FavoriteLoadingپسندیدہ کتابوں میں شامل کریں

 

 

 

فہرست مضامین

خزینۂ حمد و نعت

 

 

 

                شیخ صدیق ظفرؔ

 

 

 

اِنتساب

 

 

حضرت قاضی محمد عبدالحق

(گورنمنٹ عبدالحق اسلامیہ ڈگری کالج جن سے منسوب ہے )

جنہوں نے بارگاہِ رسالتؐ تک میری دستگیری فرمائی

اور

بارگاہِ خداوندی و بارگاہِ نبویؐ

سے انعام و اکرام کی بارش جن کے وسیلہ سے ہوئی

اور مرحومین

والدہ محترمہ، والد گرامی، بہن بھائیوں، بھتیجوں اور

بیگم کے نام

 

 

 

اظہارِ تشکّر

 

ربّ العالمین اور رحمۃ اللعالمینﷺ کی بے حد وحساب نوازشات کی بوچھاڑ یوں ہوئی کہ تین مجموعہ ہائے کلام ’’جمالِ حرف‘‘ 2003ئ، ’’دل مدینہ‘‘ 2008ء اور ’’مرے حبیبِ خدا‘‘ 2010ء کی تکمیل و اشاعت کے بعد رواں سال 2014ء میں بیک وقت تین نئے مجموعہ ہائے حمد و نعت

٭     خزینۂ حمد و نعت (سات اشعار پر مشتمل حمدیں اور نعتیں )

٭     گنجینۂ حمد و نعت (چودہ اور چودہ سے زیادہ اشعار پر مشتمل حمدیں اور نعتیں ) اور

٭     گلہائے حمد و نعت (تین صد حمدیہ اور تین صد نعتیہ قطعات پر مشتمل گلدستہ)

دنیائے حمد و نعت میں جاہ و جلال اور آب و تاب کے ساتھ ایک ساتھ جلوہ گر ہوئے۔

فکرِ سود و زیان و بیش و کم سے ماورا خالد شریف صاحب (جن کے ایثار و خلوص کا ذکر کرنا سورج کو چراغ دکھانے کے مترادف ہے ) تینوں کتب آپ تک بطریقِ احسن پہنچانے کا اہتمام کر رہے ہیں اور اس سلسلہ میں پاکستان بھر اور بیرونی ممالک میں بھی کتابوں کے ڈیلر حضرات اپنا مخلصانہ تعاون پیش کر رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ سب معاونین کو جزائے خیر دے۔ آمین۔ ثم آمین۔

دورانِ مطالعہ جب دل گداز اور آنکھ نم ہو تو اُمتِ مسلمہ کی فلاح و کامرانی اور اتحاد بین المسلمین کے لیے دعا فرمائیے۔ مصنف کو بھی براہِ کرم اپنی دعاؤں میں یاد رکھیے۔ شکریہ

طالبِ دعا

شیخ صدیق ظفرؔ

جلالپور  جٹاں (گجرات)

فون: 053-3592318

0321-6251220

 

 

 

’’جمالِ حرف‘‘

 

گجرات کی ادبی محافل میں ایک بڑا نام ’’محفلِ نقد و نظر‘‘ کا بھی ہے جس کے ہفتہ وار علمی و ادبی اجتماعات شاہدولہؒ روڈ پر واقع شیخ صدیق ظفرؔ کی یونیورسل فین فیکٹری کے ہال میں منعقد ہوتے جس میں گجرات کے شعراء، ادباء، وکلاء، پروفیسرز، ڈاکٹرز، صنعتکار، اخبار نویس، مجسٹریٹ، جج صاحبان، پولیس آفیسرز غرضیکہ ہر طبقۂ فکر کے لوگ باقاعدگی سے شریک ہوتے اور اکثر و بیشتر اجتماعات میں کسی ملک گیر شہرت کی حامل شخصیت کو بھی مدعو کیا جاتا۔ اسی محفل کے زیر اہتمام ہر سال کسی نمایاں مقامی شخصیت کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے ایک بڑی تقریب منعقد کی جاتی اور مذکورہ شخصیت کو ادبی ایوارڈ سے نوازا جاتا۔ اس طرح کی تقریبات پنجابی غزل کے حافظ شیراز پیر فضل گجراتی، پروفیسر شریف کنجاہی (تمغۂ امتیاز)، عظیم صحافی قربان طاہر اور درویش صفت راجہ کاتب کے اعزاز میں منعقد کی گئیں۔ یہ محفل بقول اُستاد گرامی پروفیسر حامد حسن سیّد ’’ پروفیسر چودھری فضل حسین کی زبان اور شیخ صدیق ظفرؔ کی جیب سے چلتی ہے ‘‘۔

زمیندار کالج میں دورانِ تعلیم صدیق ظفر ریکارڈ ووٹوں کی برتری سے سٹوڈنٹس یونین کے صدر منتخب ہوئے اور کالج میگزین ’’شاہین‘‘ انگریزی حصہ کے ایڈیٹر بھی۔ سیکرٹری سٹاف سٹڈی سرکل پروفیسر چودھری فضل حسین نے اپنے دو ہونہار شاگردوں انور مسعود اور صدیق ظفر کو سٹاف سٹڈی سرکل کا اعزازی ممبر بنائے رکھا اور یہ دونوں شاگرد اپنے اساتذہ کے ساتھ ہر میٹنگ میں شریک ہوتے۔

۱۹۷۱ئ؁ میں زمیندار کالج گجرات سے دو اساتذہ کو فارغ کیا گیا تو وہ سیدھے اپنے شاگردِ رشید شیخ صدیق ظفر کے پاس جلال پور جٹاں پہنچے جس نے انھیں سر آنکھوں پر بٹھایا۔ عبدالحق اسلامیہ کالج کی داغ بیل ڈالی گئی۔ یوں ایک دفعہ پھر صدیق ظفر اپنی جیب سمیت منظرِ عام پر آئے اور جلال پور جٹاں کے سرسیّد بن گئے۔

حضرت قاضی محمد عبدالحق ؒ کے واصل بالحق ہونے کے بعد صدیق ظفر جملہ اُمور کے مہتمم و منتظم بنائے گئے اور عرس کی سالانہ محافل میں استاد امانت علی خان، فتح علی خان، اُستاد نزاکت علی، سلامت علی کلاسیکل رنگ جماتے رہے۔ شہنشاہِ غزل مہدی حسن، غلام علی، شوکت علی، حسین بخش گُلو، آصف جاوید، پرویز مہدی اور دوسرے بڑے گُلوکاروں کے علاوہ نامور قوال حاجی غلام فرید صابری، نصرت فتح علی خان، عزیز میاں، رشید فریدی، بخشی سلامت اور سنتو خان قوال جلال پور بُلائے جانے لگے۔ سُر سنگیت کے اس شہر میں جس کی نالیاں بھی سُر میں بہتی ہیں صدیق ظفر ایک نئے رنگ میں منظرِ عام پر آئے۔ عرس کی انہی مجلسوں میں قراء حضرات، زینت القراء قاری غلام رسول، قاری خوشی محمد الازہری، قاری وحید ظفر قاسمی، قاری نُور محمد اور قاری محبوب سلیم تشریف لاتے تھے تو نعت خوانوں میں عبدالستار نیازی، سائیں فقیر حسین مستانہ، محمود قادری، صاحبزادہ منظورالکونین، محمد یوسف چشتی، عبدالحمید بٹ، محمد علی ظہوری، میاں عبدالرشید قادری اور اختر شکر گڑھی نعت سرا ہوتے۔ حسانِ پاکستان حضرت محمد اعظم چشتی بھی اپنی آواز کا جادو جگاتے اور ان سُر کے ماتوں کو مجاز سے حقیقت کی طرف اُڑا لے جاتے۔ نیر اعظم کے دیباچے میں شیخ صدیق ظفر کا ذِکر بڑے پیار اور احترام کے جذبے سے ہوا ہے۔

سرسیّد جلال پور جٹاں نے گرلز کالج کے قیام کے لیے کئی سال کی شبانہ روز محنت اور تگ و دو کے بعد بالآخر 16 ستمبر 1982ء کو اُس وقت کے وزیر خزانہ پنجاب میاں محمد نواز شریف سے تقریباً چار لاکھ روپے کی SNE سپلیمنٹری گرانٹ کے ذریعہ منظور کرا کے گورنمنٹ کالج کا قیام ممکن بنایا اور فوری طور پر کلاسز کے اجرا کے لیے اپنی ایک عمارت خاصے ردّ و بدل اور تعمیرِ نو کے بعد کالج کے لیے مہیا کی۔ دُور دراز شہروں سے آنے والی چھ ایڈہاک لیکچررز کو چھ سال تک اپنی بچیوں کی طرح اپنے گھر میں رکھا۔ یوں اللہ تعالیٰ نے صدیق ظفر کو بوائز کالج کے ساتھ ساتھ گرلز کالج کا بانی ہونے کی بھی سعادت بخشی۔

عطار کی دکان پر بیٹھنے والا خوشبو کا خریدار ہوتا ہے۔ اُس کا مشامِ جاں مُعطر رہتا ہے۔ پھر آہستہ آہستہ وہ درباری، حِنا، خس وغیرہ کی خوشبو میں تمیز کرنے لگ جاتا ہے۔

اُدھر سے ڈور کھینچی گئی۔ جلال پور میں ملنے والی بانگیں مدینہ طیبہ میں سُنی گئیں اور صدیق ظفر کو زیارت کے شرف سے نوازا گیا۔ تصور اور سماعت مل کر بینائی تک پہنچے، قیامت برپا ہو گئی، مُدت کا آتش فشاں پھٹ پڑا۔ پیر فضل گجراتی نے کہا تھا۔

چوٹ ہووے عشق دی لگی تے پئے بن دے نے شعر

فضل آپے ای آ جاندی اے فکر فرماون دی جاچ

اظہار بہانے اور پناہیں تلاش کرتا ہے۔ اور پھر جذبے شعر کے روپ میں سامنے آنے لگتے ہیں۔ نعت کے بارے میں پروفیسر صوفی محمد عبداللہ جمال صاحب کی رائے ہے۔

ہو نہ توفیق تو پھر نعت نہیں ہو سکتی

شعر کہنے میں بلا کی بھی مہارت ہووے

بات جب اُنؐ کی عطا اور توفیق کی ہے تو اس پر رائے زنی میرے جیسے ہیچ مدان کے بس کی بات نہیں۔ آئیے اس گُلشنِ توفیق کی جی بھر کے سیر کیجئے اور اِس سے تمتع اُٹھائیے۔

ریاض مفتی ۔ گجرات

 

 

 

’’دِل مدینہ‘‘

 

گزشتہ مہینے میرے عزیز اور پرانے دوست شیخ عبدالکریم (سابق میئر آف لندن بار و آف نیوہم) کی معرفت محترم شیخ صدیق ظفرؔ سے میری ملاقات ہوئی۔ انھوں نے بڑی محبت اور خلوص کے ساتھ مُجھے اپنی نعتوں کا مجموعہ ’’دِلِ مدینہ‘‘ دیا جسے پڑھ کر مُجھے بے حد روحانی مسرت ہوئی۔ ان کی یہ تصنیف نہ صرف ظاہری محاسن کی آئینہ دار ہے بلکہ یہ عشقِ نبیﷺ پر مبنی ان کے گہرے جذبات اور روحانی واردات کی بھی عکاس ہے۔ انھوں نے اپنی متعدد نعتوں میں محبتِ رسولﷺ کے مختلف پہلوؤں کو بڑے روح پور، عشق انگیز، ایمان افروز اور وجد آور انداز میں پیش کر کے اپنی والہانہ عقیدت کا ثبوت دیا ہے۔ یہ حسین و دِلکش نعتیں بلا مبالغہ مردہ دِلوں کی ویران کھیتی کو دوبارہ سرسبز و سیراب کرنے کا مؤثر اور دِل نشین ذریعہ ہیں۔

ایں سعادت بزورِ بازو نیست

تا نہ بخشد خدائے بخشندہ

وہ لوگ بلاشبہ بڑے خوش قسمت ہیں جن کے دِل عشقِ محمدیﷺ کی دولتِ بے بہا سے فیض یاب ہیں۔ نبی کریمﷺ کی محبت دینِ اِسلام کی اساس اور محبتِ الٰہیٰ کا انمول خزانہ ہے۔ ہر سچے مومن کے دِل میں حضورﷺ کی محبت جاگزیں ہوتی ہے۔ بقولِ اقبالؒ

در دِلِ مسلم مقامِ مصطفیؐ ست

آبروئے ماز نامِ مصطفیؐ ست

اگر یہ محبت محض زبانی عقیدت نہ ہو بلکہ اس کا اظہار ہماری انفرادی اور اجتماعی زندگی میں بھی عملاً ہو تو یہ لامحالہ ہمارے ملّی اتّحاد کی بھی ضامن ہو گی۔ اس امر کی طرف ہماری توجہ مبذول کراتے ہوئے مفکرِ اِسلام اور عاشقِ رسولﷺ علامہ اقبالؒ نے بجا کہا تھا۔

“I believe the personality of the Prophet (PBUH) is the only force which can bring together the scattered forces of Islam.”

(جمیل کے نام خط مورخہ 4 اگست 1929ء)

اب میں بڑے اختصار کے ساتھ محترم شیخ صدیق ظفرؔ کی اس کتاب کے چند نمایاں ترین پہلوؤں، ان کے جذبۂ عشقِ رسول ﷺ اور ان کی شاعرانہ عظمت کا تذکرہ کرنا چاہتا ہوں تاکہ قارئین کرام میں بھی وہی ذوق و شوق پیدا ہو جائے جس نے مصنف کو ایسی عمدہ نعتیں لکھنے پر راغب کیا تھا۔ اگر یہ کہا جائے کہ ظفرؔ صاحب کی نعتوں کا ہر شعر ایمان کی لذت اور ہادیِ اعظمﷺ سے ان کی عمیق ترین عقیدت کا مظہر ہے تو یہ مبالغہ نہ ہو گا۔ اس امر کے ثبوت کے لیے ان کے چند درجِ ذیل اشعار ہدیۂ قارئین کیے جاتے ہیں۔

میرے دِل میں حضورؐ رہتے ہیں

کون کہتا ہے دُور رہتے ہیں

………٭………

نعت کہنا درُود پڑھ کے ظفرؔ

پیار کی یہ اساس ہوتی ہے

………٭………

با وضو خود پڑھو درُود و سلام

اپنے بچوں کو بھی پڑھائے چلو

سب سے پہلے ہو، درسِ عشقِ نبیؐ

بعد میں علم سب سکھائے چلو

دِل مدینہ بنایا آقاؐ نے

عاشقو! اب تو مسکراتے چلو

………٭………

میں رات کو سویا تھا کیے اُنؐ کا تصور

بدلا ہوا اک شخص اُٹھا صبح سویرے

………٭………

دیارِ مصطفیؐ میں جس کا گھر ہے

معزز، محترم ہے، معتبر ہے

………٭………

افلاک میں کب کاہکشاں دیکھ رہا ہوں

سرکارؐ کے قدموں کے نشاں دیکھ رہا ہوں

………٭………

خدا محبوبؐ کی عظمت بیاں کرتے ہیں قرآں میں

بڑا واضح اشارہ سورۂ کوثر سے ملتا ہے

 

وہی ہیں ہادیِ برحق، وہی ہیں رہبرِ اعظم

سلیقہ رہبری کا بھی اسی رہبر سے ملتا ہے

………٭………

محبت، عشق و مستی کا خزانہ

مُجھے سرکارؐ کے در سے ملا ہے

میں نے یہ چند اشعارِ حسیں بطورِ ’ مشتے نمونہ از خروارے ‘ تحریر کر دیے ہیں۔ ظفرؔ صاحب کی نعت گوئی محض ان کے ذاتی جذباتِ محبتِ رسولﷺ ہی تک محدود نہیں بلکہ انھوں نے اکثر مقامات پر اپنے ملّی درد اور عالمِ اسلام سے متعلق اپنی پریشانیِ خاطر کو بھی شعر کے قالب میں ڈھالا ہے جیسا کہ وہ خود کہتے ہیں۔    ؎

سرکارؐ! ہمیں لُوٹ لیا راہبروں نے

کم ظرف نہ ملّت کا کوئی راہنما ہو

………٭………

رحمۃ اللعالمیں ! لللّٰہ رحمت کی نظر

آپؐ کی امّت کا دامن خون سے ہے تر  ءادبأعبدالحق ؑ ؒ دپن اور تعلیم:بتر

دِن بدِن گمبھیر ہوتے جا رہے ہیں سانحے

اور امت کے مصائب روز افزوں بیشتر

وقت کے حاکم ہمارے درپئے آزار ہیں

کوئی مونس ہے نہ ہمدم نہ ہی کوئی چارہ گر

خونِ مسلم اس قدر ارزاں، فراواں الاماں

جانِ مسلم اس قدر نا معتبر ہے الحذر!

دیکھ کر بے اتفاقی عالمِ اِسلام کی

دیدۂ بینا سے جاری، خونِ دِل، خونِ جگر

سرخرو محبوبؐ کی امت کو یارب کیجئے

کیجئے یارب! ہماری لغزشوں سے درگزر

………٭………

نعتوں بھرے اس مجموعے کی ایک اور خوبی نادر تشبیہات و استعارات کا استعمال ہے۔ شاعر موصوف نے زیادہ تر نعت گوئی کی قدیم روایت کی پاس داری کی ہے لیکن کہیں کہیں جدّت طرازی سے کام لیتے ہوئے نیا انداز بیان بھی اختیار کیا ہے۔ مثلاً

سرکارؐ کی یادوں کا دریچہ جو کھُلا ہو

دِل فرطِ مسّرت سے مرا غارِ حرا ہو

………٭………

میری نعتوں کے شعر ایسے ہیں

جیسے اک موتیوں کی مالا ہے

………٭………

سچی محبتِ رسولﷺ کا جذبہ دوسرے نعت گو شعرا کے خلاف بعض و حسد سے خالی ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تمام عاشقانِ با صفا نے اپنے کُلام میں اس برائی کے اظہار سے گریز کیا ہے۔ شیخ صدیق ظفرؔ نے بھی اس فعلِ حسنہ کی پیروی کرتے ہوئے اپنی ایک طویل نعت میں حضرت حسّان بن ثابتؓ، اعظم چشتیؒ، علامہ اقبالؒ، نعیم صدیقی، حفیظ تائبؔ، احمد ندیم قاسمی، حفیظ جالندھری، مہر علی شاہؒ اور احمد رضا خان بریلویؒ کے اسمائے گرامی کا بڑے قابلِ ستائش طریق پر ذِکر کیا ہے۔

اس کتاب کا انتساب اور اس کے آخر میں ’دعاؤں کے طالب‘ کا عنوان مصنف کی وسعتِ قلبی، کشادہ نگاہی اور محبت و خلوصِ دوستاں کا ثبوت ہے۔ یہ ایک عجیب بات ہے کہ شاعر نے اپنے اس مجموعۂ کلام کے آغاز میں کسی قسم کے دیباچے، تقریظ یا اس کے تمہیدی تاثرات شامل نہیں کیے۔ غالباً اس کے مدِ نظر یہ جذبہ تھا کہ میرے قلبی تاثرات اورذ ہنی واردات اور محبوبؐ کے ذِکرِ جاں نواز کے درمیان کسی اور کے الفاظ حائل نہ ہوں۔ میری نگاہ میں کسی شاعر کی نعتوں کا اتنا ضخیم مجموعہ نہیں ہے۔ یہ امر اس حقیقت پر دلالت کرتا ہے کہ شاعر نے عشقِ نبیﷺ کے متعدد گوشوں کو بے نقاب کرنے کی بڑی کامیاب کوشش کی ہے۔ احساسات اور کیفیات اگر وسیع ہوں تو پھر اظہار کے بھی کئی پیمانے بتوفیقِ ایزدی عطا ہو جاتے ہیں۔

حضور ﷺ کے کمالات اور اوصاف کو خالقِ کائنات نے اپنی پاک کتاب میں خود کئی مقامات پر بیان کیا ہے۔ علاوہ ازیں وہ خود اور اس کے ملائکہ ہر روز حضورﷺ پر درود و سلام کا تحفہ پیش کرتے ہیں اور جملہ مومنین کو بھی ایسا کرنے کا ان الفاظ میں حکم دیا گیا ہے۔ ان اللہ و ملئکتہ یصلون علی النبی، یا ایھا الذین اٰمنوا صلو علیہ و سلمو تسلیما۔ ہمیں بھی شیخ سعدی شیرازیؒ کی مانند ان کی یوں مدح سرائی کرنی چاہیے۔         ؎

بلغ العلیٰ بکمالہ

کشف الدجیٰ بجمالہ

حسنت جمیع خصالہ

صلو علیہ و آلہ

نعت گوئی اور نعت نویسی کی روایت بہت پرانی ہے۔ اس کی باقاعدہ انسانی کاوش کا آغاز کائنات کے محسنِ عظیم یعنی حضورﷺ کے صحابی حضرت حسّان بن ثابتؓ، حضرت کعب بن زبیرؑ اور دیگر صحابہ کرامؓ سے ہوا اور بعد ازاں امام بصیریؒ، مولانا جامیؒ، سعدیؒ اور دیگر بے شمار عاشقانِ رسولﷺ نے اپنے اپنے زمانے میں اس وظیفۂ ایمان افزا کا اظہار کر کے اپنی محبت و عقیدت کا اظہار کیا ہے۔ خدا کے اس آخری نبیﷺ کی سچی محبت، اطاعتِ رسولﷺ اور اطاعت خداوندی کا باعث بنتی ہے جیسا کہ ارشادِ ایزدی ہے۔ کُل ان کنتم تحبون اللہ فابتعونی تحببکم اللہ۔ (اے نبیؐ! تم کہہ دو کہ اگر تم اللہ سے دعویِ محبت کرتے ہو تو پھر تم میری اتباع کرو، اللہ تم کو اپنا محبوب بنا لے گا) ایک اور جگہ اطاعتِ رسولﷺ کو اطاعتِ خدا قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے۔ کن یطع الرسول فقد اطاع اللہ۔ (جو شخص رسولﷺ کی اطاعت کرتا ہے تو اس نے گویا اللہ کی اطاعت کی) یہی حقیقی محبتِ رسولﷺ کا حقیقی معیار ہے۔ اللہ جل شانہ‘ سے دعا ہے کہ وہ مصنف کی اس کاوش کو قبول و منظور فرمائے اور اسے شاعر کی نجاتِ اُخروی کا ذریعہ بنائے۔ آمین۔

 

طالبِ دعا

محمد شریف بقاؔ

صدر : مجلسِ اقبال (لندن)

20اگست 2008ء

 

 

 

’’مرے حبیبِ خداؐ‘‘

 

نعت صدیوں سے ہر زباں پر ہے

نعت ہر دم جدید ہوتی ہے

شیخ صدیق ظفر ؔ کی خدمات کا دائرہ بہت وسیع رہا ہے اور چند سطور میں اُن کی شخصیت کا احاطہ ناممکن نہیں تو مشکل ضرور ہے۔ تاہم ایک اجمالی جائزے کے لیے ان کی شخصیت کے چند پہلوؤں سے آگاہی لازم ہے۔

شیخ صاحب بطور سماجی کارکن ایک خاص شناخت رکھتے ہیں، خدمتِ خلق کے کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں اور خدمتِ خلق کے کئی منصوبہ جات آپ کی جیبِ خاص سے آغاز سے اپنی تکمیل تک پہنچے ہیں۔ اجتماعی مسائل کے ساتھ انفرادی مسائل کے حل کے لیے عوامی بلکہ نچلی عوامی سطح تک آپ کا رسوخ ہے۔ فقراء، مساکین، غرباء، بیواؤں اور یتیموں کی خبر گیری کے لیے آپ ہمہ وقت موجود و سرگرم رہتے ہیں۔

پاکستانی معاشرہ جس انقلاب کی راہ دیکھ رہا ہے اس کی تعبیر تعلیم کے بغیر ناممکن ہے۔ ہمارے علاقے میں تعلیمی ترقی کا ہر نیا باب شیخ صدیق ظفرؔ کی کلیدِ محنت سے کھلتا ہے۔ عبدالحق اسلامیہ کالج کا قیام ہو یا ابنِ امیر کالج برائے خواتین کا، آپ دامے درمے قدمے سخنے شیخ صاحب کو ہر طرح سے موجود پائیں گے۔ آپ کی شخصیت کے اسی پہلو کو زیادہ اجاگر کیا گیا ہے اس لیے آپ سرسید ثانی کے نام سے مقبول و معروف ہیں۔ یہ خطاب آپ کو ڈائریکٹر تعلیمات ڈاکٹر امتیاز احمد چیمہ نے ایک جلسہ عام میں دیا۔ شیخ صاحب کی شخصیت کا ایک اور نمایاں گوشہ اہلِ اللہ اور صوفیائے کرام سے آپ کی عقیدت ہے۔ آپ جناب قاضی عبدالحق کے حلقہ نشین رہے اور ان کی خدمت میں ایک عمر گزاری۔ ان کی وفات کے بعد ان کے مزار پُر انوار کی تعمیر سے لے کر عرس کی سالانہ تقریبات تک عرصہ تک آپ کے انتظام و انصرام میں ہوتا رہا۔ دربار پر روزانہ حاضری آپ کا گزشتہ کئی دہائیوں سے معمول ہے۔ یوں علاقے کی تعلیمی ترقی کے ساتھ آپ کی دلچسپی کا ایک اور بڑا محور جناب قاضی عبدالحق کی ذاتِ با صفات کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔

اُن کی شخصیت کا ایک اور نمایاں پہلو علم و ادب کے ساتھ ان کی دلچسپی ہے۔ آپ زمانہ طالب علمی سے ہی علماء اور ادباء کی قدر افزائی میں پیش پیش رہے ہیں۔ ’’مجلسِ علم و ادب‘‘، ’’محفلِ نقد و نظر‘‘ اور ’’بزمِ سخن‘‘ کے ذریعے آپ نے ملک بھر کے اہلِ علم طبقہ کی عزت افزائی کی ہر ممکن کوشش کی۔ مجھ ناچیز سے لے کر احمد ندیم قاسمی تک ان کی عزت افزائی کے لیے ممنون و شکر گزار ہیں۔

طالب علمی کے زمانے میں ہی جناب شیخ صدیق ظفرؔ کو جہاں پروفیسر چوہدری فضل حسین اور پروفیسر حامد حسن سیّد جیسے استاد ملے جنھوں نے ان کی صلاحیتوں کو بھرپور جِلا بخشی، وہاں انھیں انور مسعود اور خاقان خاور جیسے دوست بھی ملے جو انھی کی طرح علم و ادب کے رسیا تھے۔ انور مسعود نے مزاح کی دنیا میں نام کمایا، خاقان خاور نے جدید اردو شاعری میں اپنی شناخت پیدا کی اور شیخ صدیق ظفرؔ نے اپنی افتادِ طبع کے مطابق نعت کے میدان میں قدم جمائے۔

آپ کا اولین مجموعہ ’’گلدستۂ عقیدت‘‘ کے نام سے اشاعت پذیر ہوا جس میں قاضی عبدالحق صاحبؒ کی مدح میں تصنیف شدہ قصائد کو مرتب کیا گیا ہے۔ ’’جمالِ حرف‘‘ کے نام سے آپ کی دوسری کتاب 2003ء میں شائع ہوئی جس میں زیادہ تر نعتیں اور حمدیں بھی موجود ہیں۔

آپ کی تیسری کتاب ’’جمالِ حرف‘‘ بعض ترمیمات اور کلام میں اضافے کے ساتھ ’’دل مدینہ‘‘ کے نام سے شائع ہوئی۔ اس میں بھی کچھ حمدیں اور زیادہ تر نعتیں موجود ہیں۔ شیخ صاحب کے کلام کی قومی اور بین الاقوامی سطح پر پذیرائی ہوئی اور پاکستان کے علاوہ برطانیہ، سکاٹ لینڈ میں بھی ان کے اعزاز میں تقریبات کا انعقاد ہوا۔

’’مرے حبیبِ خداؐ‘‘ کے نام سے ان کا تازہ مجموعہ حمدو نعت آپ کے ہاتھوں میں ہے۔ اس مجموعۂ کلام میں بھی شیخ صاحب نے حسبِ روایت گزشتہ کلام کو ترمیمات کے ساتھ شامل رکھا ہے اور یوں ایک ضخیم ذخیرۂ حمد و نعت منصہ شہود پر آیا ہے۔ اس مجموعہ میں کافی تعداد میں حمدیہ اور نعتیہ کلام موجود ہے۔ ہر ہر حمد و نعت کم سے کم سات اشعار اور زیادہ سے زیادہ انچاس اشعار پر مشتمل ہے جو ان کے قادر الکلام اور پُر گو شاعر ہونے کی دلیل ہے۔

’’مرے حبیبِ خداؐ‘‘ کا زیادہ تر کلام غزل کی ہیئت میں لکھا گیا ہے۔ چند قطعات و رباعیات بھی موجود ہیں۔ نعت گوئی کے فن میں صدیق ظفرؔ، اعظم چشتی سے متاثر ہیں۔ ان کے کلام میں حسان بن ثابتؓ، علامہ اقبالؒ، حفیظ تائبؔ اور اعظم چشتی کا نام احترام کے ساتھ ملتا ہے۔

صدیق ظفرؔ کے فن کا اختصاص یہ ہے کہ انھوں نے حمد و نعت کو یکجا کر دیا ہے۔ حمدیہ کلام پر نعت کی نسبت بالعموم بہت کم توجہ کی گئی ہے لیکن صدیق ظفرؔ نے ذکرِ خدا کے ساتھ ساتھ ذکرِ مصطفیؐ کا وظیفہ پورا کر کے صاحبِ ایمان و ایقان ہونے کی دلیل دی ہے۔

ایک خاص بات قابلِ ذکر ہے کہ حمد و نعت کے تخصص کے باوجود ان کی حمد میں نعت اور نعت میں حمد کے اشعار کی جھلک نظر آتی ہے۔ یوں احد میں احمدؐ اور احمدؐ میں احد کے جلوے نظر آ سکتے ہیں۔    ؎

برستی ہو جہاں برساتِ رحمت

وہاں کیا تذکرہ میری خطا کا

درُود و نعت لکھوں، حمد لکھوں

میں شاعر ہوں محمد مصطفیؐ کا

ّ        صدیق ظفرؔ کی لفظیات عوامی کلاسیکی ذخیرۂ نعت سے ماخوذ ہیں۔ موضوعات کے چناؤ اور الفاظ کے برتاؤ ہر دو لحاظ سے آپ نے نعت کی کلاسیکی روایات کو خوب نبھایا ہے۔ ان کی نعت میں بعض موضوعات اور تراکیب تکرار کے ساتھ استعمال ہیں۔ یوں قاری کا ذہن آپ کی نعت کے بنیادی ڈھانچے سے مانوس ہوتا چلا جاتا ہے۔ اکثر اشعار سہلِ ممتنع کی عمدہ مثال ہیں۔

صدیق ظفرؔ کے فنِ نعت گوئی میں مترادفات کا استعمال کثرت سے ہوا ہے۔ یہ ان کے کلام کی قوت ہے۔

صدیق ظفرؔ نے بلحاظ زبان سادہ بیانی سے کام لیا ہے۔ ان کے کلام میں عربی و فارسی کے غیر مانوس الفاظ نہ ہونے کے برابر ہیں حالاں کہ نعت میں عربی الفاظ کے ورود سے گریز مشکل کام ہے لیکن آنحضور ﷺ کی ذاتِ با صفات کے اسمائے گرامی کے علاوہ مشکل ہی سے کوئی عربی ترکیب ان کے کلام میں ملے گی۔

سگِ در یا دربان کا لفظ شاعر نے اپنے لیے کثرت سے استعمال کیا ہے اور اس لفظ سے اپنے تعلق خاطر کو دیباچے میں بھی بیان کیا ہے۔ صدیق ظفر کے کلام میں بلا کی موسیقیت، بہاؤ، روانی اور ترنم پایا جاتا ہے۔ آپ کے کلام کو با آسانی گنگنایا یا گایا جا سکتا ہے۔ اس کے لیے آپ نے مختلف وسیلوں سے کام لیا ہے۔ بحور کا انتخاب، آوازوں کی تکرار، نرم اور کومل آوازوں والے حروف کا کثرت سے استعمال ہوا ہے جس کی وجہ سے کلام میں آبشاروں کا ترنم اور دریاؤں کی روانی پیدا ہو گئی ہے۔

عشقِ خدا اور عشقِ رسولﷺ کے ساتھ ساتھ شیخ صاحب کے دل میں سر زمینِ وطن کے لیے محبت کا جذبہ بھی کوٹ کوٹ کر بھرا ہے۔ ارضِ وطن کے حالات و واقعات پر پریشانی اور دکھ کا اظہار اس کی سربلندی و سرفرازی کاخواب شاعر نے جگہ جگہ دیکھا اور دکھایا ہے۔

عالمِ اسلام کے ساتھ عالمی سطح پر ہونے والے امتیازی سلوک، عراق اور افغان جنگ اور دہشت گردی کے بارے میں ان کے خیالات و افکار بھی حمد و نعت میں موجود ہیں۔

المختصر شاعر ایک ایسا صاحبِ بصیرت فرد ہے جو عالمی منظر نامے میں اسلام کے کردار کا متمنی و خواہش مند ہے۔ اس کے لیے وہ مسلمانانِ عالم کی کردار سازی کرنا چاہتا ہے اور آنحضور ﷺ کی ذات کا نمونہ قارئین کے سامنے پیش کرتا ہے کیونکہ یہی وہ کردار ہے جو کس مپرسی اور بے سروسامانی کے عالم سے نکل کر دنیا میں اسلام کی شان و شوکت اور عظمت و سطوت قائم کرتا ہے۔ خدا اور خدا کے رسولﷺ کی حکومت دنیا پر اسی شکل میں قائم ہو سکتی ہے جب ہم اسوۂ حسنہ کے نمونے پر اپنے کردار کو ڈھالنے کی کوشش کریں گے۔ جناب شیخ صدیق ظفرؔ کی نعت اس سلسلے میں ہماری معاون اور مددگار بلکہ چراغِ راہ ثابت ہو گی۔

 

کلیم احسان بٹ

صدر شعبہ اردو

گورنمنٹ زمیند ار کالج

گجرات

 

 

 

خزینۂ حمد و نعت

 

عشق پر زور نہیں ہے یہ وہ آتش غالبؔ

کہ لگائے نہ لگے اور بجھائے نہ بنے

عشق کسی سے بھی ہو اس کا مدعا ہمیشہ محبوب کی رضا طلبی ہوا کرتا ہے۔ اس سلسلے میں عاشق اپنے محبوب کو راضی رکھنے کے لیے اپنی جان کا نذرانہ پیش کرنے سے بھی دریغ نہیں کرتا بلکہ اسے اپنے لیے عین سعادت سمجھتا ہے … اور اگر عشق، اللہ اور اللہ کے رسول حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم سے ہو تو آدمی کیا کچھ نہ کر گزرے گا… لیکن عشق کا دعویٰ کرنا ایک بات ہے، اس دعوے کو برہان کی صورت دینا دوسری بات۔ عشق میں نفع اور نقصان پر تفکر نہیں کیا جاتا بلکہ رضائے محبوب ہی سب سے بڑا فائدہ تصور ہوتا ہے۔ جو عشق کرتے ہیں وہ صرف عشق کرتے ہیں کاروبار نہیں کرتے۔ جو نفع نقصان کے چکر میں پڑ جائے وہ عاشق ہو ہی نہیں سکتا؛ یہ کام عقل ہی کو زیب دیتا ہے۔ علامہ اقبال نے بلاغت فرمائی۔ ؎

عقل عیار ہے سو بھیس بنا لیتی ہے

عشق بے چارہ نہ مُلّا ہے نہ زاہد نہ حکیم

جنابِ صدیق ظفر بھی ایک سچے عاشق ہیں لیکن ان کا عشق کسی دنیاوی نعمت سے نہیں، کسی عام انسان سے بھی نہیں، انھوں نے حالات موافق ہونے کے باوجود کبھی اقتدار کے بارے میں بھی نہیں سوچا۔ وہ انتہائی نرم اور میٹھے لہجے میں بات کرنے والے خوش نہاد اور خوش طبع آدمی ہیں اس لیے جاہ و جلال کی خواہش نے انھیں کبھی مغلوب نہیں کیا۔ ان کی بس ایک ہی خواہش ہے ؛ ایک ہی حسرت ہے ؛ ایک ہی مدعا ہے اور ایک ہی راحتِ جاں ہے یعنی سرورِ کائنات، رحمۃ اللعالمین، احمدِ مجتبیٰ حضرت محمد مصطفی صل اللہ علیہ و آلہ و سلم سے دل کیا تھاہ گہرائیوں سے محبت اور اللہ کے بعد اُس کے رسولﷺ کی رضا طلبی۔ ان کے سارے شعر اور ساری شاعری کا محور و مقصد محض اللہ اور اس کے رسولﷺ کی بے پناہ محبت ہے۔ وہ اپنے شعروں میں اس عشق کا اعادہ کرتے رہتے ہیں اور خود کو سگِ درِ رسولﷺ کہنے میں فخر محسوس کرتے ہیں۔ وہ اللہ تعالیٰ سے عشقِ حبیبِ کبریا کی بھیک مانگتے نظر آتے ہیں۔ عشقِ رسولﷺ کی بے پایاں لذتوں میں گندھے ہوئے ذیل کے چند اشعار ان کے اس دعوے کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ ؎

تُو نے مجھے بھی عشقِ حبیبِ خداؐ دیا

مدت سے تھی مجھے اسی نعمت کی جستجو

٭

مجھے عشقِ حبیبِ کبریا دے

نہ مال و سیم و زر، لعل و گہر دے

٭

فاصلے سارے زمانوں کے سمٹ جاتے ہیں

عشق جب اُنؐ کا مرا راہنما ہوتا ہے

٭

محبت، عشق و مستی کا خزانہ

مجھے سرکارؐ کے در سے ملا ہے

٭

محبت ہو نہیں سکتی خدا سے

نہ ہو جب تک حبیبِ کبریاؐ سے

یہ سوزِ عشق ہے اُنؐ کی عنایت

یہ دردِ دِل عطائے مصطفیؐ ہے

’شش جہت‘ کی بلیغ اصطلاح بہت سے شعرا اپنے کلام میں استعمال کرتے ہیں۔ یہی اصطلاح جناب صدیق ظفرؔ نے بھی استعمال کی ہے اور بڑی نفاست اور خوب صورتی کے ساتھ پیش کی ہے۔ میں اس اصطلاح کو اپنے قارئین کے لیے ذرا آسان کرنا چاہتا ہوں تاکہ مفہوم تک رسائی قدرے سہل ہو جائے کیونکہ ایسے اشعار کوزوں کی طرح ہوتے ہیں جن میں پورے پورے دریا سمٹ آتے ہیں۔ شش جہت کو انگریزی زبان میں Three Dimensions کہا جاتا ہے یعنی کسی بھی چیز… جو مادے سے بنی ہو… کے تین ایسے لازمی پہلو کہ اگر ان میں سے ایک پہلو بھی ختم ہو جائے تو باقی دونوں پہلو خود بخود ختم ہو جاتے ہیں اور وہ چیز فنا کے گھاٹ اُتر جاتی ہے۔ کسی بھی مادی وجود کے قیام کے لیے ان تینوں جہتوں کا بیک وقت موجود ہونا لازمی امر ہے۔ یاد رہے کہ ہر جہت کے اپنے دو پہلو ہوتے ہیں۔ ان تینوں جہتوں کے نام درج ذیل ہیں :۔

1۔     لمبائی   2۔    چوڑائی  3۔    اونچائی

لمبائی کے دو پہلو اگر مشرق اور مغرب فرض کر لیے جائیں تو چوڑائی کے دو پہلو شمال اور جنوب بن جائیں گے اور اونچائی کے دو پہلو اوپر اور نیچے۔ اس طرح ان تین بنیادی جہتوں کے چھے پہلو بنتے ہیں جنھیں ’’شش جہت‘‘ کہا جاتا ہے۔ سائنسی لحاظ سے بھی یہ بات ثابت شدہ ہے۔ اس طرح شش جہت میں کائنات کی ساری وسعتیں شمار ہو جاتی ہیں۔ کائنات میں اربوں کہکشائیں اور ہر کہکشاں میں کم از کم ایک ارب ستارے ہوتے ہیں۔ اب تک سائنس دانوں نے جتنی کائنات جدید ترین نظری اور ریڈیائی دوربینوں کے ذریعے کھنگالی ہے اس کی وسعت تیس ارب نوری سال ہے یعنی روشنی ایک لاکھ چھیاسی ہزار میل فی سیکنڈ کی ہیبت ناک رفتار سے تیس (30) ارب سال تک دریافت شدہ کائنات کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک سفر کرتی رہے تب یہ فاصلہ طے ہوتا ہے۔ اس سے آگے کیا ہے اور کتنا ہے صرف ذاتِ باری تعالیٰ ہی کو معلوم ہے … انسان کی عقل اس کا احاطہ کرنے سے مکمل طور پر قاصر ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ شش جہت کہنے کو تو ایک اصطلاح ہے مگر اس کی وسعت انسانی تصور اور خیال سے ماورا ہے۔ لیکن یہ سب کچھ جو ہمیں معلوم ہے اور وہ سب کچھ جو ہمیں نہیں معلوم، مل کر ایک عاشق کے دل میں سما سکتا ہے … …تو پھر عاشق کا دل کتنی وسعت کا حامل ہو گا…… کوئی نہیں جانتا۔

شیخ صدیق ظفرؔ کا شعر آپ کی خدمت میں پیش کر دیتا ہوں۔ جہاں تک میرا خیال ہے یہ شعر انھوں نے ہرگز نہیں تراشا ہو گا بلکہ یہ یقیناً ان پر الہام ہوا ہو گا۔ مجھے صرف اتنا پتا ہے کہ اس طرح کا الہام بھی ہر ایرے غیرے پر نہیں ہوا کرتا۔ شعر پڑھیے، سمجھ میں آ جائے تو اللہ کا شکر ادا کیجیے، میرے اور صدیق ظفرؔ صاحب کے لیے دعا فرما دیجیے۔    ؎

خدا ہے شش جہت میں جلوہ فرما

خدا عشاق کے دل میں مکیں ہے

’’خزینۂ حمد و نعت‘‘ بجائے خود ایک بحرِ بے کراں ہے، سُچے موتی چننے کے لیے واحد شرط غوّاصی ہے۔ بقولِ غالبؔ      ع     صلائے عام ہے یارانِ نکتہ داں کے لیے     وما علینا الا البلاغ

دعاؤں کا طالب

سیّد غلام مجتبیٰ

 

 

 

چھڑا تذکرہ تری حمد کا تو ظفرؔ بس اتنا ہی کہہ سکا

تُو عظیم ہے، تُو عظیم ہے، تُو عظیم ہے، تُو عظیم ہے


 

تُو رؤف ہے تُو رحیم ہے، تُو عظیم ہے تُو عظیم ہے

تُو حلیم ہے تُو کریم ہے، تُو عظیم ہے تُو عظیم ہے

تُو خیال میں نہ سما سکے، تُو نظر کسی کو نہ آ سکے

دِلِ عاشقاں میں مقیم ہے، تُو عظیم ہے تُو عظیم ہے

ہیں سبھی ملائک و انس و جاں، ترے حمد گو، ترے مدح خواں

یہی وردِ بادِ نسیم ہے، تُو عظیم ہے تُو عظیم ہے

تُو اُسی کے شر سے ہمیں بچا، جو دلوں میں ڈالے ہے وسوسہ

جو غنیم ہے جو رجیم ہے، تُو عظیم ہے تُو عظیم ہے

ہمیں ساحروں سے بھی تُو بچا، ہمیں حاسدوں سے بھی تُو بچا

تُو ہے چارہ گر تُو حکیم ہے، تُو عظیم ہے تُو عظیم ہے

کبھی ہم نشین حبیب تُو، سرِ عرش اُنؐ کے قریب تُو

کبھی ہم کلامِ کلیم ہے، تُو عظیم ہے تُو عظیم ہے

چھڑا تذکرہ تری حمد کا تو ظفرؔ بس اتنا ہی کَہ سکا

تُو عظیم ہے، تُو عظیم ہے، تُو عظیم ہے، تُو عظیم ہے

٭٭٭

 

زمین و آسماں اُس کے، مکان و لامکاں اُس کے

سمندر، کوہ و بن اُس کے، ہیں دریائے رواں اُس کے

اُسی کی سب ہوائیں، سب فضائیں، سب خلائیں ہیں

خزائن جتنے ہیں زیرِ زمیں، مخفی، نہاں، اُس کے

نگہباں ہے وہی سب کا، وہی سب کا محافظ ہے

سبھی معصوم بچے بھی، سبھی پیر و جواں اُس کے

وہی ہے خالقِ دنیا، وہی ہے مالکِ عقبیٰ

ملائک بھی سبھی اُس کے، سبھی ہیں اِنس و جاں اُس کے

اُسی کی شاہراہیں سب، ہر اک رستہ ڈگر اُس کی

سوئے طیبہ رواں جتنے ہیں، سب ہیں کارواں اُس کے

اُسی کا ذِکر ہر لمحہ، اُسی کی فکر ہر لحظہ

وظائف ہیں سبھی عُشاق کے وردِ زباں اُس کے

اُنھیؐ کے واسطے سب کچھ بنایا حق تعالیٰ نے

ظفرؔ! محبوبِ یزداں ہیں وہ محبوبِ زماں اُس کے

٭٭٭

 

محبت کا جہاں آباد مولا

کروں میں تم سے ہی فریاد مولا

ترے محبوبؐ کی اُمت پریشاں

تری مخلوق ہے ناشاد مولا

خُدایا! پھر سے شاد آباد کر دے

جو ہیں بے خانماں برباد مولا

مظالم سہتے سہتے عمر گزری

تُو کر دے رنج سے آزاد، مولا

رہے حمدِ خُدا میری زباں پر

رہے دِل میں نبیؐ کی یاد مولا

درِ کعبہ پہ ہوں میں سر بسجدہ

مدینہ کی ہے دل میں یاد مولا

ترے محبوبؐ کا عاشق ہوں میں بھی

ظفرؔ کو دے تُو اِس کی داد مولا

٭٭٭

 

زباں پر حمدِ باری ہے مرے آنسو نہیں تھمتے

خُدا کا خوف طاری ہے، مرے آنسو نہیں تھمتے

خُدا کا ذِکر کرتی ہیں مسلسل اشکبار آنکھیں

عبادت میری جاری ہے، مرے آنسو نہیں تھمتے

خُدا کی یاد میں گریاں جو میں نے دن گزارا ہے

تو شب رو رو گزاری ہے، مرے آنسو نہیں تھمتے

سرایت کر گیا اسمِ خُدا ایسے رگ و پے میں

عجب سی بے قراری ہے، مرے آنسو نہیں تھمتے

عطا کر کے خُدا نے عشقِ محبوبِؐ خُدا مُجھ کو

مری قسمت سنواری ہے، مرے آنسو نہیں تھمتے

خُدا محبوبؐ کا صدقہ کرم فرمائے اُمت پر

یہی گریہ و زاری ہے، مرے آنسو نہیں تھمتے

خُدا کا ذِکر، یادِ مصطفیؐ، باہم ظفرؔ میں نے

دِل و جاں میں اُتاری ہے، مرے آنسو نہیں تھمتے

٭٭٭

 

سرورِ قلب و جاں، اللہ ہی اللہ

کہاں تُو، میں کہاں، اللہ ہی اللہ

نہاں یادِ خُدا ہے دِل میں میرے

عیاں وردِ زباں، اللہ ہی اللہ

طیور و جن و انسان و ملائک

سبھی رطبُ اللساں، اللہ ہی اللہ

تمامی اولیاء بھی، انبیاء بھی

کریں ہر دم بیاں، اللہ ہی اللہ

ہوئے تخلیق پل میں سارے عالم

صدائے کُن فکاں، اللہ ہی اللہ

وہی محبوبِؐ ربّ العالمیں ہیں

وہ رحمت کے جہاں، اللہ ہی اللہ

ظفرؔ! عُشاق کی جنت زمیں پر

نبیؐ کا آستاں، اللہ ہی اللہ

٭٭٭

 

زماں سب حمد میں مصروف ہر دم

خُدا کی ذات قائم اور دائم

خُدا خالق، خُدا مالک ہمارا

خُدا حاکم ہے اور محکوم ہیں ہم

خُدا حاجت روا ہے، چارہ گر ہے

تو پھر کس بات کا اندیشہ و غم

خُدا کی نعمتیں بے انتہا ہیں

خُدا کا شکر ہم کرتے ہیں کم کم

رہے ذِکرِ خُدا ہر دم زباں پر

سماں کیسا بھی ہو، کیسا ہو موسم

خُدا کی حمد گونجے ہر جہاں میں

کبھی نہ گونج اِس کی ہو گی مدھم

بوقتِ حمدِ یزداں، نعتِ احمدؐ

ظفرؔ کا جسم لرزاں، چشم پُر نم

٭٭٭

 

خُدا جب عظمت و قدرت دکھائے

سمندر، ایک قطرے کو بنائے

خُدا کی یاد جو دِل میں بسا لیں

خُدا اُن کی جبیں پر نور لائے

خُدا رکھے ہمیں اپنی اماں میں

نہ مرض و امتحاں سے آزمائے

خُدا محفوظ رکھے حاسدوں سے

عُدو، اشرار کے شر سے بچائے

نظر کن سوئے ما حرماں نصیباں

رحیم و قادرِ مطلق خُدائے

مریضِ نیم بسمل نیم جاں را

رساں مژدۂ روح و جانفزائے

ظفرؔ مسکین و عاجز بے نواست

کرم بر حالِ اُو ادنیٰ گدائے

٭٭٭

 

خُداوندِ مکان و لا مکاں ہے

خُداوندِ زمین و آسماں ہے

خُداوندِ جہاں، رازِ نہاں ہے

حبیبِ کبریاؐ، بس راز داں ہے

یہاں ہر چیز فانی، آنی جانی

خُدا کی ذات قائم، جاوداں ہے

فضا و بحر و بر، ابر رواں میں

خُدا کا ذِکر جاری ہے، عیاں ہے

خُدا کے ذِکر سے سانسیں رواں ہیں

خُدا کی یاد سے ہی جاں میں جاں ہے

خُدا کی عظمتوں کا مُعترف میں

مرا سوزِ درُوں، قلبِ تپاں ہے

ظفرؔ یاں سر خمیدہ، دم کشیدہ

یہ بیت اللہ، عظمت کا جہاں ہے

٭٭٭

 

خُدا ارفع و اعلیٰ محترم ہے

اُسے زیبا ہر اک جاہ و حشم ہے

اُسی کے ذِکر سے دِل مطمئن ہیں

اُسی کی فکر میں ہر چشم نم ہے

خُدا کا نام پل پل، لمحہ لمحہ

یہی میرا وظیفہ دم بدم ہے

خدا کے سامنے گریہ کناں ہوں

ہر عاشق زار میرا ہم قدم ہے

فنا فی اللہ جو ہیں اُن کو بھلا کیا

ملالِ بیش و کم، شادی و غم ہے

ثنا گو ہوں خُدا کا، مصطفیؐ کا

یہ کیا میرے لیے اعزاز کم ہے

ظفرؔ سے عاصیوں کا، بے کسوں کا

خُدائے مصطفیؐ رکھتا بھرم ہے

٭٭٭

 

مرا ستّار ہے، میرا خُدا ہے

مرا غفّار ہے، میرا خُدا ہے

مرے دِل میں بسا رہتا ہے ہر دم

مرا دِلدار ہے، میرا خُدا ہے

مرا ہر زخم بھر دیتا ہے پل میں

مرا غم خوار ہے، میرا خُدا ہے

وہی روزی رساں ہے عالمیں کا

وہ پالن ہار ہے، میرا خُدا ہے

وہاں وہ دستگیرِ رہرواں ہے

جو رہ دشوار ہے، میرا خُدا ہے

جسے چاہے وہ عزت سے نوازے

وہ خود مختار ہے، میرا خُدا ہے

ہے عفو و درگزر جس کا وتیرہ

ظفرؔ سرشار ہے، میرا خُدا ہے

٭٭٭

دا کی عظمتیں ہر پل عیاں ہیں

خُدا کی طاقتیں ہر پل عیاں ہیں

ہر اک اہلِ نظر، ہر دیدہ ور پہ

خُدا کی قدرتیں ہر پل عیاں ہیں

خُدا ہی خالقِ کون و مکاں ہے

خُدا کی رفعتیں ہر پل عیاں ہیں

خُدا روزی رساں سب عالمیں کا

خُدا کی نعمتیں ہر پل عیاں ہیں

خُدا دیتا ہے عزت، جاہ و حشمت

عطائیں، بخششیں ہر پل عیاں ہیں

خُدا کی اور محبوبِؐ خُدا کی

عطائیں، شفقتیں ہر پل عیاں ہیں

خُدا کی حمد ہر دم، نعت ہر پل

ظفرؔ کی چاہتیں ہر پل عیاں ہیں

٭٭٭

 

 

 

خُدا مُجھ پر بھی وقتِ سعد لائے

مری نس نس میں اللّٰہٗ سمائے

خُدا کے فضل سے ہو قلب جاری

زباں پر بھی خُدا کا نام آئے

خُدا بیدار کر دے بخت میرے

مرا سویا نصیبہ بھی جگائے

ہے ویراں جس کسی کا خانۂ دِل

خُدا کی یاد سے دِل کو سجائے

خُدا کا ذِکر ہو جس گھر میں پیہم

سدا ابرِ کرم اُس گھر پہ چھائے

مری فریاد پہنچائے خُدارا

خُدا کے گھر جو عاشق زار جائے

ظفرؔ! الطافِ محبوبِؐ خُدا کے

رہیں قائم سدا اُمت پہ سائے

٭٭٭

 

خُداوندِ کون و مکاں، اللہ اللہ

خُدائے نہاں و عیاں، اللہ اللہ

کیے جس نے تخلیق سارے زمانے

وہ صوت و صدا کُن فکاں، اللہ اللہ

خُدا کی خُدائی کے عکاس و مظہر

زمیں، آسماں، کہکشاں، اللہ اللہ

یہ دشت و جبل، بحر و بر، چاند تارے

پکاریں سبھی اِنس و جاں، اللہ اللہ

ہر اک طائرِ خوشنوا، غنچہ و گُل

پڑھے ہر چمن، گُلستاں، اللہ اللہ

ہے اسمِ خُدا قلب و جاں میں سمایا

مسلسل ہے وردِ زباں، اللہ اللہ

ظفرؔ! آستانِ حبیبِ خُداؐ ہے

محبت نشاں، ضو فشاں، اللہ اللہ

٭٭٭

 

خُدائے مہرباں کی ذاتِ باری

نگہبان و محافظ ہے ہماری

خُدا کے فضل کا، لُطف و کرم کا

سخا کا سلسلہ ہر آن جاری

وہ مخلوقات کا روزی رساں ہے

اُسی خالق کی ہے مخلوق ساری

وہی بادِ صبا، ابرِ کرم سے

کرے بنجر زمیں کی آبیاری

وہ کانٹوں میں اُگائے پھُول کلیاں

کرے کچھ اس طرح پیوند کاری

شہیدوں پر خُدا کی رحمتیں ہوں

جنھوں نے دین پر جاں اپنی واری

ظفرؔ مانگے خُدا سے عشقِ احمدؐ

یہی ہے روز و شب، گِریہ و زاری

٭٭٭

 

جلالِ کبریا پیشِ نظر ہے

جمالِ مصطفیؐ پیشِ نظر ہے

خُدا کا ہے بڑا احسان مُجھ پر

محمدؐ، باخُدا، پیشِ نظر ہے

خُدا کی عظمتوں کا، رفعتوں کا

عظیم اک سلسلہ پیشِ نظر ہے

خُدا کے لُطف کا، جُود و سخا کا

کرم کا مرحلہ پیشِ نظر ہے

خُدا کے گھر کی جانب جو رواں ہے

وہ سِیدھا راستا پیشِ نظر ہے

وہ جائیں گے جو بُلوائے گئے ہیں

خُدا کا فیصلہ پیشِ نظر ہے

ظفرؔ پر ہر نوازش ہے خُدا کی

نبیؐ کی ہر عطا پیشِ نظر ہے

٭٭٭

 

خُدائے پاک ربّ العالمیں ہے

محمدؐ رحمۃ اللعالمیں ہے

خُدا بندے کی شہ رگ سے قریں تر

حبیبِ کبریاؐ دِل کے قریں ہے

مسلسل بندگی ربّ العلیٰ کی

نبیؐ کی یاد ہر دم دِلنشیں ہے

مگن حمدِ خُدا، نعتِ نبیؐ میں

مکان و لامکاں ہے، ہر مکیں ہے

خُدا ستّار بھی، غفّار بھی ہے

رسول اللہؐ، شفیع المذنبیں ہے

جو عاشق ہیں خُدا و مصطفیؐ کے

مُنوّر اُن کا دِل، روشن جبیں ہے

خُدا سا، اور محبوبِ خُداؐ سا

ظفرؔ! کوئی نہیں، کوئی نہیں ہے

٭٭٭

 

خُدا کو جب بھی طُوفاں میں پُکارا

بھنور نے سطحِ دریا پر اُبھارا

لبِ ساحل خُدا لے آیا مُجھ کو

کیا منجدھار میں پیدا کنارا

بچاتا ہے خُدا ہی ڈوبنے سے

وہی دیتا ہے تنکے کا سہارا

خُدا کا ذِکر، ذِکرِ دِلکشا ہے

خُدا کا ذِکر، دِلکش ہے دِلآرا

بسایا میں نے تن من میں خُدا کو

خُدا کا نام ہی دِل میں اُتارا

خُدا کی یاد ہی میں شب گزاری

خُدا کی یاد میں دِن بھی گزارا

خُدا کی بارگہ میں عرض کر کے

ظفرؔ نے کام ہر بِگڑا سنوارا

٭٭٭

 

 

خُدا کا ذِکر دِل میں، آنکھ نم ہے

خُدا کا لُطف پیہم ہے، کرم ہے

خُدا کی یاد سے دِل کھِل اُٹھا ہے

خوشی ہر سُو ہے، اب کوئی نہ غم ہے

وہی ہم دم ہے، دم سازِ غریباں

کرم فرما ہمیشہ، دم بدم ہے

وہ سیدھی رہ دکھائے گُمرہوں کو

گنہ گاروں کا بھی رکھتا بھرم ہے

٭٭٭

 

 

 

 

 

خُدا کا خانہ کعبہ دِل کُشا ہے

حبیب اللہؐ کا دِل کش حرم ہے

جھُکا ہے سر نبیؐ کے آستاں پر

ہیں لکھتے نعت آنسو، سر قلم ہے

تُو دربانِ حبیبِ کبریاؐ ہے

ظفرؔ! تیرا یہ کیا اعزاز کم ہے

خُدا کی ذات وہ سِرِّ نہاں ہے

جو موجُودات میں واضح عیاں ہے

وہی ہے خالقِ کون و مکاں جو

مسیحائے ہمہ مُردہ دِلاں ہے

وہی ہے مالکِ کُل، خالقِ کُل

وہ مخلوقات کا روزی رساں ہے

گزرگاہِ خُدا ہے چشمِ گِریاں

یا پھر عُشاق کا قلبِ تپاں ہے

نبی اللہؐ، کلام اللہ سُنائے

حبیب اللہؐ، خُدا کا ترجماں ہے

یہی خُلدِ بریں، باغِ جناں ہے

ترے محبوبؐ کا جو آستاں ہے

ظفرؔ کی لاج رکھ لینا خُدایا!

مسافر جانبِ طیبہ رواں ہے

٭٭٭

 

 

 

خدا کا خوف جس دل میں سمائے

وہ عاشق زار خود روئے، رُلائے

جمالِ کبریا جو دیکھ پائے

وہ رکھے راز، سینے میں چھپائے

کرے حمد و ثنا عاشق وہ ہر پل

خدا کی عظمتوں کے گیت گائے

ولی ہے، جو ہے مجذوب و قلندر

سلام اس کو کریں اپنے پرائے

جو ناداں شخص اسے مجنون سمجھے

تو دانا راہ میں آنکھیں بچھائے

ستائے نہ کوئی ان عاشقوں کو

کبھی کوئی نہ ان کا دل دُکھائے

خدا حافظ ظفرؔ عشاق کا ہے

نبیؐ کی رحمتوں کے اِن پہ سائے

٭٭٭

 

خدا ہے حامی و ناصِر ہمارا

خدا ہے بے سہاروں کا سہارا

خدا ابرِ کرم فیض و عطا کا

محبت کا، خدا ہے استعارہ

بچاتا ہے خدا ہی ڈُوبنے سے

بھلا دیتا ہے تنکا بھی سہارا

خدا کے حکم سے طوفان میں بھی

مجھے ساحل پہ موجوں نے اُتارا

مرا چہرہ بہت ہی بدنما تھا

خدا نے دستِ قدرت سے سنوارا

چہ گویم حالِ ما بر تو عیانست

نگاہے سوئے من گاہے خدا را

ظفرؔ مسکین و عاجز بندۂ تو

نواز ایں کہتر و کمتر گدا را

٭٭٭

 

خدا کا گھر درخشاں، ضو فشاں ہے

اُسی جانب رواں ہر کارواں ہے

یہی گھر مرکزِ اجماعِ اُمت

مسلمانوں کی وحدت کا نشاں ہے

یہی گھر منزلِ انسانیت ہے

یہی امن و سکوں کا ترجماں ہے

مقام اس کا فزوں تر سدرہ سے بھی

اگرچہ گھر یہ زیرِ آسماں ہے

طواف اس کا کریں جن و ملائک

یہی معمولِ انساں جاوداں ہے

سبھی کا پیرہن ہے اُجلا اُجلا

سفید احرام کا سیلِ رواں ہے

ظفرؔ کعبے کا کعبہ جانتے ہو

حبیبِ کبریاؐ کا آستاں ہے

٭٭٭

خدا کا ذکر، ذکرِ دلکشا ہے

خدا کا ذکر ذکرِ جانفزا ہے

خدا کا ذکر جب نازل ہو دل پر

لرزتا ہے بدن، دل کانپتا ہے

خدا ہے کارسازِ درد منداں

مریضوں کو خدا دیتا شفا ہے

خدا کے نام کا چرچا جہاں میں

خدا کا نام ہر سو گونجتا ہے

خدا ہے جاوداں تا ابد الآباد

خدا قیوم و دائم ہے سدا ہے

خدا رستہ دکھائے منزلوں کا

خدا رہبر ہے، سب کا رہنما ہے

خدا سے مانگ جو کچھ مانگنا ہے

ظفرؔ! داتا سخی سب سے بڑا ہے

٭٭٭

 

 

ترا فضل و کرم بے انتہا ہے

ترے جُود و سخا کا غلغلہ ہے

خدا موجود ہر جا، ہر کہیں ہے

وہی پائے اُسے جو ڈھونڈتا ہے

خدا نے کی عطا ہر ایک نعمت

خدا سے ہی ملا جو کچھ ملا ہے

نہیں حسرت رہی کوئی بھی باقی

ملا عشقِ حبیبِ کبریاؐ ہے

خدا سے مانگ جو دیتا ہے سب کو

تو بندوں سے بھلا کیوں مانگتا ہے

وہ دیتا ہے بشارت عاشقوں کو

مگر پہلے پرکھتا جانچتا ہے

تو قطرے کو بنا ڈالے سمندر

ظفرؔ! تیری سخاوت جانتا ہے

٭٭٭

 

ادب سے سر جھکا، بیٹھے ہوئے ہیں

حضورِ کبریا بیٹھے ہوئے ہیں

خدا کے رُوبرو بندے خدا کے

بفیضِ مصطفیٰؐ بیٹھے ہوئے ہیں

خدا کے ساتھ ہی معراج کی شب

حبیبِ کبریاؐ بیٹھے ہوئے ہیں

یہاں سب انبیا و اولیا بھی

اُٹھا دستِ دعا بیٹھے ہوئے ہیں

وہ مجذوب و قلندر سر بکف ہیں

جو عاشق با خدا بیٹھے ہوئے ہیں

شہیدوں کا نگہباں خود خدا ہے

جو اپنے سر کٹا بیٹھے ہوئے ہیں

خدا و مصطفیٰؐ سے خیر لینے

ظفرؔ جیسے گدا بیٹھے ہوئے ہیں

٭٭٭

 

خدا کے ماسوا کوئی نہیں ہے

سہارا، آسرا کوئی نہیں ہے

خدا سے سیم و زر سب مانگتے ہیں

محبت مانگتا کوئی نہیں ہے

سوائے عشقِ محبوبِ خداؐ کے

مرا حرفِ دعا کوئی نہیں ہے

خدا اُمت کی کشتی کا نگہباں

کہ اس کا ناخدا کوئی نہیں ہے

جو سارے راہبر ہی راہزن ہوں

تو رستہ سُوجھتا کوئی نہیں ہے

سوائے نقشِ پائے مصطفیٰؐ کے

حرم کا راستا کوئی نہیں ہے

ہے کیوں مایوس یوں ایسے کہ جیسے

ظفرؔ تیرا خدا کوئی نہیں ہے

٭٭٭

 

خدا کے سامنے سر کو جھکا دو

اذاں سلطانِ جابر کو سنا دو

رواں ہوں قافلے کعبہ کی جانب

صنم جو راستا روکیں گرا دو

منافق جو تمھارے درمیاں ہیں

نشاں تم اُن کو عبرت کا بنا دو

کوئی خائن ہو غاصب حکمراں ہو

اُسے تم جاہ و منصب سے ہٹا دو

ملے راہی جو کوئی بھولا بھٹکا

صراطِ مستقیم اُس کو دکھا دو

خدا سے ہر کسی کی خیر مانگو

دعا مانگو، کبھی نہ بددعا دو

ظفرؔ مانگے خدا سے گڑ گڑا کر

خدا را عشقِ محبوبِ خداؐ دو

٭٭٭

 

خدا کا ذکر جس دل میں سمائے

نصیبہ اُس کا چمکے، رنگ لائے

خدا اُس کو بچا لے حاسدوں سے

اُسے دامانِ رحمت میں چھُپائے

رہے محفوظ وہ ہر ایک شر سے

سلام اُس کو کریں اپنے پرائے

سوا نیزے پہ جب آ جائے سورج

رہیں ابرِ کرم کے اس پہ سائے

جھلک دیکھے وہ انوارِ خدا کی

وہ عاشق پیاس یوں اپنی بجھائے

ولی اللہ بن جائے وہ بندہ

خدا کی عظمتوں کے گیت گائے

مہرباں دیکھ محبوبِ خداؐ کو

ظفرؔ روئے خوشی سے، مُسکرائے

٭٭٭

 

خدا کے عشق میں مسرور رہنا

سرور و کیف سے مخمور رہنا

بسا لینا خدا کو قلب و جاں میں

جمالِ فیض سے معمور رہنا

خدا کے دوستوں کے پاؤں چھونا

خدا کے دشمنوں سے دُور رہنا

ہر اک انسان کے دُکھ بانٹ لینا

غمِ اُمت میں بھی رنجور رہنا

خدا کی حمد، نعتِ مصطفیٰؐ بھی

ہے یہ عشاق کا منشور رہنا

رہوں آقاؐ کے قدموں میں ہمیشہ

خدا کر لے مرا منظور، رہنا

سگِ در تم ہو محبوبِ خداؐ کے

بایں نسبت ظفرؔ مشہور رہنا

٭٭٭

 

خدا فرمانروا، حاجت روا ہے، خدا اکبر ہے اعظم ہے بڑا ہے

خدا کا اعلیٰ ارفع مرتبہ ہے، خدا اکبر ہے اعظم ہے بڑا ہے

خدا کی حمد جاری چارسُو ہے، مکان و لامکاں میں کُو بہ کُو ہے

یہی اقوامِ عالم کی صدا ہے، خدا اکبر ہے اعظم ہے بڑا ہے

ملائک سر بسجدہ، انس و جاں بھی، ہیں مصروفِ ثنا کون و مکاں بھی

گل و بلبل ہے، طائر خوشنوا ہے، خدا اکبر ہے اعظم ہے بڑا ہے

کریں حمد و ثنا صحرا گلستاں، کریں حمد و ثنا کوہ و بیاباں

خدا کا نام ہر پل گونجتا ہے، خدا اکبر ہے اعظم ہے بڑا ہے

ارادوں کو ہمارے بھانپ لے وہ، ہماری لغزشوں کو ڈھانپ لے وہ

وہی آتی بلا کو ٹالتا ہے، خدا اکبر ہے اعظم ہے بڑا ہے

وہی ہے اوّل و آخر وہی ہے، وہی مستور بھی ظاہر وہی ہے

خدا ہی قائم و دائم سدا ہے، خدا اکبر ہے اعظم ہے بڑا ہے

خدا کا اسم اسمِ دلکشا ہے، خدا کا اسم اسمِ جانفزا ہے

ظفرؔ یہ اسمِ اعظم با خدا ہے، خدا اکبر ہے اعظم ہے بڑا ہے

٭٭٭

 

خدا سے وصل ہو دل چاہتا ہے

مگر یہ سوچ کر دل کانپتا ہے

خدائے پاک کو دل میں بسا لوں

یہی مقصود ہے، یہ منتہا ہے

پجاری یاں کوئی حرص و ہوس کا

کوئی یاں مال و زر کو پوجتا ہے

کہیں قارون کی فرماں روائی

کہیں فرعون بن بیٹھا خدا ہے

کہیں شدّاد کی جھُوٹی ہے جنت

کہیں نمرود کا آتش کدہ ہے

خدا سے وصل ممکن کس طرح ہو

بڑا درپیش مشکل مرحلہ ہے

خدا دل میں ترے جلوہ نما ہے

ظفرؔ تو کس خدا کو ڈھونڈتا ہے

٭٭٭

 

خدا پروردگارِ عالمیں ہے

خدا کے ماسوا کوئی نہیں ہے

خدا موجود خلوت جلوتوں میں

خدا ہر بزم میں مسند نشیں ہے

خدا ہے شش جہت میں جلوہ فرما

خدا عشاق کے دل میں مکیں ہے

خدا کے نور سے روشن زمانے

منور مہر و مہ، عرشِ بریں ہے

خدا کے سامنے سجدہ کناں ہوں

جھکی پیشِ خدا میری جبیں ہے

خدا کے نور سے ہر دم درخشاں

نبیؐ کا آستاں ہے بالیقیں ہے

خدا کی حمد، نعتِ مصطفیٰؐ کا

ظفرؔ انداز تیرا دل نشیں ہے

٭٭٭

 

ترا لطف و کرم بے انتہا ہے

تُو مخلوقات کا حاجت روا ہے

مرا تیرے سوا کوئی نہیں ہے

مجھے تیرے کرم کا آسرا ہے

عبث ڈھونڈا کیا دیر و حرم میں

خدا میرے دل و جاں میں بسا ہے

کرے نامِ خدا دل میں چراغاں

مرے کانوں میں بھی رس گھولتا ہے

جو نیکی کر تو دریا میں بہا دے

تو اپنی نیکیاں کیوں تولتا ہے

نمازوں میں خدا کو دیکھ تُو بھی

تجھے تیرا خدا تو دیکھتا ہے

فنا فی اللہ جو ہو خود کو مٹا دے

ظفرؔ عاشق وہی تو با خدا ہے

٭٭٭

 

سخی داتا نہ کوئی تیرے جیسا

نہیں مجھ سا کوئی مسکین منگتا

ہے تو رزاق سب کا میرے مولا

گداگر کوئی بھی احقر نہ مجھ سا

دکھا مجھ کو خدایا سیدھا رستہ

میں گم گشتہ مسافر بھولا بھٹکا

مسلماں منتشر ہیں دل شکستہ

زبوں حالیِ اُمت روح فرسا

بلا کا حبس ہے میرے خدایا

تو اپنی رحمتوں کا ابر برسا

ہو چرچا پھر سے دینِ مصطفیٰؐ کا

خداوندا مدد فرما خدارا

پلٹ آئے وہ مدنی عہدِ رفتہ

ظفرؔ مانگے دعا یہ دست بستہ

٭٭٭

 

مرا وردِ زباں اللہ اکبر

سرورِ جسم و جاں اللہ اکبر

مری نس نس میں اللہ ہُو سمایا

کہے قلبِ تپاں اللہ اکبر

کہیں صحرا و دریا و سمندر

کہے ہر گلستاں اللہ اکبر

پکاریں انبیا و اولیا بھی

پُکاریں اِنس و جاں اللہ اکبر

خدا اعلیٰ و ارفع محترم ہے

خدا عظمت نشاں اللہ اکبر

نہ تھا، کوئی نہ ہے ہو گا نہ کوئی

خدا سا مہرباں اللہ اکبر

ظفرؔ اک سانس بھی ہرگز نہ لینا

نہ ہو جس میں بیاں اللہ اکبر

٭٭٭

 

خدا خالق ہے مالک محترم ہے

مکرم ہے، معظم محتشم ہے

خدا کا ذکر ہے قلبِ تپاں میں

خدا کی یاد ہی میں چشمِ نم ہے

نہ کچھ اندیشۂ سود و زیاں ہے

مجھے کوئی نہ فکرِ بیش و کم ہے

کچھ ایسا کیف ہے لا یحزنو میں

خوشی میری نہ کوئی میرا غم ہے

خدا ستّار ہے غفّار میرا

وہی رکھتا سدا میرا بھرم ہے

طوافِ کعبہ میں ہوں منہمک میں

مرا ہم زاد میرا ہم قدم ہے

خدا کی یاد سے غافل نہ ہونا

ظفرؔ جب تک تمھارے دم میں دم ہے

٭٭٭

 

حوالہ ہے تُو عفو و درگزر کا، کہ تو ستّار بھی غفّار بھی ہے

خطائیں بخش دے ساری خدایا! کہ تو ستّار بھی غفّار بھی ہے

ترے محبوبؐ کی اُمت پریشاں، تری نگہِ کرم ہر دُکھ کا درماں

تُو اپنی رحمتوں کا ابر برسا، کہ تو ستّار بھی غفّار بھی ہے

نماز و روزہ و تسبیح اذانیں، دکھاوے کے لیے اونچی دکانیں

عبادت کا ہمیں مفہوم سمجھا، کہ تو ستّار بھی غفّار بھی ہے

مروّت حِلم ہو انساں کا شیوہ، محبت اور خدمت کا بھی جذبہ

تری رحمت پہ بھی رکھیں بھروسا، کہ تو ستّار بھی غفّار بھی ہے

ہے تُو روزی رسانِ کافراں بھی، ہے تو حاجت روائے مومناں بھی

کوئی تجھ سا سخی داتا نہ دیکھا، کہ تو ستّار بھی غفّار بھی ہے

ابابیل آئے خونیں سنگ اُٹھائے، فرشتے بھی ترے نصرت کو آئے

وہی مکی و مدنی دور لوٹا، کہ تو ستّار بھی غفّار بھی ہے

ظفرؔ مانا کہ عاصی پُر خطا ہے، خداوندا یہ بندہ تو ترا ہے

بھرم رکھ لے گدائے بے نوا کا، کہ تو ستّار بھی غفّار بھی ہے

٭٭٭

 

محبت ہو نہیں سکتی خدا سے

نہ ہو جب تک حبیبِ کبریاؐ سے

کروں حمدِ خدا کیسے بیاں میں

نہ ہو گا حق ادا مجھ بے نوا سے

خدا کا ذکر جاری لامکاں میں

زمانے گونجتے حمد و ثنا سے

خدا ہم کو ہر اک شر سے بچائے

ہمیں محفوظ رکھے ہر بلا سے

جو انسانوں کو طوفاں سے نکالے

خدا راضی ہو ایسے ناخدا سے

کریں امداد مخلوقِ خدا کی

عبادت ہو ادا کچھ اس ادا سے

ہے میری بندگی بندوں کی خدمت

ظفرؔ انداز ہیں میرے جدا سے

٭٭٭

تُو اپنی رحمتوں کا ابر برسا، خداوندا تُو ہم پہ رحم فرما

کوئی ناصر نہ مُونس تیرے جیسا، خداوندا تُو ہم پہ رحم فرما

ترے محبوبؐ کی امت پریشاں، بھنور طوفان میں غلطاں و پیچاں

ہے ساحل دُور اوجھل ہے کنارا، خداوندا تُو ہم پہ رحم فرما

یہاں انسان کا قاتل ہے انساں، بنی ارضِ وطن دہشت کا عنواں

یہاں ہر آن جاں جانے کا کھٹکا، خداوندا تُو ہم پہ رحم فرما

یہاں ہر آنکھ نم ہر چشم گریاں، الم انگیز یاں شامِ غریباں

مسلسل سلسلہ آہ و بکا کا، خداوندا تُو ہم پہ رحم فرما

وہ توڑیں ملک وہ دل توڑتے ہیں، نہیں وہ ٹوٹے رشتے جوڑتے ہیں

بنے جو قوم کے ہیں کرتا دھرتا، خداوندا تُو ہم پہ رحم فرما

یہاں چھینی گئی آزادیاں ہیں، یہاں روتی سسکتی وادیاں ہیں

یاں انبوہِ غریباں بھوکا پیاسا، خداوندا تُو ہم پہ رحم فرما

نڈھال اُمت کو پھر سے کامراں کر، تُو ارضِ پاک کو رشکِ جناں کر

ظفرؔ یہ عرض کرتا ہے خدارا، خداوندا تُو ہم پہ رحم فرما

وہ یکتا منفرد سب سے جدا ہے، خدائے مصطفیٰؐ میرا خدا ہے

٭٭٭

 

 

وہی سب ناخداؤں کا خدا ہے، خدائے مصطفیٰؐ میرا خدا ہے

خدا گرتے ہووں کو تھامتا ہے، خدا بے آسروں کا آسرا ہے

خدا حاجت روا مشکل کشا ہے، خدائے مصطفیٰؐ میرا خدا ہے

وہی جو رحمۃ اللعالمیںؐ ہیں، وہی جو کہ شفیع المذنبیں ہیں

خدا نے خود اُنھیں احمدؐ کہا ہے، خدائے مصطفیٰؐ میرا خدا ہے

خدا نے عرش پر اُنؐ کو بلایا، شفاعت کا اُنھیں مژدہ سنایا

خدا نے اُنؐ کو یہ رُتبہ دیا ہے، خدائے مصطفیٰؐ میرا خدا ہے

اُنھیںؐ رہبر زمانوں کا بنایا، اُنھیںؐ قاسم خزانوں کا بنایا

خدا دیتا، محمدؐ بانٹتا ہے، خدائے مصطفیٰؐ میرا خدا ہے

وہی لا ریب محبوبِ خدا ہیں، وہی بیشک حبیبِ کبریاؐ ہیں

درود اُنؐ پر خدا بھیجے سدا ہے، خدائے مصطفیٰؐ میرا خدا ہے

مرا معمول بس حمد و ثنا ہے، مرا معمول نعتِ مصطفیٰؐ ہے

ظفرؔ صدیق کے دل کی صدا ہے، خدائے مصطفیٰؐ میرا خدا ہے

٭٭٭

حوالہ ہے وہ عفو و درگزر کا

وہی ہے رہنما مجھ بے بصر کا

تصور میں خدا کے رُوبرو میں

ہوں رہتا سر خمیدہ، دست بستہ

نہیں تیرے سوا معبود کوئی

سمجھ جائے گا انساں رفتہ رفتہ

محبت گر کرے انساں خدا سے

رہے اس کو نہ کوئی ڈر نہ کھٹکا

کرے انساں ہر انساں سے محبت

ہے یہ منشور انساں کی بقا کا

ہمارے راہبر ہی راہزن ہیں

دِکھا ان کو خدایا سیدھا رستہ

ترے لطف و کرم سے شادماں ہے

ظفرؔ تھا دل گرفتہ، دل شکستہ

خدا نے مجھ کو یہ اعزاز بخشا

٭٭٭

 

مجھے حمد و ثنا کا کام سونپا

رحیم و مُونس و مشفق خدا سا

کوئی ہرگز نہیں ہے، تھا، نہ ہو گا

خدا کا ذکر دلکش ہے دل آرا

مری جاں میرے تن من میں سمایا

خدا شہ رگ سے بھی نزدیک تر ہے

خدا کون و مکاں میں جلوہ فرما

ہوا گمراہ جب میں بھُولا بھٹکا

خدا نے ہی دکھایا سیدھا رستہ

میں جب گرنے لگا، اس وقت میرا

حبیبِ کبریاؐ نے ہاتھ تھاما

دیارِ عشق میں طُرفہ تماشا

ظفرؔ مجذوب پر سایا خدا کا

٭٭٭

 

 

خداوندِ زمین و آسماں تُو

خداوندِ مکان و لامکاں تُو

خداوندِ ملائک، انس و جاں تُو

خداوندِ غریباں، سائلاں تُو

خداوندِ جمیعِ مُرسلاں تُو

خداوندِ جمیعِ مقبلاں تُو

خداوندِ فقیہاں سالکاں تُو

خداوندِ حکیماں عاقلاں تُو

خداوندِ ہماں خستہ دِلاں تُو

خداوندِ ہماں بے چارگاں تُو

خداوندِ زماں، مہرِ جہاں تُو

خداوندِ خلیق و مہرباں تُو

خداوندِ شہیداں، عاشقاں تُو

خداوندِ ظفرؔ معجز بیاں تُو

٭٭٭

 

 

 

جو مشفق ہے جو مونس مہرباں ہے، وہی تیرا خدا میرا خدا ہے

جو رحمت کا محبت کا جہاں ہے، وہی تیرا خدا میرا خدا ہے

جو ہے مولا و معبودِ خلائق، جو ہے آقا و مسجودِ ملائک

خدائے انس و جاں کروبیاں ہے، وہی تیرا خدا میرا خدا ہے

کیا محبوبؐ اپنا جس نے پیدا، کیے کون و مکاں جس نے ہویدا

وہ جو آفاق کی روحِ رواں ہے، وہی تیرا خدا میرا خدا ہے

جسے چاہے وہ عزت تمکنت دے، جسے چاہے حکومت سلطنت دے

جو مخلوقات کا روزی رساں ہے، وہی تیرا خدا میرا خدا ہے

بنائے جو شہنشاہ و سکندر، کرے پیدا جو مجذوب و قلندر

وہی جو قبلہ گاہِ عاشقاں ہے، وہی تیرا خدا میرا خدا ہے

کرے جو منکروں پہ خوف طاری، چلائے حبس میں بادِ بہاری

جو طوفاں میں بچاتا آشیاں ہے، وہی تیرا خدا میرا خدا ہے

ظفرؔ سے بے سہاروں کا سہارا، بھنور میں جو کرے پیدا کنارا

وہ جو ننگے سروں پر سائباں ہے، وہی تیرا خدا میرا خدا ہے

٭٭٭

 

کوئی پوچھے اگر مجھ سے خدا تیرا کہاں ہے

میں کہتا ہوں خدا میرا، مرے دل میں نہاں ہے

خدا کے نور کے عکاس خورشید و قمر تاباں

خدا کے نور کا پرتو دمکتی کہکشاں ہے

خدا کے نور سے عشاق کے سینے فروزاں ہیں

خدا کے نور پر قرباں مرا دل، میری جاں ہے

خدا کے حکم سے بنجر زمیں سونا اُگلتی ہے

خدا کے حکم سے ہی گلفشاں ہر گلستاں ہے

خدا غالب ہے قادر ہے، خدا اعظم ہے اکبر ہے

خدا معبود ہے مسجود ہے، روزی رساں ہے

خدا کی حمد میں مصروف ہیں کوہ و دمن، صحرا

ہے بحرِ بے کراں، کون و مکاں، کروبیاں ہے

خدا ہے لا شریک، اس کا ظفرؔ ہمسر نہیں کوئی

خدا لا ریب واحد ہے، وہ یکتا بے گماں ہے

٭٭٭

 

خدا ہی اوّل و آخر سہارا

خدا ہی حامی و ناصر ہمارا

خدا کا ذکر، ذکرِ دلنشیں ہے

خدا کا ذکر دلکش ہے دلآرا

خدا ہی پیار کی روحِ رواں ہے

خدا موجِ کرم کا بہتا دھارا

خدا کے نور سے روشن زمانے

خدا نور و تجلّی آشکارا

خدا کی یاد میں مجذوب ہر دم

خدا کے حسن کا دیکھیں نظارا

خدا ستّار بھی غفّار بھی ہے

خدا دمساز ہے میرا تمھارا

خدائے مہرباں ! احقر ظفرؔ کو

خدا کا پیار مل جائے خدارا

خداوندا مجھے بھی بال و پر دے

درِ محبوبؐ تک اذنِ سفر دے

میں ہوں بے آسرا، بے گھر خدارا

مجھے محبوبؐ کے قدموں میں گھر دے

ترے محبوبؐ کے در سے نہ اُٹھے

جبیں ایسی خدایا، ایسا سر دے

درود و حمد میں ہر لمحہ گزرے

مجھے سوز و گداز و چشمِ تر دے

مجھے عشقِ حبیبِ کبریاؐ دے

نہ مال و سیم و زر، لعل و گہر دے

زیارت کر لوں محبوبِ خداؐ کی

مجھے میرے خدا ذوقِ نظر دے

ظفرؔ کی التجا یہ ہے خدایا!

درِ محبوبؐ پر مامور کر دے

٭٭٭

 

 

 

اسم اللہ، میری جاگیر

میں ہوں بڑا امیر کبیر

نامِ خدا تن من میں سمایا

سنور گئی میری تقدیر

دل میں یاد خدا کی ہر دم

لب پر نعرۂ تکبیر

خواب ڈراؤنے دیکھ ڈرا ہوں

الٹی کرے اللہ تعبیر

معاف کرے گا میرا اللہ

میری خطا، میری تقصیر

بات ہر اک محبوبِ خداؐ کی

آیۂ قرآں کی تفسیر

حمد، خدا کی شان کی مظہر

نعت، ظفرؔ کی پُر تاثیر

٭٭٭

 

 

خدا میرا شفیق و مہرباں ہے

خدا میرا انیسِ بیکساں ہے

خدا لطف و کرم کا سائباں ہے

نحیف و ناتواں کا پاسباں ہے

محبت کا وہ بحرِ بے کراں ہے

مؤدت کا مہکتا گلستاں ہے

خدا کامل ہے اکمل بے گماں ہے

خدا ہی خالقِ کون و مکاں ہے

خدا دل میں نہاں ہر سو عیاں ہے

ازل سے تا ابد ہے جاوداں ہے

یہ محبوبِ خداؐ کا آستاں ہے

منوّر کہکشاں ہے، ضو فشاں ہے

خدا دل کا سکوں، تسکینِ جاں ہے

ظفرؔ کی زندگی، روحِ رواں ہے

خدا یکتا و واحد بے گماں ہے

حبیب اللہؐ خدا کا ترجماں ہے

خدا کا نور دائم جاوداں ہے

نبیؐ کا حسن ہر سو ضو فشاں ہے

خدا کا لطف بحرِ بے کراں ہے

نبیؐ کا فیض دریائے رواں ہے

خدا مخلوق کا روزی رساں ہے

نبیؐ ہمدم ہے مُونس مہرباں ہے

خدائے پاک پر سب کچھ عیاں ہے

رسول پاکؐ سے کب کچھ نہاں ہے

سدا مدحت خدا کی حرزِ جاں ہے

سدا نعتِ نبیؐ وردِ زباں ہے

خدا کا گھر ظفرؔ عظمت نشاں ہے

نبیؐ کا آستاں دارالاماں ہے

خدا کا نور ہر سو ضو فشاں ہے

خدا اکبر، خدا عظمت نشاں ہے

خدا پروردگارِ انس و جاں ہے

وہ مخلوقات کا روزی رساں ہے

خدا ہی رہنمائے گمرہاں ہے

خدا مشکل کشائے بے کساں ہے

خدا ہمدرد و مونس مہرباں ہے

خدا کا لطف پیہم، جاوداں ہے

خدا کا مرتبہ ارفع عیاں ہے

خدا ہر دم ہمارے درمیاں ہے

زمانوں کا جو محور گلستاں ہے

وہ محبوبِ خداؐ کا آستاں ہے

ظفرؔ گرچہ ضعیف و ناتواں ہے

وہ حمد و نعت کی جوئے رواں ہے

٭٭٭

 

 

 

خدا کے نام سے ہی ابتدا ہے

خدا کے نام پر ہی انتہا ہے

خدا مہر و محبت کی ردا ہے

خدا لطف و عنایت کی ندا ہے

خدا سب نعمتیں کرتا عطا ہے

خدا سب سے بڑا، ربّ العلیٰ ہے

خدا سنتا گدا کی التجا ہے

خدا مظلوم کی سنتا صدا ہے

خدا کے نام پر سجدہ ادا ہے

خدا کے نام پر سب کچھ فدا ہے

خدا کو آپ میں دیکھیں نہ دیکھیں

خدا تو ہر کسی کو دیکھتا ہے

ظفرؔ کیوں قریہ قریہ ڈھونڈتا ہے

خدا تیرے دل و جاں میں بسا ہے

٭٭٭

 

خدا کا اسم، اسمِ دلکشا ہے

خدا کا ذکر، ذکرِ جاں فزا ہے

خدا حاجت روا، فرماں روا ہے

خدا سب کا خدا، میرا خدا ہے

خدا سے مانگتا شاہ و گدا ہے

خدا سنتا سبھی کی التجا ہے

خدا معذور کو دیتا رِدا ہے

خدا بے پر کو پر کرتا عطا ہے

خدا مخلوق کا والی سدا ہے

خدا کب اپنے بندوں سے جدا ہے

خدا کی حمد گو بادِ صبا ہے

ثنا خواں اس کا طائر خوش نوا ہے

ظفرؔ ہر سو نہ تجھ کو ڈھونڈتا ہے

تجھے خانۂ دل میں دیکھتا ہے

٭٭٭

 

خدائے پاک ربُّ العالمیں ہے، خدا بندے کی شہ رگ سے قریں ہے

خدا موجود ہر جا، ہر کہیں ہے، خدا بندے کی شہ رگ سے قریں ہے

خدا ہی خانۂ دل میں نہاں ہے، خدا کے ذکر سے مسرور جاں ہے

خدا کے نور سے روشن جبیں ہے، خدا بندے کی شہ رگ سے قریں ہے

خدا ہے بے سہاروں کا سہارا، خدا ہے حامی و ناصر ہمارا

خدا خالق ہے، مالک بالیقیں ہے، خدا بندے کی شہ رگ سے قریں ہے

خدا چارا گرِ بے چارگاں ہے، خدا ہی رہبرِ گم گشتگاں ہے

خدا عشاق کے دل میں مکیں ہے، خدا بندے کی شہ رگ سے قریں ہے

خدا معبود و مسجودِ خلائق، خدا کے حمد گو جن و ملائک

خدا ہی دلپذیر و دلنشیں ہے، خدا بندے کی شہ رگ سے قریں ہے

خدا فرماں روائے ہر زماں ہے، خدا کے حکم کا سکّہ رواں ہے

خدا حسن آفریں، جاں آفریں ہے، خدا بندے کی شہ رگ سے قریں ہے

ظفرؔ کا بھی وہ محبوبِ خداؐ بھی، شفیع المذنبیںؐ، خیر الوریٰ بھی

وہی جو رحمۃ اللعالمیںؐ ہے، خدا بندے کی شہ رگ سے قریں ہے

٭٭٭

 

خداوندا! مرا دل شاد کر دے

مصائب سے مجھے آزاد کر دے

مرے ویرانۂ قلبِ حزیں کو

تُو اپنی یاد سے آباد کر دے

رہائی تُو دلا بے بال و پر کو

کہیں صیاد نہ برباد کر دے

میں لاغر ہوں نحیف و ناتواں ہوں

خدایا تُو مری امداد کر دے

خدا سنتا ہے کرتا ہے مداوا

کوئی مجبور جب فریاد کر دے

خدا خود بات وہ کرتا ہے پوری

جو محبوبِ خدا ارشاد کر دے

مجھے محفوظ رکھ ہر شر سے مولا

ظفرؔ سے دور ہر افتاد کر دے

٭٭٭

 

بڑا احسان ہے مجھ پر خدا کا

بھرم رکھتا ہے وہ مجھ بے نوا کا

ہے عفو و درگزر اس کا حوالہ

خطا و معصیت کا ہوں میں پُتلا

میں جب بھی گھِر گیا طوفاں، بھنور میں

ترے دستِ کرم نے ہاتھ تھاما

کبھی آئے جو نوبت ڈوبنے تک

خدا دیتا ہے تنکے کا سہارا

نحیف و ناتواں ہوں، بھوکا پیاسا

مجھے سیراب کر دے میرے مولا!

محبت کا ملے صدقہ خدارا

ترے محبوبؐ کا ہوں میں بھی منگتا

خدا کی راہ میں جاتے ہیں جاں سے

ظفرؔ عشاق کا ہے یہ وتیرہ

٭٭٭

 

شعور و آگہی، فکر و نظر دے

خداوندا مجھے اپنی خبر دے

تری رحمت کے بادل کھل کے برسیں

مری آہوں، دعاؤں میں اثر دے

ہیں جن پر کوہِ غم ٹوٹے خدایا

کرم کی اک نظر اُن پر بھی کر دے

خداوندا حرم تک میں بھی جاؤں

عطا کر بال و پر، اذنِ سفر دے

ترے محبوبؐ کے در کا گدا ہوں

کرم فرما، مرا کشکول بھر دے

میں مانگوں عشق محبوبِ خداؐ کا

تُو مجھ کو سیم و زر نہ کرّوفر دے

فروزاں ہو جو اُنؐ کے نقشِ پا سے

ظفرؔ کو یا خدا! وہ رہگزر دے

٭٭٭

 

خدا بندے کی شہ رگ سے قریں ہے

خدا عشاق کے دل میں مکیں ہے

خدا حسنِ ازل، حسنِ ابد ہے

خدا جیسا کہاں کوئی حسیں ہے

خدا کی یاد ہے دلکش دلآرا

خدا کا ذکر، ذکرِ دلنشیں ہے

خدا کے گھر کی جانب جھک گیا جو

وہی روشن بصر، روشن جبیں ہے

خدا ہی حامی و ناصر ہے میرا

خدا پر میرا ایماں بالیقیں ہے

وہ جو محبوبِ ربّ العالمیںؐ ہے

وہی تو رحمۃ اللعالمیںؐ ہے

ظفرؔ کا ہمدم و ہمدرد و مُونس

جبیب اللہؐ صادق ہے امیں ہے

٭٭٭

خداوندِ مکان و لامکاں تُو

خداوندِ زمین و آسماں تُو

تری تخلیق ہیں سارے زمانے

ہے مخلوقات کا روزی رساں تُو

بلا کی دھوپ میں ننگے سروں پر

کرم الطاف کا ہے سائباں تُو

کہیں مجذوب کے دل میں بسا ہے

کہیں سینۂ عاشق میں نہاں تُو

کبھی منصور میں تُو بولتا ہے

کبھی سرمد کی بنتا ہے زباں تُو

ُبلا کر عرش پر محبوبؐ اپنا

بنا لیتا ہے اپنا راز داں تُو

ہے تو ستّار بھی غفار بھی تُو

ظفرؔ صدیق پر بھی مہرباں تُو

٭٭٭

 

 

مرا عشق و عرفاں، مرا دین و ایماں، محبت نبیؐ کی عبادت خدا کی

مرے دل کا ارماں، مرے دُکھ کا درماں، محبت نبیؐ کی عبادت خدا کی

یہ ارشاد ہے انبیا اولیا کا، یہی قول مردانِ صدق و صفا کا

حدیثِ نبیؐ ہے یہی درسِ قراں، محبت نبیؐ کی عبادت خدا کی

خدا سے بعجز و ادب مانگتے ہیں، اُٹھائے ہیں دستِ طلب مانگتے ہیں

سدا مانگتے ہیں سبھی جن و انساں، محبت نبیؐ کی عبادت خدا کی

مدینہ و مکّہ کی جانب سفر ہے، خدائی کا محبوب پیشِ نظر ہے

رہِ عشق و مستی میں شمعِ فروزاں، محبت نبیؐ کی عبادت خدا کی

فضاؤں میں چہکار حمد و ثنا کی، ہواؤں میں مہکار حمد و ثنا کی

خدا نے عطا کی مجھے بھی فراواں، محبت نبیؐ کی عبادت خدا کی

نبیؐ سے مجھے عشق وارفتگی ہے، خدا سے مجھے پیار وابستگی ہے

کرے ہے مرے دل میں ہر دم چراغاں، محبت نبیؐ کی عبادت خدا کی

ظفرؔ تیری حمد و ثنا سن رہے ہیں، نبی پاکؐ ربّ العلیٰ سن رہے ہیں

بنا لے گی تجھ کو شہنشہ کا درباں، محبت نبیؐ کی عبادت خدا کی

٭٭٭

 

 

 

خداوندِ جہاں، آقا و مولا

خداوندِ زماں، آقا و مولا

’’عطا اسلاف کا جذبِ دروں کر‘‘

وہی سوزِ نہاں، آقا و مولا

’’چہ نسبت خاک را با عالمِ پاک‘‘

کہاں تُو، میں کہاں، آقا و مولا

ترے محبوبؐ کی اُمت کا پرچم

رہے عظمت نشاں، آقا و مولا

رہے سایہ کناں اُمت کے سر پر

کرم کا سائباں، آقا و مولا

مگن کرّوبیاں تیری ثنا میں

طیور و انسِ و جاں، آقا و مولا

ظفرؔ کو ہو عطا زورِ قلم بھی

عطا زورِ بیاں، آقا و مولا

٭٭٭

 

خداوندا! ہمیں صدق و صفا دے

مروّت، حلم دے، صبر و رضا دے

تو محروموں کو بھی خوشیاں عطا کر

مریضوں کو مرے مولا شفا دے

سِکھا مہر و وفا، اہلِ جفا کو

جو شیطاں ہیں انھیں انساں بنا دے

دلوں کے بھید تو سب جانتا ہے

تُو سنتا ہے اگر کوئی صدا دے

ہمیں توفیق دے حمد و ثنا کی

ہمیں بھی حُبِ محبوبِ خداؐ دے

یہ نعمت اعلیٰ و ارفعٰ تریں ہے

خدایا ہم کو عشقِ مصطفیٰؐ دے

ظفرؔ کی التجا تجھ سے ہے یارب!

رُخِ محبوبؐ مجھ کو بھی دکھا دے

٭٭٭

 

خداوندا! نگہ، رحمت خدارا

عطا کُن عشقِ احمدؐ بے نوا را

خدا کی یاد میرے دلنشیں ہے

خدا کی یاد ہے دلکش دلآرا

خدایا وصل کی نعمت عطا کر

نہیں اب ہجر کی دوری گوارا

خدا کا ذکر، محبوبِ خداؐ کا

خدا نے میری نس نس میں اُتارا

وہی چارا گرِ بے چارگاں ہے

وہی حامی و ناصر ہے ہمارا

نحیفوں کو وہ گرنے سے بچائے

ضعیفوں کو وہ دیتا ہے سہارا

ظفرؔ نے اللہ ہُو کَہ کر پکارا

بھنور میں ہو گیا پیدا کنارا

٭٭٭

 

یہی فرمانِ محبوبِ خداؐ ہے

خدا معبود ہے، حاجت روا ہے

خدا خالق ہے، مالک ہے، قوی ہے

وہی قیّوم، دائم ہے، سدا ہے

خدا لاثانی و بے مثل، یکتا

وہ واحد، منفرد، سب سے جدا ہے

خدا روزی رسانِ عالمیں ہے

ہر اک نعمت وہی کرتا عطا ہے

خدا کی عظمتوں کے ہیں مظاہر

سمندر، کوہ و بن، صحرا، ہوا ہے

درُود و نعت کی، حمد و ثنا کی

خدائے مصطفیٰؐ سنتا صدا ہے

کرم کی اک نظر للّٰلہ ظفرؔ پر

ترے محبوبؐ کے در کا گدا ہے

٭٭٭

 

دیکھوں جدھر بھی تیرا ہی جلوہ ہے رُو برُو

تُو میرے آس پاس ہے، تُو میرے چارسُو

تیرے کرم سے ہیں مری سانسیں رواں دواں

تیرے کرم سے میری رگوں میں رواں لہو

ہر پل مرا گزرتا ہے تیری ہی یاد میں

ہر دم زباں پہ رہتی ہے تیری ہی گفتگو

ستّار تُو مرا ہے، تُو غفّار ہے مرا

تُو چارا گر مرا ہے، مرا کارساز تُو

بے بال و پر کو تُو نے عطا بال و پر کیے

بے آبرو کو تُو نے عطا کی ہے آبرو

تُو نے مجھے بھی عشقِ حبیبِ خداؐ دیا

مدت سے تھی مجھے اسی نعمت کی جستجو

مست و الست ہے، ترا مجذوب ہے ظفرؔ

اس کی زباں سے، قلب سے جاری ہے اللہ ہُو

٭٭٭

 

خدا کے نام سے ہی ابتدا ہے، خدائے مصطفیٰؐ میرا خدا ہے

خدا کا ذکر، ذکرِ جانفزا ہے، خدائے مصطفیٰؐ میرا خدا ہے

خدائے پاک ربُّ العالمیں ہے، محمدؐ رحمۃ اللعالمیں ہے

حبیب اللہ محبوبِ خداؐ ہے، خدائے مصطفیٰؐ میرا خدا ہے

خدا فرمائے اور ساری خدائی، فزوں تر ہو مقامِ مصطفائی

مرا بھی یہ وظیفہ برملا ہے، خدائے مصطفیٰؐ میرا خدا ہے

عطا اللہ نے کی اُنؐ کی محبت، سکھائی آپؐ نے اللہ کی مِدحت

عطائے کبریا و مصطفیٰؐ ہے، خدائے مصطفیٰؐ میرا خدا ہے

خدا کے آخری پیغام بر ہیں، خدا کے آپؐ منظورِ نظر ہیں

تعلق با خدا محکم سدا ہے، خدائے مصطفیٰؐ میرا خدا ہے

مرے لب پر درُودوں کی صدا ہے، مرا منشور عشقِ مصطفیٰؐ ہے

خدا کی بندگی بھی بے ریا ہے، خدائے مصطفیٰؐ میرا خدا ہے

درِ سرکارؐ پر فضل خدا ہے، یہاں پر سائلوں کا جم گھٹا ہے

ظفرؔ بھی آپؐ کے در کا گدا ہے، خدائے مصطفیٰؐ میرا خدا ہے

٭٭٭

 

میں لکھوں حمد ربِّ مصطفیٰؐ کی

میں لکھوں نعت محبوبِ خداؐ کی

میں حمد و نعت باہم لکھ رہا ہوں

ثنا سے حمد ہرگز نہ جدا کی

جو لکھی نعت ختم المرسلیںؐ کی

خدا کی حمد سے ہی ابتدا کی

محبت باہمی روزِ ازل سے

شبِ معراج تجدیدِ وفا کی

درُود اللہ جب بھیجے نبیؐ پر

گھڑی ہوتی ہے وہ فیض و عطا کی

عطا کر دے ہمیں بھی عشقِ احمدؐ

خدا سے میں نے رو رو کر دعا کی

ظفرؔ سرکارؐ نے آسان کر دی

گھڑی آئی جو مجھ پر اِبتلا کی

٭٭٭

 

خدایا! نعت لکھنے کا شعور و آگہی دے دے

درِ محبوبؐ پر گزرے، مجھے وہ زندگی دے دے

مجھے جور و جفا کے مرمریں ایوان ڈستے ہیں

مجھے آقاؐ کے نقشِ پا، مدینہ کی گلی دے دے

میں حمد و نعت میں صبح و مسا مسرور رہتا ہوں

درُودوں سے مزیّن، مجھ کو ذوقِ بندگی دے دے

ترے محبوبؐ کا میں نعت گو، تیرا ثنا گو ہوں

خیالوں کو مرے تابندگی دے، دل کشی دے دے

وہ جن کا بوریا تختِ شہی تھا، اُن کے صدقے میں

قناعت کر عطا ہم کو، ہمیں پھر سادگی دے دے

ترے محبوبؐ کی اُمت ہوئی خوار و زبوں پھر سے

ہمیں پھر سر بلندی دے، ہمیں پھر سروری دے دے

ظفرؔ مانگو دعا یہ گڑ گڑا کر ربِّ اکبر سے

ہمیں محبوبؐ سے اپنے وہ پھر وابستگی دے دے

٭٭٭

 

 

محبت ہو نہیں سکتی خدا سے

نہ ہو جب تک حبیبِ کبریاؐ سے

 

 

 

مقامِ مصطفیٰؐ، اللہ ہی اللہ

حبیبِ کبریاؐ، اللہ ہی اللہ

خدائی کے بھی محبوبِ خداؐ بھی

بڑا ہے مرتبہ، اللہ ہی اللہ

وہی تو رحمۃ اللعالمیں ہیں

وہ سب سے ماورا، اللہ ہی اللہ

وہی خیر البشرؐ، خیرِ مجسّمؐ

وہی خیر الوریٰ، اللہ ہی اللہ

اندھیروں میں وہ اک شمعِ فروزاں

وہ ظلمت میں ضیا، اللہ ہی اللہ

خدا کے آخری پیغامبر ہیں

خدا کے ہمنوا، اللہ ہی اللہ

ظفرؔ مسکیں پہ یوں بارش کرم کی

ہے یہ اُنؐ کی عطا، اللہ ہی اللہ

٭٭٭

 

سمندر آپؐ ہیں فیض و عطا کا

مؤدت، حِلم کا، جُود و سخا کا

ملی ہے آدمیت کو فضیلت

یہ صدقہ ہے حبیبِ کبریاؐ کا

امامت کی، شفاعت بھی کریں گے

یہ رُتبہ ہے امام الانبیاؐ کا

برستی ہو جہاں رحمت کی بارش

وہاں کیا تذکرہ میری خطا کا

جو پہنچائے دیارِ مصطفیؐ میں

ملے ایسا کوئی بندہ خُدا کا

درُود و نعت لکھوں، حمد لکھوں

میں شاعر ہوں محمد مصطفیؐ کا

ظفرؔ نے صدقِ دِل سے جب پُکارا

اُسی لمحے جواب آیا صدا کا

٭٭٭

 

مجسم نور، شاہِ مُرسلیںؐ ہے

نہیں ہے، کوئی اُنؐ جیسا نہیں ہے

جہاں حمدِ خُدا، نعتِ نبیؐ ہو

وہیں آقاؐ مرا مسند نشیں ہے

اِدھر عُشاق کے دِل میں قدم ہے

اُدھر زیرِ قدم عرشِ بریں ہے

سلامی کو ملائک آ رہے ہیں

وہاں دربان بھی روح الامیں ہے

جسے کوتاہ نظری کا قلق تھا

جمالِ دید سے وہ دُور بیں ہے

رُخِ زیبا کا ہے ہر دم تصور

اُنہیؐ کی یاد ہر دم دِلنشیں ہے

ظفرؔ! محبوب، محبوبِ خُداؐ سا

نہ تھا، ہو گا، نہ کوئی بھی کہیں ہے

٭٭٭

 

بھرے کاسے، طلب سے بھی زیادہ بھیک پائی ہے

درِ سرکارؐ پہ دِن رات حاضر سب خُدائی ہے

برستا ہے سدا ابرِ کرم شہرِ پیمبرؐ میں

سدا سرکارؐ کے در پہ گھٹا رحمت کی چھائی ہے

مُنوّر اُن کے چہرے ہیں، جبیں اُن کی ہے نورانی

جنھوں نے آپؐ کے در پر جبیں اپنی جھُکائی ہے

ہماری لاج رکھ لینا، بھرم سرکارؐ رکھ لینا

کہ اُمت آپؐ کی آقا مظالم کی ستائی ہے

موافق بھی منافق ہیں، جو رہبر تھے وہ رہزن ہیں

ہوئے اپنے پرائے، دُشمنِ جاں بھائی بھائی ہے

کبھی بے مول بِکتے تھے، ہوئے انمول ہم جب سے

خُدا سے دِل لگایا ہے، نبیؐ سے لو لگائی ہے

بقائے زندگی پیہم ظفرؔ! شہرِ مدینہ میں

پیامِ موت اُس شہرِ مُقدس سے جدائی ہے

٭٭٭

 

ہم اُنؐ کے آستاں تک دِل گرفتہ، دِلفگار آئے

سُبک سر ہو کے لوٹے، بوجھ سب سر سے اُتار آئے

لباسِ فاخرہ پہنایا، اُن کا بھر دیا دامن

درِ سرکارؐ پر جو، لے کے دامن تار تار آئے

وہی ہم غم کے ماروں، غم زدوں کے آقا و مولاؐ

وہی ہمدرد و مُونس، چارہ ساز و غم گُسار آئے

نئی اک زندگی لے کر وہ لوٹے آپؐ کے در سے

جو دینے جاں کا نذرانہ یہاں پر جانثار آئے

وہی لمحے ہماری زندگانی کا اثاثہ ہیں

جو شہرِ مصطفیؐ میں آپؐ کے در پر گزار آئے

ذرا سی آبجو ہوں میں سمندر میں اُتر جاؤں

نظر عشقِ محمدؐ کا جو بحرِ بے کنار آئے

ظفرؔ! گرتے ہوئے میں جب پُکاروں یا نبیؐ اللہ

سہارا مُجھ کو دینے رحمتِ پروردگار آئے

٭٭٭

 

وہ لَوٹا ہے درِ سرکارؐ سے، پا کر شفا دیکھو

جو آیا آپؐ کے در پر، مریضِ لا دوا دیکھو

خطا کاروں کے ہادی وہؐ، عطاؤں کے سمندر ہیں

خطائیں دیکھنے والو! عطائے مصطفیؐ دیکھو

وہ آہیں تک بھی سنتے ہیں صدائیں سب کی سنتے ہیں

ادب سے دھیمے لہجے میں، ذرا دے کر صدا دیکھو

دعائیں مانگنے سے پہلے، یاں منظور ہوتی ہیں

وضو اشکِ ندامت سے کرو، مانگو دُعا دیکھو

نبیؐ کا عشق افزوں تر ہو، احسانِ خُدا سمجھو

کرم دیکھو، عطا دیکھو، سخا دیکھو، جزا دیکھو

سگِ در میں، کہاں تاب و تواں، نزدیک آنے کی

ادب سے، در سے تھوڑا دُور، رہتا ہے کھڑا دیکھو

ظفرؔ! معمور دِل تیرا ہوا ہے عشقِ احمدؐ سے

خُدا نے اُنؐ کی چاہت کا دِیا تُجھ کو صِلہ دیکھو

٭٭٭

 

حبیبِ کبریاؐ سایہ کناں ہو

تو مُجھ سا بے زباں، معجز بیاں ہو

میں لکھوں نعت محبوبِ خُداؐ کی

کرم کا میرے سر پر سائباں ہو

خیالوں میں ہو وہ رُوئے مُنوّر

تو دُوری میں حضوری کا سماں ہو

رہوں میں تا قیامت سر خمیدہ

مرے آقاؐ کا سنگِ آستاں ہو

ہمارے حال و مستقبل پہ آقاؐ

سدا نظرِ کرم ہو، جاوداں ہو

ملیں سرکارؐ جب اپنے خُدا سے

تو کیسے اور کوئی، درمیاں ہو

کرم سرکارؐ، لِللّٰہ ہو ظفرؔ پر

ذرا سی آبجو، جُوئے رواں ہو

٭٭٭

 

فرشتے صبح دم آئیں، مرے آقاؐ کے قدموں میں

پروں کو اپنے پھیلائیں، مرے آقاؐ کے قدموں میں

رُخ روشن کی تابانی سے ہے خورشید روشن تر

مُنور چاند شرمائیں، مرے آقاؐ کے قدموں میں

رُخِ زیبا کی جن کو دید ہوتی، عید ہوتی ہے

وہ کیسے آنکھ جھپکائیں، مرے آقاؐ کے قدموں میں

قلندر، غوث بھی آ کر، قطب، ابدال بھی آ کر

خوشی سے جھومیں اِترائیں، مرے آقاؐ کے قدموں میں

خُدایا! جو ترے محبوبؐ کے محبوب بندے ہیں

خُدارا اُن سے مِلوائیں، مرے آقاؐ کے قدموں میں

نگاہیں اہلِ دُنیا کی نہ اُن کو دیکھ پائیں گی

جو دیوانے سما جائیں، مرے آقاؐ کے قدموں میں

زمانوں میں ظفرؔ لہرائے گا اِسلام کا پرچم

عَلم نصرت کے لہرائیں مرے آقاؐ کے قدموں میں

٭٭٭

 

مری سرکارؐ کا جلوہ عیاں ہے

سرور و کیف و مستی کا سماں ہے

چلو چلتے ہیں دربارِ نبیؐ میں

خُدا کا فضل بے پایاں وہاں ہے

ملے گی اُنؐ کے در سے رہنمائی

نہیں تشکیک نہ کوئی گماں ہے

ہے اُنؐ کا در پناہ گاہِ غریباں

فقیروں کے لیے دارالاماں ہے

جھُکاتا ہوں میں سر آقاؐ کے در پر

جہاں آباد اِک تازہ جہاں ہے

یہاں پر وہ سکوں، وہ دِلکشی ہے

مرے آقاؐ کا گھر، باغِ جناں ہے

ظفرؔ جھکتا ہے اُنؐ کے آستاں پر

نہیں پھر ہوش رہتا ہے کہاں ہے

٭٭٭

 

قلب میں ذِکرِ خیر الوریٰؐ چاہیے

بر سرِ بزم بھی، برملا چاہیے

روز افزوں رہے عشق سرکارؐ کا

لب پہ ہر آن یہ التجا چاہیے

حمد و نعتِ نبیؐ ہر گھڑی میں سنوں

میرے کانوں کو دِلکش صدا چاہیے

میں خطا کار ہوں، میں سیہ کار ہوں

یا خُدا! رحمتِ مصطفیؐ چاہیے

بھیک مانگوں میں کیونکر درِ غیر سے

میری سرکارؐ کا، در کھُلا چاہیے

مُجھ سے مجبور و معذور کو یا نبیؐ

اک نیا حوصلہ، ولولہ چاہیے

دم گھٹا جا رہا ہے ظفرؔ کا یہاں

اُس کو طیبہ کی ٹھنڈی ہوا چاہیے

٭٭٭

 

نہیں کوئی، حبیبِ کبریاؐ سا

کوئی محبوب، محبوبِ خُداؐ سا

حسیں آتے رہے، آتے رہیں گے

مگر کوئی کہاں، سرکارؐ جیسا

زمانوں کو مُنوّر کر رہا ہے

مری سرکارؐ کا پُرنور چہرہ

تصور بھی حسین و دِلنشیں ہے

جھلک سرکارؐ کی دِلکش، دِلآرا

خُدا نے آپ، محبوبِ خُداؐ پر

کلام اپنا، محبت سے اُتارا

وہی ہے مونس و ہمدرد و ہمدم

وہی حامی و ناصر ہے ہمارا

ہے جیسا بھی، سگِ در آپؐ کا ہے

ظفرؔ کی لاج رکھنا، میرے آقاؐ

٭٭٭

 

گھِرے طُوفاں میں ہیں، نظرِ کرم سرکارؐ ہو جائے

توجہ آپؐ فرمائیں، تو بیڑا پار ہو جائے

کرم کی اک نظر آقاؐ مرے دِل کی ہر اک دھڑکن

محبت، کیف و مستی، عشق سے سرشار ہو جائے

مجھے رکھنا ہمیشہ اپنے ہی حلقہ بگوشوں میں

ہیں مرکز آپؐ، میری زندگی پُرکار ہو جائے

چھپا لینا مرے آقاؐ مجھے دامانِ رحمت میں

مرا جب دُشمنِ جاں، درپئے آزار ہو جائے

اگر سرکارؐ اجازت دیں، اگر سرکارؐ فرمائیں

سگِ آوارہ، بے چارہ، سگِ دربار ہو جائے

گِنے جائیں سگِ در آپؐ کے جس دم، مرے آقاؐ

اشارہ میری جانب بھی، مری سرکارؐ ہو جائے

ظفرؔ کے رنج و غم یکدم بدل جائیں گے خوشیوں میں

حبیبِ کبریاؐ، گر مُونس و غم خوار ہو جائے

٭٭٭

 

گدائے بے نوا ہے، اُنؐ کا در ہے

طلب سے بھیک پائی بیشتر ہے

مری سرکارؐ کے نقشِ قدم سے

فروزاں عاشقوں کی رہگزر ہے

گیا گمنام جو آقاؐ کے در پہ

وہاں سے جب وہ لوٹا نامور ہے

چلو چلتے ہیں اُس عاشق سے ملنے

مدینہ سے جو آیا لوٹ کر ہے

بوقتِ امتحاں ثابت قدم ہے

علیؓ شیرِ خُدا کا، وہ پِسر ہے

شہیدِ کربلا، پیاسا، نواسہ

مری سرکارؐ کا لختِ جگر ہے

مری پرواز ہے طیبہ کی جانب

سفر میرا، وسیلۂ ظفرؔ ہے

٭٭٭

 

کریں منظور میری التجائیں یا رسولؐ اللہ

مُجھے آپؐ اپنا دیوانہ بنائیں یا رسولؐ اللہ

مجھے اب نعمتِ دیدار سے سیراب کر ڈالیں

رُخِ زیبا مجھے بھی اب دکھائیں یا رسولؐ اللہ

رُخِ روشن کی گر عُشاق ہلکی سی جھلک دیکھیں

ہمیشہ نعت و مِدحت گنگنائیں یا رسولؐ اللہ

جہاں پر آپؐ کے نقشِ قدم عُشاق نے دیکھے

وہیں عُشاق اپنا سر جھکائیں یا رسولؐ اللہ

ادا کر لیں جو عاشق ایک سجدہ آپؐ کے در پر

ادا ہوں عمر بھر کی سب قضائیں یا رسولؐ اللہ

تہی دست و تہی داماں ہیں عاشق آپؐ کے در پر

بجز اشکِ ندامت کیا لٹائیں یا رسولؐ اللہ

ظفرؔ کی آپؐ سے نسبت ہو محکم جاودانی ہو

کریں مقبول عاجز کی دعائیں یا رسولؐ اللہ

٭٭٭

 

میں سو جاؤں سکوں پاؤں، مُجھے سرکارؐ کے قدموں میں نیند آئے

میں چُوموں آپؐ کے پاؤں، مُجھے سرکارؐ کے قدموں میں نیند آئے

میں جاؤں نالاں و گریاں، میں جاؤں خیزاں و اُفتاں

کبھی نہ لوٹ کر آؤں، مُجھے سرکارؐ کے قدموں میں نیند آئے

ملیں جو راہ میں نقشِ کفِ پا واں پہ سر رکھوں

میں در تک سر بسر جاؤں، مُجھے سرکارؐ کے قدموں میں نیند آئے

تھکن سے چُور ہوں، بوجھل قدم ہیں چل نہیں سکتا

میں تھوڑی دیر سستاؤں، مُجھے سرکارؐ کے قدموں میں نیند آئے

مرے سرکارؐ کے قدموں کی ٹھنڈک، قریۂ جاں میں اُتر جائے

میں اِٹھلاؤں میں اِتراؤں، مُجھے سرکارؐ کے قدموں میں نیند آئے

میں سو کر خواب میں دیکھوں، قدِ رعنا، رُخِ زیبا

یہی مانگوں یہی پاؤں، مُجھے سرکارؐ کے قدموں میں نیند آئے

مری سرکارؐ مُجھ پر اپنی رحمت کی رِدا ڈالیں، نگاہ ڈالیں

ظفرؔ اک بار سو جاؤں، مُجھے سرکارؐ کے قدموں میں نیند آئے

٭٭٭

 

دِل میں سرکارؐ کی محبت ہے

اُنؐ کی اُلفت ہے، اُنؐ کی چاہت ہے

آپؐ کے پیار کے سوا میری

کوئی حاجت نہ کچھ ضرورت ہے

آپؐ کی بات، بات ربّ کی ہے

آپؐ کا ہاتھ، دستِ قدرت ہے

میں درُود و سلام پڑھتا ہوں

قابلِ رشک، میری عادت ہے

میرے چہرے پہ روشنی کی جھلک

نگہِ سرکارؐ کی بدولت ہے

جب سے سرکارؐ نے قدم رکھا

دِل مرا تب سے رشکِ جنت ہے

میں ظفرؔ اُنؐ کے در کا درباں ہوں

میری کتنی کمال قسمت ہے

٭٭٭

 

جس طرف ہر زماں رواں ہو گا

وہ محمدؐ کا آستاں ہو گا

آپؐ کے در پہ موجزن ہر دم

پیار کا بحرِ بے کراں ہو گا

رنگ و نکہت، جمال کا مرکز

اُنؐ کی اُمت کا گُلستاں ہو گا

شبِ معراج، عرشِ اعظم پر

ہر طرف نور کا سماں ہو گا

ڈھانپ لے گا جو ساری اُمت کو

اُنؐ کی رحمت کا سائباں ہو گا

وہ جو طائف کی آنکھ نے دیکھا

وہ سماں، کیسا خونچکاں ہو گا

دِل میں یادِ نبیؐ ظفرؔ ہر دم

ذِکرِ سرکارؐ، حرزِ جاں ہو گا

٭٭٭

 

جبیں میری ہے، اُنؐ کا سنگِ در ہے

محبت کا جہاں، پیشِ نظر ہے

کہاں تابِ سخن، ایسے میں گویا

مرا قلبِ تپاں ہے، چشمِ تر ہے

نہیں بے چارا و بے آسرا میں

مری سرکارؐ، میری چارا گر ہے

مرے مُونس، مرے خیر الوریٰ ہیں

مرا ہمدم، مرا خیر البشرؐ ہے

میں اِس الطاف کے قابل کہاں تھا

کرم اُنؐ کا ہے، رُخ اُنؐ کا اِدھر ہے

ہیں اُس کا آپؐ ہی محکم سہارا

جو مُجھ سا بے ہنر، بے بال و پر ہے

ظفرؔ مسکیں کو قدموں میں جگہ دیں

ٹھکانہ اس کا ہے کوئی نہ گھر ہے

٭٭٭

 

درِ خیر الوریٰ، ؐ خیر البشرؐ ہے

اِسی در پر خمیدہ میرا سر ہے

زمیں پر ضوفشاں، جنت کا مظہر

حبیبِ کبریاؐ کا ہی تو گھر ہے

محبت امن کا، مرکز سکوں کا

مری سرکارؐ کا، طیبہ نگر ہے

محبت آپؐ کی ہر دم فزوں تر

کرم ہر آن اُنؐ کا بیشتر ہے

جو رنگیں کہکشاں ہے آسماں پر

مری سرکارؐ کی گردِ سفر ہے

مسافر ہوں مدینہ کی گلی کا

نبیؐ کا عشق میرا ہم سفر ہے

سفر جس کی ہے منزل شہرِ آقاؐ

سفر وہ ہی وسیلۂ ظفرؔ ہے

٭٭٭

 

زمانوں کو مُنوّر کر رہا ہے

مری سرکارؐ کا، روشن دیا ہے

رُخِ تاباں کی جگمگ کے مقابل

تجلی ہیچ، شرمندہ ضیاء ہے

مرے سینے میں، شمعِ عشق روشن

درِ سرکارؐ تک، جو رہنما ہے

عقیدت سے میں اس کے ہاتھ چوموں

جو عاشق، جانبِ طیبہ چلا ہے

میں گھبراتا نہیں ہوں مشکلوں سے

مرا مولا علیؓ مشکل کشا ہے

کبھی روتی ہے چوبِ خشک منبر

کبھی مُٹھی میں کنکر بولتا ہے

برا ہے یا بھلا، جیسا ظفرؔ ہے

سگِ در، آپؐ کے در کا گدا ہے

٭٭٭

 

کرم فرما، خُدائے مصطفیؐ ہے

کرم فرما، حبیبِ کبریاؐ ہے

وہی جو رحمۃ اللعالمیںؐ ہے

وہی سرکارؐ، محبوبِ خُدا ہے

ہمیشہ سے ہے حمد و نعت جاری

ازل سے تا ابد یہ سلسلہ ہے

مری نعتوں میں اظہارِ عقیدت

ہے اظہارِ محبت، برملا ہے

زیارت خواب میں ہوتی ہے مُجھ کو

رُخِ زیبا، مُنوّر، دِلرُبا ہے

فزوں تر ہو مرا عشقِ محمدؐ

گدائے بے نوا کی یہ صدا ہے

ظفرؔ کا کوئی بھی دم ساز، ہم دم

نہیں کوئی نہیں، اُنؐ کے سوا ہے

٭٭٭

 

شعورِ نعت دیں جذبات دے دیں

مجھے الفاظ کی خیرات دے دیں

مری نعتیں لبھائیں عاشقوں کو

مجھے وہ دِلنشیں کلمات دے دیں

پگھل جائیں جسے پتھر بھی سن کر

عطا وہ حمد ہو، وہ نعت دے دیں

فراق و ہجر میں جو مبتلا ہیں

اُنھیں بھی وصل کے لمحات دے دیں

بجھا دے پیاس جو تشنہ لبوں کی

کرم کی، لُطف کی برسات دے دیں

میں اُنؐ سے کیوں بھلا خیرات مانگوں

جو بِن مانگے مجھے خیرات دے دیں

ظفرؔ کو بات کرنے کا سلیقہ

لبوں پہ آپؐ، اپنی بات دے دیں

٭٭٭

 

محمدؐ، با خُدا، پیشِ نظر ہے

حبیبِ کبریاؐ پیشِ نظر ہے

وہی جلوہ نما، کون و مکاں میں

وہی افلاک پر بھی جلوہ گر ہے

اُنھیؐ سے نور کی خیرات لے کر

ہے روشن شمس، تابندہ قمر ہے

وہی ہے رہنمائے گمرہاں بھی

وہی سب رہبروں کا راہبر ہے

وہی ہے بے سہاروں کا سہارا

وہی بے چارگاں کا چارا گر ہے

وہی ہے رحمۃ اللعالمیںؐ بھی

شفاعت کا وہی پیغام بر ہے

تجھے سرکارؐ نے جتنا نوازا

ظفرؔ! تُو اِس عطا سے باخبر ہے ؟

٭٭٭

 

جمالِ مصطفیؐ پیشِ نظر ہے

مشرف دید سے دیدۂ تر ہے

محبت میرے دِل میں مصطفیؐ کی

خُدا کا مرتبہ، پیشِ نظر ہے

خُدا کی نعمتیں دستِ نبیؐ سے

سخا کا سلسلہ، پیشِ نظر ہے

محبت، عشق و عرفاں، کیف و مستی

نبیؐ کی ہر عطا، پیشِ نظر ہے

کرم اللہ کا، رحمت نبیؐ کی

عطا بے انتہا، پیشِ نظر ہے

رواں عُشاق ہیں طیبہ کی جانب

انوکھا قافلہ پیشِ نظر ہے

دیارِ مصطفیؐ میں لے چلے جو

ظفرؔ! وہ راستا پیشِ نظر ہے

٭٭٭

 

نبیؐ کا آستاں پیشِ نظر ہے

محبت کا جہاں، پیشِ نظر ہے

درِ اقدس پنہ گاہِ غریباں

درِ دارالاماں پیشِ نظر ہے

حبیبِ کبریاؐ، محبوبِ یزداںؐ

خُدا کا ترجماں، پیشِ نظر ہے

میں زندہ ہوں بفیضانِ محمدؐ

مسیحائے زماں، پیشِ نظر ہے

کیے جاتا ہوں میں سجدوں پہ سجدے

کفِ پا کا نشاں، پیشِ نظر ہے

میں گریاں ہوں، کہ دشتِ کربلا کی

فضائے خونچکاں، پیشِ نظر ہے

مرے آقاؐ ظفرؔ پر مہرباں ہیں

حضوری کا سماں، پیشِ نظر ہے

٭٭٭

 

محبت کیجیے ربّ العلیٰ سے

محبت کیجے محبوبِ خُداؐ سے

عطا کرتے ہیں آپؐ اپنی محبت

اگر مانگے کوئی صدق و صفا سے

خُدا کی نعمتیں ملتی ہیں ساری

درِ خیر البشرؐ خیر الوریٰؐ سے

خُدائے پاک نے اُنؐ کو نوازا

مُروّت، حِلم سے، جُود و سخا سے

شبِ معراج، معراجِ محبت

بظاہر ابتدا، غارِ حرا سے

کٹا لیتے ہیں سر اُمت کی خاطر

ملا یہ درس، دشتِ کربلا سے

ظفرؔ! ہے لازم و ملزوم باہم

خُدا کا پیار، عشقِ مصطفیؐ سے

٭٭٭

 

محبت ہو نہیں سکتی خُدا سے

نہ ہو جب تک حبیبِ کبریاؐ سے

خُدا رزاق ہے، دیتا ہے روزی

مگر سرکارؐ کے دستِ عطا سے

گداؤں کو خزائن مل رہے ہیں

درِ حضرت محمد مصطفیؐ سے

نواسوں سے مؤدت آپؐ کو تھی

محبت، فاطمہؓ خیر النساء سے

علم عباسؓ کا اُونچا رہے گا

صدا آتی ہے دشتِ کربلا سے

فروتر، ہیچ تر، کم تر نہ کوئی

مرے جیسے غلامِ مصطفیؐ سے

ہیں برتر سب غلامانِ محمدؐ

ظفرؔ مسکین و عاجز، بے نوا سے

٭٭٭

 

مرے آقاؐ، کرم مُجھ پر خُدارا

ہو لللّٰہ ایک رحمت کا اشارا

نگاہِ لُطف و رحمت مُجھ گدا پر

تمھی ہو رحمتوں کا بہتا دھارا

مجھے غرقاب ہونے سے بچا لیں

کریں گرداب میں پیدا کنارا

بہ احوالِ خرابِ ما نظر کُن

عطا کُن، عشق و مستی بے نوا را

جھلک سرکارؐ کی دیکھی ہے جب سے

نہیں اب ہجر میں ہوتا گزارا

قدم سرکارؐ گر رکھیں قبر پر

لحد میں بھی میں جی اُٹھوں دو بارا

خُدا کا فضل، رحمت مصطفیؐ کی

ظفرؔ کا اوّل و آخر سہارا

٭٭٭

 

در پہ آئے ہیں اِلتجا کے لیے

بھیک دیجے ہمیں خُدا کے لیے

میرے خیر الوریٰؐ کی چوکھٹ پر

خیر ہی خیر ہے گدا کے لیے

آپؐ کا پیار ہو عطا مُجھ کو

منتظر ہوں میں اِس عطا کے لیے

آپؐ نے جن کو اِک نظر دیکھا

آپؐ کے ہو گئے سدا کے لیے

سب جہاں، سب زماں بنائے گئے

یا نبیؐ! آپ کی رضا کے لیے

میری ہر سانس، دِل کی ہر دھڑکن

وقف ہے نعتِ مصطفیؐ کے لیے

جھولیاں بھر کے سب ظفرؔ! لوٹے

آئے جو عرضِ مُدعا کے لیے

٭٭٭

آپؐ کے آستاں پہ جاتے ہیں

نعمتیں سب وہیں سے پاتے ہیں

ناتواں جاں میں جان آتی ہے

آپؐ قدموں میں جب بٹھاتے ہیں

آپؐ سنتے ہیں داستانِ الم

آپؐ کو حالِ دِل سناتے ہیں

آپؐ ہی روح و جاں کے محور ہیں

قلب میں آپؐ کو بساتے ہیں

پیاسے ہونٹوں سے جالیاں چھو کر

پیاس برسوں کی ہم بجھاتے ہیں

سامنے جب ہو گنبدِ خضریٰ

روتے عُشاق مُسکراتے ہیں

ہے مقامِ نزولِ نعت یہی

دِل کا ایواں ظفرؔ! سجاتے ہیں

٭٭٭

 

 

 

یہ جُود و کرم آپؐ کا ہے، فیض و عطا ہے

سُوکھا ہوا اک پیڑ ہرا پھر سے کیا ہے

الطاف و عنایاتِ خُدا، عشقِ محمدؐ

سب کچھ ہے مرے پاس، یہ سب اُنؐ کا دیا ہے

محبوبؐ کی خاطر ہی بنایا گیا سب کچھ

محبوبؐ خُدائی کا، وہ محبوبِ خُدا ہے

تاریک جہاں سارے ہوئے جس سے مُنوّر

سرکارؐ کے انوار کا روشن وہ دیا ہے

سرکارؐ نے بھٹکے ہوئے لوگوں کو بتایا

معبود ہے اللہ ہی، وہی سب سے بڑا ہے

اک بندۂ مسکین کو دربان بنا کر

سرکارؐ نے کتنا بڑا احسان کیا ہے

سرکارؐ کی چوکھٹ سے ظفرؔ سر نہ اُٹھانا

یوں تیرا بھلا ہو گا، یہی اُنؐ کی رضا ہے

٭٭٭

نبیؐ کا پیار مانگوں میں خُدا سے

خُدا کا پیار مانگوں مصطفیؐ سے

خُدا سے پیار کرنے کا قرینہ

کوئی سیکھے امام الانبیاؐ سے

شہِ کون و مکاںؐ، محبوبِ یزداںؐ

نبیؐ آخر زماں ہیں ابتدا سے

نہیں ہے کوئی بھی بڑھ کر اثاثہ

مرا، عشقِ حبیبِ کبریاؐ سے

جبیں میں نے جھُکائی سن کے فوراً

درودوں کی صدا، غارِ حرا سے

نبیؐ کے خانداں جیسے نہ گزرا

کوئی بھی آج تک کرب و بلا سے

ظفرؔ! میں بندۂ مولا علیؓ ہوں

مؤدت ہے مجھے مشکل کشا سے

٭٭٭

 

 

 

خواب میں اُنؐ کی دید ہوتی ہے

ہم فقیروں کی عید ہوتی ہے

اُنؐ کے قدموں میں سر جھُکاتے ہیں

فکر جن کی رشید ہوتی ہے

جو بھی ذِکرِ حضورؐ میں گزرے

وہ ہی ساعت سعید ہوتی ہے

نعت صدیوں سے ہر زباں پر ہے

نعت ہر دم جدید ہوتی ہے

رہنمائے درِ رسولِ خُداؐ

بارگاہِ فریدؒ ہوتی ہے

سوئے طیبہ قدم جب اُٹھتے ہیں

اُنؐ کی رحمت مزید ہوتی ہے

جب ظفرؔ آس ٹوٹ جاتی ہے

اُنؐ کے در سے نوید ہوتی ہے

٭٭٭

 

یہ مُجھ پہ کرم اُنؐ کا ہے، یہ اُنؐ کی عطا ہے

بن مانگے ہی خیرات سے کشکول بھرا ہے

بُت خانے بہت، جھوٹے خُداؤں کی تھی بھرمار

محبوبِ خُداؐ نے یہ کہا ’ایک خُدا ہے ‘

سرکارؐ کے صدیق ہیں، صدیقؓ و عمرؓ بھی

عثمانِ غنیؓ اور علیؓ شیرِ خُدا ہے

برسائیے پھر ابرِ کرم، اے شہِ بطحاؐ!

مسموم ہوئی پھر سے زمانوں کی فضا ہے

فرعونِ زماں پھر سے گرہیں ڈال رہے ہیں

قرآن کی تعلیم ہی بس عُقدہ کشا ہے

یاد آئی بہت پھر سے نواسۂ نبیؐ کی

نمناک ہے پھر آنکھ تو پھر زخم ہرا ہے

ہر آن ظفرؔ بھرتی ہیں یاں جھولیاں سب کی

سرکارؐ کا در ہے، یہ درِ جُود و سخا ہے

٭٭٭

 

وہی اللہ کے پیغام بر ہیں

وہی خلقِ خُدا کے راہبر ہیں

وہی محبوبِ ربّ العالمیںؐ ہیں

وہی خیر الوریٰؐ، خیر البشرؐ ہیں

وہی تو رحمۃ اللعالمیںؐ ہیں

حبیبِ کبریاؐ وہ سر بسر ہیں

وہی ہیں تاجدارِ تاجداراں

وہی کون و مکاں کے تاج ور ہیں

وہی محبوب ہیں دیدہ وروں کے

وہی عُشاق کے نورِ نظر ہیں

وہی ہیں سب مریضوں کے مسیحا

وہی ہمدرد و مونس، چارا گر ہیں

ظفرؔ جتنی بھی چاہے بھیک مانگے

عطا کرتے وہ اُس سے بیشتر ہیں

٭٭٭

 

کوئے محبوبؐ کی گدائی ملے

درِ سرکارؐ تک رسائی ملے

آپؐ کے در سے، آپؐ کے گھر سے

علم و عرفان و پارسائی ملے

رہ گم گشتگاں کو ہر لمحہ

آپؐ کے در سے رہنمائی ملے

کعبۃ اللہ، جلال کا مظہر

آپؐ کے در سے دِلکشائی ملے

صوت و آہنگ و حرف و معنی کو

ذِکرِ احمدؐ سے خوش نوائی ملے

آپؐ کے فیض سے سبھی انساں

بن کے آپس میں بھائی بھائی ملے

آپؐ کے در کی چاکری پہ ظفرؔ

وار دوں گر مجھے خُدائی ملے

٭٭٭

 

کہاں میں اور کہاں اُنؐ کی ثنائیں

کرم اُنؐ کا ہے یہ، اُنؐ کی عطائیں

بہت مسرور ہوں، پیشِ نظر ہیں

دیارِ کعبہ، طیبہ کی فضائیں

کرم کا سائباں سایہ کُناں ہے

ہیں اُنؐ کے لُطف کی مُجھ پر ردائیں

میں جب بھی نعتیہ اشعار لکھوں

سنائی دیں مجھے غیبی صدائیں

مری جاں میں، مرے قلب و نظر میں

کرم فرمائیں، اب تشریف لائیں

مجھے بھی ساتھ لے جائیں خُدارا

مدینہ جانے والے جب بھی جائیں

ظفرؔ کو خواب میں آقاؐ کسی شب

جھلک رُوئے مُنوّر کی دکھائیں

٭٭٭

 

محبت کا وہ بحرِ بیکراں ہیں

وہی اوّل، نبیؐ آخر زماں ہیں

اندھیروں میں وہی مینارۂ نور

اُنھیؐ کے نور سے روشن جہاں ہیں

وہی ہیں راہبر سب رہبروں کے

وہی قبلہ نمائے گمرہاں ہیں

وہی ہیں کارسازِ درد منداں

وہی چارہ گرِ بے چارگاں ہیں

وہی عقدہ کشا، حاجت روا بھی

وہی مشکل کشائے بے کساں ہیں

وہی ہیں راحتِ جاں عاشقوں کے

مسیحائے ہمہ خستہ دِلاں ہیں

کرم فرما ہیں جو اغیار پر بھی

ظفرؔ! وہؐ دوست دارِ دُشمناں ہیں

٭٭٭

 

آپؐ قدموں میں جب بٹھاتے ہیں

غم زمانے کے بھول جاتے ہیں

نعت کے شعر اور درُود و سلام

آپؐ کے در پہ ہم سناتے ہیں

باخبر لوگ آگہی کے لیے

آپؐ کے آستاں پہ آتے ہیں

عِلم و عرفان و عشق و سر مستی

آپؐ کے در سے لوگ پاتے ہیں

بات اُتنی زباں پہ لاتا ہوں

جتنی پیارے نبیؐ بتاتے ہیں

مہرباں جن پہ ہوں حبیبِ خُداؐ

راہِ طیبہ اُنھیں دکھاتے ہیں

آپؐ کی یاد سے، تصور سے

خانۂ دِل ظفرؔ سجاتے ہیں

٭٭٭

 

ذِکرِ خیر الانامؐ کرتے ہیں

ہم مسلسل، مُدام کرتے ہیں

حمدِ باری بھی، نعت بھی جاری

ہم یہی نیک کام کرتے ہیں

آپؐ رحمت ہیں عالمیں کے لیے

ہر کہیں فیض عام کرتے ہیں

سنگ دِل ہیں جو، موم دِل اُن کے

اولیائے کرام کرتے ہیں

زندہ جاوید ہیں وہ عاشق جو

جان و دِل اُنؐ کے نام کرتے ہیں

اپنے عُشاق کو حضورؐ اکثر

خواب میں ہم کلام کرتے ہیں

دِل مدینہ ہے اب ظفرؔ! میرے

دِل میں آقاؐ قیام کرتے ہیں

٭٭٭

 

ہم درِ مصطفیؐ پہ جائیں گے

خالی کشکول بھر کے لائیں گے

وہ جو بن مانگے دینے والے ہیں

ہم بھی خیرات اُنؐ سے پائیں گے

آپؐ کا نقشِ پا جہاں ہو گا

ہم وہاں پر جبیں جھُکائیں گے

آمدِ مصطفیؐ کے چرچے ہیں

ہم بھی دِل کا مکاں سجائیں گے

رُخِ زیبا کی اک جھلک پا کر

عمر بھر ہم خوشی منائیں گے

حمدِ باری بھی ہر جگہ پر ہم

نعت بھی جا بجا سنائیں گے

مُجھ سے بے بال و پر ظفرؔ کے گھر

اِک نہ اِک دِن حضورؐ آئیں گے

٭٭٭

 

آئے، اللہ کے حبیبؐ آئے

جاگے انسان کے نصیب، آئے

خیمہ زن چار سو اندھیرے تھے

آپؐ ہی نور کے نقیب آئے

بوریا جن کا تختِ شاہی تھا

آئے سادہ مگر نجیب آئے

مشکلیں دُور ہو گئیں ہم سے

آپؐ کے در کے جب قریب آئے

خاکِ بطحا سے جو علاج کرے

کاش ایسا کوئی طبیب آئے

جو بتائے رموزِ عشقِ نبیؐ

کاش ایسا کوئی خطیب آئے

جب وہ لوٹے ظفرؔ تونگر تھے

آپؐ کے در پہ جو غریب آئے

٭٭٭

 

پُرسکوں زندگی مدینے میں

غم ہی غم، دُور رہ کے جینے میں

وہ جہاں بھر کی خوشبوؤں میں کہاں

جو مہک آپؐ کے پسینے میں

اُن پہ سرکارؐ کی ہے نگہِ کرم

عشقِ احمدؐ ہے جن کے سینے میں

اُن کو دیتے ہیں راستا طوفاں

جو ہیں سرکارؐ کے سفینے میں

آپؐ کا پیار روز افزوں ہے

نِت اضافہ مرے خزینے میں

کیا عجب جام اِک عطا کر دیں

کیا کمی اُنؐ کے آبگینے میں

کچھ نہ خوبی ظفرؔ سگِ در میں

اِک وفا ہی تو ہے کمینے میں

٭٭٭

 

شاہِ بطحاؐ سے پیار مانگے ہے

قلب دیوانہ وار مانگے ہے

دِلِ فرقت زدہ و افسردہ

وصل مانگے، قرار مانگے ہے

میرا جذبِ درُوں، وفورِ جنوں

جلوۂ آشکار مانگے ہے

آپؐ کے نور سے جو جگمگ ہو

عشق ایسا دیار مانگے ہے

اُڑ کے پہنچوں حضورؐ کے در تک

عشق یہ اختیار مانگے ہے

آنسوؤں سے کوئی وُضو کر کے

با وُضو، اشکبار مانگے ہے

آپؐ بن مانگے پیار دیتے ہیں

تُو ظفرؔ بار بار مانگے ہے

٭٭٭

 

میرے آقاؐ کے جو غلام بنے

اُن کے بگڑے ہوئے بھی کام بنے

کام مشکل ترین و پیچیدہ

روضے کی جالیوں کو تھام، بنے

ایک دِن بن گئے سخی وہ جو

اُنؐ کے در کے گدائے عام بنے

آپؐ کے در پہ بیٹھنے والے

سب کے سب اولیا کرام بنے

جان واروں شمعِ رسالت پر

اُنؐ کا پروانہ میرا نام بنے

آبِ کوثر کا ساقیِ کوثرؐ

مرا مقدور ایک جام بنے

بن گئے جو ظفرؔ فقیر اُنؐ کے

ٹوٹے تارے، مہِ تمام بنے

٭٭٭

 

آپؐ سے عشق پیارے ربّ کا ہے

آپؐ سے عشق پیار سب کا ہے

ربِّ اکبر درُود پڑھتا ہے

یہ وظیفہ نہ جانے کب کا ہے

مانگتا ہوں میں اُنؐ سے پیار اُنؐ کا

میرا انداز یہ طلب کا ہے

چاند سورج ہیں تابعِ فرماں

سلسلہ جن سے روز و شب کا ہے

اُنؐ کے ہر نقشِ پا پہ سر رکھنا

عاشقی کا طریق ڈھب کا ہے

جب سے سرکارؐ نے قدم رکھا

دل مرا بے قرار تب کا ہے

سر جھکاؤ ظفرؔ! ادب سے یہاں

آستاں یہ حبیبِؐ ربِّ کا ہے

٭٭٭

 

میرے دِل میں حضورؐ رہتے ہیں

کون کہتا ہے دُور رہتے ہیں

اُنؐ کے قدموں میں اُنؐ کے دیوانے

اہلِ فکر و شعور رہتے ہیں

جن کو نظرِ کرم کی بھیک ملے

وہ مجسم سرُور رہتے ہیں

جو درُود و سلام پڑھتے ہیں

اُن کے دِل نور نور رہتے ہیں

اُن کی گلیوں سی وہ کہاں جنت

جس میں حور و قصور رہتے ہیں

پیار سے اہلِ دِل بلائیں تو

آپؐ آ کر ضرور رہتے ہیں

نسبتِ آنحضورؐ سے ہی ظفرؔ

زندہ اہلِ قبور رہتے ہیں

٭٭٭

 

کرم یا ربّ! بہت رنجور ہوں میں

مدینہ سے ابھی تک دُور ہوں میں

تمنا ہے مدینہ اُڑ کے پہنچوں

مگر بے بال و پر، مجبور ہوں میں

ہے ذِکرِ ساقیِ کوثرؐ لبوں پر

بہت سر مست ہوں، مسرور ہوں میں

پنہ گاہِ غریباں اُنؐ کا دامن

اُسی دامن میں اب مستور ہوں میں

جمالِ مصطفیؐ پیشِ نظر ہے

نبیؐ کے عشق سے معمور ہوں میں

میں دربانِ درِ خیر الوریٰؐ ہوں

بڑے منصب پہ اب مامور ہوں میں

سگِ در ہوں ظفرؔ سرکارؐ کا میں

اِسی نسبت سے اب مشہور ہوں میں

٭٭٭

 

دِل میں آرام و سکوں، لُطف و قرار آپؐ سے ہے

جاں میں ہے اُنؐ کی مہک، رنگِ بہار آپؐ سے ہے

باغِ اُمت کے مہکتے ہوئے گُل زاروں میں

پھُول کلیوں کی چٹک، نقش و نگار آپؐ سے ہے

آپؐ کے نور سے تاریک جہاں روشن ہیں

ضو فشاں آج بھی ہر ایک دیار آپؐ سے ہے

نکتہ ور، اہلِ نظر، اہلِ خبر کہتے ہیں

نوعِ انساں کو ملا جاہ و وقار آپؐ سے ہے

ذِکرِ سرکارؐ کے روشن ہیں مرے گھر میں چراغ

مری نعتوں میں، درُودوں میں نکھار آپؐ سے ہے

نہ مجھے دولتِ دنیا سے، نہ سیم و زر سے

ہے مجھے عشق حضور! آپؐ سے، پیار آپؐ سے ہے

ایک ہو جائیں مسلمان سبھی دنیا کے

مری فریاد ظفرؔ میری پکار آپؐ سے ہے

٭٭٭

 

مرے آقاؐ کرم یہ فرمائیں

اِک جھلک خواب ہی میں دکھلائیں

جو مدینہ پہنچ نہیں پاتے

دیدہ و دِل میں اُن کے آ جائیں

ہجر میں جن کی عمر گزری ہے

اُن کو در پر حضورؐ بلوائیں

سبز گنبد کی ٹھنڈی چھاؤں میں

تشنہ لب، تشنہ کام سستائیں

نعمتیں جو نہ دسترس میں ہوں

آپؐ کے در سے نعمتیں پائیں

اُنؐ کی چاہت کے اُن کی نسبت کے

مرے گھر پر عَلَم وہ لہرائیں

میرا گھر کیوں نہ رشکِ جنت ہو

میرے گھر میں ظفرؔ جو آپؐ آئیں

٭٭٭

 

رنجور تھا میں، آپؐ نے مسرور کیا ہے

کاسہ مرا خیرات سے بھرپور کیا ہے

جلتا تھا بدن، سر پہ کڑی دھوپ تھی میرے

دامانِ کرم میں مجھے مستور کیا ہے

سرکارؐ کی یادوں نے مرے دِل میں سما کر

دِل کو مرے خوشبوؤں سے معمور کیا ہے

بے کیف تھے، بے رنگ مرے شام و سحر تھے

ذِکرِ شہِ کونینؐ نے پُرنور کیا ہے

ہر آن رہے ذِکرِ نبیؐ قلب میں جاری

پاکیزہ عمل میں نے، یہ دستور کیا ہے

سرکارؐ کی رحمت ہوئی اُس قوم پہ نازل

قرآن کو جس قوم نے منشور کیا ہے

سرکارؐ نے بلوایا ہے صدیق ظفرؔ کو

دربانیِ دربار پہ مامور کیا ہے

٭٭٭

 

عرض یا ربّ قبول ہو جائے

دِل مدینہ کی دھُول ہو جائے

مہرباں ہو گیا خُدا سمجھو

مہرباں گر رسولؐ ہو جائے

آپؐ رحمت کی اِک نظر ڈالیں

ایک اِک خار پھُول ہو جائے

مرے آقاؐ معاف کرتے ہیں

گر کوئی ہم سے بھول ہو جائے

آپؐ کے عشق میں مگن رہنا

زندگی کا اُصول ہو جائے

شعر وہ باریاب ہوتا ہے

جس میں ذِکرِ بتولؓ ہو جائے

نعت لکھ کر سُکون ملتا ہے

دِل ظفر!ؔ گر ملول ہو جائے

٭٭٭

 

کوئی نیکی نہیں دامن میں، خطا کار ہوں میں

ہوں مگر اُنؐ کا گدا، بندۂ سرکارؐ ہوں میں

یہ بھی سچ ہے کہ میں عاصی ہوں، گنہگار ہوں میں

یہ بھی سچ، آپؐ کی رحمت کا سزاوار ہوں میں

منتظر آپؐ کے الطاف و کرم کا ہر دم

آپؐ کی نظرِ عنایت کا طلبگار ہوں میں

غیر کے در پہ مجھے ہاتھ نہ پھیلانے دیا

یہ بھی اُنؐ کا ہے کرم، اُنؐ کا نمک خوار ہوں میں

یہ خُدا کا بڑا احسان ہے مُجھ عاجز پر

میں ثناء خوانِ نبیؐ، اُنؐ کا قلم کار ہوں میں

کربلا والوں کی یاد آج بھی تڑپاتی ہے

اشک بار آج بھی ہوں، آج بھی غم خوار ہوں میں

اُنؐ کی نسبت کی بدولت ہوں میں انمول ظفرؔ!

کون کہتا ہے تہی دست ہوں، بے کار ہوں میں

٭٭٭

 

دِل میں یادِ نبیؐ کا ڈیرا ہے

نور پھیلا، ہُوا سویرا ہے

آپؐ کے ذِکر سے درخشندہ

جان میری ہے، قلب میرا ہے

کھُل کے برسے گا اُنؐ کی رحمت کا

ابر چھایا ہوا، گھنیرا ہے

جو درُود و سلام پڑھتے ہیں

اُن پہ فضلِ خُدا ودھیرا ہے

سرنگوں ہو کبھی، خُدا نہ کرے

دینِ اِسلام کا پھریرا ہے

میرا گھر کیوں نہ رشکِ جنت ہو

آپؐ کا میرے گھر میں پھیرا ہے

ہاں ظفرؔ! دِل خُدا کی بستی ہے

جس میں سرکارؐ کا بسیرا ہے

٭٭٭

 

نگاہوں میں مدینہ آ گیا ہے

مصائب کو پسینا آ گیا ہے

اندھیروں میں وہؐ اِک شمعِ فروزاں

ضیاؤں میں نگینہ آ گیا ہے

بھنور میں نام جب اُنؐ کا پُکارا

کنارے پر سفینا آ گیا ہے

بفیضانِ پیمبرؐ عاشقوں کو

محبت کا قرینا آ گیا ہے

جو ڈُوبے بحرِ عشقِ مصطفیؐ میں

اُنھیں مر مر کے جینا آ گیا ہے

میں مالا مال ہوں عشقِ نبیؐ سے

مرے حصے خزینہ آ گیا ہے

سگِ در کی جگہ لینے ادب سے

ظفرؔ ادنیٰ کمینا آ گیا ہے

٭٭٭

 

آستانِ نبیؐ پہ جائیں گے

درِ اقدس سے فیض پائیں گے

آپؐ کے در کے ہو رہیں گے ہم

در بدر ٹھوکریں نہ کھائیں گے

جس جگہ اُنؐ کا نقشِ پا ہو گا

اُس جگہ ہم جبیں جھُکائیں گے

اُنؐ پہ بھیجیں گے ہم درُود و سلام

اُنؐ کی یادوں سے لو لگائیں گے

عیدِ میلاد ہے، چراغاں ہے

دِل کے دیوار و در سجائیں گے

آپؐ جب سر پہ ہاتھ رکھیں گے

رونے والے بھی مسکرائیں گے

موت کیونکر اُٹھا سکے گی ظفرؔ!

آپؐ قدموں میں جب بٹھائیں گے

٭٭٭

 

آپؐ کی یاد دِل میں بستی ہے

دِل مدینہ کی گویا بستی ہے

ہے جو رحمت کُل عالمیں کے لیے

آپؐ کی وہ عظیم ہستی ہے

آستانِ نبیؐ پہ ہر لمحہ

رحمتوں کی گھٹا برستی ہے

خود بچاتے ہیں آپؐ، اُمت کی

جب بھی ناؤ بھنور میں پھنستی ہے

منتظر میری چشمِ تر، آقاؐ

آپؐ کی دید کو ترستی ہے

راہِ طیبہ میں یا نبیؐ حائل

مفلسی، میری تنگ دستی ہے

یا نبیؐ! اب طلوعِ صبح، ظفرؔ

شب گزیدہ کو رات ڈستی ہے

٭٭٭

 

جاں میں جلوۂ یارؐ رہتا ہے

دِل مرا پُر بہار رہتا ہے

مرے قلب و نظر میں نور افشاں

حُسن کا تاج دارؐ رہتا ہے

دھیان میں جب ہو وہ رُخِ زیبا

دِل پہ کب اختیار رہتا ہے

عمرؓ بھی، آپؐ ہی کے پہلو میں

آپؐ کا یارِ غارؓ رہتا ہے

آپؐ سے خلق اور خالق کا

رابطہ اُستوار رہتا ہے

غم کے مارو! چلو مدینہ چلیں

واں نبیؐ غم گسار رہتا ہے

آپؐ کے عاشقوں میں دیوانہ

اِک ظفرؔ دِل فگار رہتا ہے

٭٭٭

 

وہ سدا کامگار رہتا ہے

آپؐ سے جس کو پیار رہتا ہے

اِک قدم میرے دِل میں میرے حضورؐ

ہجر میں بے قرار رہتا ہے

عاشقوں کے دِلوں میں بستا ہے

حُسن یوں پردہ دار رہتا ہے

کتنا خوش بخت ہے وہ عاشق جو

جان و دِل اُنؐ پہ وار رہتا ہے

ہم فقیروں پہ اُنؐ کا لُطف و کرم

ہر گھڑی، بے شمار رہتا ہے

اُنؐ کے قدموں میں، اُنؐ کا پروانہ

بن کے خدمت گزار رہتا ہے

اُنؐ کا احسان ہے ظفرؔ کا بھی

عاشقوں میں شمار رہتا ہے

٭٭٭

 

آپؐ ہیں خیر البشرؐ خیر الوریٰؐ، میرے نبیؐ

آپؐ ہیں شمس الضحیٰؐ بدر الدجیٰؐ، میرے نبیؐ

انبیا ہیں لائقِ تعظیم سارے ہی مگر

منفرد، یکتا، امام الانبیاؐ، میرے نبیؐ

دِلرُبا و دِلکشا و جاں فزا و رُوح فزا

مسجدِ نبوی کی نورانی فضا، میرے نبیؐ

اس لیے یاں پر معطر ہے معنبر ہے ہوا

چھُو کے آتی ہے یہ دامن آپؐ کا، میرے نبیؐ

میں بھی ہوں اُمیدوارِ یک نگاہِ التفات

آپؐ کے در کا ہوں میں ادنیٰ گدا، میرے نبیؐ

آپؐ کے دیدار سے عُشاق ہوں گے فیض یاب

جلوہ فرما ہوں گے جب روزِ جزا، میرے نبیؐ

آپؐ کے فیضان سے زندہ و تابندہ، ظفرؔ

دم بدم، ہر دم پکارے ہے سدا، میرے نبیؐ

٭٭٭

 

مرے آقاؐ تشریف لائیں گے اِک دِن

مرے قلب و جاں میں سمائیں گے اِک دِن

میں بے آسرا، بے نوا، دربدر ہوں

مجھے اپنے در پہ بلائیں گے اِک دِن

سخی در وہ ایسا ہے جس در سے، مُجھ سے

سگِ در بھی خیرات پائیں گے اِک دِن

وہ روضۂ اطہر، وہ محراب و منبر

فقیروں کو آقاؐ دکھائیں گے اِک دِن

اُنھیؐ سے میں مانگوں محبت اُنھی کی

مری التجا مان جائیں گے اِک دِن

اُتر جائیں گے بحرِ عشق نبیؐ میں

نشاناتِ دوئی مٹائیں گے اِک دِن

بوقتِ نزع آپؐ کی دید ہو گی

ظفرؔ! غمزدہ مسکرائیں گے اِک دِن

٭٭٭

 

تصوّر آپؐ کا میں نے دِل و جاں میں اُتارا ہے

بڑا مضبوط ہے رشتہ بڑا محکم سہارا ہے

وہ محبوبِ خُداؐ بھی، رحمۃ اللعالمیںؐ بھی وہ

ازل سے تا ابد ہر دم رواں رحمت کا دھارا ہے

پُکارا آپؐ کو جس وقت میں نے قعرِ دریا میں

بھنور، گرداب میں، طوفان میں اُبھرا کنارا ہے

فرشتے اُس گھڑی نازل ہوئے تائید و نصرت کو

مسلمانوں نے صدقِ دِل سے جب رو کر پُکارا ہے

بہت بے نور تھے شام و سحر، بے کیف تھے لمحے

درودوں کی صدا سے میں نے ہر لمحہ نکھارا ہے

خُدا اُس پر کرم فرمائے گا، اُس کو نوازے گا

جو منظورِ نظر ہے آپؐ کا، اللہ کا پیارا ہے

مرے سرکارؐ میرے مُونس و ہمدرد و ہمدم ہیں

وہ کوئی اور ہو گا جو ظفرؔ! فرقت کا مارا ہے

٭٭٭

 

مرے پیشِ نظر طیبہ نگر ہے

محبت کا جہاں پیشِ نظر ہے

وہی جو رحمۃ اللعالمیںؐ ہے

بشر ہے وہ مگر، خیر البشرؐ ہے

فروزاں ہے جو اُنؐ کے نقشِ پا سے

وہی رستہ مرا، میری ڈگر ہے

جو آیا بے زبان و بے بصر تھا

وہ لوٹا خوش بیان و دیدہ ور ہے

نہایا خون میں پیاسا، نواسا

مری سرکارؐ کا لختِ جگر ہے

میں سرداروں کو خاطر میں نہ لاؤں

مرا سرکارؐکے قدموں میں سر ہے

سفر جس کی ہو منزل شہرِ آقاؐ

سفر وہ ہی وسیلۂ ظفرؔ ہے

٭٭٭

 

نبیؐ اللہ کا مُجھ پر کرم ہے

نبیؐ دمساز میرا، دم بدم ہے

مرے سرکارؐ مُجھ پر مہرباں ہیں

مجھے تشویش ہے کوئی نہ غم ہے

امام الانبیا، محبوبِ یزداںؐ

عجب رُتبہ، عجب جاہ و حشم ہے

نہیں آنسو وہ برساتی ہے موتی

نبیؐ کی یاد میں جو آنکھ نم ہے

خُدا کا نام، اسمِ مصطفیؐ بھی

مرے سینے، مرے دِل میں رقم ہے

سگِ در ہوں درِ خیر البشرؐ کا

مرا سرکارؐ نے رکھا بھرم ہے

مری سرکارؐ کی وہ نعت لکھے

ظفرؔ! جو دیدہ ور، صاحب قلم ہے

٭٭٭

 

ذِکرِ خیر الانامؐ کرتے ہیں

جان و دِل اُنؐ کے نام کرتے ہیں

نعت لکھ کے، سنا کے لوگوں کو

نعت کا فیض عام کرتے ہیں

نعت سرکارؐ خود لکھاتے ہیں

ہم تو بس اہتمام کرتے ہیں

ہر گھڑی حمد اور درُود و سلام

عشق والے یہ کام کرتے ہیں

ڈھلتے جائیں سخن حدیثوں میں

آپؐ جب بھی کلام کرتے ہیں

اُنؐ کے عشاق، اُنؐ کے پروانے

اُنؐ کے در پر قیام کرتے ہیں

عاشقانِ نبیؐ کو جھک کے ظفرؔ

احتراماً سلام کرتے ہیں

٭٭٭

 

محمدؐ آپؐ کا ہے نامِ نامی

ہے احمدؐ آپؐ کا اسمِ گرامی

ادب ہے بس تقاضائے محبت

محبت بس، محمدؐ کی غلامی

کھڑے ہیں دم کشیدہ سر خمیدہ

درِ سرکارؐ پر رومیؒ و جامیؒ

جنیدؒ و بایزیدؒ آئے ادب سے

درِ سرکارؐ پر دینے سلامی

ملائک جن و انساں سر بسر ہیں

مری سرکارؐ کے خادم تمامی

کلام اُنؐ کی ثناء کا لکھ رہا ہوں

ہے جن کی خود خُدا سے ہم کلامی

بھنور میں جب پھنسی اُمت کی کشتی

ظفرؔ! سرکارؐ نے فی الفور تھامی

٭٭٭

 

آپؐ کے پیار کے سہارے چلوں

آپؐ کا نام ہی پکارے چلوں

مُجھ کو سرکارؐ نے بلایا ہے

چھوڑ کر کام کاج سارے چلوں

اپنی پلکوں سے نقشِ پا چوموں

آپؐ کی را ہوں کے کنارے چلوں

آپؐ کا نور رہنما ہے مرا

دیکھ کر کیوں میں چاند تارے چلوں

شبِ معراج رونما جو ہوئے

خواب میں دیکھتا نظارے چلوں

دستِ قدرت جو تھامے ہاتھ مرا

نعت کے زاویے اُبھارے چلوں

آنسوؤں کے سوا ظفرؔ! میرے

پاس کچھ بھی نہیں جو وارے چلوں

٭٭٭

 

اُنؐ کی رحمت کا کچھ شمار نہیں

کوئی بھی اُنؐ سا غم گسار نہیں

کیوں نہ ایمان ہو مرا کامل

اُنؐ سے بڑھ کر کسی سے پیار نہیں

آپؐ رحمت ہیں عالمیں کے لیے

منتخب کوئی اِک دیار نہیں

آپؐ کی ذات، فخرِ موجُودات

صرف میرا ہی افتخار نہیں

ہے جمالِ حضورؐ آنکھوں میں

اِس سے بڑھ کر کوئی وقار نہیں

آپؐ کا پیار جس نے جیت لیا

اس کی قسمت میں کوئی ہار نہیں

جب سے دیکھا ظفرؔ! رُخِ زیبا

دیدہ و دِل پہ اختیار نہیں

٭٭٭

 

آپؐ کے آستاں پہ آتا ہوں

اپنے من کی مراد پاتا ہوں

آپؐ فیض و عطا کا مرکز ہیں

آپؐ کے در پہ سر جھُکاتا ہوں

آپؐ کا سایا میرے سر پہ رہے

اس دُعا کو میں ہاتھ اُٹھاتا ہوں

دِل میں پڑھتا ہوں میں درُود و سلام

یوں میں سنسان گھر بساتا ہوں

میں پہنتا ہوں آپؐ کا اُترن

میں دیا آپؐ ہی کا کھاتا ہوں

ڈال کر سر میں پاؤں کا دھوون

نِت نئے بال و پر اُگاتا ہوں

آس لے کر ظفرؔ! حضوری کی

سوئے کوئے حبیبؐ جاتا ہوں

٭٭٭

 

ہم درِ مصطفیؐ پہ جائیں گے

خالی کشکول بھر کے لائیں گے

ہم زیاں کاروں، پُر خطاؤں کو

اپنے دامن میں وہؐ چھپائیں گے

دستِ رحمت سے پیاسی اُمت کو

آبِ کوثر وہؐ خود پلائیں گے

اُنؐ کے انوار ظلمتِ شب میں

سِیدھا رستہ ہمیں دکھائیں گے

کفر کے بت کدوں میں جا کر ہم

حمد و نعتِ نبیؐ سنائیں گے

حمد کے، نعت کے، درودوں کے

ظلمتوں میں دیے جلائیں گے

میرے گھر میں ظفرؔ! بوقتِ وصال

آپؐ تشریف لے کے آئیں گے

٭٭٭

 

یا خُدا! عشقِ محمدؐ کا عطا اِک جام کر

یوں عطا فیضِ نبیؐ کا سرمدی انعام کر

یا خُدا! اُمت کے سر سے ٹال دے سب مشکلیں

اور اُونچا آسماں تک پرچمِ اِسلام کر

خیزاں افتاں جا رہا ہوں میں مدینہ کی طرف

یا خُدا مشکل سفر میرا بخیر انجام کر

میری مٹی کو اُڑا کر سُوئے طیبہ لے کے چل

تُو مرا بادِ صبا! بہرِ خُدا، یہ کام کر

تُجھ پہ لازم ہے یہ ارضِ پاک کے فرمانروا

درسِ عشقِ مصطفیؐ ہر مدرسہ میں عام کر

اسمِ احمدؐ یوں رگ و پے میں مرے رچ بس گیا

ذِکر اب کرتا ہوں میں قلب و جگر کو تھام کر

زندگی تیری برائے نام، تُو گمنام ہے

زندگی اپنی ظفرؔ! اپنے نبیؐ کے نام کر

٭٭٭

 

میں درِ مصطفیؐ پہ جاتا ہوں

سنگِ در پر جبیں جھُکاتا ہوں

مُندمل زخم دِل کے ہوتے ہیں

جونہی سرکارؐ کو دکھاتا ہوں

اپنے دِل میں بسا کے یادِ حضورؐ

دِل کے ایوان میں سجاتا ہوں

یہ عطا اُنؐ کی ہے جو میں اُنؐ کو

جان و دِل کے قریب پاتا ہوں

خواب میں جب بھی دید ہوتی ہے

نعت کے شعر گنگناتا ہوں

جو کوئی ہم کلام ہو مُجھ سے

اس کو نعتِ نبیؐ سناتا ہوں

تھا سیہ بخت میں ظفرؔ! اب تو

اُنؐ کی نسبت سے جگمگاتا ہوں

٭٭٭

 

ذِکرِ سرکارؐ آؤ عام کریں

تشنہ کاموں کو شاد کام کریں

ذِکرِ خیر البشرؐ عبادت ہے

آپؐ کا ذِکر صبح و شام کریں

حمد و نعت و ثنا، درُود و سلام

یہ عمل روز و شب مدام کریں

آپؐ قدموں میں بھی بُلا لیں گے

ہم سفر کا تو اہتمام کریں

سر نِگوں، سر بلند ہو جائیں

اُنؐ کے قدموں میں گر قیام کریں

چل کے آئے جو اُنؐ کی گلیوں میں

آؤ چل کر اُنھیں سلام کریں

اس سے پہلے کہ موت آئے ظفرؔ

زیست اپنے نبیؐ کے نام کریں

٭٭٭

 

صاحبِ حُسن و جمالؐ! آیا ہوں

بے بسی کی مثال، آیا ہوں

مُجھ پہ سرکارؐ ایک نگہِ کرم

میں پریشان حال آیا ہوں

میں تہی دست، برگِ آوارہ

عکسِ حزن و ملال آیا ہوں

ہیں مجسم عطا مرے آقاؐ

میں مجسم سوال آیا ہوں

دِل میں سرکارؐ اب قدم رکھیں

سب کو دِل سے نکال آیا ہوں

ہجر کی تلخیوں سے گھبرا کر

میں برائے وصال آیا ہوں

گرتے پڑتے ظفرؔ حرم تک میں

سب کو حیرت میں ڈال آیا ہوں

٭٭٭

 

آپؐ کا فیض عام ہوتا ہے

عشق پھر ہم کلام ہوتا ہے

آپؐ پھر سے ہیں مائلِ اکرام

پھر سے گردش میں جام ہوتا ہے

پھر سے جاری ہر ایک محفل میں

ذِکرِ خیر الانامؐ ہوتا ہے

ذِکرِ خیر البشرؐ دِل و جاں میں

صبح ہوتا ہے شام ہوتا ہے

بے کسوں اور بے سہاروں پہ

لُطف اُنؐ کا مدام ہوتا ہے

اس کو دیکھا ہے سرفراز سدا

وہ جو اُنؐ کا غلام ہوتا ہے

حمد بھی، نعت بھی ظفرؔ پیہم

اور درُود و سلام ہوتا ہے

٭٭٭

 

قلب و جاں میں سمائے رہتے ہیں

وہؐ خیالوں پہ چھائے رہتے ہیں

آپؐ کی یاد بھی عبادت ہے

آپؐ سے لو لگائے رہتے ہیں

ایسے عُشاق ہیں جو مستی میں

دِل مدینہ بنائے رہتے ہیں

اُن تہی دامنوں پہ نظرِ کرم

جو جہاں کے ستائے رہتے ہیں

وہ جو اُنؐ کے فقیر ہوتے ہیں

دھوپ میں اُن پہ سائے رہتے ہیں

جو فنا فی الرسولؐ ہو جائیں

اپنی ہستی مٹائے رہتے ہیں

کتنے خوش بخت ہیں ظفرؔ وہ جو

آپؐ کے در پہ آئے رہتے ہیں

٭٭٭

 

رنج و آلام جب ستائیں گے

ہم درِ مصطفیؐ پہ جائیں گے

اُنؐ کے درِ پر جبیں جھُکائیں گے

زندگی بھر نہیں اُٹھائیں گے

تکتے جائیں گے گنبدِ خضریٰ

پیاس نظروں کی ہم بجھائیں گے

آپؐ کے نقشِ پا کی خاکِ شفا

شہرِ طیبہ سے لے کے آئیں گے

ساری دُنیا کے عالم و فاضل

آپؐ کے در سے نُطق پائیں گے

آپؐ کی سیرتِ مُنوّر کو

مشعلِ راہ ہم بنائیں گے

جب ظفرؔ خواب میں حضورؐ آئے

بخت سوئے مرے جگائیں گے

٭٭٭

 

یا نبیؐ آپؐ کو پُکارا ہے

اور کوئی نہیں سہارا ہے

شب گزاری نبیؐ کی یادوں میں

نعت لکھنے میں دِن گزارا ہے

خاکِ پائے نبیؐ کی دولت سے

میں نے دِل کا نگر سنوارا ہے

آپؐ کے فیض سے درخشندہ

جاں ہماری ہے، دِل ہمارا ہے

جو مُنوّر کرے دِل و جاں کو

آپؐ کے نور کا وہ دھارا ہے

آپؐ کا پیار جس نے جیت لیا

زندگی بھر نہیں وہ ہارا ہے

آپؐ کے عاشقوں کی محفل میں

ذِکرِ ہوتا ظفرؔ! تمھارا ہے

٭٭٭

 

مری آنکھوں کا نور صل علیٰ

مری جاں کا سرور صل علیٰ

آپؐ کا نور ہی نظر آئے

مُجھ کو نزدیک و دُور صل علیٰ

آپؐ کی بارگاہ تک پہنچا

مرا حسنِ شعور صل علیٰ

دِل کی بستی میں جلوہ فرما ہیں

مرے آقا حضورؐ صل علیٰ

میں بھی پڑھتا ہوں اور پڑھتا ہے

خود بھی ربِّ غفور صل علیٰ

میں جو لکھوں گا حمدِ ربِّ جلیل

ہو گا بین السطور صل علیٰ

نعت سن کر ظفرؔ پکار اُٹھیں

مُجھ سے اہلِ قبور، صل علیٰ

٭٭٭

 

درِ سرکارؐ تک رسائی ہو

رنج و آلام سے رہائی ہو

وہ مدینہ بلائے جاتے ہیں

جن کی تقدیر رنگ لائی ہو

آپؐ کے شہر میں اماں پائے

قوم جو ظلم کی ستائی ہو

آپؐ کے پیار پر نثار کروں

مری جھولی میں گر خُدائی ہو

لب پہ نامِ خُدا رہے ہر دم

دِل میں یادِ نبیؐ سمائی ہو

کلمہ طیبہ ہو قلب سے جاری

موت جب مُجھ کو لینے آئی ہو

ہے دعائے ظفرؔ کہ ہر لمحہ

ارفع تر شانِ مصطفائی ہو

٭٭٭

 

ذِکرِ سرکارؐ ہر زباں پر ہے

نگہِ سرکارؐ ہر جہاں پر ہے

اُنؐ کا سایا ہے سب زمانوں پر

نقشِ پا اُنؐ کا آسماں پر ہے

اُنؐ کی رحمت ہے عالمیں کے لیے

اُنؐ کا احسان ہر زماں پر ہے

جھولیاں سب کی بھرتی جاتی ہیں

ایک میلہ سا آستاں پر ہے

جس جگہ اُنؐ کا نقشِ پا دیکھا

میں نے سر رکھ دیا وہاں پر ہے

میں نے تاریخ چھان ڈالی ہے

آپؐ جیسا کوئی کہاں پر ہے

تُجھ سا خوش بخت کون ہو گا ظفرؔ!

اُنؐ کا سایا ترے مکاں پر ہے

٭٭٭

 

درِ سرکارؐ تک پہنچا ہوں جب سے

سکوں پایا، قرار آیا ہے تب سے

جو مانگو گے سِوا اُس سے ملے گا

درِ سرکارؐ سے مانگو ادب سے

مجھے عشق و محبت کا خزانہ

ملا سرکارؐ سے، بڑھ کر طلب سے

وہ محبوبِ زماںؐ، محبوبِ یزداںؐ

حقیقت ہے عیاں کہتا ہوں سب سے

کٹا لیتے ہیں سر اُمت کی خاطر

سبق سیکھیں حسینؓ عالی نسب سے

بلائیں اب قریب آقاؐ اُنھیں بھی

جو در سے دُور اُفتادہ ہیں کب سے

خُدا کا پیار مانگیں مصطفیؐ سے

ظفرؔ! عشقِ محمدؐ اپنے ربّ سے

٭٭٭

 

رُخ روئے مُنوّر کا جدھر آپؐ نے پھیرا

کھُل برسے گا رحمت کا اُدھر ابر گھنیرا

چھٹ جائیں گی تاریکیاں اُس نورِ مُبیںؐ سے

ماحول کو چمکائے گا پُرنور سویرا

سرکارؐ کی اِک نگہِ کرم سے ہے فروزاں

دِل جس پہ مسلط تھا گھٹا ٹوپ اندھیرا

سرکارؐ کے قدموں میں جو لمحات گزارے

اُن لمحوں پہ ہے مان مجھے ناز ودھیرا

اُونچا رہے عباسِؓ عَلَم دار کا صدقہ

اُمت کا عَلَم، دین کی عظمت کا پھریرا

دربان بنایا مجھے سرکارؐ نے جب سے

سرکارؐ کا دربار ہی گھر بار ہے میرا

وہ قلب ظفرؔ! زندہ و جاوید رہے گا

جس قلب میں ہے اسمِ محمدؐ کا بسیرا

٭٭٭

 

ذِکرِ خیر الانامؐ سُوجھے گا

لمحہ لمحہ، مدام سُوجھے گا

وِرد اسمِ حضورؐ کا ہر دم

صبح سُوجھے گا شام سُوجھے گا

سامنے جب ہو گنبدِ خضریٰ

نعتیہ تب کلام سُوجھے گا

لبِ لرزیدہ، چشم اشک فشاں

یوں درُود و سلام سُوجھے گا

جو سمجھ میں نہ آئے مکتب میں

جالیاں اُنؐ کی تھام سُوجھے گا

عاشقانِ نبیؐ کو محشر میں

نعت کا اہتمام سُوجھے گا

بزمِ نعتِ نبیؐ جہاں بھی ہو

واں ظفرؔ! تیرا نام سُوجھے گا

٭٭٭

 

جب مدینے کی بات کرتا ہوں

میں قرینے کی بات کرتا ہوں

وہ جو محبوبِ حقؐ تعالیٰ ہے

اُس نگینے کی بات کرتا ہوں

درِ سرکارؐ سے جو ملتا ہے

اُس خزینے کی بات کرتا ہوں

جو مُنوّر ہو عشقِ احمدؐ سے

ایسے سینے کی بات کرتا ہوں

جس کی منزل درِ رسالت ہو

اُس سفینے کی بات کرتا ہوں

موت گر آئے اُنؐ کے قدموں میں

کب میں جینے کی بات کرتا ہوں

سگِ در آپؐ ہی کا تو ہے ظفرؔ

اُس کمینے کی بات کرتا ہوں

٭٭٭

 

یا نبیؐ! فیضِ عام فرمائیں

سب کے دِل میں قیام فرمائیں

دست بستہ ہیں، گوش بر آواز

آپؐ کے تشنہ کام، فرمائیں

بے وسیلوں پہ، بے سہاروں پر

آپؐ شفقت مدام فرمائیں

فاصلے دُوریاں سمٹ جائیں

آپؐ جب اہتمام فرمائیں

ہاتھ میں بولتے ہیں کنکر جب

آپؐ اُن سے کلام فرمائیں

وہ جو اُنؐ کے ہوئے خُدا کے ہوئے

اولیائے کرام فرمائیں

پھر ظفرؔ اور کچھ نہ مانگے گا

’’ہے ہمارا غلام‘‘ فرمائیں

٭٭٭

 

شاہِ بطحاؐ! مجھے نظر دے دیں

میں ہوں نادان کچھ خبر دے دیں

آپؐ تک میری عرض پہنچائیں

میری آہوں میں یہ اثر دے دیں

پیار دیں، عشق دیں، محبت دیں

اپنے الطاف کا نگر دے دیں

آپؐ جس کو پسند فرمائیں

کوئی ایسا مجھے ہنر دے دیں

آپؐ کے پاس بار بار آؤں

مری قسمت میں یہ سفر دے دیں

کتنا خوش بخت ہے، مرے آقاؐ

آپؐ طیبہ میں جس کو گھر دے دیں

کیا عجب یارِ غار کا صدقہ

وہ تجھے آگہی ظفرؔ! دے دیں

٭٭٭

 

کبھی اُنؐ کے آستاں پہ اپنی جبیں جھُکانا

کبھی اُنؐ کے نقشِ پا پہ دیدہ و دِل بچھانا

اُنھیں آپؐ خود بُلاتے، ہیں نوازتے بھی اُن کو

درِ مصطفیؐ پہ جن کا رہتا ہے آنا جانا

تھا میں در بدر مسافر، خانہ بدوش، بے گھر

سرکارؐ کی گلی میں مجھے مل گیا ٹھکانہ

تہی دست تھا، تونگر، مجھے آپؐ نے کیا ہے

مجھے آپؐ نے سکھائی رہ و رسمِ عاشقانہ

یہ جو عشقِ مصطفیؐ ہے، یہ حضورؐ کی عطا ہے

ہے یہی مرا اثاثہ، ہے یہی مرا خزانہ

مرا وقتِ آخریں ہے، سرکارؐ آ رہے ہیں

جب تک نہ آپؐ آئیں، مری موت! تُو نہ آنا

یہ ظفرؔ کی التجا ہے، یہی عرضِ مدُعا ہے

٭٭٭

وہی دورِ مصطفیؐ سا آئے لوٹ کر زمانہ

محبوبِ خُدا، کون بھلا اُنؐ کے سوا ہے

محبوب مرا، کون بھلا اُنؐ کے سوا ہے

ہے سایہ کُناں کون بھلا ننگے سروں پر

رحمت کی ردا، کون بھلا اُنؐ کے سوا ہے

سنتا ہے فقیروں کی فغاں اور بھلا کون

منگتوں کی صدا، کون بھلا اُنؐ کے سوا ہے

بن مانگے بھرے کون بھلا جھولیاں سب کی

کہتے ہیں گدا، کون بھلا اُنؐ کے سوا ہے

اللہ سے بندوں کو ملاتا ہے بھلا کون

وہ راہنما، کون بھلا اُنؐ کے سوا ہے

طائف میں بھلا کس پہ عدو سنگ بزن تھے

دے اُن کو دُعا، کون بھلا اُنؐ کے سوا ہے

آقائے ظفرؔ اُنؐ کے سوا اور بھلا کون

دے بھیک سدا، کون بھلا اُنؐ کے سوا ہے

٭٭٭

جس جگہ آپؐ کے قدموں کے نشاں ہوتے ہیں

اس جگہ پیدا نئے کون و مکاں ہوتے ہیں

آپؐ کی یاد سے دِل میں ہے چراغاں کا سماں

آپؐ ہی راحتِ جاں، فیض رساں ہوتے ہیں

رُوبرو رکھتے ہیں وہ چہرۂ زیبائے رسولؐ

اُنؐ کے دیوانے ہیں جیسے بھی، جہاں ہوتے ہیں

آپؐ کے ایک اشارے سے سِرک جاتے ہیں

راہِ عُشاق میں جو سنگِ گراں ہوتے ہیں

جو غلامانِ شہِ والاؐ، گدا اُنؐ کے ہیں

راز سربستہ نہاں، اُن پہ عیاں ہوتے ہیں

آج پھر معرکۂ کرب و بلا برپا ہے

پھر مجاہد سوئے بغداد رواں ہوتے ہیں

عاشقانِ شہِ ابرارؐ کی پہچان ہے یہ

سوختہ جان ظفرؔ! سیف زباں ہوتے ہیں

نبیؐ کے آستاں سے ربّ ملا ہے

٭٭٭

 

پیا پے ڈھونڈنے سے کب ملا ہے

دیا سب کچھ خُدا نے اُنؐ کا صدقہ

درِ سرکارؐ سے ہی سب ملا ہے

ہے جو چاہا وہی اس در سے پایا

ہے جو مانگا وہ روز و شب ملا ہے

نظارہ فرش پر عرشِ بریں کا

مدینے جب گیا میں تب ملا ہے

خُدا کی بندگی، چاہت نبیؐ کی

سلیقہ بندگی کا اب ملا ہے

خُدا و مصطفیؐ کا ذِکر باہم

ملا ہے، اسمِ اعظم جب ملا ہے

خُدا سے مانگتا ہے عشقِ احمدؐ

ظفرؔ کو مانگنے کا ڈھب ملا ہے

٭٭٭

 

 

 

نقشِ پا اُنؐ کا میرے سینے میں

دُور رہ کر بھی ہوں مدینے میں

آپؐ دِل میں نہ گر سمائے ہوں

لُطف کیا خاک ایسے جینے میں

مشک و عنبر میں وہ کہاں خوشبو

جو مہک آپؐ کے پسینے میں

جو دمک اُنؐ کے سنگِ در میں ہے

وہ بھلا کب کسی نگینے میں

مُجھ کو طُوفاں ڈبو نہیں سکتا

میں ہوں سرکارؐ کے سفینے میں

جس کو جب چاہیں جس قدر دے دیں

کیا کمی آپؐ کے خزینے میں

اُنؐ کی نسبت سے سرخرو ہے ظفرؔ

ورنہ خوبی ہے کیا کمینے میں

٭٭٭

 

مدینہ کا سفر جاری و ساری

تمھاری آج، کل میری ہے باری

صحابہؓ کس قدر تھے خوش مقدر

مشرف دید سے تھے عمر ساری

سکھائی آپؐ نے بھٹکے ہوؤں کو

مُروّت، حِلم، عجز و غم گساری

سبق توحید کا اُنؐ کو پڑھایا

محبت سے سکھائی اُستواری

عیاں اُن پر ہوئی عظمت خُدا کی

اُنھوں نے دین پر جاں اپنی واری

سنواری زندگی اپنی انھوں نے

انھوں نے آخرت اپنی سنواری

ظفر!ؔ وہ زندگی میرا اثاثہ

درِ حضرتؐ پہ جو میں نے گزاری

٭٭٭

 

آپؐ جیسا حسیں نہیں کوئی

دِلربا، دِلنشیں نہیں کوئی

بالیقیں آپؐ رحمتِ عالم

دوسرا بالیقیں نہیں کوئی

آپؐ کے ماسوا حبیبِ خُداؐ

کوئی ہرگز نہیں، نہیں کوئی

آپؐ محبوب سب جہانوں کے

اور کوئی کہیں نہیں کوئی

آپؐ کا نقشِ پا مرے دِل میں

اور تو جاگزیں نہیں کوئی

اُنؐ کے در پر جھکی جبیں جن کی

اُن سا روشن جبیں نہیں کوئی

سگِ در آپؐ کے ظفرؔ جیسا

اور تو کمتریں نہیں کوئی

٭٭٭

 

وہ جو محبوبِ ربّ العالمیں ہے، وہی تو رحمۃ اللعالمیںؐ ہے

جو ختم الانبیا و مرسلیں ہے، وہی تو رحمۃ اللعالمیںؐ ہے

وہ جو شیریں لب و شیریں دہن ہے، وہ جس کی گفتگو میں بانکپن ہے

صدا جس کی مثالِ انگبیں ہے، وہی تو رحمۃ اللعالمیںؐ ہے

کھِلے گُلشن ہیں جس کے دم قدم سے، جہاں روشن ہے جس کے دم قدم سے

وہی نورِ خُدا نورِ مبیں ہے، وہی تو رحمۃ اللعالمیںؐ ہے

مقام اُونچا کیا جس کا خُدا نے، بڑا رُتبہ دیا جس کو خُدا نے

وہ جس کے زیرِ پا عرشِ بریں ہے، وہی تو رحمۃ اللعالمیںؐ ہے

ہوئے جب رُوبرو معراج کی شب، ہٹا ڈالے گئے پردے تھے جو سب

ہوئے صدیقؓ گویا بالیقیں ہے، وہی تو رحمۃ اللعالمیںؐ ہے

وہاں جھکتے ہیں سر سب خودسروں کے، نہ آنسو واں تھمیں دیدہ وروں کے

جہاں خیر البشرؐ مسند نشیں ہے، وہی تو رحمۃ اللعالمیںؐ ہے

ظفرؔ سے بے نواؤں کا سہارا، وہی ہمدرد و مونس ہے ہمارا

وہی عُشاق کے دِل کے قریں ہے، وہی تو رحمۃ اللعالمیںؐ ہے

٭٭٭

 

جبیں میری ہے اُنؐ کا نقشِ پا ہے

یہی تو بندگی کی انتہا ہے

درِ سرکارؐ کا جو بھی گدا ہے

غنی ہے صاحبِ جُود و سخا ہے

تہی دامن جو آیا در پہ سائل

سخی بن کر یہاں سے وہ گیا ہے

درُودوں کی، سلاموں کی ہمیشہ

فرازِ عرش سے آتی صدا ہے

بجھے گی پیاس اب تشنہ لبوں کی

نبیؐ کے فیض کی چھائی گھٹا ہے

مرے سر پر ہے اُنؐ کا دستِ شفقت

کرم اُنؐ کا ہے یہ اُنؐ کی عطا ہے

خُدا کی حمد کا، نعتِ نبیؐ کا

ظفرؔ! اُسلُوب تیرا دِل کشا ہے

٭٭٭

 

جب بھی ذِکرِ رسولؐ ہوتا ہے

رحمتوں کا نزول ہوتا ہے

یاد اُنؐ کی سہارا دیتی ہے

دِل مرا جب ملول ہوتا ہے

جب بھی پڑھتا ہوں میں درُود و سلام

دِل مرا کھِل کے پھُول ہوتا ہے

اسمِ احمدؐ کا صدقہ حرفِ دعا

مستجاب و قبول ہوتا ہے

جو بھی دیتا ہے مُجھ کو میرا خُدا

اُنؐ کے در سے وصول ہوتا ہے

جس جگہ بھی ہو ذِکر جنت کا

ذِکرِ زہرا بتولؓ ہوتا ہے

آپؐ کے پیار کا ظفرؔ! سن لو

عاشقوں کو حصول ہوتا ہے

٭٭٭

آپؐ ہیں صادق و امیں آقاؐ

آپؐ سالارِ مرسلیں آقاؐ

آپؐ جیسا سبھی زمانوں نے

کوئی دیکھا نہیں حسیں آقاؐ

ہو گیا وہ قریب اللہ کے

جو ہوا آپؐ کے قریں، آقاؐ

آپؐ کے در پہ جس نے بھی رکھ دی

اُس کی روشن ہوئی جبیں، آقاؐ

خانۂ دِل مرا مُنوّر ہے

آپؐ ہیں میرے دِل نشیں، آقاؐ

وہ جگہ عرش سے ہے ارفع تر

جس جگہ آپؐ ہیں مکیں، آقاؐ

لاج رکھنا ظفرؔ سگِ در کی

آپؐ کا ہے وہ بالیقیں، آقاؐ

٭٭٭

 

 

 

نبیؐ کے عشق میں مسرور رہنا

غمِ سود و زیاں سے دور رہنا

بسا لینا حریمِ جاں میں اُنؐ کو

جمالِ نور سے معمور رہنا

بوقتِ دید رقصِ نیم بسمل

ہے یہ عُشاق کا دستور رہنا

نبیؐ کے عاشقوں سے فیض لینا

سرور و کیف سے بھرپور رہنا

کتاب اللہ، سنت مصطفیؐ کی

قیامت تک ہے یہ منشور رہنا

مجھے رہنا ہے دیوانہ نبیؐ کا

نہیں سرمدؒ، نہیں منصورؒ رہنا

ظفرؔ! دربان کا منصب مبارک

اِسی نسبت سے اب مشہور رہنا

٭٭٭

 

درِ شہؐ تک رسائی مل گئی ہے

مجھے ساری خُدائی مل گئی ہے

مری سرکارؐ کو اِنسانیت کی

امامت، پیشوائی مل گئی ہے

فلک روشن ہے اُنؐ کے دم قدم سے

زمیں کو خوشنمائی مل گئی ہے

جو پہنچے آپؐ تک اُن کو یقیناً

خُدا تک رہنمائی مل گئی ہے

مجھے نسبت ہے اُنؐ کے نقشِ پا سے

مجھے کتنی بڑائی مل گئی ہے

ہزاروں وسوسوں میں مبتلا تھا

درُودوں کی اکائی مل گئی ہے

ظفرؔ! اعجاز ہے ذِکرِ نبیؐ کا

زباں کو خوش ادائی مل گئی ہے

٭٭٭

 

جب طبیعت اداس ہوتی ہے

طیبہ جانے کی آس ہوتی ہے

پیاسے جاتے ہیں اُنؐ کی چوکھٹ پر

جب بھی شدت کی پیاس ہوتی ہے

نعت لکھ کر سکون ملتا ہے

جب بڑھی حد سے یاس ہوتی ہے

نعت کے شعر جب میں لکھتا ہوں

روشنی آس پاس ہوتی ہے

جس جگہ نعت کا بیاں ہو وہاں

اُنؐ کی خوشبو و باس ہوتی ہے

نعت یوں تو رقم نہیں ہوتی

کچھ تو وجہِ سپاس ہوتی ہے

نعت کہنا درُود پڑھ کے ظفرؔ

نعت کی یہ اساس ہوتی ہے

٭٭٭

جو مُجھ سے خطا کار و زیاں کار بھی ہوں گے

وہ آپؐ کی رحمت کے طلب گار بھی ہوں گے

عُشاق جو روتے ہیں سدا ہجر میں اُنؐ کے

سرکارؐ مرے مونس و دِلدار بھی ہوں گے

جتنے بھی گدا آئے درِ فیض رساں پر

وہ آپؐ کے فیضان سے سرشار بھی ہوں گے

ہر آن جھکے رہتے ہیں جو آپؐ کے در پر

وہ صاحبِ دِل، صاحبِ اسرار بھی ہوں گے

الفاظ کی خیرات درِ شاہؐ سے لے کر

لکھتے ہیں جو نعت، ایسے قلمکار بھی ہوں گے

محشر کا نہیں خوف وہیں بہرِ شفاعت

محبوبِ خُداؐ، احمدِ مختارؐ بھی ہوں گے

محشر میں سبھی لوگ شفاعت کے طلبگار

صدیق ظفرؔ! طالبِ دیدار بھی ہوں گے

٭٭٭

 

 

 

مریضِ جاں بلب ہو، لادوا ہو

درِ سرکارؐ پر آئے، شفا ہو

وہ سجدہ انتہائے بندگی ہے

جو سجدہ آپؐ کے در پر ادا ہو

ہمیشہ کامگار و کامراں ہو

درِ سرکارؐ کا جو بھی گدا ہو

یہی عُشاق کے دِل کی صدا ہے

فروغِ نعت ہو، حمد و ثنا ہو

حوالہ آپؐ عفو و درگزر کا

معافی دیں گے، ہم سے گر خطا ہو

سگِ در پہ بھی اِک نگہِ محبت

نگاہِ مُلتفِت بہرِ خُدا ہو

وہی تقدیرِ اِنساں، امرِ ربی

ظفرؔ جو بھی رضائے مصطفیؐ ہو

٭٭٭

 

خُداوندا! مرا دِل شاد رکھنا

مرے دِل میں نبیؐ کی یاد رکھنا

عطا کرنا مجھے عشقِ محمدؐ

محبت کا نگر آباد رکھنا

جو ہیں عُشاق محبوبِ خُداؐ کے

اُنھیں آلام سے آزاد رکھنا

مری سرکارؐ پر سب کچھ عیاں ہے

تو کیوں لب پر کوئی فریاد رکھنا

چلیں جو رہنما طیبہ کی جانب

انھیں رہبر، اُنھیں اُستاد رکھنا

مری سرکارؐ ہوں گے جلوہ فرما

ادب کے ضابطے ایجاد رکھنا

درُودوں کے، وظائف کے تصدق

ظفرؔ سے دُور ہر اُفتاد رکھنا

٭٭٭

 

یہی ہے عشق و مستی کا قرینہ

رہے پیشِ نظر ہر دم مدینہ

جھُکا ہے سر نبیؐ کے آستاں پر

خُداوندا یہ سر اُٹھے کبھی نہ

زمانے بھر کی خوشبوؤں سے بڑھ کر

ہے اُنؐ کے جسمِ اطہر کا پسینہ

فروزاں جس سے ہیں سارے زمانے

مرے آقاؐ وہ تابندہ نگینہ

مرے سرکارؐ جس کے نا خُدا ہوں

وہ کیوں پہنچے نہ ساحل تک سفینہ

خطاکار آئے ہوں گے اُنؐ کے در پہ

نہ ہو گا کوئی بھی مُجھ سا کمینہ

تونگر ہوں نہاں سینے میں میرے

ظفرؔ عشقِ نبیؐ کا ہے خزینہ

٭٭٭

 

کہیں تاریخِ عالم میں نہ دیکھا

کوئی محبوب، محبوبِ خُداؐ سا

بُلایا عرش پر جی بھر کے دیکھا

رُخِ محبوبؐ، چہرہ مصطفیؐ کا

وہی لمحے متاعِ زندگی ہیں

دیا جب آپؐ نے مُجھ کو دِلاسہ

مرے دِل میں جمالِ مصطفیؐ ہے

مرا انوار سے بھرپور کاسہ

شہادت کو بھی زندہ کر گیا ہے

حبیب اللہؐ کا جاں دے کر نواسہ

مجھے دربان کا منصب عطا ہو

یہ دیکھیں زائریں طُرفہ تماشا

جمالِ دید سے سیراب کر دیں

ظفرؔ مسکین مدت کا ہے پیاسا

٭٭٭

 

فلک پر ربِّ کعبہ، شافعِ محشرؐ سے ملتا ہے

زمیں پر خانہ کعبہ، روضۂ اطہر سے ملتا ہے

درِ کعبہ، درِ سرکارؐ، دونوں قبلہ گاہیں ہیں

عطا کرتا ہے جو اللہ، نبیؐ کے در سے ملتا ہے

شعور اللہ کی عظمت، جمالِ مصطفائیؐ کا

درِ اقدس سے ملتا ہے، خُدا کے گھر سے ملتا ہے

خُدا کے نور کا محکم حوالہ نورِ یزداں کا

شہِ نور الہدیٰؐ سے، نور کے پیکر سے ملتا ہے

ہمیں ملتی ہیں ساری نعمتیں ہی دستِ قدرت سے

ہمیں سب کچھ ہی دستِ ساقیِ کوثرؐ سے ملتا ہے

خُدا کی عظمتوں کا عکس، اُس کی شان کا پرتو

رُخِ زیبائے احمدؐ، چہرۂ انور سے ملتا ہے

ظفرؔ محبوب کا صدقہ خُدا دیتا ہے جو جس کو

اُسے دستِ شہِ دیںؐ سے، سخی سرورؐ سے ملتا ہے

٭٭٭

 

سارے عالم آپؐ کے زیرِ اماں زیرِ نگیں، رحمۃ اللعالمیںؐ یا رحمۃ اللعالمیںؐ

پیکرِ جُود و سخا، فیض و عطا، صادق امیں، رحمۃ اللعالمیںؐ یا رحمۃ اللعالمیںؐ

آپؐ کے دم سے محبت، عشق و مستی کو ثبات، نورافشاں سب زماں کون و مکان و شش جہات

آپؐ کے در پر خمیدہ سر مرا میری جبیں، رحمۃ اللعالمیںؐ یا رحمۃ اللعالمیںؐ

آپؐ امام الانبیاؐ، خیر البشرؐ، خیر الوریٰؐ، آپؐ جیسا باخُدا ہو گا نہ ہے کوئی نہ تھا

آپ محبوبِ خُداؐ عُشاق کے دِل کے قریں، رحمۃ اللعالمیںؐ یا رحمۃ اللعالمیںؐ

حسنِ صورت حسنِ سیرت حسنِ کردار و عمل، دیکھتا رہ جائے جو دیکھے جھلک بس ایک پل

کب حسینوں نے کہیں دیکھا کوئی ایسا حسیں، رحمۃ اللعالمیںؐ یا رحمۃ اللعالمیںؐ

آپؐ ہی شمس الضحیٰ ہیں آپؐ ہی بدرالدجیٰ، آپؐ ہی نورالہدیٰ ہیں آپؐ ہی نورِ خُدا

آپؐ ہی نورِ رسالت آپؐ ہی نور مبیں، رحمۃ اللعالمیںؐ یا رحمۃ اللعالمیںؐ

روز افزوں ہے مرا جذبِ دروں عشقِ فزوں، آپؐ کو ڈھونڈے مرا دیوانہ پن میرا جنوں

میری نگہِ منتظر، دیدۂ تر، قلبِ حزیں، رحمۃ اللعالمیںؐ یا رحمۃ اللعالمیںؐ

اِک نہ اِک دِن ایک لمحہ دید کا بھی آئے گا، اس گھڑی ابرِ کرم عُشاق پر چھا جائے گا

دید ہو گی عید ہو گی ہے ظفرؔ مُجھ کو یقیں، رحمۃ اللعالمیںؐ یا رحمۃ اللعالمیںؐ

٭٭٭

 

وہی محبوب، محبوبِ خُداؐ ہے

وہی محبوب میرا، آپ کا ہے

وہی ہے تاجدارِ تاجداراں

وہی دُکھیوں کا محکم آسرا ہے

وہی ہے کار سازِ درد منداں

مریضوں کو وہی دیتا شفا ہے

وہی چارہ گرِ بے چارگاں ہے

وہی حاجت روا، مشکل کشا ہے

جو ہے سایہ کناں ننگے سروں پر

وہ اُنؐ کے لُطف و رحمت کی رِدا ہے

سبھی دارین اُنؐ سے خیر پاتے

فنا کا دار یا دارالبقا ہے

ظفرؔ حمدِ خُدا نعتِ نبیؐ کا

ہے مضموں ایک، پیرایہ جدا ہے

٭٭٭

 

مرے گھر کا جو دروازہ کھلا ہے

کرم اُنؐ کا ہے یہ اُنؐ کی عطا ہے

سراپا خیر ہے، نورِ مجسم

مرا خیر الوریٰؐ نور الہدیٰؐ ہے

وہ آیا پُرسکوں مسرور واپس

جو اُنؐ کے در پہ آزردہ گیا ہے

ہوئی نہ آپؐ کی جس کو زیارت

وہ عاشق زار سمجھو مر گیا ہے

وہی ممتاز، یکتا، منفرد ہیں

نہیں کوئی بھی اُنؐ سا دُوسرا ہے

مری سرکارؐ کا وہ دورِ مدنی

مبارک، وہ زمانہ آ رہا ہے

ہے مستقبل کا دور اِسلام ہی کا

ظفرؔ تو بے وجہ گھبرا رہا ہے

٭٭٭

 

مانگنا اُنؐ سے شمس و قمر مانگنا

خاکپائے شفا، سنگِ در مانگنا

مانگنا ربِّ اکبر سے ہر اِک دعا

آپؐ سے ہر دُعا میں اثر مانگنا

مانگنا عجز سے، سوز سے، درد سے

دیں گے خیرات خیر البشرؐ، مانگنا

مانگنا ہر گھڑی پیار سرکارؐ سے

دردِ دِل مانگنا، چشمِ تر مانگنا

مانگنا آپؐ سے صرف عشق آپؐ کا

رات دِن ہو کہ شام و سحر مانگنا

آپؐ کے فیض سے گر حضوری ملے

پھر بھلا کیسا زادِ سفر مانگنا

بے طلب وہ عطا کر رہے ہیں ظفرؔ

تُجھ پہ لازم ہے پھر بھی مگر مانگنا

٭٭٭

 

میں آپؐ کے در کا ہوں گدا گر شہِ والاؐ

ہیں آپؐ عطاؤں کے سمندر شہِ والاؐ

محبوبؐ ہو، یکتا ہو، معظم ہو، مکرم

ثانی نہ کوئی آپؐ کا ہمسر شہِ والاؐ

سرکارؐ کے القاب ہیں صادق بھی، امیں بھی

محبوبِ خُداؐ، نور کے پیکر شہِ والاؐ

دیتے ہیں حیات آپؐ نئی مردہ دِلوں کو

دُکھیاروں کے ہیں آپؐ مبشر شہِ والاؐ

تائیدِ خُداوندی اگر ہاتھ نہ تھامے

ممکن نہیں توصیفِ پیمبر شہِ والاؐ

ہم نعتیہ اشعار رقم کرتے رہیں گے

یہ حسنِ عبارت ہے سراسر شہِ والاؐ

ہم درد ظفرؔ کا نہیں کوئی شہِ کونینؐ

مونس نہ کوئی آپؐ سے بڑھ کر شہِ والاؐ

٭٭٭

 

وہی اللہ کے پیغام بر ہیں

وہی سب رہبروں کے راہبر ہیں

وہی تو رحمۃ اللعالمیںؐ ہیں

زماں سارے اُنھیؐ سے بہرہ ور ہیں

وہی شمعِ فروزاں ظلمتوں میں

اُنھیؐ کے نور سے روشن نگر ہیں

وہی مردہ دِلوں کے ہیں مسیحا

وہی بے چارگاں کے چارہ گر ہیں

وہی ہیں بے سہاروں کا سہارا

وہی شاہِ شہاں ہیں، تاجور ہیں

وہی جُود و سخا کا اِک سمندر

گدا جن کے بنے گنجِ شکر ہیں

سواری جائے آقاؐ کی جدھر بھی

ظفرؔ بھی ساتھ ہی گردِ سفر ہیں

٭٭٭

 

محبت کی خُدا نے ابتدا کی، محبت آپؐ سے بے انتہا کی

محبت منفرد، ممتاز یکتا، خُدائے مصطفی سے مصطفیؐ کی

اُتارا لفظ جب ’اِقراء‘ خُدا نے، کیا اعلان محبوبِ خُداؐ نے

ہویدا ہو گئے محبوبِ یزداںؐ، چمک اُٹھی فضا غارِ حرا کی

عیاں کون و مکاں میں اُنؐ کے جلوے، نمایاں ہر زماں میں اُنؐ کے جلوے

خُدا کی دوستی خیر البشرؐ سے، خُدا سے دوستی خیر الوریٰؐ کی

خُدا نے عرش پر اُنؐ کو بلایا، جو ناممکن تھا ممکن کر دکھایا

درُود اُنؐ کو سلام اُنؐ کو سنایا، کہ رسمِ عشق بھی ایسے ادا کی

بروزِ حشر سب ڈھونڈیں گے اُنؐ کو، عوام الناس بھی سب انبیا بھی

وہاں کام آئے گی رحمت نبیؐ کی، شفاعت واں امام الانبیاؐکی

میں مشکل میں ہوں جا اُنؐ کو بتائے، مرا حالِ زبوں اُنؐ کو سنائے

عنایت ہو گی یہ بادِ صبا کی، کرامت یہ مری آہِ رسا کی

ظفرؔ جب رہبروں نے رہزنی کی، پرائے مال پر ڈاکہ زنی کی

بہت یاد آئی بوبکرؓ و عمرؓ کی اور عثمانِ غنیؓ، شیرِ خُداؓ کی

٭٭٭

 

محبت جاگزیں دِل میں خُدا کی

مؤدت موجزن خیر الوریٰؐ کی

عطا اللہ کی، عشقِ محمدؐ

نوازش ہے، خُدا و مصطفیؐ کی

درُود و نعت پہنچاتی ہے اُنؐ تک

عنایت مُجھ پہ ہے بادِ صبا کی

شبِ معراج کی گردِ سفر ہے

یہ رنگینی جو ہے، قوسِ قزح کی

تہی داماں جو سائل در پہ آیا

بھری جھولی، گدائے بے نوا کی

شفیع المذنبیںؐ کی دید ہو گی

ملے گی یہ جزا، روزِ جزا کی

ظفرؔ کو مل گئی ساری خُدائی

ملی نسبت جو اُنؐ کے نقشِ پا کی

محبت میرے دِل میں مصطفیؐ کی

مرے سر پر سدا رحمت خُدا کی

خُدا نے، رحمۃ اللعالمیںؐ سے

محبت خوب کی، بے انتہا کی

صدا آتی ہے پیہم لامکاں سے

درُود و نعت کی، صلِ علیٰ کی

یقیناً روح پرور، جانفزا ہے

فضائے دِل کشا، غارِ حرا کی

عطا کر دے مجھے عشقِ محمدؐ

خُدا سے میں نے رو رو التجا کی

مرے گھر پر جو بارش ہے کرم کی

ہے یہ خیرات اُنؐ کے نقشِ پا کی

درِ سرکارؐ کا دربان ہے تُو

ہے خوش بختی ظفرؔ! تُجھ سے گدا کی

٭٭٭

 

 

 

مرے محبوبؐ، محبوبِ خُداؐ ہیں

مرے آقاؐ، امام الانبیاؐ ہیں

حبیبِ کبریاؐ، خیر البشرؐ ہیں

جنابِ فاطمہؓ خیر النساء ہیں

سراپا روشنی، نورِ مجسمؐ

وہی شمس الضحیٰؐ، بدرالدجیٰؐ ہیں

وہی جو رحمۃ اللعالمیںؐ ہیں

وہی نورالہدیٰؐ، خیر الوریٰؐ ہیں

جو محروموں میں خوشیاں بانٹتے ہیں

وہی بے آسروں کا آسرا ہیں

سخی ایسے، کوئی جتنا بھی مانگے

فزوں تر، بیش تر، کرتے عطا ہیں

مؤدب، ایستادہ اُنؐ کے در پر

ظفرؔ مُجھ سے سگِ در بے نوا ہیں

٭٭٭

 

نبیؐ کا گُلستاں ہے اور میں ہوں

محبت کا جہاں ہے اور میں ہوں

درِ سرکارؐ پر ہے چشم گریاں

جبیں سجدہ کناں ہے اور میں ہوں

یہ اُنؐ کا فیض ہے اُنؐ کی عطا ہے

نبیؐ کا آستاں ہے اور میں ہوں

درِ اقدس پہ لرزاں، خیزاں، اُفتاں

گروہِ عاشقاں ہے اور میں ہوں

ادب سے سر خمیدہ اُنؐ کے در پر

زمیں ہے، آسماں ہے اور میں ہوں

درُود و نعت ہے جاری و ساری

مکاں ہے، لا مکاں ہے اور میں ہوں

ظفرؔ سرکارؐ کی نگہِ گرم سے

مُنوّر میری جاں ہے اور میں ہوں

٭٭٭

 

درِ سرکارؐ پر گریاں ہے کوئی آبدیدہ ہے

ہے کوئی نیم بسمل، نیم جاں ہے، دل تپیدہ ہے

یہاں دم مارنے کی ہے بھلا تاب و تواں کس میں

ادب سے ہر کوئی یاں دم بخود ہے، دم کشیدہ ہے

کھڑے یاں تاجدار و مُقتدر بھی دست بستہ سب

درِ سرکارؐ پر دیکھو جسے بھی، سر خمیدہ ہے

جہاں جس حال میں ہوں آپؐ کے قدموں میں ہوتے ہیں

طریقِ عاشقاں یہ، میرا دیدہ و شنیدہ ہے

فقط اللہ اِلہ، میرے رسول اللہ محمدؐ ہیں

یہی ایمان کامل ہے، یہی محکم عقیدہ ہے

خُدایا اس طرح مقبول نعتیں ہوں مری جیسے

پسند آیا مری سرکارؐ کو بُردہ قصیدہ ہے

مری سرکارؐ مجھ کو اپنے دامن میں چھُپا لیجے

کرم فرمایے آقا!، ظفرؔ دامن دریدہ ہے

٭٭٭

 

رُخِ زیبا نگاہوں میں، مرا دل ذکر کرتا ہے

جبیں ہے اُنؐ کے پاؤں میں، مرا دل ذکر کرتا ہے

رواں ہوں خیزاں و اُفتاں، رواں اشکِ مسلسل ہیں

رواں مَیں اُنؐ کی را ہوں میں، مرا دل ذکر کرتا ہے

مرا ہر لمحہ، ہر لحظہ، مرا ہر پل گزرتا ہے

درُودوں میں، ثناؤں میں، مرا دل ذکر کرتا ہے

خُدا کی حمد سُنتا ہوں، نبیؐ کی نعت سُنتا ہوں

فضاؤں میں، خلاؤں میں، مرا دل ذکر کرتا ہے

حضوری کا سماں ہے اب سرور و کیف ملتا ہے

نمازوں میں، دُعاؤں میں، مرا دل ذکر کرتا ہے

یہ ہے بندہ نوازی آپؐ کی ذرّہ نوازی ہے

میں اُڑتا ہوں ہواؤں میں، مرا دل ذکر کرتا ہے

ظفرؔ کے سر پہ اُنؐ کا دستِ الطاف و محبت ہے

میں رحمت کی رداؤں میں، مرا دل ذکر کرتا ہے

٭٭٭

 

عشق و محبت کی تفسیر

’یک در گیر و محکم گیر‘

فخرِ رسولاں، شانِ یزداں

ہادیِ انساں، بدرِ منیر

اُنؐ کی سیرت، مہر سراپا

اُنؐ کی باتیں پُر تاثیر

اُنؐ کی گلیوں کا میں راہی

اُنؐ کی ڈگر کا میں رہگیر

قلب و نظر میں، میری جاں میں

میرے آقاؐ کی تصویر

اُنؐ کے رُخِ روشن کے مقابل

مدھم مدھم ہر تنویر

لعلِ بدخشاں، رُوئے درخشاں

خوابِ ظفرؔ کی ہے تعبیر

٭٭٭

 

سوالی آپؐ سے ہے میری چشمِ تر، مرے آقاؐ

کرم کی اک نظر لِلہ، اُمت پر، مرے آقاؐ

عذاب اُترا ہے ایسا، بے کراں سیلاب کی صورت

ہوئے طوفاں سے لاکھوں بے گناہ، بے گھر، مرے آقاؐ

یہاں فاقہ کشی ہے خود کُشی ہے، قتل و غارت ہے

خُدا کا خوف ہے حاکم کو نہ کچھ ڈر، مرے آقاؐ

مسلمانوں کا خوں، خود کُش درندے یاں بہاتے ہیں

یہاں گرتے ہیں لاشے، اور کٹتے سر، مرے آقاؐ

یہاں جن رہزنوں نے رہبروں کا رُوپ دھارا ہے

ملے گا اُن سے چھٹکارا ہمیں کیونکر، مرے آقاؐ

درِ لطف و عنایت ہے، درِ رُشد و ہدایت ہے

درِ جود و سخاوت، آپؐ کا ہے در، مرے آقاؐ

زبوں حالیِ اُمت منتظر ہے نگہِ رحمت کی

ظفرؔ کے ہمدم و ہمدرد و چارہ گر، مرے آقاؐ

٭٭٭

 

حبیبِ کبریاؐ ہیں، بالیقیں ہیں، محمدؐ رحمۃ اللعالمیں ہیں

امام الانبیاء و مُرسلیں ہیں، محمدؐ رحمۃ اللعالمیں ہیں

اُنھیؐ کے دم سے انوار و ضیا ہیں، وہی شمس الضحیٰ، بدرالدجیٰ ہیں

وہی نور الہدیٰ، نورِ مُبیں ہیں، محمدؐ رحمۃ اللعالمیں ہیں

وہی انسانیت کے راہبر ہیں، خُدا کے آخری پیغام بر ہیں

وہی تو اوّلین و آخریں ہیں، محمدؐ رحمۃ اللعالمیں ہیں

وہ جن کا تخت اک سادہ چٹائی، وہ جن کے زیرِ فرماں سب خُدائی

قدم جن کے سرِ عرشِ بریں ہیں، محمدؐ رحمۃ اللعالمیں ہیں

وہی بے چارگاں کے چارہ گر ہیں، وہی خیر الوریٰ، خیر البشر ہیں

وہی عشاق کے دل میں مکیں ہیں، محمدؐ رحمۃ اللعالمیں ہیں

جہاں ہو حمدِ باری نعت جاری، جہاں ہو اہلِ دل پر وجد طاری

وہیں میرے نبیؐ مسند نشیں ہیں، محمدؐ رحمۃ اللعالمیں ہیں

زمانے معترف جن کی عطا کے، سخی داتا ہیں جو شاہ و گدا کے

ظفرؔ سے اُنؐ کے در کے خوشہ چیں ہیں، محمدؐ رحمۃ اللعالمیں ہیں

٭٭٭

 

مری سرکارؐ امام الانبیا ہیں، مری سرکاؐر محبوبِ خُدا ہیں

وہی شمس الضحیٰ بدرالدجیٰ ہیں، مری سرکاؐر محبوبِ خُدا ہیں

ہیں جتنے اولیاء، اہلِ نظر بھی، اُنھیؐ کے نور سے روشن بصر ہیں

وہی نورِ خُدا، نورالہدیٰ ہیں، مری سرکاؐر محبوبِ خُدا ہیں

وہی خیر الوریٰ، خیر البشرؐ ہیں، خُدا کے آپؐ منظورِ نظر ہیں

ہیں یکتا، منفرد، سب سے جُدا ہیں، مری سرکاؐر محبوبِ خُدا ہیں

خُدا سے میں نبیؐ کا پیار مانگوں، نبیؐ سے میں خُدا کا پیار مانگوں

وہ داتاؐ ہیں، سدا کرتے عطا ہیں، مری سرکاؐر محبوبِ خُدا ہیں

خُدا تک آپؐ انسانوں کے رہبر، کرم کا سائباں اُمت کے سر پر

محبت، لطف، رحمت کی ردا ہیں، مری سرکاؐر محبوبِ خُدا ہیں

جہاں بھی ذکر ہو حمد و ثناء کا، خُدا کا اور محبوبِ خدا کا

وہؐ حمد و نعت کی سنتے صدا ہیں، مری سرکاؐر محبوبِ خُدا ہیں

خُدا کی نعمتیں بٹتی ہیں ساری، سخاوت آپؐ کے در پر ہے جاری

ظفرؔ سائل یہاں شاہ و گداہیں، مری سرکاؐر محبوبِ خُدا ہیں

٭٭٭

 

زینتِ قرآں ہے یہ ارشادِ ربُّ العالمیں، آپؐ کو بھیجا بنا کر رحمۃ اللعالمیں

آپؐ ہیں شمس الضحیٰ، بدرالدجیٰ، خیر الوریٰ، آپؐ ختم الانبیا ہیں، آپؐ ختم المرسلیں

آپؐ کے دم سے درخشندہ ہے ساری کائنات، آپؐ کے دم سے منور آسمان و شش جہات

آپؐ مسجودِ ملائک، رہنمائے انس و جاں، آپؐ ہیں خیر البشر، نور الہدیٰ، نورِ مبیں

نور افشاں گنبدِ خضریٰ ہے مسکن آپؐ کا، کعبۃ اللہ گھر خُدا کا بھی نشیمن آپؐ کا

ہر طرف ہے جلوہ فرما روئے روشن آپؐ کا، آپؐ کی آماجگاہ عشاق کا قلبِ حزیں

دید کی خاطر مرے آقاؐ کو بلوایا گیا، اپنے رب کے پاس پہنچے آپؐ محبوبِ خُدا

منتظر تھا ربِّ کعبہ آپؐ کے دیدار کا، جب مری سرکار پہنچے بر سرِ عرشِ بریں

جن و انسان و ملائک آپؐ کے ہیں مدح خواں، آپؐ محبوبِ خُدا ہیں اور خُدا کے ترجماں

محفلِ حمد و ثناء جاری و ساری ہو جہاں، آپؐ واں تشریف فرما، آپؐ واں مسند نشیں

آپؐ کے نقشِ قدم ہیں خیر و برکت کے نشاں، جس جگہ ہوں ثبت بن جائے وہیں باغِ جناں

آپؐ کے قدموں میں جب سے جھک گیا ہے سر مرا، دل مرا پُر نور ہے، رشکِ قمر میری جبیں

آپؐ ہیں محبوبِ یزداں، آپؐ ہیں صادق امیں، آپؐ سا ہمدرد و مونس با خُدا کوئی نہیں

منتشر اُمت کو آقاؐ مجتمع فرمائیں گے، ہے ظفرؔ ایمان میرا، ہے مرا کامل یقیں

٭٭٭

 

غریب ہوں میں، حبیبِ خُدا غریب نواز

گدائے در میں، درِ مصطفیؐ غریب نواز

درِ حضورؐ کی نسبت سے ہی میں زندہ ہوں

وسیلہ آپؐ، مرا آسرا، غریب نواز

حضورؐ بندہ نواز و غریب پرور ہیں

ہیں بے نواؤں کے حاجت روا، غریب نواز

سکونِ قلب وہ دیتے ہیں دل گرفتوں کو

ہیں دل نواز بہت دلربا، غریب نواز

میں حمد اور درود و سلام پڑھتا ہوں

خُدا بھی سنتا ہے میری صدا، غریب نواز

ہرا ہو پھر سے خزاں دیدہ گلشنِ اُمت

یہی دُعا ہے یہی مُدعا، غریب نواز

میں کم ترین ہوں خادم ظفرؔ! مرے آقاؐ

خُدارا در سے نہ کرنا جُدا، غریب نواز

٭٭٭

 

حضورؐ بندۂ عاجز گناہگار ہوں میں

ہیں آپؐ نور کا پیکر، سیہ کار ہوں میں

حضورؐ ایک قدم میرے دل شکستہ میں

کہ دل گرفتہ و دلگیر و دلفگار ہوں میں

حضورؐ دیکھیں تو پتھر بھی لعل بن جائیں

حضورؐ نگہِ عنایت کا خواستگار ہوں میں

حضورؐ جانِ جہاں، آپؐ جانِ عالم ہیں

بس ایک ادنیٰ سا جانباز، جاں نثار ہوں میں

جھلک بس ایک رُخِ زیبا و منور کی

میں ملتمس ہوں، میں گریاں ہوں، اشکبار ہوں میں

میں بے وقار تھا جب تک میں دُور تھا در سے

درِ حضورؐ کی نسبت سے با وقار ہوں میں

ہے قلب و جاں میں سمایا ظفرؔ! غمِ حسنینؓ

میں اُن کا مرثیہ خواں، اُن کا سوگوار ہوں میں

٭٭٭

 

مری جاں سے قریں میرا خُدا ہے

مرے دل میں جمالِ مصطفیؐ ہے

خُدا کی حمد کا، نعتِ نبیؐ کا

یہی بس ایک میرا مشغلہ ہے

مزیّن آپؐ کے نقشِ قدم سے

ہے یہ عرشِ بریں یا دل مرا ہے

میں اُنؐ کے دلکشا فرمان لکھوں

خُدا جن کی زباں سے بولتا ہے

زیارت خواب میں جب آپؐ کی ہو

لرزتا ہے بدن، دل کانپتا ہے

نظر سوئے حرم، دل سوئے طیبہ

پیاپے کشمکش کا مرحلہ ہے

ظفرؔ! حُبِ خُدا، عشقِ نبیؐ کا

بڑا مربوط باہم سلسلہ ہے

٭٭٭

 

مرے محبوب، محبوبِ زماںؐ ہیں

وہ محبوبِ خداؐ ہیں، بے گماں ہیں

حبیبِ کبریاؐ، عظمت نشاں ہیں

وہ ربّ العالمیں کے ترجماں ہیں

اُنھیؐ کے دم سے تابندہ جہاں ہیں

درخشندہ سبھی کون و مکاں ہیں

وہی چارہ گرِ بے چارگاں ہیں

مسیحائے ہمہ خستہ دِلاں ہیں

وہی جو دلربائے عاشقاں ہیں

وہی حاجت روائے بے کساں ہیں

وہی جو رہنمائے گمرہاں ہیں

سبھی اُنؐ کے گدائے آستاں ہیں

وہی جو خیر خواہِ دُشمناں ہیں

ظفرؔ! احباب پر بھی مہرباں ہیں

٭٭٭

 

مرے سینے میں ہلچل سی مچی ہے

مرے آقاؐ کی آمد کی گھڑی ہے

مری آنکھیں بچھی ہیں اُنؐ کے در پر

دل و جاں میں عجب سی بے کلی ہے

قدم رکھتے ہیں میرے دل میں آقاؐ

مرا دل بھی مدینہ کی گلی ہے

مری سرکاؐر کے نقشِ قدم سے

مرے تاریک دل میں روشنی ہے

درِ اقدس پہ ہوں میں سر خمیدہ

مرے پہلو میں میری ماں کھڑی ہے

نبیؐ کے دوست صدیقؓ و عمرؓ بھی

ہے عثمانِ غنیؓ، مولا علیؓ ہے

ظفرؔ! دل میں مرے عشقِ نبیؐ کی

خُدا کے فضل سے شمع جلی ہے

٭٭٭

 

عیاں تر ہے جلالِ کبریائی

فزوں تر ہے جمالِ مصطفائی

وہؐ محبوبِ خُدا، محبوبِ اُمت

خُدا بھی اُنؐ کا ہے، اُنؐ کی خُدائی

خُدا کی حمد جاری ہر زماں میں

مری سرکاؐر کی مدح سرائی

سدا ہوتی ہے مخلوقِ خُدا کی

درِ سرکاؐر سے حاجت روائی

حضوری ہو عطا آقاؐ خُدارا

حضورؐ اب ختم ہو دُوری، جدائی

عطا مجھ کو ہو شرف نعت گوئی

عطا معجز بیانی، خوش نوائی

وہؐ کرتے ہیں خُدا تک رہنمائی

ظفرؔ! اُنؐ کی خُدا تک ہے رسائی

٭٭٭

 

خدائے پاک ربّ العالمیں ہے

محمدؐ رحمۃ اللعالمیں ہے

خدا میری رگِ جاں سے قریں تر

رسولِ پاکؐ میرے دل نشیں ہے

خدا کی اور محبوبِ خداؐ کی

محبت میرے دل میں جاگزیں ہے

خدا کا نور تن من میں سمایا

جھکی سرکارؐ کے در پر جبیں ہے

خدا ستّار بھی، غفّار بھی ہے

نبی اللہؐ، شفیع المذنبیں ہے

خدا سا اور محبوبِ خداؐ سا

نہیں، کوئی نہیں، کوئی نہیں ہے

ظفرؔ کی خلوتوں میں، جلوتوں میں

خدا موجود، ختم المرسلیںؐ ہے

٭٭٭

 

جبیں میری ہو اُنؐ کا سنگِ در ہو

مرا سرکارؐ کے قدموں میں سر ہو

سوالی آپؐ کے لطف و کرم کا

مرا قلبِ حزیں ہو، چشمِ تر ہو

درُود و نعت ہو میرا وظیفہ

جمالِ مصطفیٰؐ پیشِ نظر ہو

جہاں سرکارؐ کا نقشِ قدم ہو

وہ میری رہگزر، میری ڈگر ہو

زمانے بھر سے نظریں پھیر لوں میں

اُدھر دیکھوں رُخِ زیبا جدھر ہو

خدارا اک نگاہِ لطف و رحمت

کرم اُمّت کے حالِ زار پر ہو

ظفرؔ مانگو دعا ہم بے کسوں پر

کرم اُنؐ کا فزوں تر، بیشتر ہو

٭٭٭

 

وہ محبوبِ خداؐ ہے، با خدا ہے

وہی خیر البشرؐ، خیر الوریٰؐ ہے

حبیبِ کبریاؐ، نورِ مجسمؐ

وہی شمس الضحیٰؐ، بدرالدجیٰؐ ہے

وہی جو رحمۃ اللعالمیںؐ ہے

وہی تو شافعِ روزِ جزا ہے

خدا خود ناز فرماتا ہے جس پر

وہ احمدؐ ہے، محمد مصطفیٰؐ ہے

درُود اُنؐ پر خدائے پاک بھیجے

یہ کس کا مرتبہ اُنؐ کے سوا ہے

مقامِ شوق تک پہنچے تو دیکھا

مری سرکارؐ کا واں نقشِ پا ہے

ظفرؔ کی لاج رکھ لینا خدایا

ترے محبوبؐ کے در کا گدا ہے

٭٭٭

 

پیار اُنؐ کا میری جاگیر

میں ہوں بڑا امیر کبیر

جگمگ جگمگ روشن چہرہ

میرے خوابوں کی تعبیر

رُوئے منوّر کا پرتو ہے

نیّرِ تاباں، بدرِ منیر

نابینا کو بینا کر دے

میرے آقاؐ کی تصویر

دل میں یادِ نبیؐ کا ڈیرہ

لب پہ نعرۂ تکبیر

حمد خدا کی شان کی مظہر

نعت مری ہے پُرتاثیر

حاضر ہے صدیق ظفرؔ بھی

آپؐ کے در پہ ایک فقیر

٭٭٭

 

 

 

اُنؐ کے رستوں کی گردِ سفر مانگنا

بھول جاؤ گے لعل و گہر مانگنا

مانگنا ربِّ اکبر سے عشقِ نبیؐ

سِیم و زر نہ ہی شمس و قمر مانگنا

آپؐ بن مانگے بھی کر رہے ہیں عطا

ہم پہ واجب ہے پھر بھی مگر مانگنا

اُنؐ سے کم مانگنا بھی ہے سوئے ادب

اُنؐ سے جب مانگنا بیشتر مانگنا

جب بھی طیبہ نگر کا ہو عزمِ سفر

اُنؐ سے زادِ سفر، بال و پر مانگنا

میرے آقاؐ کو بالکل نہ اچھا لگا

مجھ خطا کار کا در بدر مانگنا

جو خدا کے حبیبؐ اور محبوبؐ ہیں

پیار اُنؐ کا خدا سے ظفرؔ مانگنا

٭٭٭

 

جو مجھ سے خطا کار و زیاں کار بھی ہوں گے

وہ آپؐ کی رحمت کے طلبگار بھی ہوں گے

جو آپؐ کی فرقت میں شب و روز ہیں گریاں

عشّاق وہی طالبِ دیدار بھی ہوں گے

وہ جن کی رسائی ہے درِ فیض رساں تک

وہ عشق و محبت میں گرفتار بھی ہوں گے

جو گنبدِ خضریٰ کی طرف دیکھ رہے ہیں

وہ لطف و عنایت کے سزاوار بھی ہوں گے

سرکارؐ لکھائیں گے اُنھیں نعت خود اپنی

جو اُنؐ کے ثنا خوان و قلمکار بھی ہوں گے

محشر کا نہیں خوف کہ واں آقا و مولاؐ

محبوبِ خداؐ شافع و غم خوار بھی ہوں گے

سرکارؐ کی گلیوں میں ظفرؔ خیزاں و اُفتاں

کچھ صاحبِ دل، صاحبِ اسرار بھی ہوں گے

٭٭٭

 

محبوبِ ربِّ انس و جاں میرے حضورؐ ہیں

محبوبِ جملہ مرسلاں میرے حضورؐ ہیں

میرے حضورؐ قافلہ سالارِ عارفاں

جانِ جہانِ عاشقاں میرے حضورؐ ہیں

میرے حضورؐ مرکزِ اُمیدِ سالکاں

مرکز نگاہِ مقبلاں میرے حضورؐ ہیں

میرے حضورؐ مونس و غم خوارِ بے کساں

چارا گرِ بے چارگاں میرے حضورؐ ہیں

میرے حضورؐ باعثِ تخلیقِ کائنات

آفاق کے روحِ رواں میرے حضورؐ ہیں

میرے حضورؐ حاملِ قرآں ہیں بالیقیں

ربّ العلیٰ کے ترجماں میرے حضورؐ ہیں

احقر ظفرؔ ہے آپؐ کا بندہ مرے حضورؐ

بندہ نواز و مہرباں میرے حضورؐ ہیں

٭٭٭

 

میں بے بس و لاچار ہوں، بیمار بہت ہوں

سرکارؐ کی رحمت کا طلب گار بہت ہوں

دامانِ کرم آپؐ کا درکار ہے آقاؐ

میں بندۂ عاصی ہوں، گنہ گار بہت ہوں

دیوانہ و مستانہ و پروانۂ جاں سوز

مشتاق ہوں میں طالبِ دیدار بہت ہوں

سرکارؐ کی چوکھٹ پہ جبیں جب سے رکھی ہے

سرمست ہوں، مسرور ہوں، سرشار بہت ہوں

میں اُنؐ کا قلم کار ہوں اُنؐ کا ہی صدا کار

یہ اُنؐ کی عطا ہے کہ طرح دار بہت ہوں

ہر لحظہ میں دلگیر ہوں، رنجور ہوں، مغموم

حسنینِ کریمین کا غم خوار بہت ہوں

سرکارؐ کی رحمت نے ظفرؔ مجھ کو نوازا

ہوں اُنؐ کا سگِ در میں، وفادار بہت ہوں

٭٭٭

 

درودوں کا وظیفہ لمحہ لمحہ دم بدم رکھیں

درِ سرکارؐ پر ہر پل سرِ تسلیم خم رکھیں

رہے مرکز خیال و فکر کا بس گنبدِ خضریٰ

نظر کے سامنے ہر دم وہ تابندہ حرم رکھیں

دل و جاں مضطرب ہیں، دید کو آنکھیں ترستی ہیں

مجھے عز و شرف بخشیں، مرے دل میں قدم رکھیں

رُخِ انور کا جن عشاق کو دیدار ہو جائے

تو پھر وہ غیر کی جانب نہ تکنے کی قسم رکھیں

مری سرکارؐ جو ہیں آپؐ کے شاعر حضورؐ ان کا

فزوں تر عشق و سرمستی، فزوں زورِ قلم رکھیں

فضاؤں میں بھی لہرائیں وہی اسلام کے پرچم

مجاہد سر بکف ہی دین کا اونچا علم رکھیں

ظفرؔ بھی آپؐ کے در کا گداگر ہے، سگِ در ہے

نگاہِ ملتفت آقاؐ، سگِ در کا بھرم رکھیں

٭٭٭

 

میرے آقا، میرے مولا، میرے رہبر آپؐ ہیں

میرے مونس، میرے ہمدم، میرے ناصر آپؐ ہیں

آپؐ ہی ہیں دل نواز و دل پذیر و دلنشیں

میرے دل آرا و دل کش، میرے دلبر آپؐ ہیں

انبیا سارے ہیں مانندِ ہجومِ اختراں

آپؐ ہیں ماہِ مبیں، ماہِ منور آپؐ ہیں

آپؐ ہیں شمس الضحیٰ، بدرالدجیٰ، نور الہدیٰ

آپؐ ہیں صادق امیں، رحمت کا پیکر آپؐ ہیں

جاری و ساری کیا جس نے کلامِ کبریا

وہ معلم، وہ مدرس، وہ مقرر آپؐ ہیں

آپؐ ختم الابنیا ہیں، آپؐ ختم المرسلیں

وہ جو محبوبِ خدا ہیں، وہ پیمبر آپؐ ہیں

ہے ظفرؔ بھی آپؐ سے لطف و کرم کا خواست گار

حلم و عفو درگزر کا اک سمندر آپؐ ہیں

٭٭٭

 

خدا کا، عشق محبوبِ خدا کا

ہے محکم آسرا مجھ بے نوا کا

خدا کی حمد گونجے ہر زماں میں

رہے شہرہ درودوں کی صدا کا

مری سرکارؐ ہیں خیرِ مجسم

حوالہ امن کا، صدق و صفا کا

زمانے آپؐ سے ہیں فیض پاتے

ہے چرچا آپؐ کے جود و سخا کا

وہی جو رحمۃ اللعالمیںؐ ہیں

وہ دیں مژدہ مریضوں کو شفا کا

میں اُنؐ کی دید کے قابل کہاں ہوں

مجھے کافی ہے نقشہ، نقشِ پا کا

خداوندا ظفرؔ کی لاج رکھنا

بھرم رکھنا، غلامِ مصطفیٰؐ کا

٭٭٭

 

فراق و ہجر کا دورانیہ ہو مختصر، آقاؐ

جمالِ دید کی نعمت ملے بارِ دگر، آقاؐ

مرا قلبِ تپاں جانِ حزیں ہے منتظر، آقاؐ

کریں آباد قلب و جاں کا یہ سونا نگر، آقاؐ

میں ہوں بے خانماں، خانہ بدوش و در بہ در، آقاؐ

عطا سرکارؐ کے قدموں میں ہو بے گھر کو گھر، آقاؐ

میں ڈھونڈوں گا کوئی قاصد نہ کوئی نامہ بر، آقاؐ

مرے احوال سے ہیں باخبر، خیر البشر، آقاؐ

محبت آپؐ سے ملتی رہے یوں عمر بھر، آقاؐ

سرور و عشق و مستی بھی فزوں تر، بیشتر، آقاؐ

اشاروں پر ہیں چلتے آپؐ کے شمس و قمر، آقاؐ

ہیں کرتے ہم کلامی آپؐ سے سنگ و حجر، آقاؐ

رہے جاری و ساری جانبِ طیبہ سفر، آقاؐ

عطا کر دیں ظفرؔ بے بال و پر کو بال و پر، آقاؐ

٭٭٭

 

خدا بھی آپؐ سے الفت، محبت ہم بھی کرتے ہیں

درودوں کی صدا سے قلب و جاں میں نور بھرتے ہیں

مرے آقاؐ خدارا اک جھلک روئے منوّر کی

زیارت کی تمنّا، دید کے ارماں مچلتے ہیں

نظر کے سامنے جب گنبدِ خضریٰ ہو تب عاشق

مسلسل اشک برساتے ہیں، کب آنکھیں جھپکتے ہیں

متاعِ زندگی وہ وقت جو گزرے حضوری میں

مبارک روز و شب جو آپؐ کے در پر گزرتے ہیں

شفا پائیں درِ اقدس پہ جو بیمار آ جائیں

جو تیرہ بخت ہوں، ان کے مقدر یاں سنورتے ہیں

جو ہیں عشاق اُنؐ کے، زندہ و جاوید رہتے ہیں

جو بحرِ عشق میں ہوتے ہیں غوطہ زن، ابھرتے ہیں

فلاح پائیں ظفرؔ جو بے بس و لاچار آ جائیں

ولی اللہ یہاں پر نور کے سانچوں میں ڈھلتے ہیں

٭٭٭

 

فزوں تر عشقِ احمد مصطفیٰؐ ہو

کرم فرما زمانوں پر خدا ہو

محبت ہو جو محبوبِ خداؐ سے

خدا کی بندگی کا حق ادا ہو

خدا کر دے عطا اٹھنے سے پہلے

مری سرکارؐ کا دستِ دعا ہو

مروّت، حلم ہو انساں کا شیوہ

زباں پر لا الہ، صلِ علیٰ ہو

حضورؐ اُمت مصائب میں گھری ہے

نگہِ لطف و کرم، بہرِ خدا ہو

فضیلت آپؐ کو دی ہے خدا نے

شفاعت آپؐ کی روزِ جزا ہو

ظفرؔ کے سر پہ رحمت کی ردا ہو

عطائے جاں فزا ہو، دل کشا ہو

٭٭٭

 

ؐ امام الانبیا ہیں، آپؐ ختم الانبیا

آپؐ سے ہی ابتدا ہے، آپؐ پر ہی انتہا

آپؐ ہیں محبوبِ اُمت، آپؐ محبوبِ خدا

آپؐ سا آیا نہ اب آئے گا کوئی آپؐ سا

آپؐ کے در سے ملے جود و سخا، فقر و غنا

آپؐ کے در سے سوالی کب کوئی خالی گیا

آپؐ ہی خیر البشر ہیں، آپؐ ہیں خیر الوریٰ

رحمۃ اللعالمیںؐ، بے آسروں کا آسرا

جن و انسان و ملائک سب پڑھیں صلِ علیٰ

خود خدا پڑھتا ہے، سنتا ہے درودوں کی صدا

عاشقوں کو دید ہو گی آپؐ کی روزِ جزا

ضو فشاں، جلوہ فگن ہو گا جمالِ مصطفیٰؐ

اک نگاہِ لطف آقا، ہے ظفرؔ کی التجا

آپؐ کی نگہِ کرم سے خاک بھی ہو کیمیا

٭٭٭

 

مری سرکارؐ کا فیض و عطا، جاری و ساری ہے

مری سرکارؐ کا جُود و سخا، جاری و ساری ہے

ہیں پیاسے آ رہے سیراب ہو کر جا رہے ہر دم

کرم سرکارؐ کا ہر پل سدا، جاری و ساری ہے

مریضِ لادوا آئیں، سکوں پائیں، شفا پائیں

محبت، اُنس کا اک سلسلہ، جاری و ساری ہے

خزائن بٹ رہے، یاں نعمتیں تقسیم ہوتی ہے

سخاوت باخدا، بے انتہا، جاری و ساری ہے

ولایت بھی یہاں ملتی ہے، دستارِ فضیلت بھی

یہاں لطف و کرم سرکارؐ کا، جاری و ساری ہے

خدا کی ذات پر ایماں کی یاں تکمیل ہوتی ہے

یہاں عشقِ حبیبِ کبریاؐ، جاری و ساری ہے

ظفرؔ ہے جس کی منزل خانہ کعبہ، گنبدِ خضریٰ

سرُور و کیف کا وہ قافلہ، جاری و ساری ہے

٭٭٭

 

کرم کی اک نظر آقاؐ، جدائی مار ڈالے گی

کرم بارِ دگر آقاؐ، جدائی مار ڈالے گی

مرا دل آپؐ کو ڈھونڈے، نگاہیں آپؐ کو ڈھونڈیں

مرا گھر منتظر آقاؐ، جدائی مار ڈالے گی

میں ہوں بھٹکا ہوا راہی، نظر دے کر مجھے دے دیں

مدینہ کی ڈگر آقاؐ، جدائی مار ڈالے گی

میں چا ہوں اُڑتے اُڑتے آپؐ کے قدموں میں جا پہنچوں

عطا ہوں بال و پر آقاؐ، جدائی مار ڈالے گی

مرے آقاؐ مرے دل میں قدم رکھ کر اسے اپنی

بنا لیں رہگزر آقاؐ، جدائی مار ڈالے گی

بُلا لیں اپنے در پر آپؐ اس کمتر سگِ در کو

کہ ہوں میں در بہ در آقاؐ، جدائی مار ڈالے گی

جھلک روئے منور کی دکھا دیں مجھ کو خوابوں میں

پکارے ہے ظفرؔ آقاؐ، جدائی مار ڈالے گی

٭٭٭

 

جو آپؐ کی رحمت کے طلب گار بھی ہوں گے

عشاق وہی طالبِ دیدار بھی ہوں گے

سرکارؐ کی اُمت کے نگہبان و محافظ

خود آپ خدا، احمدِ مختارؐ بھی ہوں گے

زندہ ہیں جو اس آس پہ کب آپؐ بلائیں

مجھ جیسے کئی بے بس و لاچار بھی ہوں گے

محشر کا نہیں خوف کہ واں شافعِ محشر

سرکارؐ مرے مُونس و غم خوار بھی ہوں گے

سرکارؐ مرے مجھ سے فقیروں کے مددگار

محروموں، حقیروں کے طرف دار بھی ہوں گے

عشاق بہت آپؐ کے با جُبہ و دستار

کچھ مجھ سے سیاہ رُو و خطا کار بھی ہوں گے

جو شاہ و گدا آئے درِ فیض رساں تک

کچھ ان میں ظفرؔ صاحبِ اسرار بھی ہوں گے

٭٭٭

 

دل و جاں میں سمایا نقشِ پا خیر الوریٰؐ کا ہے

درِ اقدس پہ لایا نقشِ پا خیر الوریٰؐ کا ہے

مرا سینہ منور نُور سے معمُور خوشبو سے

کہ سینے سے لگایا نقشِ پا خیر الوریٰؐ کا ہے

مرے جذبات و احساسات پر فکر و نظر پر بھی

مری سوچوں پہ چھایا نقشِ پا خیر الوریٰؐ کا ہے

نقوشِ خوشنما تھے اور بھی دنیا میں ہر جانب

مری نظروں کو بھایا نقشِ پا خیر الوریٰؐ کا ہے

جبینیں اُن کی روشن ہیں جنھوں نے گھپ اندھیرے میں

جبینوں پر سجایا نقشِ پا خیر الوریٰؐ کا ہے

ہوئی عشاق میں تقسیم جب غیبی خزانے کی

مرے حصے میں آیا نقشِ پا خیر الوریٰؐ کا ہے

وہ کیوں خاطر میں لائے سایائے دامانِ شاہاں کو

ظفرؔ کے سر کا سایا نقشِ پا خیر الوریٰؐ کا ہے

٭٭٭

 

 ذکرِ نبیؐ سے ہر گھڑی معمُور ہوتا ہے

وہ قلبِ مطمئن ہے ہر گھڑی مسرُور ہوتا ہے

مرے سرکارؐ جب تک میرے دل میں نہ قدم رکھیں

یہ دل مغموم ہوتا ہے، یہ دل رنجُور ہوتا ہے

وہ ہر حالت میں ہیں سرکارؐ کو ہی رُوبرو رکھتے

نرالا آپؐ کے عشاق کا دستور ہوتا ہے

حبیبِ کبریاؐ جلوہ فگن عشاق کے دل میں

خدا خود سینۂ عشاق میں مستُور ہوتا ہے

میں ہر پل آپؐ کے عشاق کے نزدیک رہتا ہوں

میں اُس سے دُور رہتا ہوں جو اُنؐ سے دُور ہوتا ہے

وہی سرکارؐ فرمائیں جو ہو حکمِ خداوندی

وہی ہوتا ہے جو اللہ کو منظور ہوتا ہے

جو مجھ سے رُو سیہ ہر دم درُود و نعت پڑھتے ہیں

سیہ رُو اُن کا بھی اک دن ظفرؔ پُرنور ہوتا ہے

٭٭٭

 

 

سلام بحضورسرورِ کونینﷺ

 

السّلام اے سیّد و سردارِ ما

السّلام اے مالک و مختارِ ما

السّلام اے مطلعِ انوارِ ما

السّلام اے خوشبوئے گلزارِ ما

السّلام اے قائد و سالارِ ما

السّلام اے کارسازِ کارِ ما

السّلام آقائے خوش گفتارِ ما

السّلام آقائے گوہر بارِ ما

السّلام اے صاحبِ دستارِ ما

السّلام اے مرکزِ افکارِ ما

السّلام اے مُونس و غم خوارِ ما

السّلام اے باعثِ پندارِ ما

السّلام اے دلبر و دلدارِ ما

السّلام اے سرور و سرکارِ ما

٭٭٭

 

 

 

 

سلام بحضورسرورِ کونینﷺ

 

السّلام اے تاجدارِ مُرسلیںؐ

السّلام اے رہنمائے کاملیں

السّلام اے پردہ پوشِ مذنبیں

السّلام اے رحمۃ للعالمیںؐ

 

السّلام اے پیشوائے سالکاں

السّلام اے دستگیرِ سائلاں

السّلام اے دلکشائے دلبراں

السّلام اے قبلہ گاہِ عاشقاں

 

السّلام اے پیکرِ حُسن و جمال

السّلام اے مظہرِ فضل و کمال

السّلام اے خوش نوا و خوش خصال

السّلام اے مرکزِ فکر و خیال

٭٭٭

تشکر: ناصر ملک جنہوں نے اس کی فائل فراہم کی

ان پیج سے تبدیلی، تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید