FavoriteLoadingپسندیدہ کتابوں میں شامل کریں

شمس الرحمٰن فاروقی کے کچھ مضامین

جمع و ترتیب: اعجاز عبید

 

میراجی : سو برس کی عمر میں

میرا جی نے لکھا تھا کہ میں صرف دو زمانوں میں جیتا ہوں، ماضی اور حال یہ عجیب سی بات ہے، کیوں کہ اس کا مطلب یہ نکلتا ہے کہ میرا جی کو اس بات کی کچھ پروا نہ تھی کہ مستقبل ان کے ساتھ کیا سلوک کرے گا۔ لیکن ایسے لوگ تو وہ ہوتے ہیں جنھیں اپنے ’’ شاندار ماضی‘‘ کے بارے میں افسانے تراشنے اور اپنے حال کو روشن سے روشن تر بنانے کے لیے ہر جائز اور ناجائز کوشش میں اپنا وقت صرف کرنے کے سوا کوئی اور کام نہیں آتا۔ لیکن میرا جی کی زندگی تو ان دونوں باتوں کی نفی کرتی ہے۔ انھوں نے اپنے ماضی کو کسی رومانی رنگ میں پیش نہیں کیا (پدرم سلطان بود،  یا پھر یہ کہ میں بچپن سے بہت ہی حساس اور درد مند دل لے کر پیدا ہوا تھا، یا پھر یہ کہ میں نے بہت ہی کم عمر میں شعر کہنا، اور تنقید اور افسانہ لکھنا شروع کر دیا تھا، یا میں نے بچپن ہی میں ہزاروں کتابیں پڑھ ڈالی تھیں، وغیرہ۔ ) وہ اگر ماضی میں زندہ تھے تو صرف اس معنی میں کہ ماضی کی کچھ یادیں (حقیقی، یا مفروضہ) ان کی تخلیقی زندگی کا بھی حصہ تھیں۔ انھوں نے روایتی معنی میں، یا کسی بھی معنی میں، اپنے حال کو، یا اپنا حال درست کرنے کی کوشش نہ کی۔ ایک آدھ بارکو چھوڑ کر انھوں نے روپیہ کمانے، دنیاوی کامیابی حاصل کرنے، مادی خوش حالی اور دنیاوی عزت داری حاصل کرنے کا خیال نہ کیا اور نہ ان معاملوں سے کبھی کوئی عملی سروکا رہی رکھا۔ ادیب کی حیثیت سے شہرت انھیں بہت نو عمری میں حاصل ہی ہو چکی تھی، لہٰذا یہاں بھی ان کی زندگی میں کوئی ایسا دباؤ، کوئی ایسی تمنا نہ تھی کہ وہ شہرت کے پیچھے پیچھے بھاگے پھریں۔ سچ پوچھیے تو شہرت خود ان کے پیچھے پیچھے بھاگی پھرتی تھی۔ لہٰذا اگر حال ان کی زندگی کا بہت بڑا سروکار تھا تو وہ یقیناً اس معنی میں تھا کہ وہ روزمرہ کی زندگی کو احساسات اور اور جذبات، اور درد مندی کی سطح پر جینے کی کوشش کرتے تھے۔ وہ بہت پڑھے لکھے آدمی تھے۔ انھوں نے کیٹس (John Keats) کا مشہور جملہ شاید پڑھا ہو جو اس نے اپنے بھائی کے نام ایک خط میں لکھا تھا:

Oh for a life of sensations rather than thoughts!

لیکن بہر حال، انھوں نے اپنی زندگی کا معلوم حصہ روز مرہ کے احساسات اور تجربات ہی سے معاملہ کرنے، انھیں سمجھنے اور اپنی شاعر ی کا حصہ بنانے، ان کی روشنی میں اپنے ذہن اور مطالعے کو فروغ دینے میں گذارا۔

میرا جی کی شاید ہی کوئی نظم ایسی ہو جس میں حقیقی زندگی کے تجربات کو مابعد الطبیعیات کا رنگ دینے کی کوشش کی گئی ہو۔ ’’جاتری‘‘،  ’’سمندر کا بلاوا‘‘،  ’’مجھے گھر یاد آتا ہے ‘‘،  ’’محرومی‘‘ اور ’’یگانگت‘‘ وغیرہ میں بھی، جو بظاہر کچھ ’’فلسفیانہ‘‘ اور تفکراتی قسم کی نظمیں ہیں، تجربہ اور احساس کی جگہ مجرد فکر کی کارفرمائی نہیں دکھائی دیتی۔ یہ نظمیں بے انتہا شدید احساس اوردردسے مملو ہیں، لیکن ان میں تعقل کا حصہ (اگر وہ ہے بھی تو) بہت کم ہے۔ فلم ڈائرکٹر ایم۔ اے۔ لطیف، بی۔ اے۔ کے نام ایک خود نوشت نما نوٹ (مورخہ ۱۲ اکتوبر۱۹۴۶) میں میرا جی نے لکھا ہے :

سچ ہے، سماج کے فرائض، جس طرح دنیا انھیں سمجھتی ہے، میں نے جیسا میں انھیں سمجھتا ہوں، پورے نہیں کیے۔ لیکن میں نے اپنی جسمانی زندگی سے زیادہ جس قدر ذہنی زندگی بسر کی ہے، اس کا لحاظ کسے ہو گا؟

لہٰذا میرا جی کے لیے حال اور ماضی زیادہ معتبر تھے تو اس کا مطلب یہی تھا کہ وہ ’’ذ ہنی زندگی ‘‘ بسر کرتے تھے، یہ نہیں کہ ان کی توجہ کا دائرہ بہت کم تھا اور وہ صرف لمحۂ موجود کے لیے زندہ رہتے تھے۔ اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ وہ اپنی داخلی واردات اور ظاہری واردات کو ہر طرح چھان بین کر دیکھتے اور اس میں شاعری کے امکانات تلاش کرتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ میرا جی (اور باتوں کے علاوہ) حواس خمسہ کا تجربہ اور اظہار کرنے میں ہمارے تمام شاعروں سے آگے ہیں۔ حواس خمسہ والی بات پر بحث میں آئندہ کے لیے اٹھا رکھتا ہوں۔ لیکن یہاں اتنا ضرور کہوں گا کہ کیٹس (Keats) اور مجاز کو ملا کر اثر صاحب مرحوم نے ایک جملہ کہا تھا۔ وہ جملہ مشہور تو ہوا لیکن مقبول نہ ہوا۔ وہ اپنی بات اگر میرا جی کے باب میں کہتے (کہ اردو ادب میں ایک کیٹس پیدا ہوا تھا) تو شاید اس پر زیادہ دھیان دیا جاتا، کیونکہ وہ بات ایک طرح سے سچ بھی ہوتی۔

میرا جی پر متفرق بہت کچھ لکھا گیا ہے، ایک دو کتابیں بھی ہیں، خاص کر رشید امجد کی کتاب ’’میرا جی، شخصیت اور فن‘‘ (لاہور ۱۹۹۶) اور شافع قدوائی کی مختصر اور سرسری کتاب ’’میرا جی‘‘ (ساہتیہ اکیڈمی، نئی دہلی، ۲۰۰۱)۔ پھر ’’شعر و حکمت‘‘ کے دور دوم کی پہلی کتاب جس میں میرا جی کے بارے میں، اور خود میرا جی کی بعض نادر تحریریں شامل ہیں، اور جمیل جالبی کی مرتبہ ضخیم و حجیم ’’میرا جی، ایک مطالعہ ‘‘ (کراچی ۱۹۸۹، اور دہلی، ۱۹۹۲) کا ذکر کیا جا سکتا ہے۔ گجراتی النسل اور امریکی نژاد گیتا پٹیل کی کتاب:

Lyrical Movements, Historical Hauntings: On Gender, Colonialism, and Desire in Miraji’s Urdu Poetry (Delhi, 2005)

بھی ذکر کے لائق ہے۔ لیکن ان تمام تحریروں میں خرابی یہ ہے کہ ان میں میرا جی کی زندگی، ان کی ’’شخصیت‘‘، اور شخصیت کے ’’نا پسندیدہ‘‘ پہلوؤں پر ان کی شاعری سے زیادہ توجہ دی گئی ہے۔ کسی کی ذات کے ’’ناپسندیدہ‘‘ پہلوؤں پر بات کرنے میں مزہ بھی زیادہ آتا ہے، اور ہم اپنی ذمہ داری سے بھی آزاد ہو جاتے ہیں، یہ کہہ کر کہ میراجی کی زندگی، شخصیت، اور شاعری کو الگ الگ کر کے نہیں دیکھا جا سکتا۔

ابھی حال میں مقتدرہ قومی زبان، اسلام آباد نے ’’میرا جی صدی:منتخب مضامین‘‘ (مرتبین:رشید امجد،  عابد سیال) کے نام سے ایک مجموعہ شائع کیا ہے۔ اس کے دیباچے میں افتخار عارف نے درست لکھا ہے :

ہماری کم نصیبی کہ ہم نے میراجی پر اس طرح توجہ نہیں دی جس کا وہ بجا طور پر استحقاق رکھتے تھے۔ ان کی شخصیت اور ذاتی زندگی کے بارے میں جھوٹی سچی کہانیاں تو زیر بحث آتی رہیں مگر ان کے ادبی کام پر جم کر نہیں لکھا گیا۔

افتخار عارف کے افسوس کے باوجود اس کتاب کے مشمولات کم و بیش اسی طرح کے ہیں جس کا انھوں نے شکوہ کیا ہے۔ رشید امجد کا سوانحی مضمون (بلکہ ایک چھوٹی سی کتاب ہی سمجھیے ) اس مجموعے کی جان ہے، لیکن افسوس کہ اس کا بھی بڑا حصہ میراجی کی ’’شخصیت اور ذاتی زندگی کے بارے میں جھوٹی سچی‘‘کہانیوں اور تذکرے پر مبنی ہے۔ بعض جگہ اغلاط کتابت نے مطلب بھی مسخ کر دیا ہے۔ مثلاً (ص۷۷) :

ازل کے متلاشی اس مسافر کو، جو زندگی بھر قدیم ہندوستان کی روح کا پرستار رہا، بمبئی کے ذرائع ابلاغ میں صرف اس وجہ سے جگہ نہ ملی کہ وہ مسلمان اور ’’پاکستانی‘‘ہے۔ اختر الایمان نے قدروں کو نگاہوں سے اوجھل کر دیا تھا۔

مسلمان اور پاکستانی نہ کہہ کر ’’اردو کا ادیب‘‘ کہنا چاہیے تھا۔ میرا جی کے بارے میں کبھی یہ بحث تھی ہی نہیں کہ وہ ’’مسلمان‘‘ یا ’’پاکستانی‘‘ ہیں۔ اختر الایمان اور ان کی بیگم نے جس طرح میرا جی کی آخری سانسوں تک ان کا ساتھ دیا، اس کو دیکھتے ہوئے یہ جملہ کتابت کی غلطی ہی معلوم ہوتا ہے کہ’’ اختر الایمان نے قدروں کو نگاہوں سے اوجھل کر دیا تھا۔ ‘‘اور جہاں تک ذرائع ابلاغ کی مہربانیوں کا سوال ہے، تو میرا جی کے تقریباً پچاس سال بعد خود اختر الایمان کے انتقال پر ہندوستانی انگریزی اخباروں میں خبر چھپی کہ ’’ فلمی دنیا کے مصنف اختر الایمان نہیں رہے۔ ‘‘

میرا جی کو ’’بد نام‘‘ کرنے، نا پسندیدہ شخص کی حیثیت سے ان کا اسطور قائم کرنے، ان کی ’’غیر ذمہ دار‘‘ اور منشیات میں غرق زندگی کو ان کی اصل زندگی کے طور پر ظاہر کرنے میں ان کے خاکہ نگاروں، خاص کر شاہد احمد دہلوی، منٹو، اخلاق احمد دہلوی اور محمود نظامی کا بڑا حصہ ہے۔ محمد حسن عسکری ان کے واحد خاکہ نگار ہیں جنھوں نے ان باتوں کا ذکر کم کیا ہے، بلکہ بالکل ہی نہیں کیا ہے۔ عسکری صاحب لکھتے ہیں :

ان کا تخیل اس قدر افسانوی واقع ہوا تھا کہ وہ چاہتے تھے کہ زندگی چاہے زندگی نہ رہے مگر افسانہ ضرور بن جائے، خاص کر جب کہ اس افسانے کو دیکھنے والے بھی موجود ہوں …یہ بات کچھ ان کے دوستوں اور جاننے والوں تک ہی محدود نہ تھی، بلکہ جس نے ان کی تحریر پڑھ لی، اس نے ایک افسانہ ان کے بارے میں گھڑنا شروع کر دیا۔

ذرا غور کیجیے۔ کسی معاصر کے بارے میں کسی اور ادیب نے اتنی گہری اور سچی بات کہی ہو گی؟ یہ عسکری ہی کے مزاج کی یک دردیEmpathyتھی جس نے انھیں میرا جی کی شخصیت کی گہرائی تک پہنچ جانے میں ان کی مدد کی۔ اختر الایمان نے ’’سہ آتشہ‘‘ کے عنوان سے میرا جی کے کلام کا ایک مجموعہ مرتب کیا تھا (۱۹۹۲)۔ یہ وہ نظمیں ہیں جو ان کے پاس محفوظ تھیں اور کسی گذشتہ مجموعے میں شامل نہ تھیں۔ کتاب کے پیش لفظ میں اختر الایمان لکھتے ہیں :

ابھی تک میرا جی پر جو لکھا گیا ہے وہ زیادہ تر رسمی ہے، اور تحریروں کا رنگ افسانوی ہے، انھیں ایک دھندلکے اور رومان کی چادر میں لپیٹ دینے کی کوشش۔ لمبی لمبی کٹا رسی مونچھیں، شانوں تک پڑی ہوئی زلفیں، کبھی کوٹ کے اوپر کوٹ، پتلون کے اوپر پتلون۔ بغل میں کاغذوں کا پلندہ۔ منہ میں پان، ہاتھ میں چھوٹے بڑے تین گولے۔ کچھ نے ان کی بہت شراب نوشی پر بہت زور دیا ہے۔ کچھ نے دنوں بلکہ مہینوں نہ نہانے پر۔ مگر یہ تو میراجی نہیں، ان کی ہیئت کذائی ہے۔ ان کا بہروپ ہے۔

افسو س کہ ہم لوگوں نے بہروپ پر اس قدر زور دیا کہ میراجی کا روپ سروپ ہماری آنکھوں سے اوجھل ہو گیا، اور اب تک کم و بیش اوجھل ہی ہے۔ جمیل جالبی نے ٹھیک لکھا ہے کہ ’’میرا جی کی ذات سے ایسے ایسے واقعات وابستہ ہیں کہ ان کی ذات عام آدمی کے لیے افسانہ بن گئی ہے۔ ‘‘ جمیل جالبی کو یہ بھی کہنا چاہیے تھا کہ ’’عام آدمی‘‘ سے ان کی مراد کم و بیش سبھی لوگ ہیں :۔ ان کے قاری، ان کے نقاد، ان کے افسانے کو بنانے اور اسے شہرت دینے والے۔ انھیں یہ بھی کہنا چاہیے تھا کہ یہ ’’واقعات‘‘ اگر صحیح بھی ہوں تو ان کو جان کر، یا ان کے بارے میں مزید چھان بین کر کے ہمیں میرا جی کے ادب کے بارے میں کچھ نہیں معلوم ہو سکتا۔ عسکری کا مزید بیان ملاحظہ کریں :

میرا جی کو گفتگو کا بڑا سلیقہ تھا۔ دلچسپی اور شائستگی دونوں کو بیک وقت برقرار رکھنا بہت کم لوگوں کو آتا ہے۔

ایک خصوصیت ان کی یہ تھی کہ کتاب ہر قسم کی پڑھتے تھے۔ ادب، نفسیات، عمرانیات وغیرہ تو خیر ایک سلسلے کے مضمون ہوئے۔ لیکن ایک زمانے میں انھیں کپڑوں کے ڈیزائن کا مطالعہ کرنے کا شوق ہوا۔ کہا کرتے تھے کہ جب شادی ہو گی تو بیوی کو مشورہ تو دے سکوں گا۔ اسی طرح، نہ معلوم کن کن موضوعات پر الم غلم کتابیں انھوں نے مجھے زبردستی پڑھوائیں …زندگی کے ہر شعبے میں انھیں متفرقات کا شوق تھا۔ اسی سلسلے میں انھوں نے پان بنانا سیکھا تھا، بلکہ اپنے مخصوص ہنر کے ساتھ ساتھ اس فن میں بھی [انھوں نے ] دو چار نئے طریقے ایجاد کیے تھے۔ اور اس میں حال یہ تھا کہ چاہے ان کی باتیں بھول جاؤں لیکن ان کا پان نہیں بھول سکتا۔ دس منٹ میں تو ان کا ایک پان بنتا تھا۔ بچارے اپنے لیے پانوں کا ایک پلندہ لے کے چلتے تھے لیکن ان کے سارے پان تبرک ہو کے بٹ جاتے تھے۔

ان کے جاننے والوں نے ان کی شراب نوشی کے قصے بہت بیان کیے ہیں، لیکن مجھے حسرت رہی کہ میرا جی کو نشے کی حالت میں دیکھوں۔

اب محمد حسن عسکری سے ایک بات اور سن لیجیے۔ انھوں نے ایک افسانہ لکھا اور میرا جی کو بھیجا کہ وہ اس زمانے میں ’’ادبی دنیا‘‘ کے ایڈیٹر تھے۔ لیکن عسکری نے یہ شرط بھی لگائی کہ افسانہ فرضی نام سے شائع ہو۔ ’’ہفتے بھر بعد میرا جی کا خشک سا جواب آیا، بالکل دفتری زبان میں، کہ صاحب، ہم فرضی نام سے کوئی چیز نہیں چھاپتے۔ ‘‘بالآخر عسکری نے افسانہ اپنے ہی نام سے ’’ادبی دنیا‘‘ میں چھپوا لیا۔ پھر وہ لکھتے ہیں :’’میرا جی نے مجھے افسانہ نگار بنا دیا تو ’’نیا ادب‘‘ گروپ کے بھی بعض حضرات مجھے خط لکھنے لگے، لیکن وہ مجھے صرف شاباشی دیتے تھے۔ میرا جی یہ بھی پوچھا کرتے تھے کہ آئندہ کس قسم کا افسانہ لکھو گے ؟‘‘

آپ نے غور کیا؟ میرا جی یہ نہ پوچھتے تھے (جیسا کہ کوئی عام مدیر کرتا) کہ آئندہ افسانہ کب لکھو گے، بلکہ یہ کہ تمھارا اگلا افسانہ کس قسم کا ہو گا؟ یہ ان کی ادبی فراست اور مدیرانہ سوجھ بوجھ تھی کہ انھوں نے ایک ہی افسانہ پڑھ کر سمجھ لیا کہ عسکری کوئی چلتے ہوئے طرز کے افسانہ نہیں ہیں، بلکہ وہ کئی طرح کی افسانہ نگاری کے تجربے کرنا چاہتے ہیں اور ان کے تجربے کامیاب بھی ہو سکتے ہیں۔ میرا جی کی مدیرانہ بیدار مغز شخصیت اور ادبی فراست کی ایک اور مثال اختر الایمان کے ایک بیان میں بھی ملتی ہے۔ انھوں نے بڑے اشتیاق کے ساتھ اپنی ایک نظم ’’ادبی دنیا ‘‘کو بھیجی۔ وہ لکھتے ہیں :’’کچھ دن بعد نظم واپس آ گئی۔ نظم سے متعلق میرا جی کا ایک نوٹ تھا، ’جس عالم میں نظم کہی ہے اسی عالم میں نظر ثانی کیجیے۔ ‘‘ذرا غور کیجیے، صرف نظر ثانی کے لیے تو کوئی بھی مشورہ دے سکتا ہے، لیکن جس عالم میں نظم کہی گئی ہے اسے اپنے اوپر پھر طاری کرنے کا مشورہ یہ بتاتا ہے کہ نظم پر نظر ثانی اسی وقت کامیاب ہو سکتی ہے جب آپ اس کیفیت کو پھر طاری کریں جس نے آپ سے نظم کہلائی ہے۔

میرا جی کا قول تھا کہ میں اپنے بارے میں خود ہی طرح طرح کی باتیں پھیلایا کرتا ہوں۔ اس میں کچھ انتقام یا کچھ ڈراما سازی کا جذبہ رہا ہو گا، لیکن یہ ایک کھلنڈرے نوجوان کی حس مزاح کا بھی اظہار ہو سکتا ہے۔ میراجی کے بارے میں لکھتے یا سوچتے وقت ہم لوگ یہ بھول جاتے ہیں کہ عمر کے زیادہ تر حصے میں وہ نوجوان ہی رہے اور جب مرے تو اس وقت کے ہندوستانی معیاروں سے بھی وہ جوان ہی تھے۔ نیاز فتح پوری نے تو فراق صاحب کو ۱۹۳۷ میں ’’ایک نوجوان ہندو شاعر‘‘ بتا یا تھا، حالاں کہ اس وقت فراق صاحب کی عمر چالیس سے متجاوز تھی (ان کا سال پیدائش ۱۸۹۶ہے )۔ لیکن ہم لوگ میرا جی کے بارے میں خیال کرتے ہیں کہ وہ قدیم رشیوں منیوں کی طرح سینکڑوں برس کے ہو کر مرے ہوں گے، حالاں کہ جب وہ مرے تو ان کی عمر سینتیس (۳۷) برس سے کچھ ہی زیادہ تھی۔

یہ بات تو بہر حال درست ہے کہ میرا جی اپنی تحریر اور عام گفتگو میں جس قسم کی فراست اور ذہن کی جس بلندی کا اظہار کرتے تھے، اس کی توقع کسی انتہائی تجربہ کار، درون بیں اور عملی اور نظری دونوں طرح کی عقل سے بہرہ ور شخص ہی سے ہو سکتی ہے۔ (اور شاید اس لیے بھی لوگ انھیں جوان کے بجائے بوڑھا تصور کرنا پسند کرتے ہیں۔ ) محمد حسن عسکری اور اختر الایمان کو جو مشورہ میرا جی نے دیا اس کا ذکر اوپر ہو چکا ہے۔ میرا جی اور امیش ماتھر کی دوستی دہلی کے ریڈیو اسٹیشن سے لے کر ممبئی تک بر قرار رہی۔ امیش ماتھر کا بیان ہے کہ میرا جی مجھ سے اکثر کہتے تھے، ’’امیش تم رائٹر کبھی نہیں بن سکتے، کیونکہ تم روز نہیں لکھتے۔ رائٹر تو وہی ہوتا ہے جو روز لکھے۔ ‘‘ایسی باتیں وہ شخص نہیں کہہ سکتا جس کا دل دماغ اور جسم سب شراب نے ماؤف کر دیا ہو۔ امیش ماتھر نے لکھا ہے، ’’میرا جی کے مزاج میں ایک عجیب طرح کا بکھراؤ تھا اور ساتھ ہی ساتھ ادب کے لیے لگاؤ بھی، ایسا لگاؤ جس کا نبھاؤ وہ بے سرو سامانی کے باوجود بھی کرتے رہے۔ ‘‘ (امیش ماتھر کا مضمون اگر چہ نہایت عمدہ ہے لیکن کسی باعث نظر انداز ہوتا رہا ہے۔ جہاں تک مجھے معلوم ہے وہ ماہنامہ ’’آج کل‘‘ دہلی (مدیر محبوب الرحمٰن فاروقی) کی اشاعت مورخہ دسمبر ۲۰۰۰ کے سوا کہیں اور شائع نہیں ہوا۔ )

میرا جی کی شاعر ی کو اکثر مبہم، یا مشکل، کہا گیا ہے۔ شاہد احمد دہلوی نے لکھا ہے کہ میں کبھی کبھی ان کی نظم کے معنی دریافت کرتا تھا۔ اپنی نظمیں ’’وہ خدا جانے کب کہتے تھے اور کس کیفیت میں کہتے تھے۔ چند نظمیں خود ان سے سمجھیں تو سمجھ میں آئیں اور بعض خود ان کی سمجھ میں بھی نہیں آئیں۔ ‘‘ممکن ہے میرا جی ٹال رہے ہوں، یا یہ اشارہ کرنا چاہتے ہوں کہ جب تم سمجھے نہیں تو میں کیا سمجھاؤں۔ بہر حال، یہ بات اتنی پھیلی (یا پھیلا ئی گئی) کہ ایک استاد قسم کے مورخ ادب نے لکھ دیا کہ میرا جی کی نظمیں کسی کی سمجھ میں نہ آتی تھیں، یہاں تک کہ انھوں نے ایک کتاب لکھی، ’’اس نظم میں ‘‘ اور اس میں اپنی نظموں کے معنی بیان کیے۔ آپ سمجھ سکتے ہیں کہ جب ’’اعلیٰ ادبی حلقوں ‘‘ میں میرا جی کے بارے میں یہ بے خبری ہو تو انھیں اچھے پڑھنے والے کہاں سے مل سکتے تھے؟

خود میرا جی اپنے بارے میں کس قدر باخبر تھے (شاعر کی حیثیت میں بھی اور عام انسان کی حیثیت میں بھی) اس کا اندازہ ایم۔ اے۔ لطیف کے نام اس تحریر سے کچھ ہو سکتا ہے جس کا ذکر میں نے ابھی کیا۔ اس میں ایک جگہ وہ کہتے ہیں :

میں دنوں، مہینوں بلکہ بعض دفعہ ایک ایک ڈیڑھ ڈیڑھ سال تک نہیں نہایا کرتا۔ دنیا کو یہ بات بری معلوم ہوتی ہے اور میں اسے سمجھتا ہوں …مگر یہ بات سوچنے کے باوجود اب تک میری سمجھ میں نہیں آئی کہ اس تمام صورت حال، اس سماج، اس نظام حیات و کائنات کا مقصد کیا ہے …میں نے یہ بھی دیکھا ہے کہ انسان کی ایک سے زیادہ خوبیاں اس کے صرف ایک عیب کی مخلصانہ پردہ پوشی نہیں کر سکتیں …میں یہ بھی کہہ سکتا ہوں کہ۔۔ لیکن پھر وہی خیال پرستی، پھر وہی جزئیات بینی، پھر وہی زمینی سطح سے ذرا اوپر کی باتیں۔ اس مسلسل تحریر میں تو آپ بیتی لکھنا چاہتا ہوں۔

ذرا ملاحظہ کیجیے، کیا یہ وہی میرا جی ہے جو ہمیں اس کی شخصیت کے نام نہاد خاکوں میں نظر آتا ہے ؟ لیکن ہمیں تو اس جنس زدہ، غلیظ میرا جی سے کام ہے جس کے ہاتھوں میں لوہے کے تین گولے ہوتے تھے اور جس نے اپنی ساری شرم و حیا اور حفظ نفس ٹھرے کے ایک گلاس کے عوض ہمیشہ کے لیے فروخت کر دی تھی۔

حقیقت تو یہ ہے کہ اقبال کے فوراً بعد شعرا کی جو غیر معمولی نسل ہمارے افق پر نمایاں ہوئی، اس کے پانچ سر بر آوردہ ناموں میں میرا جی سر فہرست ہیں۔ میں یہ بات کئی بار کہہ اور لکھ چکا ہوں، اور آج پھر کہتا ہوں کہ اقبال کے فوراً بعد آنے والے پانچ بڑے شعرا کی ترتیب میں میرا جی سب سے اوپر ہیں، پھر راشد، ان کے بعد اختر الایمان، پھر مجید امجد اور سب سے بعد میں فیض ہیں۔ میں یہ بات دو وجہوں سے کہتا ہوں :ایک معمولی وجہ تو یہ کہ میرا جی نے اپنے بعد کے شعرا اور نقادوں اور افسانہ نگاروں پر جو اثر ڈالا، وہ ان کے ساتھیوں کے اثر سے زیادہ وسیع اور پائدار تھا۔ میرا جی کے بغیر جدید ادب کو قائم اور مستحکم ہونے میں بہت دیر لگتی۔ فیض صاحب کی عظمت اور مقبولیت کا کلمہ سب پڑھتے ہیں، لیکن جو لوگ شعر کو فن اور علوئے ذہن کا اظہار سمجھتے ہیں اور شاعر کی بڑائی اس بات میں دیکھتے ہیں کہ اس کے یہاں موضوعات اور تجربات کی وسعت کتنی ہے اور اس نے شعر کی ہیئت کے نئے امکانات کو کہاں تک دریافت اور وسیع کیا، وہ بخوبی جانتے ہیں کہ میرا جی کا کارنامہ ہمارے عہد میں بے مثال ہے۔ اور یہ دوسری وجہ ہے جس کی بنا پر میں میرا جی کو اس زمانے کے بڑے شعرا میں سر فہرست رکھتا ہوں۔

پھر میرا جی کے کام کی وسعت اور تنوع ملاحظہ کریں۔ کوئی میدان ان کے لیے تنگ نہ تھا، اور ہر میدان میں انھوں نے دیرپا نقوش چھوڑے۔ میرا جی نے نظم، غزل، گیت، تنقید، نظم کا تجزیہ، ادبی رسالے کی ادارت، ترجمہ، کالم نگاری، مزاحیہ شاعری، بچوں کے ادب، سیاسی معاملات پر اظہار خیال، ہر میدان میں اپنے جوہر دکھائے اور ہر جگہ اپنی تخلیقی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ ریڈیو کے لیے لکھنے میں میراجی کو جو درک کسی تربیت یا مشق کے بغیر حاصل تھا، وہ اوروں کو مدت دراز کے بعد بھی نصیب نہیں ہوتا۔ اور ریڈیو میں ان کا زمانہ وہ زمانہ تھا جب آل انڈیا ریڈیو اپنی نشریات پر بی۔ بی۔ سی۔ جیسا اہتمام کرتا تھا۔ ’’سہ آتشہ‘‘ کے دیباچے میں اختر الایمان نے صحیح لکھا ہے کہ میرا جی:

حد درجہ زیرک، بیدار مغز، ادب کے ایقان اور گیان کا مالک، اردو شاعری اور ادب کے سیاق و سباق سے واقف، وہ شخص ہے جو اردو زبان کی شاعری اور تنقید کی تاریخ کو نئی جہتیں دینا چاہتا ہے۔ اسے نئی زمین پر استوار کرنا چاہتا ہے۔

مترجم میرا جی اور مدیر میرا جی کے کارناموں پربھی مزید توجہ کی ضرورت ہے۔ خاص کر ضرورت اس بات پر دھیان دینے کی ہے کہ ان تراجم میں اور سب باتوں کے علاوہ میرا جی کے مطالعے کی غیر معمولی وسعت اور ادبی سوجھ بوجھ کا بھی اظہار ہوتا ہے۔ میراجی کے شروع کے زمانے تک عسکری صاحب نے ملارمے (Mallarme) کا نام ہمارے کانوں میں ضرور ڈال دیا تھا، لیکن وہ شخص میرا جی ہی ہو سکتا تھا جو ملارمے کی نظم کا ترجمہ پیش کرتے وقت راجر فرائی (Roger Fry) کے ترجمے کا ذکر بھی کرے اور یہ لکھے :

اس نظم کا ترجمہ میں نے آلڈس ہکسلے (Aldous Huxley) کے انگریزی نسخے سے کیا تھا جسے میں عرصے تک سنوارتا رہا۔ اسی دوران میں آرٹ کے نقاد راجر فرائی کے کیے ہوئے میلارمے کی نظموں کے ترجمے مجھے کتابی صورت میں مل گئے جن کے ساتھ فرانسیسی متن تھا۔ نیز چارلس موروں (کذا، اصل موراMaurras) نے مجموعے کو ترتیب دیتے ہوئے بعض نظموں کی وضاحتیں بھی لکھی تھیں۔ میں نے ایک طرف تو اپنے ترجمے کوراجر فرائی سے زیادہ قریب کیا، کیوں کہ وہ ترجمے ہکسلے کے ترجمے سے کہیں بہتر تھے اور ساتھ ہی چارلس موروں کی وضاحت کا ’’کتابی ترجمہ‘‘ بھی کر لیا۔

 (’’باقیات میراجی‘‘، مرتبہ شیما مجید، ص ۱۷۲)

عسکری صاحب کو یورپی مصوری سے بہت اچھی واقفیت تھی، لیکن میر ا خیال ہے جس زمانے میں میراجی نے اپنا ترجمہ شائع کیا تھا، اس وقت عسکری صاحب کو انگریز مصوروں اور آرٹ کے انگریز نقادوں سے کچھ بہت دلچسپی نہ تھی۔ لیکن یہ ملارمے وہی ہے جس کے بارے میں عسکری صاحب نے بہت بعد کے زمانے میں لکھا کہ ملارمے کی صرف دو سطریں میری سمجھ میں آ سکی ہیں۔ میراجی نے ملارمے کی جس نظم کا ترجمہ کیا ہے، بلکہ یوں کہیں کہ انتہائی آزاد، نثری ترجمانی کی ہے وہ ملارمے کی مشہور طویل نظمA Faun’s Afternoonہے۔ اس انتہائی مشکل نظم کی ترجمانی میں میرا جی نے بے حد آزادیاں برتی ہیں۔ Faun کا ترجمہ انھوں نے ’’گوالا‘‘ کیا ہے جو اصل سے بالکل مختلف ہے۔ یونانی صنمیات میں Faun (فرانسیسی میں Faune) جنگلوں یا دیہاتوں کا ایک دیوتا ہے جس کے کان، سر، سینگ اور دم، بکرے کے ہیں۔ میرا جی نے اسے کم و بیش ہندوستانی، اور ملارمے کی نظم سے زیادہ ذاتی اظہار بنا دیا ہے۔ لیکن انھوں نے چارلس موروں (مورا) کے وضاحتی ترجمے کا بھی لفظی جو ترجمہ ساتھ ہی ساتھ پیش کر دیا ہے وہ اصل سے بہت قریب ہے۔ اپنے مزاج سے ایک بالکل مختلف طرح کے فرانسیسی شاعر کو میرا جی نے جس طرح گرفت میں لیا ہے وہ ان کی مہارت، تخلیقی قوت اور وسعت مطالعہ کا ثبوت ہے۔

رہی بات تنقید کی، تو میراجی کو ہمارے زمانے کا اہم نقاد ثابت کرنے کے لیے یہی بات کافی ہے کہ انھوں نے نظم کی تفہیم کا ایک بالکل نیا اور نئی نظم کی حد تک انتہائی کامیاب طریقہ ایجا د کیا۔ اس کی رو سے ہر نظم کو کسی حقیقی واقعے، یا کسی حقیقی صورت حال کے بیان کے طور پر پڑھا جاتا تھا، گویا وہ نظم نہ ہو کوئی تصویر ہو۔ یہ گفتگو ہوتی ہی نہ تھی کہ نظم کسی خود نوشت کا حکم رکھتی ہے، یا کسی ’’واقعی‘‘ اور ’’سماجی‘‘ صورت حال کو بیان کرتی تھی۔ میرا جی نے آرچیبالڈ میکلیش (Archibald Macleish) کی وہ مشہور نظم شاید پڑھی ہو، یا شاید نہ پڑھی ہو، جس کے آخری دو مصرعے ہیں :

A poem should not mean,

but be.

لیکن میرا جی کے تجزیے نظموں کے ساتھ کم و بیش اسی طرح کا معاملہ کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر راشد کی نظم ’’زنجیر‘‘ میں خود میرا جی کے الفاظ میں ’’ایک ایسے ملک کا نقشہ …بیان کیا [گیا]ہے جو سالہا سال سے غلامی کی بے بسی اور مشقت میں زندگی بسر کر رہا ہو۔۔۔ ‘‘ لیکن وہ نظم کو ہمارے سامنے شاعر اور پیلۂ ریشم (یعنی ریشم کا کوا) کے مابین مکالمے کے طور پر بیان کرتے ہیں۔ اس طرح نظم صرف بیانیہ نہ رہ کر ہمارے سامنے مجسم ہو جاتی ہے۔

تراجم کے لیے جو شعرا اور جو نظمیں میرا جی نے منتخب کیں وہ بھی ان کے گہرے تنقیدی شعور پر دلالت کرتی ہیں۔ پشکن کی ایک نظم کے ترجمے پر تعارفی نوٹ میں میرا جی نے حیرت انگیز تنقیدی فہم بلکہ وجدان (Intuition) کا ثبوت دیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں :

پشکن کی شاعری میں مشرقی جذبات اور تخیلات کو بہت دخل ہے، بلکہ بعض جگہ تو اس کی ذہنی کیفیت اتنی ملال انگیز ہوتی ہے کہ ہمیں اس کی تخلیق پر خالص مشرقی ہونے کا شبہ ہوتا ہے۔

 (’’باقیات میراجی ‘‘، مرتبہ شیما مجید، ص۵۸۱)

میرا جی کے زمانے میں یہ بات عام نہ تھی، اور آج بھی بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ پشکن کے خون میں افریقی خون کی آمیزش تھی۔ اس کا پر نانا ’’ خالص افریقی نسل کا ‘‘ (Of pure African blood) تھا اور پشکن خود بھی کہا کرتا تھا کہ اس کی تخلیقی قوت میں جو شور و زور ہے وہ اس کے ’’آتشیں افریقی خون‘‘ (Fiery African blood) کی وجہ سے ہے۔

میرا جی کی جو شبیہ ان کے خاکہ نگاروں، اور ان کے ادب سے زیادہ ان کی نام نہاد شخصیت پر توجہ صرف کرنے والوں نے بنائی ہے اس میں کہیں سے بھی یہ گمان نہیں ہوتا کہ یہ شخص حس مزاح بھی رکھتا ہو گا، بچوں میں بچوں کی طرح گھل مل جاتا ہو گا۔ اختر الایمان کی پہلی بچی شہلا کی پیدائش پر جو نظم انھوں نے فی البدیہہ لکھی، وہ خوش طبع اور چلبلے ادب میں بھی، اور قادر الکلامی کے اظہار کے طور پر بھی، شاہکار کا درجہ رکھتی ہے۔ ملاحظہ ہو:

افق پہ اختر و سلطانہ کے بفضل خدا

ستارہ آج نمودار ہو گیا پہلا

ابھی تو ننھی سی ہے یہ کرن مگر اک روز

مثال ماہ چمک اٹھے گی یہی مہلا

اگر ہے دعویٰ سخن کی شناوری کا تجھے

تو مار غوطہ ذرا شعر ایک دو کہہ لا

میاں اب آج سے تم طے کرو یہ کاروبار

اب اس کو گود میں لے اور باغ میں ٹہلا

کہ اللہ آمیں کی بچی ہے نام ہے شہلا

ایمان کی قسم

قافیوں کی برجستگی، اور خاص کر ’’ماہ‘‘ کے ساتھ ’’مہلا‘‘ کا استعمال کس قدر پر لطف ہے۔ ممکن ہے یہ وہی میرا جی ہوں جو اختر الایمان کے گھر کی کھڑکی پر کھڑے ہو کر پیشاب کرتے تھے لیکن دھار ساری کی ساری کمرے میں رہ جاتی تھی۔ مندرجہ ذیل نظم/غزل شاید دہلی کے زمانے کی ہے ؂

جتنی برف نظر آتی ہے ہم کو کنچن چنگا میں

اتنا ہی دنگاہوتا ہو گا شاید دربھنگا میں

آپ مرے توجگ پر لو اک ڈوبنے والا کہتا تھا

اپنے لیے تو فرق نہیں چاہے جمنا میں چاہے گنگا میں

کچھ تو ایک خلیج ہے اور گنگا[کنگھا؟] سردار کی زینت ہے

کچھ میں لیکن بات نہیں جو بات ہے ان کے کنگھا میں

انگے کا تو قافیہ میرے بس میں نہیں کیوں یہ بھی سنو

انگے کو گر قافیہ باندھا کہنا پڑے گا انگا میں

حضرت مہمل اک دن ننگ دھڑنگ ملنگ سے کہنے لگے

یہ تو کہو کچھ لطف بھی آتا ہے اس ننگ دھڑنگا میں

قافیوں کی یہ تازگی اور بیباک تنوع جو ظفر اقبال آج تک برت رہے ہیں، ان کی اصل یہاں نظر آتی ہے۔ پھر یہاں (جیسا کہ میرا جی نے لکھا بھی ہے ) ’’مہمل نظم‘‘ یا Nonsense Verseکا ایک تجربہ بھی ہے۔ جیسا کہ میں نے پہلے کہیں لکھا ہے، حقیقی معنی میں ’’مہمل‘‘ کلام ممکن نہیں۔ لیکن بعض لوگوں کے یہاں، خاص کر انگریزی میں لوئس کیرل (Lewis Carroll) اور ایڈورڈ لیئر (Edward Lear) کی نظموں میں، Nonsense Verse کے عمدہ تجربے نظر آتے ہیں۔ ہمارے یہاں اس میدان میں ظفر اقبال اور عادل منصوری کے تجربوں کی اصل میرا جی کے یہاں دیکھی جا سکتی ہے۔ مندرجہ غزل میر کی زمین و بحر میں ہے اور اگرچہ ’’غیر سنجیدہ‘‘ ہے، لیکن میر کے آہنگ کو حیرت انگیز قدرت کلام کے ساتھ گرفت میں لاتی ہے ؂

ہم تو تمھیں دانا سمجھے تھے بھید کی بات بتا ہی دی

اس دن کو ہم کہتے تھے کیا فائدہ ایسے پینے میں

کوٹھا اٹاری منزل بھاری حوصلے جی کے نکالیں گے

سامنا ان سے اچانک ہو جائے جو کسی دن زینے میں

اس پر ظفر اقبال کا مطلع یا د آیا ؂

کمرے میں ہو مڈبھیڑ کہ زینے پہ ملاقات

سہتا ہوں میں اس شوخ کی سینے پہ ملاقات

میر کی مخصوص بحر کو فانی اور فراق سے لے کر خلیل الرحمٰن اعظمی، باقر مہدی اور ابن انشا تک کئی لوگوں نے استعمال کیا ہے۔ یعنی میرا جی اس میدان میں اکیلے نہ تھے، اور نہ پہلے تھے۔ لیکن میرا جی نے جس طرح میر کے آہنگ کو اختیار کیا وہ کسی اور سے نہ بن پڑا۔ میرا جی کے بعد کے جن شعرا کا میں نے ابھی نام لیا، انھوں نے میر سے براہ راست اپنا رشتہ جوڑا اور میرا جی کا ذکر نہ کیا۔ لیکن یہ فرض کرنا مشکل ہے کہ میرا جی کی مثال سامنے ہوتے ہوئے وہ اس نکتے سے واقف نہ تھے کہ جدید زمانے میں میر کے آہنگ کو گرفتار کرنا ہو تو میرا جی کو دیکھنا لازم ہے۔ میں میر کی لفظیات کی بات نہیں کرتا، اوپر اوپر کے چند رسمی لفظوں کو برت لینے سے میر، یا کسی بھی پرانے شاعر کی لفظیات پر دسترس نہیں ہو سکتی۔ وہ الفاظ تو اکثر کچے پکے شاعر بھی حاصل کر لیتے ہیں۔ اصل بات تو آہنگ کی تھی، کہ شعر ایسا بولتا ہوا ہو کہ محسوس ہو، معنی کا وہ بسط اور وہ تہیں نہ سہی، لیکن آواز سے آواز ملتی ہے، گویا ہم ابھی ابھی میر کو سن کر اٹھے ہیں۔ میر کی وہ غزل دھیان میں لائیے جس کا مطلع ہے (دیوان چہارم) ؂

یوں ناکام رہیں گے کب تک جی میں ہے اک کام کریں

رسوا ہو کر مارے جاویں اس کو بھی بدنام کریں

اور اب میرا جی کی یہ غزل سنیے ؂

غم کے بھروسے کیا کچھ چھوڑا کیا اب تم سے بیان کریں

غم بھی راس نہ آیا دل کو اور ہی کچھ سامان کریں

کرنے اور کہنے کی باتیں کس نے کہیں اور کس نے کیں

کرتے کہتے دیکھیں کسی کو ہم بھی کوئی پیمان کریں

بھلی بری جیسی بھی گذری ان کے سہارے گذری ہے

حضرت دل جب ہاتھ بڑھائیں ہر مشکل آسان کریں

ایک ٹھکانا آگے آگے پیچھے پیچھے مسافر ہے

چلتے چلتے سانس جو ٹوٹے منزل کا اعلان کریں

میر ملے تھے میرا جی سے باتوں سے ہم جان گئے

فیض کا چشمہ جاری ہے حفظ ان کا بھی دیوان کریں

میر کا مقطع بھی سن لیجیے ؂

میل گدائی طبع کو اپنی کچھ بھی نہیں ہے ورنہ میر

دو عالم کو مانگ کے لاویں ہم جو تنک ابرام کریں

ہم دیکھ سکتے ہیں کہ میر جیسی مشاقی اور میر جیسا معنی کا تنوع میرا جی کے یہاں ابھی نہیں ہے، لیکن ان کے یہاں ان چیزوں کا فقدان بھی نہیں ہے۔ میرا جی نے غزلیں بہت کم کہیں، بیماری اور موت نے انھیں وقت نہ دیا۔ جو غزل میں نے اوپر نقل کی وہ ان کے بالکل آخری زمانے کی ہے جب بقول بعض وہ رات بھر شراب پیتے اور پاس رکھی ہوئی بوتل میں قے یا شاید پیشاب کرتے رہتے تھے۔ ہو گا، یوں ہی ہو گا۔ لیکن ’’با ہوش‘‘ اور ’’متین‘‘ اور ’’سنجیدہ‘‘ کتنے شاعر ہیں جو میر کے طور میں ایسی غزل کہہ سکتے ہیں ؟ چاہے رات بھر شراب پی کر قے کریں، چاہے گیان دھیان کریں، لیکن بقول میر ع

فکر بلند سے یاروں کو ایک ایسی غزل کہہ لانے دو

میرا جی کو موقع ملتا تو جس طرح انھوں نے میر کا آہنگ پا لیا تھا، اسی طرح میر کی پوری روح کو بھی گرفت لینا ان کے لیے شاید ممکن ہو جاتا۔

میرا جی کے کلام میں اشکال اور ابہام کا شکوہ بہت کیا گیا۔ لیکن ان کی تفہیم اور تعبیر کی کوشش کسی نے نہیں کی۔ یہ ہماری ادبی تہذیب کی بد نصیبی ہے کہ میرا جی کی بنیادی قوتوں کا بھی کچھ تجزیہ نہ کیا گیا اور نہ ان کی نظموں ہی کی تفہیم کی گئی۔ سب نہیں، کچھ سہی، اس طرح یہ تو معلوم ہو جاتا کہ میرا جی کا حسن کہاں اور کس باعث ہے، اور آیا میرا جی کی شاعری واقعی ایسی ہے کہ سمجھ میں نہیں آ سکتی؟اس کی ایک وجہ شاید یہ بھی ہے کہ ہم لوگ جدید شاعری پر محنت نہیں صرف کرنا چاہتے۔ راشد صاحب کے بارے میں شکایتیں ہوئیں کہ ان کا کلام مبہم ہے، لیکن کسی نے پتہ مار کر بیٹھنے اور راشد صاحب کی نظموں کے معنی سمجھنے اور سمجھانے کی کوشش نہیں کی۔ میرا جی تو شاید زیادہ توجہ نہ کرتے، لیکن راشد صاحب سے مدد مانگی جاتی تو وہ اپنی نظموں کی تفہیم کے طالب کی رہنمائی بھی کر سکتے تھے۔

’’لب جوئبارے ‘‘ جیسی سادہ اور اکہری نظموں کے علاوہ میرا جی کی جو نظم بھی پڑھیے، ذہن میں ایک کرید سی اٹھتی ہے کہ اس کا سرچشمہ کیا رہا ہو گا؟ شاعر کو یہ بات سوجھی کیونکر ہو گی؟ان کے تمام ہم چشموں کے بارے میں کم از کم مجھے کبھی یہ کرید نہیں ہوتی۔ اوروں کی ہر نظم کے بارے میں کچھ نہ کچھ مفروضہ بن سکتا ہے کہ اس کا بنیادی خیال (یا بنیادی مضمون، یا تاثر) یوں اور یوں ہاتھ آیا ہو گا۔ لیکن ’’رس کی انوکھی لہریں ‘‘کس طرح وجود میں آ سکی ہو گی؟ خاص کر جب میرا جی کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انھیں اپنی ’’نفسیاتی الجھنوں ‘‘ کے باہر عورت مرد کے معاملات سے کوئی حقیقی دلچسپی نہ تھی، تو یہ سوچنا مشکل ہو جاتا ہے کہ انھوں نے کس طرح سوچا یا سمجھا ہو گا کہ کوئی نوجوان، یا شاید بالغ ہوتی ہوئی لڑکی جب اپنے اندر کچھ نئی طرح کی باتیں وجود میں آتی محسوس کرتی ہے تو پھر اپنے ہی آپ، بالکل جبلی طور پر سمجھ لیتی ہے کہ جو کچھ مجھ میں ہو رہا ہے وہ کائناتی حقیقتوں سے ہم آہنگ ہے ؟ وہ کس طرح سمجھ لیتی ہے کہ یہ تبدیلیاں زندگی کا ثبوت اور زندگی کا حصہ ہیں ؟ میرا جی کی جنسی ’’کمزوری‘‘ وغیرہ کے بارے میں باتیں کرنے والے اس بات کو خیال میں نہیں لاتے کہ میرا جی کے تخیل اور احساس میں وہ باریکی اور لطافت کہاں سے آئی کہ وہ ’’رس کی انوکھی لہریں ‘‘ جیسی نظم لکھ سکے اور کس طرح انھوں نے لڑکی کے جنسی وجود کو کائنات کا حصہ بنا کر محسوس کیا؟ نظم یوں شروع ہوتی ہے :

میں یہ چاہتی ہوں کہ دنیا کی آنکھیں مجھے دیکھتی جائیں، یوں دیکھتی جائیں جیسے کوئی نرم ٹہنی کو دیکھے،

 (لچکتی ہوئی، نرم ٹہنی کو دیکھے )

مگر بوجھ پتوں کا اترے ہوئے پیرہن کی طرح سیج کے ساتھ ہی فرش پر ایک مسلا ہوا ڈھیر بن کر پڑا ہو

ذرا غور کیجیے، یہ اترا ہوا پیرہن جو سیج کے ساتھ ہی مسلا ہوا ڈھیر بن کر پڑا ہے، اترا ہوا پیرہن بھی نہیں ہے، پتیوں کا ڈھیر ہے۔ جنسی پیکر آپ سے آپ لڑکی ذہن میں آ گیا ہے، ورنہ بات بظاہر بہت سادہ تھی کہ لڑکی چاہتی ہے کہ دنیا اس کے حسن اور اس کے بدن کی نزاکت اور لطافت کا معصوم، غیر جنسی اعتراف کرے۔ ابھی اسے خود یہ خبر نہیں ہے کہ اس کے جسم میں جو نامیاتی تبدیلیاں رو نما ہو رہی ہیں ان کے امکانات اور مضمرات کیا ہیں ؟ وہ بالغ ہو رہی ہے، یا ابھی چند دن ہوئے بالغ ہوئی ہے، لیکن زندگی کا تموج اسے تخیل اور روحانی تجربے کی نئی منزلوں کی طرف لے جا رہا ہے :

اگر کوئی پنچھی سہانی صدا میں کہیں گیت گائے

تو آواز کی گرم لہریں مرے جسم سے آ کے ٹکرائیں اور لوٹ جائیں، ٹھہرنے نہ پائیں

کبھی گرم کرنیں، کبھی نرم جھونکے

کبھی میٹھی میٹھی فسوں ساز باتیں،

کبھی کچھ، کبھی کچھ، نئے سے نیا رنگ ابھر ے،

جنسی احساس، اور لمس پر مبنی پیکر گویا آپ سے آپ چلے آ رہے ہیں :گرم لہریں، جسم سے آ کے ٹکرائیں، گرم کرنیں، نرم جھونکے، اور بالآخر ’’فسوں ساز باتیں ‘‘، جو میٹھی بھی ہیں اور فسوں ساز (یعنی جھوٹی، یا موہ لینے والی، فریب دینے والی) بھی۔ متکلم لڑکی عمر کی اس منزل میں ہے جہاں جان بوجھ کر دھوکا کھانا بھی اچھا لگتا ہے۔ اور نظم یوں ختم ہوتی ہے :

میں بیٹھی ہوئی ہوں

دوپٹہ مرے سر سے ڈھلکا ہو ا ہے

مجھے دھیان آتا نہیں ہے :مرے گیسوؤں کو کوئی دیکھ لے گا،

مسرت کا گھیرا سمٹتا چلا جا رہا ہے،

بس اب اور کوئی نئی چیز میرے مسرت کے گھیرے میں آنے نہ پائے

یہاں احساس کا دائرہ مکمل ہونے کے ساتھ ہی لڑکی کا نیا وجود کائنات کی طرح بے کراں ہو جاتا ہے۔ اس کا خود بخود ڈھلکا ہو دوپٹہ اس بات کا اشارہ ہے کہ اب وہ چاہتی ہے کہ کوئی اسے بے لباس دیکھے۔ دنیا کیا کہے گی، یہ اس کے لیے اس وقت کچھ اہم نہیں۔ مسرت کا گھیرا سمٹ کر لڑکی کے بدن میں سما گیا ہے۔ اب کوئی نئی چیز اس مسرت کے گھیرے میں داخل نہیں ہو سکتی، یہاں بھی جنسی اشارہ موجود ہے، لیکن یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ جوان ہو جانے کا اہتزاز لا متناہی ہے۔ لا متناہی احساس میں کسی نئی چیز کے آنے کا امکان نہیں، کیونکہ ہر چیز وہاں پہلے ہی سے موجود ہے۔

میرا جی کی نظم’ ’بعد کی اڑان‘‘ ایک طرح سے ’’رس کی انوکھی لہریں ‘‘ کی تکمیل کرتی ہے، اس معنی میں کہ یہاں ہم بستری کے بعد کا منظر ہے اور متکلم مرد ہے۔ صبح کے وقت مرد دیکھتا ہے کہ کاجل پھیل کر لڑکی کے رخسار کی طرف جاتا ہوا سا ہے۔ اس کے ماتھے کی بندی بھی ذرا مٹ مٹا سی گئی ہے، لیکن مرد کو بندی کے بگڑ جانے کا احساس صبح ہونے کے پہلے ہی ہو چکا تھا۔ دونوں ہی باتیں اختلاط، اور اختلاط کے دوران جسمانی اور جذباتی تموج کی نشانی ہیں۔ لیکن پھیلا ہوا کاجل کسی باعث مرد کو بہت بر انگیخت کر دیتا ہے۔ اسے یہ بات اچھی نہیں لگتی کہ کاجل اتنا پھیل گیا ہے کہ لگتا ہے وہ کوئی زندہ وجود ہے اور لڑکی کو بوسہ دینے کے لیے بڑھ رہا ہے۔ ممکن ہے مرد خود سیاہ فام ہو اور اس باعث کالا کوا کاجل اسے اپنے حریف کی شکل میں نظر آتا ہے۔ لڑکی گوری ہے۔ یہ کہا نہیں گیا، لیکن اس کی بندی سرخ رنگ کی تھی، اس سے یہ نتیجہ نکالا جا سکتا ہے کہ لڑکی کا رنگ شاید گورا ہو گا۔

اب سوال یہ ہے کہ یہ سب تفصیل، یہ سب پیچیدگی کیوں ہے ؟ شاید اس کی وجہ یہ ہے ہم بستری کا طوفان گذر چکا لیکن مرد کے ابتہاج میں کمی نہیں آئی ہے۔ وہ کاجل تک کو اپنا رقیب سمجھ لیتا ہے، یا سمجھنا چاہتا ہے۔ ضروری ہے کہ پوری نظم یہاں نقل کر دی جائے :

بعد کی اڑان

میرا جی

چوم ہی لے گا، بڑا آیا کہیں کا۔۔۔۔۔ کوا،

اڑتے اڑتے بھلا دیکھو تو کہاں آ پہنچا،

کلموا، کالا کلوٹا، کاجل۔۔۔۔۔

میں اگر مرد نہ ہوتا تو یہ کہتا تجھ سے :

دوش پر بکھرے ہوئے ہیں گیسو،

بندی دمدار ستارہ ہے مگر ساکن ہے،

چلتے چلتے کوئی رک جائے اچانک جیسے،

غسل خانے میں نظر آیا تھا انگلی پہ مجھے سرخ نشاں،

وہی دمدار ستارے کی نمائش کا پتہ دیتا تھا،

آپ نا پید ہوا ہے مگر اپنے پیچھے

کسی نقش کف پا کی صورت

رات کے راستے میں چھوڑ گیا ہے وہ کہانی جس کو

سننے والا یہ کہے گا مجھ سے

گیت میں ایسی لرزتی ہوئی اک تان کی حاجت ہی نہ تھی،

ایسی ہی ایک لرزتی ہوئی تان آئی تھی

جب پھسلتے ہوئے ملبوس لرزتے ہوئے جا پہنچے تھے

فرش پر۔ ایک مسہری پہ ہوا آویزاں

’’چھوڑ دو، رہنے دو۔۔۔۔۔ اس کو تو یہیں رہنے دو۔ ‘‘

نیم وا آنکھوں کو پھر بند کیا تھا اس نے،

ہاتھ بھی آنکھوں کے پردوں پہ رکھے تھے یکدم،

اور ا ب ایک ہی پل میں یہ اگر کھل جائیں

یہی آنکھیں جو مجھے دیکھ نہیں سکتی تھیں

دیکھتے دیکھیں مجھے،۔۔۔۔۔ ہاتھ کہاں رکھیں گی؟

وہیں رکھیں گی،۔۔۔۔۔ وہی ایک نشان منزل

جس جگہ آ کے ازل اور ابد ایک ہوئے تھے دونوں،

ایک ہی لمحہ بنے تھے مل کر،

اسی لمحے میں یہ بندی مجھے دمدار ستارہ سا نظر آئی تھی

رات کے راستے میں چھوڑ گئی تھی وہ کہانی جس کو

سننے والا یہ کہے گا مجھ سے

گیت میں ایسی لرزتی ہوئی اک تان کی حاجت ہی نہ تھی،

اب لرزتے ہوئے ملبوس نظر آتے نہیں ہیں، لیکن

وہ تو اک رات کے طوفان کا اعجاز تھا، طوفان مٹا،

کیسا طوفان تھا!۔۔۔۔۔۔ اندھا طوفان،

جس کے مٹنے پہ مجھے نوح کی یاد آتی ہے

اور پھر نوح نے بیٹوں سے کہا

کھول دو پنجرہ، اسے چھوڑ دو۔۔۔۔۔۔ اس فاختہ کو

جا کے خشکی کا پتہ لے آئے،

چند لمحوں میں ہی وہ فاختہ لوٹ آئی، مگر ناکامی

اس کی قسمت میں لکھی تھی،

اور پھر کوے کو چھوڑا، یہی خشکی کا پتہ لائے گا،

اڑتے اڑتے بھلا دیکھو تو کہاں آ پہنچا،

چوم ہی لے گا، بڑا آیا کہیں کا کوا،

کلموا، کالا کلوٹا، کاجل!

 (۱۹۴۱)

نوٹ: اوقاف میں ’’میرا جی نظمیں ‘‘، اول ایڈیشن، ساقی بک ڈپو، دہلی[۱۹۴۳] کی پابندی کی گئی ہے۔

غور کرنے کی پہلی بات تو یہ ہے کہ متکلم شروع ہی میں اپنے مرد ہونے پر زور دیتا ہے :۔

میں اگر مرد نہ ہوتا تو یہ کہتا تجھ سے

لیکن جو زبان وہ استعمال کرتا ہے وہ عورتوں والی ہے (یعنی اسے عام طور پر عورتوں کی زبان کہا جاتا ہے۔ ) :

چوم ہی لے گا، بڑا آیا کہیں کا۔۔۔۔۔ کوا،

اڑتے اڑتے بھلا دیکھو تو کہاں آ پہنچا،

کلموا، کالا کلوٹا، کاجل۔۔۔۔۔

اپنی مردانگی پر یہ اصرار، اور کوے کے کالے پن پر یہ زور، ان دونوں باتوں میں یہ نکتہ پنہاں ہے کہ متکلم کسی نہ کسی سطح پر خود کو رات کی اپنی ہم بستر سے اس درجہ متحد دیکھتا ہے کہ کوے سے اس کا خطاب عورتوں کے لہجے میں ہے، اور دوسری طرف وہ کوے کو اپنا رقیب بھی تصور کرتا ہے۔ حالانکہ بات صرف اتنی ہے کہ لڑکی کی آنکھوں کا کاجل رات اختلاط اور اختلال کے باعث ذرا سا بہ نکلا ہے۔ لیکن بہے اور پھیلے ہوئے کاجل نے یہ کام بھی کیا کہ مرد کو پچھلی رات کی باتیں ٹھیک سے یاد دلا دیں۔ لڑکی کے بال بکھرے ہوئے ہیں، لیکن اس کی سرخ بندی بھی مٹی مٹی سی ہے۔ لطف یہ ہے کہ کاجل کے بہنے اور مٹنے کے پہلے، رات ہی کو کسی وقت متکلم کو بندی کے مٹے مٹے ہونے کے بارے میں معلوم ہو گیا تھا، جب وہ کسی ضرورت سے غسل خانے گیا تھا۔ سرخ بندی، انگلی پر اس کا نشان، اور غسل خانہ، یہ باتیں ازالۂ بکارت کی طرف اشارہ کرتی معلوم ہوتی ہیں۔ خود لڑکی ہمیں بمشکل ہی دکھائی (یاسنائی ) پڑتی ہے۔ جب متکلم اس کے الفاظ میں ہمیں بتاتا ہے۔ کہ جب:

پھسلتے ہوئے ملبوس

لرزتے ہوئے جا پہنچے تھے

فرش پر، ایک مسہری کے کٹہرے پہ ہوا آویزاں

 (فرش پر پڑے ہوئے، یعنی اتار کر پھینکے ہوئے لباس کی میرا جی کی نظر میں خاص اہمیت معلوم ہوتی ہے۔ ’’رس کی انوکھی لہریں ‘‘ میں بھی اس کا ذکر شروع ہی میں ہے۔ )۔ موجودہ نظم میں مرد شاید اٹھ کر فرش پر گرے ہوئے کپڑوں کو اٹھا لینا چاہتا ہے، لیکن لڑکی کہتی ہے :

چھوڑ دو، رہنے دو۔۔۔۔۔۔۔۔ اس کو تو یہیں رہنے دو۔۔۔۔۔

لڑکی کی طرف سے ہم صرف یہ جملہ سنتے ہیں، اور اس کے بارے میں اتنا ہی اور معلوم کرتے ہیں کہ یہ کہہ کر اس نے اپنی نیم وا آنکھیں بند کر لی تھیں۔ لیکن اس عمل میں شرم سے زیادہ تیاری، اور عجلت کا اشارہ ملتا ہے۔ یہ ضرور ہے کہ وہ پھر اپنے ہاتھ بھی اپنی آنکھوں پر رکھ لیتی ہے۔ یعنی یہ جملہ بول کر اسے خود احساس ہوا ہے کہ میری بات میں کچھ بے صبری کا شائبہ مل سکتا تھا۔ اس لیے اب وہ شرما کر اپنی آنکھوں پر ہاتھ رکھ لیتی ہے۔ مگر پھر فوراً ہی وہ مرد کو دیکھنے بھی لگتی ہے، کیونکہ وہ محسوس کر تی ہے کہ مرد اسے دیکھ رہا ہے :

یہی آنکھیں جو مجھے دیکھ نہیں سکتی تھیں

دیکھتے دیکھیں مجھے

لیکن متکلم کو اس عمل میں کچھ اور اشارہ بھی ملتا ہے۔ آنکھوں کو ہاتھوں سے ڈھانک لیا گیا ہے، لیکن ضرور ہے کہ ہاتھ وہاں سے ہٹیں گے ضرور، کیونکہ متکلم اسے دیکھ رہا ہے، اس کے پورے جسم کو برہنہ دیکھ رہا ہے اب وہ شرما کر اپنے ہاتھ بڑھا کر وہاں لے جانا چاہتی ہے جہاں سے تخلیق کا عمل شروع ہوتا ہے، اور وہ شاید مرد کا ہاتھ بھی اس طرف جاتا ہوا محسوس کرتی ہے :

یہی آنکھیں جو مجھے دیکھ نہیں سکتی تھیں

دیکھتے دیکھیں مجھے۔۔۔۔۔۔ ہاتھ کہاں رکھیں گی؟

وہیں رکھیں گی۔۔۔۔۔۔۔ وہی ایک نشان منزل

جس جگہ آ کے ا زل اور ابد ایک ہوئے تھے دونوں

لڑکی شاید چاہتی ہے کہ اپنے ہاتھ کے بعد مرد کے ہاتھ کو بھی وہاں لے جائے جو متکلم کے لفظوں میں نشان منزل ہے۔ اور اسی لمحے لڑکی کی ایک انگلی پر بندی کا چھوٹا سا دھبہ آ گیا اور جب اس نے متکلم کا ہاتھ پکڑا تو وہ دھبہ اس کی انگلی پر بھی گیا، یا انگلی پر منتقل ہو گیا۔ اب بندی کسی چھوٹے سے دمدار ستارے کی شکل میں ہے، لیکن یہ نشان ایسی کہانی کا بھی ہے جس میں اب وہ منزل آ گئی تھی کہ جذبے کے ارتعاش اور ابتہاج کی بھی ضرورت نہ تھی۔ دونوں ان باتوں سے ماورا ہو گئے تھے :

اسی لمحے میں یہ بندی مجھے دمدار ستارہ سا نظر آئی تھی

رات کے راستے میں چھوڑ گئی تھی وہ کہانی، جس کو

سننے والا یہ کہے گا مجھ سے

گیت میں ایک ایسی لرزتی ہوئی اک تان کی حاجت ہی نہ تھی،

اب لرزتے ہوئے ملبوس نظر آتے نہیں ہیں، لیکن

ان کی آنکھوں کو ضرورت بھی نہیں

’’آنکھوں کو ضرورت بھی نہیں ‘‘، یعنی دونوں کی آنکھوں کو۔ اب کسی کو اس کی ضرورت نہیں کہ منظر کے آغاز میں جو تھر تھری، جو سنسنی تھی، اس کی ایک رمق بھی باقی رہ جائے :

وہ تو اک رات کے اعجاز کا طوفان تھا، طوفان مٹا،

کیسا طوفان تھا!۔۔۔۔۔۔ اندھا طوفان،

جس کے مٹنے پہ مجھے نوح کی یاد آتی ہے

غور فرمائیے، میرا جی فحش گو، میرا جی، جنسی الجھنوں کا شکار، میرا جی، جسے ’’خود لذتی‘‘ کی لت نے واماندہ کر دیا تھا، میرا جی نفسیاتی کمزوریوں کا پلندہ، کیا ایسا شخص ایسی نظم لکھ سکتا تھا؟ اور اگر لکھ سکتا تھا تو پھر اس کی پس ماندگیوں اور کمزوریوں وغیرہ وغیرہ سے ہمیں کیا لینا دینا ہو سکتا ہے ؟ایسا موضوع، اور ایک لفظ بھی فحش یا عریاں نہیں، فحش اور عریاں تو الگ رہے، نظم کا اسلوب اس قدر لطیف اور لفظیات اس قدر اشاراتی ہے کہ اکثر لوگ سمجھ ہی نہ پائیں گے کہ کیا بات کہی جا رہی ہے۔ لوگ جنسی مضامین کی شاعری کے لیے لاطینی شاعر او وڈ (Ovid) اور عربی کے ابو نواس اورسنسکرت کے امارو کا نام لیتے ہیں۔ نثر کے لیے ڈی۔ ایچ۔ لارنس (D. H. Lawrence) کا ذکر کرتے ہیں۔ میں ٹھوس فحشیات (Hard Pornography) کی بات نہیں کرتا، ورنہ دنیا کے ادب میں اور مثالیں بھی تھیں۔ میں کہتا ہوں جنسی موضوعات پر ’’رس کی انوکھی لہریں ‘‘ اور ’’بعد کی اڑان‘‘ کا جواب کوئی لائے تو میں دیکھوں۔

اس نظم کے بارے میں آخری بات یہ کہنی ہے کہ قصص الا نبیا کے مطابق جب حضرت نوحؑ کو محسوس ہوا کہ طوفان تھم گیا ہے، پانی اتر گیا ہے اور زمین اب محفوظ ہے تو انھوں نے صورت حال کی خبر لانے کے لیے ایک کوے کو بھیجا۔ لیکن کوے میاں باہر گئے تو پھر واپس ہی نہ آئے۔ کچھ دیر انتظار کے بعد حضرت علیہ السلام نے ایک فاختہ سے کہا کہ تو جا، اور جلد خبر لا۔ فاختہ باہر گئی اور تھوڑی ہی دیر میں زیتون کی ایک ٹہنی کو چونچ میں دبائے ہوئے واپس آ گئی اور اس طرح حضرت علیہ السلام مطمئن ہوئے کہ طوفان فرو ہو چکا ہے۔ میرا جی نے اپنی نظم میں کاجل کی مناسبت سے کوے کو طوفان کے تھمنے کی خبر لانے والا بتایا ہے۔

نظم کے مطابق رات میں تو دونوں کو کچھ خبر نہ تھی۔ اور اس سے بڑھ کر یہ کہ رات میں کوے (کاجل) سے کسی کو کوئی ڈر تھا ہی نہیں۔ متکلم جہاں پہنچا ہوا تھا وہاں بچارا کاجل کیا پہنچتا۔ لیکن صبح کو کئی باتوں کے باعث کاجل کا مٹتا ہوا نشان متکلم کے لیے اہم بن جاتا ہے : متکلم اور کاجل میں شاید رنگ کا اشتراک ہے اور کاجل اب جو پھیل کر لڑکی کے گال کی طرف آیا چاہتا ہے تو اسے خیال آتا ہے کہ میں بھی تو کالا ہوں۔ اور یہ کالا شاید میرا رقیب بننا چاہتا ہے۔ دوسری بات یہ کہ بندیا کے سرخ نشان سے تو یہ بات ثابت نہ تھی کہ رات کو اشتیاق اور ابتہاج کا کیا عالم تھا۔ کاجل کا پھیلنا اور مٹنا رات کو نظر آیا ہی نہ تھا۔ اب جو آنکھوں اور رخسار کا یہ منظر دیکھا تو متکلم کو پتہ لگا کہ رات کیا اور کس طرح گذری تھی۔ حضرت نوحؑ کے کوے نے انھیں خبر نہ دی ہو، لیکن یہ کوا مجھے بتا رہا ہے کہ رات کے طوفان کا کیا رنگ تھا۔ تیسری بات یہ کہ کوا بالآخر اڑتا اڑتا وہاں پہنچا جہاں رات شاید طوفان نوح سے بڑھ کر طوفانی رہ چکی تھی۔ لیکن کوا حضرت نوحؑ کو خبر دینے واپس کے جانے کے پہلے اپنا کام بھی پورا کرنے کے فراق میں ہے :

اڑتے اڑتے بھلا دیکھو تو کہاں آ پہنچا،

چوم ہی لے گا…

چوتھی بات یہ کہ طوفان شاید تھم گیا ہو، جیسا کہ متکلم نے ہمیں خود بتایا ہے۔ لیکن متکلم کے اشتیاق اور ہوس میں شاید کچھ زیادہ کمی نہیں آئی ہے، ورنہ وہ اس بات پر برہم نہ ہوتا کہ کاجل کا نشان یوں لگتا ہے جیسے کوئی چالاک کوا چپکے سے بڑھ کر لڑکی کے رخسارپر بوسہ دینے والا ہو۔

مضمون ختم کرنے سے پہلے یہ کہنا ضروری سمجھتا ہوں کہ آپ یہ نہ گمان کریں کہ میں میرا جی کی جنسی شاعری ہی کو لائق اعتنا سمجھتا ہوں، یا یہ کہ ان کی اس طرح کی نظموں میں یہی دو نظمیں قابل ذکر ہیں۔ میرا جی نے اتنی طرح کی نظمیں کہی ہیں اور اتنی کثیر تعداد میں کہی ہیں کہ دو چار نظموں کے انتخاب سے ان کی کیفیت اور کمیت کا اندازہ نہیں ہو سکتا۔ میں نے یہ صرف دو نظمیں اس لیے منتخب کیں کہ مجھے ’’رس کی انوکھی لہریں ‘‘ اور ’’بعد کی اڑان‘‘ ایک ہی نظم کے دو روپ، یا ایک ہی تصویر کے دو پہلو لگتے ہیں۔ اتنا اتحاد نہ سہی، لیکن یہ تو یقینی ہے کہ ’’رس کی انوکھی لہریں ‘‘ اگر کچھ نامکمل سی لگتی تھی تو ’’بعد کی اڑان‘‘ اسے مکمل کرتی نظر آتی ہے۔

افسوس کہ یہ دونوں نظمیں (بلکہ بدنام نظموں کے سوامیرا جی کی اکثر نظمیں ) لوگوں کی توجہ کا مرکز نہیں بن سکی ہیں۔ مجھے خوشی ہے کہ گیتا پٹیل نے اپنی کتاب میں ان دونوں نظموں (’’رس کی انوکھی لہریں ‘‘ اور ’’بعد کی اڑان‘‘) کا اچھا خاصا انگریزی ترجمہ پیش کیا ہے۔ میراجی کے ایک مجموعے کا نام ’’تین رنگ‘‘ ہے۔ اختر الایمان نے جو مجموعہ مرتب اور شائع کیا تھا اس کا نام ’’سہ آتشہ‘‘ ہے۔ اگر مجھے غلط یاد نہیں تو دونوں عنوان میرا جی کے رکھے ہوئے تھے۔ کسی اور کو نہ سہی، انھیں خوب معلوم تھا کہ ان سے متنوع اور بھر پور شاعر اس وقت کوئی نہ تھا اور میں کہہ سکتا ہوں کہ آج بھی کوئی نہیں ہے۔ مجھ سے پوچھیے تو میں کہوں گا کہ میرا جی کی متعدد نظمیں دنیا کی بہترین جدید شاعری کے سامنے رکھی جائیں تو میرا جی ہیٹے نہ رہیں گے۔ تراجم، گیتوں اور غزلوں کو الگ رکھ کے میں ان کی کم از کم سولہ (۱۶) نظموں کو تمام جدید شاعری کا طرۂ امتیاز سمجھتا ہوں اور وہ حسب ذیل ہیں۔ :

 (۱) آبگینے کے اس پار کی ایک شام (۲۴۰)

 (۲) افتاد (۱۰۷، نظم کا پہلا مصرع ہے : اپنے اک دوست سے ملنے کے لیے آیا ہوں۔ اسی عنوان کی ایک اور نظم ہے جو میرا جی کی بیاض سے ملی تھی۔ یہ دوسری نظم جمیل جالبی کی مرتبہ کلیات میرا جی میں صفحہ ۴۵۱ پر درج ہے۔ )

 (۳) انجام (۱۹۲)

 (۴) بعد کی اڑان (۱۱۴)

 (۵) بلمپت (۳۸۴)

 (۶) جاتری (۱۳۲)

 (۷) جنگل میں اتوار (۴۷۳، یہ نظم میرا جی اور یوسف ظفر نے مل کر لکھی تھی اور پہلی بار میرا جی کی مرتبہ کتاب ’’اس نظم میں ‘‘ میں نظر آئی ہے۔ )

 (۸) رس کی انوکھی لہریں (۱۶۱)

 (۹) ریل میں (۱۳۸)

 (۱۰) سمندر کا بلاوا (۲۲۹)

 (۱۱) مجھے گھر یاد آتا ہے (۳۹۴)

 (۱۲) محرومی (۱۲۹)

 (۱۳) ناگ سبھا کا ناچ (۵۹)

 (۱۴) یگانگت (۲۳۷)

یہ نظمیں میرا جی کے مختلف مجموعوں اور جمیل جالبی کی کلیات میں شامل ہیں۔ جمیل جالبی کی کلیات کے اعتبار سے صفحات کے نمبر میں نے ہر عنوان کے آگے لکھ دیے ہیں۔ میں ان کے علاوہ شیما مجید کی کتاب ’’باقیات میرا جی‘‘ میں شامل حسب ذیل نظمیں بھی فہرست میں شامل کرتا ہوں۔ یہاں صفحات کے نمبر اسی کتاب کے ہیں :

 (۱۵) آوازیں (۱۱۱)

 (۱۶) تذبذب (۹۲)

’’تذبذب‘‘ ایسی عجیب و غریب نظم ہے، اور اس کا آہنگ اور ہیئت اس قدر تازہ اور دلکش ہیں کہ اس کا پہلا اور پانچواں (یعنی آخری ) بند سنائے بغیر جی نہیں مانتا، تجزیہ کسی اور وقت کے لیے اٹھا رکھتا ہوں (میں نے کتابت کے اغلاط درست کر دیے ہیں ) :

یہ بالوں میں لہروں کا سماں ہے کس کے لیے کہو کس کے لیے

گالوں پر جو سرخی ہے عیاں ہے کس کے لیے کہو کس کے لیے

یہ ماتھے پر بندی کا نشاں ہے کس کے لیے کہو کس کے لیے

یہ آنکھوں میں اک اور جہاں ہے کس کے لیے کہو کس کے لیے

لہروں کا سماں اک اور جہاں سرخی بندی سب دھوکا ہے

تم دیکھ کے گر للچاتے ہو تو تم کو کس نے روکا ہے

دکھ درد سے چھٹکارا ہے کہاں ہے کس کے لیے کہو کس کے لیے

یہ بالوں میں لہروں کا سماں ہے کس کے لیے کہو کس کے لیے

کشتی کا باقی رہا جو نشاں ہے کس کے لیے کہو کس کے لیے

اب چھوڑو نہیں اب کہہ دو ہاں ہے کس کے لیے کہو کس کے لیے

یہ ہاں یہ نہیں یہ نہیں یہ ہاں یہ دونوں باتیں دھوکا ہیں

ان دونوں میں ہے سفر پنہاں یہ دونوں باتیں دھوکا ہیں

جن لوگوں نے میرا سین اور سحاب قزلباش اور بودلی بیگم پر ایمان لانا ضروری قرار دیا ہے وہ اس نظم کو پڑھ کر دیکھیں، انشا ء اللہ نفع ہو گا۔

٭٭٭

ماخذ:

http://esbaatpublications.com/esbaatmag/2013/03/meera-ji-sau-baras-ki-umar-me/

 

شمشاد لکھنوی – تعارف، انتخاب کلام و شرح

مولوی عبدالاحد شمشاد لکھنوی کے بارے میں ہم بہت کم جانتے ہیں، یا یوں کہیں کہ میں بہت کم جانتا ہوں۔ ان کا نام پہلی بار میں نے شاید حضرت شاہ عبد العلیم آسی سکندر پوری (1834 تا1917) کے شاگرد رشید کی حیثیت سے سنا۔ اس سے معلوم ہوا کہ ان کی شاعرانہ نسبت بہت قوی تھی۔ آسی سکندر پوری کے استاد شاہ غلام اعظم افضل الٰہ آباد ی (1810تا1858) ناسخ کے ارشد شاگردوں میں تھے۔

اس طرح شمشاد لکھنوی دو داسطوں سے ناسخ کے شاگرد تھے۔ لیکن شمشاد لکھنوی کا کلا م میری دسترس میں نہ تھا۔ کئی سال بعد مجھے شمس الدین فقیر کی “حدائق البلاغت”کا ایک نسخہ حاصل ہوا جس پر شمشاد لکھنوی کے نہایت عالمانہ حاشیے”نہر الافاضۃ” نام سے تھے۔ “حدائق البلاغت” مع”نہر الافاضۃ” کا جو نسخہ مجھے ملا وہ مفید عام پریس لکھنؤ سے1913میں چھپا تھا۔

“حدائق البلاغت” (سال تصنیف 1754/1755) کی بات نکلی ہے تو یہ بھی عرض کر دوں کہ اس کتاب کے جتنے نسخے میرے پاس ہیں، سب کی کچھ نہ کچھ خصوصیت ہے۔ سب سے پرانا نسخہ نستعلیق ٹائپ میں کولکاتا سے1813 میں چھپا تھا۔ پہلا صفحہ نہ ہونے کی وجہ سے پریس کا نام نہیں معلوم، لیکن نستعلیق ٹائپ کی کچھ اور کتابیں میں نے فورٹ ولیم کالج کی چھپی ہوئی میں نے دیکھی ہیں۔ اس کتاب کا ٹائپ بالکل ویسا ہی ہے۔ لہٰذا یہ نسخہ وہیں کا مطبوعہ ہو گا۔ دوسرا نسخہ نول کشور پریس پٹیالہ کا مطبوعہ ہے۔ نول کشور پریس پٹیالہ کی کتابیں بہت کم یاب ہیں۔ افسوس کہ اس نسخے پر تاریخ نہیں ہے۔ تیسرا نسخہ امام بخش صہبائی کا اردو ترجمہ ہے۔ صہبائی نے اپنا ترجمہ (بلکہ تالیف، کیونکہ انھوں نے عربی فارسی کے بجائے اردو اشعار کی مثالیں درج کی ہیں اور متن کی پابندی ہر جگہ نہیں کی ہے) 1844میں مکمل کیا۔ میرے پاس جو نسخہ ہے وہ نول کشور پریس کانپور کا مطبوعہ ہے (1915)۔ آخری بات اطلاعاً عرض ہے کہ ہندوستان میں علم بدیع و بیان پر جتنی کتابیں فارسی میں لکھی گئیں، ان میں شمس الدین فقیر کی “حدائق البلاغت” شاید سب سے زیادہ مستند ہے۔

شمشاد لکھنوی کا دیوان کب میرے ہاتھ آیا، یہ مجھے یاد نہیں کیونکہ میں نے اس پر اپنے دستخط تو کیے لیکن تاریخ کہیں نہیں درج کی۔ جیسا کہ میرا اندازہ تھا، شمشاد لکھنوی کا کلام نہایت پختہ اور شگفتہ ہے۔ ان کا دیوان ہاتھ آنے کے پہلے مجھے ان کے بارے میں صرف اتنا اور معلوم تھا کہ وہ مدرسۂ چشمۂ رحمت غازی پور میں مدت دراز تک صدر مدرس رہے اور 1917 میں شاید وہیں مرے اور وہیں مدفون ہیں۔ ان کے دیوان “خزانۂ خیال” سے تاریخ1304بر آمد ہوتی ہے۔ اس پر تاریخ اشاعت جولائی1887 درج ہے۔ یہ دیوان محمد نثارحسین نثار جو مشہور رسالے “پیام یار” کے مدیر تھے، ان کے اہتمام سے قومی پریس لکھنؤ میں چھپا تھا۔ اگر شمشاد لکھنوی نے کوئی اور دیوان چھوڑا تو مجھے اس کی خبر نہیں۔

دیوان شمشاد لکھنوی میں کثرت سے تاریخیں درج ہیں۔ ان میں سے بہت سی خود شمشاد لکھنوی نے کہی ہیں۔ ان تاریخوں اور کچھ تقاریظ سے شمشاد کی مہارت تاریخ گوئی کے علاوہ خود ان کی زندگی کے بارے میں کئی باتیں معلوم ہوتی ہیں۔ شمشاد لکھنوی فرنگی محلی تھے، وہ اپنے باپ مولوی محمد عبد الحلیم فرنگی محلی کے دوسرے بیٹے تھے۔ پہلے وہ قلق (غالباًآفتاب الدولہ قلق لکھنوی، وفات 1879) کے شاگرد تھے۔ بعد میں انھوں نے حضرت آسی سے سلسلۂ تلمذ باندھا اور یقین ہے کہ آخر تک انھیں کے شاگرد رہے۔ دیوان میں مندرج تاریخوں سے معلوم ہوتا ہے کہ شمشاد1282مطابق1865میں غازی پور آئے اور 1874میں ان کی شادی ہوئی۔ اس سے گمان کیا جا سکتا ہے کہ وہ1850کے آس پاس پیدا ہوئے ہوں گے کیونکہ ان کے قطعۂ تاریخ آمد غازی پور سے کچھ اشارہ ملتا ہے کہ وہ تعلیم کی غرض سے غازی پور آئے تھے۔ یہ بات بھی لائق ذکر ہے کہ ظہیرا حسن شوق نیموی عظیم آبادی (1863تا1904) جو اپنے وقت کے جید عربی فارسی کے استاد اور علم حدیث و تفسیر میں بھی ماہر تھے، شمشاد لکھنوی کے شاگرد تھے۔ ان کی کچھ تقریباً نایاب اگرچہ مختصر کتابیں، “اصلاح مع ایضاح” اور “ازاحۃ الاغلاط” میرے پاس ہیں۔ تینوں لغت اور لسان اور علم شعر سے متعلق ہیں۔ اول الذکر کو یو۔ پی۔ اردو اکیڈمی نے شائع کر دیا تھا لیکن اب وہ بھی کمیاب ہے۔

شمشاد لکھنوی کا کلام میری حسب توقع ناسخ کے رنگ خیال بندی (یعنی تجریدی اور دور کے مضامین باندھنا) کی اچھی مثال نکلا۔ لیکن شمشاد کی شاعری میں ایک بات ایسی ہے جو انھیں اپنے معاصروں میں ممتاز کرتی ہے۔ یعنی ان کے یہاں مومن کی سی نازک خیالی بھی ہے۔ یعنی مومن کی طرح ان کے یہاں بھی اکثر مضامین بالکل معمولی ہیں اور محدود ہیں لیکن وہ انھیں ہر بار کسی نہ کسی تازہ انداز سے یا نئے لہجے میں باندھتے ہیں۔ مومن کے مضامین کی فہرست بنائیے تو بس وعدہ خلافی، آہ، ضبط آہ، وصال کی تمنا، رشک، اغیار کی شکایت، اس طرح کے نہایت رسمی مضامین نکلیں گے۔ لیکن ہر شعر پھر بھی دلکش اور تازہ معلوم ہوتا ہے۔ در اصل یہی نازک خیالی ہے۔ اس کا کچھ زیادہ تعلق خیال بندی سے نہیں ہے، لیکن خیال بند شعرا کو نازک خیالی سے بھی طوع و رغبت ہوتی ہے۔ غالب نے اسی لیے مومن کو معنی آفریں کہا تھا۔

غزلیات

    شمشاد لکھنوی

    انتخاب و شرح: شمس الرحمٰن فاروقی

 (1)

جوہر تیغ ادا شمشیر آہن میں نہ تھا

زہر جو چوٹی میں تھا ہرگز وہ ناگن میں نہ تھا

وہ جو بہر فاتحہ آیا قیامت آ گئی

ایک مردہ چین سے دیکھا تو مدفن میں نہ تھا

٭

دیکھنا شاید کہ میرا دل ہو وہ اے چارہ گر

نقطۂ خوں بستہ اک طرف خط سوزن میں تھا

کیوں مرے زخم جگر سینے میں گتھی پڑ گئی

رشتۂ جان عدو کیا رشتۂ سوزن میں تھا

کیا قیامت تھا یہ رخنہ سینے کا اے چارہ گر

آفتاب حشر مثل ذرہ اس روزن میں تھا

افسر عالم جو سر تھا اس کو کاٹا بے دھڑک

کیا فلک کا نفس ناطق شمر ذی الجوشن میں تھا

شعر 1:طرف خط سوزن =سوئی کی سرا، یعنی اس کی نوک۔ دل کو سوئی کی نوک کے ایک طرف ٹکا ہوا ایک قطرۂ خوں بستہ کہنا نہایت نادر بات ہے، اور یہ بھی کہ چارہ گر تو زخم دل کو سینے کے لیے آیا تھا لیکن زخم کی سلائی میں دل ہی نکل گیا۔ نقطہ اور خط میں ضلع کا لطف ہے۔

شعر2:رشتۂ جان عدو اور رشتۂ سوزن کیا خوب ہے۔ زخم اور سینے میں ضلع کا لطف بھی ہے۔

شعر 3:افسر اور سر کی رعایت ظاہر ہے۔ افسر کے مجازی معنی بھی” سر”ہیں۔

شعر4:رخنہ اور سینے میں ضلع کا لطف ہے۔ ناسخ کا یہ مطلع بھی ذہن میں لائیے ؎

مرا سینہ ہے مشرق آفتاب داغ ہجراں کا

طلوع صبح محشر چاک ہے میرے گریباں کا

شمشاد نے ناسخ کے مضمون کو بلند تر کر دیا کہ میرے سینے کے چاک (روزن، اور روزن میں ذرہ ہوتا ہی ہے) کا ایک ذرہ آفتاب صبح محشر تھا۔

شعر 5۔ شمر لعین کے باطن میں فلک کے نفس ناطق کا ہونا غیر معمولی بات ہے اور بڑی جرأت کی بات ہے۔ آج کوئی شاعر ایسی ہمت نہیں کر سکتا۔ قافیہ نہایت نادر ہے۔

 (2)

تو ہی کھولے جسے ایسی گرہ دل دینا

اے مرے عقدہ کشا عقدۂ مشکل دینا

رات دن تازگی زخم غم دل دینا

کشت زار ہوس درد میں حاصل دینا

اے فلک خوب اگیں دانۂ زنجیر جنوں

کشت امید میں آب چہ بابل دینا

کس سے سیکھے ہو مری جان چرا کر آنکھیں

زخم شمشیر نگہ بر سر غافل دینا

یہ غزل شاہ آسی کی مشہور زمین میں ہے۔ دو شعر ان کے سنئے ؎

تاب دیدار جو لائے مجھے وہ دل دینا

منھ قیامت میں دکھا سکنے کے قابل دینا

ذوق میں صورت موج آ کے فنا ہو جاؤں

کوئی بوسہ تو بھلا اے لب ساحل دینا

مطلع :استاد کے مطلعے میں کیفیت زیادہ ہے لیکن شاگرد کا مطلع خیال بندی اور نازک خیالی دونوں کا شاہکار ہے۔ دل کو گرہ سے تشبیہ دیتے ہیں۔

شعر 3۔ ایک رقاصہ زہرہ کے عشق میں دو فرشتے دیوانے ہو گئے تھے۔ بطور سزا ے الٰہی انھیں چاہ بابل میں الٹا لٹکا دیا گیا۔

 (3)

کیا ہوا تجھ سے جو گل بلبل نالاں چھوٹا

جائے عبرت تو یہ ہے گل سے گلستاں چھوٹا

تو وہ قحبہ ہے جو آغوش میں تیرے آیا

تا قیامت نہ پھر اے گور غریباں چھوٹا

شعر 2۔ قبر کو آغوش قحبہ سے تشبیہ دینا بہت بدیعی بات ہے۔ اس بات کا پورا ثبوت بھی ہے کہ قبر کی آغوش سے کوئی نکلتا نہیں، کیونکہ بات گور غریباں، یعنی بے گھر اور اجنبی لوگوں کی قبر کی ہے۔ انھیں بھلا کون قبر سے نکال کر ان کے وطن لے جانے کی زحمت کرے گا۔

 (4)

اس سمت سے گذر ہو جو اس شہسوار کا

تعظیم دے غبار ہمارے مزار کا

پھیلا جنوں میں جامۂ ہستی کی سمت ہاتھ

ممنون کب ہوں جیب و گریباں کے تار کا

قاصد تڑپ کے ہاتھ سے نامہ نکل نہ جائے

لکھا ہے اس میں حال دل بے قرار کا

سبزے کے بدلے تیغ دو دم قبر سے اگے

کشتہ ہوں میں جٹے ہوئے ابروئے یار کا

 (5)

دیکھئے دل کی کشش سے وہ ادھر آتے ہیں آج

یا ہمیں گھبرا کے اس جانب چلے جاتے ہیں آج

جان دے کراب لحد میں کیوں نہ پچھتانا پڑے

حشر پر موقوف اٹھنا اور وہ آتے ہیں آج

کیا کسی کی آتش فرقت بجھانی ہے انھیں

سردئی اپنا دوپٹہ کیوں وہ رنگواتے ہیں آج

چھین کر آدم سے جنت کیا ملا تھا کل انھیں

اپنے کوچے سے جو ہم کو بھی نکلواتے ہیں آج

شعر 2:آتے ہیں آج=وہ آج آنے والے ہیں۔

شعر 3:سردئی=سبزی مائل زرد۔ آتش اور سردئی کی رعایت بھی پر لطف ہے۔ قافیہ بھی نادر ہے۔

شعر4:اس شعر کی شوخی حیرت انگیز ہے۔

 (6)

شیخ کو عقبیٰ کی خواہش رند کو دنیا پسند

مرد کامل ہے وہی جس کو ہوں دونوں ناپسند

اے برہمن آب و آتش میں بتا کیا ربط ہے

بعد مردن کیوں کیا سوز لب دریا پسند

دل کو کیا بھائے مرقع مانی و بہزاد کا

ہم ہیں شاعر ہم کو ہوتے ہیں بت گویا پسند

سوز=جلنا۔

 (7)

کیا خوش نما ہے دل سے ترے غم کی چھیڑ چھاڑ

کیا لطف دے رہی ہے یہ باہم کی چھیڑ چھاڑ

اس کی گلی میں کیوں نہ ستائے مجھے رقیب

شیطان سے نہ جائے گی آدم کی چھیڑ چھاڑ

 (8)

خدا سے مانگتا اک دوسرا دل

جو ملتا بے غرض بے مدعا دل

اڑاتا خوب سوداے ہوس میں

جو کچھ پاتا بھی نقد مدعا دل

وفور بے خودی سے وصل کی شب

تمھیں مطلق نہیں پہچانتا دل

نشان کوے دلبر سن لے قاصد

پڑے ہیں اس گلی میں جا بجا دل

خدائی کا اگر کرنا ہے دعویٰ

بتوں کو چاہیئے حاجت روا دل

 (9)

کفر ہم ایمان ہم تسبیح ہم زنار ہم

پردۂ اسرار رمز و پردۂ اسرار ہم

آج نوک خار غربت آبلوں کے منھ میں ہے

وہ بھی دن ہوں گے کہ چوسیں گے زبان یار ہم

اس کے ہوتے سوئے طفل برہمن کیوں دیکھتے

کیا رگ جاں سے ملا تے رشتۂ زنار ہم

کیا عجب دم میں فنا ہو صورت قصر حباب

چرخ کو بھی دیکھتے ہیں بے درو دیوار ہم

شعر4۔ حباب کو قصر کہنا اور آسمان کو بھی حباب ٹھہرانا خیال بند شاعر ہی سے ممکن تھا۔ محل کو قصر اس لئے کہتے ہیں کہ اس میں داخلہ ممنوع یا مشکل ہوتا ہے۔ بلبلے میں داخلہ غیر ممکن ہے۔

 (10)

قطرہ تو سمندر میں ہے میں کس میں نہاں ہوں

کھلتا ہی نہیں بھید کہ میں کیا ہوں کہاں ہوں

عالم ہے اگر نام تری جلوہ گری کا

کیا عیب جو میں شیفتۂ طرز جہاں ہوں

در اصل نہیں مجھ میں کوئی اور نمائش

ہاں ذرہ صفت مہر درخشاں سے عیاں ہوں

میر کی غزل آپ کے ذہن میں ہو تو آپ دیکھ سکتے ہیں کہ میر کے یہاں بھی خیال بندی کی جھلک مل جاتی ہے، لیکن میر کے یہاں معنی زیادہ ہیں، اور زور بھی بہت وافر ہے ؎

 (11)

میں کون ہوں اے ہم نفساں سوختہ جاں ہوں

اک آگ مرے دل میں ہے جو شعلہ فشاں ہوں

 (12)

ہیں نہیں سادے ہمیں تو ان کے گھر جاتے ہیں کیوں

اور اگر جاتے ہیں تو دل دے کے پچھتاتے ہیں کیوں

بال و پر بیضے میں کب ممکن ہیں طائر کے لئے

زیر گردوں ہم پئے شہرت مرے جاتے ہیں کیوں

جب کہ یاران کہن ہیں باعث آرام روح

پھر تپ کہنہ سے اکثر لوگ مر جاتے ہیں کیوں

شعر 2۔ زیر فلک تنگی کا مضمون فارسی اور اردو کے خیال بند شعرا نے باندھا ہے۔ لیکن زمین آسمان کو ملا کر ایک بیضہ کہنا، اور پھر اس مضمون کو اس طرف لے جانا کہ طائر جب تک بیضے میں ہوتا ہے اس کے بال و پر نہیں ہوتے، نہایت لطیف بات ہے۔ پھر شہرت کا ذکر کر کے بات اور بھی عمدہ کر دی کیونکہ شہرت پر لگا کر اڑتی ہے، یہ مشہور روز مرہ ہے۔

 (13)

ہے جو دانا عاشق زلف پری پیکر نہ ہو

دیدہ و دانستہ اے دل طعمۂ اژدر نہ ہو

بار ہیں عکس رگ سنبل کی مجھ پر بیڑیاں

زلف کے سودے میں اس درجہ کوئی لاغر نہ ہو

ابروئے قاتل کا نقشہ کھینچنا ممکن نہیں

مو قلم میں صرف جب تار دم خنجر نہ ہو

مطلع۔ دانا اور طعمہ کا ضلع خوب ہے۔

شعر 3۔ دم خنجر =خنجر کی دھار۔ اور جب دھار ہے تو تار بھی ہو گا (جیسے پانی کی دھار، اور خنجر میں آب= چمک، تیزی بھی ہوتی ہے۔ ) خیال بندی ہو تو ایسی ہو۔

 (14)

شرح لکھی ہے جو خط نے صفحۂ رخسار پر

مصرع برجستۂ کاکل مگر پیچیدہ ہے

اشک بے تاثیر سے کھلتا نہیں مضمون عشق

صفحۂ چشم بو الہوس کاغذ نم دیدہ ہے

تو اگر ہے سرو موزوں میں ہوں شمشاد رواں

تیرے مصرعے پر میرا مصرع بہت چسپیدہ ہے

یہ غزل بھی آسی سکندر پوری کی ایک بے حد مشہور زمین میں ہے۔ دو شعر آپ بھی ملاحظہ کریں ؎

وصل ہے پر دل میں اب تک ذوق غم پیچیدہ ہے

بلبلہ ہے عین دریا میں مگر نم دیدہ ہے

بے حجابی وہ کہ ہر شے میں ہے جلوہ آشکار

گھونگھٹ اس پر یہ کہ صورت آج تک نادیدہ ہے

استاد کی غزل خیال بندی میں تصوف کا طرز نبھانے کے لحاظ سے ایک معجزے کا حکم رکھتی ہے، اور پھر سب شعر بھر پور مع ثبوت ہیں۔ شمشاد وہاں تک کہاں پہنچتے، لیکن پھر بھی دوسرا شعر بہت خوب کہا۔ مقطع میں یہ حسن ہے کہ سرو کی طرح شمشاد کو بھی قد معشوق سے تشبیہ دیتے ہیں اور سرو رواں کی طرح شمشاد رواں بھی مستعمل ہے اور سرو اور شمشاد کو معشوق کے قد سے مناسبت ہونے کی وجہ سے انھیں بھی موزوں کہتے ہیں، کیوں کہ موزوں ہونا قد کی صفت ہے۔ علاوہ بریں، روانی شعر کی ایک بہت بڑی صفت بھی ہے۔

 (15)

اے گل نو خیز تجھ سے اوس سب پر پڑ گئی

نو عروسان گلستاں پر بہار آنے کو تھی

شیخ جی اب کیا پئیں ہو گئی جب مہنگی شراب

پیتے تھے وہ خم کے خم جب تین چار آنے کو تھی

کچھ وہ سمجھے دل میں کچھ ہم بات یوں ہی رہ گئی

ورنہ کیا کیا گفتگو روز شمار آنے کو تھی

شعر 2۔ قافیہ اور مضمون، دونوں کی شوخی کمال کی ہیں۔

 (16)

تصور کھینچتا ہے جو ہمارے دل کے صفحے پر

نہ وہ تصویر عکسی ہے نہ وہ تصویر دستی ہے

نہیں وہ دیکھ سکتے مفلسوں کو اپنی حالت پر

خداوندان نعمت کی یہ کیا کم سرپرستی ہے

تصویر عکسی=فوٹوگراف، تصویر دستی= جو تصویر مصور نے بنائی ہو۔

شعر2۔ “اپنی حالت” سے مراد “اپنی جیسی تونگری کی حالت”۔ خوب بات نکالی۔

 (17)

مجھے جیسے عشق کمر ہو گیا ہے

مرا جسم تار نظر ہو گیا ہے

جو موہوم وہ ہے تو معدوم یہ بھی

تن لاغر ان کی کمر ہو گیا ہے

مرے طفل اشک آج کیوں مضمحل ہیں

کسی کی نظر کا اثر ہو گیا ہے

تن زار پر رحم اے سیل گریہ

پرانا یہ مٹی کا گھر ہو گیا ہے

شعر 3۔ اشک یا آنسو کو طفل سے تشبیہ دیتے ہیں کیونکہ مچلنا دونوں کی صفت ہے۔ یہاں یہ لطف ہے کہ طفل اشک بھی آنکھ سے نکلتے ہیں اور نظر بھی آنکھ ہی سے لگتی ہے۔ ممکن ہے اپنی ہی نظر ہو۔

 (18)

کبھی ہم شوخی طبع جواں تھے

کبھی ہم حرص پیر ناتواں تھے

کبھی ہم تھے مسیحاے زمانہ

کبھی ہم کشتۂ لعل بتاں تھے

کبھی تھے بادۂ ہستی کی وحدت

کبھی درد خمار این و آں تھے

کبھی تھے آفتاب عالم آرا

کبھی ہم ذرۂ ریگ رواں تھے

کبھی تھے رونق بازار ایجاد

کبھی ہم گنج اسرار نہاں تھے

کبھی تھے دیر میں فریاد ناقوس

کبھی مسجد میں ہم بانگ اذاں تھے

ہماری بھی کبھی بھاتی تھیں باتیں

کبھی مشہور ہم بھی خوش بیاں تھے

کمال کی غزل کہی ہے۔ میں نے اختصار کی غرض سے کئی شعر چھوڑ دیے ہیں۔ انسانی صورت حال کی دو رنگی اور اس کے تلون اور انسان کے باطن میں تضادات کا جوش، یہ سب بے حد قوت اور ساتھ ہی ساتھ محزونی سے بیان ہوئے ہیں۔ اصلی شاعری اور جعلی شاعری کا فرق دیکھنا ہو تو جوش صاحب کی نظم “شاعر کا دل”ملاحظہ کیجئے۔ میں پوری نظم نقل کرتا ہوں۔ پہلا ہی مصرع ایسا ہے گویا مرغا بانگ دے رہا ہوں۔ اور آخری دو شعر ایسے ہیں گویا کوئی پولیس والا کسی لفنگے کو ڈانٹ رہا ہو۔ شمشاد کے ہر شعر میں بات مکمل ہے اور امکانات انسانی کی حامل ہے۔ جوش صاحب کے یہاں صرف بے لطف مبالغہ ہے اور اتنی مختصر نظم میں بھی آخری دو شعر فضول ہیں۔

شاعر کا دل

جوش ملیح آبادی

کبھی دل فخر سے دیتا ہے آواز

کہ اک تنکے سے ہلکا آسماں ہے

کبھی فریاد کرتا ہے کہ مجھ پر

نفس کا ثقل بھی کوہ گراں ہے

کبھی ہر ذرۂ خاکی کا محکوم

کبھی شمس و قمر پر حکمراں ہے

کہیں ہے کامراں ہو کر بھی ناکام

کبھی ناکام ہو کر کامراں ہے

کبھی لطف خداوندی سے مغموم

کبھی جور بتاں سے شادماں ہے

کبھی مژگاں کی جنبش سے کہن سال

کبھی صدیوں کی کاوش سے جواں ہے

سن اے غافل کہ جس دل کے ہیں یہ طور

وہ دل ہم شاعروں کا آشیاں ہے

دماغوں پر کھلیں ہم کیا کہ ہم کو

وہ سمجھے گا جو دل کا راز داں ہے

رباعیات

شمشاد لکھنوی

شمشاد لکھنوی کی اکثر رباعیاں خیال بندی کے عالم سے ہیں، لیکن ان کا کمال ان رباعیوں میں خوب کھلا ہے جہاں انھوں نے معشوق کے عیب کو حسن بنا کر پیش کیا ہے۔

درحسن تعلیل تنگی چشم

اب ذکر تمھارا ہے وظیفہ اپنا

الفت میں ہے کچھ اور طریقہ اپنا

آنکھیں در اصل ہیں چھوٹی چھوٹی

یا شرم سے روکتے ہو غمزہ اپنا

دیگر درحسن تعلیل تنگی چشم

ہے قد سہی کہ نخل گلزار جناں

میوے جنت کے ہیں کہ نار پستاں

تنگ آنکھیں یا نیم شگفتہ نرگس

کلیاں بیلے کی ہیں کہ سلک دنداں

در حسن تعلیل داغ ہائے چیچک

ہر عضو بدن ہے عاشقوں کے دلخواہ

کیا حسن ہے کیا رنگ ہے ماشاء اللہ

چیچک کے نہیں داغ رخ روشن پر

اکھڑے ہیں نزاکت کے سبب پاے نگاہ

دیگر در حسن تعلیل تنگی چشم

اس نے کب مجھ سے گرم جوشی کی ہے

میں نے شمشاد سر فروشی کی ہے

دراصل نہیں یہ اس کی آنکھیں چھوٹی

عاشق سے شروع چشم پوشی کی ہے

دیگر در حسن تعلیل داغ ہائے چیچک

صورت کوئی آ کے اس پری کی دیکھے

رنگت گوری تو گال پھولے پھولے

کب آئینۂ رخ میں ہیں داغ چیچک

ہیں عکس ہجوم مردمک کے دھبے

معشوق کے عیب کو خوبی بنا کر پیش کرنا، خیال بند شعرا کے سوا کس کو ایسی بات سوجھ سکتی ہے؟ اس ضمن میں پہل شاید کمال اسمٰعیل نے کی (شاید ایسی ہی باتوں کی وجہ سے اسے “خلاق المعانی”=مضامین کو خلق کرنے والا) کہا جاتا ہے۔ کانے معشوق پر اس کی رباعی ملاحظہ ہو ؎

داری ز پئے چشم بد اے در خوش آب

یک نرگس نا شگفتہ در زیر نقاب

ویں از ہمہ طرفہ تر کہ از بادۂ حسن

یک چشم تو مست است و دگر چشم بخواب

نرگس نیم شگفتہ کا مضمون شمشاد نے شاید یہیں سے لیا تھا۔ لیکن شمشاد لکھنوی نے اور کئی مضامین نکالے ہیں، جیسا کہ مندرجہ بالا رباعیوں سے ظاہر ہے۔ چیچک رو معشوق کا مضمون ہمارے یہاں شاید میر نے شروع کیا (اور یہ پھر اس بات کی دلیل ہے کہ میر کو خیال بندی کا بھی ذوق تھا)۔ میر کا شعر نہایت شگفتہ اور نادر خیال پر مبنی ہے ؎

داغ چیچک نہ اس افراط سے تھے مکھڑے پر

کن نے گاڑی ہیں نگاہیں ترے رخسار کے بیچ

شمشاد کے مصرعے ع اکھڑے ہیں نزاکت کے سبب پائے نگاہ پر میر کا پرتو معلوم ہوتا ہے۔ اب جرأت کا شعر دیکھیں ؎

چیچک سے نہایا تو ہے اس گل کا بدن یوں

لگ جائے ہے جوں مخمل خوش رنگ میں کیڑا

چیچک سے نہانا=چیچک کے داغوں کا تمام جسم پر ہو جانا۔

یہ بات خیال میں رکھئے کہ آج کل ہم لوگ بھلے ہی جرأت کو چوما چاٹا کا شاعر سمجھتے ہوں، لیکن ان کے معاصرین انھیں معنی آفریں کہتے تھے (معنی آفرینی سے مراد مضمون آفرینی بھی تھی)۔ اور میرا خیال ہے ناسخ نے ان دونوں سے بڑھ کر خیال بند شعر کہا ہے ؎

آبلے چیچک کے نکلے جب عذار یار پر

بلبلوں کو برگ گل پر شبۂ شبنم ہوا

٭٭٭

 

طوطا رام عاصی لکھنوی کی گالیاں

عا صی تخلص کے شاعر کئی گذرے ہیں، لیکن خدا جانے کیا بات اس تخلص میں ہے کہ یہ کسی کو بھی شہرت نہ دلا سکا۔ سب سے زیادہ مشہور عاصی تخلص کے شاعر، گھنشیام لال نامی دلی کے بڑے شاعر تھے۔ وہ شاہ نصیر کے شاگرد اور اپنے استاد کے عاشق زار تھے۔ لیکن انھیں بھی جو نمود نصیب ہوئی وہ محمد حسین آزاد کی “آب حیات” سے ملی، کیونکہ جن اکا دکا ہندو شعرا کو آزاد کے آب حیات سے ایک دو گھونٹ مل سکے، ان میں گھنشیا م لال عاصی بھی تھے، اگر چہ آزاد نے ان کا ذکر بس رواروی میں کیا ہے، اور کچھ اچھے انداز میں بھی نہیں۔ گھنشیام لال عاصی کا دیوان ایک ہی بار چھپا، اور وہ بھی ان کے اعقاب کی سعادت مندی اور ادب دوستی کی بدولت ممکن ہو سکا تھا۔ یہ دیوان غالباً1939 میں من موہن لال ماتھر کی مساعی سے کائستھ اردو سبھا، دہلی نے شائع کیا تھا اور اس کے دوبارہ چھپنے کی نوبت شاید نہیں آئی۔ گھنشیام لال عاصی کا مزید تذکرہ انشا ء اللہ کسی آئندہ صحبت کے لیے اٹھا رکھتا ہوں۔ وہ خیال بندی کے انداز (یعنی اپنے استاد شاہ نصیر اور استاد بھائی شیخ ابراہیم ذوق کے انداز) میں بہت عمدہ کہتے تھے۔

جن عاصی کے ایک خاص رنگ کے کلام کا ذکر اور انتخاب آج منظور ہے، ان کا نا م ایک کے سوا کسی تذکرے میں مجھے نہ ملا۔ ممکن ہے اور تذکروں بھی ہو، لیکن جو تذکرے میں نے دیکھے، اور میں نے دو چار نہیں بلکہ کئی تذکرے دیکھے، ان میں موہن لعل انیس کے “انیس الاحبا” میں طوطا رام عاصی کا ذ کر ضرور ہے، اگر چہ بہت مختصر۔ اس وقت “انیس الاحبا”سامنے نہیں، لیکن انصار اللہ نظر نے اپنی “جامع التذکرہ”کی جلد اول (ص335) میں موہن لعل انیس کے حوالے سے حسب ذیل عبارت لکھی ہے:

منشی طوطا رام عاصی، ابن راجا بشن سنگھ، ولد راجا بھکاری داس، قوم سکسینہ کائستھ۔ عاصی کے والد شجاع الدولہ کے منشی تھے۔ صاحب استعداد ہے[کذا، ہیں ]۔ اپنے دادا کے انتقال کے بعد اپنی موروثی خدمت پر مامور ہوئے۔ شروع میں رائے سرب سکھ دیوانہ سے مشورۂ سخن لیتے ہیں [کذا، تھے]۔

“انیس الاحبا”چونکہ فارسی شاعروں کا تذکرہ ہے، اس لیے اس سے یہ تو معلوم ہوتا ہے کہ طوطا رام عاصی اپنے زمانے کے قابل ذکر فارسی گو، بڑے گھرانے کے، خود بھی بڑی حیثیت کے حامل اور ذی علم تھے۔ رائے سرب سکھ دیوانہ چونکہ بیشتر فارسی گو تھے، لہٰذا اغلب ہے کہ طوطا رام عاصی اپنا فارسی کلام رائے سرب سکھ دیوانہ کو دکھاتے ہوں۔ اردو میں بھی رائے سرب سکھ دیوانہ کا رتبہ بہت بلند تھا (جعفر علی حسرت لکھنوی ان کے شاگرد تھے) لہٰذا ممکن ہے عاصی نے اپنا اردو کلام بھی رائے سرب سکھ دیوانہ کو دکھایا ہو۔ یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ تذکرۂ “انیس الاحبا” کی تکمیل (1783) کے وقت طوطا رام عاصی بقید حیات تھے۔

طوطا رام عاصی کا جو کلام میری نظر سے گذرا ہے اس کا نام “دیوان غزل ہائے سمدھن و جواب سمدھن”ہے اور شاعر کے بارے میں لکھا ہے کہ (فارسی سے ترجمہ) رائے طوطا رام منشی، متخلص بہ عاصی، ولد راجہ بشن سنگھ، بن راجہ بھکاری داس، کہ یہ دونوں نوا ب سعادت خان [کذا، سعادت علی خان]بہادر کے زمانے سے خدمت میر منشی گری اور خطاب راجگی سے سرفراز اور ممتاز رہے ہیں۔ یہ غزلیں بچوں کی خوشنودی کے لیے ہیں، کہ بچے انھیں شادی کی تقاریب میں “برادری کی محفل” میں پڑھتے ہیں۔

موہن لعل انیس نے لکھا ہے کہ عاصی کے باپ شجاع الدولہ کے منشی تھے، لیکن زیر نظر دیوان میں ان کی سرکاری ملازمت سعادت علی خان کے وقت سے بتائی جا رہی ہے جو شجاع الدولہ کے بہت بعد تھے۔ چونکہ موہن لعل انیس اور عاصی معاصر تھے، اس لیے انیس کا بیان زیادہ قابل قبول ہے۔ دیوان کی عبارت کسی اور کی لکھی ہوئی ہے اور اغلب یہ ہے کہ عاصی کے انتقال کے بعد ارباب مطبع، یا دیوان کے مرتب کی تصنیف کردہ ہے۔

یہ مختصر “دیوان غزل ہائے سمدھن و جواب سمدھن”بڑی تقطیع کے نو (9) صفحات پر مشتمل ہے اور علی بخش خان کے مطبع علوی واقع لکھنؤ میں ذی قعدہ کے “آخری عشرے”، سنہ 1271ہجری میں طبع ہوا تھا۔ لہٰذا اس کی تاریخ طباعت ستمبر1855کے اواخر کی متعین کی جا سکتی ہے۔ اس دیوان کے ساتھ شروع کے انچاس صفحات پر میر جعفر زٹلی کا دیوان “زٹل نامہ” کے نام سے طبع ہوا تھا، لیکن ہمیں اس سے کوئی غرض نہیں۔ عاصی لکھنوی کے “دیوان غزلیات سمدھن و جواب سمدھن” کا جو نسخہ میرے سامنے ہے وہ میرے دوست اور مشہور کتاب شناس اسلم محمود کے کتب خانے میں محفوظ اصل نسخے کی فوٹو نقل ہے۔ میں یہ مختصر تحریر اور انتخاب ان کے نام معنون کرتا ہوں۔

فارسی گوئی سے طوطا رام عاصی کے شغف کو دیکھتے ہوئے یہ کچھ تعجب کی بات نہیں کہ اس چھوٹے سے دیوان میں فارسی غزلیں بھی ہیں۔ سمدھن کو گالیاں فارسی میں دی جائیں، یہ ضرور تعجب کی بات ہے۔ شمالی ہندوستان کے ہندو مسلمانوں میں شادی کے موقعے پر سمدھن (اور اسی اعتبار سے سمدھیانے والوں، بشمول نوشہ) کے “استقبال” میں گالی گانے کی رسم بہت عام ہے۔ ممکن ہے یہ جنوب میں بھی ہو، لیکن میں نے بھوپال کے علاقے میں ایک دلچسپ رسم کے بارے میں سنا تھا کہ شادی کے موقعے پر کوئی مناسب وقت دیکھ کر عورتیں جمع ہوتی ہیں اور مردوں کے لہجے میں (یعنی اپنے لیے صیغۂ مذکراستعمال کرتے ہوئے) سمدھیانے والوں کے حوالے سے آپس میں فحش گفتگو کرتی ہیں، اور ممکن ہے خود سمدھیانے والیاں بھی شریک محفل ہوتی ہوں۔ جہاں تک مجھے معلوم ہے، یہ رسم ان علاقوں کے ہندو مسلمانوں میں عام ہے۔

دوسری بات یہ کہ زیر نظر دیوان میں لکھا ہوا ہے کہ “طفلاں ” یہ غزل گاتے ہیں۔ پھر یہ بھی درج ہے کہ یہ کلام “خوشنودی طفلاں ” کے لئے کبھی کبھی “بنام طفلاں ” کہا گیا تھا۔ میرے لڑکپن میں فحش گالیاں دیہاتی عورتیں دیہاتی شادیوں میں گاتی تھیں۔ (ان گانوں کی حیثیت ایک صنف کی تھی اور اس صنف کو بھی “گالی” کہتے تھے اور اس کی خاص دھنیں ہوتی تھیں۔ ) شہر کی شادیوں میں مجھے یاد نہیں کہ فحش گالیوں یا فحش ہنسی مذاق کی باتوں کادستور رہا ہو۔ اگر تھا تویہ کارروائی ہم “طفلاں ” سے خفیہ رکھی جاتی تھی۔ ظرافت پر مبنی گانے بھی عورتیں گاتی تھیں، اور شاید کبھی لڑکیاں بھی شریک کر لی جاتی ہوں۔ میں یہ بات وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ یہ گانے جیسے بھی رہے ہوں ان میں شوخ کلام کچھ بہت شوخ نہ ہوتا تھا۔ اس صورت میں یہ بات دلچسپ اور استعجاب انگیز ہے کہ زیر نظر دیوان میں سارا کلام، خواہ اردو اور خواہ فارسی، بہت شوخ ہے۔ “طفلاں ” سے مراد لڑکے ہی ہوں گے جو اس کلام کو گاتے ہوں گے۔ (دیوان زیر نظر میں لفظ”خوانند” ہے، “سرایند” نہیں، لہٰذا ان غزلوں کو تحت لفظ یا ترنم سے پڑھا جاتا ہو گا۔ ) چونکہ “برادری” کا بھی ذکر ہے، اس لیے ممکن ہے کہ یہ پڑھنا (یا گانا ) گھر کی خاص محفلوں میں ہوتا ہو گا اور کسی باہری، یا کم مرتبہ شخص کو اس میں شریک نہ کیا جاتا ہو گا۔ گانے والے، یا سنانے والے، لڑکے رہے ہوں گے اس بات کا ثبوت یہ ہے کہ اشعار میں لڑکوں کے نام بطور تخلص یا بطور متکلم آئے ہیں، مثلاً ؎

دل سے رہتی ہے چیت رام کے ساتھ

خواب میں آتی ہے ہر دم پاس گوبند رام کے

گھر کو ظاہر میں گو گئی سمدھن

دولت بیدار شاید پا گئی نوشہ کی ماں

یہ اردو زبان کی شان ہے کہ اس میں ایسا کلام بھی لکھا گیا اور اسے محفوظ رکھا گیا۔ ہم میں سے کچھ لوگ اب بھی اس خیال کے ہیں کہ اردو میں “عوامی ادب” نہیں ہے اور اردو صرف شہریوں کی زبان رہی ہے۔ “عوامی ادب”کی اصطلاح بے معنی ہے، لیکن یہ بات غور کے لائق ہے کہ جس صنف کو صرف “عوام” سے متعلق سمجھا گیا ہے اس میں بہت کچھ کلام “خواص” اور وہ بھی شہر کے “خواص”کا لکھا ہوا ہے۔ ایسی صورت میں “عوامی” اور “خواصی”[اشرافیہ] کی تفریق بے معنی ہو جاتی ہے۔ ہماری زبان کی بڑائی یہ ہے کہ گالی جیسے “عامیانہ” فعل کو بھی ہم لوگوں نے فن بنا دیا۔ طوطا رام عاصی کے زیر نظر دیوان میں ظرافت، خوش طبعی، طباعی، طنز، مضمون آفرینی، سب کچھ موجود ہے۔ علاوہ بریں، ان میں ایک پہلو یہ بھی ہے کہ عورتوں کا ذکر ان اشعار میں اس نہج سے ہوتا تھا کہ وہ بڑی خوبصورت، کھائی کھیلی ہوئی، ہر چیز پر تیار، معشوق صفت ہیں، تو اس سے ان کی تعریف بھی مقصود ہوتی تھی۔ یعنی سمدھن اتنی عمر کی ہونے پر بھی معشوقی کا رنگ رکھتی ہے، یا یہ کہ دولہے کی بہن کا حسن لائق تحسین ہے، خواہ اس کے چلن کیسے ہی ہوں۔ ان اشعار میں کنایہ یہ ہے کہ یہ سب عورتیں مطلوبی اور معشوقی کے درجے پر فائز ہیں۔ حقیقت میں خواہ ایسا نہ ہو، لیکن توقع کی جاتی تھی کہ عورتیں اپنی مطلوبی اور معشوقی کے تذکرے سن کر خوش ہوں گی۔

انتخاب کلام

 (1)

آج جو پہنے تھی زرتار کی ساری سمدھن

دیکھتے ہی لگی دل کو مرے پیاری سمدھن

سب براتی ہیں ملاقات کے طالب راضی

ایک شب میں کرے کس کس کو بچاری سمدھن

شیشہ لے بزم میں آسب کو دے بھر بھر پیالی

چشمۂ فیض کرے خلق میں جاری سمدھن

ملاقات=ہم بستری، تیسرے شعر میں “بزم میں آسب کو دے”کا اشارہ دلچسپ ہے۔ عورت کے اندام نہانی کی چشمہ یا نہر سے تشبیہ کئی ادبی تہذیبوں میں ملتی ہے۔

 (2)

ہو دیکھی جس نے وہ نغزک کی قاش سمدھن کی

رہے وہ خواب میں کب بے تلاش سمدھن کی

خدا کے واسطے کر دو مری خبر جلدی

کوئی دو گانہ جو ہو یار باش سمدھن کی

نہیں مساس کیا گر نشے میں یاروں نے

تو کیوں یہ چولی ہوئی پاش پاش سمدھن کی

ہے کھل کے ملنے لگی کس طرح حریفوں سے

مبادا ہووے چھپی بات فاش سمدھن کی

نغزک=آم کی ایک قسم، نغزک کی قاش=کنایہ از اندام نہانی، دوسرے شعر کی متکلم شاید کوئی عورت ہے، کیونکہ مضمون میں ہم جنسی کا اشارہ ہے۔

 (3)

ہنستی پھرتی سر بازار تھی ماں نوشہ کی

بادۂ حسن سے سرشار تھی ماں نوشہ کی

صاحب حسن ہوئی جب سے جنا نوشہ کو

چھٹپنے میں تو بہت خوار تھی ماں نوشہ کی

جس نے دیکھا ہو اسے طفلی میں وہ ہی جانے

کیا ہی عیار طرح دار تھی ماں نوشہ کی

تھی نہ پہچانتی سمدھی سے جدا یاروں کو

مستی میں کام کی ہشیار تھی ماں نوشہ کی

دوسرے شعر میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ بے اولاد کی عورت خواہ کتنی ہی حسین ہو، اس کی قدر اس عورت سے کم ہوتی تھی جس کے اولاد، اور خاص کر بیٹا ہو، چوتھے شعر میں مستی=شہوت، “کام” میں ایہام ہے۔

 (4)

سب دلبروں سے پیاری ہے نوشے کی والدہ

کیا چت لگن ہماری ہے نوشے کی والدہ

خوش رنگ سینہ سنگ دہن تنگ شوخ و شنگ

جوں غنچۂ بہاری ہے نوشے کی والدہ

اب تک ہے گلی ڈنڈے جوانوں میں کھیلتی

ماں باپ کی دلاری ہے نوشے کی والدہ

خورشید سی شفق میں چمکتی ہے وقت شام

پہنے جو سوہی ساری ہے نوشے کی والدہ

چت لگن=دل کو اچھی لگنے والی، تیسرے شعر میں جوانوں کے ساتھ گلی ڈنڈے کھیلنے کے مضمون میں فحش اشارہ دلچسپ ہے، سوہی=خوبصورت، عمدہ۔

 (5)

کل دیکھی جو کوٹھے پہ کھڑی مادر نوشہ

زیور سے سراپا تھی جڑی مادر نوشہ

پھسلا جو ذرا پاؤں مری گود میں ناگاہ

مانند پری ٹوٹ پڑی مادر نوشہ

کیا لطف ہوا روٹھ کے آسوئی مرے پاس

مے پی کے جو سمدھی سے لڑی مادر نوشہ

خدمت سے دوبارہ مری تسکیں نہیں اس کو

ہے تیسری صحبت کو اڑی مادر نوشہ

مطلعے میں “کوٹھے پہ کھڑی” کا کنایہ ظاہر ہے، آخری شعر میں “خدمت”میں جو اشارہ تھا وہ لفظ “صحبت” کے ایہام سے مزید پر لطف ہو گیا۔

 (6)

پری ہے حور ہے نوشے کی چچی

طلسم نور ہے نوشے کی چچی

خدا کے واسطے یارو نہ چھیڑو

نشے میں چور ہے نوشے کی چچی

نہ دیکھیں خواب میں ہم جانب حور

ہمیں منظور ہے نوشے کی چچی

بحمد اللہ کہ خدمت سے ہماری

بہت مسرور ہے نوشے کی چچی

چچی کا تلفظ بر وزن فَعَل کے بجائے عام لہجے کے لحاظ سے بر وزن فع لن رکھا ہے جس سے اشعار میں بے تکلفی بڑھ گئی ہے،  تیرے شعر میں “دیکھیں ” اور “منظور” کی رعایت خوب ہے۔

 (7)

شب جو مستی میں اکیلی آ گئی نوشے کی ماں

گرچہ سیانی تھی پہ دھوکا کھا گئی نوشے کی ماں

ولولے سے شوق کے لپٹی جو عاشق ہو کے تنگ

سیوتی کے پھول سی مرجھا گئی نوشے کی ماں

عشق پیچاں کی طرح لپٹی تو کھول آغوش پھر

دھوپ کھا کر بیل سی مرجھا گئی نوشے کی ماں

پاس سے اٹھتے جو دیکھا گھیرا لونڈوں نے اسے

بوسہ دے ہر ایک کو پھسلا گئی نوشے کی ماں

آخری شعر میں کنایہ یہ ہے کہ “لونڈوں گھیری” اس عمر رسیدہ عورت کو کہتے ہیں جو نوجوانوں میں اٹھنے بیٹھنے کی شائق ہو۔ ردیف میں گالی کا پہلو نظر انداز نہ ہونا چاہیے۔

کئی غزلیں نوشے کی پھوپھی، خالہ، بہن وغیرہ کے بارے میں بھی ہیں، لیکن ان میں کوئی خاص بات نہیں۔ فارسی غزلیں بھی ہیں اور انھیں مضامین پر مبنی ہیں۔ ایک فارسی غزل البتہ نوشہ کی “جدہ” یعنی دادی پر ہے۔ مضامین سب وہی ہیں، لیکن ایک شعر بہت برجستہ ہے۔ مضمون بھی خوب ہے کہ ابھی درخواست وصل کی نہیں ہو رہی ہے، صرف “اذن عام” کی درخواست ہے، یعنی کچھ خاص لوگوں کو تو اذن ہے ہی، طلبگاروں کا تقاضا ہے کہ اذن خاص کو اذن عام سے بدلا جائے ؎

خوشا وقتے کہ بہر اذ ن عام خلوت یک شب

نہادے ہر جوانے سر بہ پاے جدۂ نوشہ

آخری تین صفحات پر کچھ فارسی غزلیں، بہاریہ اور تہنیت کے رنگ میں ہیں۔ یہ عاصی کے کلام سے منتخب کی گئی ہیں اور انتخاب غالباً اس کتاب کے مرتب نے کیا ہے۔ عاصی کے فارسی کلام میں شستگی ہے، لیکن مضمون آفرینی بہت نہیں۔

٭٭٭

 

منشی امیر اللہ تسلیم لکھنوی

صفدر مرزا پوری اپنی کتاب “مشاطۂ سخن” میں لکھتے ہیں کہ منشی امیر اللہ تسلیم کے مشہور شاگرد عرش گیاوی (مصنف “حیات مومن” اور “حیات تسلیم”) کا شعر تھا ؎

ہوں سرخ رو جہان میں وہ دن خدا کرے

میرا ازل سے دانت ہے انگیا کے پان پر

انگیا کے دو کپڑے جن میں چھاتیاں کسی جاتی ہیں، کٹوری کہلاتے ہیں۔ ہر کٹوری خود دو حصوں میں منقسم ہوتی ہے، بڑے ٹکڑے کو بنگلہ یا دوال اور چھوٹے کو پان کہتے ہیں۔ تسلیم نے شعر کاٹ کر نیچے لکھا:

کیا چھاتیاں کاٹ کھاؤ گے؟

استاد کامل اسے کہتے ہیں۔ عرش کا ایک اور شعر تھا ؎

غضب کا حسن ہے خال لب جاں بخش دلبر میں

کوئی کشتی رواں ہے موج بحر آتش تر میں

اس پر استاد نے لکھا:”خال مشبہ ہے، کشتی مشبہ بہ۔ ان دونوں میں وجہ تشبیہ کیا ہے؟صرف الفاظ جمع کر دینے سے کیا فائدہ؟ شعر نکال دو۔ ” کاش کہ جوش صاحب وغیرہ نے یہ سبق سیکھا ہوتا۔

تسلیم لکھنوی (1819تا1911) بادشاہان اودھ کے یہاں نوکر رہے، اودھ پر آفت ٹوٹی تو رامپور چلے گئے۔ وہاں کبھی آرام سے گذری، کبھی تنگی سے۔ فارسی کی استعداد بہت اچھی تھی۔ خوشنویس بھی تھے۔ شاعری میں سینکڑوں شاگرد بنائے جن میں حسرت موہانی کا نام سب جانتے ہیں۔ تسلیم بالکل آخر عمر میں آنکھ کے عملیے کے لیے لکھنؤ آئے لیکن بقول حسرت موہانی، “نشتر گہرا لگ گیا۔”اور چند ہی دن کے بعد اللہ کو پیارے ہوئے۔ رامپور کی ملازمت کے دوسرے دور میں تسلیم نے نواب حامد علی خان کا سفر نامہ مثنوی کی شکل میں لکھا۔ کوئی پچیس چھبیس ہزار شعر کی مثنوی دفتر سرکار میں جمع ہوئی، پھر داخل دفتر ہی رہ گئی، کسی نے اسے غائب کر دیا۔ تسلیم جو صلۂ شعر کی امید چھوڑ کر لکھنؤ چلے گئے تھے، جب دوبارہ رامپور آئے اور مثنوی کا حال انھیں معلوم ہوا تو انھوں نے کہا، “آج سے پیسے روز تیل کا صرف اور سہی۔۔۔۔” پھر معمول یہ کر لیا کہ روز بعد نماز مغرب قلم کاغذ لے کر بیٹھ جاتے اور عشا تک سفر نامہ نظم کرتے۔ جب یہ دفتر لاثانی تیار ہوا تو پہلے سے بہتر کہلایا۔ حامد علی خان نے قدردانی کا اظہار کیا اور تسلیم کو پہلے سے بھی زیادہ مشاہرے پر بحال کر دیا۔ یہ واقعہ بقول حسرت موہانی 1907 کا ہے۔ یعنی اس وقت تسلیم کی عمر بارہ کم سو برس کی تھی۔

حکیم مومن خان مومن دہلوی کے شاگرد نواب اصغر علی خان نسیم دہلوی، ان کے شاگرد منشی امیر اللہ تسلیم، ان کے شاگرد سید فضل الحسن حسرت موہانی۔ مومن اور حسرت بیحد مشہور ہیں، نسیم دہلوی کا نام صرف خواص جانتے ہیں۔ تسلیم کو خواص میں بھی چند ہی لوگ جانتے ہیں ع

اے کمال افسوس ہے تجھ پر کمال افسوس ہے

امیر اللہ تسلیم آخری شاعر تھے جنھیں قصیدہ، مثنوی، اور غزل پر یکساں اور غیر معمولی قدرت تھی۔ میں نے ہمیشہ کہا ہے کہ اگر جوش صاحب، فراقط صاحب وغیرہ نے امیر مینائی، جلال لکھنوی، تسلیم لکھنوی کے قصائد پڑھے ہوتے تو انھیں معلوم ہوتا کہ مربوط، پر زور، اور مغز سے مملو شعر کیسے کہتے ہیں۔

تسلیم کا شعر ہے ؎

میں تو ہوں تسلیم شاگرد نسیم دہلوی

مجھ کو طرز شاعران لکھنؤ سے کیا غرض

لیکن حقیقت یہ ہے کہ نسیم خود اسی طرز کے شاعر تھے جسے “طرز لکھنؤ” کہہ کر بدنام کیا گیا، ورنہ غالب، ناسخ، ذوق، سب اسی رنگ کے شاعر تھے جسے خیال بندی کہتے ہیں۔ چنانچہ نسیم کا شعر ہے ؎

مضمون کے بھی شعر اگر ہوں تو خوب ہیں

کچھ ہو نہیں گئی غزل عاشقانہ فرض

اور ان کے شاگرد منشی امیر اللہ تسلیم بھی اکثر اسی رنگ میں شعر کہتے تھے۔ یہ ضرور ہے کہ بعد میں انھوں نے خیال بندی سے کچھ گریز بھی کیا۔ ممکن ہے تسلیم کا اشارہ اس طرف رہا ہو کہ ‘طرز ناسخ’ یا ‘طرز لکھنؤ’ کوئی لکھنؤوالوں کی ایجاد نہیں۔ شاہ نصیر نے اسے بکثرت برتا اور ان کے پہلے بقا اکبر آبادی بھی خیال بند شاعر تھے۔ میر سوز کے یہاں بھی بہت شعر خیال بندی کے ہیں۔ بہر حال، خیال بندی کا کمال دیکھنا ہو تو تسلیم کی یہ غزل ان کے دوسرے دیوان “نظم ارجمند” (1872) سے نقل کرتا ہوں ؎

چاندنی رہتی ہے شب بھر زیر پا بالائے سر

ہائے میں اور ایک چادر زیر پا بالائے سر

خار ہائے دشت غربت داغ سوداے جنوں

کچھ نہ کچھ رکھتا ہوں اکثر زیر پا بالائے سر

بھاگ کر جاؤں کہاں پست و بلند دہر سے

ہیں زمین و چرخ گھر گھر زیر پا بالائے سر

کون ہے بالین تربت آج سر گرم خرام

وجد میں ہے شور محشر زیر پا بالائے سر

بے تکلف کیابسر ہوتی ہے کنج گور میں

خاک بستر خاک چادر زیر پا بالائے سر

اوڑھ کر آب رواں کا گر ڈوپٹا تم چلو

موج زن ہو اک سمند زیر پا بالائے سر

کچھ اڑا کر شوخیوں سے وہ ستارے بزم میں

کہتے ہیں دیکھ لو اختر زیر پا بالائے سر

جادہ و موج ہوا بے تیرے دونوں دشت میں

کر رہے ہیں کار خنجر زیر پا بالائے سر

جز خراش خار یا خاک مذلت قیس کو

اور کیا دیتا مقدر زیر پا بالائے سر

جیتے جی سب شان تھی مر کر بجائے تخت و تاج

خاک رکھتا ہے سکندر زیر پا بالائے سر

سایہ ہوں کیا اوج میرا کیا مری افتادگی

ایک عالم ہے برابر زیر پا بالائے سر

مردے ہیں پامال مشتاق نظارہ ہیں مسیح

دیکھتا چل او ستم گر زیر پا بالائے سر

جسم و جاں دونوں زمین و آسماں کے ہیں مکیں

ایک میں رکھتا ہوں دو گھر زیر پا بالائے سر

ہو نہیں سکتا کبھی خاصان حق کو کچھ حجاب

ایک تھا پیش پیمبر زیر پا بالائے سر

دعوی تشنہ سے اے تسلیم لکھی یہ غزل

ورنہ مہمل ہے سراسرزیر پا بالائے سر

ذرا دیکھئے، ایک بھی شعر ایسا نہیں جس میں ردیف پوری طرح ثابت نہ ہو۔ ہر شعر میں کوئی تازہ بات ہے۔ گھر کا قافیہ دو بار لکھا اور دونوں بار الگ طرح سے، اور پوری طرح ثابت بھی کر دیا۔ ستم گر کے کڈھب قافیے کے ساتھ حضرت مسیح پیغمبر کو باندھ لانا کمال نہیں اور کیا ہے۔ سمندر بالائے سر بھی بہت خوب ہے۔ بظاہر یہ غزل کسی شاعر تشنہ کی چنوتی پر، یا ان کی دی ہوئی زمین میں کہی گئی تھی۔ تشنہ صاحب کے حالات معلوم کرنے کی ضرورت فی الحال نہیں ہے۔ یہ غزل بعض الفاظ کے تغیر اور بعض شعروں کی کمی کے ساتھ داستان “ہرمز نامہ” میں بھی ملتی ہے۔ داستان گو (شیخ تصدق حسین) نے بھی داستان گوئی کے قاعدے سے انحراف کر کے کہہ ہی دیا:

شاہ طلسم نے اس نازنین سے مخاطب ہو کر کہا، کیا خوب یہ غزل تم نے گائی ہے۔ اس کی زمین سخت ہے، ردیف مشکل ہے۔ زیر پا بالائے سر کا ثبوت مشکل ہے۔ تسلیم، جن کی یہ غزل ہے، انھوں نے بڑی فکر سے یہ غزل کہی ہو گی (ص947)۔

آج کل ہم لوگ، اور پاکستان میں خاص کر کے، نعت گوئی پر بہت مہربان ہیں۔ ڈھیر کی ڈھیر نعتیں ہر گھر سے بن کر نکل رہی ہیں، لیکن مضمون کی جدت، یعنی جناب رسالت مآب کی توصیف میں کوئی نئی بات، ہمائے مضامین کی طرح عنقا ہے۔ عسکری صاحب نے محسن کاکوروی کے قصیدۂ لامیہ کی بہت تعریف کی ہے، لیکن یہ بھی لکھا ہے کہ خیال بندی کے باعث محسن کاکوروی حقیقت محمدیہ تک نہ پہنچ سکے، خیالی باتیں کہتے رہے۔ انھوں نے حالی پر بھی اعتراض کیا ہے کہ وہ بھی حقیقت محمد یہ سے دور رہے اور انھوں نے پیغمبر کو سماج سدھار کے میدان کا آدمی بنا کر رکھ دیا۔ عسکری صاحب کی بات بڑی حد تک ٹھیک تھی، اگر چہ اختلاف کی گنجائشیں ہیں۔ لیکن عسکری صاحب یہ غور کر لیتے کہ خیال بندی کے بغیر وصف رسول کے لئے نئے مضمون ہاتھ نہ آتے۔ ایمان کی بات یہ ہے کہ ہم میں سے کوئی شاید ہی ایسا ہو جس کا عشق رسول پکا ہو اور جسے شعر گوئی بھی آتی ہو۔ ایسے کو خیال بندی کی ضرورت نہیں۔ ورنہ تسلیم کا یہ ایک نعتیہ شعر صرف خیال بندی کی بدولت آج کی ہزاروں نعتوں پر بھاری ہے ؎

ہو نہیں سکتا کبھی خاصان حق کو کچھ حجاب

ایک تھا پیش پیمبر زیر پا بالائے سر

زبان کی صفائی اور شعر کی روانی اس پر مستزاد۔ پوری ہی غزل روانی کا شاہکار ہے۔

تسلیم نے کئی دیوان لکھے۔ ایک تو 1857 کے ہنگامے میں ضائع ہوا، تین شائع ہوئے۔ دو میرے پاس ہیں، ان میں “نظم دل افروز”، نامی پریس لکھنؤسے اپریل 1903میں شائع ہوا۔ میرا نسخہ ناقص الاول و الآخر تھا۔ میں اپنے بھائی اور نامور مورخ نعیم الرحمٰن فاروقی کا ممنون ہوں کہ انھوں نے الٰہ آباد یونیورسٹی لائبریری سے یہ دیوان مجھے لا دیا۔ وہاں بھی صرف یہی ایک دیوان مل سکا۔ اس کا مختصر انتخاب حاضر کرتا ہوں۔ دوسرے دیوان “کلیات امیر اللہ تسلیم، معروف بہ اسم تاریخی نظم ارجمند” کی اشاعت نول کشور پریس لکھنؤ سے1289 مطابق1872 میں ہوئی۔ (کتاب میں شامل کئی تاریخیں ہیں جن سے1872ظاہر ہوتا ہے۔ ) اس کے ساتھ ہی تسلیم کی دو مثنویاں “نالۂ تسلیم” اور “شام غریباں ” بھی ہیں، الگ سر ورق کے ساتھ، لیکن یقین ہے تینوں یکجا شائع کی گئی ہوں۔ کئی لوگوں کی لکھی ہوئی تاریخیں شامل اشاعت ہیں، لیکن مرزا مچھو بیگ ستم ظریف نے کچھ حرفوں سے اور تسلیم کے ہم تخلص انوار حسین تسلیم نے کچھ الفاظ کے ذریعہ بطریق معما تاریخ نکالی ہے۔ مرزا مچھو بیگ کی تاریخ سے مختلف سنین، مثلاًسمبت، سکندری، فصلی، وغیرہ میں بھی تاریخ نکلتی ہے۔ انوار حسین تسلیم کی تاریخ سے ہجری اور عیسوی سنہ کئی طرز سے نکلتے ہیں۔ دونوں تاریخیں بشکل دائرہ ہیں۔ افسوس کہ میں انھیں مطلق نہ سمجھ سکا۔

انتخاب نظم دل افروز

 (1)

شوق نظارہ نے گھر غیر کو کرنے نہ دیا

آگیا اشک جو آنکھوں میں ٹھہرنے نہ دیا

ہم قدم سد رہ منزل مقصد نکلے

راستہ مجھ کو مری گرد سفر نے نہ دیا

رو سیہ سے نہ رکھ امید برو مندی کی

ایک بھی پھل کبھی گل ہائے سپر نے نہ دیا

کچھ تو اس دل کی لگی بجھتی جو پی جاتے اشک

بوند بھر پانی مجھے دیدۂ تر نے نہ دیا

بد گماں سمجھا کہ سمجھے گا نشانی میری

داغ دل بھی مجھے اس رشک قمر نے نہ دیا

٭

مطلع کتنے لطف سے کسی قدر پیچیدہ کہا ہے۔ ظاہر ہے کہ آنکھوں میں آنسو بھرے ہوں گے تو کچھ دکھائی نہ دے گا۔ اور معشوق کو آنکھوں میں بساتے بھی ہیں۔ اس کو یوں کہا کہ اشک مانع نظارہ ہوتے، اور وہ غیر بھی ہیں، اس لئے میں نے انھیں آنکھوں میں ٹھہرنے نہ دیا۔ تیسرے شعر مین نکتہ یہ ہے کہ سپر کالی ہوتی ہے، اور اس پر جو نقش  و نگار بنے ہوتے ہیں انھیں ڈھال کا پھول کہتے ہیں۔ پھول کے بعد پھل آتے ہیں، لیکن سپر کے پھولوں سے کوئی پھل نہیں ملتا۔

 (2)

ان کو پیارا ہے جبیں سے مری پتھر اپنا

کہتے ہیں پھوڑ لے سر اور کے در پر اپنا

سخت جاں وہ ہوں کہ رکتا ہے گلے پر چل کر

دم چراتا ہے مرے قتل سے خنجر اپنا

جوش وحشت میں یہ دھن وادی غربت کی بندھی

دے دیا خانہ خرابی کو یوں ہی گھر اپنا

٭

مطلعے میں کئی نکتے ہیں۔ (1) سر اس زور سے ٹکرائیں گے کہ سنگ در ہی ٹوٹ جائے گا۔ (2) سر پھوڑنے کی اجازت ہے، لیکن کہیں اور۔ یعنی عاشق تو ہمارے ہی رہو، پریشان کسی اور کو کرو۔ (3) معاملہ بندی بہت خوب ہے۔ دوسرے شعر میں رعایتیں مزے دار ہیں : خنجر کا رکنا بمعنی خنجر کی دھار کا تیز نہ ہو نا۔ دم، بمعنی خنجر کی دھار، لیکن یہاں دم چرانا بمعنی جی چرانا ہے۔ دم بمعنی لچک بھی کار آمد ہے۔ یہ زمین میر کی ہے، میر نے بارہ (12) شعر کہے ہیں، تسلیم نے اٹھارہ (18)۔ میر کا ایک شعر تو ایسا ہے کہ بس وجد کیجئے اور سر دھنئے ؎

دل بہت کھینچتی ہے یار کے کوچے کی زمیں

لوہو اس خاک پہ گرنا ہے مقرر اپنا

 (3)

اس سراپا نور نے لکھا جو مجھ کو حال دل

خط صحیفہ ہو گیا قاصد پیمبر ہو گیا

ڈھونڈتی ہے مرگ مجھ کو میں نظر آتا نہیں

رفتہ رفتہ ضعف سے تن تار بستر ہو گیا

بے حجاب اس کو کیا شوخی نے میری وصل میں

ایک بات ایسی کہی جامے سے باہر ہو گیا

٭

پہلا شعر پڑھئے اور اس زمانے کے لوگوں کی آزاد خیالی پر غور کیجئے۔ آج ایسا شعر کوئی کہے توواجب القتل ٹھہرے۔ دوسرے شعر کے آگے ناسخ کا مشہور شعر رکھئے اور خیال بندی کا ایک اور کمال دیکھئے ؎

انتہائے لاغری سے جب نظر آیا نہ میں

ہنس کے وہ کہنے لگے بستر کو جھاڑا چاہیئے

ناسخ نے لاغری کا ثبوت نہیں لکھا تھا، کیوں کہ ضعف کا مضمون تو مسلمات میں ہے۔ لیکن تسلیم نے دوہرا ثبوت فراہم کر دیا، ایک تو یہی مسلمات شعر میں سے، کہ عاشق تو لاغر ہوتا ہی ہے، اور دوسرا مشاہدے سے، کہ ضعف رفتہ رفتہ بڑھتا گیا۔ اور مزید لطافت یہ کہ خود موت بھی مجھے نہ ڈھونڈ پائی کیونکہ میں تو بستر کا ایک تار بن گیا تھا۔ الگ سے میرا کوئی وجود باقی ہی نہ رہا تھا۔ تیسرے شعر کے آگے میر کا شعر رکھئے تو خیال بندی اور عاشقانہ مضمون کا فرق معلوم ہو جائے گا۔ میر کا شعر ہے ؎

مر مر گئے نظر کر اس کے برہنہ تن میں

کپڑے اتارے ان نے سر کھینچے ہم کفن میں

خیال بندی میں شوخی اور طبیعت کی تیزی زیادہ ہوتی ہے، جیساکہ تسلیم کے شعر سے ظاہر ہے۔

 (4)

پردۂ خم سے جو نکلی آ کے مینا میں چھپی

رندوں سے اب تک وہی ہے دختر رز کا حجاب

دفن ہوتا ہے چھپا کر منھ بشر زیر کفن

خاک سے کرتا ہے کیا کیا خاک کا پتلا حجاب

جسم ہے پنہاں کفن میں گور میں پنہاں کفن

موت کے آتے ہی کیا کیا بڑھ گیا اپنا حجاب

٭

پہلے شعر کے ساتھ اقبال کا شعر ذہن میں لائیے ؎

کس قدر اے مے تجھے رسم حجاب آئی پسند

پردۂ انگور سے نکلی تو میناؤں میں تھی

اقبال کا شعر زیادہ مکمل ہے، لیکن اولیت تسلیم کو ہے اور حجاب کا ثبوت بہتر ہے، کیوں کہ حجاب رندوں سے ہے۔

 (5)

نہ سوز دل نے چھینٹیں پڑنے دیں قاتل کے دامن پر

برنگ شمع کشتہ جل گیا خون اپنی گردن پر

عبث ڈرتے ہو محشر سے کرو بھی وار دشمن پر

اگر پوچھے خدا یہ خون ناحق میری گردن پر

خبر گیری رفیق راہ کی ہے ختم سوزن پر

چلی جاتی ہے لیکن آنکھ ہے رشتے کی الجھن پر

شریروں کی شرارت اہل رفعت سے نہیں چلتی

کبھی گرتے نہ دیکھی ہم نے بجلی مہ کے خرمن پر

جلائی آج رو رو کر حنائی ہاتھ سے کس نے

چراغ طور پروانہ ہے میری شمع مدفن پر

خط مشکیں نہیں ہے گرد گورے گورے گالوں کے

چڑھائی کی ہے یہ فوج حبش نے شہر لندن پر

٭

یہ کہنے کی ضرورت شاید نہ ہو کہ یہ زمین غالب کی ہے۔ تسلیم کی غزل میں انتیس (29) شعر ہیں۔ غالب کی غزل میں نو (9)، لیکن ظاہر ہے کہ غالب کے یہاں شاہکار شعروں کا تناسب زیادہ ہے۔ تسلیم کے آخری شعر میں مضمون آفرینی بہت عمدہ ہے۔ عام طور پر خط اور عارض کو شب اور سحر، کفر اور اسلام، چیونٹی اور شکر سے تشبیہ دیتے ہیں۔ تسلیم نے بالکل نئی بات پیدا کی ہے۔ رشتے کی الجھن والا شعر بھی خیال بندی کا شاہکار ہے۔ شمع مدفن والے شعر کی نزاکت خیال پر مومن بھی وجد کرتے۔

 (6)

گرم جولاں آج فرش گور پر کس کا ہے رخش

شاد ہو کر کر رہا ہے ہر شرار سنگ رقص

٭

اس شعر کے سامنے غالب کا شعر رکھئے۔ دونوں ایک سے بڑھ کر ایک مضمون آفریں ہیں ؎

شو ر جولاں تھا کنار بحر پر کس کا کہ آج

گرد ساحل ہے بہ زخم موجۂ دریا نمک

غالب کے یہاں رعایتیں اور مناسبتیں بکثرت اور خوبصورت ہیں، اور مضمون ایسا ہے کہ اس کا جواب غیر ممکن معلوم ہوتا ہے۔ لیکن تسلیم نے کئی باتیں پیدا کر دیں۔ پتھر میں شرر ہوتا ہے اور جب گھوڑا تیز دوڑتا ہے تو اس کے نعلوں سے چنگاری بھی پیدا ہوتی ہے۔ معشوق گھوڑے پر سوار عاشق کے مزار کو پامال کر رہا ہے، یہ مضمون بالکل درست ہے۔ سنگ کا قافیہ رقص کے ساتھ بے انتہا مشکل تھا، تسلیم نے خوب نبھایا۔

 (7)

کی تھی دم کن یار سے آغوش ذرا گرم

اب تک مرے سینے سے نکلتی ہے ہوا گرم

اک روز تو آ کر مری آغوش میں بیٹھو

ٹھنڈا دل پر سوز ہو پہلو ہو ذرا گرم

پانی کو بنا دیتی ہے الفت کی ہوا آگ

آنسو مری آنکھوں سے نکلتے ہیں بلا گرم

کیونکر کف نازک کو بنا دیتی ہے شعلہ

مشہور ہے رکھتی نہیں تاثیر حنا گرم

تسلیم جگر سوختۂ عشق ہوں اس کا

جس ماہ کا بستر شب اسریٰ میں رہا گرم

٭

مطلع میں تلمیح قرآنی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمام خلقت سے روز تخلیق پر سوال کیا کہ الست بربکم (کیا میں تمھارا رب نہیں ہوں ؟)، اس پر سب نے کہا، بلیٰ (ہاں )۔ اسی اعتبار سے تخلیق کے پہلے دن کو روز الست بھی کہتے ہیں۔ دوسرا نکتہ یہ ہے کہ صوفیہ کی رو سے تمام انسانی روحیں واپس ملائے اعلیٰ کو جانے کے لئے بیچین رہتی ہیں۔ تسلیم نے دو لمبے مضامین کو چند لفظوں میں بیان کر دیا، روانی اس پر مستزاد۔ تیسرے شعر کے ساتھ غالب کا شعر یاد آنا لازمی ہے۔ تسلیم نے الگ ہٹ کر وہی مضمون بیان کیا ہے، فرق صرف یہ ہے کہ غالب کے یہاں ضعف کی بات ہے اور تسلیم کے یہاں شعلۂ عشق کی۔ مقطع ہر پہلو سے شاہکار ہے۔ تلمیح بالکل درست اور مناسبتیں (جگر سوختہ، ماہ، عشق، شب، بستر) مستزاد۔ نعت کا شعر ہو تو ایسا ہو، کہ عاشقانہ بھی ہے اور نعتیہ بھی۔ ایسا امتزاج بڑے بڑوں کے بس میں نہیں۔ سبحان اللہ۔

 (8)

کیا کہوں کیا گذری دل پر سینۂ پامال میں

خون کے دھبے ہیں بدلے اشک کے رومال میں

ناتواں وہ تھے کہ آخر انتہائے ضعف سے

رفتہ رفتہ پس گئے عمر رواں کی چال میں

جیتے جی سب ذلت و عزت تھی مر جانے کے بعد

لاش لپٹی ہے نہ کملی میں نہ پنہاں شال میں

٭

مطلعے کا مصرع ثانی کیفیت اور پیکر کے لحاظ سے خوب ہے۔ رومال کا مضمون ولی نے بہت عمدہ باندھا ہے، میر نے وہیں سے لیا ؎

نہ پوچھو عشق میں جوش و خروش دل کی ماہیت

برنگ ابر دریا بار ہے رومال عاشق کا

دوسرے شعر کا مضمون، اور پیکر دونوں غضب کے ہیں۔

 (9)

ایسی ہے کچھ حنا کو ستم گر لگی ہوئی

پس کر بھی ہے قدم سے برابر لگی ہوئی

دیتی ہے بوسے کیوں جو نہیں واسطہ کوئی

گلگیر سے ہے شمع مقرر لگی ہوئی

آیا تھا کون خواب میں رنگیں ادا یہاں

مہندی ہے جا بجا سر بستر لگی ہوئی

لائے گی ایک دن خبر زندگی ضرور

پیچھے گئی ہے عمر برابر لگی ہوئی

٭

ذوق کی غزل اس زمین میں بجا طور پر مشہور ہے۔ ردیف میں امکانات تھے اور دونوں نے انھیں خوب برتا ہے۔ لگتا ہے تسلیم نے ذوق کا مطلع سامنے رکھا ہے ؎

ہے کان اس کے زلف معنبر لگی ہوئی

چھوڑے گی یہ نہ بال برابر لگی ہوئی

تسلیم کے مطلعے میں ردیف دو الگ الگ معنی میں آئی ہے۔ وہی حال ذوق کا بھی ہے، لیکن تسلیم کے یہاں معنی بہتر ہیں۔ ذوق نے بستر کا قافیہ ترک کیا ہے اور تسلیم نے اسے اس قدر عمدگی سے برتا ہے اور جنسی اشارے بھی کیا عمدہ ہیں۔ آخری شعر کا ابہام اور باریکی خیال بھی آپ اپنا جواب ہیں۔ زندگی گذرتی ہے تو عمر بھی گذرتی ہے، گویا عمر گذرتی نہیں بلکہ زندگی کے تعاقب میں جاتی ہے۔ عمر اور زندگی کا نازک فرق خوب نمایاں کیا ہے۔

 (10)

ا ے فلک تجھ سے مجھے عشرت نہ راحت چاہیئے

رات دن میں دو گھڑی رونے کی فرصت چاہیئے

جیتے جی اسباب دنیا سے مفر ممکن کہاں

ایک چادر مر کے بھی بالائے تربت چاہیئے

کم سے کم اے چرخ اس عمر دو روزہ میں مجھے

ایک تو خورشید سیما ماہ طلعت چاہیئے

دیدۂ ظاہر سے کیا آئے نظر زاہد تجھے

ان بتوں کی دید کو چشم حقیقت چاہیئے

گوہر مقصد کا طالب ہے تو مانند صدف

گوشۂ دریائے ہستی میں قناعت چاہیئے

رہ گیا ہے سینے میں اک یاد گار گل یہی

دل سے اے دل تجھ کو پاس خار حسرت چاہیئے

ایک بوسہ بھی نہیں دیتا کبھی تسلیم کو

کس توقع پر تجھے اے بے مروت چاہیئے

٭

یہ غزل میر کی زمین میں ہے۔ میر کے اس شعر کا جواب تو تسلیم سے نہ ہو سکا ؎

عشق میں وصل و جدائی سے نہیں کچھ گفتگو

قرب و بعد اس جا برابر ہے محبت چاہیئے

اور خود میر نے اسی غزل میں بنکار کر کہا بھی تھا ؎

ہو طرف مجھ پہلواں شاعر کا کب عاجز سخن

سامنے ہونے کو صاحب فن کے قدرت چاہیئے

لیکن حق یہ ہے کہ تسلیم کے جو شعر میں نے انتخاب کئے ہیں وہ ایسے ہیں کہ پہلوان شاعر بھی داد دینے پر مجبور ہو جاتا۔ بتوں کی دید کا مضمون، حسرت کا قافیہ، اور مقطع میں ردیف کا لاجواب ہنر مندی سے استعمال، یہ سب اس بات کی دلیل ہیں کہ تسلیم کو وہ قدرت حاصل تھی جس کے بغیر بقول میر، صاحب فن کے سامنے ہونا غیر ممکن ہے۔

٭

حیرت ہے کہ یہ دونوں دیوان تسلیم کی رباعیات سے خالی ہیں۔ اس قدر قدرت کلام اور پر گوئی کے باوجود انھوں شاید رباعی نہیں کہی۔

ضرور تھا کہ “نظم ارجمند” سے بھی انتخاب کرتا، لیکن سردی کی سختی اور جگہ کی تنگی کے باعث تسلیم کے ان شعروں کے ساتھ ( یہ شعر”نظم ارجمند”میں شامل ہیں )، ختم کلام کرتا ہوں ؎

سرد اعضا ہو چکے لب پر وہی ہے آہ گرم

آگ قسمت میں لکھی ہے چلتی لو جاڑے میں ہے

تھرتھراتا ہے جگر تسلیم پڑھئے شعر کیا

سخت مشکل دم کا آنا تا گلو جاڑے میں ہے

٭٭٭

 

امو جان ولی

               امو جان ولی کا دیوان رباعیات

’’رباعیات عجائبات‘‘ نام کا یہ مختصر دیوان رباعی کہاں چھپا اور کب، اس کی خبر نہیں۔ امو جان ولی کا دیباچہ (جو خود بمشکل ایک صفحے کاہے) ہمیں اتنا ہی بتاتا ہے کہ یہ دیوان۱۳۱۸ ہجری (۱۹۰۰/۱۹۰۱ حالی) میں تیار ہو گیا تھا اور وہ خود اپریل۱۹۰۲میں سرکاری نوکری سے وظیفہ یاب ہوئے، لیکن ان کی دیگر نظم نثر اردو و فارسی کی طرح یہ دیوان بھی منظر عام پر آنے کا منتظر رہا۔ اب جب ’’حضور شاہ عالم پناہ کے دربار تاجپوشی‘‘ کا وقت قریب آیا تو انھیں خیال آیا کہ دیوان رباعی کو تو چھپوا ہی لیا جائے۔ اگر ’’شاہ عالم پناہ کی تاجپوشی‘‘ سے دلی دربار (۱۹۱۱) مراد لیا جائے تو یہ دیوان۱۹۱۰ میں کبھی منطبع ہوا ہو گا۔

امو جان ولی نے اپنے بارے میں اتنا اور بتایا ہے کہ میں غالب کا شاگرد ہوں اور تصوف میں حضرت غوثی علی شاہ صاحب کا مرید ہوں۔ وہ اپریل۱۹۰۲میں وظیفہ یاب ہوئے تو گمان کیا جا سکتا ہے کہ ان کی پیدائش۱۸۴۷کے بالکل قریب ہوئی ہو گی، کیونکہ اس زمانے میں انگریز کی نوکری سے وظیفہ یابی کی عمر ہندوستانیوں کے لئے پچپن (۵۵) سال تھی۔

میں نے امو جان ولی اور ان کے دیوان رباعی کا ذکر سنا تھا لیکن اسے دیکھنے کا اتفاق نہ ہوا تھا۔ اور نہ ہی مجھے ان کے بارے میں کچھ اور معلوم تھا، سواے اس کے کہ وہ غالب کے شاگرد تھے اور ’’مطبع اموجان ولی واقع دلہائی‘‘ کے مالک تھے۔ کئی سال کی بات ہے، ایک بار سعودی عرب کے سفر میں ایک صاحب سے ملاقات ہوئی جنھوں نے بتایا کہ میں امو جان ولی کے اخلاف میں ہوں۔ دیوان انھوں نے بھی نہ دیکھا تھا لیکن مشتاق تھے کہ کہیں مل جائے تو خوب ہو۔ بات آئی گئی ہوئی۔

مجھے مطبع امو جان ولی کی کئی کتابیں دیکھنے کا اتفاق بھی ہوا تھا۔ ان میں پریس کا نام یوں لکھا ہو ا ہوتا:’’در مطبع امو جان ولی واقع دلہائی طبع شد‘‘ (یا ایسے ہی کچھ الفاظ، جگہ کا نام ’’دلہائی‘‘ یقیناً تھا۔ ) کتاب سازی کے لحاظ سے ان میں کوئی خاص بات ایسی نہ تھی جو اس زمانے کے دیگر مطبعوں میں ممتاز کرتی۔ صرف ایک بات مجھے بہت بری لگتی تھی، اور وہ یہ کہ میں سمجھتا تھا ’’دلہائی‘‘ کچھ اور نہیں، ہم جاہل اور خوشامدی ہندوستانیوں نے انگریزوں کا املا Delhiدیکھ کر سمجھا کہ انگریز لوگ شہر دہلی کا نام یوں ہی ’’دلہائی‘‘ تلفظ کرتے ہوں گے۔ لہٰذا یہی نام ہم لوگوں نے بھی اپنے اچھے خاصے ناموں ’’دہلی‘‘ یا ’’دلی‘‘ کو بگاڑ کر ’’دلہائی‘‘ کر لیا۔

خدا کا شکر ہے کہ محمد حسین آزاد کی کوئی تحریر ایک بار اتفاقاً میری نظر سے گذری جس سے معلوم ہوا کہ ’’دلہائی‘‘کسی دوسرے نام، مثلاً ’’دہلی‘‘ کی مسخ شدہ نہیں شکل ہے۔ دلہائی نام کا ایک محلہ دلی میں تھا، یعنی شاہجہان آبادی دلی میں، اور جہاں انگریزوں نے۱۸۵۷میں دلی کے بہت بڑے حصے کو تاراج و تباہ کیا وہاں دلہائی کا محلہ بھی ان کے ظلم کی زد میں آگیا۔

ایک مدت تک میں سمجھاکیا تھا کہ اردو میں صرف دو دیوان رباعی مرتب ہوئے، ایک تو جعفر علی حسرت لکھنوی (۱۷۳۴/۱۷۳۵تا ۱۷۸۵/۱۷۸۶) کا دیوان، جو اب نا پید ہے اور دوسرا امو جان ولی کا، جو شائع تو ہوا لیکن ملتا نہیں ہے۔ خدا نما سید غمگین حضرت جی (۱۷۵۳تا۱۸۵۱) اور غالب کے مابین کچھ مراسلت میں نے بہت پہلے پڑھی تھی اور اس میں حضرت خدا نما کی کچھ رباعیاں بھی تھیں۔ لیکن مجھے نہیں معلوم تھا کہ ان کا کوئی دیوان بھی ہے۔ مدتوں بعد حضرت خدا نما کے اخلاف نے ان کا کلیات شائع کیا تو میں نے اس میں کئی رباعیاں دیکھیں۔ مگر چونکہ وہ کسی رد یف وار ترتیب سے نہ تھیں، ا س لئے میں نے یہ محسوس نہ کیا کہ یہ تو پورا دیوان رباعیات ہے۔

کچھ دن ہوئے محمد علی اثر نے دکن کے رباعی گویوں پر ایک نہایت معلوماتی مضمون لکھا تو اس سے مجھے معلوم ہوا کہ حضرت خدا نما کی رباعیاں تمام ردیفوں میں ہیں اور اس طرح انھیں اردو کے دوسرے دیوان رباعی کا مصنف کہنا چاہیئے۔ اغلب ہے کہ جعفر علی حسرت (جن کا زمانہ حضرت خدا نما سے ذرا ہی پہلے کا ہے) کا دیوان رباعی ہی اردو کا پہلا دیوان رباعی ٹھہرے۔ محمد علی اثر نے میر شمس الدین فیض (۱۷۸۱تا ۱۸۶۶) کے دو شاگردوں احمد علی عصر اور محمد غوث عزم، کا ذکر کیا ہے کہ انھوں نے بھی رباعی کے دیوان ترتیب دئیے تھے۔ لہٰذا اب زمانۂ ماقبل جدید میں رباعیوں کے پانچ دیوا ن قرار پائے۔ ہمارے زمانے میں شاہ حسین نہری اورنگ آبادی (پیدائش۱۹۴۱) نے دو دیوان رباعیوں کے مرتب کئے ہیں۔

امو جان ولی نے اپنی رباعیوں کے بارے میں لکھا ہے کہ ان میں ’’علم اخلا ق و تصوف کے عجیب و غریب نکات دینی دنیوی شرعی، معاملات توحید و عرفان، حال، مقام حضوری، استغراق، وصول الی اللہ‘‘ بیان کئے گئے ہیں۔ میں سمجھتا ہوں شاید ہی کسی شاعر نے در مدح خود اس طرح اور اس قدر لکھا ہو۔ بہر حال، یہ دیوان بہت مختصر ہے۔ اس میں کلاں تقطیع کے ۲۳ صفحے اور ۹۸۱ رباعیاں ہیں۔ اس میں ردیف ژ نہیں ہے۔ کلام کا رنگ بیشک صوفیانہ اور موعظانہ ہے۔ لیکن اس میں کچھ خاص برجستگی یا لطف نہیں۔ حضرت غمگین کا کلام بہت مشکل اور حقائق و معارف سے واقعی مملو ہے، لیکن ان کے یہاں بھی وہ روانی نہیں ہے جو استادوں کے کلام کا خاصہ ہے۔ صاف ظاہر ہے کہ شاعر کو باریک نکات کے درست بیان سے غرض تھی نہ کہ شاعرانہ کمال دکھانے کی۔

امو جان ولی کی چند رباعیاں ملاحظہ ہوں ؂

مخلوق سے دو روز کی بیکار ہے پیت

معدوم جو ہو اس سے بھلا کیا پرتیت

خالق کی محبت میں جو کھوئے دل و جاں

آخر اسے معلوم ہو اس ہار میں جیت

پرتیت:ظاہر

یہاں میر کا شعر یاد آتا ہے ؂

غم زمانہ سے فارغ ہیں مایہ باختگاں

قمار خانۂ آفاق میں ہے ہار ہی جیت

اگلی رباعی دیکھیں ؂

مکاری سے بن پیر تو دنیا کو نہ مونڈ

اک پیٹ ہے چھوٹا سا بنا اس کو نہ کونڈ

محنت سے کما کونے میں کر رب کو یاد

مرشد تجھے حق کر دے تو خود ہو تری ڈھونڈ

کونڈ: بڑا مٹکا

یہاں ’’ڈھونڈ‘‘ بمعنی ’’تلاش، مقصود‘‘ خوب ہے۔ مگر ’’تری ڈھونڈ‘‘ ذرا مخدوش بھی ہے۔ لوگوں نے غالب پر اعتراض کیا کیا تھا ؂

اور میں ہوں کہ اگر جی میں کبھی غور کروں

غیر کیا خود مجھے نفرت مری اوقات سے ہے

اعتراض یہ تھا کہ ’’میری اوقات‘‘ کی جگہ ’’اپنی اوقات‘‘ کہنا تھا۔ لیکن امو جان ولی کے یہاں بھی اس طرح کا صرف دیکھ کر خیال ہوتا ہے کہ ممکن ہے اہل دہلی کا محاورہ یہی ہو اور طباطبائی اس سے واقف نہ رہے ہوں۔ خیر، لیکن ذرا سر مد کو سنتے چلیں ؂

سر مد اگرش وفاست خود می آید

گر آمدنش رواست خود می آید

بیہودہ چرا در پئے او می گردی

بنشین اگر خدا ست خود می آید

لیکن امو جان ولی کا مقابلہ سر مد سے، یا حضرت خدا نما سے، کچھ ٹھیک بھی نہیں۔ امو جان ولی کی ایک اور رباعی دیکھیں، یہاں البتہ تصوف کا مسئلہ بڑی صفائی سے نظم ہوا ہے ؂

اول یہ فنا خلق سے دوری کر لے

اور دوسری خواہش سے صبوری کر لے

ہے تیسری امید کا مٹنا دل سے

چوتھی یہ ارادے سے نفوری کر لے

آخری رباعی، اور حق یہ ہے کہ بڑی عمدہ رباعی، اور جس پر غالب کا پرتو بھی بڑے حسن سے آیا ہے ؂

حال دل شیدا تو چھپائے نہ بنے

سن کر اسے بن میرے ستائے نہ بنے

کہنا بھی نہ کہنا بھی ہیں دونوں آفت

اب بات کوئی موت بن آئے نہ بنے

٭٭٭

http://esbaatpublications.com/esbaatmag/category/archive_literature/

 

غلام مرتضیٰ راہی: نکتۂ  چند ز پیچیدہ بیانے

 (غلام مرتضی راہی: پیدائش ۱۹۳۷)

جدیدیت کا سورج جب چمکا تو جہاں بہت سی نئی باتیں ظہور میں آئیں وہاں ایک بات یہ بھی ہوئی کہ بہت سے نو عمر شعرا جنھیں اندھیرے ماحول میں اپنی راہ نہیں مل رہی تھی یا جن کی صلاحیتوں پر نئی دریافت کی کرن نہیں پڑی تھی، انھوں نے یا تو اپنی راہ نکال لی، یا ان کی صلاحیتوں کو روز روشن میں آنے کا موقع ملا۔ غلام مرتضیٰ راہی موخر الذکر گروہ کے قابل قدر اور قوت مند نمائندے کی حیثیت سے ارباب نظر کے سامنے آئے اور بہت جلد سب کو معلوم ہو گیا کہ نئی اردو غزل کو ایک سنجیدہ، محنت کوش اور دور رس شاعر مل گیا ہے۔ ’’لامکاں ‘‘ اور ’’لاریب‘‘ دو مجموعے تھوڑے تھوڑے وقفے سے شائع ہوئے (۱۹۷۱اور۱۹۷۳)۔ غلام مرتضیٰ راہی نے ان مجموعوں میں غزل کی متانت کو نئی لفظیات کی تلاش کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کی بڑی خوش آئند کوشش کی تھی۔ مجموعی طور پر ان کے یہاں متفکر ذہن اور متجسس روح کی کارفرمائی نظر آتی تھی اور ان کے لہجے کی پختگی انھیں جدید غزل کے کسی ایسے ٹھکانے کی طرف لے جانے کا وعدہ کرتی تھی جہاں روایتی ’’روایت پسندی ‘‘ اور فیشن ایبل جدیدیت دونوں کا ہی گذر نہ تھا۔

پھر اچانک غلام مرتضیٰ راہی کا قلم رک گیا، اور وہ اس طرح اور اس قدر رکا کہ شعر گوئی ہی ان سے چھوٹ گئی۔ معاصر ادب کے پڑھنے والوں کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ ان کا حافظہ دیر پا نہیں ہوتا۔ آنکھ اوجھل تو پہاڑ اوجھل جیسا معاملہ ہے۔ چنانچہ کہاں تو غلام مرتضیٰ راہی کے روشن تر مستقبل کے بارے میں خیال آرائیاں ہو رہی تھیں اور کہاں تنقیدی مضامین اور ادبی محفلوں میں غلام مرتضیٰ راہی کا ذکر النادر کالمعدوم ہوتے ہوتے بالکل ہی معدوم ہو گیا۔ گذشتہ زمانے میں جب شعر گوئی کے طریقے مقرر تھے اور شعر و شاعری کا طرز بہت جلد جلد بدلتا نہ تھا، یہ آسان تھا کہ شاعر کئی برس کی خاموشی کے بعد لب کشا ہو اور اسے حال کو ماضی سے جوڑنے میں کوئی مشکل نہ ہو۔ اب تو یہ ہے کہ شعر گوئی کے لئے اظہار ذات لازمی ہے اور جتنے منھ اتنی باتیں کی طرح جتنے شاعر اتنی طرح کی شخصیتیں، اتنی طرح کی ذاتیں۔ اب تو انسان بدلتا رہتا ہے، زمانے کی ہوا میں تبدیلی سے متاثر ہوتا ہے۔ نو آمدہ لوگ اپنے اپنے دعوے پیش کرتے ہیں۔ ایسے ماحول میں کئی سال کا سکوت جب ٹوٹے تو شاعر گویا دو بارہ پیدا ہوتا ہے۔ خلیل الرحمن اعظمی نے ’’لاریب‘‘ کے بارے میں کہا تھا کہ اس مجموعے کا شاعر ایسا ہے جس کا چہرہ پہچانا جا سکتا ہے۔ لیکن پندرہ سولہ برس میں چہرہ بدل جاتا ہے، اعتماد سے اٹھائے ہوئے قدم ڈگمگاتے ہوئے معلوم ہونے لگتے ہیں۔ غلام مرتضیٰ راہی نے بڑی ہمت اور تازہ فکری سے کام لیا کہ جب ڈیڑھ دہائی بعد میدان شعر میں پھر انھوں نے قدم رکھا تو اپنے پہلے مجموعے ’’لامکاں ‘‘ (۱۹۷۱) اور دوسرے ’’لاریب‘‘ (۱۹۷۳) کو ’’حرف مکرر‘‘ (۱۹۹۷) کے نام سے چھپوایا، لیکن ترمیم اور اضافے کے ساتھ یعنی یہ مجموعہ پرانا ہے بھی اور نہیں بھی۔ بہت سے اشعار وہی ہیں جو پہلے تھے، بہت سے اشعار بدلے ہوئے ہیں۔ مثلاً ’’لامکاں ‘‘ کا پہلا ہی شعر ہے

حصار جسم مرا توڑ پھوڑ ڈالے گا

مجھے کسی نہ کسی روز کوئی آلے گا

اب ’’حرف مکرر‘‘ میں یہی مطلع یوں نظر آتا ہے

حصار جسم مرا توڑ پھوڑ ڈالے گا

ضرور کوئی مجھے قید سے چھڑا لے گا

یہ بات تسلیم کرنی پڑتی ہے کہ ’’لامکاں ‘‘ کے شعر میں اگر تجربہ موت اور جسم کے انہدام سے متعلق تھا، تو ’’حرف مکرر‘‘ کے شعر کا مضمون روحانی ارتقا کی منزل سے گذر چکا ہے اور اب موت بہ حیات یا حیات بہ موت کی بلندی پر فائز نظر آتا ہے۔ اگر ’’لامکاں ‘‘ کا شعر جدید تھا تو ’’حرف مکرر‘‘ کا شعر بھی جدید ہے۔ لیکن جہاں ’’لامکاں ‘‘ کا شعر ایک خاص بلکہ تھوڑے سے محدود زمانی اور ذہنی ماحول سے متعلق قرار دیا جا سکتاتھا، وہاں ’’حرف مکرر‘‘ کا شعر زمانی اور ذہنی حدود سے ماورا نکل گیا ہے۔ اس بات میں ان غزل گویوں کے لئے بھی سبق آموز نکات پوشیدہ ہیں جو غلام مرتضیٰ راہی کے بعد آئے اور جو خود کو راہی اور ان کے پیش روؤں سے الگ ثابت کرنے کی سعی میں سر گرم ہیں۔

غلام مرتضیٰ راہی اب نیا مجموعہ لے کر بازار میں آئے ہیں۔ لفظ ’’بازار‘‘ میں نے میر کے تتبع میں استعمال کیا ہے ع

یہ حسن کس کو لے کر بازار تک نہ پہنچا

اور اس غزل میں یہ مصرع بھی ہے ع

خوبی کا کام کس کی اظہار تک نہ پہنچا

ڈیڑھ دہائی بعد ان کی غزل نئے حسن اور نئی خوبی کے کام لے کر ہمارے سامنے آئی ہے۔ وہ ذہن جو نوجوانی کے جوش میں زمانہ اور اہل زمانہ کے ساتھ ستیز کرنے پر ہمہ وقت تیار رہتا تھا، اب ملٹن کے الفاظ میں Calm of mindکی منزل پر تو نہیں پہنچا اور اچھا ہی ہوا لیکن اس کی آواز میں بہ یک وقت متانت اور ذرا سی کڑوے پن کی ایمائیت ہے۔ گویا ان غزلوں کا شاعر گرم و سرد زمانہ دیکھ کر اکتایا نہیں، لیکن دنیا کو ناقابل اصلاح پاکر اور اہل دنیا سے دل ہی دل میں خفا ضرور ہے

سبزے کی طرح میں نے بھی خود کو جھکا لیا

اب آندھیوں کو سر سے گذر جانا چاہئے

نہ جانے قید میں ہوں یا حفاظت میں کسی کی

کھنچی ہے ہر طرف اک چار دیواری سی کوئی

پہلے دیوار میں چنوا دیا مالک نے مجھے

پھر عمارت کو مرے نام سے موسوم کیا

رگوں سے خنجر و نشتر زیادہ جانتے ہیں

لہو ہمارا کہاں کم کہاں رواں تھا بہت

غلام مرتضیٰ راہی کے تازہ کلام میں پہلے سے زیادہ تہ داری ہے، اور یہ بات مناسب بھی ہے کہ شاعر اگر ارتقا کرے تو گہرائی کی طرف جائے۔ بلند آہنگ اور احتجاج کا شور نئے استعارے کی خیال بند چمک، یہ سب جوانی کے خصائص ہیں، یعنی ایسے مزاج کے جسے شعر کہنے کی جلدی ہے کہ لاؤ جلد از جلد لوگوں کو متوجہ کر لیں۔ خیال بند یعنی تجریدی استعارہ گہری بات میں بدل جائے تو بیدل اور غالب کے بلند منارے نظر آنے لگتے ہیں۔ بیدل کا شعر ہے

چو حباب غیر لباس توچہ توقع و چہ ہر اس تو

نہ تو مانی و نہ قیاس تو چوکشند جامہ ز پیکرت

یعنی لفظ و معنی کچھ نہیں، صرف اوپری لباس ہیں، معنی تو کہیں اور ہیں۔ لیکن جو شاعر گہرائی میں اترنا چاہے اور اترنے کی صلاحیت بھی رکھے، وہ زمین کو آسمان سے ملا بھی سکتا ہے۔ ناصر علی سر ہندی نے اسی لئے کہا تھا

سخن از عرش بہ دل بردن رنداں آمد

ایں مئے صاف ز نہ شیشۂ  افلاک چکید

لہٰذا شراب چاہے دکھائی نہ دے لیکن رگ و ریشے کو متاثر کرتے ہے۔ شعر تو آسمان سے اترا ہے، کہ رندوں کے دل کو اڑا لے جائے۔ شعر میں گہرے معنی کا رنگ بھی ہوتا ہے اور غلام مرتضیٰ راہی کے تازہ مجموعے میں یہ رنگ دیکھیے

اس نے جب دروازہ مجھ پر بند کیا

مجھ پر اس کی محفل کے آداب کھلے

کرتا نہیں ہے کیوں وہ حقیقت مری بیاں

اوروں کے قصے کر دیے مشہور کس لیے

دل نے تمنا کی تھی جس کی برسوں تک

ایسے زخم کو اچھا کر کے بیٹھ گئے

مثال سنگ ہوں میں اس کے بے رخی کے سبب

سراپا آئینہ اس کی توجہات سے تھا

آتا تھا جس کو دیکھ کے تصویر کا خیال

اب تو وہ کیل بھی مری دیوار میں نہیں

سب ایک موڑ تک آئے مرے تعاقب میں

پھر اس کے بعد سمجھنے لگے سراب مجھے

رسم باقی رہے غم خواری کی

آمری آگ میں جل جا تو بھی

اکثر دروازوں کے ہوتے

گھر کھلنے سے رہ جاتے ہیں

اے مرے پایاب دریا تجھ کو لے کر کیا کروں

ناخدا، پتوار، کشتی، بادباں رکھتے ہوئے

جھانکتا بھی نہیں سورج مرے گھر کے اندر

بند بھی کوئی دریچہ نہیں رہنے دیتا

راہی کی ان غزلوں میں آہنگ کا تنوع گذشتہ مجموعوں سے زیادہ ہے۔ ان کے یہاں آہنگ میں وہ نرم روی تو کبھی نہ تھی جسے بعض لوگ غزل کے لئے ضروری جانتے ہیں۔ لیکن پچھلی غزلوں کے آہنگ میں جو تنوع تھا وہ غیر یقینی کی منزل سے آگے نہ جاتا تھا، گویا شاعر خود یہ فیصلہ کرنے سے قاصر ہو کہ کس لہجے میں شعر کہنا ہے۔ اب جو تنوع ہے اس میں کھردرے پن اور بے یقینی کی جگہ نئے لہجے دریافت کرنے اور انھیں کامیابی سے نبھا لے جانے کا اعتماد بھی ہے۔ ایسی عمر میں جب اکثر شاعر تھک کر بیٹھ چکے ہوتے ہیں، غلام مرتضیٰ راہی نئے مرحلے تسخیر کر رہے ہیں۔

غلام مرتضی راہی کی غزل پر اظہار خیال کا مجھے یہ تیسرا موقع ہے۔ اول بار میں نے ۱۹۷۱ میں ان کے بارے میں ’’شب خون‘‘ میں ایک نوٹ لکھا تھا جس کے چند جملے حسب ذیل ہیں :

ان غزلوں میں ایک ایساشخص نظر آتا ہے جو متفکر، تھوڑا سا چلبلا، دراک، انانیت اور قوت سے بھر پور ذہن رکھتا ہے۔ شاعر کی شخصیت حقائق حیات سے مفاہمت کرنے کے بجائے ان سے ستیز کرتی نظر آتی ہے۔ اور اس ستیز کا آہنگ انتہائی ذاتی، انتہائی داخلی، اور درون بینی، جگہ جگہ نوک دار استعاروں، اور غیر متوقع تناظروں سے عبارت ہے۔

کسی نسبتاً نو آمدہ شاعر، اور وہ بھی غزل کے شاعر، کے کلام میں ایسی صفات کا وجود غیر معمولی تو ہے ہی، لیکن یہ بھی ہے کہ ایسے شاعر کا اگلا قدم کیا ہو سکتا ہے؟اس نے تو بہت جلد ہی پختگی اور گہرائی کے منازل طے کر لئے ہیں، اب وہ کون سی راہ اختیار کرے؟ اس کا جواب تو خود شاعری ہی میں موجود ہونا چاہیئے، لیکن خود نقاد کا بھی فرض ہے کہ اپنے تئیں غور کرے کہ زمانے سے ستیزکرنے والا اور تیز ذہن رکھنے والا شاعر اب کس طرف جا سکتا ہے؟ اس کا پہلا جواب تو یہی ہے کہ اے روشنی طبع تو برمن بلا شدی کے مصداق ایسا شاعر بھی اسی پرانی ڈگر پر کاربند رہ کر ستیز کی لے کو تیز تر کر کے یہ گمان کر سکتا ہے کہ میں ترقی کر رہا ہوں۔ یہ بیماری، یا کمزوری، اکثر تیز طبع شعرا میں ہوتی ہے کہ وہ خیال کرنے لگتے ہیں کہ جس رنگ نے مجھے پہچنوایا ہے اسی کو اور چوکھا کروں تو کافی ہو گا۔ وہ اسے تکرار نہیں کہتے، بلکہ تشدید کہتے ہیں۔ لیکن واقعہ یہ ہے کہ ستیز کی لے بلند کرنے سے تکرار کے علاوہ قاری کے تئیں حقارت کا تاثر پیدا ہوتا ہے کہ ہم نے جو لکھ دیا اور جس طرح لکھ دیا اسی کو اور بھی قوت کے ساتھ کہتے چلے جائیں گے۔ مظفر حنفی اور پھر شجاع خاور کے ساتھ یہی ہوا۔ اصل معاملہ یہ ہے کہ ذہانت اور طباعی شئے دیگر ہیں، اور ہوشیاری اور ذکاوت اور شے۔ اس کی مثال یہ ہے کہ ہوشیار اور ذکی طالب علم اپنے استاد سے جو کچھ حاصل کرتا ہے اسے گھما پھرا کر کام چلاتا رہتا ہے اور تخلیقی قوت رکھنے والا طالب علم جوکھم مول لیتا ہے اور استاد کے بتائے ہوئے طریقوں کو بھلانے کی کوشش کرتا ہے۔ نظامی عروضی نے ’’چہار مقالہ‘‘ میں لکھا ہے کہ جو شخص شاعری کرنا چاہے، اس کے لئے ضروری ہے کہ و ہ استادوں کے کم از کم دس ہزار شعر یاد کر لے۔ لیکن عربوں کا قول تھا کہ پہلے دس ہزار شعر یا د کرو، پھر انھیں حافظے سے محو کرو، تب شاعری شروع کرو۔

اس میں نکتہ یہ ہے کہ اچھا شاعر صرف مطالعہ نہیں کرتا، وہ گذشتگاں کی شاعری کو اپنے خون میں جذب کر لیتا ہے۔ غلام مرتضی راہی نے یہی کیا۔ انھوں نے اپنی طبیعت کی جولانی کو تجرید اور خیال بندی کی طرف موڑ دیا۔ ان کے جس مجموعے کے اشعار میں نے اوپر نقل کئے ہیں، وہ اسی عدم انفعال، اسی مضموں یابی اور اسی بلند لیکن غیر خطیبانہ لہجے میں ہے جسے ہم لوگوں نے خیال بندوں کے حوالے سے پہچا نا ہے، خواہ وہ شاہ نصیر ہوں یا غالب ہوں یا آتش و ناسخ و ذوق ہوں۔ اردو غزل گویوں کا عام رویہ محزونی اور واماندگی کا اظہار کرتا ہے۔ خیال بندوں کا رویہ اس سے مختلف تھا، بلکہ ان کی واماندگی بھی اپنا طنطنہ رکھتی تھی۔ غالب نے یوں ہی نہیں کہا تھا

رنج رہ کیوں کھینچئے وا ماندگی کو عشق ہے

اٹھ نہیں سکتا ہمارا جو قدم منزل میں ہے

اور مزید یہ بھی کہا

موج خوں سر سے گذر ہی کیوں نہ جائے

آستان یار سے اٹھ جائیں کیا

اسی طرح یہ بھی دیکھئے کہ خواجہ میر درد نے کہا

سخت بیباک ہے یہ خامۂ  شوق

اپنے ہاتھوں کو قلم کیجئے گا

تو غالب نے کہا

لکھتے رہے جنوں کی حکایات خوں چکاں

ہر چند اس میں ہاتھ ہمارے قلم ہوئے

عدم انفعال کے رنگ اسی وقت چوکھے نظر آتے ہیں جب شاعر (یعنی غزل کا متکلم) کار زار حیات میں مستحکم رہے۔ اگر آگے نہ بڑھ سکے تو اپنی جگہ پر قائم تو رہے۔ میں یہاں اس بات میں نہ جاؤں گا کہ راہی کے یہاں عدم انفعال کے رنگ ابھرنے اور چمکنے کا زمانہ وہی ہے جب وہ موت و حیات کی کشمکش میں مبتلا تھے اور دیر تک ایسے عالم میں تھے جہاں انھیں اپنی زندگی کا مستقبل تاریک نظر آتا تھا۔ میرے خیال میں یہ معاملہ شاعر کے سوانح حیات سے زیادہ شاعر کے مزاج سے تعلق رکھتا ہے۔ بہر حال، غلام مرتضیٰ راہی نے اپنے انداز بیان کو بتدریج اس انداز سے دور کر لیا جسے’’ غزل کا عام مزاج‘‘ کہا جاتا ہے، اور جو آج بھی بہت مقبول ہے۔ ان کے مجموعے ’’ؒلا کلام‘‘ سے چند شعر اور دیکھئے

بھول کر بھی کبھی چنگاری کو جگنو کہتا

ہم تو دامن ہی جلا لیتے اگر تو کہتا

سب تہی ظرف تھے پانی کے لئے دوڑ پڑے

قصۂ  صبر و رضا کون لب جو کہتا

جہاں سوال ہے قدموں پہ اس کے رکھنے کا

وہاں بھی چاہیئے سر کی سلامتی مجھ کو

اب انتظار کے دن ختم ہو گئے راہی

گلے لگائے گی اکیسویں صدی مجھ کو

چاروں شعروں میں اعتماد اور خود احتسابی کاجو رویہ ہے، وہ شاعر/متکلم کو عام انسانوں سے الگ کرتا ہے۔ اسی مجموعے کا ایک شعر میں نے اوپر نقل کیا تھا، اسے پھر دیکھئے

پہلے دیوار میں چنوا دیا مالک نے مجھے

پھر عمارت کو مرے نام سے موسوم کیا

کہیں سے بھی رونے دھونے، اپنی تقدیر پر افسوس کرنے، زمانے یا ’’مالک‘‘ کے ظلم پر شکوہ کرنے، اپنے کو پامال بتانے کا کوئی ذکر نہیں۔ بس ایک سخت اور سرد طنز ہے، صرف ’’مالک‘‘ پر نہیں، بلکہ پورے نظام حیات پر۔ اگلے مجموعے میں کئی لوگوں کی رائیں اور تقریظیں طبیعت کو منغض کرتی ہیں۔ جس شاعر کا دعویٰ ہو (اور صحیح دعویٰ ہو) کہ اکیسویں صدی اسے گلے لگانے کو بیچین ہے، اسے ادھر ادھر کے نقادوں اور رائے دہندوں کی ضرورت نہیں، خصوصاً اس صورت حال میں، کہ لوگ ابھی غلام مرتضی راہی کے کلام کے ابعاد اور اس کے اعماق تک پہنچ نہیں سکے ہیں۔ یہ کہنا کافی نہیں کہ غلام مرتضیٰ راہی ’’ہم عصر شاعروں میں اپنے منفرد اسلوب سے فوراً پہچان لئے جاتے ہیں۔ شاعر صاحب بصیرت ہو اور اپنا منفرد ڈکشن رکھتا ہو توایسے گہرے جمالیاتی تجربے سامنے آتے ہیں۔ ‘‘اس کے بعد ادھر ادھر سے کچھ شعر نقل کر دئیے گئے ہیں۔

در اصل ہم لوگ ’’انفرادیت‘‘ کی نشان دہی کرنے کی دھن میں ’’اچھائی‘‘ کی نشان دہی کرنا بھول جاتے ہیں۔ میں نے اکثر کہا ہے کہ انفرادی اسلوب ٹھیک تو ہے، لیکن پہلی شرط ہے کہ شاعری اچھی ہو۔ دوسری بات جو میں نے اکثر کہی ہے وہ یہ ہے کہ معاصر ادب کے تناظر میں یہ کہنا بہت معنی خیز نہیں کہ ہمارا ممدوح کوئی ’’عظیم ‘‘شاعر ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ وہ اچھا شاعر ہے کہ نہیں ؟عظمت کا فیصلہ تو ہم آپ نہیں، تاریخ کرے گی جب ہم آپ اور ہمارا ممدوح سب اپنے اپنے تکیے کو آباد کر چکے ہوں گے

یلوح الخط بالقرطاس دہرا

وہ کاتبہ، رمیم فی التراب

بات یہ ہے کہ ’اچھے‘‘ کی تو پہچان کم و بیش مقرر ہے، لیکن ’’عظیم‘‘ کی کوئی پہچان نہیں، بالخصوص معاصر ادب کے تناظر میں۔ مجھے تو ایسے شعر اچھے لگتے ہیں، جیسا کہ راہی کا یہ شعر ہے

خلوت میں اپنی کھل کے مجھے باریاب لکھ

اپنے کو با مراد مجھے کامیاب لکھ

معلوم نہیں راہی نے غالب کا یہ شعر پڑھا یا سنا ہے کہ نہیں

سوے خود خوان و بخلوت گہ خاصم جا دہ

انچہ دانی بشمار انچہ نہ دانی بشنو

غالب کے شعر میں مضمون زیادہ ہے اور بے نظیر برجستگی کے ساتھ نظم ہوا ہے۔ دوسرے مصرعے میں دونوں کا توازن اور معنی کی کثرت ایسی ہے کہ راہی کا شعر وہاں تک نہیں پہنچ سکتا۔ غالب کا شعر اپنے وقت میں بے حد اچھا شعر تھا اور آج ہم اسے بڑا شعر کہنے میں حق بجانب ہوں گے۔ راہی کا شعر آج کے زمانے میں نہایت توجہ انگیز ہے، اور یہی آج کے لئے بہت ہے۔ راہی کے شعر میں حقیقت سے زیادہ تخیل کا بیان ہے، یعنی جب تو مجھے اپنی خلوت میں بلائے گا تویوں ہو گا۔ غالب کے شعر میں انداز بیان انشائیہ، امریہ ہے، لیکن اس لطافت کے ساتھ کہ کہیں سے بھی تحکم کا شائبہ نہیں۔

غلام مرتضیٰ راہی کے قدم آج کل انھیں راہوں پر رواں ہیں۔ اب ان کے لہجے میں کچھ ایسی سنجیدگی اور تفکر کار فرما ہو گئے ہیں جو زندگی کے سرد و گرم کو دیکھنے والے کا خاصہ ہوتی ہے، لیکن ہر ایک کو وہ نصیب نہیں ہوتی۔ اس سنجیدگی میں المناکی جیسا انداز آ گیا ہے جو پہلے نہیں تھا

یہ دور ہے جو تمھارا رہے گا یہ بھی نہیں

کوئی زمانہ تھا میرا گذر گیا وہ بھی

ٹلا نہ آ کے مرا وقت ایک پل کے لئے

جسے قیام نہیں ہے ٹھہر گیا وہ بھی

شکل ایسی نہ تھی کنارے کی

لگ گئی کاٹ اس کو دھارے کی

کھل سکیں کب غبار میں آنکھیں

منتظر ہی رہیں ستارے کی

رہا ہمیشہ ہمیں ایک دوسرے کا خیال

اسے زمیں سے مجھے آسماں سے کام رہا

یوں ہی ذراسی ہلائی تھیں اس نے بنیادیں

نہ پھر کسی بھی بلندی پہ کوئی بام رہا

بہت خون اس میں بہا خواہشوں کا

لڑائی جو اک ہم نے دل سے لڑی ہے

میں تصویر بن کر اسے دیکھتا ہوں

جو دیوار میں کیل خالی گڑی ہے

میسر تھا جس کو کبھی چھت کا آنچل

وہ دیوار اب سر برہنہ کھڑی ہے

راہی نے غزل کے عشقیہ مضامین سے زیادہ تر حذر کیا ہے۔ جس شاعر ی پر تفکر اور تجریدی مضمون کا سایہ ہو، اسے عشق کی روایتی باتوں کی فکر نہیں رہتی۔ یہی وجہ ہے کہ راہی کے یہاں المناک لہجہ بھی روایتی عشقیہ مضامین سے نہیں حاصل ہوا ہے۔ ان کے یہاں ابھی یہاں کائناتی المیے کا احساس بہت کار فرما نہیں ہے، لیکن سامنے کی ’’حادثاتی‘‘ باتوں سے ان کا شعر بالکل محفوظ ہے۔ اس زمانے میں جب اکثر شعرا روزمرہ کی اخباری باتوں، یا کچھ مقبول، بلکہ ’’چلنے والے‘‘ والے مضامین کو نظم کر کے سمجھ لیتے ہیں کہ ہم نے انسانی زندگی کے درد کو بیان کر دیا، غلام مرتضیٰ راہی ایسے تمام ’’چلتے ہوئے‘‘ مضامین سے گریز کرتے ہیں۔ یہ گریز کچھ شعوری بھی ہو سکتا، لیکن زیادہ تر یہ ان کے مزاج کا خاصہ ہے۔ وہ پیچیدہ بیانی کے قائل ہیں، سیدھی اور آسان بات سے انھیں کوئی شغف نہیں۔ اگر ان کے یہاں عصر حاضر کی باتوں کی جھلک ملتی بھی ہے تو اشاروں اور کنایوں میں لپٹی ہوئی ملتی ہے۔ ان کے یہاں استعارہ، یا پیکر، دونوں ہی کا وفور نہیں ہے۔ لیکن بیان کے ابہام سے وہ اپنے کام نکال لیتے ہیں۔

برادری نے اسے پھر نہیں قبول کیا

قفس سے چھوٹ کے آیا ہوا پرندہ تھا

رہا میں نقطۂ  پرکار کی طرح تنہا

ہزار گرد مرے ایک وسیع حلقہ تھا

پرکھوں سے چلا آتا ہے یہ نقل مکانی

اب مجھ سے بھی خالی مرا گھر ہونے لگا ہے

اب سنگ دلی مجھ سے چھپائے نہیں چھپتی

آنکھوں سے نمودار شرر ہونے لگا ہے

عرصہ کبھی درکار ہوا کرتا تھا راہی

اب روز کوئی معرکہ سر ہونے لگا ہے

دو چار پل ایسے کہ صدی جن پہ کرے ناز

جینے کی زیادہ میں تمنا نہیں رکھتا

کیا لطف تھا ہلکی سی جھلک میں کبھی اس کی

اب مجھ سے روا نام کو پردہ نہیں رکھتا

جب جوش میں آ جائے تو کیا چیز ہے کشتی

کچھ ہوش کناروں کا بھی دریا نہیں رکھتا

ان اشعار میں خارج کی کائنات اور فرد کی کائنات کی پیچیدگی کے نئے منظر دکھائی دیتے ہیں۔ انسانی رشتوں کا ذکر یہاں متکلم کی تہ دار شخصیت کے پردے میں ہوتا ہے۔

ہوئے ختم فرصت کے اوقات جب سے

ملاقات ہونے لگی رہ گذر میں

انھیں نیند سے اب جگانا ہے مشکل

جو سوتے نہ تھے انتظار سحر میں

سوالوں کی بوچھار کے بعد راہی

جواب اس کا اک جملۂ  مختصر میں

یہ دنیا آسانی سے نبھ جانے والی جگہ نہیں، لیکن راہی اس حقیقت کو بیان کرنے کے لئے ایسا اسلوب استعمال کرتے ہیں جو بظاہر سادہ لیکن بباطن معنی سے بھر پور ہے۔ غالب نے اسی لئے کہا تھا۔

سخن سادہ دلم را نہ فریبد غالب

نکتۂ  چند ز پیچیدہ بیانے بمن آر

٭٭٭

 (۲۰۰۰، نظر ثانی اور اضافہ، ۲۰۱۲)

٭٭٭

 

شاعری کا پہلا سبق

1۔ موزوں ، ناموزوں سے بہتر ہے۔

(الف)چونکہ نثری نظم میں موزونیت ہوتی ہے، اس لیے نثری نظم، نثر سے بہتر ہوتی ہے۔

2۔ انشا، خبر سے بہتر ہے۔

3۔ کنایہ، تصریح سے بہتر ہے۔

4۔ ابہام، توضیح سے بہتر ہے۔

5۔ اجمال، تفصیل سے بہتر ہے۔

6۔ استعارہ، تشبیہ سے بہتر ہے۔

7۔ علامت، استعارے سے بہتر ہے۔

(الف) لیکن علامت چونکہ خال خال ہی ہاتھ لگتی ہے، اس لیے استعارے کی تلاش بہتر ہے۔

8۔ تشبیہ، مجرد اور سادہ بیان سے بہتر ہے۔

9۔ پیکر، تشبیہ سے بہتر ہے۔

10۔ دو مصرعوں کے شعر کا حسن اس بات پر بھی منحصر ہوتا ہے کہ دونوں مصرعوں میں ربط کتنا اور کیسا ہے؟

11۔ اس ربط کو قائم کرنے میں رعایت بہت کام آتی ہے۔

12۔ مبہم شعر، مشکل شعر سے بہتر ہوتا ہے۔

13۔ مشکل شعر، آسان شعر سے بہتر ہوسکتا ہے۔

14۔ شعر کا آسان یا سریع الفہم ہونا اس کی اصلی خوبی نہیں ۔

15۔ مشکل سے مشکل شعر کے معنی بہرحال محدود ہوتے ہیں ۔

16۔ مبہم شعر کے معنی بہرحال نسبتاً محدود ہوتے ہیں ۔

17۔ شعر میں معنی آفرینی سے مراد یہ ہے کہ کلام ایسا بنایا جائے جس میں ایک سے زیادہ معنی نکل سکیں ۔

18۔ چونکہ قافیہ بھی معنی میں معاون ہوتا ہے، اس لیے قافیہ پہلے سے سوچ کر شعر کہنا کوئی گناہ نہیں ۔

19۔ شعر میں کوئی لفظ، بلکہ کوئی حرف، بے کار نہ ہونا چاہیے۔ لہٰذا، اگر قافیہ یا ردیف یا دونوں پوری طرح کارگر نہیں ہیں تو شعر کے معنی کو سخت صدمہ پہنچنا لازمی ہے۔

20۔ شعر میں کثیر معنی صاف نظر آئیں ، یا کثیر معنی کا احتمال ہو، دونوں خوب ہیں ۔

21۔ سہل ممتنع کو غیر ضروری اہمیت نہ دینا چاہیے۔

22۔ شعر میں آورد ہے کہ آمد، اس کا فیصلہ اس بات سے نہیں ہوسکتا کہ شعر بے ساختہ کہا گیا یا غور و فکر کے بعد۔ آورد اور آمد، شعر کی کیفیات ہیں ، تخلیق شعر کی نہیں ۔

23۔ بہت سے اچھے شعر بے معنی ہوسکتے ہیں لیکن بے معنی اور مہمل ایک ہی چیز نہیں ۔ اچھا شعر اگر بے معنی ہے تو اس سے مراد یہ نہیں کہ وہ مہمل ہے۔

24۔ قافیہ خوش آہنگی کا ایک طریقہ ہے۔

25۔ ردیف، قافیے کو خوش آہنگ بناتی ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ مردف نظم، غیر مردف نظم سے بہتر ہے۔

26۔ لیکن ردیف میں یکسانیت کا خطرہ ہوتا ہے، اس لیے قافیے کی تازگی ضروری ہے تاکہ ردیف کی یکسانیت کا احساس کم ہو جائے۔

27۔ نیا قافیہ، پرانے قافیے سے بہتر ہے۔

28۔ لیکن نئے قافیے کو پرانے ڈھنگ سے استعمال کرنا بہتر نہیں ، اس کے مقابلے میں پرانے قافیے کو نئے رنگ سے نظم کرنا بہتر ہے۔

29۔ قافیہ بدل دیا جائے تو پرانی ردیف بھی نئی معلوم ہونے لگتی ہے۔

30۔ قافیہ، معنی کی توسیع بھی کرتا ہے اور حد بندی بھی۔

31۔ ہر بحر مترنم ہوتی ہے۔

32۔ چونکہ شعر کے آہنگ بہت ہیں اور بحریں تعداد میں کم ہیں ، اس لیے ثابت ہوا کہ شعر کا آہنگ بحر کا مکمل تابع نہیں ہوتا۔

33۔ نئی بحریں ایجاد کرنے سے بہتر ہے کہ پرانی بحروں میں جو آزادیاں جائز ہیں ، ان کو دریافت اور اختیار کیا جائے۔

34۔ اگر نئی بحریں وضع کرنے سے مسائل حل ہوسکتے تو اب تک بہت سی بحریں ایجاد ہو چکی ہوتیں۔

35۔ آزاد نظم کو سب سے پہلے مصرع طرح کے آہنگ سے آزاد ہونا چاہیے۔

36۔ اگر مصرعے چھوٹے بڑے ہیں تو بہتر ہے کہ ہر مصرعے کے بعد وقفہ نہ ہو۔

37۔ نظم کا عنوان اس کے معنی کا حصہ ہوتا ہے، اس لیے بلا عنوان نظم، عنوان والی نظم کے مقابلے میں مشکل معلوم ہوتی ہے، بشرطیکہ شاعر نے گمراہ کن عنوان نہ رکھا ہو۔ لیکن عنوان اگر ہے تو نظم کی تشریح اس عنوان کے حوالے کے بغیر نہیں ہونا چاہیے۔

38۔ شعر کی تعبیر عام طور پر ذاتی ہوتی ہے، لیکن وہ جیسی بھی ہو اسے شعر ہی سے بر آمد ہونا چاہیے۔

39۔ آزاد نظم کا ایک بڑا حسن یہ ہے کہ مصرعوں کو اس طرح توڑا جائے یا ختم کیا جائے کہ اس سے ڈرامائیت یا معنوی دھچکا حاصل ہو۔ معرا نظم میں بھی یہ حسن ایک حد تک ممکن ہے۔

40۔ ہماری آزاد نظم بحر سے آزاد نہیں ہوسکتی۔

41۔ آزاد اور نثری نظم کے شاعر کو ایک حد تک مصور بھی ہونا چاہیے۔ یعنی اس میں یہ صلاحیت ہونا چاہیے کہ وہ تصور کرسکے کہ اس کی نظم کتاب یا رسالے کے صفحے پر چھپ کر کیسی دکھائی دے گی۔

42۔ قواعد، روزمرہ، محاورہ کی پابندی ضروری ہے۔

43۔ لیکن اگر ان کے خلاف ورزی کر کے معنی کا کوئی نیا پہلو یا مضمون کا کوئی نیا لطف ہاتھ آئے تو خلاف ورزی ضروری ہے۔

44۔ لیکن اس خلاف ورزی کا حق اسی شاعر کو پہنچتا ہے جو قواعد، روزمرہ، محاورہ پر مکمل عبور حاصل اور ثابت کر چکا ہو۔

45۔ مرکب تشبیہ، یعنی وہ تشبیہ جس میں مشابہت کے کئی پہلو ہوں ، مفرد تشبیہ سے بہتر ہے۔

46۔ جذباتیت، یعنی کسی جذبے کا اظہار کرنے کے لیے جتنے الفاظ کافی ہیں ، یا جس طرح کے الفاظ کافی ہیں ، ان سے زیادہ الفاظ، یا مناسب طرح کے الفاظ سے زیادہ شدید طرح کے الفاظ استعمال کرنا، بیوقوفوں کا شیوہ ہے۔

47۔ استعارہ جذباتیت کی روک تھام کرتا ہے۔ اسی لیے کم زور شاعروں کے یہاں استعارہ کم اور جذباتیت زیادہ ہوتی ہے۔

48۔ الفاظ کی تکرار بہت خوب ہے، بشرطیکہ صرف وزن پورا کرنے کے لیے یا خیالات کی کمی پورا کرنے کے لیے نہ ہو۔

49۔ شاعری علم بھی ہے اور فن بھی۔

50۔ یہ جو کہا گیا ہے کہ شاعر خدا کا شاگرد ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ شاعر کو کسی علم کی ضرورت نہیں ۔ اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ شاعرانہ صلاحیت اکتسابی نہیں ہوتی۔

51۔ شاعرانہ صلاحیت سے موزوں طبعی مراد نہیں ۔ اگرچہ موزوں طبعی بھی اکتسابی نہیں ہوتی، اور تمام لوگ برابر کے موزوں طبع نہیں ہوتے اور موزوں طبعی کو بھی علم کی مدد سے چمکایا جاسکتا ہے لیکن ہر موزوں طبع شخص شاعر نہیں ہوتا۔

52۔ شاعرانہ صلاحیت سے مراد ہے، لفظوں کو اس طرح استعمال کرنے کی صلاحیت کہ ان میں نئے معنوی ابعاد پیدا ہو جائیں ۔

53۔ نئے معنوی ابعاد سے مراد یہ ہے کہ شعر میں جس جذبہ، تجربہ، مشاہدہ، صورت حال، احساس یا خیال کو پیش کیا گیا ہے، اس کے بارے میں ہم کسی ایسے تاثر یا کیفیت یا علم سے دو چار ہوں جو پہلے ہماری دسترس میں نہ رہا ہو۔

54۔ شاعری مشق سے ترقی کرتی ہے اور نہیں بھی کرتی ہے۔ صرف مشق پر بھروسا کرنے والا شاعر ناکام ہوسکتا ہے لیکن مشق پر بھروسا کرنے والے شاعر کے یہاں ناکامی کا امکان، اس شاعر سے کم ہے جو مشق نہیں کرتا۔

55۔ مشق سے مراد صرف یہ نہیں کہ شاعر کثرت سے کہے، مشق سے مراد یہ بھی ہے کہ شاعر دوسروں (خاص کر اپنے ہم عصروں اور بعید پیش روؤں ) کے شعر کثرت سے پڑھے اور ان پر غور کرے۔

56۔ کیوں کہ اگر دوسروں کی روش سے انحراف کرنا ہے تو ان کی روش جاننا بھی ضروری ہے۔ دوسروں کے اثر میں گرفتار ہو جانے کے امکان کا خوف اسی وقت دور ہوسکتا ہے جب یہ معلوم ہو کہ دوسروں نے کہا کیا ہے؟

57۔ تمام شاعری کسی نہ کسی معنی میں روایتی ہوتی ہے، اس لیے بہتر شاعر وہی ہے جو روایت سے پوری طرح باخبر ہو۔

58۔ تجربہ کرنے والا شاعر، چاہے وہ ناکام ہی کیوں نہ ہو جائے، محفوظ راہ اختیار کرنے والے شاعر سے عام طور پر بہتر ہوتا ہے۔

59۔ تجربے کے لیے بھی علم شرط ہے۔ پس علم سے کسی حال میں مفر نہیں ۔

٭٭٭

ماخذ:

“تنقیدی افکار”، جنوری 2004، قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان، نئی دہلی

٭٭٭

مآخذ: ‘اثبات‘  (مدیر: اشعر نجمی) کے شمارے اور  ’تفہیم‘ راجوری، مدیر خالد کرار

اثبات اور اردو الائیو وغیرہ ویب سائٹس سے

تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید