FavoriteLoadingپسندیدہ کتابوں میں شامل کریں

 

علم فقہ
ڈاکٹر حمید اللہ

خطبہ نمبر ۳، خطبات بہاولپور
 

محترم وائس چانسلر صاحب! محترم اساتذہ! محترم بھائی بہنو!
الحمد للہ رب العالمین و الصلوٰۃ والسلام علی سید المرسلین و آلہ و اصحابہ اجمعین
ان تقریروں کا جو سلسلہ شروع ہوا ہے، اس سلسلے میں آج تیسری تقریر علم فقہ کے متعلق ہے۔ اور یہ ترتیب کہ اولاً قرآن کریم، پھر حدیث اور پھر فقہ، اس لیے اختیار کی گئی ہے کہ فقہ مبنی ہے ان دو سابقہ چیزوں پر۔ یعنی پہلے معلوم ہونا چاہیے کہ قرآن کیا چیز ہے؟ اور وہ کس طرح ہم تک پہنچے ہیں تاکہ یہ معلوم ہو جائے کہ ہمارا دین، ہماری فقہ اور ہمارا قانون، جن دو چیزوں پر مبنی ہیں وہ اس قدر قابل اعتماد بھی ہیں یا نہیں کہ ان کو ایک غیر جانبدار انسان قبول کر سکتا ہو۔
میں سمجھتا ہوں کہ گزشتہ دو تقریروں سے آپ کو اندازہ ہو گیا ہو گا کہ اپنے دین کے ماخذوں کے متعلق ہم مسلمانوں کو کسی سے شرمانے کی ضرورت نہیں۔ جس طرح قرآن اور حدیث ہم تک پہنچے ہیں اس سے زیادہ احتیاط کے ساتھ دنیا کی کسی اور قوم کی اساسی چیزیں ان تک نہیں پہنچیں۔ اب ہمیں یہ دیکھنا ہے کہ ان دونوں قابل اعتماد ماخذوں سے مسلمانوں نے اپنا قانون کس طرح بنایا اور وہ کس طرح آج تک چلا آ رہا ہے۔ ایک چیز کا آپ سے شروع ہی میں ذکر کرتا ہوں کہ قرآن مجید اپنی معجزانہ حیثیت کے باوجود، کہ وہ خدا کا کلام ہے، اور حدیث اپنی الہامی حیتن کے باوجود کہ پیغمبر خدا کی طرف سے الہام شدہ باتیں ہی بیان کرتا ہے اور خدا علام الغیوب ہے، صرف قرآن اور حدیث کے ناکافی ہونے کی صورت میں کیا کیا جائے؟ چنانچہ میں آپ کو دوبارہ یاد دلاؤں گا اور حضرت معاذ بن جبلؓ کے واقعے کی طرف توجہ دلاؤں گا۔ وہ ایک مشہور صحابی گزرے ہیں، اور انہیں لمبی عمر ملتی تو صحابہ میں غالباً سب سے بڑے فقیہ ہوتے، بہرحال ابھی وہ نوجوان تھے لیکن ان کی ذہانت کے باعث رسول اللہﷺ نے ان کو گورنر بنا کر یمن بھیجا۔ آخری وقت باریابی میں حضورﷺ نے ان سے پوچھا کہ اے معاذ! تم اپنے فیصلے کس طرح کیا کرو گے؟ انہوں نے جواب دیا “بکتاب اللہ” (اللہ تعالی کی کتاب کے مطابق) جواب صحیح تھا لیکن حضورﷺ نے پوچھا اگر اس میں نہ پاؤ تو؟ میرا اشارہ اصل اس نکتے کی طرف ہے کہ خود رسول اللہﷺ بھی فرماتے ہیں کہ قرآن کریم عام حالات میں تو نہیں لیکن کسی خاص حالت میں ناکافی معلوم ہوتا ہے۔ اس لیے حضور انورﷺ فرماتے ہیں کہ اگر تم مطلوبہ چیز اس میں نہ پاؤ تو تم کیا کرو گے؟ حضرت معاذ بن جبلؓ نے جواب دیا “بسنۃ رسول اللہ” (رسول اللہ کی سنت کے مطابق عمل کیا کروں گا) یہ جواب بھی صحیح تھا مگر حدیث و سنت کی اِلہامی کیفیت کے باوجود رسول اللہﷺ فرماتے ہیں “فان لم تجد” (اگر تم اس میں بھی نہ پاؤ تو تم کیا کرو گے؟) تو اس پر وہ فرماتے ہیں “اجتھد بر ابی ولا الو” (یعنی میں اپنی رائے کے مطابق کوشش کروں گا اور استنباط مسائل کے لیے کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کروں گا)۔ اس جواب پر حضورﷺ اس قدر خوش ہوئے کہ آسمان کی طرف ہاتھ اٹھا کر کہا “اے اللہ تیرے رسولﷺ نے جو چیز بیان کی ہے اس پر میں خوش ہوں” یعنی دعائے برکت دی اور اس کو قبول کیا اور برقرار رکھا کہ یہی طریقہ ہونا چاہیے، انسانی نقطہ نظر سے۔ اگر قرآن مجید اور حدیث ناکافی ثابت ہو تو ممکن ہے مسلمانوں کی قوم بے بس ہو جاتی اور اپنی ضروریات پورا نہ کر سکتی، جو ایک قیامت تک چلنے والے دین کے لیے نامناسب ہوتا۔ اس لیے رسولﷺ نے خود ہمیں بتا دیا کہ اگر قرآن و حدیث میں نہ ملے تو اجتہاد کرو۔ میں اس کی طرف بعد میں رجوع کروں گا کہ اجتہاد کے معنی کیا ہیں۔
فقہ ایک عربی لفظ ہے جس کے لغوی معنی ہیں “جاننا” اور اس کے اصطلاحی معنی ہیں “قانون”۔ قرآن مجید میں قانون کے متعلق ایک بہت ہی لطیف انداز میں ذکر آیا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کا تصور قانون کیا تھا۔ وہ آیت یہ ہے :
مَثَلًا كَلِمَةً طَیبَةً كَشَجَرَةٍ طَیبَةٍ أَصْلُهَا ثَابِتٌ وَفَرْعُهَا فِی السَّمَاءِ (14:24) (اچھی بات کی مثال ایک اچھے درخت کی طرح ہے اس کی جڑ تو زمین میں گڑی ہوئی رہتی ہے لیکن اس کی شاخیں آسمان تک پھیلی ہوتی ہیں۔) دوسرے الفاظ میں قانون کی بنیاد بیج جیسی چھوٹی سی چیز کی طرح ہے لیکن اس سے جو درخت نکلے گا وہ آسمان تک پھیل جائے گا اور اس کی شاخیں ہر چیز کو ڈھانپ سکیں گی۔ چنانچہ واقعہ یہی ہے کہ اگر ہم قرآن اور حدیث کو جڑیں یا بیج تصور کریں تو اس جڑ یا بیج سے نکلا ہوا درخت اتنا تناور اور اتنا شاخ در شاخ پھلک گیا ہے کہ انسان کی ہر ضرورت کو، اور قیامت تک کے مسلمانوں کے آنے والی نسلوں کو جدید ضرورتوں کو پورا کرنے کے قابل ہے اور ظاہر ہے شاخ در شاخ روزانہ اس درخت میں اضافہ ہی ہوتا جاتا ہے۔ ان حالات میں شاید مناسب معلوم ہو گا کہ میں تمہید کے طور پر اسلامی قانون کا دیگر ممالک کے قانون سے موازنہ کروں۔
محققین اور مؤرخین کا بیان ہے کہ دنیا کی سب سے بڑی قانون ساز قوم رومیوں کی گزری ہے اور ان کے برابر کسی قوم نے قانون کی خدمت نہیں کی۔ یورپ کی حد تک یہ صحیح ہو گا کہ کیونکہ رومیوں سے پہلے یورپ میں جو قومیں گزری ہیں، ان میں شاید یونانی سب سے زیادہ ممتاز تھے، سب سے بڑی ممتاز قوم رومیوں سے پہلے یونانیوں کی گزری ہے۔ یونانیوں نے بہت سے علوم کی خدمت کی لیکن قانونی نقطہ نظر سے ان کے ہاں کوئی زیادہ وقیع چیز نہیں ملتی۔ لہٰذا ہمیں یہ اعتراف کرنا پڑتا ہے کہ یورپ میں رومیوں نے قانون کی واقعی بڑی خدمت کی۔
رومی قانون کا مشہور مؤرخ، کولی لکھتا ہے کہ رومی قانون پہلے بالکل ابتدائی قسم کا (Primitive) تھا۔ وہ کھلے دل سے یہ اعتراف کرتا ہے کہ رومیوں کی سلطنت توسیع پا کر جب ایشیا میں پہنچی تو اس وقت وہاں کے قانون سے متاثر ہو کر رومیوں نے اپنے قانون میں اصلاحیں کیں۔ چنانچہ رومی قانون کا جو قدیم ترین مصنف گزرا ہے یعنی گائیس GAIUS وہ ایشیائے کوچک یعنی موجودہ ترکی کا باشندہ تھا، یورپین نہیں تھا۔ بعد میں اس قانون کی توسیع اس بنا پر عمل میں آئی کہ رومی سلطنت یورپ، افریقہ اور ایشیا کے براعظموں میں پھیل گئی تھی، اور مختلف قوموں پر وہ حکومت کرتے تھے۔ اس لیے انہیں اپنے قانون میں بہت سے اضافے، تبدیلیاں اور ترمیمیں کرنا پڑیں اور اس قانون نے بے شک ترقی کی۔ اس ترقی یافتہ قانون کو رسولﷺ کی ولادت سے چار پانچ سال پہلے فوت ہونے والے حکمران جسٹینین (Justinian) نے مدوّن کرنے کی کوشش کی تھی۔ ہم ایک اعتبار سے جسٹینین کے مجموعہ قوانین کا مقابلہ فتاوائے عالمگیری سے کر سکتے ہیں۔ اورنگ زیب عالمگیر، علم دوست بادشاہ ضرور تھے، لیکن عالم یا فقیہ نہیں تھے۔ یہی حال جسٹینین کا ہے۔ وہ بہت ذہین بادشاہ تھا لیکن خود ماہرِ قانون نہ تھا۔ اس نے عالموں کی سرپرستی کی اور انہیں ملک میں پائے جانے والے سارے قوانین پر، جن کے بعض اجزاء میں تضاد پایا جاتا تھا، نظر ثانی کی دعوت دی۔ اس طرح ایک کوڈ یا مجموعہ قوانین مرتب ہوا۔ یورپ میں یہ ایک قابل فخر چیز ہے۔ اس میں شک نہیں کہ یہ قانون دلچسپ ہے۔ اس میں بہت سی چیزیں ایسی ہیں جو آج بھی قابل عمل ہیں اور ان میں ردّ و بدل کی ضرورت پیش نہیں آئے گی۔ لیکن اس قانون کی اساس یہ ہے کہ انسان خود قانون ساز ہے۔ یعنی ایک انسان دوسرے انسان کے بنائے ہوئے قانون قبول بھی کر سکتا ہے اور ان کو رد بھی کر سکتا ہے، نتیجہ یہ ہے کہ اس قانون میں استحکام (Stability) نہیں رہا۔ چنانچہ ہمارے مؤرخ بیان کرتے ہیں کہ خود Justinian نے اپنی تیس بتیس سالہ حکومت میں، اپنے ہی تیار کردہ قانون میں اتنی تبدیلیاں کیں کہ وہ کچھ سے کچھ ہو گیا۔ اس کے برخلاف اگر قانون کی اساس اللہ کے احکام ہیں تو اس میں استحکام اور پائیداری ہو گی، جو انسانی قانون کے اندر نہیں ہو سکتی۔ کیونکہ ایک انسان دوسرے انسان کو اپنے ہی برابر سمجھتا ہے، اس پر اعتراض کرنے کی جسارت کرتا ہے اور اس کے خلاف رائے دینے کی ہمت کرتا ہے۔ دیگر ممالک میں بھی ہمیں یہ چیز نظر آتی ہے۔ لیکن سارے قوانین سے موازنہ کرنے کا موقع نہیں کیونکہ وقت کم ہے۔
غرض جب رسولﷺ مبعوث ہوئے تو اس وقت دنیا کے سامنے ایک قانونی چیلنج تھا کہ اگر تم میں ہمت ہے تو اس رومی قانون سے بہتر قانون بناؤ۔ اس چیلنج کا ہمارے پیغمبرﷺ نے جواب دیا اور وہ قانون بنایا جو جسٹینین کے قانون سے بھی حقیقتاً بہتر تھا۔ اس میں وہ کمزوری بھی نہیں ہے جو Justinian کے قانون میں تھی بلکہ استحکام، استقامت اور پائیداری بھی ہے۔ اسلامی قانون میں جو وسعت اور ہمہ گیری ہے وہ رومی قانون میں نہیں ہے۔ مثلاً جسٹینین کے کوڈ میں دینی امور اور عبادات کا قطعاً کوئی ذکر نہیں ہے۔ اسی طرح اور بہت سی چیزیں جو اسلامی قانون میں ملتی ہیں، وہاں نظر نہیں آتیں۔ اگر کوئی شخص جانبداری سے رومی قانون اور اسلامی قانون کا موازنہ کرے تو وہ یقیناً یہ تسلیم کرنے پر مجبور ہو جائے گا کہ اسلامی قانون ہی بہتر ہے۔ میں نے چند ابواب کی حد تک رومی اور اسلامی قواعد کا تفصیلی مقابلہ کیا ہے اور ذاتی علم کی بنا پر یہ دعویٰ کر رہا ہوں۔
اب ہم یہ دیکھیں گے کہ اسلامی قانون کس طرح بنا؟ اسلامی قانون ربانی وحی کے ذریعے سے آئے ہوئے اوامر کی تبلیغ کے سلسلے میں رسولﷺ کے دیے ہوئے احکام پر مشتمل ہے۔ ان احکام کا کچھ حصہ آپ نے املا کرایا اور کہا کہ یہ اللہ کا حکم یعنی قرآن ہے، تم اسے زبانی یاد کرو، اسے نمازوں میں پڑھو، کبھی نہ بھلاؤ۔ اسی طرح آپﷺ نے اور احکام بھی دیے جو (وَمَا ینْطِقُ عَنِ الْهَوَىٰ () إِنْ هُوَ إِلَّا وَحْی یوحَىٰ سورۂ نجم 53 آیت 3 تا 4) کے مطابق اگرچہ ربانی وحی پر ہی مشتمل تھے لیکن قرآن میں داخل نہیں کیے گئے۔ ان کو سنّت بھی کہتے ہیں۔ اللہ کے احکام، اللہ کے پیغمبر کے احکام یعنی حدیث و سنت، یہ دونوں چیزیں ایک دن میں مدوّن نہیں ہوئیں۔ جیسا کہ میں نے آپ سے بیان کیا قرآن مجید نازل ہوتے ہوئے (23) سال لگے۔ یہی حال اور یہی مدّت حدیث کی بھی ہے۔ لیکن شروع میں کچھ بھی نہ تھا لوگ مسلمان ہونے لگے تھے اور ان کی تعداد میں روز بروز اضافہ ہوتا رہا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر قانون کے معنی ہیں “طرزِ عمل” یا “اصولِ کار” تو ابتداء میں اسلامی قانون کیا تھا، کیونکہ اس وقت سوائے “سورۂ اقراء” کی پہلی پانچ آیتوں کے کوئی چیز موجود نہ تھی۔ اس کا جواب بہت سادہ ہے۔ اسلامی اصول یہ ہے کہ جس چیز کی ممانعت نہ کی جائے وہ مباح ہے۔ دوسرے الفاظ میں مکہ معظمہ ہی کے کافرانہ معاشرے میں بت پرستی کے سوا، جو بھی معاشرتی رسم و رواج تھے اور جو بھی عرف و عادت پائی جاتی تھی، اس پر عمل کرنے کی مسلمانوں کو اجازت تھی، آپ کو شاید برا لگے لیکن واقعہ یہ ہے کہ ابتداء میں مسلمان شراب بھی پی سکتے تھے اس لیے کہ شراب ابھی حرام نہیں ہوئی تھی۔ دوسرے الفاظ میں اسلامی قانون شروع ہوتا ہے شہر مکہ کے رسم و رواج سے، اور اس رسم و رواج میں رفتہ رفتہ ترمیم اور تبدیلی ہوتی گئی۔ قرآن و حدیث کے احکام کے مطابق قدیم رسم و رواج میں جو تبدیلی ہوئی وہ 23 سال کے عرصے میں ترجیحی بنیادوں پر ہوئی کہ کن چیزوں کو سب سے پہلے منسوخ کیا جائے، ان کے بعد کن چیزوں کو، ان کے بعد کن چیزوں کو، اور کن نئی چیزوں کا اضافہ کیا جائے، ظاہر ہے کہ مکے کے رسم و رواج کے متعلق اسلام کے امتناعی اور اصلاحی احکام کا سب سے پہلا عنصر، سب سے پہلی چیز بت پرستی کی مخالفت تھی۔ یعنی اللہ ایک ہے۔ بتوں کی پرستش نہ کرو۔ اللہ کا کسی کو شریک نہ بناؤ۔ عقائد کے متعلق ایک چیز اور بھی تھی کہ ہماری زندگی کا تعلق صرف اسی دنیا سے نہیں بلکہ اس کے بعد آخرت کی زندگی بھی ہے۔ مرنے کے بعد حساب کتاب دینے کے لیے اللہ ہمیں دوبارہ زندہ کرے گا اور ہمارے نیک و بد اعمال کے مطابق ہمیں جزا یا سزا دے گا۔ یہ بالکل ابتدائی چیزیں تھیں۔ اللہ پر ایمان اور قیامت پر ایمان۔ ایک چیز اور تھی کہ جب اللہ کو ہم ایک مانتے ہیں اور اسے اپنا مالک اور خالق جانتے ہیں تو اس کے متعلق ہمیں اپنے فرائض کس طرح انجام دینے چاہئیں۔ ظاہر ہے کہ اللہ ہمارا محتاج نہیں بلکہ ہم اللہ کے محتاج ہیں۔ لہٰذا اللہ کی بندگی اور شکر گزاری بھی ہمارا فرض ہے۔ اس فرض کی ادائیگی کے لیے نماز کی تاکید کی گئی۔ چنانچہ نماز اور عقائد یہ دو عنصر تھے جو شروع میں آئے۔ پھر رفتہ رفتہ دیگر امور کا اضافہ ہوتا گیا میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ اسلامی قانون کا ماخذ قرآن و حدیث تو ہے لیکن ان کے ساتھ ساتھ، بلکہ ان سے کچھ پہلے ہی شہر مکہ کا رسم و رواج بھی اسلامی قانون تھا۔ یہ رسم و رواج ایک عارضی ماخذ کی حیثیت رکھتا ہے۔ کیونکہ قرآن و حدیث جو با ضابطہ ماخذ قانون تھے ان میں یہ بھی قوت تھی کہ اس غیر اہم یا غیر دوامی عنصر یعنی رسم و رواج کو منسوخ کر سکے۔ اس سے انکار کیے بغیر کہنا یہ پڑتا ہے کہ پہلا ماخذ ملک کا رسم و رواج تھا۔ دوسرا با ضابطہ ماخذ قرآن اور حدیث ہیں۔ لیکن حضرت معاذ بن جبلؓ سے متعلق مشہور حدیث سے یہ ظاہر ہے کہ عہد نبوی ہی میں قرآن و حدیث کے علاوہ اجتہاد کو بھی ایک تیسرے ماخذ قانون کی حیثیت حاصل تھی۔
ہمارے پاس اصول فقہ کی کتابوں میں اور ماخذ بھی بیان ہوتا ہے جسے اجماع کا نام دیتے ہیں، یعنی کسی بات پر علماء امت کا متفق ہو جانا، عہد نبوی میں اس کی ضرورت ہی نہیں تھی اس لیے کہ اگر کوئی سوال پیدا ہوتا تو لوگ فوراً رسولﷺ سے رجوع کرتے تھے۔ رسولﷺ فیصلہ فرما دیتے جو قطعی اور آخری ہوتا۔ آپس میں مشورہ کر کے کسی پر متفق ہونے کا کوئی سوال ہی پیدا نہ ہوتا تھا۔ اس پہلو پر مزید گفتگو بعد میں ہو گی۔
ان ماخذوں کے ساتھ ساتھ عہد نبوی میں ایک اور چیز بھی ملتی ہے جو آئندہ بھی ہمیں کام آ سکتی ہے، اسے ہم “معاہدہ” کہہ سکتے ہیں۔ یعنی اگر کسی دوسرے ملک سے اور کسی دوسری حکومت سے ہم معاہدہ کر لیں اور بعض شرطیں قبول کر لیں، کہ ہم یہ کیا کریں گے اور تم یہ کرو گے۔ تو جب تک وہ معاہدہ برقرار رہے گا، وہ پابندیاں یا وہ شرطیں جو ہم نے قبول کی تھیں، ہمارے قانون کا جزو بن جائیں گی اور ہمارے لیے واجب التعمیل رہیں گی۔ دوسرے الفاظ میں یہ معاہداتی پابندیاں اور معاہدے کے ذریعے سے قبول کی ہوئی شرطیں اسلامی قانون ہیں، لیکن غیر تابدی اور عارضی۔ جب تک معاہدہ برقرار رہے گا، وہ شرطیں ہمارے قانون کا جزو رہیں گی۔
ایک اور ماخذ قانون جو عہد نبوی میں پایا جا سکتا تھا لیکن مجھے اب تک عہد نبویؐ میں اس کی کوئی مثال نہیں مل سکی۔ قدیم ترین مثال جو مجھے اس کی ملی ہے، وہ حضرت عمرؓ کے زمانہ خلافت کے ایک واقعے سے متعلق یہ اصول مماثلت (Reciprocity) جس میں معاہدے کے بغیر غیروں کے احکام ہمارے قانون میں داخل ہو جائیں۔ پہلے میں اس واقعے کو بیان کرتا ہوں جس سے آپ کو خود اندازہ ہو جائے گا کہ ‘مماثلت’ جو اس کا نام دیا گیا ہے کیا چیز ہے؟ ایک دن خلیفہ وقت حضرت عمرؓ کے پاس سرحد کے علاقے کا ایک گورنر خط بھیجتا ہے کہ ہمارے سرحد کے باہر جو بیزنطینی (رومن) وغیرہ ہیں،ان کے یہاں کے تاجر ہمارے ملک میں آنا چاہتے ہیں، اور ہمارے ملک میں تجارت کرنا چاہتے ہیں۔ احکام دیجئے کہ ان سے ہم کس اساس پر چونگی وصول کریں؟ اس گورنر کو کوئی علم نہیں تھا کہ اسلامی قانون چونگیوں کے متعلق کیا ہے؟ اس نے قرآن دیکھا، قرآن میں اس کا کوئی ذکر نہیں ملا اور اس باے میں اسے کوئی بھی معلومات نہیں تھیں۔ حضرت عمرؓ نے جواب دیا کہ جس علاقے کے لوگ آئیں، اگر اس علاقے میں مسلمان تاجر جاتے ہیں تو جس نرخ پر ان سے چونگی لی جاتی ہے، اسی نرخ پر تم لے لو یہ reciprocity یعنی مماثلت کا قانون ہے۔ اس سے پہلے بیزنطینی حکومت سے اس قسم کا کوئی معاہدہ نہیں تھا۔ اس کے باوجود حضرت عمرؓ یہ فیصلہ کرتے ہیں کہ اس علاقے میں جس شرح سے چونگی لی جاتی ہے، اسی شرح سے وہاں والوں سے ہمارے یہاں چونگی لی جائے گی۔
ان ماخذوں کے علاوہ ایک ماخذ، جس کا کچھ پہلے ذکر کرنا چاہیے تھا، وہ قرآن مجید میں مذکور ہے۔ “سورہ انعام” میں ایک مقام پر تقریباً پچیس پیغمبروں کے ناموں کی ایک طویل فہرست ہے۔ اس فہرست کے دینے کے بعد یہ آیت ہے: (أُولَٰئِكَ الَّذِینَ هَدَى اللَّهُ ۖ فَبِهُدَاهُمُ اقْتَدِهْ) (90:6) (یہ وہ لوگ ہیں جن کو اللہ نے ہدایت دی ہے، اس لیے (اے محمدؐ) آپ بھی ان کی پیروی کریں) تاریخی نقطہ نظر سے اس اہم آیت کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ نے حضرت آدم علیہ السلام کے زمانے سے لے کر پیغمبر اسلام کے زمانے تک اپنے پیغمبروں کے ذریعے سے جو پیغام بھیجے ہیں، وہ بھی خدائی احکام ہیں، اور وہ بھی ویسے ہی قابل تعظیم ہیں، جیسے پیغمبر اسلام پر نازل شدہ قوانین (لَا نُفَرِّقُ بَینَ أَحَدٍۢ مِّن رُّسُلِهِ) (285:2) (سب پیغمبر مساوی رتبہ رکھتے ہیں بحیثیت پیغمبر کے) تو حکم دیا جاتا ہے کہ سابقہ پیغمبروں کے قوانین بھی واجب التعمیل ہیں، اور پیغمبر اسلام کو اس پر عمل کرنا چاہیے۔ لیکن ظاہر ہے کہ اس حکم کے ساتھ کچھ شرطیں ہوں گی۔ قانون ساز اللہ کی ذات ہے۔ اس نے اگر حضرت آدم علیہ السلام یا حضرت موسیٰ علیہ السلام کو کچھ احکام دیے، تو وہی قانون ساز اس میں کچھ ترمیم اور تبدیلی بھی کرسکتا ہے۔ دوسرے الفاظ میں اگر خدا نے ہمارے پیغمبر کو حکم دیا کہ تم اپنے سے پہلے پیغمبروں مثلاً حضرت موسیٰ علیہ السلام یا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے احکام میں سے فلاں چیز پر عمل نہ کرو بلکہ یوں کرو، تو پرانا قانون واجب التعمیل نہیں رہے گا۔ بلکہ جدید حکم پر عمل کرنا ہو گا۔ دوسری شرط اس قانون سے متعلق یہ ہو گی کہ اس کا علم، ہمیں قابل اعتماد صورت میں پہنچے کہ یہ چیز حضرت آدم علیہ السلام کی شریعت میں تھی، یہ چیز حضرت ابراہیم علیہ السلام کی شریعت میں تھی، یہ چیز حضرت موسیٰ علیہ السلام کی شریعت میں تھی۔ اگر کسی حکم کا قابل اعتماد ثبوت ملے تو واجب التعمیل ہو گا ورنہ نہیں۔ چنانچہ حدیث میں ایسی باتوں کا ذکر ملتا ہے اور قرآن میں بھی ایسی آیتیں ہیں کہ فلاں چیز حضرت موسیٰ علیہ السلام کے قانون میں تھی، فلاں چیز حضرت ابراہیم علیہ السلام کے قانون میں تھی، تو اس پر ہم عمل کریں گے۔ مکر اس میں دشواری یہ پیدا ہو گئی ہے کہ خود قرآن مجید میں یہ الزام لگایا گیا ہے کہ یہود اور نصاریٰ اپنی کتاب میں تحریف کرتے ہیں۔ ان حالات میں کہ براہ راست حضرت موسیٰ علیہ السلام یا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا قانون ہم تک قابل اعتماد صورت میں پہنچا ہے لہٰذا ہم ان کی کتابوں کے احکام پر عمل کرنے کی جسارت نہیں کر سکتے جب تک کہ ان کے کسی حکم کے متعلق ہمیں کسی اور ذریعے سے اس بات کا ثبوت نہ مل جائے کہ وہی صحیح اور قابل اعتماد ہے۔
جیسا کہ میں بیان کر رہا تھا۔ اسلامی قانون کے جو متعدد ماخذ ہیں ان میں سابقہ پیغمبروں کی شریعتیں بھی داخل کرنے کی ضرورت ہے۔ ایک مثال آپ کو دیتا ہوں جس سے میرا مفہوم شاید زیادہ واضح ہو جائے گا۔ قرآن مجید کی “سورۂ نور” میں زنا کی سزا سنائی گئی ہے کہ ایک سو دُرّے لگائے جائیں اور اسلامی قانون میں پیغمبر اسلام کے عمل کی بنا پر شادی شدہ لوگوں کے زنا کرنے کی صورت میں “رجم” یعنی پتھراؤ کرنے کا بھی ذکر ملتا ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ جو “رجم” کرنے کا حکم ہے یعنی کسی مجرم کو پتھر مار کر سزائے موت دینا اس کی اساس کیا ہے، چونکہ قرآن مجید میں اس کا ذکر نہیں ہے، اس لیے بہت سے لوگوں کو بد گمانی ہو سکتی ہے، شاید ہوئی بھی ہے کہ “رجم” کا قانون اسلام میں نہیں پایا جاتا۔ صرف سو دُرے لگائے جائیں، یہی کافی ہے، اگر آپ غور کریں تو نظر آئے گا کہ ایسا نہیں ہے، بلکہ قرآن مجید مںم بالواسطہ طور پر اس قانون کا حکم ہے کہ “رجم” کیا جائے۔ وہ واسطہ یہ ہے کہ قرآن نے کہا ہے تم سے پہلے کے جو پیغمبر گزرے ہیں، ان کے قانون پر عمل کرو اور “رجم” کے متعلق قانون توریت میں موجود ہے، انجیل میں بھی موجود ہے، جو کتابیں آج کل ہمیں عیسائیوں اور یہودیوں کی شائع کردہ ملتی ہیں، ان میں بھی یہ قانون آپ کو ملے گا۔ اس قانون کی صحت ہمارے پیغمبر نے قبول کر کے اس کی توثیق بھی کی ہے کہ یہ قانون تھا۔ اگر قرآن میں اس کا ذکر نہیں ہے تو اس کے معنی یہ ہیں کہ قرآن نے اس قانون کو منسوخ نہیں کیا، اور جب منسوخ نہیں کیا تو اس کے معنی یہ ہیں کہ یہ برقرار ہے، جب وہ برقرار ہے تو ہمارا قانون ہے۔ ہمارا بنایا ہوا نہیں، خدا کا بنایا ہوا قانون ہے اور ہمارے لیے واجب التعمیل ہے۔ چنانچہ توریت میں شادی شدہ لوگوں کے زنا سے متعلق صراحت سے ذکر ہے کہ ان کو رجم کیا جائے۔ لیکن غیر شادی شدہ لوگوں کے زنا سے متعلق توریت میں حکم ہے کہ ان کو صرف مالی جرمانہ کیا جائے، اور کچھ نہیں۔ اس قانون کو قرآن نے منسوخ کر دیا۔ صرف جرمانے پر اکتفا کرنا، بد اخلاقی میں اضافہ کرنا ہے۔ اس کو ایک زیادہ روکنے والی چیز کی ضرورت ہے۔ لہٰذا حکم ہوا کہ ایک سو دُرے لگائے جائیں۔ جب ہم دیکھتے ہیں کہ قرآن مجید میں ایک پرانے قانون کے ایک جز کو سکوت کے ذریعے برقرار رکھا گیا اوردوسرے حصے کو صراحت کے ساتھ منسوخ کیا گیا، تو وہ اسلامی قانون ہوئے اور دونوں پر عمل واجب ہے۔ یہ تھا میرا منشاء کہ پرانے انبیاء کی شریعت، مسلمانوں پر واجب التعمیل ہے، دو شرطوں کے ساتھ، ایک تو ان میں ترمیم یا تبدیلی قرآن نے نہ کی ہو اور دوسرے یہ کہ ان کا ہم تک پہنچنا قابل اعتماد وسائل سے ہوا ہو۔
اب ہم اسلامی قانون کی ترقی کے متعلق ایک اور پہلو کو لیں گے۔ قانون کا کچھ حصہ صراحت کے ساتھ قانون ساز یعنی خدا اور رسول اللہﷺ ہم تک پہنچاتے ہیں۔ اس میں گویا انسان کے بنانے کا کوئی سوال ہی نہیں ہے لیکن اگر کسی وقت قرآن و حدیث میں سکوت ہو، جیسا کہ میں نے ابھی معاذ بن جبلؓ کی حدیث کے ذریعے سے آپ کو بتایا تو ایسے حالات میں ہم کو اجتہاد کرنے کی ضرورت ہے۔ یعنی سوچ کر، اپنی عقل سلیم کے لحاظ سے ہو کوئی قاعدہ استنباط کریں جو ہمیں مناسب معلوم ہو اور ہماری عقل اور ہمارا ضمیر اس کو قبول کرنے کے لیے تیار ہو۔ یہ کام قانون کے ماہرین ہی کر سکتے ہیں۔ فرض کیجیے ایک طبیب ہے، اس کا قانون سازی سے کوئی علاقہ نہیں۔ ایک روٹی پکانے والا نانبائی ہے، اس کو قانون سازی سے کوئی تعلق نہیں وغیرہ وغیرہ۔ قانون سازی کا کام قانون کے متخصصین ہی کرسکتے ہیں، کوئی اور نہیں۔ لہٰذا ہم دیکھیں گے کہ اسلامی معاشرے میں قانون بنانے کا کام کون کرتے ہیں اور قانون کو سمجھنے اور سمجھانے کا کام کون کرتے ہیں؟ یہ وہ لوگ ہیں ایک تو حاکم عدالت اور دوسرے جسے ہم مفتی کا نام دیتے ہیں یعنی اس سے پوچھتے ہیں کہ اس بارے میں کیا قانون ہے اور وہ ہمیں بتاتا ہے کہ اسلامی قانون یہ ہے یا یہ ہونا چاہیے، لیکن مفتی اس کا نفاذ نہیں کر سکتا۔ اس فرق کے باوجود دونوں ذیلی قانون سازی کا کام کرتے ہیں۔ اساسی قانون کی حیثیت تو قرآن و حدیث رکھتے ہیں لیکن قرآن و حدیث ساکت ہوں تو اجتہاد کے ذریعے سے، استنباط کے ذریعے سے، یہ لوگ قانون معلوم کرنے کی کوشش کرتے ہیں، وہ ہمیں بتاتے بھی ہیں اور ہم پر نافذ بھی کرتے ہیں۔
ایک مثال میں آپ کو دیتا ہوں۔ قرآن مجید میں چوری کی سزا مقرر کی گئی ہے، لیکن اگر کوئی شخص کفن چوری کرے یعنی ایک ایسے شخص سے اس کا مال لے جو اپنی مدافعت نہیں کر سکتا یعنی کسی مردہ شخص کی قبر کھولے، قبر کے اندر سے اس کا کفن چرا لے جائے تو کیا اسے چوری کہا جائے گا؟ ہمارے فقہاء کہتے ہیں کہ وہ چوری نہیں ہے۔ سوال یہ ہے کہ اس کفن چوری کی سزا کیا ہو گی؟ کیا وہی سزا ہو گی جو عام چوری کی ہے یا اس کے لیے کسی اور قانون کی ضرورت ہو گی؟ اس میں سوائے استنباط، اجتہاد اور غور و فکر کے، قانون معلوم کرنے کے اور کوئی صورت ممکن نہیں کیونکہ قرآن میں اس کا ذکر نہیں ہے۔ ایسی صورت میں ہمارے فقہاء استنباط کرتے ہیں اور استنباط کے لیے قیاس سے کام لیتے ہیں۔ میں تفصیلوں میں نہیں جاتا، صرف آپ کو مثال دے کر سمجھانا چاہتا ہوں کہ کن صورتوں میں فقہاء کو یا مفتیوں کو اور قاضیوں کو قانون معلوم کرنے اور قانون میں ترقی دینے کی ضرورت پیش آتی ہے۔ کیونکہ چوری کے متعلق قانون تھا لیکن کفن چوری کے متعلق قانون نہیں تھا، اسے ہمارے قاضی اور مفتی نے معلوم کیا۔ پھر وہ ہمارے قانون کا جزو بنا اور ہمارے قانون میں اس سے ترقی ہوئی۔ یہ کام ہمیں عہد نبویؐ ہی سے نظر آنے لگتا ہے۔ چنانچہ اس کی صراحت ایک حدیث میں ملتی ہے۔ ایک روایت ہے کہ رسولﷺ نے لوگوں سے کہہ دیا تھا کہ تمہیں کوئی چیز معلوم کرنا ہو تو ابوبکرؓسے معلوم پوچھ لو۔ حضرت ابو بکرؓ ایک ماہر قانون تھے اور صحابہ کرام رسولﷺ کو ہر چھوٹی چیز کے متعلق زحمت دینے کے بجائے، حضرت ابو بکرؓ کے پاس جاتے اور ان سے پوچھ لیتے۔ انہیں ایک طرح سے اجازت تھی کہ وہ چھوٹے موٹے مسائل میں فتویٰ دیں۔ کوئی مشکل مسئلہ ہو تو ظاہر ہے حضرت ابو بکرؓ بھی کہتے کہ ٹھیرو، رسولﷺ سے پوچھ کر بتاؤں گا۔ اگر انہیں معلوم ہوتا تو وہ کہتے کہ رسولﷺ نے اس کے متعلق سابق میں یہ حکم دے رکھا ہے، تم اس پر عمل کرو۔ اس طرح قاضی کے فیصلے بھی عہد نبویؐ سے شروع ہوئے تھے مجھے معلوم نہیں کہ مفتیوں کی تعداد کتنی تھی۔ صرف ایک واقعہ میرے ذہن میں تھا۔ وہ میں نے آپ سے بیان کر دیا۔ حضرت ابو بکرؓ کے متعلق صراحت سے تاریخوں میں ذکر ہے کہ رسولﷺ نے ان کو مفتی بنا کر نامزد کر رکھا تھا۔ ممکن ہے اور صحابی بھی ہوں۔ رہا قاضی تو اسلامی سلطنت کی توسیع کے ساتھ ان کی تعداد بھی بڑھتی جاتی ہے، خاص کر یمن میں جو ایک بڑا صوبہ تھا اور ذہنی لحاظ سے اس زمانے میں بہت ترقی یافتہ تھا۔ وہاں کے لوگ خانہ بدوش نہیں تھے۔ بستیوں میں زندگی گزارنے والے اور تجارت کاشتکاری کرنے والے لوگ تھے۔ اس لیے یمن کے متعلق ایک سے زیادہ سرکاری افسروں کا ذکر ملتا ہے۔ گورنر بھی اور اس طرح کے دیگر عہدیدار بھی ملتے ہیں۔ ان میں سے ایک کا ذکر تھوڑی دیر ہوئی میں نے آپ سے کیا تھا یعنی معاذ بن جبلؓ۔ وہ قاضی بھی تھے لیکن ان کا ایک اور فریضہ بھی نظر آتا ہے کہ وہ انتظامی امور بھی سر انجام دیتے تھے، یعنی گورنر بھی تھے اور قاضی بھی تھے۔ ایک اور افسر عمرو بن حزم ہیں ان کے متعلق تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ انسپکٹر جنرل تعلیمات بھی تھے۔ چنانچہ طبری نے لکھا ہے کہ ان کا فریضہ تھا کہ گاؤں گاؤں کا دورہ کریں اور لوگوں کو تعلیم دیں۔ غالباً وہ ہر جگہ کوئی مدرسہ کھولتے ہوں گے۔ پھر مقامی لوگوں کو قرآن پاک پڑھانے کی تربیت دے کر آگے روانہ ہو جاتے ہوں گے۔ بہرحال “کان ینتقل من امارۃ عامل الٰی عامل” کے الفاظ تاریخ طبری میں آتے ہیں۔ وہ ایک علاقے سے دوسرے علاقے میں جایا کرتے تھے اور ان کا کام لوگوں کو تعلیم دینا تھا۔ ان قاضیوں میں سے ایک جو یمن بھیجے گئے۔ یہ حضرت ابو موسیٰ الاشعری ہیں۔ ان کا ذکر میں بالخصوص اس لیے کر رہا ہوں کہ ان کا تقرر نامہ بھی تاریخ میں محفوظ ہے۔ چنانچہ معلوم ہوتا ہے کہ اس زمانے میں نظم و نسق کا اصول یہ نہ تھا کہ کوئی شخص انتہا کسی مقام پر پہنچ جائے۔ جیسے حمید اللہ بہاولپور آ کے یہ کہہ دے کہ میں لیکچر دینے آیا ہوں وائس چانسلر کو خبر بھی نہ ہو۔ اس کے برخلاف مرکز یعنی پایہ تخت سے ایک تحریری پروانہ نامزد شدہ گورنر کو بھی دیا جاتا، اور ایک خط مقامی باشندوں کے نام بھی ہوتا۔ جس میں یہ کہا جاتا کہ میں تمہارے پاس فلاں شخص کو گورنر بنا کر یا قاضی بنا کر یا عامل بنا کر بھیج رہا ہوں۔ جب وہ آئیں تو ان کی اطاعت کرنا، ورنہ میری عدم اطاعت متصور ہو گی۔ اور قاضیوں کو پروانہ نامزدگی دیا جاتا جس میں ان کے فرائض کا بھی کچھ ذکر ہوتا تھا۔ یہ طریقہ بھی ہمیں عہد نبویﷺ ہی میں ملنے لگتا ہے۔ (اور حضرت عمرو بن حزمؓ کو دیا ہوا ہدایت نامہ محفوظ ہے) اس کا ذکر میں نے ایک اور وجہ سے بھی کیا ہے یعنی حضرت ابو موسیٰ الاشعری کی عظیم الشان شخصیت کی بناء پر۔ ان کا ایک قصہ بھی آپ سے بیان کرتا چلوں اور بہت ادب کے ساتھ آپ سے عرض کرتا ہوں کہ ابن سعد کے مطابق وہ ان پڑھ تھے، لکھنا پڑھنا نہیں آتا تھا۔ رسولﷺ کی وفات تک وہ اُمّی رہے۔ اس کے بعد حضرت عمرؓ نے ان کی عظیم صلاحیتوں اور وسیع تجربے کی بناء پر، کہ عہد نبویﷺ میں مختلف عہدے انجام دے چکے تھے، ان کو عراق کی فتح کے بعد بصرہ کا گورنر نامزد کیا۔ چونکہ خود انہیں لکھنا پڑھنا نہیں آتا تھا اس لیے وہاں انہوں نے ایک لکھے پڑھے اچھے ماہر کو سیکرٹری بنا لیا، جو ایک عیسائی تھا۔ ایک دن حضرت عمرؓ نے ان کو بلا بھیجا۔ وہ اپنے سیکرٹری کے ساتھ کچھ انتظامی فرائض کے لیے مدینہ آئے تو مسجد کے اندر حضرت عمرؓ سے ملنے کے لیے چلے گئے، لیکن سیکرٹری صاحب باہر ہی رہے حضرت عمرؓ نے پوچھا تمہارا سیکرٹری ساتھ نہیں آیا، کہاں ہے؟ کہا کہ باہر ہے۔ آپ نے پوچھا کہ مسجد میں کیوں نہیں آیا؟ تو بتایا کہ عیسائی ہے۔ حضرت عمرؓ کو یہ نامناسب معلوم ہوا ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ سیکرٹری کو بدل دو۔ بظاہر ہمیں موجودہ زمانے مںر مسلم اور غیر مسلم کا فرق و امتیاز نامناسب معلوم ہو گا لیکن آپ اس پر غور کیجیے کہ ایک گورنر جسے بیسیوں قسم کے اختیار حاصل ہوں، اس کا فیصلہ بھی فی الفور نافذ ہو جاتا ہے اور بالخصوص اس علاقے میں جہاں ابھی پوری طرح امن قائم نہ ہو۔ اس کو فتح ہوئے مشکل سے چند مہینے گزرے ہوں، وہاں کے گورنر صاحب کو لکھنا پڑھنا نہیں آتا، وہ سیکرٹری کو حکم دیتے ہیں، معلوم نہیں سیکرٹری صاحب کیا لکھتے ہیں۔ گورنر کی مہر کے ساتھ پروانہ چلا جاتا ہے، اس لیے احتیاط لازمی تھا۔ آج اگر بالفرض ہمارے محترم جنرل ضیاء الحق کو لکھنا پڑھنا نہ آئے تو وہ کسی ہندو کو اپناسیکرٹری نہیں بنائیں گے، یا کسی روسی کو اپنا سیکرٹری نہیں بنائیں گے۔ یہی فیصلہ حضرت عمرؓ نے فرمایا سیکرٹری بدل ڈالو۔ مگر وہی حضرت عمرؓ دوسرے موقعوں پر عیسائیوں سے سرکاری کاموں میں مدد بھی لیتے ہیں۔ یہ نہیں سمجھنا چاہیے کہ حضرت عمرؓ میں تعصب تھا۔ وہ غیر مسلم افسروں سے بوقت ضرورت استفادہ کرتے تھے۔ صرف اس وقت روکتے تھے جب عقلِ سلیم اس کی متقاضی ہوتی کہ ان پر اعتماد نہ کیا جائے۔ ایسی بہت سی مثالیں ملتی ہیں مثلاً ہرمزان نامی ایک ایرانی تھا۔ اس سے حضرت عمرؓ بارہا مشورہ کیا کرتے تھے۔ سیاسی معاملات میں بھی اور جنگی معاملات میں بھی۔
عہد نبویﷺ میں اسلامی قانون کی ترقی کے لیے جو اولین ماخذ تھے، وہ میں نے بیان کیے ان کے علاوہ دو نئے عناصر کا اضافہ ہوا۔ ان میں سے ایک مفتی ہیں اور دوسرے قاضی۔ قاضیوں کو عام طور پر نئی قانون سازی کی ضرورت پیش آتی ہے، مقدمات ان کے سامنے آتے ہیں اور ہر مقدمے کے مواقع، حالات اور رودادیں مختلف ہوتی ہیں اور انہیں اسی کے مطابق فیصلہ کرنا ہوتا ہے۔ ایسی متعدد مثالیں تاریخ میں ملتی ہیں کہ گورنر اور قاضی، جو دور دراز علاقوں میں تھے یا تو خود لکھ کر رسولﷺ سے پوچھتے تھے کہ ان حالات میں کیا کرنا چاہیے اور ایسی مثالیں بھی ملتی ہیں کہ ان گورنروں اور قاضیوں نے اپنی صوابدید اور فہم کے مطابق فیصلہ کر ڈالا۔ اس کی اطلاع رسولﷺ کو ہوئی۔ اگر آپ کو نامناسب معلوم ہوا تو فوراً تصحیح کے احکام صادر فرما دیے۔ اس دوسری قسم کی ایک مثال آپ کو دیتا ہوں۔ ایک شخص کو قتل کر دیا جاتا ہے، اس کا خون بہا کس کو دیا جائے؟ پرانے زمانے میں عرب میں رواج تھا کہ خون بہا مقتول کے مرد رشتہ داروں کو دیا جاتا تھا، یعنی بیٹے کو، باپ کو، بھتیجے کو وغیرہ۔ مقتول کی بیوہ کو اس میں کوئی حصہ نہ ملتا تھا۔ اس کی اطلاع رسول اللہﷺ کو ہوئی۔ آپﷺ نے بیوہ کو بھی اسی تناسب سے حصہ ملنا چاہیے جس تناسب سے وراثت میں اس کا حصہ ہے۔ قرآن مجید میں اس کا ذکر نہیں تھا، حدیث میں بھی اس وقت اس کا ذکر نہیں تھا، جب تک یہ واقعہ پیش نہ آیا۔ اس کے بعد رسولﷺ کی حیاتِ طیبہ میں اسلامی قانون کے دو مستقل، غیر تبدل پذیر ماخذ یعنی قرآن و حدیث مکمل ہو جاتے ہیں۔ قانونی نقطہ نظر سے جب کوئی نئی گتھی پیدا ہوتی تو اسے سلجھانے کے لیے مسلمان سب سے پہلے قرآن اور پھر حدیث سے رجوع کرتے اور اگر ان دونوں میں کوئی حل نہ ملتا تو پیغمبر کے عطا کردہ عظیم الشان اصول یعنی اِجتہاد پر عمل کرتے۔ یہ اصول بعد میں مسلمانوں کے بہت کام آیا ورنہ اسلامی قانون منجمد ہو جاتا، اور مسلمان اسے ناکافی پا کر غیر اسلامی قوانین اختیار کر لینے پر مجبور ہوتے۔ اجتہاد کے ذریعے سے ہر نئی چیز کے بارے میں قانون بنانے کا موقع مل گیا۔
اسی طرح قاضیوں کے نام حضرت عمرؓ کا ہمیں ایک خط ملتا ہے جس میں یہ حکم تھا کہ فیصلہ کرنے سے پہلے مشورہ بھی کر لیا کرو۔ یہ نہیں کہ من مانا فیصلہ کرو اور اسے نافذ کر دو۔ اگر تمہیں قانون معلوم نہیں ہے تو خود بھی سوچو اور عالم لوگوں سے جو تمہارے آس پاس موجود ہوں، ان سے بھی مشورہ کرو۔ یہ ایک طرح سے اجتماعی (Collective) اجتہاد کی صورت ہو سکتی ہے۔ خود خلفاء کا بھی یہی معمول تھا۔ حضرت ابو بکر، حضرت عمر، حضرت عثمان، حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے متعلق ہمیں کثرت سے ایسی مثالیں ملتی ہیں کہ کوئی پیچیدہ مقدمہ ان کے سامنے آتا، جس کے بارے میں قرآن و حدیث میں وضاحت کے ساتھ کوئی قانون نہ ملتا تو اجتماع عام کیا جاتا۔ اذان ہوتی، لوگ دوڑتے ہوئے مسجد کی طرف آتے، مسجد میں خلیفہ اُن سے مخاطب ہو کر پوچھتا کہ اس معاملے میں تمہاری کیا رائے ہے؟ اس اجتماع میں ہر شخص رائے دینے کا مجاز تھا، بڑا ہو یا چھوٹا، مرد ہو یا عورت، ہر ایک مشاورت میں شریک ہو سکتا۔ عورتوں کا ذکر اس لیے کرتا ہوں کہ ایک ایسی مثال ہمیں حضرت عمرؓ کے زمانے میں ملتی ہے۔ اس زمانے میں یہ خرابی پیدا ہو گئی تھی کہ بیٹی کا نکاح کرنے سے پہلے لوگ بڑا مہر حاصل کرنے کی کوشش کرتے، اور ہونے والے داماد سے کہتے کہ اتنی رقم دو۔ حضرت عمرؓ نے دیکھا کہ اس طرح بہت سی لڑکیاں بوڑھی ہو جاتی ہیں اور شوہر کا خواب دیکھتی رہتی ہیں، نکاح کا موقع نہیں ملتا۔ انہوں نے حکم جاری کر دیا کہ فلاں مقدار رقم سے زیادہ مہر نہ باندھا جائے۔ حضرت عمرؓ خلیفہ وقت تھے، بہت بڑے صحابی تھے، دیگر صحابہ نے اعتراض بھی نہ کیا، اس اعلان پر مسجد میں ایک عورت اٹھ کھڑی ہوتی ہے، اور کہتی ہے اے عمر، تمہیں ایسا حکم کرنے کا کوئی حق نہیں پہنچتا، یہ قانون نامناسب ہے۔ وہ حیران ہوئے، پوچھا “کیوں ناجائز ہے؟” اس بوڑھی عورت نے کہا “قرآن مجید (22:4) میں ایک جگہ ذکر آیا ہے کہ تم عورت کو مہر میں ایک قنطار یعنی بہت بڑا خزانہ دے چکے ہو تو بھی طلاق کی صورت میں اسے واپس نہ لینا۔ جب خدا نے یہ اجازت دی ہے کہ مہر ایک قنطار باندھا جا سکتا ہے تو عمر کو کیا حق ہے کہ اس قانون کو منسوخ کرے۔” حضرت عمرؓ بہت خدا ترس آدمی تھے، فورا کہہ اٹھے “عمر نہیں سمجھا، بوڑھی عورت سمجھ چکی ہے اس کا بیان ٹھیک ہے۔ میں اپنا حکم واپس لیتا ہوں”۔ حاصل کلام یہ کہ مشورے کی عام اجازت ہے، اس میں عالم و جاہل، بچہ اور بوڑھا، مرد اور عورت کا کوئی فرق نہیں۔ ہر شخص رائے دے گا۔ اس رائے پر اگر لوگوں کا اتفاق ہو تو اس پر عمل کیا جائے گا، ورنہ نہیں، بہرحال رسولﷺ کی رحلت کے بعد خلفائے راشدین کے دور میں ہمیں حکومت کی طرف سے اجتماعی مشورہ، مفتیوں اور قاضیوں کی طرف سے انفرادی آراء کا ملنا نظر آتا ہے۔ اس کا سلسلہ برابر جاری ہے۔
چونکہ مسلمان ابتدائی زمانے ہی میں تین براعظموں، یعنی ایشیاء، یورپ اور افریقہ میں پہنچ گئے تھے، جہاں بیسیوں قوموں سے انہیں سابقہ پڑا، ان کی رعیت میں دس پندرہ مذہب والے لوگ پائے جاتے تھے جن کی عادت و رواج مختلف تھے، لہذا انہیں نئے نئے مقدمے اور مسائل پیش آتے رہے اور ان کے متعلق فیصلے بھی مختلف ہوتے رہے۔ حضرت عثمانؓ کے زمانے کا ایک واقعہ بیان کرتا ہوں۔ قرآن مجید میں غیر مسلم رعایا سے جزیہ لینے کا حکم ہے اور وہاں اہل کتاب کا ذکر ہے۔ حضرت عثمانؓ کے زمانے میں شمالی افریقہ کا وہ علاقہ فتح ہوا جہاں بربر نامی قوم رہتی ہے۔ سوال پیدا ہوا کہ بربر قوم سے جزیہ لیا جائے یا نہیں۔ اس واقعے سے کچھ پہلے حضرت عمرؓ کے زمانے میں ایران کے مجوسیوں یعنی پارسیوں کے متعلق یہی سوال پیدا ہوا تھا۔ جواب آسانی سے مل گیا۔ حضرت عبدالرحمن بن عوفؓ نے اٹھ کر کہا کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا ہے کہ سنو ابھم سنۃ اھل الکتاب فی غیراً کل ذبائحھم و نکاح نسائھم مجوسیوں سے، پارسیوں سے وہی برتاؤ کرو جو اہلِ کتاب سے ہے (یعنی عیسائیوں اور یہودیوں کا قانون ان سے بھی متعلق کرو) بجز دو باتوں کے، ان کا ذبیحہ نہ کھاؤ اور ان کی عورتوں سے نکاح نہ کرو لیکن حضرت عثمانؓ کے زمانے میں بربر کا مسئلہ پیدا ہوا تو رسولﷺ کا کوئی حکم موجود نہ تھا۔ قرآن مجید میں صراحت نہ تھی۔ آخر مشورہ کے بعد خلیفہ نے حکم دیا کہ ان سے جزیہ لو۔ پھر یہ فیصلہ ہوا کہ صرف اہل کتاب ہی نہیں، ساری غیر مسلم اقوام سے جو ہماری رعیت ہوں، جزیہ لیا جائے۔ سندھ پہنچے تو یہاں جو قوم تھی، ان سے جزیہ لیا جانے لگا پھر دوسرے علاقوں میں پہنچے تو برہمنوں سے بھی جزیہ لیا جانے لگا۔ غرض امام ابو یوسف کے الفاظ میں سارے غیر مسلموں سے جزیہ لیا جانے لگا۔ چاہے وہ آگ کی پوجا کریں یا درخت یا پتھر کی پوجا کریں، سب کے ساتھ اسی حیثیت سے برتاؤ کیا جانے لگا، جو اہلِ کتاب کے متعلق قرآن نے کہا ہے اور استنباط کیا کہ قرآنی احکام توضیحی (Illustrative) ہیں، تحدیدی (limitative) نہیں یعنی یہ منشاء نہیں کہ صرف اہل کتاب سے جزیہ لو بلکہ اس طرح کی صورت میں اوروں سے بھی تم لے سکتے ہو۔
حضرت عمرؓ کے زمانے میں ایک واقعہ پیش آیا جسے قانونی نقطہ نظر سے کافی اہمیت حاصل ہے۔ وہ یہ کہ انہوں نے ایک فاضل صحابی حضرت عبد اللہ بن مسودؓ کو معلم کی حیثیت سے کوفہ بھیجا (یوں سمجھئے کہ کوفہ کی یونیورسٹی کے وائس چانسلر کی حیثیت سے) بہرحال انہیں معلم کی حیثیت سے کوفہ بھیجا گیا۔ وہ مورخ نہیں تھے، صوفی نہیں تھے، وہ خالد بن ولیدؓ کی طرح نامور سپاہی بھی نہیں تھے لیکن قانون میں ان کو خاص ملکہ حاصل تھا۔ چنانچہ وہ وہیں درس دیتے رہے۔ ظاہر ہے کہ ان کے درس میں قانونی مباحث اور فقیہانہ عناصر ہمیشہ زیادہ ہوتے تھے۔ جب وہ وہاں بھیجے گئے تو انہیں ایک پروانہ یا تقرر نامہ دیا گیا جس کے الفاظ یہ تھے “اے کوفہ کے مسلمانو! میں رسول اللہ صلی علیہ وسلم کے ایک نہایت محترم صحابی کو تمہارے پاس بھیج رہا ہوں۔ تمہیں شکر گزار ہونا چاہیے کہ میں اپنے آپ پر ایثار کر کے ایسے شخص کو تمہیں دے رہا ہوں۔ اس سے تمہیں معلوم ہو گا ان کی کیا اہمیت ہے۔” حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ اپنی وفات تک وہاں شعبہ قانون کے استاد کی حیثیت سے درس دیتے رہے۔ اس شہر کے باشندوں میں انہیں ایک لائق یمنی شاگرد علقمہ نخعی نامی ملا، جو ان کا بہترین طالب علم تھا۔ عبد اللہ بن مسعودؓ کی وفات کے بعد یہ شاگرد جامع مسجد کوفہ میں قانون کا معلم بنا اور اس نے درس جاری رکھا۔ ان کی وفات ہوئی تو ابراہیم نخعی ایک اور یمنی باشندہ جو کہ شاگرد تھا اور کوفہ میں ہی رہتا تھا، وہ ان کا جانشیں بنا۔ غرض یہ سلسلہ جاری رہا اور یہ شہرت پھیل گئی کہ کوفہ کی مسجد میں فقہ کی تعلیم بہت اچھی ہوتی ہے۔ ابراہیم نخعی کی وفات کے بعد ان کے ایک شاگرد، حماد بن ابی سلیمان، جو عرب نہیں بلکہ ایرانی تھے، وہ جانشین ہوئے۔ وہ بھی قانون کے ماہر تھے اور فقہ کی تعلیم دیتے تھے۔ جب ان کی وفات ہوئی تو ان کا جانشین ایک اور ایرانی شاگرد بنتا ہے۔ یہ امام اعظم ابو حنیفہ رحمت اللہ علیہ ہیں۔ وہ بہت کمسن تھے، اس کے باوجود سب سے بہتر شاگرد سمجھے جاتے تھے۔ حتی کہ خود حماد بن ابی سلیمان کے شاگرد یعنی امام ابو حنیفہؒ کے جو ہم درس طلباء تھے وہ بھی اصرار کرنے لگے کہ :اے ابو حنیفہؒ! استاد کے بعد تم اس کام کو جاری رکھو۔ ابو حنیفہؒ بہت ذہین آدمی اور انسانی نفسیات سے آشنا تھے۔ انہوں نے خیال کیا کہ مجھ جیسے نوجوان کو استاد کی جگہ لوگ دیکھیں گے تو غالباً پسند نہیں کریں گے۔ جب تک انہیں کوئی تشویق نہ دی جائے اور یہ نہ بتایا جائے کہ واقعی ان کے لیکچر بہت اہم ہیں۔ چنانچہ امام ابو حنیفہؒ نے اپنے ساتھیوں سے، جو ان کے رفیق درس تھے، کہا کہ میں اس شرط کے ساتھ قبول کرتا ہوں کہ ایک سال تک تم میرے طالب علموں کی حیثیت سے لیکچروں میں حاضر رہو گے۔ اگر تم اس پر آمادہ ہو تو میں قبول کرتا ہوں۔ وہ بھی مخلص دین دار لوگ تھے انہوں نے کہا “بہت خوب”۔ جب لوگوں نے دیکھا کہ ابو حنیفہؒ وہ استاد ہیں کہ ان کے ہم درس بھی ان کے شاگرد بننے کو تیار ہیں تو انہیں خوشی بھی ہوئی اور اطمینان بھی ہوا کہ واقعی یہ قابل شخص ہو گا، جب ہی تو اس کے ہم جماعت اس کے شاگرد بننے پر آمادہ ہیں۔ امام ابو حنیفہؒ کی اور دوسری خوبیوں کے علاوہ ایک خوبی یہ بھی تھی کہ جب کبھی ان کے پاس کوئی غریب طالب علم آتا وہ مالی مدد بھی کیا کرتے۔ اس طرح لوگوں میں ان کی شہرت و عزت اور ان کا اثر و رسوخ بڑھتا گیا۔ بنی امیہ کا آخری دور تھا۔ یہ زمانہ سیاسی نقطہ نظر سے بہت خراب تھا۔ ملک میں دہشت گردی اور خون ریزی عام تھی۔ حکومت کے جبر و تشدد کے خلاف عوام میں بغاوت کی لہریں اٹھ رہی تھیں۔ غرض بہت ہی نازک زمانہ تھا۔ اس دور کے آخری زمانے یعنی 120ھ کے ایک واقعے کی طرف اشارہ کروں گا۔ امام حسینؓ کے پوتے زید بن علی زین العابدینؒ کو حکومت کے مظالم کی وجہ سے حکومت کے خلاف سخت نفرت پیدا ہوئی، اور وہ بغاوت پر کمر بستہ تھے۔ امام ابو حنیفہؒ ان کو بہت چاہتے تھے اور وہ دل سے خواہاں تھے کہ بنو امیہ کے حکمرانوں کی جگہ زید بن علی خلیفہ بن جائیں۔ ایک دن زید بن علی نے ان سے کہا کہ بہت سے لوگ مجھے مدد دینے پر آمادہ ہو چکے ہیں، اور میں اب حکومت کے خلاف ایک مسلح بغاوت کرنا چاہتا ہوں۔ امام ابو حنیفہؒ نے انہیں رقم دی، لیکن ساتھ دینے سے انکار کر دیا، یہ کہا کہ اگر مجھے یقین ہوتا کہ تمہارے ساتھی آخر تک ساتھ دیں گے تو میں بھی اس فوج میں شریک ہوتا، یعنی حکومت کے خلاف بغاوت میں حصہ لیتا۔ مگر مجھے اطمینان نہیں ہے، میں تمہیں رقم کی حد تک مدد دیتا ہوں۔ چنانچہ وہی پیش آیا جس کا ابوحنیفہ کو اندیشہ تھا۔ یعنی ان کے ساتھی ان کا ساتھ چھوڑ کر چلے گئے، حکومت نے انہیں گرفتار کر لیا اور انہیں قتل کر دیا۔ زید بن علی کی قانون دانی کی وجہ سے ابو حنیفہ کو ان سے محبت تھی۔ زید بن علی بہت بڑے فقیہ تھے اور یہ کہا جا سکتا ہے کہ امام ابو حنیفہؒ نے فقہی معاملات میں ان سے استفادہ کیا تھا۔ کیونکہ وہ امام ابو حنیفہؒ سے زیادہ معمر اور پرانے ماہر تھے۔ زید بن علی نے جو کتاب لکھی اس کا نام ہے “المجموع فی الفقہ” یہ مشہور کتاب ہے اور اسلامی قانون کی قدیم ترین کتاب ہے، جو ہم تک پہنچی ہے۔ یہ کتاب چھپ گئی ہے۔ اس میں ہم دیکھتے ہیں کہ فقہ کی کتابیں آج کل جس انداز و تربیت کی ہوتی ہیں، وہی نہج اس میں موجود ہے۔ آغاز ہوتا ہے “کتاب الطہارۃ” سے، جس میں وضو کے احکام اور غسل کے احکام ہیں۔ پھر نماز کے احکام، روزہ وغیرہ، عبادات کا بیان، پھر معاملات، پھر دوسری چیزوں کا بیان۔ یہ طرح زید بن علی نے ڈالی اور لوگوں کو اتنی پسند آئی کہ بعد میں کسی نے اس میں ترمیم نہیں کی۔ یہ دور گزر گیا اور بنی عباس برسر اقتدار آئے۔ لوگوں کو توقع تھی کہ بنو عباس کے زمانے میں دنیا جنت بن جائے گی مگر انہیں بڑی مایوسی ہوئی۔ مختلف وجوہ سے لوگوں کی توقعات پوری نہیں ہوئیں۔ یہاں تفصیل کا موقع نہیں، صرف یہ عرض کرنا ہے کہ اس دور میں امام ابو حنیفہؒ نے ایک کارنامہ انجام دیا، جو اسلامی قانون کی تاریخ میں سب سے زیادہ اہم اور یادگار کارنامہ ہے۔ اس زمانے میں امام مالکؒ، امام اوزاعیؒ وغیرہ بڑے بڑے فقیہ موجود تھے۔ انہوں نے کتابیں بھی لکھیں لیکن ان کی کوششیں انفرادی تھیں۔ امام ابو حنیفہؒ نے سوچا کہ انفرادی کوشش کی جگہ، اسلامی قانون کی تدوین اگر اجتماعی طور پر کی جائے تو بہتر ہو گا۔ چنانچہ انہوں نے اپنے بہت سے شاگردوں میں چالیس ماہرین قانون منتخب کر کے ایک اکیڈمی قائم کی۔ انتخاب میں اس بات کا خیال رکھا کہ جو لوگ قانون کے علاوہ دیگر علوم اور معاملات کے ماہر ہوں، انہیں بھی اکیڈمی کا رکن بنایا جائے۔ غرض مختلف صلاحیتوں کے ماہرین کو اس اکیڈمی میں جمع کیا گیا۔ اصول یہ تھا کہ ایک فرضی سوال پیش کیا جائے، اگر یوں ہو تو کیا کرنا چاہیے؟ اس مسئلے پر بحث ہوتی۔ بعض اوقات ایک سوال پر ایک ایک ماہ تک بحث ہوتی اور بالآخر جب سب لوگ ایک نتیجے پر پہنچ جاتے تو اس اکیڈمی کے سیکرٹری امام ابو یوسفؒ اسے لکھ لیا کرتے تھے۔ ایسی کچھ تحریریں ہم تک پہنچی ہیں جن میں “قال” “قلنا” “قال””قلنا”یعنی سوال و جواب کی صورت میں کسی مسئلے پر بحث کی گئی ہے۔
خلاصہ یہ کہ امام ابو حنیفہؒ کے زمانے میں اسلامی قانون کی تدوین کی دو کوششیں ہوئیں۔ ایک کوشش حکومت کی طرف سے ہوئی۔ دوسری کوشش پرائیوٹ طور پر امام ابو حنیفہؒ کی طرف سے۔ سرکاری کوشش خلیفہ منصور کی تھی۔ اس نے چاہا کہ اسلامی قانون کو مدوّن کیا جائے اور ساری اسلامی سلطنت میں اسے نافذ کیا جائے۔ اس زمانے میں امام مالکؒ کی بڑی شہرت تھی۔ چنانچہ خلیفہ نے امام مالکؒ کو بلا بھیجا اور کہا کہ تم اپنی کتاب فقہ کو مکمل کر لو۔ میں تمہاری فقہ کی حکومت کا قانون بنا کر نافذ کرنا چاہتا ہوں۔ امام مالکؒ بہت خدا ترس تھے۔ انہوں نے کہا نہیں، ایک آدمی کی رائے سب پر نافذ نہیں ہو سکتی۔ لوگوں کو اختلاف کی اجازت ہونی چاہیے۔ چنانچہ انہوں نے انکار کر دیا۔ مگر اسلامی قانون کی تدوین کی ضرورت تھی۔ وہ کام امام ابو حنیفہؒ نے انجام دیا اور سالہا سال کی کوشش سے ایک ایسا قانون بنایا جس کے متعلق پورے اطمینان کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ وہ Justinian code سے زیادہ مکمل اور زیادہ مناسب ہے۔
اس زمانے میں اور بھی فقیہ پیدا ہوئے اور ان فقہاء کے شاگرد بھی بنتے رہے۔ ایک مختصر جملے پر اسے ختم کرتا ہوں کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں جو فقہاء تھے، ان میں ایک عبد اللہ بن مسعودؓ تھے اور ان کے شاگرد امام مالکؒ تھے۔ مالکی مذہب گویا اس صحابی کی راہ سے پہنچتا ہے۔ ایک اور صحابی عبد اللہ ابن عباسؓ ہیں۔ ان کا قانون اسلامی فرقوں میں سے خوارج کا قانون ہے۔ ایک اور صحابی عبد اللہ ابن عباسؓ، ان کے قانونی احکامات ہمارے شیعہ بھائیوں کے پاس، زید بن علی، اثناء عشری یا فاطمی ائمہ وغیرہ، کے ذریعے سے پہنچتے ہیں۔ پھر اس کے بعد ان علماء کے شاگردوں کے شاگرد، مثلاً امام شافعیؒ ہیں کہ بیک وقت امام ابو حنیفہ کے شاگرد امام محمدؒ کے شاگرد اور امام مالکؒ کے بھی شاگرد ہیں۔ امام شافعیؒ کے شاگرد ہیں امام احمد بن حنبلؒ اور ان کے شاگرد ہیں ظاہری مذہب کے پیشوا داؤد ظاہری۔ غرض شیعہ سنی کا کوئی فرق نہیں، سب ایک دوسرے کے شاگرد ہیں اور خود ایک دوسرے کے مماثل۔
والسلام وعلیکم و رحمت اللہ و برکاتہ

سوالات و جوابات

برادران کرام! خواہران محترم! السلام علیکم و رحمت اللہ و برکاتہ!
مختلف سوالات کیے گئے ہیں، اپنی بساط کے مطابق جواب دینے کی کوشش کرتا ہوں۔

سوال1:
حضرت معاذؓ کو حضور اکرمﷺ کے ارشاد “فان لم تجد” سے قرآن و حدیث کا ناکافی ہونے کا استدلال کیا گیا۔ حالانکہ “فان لم یکن” کے الفاظ نہیں فرمائے۔ قرآن میں اپنے ذہن کے مطابق کوئی چیز تلاش نہ کر سکنے سے یہ لازم نہیں آتا کہ قرآن میں ہے ہی نہیں۔ آیت (الیوم اکملت لکم دینکم) کی روشنی میں کیا یہ کہنا بہتر نہ ہو گا کہ اصولی طور پر قرآن کامل اور کافی ہے لیکن اگر اس سے کوئی مسئلہ انسانی ذہن کسی وقت استنباط نہ کر سکے، تو اجتہاد کر لے۔ اس صورت انسانی ذہن کا قصور ہو گا، نہ کہ کتاب اللہ کا ناکافی ہونا ثابت ہو گا۔

جواب:
الفاظ کا پھیر ہے، دونوں کا مقصد ایک ہی ہے۔ البتہ میں یہ عرض کروں گا کہ آیت : (الیوم اکملت لکم دینکم) (3:5) میں قرآن و حدیث اور اجماع، تینوں شامل ہو جائیں گے، تنہا قرآن ہی نہیں ہو گا۔ کیونکہ قرآن ہی نے کہا کہ رسول اللہﷺ کی اطاعت کرو ۔ قرآن نے کہا ہے کہ (مَنْ یطِعِ الرَّسُولَ فَقَدْ أَطَاعَ اللَّهَ) (80:4) رسول اللہﷺ کی اطاعت کرنا اللہ کی اطاعت کرنا ہے۔ وہاں یہ نہیں کہا گیا کہ صرف قرآن پر عمل کرو اور خود رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ اگر قرآن میں نہ ملے تو حدیث میں تلاش کرو، حدیث میں نہ ملے تو اجتہاد کرو۔ تو آپ کا اور میرا مقصد ایک ہی ہے۔ الفاظ کی ترتیب میں تھوڑا سا فرق ہے۔

سوال 2:
اسلامی قانون میں دو عورتوں کی شہادت کو ایک مرد کے برابر قرار دیا گیا ہے، کیا اس صورت میں عورت کو آدھا مرد نہیں بنایا گیا؟

جواب:
میں سمجھتا ہوں کہ اس سوال میں ایک بنیادی اصول نظر انداز کر دیا گیا ہے، وہ یہ کہ قدرت کبھی دو چیزوں کو بالکل مماثل نہیں بناتی۔ ایک کو دوسرے کی تکمیل کے لیے Complementary بناتی ہے۔ ورنہ اگر ایک ہی طرح کی دو چیزیں ہوں تو وہ Redundant یعنی مکرر ہو جائیں گی اور یہ قدرت کی طرف سے ایک ضیاع ہو گا۔ قدرت نے مرد کو یا عورت کو مکمل شخصیت نہیں بنایا کہ Self-production کریں، عورت کو مرد کی ضرورت نہ ہو، وہی تنہا اپنے بچے پیدا کرے یا مرد کو بیوی کی ضرورت نہ ہو، وہی تنہا ایک دوسرا انسان خود ہی تخلیق کرے۔ بلکہ اس کی جگہ ایک کو دوسرے کے تعاون سے مکمل کرنے کا بندوبست اپنی حکمت کے تحت کیا ہے۔ ان حالات میں اگر اسلامی قانون دو عورتوں کی شہادتوں کو ایک مرد کے برابر قرار دیتا ہے تو اس کے اس پہلو پر جانے کی جگہ کہ دو عورتوں کو ایک مرد کے برابر قرار دیا گیا ہے، اگر اس پر سوچیں کہ ایسا کیوں کیا گیا، تو میرے خیال میں زیادہ صحیح اصول ہو گا، اور اس کا جواب میں اپنی طرف سے یہ دوں گا کہ دونوں کے فرائض منصبی مختلف رکھے گئے ہیں۔ ایک عورت کو، چاہے وہ مانے یا نہ مانے، بچے کی ماں بننا پڑے گا، اور اسے بچے کی پرورش کا فریضہ انجام دینا ہو گا۔ اسی طرح مرد کبھی بچہ جن نہیں سکے گا، چاہے وہ کتنا ہی خواہشمند کیوں نہ ہو۔ ان حالات میں جب عورت کا یہ فریضہ کہ وہ اپنے دودھ پیتے ننھے بچے کی پرورش کرے اور ساتھ ہی اس کے ذمے وہ فرائض بھی کر دیے جائیں جو مرد انجام دیتا ہے تو نہ عورت اپنا کام انجام دے سکے گی نہ مرد اپنا کام انجام دے سکے گا۔ مختلف وجوہ سے اسلامی شریعت نے عورت کو پردہ کرنے کا حکم دیا ہے۔ عورتوں کو مردوں کے ساتھ مخلوط ہونے کی تشویق نہیں دلائی۔ ان حالات میں جس طرح مرد کو اور مردوں کی ملاقات کی آسانی ہوتی ہے، اس طرح ایک عورت کو دوسرے مردوں سے ملاقات کرنے کی سہولت ہماری اسلامی سوسائٹی میں نہیں ہوتی۔ لہذا یہ ناگزیر تھا کہ ایک کی جگہ دو عورتوں کی شہادت کو طلب کیا جائے تاکہ دونوں کی شہادت سے واقفیت اور معلومات ہو سکیں۔ اس میں عورتوں کی توہین نہیں ہے بلکہ عورت کے فرائض منصبی کی موجودگی میں اس کی سہولت اور امکانات کا لحاظ رکھ کر اس کو یہ موقع دیا گیا ہے، ورنہ ممکن ہے، یہ کہہ دیا جاتا کہ عورت کی شہادت قبول ہی نہ کی جائے۔ اس کے برخلاف یہ کہا گیا کہ نہیں عورت کی شہادت قبول کی جائے، وہ بھی انسان ہے۔ جیسے وراثت میں اسلام سے پہلے عورت کو کوئی حصہ نہیں ملتا تھا، قانون وراثت کے نقطہ نظر سے غالباً پنجاب کی روایات میں بھی یہ چیز رہی ہے کہ عورتوں کو حصہ نہیں ملتا۔ اسلام نے کہا نہیں عورتوں کو بھی حصہ ملے گا لیکن چونکہ عورت کے واجبات کمتر ہوں گے لہذا عورت کا حصہ کم ہو گا۔ آپ کو علم ہو گا کہ ایک عورت خواہ بیٹی ہو یا بیوی ہو یا ماں ہو، ہمیشہ کسی مرد کے زیر کفالت رہتی ہے۔ اسے نفقہ دلایا جاتا ہے اور اگر اس کا قریبی رشتہ دار، بیٹا یا باپ یا شوہر وغیرہ نفقہ نہ دیں تو قانون اس مرد کو مجبور کرتا ہے کہ وہ نفقہ دے۔ عورت کی پرورش کا انتظار مرد کے ذمے کر دیا گیا ہے لیکن اگر کبھی مرد کو ضرورت پیش آئے تو کسی عورت کو مجبور نہیں کیا جاتا کہ وہ اس مرد کا نفقہ ادا کر ے۔ ان حالات میں ناگزیر تھا کہ قانون وراثت میں عورت کو حصہ کم دیا جائے۔ پھر یہ بھی نہیں کہ چونکہ عورت کے سارے مصارف قانوناً دوسرے کی طرف سے ادا ہو جاتے ہیں، اس لیے عورت کو حصہ بالکل ہی نہ دیا جائے۔ ہو سکتا تھا مگر اسلام نے عورت کے ساتھ ایک ایسا برتاؤ کرنا مناسب سمجھا جو اس کے وقار اور اس کی ضرورتوں کے مطابق ہو۔ ان حالات میں، میں سمجھتا ہوں کہ قانون شہادت میں یہ اصول پیش نظر رکھا گیا کہ چونکہ عورت کو مردوں کے ساتھ ملنے جلنے کے مواقع مقابلتاً کم ہوتے ہیں، لہذا ایک کی بجائے دو عورتوں کی شہادت ضروری ہے۔ یہ میری ذاتی رائے ہے لیکن یہ واضح رہے کہ میں قانونِ شہادت کا ماہر نہیں ہوں۔

سوال3:
غلامی کو یکسر ختم نہ کر کے انسانیت کے ناسور کو برقرار رکھا گیا ہے، اس کا کیا جواز ہو سکتا ہے؟

جواب:
اس کا جواز یہ ہے کہ بعض انسان معقول چیز کو ماننے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ ان کو مجبور کرنا پڑتا ہے کہ یہ چیز مان لو۔ ہمارے زمانے میں بھی ایسی قومیں ہیں، مثلاً جنوبی افریقہ میں، جہاں اپنے باپ آدم ہی کی دوسری اولاد کو، جس کا رنگ اتفاق سے کالا ہو گیا ہے، مساوات کا حق دینے کے لیے تیار نہیں ہیں، چاہے ساری دنیا متفقہ طور پر مجلسِ اقوامِ متحدہ میں اس کا مطالبہ کیوں نہ کرے۔ کیا ان حالات میں یہ مناسب نہ ہو گا کہ ایسے لوگوں کو جو ہٹ دھرمی پر تلے ہوئے ہیں، ایک ایسے ذریعے سے مجبور کیا جائے جو غلامی کا نام تو رکھتی ہو، لیکن حقیقت میں ان انسانوں کے لیے ایک تربیت گاہ ہے جو دوسرے انسانوں کو اپنے برابر آمادہ کرنے پر تسلیم نہ ہوں، اس لیے اسلام نے غلامی کو لازمی قرار نہیں دیا ہے بلکہ جائز قرار دیا ہے تاکہ بوقت ضرور اس سے استفادہ کیا جائے۔ میں آپ کو پیچھے لے جانا چاہتا ہوں کہ غلامی شروع کیسے ہوئی؟ اس کے بعد آپ واقعی یہ سمجھیں گے کہ غلامی اتنی بری چیز نہیں ہے۔ غلامی کی تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ پرانے زمانے میں ہمارے ہی آباؤ اجداد جب لڑتے تھے اور کسی دوسرے انسان کو مغلوب کر لیتے تھے تو اسے قتل کر کے کھا جاتے تھے۔ اس کے بعد زمانے میں نیک طینت انسانوں نے سوچا کہ ان کو مار کر کھانے کے بجائے ان سے خدمت لی جائے۔ اپنے دشمن کو قتل کرنے کی بجائے اس کو زندہ رکھا جائے اور پھر زندہ رہنے کے بعد، اسلام میں اس کے امکانات بھی رہیں کہ اس کو آزاد کیا جائے۔ غلام بنانا اسلام ہی میں نہیں ہے بلکہ دنیا کی کوئی ایک قوم بھی ایسی نہیں ملتی جس کے ہاں غلام نہ ہوں۔ اسلام نے غلامی کے متعلق جو احکام دیے ہیں، میں ان کا مختصرا ذکر کرتا ہوں۔ پہلی چیز وہی ہے جو میں بیان کر چکا ہوں کہ غلام بنانا واجب نہیں ہے، صرف جائز ہے اس سے حسب ضرورت استفادہ کیا جا سکتا ہے۔ دوسری چیز یہ ہے کہ اسلام نے حکم دیا ہے کہ غلاموں کو آزاد کرنا ایک بہت بڑی نیکی ہے : (فَلَا اقْتَحَمَ الْعَقَبَةَ • وَمَا أَدْرَاكَ مَا الْعَقَبَةُ • فَكُّ رَقَبَةٍ •) (90،11،12،13)
آپ کو یہ سن کر حیرت ہو گی کہ توریت اور انجیل میں غلام بنانے کا تو ذکر ہے لیکن غلام کی آزادی کا قطعاً کوئی ذکر نہیں۔ ایک بھی ایسی آیت توریت اور انجیل میں نہیں ہے جس کی رو سے غیر یہودی غلاموں کو آزاد نہیں کیا جا سکتا ہو۔ اس کے برخلاف قرآن میں کہا گیا ہے کہ غلاموں کو آزاد کرنا ایک بہت بڑی نیکی ہے اور آگے چلئے، مختلف گناہوں کا کفارہ دینے کے لیے قرآن نے حکم دیا ہے کہ غلام کو آزاد کرو۔ مثال کے طور پر ایک شخص اپنی بیوی کو “ظہار” نامی طلاق دے کے پچھتائے یا کسی مسلمان کو غلطی سے قتل کر دے تو علاوہ خون بہا کے، قرآن نے یہ حکم دیا ہے کہ غلام کو آزاد کر کے کفارہ دو۔ اگر غلام تمہارے پاس نہ ہو تو اس صورت میں دوسرے کام سر انجام دے سکتے ہو، مگر غلام آزاد کرنے کا حکم شروع میں آتا ہے۔ ایسی تین چار چیزیں تو قرآن مجید میں صراحت کے ساتھ بیان کی گئی ہیں۔ اور آگے چلئے قرآن مجید نے حکم دیا ہے کہ اگر غلام اس پر آمادہ ہے کہ اپنی مالیت کی رقم جمع کر کے اپنے آقا سے مطالبہ کرے کہ اس رقم کو لے کر اس کو آزاد کر دے تو آقا انکار نہیں کر سکتا، قانون اس آقا کو مجبور کرے گا کہ اس معاوضے کو قبول کرے اور غلام کو آزاد کرے۔ یہی نہںو بلکہ وہ کاروبار کر کے اور دوسرے وسائل سے اپنی مالیت جمع کرنے کی کوشش کر سکتا ہے اور مطلوبہ رقم جمع ہو جائے تو آقا کو دے کر فی الفور آزاد ہو جائے گا۔ اس سے بھی آگے چلئے، قرآن مجید میں ایک آیت ہے جسے ہم اسلامی حکومت کے بجٹ کا اساسی اصول کہہ سکتے ہیں۔ یعنی یہ کہ سرکاری آمدن کو کن مدات میں خرچ کیا جائے (إِنَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَاءِ وَالْمَسَاكِینِ وَالْعَامِلِینَ عَلَیهَا وَالْمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُهُمْ وَفِی الرِّقَابِ) (60:9) اس میں “فی الرقاب” ایک لفظ آیا ہے۔ لفظی معنی یہ ہیں کہ سرکاری آمدنی خرچ کی جائے، گردنوں کو چھڑانے کے لیے۔ اس پر سارے مفسرین اور فقہاء متفق ہیں کہ “رقاب” سے مراد دو قسم کے لوگ ہیں، ایک تو وہ مسلم یا غیر مسلم غلام جو ہماری ملکیت میں ہوں، ان کی رہائی کے لیے یہ سرکاری رقم لگائی جائے دوسرے ہماری رعایا کے مسلم یا غیر مسلم لوگ جو دشمن کے ہاتھوں قید ہو جائیں۔ ان کے فدیہ دینے کی بھی ضرورت ہے۔ اگر حکومت کے بجٹ میں سالانہ ایک مخصوص رقم ملک کے غلاموں کو آزاد کرانے کے لیے رکھنا لازمی ہو تو بہت آسانی سے ہم سمجھ سکتے ہیں کہ کچھ ہی دنوں کے بعد اس ملک میں ایک بھی غلام باقی نہیں رہے گا۔ کیا ایسی کوئی مثال دنیا کی کوئی متمدن حکومت بھی پیش کر سکتی ہے؟ آج بھی لوگوں کو غلام بنایا جاتا ہے، ان کی مرضی کے خلاف Concentration کیمپوں میں بھیجا جاتا ہے، جہاں وہ غلاموں سے بھی بدتر زندگی گزارتے ہیں۔ بہرحال میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ اگر غلامی انسانیت کے لیے ناسور ہے تو کم از کم ‘اسلامی غلامی’ انسانیت کے ناسور کا علاج ہے۔

سوال 4:
براہ کرم شرع اور قانون فقہ کا فرق واضح فرمائیں۔ اگر ایک ہی مفہوم میں یہ اصطلاحات استعمال ہوتی ہیں تو عرب دنیا کی یونیورسٹیوں میں کلیۃ الشریعۃ و القانون علیحدہ علیحدہ کیوں بیان ہوتے ہیں؟

جواب:
عرض یہ ہے کہ اصولاً ان دونوں میں کوئی فرق نہیں، لیکن اسلامی ممالک میں ہماری بدقسمتی سے ہماری حالیہ تاریخ میں ہم کو ضرورت پیش آئی کہ اپنا قانون چھوڑ کر غیروں کے قانون پر عمل کریں۔ ہماری فرنگی حاکموں نے ہمارے لیے ایسے قانون بنائے جن کو ہم اسلامی قانون کے مطابق نہیں پاتے، وہ قانون اسلامی قانون نہیں ہے۔ لہذا شرعی قانون اور غیر اسلامی قانون میں فرق کرنے کے لیے ایک کو “شریعۃ” یا اسلامی فقہ اور دوسرے کو صرف “قانون” کہا جاتا ہے۔
سوال 5: دو جڑواں بہنیں پیدا ہوئیں۔ ان کے بازو آپس میں جڑے ہوئے تھے۔ اسی طرح جوان ہو گئیں۔ انہیں ایک ساتھ بھوک لگتی ہے اکٹھے ہی بخار ہوتا ہے۔ لیکن جب شادی کا مسئلہ پیدا ہوا تو بعض نے کہا کہ ان کی شادی نہیں ہو سکتی۔ بعض نے کہا کہ ان کی شادی الگ الگ مردوں سے ہونی چاہیے۔ مولانا مودودی صاحب نے فتویٰ دیا کہ ان بہنوں کی شادی ایک مضبوط صحت مند مرد سے کر دینی چاہیے۔ آپ اس کی بارے میں کیا رائے ہے؟ جواب ضرور دیں۔
جواب: یہ سوال مشکل ہے، اس لیے میرا جواب متذبذب ہی رہے گا اور وہ یقینی جواب نہیں ہو گا۔ ابھی چند مہینے پہلے کی بات ہے، پیرس کے اخباروں میں ایک مماثل خبر شائع ہوئی۔ وہاں جو حل کیا گیا تھا، اس کا ذکر وہاں کے ایک فرانسیسی اخبار میں آیا، وہ میں آپ سے بیان کر دیتا ہوں کہ ان دو بہنوں کی شادی ایک جڑواں جوڑے سے کی گئی جس میں دونوں مرد ہی تھے۔ ایک حل یہ بھی ہے جس پر اب آسانی سے عمل ہونے لگا ہے۔ جراحی (سرجری) اب اتنی ترقی کر گئی ہے کہ جڑواں لوگوں کے اگر صرف ہاتھ جڑے ہیں یا صرف پیٹھ جڑی ہے، یا صرف پاؤں، تو آسانی سے آپریشن کے ذریعے علیحدہ کیا جا سکتا ہے۔ اس کے بر خلاف اگر وہ اس طرح جڑے ہوئے ہیں، مثلاً پیٹ مشترک ہے تو ظاہر ہے اس صورت میں ان کا آپریشن کرنا ناممکن ہے۔ بہرحال یہ ایسی نادر صورتیں ہیں کہ ان کے بارے میں کوئی عام قانون نہیں بنایا جا سکتا۔ میں کہہ سکتا ہوں کہ مولانا مودودی صاحب ایک اچھے عالم تھے، اور خدا ترس بھی تھے۔ انہوں نے جو فتویٰ دیا ہے اس پر عمل کیا جا سکتا ہے اگرچہ مجھے دو بہنوں سے ایک ساتھ نکاح کرنا غلط معلوم ہوتا ہے جس کی قرآن (23:4) نے (وَأَنْ تَجْمَعُوا بَینَ الْأُخْتَینِ) کہہ کر صریحاً ممانعت کی ہے۔ مں بہتر یہ سمجھتا ہوں کہ ان جڑواں بہنوں کا دو الگ مردوں سے نکاح کیا جائے اور جب ایک بہن کے پاس اس کا شوہر آئے تو تھوڑی دیر کے لیے دوسری بہن چادر اوڑھ کر خود کو غائب کر لے، دو بہنوں سے ایک ساتھ نکاح کرنے کے مقابل میں یہ کم تر برائی ہو گی۔ شاید اس عمل سے بھی استفادہ کیا جا سکا ہے جو فرانس میں پیش آیا تھا۔ بذات خود کوئی خاص جواب دینے سے اپنے آپ کو عاجز پاتا ہوں۔

سوال 6:
فقہ جعفریہ اور فقہ حنفیہ میں کیا فرق ہے؟ ان میں اختلاف کی وجہ کیا ہے، جبکہ امام ابو حنیفہؒ، امام جعفرؒ کے شاگرد بیان کیے جاتے ہیں۔ فقہ جعفریہ کے نافذ کرنے میں کیا قباحت درپیش ہے؟

جواب:
اس سوال میں ذرا سی خامی ہے۔ یہ فرض کر لیا گیا ہے استاد اور شاگرد سو فیصد متفق ہوں گے۔ چونکہ امام ابو حنیفہؒ، امام جعفر الصادقؒ سے درس لیے تھے لہذا ان دونوں کے خیالات میں کوئی فرق نہیں ہونا چاہیے۔ یہ میرے نزدیک علمی اور واقعاتی نقطہ نظر سے سو فیصد صححا نہیں ہو گا۔ دونوں میں اختلاف رائے تھا۔ حتیٰ کہ امام ابو حنیفہؒ اور ان کے دو شاگرد امام ابو یوسفؒ اور امام محمدؒ میں اختلاف رہا ہے۔ یہاں تک گمان کیا جاتا ہے کہ فقہ حنفی میں 15 فیصد باتوں میں امام ابو حنیفہؒ کی رائے پر، اور باقی چیزوں میں ان کی رائے کے بر خلاف ان کے شاگردوں، امام ابو یوسفؒ اور امام محمدؒ، کی رائے پر عمل کیا جاتا تھا، تو ان حالات میں یہ کہنا کہ فقہ جعفری اور فقہ حنفی بالکل یکساں ہیں درست نہیں، جب وہ یکساں نہیں ہیں تو ظاہر ہے کہ جو لوگ امام ابو حنیفہؒ کی رائے کو ترجیح دیتے ہیں وہ امام جعفر الصادقؒ کی رائے کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہوں گے۔ کیونکہ امام جعفر الصادقؒ نبی نہیں ہیں، انسان ہیں۔ نبی کے سوا، کم از کم سنیوں کے نزدیک، کوئی اور معصوم نہیں ہوتا، اور رسول اللہﷺ نے خود ہی پوری صراحت کے ساتھ بیان فرما دیا کہ علماء میں آپس میں اختلاف رائے ہو تو اس میں کوئی حرج نہیں، بلکہ وہ خدا کی رحمت ہی ہے۔ ان حالات میں اگر امام ابو حنیفہؒ اپنے استاد امام جعفر الصادقؒ سے اختلاف کرتے ہیں تو استاد کی توہین کے لیے نہیں بلکہ پوری دیانتداری کے ساتھ پوری خدا ترسی کے ساتھ وہ جو رائے رکھتے ہیں، اسے بیان کرتے ہیں، جب قانون میں اختلاف ہے تو ان حالات میں اگر ایک ہی قانون سارے فرقوں کے لیے نافذ کیا جائے، تو وہ کہ پاکستان میں جعفری فقہ نافذ کرنا چاہیں اور حنفیوں کی تعداد بہت بڑی اکثریت رکھتی ہے، تو انہیں مجبور کرنا ایک شورش پیدا کرنے کا وسیلہ بنے گا اور بالکل بے سود سی چیز ہو گی۔ وہ اس پر عمل نہیں کریں گے۔ میں ایک مثال آپ کو دیتا ہو اس سے اندازہ ہو گا کہ دونوں قوانین میں کس قسم کا فرق پایا جاتا ہے۔ اگر کسی شخص کی وفات ہو جائے اور اس کا ایک بھانجا اور ایک بھتیجا موجود ہو تو حنفی قانون کہتا ہے کہ بھانجے کو کچھ حصہ نہیں ملے گا اور پوری رقم بھتیجے کو ملے گی اور جعفری قانون کہتا ہے کہ پورا ورثہ بھانجے کو ملے گا، بھتیجا محروم رہے گا، ان حالات میں آپ بتائیں کہ ہم ایک ہی قانون کیسے سارے لوگوں پر نافذ کریں، جبکہ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ یوں ہونا چاہیے اور کچھ لوگ اس ماخذ یعنی قرآن و حدیث سے استنباط کر کے یہ کہتے ہیں کہ یوں نہیں ہونا چاہیے۔ میرا خیال یہ ہے کہ ایک ہی قانون سارے فرقوں کے لوگوں پر نافذ کرنا مناسب نہیں، یعنی جہاں تک personal قوانین کا تعلق ہے۔ البتہ جو اجتماعی قوانین میں، ان میں فرق نہیں کیا جا سکتا۔ مثلاً پارلیمنٹ کے انتخابات، انتظامیہ Administration کے معاملات وغیرہ۔ اس میں ملک کے مختلف نمائندوں کی اکثریت جو اصول طے کرے گی اس پر عمل کرنا ہو گا۔ کیونکہ ان مسائل کے متعلق تفصیلیں قرآن و حدیث میں ہمیں نہیں ملیں گی۔ مثلاً نظامِ حکومت کیا ہو؟ اس بارے میں اسلام کوئی حکم نہیں دیتا۔ بادشاہت بھی جائز ہے اور اگر جمہوریت ہو تو وہ بھی جائز ہے اور جماعت کی حکومت ہو تو وہ بھی جائز ہے۔ ان سب کو جب اسلام جائز قرار دیتا ہے تو ان حالات میں ہر دور کے اور ہر ملک کے لوگ باہم مشاورت کے ساتھ خود ہی طے کریں گے کہ ہمیں کون سا طرز حکومت اپنے زمانے کے لیے اختیار کرنا چاہیے۔ آپ شاید اس بات کو ضرورت سمجھیں کہ میں بتا دوں کہ میں کیوں بادشاہت کو بھی جائز قرار دیتا ہوں۔ بعض احباب فوراً کہیں گے کہ قرآن مجید میں ملکہ سبا بلقیس کے ضمن میں ذکر آیا ہے (إِنَّ الْمُلُوكَ إِذَا دَخَلُوا قَرْیةً أَفْسَدُوهَا) (34:27) (جب بادشاہ کسی فاتحانہ بستی میں داخل ہوتے ہیں تو وہاں فساد برپا کرتے ہیں) اس سے ہمارے بھائی استدلال کریں گے کہ بادشاہت کے خلاف حکم ہے، مگر میں بڑے ادب کے ساتھ عرض کروں گا کہ قرآن مجید میں اچھے بادشاہوں کا ذکر بھی ہے، اور برے بادشاہوں کا بھی، جہاں ایک طرف فرعون اور نمرود جیسے ظالم بادشاہ کا ذکر آیا ہے، وہاں حضرت داؤد اور حضرت سلیمان علیہم السلام جیسے پیغمبروں کو بھی بادشاہ کا لقب دیا گیا ہے۔ جب ایسے جلیل القدر پیغمبر بادشاہت کر چکے ہیں تو پھر ہم اسے حرام کیسے قرار دے سکتے ہیں۔ قرآن میں یہ آیت جو بلقیس کے سلسلے میں آئی ہے اس کا جواب میں یہ دوں گا کہ یہ بلقیس کے خیالات تھے جو قرآن نے نقل کیے ہیں اس سے زیادہ ان کی کوئی اہمیت نہیں ہے، اگر آپ کے خیال میں بادشاہت مناسب ہے تو اسے اختیار کیجیے، آپ کے خیال میں مناسب نہیں ہے تو نہ کیجیے۔ خود ہمارے رسول اکرمﷺ نبی ہی نہیں ساتھ ساتھ بادشاہ بھی رہے ہیں۔ یہ آپ کی توہین نہیں بلکہ آنچہ خوباں ہمہ دارند تو تنہا داری کا مصداق ہے۔

سوال 7:
کیا عصرِ حاضر کے اہم مسائل کو مشاورتی طریق سے ممالک اسلامیہ کے ممتاز علماء اور اسکالر کا ایک عالمی بورڈ بنا کر، حل کیا جا سکتا ہے؟ اس کا طریق کار یا اس کے عملی انتظامات کیا ہونے چاہئیں؟

جواب:
میں اسے ناقابل عمل پاتا ہوں۔ اس لحاظ سے کہ ان علماء کی ضرورت صرف ایک دن کے لیے ایک ہفتے کے لیے نہیں ہو گی۔ ساری دنیا کے ماہر ترین علماء کو آپ بے شک بہاولپور میں جمع کر سکتے ہیں۔ ایک دن کے لیے یا ایک ہفتے کے لیے، یا ایک ماہ کے لیے لیکن ان کو ساری عمر یہاں رکھا جائے یہ ناممکن ہو گا۔ عالمی بورڈ کا یہ منصوبہ ناقابل عمل ہے لیکن اگر اجماع کی صورت پیدا کرنے کے لیے کوئی ادارہ تشکیل دینا مقصود ہو تو اس بارے میں تفصیل سے بحث کرنے کا موقع نہیں۔ البتہ مختصراً کچھ عرض کیے دیتا ہوں۔ میرا خیال ہے کہ اسلامی ممالک کا جو ذکر یہاں کیا گیا ہے، وہ ناکافی ہو گا۔ مسلمان علماء چاہے جہاں کہیں ہوں، روس میں ہوں یا امریکہ میں، یا پاکستان میں، ان کے ساتھ تعلق رکھنے، اور ان کے مشوروں سے استفادہ کرنے کے لیے یہ ضروری نہیں کہ انہیں ایک جگہ بلا لیا جائے یا ایک جگہ رہنے پر مجبور کیا جائے۔ اس کے بر خلاف یہ ہو سکتا ہے کہ ہر ملک میں علماء کی ایک انجمن بنے، جس کو ایک صدر مرکز سے منسلک کر دیا جائے۔ صدر مرکز کی طرف سے جب ایک سوال کسی ملک کو جائے گا۔ مثلاً فرانس کو، تو فرانس کی انجمن کا سیکرٹری فرانس میں رہنے والے سارے مسلمان ماہرینِ فقہ اسلامی کو اس کی نقل بھیجے گا اور ان سے کہے گا کہ اس بارے میں آپ اپنی رائے سے جلد از جلد مدلل طور پر اطلاع دیجیے۔ جب وہ جوابات جمع ہو جائیں تو ان کا خلاصہ صدرِ مرکز کو بھیج دے کا۔ اس طرح صدرِ مرکز کے پاس تمام ممالک کی انجمنوں سے جوابات آئیں گے۔ صدرِ مرکز کے سیکرٹریٹ میں ان جوابات کو مرتب کیا جائے۔ اگر اتفاق رائے ہو تے اسے اجماع قرار دیا جائے اور اگر اتفاق رائے نہیں ہے تو صدر مرکز کو چاہیے کہ دوبارہ وہی سوال ساری شاخوں میں گشت کرائے، اور موافق اور مخالف دونوں فریقوں کی آراء کے ساتھ دلائل کی وضاحت بھی کرے۔ اس مکرّر گشت کے موقع پر ممکن ہے جو لوگ ایک خاص رائے رکھتے تھے اب اپنے فریق مخالف کی دلیلوں کو معقول سمجھ کر اپنی رائے بدل دیں۔ جب بار دیگر جوابات آئیں گے، اس وقت ان کو دوبارہ شائع کیا جا سکتا ہے۔ اتفاق رائے ہو گیا ہے تو الحمد للہ اور اگر اتفاق نہیں بھی ہوا ہے تب بھی ہم کہہ سکتے ہیں کہ اتنے لوگ یا فلاں فلاں لوگ یہ رائے رکھتے ہیں، فلاں فلاں لوگ دوسری رائے رکھتے ہیں۔ یہ طریقہ قابلِ عمل ہو گا۔ اس سے ایک شخص جو خاص معیّن کام پر نہیں ہے بلکہ اس ملک کا دوسرا ہے اس کی رائے سے ہم یہاں رہ کر بھی استفادہ کر سکتے ہیں۔

سوال 8:
قرآن کریم نے ربوٰا کو حرام قرار دیا ہے۔ وہ کون سا ربوا ہے؟ کیا کمرشل انٹرسٹ پر اس کا اطلاق ہو گا یا نہیں ہو گا۔ اگر ہو گا تو اس کی علّت کیا قرار دی جائے گی؟

جواب:
میں معاشیات (Economics) کا ماہر نہیں ہوں لیکن میں سمجھتا ہوں کہ ربوا ممنوع ہے۔ ربوا کا مقصد یہ رہا ہے کہ یک طرفہ جوکھم سے منفعت حاصل کی جائے۔ مثلاً ایک شخص سے کچھ رقم بطور قرض حاصل کرتا ہوں اور وعدہ کرتا ہوں کہ اس کو قرض کی ادائیگی تک سالانہ مثلاً 5 فی صد زائد رقم بطور سود ادا کروں گا۔ قرض کی رقم سے میں تجارت کرنا چاہتا ہوں۔ فرض کیجیے کہ مجھے اس تجارت کی منفعت میں سے 5 فی صد سود سالانہ ادا کرنا ہے۔ اگر منفعت اس سے زیادہ ہو اس صورت میں تو کوئی دشواری نہ ہو گی لیکن یہ بھی ممکن ہے کہ مجھے ایک سال خسارہ ہو۔ اس خسارے کے باوجود میرے لیے لازم ہو گا کہ قرض دہندہ کو حسبِ وعدہ 5 فی صد سالانہ ادا کروں کیونکہ وہ نقصان میں شریک نہیں، صرف منفعت میں شریک ہونا چاہتا ہے۔ اسے اسلام کے اخلاقی اقدار کے منافی قرار دے کر منع کر دیا گیا ہے۔ اس کے بر خلاف اگر ایسے بینک کا سود ہو جس میں قرض دہندہ اور قرض حاصل کنندہ، دونوں منفعت اور خسارے میں برابر کے تناسب سے شریک رہنے پر آمادہ ہیں تو وہ ربوا نہیں رہتا۔ اسے اسلام جائز قرار دیتا ہے۔

سوال 9:

حکومت جو دیگر ممالک سے سودی قرض لیتی ہے کیا اس قسم کا سودا کرنا جائز ہو گا؟

جواب:
اس کا جواب میرے لیے ناممکن ہے، اس لیے کہ حکومت بعض وقت مجبور ہوتی ہے اور وہی اپنے مفاد کو بہتر سمجھتی ہے۔ چونکہ میں اس کے رازوں میں شریک نہیں ہوں اس لیے کچھ کہہ نہیں سکتا۔ حکومت ہی نہیں، ہم آپ بھی بوقت ضرورت قرض لینے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ فرض کیجیے کہ اس وقت کوئی اللہ کا بندہ مال دار شخص ہمیں بے سود قرض دینے کے لیے نہیں ملتا تو ہم کیا کریں؟ مجبوراً قرض لیں گے اور سُود ادا کرنے کا وعدہ کریں گے۔ خدا شاید ہمیں معاف کر دے گا لیکن اس سُود خور کو معاف نہ کرے گا۔ حکومت بھی اگر سودی قرض لینے پر مجبور ہے تو ممکن ہے خدا اس کی نیک نیتی سے واقف ہو اور اسے معاف کر دے۔ اگر اس کا منشاء شاندار محل بنانا ہے تو اللہ اسے بھی سزا دے سکتا ہے۔

سوال 10:
داڑھی عرب کا خاص رواج ہے، یہاں تک کہ مشرک لوگ بھی داڑھی رکھتے تھے۔ رسم و رواج شرعی نقطہ نظر نہیں بن سکتے لیکن آج کل داڑھی کو سنت مؤکدہ سمجھا جاتا ہے۔ از راہِ کرم اس کی وضاحت کریں۔ شکریہ۔

جواب:
میں عرض کروں گا کہ مشرکینِ عرب ہی نہیں، کارل مارکس بھی داڑھی رکھتا تھا، انڈو چائنا کے ہوچی منہ کی بھی داڑھی تھی، لینن کی بھی داڑھی تھی۔ آپ پیرس آئیں گے کہ ہزاروں فرانسیسی نو مسلم داڑھی رکھتے ہیں۔ آپ داڑھی کے فرنچ کٹ سے بھی واقف ہوں کے۔ میں اس کا قائل نہیں ہوں کہ داڑھی دوسروں کی تقلید میں رکھی جائے، آپ بھی قائل نہیں ہوں گے۔ دیکھنا یہ ہے کہ اس بارے میں قرآن و حدیث میں کیا احکام ہیں؟ قرآن مجید میں ایک جگہ اشارتاً ذکر آیا ہے کہ حضرت موسیٰؑ کوہ طور سے نیچے اترے تو دیکھا کہ ان کی قوم یعنی یہودی گاؤ پرستی مں مشغول ہیں۔ وہ اپنے بھائی حضرت ہارونؑ کو اپنا نائب بنا کر چھوڑ گئے تھے، ان پر خفا ہوئے۔ قرآنی الفاظ (قَالَ یا ابْنَ أُمَّ لَا تَأْخُذْ بِلِحْیتِی وَلَا بِرَأْسِی ۖ إِنِّی خَشِیتُ أَنْ تَقُولَ فَرَّقْتَ بَینَ بَنِی إِسْرَائِیلَ وَلَمْ تَرْقُبْ قَوْلِی 94:20) ہیں کہ حضرت ہارونؑ کی داڑھی کو کھینچ کر ان کے ساتھ سختی کا برتاؤ کیا۔ یہ اشارتاً ذکر ہے یعنی داڑھی رکھنا پیغمبروں کی سنت ہے۔ حدیث میں اس سے زیادہ صریح الفاظ ملتے ہیں “داڑھی رکھو” اس حدیث اور سنت رسول کے پیش نظر داڑھی رکھنا محض رسم و رواج نہیں بلکہ اسلامی حکم بن جاتا ہے۔ حکم کے متعلق آپ کو معلوم ہو گا کہ درجات پائے جاتے ہیں۔ یعنی اگر فرض کیجیے کہ قرآن میں صیغہ امر استعمال کر کے کہا گیا ہے کہ “زکوٰۃ دو” اور وہی صیغہ امر استعمال کر کے یہ بھی کہا گیا ہے کہ “خیرات دو” تو ظاہر ہے دونوں حکم یکساں نہیں ہے۔ اگر زکوٰۃ دوں لیکن اگر میں خیرات سے انکار کر دوں تو حضرت ابو بکرؓ ممکن ہے مجھے یہ کہیں کہ یہ برا مسلمان ہے ، لیکن مجھے تلوار کے ذریعے مجبور نہ کریں گے۔ یعنی احکام میں درجہ بندی ہوتی ہے۔ اس لحاظ سے ہمیں یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ داڑھی رکھنا بے شک اسلامی حکم ہے لکنض درجے کا حکم نہیں جیسے اللہ کو ماننا جیسے رسول اللہﷺ کا نبی ماننا، یا مثلاً نماز پڑھنا، روزہ رکھنا وغیرہ۔ اس کا درجہ نسبتاً فروتر ہو گا۔

سوال11:
جیسا کہ آپ کہہ چکے ہیں کہ لونڈیوں کو اس لیے پردہ نہ کرنے کی اجازت تھی کہ وہ کام کاج کرتی تھیں، انہیں سودا سلف خریدنے کے لیے باہر جانا پڑتا تھا۔ جبکہ آج کل کے دور میں عورت کو ملازمت کے سلسلے میں باہر جانا پڑتا ہے، تو کیا ان کے لیے بھی وہی حکم ہو گا جو لونڈیوں کے لیے تھا، کیونکہ احکام علت پر مبنی ہوتے ہیں۔ علت کے بدل جانے سے احکام بدل جاتے ہیں۔ فقہی نقطہ نظر سے اس مسئلے کی وضاحت کیجیے۔

جواب:
مجھے یقین ہے کہ میری بہنیں جو یہاں موجود ہیں وہ لونڈی بننا پسند نہیں کریں گی۔ میں نے یہ نہیں کہا کہ لونڈیوں کو پردہ نہ کرنے کی جو اجازت دی گئی تھی اس کی علّت وہی ہے جو میں نے بیان کی۔ میں نے صرف ایک ذاتی رائے ظاہر کی تھی۔ قانون ساز صرف حکم دیتا ہے، قانون کی وجہ اور ضرورت کی توضیح وہ خود نہیں کرتا۔ اسے ہم سوچتے ہیں اور ہماری سوچ چونکہ ہماری ہوتی ہے، قانون ساز یعنی خدا اور رسول (ﷺ) کی نہیں ہوتی۔ اس لیے میں یہ کہوں کا کہ اگر میری رائے میں لونڈیوں کے پردہ نہ کرنے کی وجہ یہ تھی کہ انہیں بہت سے کام انجام دینے پڑے تھے تو میری اپنی رائے ہے، اور یہ رائے واحد علّتِ قانون نہیں ہو گی۔ ہمارے دوست کا کہنا ہے کہ احکام علّت پر مبنی ہوتے ہیں۔ میری ذاتی رائے یہ ہے کہ احکام ہمیشہ علّت پر مبنی نہیں ہوتے۔ یہ ممکن ہے کہ شارع، قانون ساز، حاکم یعنی خدا ہماری آزمائش کے لیے ایک چیز کا حکم دے جس کی کوئی خاص علّت نہ ہو۔ وہ ہمیں صرف آزمائش کے لیے حکم دے رہا ہے، یہ نہیں کہ ہماری اس میں فلاں مصلحت ہے، یا اس میں ہمارا فلاں فائدہ ہے۔ اس آزمائش کو آپ علّت قرار دے سکتے ہیں لیکن وہ علّت ایسی نہیں ہو گی جو میری آپ کی سمجھ میں آئے۔ جس چیز کے متعلق قانون کے سرچشمے یعنی قرآن اور حدیث میں صراحت سے ایک حکم دیا گیا ہے، وہاں اِجتہاد اور عقل کام نہیں کر سکتی۔ قرآن میں صراحت ہے کہ یوں کرو تو کرنا پڑے گا، چاہے ہمیں اس کی وجہ سمجھ میں آئے یا نہ آئے۔

سوال 12:
اسلامی نقطہ نظر سے حکمرانوں کو منتخب کرنے کے لیے کون سا طریقہ اختیار کیا جائے۔ کیا موجودہ طریقہ انتخابات اسلامی تقاضوں سے ہم آہنگ ہے؟

جواب:
میں سمجھتا ہوں کہ اس سوال کے جواب میں کسی تفصیل کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ ابھی میں تھوڑی دیر پہلے اس کی طرف اشارہ کر چکا ہوں۔ اسلام میں بادشاہت کی بھی اجازت ہے، جہاں بادشاہ کا بڑا بیٹا خود بخود ولی عہد بن جاتا ہے اور آیت قرآنی ” وَوَرِثَ سُلَیمَانُ دَاوُدَ ” (16:27) اس کی اجازت بھی دیتی ہے۔ جمہوریت کی بھی اجازت ہے، جماعتی Collegial حکومت کی بھی اجازت ہے۔ وہاں وہ نظام بھی پایا جا سکتا ہے جو ان سب کا ایک مجموعہ یا ان میں سے چند کا مخلوط ہو، جیسے خلافتِ راشدہ میں تھا۔ خلافتِ راشدہ بادشاہت نہیں تھی کیونکہ جمہوریت میں معیّن مدّت کے لیے (چار یا پانچ سال کے لیے) کسی کو منتخب مقرر کیا جاتا ہے اور پھر نئے انتخابات ہوتے ہیں۔ خلافت راشدہ مجموعہ تھی بادشاہت اور جمہوریت کی، یعنی ایک شخص کا تا حیات انتخاب ہوتا تھا اور یہ ساری چیزیں اسلام نے جائز قرار دیں۔ اسلام میں کسی معیّن طرزِ حکومت کو لازم قرار نہیں دیا گیا بلکہ عدل و انصاف کو لازم قرار دیا گیا ہے چاہے اس کو کوئی بھی انجام دے۔ اگر آج حضرت ابوبکر، حضرت عمر یا حضرت علی رضی اللہ عنہم اجمعین زندہ ہوں تو میں بخوشی انہیں سارے آمرانہ اختیارات سونپنے کے لیے آمادہ ہوں کیونکہ مجھے ان کی خدا ترسی پر پورا اعتماد ہے ۔ اس کے برخلاف اگر آج یزید زندہ ہو تو اس کو انگلستان کے مہر لگانے والے بادشاہ کے برابر بھی اپنا حکمران بنانے کے لیے تیار نہیں ہوں۔ غرض یہ کہ خواہ انتخاب کیا جائے، خواہ نامزد کیا جائے یا کوئی اور طریقہ اختیار کیا جائے۔ انسانیت کی تاریخ بتاتی ہے کہ کوئی بھی چیز آغاز انسانیت سے لے کر تا قیامت کارآمد نہیں ہو سکتی۔ آج یہ چیز مفید ثابت ہوتی ہے کل اسی چیز کو برا کہہ کر ٹھکرا دیا جاتا ہے اور نئی چیز بنائی جاتی ہے۔ چنانچہ ابتدائی چار خلفاء کے زمانے میں جانشیں کے انتخاب کا کوئی قانون نہ ہونے کی وجہ سے اختلاف کی صورتیں پیدا ہوئی تھیں۔ اسی بناء پر حضرت معاویہؓ نے یہ مناسب خیال کیا کہ حکومت میں استقلال پیدا کرنے کے لیے اور حکومت کو خانہ جنگیوں سے بچانے کے لیے بادشاہت کا نظام نافذ کیا جائے۔ اپنے بیٹے کو بادشاہ بنانے کے لیے نہیں بلکہ اُمت کی بھلائی کے لیے انہوں نے بجائے جمہوریت کے بادشاہت کو نافذ کیا۔ کچھ عرصے کے بعد بادشاہت نامناسب پائی گئی تو ہم نے بادشاہت کے خلاف بھی بغاوت کی۔ غرض یہ کہ انسان کبھی ایک ہی چیز پر ہمیشہ ہمیشہ کے لیے مطمئن نہیں رہ سکتا۔ حکومت کے اچھے یا برے ہونے کا انحصار حکمران کی شخصیت پر ہے۔ اچھا حکمران چاہے ڈکٹیٹر ہو، خوشی سے عوام اسے قبول کر لیتے ہیں۔ ظالم حکمران چاہے جمہوریت کا صدر ہی کیوں نہ ہو، اسے ہم رد کر دیتے ہیں۔
٭٭٭
ٹائپنگ: جاوید اقبال
تدوین اور ای بک: اعجاز عبید