FavoriteLoadingپسندیدہ کتابوں میں شامل کریں

 

 

 

فہرست مضامین

صدا بہ صحرا

 

(2014 کی ابتدائی ششماہی میں لکھے گئے مضامین، تجزیوں اور تبصروں کا مجموعہ)

 

 

غوث سیوانی

 

 

 

یہاں کچھ ہی مضامین دیے گئے ہیں، مکمل ڈاؤن لوڈ کر کے پڑھیں

ورڈ فائل

ای پب فائل

کنڈل فائل

 

 

 

 

 

سنا ہے شور سے حل ہوں گے سارے مسئلے اِک دن

سو ہم آواز کو آواز سے ٹکراتے رہتے ہیں

 

حالانکہ وہ دن اب تک نہیں آیا، جب مسائل حل ہوں، جب مظلوموں کو انصاف ملے اور ظالموں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔ اب تک بلند ہونے والی تمام آوازیں صحرا کی آواز ہی ثابت ہوئی ہیں لہٰذا ہم نے اس مجموعۂ مضامین کو ’’صدا بہ صحرا‘‘ کا نام دیا ہے۔

’’صدا بہ صحرا‘‘ آپ کے زیر مطالعہ ہے۔ یہ ان مضامین، تجزیوں اور تبصروں کا مجموعہ ہے جو 2014 کی ابتدائی ششماہی میں لکھے گئے تھے اور ملک و بیرون ملک کے تقریباً ساڑھے سات سو اخبارات، رسائل اور ویب سائٹس پر شائع ہوئے تھے۔ ان میں سے بیشتر ایک اردو ویکلی اخبار میں چھپے ہیں اور بعض صحافتی وجوہات کی بنیاد پر فرضی ناموں سے بھی شائع ہوئے ہیں۔ 2014 کی ابتدائی ششماہی میں مرکز میں کانگریس کی حکومت تھی اور ڈاکٹر منموہن سنگھ ملک کے وزیر اعظم تھے۔ دس سال تک چلنے والی یو پی اے حکومت کو بعض بے اعتدالیوں کے لئے بھی جانا گیا اور نتیجہ کے طور پر بھارت کے ووٹروں نے ایک ایسی حکومت کو منتخب کر لیا جسے جمہوریت کے لئے خطرہ قرار دیا جانے لگا۔ منموہن سنگھ حکومت سے بہت زیادہ شکایتیں تھیں لہٰذا آنے والی حکومت سے امیدیں بھی کچھ زیادہ بندھ گئی تھیں جو کبھی پوری نہ ہو سکیں مگر اس بہانے ایک طبقے کو اقتدار سے لطف اندوز ہونے کا موقع ضرور مل گیا۔

’’صدا بہ صحرا‘‘ میں جو مضامین ہیں وہ حالات، واقعات و حادثات یا سیاسی کشمکش سے متعلق ہیں۔ ان میں کہیں آپ ماضی کا مرثیہ تو کہیں مستقبل کی امید دیکھیں گے۔ کہیں بھاجپا کے عروج کی کہانی تو کانگریس کے زوال کی داستان آپ کو نظر آئے گی۔ اس بیچ بھارت کی علاقائی پارٹیوں جیسے سماج وادی پارٹی اور عام آدمی پارٹی کے اتار اور چڑھاؤ پر بھی فکر انگیزی نظر آئے گی۔ سیاسی حالات و واقعات سے متعلق بعض پیشین گوئیاں بھی اس مجموعے میں نظر آئیں گی جن میں تمام تو درست ثابت نہیں ہوئیں مگر سطر سطر میں قارئین کو 2014 کے ابتدائی مہینوں کے احوال دکھائی دیں گے جو اب تاریخ کا حصہ بن چکے ہیں۔ تمام مضامین کو بغیر ایڈٹ اس مجموعے میں شامل کیا گیا ہے۔

غوث سیوانی، نئی دہلی

14مئی 2019

رابطہ کے لئے

ghaussiwani@gmail.com

 

 

 

 

 

گجرات میں انصاف کا ایک اور قتل

 

مودی کیا اپنے ضمیر کی عدالت میں بچ پائیں گے؟

 

نریندر مودی ایک بار پھر بچ نکلے مگر کیا وہ اپنے ضمیر کی عدالت میں بھی بچ پائیں گے؟ کیا ان کا ضمیر انھیں کچوکے نہیں لگاتا ہو گا؟ گجرات میں ان کے دور حکومت میں جو کچھ ہوا کیا اس کی اخلاقی ذمہ داری بھی ان کے سر نہیں جاتی؟ کیا وہاں مرنے والے ہزاروں انسانوں کی آہیں بے اثر جائیں گی؟ کیا ان عورتوں کو کبھی انصاف مل پائے گا جن کی عصمتیں تار تار کی گئیں اور پھر انھیں زندہ جلا دیا گیا؟ کیا ان بچوں کو انصاف مل پائے گا جن کو ماؤں کے پیٹوں میں ظالموں نے چیر ڈالے تھے؟ کیا اس کے لئے صرف فسادی ہی ذمہ دار تھے؟ اتنے لوگوں کے قتل کے لئے نریندر مودی کی کوئی ذمہ داری نہیں بنتی ہے؟ سوال یہ بھی ہے کہ اگر مودی ذمہ دار تھے تو انھیں سزا دلانے کے لئے کانگریس کی مرکزی سرکار نے کیا کیا؟ وہ خود بھی اپنا سیاسی نفع نقصان دیکھتی رہی اور اس نے کبھی کوئی منصفانہ اقدام کیوں نہیں کیا؟ گجرات میں مودی کے دور حکومت میں جو کچھ بھی ہوا اس کے لئے کیا کانگریس ذمہ دار نہیں تھی جو ملک میں بار بار فسادات کراتی رہی ہے اور کبھی اس نے ذمہ داروں کو سزا نہیں دلوائی؟ آج احسان جعفری کی بیوہ ذکیہ جعفری جس حوصلے کے ساتھ انصاف کی لڑائی لڑ رہی ہیں وہ قابل تعریف ہے مگر اسی کے ساتھ ان لوگوں کے لئے ایک چابک بھی ہے جو ہمت ہار کر بیٹھ رہتے ہیں۔ ابھی احمد آباد کی ایک کورٹ نے نریندر مودی کے فسادات میں رول کو نہیں پایا ہے اور ایس آئی ٹی کی رپورٹ کو تسلیم کر لیا ہے جس مودی کے خیمے میں خوشی کی لہر ہے مگر سوال یہ بھی ہے کہ کیا وہ اعلیٰ عدالتوں میں بھی بچ پائیں گے؟ اور اگر وہاں بھی بچ گئے تو کیا پنے ضمیر کی عدالت میں بھی بچ پائیں گے؟

 

گلبرگ سوسائٹی کیس

کورٹ کے حکم کے مطابق ایک اسپیشل تفتیشی ٹیم احمد آباد کے گلمرگ سوسائٹی فساد کی انکوائری کر رہی تھی۔ غور طلب ہے کہ 2002ء کے گجرات دنگوں کی زد میں یہ سوسائٹی بھی آئی تھی۔ یہاں کانگریس کے سابق ممبر پارلیمنٹ احسان جعفری کا مکان تھا، جہاں آس پاس کے مسلمانوں نے فساد کے دوران پناہ لے رکھا تھا۔ فسادیوں نے اس سوسائیٹی کے اندر واقع احسان جعفری کے مکان پر حملہ کیا اور انھیں مار ڈالا۔ یہاں کچھ دوسرے لوگوں کا بھی قتل ہوا تھا۔ وہ جیتے جی پولس اور دوسرے لوگوں کو فون کرتے رہے مگر کسی نے ان کی مدد نہیں کی۔ یہاں تک کہ انھوں نے دہلی میں کانگریس کے بڑے نیتاؤں کو بھی فون کیا تھا مگر اس کے باوجود کسی طرف سے کسی نے ان کی مدد کی کوشش بھی نہیں کی۔ اس پورے معاملے کی تفتیش چل رہی تھی اور نریندر مودی کو اس معاملے میں ملزم نہیں بنایا گیا تھا۔ ذکیہ جعفری نے کورٹ میں عرضی دے کر مودی کو ملزم بنانے کی درخواست کی مگر کورٹ نے اسے قبول نہیں کیا۔ جب تفتیشی ٹیم نے کورٹ میں چارج شیٹ داخل کی تو اس میں بھی نریندر مودی کا نام نہیں تھا کیونکہ وہ سیدھے طور پر معاملے میں شامل نہیں تھے البتہ در پردہ انھوں نے سازش کی ہو۔ یہی سبب ہے کہ کورٹ نے انھیں ملزم ماننے سے انکار کر دیا اور ذکیہ جعفری کی عرضی کو خارج کر دی۔ اب وہ انصاف کے لئے اوپری عدالتوں میں جانے کی بات کہہ رہی ہیں۔

گجرات فسادات کو گیارہ سال سے زیادہ ہو چکے ہیں۔ مختلف کورٹوں میں مقدمے چل رہے ہیں اور بعض معاملات میں فیصلے بھی آئے ہیں جن میں کئی لوگوں کو سزائیں بھی ہوئی ہیں مگر متاثرین کا ماننا ہے کہ ان فسادات کے لئے خود نریندر مودی بھی ذمہ دار ہیں لہٰذا ان پر بھی مقدمہ چلنا چاہئے۔ اگر اس پورے معاملے کو قانونی لحاظ سے دیکھیں تو تکنیکی اعتبار سے مودی ہر جگہ بچ جائیں گے، کیونکہ وہ جائے واردات پر نہیں تھے اور نہ ہی انھوں نے کسی سازش میں سیدھے طور پر حصہ لیا تھا۔ البتہ انھوں نے اپنے افسران کو ایسے اشارے ضرور دیئے تھے کہ جو ہو رہا ہے اسے ہونے دو۔ روکنے کی ضرورت نہیں ہے۔ انھوں نے ایک میٹنگ میں ایسی بات کہی تھی جس میں شامل ایک افسر نے اس کا اظہار بھی کیا تھا۔ نریندر مودی کے لئے آئین و قانون کوئی مطلب نہیں رکھتا جو وہ کہتے ہیں وہی پتھر کی لکیر ہے، اس بات کا اظہار انھوں نے بعد میں اپنے عمل سے بھی کیا ہے۔ ان کی ملی بھگت سے فرضی انکاؤنٹر ہوئے جن میں معصوم لوگوں کو دہشت گرد بتا کر قتل کیا گیا۔ اس معاملے میں ان کے وزیر داخلہ امت شاہ جیل بھی گئے۔ اس کے بعد ایک لڑکی کی غیر قانونی طور پر جاسوسی بھی ان کے حکم پر کی گئی۔ ان سبھی معاملات میں انھوں نے قانون کو نیچا دکھایا۔ ان باتوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ قانون کا کس قدر احترام کرتے ہیں۔

 

یہ درد نہیں خوشی ہے

جرم کرنے کے بعد مجرم کا بچ نکلنا اس کے لئے سب سے خوشی کا موقع ہوتا ہے۔ نریندر مودی بھی ان دنوں اسی خوشی سے گزر رہے ہیں۔ انھوں نے مسرت کے اس لمحے کو بانٹنے کے لئے ایک بلاگ لکھا جس میں اپنے بچ نکلنے پر خوشی کا اظہار کیا اور اسے سچائی کی جیت بتائی۔ جن لوگوں نے فسادات میں اپناسب کچھ گنوا دیا تھا ان کے لئے مودی کا بچ نکلنا یقیناً دکھ کی بات ہو گی مگر مودی نے اپنے بلاگ میں گھڑیالی آنسو بہاتے ہوئے لکھا ہے کہ وہ گجرات کو اس درد سے باہر لانے کے لئے کوششوں میں لگے ہوئے تھے اور خود بھی درد کو سہنے کی کوشش کر رہے تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ گجرات اور ملک کو بدنام کرنے کی کوشش کی گئی۔ اصل میں مودی اپنے جرم کو چھپانے کے لئے ہمیشہ گجرات کا سہارا لیتے ہیں۔ جب ان پر قتل کا الزام لگتا ہے اور فسادات کی بات ہوتی ہے تو وہ کہتے ہیں کہ گجرات کو بدنام کیا جا رہا ہے اس بلاگ میں بھی انھوں نے ایسا ہی کیا ہے۔ سچ تو ہے کہ انھیں اگر واقعی درد ہوتا تو وہ ان فسادات کی ذمہ داری لیتے اور افسوس ظاہر کرتے مگر آج تک انھوں نے کبھی ایسا نہیں کیا۔ وہ آج تک ان لوگوں سے ملنے بھی نہیں گئے جو فسادات سے متاثر ہوئے تھے بلکہ اس کے بعد ہی فرضی انکاؤنٹر ہوئے اور معصوم لوگوں کو قتل کیا گیا۔ نریندر مودی نے فسادات کا سیاسی فائدہ اٹھایا اور اس کے بعد بھی جیت حاصل کرتے رہے۔ ان کی اسی انسانیت دشمن تصویر کے پیش نظر سنگھ پریوار نے انھیں وزیر اعظم کے عہدے کا امید وار بنا کر پیش کیا ہے۔

 

یہ کیسا درد؟

اس وقت بڑا سوال یہ ہے کہ اگر وہ واقعی اپنے دل میں لوگوں کا درد رکھتے ہیں تو انھوں نے اس پورے معاملے پر افسوس کا اظہار کیوں نہیں کیا؟ گجرات فسادات کے سبب بھارت کی پوری دنیا میں بدنامی ہوئی اور مودی کی وجہ سے ہمارے ملک کو بین الاقوامی طور پر شرمسار ہونا پڑا۔ تب کے وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی نے انھیں راج دھرم نبھانے کا مشورہ دیا تھا مگر انھوں نے اس کے باوجود وہی راستہ اپنائے رکھا جس پر وہ چل رہے تھے۔ ایسا دنیا کے کسی دوسرے ملک میں ہوتا تو ذمہ دار کو کبھی بخشا نہیں جاتا مگر یہ بھارت ہے جہاں کوئی انسان بڑے سے بڑا جرم کر کے بھی قانون سے بچ سکتا ہے اور اس کی زندہ مثال نریندر مودی ہیں۔ انھوں نے ’’نئی دنیا‘‘ کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ میں اگر قصوروار ہوں تو مجھے پھانسی پر لٹکا دو۔ وہ اب تک پھانسی سے تو بچتے رہے مگر ان کے گلے میں اخلاقی پھندہ اب بھی پڑا ہے۔ وہ دنیا کی بڑی سے بڑی عدالت میں بچ جائیں مگر اپنے ضمیر کی عدالت میں نہیں بچ سکتے۔ ان ہزاروں مظلوموں کی آہیں کبھی رائگاں نہیں جائیں گی جنھوں نے فسادات کا درد جھیلا ہے۔ ان معصوموں کی چیخیں کبھی نہ کبھی تو عرش الٰہی تک پہنچیں گی اور مودی کے تخت و تاج کے غرور کو زمیں بوس کریں گی۔

 

اسی کی امید تھی

اس وقت گلبرگ سوسائٹی کیس میں جو فیصلہ آیا ہے اسی کی امید کی جا رہی تھی کیونکہ اس سے قبل بھی کوئی ایسی مثال نہیں ملتی کہ کسی وزیر اعلیٰ کو کسی فساد کے لئے ذمہ دار مان کر سزا دی گئی ہو۔ کانگریس کے دور حکومت میں اس ملک میں فسادات ہوتے رہے ہیں اور فساد کے ذمہ داران ہمیشہ بچتے رہے ہیں۔ گجرات میں جو ہوا وہ تو اس بھی آگے کا معاملہ تھا جسے فساد کے بجائے قتل عام کہا جائے تو زیادہ مناسب ہو گا۔ بھاگلپور، میرٹھ، ملیانہ، بہار شریف، ممبئی وغیرہ میں فسادات ہوتے رہے ہیں اور کبھی کسی سیاسی شخص کو کوئی سزانہیں ہوئی بلکہ غیر سیاسی لوگ بھی عموماً بچتے رہے ہیں ایسے میں نریندر مودی کو سزا ملنے کی امید نہیں کی جا سکتی تھی۔ یہ بھارت ہے یہاں ایسا ہی ہوتا ہے کہ

کسی بدن پہ کوئی سر نظر نہیں آتا

کسی بھی ہاتھ میں پتھر نظر نہیں آتا

پچھلے دنوں ایک فلم آئی ’’نو باڈی کیلس جیسیکا‘‘ یعنی کسی نے جیسیکا کو نہیں مارا آج وہی کہانی گجرات میں بھی دہرائی جا رہی ہے کہ احسان جعفری کا قتل ہوا مگر قاتل کوئی نہیں ہے۔

 

جاسوسی معاملہ

نریندر مودی ان دنوں ایک لڑکی کی جاسوسی کو لے کر بھی سوالوں کے گھیرے میں ہیں۔ انھوں نے وزیر اعلیٰ رہتے ہوئے ایک آرکیٹکٹ لڑکی کی جاسوسی کرائی تھی اور ٹیلی فون ٹیپ کرایا تھا، جو ٹیلی گراف ایکٹ کے خلاف ہے۔ اس معاملے میں مرکزی سرکار نے ایک تفتیشی ٹیم بنائی ہے جو جانچ کر کے تین مہینوں کے اندر رپورٹ سونپے گی۔ اس معاملے میں بھی مرکزی سرکار کی نیت پر اب مودی کا خیمہ سوال اٹھانے لگا ہے۔ اصل میں مرکزی سرکار اس پوزیشن میں کھڑی ہے جہاں وہ اپنی غیرجانبداری کو کھو چکی ہے اور اس کی نیت ہر جگہ مشکوک نظر آنے لگی ہے۔ ویسے بھی جو مودی کے چاہنے والے ہیں ان پر اس کا کوئی اثر نہیں ہونے والا اور جو غیرجانبدار لوگ ہیں وہ مرکزی سرکار سے اس قدر نالاں ہیں کہ انھیں کانگریس کے خلاف مودی کیا اگر نمرود و شداد بھی مل جائیں تو نجات پانے کے لئے ساتھ ہولیں۔

 

 

 

 

کیا سچ مچ دلی بدلے گی اور بھارت بھی؟

 

سرکار بنتے ہی الیکشن کی تیاری شروع

 

’’بدلے گی دلی، بدلے گا بھارت‘‘ یہ کانگریس کا نعرہ تھا مگر اب اسے اروند کجریوال سچ کر رہے ہیں، مگر سوال یہ ہے کہ کیا سچ مچ دلی بدلے گی؟ کیا دلی کا یہ بدلاؤ پورے ملک کے لئے ایک مثال ہو گا؟ کیا اس کے بعد پورا دیش اسی راستے پر چلے گا؟ کیا ہمارے نیتا اور بیورو کریسی اس بدلاؤ کو قبول کریں گے؟ کیا عوام کے اس فائدے میں نیتاؤں کا نقصان نہیں ہو گا؟ کیا سچ مچ دلی اور باقی ملک سے کرپشن کے خاتمے کا آغاز ہو چکا ہے؟ کیا اب وہ وقت آ چکا ہے جب نیتاؤں اور افسروں کے کرپشن کی جانچ ہو گی اور بہت سے سفید پوش جیل جائیں گے؟ کیا اروند کجریوال کا دلی کے وزیر اعلیٰ کے طور پر حلف لینا اس ملک کے لئے فالِ نیک ثابت ہو گا؟ کیا سچ مچ اس ملک میں قدرت کا کرشمہ ہو رہا ہے کہ ایک چودہ مہینے کی پارٹی نے پہلے راجدھانی میں سرکار بنائی اور اب پورے ملک میں انقلاب کی آندھی چلنے والی ہے؟ یا پھر چند دن میں ہی سرکار گر جائے گی اور تمام خواب ادھورے رہ جائیں گے؟ عام آدمی پارٹی اور اروند کجریوال سے جہاں عوام کو بہت سی امیدیں ہیں وہیں اندیشے بھی ہیں۔ کیا ہو گا اور کون سے خواب ٹوٹیں گے یہ تو وقت بتائے گا مگر فی الحال اروند کجریوال نے وزیر اعلیٰ کے عہدے کا حلف لیتے ہی کئی تاریخی قدم اٹھائے ہیں جن کی تعریف اور تحسین ہونی چاہئے اور باقی ملک میں بھی انھیں اپنانا چاہئے۔

 

نرالی حلف برداری

اروند کجریوال اور ان کے وزیروں نے تاریخی رام لیلا میدان میں لاکھوں اہل دلی کے سامنے حلف اٹھایا۔ اسی میدان سے انھوں نے ڈھائی سال قبل کرپشن کے خلاف ایک بڑی تحریک کا آغاز کیا تھا۔ راجدھانی میں یہ اپنے قسم کی پہلی حلف برداری تھی۔ اس سے پہلے کسی بھی وزیر اعلیٰ نے عوام کے مجمع میں حلف نہیں لیا تھا۔ کجریوال اپنے گھر سے میٹرو ریل میں عام آدمی کی طرح سفر کر کے آئے تھے۔ اس یادگار سفر میں ان کا ساتھ دینے کے لئے ہزاروں اہل دلی کا ہجوم امنڈ پڑا تھا اور رام لیلا میدان تک پہنچتے پہنچتے یہ لاکھوں میں تبدیل ہو چکا تھا۔ یہاں کوئی وی آئی پی نہیں تھا۔ خود وزیر اعلیٰ اور ان کے منتریوں کے گھر والے بھی عام لوگوں کی طرح اس مجمع میں شامل تھے۔ عموماً حلف برداری کی تقریب میں اپوزیشن لیڈر، سابق وزیر اعلیٰ اور کئی وی آئی پی ہوتے ہیں مگر یہاں کوئی بھی نظر نہیں آیا۔ اس کا سبب شاید یہ ہو کہ انھیں اپنا عام آدمی بننا پسند نہیں تھا۔ ویسے دعوت نامہ کسی کو نہیں بھیجا گیا تھا اور عمومی دعوت سب کو دی گئی تھی۔ یہاں راجاؤں کو رنکوں کی صف میں آنا پسند نہیں آیا ہو گا لہٰذا نہ تو کانگریس کا کوئی لیڈر نظر آیا اور نہ ہی بی جے پی کا۔

 

تقریر کی نئی روایت

حلف برداری کے بعد کجریوال نے ایک تقریر کی جس میں کہا کہ وہ وزیر اعلیٰ نہیں ہوئے ہیں بلکہ جنتا وزیر اعلیٰ ہوئی ہے اور سرکار بھی وہ اکیلے نہیں چلائیں گے بلکہ عوام کو مل کر سرکار چلانی ہے۔ انھوں نے کرپشن کے خلاف لڑائی کے اپنے عہد کو دہراتے ہوئے کہا کہ بیشتر افسران ایماندار ہیں، وہ دل سے کام کریں۔ انھوں نے کہا کہ آئندہ چند دن میں ایک فون نمبر جاری کر دیا جائے گا۔ اگر کسی افسر نے رشوت مانگی تو عوام فون کر کے بتائیں، اسے رنگے ہاتھوں پکڑا جائے گا۔ انھوں نے دلی والوں کو قسم بھی کھلائی کہ اب آئندہ نہ رشوت دیں گے اور نہ لیں گے۔ انھوں نے کہا کہ ایک اکیلا میں کچھ بھی نہیں کر سکتا البتہ اگر دلی کو واقعی بدلنا ہے تو ڈیڑھ کروڑ دلی والوں کو مل کر بدلنا ہو گا۔ اس سے قبل دلی میں ایساکبھی نہیں ہوا تھا کہ کسی وزیر اعلیٰ نے حلف برداری کے بعد عوام کو خطاب کیا ہو۔

 

انوکھے فیصلے

اروند کجریوال اور ان کے منتریوں نے حلف اٹھانے کے بعد میٹنگیں کیں جن میں وزارتوں کا بٹوارا ہوا اور کچھ تاریخی فیصلے ہوئے۔ ان فیصلوں میں یہ بتایا گیا کہ اب دلی میں کوئی وی آئی پی نہیں ہو گا اور اس کلچر کو ختم کرنے کے لئے خود وزیر اعلیٰ اور منتری پہل کریں گے۔ اس فیصلے کے تحت وزیر اعلیٰ، منتریوں اور افسروں کی گاڑیوں سے لال بتیاں ہٹا دی گئیں۔ عوام کے سرکاری دفتروں میں آسان داخلے کو مشکل بنانے کے لئے جو رکاوٹیں کھڑی کی گئی تھیں انھیں ہٹا دیا گیا اور اسی کے ساتھ وزیروں کو ملنے والی دیگر سرکاری سہولتیں بھی ختم کر دی گئیں۔ اب وزیر سرکاری بنگلے بھی نہیں لیں گے۔ بجلی اور پانی کا مسئلہ نئی سرکار کے لئے ایک چیلنج بتایا جا رہا ہے اور یہ کہا جا رہا ہے کہ اسے حل کرنا مشکل ہو گا، اسے وزیر اعلیٰ نے اپنے پاس رکھا ہے اور اس پر بھی نئی سرکار نے قدم بڑھانے شروع کر دیئے ہیں۔ سرکار کے گھوٹالے باز افسروں میں پہلے ہی سے کھلبلی تھی اور جہاں بعض افسران نے اپنے تبادلے دلی سے باہر کرانے شروع کر دیئے تھے وہیں سرکاری فائلیں بھی پھاڑی جانے لگی تھیں تاکہ پرانے گھوٹالوں کا پردہ فاش نہ ہو سکے۔ سمجھا جا سکتا ہے کہ کرپشن کے خلاف اس وقت کیسا ماحول پایا جا رہا ہے۔ خود کانگریس کے حلقوں میں بھی خوف کا ماحول ہے اور سابق منتری خوف زدہ ہیں کہ ان کے خلاف کبھی بھی جانچ شروع ہو سکتی ہے اور ان کے گھوٹالے سامنے آ سکتے ہیں۔ نئی سرکار نے کئی افسران کے تبادلے کئے ہیں اور یہ بتانے کی کوشش کی ہے کہ اب کام چور اور کرپٹ افسران کی خیر نہیں اسی کے ساتھ کجریوال نے بھی کہا ہے کہ افسران کو ان سے ڈرنے کو کئی ضرورت نہیں وہ کوئی بھوت نہیں ہیں اگر وہ ایمانداری سے اپنا کام کرتے ہیں تو ہم ان کا ساتھ دیں گے۔

یہ عجیب بات ہوئی کہ کجریوال کی حلف برداری سے قبل ہی دلی میں سی این جی کی قیمتوں میں اضافہ ہو گیا تھا۔ یہاں کے تمام آٹو رکشہ اور بسوں میں سی این جی کا ہی استعمال ہوتا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ یہ کام ان کے سامنے ایک چیلنج کھڑا کرنے کے لئے کیا گیا ہے۔ بہرحال اس سے وہ کیسے نمٹیں گے ایک مسئلہ ہو گا۔

 

کئی دن چلے گی سرکار؟

عام آدمی پارٹی کی سرکار دلی میں کئی دن چل پائے گی؟ اس بارے میں اندیشے موجود ہیں۔ در اصل اروند کجریوال کے پاس صرف 28 ایم ایل اے ہیں۔ جب کہ 70 رکنی اسمبلی میں انھیں کم از کم نصف سے زیادہ کی ضرورت ہے۔ یہی سبب ہے کہ وہ سرکار بنانے کو تیار نہیں تھے مگر کانگریس اور بی جے پی کی سازش تھی کہ انھیں کسی طرح پھنسادیا جائے۔ ان پارٹیوں کا لگتا تھا کہ ان کی ٹیم میں ایک آدمی بھی ایسا نہیں جس کے پاس کبھی سرکار چلانے یا منتری بننے کا کوئی تجربہ ہو۔ یہاں تک تمام ایم ایل اے نئے ہیں اور اس سے قبل کبھی انھوں اسمبلی کا گیٹ بھی نہیں دیکھا ہے ایسے میں وہ فیل ہو جائیں گے۔ اسی کے ساتھ مسائل بھی بہت زیادہ ہیں اور عوام کی توقعات اس سے کہیں زیادہ ہیں لہٰذا سرکار بناتے ہی اس کا بھرم کھل جائے گا۔ اسی سازش کے تحت سرکار بنوائی گئی ہے مگر اروند کجریوال اس سے بھی بڑے گھاگ لگتے ہیں۔ اب تو ایسا لگتا ہے کہ کانگریس خود بری طرح پھنسنے والی ہے۔ اس نے ’’آپ‘‘ کے لئے جو جال بچھائے تھے اس میں خود اپنے پیر پھنستے نظر آ رہے ہیں۔ اب اگر وہ حمایت واپس لیتی ہے تو سرکار گرانے کا پاپ اس کے سر جائے گا اور نہیں واپس لیتی ہے تو سابق وزیر اعلیٰ شیلا دکشت اور ان کے منتریوں کے گھوٹالوں کی جانچ شروع ہو گی سب جیل جائیں یا نہ جائیں مگر عوام میں ایک پیغام تو جائے گا ہی کہ کانگریس سرکار نے دلی کو لوٹ لوٹ کر نیتاؤں کی تجوریاں بھری ہیں۔ اس وقت کانگریس کے ویسے بھی برے دن چل رہے ہیں اس نے اسمبلی انتخابات میں منہ کی کھائی ہے اور اگر ابھی دلی میں اسمبلی چناؤ ہو گئے تو اسے خوف ہے کہ اس کی آٹھ موجودہ سیٹوں میں سے شاید ایک بھی نہ بچ پائیں۔ یعنی

الجھا ہے پاؤں یار کا زلف دراز میں

لو، آپ اپنے دام میں صیاد آ گیا

 

بی جے پی بھی دہشت زدہ

ادھر بی جے پی بھی اروند کجروال کے جادو سے دہشت زدہ ہے۔ اسے یہ سمجھ میں نہیں آ رہا کہ کونسی لائن اپنائے اور کس راستے پر چلے۔ پہلے تو وہ کہتی پھر رہی تھی کہ عام آدمی پارٹی سرکار بنانے سے کترا رہی ہے۔ کانگریس نے جب بن مانگے اسے حمایت دینے کا اعلان کر دیا ہے تو وہ پیچھے کیوں ہٹ رہی ہے؟ اسے سرکار بنانا چاہئے اور عوام سے کئے ہوئے وعدے پورے کرنے چاہئیں۔ جب ’’آپ‘‘ سرکار بنانے کو تیار ہو گئی تو اس نے کہنا شروع کیا کہ دونوں کی ملی بھگت ہے۔ حالانکہ عوام اچھی طرح سمجھ رہے ہیں کہ کس سے کس کی ملی بھگت ہے۔ بی جے پی خود کو بہترین اپوزیشن ثابت کرنے میں ابھی سے جٹ گئی ہے مگر اسے بھی خوف ہے کہ اگر لوک سبھا انتخابات کے ساتھ دہلی اسمبلی کے بھی دوبارہ انتخابات ہو گئے تو اس کی سیٹیں بھی آدھی رہ جائیں گی۔

 

پورے ملک کی سیاست پر اثر

دلی میں جو کچھ ہو رہا ہے اس کے اثرات دور رس ہو سکتے ہیں اور پورے ملک میں پھیل سکتے ہیں۔ یہاں کی سیاسی حالت تو غیر یقینی ہے اور یہ نہیں معلوم کہ کانگریس اور بی جے پی اس سرکار کو کتنے دن چلنے دیں گی مگر اتنا تو طے ہے کہ اس سے ملک میں ایک نئی قسم کی شروعات ہو چکی ہے۔ ’’آپ‘‘ نے ایک ایسا راستہ دکھایا ہے جو وقت کی ضرورت تھا۔ اسے اب تمام سیاسی پارٹیوں اور نیتاؤں کو سدھرنے کی تنبیہ سمجھا جانا چاہئے۔ اگر انھوں نے اب بھی سدھرنے سے انکار کر دیا تو ممکن ہے جنتا انھیں خود سدھار کر گوشۂ تنہائی میں بٹھا دے۔

 

 

 

 

یوپی میں لڑی جائے گی 2014ء کی چناوی جنگ

 

یوپی کا ووٹر کرے گا مایا، ملائم، راہل اور مودی کی قسمت کا فیصلہ

 

اتر پردیش میں بچھنے لگی ہے 2014ء کی بساط۔ ٹھوکے جا رہے ہیں تال اور اترنے لگے ہیں میدان میں سیاسی پہلوان۔ ایک دوسرے کو للکارنے کا سلسلہ چل پڑا ہے اور پوچھے جا رہے ہیں سوال کہ کس کی چھاتی کتنی چوڑی ہے؟ کس میں کتنا دم خم ہے؟ اس اکھاڑے میں کتنی دیر تک کون ٹک پائے گا؟ ایک باہری پہلوان گھر والوں کو پچھاڑ دے گا یا گھر والے باہری کو دھول چٹا کر باہر کر دیں گے؟ یہ لڑائی اب صرف سیاسی لڑائی نہیں رہی بلکہ ناک کی لڑائی بن چکی ہے۔ ہر کسی کے لئے یہ مسئل ناک کا مسئلہ بن چکا ہے۔ یہاں نریندر مودی کے پاس گنوانے کے لئے کچھ بھی نہیں ہے اور پانے کے لئے بہت کچھ ہے۔ ان کی ناک پہلے ہی سے کہاں سلامت ہے جو اب کٹ جائے گی مگر سب سے اونچی ناک والے ملائم سنگھ ہیں۔ طوطے کی چونچ جیسی ان کی ناک اس بار خود ان کے اپنے ہی گڑھ میں داؤ پر لگی ہوئی ہے۔ نریندر مودی خود اپنا قلعہ چھوڑ کر اتر پردیش میں پورے دل بل کے ساتھ اتر پڑے ہیں اور سیاسی ماحول بنانے کی کوشش میں لگ گئے ہیں۔ ملائم تو وزیر اعظم بننے کا خواب دیکھ رہے ہیں مگر مودی بھی اپنی آنکھوں میں یہی خواب سجائے ہوئے ہیں اور انھیں دلی تک پہنچنے کے لئے اتر پردیش کا راستہ ہی دکھائی پڑ رہا ہے۔ ادھر راہل گاندھی بھی اس دوڑ میں دوسروں کو لنگڑی مارنا چاہتے ہیں تو مایاوتی بے حد خاموشی سے اپنے مشن میں لگی ہوئی ہیں۔ مگر سوال یہ ہے کہ کس کی ناک جائے گی اور کس کی بچے گی؟ کون بنے گا ہیرو اور کسے ملے گا زیرو؟ کون ہو گا جنتا کے امتحان میں پاس اور کون ہو گا فیل؟ ان تمام سوالوں کا جواب صرف اتر پردیش کی جنتا کے پاس ہے کیونکہ اس بار ملک کی قسمت کا فیصلہ نہ تو گجرات کے عوام کریں گے اور ہی مہاراشٹر کے، نہ بنگال کے اور ہی آسام کے۔ اس بار 2014ء کی چناوی جنگ کا فیصلہ اتر پردیش کے عوام کریں گے اور یہ لڑائی بھی اسی دھرتی پر لڑی جائے گی۔

 

سیاسی لڑائی کی شروعات

23 جنوری کی تاریخ اتر پردیش کے لئے بہت اہم تھی۔ ایک طرف بنارس میں ملائم سنگھ یادو اور اکھلیش ریلی کر رہے تھے اور مودی کا راستہ روکنے کی بات کر تے ہوئے کہہ رہے تھے کہ ہم اتر پردیش کو گجرات نہیں بننے دیں تو دوسری طرف بنارس میں نریندر مودی شنکھ ناد ریلی میں چیخ چیخ کر انھیں للکار رہے تھے اور عوام کو بتانے کی کوشش کر رہے تھے کہ یوپی کو گجرات بنانا ہو گا۔ وہ ملائم سنگھ کو مخاطب کر کے کہہ رہے تھے کہ اتر پردیش کے گجرات بننے کا مطلب ہے کہ پوری ریاست میں چوبیسوں گھنٹے بجلی رہے گی۔ ہر شہر اور ہر گاؤں میں۔ ہرسڑک اور ہر گلی میں۔ اسی تاریخ کو راہل گاندھی اپنے حلقہ انتخاب امیٹھی میں تھے اور ’’آپ‘‘ کے کمار وشواس عوام کو کویتائیں سنا کر کہہ رہے تھے کہ راہل گاندھی پکنک منانے امیٹھی آئے ہیں۔ ادھر مایاوتی بہت خاموشی کے ساتھ اپنے نیتاؤں کے ساتھ میٹنگیں کر کے آگے کی حکمت عملی تیار کرنے میں لگی ہوئی تھیں۔ اس ایک دن کے مناظر دکھاتے ہیں کہ یو پی میں مستقبل میں کیا ہونے والا ہے اور نیتا کس راستے پر جانے والے ہیں۔

 

سروے کیا کہتے ہیں؟

اس وقت کئی سروے آئے ہیں جو ظاہر کرتے ہیں کہ اتر پردیش میں ابھی بی جے پی کی ہوا ہے اور سب سے خراب حالت سماجوادی پارٹی کی ہے۔ مختلف سروے متفقہ طور پر دکھا رہے ہیں کہ بی جے پی کو آئندہ عام انتخابات میں زیادہ سیٹیں ملیں گی۔ ائی بی این 7 کے سروے کے مطابق اگر ابھی الیکشن ہوا تو بی جے پی کو 41 سے 49 کے بیچ سیٹیں مل سکتی ہیں جبکہ بہو جن سماج پارٹی کو 10 سے 16 سیٹیں مل سکتی ہیں وہیں سماج وادی پارٹی محض 14۔ 8 سیٹوں پر سمٹ سکتی ہے۔ کانگریس کو 4 سے دس سیٹیں دکھائی جا رہی ہیں۔ کچھ دوسرے چینلوں کے سروے بھی آئے ہیں جن میں بی جے پی کو اس سے کم سیٹیں دکھائی جا رہی ہیں مگر ان میں بھی وہی سب سے بڑی پارٹی کے طور پر ابھرتی دکھائی دے رہی ہے۔ سروے کس حد تک درست ثابت ہو گا یہ تو وقت بتائے گا مگر فی الحال سماجوادی پارٹی نے اسے یہ کہتے ہوئے مسترد کر دیا ہے کہ پچھلی بار کہا گیا تھا کہ اسے چار سیٹیں ملیں گی مگر ہوا اس کا برعکس۔ اسی طرح گذشتہ اسمبلی الیکشن میں بھی اسے جتنی سیٹیں ملتی دکھائی گئی تھیں ان سے بہت زیادہ ملیں۔ ممبر پارلیمنٹ شیلندر کمار کا کہنا ہے کہ یہ سروے بی جے پی کے مینیج کئے ہوئے ہیں۔ کچھ دوسرے لوگ بھی ایسا ہی کہہ رہے ہیں کہ مودی کو پروموٹ کرنے کے لئے یہ سب کیا جا رہا ہے مگر باوجود اس کے دیکھا جائے تو اتر پردیش میں سماجوادی پارٹی کی حالت اچھی نہیں دکھائی دیتی ہے اور ہر طبقہ اس سے ناراض لگتا ہے۔

 

ہندو ووٹوں کا اتحاد

سروے کے نتیجے صحیح ہوں گے یا غلط؟ یہ سوال اپنی جگہ مگر اس وقت اتر پردیش میں جو حالات ہیں انھیں دیکھتے ہوئے کہا جا سکتا ہے کہ مغربی اتر پردیش میں ہندو ووٹروں کا مذہب کے نام پر جماوڑا شروع ہو چکا ہے۔ یہاں کے ووٹر عام طور پر ذات برادری کے نام پر ووٹ ڈالتے رہے ہیں مگر اب لگتا ہے کہ وہ اس سے عاجز آ چکے ہیں اور اس بار وہ مذہب کے نام پر ووٹ ڈالیں گے۔ مظفر نگر فسادات کو سبھی پارٹیاں الیکشن کا موضوع بنانے میں لگی ہیں۔ اسے ریاستی حکومت کی بہت بڑی ناکامی سے تعبیر کیا جا رہا ہے۔ اس ایشو سے جہاں مسلمان سماجوادی پارٹی سے ناراض ہوتے ہیں وہیں ہندو ووٹروں کو بی جے پی اپنے پالے میں کرنے میں کامیاب ہوتی ہے۔ مغربی یوپی کے جاٹ اور گوجر عام طور پر اپنی برادری کو ووٹ دیتے ہیں یا اجیت سنگھ کی پارٹی کے ساتھ جاتے ہیں مگر اس بار وہ بھی بی جے پی کی طرف میلان رکھتے ہیں اور یہ فسادات کے سبب ممکن ہوا ہے۔ بی جے پی اپنے ساتھ ہندو ووٹروں کو تب ہی کر پانے میں کامیاب ہوتی ہے جب فسادات ہوتے ہیں یا فرقہ وارانہ اشتعال پھیلتا ہے۔ ماضی کی تاریخ پر اگر نظر ڈالیں تو 1998ء اور 1999ء میں بی جے پی کو سب سے زیادہ سیٹیں ملی تھیں اور تب فرقہ وارانہ حالات اچھے نہیں تھے۔

سنٹرل اتر پردیش میں اب بھی کانگریس کا اثر دکھائی دے رہا ہے اور ایسا لگتا ہے کہ رائے بریلی سے کانپور تک کے علاقے میں اسے کچھ سیٹیں مل جائیں گی۔ مشرقی اتر دیش میں سماجوادی پارٹی کو فائدہ مل سکتا ہے اور یہاں سے اسے کچھ سیٹیں مل سکتی ہیں نیز ملائم کے اپنے خاندان والے نیتا جیت سکتے ہیں۔ مایاوتی کی سیٹیں پوری ریاست سے آ سکتی ہیں ان کا کوئی ایک خطہ نہیں ہے۔ وہ الگ سیاسی جغرافیہ فٹ کرتی ہیں اور ان کا یہ جغرافیہ کتنا درست ثابت ہو گا، دیکھنے والی بات ہو گی۔

 

کس کروٹ بیٹھے گا سیاسی اونٹ؟

اتر پردیش میں اس وقت جو سیاسی حالات نظر آ رہے ہیں وہ سیکولر نظریات رکھنے والوں کے لئے کچھ بہت اچھے نہیں کہے جا سکتے ہیں۔ یہاں ذات پات کے نام پر جو سیاست ہوتی تھی اس میں تبدیلی کے آثار ہیں اور مختلف برادریوں کے ہندو مودی کے حق میں متحد ہو رہے ہیں۔ برہمن جو گذشتہ اسمبلی انتخابات میں سماجوادی پارٹی کے ساتھ گئے تھے اور اس سے پہلے بہو جن سماج پارٹی کے ساتھ اس بار بی جے پی کے ساتھ نظر آ رہے ہیں۔ بنیا پہلے ہی سے بی جے پی کے ساتھ ہیں اور لودھ ووٹر کلیان سنگھ کی وجہ سے اس بار بی جے پی کے ساتھ ہیں۔ خبر تو یہ بھی ہے کہ جو یادو ہمیشہ آنکھ بند کر کے ملائم سنگھ کی پارٹی کو ووٹ دیتے ہیں اب ان کا ایک طبقہ بی جے پی کو ووٹ دینے کا ذہن بنا رہا ہے۔ اسی طرح 22 فیصد سے زیادہ ریاست میں دلت ہیں جو مایاوتی کے حامی ہیں اور انھیں کے سبب وہ اب تک کامیاب رہی ہیں، اس بار ان کا ایک بڑا طبقہ بی جے پی کے ساتھ جاتا ہوا دکھائی دے رہا ہے۔ اگر آگے چل کر حالات نہیں بدلے تو بی جے پی زبردست طاقت بن کر یہاں ابھرے گی۔

 

’’آپ‘‘ کا فیکٹر

یہاں عام آدمی پارٹی اب تک کوئی بڑا چمتکار کرتی نہیں دکھائی دیتی۔ اس نے دلی میں جو زبردست طریقے سے کامیابی حاصل کی ہے اس کا کوئی بہت بڑا اثر نظر نہیں آتا۔ سروے کے مطابق وہ یوپی میں دو سیٹیں پا سکتی ہے۔ حالانکہ ابھی اس نے اپنے امید واروں کے ناموں کا اعلان نہیں کیا ہے۔ اصل حالات تب سامنے آئیں گے جب اس کے امید وار میدان میں آ جائیں گے۔ فی الحال اس کے کمار وشواس تنہا ایسے امید وار ہیں جو اپنے نام کا اعلان ہونے سے پہلے ہی امیٹھی میں ڈیرا ڈالے ہوئے ہیں اور ووٹروں کو کویتائیں سنا رہے ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ سنجے سنگھ، شاذیہ علمی اور صحافی آسوتوش یہاں سے الیکشن لڑ سکتے ہیں۔

 

مسلم ووٹ کی بے وقعتی

مسلمان ووٹ ریاست میں اپنی اہمیت کھوتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ جب تک ذات پات کے نام پر یہاں ووٹ پڑتے تھے تب تک مسلمانوں کا جھکاؤ طے کرتا تھا کہ کون جیتے گا اور کون ہارے گا؟ مگر اب مسلم ووٹر سب سے زیادہ کنفیوزڈ ہیں۔ مغربی یوپی میں ان کے ووٹ اس بار سماج وادی پارٹی کو بالکل نہیں جائیں گے وہ مظفر نگر فسادات کے سبب حکومت سے ناراض ہیں۔ مشرقی اتر پردیش میں جہاں اس کے امید وار بی جے پی کو ہراتے نظر آئیں گے وہاں اسے مسلم ووٹ مل سکتا ہے۔ اسی طرح بہو جن سماج پارٹی کو بھی وہیں مسلم ووٹ ملیں گے جہاں اس کے امید وار مسلمان ہوں گے۔ بعض جگہوں پر مسلم ووٹ ’’آپ‘‘ کو بھی جا سکتے ہیں۔ اس بار کئی مسلم پارٹیاں بھی میدان میں ہوں گی جو کچھ مسلم ووٹ لے جائیں گی۔ ان میں پیس پارٹی، راشٹریہ علماء کونسل، انڈین یونین مسلم لیگ تو اپنے امید وار اتارنے کا پروگرام بنا ہی رہی ہیں۔ ساتھ ہی ساتھ حیدرآباد کی مجلس اتحاد المسلمین اور پیوپلس فرنٹ بھی کچھ مسلم اکثریتی سیٹوں پر امید وار اتاریں گی اور یہ تمام پارٹیاں مل کر مسلم ووٹ کو بے وقعت بنا دیں گی جس سے بی جے پی کو جیتنے میں مدد مل سکتی ہے۔

 

کون بنے گا راجہ؟

یوپی میں لوک سبھا کی 80 سیٹیں ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دلی کے اقتدار کا راستہ یہیں سے طے ہوتا ہے۔ پچھلی بار کانگریس کو یہاں سے ۲۱ سیٹیں ملی تھیں اور اس نے مرکز میں سرکار بنایا تھا۔ اس بار فی الحال بی جے پی آگے بڑھتی دکھائی دے رہی ہے مگر اصل حالات تب سامنے آئیں گے جب تمام پارٹیاں اپنے امید وار اتار چکی ہوں گی۔ ابھی عام انتخابات میں بہرحال تین مہینے ہیں اور اس بیچ حالات بدل سکتے ہیں۔ سیاست میں کسی بھی پل کوئی بھی چمتکار ہو سکتا ہے اور بعض اوقات تو آخری لمحے بھی حالات بدل جاتے ہیں لہٰذا جو حالات ابھی نظر آ رہے ہیں ان میں الیکشن تک تبدیلی آ سکتی ہے۔ یہاں سے ملائم سنگھ، مایاوتی، راہل گاندھی اور مودی تینوں کو بہت امیدیں ہیں اور سبھی دلی پر راج کرنے کا خواب اسی اتر پردیش کے سہارے دیکھ رہے ہیں۔

 

 

 

 

ایک ماہر معاشیات کی تین بڑی ناکامیاں

منموہن سنگھ سے ملک ناراض کیوں؟

 

منموہن سنگھ نے بھی آخر کار گھٹنے ٹیک دیئے اور شکست تسلیم کر لی۔ انھوں نے اپنی الوداعی پریس کانفرنس میں جو باتیں کہیں ان میں تین ناکامیوں کو بھی تسلیم کیا۔ اگر انسان اپنی غلطیوں کو تسلیم کرے تو اسے اس کا بڑا پن کہا جاتا ہے مگر منموہن سنگھ نے جس انداز میں اپنی غلطیاں مانی ہیں اسے ان کا بڑا پن کہنے کو جی نہیں چاہتا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کی سرکار کرپشن اور مہنگائی پر قابو نہ رکھ پائی اور روزگار کے نئے مواقع نہیں نکال پائی مگر اس نے غریب عوام پر مہنگائی کا بوجھ کم کرنے کے لئے منریگا جیسی اسکیم کوم تعارف کرایا۔ وزیر اعظم نے جس انداز میں یہ باتیں کہیں اس سے تو یہ محسوس ہوتا ہے کہ ان کی نظر میں ان ناکامیوں کی کچھ خاص اہمیت نہیں بلکہ یہ بہت معمولی بات ہے، حالانکہ ان کی یہ ناکامیاں اتنی بڑی ہیں کہ اس سے ملک کو بڑا نقصان اٹھانا پڑا ہے اور آگے بھی اٹھانا پڑے گا۔ یہ ناکامیاں اگر صرف ایک وزیر اعظم کی ہوتیں تو شاید انھیں برداشت کیا جا سکتا تھا مگر یہ تو ایک ماہر معاشیات کی بھی ناکامی ہے۔ منموہن سنگھ اگرچہ خوش قسمتی سے ملک کے وزیر اعظم بن گئے مگر ان کا اصل میدان تو معاشیات کا ہی ہے اور پہلے وہ اسی حیثیت سے ریزرو بینک کے گورنر تھے اور ملک کی معیشت کو درست راستے پر ڈالنے کی کوششیں کرتے رہے تھے۔ سابق وزیر اعظم پی وی نرسمہا راؤ نے انھیں سیاسی پس منظر نہ ہونے کے باوجود وزیر خزانہ اسی لئے بنایا تھا کہ ان کی معیشت پر گہری نظر ہے اور یہاں کچھ انقلابی تبدیلیاں کر کے ملک کی معیشت کو درست کر سکتے ہیں۔ تب معاشی حالت اچھی نہیں تھی اور قومی خزانے سے سونے کو گروی رکھنے کی نوبت آ گئی تھی۔ سچ تو یہ ہے کہ منموہن نے جب تک نرسمہا راؤ کی کابینہ میں کام کیا تب تک ٹھیک کام کیا مگر جب وہ آزاد ہوئے اور خود اپنی سرکار چلانے لگے تو معیشت کے میدان میں ناکام ثابت ہوئے۔ اگر ہم غور کریں تو منموہن سنگھ نے اپنی جن تین ناکامیوں کا ذکر کیا ہے ان کا تعلق معاشیات سے ہی ہے۔ گویا وہ وزیر اعظم کے طور پر ناکام ہوئے ہوں یا نہیں مگر ایک ماہر معیشت کے طور پر ضرور ناکام ہو چکے ہیں۔

 

منموہن کی پہلی ناکامی کرپشن

منموہن سرکار کو کرپشن کے لئے یاد کیا جائے گا۔ اس سرکار کے دوران بڑے بڑے گھوٹالے ہوئے یہ الگ بات ہے کہ منموہن سنگھ ان گھوٹالوں کو بہت ہی ہلکے انداز میں لیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ سی اے جی اور میڈیا نے اسے بڑھا چڑھا کر پیش کیا۔ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ یوپی اے اول کے دور میں زیادہ گھوٹالے سامنے آئے مگر عوام نے انھیں دوبارہ چن کر حکومت کرنے کے لئے بھیج دیا۔ گویا وہ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ عوام کی نظر میں گھوٹالوں کی کوئی اہمیت نہیں تھی یا پھر انھوں نے گھوٹالوں کے باوجود انھیں منتخب کر کے مزید گھوٹالوں کی چھوٹ دے دی۔ یہ بات سب جانتے ہیں کہ منموہن سنگھ خود ایک شریف اور ایماندار آدمی ہیں مگر انھیں کرسی پر بٹھا کر کانگریس کے دوسرے لیڈروں نے ملک کو لوٹنے کا کام کیا ہے اور شاید ان کی یہی مجبوریاں تھیں کہ انھیں کہنا پڑا ان کی حکومت کی خوبیوں اور خامیوں کا تجزیہ تاریخ کرے گی۔ جب تاریخ لکھی جائے گی تو ظاہر ہے کہ یہ بھی لکھا جائے گا کہ ان کی حکومت ایک کٹھ پتلی حکومت تھی جس کی ڈور کسی اور کے ہاتھ میں تھی اور کرپشن کو روک پانا ان کے اپنے ہاتھ میں نہ تھا بلکہ سونیا گاندھی کے ہاتھ میں تھا۔ ویسے اس ایمانداری کا کیا مطلب جو چوروں کے کام میں آئے۔

 

مہنگائی کو بوجھ

منموہن سنگھ نے خود اپنی سرکار کی دوسری ناکامی مہنگائی بتائی۔ حالانکہ اس کے لئے بھی انھوں نے بین الاقوامی حالات کو ذمہ دار بتایا۔ اس بات سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ عالمی حالات ملک کے حالات پر اثر انداز ہوتے ہیں مگرسوال یہ ہے کہ ہم نے خود مہنگائی پر قابو پانے کے لئے کیا کیا اقدام کئے؟ کیا پیاز کے سو روپئے فروخت ہونے کے لئے بھی بین الاقوامی حالات ہی ذمہ دار تھے؟ کیاساٹھ روپئے کیلو جو آلو فروخت ہوئے اس کے لئے بھی پاکستان اور چین ذمہ دار تھے؟ بھنڈی۶۰ روپئے اور پلول ۵۰ روپیے کیلو بکے اس کے لئے بھی امریکہ اور یوروپ ذمہ دار تھے؟ سچ تو یہ ہے کہ اس کے لئے بیوپاریوں کی کالا بازاری اور ان کے ساتھ نیتاؤں کی ملی بھگت بھی بہت حد تک ذمہ دار تھی۔ اسی کے ساتھ شرد پوار جیسے منتریوں کی بے حسی اور سرکار کی لاپرواہی بھی قصور وار تھی، مگر اپنی کھال بچانے کے لئے وزیر اعظم نے اس کے لئے بین الاقوامی حالات کو ذمہ دار ٹھہرایا۔ اس کے لئے کرپشن بھی کم ذمہ دار نہ تھا۔

 

بیروزگاری کی لعنت

منموہن سرکار کے دوران ملک میں بیروزگاری بھی بڑھی اور خاص طور پر گاؤوں کے علاقوں میں لوگ روزی روٹی کے لئے پریشان نظر آئے۔ در اصل یہ بھی ان کی معیشت کے میدان میں ایک بڑی ناکامی تھی۔ دیکھا جائے تو جو لوگ حکومت کے عہدوں پر بیٹھے تھے ان کی دولت میں دن دونی رات چوگنی ترقی ہوئی۔ اسی طرح صنعتکاروں کی دولت بھی خوب بڑھی ہے۔ یہ اضافہ آن دی ریکارڈ ہے، مگر آف دی ریکارڈ کتنی دولت بڑھی ہے اس کا صحیح تخمینہ تو شاید سوئز بینک کے پاس بھی نہیں ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ بیروزگاری کا اثر صرف غریبوں اور عام لوگوں پر ہی کیوں پڑا؟ اس سے کوئی لیڈر اور صنعت کار کیوں متاثر نہیں ہوا؟ ٹاٹا، برلا، امبانی وغیرہ کی آمدنی میں کمی کیوں نہیں ہوئی؟

 

جنتا حساب چاہتی ہے

منموہن سنگھ اپنے دور حکومت پر تنقیدی نظر ڈالنے کو تیار نہیں، ان کا کہنا ہے کہ اب یہ تاریخ کا موضوع ہے اور تاریخ طے کرے گی کہ جو کچھ انھوں نے کیا اس میں کیا کیا درست تھا اور کیا کیا غلط؟ ان کی اس بات سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ اب یہ تاریخ کا موضوع بن چکا ہے مگر اس سے پہلے ابھی جنتا کو بھی اس پر غور کرنا ہے کہ اس نے جس کانگریس کو دس سال تک حکومت کرنے کا موقع دیا اس نے اس کی روزی روٹی کے لئے کیا کیا اقدام کئے۔ انتخابات سامنے ہیں اور عوام ووٹ ڈالنے سے قبل اس بات پہ ضرور غور کریں گے کہ ان کی جیب پر سرکار نے اب تک کیا کیا ڈاکہ ڈالا ہے اور مستقبل میں وہ کیا چاہتے ہیں۔ ملک کی معاشی پالیسی ہر دن نہیں بنتی ہے اور جب بن جاتی ہے تو اسے جلد تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔ اب شاید منموہن سرکار کی معاشی پالیسیوں کے اثرات دور تک جائیں اور لمحوں کی غلطی کی سزا صدیوں جھیلنی پڑے۔

 

 

 

 

 

بی جے پی کا پلان نمبر 2، مودی کی جگہ اڈوانی

 

اگر بی جے پی کو 2014ء کے لوک سبھا انتخابات میں زیادہ سیٹیں نہیں ملیں تو کیا ہو گا؟ کیسے بنیں گے نریندر مودی وزیر اعظم؟ کیسے بنے کی بی جے پی کی سرکار؟ کہاں سے آئیں گے ممبران پارلیمنٹ جن کی اکثریت ثابت کرنے کے لئے ضرورت ہو گی؟ 272 کا جادوئی ہندسہ کیسے پورا کرے گی بی جے پی؟ کیا وہ یہیں پر اپنے تمام متبادل بند کر دے گی یا پھر کسی نئے کھیل کی شروعات کرے گی؟ اس وقت پورے ملک کی نظر لوک سبھا انتخابات اور ان کے نتیجوں پر ہے مگر آرایس ایس نے ابھی سے پلان نمبر 2 پر غور کرنا شروع کر دیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق اندرونِ خانہ اس پہلو پر غور و فکر کا سلسلہ جاری ہے اور سنگھ کے نظریہ ساز اس بارے میں غور کر رہے ہیں کہ کیا کیا جائے؟ ایک پلان تو یہی ہے کہ زیادہ سے زیادہ اتحادی پارٹیوں کو ساتھ لانے کے لئے بعد میں کسی ایسے لیڈر کو سامنے لایا جائے جس کے نام پر علاقائی جماعتوں کو متحد کیا جا سکے۔ ان میں ایک نام لال کرشن اڈوانی کا ہے۔ ان کے علاوہ بھی کچھ لیڈران ہیں جو سامنے آ سکتے ہیں اور جن کے نام پر زیادہ سے زیادہ پارٹیوں کو جمع کیا جا سکتا ہے۔

 

مودی ناکام ہوئے تو۔۔ ۔

بھارتیہ جنتا پارٹی اس وقت ملک میں نمبر 2 کی پارٹی ہے۔ سب سے بڑی جماعت کانگریس ہے مگر اسے یقین ہے کہ آئندہ لوک سبھا میں وہ سب سے بڑی جماعت بن کر ابھرے گی۔ کانگریس چونکہ مرکز میں برسر اقتدار ہے لہٰذا مہنگائی اور کرپشن وغیرہ کے خلاف عوامی غصے کا اسی کو سامنا کرنا پڑے گا اور اس کی سیٹیں تیزی سے کم ہوں گی۔ پچھلے دنوں ہوئے اسمبلی انتخابات کے نتیجوں نے بھی ثابت کیا کہ کانگریس کے برے دن چل رہے ہیں اور اب اس کے اقتدار کا خاتمہ ہونے والا ہے۔ ان باتوں سے بی جے پی پر امید تھی کہ اس کا فائدہ اسے ملے گا اور اس کی سیٹیں بڑھیں گی۔ اسے یقین ہے کہ خواہ اسے اکثریت نہ ملے مگر سب سے بڑی پارٹی کے طور پر وہی ابھرے گی۔ یہ الگ بات ہے کہ اکثریت ثابت کرنے کے لئے 272 کے جادوئی فگر کو پار کرنا ضروری ہے اور اسے وہ کسی بھی قیمت پر پار نہیں کر سکتی۔ جیسا دلی کے اسمبلی چناؤ میں ہوا ہے کہ سب سے بڑی پارٹی ہونے کے باوجود وہ اقتدار سے دور رہ گئی ایسا ہی مرکز میں بھی ہو سکتا ہے۔ اگر یہی حالات رہے تو اس وقت وہ کیسے اقتدار میں آنے کا جگاڑ کرے گی یہ اس کے سامنے ایک بڑا مسئلہ ہو سکتا ہے اور اسی پہلو پر اس وقت آرایس ایس کے بڑے بڑے دماغ غور کرنے پر لگے ہوئے ہیں۔ در اصل نریندر مودی کو سامنے اس لئے لایا گیا تھا کہ میڈیا اور صنعت کار ان کے ساتھ تھے۔ آرایس ایس کو لگتا تھا کہ صنعت کاروں کی دولت اور میڈیا کی ماحول سازی مودی کی ہوا تیار کرے گی اور وہ زیادہ سے زیادہ سیٹیں جیتنے میں کامیاب ہو سکتے ہیں مگر اب محسوس ہونے لگا ہے کہ مودی کچھ خاص چمتکار نہیں کر سکتے۔ ابھی چناؤ میں وقت ہے اور ابھی سے ان کی ہوا نکلنے لگی ہے۔ ان کے حق میں ماحول تیار کرنے کے لئے بی جے پی نے کروڑوں روپئے خرچ کئے ہیں مگر اس کا خاطر خواہ فائدہ ہوتا دکھائی نہیں دیتا۔ اسے لگ رہا ہے کہ الیکشن آتے آتے ابھی ماحول اور بھی بدلنے والا ہے۔ اروند کجریوال کے میدان میں آنے سے اور بھی حالات بدلے ہیں اور مودی کے بجائے میڈیا کی توجہ کجریوال کی طرف ہو گئی ہے۔

 

بی جے پی کا ہائر اسکور

بی جے پی کا لوک سبھا میں اب تک کا سب سے ہائی اسکور 182 کا رہا ہے۔ اس نے اس سے زیادہ سیٹیں کبھی نہیں جیتی ہیں۔ یہ اسکور بھی اچھے دنوں کا تھا جب بہت سی علاقائی پارٹیوں کے ساتھ اس کا اتحاد تھا اور اس نے ساتھ مل کر چناؤ لڑا تھا۔ آج حالات بدل چکے ہیں اور پانچ ریاستوں میں برسراقتدار ہونے کے باوجود اس کے لئے فضا سازگار نہیں۔ 1998ء میں بی جے پی کو 182 سیٹیں ملی تھیں اور سب سے زیادہ یعنی 25 فیصد سے کچھ زیادہ ووٹ ملے تھے۔ اس کے بعد سے اس کی سیٹیں مسلسل کم ہوتی رہی ہیں۔ 1998ء میں اس کا اتحاد مغربی بنگال میں ترنمول کانگریس سے تھا اور بہار میں جنتا دل (یو) سے تھا۔ جنوب میں اے آئی اے ڈی ایم کے اور ملک کے دیگر حصوں میں بھی کچھ پارٹیاں اس کے ساتھ تھیں۔ آج حالات اس کے برعکس ہیں۔ ترنمول کانگریس جو مغربی بنگال کی ایک طاقت ور سیاسی جماعت ہے، بہت پہلے اس کا ساتھ چھوڑ چکی ہے اور جنتا دل یو نے بھی حال ہی میں اس مودی کے ایشو پرا س سے الگ ہونے کا اعلان کیا ہے۔ بیجو جنتا دل جو کبھی اس کے ساتھ تھا آج الگ ہے اور تیسرے مورچے کے امکانات تلاش کرنے میں لگا ہوا ہے۔ اے آئی اے ڈی ایم کے الگ ہے اور اس بات کے امکانات نہیں دکھائی دیتے کہ وہ این ڈی اے میں شامل ہو گا۔ یہ اتحاد جو اٹل بہاری واجپائی کے دور میں ایک بڑا اتحاد مانا جاتا تھا آج سمٹ کر مختصر سے مختصر تر ہو چکا ہے۔ آج اس کے ساتھ پنجاب کی اکالی دل ہے جس کے بارے میں یہ کہنا مشکل ہے کہ لوک سبھا میں وہ کسی بہتر کار کردگی کا مظاہرہ کرے گی۔ اسی طرح ایک شیوسینا ہے جس کے رہتے ہوئے مہاراشٹر نونرمان سینا کے این ڈی اے میں شامل ہونے کے امکانات نہیں۔ حالانکہ مہاراشٹر میں یہ شیو سینا سے زیادہ سیٹیں حاصل کر سکتی ہے۔ آندھراپردیش کی تیلگو دیشم پارٹی حال ہی میں این ڈی اے کا حصہ بنی ہے۔ یہ پارٹی واجپائی کے زمانے میں بھی این ڈی اے میں شامل تھی مگر تب اس کے پاس قوت تھی اور اب یہ اپنی طاقت گنوا چکی ہے۔ اس طرح دیکھا جائے تو آج این ڈی اے سمٹ کر بی جے پی تک محدود ہو چکا ہے۔ جو دو تین چھوٹی چھوٹی پارٹیاں اس کے ساتھ ہیں ان کی بھی کوئی اوقات نہیں ہے، ایسے میں بی جے پی کے بعد الیکشن بعد سب سے بڑا سوال یہی ہو گا کہ سرکار بنانے کے لئے 272 کے عدد کو کیسے پار کیا جائے؟

 

مودی کو کیوں لایا گیا؟

بی جے پی نے زیادہ سے زیادہ سیٹیں لانے کے لئے ہی نریندر مودی کو سامنے کیا تھا اور اس کی کوشش تھی کہ مودی کے ترقیاتی کاموں کو سامنے رکھ کر ووٹ حاصل کئے جائیں۔ دوسرا کھیل یہ بھی تھا کہ مودی کی فرقہ پرستانہ امیج کے ذریعے اگر ماحول کو خراب کیا جا سکا تو یہ بھی ایک طرح کی جیت ہو گی۔ اصل میں اگر دیکھا جائے تو بی جے پی کو مسجد۔ مندر کا تنازعہ پیدا کر کے پہچان ملی تھی اور وہ دوسیٹوں سے بڑھ کر 86 پر پہنچ گئی تھی۔ اسے آج بھی ان جگہوں پر زیادہ مقبولیت ملتی ہے جہاں مذہب کے نام پر اشتعال پھیلتا ہے۔ آج کل مظفر نگر میں اسے اسی سبب سے کامیابی کی امید جاگی ہے۔ ان تمام باتوں کے باوجود اسے یہ بھی اندازہ تھا کہ 182 سے آگے اس کا بڑھنا ممکن نہیں ہے۔

 

’’آپ‘‘ کا چیلنج

اس وقت بی جے پی جن ریاستوں میں برسراقتدار ہے ان میں اسے زیادہ سے زیادہ سیٹوں پر کامیابی کی امید ہے مگر بدلتے ہوئے حالات سے وہ خوفزدہ ہے۔ اس کے راستے میں سب سے زیادہ مشکل کھڑی کر سکتی ہے عام آدمی پارٹی جس کی مقبولیت دن دونی بڑھ رہی ہے۔ ابھی حال ہی میں ان میں سے زیادہ تر ریاستوں میں الیکشن مکمل ہوا ہے اور بی جے پی کو زبردست کامیابی ملی ہے مگر لوک سبھا میں حالات بدلے ہوئے ہوں گے اور عام آدمی پارٹی بھی میدان میں ہو گی۔ اس سے کانگریس سے زیادہ بی جے پی کو نقصان ہو سکتا ہے۔ پہلے تو مقابلہ کانگریس اور بی جے پی کے بیچ ہوتا تھا لہٰذا عوام کا ایک برا طبقہ بی جے پی کو کونگریس پر ترجیح دیتا تھا مگر دلی میں جیت کے بعد ’’آپ‘‘ کے حوصلے بلند ہیں۔ اس نے اعلان کر رکھا ہے کہ وہ تین سو سیٹوں پر الیکشن لڑے گی اور وہ ریاستیں اس کی فہرست میں اوپر پوں گی جہاں صرف کانگریس اور بی جے پی ہیں تیسرا متبادل نہیں ہے۔ یعنی دلی این سی آر اور ہریانہ کے علاوہ راجستھان، مدھیہ پردیش، چھتیس گڑھ اور گجرات اس کی ترجیحی فہرست میں شام ہوں گے۔ خود کجریوال پر دباؤ ہے کہ وہ بی جے پی کے پی ایم امید وار نریندر مودی کے خلاف الیکشن لڑیں۔ ان باتوں کا احساس خود مودی کو ہے لہٰذا اب وہ بھی اپنے لئے کسی محفوظ سیٹ کی تلاش میں ہیں۔ پہلے ان کے لئے اتر پردیش میں کسی سیٹ کو ڈھونڈا جا رہا تھا مگر اب وہ واپس گجرات بھاگ رہے ہیں کیونکہ ’’آپ‘‘ نے ان کے گھر میں گھس کر انھیں چیلنج کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ان کے لئے اب پورے ملک کو جیتنے سے زیادہ بڑا چیلنج ہے اپنے گھر کو بچانا۔

 

پلان 2 کیا ہے؟

سوال یہ ہے کہ اگر بی جے پی نے عام انتخابات میں کم سیٹیں جیتیں اورسب سے بڑی پارٹی کے طور پر اسے سرکار بنانے کا موقع ملتا ہے تو وہ کہاں سے 272 کی اکثریت پوری کرے گی۔ ایسے ہی وقت کے لئے بی جے پی اور آرایس ایس نے پلان 2 تیار کر رکھا ہے کہ مودی کو پیچھے کر دیا جائے اور لال کرشن اڈوانی کے نام پر اتحادیوں کو جمع کرنے کی کوشش کی جائے۔ ابھی حال ہی میں ایک پروگرام کے دوران آرایس ایس چیف موہن بھاگوت نے کہا تھا کہ اڈوانی خود کو سیات سے دور نہ کریں ابھی ان کی ضرورت بی جے پی کو ہے۔ سمجھا جاتا ہے کہ اس بات کے پس پشت یہی پلان نمبر 2 ہے۔ حالانکہ یہ بھی ممکن ہے کہ اڈوانی کے بجائے سشما سوراج، ارون جیٹلی اور راجناتھ سنگھ میں سے کسی ایک کے نام پر علاقائی پارٹیوں کو متحد کرنے کی کوشش کی جائے۔ اڈوانی دل بنا چکے تھے کہ وہ آئندہ الیکشن نہیں لڑیں گے مگر ایک بار پھر انھیں الیکشن لڑانے کی تیاری کی جا رہی ہے۔

 

 

 

منموہن کی بلا راہل کے سر

 

کانگریس کو بچانے کی ذمہ داری راہل کے کندھوں پر

 

راہل گاندھی کیا اب کانگریس کی ڈوبتی نیا کے کھیون ہار بننے والے ہیں؟ کیا ان کے سر پر کانٹوں بھرا تاج رکھا جانے ولا ہے؟ یا کانگریس حوصلہ ہار چکی ہے اور مان چکی ہے کہ اب تیسری بار اس کی سرکار نہیں بننے جا رہی ہے؟ کیا سونیا گاندھی کی منموہن سرکار کے صرف آخری چند دن بچے ہیں؟ منموہن سنگھ کی الوداعی پریس کانفرنس کا آخر مطلب کیا تھا؟ کیا اس کے پیچھے خود سونیا گاندھی تھیں جو آخری داؤ کھیلنے سے قبل چاہتی تھیں کہ منموہن یوپی اے ایک اور دو کے پاپوں کا بوجھ خود اپنے ساتھ لیتے جائیں؟ کیا حالیہ اسمبلی انتخابات نے کانگریس کے ہوا کے رخ کا احساس کرا دیا ہے لہٰذا اب وہ راہل گاندھی کو داؤ پر لگانا چاہتی ہے؟ کیا اب کانگریس راہل کے نام کا اعلان وزیر اعظم کے امید وار کے طور پر کرنا چاہتی ہے؟ اگر ایسا ہوا تو کیا بھولے بھالے راہل پارٹی کی ذمہ داری سنبھال لیں گے؟ کیا راہل گاندھی کے نازک کندھوں کے سہارے اس سخت مرحلے کو کانگریس پار کر پائے گی؟ کیا اس طرح سے پارٹی خود اپنے سینا پتی کو ضائع نہیں کر دے گی؟ منموہن سنگھ کی پریس کانفرنس کیا راہل کا راستہ صاف کرنے کے لئے بلائی گئی تھی؟ منموہن سنگھ نے اپنے ریٹائرمنٹ کے اعلان کے ذریعے جو اپنی صفائی دینے کی کوشش کی ہے کیا اس سے ان کا اپنا دامن صاف ہو جائے گا اور ان کی سرکار نے جو دس برسوں میں ملک کو ناکامیاں دی ہیں ان کا الزام ان کے دامن سے دھل جائے گا؟ اس پریس کانفرنس کی آج ہر کوئی اپنے اپنے انداز میں مطلب نکالنے کی کوشش کر رہا ہے لیکن جو بات سب سے زیادہ واضح ہے وہ یہ ہے کہ انھوں نے اپنی بلا راہل گاندھی کے سر ڈال دی ہے اور انھیں معلوم ہے کہ تیسری بار سرکار نہیں بننے والی ہے لہٰذا اپنے ریٹائرمنٹ کا بھی اعلان کر دیا ہے۔

 

نئی قیادت، نئے چیلنج

اب تک میڈیا، مودی بمقابلہ راہل کی راگ الاپتا رہا ہے مگر خود کانگریس نے اس مفروضے کو قبول نہیں کیا تھا۔ یہ الگ بات ہے کہ سب جانتے تھے کہ ایک دن کانگریس کی قیادت راہل کوہی کرنی ہے اور وہ اس کی ٹریننگ بھی لے رہے تھے۔ لیکن جس وقت مودی بمقابلہ راہل کی بات ہو رہی تھی اس وقت کانگریس کی قیادت سونیا گاندھی کے ہاتھ میں تھی اور سرکار کا چہرہ منموہن سنگھ بنے ہوئے تھے۔ اب حالات ایسے ہو چکے ہیں کہ کانگریس اپنا آخری داؤ کھیلنے پر مجبور ہے۔ اس نے دس سال راج کر لیا ہے اور وہ پہلے ہی محسوس کر چکی تھی کہ اسے تیسری بات منتخب ہو کر نہیں آنا ہے۔ یہی سبب ہے کہ انتخابی دور میں بھی اس نے جو بجٹ پیش کیا اس میں منموہن وعدے نہیں تھے اور سماج کے ہر طبقے کو خوش کرنے کی کوشش نہیں کی گئی تھی۔ سرکار اور پارٹی نے بے فکر ہو کر کام کیا، گھوٹالے کئے، فیصلے لئے اور اسے کوئی فکر نہیں رہی کہ عوام اسے لاتے ہیں یا سرکار سے باہر کرتے ہیں۔ اب ہوا کا رخ اسے معلوم ہے ایسے میں اس نے نوجوان طبقے کو لبھانے کے لئے راہل گاندھی کو سامنے لانے کا فیصلہ کیا ہے۔ کانگریس ملک کی ایک پرانی پارٹی ہے اور اس کے حامیوں کا ایک طبقہ ہر جگہ موجود ہے۔ نہرو خاندان کے ذریعے ہی پارٹی کی پہچان رہی ہے اور اسے یقین ہے کہ اگر راہل گاندھی کا چہرہ سامنے لایا گیا تو لوگوں کے اندر یہ احساس پیدا ہو گا کہ ایک موقع راہل کو دے کر دیکھنا چاہئے۔ منموہن سنگھ نے اپنی حکومت کی تین خامیاں بھی گنوائی ہیں۔ انھوں نے اپنی ناکامیوں میں کرپشن، مہنگائی اور روزگار کے مواقع نہ نکال پانے کو شمار کیا۔ ایسے موقعوں پر عموماً اپنی خوبیاں ہی گنوائی جاتی ہیں مگر وزیر اعظم نے اپنی خامیوں کو گنوا کر شاید یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ اسے ان کی ناکامیاں مانا جائے اور انھیں کے ساتھ جانے دیا جائے، راہل گاندھی کی ناکامی نہ مانی جائے۔

 

وزیر اعظم امید وار کا اعلان

کانگریس کی طرف سے بار بار کہا جاتا رہا ہے کہ مناسب وقت پر وہ اگلے وزیر اعظم کے امید وار کے نام کا اعلان کریں گے۔ حالانکہ کانگریس اس سے پہلے کسی کو پی ایم امید وار بنانے بغیر ہی الیکشن لڑتی رہی تھی مگر اس بار جیسے حالات ہیں اس میں امید ہے کہ وہ راہل گاندھی کو اس عہدے کے امید وار کے طور پر پیش کرنے والی ہے۔ اسی مہینے کی ۱۷جنوری کو دلی میں کانگریس کے اجلاس ہونے والا ہے اور بہت ممکن ہے کہ اسی موقعے پر راہل کے نام کا اعلان کیا جائے۔ اس کا اشارہ خود منموہن سنگھ نے بھی دے دیا ہے اور بتا دیا ہے کہ ان کی نظر میں اس عہدے کے لئے سب سے لائق امید وار راہل گاندھی ہیں۔ یعنی اب ان کے نام کے اعلان کی بس رسمی کار روائی ہی باقی ہے۔ اطلاعات ہیں کہ اندرون خانہ اس کی تیاری بھی چل رہی ہے اور ان کے نام کا اعلان ہوتے ہی پورے ملک میں زور و شور سے کانگریس پرچار میں لگ جائے گی۔ ان کے جے جے کار کے نعرے لگیں گے۔ ان کے پوسٹر، بینر اور ہورڈنگس لگائے جائیں گے اور میڈیا کے ذریعے ان کی تصویر کو چمکانے پر خوب خرچ کیا جائے گا۔

 

راہل کے لئے پچ تیار کرنے کی کوشش

کانگریس اپنے طور پر راہل کی بیٹنگ کے لئے پچ تیار کرنے میں کوئی کور کسر نہیں چھوڑے گی اور اس پر اربوں کھربوں روپئے صرف کئے جائیں گے مگر سوال یہ ہے کہ کیا راہل گاندھی اتنے جتن کے بعد بھی ملک اور پارٹی کی قیادت کے لائق ہو پائیں گے۔ سیاست کسی بھولے بھالے انسان کے بس کی بات نہیں ہے اور ملک کی قیادت کرنا کوئی بچوں کا کھیل نہیں ہے۔ ویسے اب ملک میں جس قسم کی گٹھ جوڑ کی سیاست چل رہی ہے وہ مزید مشکل کام ہے۔ یہ اندرا گاندھی اور راجیو گاندھی کا دور نہیں ہے کہ پارٹی تنہا اکثریت پالے اور مزے میں پانچ سال تک سرکار چلاتے رہو۔ راہل گاندھی نے اب تک خود کو ثابت نہیں کیا ہے۔ وہ فیصلہ لینے کی قوت سے محروم ہیں اور ان کے پاس حصول یابیوں کے نام پر بس اتنا ہی ہے کہ وہ نہرو خاندان کے چشم و چراغ ہیں اور کانگریس کو اس خاندان کا سہارا چاہئے ہوتا ہے۔ وہ آج تک اپنے بل بولتے پر کوئی فیصلہ نہ لے سکے اور بغیر اسکرپٹ کے جو کچھ کیا ہے اس میں کچھ نہ کچھ گڑبڑ ضرور ہوئی ہے۔ آج تک وہ اپنے بل بوتے پر ایک تقریر نہیں کر پائے اور ان کی تقریر کی تیاری کرانے کے لئے بھی ایک لمبی چوڑی جماعت ہوتی ہے۔ انتہا یہ ہے کہ انھوں نے پارلیمنٹ کے اندر اب تک صرف دو بار سوال پوچھے ہیں اور اس کے لئے بھی انھیں ہوم ورک کرانا پڑا ہے۔ راہل کا مقابلہ اس وقت اور بھی سخت ہو جائے گا جب وہ دیکھیں گے کہ سامنے نریندر مودی جیسا گھاگ اور شاطر سیاستدان ہے یا اروند کجریوال جیسا صاف ستھری امیج رکھنے والا ایک سابق سول سرونٹ ہے۔ عوام کے سامنے سب سے برا سوال تو یہی ہو گا کہ جو شخص آج تک خود کو نہ گھر گرہستی کی ذمہ داریاں سنبھالنے کے لائق بنا پایا اور نہ ہی کوئی وزارت کی ذمہ داری سنبھال پایا وہ اس وسیع و عریض ملک کی قیادت اور حفاظت کی ذمہ داری کیسے نبھا پائے گا؟ انھوں نے پارٹی کے اندر بھی اب تک کوئی اہم رول ادا نہیں کیا اور قدم قدم پر اپنی ماں کی رہنمائی کے محتاج رہے۔ وہ پارلیمنٹ کے اندر کبھی اکٹیو موڈ میں نہیں دکھے، حالانکہ وہ جس عمر کو پہنچ چکے ہیں اس عمر میں تو بھارت کے گاؤوں میں لوگ نانا کا کردار ادا کرنے کے لئے تیار ہو جاتے ہیں۔ راہل گاندھی کو جتنا سکھایا جا سکتا تھا سکھایا  جا چکا، اب اس سے زیادہ وہ نہیں سیکھ سکتے۔ ان کے اندر کبھی بھی سیاست کی گہری سوجھ بوجھ نہیں آ سکتی اور نہ ہی وہ دو دو ہاتھ کرنے والا انداز کبھی اپنا سکتے ہیں جب کہ سیاست داں کے لئے ان باتوں کا ہونا ضروری ہے۔

 

فرقہ پرستی اور سیکولرزم کی لڑائی

کانگریس کے پاس ایسا کوئی ایشو نہیں ہے جسے لے کر وہ عوام کے درمیان جائے اور ووٹ مانگے۔ اسے لگتا ہے کہ کرپشن اور مہنگائی آج اہم سوال ہیں اور ان سوالوں کا اس کے پاس کوئی جواب نہیں ہے ایسے میں اگر ملک کی سیاست کو سیکولرزم اور کمیونلزم کے نام پر بانٹ دیا جائے تو کچھ ووٹ حاصل کئے جا سکتے ہیں۔ اب کانگریس اسی راستیپر چلنے کا ارادہ رکھتی ہے اور اس کا بھی اظہار منموہن سنگھ نے اپنی پریس کانفرنس کے دوران کر دیا ہے۔ انھوں نے نریندر مودی پر حملہ کرتے ہوئے کہا کہ جو شخص احمد آباد کی سڑکوں پر قتل عام کو نہیں روک سکا اگر وہ ملک کا وزیر اعظم بن جائے تو یہ ملک کے لئے ہلاکت خیز ہو گا۔ سمجھا جا سکتا ہے کہ کانگریس انتخابات کو سیکولرزم بمقابلہ فرقہ پرستی کا سوال بنانا چاہتی ہے۔ کرپشن اور مہنگائی کے لئے اس کے پاس کوئی جواب نہیں ہے اور وزیر اعظم نے کہا بھی کہ کرپشن کے جو واقعات ہوئے وہ یو پی اے ون کے دور میں ہوئے، اس کے بعد کانگریس جیت کر آئی اور اس نے سرکار بنایا اس کا مطلب یہ ہے کہ عوام کرپشن کو ایشو نہیں مانا۔ اس کا کیا یہ مطلب لیا جائے کہ اب کرپشن ان کی نظر میں کوئی ایشو نہیں، ملک اسے فراموش کر دے اور سیکولرزم کے نام پر کانگریس کی حمایت کرے۔

 

 

 

 

 

’’آپ‘‘ سے خوفزدہ ملائم اور مایا

 

کجریوال کر سکتے ہیں دونوں کا صفایا

 

اتر پردیش پر تمام سیاسی پارٹیوں کی نظریں ہیں مگر کوئی نہیں جانتا کہ یہاں کا سیاسی کھیل کون جیتے گا؟ کس کے ہاتھ میں رہے گا میدان اور کون کھائے گا مات؟ ملائم کا چلے گا داؤ یا مایا وتی کا ہاتھی اپنی مست چال چلتا ہوا سب کو پیچھے چھوڑ دے گا؟ کانگریس اپنی پرانی سیٹیں بچانے میں کامیاب ہو پائے گی یا پھر بی جے پی میدان مار لے گی؟ مودی کا چلے گا جادو یا پھر راہل کی بہے گی بیار؟ یہاں سب کا کھیل بگاڑ سکتی ہے اروند کجریوال کی عام آدمی پارٹی اور ملائم کے ساتھ ساتھ مایا کا بھی خواب چکنا چور ہو سکتا ہے۔ ابھی ’’آپ‘‘ نے اپنے امید واروں کا اعلان نہیں کیا ہے اور یہ بھی نہیں معلوم کہ وہ کن کن سیٹوں پر چناؤ لڑے گی مگر اتنا ضرور ہے کہ ابھی سے عوام میں اس کی مقبولیت نظر آنے لگی ہے اور لوگ اس بات کے انتظار میں ہیں کہ وہ اپنے امید وار اتارے۔ گاؤں گاؤں میں اس کے بارے میں چرچے ہو رہے ہیں اور لوگوں کو لگتا ہے کہ اصل بدلاؤ کا وقت آ چکا ہے۔ اتر پردیش کے لوگوں کا مزاج اس وقت بدلا بدلا سا محسوس ہو رہا ہے اور ایسا لگتا ہے کہ لوگ اب ذات اور مذہب کی سیاست سے اوپر آنے کا سوچ رہے ہیں۔ عوام کے اس موڈ کو سیاسی پارٹیاں بھی محسوس کرنے لگی ہیں اور وہ اپنی حکمت عملی بدلنے پر مجبور ہو رہی ہیں۔ سماج وادی پارٹی اور بہو جن سماج پارٹی نے تو الیکشن سے ایک سال قبل ہی اپنے امید واروں کا انتخاب کر لیا تھا اور اب حالت یہ ہے کہ ’’آپ‘‘ کے خوف سے وہ اس میں بدلاؤ کی سوچ رہی ہیں۔ کئی امید وار بدل چکے ہیں اور چناؤ کے وقت تک اور بھی نہ جانے کتنے امید واروں کو بدلنے کی ضرورت پڑ جائے۔

 

مسلم امید واروں کی بھرمار

مغربی اتر پردیش کے فسادات نے مایا وتی کی راہوں میں امیدوں کے سینکڑوں چراغ جلا دیئے تھے مگر اب وہ کئی لحاظ سے تشویش میں مبتلا ہو گئی ہیں اور امید واروں کو بدل رہی ہیں۔ انھیں لگتا تھا کہ مظفر نگر کے فسادات کے سبب مسلمان ملائم سنگھ اور سماج وادی پارٹی سے ناراض ہیں لہذا مسلم ووٹ ان کی پارٹی کو تھوک کے حساب سے جائیں گے۔ مسلمان سماج وادی پارٹی کے ساتھ نہیں جائیں گے اور بی جے پی کے ساتھ جاہی نہیں سکتے ایسے میں ایک بی ایس پی ہی بچتی ہے۔ انھوں نے پہلے ہی سے ۱۳ مسلمانوں کو لوک سبھا ٹکٹ دیئے تھے اور اب نئی حکمت عملی کے تحت اس میں مزید اضافے کر رہی ہیں۔ مغربی یوپی میں مسلمان ویسے ہی بڑی تعداد میں ہیں اور ان کے ووٹ ہمیشہ فیصلہ کن رہے ہیں لہٰذا مظفر نگر، کیرانہ، میرٹھ، امروہہ، سنبھل، بدایوں، پیلی بھیت، دھورہرا اور رام پور سے انھوں نے مسلم امید وار اتارے تھے۔ ان سیٹوں کے علاوہ اعظم گڑھ، ڈمریا گنج، کانپور، سیتاپور، اور فتح پور سے بھی مسلم امید وار تھے۔ اب دیوریا سے بی ایس پی نے موجودہ ایم پی کملیش شکلا کی جگہ پر ایک مسلمان نیاز احمد حسن کو اتار دیا ہے۔ نیاز نے 2012ء کے اسمبلی انتخابات میں حصہ لیا تھا مگر وہ کامیاب نہ ہو سکے تھے۔ تب وہ بی ایس پی کے بجائے آزاد امید وار تھے۔ پارٹی نے ایٹہ سے ستیہ پرکاش سنگھ کی جگہ نور محمد کو امید وار بنانے کا فیصلہ لیا ہے۔ اسی طرح پرتاپ گڑھ سے پہلے آر کے ورما امید وار تھے مگر اب ان کی جگہ پر نثار نبی کو امید وار بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ نثار نبی حمیر پور ضلع کے پارٹی صدر بھی ہیں۔ وہ پارٹی کے اولین ضلعی صدر ہیں۔ عام طور پر اس عہدے پر کسی دلت یا انتہائی پسماندہ کو رکھا جاتا ہے مگر انھیں بھی صدر بنایا گیا۔

 

مسلم ووٹروں کو پٹانے کی کوشش

بہو جن سماج پارٹی نے مسلمانون کو اپنے ساتھ کرنے کی ذمہ داری خاص طور پر ودھان سبھا میں اپوزیشن لیڈر نسیم الدین صدیقی اور راجیہ سبھا ممبر منقاد علی کو دی ہے۔ منقاد علی مغربی اتر پردیش میں مسلمانوں کے اندر ایک اہم رول ادا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور مایا وتی کو لگتا ہے کہ یہ لوگ مسلمانوں کو پٹانے میں کامیاب ہوں گے۔ تمام بڑے لیڈروں نے مظفر نگر کے فساد زدہ علاقوں کا دورہ کیا اور متاثرین کے کیمپوں میں بھی حال چال پوچھنے کے لئے گئے مگر مایاوتی نے ایسا نہیں کیا۔ انھیں لگتا ہے کہ اب مسلمانوں کے پاس بی ایس پی کو ووٹ دینے کے سوا کوئی چارۂ کار نہیں۔ البتہ انھوں نے پارلیمنٹ میں فسادات کا معاملہ اٹھایا اور ریاست میں صدر راج کے نفاذ کا مطالبہ کیا تھا۔ مایا وتی جانتی ہیں کہ مسلمان ایسی پارٹی کو ووٹ دیتے ہیں جو بی جے پی کو شکست دینے میں زیادہ مضبوط نظر آئے ایسے میں بی ایس پی ان کی پہلی پسند ہو سکتی ہے۔ اب انھوں نے جو حکمت عملی بدلی ہے اس میں اس بات کا خاص خیال رکھا گیا ہے کہ دلت اور مسلم ووٹ مل کر جیت کی پوزیشن میں پہنچ سکتا ہو۔ اس سے پہلے ان کے ساتھ برہمن ووٹ بھی جڑا تھا مگر اس بار انھیں شک ہے کہ نریندر مودی کے اثر سے برہمن دوبارہ بی جے پی کی طرف جا سکتے ہیں۔ ایسے میں مسلمان ان کا سہارا بن سکتے ہیں۔ مایاوتی کی پارٹی کے لوگ اس بات کا بھی پرچار کر رہے ہیں کہ ان کے دور حکومت میں فرقہ وارانہ فسادات نہیں ہوتے تھے اور انتظامیہ و پولس پر ان کی گرفت مضبوط ہوتی تھی۔ مسلمان اگر چاہتے ہیں کہ فسادات سے بچے رہیں تو انھیں ہاتھی کی سواری شروع کر دینی چاہئے۔

 

جھاڑو سے مایا کو ڈر

فی الحال مایاوتی کو ایک خطرہ ستا رہا ہے اور وہ ہے اروند کجریوال کی عام آدمی پارٹی کا خطرہ۔ یہ پارٹی ایک نئی پارٹی ہے اور اس کا تنظیمی ڈھانچہ ابھی دہلی میں ہی نہیں بن پایا ہے یہ الگ بات ہے کہ پارٹی نے اس کے بغیر ہی الیکشن لڑا اور کامیاب بھی ہوئی۔ اب وہ مغربی اتر پردیش کی تمام سیٹوں پر چناؤ لڑنے کی بات کر رہی ہے اور ساتھ ہی ساتھ مشرقی اتر پردیش کی بھی کچھ سیٹوں پر چناؤ لڑے گی۔ اس کے اثرات کا جائزہ لینے کے لئے مایاوتی نے کچھ لوگوں کو مغربی اتر پردیش میں بھیجا تھا جہاں اس کا جادو سر چڑھ کر بولتا نظر آیا۔ یہ مایاوتی کے لئے ایک زبردست خطرے کی گھنٹی ہے۔ یہاں فساد متاثرین کے ساتھ ساتھ عام لوگ بھی عام آدمی پارٹی کا کلمہ پڑھ رہے ہیں اور انھیں انتظار ہے کہ پارٹی اپنے امید واروں کا اعلان کرے۔ چونکہ اتر پردیش کا یہ علاقہ دہلی سے قریب ہے اور اروند کجریوال یہیں غاذی آباد میں رہتے ہیں لہٰذا یہاں دہلی میں ان کی جیت کا خاصہ اثر ہے، جس نے دوسری پارٹیوں کی نیند حرام کر رکھی ہے۔ اوپر سے ڈاکٹر کمار وشواس نے راہل گاندھی کے خلاف امیٹھی سے الیکشن لڑنے کا اعلان کر رکھا ہے۔ اس اعلان سے بھی لوگوں کے اندر بہت جوش دکھائی دے رہا ہے۔ ’’آپ‘‘ کے میدان میں اترنے سے مایاوتی کو اپنا کھیل بگڑتا دکھائی دے رہا ہے۔ انھیں لگتا ہے کہ اگر میدان میں ایس پی کے خلاف وہ تنہا ہوں گی تو ان کی پارٹی کو ووٹ ملیں گے لیکن اگر سامنے ’’آپ‘‘ بھی ہو گی تو ووٹ دونوں طرف تقسیم ہوں گے۔ اصل میں مایاوتی ملائم کے برخلاف انتہائی خاموشی سے وزیر اعظم بننے کا جگاڑ کرنے میں لگی ہوئی تھیں۔ وہ ملائم کی طرح چیخ چلا نہیں رہی ہیں کہ وہ وزیر اعظم بننا چاہتی ہیں اور انھیں ساٹھ سیٹیں جیتنی ہیں۔ انھوں نے انتہائی خاموشی سے اپنی سیٹیں بڑھانے کا گیم کھیلا ہے۔

 

ملائم کے لئے بھی خطرہ

عام آدمی پارٹی صرف بی ایس پی ہی نہیں بلکہ ایس پی کے لئے بھی بڑا خطرہ بن سکتی ہے۔ ملائم سنگھ بھی اس سے خوفزدہ ہیں اور انھیں لگتا ہے کہ اگر اس نئی پارٹی نے زور پکڑا تو ان کی سرکار کے لئے بڑی مشکلیں گھڑی ہو سکتی ہیں۔ یہاں ووٹروں کی اکثریت ایس پی اور بی ایس پی کے درمیان تقسیم رہی ہے مگر اب سب کا کھیل بگڑ سکتا ہے۔ سب سے بڑا نقصان ان پارٹیوں کو یہ ہونے والا ہے کہ عام آدمی پارٹی لوگوں کو کرپشن اور وی آئی پی کلچر کے خلاف بیدار کرتی ہے اور اس سے انھیں پارٹیوں کو ریاست میں نقصان ہو گا۔ اس کے بعد دوسرا نقصان یہ ہو گا کہ جب ووٹنگ ذات اور مذہب کی سیاست سے اوپر اٹھ کر ہو گی تو انھیں ملنے والے ذات پات والے ووٹ تقسیم ہو سکتے ہیں۔ اتر پردیش میں اب تک الیکشن کے دوران ذات پات کا بول بالا ہوتا تھا ور اسی لئے دلت ووٹ اگر مایاوتی کو جاتا ہے تو یادو ووٹ ملایم سنگھ کو جاتا ہے۔ اسی طرح بنیا اور برہمن ووٹ عموماً بی جے پی کے ساتھ رہا ہے۔ ظاہر ہے کہ ’’آپ‘‘ کی آمد ایک الگ قسم کی سیاست کا آغاز ہو گی۔ سوال یہ بھی ہے کہ یہ سیاست کیا اتر پردیش میں چل پائے گی؟ اگر چل گئی تو سب سے پہلے اندیشہ ہے کہ مسلمانوں کا ووٹ ایس پی اور بی ایس پی کے ہاتھ سے نکل کر اسی طرف جائے۔

 

 

 

دلی کا طوفان بن رہا ہے بھارت کی سونامی

 

مودی کا راستہ راہل نہیں، کجریوال روکیں گے

 

’’آپ‘‘ کیا ملک میں انقلاب لانے والی ہے؟ کیا یہ سچ مچ حقیقی آزادی کی تحریک ہے؟ کیا جو کچھ1947ء میں حاصل نہیں ہو پایا تھا وہ اب حاصل ہونے والا ہے؟ کیا دلی کا یہ طوفان واقعی انقلاب کی سونامی بننے والا ہے؟ کیا جس طوفان کو کانگریس اور بی جے پی دلی میں نہیں روک پائیں وہ ملک کے دیگر حصوں میں کمزور پڑ جائے گا؟ یا پھر یہ دلی اور این سی آر تک ہی سمٹ کر رہ جائے گا؟ اس کی قوت یہیں دم توڑ دے گی اور یہ آگے نہیں بڑھ پائے گا؟ مکمل آزادی کے سپنے کے پورا ہونے کا وقت ابھی نہیں آیا ہے؟ کیا یہ ملک ابھی کچھ دن اور اسی طرح ذات اور دھرم کی راجنیتی کا مرکز بنا رہے گا اور یہاں کی سیاست میں بدلاؤ نہیں آنے والا ہے؟ کیا اسی طرح ملک کے لوگ کرپشن کے شکار رہیں گے یا پھر اس کے خاتمے کا وقت آ چکا ہے؟ کیا کرپٹ لیڈروں کا یوم حساب آ چکا ہے اور وہ اب جیل کی سلاخوں کے پیچھے جا کر اپنے کئے کا حساب دینے والے ہیں؟ یہ سوالات آج اس لئے کھڑے ہو رہے ہیں کہ اروند کجریوال نے وہ کر دکھایا ہے جو اس پہلے کبھی کسی نے نہیں کیا تھا۔ صرف چودہ مہینے کی پارٹی نے ملک کی دو بڑی پارٹیوں کو شکست سے ہم کنار کیا اور اقتدار پر قبضہ جما لیا۔ انھوں نے خود ریاست کی وزیر اعلیٰ کو ہرایا اور ان کی پارٹی کے نوعمر و نوسکھیا لیڈروں نے شیلا دکشت کے منتریوں کو ذلیل ترین شکست دی۔ جو لیڈران ابھی چند مہینے قبل تک انھیں للکار رہے تھے اور کہہ رہے تھے کہ اگر سسٹم کو بدلنا ہے تو پہلے الیکشن لڑ کر آئیں اور قانون بنائیں۔ یہ کہتے ہوئے کانگریس اور بی جے پی کے لوگوں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ ان کا چیلنج کبھی حقیقی روپ بھی لے سکتا ہے۔ اب عام آدمی پارٹی کے حوصلے بلند ہیں اور وہ پورے ملک میں چھا جانے کے لئے بیقرار ہے۔ دلی میں سرکار بننے اور اسے اکثریت ملنے کے بعد سے اس کے جوش میں اضافہ ہوا ہے۔

 

دلی سرکار کے فیصلوں کے اثرات

دلی میں ’’آپ‘‘ کی سرکار نے جو فیصلے لئے ہیں ان کے دور رس نتائج ہو سکتے ہیں۔ اروند کجریوال نے اکثریت ثابت کرنے سے قبل ہی اپنا بجلی اور پانی کے تعلق سے کیا گیا وعدہ پورا کیا اور اس سے نہ صرف دلی والے بہت خوش ہیں بلکہ میڈیا کے ذریعے بات پورے ملک میں جا رہی ہے اور ہر طرف لوگوں میں امیدیں جاگی ہیں۔ جو لوگ سمجھتے تھے کہ اس ملک کا اب کچھ نہیں ہو سکتا۔ یہاں کا سسٹم کبھی درست نہیں ہو گا اور کرپشن کا کبھی خاتمہ نہیں ہو سکتا انھیں لگنے لگا ہے کہ اب واقعی ملک میں بدلاؤ آ سکتا ہے۔ اروند کجریوال نے اکثریت ثابت کرنے سے قبل جو اسمبلی میں تقریر کی اور اپنی 17 ترجیحات کو گنوایا اسے تمام ٹی وی چینلوں نے براہ راست ٹیلی کاسٹ کیا اور پورے ملک میں لوگوں نے اسے دیکھا۔ اس سے بھی لوگوں تک پیغام پہنچا ہے۔ اس تقریر میں انھوں نے دلی کے تقریباً تمام بڑے بڑے مسائل کا ذکر کیا تھا، جس میں سرفہرست بدعنوانی اور رشوت ستانی کا خاتمہ تھا۔ انھوں جس طرح سادگی کے ساتھ رہنے کی بات کی وہ بھی لائق تحسین ہے۔ اس طرح انھوں نے وی آئی پی کلچر کے خاتمے کی طرف ایک قدم بڑھایا ہے۔ البتہ چند دن بعد ہی انھوں نے سرکای گاڑی اور فلیٹ قبول کر لیا جس پر اپوزیشن نے ہنگامہ بھی کیا۔ سمجھا جاتا ہے کہ یہ ان کے اعلان کے خلاف بات تھی۔ دلی کے منتریوں کا کام کرنے کا طریقہ بھی لوگوں کو پسند آیا ہے مگر لازم ہے کہ یہ سلسلہ اسی طرح جاری رہے۔ سرکار میں نمبر دو کی پوزیشن رکھنے والے منیش سسودیا نے سردراتوں میں ان رین بسیروں کا جائزہ لیا جو غریب اور فٹ پاتھ پر راتیں گذارنے والوں کے لئے بنائے گئے ہیں۔ انھوں نے جس جگہ بھی کوئی کمی دیکھی فوراً فون کر کے ذمہ داروں کو اسے درست کرنے کا حکم دیا۔

 

مقبولیت میں اضافہ

عام آدمی پارٹی کی مقبولیت بہت تیزی سے بڑھ رہی ہے اور اس کے چاہنے والوں کا دائرہ وسیع سے وسیع تر ہوتا جا رہا ہے۔ کلکتہ سے دلی تک ہر جگہ اس کے ممبر بننے والوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اس کی مقبولیت کا اندازہ اس بات سے ہوتا ہے کہ صرف دسمبر کے آخری تین ہفتوں میں اس سے تین لاکھ نئے ممبران جڑے ہیں۔ ایسا بھارت کی تاریخ میں پہلے کبھی نہیں دیکھا گیا۔ ایسے لوگوں کی بھی تعداد کم نہیں جو ممبر بننا چاہتے ہیں مگر انھیں نہیں معلوم کہ کیسے بنیں گے۔ کلکتہ کے سنیل جٹرچی کہتے ہیں کہ میں ممبر بننا چاہتا ہوں مگر نہیں جانتا کہ کیسے بنوں گا۔ ہمارے آس پاس اس کا کوئی آفس نہیں ہے اور نہ ہی کوئی میرا جاننے والا اس کا ممبر ہے۔

عام آدمی پارٹی کے تعلق سے ایک دلچسپ حقیقت ہے کہ اس نے اگر چہ دلی کے اقتدار پر قبضہ کر لیا ہے مگر اس کا باقاعدہ سنگٹھن اب تک نہیں بن پایا ہے۔ اس کا تنظیمی ڈھانچہ دلی این سی آر میں ابھی نہیں ہے تو باقی ملک کو کون پوچھتا ہے۔ اس وقت جو لوگ ممبر بن رہے ہیں ان میں بیشتر وہ لوگ ہیں جو انٹرنیٹ سے جڑے ہوئے ہیں اور انھوں نے اس کی ویب سائٹ کے ذریعے ممبر شپ حاصل کی ہے۔ اس کے چاہنے والے ہر طرف پھیل رہے ہیں۔ پہلے کہا جاتا تھا کہ یہ دلی کی پارٹی ہے جہاں پڑھے لکھے لوگ رہتے ہیں مگر اب جس طرح سے اس کے بارے میں گاؤں گاؤں میں لوگ باتیں کر رہے ہیں اس سے محسوس ہوتا ہے کہ اس کی مقبولیت کا دائرہ گاؤں تک پہنچ چکا ہے۔

 

عام آدمی پارٹی اب عام ہو گی

عام آدمی پارٹی یوں تو پورے ملک میں لوک سبھا انتخابات میں امید وار اتارنے جا رہی ہے مگر اس کا اصل ٹارگیٹ راجدھانی دہلی اور اس کے قرب و جوار کی سیٹیں حاصل کرنا ہے۔ اسے لگتا ہے کہ دلی، ہریانہ، نوئڈا، غازی آباد اور مغربی اتر پردیش اس کے لئے زیادہ آسان نشانہ ہے۔ اس کے بعد دوسرے مرحلے میں وہ ریاستیں آتی ہیں جہاں کوئی تیسرا متبادل نہیں ہے اور عوام کانگریس اور بی جے پی میں سے کسی ایک کو چننے پر مجبور ہیں۔ اس نے یہ بھی اعلان کر دیا ہے کہ اب وہ نریندر مودی کو چنوتی دے گی اور گجرات کی تمام لوک سبھا سیٹوں پر اپنے امید وار اتارے گی۔ اس اعلان نے نریندر مودی کے لئے اندیشے اور وسوسے پیدا کر دیئے ہیں۔ وہ اپنے گھر کو اب تک محفوظ تصور کر رہے تھے اور انھیں لگتا تھا کہ ان کا کوئی گجرات میں کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔ یہاں جب کانگریس ان کا کچھ نہیں کر سکی تو پھر دوسرا کون ہے اتنی ہمت والا کہ ان کا کچھ بگاڑ سکے۔ اب ’’آپ‘‘ نے انھیں چیلنج کیا ہے اور اس لئے بھی یہ چیلنج ڈرانے والا ہے کہ دلی میں یہ درست ثابت ہو چکا ہے۔ کوئی نہیں جانتا کہ عوام کا موڈ کیا ہو۔ سب سے بڑا اندیشہ یہاں مسلمانوں کی طرف سے ہے جو اب تک کانگریس کو ووٹ دیتے رہے ہیں مگر اب ’’آپ‘‘ کی طرف جا سکتے ہیں کیونکہ کانگریس نے انھیں مایوس کیا ہے اور بی جے پی کو ہرانے میں ناکام بھیر ہی ہے۔ اس طرح اگر دس فیصد آبادی رکھنے والے مسلمانوں کا اس طرف رجحان ہو گیا تو ایک زبردست شروعات ہو جائے گی۔

 

اس خطرے سے بچیں

اس وقت عام آدمی پارٹی کی طرف جس طرح سے لوگ آ رہے ہیں یقیناً یہ پارٹی کے لئے بہت خوشی کی بات ہو گی مگر اس میں ایک بڑا خطرہ بھی نظر آ رہا ہے۔ پارٹی سے جڑنے والوں کی کوئی انکوائری نہیں کی جاتی اور نہ ہی ان کے ماضی کی زیادہ جانکاری رکھی جاتی ہے۔ جو لوگ جڑ رہے ہیں ان میں ایسے لوگ بھی شامل ہیں جن کا ماضی بے حد داغدار رہا ہے۔ یہ جب ’’مجھے سوراج چاہئے‘‘ والی ٹوپی پہن کر اپنے علاقے میں چکر لگاتے ہیں تو لوگوں کو پارٹی کے بارے میں ابھی سے شک و شبہ ہونے لگا ہے۔ دلی جیسے شہروں ایک نظارہ عام طور پر دیکھنے کو ملتا ہے کہ ’’آپ‘‘ کی ٹوپی لگا کر کچھ لوگ موٹر سائیکلون پر نکلتے ہیں اور ان کے سر پر ہلمٹ نہیں ہوتا جو سراسر قانون کی خلاف ورزی ہے اور اسے روکنے کی ضرورت ہے۔ اس سے پارٹی کی بدنامی ہوتی ہے اور یہی لوگ مستقبل میں نقصاندہ ثابت ہوں گے۔ قانون توڑنے کا یہ رجحان پارٹی کے نظریات کے خلاف بھی ہے مگر ابھی پوری طرح سسٹم نہیں بن پایا ہے لہٰذا کسی کے خلاف کوئی کار روائی بھی نہیں ہو پا رہی ہے۔ دلی میں حلف برداری کے دن پارٹی ور کروں میں میٹرو اسٹیشن پر قانون توڑنے کا رجحان دیکھا گیا۔ یہ لوگ ٹوکن کے ذریعے اندر جانے کے بجائے راستے سے اچھل کر جا رہے تھے۔ ایسا دلی میں کبھی نہیں دیکھا گیا تھا۔

 

مسلمان بھی ’’آپ‘‘ کی حمایت میں

دلی کے انتخابات کی خاص بات یہ تھی کہ ’’آپ‘‘ کو مسلمانوں نے ووٹ نہیں دیا اور مسلم علاقوں سے اس کے امید وار نہیں جیتے مگر اب حالات بدلتے نظر آ رہے ہیں۔ دلی میں مسلمانوں کو لگتا تھا کہ بی جے پی کاراستہ کانگریس روکے گی مگر ایسا ہوا نہیں اس کا راستہ ’’آپ‘‘ نے روکا۔ اب مسلمانوں کا پچھتاوا ہے اور انھیں لگتا ہے کہ اگر انھوں نے بھی دلی کے دوسرے شہریوں کی طرح ’’آپ‘‘ کا ساتھ دیا ہوتا تو آج اسے اکثریت مل چکی ہوتی اور بی جے پی کی سیٹیں تچھ کم ہو گئی ہوتیں۔ باقی ملک کے مسلمان بھی اروند کجریوال کی طرف اب امید بھری نظروں سے دیکھ رہے ہیں۔ انھیں محسوس ہونے لگا ہے کہ جو کام اب تک کانگریس نہیں کر پائی وہ کام اب کجریوال کر دکھائیں گے۔ لہذا اب مسلم ووٹ اگر کھل کر ’’آپ‘‘ کی حمایت میں جائے تو کوئی حیرت نہیں ہونی چاہئے۔ اس صورت حال سے کانگریس اور بھاجپا سمیت دوسری سیاسی پارٹیوں میں بھی بے چینی پائی جا رہی ہے۔

 

 

 

 

 

مظفر نگر میں زانی آزاد، فساد متاثرین پر مقدمے

 

ملائم کی فرقہ پرستی کا ننگا ناچ

 

مظفر نگر کے خانماں برباد مسلمانوں کے کیمپوں پر بلڈوزر چلا کر ملائم کی سرکار نے ’’مسلم نوازی‘‘ کا حق ادا کر دیا۔ آج اتر پردیش میں کلیان سنگھ کا راج ہوتا تو بھی شاید ایسا ظلم نہ کیا جاتا۔ فسادات میں اپنا سب کچھ لٹا چکے مسلمان آج بالکل بے یار و مدد گار ہو چکے ہیں۔ ان سے ان کے گھر پہلے ہی چھن چکے تھے اب کڑاکے کی سردی میں ان کے تمبو بھی اکھاڑ دیئے گئے۔ جن عورتوں کی عصمت ریزی ہوئی تھی وہ آج بھی انصاف کو ترس رہی ہیں۔ زانی کھلے عام گھوم رہے ہیں اور کسی کے خلاف کوئی کار روائی نہیں کی گئی۔ ایسا لگتا ہے کہ انھیں سرکار کا آشیرواد حاصل ہے۔ ننھے ننھے بچوں نے اپنی جانیں ٹھنڈ میں گنوا دی ہیں اور اب باری ہے بڑوں کی۔ کچھ لوگ مجبوری میں کرایے کے مکان لے کر رہ رہے ہیں تو کچھ دوسری جگہوں پر کیمپ بنا کر رہ رہنے لگے ہیں۔ ملائم سنگھ کو یہ بھی گوارا نہیں کہ مسلمان کھلے عام رہ سکیں لہٰذا ان مظلوموں پر دوسرا ستم یہ کیا گیا ہے کہ انھیں مختلف مقدموں میں پھنسایا گیا ہے۔ یعنی قتل و غارت گری کرنے والے آزاد ہیں، زانی کھلے عام گھوم رہے ہیں اور بے سہارا غریب فساد متاثرین کو الٹے جھوٹے مقدموں میں پھنسا کر جیلوں میں ٹھوسنے کی تیاری چل رہی ہے۔ لیکن ستم کی انتہا تب ہوتی ہے جب اس حال میں بھی انھیں پوچھنے والا کوئی نہیں اور نام نہاد مسلم لیڈران الٹے سرکار کی نمک خواری کا حق ادا کر رہے ہیں۔ کوئی ملائم سنگھ کی گاڑی میں گھوم رہا ہے تو کوئی نریندر مودی کی لکزری کار کے مزے لے رہا ہے۔ ان مظلوموں کے نام پر کمائی کرنے کے لئے بھارت سے سعودی عرب تک دکانیں کھل گئی ہیں۔ یہاں کے فساد متاثرین کی تصویریں اور ویڈیو دکھا کر ہر جگہ چندے کا دھندہ کیا جا رہا ہے۔ فساد متاثرین کے لئے کچھ ہو یا نہ ہو مگر ان لیڈروں اور کچھ دنیا دار علماء کے بینک بیلنس میں ضرور اضافہ ہو رہا ہے۔ ان متاثرین کی اگر کچھ مدد ہو رہی ہے تو وہ مقامی اہل خیر مسلمان کر رہے ہیں اور دینی مدرسے ان کی طرف امداد کا ہاتھ بڑھا رہے ہیں۔

 

کیمپ خالی کرانے کا دھوکہ

26، دسمبر 2013ء مغربی اتر پردیش کا سرد ترین دن تھا۔ مظفر نگر کے لوئی کیمپ میں سرکاری افسران آئے اور لوگوں کو کہا کہ وہ سرکاری زمین پر قابض ہیں لہٰذا خالی کر دیں۔ اس سے قبل سرکاری زمین پر ناجائز قبضے کا کیس درج کیا  جا چکا تھا۔ یہ کیس اسی وقت درج ہو گیا تھا جب فساد متاثرین اپنے گھر بار چھوڑ کر یہاں آئے تھے اور کیمپ بنا کر رہنا شروع کیا تھا۔ جب لوگوں نے مجبوری ظاہر کی اور بتا یا کہ وہ اس سرد موسم میں اپنے چھوٹے چھوٹے بچوں کو لے کر کہاں جائیں تو انھیں کہا گیا کہ سرکاری مکانات میں انھیں جگہ دی جائے گی۔ اس طرح پہلے ان کے سامان سمیٹے گئے اور پھر بلڈوزر چلا کر تمام کیمپوں کو ختم کر دیا گیا۔ اس کے بعد ان لوگوں کو روتا بلکتا چھوڑ کر سرکاری افسران ہنستے ہوئے چل پڑے، گو یا انھوں نے سماج وادی پارٹی کی سرکار کا حکم پورا کر کے ایک بڑا کارنامہ انجام دے دیا۔ ان کے اس اقدام سے بے سہارا لوگوں کا آخری سہارا بھی چھن گیا اور وہ کھلے آسمان کے نیچے آ گئے۔ ان میں سے کچھ لوگوں نے کرایے کے مکان کی تلاش شروع کر دی تو کچھ لوگوں نے کسی دوسری جگہ کی تلاش شروع کر دی جہاں وہ دوبارہ کیمپ بنا کر رہ سکیں۔ ان کے پاس اس کے علاوہ کوئی چارہ بھی نہیں تھا۔ ایک عورت اپنے آنکھوں میں آنسو بھر کر بتاتی ہے کہ اب سمجھ میں نہیں آتا کہ کہاں جائیں۔ اپنے گاؤں تو جا نہیں سکتے کہ وہاں ہمیں زندہ نہیں رہنے دیں گے۔ جنھوں نے قتل کیا تھا اور گھروں میں آگ لگایا تھا وہ آج بھی کھلے گھوم رہے ہیں۔ ایک دوسری عورت کا کہنا تھا کہ اب مزدوری کریں گے اور کرائے کا مکان لے کر اس کا کرایہ چکائیں گے۔ جس وقت یہ سب ہو رہا تھا اور کیمپوں پر بلڈوزر چلائے جا رہے تھے اس وقت ملائم سنگھ کے آبائی گاؤں سیفئی میں جشن چل رہا تھا اور سرکار کے منتری ڈانس کے مزے لے رہے تھے۔ دوسری طرف کوئی بھی مسلمان لیڈر اس کی مخالفت کے لئے موجود نہیں تھا۔ اس دوران میڈیا میں یہ خبر آ رہی تھی کہ مسلمانوں کی ایک نامی تنظیم جو، اب چچا اور بھتیجے کے تنازعے میں دو گروپوں میں بنٹی ہوئی ہے اس کے چچا، ملائم سنگھ کی گاڑی میں گھوم رہے تھے اور بھتیجے، نریندر مودی کی گاڑی میں سواری کا لطف اٹھا رہے تھے۔ جب پوری دنیا نئے سال کے جشن میں ڈوبی ہوئی تھی تب مظفر نگر کے فساد متاثرین اپنے بقا کی جنگ اپنے بل بوتے پر لڑ رہے تھے اور کوئی بھی ان کا پرسان حال نہ تھا، اسی دوران رابعہ نامی ایک بچی شاملی کے مناماجرا گاؤں کے کیمپ میں سردی کے سبب دم توڑ رہی تھی اور انسانیت شرمسار ہو رہی تھی۔

 

مسلمانوں کے قاتلوں کو بچا رہے ہیں ملائم سنگھ

فسادات کو چار مہینے سے زیادہ کا عرصہ گذر چکا ہے مگر اب تک متاثرین کو انصاف نہیں مل پایا ہے۔ پہلے تو یہ کوشش چل رہی تھی کہ لوگ اپنی شکایتیں درج نہ کرائیں۔ جب کسی طرح این جی او، ز کی مدد سے درج ہو گئیں تو ان پر دباؤ ڈالا گیا کہ واپس لے لیں اور کچھ لوگوں نے واپس بھی لیں مگر اب تک جو شکایتیں واپس نہیں ہوئی ہیں ان میں ملزمان کے خلاف کوئی کار روائی نہیں کی گئی ہے۔ اس وقت بھی ظالم دندناتے پھر رہے ہیں۔ قاتل آزاد ہیں اور زانی کھلے عام گھوم رہے ہیں۔ آبروریزی کے معاملے میں ۲۷ افراد کو نامزد کیا گیا تھا مگر ان میں سے ایک شخص بھی اب تک گرفتار نہیں ہوا ہے۔ ایسی بھی خبریں ملی ہیں کہ زنا کار متاثرین کو دھمکیاں دے رہے ہیں اور کیس واپس لینے کے لئے دباؤ ڈال رہے ہیں۔ حالانکہ عدالتوں میں متاثرین کے بیان بھی درج ہو چکے ہیں۔ اس سلسلے میں سی پی آئی ایم لیڈر پرکاش کرات نے پچھلے دنوں وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو سے ملاقات کی اور ان کی توجہ اس جانب مبذول کرائی مگر ان کے کان پر جوں تک نہیں رینگی۔ حکومت نے دنگوں کے معاملات کی تحقیقات کے لئے ایک خصوصی سیل بنایا تھا جس کے بارے میں لوگوں کا یہ تاثر ہے کہ یہ سب بس خانہ پری کی کار روائی ہے۔ اس سیل نے آگ زنی، تشدد اور حملہ کے ۵۲۲ ملزمین کی فہرست مظفر نگر اور شاملی کے پولس افسارن کو سونپ کر گرفتار کرنے کو کہا ہے مگر اب تک ان میں سے کسی کو بھی گرفتار نہیں کیا گیا ہے۔ جن سیاسی لوگوں کو پہلے فساد کرانے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا وہ بھی اب آزاد ہو چکے ہیں۔ سمجھا جاتا ہے کہ حکومت نے انھیں ہیرو بنانے کے لئے گرفتاری کا دکھاوا کیا تھا اور ان کے خلاف بہت نرم کیس بنائے گئے تھے تاکہ زیادہ آگے چل نہ پائیں۔

 

انصاف کو آواز دو

شاملی ضلع کے لساڑھ گاؤں میں ہوئے اجتماعی قتل اور آگ زنی کے مجرموں کو بچانے کے لئے باقاعدہ طور پر وہاں کی پنچایت آگے آئی ہے اور اس نے ایف آئی آر درج کرانے والوں کو دھمکیاں دی ہیں اور دباؤ بنایا ہے کہ وہ اپنی شکایتیں واپس لیں۔ یہاں راجیندر سنگھ نامی ایک شخص کئی مقدمات میں شامل ہے مگر پولس نے اسے گرفتار نہیں گیا ہے۔ اسے اسی دباؤ کا نتیجہ مانا جا رہا ہے۔

قتل کے 48 مقدمات میں 89 ملزموں کی گرفتاری کے لئے باقاعدہ کورٹ کی طرف سے احکام بھی جاری ہوئے ہیں مگر اس کے باوجود کسی کی گرفتاری نہیں ہوئی ہے۔ سمجھا جاتا ہے کہ اس کے پیچھے ملائم سنگھ یادو کا دباؤ ہے جو نہیں چاہتے کہ فسادی ہندوؤں کو ناراض کیا جائے۔ انھیں لگتا ہے کہ اس سے ہندوؤں کا ووٹ ان سے دور ہو جائے گا۔ خصوصی تفتیشی ٹیم کے مطابق 571 مقدمات میں 63086 ملزموں کی شناخت کی گئی ہے۔ اس میں مظفر نگر کے 538، شاملی کے 27، باغپت کے 2، میرٹھ اور سہارنپور کے ایک ایک مقدمے شامل ہیں۔ فسادات کا چار مہینے کا عرصہ گذر چکا ہے مگر صرف 230 ملزموں کے خلاف چارج شیٹس داخل ہو سکی ہیں۔ تفتیش کرنے والے کتنے سرگرم ہیں اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ پولس نے اب تک 28 شکایت کرنے والوں کا پتہ ہی نہیں لگا سکی ہے جبکہ 9 مقدمات ایسے ہیں جن میں ثبوت کی کمی کے سبب فائنل رپورٹ لگا دی گئی ہے۔ ایسی خبریں بھی ہیں کہ الٹے فساد متاثرین کے خلاف کچھ جگہوں پر مقدمے بنائے جا رہے ہیں۔

چندے کا دھندہ اور سرکاری سازش

سرکار نے اس وقت مسلمانوں کے اندر اپنے لوگوں کو اتار رکھا ہے جو کام کرنے والوں کو بدنام کر رہے ہیں اور خاص طور پر مقامی مدرسوں اور علماء کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ یہ دینی مدرسے اور علماء ہی تھے جنھوں نے فساد متاثرین کے لئے دل و جان سے کام کیا اور انھیں سہارا دیا۔ ان کی مدد کے سبب لوگ بھکمری سے بچ گئے اور کھانے پینے کی کمی نہیں ہوئی۔ انھوں نے اپنے دروازے کھول رکھے تھے اور جن لوگوں کو کہیں سہار انہیں ملا وہ مدرسوں کے ذریعے بنائے گئے کیمپوں میں چلے گئے۔ ان مدرسوں نے لوگوں کے کھانے پینے کا انتظام کیا اور مقامی مسلمانوں نے غلے اور چندے کے ذریعے ان کی مدد کی۔ کچھ علاقوں میں فساد متاثرین کی باز آباد کاری کے لئے مقامی اہل خیر مسلمانوں نے اپنی زمیں دی ہیں جن پر اب مکان بنائے جا رہے ہیں۔ حکومت نے کچھ مسلمان نما لوگوں کو مسلمانوں کے درمیان بھیج رکھا ہے جو سرکاری تعاون سے ان علماء اور مدرسوں کو بدنام کرنے کا کام کر رہے ہیں۔ یہ سرکاری چمچے سرکاری سے پیسے لے کر مسلمانوں کے بیچ سرکار کے لئے کام کر رہے ہیں۔ دوسری طرف یہ بھی خبر ہے کہ فساد متاثرین کی باز آبادکاری کے نام پر چندے کا دھندہ زوروں پر چل رہا ہے۔ بھارت سے لے کر سعودی عرب تک یہ دھندہ جاری ہے۔ بعض نام نہاد مسلمان تنظیمیں خوب اگاہی کر رہی ہیں اور نام نہاد مسلمان لیڈران اپنی تجوریاں بھر رہے ہیں۔ قوم اس برے وقت پر بھی بے حسی کی چادر اوڑھے سو رہی ہے اور مظفر نگر کے مسلمانوں کا کوئی پرسان حال نہیں۔

 

 

 

 

2013ء سیکولرزم پر سے پردہ اٹھنے کا سال

 

پناہ گزیں کیمپوں پر چلے بلڈوزر۔ اتر پردیش بنا اپرادھ پردیش

 

2013ء کیا ملائم سنگھ کے چہرے کے بے نقاب ہونے کا سال تھا؟ کیا ان کے چہرے سے سیکولرزم کا نقاب اتر چکا ہے؟ کیا اب اتر پردیش کے عوام ان کی اصلیت سے واقف ہو چکے ہیں؟ کیا اب ریاست کے مسلمانوں نے بھی ملائم کی حقیقت کو جان لیا ہے؟ کیا باپ بیٹے کی سرکار ہر مورچے پر ناکام ثابت ہو چکی ہے اور اس کے بعد اسے قائم رہنے کا موئی حق نہیں رہا؟ پہلے دوسرے لوگ کہتے تھے مگر اب تو خود ملائم سنگھ کے بھائی بھی ماننے لگے ہیں کہ اتر پردیش، اپرادھ پردیش بن چکا ہے اور غنڈے بدمعاشوں کے حوصلے بلند ہیں۔ کیا اس کے لئے ملائم اور اکھیلیش ذمہ دار نہیں ہیں؟ کیا یہ وہ وقت نہیں آ گیا جب ان باپ بیٹوں کو چلو بھر پانی میں ڈوب مرنا چاہئے؟ جس سرکار کے ہیڈ سے لے کر افسران تک بے راہ روی کے شکار ہو چکے ہوں وہ سرکار کتنے دن تک چل سکتی ہے؟ لوٹ گھسوٹ تو اس سرکار کی پہچان تھی ہی مگر اب تو بات اس سے بھی آگے نکل چکی ہے اور ایسا لگتا ہے ریاست میں آئین و قانون نام کی کوئی چیز بچی ہی نہیں ہے۔

 

کیا یہ مسلمانوں کے ہمدرد ہیں؟

سماج وادی پارٹی لے صدر اور خود کو ممکنہ وزیر اعظم سمجھنے والے ملائم سنگھ یادو کی پارٹی کو اقتدار میں لوٹے ابھی دو سال پورے نہیں ہوئے ہیں مگر اس ٹرم اس لحاظ سے خاص رہا کہ اس دوران ان کے چہرے پر سے سیکولرزم کا نقاب اٹھ چکا ہے۔ وہ اشوک سنگھل کے ساتھ صرف بند کمرے میں گفتگو کرتے ہوئے ہی نہیں پکڑے گئے بلکہ ان کے دوران اقتدار پچھلے دس سال کا سب سے بھیانک فساد رونما ہوا۔ اسے فساد کہنا بھی زیادتی ہو گی کیونکہ یہ صاف طور پر ایک طرفہ تھا اور اس میں جہاں مرنے والے بیشتر مسلمان تھے وہیں مہاجرت پر مجبور ہونے والے ہزاروں افراد میں سو فیصد مسلمان تھے۔ ظاہر ہے کہ یہ مسلمانوں کے خلاف زبردست سازش تھی جس میں حکومت بھی شامل تھی اور وہ مسلمانوں کو نقصان پہنچانے میں کامیاب رہی۔ اس نے ان کا گھر سنسار اور کاروبار سب کچھ تباہ کیا ساتھ ہی انھیں پانچ لاکھ روپئے دے کر ان کی کروڑوں کی زمین، جائداد بھی ہتھیا لی۔ اس سے ملائم سنگھ کا چہرہ بے نقاب ہو گیا مگر انھوں نے اس وقت تو بے شرمی کی حد کر دی جب یہ کہہ دیا کہ پناہ گزیں کیمپوں میں کانگریس اور بی جے پی کو لوگ ہیں۔ یعنی اپنے بچوں کو ٹھنڈ میں مارنے کے لئے بی جے پی اور کانگریس کے لوگ لا رہے ہیں۔ جن کی لاشیں یہاں سے سیدھے قبرستان جا رہی ہیں وہ کانگریس اور بی جے پی کے لوگ ہیں۔

 

بے حسی کی انتہا

جب حکمراں ظالم اور غیر عادل ہو تو اس کے افسران سے کسی انصاف کی امید کیسے کی جا سکتی ہے؟ ملائم نے ابھی اپنی زبان سے کھولی ہی تھی کہ اتر پردیش کے ہوم سکریٹری انل گپتا بھی بول پڑے کہ ٹھنڈ سے کوئی نہیں مرتا۔ اگر ٹھنڈ سے لوگ مرنے لگیں تو سائبریا میں کوئی زندہ نہیں بچتا۔ اس بیان کو بے حسی کی انتہا مانا جا رہا ہے۔ ملائم نے جو کہا اس کو ایک قدم آگے بڑھانے کی کوشش کی انل گپتا نے۔ اگر ٹھنڈ سے کوئی نہیں مرتا ملائم سنگھ کو ٹھنڈ سے بچانے کا انتظام کیوں کیا جاتا ہے؟ کیا اس ٹھنڈ میں اکھلیش اور ان کے بچے سویٹر اور کمبل کا ستعمال نہیں کرتے؟ کیا وہ بند کمروں کے اندر نہیں رہتے؟ اگر ٹھنڈ سے کوئی نہیں مرتا تو سب سے اچھا ہوتا کہ ملائم، اکھلیش، رام گوپال یادو، شیوپال یادو اور ان کے بال بچوں و افسروں کو بغیر کپڑے اور آگ کے کھلے آسمان کے نیچے رکھا جائے۔ یا پھر انھیں بھی سائبریا کی برف میں بھیج دیا جائے تب سمجھ میں آئے گا کہ ٹھنڈ سے کوئی مرتا ہے یا نہیں۔ ملائم سنگھ جب خود ہی نے حسی کی انتہا کریں گے تو ان کے افسران سے اور کیا امید کی جا سکتی ہے؟ ملائم سے لے کر افسران تک کہہ رہے ہیں کہ راحتی کیمپوں میں جو لوگ ہیں وہ سازش کے تحت رہ رہے ہیں، جو دنیا کا سب سے بڑا جھوٹ ہے اور ان کے جھوٹ کا بدلہ عنقریب ہونے والے انتخابات میں ملنے والا ہے۔

 

سچائی چھپ نہیں سکتی

اتر پردیش سرکار جو اب تک کہتی رہی ہے کہ مظفر نگر کے راحتی کیمپوں میں کسی بچے کی موت نہیں ہوئی اب اس نے تسلیم بھی کیا ہے کہ کم از کم ۳۴ بچوں کی موت ہوئی ہے۔ اس کا یہ قبول کرنا ظاہر کرتا ہے کہ حالات بے حد سنگین ہیں اور اب حکومت اس پوزیشن میں نہیں کہ سچائی کو چھپا سکے لہٰذا اس نے اسے قبول کرنے میں ہی عافیت جانا ہے۔ اس قبل محکمہ صحت کے افسران نے دعوے کئے تھے کہ کسی بھی بچے کے مرنے کی خبر نہیں ہے۔ حالانکہ ان کے علاوہ بوڑھوں کی بھی موتیں ہوئی ہیں اور اب بھی لوگ ان کیمپوں میں بری حالت میں نظر آ رہے ہیں۔

 

کس نے کھائے پیسے؟

جب ملائم سنگھ نے اپنے بیان میں کہا کہ راحتی کیمپوں میں کانگریس اور بی جے پی کے لوگ ہیں اسی دوران افسران کے بھی حوصلے بڑھ گئے اور اب انھوں نے بے سہارا لوگوں کو سخت سردی میں کیمپوں سے بھگانا شروع کر دیا ہے۔ یہاں کئی لوگ سرکاری زمینوں پر خیمے نصب کر کے رہ رہے تھے اور بعض لوگ تو قبرستانوں میں رہنے پر مجبور تھے۔ ان سبھی لوگوں پر حکومت کی طرف سے دباؤ پڑنے لگا ہے اور تیزی سے انھیں بھگایا جا رہا ہے۔ ان کے خلاف مقامی تھانوں میں سرکاری زمین پر قبضہ کرنے کے الزام میں مقدمات درج کر لئے گئے ہیں اور انھیں پولس جا کر ڈرا دھمکا رہی ہے۔ ایک ایک دن میں درجنوں خیموں کو ہٹا یا جا رہا ہے۔ حالانکہ یہ وہ لوگ ہیں جنھیں کوئی معاوضہ نہیں ملا ہے۔ جب کہ سرکار کا کہنا ہے کہ ۸۰۰ کروڑ کا پیکج فساد متاثرین کے درمیان بانٹا گیا ہے۔ اتنے روپئے کہاں گئے؟ کس نے کھائے؟ کن کن منتریوں کو اس میں سے حصہ ملا اور کن کن افسران کی جیبیں بھریں یہ اپنے آپ میں ایک جانچ کا موضوع ہے۔ ویسے مار تو پوری طرح ان مظلوموں پر پڑی جو اس کی زد میں آئے، بے گھر ہوئے اور آج بھی اپنے گھروں، جائدادوں سے بے دخل ہیں۔ یہاں کے مسلمان دوہری مار جھیل رہے ہیں اور ان کا کوئی پرسان حال نہیں۔ ان ستم کی نہتا ہے کہ ٹھٹھرتی ٹھنڈ میں راحتی کیمپوں پر بلڈوزر چلائے جا رہے ہیں اور لوگوں کو کہا جا رہا ہے کہ کہیں اور جا کر مرو مگر یہاں سے چلے جاؤ۔

 

اپرادھ پردیش

گئے سال نے جہاں ملائم سنگھ کی بے حسی کو دکھایا وہیں اکھلیش یادو کو بھی نکما ثابت کیا۔ ان کے بارے میں پہلے ہی سے اندازہ لگایا جا رہا تھا کہ وہ ایک معمولی عقل و شعور کے انسان ہیں اور حکومت کا کاروبار چلانا ان کے بس کی بات نہیں۔ یہ بات اب ثابت ہو چکی ہے۔ شاہد صدیقی نے پہلے ہی یہ بات کہی تھی کہ اکھلیش میں حکومت چلانے کی صلاحیت نہیں ہے مگر اس بات کو نظر انداز کر دیا گیا۔ حالانکہ اب حالات و واقعات نے اسے درست ثابت کر دیا ہے۔ اتر پردیش میں اب قانون کا راج نہیں رہا۔ غنڈے بدمعاش آزاد ہیں اور بے فکر ہو کر لوٹ پاٹ و قتل و غارت گری میں مصروف ہیں مگر حکومت میں اتنی طاقت نہیں کہ ان کے ہاتھ پکڑ سکے۔ اب تک دوسرے لوگ سمجھ رہے تھے کہ یوپی میں غنڈہ راج چل رہا ہے مگر اب تو خود وزیر اعلیٰ کے چچا رام گوپال یادو بھی یہ کہنے پر مجبور ہیں کہ غنڈوں اور سماج دشمن عناصر کے حوصلے بلند ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ہم نے وعدہ کیا تھا کہ ایسی سرکار دیں گے جس میں عام آدمی سراٹھا کر چلے گا اور غنڈے چھپ کر چلیں گے مگر ایسا نہیں ہو رہا ہے۔ غنڈے سینہ تان کر چل رہے ہیں اور عام آدمی سر جھکا کر چل رہا ہے۔

 

کرسی کے لئے خاندان میں جنگ

اتر پردیش میں جہاں ایک طرف سرکار ہر محاذ پر ناکام ثابت ہو رہی ہے وہیں دوسری طرف ملائم سنگھ کا پنا پورا خاندان لوٹ کھسوٹ میں لگا ہوا ہے۔ ہر شخص چاہتا ہے کہ پتہ نہیں یہ موقع پھر کبھی ملے یا نہ ملے ابھی بہتی گنگا میں ہاتھ دھولو۔ لیکن بات یہیں پر ختم نہیں ہو جاتی۔ رام گوپال یادو اور شیو پال یادو شروع سے اس چکر میں ہیں کہ اکھلیش ناکام ہو جائیں اور وزیر اعلیٰ کی کرسی پر انھیں بیٹھنے کا موقع مل جائے۔ یہ لوگ پہلے بھی یہی چاہتے تھے کہ اکھلیش کے بجائے انھیں وزیر اعلیٰ بنایا جائے مگر اکھلیش اس لئے بنے کہ وہ ملائم سنگھ کے بیٹے ہیں تب ان لوگوں نے سوچا کہ اکھلیش کے بس کی بات نہیں ہے سرکار چلانا لہٰذا عمل دخل انھیں کا چلے گا، مگر ایسا نہیں ہو پایا اور اکھلیش نے ان کی کٹھ پتلی بننے سے انکار کر دیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ یہ لوگ سازشوں میں لگ گئے اور اب تو یہ دونوں کھل کر اکھلیش کے خلاف بول رہے ہیں۔ اسی لئے رام گوپال یادو نے کہا ہے کہ یوپی میں غنڈوں کا راج ہے۔

 

اندھیر نگری، چوپٹ راج

اتر پردیش میں آئین و قانون کی کیا صورتحال ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ آگرہ میں ایک کم سن طالبہ کا اغوا ہو گیا اور جب تلاش ہوئی تو لڑکی ایک ایم ایل اے کے گھر سے نکلی جو سماج وادی پارٹی کا ہی تھا۔ یہ حالات اس لئے ہیں کہ خود سرکار بدمعاشوں اور زانیوں کے ہاتھ میں کٹھ پتلی بنی ہوئی ہے۔ سماج وادی پارٹی کے کچھ نیتاؤں نے ایک مسلم لڑکی کا گینگ ریپ کیا تھا اور ملزموں پر کیس بھی چل رہے تھے مگر اکھلیش سرکار نے ان سے مقدمات اٹھانے کا فیصلہ کر لیا۔ اس قسم کی باتیں یہاں عام ہو چکی ہیں۔ دوسری طرف اگر کوئی افسر ملائم سنگھ اور ان کے خاندان کے لوگوں کا احکام ماننے میں کوئی کوتاہی کرتا ہے تو اس کے خلاف سخت کار روائی ہوتی ہے۔ حال میں ملائم سنگھ کے آبائی گاؤں سیفئی میں ایک جشن کا اہتمام کیا گیا مگر جب ملائم کو پتہ چلا کہ ایک افسر کی تاخیر کی وجہ سے بروقت پیسہ نہیں مل پایا اور ان کے گاؤں میں سویمنگ پول نہیں بن پایا ہے تو انھوں اسے سسپنڈ کر دیا۔ حالانکہ اس افسر کے ریٹائر ہونے میں محض ایک مہینے کا وقت ہی باقی تھا۔ اب سوال یہ ہے کہ افسران اگر عوامی معاملوں میں بڑی بڑی لا پرواہیاں کرتے ہیں تو ان سے بازپرس کرنے والا کوئی نہیں ہوتا مگر نیتاؤں کے حکم میں تاخیر بھی ہو جائے تو انھیں معطل کر دیا جاتا ہے؟ سوال یہ ہے کہ مظفر نگر فسادات کے سلسلے میں کتنے افسران کو معطل کیا گیا؟ سینکڑوں اموات کے معاملوں میں کتنے لوگوں کو سسپنڈ کیا گیا؟ ہزاروں کے بے گھر ہونے کے معاملے میں کتنے افسروں کو بے دخل کیا گیا؟ مگر یہ اتر پردیش ہے یہاں ایسا ہی چلتا ہے۔

 

 

 

 

دہشت گرد سادھوی پرگیہ سنگھ پر مہربانیاں کیوں؟

 

کیا آر ایس ایس بچا رہا ہے جوشی کے قاتل کو؟

 

سادھوی پرگیہ سنگھ ٹھاکر کیا بے قصور ہے؟ کیا اس نے سنیل جوشی کا قتل نہیں کیا تھا؟ کیا وہ اس قتل میں شامل نہیں تھی؟ کیا اسے بے قصور ہی کئی سال سے پھنسائے رکھا گیا ہے؟ اگر وہ بے قصور تھی تو اتنے دن بعد اس کی بے گناہی کا خیال کیوں آیا؟ نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی (این آئی اے )اتنے دن بعد کیوں بیدار ہوئی ہے؟ یا پھر سادھوی کو کسی خاص مقصد سے بچانے کی کوشش ہو رہی ہے؟ اگر اس نے سنیل جوشی کا قتل نہیں کیا تھا تو پھر کس نے کیا تھا؟ آج یہ سوالات اس لئے اٹھ رہے ہیں کہ این آئی اے کو کئی سال بعد خیال آیا ہے کہ سادھوی بے قصور ہے اور وہ سنیل جوشی کے قتل میں شامل نہیں تھی لہٰذا اس پر سے یہ معاملہ اٹھنا چاہئے۔ غور طلب ہے کہ جوشی آر ایس ایس کا پرچارک تھا اور دہشت گردانہ سرگرمیوں میں بھی ملوث تھا۔ اس کا قتل 29، دسمبر 2007ء کو ہوا تھا، جس کے بارے میں تفتیش کرنے والے افسران کا خیال تھا کہ باہمی رنجش میں خود کچھ ہندتو وادیوں نے ہی قتل کیا ہے۔

 

کون ہے یہ سادھوی؟

سادھوی پرگیہ سنگھ ٹھاکر کو آرایس ایس کی ذہنیت کا ہندتو وادی مانا جاتا ہے۔ اس پر کئی دہشت گردانہ حملوں میں شمولیت کے الزامات ہیں۔ بھارت۔ پاکستان کے درمیان چلنے والی ٹرین سمجھوتہ اکسپریس میں بم دھماکے کرنے کا اس پر الزام ہے۔ اسی طرح مالیگاؤں میں بم دھماکے کر کے بے قصور لوگوں کو مارنے کا بھی اس پر الزام ہے۔ این آئی اے نے اجمیر شریف خواجہ معین الدین چشتی رحمۃ اللہ علیہ کی درگاہ میں بم دھماکے کرنے کا بھی اس پر الزام عائد کیا ہے اور ان تمام معاملات میں اس پر مقدمات چل رہے ہیں۔ پہلے یہ سمجھا جاتا تھا کہ سنیل جوشی کے قتل میں بھی اسی کا گروہ شامل تھا مگر اب تفتیش کرنے والے اسے ایک معاملے میں راحت دیتے دکھائی دے رہے ہیں۔ اب این آئی کا کہنا ہے کہ جوشی کا قتل لوکیش شرما اور راجیش پہلوان نے کیا تھا، اس میں سادھوی شامل نہیں تھی۔ واضح ہو کہ یہ دونوں لوگ سادھوی کے ساتھ سمجھوتہ اکسپریس بلاسٹ میں ملزم ہیں۔ ان کے ساتھ دلیپ جگتاپ اور جیتیندر شرما کو بھی سمجھوتہ اکسپریس معاملے میں ملزم بنایا گیا ہے اور گرفتاری بھی ہو چکی ہے۔ این آئی اے کے ذرائع کے مطابق لوکیش اور راجیندر پہلوان کا جوشی کے ساتھ گہرا رشتہ تھا اور یہ دونوں اس کے ساتھ مالی لین دین بھی رکھتے تھے۔ ان کے جھگڑے کا ایک بڑا سبب پیسہ بھی تھا۔

 

ایک قدم پیچھے این آئی اے

سنیل جوشی کے قتل معاملے میں پہلے ہی چارج شیٹ داخل ہو چکی ہے مگر اب اس میں سے سادھوی کے نام کو نکالنے کی بات ہو رہی ہے اور اس بارے میں این آئی اے وزارتِ داخلہ سے بات کر رہی ہے۔ ایجنسی اس وقت سی ایس ایف ایل رپورٹ بھی جانچ رہی ہے تاکہ آلۂ قتل کے بارے میں سمجھا جا سکے۔ اس بارے میں ایجنسی کا پروگرام ہے کہ وہ مدھیہ پردیش کے اسپیشل کورٹ کے سامنے جائے جو اس معاملے کی سماعت کر رہا ہے۔ اس معاملے میں جو لوگ شریک جرم ہیں ان میں سادھوی کے ساتھ ساتھ ہرشد سولنکی، واسو دیو پرمار، آنند راج کٹاریہ اور بی جے پی کونسلر رام چرن پٹیل بھی شامل ہیں۔ ان لوگوں پر انڈین پینیل کورٹ کی دفعات 302 (قتل) 120 بی مجرمانہ سازش، 201 (ثبوت مٹانا) کے تحت مدھیہ پردیش پولس نے مقدمہ درج کیا تھا۔

سنیل جوشی قتل معاملے میں گرفتار سادھوی فی الحال جیل میں ہے۔ 2008ء میں ہوئے مالیگاؤں بلاسٹ میں اس پر الزام طے ہو چکا ہے۔ البتہ پرمار کٹاریہ اور پٹیل کی ضمانت پر رہائی ہو چکی ہے، مگر سولنکی ابھی جیل میں ہے جس پر دوسرے الزامات بھی ہیں۔ مدھیہ پردیش پولس نے 2011ء میں جو چارج شیٹ فائل کی تھی اس میں کہا گیا تھا کہ سنیل جوشی کو ہرشد سولنکی نے قتل کیا تھا۔

 

کوئی سیاسی کھیل تو نہیں؟

ان تمام معاملات نے کئی سوالات سامنے کھڑے کر دیئے ہیں مثلاً یہ کہ سادھوی پرگیہ سنگھ ٹھاکر کی بے گناہی کا اچانک اتنے دن بعد خیال کیوں آیا؟ کیا اس کے پیچھے کچھ سیاسی کھیل چل رہا ہے؟ کہیں کسی سیاسی مداخلت کے سبب تو اسے نہیں چھوٹ دینے کی سازش نہیں ہو رہی ہے؟ یہ سوال اس لئے بھی اٹھ رہے ہیں کہ سادھوی کا سنگھ سے کسی نہ کسی طرح رشتہ ہے اور بی جے پی کے لیڈران اس کی پروی کرتے رہے ہیں۔ جو لوگ دہشت گردی کے خلاف سب سے زور دار طریقے سے بولتے رہے ہیں وہی درپردہ سادھوی کی پشت پناہی بھی کرتے رہے ہیں۔ اس کی پشت پناہی کرنے والوں میں مدھیہ پردیش کی سابق وزیر اعلیٰ اور بابری مسجد انہدام معاملے کی ملزمہ اوما بھارتی بھی شامل ہیں۔ انھوں نے سادھوی کی حمایت میں نہ صرف بیان دیا تھا بلکہ اس سے ملنے کے لئے جیل بھی گئی تھیں۔ آر ایس ایس سے تعلق رکھنے والے ان لوگوں کا ماننا ہے کہ دہشت گردی کے معاملوں میں اگر مسلمان پکڑے جائیں تو ان کے خلاف سخت کار روائی ہونی چاہئے اور ہندو پکڑے جائیں تو کوئی کار روائی نہ ہو۔ ان کی منطق یہ ہے کہ ہندو کبھی دہشت گرد نہیں ہو سکتا۔ ظاہر ہے کہ ان کی باتیں کس قدر جانبدارانہ ہیں اور کتنی بے تکی ہیں سمجھا جا سکتا ہے۔ جو بی جے پی لیڈران ’’اسلامی دہشت گردی‘‘ کی بات کرتے نہیں تھکتے جب ان کے سامنے ہندو دہشت گردی کی بات آتی ہے تو انھیں سانپ سونگھ جاتا ہے اور وہ بغلیں جھانکنے لگتے ہیں۔ اس ملک میں بڑھتی ہوئی دہشت گردی کا سبب کیا ہے سمجھا جا سکتا ہے۔

 

 

 

 

’’آپ‘‘ کی سرکار، مودی۔ راہل کی نیند حرام

 

آخر کار عام آدمی پارٹی نے دہلی میں سرکار بنانے کا فیصلہ کر لیا، مگرسوال یہ ہے کہ اب دہلی میں کیا ہو گا؟ کیا اب ضمنی انتخابات سے دہلی بچ گئی یا مارچ، اپریل میں لوک سبھا کے ساتھ انتخابات کا ہونا طے ہے؟ کیا اب کانگریس کے دور کی فائلیں کھلیں گی؟ کیا اب گھوٹالوں کے معاملات کی انکوائری شروع ہونے والی ہے؟ کیا اب جن لوک پال بل کی طرز پر لوک آیوکت قانون دہلی میں پاس ہو گا؟ کیا اب شنگلو کمیٹی کی رپورٹ عام کی جائی گی؟ کیا اب کانگریس کے منتری جیل جائیں گے؟ سوال یہ بھی ہے کہ کانگریس نے جس نقصان سے بچنے کے لئے ’’آپ‘‘ کی سرکار بنوانا اچھا جا نا اب وہی فیصلہ اس کے گلے کی ہڈی بن جائے گا؟ کانگریس اور بی جے پی دونوں ہی چاہتی تھیں کہ ’’آپ‘‘ سرکار بنا لے، تاکہ اس کا غبارہ اپنے انجام کو پہنچ جائے مگر کیا ان کا سوچنا درست تھا؟ کیا کیجریوال واقعی پھنس گئے ہیں یا پھر انھوں نے دونوں پرانی پارٹیوں کو پھنسا دیا ہے اور اب دہلی کے سہارے وہ پورے ملک پر چھا جائیں گے؟ اس قسم کے بہت سے سوال ہیں جن کا جواب عنقریب مل جائے گا مگر اس وقت لاکھ ٹکے کا سوال عام آدمی پارٹی نے دیگر سیاسی پارٹیوں کے سامنے کھڑا کر دیا ہے ایک الگ قسم کی سیاست کی شروعات کر کے۔ یہ سیاست دہلی میں ہی دم توڑ دے گی یا پورے ملک کو روشنی دکھائے گی؟ کرپشن اور مہنگائی کی مار جھیل رہا عام آدمی روایتی پارٹیوں کی چھٹی کر کے ’’آپ‘‘ کو لائے گا یا پھر یہ پارٹی جس زمین سے شروع ہوئی ہے وہیں ختم ہو جائے گی یہ دیکھنے والی بات ہو گی۔

 

عوامی رائے شماری

عام آدمی پارٹی کو دہلی اسمبلی میں اکثریت حاصل نہیں ہے۔ اسے ۷۰ سیٹوں والی اسمبلی میں محض ۲۸، سیٹیں ملی ہیں، جبکہ سب سے بڑی سیاسی پارٹی بن کر بی جے پی ابھری جسے ۳۲ سیٹیں ملیں۔ اس کے باوجود اسے خوف تھا کہ عام آدمی پارٹی اپوزیشن میں ہو گی تو اس کے لئے من مانی کرنا مشکل ہو گا لہٰذا اس نے سرکار بنانے سے کنارہ کر لیا۔ کانگریس اور بی جے پی دونوں نے اس بات پر اتفاق کر رکھا تھا کہ ایک بار ’’آپ‘‘ کی سرکار بنوا دو پھر دیکھو وہ خود بخود ہی ختم ہو جائے گی اور ایسا ہی کرنے کے لئے اسے مجبور کیا گیا۔ ’’آپ‘‘ چونکہ کاگریس اور بی جے پی دونوں کی مخالفت کر کے اسمبلی تک پہنچی تھی لہٰذا وہ بھی کانگریس سے مل کر سرکار بنانے سے کترا رہی تھی مگر حالات ایسے تھے کہ اسے بنانا ہی تھا چنانچہ اس نے اس کی ذمہ داری خود اپنے سر لینے کے بجائے عوام کے سرکار ڈال دیا۔ اس نے عام لوگوں سے پوچھا کہ اسے سرکار بنانا چاہئے یا نہیں؟ عوام نے مختلف طریقوں سے اسے اپنی رائے بھیجی اور اس نے سرکار بنانے کا اعلان کر دیا۔ اروند کیجریوال خود بھی جلسوں میں عوام کے سامنے تقریر کر کے پوچھتے نظر آئے کہ بتائیے ہم سرکار بنائیں اور سابقہ کانگریس سرکار کے گھوٹالے بازوں کو جیل بھجوائیں تو عوام کی اکثریت ہاتھ اٹھا کر ان کی ہاں میں ہاں ملاتی تھی۔ عوام سے رائے لینے کا طریقہ ’’آپ‘‘ نے ہی شروع کیا ہے جو مستقبل میں دوسری پارٹیوں کے گلے کی ہڈی بن سکتا ہے۔

عام آدمی پارٹی اب بھی یہ ماننے کو تیار نہیں کہ اس کی سرکار کانگریس کی حمایت سے چلے گی۔ پارٹی کے لیڈر کماروشواس تو کہتے ہیں کہ وہ اپنے اس وعدے پر قائم ہیں کہ نہ کانگریس کے ساتھ جائیں گے اور نہ ہی بی جے پی کے ساتھ وہ ایک اقلیتی سرکار بنائیں گے، اب اگر کوئی خود سے حمایت کرے تو یہ اس کا معاملہ ہے۔ دوسری طرف کانگریس جو پہلے ہی گورنر کو کہہ چکی ہے کہ اس کھلی حمایت ’’آپ‘‘ کے لئے ہے، اب سابق وزیر اعلیٰ شیلا دکشت کہہ رہی ہیں کہ ان کی حمایت شرطوں کی ساتھ ہے۔ جب کہ دہلی کانگریس کے صدر اروند سنگھ لولی کہتے ہیں کہ ان کی حمایت پورے پانچ سال کے لئے ہے۔

اس سلسلے میں ایک اور بات قابل ذکر ہو گی کہ اگر کبھی سرکار کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک آئی اور کانگریس و بی جے پی سرکار کو گرانا چاہیں تو دونوں کو ایک ساتھ سرکار کے خلاف جانا پڑے گا، ایسے میں دونوں جو عوام کے سامنے ایک دوسرے کی مخالفت کرتی ہیں ایک ساتھ آئیں گی تو ان کا بھرم بھی کھل جائے گا۔

 

چیلنج ہی چیلنج

کئی چیلنج اس وقت عام آدمی پارٹی اور اس کے لیڈروں کے سامنے بھی ہوں گے۔ اس نے اعلان کر دیا ہے کہ وہ پورے ملک میں اپنے امید وار اتارے گی اور خاص طور پر ان ریاستوں میں جہاں کانگریس اور بی جے پی کے علاوہ کوئی تیسرا متبادل نہیں ہے۔ کانگریس اور بی جے پی نے دہلی میں ’’آپ‘‘ کی سرکار بنوا کر ایک کھیل یہ بھی کھیلنا چاہا ہے کہ وہ یہیں گھر جائیں اور باقی ملک میں پرچار کے لئے نہ نکل سکیں۔ انھوں نے اعلان کر رکھا ہے کہ گجرات کی تمام سیٹوں پر چناؤ لڑیں گے۔ ظاہر ہے کہ نریندر مودی تو دس سال سے حکومت کر رہے ہیں ان کے لئے سرکار چلاتے ہوئے دورے کرنا اتنا مشکل نہیں ہو گا جتنا کہ کیجریوال کے لئے ہو گا۔ انھوں نے جو کانگریس اور بی جے پی کی نیندیں حرام کر رکھی ہیں یہی سبب ہے کہ دونوں مل کر اس کا خاتمہ کر دینا چاہتی ہیں۔ ایسے میں دہلی میں کام کرتے ہوئے پورے ملک میں ’’آپ‘‘ کی طرف سے امید وار اتارنا اور پھر ان کے لئے پرچار کرنا آسان کام نہ ہو گا۔ ایک نا تجربہ کار پارٹی اور اس کے لیڈروں کے سامنے اس وقت امتحان کی گھڑی ہے اور وہ اس سے کیسے پار نکلتے ہیں یہ دیکھنے والی بات ہو گی۔

 

بن مانگے حمایت

بھارت کے مختلف صوبوں میں اقلیتی سرکار یں بنی ہیں، مگر ایسی سرکاروں کو اپنی حمایتی پارٹی کے سامنے گھٹنے ٹیکنے پڑتے تھے اور اس کی شرطیں ماننی پڑتی تھیں مگر ایسا پہلی بار ہوا کہ ایک پارٹی حمایت قبول کرنے کے لئے شرطیں رکھ رہی ہے اور سرکار بنانے سے پہلے دھمکیاں دے رہی ہے کہ اگر ہم نے سرکار بنائی تو حمایت کرنے والی پارٹی کے گھوٹالوں کی تفتیش کرے گی اور ذمہ داروں کو جیل بھیجے گی۔ مرکز میں برسراقتدار کانگریس کو سماج وادی پارٹی کی حمایت حاصل ہے مگر بار بار اس قسم کی خبریں آتی رہتی ہیں کہ اس حمایت کے لئے ملایم سنگھ یادو کو کروڑوں روپئے ملتے ہیں۔ آج ’’آپ‘‘ نے سیاست کا انداز بدل دیا ہے۔

 

نئی سرکار کی خصوصیات

دہلی میں عام آدمی پارٹی کی سرکار کی کئی خصوصیات ہوں گی جن میں سے ایک یہ ہے کہ سرکار کا حلف عوامی جلسے میں ہو گا۔ مکھیہ منتری کو اب مکھیہ سیوک کہا جا سکتا ہے۔ دوسرے الفاظ میں ’’خادمِ خاص‘‘ یعنی اروند کیجریوال خود کو وزیر کے بجائے عوام کا خادم کہلانا پسند کریں گے۔ ان کا اپنا گھر غازی آباد میں ہے اور دوسرے وزراء اعلیٰ کی طرح وہ وی آئی پی بنگلے کے خلاف ہیں لہٰذا وہ اپنے لئے کوئی عام قسم کا ہی فلیٹ چنیں گے۔ کیجریوال نے دہلی سے وی آئی پی کلچر کو ختم کرنے کا وعدہ کیا ہے لہٰذا اب وہ نہ تو خود لال بتی والی گاڑی لیں گے اور نہ اپنے لئے باڈی گارڈ وغیرہ رکھیں گے۔ وہ عام آدمی کی طرح رہیں گے جس سے کوئی بھی، کبھی بھی مل سکتا ہے۔ ان کے دوسرے منتری اور ایم ایل اے بھی سرکاری سہولیات نہیں لیں گے اور صرف اپنی تنخواہ پر اکتفا کریں گے۔ ارویند کیجریوال اور ان کے وزیر ہفتے میں ایک بار عوامی بسوں سے سفر کریں گے اور عام لوگوں سے مل کر ان کے مسائل جاننے کی کوشش کریں گے۔ سرکار اس سرکار کی خاص بات یہ ہو گی کہ اس کے تمام ایم ایل اے پہلی بار اسمبلی میں پہنچے ہیں اور اس کے تمام منتری بھی پہلی بار منتری بنیں گے۔ ان کے پاس کوئی پہلے کا تجربہ نہیں ہے۔

 

وعدے کیسے پورے ہوں گے؟

دہلی کی ’’آپ‘‘ سرکار کے سامنے کئی چیلنج ہیں۔ اس نے جو وعدے کئے تھے ان کے بارے میں کانگریس اور بی جے پی کا کہنا تھا کہ پورے نہیں ہو سکتے۔ خود وزیر اعظم منموہن سنگھ نے کہا ہے کہ انھیں پورا نہیں کیا جا سکتا۔ اب ایسے میں انھیں پورا کر کے دکھانا اپنے آپ میں ایک بڑا مسئلہ ہو گا۔ وعدوں کی ایک لمبی فہرست ہے جنھیں پورے کرنے کے لئے وقت درکار ہو گا اور اس کے پاس شاید دو مہینے سے زیادہ کا وقت نہ ہو۔ اس وقت جن وعدوں کو سب سے پہلے پورا کرنا ہے ان میں ایک ہے جن لوک پال کی طرز پر لوک آیکت قانون بنانا اور پچھلی سرکاروں کے گھوٹالوں کی جانچ کرنا۔ بجلی کی قیمت کو پچاس فیصد تک کم کرنا اور شہر والوں کے لئے سات سو لیٹر پانی مفت کرنا۔ انھیں وعدوں نے سب سے زیادہ دہلی والوں کو متاثر کیا تھا اور یقیناً اروند کیجریوال آنے کے بعد سب سے پہلے جو کام کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں ان میں یہ بھی شامل ہیں۔ ویسے بھی اب سامنے لوک سبھا انتخابات ہیں اور اسی کے مد نظر انھیں پورے ملک میں نظیر بننے کے لئے کچھ نہ کچھ چمتکاری کام تو ضرور کرنا ہو گا۔

 

سیاست کا نیا انداز

عام آدمی پارٹی ایک ایسی پارٹی ہے جو تحریک کے بطن سے پیدا ہوئی ہے۔ اس نے ایسے وقت میں سیاست میں داخلہ لیا ہے جس وقت ملک میں عوام کی اکثریت رائج الوقت پارٹیوں سے نالاں ہے۔ ایسے میں دہلی میں اس کی کامیابی نے دوسری سیاسی پارٹیوں میں ایک خوف کا ماحول پیدا کر دیا ہے۔ اس قوت پورے ملک میں سیاست کا ایک نیا انداز موضوع گفتگو بنا ہوا ہے۔ جس ملک میں لوگ ذات، مذہب اور علاقائیت و زبان کی عصبیت کو نظر میں رکھ کر ووٹ کرتے ہیں وہاں اس قسم کی سیاست چل پائے گی؟ اس سوال پر آج ہر شخص سوچ رہا ہے۔ اگر یہ سیاست چل گئی تو پھر اس ملک میں ان نیتاؤں کا کیا ہو گا جو اسی کی روزی روٹی کھاتے ہیں اور جنھوں نے سیاست کو اپنی خاندانی دکان بنا رکھا ہے۔

٭٭٭

یہاں کچھ ہی مضامین دیے گئے ہیں، مکمل ڈاؤن لوڈ کر کے پڑھیں

تشکر: مصنف جنہوں نے اس کی فدائل فراہم کی

ان پیج سے تبدیلی، تدوین اور ای بگک کی تشکیل: اعجاز عبید

 

 

ڈاؤن لوڈ کریں

ورڈ فائل

ای پب فائل

کنڈل فائل