار ہے، اور بقسم بیان کرتا ہے، تو اس کا شک دور ہو جاتا ہے اور ایسی حالت میں کم از کم اس قدر ضرور کہتا ہے کہ جب تمہارے جیسا دیانت دار اور سچا آدمی بڑے دعوے سے کہہ رہا ہے تو اگرچہ میری عقل میں نہیں آتی مگرسچ مان لیتا ہوں۔ لیکن ان کفار کا ( آپ کی راستی کا کمال یقین رہتے ہوئے ) آپ کی نبوت کو نہ تسلیم کرنا بسبب ایک شبہ کے ہے جس سے وہ شک و تردد ہی کی حد تک نہ رہے ( بَلْ ) ”بلکہ” شک سے ترقی کر کے ایک جانب کا فیصلہ کر لیا کہ آپ نبی نہیں ہیں اور قیامت کا ہونا ہر گز صحیح نہیں اور آپ کو اس فیصلے کے خلاف دعویٰ پر اصرار کرتے دیکھ کر  ( عَجِبُوْا ) ”تعجب کرنے لگے” ( اَنْ جَآئَ ھُمْ مُّنْذِر ) ”کہ ان کے پاس ایک ڈرانے والا آیا” جو اپنے کو باوجود اوصاف بشریت کے اللہ کا بھیجا ہوا کہتا ہے۔ اگر کوئی فرشتہ یا جن یہ دعویٰ کرتا تو چنداں جائے تعجب و انکار نہ ہوتا، تعجب تو اس لیے ہے کہ وہ ڈرانے والا ( مِنْھُمْ ) ”انہیں میں کا ایک آدمی ہے” جو نہ من حیث بشریت کے لائقِ نبوت ہے نہ من حیث عزت و وجاہت کے نہ من حیث مال و دولت کے  (فَقَالَ الْکٰفِرُوْنَ ) ”تو کہا نہیں ماننے والوں نے” ( ھٰذَا )”یہ” یعنی ہمیں لوگوں میں سے ایک شخص کا اس قدر بلند پایہ ہو جانا اور منصب نبوی تک پہنچ جانا اور بلا ستعانت مال و جاہ وغیرہ کے جو ترجیح استحقاق کے فی الجملہ باعث ہوسکتے ہیں۔ سب پر فوقیت کا دعویٰ کرنا  ( شَیْٔ عَجِیْب ) [۲] “عجیب چیز ہے”. دوسرے جس مصیبت سے ڈراتے ہیں وہ اگر دنیا ہی میں آنے والی بتاتے تو خیر، تعجب بالائے تعجب تو یہ ہے کہ کہتے ہیں کہ مر جانے کے بعد جب قیامت کا دن آئے گا جس کو مدت دراز ہے تو ( ئَاِذَا مِتْنَا وَ کُنَّا تُرَابًا ) ”کیا جب ہم مر مٹیں گے اور سڑ گل کر مٹی ہو جائیں گے۔” بھلا ایسی حالت میں یہ عذاب کس طرح ہو گا، کس پر ہو گا، کون سہے گا۔ تو خواہی نخواہی یا یہ بات ہی غلط ہے یا مانا جائے کہ مر مٹنے کے بعد دوبارہ زندہ کر کے پوری طرح پر آدمی کی ہستی لوٹائی جائے گی، اور عذاب کیا جائے گا۔

گو یہ بات مسلمان اور رسول قرین عقل سمجھیں مگر ( ذٰلِکَ رَجْع بَعِیْد ) [۳] ”وہ لوٹنا اور بار دوم ہستی کا واپس ملنا قیاس و عقل سے نہایت دور ہے۔”

انسان میں ناری و ہوائی و آبی اجزا سب ہوا ہو جائیں گے خاکی اجزاء خاک میں مل جائیں گے۔ اگر ڈوب کر دریا میں مرا تو کوسوں کی مچھلیوں اور دریائی جانوروں کا جزو بدن ہو گیا۔ جل کر مرا تو خاک سیاہ ہو کر نیست و نابود ہو گیا۔ کسی درندے نے پھاڑ کھایا تو مختلف جانوروں کے مختلف اجزا ہو کر وہ بھی یا کسی دوسرے حیوان کا جزو بدن بن جائے گا، اور وہ تیسرے کا یا آخر کو خاک بن جائے گا۔ پھر وہ خاک خدا جانے کہاں کہاں اڑتی پھرے گی۔

پس اس قدر اجزاء کا پراگندگی کے بعد مجتمع ہو جانا، اور جوڑ جوڑ کا از سر نو اسی حال پر آنا بالکل عقل کے خلاف ہے۔

کفار کے یہی دو شبہے ایک بہ نسبت نبوت کے اور دوسرا بہ نسبت حشر و نشر کے جو ذکر کیے گئے، ان کے لیے باعث تعجب تھے ان دونوں شبہوں کی تردید یہاں سے لے کر تا آخر سورت بیان فرمائی گئی ہے۔

(۱) متفرق اجزا کا بہم کرنا بعد مدت دراز ہر جوڑ بند کا پہلی حالت پر لے آنا اس کے نزدیک مشکل ہے، جو خبر نہ رکھتا ہو کہ وہ اجزا کیا ہوئے اور کدھر گئے۔ میرے نزدیک کیا مشکل ہے میری خبر داری کا یہ حال ہے کہ

 ( قَدْ عَلِمْنَا مَا تَنْقُصُ الْاَرْضُ مِنْھُمْ )”میں جان رہا ہوں جو کچھ ان میں سے زمین کم کرتی ہے”.

گو زمین اپنی جذبی تاثیر سے جسم کو مٹی بنا ڈالتی ہے، اور کچھ اجزائے جسم ہوا یا پانی ہو جاتے ہیں اور ترکیبِ نوعی بالکل بدل جاتی ہے، اور سیکڑوں بلکہ ہزاروں انقلابات ہو جاتے ہیں مگر یہ ساری حالتیں میرے علم میں موجود ہیں، جس وقت چاہوں ہر جزو کو دوسرے سے الگ کر سکتا ہوں اور ایک جسم کے تمام اجزاء کا گو وہ کتنے ہی پراگندہ اور دوسرے جسم کی طرف مستحیل[شامل] ہو گئے ہوں پتا لگا کر بہم [جمع] کرسکتا ہوں۔

اور میرے کارکنان قضا و قدر موکل فرشتے بھی بہت آسانی سے اس کو پتا لگا کر بہم [جمع] کرلیں گے۔ ( وَ ) ”اور” ( اس لیے کہ )

 ( عِنْدَنَا کِتَاب )”ہمارے پاس تو ایک عظیم الشان کتاب ہے”

جس میں کارخانۂ عالم کے جزوی و کلی اجمالی و تفصیلی حالات مندرج ہیں، کوئی واقعہ چھوٹا ہو یا بڑا اس سے باہر نہیں ہو سکتا، جیسا کہ فرمایا ہے

    ( لَا رَطْبٍ وَّ لَا یَابِسٍ اِلَّا فِی کِتٰبٍ مُّبِیْنٍ )[الانعام : ۵۹]

        “ہر تر و خشک کتاب مبین میں موجود ہے”.

 ( یعنی جو ہوا ہے اور ہونے والا ہے وہ سب ہماری کتاب لوح محفوظ میں لکھا ہوا ہے ) اور اس میں نہ بسبب کہنگی کے تغیر ہوتا ہے، اور نہ کوئی ایسا ہاتھ وہاں تک پہنچ سکتا ہے، جو واقعات کو رد و بدل کر ڈالے۔ اس لیے کہ وہ

 ( حَفِیْظ ) [۴] ”نہایت محفوظ ہے”

اور سارے انقلابات اور حادثات کی حافظ ہے۔ اب جو ان کی تسکین کے لیے کافی وا فی دلیل بیان کردی گئی، تو مان ہی لینا تھا، مگر پھر بھی نہ مانا

 ( بَلْ کَذَّبُوْا بِا لْحَقِّ لَمَّا جَآئَ ھُمْ )”بلکہ حق بات آتے ہی جھٹلا دی۔ ”

اب کوئی معقول وجہ انکار کی نہ رہی تو لگے واہی تباہی باتیں بنانے اور ہٹ دھرمی کرنے۔ کبھی کہتے ہیں کہ خدا اگر فرشتے کی معرفت کہلواتا تو مانتے، بشر کی کبھی نہ مانیں گے۔

    ( وَ قَالُوا لَوْ لَآ اُنْزِلَ عَلَیْہِ مَلَک۔ وَ لَوْ اَنْزَلْنَا مَلَکًا لَّقُضِیَ الْاَمْرُ ثُمَّ لَا یُنْظَرُونَ ) [الانعام : ۸]”اور کہا کفار نے کیوں نہ ان پر فرشتہ اتارا گیا ( تاکہ ہم کو یقین لانے کا عمدہ موقع ملتا مگر یہ نہ سمجھے ) کہ اگر ہم فرشتہ نازل کرتے تو فیصلہ ہی ہو جاتا پھر مہلت نہ دی جاتی۔”

    ( وَ قَالُوْا مَالِ ھٰذَا الرَّسُوْلِ یَاْکُلُ الطَّعَامَ وَ یَمْشِیْ فِی الْاَسْوَاقِ ط لَوْ لَآ اُنْزِلَ اِلَیْہِ مَلَک فَیَکُوْنَ مَعَہ نَذِیْرًا۔ اَوْ یُلْقٰی اِلَیْہِ کَنْز اَوْ تَکُوْنُ لَہ جَنَّۃ یَّاْکُلُ مِنْھَا ط وَ قَالَ الظّٰلِمُوْنَ اِنْ تَتَّبِعُوْنَ اِلَّا رَجُلاً مَّسْحُوْرًا ) [الفرقان : ۷۔۸]

    ”اور کہا منکروں نے اس رسول کو کیا ہے کھانا کھاتا ہے، بازاروں میں چلتا پھرتا ہے۔ ( ساری باتیں تو تمہاری سی ہیں اس پر رسالت و نبوت کا دعویٰ جو ان کے نزدیک آدمیت کی شان سے بالاتر تھا ) کیوں نہیں اس پر کوئی فرشتہ اتارا گیا کہ وہ اس کے ساتھ ڈراتا رہتا۔کیوں نہ اسے کوئی خزانہ دیا گیا یا کوئی باغ اس کے لیے ہوتا کہ اس میں سے کھاتا اور ظالموں نے کہا کہ تم تو جادو زدہ اور دیوانے کی اتباع کرتے ہو ( یعنی یہ تو دیوانوں کی سی باتیں کرتا ہے تم اس کی کیوں سنتے ہو )۔”

    ( وَ قَالَ الَّذِیْنَ لَا یَرْجُوْنَ لِقَآئَ نَا لَوْ لَآ اُنْزِلَ عَلَیْنَا الْمَلٰئِکَۃُ اَوْ نَرٰی رَبَّنَا ط لَقَدِ اسْتَکْبَرُوْا فِیْ اَنْفُسِھِمْ وَ عَتَوْ عُتُوًّا کَبِیْرًا ) [الفرقان :۲۱]”اور جن کو ہم سے ملنے اور جی کر زندہ ہونے کا یقین نہیں ہے انہوں نے کہا  (اگر یہ پیغمبر ہے تو ) کیوں نہ اس کے ساتھ فرشتے آئے یا ہم اپنے پروردگار کو دیکھتے بیشک ان منکروں نے اپنے جی میں تکبر کیا اور بہت سر اٹھایا۔”

کوئی کہتا ہے کہ یہ ہوش ہی میں نہیں، سب مالیخولیا ہے۔ مجنونانہ خیالات ہیں، دیوانے کی باتوں کا کیا ٹھکانا، جس سے ہم آبائی دین کو چھوڑ دیں جیسا کہ فرمایا

    ( أَ ئِنَّا لَتَارِکُوْا اٰلِھَتِنَا لِشَاعِرٍ مَّجْنُوْنٍ ) [الصآفات:۳۶]” بھلا ہم لوگ اپنے معبودوں کو ایک شاعر دیوانے کی خاطر سے کبھی چھوڑنے والے ہیں۔”

اور فرمایا

    ( ھَلْ نَدُلُّکُمْ عَلٰی رَجُلٍ یُّنَبِّئُکُمْ اِذَا مُزِّقْتُمْ کُلَّ مُمَزِّقٍ اِنَّکُمْ لَفِیْ خَلْقٍ جَدِیْدٍ۔ اَفْتَرٰی عَلَی اللّٰہِ کَذِبًا اَمْ بِہ جِنَّۃ )[سبا:۷۔۸]” کفار تمسخر کی راہ سے ایک دوسرے سے کہتے ہیں کہ آؤ تمہیں ایک آدمی کے پاس لے چلیں جو تمہیں یہ بتائے گا کہ جب تم سڑ گل کر بالکل ریزہ ریزہ ہو جاؤ گے تو پھر دوبارہ نئی طرح سے پیدا کیے جاؤ گے۔ نہیں معلوم کہ خدا کی طرف جھوٹ جھوٹ ان باتوں کی نسبت کرتا ہے یا سڑی [جن زدہ] ہے۔”

کوئی کہتا ہے کہ یہ سب شاعرانہ نازک خیالیاں ہیں ان کو منجانب اللہ ہونے سے کیا علاقہ مگر جو خود شاعر ہیں جب وہ غور سے سنتے ہیں تو کہتے ہیں کہ کجا شاعرانہ تُک بندیاں اور محض خیالات، بے سروپا مضامین اور کجا یہ کلام معجز نظام بیشک ایسا نظم کلام طاقت بشری سے باہر ہے۔

مگر یہ کیا ضرور ہے کہ خدا کا ہی ارشاد ہو، کوئی شیطان یا جن اسرارِ غیبی ملا ملا کر ان کو یہ باتیں سکھا جاتا ہے، جیسا کہ اس کی تردید میں دوسری جگہ فرمایا گیا ہے

    ( وَ لَا بِقَوْلِ کَاھِنٍ ط قَلِیْلًا مَّا تَذَکَّرُوْنَ ) [الحاقۃ:۲۲]”یہ کسی کاہن کی بات نہیں۔ تم لوگ سوچتے بہت کم ہو”.

غرض کوئی شاعر، کوئی مجنوں، کوئی کاذب، کوئی کاہن، کوئی کچھ کوئی کچھ کہتا ہے۔

 ( فَھُمْ فِیْ اَمْرٍ مَّرِیْجٍ )[٥]”تو وہ لوگ آپ کی تنقیص اور انکار کے بارے میں نہایت مختلف القول اور مختلف الرائے ہو رہے ہیں۔”

(۲) ان کا باہم مختلف ہونا اور جلد جلد تبدل رائے کرتے رہنا اور آپ ؐ  کا ابتداء سے انتہاء تک اپنے دعویٰ پر ثابت و قائم رہنا، اور بَرملا اس کو ظاہر کرتے رہنا اور روز بروز عقلا اور اہلِ دانش کا قبول کرتے جانا اس بات کی صریح دلیل ہے کہ آپ کا دعویٰ حق ہے اور اب ان کا انکار کسی دلیل کی بنا پر نہیں ہے بلکہ نری [صرف] ہٹ دھرمی اور حماقت ہے اگر اب بھی کفار اللہ تعالیٰ کے احاطۂ علمی کو تسلیم نہ کریں اور اپنے اختلافِ باہمی سے بھی اپنے کو غلطی پر نہ مانیں، تو تیسری دلیل پیش کیجئے، اور لوحِ محفوظ میں وقائع  ]واقعات[ کا لکھا ہونا بھی دلیل ہے، وہ کہہ سکتے ہیں کہ ہم کو کیا علم کہ اللہ جلّ شانہ کے یہاں وقائع و حوادث کی کوئی کتاب لکھی ہوئی دھری ہے، تو دلیل عقلی سے سمجھائیے۔

(۳ ) ( اَفَلَمْ يَنْظُرُوْٓا اِلَى السَّمَاءِ ) ان لوگوں نے آسمان کی طرف ایک نظر بھی نہیں ڈالی۔ یہ کیوں کر کہہ سکتے ہیں کہ نہیں حالانکہ وہ   ( فَوْقَهُمْ ) ان کے سر پر ہے  ( كَيْفَ بَنَيْنٰهَا) اسے کیسی اونچی چھت بنائی اس کی اونچائی کے سبب سے یہ بھی گمان نہیں ہوسکتا کہ کسی ارضی مخلوق نے بنایا ہو۔ پھر دیکھو کہ ( وَزَيَّنّٰهَا )  نہایت مزین بنایا، جو دن کو آفتاب کی چمکتی شعاع، نیلگوں رنگ سے سجا ہوا نظر آتا ہے، اور شب کو مختلف رنگ اور مختلف طور کے ستاروں سے سجا جاتا ہے جن کی ترتیب اور شعاع کی مجموعی کیفیت عجب دلفریب ہوتی ہے۔

اور ظاہر ہے کہ یہ ارتفاع [بلندی] اور رنگ اور دلفریب سجاوٹ آسمان کی دوچار برس سے نہیں بلکہ خلقتِ آدم کے بہت پہلے سے ہے مگر جو رنگ روپ پہلے تھا، اب بھی موجود ہے، نہ تبدیل و تغیر ہے، نہ تفاوت [فاصلہ، فرق]، اور جب تک خدا چاہے گا رہے گا، حالانکہ کوئی سی چھت جو پرانی ہو جانے سے کمزور ہو جاتی ہے۔ اندرونی و بیرونی حصے میں اس کی سخت تغیر آ جاتا ہے، رنگت پھیکی پڑ جاتی ہے یا بالکل اڑ جاتی ہے۔ جا بجا پھٹ کر شگاف پڑ جاتا ہے مگر آسمان وہ چھت ہے، جس میں نہ کبھی رنگ و روغن پھیرا جاتا ہے نہ شکست و ریخت ہوتی رہتی ہے، جس آب و تاب و رنگ و روپ کا ایک بار بنا ویسا ہی موجود ہے۔ (  وَمَا لَهَا مِنْ فُرُوْجٍ ) [٦] اس میں کہیں بھی بسببِ امتداد [درازی] زمانہ کے درار و شگاف نہیں۔

آسمان اور اس کی رفعت اور زینت سے اثبات حشر و بعثت انبیاء پر کئی طرح سے استدلال کیا جا سکتا ہے۔

( اوّل ) جو اللہ آسمان کو پیدا کرنے اور اس قدر اونچا بنانے پر اور ایسا خوشنما سجانے پر قادر ہے۔ وہ اللہ دوبارہ ہستی کے لوٹانے پر بھی قدرت رکھتا ہے، جیسا کہ ارشاد ہوا :

    ( اَوَلَيْسَ الَّذِيْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ بِقٰدِرٍ عَلٰٓي اَنْ يَّخْلُقَ مِثْلَهُمْ  )  [ یٰس:۸۱]

     “بھلا جس نے آسمانوں اور زمینوں کوپیدا کیا،وہ ان کے مثل ( دوبارہ ) پیدا کرنے پر قادر نہیں ؟”

 اور فرمایا:

    ( لَخَْقُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ اَكْبَرُ مِنْ خَلْقِ النَّاسِ ) [غافر: ۵۷]

    “بے شک آسمان اور زمین کا پیدا کرنا آدمیوں کے پیدا کرنے سے زیادہ مشکل ہے۔”

 اور فرمایا:

     ( اَوَلَمْ يَرَوْا اَنَّ اللّٰهَ الَّذِيْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ وَلَمْ يَعْيَ بِخَلْقِهِنَّ بِقٰدِرٍ عَلٰٓي اَنْ يُّـحْيِۦ الْمَوْتٰى ) [الاحقاف : ۳۳]

    “کیا ان لوگوں نے نہ دیکھا کہ جس اللہ نے آسمان و زمین کو پیدا کیا، اور اسے اس میں کچھ دقت نہ ہوئی وہ مردوں کے زندہ کرنے پر قادر ہے۔”

(دوم ) کیا جو اللہ آسمان کے رنگ و روپ کے وسعت و آراستگی کا زمانۂ دراز سے حافظ و نگہبان ہے۔ وہ متفرق اجزائے انسان کا کسی عَالم میں ہوں حافظ نہیں ہوسکتا۔

( سوم ) جو اللہ آسمان کا پیدا کرنے والا ہے، ضرور زینت و آراستگی وا نتظام کو دوست رکھتا ہے، اور آراستگی کی دو قسمیں ہیں۔ ظاہری و باطنی۔ جب ظاہری آراستگی کا مخلوقات کے جو باطنی آراستگی سے کم رتبہ اور معرضِ زوال میں ہے اس قدر اہتمام ہے تو باطنی آراستگی کا جو مہتمم بالشان اور باقی ہے کس قدر اہتمام ہو گا پس اشرف المخلوقات انسان کو جب تمام مخلوقات سے ظاہری آراستگی میں اتم و اکمل بنایاجیسا کہ فرمایا:

    (لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ فِيْٓ اَحْسَنِ تَقْوِيْمٍ ) [التین :۴ ]

    “انسان کو نہایت اچھی تناسب میں بنایا”

 تو اس کی باطنی آراستگی بھی اسی درجہ ضروری تھی، اور اس کا ذریعہ پیدا کردینا لازم تھا۔اسی لیے نبیوں کا بھیجا کہ ان کو باطنی نا ہمواری و بے تہذیبی و بد خلقی سے پاک کریں اور نہایت مہذب اور آراستہ و مزین بنائیں جیسا کہ فرمایا:

    (لَقَدْ مَنَّ اللّٰهُ عَلَي الْمُؤْمِنِيْنَ اِذْ بَعَثَ فِيْھِمْ رَسُوْلًا مِّنْ اَنْفُسِھِمْ يَتْلُوْا عَلَيْھِمْ اٰيٰتِھٖ وَيُزَكِّيْھِمْ وَيُعَلِّمُھُمُ الْكِتٰبَ وَالْحِكْمَۃَ  ۚ وَاِنْ كَانُوْا مِنْ قَبْلُ لَفِيْ ضَلٰلٍ مُّبِيْنٍ ) [ آل عمران :۱۶۴]

    “اللہ نے مسلمانوں پر بڑا ہی کرم کیا، جو انہیں میں سے ایک بڑی شان والا رسول بھیجا، جو ان کو قرآن پڑھ پڑھ کر سناتا ہے اور انہیں ( گندگیوں ) سے پاک کرتا ہے، اور کتاب کی ( تعمیل کا طریقہ ) سکھاتا، اور مکارم اخلاق بتاتا ہے، ورنہ اس کے قبل یہ لوگ صریح گمراہی میں پڑے تھے۔”

اور رسول اللہؐ نے فرمایا :

     ” ما شی اثقل من میزان المؤمن یوم القیٰمۃ من خلق حسن و انّ اللّٰہ لیبغض الفاحش البذی۔”رواہ الترمذی (١) عن أبی الدرداء رفعاً ” یعنی

    ” مسلمان کے ترازو میں قیامت کے دن عمدہ اخلاق سے زیادہ بھاری کچھ نہ ہو گا اور اللہ تعالیٰ نفرت رکھتا ہے بدکار کج خلق سے۔” اس کو ترمذی نے ابی درداء سے ] مرفوعاً [روایت کیا ہے۔

( چہارم ) آفتاب بھی من جملہ ستاروں کے ایک ستارہ ہے، مگر جس قدر روشنی، حرارت، منفعت اور تأ ثر آفتاب میں ہے دوسرے ستاروں میں ہر گز نہیں، بلکہ سب کے سب اس کے آگے ہیچ اور کالعدم ہیں، اور جو کچھ بھی رکھتے ہیں، تو آفتاب ہی کی بدولت۔ اسی طرح سے زمین میں ہزاروں انسان ہیں اور ہر انسان بجائے خود زمین کی زینت ہے مگر انبیاء اور خاص کر ان میں سے ہمارے پیغمبر ۖ مثلِ آفتاب کے ہیں، اور انہیں کی ضیاء و نور سے سب روشنی حاصل کرتے ہیں، اور سارے انسان اور ان کے کمالات آپ ۖ کے سامنے اور آپ ۖ کے کمالات کے سامنے منعدم] ناپید، غیر موجود[اور نیست ]فنا و نابود[ ہیں۔

( پنجم ) آسمان میں دن کو ایک خاص رنگ و روپ ہوتا ہے،جو شام کے آنے سے متغیر ہونے لگتا ہے۔ یہاں تک کہ جب پوری شب ہو جاتی ہے، دن کے سارے سامان درہم برہم ہو جاتے ہیں اور ایک نئے سامان اور خاص طور سے آسمان میں ایک مجلس ستاروں سے ترتیب دی جاتی ہے۔ پھر یہ حالت صبح کے آنے سے بدلنے لگتی ہے۔ یہاں تک کہ جب اچھی طرح سے دن ہو جاتا ہے، کل کی سما بعینہ عود ]لوٹ[ کر آتی ہے، جس میں گزشتہ دن سے سرمو فرق نہیں ہوتا پھر رفتہ رفتہ شب ہوتی ہے، اور گزشتہ شب کی پوری حالت عود کر آتی ہے۔ ان انقلابات روز مرہ اور اعادئہ معدومات ]گزر جانے والے امر کو لوٹانا[ کو جو اللہ بڑی آسانی کے ساتھ کرتا ہے، وہ اعادئہ روح اور احیائے موتیٰ پر قادر ہے اور اس کے آگے

    (ذٰلِکَ رَجْع بَعِیْد) (۲) ] سورہ ق: ۳[

کہنا خود جائے تعجب اور بعید ہے۔

( ششم ) شب کو آسمان میں ہزاروں ستارے نظر آتے ہیں، اور ہر ستارہ اپنی اپنی جگہ پر آسمان کی رونق و زینت ہے اور نور و ضیا میں کامل ہونے کی وجہ سے گویا  انا المضیُّ انا النّور و انا زینۃ الافلاک (۳) کا دم بھرتا ہے۔ ان کے اختلاف سمت و قد و قامت و لون ]رنگ[ و ہئیت گھنے اور بکھرے ہونے کو غور سے دیکھے تو عجیب دلکش نظارہ معلوم ہوتا ہے۔ ارباب ہیئت آلات رصد کے ذریعہ سے عجائبات سماوی کو بچشم سر خود دیکھتے ہیں اور صنعت کردگار کی داد دیتے ہیں، مگر صبح ہوتے ہی آفتاب نکلتا ہے اور سارے ستارے اپنی اپنی جگہ سے غائب ہو جاتے ہیں، اور سارا بساطِ شب الٹ جاتا ہے۔ تمام آسمان میں صرف ایک آفتاب ہی کی روشنی نظر آتی ہے اور شب کے مدعیانِ نور و ضیا سے گویا بہ زبانِ حال پوچھتا ہے  این القمر و ضیاؤہ، این عطارد و این مریخ و این الشھب الثواقب لمن النّور الیوم غیری  (۳) مگر کوئی نہیں جو دم مارے۔

علیٰ ہذا المثال بروزِ حشر جناب باری تعالیٰ زمین پر رونق افروز ہو گا، اور ساری جمعیت اور ملک و ملک کا خاتمہ ہو جائے گا، اور صرف ایک ذات پاک باری میں منحصر رہے گا، اس وقت فرمائے گا :

     (  لِّمَنِ الْمُلْکُ الْیَوْمَ لِلّٰہِ الْوَاحِدِ الْقَہَّارِ ) (۵)   ] سورہ غافر: ۱۶[

 أین الملوک الارض۔(۶) غرض آسمان کی مجموعی حالت ذاتی و صفاتی یعنی وجود و ارتفاع و زینت و وسعت دیکھو تو خداوندِ تعالیٰ کے کمالِ قدرت و غایت صنّاعی و تدبیر و حکمت کی دلیل ہے اور ہر ایک کو علیحدہ علیحدہ غور کرو تو ہر ایک بالاستقلال دلیل ہے

( وَ الْأَرْضَ مَدَدْنَاہَا )  ” اور میں نے زمین کو پھیلایا ”

جس کی فراخی و وسعت کی وجہ سے اب تک اس کی انتہائی حدود کا ٹھیک اندازہ نہیں ملا۔

حواشی

(۱)          سنن الترمذی : کتاب البر و الصلۃ، باب حسن الخلق۔امام ترمذی نے اس حدیث کو حسن صحیح قرار دیا ہے۔ شیخ البانی کے مطابق یہ حدیث صحیح ہے۔

(۲)         ” پھر یہ دوبارہ واپسی ناممکن ہے۔ ”کفار نے بعید کا لفظ اپنی دانست میں ناممکن کے معنوں میں استعمال کیا تھا۔

(۳)         ہم چمکا دینے والے ہیں، ہم روشنی ہیں اور ہم آسمان کی زینت ہیں۔ ( مؤلف )

(۴)         کہاں ہے چاند اور اس کی روشنی، کہاں ہے عطارد، کہاں ہے مریخ اور کہاں ہیں شہاب ثاقب جن کے لیے روشنی ہے، جو آج موجود نہیں۔

(۵)         ” کس کے لیے ہے آج کے دن کی بادشاہی، صرف اللہ غالب کے لیے۔”

(۶)         کہاں ہیں زمین کے بادشاہ۔

(۱) جو خدا ایسی عظیم الجثہ کثیر المنافع چیز کے پیدا کرنے پر قدرت رکھتا ہے، وہ مردوں کو بھی زندہ کرنا اپنی قدرت میں رکھتا ہے۔

(۲) زمین اس کا ملک ہے، اور سارے مخلوقات اس کی رعایا اپنے ملک کی آراستگی و انتظام و رعایا کی تعلیم و تربیت کی غرض سے کسی بشر کو اپنا قانون لے کر بھیجنا اور تعلیم گاہیں کھولنا کتابیں متعین کرنا کچھ بھی جائے تعجب و اعتراض نہیں۔

(۳) زمین باوجود اس کے کہ زمین ہونے میں ہر جگہ یکساں ہے مگر کہیں پیداوار کی صلاحیت اور معدنی ہونے کی حیثیت سے قابل قدر ہے، اور دوسری جگہ بسبب شور و سنگلاخ ہونے کے ناقابل۔

(۴) زمین میں سیکڑوں شہر اور دیہات آباد ہیں، چھوٹے سے چھوٹا کوئی شہر لو اور دیکھو تو ایک حاکم، کچہری، بازار، جیلخانہ، شفا خانہ، باغات ضرور اس میں ہو گا۔

کچہری میں مختلف قسم کے آدمی ہوتے ہیں کوئی سرکاری ملازم، کوئی مدعی، کوئی مدعا علیہ، کوئی گواہ، کوئی مقدمہ جیت کر خوش خوش ہر ایک کو اپنے متعلقِ فیصلہ کی نقل سناتا پھر تا ہے۔ کوئی ہار کر افسردہ دلگیر چلا جاتا ہے، کوئی پاداش جرم میں پا بہ زنجیر کشاں کشاں حاکم کے روبرو دلایا جاتا ہے، اور مارے ہراس و ندامت کے حواس باختہ ہے، کوئی بڑے اعزاز کے ساتھ سواریوں پر لباس فاخرہ پہنے چلا آتا ہے۔ حاکم کسی کے صلۂ خدمت میں انعام کا پروانہ دے رہا ہے اور کسی کو پاداش جرم میں سزائے موت یا جیل یا جلائے وطن ہونے کا حکم سنا رہا ہے۔

پھر بازار میں آؤ کہیں نقود پرکھے جا رہے ہیں کہ کھرے ہیں یا کھوٹے، کوئی اپنے محاصل کے جانچنے کو بھی کھاتا کھولے حساب و کتاب میں مشغول ہے، کہیں ترازو نصب ہیں اور کہیں ناپ جوکھ جاری ہے، کوئی خریدار ہے، کوئی بیچنے والا۔

بیمارستان (ہسپتال) میں آؤ تو کتنے قسم کے آزار دہ امراض میں مبتلا پڑے نظر آتے ہیں۔ کوئی سسک رہا ہے کوئی مارے تکلیف کے غش میں ہے، کوئی جاں بلب آہیں کھینچ رہا ہے۔

جیل خانے میں دیکھئے تو مختلف جرائم کے مختلف میعادی محبوس ہیں اور ذلت و خواری میں پڑے غم کھاتے ہیں۔

امراء اور خوشحال اپنے باغوں اور محلوں میں پری جمالوں کے ساتھ عیش و عشرت میں مصروف اور خوش وقت ہیں۔

بروزِ حشر یہی زمین کھینچ کر نہایت وسیع بنا دی جائے گی اور یہی واقعات بیع و شرا جنت و نار کے اعمال سے۔ اور فصلِ خصومات۔ اور وزنِ اعمال اور مخفیات کی جانچ اور حساب و کتاب ہوں گے۔ اور یہ ممکن ہے اس لیے کہ جو کام سیکڑوں برس سے ہو رہا ہے، وہی کام بہت دیر تک بہت زیادہ کر کے آسانی سے کیا جا سکتا ہے، جیسا ارشاد ہوا کہ

(وَاِذَا الْاَرْضُ مُدَّتْ  ) (الانشقاق: ۳)  “جب زمین کھینچ کر پھیلائی جائے۔”

اور فرمایا

(يَوْمَ تُبَدَّلُ الْاَرْضُ غَيْرَ الْاَرْضِ وَالسَّمٰوٰتُ وَبَرَزُوْا لِلّٰهِ) (ابراہیم: ۴۸)

“جس دن زمین اور آسمان کی موجودہ حالت بدل دی جائے گی اور سب لوگ  اللہ کے حضور میں حاضر ہوں گے۔”

اور فرمایا :

(وَاَشْرَقَتِ الْاَرْضُ بِنُوْرِ رَبِّهَا وَوُضِعَ الْكِتٰبُ وَجِايْۗءَ بِالنَّـبِيّٖنَ وَالشُّهَدَاۗءِ وَقُضِيَ بَيْنَهُمْ بِالْحَــقِّ وَهُمْ لَا يُظْلَمُوْنَ       69) الزمر:۶۹)

“زمین اپنے پروردگار کے نور سے چمک اٹھے گی اور کتاب رکھ دی جائے گی اور انبیاء اور گواہ حاضر کیے جائیں گے اور لوگوں کے درمیان انصاف کے ساتھ فیصلہ کیا جائے گا اور ان پر ظلم نہ کیا جائے گا۔”

غرض زمین میں بھی دلائل توحید و حشر و نشر واضح طور پر موجود ہیں، جیسا کہ ارشاد ہوا 🙂   وَفِي الْاَرْضِ اٰيٰتٌ لِّلْمُوْقِنِيْنَ       20) (الذاریات:۲۰) “یقین لانے والوں کے لیے زمین میں بہیتری نشانیاں موجود ہیں۔” اگر اس سے بھی نہ سمجھیں تو دیکھیں کہ ( وَ أَلْقَیْْنَا فِیْہَا رَوَاسِیَ ) “اور ہم نے ڈال رکھے ہیں اس میں اونچے اونچے پہاڑ” جو زمین کو ہلنے سے اور بعض بلادِ معمورہ پر سمندر کو بہ نکلنے سے روکے ہوئے ہیں۔

(۱) پہاڑ بھی مخلوقاتِ ارضیہ میں سے ایک مخلوق ہے مگر تمام مخلوقات ارضی کو ہلاکت سے روکے ہوئے ہے۔ اس لیے اس کا رُتبہ بلند ہے۔ اسی طرح سے منجملہ انسانوں کے ایک انسان ایسا پیدا کیا جا سکتا ہے جو اپنے تمام بنی نوع کو ہلاکتِ ابدی سے بچا رکھے اور اس سبب سے تمام بنی نوع سے اس کا پایہ بلند ہو۔

(۲)باوجود اس کے کہ پہاڑ بھی مخلوقات ارضیہ سے ہے مگر سب سے ارفع، سخت، انفع اور اٹل ہے۔ اسی طرح سے اپنے تمام جنس میں سے ایک فرد انسان ارفع و اعلیٰ اونچی شان والا ہوسکتا ہے اور وہ انبیاء ہیں۔

(۳) پہاڑوں میں سے بعض بعض پتھر جو منجملۂ اجزائے کوہ ہیں، تاثیرات علوی سے جواہر بیش بَہا مثلاً لعل و یاقوت و الماس وغیرہا بن جاتے ہیں۔ اور در حقیقت ہیں تو پتھر ہی، اور انہیں پہاڑوں کے اجزاء مگر من حیث بہا (قیمت) و رونق و قدر و قیمت کوئی نسبت اپنے ہم جنسوں سے نہیں رکھتے۔ اسی طرح کسی بشر میں تاثیرات علوی سے نبوت کا پایا جانا اور اس سبب سے اپنے تمام ہم چشموں سے بہا (قیمت) و رونق و قدر و منزلت میں فائق ہو جانا کوئی جائے تعجب نہیں۔

(۴) پہاڑوں میں اکثر معدنیات ودیعت (پوشیدہ) رکھے ہوتے ہیں اور انسان بہیترے آثار و قرائن سے ان کا پتا لگا کر نکالتے ہیں۔ نکلنے کے وقت تھکے اور ڈھیلے ہوتے ہیں۔ بعد استخراج ( علیحدہ کرنا) کے مختلف اشکال و اوضاع (صورت) میں لائے جاتے ہیں۔ کوئی ظروف (برتن)، زیور و مضروب سکے بنتے ہیں۔ کوئی آلات حراست و حرب بنائے جاتے ہیں۔ پھر جب چاہتے ہیں گلا کر مثل سابق تھکّا (مائع ) بنا ڈالتے ہیں۔ پس جو خدا اپنے مخلوقات کو آثار و علامات کی حس بخشتا ہے اور معدنیات کے مقام کی شناخت کی قدرت دیتا ہے۔ جس کے سبب سے مدت ہائے دراز کے مودّع (پوشیدہ) چیزوں کو استخراج ( علیحدہ کرنا) کر کے کام میں لاتے ہیں، وہ خدا کیا اتنی قدرت نہیں رکھتا کہ انسان کو جو خاک میں مل گئے پھر واپس لائے ؟ اور اجزائے متفرق انسان کے مقام و محل کو پہنچا دے اور دوبارہ ان کو اصلی صورت و شکل پر لوٹا لائے

(وَاَنْۢبَتْنَا فِيْهَا مِنْ كُلِّ زَوْجٍۢ بَهِيْجٍ        (۱)  ) (سورہ ق :۷) “اور میں نے اس میں ہر طرح کی خوشنما چیزیں اگائیں۔”

جن کے رنگا رنگ پھول، پتے، ڈالیاں خود بھی دل لبھا لینے والے ہیں اور اس تختہ زمیں کو جس پر اگتے ہیں، خوشنما اور دلفریب بنا دیتے ہیں۔

(۱) جو خدا خود رو گھانس پات کے تخم  (بیج )کو زمین میں سڑ گل جانے اور انقلابات عظیم کے بعد طرح طرح کے شگوفے بنا کر نکالتا ہے، وہ خدا انسان کو بھی زمین میں ایک مدت تک رہنے اور سڑ گل جانے کے بعد از سر نو پیدا
کر سکتا ہے۔

(۲) جس طرح عموماً نباتات بیچ سے سڑ گل کر درخت اور درخت سے پھول اور پھول سے پھل ہوتے ہیں۔ اور پھر پھل میں وہی بیج موجود ہوتے ہیں، جو زمین میں سونپے گئے تھے، علیٰ ہٰذا القیاس خدا کی قدرت میں ہے کہ جو کچھ زمین کو سونپے بعد ایک مدت کے ہزاروں انقلاب اس میں ہو جائیں۔ جب چاہے بعینہ جیسا سونپا تھا واپس لے۔

(۳) جس طرح ہر نبات کا خلاصہ اور اس کی زینت و بہجت (خوشی) اس نبات کا پھول ہوتا ہے یا پھل، اور وہ درخت کا ایک جز ہی ہوتا ہے مگر خوشنمائی اور زینت و تر و تازگی و بو ولذت میں تمام اجزائے درخت سے فائق و ممتاز ہوتا ہے۔ اسی طرح سے تمام بنی نوع انسان میں سے ایک شخص بسبب نبوت ممتاز و فائق ہوسکتا ہے۔ جس کے سبب سے تمام بنی آدم کی رونق و بہا (قیمت) و زینت بڑھ جاتی ہے۔

(۴) جس طرح درخت جڑ سے سر تک مختلف اجزاء سے مرکب ہوتا ہے جڑ کی پرورش در پردہ اجزائے ارضی سے ہوتی ہے۔ جڑ تمام اجزائے ارضی سے غذا لے کر ہر اجزائے درخت کو پہنچاتا ہے۔ جس کے سبب سے درخت کی زندگی اور ترو تازگی بحال رہتی ہے۔ اسی طرح سے تمام بنی آدم کے مختلف المزاج اور مختلف الحالت افراد کے اصل اور باعثِ بقا وحیٰوۃابدی –انبیاء –ہیں۔ جن کی پرورشِ روحانی کا ذریعہ وحی و الہام ہے، جو در پردہ اور مخفی ہوتا ہے اور وہ سارے بنی نوع کو اس سے فائدہ پہنچاتے ہیں۔

تبصرہ

ان کاموں سے اور بنی آدم کے روبرو اس کارخانۂ عالم کے کھولنے سے میرا یہ مطلب ہے کہ جس طرح سے ان کی ظاہری آنکھیں ان عجائبات کے نظارے سے ٹھنڈی ہوتی ہیں، اسی طرح ان کی قلبی آنکھیں بھی روشن ہوں اور جس طرح ظاہری آنکھ سے دیکھ کر ہر شے کی نسبت موسم و آب و ہوا کی تاثیرات کی جانب کرتے ہیں۔یا کسان و مالکِ زمین اور مزدوروں کی حسن تدبیر و انتظام و جانفشانی کی طرف کرتے ہیں۔ دلی آنکھ سے غور کریں اور ہر چیز کے بونے اور اُگانے اور پھیلانے اور مِلک و مُلک کی نسبت اصل مالک اور بونے والے اور اگانے والے اور پھیلانے والے کی طرف کریں اور راہِ صواب و قول حق کے اوپر آ جائیں، اور ظاہری اسباب کے پیچ میں پھنس کر اصل مسبب الاسباب (اسباب کو پیدا کرنے والا)کو نہ بھول بیٹھیں۔ جیساکہ ارشاد ہوا

( فَاَنْۢبَتْنَا بِهٖ  حَدَاۗىِٕقَ ذَاتَ بَهْجَۃٍ  ۚ مَا كَانَ لَكُمْ اَنْ تُنْۢبِتُوْا شَجَـرَهَا    ) (النمل:۶۰)

”میں نے پانی کے ذریعہ سے خوشنما باغ اگائے۔ تمہاری مجال نہ تھی کہ ان کے درختوں کو اگالیتے۔”

( وَ ذِکْریٰ ) اور اس لیے کہ کارخانۂ عالم کی ہر چھوٹی بڑی چیزوں کو آسمان ہو یا اس کی فراخی و زینت، زمین ہو یا اس کے نباتات کی خوبی و خوشنمائی۔پہاڑ ہو یا اس کی رفعت و سختی دیکھ کرخدا یاد آئے اور اس کی خالقیت و حکمت و تدبیر و لطف و ترحم کا یقین بڑھے۔

حواشی

(۱)     ( زَوْجٍ ) بعض ائمہ مفسرین جن میں امام ابن کثیر رحمہ اللہ بھی شامل ہیں، نے زوج کے معنی جوڑا کیے ہیں۔ یعنی قدرت الٰہیہ نے ہر صنفِ اشیاء و نباتات کو جوڑا جوڑا ( نر و مادہ ) بنایا ہے۔قرآنی و حی و تنزیل کی صداقت کا یہ بہت بڑا ثبوت ہے کہ کائنات عالم کے جس اسرار کا انکشاف قرآن نے بغیر کسی مادّی وسائل کے چودہ صدی قبل کیا تھا آج سائنسی تحقیق بھی اسے درست تسلیم کرتی ہے۔ ( بَہِیْجٍ ) کے معنی ہیں خوش منظر و خوش نما، حسین و دلفریب۔

مگر یہ دولتِ تفکر و ذکر ہر آدمی کو نصیب نہیں ہوتی۔ اس لیے کہ

(۱) انسان جب سے ہوش سنبھالتا ہے، عالم میں ساری چیزوں کے ظاہری اسباب کو دیکھتا ہے۔

(۲) خود کو کھانے پینے اور دیگر ضروریات کے بہم پہنچانے میں مصروف کردیتا ہے۔

(۳) خود کو ایسے لوگوں میں پاتا ہے جو فی الجملہ مختار بھی ہیں اور مجبور بھی۔

(۴) جن لوگوں میں نشو و نما پاتا ہے انہیں دیکھتا ہے کہ جن باتوں میں وہ مختار ہیں، ان کو اپنی طرف نسبت دیتے ہیں اور جن باتوں میں مجبور ہیں ان کو کسی قوت غیبی کی طرف منسوب کرتے ہیں تو یہ بھی کسی غیبی قوت کا قائل ہو جاتا ہے اور تقلیداً انہیں کا کلمہ پڑھنے لگتا ہے۔ یہی بنیاد ہے اللہ کے ماننے کی، جس سے کسی انسان کا دل خالی نہیں مگر اس کے تعیین میں، تعداد میں، طریقِ پرستش میں ہزاروں دھوکے کھاتے ہیں۔

(۱) جو محض عامی ہیں اور سطحی عقل رکھتے ہیں وہ تو بالکل غافل رہتے ہیں اور سرو سامانِ زندگانی کی فراہمی ہی ان کی زندگی کا حاصل ہے، اور کچھ نہیں۔ آخرت سے انہیں محض اطمینان رہا کرتا ہے اور گاہے بگاہے اس معبود کا جس کو انہوں نے محض تقلیداً معبود تسلیم کرلیا ہے دھیان کرلیتے ہیں اور مصیبت کی گھڑیوں میں اس کو مددگار سمجھ کر پکار لیتے ہیں، بس اس سے زیادہ ان کو اپنے معبود سے کوئی مطلب نہیں، نہ کسی طرح کا تعلق۔ انہیں کی شان میں وارد ہوا کہ

(وَالَّذِيْنَ كَفَرُوْا يَتَمَتَّعُوْنَ وَيَاْكُلُوْنَ كَمَا تَاْكُلُ الْاَنْعَامُ( محمد :۱۲)

“کفار سامانِ زندگی سے اسی طرح فائدہ اٹھاتے ہیں اور خدائی نعمت ( اسی طرح غفلت و بے پروائی سے ) کھاتے ہیں جس طرح چارپائے۔ ”

ان کو تفکر و غور سے صنعتِ باری تعالیٰ میں کوئی بہرہ نہیں ملتا ہے، جیساکہ فرمایا

 وَكَاَيِّنْ مِّنْ اٰيَۃٍ فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ يَمُرُّوْنَ عَلَيْهَا وَهُمْ عَنْهَا مُعْرِضُوْنَ     ۱۰۵

” آسمان اور زمین میں اللہ کی قدرت کی ہزاروں نشانیاں موجود ہیں، مگر وہ اس سے منہ موڑ کر گزر جاتے ہیں۔ ” (یوسف : ۱۰۵)

(۲) اور جن کی طبیعت میں عامیانہ تقلید سے آزادی کا مادّہ ہے اور اس سبب سے تفکر و غور کرتے ہیں، وہ اپنی تجویز پر بھروسا کرکے نازاں ہو جاتے ہیں اور اس قوت غیبی کی تعیین و تعداد و طرقِ معرفت و تعظیم و پرستش کے باب میں طرح طرح کے من گھڑت خیالات میں پھنس کر راہِ حق سے دور کے دور ہی رہ جاتے ہیں، جیسا کہ ارشاد ہوا کہ

وَمَا يُؤْمِنُ اَكْثَرُهُمْ بِاللّٰهِ اِلَّا وَهُمْ مُّشْرِكُوْنَ      ۱۰۶

 ” بہیترے لوگ ایمان لاتے ہیں، مگر مشرک کے مشرک ہی رہ جاتے ہیں۔ ” (یوسف : ۱۰۶)

اس اختلاف و طبائع کی وجہ سے عالم میں جتنے مذاہب بہ نسبت تعداد و تعیی و طریقِ عبادت ربّ العالمین کے ہیں، ان سب کا انحصار محال ہے لیکن عموماً انسان میں جو مذاہب شائع ہیں، وہ یہ ہیں :

(۱)          اللہ تعالیٰ نے آسمان اور آسمانی چیزوں کو پیدا کیا اور زمین کو اور زمین میں جو کچھ ہے ان سب کو آسمان اور روحانیوں نے پیدا کیا، اور انہیں کے زیرِ فرمان ہیں، بحکم ” اَلْاَخَسُّ یَتْبَعُ الْاَعْلیٰ ”(یعنی : کم تر اعلیٰ کی پیروی کرتا ہے ) پس ہم لوگوں کے خالق اور معبود شمس و قمر و نجوم و ملائکہ ہیں اور ان سب کا خالق اور معبود اللہ ہے۔

(۲)         آسمان اور آسمانی چیزیں بلاواسطہ خاص اللہ کی بنائی ہوئی ہیں اور زمین اور زمین کی ساری چیزیں مخلوقات کو اللہ ہی کی ہیں مگر بذریعہ اور بشمول و شرکت آسمان اور آسمان والوں کے جملہ تراکیب و اتصالات فلکیات سے صدور میں آتے ہیں۔ اس لیے نجوم و روحانیت کو شرکت ہے اور ہم دونوں کو پوجتے ہیں اللہ کو بھی اور نجوم و روحانیت کو بھی۔

(۳) ساری مخلوقات ارضی و سماوی اللہ ہی کی بنائی ہوئی ہے اور نظم عالمِ کون و فساد میں جو کچھ ہوتا ہے سب درحقیقت اللہ ہی کرتا ہے مگر یہ کام کواکب و ملائکہ و خاصانِ الٰہ کے حوالے ہیں۔ جب کوئی نظم (بمعنی انتظام)وہ لوگ چاہتے ہیں خداوندِ تعالیٰ کی بارگاہ میں اس کی اطلاع دے کر اس کو آگاہ کرتے ہیں چنانچہ اللہ ان کو وہ نظم و نسق مفوض (تفویض کرنا یعنی اختیار دینا) کردیتا ہے۔ پس وہ سب وزیروں اور عاملوں کی طرح ہیں اس لیے ان کا بھی فی الجملہ ارضیات پر احسان ہے پس ان کی بھی پرستش اور تعظیم واجب ہے۔

(۴) اصنام اور اوثان سب ملائکہ اور خاصانِ الٰہ کی صورتیں ہیں یا ان کی پسندیدہ چیزیں یا آثار۔ خاصانِ خدا کی صورت اور ان کی آثار و پسندیدہ چیزوں کی پرستش اس لیے کرتے ہیں کہ وہ راضی ہوں گے اور ایک دوست دوسرے دوست کی تعظیم سے خوش ہوتا ہے اس لیے اللہ بھی راضی ہو گا اور اگر ناراض ہو گا بھی تو یہی مقرب ہم کو سفارش کرکے چھڑالیں گے۔

(۵) اللہ تعالیٰ ہمیشہ کسی آدمی، جانور، درخت یا پہاڑ میں بسا کرتا ہے اور جب کسی چیز میں سماتا ہے تو اس سے بہت سے عجائبات ظہور میں آتے ہیں۔ اس لیے جس چیز سے عجائبات ظہور میں آئیں ان کی پرستش کرنا چاہیئے کہ شاید اسی میں خدا بسا ہوا ہے۔

(۶ ) دہریہ ہیں جو تمام چیزوں کو سبب اور مسبب مانتے ہیں ایک دوسرے سے بنتا رہتا ہے اور دوسرے کو بناتا رہتا ہے ہمیشہ سے یہ عالم یوں ہی آپس کی قوت سے بنتا چلا آتا ہے اور چلا جائے گا۔

(۷ )مجوسی جو مستقل دو متضاد خالق مانتے ہیں۔ تمام بھلی چیزوں کا خالق نور ہے جس کا دوسرا نام یزداں ہے اور تمام بری چیزوں کا خالق اندھیرا ہے جس کا دوسرا نام اہرمن ہے۔

٭٭٭

ماخذ: الواقعۃ شمارہ ۱، ۲