FavoriteLoadingپسندیدہ کتابوں میں شامل کریں

 نوٹ : قارئین کی سہولت کے لیے یہ کتاب تین حصوں میں پیش کی جا رہی ہے ۔

بعون صناع مکین و مکان و بفضل خلاق زمین و زمان



اردوئے معلّیٰ

یعنی

کارنامہ فصاحت و سرمایہ بلاغت، رقعات اردو


نجم الدولہ، دبیر الملک، مرزا نوشہ اسد اللہ خان بہادر نظام جنگ المتخلص بہ غالب


جو بلحاظ زبان دانی تعلیم اطفال کے لئے ایک دستور العمل ہے

جمع و ترتیب: سید اویس قرنی

 

ماخذ:نسخہ جو سید عبد السلام کے اہتمام سے مطبع فاروقی واقع دہلی میں طبع ہوا ۱۳۲۶ ھ ۱۹۰۸ء

بسم اللہ الرحمن الرحیم

کوئی بتلاؤ کہ ہم بتلائیں کیا؟

“نماز مومن کی معراج ہے ” یہ جملہ کچھ اتنے تواتر اور تسلسل سے دہرایا جاتا ہے کہ کبھی کسی نے اس کے مطلب پر غور کرنے کی کوشش نہیں کی۔ غور کیا ہوتا تو شاید میری طرح کسی اور نے بھی وہی سوچا ہوتا جو میں نے سوچا۔ یہاں اپنے نمازی ہونے کا ڈھنڈورا پیٹنا مقصود نہیں ، صرف یہ واضح کرنا ہے کہ میں نے بھی بہت عرصہ نمازیں پڑھیں۔ مگر آج تک مجھے تو کوئی معراج نصیب نہ ہو سکی۔ اور تقریباً جتنے نمازیوں کو میں جانتا ہوں ان کے بارے میں وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ ان کا دامن بھی میری طرح خالی ہے۔ پھر یہ جملہ گھڑنے والے کو کیا سوجھی۔۔۔۔ ؟؟ اس نے کس برتے پر اتنی لمبی چھوڑی۔۔۔۔ ؟؟

مگر جب غیر جانبداری سے سوچا اور اپنے گریبان میں جھانکا۔ تو مجھ پر اس جملے کی سچائی اور اپنی نمازوں کا کھوکھلا پن خوب واضح ہو گیا۔

حدیث نبوی ﷺ کے مطابق احسن نماز وہ ہے۔ جو اس طرح ادا کی جائے کہ” نمازی کو پختہ یقین ہو کہ میں اللہ کی بارگاہ میں ہوں اور اللہ مجھے دیکھ رہا ہے۔ میں اسے دیکھ رہا ہوں۔ ” انسان بہت جلد باز ہے ، اور اس پر مستزاد اپنے عقیل ہونے کے زعم میں مبتلا ہے۔ میری ہی مثال لے لیجیئے۔ میں نے اپنی نمازوں کی کیفیت و حقیقت پر نظر ڈالے بغیر فوراً سے بھی پیشتر اس معراج والے جملے کو جھٹلانے پر کمر باندھ لی۔

جیسے نماز ایک تحفہ ہے جو اللہ نے اپنے مسلمان بندوں کو عطا کیا ہے۔ اسی طرح غالب بھی ایک انمول تحفہ ہے جو اللہ نے اپنے اردو بولنے والے بندوں کو دیا۔ اس تحفے کی جامعیت اور ہمہ گیری دیکھیئے۔ یہ صرف مسلمانوں کے لئے نہیں بلکہ ہر اس انسان کے لئے ہے جو اردو بولتا ہے یا کم از کم اردو سمجھ سکتا ہے۔ صرف اردو ہی کیوں غالب تو خود فرماتے ہیں :۔ “بنی آدم کو، مسلمان ہو یا ہندو یا نصرانی عزیز رکھتا ہوں اور اپنا بھائی گنتا ہوں۔ دوسرا مانے یا نہ مانے۔ ” لیکن یہاں چونکہ بات اردوئے معلیٰ ٰ کی ہے تو ہم صرف اردو والا پہلو مد نظر رکھتے ہیں۔ جب لارڈ میکالے نے مشرقی ادبیات کا مذاق اڑایا کہ مغربی ادب کے شاہکاروں سے بھری الماری کا ایک تختہ مشرقی ادبیات کی پوری لائبریری سے زیادہ وقیع ہے۔ تو اس وقت مشرق کے وقار اور پندار کا سہارا بنا دیوانِ غالبؔ۔

جب اقبال اور ڈاکٹر بجنوری نے غالب کو گوئٹے کے مقابل نہ صرف کھڑا کیا بلکہ غالب کا قد گوئٹے سے کچھ نکلتا ہوا ثابت کیا۔ اور شیکسپئر مشرق کے حیوانِ ظریف سے پیچھے رہ گیا تھا۔ یہ وقار صرف غالب کو ہی نہیں بلکہ غالب کے ذریعے پورے غلام مشرق کو ملا۔ اس کی پوری تہذیب کو ملا۔ گویا غالب ہمارے قومی پندار کا محافظ اور غلام مشرق کی سرفرازی کا نشان ہے۔

اور ڈاکٹر عبدالرحمن بجنوری کہہ اٹھے :۔ “ہندوستان کی الہامی کتابیں دو ہیں۔ ایک مقدس وید دوسرا دیوانِ غالب۔ “

مذکورہ بالا سطور کو بہت آسانی سے صرف “غالب کے طرفدار ” کہہ کر جھٹلایا جا سکتاہے۔ اور اسی آسانی سے اپنی سطحیت اور جہولت کا ثبوت دیا جا سکتا ہے۔

میں یہ نہیں کہتا کہ دیوانِ غالب یا اردوئے معلیٰ کسی نے نہیں پڑھے۔ مگر جیسا پڑھنے کا حق ہے ویسا یقیناً بہت کم لوگوں نے پڑھے۔ وہی فرق جو نماز والی مثال میں مَیں واضح کر آیا ہوں یہاں بھی ملحوظِ خاطر رہے تو کوئی بعید نہیں کہ کسی کو وہ غالبیانہ معراج نصیب نہ ہو جو مجھے یہ پڑھنے سے نصیب ہوئی۔

خود جنابِ مرزا نوشہ فرماتے ہیں

بخشے ہے جلوہ گل ذوقِ تماشا غالب

چشم کو چاہیے ہر رنگ میں وا ہو جانا

قطرے میں دجلہ دکھائی نہ دے ، اور جزو میں کُل

کھیل لڑکوں کا ہوا، دیدہ بینا نہ ہو ا

اس کتاب کو پڑھنے کا احسن طریقہ یہ ہے کہ آپ محسوس کریں کہ آپ غالب کے سامنے بیٹھے ہیں۔ وہ آپ کو دیکھ رہے ہیں اور آپ انہیں دیکھ اور سن رہے ہیں۔ پھر یہ خاکسار گارنٹی اور ضمانت دیتا ہے کہ آپ کی بہت سی غلط فہمیاں دور ہوں گی۔ آپ پر غالب کے بہت سے ان دیکھے اور ان سنے رنگ آشکار ہوں گے۔ دل کے صنم خانے میں دھرے بہت سے بت منہ کے بل گر جائیں گے۔ اور کوئی بعید نہیں کہ آپ بھی خود کو انا الحق کا نعرہ لگانے پر مجبور پائیں۔ لیکن اگر آپ محض اپنی مطالعہ شدہ کتب کی فہرست میں اضافے کی خاطر پڑھ رہے تو آپ ناحق اپنا وقت ضائع کر رہے ہیں۔ اس کتاب میں آپ کے کام کی کوئی چیز نہیں ہے۔

اس کتاب کو کمپوز کرتے وقت میں متن میں اپنی طرف سے کوئی کمی بیشی کرنے کا گناہگار نہیں ہوا۔ ہاں البتہ بعض الفاظ کی جدید املا قوسین میں ساتھ ہی لکھ دی۔ اور قارئین کو حواشی کے اضافی بوجھ سے سبکدوش کرنے کی کوشش کی ہے۔ جہاں جہاں مجھے غلطیاں نظر آئیں ان کا تذکرہ میں نے کتاب کے آخر میں کرنے کی بجائے “انصاف دہلیز پر ” کے اصول کے تحت وہیں قوسین میں ذکر کر دیا ہے۔

شہادت ہے مطلوب و مقصود ِ مومن

نہ مالِ غنیمت، نہ کشور کشائی

یہ کتاب بھی اسی جذبے کے تحت کمپوز کی گئی۔ اس سے کسی قسم کی نمود و نمائش یا ذاتی مفاد مطلوب نہیں۔ یہ صرف ایک عظیم زبان اور ایکعظیم انسان اور استاد کو ایک ہیچمداں شاگردی کے دعوے دار کا چھوٹا سا خراجِ تحسین ہے۔ اور اپنے جیسے بے شمار قتیلانِ غالب کی خدمت میں ایک برادرانہ نذرانہ ہے۔

گر قبول افتد زہے عز و شرف

احقر العباد:۔ سید اویس قرنی المعروف بہ چھوٹا غالب

دیباچہ

من تصنیف شاعر شیریں مقال ناثر عدیم المثال جناب میر مہدی صاحب المتخلص بہ مجروح شاگرد رشید جناب مرزا اسد اللہ خان غالب مد ظلہم

ستایش داور جہاں آفرین آسان نہیں کیونکر بیان ہو اور نعت سید المرسلینﷺ مشکل ہے زبان کیا مرد میدان ہو وہ دریائے ذخار ہے یہ محیط ناپیدا کنار ہے۔ وہاں ذہن نا رسا اور فہم بے سروپا یہاں عقل معترف بعجز و قصور و خرد ناچار و مجبور۔ پھر اس صورت میں قلم مقطوع اللسان کیا نگارش کرے سوائے اس کے کہ اصل مطلب گزارش کرے اور وہ یہ ہے کہ سخنورانِ خرد پیشہ اور خرد مندانِ درست اندیشہ خوب جانتے ہیں کہ ہمیشہ سے کلام عرب کی شیرینی اور زبان عجم کی نمکینی گوش زد خاص و عام ہے اور ہر عقیل و فہیم اسی بات پر متفق الکلام ہے۔ مگر یہ جو زبانِ اردو نے ہندوستان میں رواج پایا ہے یہ بھی ترکیب کی خوبی اور حسن کی اسلوبی میں انہی زبانوں کے ہم پایہ ہے۔ اگر فصحائے عرب و عجم کماحقہ اس زبان کی ماہیت پر عبور پائیں تو اپنی زبان سے زیادہ اس کی تحسین فرمائیں ہر چند ابتدائے رواج سے ہر عہد میں کاملانِ عصر اس معشوقہ خرد فریب کی آراستگی و پیراستگی میں سعی فراواں اور کوشش بے پایاں کرتے آئے ہیں مگر بفعل اس زمانہ میں اس زبان کی خوبی کا یہ مرتبہ پہنچا ہے کہ بیان سے باہر ہو گیا ہے اب یہ بدرِ انور بدرجہ کمال ہے آگے بیمِ زوال ہے خصوصاً زبانِ اہلِ دہلی کہ اردوئے معلی بولنا ان کا حصہ ہے۔ ہر چند بعض حضرات کو اس بات کا غصہ ہے مگر جو صاحب کہ فہمِ سلیم و ذہنِ مستقیم و طبع رسا و مزاجِ آشنا رکھتے ہیں وہ اس امر کو مان جانتے ہیں معوج الذہن و کج رائے یوں ہی باتیں بتاتے ہیں بھلا دہلی کا اس قدر کیونکر نہ مرتبہ ہو جب اس عدیم النظیر کا یہ شہر مینو بہر مسکن و ماوا ہو جس کی طبع و قاد نے عقدہائے معانی کو وا کیا ہے جس کے ذہن نقاد نے پست٭ (کتاب میں پُشت لکھا ہے :۔ چھوٹا غالب) و بلند شاہراہِ سخن کو ہموار و مصفا کیا ہے۔ فصاحت اگر لعل ناب ہے تو وہ اس کی آب و تاب ہے اور بلاغت اگر گوہر بے بہا ہے تو وہ اس کی آبروئے گوہر فزا ہے۔ معنی اگر گل ہے تو وہ اس کی شمیم روح فزا ہے اور سخن اگر آئینہ ہے تو وہ اس کی صیقل جلوہ نما ہے۔ اس کا سینہ بے کینہ نکات حکمیہ کا گنجینہ اس کا قلب با صفا اسرارِ علمیہ کا دفینہ شعرو شاعری کی اس ذات نے رونق بڑھائی ہے اردو نے اس کی زبان پر گزر کر عزت پائی ہے جس قدر تعریف کہ برمز و ایما ہے یہ جناب نجم الدولہ دبیر الملک نواب اسد اللہ خان صاحب غالب تخلص کی ذاتِ با برکات کی خوبیوں کا ایک ادنی شمّہ ہے

؎ میرا اُ ستاد کہ ہے جس کا سخن عالمگیر

ہے ظہوری کا ظہور اور نظیری کا نظیر

حضرت کا جو سخن ہے وہ دُرِ عدن ہے جو بات ہے از رہِ معنی کرامات ہے۔ یہ نثر کی رنگینی، یہ نظم کی شیرینی، یہ غزل کی فصاحت، یہ قصیدہ کی متانت، یہ لفظوں کی محبوبی، یہ ترکیب کی خوش اسلوبی، یہ جدتِ معانی، یہ طلاقتِ لسانی، یہ سلاستِ عبارت، یہ روانی مطالب دیکھی نہ سنی سطریں ہیں کہ موتی کی لڑیاں ہیں۔ یہ باتیں ہیں کہ مصری کی ڈلیاں ہیں۔ نثر نثرہ نثار پر نظم انجم قربان۔ حسن تقریر پر تحریر شعاع سے نثار کرنے کو آفتاب زر بداماں۔ گفتارِ شکر بار کو جادو کہوں سحر کہوں حیران ہوں کیا کہوں۔ لاحول ولاقوۃ کیا سودائیوں کی باتیں کرتا ہوں کیا جادو ہے کیا سحر کا اثر ہے۔ گفتار اعجاز طراز کے رشک سے ہندوستان میں نہ جادو ہے نہ سحر ہاں بابل کے کسی کونے میں چھپا ہو تو کیا خبر ہے بھلا اس عبارتِ فصاحت نشان کا کیا وصف بیان ہو جس کی صفائی استعارات کی خجلت سے دُرِ شہوار پانی پانی۔ جس کی رنگینی فقرات سے جگر خون لعل رمانی۔ نہیں نہیں یہ ستایش کچھ سرمایہ نازش نہیں۔ کیا موتی کیا لعل ان کی وجہ قدر و مقدار یعنی آب و تاب اندک تغیر میں نایاب ہے۔ اور یہ قیامت تک یکساں۔ تہیدستانِ سرمایہ سخن کو فیض رسانِ عبارتِ متین کی کیفیت دیکھ کر جامی تو کیا افلاطون خم نشین کے نشے ہرن ہوتے ہیں اور اس کے ادراکِ غوامض میں اپنی عقل و خرد کھوتے ہیں جہاں ایسے ایسے سرخوشان خمستانِ معنی جرعہ خوار بادہ گفتار اور نشہ حسنِ بیان سے سرشار ہوں پھر ہم سے نارسیدہ اس پختگی مطالب کو کیا پائیں کہاں سے ایسی قوتِ متخیلہ لائیں سوائے اس کے کہ یہ راہِ باریک دیکھ کر قدم لڑکھڑائیں اور اپنی نا فہمی پر عرقِ انفعال میں غوطہ کھائیں۔ مگر افسوس کہ اس جنسِ گراں ارز کا کوئی خریدار نہ ہوا اور اس یوسفِ مصرِ سخندانی کا کوئی طالبِ دیدار نہ ہوا۔ حضرت کا ظہور حضرت اکبر شاہ کے عہد میں ہوتا شاہ عباس دارائے ایران کے عصر میں ہوتا۔ نظیری اپنا نظیر دیکھ لیتا۔ ظہوری کو فنِ شعر میں اپنا حریفِ غالب نظر آ جاتا۔ خیر اب ہم یوں دل خوش کرتے ہیں کہ اگر حضرت اس وقت میں زینت بخشِ جہان ہوتے تو ہم کہاں ہوتے یہ ہمارے طالع کی خوبی یہ ہماری خوش نصیبی کہ ایسے منتخب روزگار کے جمالِ با کمال سے مقتبنس انوارِ فیض ہوئے اور شرفِ قدم بوسی سے بہرہ اندوز۔ جب حضرت کو دیکھ لیا گویا سب سخندانِ پیشینیہ کو دیکھ لیا۔ جب حضرت کا کلام سن لیا سب کا کلام سن لیا۔ مبیّن میرے قول کی یہ اردو کی تحریر ہے کہ سہل الممتنع کیا بلکہ ممتنع النظیر ہے۔ اس اردو کا نیا انداز ہے کہ جس کے دیکھنے سے روح کو اہتزاز ہے جو کہ بعد تکمیل ہو جانے کلیاتِ نظم و نثر فارسی کہ وہ ہر ایک آویزہ گوشِ فصاحت و پیرایہ گلوئے بلاغت ہے اور ہندوستان سے ایران تک یہ ایک نکتہ سنج کے وردِ زبان ہے مدت سے حضرت کو اس طرزِ نو ایجادِ اردو سے لگاؤ ہے اور خط و کتابت میں اسی کا برتاؤ ہے۔ جب شائقینِ ہنر دوست نے اس نمک ہندی کا مزہ چکھا ہر ایک سرمایہ لذت مائدہ سخن سمجھ کر طلبگار خواستگار ہوا۔ اس واسطے منشی جواہر سنگھ صاحب جوہر ؔ نے کہ یہ صاحب اخلاق و مروت میں یکتا اور علم دوست و ہنر آشنا ملازمیں معززین سرکار سے ہیں۔ اور اب پنشن دار ہیں۔ علم فارسی کو خوب جانتے ہیں اشعار بھی اسی زبان میں فرماتے ہیں منشی صاحب کے اشعار قابل دید ہیں جناب مرزا صاحب کے شاگرد رشید ہیں۔ چنانچہ خود جناب مرزا صاحب فرماتے ہیں ؎ در معرکہ تیغیم کہ جوہر داریم۔

ان کی طبع والا نے یہ اقتضا کیا یہ گہر ہائے شب افروز سلکِ تحریر میں منسلک ہو کر زینت بخشِ عروسِ سخن ہوں اور یہ گلہائے پراگندہ جمع ہو کر ایک جا گلدستہ ہوں تا اس کی روائح روح پرور سے دماغ نکتہ سرایاں غیرتِ چمن ہو۔ اس واسطے میر فخر الدین صاحب مہتمم اکمل المطابع دہلی نے سعی بے پایاں اور لالہ بہاری لال صاحب منشی مطبع مذکور نے کوششِ فراوان سے اکثر خطوط جمع کیے اور قصد انطباع کیا اور اردوئے معلیٰ نام رکھا گیا اور ان خطوں کو دو حصوں پر منقسم کیا۔ پہلے حصہ میں صاف صاف عبارت کے خط تحریر کیے تا طلبائے مدرسہ فائدہ اٹھائیں۔ دوسرے حصہ مطالب مشکلہ کی تحریر اور تقریظ وغیرہ لکھی تا سخنوران معنی یاب اس کے دیکھنے سے مزہ پائیں اور منشی صاحب موصوف نے اس ہیچمدان خاکسار مجروح دل افگار سے اس کا دیباچہ لکھنے کو فرمایا۔ بندہ یہ سن کر حیران ہوا یہ یارب دُرِ شاہوار کے سامنے خزف ریزوں کا کیا اعتبار اور لعل و زمرد میں پتھر کے ٹکڑوں کا کیا وقار مگر “الامر فوق الادب”سمجھ کر اپنے کو اسی خوانِ نعمت کا ذُلّہ چین جان کر یہ چند سطریں لکھیں۔ بقول عرفی؎

چو ذرہ گر حقیریم نسبتیم ایں بس

کہ آفتاب بود نقطہ مقابل ما

٭٭٭

 

 

رقعہ بنام نواب میر غلام بابا خان بہادر

نواب صاحب جمیل المناقب عمیم الاحسان سلامت۔ فقیر اسد اللہ عرض کرتا ہے کہ آپ کے خط کے آنے نے میری آبرو بڑھائی۔ حق تعالیٰ تمہیں سلامت رکھے ۳۲دُرفشِ کاویانی کی رسید پہنچی۔ بموجب ارشاد کے اب اور نہ بھیجوں گا۔ قبلہ غرض شہرت ہے۔ اس قلمرو میں مَیں نے جلدیں تقسیم کی ہیں اس ملک میں آپ بانٹ دیں۔ اتنی میری عرض قبول ہو کہ بڑودہ گجرات میں سید احمد حسن صاحب مودودی اور میر ابراہیم علی خاں صاحب کو ایک ایک جلد بھجوا دیجئے گا۔ اور چھ جلدیں مولانا سیف الحق کو عطا کیجئے گا۔ کہ وہ اپنے دوستوں کو بھجوا دیں۔ خواجہ بدر الدین خاں میرے بھتیجے نے بوستانِ خیال کو اردو لکھا ہے اس کا ایک اشتہار اور یہاں ایک اخبار نیا جاری ہونے والا ہے اس کے دو اشتہار اس خط کے ساتھ بھیجتا ہوں آپ یا آپ کے احباب میں سے کوئی صاحب کتاب کے یا اخبار کے خریدار ہیں تو اشتہار کے مضمون کے مطابق عمل میں لائیں۔ والسلام مع الاکرام۔ میاں سیف الحق سیاح کو سلام۔ ۲۲ مارچ ۱۸۶۶ء

ایضاً

سبحان اللہ تعالیٰ شانہ ما اعظم برہانہٗ۔ جناب مستطاب نواب میر غلام بابا خاں بہادر سے بتوسط منشی میاں داد خاں صاحب شناسائی بہم پہنچی۔ لیکن واہ اول ساغر و دُردی کیا جگر خون کن اتفاق ہے۔ پہلا عنایت نامہ جو حضرت کا مجھ کو آیا اس میں خبرِ مرگ۔ اب میں جو اس کا جواب لکھوں اور یہ میرا پہلا خط ہو گا لامحالہ مضامیں اندوہ انگیز ہوں گے نہ نامہ شوق نہ محبت نامہ صرف تعزیت نامہ صریر قلم ماتمیوں کے شیون کا خروش ہے جو لفظ نکلا وہ سیاہ پوش ہے۔ ہے ہے نواب میر جعفر علی خاں جیسا امیر روشن گہر نام آور۔ رُوشناس اعیان ہندو انگلینڈ وسط جوانی یعنی ۴۶ برس کی عمر میں یوں مر جائے ؎نخل چمن سروری افتادز پاہائے

سچ تو یوں ہے کہ یہ دہر آشوب غم ہے مجموع اہل ہند ماتم دار و سوگوار ہوں تو بھی کم ہے۔ اگرچہ میں کیا اور میری دعا کیا مگر اس کے سوا کہ مغفرت کی دعا کروں اور کیا کروں۔ قطعہ سالِ رحلت نواب غفران مآب جب دل خار خار غم سے پُر خون ہوا ہے تو یوں موزوں ہوا ہے ؎

گردید نہاں مہر جہانتاب دریغ

شد تیرہ جہاں بچشمِ احباب دریغ

ایں واقعہ راز روئے زاری غالبؔ

تاریخ رقم کرد کہ نواب دریغ

ازروئے زاری زاءِ ہوز کے عدد بڑھائے جائیں تو سنہ ۱۲۸۰ ھ پیدا ہوتے ہیں فہذا المطلوب شریک بزم ماتم منشی میاں داد خاں صاحب کو سلام۔ یکشنبہ بست و یکم ربیع الاول ۱۲۸۰ ہجری مطابق ششم ستمبر ۱۸۶۳ء

ایضاً

نواب صاحب جمیل المناقب عمیم الاحسان عنایت فرمائے مخلصان زاد مجدہ۔ شکر یاد آوری و رُواں پروری بجا لاتا ہوں۔ پہلے اس سے کہ آپ کا موّدت نامہ پہنچا ہے۔ وہ میرے خط کے جواب میں تھا اس کا جواب نہیں لکھا گیا۔ پرسوں میاں سیف الحق کا خط پہنچا۔ خط کیا تھا خوانِ دعوت تھا میں نے کھانے بھی کھائے میوے بھی کھائے۔ ناچ بھی دیکھا گانا بھی سنا۔ خدا تم کو سلامت رکھے کہ اس نالائق درویش گوشہ نشین پر اتنی عنایت کرتے ہو صاحب ر یاست و امارت میں ایسے جھگڑے بہت رہتے ہیں میں بسببِ فرطِ محبت اخبار میں تمہاری افزایش عز و جاہ دیکھ کر بہت خوش ہوا اور تم کو تہنیت دی۔ ظفر نامہ ابد۔ بہت مبارک لفظ ہے۔ انشاءاللہ العظیم ہمیشہ مظفر و منصور ہو گے ؎ کارت بجہان جملہ چناں باد کہ خواہی۔

نجات کا طالب غالب۔ سہ شنبہ ۳ اپریل۱۸۶۷ ء

ایضاً

جناب سید صاحب و قبلہ بعد بندگی عرض کرتا ہوں کہ عنایت نامہ آپ کا پہنچا آپ جو فرماتے ہیں کہ تو اپنی خیر و عافیت کبھی کبھی لکھا کر۔ آگے اتنی طاقت باقی تھی کہ لیٹے لیٹے کچھ لکھتا تھا اب وہ طاقت بھی زائل ہو گئی۔ ہاتھ میں رعشہ پیدا ہو گیا۔ بینائی ضعیف ہو گئی۔ متصدی نوکر رکھنے کا مقدور نہیں۔ عزیزوں ، دوستوں میں سے کوئی صاحب وقت پر آ گئے تو میں مطلب کہتا گیا اور وہ لکھتے گئے۔ یہ حسنِ اتفاق ہے کہ کل آپ کا خط آیا۔ آج ہی ایک دوستمیرا آ گیا کہ یہ سطریں لکھوا دیں اور یہ آپ نہ فرمائیں کہ منشی میاں داد خاں سے تجھے قطع محبت ہو گیا ہے۔ منشی صاحب کی محبت اور ان کے توسط سے آپ کی محبت دل و جان میں اس قدر سما گئی ہے۔ جیسا اہل اسلام میں ملکہ ایمان کا پس ایسی محبت کا موقوف ہونا کبھی ممکن نہیں۔ امراضِ جسمانی کا بیان اور اخلاص ہمدگر کی شرح کے بعد ہجوم غمہائے نہانی کا ذکر کیا کروں جیسا ابر سیاہ چھا جاتا ہے یا ٹڈی دل آتا ہے بس اللہ ہی اللہ ہے۔ سیف الحق منشی میاں داد خاں کوسلام کہیئے گا اور یہ خط پڑھا دیجئے گا۔ فقط نجات کا طالب۔ غالبؔ۔ روز چہار شنبہ ۶ اپریل ۱۸۶۸ء

ایضاً

بخدمت نواب صاحب جمیل المناقب عمیم الاحسان نواب میر غلام بابا خاں صاحب بہادر دام مجدہ۔

عرض کیا جاتا ہے کہ آپ کا عنایت نامہ اور مولانا سیف الحق کا مہربانی نامہ دونوں لفافے ایک دن پہنچے۔ سیف الحق کے خط سے معلوم ہوا کہ رجب کے مہینے میں شادیاں قرار پائی ہیں مبارک ہو اور مبارک ہو۔ نظارہ بزم جمشیدی سے محروم رہوں گا مگر میرا حصہ مجھ کو پہنچ رہے گا خاطر جمع رہے۔ کیوں حضرت صاحبزادہ کا اسم تاریخی پسند آ گیا کہ یا نہیں۔ ؟ نام تاریخی اور پھر سید بھی اور خان بھی۔ سید مہابت علی خاں (۱۲۸۳ھ)

عجب ہے اگر پسند نہ آئے اور بہت عجب ہے کہ اس امر کی نہ آپ کے خط میں توضیح نہ میاں داد خاں کے خط میں۔ خیر میں نہیں کہتا کہ خواہی نخواہی یہی نام رکھیے پسند آنے نہ آنے کی تو فقیر کو اطلاع ہو جائے۔ جواب کا طالب۔ غالب۔ ۹ اگست ۱۸۶۷ء

ایضاً

ستودہ بہر زماں و نامور بہر دیار نواب صاحب شفیق کرم گستر مرتضوی و یتار نواب میر غلام بابا خان بہادر کو مسرت بعد مسرت و جشن مبارک و ہمایوں ہو۔ رقعہ گلگوں نے بہار کی سیر دکھلائی۔ بسواری ریل روانہ ہونے کی لہر دل میں آئی۔ پاؤں سے اپاہج، کانوں سے بہرا، ضعفِ بصارت، ضعفِ دماغ، ضعفِ دل، ضعفِ معدہ۔ ان سب ضعفوں پر ضعفِ طالع۔ کیونکر قصدِ سفر کروں۔ تین چار شبانہ روز قفس میں کس طرح بسر کروں۔ گھنٹہ بھر میں دو بار پیشاب کی حاجت ہوتی ہے۔ ایک ہفتہ دو ہفتہ کے بعد ناگاہ قولنج کے دورے کی شدت ہوتی ہے۔ طاقت جسم میں ، حالت جان میں نہیں آنا میرا سُورت تک کسی صورت چیز امکان میں نہیں۔ خط لکھتے لکھتے خیال میں آیا کہ جیسا سید صاحب کی ولادت کی تاریخ لکھی سیدانی صاحبہ کی بسم اللہ کی بھی تاریخ لکھا چاہیے۔ “ماہِ خجستہ بہار” ذہن میں آیا۔ سات عدد کم پائے۔ خجستہ بہار پر ادب کے اعداد بڑھائے۔ شمار میں ۱۲۸۳ نظر آئے۔ دوسرے ورق پر وہ قطعہ مرقوم ہے۔ بوڑھوں کی طاقتِ فکر معلوم ہے۔ صرفجوشِ محبت سے چار مصرعے موزوں ہوئے ہیں۔ گر قبول افتد زہے عز و شرف۔

راقم اسد اللہ خاں غالب۔ ۱۴ نومبر ۱۸۶۶ء۔ سیف الحق صاحب کو سلام۔ ایک میرے دوست مصور خاکسار کا خاکہ اتار کر دربار کا نقشہ اتارنے اکبر آباد گئے ہیں وہ آ جائیں تو شغلِ تصویر تمام ہو کر آپ کے پاس پہنچ جائے۔ خط از راہِ احتیاط بیرنگ بھیجا ہے۔

قطعہ

خجستہ جشن و بستاں نشینی بیگم

بفیض ہمت نواب و یمن و اقبالش

چو از پے ادب آموزیست خوش باشد

اگر خجستہ بہار ادب بود سالش

ایضاً

نواب صاحب جمیل المناقب عمیم الاحسان عالی شان والا دودماں زاد مجد کم۔ سلام مسنون الاسلا م و دعائے دوام دولت و اقبال کے بعد عرض کیا جاتا ہے کہ ان ایام میمنت فرجام میں جو ازروئے اخبار بمبئی آپ کی افزایشِ عز و جاہ کے حالات معلوم ہوئے۔ متواتر شکر الٰہی بجا لایا۔ اور اس ترقی کو اپنی دعا کا نتیجہ جان کر اور زیادہ خوش ہوا۔ خصوصاً عدالت العالیہ میں فتح پانا اور حق حقیقی کا ظہور میں آنا کیا کہوں کیا مسرت و شادمانی کا موجب اور کس طرح کی نشاط اور انبساط کا سبب ہوا ہے حق تعالیٰ یہ فتح مبارک و ہمایوں کرے۔

قطعہ

فتح سید غلام بابا خاں

خود نشانِ دوامِ اقبال است

ہم ازین رُو بود کہ غالب ؔ گفت

کہ ظفر نامہ ابد سال است

بہار باغ جاہ و جلال جاوداں باد۔ اسد اللہ خان غالب ؔ۔ فقط

ایضاً

جناب نواب صاحب میں آپ کے اخلاق کا شاکر اور آپ کی یاد آوری کا ممنون اور آپ کے دوامِ دولت کا دعا گو ہوں اگر بوڑھا اور اپاہج نہ ہوتا تو ریل کی سواری میں مقرر آپ تک پہنچتا۔ اور آپ کے دیدار سے مسرت اندوز ہوتا۔ آپ میرے شفیق اور میرے محسن ہیں خدا آپ کو ہمیشہ سلامت با کرامت رکھے۔ خط کے دیر دیر لکھنے کا سبب ضعف و نقاہت ہے اگر میری اوقات ِ شباروزی اور میرے حالات آپ دیکھیں تو تعجب کریں گے کہ یہ شخص جیتا کیونکر ہے صبح سے شام تک پلنگ پر پڑا رہنا۔ اور پھر دم بدم پیشاب کو اٹھنا۔ ان مجموع مصائب میں سے ایک ادنی مصیبت یہ ہے کہ ۱۲۸۶ ھ شروع ہوئے ۱۲۱۲ ھ کی ولادت ہے۔ اب کے رجب کے مہینے سے سترواں (۷۰) سال شروع ہو گا۔ ستر ا بہترا بوڑھا اپاہج آدمی ہوں۔ جو عنایت تم میرے حال پر فرماتے ہو صرف تمہاری خوبی ہے۔ میں کسی لائق نہیں۔

نجات کا طالب۔ غالب۔ چہار شنبہ ۳۱ مئی سنہ ۱۸۶۷ء۔

ایضاً

بجناب نواب صاحب جمیل المناقب عمیم الاحسان سلمہ اللہ تعالیٰ۔ بعد سلام مسنون الاسلام و دعائے دولت و اقبال کہ ہمیشہ وردِ زبان ہے گھڑی کے عطیہ کا شکر ہر گھڑی اور ہر ساعت بجا لاتا ہوں۔ پہلے تو آپ دوست اور پھر امیر اور پھر سید۔ نظر ان تین امور پر اس ارمغاں کو میں نے بہت عزیز سمجھا اور اپنے سر اور آنکھوں پر رکھا خدائے عالم آرائے آپ کو سلامت رکھے اور ہر گھڑی آپ کا ممد و مددگار رہے ظاہر اًبوقت روانگی کنجی کا رکھنا سہو ہو گیا خیر یہاں بن جائے گی۔ والسلام بالوف الاحترام۔ خوشنودی احباب کا طالب۔شنبہ سوم دسمبر ۱۸۶۴ء۔

ایضاً

نواب صاحب جمیل المناقب عمیم الاحسان امید گاہ ِ درویشان زاد افضالکم۔ آپ کا بندہ منت پذیر غالب خونین صفیر یوں نوا سنج ہوتا ہے کہ عنایت نامہ عز و رود لایا۔ اور مژدہ قبول سے میرا رتبہ بڑھایا جو کچھ میرے حق میں ارشاد ہوا ہے اگر اس کو قدر دانی کہوں تو لازم آتا ہے کہ اپنے کو ایک طرح کے کمال کا مالک سمجھ لوں۔ البتہ آپ نے از راہِ حق پسند ی سخن کی قدر دانی اور میری قدر افزائی کی ہے جو اغلاط فارسی دانانِ ہند کے ذہن میں راسخ ہو گئے تھے۔ ان کو دفع کیا ہے تو کیا برائی کی ہے۔ بات یہ ہے کہ اوچھی پونجی والے گمنام لوگ اپنی شہرت کے لئے مجھ سے لڑتے ہیں واہ واہ اپنے نامور بنانے کو ناحق احمق بگڑتے ہیں۔ عطیہ حضرت بتوسط جناب سیف الحق پہنچا اور میں نے اس کو بے تکلف عطیہ مرتضوی سمجھا۔ علی المرتضیٰ علیہ التحیہ والثنا آپ کا دادا اور میرا آقا۔ خدا کا احسان ہے کہ میں احسان مند بھی ہوا تو اپنے خداوند کے پوتے کا۔ آج سے کاپی لکھی جانے لگی اور تصحیح کو میرے پاس آنے لگی۔ چھاپے کے واسطے برسات کا موسم اچھا ہے بس اب اس کے چھپ جانے میں دیر کیا ہے۔

نجات کا طالب۔ غالب۔ صبح یکشنبہ۔ ۱۷ دسمبر سنہ ۱۸۶۰ ء

 

 

بنام منشی میاں داد خاں المخاطب بہ سیف الحق المتخلص بہ سیاح

سعادت و اقبال نشان منشی میاں داد خاں سے میں بہت شرمندہ ہوں کہ ان کے خطوط کا جواب نہیں لکھا۔ غزلوں کے مسودے گم ہو گئے اس شرمندگی سے پاسخ نگار نہ ہوا ابیہ سطریں جو لکھتا ہوں اُس خط کے جواب میں ہیں جو بنارس سے آیا ہے۔ بھائی بنارس خوب شہر ہے اور میرے پسند ہے ایک مثنوی میں نے اس کی تعریف میں لکھی ہے اور چراغِ دیر اس کا نام رکھا ہے وہ فارسی دیوان میں موجود ہے اس کو دیکھنا۔ اشرف حسین خاں صاحب میرے دوست ہیں فتنہ و فساد کے زمانہ سے بہت پہلے ان کا خط اور کچھ ان کا کلام میرے پاس آیا ہے تم ان کو میرا سلام کہنا اور میں تم سے یہ توقع رکھتا ہوں کہ جس طرح تم نے لکھنؤ سے بنارس تک کے سفر کی سرگزشت لکھی ہے اسی طرح آئندہ بھی لکھتے رہو گے۔ میں سیر وسیاحت کو بہت دوست رکھتا ہوں ؎

اگر بدل نہ خلد ہر چہ از نظر گزرد

زہے روانی عمر ے کہ در سفر گزرد

خیر اگر سیر و سیاحت میسر نہیں نہ سہی ذکر العیش نصف العیش پر قناعت کی۔ میاں داد خاں سیاح کی سرگزشت سیر سفر ہی سہی۔ غزل تمہاری رہنے دیتا ہوں۔ اس کے دیکھنے کی بھی فرصت نہیں ہے جیسا تم نے وعدہ کیا ہے جب اور غزلیں بھیجو گے ان کے ساتھ اس کو بھی دیکھ لوں گا بلکہ احتیاط متقضی اس کا ہے کہ ان غزلوں کے ساتھ اس غزل کو بھی لکھ بھیجنا۔ ناتوانی زور پر ہے۔ بڑھاپے نے نکما کر دیا ہے۔ ضعف، سستی، کاہلی، گرانجانی گرانی۔ رکاب میں پاؤں ہے باگ پر ہاتھ ہے۔ بڑا سفر دور دراز درپیش ہے۔ زادِ راہ موجود نہیں۔ خالی ہاتھ جاتا ہوں۔ اگر ناپرسیدہ بخش دیا تو خیر۔ اگر باز پرس ہوئی تو سقر مقر ہے اور ہاویہ زاویہ ہے۔ دوزخ جاوید ہے اور ہم ہیں۔ ہائے کسی کا کیا اچھا شعر ہے۔

اب تو گھبرا کے یہ کہتے ہیں کہ مر جائیں گے

مر کے بھی چین نہ پایا تو کدھر جائیں گے

اللہ اللہ اللہ ۔ نجات کا طالب غالبؔ۔ صبح دو شنبہ ۳۱ دسمبر سنہ ۱۸۶۰ ء

٭٭ سقر (دوزخ) ٭٭ مقر (ٹھکانا) ٭٭ ہاویہ (طبقہ دوزخ ) ٭٭ زاویہ (گوشہ)

ایضاً

صاحب یہ سر پیٹنے کی جگہ ہے کہ تمہارا کوئی خط ڈاک میں ضائع نہیں ہوتا اور میرا کوئی خط تم کو نہیں پہنچتا۔ سنو چھوٹے صاحب کا خط آیا۔ اس میں قطعہ کا شکر اور اجزائے کتاب کے بھیجنے کی تاکید تھی۔ اس نے اس کے جواب میں لکھا کہ اس کتاب کا چھاپا یہاں ہی شروع ہو گیا انشاءاللہ تعالیٰ بعد انطباع ایک مجلد آپ کے واسطے اور ایک مجلد منشی میاں داد خاں کے واسطے بسبیل ڈاک پارسل بھیجوں گا۔ اب تم نواب صاحب سے میرا سلام کہو۔ اور یہ اپنے نام کا خط ان کو پڑھا دو اور ایک پتہ تم کو دیتا ہوں۔ نواب صاحب کا جو خط طلب کتاب کے باب میں آیا تھا اس میں مندرج تھا کہ اب میں سُورت کو جاتا ہوں تم اجزائے کتاب کا پارسل اس پتہ سے سُورت کو بھیجنا۔ بھائی میں نے اسی پتہ سے خط بھیجا تھا نہ پہنچے تو میرا کیا گناہ۔ پیڈ خط گاہ گاہ تلف بھی ہو جاتا ہے نظر اس بات پر یہ خط تم کو بیرنگ بھیجتا ہوں تاکہ ضائع ہونے کا احتمال قوی رہے۔ فقط

صبح دو شنبہ، ۱۴ ربیع الثانی۔ مطابق ۱۷ ستمبر سالِ حال۔ غالبؔ

ایضاً

منشی صاحب سعادت و اقبال نشان سیف الحق میاں داد خان سلّمکم اللہ تعالیٰ۔ فقیر کی طرف سے سلام و دعا قبول کریں۔ چھوٹے صاحب کی تصویر کی رسید میں بھائی محمد حسین خان سے کہا گیا تھا کہ تم تصویر کے پہنچنے کی اطلاع دے دینا سواب تمہاری تحریر سے معلوم ہوا کہ انہوں نے اطلاع دی ہے حال تصویر کا یہ کہ میں نے اسے سر پر رکھا آنکھوں سے لگایا گویا چھوٹے صاحب کو دیکھا۔ لیکن اس کا سبب نہ معلوم ہوا کہ نواب صاحب نے ہم سے بات نہ کی۔ خیر دیدار تو میسر گفتار بھی اگر خدا چاہے گا تو سن لیں گے۔ دیکھو منشی صاحب آئینہ تصویر کی صنعت کو سب پسند کرتے ہیں مگر فقیر اس کا معتقد نہیں۔ اب دیکھو حضرت کی تصویر میں کہنیوں تک ہاتھ کی تصویر ہے آگے پہنچے اور نیچے کا پتہ نہیں۔ مکالمہ ایک طرف مصافحہ کی بھی حسرت رہ گئی۔ اس وقت جدا گانہ خط لکھنے کی فرصت نہیں۔ نواب صاحب سے میرا بہت بہت سلام اور اشتیاق کہنا بلکہ یہ خط ان کو ضرور دینا کہ وہ پڑھ لیں۔ میں سادات کا نیاز مند اور علی کا غلام ہوں۔ ؎ بندہ شاہ شمائیم و ثنا خوانِ شما۔ نجات کا طالب غالبؔ۔ ۱۷ ذیقعد۱۶۸۱ہجری

ایضاً

برخوردار کامگار سعادت نشان منشی میاں داد خاں سیاح طال عمرہ۔ درویش گوشہ نشین غالبؔ حزین کی دعائے درویشانہ سے کامیاب و بہرہ مند ہوں۔ لکھنؤ کی ویرانی پر دل جلتا ہے مگر تم کو یاد رہے کہ وہاں بعد اس فساد کے ایک کون ہو گا یعنی راہیں وسیع ہو جائیں گی بازار اچھے نکل آئیں گے جو دیکھے گا وہ داد دے گا اور دلی کے فساد کون نہیں ہے یہاں فساد در فساد چلا جائے گا شہر کی صورت سوائے اس بازار کے جو قلعہ کے لاہوری دروازہ سے شہر کے لاہوری دروازہ تک ہے سراسر بگڑ گئی اور بگڑتی جاتی ہے۔ دیوان کا چھاپا کیسا؟ وہ شخص ناآشنا موسوم بہ عظیم الدین جس نے مجھ سے دیوان منگا بھیجا۔ آدمی نہیں ہے بھوت ہے پلید ہے۔ غول ہے قصہ مختصر سخت نامعقول ہے۔ مجھ کو اس کے طور پر انطباع دیوان نا مطبوع ہے اب میں اس سے دیوان مانگ رہا ہوں اور وہ نہیں دیتا خدا کرے ہاتھ آ جائے تم بھی دعا مانگو۔ زیادہ کیا لکھوں۔ دو شنبہ ۱۱ جون ۱۸۶۰ء۔ غالبؔ

ایضاً

صاحب تمہارا مہربانی نامہ کہ گویا الفاظ اس کے سراسر نواب میر غلام بابا خاں صاحب کی زبانی تھے ، پہنچا۔ جواب لکھتا ہوں۔ اور پرسش کا شکر بجا لاتا ہوں ایک قرن بارہ برس سے فردوس مکان نواب یوسف علی خان والی رام پور اپنے اشعار میرے پاس بھیجتے تھے اور سو روپیہ مہینہ ماہ بماہ بسبیل ہنڈوی بھجواتے تھے۔ اس مغفور کی اندازہ دانی دیکھئے کہ مجھ سے کبھی اس روپیہ کی رسید نہیں لی۔ اپنے خط میں ہنڈوی بھیجا کرتے۔ میں خط کا جواب لکھ بھیجتا۔ اس ماہانہ کے علاوہ کبھی دو سو کبھی ڈھائی سو بھیجتے رہے۔ فتنہ و فساد کے دنوں میں قلعہ کی آمد مفقود۔ انگریزی پنشن مسدود۔ یہ بزرگوار وجہ مقرری ماہ بماہ اور فتوح گاہ گاہ بھیجتا رہا تب میری اور میرے متوسلوں کی زیست ہوئی۔ رئیس حال کو خدا بدولت و اقبال ابداً موبداً سلامت رکھے وجہ مقرری کی ہنڈوی ہر مہینے بحسبِ دستور ِ قدیم اپنے خط میں بھیجا جاتا ہے۔ فتوح کی رسم دیکھئے جاری رہے یا نہیں۔ میرے پاس روپیہ کہاں جو قاطع برہان کو دوبارہ چھپواؤں پہلے بھی نواب مغفور نے دو سو (۲۰۰)روپیہ بھیج دئیے تھے تب پہلا مسودہ صاف ہو کر چھپوایا گیا تھا۔ اب بھی وعدہ کیا تھا کہ اپریل کی وجہ مقرری کے ساتھ دو سو پہنچیں گے وہ آخر اپریل ۱۸۶۵ء حال میں مر گئے۔ اپریل کا روپیہ رئیس حال سے میں نے پایا مصروف کتاب کا روپیہ نہ آیا۔ یاد دلاؤں گا۔ مگر اس مرحوم کا وعدہ سرشتہ دفتر سے نہ تھا جو از روئے دفتر اس کی تصدیق ہو۔ بہرحال فکر میں ہوں۔ اگر اسباب نے مساعدت کی فہو المراد ورنہ ؎آنچہ ما درکار  داریم اکثرے درکار نیست۔ منشی صاحب اس خط کو ضروری جان کر بیرنگ بھیجتا ہوں۔ نجات کا طالب۔ غالبؔ۔ ۳۰ جولائی سنہ ۱۸۶۵ء۔

ایضاً

منشی صاحب شفیق بدل مہربان عزیز از جان سیف الحق میاں داد خاں کو فقیر غالب علی شاہ کی دعا پہنچے۔ پرسوں نواب صاحب کا خط اور کل تمہارا خط آیا۔ صاحب ٹوپیوں کی حقیقت یہ ہے کہ تم نے لطائف غیبی کی ۱۵ جلدیں سات روپے آٹھ آنے دام بھیج کر منگوائیں پھر دو روپے کے ٹکٹ بھیج کر ٹوپیاں منگوائیں۔ میں نے تمہارے بھیجے ہوئے روپیوں کی ٹوپیاں خرید کر تم کو بھیج دیں۔ چاہو تم پہنو چاہو چھوٹے صاحب کی نذر کرو۔ یہ جو میں نے سیف الحق خطاب دیا ہے اپنی فوج کا سپہ سالار مقرر کیا ہے۔ تم میرے ہاتھ ہو تم میرے بازو ہو میرے نطق کی تلوار تمہارے ہاتھ سے چلتی رہے گی۔

لطائف غیبینے اعدا کی دھجیاں اڑا دیں۔ ایک نئی بات سنو۔ محمد مرزا خاں میرے سببی بھائی کا نواسہ ہے اس نے ایک اخبار نکالا ہے مسمیٰ بہ اشرف الاخبار اس کا ایک لفافہ تم کو بھیجتا ہوں۔ اس کو پڑھ کر معلوم کر لو گے کہ تمہارا ایک اعتراض قتیل کے کلام پر چھاپا گیا ہے۔ اس ارسال و اعلان سے صرف اطلاع منظور ہے ہاں ایک بات یہ بھی ہے کہ چھوٹے صاحب کی نظر بھی ادھر سے گزر جائے۔ اور اس سرکار میں یہ اخبار خرید کیا جائے اور تم ان کی طرف سے حکمِ خریداری ابتدا جنوری۱۸۶۷ ء سے بنامِ محمد مرزا خاں لکھو۔ اور وہ خط اس پتہ سے دلّی کو روانہ کر و جو ان کی اخبار آخر میں لکھا ہے۔ حیران ہوں کہ چھوٹے صاحب کے خط کا کیا جواب لکھوں۔ انہوں نے مجھے شرمندہ کیا اپنے کو چھوٹا اور مجھ کو بزرگ لکھا۔ سید تو سب مسلمانوں کے بزرگ ہوتے ہیں ، میں تو مسلمانوں میں بھی ایک ذلیل، علیل، فقیر، حقیر آدمی ہوں۔ یہ ان کی بزرگی، ان کی خوبی، ان کی مہربانی ہے۔ حق تعالیٰ ان کو سلامت رکھے۔ اور ان مقدمات میں مِن کُلِّ الوُجوُہ ان کو فتح و ظفر نصیب ہو میرا سلام کہنا اور یہ عبارت پڑھا دینا۔ ہاں صاحب برادر بجاں برابر میرزا معین الدین حسین خاں بہادر کو میرا سلام کہنا۔ اور کہنا بھائی میرا جی دیکھنے کو بہت چاہتا ہے۔ پہلے برخوردار شہاب الدین خان سے صلاح پوچھو وہ اجازت دے تو فوراً ریل پیل کرتے چلے آؤ۔ دیدار کا طالب۔ غالبؔ۔ سہ شنبہ ۷ شوال سنہ ۱۲۸۳ مطابق ۱۲ فروری ۱۸۶۷ ء

ایضاً

صاحب کل آپ کا خط آیا، میرا دھیان لگا ہوا تھا کہ آیا میاں سیاح کہاں ہیں اور مجھ کو کیوں بھول گئے ہیں۔ پہلا خط تمہارا جس کا حوالہ اس خط میں دیتے ہو میں نے نہیں پایا۔ ورنہ کیا امکان تھا کہ جواب نہ لکھتا۔ جناب منشی میر امیر علی صاحب سے مجھ سے ملاقات نہیں لیکن ان کے محامد و مکارم سنتا ہوں۔ جناب مولوی اظہار حسین صاحب سے البتہ اسی شہر میں دو ملاقاتیں ہوئی لیکن میں نے ان کو فقیر دوست اور درویش نواز نہ پایا۔ اغنیا کے واسطے اچھے ہیں۔ ہائے مولوی محمد حسن اور مولوی عبدالکریم اس عہد میں اگر ان بزرگوں میں سے ایک ہوتا تو میں کیوں اپنی قسمت کو روتا۔ وقت گزر جاتا ہے۔ بات رہ جاتی ہے۔ ہاں خاں صاحب آپ جو کلکتہ پہنچے ہو اور سب صاحبوں سے ملے ہو تو مولوی فضل حق کا حال اچھی طرح دریافت کر کے مجھ کو لکھو کہ اس نے رہائی کیوں نہ پائی۔ وہاں جزیرہ میں اس کا کیا حال ہے گزارہ کس طرح ہوتا ہے۔ غالب۔ جمعہ ۴ اکتوبر سنہ ۱۸۶۱ء۔

ایضاً

آئیے بیٹھئے مولانا سیاح۔ سلام علیکم۔ مزاج مبارک۔ سُورت کا پہنچنا بہر صورت مبارک ہو۔ بھائی میرا دل بہت خوش ہوا کہ تم اپنے وطن پہنچے۔ لیکن تم کو چین کہاں۔ خدا جانے کئی ہفتہ یا کئی مہینے ٹھہرو گے اور پھر سیاحت کو نکلو گے۔ جی میں کہو گے آؤ اب دکن کی سیر کریں۔ حیدر آبا د، اور نگ آباد۔ دونوں شہر اچھے ہیں۔ ان کو دیکھیں۔ میرزا معین الدین خان اور میرزا محمد حسین خان یہ دونوں بیٹے ہیں نواب قدرت اللہ بیگ خان کے اور قدرت اللہ بیگ خاں ابن عم تھے نواب احمد بخش خاں کے اور معین الدین حسن خاں کی بہن منسوب ہے بھائی ضیاء الدین خاں سے۔ یہاں کوئی امر نیا واقع نہیں ہوا۔ وہی حالات و اطوار ہیں جو دیکھ گئے ہو۔ مسجد جامع کے باب میں کچھ پُرسشیں لاہور سے آئی تھیں۔ یہاں سے ان کے جواب گئے ہیں یقین ہے کہ واگذار کا حکم آئے اور وہ مسلمانوں کو مل جائے۔ ہنوز بدستور پہرا بیٹھا ہوا ہے اور کوئی جانے نہیں پاتا۔ والسلام مع الاکرام۔ صبح سہ شنبہ ۲ ذیقعدہ و مئی معاً۔ غالبؔ

ایضاً

نور چشم، اقبال نشان سیف الحق میاں داد خاں سیاح کو غالبِ نیم جان کی دعا پہنچے۔ واقعی تمہارے دو خط آئے ہیں۔ آگے میں لیٹے لیٹے کچھ لکھتا تھا۔ اب وہ بھی نہیں ہو سکتا۔ ہاتھ میں رعشہ، آنکھوں میں ضعفِ بصر۔ کوئی متصدی میرا نوکر نہیں دوست آشنا کوئی آ جاتا ہے تواس سے جواب لکھوا دیتا ہوں۔ بھائی میں تو اب کوئی دن کا مہماں ہوں اور اخبار والے میرا حال کیا جانیں۔ ہاں اکمل الاخبار اور اشرف الاخبار والے کہ یہ یہاں کے رہنے والے ہیں اور مجھ سے ملتے رہتے ہیں سو ان کے اخبار میں میں نے اپنا حال مفصل چھپوا دیا ہے اور اس میں میں نے عذر چاہا خطوں کے جواب سے اور اشعار کی اصلاح سے۔ اس پر کسی نے عمل نہ کیا۔ اب تک ہر طرف سے خطوں کے جواب کا تقاضا اور اشعار واسطے ا صلاحوں کے چلے آتے ہیں۔ اور میں شرمندہ ہوتا ہوں۔ بوڑھا، اپاہج، پورا بہرا، آدھا اندھا، دن رات پڑا رہتا ہوں۔ حاجتی پلنگ کے تلے دھری رہتی ہے۔ طشت چوکی پلنگ کے پاس لگا رہتا ہے سو طشت چوکی پر تیسرے چوتھے دن اتفاق جانے کا ہوتا ہے اور حاجتی کی حاجت بسسب سُرعت بول کے گھنٹہ بھر میں پانچ چھ بار ہوتی ہے۔ تصویر کھینچنے والا جو ہندوستانی ایک دوست تھا وہ شہر سے چلا گیا ایک انگریز ہے وہ کھینچتا ہے مجھ میں اتنا دم کہاں کہ کوٹھے پر سے اتروں پالکی میں بیٹھوں اور اس کے گھر جاؤں اور گھنٹہ دو گھنٹہ کرسی پر بیٹھوں اور تصویر کھچوا(کھنچوا)کر جیتا جاگتا اپنے گھر پھر آؤں۔ اب تم از راہِ مہربانی میر ابراہیم علی خاں بہادر اور حکیم سید احمد حسن صاحب کو اور جب بمبئی سے آ جائیں تو نواب غلام بابا خان کو یہ خط پڑھوا دینا۔ تمہارے ہاں لڑکے کا پیدا ہونا اور اس کا مر جانا معلوم ہو کر مجھ کو بڑا غم ہوا۔ بھائی اس داغ کی حقیقت مجھ سے پوچھو۔ کہ ۷۴ برس کی عمر میں سات بچے پیدا ہوئے۔ لڑکے بھی اور لڑکیاں بھی اور کسی کی عمر پندرہ مہینے سے زیادہ نہ ہوئی۔ تم ابھی جوان ہو حق تعالیٰ تمہیں صبر اور نعم البدل دے۔ والسلام۔ ۲۵ اگست۱۸۶۷ ء۔ غالب

ایضاً

خانصاحب سعادت و اقبال نشان میاں داد خاں سیاح کو فقیر گوشہ نشین کا سلام پہنچے۔ تمہارا کوئی خط سوائے اس خط کے جس کا میں جواب لکھتا ہوں ہر گز نہیں پہنچا بہت دن سے مجھ کو خیال تھا کہ مولانا سیاح نے مجھ کو یاد نہیں کیا۔ کل ناگاہ تمہارا خط پہنچا۔ آج اس کا جواب لکھتا ہوں۔ مہر میں تو کھودنے کا نہیں جوا س قدر عذر چاہتے ہو کھدوا دینے میں کیا تکلیف اور کیا زحمت میں احباب کا خادم ہوں۔ میر غلام بابا خاں صاحب سے میرا سلام کہیئے اور وہ نگین معہ نقشہ بے تکلف بھیج دیجئے آپ کے حکم کی تعمیل اور اس نگین کی درستی ہو جائے گی۔ خاطر عاطر جمع ہے زیادہ کیا لکھوں اجی سیاح صاحب ہمارا دھیان تم میں لگا رہتا ہے کبھی کبھی خط لکھتے رہا کرو۔ میں ایسا گمان کرتا ہوں کہ اگر میر غلام بابا خاں صاحب کو مُہر کھدوانی نہ ہوتی اور وہ تم سے نہ کہتے تو تم ہرگز مجھ کو خط نہ لکھتے۔ یہ تمہارا خط گویا میر غلام بابا خاں کے حسب الحکم تھا۔ جی میں آیا تھا کہ انہیں کو اس کا جواب لکھوں۔ اور ان کے نام کا خط بھیجوں مگر پھر سوچا کہ تم آزردہ ہو جاؤ گے تمہیں کو خط لکھا۔ بھائی یہ طریقہ فراموش کاری کا اچھا نہیں گاہ گاہ خط لکھا کرو۔

والسلام۔ نجات کا طالب۔ غالب۔ سہ شنبہ یکم مارچ ۱۸۶۶ء۔

ایضاً

منشی صاحب یہ کیا اتفاق ہے کہ میری بات کوئی نہیں سمجھتا ؎

کس زباں را نمی فہمد

بہ عزیزاں چہ التماس کنم

یا د کرو اصل مقدمہ یہ تھا کہ میں قاطع برہان کو دوبارہ چھپوایا چاہتا ہوں نواب صاحب مدد دیں یعنی سو دو سو جلدیں خرید لیں۔ حضرت نے ایک گھڑی عنایت فرمائی بھلا یہ میرے کس کام کی۔ چار دن سونچا(سوچا) کیا کہ پھیر دوں پھر سونچا کہ برا مانیں گے۔ آخر کو گھڑی رکھ لی۔ اور یہ خیال کیا کہ کتاب کے انطباع کے بعد سو ڈیڑھ سو جلدیں بھیج دوں گا۔ اسی خط کے ساتھ نواب صاحب کے نام کا خط گھڑی کی رسید کا پہنچتا ہے اور یہ بھی تم کو معلوم رہے کہ گھڑی کی کُنجی نہیں آئی۔ ظاہراً سہو سے وہیں رہ گئی ہو گی۔ ہاں صاحب تیس جلدیں لطائف غیبی کی دو پارسلوں میں آگے بھیجی ہیں جس کی قیمت دس (۱۰) روپے مجھ کو پہنچے فی الحال ایک جلد اور اپنی طرف سے بھیجی ہے رسید جلد لکھو۔ غالب۔ ۳ دسمبر ۱۸۶۴ء۔

ایضاً

سعادت و اقبال نشان سیف الحق منشی میاں داد خاں سیاح کو فقیر غالب کی دعا پہنچے۔ خط میں آپ نے بہت سے مطالب تھے مگر تیس (۳۰)کتابوں کی دو پارسلوں کی رسید نہیں لکھی یہ ایک پارسل جو بعد دو پارسلوں کے بھیجا گیا ہے اس میں وہی لطائفِ غیبی ہے جس کو میں نے اپنے مطالعہ میں رکھ کر صحیح کیا ہے اس کے بھیجنے سے یہ مدعا ہے کہ تم ان تیس رسالوں کو اس کے مطابق صحیح کر لو اگر چھوٹے صاحب نے رکھ لیا ہے تو ان سے مستعار لے کر اپنی سب کتابیں صحیح کر لو اور وہ نسخہ ان کی نذر کر دو۔ صاحب میں نے اپنے صرفِ زر سے لطائف غیبی کی جلدیں نہیں چھپوائیں مالک مطبع نے اپنی بکری کو چھاپیں۔ بیس (۲۰) میں نے مول لے لیں۔ تیس تم کو دلوا دیں۔ بیس بھائی ضیاء الدین نے لیں ، دس مصطفے خاں صاحب نے لیں باقی کا حال مجھے معلوم نہیں۔ دیکھو سیف الحق شیخ سعدی کا قول کیا سچا ہے ؎

اگر دنیا نباشد درد مندم

وگر باشد بمہرش پائے بندم

بلائے زیں جہاں آشوب تر نیست

کہ رنجِ خاطر است ار ہست و رنیست

جہاں دولت نہیں وہاں مصیبت ہے۔ جہاں دولت ہے وہاں خصومت ہے میں تو میر غلام بابا خاں کا دوست ہوں ان کی فتح کی دعا مانگتا ہوں آپ اتنی مہربانی کریں کہ یہ حالات جو واقع ہوا کریں وہ مجھ کو لکھا کریں غربیلہ کی ہندی نخرہ ہے فارسی میں غربیلہ بولتے ہیں۔ نجات کا طالب غالبؔ۔ پنجم شعبان۱۲۸۱ ہجری۔

ایضاً

بھائی سیف الحق تمہارا خط پہنچا۔ قاضی صاحب بڑودہ کو معاف رکھو اگر کوئی وجہ اپنے پر ان کے عتاب کی پاتا تو ان سے عذر کرتا اور اپنا گناہ معاف کرواتا۔ جب سبب ملال کا ظاہر نہیں تو میں کیا کروں تم برا نہ مانو کس واسطے اگر میں برا ہوں تو اس نے سچ کہا اور اگر میں اچھا ہوں اور اس نے برا کہا تو اس کو خدا کے حوالے کر دو۔ ؎

غالب برا نہ مان جو دشمن برا کہیں

ایسا بھی کوئی ہے کہ سب اچھا کہیں جسے

صاحب اس بڑھاپے میں تصویر کے پردے میں کھچا کھچا پھروں۔ گوشہ نشین آدمی عکس کی تصویر اتار نے والے کو کہاں ڈھونڈوں ؟ دیکھو ایک جگہ میرے تصویر بادشاہ کے دربار میں کھچی ہوئی ہے اگر ہاتھ آ جاوے گی تو وہ ورق بھیج دوں گا۔ اجی وہ تو میں نے نواب صاحب کو ہنسی سے ایک بات لکھی تھی۔ دوستانہ اختلاط تھا کہ بھئی میں بہرا ہوں گانا کیا سنوں گا۔ بوڑھا ہوں ناچ کیا دیکھوں گا۔ غذا چھ ماشہ آٹا کا کھانا کیا کھاؤں۔ بمبئی، سورت میں انگریزی شرابیں ہوتی ہیں اگر وہاں آتا اور شریک محفل ہوتا تو پی لیتا۔ نجات کا طالب غالب۔ ۵ ستمبر ۱۸۶۶ء

ایضاً

صاحب تمہارے خط کے پہنچنے سے کمال خوشی ہوئی ٹوپیاں اگرچہ تمہارے سر پر ٹھیک نہ آئیں لیکن ضائع نہ گئیں میرے شفیق اور تمہارے مربی کے صرف میں آئیں۔ تم کو اور ٹوپیاں بھیجوں گا۔ مصور سے سخت عاجز ہوں وعدہ ہی وعدہ ہے وفا کا نام نہیں۔ کلیات میر تقی کا انتخاب تمہارے خط کے پہنچنے سے دو دن پہلے میر فخر الدین نے ارسال کر دیا۔ ٹکٹ ان کے حوالے کر دئیے۔ حضر ت بہتان لگانے کی خو کس سے سیکھے ہو۔ میرے پاس کوئی غزل تمہاری نہیں ہے نواب صاحب کو سلام کہنا اور میری زبانی کہنا کہ ٹوپیوں کو میرا ارمغاں سمجھنا۔ سیف الحق کی نذر تصور نہ کرنا۔ نجات کا طالب غالب۔ ۲۵ جنوری ۱۸۶۷ء

ایضاً

اقبال نشان سیف الحق کو دعا پہنچے۔ پانچ اشتہار اخبار کی خریداری کے اور تین اشتہار کتاب کی خریداری کے آپ کے پاس پہنچتے ہیں۔ چھوٹے صاحب کو ملاحظہ کروائیے اور اطراف و جوانب دور و نزدیک بھیجئے۔ جو صاحب کتاب اور اخبار دونوں کے خریدار ہوں وہ دونوں کی خریداری کی اطلاع کا خط میر فخر الدین مہتمم اکمل المطابع کے نام لکھیں اور وہ خط میرے پاس بھیج دیں جو صاحب فقط اخبار کے خریدار ہوں وہ اس کے خریدنے کی اطلاع کا خط۔ جو صاحب فقط کتاب کے خریدار ہوں وہ اس کی اطلاع کا خط لکھیں۔ غالب۔ ۲۲ مارچ ۱۸۶۶ ء۔

ایضاً

مولانا سیف الحق اب تو کوئی خط تمہارا نوٹ اور ہنڈوی اور ٹکٹ سے خالی نہیں ہوتا بھلا یہ تو فرمائیے کہ یہ ڈھائی روپے کس بابت اور کس جنس کی قیمت کے ہیں۔ اگلے پانچ روپے پر میں بے فرا ہوا تھا یہ ڈھائی اور طُرّہ ہوئے۔ بہرحال ان کا حال لکھو کہ کیسے ہیں اور کاہے کے ہیں اس رقعہ کا جواب جلد لکھو۔ ٹوپیاں بعد عید بھیجی جائیں گی۔ عنایت کا طالب غالب ۲۳ اپریل۱۸۶۶ء۔

ایضاً

منشی صاحب سعادت و اقبال نشان سیف الحق میاں داد خاں کو فقیر اسد اللہ کا سلام۔ کل شنبہ ۲۰ فروری صبح کے وقت چھ پارسل ۳۶ درفشِ کاویانی کے نواب میر غلام بابا خاں صاحب کی خدمت میں ارسال کئے کل ہی شام کے وقت آپ کا عنایت نامہ پہنچا حال معلوم ہوا۔ خیر اب اور نہ بھیجوں گا۔ صاحب یہ تم نے پانچ روپے کے ٹکٹ کیوں بھیجے۔ میں نہ کتاب فروش نہ دلال۔ یہ حرکت مجھے پسند نہ آئی اور تم نے بہت برا کیا۔ حضرت ۱۶ جلدیں لطائف غیبی کی بھیج کر اس کے پان (پانچ)سات دن کے بعد بیس نامہ غالب کا پارسل ارسال کیا ہے لطائف کی رسید تم نے بھیج دی۔ یقین ہے کہ نامہ غالب کا پارسل بھی پہنچ جائے گا۔ گھبراؤ نہیں نواب صاحب کی خدمت میں میرا سلام اور اشتیاقِ ملاقات عرض کرنا۔ نجات کا طالب غالب ۲۱ فروری ۱۸۶۶ء۔

ایضاً

منشی صاحب وہی جہان وہی زمین وہی آسمان وہی سورت بمبئی وہی دلی وہی نواب میر غلام بابا خان وہی سیف الحق سیاح وہی غالب نیم جان۔ انگریزی ڈاک جاری۔ ہرکاروں کو ریل کی سواری۔ ربیع الاول میں تمہارا خط آیا ربیع الثانی جمادی الاول جمادی الثانی رجب آج شعبان کی ۲۶ ہے صبح کے وقت یہ خط لکھ رہا ہوں۔ ۸ بج گئے ہیں اس وقت تک نہ کوئی تمہارا خط آیا نہ کوئی نواب صاحب کا عنایت نامہ۔ واسطے خدا کے میرے اس خط کا جواب جلد لکھو۔ اور اس خط میں ترک نامہ و پیام کا سبب لکھو۔ آج ہی کے دن ایک پارسل چھ ٹوپیوں کا ارسال کرتا ہوں۔ خدا کرے پارسل پہنچ جائے اور ٹوپیاں تمہارے پسند آئیں۔ نواب صاحب کی خدمت میں میرا سلام پہنچا نا اور عتاب کی وجہ دریافت کر کے لکھنا۔ نجات کا طالب غالب ۳ جنوری۱۸۶۷۔ خط بیرنگ ہے اور پارسل پیڈ

ایضاً

برخوردار تمہارا خط پہنچا۔ لکھنؤ کا کیا کہنا ہے وہ ہندوستان کا بغداد تھا۔ اللہ اللہ وہ سرکار امیر گر تھی جو بے سر و پا وہاں پہنچا امیر بن گیا۔ اس باغ کی یہ فصلِ خزاں ہے میں بہت خوشی سے تم کو اطلاع دیتا ہوں کہ اردو کا دیوان غاصب نا انصاف سے ہاتھ آ گیا اور میں نے نور چشم منشی شیو نراین کو بھیج دیا یقین کلی ہے کہ وہ چھاپیں گے جہاں تم ہو گے ایک نسخہ تم کو پہنچ جائے گا۔ طریقہ سعادت مندی یہ ہے کہ ہم کو اپنی خیر و عافیت کا طالب جان کر جہاں جاؤ وہاں سے خط لکھتے رہو اور اپنے مسکن کا پتہ ہم پر ظاہر کرتے رہو ہم تم سے راضی ہیں اور چونکہ تمہاری خدمت اچھی طرح نہیں کی شرمندہ بھی ہیں۔ راقم اسد اللہ خاں۔ مرقومہ شنبہ روز عید مطابق ۳۰ جون ۱۸۶۰ء

ایضاً

منشی صاحب سعادت و اقبال نشان سیف الحق میاں داد خاں تم سلامت رہو۔ تمہارے خط کے صفحہ سادے پر یہ سطریں رقم کرتا ہوں تاکہ تم اپنے خط کے پہنچنے پر اطلاع پاؤ۔ نامہ غالب صاحبِ مطبع نے اپنی بِکری کے واسطے نہیں چھاپے جو میں مول لے کر بھیجوں اور تم سے اس کی قیمت مانگ لوں۔ میں نے آپ سے تین سو جلد چھپوائی۔ دوستوں کو دور و نزدیک بانٹ دی۔ آج یکشنبہ ہے پارسل روانہ نہ ہو گا جتنے یہ نسخے اب میرے پاس باقی ہیں کل تمہیں بھیج دوں گا۔ ہاں صاحب سو روپے کا نوٹ پہنچا۔ اور روپیہ وصول ہوا کاپی آج شروع ہو گئی۔ جس دن نوٹ پہنچا اس کے دوسرے دن روپیہ مل گیا۔ تیسرے دن میں نے تم کو تمہارے رجسٹری دار خط کا جواب لکھ بھیجا۔ یقین ہے کہ میرا خط پہنچ گیا ہو گا اور تم نے بموجب میری خواہش کے نواب صاحب کو دکھا دیا ہو گا۔ کل حضرت کا بھی خط آیا ہے اس کا جواب آج تمہارے خط کے ساتھ ارسال ہوتا ہے بندہ پرور سچ کہتے ہو رحیم بیگ کا وطن اصلی سرہنہ اور فی الحال میرٹھ میں مقیم اور معلمی اس کا پیشہ ہے اور آٹھ دس برس سے اندھا۔ نظم و نثر میں مولوی امام بخش صہبائی کا شاگرد اور فارسی شعر کہتا ہے۔ راقم غالب علی شاہ۔ یکشنبہ ۱۷ ستمبر ۱۸۶۵ عیسوے۔

ایضاً

صاحب آج تمہارے کئی خطوں کا جواب لکھتا ہوں۔ مولوی کرامت علی صاحب میرے شفیق ہیں جس زمانہ میں وہ دلی آئے تھے میری ان کی ملاقاتیں ہوئی تھیں وہ میرے دوست شاگرد نہیں اور ہر گز قصیدہ انہوں نے نہیں لکھا۔ آغا عبدالرزاق شیرازی نے گویا میری خستگی اور تہمت زدگی کا انتقام لیا بہرحال میں تمہارا احسان مند ہوں۔ اگر تم وہاں نہ ہوتے تو میری اور میر منشی کی صفائی نہ ہوتی ان دنوں ضعف ِ دماغ دوراں سر میں ایسا مبتلا ہوں کہ والی رامپور کا بھی بہت سا کلام یوں ہی دھرا ہوا ہے دیکھنے کی بھی نوبت نہیں آئی تمہاری بھیجی ہوئی غزلیں سب محفوظ دھری ہوئی ہیں خاطر جمع رکھو جب نواب صاحب کی غزلیں دیکھوں گا تو یہ بھی دیکھی جائیں گی جب حال یہ ہو کہ اصلاح نہ دے سکوں تو فکر تاریخ کیا کروں۔ اگر میرا حال درست ہوتا تو جناب مولوی عبد الغفور خاں صاحب نسّاخکے دیوان کی تاریخ ضرور لکھتا اور اس خدمت گزاری کو اپنی سعادت سمجھتا آپ جناب مولوی صاحب سے میرا سلام کہیں اور یہ میرا رقعہ ان کو دکھا دیں۔ نجات کا طالب غالب۔ چہار شنبہ ۲۰ نومبر ۱۸۶۱ء

ایضاً

جناب منشی صاحب آپ کا خط مُہری نواب لفٹنٹ گورنر آگرہ کہ وہ میرا بھیجا ہوا تھا پہنچا اس کے بھیجنے کی کچھ ضرورت نہ تھی۔ جب گورنمنٹ اعلیٰ نے مجھ کو خط لکھنا موقوف کیا تو لفٹنٹ گورنروں کے اگلے زمانہ کے خطوط سے کیا میرا دل خوش ہو گا۔ ایسے ایسے پچاس ساٹھ خط میرے پاس موجو د ہیں مجھ کو تو چھ آنے کے پیسوں کا افسوس ہے جو تم نے بابت محصول دئیے۔ راقم اسد اللہ ۔ مرقوم ۱۰ فروری ۱۸۶۲عیسوی۔

ایضاً

صاحب میرا سلام تمہارا خط پہنچا دونوں غزلیں دیکھیں خوش ہوا فقیر کا شیوہ خوشامد نہیں اور فنِ شعر میں اگر اس شیوہ کی رعایت کی جاوے تو شاگرد ناقص رہ جاتا ہے۔ یاد کرو کبھی کوئی غزل تمہاری اس طرح کی نہیں ہوئی کہ جس میں اصلاح نہ ہوئی ہو خصوصاً روز مرہ اردو میں دونوں غزلیں لفظاً اور معنیً بے عیب ہیں کہیں اصلاح کی حاجت نہیں۔ آفرین صد آفرین۔ میر غلام بابا خاں صاحب واقعی ایسے ہی ہیں جیسا تم لکھتے ہو۔ سیاحت میں دس ہزار آدمی تمہاری نظر سے گزرا ہو گا اس گروہِ کثیر میں جو تم ایک شخص کے مداح ہو تو بے شک وہ شخص ہزاروں میں ایک ہے لاریب فیہ۔ کیا فرمائش کروں اور تم سے کیا منگاؤں وہاں کون سی چیز ہے کہ یہاں نہیں۔ آم مجکو(مجھ کو) بہت مرغوب ہیں انگور سے کم عزیز نہیں لیکن بمبئی اور سُورت سے یہاں پہنچنے کی کیا صورت؟ مالدہ کا آم یہاں پیوندی اور ولایتی کر کے مشہور ہے اچھا ہوتا ہے کمال یہ کہ وہاں بہت اچھا ہو گا سورت سے دلّی آم بھیجنے ٭ (شاید یہاں کاتب کی غلطی کی وجہ سے “بھیجنا” کی بجائے “بھیجنے ” لکھا گیا:۔ چھوٹا غالب ) محض تکلف ہے۔ روپیہ کے آم اور چار روپیہ محصول ڈاک اور پھر سو میں سے شاید دس پہنچیں میرے سر کی قسم کبھی ایسا ارادہ نہ کرنا یہاں دیسی آم انواع و اقسام کے بہت پاکیزہ اور لذیذ اور خوشبو افراط سے ہیں۔ پیوندی آم بھی بہت ہیں۔ رامپور سے نواب صاحب اپنے باغ کے آموں میں سے اکثر بسبیلِ ارمغاں بھیجتے رہتے ہیں۔ اے لو آج بریلی سے ایک بھنگی ایک دوست کی بھیجی ہوئی آئی۔ د و ٹوکرے۔ ہر ٹوکرے میں سو (۱۰۰)آم۔ کلو داروغہ نے میرے سامنے وہ ٹوکرے کھولے۔ دو سو (۲۰۰) میں سے تراسی(۸۳) آم اچھے نکلے اور ایک سو سترہ (۱۱۷) آم بالکل سڑے ہوئے۔ اوائل جون ماہِ حال میں ایک ہفتہ مینھ (مینہ۔ بارش) برس کر پھر اب وہی آگ برس رہی ہے اور لُو چل رہی ہے۔ سہ شنبہ ۱۷ جون ۱۸۶۶ء۔

ایضاً

صاحب میں تم سے شرمندہ۔ پہلا خط تمہارا مع قصیدہ پہنچا میں قصیدہ کسی کتاب میں رکھ کر بھول گیا اب دوسرا خط دیکھ کر قصیدہ یاد آیا۔ ہر چند ڈھونڈا نہ پایا بڑی بات یہ ہے کہ اس قدر مجکو(مجھ کو)یاد ہے کہ اسی وقت میں نے ان اشعار کو سراسر دیکھ لیا تھا اشعار سب ہموار تھے تم اندیشہ نہ کرو اور قصیدہ نذر گزرانو اور مع الخیر وطن کو جاؤ لیکن بھائی وطن پہنچ کر ضرور مجکو (مجھ کو)خط لکھنا اور اپنے گھر کا پتہ لکھنا تاکہ میں اس نشان سے تم کو خط بھیجوں۔ نواب میر غلام بابا خاں صاحب کو فقیر کی طرف سے سلام کہنا۔ فقط۔ سہ شنبہ ۱۸ نومبر ۱۸۶۶ء۔

ایضاً

منشی صاحب سعادت نشان و اقبال نشان۔ شکوہ تمہارا میرے سر اور آنکھوں پر مگر کوئی خط تمہارا جواب طلب نہ تھا۔ اشعار کی اصلاح سے میں نے ہاتھ اٹھایا، کیا کروں ایک برس سے عوارضِ فسادِ خون میں مبتلا ہوں بدن پھوڑوں کی کثرت سے سرو چراغاں ہو گیا۔ طاقت نے جواب دے دیا۔ دن رات لیٹا رہتا ہوں۔ کھانا کھاتے وقت پلنگ پر سے اتر بیٹھتا ہوں۔ کھانا کھا کر ہاتھ دھو کر پھر پڑ رہتا ہوں۔ حاجتی پلنگ کے پاس رہتی ہے۔ اتر کر پیشاب کیا جاتا ہے۔ بیت الخلا جانا ایک مصیبت ہے۔ طشت چوکی سہی مگر کئی قدم جانا پھر آنا کیا ایسا آسان ہے۔ ایک کم ستر برس کی عمر ہوئی۔ اب نجات چاہتا ہوں۔ بہت جیا۔ کہاں تک جیوں گا (اب تم دوسرے صفحہ کو پڑھو) جناب سید غلام بابا خاں صاحب کی خدمت میں میرا سلام کہنا اور ولادتِ فرزند کی مبارکباد دینا اور یہ قطعہ تاریخ نذر کرنا۔

قطعہ

میر بابا یافت فرزندے کہ ماہِ چاردہ

بر فرازِ لوح گردوں گروہ تمثال اوست

فرخی بینی و یابی بہرہ از ناز و طرب

از سر ناز و طرب فرزندِ فرخ سال اوست

۱۲۸۰ ھ کے نون کے پچاس اور طرب کی ط کے نو فرزند فرخ فا ل پر بڑھانے ہوں گے۔ غالب۔ روز پنجشنبہ۔ ۱۶ اگست ۱۸۶۳ء۔

ایضاً

منشی صاحب سعادت و اقبال نشان منشی میاں داد خاں سیاح سیف الحق سلمکم اللہ تعالیٰ۔

دعا اور سلام اور شکر اور سپاس۔ تمہارا خط مرقومہ ۳۰ اگست پرسوں بروز جمعہ ۸ ستمبر ۱۸۶۵ ء کو پہنچا کل دسویں ستمبر ماہِ حال کو سو روپے مندرجہ اس کے ایک صراف سے وصول ہو گئے چھوٹے صاحب نے بڑی جوانمردی اور بڑی ہمت کی۔ اس صرف میں میرا کام ہوا اور ان کا نام ہوا۔ اللہ اللہ اب بھی ہندوستان میں ایسے لوگ ہیں کہ زمین نے ان کونہ دیکھا۔ اور نہ انہوں نے مجھے دیکھا نہ میرا کوئی حق ان پر ثابت نہ ان کو کوئی خدمت مجھ سے لینی منظور۔ خیر فقیر ہوں جب تک جیوں گا دعا دوں گا۔ تمام عمر ممنون اور شرمندہ رہو ں گا تمہارا بھی احسان مانوں گا اب دو ایک دن میں کاغذ آ جائے تو اس کا انطباع شروع ہو جائے۔ تم نواب صاحب کو میرا سلام کہو اور یہ خط دکھا دو اور عرض کرو کہ آج تک کسی بھائی یا کسی دوست کا روپے پیسے کا احسان مند نہیں ہوا تھا اب احسان اٹھایا بھی تو اپنے آقا یعنی علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہ کے فرزند کا۔ وہ جو ایک اور کتاب کا تم نے ذکر لکھا ہے وہ ایک لڑکے پڑھانے والے ملائے مکتب دار کا خبط ہے۔ رحیم بیگ اس کا نام ہے میرٹھ کا رہنے والا کئی برس سے اندھا ہو گیا ہے باوجود نابینائی کے احمق بھی ہے اس کی تحریر میں نے دیکھی تو تم کو بھی بھیجوں گا مگر ایک بڑے مزے کی بات ہے کہ اس میں بیشتر وہ باتیں ہیں جن کو لطائف غیبی میں رد کر چکے ہو۔ بہرحال اب اسکی٭ (اس کے ) جواب کی فکر نہ کرنا۔ فقط والسلام والاکرام۔ نجات کا طالب غالب۔ دو شنبہ۔ ۱۱ ستمبر ۱۸۶۵ء۔

ایضاً

صاحب میں خدا کا شکر بجا لاتا ہوں کہ تم اپنے وطن گئے اور عزیزانِ وطن کو دیکھ کر خوش ہوئے اور مع الخیر و العافیۃ اپنے محسن و مربی کی خدمت میں پھر آ پہنچے۔ نواب صاحب سے میرا بہت بہت سلام کہنا اور کہنا کہ اس خط میں سلام صرف وفورِ اشتیاق سے لکھا ہے۔ محبت نامہ جداگانہ جلد بھیجوں گا۔ اجی ہاں میاں سیف الحق رامپور سے آ کر تین سو (۳۰۰)جلدیں دُرفشِ کاویانی کی تیار پائیں۔ نواب میر بابا خاں صاحب سے حصہ برادرانہ کو ڈیڑھ سو جلد کا پشتارہ بنایا اس پر ٹاٹ لپٹوایا۔ ڈاک گھر بھجوایا۔ مسترد آیا۔ سرکاری ڈاک والوں نے ہر گز اس کا بھیجنا نہ قبول کیا۔ ٹھیکے والے۔ پم فلٹ پاکٹ والے۔ ریل والے متفق اللفظ اس کے ارسال سے انکار کرتے ہیں۔ تم یہ رقعہ حضرت کو پڑھواؤ۔ اور اس باب میں جو وہ فرمائیں وہ مجھ کو لکھو۔ مدعا یہ ہے کہ کسی طرح یہ پُشتارہ وہاں تک پہنچ جائے۔ اس خط کا جواب جس قدر جلد لکھو گے مجھ پر زیادہ احسان کرو گے۔ نجات کا طالب غالب۔ سہ شنبہ ۲۳ جنوری ۱۸۶۹ ء۔

ایضاً

بھائی تم جیتے رہو۔ اور مراتبِ عُلیا کو پہنچو۔ لو ایک ہنسی کی بات سنو۔ تمہارا خط منشی کنہیا لال کے نام کا میرے پاس آیا۔ ہر چند میں نے خیال کیا اس نام کا کوئی آشنا مجھے یاد نہ آیا۔ یہ نادانی ان کی کہ مجھ سے کہہ نہ دیا کہ میر ے نام کا خط آئے تو میرے پاس بھیج دینا بے خبری میں جو خط آیا۔ میں نہ نام سے واقف نہ مقام سے واقف۔ خط پھیر نہ دوں تو کیا کروں۔ خط کے واپس کرنے کے بعد ایک دن آپ بھائی میرزا محمد حسین خاں کے ساتھ میرے پاس آئے اور تعارف قدیم یا د دلایا۔ دیکھنا یہاں کیا خوب بیان فرماتے ہیں۔ کہ میں غدر سے پہلے دو تین بار تیرے پاس حاضر ہوا ہوں۔ انصاف کرو دو تین ملاقاتیں اور دس گیارہ برس کی بات میں نسیان کا پتلا، میرا قصور کیا۔ بہرحال یہ شریف ہیں اور عمدہ روزگار کئے ہوئے ہیں۔ صاحب میں نے اودھ اخبار میں دیکھا کہ چھوٹے صاحب مقدمہ جیتے اور بمبئی کے صاحبوں میں ان کی افزایش جاہ و جلال و تعظیم و توقیر کمال ہوئی۔ میں تو تہنیت میں خط لکھوں گا مگر رشک آتا ہے کہ بحوالہ اودھ اخبار لکھوں اور بحوالہ سیف الحق نہ لکھوں۔ زیادہ زیادہ۔ اسد اللہ خاں غالب۔ ۳۱ مارچ ۱۸۶۷ء۔

ایضاً

منشی صاحب سعادت و اقبال نشاں عزیز تر از جان سیف الحق میاں خداداد خاں سیاح کو غالب کی دعا پہنچے۔ پرسوں ایک خط تمہارا اور ایک خط چھوٹے صاحب کا پہنچا۔ تمہارے خط میں پچاس پچاس روپے کے دو نوٹ پہنچے۔ سو روپے وصول ہو گئے آج تم کو اطلاع اور نواب صاحب کو شکریہ لکھ کر روانہ کرتا ہوں ، بھائی تم نے اخبار اطراف و جوانب میں میرا حال دیکھا ہو گا۔ میں اب محض نکما ہو گیا۔ خدا جھوٹ نہ بلوائے۔ پچاس جگہ سے اشعار واسطے اصلاح کے آئے ہوئے بکس میں دھرے ہیں از انجملہ تین صاحبوں کے تم کو نام لکھتا ہوں۔ میر ابراہیم علی خاں صاحب۔ میر عالم علی خاں صاحب۔ نواب عباس علی خاں رئیس حال رامپور کے حقیقی ماموں۔ غرضکہ انہیں اوراق میں تمہارے کاغذ بھی دھرے ہوئے ہیں جس دن ذرا افاقہ پاؤں گا۔ تو ان سب کواغذ کو دیکھوں گا۔ ۲۳ اپریل ۱۸۶۷ء۔

ایضاً

منشی صاحب سعادت و اقبال نشاں سیف الحق منشی میاں داد خاں سیاح کو غالب ناتواں نیم جاں کی دعا پہنچے۔ بھائی میرا حال اسی سے جانو کہ اب میں خط نہیں لکھ سکتا۔ آگے لیٹے لیٹے لکھتا تھا اب رعشہ و ضعف بصارت کے سبب سے وہ بھی نہیں ہو سکتا تھا۔ جب حال یہ ہے تو کہو صاحب میں اشعار کو اصلاح کیونکر دوں اور پھر اس موسم میں کہ گرمی سے سر کا بھیجا پگلا جاتا ہے۔ دھوپ کے دیکھنے کی تاب نہیں رات کو صحن میں سوتا ہوں صبح کو دو آدمی ہاتھوں پر لے کر دالان میں لے آتے ہیں ایک کوٹھڑی ہے اندھیری، اس میں ڈال دیتے ہیں تمام دن اس گوشہ تاریک میں پڑا رہتا ہوں شام کو پھر دو آدمی بدستور لے جا کر پلنگ پر صحن میں ڈال دیتے ہیں۔ تمہاری غزلیں ، میر ابراہیم علی خاں بہادر کی غزلیں۔ میر عالم علی خاں کی غزلیں ، حکیم میر احمد حسن صاحب کی غزلیں اور کیا کہوں کس کس کی غزلیں۔ یہ سب ایک جگہ دھری ہوئی ہیں اگر کوئی دن زندگی اور ہے اور یہ گرمی خیر سے گزر گئی تو سب غزلوں کو دیکھوں گا تصویر کا حال یہ ہے کہ ایک مصور صاحب میرے دوست میرے چہرہ کی تصویر اتار کر لے گئے اس کو تین تین مہینے ہوئے آج تک بدن کا نقشہ کھینچنے کو نہیں آئے۔ میں نے گوارا کیا آئینہ پر نقشہ اتروانا بھی۔ ایک دوست اس کام کو کرتے ہیں عید کے دن وہ آئے تھے میں نے ان سے کہا کہ بھائی میری شبیہ کھینچ دو۔ وعدہ کیا تھا کہ کل تو نہیں پرسوں اسباب کھینچنے کا لے کر آؤں گا شوال، ذیقعدہ، ذی الحجہ، محرم یہ پانچواں مہینہ ہے آج تک نہیں آئے۔ آغا غلام حسین خان صاحب کا قطعہ پہنچا۔ اس میں کچھ تو شعر اصلاح طلب بھی تھے۔ اب اصلا ح دے کون۔ میں تو اپنی مصیبت میں گرفتار۔ بارے ایک میرا شاگرد رشید منشی ہر گوپال تفتہ بسواری ریل میرے دیکھنے کو آیا تھا اس کو موقع محل بتا دیا۔ جو میں کہتا گیا اس طرح وہ بناتا گیا وہ قطعہ کا کاغذ بعد اصلاح کے اکمل المطابع میں بھیج دیا۔ ہفتہ آئندہ میں تم بھی دیکھ لو گے۔ مرگ ناگاہ کا طالب غالب۔ ۱۱ جون ۱۸۶۷ ء

(یہاں کتاب میں تاریخ ۱۱ جون ۱۸۸۷ ء لکھی ہوئی ہے۔ کیا زبردست لطیفہ ہے ، جناب غالب کی وفات حسرت آیات فروری ۱۸۶۹ ء کو ہوئی۔ یہ خط غالب نے جون ۱۸۸۷ کو کیا عالم ارواح سے لکھا۔ اگر اسے ہجری سن کے مطابق ۱۲۸۷ مانا جائے تب بھی کوئی مطابقت نہیں کیونکہ ۱۲۸۵ ہجری میں غالب اس دنیا سے جا چکے تھے۔حیرت ہے کہ کتابت کی یہ غلطی پروف ریڈر صاحب کی نظروں میں آنے سے بھی بچی رہی :۔ چھوٹا غالب)

٭٭

 

 

بنام مولوی منشی حبیب اللہ خاں المتخلص بہ ذکاؔ

صبح جمعہ دہم شوال ۱۲۸۳۔ ۱۵ فروری ۱۸۶۷ ء۔ بھائی میں نہیں جانتا کہ تم کو مجھ سے اتنی ارادت اور مجھ کو تم سے اتنی محبت کیوں ہے۔ ظاہراً معاملہ عالمِ ارواح ہے اسباب ِ ظاہری کو اس میں دخل نہیں تمہارے خط کا جواب مع اوراق مسودہ روانہ ہو چکا ہے وقت پر پہنچے گا۔ سترا بہترا۔ اردو میں ترجمہ پیر خرف ہے میری تہتر برس کی عمر ہے بس میں اخراف ہوا۔ حافظہ گویا کبھی تھا ہی نہیں۔ سامعہ باطل بہت دن سے تھا رفتہ رفتہ وہ بھی حافظہ کی مانند معدوم ہو گیا اب مہینہ بھر سے یہ حال ہے کہ جو دوست آتے ہیں رسمی پرسشِ مزاج سے بڑھ کر جو بات ہوتی ہے وہ کاغذ پر لکھ دیتے ہیں غذا مفقود ہے صبح کو قند اور شیرہ بادام مقشر دوپہر کو گوشت کا پانی۔ سرِ شام تلی (تلے )ہوئے چار کباب۔ سوتے وقت پانچ روپے بھر شراب۔ اور اسی قدر گلاب۔ خرف ہوں ، پُوچ ہوں ، عاصی ہوں ، فاسق ہوں ، روسیاہ ہوں۔ یہ شعر میر تقی کا میرے حسبِ حال ہے ؎

مشہور ہیں عالم میں مگر ہوں بھی کہیں ہم

القصہ نہ درپے ہو ہمارے کہ نہیں ہم

آج اس وقت کچہ (کچھ) افافت تھی۔ ایک اور خط ضروری لکھتا تھا۔ بکس کھولا تو پہلے تمہارا خط نظر پڑا۔ مکرر پڑھنے سے معلوم ہوا کہ بعض مطالب کے جواب لکھے نہیں گئے۔ ناچار اب کتابت جداگانہ میں لکھتا ہوں تاکہ خلعت کا حال اور میرے حالات تم کو معلوم ہو جائیں کہ میں قوم کا ترک سلجوقی ہوں۔ دادا میرا ماور اءالنہر سے شاہ عالم کے وقت میں ہندوستان میں آیا۔ سلطنت ضعیف ہو گئی تھی۔ صرف پچاس گھوڑے نقارہ نشان سے شاہ عالم کا نوکر ہوا۔ ایک پرگنہ سیر حاصل ذات کی تنخواہ اور رسالے کی تنخواہ میں پایا۔ بعد انتقال اس کے جو طوائف الملوک کا ہنگامہ گرم تھا وہ علاقہ نہ رہا۔ باپ میرا عبداللہ بیگ خان بہادر لکھنؤ جا کر نواب آصف الدولہ کا نوکر رہا۔ بعد چند روز حیدرآباد جا کر نواب نظام علی خاں کا نوکر ہوا تین سو سوار کی جمعیت سے ملازم رہا۔ کئی برس وہاں رہا۔ وہ نوکری ایک خانہ جنگی کے بکھیڑے میں جاتی رہی۔ والد نے گھبرا کر الور کا قصد کیا راؤ راجہ بختاور سنگہ (سنگھ) کا نوکر ہوا۔ وہاں کسی لڑائی میں مارا گیا۔ نصراللہ بیگ خاں میراچچا حقیقی، مرہٹوں کی طرف سے اکبر آباد کا صوبہ دار تھا۔ اس نے مجھے پالا۔ ۱۸۰۶ ء میں جرنیل لیک صاحب کا عمل ہوا۔ صوبہ داری کمشنری ہو گئی۔ اور صاحب کمشنر ایک انگریز مقرر ہوا۔ میرے چچا کو جرنیل لیک صاحب نے سواروں کی بھرتی کا حکم دیا۔ چار سو سوار کا برگڈیر (برگیڈئیر) ہوا۔ ایک ہزار روپیہ ذات کا اور لاکھ ڈیڑھ لاکھ روپیہ سال کی جاگیر حینِ حیات علاوہ سال بھر مزربانی کے تھی کہ بمرگِ ناگاہ مر گیا، رسالہ بر طرف ہو گیا۔ ملک کی عوض نقدی مقرر ہو گئی وہ اب تک پاتا ہوں۔ پانچ برس کا تھا جو باپ مر گیا۔ آٹھ برس کا تھا جو چچا مر گیا۔ ۱۸۳۰ء میں کلکتے گیا۔ نواب گورنر جنرل سے ملنے کی درخواست کی دفتر دیکھا گیا۔ میری ریاست کا حال معلوم کیا گیا۔ ملازمت ہوئی سات پارچے اور جیغہ سرپیچ، بالائے مروارید۔ یہ تین رقم کا خلعت ملا۔ زان بعد جب دلّی میں دربار ہوا مجکو (مجھ کو) بھی خلعت ملتا رہا بعد غدر بجُرم مصاحبت بہادر شاہ دربار خلعت دونوں بند ہو گئے۔ میری بریت کی درخواست گزری۔ تحقیقات ہوتی رہی۔ تین برس بعد پِنڈ چھُٹا۔ اب خلعت معمولی ملا غرضکہ یہ ریاست کا ہے عوضِ خدمت نہیں انعامی نہیں۔ معوج الذہن نہیں ہوں۔ غلط فہم ہوں ، بدگماں نہیں ہوں۔ جو جس کو سمجھ لیا اس میں فرق نہیں آتا۔ دوست سے راز نہیں چھپاتا۔ کسی صاحب نے حیدرآباد سے گمنام خط ڈاک میں بھیجا بند بری طرح کیا تھا۔ کھولتے میں سطر کٹ گئی۔ بارے مطلب ہاتھ سے نہیں جاتا۔ بھیجنے کی غرض یہ تھی کہ مجکو (مجھ کو) تم سے رنج و ملال ہو۔ قدرت خدا کی میری محبت اور بڑھ گئی۔ اور میں نے جانا کہ تم مجھے دل سے چاہتے ہو وہ خط بجنسہٖ تمہارے پاس اس خط میں ملفوف کر کے بھیجتا ہوں زنہار دستخطکو پہچان کر کاتب سے جھگڑا نہ کرنا مدعا اس خط کے بھیجنے سے یہ ہے کہ تمہاری ترقی اور افزونی مشاہرہ اس خط سے مجھے معلوم ہوئی تھی۔

ایضاً

بندہ پرور تمہارے دونوں خط پہنچے۔ غالب گسُستہ دم، کوتہ قلم نہ لکھے تو اور بات ہے دونوں خط خط آپ کے اور ایک پارسل محمد نجیب خاں کا بہ تقدیم و تاخیر دو سہ روز موصول ہوئے آپ کا پارسل بعد مشاہدہ آپ کو بھیجا جائے گا۔ خانصاحب کے پارسل میں ایک کتاب ارمغان اور اوراق اصلاح بھیجے جائیں گے۔ آہا ہا ہا محرق قاطع کا تمہارے پاس پہنچنا ؎ کامے کہ خواستم زخدا شد میسرم۔ میں اس خرافات کا جواب کیا لکھتا۔ مگر ہاں سخن فہم دوستوں کو غصہ آ گیا ایک صاحب نے فارسی عبارت میں اس کے عیوب ظاہر کئے دو طالبعلمان نے اردو زبان میں دو رسالے جدا جدا لکھے۔ دانا ہو اور منصف ہو محرق کو دیکھ کر جانو گے کہ مؤلف اس کا احمق ہے اور جب وہ احمق دافع ہذیان و سوالات عبدالکریم اور لطائف غیبی کو پڑھ کر متنبہ نہ ہوا۔ اور محرق کو دھو نہ ڈالا، تو معلوم ہوا کہ بیحیا (بے حیا) بھی ہے۔ دافع ہذیان، سوالات، لطائفِ غیبی۔ تینوں نسخے ایک پارسل میں اس خط کے ساتہ (ساتھ) روانہ ہوتے ہیں یقین ہے کہ بتقدیم و تاخیر یک دو روز نظرِ انور سے گزریں۔ فی الحال اس پارسل کی رسید بفور ورود لکھیئے گا۔ جب آپ کا بھیجا ہوا نسخہ مسترد پہنچے تو اس کی رسید رقم کی جائے گی۔ چار نسخے پارسل میں ہیں دو آپ لیجئے۔ اور دو محمد نجیب خاں صاحب کو دیجئے۔ دو شنبہ۔ ۲۸ نومبر ۱۸۶۴ء۔ غالب۔

(یہاں بھی تاریخ میں کتابت کی غلطی تھی۔ تاریخ ۱۸۸۴ ء لکھی تھی۔ چھوٹا غالب )

ایضاً

میرے مشفق میرے شفیق مجھ سے ہیچ و پوچ کے ماننے والے مجھ سے برے کو اچھا جاننے والے۔ میرے محب۔ میرے محبوب تم کو میری خبر بھی ہے۔ آگے ناتواں تھا اب نیم جاں ہوں آگے بَھرا(بہرا) تھا اب اندھا ہوا چاہتا ہوں۔ رامپور کے سفر کا رہ آورد ہے۔ رعشہ و ضعفِ بصر۔ جہاں چار سطریں لکھیں انگلیاں ٹیڑھی ہو گئیں حرف سوجھنے سے رہ گئے۔ اکہتر برس جیا بہت جیا۔ اب زندگی برسوں کی نہیں مہینوں اور دنوں کی ہے۔ پہلا خط تمہارا پہنچا۔ اس سے تمہارا مریض ہونا معلوم ہوا۔ متواتر دوسرا خط مع غزل آیا۔ غزل کو دیکھا سب شعر اچھے اور لطیف۔ حافظہ کا یہ حال ہے کہ غزل کی زمین یاد نہیں اتنا یاد ہے کہ ایک شعر میں کوئی لفظ بدلا گیا تھا۔ غرض کہ دو غزل بعد مشاہدہ تم کو بھیجی گئی اور لکھا گیا کہ نوید حصول صحت جلد بھیجو۔ کل ایک رجسٹری دار آیا گویا ستارہ دنبالہ دار آیا۔ حیران کہ ماجرا کیا ہے بارے کھولا اور دیکھا خط نوید رفعِ مرض و حصول صحت سے خالی اور شکوہ ہائے بیجا (بے جا) سے لبریز۔ صاحب میرے نام کا خط جہاں سے روانہ ہو وہیں رہ جائے تو رہ جائے ورنہ دلّی کے ڈاکخانہ میں پہنچ کر کیا مجال ہے جو مجھ تک نہ پہنچے۔ وہاں کے ڈاک کے کار پردازوں کو اختیار ہے مکتوب الیہ کو دیں یا نہ دیں۔ آپ مرزا صابر کا تذکرہ مانگتے ہیں اس کا یہ حال ہے کہ غدر سے پہلے چھپا اور غدر میں تاراج ہو گیا اب ایک مجلد اس کا کہیں نظر نہیں آتا۔ بس اب مجھے اتنا لکھنا باقی ہے کہ اس خط کی رسید اور اپنی خیر و عافیت جلد لکھ بھیجو۔ جواب کا طالب غالب۔ صبح جمعہ ۲۵ ذی الحجہ ۱۲۸۲ھ۔ ۱۲ مئی ۱۸۶۷ ء

ایضاً

مولانا ایک تفقد نامہ پہلے بھیجا تھا۔ اس کے جواب میں یہاں سے خط جواب طلب لکھا گیا تھا پھر ایک اور مہربانی نامہ آیا اس میں مَیں نے اپنے خط کا جواب نہ پایا ناچار اس خط کے جواب کی نگارش اپنے خط جواب طلب کے پاسخ آنے پر موقوف اور ہمت آزادانہ نہ فطرت کیا دانہ اس تحریر کے آنے پر مصروف رکھی گئی بارے وہ کل نظر افروز اور طبیعت اس کے مشاہدہ سے طرب اندوز ہوئی اب درنگ ورزی کی تقصیر معاف کیجئے اور اپنے دونوں نگارشوں کا جواب لیجئے۔ صاحب تاریخ انطباع کلیات خوب لکھی ہے۔ مگر ہزار حیف کہ بعد از اتمام انطباع پہنچی۔ اور کتاب کی رونق افزا نہ ہوئی۔ بندہ پرور تم چراغ دودمان مہر وفا اور منجملہ اخوان الصفا ہو۔ مجھ سے تمہیں محبت روحانی ہے گویا یہ جملہ تمہاری زبانی ہے۔ دوست کی بھلائی کے طالب ہو۔ اس شیوہ میں شریک غالب ہو ایک خواہش میری قبول ہو تاکہ مجھ کو راحت حصول ہو۔ سبادی کا ذکر نہیں کرتا ہوں واقعہ حال دل نشین کرتا ہوں جناب مولوی مؤید الدین خان صاحب کے بزرگوں میں اور فقیر کے بزرگوں میں باہم وہ خلّت و صفوت مرعی تھی کہ وہ مقتضی اس کی ہوئی کہ ہم میں اور ان میں برادرانہ ارتباط و اختلاط باہم ہے اور ہمیشہ یوں ہی بلکہ روز افزوں رہے گا۔ خط میں خط ملفوف کرنا جانب حکام ممنوع ہے۔ تو میں ان کے نام کا خط تمہارے خط میں ملفوف کر کے بھیجتا۔ ناچار اب آپ سے یہ چاہتا ہوں کہ آپ مولوی صاحب سے ملیں اور ان کو یہ خط اپنے نام کا دکھائیں اور میری طرف سے بعد سلام میرے کلیات کی پارسل کا ان کے پاس اور ان کے ذریعہ عنایت سے اس مجلد کا حضرت فلک رفعت نواب مختار الملک بہادر کی نظر سے گزرنا اور جو کچھ اس کے گزرنے کے بعد واقع ہو دریافت کر کے مجھ کو مطلع فرمائیں۔ جمعہ ۱۰ ربیع الثانی ۱۲۸۰ھ مطابق ۲۵ ستمبر ۱۸۶۳ء غالبؔ۔

ایضاً

منشی صاحب الطاف نشان سعادت و اقبال تواماں منشی حبیب اللہ خاں کو غالب سوختہ جگر کی دعا پہنچے۔ تمہارا خط پہنچا پڑھ کر دل خوش ہوا۔ تم میری بات پوچھتے ہو مگر میں کیا لکھوں۔ ہاتہ (ہاتھ )میں رعشہ، انگلیاں (٭کتاب میں انگلسان لکھا ہے جو کہ کتابت کی غلطی ہے :۔ چھوٹا غالب)کہنے میں نہیں۔ ایک آنکھ کی بینائی زائل، جب کوئی دوست آ جاتا ہے تو اس سے خطوط کا جواب لکھوا دیتا ہوں۔ مشہور ہے یہ بات کہ جو کوئی کسی اپنے عزیز کی فاتحہ دلاتا ہے مولے کی روح کو اس کی بو پہنچی ہے۔ ایسے ہی میں سونگ(سونگھ) لیتا ہوں غذا کو۔ پہلے مقدار غذا کی تولوں پر منحصر تھی اب ماشوں پر ہے۔ زندگی کی توقع آگے مہینوں پر تھی اب دنوں پر ہے بھائی اس میں کچھ مبالغہ نہیں ہے۔ بالکل میرا یہی حال ہے۔ انا للہ و انا الیہ راجعون۔ اپنی مرگ کا طالب غالب دوم شوال ۱۲۸۲ ہجری۔

ایضاً

جانِ غالب۔ تم نے بہت دن سے مجھ کو یاد نہیں کیا۔ ایک خط میرا ضروری جواب طلب گیا ہوا ہے اور آمدو رفت ڈاک کی مدت گزر گئی۔ اس کا جواب تو سو کام چھوڑ کر لکھنا تھا۔ مؤید برہان میرے پاس بھی آ گئی ہے اور میں اس کی خرافات کا حال بقیدِ شمار صفحہ و سطر لکھ رہا ہوں وہ تمہارے پاس بھیجوں گا شرطِ موّدت بشرط آنکہ جاتی نہ رہی ہو اور باقی ہو۔ یہ ہے کہ میں ہوں یا نہ ہوں تم اس کا جواب میرے بھیجے ہوئے اقوال جہاں جہاں مناسب جانو درج کر دو۔ میں اب قریب مرگ ہوں۔ غذا بالکل مفقود اور امراض مستولی۔ بہتر برس کی عمر اناللہ و انا الیہ راجعون۔ میاں محمد میرن کو دعا۔ جواب کا طالب غالب ۱۴ مارچ ۱۸۶۷ء۔

ایضاً

بندہ پرور آج تمہارا عنایت نامہ آیا اور آج ہی میں نے اس کا جواب ڈاک میں بھجوایا۔ اور اس خط کے ساتہ (ساتھ) پارسل کلیات کا بھی ارسال کیا۔ دسویں بارہویں دن خط اور مہینا بیس دن میں پارسل پہنچے گا۔ خط کا جواب ضروری الارسال نہیں لیکن پارسل کی رسید ضرور لکھیے گا۔ آپ کے خط کی عبارت تو میں سمجھا لیکن مدعا مجھ پر نہ کھلا۔ میں نے پارسل کب آپ کے پاس بھیجا اور کب آپ کو لکھا کہ آپ پارسل مؤید الدین خان کو دے دیجئے گا۔ پارسل کا لفافہ مولوی صاحب کے نام کا اور آپ کو اس کے ارسال کی اطلاع اور آپ سے یہ خواہش کہ مولوی مؤید الدین خاں صاحب سے ملیے اور میرا خط جو آپ کے نام کا ہے انہیں دکھائیے اور ان سے پارسل کا حال دریافت فرمائیے آپ ولایتی بھی نہیں جو میں یہ تصور کروں کہ اردو عبارت سے استنباط مطلب اچھی نہ کر سکے بہرحال اب مدعا سمجھ لیجئے۔ اور مولوی صاحب سے ملنے کا ارادہ فرمائیے اور پارسل کا حال معلوم کر کے لکھیے ٭داد کا طالب غالب ۵ جمادی الاول و نوزدہم اکتوبر۔ روز ورود نامہ نامی۔

(٭کتاب میں لفظ لکھتے درج ہے جس کا محل نہیں۔ چھوٹا غالب)

ایضاً

بندہ پرور کل آپ کا تفقد نامہ پہنچا آج میں پاسخ طراز ہوا۔ جس کاغذ پر میں یہ نقوش کھینچ رہا ہوں آپ کے خط کا دوسرا ورق ہے پہچان لیجئے اور معلوم کیجئے کہ آپ کا مجموعہ کلام معجز نظام اور اس کے بعد پیہم دو خط پہنچے۔ میں صحیفہ شریفہ کی رسید لکھ چکا ہوں۔ بلکہ اسی خط میں محمد نجیب خاں کو سلام اور ارمغان کا شکر اور اوراق اشعار اصلاح طلب کی رسید میں نے لکھ دی ہے۔ پارسل کے سر نامہ سے میرا نام مٹا نہیں پارسل تلف ہوا نہیں۔ آٹھ دس روز ہوئے ہوں گے کہ وہ مجلد اسی پارسل میں کہ اس کو روگردان کر لیا ہے بعد محصول آپ کا نام لکھ کر روانہ کر دیا ہے یقین ہے کہ بعد آپ کے خط کی روانگی کے آپ کے پاس پہنچ گیا ہو گا۔ ہاں صاحب خط دیروزہ کے ساتھ مولوی نجف علی صاحب کے نام کا مع اس حکم کے کہ میں اس کو مولوی صاحب پاس پہنچاؤں میں نے پایا۔ حال یہ ہے کہ مولوی صاحب سے میری ملاقات نہیں صرف اتحاد معنوی کے اقتضا سے انہوں نے دافع ہذیان لکھ کر فنِ سخن میں مجھ کو مدد دی ہے۔ منشی گوبند سنگھ دہلوی ایک ان کے شاگرد اور میرے آشنا ہیں۔ ان کو وہ خط بجنسہٖ بھیج دیا۔ یقین ہے کہ وہ مولوی نجف علی صاحب کو بھجوا دیں گے۔ انہیں کے اظہار سے دریافت ہوا ہے کہ مولوی صاحب مرشد آباد بنگالہ میں ہیں نواب ناظم نے نوکر رکھ لیا ہے ہر شخص نے بقدرِ حال ایک ایک قدر دان پایا۔ غالب ِ سوختہ اختر کو ہنر کی داد بھی نہ ملی ؎

کسم بخود نہ پذیرفت و دہر بازم برد

چو نامہ کہ بود نا نوشتہ عنوانش

یہ شعر میرا ہے ولی عہد خسرو دہلی میرزا فتح الملک بہادر مغفور کے قصیدہ کا۔ اور دیکھو ایک رباعی میری ؎

دستم بہ کلید مخزنے می بالیست

ور بود تہی بدامنے می بالیست

باہیچگہم بکس نیفتادے کار

یا خود بزمانہ چوں منے می بالیست

انا للہ و انا الیہ راجعون

ایضاً

دوستِ روحانی و برادر ایمانی مولوی حبیب اللہ خاں میر منشی کو فقیر غالب کا سلام۔ تم نے یوسف علی خاں کو کہاں سے ڈھونڈ نکالا اور ان کا تخلص اور ان کا خطاب کس سے معلوم کیا بغیر نشان محلہ کے ان کو خط کیونکر بھیجا۔ اور وہ خط ان کو کیونکر پہنچا ؎حیرت اندر حیرت ست اے یارِ من۔

پہلے یہ تو کہو کہ درفشِ کاویانی اور وہ قطعہ جس کی پہلی بیت یہ ہے تم کو پہنچا یا نہیں اگر پہنچا تو مجھ کو رسید کیوں نہیں لکھی ؎

مولوی احمد علی تخلص نسخہ

در خصوصِ گفتگوئے پارس انشا کردہ است

اگر یہ پارسل پہنچ گیا ہے تو رسید لکھو اور دیباچہ ثانی جدید کی داد دو۔ اور اگر نہیں پہنچا تو مجھ کو اطلاع ہوتا کہ ایک نسخہ اور بھیجوں۔ زیستن دشوار۔ اس مہینے یعنی رجب کی آٹھویں تاریخ سے تہترواں برس شروع ہوا۔ غذا صبح کو سات بادام کا شیرہ قند کے شربت کے ساتھ۔ دوپہر کو سیربھر گوشت کا گاڑھا پانی۔ قریب شام کبھی کبھی تین تلے ہوئے کباب۔ چھ گھڑی رات گئے پانچ روپیہ بھر شراب خانہ ساز اور اسی قدر عرق شیر۔ اعصاب کے ضعف کا یہ حال کہ اُٹھ نہیں سکتا۔ اور اگر دونوں ہاتھ ٹیک کر چار پایہ بن کر اٹھتا ہوں تو پنڈلیاں لرزتی ہیں۔ مع ہذا دن بھر میں دس بارہ بار اور اسی قدر رات بھر میں پیشاب کی حاجت ہوتی ہے حاجتی پلنگ کے پاس لگی رہتی ہے اٹھا اور پیشاب کیا اور پڑ رہا۔ اسباب حیات میں سے یہ بات ہے کہ سب کو بد خواب نہیں ہوتا بعد اراقہ بول بے توقف نیند آ جاتی ہے ۱۶۲کی آمد۔ ۳۰۰ کا خرچ ہر مہینے میں ۱۴۰ کا گھاٹا۔ کہو زندگی دشوار ہے یا نہیں۔ مردن ناگوار بدیہی ہے۔ مرنا کیونکر گوارا ہو گا۔ جواب خط کا طالب غالب۔ سہ شنبہ از روئے جنتری ۲۶ اور از روئے رویت ۲۵ رجب ۱۲۸۳ ہجری اور ۴ دسمبر ۱۸۶۶ء۔

بھائی یہ خط از راہِ احتیاط بیرنگ بھیجتا ہوں۔

ایضاً

جاناں بلکہ جان مولوی منشی حبیب اللہ خاں کو غالب خستہ دل کا سلام اور نور ِ دیدہ و سرورِ سینہ منشی محمد میراں کو دعا اور مجھ کو فرزندِ ارجمند کے ظہور کی نوید۔ جو نگارش صاحبزادہ کی طرف سے تھی رسم الخط بعینہٖ تمہاری تھی اب تم بتاؤ کہ رقعہ اسی کی طرف سے تم نے لکھا ہے یا خود اس نے تحریر کیا ہے لڑکا تمہارا تمہارے ساتھ حیدرآباد نہیں آیا۔ ظاہراً اب تم نے وطن سے بلایا ہے مفصل لکھو کہ نخلِ مراد کا ثمر یہی ہے یا اس کے کوئی بھائی بہن اور بھی ہے یہ اکیلا آیا ہے یا قبائل کو بھی اس کے ساتھ تم نے بلایا ہے۔ ہاں صاحب محمد میراں یہ اسم مقتضی اس کا ہے کہ آپ قوم کے سید ہوں منشا ء افراط پُرسش وُفورِ محبت سے نہ فضولی۔ یوسف علی خاں شریف عالی خاندان ہیں بادشاہِ دہلی کی سرکار سے تیس روپیہ مہینہ پاتے تھے جہاں سلطنت گئی وہاں وہ تنخواہ بھی گئی۔ شاعر ہیں۔ ریختہ کہتے ہیں۔ ہوس پیشہ ہیں مضطر ہیں ہر مدعا کے حصول کو آسان سمجھتے ہیں علم اسی قدر ہے کہ لکھ پڑھ لیتے ہیں۔ ان کا باپ میرا دوست تھا۔ میں ان کو بجائے فرزند سمجھتا ہوں بقدر اپنی دستگاہ کے کچھ مہینا مقرر کر دیا ہے مگر بسبب کثرتِ عیال وہ ان کو مکتفی نہیں تم ان کی درخواست کے جواب سے قطع نظر نہ کرو گے تو کیا کرو گے۔ صاحب میں بعینِ عنایت الہی کثیر الاحباب ہوں ایک دوست نے کلکتہ سے مجھے اطلاع دی کہ مولوی احمد علی مدرس کلکتہ نے ایک رسالہ لکھا ہے نام اس کا مؤید برہان ہے اس رسالہ میں دفع کیے ہیں تیرے وہ اعتراض جو تو نے دکنی پر کئے ہیں اور تیری تحریر پر کچھ اعتراضات وارد کئے ہیں اور اہل مدرسہ اور شعرائے کلکتہ نے تقریظیں اور تاریخیں بڑی دھوم کی لکھی ہیں۔ بس بھائی میں نے اتنے علم پر ایک قطعہ لکھ کر چھپوایا اور کئی ورق اس دوست کو اور دو چار جلدیں درفش کاویانی علاوہ اوراق مذکور بھیج دئیے۔ اسی زمانے میں تین چار ورق خوب یاد ہے کہ درفش کی جلد میں رکھ کر تم کو بھیجے ہیں یا تو مجھے غلط یاد ہے یا تم نے درفش کو کھول کر دیکھا نہیں وہ اوراق مع درفش زینت طاقِ نسیاں ہیں دو ورق اس لفافہ میں اپنے مکرر بھیجتا ہوں تم بھی دیکھو اور صاحبزادہ بھی دیکھے اور یہ جانے کہ فی الحال نظم فارسی یہی ہے اور بس۔ ہاں صاحب اودھ اخبار میں ایک قصیدہ مولوی غلام امام کا دیکھا مکاں تنگ ست جہاں تنگ ست مدح مختار الملک میں متضمن استدعائے مسکن وسیع۔ پھر مہینہ بھر بعد اسی اودہ (اودھ) اخبار میں یہ خبر دیکھی کہ نواب نے مسکن تو نہ بدلا مگر تین مہینا بڑھا دیا۔ اسی اخبار میں پھر دیکھا گیا کہ ایک صاحب نے مولوی غلام امام کے کلام پر اعتراض کیا ہے اور ان کے شاگرد وضیع تخلص نے اس کا جواب لکھا ہے آپ سے اس روداد کی تفصیل اور جواب و اعتراض و معترض کے نام کا طالب ہوں۔ بسبیلِ استعجال۔ دو شنبہ ۱۶ شعبان ۱۲۸۳ ہجری۔

٭٭

بنام منشی ہر گوپال صاحب المخاطب بہ میرزا تفتہ

آج منگل کے دن ۵ اپریل کو تین گھڑی دن رہے ڈاک کا ہرکارہ آیا۔ ایک خط منشی صاحب کا اور ایک خط تمہارا اور ایک خط بابو صاحب کا لایا۔ بابو صاحب کے خط سے اور مطالب تو معلوم ہو گئے مگر ایک امر میں حیران ہوں کہ کیا کروں یعنی انہوں نے ایک خط کسی شخص کا آیا ہوا میرے پاس بھیجا ہے اور مجھ کو یہ لکھا ہے کہ اس کو الٹا میرے پاس بھیج دینا۔ حال آنکہ خود لکھتے ہیں کہ میں اپریل کی چوتھی کو سپاٹویا آبو جاؤں گا اور آج پانچویں ہے بس وہ تو کل روانہ ہو گئے اب میں وہ خط کس کے پاس بھیجوں ناچار تم کو لکھتا ہوں کہ میں خط کو اپنے پاس رہنے دوں گا۔ جب وہ آ کر مجھ کو اپنے آنے کی اطلاع دیں گے تب وہ خط ان کو بھیجوں گا تم کو تردد نہ ہو کہ کیا خط ہے۔ خط نہیں مینڈھو لال کایتھ غماز کی عرضی تھی بنام مہاراجہ بیکنٹھ باشی سعایت بابو صاحب پر مشتمل اس نے لکھا تھا کہ ہردیو سنگھ جانی جی کا دیوان اور ایک شاعر دہلی کا دیوان مہاراجہ جے پور کے پاس لایا ہے اور جانی کی درستی روزگار جے پور کی سرکار میں کر رہا ہے اور اس کے بھیجنے کی یہ وجہ کہ پہلے ان کے لکھنے سے مجھ کو معلوم ہوا تھا کہ کسی نے ایسا کہا ہے میں نے ان کو لکھا تھا کہ تم کو میرے سر کی قسم اب ہردیو سنگھ کو بلوا لو۔ میں امر جزوی کے واسطے امر کلی کا بگاڑ نہیں چاہتا اس کے جواب میں انہوں نے وہ عرضی بھیجی اور لکھ بھیجا کہ راجہ مرنے والا ایسا نہ تھا کہ ان باتوں پر نگاہ کرتا اس نے یہ عرضی گزرتے ہی میرے پاس بھیج دی فقط ہمارے خط کے جانی جی کی طرف سے میری خاطر جمع ہو گئی مگر اپنی فکر پڑی یعنی بابو صاحب آبو ہوں گے۔ اگر ہردیو سنگھ پھر کر آئے گا تو وہ بغیر ان کے ملے اور ان کے کہے مجھ تک کاہے کو آئے گا۔ خیر وہ بھی لکھتا ہے کہ راول کہیں کو گیا ہوا ہے اس کے آنے پر رخصت ہو گی دیکھئے وہ کب آوے اور کیا فرض ہے کہ اس کے آتے ہی رخصت ہو بھی جائے۔ تمہاری غزل پہنچی۔ یہ البتہ کچھ دیر سے پہنچے گی تمہارے پاس۔ گھبرانا نہیں۔ والدعا۔ از اسد اللہ نگاشتہ سہ شنبہ روز ورود نامہ ومرسلہ چہار شنبہ۔ ششم اپریل ۱۸۵۳ ء۔ جواب طلب۔

 

 

ایضاً

تمہاری خیر و عافیت معلوم ہوا۔ غزل نے محنت کم لی۔ بھائی کا ہاترس سے آنا معلوم ہوا آویں تو میرا سلام کہہ دینا۔ یہ تمہارا دعا گو اگرچہ اور امور میں پایہ عالی نہیں رکھتا۔ مگر احتیاج میں اس کا پایہ بہت عالی ہے یعنی بہت محتاج ہوں سو دو سو میں میری پیاس نہیں بجھتی۔ تمہاری ہمت پر سو ہزار آفرین جے پور سے مجھ کو دو ہزار ہاتھ آ جائے تو میرا قرض رفع ہو جاتا اور پھر اگر دو چار برس کی زندگی ہوتی تو اتنا ہی قرض اور مل جاتا۔ یہ پانسو (پانچ سو- ۵۰۰) تو بھائی تمہاری جان کی قسم متفرقات میں جا کر سو ڈیڑہ (ڈیڑھ)سو بچ رہیں گے سو میرے صرف میں آویں گے۔ مہاجنوں کا سودی جو قرض ہے وہ بقدر پندرہ سولہ سَے کے باقی رہے گا اور وہ جو بابو صاحب سے منگوائے گئے تھے وہ صرف انگریزی سوداگر کے دینے تھے۔ قیمت اس چیز کی جو ہمارے مذہب میں حرام اور تمہارے مشرب میں حلال ہے سو وہ دئیے گئے۔ یقین کہ آج کل میں بابو صاحب کا خط مع ہنڈوی آ جائے بابو صاحب کے جو خطوط ضروری اور کواغذ ضروری میرے پاس آئے ہوئے تھے وہ میں نے پنجشنبہ ۲۶ مئی کو پارسل میں ان کے پاس روانہ کر دئیے اور اس میں لکھ بھیجا کہ ہنڈوی اور میرے بھیجے ہوئے لفافے جلد بھیج دو۔ پنجشنبہ کو آج ۱۵ دن پورے ہوئے۔ از اسد اللہ نگاشتہ پنجشنبہ نہم ۱۸۵۳ء۔

ایضاً

بھائی جس دن تم کو خط بھیجا تیسرے دن ہر دیو سنگھ کی عرضی اور پچیس روپے کی رسید اور پانسو (پانچ سو) کی ہنڈوی پہنچی۔ تم سمجھے بابو صاحب نے پچیس روپے ہر دیو سنگھ کو دیے اور مجھ سے کہا مُجرا نہ لینے بہرحال ہنڈوی ۱۲دن کی میعادی تھی ۶ دن گزر گئے تھے ۶ دن باقی تھے مجکو(مجھ کو)صبر کہاں ، مِتی کاٹ کر روپے لے لئے۔ قرض متفرق سب ادا ہو گیا بہت سبکدوش ہو گیا۔ آج میرے پاس نقد بکس میں اور ۴ بوتل شراب اور تین شیشے گلاب کے توشہ خانے میں موجود ہیں الحمد اللہ علیٰ احسانہ۔ بھائی صاحب آ گئے ہوں تو میر قاسم علی خاں کا خط ان کو دے دو اور میرا سلام کہو اور پھر مجکو (مجھ کو)لکھو تاکہ میں ان کو خط لکھوں۔ بابو صاحب بھرت پور آ جائیں تو آپ کاہلی نہ کیجئے اور ان کے پاس جائیے گا کہ وہ تمہارے جویائے دیدار ہیں۔ اسد اللہ ۔ سہ شنبہ ۲۴ جون ۱۸۵۳ء۔

ایضاً

صاحب کیوں مجھے یاد کیا؟ کیوں خط لکھنے کی تکلیف اٹھائی۔ ؟ پھر یہ کہتا ہوں کہ خدا تم کو جیتا رکھے کہ تمہارے خط میں مولوی قمر الدین خاں کا سلام بھی آیا اور بھائی منشی نبی بخش کی خیر و عافیت بھی معلوم ہوئی وہ تو پنشن کی فکر میں تھے۔ ظاہراً یوں مناسب دیکھا ہو گا کہ نوکری کی خواہش کی۔ حق تعالیٰ ان کی جو مراد ہو بر لاوے۔ ان کو میرا سلام کہہ دینا بلکہ یہ رقعہ پڑھوا دینا مولوی قمر الدین خاں کو بھی سلام کہنا۔ تم اپنے کلام کے بھیجنے میں مجھ سے پرسش کیوں کرتے ہو۔ چار جزو ہیں تو بیس جزو ہیں تو بے تکلف بھیج دو۔ میں شاعر سخن سنج اب نہیں رہا۔ صرف سخن فہم رہ گیا ہوں۔ بوڑھے پہلوان کی طرح پیچ بتانے کی گَوں ہوں۔ بناوٹ نہ سمجھنا۔ شعر کہنا مجھ سے بالکل چھوٹ گیا اپنا اگلا کلام دیکھ کر حیران رہ جاتا ہوں کہ یہ میں نے کیونکر کہا تھا۔ قصہ مختصر وہ اجزا جلد بھیج دو۔ غالب یکشنبہ ۱۴ اپریل ۱۸۵۸ء

ایضاً

میرزا تفتہ تمہارے اوراق مثنوی کا پمفلٹ پاکٹ پرسوں ۱۵ اگست کو اور جناب میرزا حاتم علی صاحبکی نثر شاید آغاز اگست میں روانہ کر چکا ہوں اس نثر کی رسید نہیں پائی اور نہیں معلوم ہوا کہ میری خدمت مخدوم کی مقبول طبع ہوئی یا نہیں۔ نہیں معلوم بھائی نبی بخش صاحب کہاں ہیں اور کس طرح ہیں اور کس خیال میں ہیں۔ نہیں معلوم مولوی قمر الدین خاں الہ آباد سے آ گئے یا نہیں۔ اگر نہیں آئے تو وہاں کیوں متوقف ہیں۔ میر منشی قدیم وہاں پہنچ گئے اپنا کام کرنے لگے یا کر رہے ہیں۔ آپ کو بتاکید لکھتا ہوں کہ ان تینوں باتوں کا جواب الگ الگ لکھیے اور جلد لکھیے اس خط کے پہنچنے تک اغلب ہے کہ پارسل پہنچ جائے اس کے پہنچنے کی اطلاع دیجئے گا اب ایک امر سنو۔ میں نے آغاز یازدہم مئی ۱۸۵۷ ء سے یکم جولائی ۱۸۵۸ تک روداد شہر اور اپنی سرگزشت یعنی پندرہ مہینے کا حال نثر میں لکھا ہے اور التزام اس کا کیا ہے کہ دستاویز کی عبارت یعنی پارسی قدیم لکھی جائے اور کوئی لفظ عربی نہ آئے۔ جو نظم اس نثر میں درج ہے وہ بھی بے آمیزش لفظ عربی ہے۔ ہاں اشخاص کے نام نہیں بدلے جاتے وہ عربی، انگریزی، ہندی جو ہیں وہ لکھ دئیے ہیں مثلاً تمہارا نام منشی ہر گوپال منشی لفظ عربی ہے نہیں لکھا گیا اس کی جگہ شیوا زبان لکھ دیا ہے۔ یہی میرا خط جیسا اس رقعہ کاہے یعنی نہ چھدرا نہ گنجان۔ اوراق بے مسطر پر اس طرح کہ کسی صفحہ میں ۲۰ سطر کسی میں ۲۴ سطر بلکہ کسی میں ۱۹ سطر بھی آئے چالیس صفحہ یعنی ۲۰ ورق ہیں اگر ۲۱ سطر کے مسطر سے کوئی گنجان لکھے تو شاید دو جزو میں آ جائے یہاں کوئی مطبع نہیں ہے۔ سنتا ہوں کہ ایک ہے اس میں کاپی نگار خوشنویس نہیں ہے۔ اگر آگرہ میں اس کا چھاپا ہو سکے تو مجھ کو اطلاع کرو۔ اس تہیدستی اور بے نوائی میں پچیس کا میں بھی خریدار ہو سکتا ہوں لیکن صاحب مطبع اتنے پر کیوں ماننے لگا اور البتہ چاہیے کہ اگر ہزار نہ ہوں تو پانسو(۵۰۰)جلد تو چھاپی جائے یقین ہے کہ پانسو (پانچ سو)سات سو جلد چھاپنے کی صورت میں ۳/۴ قیمت پڑے۔ کاپی تو ایک ہی ہو گی۔ رہا کاغذ وہ بھی بہت نہ لگے گا۔ لکھائی متن کی تو آپ کو معلوم ہو گئی۔ حاشیہ پر البتہ لغات کے معنی لکھے جائیں گے بہرحال اگر ممکن ہو تو اس کا تکدمہ کرو۔ اور حساب معلوم کر کے مجھ کو لکھو مگر منشی قمر الدین خاں آ گئے ہوں تو ان کو شریکِ مصلحت کر لو۔ ان تینوں کا جواب اور پارسل کی رسید اور اس مطلبِ خاص کا جواب یہ سب ایک خط میں پاؤں ضرور۔ ضرور۔ ضرور۔ غالب نگاشتہ وردان داشتہ سہ شنبہ۔ ہفدہم اگست ۱۸۵۸ ء۔ جواب طلب۔ واسطے تاکید کے بیرنگ بھیجا گیا۔

ایضاً

للہ الشکر تمہارا خط آیا۔ اور دل سودازدہ نے آرام پایا۔ تم میرا خط اچھی طرح پڑھا نہیں کرتے میں نے ہر گز نہیں لکھا کہ یہ عبارت دو جزو میں آ جائے۔ میں نے یہ لکھ تھا کہ عبارت اس قدر ہے کہ دو جزو میں آ جائے۔ لیکن میں چاہتا ہوں کہ حجم زیادہ ہو۔ بہرحال اس نمونہ کی تقطیع اور حاشیہ مطبوع ہے لغات کے معنی حاشیہ پر چڑھیں اس کی روش دلاویز اور تقسیم نظر فریب ہو۔ رباعی حاشیہ پر لکھ دی اچھا کیا۔ بھائی منشی نبی بخش صاحب سے نثر کے دو فقرے جس محل پر کہ ان کو بتائے ہیں ضرور لکھوا دینا۔ میں نے جو تم کو میرزائی کا خطاب دیا ہے ان فقروں میں اس کا اظہار کیا ہے۔ بہت ضروری امر ہے اور میں منشی شیو نراین صاحب کو آج صبح کو لکھ چکا ہوں۔ تیسرے صفحے کے آخر یا چوتھے صفحے کے اول یہ جملہ ہے “اگر دردم دیگر نہیب مباش بہم زند ” نہیب کی جگہ نوائے بنا دیا۔ بہ نوائے مباش بہم زند۔ نہیب لفظ عربی ہے اگر رہ جائے گا تو لوگ مجھ پر اعتراض کریں گے۔ تیز چاقو کی نوک سے نہیب کا لفظ چھیلا جائے اور اسی جگہ نوائے لکھ دیا جائے۔ رائے امید سنگھ نے مجھ پر عنایت کی اور مطبع کی اعانت کی۔ حق تعالیٰ ان کو اس کارسازی اور فقیر نوازی کا اجر دے۔ صاحب کبھی نہ کبھی میرا کام تم سے آ پڑا ہے اور پھر کام کیسا کہ جس میں میری جان الجھی ہوئی ہے اور میں نے اس کو اپنے بہت سے مطالب کے حصول کا ذریعہ سمجھا ہے۔ خدا کے واسطے پہلو تہی نہ کرو اور بدل توجہ فرماؤ کاپی کی تصحیح کا ذمہ بھائی کا ہو گیا ہے۔ چھ جلد آراستگی کا ذمہ برخوردار عبد الطیف کا کر دو۔ میری طرف سے دعا کہو اور کہو میں تمہارا بوڑھا اور مفلس چچا ہوں۔ تصحیح بھائی کریں تزئین تم کر و۔ کہتا ہوں مگر نہیں جانتا کہ تزئین کیونکر کیا چاہیے۔ سنتاہوں کہ چھاپے کی کتاب کے حرفوں پر سیاہی کی قلم پھیر دیتے ہیں تاکہ حرف روشن ہو جائیں۔ سیاہ قلم سے جدول بھی کھچ (کھنچ)جاتی ہے پھر جلد بھی پر تکلف بن سکتی ہے۔ بھتیجے کی دستکاری اور صناعی اور ہوشیاری ان کی میرے کس دن کام آوے گی۔ میرزا تفتہ تم بڑے بے درد ہو۔ دلی کی تباہی پر تم کو رحم نہیں آتا بلکہ تم اس کو آباد جانتے ہو۔ یہاں نیچہ بند تو میسر نہیں۔ صحاف اور نقاش کہاں۔ شہر آباد ہوتا تو میں آپ کو تکلیف کیوں دیتا یہیں سب درستی میری آنکھوں کے سامنے ہو جاتی۔ قصہ مختصر یہ عبارت منشی عبد الطیف کو پڑھا دو میں توا ن کے باپ کو اپنا حقیقی بھائی جانتا ہوں۔ اگر وہ مجھے اپنا حقیقی چچا جانیں اور میرا کام کریں تو کیا عجب ہے ، دو روپے فی جلد اس سے زیادہ کا مقدور نہیں جب مجکو(مجھ کو) لکھو گے۔ ہنڈوی بھیج دوں گا۔ چھ روپے آٹھ روپے دس روپے حد بارہ روپیہ میاں کو سمجھا دینا۔ کمی کی طرف نہ گریں چیز اچھی ہے نہایت بارہ روپے میں چھ جلدیں تیار ہوں۔ منشی شیو نراین کو سمجھا دینا کہ زنہار عرف نہ لکھیں نام اور عرف بس۔ اجزائے خطابی کا لکھنا نا مناسب بلکہ مضر ہے مگر ہاں نام کے بعد لفظ بہادر کا اور بہادر کے لفظ کے بعد تخلص۔ اسد اللہ خاں بہادر غالبؔ۔ بھائی تم نے اوراق مثنوی کی رسید نہ لکھی کہیں وہ پارسل میں سے گر تو نہ گئے ہوں۔ دیکھو کس لطف سے میری حقیقت بیاں ہوئی ہے۔ اوروں کے چھاپنے کی ممانعت ضرور ہے مگر میں اس کی عبارت کیا بتاؤں۔ صاحب مطبع اس امر کو اردو میں آخر کتاب پر لکھ دیں منشی جی سے نثر لکھوا لو۔ منشی عبد اللطیف کو یہ خط پڑھا دو۔ نہیب کی جگھ (جگہ) نوا بنا دو۔ صاحبِ مطبع کو میرا پتہ دو۔ خاتمہ پر ممانعت کا حکم صاحبِ مطبع سے لکھوا دو۔ برخوردار عبد اللطیف سے مقدار روپیہ کی دریافت کر کے مجکو(مجھ کو) لکھ بھیجو۔ اپنی مثنوی کی رسید لکھو۔ اپنے بجان و دل مصروف ہونے کا اقرار کرو۔ ان سب امور کی مجھے خبر دو۔ غالب۔ جمعہ۔ سوم ستمبر ۱۸۵۸ ہنگام نیمروز۔

ایضاً

میرزا تفتہ کو دعا پہنچے۔ دونوں فقرے جس محل پر بتائے ہیں حاشیہ پر لکھ دئیے ہوں گے۔ نہیب کے لفظ کو چھیل کر نوائے بنا دیا ہو گا۔ برخوردار منشی عبد اللطیف کو میرا خط اپنے نام کا دکھا دیا ہو گا۔ ان کی سعادتمندی سے یقین ہے کہ میری التماس قبول کریں اور ادھر متوجہ ہوں۔ کاپی لکھی جانی اور چھاپا ہونا شروع ہو گیا ہو گا۔ آخر پتھر بڑا ہے تو۔ تو چاہیے آٹھ آٹھ صفحے بلکہ بارہ بارہ صفحہ چھاپے جائیں اور کتاب جلد منطبع ہو جائے۔ بھائی منشی صاحب کی شفقت کا حال پوچھنا ضرور نہیں مجھ پر مہربان اور حسنِ کلام کے قدر دان ہیں اس کی تصحیح میں بے پروائی کریں گے تو کیا میری تفضیح کے رودار ہوں گے۔ بھائی تم نے اور منشی شیو نراین صاحب نے بھی لکھا۔ میں ایک عبارت لکھتا ہوں اگر پسند آئے تو خاتمہ عبارت میں چھاپ دو۔ نامہ نگار غالب خاکسار کا یہ بیان ہے کہ یہ جو میری سرگذشت کی داستان ہے اس کو میں نے مطبع مفید خلائق میں چھپوایا ہے اور میری رائے میں ا س کا یہ قاعدہ قرار پایا ہے کہ اور صاحب ِ مطابع جب تک مجھ سے طلبِ رخصت نہ کریں اپنے مطبع میں اس کے چھاپنے کی جرات نہ کریں۔ اس کے سوا اگر کوئی طرح کی تحریر منظور ہو تو منشی شیو نراین صاحب کو اجازت ہے کہ میری طرف سے چھاپ دیں۔ یہ سب باتیں پہلے بھی لکھ چکا ہوں اب دو امر ضروری الاظہار تھے۔ اس واسطے یہ خط لکھا ہے ایک تو اردو عبارت دوسرے یہ کہ میرے شفیق مکرم سید مکرم حسین صاحب کا خط میرے نام آیا ہے اور انہوں نے ایک بات جواب طلب لکھی ہے اس کا جواب اسی خط میں لکھتا ہوں تم کو چاہیے کہ ان سے کہہ دو بلکہ یہ عبارت ان کو دکھا دو۔ بندہ پرور نواب عطاء اللہ خاں میرے بڑے دوست اور شفیق ہیں ان کے فرزند رشید میر غلام عباس المخاطب بہ سیف الدولہ یہ دونوں صاحب صحیح و سالم ہیں۔ شہر سے باہر دو چار کوس پر کوئی گانو (گاؤں ) ہے وہاں رہتے ہیں شہر میں اہل اسلام کی آبادی کا حکم نہیں اور ان کے مکانات قرق ہیں۔ ضبط ہو گئے ہیں نہ واگزاشت کا حکم ہے۔

ایضاً

میرزا تفتہ اس غمزدگی میں مجکو(مجھ کو)ہنسانا تمہارا ہی کام ہے۔ بھائی تضمین گلستاں چھپوا کر کیا فائدہ اٹھایا ہے جو انطباعِ سنبلستاں سے نفع اٹھاؤ گے۔ روپیہ جمع رہنے دو۔ آمد اچھی چیز ہے اگر چہ قلیل ہو اور اگر روپیہ لینا منظور ہے تو ہر گز اندیشہ نہ کرو اور درخواست دے دو بعد نو مہینے کے روپیہ تم کو مل جائے گا یہ میرا ذمہ کہ اس نو مہینے میں کوئی انقلاب واقع نہ ہو گا۔ اگر احیاناً ہوا بھی تو ہوتے ہوتے اس کو مدت چاہیے۔ رستخیز بیجا ہو چکا۔ اب ہو تو رستخیز ہو۔ یعنی قیامت اور اس کا حال معلوم نہیں کب ہو گی اگر اعداد کے حساب سے دیکھو تو بھی رستخیز کے ۱۲۷۷ ہوتے ہیں۔ احتمال ِ فتنہ سالِ آئندہ پر رہا سو بھی موہوم۔ میاں میں جو آخر جنوری کو رام پور جا کر آخر مارچ میں یہاں آ گیا ہوں تو کیا کہوں کہ یہاں کے لوگ میرے حق میں کیا کچھ کہتے ہیں۔ ایک گروہ کا قول ہے کہ یہ شخص والی رامپور کا استاد تھا۔ اور وہاں گیا تھا اگر نواب نے کچھ سلوک نہ کیا ہو گا تو بھی پانچ ہزار روپیہ سے کم نہ دیا ہو گا۔ ایک جماعت کہتی ہے کہ نوکری کو گئے تھے مگر نوکر نہ رکھا۔ ایک فرقہ کہتا ہے کہ نواب نے نوکر رکھ لیا تھا۔ دو سو مہینا کر دیا تھا۔ نواب لفٹنٹ گورنر الہ آباد جو رامپور آئے اور ان کو غالب کا وہاں ہونا معلوم ہوا تو انہوں نے نواب صاحب سے کہا کہ اگر ہماری خوشنودی چاہتے ہو تو اس کو جواب دو۔ نواب نے برطرف کر دیا یہ تو سب سن لیا اب تم اصل حقیقت سنو۔ نواب یوسف علی خاں بہادر تیس تیس برس کے میرے دوستاور پانچ چھ برس کے میرے شاگرد ہیں۔ آگے گاہ گاہ کچھ بھیج دیا کرتے تھے اب جولائی ۱۸۵۹ء سے سو روپیہ مہینا ماہ بماہ بھیجتے ہیں بلاتے رہتے ہیں۔ اب میں گیا دو مہینے رہ کر چلا آیا۔ بشرطِ حیات بعد برسات کے پھر جاؤں گا۔ وہ سو روپے مہینا یہاں رہوں وہاں رہوں۔ خدا کے ہاں سے میرا مقرر ہے۔ غالب ۳۱ مارچ ۱۸۶۲ء۔

ایضاً

کیوں صاحب ؟َ کیا یہ نیا آئین جاری ہوا ہے کہ سکندر آباد کے رہنے والے دلّی کے خاک نشینوں کو خط نہ لکھیں بھلا اگر یہ حکم ہوا ہوتا تو یہاں بھی تو اشتہار ہو جاتا کہ زنہار کوئی خط سکندر آباد کو یہاں کی ڈاک میں نہ جائے بہرحال؎ کس بشنود یا نشنود من گفتگوئے میکنم۔ کل جمعہ کے دن ۱۲ تاریخ نومبر کو ۳۳ جلدیں بھیجی ہوئی برخوردار شیو نراین کی پہنچیں۔ کاغذ، خط، تقطیع، سیاہی، چھاپہ، سب خوب۔ دل خوش ہوا اور شیو نراین کو دعا دی۔ سات کتابیں جو میرزا حاتم علی بیگ صاحب کی تحویل میں ہیں وہ بھی یقین ہے کہ آج کل پہنچ جائیں۔ معلوم نہیں منشی شیو نراین نے اندور کو واسطے رائے امید سنگہ (سنگھ) کے کس طرح بھیجی ہیں یا ابھی نہیں بھیجیں۔ صاحب تم اس خط کا جواب جلد لکھو اور اپنے قصد کا حال لکھو۔ سکندر آباد کب تک رہو گے۔ آگرہ کب جاؤ گے۔ شنبہ ۱۳ نومبر ۱۸۵۸ ء۔ جواب طلب

ایضاً

صاحب ۲۵ اپریل کو ایک خط اور ایک پارسل ڈاک میں ارسال کر چکا ہوں۔ آج ۳۰ ہے۔ یقیں ہے کہ خط اور پارسل دونوں پہنچ گئے ہوں گے۔ ایک امر ضروری باعث اس تحریر کا ہے کہ جو میں اس وقت روانہ کرتا ہوں۔ ایک میرا دوست اور تمہارا ہمدرد ہے اس نے اپنے حقیقی بھتیجے کو بیٹا کر لیا تھا اٹھارہ انیس برس کی عمر قوم کا کھتری خوبصورت وضع دار نوجوان ۱۲۷۳ ھ میں بیمار پڑ کر مر گیا اب اس کا باپ مجھ سے آرزو کرتا ہے کہ ایک تاریخ اس کے مرنے کی لکھوں ایسی کہ وہ فقط تاریخ نہ ہو بلکہ مرثیہ ہو کہ وہ اس کو پڑھ پڑھ کر رویا کرے سو بھائی اس سائل کی خاطر مجکو(مجھ کو) عزیز اور فکرِ شعر متروک معہذا یہ واقعہ تمہارے حسبِ حال ہے جو خونچکان شعر تم نکالو گے وہ مجھ سے کہاں نکلیں گے۔ بطریقِ مثنوی بیس تیس شعر لکھ دو۔ مصرع کے آخر میں مادہ تاریخ ڈال دو۔ نام اس کا برج موہن تھا اور اس کو بابو بابو کہتے تھے چنانچہ میں بحرِ ہزج مسدس مجنون میں ایک شعر تم کو لکھتا ہوں چاہو اس کو آغاز میں رہنے دو اور آئندہ اسی بحر میں اور اشعار لکھ لو۔ چاہو کوئی اور طرح نکالو۔ لیکن یہ خیال میں رہے کہ سائل کو متوفی کے نام کا درج ہونا منظور ہے اور بابو برج موہن سوائے اس بحر کے یا بحر رمل کے اور بحر میں نہیں آ سکتا۔ وہ شعر میرا یہ ہے ؎

برم چوں نام بابو برج موہن

چکد خونِ دلِ ریش از لب من

غالب۔ نگاشتہ روزِ جمعہ۔ سی ام اپریل ۱۸۵۸ء۔

ایضاً

بھائی تمہارا وہ خط جس میں اوراق مثنوی ملفوف تھے پہنچا۔ اوراق مثنوی اوراقِ دستنبو کے ساتھ پہنچیں گے۔ اب تمہارے مطالب کا جواب جدا جدا لکھتا ہوں۔ الگ الگ سمجھ لینا۔ صاحب تم نے مرزا حاتم علی بیگ صاحب سے کیوں کہا۔ بات اتنی تھی کہ وہ مجکو(مجھ کو)لکھ بھیجتے کہ نثر آئی اور مرزا صاحب نے پسند کی۔ اب ان سے میرا سلام کہو اور یہ کہو کہ آپ کے شکر بجا لانے کا شکر بجا لاتا ہوں چھاپے کے باب میں جو آپ نے لکھا وہ معلوم ہوا۔ اس تحریر کو جب دیکھو گے تب جانو گے اہتمام اور عجلت اس کے چھپوانے میں اس واسطے ہے کہ اس میں سے ایک جلد نواب گورنر جنرل بہادر کی نذر بھیجوں گا۔ اور ایک جلد بذریعہ ان کے ملکہ معظمہ انگلستان کی نذر کروں گا اب سمجھ لو طرزِ تحریر کیا ہو گی۔ اور صاحبانِ مطبع کواس کا انطباع کیوں نا مطبوع ہو گا۔ جیتے رہو اس غمزدگی میں مجکو(مجھ کو) ہنسایا وہ کون مُلّا تھا جس نے تم کو پڑھایا

؎گرچہ عمل کار خردمند نیست

عملِ کار اہل ِ کار

یہ شعر شیخ سعدی کا بادشاہ کی نصیحت میں ہے

؎جز بخرد مند مفر ما عمل

یعنی خدمت و اعمال سوائے عُلما اور عقلا کے اور کی تفویض نہ کر۔ پھر خود کہتا ہے ؎ گرچہ عمل کار خرد مند نیست۔ یعنی گرچہ خدمات و اشغال ِ سلطانی کا قبول کرنا خرد مندوں کا کام نہیں اور عقل سے بعید ہے کہ آدمی اپنے کو خطرے میں ڈالے۔ عمل الگ ہے اور کار مضاف ہے بطرف خرد مند کے ورنہ دہائی خدا کی عملِ کار اہلِ کار کے معنی پر نہیں آتا مگر قتیل اور واقف یا پورب کے ملکیوں کی فارسی۔ فقط غالبؔ

ایضاً

میری جان کیا سمجھے ہو سب مخلوقات تفتہ و غالب کیونکر بن جائیں ؎ ہر یکے را بہر کارے ساختند۔ انت متا سومتا۔ مصری میٹھی نمک سلونا کبھی کسی شے کا مزہ نہ بدلے گا۔ اب جو میں اس شخص کو نصیحت کروں وہ کیا نہ سمجھے گاکہ غالب کیا جانے کہ عبدالرحمن کون ہے اور مجھ سے اس سے کیا رسم و راہ ہے بے شبہ جانے گا کہ تفتہ نے لکھا ہو گا۔ میں اس کی نظر میں سبک ہو جاؤں گا اور تم سے وہ بھی سرگراں ہو جائے گا اور یہ جو تم لکھتے ہو کہ تو نے اس شخص کو اپنے عزیزوں میں گنا ہے۔ بندہ پرور میں تو بنی آدم کو مسلمان یا ہندو یا نصرانی عزیز رکھتا ہوں اور اپنا بھائی گنتا ہوں دوسرا مانے یا نہ مانے باقی رہی وہ عزیز داری جس کو اہل دنیا قرابت کہتے ہیں اس کو قوم اور ذات اور مذہب اور طریق شرط ہے اور اس کے مراتب و مدارج ہیں نظر اس دستور پر اگر دیکھو تو مجکو(مجھ کو)اس شخص سے خس برابر علاقہ عزیز داری کا نہیں از راہِ حسنِ اخلاق اگر عزیز لکھ دیا یا کہہ دیا تو کیا ہوتا ہے۔ زین العابدین خاں عارف میرے سالے کا بیٹا یہ شخص اس کے سالے کا بیٹا اس کو جو چاہو سمجھ لو۔ خلاصہ یہ کہ جب ادھر سے آدمیت نہ ہوئی تو اب اس کو لکھنا لغو و بے فائدہ بلکہ مضر ہے۔ تمہارا میرٹھ جانا اور نواب مصطفے ٰ خاں سے ملنا ہم پہلے ہی دریافت کر چکے ہیں۔ اب تمہارے خط سے مراد آباد ہو کر سکندرآباد آنا معلوم ہو گیا۔ حق تعالیٰ شانہ تم کو خوش و خورّم (خرم) رکھے۔ مرقومہ جمعہ ۲۳ ستمبر ۱۸۵۹ء۔

 

 

ایضاً

صاحب تمہارا خط مع رقعہ مرد سخن فہم پہنچا۔ تمہاری خوشامد نہیں کرتا۔ سچ کہتا ہوں کہ تمہارے کلام کی تحسین کرنے والا فی الحقیقت اپنے فہم کی تعریف کرتا ہے۔ جواب میں درنگ اس راہ سے ہوئی کہ میں مصطفے ٰ خاں کی ملاقات کو بسبیلِ ڈاک میرٹھ گیا تھا۔ تین دن وہاں رہا۔ کل وہاں سے آیا آج تم کو یہ خط بھجوایا۔ محررّہ و مرسلہ چہار شنبہ ۲۶ جنوری ۱۸۵۹ ء۔ غالب۔

ایضاً

میرزا تفتہ کل قریب دوپہر کے ڈاک کا ہرکارہ وہ جو خط بانٹا کرتا ہے آیا اور اس نے پارسل موم جامے میں لپٹا ہوا دیا۔ پہلے تو میں بھی حیران رہا کہ پاکٹ خطوں کی ڈاک میں کیوں لایا۔ بارے اس کی تحریر دیکھی تو تمہارے ہاتھ کا پیم فلٹ (پمفلٹ) لکھا ہوا اور دو ٹکٹ لگے ہوئے مگر اس کے آگے کالی مہر اور کچھ انگریزی لکھا ہوا۔ ہرکارہ نے کہا کہ ۱۰ دلوائیے۔ دلوا دئیے اور پارسل لے لیا مگر حیران کہ یہ کیا پیچ پڑا۔ قیاس ایسا چاہتا ہے کہ تمہارا آدمی جو ڈاک گھر گیا اس کو خطوں کے بکس میں ڈال دیا۔ ڈاک کے کار پردازوں نے غور نہ کی اور اس کو بیرنگ خطوں کی ڈاک میں بھیج دیا وہ صاحب جو میرے عرف سے آشنا اور میرے نام سے بیزار ہیں۔ یعنی منشی بھگوان پرشاد مثل خواں میرا سلام قبول کریں۔ غالب۔ ۲۸ جولائی ۱۸۵۸ء۔

 

 

ایضاً

بھائی مجھ میں تم میں نامہ نگاری کا ہے کو ہے مکالمہ ہے۔ آج صبح کو ایک بھیج چکا ہوں اب اس وقت تمہارا خط اور آیا۔ سنو صاحب لفظ مبارک میم حا میم دال اس کے ہر حرف پر میری جان نثار ہے مگر چونکہ یہاں سے ولایت تک حکام کے ہاں سے یہ لفظ یعنی محمد اسد اللہ خاں نہیں لکھا جاتا میں نے بھی موقوف کر دیا ہے رہا میر زاو مولانا و نواب اس میں تم کو اور بھائی کو اختیار ہے جو چاہو سو لکھو۔ بھائی کو کہنا ان کے خط کا جواب صبح کو روانہ کر چکا ہوں۔ مرزا تفتہ اب تم تزئین جلد ہائے کتاب کے باب میں برادر زادہ سعادتمند کو تکلیف نہ دو۔ مولانا مہربان کو اختیار ہے جو چاہیں سو کریں خط تمام کر کے خیال آیا کہ وہ جو مرزا صاحب سے مجکو (مجھ کو) مطلوب ہے تم پر بھی ظاہر کروں۔ صاحب وہاں ایک اخبار موسوم بہ آفتاب عالمتاب نکلتا ہے۔ اس کے مہتمم نے التزام کیا ہے کہ ایک صفحہ یا ڈیڑہ (ڈیڑھ)صفحہ بادشاہِ دہلی کے حالات کا لکھتا ہے۔ نہیں معلوم آغاز کس مہینے سے ہے۔ حکیم احسن اللہ خاں یہ چاہتے ہیں کہ سابق کے جو اوراق ہیں جب سے ہوں وہ جو چھاپے خانے میں مسودے رہتے ہیں اس کی نقل کاتب سے لکھوا کر یہاں بھیجی جائے اجرت جو لکھی آئے گی وہ بھیجی جائے گی۔ اور ابتدائے ۱۸۵۸ء سے ان کا نام خریداروں میں لکھا جائے دو ہفتے کے دو نمبر ان کو ایک لفافہ میں بھیج دئیے جائیں اور پھر ہر مہینے ہفتہ در ہفتہ ان کو لفافہ اخبار کا پہنچا کرے۔ بہ مراتب مرزا حاتم علی صاحب کو لکھ چکا ہوں۔ اور اب تک آثار قبول ظاہر نہیں ہوئے۔ نہ لفافے حکیم صاحب پاس پہنچے نہ ان صفحات کی نقل میرے پاس آئی۔ آپ کو اس میں سعی ضرور ہے اور ہاں صاحب آفتاب عالمتاب کا مطبع تو کشمیری بازار میں ہے مگر آپ مجھ کو لکھیں کہ مفید خلائق کا مطبع کہاں ہے۔ عجب ہے کہ ان صاحب شفیق نے میری تحریرات کا جواب نہ لکھا۔ فرمایش حکیم احسن اللہ خاں صاحب کی بہت اہم ہے۔ عند الملاقات میرا سلام کہہ کراس کا جواب بلکہ وہ اخبار اُن سے بھجواؤ۔ جمعہ ۷ ستمبر۔

ایضاً

بھائی میں نے مانا تمہاری شاعری کو میں جانتا ہوں کہ کوئی دم تم کو فکر سخن سے فرصت نہ ہو گی پر جو تم نے التزام کیا ہے ترصیع کی صنعت کا اور دو لخت شعر لکھنے کا اس میں ضرور نشستِ معانی بھی ملحوظ رکھا کرو اور جو کچھ لکھو اس کو دوبارہ سہ بارہ دیکھا کرو۔ کیوں صاحب یہ ڈبل خط پوسٹ پیڈ بھیجنا اور وہ بھی دلّی سے سکندرآباد کو آیا۔ حاتم کے سوا اور میرے سوا کسی نے کیا کہا ہو گا۔ کیا ہنسی آتی ہے تمہاری باتوں پر خدا تم کو جیتا رکہے (رکھے )اور جو کچھ تم چاہو تم کو دے جانی جی کی بڑی فکر ہے۔ میں تم کو لکھا چاہتا تھا کہ ان کا حال لکھو۔ تمہارے خط سے معلوم ہوا کہ تم کو بھی نہیں معلوم کہ وہ کہاں ہیں یقین ہے کہ اجمیر میں ہوں گے مگر خط نہیں بھیجا جاتا کہ وہاں مقیم نہیں ہیں۔ خدا جانے کب چل نکلیں۔ بہرحال تم بھرتپور سے قریب ہو اور ان کے متوسلوں کو جانتے ہو اور اگر ہو سکے تو کسی کو لکھ کر خبر منگوا لو اور جو کچھ تم کو معلوم ہو وہ بھی مجھ کو لکھو۔ منشی صاحب مع عبد اللطیف کول میں آ گئے۔ کل ان کا خط مجھ کو آیا تھا آج اس کا جواب بھی روانہ کر دیا۔ اسد اللہ یکشنبہ ۲۱ ماہ اگست ۱۸۵۳ء۔

ایضاً

بھائی آج مجکو(مجھ کو) بڑی تشویش ہے اور یہ خط میں تم کو کمال سراسیمگی میں لکھتا ہوں جس دن میرا خط پہنچے۔ اگر وقت ڈاک کا ہو تو اسی وقت جواب لکھ کر روانہ کر و اور اگر وقت نہ رہا ہو تو ناچار دوسرے دن جواب بھیجو۔ منشا تشویش و اضطراب کا یہ ہے کہ کئی دن سے راجہ بھرت پور کی بیماری کی خبر سنی جاتی تھی۔ کل سے اور بری خبر شہر میں مشہور ہے تم بھرت پور سے قریب ہو یقین ہے کہ تم کو تحقیق حال معلوم ہو گا۔ جلد لکھو کہ کیا صورت ہے۔ راجہ کا مجکو (مجھ کو) غم نہیں مجکو(مجھ کو) فکر جانی جی کی ہے کہ اسی علاقہ میں تم بھی شامل ہو صاحبانِ انگریز نے ریاستوں کے باب میں ایک قانون وضع کیا ہے یعنی جو رئیس مر جاتا ہے سرکار اس ریاست پر قابض و متصرف ہو کر رئیس زادہ کے بالغ ہونے تک بندوبست ریاست کا اپنے طور پر رکھتی ہے سرکاری بندوبست میں کوئی قدیم الخدمت موقوف نہیں ہوتا اس صورت میں یقین ہے کہ جانی صاحب کا علاقہ بدستور قائم رہے۔ مگر یہ وکیل ہیں معلوم نہیں مختار کون ہے اور ہمارے بابو صاحب میں اور مختار میں صحبت کیسی ہے۔ رانی سے ان کی کیا صورت ہے ؟ تم اگرچہ بابو صاحب کی محبت کا علاقہ رکھتے ہو۔ لیکن انہوں نے از راہِ دوراندیشی تم کو متوسل اس سرکار کا کر رکھا ہے اور تم مستغیثانہ اور لا اُبالیانہ زندگی بسر کرتے تھے اب زنہار وہ روش نہ رکھنا اب تم کو بھی لازم آ پڑا ہے جانی جی کے ساتھ رُوشناس حُکامِ والا مقام ہونا۔ پاس چاہیے کول کی آرایش٭ (شاید یہاں لفظ رہائش ہو۔ مگر کتاب میں آرایش ہی لکھا ہے۔ چھوٹا غالب)کا ترک کرنا اور خواہی نخواہی بابو صاحب کے ہمراہ رہنا۔ میری رائے میں یوں آیا ہے اور میں نہیں لکھ سکتا کہ موقع کیا ہے اور مصلحت کیا ہے جانی جی بھرت پور آئے ہیں یا اجمیر میں ہیں۔ کس فکر میں ہیں اور کیا کر رہے ہیں۔ واسطے خدا کے نہ مختصر نہ سرسری بلکہ مفصل اور منقح جو کچھ واقع ہوا ہو اور جو صورت ہو مجکو(مجھ کو) لکھو اور جلد کہ مجھ پر خواب و خور حرام ہے۔ کل شام کو میں نے سنا آج صبح قلعہ نہیں گیا اور یہ خط لکھ کر از راہِ احتیاط بیرنگ روانہ کیا ہے۔ تم بھی اس کا جواب بیرنگ روانہ کرنا آدھا آنہ ایسی بڑی چیز نہیں ڈاک کے لوگ بیرنگ خط کو ضروری سمجھ کر جلد پہنچاتے ہیں اور پوسٹ پیڈ پڑا رہتا ہے جب اس محلہ میں جانا ہوتا ہے تو اس کو بھی لے جاتے ہیں زیادہ کیا لکھوں پریشان ہوں۔ نوشتہ چاشتگاہ دو شنبہ ۲۸ مارچ ۱۸۵۳ ء۔ ضروری جواب طلب۔

ایضاً

میاں مرزا تفتہ۔ ہزار آفرین کیا اچھا قصیدہ لکھا ہے واہ واہ چشم بد دور۔ تسلسل سخنی سلاست الفاظ۔ ایک مصرع میں تم کو محمداسحاق شوکتؔ بخاری سے توارد ہوا۔ یہ بھی محل فخر و شرف ہے کہ جہاں شوکت پہنچا وہاں تم پہنچے۔ وہ مصرع یہ ہے ؎ چاک گردیدم و از جیب بدامان رفتم۔ پہلا مصرعہ تمہارا اگر اس کے پہلے مصرعہ سے اچھا ہوتا تو میرا دل اور زیادہ خوش ہوتا خدا تم کو اتنا جِلائے کہ ایک دیوان ۲۰ جزو قصائد کا لکھ لو۔ مگر خبردار قصائد بقیدِ حروفِ تہجی نہ جمع کرنا۔ صاحب مجھے اس بزرگوار کا معاملہ اور یہ جو تم نے اس کا وطن اور پیشہ اب لکھا ہے سابق کا تمہارا لکھا ہوا سب یاد ہے۔ میں نے اس کو دوست بطریق طنز لکھا ہے۔ بہر حال وہ جو میں نے خاقانی کا شعر لکھ کر اس کو بھیجا ہے اس کی ماں مرے اگر میرے اس خط کا جواب لکھا ہو۔ بڑا پرانا قصہ تم نے یاد دلایا۔ داغ کہنہ حسرت کو چمکایا۔ یہ قصہ منشی محمد حسن کی معرفت روشن الدولہ پاس اور روشن الدولہ کے توسط سے نصیر الدین حیدر کے پاس گزرا اور جس دن گزرا اسی دن پانچ ہزار روپے بھیجنے کا حکم ہوا۔ متوسط یعنی منشی محمد حسن نے مجکو(مجھ کو)اطلاع دی۔ مظفر الدولہ مرحوم لکھنؤ سے آئے انہوں نے یہ راز مجھ پر ظاہر کیا اور کہا کہ خد اکے واسطے میرا نام منشی محمد حسن کو نہ لکھنا ناچار میں نے شیخ امام بخش ناسخ کو لکھا کہ تم دریافت کر کے لکھو کہ میرے قصیدہ پر کیا گزری انہوں نے جواب لکھا کہ پانچ ہزار ملے۔ تین ہزار روشن الدولہ نے کھائے دو ہزار منشی محمد حسن کو دئیے اور فرمایا کہ اس میں سے جو مناسب جانو غالب کو بھیج دو۔ کیا اس نے ہنوز تم کو کچھ نہ بھیجا۔ اگر نہ بھیجا ہو تو مجکو(مجھ کو)لکھو۔ میں نے لکھ بھیجا کہ مجھے پانچ روپے بھی نہیں بھیجے۔ اس کے جواب میں انہوں نے لکھا کہ اب تم مجھے خط لکھو اس کا مضمون یہ ہو کہ میں نے بادشاہ کی تعریف میں قصیدہ بھیجا ہے اور یہ مجکو(مجھ کو)معلوم ہوا کہ وہ قصیدہ حضور میں گزرا مگر میں نے نہیں جانا کہ اس کا صلہ کیا مرحمت ہوا۔ میں کہ ناسخ ہوں اپنے نام کا۔ خط بادشاہ کو پڑھوا کر ان کا کھایا ہوا روپیہ ان کے حلق سے نکال کر تم کو بھیج دوں گا۔ بھائی یہ خط لکھ کر میں نے ڈاک میں روانہ کیا آج خط روانہ ہوا۔ تیسرے دن شہر میں خبر اڑی کہ نصیر الدین حیدر مر گیا۔ اب کہو میں کیا کروں اور ناسخ کیا کرے۔ غالب دو شنبہ ۱۹ اگست ۱۸۶۱ء۔

ایضاً

آؤ مرزا تفتہ میرے گلے لگ جاؤ۔ بیٹھو اور میری حقیقت سنو۔ یکشنبہ کو مولوی مظہر الحق آئے تھے ان سے سب حال معلوم ہوا۔ پہلا خط تم کو ان کے بھائی مولوی انوار الحق نے بموجب حکم رنگٹن صاحب کے لکھا تھا۔ پھر ایک خط صاحب نے آپ مسودہ کر کے اپنی طرف سے تم کو لکھا۔ دونوں دیوان تمہارے اور نشترِ عشق اور ایک تذکرہ اور یہ چار کتابیں تمہاری بھیجی ہوئی ان کو پہنچیں۔ صاحب تم سے بہت خوش اور تمہارے بہت معتقد ہیں۔ کہتے ہیں کہ ہم جانتے ہیں اتنا بڑا شاعر کوئی اور ہندوستان میں نہ ہو گا کہ جو پچاس ہزار بیت کا مالک ہو۔ فائدہ اس التفات کا یہ کہ تمہارا ذکر بہت اچھی طرح سے لکھیں گے باقی ما بخیر، شما بسلامت۔ ہاں اس کے تحت میں مشاہرہ کے علاقہ میں۔ اگر تمہاری اجازت ہو تو اس امر میں ان سے کلام کروں میرا عجب حال ہے۔ حیران ہوں کہ تمہیں میرا کلام کیوں نہیں باور آتا ؎

گمانِ زیست بود بر مَنَت ز بیدردی

بداست مرگ ولے بد تر از گمانِ تو نیست

سامعہ مر گیا تھا۔ اب باصرہ بھی ضعیف ہو گیا ہے۔ جتنی قوتیں انسان میں ہوتی ہیں سب مضمحل ہیں۔ حواس سراسر مختل ہیں۔ حافظہ گویا کبھی نہ تھا۔ شعر کے فن سے گویا کبھی مناسبت نہ تھی۔ رئیس رامپور سو روپیہ مہینا دیتے ہیں۔ سالِ گذشتہ ان کو لکھ بھیجا کہ اصلاح نظم جوا سکا کام ہے اور میں اپنے حواس نہیں پاتا متوقع ہوں کہ اس خدمت سے معاف رہوں جو کچھ مجھے آپ کی سرکار سے ملتا ہے عوض خدماتِ سابقہ میں شمار کیجئے۔ تو میں سکہ لمبر سہی ورنہ خیرات خوار سہی۔ اور اگر یہ عطیہ بشرطِ خدمت ہے تو جو آپ کی مرضی ہے وہی میری قسمت ہے۔ برس دن سے ان کا کلام نہیں آتا۔ فتوح مقرری نومبر تک آئی اب دیکھئے آگے کیا ہوتا ہے آج تک نواب صاحب از راہِ جوانمردی دئیے جاتے ہیں اور بھائی تمہاری مشق چشمِ بد دور صاف ہو گئی۔ رطب و یابس تمہارے کلام میں نہیں رہا۔ اور اگر خواہی نخواہی تمہارا عقیدہ یہی ہے کہ اصلاح ضروری (یہاں لفظ ضروری کی بجائے ضرور لکھا ہے۔۔ چھوٹا غالب)ہے تو میری جان میرے بعد کیا کرو گے۔ میں چراغ دم صبح و آفتاب سر کوہ ہوں۔ انا للہ و انا الیہ راجعون۔ ۱۴ رجب۔ نجات کا طالب غالب۔

ایضاً

میرزا تفتہ عجب اتفاق ہوا۔ پنجشنبہ کے دن ۲۲ اپریل کو کلیان خط ڈاک میں ڈال کر آیا کہ اس کے متعاقب پارسل کا ہرکارہ آیا اور تمہارا بھیجا ہوا پاکٹ لایا رسید لکھنی میں نے زائد سمجھی اور اس کا دیکھنا شروع کیا بے کارِ محض اور تنہا ہوں۔ پانچ پہر کا دن میری بڑی دل لگی ہو گی خوب دیکھا سچ تو یوں ہے کہ ان اشعار میں میں نے بہت حظ اٹھایا۔ جیتے رہو۔ تمہارا دم غنیمت ہے۔ بھائی کا حال مفصل لکھو۔ پنشن کے طالب ہیں یا نوکری کے۔ منشی عبد اللطیف کہاں ہے اور کس طرح ہے علاقہ بنا ہوا ہے یا جاتا رہا۔ صاحب لفٹنٹ گورنری کا محکمہ الہ آباد کو گیا یا ہنوز کچھ یہاں بھی ہے۔ منشی غلام غوث صاحب کہاں ہیں نوکر ہیں یا مستعفی۔ عدالتِ دیوانی کا محکمہ یہیں رہے گا یا الہ آباد جائے گا۔ اس کا اور گورنری کے محکمہ کا ساتہ (ساتھ)ہے چاہیے یہ بھی وہیں جاوے آج تمہارے اشعار کا کاغذ پم فلٹ پاکٹ اسی خط کے ساتھ ڈاک میں بھیجا گیا ہے۔ یقین ہے کہ یہ خط پرسوں اور وہ پاکٹ پانچ چار دن میں پہنچ جائے۔ غالب۔ یکشنبہ ۲۵ اپریل ۱۸۵۸ء

ایضاً

مرزا تفتہ ! ایک امر عجیب تم کو لکھتا ہوں اور وہ امر بعد تعجب مفرط کے موجب نشاط مفرط ہو گا میں اجرائے پنشن سرکار انگریزی سے مایوس تھا۔ بارے وہ نقشہ پنشن داروں کا جو یہاں سے بن کر صدر کو گیا تھا اور یہاں کے حاکم نے نسبت میرے صاف لکھ دیا تھا کہ یہ شخص پنشن پانے کا مستحق نہیں ہے۔ گورنمنٹ نے برخلاف یہاں کے حاکم کے رائے کے میری پنشن کے اجرا کا حکم دیا اور وہ حکم یہاں آیا اور مشہور ہوا۔ میں نے بھی سنا اب کہتے ہیں کہ ماہ آیندہ یعنی مئی کی پہلی کو تنخواہوں کا بٹنا شروع ہو گا۔ دیکھا چاہیے پچھلے روپے کی باب میں کیا حکم ہوتا ہے۔ غالب۱۲ اپریل ۱۸۶۰ء۔

ایضاً

صاحب تمہارا خط آیا۔ میں نے اپنے سب مطالب کا جواب پایا۔ امراؤ سنگہ (سنگھ)کے حال پر اس کے واسطے مجھ کو رحم اور اپنے واسطے رشک آتا ہے۔ اللہ اللہ ایک وہ ہیں کہ دو بار ان کی بیڑیاں کٹ چکی ہیں اور ایک ہم ہیں کہ ایک اوپر پچاس برس سے جو پھانسی کا پھندا گلے میں پڑا ہے تو نہ پھندا ہی ٹوٹتا ہے نہ دم نکلتا ہے اس کو سمجھاؤ کہ تیرے بچوں کو میں پال لوں گا۔ تو کیوں بلا میں پھنستا ہے۔ وہ جو مصرعہ تم نے لکھا ہے حکیم ثنائی کا ہے۔ اور وہ نقل حدیقہ میں مرقوم ہے ؎

پسرے با پدر بزاری گفت

کہ مرا یار شوہ بہمرہ جفت

گفت بابا زنا کن و زن نہ

پند از خلق گیر و از من نہ

در زنا گر بگیردت عَسَے

بِہَلد کو گرفت چوں تو بسے

زن کنی ہرگزت رہا نہ کند

ورتے بگذاریش چہا نکند

بس اب تو تم سکندرآباد میں رہے۔ کہیں اور کیوں جاؤ گے۔ بنک گھر کا روپیہ اٹھا چکے ہو۔ اب کہاں سے کھاؤ گے۔ میاں نہ میرے سمجھانے کو دخل ہے نہ تمہارے سمجھنے کی جگہ ہے ایک خرچ ہے کہ وہ برابر چلا جاتا ہے جو ہوتا ہے وہ ہوا جاتا ہے۔ اختیار ہو تو کچھ کیا جائے۔ کہنے کی بات ہو تو کچھ کہا جائے۔ مرزا عبدالقادر بیدل خوب کہتا ہے ؎

رغبتِ جاہ چہ و نفرتِ اسباب کدام

زیں ہوسہا بگزر یا مگزرمے گزرد

مجھ کو دیکھو کہ نہ آزاد ہوں نہ مقید نہ رنجور ہوں نہ تندرست۔ نہ خوش ہوں نہ نا خوش نہ مردہ ہوں نہ زندہ۔ جیئے جاتا ہوں۔ باتیں کئے جاتا ہوں۔ روٹی روز کھاتا ہوں۔ شراب گاہ گاہ پیئے جاتا ہوں۔ جب موت آئے گی مر رہوں گا۔ نہ شکر ہے نہ شکایت ہے جو تقریر ہے برسبیلِ حکایت ہے۔ بارے جہاں رہو جس طرح ہو ہر ہفتہ میں ایک بار خط لکھا کرو۔ یکشنبہ ۱۹دسمبر ۱۸۵۸ء۔

ایضاً

دیکھو صاحب یہ باتیں ہمیں پسند نہیں ۱۸۵۸ ء کے خط کا جواب ۱۸۵۹ ء میں بھیجتے ہو اور مزا یہ ہے کہ جب تم سے کہا جائے گا تو یہ کہو گے کہ میں نے دوسرے ہی دن تو جواب لکھا ہے لطف اس میں ہے کہ میں سچا اور تم بھی سچے۔ آج تک رائے امید سنگھ یہیں ہیں اور ابھی نہیں جائیں گے۔ تمہارا مدعا حاصل ہو گیا ہے جس دن وہ آئے تھے اسی دن مجھ سے کہہ گئے تھے میں بھول گیا اور اس خط میں تم کو نہ لکھا۔ صاحب وہ فرماتے تھے کہ کہ میں نے کئی مجلد مرزا تفتہ کے دیواں کے اور کئی نسخے تضمین اشعار گلستان کے ان کی خواہش کے بموجب کوئی پارسی ہے بمبئی میں اس کے پاس بھیج دئیے ہیں۔ یقین ہے کہ وہ ایران کو ارسال کرے گا۔ امید سنگھ نے اس پارسی کا نام بھی لیا تھا۔ میں بھول گیا۔ اب جو تم کو اس خیال میں مبتلا پایا تو ان کا بیان مجھ کو یاد آیا۔ جانتا ہوں کہ وہ کہاں رہتے ہیں۔ سوبار ان کے گھر گیا بھی ہوں مگر محلہ کا نام نہیں جانتا۔ نہ میرے آدمیوں میں کوئی جانتا ہے۔ اب کسی جاننے والے سے پوچھ کر تم کو لکھ بھیجوں گا۔ میر بادشاہ صاحب سے عندالملاقات میری دعا کہہ دینا۔ لاحول ولاقوۃ الا باللہ لکھنے کے قابل بات پھر بھول گیا۔ کل میر کرامت علی صفا تخلص کہ میں نے آگے ان کو کبھی نہیں دیکھا تھا۔ ناگاہ مجھ سے آ کر ملے۔ اور تمہارا حال پوچھتے رہے میں نے کہہ دیا کہ بخیر و عافیت سکندرآباد میں ہیں۔ جب میں نے ان سے کہا کہ کیا وہ تمہارے آشنا ہیں۔ انہوں نے کہا صاحب وہ بزرگ اور استاد ہیں۔ میں ان کا شاگرد ہوں کہیں مدرسہ کے علاقہ میں نوکر ہیں بسبیلِ ڈاک آئے تھے اور آج ہی بسبیلِ ڈاک انبالہ کو گئے۔ انبالہ ان کا وطن ہے اور نوکر بھی وہ اسی ضلع میں ہیں۔ غالب۔ نگاشتہ دو شنبہ۔ ۳ جنوری ۱۸۵۹ء۔

ایضاً

صاحب قصیدہ کے چھاپے جانے کی بشارت صاحبِ مطبع نے مجھ کو بھی دی ہے۔ خدا ان کوسلامت رکھے۔ کل مرزا صاحب کے خط میں ان کو ایک مصرعہ کسی استاد کا لکھ چکا ہوں۔ میں سراسر ان کا ممنون احسان ہوں۔ میرا سلام کہنا۔ اور لفافہ اخبار کے نہ پہنچنے کی اطلاع دینا۔ میرے نام کا کوئی لفافہ ضائع نہیں جاتا۔ خدا جانے اس پر کیا بجوگ پڑا ظاہراً انہوں نے پوسٹ پیڈ بھیجا ہو گا پھر پوسٹ پیڈ بھی کیوں تلف ہو۔ شیہہ بمعنی صدائے اسپ لغتِ فارسی ہے بشین مکسور و یائے معروف و ہائے ہوز مفتوح و ہائے ثانی زدہ۔ اور عربی میں اس کو صہیل کہتے ہیں۔ صیہہ کوئی لغت نہیں ہے نہ عربی نہ فارسی۔ اگر غنیمت کے کلام میں صیہہ لکھا ہے تو کاتب کی غلطی ہے۔ غنیمت کا کیا گناہ ؎درخوہ زروئے ہندسہ گاہے شمار یافت۔ اصل مصرعہ یوں ہے میں نے سہو سے خدا جانے کیونکر لکھ دیا ہے۔ بھائی مہر خواں کے دو معنی ہیں۔ ایک تو خطاب کہ جو سلاطین امرا کو دیں۔ اور دوسرے وہ نام جو لڑکوں کا پیار سے رکھیں یعنی عرف۔ حاشیہ پر پر شوق سے لکھوا دو۔ مگر تم نے دیکھا ہو گا کہ اس عبارت سے جو تمہارے ذکر میں ہے پہلے مہر خواں کے معنی حاشیہ پر چڑھ گئے ہیں مکرر لکھنے کی کیا حاجت ہے اور اگر لکھ بھی دو تو قباحت کیا ہے۔ بھائی صاحب کیوں مضائقہ فرمائیں حال اوراق کی تحریر کا معلوم ہوا۔ صاحبانِ کونسل کی رائے ولایت آگرہ یعنی میرے محکمہ میں منظور و مقبول نام میرا جس طرح چاہو لکھ دو ؎

بنامِ آنکہ او نامے ندارد

بہر نامے کہ خوانی سر برآرد

شفیق بالتحقیق مولانا مہر ذرہ بے مقدار کا سلام قبول کریں۔ کل آپ کو خط لکھ چکا ہوں آج یا کل پہنچ جائے گا۔ رات سے ایک بات اور خیال میں آئی ہے۔ مگر چونکہ محکم و کار فزائی ہے کہتے ہوئے ڈرتا ہوں۔ ڈرتے ڈرتے عرض کرتا ہوں۔ بات یہ ہے کہ دو جلدیں طلائی لوح کی ولایت کے واسطے تیار ہوں گی اور وہ چار جلدیں جو یہاں کے حکام کے واسطے درکار ہوں گی۔ ان کی صورت یہی ٹھہری ہے کہ سیاہ قلم کی لوح اور انگریزی جلد۔ کیوں بھائی صاحب قرارداد اور تجویز بھی ہے اور پھر سمجھا چاہیے کہ یہ چار جلدیں کس کس کی نذر ہیں۔ نواب گورنر بہادر، چیف کمشنر بہادر، صاحب کمشنر بہادر، ڈپٹی کمشنر بہادر دہلی۔ یہ کیا میری بد وضعی ہے کہ جناب اڈمنشٹن صاحب کی نذر نہ بھیجوں۔ آخر گورنمنٹ کی نذر انہیں کی معرفت بھیجوں گا۔ نہ صاحب ایک جلد ان کی نذر بہت ضروری ہے آپ گنجایش نکال کر جیسی بھی چار جلدیں بنوائیں۔ ایک اور بھی ایسی ہی بنوا لیں۔ یقین ہے کہ آپ اس رائے کو پسند فرمائیں گے اور چار کی جگہ پانچ بنوائیں گے۔ یہ عرض مقبول اور یہ گستاخی کہ بار بار آزار دیتا ہوں معاف رہو۔ بھائی مرزا تفتہ کل کے مرزا صاحب کے خط میں سے اس مادہ تاریخ کا قطعہ لکھ لینا۔ تم کو لکھ چکا ہوں۔ ایک قطعہ مرزا صاحب کا ایک قطعہ تمہارا۔ بلکہ ایک قطعہ مولانا حقیر سے بھی لکھواؤ۔ صبح پنجشنبہ۔ سی ام ستمبر ۱۸۵۸ء۔

 

 

ایضاً

اجی میرزا تفتہ تم نے روپیہ بھی کھویا اور اپنی فکر کو اور میری اصلاح کو بھی ڈبویا۔ ہائے کیا بڑی کاپی ہے۔ اپنے اشعار کی اور اس کاپی کی مثال جب تم پر کھلتی کہ تم یہاں ہوتے۔ اور بیگمات ِ قلعہ کو پھرتے چلتے دیکھتے۔ صورت ماہِ دو ہفتہ کی سی اور کپڑے میلے۔ پائنچے لیر لیر۔ جوتی ٹوٹی۔ یہ مبالغہ نہیں بلکہ بے تکلف۔ سنبلستاں ایک معشوق ِ خوبرو ہے۔ بدلباس ہے۔ بہرحال دونوں لڑکوں کو دونوں جلدیں دے دیں اور معلم کو حکم دے دیا کہ اسی کا سبق دے۔ چنانچہ آج سے شروع ہو گیا۔ مرقومہ صبح سہ شنبہ۔ ۹ ماہ اپریل ۱۸۶۱ ء۔ غالب۔

ایضاً

آج پنجشنبہ کا دن ۱۸ نومبر کو تمہارا خط آیا۔ اور میں آج ہی جواب لکھتا ہوں۔ کیا تماشا ہے کہ تمہارا خط پہنچتا ہے اور میرا خط نہیں پہنچتا۔ میرے خط کے نہ پہنچنے کی دلیل یہ ہے کہ تم نے اصلاحی غزل کی رسید نہیں لکھی۔ میں نے کتب کا پہنچنا تم کو لکھا تھا اس کا تم نے ذکر نہ لکھا۔ صاحب ۳۳ کتابیں پہنچ گئیں اور تقسیم ہو گئیں۔ سات کتابیں مرزا مہر کی بھیجی ہوئی موافق ان کی تحریر کے آج شام تک اور مطابق منشی شیو نراین کی اطلاع کے کل تک میرے پاس پہنچ جائیں گی اور بھی منشی شیو نراین نے اندور کی کتابوں کی روانگی کی اطلاع دی ہے۔ منشی نبی بخش صاحب تمہارے خط نہ لکھنے کا بہت گلہ رکھتے ہیں۔ شاید میں تم کو لکھ بھی چکا ہوں میر قاسم علی صاحب کی بدلی کا حال معلوم ہوا۔ یہ میرے بڑے دوست ہیں۔ دلی ان دنوں میں آئے ہوئے تھے۔ مجھ سے کل مل کر گئے ہیں۔ ان کو ایک کتاب ضرور بھیج دینا۔ بھائی میں ہر گز نہیں جانتا کہ میر بادشاہ دہلوی کون ہیں اور پھر ایسے کہ جو کہیں کے منصف ہیں۔ کچھ ان کے خاندان کا حال اور ان کے والد کا نام لکھو تو میں غور کروں ورنہ میں تو اس نام کے آدمی سے آشنا نہیں ہوں۔ پنجشنبہ ۱۸ نومبر ۱۸۵۸ ء وقت دوپہر۔

ایضاً

بندہ پرور ایک مہربانی نامہ سکندر آباد سے اور ایک علیگڈہ (علی گڑھ) سے پہنچا۔ یقین ہے کہ بابو صاحب تمہارے خط کے جواب میں کچھ حال لکھیں گے اور تم موافق اپنے وعدے کے مجھ کو لکھو گے۔ اب جب اس خط کا جواب تمہارے پاس آئے گا تب تمہارے اشعار تم کو پہنچیں گے۔ ہائے میر تفضل حسین خاں ہائے ہائے ؎

رفتی و مرا خبر نہ کردی

بر بیکسیم نظر نہ کردی

یہاں یہ سنا گیا ہے کہ میر احمد حسین بڑا بیٹا ان کا ان کے کام پر مقرر ہوا اور میر ارشاد حسین بدستور نائب رہے۔ اسداللہ ۔ ۲۳ فروری ۱۸۵۴ء۔

ایضاً

صاحب ایک خط تمہارا پرسوں آیا اس میں مندرج تھا کہ میں میرٹھ جاؤں گا۔ آج صبح کو ایک خط اور تمہارا آیا اور اس میں مندرج تھا کہ پہلی جولائی کو جاؤں گا اور تجھ سے ملتا جاؤں گا۔ پرسوں کے خط میں بھی اور آج کے خط میں بھی پارسل کا ذکر تھا کہ ۲۰ جون کو ہم نے بھیجا ہے۔ بیسویں جون کو آج دسواں دن ہے اس دن میں کوئی پارسل کوئی پم فلٹ پاکٹ میرے پاس نہیں پہنچا۔ آخری پم فلٹ پاکٹ دو مثنویوں کا وہ تھا کہ جس میں ایک مثنوی بلند شہر کے واقعہ کی تھی کہ ایک لڑکا مر گیا اس کی ارتھی پھُکتی رہی اس کا عاشق سامنے کھڑا جلتا رہا۔ سو ان دونوں مثنویوں کو میں نے اصلاح دے کر تمہارے پاس بھیج دیا ہے بلکہ یوں یاد پڑتا ہے کہ تم نے اس کی رسید بھی لکھ بھیجی ہے لیکن مجھ کو گمان یہ ہے کہ یہ امر ۲۰ جون سے آگے کا ہے۔ بہر تقدیر بعد اس پارسل کے کوئی اور پارسل میرے پاس نہیں آیا۔ اصلاحی کواغذ ہر طرف کے عموماً اور تمہارے خصوصاً دو دن سے زیادہ میں نہیں رکھتا جو کاغذ مجھ تک نہ پہنچے میں ناچار ہوں بلکہ خود میرے ایک خط کا جواب تم پر فرض ہے۔ یا تو وہ نہ پہنچا۔ یا تم نے اس کا جواب لکھنا ضرور نہ جانا وہ خط جس میں میر بادشاہ کا دلی آنا اور ان کا مجھ سے ملنا اور تمہارا ذکر مجھ میں اور ان میں ہونا معہذا راجہ امید سنگہ (سنگھ) کا دلی میں آنا اور بیخبر میرے گھر آ جانا اور تمہارا ن سے ذکر ہونا اور ان کا یہ کہنا کہ کل ان کا ایک خط میرے پاس آیا تھا سو میں نے اس کا جواب لکھ بھیجا تھا اب میں کیا جانوں کہ تم کو یہ خط پہنچا یا نہیں پہنچا تمہارا وہ پارسل جس کو اب مانگتے ہو میرے پاس ہرگز نہیں آیا۔ غالب۔ چار شنبہ۔ ۲۹ جون ۱۸۵۶ عیسوے۔ وقتِ نیمروز۔

ایضاً

اچھا بھائی نہیب والے دو ورقے چار سو ہوں پان سو (۵۰۰) ہوں سب بدلوا ڈالنا۔ کاغذ کا جو نقصان ہو وہ مجھ سے منگوا لینا۔ اس لفظ کے رہ جانے میں ساری کتاب نکمی ہو جائے گی اور میرے کمال کو دھبہ لگ جائے گا۔ یہ لفظ عربی ہے ہر چند مسودہ میں نے بنا دیا تھا لیکن کاتب کی نظر سے رہ گیا۔ لکھتے ہو کہ مرزا صاحب دو جلدیں درست کر یں گے یہ تو صورت اور ہے یعنی میں نے چھ جلدیں بارہ روپے کی لاگت میں بکار سازی و ہنر پرادزی برخوردار منشی عبد اللطیف چاہیں تھیں منتظر تھا کہ اب ان کا قبول کرنا مجھ کو لکھو گے اور روپیہ مجھ سے منگواؤ گے۔ ظاہراً عبد اللطیف نے پہلو تہی کیا۔ مرزا صاحب اگر کفیل ہوئے تھے تو چھ جلدیں بنواتے نہ کہ دو۔ البتہ اس احتمال کی گنجایش ہے کہ دو بہت پر تکلف اور چار بہ نسبت اس کے کچھ کم اگر یوں ہے تو یہ مدعائے دلی میرا ہے مگر اطلاع ضرور ہے۔ رائے امید سنگہ (سنگھ)کے نام کا خط باحتیاط رہنے دو جب وہ آئیں ان کو دے دو۔ یہ جو لکھتے ہو کہ نہیب کا لفظ لکھ دیا گیا تھا اس سے معلوم ہوا کہ چھاپا شروع ہو کر دور تک پہنچ گیا کیا عجب ہے کہ کتابیں جلد منطبع ہو جائیں۔ ہمارے منشی شیو نراین صاحب اپنے مطبع کے اخبار میں اس کتاب کے چھاپے کا اشتہار کیوں نہیں چھاپتے تاکہ درخواستیں خریداروں کی فراہم ہو جائیں۔ میرزا تفتہ سنو۔ ان دنوں میں میرے محسن حکیم احسن اللہ خاں آفتاب عالمتاب کے خریدار ہوئے ہیں اور میں نے بموجب ان کے کہنے کے برادر دینی مولانا مہر کو لکھا ہے حضرت نے لا و نعم جواب میں نہیں لکھا تم ان سے کہو کہ وہ ستمبر ۱۸۵۸ سے خریدار ہیں۔ آج ۱۶ ستمبر کی ہے دو نمبر اخبار کے حکیم صاحب کے نام کے سر نامہ خان چند کے کوچہ کا پتہ لکھ کر روانہ کریں آیندہ ہفتہ نہفتہ بھیجے جائیں اور حکیم احسن اللہ خاں کا نام خریداروں میں لکھ لیں دوسرے اخبار مذکور میں ایک صفحہ ڈیڑھ صفحہ بادشاہِ دہلی کے اخبار کا ہوتا ہے جس دن سے کہ وہ اخبار شروع ہوا ہے اس دن سے صرف اخبار شاہی کا صفحہ نقل کر کے ارسال کریں کاتب کی اجرت اور کاغذ کی قیمت یہاں سے بھیج دی جائے گی۔ بھائی تم مرزا صاحب سے اس کو کہہ کر جواب لو اور مجھ کو اطلاع دو۔ نہیب کے نہیب سے مرا جاتا ہوں اس کی درستی کی خبر بھیجو۔ باقی جو چھاپے کے حالات ہوں اس کی آگہی ضرور ہے۔ غالب۔ پنجشنبہ ۱۶ ستمبر ۱۸۵۸ ء۔

ایضاً

میری جاں آخر لڑکے ہو بات کو نہ سمجھے۔ میں اور تفتہ کا اپنے پاس ہونا غنیمت نہ جانوں میں نے یہ لکھا تھا کہ بشرط ِاقامت بلا لوں گا اور پھر لکھتا ہوں کہ اگر میری اقامت یہاں کی ٹھہری تو بے تمہارے نہ رہوں گا نہ رہوں گا زنہار نہ رہوں گا۔ منشی بالمکند بے صبر کا خط بلند شہر سے دلی اور دلی سے رامپور پہنچا۔ تلف نہیں ہوا اگر میں یہاں رہ گیا تو یہاں سے اور اگر دلی چلا گیا تو وہاں سے ا صلاح دے کر ان کے اشعار بھیج دوں گا بے صبر کو اب کی بار مہینا بھر صبر چاہیے وہ لفافہ بدستور رکھا ہوا ہے از بسکہ یہاں کے حضرات مہربانی فرماتے ہیں اور ہر وقت آتے ہیں۔ فرصت مشاہدہ اوراق نہیں ملی۔ تم اسی رقعہ کو ان کے پاس بھیج دینا۔ غالب۔ سہ شنبہ ۱۴ فروری ۱۸۶۰ء۔

ایضاً

کیوں صاحب مجھ سے کیوں خفا ہو آج مہینا بھر ہو گیا ہو گا۔ یا بعد دو چار دن کے ہو جائے گا کہ آپ کا خط نہیں آیا۔ انصاف کرو کتنا کثیر الاحباب آدمی تھا کوئی وقت ایسا نہ تھا کہ میرے پاس دو چار دوست نہ ہوتے ہوں۔ اب زائد یاروں میں ایک شیو جی رام برہمن اور بالمکند اُس کا بیٹا یہ دو شخص ہیں کہ گاہ گاہ آتے ہیں اس سے گزر کر لکھنؤ اور کالپی اور فرخ آباد اور کس کس ضلع سے خطوط آتے رہتے تھے ان دوستوں کا حال ہی نہیں معلوم کہ کہاں ہیں کس طرح ہیں وہ آمد خطوط کی موقوف صرف تم تین صاحبوں کے آنے کی توقع اس میں وہ دونوں صاحب گاہ گاہ۔ ہاں ایک تم کہ ہر مہینے میں ایک دو بار مہربانی کرتے ہو۔ سنو صاحب اپنے پر لازم کر لو ہر مہینے میں ایک خط مجھ کو لکھنا اگر کچھ کام آ پڑا۔ دو خط تین خط ورنہ صرف خیر و عافیت لکھی اور ہر مہینے میں ایک بار بھیج دی۔ بھائی صاحب کا بھی خط دس بارہ دن ہوئے کہ آیا تھا اس کا جواب بھیج دیا گیا۔ مولوی قمر الدین خان یقین ہے کہ الہ آباد گئے ہوں کس واسطے کہ مجھ کو مئی میں لکھا تھا کہ اوائل جون میں جاؤں گا بہرحال اگر آپ آزردہ نہیں تو جس دن میرا خط پہنچے اس کے دوسرے دن اس کا جواب لکھیئے اپنی خیر و عافیت منشی صاحب کی خیرو عافیت مولوی صاحب کا احوال اس سے سوا گوالیار کے فتنہ و فساد کا ماجرا جو معلوم ہوا ہو وہ الفاظ مناسب وقت میں ضرور لکھنا۔ راجہ جو وہاں آیا ہوا ہے اس کی حقیقت۔ دھولپور کا رنگ صاحبان عالیشان کا ارادہ وہاں کے بندو بست کا کس طرح پر ہے۔ آگرہ کا حال کیا ہے۔ وہاں کے رہنے والے کچھ خائف ہیں یا نہیں۔ غالب۔ نگاشتہ شنبہ۔ ۱۹ جون ۱۸۵۸ء۔

ایضاً

برخوردار میرزا تفتہ دوسرا مسودہ بھی کل پہنچا۔ تم سچے اور میں معذور۔ اب میری کہانی سنو آخر جون میں صدر پنجاب سے حکم آ گیا کہ پنشن داران ماہ بماہ نہ پائیں سال میں دو بار بطریق ششماہہ فصل بفصل پایا کریں۔ ناچار ساہوکار سے سود کاٹ کر روپیہ لیا گیا تا رامپور کی آمد میں مل کر صرف ہو یہ سود چھ مہینہ تک اسی طرح کٹواں دینا پڑے گا ایک رقم معقول گھاٹے میں جائے گی ؎

رسم ہے مردہ کی چھ ماہی ایک

خلق کا ہے اسی چلن پر مدار

مجھ کو دیکھو کہ ہوں بقید حیات

اور چھ ماہی ہو سال میں دو بار

دس گیارہ برس سے اُس تنگنا میں رہتا تھا سات برس تک ماہ بماہ چار روپیہ دیا گیا اب تین برس کا کرایہ کچھ اوپر سو روپیہ یکمشت دیا گیا۔ مالک نے مکان بیچ ڈالا۔ جس نے لیا ہے اس نے مجھ سے پیام بلکہ ابرام کیا کہ مکان خالی کر دو۔ مکان کہیں ملے تو میں اوٹھوں (اٹھوں ) بیدرد نے مجھ کو عاجز کیا اور مدد لگا دی وہ صحن بالاخانے کا جس کا دو گز کا عرض اور دس گز کا طولاس میں پاڑ بندھ گئی۔ رات کو وہیں سویا۔ گرمی کی شدت پاڑ کا قرب۔ گمان یہ گزرتا تھا کہ یہ کٹکڑ ہے اور صبح کو مجھ کو پھانسی ملے گی تین راتیں اسی طرح گزریں۔ دو شنبہ ۹ جولائی کو دوپہر کے وقت ایک مکان ہاتہ (ہاتھ)آ گیا وہاں جا رہا جان بچ گئی یہ مکان بہ نسبت اس مکان کے بہشت ہے اور یہ خوبی کہ محلہ وہی بلی ماروں کا۔ اگرچہ ہے یوں کہ میں اگر اور محلہ میں بھی جا رہتا تو قاصدانِ ڈاک وہیں پہنچتے یعنی اب اکثر خطوط لال کنویں کے پتے سے آتے ہیں اور بے تکلف یہیں پہنچتے ہیں۔ بہرحال تم وہی دلّی بلی ماروں کا محلہ لکھ کر خط بھیجا کرو۔ دو مسودے تمہارے اور ایک مسودہ بے صبر کا یہ تین کاغذ درپیش ہیں۔ دو ایک دن میں بعد اصلاحارسال کیے جائیں گے۔ خاطر عاطر جمع رہے۔ صبح جمعہ ۲۸ جولائی ۱۸۶۰ء۔

ایضاً

کاشانہ دل کے ماہِ دو ہفتہ منشی ہر گوپال تفتہ تحریر میں کیا کیا سحر طرازیاں کرتے ہیں اب ضرور آ پڑا ہے کہ ہم بھی جواب اسی انداز سے لکھیں۔ سنو صاحب یہ تم جانتے ہو کہ زین العابدین خاں مرحوم میرا فرزند تھا اور اب اس کے دونو(دونوں )بچے کہ وہ میرے پوتے ہیں میرے پاس آ رہے ہیں اور دمبدم مجھ کو ستاتے ہیں اور میں تحمل کرتا ہوں خدا گواہ ہے کہ میں تم کو اپنے فرزند کی جگہ سمجھتا ہوں پس تمہارے نتائج طبع میرے معنوی پوتے ہوئے۔ جب ان عالم کے پوتوں سے کہ مجھے کھانا نہیں کھانے دیتے مجھ کو دوپہر کو سونے نہیں دیتے ننگے ننگے پاؤں پلنگ پر رکھتے ہیں کہیں پانی لڑھاتے ہیں کہیں خاک اڑاتے ہیں میں نہیں تنگ آتا تو ان معنوی پوتوں سے کہ ان میں یہ باتیں نہیں ہیں کیوں گھبراؤں گا۔ آپ ان کو جلد میرے پاس بسبیلِ ڈاک بھیج دیجئے کہ میں ان کو دیکھوں وعدہ کرتا ہوں کہ پھر جلد ان کو تمہارے پاس بسبیل ڈاک بھیج دوں گا۔ حق تعالی تمہارے عالم صورت کے بچوں کو جیتا رکھے اور ان کو دولت و اقبال دے اور تم کو ان کے سر پر سلامت رکھے اور تمہارے معنوی بچوں یعنی نتائج طبع کو فروغ شہرت اور حسن قبول عطا فرما وے۔ بابو صاحب کے نام کا خط ان کے خط کے جواب میں پہنچتا ہے ان کو دے دیجئے گا۔ اور ہاں صاحب بابو صاحب اور تم آبو کو جانے لگو تو مجھ کو اطلاع کرنا اور تاریخ روانگی لکھ بھیجنا تاکہ میں بے خبر نہ رہوں۔ والدعا۔ اسد اللہ ۔ نگاشتہ جمعہ ۱۸ جون ۱۸۵۲ء۔

ایضاً

شفیق بالتحقیق منشی ہر گوپال تفتہ ہمیشہ سلامت رہیں آپ کا وہ خط جو آپ نے کانپور سے بھیجا تھا پہنچا۔ بابو صاحب کے سیر و سفر کا حال اور آپ کا لکھنؤ جانا اور وہاں کے شعرا سے ملنا سب معلوم ہوا۔ اشعار جناب رند کے پہنچنے کے ایک ہفتہ کے بعد درست ہو گئے اور اصلاح اور اشارے اور فوائد جیسا کہ میرا شیوہ ہے عمل میں آیا جب تک کہ ان کا یا تمہارا خط نہ آوے اور اقامت گاہ معلوم نہ ہو میں کواغذ ضروری کہاں بھیجوں اور کیونکر بھیجوں اور کیوں بھیجوں اب جو تمہارے لکھنے سے جانا کہ ۱۹ فروری تک اکبر آباد آؤ گے تو میں نے یہ خط تمہارے نام لکھ کر لفافہ کر رکھا ہے آج انیسویں ہے پرسوں اکیسویں کو لفافہ آگرہ کو روانہ ہو گا۔ بابو صاحب کو میں نے خط اس واسطے نہیں لکھا کہ جو کچھ لکھنا چاہیے تھا وہ خاتمہ اوراق اشعار پر لکھ دیا ہے۔ تم کو چاہیے کہ ان کی خدمت میں میرا سلام پہنچاؤ اور سفر کے انجام اور حصول مراد کی مبارکباد دو اور اوراق اشعار گزرانو اور یہ عرض کرو کہ جو عبارت خاتمہ پر مرقوم ہے اس کو غور سے پڑھیے اور اپنا دستور العمل گردانیئے نہ یہ کہ سرسری دیکھیے اور بھول جائیے بس تمام ہوا وہ پیام جو کہ بابو صاحب کی خدمت میں تھا اب پھر تم سے کہتا ہوں کہ وہ جو تم نے اُس شخص کولی کا حال لکھا تھا معلوم ہوا ہر چند اعتراض ان کا لغو اور پرسش ان کی بے مزہ ہو مگر ہمارا یہ منصب نہیں کہ معترض کو جواب نہ دیں یا سائل سے بات نہ کریں تمہارے شعر پر اعتراضاس راہ سے کہ وہ ہمارا دیکھا ہوا ہے گویا ہم پر ہے اس سے ہمیں کام نہیں کہ وہ مانیں یا نہ مانیں کلام ہمارا اپنے نفس میں معقول و استوار ہے جو زبانداں ہو گا وہ سمجھ لے گا غلط فہم و کج اندیش لوگ نہ سمجھیں نہ سمجھیں ہم کو تمام خلق کی تہذیب و تلقین سے کیا علاقہ تعلیم و تلقین واسطے دوستوں کے اور یاروں کے ہے نہ واسطے اغیار کے۔ تمہیں یاد ہو گا کہ میں نے تمہیں بارہا سمجھایا ہے کہ خود غلطی پر نہ رہو اور غیر کی غلطی سے کام نہ رکھو۔ آج تمہارا کلام وہ نہیں کہ کوئی اس پر گرفت کر سکے مگر ہاں ؎ حُسود را چہ کنم کو زخود برنج درست۔ والسلام والاکرام۔ اسدا للہ رقمزدہ ۱۹ فروری و مرسلہ بست و یکم فروری ۱۸۵۲ ء۔

ایضاً

منشی صاحب تمہارا خط اس دن یعنی کل بدھ کے دن پہنچا میں چار دن سے لرزے میں مبتلا ہوں اور مزہ یہ ہے کہ جس دن سے لرزہ چڑھا ہے کھانا مطلق میں نے نہیں کھایا آج پنجشنبہ پانچواں دن ہے کہ نہ کھانا دن کو میسر ہے نہ رات کو شراب۔ حرارت مزاج میں بہت ہے ناچار احتراز کرتا ہوں۔ بھائی اس لطف کو دیکھو کہ پانچواں دن ہے کھانا کھائے ہرگز بھوک نہیں لگی اور طبیعت غذا کی طرف متوجہ نہیں ہوئی۔ بابو صاحب والا مناقب کا خط تمہارے نام کا دیکھا اب اس ارسال میں وہ آسانی نرہی (نہ رہی ) اور بندہ دشواری سے بھاگتا ہے۔ کیوں تکلیف کریں اور اگر بہرحال ان کی مرضی ہے تو خیر فرماں پذیر ہوں اشعار سابق و حال میرے پاس امانت ہیں بعد اچھے ہونے کے ان کو دیکھوں گا اور تم کو بھیج دوں گا۔ اتنی سطریں مجھ سے بہزار جرّ ثقیل لکھی گئی ہیں۔ اسد اللہ ۔ روز پنجشنبہ۔ ۲ مارچ ۱۸۵۴ء۔

ایضاً

صاحب تم جانتے ہو کہ یہ معاملہ کیا ہے اور کیا واقع ہوا وہ ایک جنم تھا کہ جس میں ہم تم باہم دوست تھے۔ اور طرح طرح کے ہم میں تم میں معاملات مہر و محبت درپیش آئے شعر کہے دیوان جمع کیے اسی زمانہ میں ایک بزرگ تھے کہ ہمارے تمہارے دوست ِ دلی تھے اور منشی نبی بخش ان کا نام اور حقیر تخلص تھا ناگاہ نہ وہ زمانہ رہا نہ وہ اشخاص نہ وہ معاملات نہ وہ اختلاط نہ وہ انبساط۔ بعد چند مدت کے پھر دوسرا جنم ہم کو ملا۔ اگرچہ صورت اس جنم کی بعینہٖ مثل پہلے جنم کے ہے یعنی ایک خط میں نے منشی نبی بخش صاحب کو بھیجا اس کا جواب مجھ کو آیا اور ایک خط تمہارا کہ تم بھی موسوم بہ منشی ہر گوپال و متخلص بہ تفتہ ہو۔ آج آیا اور میں جس شہر میں اس کا نام دلّی اور اس محلہ کا نام بلی ماروں کا محلہ ہے۔ لیکن ایک دوست اس جنم کے دوستوں میں سے نہیں پایا جاتا۔ واللہ ڈھونڈنے کو مسلمان اس شہر میں نہیں ملتا۔ کیا امیر کیا غریب۔ کیا اہل حرفہ اگر کچھ ہیں تو باہر کے ہیں۔ ہنود البتہ کچھ کچھ آباد ہو گئے ہیں اب پوچھو کہ تو کیونکر مسکنِ قدیم میں بیٹھا رہا۔ صاحب بندہ میں حکیم محمد حسن خان مرحوم کے مکان میں نو دس برس سے کرایہ کو رہتا ہوں اور یہاں قریب کیا بلکہ دیوار بدیودار ہیں گھر حکیموں کے۔ اور وہ نوکر ہیں راجہ نرندر سنگھ بہادر والی پٹیالہ کے۔ راجہ نے صاحبان عالیشان سے عہد لے لیا تھا کہ بر وقت غارت دہلی یہ لوگ بچ رہیں چنانچہ بعد فتح راجہ کے سپاہی یہاں آ بیٹھے اور یہ کوچہ محفوظ رہا ورنہ میں کہاں اور یہ شہر کہاں۔ مبالغہ نہ جاننا امیر غریب سب نکل گئے جو رہ گئے تھے وہ نکالے گئے۔ جاگیردار، پنشن دار دولتمند اہل حرفہ کوئی بھی نہیں ہے۔ مفصل حال لکھتے ہوئے ڈرتا ہوں۔ ملازمانِ قلع پر شدت ہے اور باز پرس اور دار و گیر میں مبتلا ہیں مگر وہ نوکر جو اس ہنگام میں نوکر ہوئے اور ہنگامے میں شریک ہو رہے ہیں۔ میں غریب شاعر دس برس سے تاریخ لکھنے اور شعر کے اصلاح دینے پر متعلق ہوا ہوں خواہی اس کو نوکری سمجھو خواہی مزدوری جانو۔ اس فتنہ و آشوب میں کسی مصلحت میں مَیں نے دخل نہیں دیا۔ صرف اشعار کی خدمت بجا لاتا رہا اور نظر اپنی بے گناہی پر شہر سے نکل نہیں گیا۔ میرا شہر میں ہونا حکام کو معلوم ہے۔ مگر چونکہ میری طرف بادشاہی دفتر میں سے یا مخبروں کے بیاں سے کوئی بات پائی نہیں گئی۔ لہذا طلبی نہیں ہوئی۔ ورنہ جہاں بڑے بڑے جاگیردار بلائے ہوئے یا پکڑے ہوئے آئے ہیں میری کیا حقیقت تھی۔ غرض کہ اپنے مکان میں بیٹھا ہوں دروازہ سے باہر نہیں نکل سکتا سوار ہونا اور کہیں جانا تو بہت بڑی بات ہے۔ رہا یہ کہ کوئی میرے پاس آوے شہر میں ہے کون جو آوے گھر کے گھر بے چراغ پڑے ہیں۔ مجرم سیاست پاتے جاتے ہیں۔ جرنیلی بندوبست یازدہم مئی سے آج تک یعنی شنبہ پنجم دسمبر ۱۸۵۷ ء تک بدستور ہے۔ کچھ نیک و بد کا حال مجھ کو نہیں معلوم بلکہ ہنوز ایسے امور کی طرف حکام کو توجہ بھی نہیں۔ دیکھئے انجام کار کیا ہوتا ہے۔ یہاں باہر سے اندر کوئی بغیر ٹکٹ کے آنے جانے نہیں پاتا۔ تم زنہار یہاں کا ارادہ نہ کرنا۔ ابھی دیکھا چاہیے مسلمانوں کی آبادی کا حکم ہوتا ہے یا نہیں۔ بہرحال منشی صاحب کو میرا سلام کہنا اور یہ خط دکھا دینا اس وقت تمہارا خط پہنچا اور اسی وقت میں نے یہ خط لکھ کر ڈاک کے ہرکارہ کو دیا۔

 

 

ایضاً

آج سینچر بار کو دوپہر کے وقت ڈاک کا ہرکارہ آیا اور تمہارا خط لایا۔ میں نے پڑھا اور جواب لکھا اور کلیان کو دیا۔ وہ ڈاک کو لے گیا خدا چاہے تو کل پہنچ جائے گا۔ میں تم کو لکھ چکا ہوں کہ دلی کا قصد کیوں کرو اور یہاں آ کر کیا کرو گے بنک گھر میں سے خدا کرے تمہارا روپیہ مل جائے۔ بھائی میرا حال یہ ہے کہ دفتر شاہی میں میرا نام مندرج نہیں نکلا۔ کسی مخبر نے نسبت میرے کوئی خبر بد خواہی کی نہیں دی۔ حکام وقت میرا ہونا شہر میں جانتے ہیں۔ فراری نہیں ہوں۔ روپوش نہیں ہوں۔ بلایا نہیں گیا۔ دارو گیر سے محفوظ ہوں۔ کسی طرح کی بازپرس ہو تو بلایا جاؤں مگر ہاں جیسا کہ بلایا نہیں گیا خود بھی بروئے کار نہیں آیا۔ کسی حاکم سے نہیں ملا۔ خط کسی کو نہیں لکھا۔ کسی سے درخواست ملاقات نہیں کی۔ مئی سے پنشن نہیں پایا۔ کہو دس مہینے کیونکر گزرے ہوں گے۔ انجام کچھ نظر آتا نہیں کہ کیا ہو گا۔ زندہ ہوں مگر زندگی وبال ہے۔ ہر گوبند سنگہ(سنگھ) یہاں آئے ہوئے ہیں ایک بار میرے پاس بھی آئے تھے۔ والدعا۔ غالب۔ روز شنبہ۔ سی ام جنوری ۱۸۵۸ ء وقت نیمروز۔

ایضاً

کیوں صاحب روٹھے ہی رہو گے یا کبھی منو گے بھی۔ اور اگر کسی طرح نہیں منتے تو روٹھنے کی وجہ تو لکھو۔ میں اس تنہائی میں صرف خطوں کے بھروسے جیتا ہوں یعنی جس کا خط آیا میں نے جانا کہ وہ شخص تشریف لایا۔ خدا کا احسان ہے کہ کوئی دن ایسا نہیں ہوتا کہ اطراف و جوانب سے دو چار خط نہیں آ رہتے ہوں۔ بلکہ ایسا بھی دن ہوتا ہے کہ دو دو بار ڈاک کا ہرکارہ خط لاتا ہے۔ ایک دو صبح کو اور ایک دو شام کو میری دل لگی ہو جاتی ہے۔ دن ان کے پڑھنے اور جواب لکھنے میں گزر جاتا ہے یہ کیا سبب دس دس بارہ دن سے تمہارا خط نہیں آیا یعنی تم نہیں آئے خط لکھو۔ صاحب نہ لکھنے کی وجہ لکھو آدھ آنے میں بخل نہ کرو ایساہی ہے تو بیرنگ بھیجو۔ غالب۔ سوموار۔ ۷ دسمبر ۱۸۵۸ء۔

ایضاً

مہاراج آپ کا مہربانی نامہ پہنچا۔ دل میرا اگرچہ خوش نہ ہوا لیکن ناخوش بھی نہ رہا۔ بہرحال مجھ کو کہ نالائق و ذلیل ترین خلائق ہوں اپنا دعا گو سمجھتے رہو۔ کیا کروں اپنا شیوہ ترک نہیں کیا جاتا۔ وہ روش ہندوستانی فارسی لکھنے والوں کی مجھ کو نہیں آتی کہ بالکل بھاٹوں کی طرح بکنا شروع کریں میرے قصیدے دیکھو۔ تشبیب کے شعر بہت پاؤ گے اور مدح کے شعر کمتر۔ نثر میں بھی یہی حال ہے۔

نواب مصطفے ٰ خاں کے تذکرے کی تقریظ کو ملاحظہ کرو کہ ان کی مدح کتنی ہے میرزا رحیم الدین بہادر حیا تخلص کے دیوان کے دیباچہ کو دیکھو۔ وہ جو تقریظ دیوان حافظ کے بموجب فرمایش جان جاکوب بہادر کے لکھی ہے اس کو دیکھو کہ فقط ایک بیت میں ان کا نام اور ان کی مدح آئی ہے اور باقی ساری نثر میں کچھ اور ہی مطالب ہیں واللہ باللہ کسی شاہزادے یا امیر زادے کے دیوان کا دیباچہ لکھتا تو اس کی مدح نہ کرتا کہ جتنی تمہاری مدح کی ہے۔ ہم کو اور ہماری روش کو اگر پہچانتے تو اتنی مدح کو بہت جانتے قصہ مختصر تمہاری خاطر کی اور ایک فقرہ تمہارے نام کا بدل کر اس کے عوض ایک فقرہ اور لکھ دیا ہے اس سے زیادہ لمبی میری روش نہیں۔ ظاہراً تم خود فکر نہیں کرتے اور حضرات کے بہکانے میں آ جاتے ہو وہ صاحب تو بیشتر اس نظم و نثر کو مہمل کہیں گے کس واسطے کہ ان کے کان اس آواز سے آشنا نہیں جو لوگ کہ قتیل کو اچھے لکھنے والوں میں جانیں گے وہ نظم و نثر کی خوبی کو پہچانیں گے۔ ہمارے شفیق منشی نبی بخش صاحب کو کیا عارضہ ہے کہ جس کو تم لکھتے ہو ماءالجبن سے بھی نہ گیا۔ ایک نسخہ طب محمد حسین خانی میں لکھا ہے اور وہ بہت بے ضرر اور سود مند ہے مگر اثر اس کا دیر میں ظاہر ہوتا ہے وہ نسخہ یہ ہے کہ پان سات سیر پانی لیویں اور اس میں سیر پیچھے تولہ بھر چوب چینی کوٹ کر ملا ویں اور اس کو جوش کریں اس قدر کہ چہارم پانی جل جاوے پھر اس باقی پانی کو چھان کر کوری ٹھلیا میں بھر رکھیں اور جب باسی ہو جاوے اس کو پئیں جو غذا کھایا کرتے ہیں کھایا کریں۔ پانی دن رات جب پیاس لگے یہی پئیں تبرید کی حاجت پڑے اسی پانی میں پئیں روز جوش کروا کر چھنوا کر رکھ چھوڑیں۔ برس دن میں اس کا فائدہ معلوم ہو گا میرا سلام کہہ کر یہ نسخہ عرض کر دینا آگے ان کو اختیار ہے۔

ایضاً

تمہارا خط پہنچا مجھ کو بہت رنج ہوا۔ واقعی ان چھوٹے لڑکوں کا پالنا بہت دشوار ہو گا۔ دیکھو میں بھی تو اسی آفت میں گرفتار ہوں۔ صبر کرو اور صبر نہ کرو گے تو کیا کرو گے۔ کچھ بن نہیں آتی میں مسہل میں ہوں یہ نہ سمجھنا کہ بیمار ہوں۔ حفظ صحت کے واسطے مسہل لیا ہے تمہارے اشعار غور سے دیکھ کر بھائی منشی نبی بخش صاحب کے پاس لفافہ تمہارے نام کا بھیج دیا ہے جب تم آؤ گے تب وہ تم کو دیں گے۔ جہاں جہاں تردد و تامل کی جگہ تھی وہ ظاہر کر دی ہے اور باقی سب اشعار بدستور رہنے دئیے ہیں اب تم کو یہ چاہیے کہ کول پہنچ کر مجھ کو خط لکھو۔ اس لفافہ کی رسید اور اپناسار ا حال مفصل لکھو اس میں تساہل نہ کرو۔ بابو صاحب کے خط کا جواب اجمیر کو روانہ کر دیا جائے گا آپ کی خاطر جمع رہے زیادہ اس سے کیا لکھوں۔ اسد اللہ ۔ نجات کا طالب غالب عفی عنہ

ایضاً

صاحب تم نے لکھا تھا کہ میں جلد آگرہ جاؤں گا۔ تمہارے اس خط کا جواب نہ لکھ سکا جواب تو لکھ سکتا تھا مگر کلیان کا پانو (پاؤں ) سوجھ (سوج) گیا تھا وہ چل نہیں سکتا تھا۔ مسلمان آدمی شہر میں سڑک پر بن ٹکٹ نہیں پھر سکتا ناچار تم کو خط نہ بھیج سکا بعد چند روز کے جو کہار اچھا ہوا تو میں تم کو آگرہ میں سمجھ کر سکندرآباد خط نہ بھیج سکا۔ مولوی قمر الدین خاں کے خط میں تم کو سلام لکھا۔ کل ان کا خط آیا وہ لکھتے ہیں کہ میرزا تفتہ ابھی یہاں نہیں آئے اس واسطے آج یہ رقعہ تم کو بھیجتا ہوں۔ میرا حال بدستور ہے۔ دیکھئے خدا کو کیا منظور ہے۔ حاکم اکبر نے ابھی کوئی نیا بندو بست جاری نہیں کیا۔ یہ صاحب میرے آشنائے قدیم ہیں۔ مگر میں مل نہیں سکتا۔ خط بھیج دیا ہے۔ ہنوز کچھ جواب نہیں آیا۔ تم لکھو اکبرآباد کب جاؤ گے۔ الدعا۔ غالب۔ جمعہ ۶ مارچ ۱۸۵۸ء۔

ایضاً

صاحب میرٹھ سے آ کر تم کو خط لکھ چکا ہوں شاید نہ پہنچا ہو۔ اس واسطے از روئے احتیاط لکھتا ہوں کہ نواب مصطفے ٰ خاں کے ملنے کو بہ سبیل ڈاک میرٹھ گیا اور سہ شنبہ کے دن دلی آ گیا اور چار شنبہ کے دن تم کو خط بھیجا، کل آخر روز راجہ امید سنگہ (سنگھ) بہادر میرے گھر آئے تھے تمہارا خط ان کے دکھانے کو رکھ چھوڑا تھا وہ ان کو دکھایا۔ پڑھ کر یہ فرمایا کہ کسی اور مندر میں قصد اقامت نہیں ہے۔ نیا ایک تکیہ بنایا چاہتا ہوں آدمی بندرابن گئے ہیں۔ کوئی مکان مول لیں گے۔ وہاں اپنی وضع پر رہوں گا۔ میرا سلام لکھنا اور یہ پیام لکھنا کہ آپ کا کلام بمبئی تک پہنچ گیا اب طہران(تہران) کو بھی روانہ ہو جائے گا ؎

سواد ہند گرفتی بہ نظم خود تفتہ

 بیا کہ نوبت شیرازہ وقت تبریز است

صبح یک شنبہ۔ سی ام جنوری ۱۸۵۹ء۔

ایضاً

شعر و دولت برخوردار باشند۔ بدھ کا دن تیسری تاریخ فروری کی ڈیڑھ پہر دن باقی ہے ڈاک کا ہرکارہ آیا۔ اور خط مع رجسٹری لایا۔ خط کھولا سو روپے کی ہنڈوی بِل جو کچھ کھیئے (کہیئے ) وہ ملا۔ ایک آدمی رسید مہری لے کر نیل کے کٹڑے چلا گیا۔ سو روپے چہرہ شاہے لے آیا۔ آنے جانے کی دیر ہوئی اور بس۔ چوبیس روپے داروغہ کی معرفت اٹھے تھے وہ دئیے گئے۔ پچاس روپے محل میں بھیج دئیے۔ چوبیس روپے باقی رہے۔ وہ بکس میں رکھ لیے۔ روپے کے رکھنے کے لئے بکس کھولا تھا سو یہ رقعہ بھی رکھ لیا۔ کلیان سودا لینے بازار گیا ہوا ہے۔ اگر جلد آ گیا تو آج ورنہ کل یہ خط ڈاک میں بھیج دوں گا۔ خدا تم کو جیتا رکھے اور اجر دے۔ بھائی بری آ بنی ہے۔ انجام اچھا نظر نہیں آتا۔ قصہ مختصر یہ کہ قصہ تمام ہوا۔ غالب۔ چار شنبہ ۱۸۵۸ ء۔ وقت دوپہر۔

ایضاً

صاحب تمہارا خط میرٹھ سے آیا۔ مراۃ الصحائف کا تماشا دیکھا۔ سنبلستان کا چھاپا خدا تم کو مبارک کرے اور خدا ہی تمہاری آبرو کا نگہبان رہے۔ بہت گزر گئی، تھوڑی رہی۔ اچھی گزری۔ اچھی گزر جائے گی۔ میں تو یہ کہتا ہوں کہ عرفی کے قصائد کی شہرت سے عرفی کے ہاتھ کیا آیا جو میرے قصائد کے اشتہار سے مجھ کو نفع ہو گا۔ سعدی نے بوستان سے کیا پھل پایا جو تم سنبلستان سے پاؤ گے اللہ کے سوا جو کچھ ہے موہوم و معدوم ہے نہ سخن ہے نہ سخنور ہے نہ قصیدہ ہے نہ قصد ہے۔ لا موجود الا اللہ ۔ جناب بھائی صاحب یعنی نواب مصطفے ٰ خاں صاحب سے ملاقات ہو تو میرا سلام کہہ دینا۔ ہمشیرہ کی پنشن کا جاری ہونا بہت خوشی کی بات ہے مگر خوشی سے تعجب زیادہ ہے۔ کیا عجب ہے کہ اس سے بھی زیادہ خوشی اور زیادہ تعجب کی بات بروئے کار آوے یعنی آپ کا پنشن بھی واگزاشت ہو جاوے اللہ اللہ اللہ ۔ صبح یکشنبہ۔ ۲۰ جنوری ۱۸۵۸ء۔

ایضاً

بھائی میں نے دلی کو چھوڑا۔ اور رام پور چلا۔ پنجشنبہ ۱۹ کو مراد نگر اور جمعہ ۲۰ کو میرٹھ پہنچا۔ آج شنبہ ۲۱ کو بھائی مصطفے ٰ خاں کے کہنے سے مقام کیا۔ یہاں سے یہ خط تم کو لکھ کر بھیجا۔ کل شاہجہان آباد پرسوں گڈہ مکٹیر (گڑھ مکتیشر) رہوں گا۔ پھر مراد آباد ہوتا ہوا رام پور جاؤں گا۔ اب جو مجھ کو خط بھیجو رام پور بھیجنا۔ سر نامہ رامپور کا نام اور میرا نام کافی ہے اب اسی قدر لکھنا کافی تھا باقی جو کچھ لکھنا ہے وہ رام پور سے لکھوں گا۔ راقم غالب۔ مرقومہ چاشتگاہ شنبہ ۲۱ جنوری ۱۸۶۰ء۔

ایضاً

برخوردار سعادت آثار منشی ہر گوپال سلمہ اللہ تعالیٰ۔ اس سے آگے تم کو حالات مجمل لکھ چکا ہوں ہنوز کوئی رنگ قرار نہیں پایا۔ بالفعل نواب لفٹنٹ گورنر بہادر مراد آباد اور وہاں سے رامپور آئیں گے بعد ان کے جانے کے کوئی طور اقامت یا عدم اقامت کا ٹھیرے (ٹھہرے ) گا۔ منظور مجھ کو یہ ہے کہ اگر یہاں رہنا ہوا تو فوراً تم کو بلا لوں گا جو دن زندگی کے باقی ہیں وہ باہم بسر ہو جائیں۔ والدعا۔ راقم غالب۔ یکم مارچ ۱۸۶۰ء۔

ایضاً

میرزا تفتہ کو دعا پہنچے۔ بہت دن سے خط کیوں نہیں لکھا۔ آگرہ میں ہو یا نہیں۔ میرزا حاتم علی صاحب کا شفقت نامہ آیا۔ یہاں سے اس کا جواب بھیجا گیا۔ وہاں سے اس کا جواب آ گیا۔ میر مکرم حسین صاحب کا خط پرسوں آیا دو چار دن میں اس کا جواب لکھوں گا۔ میرا حال بدستور ہے ؎ نہ نوید کامیابی نہ نہیب نا امیدی۔ بھائی صاحب کا خط کئی دن ہوئے کہ آیا ہے اور وہ میرے خط کے جواب میں ہے۔ دو ایک دن کے بعد جب جی باتیں کرنے کو چاہے گا تب ان کو خط لکھوں گا۔ تم ملو تو ان سے کہہ دینا کہ بھائی قاسم علی خاں کے شعر نے مجھ کو بڑا مزہ دیا۔ حسنِ اتفاق یہ کہ کئی دن ہوئے تھے جو میں نے ایک ولایتی چغہ اور ایک شالی رومال ڈھائی گز دلال کو دیا تھا اور وہ اُس وقت روپیہ لے کر آیا تھا۔ میں روپیہ لے کر اور خط پڑھ کر خوب ہنسا کہ خط اچھے وقت آیا۔ غالب۔ ۱۸ جولائی ۱۸۵۸ء۔

ایضاً

صاحب تم تو اچھے خاصے عارف اور تمہارا کشف سچا ہے۔ میں راہ دیکھ رہا کہ تمہارا خط آئے تو جواب لکھوں۔ کل تمہارا خط شام کو آیا۔ آج صبح کو جواب لکھا گیا۔ بات یہ ہے کہ نامور آدمی کے واسطے محلہ کا پتہ ضرور نہیں۔ میں غریب آدمی ہوں مگر فارسی انگریزی جو خط میرے نام کے آتے ہیں تلف نہیں ہوتے۔ بعض فارسی خط پر محلہ کا پتہ نہیں ہوتا اور انگریزی خط پر تو مطلق ہوتا ہی نہیں۔ شہر کا نام ہوتا ہے۔ تین چار خط انگریزی ولایت سے مجھ کو آئے۔ جانے ان کی بلا کہ بلی ماروں کا محلہ کیا چیز ہے وہ تو بہ نسبت میرے بہت بڑے آدمی ہیں۔ سینکڑوں خط انگریزی ہر روز ان کو آتے ہیں۔ خلاصہ یہ کہ میں نے پھر ان کے پاس آدمی بھیجا اور آپ کا خط اپنے نام کا بھیج دیا۔ انہوں نے میرے آدمی سے کہا کہ نواب صاحب کو میرا سلام کہنا اور کہنا کہ میں اس کا جواب کیا لکھوں۔ محلے کا پتہ آپ ہی لکھ بھیجئے۔ سو میں پہلے امر واقعی تم کو لکھ کر تمہاری خواہش کے موافق لکھتا ہوں۔ ان کے مکان کا پتہ بلی ماروں کا محلہ۔ دستوں کا کوچہ۔ دستنبو کا یہ حال ہے کہ میں نے ایک بار سات روپیہ کی ہنڈوی بھیج کر بارہ جلدیں اور ایک جنتری ان سے منگوائی پھر ان کو ۱۸ آنہ کے ٹکٹ بھیج کر دو جلدیں لکھنؤ کو انہیں کے ہاتھوں وہیں سے بھجوائیں اور اس کے بعد پھر ۱۸ آنہ کے ٹکٹ بھجوا کر دو جلدیں وہیں سے سر دھنے کو بھجوائیں۔ غرض اس تحریر سے یہ ہے کہ میں بعد اس پچاس جلد کے سولہ جلدیں اور ان سے لے چکا ہوں مگر نقد ہرگز قرض میں نے نہیں منگوائے ہیں۔ ایک بار ہنڈوی اور دو بار ٹکٹ بھیج چکا ہوں۔ تم کو میری جان کی قسم سَہَل طور پر ان کو لکھ بھیجنا کہ غالب نے کتنی کتابیں منگوائی ہیں اور نقد منگوائی ہیں یا قرض اور جو وہ لکھیں وہ مجھ کو لکھ بھیجنا۔ شنبہ ۱۹ فروری ۱۸۵۹ ء۔ غالب۔

 

 

ایضاً

صاحب ہم تمہارے اخبار نویس ہیں اور تم کو خبر دیتے ہیں کہ برخوردار میر بادشاہ آئے ہیں ان کو دیکھ کر خوش ہوا وہ اپنے بھائیوں سے مل کر شاد ہوئے۔ تمہارا حال سن کر مجھ کو رنج ہوا۔ کیا کروں نہ اپنے رنج کا چارہ کر سکتا ہوں نہ اپنے عزیزوں کی خبر لے سکتا ہوں ؎ ہر آنچہ ساقی ما ریخت رہین الطاف است۔

آج چوتھا دن ہے یعنی منگل کے دن کوئی پہر پھر دن چڑھا ہو گا کہ ناگاہ راجہ امید سنگہ (سنگھ) بہادر میرے گھر تشریف لائے۔ پوچھا گیا کہ کہاں سے آئے ہو ؟ فرمایا کہ آگرہ سے آتا ہوں۔ بساون کی گلی جو حکیموں کی گلی کے قریب ہے جورس صاحب کی کوٹھی انہوں نے مول لی ہے اور اس کے قریب کی زمین افتادہ بھی خریدی ہے اور اس کو بنوا رہے ہیں۔ تمہارا میں نے ذکر کیا کہ ہر خط میں تمکو پوچھتے ہیں اور لکھتے ہیں کہ میں نے کئی خط بھیجے جواب نہیں آیا۔ بہرحال میرے پھوڑے نکل رہے ہیں۔ میں بازدید کو نہیں گیا۔ شاید وہ آج گئے ہوں یا جاویں پھر اکبر آباد کو جائیں گے میں آج آدمی ان کے پاس بھیجوں گا۔ کل میرزا حاتم علی مہر کا خط آیا تھا۔ تم کو بہت پوچھتے تھے کہ آیا میرزا تفتہ کہاں ہیں اور کس طرح ہیں بھائی ان کو خط لکھو۔ محررہ ۱۷ جون ۱۸۵۹ء۔

ایضاً

صاحب تمہارا خط آیا۔ دل خوش ہوا تمہاری تحریر سے ایسا معلوم ہوتا تھا کہ تم کو آگرہ کتابوں کا منگوانا بے ارسال قیمت مظنون ہے۔ چنانچہ حق التصنیف تم نے لکھا ہے بھائی میں کیا تم کو جھوٹ لکھوں گا اور شیو نراین نے اگر ذکر ارسال قیمت کا نہیں لکھا کے بے ارسال قیمت منگوائی ہیں تم کو میرے سر کی قسم اور میری جان کی قسم شیو نراین سے اتنا پوچھو کہ اس پچاس جلد کے بعد کی کتنی جلدیں غالب نے اور منگوائیں اور قیمت بھیج کر منگوائیں یا قیمت اس سے لینی ہے۔ دیکھو میں نے قسم لکھی ہے یوں ہی عمل میں لانا۔ رائے امید سنگہ (سنگھ)صاحب یہیں ہیں مجھ سے ان دنوں میں ملاقات نہیں ہوئی۔ جو تمہارے خط کا ذکر آتا یقین ہے کہ پہنچ گیا ہو گا اور یہ جو تم نے لکھا تھا کہ اگر دسوں کا کوچہ (پچھلے ایک خط میں یہ نام “دستوں کا کوچہ” بھی لکھا ہے۔ واللہ اعلم:۔ چھوٹا غالب) نہ ملے گا تو وہ خط تیرے پاس آئے گا سو وہ میرے پاس نہیں آیا صاحب تم کو وہم کیوں ہے ایک امیر نامور آدمی ہے اس کے نام کا خط کیوں نہ پہنچے گا۔

ایضاً

اجی مرزا تفتہ۔ بھائی منشی نبی بخش صاحب کو تمہارے حال کی بڑی پرسش ہے تم نے ان کو خط لکھنا کیوں موقوف کیا ہے وہ مجھ کو لکھتے تھے کہ اگر آپ کو مرزا تفتہ کا حال معلوم ہو تو مجھ کو ضرور لکھیئے گا۔ غالب۔ یکشنبہ ۲۷ فروری ۱۸۵۹ ء۔

ایضاً

کیوں مرزا تفتہ تم بے وفا یا میں گنہگار۔ یہ بھی تو مجھ کو معلوم نہیں کہ تم کہاں ہو۔ ابھی ایک صاحب میری ملاقات کو آئے تھے تقریباً تمہارا ذکر درمیان آیا وہ کہنے لگے کہ وہ کول میں ہیں اب میں حیران ہوں کہ خط کول بھیجوں یا سکندرآباد۔ اگر کول بھیجوں تو مسکن کا پتہ کیا لکھوں۔ بہرحال سکندرآباد بھیجتا ہوں۔ خدا کرے پہنچ جائے۔ تمہارا دیوان بطریق پارسل میرے پاس آیا۔ میں نے ہرکارے کو راجہ امید سنگہ (سنگھ)بہادر کے گھر کا پتہ بتا کر وہاں بھجوا دیا۔ یقین ہے کہ گھر پہنچ گیا ہو گا۔ پانچ چار دن سے سنتا ہوں کہ وہ متھرا اور اکبر آباد کی طرف گئے ہیں مجھ سے مل کر نہیں گئے۔ بہرحال ا س خط کا جواب جلد لکھو اور ضرور لکھو۔ بھائی تم سیاح آدمی ہو۔ جہاں جایا کرو مجھ کو لکھ بھیجا کرو کہ میں وہاں جاتا ہوں یا جہاں جاؤ وہاں سے خط لکھو۔ تمہارے خط کے نہ آنے سے مجھے تشویش رہتی ہے میری تشویش تم کو کیوں پسند ہے۔ محررہ یکشنبہ ۲۷ مارچ ۱۸۵۹ ء۔ غالب۔

ایضاً

شنبہ ششم مئی ۱۸۶۰ ء ہنگام نیمروز۔ بھائی آج اس وقت تمہارا خط پہنچا۔ پڑھتے ہی جواب لکھتا۔ زرسالانہ مجتمعہ ہزاروں کہاں سے ہوئے۔ سات سو پچاس پاتا ہوں۔ تین برس کے دو ہزار دو سو پچاس ہوئے۔ سو روپیہ مجھے مدد خرچ ملے تھے وہ کٹ گئے ڈیڑھ سو متفرقات میں گئے۔ رہے دو ہزار روپے۔ میرا مختار کار ایک بنیا ہے اور میں اس کا قرضدار قدیم ہوں اب جو وہ دو ہزار لایا اس نے اپنے پاس رکھ لیے اور مجھ سے کہا کہ میرا حساب کیجئے۔ سات کم پندرہ سو اس کے سود مول کے ہوئے قرض متفرق کا اسی سے حساب کروایا۔ گیارہ سو کئی روپے وہ نکلے اور گیارہ سو ہوئے۔ اصل میں یعنی دو ہزار میں چھ سو کا گھاٹا وہ کہتا ہے پندرہ سو میرے دے دو۔ پانسو (۵۰۰)سات روپے باقی کے تم لے لو۔ میں کہتا ہوں متفرقات گیارہ سو چکا دئیے نو سو (۹۰۰)باقی رہے۔ آدھے تُو لے آدھے مجھ کو دے۔ پرسوں چوتھی کو وہ روپے لایا ہے کل تک قصہ نہیں چکا۔ میں جلدی نہیں کرتا۔ دو ایک مہاجن بیچ میں ہیں ہفتہ بھر میں جھگڑا فیصل ہو جائے گا۔ خدا کرے یہ خط تم کو پہنچ جائے جس دن برات سے پھر کر آؤ۔ اسی دن مجھ کو اپنے ورود مسعود کی خبر دینا۔ والدعا۔ غالب۔

ایضاً

نورِ نظر لخت جگر مرزا تفتہ تم کو معلوم رہے کہ رائے صاحب مکرم و معظم رائے امید سنگہ (سنگھ) بہادر یہ رقعہ تم کو بھیجیں گے۔ تم اسی رقعہ کو دیکھتے ہی ان کے پاس حاضر ہونا اور جب تک وہاں رہیں تب تک حاضر ہوا کرنا اور دستنبو کے باب میں جو ان کا حکم ہو بجا لانا۔ ان کو پڑھا بھی دینا اور فی جلد کا حساب سمجھا دینا۔ پچاس جلد کی قیمت عنایت کریں گے وہ لے لینا۔ جب کتاب چھپ چکے دس جلدیں رائے صاحب کے پاس اندور بھیج دینا اور چالیس جلدیں بموجب ان کے حکم کے میرے پاس ارسال کرنا اور وہ جو میں نے پانچ جلد کے آرایش کے باب میں تم کو لکھا ہے اس کا حال مجھ کو ضرور لکھنا۔ ہاں صاحب ایک رباعی میرے سہو سے رہ گئی ہے اس رباعی کو چھاپا ہونے سے پہلے حاشیہ پر لکھ دینا۔ جہاں یہ فقرہ ہے :۔ “نے نے اختر بختِ خسرو در بلندی بجائے رسید کہ رخ از خاکیاں نہفت۔ “

؎ جائیکہ ستارہ شوخ چشمی ورزد

افسر افسار گزرن ارزن ارزد

خورشید ز اندیشہ جا در گردش

بر چرخ نہ بینی کہ چسان مے لرزد

چونکہ حاشیہ معنی لغات سے بھرا ہوا ہے تو تم اس فقرے کے آگے نشان بنا کر اوپر کے حاشیہ پر رباعی لکھ دینا اور حاشیہ یمین پر جہاں اور معنی لکھے ہوئے ہیں وہاں رباعی کے لغات کے معنی خفی قلم سے لکھ دینا۔ افسر، افسار، گزرن بہر دو فتحہ، جا در گردش۔ غالب نگاشتہ ۲۸ اگست ۱۸۵۸ء۔

ایضاً

میرزا تفتہ تمہارا خط آیا۔ فقیر کو حقیر کا حال معلوم ہوا خدا فضل کرے اگر تم اس راز کے اظہار کو منع نہ کرتے تو بھی میر ا شیوہ ایسا لغو نہیں ہے کہ میں ان کو لکھتا۔ لکھتے ہو کہ میرزا مہر کے دو چار روپے زائد صرف ہو گئے تو کیا اندیشہ ہے۔ حال یہ ہے کہ میں نے ان سے استفسار کیا تھا انہوں نے مجھ کو لکھا کہ کتابوں کی درستیمیں وہی بارہ روپے صرف ہوئے ہیں۔ محصول کی ایک رقم خفیف اگر میں نے اپنے پاس سے دی تو اس کا کیا مضائقہ مجھ کو تمہارا قول مطابق واقع نظر آتا ہے البتہ ان کے دو تین روپے اٹھ گئے ہوں گے۔ لالہ گنگا پرشاد شاد تخلص اپنے کو تمہارا شاگرد بتاتے ہیں مگر ریختہ کہتے ہیں۔ کئی دن ہوئے کہ یہاں آئے اور بالمکند بے صبر کی غزلیں اصلاح کو لائے۔ وہ دیکھ کر ان کو حوالہ کر دیں ہنری اسٹوارٹ ریڈ صاحب ممالک مغربی کے مدرسوں کے ناظم اور گورنمنٹ کے بڑے مصاحب ہیں۔ امن کے دنوں میں ایک ملاقات میری ان کی ہوئی تھی۔ میں نے اب ایک کتاب سادہ بے جلد ان کو بھیجی تھی کل ان کا خط مجھ کواس کتاب کی رسید میں آیا بہت تعریف لکھتے تھے۔ اور ہاں بھئی ایک تماشا اور ہے وہ مجھ کو لکھتے تھے کہ یہ دستنبو پہلے اس سے کہ تم بھیجو مطبع مفید خلائق نے ہمارے پاس بھیجی ہے اور ہم اس کو دیکھ رہے اور خوش ہو رہے تھے کہ تمہارا خط مع کتاب کے پہنچا۔ ان کے لکھنے سے یہ معلوم ہوا کہ مطبع میں سے گورنر کی نذر بھی ضرور گئی ہو گی۔ کیا اچھی بات ہے کہ وہاں بھی میرے بھیجنے سے پہلے میرا کلام پہنچ جائے گا۔ میں چیف کمشنر پنجاب کو یہ کتاب بھیج چکا ہوں اور نواب گورنر کی نذر اور ملکہ کی نذر اور سکرٹروں (سیکریٹریوں ) کی نذر یہ پارسل انشاءاللہ تعالیٰ آج روانہ ہو جائیں گی۔ دیکھوں چیف کمشنر کیا لکھتے ہیں اور گورنر کیا فرماتے ہیں ؎ تا نہال دوستی کے بر دہد۔ ٭ حالیا رفتیم و تخمی کاشتیم۔

شنبہ ۲۷ نومبر۱۸۵۹ ء غالب۔۔ ( یہاں تاریخ میں ابہام ہے۔ کتاب پر ۱۸۵۰ لکھا ہے جو کہ شاید آخری ہندسے کے مٹنے سے صفر نظر آتا ہے۔ کیونکہ ۱۸۵۰ میں تو دستنبو لکھی ہی نہ گئی تھی۔ کجا کہ مطبوع ہو کر بانٹی بھی گئی ہو۔ یہ شاید ۱۸۵۸ یا ۱۸۵۹ ء ہو گا۔ واللہ اعلم :۔ چھوٹا غالب)

ایضاً

میرزا تفتہ صاحب پرسوں تمہارادوسرا خط پہنچا۔ تم سے پردا (پردہ )کیا ہے ایک فتوح کا منتظر ہوں اس میں مَیں نے اپنے ضمیر میں تم کو شریک کر رکھا ہے۔ زمانہ فتوح کے آنے کا قریب آ گیا ہے۔ انشاءاللہ میرا خط مع حصہ فتوح جلد پہنچے گا۔ پنڈت بدری ناتھ یا بدری داس ڈاک منشی کرنال با آنکہ مجھ سے اس سے ملاقاتِ ظاہری نہیں ہے مگر میں جب جیتا تھا تو وہ اپنا کلام میرے پاس اصلاح کے واسطے بھیجتا تھا۔ بعد اپنے مرنے کے میں نے اس کو لکھ بھیجا کہ اب تم اپنا کلام منشی ہر گوپال تفتہ کے پاس بھیج دیا کرو۔ اب تم کو لکھتا ہوں کہ تم میرے اس لکھنے کی ان کو اطلاع لکھو میں زندہ ہوں اوپر کے نمبر میں جو اپنے کو مردہ لکھا ہے وہ باعتبار ترک اصلاح نظم لکھا ہے ورنہ زندہ ہوں مردہ نہیں بیمار بھی نہیں۔ بوڑھا ناتواں مفلس قرضدار کانوں کا بہرا قسمت کا بے بہرہ زیست سے بیزار مرگ کا امید وار۔ غالب۔

ایضاً

بھائی تم سچ کہتے ہو کہ بہت سے مسودے اصلاح کے واسطے فراہم ہوئے ہیں مگر یہ نہ سمجھنا کہ تمہارے ہی قصائد پڑے ہیں نواب صاحب کی غزلیں بھی اسی طرح دھری ہوئی ہیں برسات کا حال تمہیں بھی معلوم ہے اور یہ بھی تم جانتے ہو کہ میرا مکان گھرکا نہیں ہے کرایہ کی حویلی میں رہتا ہوں۔ جولائی سے مینہہ (مینہ۔ بارش) شروع ہوا شہر میں سینکڑوں مکان گرے اور مینہ کی نئی صورت دن رات میں دوچار بار برسے اور ہر بار اس زور سے کہ ندی نالے بہہ نکلیں بالا خانہ کا جو دالان میرے بیٹھنے اٹھنے سونے جاگنے جینے مرنے کا محل اگرچہ گرا نہیں لیکن چھت چھلنی ہو گئی۔ کہیں لگن کہیں چلمچی کہیں اگالدان رکھ دیا۔ قلمدان کتابیں اٹھا کر توشے خانہ کی کوٹھڑی میں رکھ دئیے۔ مالک مرمت کی طرف متوجہ نہیں کشتی نوح میں تین مہینے رہنے کا اتفاق ہوا۔ اب نجات ہوئی ہے نواب صاحب کی غزلیں اور تمہارے قصائد دیکھے جائیں گے۔ میر بادشاہ میرے پاس آئے تھے تمہاری خیر و عافیت ان سے معلوم ہوئی تھی۔ میر قاسم علی صاحب مجھ سے نہیں ملے۔ پرسوں سے نواب مصطفے ٰ خان صاحب یہاں آئے ہوئے ہیں۔ ایک ملاقات ان سے ہوئی ہے۔ ابھی یہیں رہیں گے۔ بیمار ہیں۔ احسن اللہ خاں۸ معالج ہیں۔ فصد ہو چکی ہے۔ جونکیں لگ چکی ہیں اب مسہل کی فکر ہے سوا اس کے سب طرح خیر و عافیت ہے۔ میں ناتواں بہت ہو گیا ہوں گویا صاحب فراش ہوں۔ کوئی شخص نیا تکلف کی ملاقات کا آ جائے تو اٹھ بیٹھتا ہوں ورنہ پڑا رہتا ہوں۔ لیٹے لیٹے خط لکھتا ہوں۔ لیٹے لیٹے مسودات دیکھتا ہوں اللہ اللہ اللہ ۔ صبح جمعہ ۱۴ ماہ اکتوبر ۱۸۶۶ء۔

ایضاً

پرسوں تمہارا خط آیا حال جو معلوم تھا وہ پھر معلوم ہوا۔ غزلیں دیکھ رہا تھا آج شام کو دیکھنا تمام ہوا تھا۔ غزلوں کو رکھ دیا تھا چاہتا تھا کہ ان کو بند کر کے رہنے دوں۔ کل نو بجے دس بجے ڈاک میں بھیج دوں۔ خط کچھ ضرور نہیں میں اسی خیال میں تھا کہ ڈاک کا ہرکارہ آیا۔ جانی جی کا خط لایا اس کو پڑھا اب مجھ کو ضرور ہوا کہ خلاصہ اس کا تم کو لکھوں۔ یہ رقعہ لکھا خلاصہ بطریق ایجاز یہ ہے کہ عرضی گزری دیوان گزرا راول جی کے نام کا خط گزرا راجہ صاحب دیوان کے دیکھنے سے خوش ہوئے جانی جی نے جو ایک معتمد اپنا سعد اللہ خاں وکیل کے ساتھ کر دیا ہے وہ منتظر جواب کا ہے۔ راول جی نئے اجنٹ (ایجنٹ) کے استقبال کو گئے ہیں اور اب اجنٹ علاقہ جے پور کی راہ سے نہیں آتا۔ آگرہ اور گوالیار، کرولی ہوتا ہوا اجمیر آئے گا اور اس راہ میں جے پور کا عمل نہیں۔ پس چاہیے کہ راول جی الٹے پھر آویں ان کے آنے پر عرضی کا جواب ملے گا۔ اور اس میں دیوان کی رسید بھی ہو گی بھائی جانی جی تم کو بہت ڈھونڈتے اور تمہارے بغیر بہت بے چین ہیں۔ میں نہ تم کو کچھ کہہ سکتا ہوں نہ ان کو سمجھا سکتا ہوں تم وہ کرو کہ جس میں سانپ مرے اور لاٹھی نہ ٹوٹے۔ ہاں یہ بھی جانی جی نے لکھا تھا کہ بہت دن کے بعد منشی جی کا خط آیا ہے۔ اسد اللہ ۔

ایضاً

بھائی پرسوں شام کو ڈاک کا ہرکارہ آیا۔ اور ایک خط تمہارا ور ایک خط جانی جی کا لایا۔ تمہارے خط میں اوراق اشعار اور بابو صاحب کے خط میں جے پور کے اخبار۔ دو دن سے مجھ کو وجع الصدر ہے اور میں بہت بے چین ہوں ابھی اشعار کو دیکھ نہیں سکتا۔ بابو صاحب کے بھیجے ہوئے کواغذ تم کو بھیجتا ہوں اشعار بعد چند روز کے بھیجے جاویں گے۔ اسد اللہ جمعہ ۲۵ فروری ۱۸۵۳ء۔

ایضاً

صاحب تمہارا خط آیا حال معلوم ہوا ؎

جہانیاں ز تو برگشتہ اند گر غالب

 تر اچہ باک خدائے کہ داشتی داری۔

خدا کے واسطے میرے باب میں لوگوں نے کیا خبر مشہور کی ہے۔ بہ نسبت حکیم احسن اللہ خاں کے جو بات مشہور ہے وہ محض غلط ہاں مرزا الہی بخش جو شاہزادوں میں ہیں ان کو حکم کرانچی بندر جانے کا ہے اور وہ انکار کر رہے ہیں دیکھئے کیا ہو حکیم جی کو ان کی حویلیاں مل گئی ہیں اب وہ مع قبائل ان مکانوں میں جا رہے ہیں اتنا حکم ان کو ہے کہ شہر سے باہر نہ جائیں یہ رہا ہیں ؎تو بے کسی و غریبی ترا کہ مے پرسد۔ نہ جزا نہ سزا نہ نفرین نہ آفرین نہ عدل نہ ظلم نہ لطف نہ قہر۔ ۱۰ دن پہلے تک دن کو روٹی رات کو شراب ملتی تھی اب صرف روٹی مل جاتی ہے شراب نہیں۔ کپڑا ایام تنعم کا بنا ہوا ابھی ہے اس کی کچھ فکر نہیں ہے مگر تم کو میرے سر کی قسم یہ لکھ بھیجو کہ میری خبر تم نے کیا سنی مجھے اس کے معلوم ہونے سے مزا ملے گا۔ غالب۔ شنبہ ۵ نومبر ۱۸۵۹ء۔

ایضاً

صاحب عجب اتفاق ہے آج صبح کو ایک خط تم کو اور ایک خط جاگیرے گانو(گاؤں ) کی تہنیت میں اپنے شفیق کو بھیج چکا تھا کہ دوپہر کو رضی الدین نیشا پوری کا کلام ایک شخص بیچتا ہوا لایا میں تو کتاب کو دیکھ لیتا ہوں مول نہیں لیتا۔ قضا را جب میں نے اس کو کھولا اسی ورق میں یہ مطلع نکلا ؎

اگر بہ گنج گہر میلم اوفتاد چہ باک

کفِ جو ادِ ترا از برائے آن دارم

چاہتا تھاکہ تم کو لکھوں کہ ناگاہ تمہارا( خط )آیا مجھ کو لکھنا ضرور ہوا آج تمہیں دو خط بھیجے ہیں ایک تو صبح کو پوسٹ پیڈ اور ایک اب بارہ پر تین بجے بیرنگ۔ اس شعر کو اب چاہو رہنے دو۔ ہائے ہائے تم بھائی سے ملے غیاث اللغات کھلوائی جواد کا لغت دیکھا میرا ذکر نہ کیا کہ وہ تمہارا جویائے حال ہے دستنبو اور اس کے چھاپے کا ذکر نہ کیا البتہ اگر تم ذکر کرتے تو وہ دونوں باب میں کچھ فرماتے اور مجھ کو دعا سلام کہہ دیتے۔ چونکہ تم نے اپنے خط میں کچھ نہیں لکھا اس سے معلوم ہوا کہ بھائی نے کچھ نہیں کہا۔ اگر انہوں نے کچھ نہیں کہا تو ان کا ستم اور اگر ان کا کہا ہوا تم نے نہیں لکھا تو تمہارا کرم۔ بہرحال خوب مصرع حافظ کا تم نے مجھ کو یاد دلایا ہے ؎ یارب مباد کس را مخدوم بے عنایت۔ خواہی تم خواہی منشی نبی بخش سلمہ اللہ تعالیٰ۔ یہ یاد رہے یہ مصرع اگر زنجیر سے باندھو گے تو بھی نہیں بندھے گا۔ اگر دستنبو کو سراسر غور سے دیکھو گے تو اپنا نام پاؤ گے اور یہ بھی جانو گے کہ وہ تحریر تمہاری اس تحریر سے سو برس پہلے کی ہے۔ آخر روز دو شنبہ ۲۳ اگست۔

ایضاً

جانِ من و جانان ِ من۔ کل میں نے تم کو سکندرآباد میں سمجھ کر خط بھیجا۔ شام کو تمہارا خط آیا معلوم ہوا کہ تم اکبر آباد پہنچے خیر وہ خط پوسٹ پیڈ ہو گیا ہے شاید الٹا نہ پھرے اگر پھر آئے گا تو خیر آج یہ خط تم کو اکبر آباد بھیجتا ہوں پہنچنے پر جواب لکھنا۔ تقطیع رباعی کی بہت خوب۔ مگر خیر ہر ایک بات کا وقت ہے ہم کو ہر طرح کا لطف صحبت اور لطف شعر اٹھا لینا۔ بھائی منشی نبی بخش صاحب کے نام کا خط پڑھ کر ان کو دے دینا اور اس کا مضمون معلوم کر لینا۔ جس حاکم کو میں نے خط اور قطعہ بھیجا ہے اس کے سرشتہ دار کوئی صاحب ہیں۔ من پھول ان کا نام ہے مجھ سے ناآشنائے محض ہیں اگر تعارف ہو تو استدعا کرنا کہ اس تحریر کو پیش کیجیئے۔ کاش تم سے آشنائی ہوتی تو تمہیں اوپر اوپر ایک خط لکھ کر ان کو بھیج دیتے کہ غالب ایک فقیر گوشہ نشین اور بے گناہِ محض اور واجب الرحم ہے۔ اس کے حصول مطالب میں سعی سے دریغ نہ کرنا ؎

میتوان آورد استغنا سفارشنامہ

چرخ کج رو اگر دانیم کز یارانِ کیست

باقی جو حال ہے وہ بھائی کے نام کے ورق میں لکھ چکا ہوں۔ تم پڑھ لو گے دوبارہ لکھنا کیا ضرور۔ شنبہ۔ ۶ مارچ ۱۸۵۸ء۔ جواب طلب۔

ایضاً

میرے مہربان میری جان۔ میرزا تفتہ سخندان تمہارا خط سکندر آباد اور میرے خط کا تمہارے پاس پہنچنا تمہاری تحریر سے معلوم ہوا۔ زندہ رہو اور خوش رہو میں نثر کی داد اور نظم کا صلہ مانگنے نہیں آیا۔ بھیک مانگنے آیا ہوں۔ روٹی اپنی گرہ سے نہیں کھاتا۔ سرکار سے ملتی ہے وقتِ رخصت میری قسمت اور منعم کی ہمت۔ نواب صاحب از روئے صورت ِ روح مجسم اور با اعتبارِ اخلاق آیت رحمت ہیں۔ خزانہ فیض کے تحویلدار ہیں۔ جو شخص دفتر ازل سے جو کچھ لکھوا لایا ہے اس کے بٹنے میں دیر نہیں لگتی۔ ایک لاکھ کئی ہزار روپیہ سال غلہ کا محصول معاف کر دیا ایک اہل کار پر ساٹھ ہزار کا محاسبہ معاف کیا اور بیس ہزار روپیہ نقد دیا۔ منشی نول کشور صاحب کی عرضی پیش ہوئی خلاصہ عرضی کا سن لیا واسطے منشی صاحب کے کچھ عطیہ بتقریب شادی صبیہ تجویز ہو رہا ہے۔ مقدار مجھ پر نہیں کھلی۔ بھائی مصطفے ٰ خاں صاحب بتقریب تہنیت مسند نشینی و شمول جشن آنے والے ہیں اس وقت تک نہیں آئے۔ جشن یکم دسمبر سے شروع۔ ۵ دسمبر کو خلعت کا آنا مسموع۔ نجات کا طالب غالب۔ دو شنبہ ۲۸ نومبر ۱۸۶۵ ء وقت چاشت۔

ایضاً

میرزا تفتہ جو کچھ تم نے لکھا یہ بیدردی ہے اور بدگمانی۔ معاذاللہ تم سے اور آزردگی۔ مجھ کو اس پر ناز ہے کہ میں ہندوستان میں ایک دوست صادق الولا رکھتا ہوں جس کا ہر گوپال نام اور تفتہ تخلص ہے۔ تم ایسی کونسی بات لکھو گے کہ موجب ملال ہو۔ رہا غماز کا کہنا اس کا حال یہ ہے کہ میرا حقیقی بھائی کُل ایک تھا۔ وہ تیس برس دیوانہ رہ کر مر گیا۔ مثلاً وہ جیتا ہوتا اور ہوشیار ہوتا اور تمہاری برائی کہتا تو میں اس کو جھڑک دیتا اور اس سے آزردہ ہوتا۔ بھائی مجھ میں کچھ اب باقی نہیں ہے برسات کی مصیبت گزر گئی۔ لیکن بڑھاپے کی شدت بڑھ گئی۔ تمام دن پڑا رہتا ہوں بیٹھ نہیں سکتا اکثر لیٹے لیٹے لکھتا ہوں معہذا یہ بھی ہے کہ اب مشق تمہاری پختہ ہو گئی خاطر میری جمع ہے کہ اصلاح کی حاجت نہ پاؤں گا۔ اس سے بڑھ کر یہ بات ہے کہ قصائد سب عاشقانہ ہیں بکار آمد نہیں خیر کبھی دیکھ لوں گا جلدی کیا ہے تین بات جمع ہوئیں۔ ۱ میری کاہلی۔ ۲ تمہاری کلام کا محتاج باصلاح نہ ہونا۔ ۳ کسی قصیدے کسی طرح کے نفع کا تصور نہ ہونا۔ نظر ان مراتب پر کاغذ پڑے رہے۔ لالہ بالمکند بے صبر کا ایک پارسل ہے کہ اس کو بہت دن ہوئے ، آج تک سر نامہ بھی نہیں کھولا۔ نواب صاحب کی دس پندرہ غزلیں پڑی ہوئی ہیں ؎

ضعف نے غالب نکما کر دیا

ورنہ ہم بھی آدمی تھے کام کے

یہ قصیدہ تمہارا کل آیا۔ آج اس وقت کہ سورج بلند نہیں ہوا اس کو دیکھا لفافہ کیا آدمی کے ہاتھ ڈاک گھر بھجوایا۔ غالب۔ ۲۷ نومبر ۱۸۶۳ء۔

ایضاً

منشی صاحب میں سالِ گزشتہ بیمار تھا۔ بیماری میں خدمت احباب سے مقصر نہیں رہا اب مردہ ہوں مردہ کچھ کام نہیں کر سکتا۔ کمشنر و ڈپٹی کمشنر وغیرہ حکام شہر سے ترک ملاقات ہے مگر ڈپٹی کلکٹر شہر سے کہ وہ مہتمم خزانہ ہے ہر مہینے میں ایک بار ملنا ضرور ہے اگر نہ ملوں تو مختار کار کو تنخواہ نہ ملے۔ ڈکرودر صاحب ڈپٹی کلکٹر چھ مہینے کی رخصت لے کر پہاڑ پر گئے۔ ان کی جگہ ریٹیکن صاحب مقرر ہوئے ان سے ناچار ملنا پڑا۔ وہ تذکرہ شعراءِ ہند کا انگریزی میں لکھتے ہیں مجھ سے بھی انہوں نے مدد چاہی میں نے سات کتابیں بھائی ضیاء الدین صاحب سے مستعار لے کر ان کے پاس بھیج دیں پھر انہوں نے مجھ سے کہا کہ جن شعرا کو تو اچھی طرح جانتا ہے ان کا حال لکھ بھیج۔ میں نے ۱۶ آدمی لکھ بھیجے بقید اس کے کہ اب زندہ موجود ہیں اور اس سواد کی صورت یہ ہے۔ نواب ضیاء الدین صاحب احمد خاں بہادر رئیس لوہارو فارسی اور اردو دونوں زبانوں میں شعر کہتے ہیں فارسی نیّر اور اردو میں درخشاں تخلص کرتے ہیں۔ اسداللہ خاں غالب کے شاگرد نواب مصطفے ٰ خاں بہادر علاقہ دار جہانگیرآباد اردو میں شیفتہ اور فارسی میں حسرتی تخلص کرتے ہیں اردو میں مومن خاں کو اپنا کلام دکھاتے تھے۔ منشی ہر گوپال معزز قانوں گو سکندرآباد کے فارسی شعر کہتے ہیں تفتہ تخلص کرتے ہیں اسد اللہ خاں غالب کے شاگرد۔ ظاہراً بعد اس فہرست کے بھیجنے کے انہوں نے کچھ اپنے منشی سے تم کو لکھوایا ہو گا پھر کچھ آپ لکھا ہو گا۔ مجھ کو اس حال سے کچھ اطلاع نہیں تمہارے خط کی رو سے میں نے اطلاع پائی اب میں مولوی مظہر الحق ان کے منشی کو بلواؤں گا اور سب حال معلوم کروں گا اصل یہ ہے کہ تذکرہ انگریزی زبان میں لکھا جاتا ہے اشعار ہندی اور فارسی کا ترجمہ شامل نہ کیا جائے گا۔ صرف شاعر کا اور اس کے استاد کا نام اور شاعر کے مسکن و موطن کا نام مع تخلص درج ہو گا خدا کرے کچھ تم کو فائدہ ہو جائے ورنہ بظاہر اً سوائے درج ہونے نام کے اور کسی بات کا احتمال نہیں ہے۔ ریٹیکن صاحب شہر سے باہر دو کوس کے فاصلہ پر جا رہے مع ہذا جاڑے کا موسم بڑھاپے کا عالم وہاں تک جانا دشوار اور پھر کوئی مطلب نکلتا ہوا نظر میں نہیں۔ بہرحال مولوی مظہر الحق پرسوں یکشنبہ کے دن میرے پاس آئیں گے۔ حال معلوم کر کے اگر میرا جانا یا لکھنا تمہاری فلاح کا کا موجب ہو گا تو ضرور جاؤں گا۔ غالب۔ روز جمعہ ۹ دسمبر ۱۸۶۴ء۔

ایضاً

بھائی آج صبح کو بسبب حکیم صاحب کے تقاضا کے شکوہ آمیز خط جناب مرزا صاحب کی خدمت میں لکھ کر بھیجا۔ کلیان خط ڈاک میں ڈال کر آیا ہی تھا کہ ڈاک کا ہرکارہ ایک خط تمہارا اور ایک خط مرزا صاحب کا لایا۔ اب کیا کروں۔ خیر چپ ہو رہا۔ شکوہ محبت بڑھائے گا مرزا صاحب کی عنایت کا شکر بجا لاتا ہوں یقین ہے کہ جلدیں میری خاطر خواہ بن جائیں گی۔ کس واسطے کہ جو آج کے خط میں انہوں نے لکھا ہے وہ بعینہٖ میرا مکنونِ ضمیر ہے۔ خدا ان کو سلامت رکھے میرا سلام کہہ دینا خدا کرے ان کے خط کا جواب کل پرسوں بھیجوں گا۔ رائے امید سنگہ(سنگھ)بہادر خوبان روزگار میں سے ہیں فقیر کا سلام نیاز ان کو کہہ دینا۔ خدا کرے ان کے سامنے کتابیں چھپ چکیں بارے جب وہ گوالیار تشریف لے جائیں تو مجھ کو اطلاع لکھنا۔ نہیب کی جگہ نوائے بن جانے سے خاطر جمع ہو گئی۔ بھائی میں فارسی کا محقق ہوں۔ کاتب ان اجزا کا جن کی رو سے کاپی لکھی جاتی ہے۔ فارسی کا عالم ہے علم ا س کا غیاث الدین رامپوری اور حکیم محمد حسین دکنی سے زیادہ ہے۔ تصحیح سے غرض یہ ہے کہ کاپی سراسر موافق ان اوراق کے ہو نہ یہ کہ فرہنگوں میں دیکھا جائے۔ آگے اس سے تم کو بھی اور بھائی کو بھی لکھ چکا ہوں اب صرف اس تحریر کا اشارہ لکھنا منظور تھا۔ آج جس طرح مجھ کو تمہارا اور مرزا صاحب کا خط پہنچا۔ لازم تھا کہ حکیم صاحب کو بھی لفافہ اخبار پہنچ جاتا۔ مگر اس وقت تک نہیں پہنچا اور یہ دوپہر کا وقت ہے خیر پہنچ جائے گا۔ میں نے تمہارا خط ان کے پاس بھیج دیا تھا انہوں نے تمہاری رائے منظور کی اب تم وہ اخبار جس طرح کہ تم نے لکھا ہے ان کے پاس بھیج دو اور صاحب مطبع قیمت اخبار اور اجرت کاتب ان کو لکھ بھیجے اور اپنے نام اور مسکن سے ان کو اطلاع دے۔ بس اس کو اپنے طور پر روپیہ بھیج دیں گے۔ ہم تم واسطے شناسائی ہمدگر ہو گئے۔ ہاں اگر احیاناً روپیہ کے بھیجنے میں دیر ہو گی تو میں کہہ کر بھجواؤں گا یہ البتہ میرا ذمہ ہے۔

ایضاً

مشفق میرے کرم فر میرے تمہارا خط اور تین دو ورقہ چھاپے کے پہنچے۔ شاید میرے دکھانے کے واسطے بھیجے گئے ہیں۔ ورنہ رسم تویوں ہے کہ پہلے صفحہ پر کتاب کا نام اور مصنف کا نام اور مطبع کا نام چھاپتے ہیں اور دوسرے صفحہ پر لوح سیاہ قلم سے بنتی ہے اور کتاب لکھی جاتی ہے اس کا بھی چھاپا اسی طرح ہو گا۔ غرض کہ تقطیع اور شمار سطور اور کاپی کا حسن خط اور الفاظ کی صحت سب میرے پسند صحت الفاظ کا کیا کہنا ہے۔ واللہ بے مبالغہ کہتا ہوں کہ بھائی منشی نبی بخش صاحب بدل متوجہ ہوں۔ تو اگر احیاناً اصل نسخہ میں سہو کاتب سے غلطی واقع ہوئی ہو تو اس کو بھی صحیح کر دیں گے۔ تم میری طرف سے ان کو سلام کہنا بلکہ یہ خط دکھا دیناخدا کرے انجام تک یہی قلم اور یہی خط اور یہی طرز تصحیح چلی جائے۔ جدول بھی مطبوع ہے۔ پہلے صفحہ کی صورت اور دوسرے صفحہ کی لوح بھی خدا چاہے تو دل پسند اور نظر فریب ہو گی۔ کاغذ کے باب میں یہ عرض ہے کہ فرنچھ کا کاغذ اچھا ہے۔ چھ جلدیں جو نذر حکام ہیں وہ اس کاغذ پر ہوں اور باقی چاہو شیو رامپوری پر اور چاہو نیلے کاغذ پر چھاپو۔ اور یہ بات کہ دو جلدیں جو ولایت جانے والی ہیں وہ اس کاغذ پر چھاپی جائیں۔ اور باقی شیو رامپوری پر یا نیلے کاغذ پر یہ تکلف محض ہے یہاں کے حاکموں نے کہا ہے کہ ان کی نذر کی کتابیں اچھے کاغذ پر نہ ہوں مگر جو ایسا ہی صرف اور خرچ زائد پڑتا ہو تو خیر دو جلدیں اس کاغذ پر اور چار جلدیں شیو رامپوری ہوں باقی جلدوں میں تمہیں اختیار ہے۔ ہاں صاحب اگر ہو سکے تو کاپی کی سیاہی ذرا اور سیاہ اور رخشندہ ہو اور آخر تک رنگ نہ بدلے آگے اس سے میں نے برخوردار منشی عبد اللطیف کو لکھا تھا کہ ان چھ کتابوں کی کچھ تزئین اور آرایش کی فکر کریں معلوم نہیں تم نے وہ پیام ان کو پہنچا یا یا نہیں۔ آپ اور منشی عبد اللطیف اور میرزا حاتم علی صاحب مہر باہم صلاح کریں اور کوئی بات خیال میں آوے تو بہتر ورنہ ان چھ نسخوں کی جلدیں انگریزی ڈیڑھ ڈیڑھ دو دو روپیہ کی لاگت کی بنوا دینا۔ اور اس کا روپیہ تیاری سے پہلے مجھ سے منگوا لینا۔ آنکہ ہمہ را در یک دم بہ نوید بشو پدید آورد اگر در دم دیگر بہ نہیب مباش بہم زند الخ۔ اس میں نہیب کا لفظ کچھ میری سہل انکاری سے اور کچھ سہو کاتب سے رہ گیا ہے۔ اس کو تیز چاقو سے چھیل کر بہ نوائے لکھ دینا یعنی “بہ نوائے مباش بہم زند” ضرور ضرور اور اس کا انتظار نہ کیجو کہ جب یہاں چھاپا آئے گا تو بنا دیں گے نہ اصل کتاب میں غلط رہے نہ چھاپے میں غلط ہو۔ اگر اجزائے اصل میر امیر علی صاحب کاپی نویس کے پاس ہوں تو ان کو یا بھائی منشی نبی بخش صاحب کو یہ رقعہ دکھا کر سمجھا دینا اور بنوا دینا از غالب روز سہ شنبہ۔ ہفتم ستمبر ۱۸۵۸ء۔

ایضاً

جیتے رہو اور خوش رہو ؎ اے وقتِ تو خوش کہ وقتِ ما خوش کردی۔ زیادہ خوشی کا سبب یہ ہے کہ تم نے تحریر کو تقریر کا پرداز دے دیا تھا۔ گرمی ہنگامہ انطباع دیوان وغیرہ میں پہلے سے جانتا ہوں۔ بنک گھر کا روپیہ مصرف کاغذ و کاپی ہے۔ خدا تم کو سلامت رکھے منتعنمات سے ہو رجب علی بیگ سرور نے جو افسانہ عجائب لکھا ہے آغازِ داستان کا شعر اب مجھ کو بہت مزا دیتا ہے ؎

یادگارِ زمانہ ہیں ہم لوگ

یاد رکھنا فسانہ ہیں ہم لوگ

مصرع ثانی کتنا گرم ہے اور یاد رکھنا فسانہ کے واسطے کتنا مناسب۔ منشی عبد اللطیف کے گھر میں لڑکے کے پیدا ہونے کی خبر مجھ کو بھی ہو چکی ہے اور تہنیت میں بھائی کو خط لکھ چکا ہوں اب جو ان سے ملو تو میرا سلام کہہ کر اس خط کے پہنچنے کی اطلاع لے لینا۔ مولوی معنوی جب کانپور سے معاودت فرماویں۔ مجھ کو اطلاع دینا۔ میرا حال بدستور ؎ ہماں پہلو ہماں بستر ہماں درد۔ شنبہ ۲۶ جون روز ورود نامہ۔ غالب۔

ایضاً

برخوردار تمہارا خط پہنچا۔ اصلاحی غزلوں کی رسید معلوم ہوئی۔ مقطع اب اچھا ہو گیا رہنے دو۔ کل جمعہ کے دن ۱۹ نومبر کو سات کتابوں کا پارسل بھیجا ہوا مولانا مہر کا پہنچا۔ زباں نہیں جو تعریف کروں۔ شاہانہ آرایش ہے آفتاب کی سی نمایش ہے۔ مجھے یہ فکر کہ کہیں ان کا روپیہ تیاری میں صرف نہ ہوا ہو۔ اچھا میرے بھائی اس کا حال جو تم کو معلوم ہو مجھ کو لکھ بھیجو۔ رقعات کے چھاپے جانے میں ہماری خوشی نہیں ہے۔ لڑکوں کی ضد نہ کرو اور اگر تمہاری اسی میں خوشی ہے تو صاحب مجھ سے نہ پوچھو تم کو اختیار ہے۔ یہ امر میرے خلاف رائے ہے۔ میر بادشاہ کی اور اپنی ناشناسائی آگے تم کو لکھ چکا ہوں۔ اب تمہارے اس خط سے معلوم ہوا کہ وہ تمہارے اور امراؤ سنگہ (سنگھ)کے آشنا ہیں۔ کچھ ان کے خاندان کا نام و نشان دریافت ہو تو مجھ کو بھی لکھ بھیجو تاکہ میں جانوں کہ یہ کس گروہ میں سے ہیں۔ میاں وہ راستدروغ بگردن راوی نے مجھ کو بہت پریشان کیا ہے اس واسطے خدا کے جو راوی نے روایت کی ہے وہ مجھ کو ضرور لکھو۔ اور تاج گنج کے رہنے والوں کی ابتری کی حقیقت سے بھی اطلاع دو۔ حکم عفو تقصیر عام ہو گیا ہے لڑنے والے آتے جاتے ہیں اور آلات حرب و پیکار دے کر توقیع آزادی پاتے ہیں۔ یہ دو شخص کیسے مجرم تھے جو مقید ہوئے۔ محررہ صبح شنبہ ۲۹ نومبر ۱۸۵۸ء۔ غالب۔

ایضاً

بھائی وہ خط پہلا تم کو بھیج چکا تھا کہ بیمار ہو گیا۔ بیمار کیا ہوا توقع زیست کی نہ رہی۔ قولنج اور پھر کیسا شدید کہ پانچ پہر مرغ نیم بسمل کی طرح تڑپا کیا۔ آخر عصارہ ریوند اور ارنڈی کا تیل پیا اس وقت تو بچ گیا مگر قصہ قطع نہ ہوا۔ مختصر کہتا ہوں میری غذا تم جانتے ہو کہ تندرستی میں کیا ہے۔ دس دن میں دو بار آدھی آدھی غذا کھائی گویا دس دن میں ایک بار غذا تناول فرمائی گلاب اور املی کا پنّا اور آلو بخارہ کا افشردہ اس پر مدار رہا۔ کل سے خوف مرگ گیا ہے اور صورت زیست کی نظر آ ئی ہے آج صبح کو بعد دوا پینے کے تم کو یہ خط لکھا ہے۔ یقین تو ہے کہ آج پیٹ بھر کر روٹی کھا سکوں۔ صاحب وہ جو میں نے ۲۲ شعر مرثیہ کے لکھ کر تم کو بھیجے۔ اس سے مقصود یہ تھا کہ تم اپنے اشعار دوسرے ماتم زدہ کو دے دو۔ کس واسطے کہ تمہاری تحریر سے معلوم ہوا تھا کہ کوئی اور بھی فلک زدہ ہے۔ اور یہ جو تم لکھتے ہو کہ کچھ اوپر اسی شعر میں سے ایک شعر بھی تو نے نہ لیا۔ اس کا حال یہ ہے کہ وہ شعر سب دست و گریباں تھے۔ ایک کو ایک سے ربط یا دو شعر اس میں کیونکر لیے جاتے۔ اشعار سب میرے پسند بے سُقم بے عیب (کتاب میں بے غیب لکھا ہے :۔ چھوٹا غالب) وہ جو تم لکھتے ہو کہ صرف بابو برج موہن میزنم اور اس کا دوسرا مصرعہ میں بھول گیا ہوں مگر قافیہ میں من ہے یہ شعر غالب کو برا معلوم ہوا ہو گا واللہ باللہ جب تک کہ تم نے نہیں لکھا میرے خیال میں بھی یہ بات نہ تھی۔ بہرحال بات وہی ہے جو میں اوپر لکھ آیا ہوں۔ بارے اب کھیے (کہیئے ) بھائی منشی نبی بخش صاحب اور مولوی قمر الدین خان صاحب روزوں کے متوالے ہوش میں آئے یا نہیں آئے۔ آج ۱۰ شوال کی ہے۔ شش عید کا بھی زمانہ گزر گیا۔ خدا کے واسطے ان کی خیر و عافیت لکھو اور یہ عبارت بھائی صاحب کی نظر انور سے گزرا تو شاید مجھ کو خط لکھیں۔ غالب۔ محررہ و مرسلہ دو شنبہ ۲۴ مئی ۱۸۵۸ء۔

ایضاً

اللہ اللہ ہم تو کول سے تمہارے خط کے آنے کے منتظر تھے۔ ناگاہ کل جو خط آیا معلوم ہوا کہ دو دن کول میں رہ کر سکندرآباد گئے ہوں اور وہاں سے تم نے خط لکھا ہے دیکھئے اب یہاں کب تک رہو اور آگرہ کب جاؤ۔ پرسوں برخوردار شیو نراین کا خط آیا تھا۔ لکھتے تھے کہ کتابوں کی شیرازہ بندی ہو رہی ہے اب قریب ہے کہ بھیجی جائیں۔ مرزا مہر بھی ایک ہفتہ بتاتے ہیں دیکھئے کس دن کتابیں آ جائیں۔ خدا کرے سب کا م دلخواہ بنا ہو۔ ہاں صاحب منشی بالمکند بے صبر کے ایک خط کا جواب ہم پر قرض ہے میں کیا کروں اس خط میں انہوں نے اپنا سیر و سفر میں مصروف ہونا لکھا تھا پس میں ان کے خط کا جواب کہاں بھیجتا۔ اگر تم سے ملیں تو میرا سلام کہہ دینا اور مطبع آگرہ سے کتابوں کا حال تو تم خود دریافت کر ہی لو گے میرے کہنے اور لکھنے کی کیا حاجت۔ چار شنبہ۔ سیوم نومبر ۱۸۵۸ء۔

ایضاً

یکشنبہ سوم ذی قعدہ و پنجم جون سالِ حال۔ صاحب آج تمہارا خط صبح کو آیا۔ میں دوپہر کو جواب لکھتا ہوں۔ تمہاری ناسازگاری طبیعت سن کر دل کڑھا۔ حق تعالیٰ تم کو زندہ اور تندرست اور خوش رکھے۔ اوراق مثنوی بھیجے ہوئے بہت دن ہوئے ہیں جس میں حکایت طالب علم اور سنار کی تھی۔ واقعہ بلند شہر کا اور وہ اوراق میں نے پمفلٹ پاکٹ نہیں بھیجے خط میں لپیٹ کر چونکہ خط ڈبل تھا دو ٹکٹ لگا کر ارسال کیے ہیں۔ رسید ملے تو اس کو دیکھ کر تاریخ معلوم ہو جائے۔ قیاس سے ایسا جانتا ہوں کہ پان سات دن ہوئے ہوں گے۔ منشی نبی بخش کا خط بہت دن سے نہیں آیا گھر اون (اُن) کا تاج گنج وہ خود مع بعض متعلقینِ آگرہ۔ ایک بار تاج گنج کے پتہ پر خط ان کو بھیجا تھا جواب نہ آیا۔ اب ناچار برخوردار شیو نراین سے ان کا حال پوچھوں گا۔ تم باہمہ کمالات خفقانی بھی ہو۔ رائے امید سنگہ(سنگھ)سے خط کی امید کیوں رکھتے ہو۔ جب آگرہ جاؤ گے اور وہ وہاں ہوں گے تو ملاقات ہو جائے گی۔ میں خود واقف نہیں کہ وہ کہاں ہیں ازروئے قیاس کہہ سکتا ہوں کہ آگرہ یا بندرابن کبھی کہیں سے ان کا کوئی خط مجھ کو آیا ہو تومیں گنہگار۔ غالب۔

ایضاً

لو صاحب کھچڑی کھائی۔ دن بھُلائے کپڑے پھاٹے (پھٹے ) گھر کو آئے۔ ۸ جنوری ماہ و سال ِ حال دو شنبہ کے دن غضب الہی کی طرح اپنے گھر پر نازل ہوا۔ تمہارا خط معہ مضامیں دردناک سے بھرا ہوا رامپور میں مَیں نے پایا۔ جواب لکھنے کی فرصت نہ ملی۔ کہ مراد آباد میں پہنچ کر بیمار ہو گیا پانچ دن صدر الصدور صاحب کے ہاں پڑا رہا۔ انہوں نے بیمار داری اور غمخواری بہت کی۔ کیوں ترک لباس کرتے ہو۔ پہننے کو تمہارے پاس ہے کیا جس کو اتار پھینکو گے۔ ترک لباس سے قید ہستی مٹ نہ جائے گی بغیر کھائے پیئے گزارہ نہ ہو گا۔ سختی و سستی رنج و آرام کو ہموار کر دو جس طرح ہو اسی صورت سے بہر صورت گزرنے دو

؎ تاب لائے ہی بنے گی غالب

واقعہ سخت ہے اور جان عزیز

اس خط کی رسید کا طالب غالب۔

ایضاً

میرزا تفتہ کہ پیوستہ بدل جا دارد ٭ ہر کجا ہست خدایا بسلامت دارش۔ صاحب کئی بار جی چاہا کہ تم کو خط لکھوں مگر متحیر کہاں بھیجوں۔ اب جو تمہارا خط آیا معلوم ہوا کہ حضرت ابھی لکھنؤ میں رونق افروز ہیں۔ خط نہ بھیجوں تو گنہگار۔ میں نے یہ عرض کیا ہے کہ مجھ میں اصلاح کی مشقت کی طاقت نہیں رہی۔ معہذا تمہارا کلام پختگی کو پہنچ گیا ہے۔ اصلاح طلب نہیں رہا ہے شیر اپنے بچے کو ایک مدت تک آئین شکار سکھاتا ہے جب وہ جوان ہو جاتا ہے تو خود بے اعانت شیر شکار کیا کرتا ہے یہ میں نے نہیں کہا کہ تم مجھے اپنے کلام کے دیکھنے سے محروم رکھو۔ جو غزل قصیدہ لکھا کرو نہ مسودہ بل ایک نقل اس کی ضرور مجھ کو بھیجا کرو۔

ایضاً

سہ شنبہ۔ ۳ ربیع الثانی و ششم ستمبر۔ صاحب کل پارسل اشعار کا ایک آنہ ٹکٹ لگا کر اور اس پر یہ لکھ کر کہ یہ پارسل ہے خط نہیں ہے ڈاک میں بھیج دیا۔ ڈاک منشی نے کہا خطوں کے صندوق میں ڈال اور نہ خواندہ خدمتگار آدمی اس کا حکم بجا لایا۔ اور اس کو خطوں کے صندوق میں ڈال آیا وہ لفظ کہ یہ خط نہیں ہے پارسل ہے دست آویز معقول ہے۔ اگر وہاں کے ڈاکیے تم سے خط کا محصول مانگیں تو تم اس جملہ کے ذریعے سے گفتگو کر لینا۔ مکان میرے گھر کے قریب حکیم محمود خاں کے گھر کے نزدیک عطار بھی پاس بازار بھی قریب ڈھائی روپیہ کرایہ کو موجود مگر مالک مکان سے یہ وعدہ ہے کہ ہفتہ بھر کسی اور کو نہ دوں گا بعد ایک ہفتہ کے اگر تمہارا مسافر نہ آیا تو مجھے اور کرایہ دار کے دینے کا اختیار ہے۔ رامپور کے باب میں مختصر کلام یہ ہے کہ نہ میں والی رامپور کو لکھ سکتا ہوں نہ اس لکھنے کی وجہ تم کو لکھ سکتا ہوں۔ اگر ریل میں بیٹھ کر آ جاؤ گے تو زبانی کہہ دوں گا۔ غالب۔

ایضاً

منشی صاحب سعادت نشان و اقبال نشان منشی ہرگوپال صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ۔ غالب کی دعائے درویشانہ قبول کریں۔ ہم تو آپ کو سکندرآباد قانونگویوں کے محلہ میں سمجھے ہوئے ہیں اور آپ لکھنؤ راجہ مان سنگہ(سنگھ) کی حویلی مطبع اودھ اخبار میں بیٹھے ہوئے راریہ حقہ لکھنؤ کا پی رہے ہیں اور منشی نولکشور صاحب سے باتیں کر رہے ہیں۔ بھلا منشی صاحب کو میرا سلام کہنا آج یکشنبہ ہے اخبار کا لفافہ ابھی تک نہیں پہنچا ہر ہفتہ کو پنجشنبہ حد جمعہ کو پہنچتا تھا۔ مرزا تفتہ کیا فرماتے ہوکیسے ریٹیکن صاحب کہاں ریٹیکن صاحب۔ پنجشنبہ کے دن ۱۹ جنوری سنہ حال کو وہ پنجاب کو گئے ملتان یا پشاور کے ضلع میں کہیں کے حاکم ہوئے ہیں۔ میں اپنی ناتوانی کے سبب ان کی ملاقات تودیع کو نہیں گیا۔ انوار الحق گھاٹ پر نوکر ہیں۔ مشاہرہ پاتے ہیں۔ زیادہ زیادہ۔ نجات کا طالب غالب صبح یکشنبہ ۱۲ فروری ۱۸۶۵ ء۔

ایضاً

نور چشم ِ غالب از خود رفتہ مرزا تفتہ خدا تم کو خوش اور تندرست رکھے۔ نہ دوست بخیل نہ میں کاذب۔ مگر بقول میر تقی ؎اتفاقات ہیں زمانہ کے۔ بہرحال کچھ تدبیر کی جائے گی اور انشاءاللہ صورت وقوع جلد نظر آ جائے گی۔ تعجب ہے کہ اس سفر میں کچھ فائدہ نہ ہوا؎

یا کرم خود نماند در عالم

یا کس دریں زمانہ نکرد

اغنیائے دہر کی مدح سرائی موقوف کرو۔ اشعار عاشقانہ بطریق غزل کہا کرو۔ اور خوش رہا کرو۔ نجات کا طالب۔ غالب۔ سہ شنبہ ۲۴ نومبر ۱۸۶۳ ء۔

ایضاً

صاحبِ بندہ میں نے بکس کا ایک ایک خانہ دیکھا۔ سوائے تین کاغذوں کے کوئی کاغذ تمہارا نہ نکلا اور اس وقت بسبب کم فرصتی کے میں ردیف ان تینوں قصیدوں کی نہیں بتا سکتا اور وہ مقدمہ کا باقتضائے حالاتِ زمانہ سست ہو گیا ہے مٹ نہیں گیا دیر آید درست آید انشاءاللہ تعالیٰ۔ اب میرا حال سنو؎

در نومیدی بسے امید است

پایانِ شبِ سیہ سپید است

ہمیشہ نواب گورنر جنرل کی سرکار سے دربار میں مجھ کو سات پارچے اور تین رقم جواہر خلعت ملتا تھا لارڈ کیننگ صاحب میرا دربار و خلعت بند کر گئے ہیں۔ نا امید ہو کر بیٹھ رہا اور مدت العمر کو مایوس ہو رہا اب جو یہاں لفٹنٹ گورنرِ پنجاب آئے ہیں میں جانتا تھا کہ یہ بھی مجھ سے نہ ملیں گے کل انہوں نے مجھ کو بلا بھیجا بہت سی عنایت فرمائی اور فرمایا کہ لارڈ صاحب دلی میں دربار نہ کریں گے میرٹھ ہوتے ہوئے اور میرٹھ میں ان اضلاع کے علاقہ داروں اور مالگذاروں کا دربار کرتے ہوئے انبالہ جائیں گے دلی کے لوگوں کا دربار وہاں ہو گا تم بھی انبالہ جاؤ شریک دربار ہو کر خلعتِ معمولی لے آؤ۔ بھائی کیا کہوں کہ کیا میرے دل پر گزری گویا مردہ جی اٹھا مگر ساتہ (ساتھ)اس مسرت کے یہ بھی سناٹا گزرا کہ سامان سفر ِ انبالہ و مصارف بے انتہا کہا ں سے لاؤں اور طرہ یہ کہ نذر معمولی میری قصیدہ ہے۔ ادھر قصیدہ کی فکر ادھر روپیہ کی تدبیر حواس ٹھکانے نہیں۔ شعر کام دل و دماغ کا ہے وہ روپیہ کی فکر میں پریشان۔ میرا خدا یہ مشکل بھی آسان کرے گا لیکن ان دنوں میں نہ دن کو چین ہے نہ رات کو نیند ہے یہ کئی سطریں تمہیں اور ایسی ہی کئی سطریں جناب نواب صاحب کو لکھ کر بھیج دی ہیں جیتا رہا تو انبالہ سے آ کر خط لکھوں گا۔ روز چار شنبہ ۱۳ رمضان ۴ فروری۔

ایضاً

بھائی تم نے مجھے کونسا دو چار سو روپے کا نوکر یا پنشن دار قرار دیا ہے جو دس بیس روپے مہینا قسط کی آرزو رکھتے ہو۔ تمہاری باتوں پر کبھی کبھی ہنسی آتی ہے اگر احیاناً تم کبھی دہلی کے ڈپٹی کلکٹر یا وکیل ِ کمپنی ہوتے تو مجھ کو بڑی مشکل پڑتی بہرحال خوش رہو اور متفکر نہ ہو۔ پانچ روپیہ مہینا پنشن انگریزی میں سے قسط مقرر ہو گیا ہے تا ادائے زر ابتدائے جون ۱۸۵۳ ء یعنی ماہ آیندہ سے یہ قسط جاری ہو گی۔ بابو صاحب کا خط تمہارے نام پہنچا۔ عجب تماشا ہے وہ درنگ کے ہونے سے خجل ہوتے ہیں اور میں ان کے عذر چاہنے سے مرا جاتا ہوں۔ ہائے اتفاق آج میں نے ان کو لکھا اور کل راجہ صاحب کے مرنے کی خبر سنی واللہ باللہ اگر دو دن پہلے خبر سن لیتا تو اگر میری جان پر آ بنتی تو بھی ان کو نہ لکھتا۔ جے پور کے آئے ہوئے روپیہ کی ہنڈوی اس وقت تک نہیں آئی شاید آج شام تک یا کل تک آ جاوے خدا کرے وہ آبو پہاڑ پر سے ہنڈوی روانہ کر دیں ورنہ پھر خدا جانے کہاں کہاں جائیں گے اور روپیہ بھیجنے میں کتنی دیر ہو جائے گی، خدا کرے زرِ مصارف ہر دیو سنگہ(سنگھ)اسی میں سے مجرا لیں میری کمال خوشی ہے اور یہ نہ ہو تو ہر دیو سنگہ(سنگھ)کو میری طرف سے ضرور دیں۔ منشی صاحب کا ایک خط ہاترس سے آیا تھا کل اس کا جواب ہاترس کو روانہ ہو چکا۔ والدعا۔ اسد اللہ ۔ محررہ دو شنبہ ۳ مئی ۱۸۵۳ء۔

ایضاً

کل تمہارا خط آیا۔ رازِ نہانی مجھ پر آشکار اہوا۔ میں سمجھا ہوا تھا تم دیوانگی اور شورش کر رہے ہو اب معلوم ہوا کہ حق بجانب تمہارے ہے۔ میں جو اپنے عزیز کو نصیحت کرتا ہوں توا پنے نفس کو مخاطب کر کے کہتا ہوں کہ اے دل تو اپنے عزیز کو جان کی جگہ سمجھ کر تصور کر کہ اگر تجھ پر یہ حادثہ پڑا ہوتا یا تو اس بلا میں گرفتار ہوا ہوتا تو کیا کرتا۔ عیاذاً باللہ ۔ اب میں تم کو کیوں کر کہوں کہ بے حرمتی گوارا کرو اور رفاقت نہ چھوڑو۔ بلکہ یہ بھی زائد ہے جو دوست سے کہیئے کہ تو ہمارے واسطے اس کو ترک کر بہرحال دوست کی دوستی سے کام اس کے افعال سے کیا غرض جو محبت و اخلاص ان میں تم میں ہے بدستور بلکہ روز افزوں رہے ساتھ رہنا اور پاس رہنا نہیں ہے نہ سہی ؎

وصلے کہ دراں ملال باشد

ہجراں بہ ازاں وصال باشد

آمدم بر سر مدعا۔ تمہاری رائے ہم کو اس بات میں پسند۔ عجب طرح کا پیچ پڑا کہ نکل نہیں سکتا نہ تم کو سمجھا سکتا ہوں اور نہ ان کو کچھ کہہ سکتا ہوں مجھے تو اس موقع میں سوائے اس کے کہ تماشائی نیرنگ قضا و قدر بنا رہوں کچھ بن نہیں آتی ؎

بہ بینم کہ تا کردگارِ جہاں

دریں آشکارا چہ دارد نہاں

جے پور کا امر محض اتفاقی ہے بے قصد و بے فکر در پیش آیا ہے ہوسناکانہ ادھر متوجہ ہوا ہوں۔ بوڑھا ہو گیا ہوں۔ بہرا ہو گیا ہوں۔ سرکار انگریزی میں بڑا پایہ رکھتا تھا۔ رئیس زادوں میں گنا جاتا تھا پورا خلعت پاتا تھا اب بدنام ہو گیا ہوں اور ایک بہت بڑا دھبا لگ گیا ہے کسی ریاست میں دخل کر نہیں سکتا مگر ہاں استاد یا پیر یا مداح بن کر راہ و رسم پیدا کروں کچھ فائدہ اٹھاؤں کچھ اپنے کسی عزیز کو وہاں دخل کر دوں دیکھو کیا صورت پیدا ہوتی ہے ؎

تا نہال ِ دوستی کے بر دہد

حالیا رفتیم و تخمے کاشتیم

صحاف کے ہاں سے دیوان ابھی نہیں آیا۔ آج کل آ جائے گا پھر اس کے جزدان کی تیاری کر کے روانہ کروں گا ابھی کول میں آرام کرو اپنے بچوں میں اپنا دل بھلاؤ (بہلاؤ)۔ اگر جی چاہے تو اکبر آباد چلے جائیو وہاں اپنا دل بہلائیو۔ دیکھو اس خود داری میں ادھر سے کیا ہوتا ہے اور وہ کیا کرتے ہیں۔ و السلام۔ اسد اللہ ۔ جمعہ دہم دسمبر ۱۸۵۲ء۔

ایضاً

صبح دو شنبہ پنجم جمادی الاول و نوزدہم نومبر سالِ حال۔ میرزا تفتہ کل تمہارا خط مع کاغذ اشعار آیا۔ آج تم کو یہ خط لکھتا ہوں اور اسی خط کے ساتھموسومہ میر بادشاہ بھیجتا ہوں کاغذ اشعار کل یا پرسوں روانہ ہو گا۔ فن تاریخ کو دوں مرتبہ شاعری جانتا ہوں۔ اور تمہاری طرح سے یہ بھی میرا عقیدہ نہیں ہے کہ تاریخ وفات لکھنے سے ادائے محبت ہوتا ہے بہرحال میں نے منشی نبی بخش مرحوم کی تاریخِ رحلت میں یہ قطعہ لکھ کر بھیجا۔ منشی قمر الدین خان صاحب نے پسند کیا۔ قطعہ یہ ہے ؎

شیخ نبی بخش کہ باحسنِ خُلق

داشت مذاقِ سخن و فہمِ تیز

سال وفا تش ز پئے یادگار

بادلِ زار و مژہ دجلہ ریز

خواستم از غالب ِ آشفتہ سر

گفت مدہ طول و بگو رستخیز

ایک قاعدہ یہ بھی ہے کہ کوئی لفظ جامع اعداد نکال لیا کرتے ہیں بلکہ قید معنی دار ہونے کی بھی مرتفع ہے۔ جیسا کہ یہ مصرعہ ہے ؎ درسال عرس ہر آنکہ ماند بیند۔ انوری کے قصائد کو دیکھو دو چار جگہ ایسے الفاظ قصیدہ کے آغاز میں لکھے ہیں جس میں اعداد سال مطلوب نکل آتے ہیں اور معنی کچھ نہیں ہوتے لفظ رستخیز کیا پاکیزہ معنی دار لفظ ہے اور پھر واقع کے مناسب اگر تاریخ ولادت یا تاریخ شادی میں یہ لفظ لکھتا تو بے شبہ نامستحسن تھا۔ قصہ مختصر اگر تاریخ کی فکر موجب ادائے حقِ مودّت ہے تو میں حقِ دوستی ادا کر چکا۔ زیادہ کیا لکھوں۔ داد کا طالب غالب۔

ایضاً

کیوں مہاراج کول میں آنا اور جناب منشی نبی بخش صاحب کے ساتہ (ساتھ)غزل خوانی کرنی اور ہم کو یاد نہ دلانا مجھ سے پوچھو کہ میں نے کیونکر جانا کہ تم مجھ کو بھول گئے۔ کول میں آئے اور مجھ کو اپنے آنے کی اطلاع نہ دی نہ لکھا کہ میں کیونکر آیا ہوں اور کب تک رہوں گا اور کب جاؤں گا اور بابو صاحب سے کہاں جا ملوں گا۔ خیر اب جو میں نے بے حیائی کر کے تم کو خط لکھا ہے لازم ہے کہ میرا قصور معاف کرو اور مجھ کو ساری اپنی حقیقت لکھو۔ تمہارے ہاتھ کی لکھی ہوئی غزلیں بابو صاحب کی میرے پاس موجود ہیں اور اصلاح پا چکی ہیں اب میں حیران ہوں کہ کہاں بھیجوں ہر چند انہوں نے لکھا ہے کہ اکبر آباد ہاشم علی خاں کو بھیج دو لیکن میں نہ بھیجوں گا جب وہ اجمیر یا بھرتپور پہنچ کر مجھ کو خط لکھیں گے تو میں ان کو وہ اوراق ارسال کروں گا یا تم جو لکھو گے اس پر عمل کروں گا۔ بھائی ایک دن شراب نہ پیو یا کم پیو اور ہم کو دو چار سطریں لکھ بھیجو کہ ہمارا دھیان تم میں لگا ہوا ہے۔ اسد اللہ ۔ رقمزدہ یکشنبہ چہارم جنوری ۱۸۵۲ء

ایضاً

صاحب تمہاری سعادت مندی کو ہزار ہزار آفرین تم کو یوں ہی چاہیے تھا۔ لیکن میں نے تو ایک بات بطریق تمنا لکھی تھی جیسا کہ عربی میں لیت اور فارسی میں کاشکے (کاش کہ)۔ اب تم روداد سنو۔ عرضی میری سر جان لارنس چیف کمشنر بہادر کو گزری اس پر دستخط ہوئے کہ یہ عرضی معہ کواغذ سائل بھیج دی جائے اور یہ لکھا جائے کہ معرفت صاحب کمشنر دہلی کے پیش کرو۔ اب سررشتہ دار کو لازم تھا کہ میرے نام موافق دستور کے خط لکھتا۔ یہ نہ ہوا وہ عرضی حکم چڑھی ہوئی میرے پاس آ گئی میں نے خط صاحب کمشنر چارلس سانڈرس کو لکھا اور وہ عرضی حکم چڑھی ہوئی اس میں ملفوف کر کے بھیج دی۔ صاحب کمشنر نے صاحب کلکٹر کے پاس یہ حکم چڑھا کر بھیجی کہ سائل کی پنشن کی کیفیت لکھو اب وہ مقدمہ صاحب کلکٹر کے ہاں آیا ہے ابھی صاحب کلکٹر نے تعمیل اس حکم کی نہیں کی پرسوں تو ان کے ہاں یہ روبکاری آئی ہے دیکھئے کچھ مجھ سے پوچھتے ہیں یا اپنے دفتر سے لکھ بھیجتے ہیں دفتر کہاں رہا ہے جو اس کو دیکھیں گے۔ بہرحال یہ خدا کا شکر ہے کہ بادشاہی دفتر میں سے میرا کچھ شمول فساد میں پایا نہیں گیا اور میں حکام کے نزدیک یہاں تک پاک ہوں کہ پنشن کی کیفیت طلب ہوئی ہے اور میری کیفیت کا ذکر نہیں ہے یعنی سب جانتے ہیں کہ اس کو لگاؤ نہ تھا۔ مولوی قمر الدین خاں کا کول نہ جانا اور راہ سے پھر آنا معلوم ہوا حق تعالیٰ ان کو زندہ اور سلامت رکھے میرا سلام کہنا اور یہ خط پڑھا دینا۔ بھائی منشی نبی بخش صاحب کو سلام اور ان کے بچوں کو دعا کہنا اور یہ خط ضرور ضرور پڑھا دینا اور کہنا کہ بھائی بدایت تو اچھی ہے نہایت بھی خدا اچھی کرے وہ عزت وہ ربط و ضبط جو ہم رئیس زادوں کا تھا اب کہاں۔ روٹی کا ٹکڑا ہی مل جائے تو غنیمت ہے۔ گورنری کلکتہ اور گورنری آگرہ اور اجنٹی اور کمشنری و دیوانی و فوجداری و کلکٹری دہلی سے جو حکم میرے خط اور عرضی پر ہوا ہے مشتمل اس حکم پر خط میرے نام آیا ہے حاکم نے اب بھی یہی حکم دیا تھا کہ لکھا جاوے کہ یوں کرو۔ عملہ نے خط نہ لکھا صرف وہ عرضی حکم چڑھی ہوئی بھیج دی خیر۔ ہر چہ ازدوست میرسد نیکوست۔ سنو میرزا تفتہ اب میں جو اپنا حال تم کو لکھا کروں اور تم میرے بھائی کو اور مولوی قمر الدین خاں کو دکھا دیا کرو۔ تین تین جگہ ایک بات کو کیوں لکھوں۔ جمعہ ۱۲ مارچ ۱۸۵۸ء۔

ایضاً

بھائی ہاں مَیں نے زبدۃالاخبار میں دیکھا کہ رانی صاحب (صاحبہ)مر گئیں کل ایک دوست کا خط اکبر آباد سے آیا وہ لکھتا ہے کہ راجہ مرا۔ رانی مری۔ ابھی ریاست کا کوئی رنگ قرار نہیں پایا۔ صورت انتظام جانی بیجناتھ کے آنے پر موقوف ہے۔ یہاں تک کہ اس دوست کی تحریر ہے۔ ظاہراً اس کو بابو صاحب کا نام نہیں معلوم۔ ان کے بھائی کا نام یاد رہ گیا۔ صرف اس دوست نے بطریق اخبار لکھا ہے اس کو میری اور جانی کی دوستی کا بھی حال معلوم نہیں۔ حاصل اس تحریر سے یہ ہے کہ اگر یہ خبر سچ ہے تو ہمارے دوست کا نام بنا رہے گا۔ آمین یا رب العالمین۔ صاحب جے پور کا مقدمہ اب لائق اس کے نہیں ہے کہ اس کا خیال کریں ایک بنا ڈالی تھی وہ نہ اٹھی راجہ لڑکا ہے اور چھچھورا ہے راول جی اور سعد اللہ خان بنے رہتے تو کوئی صورت نکل آتی اور یہ جو آپ لکھتے ہیں کہ راجہ تیرے دیوان کو پڑھا کرتا ہے اور پیش نظر رکھتا ہے یہ بھی تو آپ از روئے تحریر منشی ہر دیو سنگہ (سنگھ) کہتے ہیں ان کا بیان کیونکر دل نشین ہو۔ وہ بھی جو بابو صاحب لکھ چکے ہیں کہ پانسو(۵۰۰) روپیہ نقد اور خلعت مرزا صاحب کے واسطے تجویز ہو چکا ہے ہولی ہو چکی اور میں لے کر چلا۔ پھاگن، چیت، بیساکھ نہیں معلوم ہولی کس مہینہ میں ہوتی ہے آگے تو پھاگن میں ہوتی تھی۔ بندہ پرور بابو صاحب نے پہلی بار تو مجھ کو دو ہنڈویاں بھیجی ہیں سو سو روپیہ کی۔ ایک تو میر احمد حسین میکش کے واسطے۔ راجہ صاحب کی طرف سے تاریخ تولد کنور صاحب کے انعام میں اور ایک اپنی طرف سے مجھ کو بطریق نذر شاگردی بعد اس کے دو ہنڈویاں سوسوروپیہ کی بعد چار چار پانچ پانچ مہینے کے آئیں مع میر احمد حسین صاحب کے صلہ کے روپیوں کے چار سو اور اس کے علاوہ تین سو اور یہ کہ چار سو یا تین سو کتنے دن میں آئے اس کا حساب کنور صاحب کی عمر پر حوالہ ہے اگر وہ دو برس کے ہیں تو دو برس میں اور اگر تین برس کے ہیں تو تین برس میں ہاں صاحب یہ وہی میر قاسم علی صاحب ہیں جو میرے پرانے دوست ہیں پرسوں یا اترسوں جو ڈاک کا ہرکارہ تمہارا خط لایا تھا وہ ایک خط میر صاحب کے نام کا کوئی میاں حکمت اللہ ہیں ان کا میرے مکان کے پتہ سے لایا تھا وہ میں نے لے کر رکھ لیا ہے جب میر صاحب آ جاویں تو تم ان کو میرا سلام کہنا اور کہنا کہ حضرت اگر میرے واسطے نہیں تو اس خط کے واسطے آپ دلی آئیے۔ غالب۔

ایضاً

 عجب تماشا ہے بابو صاحب لکھ چکے ہیں کہ ہر دیو سنگہ (سنگھ)آ گیا اور پانسو (پانچ سو)روپیہ کی ہنڈوی لایا مگر اس کے مصارف کی بابت انیس روپیہ کئی آنے اس ہنڈوی میں محسوب ہو گئے ہیں سو میں اپنے پاس سے ملا کر پورے پانسوکی ہنڈوی تجھ کو بھیجتا ہوں۔ میں نے ان کو لکھا کہ مصارف ہر دیوسنگہ (سنگھ)میں مجرا دوں گا تکلیف نہ کرو۔ یہ میری طرف سے ہر دیو سنگہ (سنگھ) کو اور دے دو اور باقی کچھ کم ساڑھے چار سو کی ہنڈوی جلد روانہ کرو۔ سو بھائی آج تک ہنڈوی نہیں آئی میں حیران ہوں۔ وجہ حیرانی کی یہ کہ اس ہنڈوی کے بھروسہ پر قرضداروں سے وعدہ جون کے اوائل کا کیا تھا آج جون کی پانچویں ہے وہ تقاضا کرتے ہیں اور میں آج کل کر رہا ہوں۔ شرم کے مارے بابو صاحب کو کچھ نہیں لکھ سکتا جانتا ہوں کہ وہ سینکڑا پورا کرنے کی فکر میں ہوں گے پھر وہ کیوں اتنا تکلف کریں تیس روپے کی کونسی ایسی بات ہے اگر مصارف ہر دیو سنگہ (سنگھ)میرے ہاں سے مجرا ہوئے تو کیا غضب ہوا۔ انتیس اور پچیس۔ چون روپے نکال ڈالیں اور باقی ارسال کریں لفافے خطوں کے جو میں نے بھیجے تھے وہ بھی ابھی نہیں آئے۔ بایں ہمہ یہ کیسی بات ہے کہ میں یہ بھی نہیں جانتا کہ بابو صاحب کہاں ہیں۔ پہاڑ پر ہیں یا بھرتپور آئے ہیں۔ اجمیر آنے کی تو ظاہراً کوئی وجہ نہیں ہے ناچار کثرت انتظار سے عاجز آ کر آج تم کو لکھا ہے تم اس کا جواب مجھ کو لکھو اور اپنی رائے لکھو کہ وجہ درنگ کی کیا ہے۔ زیادہ زیادہ۔ اسد اللہ ۔ مرقومہ پنجم جون۱۸۶۳ ء روز پنجشنبہ۔ جواب طلب۔

ایضاً

میرا سلام پہنچے۔ خط اور کاغذ اشعار پہنچا۔ سابق و حال ابھی سب یوں ہی دھرے رہیں گے اگرچہ گرمی رفع ہو گئی مینھ (مینہ) برسنے لگا۔ ہوائے سرد چلنے لگی۔ مگر دل مکدر ہے اور حواس ٹھکانے نہیں۔ بادشاہ کا قصیدہ سارا اور ولیعہد کا قصیدہ بے خاتمہ آگے سے کہہ رکھا تھا اس کا خاتمہ بہزار مشقت رمضان میں کہہ لیا اور عید کو دونوں پڑھ دیئے۔ بھائی منشی نبی بخش صاحب کو پرسوں یا اترسوں بھیجوں گا ان سے لے کر تم بھی دیکھنا۔ میں نے ان کو لکھ بھیجا ہے کہ منشی ہر گوپال صاحب کو بھی دینا کہ وہ پڑھ لیں اور چاہیں تو نقل لے لیں۔ اس کے سوا اور جو کچھ تمہارے خط میں لکھا تھا وہ جواب طلب نہیں۔ اور یوں ہی ہے جو تم سمجھے ہو۔ اسد اللہ ۔

ایضاً

کیوں صاحب اس کا کیا سبب ہے کہ بہت دن سے ہماری آپ کی ملاقات نہیں ہوئی نہ مرزا صاحب ہی آئے نہ منشی صاحب ہی تشریف لائے۔ ہاں ایک بار منشی شیو نراین صاحب نے کرم کیا تھا اور خط میں یہ رقم کیا تھا کہ اب ایک فرمہ باقی رہا ہے اس راہ سے یہ تصور کر رہا ہوں کہ اگر ایک فرمہ نثر کا باقی تھا تو اب قصیدہ چھاپا جاتا تھا اور اگر فرمہ قصیدہ کا تھا تو اب جلدیں بننی شروع ہو گئیں ہو ں گی تم سمجھے میں تمہارے اور بھائی منشی نبی بخش صاحب اور جناب مرزا حاتم علی مہر صاحب کے خطوط کے آنے کو تمہارا اور ان کا آنا سمجھتا ہوں۔ تحریر گویا وہ مکالمہ ہے جو باہم ہوا کرتا ہے پھر تم کہو مکالمہ کیوں موقوف ہے اور اب کیا دیر ہے اور وہاں کیا ہو رہا ہے۔ بھائی صاحب کو کاپی کی تصحیح سے فراغت ہو گئی۔ مرزا صاحب نے جلدیں صحاف کو دے دیں۔ میں اب ان کتابوں کا آنا کب تصور کروں دسہرے میں ایک دو دن کی تعطیل مقرر ہوئی ہو گی کہیں دیوالی کی تعطیل تک نوبت نہ پہنچ جائے۔ ہاں صاحب تم نے کبھی کچھ حال قمر الدین خاں صاحب کا نہ لکھا آگے اس سے تم نے اگست ستمبر میں ان کا آگرہ کا آنا لکھا۔ پھر وہ اکتوبر تک کیوں نہ آئے۔ وہاں تو منشی غلام غوث خاں صاحب کو ایک گاؤں جاگیر میں ملا ہے۔ مولوی قمر الدین خاں صاحب اس کے بندوبست کو آیا چاہتے ہیں اس کا ظہور کیوں نہیں ہوا اب ان سب باتوں کا جواب لکھیئے۔ جناب مرز ا صاحب کو میرا سلام کہیئے اور یہ پیام کہیئے کہ کتاب کا حسن کانوں سے سنا دل کو دیکھنے سے زیادہ یقین آیا مگر آنکھوں کو رشک ہے کانوں پر اور کان چشمک زنی کر رہے ہیں آنکھوں پر۔ یہ ارشاد ہو کہ آنکھوں کا حق آنکھوں کوکب تک ملے گا۔ بھائی صاحب کو بعد از سلام کہیئے گا کہ حضرت اپنے مطلب کی تو مجھ کو جلدی نہیں ہے آپ کی تخفیف تصدیع چاہتا ہوں۔ یعنی اگر کاپی کا قصہ تمام ہو جاوے تو آپ کو آرام ہو جاوے۔ جناب منشی شیو نراین صاحب کی عنایتوں کا شکر میری زبانی ادا کیجئے گا۔ اور یہ کہیئے گا کہ آپ کا خط پہنچا چونکہ میرے خط کا جواب تھا اور معہذا کوئی امر جواب طلب نہ تھا اس واسطے اس کا جواب نہیں لکھا۔ زیادہ زیادہ۔ نگاشتہ وردان داشتہ صبح شنبہ ۱۶ اکتوبر ۱۸۵۸ء۔ راقم غالب۔

ایضاً

صاحب عجب تماشا ہے تمہارے کہنے سے منشی شیو نراین صاحب کو خط لکھا تھا سو کل ان کا خط آیا اور انہوں نے دستنبو کی رسید لکھی ڈاک کا ہرکارہ تو ان کے پاس لے نہ ہو گا آخر تمہیں نے بھیجا ہو گا یہ کیا کہ تم نے مجھ کو اس کی رسید اور میرے خط کا جواب نہ لکھا اگر یہ گمان کیا جائے کہ تم نے رائے امید سنگہ (سنگھ) کی ملاقات ہو لینے کا خط لکھنا منحصر رکھا ہے تو وہ بھی ہو چکی ہو گی مجھے تو صورت ایسی نظر آئی ہے کہ گویا تم الگ ہو گئے کتاب مطبع میں حوالے کر دی اب اس کی تزئین و تصحیح سے کچہ (کچھ)غرض نہیں پس اگر یوں ہی ہے تو میں انطباع سے درگزرا۔ سینکڑوں مطالب و مقاصد رہ جائیں گے اور پھر اس وحشت کی وجہ کیا ؟ اگر کہا جائے کہ وحشت نہیں ہے تو اس کتاب اور مثنوی کی رسید نہ لکھنے کی وجہ کیا ؟ بے تکلف قیاس چاہتا ہے کہ تم مجھ سے خفا ہو گئے ہو۔ خدا کے واسطے خفگی کی وجہ لکھو۔ صبح کو میں نے یہ خط روانہ کیا ہے بدھ کا دن ستمبر کی پہلی تاریخ اگر شام تک تمہارا خط آیا تو خیر ورنہ تمہاری رنجش کا بالکل یقین ہو جائے گا۔ اور بہ سبب وجہ نہ معلوم ہونے کے جی گھبرائے گا میں تو اپنے نزدیک کوئی سبب ایسا نہیں پاتا۔ خدا کے واسطے خط جلد لکھو اگر خفا ہو تو خفگی کا سبب لکھو جانتا ہوں کہ تم رائے امید سنگہ(سنگھ)سے بھی نہ ملے ہو گے عیاذاً باللہ میں ان سے شرمندہ رہا کہ میں نے کہا تھا کہ ہاں مرزا تفتہ دستنبو تم کو اچھی طرح پڑھا دیں گے اگرچہ ایسے حال میں کہ مجھ کو تم پر الگ ہونے اور پہلو تہی کرنے کا گماں گزرا ہے کوئی مطلب تم کو نہ لکھنا چاہیے مگر ضرورت کو کیا کروں ناچار لکھتا ہوں۔ صاحبِ مطبع نے خط کے لفافہ پر لکھا ہے مرزا نوشہ صاحب غالب اللہ غور کرو کہ یہ کتنا بے جوڑ جملہ ہے۔ ڈرتا ہوں کہ کہیں صفحہ اول کتاب پر بھی نہ لکھ دیں۔ آیا فارسی کا دیوان یا اردو یا پنج آہنگ یا مہر نیمروز چھاپہ کی یہ کوئی کتاب اس شہر میں نہیں بھیجی جو وہ میرا نام لکھ دیتے۔ تم نے بھی ان کو میرا نام نہیں بتایا صرف اپنی نفرت عرف سے وجہ اس واویلا کی نہیں ہے بلکہ سبب یہ ہے کہ دلی کے حکام کو تو عرف معلوم ہے مگر کلکتہ سے ولایت سے یعنی وزراء کے محکمہ میں اور ملکہ عالیہ کے حضور میں کوئی اس نالائق عرف کو نہیں جانتا۔ پس اگر صاحبِ مطبع نے مرزا نوشہ صاحب غالب لکھ دیا تو میں غارت ہو گیا کھویا گیا۔ میری محنت رائیگاں گئی گویا کتاب کسی اور کی ہو گئی۔ لکھتا ہوں اور پھر سوچتا ہوں کہ دیکھوں تم یہ پیام مطبع میں پہنچا دیتے ہو یا نہیں۔ بدھ کا دن ستمبر کی پہلی تاریخ۔ غالب۔

ایضاً

بھائی صاحب ۳۳ کتابیں بھیجی ہوئی برخوردار منشی شیو نراین کی کل جمعہ کے ۱۲ نومبر کو پہنچیں کاغذ اور سیاہی اور خط کا حسن دیکھ کر میں نے از روئے یقین جانا کہ طلائی کام پر یہ کتابیں طاؤسِ بہشت بن جائیں گی حوریں دیکھ کر شرمائیں گی۔ یہ تو سب درست مگر دیکھئے مجھ کو ان کا دیکھنا کب تک میسر ہو آپ پر گمان تساہل کا گزرے یہ تو کیونکر ہو۔ ہاں صحاف جلد کے بنانے کی نسبت سے میرے حق کا جلاد نہ بن جائے یعنی مدت مناسب سے دیر نہ لگائے اور ہاں حضرت کچھ ایسی پختگی ارسال وقت کر لیجئے گا کہ وہ پارسل آشوبِ لف سے محفوظ رہے بہت عزیز اور کام کی چیز ہے۔ مجھ کو وہ ایک ایک مجلد اپنی جان سے زیادہ عزیز ہے۔ یا الہی یہ خط راہ میں ہو اور وہ ساتوں کتابوں کا پارسل تیرے حفظ و امان میں مجھ تک پہنچ جائے اور یہ نہ ہو تو بھلا یہ ہو کہ اس خط کا جواب لکھئے اس میں یہ مرقوم ہو کہ آج ہم نے کتابوں کا پارسل روانہ کیا ہے ؎

یا رب ایں آرزوئے من چہ خوش است

تو بدین آرزو مر برساں

مرسلہ شنبہ ۱۳ نومبر ۱۸۵۸ ء۔

ایضاً

؎رکھیو غالب مجھے اس تلخ نوائی میں معاف

آج کچھ درد میرے دل میں سوا ہوتا ہے

بندہ پرور پہلے تم کو یہ لکھا جاتا ہے کہ میرے دوست قدیم میر مکرم حسین صاحب کی خدمت میں میرا سلام کہنا اور یہ کہنا کہ اب تک جیتا ہوں اور اس سے زیادہ میرا حال مجھ کو بھی معلوم نہیں۔ مرزا حاتم علی صاحب مہر کی جناب میں میرا سلام کہنا اور یہ میرا شعر میری زبان سے پڑھنا؎

شرط اسلام بود ورزشِ ایمان بالغیب

اے تو غائب ز نظر مہرِ تو ایمانِ من است

تمہارے پہلے خط کا جواب بھیج چکا تھا کہ اس کے دو دن یا تین دن کے بعد دوسرا خط پہنچا۔ سنو صاحب جس شخص کوجس شغل کا ذوق ہو اور وہ اس میں بے تکلف عمر بسر کرے اس کا نام عیش ہے تمہاری توجہ مفرط بطرف شعر وسخن۔ تمہاری شرافت نفس اور حسن طبع کی دلیل ہے اور بھائی یہ جو تمہاری سخن گستری ہے اس کی شہرت میں میری بھی تو نام آوری ہے۔ میرا حال اس فن میں اب یہ ہے کہ شعر کہنے کی روش اور اگلے کہے ہوئے اشعار سب بھول گئے مگر ہاں اپنے ہندی کلام میں سے ڈیڑھ شعر یعنی ایک مقطع اور ایک مصرع یاد رہ گیا ہے سو گاہ گاہ جب دل الٹنے لگتا ہے تب دس پانچ بار یہ مقطع زبان پر آ جاتا ہے ؎

زندگی اپنی جب اس شکل سے گزری غالب

ہم بھی کیا یاد کریں گے کہ خدا رکھتے تھے

پھر جب سخت گھبراتا ہوں اور تنگ آتا ہوں تو یہ مصرعہ پڑھ کے چپ ہو جاتا ہوں ؎

اے مرگِ ناگہاں تجھے کیا انتظار ہے

یہ کوئی نہ سمجھے کہ میں اپنی بے رونقی اور تباہی کے غم میں مرتا ہوں جو دکھ مجھ کو ہے اس کا بیان تو معلوم مگر اس بیان کی طرف اشارہ کرتا ہوں انگریز کی قوم میں سے جو ان روسیاہ کالوں کے ہاتھ سے قتل ہوئے اس میں کوئی میرا امید گاہ تھا اور کوئی میرا شفیق اور کوئی میرا دوست اور کوئی میرا یار اور کوئی میرا شاگرد۔ ہندوستانیوں میں کچھ عزیز۔ کچھ دوست۔ کچھ شاگرد۔ کچھ معشوق سو وہ سب کے سب خاک میں مل گئے۔ ایک عزیز کا ماتم کتنا سخت ہوتا ہے جو اتنے عزیزوں کا ماتم دار ہوا ہو اس کو زیست کیونکر نہ دشوار ہو۔ ہائے اتنے یار مرے کہ جواَب میں مروں گا تو میرا کوئی رونے والا بھی نہ ہو گا۔ انا للہ و انا الیہ راجعون۔

٭٭٭

 

 

بنام شاہزادہ بشیر الدین صاحب

حضرت پیر و مرشد بر حق۔ تقصیر معاف۔ میں مدعی اور آپ مدعا علیہ بھی اور حکم بھی وجہ استغاثہ یہ کہ آپ نے مجھے اپنے حلقہ ارادت سے خارج کر دیا۔ عرائض جواب طلب کا جواب نہیں ایک عنایت نامہ سابق میں اب زلہل میر ود بر پر چنگ۔ یہ جملہ مرکیہ لکھا ہوا تھا۔ میں اس کو پڑھ بھی نہ سکا معنی تو علاوہ رہے۔ میں نے عریضہ لکھا اور جملہ کی حقیقت حال کا انکشاف چاہا اب تک جواب نہیں پہنچا جی گھبرا رہا ہے جب تک اس کا جواب نہ پاؤں گا آرام نہ آئے گا۔ برخوردار اقبال نشان میرزا شہاب الدین خاں بہادر کی زبانی آپ کے مزاج مبارک کی خیر و عافیت سنی مگر وہ جو تحریر دستخطی سے تسلی ہوتی ہے وہ کہاں اب تو خالصاً للہ والرسول میرا گناہ معاف اور دستخط خاص سے مجھ کو اس جملہ کے معانی لکھ بھیجئے۔ زیادہ حد ادب۔ عفو جرم کا طالب۔ غالب۔

ایضاً

در پرسش سستم و در کامجوئی استوار

بادشہ را بندہ کم خدمت پر خوار ہست

حضرت پیرو مرشد ِ برحق۔ روز افزونی کاہش اب اس حد کو پہنچی ہے ؎ تقسیم جزو لاتیجزی محال ہے۔ آگے باد زمہریر نے لہو خشک کر دیا تھا اب آتش دوزخ نے رہا سہا جلا دیا۔ کل عنایت نامہ آیا آپ جو رقم فرماتے ہیں کہ تو نے میرے خط کا جواب نہیں بھیجا مجھ کو با وصف استیلائے نسیان خیال میں آتا ہے کہ میں حضرت کے فرمان کا جواب لکھ چکا ہوں ڈاکیے اب ڈاکو ہو گئے ہیں اگر وہ لفافہ ڈاک میں تلف ہو گیا ہو تو کچہ (کچھ)بعید نہیں۔ متوقع ہوں کہ اس کا نہ پہنچنا میری نارسائی بخت کی تاثیر سمجھا چاہیے۔ میں مجرم نہ ٹھیروں (ٹھہروں )۔ زیادہ حد ادب۔ نجات کا طالب غالب۔ روز دو شنبہ ۱۱ اپریل ۱۸۶۸ء۔

ایضاً

تم سلامت رہو ہزار برس

ہر برس کے ہوں دن پچاس ہزار

آج منگل ۱۶ جون ۱۸۶۷ ء ۱۲ بجے عنایت نامہ آیا۔ سر نامہ دیکھ کرسفیدہ صبح مراد سمجھا۔ ننگا ایک چھوٹی سی خس کی ٹٹی کے پاس بیٹھا ہوا تھا خط پڑھ کروہ حال طاری ہوا کہ ننگا نہ ہوتا تو گریبان پھاڑ ڈالتا۔ اگر جان عزیز نہ ہوتی تو سر پھوڑتا اور کیونکر اس غم کی تاب لاتا کہ میں اپنے کو کھچوا کر بصورت ِ تصویر آپ کی خدمت میں بھیجا۔ لفافہ انگریزی اقبال نشان شہاب الدین خان سے لکھوا کر بیرنگ ارسال کیا۔ اس فرمان میں اس لفافہ کی رسید نہ پائی۔ ظاہراً ڈاک پر ڈاکو گرے اور میرے پیکر بے روح کے ٹکڑے اڑا دئیے۔ بے تاب ہو کر یہ عبارت حضرت کی بھیجی ہوئی لفافہ میں لپیٹ کر روانہ کی اب جب آپ اور لفافہ بھیجیں گے تو مطالب ِ باقی کا جواب مع اوراق اشعار بھیجوں گا۔ زیادہ حد ادب۔

٭٭٭

 

 

بنام سید بدر الدین احمد المعروف بہ فقیر صاحب

(کتاب میں بدر الدین کی بجائے “سید بد الدین ” لکھا ہے۔ جو کہ کاتب کی غلطی اور پروف ریڈر حضرات کی کام چور ی ہے :۔ چھوٹا غالب)

حضرت مخدوم مکرم و معظم جناب فقیر صاحب دامت برکاتہم۔ بعد بندگی عرض کیا جاتا ہے کہ آپ کا عنایت نامہ پہنچا۔ حال معلوم ہوا۔ بابو صاحب کے واسطے میرا جی بہت جلا۔ زمانہ ان دنوں میں ان سے برسر امتحان ہے پروردگار ان کو سلامت رکھے اور صبر و شکیب عطا کرے۔ علاقہ مساعدت روزگار کی وہ صورت شداید ِ رنج سفر کی وہ حالت۔ ناسازگاری مزاج کا وہ رنگ۔ ان سب باتوں سے علاوہ یہ کتنی بڑی مصیبت ہے کہ جوان داماد مر جائے اور بیٹی بیوہ ہو جاوے۔ مرگ و زیست کا سررشتہ خدا کے ہاتھ ہے آدمی کیا کرے دل پر میرے جو گزری ہے وہ میرا دل ہی جانتا ہے ہاں بحسب ِ ظاہر تعزیت نامہ لکھنا چاہیے۔ حیران ہوں کہ اگر خط لکھوں تو کس پتہ سے لکھوں ناچار ابھی تامل ہے جب وہ بھرتپور آ جائیں تو آپ ان کے آنے کی مجھ کو اطلاع دیجئے گا کچھ لکھ بھیجوں گا۔ نواب علی نقی خاں صاحب کے خط کے جواب میں جو آپ نے مجھ کو لکھا تھا وہ مجھ کو یاد رہے گا جب نواب صاحب آ جائیں گے میں ان کو سمجھا دوں گا آپ ہندی اور فارسی غزلیں مانگتے ہیں فارسی غزل تو شاید ایک بھی نہیں کہی ہاں ہندی غزلیں قلعہ کے مشاعرے میں دو چار لکھی تھیں سو وہ یا تمہارے دوستحسین مرزا صاحب کے پاس یا ضیاء الدین خاں صاحب پاس۔ میرے پاس کہاں۔ آدمی کو یہاں اتنا توقف نہیں کہ وہاں سے دیوان منگوا کر نقل اتروا کر بھیج دوں۔ سید محمد صاحب کو اور ان کے دونوں بھائیوں کو میری دعا پہنچے۔ اسد اللہ ۔ نگاشتہ چار شنبہ ۱۳ ربیع الثانی ۱۲۷۱ ہجری ۳ جنوری ۱۸۵۵ء

ایضاً

مخدوم مکرم جناب فقیر صاحب کی خدمت عالی میں عرض کیا جاتا ہے کہ بہت دن سے آپ نے مجھ کو یاد نہیں کیا اور مجھ کو کچہ (کچھ)آپ کا حال معلوم نہیں۔ بابو صاحب خدا جانے کہاں ہیں اور کس کام میں ہیں ان کا بھی کچہ (کچھ)حال مجھ کو معلوم نہیں منشی ہر گوپال تفتہ کی تحریر سے بابو صاحب کا حال اکثر اور تمہاری خیر و عافیت گاہ گاہ دریافت ہو جاتی تھی سو وہ بہت دنوں سے علی گڈہ (علی گڑھ)میں ہیں۔ اگرچہ خط ان کے آتے رہتے ہیں مگر ان کو بھی بابو صاحب کا حال معلوم نہیں اور تم سے تو بُعد ہی ہے پھر تمہاری خیر و عافیت کیا لکھیں بہرحال مقصود اس تحریر سے یہ ہے کہ نواب میر علی نقی خاں صاحب آپ سے ملیں گے۔ یہ بہت عالی خاندان ہیں۔ نواب ذوالفقار خاں اور نواب اسدخاں کی اولاد میں سے ہیں۔ اور تمہارے ماموں صاحب یعنی نواب محمد میر خاں مغفور کے بڑے دوست ہیں اب یہ نوکری کی جستجو کو نکلے ہیں آپ ان کی تعظیم و توقیر میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہ کریں اور راج کا حال سب ان پر ظاہر کریں اور اہالی سرکار سے ان کو ملوا دیں اور بابو صاحب سے جو ان کو ملوائیے تو یہ میرا خط جو آپ کے نام کا ہے بابو صاحب کو پڑھوا دیجئے کیا خوب ہو کہ یہ اس سرکار میں نوکر ہو جائیں اور اگر نوکری کی صورت نہ بنے تو راج سے ان کی رخصت بآئینِشائستہعمل میں آوے۔ نواب اسد خان عالمگیر کے وزیر تھے اور فرخ سیر ان کا بٹھایا ہوا تھا جب فرخ سیر نے ذوالفقار خاں کو مار ڈالا تو از روئے کتب تواریخ ظاہر ہے کہ سلطنت کیسی برہم ہو گئی اور خود فرخ سیر پر کیا گزری۔ قصہ کوتاہ ان کی تقریب میں جو مدارج آپ صرف کریں گے اور جس قدر آپ ان کی بہبود میں کوشش کریں گے احسان مجھ پر ہو گا۔ زیادہ زیادہ۔ اسد اللہ

ایضاً

سید صاحب جمیل المناقب عالی خاندان سعادت و اقبال توامان مجھ کو اپنی یاد سے غافل اور سید احمد کی خدمت گزاری سے فارغ نہ سمجھیں پر کیا کروں صورت مقدمہ عجیب و غریب ہے یہ بہنیں اور ان کا بھائی باہم موافق رہیں گے تو کوئی صورت نکل آئے گی۔ صامت و ناطق سیم و زر روپیہ اشرقی(اشرفی۔ واللہ اعلم)سنتا ہوں کہ کچھ نہیں ہاں جاداد(جائیداد)سو سیّد کے اظہار سے معلوم ہوا کہ وہ تقسیم نہ ہو گی۔ کرایہ اس کا تقسیم ہو جائے گا میں رائے کیا دوں اور سمجھاؤں کیا۔ کئی دن ہوئے کہ میں حسین مرزا صاحب کے ہاں گیا تھا وہاں میاں بھی بیٹھا تھا باہم ان دونوں صاحبوں میں بھی باتیں ہو رہی تھیں وہ بھی میری مانند حیرت زدہ تھے قضا و قدر کو چھوڑو نیرنگ تقدیر کے تماشائی رہو۔ گھاٹا نہیں ٹوٹا نہیں نقد مال کا پتہ نہیں املاک کا کرایہ بٹ رہے گا گھبراتے کیوں ہو۔ یہ دلی والوں کی خفقانیت کے حالات ہیں۔ تمہارا بھتیجا یعنی حیدر حسین خاں بچ گیا۔ عوارض کی آندھی دفع ہو گئی۔ توقع زیست کی قوی ہے صرف طاقت کا آنا باقی ہے صدمہ بڑا اٹھایا۔ مہینا بھر میں جیسے تھے ویسے ہی ہو جاویں گے انشاءاللہ العلی العظیم۔ صبح دو شنبہ ۲۵ مئی ۱۸۶۳ء۔

ایضاً

پیرو مرشد آج نواں دن ہے حسین مرزا صاحب کو الور گئے اگر ہوتے تو ان سے پوچھتا کہ حضرت میرا دیوان کس مطبع میں طبع ہوا اور حاشیے اس پر کس نے چڑھائے خدا جانے حسین مرزا نے کیا کہا اور حضرت کیا سمجھے اب یہ حقیقت مجھ سے سنیے ۱۸۶۲ یعنی سالِ گزشتہ میں قاطع برہان چھپی پچاس جلدیں میں نے مول لیں اور یہ وہ زمانہ ہے کہ آپ دلی آئے ہیں میں نے یہ سمجھ کر کہ یہ تمہارے کس کام کی ہیں تمہیں نہ دی۔ تم مانگتے اور میں نہ دیتا تو گنہگار تھا اب کوئی جلد باقی نہیں ہے رہا دیوان اگر ریختہ کا منتخب کہتے ہو تو وہ اس عرصہ میں دلی اور کانپور دو جگہ چھاپا گیا اور تیسری جگہ آگرہ میں چھپ رہا ہے فارسی کا دیوان بیس پچیس برس کا عرصہ ہوا جب چھپا تھا پھر نہیں چھپا۔ مگر ہاں سال گزشتہ میں منشی نولکشور نے شہاب الدین خاں کو لکھ کر کلیاتِ فارسی جو ضیاء الدین خان نے غدر کے بعد بڑی محنت سے جمع کیا تھا وہ منگا لیا اور چھاپنا شروع کیا۔ وہ پچاس جزو ہیں یعنی کوئی مصرعہ میرا اس سے خارج نہیں اب سنا ہے کہ وہ چھپ کر تمام ہو گیا ہے روپیہ کی فکر میں ہوں ہاتھ آ جائے تو بھیج کر بیس جلدیں منگواؤں۔ جب آ جائیں گے ایک آپ کو بھی بھیج دوں گا۔ نواب محی الدین خاں صاحب کا حال سن کربہت جی خوش ہوا۔ میری طرف سے سلام و نیاز کے بعد مبارکباد دینا۔

ایضاً

حضرت آپ کے خط کا جواب لکھنے میں درنگ اس راہ سے ہوئی کہ میں منتظر رہا میاں کے آنے کا اب جو وہ مجھ سے مل گئے اور ان کی زبانی سارا حال سن لیا تو جواب لکھنے بیٹھا۔ سنو صاحب ایک منشی محمد تقی ہی تو نہیں یہاں تو ساتا روہن ہے۔ محمد تقی ایک اس کی دو بہنیں تین منشی آغا جان کی تین بیٹیاں اور ایک بیٹا چار یہ سات مدعی۔ ایک ان میں سے سید کی بی بی بھی سہی۔ نہ وہ حکام ہیں جن کو میں جانتا تھا نہ وہ عملہ ہے جس سے میری ملاقات تھینہ وہ عدالت کے قواعد ہیں جن کو پچاس برس میں نے دیکھا ہے۔ ایک کونے میں بیٹھا ہوا نیرنگ روزگار کا تماشا دیکھ رہا ہوں یا حافظُ یا حفیظُ وِردِ زبان ہے تمہارے بھائی غلام حسین خان مرحوم کا بیٹا حیدر حسن خاں خدا ہی خدا ہے جو بچے۔ آج تیرھواں دن ہے کہ نہ تپ مفارقت کرتی ہے نہ دست بند ہوتے ہیں نہ قے موقوف ہوتی ہے چارپائی کاٹ رہی ہے حوا س زائل ہو گئے ہیں انجام اچھا نظر نہیں آتا۔ کام تمام ہے۔ والسلام والاکرام۔ مرقومہ ۲۴ ذی قعدہ۱۲۷۹ ہجری۔ عافیت کا طالب غالب۔

٭٭٭