FavoriteLoadingپسندیدہ کتابوں میں شامل کریں

 

 

دینی مدارس – تبدیلی کے رجحانات

 

 

 

               خالد رحمٰن

 

انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز اسلام آباد

 

 

 

 

 

 

 

۱۔دینی مدارس پر نظر: بنیادی عوامل

 

 

 

 

پاکستانی معاشرہ کی عظیم اکثریت (۹۷فیصد) مسلمانوں پر مشتمل ہے ۔ اور کسی بھی انسانی معاشرے کی طرح یہاں بھی لوگوں کی دینی ضروریات، عبادات کی ادائیگی، مذہبی تعلیم اور روزمرہ امور میں دینی راہنمائی کے کسی نہ کسی نظام کی موجودگی ناگزیر ہے ۔ مدارس ومساجد اس ضرورت کو پورا کرتے ہیں۔ یوں مدارس میں تبدیلی کی بحث کے ضمن میں اس اہم ترین حقیقت کا ادراک ضروری ہے کہ بنیادی طور پر ان کا قیام معاشرے کی بعض اہم اور بنیادی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے عمل میں آتا ہے ۔ اگر حکومتی سطح پر ان ضروریات کو پورا کرنے کا ایسا نظام قائم ہو جس پر عام مسلمان کو اطمینان اور اعتماد بھی ہو اور اس تک ان کی رسائی بھی ممکن ہو تو نجی طور پر مدارس کے قیام کی ضرورت خودبخود ختم ہو جائے گی۔

چنانچہ یہ سیدھا سادہ، طلب اور رسد کا معاملہ ہے ۔ طلب موجود ہے ۔ ہر نئی قائم ہونے والی بستی میں ہے اور ملک کے ہر علاقے میں ہے ۔ محض ان علاقوں میں ہی نہیں جو دینی رجحانات کے حوالہ سے مضبوط تر سمجھے جاتے ہیں بلکہ وہاں بھی جہاں عمومی طور پر دینی رجحانات نسبتاً کم نمایاں ہیں۔ معاشرے کے ان طبقات میں سے بھی، جو بظاہر آزاد خیال اور لبرل سمجھے جاتے ہیں ایک بڑی تعداد اپنے بچوں کے لیے کم از کم بنیادی دینی تعلیم (قرآن پڑھنے کی صلاحیت) کا انتظام کرنا چاہتی ہے ۔ اس ہمہ گیر طلب کے مقابلہ میں حکومت نے عمومی طور پر جو تعلیمی نظام ترتیب دیا ہے وہ مقدار اور معیار کے اعتبار سے کسی بھی طرح معاشرہ کی ضروریات پوری نہیں کرتا۔ مسلم معاشرے کی کم از کم دینی ضرورت قرآن کی تدریس کا تو اس میں کوئی انتظام ہی نہیں ہے ۔ اس تناظر میں جہاں عمومی تعلیم کے لیے نجی تعلیمی اداروں کی تعداد دن بدن بڑھ رہی ہے وہاں اس پرکسی کو تعجب نہیں ہونا چاہیے کہ دینی تعلیم کے ادارے بھی دن بدن بڑھتے جا رہے ہیں اور ان میں سے اچھے اداروں میں داخلوں کے لیے دباؤ اس طرح بڑھ رہا ہے کہ اب بہت سے ادارے داخلہ کے لیے باقاعدہ امتحانات منعقد کرتے ہیں۔

طلب اور رسد کا یہی اصول مدارس کی داخلی صورتحال پر بھی اثرانداز ہوتا ہے ۔ معاشرے میں عمومی رجحانات کی روشنی میں مدارس سے توقعات اگر محض دینی تعلیم کی فراہمی تک محدود ہیں تو کسی بیرونی دباؤ کے ذریعہ مدارس کو اس کے علاوہ کسی اور کام پر مجبور نہ کیا جا سکے گا۔ نہ ہی معاشرے میں اس عمل کو عمومی قبولیت حاصل ہو سکے گی کہ مدرسہ اپنی شناخت کو اس طرح تبدیل کر دے کہ دینی تعلیمی شناخت پس پشت چلی جائے ۔ البتہ حالات و واقعات کی روشنی میں معاشرے کی توقعات میں تبدیلی واقع ہو جائے اور اپنے بنیادی مقصد، یعنی دینی تعلیم اور اس حوالہ سے دینی تعلیمی شناخت۔ ۔ کو متاثر کیے بغیر دینی اور عمومی تعلیم کے امتزاج اور مختلف سماجی و اقتصادی دائروں میں ان سے کسی وسیع کردار کی امید رکھی جا رہی ہو تو طلب و رسد کے اسی اصول کی بناء پر مدارس اپنے آپ کو تبدیل کرنے پر مجبور ہوں گے ۔ خواہ اس سلسلہ میں بیرونی طور پر ان پر کوئی دباؤ ہویا نہ ہو۔ بلکہ اگر یوں کہا جائے تو غلط نہ ہو گا کہ اس صورت میں وہ بیرونی تعاون کے حصول کے لیے فکرمند ہوں گے تاوقتیکہ اس بیرونی تعاون کے حصول کے ساتھ کوئی مخصوص شرائط وابستہ نہ ہوں اور تعاون کرنے والے افراد اور اداروں سے انہیں کوئی خدشات لاحق نہ ہوں۔

طلب و رسد کے پس منظر میں مدارس میں داخلی طور پر تبدیلی کا ایک اور عمل اس تناظر میں ہے کہ مختلف شعبوں میں راہنمائی کے حصول کے لیے مدارس سے عام لوگوں کا رابطہ کن امور پر ہے اور ا ن کی سرپرستی کرنے والے افراد کی ان سے توقعات کیا ہیں۔ اس ضمن میں یہ بات پیش نظر رہنی چاہیے کہ مدارس سے عام لوگوں کا رابطہ اب محض روزمرہ فقہی معاملات تک محدود نہیں بلکہ ایک جانب پیشہ ورانہ امور، مثلاً بنکاری، بیمہ کاری، اور دیگر حوالوں سے اسلامی قوانین کے بارے میں استفسارات ہوتے ہیں، دوسری جانب بیرونی ممالک میں پاکستانیوں کی بڑی تعداد کی موجودگی اور ان کی نئی نسلوں کی وہیں پر پرورش، اقلیتی معاشرے میں اسلامی زندگی کے مسائل پر راہنمائی کی طالب ہوتی ہے ۔ نیز نئی نئی ایجادات کے حوالہ سے پیدا ہونے والے سوالات پر بھی لوگ ان سے راہنمائی کے طالب ہوتے ہیں۔

چنانچہ راہنمائی کی یہ طلب اب محض اس محلہ یا علاقہ تک محدود نہیں جہاں مدرسہ واقع ہے بلکہ دوسرے ملکو ں اور معاشروں تک پھیلی ہوئی ہے ۔ ایسے میں فطری طور پر وہ مدارس جن سے اس ضمن میں رجوع کیا جاتا ہے اپنے آپ کو اس راہنمائی کے لیے تیار کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ گلوبلائزیشن اور زندگی کے مختلف دائروں میں میڈیا کے بڑھتے ہوئے اثرات نے بھی انہیں مجبور کیا ہے کہ وہ اپنے آپ کو محدود رکھنے کی بجائے وسیع تر دائرے میں متحرک کریں اور نئے نئے آنے والے سوالات کا سامنا کرنے کے لیے اپنے آپ کو تیار کریں۔ اس ضمن میں ان بیرون ملک پاکستانیوں نے بھی ایک اہم کردار ادا کیا ہے جو مدارس کے ساتھ مالی تعاون اور سرپرستی کرتے ہیں۔ اپنے اپنے علاقوں میں ان میں سے بہت سوں کی دلچسپی محض مدرسہ کے قیام کی حد تک ہی نہیں ہوتی بلکہ وہ اسے جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے میں بھی دلچسپی رکھتے ہیں۔

اس اعتبار سے دیکھا جائے تو بیرونی دباؤ کی مزاحمت کے باوجود ان مذکورہ عوامل کی بناء پر مدارس میں تبدیلی کے حوالہ سے ایک فطری عمل جاری ہے ۔ تبدیلی کے لیے اجتماعی فیصلوں کی رفتار سست ہے تاہم تبدیلی کا ایک عمل اس فکر اور طرز عمل کی بناء پر جاری ہے جو قائدانہ حیثیت کے مالک مدارس اور علماء اپنے اپنے انفرادی دائروں میں اختیار کرتے ہیں۔

مدارس کی تاریخ، ان کی ساخت اور ان کے اندرونی نظام پر سرسری نگاہ ڈالنے سے یہ بات سمجھنا مشکل نہیں کہ ہر مدرسہ بنیادی طور پر اپنی جگہ ایک خودمختار ادارہ ہوتا ہے جس کی شناخت اس کے بانی ( اوراس کی جانشین قیادت) کے ساتھ وابستہ ہوتی ہے ۔ چنانچہ اب سے کچھ عرصہ قبل تک نظام و نصاب کے معاملہ میں مدارس وفاق کے تحت کسی باہم مربوط نظام کے بجائے مادر علمی کے نظام و نصاب کو اختیار کرتے تھے (وفاق المدارس العربیہ تأسیس ۱۹۵۹ء، تنظیم المدارس پاکستان تأسیس۱۹۶۰ء اور نشاۃ ثانیہ جنوری ۱۹۷۴ء، وفاق المدارس الشیعہ ۵۰ کی دہائی سے کام کر رہا ہے لیکن باقاعدہ رجسٹریشن ۱۹۸۳ء میں ہوئی۔ رابطۃالمدارس الاسلامیہ نے ۱۹۸۳ء میں کام کا آغاز کیا۔ وفاق المدارس السلفیہ نے ۱۹۷۸ء میں آغاز کیا اور ۱۹۸۳ء میں رجسٹرڈ ہوئی)۔

گو انفرادی طور پر مدرسہ کی شناخت کا تعلق اب بھی بانی مدرسہ اور اس کی جانشین قیادت کے ساتھ وابستہ ہے لیکن سیاسی، سماجی اور ابلاغی دائروں میں اسلامی فکر، اسلامی تعلیمات اور اسلامی نظام کے حوالہ سے جاری نظریاتی و عملی کشمکش نے معاشرے میں جس نوعیت کی تقسیم پیدا کی ہے اس نے مدارس کو باہم قریب تر کر دیا ہے ۔ ان مسلسل تبدیل ہوتے ہوئے حالات کے تحت اب تمام ہی مسالک کے مدارس اپنے اپنے وفاق کے نظام و نصاب کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں۔ وفاق کے طے کردہ نظام و نصاب میں اضافہ تو کوئی مدرسہ اپنے ذمہ داران کے فیصلوں کے مطابق کر سکتا ہے لیکن اس نصاب میں کمی یا کسی جوہری تبدیلی کی صورت میں اس کی حیثیت متاثر ہو سکتی ہے ۔ یوں اب مدرسہ کی شناخت وفاق کے ساتھ بھی منسلک ہو گئی ہے ۔

اس سے بھی بڑھ کر تبدیلی کا ایک اور رُخ یہ ہے کہ حکومتی دباؤ اور عالمی سطح پر غیر معمولی دلچسپی نے (جو اکثر صورتوں میں اضافی دباؤ کا سبب ہے ) علیحدہ علیحدہ مسلک کی بنیاد پر قائم مدارس کے پانچ وفاقوں کو بھی باہم مربوط کر دیا ہے ۔ چنانچہ اب ایک نیا ادارہ ’’اتحاد تنظیمات مدارس دینیہ‘‘ وجود میں آ گیا ہے ۔ اس وقت تک اس ادارہ کا کام حکومت سے مذاکرات میں مشترکہ موقف اور حکمت عملی اختیار کرنا ہے تاہم اس عمل میں وفاق ایک دوسرے سے قریب تر آ رہے ہیں۔ فطری طور پر اس قربت کے غیر محسوس اثرات ان کے نظام و نصاب پر بھی پڑیں گے ۔

اس حقیقت کا اندازہ اس سے کیا جا سکتا ہے کہ خود اتحاد تنظیماتِ مدارس دینیہ کی جانب سے مذاکرات کے عمل میں حکومت کو یہ تجویز دی گئی کہ آغا خان تعلیمی بورڈ کی طرح دینی مدارس کے تعلیمی امتحانات کے نظام کو بھی سرکاری سطح پر تسلیم کیا جائے یا پھر دینی مدارس کے وفاقوں کے نظام امتحانات کو مربوط اور یکساں معیار پر رکھنے کے لیے حکومتی سطح پر کوئی نگران بورڈ قائم کیا جائے ۔ مرکزی حکومت یہ تجویز اصولی طور پر منظور کر چکی ہے ، تاہم ’’انٹرمدرسہ بورڈ‘‘ کا قیام ابھی تک عمل میں نہیں آ سکا۔ اس فیصلہ کے مطابق چے ئرمین اور وائس چیئرمین سمیت اس بورڈ کے کل سات ارکان ہوں گے ، جن میں وائس چے ئرمین اور دو ارکان اتحاد تنظیماتِ مدارس دینیہ کے نامزد کردہ ہوں گے ۔ تین ارکان حکومت (وزارت ہائے تعلیم، مذہبی امور اور داخلہ سے ایک ایک) کے نامزد کردہ ہوں گے ۔ اس بورڈ کا چے ئرمین کون ہو گا، اس پر ابھی اتفاق نہیں ہو سکا ہے ۔ نیز تجویز کو عملی شکل دینے کے لیے قانون سازی کا مرحلہ بھی درپیش ہو گا۔

اسی طرح مرکزی سطح پر وزارتِ تعلیم کے تحت ’’انٹر بورڈ کمیٹی آف چے ئرمین‘‘ یہ فیصلہ کر چکی ہے کہ منظور شدہ دینی مدارس کے طلبہ جو شہادۃ الثانویہ العامہ کی سند رکھتے ہوں اور کسی سرکاری تعلیمی بورڈ یا علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی سے میٹرک کے اُردو، انگریزی، ریاضی اور مطالعہ پاکستان کے مضامین پاس کر چکے ہوں، وہ میٹرک کے مساوی ہونے کا سرٹیفیکیٹ (SSEC) حاصل کرسکتے ہیں۔ جنوری ۲۰۰۸ء سے اطلاق ہو گا۔

نیز جو طلبہ شہادۃ الثانویہ الخاصہ کی سند رکھتے ہوں اور اُردو، انگریزی اور ہیومنیٹیز گروپ میں سے کوئی سے دو اختیاری مضامین پاس کر چکے ہوں وہ انٹرمیڈیٹ کے مساوی ہونے کا سرٹیفیکیٹ (HSSEC) حاصل کر سکتے ہیں۔ [حوالہ: حکومت پاکستان، وزارتِ تعلیم، انٹر بورڈ کمیٹی آف چے ئرمین۔ چٹھی نمبر IBCC/ES/3780-02 بتاریخ ۶اکتوبر ۲۰۰۷ء]

عالمی حالات اور خطہ میں ہونے والی تبدیلیوں نے مدارس کے ذمہ داران کو ایک اوراندازسے بھی جائزہ لینے اور تبدیلیوں کی جانب متوجہ کیا ہے ۔ اسے سمجھنے کے لیے جامعہ عثمانیہ پشاور کے مہتمم مفتی غلام الرحمن (جو صوبہ سرحد میں ایم ایم اے کی حکومت کے دوران قائم ہونے والے تعلیمی کمیشن کے سربراہ بھی تھے ) کی تحریر سے اس اقتباس پر نظر ڈالنا مفید ہو گا :

اسلامی سیاست کرنے والوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ بلند ہمتی کا مظاہرہ کر کے رجال سازی پر توجہ دیں۔ ہم نے افغانستان کے حوالہ سے دیکھا کہ طالبان کو چھ سال حکومت کا موقع ملا لیکن رجال کار کے فقدان بلکہ قحط الرجال کا اندازہ بہت جلد ہوا۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہماری سیاسی جماعتیں اپنی کار کردگی پر نظر ثانی کریں۔ صرف زندہ باد تک جدوجہد کو محدود نہ رکھیں اور نہ کسی انتخابی موقع تک اپنی سرگرمیاں محدود رکھیں بلکہ ضروری ہے کہ جہد مسلسل اپنی عادات بنائیں اور ہر وقت انتخابات کے ایام سمجھتے ہوئے محنت کریں۔

دینی مدارس کی اس میدان میں بھی کارکردگی مایوس کن ہے ۔ ہمارے سب کے ارادے آسمان سے باتیں کرتے ہیں دنیا کے کونے کونے تک یہ پرواز کے لیے پر تولتے ہیں لیکن کبھی یہ نہیں سوچتے کہ وہاں کے تقاضے کیا ہیں ؟ وہاں کی ضروریات کیا ہیں ؟ وہاں کن حالات سے ہمارا سامنا پڑے گا؟ بدقسمتی سے ہم نعروں کے میدان میں گرم رہتے ہیں لیکن عملی میدان کی خبر نہیں لیتے ۔ آج پوری دنیا سمٹ کر ایک گاؤں کی مانند ہو چکی ہے ۔ فاصلے ختم ہوئے ہیں اور ایک کونے سے دوسرے کونے تک پہنچنا گھنٹوں کی بات ہے اور یہ بھی ایک نا قابل انکار حقیقت ہے کہ دنیا کے تقاضے مختلف ہیں، ان کے ادراک کے بغیر میدان عمل میں متحرک رہنا مشکل ہے ۔ اس لیے ہمارے تعلیمی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ نونہال طلبہ کی تربیت میں عصری مشکلات کا ادراک ضرور کریں خاص کربڑی دینی جامعات جن کو وسائل میسر ہوں وہ وسعت ظرفی کا مظاہرہ کر کے اس میدان میں جوہر کمالات دکھائیں۔ اور دوسرے مدارس کے لیے ایک قابل عمل راہ متعین کریں۔ ہمارے جامعہ عثمانیہ جیسے نو وارد مدارس کی خواہش بہت ہے لیکن بدقسمتی سے ظروف اور وسائل کی تنگ دامنی اور تجربہ نہ ہونے کی وجہ سے آگے قدم لینا مشکل ہے بلکہ ہمارے جیسے نا تجربہ کاروں کے لیے خطرات زیادہ ہیں۔ ایسا نہ ہو کہ وہ اندھوں کی طرح ہاتھ پاؤں مارتے ہوئے گمراہی کے شکار ہوں اللہ تعالیٰ حفاظت فرمائے ۔ ہاں جب امہات مدارس اس میدان میں پیش قدمی کریں تو چھوٹے مدارس کے لیے چلنا آسان ہو گا یہ بھی ضروری ہے کہ اس معاملہ پر مدارس کے باہمی مباحث کا اہتمام ہو۔ چاہیے کہ یہ ذمہ داری مدارس کی تنظیمیں وفاق المدارس جیسے ادارے نبھائیں اور اگر یہ ادارے غفلت کا مظاہرہ کریں تو پھر بڑی بڑی دینی جامعات خود کسی قدم لینے کے لیے بسم اللہ کریں ایسا نہ ہو کہ ہمارے طلبہ کل مستقبل میں ناکامی کے شکار ہو کر سب کچھ ہمارے کندھوں پر ڈال دیں (ماہنامہ العصر، جامعہ عثمانیہ پشاور، فروری ۲۰۰۸ء، ص ۳۔ ۴)۔

مذکورہ بالا تناظر کو پیش نظر رکھا جائے تو یہ بات سا منے آتی ہے کہ مدارس کی بقاء کے لیے ناگزیر ہے کہ وہ خود اپنی سطح پر اپنے آپ کو عصری حالات اور ضروریات کے نقطۂ نظر سے تیا ر کریں تاکہ وہ معاشرہ سے بالکل غیر متعلق نہ ہو جائیں۔ مدارس میں اس امر کا احساس کسی نہ کسی درجہ میں موجود ہے اور وہ اپنی اپنی سطح پر کچھ اقدامات بھی کر رہے ہیں۔ تاہم روایت پسندی اور احتیاط کا طرز عمل اور بسا اوقات وسائل کی قلت ایسے اقدامات کی راہ میں رکاوٹ بھی بن جاتی ہے ۔

اپنی شناخت کو برقرار رکھتے ہوئے علم و فن کے میدانوں میں ہونے والی ترقی اور اس حوالہ سے نئے دائروں میں آگے بڑھنے کی اندرونی خواہش کے تناظر میں اقدامات کی رفتار کیا ہے ۔ روایت پسندی یا تبدیلی کے بارے میں عمومی طور پر احتیاط (یا خوف) کا رویہ، تبدیلی کے حوالہ سے مطلوبہ ماحول اور مطلوب انسانی وسائل کی کیفیت کیا ہے ، مجموعی طور پر یہ عمل کس طرح ہو رہا ہے ، اس کی نوعیت اور علامتیں کیا ہیں، اور موجودہ رجحانات کو دیکھتے ہوئے آئندہ مدارس میں تبدیلیوں کا کیا رخ ہو گا؟ یہی وہ سوالات ہیں جن کا جواب “دینی مدارس- تبدیلی کے رجحانات” کتاب میں بڑی دینی جامعات کے ذمہ داران کے انٹرویوز کی روشنی میں پیش کیا گیا ہے ۔

٭٭

 

 

 

۲۔ دینی مدارس اور اصلاح: اصل مسئلہ

 

 

 

۱۱ ستمبر ۲۰۰۱ء کو نیویارک میں ہونے والے ایک حادثہ نے ، جس کے ذمہ دار افراد کا تعین یقین کے ساتھ آج تک نہیں کیا جا سکا، اچانک مغرب و مشرق میں سوچنے کے انداز، تصوراتی خاکے (images) اور اندرونی و بیرونی حکمت عملی پر غیر معمولی گہرے اثرات ڈالے ہیں۔ اسلام اور مسلمان جو تقریباً نصف صدی کے خاموش عمل کے نتیجے میں یورپ و امریکہ میں ایک نمایاں تعمیری اور معتبر مقام حاصل کر چکے تھے ، اچانک شبہ کی نگاہ سے دیکھے جانے لگے ۔

دوسری جانب مسلمانوں کا مغرب کے بارے میں یہ تاثر کہ وہاں وسعت فکر، رواداری، برداشت، قبولیت، معروضیت (objectivity) اور صلاحیت کی بنیاد پر منصفانہ رویہ اختیار کیا جاتا ہے ، عملی طور پر بے بنیاد ثابت ہونے لگا اور کسی فرد کا محض مسلمان ہونا اس کے مشتبہ اور ممکنہ دہشت گرد ہونے کے لیے کافی سمجھا جانے لگا۔ حتیٰ کہ خود مسلم ممالک میں جو شخص اپنی وضع قطع کے لحاظ سے قرآن و سنت سے قریب نظر آیا اسے اتنی ہی مشتبہ نگاہ سے دیکھا جانے لگا۔

ایک دوسرے کے بارے میں تصوراتی خاکے (images) کی اس تبدیلی کے نتیجہ میں بین الاقوامی سطح پر جو عدم اعتماد اور شک کی فضاء پیدا ہوئی ہے اگر اسے یوں ہی جاری رہنے دیا گیا تو یہ مزید بے شمار خطرات کے پیدا ہونے کا باعث بنے گا اور اگر حالات کی اصلاح خلوص نیت کے ساتھ نہ کی گئی تو وہ ٹکراؤ، جس کی پیش گوئی سیموئیل ہنٹنگٹن نے کی تھی، اور جس کا آغاز دہشت گردی کے خلاف نام نہاد جنگ سے ہو چکا ہے ، مزید خطرناک صورت اختیار کر جائے گا۔

اس صورت حال سے نمٹنے کے لیے مغرب نے ایک حکمت عملی وضع کرنے کے بعد اس پر عمل بھی شروع کر دیا ہے ۔ لیکن مقام افسوس ہے کہ مسلم دانشور اور ارباب حل و عقد (اگر وہ کہیں پائے جاتے ہیں ) اس جانب سے بڑی حد تک مستغنی نظر آتے ہیں۔ مغرب کی حکمت عملی دیوار کی تحریر کی طرح واضح ہے ۔ امریکی سینیٹ کی ’گیارہ ستمبر‘ پر مقرر کردہ کمیٹی نے اپنی ۲۸ سفارشات میں سے ۲۶ سفارشات میں جس حکمت عملی کی طرف اشارہ کیا ہے اس کا محور تعلیمی اور ابلاغی ذرائع سے امت مسلمہ کے ذہن، بلکہ روح کو تبدیل کرنا ہے ۔ جو کام برطانوی سامراج کے ہرکارے لارڈ میکالے نے سیکولر اور غلامانہ نظام تعلیم کے نفاذ سے برصغیر میں حاصل کرنا چاہا تھا اور جس کے نتیجے میں اس خطہ میں ایک پوری نسل ایسے تعلیم یافتہ افراد کی پیدا ہوئی جو شکل و صورت میں اپنے ہم وطنوں کی طرح تھے لیکن اپنی فکر اور رہن سہن میں ’’گورے صاحب‘‘ کا ایک چربہ تھے ، بالکل اسی نہج پر ایک پُرامن ذہنی و روحانی انقلاب لانے کا منصوبہ امریکی فکری اور تحقیقی اداروں کی تجویز پر بنایا گیا ہے ۔

مناسب ہو گا کہ اس پس منظر میں تین ایسی دستاویزات کا ذکر کر دیا جائے جو اس دیدہ دلیرانہ منصوبہ کی تفصیلات فراہم کرتی ہیں۔ یہ مطبوعہ معلومات کسی بھی صاحب علم سے چھپی ہوئی نہیں ہیں کہ انہیں کوئی خفیہ سازش کہہ کر ٹال دیا جائے بلکہ یہ مطبوعہ شکل میں اور آگہی و معلومات کی شکل میں انٹرنیٹ پر بھی پائی جاتی ہیں۔

پہلی تحریر کا عنوان ہے : Civil Democratic Islam: Partners, Resources and Strategies جسے Cheryl Bernard نے ، جو امریکی سفیر برائے افغانستان زلمے خلیل زاد کی اہلیہ بھی ہیں، امریکہ کے مشہور دانش خانے (Think Tank) RAND کے لیے تحریر کیا ہے ۔ دوسری دستاویز کا عنوان ہے : Changing Minds Winning Peace: A New Strategic Direction for U.S Public Diplomacy in the Arab and Muslim World اور اسے امریکی ایوان ِ نمائندگان کے لیے ایک مشاورتی حلقے نے تیار کیا ہے ، جس کے سربراہ Edward P. Dejerjian ہیں۔ تیسری تحریر گو مختصر ہے لیکن اہم ہے ، اسے بروکنگ انسٹی ٹیوٹ کے رکن Stephen Philip Cohen نے تحریر کیا ہے اور اس کا عنوان The Nation and the State of Pakistan ہے ۔ اسے The Washington Quarterly نے ، موسم گرما ۲۰۰۲ء کے شمارے میں طبع کیا تھا۔ کوہن نے اپنے مقالہ میں حالات کے تجزیہ کے بعد امریکہ کو یہ مشورہ دیا ہے کہ انفرادی حیثیت میں فوجی حکمرانوں سے قریبی تعلقات سے آگے بڑھ کر اسے تعلیمی اداروں اور تعلیمی مواد پر توجہ دینی ہو گی (صفحہ ۱۲۱)۔

Changing Minds Winning Peace میں تفصیلی جائزہ کے بعد بین الاقوامی حکمت عملی کی تشکیل نو کے لیے تجاویز دی گئی ہیں۔ ان میں ایک اہم تجویز یہ بھی ہے کہ تعلیم و تعلم سے وابستہ افراد، صحافیوں اور دیگر افراد کو امریکہ بلا کر مہمان داری اور علمی نشستوں کے ذریعہ ان پر اثرانداز ہوا جائے اور امریکی اقدار و ثقافت کو تعلیم اور تعلیمی وظائف کے ذریعہ مسلمانوں کے دل و دماغ میں اتار دیا جائے ۔

تینوں تحریرات میں وضاحت اور بے تکلفی کے ساتھ مسلمانوں کو چار بڑے گروہوں : روایت پرست، بنیاد پرست، سیکولر اور جدیدیت پسند میں تقسیم کر کے ان کے الگ الگ تصور اسلام کا تجزیہ کر کے جو حکمت عملی تجویز کی گئی ہے اس میں سیکولر افراد کی حمایت، انہیں وسائل فراہم کرنے اور انہیں بطور نجات دہندہ project کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے ۔ اس میں بھی اس احتیاط کا تقاضا کیا گیا ہے کہ ہر فرد کی قدر و قیمت کے لحاظ سے اس کی حمایت کی جائے اور وسائل دیے جائیں۔ ساتھ ہی بعض روایت پرست گروہوں کو بھی اس غرض اور نیت کے ساتھ حمایت فراہم کی جائے کہ وہ بنیاد پرستوں کا قلع قمع کر سکیں۔

اس سلسلہ میں ایسے افراد کا پتہ لگانا اور انہیں جدید ذرائع کے استعمال سے مدد دینے کا مشورہ بھی دیا گیا ہے تاکہ وہ زیادہ سے زیادہ افراد تک اسلام کی بے ضر ر سی تعبیر، جس سے مغرب کو کوئی خطرہ نہ ہو، پہنچا سکیں۔ مثلاً Web کے ذریعہ وہ اپنے خیالات سوالات و جوابات کی شکل میں دیں اور ایک جدید اسلام، جدید فقہ اور جدید فکر وجود میں آ جائے ۔

ایک اہم مشورہ یہ دیا گیا ہے کہ جدیدیت پسند حضرات سے نصابی کتب لکھوائی جائیں اور ان کتب کو اخراجات میں حصہ بٹاتے ہوئے ارزاں قیمت پر طلباء کو فراہم کیا جائے ۔ جس طرح سابق سو ویت یونین نے ساٹھ کے عشرے میں کمیونسٹ فکر کو عالمی پیمانہ پر مختلف زبانوں میں کتابوں، رسائل اور علمی کتب کی اشاعت ِ کثیر کے ذریعہ اپنے مقاصد حاصل کرنے چاہے تھے ، بالکل اسی طرز پر تجویز کیا گیا ہے کہ جدید اسلام کو جو مغرب کے لیے قابل قبول ہو، عوام الناس تک لے جایا جائے ۔ اس ’’نیک کام‘‘ میں تعلیمی اداروں اور تعلیمی مواد کو بنیادی اہمیت دی جائے ۔

پاکستان میں اس وقت جو لوگ اقتدار پر مسلط ہیں وہ اس پس منظر میں اپنے نام نہاد Enlightened Moderation کے دعوے کی بنا پر امریکی مفادات کے بہترین محافظوں کا کردار ادا کر سکتے ہیں اور اسی بنا پر امریکہ کی حکمت عملی کو مختلف عنوانوں سے پاکستان میں نافذ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔ ماڈل دینی مدارس کا تصور، مدارسِ دینیہ کے لیے ایک مرکزی با اختیار ادارہ کا قیام، مدارس میں کمپیوٹر کے علاوہ ایسے مضامین کی تدریس جن سے دینی مدارس کے طلبہ طبعی اور سائنسی علوم سے آگاہ ہو سکیں اور اس طرح ان میں جدیدیت کا رجحان پیدا ہو سکے ، جیسے اقدامات ان کوششوں کا حصہ ہیں۔ گویا شاہین بچوں کو ممولے بنانے کے لیے ایسے ماحول اور ایسی غذا سے ان کی پرورش کی جائے کہ ان میں خواہش پرواز اور جرأت پرواز ختم ہو جائے ۔ اس کے بعد اگر وہ پرواز کرنا چاہیں تو شوق سے کر لیں۔ ظاہر ہے پر کٹنے کے بعد ان کی پرواز وہیں تک ہو گی جہاں تک گرگس کا جہاں پایا جاتا ہے یا جس حد تک ان کا صیّاد اجازت دیتا ہے ۔

ماضی میں برطانوی سامراج نے بالکل اسی حکمت عملی کو اختیار کر کے لادینی تعلیمی نظام کے ذریعہ اپنے مفادات کا تحفظ کیا تھا اور برصغیر کے مسلمانوں کو ’’روشن خیال اور مہذب‘‘ بنانے کے لیے مغربی اقدار حیات کو اس خطہ میں متعارف کرایا تھا۔ تعلیم کے اس غیر محسوس طور پر ذہنوں کو تبدیل کرنے کے عمل پر اکبر الہ آبادی نے بہت صحیح کہا تھا:

یوں قتل سے بچوں کے وہ بدنام نہ ہوتا

افسوس کہ فرعون کو کالج کی نہ سوجھی

بظاہریہ معلوم ہوتا ہے کہ امریکہ سنجیدگی کے ساتھ مسلم ممالک اور خصوصاً پاکستان کے حوالے سے ایک جامع تعلیمی حکمت عملی کے ذریعہ دانشوروں اور تعلیم یافتہ طبقہ کو اپنی فکر اور تہذیب کے رنگ میں رنگنا چاہتا ہے ۔ اس غرض کے لیے ایک شکل تو یہ ہو سکتی تھی کہ امریکہ پاکستان یا ایسے ممالک سے جہاں احیائے اسلام کی تحریکات پائی جاتی ہیں، ایک اچھی تعداد میں نوجوانوں کو تعلیمی سہولیات فراہم کرتا اور یہ نوجوان امریکہ جا کر وہاں کے ماحول میں گھل مل جاتے اور اگر اپنے ملک واپس آ بھی جاتے تو امریکہ کے سفراء کی حیثیت سے ۔ لیکن اس میں ایک یہ خدشہ ضرور رہتا ہے کہ جو طلباء تعلیم کے بہانے امریکہ میں داخل ہوتے ، وہ کسی لمحہ دہشت گرد یا ان کے آلہ کار بن سکتے تھے ! جبکہ پاکستان یا دیگر ممالک میں امریکہ کی پسند کا نصاب تعلیم رائج کرنے کی شکل میں سانپ بھی مر جاتا ہے اور لاٹھی بھی نہیں ٹوٹتی۔

اس حوالے سے جو اصلاحات تجویز کی گئی ہیں ان میں اولاً ’روشن خیالی‘ پیدا کرنے کے لیے مدارس کے نصاب میں سائنسی مضامین کی تعلیم کو لازمی قرار دینے کی قرارداد ہے ۔ دوسرا اہم قدم یہ تجویز کیا گیا ہے کہ دینی مدارس کے اساتذہ کی تربیت کی جائے تاکہ ان میں سے ’’بنیاد پرستی‘‘ کو ختم کیا جائے اور وہ اپنے مدارس کو ’’جہاد کی فیکٹریاں ‘‘ نہ بننے دیں۔ اس کے ساتھ تیسرا کام مدارس کے لیے ایسی جدید کتب کی تالیف و تصنیف ہے جو انہیں ’’خطرناک‘‘ نہ بننے دیں اور صلح پسندی، امن اور خاکساری کی تربیت دیں۔

انٹرنیشنل کرائسس گروپ نے اپنی خصوصی تحقیقی رپورٹ میں مدارس کی اصلاح اور شدت پسندی کے خاتمہ کے لیے جو تجاویز دی ہیں ان میں مندرجہ بالا امور کے ساتھ مدارس کے مالی ذرائع و وسائل کی نگرانی، جانچ پڑتال اور ایسے مدارس کی سرپرستی اور انہیں مالی امداد فراہم کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے جو امریکہ دشمنی کے مرتکب نہ ہوں اور یورپی اقوام کی حکمت عملی کی حمایت کرنے پر آمادہ ہوں۔ یہ بھی تجویز کیا گیا ہے کہ حکومت پاکستان ایسے مدارس کو جہاں ’’جہادی‘‘ ثقافت کے جراثیم پائے جاتے ہوں، خلاف قانون قرار دے کر بند کر دے ۔

تکرار کے ساتھ یہ بات بھی کہی جا رہی ہے کہ مدارس کم عمر نوجوانوں کو جذباتی طور پر ابھار کر ’’فدائیانِ اسلام‘‘ تیار کر رہے ہیں جو نتائج سے بے پرواہ ہو کر ’’خودکش حملوں ‘‘ کے ارتکاب میں کوئی تکلف محسوس نہیں کرتے ۔

یہ انقلابی جدید ذرائع ابلاغ کے استعمال سے بھی واقفیت رکھتے ہیں حتیٰ کہ انٹرنیٹ کے ذریعہ چندہ جمع کرنے اور پیغامات لے جانے میں مہارت رکھتے ہیں۔ ان کا کوئی ایک جغرافیائی وطن نہیں ہے بلکہ یہ دنیا کے کسی بھی خطے میں جہاں ان کی قیادت انہیں حکم دے بلا جھجک چھلانگ لگا کر پہنچ جاتے ہیں۔ اس لیے یہ ایک متحرک خطرہ ہیں اور مدارس ان کی اصل تربیت گاہیں ہیں۔

پندرہ سوسالہ تاریخ پر ایک نظر ڈالی جائے تو دینی مدارس کا اصل میدان مسلمانوں کی علمی و فکری قیادت نظر آتا ہے ۔ یہی مدارس تھے جنہوں نے شبلی اور سید سلیمان ندوی جیسے مورخ و عالم، شاہ ولی اللہ جیسے فقیہ، شاہ عبدالحق جیسے محدث اور انور شاہ کشمیری جیسے متکلم پیدا کیے ۔

اس شک و شبہ اور مخالفت کے ماحول میں مدارس کا مستقبل کیا ہے ؟ کیا نصابی تبدیلی فی الواقع مدارس کے طلباء کو روشن خیال بنا دے گی؟ کیا سرکاری مدارس و جامعات، جہاں نہ کوئی شیخ الحدیث جہاد کی تعلیم دیتا ہو، نہ طلباء کو اسلحہ کے استعمال کی تربیت دی جاتی ہو، ایسے افراد پیدا کرنے میں کامیاب ہوں گے جو دین کی مغربی تعبیر و تفسیر کے ماہر ہوں اور امریکہ نواز بھی ہوں یا امریکہ کی حالیہ خارجہ پالیسی اور اس کا مسلمانوں کے ساتھ منفی اور تفریق کرنے والا طرز عمل، ان طلباء کو بھی جو مدارس سے وابستہ نہیں رہے ، امریکہ کی مخالفت پر آمادہ کر دے گا؟

جہاں تک مدارس دینیہ کے رد عمل کا تعلق ہے ، انہیں تین اقسام میں بانٹا جا سکتا ہے ۔ پہلے وہ مدارس جو امریکہ کے عزائم کا پورا علم رکھتے ہیں اور جو مقامی مخیر افراد کے تعاون سے فروغِ دین و علم میں مصروف ہیں، ہم گمان کر سکتے ہیں کہ وہ اپنے طرز عمل میں کوئی تبدیلی نہیں کریں گے ۔ وہ مدارس جو بیرونی مالی تعاون پر چل رہے تھے اور جن کا مسلکی تعلق بیرون پاکستان بعض معروف مکاتب فکر سے تھا وہ اس حکمت عملی سے متاثر بھی ہوں گے اور انہیں اپنی سرگرمیوں کو محدود بھی کرنا ہو گا۔ ایک بہت قلیل تعداد ایسی بھی ہو گی جو اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے حکومتی امداد کا خیرمقدم کرے گی اور بعض معاملات میں حکومت کی پالیسی کی حمایت بھی کرے گی۔ ایسے مدارس ہر سیاسی دور میں اپنے موقف پر نظر ثانی کرنے میں کوئی تردد محسوس نہیں کرتے ۔ نتیجتاً معاشرہ میں ان کا مقام وہ نہیں ہوتا جو کلمہ حق کے لیے قربانی دینے والوں کا ہوتا ہے ۔

حکومت کے زیرسرپرستی جو ماڈل مدارس قائم کیے جائیں گے ان کو مالی وسائل کی تو کوئی کمی نہ ہو گی لیکن انہیں اپنی غیرجانبدار حیثیت تسلیم کرانے میں انہیں خاصا وقت لگے گا۔ اگر حسن اتفاق سے انہیں ایسے اساتذہ مل گئے جو علمی حیثیت سے اور اللہ سے اپنے تعلق میں مثالی ہیں، جب تو وہ مدارس کوئی مقام پیدا کریں گے ورنہ جس طرح دیگر سرکاری ادارے جوں توں اپنا فرض پورا کرتے ہیں یہ بھی طلباء کی ایک محدود تعداد کو اپنے خیال میں ’’روشن خیال‘‘ بنانے میں کامیاب ہو جائیں گے ۔

اگر اصل مسئلہ دہشت گردی کا خاتمہ ہے تو وہ مدارس کے نظام کو تباہ کرنے سے حل نہیں ہو گا۔ اس کے اسباب واضح ہیں : امت مسلمہ کے ساتھ ظلم و استحصال کا رویہ، تحریکات آزادی کے کارکنوں کو اذیتیں دے کر شہید کرنا اور حق خود ارادی کو پامال کرتے ہوئے کشمیر، فلسطین، چیچنیا اور عراق میں امریکہ کی ریاستی دہشت گردی اور جارحیت کا اندھا دھند نفاذ۔ جب تک اس صورت حال کو تبدیل نہیں کیا جائے گا شدت پسندی میں اضافہ ہی ہو گا۔

یہ بات پاکستان کے حکمران طبقہ کو سمجھ لینی چاہیے کہ اگر سرکاری تعلیمی اداروں کے نصاب سے دینی عنصر کو خارج کیا گیا اور اس کی جگہ لادینی تصورات کو متعارف کرایا گیا تو اس طرح جو فکری اور اخلاقی خلاء پیدا ہو گا وہ لازماً معاشرہ میں شدت پسندی میں اضافہ کا باعث بنے گا۔ اسی طرح اگر دینی مدارس کے نصاب میں جہاد، امر بالمعروف، اور اعلائے کلمۃ الحق سے متعلق قرآنی آیات و احادیث کو خارج کر بھی دیا جائے تو مسئلہ حل نہیں ہو گا کیونکہ قرآن و سنت سے امت مسلمہ کا تعلق صرف دینی مدارس کے طلبہ کی حد تک نہیں ہے ۔ اس عظیم کتاب کا کم از کم ایک نسخہ ہر گھر میں پایا جاتا ہے اور اگر اس کتاب ہدایت کو اس کے صحیح مفہوم و مدعا کے ساتھ سرکاری، غیر سرکاری اداروں میں نہ پڑھایا گیا تو نیم عالم حضرات جس طرح چاہیں گے عوام الناس کو اس کی آیات کے حوالے سے اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرتے رہیں گے ۔ اس لیے قرآن کریم کی تمام تعلیمات بشمول جہاد اور اعلائے کلمۃ الحق و دعوت و نصیحت کی تدریس ہی مسئلہ کا حل کر سکتی ہے ۔

یہ ایک نا قابل تردید حقیقت ہے کہ عربوں کے قبائلی عناد، دشمنی اور عصبیت جاہلیہ کا علاج اگر کوئی نسخہ کر سکا تو وہ صرف قرآن و سنت کی تعلیمات ہی تھیں۔ آج بھی امت مسلمہ کا تعلق قرآن سے جتنا قریب ہو گا اس میں اخوت، محبت، تعاون، امن اور صلح کی صفات اسی قدر زیادہ پیدا ہوں گی۔

ملکی مفاد اور سلامتی کے نفاذ کا تقاضا ہے کہ نہ صرف دینی مدارس بلکہ سرکاری اور پرائیویٹ تعلیمی اداروں میں بھی لازمی قرآنی تعلیم کو متعارف کیا جائے تاکہ لادینیت، عصبیت اور جاہل قومیت کی جگہ ہم ایک با مقصد، با وقار اور متوازن و عادل معاشرہ کی تعمیر کر سکیں۔ یہی بانی پاکستان قائد اعظم کا تصورِ پاکستان تھا اور اسی مقصد کے لیے علامہ اقبال نے اپنی فکر اور شعر کے ایک ایک لفظ کو استعمال کیا تھا۔

٭٭

۳۔ دینی مدارس – تبدیلی کے رجحانات

 

دینی مدارس کیا ہیں ؟ ان کا تعلیمی نظام کیا ہے ؟ پاکستان میں رائے عامہ اور انسانی رویوں کی تشکیل میں ان کا کردار کیا ہے ؟ ان کے نظام اور نصاب کی نوعیت کیا ہے ؟ کیا ان میں تبدیلی کا کوئی خود کار نظام موجود ہے ؟ اور انہیں تبدیل کرتے ہوئے کس طرح ’’عصری ضروریات‘‘ سے ہم آہنگ کیا جا سکتا ہے ؟ مدارس کے بارے میں اس طرح کے سوالات اگرچہ نئے نہیں ہیں تاہم گزشتہ چند سالوں میں ملکی اور غیر ملکی ذرائع ابلاغ میں ان حوالوں سے گفتگو میں غیر معمولی طور پر اضافہ ہوا ہے ۔ دوسری جانب حکومتی سطح پر مدارس میں اصلاحات کے عنوان سے متعدد اقدامات تجویز کیے جاتے رہے ہیں جن میں دباؤ اور ترغیبات دونوں طرح کے اقدامات شامل ہیں۔ اس ضمن میں بیرونی دنیا سے مدارس کی اصلاح کے مطالبات اور تعاون کی پیش کشوں کی اطلاعات بھی آتی رہی ہیں۔ بعض بین الاقوامی اداروں نے تحقیقی رپورٹیں بھی شائع کی ہیں۔

قومی اور بین الاقوامی سطح پر مدارس میں اس قدر دلچسپی اور سیاسی، علمی اور ابلاغی دائروں میں ان پر اس قدر توجہ، دباؤ اور ترغیبات کے کیا کوئی اثرات ہوئے ہیں ؟ ایک تاثر یہ ہے کہ مدرسہ اپنی نوعیت اور فطرت کے اعتبار سے جامد ہے اور عمومی طور پر کسی تبدیلی کے لیے تیار نہیں ہے ۔ اس حوالہ سے دلیل یہ دی جاتی ہے کہ اگرچہ مدارس کے مختلف وفاقوں کی نمائندہ تنظیم (اتحاد تنظیمات مدارس دینیہ) اور حکومت کے درمیان مسلسل رابطہ ہے اور ان کے درمیان مذا کرات کے متعدد ادوار ہوتے رہے ہیں تاہم جزوی طور پر بعض معاملات میں اتفاق کے باوجود مدارس اپنے تعلیمی کردار، نظام و نصاب اور مالیات کے حوالہ سے حکومت کو براہ راست کوئی کردار دینے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ ان امور میں اپنی خودمختاری کو وہ اپنا اہم ترین اثاثہ سمجھتے ہیں اور اسی لیے ان پر کوئی compromise ان کے خیال میں اپنے وجود کی نفی ہے ۔

چنانچہ تبدیلی کا اگر یہ تصور سامنے رکھا جائے کہ مدارس اپنی خودمختاری سے دستبردار ہوکر حکومتی ترجیحات اور فیصلوں کے مطابق اپنے نظام کو چلائیں گے تو بلاشبہ ایسا نہیں ہوا اور مستقبل قریب میں بھی اس نہج پر تبدیلی کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہیں۔

دوسری جانب یہ ایک حقیقت ہے کہ مجموعی طور پر مخالفانہ فضا کے باوجود مدارس کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے اور عام تاثر کے برعکس مدارس کا دعویٰ ہے کہ وہ تعداد ہی نہیں معیار اور سرگرمی کے اعتبار سے بھی اندرونی طور پر تبدیلی اور ارتقاء کے ایک مسلسل عمل سے گزر رہے ہیں۔ اگر ایسا ہے تو یہ تبدیلی کیا ہے اور کس طرح عمل میں آ رہی ہے ، اس کے پس منظر میں کون سے داخلی یا بیرونی عوامل ہیں ؟ اس صورت حال کو درست طور پر سمجھ لیا جائے تو اس اہم ادارے کی تشکیل نو کے لیے آئندہ لائحہ عمل کی تیاری میں مدد ملے گی۔ زیر نظر تحقیق اسی ضرورت کو پورا کرنے کی کوشش ہے ۔

اس تحقیق میں پاکستان کی۵۶ بڑی دینی جامعات کے ذمہ داران سے ملاقاتوں اور ان جامعات کے براہ راست مشاہدے کے ذریعہ وہاں جاری تعلیمی عمل اور ان میں آنے والی تبدیلیوں کے رجحانات کو سمجھنے کی کوشش کی گئی ہے ۔ بڑی دینی جامعات کی بنیاد پر نتائج اخذ کرنے کی اس مشق کے پس منظر میں یہ حقیقت ہے کہ بڑی دینی جامعات رجحان ساز اداروں کی حیثیت رکھتی ہیں اور یہاں آنے والی تبدیلیاں جلد یا بدیر دیگر عام مدارس میں بھی رائج ہونے کا یقینی امکان ہے ۔

مدارس کے نظام سے واقف لوگ اس حقیقت سے آگاہ ہیں کہ مدارس میں بنیادی اہمیت استاد اور مادر علمی کی ہے ۔ مدارس میں داخلہ کی ایک اہم وجہ استاد کی شہرت، اس سے تعارف اور رابطہ ہوتا ہے ۔ یہاں طلبہ کی شخصیت اور ان کے رویوں پر استاد کی گہری چھاپ ہوتی ہے ۔ مدرسہ کے ماحول میں اس کے لیے شعوری طور پر اہتمام بھی کیا جاتا ہے ۔ یہی طلبہ تعلیم سے فارغ ہونے کے بعد پہلے سے موجود مدارس میں تدریس کے فرائض انجام دیتے ہیں یا نئے مدارس کا آغاز کرتے ہیں۔ چنانچہ جو روایات اور رجحانات آج کی بڑی دینی جامعات اور ان کے ذمہ داران میں واضح ہو رہے ہیں ان کے بارے میں کافی امکان یہ ہے کہ وہ مستقبل کے تعلیمی عمل میں زیادہ ٹھوس شکل میں اور بتدریج دیگر دینی اداروں میں بھی رائج ہوں گے ۔ یہ عمل محض طویل المیعاد عرصہ میں ہی نہیں بلکہ روزمرہ معاملات میں بھی، زندگی کے کسی بھی دوسرے شعبہ کی طرح مدارس میں بھی یوں جاری رہتا ہے کہ چھوٹے چھوٹے مدارس کے ذمہ داران اپنی مادر علمی سے فکری طور پر و ابستہ رہنے کے ساتھ ساتھ اپنے علاقہ میں موجود بڑی دینی جامعات اور ان کے ذمہ دار ’’اکابرین‘‘ کی جانب رہنمائی کے لیے دیکھتے ہیں اور وہاں رائج طریقوں اور آنے والی تبدیلیوں سے استفادہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ موجودہ فضا میں جب مدارس اپنی بقاء کے حوالہ سے خدشات محسوس کر رہے ہوں باہم ربط و تعلق اور ایک دوسرے سے رہنمائی لینے کا یہ عمل اور بھی تیز ہو گیا ہے ۔

اسی تناظر میں مطالعہ کے لیے بڑی دینی جامعات کے انتخاب میں ان کی اثر اندازی کو پیش نظر رکھا گیا ہے ۔ چنانچہ ان کی اصل اہمیت اساتذہ اور طلبہ کی تعداد کے اعتبار سے بڑا ہونا نہیں بلکہ اپنے علمی مقام اور اثرات کے اعتبار سے نمایاں ہونا ہے ۔ نیز اس انتخاب میں یہ خیال بھی رکھا گیا ہے کہ ایک جانب تمام مسالک کی بڑی بڑی دینی جامعات شامل ہوں تو دوسری جانب ان جامعات کی یہ حیثیت بھی ہو کہ وہ ایک وسیع علاقے میں اپنی حد تک نمایاں حیثیت رکھتی ہوں۔ چنانچہ فطری طور پر اس انتخاب میں مختلف علاقوں میں قائدانہ کردار ادا کرنے والی جامعات شامل ہو گئی ہیں۔ عموماً ان ہی دینی جامعات کے ذمہ داران اس وقت مدارس کے مختلف وفاقوں کی قیادت کا فریضہ بھی سرانجام دے رہے ہیں۔

مطالعہ کے لیے منتخب دینی جامعات کے ذمہ داران سے ان کی جامعہ میں ہی ملاقات کے بعد تفصیلی طور پر انٹرویو کیا گیا ہے ۔ انٹرویو ایک متعین سوالنامہ کی بنیاد پر کیا گیا تاہم موقع کی مناسبت سے اضافی سوالات کی بھی گنجائش رکھی گئی۔ جبکہ انٹرویو لینے والی ٹیم نے براہ راست بھی جامعات میں جاری تعلیمی عمل کا مشاہدہ کرتے ہوئے اپنے مشاہدات کو تحریر کیا ہے ۔ واضح رہے کہ یہ انٹرویو عموماً اداروں کے سربراہان سے لیے گئے ہیں تاہم بعض اداروں میں سربراہ ادارہ کی عدم موجودگی یا ان کی مصروفیت کے باعث ان کے نائب یا ان کے نامزد کردہ کسی سینئر معاون سے سوالات کے جوابات حاصل کیے گئے ہیں۔

انٹرویو اور مشاہدات کی بناء پر مدارس کے ذمہ داران کی سوچ، اندازِ فکر اور مدرسہ کے اندر ان کے اقدامات کی جو تصویر بنتی ہے اسے دو حصوں میں پیش کیا گیا ہے ۔ پہلے حصہ میں عمومی تجزیہ اور تبصرہ کے ساتھ ساتھ حاصل شدہ معلومات و مشاہدات کا خلاصہ علیحدہ علیحدہ عنوانات کے تحت دیا گیا ہے جبکہ دوسرے حصہ میں انٹرویو میں دیے جانے والے جوابات کو ان کے اصل الفاظ میں نقل کیا گیا ہے ۔

٭٭٭

ماخذ:

http://ipsurdu.com/index.php?option=com_content&view=category&id=36

تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید