FavoriteLoadingپسندیدہ کتابوں میں شامل کریں

 

 

بیان میرٹھی

تدوین

               شرف الدین ساحلؔ

 

 

 

انتساب

 

ماہرِ غالبیات

جناب کالی داس گپتا رضا

اور

مخلص ادیب

جناب شانتی رنجن بھٹاچاریہ

کی نذر

جنہوں نے میری ہمیشہ ہمت افزائی کی۔

 

 

 

 

 

سچائی کا اعتراف

 

 

ناگپورکی ادبی ، علمی و ثقافتی تاریخ کی ترتیب و تالیف کے شوق میں جب میں نےتحقیق کے میدان میں قدم رکھا تو مجھ کو ماہنامہ جلوۂ یار میرٹھ کے مختلفشماروں میں بیان میرٹھی (۱۸۵۰ء۔ ۱۳ مارچ ۱۹۰۰ء )کا کلام نظر آیا۔ یہ اتنامؤثر اور  جامع تھا کہ میں اس شاعر کی تلاش میں بھی مصروف ہو گیا اور  کوششوںکے بعد کافی مواد حاصل کیا۔

بیان میرٹھی پر میری پہلی کتاب: بیانمیرٹھی، حیات و شاعری ۱۹۸۰ء میں شائع ہوئی۔ یہ ادبی دنیا میں مقبول ہوئی۔  اس کو مہاراشٹر اور  اتر پردیش اردو اکادیمی نے انعام سے نوازا۔ دوسری کتاببیان میرٹھی اور  غالب ۱۹۹۸ء میں زیور طبع سے آراستہ ہوئی۔ اسے بھی ادبیحلقے میں پسند کیا گیا۔ اس کو بھی اتر پردیش اردو اکادیمی نے انعام سےسرفراز کیا۔ مہاراشٹر اردو اکادیمی نے اس کی پچاس جلدیاں خرید کر تقسیمکیں۔ تیسری کتاب بیان میرٹھی کی جدید نظمیں ۲۰۰۰ء میں چھپی۔ اسے بھیقبولیت کی سند ملی۔ یہ کتاب بیان کی نیچرل، قومی، اخلاقی، عشقیہ، رثائیہاور  مدحیہ نظموں کے علاوہ نو چندی میرٹھ کے متعلق نظموں پر مشتمل ہے۔

اب میں بیان میرٹھی کا دیوان شائع کر رہا ہوں۔ اس میں بیان کی غزلیں،قصائد، مثنویات، تضمینات، رباعیات، قطعات، نوحے اور  سہرے وغیرہ ہیں۔ بیانکی جدید نظموں کی طرح انھیں بھی میں نے ماہنامہ لسان الملک میرٹھ، ماہنامہجلوۂ یار میرٹھ اور  بیان میرٹھی کے شاگرد خان بہادر شیخ بشیر الدین تسخیرمیرٹھی کے صاحبزادے بھیا غیاث الدین مرحوم کے کتب خانے میں موجود بیان کےغیر مطبوعہ کلام کی روشنی میں ترتیب دیا ہے۔ جس کلام کے نیچے حوالہ نہیںہے وہ قلمی مسودے سے لیا گیا ہے۔

بیان کی نعتیہ شاعری کے دو مجموعےمختلف اوقات میں عطر مجموعہ نعت (۱۸۸۵ء) اور  قندیلِ حرم (۱۹۷۴ء) کے نام سےشائع ہوئے۔ اول الذکر کے مرتب بیان اور  ثانی الذکر کے مرتب ڈاکٹر سید  صفدرحسین ہیں۔ لیکن ان دونوں مجموعوں میں صرف نام کا فرق ہے۔ اسی طرح بیان کےسلام اور  مرثیے کا مجموعہ: رنگِ شہادت بیان کے ایک شاگرد سید  محمود علیگرامی نے مرتب کر کے ۱۹۱۹ء میں چھپوایا تھا۔ اسی کو ڈاکٹر سید  صفدرحسین نے۱۹۷۴ء میں از سر نو ترتیب دے کر شائع کروایا اس لیے میں نے ان دونوں مجموعوںکا کوئی کلام دیوان میں شامل نہیں کیا ہے۔ یہ دونوں مجموعے میرے پاس موجودہیں۔ ڈاکٹر سید  صفدرحسین نے بیان کی غزلوں کا ایک مختصر مجموعہ بھی نقشِبیان کے نام سے شائع کروایا ہے۔ اس میں ان کی ایک مثنوی حواسِ خمسہ بھیہے۔ لیکن کافی کوششوں کے باوجود نقشِ بیان کا نسخہ مجھ کو نہ مل سکا۔ اسکا مجھ کو بے حد افسوس ہے۔

میں نے اپنی کوششوں سے بیان کا جو دیوانمرتب کیا تھا۔ وہ برسوں سے اشاعت کا منتظر رہا۔ اب جبکہ میں ضعفِ بینائیکا بری طرح شکار ہوں۔  خیال آیا کہ کیوں نہ اسے شائع کر کے منظرِ عام پرلادوں تاکہ یہ محفوظ ہو جائے اور  اہلِ ادب بھی اس سے استفادہ کر سکیں لہٰذااسے چھپوا رہا ہوں۔ اس میں اضافے کی بہت گنجائش ہے۔ ممکن ہے اس میں بے شمارغلطیاں بھی ہوں لیکن اب میں مزید تلاش و تحقیق کرنے سے مجبور ہوں۔برادرمڈاکٹر مدحت الاختر کا بے انتہا ممنون ہوں۔ انھوں نے پروف ریڈنگ کی ذمے داریقبول کی۔ نور چشم محمد رفیع الدین اور  عزیزم ثاقب انجم کا بھی مشکور ہوں۔ان دونوں نے اس کی کمپوزنگ اور  تزئین و اشاعت میں میری مدد فرمائی۔

ناچیز

شرف الدین ساحل

۲اگست ۲۰۰۵ء

ناگپور

 

 

 

 

بیان میرٹھی

 

 

بیان میرٹھی انیسویں صدی کے ایک استادشاعر، بہترین صحافی اور  اچھے انشاءپرداز تھے۔ میں ان کی زندگی و شاعری پرگزشتہ  ۳۶سال سے تحقیق کر رہا ہوں۔ میری کتاب:بیان میرٹھی حیات و شاعری ۱۹۸۰ءمیں شائع ہوئی۔اس کے بعد دو اور  کتابیں:بیان میرٹھی اور  غالب ۱۹۹۷ء اور  بیانمیرٹھی کی جدید نظمیں ۲۰۰۰  ء منظرِ عام پر آئیں۔ اب ان کا دیوان شائع کرنے کاشرف حاصل ہو رہا ہے۔اس طویل عرصے میں مجھ کو بیان کی زندگی کے متعلق جو نئیمعلومات حاصل ہوئی ہیں ان کو بیان کے ان حالات میں شامل کر کے زیرِ نظر مضمونتیار کیا گیا ہے جو میری کتاب بیان میرٹھی حیات و شاعری میں باب اول کے تحتہے۔اس اضافے سے بیان کی زندگی اور  ان کی شخصیت کے کئی نئے گوشے نمایاںہوتے ہیں۔

 

               خاندان

 

بیان کے آبا و اجداد، سادات کی قدیم بستیجارچہ، ضلع بلند شہر کے رہنے والے تھے۔ایسا کہا جاتا ہے کہ اس علاقے کوشہنشاہ غیاث الدین بلبن (وفات:۱۲۸۷ء) نے بیان کے مورث اعلا سید  محمود کوجاگیر کے طور پر عطا کیا تھا۔ (۱)

بیان کے والد کا نام سید  گوہر علی تھا،جو لوگوں میں میر صاحب کے نام سے مشہور تھے۔ ان کے والد کا نام سید  کرامت علیتھا۔ بیان نے اپنے والد کے نام کا سجع کہا تھا: (۲)

بحرِ کرامت کا گوہر علی

۱۸۵۷ءکے انقلاب کے زمانے میں سید  گوہر علی کے خاندان پر سات انگریزوں کے قتلکا الزام تھا۔چنانچہ اس مصیبت سے بچنے کے لیے انھوں نے اپنے آبائی وطن کوچھوڑ کر میرٹھ میں سکونت اختیار کر لی تھی۔ ان کا مکان محلہ کرم علی میں شاہنتھن کی مسجد کے قریب تھا۔ ڈاکٹر سید  صفدرحسین نے مذکورہ واقعہ پر تفصیل سےروشنی ڈالی ہے۔ وہ لکھتے ہیں: (۳)

’’بلند شہر کے ضلع میں جارچہ نام کا ایکقصبہ خاصا مردم خیز خطہ تھا جہاں رضوی سادات متمول اور  ذی اقتدار تھے۔ لیکن۱۸۵۷ء کی جنگ آزادی کے دوران، وہاں کے سادات پر سات انگریزوں کے قتل کرنےکا الزام تھا۔ اس لیے ان کی املاک بحق سرکار ضبط کر لی گئی تھیں۔ اس ضبط شدہجائیداد کا کچھ حصہ، باغپت، ضلع میرٹھ کے ایک رئیس راؤ خورشید علی خان نےاور  باقی حصہ دلی کے ایک جوہری سلطان سنگھ نے خرید لیا تھا۔ تبدیلِ ملکیت کےنتیجے میں وہاں کے سادات کے پاس سوائے کاشتکاری کے کوئی اور وسیلہ معاشکا نہ تھا۔ اس لیے انھوں نے عزتِ نفس کے خیال سے اپنے آبائی وطن کو خیربادکہہ کر قرب و جوار کے شہروں میں سکونت اختیار کر لی تھی۔ ہجرت کرنے والے انخانوادوں میں ایک گھرانا سید  گوہر علی رضوی کا بھی تھا، جس کے افراد میرٹھشہر میں اقامت گزیں ہو گئے تھے۔‘‘

سید گوہر علی کا موضع الدن، ضلع میرٹھ کےرئیس سید عمر دراز علی (ڈپٹی کلکٹر) کی صاحبزادی جہاں بانو سے عقد ہوا تھا جنکا تعلق شرفا اور  علمی و ادبی خاندان سے تھا۔اس خاندان میں کئی اصحاب رئیساور  وابستۂ سرکار تھے۔سید عمر دراز علی آگرہ ، کالپی اور  جھانسی میں اعلامنصب پر فائز رہے۔ انھوں نے ۱۸۶۰ء میں رحلت فرمائی۔ان کے بیٹے سید مہدی علیبھی اعلا تعلیم یافتہ تھے۔ وہ بسلسلۂ ملازمت یوپی مختلف شہروں میں سکونتپذیر رہے۔ ڈپٹی کلکٹر کے مرتبے تک پہنچ کر ملازمت سے سبکدوش ہوئے۔ان کا۱۹۰۵ء میں گورکھپور میں انتقال ہوا۔ان کی تصنیف شہاب ثاقب سے ان کے علمیمرتبے کا پتہ چلتا ہے۔(۴)

سید عمر دراز علی کے بھائی سید کفایت علی ایکاچھے شاعر تھے۔ وہ تنہا اور  راشد تخلص کرتے تھے۔ محکمہ انسداد ٹھگی و ڈکیتی کےمحافظ دفتر و میر منشی رہے۔ بعد کو پنجاب کے ضلع کے سر رشتہ دار اور  پھر پنجابو دہلی میں میر منشی و سپرنٹنڈنٹ کمشنری رہے۔ انھوں نے ۳۳ سال کی ملازمت کےبعد ۱۸۶۸ء میں پنشن پائی۔  یکم اکتوبر ۱۸۶۹ء کو ۵۵ سال کی عمر میں وفات پائیاور  میرٹھ میں دفن ہوئے۔ان کا دیوانِ اردو، کلیاتِ فرقانی کے ساتھ شائعہو چکا ہے۔(۵)

اردواور فارسی کے جید عالم اور  بلند پایہ شاعر سید  احمد حسنفرقانی میرٹھی (پیدائش :۱۸۳۶ء) انھی کے بیٹے تھے۔ فرقانی غالب کے ہم عصر و ہممجلس تھے۔ غالب اور  فرقانی میں خط و کتابت بھی تھی۔ غالب کے دو خطوط ان کےنام ملتے ہیں۔انھوں نے ۴۷سال کی عمر میں ۱۴ ستمبر ۱۸۸۳ء کو وفات پائیاور  میرٹھ میں اپنے آبائی قبرستان میں سپرد خاک کئے گئے۔منشی سجادحسین ریحانی  (پیدائش ۱۲۶۸ھ۔۔ وفات:۱۳۰۰ھ) اور  منشی کرارحسین روحانی (پیدائش:۱۲۸۱ھ) دونوں فرقانی ہی کے بیٹے تھے۔(۶)

سید گوہر علی خاصیعلمی صلاحیت کے مالک تھے اور  علوم متداولہ پر عبور رکھتے تھے۔ انھیں شاعریسے بھی حد درجہ مزاولت تھی۔حضرت فرقانی کو ان سے بڑی محبت تھی۔ ایک مرتبہ جبوہ میرٹھ سے اپنے آبائی وطن جارچہ تشریف لے گئے تو فرقانی نے انھیں ایک خطلکھا تھا، جس میں ان کی جدائی پر اپنے تاثرات کا اظہار کیا تھا۔ اسی خط میں انکے متعلق یہ قطعہ بھی تھا:

ازاں روزیکہ در بخشد صدف را ابرنیسانی

نیامد در کفِ بحرِ سیادت چوں تو یک گوہر

چہ پرسی ماجرائے من کہ از رنجِ  فراقِ تو

دلم چو لولو سوراخ است چوں رشتہ تنم لاغر

انشائےفرقانی کے ایک خط سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ گوہر علی نے کچھ شعر اور  تضمینفرقانی کو اصلاح کی غرض سے بھیجی تھی، جسے انھوں نے درست کر کے واپسکر دیا تھا۔(۷)

سید گوہر علی کا انتقال ۸ مارچ ۱۸۹۳ء کو میرٹھ میں ہوا۔والد کی موت سے متاثر ہو کر بیان نے یہ اشعار کہے ہیں: (۹)

گوہر شہوار سے برجِ جہاں خالی ہوا

نیّرِ اوجِ شرف سے آسماں خالی ہوا

عالمِ خاکی نظر آتا ہے ویرانے کی طرح

کیا کہوں کیسے مکیں سے یہ مکاں خالی ہوا

کیوں نہ ہو تاریک عالم، دیدۂ مشتاق میں

نورِ شمعِ دودماں سے دودماں خالی ہوا

رحلتِ سالارِ لشکر سے ہوا لشکر تباہ

رہنمائے کارواں سے کارواں خالی ہوا

گلشنِ جنت ہوا، معمورِ زینت ہم صفیر

اس گلِ دستار سے ہر بوستاں خالی ہوا

اس کے چھُپتے ہی مہِ شعباں ہوا ماہِ عزا

مومنیں کو عید کا چاند اے بیاں خالی ہوا

سید گوہرعلی کے آٹھ بیٹے تھے: (۱) سید اصغرحسین، (۲) سید محمد مرتضیٰ بیان یزدانی، (۳) سید  یعسوب الدین،  (۴) سید  سلطان الحق، (۵) سید  ابوالحسن، (۶) سید  محمد، (۷) سید  حسین شرف (۸) سید آغا علی آغا۔

ان میں سید محمد کا انتقال عین جوانی میں والد کی زندگی ہی میں ہو گیا تھا۔ بیان یزدانی، سید ابوالحسن اور  سید  آغا علی آغا کو چھوڑ کر باقی تمام بھائی معزز عہدوں تک پہنچے۔ سید اصغر حسین عدالت میرٹھ میں ہیڈ کلرک رہے۔ سید  یعسوب الدین ضلع جالون میں امین کونچ کے عہدے پر فائز ہوئے۔ سید  سلطان الحق دفتر کلکٹری گورکھپور میں سپرنٹنڈنٹ ہوئے۔اپنے ماموں سید مہدی علی کے داماد تھے۔ سید  حسین شرف علی گڑھ میں نائب تحصیلدار تھے۔ (۱۰)

غرض بیان کا خاندان علمی اور  ادبی لحاظ سے مالا مال تھا۔ نانا اور  والد پڑھے لکھے تھے۔ عربی اور  فارسی پر انھیں پوری طرح دسترس حاصل تھی۔ ماموں تعلیم یافتہ اور  صاحبِ فضل و کمال تھے۔تمام بھائی پڑھے لکھے تھے۔سید آغا علی آغا اور  سید  حسین شرف کو بھی شاعری کا شوق تھا۔ لسان الملک میں ان کا کچھ کلام شائع ہوا ہے۔ سید محمد عربی اور  فارسی کے عالم تھے۔بیان کی کتاب ’’عطر مجموعۂ نعت‘‘ پر عربی زبان میں ان کی لکھی ہوئی تقریظ اس حقیقت پر شاہد ہے۔ سید ضیا الاسلام عیاں میرٹھی (پیدائش: ۱۸۹۷ء، وفات:۲۱جنوری ۱۹۳۵ء) اس خاندان کے آخری نامور شاعر گزرے ہیں۔ یہ سلطان الحق  (ف:۱۹۰۷ء) کے بیٹے اور  بیان کے سگے بھتیجے تھے۔ ان کا مجموعۂ کلام ۱۹۵۶ء میں ’’کلامِ عیاں‘‘ کے نام سے سول اینڈ ملٹری پریس، راولپنڈی (پاکستان) سے شائع ہو چکا ہے۔

اس خاندان کی ایک نام لیوا رابعہ خاتون نہاں میرٹھی کا بھی پتا چلتا ہے جو راولپنڈی (پاکستان) میں مقیم تھیں۔ یہ صفی صاحب کی بیٹی ہیں۔ صفی رشتے میں بیان یزدانی کے یک جدی بھائی تھے۔ یعنی وہ کرامت علی (بیان کے دادا) کے چچا کے خاندان سے تھے۔ اسی لیے بعض تذکروں میں نہاں کو بیان کی بھتیجی کہا گیا ہے۔(۱۱) بیان کے خاندان کے لوگ ۱۹۴۷ء تک میرٹھ ہی میں آباد تھے۔ آزادی کے بعد یہ لوگ پاکستان منتقل ہو گئے اور  وہیں مستقل سکونت اختیار کر لی۔

 

               ولادت

 

بیان کا پورا نام سید محمد مرتضیٰ تھا۔ اردو میں بیان اور  فارسی میں یزدانی تخلص کرتے تھے۔مذہباً اثنا عشری شیعی تھے۔سلسلۂ نسب حضرت امام رضاؒ سے ملتا ہے۔(۱۲) ان کی پیدائش ان کے نانا سید  عمر دراز علی کے مکان پر ہوئی تھی، جواس وقت جھانسی (بندیل کھنڈ) میں ڈپٹی کلکٹر کے عہدے پر مامور تھے۔ لیکن بعد کو انھوں نے میرٹھ میں نشو و نما پائی اور  زندگی کا بڑا حصہ بھی اسی شہر میں گزارا، اس لیے میرٹھی کہلائے۔(۱۳)

باوجود تحقیق بسیار بیان کی صحیح تاریخِ ولادت معلوم نہ ہو سکی۔ بعض کتب و رسائل میں صرف سالِ ولادت کے اشارے ملتے ہیں۔ ان میں بھی کافی اختلافات ہیں۔ہمارے پیشِ نظر جو ماخذ ہیں، ان کی تفصیل دیکھئے:

۱۔ خم خانۂ جاوید (جلد اول) ۱۸۴۰ء قاموس المشاہیر ۱۸۴۰ء

۲۔ مراۃ الشعرا (جلد دوم) ۱۸۴۶ء

۳۔ ماہنامہ آج کل،نئی دہلی ستمبر ۱۹۷۰ء  ۱۸۵۰ء ماہنامہ آج کل،نئی دہلی اگست ۱۹۹۲ء ۱۸۵۰ء

رنگ شہادت از ڈاکٹر سید صفدرحسین ۱۸۵۰ء قندیل حرم مرتبہ ڈاکٹر سید صفدرحسین ۱۸۵۰ء

۴۔ماہنامہ العصر، لکھنو، اگست ،ستمبر۱۹۱۳ء ۱۸۵۶ء روزنامہ امروز، کراچی، ۴ستمبر۱۹۵۰ء ۱۸۵۶ء

۵۔ ماہنامہ مخزن، لاہور،مارچ ۱۹۰۴ء ۱۸۶۰ء اول،دوم اور  پنجم سنِ ولادت قیاس پر مبنی ہے، ملاحظہ ہو:

(۱) ساٹھ سال کے قریب عمر پا کر ۱۹۰۰ء میں بمقام میرٹھ انتقال کیا۔ (خم خانہ جاوید)

(۲) مارچ ۱۹۰۰ء میں انتقال فرمایا اور  ۵۴  برس کی عمر ہوئی۔ اس لحاظ سے تاریخ ولادت ۱۸۴۶ء ہوتی ہے۔(مراۃ الشعرا)

(۳) تقریباً چالیس سال کے سن میں ۱۳مارچ ۱۹۰۰ء کو اردو زبان کی شاعری کی صدر نشینی چھوڑ کر ہمیشہ کی تنہائی اختیار کی۔ (ماہنامہ مخزن)

یہ قیاسات مندرجہ ذیل حقائق کی روشنی میں غلط ثابت ہوتے ہیں:

(۱) سباس بات پر متفق ہیں کہ بیان کی پیدائش ان کے نانا سید  عمر دراز علی کے مکانپر ہوئی جواس وقت جھانسی میں ڈپٹی کلکٹر تھے۔ علی جواد زیدی نے فرقانیمیرٹھی کے تذکرے میں لکھا ہے کہ عمر دراز علی اور  ان کے بھائی کفایت علیغالباً ۱۸۴۰ء سے ۱۸۵۰ء کے مابین بسلسلۂ ملازمت آگرہ میں مقیم رہے۔ اساثنا میں عمر دراز علی ٹرانسفر ہو کر آگرہ سے جھانسی آئے اور  کفایت علی فیروزپور (پنجاب) گئے۔(۱۴)

(۲) اس بات پربھی اتفاق ہے کہ سید عمر دراز علی نے۱۸۶۰ء میں وفات پائی۔ ان کی وفات کے بعد بیان اپنے خاندان کے افراد کےساتھ جھانسی سے میرٹھ آئے۔(۱۵)

ان حقائق کی روشنی میں بیان کا سالِولادت ۱۸۴۰ء، ۱۸۴۶ء اور  ۱۸۶۰ء غلط ہو کر رہ جاتا ہے۔ماہنامہ العصر،لکھنو کےمقالہ نگار پیارے لال شاکر میرٹھی اور  روزنامہ امروز،کراچی کے مقالہنگار خدا بندہ نے جو سال پیدائش بتایا ہے۔ اس کی تردید خود انھیں کے بتائےہوئے ایک واقعے سے ہوتی ہے۔ دیکھئے:

(۱) بیان بہت خوبصورت تھے اور  رنگگورا چٹا تھا۔ اس کے متعلق ایک دلچسپ واقعہ قابلِ ذکر ہے۔ غدر کے زمانے میںجب کہ امن و امان کا جنازہ ملک سے اٹھ چکا تھا سید بیان کو بعالمِ طفلی کہیںایک مقام سے دوسرے مقام تک جانا پڑا۔ اتفاق سے راستے میں باغیوں کی ایکجماعت سے مڈ بھیڑ ہو گئی۔ ان نامرادوں نے انھیں انگریز کا بچہ سمجھ کر گرفتارکر لیا اور  ڈیڑھ سو روپئے لے کر چھوڑا۔(ماہنامہ العصر)

(۲) بیان بہت گورےچٹے تھے۔ ایک مرتبہ تیلنگوں نے انھیں انگریز کا بچہ سمجھ کر ۱۸۵۷ء کےہنگامے کے زمانے میں پکڑ لیا اور  ڈیڑھ سو روپئے لے کے چھوڑا۔(روزنامہ امروز)

اگر یہواقعہ درست ہے تو مقالہ نگاروں کے بتائے ہوئے سال کے مطابق بیان کی عمر اسوقت ایک سال کی رہی ہو گی اور اس عمر میں تیلنگوں کا انھیں پکڑ لینا محال ہے۔ اسواقعے سے مخزن کے مضمون نگار کا قیاس بھی غلط ہو کر رہ جاتا ہے۔ واقعہ مذکورہکے اعتبار سے ۱۸۵۷ء کے ہنگامے میں آج کل، رنگ شہادت اور  قندیلِ حرم کے مضمونکے مطابق بیان کی عمر ۷ سال کی ہوتی ہے اور اس عمر میں تیلنگوں کا انھیں پکڑلینا قرینِ قیاس ہے۔ لہٰذا یہ ممکن ہے کہ بیان ۱۸۵۰ء میں پیدا ہوئے ہوں۔

 

               تعلیم و تربیت

 

بیانکے سوانح نگاروں نے عام طور سے یہ بات لکھی ہے کہ ان کا بچپن جھانسیاور  کالپی میں نانا کے ہمراہ گزرا تھا۔ وہ نانا کے انتقال (۱۸۶۰ء) کے بعد اپنےخاندان کے دیگر افراد کے ساتھ میرٹھ آئے۔ انھوں نے ابتدائی تعلیم اپنےوالد سے پائی اور  اپنی خدا داد ذہانت کی بدولت بہت جلد درسی نصاب ختم کر لیا۔بعد کو میرٹھ کے ایک شیعی عالم مرزا باقر علی بیگ سے عربی اور  فارسی کی کچھکتابیں پڑھیں۔پھر خود ہی کئی زبانوں اور  علوم و فنون کا بنظرِ غائر مطالعہکیا اور  بہت جلد اپنی علمی استعداد کو مستحکم اور  وسیع بنا لیا۔ اس کے ثبوتکے لیے چند اقتباسات دیکھئے:

(۱) بیان ۱۸۵۶ء میں جھانسیمیں پیدا ہوئے، چار سال کی عمر میں شفیق نانا کا سایہ اٹھ گیا لیکن دور اندیش باپنے ان کی تعلیم و تربیت کا انتظام اپنے ہاتھ میں لے کر اسے کماحقہٗ، انجام تکپہنچانے میں کوئی دقیقہ فرو گذاشت نہیں کیا۔ سید گوہر علی ایک قابل بزرگ تھےاور جیسا کہ قدیم زمانے میں شریف خاندانوں کا عام دستور تھا وہ پڑھے لکھے تھےاور  علومِ مشرق میں اچھی دستگاہ رکھتے تھے۔ سید بیان کی ابتدائی تعلیم انھوںنے خود کی اور  جب تعلقاتِ ملازمت کی وجہ سے وہ اس کام سے معذور ہوئے تومرزا باقر علی بیگ نے جو میرٹھ میں فرقہ شیعہ کے پیش نماز تھے، سید  بیان کیتعلیم کی تکمیل کرائی۔(ماہنامہ العصر لکھنو، اگست،ستمبر ۱۹۱۳ء)

(۲) ان کےوالد گوہر علی بڑے لائق شخص تھے اس لیے بعض ابتدائی درسی کتابیں انھیں سےپڑھیں۔ پھر کچھ روز میرٹھ کے ایک شیعہ عالم مرزا باقر علی بیگ سے درسلیا۔(روزنامہ امروز کراچی، ۴ ستمبر ۱۹۵۰ء،ص:۷)

(۳) بیان ۱۸۶۰ء تک جب کہ انکے نانا کا انتقال ہوا جھانسی اور  کالپی وغیرہ میں مقیم رہے اور  تقریباً دسسال کی عمر میں اپنے خاندان کے دوسرے افراد کے ساتھ میرٹھ آ کر سکونت پذیرہو گئے تھے۔ انھوں نے ابتدائی تعلیم اپنے والد سے حاصل کی تھی۔ اس کے بعدمیرٹھ کے مشہور عالم دین مولانا باقر علی بیگ سے مروجہ درسی کتب پڑھیتھیں۔(قندیل حرم مرتبہ ڈاکٹر سید  صفدرحسین)

اسی بات کو الفاظ کے الٹ پھیرکے ساتھ کچھ اور  لوگوں نے بھی بیان کے تذکرے میں دہرایا ہے لیکن امان اللہخان شیروانی کے مضمون:بیان یزدانی میں ان کی تعلیم و تربیت کے سلسلے میں یہمفید اضافے ملتے ہیں:(۱۶)

بیان یزدانی کی ابتدائی تعلیم گھر پر ہوئی تھی۔ان کے خاندان میں بھی بڑے عالم فاضل موجود تھے۔ عربی کی تعلیم انھوں نےشمس العلما قاری عباسحسین اور  مولوی جعفر علی قاری سے حاصل کی۔ بیان نےاپنی قابلیت زیادہ تر ذاتی مطالعہ سے بڑھائی۔

میرے نزدیک یہ ادھوریسچائیاں ہیں۔ میری تازہ تحقیق کے مطابق بیان اپنے نانا سید عمر دراز علی کےانتقال (۱۸۶۰ء) کے بعد دیگر افراد خاندان کے ساتھ میرٹھ آئے۔ اس واقعہ کےدو سال بعد ۱۸۶۲ء میں سید کفایت علی تنہا (والد سید احمد حسن فرقانی) پنجاب سےمنتقل ہو کر دہلی آئے جہاں وہ ۱۸۶۸ء تک کمشنر دہلی کے میر منشی رہے۔ انشائےفرقانی سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اس زمانے میں سید  کفایت علی نے سید عمر درازعلی کے اہل و عیال کو بھی اپنے پاس دہلی بلوا لیا تھا اور   وہ انھی کے ساتھ رہتےتھے۔ علی جواد زیدی کے مضمون :سید احمد حسن فرقانی میرٹھی میں جگہ جگہ سید مہدیعلی ابن سید  عمر دراز علی کی دہلی میں ان کے ساتھ رہنے کی شہادتیں ملتی ہیں۔اس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ ۱۸۶۲ء سے ۱۸۶۸ء تک بیان کا نانہال دہلی میںتھا۔ میرا خیال ہے کہ جب سید  کفایت علی نے اپنے بھائی سید عمر دراز علی کےاہل و عیال کو دہلی بلوایا تو ان کے ساتھ بیان بھی دہلی آئے اس لیے کہ وہانھی کے ساتھ پلے بڑھے تھے۔ ان کی مزید تعلیم و تربیت سید کفایت علی،سید احمد حسن فرقانی اور سید مہدی علی کی نگرانی میں دہلی میں ہوئی۔ یہ باتمیں اس بنیاد پر کہہ رہا ہوں کہ تمام تذکرہ نگار اس بات پر متفق ہیں کہ بیاننے میرٹھ کے ایک شیعی عالم مرزا باقر علی بیگ سے تعلیم پائی تھی۔ یہ وہبزرگ ہیں جن سے فرقانی کے گہرے مراسم تھے اور  وہ دہلی کے رہنے والے تھےانھوں نے بعد کو میرٹھ میں سکونت اختیار کر لی تھی۔ علی جواد زیدی، فرقانی کےدہلی کے احباب کا ذکر کرتے ہوئے اپنے مضمون میں ایک جگہ لکھتے ہیں:(۱۷)

’’دلیمیں کوئی مولوی مرزا باقر علی بیگ بھی تھے۔ ان سے بھی (فرقانی کے) مراسمتھے۔ غالباً انھوں نے بعد میں میرٹھ میں ہی قیام اختیار کر لیا تھا۔‘‘

اسابتدائی تعلیم کی تحصیل کے بعد بیان نے عربی و فارسی کی اعلا تعلیم شمسالعلما قاری عباسحسین اور  مولوی قاری سید جعفر علی سے حاصل کی تھی جیسا کہامان اللہ خاں شروانی نے اپنے مضمون میں لکھا ہے۔یہ دونوں بزرگ بھی دہلی کےرہنے والے تھے۔ان سے بھی فرقانی کے گہرے تعلقات تھے۔ کافی تلاش کے بعد بھیقاری عباسحسین کے بارے میں معلومات فراہم نہ ہو سکی۔ البتہ مولوی قاریسید جعفر علی کے انتقال (۱۸۹۶ء) سے متاثر ہو کر بیان نے جو پُر درد طویل مرثیہلکھا ہے اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ موصوف اپنے وقت کے جید عالم اور  نیک صفتانسان تھے۔اس مرثیے کے دو بند کے چند اشعار دیکھئے:(۱۸)

شمسِ مبیں حضرتِ جعفر علی

شمعِ یقیں حضرتِ جعفر علی

قبلۂ دیں، کعبۂ اسلام کے

رکنِ رکیں حضرتِ جعفر علی

انجمنِ علمِ شریعت میں تھے

صدر نشیں حضرتِ جعفر علی

مشرق و مغرب میں اندھیرا ہوا

آج نہیں حضرتِ جعفر علی

نائبِ مہدی نہ رہا خاک پر

خاک پڑی گردشِ افلاک پر

قرأت و تجوید کے قلزم تھے آپ

دہر میں سیارۂ ہشتم تھے آپ

علمِ الٰہی کے سمٰوات پر

نیرِ اعظم شہہِ انجم تھے آپ

بحرِ محیطِ دو جہاں علم تھا

منبعِ تعلیم و تعلم تھے آپ

ناشرِ آیاتِ الٰہی تھے لب

رافعِ رایاتِ شہِ قم تھے آپ

تیرہ جہاں ہے وہ گئے ہات سے

کوچ کیا خضر نے ظلمات سے

انتفصیلات سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ بیان نے دہلی میں اپنے وقت کے جید علماسے اکتسابِ فیض کیا تھا۔ان کے اردو اور  فارسی کلام سے اس بات کا ثبوتملتا ہے کہ انھیں مختلف فنون میں کامل دستگاہ تھی۔ فارسی اور  عربی،حدیث،فقہ، منطق، فلسفہ، تصوف، ہیئت اور نجوم سب کا علم ماہرانہ تھا۔

 

               شاعری کی ابتدا

 

بیاننے جس خاندان میں آنکھیں کھولی تھیں، وہ خالص ادبی ،علمی اور  شعری تھا۔اسیفضا میں ان کی ذہنی نشو و نما ہوئی جس کے باعث ان کو شاعری کا شوق ابتدائے سنِشعور ہی میں ہو گیا تھا۔ مزاج بھی شاعرانہ تھا، لہٰذا ابتدائی کتب درسیہ کیتکمیل کے بعد کسی کے آگے زانوئے تلمذ تہہ کیے بغیر شعر کہنا شروع کیا۔دہلی میںسید احمد حسن فرقانی میرٹھی سے ان کا براہِ راست رابطہ قائم ہوا۔ ان کیادبی محفلوں کو دیکھنے اور  ان میں شریک ہونے کا موقع ملا۔اسی ماحول نے ان کےذوقِ شعری کو بے انتہا تقویت پہنچائی۔ بیان صحیح معنوں میں تلمیذ الرحمنتھے اور  فہیم و ذکی بھی، بہت جلد اس فن میں مہارت حاصل کر لی اور  اپنے ذاتیجوہر، علمی قابلیت اور  مشقِ سخن سے خود کمال حاصل کر لیا۔ امان اللہ خانشیروانی اپنے مضمون میں صغیر اصغر کے مضمون:غالب اور  جعفر علی (مطبوعہماہنامہ ماہ نو کراچی، مطابق ۱۹۶۵ء) کے حوالے سے بیان کی شاعری کے ابتدائیدور کے متعلق یہ واقعہ بھی لکھتے ہیں: (۱۹)

’’بیان کسی کے شاگردنہیں تھے۔ وہ تو فطری شاعر تھے۔وہ بہت جلد مشہور ہو گئے اور  صرف ۱۴ سال کیعمر میں ہی انھوں نے اردو زبان اور  اردو شاعری میں اتنا عبور حاصل کر لیا تھا کہبڑے بڑے اساتذہ کو بھی تعجب ہوتا تھا۔ ایک روز مرزا غالب کی زمین میں ایک غزللکھی۔ غالب کا مطلع ہے:

غنچۂ نا شگفتہ کو دور سے مت دکھا کہ یوں

بوسہ کو پوچھتا ہوں میں منھ سے مجھے بتا کہ یوں

بیان کی غزل کے چند اشعار یوں ہیں:

صبحِ قیامت آئیگی کوئی نہ کہہ سکا کہ یوں

آئے وہ در سے ناگہاں کھولے ہوئے قبا کہ یوں

نرگسِ مہوشاں سے پوچھ ، گردشِ آسماں سے پوچھ

سرمہ ہوئے وفا سرشت کیا کہوں اے خدا کہ یوں

ریختہ رشکِ فارسی اس سے نہ ہو سکا بیاں

محفلِ عرسِ میر میں شعر مرے سنا کہ یوں

یہغزل وہ مرزا غالب کی خدمت میں لے گئے اور  اصلاح کی درخواست کی۔ غالب نے غزلپڑھ کر واپس کر دی اور  فرمایا:’’میاں میں کیا اصلاح دوں جیسا میں نے کہا ویسا ہیتم نے کہہ دیا۔‘‘

جس زمانے میں بیان دہلی میں تھے ان کی حیثیت فرقانی کےخاندان کے ایک فرد کی تھی۔ انھوں نے انھی ایام میں یقیناً غالبکو دیکھا ہو گا جن کی آمد و رفت فرقانی کے گھر تھی۔  بیان نے غالب کی خدمت میںکسی موقع پر یقیناً وہ غزل پیش کی ہو گی جس کا ذکر اوپر کیا گیا ہے۔

جب ۱۸۶۸ءمیں سید کفایت علی ملازمت سے سبکدوش ہوئے تو یہ خاندان میرٹھ میں مستقل آبادہو گیا۔ ان کے ساتھ بیان بھی میرٹھ آئے اور  اس شہر میں مستقل سکونتاختیار کی۔اس وقت میرٹھ کی فضا شعر و ادب کی کیفیتوں سے معمور تھی۔ جگہ جگہشعر و شاعری کے تذکرے تھے اور  مشاعرے بھی کثرت سے ہوتے تھے۔ بیان کی شاعریکی نشو و نما میرٹھ کے جس ادبی اور  علمی ماحول میں ہوئی تھی، اس پر ڈاکٹرسید صفدرحسین نے قندیلِ حرم کے دیباچہ میں سیر حاصل تبصرہ کیا ہے۔ کہتےہیں:(۲۰)

’’گھرکے ماحول کے علاوہ شہر کی علمی اور  ادبی فضائیں تھیں جنمیں بیان کے ادبی مذاق کی نشوونما ہوئی۔ میرٹھ شہر سے دلی محض چالیس میل کےفاصلے پر واقع ہے اس لیے یہاں کی ادبی سرگرمیوں میں دبستانِ دہلی کے عناصربہت قوی تھے۔ علاوہ ازیں خود میرٹھ ہی کی سرزمین سے مولانا امام بخش صہبائیجیسے جید عالم پیدا ہوئے تھے جنھوں نے دلی کی علمی، ادبی اور  مذہبی فضا میںاپنا نمایاں مقام پیدا کر لیا تھا۔ میرٹھ میں انھیں کے ایک شاگرد مرزا رحیمبیگ رحیم بھی موجود تھے، جنھوں نے مرزا غالب کی علمی و ادبی مخالفت میں ’’قاطعِ برہان‘‘ تصنیف کی تھی۔ غالب کے ایک مخلص دوست ممتاز علی خاناور  دو مخصوص شاگرد یعنی محبوب علی خان نیّر اور  فصیح الدین رنج اسی شہر کےرہنے والے تھے۔ غالب کے علاوہ حکیم مومن خان مومن کے بعض شاگرد مثلاً نوابمصطفی خان شیفتہ اور  مولا بخش قلق وغیرہ یہیں کے باشندے تھے۔ پھر بیان کےمعاصرین میں مولانا شوکت میرٹھی، اسمٰعیل میرٹھی اور سید  سجادحسین ریحانیتھے۔ مختصر یہ کہ بیان کے ادبی شعور نے ایسے علمی ماحول میں آنکھ کھولی تھی۔پھر انھوں نے اپنے ذاتی ذوق، علمی مطالعے اور اد بی صحبتوں سے وہ بصیرت حاصلکر لی تھی کہ اپنے ہم عصروں میں وہ مذہب و ملت، شعر و ادب، سیاست و حکمت و تہذیباور  معاشرت کے ایک مبصر خیال کیے جاتے تھے۔ علمی قابلیت، ہمہ دانی،قادرالکلامی، زود گوئی، حاضر جوابی اور  شوخیِ طبع میں بھی اپنے معاصرین میںان کا جواب نہ تھا۔‘‘

یہاں یہ بتا دینا ضروری معلوم ہوتا ہے کہ کسی تذکرہنگار نے بیان کو فرقانی میرٹھی کا شاگرد لکھا ہے تو کسی نے اس کی تردید کیہے اور  انھیں تلمیذ الرحمن بتایا ہے گویا وہ کسی کے شاگرد نہیں تھے۔ اس سلسلےمیں پیارے لال شاکر میرٹھی نے اپنے مضمون میں بیان کے چھوٹے بھائی سیدحسین شرف کا یہ بیان بھی نقل کیا ہے:(۲۱)

’’برادر مرحوم حقیقت میں کسی کےشاگرد نہ تھے۔ میر احمد حسن فرقانی ان کے ماموں تھے۔ برادر مرحوم ان کیتعظیم کرتے تھے اور اس لیے ان کو اپنا استاد بھی لکھ دیتے تھے۔ ورنہ حقیقتمیں انھوں نے ان کو ایک شعر بھی بنظرِ اصلاح نہیں دکھلایا بلکہ بحیثیتِشاعرانہ ان میں اکثر مباحثہ بھی ہو جاتا تھا۔‘‘

لیکن ان سب کے باوجود یہایک مسلمہ حقیقت ہے کہ بیان کی تربیت اور  ان کے ادبی ذوق کو پروان چڑھانےمیں فرقانی کا زبردست حصہ تھا۔ یہی وجہ تھی کہ وہ ان کی بے انتہا عزت کرتےتھے۔ ان سے انھیں دلی عقیدت و محبت تھی۔ اس کا ثبوت وہ طویل مرثیہ ہےجو انھوں نے فرقانی کی وفات سے متاثر ہو کر لکھا تھا۔ تین بند کے یہ چند منتخباشعار دیکھئے:(۲۲)

صیرفیِ نقدِ ہمامی تھے وہ

صیلقیِ نظمِ نظامی تھے وہ

پشتِ ظہوری و پناہِ ظہیر

شیخِ مصلّائے امامی تھے وہ

نام تھا اربابِ ہنر میں بلند

نامورِ شیوۂ نامی تھے وہ

مدِّ نظر تھا قدما کا کلام

کہنہ خیالات کے حامی تھے وہ

فرقتِ قرقانی و شاکی دریغ

رحلتِ فرقانی و شاکی دریغ

نطق میں تھی قند مکرر بھری

قند مکرر سے بھی نیکو تری

مرغِ زباں تھا چمنِ نظم میں

بلبلِ بستانِ زباں آور ی

زندہ ہوئی مردہ زبانِ عجم

تھی لبِ اعجاز میں جادوگری

شعر میں ہر نکتۂ باریک تھا

طرۂ طغرائے سخن پروری

فرقتِ قرقانی و شاکی دریغ

رحلتِ فرقانی و شاکی دریغ

ہیں ترے ہم چشم کہاں اے بیاں

ڈھونڈتی ہے چشمِ جہاں اے بیاں

ڈال دیا مرگ نے اردو میں غدر

لٹ گئی دلی کی زباں اے بیاں

چھوڑ گیا راکھ کی صورت مجھے

قافلۂ راہ رواں اے بیاں

کیجیے کس کس کا بیاں بس خموش

روئیے کس کس کو یہاں اے بیاں

فرقتِ فرقانی و شاکی دریغ

رحلتِ فرقانی و شاکی دریغ

 

               جلوۂ طور کی ادارت

 

میرٹھمیں مستقل سکونت اختیار کرنے کے بعد بیان نے جلوۂ طور کی ادارت سنبھالی۔یہسلسلہ تقریباً پانچ چھ سال تک جاری رہا۔جلوۂ طور ۱۸۶۱ء میں محلہ گنیش گنج،میرٹھ سے جاری ہوا تھا۔ جمعہ کے روز شائع ہوتا تھا۔ اس کے مہتمم و مالک راۓگنیشی لال اور  پرنٹر و پبلشر شمبھو ناتھ تھے۔ اس کا سالانہ چندہ ساڑھےنو روپئے تھا۔ سلطان المطابع میرٹھ میں بڑی تقطیع پر چھپتا تھا۔جلوۂ طور کےایڈیٹر کچھ عرصہ تک سید ظہیر الدین ظہیر بھی رہے۔ اسی طرح بعد میں اس کےمہتمم لالہ خوشی رام غالب ہو گئے تھے۔بیان نے اپنے دور میں جلوۂ طور کے لیےجو مضامین لکھے تھے وہ بڑے بصیرت افروز ہیں۔(۲۳)

 

               کال کوٹھری

 

جلوۂطور سے علاحدگی کے بعد ایسا معلوم ہوتا ہے کہ بیان پر وہ مجنونانہ کیفیت طاریہوئی جس کا وہ کم و بیش تا عمر شکار رہے۔بعض تذکرہ نگار کہتے ہیں کہاوائلِ عمر میں ان کے والد انھیں شعر و سخن میں اوقات گزاری سے منع فرماتے تھےلہٰذا انھوں نے بہانا کیا کہ مجھ کو روشنی میں چکا چوند لگتی ہے اور یوںگھرکے ایک اندھیرے کمرے میں بند رہ کر اپنا شوق پورا کرنے لگے۔ بعض کا خیالہے کہ انھوں نے جو الفاظ زبان سے نکالے تھے، آخر وہی ہو کر رہا اور  وہ واقعیعارضۂ چکا چوند کا شکار ہو گئے۔ بعض اسے وہم کا نتیجہ قرار دیتے ہیں۔ حکیممحمود خاں کا خیال تھا کہ یہ مرض ذہین لوگوں کو ہوا کرتا ہے۔ اس مرض کے سلسلےمیں بیان کے چھوٹے بھائی سید  حسین شرف نے پیارے لال شاکر میرٹھی کو یہتفصیل بتائی ہے:(۲۴)

’’حالت مرض یہ تھی کہ قریب دو سیر وزن کی کپڑے کیگٹھری بنا کر دماغ پر رکھتے تھے اور  کہتے تھے کہ دماغ بغیر اس کے اڑا جاتا ہے۔تاریک کمرے میں شب و روز رہتے تھے۔ اس کے دروازوں پر پنبئی پردے پڑے رہتےکہ روشنی مطلق نہ آ سکے۔ ہانڈی کے پکنے اور  چھالیہ کاٹنے کی آواز بھیناقابلِ برداشت تکلیف دیتی تھی۔ نہایت خفیف شور سے بھی وہ سخت پریشانہو جاتے تھے۔ اگر کسی ضرورت سے باہر نکلتے تو چھتری لگا کر۔  کہتے تھے کہتاروں کی روشنی سے اذیت پہنچتی ہے اور  تارے دماغ میں چبھتے ہیں۔ اس مرضمیں وہ تمام عمر مبتلا رہے۔ شور سے اب مطلق پریشان نہ ہوتے تھے۔ مکانِ تاریککی نشست ترک کر دی تھی۔ کپڑوں کی گٹھری سر سے کندھوں پر اتر آئی تھی۔‘‘

انکے متعلق یہ بات بھی مشہور ہے کہ انھیں یہ وہم ہو گیا تھا کہ اگر وہ باہرنکلیں گے تو پریاں اٹھا کر لے جائیں گی۔(۲۵) انھیں صفائی کا مطلق خیال نہتھا۔ ہمیشہ ایک لحاف اوڑھے رہتے اور  پلنگ پرہی نہا لیا کرتے تھے۔بیان کےخطوط میں بھی ان کی مسلسل بیماری، جسمانی ضعف اور  ذہنی پریشانیوں کے اشارےملتے ہیں۔وہ اپنے ماموں سید مہدی علی کو ایک خط میں لکھتے ہیں:

’’میں بھائی کی طرف ایک دری کی کوٹھی میں رہتا ہوں۔ تعدادِ مکانات سببِ حسرت نہیں۔ کیوں کہ:

چال ہے مجھ ناتواں کی مرغِ بسمل کی تڑپ

ہر قدم پر ہے گماں یاں رہ گیا، واں رہ گیا

(تیغ ہندی،ص:۵)

میر حیدر علی کو ایک خط میں اپنی کیفیت اس طرح بتاتے ہیں:

’’ابآپ اپنے عجیب الخلقت دوست کا بھی حال سنیں۔ بیمار ہیں، بیکار ہیں، دنیا سےبیزار ہیں، ہمہ تن زار ہیں، بلکہ آزار ہیں، زحمتِ امراض سے ناچار ہیں، رحمتِالٰہی کے طلب گار ہیں۔ بیٹھتے ہیں گھرکی طرح، اٹھتے ہیں چھپر کی طرح۔ چلتےہیں جنازے کی طرح۔ خدا عفو  و عافیت دے۔‘‘(تیغ ہندی،ص:۶۱)

مولوی ظفر احمد کو خط کا جواب نہ لکھنے کی شکایت کے جواب میں لکھتے ہیں:

’’جبتمہارا خط آیا تھا، میں تپ و لرزہ میں مبتلا تھا اور اس بلا کا تپ و لرزہ تھا،گویا زمین کو پہنچا آیا تھا۔ کئی دن بے ہوش رہا۔ بعض کو حیات میں تردد رہااور  مجھ کو تو اب بھی ہے۔‘‘(تیغ ہندی،ص:۹۴)

مولوی ظفر احمد کو ایک اور  خط میں پھر خط نہ لکھنے کی شکایت کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

’’اگر میں بےنصیب ہو گیا، تم تو خوش نصیب ہو۔اگر میں ذلیل ہو گیا، تم تو ہنوز عزیز ہو۔ صاحبِتمیز ہو۔ اگر مجھ میں علالت سے حالت نہیں، تمہاری حالت کہاں گئی باوجودیکہعلالت نہیں۔ اگر ہمارا حال ردّی ہے، تمہاری نیت میں کیوں بدی ہے۔ ہم بے دستو پا ہو کر چل نہیں سکتے کہ تم تک جاتے، تم ہاتھ پیر والے ایسے نکلے کہ ہم تکنہیں آتے۔‘‘(تیغ ہندی، ص:۱۰۳)

انھیں مولوی ظفر احمد کو کیفیت دریافت کرنے پر ایک دوسرے خط میں پھر لکھتے ہیں:

’’شفا کہاں۔ مرض بڑھتا رہاجوں جوں دوا کی۔ بیمار چلا جاتا ہوں۔ غلط کہتا ہوں۔ اب اس قدر ضعف ہے کہ چلا نہیں جاتا۔ لیکن

چلا ہی جاتا ہوں میں، گو چلا نہیں جاتا

غضب ہے شوقِ رسائی و دوریِ منزل

پہلےپڑا تھا مگر بھلا تھا۔ اب اچھا نہیں، اچھا نہیں۔۔۔   پلنگ پر پڑا، کبھی ہوش ہے،کبھی بے ہوش ہوں۔ آسمان دیکھتا ہوں اور  خاموش ہوں۔‘‘(تیغ ہندی، ص:۹۵)

غرضکہ بیان پھر اس کوٹھری سے باہر نہیں نکلے اور  عنفوانِ شباب سے آخر عمر تکوہیں گوشہ نشین رہے۔اس کال کوٹھری میں بیٹھے بیٹھے بیان شاعری اور  علم و ادبکی خدمت کرتے رہے۔ یہیں ہمہ وقت شاگردوں کا مجمع رہتا۔ ان کی غزلوں پر اصلاحدی جاتی۔ شعر و شاعری پر بحث ہوتی۔ اخباروں کے لیے مضامین لکھے جاتے۔ مخالفوںکے جواب تحریر ہوتے۔ شاعری کے گلدستوں کی آرائش کی جاتی اور  اخبارات و رسائل کیترتیب و تدوین کا کام ہوتا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ اندھیری کوٹھری ادبیاعتبار سے ایک ایسی زر خیز جگہ تھی، جس میں ہمیشہ رنگ برنگ پھول کھلتے رہتےتھے، جو اپنی بو قلمونی، رنگا رنگی اور  شادابی سے آج تک حلقۂ ادب کو پُر بہاربنائے ہوئے ہیں۔

اس سچائی کی تصدیق سر عبد القادر ایڈیٹر ماہنامہ مخزن،لاہور کے مندرجہ ذیل بیان سے بھی ہوتی ہے جنھوں نے بیان کو قریب سےدیکھا تھا۔ وہ اپنے مضمون یادِ رفتگاں میں لکھتے ہیں:(۲۶)

’’جب جلسہ (کلہند محمڈن ایجوکیشنل کانفرنس، میرٹھ،۱۸۹۶ء) ختم ہو لیا اور  لوگ منتشر ہو گئےاور  جو کچھ باقی تھے میرٹھ سے روانگی کی تیاریاں کر رہے تھے۔ اس وقتمیں اپنے خیمے سے نکلا اور  سر سید  کے خیمہ کی طرف جانے لگا کہ ان سے رخصتہولوں کہ اتنے میں میری نظر ایک پالکی پر پڑی جس میں ایک بزرگ روئی دارا نگرکھا پہنے ہوئے لیٹے ہوئے تھے۔ میں اس پالکی کے پاس پہنچا تو کیا دیکھتا ہوں کہحضرت بیان یزدانی ہیں۔ چند سال پہلے ایک دفعہ ان سے ملاقات کا موقع ہوا تھا۔مرحوم ایک عرصہ سے علیل اور  صاحبِ فراش تھے۔ جب میں نے انھیں پہلی مرتبہدیکھا تھا۔ جب بھی ایک چھوٹے سے اندھیرے کمرے میں لیٹے ہوئے تھے۔ مگر یہمعذوری ان کی طبیعت کی روانی پر غالب نہیں آئی تھی اور  وہ اسی حالت میںدادِ سخنوری دیتے رہے۔ شاگردوں کی غزلوں کی اصلاح کرتے تھے اور  دیگر علمیمشاغل میں مصروف رہتے تھے۔‘‘

 

               طوطیِ ہند کا اجرا

 

اسی ذہنی پریشانیاور مسلسل بیماری کے عالم میں بیان نے یکم جنوری ۱۸۸۱ء کو ایک مطبع حدیقۃالعلوم کے نام سے جاری کیا۔اس کے کاتب شوکت علی اور  لوح نویس قائم علیتھے۔(۲۷) انھوں نے اسی پریس سے اسی سال (۱۸۸۱ء) اپنا ذاتی ہفتہ روزہ طوطی ہندجاری کیا جس نے صحافتی دنیا میں کافی شہرت حاصل کی۔اس میں خبروں کے علاوہادبی اور  تنقیدی مضامین اور  منظومات بھی شائع ہوتی تھیں۔طوطی ہند کبھی کبھیاپنے معاصرین سے بھی الجھتا رہتا تھا۔ جس زمانے میں اس کا اجرا ہوا ہے ’’اودھ پنچ‘‘ اور  ’’اخبار فتنہ‘‘ کے درمیان تیز و تند صحافتی جنگ چھڑی ہوئی تھی۔بیان نے پہلے ’’اخبار فتنہ‘‘ کے خلاف مضامین کا سلسلہ شروع کیا۔ حالانکہبیان کے تعلقات ابتدا میں ریاض خیر آبادی (ایڈیٹر فتنہ) سے بہت اچھے تھےاور  نادم سیتا پوری کے بیان کے مطابق:(۲۸)

’’ریاض، آزاد (محمد نذیر)  اور  محمد مرتضیٰ بیان میرٹھی کا اتحادِ ثلاثہ ایک خاموش بساطِ شعر و ادب بنا ہواتھا۔ ان تینوں کے درمیان ایک مسلسل روز نامچہ گردش کناں رہتا، جس میں نجیزندگی کے علاوہ ادبی اور  سماجی زندگی کے چٹخارے بھی ہوتے تھے۔ فل ا سکیپسائز کا یہ روزنامچہ برابر ان تینوں کے گرد چکر کاٹتا رہتا تھا اور اس میں یہتینوں افراد اضافہ کرتے رہتے تھے۔ خانگی مصروفیات اور  نجی زندگی کے علاوہاس ڈائری میں تازہ افکار بھی ہوتے اور  حالاتِ حاضرہ پر تبصرہ بھی۔‘‘

بعد کو منشیسجادحسین ایڈیٹر اودھ پنچ سے ٹھن گئی، جس نے اتنی شدت اختیار کر لی کہ باتضلع جگت سے گزر کر پھکڑ بازی اور  گالی گلوج تک پہنچ گئی۔ اودھ پنچ کے ادارۂتحریر میں ایک سے بڑھ کر ایک انشاءپرداز اور  شاعر تھا۔ یہ حضرات بیان کےاخبار طوطیِ ہند کی رعایت سے چڑیا گھر کا تلازمہ اور  اصطلاحات استعمال کر کے انکا مذاق اڑاتے تھے۔ لیکن بیان تنہا ان سب کے اعتراضات کا جواب مختلف ناموںسے نظم و نثر میں دیتے۔ انھوں نے طوطیِ ہند میں اودھ پنچ کے بالمقابل میرٹھپنچ کے عنوان سے ضمیمے کا اضافہ کیا۔ یہ ہر جمعہ کو چار صفحات پر شائعہوتا تھا۔ افسوس کہ طوطیِ ہند اور  میرٹھ پنچ کے پرچے اب نایاب ہیں، لہٰذامعرکہ آرائی کا نمونہ پیش کرنے سے قاصر ہوں۔

جناب امداد صابری نے طوطیِہند کے خلاف اودھ پنچ کے مضمون کاجو نمونہ اپنی کتاب تاریخ صحافت اردو میںپیش کیا ہے، اسے یہاں نقل کیا جاتا ہے، تاکہ معرکہ آرائی کے معیار کا اندازہہو جائے۔مضمون کا آغاز ان اشعار سے ہوتا ہے:(۲۹)

نہ بھونکو، تو بتا دیں دل میں اپنے کیا سمجھتے ہیں

تمہیں بھی ہم سگِ قصاب کا پلا سمجھتے ہیں

گدھے میرٹھ کے اپنے خر کو بھی عیسیٰ سمجھتے ہیں

پناہِ تاج و گاہِ کشورِ معنیٰ سمجھتے ہیں

دوات اک کوسِ شاہی ہے قلم ڈنکا سمجھتے ہیں

اےذناب!تو یہ بھول گیا جناب۔ آپ ہی کی مبلغِ استعدادِ حسن لیاقت پر کیا کمشور و غوغا تھا۔ خمسہ مورخہ ۱۲ نومبر ۱۸۸۱ء میں اپنے حضرت استاد کو کیوں گردآباد کیا!اگر بقول شخصے’’ خود فراموشی کند نامے نہد استاد را‘‘ کا مضمون ہے توخیر، اگر واقعی آپ کے استاد جی کا وہ خمسہ تصنیف شریف ہے تو لا حول ولا قوۃالا باللہ العلی العظیم۔ مانتا ہوں مصرعوں کو ایسا گانٹھا ہے، جیسے دیہاتیچما پھٹا جوتا گانٹھتے ہیں۔ ہر مصرع بادِ ہوائی، گوزِ شتر، کوئی کل درستنہیں۔ الفاظ بے معنی، ترکیب لا یعنی، پناہِ تاج و گاہِ کشورِ معنی، کیا خوب،لوند ہاے بہ نظر ظرافت ترکیب دی گئی ہے۔ کچھ اور  نہ سمجھنا۔ الفاظ کےسوا معنی خاک نہیں۔ مصرع ثانی کی ترکیب بھی نئے فیشن کی۔ مصرع ثالث مصرعچہارم کے مقابل میں اگر کوئی ہانک بول اٹھا ہے۔ ابے چمار، پوری فکر کیوں نہکی۔ اپنے ہی شعر پر مصرعے لگائے ہوتے۔

جناب امداد صابری نے اپنی کتاب میں طوطیِ ہند کے متعلق یہ معلومات دی ہیں:(۳۰)

’’یہہفتہ وار اخبار میرٹھ سے ۱۸۸۱ء کو ظہور پذیر ہوا تھا۔ اس کے بانی سید محمدمرتضیٰ صاحب بیان و یزدانی اور  مہتمم منشی ولایت علی خان جادو مختار عاممالک مطبع حدیقۃ العلوم، ایڈیٹر سید کرارحسین صاحب روحانی تھے۔ بعد میں اسکے مالک سید سجادحسین ریحانی ہو گئے تھے۔‘‘

اسی طرح وہ میرٹھ پنچ کے متعلق یہ اطلاع فراہم کرتے ہیں:(۳۱)

’’میرٹھسے یہ ہفتہ وار اخبار چار صفحات پر ۱۸۸۱ء کو شائع ہوا۔ اس کے جاری ہونےکا جمعہ کا دن تھا۔ مالک مولوی سید  محمد مرتضیٰ صاحب بیان و یزدانی، مہتممولایت علی جادو، ایڈیٹر سید کرارحسین صاحب روحانی تھے۔ سالانہ چندہ ڈیڑھروپیہ تھا۔ یہ طوطی ہند کا ضمیمہ تھا۔‘‘

بیان نے یہ پرچہ اپنے حقیقیماموں سید مہدی علی کے کہنے پر فرقانی میرٹھی کے بیٹے:سید سجادحسین ریحانی/سید  کرارحسین روحانی کو فروخت کر دیا تھا۔ جیسا کہ سید مہدی علی کےنام ان کے خط کے اس اقتباس سے ظاہر ہے:

’’حضرت۔ اگر آپ اونچے ہیں تو دامننیچے رکھئے تاکہ دامن اور  ہاتھ کا ساتھ نہ چھوٹے۔ بذل و احتیاج کا رشتہ نہٹوٹے۔ خاص آپ کے کہنے سے ہم نے ’’طوطی ہند‘‘ بیچ دیا اور   بے پر ہو بیٹھے۔ ابمطبع بے آمدنی ہے۔ بعد اس کے آپ نے بات بھی نہ پوچھی۔ نا انصافی نہیںتو اور  کیا ہے۔‘‘ (تیغ ہندی، ص:۸۰)

اسی طرح بشیر الدین عاقل کو ایک خط میں لکھتے ہیں :

’’طوطیِہند، بیچ دیا۔ دریں چہ شک۔ اپنی بلاسے چہ چہ کرے کہ خاموش ہو جائے۔ میرےپاس ہوتا تو تمہارا پاس رکھتا۔ ہم نے دور کیا، تم سے دور رہا۔ طوطےمیں وفا کہاں۔ مزاج کیا پوچھتے ہو۔‘‘(تیغ ہندی،ص:۶۰)

ہماری تحقیق کے مطابقیہ واقعہ ۱۸۸۳ء کے اواخر کا ہے۔ یوں یہ پرچہ تقریباً تین سال ان کی ملکیتمیں رہا اور اس تین سال کے عرصے میں اس نے زبردست ادبی معرکہ آرائی کیاور  علمی و ادبی حلقوں میں کافی دھوم مچائی۔ہمارے خیال سے اس پرچے کو فروختکر دینے کا اصل سبب ان کی نفسیاتی اور  ذہنی بیماری کا غلبہ تھا۔جب اسکا اثر کچھ کم ہوا تو انھیں ایک نیا رسالہ جاری کرنے کی پھر فکر ستانے لگی۔ انکی اس فکر کو ان کے خطوط میں دیکھا جا سکتا ہے۔ اپنے شاگرد شاد سہارنپوریکو لکھتے ہیں:

’’اے شاد !نقش رہ جائے گا، نقاش مٹ جائیں گے۔ حروف رہجائیں گے، حریف اٹھ جائیں گے۔ اگر ہمارا اخبار دو بارہ  نیا نکلے  تو تم سہارن پورمیں کے پرچوں کی مدد کر سکتے ہو۔‘‘(تیغ ہندی: ص:۸۲)

اپنے ایک اور  شاگرد ولایت علی جادو کے نام ۱۱  اکتوبر ۱۸۸۴ء کے ایک خط میں تحریر کرتے ہیں:

’’جی چاہتا ہے کہ دوبارہ اخبار جاری کریں۔اگر تم دس پرچہ لگوا سکو تو زور لگائیں۔ورنہ خیر۔ مگر بغیر پیشگی کیوڑہ ندارد۔‘‘(تیغ ہندی:ص:۸۲)

بیان نے جی ای وارڈ صاحب کمشنر میرٹھ کے نام جو خط لکھا ہے اس میں بھی اس حقیقت کا اظہار ملتا ہے:

’’گزارشیہ ہے کہ اگرپچھلی درخواست نامنظور ہے توایک اور سہل درخواست کرتا ہوں اور  وہیہ ہے کہ یکم جنوری ۱۸۸۵ء سے میں ایک رسالہ شائع کروں گا جس کا نام ’’وارڈنامہ‘‘ ہوگا۔ اس میں کل علمی مضامین نظم ہوں گے۔ اخلاقی اور  پولٹیکل  و سوشلمضامین بھی نظم میں لکھے جائیں گے۔ لیکن یہ نظم ایشیائی نمونے پرنہ ہوگیجوتکلفات اور  مبالغے سے اور  جھوٹی باتوں سے بالکل بھری ہوتی ہے۔ بلکہانسان کے سچ خیال کی تصویر ہوگی۔ اگر آپ اپنے ماتحتوں میں دوسو پرچے اسرسالے کے، بقیمت پیشگی نشرکردوگے، جوحضور کے ایک ادنیٰ اشارے سے با آسانیممکن ہے تو یہ مبارک علمی یادگار دیرتک ہندوستان کی آنکھوں میں چمکتی رہےگی۔ البتہ کام شروع کرنے کے لیے حضور کو جیب خاص سے بطور پرورش فقط پچاسروپئے مرحمت فرمانے ہوں گے۔ اگر حضور اس تجویز کو منظورفرماویں تویکم جنوری۱۸۸۵ء سے پہلے مجھ کواس کے بابت اطلاع اور  اطمینان ہونا چاہئے۔‘‘(تیغہندی، ص:۸۷)

 

               لسان الملک کا اجرا

 

بیان کی یہ آرزو پوری ہوئی اور  انھوں نے جون ۱۸۸۷ء کو ماہنامہ لسان الملک جاری کیا۔ اس کا شمار اس زمانےکے معیاری رسائل میں ہوتا تھا۔ ۲۰صفحات کایہ ماہنامہ ۸X۲۶/۲۰سائز پر نہایت ہی اہتمام کے ساتھ مطبع حدیقۃ العلوم میرٹھ سے شائعہوتا تھا۔ سالانہ چندہ دو روپئے تھا۔ اس کے مہتمم منشی احمد شفق تھے۔ پرچےکی کتابت و طباعت بھی عمدہ تھی۔ محمد محسن اس کی کتابت کیا کرتے تھے۔ اس میںہر ماہ دو طرحی مصرعے دیے جاتے تھے۔ مصرع برائے دیوان عام اور  مصرع برائےدیوان خاص۔ شعرا سے دونوں طرحوں میں طبع آزمائی کی درخواست کی جاتی تھی اور  انھیں دونوں عنوان کے تحت موصولہ غزلوں کا انتخاب شائع ہوتا تھا۔ عموماًدیوان خاص کے لیے اساتذہ اور  دیوان عام کے لیے مبتدی شعرا غزلیں ارسال کرتےتھے۔ شاید یہ تخصیص اسی لیے تھی۔ بیان کی اردو اور  فارسی غزلوں اور  دیگرمنظومات کے علاوہ اس میں ان کے بیشتر شاگردوں کا کلام بھی شائع ہوتا تھا۔بیان اس کا اداریہ خود کبھی نظم اور  کبھی نثر میں لکھا کرتے تھے۔وہ جہاں ایکبلند پایہ شاعر تھے، وہیں موثر نثرنگار بھی تھے۔ ان کی نثرنگاری کے کامیابنمونے لسان الملک کے صفحات پر بکھرے ہوئے ہیں۔ انھیں ناول نگاری سے بھیدلچسپی تھی۔ جون ۱۸۹۳ء کے شمارے سے ان کا ناول ’’خداپرست کا ناول المسمیٰبہ گل عباس‘‘ قسط وار شائع ہونا شروع ہوا تھا اور   یہ سلسلہ آخری شمارے تکجاری رہا۔ اس میں انھوں نے استاد و شاگرد کا مکالمہ لکھ کر تصوف کے رموز وحقائق یعنی خدا کیا ہے، خدا کی صفات اور  نبوت و رسالت پر مدلل بحث کی ہے۔ بیانکے اور  دو مختصر ناول ’’صندلینہ کی سیر‘‘ اور  ’’عشقِ عظیم‘‘ بھی اسی پرچےمیں شائع ہوئے ہیں۔ علاوہ ازیں ’’حل المطالب‘‘ کے عنوان سے دیوان غالب کیشرح بھی قسط وار چھپتی رہی ہے۔ شرح کلام غالب کا سلسلہ دسمبر ۱۸۹۵ء سےشروع ہوا اور  ۱۳ غزلوں سے آگے نہ بڑھ سکا تھا کہ بیان کا انتقال ہو گیا۔ہم نے یہشرح پہلی بار مرتب کر کے سہ ماہی تحریر، نئی دہلی (شمارہ:۴۶) میں چھپوا دی ہے۔یہ ہماری مطبوعہ کتاب:بیان میرٹھی اور  غالب میں بھی شامل ہے۔

 

               طوفان

 

انھوںنے ایک ظریفانہ رسالہ طوفان بھی جاری کیا تھا، جو لسان الملک کے ضمیمہ کےطور پر شائع ہوتا رہا۔ اس کے ابتدائی چار شمارے ملے ہیں، جن پر تاریخِ اشاعتدرج نہیں ہے۔ صفحات کی مجموعی تعداد ۲۸ ہے۔  ابتدائی تین شمارے آٹھ آٹھصفحات پر مشتمل ہیں۔ آخیر کا شمارہ ۴ صفحات کا ہے۔ اس میں انھوں نے ایڈیٹرکلالِ ہند کی اچھی درگت بنائی ہے۔ سرورق کے نصف حصے پر یہ اشعار ہیں:

بسم اللہ الرحمن الرحیم

خنجرِ برّاں پئے دیو رجیم

لشکرِ طوفاں سپسِ قوم راند

خطبۂ لاعاصمم الیوم خواند

آج ہے جوش پہ طوفاں میرا

دل ہے جو شان و خردشاں میرا

پھر آواز آنے لگی اے حبیب

کہ نصر’‘ من اللہ فتح’‘ قریب

صورتے گردد مجسم فتح گوید آشکار

لافتیٰ الاعلی لاسیف الا ذوالفقار

پڑھ کے بسم اللہ قدم رکھتا ہوں میں گھمسان میں

آج دیکھوں کون ٹھہرے سامنے میدان میں

’’ذوالفقارقاتل فجاز‘‘ (پہلا دم) کے عنوان سے مضمون شروع ہوتا ہے، جس میں کلالِ ہند یکماگست ۱۸۸۸ء کے کسی مضمون پر سخت اور  فحش الفاظ میں تنقید کی ہے۔ نثر کےدرمیان چار طنزیہ نظمیں بھی ہیں۔ مسدس طفل شگاف (کھوسٹ اخبار کے مسدس کیچتھاڑ) کے چند بند قلم بند کیے جاتے ہیں:

کھا کھا کے لقمہ ہائے حرامِ  ایڈیٹری

گندہ کیا ہے تو نے مشامِ ایڈیٹری

اللہ مینڈکی کو زکامِ ایڈیٹری

تہمت ہے اس کلال پہ نامِ ایڈیٹری

تجھ کو کہاں نصیب مقامِ ایڈیٹری

بڑھیا کا کوٹ ہے کوئی بامِ ایڈیٹری

جا سامنا ہمارا نہ او طفلِ شوم کر

ہفتاد پشت کو تری رکھ دیں گے توم کر

نیزے ہزار چھوڑ دیے ہم نے چوم کر

دنگل میں ہم اٹھائیں گے ہتھیار جھوم کر

تجھ کو کہاں نصیب مقامِ ایڈیٹری

بڑھیا کا کوٹ ہے کوئی بامِ ایڈیٹری

کوسِ فلک میں ہے مرے ڈنکے کا غلغلا

اب تک اودھ میں ہے مری ٹیپوں سے زلزلا

گھٹتا ہے کوئی شیر جوانوں کا ولولا

رہ جائے گا تو پہلے ہی دھکے سے تلملا

تجھ کو کہاں نصیب مقامِ ایڈیٹری

بڑھیا کا کوٹ ہے کوئی بامِ ایڈیٹری

پڑنے لگیں گے چاند پہ جب ٹھائیں ٹھائیں ٹھائیں

کٹنے لگیں گی او کھلیاں دھائیں دھائیں دھائیں

ہلڑ مچے گا چاروں طرف ہائیں ہائیں ہائیں

لونڈے یہ بھول جائیں گے سب آئیں بائیں شائیں

تجھ کو کہاں نصیب مقامِ ایڈیٹری

بڑھیا کا کوٹ ہے کوئی بامِ ایڈیٹری

ہم سے نہ او کلال کبھی رنگ لائیو

محفل میں اپنی دختر رز کو نچائیو

اور  بن بٹو میں جا کوئی اڈا بنائیو

دیوث۔۔۔    پہ تو بھاڑ کھائیو

تجھ کو کہاں نصیب مقامِ ایڈیٹری

بڑھیا کا کوٹ ہے کوئی بامِ ایڈیٹری

 

               سر سید کی تحریک سے دلچسپی

 

۱۸۵۷ءکے انقلاب کے بعد مسلمانوں کے دل و دماغ پر خوف و ہراس چھا گیا تھا۔ سر سید  احمدخان کی مفکرانہ نگاہیں اس حقیقت کو پا گئیں کہ حکومتِ وقت کی حمایت کےبغیر مسلمانوں کا ترقی کی منزل کو چھونا اور  اپنی کھوئی ہوئی عظمت کو دوبارہحاصل کرنا ناممکن ہے۔ لہٰذا انھوں نے مسلمانوں کو انگریزوں پراعتماد کرنےکا مشورہ دیا اور  مغربی علوم سے روشناس کرا کے یورپ کی ترقی یافتہ قوموں کےبالمقابل کھڑا کرنے کی کوشش کی۔ مدرسۃ العلوم، علی گڑھ اسی سلسلے کی ایککڑی تھی۔ جب ۱۸۷۷ء میں لارڈ لٹن کے ہاتھوں اس کا سنگِ بنیاد رکھا گیا تو چاروںطرف سے مخالفت ہوئی لیکن بعض دور اندیش حضرات نے اس تحریک کی ہر طرح سےموافقت کی۔  اسی تحریک کے آخری گروہ میں بیان کا اسم گرامی بھی قابلِ ذکر ہے۔

جسوقت سر سید  کی یہ اصلاحی اور  تعلیمی تحریک اپنے شباب پرتھی، بیان جوانی کےدور سے گزر رہے تھے۔ انھوں نے ہر طرح سے اس تحریک کا ساتھ دیا۔اپنی نظم اے قوماور  طالب علموں سے خطاب میں تعلیم کی اہمیت کو واضح کیا۔محمد یحییٰ تنہا کےبیان کے مطابق جب ایک مرتبہ جلسۂ عام نو چندی میں سر سید احمد خاں کو دعوت دیگئی اور  وہ تشریف لائے تو بیان نے سر سید کی شان میں ۳۹ شعر کی اردو میں ایکنظم لکھی جو اس جلسہ میں بڑے بڑے اکابر قوم اور  بعض صاحبانِ انگریز کیموجودگی میں پڑھ کر سنائی گئی۔ اس نظم کے چند اشعار یہ (۳۲)

تا کجا اے دوستو! خوابِ گراں

آن پہنچا پیشوائے کارواں

چاہیے آنکھیں بچھائیں زیر پا

شانِ حق آپ اور  ہمارے میہماں

آپ کی تقریر کے اعجاز نے

ڈال دی ہے ہمتِ مرداں میں جاں

زیرِ گردوں پھر وہ گلشن ہو ہرا

آ گئی ہے جس کے گوشوں میں خزاں

افتخارِ ہند سید  کے قدوم

پھر بھی دکھلائے خداوندِ جہاں

پھر اُٹھے مجلس سے گلبانگِ چیئرس

آئے پھر کاغذ سے آوازِ بیاں

بیاننے کل ہند محمڈن ایجوکیشنل کانفرنس میرٹھ (۱۸۹۶ء) کے موقع پر لسان الملکمیں اس کانفرنس کی موافقت میں مضمون لکھا اور  اکابرینِ کانفرنس کی تعریف میںفارسی کا ایک قصیدہ بھی شائع کروایا۔ جس کی اٹھان، الفاظ کےزور و شور اور  ترکیبوں کی پختگی کو دیکھ کر قاآنی یاد آتا ہے۔اس قصیدے کےچند شعر دیکھئے:(۳۳)

ساقی بر اور  مے زدن کاوانِ یاراں آمدہ

وزکہساراں قطرہ زن ابرِ بہاراں آمدہ

اردی بہشت آمدکنوں، گلشن بہشت آمد کنوں

ازخشت خشت آمد کنوں تاگل در ایوں آمدہ

از گل نشاط انگیختن وز باد عنبر بیختن

از ابر لولو ریختن وز چاک داماں آمدہ

مرغ ازطرب دستاں زند، گل خنداں چوں مستاں زند

چقماں درِبستاں زند برقے کہ رخشاں آمدہ

 

در مدح سید محمود

ترکانِ تازی را نگر، پیرِ حجازی را نگر

محمود غازی را نگر، با فرِّ سلطاں آمدہ

دانش ورش راحج کند، دارائے ہندش جج کند

عزت کلاہش کج کند، فرَّش فراواں آمدہ

درروئے آں شیوہ بیاں، لرزد ایڈیسن راز باں

پیچیدہ لکنت در دہاں لب زیرِ دنداں آمدہ

تا در ادب بکشاہ لب زی در گہش بکشادہ لب

سحباں ز  اقصائے عرب ہومر ز  یوناں آمدہ

 

در مدححسینبلگرامی

آں سید جیدحسین، آں مصطفی رانور عین

صدرِ شرف رازیب وزین دربزم اعیاں آمدہ

گویندنامی گوہر است او بلگرامی گوہر است

لابل گرامی گوہر است کز عدنِ عدناں آمدہ

اتنا ہینہیں بلکہ اپنے حجرے سے باہر آ کر کانفرنس کے اختتام پر سر سید احمد خاں سےملاقات بھی کی اور  ان کی تحریک کی شانِ میں فارسی کا ایک قصیدہ پڑھ کر سنایا،یہ کانفرنس ایک خاص شان امتیازی لیے ہوئے دسمبر ۱۸۹۶ء میں نواب عماد الملکسیدحسین بلگرامی کی صدارت میں ہوئی تھی۔ اس میں نامی گرامی ہستیوں نے شرکتفرمائی تھی جن میں نواب محسن الملک ، سید محمود، ڈپٹی نذیر احمد، میاں محمدشاہ دین، میاں محمد شفیع، صاحبزادہ آفتاب احمد خان اور سر عبد القادر کےاسمائے گرامی نمایاں ہیں۔ بیان کو امید تھی کہ انھیں اس کانفرنس میں نظمسنانے کے لیے مدعو کیا جائے گا۔ اس امید کے تحت انھوں نے ایک پر جوش مسدسبعنوان اسلام کا سرنگوں علم لکھا تھا۔ لیکن محسن الملک نے کانفرنس میں نظمیںسنانے پر پابندی لگا رکھی تھی اس لیے بیان کو دعوت نامہ تک نہیں دیا گیا۔بیان کی خود دار طبیعت نے بغیر دعوت نامے کے کانفرنس میں شرکتکرنا گوارا نہیں کیا اس لیے انھوں نے کانفرنس کے اختتام کے بعد سر سید سےملاقات کی اور  ان سے اور  ان کی تحریک سے اپنی دلی محبت کا ثبوت دیا۔ اسسلسلے میں وہ لسان الملک (جنوری ۱۸۹۷ء) میں کانفرنس کا خاتمہ کے عنوان سےص:۸ پر انتہائی پُر درد انداز میں لکھتے ہیں:

’’نواب محسن الملک کا وعید نامہسنا کہ نظم نہ پڑھی جائے گی۔ ہم نے اپنا ارادہ تہہ کر رکھا۔ ۲۶ دسمبر (۱۸۹۶ء) کو مطلع صاف تھا مگر ہمارا ناظم مکدر۔ ۲۷ کو بارش ہوئی۔ مصمم قصد پر اوسپڑ گئی۔ پھر سنا گیا نظمیں دھڑا دھڑ سنائی جا رہی ہیں۔ سمندِ طبع گرمایا لیکنوقت ہم سے آگے چل دیا۔ دوسرے دن کی ٹھہری۔ پھر سیلِ بارش دوڑی آئی۔ارادہسیل ہو گیا۔ بعد ۱۲ بجے کے ابر نے راستہ چھوڑ دیا۔ خیال ہوا۔ گیا ہاتھی نکلاور  رہ گئی دم۔ خیر جو کچھ روا روی میں ہاتھ آئے غنیمت ہے۔ ناچار چلئے۔ بیمارخانہ یعنی پالکی میں بیٹھ کر، یہ جا وہ جا۔ دیکھا کہ خس بالکل کم ہے۔ فقطعطرِ خس باقی ہے۔ سید  محمد میر صاحب نے کمالِ اخلاص سے توجہ خاص میں پیشقدمی فرمائی۔ اتر کر سر سید  سے ملاقات کی۔ حضرت کرسی پر کوہ شکوہ نظر آتےتھے۔ لالہ خونیں جگر کی طرح ہم بھی دامنِ عزت میں جا جمے۔

او نقد صد تحسیں بکف من جنس دیواں در بغل‘‘

اسسچائی کی تصدیق سر عبدالقادر (ایڈیٹر مخزن،لاہور) کے مضمون یادِ رفتگاں(مطبوعہ: ادبی دنیا، لاہور، نو روز نمبر ۱۹۲۲ء اور  بیداری علی  گڑھ،سر سید  نمبر مورخہ ۲۴ مارچ ۱۹۴۲ء) سے بھی ہوتی ہے۔ سر عبدالقادر نے اس واقعے پرتفصیل سے روشنی ڈالی ہے۔ان کے بیان کے مطابق سر سید  احمد خان مرحوم کیعمر کا آخری دور تھا، جب ان کی قائم کی ہوئی تعلیمی کانفرنس ۱۸۹۶ء کے آخر میںمیرٹھ میں منعقد ہوئی۔ اس میں زمانے کی کئی معتبر ہستیاں شریک تھیں۔ اسزمانے میں کانفرنس میں نظموں کے پڑھنے کا رواج تھا۔لیکن اس کانفرنس میںمحسن الملک نے اسے تضیعِ اوقات سمجھا اور  نظمیں پڑھنے پر پابندیلگا دی۔بیان نے یہ سوچ کر کہ کانفرنس ان کے شہر میں منعقد ہو رہی ہے، ان سےضرور نظم کی فرمائش ہو گی ایک مسدس: اسلام کا سرنگوں علم کہہ لیا۔ لیکن کسیکو بیان جیسے با کمال کا خیال نہ رہا۔لہٰذا انھیں مدعو نہیں کیا گیا۔ بیان نےبھی بغیر بلائے شریکِ جلسہ ہونا خود داری کے خلاف سمجھا، لیکن اسے بھیاخلاق و مروت کے خلاف سمجھا کہ سر سید  اور  سید محمود جیسی عظیم شخصیتیں ان کےشہر میں آئیں اور  وہ ان کی خدمت میں حاضر نہ ہوں۔اس لئے بعد اختتام جلسہ ایکپالکی میں بیٹھ کر خیمہ گاہوں تک آئے۔ اتفاقاً انھوں نے (سر عبد القادر نے) دیکھلیا اور  خود انھیں لے کر سر سید  کے خیمے تک گئے۔اس کے بعد کے واقعاتسر عبد القادر کے الفاظ میں ملاحظہ کیجئے:

’’میں نے بیان یزدانی صاحبکو سہارا دے کر پالکی سے نکالا۔ سر سید  نے اٹھ کر ان سے معانقہ کیا۔ وہ ان کےقریب کرسی پر متمکن ہوئے۔ کہنے لگے حضرت میں آپ سے تو ملنے نہ آتا کیونکہ آپنے اپنی کانفرنس کے جلسے میں مجھے میرے شہر میں آ کر بھی یاد نہ فرمایا۔مگر میں تو آپ کے فرزند سید  محمود سے ملنے آیا ہوں۔ آپ کی ملاقات کو بھی جیچاہتا تھا مگر محمود سے ملنے کا زیادہ اشتیاق تھا۔ سید  صاحب نے بہت شکریہادا کیا اور   اپنے ملازم سے کہا۔ جاؤ سید محمود صاحب کو سلام دو اور  نواب محسنالملک بہادر کو بھی۔ وہ آدمی پاس کے خیمے کی طرف جانے لگا تو یزدانی صاحب نےایک چھوٹا سا پرزہ کاغذ کا اپنی جیب سے نکال کر اسے دیا اور  کہا ’’لو بھئیمیرا وزینٹنگ کارڈ سید صاحب کودے دینا۔‘‘ وہ کارڈ لے گیا۔تھوڑی دیر میںسید محمود دوڑتے ہوئے آئے اور  بڑے تپاک سے یزدانی صاحب سے ملے اور  سید صاحبسے کہا ’’آپ نے دیکھا میر صاحب نے کارڈ پر کیا لکھا ہے؟‘‘ اور  میر صاحب سےکہا’’ آپ خود ہی پڑھ کر سنائیے۔‘‘ میر صاحب نے یہ شعر گرج کر پڑھا:

فارغ زاند وہ وپل و اندیشۂ زود آمدم

فردوسیِ دہرستم و دربزمِ محمود آمدم

سبحاضرین نے کہا کہ تقریبِ ملاقات کا کیسا اچھا راستہ نکالا ہے۔ اتنے میں نوابمحسن الملک بھی آ گئے اور  وہ بھی حضرت یزدانی سے مل کر بہت خوش ہوئے۔ سید  صاحب نے نواب صاحب سے کہا۔ آپ کی مجوزہ اصلاح تو خوب تھی کہ نظموں کو دور سےہی سلام ہے مگر مجھے بے حد افسوس ہے کہ آپ بھی اور  میں بھی اپنے کاموں میں یہبھول گئے کہ میر یزدانی بیان جواس زمانہ کے مغتنم لوگوں میں ہیں میرٹھمیں رہتے ہیں اور  انہیں دعوت دینی لازم ہے۔ میں تو خود ان کے پاس جاتا اور انکو ساتھ لاتا۔ انھوں نے ہم پر بڑا احسان کیا ہے کہ وہ ہمارے چلنے سے پہلے ہمسے ملنے آ گئے ہیں۔ اس پر میر صاحب نے سید صاحب سے کہا کہ مجھے یہ خیال لےآیا کہ ایسا موقعہ مجھے پھر کب ہاتھ آئے گا کہ آپ سے ملوں۔ میں آپ کے غائبانہمداحوں میں ہوں۔ اس لئے چند اشعار آپ کی شان میں موزوں ہو گئے تھے وہسناتا ہوں۔ یہ کہہ کر انھوں نے فارسی کے کچھ اشعار پڑھے۔ جن میں سے دو اشعارمجھے یاد رہ گئے ہیں:

درنگر باچشم دل کایں قوم چوں پیکر بود

سید  احمد خاں بہادر پیکرش را سر بود

اختلافِ قوم پیکر را جدا دارد ز سر

پیکرے کو سر ندارد در جہاں ابتر بود

اسکے بعد انھوں نے کہا کہ اب اگر آپ چاہیں تومیں وہ اردو نظم آپ کو سناؤں جھومیںنے کانفرنس کے لیے لکھی تھی اور اگر آپ مجھے بلاتے تو وہاں پڑھی جاتی۔سب نےسننے کی خواہش کی تو انھوں نے اسلام کا سرنگوں علم کے عنوان سے جو نظم لکھیتھی پڑھ کر سنائی۔ مجھے اس کے اشعار یاد نہیں ہے۔ مگر یہ یاد ہے کہ وہ بہتپسند کی گئی۔نواب محسن الملک سب سے زیادہ داد دیتے تھے۔ اور  بار بار افسوسکرتے تھے کہ یہ جلسہ میں کیوں نہ پڑھی گئی۔‘‘

جب ۲۷ مارچ ۱۸۹۸ءکو سر سید احمد خان نے اس دنیا سے انتقال کیا تو ان کے دوسرے رفقا کی طرح بیانبھی اس عظیم حادثے سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے۔ انھوں نے سر سید  احمد خان کاجو مرثیہ کہا ہے وہ ان کے رنج و غم کی صحیح ترجمانی کرتا ہے۔اس مرثیے کےعلاوہ بیان نے آٹھ اشعار پر مشتمل فارسی زبان میں ایک تاریخی قطعہ بھی کہا ہے۔اس میں تاریخ کاشعر ہے:(۳۴)

چوں دوئی رفت از میاں، شد سال او

’’سید  احمد خاں فنا فی القوم کشت‘‘

۱۸۹۸ء

ابمرثیے کے چند اشعار دیکھئے۔ لسان الملک سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ بیاناپنے حجرے سے نکل کر سر سید  کے تعزیتی جلسے میں شریک ہوئے تھے اور  اس میںیہ مرثیہ پر جوش انداز میں سنایا تھا۔ (۳۵)

قہر ہے سر سید  احمد خاں بہادر کی وفات

وہ زمیں کا فخر جورِ آسماں سے اٹھ گیا

ہے اندھیرا چار سو یا رب یہ کیا اندھیر ہے

آج نجم الہند کیا ہندوستاں سے اٹھ گیا

راج تیرا لٹ گیا اے قوم اے حرماں نصیب

تیرے سر کا تاج تختِ عز و شاں سے اٹھ گیا

بیکسی چھائی ہوئی ہے کیا در و دیوار پر

میرِ سامانِ علوم آج اس مکاں سے اٹھ گیا

پھر چراغِ قوم کے انوار دھندلانے لگے

ماہتابِ علم آفاقِ زماں سے اٹھ گیا

کون سمجھائے گا سلطاں کو رعیت کی زباں

ترجمانِ قوم تختِ حکمراں سے اٹھ گیا

وہ عماد المملکت تھا، وہ ستون سلطنت

ہائے قیصر، قیصرِ ہندوستاں سے اٹھ گیا

دن ہمارا کر دیا اے صبحِ پیری تو نے شام

مہرِ انور، منزلِ کون و مکاں سے اٹھ گیا

بنتے بنتے علم کا پتلا ادھورا رہ گیا

چاند بڑھتا تھا کہ وہ سورج یہاں سے اٹھ گیا

ہائے جس نے ڈال دی تھی قوم کے مردہ میں جان

وہ مسیحا دستِ مرگِ ناگہاں سے اٹھ گیا

اے علیگڑھ تیرے ویرانوں کو اب دیکھے گا کون

خانہ آرائے ترقی خان ماں سے اٹھ گیا

کیوں نہ کالج میں اڑائے خاک کالج کی بہار

باغبانِ علم، صحنِ بوستاں سے اٹھ گیا

جب دیا کاندھا جنازے کو ہوئی بیتاب قوم

دھڑ تڑپتا رہ گیا اور  سر جہاں سے اٹھ گیا

شعر کیسے، نظم کس کے، نالہ کیا، فریاد کون

شعلۂ آتش دلِ گرمِ بیاں سے اٹھ گیا

 

               وفات

 

بیانکو ۱۸۹۹ء کے موسم سرما میں بخار آنے لگا۔ پھر کھانسی کا سلسلہ شروع ہوا۔ بخار نےآگے چل کر شدت اختیار کی، جس کے باعث قویٰ اور مضمحل ہو گئے۔ ہمیشہ چار پائیپرہی بیٹھے بیٹھے ورزش کرنے کے عادی تھے۔ اس عالم میں بھی ان کا یہی معمولرہا۔ اتفاقاً ایک دن ہاتھ چھوٹ گیا اور  وہ نیچے آ رہے۔ شدید چوٹ آئی جس سےجانبر نہ ہو سکے۔ یہ حادثہ ۱۳ مارچ ۱۹۰۰ء کا ہے۔ دلی دروازہ (میرٹھ) کے باہراحمد حسن فرقانی کے قبرستان میں محو خواب ابدی ہیں۔ قبر پر کوئی کتبہ یا نشاننہیں ہے۔ بیان کی وفات کے دوسرے دن اخبار انیس ہند میرٹھ (۱۴ مارچ ۱۹۰۰ء) کےایڈیٹر نے انھیں اس طرح خراجِ عقیدت پیش کیا تھا:

’’حضرت بیان نہ صرفشاعرانہ فضل و کمال کے اعتبار سے اپنے معاصرین میں ممتاز خیال کیے جاتے تھےبلکہ کئی ایک مجموعی باتوں کے لحاظ سے وہ بلا مبالغہ ہندوستان کے نامیشعرا کی فہرست میں اول نمبر پر جگہ پانے کے مستحق تھے۔ سب سے بڑا کمال انمیں یہ تھا کہ عرصے سے وہ اعصابی مرض میں مبتلا ہونے اور بلا کہیں آنے جانےحتیٰ کہ نشست و برخاست تک سے معذور ہونے کے باوجود زمانے کی ضروریات اور  شاعری کے لوازمات سے کما حقہٗ آگاہ تھے۔ ان کو مدت العمر گھر کی محدودچہار دیواری میں مراقبہ گزیں رہنے پربھی وہ لاثانی کمال حاصل ہوا کہ دوسروںکو زمانے بھرکی خاک چھان کر بھی میسر ہونا محال ہے۔ یوں تو الشعراءتلامیذ الرحمن مشہور بات ہے مگر واقعی امر یہ ہے کہ یہ بات میر صاحب مرحوم ہیمیں تھی کہ وہ بلا کسی کے سامنے عرصے تک زانوئے ادب تہہ کرنے کے تمام اصنافِسخن پر قادر تھے۔ اگر وہ ریختہ کے رنگ میں اپنے زمانے کے میر و مرزا تھےتو فارسی میں اپنے عصر کے نظیری و ظہوری کہلاتے تھے اور قصائد میں تو یہ حالتھا کہ رشکِ انوری و خاقانی عام طور سے آپ کا لقب مشہور ہو گیا تھا۔ آپ کونیچرل شاعری کے اندر بھی دستگاہ تھی، چنانچہ آپ کی اکثر تصانیف اس اندازمیں موجود ہیں۔۔۔   زورِ طبیعت اور آمدِ سخن کا یہ حال تھا کہ جس وقت چاہتےتھے اپنے دماغ سے کام لے سکتے تھے۔ وہ خود لکھنے سے معذور تھے، مگر جہاںکوئی لکھنے والا ان کے پاس پہنچا اور  انھوں نے بے تکان لکھانا شروع کر دیا۔ وہجامع الصفات شخص اور ہمہ داں شاعر تھے۔‘‘

بیان کے انتقال پر متعدد شعرا نے مرثیے اور  تاریخی قطعات کہے۔ امیر مینائی نے مصرعۂ ذیل سے تاریخِ وفات نکالی:

’’یزداں بخشد جناب یزدانی را‘‘

۱۳۱۷

محمد علی رعب انصاری نے تین تاریخیں کہی ہیں۔ ان میں سے دو یہ ہیں:(۳۶)

ہاں بگو رعب! مصرعِ تاریخ

’’حشر زا دست و مردہ یزدانی‘‘

۱۳۱۷

تاریخ یہ رعب! لکھ مسیحی

’’میرٹھ کا بجھا چراغ اب آہ‘‘

۱۳۱۷

انیسہند، میرٹھ کے مختلف شماروں میں بیان کے انتقال پر بے شمار تاریخی قطعاتاور  مرثیے شائع ہوئے ہیں۔ برکت شیر خاں ادیب میرٹھی، منشی پربھو دیال عاشقلکھنوی، منشی متصدی لال طرب، جگدمبا پرشاد ہنر جہاں آبادی، منشی مکھن لالشوق، بابو منگل سین بے دل جھنجھانوی، رائے میکو لال عشرت، رئیس لکھنو کےتاریخی مادے دیکھئے:(۳۷)

حق مغفرت کرے مرے استاد کی ادیب

اس مبتلائے غم کی یہ دل سے دعا ہے آج

تاریخ کے لیے دلِ ہمدرد نے کہا

کہہ دو کہ بادشاہِ سخن مرگیا ہے آج

(ہمدرد۔  ۴)

(۱۳۱۳/۱۳۱۷)

یوں دل شکستہ ہو کے دلِ زار نے کہا

(زار۔الف۱)

اس ’’دہرِ بے ثبات سے ہے ہے بیاں گیا‘‘

(۱۳۱۸/۱۳۱۷ھ)

ہے طرب کے لب سے یہ مصرع بلند

(طرب۔ط۹)

’’اب گئی میرٹھ سے بس شانِ سخن‘‘

(۱۸۰۰ء)

ادب آموزِ زماں تھے وہ ہنر

لکھ دے تاریخ ’’غمِ مرگِ ادیب‘‘

۱۳۱۷

شوق لکھ تاریخ از روئے الم

(الم۔الف۱)

’’بے صدا ہے بلبلِ باغِ سخن‘‘

۱۹۰۰

بیدل از روئے حسرتِ دل گفت

(حسرت۔ح۸)

’’سمت ایزد گرفتہ یزدانی

۱۳۱۷

بگو عشرت مسیحی سالِ فوتش

’’بلیغ الملک رفت اے ہائے ہائے‘‘

۱۹۰۰

مراثی میں منشی رگھبیر سہائے بریاں جہاں آبادی اور منشی محمد افضل خان افضل کے مرثیے بہت پُر درد ہیں۔ افضل کا مرثیہ دیکھئے:(۳۸)

موت اے بد نہاد و بد کردار

نا سزا، نابکار، نا ہنجار

بے وفا، حیلہ ساز، دل آزار

تیرے ہاتھوں سے ہیں سبھی ناچار

تو نے چن چن کے دیکھ او سفاک

اچھے اچھوں کو کر دیا تہِ خاک

میں بھی مدت سے تیرا مہماں ہوں

گو سکوں ہے مگر پریشاں ہوں

ہر گھڑی فرطِ غم سے نالاں ہوں

لوگ ہنستے ہیں اور  میں گریاں ہوں

دلِ محزوں تھا پہلے ہی ناشاد

تو نے اور  اس پہ او ستم ایجاد

تازہ اک اور  داغ دکھلایا

حرکتوں سے نہ اپنی باز آیا

بے حیا کچھ نہ دل میں شرمایا

ہاں مجھے کھو کے تو نے کیا پایا

تیرے عیش و طرب کو آگ لگے

تیرے قہر و غضب کو آگ لگے

یعنی وہ میرے مہرباں استاد

مہرباں اور  قدر داں استاد

اہلِ میرٹھ کی عزّ و شاں استاد

کہتے تھے سب جنہیں بیاں استاد

مارچ تیرہ کو وہ جواں اقبال

پنجۂ مرگ سے ہوا پامال

ہائے وہ بزمِ اہلِ فن کی بہار

ہائے وہ گلشنِ سخن کی بہار

ہائے وہ شاہدِ چمن کی بہار

ہائے وہ باغِ پنجتن کی بہار

صرفِ نذرِ بلائے جاں ہو جائے

چار ہی روز میں خزاں ہو جائے

وہ سپہرِ سخنوری ہیہات

بحرِ ذخّارِ شاعری ہیہات

فخرَ جامی و انوری ہیہات

رشکِ عرفی و عنصری ہیہات

نیر عزّ و اعتلا افسوس

برجِ خاکی میں چھپ گیا افسوس

طوطیِ گلشنِ سخن دانی

بلبلِ گلشنِ گُل افشانی

خسروِ کشورِ غزل خوانی

گوہرِ افسرِ ہمہ دانی

غیرتِ انوری و خاقانی

رشکِ غالب، بیان و یزدانی

آفتابِ سپہرِ جاہ و جلال

بادشاہِ دیارِ فضل و کمال

ناثر و ناظم و بلند خیال

شاعرِ بے عدیل، بے تمثال

چشمۂ فیض، شہرۂ آفاق

معدنِ حلم و مخزنِ اخلاق

اخترِ  سعدِ آسمانِ علوم

گوہرِ آبدارِ کانِ علوم

گلِ خوش رنگ، گلستانِ علوم

روشنی بخش خانمانِ علوم

منشیِ بے نظیر و لاثانی

عزت افزاے نامِ فرقانی

کارزارِ سخن کا تھا وہ مرد

فرد میں لائقوں کے تھا بس فرد

گرم مضمون وہ کہ دل ہو سرد

سن کے حاسد کا رنگِ رخ ہو زرد

حسنِ بندش جو دیکھ پائے وہ

ساری ترکیب بھول جائے وہ

ہو رقم غم کی داستاں کیونکر

شق ہوا جاتا ہے قلم کا جگر

کانپتا انگلیوں میں ہے تھر تھر

ہاں اسی پر اب اکتفا ہے مگر

کر دعا ہاتھ اٹھا کے اے افضل

بخش دے ان کو ربِ عز و جل

 

               شخصیت

 

بیانشکل و صورت کے اعتبار سے بہتحسین و جمیل تھے۔ اسی لیے لوگ ان کے بچپنمیں انھیں ’’لالہ‘‘ کہہ کر پکارتے تھے۔ انھیں دنیا داری کی مطلق پرواہ نہتھی، چنانچہ عمر بھر شادی نہ کی۔طبعاً آزادی پسند تھے۔ لباس اور خورد و نوش میںتصنع، آرائش یا تکلف کے پابند نہیں تھے۔ بے فکری سے زندگی بسر اور علم و ادب کیخدمت کرنا ان کا نصب العین تھا۔ ان کے مزاج میں استقلال بدرجہ اتمموجود تھا۔ وہ بڑے صلح کل، پاک باطن اور ظریف الطبع تھے۔ جناب امداد صابری نےاپنی تصنیف دہلی کی یادگار ہستیاں:۸۲، میں بیان کا ایک لطیفہ نقل کیا ہے۔ وہلکھتے ہیں کہ ایک مرتبہ سید آفتابحسین ساکن پتن کھیڑا (بجنور) ان سے ملنےگیے۔جب مکان پر پہنچے تو آواز دی۔ بیان نے پوچھا کون ہے؟ جواب میں مولویصاحب نے کہا’’ آفتاب‘‘۔ بیان نے کہا مغرب کے بعد آفتاب کیسا؟ مولوی صاحب نےفرمایا:’’مرتضیٰ کے واسطے مراجعت کر رہا ہوں۔‘‘

خلوص، تواضع، ہمدردیاور بے تعصبی ان کے فطرت کا خاصہ تھی جس کا ثبوت ان کے غیر مسلم احباب وتلامذہ کی کثیر تعداد سے فراہم ہوتا ہے۔ سنجیدہ مسائل پر غور و فکر کے بعد لکھنےکے عادی تھے لیکن اگر کوئی انھیں چھیڑتا تو وہ پھر کسی کے دوست نہیں تھے، وہوہ گل افشانیاں کرتے کہ حریف بوکھلا جاتا۔ ایڈیٹر اور صحافی کی حیثیت سےسیاسی اور ملکی معاملات سے بھی باخبر رہتے۔ لیکن واقعہ یہ ہے کہ بنیادیطور پر وہ ادیب اور شاعر تھے اور  انھیں شعر گوئی اور نثرنگاری کے علاوہ اور کسیچیز سے ذہنی لگاؤ نہیں تھا۔ ان کی اندھیری کوٹھری ہی ان کی کائنات تھی۔ اسیلیے بعض احباب انھیں ’’گودڑ کا لعل‘‘ کہا کرتے تھے۔ ان کی ادبی تخلیقات وقعتو عزت کی نگاہ سے دیکھی جاتیں اور  اس وقت کے موقر جرائد ورسائل کےمدیر صاحبان ان کی تحریروں کے ساتھ، ان کے نام سے پہلے صباح الملکہمدانی،سید  الشعرا، طوطی ہند، بلیغ الملک، رشکِ انوری و خاقانی، حسانالہند، سحبان العجم جیسے گرانقدر القاب کا اضافہ کرتے تھے۔ بیان جتنااچھا کہتے تھے اتناہی اچھا پڑھتے بھی تھے۔ ان کے پڑھنے کا انداز پر جوش، موثراور  پر کیف تھا۔ آغا اشہر لکھنوی اپنے ایک مضمون:’’جذباتِ شعر کا اظہار‘‘ میںلکھتے ہیں:(۳۹)

’’ایک مرتبہ مرحوم (بیان) کے نامی شاگرد صمیم بلند شہری سےمیں نے ان کی طرز شعر خوانی کے متعلق پوچھا، تو انھوں نے کہا کہ استاد مرحومالفاظ پر زور دے کر پڑھتے تھے اور آواز میں بھی ایک خاص جذب کی کیفیت پیداہوتی تھی۔ اس کے بعد صمیم مرحوم نے اس رنگ میں ایک شعر پڑھ کر سنایا،واقعی جوشیلی طرزِ ادا تھی۔

‘‘

               تصانیف

 

بیان اردو اور فارسی دونوںزبانوں میں شعر کہتے تھے۔ ان کا خاصا کلام طوطی ہند، لسان الملک، طوفاناور جلوۂ یار میں شائع ہو چکا ہے۔ لیکن اس سے کہیں زیادہ غیر مطبوعہ رہ گیا۔انھوں نے اپنی زندگی ہی میں کئی مختصر کتابچے طبع کروائے تھے، جن میں سے ساتکتابچوں کے نام مختلف ذرائع سے معلوم ہوئے ہیں:۱۔پاسخِ ہند (بجواب شکوۂہند حالی) ،۲۔جرمانۂ آفتاب (مثنوی)، ۳۔ مجموعہ عطر نعت (نعتیہ کلام)،۴۔رخصتِعروس (ایشیائی شاعری کی الوداع)۔ ۵۔پنجۂ فولاد، ۶۔حواسِ خمسہ،۷۔یادگاریزدانی (فارسی کلام)۔ نثر میں بیان کی چار تصانیف کا پتا چلتا ہے۔ حل المطالب (شرح دیوان غالب) اور گل عباس (خداپرست کا ناول)۔ یہ دونوں کتابیں لسان الملکمیں قسط وار شائع ہو رہی تھیں لیکن بیان کا انتقال ہو جانے کے باعث نامکملرہیں۔ غیر مطبوعہ تصانیف میں غیر مطبوعہ کلام کے علاوہ شرح قانون بو علیسینا اور  تیغ ہندی (خطوط کا مجموعہ) ہے۔ اول الذکر کا نسخہ نذرِ دیمکہو چکا ہے۔ ثانی الذکر کا قلمی نسخہ اچھی حالت میں ہے اور فل ا سکیپ سائز کے۱۱۸ صفحات پر مشتمل ہے۔ اس میں سید مہدی علی، مولویحسین احمد، سید  یعسوبالدین، سید سلطان الحق،ولایت علی جادو، بشیر الدین عاقل، منشی عبد الحامد،مرزا عنایت علی اثر، سجادحسین ریحانی اور  دیگر تلامذہ، احباب اور رشتےداروں کے نام بیان کے خطوط ہیں۔

بیان نے محمد حامدحسین کے نام جو خطلکھا ہے، اس کی روشنی میں یہ معلوم ہوتا ہے کہ انھوں نے جرعۂ جام کے نام سےایک منظوم رسالہ بھی شائع کروایا تھا۔ اس خط سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ وہاپنے کلام کی اشاعت کے لیے بہت فکر مند تھے۔ لکھتے ہیں:(۴۰)

’’حواس خمسہاور جرعۂ جام، یہ دونوں رسالے میرے دورِ اول کے کارنامے تھے۔ بلکہ مرضِ محبتکا ہذیان تھا۔ جرعہ یار لوگ اُڑا گیے، حواسِ خمسہ دوستوں اور خریداروں کےہاتھوں پریشان ہو گئے۔ خاص میرے پاس بھی نہیں ہے اور بعد تلاش معلوم ہوا کہبازار اب اس یوسفِ ثانی سے خالی ہے۔ لیکن اگر مل گیا تو فوراً بھیج دوں گا۔والد آپ کے کس طرح ہیں۔ افسوس ہے کہ ہنر بے دولت ترقی نہیں کرتا۔ اہلِ ہنربے دولت ہیں اور اہلِ دولت بے ہنر۔ فی الحال ایک مثنوی جرمانۂ آفتاب توحیدکے بارے میں لکھی ہے۔ مگر اخراجاتِ ضروری سے نہ چھپنا محال ہے۔ روپیہ کہاںسے آئے۔‘‘

بیان اپنے کلام کے اشاعت کے سلسلے میں کس قدر فکر مند تھے اسکا اندازہ تیغ ہندی کے اس آخری خط سے بھی ہوتا ہے جو صرف القاب و آداب سےشروع ہوتا ہے۔  دیکھئے:(۴۱)

’’پشت و پناہ اسلام واسلامیاں دامت برکاتہم

افسوسخونِ جگر، غمِ بے اختیاری سے خشک ہو گیا ور نہ یہ عریضہ میں اپنے خون جگر سےہی لکھتا۔ آپ کا عروجِ ہمت اور اس کا آوازۂ بلند میں سن چکا ہوں۔ آپ کے دلمیں ہمدردی ہے۔ آپ کی آنکھوں میں مروت گوشہ گیر ہے۔ فیاضی آپ کے دست بوسیکو اپنا شرف سمجھے ہوئے ہے۔۔۔

کیا عجب ہے کہ آپ مجھے کسی نہ کسی تقریبسے جانتے ہوں گے۔ میں ایک سوگ نشیں ہوں کہ اپنے معنوی بیٹوں کے ماتم میںخاک اڑاتا ہوں اور  نگاہ مایوس سے چار طرف دیکھتا ہوں کہ کوئی علوئے ہمت، جواںمرد، جس کے دل میں روح القدس نے دم پھونکا ہو آئے اور میری گود میں جو میرےبچوں کی لاشیں دھری ہیں ، ان میں ایک جنبش لب سے جان ڈال دے۔ میں جانتا ہوںکہ یہ متین زندہ ہو کر اپنے جِلانے والے کا قیامت تک دم بھرتے رہیں گے۔ آپکا نادیدہ، خاک راہ: سید  محمد مرتضیٰ بیان و یزدانی ، مالک مطبع حدیقۃ العلوممیرٹھ۔‘‘

بیان کے انتقال کے وقت ان کے مطبوعہ اور غیر مطبوعہ کلامکا مسودہ ان کے شاگرد پروفیسر سید محمود علی گرامی کے قبضے میں تھا۔ وہ عرصے تکاس کی تدوین میں مصروف رہے لیکن کامیاب نہ ہو سکے۔ البتہ اصناف سخن کے لحاظسے انھوں نے تین کتابیں، عطر مجموعہ نعت(نعتیہ کلام کا مجموعہ)، رنگ شہادت (مراثی اور  سلام کا مجموعہ) اور جواہر لاثانی (نیچرل نظموں کا مجموعہ) شائعکروائی تھیں۔اسی طرح ڈاکٹر سید صفدرحسین نے بھی پاکستان سے بیان کے تینمجموعہ کلام: قندیل حرم (نعتیہ کلام کا مجموعہ)، رنگ شہادت (مراثی اور سلامکا مجموعہ) اور نقش بیان (غزلوں کا مجموعہ مع حواس خمسہ) شائع کروائے ہیں۔میںنے جب بیان کے متعلق تلاش و تحقیق شروع کی تو چھ کتابیں: یادگار یزدانی،جرعۂ جام، پنجۂ فولاد، حواس خمسہ، جواہر لاثانی اور نقش بیان کے علاوہ مجھےبیان کا مطبوعہ اور  غیر مطبوعہ کلام مختلف ذرائع سے مل گیا ہے۔ انہی کی مددسے میں بیان میرٹھی حیات و شاعری، بیان، غالب اور بیان کیجدید نظمیں اور دیوانِ بیان میرٹھی شائع کروا کے منظر عام پرلا سکا یوں۔

 

               تلامذہ

 

بیانکے تلامذہ کی صحیح تعداد کا اندازہ لگانا مشکل ہے۔ لیکن اس میں شک نہیں کہان کا حلقۂ تلامذہ بہت وسیع تھا۔ بیان مسلم الثبوت استاد، پختہ مشق اور  فطری شاعر تھے۔ لہٰذا نو مشق شعرا زیادہ تر انھیں کے پاس اپنا کلام اصلاح کےلیے بھیجتے تھے۔ ان کے اکثر شاگرد خوش گو، خوش فہم ہوئے ہیں۔ لسان الملکاور مختلف ذرائع سے ان کے مندرجہ شاگردوں کا پتا چلتا ہے:

مولانا اکبر وارثیمیرٹھی، مولانا سید ابو الحسن ناطق گلاؤٹھوی، منشی درگا سہائے سرور جہاں آبادی،منشی رگھبیرسہائے بریاں جہاں آبادی، حافظ کریم بخش آزاد میرٹھی، منشی شیخعلی حسن صمیم بلند شہری، مولوی سید محمود علی گرامی، منشی بال سروپ شکن، خانبہادر بشیرالدین تسخیر میرٹھی، احمد جان تبسم، نور الحسن یاس، اختر خیرنگری،مولانا سید سراج احمد سراج الدین،منشی بہادر خان ناچیز، منشی مومن لال خمار،منشی برکت شیر خاں ادیب، منشی اصغرحسین قمر، سید زوارحسین شرر، منشی بدیعالدین جوہر، منشی حیدرحسین خفی امروہی، منشی عبد الحکیم محشر، افضل خانافضل، منشی محمد ولایت علی جادو، منشی رام پرشاد شاد سہارنپوری، انور میرٹھی،زار میرٹھی، منشی طفیلحسین تعلی، نور میرٹھی، شمس الدین شمس میرٹھی، سلامتاللہ خاں سالم، جگدمبا پرشاد ہنر جہاں آبادی، منشی پربھو دیال عاشق لکھنوی،حافظ الہٰ بخش قابل، منشی ریاض الحس طلعت، محمد علاء الدین جلالی، علی احسنخان بسمل، مشیت خاں مشیت، میر سید  علی شیدا، شیخ نجات علی تاثیر،شیخ علیحسن قلاش و مفلس،سلامت اللہ خان سالم،عبد الحق قمر۔

 

               شاعری

 

بیاناردو شاعری کے اس دور سے تعلق رکھتے ہیں، جس میں قدیم و جدید کی آمیزش تھی۔ایک طرف ناسخ کی شاعری کا رنگ عام ہو چکا تھا، انیس و دبیر اپنی شہرت کے دائمینقوش بنانے میں سرگرمِ عمل تھے، ذوق، غالب اور مومن کا آخری زمانہ تھااور داغ و امیر میدانِ شاعری میں اپنے اپنے کمالات کا ڈنکا بجا رہے تھے۔ دوسریطرف آزاد، حالی اور  اسمٰعیل میرٹھی جدید شاعری کی ترویج و اشاعت میں مصروفتھے۔ بیان کی تربیت اور تعلیم گو مشرقی تھی، مگر شعوری اور سماجی اعتبار سے وہزمانے کی بدلتی قدروں سے متاثر تھے۔ اسی لیے انھوں نے اپنی شاعری کی اساس،روایت و جدیدیت پر رکھی، جس سے ان کی شاعری قدیم و جدید خیالات کاحسین سنگم بنگئی۔

بیان نے روایت کا پورا پورا لحاظ رکھتے ہوئے غزلیں، نعت، مراثی،قصائد، سہرے، قطعات اور  رباعیات کہی ہیں اور شاعری کے بدلتے ہوئے رجحاناتکو اپنا کر جدید قسم کی نظمیں بھی لکھی ہیں۔ ان کی غزلوں میں ان کے معاصرینناسخ، آتش، غالب، مومن، امیر مینائی اور  داغ کا رنگ جھلکتا ہے۔ قصائد میںسودا کا تتبع کیا ہے اور سلام و مراثی میں انیس و دبیر کا۔ نیچرل شاعری میں وہآزاد، حالی اور  اسمٰعیل میرٹھی کے دوش بدوش نظر آتے ہیں۔ روزمرہ زندگیاور تہواروں سے متعلق نظمیں ان کے تجربات حیات اور  قوتِ مشاہدہ کی آئینہداردیں اور شاعرانہ مصوری کی نادر مثال۔ یہ نظمیں بے حد سادہ اور  سلیس زبانمیں ہیں۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ بیان کو شعر و شاعری سے فطری لگاؤ تھا۔ وہایک وہبی اور  وجدانی شاعر تھے اور انھیں زبان و بیان پر کامل عبور حاصل تھا۔یہی وجہ ہے کہ ان کے کلام میں صداقت، تاثر اور  جذبات کی گہرائی پائی جاتیہے۔ لالہ سری رام ان کی شاعری کے بارے میں لکھتے ہیں:(۴۲)

’’بیان میرٹھکے نامور اور  قابل شعر امیں تھے۔ استعدادِ علمی بہت معقول اور  فنِ سخن میںدستگاہ کامل حاصل تھی۔ مزاج بہت آزاد اور بے باکانہ پایا تھا۔ نظمو نثر پر قادر تھے۔ مبدأ فیاض سے شعر گوئی اور  سخن فہمی کا نہایت شستہ اور صحیحمذاق آپ کو ملا تھا۔فارسی کلام سے بہت ذوق تھا اور  اس سے نہایت قابلیت کےساتھ دادِ سخنوری دی ہے۔ جملہ اصناف پر قادر تھے۔ ایک عجیب کمال ان کی ہمہگیر طبیعت میں یہ تھا کہ جس رنگ میں چاہتے تھے، فکرِ سخن کرتے اور  پھر یہنہیں کہ قافیہ پیمائی ہو، بلکہ فی الحقیقت اس رنگ میں اپنے زورِ طبیعت سےوہ وہ اختراعیں کرتے کہ سننے والے حیران رہ جاتے۔ مثلاً ان کے بعض شعرمرزا غالب کے رنگ میں ایسے لا جواب ہوتے تھے کہ اجنبی کو مرزا غالب کے کلامکا دھوکا ہو جاتا تھا۔‘‘

پیارے لال شاکر میرٹھی یوں اظہارِ خیال کرتے ہیں:(۴۳)

’’حضرتبیان کی شاعری کا پایہ بہت ارفع و اعلیٰ ہے اور  وہ اپنے فضائل و محاسن کمالکے وسیلہ سے اس درجہ تک پہنچ گئے تھے جو معمولی شاعروں کے منتہاۓ نظر سےبھی ادھر ہے۔ علمیت، دماغی قابلیت، طبع کی جولانی، فکر کی بلندی، خیالات کینیرنگی، یہی باتیں ہوتی ہیں جو شاعر کے کلام کو مستند اور  قابل قدر بنا دیتیہیں اور انھیں اوصاف کی بدولت بیان نے بھی اپنی لا فانی عظمت کا سامان مہیاکر لیا ہے۔۔۔   بیان کے کلام پر غائر نظر ڈالنے سے اندازہ ہو سکتا ہے کہ وہ ہرمیدان کے مرد تھے۔ پر گوئی کے ساتھ مضامین آفرینی کا پہلو عموماً نظر اندازہو جاتا ہے لیکن بیان نے سب کچھ کہا ہے اور جو کچھ کہا ہے بہت زیادہ کہا ہے۔۔۔   بیان کے ایک پختہ کار سخن گو ہونے کی اس سے زیادہ قوی دلیل اور  کیا ہو سکتیہے کہ وہ جس رنگ میں چاہتے تھے بے تکلف کہتے تھے۔ زبان پر انھیں خاصہ قابوتھا۔ وزن دار اور موزوں الفاظ گویا ان کے سامنے ہر وقت ہاتھ باندھے کھڑے ہوتےتھے۔ خیالات کی گوناگوں کیفیات کبھی میر کے رنگ میں نظر آئیں گی کبھی غالب کے۔  کہیں ذوق کی شوخی بیاں کا لطف حاصل ہو گا۔‘‘

امروز کے مقالہ نگار خدا بندہ نے بیان کی شاعری پراس طرح تبصرہ کیا ہے:(۴۴)

’’بیانکسی کے شاگرد نہیں تھے، البتہ ان پر دلیّ اور  لکھنو دونوں کے اساتذۂ فن کااثر پڑا ہے۔ کہیں کہیں تو ان کی غزلوں سے ناسخ کا رنگ جھلکتاہے۔ یعنی اسی قسمکی موشگافیاں ہیں، وہی خارجیت۔ لیکن سارے کلام کایہ حال نہیں۔ اکثرمقاماتپرانھوں نے بڑے سیدھے سادے اور  صاف شعر بھی کہے ہیں، جن میں نہ الفاظآرائیاں ہیں اور  نہ کہیں لکھنوی تکلف اور  تصنع کاپتا چلتا ہے۔۔۔   بیاناگرچہ شاعری میں ناسخ اور وزیر وغیرہ سے بہت متاثر معلوم ہوتے ہیں اور  انھوں نے ان شعرا کے اشعار کی تضمین بھی کی ہے تاہم ان پر علی گڑھ کی علمیتحریک کابڑااثرپڑاتھا اور  وہ جدید شاعری سے بہت متاثر تھے۔ جس کے سب سے بڑےعلم بردارحالی اور  آزاد تھے۔ چنانچہ انھوں نے امید، سردی وغیرہ پربھینظمیں کہی ہیں۔ حالی کے تتبع میں قومی غزلیں بھی لکھی ہیں۔ ’’ایشیائیشاعری کی الوداع‘‘ کے عنوان سے ایک نظم بھی لکھی ہے۔‘‘

مدثرحسین ان کی شاعری پراس طرح روشنی ڈالتے ہیں:(۴۵)

’’بیانمیرٹھی تمام عمر شعر گوئی کرتے رہے لیکن آپ کا کلام نایاب ہے۔ چند غزلیں،جو دستیاب ہو سکی ہیں، ان سے بیان کی شاعرانہ عظمت کا اندازہ ہوتا ہے۔ بیانمیرٹھی نے حالی، آزاد اور  اسمٰعیل میرٹھی کی طرح غزل، نظم، مثنوی، مسدس،مرثیہ اور رباعی وغیرہ ہرصنفِ سخن میں طبع آزمائی کی۔ انھوں نے نہ صرف اردومیں بلکہ فارسی میں بھی اپنے رہوارِ قلم کی جولانیاں دکھائی ہیں۔ وہ فارسیمیں یزدانی تخلص کرتے تھے، چنانچہ بعض جگہ ان کا نام بیان یزدانی تحریر ہے۔

بیانیزدانی نے شعر و سخن کی بدلتی ہوئی ہواؤں کا ساتھ دیا۔ وہ اپنے عہد کے زبردستنبض شناس تھے۔ اپنے معاصرین میں وہ صفِ اول کے شعرا میں شمار کیے جاتےتھے۔ حالی سے معاصرانہ چشمک اور  اودھ پنچ سے جھڑیوں کی ہمت کسی ایسے ہیشخص میں ہو سکتی تھی، جو زبان و بیان پر قدرتِ کاملہ رکھتا ہو، اعلیٰ پائےکا شاعر ہو، زبردست ادیب ہو اور صحافی بھی۔ بیان یزدانی میں یہ تینوں صفاتمجتمع ہو گئی تھیں۔ شاعر کی حیثیت سے انھوں نے ہرصنفِ سخن میں طبع آزمائی کی۔  ان کا کلام اس وقت کے معیاری رسائل میں شائع ہوتا تھا۔‘‘

بیان کےکلام پر بالاستعیاب نظر ڈالنے سے یہ حقیقت واضح ہو جاتی ہے کہ اس میں وہ تمامخصوصیاتِ شاعری اور لوازماتِ فن موجود ہیں جو کسی بڑے اور کامیاب شاعر کی شہرتیا بقائے دوام کا باعث ہوتے ہیں۔ نازک خیالی، تناسب لفظی، معنی آفرینی،بداعتِ اسلوب، تخیلِ پرواز، ندرتِ خیال، جوشِ جذبات، شاعرانہ مصوریو محاکات، صنائع بدائع، غرض کیا ہے جو ان کے کلام میں موجود نہیں!ان کےہمعصروں میں بلاشبہ بڑے بڑے نام ہیں اور  تاریخ ادب میں وہ آفتاب و ماہتابکی طرح جگمگا رہے ہیں۔ لیکن یہ بھی ایک ناقابلِ فراموش حقیقت ہے کہ بیان کادرجہ بھی کسی سے کم نہ تھا۔ کیا خوب کا ہے سرور جہاں آبادی نے:

میر و مرزا سے زیادہ ترا رتبہ نہ سہی

ان سے کم تھا ترا پلّہ یہ کہیں ہم کیوں کر

چوم لیتی تھی فصاحت ترا منہ وقتِ کلام

اے بیاں ختم تھی، اعجازِ بیانی تجھ پر

٭٭٭

 

 

 

حواشی

 

۱۔ماہنامہ آج کل ( نئی دہلی)، اگست ۱۹۹۲ء، ص:۳۶ (بیان یزدانی از امان اللہ خان شیروانی)

۲۔روزنامہ امروز (کراچی)، ۴ ستمبر ۱۹۵۰ء، ص:۷ (بیان ویزدانی مرحوم ازخدابندہ)

۳۔قندیلِ حرم مرتبہ ڈاکٹر سید  صفدرحسین مطبوعہ سنگ میل پبلی کیشنز، لاہور  (۱۹۷۴ء)، ص:

۵ماہنامہ تحریک ( دہلی)، جولائی ۱۹۷۷ء، ص:۳۵ (بیان میرٹھی از محمد مشتاق شارق)مراۃ الشعرا (جلد دوم) کے مصنف محمدیحییٰ تنہا نے لکھا ہے کہ بیان کا مکان محلہ چار دروازہ  (میرٹھ) میں تھا۔

۴۔فکروریاض از علی جواد زیدی مطبوعہ مکتبہ جامعہ دہلی (۱۹۷۵ء) مضمون:غالب کا ایک ہم عصر (سید احمد حسن فرقانی و شاکی)، ص:از ۱۶۳  تا ۲۱۶

۵۔فکر و ریاض از علی جواد زیدی

۶۔فکر و ریاض از علی جواد زیدیماہنامہ نقوش، مکاتیب نمبر (۲)، ص: ۴۶۵ خم خانۂ جاوید (جلدسوم) از لالہ سری رام، ص: ۶۰۲ ماہنامہ آج کل (نئی دہلی)، فروری ۱۹۵۹ء  (کچھ غالب کے بارے میں از فرخ جلالی) ص: ۳۷

۷۔فکر  و  ریاض از علی جواد زیدی، ص: ۱۸۰

۸۔یہ شجرہ جناب امداد احمد خان زبیری  (مرحوم) سے فراہم ہوا تھا۔ اس میں نئی معلومات کی روشنی میں چند اضافے کئے گئے ہیں۔

۹۔ماہنامہ لسان الملک، میرٹھ، مارچ اپریل ۱۸۹۳ءبیان میرٹھی کی جدید نظمیں ، مرتبہ ڈاکٹر محمد شرف الدین ساحل، مطبوعہ علیم پرنٹرس ، مومن پورہ، ناگپور (۲۰۰۰ء) ص: ۱۹۲

۱۰۔ماہنامہ لسان الملک، میرٹھ، مئی ۱۸۹۳ء

۱۱۔تذکرۂ شاعرات از شفیق بریلوی، ص: ۲۳۷

۱۲۔ماہنامہ العصر (لکھنو)، اگست ستمبر ۱۹۱۳ء سید محمد مرتضیٰ بیان و یزدانی میرٹھی از پیارے لال شاکر میرٹھی)روزنامہ امروز (کراچی)، ۴ ستمبر ۱۹۵۰ء ، ص:۷ ماہنامہ آج کل (نئی دہلی) ستمبر ۱۹۷۰ء، ص:۲۳ (بیان میرٹھی از مدثرحسین)

۱۳۔ماہنامہ العصر (لکھنو) اگست ستمبر۱۹۱۳ ء، روزنامہ امروز (کراچی) ۴ ستمبر ۱۹۵۰ءماہنامہ آج کل (نئی دہلی) ستمبر ۱۹۷۰ء، ماہنامہ تحریک  (نئی دہلی) جولائی ۱۹۷۷ءقندیلِ حرم مرتبہ ڈاکٹر سید صفدرحسین، رنگِ شہادت مرتبہ ڈاکٹر سید  صفدرحسین

۱۴۔فکر و ریاض از علی جواد زیدی، ص:۱۶۵،۱۶۷

۱۵۔ماہنامہ العصر (لکھنو) اگست ستمبر ۱۹۱۳ء، قندیلِ حرم مرتبہ سید صفدرحسین، ص: ۵

۱۶۔ماہنامہ آج کل (نئی دہلی) اگست ۱۹۹۲ء، ص: ۳۷

۱۷۔فکر و ریاض از علی جواد زیدی، ص: ۱۹۷

۱۸۔ماہنامہ لسان الملک (میرٹھ)مارچ تا اگست ۱۸۹۸ءبیان میرٹھی کی جدید نظمیں مرتبہ ڈاکٹر محمد شرف  الدین ساحل، ص: ۱۸۰

۱۹۔ماہنامہ آج کل (نئی دہلی)،اگست ۱۹۹۲ء، ص: ۳۷

۲۰۔قندیلِ حرم مرتبہ ڈاکٹر سید صفدرحسین، ص: ۶

۲۱۔ماہنامہ العصر (لکھنو) اگست ستمبر ۱۹۱۳ء

۲۲۔بیان میرٹھی کی جدید نظمیں مرتبہ ڈاکٹر محمد شرف الدین ساحل، ص: ۱۷۴

۲۳۔تاریخِ صحافت اردو (جلد دوم) از امداد صابری، ص:۱۵۳ قندیلِ حرم مرتبہ ڈاکٹر سید صفدرحسین ماہنامہ تحریک (نئی دہلی) جون ۱۹۷۷ء

۲۴۔ماہنامہ العصر (لکھنو) اگست ستمبر ۱۹۱۳ء

۲۵۔روزنامہ امروز (کراچی) ۴ ستمبر ۱۹۵۰ءخم خانۂ جاوید (جلد اول)  از لالہ سری رام، ص:۶۲۴ ماہنامہ تحریک (نئی دہلی) جولائی ۱۹۷۷ء

۲۶۔ادبی دنیا، لاہور (نوروز نمبر) ۱۹۲۲ءبیداری، علی گڑھ (سر سید  نمبر) ۲۴ مارچ ۱۹۴۲ء، ص: ۱۹

۲۷۔ہندوستانی پریس از نادر علی خان،مطبوعہ اتر پردیش اردو اکادمی، لکھنو (۱۹۹۰ء) ص: ۳۷۶

۲۸۔انتخاب فتنہ مرتبہ نادم سیتاپوری، ص:۱۳، ۱۴

۲۹۔تاریخ صحافت اردو (جلد سوم) از امداد صابری، حیدر پرنٹنگ پریس، دہلی، ص: ۱۱۷

۳۰۔تاریخ صحافت اردو  (جلد سوم) از امداد صابری، ص: ۲۰۷

۳۱۔تاریخ صحافت اردو  (جلد سوم) از امداد صابری، ص: ۲۰۶

۳۲۔مراۃ الشعرا (جلد دوم) مولفہ محمد یحییٰ تنہا، ص:۱۴۲، ۱۴۳

۳۳۔ماہنامہ العصر (لکھنو) اگست ستمبر ۱۹۱۳ء

۳۴۔ہماری زبان (نئی دہلی) ۸ مارچ ۱۹۶۵ء

۳۵۔ماہنامہ لسان الملک (میرٹھ) مارچ اپریل ۱۸۹۸ء

۳۶۔کلیاتِ رعب مطبوعہ نول کشور پریس لکھنو (۱۹۲۲ء) ص: ۲۵۰

۳۷۔انیس ہند (میرٹھ) ۲۱ مارچ ۱۹۰۰ء،۱۴ اپریل ۱۹۰۰ء

۳۸۔انیس ہند (میرٹھ) ۲۸ مارچ ۱۹۰۰ء،ص: ۱۰

۳۹۔ماہنامہ مرقع (لکھنو) دسمبر ۱۹۲۶ء

۴۰۔تیغِ ہندی (قلمی) از بیان میرٹھی، ص: ۱۱۱

۴۱۔تیغِ ہندی، ص: ۱۱۸

۴۲۔خم خانۂ جاوید (جلد اول) ص: ۶۲۴

۴۳۔ماہنامہ العصر (لکھنو) اگست ستمبر ۱۹۱۳ء

۴۴۔روزنامہ امروز (کراچی) ۴ستمبر ۱۹۵۰ء، ص: ۷

۴۵۔ماہنامہ آج کل (نئی دہلی) ستمبر۱۹۷۰ء، ص:۲۳

٭٭٭

مصنف کی اجازت سے

ان پیج سے تبدیلی، تدوین، اور  برقی کتاب کی تشکیل: اعجاز عبید