FavoriteLoadingپسندیدہ کتابوں میں شامل کریں

فہرست مضامین

دروسِ حدیث

               شیخ ابو کلیم فیضی حفظہ اللہ

جمع و ترتیب: اعجاز عبید

 

جنت کا منکر ؟

حدیث: 01

عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ صَلَّى اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ کُلُّ أُمَّتِی یَدْخُلُونَ الْجَنَّۃَ إِلَّا مَنْ أَبَى قَالُوا یَا رَسُولَ اللَّہِ وَمَنْ یَأْبَى قَالَ مَنْ أَطَاعَنِی دَخَلَ الْجَنَّۃَ وَمَنْ عَصَانِی فَقَدْ أَبَى.

(مسند احمد2/361، صحیح البخاری:7280 الاعتصام.)

ترجمہ : حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم  نے ارشاد فرمایا : میری ساری امت جنت میں داخل ہو گی سوائے اس شخص کے جو  [ جنت میں جانے سے ] ان کار کر دے ، آپ سے پوچھا گیا اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !  [ جنت میں جانے سے کون ان کار کرے گا ؟ ] آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے وضاحت فرمائی کہ جس نے میری اطاعت کی وہ جنت میں داخل ہوا اور جس نے میری نافرمانی کی اس نے [ گویا جنت میں جانے سے ] ان کار کیا۔

{ صحیح بخاری و مسند احمد }۔

تشریح : کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جنہیں جنت میں داخلے کی دعوت دی جاتی ہے لیکن وہ ان کار کر دیتے ہیں ان پر جنت پیش کی جاتی ہے لیکن وہ اس سے دور بھاگتے ہیں، آپ حضرات کو تعجب  ہو گا کہ کیا ایسا بھی ہوسکتا ہے کہ جنت جیسی دائمی و ابدی نعمت کو قبول کرنے سے کوئی شخص منکر ہو اور ہر قسم کے راحت و عیش سے آباد گھر میں داخلے سے اعراض کرے ، یقیناً یہ بات قابل تعجب ہے اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کوبھی اس پر تعجب ہوا، تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا : میری بعثت کے بعد جنت میں داخلہ اسی وقت ممکن ہے کہ میری اتباع اور پیروی کی جائے تو جو شخص میری اتباع کرتا ہے ، میری سنت پر عمل کرتا ہے اور میری لائی ہوئی تعلیمات کو علما و عملا قبول کرتا ہے وہ شخص جنت میں داخل ہو گا، البتہ جو شخص میری نافرمانی کرتا ہے ، میرے اوپر ایمان نہیں لاتا، یا ایمان اگرچہ لاتا ہے لیکن ایمان کے تقاضے کو پورا کرتے ہوئے میری سنت پر عمل نہیں کرتا تو گویا وہ شخص جنت میں جانے سے ان کار کر رہا ہے۔

بعینہ یہی امر حدیث میں ایک مثال سے واضح کیا  گیا ہے ، چنانچہ حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ چند فرشتے خدمت نبوی میں حاضر ہوئے جب کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم  سو رہے تھے ، ان میں سے ایک نے کہا کہ یہ سورہے ہیں تو دوسرے نے جواب دیا کہ ان کی آنکھ تو سورہی ہے لیکن دل بیدار ہے ، فرشتوں نے کہا کہ تمہارے اس ساتھی [ یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم  ] کی ایک مثال ہے وہ مثال ان کے لئے بیان کرو، اس پر ایک فرشتے نے کہا کہ وہ سورہے ہیں تو دوسرے نے کہا کہ آنکھیں سورہی ہیں لیکن دل بیدار ہے ، فرشتے نے کہا کہ ان کی مثال اس شخص جیسی ہے کہ کسی نے گھر بنایا اور اس میں دعوت کا انتظام کیا، پھر ایک بلانے والے کو بھیج دیا، تو جس نے بلانے والے کی دعوت پر لبیک کہا وہ گھر میں داخل ہوا اور دعوت کا کھانا کھایا اور جس نے داعی کی بات پر لبیک نہ  کہا تو  نہ وہ گھر مین داخل ہوا اور نہ ہی دعوت کا کھانا کھایا ، پھر فرشتوں نے کہا کہ ا س مثال کی شرح بیان کرو تاکہ اسے سمجھ لیں، تو ان فرشتوں میں ایک نے کہا کہ یہ سورہے ہیں، لیکن دوسرے نے کہا کہ آنکھ سورہی ہے لیکن ان کا دل جاگ رہا ہے ، فرشتوں نے اس مثال کو واضح کرتے ہوئے کہا کہ گھر سے مراد جنت ہے اور بلانے والا  محمد [صلی اللہ علیہ وسلم ] ہیں تو جس نے محمد کی اطاعت کی اس نے اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی اور جس نے محمد [صلی اللہ علیہ وسلم ] کی نافرمانی کی اس نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی [ لہذا وہ نہ گھر[ جنت]  میں داخل ہو گا اور نہ ہی جنت کی لذتوں سے لطف اندوز ہو گا ] اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم  لوگوں کے درمیان فرق کرنے والے ہیں۔

{ صحیح بخاری : 7281 – سنن ترمذی : 2860 }۔

سچ فرمایا اللہ تعالیٰ نے : وَمَنْ یُطِعِ اللَّہَ وَرَسُولَہُ یُدْخِلْہُ جَنَّاتٍ تَجْرِی مِنْ تَحْتِہَا الْأَنْہَارُ خَالِدِینَ فِیہَا وَذَلِکَ الْفَوْزُ الْعَظِیمُ (13) وَمَنْ یَعْصِ اللَّہَ وَرَسُولَہُ وَیَتَعَدَّ حُدُودَہُ یُدْخِلْہُ نَارًا خَالِدًا فِیہَا وَلَہُ عَذَابٌ مُہِینٌ (14)النساء۔

” اور جو شخص اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے گا وہ اسے ایسے باغات میں [ جنتوں میں ] داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں جاری ہیں، وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے اور یہ بہت بڑی کامیابی ہے ، اور جو اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے اور اللہ کی حدود سے آگے نکل آئے تو وہ اسے دوزخ میں داخل کرے گا جس میں وہ ہمیشہ رہے گا اور اسے رسوا کرنے والا عذاب ہو گا۔

               فوائد

۱- اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم  کے رسول ہونے کی گواہی دینے کا تقاضا ہے کہ آپ کی اطاعت کی جائے۔

۲- آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کی اطاعت دخول جنت کا سبب اور آپ کی نافرمانی جہنم میں داخلہ کا سبب ہے۔

۳- جنت اور جہنم میں داخلہ اس دنیا میں نیک عمل اور برے عمل پر منحصر ہے۔

۴- جنت میں داخل نہ ہونے کی دو شکلیں ہیں :

[ا] کبھی بھی جنت میں داخلہ نہ ملے گا بلکہ اس کے اوپر جنت حرام اور جہنم واجب ہے ، یہ اس شخص کا بدلہ ہے جوا للہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم  کی تعلیمات اور آپ کی اطاعت کا کلیۃ منکر ہے ، کیونکہ ایسا شخص کافر ہے۔

[ب ] رسول صلی اللہ علیہ وسلم  کی رسالت کا منکر تونہیں ہے لیکن اطاعت میں کوتاہی سے کام لیتا ہے ایسا شخص فاسق ہے ، یہ جنت میں داخل تو ہو گا لیکن اللہ تعالیٰ کی مغفرت اور اپنے گناہوں کی سزا چکھ لینے کے بعد۔

٭٭٭

 

جھوٹ کا انجام

حدیث:2

عَنْ أَبِى ہُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -صلى اللہ علیہ وسلم- « مَنْ کَذَبَ عَلَىَّ مُتَعَمِّدًا فَلْیَتَبَوَّأْ مَقْعَدَہُ مِنَ النَّارِ ».

(صحیح البخاری:110العلم، صحیح مسلم:3 المقدمۃ.)

 ترجمہ : حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم  نے ارشاد فرمایا : جس نے میرے اوپر عمداً جھوٹ بولا تو وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لے۔

{ صحیح بخاری ومسلم }۔

تشریح : جھوٹ شریعت کی نظر میں گناہ کبیرہ اور بڑا جرم ہے ، جھوٹ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم  کو اس قدر نفرت تھی کہ اگر کسی کے بارے میں جھوٹ کو آزما لیتے تو اس کے خلاف اپنے دل میں نفرت و بغض کو جگہ دیتے اور یہ کیفیت اس وقت تک رہتی جب تک کہ آپ یہ محسوس کر لیتے کہ اس جرم سے سچی توبہ کر لی ہے۔

{ مسند احمد و صحیح ابن حبان بروایت عائشہ }۔

کیونکہ جھوٹ ایک ایسی برائی ہے جو جھوٹے شخص کے اندرونی فساد کی غماز ہوتی ہے ، جھوٹ میں اللہ کی مخلوق کے ساتھ دھوکہ اور فریب ہوتا ہے ، جھوٹ کفر کا پیش خیمہ اور نفاق کی نشانی ہے اس لئے اسلام نے جھوٹ کو حرام اور شرک کا ہم پلہ قرار دیا ہے :

فَاجْتَنِبُوا الرِّجْسَ مِنَ الْأَوْثَانِ وَاجْتَنِبُوا قَوْلَ الزُّورِ (30) الحج.

” بتوں کی گندگی سے بچو اور جھوٹی بات سے بھی پرہیز کرو “۔

اس جرم عظیم کی مختلف شکلیں ہیں اور جو شکل اپنے اندر جس قدر دھوکہ اور خرابی لئے ہوئے ہے وہ شریعت کی نظر میں اسی قدر قبیح اور ناپسندیدہ ہے چنانچہ صحافی جو ہزاروں آدمی کو جھوٹی خبروں سے گمراہ کر دیتا  ہے سیاستداں جو بڑے ہم مسائل کو بگاڑ کر لوگوں کے سامنے پیش کرتے ہیں، خود غرض لوگ جو بڑے آدمیوں اور بلند کردار عورتوں کے خلاف تہمتوں سے بازار گرم کر دیتے ہیں، یہ سب کے سب بڑے بھیانک جرم کے مرتکب ہو رہے ہیں، حاکموں کا اپنی رعایا سے جھوٹے دعوے کرنا بھی اسی فہرست میں آتا ہے ، البتہ ا ن میں سب سے بڑا گناہ اور خطرناک جھوٹ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم  کے خلاف جھوٹ بولنا ہے اور یہی اس حدیث کا اصل موضوع ہے کیونکہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم  کی حیثیت اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف سے ایک پیغام رسا کی ہے اور رسول کا ہر حکم اسی طرح قابل عمل  ہے  جس طرح کہ اللہ تعالیٰ  کا حکم قابل عمل ہوتا ہے ، اللہ تبارک و تعالیٰ کا ارشاد ہے :

مَنْ یُطِعِ الرَّسُولَ فَقَدْ أَطَاعَ اللَّہَ۔ النساء:80۔

” اور اس رسول صلی اللہ علیہ وسلم  کی جو اطاعت کرے  تو اس نے اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری کی ہے”۔

اب اگر کوئی شخص رسول صلی اللہ علیہ وسلم  کی طرف کوئی بات منسوب کرتا ہے تو سننے والا اس پر عمل کرنے اور اسے اپنی زندگی میں نافذ کرنے کی کوشش یہ سمجھتے ہوئے کرے گا کہ یہ فرمان رسول اور شریعت ہے۔

جب کہ حقیقت اس کے برخلاف ہے ، اس طرح دین میں بدعات و خرافات کا دروازہ کھل جاتا ہے اور سنت و بدعت، حق و ناحق اور شریعت  و ضلالت میں تمیز مشکل ہو جاتی ہے ، اس جرم عظیم کی وجہ سے اللہ تبارک و تعالیٰ نے ایسے شخص کی سزا بہت ہی سخت رکھی ہے ، ارشاد باری تعالیٰ ہے :

وَیَوْمَ الْقِیَامَۃِ تَرَى الَّذِینَ کَذَبُوا عَلَى اللَّہِ وُجُوہُہُمْ مُسْوَدَّۃٌ أَلَیْسَ فِی جَہَنَّمَ مَثْوًى لِلْمُتَکَبِّرِینَ (60)الزمر.

” اور جن لوگوں نے اللہ پر جھوٹ باندھا تو آپ دیکھیں گے کہ قیامت کے دن ان کے چہرے سیاہ ہو گئے ہوں گے ، کیا تکبر کرنے والوں کا ٹھکانا جہنم میں نہیں “

اللہ اور اس کے رسول پر جھوٹ باندھنے میں درج ذیل باتیں بھی شامل ہیں :

۱- بدعات و خرافات کا ایجاد کرنا اور اسے رواج دینا، کیونکہ عوام اسے دین اور حکم الٰہی  و فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم  سمجھ کر ہی اس پر عمل کرتی ہے۔

۲- موضوع و من گھڑت اور سخت ضعیف حدیثیں لوگوں کے سامنے بیان کرنا اور ان پر عمل  کی دعوت دینا۔

۳- اللہ کے کے رسول کا ارشاد ہے :” مَنْ حَدَّثَ عَنِّى بِحَدِیثٍ یُرَى أَنَّہُ کَذِبٌ فَہُوَ أَحَدُ الْکَاذِبِینَ “.

” جو شخص میری طرف منسوب کر کے کوئی ایسی حدیث بیان کرے جسے وہ جانتا ہے کہ یہ جھوٹ ہے تو وہ بھی جھوٹوں میں سے ایک ہے “۔ { صحیح مسلم  }

               فوائد

۱- جھوٹ کبیرہ گناہ اور حقیقی ایمان کے منافی کام ہے۔

۲- رسول صلی اللہ علیہ وسلم  کے خلاف جھوٹ بولنا، جھوٹ کی بدترین صورتوں میں سے ہے حتی  کہ بعض علماء نے اسے کفر قرار دیا ہے۔

۳- مسلمان کو چاہئے کہ بدعت، من گھڑت حدیثوں اور ضعیف حدیثوں پر عمل سے پرہیز کرے۔

۴- جھوٹے قصے کہانیاں جو دین کے نام پر دینی مجلسوں میں بیان کی جاتی ہیں وہ بھی اسی حدیث کی زد میں آتی ہیں۔

٭٭٭

 

کبیرہ گناہ و جھوٹی گواہی

حدیث نمبر :03

عَنْ أَبِی بَکْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ قَالَ النَّبِیُّ صَلَّى اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: أَلَا أُنَبِّئُکُمْ بِأَکْبَرِ الْکَبَائِرِ ثَلَاثًا قَالُوا بَلَى یَا رَسُولَ اللَّہِ قَالَ الْإِشْرَاکُ بِاللَّہِ وَعُقُوقُ الْوَالِدَیْنِ وَجَلَسَ وَکَانَ مُتَّکِئًا فَقَالَ أَلَا وَقَوْلُ الزُّورِوَشَہَادَۃُ الزُّورِ قَالَ فَمَا زَالَ یُکَرِّرُہَا حَتَّى قُلْنَا لَیْتَہُ سَکَتَ.

 (صحیح البخاری:2654الشہادات، صحیح مسلم:87 الإیمان.)

ترجمہ : حضرت ابو بکرہ  رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم  نے ارشاد فرمایا :کیا میں تمہیں سب سے بڑے بڑے گناہ نہ بتلاؤں ؟  یہ الفاظ آپ نے تین بار دہرائے ، ہم نے کہا : اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم  ضرور بتلایئے ، آپ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ کا شریک ٹھہرانا، والدین کی نافرمانی کرنا، [ ابھی تک ] آپ ٹیک لگا کر بیٹھے ہوئے تھے پھر سیدھے ہو کر بیٹھ گئے اور فرمایا : سنو !!! جھوٹی بات کہنا اور جھوٹی گواہی دینا، پھر آپ یہی بات دہراتے رہے یہاں تک کہ ہم نے تمنا کی کہ کاش آپ خاموش ہو جاتے۔

{ صحیح بخاری ومسلم }۔

تشریح : اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی اور ان کے حکم سے سرتابی کا نام گناہ ہے ، جو اللہ تعالیٰ کو سخت ناپسندیدہ اور اس کی نعمتوں سے محرومی کا سبب ہے ، لیکن ہر نافرمانی اور گناہ ایک ہی درجے کے نہیں ہیں بلکہ اشخاص، حقوق، زمان و مکان اور اس گناہ پر مرتب نتائج کی بنیاد پر اس کی قباحت و شناعت میں کمی اور زیادتی ہوتی ہے ، چنانچہ قرآن و حدیث اور اہل علم کے اقوال سے پتہ چلتا ہے کہ گناہ دو قسم کے ہیں :

[۱] کبیرہ یا کبائر :  وہ بڑے گناہ جس کے مرتکب پر لعنت بھیجی گئی اور اسے جہنم کے عذاب کی دھمکی دی گئی ہو۔

[۲] صغیرہ یا صغائر :  وہ گناہ، قرآن و حدیث میں جن کے ارتکاب سے روکا گیا ہو لیکن ان کے مرتکب پر دنیا و آخرت میں کوئی حد بیان نہیں ہوئی ہے۔

قرآن مجید درج ذیل آیت  میں گناہوں کی دونوں قسموں کا ذکر ہے :

{إِنْ تَجْتَنِبُوا کَبَائِرَ مَا تُنْہَوْنَ عَنْہُ نُکَفِّرْ عَنْکُمْ سَیِّئَاتِکُمْ وَنُدْخِلْکُمْ مُدْخَلاً کَرِیماً(31)}النساء۔

 جن بڑے بڑے گناہوں سے تمہیں روکا گیا ہے اگر تم ان سے بچتے رہے تو ہم تمہاری [چھوٹی چھوٹی] برائیوں کو تم سے [تمہارے حساب سے ]محو کر دیں گے ، اور تمہیں عزت کی جگہ داخل کریں  گے۔

زیر بحث حدیث میں ایسے ہی چار بڑے گناہوں کا بیان ہوا ہے  جو شریعت کی نظر میں سخت قبیح اور ان کا انجام بہت ہی برا ہے۔

{۱} شرک باللہ : اللہ تعالیٰ کی ذات، اس کی صفات اور اس کے خصائص و حقوق میں کسی مخلوق کو شریک کرنا شرک کہلاتا ہے۔۔۔۔

شرک سب سے بڑا گناہ ہے اور اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی حق تلفی ہے ، ارشاد باری تعالیٰ :

 إِنَّ الشِّرْکَ لَظُلْمٌ عَظِیمٌ (13)

” شرک بڑا بھاری ظلم ہے “۔۔ اسی لئے۔۔ : {إِنَّ اللَّہَ لا یَغْفِرُ أَنْ یُشْرَکَ بِہِ وَیَغْفِرُ مَا دُونَ ذَلِکَ لِمَنْ یَشَاءُ وَمَنْ یُشْرِکْ بِاللَّہِ فَقَدْ ضَلَّ ضَلالاً بَعِیداً(116)النساء۔

” اللہ تعالیٰ اپنے ساتھ شرک کئے جانے کو نہ بخشے گا، اس کے علاوہ جس کو چاہے گا بخش دے گا  اور جس نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کیا وہ بڑی دور کی گمراہی میں جا پڑا۔ کیونکہ انسان کے وجود میں آنے ، اس کے لئے معیشت کے سارے سامان مہیا کرنے ا ور دنیا و آخرت میں کامیابی و سرخروئی کے اصول بتانے میں سب سے بڑا حق اللہ تبارک و تعالیٰ کا ہے اور اس کے حق کی ادائیگی اسی صورت میں ممکن ہے کہ انسان صرف اور صرف باری تعالیٰ کی عبادت کرے اور اسی کا گن گائے۔

{۲} انسان کے وجود میں آنے کا دوسرا سبب اس کے والدین ہیں جنہوں نے اس کے آرام کے لئے اپنا سب کچھ قربان کیا، خود  تکلیف اٹھائے اور بچے کو آرام دیا، خود جاگتے رہے اور بچے کو سلایا، خود بھوکے رہے اور بچے کو کھلایا اور خود تنگی میں رہے لیکن بچے کو حتی المقدور ہر تکلیف سے بچایا، ایسی صورت میں ان کے ساتھ بدسلوکی ان کی خدمتوں کا ان کار اور ان کے احسان کا برا بدلہ دینا ہے۔ سچ فرمایا اللہ تعالیٰ نے :

 أَنِ اشْکُرْ لِی وَلِوَالِدَیْکَ إِلَیَّ الْمَصِیرُ (14)لقمان۔

 ” تو میری شکر گزاری کر اور والدین کی بھی شکر گزاری کر “۔

{۳ – ۴ } اس حدیث میں تیسرا اور چوتھا کبیرہ گنا ہ، جھوٹ اور جھوٹی گواہی دینا بیان ہوا ہے ، ان دونوں کاموں کی قباحت و خطرناکی کے پیش نظر ان پر تنبیہ کرنے کے لئے آپ ٹیک چھوڑ کر سیدھے بیٹھ گئے اور بار بار، زور دار انداز میں فرمایا کہ جھوٹی بات کرنا اور جھوٹی گواہی دینا [ بھی بڑے بڑ ے گناہوں میں داخل ہے ] اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ جھوٹی بات اور جھوٹی گواہی شرک سے بڑا گناہ ہے ؟ نہیں ہر گز نہیں، بلکہ حقیقت یہ ہے کہ جھوٹ بولنے اور جھوٹی گواہی دینے کے دواعی زیادہ پائے جاتے ہیں اور عام لوگ اس بارے میں کوتاہی سے کام لیتے ہیں جب کہ شرک کو ہر شخص فطری اور شرعی طور پر برا سمجھتا ہے اور اس کے وداعی بھی کم پائے جاتے ہیں۔

               فوائد

۱- گناہ کی دو قسمیں ہیں بڑے گناہ اور چھوٹے گناہ۔

۲- سب سے بڑا گناہ یہ ہے کہ انسان اپنے خالق، موجد اور محسن حقیقی کے ساتھ شرک کرے۔

۳- اللہ تبارک و تعالیٰ کے بعد سب سے بڑا حق والدین کا ہے ، اسی لئے ان کی نافرمانی اور ان کے ساتھ بدسلوکی کو شرک کے بعد بہت بڑا گناہ اور ان کے ساتھ حسن سلوک کو اللہ کی عبادت کے بعد سب سے بڑی نیکی قرار دیا گیا ہے۔

۴- کبیرہ گناہوں کی معافی کے لئے  توبہ ضروری ہے۔

۵- جھوٹ بولنا اور جھوٹی گواہی دینا بھی کبیرہ گناہ، اور شریعت کی نظر میں بہت ہی گندے اور گھناؤنے عمل ہیں، کسی بھی شخص کی خیر خواہی، رشتہ داری اور دوستی جھوٹی شہادت کے جواز کی علت نہیں بن سکتی۔

٭٭٭

 

اللہ تعالیٰ پر بھروسہ

حدیث نمبر :04

 عَنْ أَبِی بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ قُلْتُ لِلنَّبِیِّ صَلَّى اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَأَنَا فِی الْغَارِ لَوْ أَنَّ أَحَدَہُمْ نَظَرَ تَحْتَ قَدَمَیْہِ لَأَبْصَرَنَا فَقَالَ مَا ظَنُّکَ یَا أَبَا بَکْرٍ بِاثْنَیْنِ اللَّہُ ثَالِثُہُمَا

(صحیح البخاری:3653 فضائل الصحابۃ، صحیح مسلم:2381 فضائل الصحابۃ.)

ترجمہ : حضرت ابو بکر  رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ  جب ہم غار میں تھے [ اور مشرکین ہماری تلاش میں غار کے دہانے تک پہنچ کر کھڑے ہو گئے ] تو میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  سے کہا : اگر ان میں سے کوئی اپنے قدموں کی طرف دیکھ لے تو ہمیں دیکھ لے گا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے ارشاد فرمایا : ان دو شخصوں کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے جن کا تیسرا اللہ تعالیٰ ہے۔ { صحیح بخاری ومسلم }۔

  تشریح : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم  نے جب سے  مکہ مکرمہ میں توحید کا نقارہ بجایا اس وقت سے لوگ آپ اور آپ پر ایمان لانے والوں کے جانی دشمن بن گئے ، جسمانی، نفسانی، ہرقسم کی ایذاء آپ اور آپ کے ساتھیوں کے لئے روا رکھی گئی، کئی سال تک نامناسب حالات سے گذرنے کے بعد اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم  نے صحابہ کو کسی دوسرے ملک منتقل ہونے کی اجازت دے دی اور بہت سے صحابہ و صحابیات حبشہ کی طرف ہجرت کر گئے ، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم  ہر قسم کی ایذاء و تکلیف برداشت کرتے ہوئے مکہ مکرمہ ہی میں رہے ، ساتھ ہی ساتھ قریب کے علاقے میں کسی پر امن جگہ کی تلاش میں رہے جہاں سے تبلیغ دین کے کام کو آگے بڑھایا جا سکے۔

چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم  حج کے دنوں میں باہر سے آئے ہوئے قبائل کے سامنے اپنی دعوت پیش کرتے اور اسلام قبول کرنے ، رسول اسلام کی حفاظت اور اس کی طرف سے دفاع کا مطالبہ کرتے ، ایک حدیث میں حضرت جابر بن عبد اللہ بیان کرتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم  منی میں لوگوں سے کہتے : کیا کوئی ہے جو مجھے اپنے ساتھ لے چلے کیونکہ یہاں قریش نے مجھے اللہ کا کلام لوگوں تک پہنچانے سے روک دیا ہے۔

{ سنن ابو داود :4737، ابن ماجہ :21}۔

اسی درمیان آپ کے چچا اورآپ کی شریک حیات حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا بھی اس دنیا سے رخصت ہو گئے ، یہ دونوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم  اور اہل مکہ کے شرپسندوں کے درمیان مضبوط دیوار تھے ، جب یہ دونوں اس دنیا سے رخصت ہو گئے تو مکہ کے شر پسند آپ کو اور کھل کر تکلیفیں دینے لگے ، اس ماحول میں آپ ایک طرف ان تمام معنوی اور مادی تکلیفوں کو برداشت کرتے اور صبر  کرتے رہے اور دوسری طرف کسی پر امن جگہ کی تلاش میں رہے کہ جہاں آپ منتقل ہو جائیں، اس مقصد کی تکمیل کے لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے طائف کا سفر کیا، لیکن اہل طائف نے آپ کے ساتھ جو سلوک کیا وہ اہل مکہ کے سلوک سے کہیں برا تھا، چنانچہ آپ کو وہاں سے ناکام واپس ہونا پڑا طائف  سے واپس آنے پر اہل مکہ  کی بدسلوکی آپ کے ساتھ اور بڑھ گئی اور آپ فداہ ابی و امی کو اس قدر تکلیفیں اٹھانی پڑیں کہ اس کی مثال تاریخ انسانی میں ملنا مشکل ہے ، ایک بار آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا : جس قدر مجھے اللہ تعالیٰ کے راستے میں تکلیف دی گئی کسی اور کو نہیں دی گئی۔

{ الصحیحہ للالبانی : 2222 }۔

یہی حالات تھے کہ نبوت کے گیارہویں سال کچھ لوگ یثرب { مدینہ منورہ } سے حج کی غرض سے آئے ،  حسب عادت آپ نے ان پر اسلام پیش کیا انہوں نے قبول کر لیا اور اپنے یہاں دین کی تبلیغ کا عزم کر کے واپس ہوئے ، آئندہ سال یعنی سن 12 نبوی میں حج کے موقعہ پر بارہ آدمی آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ کے ہاتھ پر بیعت کی اور دین کی تبلیغ کا جذبہ لے کر واپس ہوئے ، سن 13 نبوی میں مدینہ منورہ سے ستر سے زائد افراد حج کے ارادے سے آئے اور آپ کو مدینہ منتقل ہونے کی دعوت دی اور عہد دیا کہ ہم اپنے جان و مال اور اولاد سے بھی بڑھ کر آپ کی حفاظت کریں گے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کو یہ عرض پسند آئی، آپ نے صحابہ کو مدینہ منورہ منتقل ہونے کی اجازت دی اور اپنے لئے حکم الٰہی کے منتظر رہے ، حتی کہ نبوت کے چودھویں سال 27 صفر کو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم  بحکم الٰہی آدھی رات کو اپنے گھر سے نکلے ، حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کو اپنے ساتھ لیا اور یثرب کا عام راستہ اختیار کرنے کے بجائے ایک غیر معروف راستہ سے گذرتے ہوئے مکہ مکرمہ سے پانچ چھ کیلو میڑ کی دوری پر سوئے جنوب واقع ثور نامی پہاڑ کی ایک دشوار گزار راستے میں واقع غار میں چھپ گئے ، اہل مکہ کو آپ کے نکلنے کی اطلاع ملی تو آپ کی تلاش میں اس غار تک بھی پہنچ گئے اور بالکل غار کے دہانے پر کھڑے ہو کر ادھر ادھر تاکنے لگے ،  اس صورت حال کی خطرناکی کو دیکھ کر حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے آپ سے فرمایا کہ اے اللہ کے رسول اگر ان میں سے کوئی شخص محض اپنی نگاہ نیچی کر دے تو ہمیں دیکھ لے گا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے اللہ پر کامل بھروسہ اور بھرپور اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا : ابو بکر تم گھبراؤ نہیں، خاموش رہو اور یقین جانو کہ یہاں صرف ہم دونوں ہی نہیں بلکہ ہماری حفاظت  اور مدد کے لئے ایک تیسری ذات اللہ تعالیٰ بھی موجود ہے ، چنانچہ ہوا بھی یہی کہ اللہ تعالیٰ نے کافروں کی عقل  و نظر پر پردہ ڈال دیا اور وہ خالی ہاتھ واپس چلے گئے ،  جب کہ آپ کے اور ان کے درمیان صرف چند قدم کا فاصلہ رہ گیا تھا۔

               فوائد

۱- اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم  کا عظیم معجزہ کی آپ کافروں سے چند قدم کی دوری پر ہیں لیکن وہ آپ کو دیکھ نہ سکے۔

۲- اپنے رسولوں اور نیک بندوں کے ساتھ  اللہ تعالیٰ کی عظیم عنایت کہ انہیں مشکل سے مشکل وقت میں بھی کسی طرح دشمنوں کے شر سے محفوظ رکھتا ہے۔ ؟

۳- اللہ تعالیٰ پر توکل کا فائدہ اور یہ توکل کے لئے ضروری ہے کہ حتی الامکان اسباب کا استعمال کیا جائے۔

٭٭٭

 

عظمت صحابہ

حدیث نمبر :05

عن أبی سعید الخدری رضی اللہ عنہ قال : قال النبی صلى اللہ علیہ و سلم (لا تسبوا أصحابی فلو أن أحدکم أنفق مثل أحد ذہبا ما بلغ مد أحدہم ولا نصیفہ)

(صحیح البخاری:3673 فضائل الصحابۃ، صحیح مسلم:2541فضائل الصحابۃ.)

ترجمہ : حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم  نے ارشاد فرمایا : میرے صحابہ کو برا بھلا نہ کہو، کیونکہ اگر تم میں کا کوئی شخص احد پہاڑ کے برابر بھی سونا خرچ کرے تو ان کے ایک مد یا آدھے مد کے برابر بھی نہیں ہوسکتا۔

{ بخاری و مسلم }۔

تشریح : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  نے مکہ مکرمہ میں دعوت توحید پیش کی تو عمومی طور پر لوگوں نے آپ کی دعوت کو رد کر دیا البتہ کچھ نیک دل اور سنجیدہ لوگوں نے آپ کی دعوت پر لبیک کہا اور  ہر سکھ  دکھ  میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم  کا ساتھ دیا، قرآن و حدیث میں ایسے لوگوں کو  ” السابقون الاولون ” کے لقب سے گیا ہے ، یعنی  وہ لوگ  پہلے پہل اسلام لائے ،  انہی لوگوں میں وہ دس صحابہ بھی ہیں جنہیں عشرہ مبشرین کہا جاتا ہے ، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم  ان اصحاب کا خاص خیال رکھتے ان کی خدمات کا اعتراف فرماتے اور ان کے بارے میں کوئی نازیبا بات سننا گوار نہ کرتے تھے ، چنانچہ ایک بار حضرت عبد الرحمن بن عوف جو سابقین اولین اور عشرہ مبشرین میں سے ہیں اور خالد بن الولید جو صلح حدیبیہ کے بعد مسلمان ہوئے دونوں کے درمیان کسی معاملہ میں تکرار ہو گئی حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے حضرت عبد الرحمن رضی اللہ عنہ کی شان میں کوئی ایسی بات کہہ دی جو ان کے مقام و مرتبہ کے خلاف تھی، جب اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم  کو اس کی اطلاع ملی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے حضرت خالد پر ناراضگی کا اظہار کیا اور ان کے مقام و مرتبہ کو واضح کرتے ہوئے فرمایا کہ اے خالد ! یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اس وقت اللہ کے رسول کی خدمت، اللہ کے دین اور اللہ کے رسول کی طرف سے دفاع، اور اللہ اور اس کے رسول کے دشمنوں سے قتال کیا  اور دین کی خدمت کے لئے اپنا سب کچھ خرچ کر دیا، جس وقت کہ اسلام اجنبیت کی حالت میں تھا، اسلام اور اہل اسلام بڑی مشکلات کا سامنا کر رہے تھے حتی کہ ان لوگوں کو دین کے لئے اپنا مال و دولت اور وطن عزیز چھوڑ دینا پڑا، تم لوگ ان کا مقابلہ کس طرح کر سکتے ہو، اس لئے تمہارے لئے قطعاً مناسب نہیں ہے کہ ان کی عیب جوئی کرو، انہیں برا بھلا کہو اور نہ ہی تمہارے لئے یہ جائز ہے کہ ان کی شان میں گستاخی کرو، بلکہ ان کی لغزشوں پر پردہ ڈالو اور ان کے عذر کو قبول کرو، بلکہ تم اور تمہارے بعد آنے والے لوگ پہاڑوں کے برابر سونا خرچ کر دیں تو بھی ان لوگوں کے کیلو جو اور  گیہوں کے برابر بھی نہیں ہوسکتا، خود اللہ تعالیٰ نے اس کی تصدیق  میں اس طرح فرمایا کہ :

 لَا یَسْتَوِی مِنْکُمْ مَنْ أَنْفَقَ مِنْ قَبْلِ الْفَتْحِ وَقَاتَلَ أُولَئِکَ أَعْظَمُ دَرَجَۃً مِنَ الَّذِینَ أَنْفَقُوا مِنْ بَعْدُ وَقَاتَلُوا۔ الحدید:11.

  ” تم میں سے جن لوگوں نے فتح سے پہلے فی سبیل اللہ دیا ہے اور قتال کیا ہے وہ [ دوسروں کے ] برابر نہیں بلکہ ان سے بہت بڑے درجہ کے ہیں “۔

  یہ فرما کر اللہ تعالیٰ نے دنیا کے تمام مسلمانوں کو یہ پیغام دیا کہ صحابہ کا مقام عام لوگوں جیسا نہیں ہے اور نہ عام لوگوں کے معیار پر صحابہ کو پرکھا جائے گا بلکہ اللہ تعالیٰ  اور رسول اللہ کے نزدیک ان کا ایک مقام ہے ، وہ اللہ تعالیٰ کے برگزیدہ بندے ہیں، اللہ تعالیٰ نے اپنے پیارے نبی کی صحبت، ان کی مدد اور ان کی تعلیم کو لوگوں تک پہنچانے کے لئے ان کا انتخاب کیا ہے ، لہذا انہیں برا بھلا کہنا، ان کی عیب جوئی کرنا، ان کی غلطیوں اور بشری لغزشوں کو اچھالنا اور انہیں حدیث مجالس بنانا کسی بھی طرح جائز نہیں ہے۔۔۔ اسی چیز کو مزید قوت دینے کے لئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا :

أکرموا أصحابی فإنہم خیارکم۔

{ مصنف عبد الرزاق :341/ 11 – النسائی الکبری عن عمر }۔

” میرے صحابہ کی تکریم کرو [ اور ان کے مقام کو پہچانو ] کیونکہ وہ تم میں سب سے بہتر ہیں “۔

اور ایک حدیث میں فرمایا :

 إذا ذکر أصحابی فأمسکوا، الحدیث.

{ الطبرانی الکبیر عن ابن مسعود – الصحیحہ : 34 }۔

“جب میرے صحابہ کا ذکر ہو تو رک جاؤ “۔

سچ فرمایا ہے حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ  نے کہ اللہ تعالیٰ نے بندوں کے دلوں کا جائزہ لیا تو  حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم  کے دل کو سب سے بہتر دل پایا لہذا اپنی رسالت کے لئے اس کا  انتخاب کر لیا، پھر [ انبیاء کے علاوہ ] بندوں کے دلوں کا جائزہ لیا تو اللہ کے رسول حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم  کے ساتھیوں کے  دل کو تمام دلوں میں سب سے بہتر پایا، لہذا  اپنے پیارے نبی کی صحبت کے لئے ان کا انتخاب کر لیا، چنانچہ انہیں اپنے نبی کا معین و مددگار بنایا جو نبی کے لائے ہوئے دین کے لئے جہاد کرتے رہے۔

مسند احمد۔

               فوائد

۱- صحابہ کرام کی فضیلت اور ان کی عظمت۔

 ۲- صحابہ کی زندگی ہر قسم کے نقد سے بالا تر ہے کیونکہ ان پر تنقید کا معنی یہ ہے کہ شریعت کی ساری بنیاد ڈھہ جائے گی۔

 ۳- صحابہ سے محبت اور ان کی خدمات کا اعتراف ضروری ہے۔

۴۔ بعد کے لوگ خواہ کتنے ہی نیک ہو جائیں وہ صحابہ کے مقام کو پہنچ نہیں سکتے رضوان اللہ علیہم اجمعین۔

٭٭٭

 

منافق کی نشانیاں

حدیث نمبر :06

عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّى اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ أَرْبَعٌ مَنْ کُنَّ فِیہِ کَانَ مُنَافِقًا خَالِصًا وَمَنْ کَانَتْ فِیہِ خَصْلَۃٌ مِنْہُنَّ کَانَتْ فِیہِ خَصْلَۃٌ مِنْ النِّفَاقِ حَتَّى یَدَعَہَا إِذَا اؤْتُمِنَ خَانَ وَإِذَا حَدَّثَ کَذَبَ وَإِذَا عَاہَدَ غَدَرَ وَإِذَا خَاصَمَ فَجَرَ.

صحیح البخاری:340 الإیمان، صحیح مسلم:58 الإیمان.

ترجمہ : حضرت عبد اللہ بن عمر و رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا : چار خصلتیں ہیں، جس شخص میں وہ پائی جائیں گی وہ خالص منافق ہو گا، اور جس کے اندر ان میں سے کوئی ایک خصلت ہو گی اس میں نفاق کی ایک خصلت پائی جائے گی حتی کہ اسے ترک کر دے،  [ وہ خصلتیں یہ ہیں ] جب اس کے پاس امانت رکھی جائے تو خیانت کرے ، جب وہ بات کرے تو جھوٹ بولے ، جب کوئی عہد کرے تو بے وفائی کرے اور جب جھگڑا کرے تو ناحق چلے۔

{ بخاری و مسلم }۔

تشریح : مذہب اسلام ایک ایسا مذہب ہے جو انسانی زندگی کے ہر پہلو پر مشتمل ہے ، اس میں عقائد بھی ہیں، عبادات بھی، معاملات بھی ہیں اور اخلاق و عادات بھی، اسلام چاہتا ہے کہ اس کے ماننے والے ایسے عمدہ اخلاق و کردار کے حامل ہوں جو انہیں انسانیت کے اعلی مقام تک پہنچائے اور ایسے ہر برے اخلاق سے دور رہیں جو انہیں جانوروں کی صف میں لا کھڑا کر دے ، درج ذیل حدیث  میں بعض ایسے  ہی برے اور گندے اخلاق کی نشاندہی کی گئی ہے جو انسان کی عظمت اور اس کے خلیفۃ الارض  ہونے کے منافی ہیں۔

اصل میں زبان سے ایمان و اسلام کا اظہار اور دل میں اسلام اور مسلمانوں کے خلاف بغض و عناد رکھنا نفاق کہلاتا ہے ،  یہ نفاق کفر بلکہ کفر سے بھی بڑھ کر ہے اسی لئے قرآن میں کہا گیا ہے کہ :

 إِنَّ الْمُنَافِقِینَ فِی الدَّرْکِ الْأَسْفَلِ مِنَ النَّارِ وَلَنْ تَجِدَ لَہُمْ نَصِیرًا (145)النساء۔

” منافق جہنم کے سب سے نچلے درجے میں ہوں گے اور ان کے لئے آپ کسی کو مددگار نہ پائیں گے “۔

  علماء نے صراحت کی ہے کہ نفاق کی دو قسمیں ہیں ایک اعتقادی اور دوسرا عملی، اعتقادی نفاق کا مطلب یہ ہے کہ  منافق   جو اپنے   کفر کو چھپائے رکھے اور کسی دنیاوی مصلحت کی وجہ سے زبان سے اسلام و ایمان کا اظہار کرتا پھرے ، اور عملی نفاق یہ ہے کہ دل میں تو ایمان ہے لیکن منافقوں  کی خصلتیں اور عادتیں اس میں پائی جائیں، آج اعتقادی نفاق کی معرفت ایک مشکل بلکہ ناممکن کام ہے ، کیونکہ یہ ایک خالص باطنی معاملہ ہے جس کی معرفت کا ذریعہ  صرف وحی الٰہی ہے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم  کی وفات کے بعد منقطع ہو چکی ہے ،  اس لئے کسی بھی شخص پر اعتقادی منافق ہونے کا حکم لگانا جائز نہیں ہے ، البتہ نفاق عملی کی معرفت ان اعمال و خصلتوں کے ذریعہ ہوسکتی ہے جنہیں قرآن و حدیث میں منافق کی نشانیاں قرار دیا گیا ہے ، مذکورہ حدیث میں ایسی ہی چار خصلتوں کا ذکر ہے :

[۱] جب بات کرے تو جھوٹ بولے : جھوٹ بولنا شریعت کی نظر میں گناہ کبیرہ اور بہت بری عادت ہے ، اس کے برے ہونے کے لئے یہی کافی ہے کہ جھوٹا  اللہ کے نزدیک مردود، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم  کے نزدیک مبغوض اور تمام لوگوں کے نزدیک مشکوک اور ناپسندیدہ ہے ، جھوٹ جہنم میں لے جانے کا راستہ اور رحمت الٰہی سے دوری کا سبب ہے ، جھوٹ ایک سچے مومن کی عادت نہیں،  بلکہ منافق کی عادت ہے۔

 [۲] جب اس کے پاس امانت رکھی جائے تو خیانت کرے : یعنی جب اللہ کے بندے اس کے پاس اپنا مال رکھیں، اسے اپنا  راز دار بنائیں تو ان کا راز افشاء کر دے ، اہل و عیال کے بارے میں بد چلنی سے کام لے ، یہ بھی ایک مومن کی نہیں بلکہ منافق کی خصلت ہے۔

 [۳] جب عہد کرے تو بد عہدی کرے : یعنی جب وہ کسی کو عہد دیتا ہے ، لوگوں سے وعدے کرتا ہے  تو اسے پورا نہیں کرتا، حاکم سے بیعت کرتا ہے تو اسے توڑ دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ  سے کئے عہد و پیمان  بھی سب  اسی ضمن میں آتے ہیں، یہ خصلت بھی ایک حقیقی مومن کے شایان شان نہیں ہے۔

[۴] اور جب جھگڑا کرے تو حق کے خلاف چلے : یعنی جب کسی بات پر خصومت کی نوبت آ جائے تو حق کی پرواہ کئے بغیر وہ جھوٹے دعوے اور دوسروں کا حق لینے پر اتر آئے ، اہل علم کہتے ہیں کہ اس کی دو صورت ہوتی ہے ، ایک تو یہ کہ خصومت میں اپنے مخالف پر ایسی چیز کا دعوی  کرے جو اس کا اپنا حق نہیں ہے ، جیسے کسی کی زمین کا دعوی کر دے یا کسی پر کچھ مالی حق کا دعوی کر دے اور اس کے لئے جھوٹی قسمیں کھائے اور جھوٹے گواہ لا کر کھڑا کر دے ، دوسری صورت یہ ہے کہ خصومت کے وقت مخالف کا حق ماننے اور اسے دینے سے ان کار کر دے اور مخالف کے پاس اگر دلیل و گواہ نہ ہوں تو وہ اس کے لئے جھوٹی قسم کھانے سے بھی گریز نہ کرے۔۔۔۔ بدقسمتی سے آج مسلمانوں کی اکثریت اس عملی نفاق میں مبتلا ہے ، اس منافقانہ کردار اور اخلاق  و عمل  کی کوتاہیوں نے انہیں  دنیا بھر میں ذلیل  و رسوا کر رکھا ہے ، اللہ تعالیٰ ہم سب کی اصلاح فرما دے۔ آمین۔

               فوائد

۱-  جھوٹ، خیانت اور بدعہدی وغیرہ ایسی بری خصلتیں ہیں جن سے پرہیز کئے بغیر کسی کا ایمان مکمل نہیں ہوسکتا۔

۲ – مسلمان کو چاہئے کہ اپنا ظاہر و باطن پاک و صاف رکھے۔

۳-  یہ ممکن ہے کہ ایک شخص مومن ہو اور اس میں نفاق کی بعض خصلتیں بھی موجود ہوں۔

۴-   جو شخص حدیث میں مذکورہ بری عادتوں کا عادی بن جائے اور انہیں چھوڑ نے کی کوشش نہ کرے ، اس کے بارے میں خطرہ ہے کہ کہیں وہ خالص منافق نہ ہو جائے۔

٭٭٭

 

تلاوت اور مشقت

حدیث نمبر :07

عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -صلى اللہ علیہ وسلم- « الْمَاہِرُ بِالْقُرْآنِ مَعَ السَّفَرَۃِ الْکِرَامِ الْبَرَرَۃِ وَالَّذِى یَقْرَأُ الْقُرْآنَ وَیَتَتَعْتَعُ فِیہِ وَہُوَ عَلَیْہِ شَاقٌّ لَہُ أَجْرَانِ ».

صحیح البخاری:4937التفسیر، صحیح مسلم: 798 المسافرین.

 ترجمہ : حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم  نے ارشاد فرمایا : جو شخص قرآن پڑھتا ہے اور وہ اس کا حافظ ہے  [ یا اس میں مہارت رکھتا ہے ] تو وہ [ قیامت والے دن ] بزرگ، نیکو کار  فرشتوں کے ساتھ ہو گا، اور وہ شخص جو قرآن پڑھتا ہے ، اس کا اہتمام  کرتا اور مشقت سے پڑھتا ہے ، اسے دگنا اجر ہے۔

{ بخاری و مسلم }۔

تشریح : قرآن مجید اللہ تعالیٰ کی مقدس کتاب اور اس کی طرف سے بندوں کے لئے ایک قیمتی تحفہ ہے ، اللہ تعالیٰ نے اس کی حفاظت، اس کا سیکھنا سکھانا اور اس کے مطابق عمل کرنا بندوں پر فرض قرار دیا ہے اور اس کی تعلیم و تعلم پر بہترین اجر کا وعدہ کیا ہے ، چنانچہ ایک حدیث میں ہے کہ :

(خیرکم من تعلم القرآن وعلمہ)

{ صحیح بخاری : 5027 }۔

  ” تم میں سے بہتر وہ ہے جو قرآن پڑھنے پڑھانے کا اہتمام کرتا ہے ” ایک اور حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے ارشاد فرمایا : جس شخص نے کتاب الٰہی [ قرآن مجید ] کا ایک حرف پڑھا اس کے لئے ایک نیکی ہے اور نیکی دس نیکیوں کے برابر ہے ، میں نہیں کہتا کہ ” الم ” ایک حرف ہے ، بلکہ ” الف  ” ایک حرف ہے ، ” لام ” ایک حرف ہے اور ” میم ” ایک حرف ہ۔ [ یعنی “الم ” پڑھنے پر تیس نیکیاں ملتی ہیں ]۔

{ سنن الترمذی :2910 }۔

اس لئے ہر مسلمان پر فرض ہے کہ اولاً : و ہ قرآن مجید کو پڑھے ، اس کے حروف و حرکات کو درست کرے۔ ثانیاً : جس قدر میسر ہو قرآن مجید کو یاد کرے ، اس لئے کہ اہل علم کہتے ہیں کہ جنت کی سیڑھیاں قرآن مجید کی آیات کے مقدار ہیں، لہذا جو شخص جس قدر زیادہ مقدار میں قرآں کو یاد کرے گا اس کا مقام اتنا ہی اونچا ہو گا۔

صحیح الترغیب والترہیب۔

ثالثاً : اس کے مطابق عمل کرے ، اس لئے کہ قرآن کے نزول کا اصل مقصد ہی عمل کرنا ہے ، اور احادیث میں وارد   اجر و ثواب کا حقیقی مستحق وہی شخص ہے جو قرآن مجید کے  اس حق کو پورا کرتا ہے ، ایسے ہی صاحب قرآن سے متعلق ارشاد نبی صلی اللہ علیہ وسلم  ہے : قیامت  کے دن قرآن کو اور ان لوگوں کو جو دنیا میں اسپر عمل کرتے رہے ہیں بارگاہ الٰہی میں حاضر کیا جائے گا، سورہ بقرہ اور آل  عمران  ان کے آگے آگے ہوں گی، اپنے پڑھنے والوں کی طرف سے جھگڑا کریں گی۔

[صحیح مسلم]۔

اوپر مذکور حدیث میں تقریباً انہیں باتوں پر ترغیب اور ان کی فضیلت بیان کی گئی ہے ، یعنی جو شخص قرآن پڑھتا ہے ، صحت کے ساتھ قرآن مجید کو پڑھنے میں مہارت حاصل کرتا ہے ،  اسے یاد کرتا ہے تو ایسا شخص قیامت کے دن بڑے اونچے مقام پر فائز ہو گا، اللہ تعالیٰ اسے نیکوکار بلند مقام فرشتوں کی صف میں کھڑا کرے گا، کیونکہ اس نے قرآن پڑھنے اور اسے یاد کرنے میں مہارت حاصل کر کے اس کی حفاظت کی ہے تو گویا وہ ان بزرگ فرشتوں کے مشابہ ہے جو قرآن مجید کو لوح محفوظ سے نقل کرتے اور اسے اللہ کے رسولوں تک پہنچاتے ہیں، جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے

: فِی صُحُفٍ مُکَرَّمَۃٍ (13) مَرْفُوعَۃٍ مُطَہَّرَۃٍ (14) بِأَیْدِی سَفَرَۃٍ (15) کِرَامٍ بَرَرَۃٍ (16)عبس.

” یہ تو پر عظمت صحیفوں میں ہے ، جو بلند و بالا اور پاک صاف ہیں، ایسے لکھنے والوں کے ہاتھوں میں ہے  جو بزرگ اور پاک باز ہیں “۔

لیکن وہ لوگ جو قرآن مجید کے حافظ نہیں ہیں وہ قرآن کو آسانی  سے نہیں پڑھ سکتے ،  انہوں نے اسے پڑھنے میں مہارت حاصل نہیں کی تو انہیں پریشان نہیں ہونا چاہئے بلکہ انہیں قرآن پڑھنے ، سیکھنے اور اس میں مہارت حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہئے ، اس بارے میں جو پریشانی ہو اسے برداشت کرنا چاہئے اور خوشخبری سن لینی چاہئے کہ اللہ تعالیٰ ان کی اس مشقت کی وجہ سے انہیں دہرے اجر سے نوازے گا، یعنی گویا انہیں ایک حرف پر دس نیکیوں کے بجائے بیس نیکیاں ملنے والی ہیں، اللہ ہم میں سے ہر شخص کو توفیق بخشے ، آمین، قرآن مجید کو پڑھنے ، اس کو سیکھنے اور اسپر عمل کرنے میں اگر مشقت و پریشانی  اور رکاوٹیں درپیش ہوں تو  اسے مایوس اور شرم و حیا سے کام نہیں لینا چاہئے کیونکہ  اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم  نے ارشاد فرمایا کہ قیامت کے دن قرآن مجید ایسے آدمی کی شکل میں آئے گا جس کا رنگ بدلا ہوا  ہو گا، اپنے پڑھنے والے سے کہے گا، کیا تو مجھے پہچانتا ہے ؟ میں وہی [ قرآن  ] ہوں جس نے تمہیں بیدار  رکھا اور دوپہر میں پیاسا رکھا، ہر تاجر اپنی تجارت کے فائدے کی امید رکھتا ہے اور میں آج تیرے لئے ہر تجارت سے بڑھ کر ہوں، چنانچہ ملک اس کے دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا جنت یا دوام و بقا اس کے بائیں ہاتھ میں دیا جائے گا، اس کے سر پر وقار و عزت کا تاج رکھا جائے گا اور اس کے والدین کو ایسے  جوڑے پہنائے جائیں گے کہ اہل دنیا اس کی قیمت کا اندازہ نہیں کر سکتے ، چنانچہ وہ دونوں کہیں گے کہ اے اللہ یہ جوڑے مجھے کس وجہ سے پہنچائے جا رہے ہیں ؟ جو اب دیا جائے گا اس وجہ سے کہ تم دونوں نے اپنے بچے کو قرآن کی تعلیم دی ہے  اور صاحب قرآن سے کہا جائے گا  کہ پڑھتا جا  اور جنت کی سیڑھیوں پر چڑھتا جا تو قرآن کو ٹھہر ٹھہر کر اسی طرح پڑھ جس طرح دنیا میں پڑھتا  رہا ہے کیونکہ تیری منزل وہی پر ہے جہاں تو آخری آیت پڑھتے ہوئے رکے گا۔

{ مسند احمد : ج:5، ص: 348 – الطبرانی :6/357 }

               فوائد

۱- قرآن مجید کی عظمت و فضیلت اور اس کی اہمیت۔

۲- حافظ قرآن اور قرآن میں مہارت رکھنے والے کی فضیلت۔

۳- اجر مشقت و پریشانی کے برابر ملتا ہے۔

۴- ایک مسلمان کا سب سے بہتر وقت وہ ہے جس میں وہ قرآن کو پڑھے پڑھائے۔

٭٭٭

 

آیۃ الکرسی کی فضیلت

حدیث نمبر :08

عَنْ أُبَىِّ بْنِ کَعْبٍ رضی اللہ عنہ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -صلى اللہ علیہ وسلم- « یَا أَبَا الْمُنْذِرِ أَتَدْرِى أَىُّ آیَۃٍ مِنْ کِتَابِ اللَّہِ مَعَکَ أَعْظَمُ ». قَالَ قُلْتُ اللَّہُ وَرَسُولُہُ أَعْلَمُ. قَالَ « یَا أَبَا الْمُنْذِرِ أَتَدْرِى أَىُّ آیَۃٍ مِنْ کِتَابِ اللَّہِ مَعَکَ أَعْظَمُ ». قَالَ قُلْتُ: اللَّہُ لاَ إِلَہَ إِلاَّ ہُوَ الْحَىُّ الْقَیُّومُ. قَالَ فَضَرَبَ فِى صَدْرِى وَقَالَ « وَاللَّہِ لِیَہْنِکَ الْعِلْمُ أَبَا الْمُنْذِرِ ».

صحیح مسلم:810 المسافرین، سنن ابی داود:1460 الصلاۃ.

  ترجمہ :حضرت أبی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم  نے ارشاد فرمایا:اے ابومنذر، کیا تو جانتا ہے کہ کتاب اللہ کی کونسی سب سے عظیم آیت تیرے پاس ہے  ؟میں نے جوب دیا ،اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول زیادہ جانتے ہیں ،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا ،اے ابو منذر ،کیا تو جانتا ہے کہ کتاب الٰہی کی کو نسی سب سے عظیم آیت تیرے پاس ہے ؟حضرت ابی بن کعب کہتے ہیں کہ میں نے جواب دیا :اللہ لاالہ الا ھو الحی القیوم : [یعنی آیت الکرسی] پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے [اپنے دست مبارک سے ]میرے سینے پر مارا اور فرمایا :ابومنذر تجھے علم مبارک ہو۔

[مسلم ،ابوداود]

تشریح: اس حدیث میں جس آیت کا ذکر اور اسے قرآن مجید کی سب سے عظیم آیت کہا گیا ہے وہ سورۃ البقرۃ کی آیت نمبر ۲۵۵ ہے ، جسے حدیث میں آیۃ الکرسی کہا گیا ہے ،  کیونکہ اس کے آخر میں اللہ تعالیٰ کی کرسی کا ذکر ہے۔ پو ری  آیت اس طرح ہے :

اللَّہُ لَا إِلَہَ إِلَّا ہُوَ الْحَیُّ الْقَیُّومُ لَا تَأْخُذُہُ سِنَۃٌ وَلَا نَوْمٌ لَہُ مَا فِی السَّمَاوَاتِ وَمَا فِی الْأَرْضِ مَنْ ذَا الَّذِی یَشْفَعُ عِنْدَہُ إِلَّا بِإِذْنِہِ یَعْلَمُ مَا بَیْنَ أَیْدِیہِمْ وَمَا خَلْفَہُمْ وَلَا یُحِیطُونَ بِشَیْءٍ مِنْ عِلْمِہِ إِلَّا بِمَا شَاءَ وَسِعَ کُرْسِیُّہُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَلَا یَئُودُہُ حِفْظُہُمَا وَہُوَ الْعَلِیُّ الْعَظِیمُ.

” اللہ تعالیٰ ہی معبود بر حق ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں جو زندہ اور سب کا تھامنے والا ہے ، جسے نہ اونگھ آئے نہ نیند، اس کی ملکیت میں زمین اور آسمانوں کی تمام چیزیں ہیں،  کون ہے جو اس کی اجازت کے بغیر اس کے سامنے شفاعت کر سکے ،  وہ جانتا ہے جو ان کے سامنے ہے اور جو ان کے پیچھے ہے ، اور وہ اس کے علم میں سے کسی چیز کا احاطہ نہیں کر سکتے مگر جتنا وہ چاہے ، اس کی کر سی کی وسعت نے زمین وآسمان کو گھیر رکھا ہے ، اور اللہ تعالیٰ ان کی حفاطت سے نہ تھکتا اور نہ اکتاتا ہے ، وہ تو بہت بلند اور بہت بڑا ہے “

  اس آیت کی بڑی فضیلت وارد ہے جیسا کہ اس حدیث میں اسے قرآن مجید کی سب سے عظیم آیت کہا گیا ہے اسی طرح حدیثوں میں اس کی اور بھی کئی فضیلتیں وارد ہیں جیسے  :

۱.  اس آیت میں اللہ تعالیٰ کا اسم اعظم ہے

[ابو داودبروایت اسماء بنت یزید]۔

اور اسم اعظم کی خصوصیت یہ ہے کہ جب اس کی ذریعہ اللہ سے دعا کی جائے  تو اللہ تعالیٰ قبول فرماتا ہے۔

۲.  یہ آیت اگر سونے سے قبل پڑھ لی جائے تو پڑھنے والا رات بھر شیطان کے شر سے محفوظ رہتا ہے۔

[ صحیح بخاری بروایت ابو ھریرۃ]۔

۳.  جس گھر میں یہ آیت پڑھی جا تی ہے اس گھر سے شیطان بھاگ جاتا ہے۔

[احمد و ترمذی بروایت ابی بن کعب ]

۴.  جو شخص ہر فرض نماز کے بعد اس آیت کو پڑھتا ہے اس کے اور جنت میں داخلہ کے درمیان صرف موت حائل ہوتی ہے۔

[صحیح ابن حبان بروایت ابو امامۃ]

۵.  جو شخص صبح کو اس آیت کو پڑھ لے گا تو شام تک شیطان کے شر سے محفوظ رہے گا اور اگر شام کو پڑھ لے گا تو صبح تک شیطان کے شر سے محفوظ رہے گا، چنانچہ حضرت ابی بن کعب بیان کرتے ہیں کہ میرا کھجور ں کا ایک کھلیان تھا، میں دیکھتا تھا کہ روزانہ اس میں سے کچھ کھجور کم ہو جاتی  ہے ، چنانچہ ایک رات میں اس کی نگرانی کر نے لگا، دیکھتا ہو ں کہ ایک شخص نوجوان لڑکے کی شکل میں ظاہر ہوا، میں نے اس سے سلام کیا،اس نے سلام کا جواب دیا، میں نے پوچھا :تو انسان ہے کہ جن ؟  اس نے جواب دیا کہ میں جن ہوں ، میں نے کہا ،اپنا ہاتھ دکھلاؤ  اس نے اپنا ہاتھ دکھلایا، کیا دیکھتا ہوں کہ اس کا ہاتھ کتے کے ہاتھ جیسا ہے اور اس پر کتے جیسے بال ہیں،میں نے سوال کیا کہ کیا جنوں کی خلقت ایسی ہی ہے ؟     [اس نے ہاں کہہ کر جواب دیا اور ]کہا کہ تمام جن جانتے ہیں کہ ان میں مجھ سے  طاقتور اور کوئی شخص نہیں ہے [لیکن تمہارے سامنے میں مجبور ہوں ]حضرت ابی بن کعب نے کہا کہ تو یہاں کیا کرنے آیا ہے ؟اس نے جواب دیا کہ مجھے معلوم ہو ا کہ تم صدقہ و خیرات پسند کرتے ہو تو میں نے چاہا کہ میں بھی اس سے محروم نہ رہوں، حضرت ابی بن کعب کہتے ہیں کہ میں نے کہا : وہ کیا چیز ہے جو تم لوگوں سے ہمیں محفوظ رکھے ؟اس نے کہا کہ کیا تم آیۃ  الکرسی [اللہ لاالہ الاھو]پڑھتے ہو ؟[یعنی کیا تمھیں یہ آیت یاد ہے ]حضرت ابی بن کعب نے جواب دیا ، ضرور یاد ہے ، اس جن نے کہا کہ اس آیت کو اگر صبح پڑھ لو گے تو شام تک ہم سے محفوظ رہو گے اور جب شام کو پڑھ لو گے تو صبح تک ہمار ے شر سے محفوظ رہو گے ، حضرت ابی بن کعب نے کہا کہ صبح کو میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور سا را قصہ سنا دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا ؟ صدق الخبیث”خبیث نے سچ کہا ہے “۔

[صحیح ابن حبان،الحاکم]

               فائدے

۱ – حضرت ابی بن کعب کی فضیلت۔

۲- آیۃ الکرسی کی عظمت و فضیلت۔

۳- نیک عمل اور مفید علم پر مبارک بادی دینا مشروع ہے۔

۴- سوا ل و جواب کے طریقہ سے علم سکھانا۔

٭٭٭

 

جنت کی ٹکٹ

حدیث نمبر :09

عن أبی أمامۃ قال قال رسول اللہ صلى اللہ علیہ و سلم : من قرأ آیۃ الکرسی فی دبر کل صلاۃ مکتوبۃ لم یمنعہ من دخول الجنۃ الا ان یموت.

سنن النسائی الکبرى6/30، المعجم الکبیر للطبرانی8/134.

ترجمہ :حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:جس شخص نے ہر فرض نماز کے بعد آیۃ الکرسی پڑھا، تو اسے جنت میں داخل ہونے سے موت کے علاوہ اور کوئی چیز نہیں روکتی۔

(نسائی الکبری۔ الطبرانی الکبیر۔)

تشریح: پچھلے درس میں آیۃ الکرسی کے کچھ فضائل بیان ہو چکے ہیں آج ہم اس آیت کی مختصر سی تفسیر لکھتے ہیں۔ تاکہ اس کا اہتمام کرنے والے اس کے معنی مفہوم کو بھی دھیان میں رکھیں۔ یہ آیت دس جملوں پر مشتمل ہے ، اور ان دس جملوں میں اللہ تبارک و تعالیٰ کی شان و صفات بیا ن ہوئی ہیں۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ کی توحید الوہیت بھی ہے  اور توحید ربوبیت بھی اس میں توحید اسماء و صفات بھی ہے  اور اللہ کی عظمت و کبریائی بھی، اس میں اس کی سلطنت کی بڑ ائی کا بھی بیان ہے اور اس کے علم کی وسعت کا بھی، اس آیت میں اس کے مجدو کبریائی کا بھی ذکر ہے اور اس کے عظمت و جلال کا بھی، چنانچہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے۔

۱ –  “اللہ لاالہ الاھو ”  اللہ ہی معبود بر حق ہے۔۔ لہذا ہر قسم کی عبادت و اطاعت اسی کے لئے ہونی چاہے۔ اس کے علاوہ جتنے معبود لوگوں نے بنا رکھے ہیں وہ سب باطل ہیں ،کسی پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی سند نازل نہیں ہوئی ہے  لہذا ان کی عبادت بھی باطل ہے۔

۲- ” الحی القیوم ” وہ زندہ ہے ، خود قائم اور سب کو تھامنے والا ہے۔  وہ زندہ ہے یعنی اسے حیات کاملہ حاصل ہے ،دنیا کے دیگر جانداروں کی زندگی اسی کی عطا کردہ ہے ،اللہ تعالیٰ کی زندگی دائمی ہے باقی جانداروں کی زندگیاں عارضی ہیں ،اس کے زندہ رہنے کا تقاضا ہے کہ وہ سنتا ہے ، دیکھتا ہے ، جانتا ہے اور قدرت رکھتا ہے بلکہ ہر صفات ذاتیہ اس میں موجود ہیں، وہ قیوم ہے یعنی وہ اپنے وجود میں کسی کا محتاج نہیں بلکہ دنیا اور دنیا کی ساری چیزیں اپنے وجود میں اس ذات کی محتاج ہیں، زمین کو اسی نے تھام رکھا ہے کہ حرکت نہ کرے اور آسمانوں کو بھی اسی نے تھام رکھا ہے کہ لوگو ں پر گر نہ پڑیں

 “اِنَّ اللّٰہَ یُمْسِکُ السَّمٰوٰاتِ وَالْأرْضُ اَنْ تَزُوْلَا وَلَئِنْ زَالَتَا اِنْ اَمْسَکَھُمَا مِنْ اَحَدٍ مِّنْ بَعْدِ ہ” (فاطر۴۱)  یقینی بات ہے کہ اللہ تعالیٰ آسمانوں اور زمین کو تھامے ہوئے ہے کہ وہ ٹل نہ جائیں اور اگر وہ ٹل جائیں تو پھر اللہ کے سوا اور کوئی ان کو تھام بھی نہیں سکتا۔

۳- ” لاتأ خذہ سنۃ ولا نوم” اسے نہ اونگھ آتی ہے اور نہ نیند۔ کیونکہ اونگھ اور نیند ایک نقص اور کمی ہے اور اللہ تعالیٰ ہر قسم کی نقص و کمی سے پاک ہے ، نیند موت کی ایک قسم ہے اور اللہ تعالیٰ زندہ ہے اسے موت لاحق نہیں ہو سکتی اللہ تعالیٰ آسمانوں و زمین اور دنیا کی ہر چیز کا محافظ و نگراں ہے اور نگراں و پہرے دار جب سوئے گا تو وہ کسی چیز کی حفاظت نہیں کر سکتا۔

۴ – ” لہ ما فی السموات وما فی الأرض ”   اسی کا ہے جو آسمانوں اور زمین میں ہے۔ یعنی دنیائے سماوی وار ضی کی ہر چیز اسی کی ملکیت میں ہے ، اس میں کسی اور کو کوئی شرکت حاصل نہیں ہے ، وہ مختار کل ہے اس کے اختیار میں دخل دینے والا نہ کوئی فرشتہ ہے نہ کوئی نبی و ولی۔

۵ – ”  من ذا الذی یشفع عندہ الا با ذنہ ”  کون ہے جو اس کی اجازت کے بغیر اس کے سامنے شفاعت کر سکے۔ اللہ قادر مطلق اور متصرف کامل ہے ، ساری دنیا کے جن وانسان اس کے سامنے عاجز و مجبور ہیں، اللہ کے سامنے ان کی مجبوری و عاجزی کا یہ عالم ہے کہ اس کی اجازت کے بغیر کسی کو کسی کے لئے سفارش کا مجال نہ ہو گا،

ہاں! اپنے فضل و کرم سے اگر کسی پر مہر بان ہو کر کسی کو شفاعت کی اجازت مرحمت فرمائے گا اور وہ شفاعت کرے تو یہ اور بات ہے ۔

۶- “یعلم مابین اید یھم وما خلفھم”  وہ جانتا ہے جو کچھ لوگو ں کے سامنے ہے اور جو کچھ ان کے پیچھے ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے علم میں اسقدر وسیع ہے کہ وہ لوگوں کے ماضی کے حالات سے بھی واقف ہے ، ان کے حال کو بھی جانتا ہے اور ان کے مستقبل کی بھی خبر رکھتا ہے ، وہ تمام کائنات کے ظاہری امور کو بھی جانتا ہے پوشیدہ امور کو بھی جانتا ہے ، اس دنیا کے ذرے ذرے کا علم اللہ تعالیٰ کو ہے دنیا کی کوئی چیز اس کے علم سے باہر نہیں ہے۔

۷- ” ولایحیطون بشیء  من علمہ الا بماشا٫”  وہ اس کے علم میں سے کسی چیز کا بھی احاطہ نہیں کر سکتے مگر جتنا وہ چاہے ، اللہ تعالیٰ نے غیب کا علم اپنے پاس رکھا ہے ، لوگ اس کے علم کی گہرائی و پہنائی کا انداز ہ نہیں کر سکتے  اور نہ ہی بغیر اس کے چا ہے  ہوئے کسی چیز کا علم حاصل کر سکتے ہیں، لوگوں کو اس کے علم میں سے کسی علم پر کوئی اختیار حاصل نہیں، وہ اپنی مرضی و خوشی سے جسے جتنا علم دینا چاہے اتنا ہی لوگوں کو ملنا ہے اور بس۔

۸ – ” وسع کرسیہ السموات والأرض”اس کی کرسی نے آسمانوں اور زمین کو گھیر رکھا ہے ، اس سے اللہ کی عظمت کا کمال  اور اس کی سلطنت کی وسعت کا پتہ چلتا ہے کہ جب کر سی کی یہ شان ہے کہ ساتوں آسمان اتنے بڑ ے ہونے کے  باوجود کرسی کے مقابلہ میں ان کی حیثیت یہ ہے کہ جیسے ایک لوہے کے حلقے کوکسی وسیع میدان میں ڈال دیا جائے اور کرسی کی حیثیت عرش کے مقابلے میں ایسی ہے جیسے اس حلقے کی حیثیت اس میدان کے مقابلہ میں ہے۔   (الصحیحہ ۱۰۹)    عرش وکرسی ایسی مخلوق ہیں کہ انسانی عقل ان کا تصور کرنے سے عاجز ہے ، جب ان مخلوقات کا تصور کرنے سے عقلیں عاجز ہیں تو ان کے خالق کی عظمت کا اندازہ کیسے لگایا جا سکتا ہے جس نے انھیں وجود بخشا ہے۔

 ۹- ” ولا یؤد ہ حفظھما ” ان دونوں کی حفاظت اس پر گراں نہیں ہے ، اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ اور قوت باہرہ کا حال یہ ہے کہ آسمانوں و زمین جیسی مخلوق کی حفاظت سے وہ تھکتا نہیں ہے اور نہ ہی ان کی حفاظت اللہ تعالیٰ پر دشوار ہے ، بلکہ اس کے نزدیک یہ کام بہت ہی آسان ہیں وہی ہے جو ان کے معاملات کو دیکھ رہا ہے  اور ان میں تصرف کر رہا ہے۔

۱۰- ”  وھو ا لعلی  العظیم” وہ بہت ہی بلند اور نہایت ہی عظمت والا ہے ، وہ اپنی ذات کے لحاظ سے بھی بہت بلند ہے ، اپنی طاقت و قوت کے لحاظ سے بھی سب پر غالب و قاہر ہے ، وہ مستوی تو عرش بریں پر ہے جس کی بلندی کا اندازہ کر نا مشکل کام ہے لیکن اس بلندی کے باوجود وہ سمندر کی تہ میں چلنے والی مچھلی کی خبر رکھتا ہے ، وہ بہت بڑی عظمت والا ہے ، اس کے سامنے دنیا کے بڑے بڑے جبار و متکبر اور زبردست بادشاہوں کی کوئی حیثیت نہیں ہے ، اس کی عظمت کا یہ حال ہے کہ دنیا کے تمام انبیا ء و اولیاء بھی اس کی مرضی کے خلاف ایک لفظ بھی اپنی زبان سے نہیں نکال سکتے

” اِنْ کُلُّ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَالأْرْضِِِِِِِِِِ اِلَّاآتِ الرَّحْمٰنِ عَبْدًا  ،  لَقَدْ اَحْصَاھُمْ وَعَدَّھُمْ عَدًّا ، وَکُلُّھُمْ آتِیْہِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِفَرْدًا “

آسمان و زمین میں جو بھی ہے سب کے سب اللہ کے غلام بن کر ہی آنے والے ہیں، ان سب کو اس نے گھیر رکھا ہے اور سب کو پوری طرح گن رکھا ہے۔ یہ سارے کے سارے قیامت کے دن اکیلے اس کے پاس حاضر ہونے والے ہیں ۔  (مریم ۹۳،۹۴، ۹۵)

               فوائد

۱ – ہر فرض نماز کے بعد آیۃالکرسی پڑھنے کی فضیلت۔

۳-عبادت صرف اللہ تعالیٰ کا حق ہے۔

۳- اونگھ اور نیند ایک کمزوری ہے جس سے اللہ تعالیٰ مبرا ہے۔

۴- اللہ کی اجازت کے بغیر شفاعت ممکن نہیں ہے۔

۵- آسمان و زمین کی ہر چیز پر صرف اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہے۔

٭٭٭

 

جنتی راستہ

حدیث نمبر :10

عَنْ أبِیْ ھُرَیْرَۃ رَضِیَ اللّٰہ عَنْہ أنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ:مَنْ سَلَکَ طَرِیْقًا یَلْتَمِسُ فِیْہِ عِلْمًا سَھَّلَ اللّٰہ لَہ بہِ طَرَیْقًا اِلَی الْجَنَّۃ

(مسلم :۲۶۹۹  الذکر :سنن ابو داود: ۳۶۴۳:العلم)

ترجمہ : حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص علم دین کی تلاش میں کسی راستے پر چلتا ہے تو اس کے بدلے اللہ تعالیٰ اس کے لئے جنت کا راستہ آسان کر دیتا ہے

 (صحیح مسلم وسنن ابو داود)

 تشریح :  جس طرح گونگے بہرے اور بولنے و سننے والے برابر نہیں ہوسکتے ،  بینا ونا بینابرابر نہیں ہوسکتے ، دھوپ اور سایہ برابر نہیں ہوسکتے اسی طرح نہ  علم اور جہالت برابر ہو سکتے ہیں اور نہ ہی عالم اور جاہل۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے :  قل ھل یستوی الذین  یعلمون وا لذی لا یعلمون   [الزمر۹]  “لوگوں سے کہہ دو کہ کیا علم والے اور بے علم برابر ہو سکتے ہیں  “

کیونکہ علم اللہ کانور ہے جس کی روشنی میں چل کر ایک بندہ جنت کا صحیح راستہ  معلوم کر لیتا ہے ،  علم ہی کے ذریعہ ہدایت و گمراہی میں فر ق کیا جاتا ہے ،   علم ہی کے ذریعہ حرام و حلال میں تمیز ہوتی ہے ،  علم ہی کے ذریعہ حقوق الٰہی کو پہچا نا جا تا ہے ،  علم ہی کے ذریعہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم    کے حقوق تک رسائی ہوتی ہے ، علم ہی کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کی حقیقی عبادت کی جاتی ہے۔ علم کی اسی اہمیت کے پیش نظر  اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیثوں میں ایک طرف علم و اہل علم کی فضیلت بیان فرمائی ہے ، تحصیل علم پر بہت بڑے اجر و ثواب کا وعدہ کیا ہے ،   علم حاصل کرنے کا وجوبی حکم دیا ہے ، طلب علم کو عبادت اور مطالعہ کو تسبیح و تہلیل اور اس کے لئے سعی کرنے کو جہاد قرار دیا ہے :   یَرْ فَعِ اللّٰہُ الَّذِیْنَ آمَنُوْا مِنْکُمْ وَالَّذِیْنَ اُوْتُوالْعِلْمَ دَرَجَات ، [المجادلۃ]  تم میں سے جو لوگ ایمان لائے اور انہیں علم سے نوازا گیا  اللہ تعالیٰ ان کے درجات کو بلند کرتا ہے ، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :  اے لوگو علم حاصل کر نے سے ملتا ہے ،  دین کی سمجھ سمجھنے کی کوشش کرنے سے حاصل ہوتی ہے  اور اللہ تعالیٰ جس کے ساتھ خیرو بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے اسے دین کی سمجھ عطا فرماتا ہے  اور اللہ تعالیٰ سے زیادہ ڈرنے والے اس کے اہل علم بندے ہی ہیں۔

(طبرانی کبیر بروایت معاویہ :الصحیحہ۳۴۲)

    اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جسے اللہ تعالیٰ دین کی سمجھ سے محروم کر دے اس میں کوئی خیر نہیں ہے اور نہ ہی کوئی بندہ بغیر صحیح علم کے اللہ تعالیٰ سے ڈرنے کا حق ادا کر سکتا ہے۔ زیر بحث حدیث میں بھی علم کے حاصل کرنے ،  اس کے لئے کوشش کرنے اور اس کے لئے سفرکرنے کی تر غیب دی گئی ہے گویا کہ طالب علم کا ہر قدم جو مجلس علم میں حاضری کے لئے اٹھ رہا ہے ،   اس کا ہر وقت جو علم دین حاصل کرنے کے لئے صرف ہو رہا ہے ، اس کی ہر کوشش جو علم دین کے حصول اور اس میں مہارت حاصل کرنے کے لئے ہو رہی ہے وہ حقیقت میں جنت کی طرف اپنا قدم اٹھا رہا ہے اور اسے حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے ،  سچ فرمایا اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جو شخص علم کرنے کے لئے اپنے گھر سے نکلا وہ اللہ تعالیٰ کے راستے میں چل رہا ہے  یہاں تک کہ واپس آ جائے۔  [سنن تر مذی  بروایت انس] دوسری طرف لاعلمی کو اندھا پن اور خسارے کا بہت بڑا سبب قرار دیا ہے ،  چنانچہ  قیامت کے دن اہل جہنم کہیں گے :  لَوْکُنَّا نَسْمَعُ اَوْ نَعْقِلُ مَا کُنَّا فیِ اَصْحَابِ السَّعِیْر  [الملک]

اگر ہم سنے ہوتے اور سمجھنے کی کوشش کئے ہوتے تو آج ہم جہنمی نہ ہوتے ۔  یعنی اہل علم کی بات سنے ہوتے اسے سیکھنے اور اس کے مطابق عمل کرنے کی کوشش کر کئے ہوتے تو آج ہمارا یہ حشر نہ ہوتا ۔

ایک حدیث میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ اس ہدایت اور علم کی مثال جو دیکر اللہ تعالیٰ نے  مجھے بھیجا ہے اس بارش کی ماند ہے جو کسی زمین پر بر سی  اس زمین کا ایک حصہ زرخیز تھا اس نے پانی کو اپنے اندر جذب کر لیا جس کے سبب گھاس اور جڑی بوٹیاں اگائیں ،  اس زمین کا ایک حصہ سخت تھا (یعنی زمین پتھریلی تھی جس نے پانی کو جذب تو نہیں کیا البتہ)  اس نے پانی کو اکٹھا کر لیا،   اس جمع شدہ پانی کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو نفع دیا کہ لوگو ں نے خود بھی پیا،  اپنے جانوروں کو پلایا اور اپنی کھیتی کو بھی سیراب کیا۔   وہ بارش زمین کے ایک اور (تیسرے) حصے کو بھی پہنچی جو بالکل چٹیل  ہموار تھی جہاں نہ پانی ٹھہر سکا اور (نہ زمین میں جذب ہوسکا اور) نہ کوئی گھاس اگائی،   بس یہی مثال ہے اس شخص کی  جس نے دین میں سمجھ حاصل کی اور میری لا ئی ہوئی اس ہدایت سے اللہ تعالیٰ نے اسے فائدہ دیا،  چنانچہ اس نے خود بھی علم حاصل کیا اور دوسروں کو بھی سکھایا،   اور اس شخص کی مثال جس نے اس کی طرف سر اٹھا کر بھی نہ دیکھا اور نہ اللہ تعالیٰ کی  اس ہدایت کو قبول کیا جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے مجھے رسول بنا کر بھیجا۔

 [بخاری و مسلم  بروایت ابو موسی ]

                فوائد

۱ – علم دین کی فضیلت و اہمیت۔

۲-  دینی علم کا حصول جنت میں لے جا نے والا عمل ہے۔

۳-   ہر مسلمان کے اوپر فرض ہے کہ وہ نفع بخش علم حاصل کر نے کی کو شش کرے۔

۴ – لاعلمی انسان کو ہلاکت میں ڈال دیتی ہے۔

٭٭٭

 

ہلکے اور وزنی کلمے

حدیث نمبر :11

عَنْ اَبِی ہُرَیْرَۃ رضی اللّہُ عنہ قال :قَالَ رسولُ اللّہِ صلی اللہ علیہ وسلم ،کَلِمَتَا نِ حَبِیْبَتَانِ اِلَی الرَّحْمٰنِ خَفِیْفَتَانِ عَلَی اللِّسَانِ ثَقِیْلَتَانِ فِی الْمِیْزَان  ِ،   سُبْحانَ اللّٰہِ وَبِحَمْدِہ سُبْحَانَ اللّٰہِ الْعَظِیْم۔

(صحیح البخاری:۶۴٠۶الدعواتصحیح مسلم:۲۶۹۴الذکر)

ترجمہ : حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: دو کلے رحمن کو بہت پیارے ہیں، زبان پر بہت ہلکے ہیں اور ترازو میں بہت بھاری ہیں ، سبحان اللہ وبحمدہ سبحان اللہ العظیم۔

]بخاری ومسلم[

تشریح  : ذکر الٰہی ایک بہت اہم عبادت ہے اور اللہ تعالیٰ کو تمام اعمال میں سب سے زیادہ محبوب ہے ،  اللہ تبارک تعالیٰ اپنے فضل و کرم اور مدد و تائید کے ذریعہ ذکر کرنے والوں کے ساتھ ہوتا ہے ،  ذکر میں مشغول بندوں کا ذکر وہ اپنے پاس موجود فرشتوں میں کرتا ہے ۔  ذکر الٰہی بندے کے زندہ دل ہونے کی دلیل ہے ،  ذکر الٰہی میں مشغولیت اس بات کی علامت ہے کہ بندہ اپنے مالک،  اپنے خالق ،  اپنے رازق،  اپنے محسن اور اپنے مربی کے احسانات و عطاءات کو یاد رکھتا ہے ،  اور اس کا شکریہ ادا کر رہا ہے۔  اسیلئے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کو کثرت سے ذکر کی ترغیب دیا کرتے تھے چنانچہ ایک صحابی نے سوال کیا کہ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم امور اسلام بہت زیادہ ہیں مجھے کوئی ایسا عمل بتلایئے جس پر میں جم جاؤں،  آپ نے فرمایا :”لا یزال لسانک رطبا من ذکر اللہ”.  تمہاری زبان پر ہر وقت اللہ کا ذکر جاری رہے۔

 (سنن ترمذی بروایت عبد اللہ بن بسر)

ایک اور حدیث میں ارشاد ہے کہ

 “فإن مثل ذلک کمثل رجل خرج العدو فی أثرہ سراعا حتى إذا أتى على حصن حصین فأحرز نفسہ منہم کذلک العبد لا یحرز نفسہ من الشیطان إلا بذکر اللہ قال النبی صلى اللہ علیہ و سلم”

ذکر الٰہی کی مثال ایسی ہے جیسے کسی شخص کا پیچھا دشمنوں نے کیا اور وہ ان سے بھاگ کر کسی مضبوط قلعے میں داخل ہو گیا اور اپنے آپ کو محفوظ کر لیا، بعینہ اسی طرح بند ہ اپنے دشمن شیطان سے ذکر الٰہی کے ذریعہ محفوظ رہتا ہے۔

(سنن ترمذی)

مذکورہ حدیث میں بھی بعض انہیں کلمات کے ذکر کا بیان ہے جن کے اہتمام کی ترغیب اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے دی ہے  یعنی  سبحان اللہ وبحمدہ سبحان اللہ العظیم،  اس ذکر عظیم پر ابھارتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

اولاً  : “یہ کلمے رحمن کو بہت پیا رے ہیں” لہذااس کا اہتمام کر نے والے سے بھی اللہ تعالیٰ محبت کرتا ہے ،  اور اللہ تعالیٰ جب کسی بندے سے محبت کرتا ہے تو اسے کبھی بھی عذاب نہ دے گا۔ اس طرح ان دونوں کلموں کا پہلا فائدہ تو یہ ہے کہ ان کے اہتمام سے بندے کو اللہ کی محبت حاصل ہوتی ہے۔

ثانیاً  :  یہ کلمے ” زبان پر اسقدر آسان ہیں” کہ ان کے پڑھنے میں نہ دیر لگتی ہے اور نہ کوئی مشقت محسوس ہوتی ہے ، بلکہ ہر چھوٹا بڑا عالم و جاہل اور عربی و عجمی ان کلمات کو آسانی سے ادا کر سکتا ہے اور تھوڑی سی مدت میں کئی بار ادا کر سکتا ہے۔

ثالثاً  :  ان کلموں کا ایک عظیم  فائدہ یہ ہے کہ “قیامت کے دن جب بندوں کے اعمال و نامہ ء اعمال تو لے جائیں گے تو یہ کلمے اگر چہ مختصر اور زبان پر ہلکے ہیں لیکن ترازو میں بفضلہ تعالیٰ بہت وزنی ثابت ہوں گے ” ،  اور معلوم ہے کہ اس دن جس کا پلڑا بھاری ہو گیا وہ کامیاب ہو ا  اور جس کا پلڑا ہلکا ہو گیا وہ نا کام  و نا مراد رہا ” فَاَمَّا مَنْ ثَقُلَتْ مَوازِیْنُہ فَہُوَ فِیْ عِیْشَۃٍ رَّاضِیَۃٍ وَاَمَّامَنْ خَفَّتْ مَوَازِیْنُہ فَاُمُّہ ھَاوِیَہ ”   [القارعۃ] ”  پھر جس کے پلڑے بھاری ہوں گے ،  وہ تو دل پسند آرام کی زندگی میں ہو گا ،  اور جس کے پلڑے ہلکے ہوں گے ،  اس کا ٹھکانا ہاویہ  (جہنم)   ہے “۔ اس لئے ہر مسلمان کو جا ہئے کہ اس کلمے کا اہتمام کرے اور صبح و شام دن و رات اٹھتے بیٹھتے  اور چلتے پھر تے اس کا ورد کرتا رہے۔ “سبحان اللہ و بحمدہ سبحان اللہ العظیم”۔

اس  کلمے کا معنی    ” سبحان اللہ و بحمدہ سبحان اللہ العظیم ”  اللہ پاک ہے اپنی تعریفوں اور خوبیوں کے ساتھ ،  اور اللہ تعالیٰ پاک ہے عظمتوں والا  ” اللہ تبارک و تعالیٰ ہر قسم کے عیب اور نقص سے پاک ہے وہ ہر اعتبار سے کامل ہے ، نہ اس کی ذات میں نقص ہے اور نہ اس کی صفات میں کسی قسم کا نقص ہے ، نہ اس کے کسی کام میں کوئی نقص ہے اور نہ ہی اس کا کوئی فیصلہ نقص و عیب کا شکار ہے ،  وہ تمام خوبیوں کا حامل اور تمام صفات علیا کا منبع ہے ، لہذا وہی ہماری تمام حمدو ثنا کا سزاوار ہے۔  وہ اپنی ذات کے لحاظ سے بھی قابل تعریف ہے ،  اپنی صفات کے لحاظ سے بھی قابل تعریف ہے اور اپنے افعال کے لحاظ سے بھی قابل ستائش ہے ،  اس نے مخلوق پر اپنے احسانات کئے ہیں انہیں اپنی بے پایا ں نعمتوں سے نوازا ہے ، اس لئے وہی قابل حمد و ثنا ہے اور وہی ہے جو ہماری تمام محبتوں ،  رغبتوں اور التجاؤں کاسزاوار ہے ،  وہ بہت عظمت و جلال والا ہے  وہ اپنی ذات کے لحاظ سے بھی عظیم ہے ،  اپنی سلطنت کے لحاظ سے بھی عظیم ہے ، اپنی بے پایاں خوبیوں کے لحاظ سے بھی عظیم ہے ،  اپنے علم کے بھی لحاظ سے بھی عظیم ہے ،  اپنی حکمت و عدل کے بھی لحاظ سے بھی ہے  اور اپنے احسانات و انعامات کے لحاظ سے بھی عظیم ہے ،  اس کی عظمت و شان کا مقابلہ کوئی دوسری ذات نہیں کر سکتی ،  سبحان اللہ و بحمدہ سبحان اللہ العظیم۔

                فائدے

 ۱  : “سبحان اللہ و بحمدہ سبحان اللہ العظیم” کا ورد اللہ تعالیٰ کا بہترین ذکر ہے۔

۲  :   اللہ تعالیٰ کی ایک صفت محبت کرنا ہے۔  ۳  :  قیا مت کے دن بندوں کے اعمال اور ان کے اجر و ثواب تولے جائیں گے۔

۳  :  اللہ تعالیٰ کا فضل واحسان کہ وہ معمولی عمل پر بہت بڑے اجر سے نوازتا ہے۔

٭٭٭

 

تیز ہوا کی دعا

حدیث نمبر :12

عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللّہ عَنْہَا  قَالَت۔کَانَ النَبِیُّ صلی اللہ علیہ وسلم ،اِذَاعَصَفَتِ الرِّیْح  قال ، اللھم انِّیْ اَسْاَلُکَ  خَیْرَھَا وخَیْرَ مَا فِیْھَا وَ خَیْرَ مَا اُرْسِلَتْ بِِہ  وَاَعُوْذُ بِِکَ مِنْ شَرِّ ھَا وَشَرِّ مَا فِیْھَا وَشَرِّ مَا اُرْسِلَتْ بِہ

 (صحیح مسلم ۸۹۹ صلاۃ الاستسقاء ۔سنن الترمذی، ۳۴۴۹ الدعوات)

ترجمہ : حضرت حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ جب کبھی تیز ہوا چلتی تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم (یہ دعا)پڑھتے۔۔

اللھم انِّیْ اَسْاَلُکَ  خَیْرَھَا وخَیْرَ مَا فِیْھَا وَ خَیْرَ مَا اُرْسِلَتْ بِہ  وَاَعُوْذُ بِکَ مِنْ شَرِّ ھَا وَشَرِّ مَا فِیْھَا وَشَرِّ مَا اُرْسِلَتْ بِہ۔

اے اللہ میں آپ سے اس ہوا کی بھلائی کا سوال کرتا ہوں ،  ہر اس بھلائی کا سوال کرتا ہوں جو اس میں ہے اور ہر اس بھلائی کا سوال کرتا ہوں جو دیکر یہ بھیجی گئی ہے ،   اور اے اللہ تعالیٰ میں اس ہو اکے شر سے آپ کی پنا ہ چاہتا ہوں اور ہر اس شر سے آپ کی پنا ہ چاہتا ہوں جو اس ہوا میں ہے اور ہر اس شر سے آپ کی پناہ چاہتا ہوں جسے دیکر یہ بھیجی گئی ہے۔

{  صحیح مسلم وسنن تر مذی }

تشریح  :  اللہ تعالیٰ اپنی حکمت بالغہ اور ْ قدرت کاملہ سے ایک ہی چیز کو کبھی رحمت کے طور پر بھیجتا ہے اور کبھی اسی چیز کو لوگوں کے اوپر بطور عذاب کے نازل کرتا ہے ، بلکہ ایک ہی چیز ایک ہی وقت میں کچھ لوگوں کے لئے رحمت اور بعینہ اسی وقت میں کچھ لوگو ں کے لئے باعث عذاب بن جاتی ہے ، جیسے بارش اللہ کی ایک رحمت ہے لیکن کبھی یہی بارش لوگوں کے لئے مصیبت و عذاب کی شکل میں نازل ہوتی ہے ،  ہوا لوگوں کے لئے کبھی رحمت اور کبھی عذاب و پریشانی کی شکل میں آتی ہے حتی کہ یہی ہو ا غزوہ  خندق کے موقعہ پر مسلمانوں کے لئے رحمت اور ان کے دشمنوں کے لئے عذاب کی شکل میں ظاہر ہوئی ، اللہ تبارک تعالیٰ اسی ہوا کو کبھی آہستہ آہستہ چلا تا ہے اور کبھی تیز ، کبھی یہی ہو ا پانی سے بھرے ہوئے بادلوں کو لیکر آتی ہے کبھی یہی ہو ا کھیتوں اور پھلوں کے پکنے اور ان کے تیار ہونے میں معاون ثابت ہو تی ہے تو کبھی سخت ٹھنڈی کبھی سخت گرم اور کبھی کھیتی ونسل کی بربادی کا سبب بنتی ہے ،  یہ ایسی باتیں ہیں جن کا مشاہدہ ہم برا بر کرتے رہتے ہیں، اور یہ بھی ایک مسلمہ حقیقت ہے  کہ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کے حکم اور اس کی قدرت سے ہو تا ہے ،  ہوا  اور پانی کی اپنی ذات کااس میں کوئی دخل نہیں ہے ، بلکہ یہ چیزیں خالص حکم الٰہی کے تابع اور غیر مختار ہیں، اس لئے کسی بھی موقعہ پر جہاں ان مخلوقات کی   خطرناکی  کا احساس ہو ایک مسلمان کو درج ذیل موقف اختیار کرنا چاہئے۔

[۱]  خوف و رجا کا  جذبہ۔  اخلاص اور کامل اعتماد کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہو اور پیش آمد ہ صورت حال میں پائے جانے والے خیر کا پہلو طلب کرے اور اس کے شر سے پناہ چاہے ، کیونکہ اس کے اندر پائے جا نے والے خیر و شر کا مالک حقیقی صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ اوپر ذکر کی گئی حدیث میں اسی توجیہ نبوی کا بیان ہے ، نیز اسی حدیث کے آخر میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ

 جب بادل چھا جاتے اور محسوس ہوتا کہ اب بارش ہو گی تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا رنگ بدل جا تا ، کبھی آپ باہر جا تے ، کبھی اندر آتے ، کبھی آگے ہو تے ، کبھی   پیچھے  پلٹتے ،  اور جب بارش ہو جا تی تو آپ خوش ہو جا تے۔  حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے آپ کی اس اضطرابی کیفیت کو محسوس کرتے ہوئے سوا ل کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جوا ب دیا:  اے عائشہ ممکن ہے کہ یہ بدلی و بارش ویسی ہو جیسا کہ قوم عاد نے کہا تھا :

 فَلَمَّا رَاَوْہُ  عَارِضًا  مُّسْتَقْبِلَ اَوْدِیَتِھِمْ  قَالُوْ ا ھٰذَا عَا رِض مُّمْطِرُنَا، بَلْ ھُوَ مَسْتَعْجَلْتُمْ بِہ رِیْح فِیْھَا عَذَاب اَلِیْم [  الاحقاف  ۲۴] “

   پھر جب انہوں نے (عذ اب کو بصورت) بادل دیکھا اپنی وادیوں کی طرف آتے ہوئے تو کہنے لگے ، یہ  ا بر ہم پر بر سنے والا ہے (نہیں) بلکہ دراصل یہ ابرو ہ(عذاب)ہے جس کی تم جلدی کر رہے تھے ،  ہوا ہے جس میں دردناک عذاب ہے “۔

۔۔ ایک اور حدیث میں حضرت عائشہ کا بیان ہے کہ جب اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم بدلی دیکھتے  یا (تیز) ہوا چلتی  تو اس کے آثار آپ کے چہرے پر  دکھائی  دیتے۔

[صحیح بخاری ومسلم ]

 [۲]  اسے بر ا بھلا نہ کہا جائے۔ کیونکہ ہوا ور بارش اپنے تئیں مختار نہیں ہیں بلکہ حکم الٰہی کے تابع ہیں، باری تعالیٰ ان کے ذریعہ کسی قوم پر اپنی رحمت برساتا ہے جو خاص اس کا فضل اور اس کی نعمت ہے اور کبھی کسی قوم پر وہ عذاب بن کر نازل ہو تی اور چلتی ہیں جو اللہ تعالیٰ کا عدل  اور اس کی حکمت ہے ، اس لئے ایسے موقع پر بندوں سے مطالبہ ہے کہ وہ  :

اولاً :  تو اپنے آپ کا محاسبہ کریں ، گناہوں سے تو بہ واستغفار کریں، ظلم و زیادتی سے رک جائیں اور  حقوق الٰہی میں کو تباہیوں سے پرہیز کریں۔

ثانیاً : اس ہوا و بادل کے خالق، اس کے مالک اور اس میں تصرف کا حق رکھنے والے رب کریم غفور و رحیم کی طرف متوجہ ہوں، دعا کریں اور اس میں  موجود خیر و بھلائی کے طالب اور شرو  برائی سے اس کی پناہ میں آئیں۔

ثالثاً : اس ہوا  اور بادل کو برا بھلا کہنے اسے ذمہ دار ٹھہرانے اور اس پر لعنت بھیجنے سے پر ہیز کریں۔

   چنانچہ حضرت ابو ہریرہ  رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ہوا اللہ کی طرف سے ہے جو رحمت و عذاب لے کر آتی ہے ، اس لئے اسے گالی نہ دو (بلکہ جب تیز ہوا چلے تو) اللہ تعالیٰ سے اس کے خیر کا سوال کرو اور اس کے شر سے پناہ طلب کرو

(ابو داود، ابن ماجہ)

ایک اور حدیث میں حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما  سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص نے ہوا پر لعنت بھیجی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :ہوا پر لعنت نہ بھیجو کیونکہ یہ حکم الٰہی کے تابع ہے ، اور جو شخص کسی چیز پر لعنت بھیجتا ہے اور اگر وہ چیز لعنت کی مستحق نہیں ہوتی تو یہ لعنت لعنت بھیجنے والے کی طرف پلٹ آتی ہے

 (سنن ابوداود، الترمذی)

               فائدے

۱-  ہوا اور  بارش وغیرہ  اللہ کی مخلوق اور اس کے تابع فرمان ہیں، لہذا اگر کسی کو ان سے نقصان لا حق ہو تو انھیں برا بھلا نہ کہے بلکہ اللہ تعالیٰ سے دعا کرے۔

۲-  بندے کو چاہئے کہ ہر حال میں ا للہ  تعالیٰ سے اپنے تعلقات استوار رکھے۔

۳-   دنیا و آخرت کی مصیبت سے نجا ت کے لئے دعا بہترین وسیلہ ہے۔

٭٭٭

 

سونے کے آداب

حدیث نمبر :13

عَنْ جَا بِرِ بن عبد اللہ قال. قال رَسُوْلُ اللہِ صلی اللہ علیہ وسلم۔ اَطْفِئُوْا اَلْمَصَابِیْحَ بِا للَّیْل اِذَا رَقَدْ تُمْ وَاَغْلِقُوْ الْاَبْوَابَ وَاَوْکِئُوْا اَلْاَسْقِیَۃ وَخَمِّرِوْا الطَّعَام وَالشَّرَاب ُقال ھَمَّام۔ وَاُ حسبہ قال۔ولوبعود یعرضہ.

 (البخاری ،۶۲۹۶الاستیذان  مسلم ۲٠۱۲الاشربۃ)

ترجمہ : حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : رات میں جب سونے لگو تو چراغ بجھا دیا کرو، دروازے بند کر دیا کرو، مشکیزے کا منھ باندھ دیا کرو، کھانے پینے کے برتنوں کو ڈھانپ دیا کرو، اگر ڈھکنے کے لئے کوئی چیز نہ ملے تو (بسم اللہ کہہ کر) کوئی لکڑی ہی چوڑائی میں رکھ دو۔

{صحیح بخاری ومسلم}

تشریح: اس دنیا میں ہر چیز پر اللہ تعالیٰ کا حکم نافذ ہے ، اس کے علاوہ کوئی اور ذات نفع و نقصان کا اختیار نہیں رکھتی، اللہ ہی ہے جو جس کو چاہتا ہے بیمار کرتا ہے ، جسے چاہتا ہے شفا دیتا ہے ، جسے چاہتا ہے نفع دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے خسارے سے دوچار کرتا ہے ، البتہ ان تمام چیزوں کے لئے اس نے کچھ اسباب پیدا کئے ہیں جب کسی کو فائدہ پہنچا نا چاہتا ہے تو اس کے لئے اسباب نفع پیدا کر دیتا ہے ، اور اگر کسی کو نقصان میں رکھنا چاہتا ہے تو اس کے لئے خسارے کے اسباب مہیا کر دیتا ہے۔ یہ سای چیزیں اس کے ارادے اور اس کی پید ا کردہ تقدیر سے وجود میں آتی ہیں، اس لئے ایک بندے سے سب سے مطالبہ ہے کہ اولا وہ یہ ایمان رکھے کہ اس دنیا میں جو کام بھی ہو تا ہے وہ مشیت الٰہی کے بغیر نہیں ہے اس کا ایمان “ماشاء کان ومالم یشاء لم یکن” پر ہونا چاہئے ، یعنی جو کچھ ہوا وہ اللہ کے چاہنے سے ہوا اور جو کچھ نہیں ہوا وہ بھی اللہ کے نہ چاہنے ہی سے نہیں ہوا۔

ثانیاً:  بندے کو چاہئے کہ حصول نفع اور دفع ضرر کے لئے ان وسائل کو تلا ش کرے اور ان کے حصول پر حریص رہے  جو اللہ تعالیٰ نے پیدا فرمائے ہیں خاص کر ایسے موقعوں پر جہاں انسان اپنے ہوش وحواس کھو بیٹھتا ہے ، جیسے نیند کا موقعہ یا اپنے گھر غائب رہنے کا موقعہ۔ زیر بحث حدیث میں ایسے ہی ایک موقعہ یعنی  سونے سے قبل دفع ضرر کے لئے ایسے ہی بعض وسائل کے استعمال کا حکم ہے۔ مثلاً

[۱] آگ جہاں ایک طرف انسان کے لئے نہایت ہی مفید چیز ہے وہیں بسا اوقات اس کے لئے اور اس کے اموال و اولاد کے لئے بڑے خسارے کا سبب بھی بن جاتی ہے ، خاص کر ایسے وقت میں جب کہ انسان اس سے غفلت برتے ، مثلاً گھر میں موجود نہ ہو اور گھر میں آگ جل رہی ہو، بندہ سورہا ہو اور آگ جل رہی ہو۔

جیسا کہ ہم اس کا مشاہدہ کرتے ہیں کہ ایسے موقعہ پر معمولی سی کوتا ہی جان و مال کے لئے بڑے  نقصان کا سبب بن جاتی ہے۔ اسی لئے اللہ کے رسوال صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ سو نے سے قبل آگ بجھا دیا کرو اور چراغ کو گل کر دیا کرو تا کہ تمہاری بے خبری میں تمہاری تباہی کا سبب نہ بن جائے۔

[۲]  گھر میں دروازے اس لئے لگائے جا تے ہیں کہ جہاں ایک طرف پردہ اور سترر ہے وہیں چوروں اور نقصان دہ جانوروں سے حفاظت بھی اور چونکہ رات کے سناٹے میں چوروں اور نقصان دہ جانوروں کا خطرہ زیادہ بڑھ جاتا ہے اس لئے خصوصی طور پر رات میں سوتے وقت دروازے کو بند کرنے کی تاکید کی گئی ہے ، اور بالأخص شیطان لعین اور اس کے چیلوں کے شر سے محفوظ رہنے کے لئے تو دروازوں کا بند کرنا بہت ہی اہم ہے ، اور یہ بھی ضروری ہے کہ دروازہ بند کرتے ہوئے “بسم اللہ” کہہ لیا جائے کیونکہ شیطان اس دروازے کو نہیں کھول پاتا جو بسم اللہ کہہ کر بند کیا گیا ہو۔

[۳]  ہر گھر میں کھانے اور پینے کا کچھ نہ کچھ سان ضرور رہتا ہے ، اگر اسے ایسے ہی کھلا چھوڑ دیا جائے تو کوئی بھی نقصان دہ مادہ اس میں پڑ سکتا ہے اور کوئی بھی زہریلا جانور اس میں منھ ڈال سکتا ہے ، لہذا اسے بند کر دینا بھی انسان کی صحت کے لئے بہت ضروری ہے حتی کہ اس امر کی اسقدرتا کید ہے کہ اگر کھانے اور پانی کے پرتنوں کو ڈھکنے کے لئے کوئی چیز نہ ملے تو اس پر اللہ کا نام لیکر کوئی لکڑی وغیرہ رکھ دی جائے جو بحکم الٰہی حفاظت کا کام دے گی۔

               فائدے:

۱-  حفاظتی اسباب کا استعمال ایک شرعی حکم ہے۔

۲-  رات کو سوتے وقت ہیٹر، انگیٹھی اورسوئی گیس وغیرہ بجھا دینا چاہئے۔

۳-  بجلی کے بلب یا لالٹین وغیرہ کو جلتا چھوڑ نا اس حکم میں داخل نہیں ہے۔

۴-  گھر کا دروازہ بند کرتے ، کھانے اور پانی کے برتنوں کو ڈھکتے وقت بسم اللہ کہنا سنت ہے۔

٭٭٭

 

تھکاوٹ کا نبوی علاج

حدیث نمبر :14

عَنْ عَلِیِّ بْنِ أَبِی طَالِبٍ أَنَّ فَاطِمَۃَ عَلَیْہَا السَّلَام أَتَتْ النَّبِیَّ صَلَّى اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ تَسْأَلُہُ خَادِمًا فَقَالَ أَلَا أُخْبِرُکِ مَا ہُوَ خَیْرٌ لَکِ مِنْہُ تُسَبِّحِینَ اللَّہَ عِنْدَ مَنَامِکِ ثَلَاثًا وَثَلَاثِینَ وَتَحْمَدِینَ اللَّہَ ثَلَاثًا وَثَلَاثِینَ وَتُکَبِّرِینَ اللَّہَ أَرْبَعًا وَثَلَاثِینَ ثُمَّ قَالَ سُفْیَانُ إِحْدَاہُنَّ أَرْبَعٌ وَثَلَاثُونَ فَمَا تَرَکْتُہَا بَعْدُ قِیلَ وَلَا لَیْلَۃَ صِفِّینَ قَالَ وَلَا لَیْلَۃَ صِفِّینَ.

(صحیح البخاری3113 فرض الخمس، صحیح مسلم:2727 الذکر والدعاء.)

ترجمہ : حضرت علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک بار کسی خادم کی طلب میں حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا  خدمت نبوی میں حاضر ہوئیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کیا میں تمہیں وہ عمل نہ بتلاؤں جو تمہارے لئے خادم سے بہتر ہو، [ ایسا کرو کہ ] سونے سے قبل ۳۳ بار سبحان اللہ، ۳۳ بار الحمد للہ اور ۳۴ بار اللہ اکبر پڑھ لیا کرو۔

{ صحیح بخاری و مسلم }۔

تشریح : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اہل و عیال کی تربیت کچھ اس کرتے تھے کہ ان کی توجہ آخرت  کی طرف زیادہ رہے ، لہذا اس کے لئے کسی بھی فرصت کو ضائع نہیں ہونے دیتے تھے ، اور جب بھی کوئی  ایسا موقعہ آتا جہاں دنیا کے مقابلہ میں ان کے لئے آخرت بہتر ہوتی تو فورا اس کی طرف رہنمائی فرماتے ، انہیں مواقع میں سے ایک موقعہ یہ بھی ہے جس کا ذکر زیر بحث حدیث میں ہوا ہے ،  اس کی تفصیل کچھ اس طرح ہے  کہ جب حضرت علی و فاطمہ  رضی اللہ عنہما کی شادی ہوئی تو ان کے پاس کوئی غلام یا لونڈی نہیں تھا  جو گھریلو کاموں میں ان کی مدد کرتے ، چنانچہ حضرت  فاطمہ رضی اللہ عنہا خود ہی  چکی پیستیں ، گھر کی صفائی کرتیں، باہر سے اپنے کندھے پر رکھ کر پانی لاتیں، جس سے ان کے کندھے ، ہاتھ وغیرہ پر نشان پڑ گئے ، گھر میں جھاڑو لگانے کی وجہ سے چہرے اور کپڑے گرد سے اٹ جاتے تھے ، ادھر مادی حالت ایسی نہ تھی کہ کوئی لونڈی خریدی جا سکے ، لہذا دونوں میاں بیوی اسی انتظار میں تھے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کوئی قیدی وغیرہ آئے تو آپ اسے طلب کیا جائے۔

چنانچہ ایک بار آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کئی قیدی لائے گئے ، حضرت علی رضی اللہ عنہ کو جب اس کی اطلاع ملی تو حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کو بھیجا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی  لونڈی کا مطالبہ کریں، حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے اپنی چادر لی اور خدمت نبوی میں حاضر ہوئیں، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کی بھیڑ میں تھے ، اور ضرورتمندوں پر غلام و لونڈی تقسیم کرنے میں مصروف تھے ، حضرت فاطمہ نے اس بھیڑ میں کچھ کہنا مناسب نہ سمجھا اور اندر جا کر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے اپنی آمد کا مقصد بتلایا، اللہ کے رسولصلی اللہ علیہ وسلم  شام کو جب گھر میں داخل ہوئے اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کی آمد کا مقصد سنا تو آپ سیدھے حضرت علی و فاطمہ کے یہاں تشریف لے گئے ، یہ وقت عشا کے بعد کا وقت تھا اور  حضرت علی و فاطمہ اپنے بستر پر جا چکے تھے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دروازے پر دستک دی اور اندر آنے کی اجازت چاہی، اجازت ملتے ہی اندر داخل ہو گئے ، حضرت فاطمہ اپنے بستر سے اٹھنا چاہیں لیکن آپ نے انہیں روکا اور فرمایا : جیسی ہو ویسی ہی بیٹھی رہو، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم خود بھی اسی بستر پر حضرت علی و فاطمہ رضی اللہ عنہما کے درمیان بیٹھ گئے ، بیٹھنے کے بعد آپ نے حضرت فاطمہ سے ان کے جانے کا مقصد دریافت فرمایا، حضرت فاطمہ خاموش رہیں اور شرم سے بات نہ کر سکیں، آپ نے یہی سوال دوبارہ دہرایا تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے بتلایا کہ اے اللہ کے رسول اصل بات یہ ہے کہ پانی ڈھوتے ڈھوتے ان کے کندھے اور پہلو میں نشان پڑ گئے ہیں، چکی پیستے پیستے ہاتھوں میں گھٹے پڑ گئے ہیں، چنانچہ وہ چاہتی ہیں کہ انہیں بھی کوئی خادمہ مل جائے جوا ن کاموں میں ان کی مدد کر سکے۔

یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اہل بدر کے یتیموں اور اہل صفہ کو چھوڑ کر  تو تمہیں کچھ نہیں دے سکتا، البتہ تمہیں وہ عمل بتلاتا ہوں جو تمہارے لئے خادم سے بہتر ہے ، ایسا کرو کہ جب سونے کے لئے بستر پر جاؤ تو ۳۳ بار سبحان اللہ، ۳۳ بار الحمد للہ، اور ۳۴ بار اللہ اکبر پڑھ لیا کرو، یہ تمہارے لئے خادم سے بہتر ہو گا۔

حضرت علی رضی اللہ  عنہ کہتے ہیں کہ اس دن سے اس ذکر کو ہم نے کسی رات نہیں چھوڑا  حتی کہ صفین کی رات میں بھی۔

{ صحیح بخاری و صحیح مسلم و سنن ابو داود وغیرہ }۔

               فوائد

۱- سونے سے قبل اس ذکر کے اہتمام کی فضیلت۔

۲- آخرت کے لئے عمل دنیا کے لئے عمل سے افضل ہے۔

۳- اولاد کی محبت تربیت پر غالب نہیں آنی چاہئے۔

۴- اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے سونے سے قبل کچھ آداب اور کچھ دعائیں بھی سکھلائی ہیں جن کا اہتمام بہت اہم ہے ، جیسے :

[۱] وضو کر کے سونا۔

[۲] دائیں کروٹ سونا۔

[۳] آگ وغیرہ بجھا کر سونا۔

 [۴] آیۃ الکرسی پڑھنا۔

[۵] ” اللَّہُمَّ قِنِى عَذَابَکَ یَوْمَ تَبْعَثُ عِبَادَکَ”، پڑھنا۔

[۶] ”  اللہم باسمک أموت وأحیا ” پڑھنا۔

 [۷] سوکر اٹھنے کے بعد یہ دعا پڑھنا : الحمد للہ الذی أحیانا بعد ما أماتنا وإلیہ النشور.

٭٭٭

 

ہر چیز سیکھنے سے

حدیث نمبر :15

عَنْ ابی ہریرۃ رضی اللہ عَنْہ قال :قال رَسُوْلُ ۖ :اِنَّمَاالْعِلْمُ بِالتَّعَلُّمِ  وَ الْحِلْمُ  بِالتَّحَلُّمِ وَمَنْ یَتَحَرَّ الْخَیْرَ یُعْطَہُ وَمَنْ یَتَوَقِّ الشَّرَّ یُوْقَہُ

الصحیحہ : ۳۴۲

ترجمہ : حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا :علم سیکھنے سے حاصل ہوتا ہے ، برد باری بردبار  بننے کی کوشش کرنے سے ملتی ہے ، جو شخص خیر کی جستجو میں رہتا ہے اسے خیر مل جا تا ہے  اور جوشرسے بچنے کی کو شش کر تا ہے  وہ شر سے بچا لیا جا تا ہے۔

 (الصحیحہ للا لبانی)

 تشریح: اللہ تعالیٰ نے اس دنیا میں ہر چیز کو اسباب کے تابع اور وسیلے سے منسلک کیا ہے ، اسباب و وسائل کی اہمیت بیان کی ہے اور اس کے استعمال کا حکم دیا ہے ، اللہ تعالیٰ نے پیٹ بھر نے کے لئے کھانے اور روزی حاصل کرنے کے لئے کمانے کا حکم دیا ہے ،  بارش کے لئے بدلی کو اور دھوپ کے لئے سورج کو سبب قرار دیا ہے اور کچھ ایسا نظام بنایا ہے کہ ہر چیز جو وجود میں آتی ہے وہ سبب کی محتاج اور وسیلے کی حا جت مند ہے ،   مذکورہ حدیث میں بھی اسی طرف اشارہ ہے اس میں چار چیزوں کو چار سبب سے منسلک بتلا یا ہے۔

۱-   علم کے لئے  جدوجہد:   کوئی بھی شخص ماں کے پیٹ سے عالم بن کر  پیدا نہیں ہوتا بلکہ اس دنیا میں اللہ تعالیٰ کے بنائے ہوئے اسباب کو استعمال کر کے ہی عالم بنتا ہے ارشاد باری تعالیٰ ہے  :واللہ اخرجکم من بطون امھاتکم لا تعلمون شیئاوجعل لکم السمع والآبصار والآفئدۃ لعلکم تشکرون، (النحل ۷۸)

  اور اللہ نے تمہیں تمھاری  ماؤں کے پیٹوں سے نکالا ہے کہ اسوقت تم کچھ نہیں جانتے تھے اس نے تمھارے لئے  کا ن اور آنکھیں اور دل بنائے کہ تم شکر گزاری کرو  :(النحل ۷۸)

یعنی اللہ تعالیٰ نے انسان کو کان آنکھ اور دل کی دولت سے اس لئے نوازا  تا کہ انہیں استعمال  میں لائے اور ان کے ذریعہ اپنے نفع و نقصان میں تمیز کرے ،   واضح رہے کہ علم دو طرح کا ہے  ایک علم دنیوی اور دوسرا علم دینی  ،  علم دنیا تو انسان تجربے اور باپ و دادا کی تقلید سے حاصل کر لیتا ہے البتہ دینی علم کے لئے اس کے صحیح مصدر سے سیکھنا ضروری ہے بلکہ شرعی طور پر وہی علم معتبر ہے جو انبیا علیہم السلام سے حاصل کیا جائے ،  وہی علم مقبول ہے جو قرآن و حدیث سے لیا جائے ،   اس میں تجربہ اور باپ دادا کی تقلید کا کوئی دخل نہیں،  بلکہ تجربہ اور باپ دادا کی تقلید غیر شرعی سبب اور غلط وسیلہ ہے۔

۲-  برد باری بردبار بننے کی کوشش سے پیدا ہوتی ہے۔  بعض لوگ فطری طور پر جلد باز، غصہ ور،  جذباتی اور بے صبرا   ہو تے ہیں،   اگر یہ لوگ  اپنے اوپر قا بو نہ رکھیں تو جلد با زی اور غصہ میں بہت سی ایسی حرکتیں کر جا تے ہیں جس پر بعد میں شرمندگی اٹھانی پڑتی ہے ،   اس لئے لو گو ں کے لئے نہایت ضروری ہے کہ اپنے اندر حلم و برد باری پیدا کرنے کی کوشش کریں اور اس کے اسباب ووسائل کو استعمال میں لائیں۔

  ۳  –   جو خیر کی جستجو کرے اسے خیر مل کر رہتا ہے۔ نیکی و بھلائی عمل خیر ہی سے حاصل ہوتی ہے  ، نماز کا ثواب نماز پڑھنے سے حاصل ہو گا،   جو شخص نیکی کے کام کرنے اور نیکی کے مواقع کو تلا ش کرنے میں کوشاں رہتا ہے اسے نیکی مل جا تی ہے ،   صرف تمنا اور جذبات سے نیکی حاصل نہیں ہو تی بلکہ اس کے لئے کوشش وجستجوضروری سبب اور لا زمی وسیلہ ہے  ، ارشاد باری تعالیٰ ہے  :  ومن اراد الآخرۃ وسعی لہا سعیہا وہو مؤمن فاولئک کان سعیہم مشکورا  (۱۹  الاسرا)

اور جس کا ارادہ آخرت کا ہو اور جیسی کوشش اس کے لئے ہونی چاہئے وہ کرتا بھی ہو  اور وہ باایمان بھی ہو پس یہی لوگ ہیں جن کی کوشش کی اللہ کے ہاں پوری قدر دانی کی جائے گی۔  (۱۹  الاسراء)

۴-   جو برائی سے بچنا چاہے وہ برائی سے بچا لیا جاتا ہے ۔  جسطرح  نیکی کے لئے جستجو و کوشش ضروری ہے اس طرح برائی سے بچنے کے لئے برائی سے دوری اور برائی کے مواقع سے اجتناب بھی ضروری ہے ،  انسان کو چاہئے کہ وہ برائی سے بچے اور برائی کی طرف لے جا نے  والے اسباب سے پر ہیز کرے ،   کچھ لوگ برائی پر برائی کرتے جا تے ہیں،  ان سے بچنے کی نہ کوشش کرتے ہیں اور نہ ہی بچنے کے اسباب استعمال کرتے ہیں ،   پھر چاہتے ہیں کہ وہ برائی سے نجات پائیں۔   ایسا ہر گز نہیں بلکہ برائی و گناہ سے بچنے کے خواہاں حضرات کے لئے ضروری ہے کہ وہ صبر و تحمل سے کام لیں اور برائی سے بچنے کے لئے ا ن تمام اسباب ووسائل کو بھی چھوڑیں جو انھیں برائی تک لے جا تے ہیں۔

               فائدے

۱:  مقصود کے حصول کے لئے اسباب کا استعمال ضروری ہے ۔

۲:   اسباب کا استعمال توکل کے خلاف نہیں ہے ۔

۳:  علم نافع وہی ہے جو انبیا ورسل سے حاصل ہو.

۴:   خیر کے حصول کی تمنا اور شر سے بچنے کی خواہش اسباب کے استعمال کے بغیر مفید نہیں ہے۔

٭٭٭

 

یہ اور لعنتی کام

حدیث نمبر :16

عَنْ أَبِى ہُرَیْرَۃَ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -صلى اللہ علیہ وسلم- قَالَ:« اتَّقُوا اللَّعَّانَیْنِ ». قَالُوا وَمَا اللَّعَّانَانِ یَا رَسُولَ اللَّہِ قَالَ:« الَّذِى یَتَخَلَّى فِى طَرِیقِ النَّاسِ أَوْ فِى ظِلِّہِمْ ».

(صحیح مسلم:269، سنن ابی داود:25.)

ترجمہ : حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : لعنت کا سبب بننے والے دو کاموں سے بچو، صحابہ کرام نے سوال کیا : اے اللہ کے رسول لعنت کا سبب بننے والے وہ کام کون سے ہیں ؟ آپ نے جواب دیا : لوگوں کے راستے اور لوگوں کے [ بیٹھنے کے ] سایے میں قضائے حاجت کرنا۔

{ صحیح مسلم، سنن ابو داود }۔

تشریح : اللہ تبارک و تعالیٰ   پاک و صا ف ہے اور پاکی کو پسند فرماتا ہے ، خوبصورت ہے اور خوبصورتی کو پسند فرماتا ہے ، اس لئے ہر ایسے کام سے روکتا ہے جو ناپاکی، گندگی اور قباحت کا سبب بنیں ، گھر کی صفائی، اور راستے وغیرہ کی صفائی کا تاکیدی  حکم دیا ہے ، اور ان جگہوں میں گندگی پھیلانے سے سختی سے منع کرتا ہے۔۔۔۔۔ ایک حدیث میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ اپنے دروازے کے سامنے صفائی رکھو اور یہودیوں کی طرح وہاں گندگی نہ مچاؤ۔

{ الطبرانی الاوسط }۔

کیونکہ گھروں کے سامنے یا اسی طرح عام راستے اور لوگوں کی بیٹھنے اٹھنے اور مستفید ہونے کی جگہوں میں گندگی کرنا جہاں ایک طرف  انسانی صحت کے لئے مضر ہے   وہیں دوسرے لوگوں کے لئے سخت تکلیف دہ بھی ہے ، نیز خود گندگی پھیلانے والے کے لئے اس ناحیے سے بھی سخت خسارے کا سبب ہے کہ لوگوں کی بد دعائیں اور لعنتیں اس پر ہوتی رہتی ہیں۔  زیر بحث حدیث میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کی توجہ اسی طرف دلائی ہے ، چنانچہ آپ نے فرمایا کہ دو ایسے کام کرنے سے بچتے رہو جس کے سبب لوگ تم پر لعنتیں بھیجیں اور تمہیں بد دعائیں دیں، صحابہ نے سوال کیا اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم وہ کونسے کام ہیں جن کا کرنے والا ملعون قرار دیا جاتا ہے  ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :

1–  لوگوں کے راستے میں قضائے حاجت کرنا، یعنی جس راستے پر لوگوں کی آمد و رفت ہو، خواہ پیدل چلنے والوں کا  ہو یا سواری پر،   اس  کے ارد گرد پیشاب و پائخانہ سے پرہیز کرو،  کیونکہ اس طرح لوگوں کے جسم و پیر میں نجاست لگ  سکتی ہے ، اس کی بدبو سے لوگوں کو تکلیف پہنچتی ہے اور بہت ساری بیماریاں کے پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔

2– آپ  صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسری جگہ جہاں قضائے حاجت سے منع  فرمایا  وہ سایہ  ہے جس سے لوگ مستفید ہوتے ہیں البتہ وہ سایہ جہاں لوگوں کی آمد و رفت نہ ہو اور نہ ہی سایہ حاصل کرنے کے لئے لوگ وہاں بیٹھتے ہوں وہاں قضائے حاجت میں کوئی حرج نہیں ہے۔

ایک اور حدیث میں ان   دونوں جگہوں کے ساتھ ایک تیسری جگہ ” پانی کے گھاٹ ” کا بھی ذکر آیا ہے۔

{ سنن ابو داود بروایت معاذ بن جبل }۔

انہیں جگہوں پر علماء نے ہر اس جگہ کو قیاس کیا ہے جہاں عام لوگوں کی آمد و رفت ہو اور اس سے مستفید ہوتے ہوں، جیسے : پھلدار درخت، بازار، عام منافع کی جگہ، ٹھہرے پانی اور اسی طرح کی دیگر جگہیں۔

یہاں ایک نکتہ اور قابل ذکر ہے کہ بہت سے لوگ جب کوئی ایسا کام کرتے ہیں جس سے عام لوگوں کو ضرر لاحق ہوتا ہے  اور ان کی یہ حرکت لوگوں پر پوشیدہ رہ جاتی ہے  تو عمومی طور پر وہ یہ سمجھتے ہیں کہ  مجھے کسی نے دیکھا نہیں تو ان کی گالی اور بد دعا  سے ہمارا کیا بگڑتا ہے ،  کیا مجھے کسی نے دیکھا ہے ؟ کیا ان کی گالیاں ہمیں لگ رہی ہیں  ؟ اسی قسم کی اور باتیں کرتے ہیں، حالانکہ انہیں سوچنا چاہئے کہ اگرچہ لوگوں پر ان کی یہ حرکت پوشیدہ رہ  گئی ہے مگر لوگوں کے رب سے پوشیدہ نہیں ہے ، اس لئے اگر وہ لوگوں کے گالی دینے ، برا بھلا کہنے اور لعنت  بھیجنے کا سبب بن رہے ہیں تو لوگوں  کی گالیاں اور لعنت کے اثر سے بھی محفوظ نہیں رہ سکتے ، ایسے لوگوں کو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان پر غور کرنا چاہئے کہ” جب لعنت کسی کی طرف بھیجی جاتی ہے تو اس شخص تک پہنچنے کی کوشش کرتی ہے ، پھر اگر وہ اس لعنت کا مستحق ہوتا ہے  تو ٹھیک  ورنہ اللہ تعالیٰ سے کہتی ہے کہ اے اللہ مجھے جس طرف بھیجا گیا تھا وہاں پہنچنے کی کوئی گنجائش نہیں ہے ، تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جہاں سے آئی ہو  وہیں واپس چلی جاؤ “۔

{ مسند احمد بروایت ابن مسعود :1/408 }۔

ایک اور حدیث میں ہے کہ”  جب بندہ لعنت بھیجتا ہے   تو  یہ لعنت آسمان کی طرف جاتی ہے لیکن آسمان کے دروازے اپنے سامنے بند پاتی ہے ،  پھر زمین کی طرف پلٹتی ہے اور زمین کے دروازے بھی بند پاتی ہے ، جب اسے کوئی جگہ نہیں ملتی تو جس پر لعنت بھیجی گئی ہے اس کے پاس جاتی ہے ، اگر وہ ملعون  قرار دئے جانے کا مستحق ہے تو ٹھیک ورنہ لعنت کرنے والے کی طرف پلٹا دی جاتی ہے “۔

سنن ابوداود بروایت ابودرداء۔

ان دونوں حدیثوں سے پتہ  چلا کہ جو شخص کوئی ایسا کام کرتا ہے جو لعنت کا سبب بنتا ہے تو وہ شخص  اگرچہ لوگوں کی نظروں سے اوجھل ہوتا ہے لیکن اس کے لئے اس عمل کی وجہ سے جو لوگوں کی بد دعائیں اور لعنتیں اس پر بھیجی جا رہی ہے وہ رائیگاں نہیں جاتیں،  بلکہ رحمت الٰہی اس کا دامن نہ پکڑے  تو وہ لوگوں کی بد دعاؤں اور لعنتوں  کا مستحق ٹھہر تا  ہے ، بلکہ ڈرنا چاہئے  کہ یہ بددعا کرنے والا اور لعنت بھیجنے والا اگر اللہ کا کوئی مخلص بندہ ہوا  یا کوئی مظلوم  انسان ٹھہرا تو اس کی بددعا اور لعنت اپنا اثر کئے بغیر نہیں رہے گی، اس طرح ممکن ہے کہ اپنے اس معمولی کام کی وجہ سے دنیا و آخرت کے خیر سے محروم ہو جائے۔

               فوائد

۱- مذہب اسلام ہمیں صفائی، پاکی اور لوگوں کے ساتھ رعایت کا حکم دیتا ہے۔

۲- عام منافع کی جگہ پر قضائے حاجت حرام اور کبیرہ گناہ ہے۔

۳- انسان کا عمل اگر لوگوں سے پوشیدہ بھی رہ جائے تو لوگوں کے رب سے پوشیدہ نہیں رہتا۔

۴- اسلام ہر اس عمل سے روکتا ہے جس سے اللہ کی مخلوق کو ضرر لاحق ہو۔

٭٭٭

 

دایاں ہی سیدھا

حدیث نمبر :17

عن عائشۃ رضی اللہ عنہا قالت: کان النبی صلی اللہ علیہ وسلم یعجبہ التیمن فی تنعلہ وترجلہ وطہورہ وفی شأن کلہ۔

(صحیح بخاری : ۱۶۸الوضوء / صحیح مسلم :۲۶۸ الطہارۃ)

ترجمہ : حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اپنے تمام (لائق اکرام) کاموں میں جیسے وضو کرنے میں، کنگھی کرنے میں اور جوتے پہننے میں دائیں جانب سے ابتداء کرنے کو پسند فرماتے تھے۔

(صحیح بخاری ومسلم)

تشریح : مذہب اسلام اور اس کی تعلیمات انسانی زندگی کے تمام شعبوں کو محیط ہیں، ہمارے نبی حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان تمام تعلیمات کو اپنے قول و عمل کے ذریعہ امت کے سامنے بیان کر دیا ہے ، ان تعلیمات کا ایک بڑا حصہ اخلاق و آداب پر مشتمل ہے یعنی ایک مسلمان سے مطالبہ ہے کہ اپنے اخلاق کو سنوارے اور با ادب زندگی بسر کرے ، انہیں اخلاق و آداب میں یہ بھی داخل ہے کہ ہر وہ کام جو با شرف ہوں، جنہیں عزت کی نظر سے دیکھا جاتا اور شرافت کا کام سمجھا جاتا ہو دائیں طرف سے شروع کیا جائے یا دائیں ہاتھ سے انجام دیا جائے ، جن میں کسی گندگی کا پہلو ہو اور انہیں کراہت کی نظر سے دیکھا جاتا ہو انہیں بائیں جانب سے شروع کیا جائے یا بائیں ہاتھ سے انجام دیا جائے۔

 زیر بحث حدیث میں اسی ادب اسلامی کا بیان ہے ، چنانچہ ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان فرماتی ہیں کہ ہر کام میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دائیں جانب زیادہ پسندیدہ اور محبوب تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم وضو کرتے تو دائیں ہاتھ کو بائیں ہاتھ سے پہلے اور دائیں پیر کو بائیں پیر سے پہلے دھوتے ، غسل فرماتے تو دائیں جانب بائیں جانب سے پہلے سر پر پانی بہاتے (البتہ وہ اعضاء جو وضو میں ایک ساتھ مستعمل ہوتے ہیں ان میں دائیں بائیں کا لحاظ نہیں رکھتے تھے جیسے دونوں کان کامسح ایک ہی ساتھ   کرتے تھے ، ہاں اگر کوئی مجبوری ہو کہ دونوں کان کا مسح ایک ساتھ ممکن نہ ہو تو دائیں جانب کو مقدم رکھنا مستحب ہو گا)۔

 اسی طرح بالوں اور داڑھی میں کنگھی کرتے وقت اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم دائیں جانب سے ابتداء کرتے ، دائیں ہاتھ کنگھی کرتے اور اپنے بالوں کو سنوارتے ، حتی کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم جوتا پہنتے تو دائیں پاؤں میں جوتا بائیں پاؤں سے قبل پہنتے ، یہی حکم موزہ پہننے اور نکالنے کا ہے۔

ان کے برخلاف ہر وہ کام جن میں کراہت کا پہلو پایا جاتا ان کی ابتداء یا عمل میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم بائیں ہاتھ اور بائیں جانب کو ترجیح دیتے ،  جیسے استنجاء کرنا، بیت الخلاء میں داخل ہونا وغیرہ، چنانچہ اُم المؤمنین حضر ت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا دایاں ہاتھ تو آپ کے وضو اور کھانے کے لئے تھا اور آپ کا بایاں ہاتھ استنجاء اور دوسرے گندے کاموں کے لئے تھا۔

(سنن ابوداؤد : ۳۳، الطہارۃ)

  ایک اور حدیث میں بیان فرماتی ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اپنا دایاں ہاتھ، اپنے کھانے ، پینے اور کپڑے پہننے کے لئے استعمال کرتے اور بایاں ہاتھ ان کے سوا دوسرے (مکروہ) کاموں کے لئے۔

(ابوداؤد : ۴۱۴۱، اللباس، الترمذی : ۱۷۶۶، اللباس)۔

علماء نے حدیثوں کی روشنی میں ایسے بہت سے کاموں کا ذکر کیا ہے جنہیں دائیں ہاتھ سے انجام دیا جانا چاہئے یا ابتداء دائیں جانب سے ہونی چاہئے اور بہت سے ایسے  کاموں کا بھی ذکر کیا ہے جنہیں بائیں ہاتھ سے انجام دینا چاہئے یا ابتداء بائیں جانب سے کرنا چاہئے ، افادۂ عامہ کے لئے ان کی مختصر فہرست ذکر کی جاتی ہے :

دائیں ہاتھ سے یا دائیں جانب سے انجام دیئے جانے والے کام

٭ وضو کرنا

٭غسل کرنا

٭ کپڑے ، جوتے ، موزے ، اور شلوار پہننا

٭مسجد میں داخل ہونا

٭ مسواک کرنا

٭سرمہ لگانا

٭ ناخن کاٹنا

٭ موچھیں کترنا

٭ بغل کے با ل اکھیڑنا، سرکے بال مونڈنا،

 ٭ نماز کا سلام پھیرنا

٭ کھانا پینا

٭ مصافحہ کرنا

٭ حجر اسو د کو چومنا

٭بیت الخلاء سے نکلنا

٭ کوئی چیز لینا اور دینا

٭ گھر میں داخل ہونا،

٭ دائیں کروٹ سونا ، اور ان کے علاوہ اس قسم کے دوسرے کاموں  کے لئے  دایاں پہلو استعمال کیا جائے۔

بائیں جانب سے انجام دئیے جانے والے کام

٭ ناک صاف کرنا

٭بائیں طرف تھوکنا

٭ بیت الخلاء میں داخل ہونا

٭ مسجد سے نکلنا

٭ اپنے گھر سے نکلنا

٭ موزے ، جوتے ، شلوار، اور کپڑے اتارنا،

٭ استنجاء کرنا

٭ گندے افعال اور اس طرح کے دوسرے کا م

( ریاض الصالحین : ج: ۱، ص: ۶٠۲)

               فوائد

۱) دائیں جانب اللہ اور اس کے رسول ﷺ کو پسند  اور محبوب ہے ، اسی لئے ہمارا رب جو ہر قسم کے نقص و عیب سے پاک ہے اس کے دو ہاتھ تو ہیں لیکن دونوں ” دایاں ” ہیں۔

۲) چونکہ دایاں ہاتھ رب کو محبوب ہے اس لئے قیامت کے دن نیک اور اللہ کے محبوب لوگوں کا نامہ اعمال ان کے دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا۔

۳) ہر لائق احترام اور پسندیدہ کام دائیں جانب سے یا دائیں ہاتھ سے انجام دینا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے۔

۴) بائیں ہاتھ سے کھانا، پینا، لینا، دینا شیطان کا کام اور اس کے نزدیک محبوب ہے اس لئے اس سے پرہیز ضروری ہے۔

٭٭٭

 

اسلامی آداب

حدیث نمبر :18

عن أبی قتادۃ رضی اللہ عنہ قال : قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ذا شرب أحدکم فلا یتنفس فی الناء وذا أتی الخلاء فلا یمس ذکرہ بیمینہ ولا یتمسح بیمینہ۔

(صحیح البخاری : ۱۵۳، الوضوء، صحیح مسلم : ۲۶۷، الطہارۃ)

ترجمہ : حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:  جب تم میں  کا کوئی شخص کوئی چیز پئے تو برتن میں سانس نہ لے اور جب بیت الخلاء جائے تو اپنے ذَکَر (آلہء تناسل) کو دائیں ہاتھ سے نہ چھوئے اور نہ دائیں ہاتھ سے استنجاء کرے۔

(صحیح البخاری –  صحیح مسلم)

تشریح :  اسلام ایک جامع کمالات اور ہرقسم کی خوبیوں کا حامل مذہب ہے ، اسلام اپنے متبعین کو اچھے اخلاق کی تعلیم دیتا اور برے اخلاق سے روکتا ہے ، عمدہ آداب سکھاتا اور بدخوئی سے دور رکھتا ہے ، صفائی کا حکم دیتا اور گندگی و ناپاکی سے منع کرتا ہے ، طہارت و نظافت کے اہتمام پر ابھارتا اور ہر اس چیز کی طرف رہنمائی کرتا ہے جس سے صفائی وستھرائی کا دور دورہ ہو۔ زیر بحث حدیث ایسے ہی کچھ عمدہ آداب و اخلاق پر مشتمل ہے۔

(۱) پینے والی چیز میں سانس نہ لیا جائے :

یہ چیز ہر شخص کے ملاحظہ میں ہے کہ بعض لوگ خاص کر بعض عورتیں کبھی کسی گرم مادہ کو ٹھنڈا کرنے کے لئے ، کبھی کسی تنکا وغیرہ کو دور کرنے کے لئے اور کبھی کسی دوسرے مقصد کے تحت پینے کی چیزوں پر پھونک مارتی ہیں اور کبھی کچھ لوگ کسی چیز کو جلدی سے پی ڈالنے کے لئے برتن ہی میں سانس لیتے ہیں، حالانکہ یہ دونوں ہی کام تہذیب سے دور اور پینے والی چیز میں مضر جراثیم کے شامل ہو جانے کا سبب ہیں، بلکہ بسا اوقات اس طرح برتن میں تھوک یا ناک کے ذریعہ غیر مرغوب مادے کا برتن میں پڑ جانے کا خطرہ ہے جس سے اوّلا تو انسان کراہت محسوس کرتا ہے ، ثانیاً بعد میں پینے والے کی صحت کے لئے نقصان دہ بھی ہوسکتا ہے ، اس لئے شریعت نے پینے والے برتن میں سانس لینے یا اس میں پھونک مارنے سے سختی سے منع فرمایا ہے ، چنانچہ ایک بار آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کے سامنے اس ادب نظیف کا ذکر کیا تو کسی صحابی نے عرض کیا اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! میں بعض دفعہ برتن میں تنکے وغیرہ دیکھتا ہوں تو ایسی صورت میں کیا کروں ؟ آپ  صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اس میں سے (کچھ) پانی انڈیل دو، اس صحابی نے پھر عرض کیا میں ایک سانس میں سیراب نہیں ہوتا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : پس اس وقت تم اپنا منھ برتن سے ہٹالو { اور دوسری یا تیسری سانس میں حسب حاجت پیو }۔

(سنن الترمذی : ۱۸۸۷، الأشربہ، عن أبی سعید الخدری)

ایک اور حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ و سلم کا ارشاد ہے کہ تم لوگ اونٹ کی مانند ایک ہی سانس میں پانی نہ پیو بلکہ (رک رک کر) دو اور تین سانس میں پیا کرو اور جب پینے لگو تو اللہ کا نام لو (بسم اللہ پڑھو) اور جب (فارغ ہو کر) برتن اٹھاؤ تو اللہ کی حمد کرو (الحمد للہ پڑھو)

(سنن الترمذی : ۱۸۸۵، الأشربہ، عن ابن عباس)

 (۲) دائیں ہاتھ سے شرم گا ہ کونہ چھوئے :

چونکہ دایاں ہاتھ بائیں ہاتھ کے مقابلہ میں شریعت کی نظر میں قابل احترام و اکرام ہے ، اس لئے اس سے وہی کا م انجام دئے جائیں جو قابل وقار و احترام ہوں تاکہ دائیں ہاتھ کا وقار قائم رہے ، اس لئے دائیں ہاتھ سے شرمگاہ کو چھونے خاص کر پیشاب کرتے وقت منع کیا گیا ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا عام معمول بھی یہی  تھا کہ آپ کا دایاں ہاتھ آپ کے وضو اور کھانے کے لئے اور بایاں ہاتھ استنجا ء اور دوسرے گندے کاموں کے لئے استعمال ہوتا تھا۔

 (سنن ابو داؤد : ۳۳، بروایت عائشہ)

(۳)  دائیں ہاتھ سے استنجاء نہ کرے :

البتہ استنجاء کرنے میں اگر پانی وغیرہ ڈالنے کے لئے دائیں ہاتھ سے مدد لینے کی ضرورت ہو تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے اس طرح کہ دائیں ہاتھ سے پانی ڈالے اور بائیں ہاتھ سے صفائی کرے ، دائیں ہاتھ سے ڈھیلا پکڑے اور بائیں ہاتھ سے صاف کرے اور  جس جگہ دائیں ہاتھ سے مدد کی ضرورت نہ ہو تو صرف بائیں ہاتھ کا استعمال کرے۔

البتہ وہ شخص جس کا دایاں ہاتھ نہ ہو یا مشلول ہو لو اس کے لئے یہ ممانعت نہیں ہے ، کیونکہ اس صورت میں وہ مجبور ہے کہ دایاں ہاتھ ہی استعمال کرے۔       واللہ أعلم۔

               فوائد

1—اسلام طہارت پسند مذہب ہے  اور ہر طرح  کی  صفائی  کی ترغیب دیتا ہے۔

2—دائیں جانب کا احترام مشروع ہے۔

3—کھانے اور پینے کے برتن میں سانس لینا مکروہ ہے۔

٭٭٭

 

آداب وضو

حدیث نمبر :19

عن عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنھما قال : تخلف عنا النبی ﷺ فی سفرۃ سافرنا ھا، فأدرکنا وقدارھقتنا الصلاۃ ونحن نتوضأ فجعلنا نمسح علی أرجلنا فنادی بأعلی صوتہ ویل للأعقاب من النار مرتین أو ثلاثا۔

(صحیح البخاری : ۶٠ العلم، صحیح مسلم : ۲۴۱ الطہارۃ)

ترجمہ : حضرت  عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنھما سے روایت ہے ایک بار کسی سفر میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم  ہم سے پیچھے رہ گئے ، چنانچہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہم لوگوں کے پاس پہنچے تو نماز (عصر) کا وقت ہو چکا تھا (بلکہ دیری ہو رہی تھی ) ہم(جلدی جلدی) وضو کرنے لگے اور اپنے پیروں کو مسح کرنے لگے یہ دیکھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بآواز بلند دو یا تین بار

 فرمایا : برا ہے ایڑیوں کا آگ (میں جلنے کی وجہ) سے۔

تشریح : نماز کے لئے وضو کو شرط قرار دیا گیا ہے اور اچھی طرح سے وضو کرنے کا حکم دیا گیا ہے ، اس طرح کہ وضو میں دھوئے جانے والے اعضاء مکمل طور پر اور بڑے ہی اہتمام کے ساتھ دھوئے جائیں، کہیں بھی کوئی جگہ خشک نہ رہنے پائے  لیکن چونکہ اس سلسلے میں لوگوں سے کوتاہیاں ہوتی ہیں، کبھی جلد بازی میں وضو کرنے کی وجہ سے اعضائے وضو مکمل تر نہیں ہو پاتے ، کبھی سخت سردی میں پانی گرم ہونے کی وجہ سے تمام اعضائے وضو تک پانی نہیں پہنچ پاتا، اس لئے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم  نے اپنی امت کو اس امر کی طرف توجہ دلائی اور اس بار ے میں کوتاہی پر سختی سے متنبہ کیا ہے ، چنانچہ کبھی تو اور اس کی اہمیت کو اپنے بیان سے اجاگر کیا ہے اور کبھی وضو اور اچھی طرح وضو کرنے کے فضائل امت کے سامنے رکھے ہیں اور کبھی وضو میں کوتاہی و لاپرواہی پر عذاب الٰہی کی دھمکی دی ہے ، کیونکہ وضو جہاں مستقل ایک عبادت ہے وہیں ایک بہت ہی اہم  عبادت یعنی نماز کی صحت و مقبولیت کے لئے بنیادی شرط بھی ہے ، چنانچہ وضو کی اہمیت بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا : « لاَ صَلاَۃَ لِمَنْ لاَ وُضُوءَ لَہُ، ».جس کا وضو نہیں اس کی نماز نہیں ہو گی،

(مسند أحمد سنن ابوداؤد، بروایت ابوہریرہ)۔

نیز فرمایا:   “لا تقبل صلاۃ بغیر طہور” بغیر وضو کے پڑھی گئی نماز قبول نہیں ہوتی،

(صحیح مسلم، سنن الترمذی، بروایت ابن عمر)

حضرت انس ابن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک بار اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو دیکھا کہ اس کے پیر میں ناخن کے برابر جگہ خوشک رہ گئی ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا : « ارْجِعْ فَأَحْسِنْ وُضُوءَکَ »جاؤ اور اچھی طرح سے وضو کر کے آؤ۔

 (سنن ابوداؤد)

 وضو کے فضائل بیان کرتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جب مسلمان یا مومن بندہ وضو کرتا ہے تو جب وہ اپنا چہرہ دھوتا ہے تو پانی کے ساتھ یا پانی کے آخری قطرے کے ساتھ اس کے چہرے سے وہ تمام خطائیں نکل جاتی ہیں جن کی طرف اس نے اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا، پھر جب وہ اپنے ہاتھوں کو دھوتا ہے تو پانی کے ساتھ یا پانی کے آخری  قطرے کے ساتھ اس کے ہاتھوں سے وہ تمام گناہ نکل جاتے ہیں جن کو اس کے ہاتھوں نے پکڑا تھا اور جب اپنے پیروں کو دھوتا ہے تو پانی کے ساتھ یا پانی کے آخری قطرے کے ساتھ وہ تمام گناہ نکل جاتے ہیں جن کی طرف اس کے پیر چل کر گئے تھے ، یہاں تک کہ وہ گناہوں سے پاک ہو کر نکل آتا ہے۔

(صحیح مسلم : بروایت ابوہریرہ)

اس طرح سے اس موضوع پر بہت سی حدیثیں کتب حدیث میں ہیں، اسی طرح  وضو میں کوتاہی کرنے سے متعلق بھی بہت سی حدیثیں وارد ہیں، زیر بحث حدیث میں وضو میں کوتاہی کرنے اور اسے مکمل نہ کرنے پر جہنم کے آگ کی دھمکی دی گئی ہے نیز فرمایا :”وضو کرتے وقت انگلیوں کا خلال اچھی طرح کرو ورنہ اللہ تبارک و تعالیٰ ان اچھی طرح آگ بھر ے گا “۔

 (الطبرانی الاوسط : بروایت عبد اللہ بن مسعود)

نیز فرمایا:”قبر میں ایک بندے سے متعلق یہ حکم ہوا کہ اسے سو کوڑے لگائے جائیں، وہ شخص برابر معافی اور تخفیف طلب کرتا رہا یہاں تک کہ فیصلہ ایک کوڑے پر آ کر رک گیا، چنانچہ اسے ایک کوڑا مارا گیا جس سے اس کی قبر آگ سے بھر گئی، جب اسے افاقہ ہوا تو اس نے پوچھا کہ آخر کس جرم پر مجھے یہ سزا دی گئی، فرشتے نے کہا کہ تم نے ایک نماز بغیر طہارت کے پڑھی ہے اور  ایک مظلوم پرسے تمہارا گر ہوا اور تم نے اس کی مدد نہیں کی”۔

(صحیح الترغیب والترھیب، بروایت ابن مسعود)

               فوائد

۱) مسلمان کو چاہئے کہ اپنے تمام کام خصوصاً وضو کو اچھی طرح مکمل طریقے پر انجام دے۔

۲) اعضائے وضو میں وہ جگہیں جہاں پانی مشکل سے پہنچتا ہے جیسے ایڑی، کہنی اور انگلیوں کے درمیان ان کے دھونے کا خصوصی اہتمام کیا جائے۔

۳) درمیان نماز اگر وضو ٹوٹ جائے تو نماز چھوڑ کر وضو کر لیں پھر اس نماز کو جاری اور مکمل کر لیں۔

٭٭٭

 

آداب نماز

حدیث نمبر :20

    عن أبی ھریرۃ رضی اللہ عنہ قال : سمعت رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  یقول : ذا أقیمت الصلاۃ فلا تأتوھا وأنتم تسعون وأتوھا وأنتم تمشون وعلیکم السکینۃ فما أدرکتم فصلوا وما فاتکم فأتموا۔

  (صحیح البخاری : ۹٠۸، الجمعۃ ٭ صحیح مسلم : ۶٠۲، المساجد)

ترجمہ:  حضرت أبوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : جب نماز کی اقامت ہو جائے تو تم لوگ اس کے لئے دوڑتے ہوئے نہ آو،  بلکہ عام چال چلتے ہوئے آؤ اور سکینت اختیار کرو، پھر جو نماز مل جائے اسے پڑھ لو اور تم سے فوت ہو جائے اسے     (بعد میں) پورا کر لو۔

تشریح : نماز اسلام کا ایک عظیم رکن ہے جس کی مشروعیت میں بڑی عظیم حکمتیں پوشیدہ ہیں اور یہ حکمتیں اسی وقت پوری ہوسکتی ہیں جبکہ انہیں خشوع و خضوع اور حضور قلب سے ادا کیا جائے ، اس لئے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ان اسباب کے استعمال کا حکم دیا ہے جو خشوع و خضوع میں معاون ثابت ہوں اور ایسے تمام اسباب سے منع کیا ہے جو خشوع و خضوع میں رکاوٹ بنتے ہوں، نمازی کے خشوع و خضوع میں جو چیزیں خلل انداز ہونے والی ہیں انہیں میں سے ایک چیز اوپر ذکر کی گئی حدیث میں بیان ہوئی ہے ، یعنی جب بھی کوئی نمازی نماز کے لئے مسجد کا رخ کرے تو  سکینت و وقار کو اختیار کرنا چاہئے ، نمازی کی کیفیت یہ ہونی چاہئے کہ جیسے وہ کسی بڑی اہم مجلس میں حاضر ہونے جا رہا ہے ، ایسا محسوس ہو کہ وہ کسی بڑی ہی عظیم شخصیت سے ملاقات کے لئے جا رہا ہے ، لیکن بہت سے لوگ جب نماز کے لئے مسجد کی طرف نکلتے  ہیں تو ان کے بازار کی طرف نکلنے ، کسی کھیل تماشے کی مجلس  کی طرف نکلنے اور نماز جیسی عظیم عبادت کی طرف نکلنے ، مسجد جیسی مبارک و لائق احترام جگہ کی طرف نکلنے میں کوئی فرق نہیں ہوتا، خاص کر جب دور ہی سے اقامت کی آواز سن لیتے ہیں یا مسجد کے قریب پہنچنے کے بعد یہ محسوس کرتے ہیں کہ امام صاحب رکوع کے قریب ہیں یا رکوع کے لئے تکبیر کہہ دئے ہیں تو ان کی حرکت میں مزید تیزی آ جاتی ہے ، بلکہ بہت سے لوگ مکمل دوڑ لگا دیتے ہیں، جس سے جہاں ایک طرف نماز جیسی عبادت اور مسجد جیسی مبارک جگہ کی بے حرمتی ہوتی ہے وہیں دوسری طرف ان کی سانس اوپر نیچے ہوتی رہتی ہے جس سے ان کا خشوع و خضوع جاتا رہتا ہے ، اور تیسری طرف نمازیوں کی نماز میں خلل واقع ہوتا ہے ، جس سے اللہ کی عبادت کرنے والوں کو تکلیف پہنچتی ہے۔

نیز دوڑ کر آنے والا یہ بھی سوچے کہ دوڑ کر جہاں وہ مذکورہ خرابیوں سے دوچار ہو رہا ہے وہیں آثار قدم پر ملنے والے اجر سے بھی محروم ہو رہا ہے کہ وہ جس قدر تیز چلے گا مسجد تک پہنچنے میں اتنے ہی قدم کم ہوں گے اور جس قدر آہستہ چلے گا مسجد تک پہنچنے میں  اتنے ہی  قدم زیادہ لگیں گے اور یہ بات مسلّم ہے کہ نماز کے لئے جو بندہ نکلتا ہے تو جب وہ اپنا قدم اٹھاتا ہے تو اس پر اسے ایک نیکی ملتی ہے اور جب وہی قدم نیچے رکھتا ہے تو اس پر اس کا ایک گناہ مٹا دیا جاتا ہے ، چنانچہ سنن أبو داؤد میں ایک انصاری صحابی سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :

جب کوئی شخص وضو کرتا ہے اور اچھی طرح سے وضو کرتا ہے پھر نماز کے لئے نکلتا ہے تو اس کے دائیں قدم اٹھا نے پر اللہ تعالیٰ ایک نیکی لکھ دیتا ہے ، اور بائیں قدم رکھنے پر اس کا ایک گناہ مٹا دیتا ہے اس لئے تم میں سے جو چاہے اپنے قدموں کو نزدیک نزدیک رکھے اور جو چاہے دوردور رکھے پھر جب مسجد میں آکر جماعت سے نماز پڑھتا ہے تو اسے معاف کر دیا جاتا ہے اور اگر مسجد میں پہنچا اور نماز کا بعض حصہ لوگوں نے پڑھ لیا ہے اور کچھ حصہ باقی ہے تو اسے جو نماز ملی وہ پڑھ لیا اور جو فوت ہو گئی اسے پورا کر لیا تو اسے بھی یہی اجر ملنے والا ہے ، اوراگر (مسجد میں پہنچا لوگ نماز سے فارغ ہوچکے ہیں تو اس نے اپنی نماز (اکیلے ہی) پڑھ لی تواسے بھی یہی اجر ملنے والا ہے۔  یعنی مسجد کی طرف آنے والا کسی بھی صورت میں خسارے میں نہیں ہے بلکہ اگر اس کی نیت درست ہے اور اس نے آنے میں کوتاہی سے کام نہیں لیا تواسے جماعت میں حاضری کا پورا اجر ملنے والا ہے ، خواہ اسے پوری نماز ملے ، آدھی ملے یا کچھ بھی نہ ملے ، اللہ تعالیٰ اسے اپنی رحمت سے نا امید نہیں کرتا۔

               فوائد

(۱)  نماز کی اقامت سن لینے کے بعد دوڑنا یا ایسا تیز چلنا جس سے سانس اوپر نیچے ہونے لگے شریعت کی نظر میں نا پسندیدہ فعل ہے۔

(۲) اگر کوئی رکعت امام کے ساتھ چھوٹ جائے تو امام کے سلام پھیرنے کے بعد اسے پورا کرنا چاہئے۔

(۳)  امام کے ساتھ ملنے والی رکعت نمازی کی پہلی رکعت ہو گی، یعنی اگر ظہر کی نماز میں کسی کو امام کے ساتھ تین رکعت ملتی ہے تو امام کے سلام پھیرنے کے بعد وہ اپنی ایک رکعت پوری کرے گا جو اس کی چوتھی رکعت ہو گی، یعنی اس میں صرف سورۂ فاتحہ پڑھے گا۔

(۴) اگر کسی شخص کو مغرب کی ایک رکعت امام کے ساتھ ملتی ہے تواس کی پہلی رکعت وہی ہے جو اس نے امام کے ساتھ پڑھی ہے ، لہذا امام کے سلام پھیرنے کے بعد وہ شخص اٹھ کر ایک رکعت پڑھ کر بیٹھ جائے گاجس میں وہ سورۂ فاتحہ کے ساتھ کوئی اور سورت بھی پڑھے گا پھر تشہد کے بعد اٹھ کر ایک رکعت اور پڑھے گا، جس میں صرف سورۂ فاتحہ پر اکتفا کرے گا۔

٭٭٭

 

غصہ مت کر

حدیث نمبر :21

عن أبی ھریرۃ رضی اللہ عنہ أن رجلا قال للنبی صلی اللہ علیہ وسلم : أوصنی قال : لا تغضب، فردد مرارا قال : لا تغضب۔

(صحیح بخاری : ۶۱۱۶)

ترجمہ : حضرت أبو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں  کہ ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا : آپ مجھے کوئی وصیت کیجئے ، آپ نے فرمایا : غصہ مت کرو، اس نے کئی بار یہی  سوال دہرایا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہر بار یہی جواب دیتے رہے : غصہ  مت کرو۔

صحیح البخاری.

تشریح : اللہ تعالیٰ نے انسانی فطرت میں غصہ ہونا ودیعت کیا ہے جو خلاف مزاج و طبیعت  کسی چیز کے پیش آنے پر انسان کو لاحق ہوتا ہے ، غصہ میں آ کر انسان بساأوقات ایسے کام کر جاتا یاایسی باتیں کہہ جاتا ہے جس پر اسے بعد میں ندامت ہوتی اور بسا اوقات بڑا نقصان اٹھانا پڑتا ہے ، کبھی غصہ میں کسی پر حملہ کر دیتا ہے ، کبھی غصہ میں گالی گلوج پر اتر آتا ہے ، کبھی غصہ میں اپنی بیوی کو طلاق دے دیتا ہے حتی کہ کبھی غصہ میں کلمہ کفر و شرک ادا کر جاتا ہے ، جیسا کہ یہ امر ہر شخص کے مشاہدے میں ہے ، اسی لئے زیر بحث حدیث میں  جب صحابی نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی قیمتی نصیحت چاہی  جو انہیں دنیا و آخرت میں نفع دے تو آپ نے انہیں غصہ نہ کرنے کی تلقین فرمائی، ابتداء میں تو وہ یہ سمجھتے رہے کہ غصہ نہ کرنا کوئی ایسی بڑی چیز نہیں ہے جو ہمارے لئے مستقبل میں اس قدر مفید ثابت ہو لیکن جب بار بار قیمتی نصیحت کے سوال پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہی وصیت فرماتے رہے تو انہیں اس کی اہمیت معلوم ہوئی اور خاموش ہو گئے۔

اس حدیث میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے غصہ نہ کرنے کا حکم دیا ہے ، جس کا دو مفہوم ہوسکتا ہے۔

(۱) سرے سے انسان غصہ ہی نہ کرے۔   وہ اس طرح کہ غصہ میں آنے کے جو اسباب ہوتے ہیں ان سے پرہیز کرے ، جیسے خود بینی و خود نمائی سے پرہیز کرے ، بلا وجہ کی بحث و مباحثہ سے بچتا رہے ، کثرت مذاق وغیرہ جیسے اسباب جو انسان کے غصہ میں آنے کا سبب بنتے ہیں ان سے پرہیز کرتا رہے۔

 (۲) اگر بتقاضائے بشریت غصہ آ جائے تو نافذ نہ کرے۔  بلکہ اسے دبانے اور ٹھنڈا کرنے کی کوشش کرے جس کے لئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مختلف طریقے بتلائے ہیں۔

غصہ کو ختم کرنے والے بعض شرعی طریقے

(۱)  أعوذ باللہ من الشیطان الرجیم پڑھ لے۔

(صحیح بخاری : ۳۲۸۲، صحیح مسلم : ۲۶۱٠)

(۲) اپنی کیفیت کو بدل دے ، یعنی اگر کھڑا ہے تو بیٹھ جائے ، بیٹھا ہے تو لیٹ جائے۔ اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس جگہ کو چھوڑ کر چلا جائے

(أبو داود :۴۷۸۲، أحمد : ص: ۱۵۲، ص: ۵)

(۳) غصہ پی جانے کا جو اجر اللہ تعالیٰ نے رکھا  ہے اسے یاد کرے۔

اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جو شخص غصہ کو پی جائے حالانکہ اسے نافذ کر سکتا تھا تو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اسے تمام لوگوں کے سامنے بلائے گا اور اسے اختیار دے گا کہ جنت کی جس حور کو انتخاب کرنا چاہو کر لو۔

(أبوداؤد :۴۷۷۷، أحمد 3/440)

(۴) وضو کر لے۔  کیونکہ غصہ کا جو بھی سبب ہو، اسے ابھارنے والا شیطان ہوتا ہے اور شیطان کی پیدائش آگ سے ہے اور آگ کو پانی سے بجھایا جاتا ہے ، لہذا وضو کرنا اس کا بہترین علاج ہے۔

(أبوداؤد : ۴۷۸۴، أحمد 4/226)

               فوائد

۱) خیر کی تعلیم حاصل کرنے کے لئے صحابہ کی حرص۔

۲)غصہ عمومی طور پر خطرناک چیز ہے۔

۳) مسلمان کو چاہئے کہ ہر اس کام سے پرہیز کرے جو غصہ کاسبب بنے۔

٭٭٭

 

برائی کی روک

حدیث نمبر : 22

عن أبی سعید الخدری رضی اللہ عنہ قال : سمعت رسول اللہ صلی یللہ علیہ وسلم  یقول : من رأی منکم منکرا فلیغیرہ بیدہ فن لم یستطع فبلسانہ فن لم یستطع فبقلبہ وذلک أضعف الیمان۔

 (صحیح مسلم : 49، الیمان، سنن أبوداؤد : 1140، الصلاۃ)

رجمہ : حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، وہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے اللہ کے رسول ﷺ سے سنا آپ فرما رہے تھے کہ تم میں سے جو شخص کوئی منکر (غیر شرعی کام) دیکھے تو اسے اپنے ہاتھ سے روکے اور اگر ہاتھ سے نہ روک سکے تو اپنی زبان سے روکے اور اگر اپنی زبان سے بھی نہ روک سکے تو ا پنے سے (برا سمجھے) اور یہ ایمان کا سب سے کمزور درجہ ہے۔

صحیح مسلم، سنن ابوداود

  تشریح : اللہ تبارک و تعالیٰ نے شریعت اسلام پر عمل کو دنیا اور اہل دنیا کی سعادت و فلاح کا سبب قرار دیا ہے اور اس کی مخالفت وسرتابی کو زمین پر فساد کا ذریعہ بتلایا ہے ، لہذا ہر بندے پر ضروری ہے کہ وہ سعادت و فلاح والے کاموں کو بجا لائے اور فساد و ہلاکت کے کاموں سے پرہیز کرے ، دنیا کی یہ اصلاح اس وقت ممکن ہے جب کہ ہر شخص اس کی اہمیت کو محسوس کرے ، اسطرح کہ أولاً تو ایک مسلمان ہونے کی حیثیت سے وہ   شریعت پر عمل پیرا رہے اور ثانیاً وہ دوسروں کو بھی اس پر عمل کرنے کی دعوت دے ، اسی چیز کو قرآن و حدیث میں” أمر بالمعروف اور نہی عن المنکر”  کا نام دیا گیا ہے جو دین کا ایک بڑا اہم فریضہ ہے ، اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :” کنتم خیر أمۃ أخرجت للناس تأمرون بالمعروف وتنھون عن المنکر و تؤمنون باللہ “….  الآیۃ۔..  (العمران : 104) ۔….  تم بہترین امت ہو جو لوگوں (کی اصلاح و ہدایت) کے لئے پیدا کی گئی ہے کہ تم لوگوں کو معروف (نیک باتوں) کا حکم دیتے اور منکر (بری باتوں یا خلاف شرع کاموں) سے روکتے ہو اور اور اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھتے ہو۔………..

گویا مسلمانوں کے بہترین امت، اچھی جماعت اور برگزیدہ گروہ بننے کے لئے یہ بنیادی شرط ہے کہ انہیں صرف اپنے اصلاح کی فکر نہیں ہونی چاہئے بلکہ اوروں کے اصلاح و ہدایت کی بھی فکر کرنی چاہئے ، اور صرف معروف پر عمل اور اس کا حکم دینا ہی انہیں اس عظیم ذمہ داری سے بری نہیں کرے گا، بلکہ منکر سے پرہیز اور اس سے روکنا بھی نہایت ضروری ہے کیونکہ ہم دیکھتے ہیں کہ بہت سے لوگ خود تو منکر سے پرہیز کر لیتے ہیں لیکن دوسروں کو اس سے نہیں روکتے ، اس طرح کچھ لوگ  معروف کا حکم اور اس کی دعوت تو بڑے زور شور سے دیتے ہیں لیکن منکر سے منع نہیں کرتے ،

   یہ دونوں فریق بھی بہتر ین امت میں شامل ہونے کے حقدار نہیں، زیر بحث حدیث میں اسی أمر و نہی کی اہمیت کو واضح کیا گیا اور اس کا طریقہ یا اس کے درجات کی طرف لوگوں کی رہنمائی کی گئی ہے۔

   چنانچہ نبی کریمؐ  کا فرمان ہے کہ جو شخص بھی کسی خلاف شرع کام کو دیکھے خواہ وہ اوامر کے ترک سے تعلق رکھتا ہو یا ممنوع چیزوں کے ارتکاب سے متعلق ہو تو أولاً  یہ چاہے کہ اسے اپنے ہاتھ سے روکنے کی کوشش کرے ،  اس طرح کہ منکر کے مرتکب کو پکڑ لے یا منکر کو تباہ کر دے یا جس جگہ منکر کا ارتکاب ہو رہا ہو اس جگہ لوگوں کو جانے سے روک دے وغیرہ، لیکن اگر ہاتھ سے روکنے پر فتنہ کا خطرہ ہو، یا بدلنے والے کی جان و مال وغیرہ کے نقصان کا خطرہ ہو تو ایسی صورت میں اس منکر کو زبان سے روکا جائے ، ترغیب و ترہیب اور تہدید و توبیخ کا اسلوب اختیار کیا جائے ، لیکن اگر کسی سے یہ بھی نہیں ہوسکتا ہے کیونکہ کمزور ایمان یا حالات کے لحاظ سے وہ زبان سے کسی کو روک نہیں سکتا تو اس کا فریضہ ہے کہ ا س منکر کو دل سے برا سمجھے ، اس میں کسی بھی طرح کی شمولیت اختیار نہ کرے ، بلکہ اس جگہ سے اٹھ کر چلا جائے اور اپنے  قول و فعل کے ذریعہ یہ ظاہر کرے کہ وہ منکر سے خوش نہیں ہے۔

اس طرح گویا اس حدیث میں برائی کو روکنے کے تین درجات بیان ہوئے ہیں :

(1) کوئی بھی خلاف شرع کام دیکھا جائے تواسے ہاتھ اور طاقت کے ذریعہ ختم کیا جائے ، یہ ان کار کا سب سے اعلی درجہ ہے ، اپنے ایمان، صلاحیت و امکانیت کے لحاظ سے ہر مسلمان اس کا مخاطب ہے البتہ  اس کے خصوصی مخاطب حاکم وقت، اس کے نائب اور گھر و خاندان کے ذمہ دار حضرات ہیں۔

 (2) کسی خلاف شرع کام کو دیکھنے اور علم ہو جانے پر زبان سے اس کا ارتکاب کیا جائے۔  ٹیلی فون، وعظ و نصیحت اور پرچو ں اور اخبارات میں اس منکر کے خلاف لکھنا بھی اسی میں داخل ہے۔

 (3) دل سے برا سمجھنا، یعنی اگر کسی کا ایمان قدر کمزور ہے کہ وہ زبان سے بھی کسی برائی سے منع نہیں کر سکتا تو اپنے دل میں اسے ناپسند کرے ، یہ ایسا درجہ ہے کہ اس سے کسی بھی شخص کو کسی بھی صورت میں چھٹکارا نہیں ہے ، اب اگر کسی کے اندر یہ جذبہ بھی نہیں رہ گیا تو اس کا مطلب ہے کہ اس کے دل میں اللہ کے لئے حب و بغض اور ولا ء وبراء کا عقیدہ مفقود ہے جس کی وجہ سے اس کا ایمان بھی یا تو اس کے دل سے نکل چکا ہے یا پھر سخت خطرے میں ہے ،  اللہ کے رسول ﷺ کا فرمان ہے : دین کاسب سے مضبوط کڑا اللہ کے لئے محبت اور اسی کے لئے بغض ہے

(مسند احمد، 4/ 286  )

               فوائد

 (1)  امر بالمعروف اور نہی عن المنکر ایک بڑا اہم فریضہ ہے۔

(2) أمر بالمعروف اور نہی عن المنکر کبھی فرض کفایہ ہو گا اور کبھی فرض عین۔

 (3) بندے کے ایمان میں کمی اور  زیادتی ہوتی رہتی ہے۔

٭٭٭

 

کرم الٰہی

حدیث نمبر : 23

عن علی بن طالب رضی اللہ عنہ قال : قال رسول اللہ  صلى اللہ علیہ وسلم:  یا علی ألا أعلمک کلمات اذا قلتھن غفرلک مع أنہ مغفور لک  : لا الہ الا اللہ العلی العظیم، لا الہ الا اللہ الحلیم الکریم، سبحان اللہ رب السماوات السبع ورب العرش العظیم والحمد للہ رب العالمین۔

(مسند أحمد :1/ 92)

ترجمہ : حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا :اے علی میں تمہیں چند ایسے کلمات سکھلا تا ہوں، اگر تم نے انہیں کہہ لیا تو اللہ تعالیٰ تمہارے گناہوں کو معاف فرما دے گا اور ویسے بھی تمہارے گناہ معاف کر دئے جائیں گے : “لا الہ الا اللہ العلی العظیم، لاا لہ الا اللہ الحلیم الکریم، سبحان اللہ رب السماوات السبع ورب العرش العظیم والحمد للہ رب العالمین”۔

تشریح : یہ چند پیارے کلمات ہیں جنہیں نبی کریم الصادق المصدوق ﷺ نے اپنے عزیز ترین بھائی، محبوب ترین ساتھی اور بہت ہی پیارے داماد شیر خدا حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کو سکھلایا ہے اور ان کے ذریعہ پوری امت کو یہ انمول تحفہ دیا ہے کہ ہر وہ شخص جو مغفرت الٰہی سے سرفراز ہونا چاہتا ہے ، اپنے گناہوں سے خلاصی چاہتا ہے اور اپنے درجات کی بلندی کا خواہش مند ہے ، اسے ان کلمات کا ورد کرنا چاہئے ,  ان کلمات کا حقیقی فائدہ اسی وقت حاصل ہوسکتا ہے جبکہ بندہ ان کے معنی و مفہوم پر نظر رکھے اور اپنی زندگی کو ان کے مقتضا کے سانچے میں ڈھالنے کی پوری کوشش کرے۔

……………..   یہ کلمات چار چھوٹے جملوں پر مشتمل ہیں :

٭ پہلا جملہ : “لاا لہ الا اللہ العلی العظیم “:  اللہ کے علاوہ کوئی حقیقی معبود نہیں ہے جو بہت ہی بلند اور بڑی عظمت والا ہے۔

٭٭ دوسرا جملہ : “لاا لہ الا اللہ الحلیم الکریم” :  اللہ کے علاوہ کوئی حقیقی معبود نہیں ہے جو بڑا ہی برد بار اور بہت کرم والا ہے۔

      ان دونوں جملوں میں أولاً –تو اللہ تبارک و تعالیٰ کی شانِ الوہیت بیان ہوئی ہے کہ مخلوق کی ہر قسم کی عبادت کا حقدار صرف اللہ تعالیٰ ہے خواہ وہ عبادت ظاہرہ ہوں جیسے نماز، روزہ، حج، زکاۃ، دعاء، استغاثہ، رکوع، وسجود، اور نذر و نیاز وغیرہ یا وہ عبادات باطنہ ہوں جیسے محبت، خوف، توکل، امید وغیرہ، یہ تمام کی تمام عبادات باری تعالیٰ کا حق ہیں ان میں سے کوئی بھی عبادت غیر اللہ کے لئے نہیں کی جائے گی۔

ثانیا–  ان دونوں جملوں میں اس معبود حقیقی کے بعض پیارے پیارے نام بھی مذکور ہیں جو اس بات پر دال ہیں کہ بندوں کی ساری عبادات کا مستحق وہی ذات اس لئے کہ اس میں بہت سی بلند و بالا خوبیاں پائی جا رہی ہیں،  چنانچہ وہ بہت ہی بلند ہے اپنی ذات کے لحاظ سے بھی بلند ہے کہ اس سے اوپر کوئی چیز نہیں ہے ،  وہ اپنے مرتبہ و مقام کے لحاظ سے بھی بہت بلند ہے کہ اس سے اونچا مقام و مرتبہ کسی مخلوق کا نہیں ہے ،  وہ اپنے حکم و فرمان کے لحاظ سے بھی بہت بلند ہے کہ اس کا حکم و فرمان سب سے اوپر اور سب پر غالب ہے کسی بھی حاکم و امام کا حکم اس پر مقدم نہیں رکھا جا سکتا۔۔………..  “وہ بڑی عظمت والا ہے “،  وہ اپنی ذات کے لحاظ سے بھی عظیم ہے کہ ساری مخلوق اس کے سامنے چھوٹی اور حقیر ہے ، وہ اپنے افعال کے لحاظ سے عظیم ہے ، اس سے بہتر اور عمدہ طریقے سے کام کو انجام دینے والا کوئی نہیں ہے ،  اس کے افعال ہر قسم کے عیوب سے پاک ہیں،  وہ اپنی صفات میں بھی عظیم ہے کہ اس کی صفات سے بہتر اور کامل کسی کی بھی صفات نہیں ہیں حتی کہ وہ اپنی عظمت میں کامل اور کمال میں اس قدر انتہاء کو پہنچا ہوا ہے کہ مخلوق کا تصور بھی اس تک نہیں پہنچ سکتا۔

“وہ بڑا ہی حلیم و بردبار ہے “کہ بندوں کو سزا دینے میں جلد بازی سے کام نہیں لیتا بلکہ انہیں توبہ کرنے کا موقعہ عنایت فرماتا ہے ، لوگ سالوں سال اس کا دیا ہوا رزق کھا کر بھی اس کے احکام سے بغاوت کرتے ہیں پھر بھی وہ اس قدر تحمل و صبر سے کام لیتا ہے کہ ان پر اپنا عذاب نازل کرنے میں جلد بازی نہیں کرتا۔

“وہ بہت ہی کرم والا ہے “اس کا کرم اس قدر عام ہے کہ ہر نیک و بد اور مومن و کافر کو پہنچ رہا ہے ، اس کا کرم اسقدر آسان ہے کہ ہر طاقتور و کمزور شخص اس سے مستفید ہو رہا ہے ، اس کا کرم اسقدر عام ہے کہ جن وانس اور چرند و پرند ہر ایک اس میں ڈوبے ہوئے ہیں، اس کا کرم اسقدر وسیع ہے کہ ہزارہا و لاکھہا سال سے لوگ اسے لوٹ رہے  ہیں لیکن اس میں ذرہ برابر کمی واقع نہیں ہوتی۔

٭٭٭تیسرا جملہ :  “پاک ہے اللہ تعالی، وہی ساتوں آسمانوں اور عرش عظیم کا رب ہے “۔

وہ اللہ ہر قسم کے عیب و نقص سے پاک ہے اس کی ذات بھی ہر عیب و نقص سے پاک ہے ، اس کی صفات بھی کامل اور پاک ہیں اور اس کا ہر کام بھی کمی و کوتاہی سے ُمبرّا ہے۔

“وہی ہے جو ساتوں آسمانوں اور عرش عظیم جیسی مخلوقات کا مالک ہے “، پھر ذرا سوچیں کہ جو ذات ہر قسم کے حسن و جمال کا منبع ہو، ساتوں آسمان اور عرش  جیسی عظیم سے  عظیم تر مخلوق کا مالک و مدبر ہو، کیا وہ ہماری ہر قسم کی عبادت کی مستحق نہیں ہے ؟ یقیناً وہی اور صرف وہی ہے۔

٭٭٭٭  چوتھا جملہ : “سب تعریفیں اللہ تعالیٰ ہی کے لئے ہیں جو تمام جہانوں کا پالنہار ہے ” ، اللہ ہی کی ذات ہے جو تمام مخلوقات کو پال رہی ہے ہر مخلوق کی ضرورت پوری کر رہی ہے ، اللہ تعالیٰ مخلوق کی دینی اور ان کی دنیاوی ضرورتیں بھی پوری کر رہا ہے ، اس لئے بندے کی ہر قسم حمد و ثنا کا مستحق بھی وہی ہے ۔……   الحمد للہ رب العالمین۔…………….

               فوائد

 (1) حضرت علی رضی اللہ عنہ کی فضیلت اور نبی کریم ﷺ کے نزدیک ان کا مقام و مرتبہ۔

(2) اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم کہ معمولی سے عمل پر بہت بڑے اجر سے نوازتا ہے۔

 (3) اس حدیث میں گناہوں سے مراد صغیرہ گناہ ہیں کیونکہ کبیرہ گناہوں کے لئے توبہ ضروری ہے۔  (4) توحید کی فضیلت و اہمیت۔

٭٭٭

 

کام آسان مگر ناکام انسان

حدیث نمبر :24

 عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَمْرٍو عَنِ النَّبِىِّ -صلى اللہ علیہ وسلم- قَالَ « خَصْلَتَانِ أَوْ خَلَّتَانِ لاَ یُحَافِظُ عَلَیْہِمَا عَبْدٌ مُسْلِمٌ إِلاَّ دَخَلَ الْجَنَّۃَ ہُمَا یَسِیرٌ وَمَنْ یَعْمَلُ بِہِمَا قَلِیلٌ یُسَبِّحُ فِى دُبُرِ کُلِّ صَلاَۃٍ عَشْرًا وَیَحْمَدُ عَشْرًا وَیُکَبِّرُ عَشْرًا فَذَلِکَ خَمْسُونَ وَمِائَۃٌ بِاللِّسَانِ وَأَلْفٌ وَخَمْسُمِائَۃٍ فِى الْمِیزَانِ وَیُکَبِّرُ أَرْبَعًا وَثَلاَثِینَ إِذَا أَخَذَ مَضْجَعَہُ وَیَحْمَدُ ثَلاَثًا وَثَلاَثِینَ وَیُسَبِّحُ ثَلاَثًا وَثَلاَثِینَ فَذَلِکَ مِائَۃٌ بِاللِّسَانِ وَأَلْفٌ فِى الْمِیزَانِ ». فَلَقَدْ رَأَیْتُ رَسُولَ اللَّہِ -صلى اللہ علیہ وسلم- یَعْقِدُہَا بِیَدِہِ قَالُوا یَا رَسُولَ اللَّہِ کَیْفَ ہُمَا یَسِیرٌ وَمَنْ یَعْمَلُ بِہِمَا قَلِیلٌ قَالَ « یَأْتِى أَحَدَکُمْ – یَعْنِى الشَّیْطَانَ – فِى مَنَامِہِ فَیُنَوِّمُہُ قَبْلَ أَنْ یَقُولَہُ وَیَأْتِیہِ فِى صَلاَتِہِ فَیُذَکِّرُہُ حَاجَۃً قَبْلَ أَنْ یَقُولَہَا ».

(سنن التزمذی : ۳۴۱٠، الدعوات،  سنن أبوداؤد : ۵٠۶۵، الأدب، مسند أحمد : ج: ۲، ص: ۱۶۱، ۱۶۲)

ترجمہ : حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جو مسلمان بھی دو کام پر مداومت کر لے گا وہ جنت میں داخل ہو گا، وہ دونوں کام ہیں تو بہت آسان لیکن اس پر عمل کرنے والے لوگ کم ہی ہیں (پہلا کام) ہر نماز کے بعد دس بار سبحان اللہ دس بار   الحمد للہ اور دس بار اللہ اکبر کہنا، راوی کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم یہ بتلاتے جا رہے تھے اور اپنے ہاتھوں پر شمار کراتے جا رہے تھے ، آپ نے فرمایا : یہ شمار میں تو ڈیڑھ سو (150)ہیں البتہ ترازو میں ڈیڑھ ہزار (1500) ہیں،  (دوسرا کام) اور جب اپنے بستر پر سونے کے لئے جاؤ تو سبحان اللہ، الحمد للہ اور اللہ اکبر سوبار کہو یہ شمار میں تو سو ہی ہیں البتہ ترازو میں ایک ہزار ہیں، پھر تم میں کون شخص ایسا ہو گا جو دو ہزار پانچ سوگنا کرتا ہو، صحابہ نے عرض کیا کہ ہم اس ذکر کا اہتمام کیوں نہیں کر سکتے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ایک شخص نماز میں ہوتا ہے اور شیطان اس کے پاس آ کر کہتا ہے : فلاں چیز یاد کرو، فلاں چیز یاد کرو، چنانچہ وہ شخص نماز سے فارغ ہو کر (اس کام میں مشغول ہو جاتا ہے اور) اس ذکر کا اہتمام نہیں کرپاتا، اسی طرح جب وہ اپنے بستر پر سونے کے لئے جاتا ہے تو شیطان اسے برابر تھپکیاں دیتا رہتا ہے یہاں تک وہ (اس ذکر کا اہتمام کئے بغیر) سوجاتا ہے۔

(ابوداؤد، ترمذی، أحمد)

تشریح :  رب کریم کا یہ بہت بڑا فضل عظیم ہے کہ اس نے اپنے ضعیف و کمزور بندوں کی ہر قسم کے خیر پر رہنمائی کی ہے اور ہر قسم کے شر سے متنبہ کیا ہے ، اس کا ایک بہت بڑا فضل یہ بھی ہے کہ اس نے ایک نیکی پر کم از کم دس گنا اجر دینے کا وعدہ فرمایا ہے ،    زیر بحث حدیث میں  اللہ تعالیٰ کے ایسے ہی ایک فضل کا بیان ہے ، چنانچہ اس حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو ایسے عمل بتلائے ہیں جن پر عمل کرنا تو بہت ہی آسان ہے البتہ اس کا اہتمام کر لینا جنت میں داخلہ کے سبب ہیں۔

٭پہلا عمل یہ ہے کہ بندہ مومن جب اپنی نماز سے فارغ ہو تو کسی دوسرے کام میں مشغول ہونے سے قبل (تین بار) استغفر اللہ، پھر ایک بار       اللھم أنت السلام ومنک السلام، تبارکت یا ذالجلال والکرام

 (صحیح مسلم)

 اس کے بعد ایک بار:  لا لہ لا اللہ وحدہ لا شریک لہ، لہ الملک ولہ الحمد وھو علی کل شیء قدیر، اللھم لا مانع لما أعطیت ولا معطی لما منعت ولا ینفع ذا الجد منک الجد

 (صحیح بخاری ومسلم)

کے بعد دس دس بار سبحان اللہ، الحمد للہ، اللہ اکبر، کہہ لے ، بظاہر تو یہ بہت ہی معمولی کام ہے لیکن اس معمولی عمل پر اسے تین سو نیکیاں ملتی ہیں اسطرح پانچ نمازوں میں ملا کر یہ کلمات کل 150  بار ہوں گے ، جن کا اجر 1500  کے برابر ہو گا۔

٭دوسرا عمل یہ کہ جب بندہ اپنے بستر پر جائے تو دائیں کروٹ لیٹ کر تسبیح فاطمی یعنی ۳۳ بار سبحان اللہ، ۳۳ بار الحمد للہ، ۳۴ بار اللہ اکبر، کہہ لے ، اسطرح یہ کلمات گنتی میں تو سو ہیں لیکن اجر میں ایک ہزار کے برابر ہیں، گویا بغیر کسی مشقت اور وقت کے بندہ مومن چند منٹ میں ڈھائی ہزار نیکیاں اپنے نامۂ اعمال میں جمع کر سکتا ہے ، کیونکہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک ایک نیکی کا اجر دس گنا ملتا ہے۔

   اس کام کی اہمیت کے پیش نظر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر ابھارنے کا ایک اور اسلوب اختیار کیا کہ نیکیوں کا ایک فائدہ یہ بھی ہوتا ہے کہ اس سے بندوں کے گناہ خصوصاً صغائر معاف کر دئے جاتے ہیں، “ان الحسنات یذھبن السیئات ” نیکیاں گناہوں کو مٹا دیتی ہیں، اور چونکہ ہر شخص گناہ کرتا ہے پھر عادتاً  ایک سچے مسلمان سے یہ بعید ہے کہ چوبیس گھنٹے میں اس سے ڈھائی ہزار گناہ سرزد ہوں، اسطرح یہ نیکیاں اس کے لئے درجات کی بلندی کا بھی سبب بنتی ہیں، اس لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب یہ نیکیاں اس کے گناہوں سے زیادہ ہیں تو بہت ہی غیر معقول بات ہے کہ تم لوگ اس کا اہتمام نہ کرو، بلکہ چاہئے کہ اس نیک عمل کو ہر گز نہ چھوڑو، بلکہ اس کا اہتمام کرو۔

   اب ہر شخص کو اس پر تعجب ہو گا کہ جب عمل اس قدر آسان ہے اور اس پر اجر اس قدر عظیم ہے تو پھر کوتاہی کیوں ہو گی اسی لئے صحابہ کرام رضوان اللہ علہیم اجمعین نے سوال کیا کہ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم جب اس عمل کا ثواب اتنا بڑا ہے تو اس پر عمل کرنے والے لوگ کم کیوں ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہوتا یوں ہے کہ بندہ ابھی نماز ہی میں ہوتا ہے کہ شیطان اس کے پاس آ کر متعدد کا م یا د دلاتا ہے ، اس کا م کی اہمیت پر توجہ دلاتا ہے ، اس کے فوت ہونے کا خوف دل میں ڈالتا ہے ، نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ نمازی سلام پھیرنے کے فورا بعد اس کام میں مشغول ہو جاتا ہے اور یہ ذکر کئے بغیر اٹھ کر چلا جاتا ہے ، یہی حربہ شیطان سونے کے وقت بھی استعمال کرتا ہے ، نتیجہ سونے والا دوسرے خیالات میں مشغول ہو کر سوجاتا ہے اور اس ذکر کا اہتمام نہیں کرتا۔

               فوائد

(۱)  نماز کے بعد ذکر  و اذکار کی اہمیت۔

(۲) تسبیح فاطمی کی اہمیت۔

(۳)  قیامت کے دن بندوں کے اعمال کا تولہ جانا برحق ہے۔

(۴)  شیطان انسان کو ہر نیک کام سے روکتا ہے۔

٭٭٭

 

فرشتے جن کے دوست

حدیث نمبر :25

عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ عَنْ النَّبِیِّ صَلَّى اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ لِلْمَسَاجِدِ أَوْتَادًا الْمَلَائِکَۃُ جُلَسَاؤُہُمْ إِنْ غَابُوا یَفْتَقِدُونَہُمْ وَإِنْ مَرِضُوا عَادُوہُمْ وَإِنْ کَانُوا فِی حَاجَۃٍ أَعَانُوہُمْ، وَقَالَ صَلَّى اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ جَلِیسُ الْمَسْجِدِ عَلَى ثَلَاثِ خِصَالٍ أَخٍ مُسْتَفَادٍ أَوْ کَلِمَۃٍ مُحْکَمَۃٍ أَوْ رَحْمَۃٍ مُنْتَظَرَۃٍ۔

( مسند أحمد، ج: ۲، ص: ۴۱۸)

ترجمہ : حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم  نے ارشاد فرمایا : کچھ لوگ مسجدوں کی میخیں ہیں، فرشتے ان کے ہم نشین ہیں، اگر وہ مسجد سے غائب ہوئے تو وہ فرشتے انہیں تلاش کرتے ہیں، اگر وہ بیمار پڑے تو فرشتے ان کی عیادت کرتے ہیں،  اگر وہ کسی کام میں مشغول رہے تو فرشتے ان کی مدد کرتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے مزید ارشاد فرمایا : مسجد میں بیٹھنے والا تین چیزوں سے محروم نہیں رہتا  (۱) کسی دینی بھائی کی صحبت نصیب ہو گی  (۲) کوئی حکمت کی بات سیکھے گا  (۳) کسی رحمت سے دو چار ہو گا۔

تشریح : مسجدیں اللہ کا گھر ہیں، اللہ کے نزدیک سب سے محبوب جگہیں  ہیں، مسجدوں میں بیٹھنے والے اللہ کے محبوب اور مقرب بندے ہیں، قیامت کے دن ان کی ایک نرالی شان ہو گی جہاں انہیں عرش الٰہی کا سایہ نصیب ہو گا، مسجد میں بیٹھنا ایمان کی نشانی اور اس سے بے رغبتی نفاق کی علامت ہے۔

    زیر بحث حدیث میں اہل مسجد کے کچھ فضائل بیان ہوئے ہیں، اللہ کے کچھ ایسے بندے ہیں جو مسجد کی میخ بن گئے ہیں کہ وہ مسجد سے جدا ہوتے ہی نہیں، اگرکسی  دنیاوی ضرورت و حاجت کے پیش نظر مسجد سے ان کا جسم دور بھی ہو گیا تو ان کا دل مسجد سے دور نہیں ہوتا، ان کی پوری کوشش ہوتی ہے کہ وہ جلد از جلد دنیاوی مشاغل سے فارغ ہو کر مسجد کا رخ کریں، انہیں باہر سکون نہیں ملتا وہ جلد از جلد مسجد واپس آنا چاہتے ہیں کیونکہ انہیں  مسجد سے باہر  راحت بال اور سکو ن قلب نصیب نہیں ہوتا ہے مسجدکی مثال  ان کے لئے ایسی ہے جیسے مچھلی کے لئے دریا و تالاب، ایسے لوگوں کے اکرام میں اللہ تعالیٰ نے کچھ فرشتوں کو ان کا ساتھی بنا دیا ہے جو مسجد میں ان کے انتظار میں رہتے ہیں، جب تک وہ مسجد میں رہتے ہیں فرشتے ان کے ساتھ ہوتے ہیں،  ان کے لئے دعا و رحمت اور سکینت و اطمینان کا سبب بنتے ہیں، اگر یہ لوگ کسی حاجت و ضرورت کے تحت مسجد سے غائب ہو جاتے ہیں تو فرشتے انہیں تلاش کرتے اور ڈھونڈھتے پھرتے  ہیں، اگر انہیں کسی مرض نے مسجدمیں آنے سے روک لیا ہے تو فرشتے ان کی عیادت کے لئے جاتے ہیں اور ان کی بیمار پرسی کرتے ہیں،

اگر یہ لوگ کسی حاجت میں مشغول ہوتے ہیں تو یہ فرشتے انہیں تلاش کرتے ہوئے ان تک پہنچتے ہیں اور حاجت براری میں ان کی مدد کرتے ہیں،  سوچنے اور غور کرنے کی بات ہے کہ یہ لوگ کس قدر خوش قسمت ہیں، بڑے خوش نصیب ہیں وہ لوگ جو مسجدوں کی میخ بنے ہوئے ہیں۔

 نیز یہ بھی نہ بھولنا چاہئے کہ  ویسے بھی مسجد میں بیٹھنے والا شخص فائدے ہی فائدے میں رہتا ہے ، جنمیں تین فائدے قابل ذکر ہیں۔

[1] اسے کسی نیک و صالح مسلمان بھائی کی صحبت نصیب ہو گی جس سے وہ کوئی نصیحت کی بات سنے گا، یا کسی اور   طرح اس سے مستفید ہو گا،  اگر کچھ نہیں تو کم از کم یہ بھائی پیٹھ پیچھے اس کے لئے دعائیں کرے گا،  اور سب سے اہم یہ کہ یہ تعلق قیامت کے دن بھی باقی رہے گا اوراس کے لئے مفید ثابت ہو گا،

الاخلاء یومئذ بعضھم لبعض عدو لا المتقین (الزخرف)  اس دن تمام دوست ایک دوسرے کے دشمن ہوں گے مگر متقی حضرات۔

[2]دوسرا فائدہ اسے یہ حاصل ہو گا کہ اسے کوئی مفید بات سننے کو ملے گی کیونکہ مسجد تلاوت قرآن، ذکر و اذکار اور درس وتدریس کی جگہ ہے۔

[3] اور اگر کچھ نہیں تو مسجد میں بیٹھنے والا رحمت الٰہی سے محروم نہیں رہے گا کیونکہ جو شخص با وضو ہو کر مسجد کے لئے اپنے گھر سے نکلتا ہے تو اس کے ہر قدم پر ایک نیکی ملتی ہے اور ایک گناہ معاف ہوتا ہے ، اور جب تک مسجد میں اپنی جگہ با وضو بیٹھا رہتا ہے فرشتے اس کے لئے دعا کرتے ہیں کہ اے اللہ اس پر رحمت نازل فرما اے اللہ اس پر مہربان ہو جا  (متفق علیہ)

خلاصہ یہ کہ مسجد میں بیٹھنے والا فائدے سے خالی نہیں رہتا ہے ،  خوش نصیب ہیں وہ لوگ مسجد جن کا گھر ہے اور بد نصیب ہیں وہ لوگ جنہیں مسجد میں بیٹھنا گراں گزرتا ہے۔

               فوائد

(۱)  مسجد میں بیٹھنے والے کی فضیلت۔

(۲) فرشتوں کی اہل خیر سے محبت اور ان کے لئے دعا

(۳)  دینی بھائی چارگی کی اہمیت۔

(۴)  مسجد میں درس وتدریس کی اجازت۔

٭٭٭

 

الٰہی آفر

حدیث نمبر :26

عن عُبَادَۃُ بْنُ الصَّامِتِ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّہِ صلى اللہ علیہ وسلم : مَنْ تَعَارَّ مِنَ اللَّیْلِ، فَقَالَ : لاَ إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ وَحْدَہُ لاَ شَرِیکَ لَہُ، لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ وَہُوَ عَلَى کُلِّ شَیْءٍ قَدِیرٌ، سُبْحَانَ اللَّہِ وَالْحَمْدُ لِلَّہِ وَلا إِلَہَ إِلاَّ اللہُ وَاللَّہُ أَکْبَرُ وَلا حَوْلَ وَلا قُوَّۃَ إِلاَّ بِاللَّہِ، ثُمَّ قَالَ : رَبِّ اغْفِرْ لِی غُفِرَ لَہُ أَوْ قَالَ : فَدَعَا اسْتُجِیبَ لَہُ، فَإِنْ ہُوَ عَزَمَ فَقَامَ فَتَوَضَّأَ وَصَلَّى قُبِلَتْ صَلاتُہُ

( صحیح البخاری : ۱۱۵۴، التہجد،  السنن الأربعہ، جامع الأصول  :  ۲۲۶٠)

ترجمہ : عبادہ بن الصامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جو شخص رات میں بیدار ہو اور کروٹ بدلے ، پھر(درج ذیل)الفاظ پڑھ کر مغفرت کی دعا کرے تواس کی دعاء قبول ہو گی پھر نماز پڑھے تو اس کی نماز بھی مقبول ہو گی : : لاَ إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ وَحْدَہُ لاَ شَرِیکَ لَہُ، لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ وَہُوَ عَلَى کُلِّ شَیْءٍ قَدِیرٌ، سُبْحَانَ اللَّہِ وَالْحَمْدُ لِلَّہِ وَلا إِلَہَ إِلاَّ اللہُ وَاللَّہُ أَکْبَرُ وَلا حَوْلَ وَلا قُوَّۃَ إِلاَّ بِاللَّہِ  : رَبِّ اغْفِرْ لِی.

 تشریح : اسلام یہ چاہتا ہے کہ مسلمان کا کوئی وقت اور اس کی کوئی بھی حرکت ذکر الٰہی سے خالی نہ رہے ، وہ جہاں کہیں بھی ہو، جس حالت میں ہو ہر حال میں ذکر الٰہی میں رطب اللسان رہے ، چنانچہ  اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے عقل مند بندوں کی صفات بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے : الَّذِینَ یَذْکُرُونَ اللَّہَ قِیَامًا وَقُعُودًا وَعَلَى جُنُوبِہِمْ ۔جو اللہ کو کھڑے اور بیٹھے اور کروٹ پر لیٹے [ ہر حالت میں ]یاد کرتے ہیں   (آل عمران : ۱۹۱)  چنانچہ جو شخص اللہ کے ذکر میں جس قدر زیادہ مشغول ہو گا اللہ تعالیٰ اس سے اتنا ہی زیادہ قریب ہو گا، اسی امر پر تنبیہ کے لئے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے مختلف اوقات میں اذکار کی طرف رہنمائی کی ہے نیز اس ذکر کے صیغے اس کے وقت اور اہتمام کے پیش نظر اس پر  اجر کا بھی وعدہ کیا ہے ، چنانچہ جو ذکر جس قدر عمدہ کلمات پر مشتمل ہو گا جس قدر اخلاص سے ادا کیا جائے گا اور وہ جس قدر مشکل و غفلت کے وقت میں ادا کیا جائے گا اس کا اجر اسی قدر زیادہ ہو گا۔

    زیر بحث حدیث میں بھی ایسے ہی ایک ذکر کا بیان ہے جو اگر چہ دیکھنے میں چند مختصر کلمات پر مشتمل ہے لیکن اس کے اہتمام کرنے والے کو دو بڑے اہم انعام کا وعدہ دیا گیا ہے :

 (۱)  اگر وہ شخص اپنے گناہوں کی معافی چاہے ، یا کسی اور قسم کی دعا کرے تواس کی دعا قبول ہو گی۔

(۲)  اگر وہ بندہ اٹھ کر نماز پڑھ لیتا ہے تو اس کی اس نماز کو بارگاہ الٰہی میں شرف قبولیت حاصل ہو گا اور وہ شخص رحمان کے ان مبارک بندوں میں شمار ہو گا جن سے متعلق اس کا فرمان ہے کہ

 “ا نما یتقبل اللہ من المتقین ”  (اللہ تعالیٰ تو صرف پرہیز گاروں ہی کے عمل کو قبول کرتا ہے) اور یہ قوی امید ہے کہ اللہ تعالیٰ جس کی ایک نیکی بھی قبول کر لے گا اسے ضرور معاف کر دے گا۔ اسی لئے حضرت حسن بصری رحمہ اللہ کہا کرتے تھے کہ میری تمنا ہے کہ اللہ تعالیٰ میرا ایک سجدہ ہی قبول کر لے

(الفتح، ج : ۲، ص: ۴۱)

کیونکہ أولاً : جس وقت میں ان کلمات کے ورد کا ذکر ہے وہ غفلت اور لاپرواہی کا وقت ہے ، اس وقت انسان پر نیند کا خمار سوار رہتا ہے ، ایسے وقت میں انگڑائیاں لینے کے علاوہ اسے کچھ اور یاد نہیں آتا، بلکہ اکثر لوگ ایسے وقت میں نفسیاتی طور پر نہ تو کسی ذکر کے لئے مستعد رہتے ہیں اور نہ ہی کوئی ذکر پڑھنا انہیں یاد رہتا ہے ، اب اگر ایسے وقت میں کسی کو یہ توفیق حاصل ہو جائے تو اس کا مطلب ہے کہ وہ شخص ہر حال میں اپنے منعم حقیقی کو یاد رکھتا ہے ، اسی لئے اسے ایسے غفلت کے وقت میں بھی ذکر الٰہی کی توفیق مل رہی ہے ، امام بخاری کے شاگر د علامہ ابو عبد اللہ فربری رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ:  ایک رات میں سونے سے بیدار ہوا میری زبان پر فورا یہ کلمات جاری ہو گئے اور پھر میں سوگیا اس درمیان خواب دیکھتا ہوں کہ ایک شخص میرے پاس آتا ہے اور کہتا ہے کہ ”  وَہُدُوا إِلَى الطَّیِّبِ مِنَ الْقَوْلِ وَہُدُوا إِلَى صِرَاطِ الْحَمِیدِ (24) ”  یہ وہ لوگ ہیں جنہیں پاکیزہ بات کی رہنمائی کر دی گئی اور قابل صد تعریف راہ کی ہدایت کر دی گئی

(فتح الباری، ج : ۳، ص: ۴۱)

 گویا اس شخص کو جنت کی بشارت دی گئی۔

ثانیاً :  یہ ذکر جن کلمات پر مشتمل ہے وہ معنی و مفہوم کے لحاظ سے پاکیزہ ترین کلمات ہیں، ان کلمات میں اللہ تعالیٰ کی توحید بھی ہے ، توصیف بھی، اس کی تنزیہ بھی ہے اور تمجید بھی، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے متعدد حدیثوں میں “لا الہ الا اللہ” کو سب سے افضل ذکر قرار دیا ہے اور  ” سبحان اللہ والحمد للہ ولا لہ لا اللہ اور اللہ اکبر” کوسب سے افضل کلمات قرار دیا ہے ، اسی طرح ” لا حول ولا قوۃ لا باللہ “کو جنت کا خزانہ بتلایا ہے۔

 اس لئے جو انسان اس غفلت کے وقت میں جب ساری دنیا بے خبر سورہی ہے اور ہر طرف ہو کا عالم ہے ، اگر اپنے رب کو یاد کرنا ہے اور ایسے کلمات سے یاد کرتا ہے جو اس کے نزدیک سب سے زیادہ محبوب وپسندیدہ ہیں تو وہ رحم و کرم کرنے والا رب اسے اپنی قربت سے کیوں نہ نوازے گا؟ یقیناً نوازے گا اور اسے اپنا مقبول ترین بندہ قرار دے گا۔

خوش قسمت ہیں وہ لوگ جن کی زبان پر یہ کلمات جاری ہوں، اے اللہ ہمیں ایسے ہی لوگوں میں شامل فرما (آمین)

٭٭٭

 

جمعہ کا قدم

حدیث نمبر :27

عن أَوْسُ بْنُ أَوْسٍ الثَّقَفِىُّ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ -صلى اللہ علیہ وسلم- یَقُولُ « مَنْ غَسَّلَ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ وَاغْتَسَلَ ثُمَّ بَکَّرَ وَابْتَکَرَ وَمَشَى وَلَمْ یَرْکَبْ وَدَنَا مِنَ الإِمَامِ فَاسْتَمَعَ وَلَمْ یَلْغُ کَانَ لَہُ بِکُلِّ خُطْوَۃٍ عَمَلُ سَنَۃٍ أَجْرُ صِیَامِہَا وَقِیَامِہَا ».

(أحمد، ج : ۴، ص: ۱٠، السن الأربعۃ / صحیح الترغیب، ج : ۱، ص: ۴۳۳)

ترجمہ : حضرت أوس بن أبی أوس ثقفی رضی اللہ سے روایت ہے کہ میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ فرما رہے تھے : جو شخص جمعہ کے دن غسل کرے اور سروغیرہ دھوکر اچھی طرح غسل کرے ، مسجد کی طرف جانے میں جلدی کرے اور خوب جلدی کرے (صبح سویرے جائے) پید ل چل کر جائے اور سوار نہ ہو، امام کے قریب ہو کر بیٹھے ، اور امام کے خطبہ کو غور سے سنے اور دوران خطبہ کوئی لغو کام نہ کرے تو ہر ہر قدم پر اسے سال بھر روزہ رکھنے اور قیام اللیل کرنے کا ثواب ملتا ہے۔

 (مسند أحمد اور سنن أربعہ)

تشریح :   جمعہ کے دن کو اللہ تعالیٰ نے بڑے فضائل سے نوازا ہے ، اسے تمام دنوں کا سردار قراردیا ہے ، حضرت آدم علیہ السلام کی پیدائش جمعہ کے دن ہے ، اسی دن انہیں جنت میں داخل کیا گیا اور اسی دن زمین پر بحیثیت خلیفہ بھیجا گیا، قیامت جمعہ کے دن قائم ہو گی اور میدان حشر اور جنت میں جمعہ کے دن کی نرالی شان ہو گی، نیز دنیا میں بھی اللہ تعالیٰ نے اس دن کو بعض ایسی خصوصیات سے نوازا ہے جو کسی اور دن کو حاصل نہیں ہے ، اسے تمام دنوں سے افضل قرار دیا ہے ، اس دن کو مسلمانوں کے لئے عید کا دن بنایا ہے ،  اس دن مسلمانوں پر جمعہ کی نماز کو فرض قرار دیا ہے ، جمعہ کی نماز کی ادائیگی پر بہت بڑے اجر کا وعدہ اور جمعہ کی نماز چھوڑنے پر سخت عذاب کی دھمکی دی ہے ، زیر بحث حدیث میں جمعہ اور یوم جمعہ کی ایک بڑی فضیلت یہ بیان ہوئی ہے کہ جمعہ کے لئے جانے والوں کو ہر ہر قدم پرسال بھر روزہ رکھنے اور قیام کرنے کا ثواب ملتا ہے ، لیکن اس اجر عظیم کے حصول کو زیر بحث حدیث میں کچھ شرطوں کے ساتھ مشروط کیا گیا ہے :

(۱) غسل کرنا : جمعہ کے دن غسل کو خاص اہمیت حاصل ہے حتی کہ بعض حدیثوں میں صراحت کے ساتھ غسل جمعہ کو  واجب قرار دیا گیا ہے ، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جمعہ کا غسل ہر بالغ پر واجب ہے

(بخاری ومسلم)

اس لئے چاہئے کہ جمعہ کے دن غسل کا خصوصی اہتمام کیا جائے ، عام دن کے غسل سے ہٹ کر اس دن صابون، شیمپو اور سرمہ وغیرہ کا خصوصی لحاظ رکھا جائے اور حتی الامکان صاف ستھرے کپڑے پہنے جائیں اور جو خوشبو میسر آئے استعمال کی جائے

 (صحیح البخاری)

(۲) مسجد کی طرف جلدی سے جانا : ایک مؤمن بندہ کو چاہئیے کہ جمعہ کے لئے جمعہ کا وقت ہونے کا انتظار نہ کرے بلکہ جس قدر ممکن ہو جلدی جانے کی کوشش کرے حتی کہ بعض سلف کے بارے میں آتا ہے کہ وہ  فجر سے پہلے ہی جامع مسجد کے لئے روانہ ہو جاتے تھے ، لیکن افسوس کہ آج یہ سنت مردہ ہوتی جا رہی ہے۔

(۳) جمعہ کے لئے پیدل جانا : اس حدیث میں مذکورہ  فضیلت کے حصول کے لئے تیسری شرط یہ لگائی گئی ہے کہ جمعہ کے لئے جانے والا شخص جامع مسجد پیدل چل کر جائے سواری پر نہ سوار ہو، ا لا یہ کہ جامع مسجد اس قدر دور ہو کہ وہاں پیدل پہنچنا مشکل ترین کام ہو یا جانے والا چلنے سے معذور ہو توایسا شخص اللہ تعالیٰ کے نزدیک معذور سمجھا جائے گا اور اس حدیث میں مذکور اجر کا مستحق ہو گا۔

(۴) امام کے قریب ہو کر بیٹھنا :  یعنی مسجد میں پہنچ جائے تو کوشش رہے کہ امام کے قریب ترین جو جگہ بھی خالی ہے سنتوں سے فارغ ہو کر وہاں بیٹھ جائے ، لیکن اس کے لئے لوگوں کی گردنیں نہ پھلانگے ، کیونکہ جمعہ کے دن تاخیر سے آنا اور پھر لوگوں کی گردنیں پھلانگتے ہوئے آگے بیٹھنے کی کوشش کرنا ناجائز ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے ایک شخص کو دیکھا توفرمایا : جہاں ہو وہیں بیٹھ جاؤ،  ایک تو تم دیر سے آئے اور اب اس گردنیں پھلانگ کر طرح لوگوں کو تکلیف دے رہے ہو۔

(سنن ابوداؤد، سنن النسائی، بروایت عبد اللہ بن بسر)

(۵) خطبہ کو غور سے سنے :  خطبہ کا معنی حاضرین کو مخاطب کرنا ہے ، اس لئے جمعہ کے لئے حاضر شخص کا ایک ادب یہ بھی ہے کہ وہ خطبہ کو کان لگا کر سنے ، دوران خطبہ ادھر ادھر دیکھنا یا کسی اور چیز میں مشغول رہنا خطبہ کے آداب کے خلاف ہے ،  اس لئے اب اگر کوئی شخص جمعہ کے لئے تو آتا ہے لیکن کان لگا کر خطبہ نہیں سنتا بلکہ ادھر ادھر کے خیالات میں مگن رہتا ہے توایسا شخص اس اجر عظیم کا مستحق نہ ہو گا۔

(۶) خطبہ کے دوران لغو کام نہ کرے :  لغو کام سے مراد ہر وہ کام ہے جس سے معلوم ہو کہ یہ شخص خطیب کی طرف متوجہ نہیں ہے ، جیسے اپنے کپڑے ، بال اور مسجد کے فرش وغیرہ سے کھیلنا، اپنے پڑوس میں بیٹھے شخص سے بات کرنا یا کوئی چیز پوچھنا، حتی کہ کسی سے یہ کہنا بھی جائز نہیں ہے کہ “تم خاموش رہو”، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : دوران خطبہ جس نے اپنے بھائی سے کہا : خاموش رہو تو اس نے لغو کیا اور جس نے لغو کام کیا اس کا جمعہ نہیں ہوا۔

(مسند احمد، أبوداؤد، بروایت علی )

اب ہر شخص یہ فیصلہ کر سکتا ہے کہ وہ اتنے عظیم اجر کا مستحق کب اور کس وقت ہوسکتا ہے ؟

٭٭٭

 

احترام کعبۃ اللہ

               حدیث نمبر :28

عن عبداللہ بن عمرقال : قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم : استممتعوا من ھذا البیت فنہ قد ھدم مرتین ویرفع فی الثالث۔

(صحیح ابن خزیمہ : ۲۵٠۶، صحیح ابن حبان : ۹۶۶، الموارد)

 ترجمہ :   حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اس گھر سے فائدہ اٹھا لو، کیونکہ دو بار ڈھایا گیا تیسری بار میں اٹھا لیا جائے گا۔

تشریح : اللہ تبارک و تعالیٰ نے خانہ کعبہ کو بڑی اہمیت دی ہے ، اسے بہت سے فضائل سے نوازا ہے ، جس شہر میں وہ واقع ہے اسے بلد حرام اور اس کے ارد گرد کے علاقے کو لائق حرمت قرار دیا ہے ، اس گھر کی زیارت کے لئے آنے والے کو اپنا مہمان اور اپنی زیارت کرنے والا ٹھہرایا ہے ، صاحب استطاعت پر اس گھر کی زیارت حج و عمرہ کی شکل میں واجب کیا ہے ، صرف یہی ایک گھر ہے جس کے گرد طواف کو مشروع قرار دیا ہے ، اور صرف یہی ایک گھر ہے جس کے ایک کونے پر نصب حجر اسود کو بوسہ دینے کو عبادت قرار دیا ہے اس گھر کے بقا کو دنیا کے بقا کی ضمانت بتلایا ہے ، جعل اللہ الکعبۃ البیت الحرام قیاما للناس (المائدہ : ۹۷)  اللہ تعالیٰ نے کعبہ کو جو ادب کا مکان ہے لوگوں کے قائم رہنے کا سبب قرار دیا ہے ، ایک حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ جب تک امت اس گھر کی حقیقی تعظیم کرتی رہے گی بخیر و عافیت رہے گی لیکن جب اس کی حرمت پامال کر دیں گے تو ہلاک و برباد ہو جائیں گے

(سنن ابن ماجہ : ۳۱۱٠، مسند أحمد، ج: ۴، ص: ۳۴۷، بروایت عیاش بن ابی ربیعہ)

اللہ تعالیٰ نے اس گھر پر یا اس کے اردگرد کسی برائی وفساد کا ارادہ کرنے والے کو دردناک عذاب کی دھمکی دی ہے  ومن یرد فیہ بالحاد بظلم نذقہ من عذاب ألیم  (الحج : ۲۵)  جو بھی ظلم کے ساتھ وہاں الحاد (فساد، کفر، شرک، اور گناہ) کا ارادہ کرے ہے اسے دردناک عذاب چکھائیں گے۔

اس مبارک گھر کو اللہ تعالیٰ نے اس قسم کے گوناگوں فوائد سے نوازا ہے لیکن چونکہ یہ دنیا فانی ہے ، اس پرکی ہر چیز فنا ہونے والی ہے ، لہذا یہ گھر بھی ایک دن اس دنیا میں نہ رہا جائے ، اس لئے اس گھر کے وجود کو غنیمت سمجھتے ہوئے زیر بحث حدیث میں اس کی خیرات و برکات سے مستفید ہونے کی دعوت ہے کہ وہ وقت آنے سے پہلے کہ جب یہ گھر اس زمین پر نہ رہ جائے اس سے جس قدر فائدہ اٹھانا چاہتے ہوں اٹھا لو، اس حدیث سے متعلق یہاں دو باتیں قابل ذکر ہیں :

٭٭(۱) اس گھر سے فائدہ اٹھانے میں کیا کیا اہم چیزیں داخل ہیں ؟

(أ) اس گھر کا طواف :  اس گھر کا طواف بڑی اہم نیکی اور قربت الٰہی کا ذریعہ ہے ،  اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے : جو شخص شمار کر کے اس گھر کا سات چکر لگائے اور اس کے بعد دو رکعت نماز پڑھ لے تو اسے ایک غلام آزاد کرنے کا ثواب ملے گا اور اس کا گھر کا طواف کرنے والا جب ایک قدم اٹھا کر اسے رکھتا ہے تواس پر اسے دس نیکیاں ملتی ہیں، دس گناہ مٹا دئے جاتے ہیں اور دس درجات بلند کئے جاتے ہیں

(أحمد، الترمذی، بروایت ابن عمر)

(ب) حج و عمرہ کرنا :  اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرما یا :  ایک عمرہ دوسرے عمرہ کے درمیان کے گناہوں کا کفارہ ہے اور حج مبرور کا بدلہ جنت کے علاوہ اور کچھ بھی نہیں ہے ،

(متفق علیہ بروایت أبو ہریرہ )

(ج) وہاں نماز پڑھنا :  اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :  میری اس مسجد میں نماز پڑھنا دوسری مسجد کے مقابلہ میں ہزار گناہ زیادہ ہے سوائے مسجد حرام کے کیونکہ مسجد حرام میں نماز پڑھنا دوسری مسجدوں کے مقابلہ میں ایک لاکھ گناہ زیادہ ہے۔

(مسند أحمد، سنن ابن ماجہ بروایت جابر بن عبداللہ)

(د)  اس گھر اور اس کے ارد گرد کی چیزوں کی تعظیم :   اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : ومن یعظم شعائر اللہ فنھا من تقوی القلوب  (الحج : ۳۲)

اور جو شخص اللہ کی نشانیوں کی عزت و حرمت کرے تو یہ اس کے دل کی پرہیز گاری کی وجہ سے ہے۔

اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے دن فرمایا : یہ وہ شہر ہے جس کی حرمت اللہ تعالیٰ نے اس دن متعین کر دی تھی جس دن آسمان و زمین کو پیدا فرمایا، اس لئے اب یہ اللہ تعالیٰ کے حرام قرار دینے کی وجہ سے قیامت تک کے لئے حرام ہے ، اور اس شہر میں مجھ سے پہلے کسی کے لئے قتال کو حلال نہیں کیا گیا اور میرے لئے بھی دن کے ایک حصے میں قتال کو جائز کیا گیا اس لئے وہ اللہ تعالیٰ کے حرام قرار دینے کی وجہ سے قیامت تک کے لئے حرام ہے ، اس شہر کا کانٹا نہ کاٹا جائے ، نہ اس میں موجود شکار کو بھگایا جائے گا، نہ اس میں پڑی ہوئی چیز کو اٹھایا جائے لا یہ کہ مقصد اس کا اعلان کرنا اور مالک تک پہنچانا ہو، اور نہ ہی وہاں کی گھاس کاٹی جائے گی۔

(متفق علیہ، بروایت : عبداللہ بن عباس)

٭٭(۲)  اس گھر کو اللہ تبارک و تعالیٰ کے حکم سے حضرت آدم علیہ السلام یافرشتوں نے تعمیر کیا تھا جو طوفان نوح میں منہدم ہو گیا تھا، جس کی تعمیر نو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کی پھر جب یہ گھر بہت بوسیدہ ہو گیا اور سیلاب سے منہدم ہو گیا تو قریش مکہ نے اس کی تعمیر کی جس میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پھر شریک تھے اس طرح بار بار اس کی تعمیر نو ہوتی رہی اور اس کی برکت سے لوگ مستفید ہوتے رہے پھر جب قیامت قریب ہو گی تو حبشہ سے ایک ٹیڑھی پنڈلیوں والا حبشی اپنی فوج لیکر آئے گا اور اس گھر کو اس قدر بری طرح ڈھا دے گا کہ اس کی بنیاد کی اینٹوں تک کو اکھاڑ دے گا، پھر اس کے بعد اس گھر کی تعمیر نہ کی جائے گی، ۔…………   زیر بحث حدیث میں اسی طرف اشارہ ہے۔

               فوائد

 ۱)  خانۂ کعبہ کی اہمیت کہ اس کا وجوداس امت کے لئے امان کی حیثیت رکھتا ہے۔

۲) اس گھر کی زیارت وہاں نماز اور اس کے طواف کی اہمیت۔

۳) حج و عمرہ اور طواف وغیرہ ایسی عبادتیں ہیں جو صرف اسی گھر کے ساتھ خاص ہیں۔

٭٭٭

 

دو سائل دربار نبوت میں

حدیث نمبر :29

حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک انصاری صحابی خدمت نبوی میں حاضر ہوئے (بعض روایات میں کہ ہم لوگ مسجد منی یعنی خیف میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے ، طبرانی الکبیر صحیح الترغیب ص: ۹ ج: ۴ ) انہوں نے سلام کیا اور کہنے لگے کہ اے اللہ کے رسول میں آپ سے کچھ باتیں پوچھنا چاہتا ہوں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : بیٹھ جاؤ۔

         اس درمیان ایک ثقفی صحابی آئے اور عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں آپ سے کچھ پوچھنا چاہتا ہوں کیا پوچھ سکتا ہوں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : انصاری کا حق تم سے پہلے ہے ، لیکن انصاری نے کہا کہ یہ ایک اجنبی شخص ہیں ایک اجنبی کا کچھ حق ہوتا ہے اس لئے آپ اس کے سوالوں کا جواب پہلے دیجئے۔

        چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ثقفی کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا : اگر چاہو تو جن چیزوں سے متعلق سوال کرنا چاہتے ہو انہیں بتلا دوں چاہو تو تم خود ہی سوال کرو اور اس کا جواب دوں ؟ ثقفی صحابی نے جواب دیا کہ اے اللہ کے رسول بلکہ آپ ہی ہمارے سوالوں کا جواب دیجئے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم ہم سے رکوع ، سجدہ ، نماز (نفل) اور (نفلی) روزہ سے متعلق سوال کرنے آئے ہو !   ثقفی نے جواب دیا کہ اس ذات قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے جو کچھ میرے دل میں تھا اس میں سے آپ نے کچھ بھی نہیں چھوڑا۔

          آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جب رکوع کرو تو اپنی ہتھیلیوں کو اپنے گھٹنوں پر رکھو پھر انگلیوں کو پھیلاؤ اور رکوع میں اتنی دیر تک ٹھہرے رہو کہ جسم کا ہر حصہ اپنی جگہ لے لے اور جب سجدہ کرو تو اپنی پیشانی کو زمین پر جما دو اور (کوے کی) چونچ مارنے کی طرح چونچ نہ مارو ، اور دن کے اول حصہ اور آخر حصہ میں جب بھی چاہو نماز پڑھو۔

         ثقفی صحابی نے سوال کیا کہ اے اللہ کے رسول اگر ان دونوں یعنی صبح و شام کے درمیان نماز پڑھوں تو ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا کہ اس وقت بھی تم نماز پڑھو ،  اور ہر ماہ کی تیرہ، چودہ اور پندرہ تاریخ کو روزہ رکھو۔

       اس کے بعد ثقفی صحابی اٹھ کر چلے گئے۔

  پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم انصاری صحابی کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا : اگر تم چاہو تو میں ہی بتلا دوں کہ تم کیا پوچھنے آئے ہو اور اگر چاہو تو تم خود ہی سوال کرو اور تمہاری باتوں کا جواب دوں ؟

          انصاری صحابی نے کہا کہ نہیں، اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم آپ خود ہی بتلا دیں کہ میں کیا پوچھنے آیا ہوں۔

        آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تو حج سے متعلق سوال کرنے آیا ہے کہ حاجی جب اپنے گھر سے نکلے تو اس کا کیا اجر ہے ؟ طواف اور اس کے بعد دو رکعت نماز پڑھنے کا کیا اجر ہے ؟ صفا اور مروہ کے درمیان سعی کا کیا اجر ہے، میدان عرفات میں ٹھہرنے پر کیا اجر ہے ؟ کنکری مارنے کا اجر کیا ہے ؟ حلق کرانے کا کیا اجر ہے ؟  اور  طواف افاضہ کا کیا اجر ہے ؟۔

        انصاری صحابی نے کہا : اے اللہ کے نبی !  اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے جو کچھ میرے دل میں تھا اس میں سے آپ نے کچھ بھی نہیں چھوڑا،  آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا:

                 حاجی جب اپنے گھر سے نکلتا ہے تو اس کی سواری جب پیر اُٹھاتی ہے تو اس پر ایک نیکی لکھی جاتی ہے اور جب اپنا پیر زمین پر کھتی ہے تو اس کے عوض ایک گناہ مٹا دیا جاتا ہے ، اور طواف کے بعد دو رکعت پڑھنے پر بنو اسماعیل کے ایک غلام آزاد کرنے کا اجر ملتا ہے اور صفا و مروہ کے درمیان سعی ستر گردن آزاد کرنے کے برابر ہے، پھر جب حاجی عرفات کے میدان میں ٹھہرتا ہے تو اللہ تبارک و تعالیٰ سمائے دنیا پر نازل ہوتا ہے اور فرماتا ہے (فرشتوں سے) میرے بندوں کو دیکھو کس طرح پراگندہ بال اور گرد آلود چہرے والے ہیں ( ایک اور روایت ہے کہ عرفہ کی شام اللہ تعالیٰ فرشتوں سے بطور فخر بیان کرتا ہے کہ میرے بندوں کو دیکھو وہ ہر جانب سے پراگندہ حالت میں آئے ہیں ، میری رحمت کے امیدوار ہیں) تم گواہ رہو کہ اگر ان کے گناہ پانی کے قطروں ، ریت کے ذرات اور سمندر کے جھاگ کے برابر بھی ہوں تو اسے بھی معاف کر دوں گا ( میرے بندو! یہاں سے اس حال میں رخصت ہو کہ تمہیں بخش دیا گیا اور انہیں بھی بخش دیا گیا جن کی تم سفارش کر رہے ہو ، اور جب حاجی کنکری مارتا ہے تو ہر کنکری کے بدلے جو وہ پھینکتا ہے ایک کبیرہ گناہ معاف کیا جاتا ہے (اور اس کے علاوہ بھی اس کا اتنا بڑا اجر ہے کہ اس کا بدلہ قیامت کے دن ہی دیا جائے گا) اور قربانی کا اجر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے پاس جمع کر رکھا ہے۔. فلا تعلم نفس مااخفی لھم من قرۃ أعین  ،  اور جب سر چھلاتا ہے تو ہر بال جو گرتا ہے (اس کے بدلے ایک نیکی ملتی ہے، ایک گناہ مٹایا جاتا ہے اور) وہ بال روز قیامت حاجی کے لئے نور کا سبب ہو گا۔

        اور اس کے بعد جب حاجی بیت اللہ شریف کا طواف کرتا ہے تو اس حال میں کرتا ہے کہ وہ اپنے گناہ سے ایسا پاک صاف رہتا ہے کہ گویااس کی ماں نے اسے ابھی جنا ہے  (ایک روایت میں ہے کہ ایک فرشتہ آ کر اس کے کندھے پر اپنا ہاتھ رکھ کر کہتا ہے کہ اب نئے سر ے سے عمل شروع کرو تمہارے پچھلے سارے گناہ معاف کر دئیے گئے۔

(صحیح ابن حبان ، الطبرانی الکبیر عن ابن عمرو)  (والطبرانی الأوسط عن عبادۃ بن الصامت ۔…   دیکھئے  !  صحیح الموارد ،  وصحیح الترغیب ص:  ۹ـ۱۲  ج:  ۲)

 

حدیث نمبر :30

خلاصہء درس : شیخ ابوکلیم فیضی  حفظہ اللہ

بتاریخ :30/01/ذو القعدہ، ذوالحجہ 1428 ھ، م  11/10، ڈسمبر 2007م

ذو الحجہ کے دس دن

عن ابن عباس رضی اللہ عنھما عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم أنہ قال : ما العمل فی أیام أفضل منھا فی ھذا العشر قالوا ولا الجھاد ؟ قال : ولا الجھاد لا رجل خرج یخاطر بنفسہ ومالہ فلم یرجع بشیء۔

(صحیح البخاری : ۹۶۹، العیدین،  سنن ابوداؤد)

حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ان دس دنوں میں (یعنی عشر ذی الحجہ میں) نیک عمل جتنا افضل ہے کسی دوسرے دن میں اتنا افضل نہیں ہے ، صحابہ نے عرض کیا : جہاد بھی اتنا افضل نہیں ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جہاد بھی نہیں، سوائے اس مجاہد کے جس نے اپنے جان ومال کو خطرے میں ڈال کر جہاد کے لئے نکلا اور کسی چیز کو لیکر واپس نہیں آیا۔

(صحیح البخاری، سنن ابوداؤد)

دینی بھائیو! اللہ تبارک و تعالیٰ کا یہ بہت بڑا فضل وکرم ہے کہ اس نے اپنے مومن بندوں کے لئے ایسے خیروبھلائی کے موسم متعین فرماتے ہیں جن میں وہ نیک عمل کا کثر ت سے اہتمام کریں، متعدد قسم کی عبادتوں کو بجا لائیں، عام دنوں میں حاصل شدہ کمی کو پورا کریں اور اپنے رب کریم کا تقرب حاصل کرنے میں ایک دوسرے پر سبقت پہنچانے کی کوشش کریں، انہیں مبارک دنوں میں ذی الحجہ کا مہینہ اور خصوصی طور پر اس کے ابتدائی دس دن ہیں، جنہیں اللہ تبارک و تعالیٰ نے بڑی برکتوں اور فضیلتوں سے نوازا ہے ، ان کی اہمیت کے پیش نظر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کی قسم کھائی ہے والفجر ولیال عشر، قسم ہے فجر کی اورقسم ہے دس راتوں کی، عمومی طور پر مفسرین کا خیال ہے کہ اس آیت میں دس راتوں سے مراد ذی الحجہ کا پہلا عشرہ ہے ، انہیں دنوں میں حاجیوں سے خصوصا اور عام مسلمانوں سے عموما کثرت ذکر کا مطالبہ ہے ، ویذکر اللہ فی أیام معلومات، اور معلوم دنوں میں اللہ تعالیٰ کا ذکر کریں، معلوم دنوں سے مراد حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے بیان کے مطابق ذی الحجہ کے ابتدائی دس دن ہیں (صحیح بخاری) یہ عشرہ سال کا سب سے افضل عشرہ ہے حتی کہ دن کے لحاظ سے رمضان المبارک کے آخری عشرے سے بھی افضل ہے جیسا کہ زیر بحث حدیث سے واضح ہے ، جس کی مزید وضاحت اس حدیث میں وارد ہے جسے امام بیھقی اور امام دارمی رحمہما اللہ نے حضرت سعید بن جبیر سے نقل کی ہے کہ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے روایت کیا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ : ذی الحجہ کے دس دنوں میں کوئی نیک عمل کرنا اللہ تبارک و تعالیٰ کے نزدیک جتنا عمدہ اور افضل ہے اتنا کسی اور دن میں نہیں ہے ، آپصلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ کیا اللہ کی راہ میں جہاد بھی اتنا پسندیدہ نہیں ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اللہ کی راہ میں جہاد بھی اس قدر پسندیدہ نہیں ہے سوائے اس شخص کے جو اپنی جان ومال لیکر جہاد کے لئے نکلا اور کچھ بھی لیکر واپس نہ آیا۔

راوی کہتے ہیں کہ حضرت سعید بن جبیر کا معمول تھا کہ جب ذی الحجہ کا پہلا عشرہ داخل ہوتا تو عبادت میں اس قدر کوشش کرتے کہ عام لوگوں کے لئے اس پر قدرت پا نا مشکل ہوتا

(سنن الدارمی، ج: ۲، ص: ۲۵، ۲۶، شعب الیمان، ج: ۵، ص: ۳٠۹)

اہل علم کہتے ہیں کہ عشرہ ذی الحجہ کی یہ فضیلت اس وجہ سے ہے کہ اس عشرے میں جس قدر عبادتیں اور تقرب اللہ کے عمل جمع ہوتے ہیں کسی اور دنوں میں اکٹھا نہیں ہوسکتے جیسے حج کی ادائیگی جو اسلام کا ایک رکن ہے ، قربانی کرنا جو اللہ تعالیٰ کے نزدیک بڑا ہی پسندیدہ ہے ، یوم عرفہ کا روزہ جو دو سال کے گناہوں کا کفارہ ہے ، دیگر اور عبادتوں کا یکجا ہونا جیسا نفلی روزے صدقات وخیرات اور ذکر واذکار وغیرہ جو عام دنوں میں بھی ہوسکتے ہیں۔

اس لئے خیرو بھلائی کے طالب اور رضائے الٰہی کے راغب مسلمانوں کو چاہئے کہ اس مبارک مہینہ اور خصوصا پہلے عشرے کو غنیمت سمجھیں اور نیک عمل کی ایک معتمد بہ بجٹ جمع کر لیں، اس عشرے کے مستحب اعما ل :

۱) تو بہ واستغفار : تو بہ واستغفار ایک سچے مومن کی زندگی بھر کا وظیفہ ہے ، اس کا کوئی دن کا کوئی گھنٹہ توبہ واستغفار سے خالی نہیں رہنا چاہئے ، ایک مومن کے سامنے سید المتقین و امام الصالحین حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حدیث ہمیشہ سامنے رہنی چاہئے کہ : ائے لوگو ! اللہ تعالیٰ کی جناب میں توبہ واستغفار کرو میں خود دن میں سو100بار اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کرتا ہوں

(صحیح مسلم)

۲) گناہوں سے دوری : گناہ خواہ کبیرہ ہوں یا صغیرہ رب کی ناراضگی حقیقی مالک سے دوری اور نعمت الٰہی کے رک جانے کا سبب بنتے ہیں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے : یاک والمعصیۃ فن بالمعصیۃ مل سخط اللہ ”  رب کی نافرمانی سے پرہیز کرو کیونکہ رب کی نافرمانی کی وجہ اللہ کا غضب نازل ہوتا ہے۔

۳) ذکر و اذکار :  حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ذو الحجہ کے ابتدائی دس دنوں کے مقابلہ میں کوئی اور ایام ایسے نہیں ہیں جن میں اللہ تبارک و تعالیٰ کو نیک عمل ان دنوں سے زیادہ محبوب ہوں اس لئے تم لوگ ان دنوں میں کثرت سے تہلیل (لا الہ لا اللہ)      تکبیر (اللہ اکبر) اور تحمید (الحمد للہ) کا ورد کیا کرو

(مسند أحمد، ج: ۲، ص: ۷۵، شعب الیمان، ج: ۵، ص: ۳٠۸)

۴) روزہ رکھنا :  اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول تھا کہ آپ ذی الحجہ کے ابتدائی عشرے میں نو دن کا روزہ رکھتے تھے (سنن ابوداؤد، مسند أحمد) خصوصاً عرفہ کے دن یعنی نویں ذی الحجہ کا روزہ تو بڑی اہمیت کا حامل ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ عرفہ کے دن کا روزہ گزشتہ اور آئندہ سال کے گناہوں کا کفارہ ہے

 (صحیح مسلم)

۵، ۶)  قربانی کرنا اور حج کرنا : اس عشرے کے مستحب اعمال میں داخل ہیں لیکن جو لوگ قربانی یا حج کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے وہ ان ایام میں نفلی روزے رکھ کر اور دیگر عبادات کے ذریعہ زیادہ سے زیادہ اجر و ثواب حاصل کر سکتے ہیں۔

               فوائد

۱) اللہ کا فضل و کرم اور بندوں پر اس کا احسان عظیم کہ اس نے عبادت و اعمال و صالحہ کے موقعہ عنایت فرمائے۔

۲) عشر ذی الحجہ کی فضیلت کہ اس میں عبادات اور اعمال صالحہ کے اجر و ثواب میں غیر معمولی اضافہ ہو جاتا ہے۔

۳) اللہ تبارک و تعالیٰ کے راستے میں جہاد کی فضیلت۔

۴) جہاد صرف تلوار اور ہتھیار سے ہی نہیں کیا جاتا بلکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ مسلمان اپنی زبان اور ہتھیار دونوں سے جہاد کرتا ہے

(مسند أحمد)

٭٭٭

 

صحابہ کرام کی فضیلت

حدیث نمبر :31

عن أبی موسی الأشعری رضی اللہ عنہ قال : قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم : النجوم أمن للسماء فذا ذھبت النجوم أتی السماء ما توعد وأنا أمنۃ لأصحابی فذا ذھبت أتی أصحابی مایوعدون وأصحابی أمنۃ لأمتی فذا ذھب أصحابی أتی أمتی مایوعدون۔

(صحیح مسلم : ۲۵۳۱، الفضائل، مسند أحمد : ص:۳۹۹، ج: ۴)

ترجمہ: ابو موسی أشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تاروں کا جس کا وعدہ کیا گیا ہے ، اور میں اپنے صحابہ کے لئے امان ہوں چنانچہ جب میں چلا جاؤں گا تو میرے صحابہ پر وہ حالات گزریں گے جن کا وعدہ کیا گیا ہے اور میرے صحابہ میری امت کے لئے امان ہیں چنانچہ جب میرے صحابہ ختم ہو جائیں گے تو میری امت پر وہ سب کچھ آئے گا جن کا ان سے وعدہ کیا گیا ہے۔

تشریح : صحابہ کرام کو اللہ تبارک و تعالیٰ نے بڑا اعلی مقام عطا فرمایا ہے ، انہیں مختلف ایسے فضائل و خصائص سے نوازا ہے جو کسی اور کو حاصل نہیں ہے ، یہی کیا کم ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے انہیں اپنے نبی کی صحبت و مدد کے لئے منتخب کیا ہے ، درج ذیل حدیث میں ان کے ایک اعلی مقام کی طرف اشارہ ہے۔

اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ جب تک آسمان میں تارے اپنی جگہ موجود ہیں اور حکم الٰہی سے اپنے کام میں لگے ہوئے ہیں اس وقت تک آسمان پر وہ وقت آنے والا نہیں ہے جس کا قرآن مجید میں وعدہ کیا گیا ہے کہ (قیامت کے دن) جب آسمان پھٹ جائے گا اور جب آسمان اللہ تعالیٰ کے ہاتھوں میں لپٹے ہوں گے اور جب تارے جھڑ جائیں گے انہیں بے نور کر دیا جائے گا تو آسمان بھی ٹوٹ پڑے گا اور تباہ و برباد ہو جائے گا۔

اسی طرح اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا وجود مسعود بھی عمومی طور پر اہل دنیا اور خصوصی طور پر صحابہ کرام کے لئے امان تھا کہ وہ لوگ آپسی اختلاف سے محفوظ تھے ، فتنہ ارتداد نے سرنہ اٹھایا تھا، لوگوں کے دل آپس میں ایک دوسرے سے جڑے ہوئے تھے اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی تو فتنۂ ارتداد نے بھی سراٹھایا، منکرین زکاۃ بھی ظاہر ہوئے حتی کہ وقتی طور پر صحابہ میں اختلاف کا مسئلہ کھڑا ہو گیا لیکن صحابہ کرام خصوصاً حضرت ابوبکر  کی حکمت عملی، قوت ایمانی اور تدبر نے ان تمام صورت حال سے نپٹ لیا۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد صحابہ کرام  کے رسولصلی اللہ علیہ وسلم کے چھوڑے ہوئے مشن کو آپ ہی کے بتلائے ہوئے طریقے پر لیکر آگے بڑھے جس کی وجہ سے مسلمانوں کی افرادی معاشی اور سیاسی قوت میں اضافہ ہوتا رہا دین پھیلتا رہا، شرک و کفر کے اڈے ڈھائے جاتے رہے سنتین پھیلتی رہیں اور بدعات مٹتی رہیں، لیکن جیسے جیسے صحابہ اس دنیا سے رخصت ہوتے رہے شرک و بدعات کے لئے راہیں ہموار ہوتی رہیں اور جیسے ہی عہد صحابہ ختم ہوا مسلمانوں کا آپسی اختلاف بڑھ گیا، اہل ہوا وہوس کی تعداد بڑھنے لگی، مختلف قسم کی بدعتیں ظاہر ہونے لگیں۔

اس حدیث مبارک سے صحابہ کرام  کی فضیلت و اہمیت واضح ہوتی ہے کہ ان کی اہمیت اہل دنیا کے لئے ویسی ہی ہے جو اہمیت ستاروں کی آسمان کے لئے ہے کہ بغیر تاروں کے آسمان کی نہ تو زینت ہے اور نہ ہی بغیر تاروں کے وجود کے بقا کی ضمانت بھی نہیں، بعینہ اسی طرح صحابہ کا وجود اہل دنیا کے لئے ایک رحمت تھی اور اب بھی ان کی اقتداء و پیروی، ان کا احترام و اکرام اور ان سے محبت و عقیدت کسی بھی مسلمان کے صحیح العقیدہ اور اہل سنت و جماعت میں سے ہونے کی دلیل ہے ، اور ان پر نقد و قدح اس کے بدعتی اور بدعقیدہ ہونے کی علامت ہے۔

               فوائد

۱) صحابہ کی قدر و منزلت کی ان کی مثال ستاروں جیسی ہے۔

۲) جس طرح ستاروں کے ذریعہ انسان اپنی منزل کی صحیح سمت معلوم کر لیتا ہے اسی طرح صحابہ کی اقتداء کر کے انسان آخرت کی صحیح منزل معلوم کر سکتا ہے۔

۳) صحابہ کرام کی عیب جوئی انسان کی بدعتی اور بد عقیدہ ہونے کی دلیل ہے ۔

٭٭٭

 

صحابہ کرام اور ہم

حدیث نمبر :32

عن أبی سعید رضی اللہ عنہ قال : قال النبی صلی اللہ علیہ وسلم : لا تسبوا أصحابی فلو أن أحدکم أنفق مثل ذھبا  ما بلغ م أحدھم لا نصیفہ

(صحیح بخاری :۳۶۷۳، فضائل الصحابہ، صحیح مسلم : ۲۵۴۱، فضائل الصحابہ)

ترجمہ : حضرت أبو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم لوگ میرے صحابہ کو برا بھلا نہ کہو (ان کی عیب جوئی نہ کرو) کیونکہ اگر تم میں کا کوئی شخص احد پہاڑ کے برابر سونا بھی خرچ کر دے تو ان کے ایک مد یا آدھا مد وغیرہ کو بھی نہیں پہنچ سکتا۔

تشریح : ایک بار حضرت خالد بن ولید  اور حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کے درمیان کسی بات پر اختلاف رائے ہو گیا جس میں باتوں باتوں کے اندر کچھ تلخی پیدا ہو گئی دوران گفتگو حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے حضرت عبد الرحمان بن عوف  کے بارے میں کوئی ایسا سخت جملہ کہہ گئے جو حضرت عبد الرحمن بن عوف جیسے عظیم صحابی کے شان میں گستاخی تھی، چنانچہ جب یہ خبر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچی تو آپ تو آپ نے حضرت خالد بن ولید پر ناراضگی کا اظہار کیا اور تنبیہ کی کہ یہ میرے خاص ساتھی ہیں جنہوں نے اس وقت میرا ساتھ دیا جب لوگوں نے میرا ساتھ چھوڑ دیا تھا اس وقت مدد کی جب لوگ میرے دشمن بن گئے تھے ، اس وقت مجھ پر خرچ کیا جب لوگوں نے میرا بائیکاٹ کر دیا تھا، اس لئے ان حضرات کو جو مقام اللہ ورسول کے نزدیک حاصل ہے وہ کسی اور کو بھی حاصل نہیں ہوسکتا، حتی کہ اب اگر کوئی شخص منوں اور ٹنوں سونا خرچ کر دے ، احد پہاڑ کے برابر سیم و زر صدقہ کر دے تو بھی ان حضرات کے پون کیلو یا آدھا کیلو جو و کھجور کے برابر نہیں ہوسکتا، کیونکہ اس وقت اسلام ومسلمانوں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد کرنا سارے عالم سے دشمنی مول لینی تھی، اس وقت اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور کمزور مسلمانوں پر اپنا مال خرچ کرنا جہاں اپنے کو محتاجی کے منہ میں ڈالنا تھا وہیں اپنے معاشرے سے بغاوت کا اعلان بھی تھا ایسے وقت میں رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد کرنے اور ان پر خرچ کرنے کا معنی یہ ہے کہ اس شخص کے دل میں اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت، خلوص و للہیت ہے اور اللہ ورسول کے وعدوں پر اس کا غیر متزلزل ایمان اس قدر جاگزیں ہے کہ دنیا کا کوئی خوف اور کسی بھی قسم کی لالچ اس پر اثر انداز نہیں ہوسکتی، برخلاف اس کے وہ لوگ جو اس وقت مسلمان ہوئے جب مکہ مکرمہ فتح ہو چکا جس کے نتیجہ میں عرب کی سیادت اب مکہ کے قریش سے ہٹ کر مسلمانوں کے ہاتھ آ چکی تھی، فتوحات کا سلسلہ شروع ہو چکا تھا، مال غنیمت کی وجہ سے مسلمانوں میں فقر و فاقہ کی شدت ختم ہوتی جا رہی تھی اور لوگ دین اسلام میں فوج در فوج داخل ہو رہے تھے ، سچ فرمایا اللہ تعالیٰ نے : لا یستوی منکم من أنفق قبل الفتح وقاتل أولئک أعظم درجۃ من الذین انفقوا من بعد وقاتلوا۔……  (الحدید :  ۱٠)

جن لوگوں نے فتح مکہ سے پہلے خرچ کیا اور جہاد کیا وہ لوگوں کے برابر نہیں ہوسکتے جنہوں نے فتح مکہ کے بعد خرچ اور جہاد کیا بلکہ یہ لوگ ان سے درجات میں بہت بڑے ہیں تاہم اللہ تعالیٰ نے ہر ایک سے اچھا وعدہ کیا ہے اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اسے سے پور طرح باخبر ہے۔

اس لئے ایسے سخت وقت میں جن لوگوں نے میرا (یعنی رسول صلی اللہ علیہ وسلم) کا ساتھ دیا ہے ان کی تعظیم و تکریم کی مد نظر رکھو، انہیں برا بھلا نہ کہو۔

٭٭  اس حدیث سے صحابہ کرام کے مقام و مرتبہ کا پتہ چلتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں کسی مقام پر فائز کیا ہے اس لئے ان کے بارے میں کسی بھی قسم کی زبان درازی کرنا ان کی عیب جوئی میں لگنا، انہیں برا بھلا کہنا جیسا کہ اپنے کو مسلمان کہلانے والی ایک جماعت کا شیوہ ہے قطعاً جائز نہیں ہے بلکہ ایسا شخص سخت وعید کا مستحق ہے ، ایک حدیث میں اللہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جس نے میرے صحابہ کو برا بھلا کہا اس پر اللہ کی لعنت ہو، اس کے فرشتوں کی لعنت ہو اور تمام لوگوں کی لعنت ہو۔

(سلسلہ الصحیحہ للألبانی : ۲۳۴٠)

اس لئے ایک مؤمن کو چاہئے کہ تمام صحابہ کے بارے میں اپنی زبان کو روکے رکھے ان کا نام آنے پر ان کے لئے رضی اللہ عنہ کہہ کر ان کے لئے دعاء کرے ان کے ساتھ محبت کو دین و شریعت سمجھے اور جہاں ان کے آپسی اختلاف کا ذکر آ جائے یا ان کی کسی غلطی پر نظر پڑ جائے تو اسی وصیت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم پر عمل کرے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جب میرے صحابہ (اور ان کے باہمی اختلاف) کا ذکر آئے تو رک جاؤ اور ستاروں (اور ان میں تاثیر) کا ذکر ہو تو رک جاؤ اور جب تقدیر کا مسئلہ چھڑ جائے تو رک جاؤ۔

(سلسلۃ الصحیحہ للألبانی : ۳۴)

               فوائد

۱)  سابقین أولین صحابہ کی فضیلت۔

۲) صحابہ کے عیوب تلاش کرنا ان کی نیتوں پر حملہ کرنا جائز نہیں ہے۔

۳) حالات کے فرق سے عبادات کے ثواب میں فرق پڑتا ہے۔

۴) حضرت عبد الرحمن بن عوف کی فضیلت کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اپنا ساتھی قرار دیا۔

٭٭٭

 

 

رب سے سات سوال

حدیث نمبر :33

عن أبی ھریرۃ عن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال : ”  سأل موسی ربہ عن ست خصال، کان یظن أنھا لہ خالصۃ، والسابعۃ لم یکن موسی یحبھا :

1۔ قال یا رب ! أی عبا دک أتقی ؟ قا ل : الذی یذکر ولا ینسی۔

2۔ قال :فأی عبادک أھدی ؟ قال : الذی یتبع الھدی۔

3۔ قال : فأی عبادک أحکم ؟ قال : الذی یحکم للناس کما یحکم لنفسہ۔

4۔ قال :فأی عبادک أعلم ؟قال :الذی لا یشبع من العلم، یجمع علم الناس لی علمہ۔

5۔ قال : فأی عبادک أعز ؟   قال : الذی ذا قدر غفر۔

6۔ قال : فأی عبادک أغنی ؟ قال : الذی یرضی بما یؤتی۔

7۔ قال : فأی عبادک أفقر ؟  قال صاحب منقوص۔

              قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم :  لیس الغنی عن ظھر، نما الغنی غنی النفس، وذا أراد اللہ بعبد خیرا، جعل غناہ فی نفسہ، وتقاہ فی قلبہ، وذا أراد اللہ بعبد شرا جعل فقرہ بین عینہ ” ۔

(الصحیحہ  :  3350 )

ترجمہ :  حضرت موسی علیہ السلام نے اپنے رب سے چھ باتوں کے متعلق سوال کیا، حضرت موسی علیہ السلام کا خیال تھا کہ یہ چھ باتیں انہیں کے ساتھ خاص ہیں، اور ایک ساتویں بات سے متعلق بھی سوال کیا جسے وہ نا پسند کرتے تھے :

1۔ عرض کیا : اے رب ! تیرا کونسا بندہ سب سے زیادہ پرہیز گار ہے ؟ اللہ تعالیٰ نے جواب دیا : جو (اللہ کو) یاد رکھتا ہے اور کبھی نہیں بھولتا۔

2۔ عرض کیا : تو تیرا سب سے ہدایت یافتہ بندہ کون ہے ؟  اللہ تعالیٰ نے جواب دیا : جو ہدایت کی پیروی کرتا ہے۔

3۔ عرض کیا : تو تیرا کونسا بندہ سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے ؟  اللہ تعالیٰ نے جواب دیا : وہ بندہ جو لوگوں کے بارے میں جیسا فیصلہ کرتا ہے ویسا ہی اپنے نفس کے بارے میں بھی کرتا ہے۔

4۔ عرض کیا تو تیرا کونسا بندہ سب سے بڑا عالم ہے ؟  اللہ تعالیٰ نے جواب دیا :  جو علم سے آسودہ نہیں ہوتا خواہ تمام لوگوں کا علم اکٹھا کر لے۔

5۔ عرض کیا : تو تیرا کونسا بندہ سب سے عزت والا ہے ؟  اللہ تعالیٰ نے جوا ب دیا : جو بدلہ لینے پر قدرت کے باوجود معاف کر دے۔

6۔ عرض کیا : تو تیرا کونسا بندہ سب سے زیادہ غنی ہے ؟  اللہ تعالیٰ نے جوا ب دیا : جسے جو کچھ مل جائے اس پر راضی ہو۔

7۔ عرض کیا : تو تیرا کونسا بندہ سب سے زیادہ فقیر ہے ؟  اللہ تعالیٰ نے جواب دیا :  جسے جتنا بھی مل جائے اسے کم سمجھے۔

اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :  مالداری مال کی کثرت نہیں ہے ، اصل مالداری نفس کی مالداری ہے ، اور اللہ تعالیٰ جب کسی بندے کے ساتھ خیر کا ارادہ رکھتا ہے تو مالداری اس کے نفس میں رکھ دیتا ہے اورتقوی اس کے دل میں جانگزیں کردیتا ہے اور جب کسی بندے  کے ساتھ شَرْ کا ارادہ فرماتا ہے تو فقر اس کے سامنے کردیتا ہے۔

                 فوائد

 1۔ تمام نبیوں کا دین ایک ہے ۔

2۔  موسی علیہ السلام کی فضیلت اور اللہ کا قرب حاصل کرنے کی ان کی خواہش۔

 3۔ علم، تقوی، قناعت وغیرہ کی فضیلت۔

4۔ بخل، حرص، جہل اور غفلت کی مذمت ۔

5۔ ذکر الٰہی میں مشغول رہنے کی فضیلت۔

6۔ ایک مسلمان بھائی کی اہمیت ۔

 7۔ گذرے ہوئے تمام انبیاء علیہم السلا پر ایمان ضروری ہے۔

8۔ عفو و درگذر کی فضیلت کہ وہ انسان کو اعلی مقام پر فائز کرتی ہے ۔

٭٭٭

 

سال کا پہلا مہینہ

               حدیث نمبر :34

عَنْ أَبِى ہُرَیْرَۃَ – رضى اللہ عنہ – قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ صلى اللہ علیہ وسلم « أَفْضَلُ الصِّیَامِ بَعْدَ رَمَضَانَ شَہْرُ اللَّہِ الْمُحَرَّمُ وَأَفْضَلُ الصَّلاَۃِ بَعْدَ الْفَرِیضَۃِ صَلاَۃُ اللَّیْلِ ».

صحیح مسلم:1163 الصیام، سنن ابی داود:2429الصیام وبقیۃ الأربعۃ.

ترجمہ : حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے ارشاد فرمایا : رمضان المبارک کے بعد  سب سے زیادہ فضیلت والا روزہ اللہ کے مہینے  محرم  کا روزہ ہے اور فرض نمازوں کے بعد سب سے زیادہ فضیلت والی نماز رات کی نماز [تہجد کی نماز ] ہے۔

{ صحیح مسلم  و سنن ابو داود و غیرہ }۔

تشریح : اسلامی سال کی ابتدا ماہ محرم سے ہوتی ہے ، محرم کو محرم اس لئے کہا جاتا ہے کہ یہ سال کے ان چار مہینوں میں سے ہے کہ جن  کی حرمت و احترام کا خصوصی حکم دیا گیا ہے اور ان میں قتل و قتال کو بہت برا فعل قرار دیا گیا ہے ، اللہ تبارک و تعالیٰ کا ارشاد ہے : إِنَّ عِدَّۃَ الشُّہُورِ عِنْدَ اللَّہِ اثْنَا عَشَرَ شَہْرًا فِی کِتَابِ اللَّہِ یَوْمَ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ مِنْہَا أَرْبَعَۃٌ حُرُمٌ ذَلِکَ الدِّینُ الْقَیِّمُ فَلَا تَظْلِمُوا فِیہِنَّ أَنْفُسَکُمْ. الآیۃ.(36)التوبۃ۔

” بیشک مہینوں کی گنتی اللہ تعالیٰ کے نزدیک کتاب اللہ میں بارہ کی ہے ، اس دن سے جب آسمان و زمین کو اس نے پیدا کیا ہے ، ان میں چار مہینے حرمت  وادب کے ہیں،  یہی درست ہے تم ان مہینوں پر اپنے اوپر ظلم نہ کرو۔

ماہ محرم کی اہمیت کے پیش نظر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم  نے اسے ” شہر اللہ” یعنی اللہ کا مہینہ قرار دیا ہے جس سے اس مہینہ کی فضیلت اور اس کا شرف واضح ہوتا ہے ، نیز اسی مہینہ سے اللہ تبارک و تعالیٰ نے اسلامی  سال کی ابتدا کی ہے ، اور شاید یہی وجہ ہے کہ مذکورہ حدیث میں اس مہینہ میں کثرت سے نفلی روزہ رکھنے کی ترغیب دی گئی اور دوسرے مہینوں کے مقابلہ میں اس مہینہ میں کثرت سے روزہ رکھنا زیادہ لائق فضیلت ٹھہرایا گیا ہے ، جس کا مقصد شاید  یہ ہے کہ  چونکہ  روزہ ایک اہم عبادت، قربت  الٰہی کا ذریعہ  اور رضائے الٰہی حاصل کرنے کا ایک  پسندیدہ  عمل  ہے ، اس لئے اس مبارک مہینہ  میں اس  مبارک عمل کا  حکم دیا گیا، چنانچہ ایک بار حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم   سے سوال کیا کہ اے اللہ کے رسول آپ مجھے کوئی ایسا عمل بتلائیے کہ  اسے اپنا کر جنت میں داخل ہو جاوں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے انہیں کثرت سے نفلی روزہ  رکھنے کا حکم دیا، یہی سوال حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ نے تین بار دہرایا اور ہر بار آپ یہی فرماتے رہے کہ”  تم کثرت سے روزہ رکھو کیونکہ  روزہ کا مقابلہ  کوئی دوسرا عمل نہیں کر سکتا”۔

{ صحیح الترغیب : 1/580 }۔

اور اس کی  وجہ شاید یہ ہے  کہ محرم الحرام سال کا پہلا مہینہ ہے جس میں  نیک عمل خصوصا روزہ جیسے محبوب عمل بکثرت کئے جائیں تاکہ مومن کے سال کی ابتدا نیک اعمال سے ہو اور سال کا آخری مہینہ ذی الحجہ ہے اور وہ بھی حرمت والے مہینوں میں سے ایک ہے ، اور اس مہینے میں بھی نیک اعمال کی بڑی اہمیت ہے ، گویا اس طرح ایک مسلمان اپنے نئے سال کی ابتدا بھی اچھے اعمال سے کر رہا ہے ، اور سال کی انتہا پر بھی  نیک اعمال کا اہتمام کر رہا ہے  اور کسی چیز کے اول و آخر میں حسن  کا پایا جانا اس کے مقبول ہونے کا سبب بنتا ہے ، یہی وجہ ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے صبح و شام کو خصوصی  طور پر  ذکر و تسبیح کا حکم دیا ہے :     یَا أَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا اذْکُرُوا اللَّہَ ذِکْرًا کَثِیرًا (41) وَسَبِّحُوہُ بُکْرَۃً وَأَصِیلًا (42)الاحزاب۔

” مسلمانو ! اللہ تعالیٰ کا ذکر بہت زیادہ کرو اور صبح و شام اس کی تسبیح وپاکیزگی بیان کرو “۔

اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم  نے صبح و شام کی نماز یعنی فجر و عصر  کے وقت کی بڑی  اہمیت دی ہے چنانچہ آپ نے فرمایا : “جو شخص سورج نکلنے سے قبل اور سورج غروب ہونے سے قبل نماز پڑھتا ہے  وہ ہرگز جہنم کی آگ میں داخل نہ ہو گا “۔

{ صحیح مسلم بروایت عمارہ بن رویبہ }۔

               فوائد

۱ – ماہ محرم کی فضیلت کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اسے اپنا مہینہ، اسے حرمت والے چار مہینوں میں سے ایک مہینہ قرار دیا اوراسی سے اسلامی سال کی ابتداء کی۔

۲- حرمت والے چار مہینے یہ ہیں : محرم، رجب، ذو القعدہ، ذو الحجہ۔

۳- نفلی روزوں میں سب سے فضیلت والا روزہ ماہ محرم کا روزہ ہے۔

۴- رات کی نماز یعنی تہجد تمام نفلی نمازوں میں سب سے افضل ہے۔

٭٭٭

ماخذ:

http://www.islamidawah.com/catplay.php?catsmktba=45

تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید