FavoriteLoadingپسندیدہ کتابوں میں شامل کریں

 

 

 

فہرست مضامین

دیارِ  خواب

 

 

                ثمینہ راجہ

 

جمع و ترتیب: اعجاز عبید

 

 

 

 

عرض مدون

 

میں نے برقی کتابوں کے ابتدائی دور میں ہی  ثمینہ راجہ  کی ای بکس بنائی تھیں۔ اور یہ اولین برقی کتب تھیں جو انٹر نیٹ پر موجود ثمینہ راجہ کے بلاگ سے  کاپی  پیسٹ کر کے بنائی تھیں۔ اب اگرچہ شاعرہ کے کچھ بلاگ فعال نہیں رہے اور یولا سائٹ پر ویب سائٹ کا متن بھی بدل گیا۔ اور اب ان میں دئے گئے روابط سے یہ متن نہیں ملے گا۔ ان دنوں میں نے شاعرہ سے با قاعدہ اجازت حاصل کی تھی اور برقی کتب کے عنوانات تجویز کیے تھے۔ بعد میں  کتاب چہرہ پر وہ میرے احباب میں بھی شامل ہو گئیں۔ مجھے خوشی ہوئی کہ ثمینہ نے از راہِ تلطف ان برقی کتب اور ان  کے عنوانات کو بہت پسند کیا۔ اب  جب کہ ثمینہ کی وفات کو بھی تین سال بیت چکے، میں انہیں کتابوں کو دو بارہ انہیں ناموں سے بزم اردو لائبریری میں شامل کر رہا ہوں۔  اور اب میں نے جمع و ترتیب میں اپنا نام دے دیا ہے۔

ا ع

٭٭٭

 

 

 

 

ترا نام

 

ترا نام دن کے زوال پر مری روشنی

ترا نام شامِ  سفر، ستارۂ رہبری

 

ترا نام شہرِ  ملال میں ، کفِ  دوستی

ترا نام میری متاعِ  جاں ، مری شاعری

 

مجھے ہر پڑاؤ پہ چاہیئے ، تری ہمدمی

٭٭٭

 

 

 

 

بڑی دیر میں یہ خبر ہوئی

 

بڑی دیر میں یہ خبر ہوئی — کوئی چال وقت ہی چل گیا

نہ میں با خبر، نہ میں با کمال

میں خوش گماں ۔۔ تھی اسی خیال سے شادماں

کہ مرا ستارہ بھی گردشوں سے نکل گیا،

مگر ایک رات ہوا چلی، تو ہوا کی سانس میں آگ تھی

یہ گماں ہوا کہ لباس پر کوئی شمع جیسے الٹ گئی

مری چھت سے برق لپٹ گئی

مری نیند ایسے جھلس گئی ۔۔ مرا خواب اس لیے جل گیا،

نہ وہ آنکھ میں رہی روشنی ۔۔ نہ وجود میں رہی زندگی

یہ بدن جو آج تپیدہ ہے ۔۔ مری روح اس میں رمیدہ ہے

مرے انگ انگ میں درد ہے

یہی چہرہ جو کبھی سرخ تھا ۔۔ ابھی زرد ہے

مرا رنگ کیسے بدل گیا؟

نہیں دن سے کوئی بھی آس اب

ہے اگر نصیب میں پیاس اب

کسی ابر پارے کی چاہ میں ۔۔ کبھی سر اٹھا کے جو دیکھ لوں

تو وہ گرم بوند ٹپکتی ہے ۔۔ کہ یہ جان تن میں تپکتی ہے

مرا آسمان پگھل گیا،

نہیں غم نہیں ۔۔ کہ ہے میرے ماتھے پہ غم لکھا

مگر اس سے بڑھ کے ستم ہوا

کہ جو حرف مصحفِ  دل پہ لکھا تھا عشق نے ۔۔ وہی مِٹ گیا

کسی اختیار کا پھیلتا ہوا ہاتھ تھا ۔۔ کہ سمٹ گیا

کوئی اعتبار کا تار تھا کہ جو کٹ گیا

وہ جو اسم تھا کبھی وردِ  جاں ۔۔ وہ الٹ گیا

کوئی نقش تھا ۔۔ کسی اور نقش میں ڈھل گیا

٭٭٭

 

 

پیا باج پیالہ پیا جائے نا

 

 

مجھے ایسی دوری کی عادت نہیں تھی

کہ جو زندگی کی رگوں سے

جواں خون کی آخری بوند تک کھینچ لے

جسم کا کھیت بنجر کرے

 

اِس لیے جب سے تو اُس سفر پر گیا

میں نے آئینہ دیکھا نہیں

ساری دنیا سے اور آسماں تک سے پردہ کِیا

میں نے سردی میں دھوپ اور گرمی میں

سائے کی پروا نہ کی

زندگی کو نہ سمجھا کبھی زندگی

عادتاً سانس لی

 

بھوک تو مر گئی تھی جدائی کی پہلی ہی ساعت میں

لیکن ابھی پیاس باقی ہے

اور ایسی ظالم کہ میرے بدن پر ببول اُگ رہے ہیں

زباں پر بھی کانٹے پڑے ہیں

 

مجھے ایسی دوری کی عادت نہیں ہے

کہ جو موت اور زندگی میں کوئی فرق رہنے نہ دے

پھر بھی یہ جان لے

گر مجھے چشمۂ آبِ  حیواں بھی مل جائے

اک بوند

تیرے بنا مجھ پہ جائز نہیں

٭٭٭

 

 

 

 سزا

 

جاؤ

نفرت کرنے والوں کے چہروں کو دیکھو

ان کی آنکھیں ۔۔۔ دوزخ کے دروازے ہیں

اور تہہ خانوں میں جلتی اگ سے

ان کے دِلوں کی دیواریں کالی ہیں

 

ان چہروں کو دیکھو جن کے دانت

دہن سے باہر جھانکتے رہتے ہیں

اور بات کریں

تو منہ سے ان کے کف بہتا ہے

جن کا سامنا سچائی سے ۔۔ نا ممکن ہے

جو پھولوں کو روند کر آگے بڑھ جاتے ہیں

جن کے روشن دان پہ کبھی پرندے

بیٹھ کے گیت نہیں گاتے

جن کے آنگن میں جا کر

دھوپ اور بارشیں عفت کھو دیتی ہیں

جن کی زبانیں

خوش لفظوں سے ۔۔۔ نا واقف ہیں

جن کے حرف کسی اچھے کی سماعت سے ٹکرا کر

پتھر بن جاتے ہیں

وہ ۔۔ جو لوگوں کی خوشیوں کی موت پہ

خوشی مناتے ہیں

سائل پر کتے چھوڑتے ہیں

اور اپنے دروازوں پر

کالے ، پیلے رنگ سے ۔۔۔ کھوپڑیاں بنواتے ہیں

جاؤ۔۔۔ اور ان چہروں کو دیکھو

آج سے تم

ان میں شامل ہو ٭٭٭

 

 

 

 

غم کی پہلی بہار میں

 

 

 

وہ جو غم کی پہلی بہار میں بنے آشنا

انہیں کوئی غم کا سندیس بھیج کے دیکھیے

انہیں پوچھیے

کہ نگاہِ  وصل شناس میں کوئی اور ہے

جو ستارہ وار بلا رہا ہے کسی طرف

کہ یہ اپنی ذات سے کشمکش کی دلیل ہے

 

کوئی کیا کہے

کہ نئے جہان کی آرزو کے طلسم سے ہے

زبان گنگ

کوئی سنے بھی تو کیا سنے

کہ بلا کا شور امڈ رہا ہے فصیلِ  شہرِ  خیال سے

یہ جو حدِ  شہرِ  خیال ہے

یہ جُنوں کے گِرد خرد کی ایک فصیل ہے

یہ دلیل ہے

کہ وہ اپنی ذات کے عشق میں رہے سرگراں

 

انہیں کوئی نامۂ عشق بھیج کے دیکھئے

کہ اِدھر بھی ایک ستارہ ہے

جو نئے جہاں کی سبیل ہے

انہیں ڈھونڈیے

وہ جو غم کی پہلی بہار میں ۔۔۔ بنے آشنا

٭٭٭

 

 

 

 

 

ایلی ایلی لما سبقتنی

 

 

دل مرا خون ہوا

اور مرا تن خاک ہوا

پیرہن ذات کا بوسیدہ ہوا

چاک ہوا

 

شہرِ  جاں

مثلِ  کراچی سوزاں

لرزاں و ترساں و گریاں

ویراں

 

شام اترتی ہے تو اندھیارے سے

خوف آتا ہے

اک دعا چاروں طرف گونجتی ہے

 

“لوٹ کر خیر سے گھر کو آئیں ”

وہ گل اندام، وہ مہ رُو میرے

آنکھ کے موتی، جگر کے ٹکڑے

 

رات آتی ہے تو دل ڈوبتا ہے

میرے اطراف میں اک وہم کا خونی سایا

کوئی ہتھیار لیے ، گھومتا ہے

نیند میں جائے پنہ ملتی نہیں

کسی منزل کے لیے رختِ  سفر باندھنا کیسا

کوئی رَہ ملتی نہیں

 

شہر یاران جدالِ  کمی و بیش میں گم)

اور نادیدہ عدو ۔۔۔ سازشِ  پیہم میں مگن

 

نہیں معلوم مرا کون سا دوست

مرغ کی بانگ سے پہلے مرا انکار کرے

کس اندھیرے میں ، کہاں ، کوئی غنیم

گھیر کر وار کرے

نہیں معلوم

کہاں تک مجھے خود اپنی صلیب

اپنے کاندھوں پہ اٹھائے ہوئے اب چلنا ہے

نہیں معلوم مگر پاؤں مرے کانپتے ہیں

دل مرا جب ڈوبتا ہے

اک صدا ہونٹوں پہ سسکی کی طرح آتی ہے

’’ اے خدا ! میرے خدا

تو نے بھلا

کیوں مجھے تنہا چھوڑا؟

——————–

ایلی ایلی لما سبقتنی ۔۔۔۔

عیسیٰ علیہ السلام کے آخری الفاظ

٭٭٭

 

 

 

 

 

 

 سفر آغاز کِیا کیا کہ سسکنے لگی ریت

سانس میں بھر گئی آنکھوں میں کھٹکنے لگی ریت

 

دل کو پتھر سے جو ٹکرایا تو جلنے لگی آگ

تن پہ صحرا کو لپیٹا تو بھڑکنے لگی ریت

 

ترے سناٹے میں اس طرح سے گونجی مری بات

کہ مرے پاؤں کے نیچے سے سرکنے لگی ریت

 

تیز رَو اتنا نہ بن اے مرے صحرا زادے

صبر اے دل! تری رفتار سے تھکنے لگی ریت

 

غم مرا تھا مگر اک عمر سے گریاں ہے یہ رات

جوگ میرا تھا، جسے لے کے بھٹکنے لگی ریت

 

اب کریدے بھی تو کیا پائے گا یہ ناخنِ  ہوش

اور گہرائی میں کچھ اور دہکنے لگی ریت

 

کس کی آواز کا جادو تھا کہ بہنے لگی رات

کس کی آہٹ کا فسوں تھا کہ دھڑکنے لگی ریت

 

چاند نکلا ۔ ۔ ۔ تو بہت دور تلک پھیل گیا

نیند سے جاگ اٹھی اور چمکنے لگی ریت

٭٭٭

 

 

 

بہشت

 

کیسا اچھا تھا

ہم پھولوں والے باغ میں مل کر رہتے

اور اُس گہرے کنج میں

 

( جس میں جھانک کے میں چیخی تھی

اور تیرے سینے سے لپٹ گئی تھی)

 

اپنی اپنی فکروں کی گٹھڑی کو رکھ کر

بھول ہی جاتے

بہتر ہوتا

ہم اپنے اپنے چغے اور دستار اتار کے

اس گٹھڑی میں رکھ دیتے

اور پتوں کا ملبوس پہن کر

گھٹتے بڑھتے سایوں سے باتیں کرتے

 

پھر جب تو پورا سورج بن کر ہنس پڑتا

میں آدھا چاند بنی، پہروں روتی رہتی

تو اپنے ہونٹوں سے میرے آنسو پیتا

پھر جب میں رات کی رانی ہوتی

تب تو بھنورا بن کر ساری راتیں

۔ ۔ ۔ مجھ پر منڈلاتا

پھر جب تو دن کا راجا ہوتا

میں تتلی کے روپ میں

تیرے چاروں اور پھرا کرتی

صبحوں میں تیرے میرے سِ حر کی روشنی

اور شاموں میں تیری میری

آسیبی آنکھوں کا سرمہ ہوتا

 

پھر سب طائر

اپنی اپنی بولی بھول کے

صرف ہمارا نغمہ گاتے

ہر جانب سے خلقت آتی

اور ہم میں شامل ہو جاتی

پھر باہم سب سمتوں میں

ہم اپنے رب کو

سجدہ کرتے

٭٭٭

 

 

 

یہ عشقِ  سپہر رنگ میرا

 

 

یہ زیست اگرچہ پُر خطر ہے

جنگل میں یہ شام کا سفر ہے

 

لیکن مرے ساتھ چل رہا ہے

سایا، کہ خیال، یا تصور

اس عرصۂ زندگی میں شاید

آئے ، مری طرح اک مسافر

 

اک نرم و لطیف مسکراہٹ

ہر گام پہ دیتی ہے پناہیں

ہر سمت سے مجھ کو گھیرتی ہیں

وہ راز کی طرح، چپ نگاہیں

 

اک عشقِ  سپہر رنگ پھر سے

آنکھوں میں قیام کر رہا ہے

اک خواب کے فاصلے سے کوئی

اس دل سے کلام کر رہا ہے

٭٭٭

 

 

 

 

تاج محل

 

 

میں تیرے مقابل کھڑی ہوں

قدم آگے بڑھتے نہیں ہیں

یہ میں جاگتی ہوں ۔۔۔ کہ میں خواب میں ہوں

تجھے اک نظر دیکھتی ہوں

 

یہ غم سے پگھلتی ہوئی میری آنکھیں

پلک پر جو اٹکا ہے آنسو

اسے اپنی انگلی کی اس پور پر لے کے دیکھوں

یہ آنسو ہے میرا کہ تو ہے ؟

 

بڑھاتی ہوں ہاتھ اپنا ۔۔۔ بھیگی ہتھیلی

ہتھیلی پہ دل ہے

تمنا کا مسکن ۔۔۔ محبت کا مدفن

مرا دل، مرا دل

یہ دل ہے کہ تو ہے ؟

 

تجھے سامنے دیکھتی ہوں

میں حیرت سے پھر

اپنے چاروں طرف گھومتی ہوں

یہ میں ہوں

یہ میں ہوں کہ تو ہے ؟

٭٭٭

 

 

 

 

 کیسے نہ رنگِ  رُخ نظر آئے اُڑا ہوا

خود کو ہے زد پہ موجِ  ہوا کی رکھا ہوا

 

لمحاتِ عیش چند تھے اور وہ بھی مختصر

عمرِ گریز پا سے مگر کب گلہ ہوا

 

شانہ کوئی نہیں ہے کہ سر رکھ کے روئیے

بس یوں ہے دل پہ ضبط کا پتھر رکھا ہوا

 

ہاتھوں میں پھول، آنکھ میں آنسو لیے کوئی

اک عمر سے ہے راہِ وفا میں کھڑا ہوا

 

ہر خاک میں نمو نہیں پاتا ہے نخلِ غم

اس سرزمینِ عشق میں لگ کر ہرا ہوا

 

وہ شخص خود پسند و خود آرا و خود نِگر

اِس دل کو دیکھئے یہ کہاں مبتلا ہوا

 

وابستگانِ خواب سے پوچھو کہ ان کے ساتھ

’’ عبرت سرائے دہر‘‘ سے گزرے تو کیا ہوا

 

ق

 

ہر صبحِ انتظار سے شامِ ملال تک

لگتا ہے وقت حدِ ازل پر رکا ہوا

 

اور رات بھی قیامتِ صغریٰ سے کم نہیں

دل میں ہے ایک یاد کا خنجر گڑا ہوا

٭٭٭

ِ

 

 

وہ شام ذرا سی گہری تھی

 

 

ان ہجر زدہ اور رنجیدہ

آنکھوں سے ذرا نیچے جھُک کر

تری یا د میں بھیگے رخساروں کے

زرد کناروں پر آ کر

گھبرائی ہوئی سی اُتری تھی

اور تھوڑی دیر کو ٹھہری تھی

 

اب یا د نہیں تری آنکھوں میں

کوئی خواب تھا ۔۔۔ کوئی ستارہ تھا

ترے ہونٹوں کی ان قوسوں پر

کوئی لفظ تھا ۔۔۔ کوئی اشارہ تھا

کیا شام کے رستے پر رُک کر

ترے دل نے مجھے پکارا تھا؟

 

بس یاد ہے اتنا جب دل نے

اس عمر کی حد سے کچھ پیچھے

اک بار پلٹ کر دیکھا تھا

رستوں پہ کھلے سب پھولوں پر

اک ابر کا سایا جھکتا تھا

اور شام ذرا سی گہری تھی

٭٭٭

 

ِ

 

پھر اُسی معبد

 

پھر اُسی معبد کی ویراں سیڑھیوں پر

زندگی

بازو بریدہ، سر برہنہ، آبلہ پا، آ گئی ہے

جس جگہ سے آرزو کے سبزہ زاروں کی طرف

رختِ  سفر باندھا

لہو کی تال پر نغمہ سرائی کی

 

محبت کیا ہے

جس کی آرزو میں لوگ مر جاتے ہیں

شاید ایک رستہ ہے

کہ جس پر چلتے جانا، چلتے جانا ہے ضروری

سوچنا منزل کے بارے میں عبث ہے

 

ایک باغیچہ ہے

جس کے پھول کانٹوں سے بھرے ہیں

اور کسی نے آج تک چکھے نہیں اس کے ثمر

یا ایک بازیچہ ہے

اور بازیچۂ طفلاں نہیں ہے

 

لوگ مر جاتے ہیں

یہ معلوم ہے ۔۔۔ پھر بھی

اُسی معبد کی ویراں سیڑھیوں پر

دل شکستہ زندگی ہے

اور دل میں آرزو ہے پھر محبت کی

٭٭٭

 

 

 

 

 

 ایک نگاہ اس طرف

 

آئنہ رکھ دیا گیا عکس جمال کے لیے

پورا جہاں بنا دیا، ایک مثال کے لیے

خاک کی نیند توڑ کر آب کہیں بنا دیا

ارض و سما کے درمیاں خواب کہیں بنا دیا

خواب نمود میں کبھی آتش و باد مل گئے

شاخ پر آگ جل اٹھی، آگ میں پھول کھل گئے

ساز حیات تھا خموش، سوز و سرود تھا نہیں

اس کا ظہور ہو گیا جس کا وجود تھا نہیں

 

خاک میں جتنا نور ہے ایک نگاہ سے ملا

سنگ بدن کو ارتعاش دل کی کراہ سے ملا

دشت وجود میں بہار اس دل لالہ رنگ سے

رنگ حیات و کائنات اس کی بس اک امنگ سے

قرنوں کے فاصلوں میں یہ دل ہی مرے قریب تھا

قصۂ ہست و بود میں کوئی مرا حبیب تھا

تیرہ و تار راہ میں ایک چراغ تھا مرا

کوچہ ء بے تپاک میں کوئی سراغ تھا مرا

 

ہو کے دیار خواب سے کیسی عجب ہوا گئی

شیشۂ تابدار پر گرد ہی گرد جم گئی

بھول چکا ہے اپنی ذات بھول گیا ہے اس کا نام

سوز و گداز کے بغیر، لب پہ درود اور سلام

مدت عمر ہو گئی اس کو عجیب حال میں

فرق ہی کچھ رہا نہیں شوق میں اور ملال میں

دل کی جگہ رکھا ہے اب، سنگ سیاہ اس طرف

ہجر و وصال کے خدا! ایک نگاہ اس طرف

٭٭٭

 

 

 خوش ہوں کہ تیرے غم کا سہارا مجھے ملا

ٹوٹا جو آسمان، ستارہ مجھے ملا

 

کچھ لوگ ساری عمر ہی محرومِ  غم رہے

اک خوابِ  عشق تھا جو دوبارہ مجھے ملا

 

پھر شامِ  زندگی کے اُسی موڑ پر ہوں میں

جس شام، التفات تمہارا مجھے ملا

 

گردش میں لا کے پاؤں کے نیچے زمین کو

اک دور کے سفر کا اشارہ مجھے ملا

 

اِس ہجر میں شریک تھا تُو بھی مرا تو پھر

کیسے ہوا کہ سارے کا سارا مجھے ملا

 

شایاں نہیں ہیں دل کے یہ غم ہائے روزگار

کیوں جو نہیں ہے مجھ کو گوارا، مجھے ملا

 

ہر اٹھتی موج کرنے لگی تھی زمیں سے دور

یوں ، آسماں کا ایک کنارہ مجھے ملا

 

ترجیح تیری اور سہی اب مگر وہ خواب

سرمایۂ حیات ہمارا، مجھے ملا

 

جلنے لگی تھیں مشعلیں خیموں کے آس پاس

پھر کیسے کوچ کا وہ اشارہ مجھے ملا

 

پھر رات کے دیار تلک ساتھ ہم چلے

رستے میں جب وہ شام کا تارا مجھے ملا

٭٭٭

 

 

شبِ  ستارہ ساز کو خبر نہیں

 

 

صدائے زندگی نہیں ۔۔۔۔ کسی اداس ساز کی صدا ہے یہ

نشیب سے بلند ہو رہی ہے

یا بلندیوں سے اِن سماعتوں تلک اُتر رہی ہے

اُٹھ رہی ہے اِس زمیں کی سانولی حدوں کے آس پاس سے

کہ نیلگوں فلک کی سُرمگیں لکیر کے اُدھر سے

کس طرف سے گنگنا رہی ہے یہ

شبِ  ستارہ ساز کو خبر نہیں

ہَوائے بے نیاز کو خبر نہیں

 

یہ دشتِ  ہَول ہے کہ دل کی بے بسی کا سلسلہ

یہ کہکشاں کی دھند ہے کہ زندگی کا راستہ

یہ خواب ہے کہ اک جہانِ  خاک و آب و باد ہے

نئی زمیں کا آسرا ہے

یا ستارۂ کہن کی کوئی یاد ہے

کوئی پہن کر آ رہا ہے چاندنی کا پیرہن

کہ ہے یہ صرف خاکِ  مضطرب کا ریشمیں بدن

 

فصیلِ  شہرِ  جاں پہ کس کا عکس ہے

یہ آسماں کے بے نشان راستوں پہ کون محوِ  رقص ہے

یہ کوئی اجنبی ہے ۔۔۔ راہ رَو ہے

کوئی رند ہے ۔۔۔۔ نشے میں چُور

آشیاں سے دور ۔۔۔ کوئی بے نوا پرند ہے

کسی نگاہِ  خوش میں تیرتا ہوا کوئی خیال

یا کسی شکستہ دل میں ۔۔۔ لمحہ لمحہ ڈوبتا ملال ہے

 

سیاہ رات کی جواں اداسیاں ۔۔۔ بکھر رہی ہیں ہر طرف

کہ گیت گا رہی ہیں وصل و ہجر کے

اداس دیو داسیاں

ستارے اک دبیز خواب میں چھُپے ہوئے ہیں

سو رہے ہیں ۔۔۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔ جاگتے ہیں

آسمانِ  شب کو کچھ خبر نہیں

 

کوئی وجود کی اتھاہ آرزو مین گُم ہوا

کوئی خلا کے بحر میں

کسی نئے خیال کی ۔۔۔ کسی نئے کنار کی

نئی زمیں ۔۔۔ نئی فضا کی ۔۔۔ خوابناکی آرزو میں گم ہوا

کوئی وفا شناس، بزمِ  بے تپاک سے اُٹھا

قدم اُٹھے کہ جسم خاک سے اٹھا

کہاں سے آ رہی ہے یہ عجب صدا

 

صدائے زندگی ہے یہ

کہ سازِ  سرمدی کی اک صدائے خوابناک ہے

صدائے نور ۔۔۔۔ یا صدائے خاک ہے

ہوائے بے نیاز کو خبر نہیں

شبِ  ستارہ ساز کو خبر نہیں

٭٭٭

 

 

 

 

 

میری بھی اک زندگی ہے

 

 

مری اک زندگی ہے ۔۔۔ جو تمہاری زندگی سے مختلف ہے

کوئی انہونی تمنا ۔۔۔ جو تمہاری آرزو سے مختلف ہے

ایک ویرانی کی خوشبو

جو تمہارے شہر کے ہر رنگ و بو سے مختلف ہے

 

زندگی میری وہ قریہ

سائے کے مانند جس میں دھوپ آتی ہے

خموشی کی طرح آواز

پرچھائیں کی صورت لوگ

دھوکے کی طرح دنیا

کوئی گھر ۔۔۔ جس کی اک دہلیز ہے

دہلیز سے آگے ہے در

در میں ہے اک دیوار

دیواروں سے آگے اور دیواریں

 

کوئی کمرہ ۔۔۔ اندھیرے سے چمکتا ۔۔۔ خامشی سے گونجتا

گہرے اندھیرے کے نہاں خانے مین جیسے

خواب کے روزن سے آتی روشنی میں ، دور تک پھیلا ہوا رنگیز

جس میں خاک کا ہر ایک ذرہ جگمگاتا ہے

مری نظروں کی زد میں ۔۔۔ دسترس سے دور

راتوں کے سرہانے جاگتے دن میں

یہ دردائی ہوئی آنکھیں ۔۔ گزرتے وقت کو

اک بے توجہ آشنائی سے مسلسل دیکھتی ہیں

سامنے گھنٹے ، منٹ، سیکنڈ ۔ ۔ ۔ ۔

یکساں دائرے میں چلتے رہتے ہیں

 

ازل کی پہلی ساعت میں

مرے حصے کا سارا وقت ٹھرا ہے

ابد کی سمت بہتی ۔۔۔ اک کہانی ہے مری

لیکن تمہاری داستاں سے مختلف ہے

 

جو اداسی چھا رہی ہے ایک لمحے کو ۔۔۔ تمہارے نرم دل پر

میرے دل کی مستقل آزردگی سے مختلف ہے

میری بھی اک زندگی ہے

جو تمہاری زندگی سے مختلف ہے

______________

Spectrum – رنگیز

٭٭٭

 

 

 

 

 

 

 خوشبو کے ساتھ اس کی رفاقت عجیب تھی

لمس ہوائے شام کی راحت عجیب تھی

 

چشم شب فراق میں ٹھہری ہے آج تک

وہ ماہتاب عشق کی ساعت عجیب تھی

 

آساں نہیں تھا تجھ سے جدائی کا فیصلہ

پر مستقل وصال کی وحشت عجیب تھی

 

لپٹا ہوا تھا ذہن سے اک کاسنی خیال

اترا تو جان و جسم کی رنگت عجیب تھی

 

اک شہر آرزو سے کسی دشت غم تلک

دل جا چکا تھا اور یہ ہجرت عجیب تھی

 

ملنے کی آرزو، نہ بچھڑنے کا کچھ ملال

ہم کو اس آدمی سے محبت عجیب تھی

 

آنکھیں ستارہ ساز تھیں باتیں کرشمہ ساز

اس یار سادہ رو کی طبیعت عجیب تھی

 

گزرا تھا ایک بار،ہوائے خزاں کے بعد

اور موجۂ وصال کی حدّت عجیب تھی

 

ششدر تھیں سب ذہانتیں اور گنگ سب جواب

اس بے سوال آنکھ کی وحشت عجیب تھی

 

اس بار دل کو خوب لگا موت کا خیال

اس بار درد ہجر کی شدّت عجیب تھی

٭٭٭

 

 

 

 

ہر منزل پر ایک نیا دریا ملتا ہے

کون بھلا اس عالم میں پیاسا ملتا ہے

 

خوشبو دھوم مچا دیتی ہے پہلے آ کر

پھر گلشن میں جشنِ  بہار بپا ملتا ہے

 

شہر کے سارے لوگ ہیں اپنی ذات کے قیدی

دیواروں میں کب کوئی در وا ملتا ہے

 

سوکھ رہا ہے دھوپ میں ایک اکیلا منظر

باغ کو غور سے دیکھو تو صحرا ملتا ہے

 

یوں ہوتا ہے تنہائی کے سخت سفر میں

پیچھے اک آہٹ، آگے سا یا ملتا ہے

 

خوابِ  محبت مانگنے والی ان آنکھوں کو

کس کے حکم سے داغِ  غمِ  دنیا ملتا ہے

 

تجھ سے آگے ہم نے کبھی دیکھا ہی نہیں تھا

ورنہ تو ہر موڑ پر اک چہرہ ملتا ہے

 

کوئی خوشی آدھی ملتی ہے کوئی ادھوری

اور جو رنج ہو وہ پورا پورا ملتا ہے

 

کیسے گھنے جنگل سے گزرتی ہیں یہ نیندیں

کس مشکل سے خوابوں کو رستہ ملتا ہے

 

تم نے دیکھا ہو گا دنیا دار نظر سے

ہم کو اپنے دل میں شہرِ  وفا ملتا ہے

 

 

کیسا ستم ہے ساری عمر کا حاصل یونہی

ماضی کے اک طاقچے پر رکھا ملتا ہے

 

ایسے لپک کر دل ملتا ہے اُس کے غم سے

جیسے کوئی عمروں کا بچھڑا ملتا ہے

 

ٹوٹنے والا اک وعدہ جب واپس دوں تو

ٹوٹنے والا ایک نیا وعدہ ملتا ہے

 

غیر بھلے ہیں جن سے کوئی امّید نہ رکھیے

ورنہ اپنوں سے بھی کسی کو کیا ملتا ہے

 

جس پر دشواری کے ڈر سے چلتے نہیں ہیں

پھر وہی راستہ پاؤں سے لپٹا ملتا ہے

 

 

ڈوبنے والے جب واپس آنے کا سوچیں

ساگر بھی ساگر ہی میں ڈوبا ملتا ہے

 

حبس تلک بڑھتی ہے شجر کے تن کی خواہش

پھر کہیں جا کر موجۂ بادِ  صبا ملتا ہے

 

ہم تو اُسی پتھر سے لپٹ کر سو جاتے ہیں

جس کے پاس اک خواب کا پھول کھلا ملتا ہے

 

تم کو کسی سے کیا، تم تو منزل والے ہو

راہ میں گر کوئی بھُولا بھٹکا ملتا ہے

 

رات کو جس بوچھاڑ سے ڈر کر تم نہیں آتے

دن بھی اُسی بارش میں مجھے بھیگا ملتا ہے

 

 

تن پر اس کی روشنی آنکھوں میں اس کی لَو

یہ جو دل کے اندر اک شعلہ ملتا ہے

 

دور زمیں سے ایک نئی منزل کا بلاوا

دور افق پر کوئی ستارہ سا ملتا ہے

 

میں تو اندھیرے میں کھو جاتی سایا بن کر

سامنے تیرے غم کا دِیا جلتا ملتا ہے

 

دل کو بھی ہلکی سی کسک مل جائے جیسے

لمسِ  ہوا سے گُل کو چاکِ  قبا ملتا ہے

 

دھوپ کی صورت کوئی اُتر آتا ہے زمیں پر

اُس کے بعد یہ تن کندن جیسا ملتا ہے

 

ہم ناداں ہر روز نئی امید لگائیں

اور اُدھر سے روز نیا دھوکا ملتا ہے

 

باغِ  عدن سے باغِ  جہاں تک آتے آتے

ایک عجب حیرانی کا قریہ ملتا ہے

 

پہلے ہم دنیا سے ہاتھ چھُڑا لیتے ہیں

پھر دروازۂ شہرِ کمال کھُلا ملتا ہے

٭٭٭

 

 

 

 

 

عشق

 

اک صدائے خواب

نا دیدہ جہانوں سے گزر کر آ رہی ہے

دھوپ جیسی چاندنی

کالی زمینوں کے بدن چمکا رہی ہے

فصلِ گل آنے سے پہلے کوئی خوشبو

سب زمانوں کے مقدس پیرہن چمکا رہی ہے

آگ جیسی کوئی حیرت ناک شے

دل کے نہاں خانوں میں جلتی جا رہی ہے

٭٭٭

 

 

 

 

 غروبِ  شام سے پہلے پلٹ کر اپنے گھر آئے

ہم اُس شہرِ  مراسم سے ذرا جلدی گزر آئے

 

ابھی درپیش کالی نیند کی لمبی مسافت ہے

نجانے کون سی منزل پہ خوابِ خوش نظر آئے

 

ہوائیں مختلف تھیں ، آسماں کا رنگ بدلا تھا

گئے سب حوصلے جب تک ہمارے بال و پر آئے

 

افق کے ساتھ لگ کر جانے کب سے منتظر ہے یہ

چلو دروازۂ شب کھول دیں تاکہ سَحر آئے

 

جنہیں بچپن میں پیچھے چھوڑ کر آئے تھے ،رستے میں

وہی گلیاں ، وہی کوچے ، وہی دیوار و در آئے

 

تری چارہ گری کے بعد تن تو رُو بصحت تھا

مگر دل پر نشانِ  ہجر جانے کیوں ابھر آئے

 

نہیں بھولے سے آتی اک کرن اس طالعِ  غم میں

اگرچہ حوت میں ہم کو کبھی زہرہ نظر آئے

 

کبھی پتھر کی صورت اور کبھی دیوار کی صورت

ہم ایسے لوگ، اپنے راستے میں عمر بھر آئے

 

زمیں سے ہو کے یہ آنکھیں فلک کی سمت اٹھتی ہیں

کسی جانب سے تو یارب! کوئی اچھی خبر آئے

٭٭٭

 

 

 

 

 کھل رہی ہے رفتہ رفتہ زلف شام یاد پھر

ڈوبتا ہے اس اندھیرے میں دل برباد پھر

 

اپنے اپنے انتخاب آرزو کی بات ہے

شاد ہوتا ہے کوئی دل اور کوئی ناشاد پھر

 

گہرے نیلے جنگلوں سے گھوم کر نکلے تو تھا

سامنے اک قریۂ بے خواب و بے آباد پھر

 

رَم بہت کرنے لگا ہے یہ غزالِ  آرزو

پھیلتا جاتا ہے آنکھوں میں وہ دشتِ  یاد پھر

 

اس قدر نالاں وہ گر الفت کی یکسانی سے ہے

کس لیے ہوتا نہیں اس قید سے آزاد پھر

 

سیم سی اک پھیلتی جاتی ہے دیواروں پہ کیوں

بھر گئی تعبیر سے کیا خواب کی بنیاد پھر

 

بات تک کرنے کو گر اس شہر میں کوئی نہیں

کون سنتا ہے دلِ  بیمار کی فریاد پھر

 

نیند میں چلنے لگی بھیگی ہوئی ٹھنڈی ہَوا

خواب کے ہمراہ آئی اک پرانی یاد پھر

 

تن کو چھوتی ہیں کچھ ایسے فروری کی بارشیں

یہ خرابہ ہونے والا ہے ابھی آباد پھر

 

سامنے ہے پھر سے رنگا رنگ پھولوں کی بہار

دے رہی ہوں اپنے باغِ  آرزو کو داد پھر

٭٭٭

 

 

بس ایک خوابِ  بہار

 

 

اتر کر آئی ہے آنکھوں تلک بہار کی شام

نظر بچا کے شب و روز کے تسلسل سے

 

وہ موسموں کا گزرگاہِ  زندگی پہ سفر

ہَوائے یاد کی ویران بستیوں کی طرف

کہ جن کی راہ میں دیوار تھی عجب کوئی

وہ سنگ و خشت کی دیوار

یا ارادے کی

 

وہ راستے ، جو فقط راستوں کے سائے تھے

وہ واہموں کی حدیں ۔۔۔ مضطرب ارادوں پر

کہیں سرکتی، کسی سمت سرسراتی ہوئی

وہ شاخ شاخ پہ مثلِ  خزاں برستی ہوئی

وہ پھول پھول کے دل کو

بہت ڈراتی ہوئی

 

خزاں سے عہد نہ تھا اور موسمِ  گل سے

کبھی ملن نہ ہوا، وعدۂ وفا نہ ہوا

وہ موسموں کی حکایت کتابِ  دل میں رہی

فسانہ اہلِ  چمن کا کہیں لکھا نہ گیا

کبھی پڑھا نہ گیا اور کبھی سنا نہ گیا

زمیں جو پاؤں کے نیچے ، زمیں کا دھوکا تھی

کبھی ہری نہ ہوئی ۔۔۔ دُوب لہلہائی نہیں

مسافتوں کے سروں پر کھڑے یہ شاہ بلوط

جو اب سیاہ ہوئے انتظارِ  ہستی میں

 

ہَوا کے دوش پر آتا نہیں کوئی پیغام

نگاہِ  ہجر میں کھلتا ہے صرف ایک گلاب

بس ایک خواب

فقط ایک خوابِ عشق مآب

مہ و ستارہ ۔۔۔ گل و برگ ۔۔۔ طائر و اشجار

صدائے خواب پہ ‘ لبیک’ کہہ رہے ہیں تمام

اتر کر آئی ہے آنکھوں تلک

بہار کی شام

٭٭٭

 

 

 

 

سحرِ سامری

 

 

آسماں گنگ

زمیں ششدر ہے

زندگی اپنے گمانوں کی اسیر

مجھ سے خود اپنا پتہ پوچھتی ہے

 

اس سیہ خانۂ دوراں میں کہیں

نور کی کوئی کرن ہے کہ نہیں

ہے کسی چشمِ  مروت میں دھڑکتا امکاں

یا کسی دل میں کوئی جائے اماں

پاؤں کے نیچے سرکتی ہوئی ریت

ایک دلدل میں بدلتی ہوئی ریت

 

کوئی محرم، کوئی ہمدم، کوئی دوست

کون موجود ہے ۔۔۔ کیا نا موجود

اجنبی چہروں کا سیلاب ہے اور آوازیں

جیسے اک خوابِ  پریشاں میں کوئی خواب ہے

اور آوازیں

دور سے نام مرا لیتی ہیں اور ہنستی ہیں

کوئی تضحیک ہے ۔۔۔ یا خوف ہے ۔۔۔ یا وہم ہے یہ

اپنی آنکھوں میں سیہ سایا لئے

اور ہونٹوں پہ طلسمی منتر

رسیاں پھینک رہا ہے کوئی

سانپ بنتے ہیں مرے چاروں طرف

تیز ہوتی ہے ادھر ورد کی لے

کچھ لہو رنگ شرارے سے اچھلتے ہیں

مرے چاروں طرف

 

میرے کِیسے میں نہیں ردِ  طلسم

میرے ہونٹوں پہ کوئی اسم نہیں

زندگی صرف گمانوں کی اسیر

آسماں گنگ ہے

ششدر ہے زمیں

٭٭٭

 

 

 

 

 عشق دریا ہے تو آئے لبِ  ساحل آئے

موج کی طرح اٹھے اور اسے مل آئے

 

دل مسافر نہیں ، مشتاقِ  سفر ہے ایسا

ڈر ہی جائے جو سوالِ  رہِ  منزل آئے

 

ایسے اتری ہے چمن زار میں اک ساعتِ  سبز

جیسے نقاشِ گُل و نقش گرِ  گِل آئے

 

پُر سکوں ہے یہ بدن سرد سمندر کی طرح

ہاں ، اگر سامنے کوئی مہِ کامل آئے

 

شہر دل والوں سے خالی تو نہیں ہے ، مانا

کوئی اس عشقِ جہاں تاب کے قابل آئے

 

سخت مشکل ہے دل و جاں کو سنبھالے رکھنا

روبرو کوئی مسیحا نہیں ، قاتل آئے

 

نیند میں گھنٹیاں بجتی ہیں ، غبار اٹھتا ہے

جیسے اس دشت میں اک خواب کا محمل آئے

 

جس کی غفلت سے اٹھائے ہیں الم سینکڑوں بار

پھر اسی چشمِ فسوں ساز پہ یہ دل آئے

 

بات کرتے ہیں تو آواز جھلس جاتی ہے

کون ان شعلہ مزاجوں کے مقابل آئے

 

ہفت آئینہ تھا یہ خانۂ دنیا لیکن

زندگی کرنے کو اکثر یہاں غافل آئے

٭٭٭

 

 

 

 

 

 موسمِ  زرد کا ٹوٹا ہے حصار آخرِ کار

چشمِ  خوں رنگ نے دکھلائی بہار آخرِ کار

 

کس طرح لوگ مگر منزلِ  جاں پاتے ہیں

ہم ہوئے رستۂ ہستی کا غبار آخرِ  کار

 

عکس آئینے پہ آئینہ ہوا عکس پہ دنگ

ایک سے لگنے لگے نقش و نگار آخرِ کار

 

خواب، مہتاب، ستارہ کہ مرے دل کی صدا

کون اترے گا تری رات کے پار آخرِ کار

 

راہ کے دونوں طرف پیڑ کھڑے تھے حیراں

سامنے تھا ۔ ۔ ۔ وہ تمنا کا دیار آخرِ کار

 

گاہے گاہے ہی سہی اٹھنے لگی چشمِ کرم

رفتہ رفتہ ملا اس جاں کو قرار آخرِ کار

 

زرد ہونے سے ذرا قبل کھلا شاخ پہ پھول

گلشنِ جاں میں چلی بادِ  بہار آخرِ کار

 

دوستوں کا یہی احساں ہے یہی مجھ پہ ستم

جان لی تو نے مری حالتِ  زار آخرِ کار

 

دن کے ساتھ آئے گا تلخابِ  غمِ دوراں بھی

ٹوٹ ہی جائے گا اس شب کا خمار آخرِ کار

 

 

ہم نے پتھر کی طرح آنکھ میں رکھے آنسو

بے حسی، تجھ پہ ہے اب دار و مدار آخرِ کار

 

کچھ ضروری تو نہیں منزلِ مقصود ملے

ختم ہو جائے اگر راہگزار آخرِ کار

 

موج کے ساتھ کوئی عکس بہا جاتا ہے

چشمِ حیراں بھی چلی جائے گی پار آخرِ کار

 

بے دلی، دل سے لپٹ جاتی ہے پہلے آ کر

بنتا جاتا ہے مرے گِرد حصار آخرِ کار

 

صبح کو بھول گئے جیسے ستاروں کا حساب

ترک کر دینا ہے زخموں کا شمار آخرِ کار

 

عندلیبِ  چمنِ  عشق جو ٹھہرا تھا یہ دل

اک فسانے سے بنے ایک ہزار آخرِ کار

 

اس قدر محو رکھا چشمِ  محبت نے کہ بس

ہم بھی کہلانے لگے خواب نگار، آخرِ کار

٭٭٭

 

 

 

 

 جنموں کی تقدیر لے کر

 

 

کئی سرد جنموں سے اک عمر لے کر

کئی زرد عمروں سے جاگی ہوئی ایک عورت

جو بے خوابیوں سے فقط خواب بُنتی ہے

اور وصل کے گلستاں سے فقط ہجر چُنتی ہے

دھندلائے رستوں پہ ۔۔۔ بے حد کی جانب رواں

موتیوں کی طرح اشک ۔۔۔ سب راستوں پر گراتے ہوئے

اپنی غزلائی آنکھوں سے

پیچھے پلٹ کر نہیں دیکھتی

 

راستوں کے دھندلکوں میں بہتا ہوا وقت

شہر اور جنگل کی وحشت

زمیں پر ستاروں کے سائے

فلک پر کھلے پھول

ساری فضاؤں میں یادوں کی خوشبو

زمانے کی آنکھوں میں حیرت

بہت پُر ستائش نگاہیں

کئی گرم بانہیں ۔۔۔ کئی سرد آہیں

 

مناظر کسی فلم کی طرح ۔۔۔ تیزی سے

آنکھوں کے پردے پہ چلتے ہیں

ساری زمیں اس کے سوئے ہوئے نرم قدموں کے نیچے

کہیں دور تک بہتی جاتی ہے

اور ذات کے اسمِ خاموش سے

اک خموشی کے متروکہ در کھلتے جاتے ہیں

رستوں میں رستے بدلتے ہیں

سب حادثے ۔۔۔ اپنی باری سے آتے ہیں ۔۔۔ جاتے ہیں

 

اک عمر میں ، کتنے جنموں کی تقدیر لے کر

نگاہوں میں ہستی کی تصویر لے کر

وصالِ مکمل کی تعبیر لے کر

یہ عورت

اسی ہجر کے بے نہایت میں کھو جائے گی

جاگتے جاگتے ۔۔۔ خواب ہو جائے گی

٭٭٭

 

 

 

 

 ALPHA STATE

 

 

ہمیشہ آنکھ لگتے ہی میں اپنے جسم سے باہر نکل کر بھاگتی ہوں ۔۔۔۔ خوف کے جنگل میں ۔۔ لمبی دھوپ کے صحراؤں میں ۔۔ دریاؤں میں ۔۔ دریا کے دہشت ناک گہرے ساحلوں میں ۔۔ اجنبی دیسوں میں ۔۔ ویراں شہر کی سڑکوں پہ ۔۔ پر اسرار گلیوں میں ۔۔ پرانے اور بوسیدہ مکانوں میں ۔۔ بہت سایا زدہ کمروں ۔۔ عجب آسیب والی سیڑھیوں میں ۔۔ نیلے ، پیلے ،لال چہروں میں ۔۔ سروں سے عاری جسموں میں ۔۔ ہر اک جانب سمٹتے پھیلتے سایوں میں ۔۔ اور سایوں سے سانپوں میں بدلتے دشمنوں میں جا نکلتی ہوں ۔۔۔۔ بہت ڈرتی ہوں ۔۔ ڈر کر چیختی ہوں ۔۔ واپس آتی ہوں ۔۔ اور اپنے جسم میں چھپ کر ہمیشہ جاگتی ہوں ۔۔۔۔۔

————————————-

الفا سٹیٹ ۔۔ نفسیات کی رُو سے وہ ذہنی کیفیت، جس میں انسان ڈراؤنے خواب دیکھتا ہے یا خود کو کسی غیر مرئی طاقت کے زیر اثر محسوس کرتا ہے ۔

٭٭٭

 

 

 

 

 تم مرے دل کی خلش ہو۔۔۔ لیکن

 

 

تم مرے دل کی خلش ہو لیکن

دور ہو جاؤ ۔۔ یہ منظور کہاں

 

ایک سایا، جو کسی سائے سے گہرا بھی نہیں

جسم بھی جس کا نہیں ، دل نہیں ، چہرا بھی نہیں

خال و خد جس کے مجھے ازبر ہیں ،

دید ۔۔۔ جس طرح کوئی دیکھتا ہو

راستہ، شیشے کی دیوار کے پار

گفتگو ۔۔۔ جیسے کوئی کرتا ہو

اپنے ہی کان میں اک سرگوشی

لفظ ۔۔۔ جیسے کہ ہو نظمائی ہوئی خاموشی

 

یہ تعلق ہے بس اک نقش کہ جو ریت پہ کھینچا جائے

بادِ  حیراں سے اڑانے کے لیے

موجۂ غم سے مٹانے کے لیے

 

دشت اس دل کی طرح اپنی ہی تنہائی میں یوں سمٹا ہے

جیسے پھیلا تو فلک ٹوٹ پڑے گا اس پر

کارواں کوئی نہ گزرا کسی منزل کی طرف

گھنٹیاں بجتی رہیں ۔۔۔ نیند کی خاموشی میں

 

شام ہر روز اترتی ہے سرِ جادۂ جاں

وہی اک کہنہ اداسی لے کر

زندگی ڈوبتی جاتی ہے کسی سرد اندھیرے میں ۔۔ مگر

جگمگاتی ہے بہت دور کسی گوشے میں

ایک چھوٹی سی تمنا کی کرن

سائے کا لمس ہے اس دل کی لگن

 

تم مرے ٹوٹے ہوئے خواب کا اک ذرہ ہو

جو مری آنکھ میں چبھتا ہے تو خوں بہتا ہے

پھر بھی کھو جاؤ یہ منظور کہاں

تم مرے دل کی خلش ہو لیکن ۔۔۔۔۔

٭٭٭

 

 

 

 

یہ مسافر

 

 

عمر کی سانولی سہ پہر کے کنارے

گزرتے ہوئے وقت کے اِس نشیبی سرے پر

مسافر ۔۔۔ بہت سخت حیراں کھڑا ہے

کہ جس طرح بے انت رستے نے

اس کے قدم لے لیے ہیں

 

ہوا کی عمودی گزرگاہ پر ایک پتھر کی صورت

کبھی آسماں پر سیاہی میں ہلکی سی سرخی کے

اس میل کو دیکھتا ہے

کبھی دور تک دھوپ اور چھاؤں کے

چمپئی کھیل کو دیکھتا ہے

کبھی ہمکلامی کی خواہش سے بیتاب

اور دوسرے پَل ۔۔۔ بس اک لمسِ  بے ساختہ کا

حسیں خواب

 

گہری خموشی کے بے انت میں

زرد تنہائی میں

اور عمروں پہ پھیلی ہوئی ۔۔۔ بے تمنائی میں

سادہ دل ۔۔ سادہ رُو ۔۔ تشنۂ آرزو ۔۔۔ اک مسافر

جو عمرِ گریزاں کی اِس سہ پہر کے کنارے

گزرتے ہوئے وقت کے اِس نشیبی سرے پر

بہت خوش تمنا کھڑا ہے

اگر دیکھ پاتا کبھی ۔۔۔ اولیں صبح کی وہ گلابی

اگر دیکھ پاتا ۔۔۔ دہکتی ہوئی دوپہر آفتابی

٭٭٭

 

 

 

 

 

 

 دوستی دشمنی ایک ہی شخص سے ، وہ ہی دلدار ہے وہ ہی قاتل مرا

چشم بے تاب ہے ، جسم بے خواب ہے ، دل تو آگے ہی تھا نیم بسمل مرا

 

سنسناہٹ سی کیسی فضاؤں میں ہے وسوسے ہیں ہواؤں کی آواز میں

تھامتی ہوں بہت روکتی ہوں بہت، ڈوبتا جا رہا ہے مگر دل مرا

 

جھاگ اڑاتی ہوئی موج در موج میں ڈوبتی اور ابھرتی ہے ناؤ مری

دور ۔ ۔ ۔ حد نظر سے ذرا فاصلے پر کہیں مسکراتا ہے ساحل مرا

 

ہمسفر! پھر بھی اچھی طرح سوچ لو، بس چراغِ تمنا مرے پاس ہے

منزلیں بھی کچھ اتنی یقینی نہیں ، راستہ بھی زیادہ ہے مشکل مرا

 

ان درختوں کے گہرے گھنے جھنڈ سے ایک رستہ نکل کر چلا اُس طرف

اک کنواں ، پھر شجر، پھر وہ پکی سڑک، پھر نظر آئے گا سنگِ منزل مرا

 

سرمئی شام کے سائے ڈھلنے کو ہیں ، تہہ بہ تہہ ابر کے پر سمٹنے کو ہیں

رات کے شبنمیں سرد رخسار پر اب چمکنے کو ہے ماہِ  کامل مرا

 

زندگی، روشنی، خواہشیں ، لذتیں چھوڑتا ہے بھلا کون کس کے لیے

کس قدر خام تھا وہ ارادہ ترا اور بھروسا تھا کس درجہ باطل مرا

 

کیا غبارِ طلب سے کوئی نعرۂ عشق، آوازِ پا تک ابھرتی نہیں

دشتِ امید میں منتظر ہیں کہیں ، سبز خیمہ مرا، سرخ محمل مرا

 

میرے بس میں کہاں خواب اور آرزو، خواب اور آرزو دسترس میں کہاں

سرسراتی ہوئی ریت پاؤں تلے اور ہواؤں کی زد پر ہے حاصل مرا

٭٭٭

 

 

 

 

 

 کون ہے یہ

 

 

ابھی اک چیخ سناٹے میں ابھری تھی

 

وہ گہری، سرد، نوکیلی،ادھوری چیخ

ویرانے میں چکراتے ہوئے

پیلی کھجوروں کے پریشاں جھنڈ میں ٹھہری تھی

اور اب تک وہیں اٹکی ہوئی ہے

کون ہے یہ ۔ ۔

کارواں سے ٹوٹ کر بھٹکا ہوا کوئی مسافر

ڈار سے بچھڑی ہوئی اک کونج ہے

یا دشت پر اتری اکیلی شام ہے

 

یا میری تنہائی؟

٭٭٭

 

 

 

 اب جو آئے ہو تو ٹھہرو مری جاں

 

 

کتنی صدیوں سے تنِ  زار تھا صحرا کی طرح

آندھیاں اتنی حوادث کی چلیں رستوں میں

دور تک ۔۔۔ دور تلک اڑنے لگی دھول ہی دھول

زرد رُو ریت سے سب مٹتے گئے نقشِ قدم

کھو گئے راستے ۔۔۔ گم ہو گیا ہر ایک سراب

بجھ گئے خاک سے سب منزلِ ہستی کے نشاں

 

اب اگر ابرِ تمنائے وفا کی صورت

تم جو آئے ہو تو ٹھہرو مری جاں

 

ایک مدت سے مرے دل کا چمن ویراں تھا

گُل نہ کھلتے تھے ۔۔۔ شجر جھوم کے لہراتے نہ تھے

کتنے خوش لحن پرندے تھے تمنا کے یہاں

وہ اداسی تھی کہ اک نغمۂ دل گاتے نہ تھے

کیا یہاں سبزۂ خوش رنگ کی ہوتی امید

اس زمیں پر تو نمو کا بھی نہیں تھا امکاں

 

اب اگر معجزۂ بادِ صبا کی صورت

تم جو آئے ہو تو ٹھہرو مری جاں

 

کتنی راتوں سے شبستانِ محبت میں یہ خاموشی تھی

اتنی تاریک خموشی کہ نہ جلتی تھی کوئی شمعِ صدا

تن فسردہ تھا بہت ۔۔۔ دل مرا تنہا تھا بہت

چشمِ حیرانی مگر دیر تلک جاگتی تھی

دیر تک جاگتی تھی ۔۔۔ خواب میں گُم رہتی تھی

 

پردۂ خواب پہ تصویر کے پیکر میں نہاں

خوشبو و روشنی و صوت و صدا کی صورت

اب تم آئے ہو تو کچھ دیر کو ٹھہرو مری جاں

 

جانتی ہوں کہ کہاں ابرِ وفا، موجِ صبا، صوت و صدا

دیر تک ایک جگہ ٹھہرے ہیں

جانتی ہوں کہ ہر اک وصلِ دلآرام کے بعد

تن پہ اُس ہجرِ ستم گر کے نشانات بہت گہرے ہیں

٭٭٭

 

 

 

 عدن

 

ہمیں اس باغ میں رہنے دیا ہوتا

وہیں آہ و فغاں کرتے

ہم اپنے نا تراشیدہ گناہوں کی معافی کے لیے

جن کو ہمارے نام پر ۔۔۔ روز ازل سوچا گیا

 

اس باغ میں سر سبز تھے ہم

پتھروں میں سنگ تھے

پھولوں میں گل تھے

طائروں میں ہم بھی طائر تھے

 

ہمیں اس نیند میں رہنے دیا ہوتا

جہاں نوزائدہ، معصوم تھے ہم

پر گنہ، ہر لذت تکمیل سے محروم تھے ہم

جسم پر ملبوس آبی تھے

مگر یہ دل حجابی تھے

تو ہم اس عالم خوابیدگی میں

نفس کی پاکیزگی میں

ساتھ تیرے ۔۔۔۔ ساتھ اپنے

ہو چکا وعدہ، وفا کرتے

فرشتوں سے زیادہ ہم ۔۔۔ تری حمد و ثنا کرتے

 

تجھے بھی یاد تو ہو گا

فرشتے جب ادب سے کہہ رہے تھے

”آپ وہ مخلوق پیدا کر رہے ہیں

جو زمیں پر شورشیں برپا کرے گی

خوں بہائے گی

 

زمیں بھی کانپتی تھی

آزمائش سے پناہیں مانگتی تھی

 

آسمانوں میں ، زمینوں میں نہاں

سب حیرتوں کو ۔۔۔ سارے رازوں کو

تو ہر اک جاننے والے سے بڑھ کر جانتا ہے

اپنی ہر اک مصلحت کو

خود ہی بہتر جانتا ہے

پھر بھی بہتر تھا

ہمیں اس قریۂ شاداب میں رہنے دیا ہوتا

وہیں ۔۔۔ اک نامکمل خواب میں

رہنے دیا ہوتا

٭٭٭

 

 

 

 

میں تمہارے فسانے میں داخل ہوئی

 

 

شام کی ملگجی روشنی

راستوں کے کناروں پہ پھیلی ہوئی تھی

فضا، زندگی کی اُداسی سے لبریز اور زرد تھی

دُور تک ایک نیلے تسلسل میں بہتی ہوئی نم ہَوا

سرد تھی

آسماں نے زمیں کی طرف سر جھُکایا نہیں تھا

ابھی اخترِ شام نے اپنا چہرہ دِکھایا نہیں تھا

 

کہ جب میں نے بیکار دنیا کے ہنگام سے اپنا دامن چھُڑایا

دلِ  مضطرب کو دِلاسا دیا

آگے جانے کی جلدی میں

جنگل پہاڑ اور دریا

کسی کو پلٹ کر نہ دیکھا

کہیں وقت کی ابتدائی حدوں پر کھڑے

اپنے پتھریلے ماضی کی جانب

بس اک الوداعی اشارہ کیا

خواب کا ہاتھ تھاما

نئے عزم سے سر کو اُونچا کیا

اور تمہارے فسانے میں داخل ہوئی

 

شام کی ملگجی روشنی راستوں کے کناروں پہ

اُس پَل تھمی رہ گئی

زندگی کی اُداسی سے لبریز ساری فضا

دم بخود

اور ہَوا اپنے پاؤں پہ جیسے جمی رہ گئی

٭٭٭

 

 

 

 MUSE

 

 

شاید اس کو ہے محبت مجھ سے

پارناسس سے اتر آتا ہے

میری آنکھوں میں سما جاتا ہے

مجھ پہ افسوں کی طرح چھاتا ہے

شام رکتا ہے کبھی۔۔۔رات ٹھہرتا ہے کبھی

نیند میں خواب کا چہرہ بن کر

جاگتے میں مرا سایا بن کر

 

دلِ  ویراں میں پری زاد سا آتا ہے کبھی

میرے ہاتھوں کو محبت سے دباتا ہے کبھی

کبھی رخسار سے رخسار لگا دیتا ہے

اپنی آنکھوں کو اک آئینہ بنا لیتا ہے

 

مجھ سے کہتا ہے کہ دیکھو ذرا اس چہرے پر

کسی محبوب کی قربت کی چمک ہو جیسے

نرم آنکھوں میں ستاروں کی دمک ہو جیسے

جیسے آتی ہو رگِ  جاں سے لہو کی یہ صدا

یا کہیں دور سے لہراتا ہو سُر بانسری کا،

 

چھیڑتا ہے کبھی بالوں کو، کبھی ہونٹوں کو

چومتا ہے کبھی پیشانی، کبھی آنکھوں کو

پھیلتا ہے مرے اطراف میں جادو کی طرح

اجنبی پھولوں کی خوشبو کی طرح

میرے پہلو سے لگے جب۔۔۔ تو لگا رہتا ہے

عاشقِ  زار کے پہلو کی طرح

 

موجۂ بادِ  صبا بن کے کبھی

میرے ملبوس کو لہراتا ہے

آنکھ بھر کر جو اسے دیکھ لوں میں

جھوم جاتا ہے ، مہک جاتا ہے

پاس رہنے کو۔۔۔بہت دیر تلک رہنے کو

آن کی آن میں بھر لیتا ہے کتنے بہروپ

کبھی دیوار پہ چغتائی کی تصویر کوئی

کبھی اس کانچ کے گلدان میں اک نرگسی پھول

کبھی روزن میں چمکتی ہوئی اک ننھی کرن

کبھی کھڑکی سے اُدھر پھیلتی۔۔۔چمکیلی دھوپ

 

دشت بن جاتا ہے ۔۔۔جنگل کبھی بن جاتا ہے

کبھی مہتاب، کبھی آب، کبھی صرف سراب

دھُند ہو جاتا ہے ۔۔۔ بادل کبھی بن جاتا ہے

میں جو چاہوں تو برستا ہے یونہی موسلا دھار

اور نہ چاہوں تو عجب عالمِ  کم شب کی طرح

دلِ  بے کل پہ اُتر آتا ہے

 

رات بھر۔۔۔ میرے سرہانے سے لگے لمپ کے ساتھ

ایک ہلکے سے اشارے سے ہے بجھتا، جلتا

کبھی اُس گوشۂ خاموش میں اک بُت کی طرح

اور کبھی وقت کی رفتار سے آگے چلتا

 

موج میں آئے تو شب بھر نہیں سونے دیتا

خود ہی بن جاتا ہے بچھڑے ہوئے ساتھی کا خیال

کیف اور درد سے ہو جاتا ہے خود ہی سیّال

مجھ کو اُس یاد میں تنہا نہیں رونے دیتا،

شوق بنتا ہے کبھی۔۔۔عشق کبھی

وصل بنتا ہے کبھی۔۔۔ہجر کبھی

دل نے کب دیکھا تھا چہرہ اِس کا

عشق تھا پہلا شناسا اِس کا

 

عشق وہ دھوم مچاتا ہوا عشق

جسم پر رنگ جماتا ہوا عشق

دل کو اک روگ لگاتا ہوا عشق

 

عشق کے سارے ستم ساتھ مرے اس نے سہے

عشق کے ہاتھ سے جو زخم لگے ۔۔۔اس نے بھرے

وصل اور ہجر کے افسانے سُنے اور کہے

ہفت اقلیم کے سب راز بتائے اس نے

الف لیلہ کے سبھی قصے سنائے اس نے ،

میری تنہائی میں الفاظ کا در باز کیا

میری پتھرائی ہوئی، ترسی ہوئی آنکھوں میں

نئی امید، نئے خواب کا آغاز کیا

 

خواب، خواہش سے چمکتا ہوا خواب

خواب، رنگوں سے مہکتا ہوا خواب

میری پلکوں سے ڈھلکتا ہوا خواب

 

خواب کے پیچھے مرے ساتھ بہت بھاگتا ہے

میں جو سو جاؤں تو یہ دیر تلک جاگتا ہے

دید کی طرح نگاہوں میں سمٹنے والا

غمِ  جاناں کی طرح دل سے لپٹنے والا

 

شاید اِس کو ہے محبت مجھ سے

شوق بن جاتا ہے یہ، عشق میں ڈھل جاتا ہے

پھر مری زیست کا مفہوم بدل جاتا ہے ،

اپنے پہلو سے نہیں پَل کو بھی ہِلنے دیتا

کارِ  دنیا۔۔۔۔غمِ  دنیا کا بھلا ذکر ہی کیا

مجھ کو مجھ سے نہیں ملنے دیتا

 

میرے قالب میں سما جاتا ہے

میرے آئینے میں آ جاتا ہے

چشمِ  حیران کو غزلاتے ہوئے

شاعری مجھ کو بنا جاتا ہے !

_________________________________________________

میوز۔۔۔ یونانی اساطیر کے مطابق زیوس کی نو بیٹیاں ، جن میں ہر ایک کسی علم اور فن کی دیوی ہے ۔ یہ لفظ انگریزی میں شاعرانہ الہام کے طور پر استعمال ہوتا ہے ، اسی لیے اسے صیغۂ تذکیر میں استعمال کیا ہے ۔

پارناسس۔۔۔ ایک اساطیری پہاڑ، جس پر یہ نو دیویاں رہتی ہیں

٭٭٭

 

 

 

 

 

 

سالگرہ

 

 

 

کہیں پناہ نہیں دشتِ  رائگانی میں

عجیب موڑ ہے یہ عمر کی کہانی میں

 

خلا ہے چاروں طرف ۔۔۔ آسماں تلک ہے خلا

زمین پاؤں کے نیچے سے جانے کب نکلی

نجانے کب سے خلا آ گیا ہے زیرِ  قدم

فلک تو خیر کبھی دوست تھا ۔۔۔ نہ ہو گا کبھی

زمیں کہاں ہے ، کہاں ہے زمیں ، کہاں ہے زمیں ؟

 

اندھیرا چاروں طرف ۔۔۔ آسماں تلک پھیلا

اندھیرا پاؤں کے نیچے ۔۔۔ اندھیر آنکھوں میں

کہاں ہے دھوپ، کہاں چاندنی، چراغ کی لَو

وہ ملگجا سا اجالا کوئی ستاروں کا

جو رات بھر کو سہارا ہو راہداروں کا

 

کہاں ہے روشنی ۔۔۔ اِن منتظر مکانوں کے

اداس شیشوں سے چَھنتی ہوئی ۔۔۔ بکھرتی ہوئی

اداس راہگزر، ہر مکاں ، مکین اداس

اداس سارا نگر، آسماں ، زمین اداس

ہنسی کہاں ہے ، کہاں ہے ہنسی، کہاں ہے ہنسی؟

 

کرن کی طرح چمکتی نہیں ہنسی کوئی

فضا کے دل میں دھڑکتی نہیں ہنسی کوئی

 

ملال چاروں طرف ۔۔۔۔ آسماں تلک ہے ملال

ملال، پاؤں کے نیچے کہ جس پہ ٹھہرا ہے

وجود ۔۔۔ سائے کے مانند، وہم کی صورت

خوشی کہاں ہے ، کہاں ہے خوشی، کہاں ہے خوشی؟

 

سزا ہے چاروں طرف ۔۔۔ آسماں تلک ہے سزا

سزائے جرم نہیں یہ ۔۔۔ سزا ہے ، ہونے کی

سزا ہے پاؤں کے نیچے کہ بے زمینی ہے

یہ زندگی ۔۔۔ جو کبھی زندگی تو تھی ہی نہیں

پر اب تو صرف گماں ، صرف بے یقینی ہے

یقیں کہاں ہے ، کہاں ہے یقیں ، کہاں ہے یقیں ؟

 

نہ کوئی دوست، نہ ہمدم، نہ آشنا کوئی

نہ بے وفا ہے کوئی اور نہ با وفا کوئی

 

کوئی بھی راہ نہیں ۔۔۔ دشتِ  رائگانی میں

کہیں بھی موڑ نہیں ، ہجر کی کہانی میں

گرہ اک اور لگی ۔۔۔ رشتۂ زمانی میں

٭٭٭

 

 

 

 

 ہوائیں

 

ہوائیں مری زندگی کو اڑائے لیے جا رہی ہیں

ہوائیں مرے روز و شب کو

خزاں دیدہ پتوں کی صورت

اڑائے لیے جا رہی ہیں

 

مجھے روز و شب کی ضرورت نہیں ہے

مرے روز و شب میں سیاہی ہے

زردی ہے ، تنہائی ہے

روشنی سے تہی ملگجی صبحیں

لمبی دوپہریں

سلگتی ہوئی چند شامیں

بہت سرد اور زرد راتیں

 

مجھے زندگی سے محبت نہیں ہے

مری زندگی میں بہت روز و شب ہیں

بہت روز و شب سے بنے سال ہیں

سالہا سال ہیں

دشت اور بحر ہیں

چند برسوں پہ پھیلے ہوئے دشت

جن میں کہیں اک شجر کا سہارا نہیں

چند برسوں پہ پھیلے ہوئے بحر

جن کا کوئی بھی کنارہ نہیں

زندگی ۔۔۔۔ جس کے آغاز و انجام پر

میری خواہش کا کوئی اجارہ نہیں

 

روز و شب سے بنی زندگی

جس میں اک یاد ہے

جس میں اک خواب ہے

یاد سے روز و شب

خواب سے زندگی

خواہش آخری

 

خواہش آخری کو ہوائیں اڑائے لیے جا رہی ہیں

مری زندگی کو

ہوائیں اڑائے لیے جا رہی ہیں

٭٭٭

 

 

 

 

 کوئی تالی بجاتا ہے

 

ہماری زندگی کو اب خوشی سے خوف آتا ہے

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

 

محل میں سینکڑوں کمرے ہیں

جن کی بیسیوں رہداریاں ہیں

بیسیوں رہداریاں ۔۔۔ پر پیچ ۔۔۔ پر اسرار،

خوشیاں جن میں رنگا رنگ

چمکیلے ، بھڑکتے پیرہن پہنے ، گزرتی ہیں

بہت اِترا کے چلتی، جھانجھنیں جھنکاتی

اور بے وجہ اکثر کھلکھلاتی

غم زدوں کا منہ چڑاتی

 

غم، کسی ویران حجرے میں

بہت سنسان گوشے میں

بڑی بیچارگی سے منہ چھپاتا ہے ،

محل میں اب کسی کو

اس سے ملنی کی ضرورت ہی نہیں ہے

سچ یہ ہے اس کو

محل میں پاؤں رکھنے کی اجازت ہی نہیں ہے

 

زندگی

بوسیدہ کپڑوں میں جواں تن کو چھپائے

شہر کی پر شور سڑکوں سے گزرتی ہے

پھٹے جوتوں میں اس کے پاؤں جلتے ہیں

گلابی گال ۔۔۔ لمبی دھوپ کی یکساں تمازت سے

پگھلتے ہیں ،

رفاقت کے لیے ترسی ہوئی ہے زندگی

منزل سے ہے ناآشنا

ہونے نہ ہونے کی ادھوری کشمکش میں مبتلا

 

غم، راستے پر زندگی کو دیکھتا ہے

دیکھتا رہتا ہے ۔۔۔۔۔

آخر زندگی پلکیں اٹھاتی ہے

محبت کے لیے ترسا ہوا غم، مسکراتا ہے

محل کے اک جھروکے سے کوئی تالی بجاتا ہے

٭٭٭

 

 

 

 باغ

 

یونہی جھانکا تھا روشنی نے ابھی

باغ میں دور تک اندھیرا تھا

 

بادلوں پر بنا ہوا تھا باغ

باغ میں وہم کے تھے سب اشجار

باغ میں تھے گماں کے سارے پھول

دھند سی راستوں پہ چھائی تھی

اور رستوں کا کچھ نہیں تھا سراغ

 

شرق اور غرب یا شمال و جنوب

کوئی ملتا نہ تھا طلوع و غروب

کس طرف آسماں کدھر ہے زمیں

دیکھنے والا کوئی تھا ہی نہیں

باغ میں دور تک اندھیرا تھا

 

یونہی گزرا ہوا کا اک جھونکا

یا پرندے کی پھڑپھڑاہٹ سے

پانیوں میں ہوئی کوئی ہلچل

یا فرشتے کی نرم آہٹ سے

چونک کر دیکھا اک کلی نے ابھی

 

خاک کی منجمد نگاہوں پر

خواب روشن کیا کسی نے ابھی

باغ کے بے پنہ اندھیرے میں

آنکھ کھولی ہے زندگی نے ابھی

٭٭٭

 

 

 

 

 

 بارشوں کی نظمیں

 

 

                 ابھی ایک پَل میں

 

یہ ساری خرابی بس اک دم ہوئی ہے

ابھی پڑھتے پڑھتے

ورق پر ذرا روشنی کم ہوئی ہے

نگاہیں اٹھا کر جو دیکھا

تو کھڑکی سے باہر ۔۔۔ بہت گہرا بادل گھرا ہے

 

یقیں ہی نہیں آ رہا

دھوپ کے چمپئی ہاتھ

ابھی اس گلابی کگر پر دھرے تھے

 

                 عجب نیند تھی

 

عجب نیند تھی ۔۔۔ ہم تو سوتے رہے

اور کھڑکی سے باہر بہت گہرا، کالا، گھنا، تند بادل

برستا رہا

 

اور فلک سے زمیں تک ہر اک چیز کو

ہر شجر کو۔ حجر کو، عمارت کو، میدان کو

راستوں کو، پرندوں کو، پتوں کو، پھولوں کو

یک ساں شرابور کرتا رہا

 

ساری گلیوں میں بھیگے ہوئے لوگ

اپنے گھروں کی طرف ۔۔۔ تیز قدموں سے چلتے رہے

سارے صحنوں میں پُر شور پرنالے گرتے رہے

چھت پہ بوندوں کی ٹپ ٹپ ۔۔۔ لگاتار فریاد کرتی رہی

تیز جھونکوں سے سارے ہی دروازے بجتے رہے

 

بار بار آتی جاتی ہوئی برقی رَو سے

سبھی بلب بجھتے رہے اور جلتے رہے

 

بند آنکھوں میں خوابوں کے آوارہ ٹکڑے

بکھرتے ، پریشان ہوتے رہے

ایسے عالم میں بھی دیر تک

ہم تو سوتے رہے

 

 

 

                 بارشوں کے بعد

 

بارشوں کے بعد

کالا آسماں خاموش تھا

گہری ہری گیلی زمیں خاموش تھی

اور بھیگی بھیگی دھوپ میں

اُس باغ کے سارے شجر خاموش تھے

 

اُس باغ میں پھیلا ہوا

وہ دن بھی

سر سے پاؤں تک بھیگا ہوا تھا

بارشوں کے بعد کی ٹھنڈی اداسی میں

چنبیلی کی بہت ہی تیز خوشبو کی طرح

اک یاد تھی ۔۔۔ جو دل کو شعلاتے ہوئے

تن سے لپٹتی جا رہی تھی

 

تن بہت خاموش تھا ۔۔۔ اور یاد میں

لپٹا ہوا تھا

تن، جو اپنی آگ میں بھیگا ہوا تھا

 

                تم اگر آؤ

 

تم اگر بارش کے فوراً بعد مجھ سے ملنے آؤ

روشنی کو ساتھ لے آنا

میں اپنے خواب پر جھُکتے گھنے بادل کے گہرے سائے میں

جل کر چمکنا چاہتی ہوں

 

تازگی کو ساتھ لے آنا

میں اپنے جسم کے دیوار و در پر چھائے

بوجھل حَبس میں

کھِل کر مہکنا چاہتی ہوں

 

زندگی کو ساتھ لے آنا

میں اپنی آنکھ کی ہلکی نمی میں

دل کی ویرانی میں

اس پیکر میں ڈھلنا چاہتی ہوں

 

تم اگر بارش کے فوراً بعد مجھ سے ملنے آؤ

عشق کی دیوانگی کو، اپنے پن کی سرخوشی کو، بے خودی کو

شاعری کو

ساتھ لے آنا

٭٭٭

 

 

 

 

 اُس کا شکر ہے

 

جس نے دُور سے اٹھتی آندھی کو اک ٹھہرے گہرے بادل کے سینے سے ٹکرایا

جس نے مدت سے افسردہ خاک آلود درختوں کو ٹھنڈے پانی سے نہلایا

جس نے دھوپ سے جلتی آنکھوں پر خوابوں کی اک چادر سی پھیلائی

جس نے تپتے تن کو بارش میں گھلتی مٹی کی سوندھی خوشبو دی

٭٭٭

 

ِ

 

 

چراغ ہو گئے ہیں ہم

 

 

ہوا کے ہاتھ پر چراغ رکھ دیا

تو آسماں تلک فضا میں ۔۔۔ نور کی کوئی لکیر بن گئی

مگر نگاہ کو زمیں پہ راستہ نہیں ملا

 

نگاہ سے نگاہ تک

زمیں کے سارے راستوں پہ تیرگی جمی رہی

سفر کی اور ہم سفر کی آرزو

رفاقتوں کی نا شناس دھند میں تھمی رہی

 

وہ خواب کا چراغ تھا

جو گہرے کالے جنگلوں کی گود میں

چھپی ہوئی، ڈری ہوئی، اکیلی رات کے لیے

جلا رہا

 

وہ یاد کا چراغ تھا

جو دور کے کسی حسیں دیار میں

بسے ہوئے کسی رفیق کے لیے ۔۔۔ ہوا کے دوش پر رکھا

تو پھر سدا رکھا رہا

 

ڈری ہوئی سیہ شبوں کے نام پر

رفاقتوں ، محبتوں کے نام پر

بہت چراغ راہ میں رکھے گئے

کئی بجھے ۔۔۔

مگر بہت سے جل رہے ہیں آج تک

 

 

بہت سے لوگ اپنے اپنے راستوں پہ جا چکے

بہت سے لوگ اپنی اپنی منزلوں کو پا چکے

ہم اپنے سائے کی طرح

ہم اپنی یاد کی طرح

وہیں کھڑے ہیں آج تک

٭٭٭

 

 

 

 

 ہمت مرا دل جو کھو رہا ہے

یہ جسم بھی سرد ہو رہا ہے

 

دشمن ہے مگر یہ کیسے کہہ دوں

کچھ روز وہ دوست تو رہا ہے

 

کیا رنج ہے جس کو اوڑھ کر دل

پہلو میں خموش سو رہا ہے

 

کالک تو نصیب پر لگی تھی

معصوم ہے چہرہ دھو رہا ہے

 

کیوں بھیگ رہی ہے رات میری

کیا کوئی کہیں پہ رو رہا ہے

 

اک خواب ہے جو امید کا بیج

پھر آنکھ میں میری بو رہا ہے

 

پھر خالق باد و آب و گل کا

کونپل میں ظہور ہو رہا ہے

 

اک آہ کے ساتھ جاگ اٹھے گا

اس خاک میں شعلہ سو رہا ہے

٭٭٭

 

 

 

 

 

 گو سایۂ دیں پناہ میں ہوں

زندہ تو خود اپنی آہ میں ہوں

 

اُس منزلِ  خواب کی طلب میں

مدت سے فریبِ  راہ میں ہوں

 

کیا وہ بھی مرا ہی منتظر ہے

اک عمر سے جس کی چاہ میں ہوں

 

باہر تو لگا ہے سنگِ  مر مر

میں دفن مگر سیاہ میں ہوں

 

پھر شاخ پہ مجھ کو پھوٹنا ہے

غلطاں ابھی خاک و کاہ میں ہوں

 

غم دینے کو تو نے چُن لیا ہے

خوش ہوں کہ تری نگاہ میں ہوں

 

کیسے تری حیرتی نہ ٹھہروں

گُم، انجم و مہر و ماہ میں ہوں

 

جو عشق مثال بن چکا ہے

اُس منزلِ  غم کی راہ میں ہوں

٭٭٭

 

 

 

 

 

 اب پھول چنیں گے کیا چمن سے

تو مجھ سے خفا، میں اپنے من سے

 

وہ وقت کہ پہلی بار دل نے

دیکھا تھا تجھے بڑی لگن سے

 

جب چاند کی اشرفی گری تھی

اک رات کی طشتری میں چَھن سے

 

چہرے پہ مرے جو روشنی تھی

تھی تیری نگاہ کی کرن سے

 

خوشبو مجھے آ رہی تھی تیری

اپنے ہی لباس اور تن سے

 

رہتے تھے ہم ایک دوسرے میں

سرشار سے اور مگن مگن سے

 

یہ زندگی اب گزر رہی ہے

کن زرد اداسیوں کے بن سے

 

کیا عشق تھا، جس کے قصّے اب تک

دہراتے ہیں لوگ اک جلن سے

٭٭٭

 

 

 

 

 اک شمعِ کمالِ  سر خوشی ہوں

اور اپنی خوشی سے جل رہی ہوں

 

ہوں نیند کی کیفیت میں گویا

گر بات کرو تو جاگتی ہوں

 

رستے میں پڑی ہوں روز و شب کے

کس شاخ سے ٹوٹ کر گری ہوں

 

پتھر ہی بنا لیا ہے خود کو

پتھر کے تلے اگر دبی ہوں

 

کیا آگ مجھے جلا رہی ہے

کس خاک کی مشت سے بنی ہوں

 

آندھی کی لپیٹ میں بدن ہے

اور روح میں اپنی گونجتی ہوں

 

ہوں موت سے مستعار شاید

ہونے کو تو ایک زندگی ہوں

 

معصوم، فرشتے اور پیمبر

اور میں تو فقط اک آدمی ہوں

 

تنہائی، خداؤں کا مقدر

میں تیرے وصال سے بڑی ہوں

٭٭٭

 

 

 

 

یارب! لبِ  خموش کو ایسا جمال دے

جو گفتگو کے سارے ہی لہجے اجال دے

 

سوزِ  درونِ  قلب کو اتنا کمال دے

جو مجھ کو ایک شمع کے قالب میں ڈھال دے

 

پردے ہٹا، دکھا دے تجلّی سے شش جہات

پھر مطمئن وجود کو روحِ  غزال دے

 

وہ خواب مرحمت ہو کہ آنکھیں چمک اٹھیں

وہ سر خوشی عطا ہو کہ دنیا مثال دے

 

وہ حرف لکھ سکوں کہ بنے حرفِ  پُر اثر

اک کام کر سکوں تو مجھے گر مجال دے

 

میں اپنی شاعری کے لیے آئنہ بنوں

راحت نہیں ، تو مجھ کو بقائے ملال دے

 

تیرے ہی آستاں پہ جھکی ہو جبینِ  دل

اپنے ہی در کے واسطے خوئے سوال دے

٭٭٭

 

 

 

 

حیران

 

ہونٹوں پہ گُل کھِلا کر

زلفیں مری اُڑا کر

آنچل سے بات کر کے

آگے گزر گئی ہے

تیری طرح سے چھو کر

بادِ  صبا تو مجھ کو

حیران کر گئی ہے

٭٭٭

 

 

 

 

 اچانک

 

سرد تھے ہونٹ

بہت زرد تھی یہ شاخِ  بدن

سخت پتھرائی ہوئی تھیں آنکھیں

دشت کی طرح تھی ساری دنیا

آسماں ،درد کا لمبا صحرا

 

جانے کیا بات چلی باتوں سے

جانے کس طرح ترا ذکر چھڑا

ایسا لگتا ہے تنِ  مردہ میں

روح پھونکی ہے کسی نے تازہ

٭٭٭

 

 

 جنگل

 

 

جاگتی آنکھوں سے میں نے خواب یہ دیکھا کہ جنگل ہے

گھنے پیڑوں ، گھنیری جھاڑیوں ، وحشت بھری پگڈنڈیوں

ویران راہوں اور گہری کھائیوں کا ایک جنگل ہے ،

گجر دم کا سماں ہے ۔۔ چند گز کے فاصلے سے

بھیڑیوں کے غول کے رونے کی آوازیں سنائی دے رہی ہیں

رفتہ رفتہ ان صداؤں پر

کسی کوئل کی مدھ ماتی صداؤں کا فسوں غالب ہوا جاتا ہے

کوئل صبح کے دلکش سکوں پرور ترانے گا رہی ہے

جب کسی جانب سے شیروں کی دہاڑیں

پورے جنگل کی فضا میں گونج اٹھتی ہیں ۔۔ تو جنگل کانپ جاتا ہے ،

میں گھبرا کر ۔۔ سراسیمہ سی ہو کر ایک جانب ہٹنے لگتی ہوں

سنہری چوٹیوں والے گھنیرے پیڑ کے سینے سے لگ جاتی ہوں

اور تھوڑا سکوں محسوس کرتی ہوں

گماں ہوتا ہے ۔۔ دنیا کے جھمیلوں سے الگ ہو کر

میں ماں کی مہرباں آغوش میں سمٹی ہوئی ہوں

پیڑ کی اک شاخ مجھ کو تھپکیاں دیتی ہے

تب ”زن” سے کوئی شے میرے قدموں سے ذرا ہٹ کر گری ہے

ملگجی سی روشنی میں ، میں نے دیکھا ہے

وہ اک پھنیر، سیہ، میری کلائی سے ذرا موٹا

بڑا سا ۔۔ سانپ ہے

میں چیخ اٹھتی ہوں ۔۔ تڑپ کر بے تحاشا دوڑنے لگتی ہوں

اس دم پیڑ کی شاخوں سے لٹکے

شہد کے چھتے میں اک ہلچل سی ہو تی ہے

سپاہِ  نیش زن میرے تعاقب کے لیے ۔۔ پر تولتی ہے

خوف اور دہشت کے ان لمحوں میں ۔۔ آنکھیں موند کر

میں ایک پگڈنڈی پہ ہو لیتی ہوں

لیکن کون بتلائے ۔۔ یہ پگڈنڈی کسی بستی کی جانب جا رہی ہے

یا کوئی خونخوار شیر اس کو

کچھاروں کی طرف جانے کو ہی رستہ بنائے ہے ،

اسی پل ۔۔ اک جگہ مجھ کو مہک محسوس ہوتی ہے

میں آنکھیں کھولتی ہوں

اف، یہ خطّہ غالباً جنگل کے ہر حصّے سے بڑھ کر خوب صورت ہے

یہاں ہر سمت ہی مخمل کی اک گہری ہری چادر بچھی ہے

اوس میں بھیگی ہوئی ۔۔ اور چار جانب

جنگلی پھولوں کی خود رو جھاڑیاں ہیں اور بیلیں ہیں

میں سب کچھ بھول کر اک پھول کی جانب لپکتی ہوں

معاً اک سرسراتی بیل کی لچکیلی ٹہنی ۔۔ میرے بازو پر تڑپتی ہے

لپٹتی ہی چلی جاتی ہے ۔۔ یوں محسوس ہوتا ہے

کہ اس کا گوشت کھانے اور خوں پی کر گزارا کرنے والی

جھاڑیوں سے کچھ تعلق ہے ۔۔ میں چیخیں مارتی ہوں

میں مدد کے واسطے آواز دیتی ہوں ۔۔ میں روتی ہوں

میں اس لمحے تو سچ مچ ہچکیاں لے لے کے روتی ہوں

مگر کوئی نہیں سنتا!

درندوں کی کچھ آوازیں مرے کانوں میں پڑتی ہی ۔۔۔۔۔

ادھر زہریلی آدم خور بیلوں کا شکنجہ ۔۔ تنگ ہوتا جا رہا ہے

وہ مری شہ رگ کو جکڑے ۔۔ میرا خوں پینے لگی ہیں

میری آنکھیں درد کی شدّت سے پھٹنے کو ہیں

میرے منہ سے کچھ بے ربط آوازیں نکلتی ہیں

مگر اب ذہن سُن ہونے لگا ہے ۔۔۔۔۔۔۔

آخری لمحوں میں ۔۔ میں نے آنکھ بھر کر

جسم و جاں کی ساری قوت

اپنی آنکھوں میں اکٹھی کر کے ۔۔ دیکھا ہے

ذرا کچھ فاصلے پر ۔۔اک پہاڑی کے ادھر ۔۔ سورج ابھرتا آ رہا ہے

اور اس کی خوشنما کرنیں ۔۔ اندھیروں کو ہرا دینے پہ نازاں ہیں

سو اب میری نگاہوں میں حقیقت کا اجالا گھلتا جاتا ہے

میں اس دم ۔۔ تم سے محوِ  گفتگو ہوں

اور تمہاری ذات کے منظر ۔۔ مری آنکھوں پہ کھلتے ہیں

٭٭٭

 

 

 

 

 

 مجھے نیا طلسم دے

 

 

خدائے دل

مجھے بتا ، میں کیا کروں

کہ راز مجھ پہ ہوں عیاں

کہ رنگ مجھ پہ کھل اٹھیں

ہو وقت مجھ پہ مہرباں

مرے یہ پاؤں راہ کی تپش سے اب جھلس گئے

مری نظر بھی تھک گئی

مجھے ملا نہیں نہالِ  سبز کا کوئی نشاں

نہ شہر میں کوئی صدائے آشنا

نہ صبحِ  دلبری نہ شامِ  دوستاں

مرا نصیب سو چکا

مرا طلسم کھو چکا

خدائے دل

٭٭٭

 

 

 

 

 تمہیں کیا خبر

 

تمہیں کیا خبر

تم کسی اور دنیا کے باسی ہو

تم نے پہاڑوں پہ جھکتا ہوا سرمئی ابر دیکھا ہے

ساحل سے اٹھکیلیاں کرتی موجوں سے دامن بھرا ہے

ہزاروں ہی رنگوں کے پھولوں کو چوما ہے

خوشبو کے جھونکوں سے دل کی ہر اک بات کی ہے

پرندوں سے اور تتلیوں سے ملاقات کی ہے

دھنک کو چھوا ہے

 

تمہیں کیا خبر

اس جہاں میں کئی ایسے بھی لوگ ہیں

بیچ جنگل میں رہتے ہیں جو

اور جنگل کو بھی دیکھ سکتے نہیں

٭٭٭

 

 

 

 

 اجنبی آؤ

 

 

اجنبی آؤ

دیکھو، امنگوں کی نوخیز کلیاں

جو مرجھا رہی ہیں

تمہارے لیے وقت ۔۔۔ چنچل پرندہ

مرے سانس پتھر تلے دب چکے ہیں

مری عمر کچھ کٹ چکی ہے

جو باقی ہے ۔۔۔ اک کرب میں کٹ رہی ہے

 

اگر اجنبی تم نہ آؤ

تو پیغام بھیجو

اگر کوئی چنچل پرندہ ملے ۔۔۔ وقت کا

اس کی گردن میں باندھو کوئی سبز کاغذ

کوئی سبز کاغذ کہ جس پر لکھو ۔۔۔ اپنے ہاتھوں

انوکھی، پر اسرار، سب رنگ تحریر

پھر وہ پرندہ مری سمت بھیجو

تو پھر اجنبی، وہ پرندہ

(اگر ہو سکے تو

مرے سانس پتھر تلے سے نکالے

مرا کرب چکھے

وہ کاغذ

تمہاری پراسرار، سب رنگ تحریر والا

محبت کا تعویذ کر کے

مری سُونی گردن میں ڈالے

٭٭٭

 

 

 

 

 

 سب سلامت رہیں

 

سب سلامت ہیں

۔۔۔ پھر بھی مجھے ایسا لگتا ہے

تنہائی، میرے مقدر میں لکھی گئی ہے

کہ تنہائی ہی فرش، تنہائی ہی میری چھت

میرے اطراف میں صرف تنہائی

تنہائی چادر ہے تن کی

تو من میں بھی تنہائی ہی گونجتی ہے

 

مرا آسماں ڈھے گیا ہے

زمیں ذرہ ذرہ ۔۔۔ خلا میں بکھر کر۔۔۔ فنا ہو چکی ہے

مرا باپ، ماں ، بھائی، بہنیں ، عزیز و اقارب، سبھی دوست، محبوب

سب مر چکے ہیں

 

میں تنہائی کے گھُپ خلا میں ۔۔۔ بھٹکتی ہوں

سانسوں کا زہراب پیتی ہوں

زندہ ہوں

لیکن اکیلی ہوں میں

 

سب سلامت رہیں ، سب سلامت رہیں )

( اے خدا! اب سلامت رہیں

٭٭٭

 

 

 

 

 

 ہویدا

 

 

 

ہزاروں بارشیں گزریں ، کئی طوفاں گرے اس پر، نہ ٹوٹا یہ، ہزاروں بارشیں لفظوں کی مجھ پر بھی گریں ، گزرے کئی طوفاں ، نہ ٹوٹی میں ۔۔۔ کسی نے جب کوئی پتھر تراشا، سر جھکایا اس کے آگے ، اور میں نے سر جھکایا اپنے آگے جب، کھلا مجھ پر میں پتھر ہوں

 

بھڑک کر خود، کسی کو سر سے پاؤں تک جلا دینا، جو بجھ جانا تو اس کو بھی بجھا دینا ۔۔۔ میں جب بھڑکی، اسے بھڑکا دیا، خود جل بجھی، وہ بجھ گیا، پھر راکھ بن کر اڑ گیا لیکن مری حدت، مری گرمی بنی اس کے بدن کی آنچ جب، اس دم کھلا مجھ پر میں شعلہ ہوں

 

صبا گزرے تو ویراں راستوں پر نقشِ  پا چھوڑے ، صبا کلیوں کو جوبن دے ، صبا پھولوں کے لب چومے ۔۔۔ میں اس کے دل کے رستوں سے جو گزروں ، نقشِ  پا چھوڑوں ، بدن کو تازگی دوں اور لبوں کو پھول کر آؤں ، لباسِ  سادہ کو چھو لوں تو وہ بھی سرسرائے ریشمیں ہو کر، کھلا مجھ پر صبا میں ہوں

 

گلوں کے زرد بیجوں سے اگے خوشبو کہ پردوں میں کسی پردے سے پھوٹے

کھل نہ پائے ۔۔۔ کھل نہ پائے جب یہی مجھ پر کہ کس پردے میں ، کس نقطے میں خوشبو ہے مری فطرت کے ، ایسے میں کھلا مجھ پر کہ گل میں ہوں

 

وہ آوارہ کہیں جائے نہ جائے ، اک جگہ پھوٹے تو پھیلے ہر جگہ، ہر اک مشامِ جاں معطر کر کے ہر آغوش میں مچلے مگر پھر بھی رہے سادہ ۔۔۔ وہی آوارہ دلداری، وہی معصومیت مجھ میں ، کھلا مجھ پر میں خوشبو ہوں

 

کھلا مجھ پر

میں پتھر ہوں

میں شعلہ ہوں

صبا میں ہوں

میں گل ہوں

اور میں خوشبو ہوں

خدا میں ہوں

میں بندہ بھی

خود اپنے آپ سے اوجھل بھی ہوں

خود پر ہویدا بھی

٭٭٭

 

 

 

 

 لمس زندہ رہے

 

جوتشی نے کہا

 

” تیرے مقسوم میں اک محبت ہے ”

ایسی محبت

ازل سے ابد تک کی سب چاہتوں کا جو حاصل ہے

عشق کی روح بھی جس میں جاری و ساری ہے

(اک وحشیانہ تڑپ اور کسک

اور الفت کی دھیمی، مہکتی ہوئی آنچ بھی

تیری قسمت میں ایسی محبت ہے

جو لمس سے ماورا

وصل کی خواہشوں سے جدا ہے

داہنے ہاتھ کی ایک ریکھا بتاتی ہے

تجھ کو محبوب کے وصل سے کچھ تعلق نہیں

اس کی چاہت

فقط اس کی چاہت ترا منتہائے نظر ہو تو بہتر رہے گا

 

مرے دل سے اک آہ نکلی

مگر اس محبت سے کیا فائدہ

میں بھی جلتی رہوں ، وہ بھی جلتا رہے ؟

اب تو محبوب کو دیوتا مان کر

یا خدا جان کر پوجنے کی کہانی

فسانہ ہوئی

اب حقیقت جو ہے وہ فقط وصل ہے

میری اور اس کی ہستی کا شاہد اگر کوئی ہے

تو فقط لمس ہے

 

میرے مقسوم میں پیار ہے تو مرے ہاتھ میں

اے خدا

وصل قائم رہے

لمس زندہ رہے

٭٭٭

 

 

 

 آخرِ شب

 

آخرِ شب ۔۔۔ فلک سے اترتی ہوئی شبنمیں ساعتوں میں

ستاروں کی جھلمل تلے ، جب زمیں سو رہی تھی

زمیں ۔۔۔ سانس لیتی ہوئی ایک عورت کے مانند

کھولے ہوئے نقرئی چھاتیاں ، سو رہی تھی

تو سانسوں کے اس زیرو بم میں

سمندر، پہاڑوں سے ملتے ہوئے ۔۔۔ جاگتا تھا

فضا ۔۔۔ گھور اندھیرے میں ڈوبی ہوئی

پر اندھیرے سے جیسے کوئی آنکھ مانوس ہو

اور سب دیکھتی ہو

ستاروں کی جھلمل فلک سے اترتی ہوئی

اور ترائی میں ۔۔۔ بھیگا ہوا حسن

 

اس نے کہا

’’حسن اندھیروں میں کھلتا ہے

اور روشنی اک لبادہ ہے

آنکھیں ، بہت دور تک دیکھنے کی ہوں خوگر

تو اکثر بہت پاس کی شے نہیں دیکھ پاتیں

محبت سِکھاتی ہے جب

دیکھنا ، سوچنا، یاد رکھنا

تو نفرت کو پوشیدہ رکھو

کہ نفرت وہ پتھر ہے ، جس کو

پہاڑوں کا سینہ نہیں جھیل پاتا

وہ شعلہ ہے ، جس کو سمندر بجھانا بھی چاہے

تو قاصر رہے

 

اور محبت کرو

سیدھی سادی محبت کہ جو زندگی کا

بہت دور تک ۔۔۔ آخری دم تلک ساتھ دے

صورتوں سے ، اداؤں سے ، ناموں سے ، روحوں سے

سب سے محبت کرو

ہاتھ میں ہاتھ منزل کا پہلا نشاں ہے

تو منزل مسافت کی حد پر گڑی ہے ‘‘

 

مگر زندگی

تیز پانی کے ریلے کی زد پر پڑا ۔۔۔ گول پتھر

بلندی سے گرتی ہوئی آبشاریں نہیں دیکھتیں

ان کی زد پر ہیں پتھر کہ خاشاک و خس

آدمی

پتلیوں کی طرح ۔۔۔ آسماں کے تلے

ایک سفاک ڈوری میں جکڑا ہوا

ناچتے ناچتے ناچتے

ختم ہو جائے گا

٭٭٭

 

 

 

 

 اک رات اجالو میرے لیے

 

 

اک رات اجالو میرے لیے

میں سو جاؤں ۔۔۔ تم جاگو

 

اک شبنم ہاتھ رکھو سینے پر

لمس جگے تو لب مہکاؤ

سانس میں پھول کھلاؤ

 

ہوا چلے تو

پلکوں پر تارے برساؤ

نیند کے پر پھیلے جائیں

پھر خواب سمندر جھاگو

 

اک رات اجالو میرے لیے

میں سو جاؤں

تم جاگو

٭٭٭

 

 

 

ِ

 

 کھلی ہوئی کھڑکیوں سے اک شام جھانکتی ہے

 

 

 

 

عجیب عالم ہے

زندگی

میری بھیگتی پتلیوں میں جیسے دھڑک رہی ہے

تمہاری یادوں کے سائے سائے

دھندلکا، پیڑوں کی چوٹیوں پر اتر رہا ہے

شفق ۔۔ خموشی سے پھیل کر دور تک بکھرتے

حسین منظر کے کینوس پر

ہزار رنگوں پہ

اک گلابی چھڑک رہی ہے

 

میں تم سے کتنی ہی دُور ہوں

پر تمہاری قربت کی

تیز حدت سے جل رہی ہوں

میں سارے منظر سے بھی الگ ہوں

مگر شفق سے ۔۔ وجود گلنار ہو رہا ہے

 

کھلی ہوئی کھڑکیوں سے

اک شام جھانکتی ہے

٭٭٭

ِ

 

 

 

 

 گناہ گار

 

بات کرنے کی کب ملی مہلت

حال اک دوسرے کا کب پوچھا

چاندنی رات کے دریچے میں

اس نے یہ ہاتھ، ہاتھ میں نہ لیا

بارشوں میں کبھی نہ بھیگے ساتھ

دھوپ میں ڈھونڈ پائے کب سایا

اس نے باندھا نہیں کوئی پیماں

میں نے مانگا نہیں کوئی وعدہ

کچھ عجب طرز کی محبت تھی

کچھ عجب طرح کا یہ عشق ہوا

 

یونہی اک پھول کے چٹکنے پر

طالبِ موسمِ بہار ہیں ہم

زندگی کے طویل رستے پر

اک نظر کے گناہ گار ہیں ہم

٭٭٭

 

ِ

 

 

 تم نے کب جانا

 

 

یہ سچ ہے

میں نے آنکھوں کا کوئی پیغام کب سمجھا

تمہاری لرزشِ لب کو سمجھنا کیا

تمہارے بولتے لفظوں کو سننے سے بھی

انکاری رہی

دل کی کسی دھڑکن کو

پوروں سے کبھی چھو کر نہ دیکھا

مسکراہٹ

قوس کی صورت کبھی مجھ پر جو گِرتی تھی

تو میں آنکھیں چُراتی تھی

تمہاری تشنۂ تکمیل بانہوں سے

سدا پہلو تہی برتی

تمہارے پیاس پیتے ، سوکھتے آغوش کو

سر سبز کرنا ۔۔۔ میں نے کب چاہا

 

مرے شاکی! یہ سچ ہے

پر کبھی تم نے بھی دیکھا

سامنا ہونے کی پیاری ساعتوں میں

میرے چہرے کا گلابی رنگ

میری انگلیوں کی نرم لرزش

میری شریانوں میں بہتے خون کی معصوم شوخی سے

بدن کی کپکپی؟

اور پھر جدائی میں

مری ویران پلکوں پر لکھا گِریہ

کبھی تم نے پڑھا؟

چھوڑو، یہ بتلاؤ

مری خاموشیوں کا استعارہ تم نے جانا؟

(تم نے کب جانا)

٭٭٭

 

 

 

 

 

 

 ازل سے ، ساتھ کوئی راز آشنا تو نہیں

یہ میرا دل کسی شاہد کا آئنہ تو نہیں

 

ہر ایک سانس کے ساتھ ایک آہ گونجتی ہے

نفس نفس میں کسی درد کی ثنا تو نہیں

 

کسی کے خواب کی تعبیر تو نہیں ہیں ہم

وہ خواب اور کسی خواب سے بنا تو نہیں

 

جو کاٹ آئے ہیں ، دکھ کا عجیب جنگل تھا

جو آنے والا ہے ، پہلے سے بھی گھنا تو نہیں

 

صدائے انجم و مہتاب پر بھی دل خاموش

یہ خاکداں کی کشش ہے ، مری انا تو نہیں

 

یہ شش جہات ہیں اور ان کے بعد ہے اک ذات

اس آئنے میں پھر اپنا ہی سامنا تو نہیں ؟

٭٭٭

 

 

 

 نہیں ۔۔۔ واقعہ تو نہیں ہم

 

نہیں ۔۔۔ واقعہ تو نہیں ہم

نجانے گئی شب کے ویران ماتھے پہ

کس نے ہمیں لکھ دیا

 

ہم تو خواہش کے کہرے میں لپٹے ہوئے

مخملیں گھاس پر

برف سی چاندنی کے تلے

اک ذرا سو گئے تھے

 

ہمیں کیا خبر ۔۔۔ ہم کو دنیا نے آواز دی تھی

اگر کوئی آواز آتی تو ۔۔۔۔

نیند اتنی گہری کہاں تھی

 

ہمیں کیا خبر ۔۔۔ ہم کو تم نے پکارا تھا

تم نے پکارا جو ہوتا

تو ہم کوئی پاتال میں تو نہ تھے

 

ہم تو خوابوں کے گلزار میں تھے

وہیں سبزہ زاروں میں

مہکے ستاروں کے نیچے

دمکتے گلابوں میں ۔۔۔ شبنم کے مانند

کچھ دیر کو کھو گئے تھے

 

نہیں ۔۔۔ گمشدہ تو نہیں ہم

نجانے یہ گہرے ، گھنے ہجر کی زرد ساعت پہ

کس نے ہمیں ۔۔۔۔۔۔

٭٭٭

 

 

 وطن کے لئے

 

 

وطن کے لئے نظم لکھنے سے پہلے

قلم، حرف کی بارگہ میں

بہت شرمسار و زبوں ہے

قلم سر نگوں ہے

قلم کیسے لکھے

 

وطن! تو مری ماں کا آنچل جو ہوتا

تو میں تجھ کو شعلوں میں گِھرتے ہوئے دیکھ کر۔۔ کانپ اٹھتی

زباں پر مری۔۔۔ الاماں ۔۔۔ اور آنکھوں میں اشکوں کا طوفان ہوتا

 

وطن! تو مرا شیر دل بھائی ہوتا۔۔۔ تو

تیرے لہو کے فقط ایک قطرے کے بدلے

میں اپنے بدن کا یہ سارا لہو نذر کرتی

شب و روز۔۔ تیری جوانی

تری زندگی کی دعاؤں میں مصروف رہتی

 

وطن! تو مرا خواب جیسا وہ محبوب ہوتا

کہ جس کی فقط دید ہی۔۔ میرے جیون کی برنائی ہے

میں ترے ہجر میں ۔۔ رت بھر جاگتی۔۔ عمر بھر جاگتی

عمر بھر گیت لکھتی

 

وطن! تو جو معصوم لختِ  جگر میرا ہوتا

تو۔۔ تیری اداؤں سے میں ٹوٹ کر پیار کرتی

بلائیں تری۔۔ ساری اپنے لیے مانگ لاتی

ترے پاؤں کو لگنے والی سبھی ٹھوکروں میں

میں اپنا محبت بھرا دل بچھاتی

 

وطن! تو اگر میرے بابا سے میراث میں ملنے والی

زمیں کا وہ چھوٹا سا ٹکڑا بھی ہوتا

کہ جس کے لیے میرا بھائی

مرے بھائی کے خوں کا پیاسا ہوا ہے

تو میں اپنی جاں کا کوئی حصہ اور جرعۂ خوں تجھے پیش کرتی

 

میں اپنے بدن پر کوئی وار۔۔ دل پر کوئی زخم سہتی

تو پھر شعر کہتی

 

قلم کیسے لکھے

یہ آدھی صدی سے زیادہ پہ پھیلے بہانے

یہ خود غرضیوں کے فسانے ؟

 

قلم۔۔۔ مہرباں شاعروں کا

قلم۔۔۔ غمگسار عاشقوں کا

قلم۔۔۔ آسمانی صحیفوں کو مرقوم کرنے کا داعی

قلم۔۔۔ نوعِ  انساں کی تاریخ کا عینی شاہد

قلم۔۔۔ یہ مری عمر بھر کی کمائی

 

ازل سے ابد تک۔۔ جو راز آشنا ہے

بہت سرخرو اور شعلہ نوا ہے

قلم لکھ رہا ہے

 

کہ میرے وطن!

تو ہی پُرکھوں سے میراث میں ملنے والی زمیں ہے

تو ہی سر پہ پھیلا ہوا آسماں ہے

تو ہی ماں کی گود اور آنچل

تو میرا محافظ، مرا شیر دل بھائی

تو میرا محبوب، وہ خواب زادہ

تو ہی میرا معصوم لختِ  جگر ہے

تو ہی میری پہچان اور شان ہے

دل کی ٹھنڈک ہے

نورِ  نظر ہے

٭٭٭

شاعرہ کے تشکر کے ساتھ جنہوں نے اجازت مرحمت فرمائی

ماخذ:

http:// saminaraja-urdupoetry.blogspot.com

تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید