FavoriteLoadingپسندیدہ کتابوں میں شامل کریں

  زہری نے یہ حدیث بواسط عروہ حضرت عائشہ سے مرفوعاً روایت کی ہے

 

فہرست مضامین

حج کا بیان

مکہ کا حرم ہونا

قتیبہ بن سعید، لیث بن سعد، سعید بن ابی سعید، حضرت ابو شریح عدوی فرماتے ہیں کہ میں نے عمرو بن سعید سے مکہ کی طرف لشکر بھیجتے ہوئے کہا اے امیر مجھے اجازت دو کہ میں تم سے ایک ایسی حدیث بیان کروں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فتح مکہ کی صبح کھڑے ہو کر فرمائی میرے کانوں نے اسے سنا دل نے یاد رکھا اور آنکھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو فرماتے ہوئے دیکھا آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اللہ کی حمد و ثنا بیان کی اور فرمایا مکہ اللہ تعالی کا حرم ہے اسے لوگوں نے حرمت کی جگہ قرار نہیں دیا کسی بھی شخص کے لئے جو اللہ تعالی اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتا ہو اس میں خون بہانا اور وہاں کے درخت کاٹنا حلال نہیں اگر کوئی شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے (وہاں قتال کی وجہ سے اس میں لڑائی کو جائز سمجھے تو اسے کہہ دو کہ اللہ تعالی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اس کی اجازت دی تھی تجھے تو حصے میں اس کی اجازت دی گئی اور اس کے بعد اس کی حرمت اسی دن اسی طرح لوٹ آئی جیسے کل تھی اور حاضر و غائب تک یہ حکم پہنچا دو۔ ابوشریح سے پوچھا گیا کہ اس پر عمرو بن سعید نے کیا کہا انہوں نے کہا کہ اس نے کہا اے ابوشریح میں اس حدیث کو تم سے بہتر جانتا ہوں حرم نافرمان اور باغیوں کو پناہ نہیں دیتا اور نہ قتل کر کے بھا گنے والوں یا چوری کر کے بھاگنے والوں پناہ دیتا ہے امام ابو عیسیٰ ترمذی فرماتے ہیں کہ ” بِخَرْبَةٍ “کی جگہ “بِخِربة” کے الفاظ بھی مروی ہیں (خربہ کے معنی ذلت کے ہیں ہیں) اس باب میں حضرت ابو ہریرہ اور ابن عباس سے بھی روایت ہے امام ابو عیسیٰ ترمذی فرماتے ہیں ابو شریح کی حدیث حسن صحیح ہے اور ابو شریح خزاعی کا نام خویلد بن عمرو عدوی کعبی ہے . “وَلَا فَارًّا بِخَرْبَةٍ” کے معنی جنابت یعنی تقصیر کر کے بھاگنے والے کے ہیں جو شخص نقصان کر کے خونریزی کے بعد حرم میں آ جائے اس پر حد قائم کی جائے

حج اور عمرے کا ثواب

قتیبہ، ابو سعید، ابو خالد، عمرو بن قیس، عاصم، شقیق، حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا حج اور عمرے پے درپے کیا کرو کیونکہ یہ دونوں فقر اور گناہوں کو اس طرح ختم کر دیتے ہیں جیسے بھٹی لوہے سونے اور چاندی کے میل کو ختم کر دیتی ہے اور حج مقبول کا بدلہ صرف جنت ہی ہے اس بارے میں عمر رضی اللہ عنہ عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ، ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ، عبداللہ بن حبشی رضی اللہ عنہ، ام سلمہ رضی اللہ عنہا اور جابر رضی اللہ عنہ سے بھی روایت ہے امام ابو عیسیٰ ترمذی فرماتے ہیں کہ یہ حدیث عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی روایت سے حسن صحیح غریب ہے

٭٭ ابن ابی عمر، سفیان بن عیینہ، منصور، ابو حازم، حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا جس نے حج کیا اور اس دوران عورتوں کے ساتھ فحش کلامی یا فسق (یعنی گناہ) کا ارتکاب نہیں کیا تو اس کے تمام پچھلے گناہ بخش دیئے گئے امام ابو عیسیٰ ترمذی فرماتے ہیں ابو ہریرہ کی حدیث حسن صحیح ہے اور ابو حازم کوفی اشجعی ہیں ان کا نام سلمان ہے اور یہ عزة الاشجعیہ کے غلام ہیں۔

ترک حج کی مذمت

محمد بن یحیی، مسلم بن ابراہیم، ہلال بن عبد اللہ، ابن عمرو بن مسلم، حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا جو شخص سامان سفر اور اپنی سواری کی ملکیت رکھتا ہو کہ وہ اسے بیت اللہ تک پہنچا سکے پھر اس کے باوجود وہ حج نہ کرے تو اس میں کوئی فرق نہیں کہ وہ یہودی یا نصرانی ہو کر مرے اس لئے کہ اللہ تعالی اپنی کتاب میں فرماتا ہے (وَلِلَّہِ عَلَی النَّاسِ حِجُّ الْبَیْتِ مَنْ اسْتَطَاعَ إِلَیْہِ سَبِیلًا) اور اللہ کے لئے بیت اللہ کا حج ان لوگوں پر فرض ہے جو اس کی استطاعت رکھتے ہوں۔ امام ابو عیسیٰ ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث غریب ہے ہم اسے صرف اسی سند سے پہچانتے ہیں اور اس کی سند میں کلام ہے ہلال بن عبداللہ مجہول ہے اور حارث کو حدیث میں ضعیف کہا گیا ہے

زاد راہ اور سواری کی ملکیت سے حج فرض ہو جاتا ہے

یوسف بن عیسی، وکیع، ابراہیم بن یزید، محمد بن عباد بن جعفر، حضرت ابن عمر سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور دریافت کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم حج کس چیز سے فرض ہوتا ہے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا زاد راہ (سامان سفر) اور سواری سے امام ابو عیسیٰ ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث حسن ہے اہل علم نے کہا اگر کسی شخص کے پاس سامان سفر اور سواری ہو تو اس پر حج فرض ہے۔ ابراہیم بن یزید خوزی مکی ہیں۔ بعض علماء نے ان کے حافظے کی وجہ سے ان کو ضعیف کہا ہے۔

کتنے حج فرض ہیں

ابوسعید، منصور بن وردان، علی بن عبدالاعلی، حضرت علی بن ابی طالب سے روایت ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی (وَلِلّٰہِ عَلَی النَّاسِ حِجُّ الْبَیْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ اِلَیْہِ سَبِیْلًا) 3۔ آل عمران:97) تو صحابہ نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کیا ہر سال حج کرنا فرض ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم خاموش رہے صحابہ نے پھر پوچھا اے اللہ کے رسول کیا ہر سال حج فرض ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا نہیں اور اگر میں ہاں کہہ دیتا تو ہر سال حج فرض ہو جاتا اس پر یہ آیت نازل ہوئی “  یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَسَْلُوْا عَنْ اَشْیَاۗءَ اِنْ تُبْدَ لَکُمْ تَسُؤْکُمْ” 5۔ المائدہ:101) (یعنی اے ایمان والو ایسی چیزوں کے بارے میں مت سوال کرو کہ اگر ان کی حقیقت تم پر ظاہر کر دی جائے تو تمہیں بری لگیں ، (اس باب میں حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما اور ابو ہریرہ سے روایت ہے۔ امام ابو عیسیٰ ترمذی فرماتے ہیں کہ حضرت علی کی حدیث اس سند سے حسن غریب ہے اور ابو بختری کا نام سعید بن ابو عمران ہے اور وہ سعید بن ابو فیروز ہیں۔

نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے کتنے حج کئے

عبد اللہ بن ابی زیاد، زید بن حباب، سفیان، جعفر بن محمد، حضرت جابر بن عبداللہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے تین حج کئے دو ہجرت سے پہلے اور ایک ہجرت کے بعد جس کے ساتھ عمرہ بھی کیا، اس حج میں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم قربانی کے لئے اپنے ساتھ تریسٹھ اور باقی اونٹ حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ یمن سے ساتھ لے کر آئے ، ان میں سے ایک اونٹ ابو جہل کا بھی تھا جس کے ناک میں چاندی کا چھلہ تھا آپ نے انہیں ذبح کیا اور ہر اونٹ میں سے گوشت کا ایک ایک ٹکڑا اکٹھا کرنے کا حکم دیا پھر اسے پکایا گیا اور اس کے بعد آپ نے اس کا کچھ شوربہ پیا۔ امام ابو عیسیٰ ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث سفیان کی روایت سے غریب ہے ہم اسے صرف زید بن حباب کی روایت سے جانتے ہیں۔ عبداللہ بن عبدالرحمن اپنی کتاب میں یہ حدیث عبداللہ ابو زیاد سے روایت کرتے ہیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں کہ میں نے امام بخاری سے اسکے بارے میں پوچھا انہوں نے بھی سفیان ثوری کی سند سے نہیں پہچانا۔ جعفر اپنے والد وہ جابر سے اور وہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے روایت کرتے ہیں ، امام بخاری کے نزدیک یہ حدیث محفوظ نہیں فرماتے ہیں کہ یہ حدیث ثوری نے ابو اسحاق سے اور وہ مجاہد سے مرسلاً روایت کرتے ہیں

٭٭ اسحاق بن منصور، حبان بن ہلال، ہمام، حضرت قتادہ سے روایت ہے کہ میں نے انس بن مالک سے پوچھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے کتنے حج کئے ؟ انہوں نے فرمایا ایک حج اور چار عمرے۔ ایک عمرہ ذیقعدہ میں ایک صلح حدیبیہ کے موقع پر ایک حج کے ساتھ اور ایک عمرہ جعرانہ جب آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے غزوہ حنین کے مال غنیمت کی تقسیم کی۔ امام ابو عیسیٰ ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ جبان بن ہلال کی کنیت ابو حبیب بصری ہے۔ اور وہ بڑے بزرگ اور ثقہ ہیں۔ یحیی بن سعید قطان انہیں ثقہ کہتے ہیں۔

نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے کتنے عمرے کئے

قتیبہ، داؤد، عبدالرحمن، عطار، عمرو بن دینار، عکرمہ، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اور عمرے کئے ایک عمرہ حدیبیہ کے موقع پر دوسرا آئندہ سال ذیقعدہ میں حدیبیہ والے عمرے کی قضا میں تیسرا عمرہ جعرانہ اور چوتھا عمرہ حج کے ساتھ۔ اس باب میں حضرت انس عبداللہ عمرو رضی اللہ تعالی عنہ، ابن عمر سے بھی روایت ہے ، امام ابو عیسیٰ ترمذی فرماتے ہیں کہ ابن عباس کی حدیث غریب ہے ابن عینیہ نے یہ حدیث عمرو بن دینار سے اور وہ عکرمہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے چار عمرے کئے اور اس میں انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کا ذکر نہیں کیا۔

٭٭ سعید بن عبدالرحمن، سفیان بن عیینہ، عمرو بن دینار، عکرمہ یہ حدیث روایت کی سعید بن عبدالرحمن مخزومی نے انہوں نے سفیان بن عینیہ سے انہوں نے عمرو بن دینار سے حدیث پہلی حدیث کی مثل بیان کی۔

نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے کس جگہ احرام باندھا

ابن ابی عمر، سفیان بن عیینہ، جعفر، حضرت جابر بن عبداللہ سے روایت ہے کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے حج کا ارادہ کیا تو لوگوں میں اعلان کرایا۔ لوگ جمع ہو گئے پھر جب آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم بیداء کے مقام پر پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے احرام باندھا، اس باب میں حضرت ابن عمر انس اور مسور بن مخرمہ سے بھی روایت ہے۔ امام ابو عیسیٰ ترمذی فرماتے ہیں کہ حدیث جابر حسن صحیح ہے۔

٭٭ قتییبہ بن سعید، حاتم بن اسماعیل، موسیٰ بن علقمہ، سالم بن عبد اللہ، حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ تم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم پر جھوٹ باندھتے ہو کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے بیداء کے مقام پر احرام باندھا اللہ کی قسم آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ذوالحلیفہ کے پاس درخت کے قریب سے لبیک پکارنا شروع کیا۔ امام ابو عیسیٰ ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث حسن صحیح ہے

نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے کب احرام باندھا

قتیبہ، عبدالسلام بن حرب، خصیف، سعید بن جبیر، حضرت ابن عباس سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے نماز کے بعد لبیک پکاری۔ امام ابو عیسیٰ ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث غریب ہے ہمیں نہیں معلوم کہ اس حدیث کو عبد السلام بن حرب کے علاوہ کسی اور نے روایت کیا ہو۔ اہل علم اس کو مستحب کہتے ہیں کہ آدمی نماز کے بعد احرام باندھے اور تلبیہ پڑھے۔

 

حج افراد

ابومصعب، مالک بن انس، عبدالرحمن بن قاسم، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے حج افراد کیا (یعنی حج میں فقط حج کا احرام باندھا) اس باب میں جابر رضی اللہ عنہ اور ابن عمر رضی اللہ عنہما سے بھی روایت ہے امام ابو عیسیٰ ترمذی فرماتے ہیں کہ حدیث عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا حسن صحیح ہے ، اسی پر بعض اہل علم کا عمل ہے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے بھی مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے حج افراد کی اور اسی طرح ابو بکر رضی اللہ عنہ، عمر رضی اللہ عنہ اور عثمان رضی اللہ عنہ نے بھی حج افراد کیا۔

٭٭ قتیبہ، عبداللہ بن نافع، عبید اللہ بن عمر، نافع، ابن عمر، ابو عیسیٰ ہم سے روایت کی اسکی قتیبہ نے وہ عبداللہ بن نافع صائغ سے وہ عبید اللہ بن عمر سے وہ نافع سے اور وہ ابن عمر سے روایت کرتے ہیں ، امام ابو عیسیٰ ترمذی فرماتے ہیں کہ سفیان ثوری نے فرمایا کہ اگر آدمی حج افراد کرے تو بہتر ہے اور اگر تمتع کرے تو بھی بہتر ہے ، امام شافعی فرماتے ہیں کہ ہمارے نزدیک حج افراد سب سے بہتر ہے پھر حج تمتع اور اس کے بعد حج قران۔

حج اور عمرہ ایک ہی احرام میں کرنا

قتیبہ، حماد بن زید، حمید، حضرت انس سے روایت ہے کہ اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے سنا فرماتے تھے لَبَّیْکَ بِعُمْرَةٍ وَحَجَّةٍ الہی میں حج اور عمرہ دونوں کے ساتھ تیری بارگاہ میں حاضر ہوں ، اس باب میں حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ اور عمران بن حصین سے بھی روایت ہے۔ امام ترمذی فرماتے ہیں کہ حضرت انس کی حدیث حسن صحیح ہے بعض اہل علم اسی پر عمل کرتے ہیں اہل کوفہ اور دوسرے لوگوں نے اسے (یعنی حج قران کو) پسند کیا ہے۔

تمتع کے بارے میں

قتیبہ، حماد بن زید، حمید، انس، ابن شہاب، محمد بن عبداللہ بن حارث بن نوفل سے روایت ہے انہوں نے حضرت سعد بن ابی وقاص اور ضحاک بن قیس سے سنا کہ وہ دونوں تمتع کا ذکر رہے تھے جس میں حج کے ساتھ عمرہ بھی کیا جاتا ہے ضحاک بن قیس نے کہا یہ تو وہی کریگا جو اللہ کے حکم سے بے خبر ہو۔ حضرت سعد نے کہا اے بھتیجے تو نے بری بات کہی ضحاک نے کہا کہ عمر بن خطاب نے تمتع سے منع کیا ہے۔ حضرت سعد فرمانے لگے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے خود بھی (حج) تمتع کیا اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے ساتھ ہم نے بھی اسی طرح کیا یہ حدیث صحیح ہے۔

٭٭ عبد بن حمید، یعقوب بن ابراہیم بن سعد، ابو صالح بن کیسان، ابن شہاب سے روایت ہے کہ ان سے سالم بن عبداللہ نے بیان کیا کہ انہوں نے ایک شامی کو حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہ سے حج کے ساتھ عمرے کو ملانے (یعنی تمتع) کے متعلق سوال کرتے ہوئے سنا۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا یہ جائز ہے شامی نے کہا آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے والد نے اس سے منع کیا ہے۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا دیکھو اگر میرے والد کسی کام سے منع کریں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم وہی کام کریں تو میرے والد کی اتباع کی جائے گی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی۔ شامی نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی۔ ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے تمتع کیا ہے یہ حدیث صحیح ہے۔

٭٭ ابوموسی، محمد بن مثنی، عبداللہ بن ادریس، لیث، طاؤس، حضرت ابن عباس سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے تمتع کیا۔ اسی طرح ابو بکر رضی اللہ تعالی عنہ، عمر، اور عثمان رضی اللہ تعالی عنہ نے بھی تمتع ہی کیا اور جس نے سب سے پہلے تمتع سے منع کیا وہ امیر معاویہ ہیں اس باب میں حضرت علی، عثمان، جابر رضی اللہ تعالی عنہ، سعد رضی اللہ تعالی عنہ، اسماء بنت ابی بکر اور ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہ سے بھی روایت ہے۔ امام ابو عیسیٰ ترمذی فرماتے ہیں ، ابن عباس کی حدیث حسن ہے ، علماء صحابہ کی ایک جماعت نے تمتع ہی کو اختیار کیا ہے۔ یعنی حج اور عمرے کو۔ تمتع حج کے مہینوں میں عمرہ کرنے اور اس کے بعد حج کرنے تک وہیں رہنے کو کہتے ہیں ، اور اس میں قربانی کرنا واجب ہے اگر کوئی قربانی نہ کر سکتا ہو تو حج کے دنوں میں تین اور گھر واپس آنے پر سات روزے رکھے۔ اور اس کے لئے مستحب ہے کہ تین روزے ذوالحجہ کے پہلے دس دنوں میں رکھ لے اس طرح کہ تیسرا روزہ عرفہ کے دن ہو۔ یعنی پہلے عشرے کے آخری تین دن، اگر ان دنوں میں روزے نہ رکھے ہوں بعض علماء صحابہ رضی اللہ تعالی عنہ جس میں حضرت عمر اور عائشہ بھی شامل ہیں کے نزدیک ایام تشر یق میں روزے رکھے امام مالک شافعی احمد اور اسحاق کا بھی یہی قول ہے بعض اہل علم کہتے ہیں کہ ایام تشریق میں روزے نہ رکھ اہل کوفہ (احناف) کا یہی قول ہے امام ابو عیسیٰ ترمذی فرماتے ہیں کہ محدثین تمتع ہی کو اختیار کرتے ہیں امام شافعی احمد اور اسحاق کا بھی یہی قول ہے۔

تلبیہ (لبیک کہنے) کہنا

احمد بن منیع، اسماعیل بن ابراہیم، ایوب، نافع، ابن عمر، حضرت ابن عمر سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا تلبیہ یہ تھا “لَبَّیْکَ اللَّہُمَّ لَبَّیْکَ لَبَّیْکَ لَا شَرِیکَ لَکَ لَبَّیْکَ إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَکَ وَالْمُلْکَ لَا شَرِیکَ لَکَ” (اے اللہ میں حاضر ہوں میں حاضر ہوں تیرا کوئی شریک نہیں میں حاضر ہوں تیری بارگاہ میں۔ تمام تعریفیں اور نعمتیں تیرے ہی لئے ہیں تیری بادشاہت میں تیرا کوئی شریک نہیں۔

٭٭ قتیبہ، لیث، نافع، ابن عمر سے روایت ہے کہ انہوں نے احرام باندھا اور یہ تلبیہ کہتے ہوئے چلے “لَبَّیْکَ اللَّہُمَّ لَبَّیْکَ لَا شَرِیکَ لَکَ لَبَّیْکَ إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَکَ وَالْمُلْکَ لَا شَرِیکَ لَکَ”(میں حاضر ہوں اے اللہ میں حاضر ہوں تیری بارگاہ میں۔ تیرا کوئی شریک نہیں میں تیرے حضور حاضر ہوں بے شک تعریف نعمت اور بادشاہت تیرے ہی لئے ہے ، تیرا کوئی شریک نہیں حضرت نافع کہتے ہیں کہ عبداللہ بن عمر فرمایا کرتے تھے کہ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا تلبیہ ہے ، آپ (حضرت ابن عمر) اس تلبیہ میں یہ اضافہ فرماتے “لَبَّیْکَ لَبَّیْکَ وَسَعْدَیْکَ وَالْخَیْرُ فِی یَدَیْکَ لَبَّیْکَ وَالرَّغْبَائُ إِلَیْکَ وَالْعَمَلُ” (ترجمہ میں حاضر ہوں میں حاضر ہوں تیری عبادت کے لئے ہر وقت تیار ہوں بھلائی تیرے ہی اختیار میں ہے تیری ہی طرف رغیت ہے اور عمل تیری ہی رضا کے لئے ہے۔ یہ حدیث صحیح ہے۔ اما ابو عیسیٰ فرماتے ہیں کہ اس باب میں حضرت ابن مسعود، جابر، عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا، ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما اور ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے بھی روایت ہے ، امام ابو عیسیٰ فرماتے ہیں کہ ابن عمر کی حدیث حسن صحیح ہے علماء صحانہ رضی اللہ تعالی عنہ وغیرہ کا اسی پر عمل ہے سفیان ثوری شافعی، احمد اور اسحاق کا یہی قول ہے ، امام شافعی فرماتے ہیں کہ اگر کسی نے تلبیہ میں کچھ ایسے الفاظ زیادہ حرج نہیں لیکن مجھے یہ بات پسند ہے کہ صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا تلبیہ ہی پڑھے ، امام شافعی فرماتے ہی کہ یہ بات کہ تعظیم خداوندی کے کچھ الفاظ زیادہ کرنے میں کوئی حرج نہیں ہم نے اس لئے کہی کہ ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا تلبیہ یاد تھا پھر بھی حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنی طرف سے یہ الفاظ لَبَّیْکَ وَالرَّغْبَاءُ إِلَیْکَ وَالْعَمَلُ، زیادہ کئے (میں تیری بارگاہ میں حاضر ہوں تیری ہی طرف رغبت ہے اور تیرے ہی لئے عمل ہے

تلبیہ اور قربانی کی فضیلت

محمد بن رافع، ابن ابی فدیک، اسحاق بن منصور، ضحاک بن عثمان، محمد بن منکدر، عبدالرحمن بن یربوع، حضرت ابو بکر صد یق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے پوچھا گیا کہ کون سا حج افضل ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ارشاد فرمایا جس میں تلبیہ (یعنی لبیک) کی کثرت ہو اور خون بہایا جائے یعنی قربانی کی جائے)

٭٭ ہناد، اسماعیل بن عیاش، عمارہ بن غزیة، ابو حازم، حضرت سہل بن سعد سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا جب کوئی مسلمان تلبیہ کہتا ہے تو اس کے دائیں بائیں تمام پتھر، درخت اور کنکریاں سب تلبیہ کہتے ہیں یہاں تک کہ زمین ادھر ادھر (مشرق و مغرب) سے پوری ہو جاتی ہے (یعنی جہاں تک زمین ہے سب لبیک پکارتے ہیں۔

٭٭ حسن بن محمد، عبدالرحمن بن اسود، ابو عمر، عبیدہ بن حمید، عمارہ بن غزیة ہم سے روایت کی حسن بن محمد زعفرانی اور عبدالرحمن بن اسود، ابو عمرو بصری نے کہا کہ ہم سے روایت کی عبیدہ بن حمید نے عمارہ بن غزیہ سے انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے اسماعیل بن عیاش کی حدیث کی مثل اس باب میں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما اور جابر رضی اللہ عنہ سے بھی روایت ہے امام ابو عیسیٰ ترمذی فرماتے ہیں کہ حدیث ابی بکر غریب ہے ہم اسے ابن ابی فدیک کی ضحاک بن عثمان سے روایت کے علاوہ نہیں جانتے۔ محمد بن منکدر، سعید بن عبدالرحمن بن یربوع سے بھی ان کے والد کے حوالے سے اس کے علاوہ روایت کرتے ہیں ابو نعیم طحان ضرار بن صرد یہ حدیث ابن ابی فدیک سے وہ ضحاک سے وہ محمد بن منکدر سے وہ سعید بن عبدالرحمن بن یربوع سے وہ اپنے والد سے وہ ابو بکر رضی اللہ عنہ سے اور وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے روایت کرتے ہیں لیکن ضرار نے اس میں غلطی کی ہے ، امام ابو عیسیٰ ترمذی فرماتے ہیں کہ میں نے احمد بن حنبل سے سنا آپ فرماتے تھے وہ شخص جو اس حدیث کو محمد بن منکدر سے وہ سعید بن عبدالرحمن بن یربوع سے اور وہ اپنے والد اس سند سے روایت کرتا ہے پس اس نے خطا کی (امام ترمذی کہتے ہیں) میں نے امام بخاری کے سامنے ضرار بن صرد کی ان ابی فدیک سے روایت بیان کی تو انہوں نے فرمایا کچھ نہیں پس ان لوگوں نے اسے ابن ابی فدیک سے روایت کر دیا ہے ، اور سعید بن عبدالرحمن کو چھوڑ دیا ہے (امام ترمذی کہتے ہیں) میرے خیال میں امام بخاری ضرار بن صرد کو ضعیف سمجھتے ہیں۔ مجمع کے معنی بلند آواز سے تبلیہ کہنا اور شج قربانی کو کہتے ہیں۔

تلبیہ آواز سے پڑھنا

احمد بن منیع، سفیان بن عیینہ، عبداللہ بن ابی بکر، عبدالملک بن ابی بکر بن عبدالرحمن، حضرت خلاد بن سائب رضی اللہ عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا میرے پاس جبرائیل آئے اور مجھے حکم دیا کہ میں اپنے صحابہ رضی اللہ تعالی عنہ کو تلبیہ بلند آواز سے پڑھنے کا حکم دوں راوی کو شک ہے کہ اہلال فرمایا یا تلبیہ دونوں کے معنی ایک ہیں امام ابو عیسیٰ ترمذی فرماتے ہیں کہ خلاد کی ان کے والد سے مروی حدیث خالد کے حوالے سے مرفوعاً روایت کرتے ہیں ، یہ صحیح نہیں ہے۔ خلاد کی اپنے والد سے روایت کرتے ہی صحیح ہے وہ خلاد بن سائب بن خلاد بن سوید انصاری ہیں ، اس باب میں زید بن خالد رضی اللہ عنہ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ اور ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بھی روایت ہے

احرام باندھتے وقت غسل کرنا

عبد اللہ بن ابی زیاد، عبداللہ بن یعقوب، ابن ابی زناد، حضرت خارجہ بن زید بن ثابت اپنے والد سے نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے احرام باندھتے وقت کپڑے اتارے اور غسل فرمایا۔ امام ابو عیسیٰ ترمذی فرماتے ہیں کہ یہ حدیث حسن غریب ہے بعض اہل علم احرام باندھتے وقت غسل کرنے کو مستحب کہتے ہیں امام شافعی کا بھی یہی قول ہے۔

 

آفاقی کے لئے احرام باندھتے کی جگہ

احمد بن منیع، اسماعیل بن ابراہیم، ایوب، نافع، حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ہم کہاں سے احرام باندھیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا اہل مدینہ ذوالحلیفہ سے اہل شام جحفہ سے اہل نجد قرآن سے اور یمن والے یلملم سے احرام باندھیں ، اس باب میں حضرت ابن عباس جابر بن عبداللہ اور عبداللہ بن عمرو سے بھی روایت ہے ، امام ابو عیسیٰ ترمذی فرماتے ہیں حدیث ابن عمر حسن صحیح ہے اور اہل علم کا اسی پر عمل ہے

٭٭ ابوکریب، وکیع، سفیان، یزید بن ابی زیاد، محمد بن علی، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اہل مشرق کے لئے عقیق کو میقات (احرام باندھتے کی جگہ مقرر فرمایا۔ امام ابو عیسیٰ ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث حسن ہے۔

کہ محرم (احرام والے) کے لئے کون سا لباس پہننا جائز نہیں

قتیبہ، لیث، نافع، ابن عمر سے روایت ہے کہ ایک شخص کھڑا ہوا اور اس نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم حالت احرام میں ہم کون کون سے کپڑے پہن سکتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا ! قمیض شلوار، ساتہ پگڑی اور موزے نہ پہنو البتہ اگر کسی کے پاس جوتے نہ ہوں تو موزے پہن سکتا ہے انہیں ٹخنوں کے نیچے تک کاٹ دے پھر ایسا کپڑا بھی نہ ہوا جس میں درس (ایک خوشبو) یا زعفران لگا ہوا ہو اور عورت اپنے چہرے پر نقاب نہ ڈالے اور ہاتھوں میں دستانے نہ پہنے امام ابو عیسیٰ ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث حسن صحیح ہے اور اسی پر اہل علم کا عمل ہے۔

اگر تہبند اور جوتے نہ ہوں تو پاجامہ اور موزے پہن لے

احمد بن عبدہ الضبی البصری، یزید بن زریع، ایوب، عمر بن دینار، جابر بن زید، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے سنا آپ فرماتے تھے کہ جب محرم (احرام باندھنے والے) کو تہبند نہ ملے تو شلوار پہن لے اور اگر جوتے نہ ہوں تو موزے پہن لے۔

٭٭ قتیبہ، حماد بن زید، عمرو، ابن عمر، جابر، ابو عیسیٰ ہم سے روایت کی قتیبہ نے انہوں نے حماد بن زید سے انہوں نے عمرو سے اسی حدیث کی طرح اس باب میں ابن عمر اور جابر سے بھی روایت ہے ، امام ابو عیسیٰ ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے وہ کہتے ہیں کہ اگر لنگی نہ ہو تو شلوار پہن لے اور اگر جو تے نہ ہوں تو موزے پہن لے۔ امام احمد کا بھی یہی قول ہے ، بعض اہل علم ابن عمر کی حدیث سے استدلال کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اگر جوتے نہ ہوں تو موزے پہن سکتا ہے بشرطیکہ موزوں کو ٹخنوں کے نیچے تک کاٹ دے۔ سفیان ثوری اور شافعی کا یہی قول ہے

جو شخص قمیص یا جبہ پہنے ہوئے احرام باندھے

قتیبہ بن سعید، عبداللہ بن ادریس، عبدالملک بن ابی سلیمان، عطاء روایت کرتے ہیں یعلی بن امیہ سے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ایک اعرابی کو احرام کی حالت میں جبہ پہنے ہوئے دیکھا تو اسے حکم دیا کہ اسے اتار دے

٭٭ ابن ابی عمر، سفیان، عمرو بن دینار، عطاء، صفوان بن یعلی ہم سے روایت کی ابن ابی عمر نے انہوں نے سفیان سے انہوں نے عمرو بن دینار سے انہوں نے عطاء سے انہوں نے صفوان بن یعلی سے انہوں نے اپنے باپ سے انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے اسی کے ہم معنی حدیث امام ابو عیسیٰ ترمذی فرماتے ہیں یہ اصح ہے اور اس حدیث میں قصہ ہے اسی طرح قتادہ حجاج بن ارطاة اور کئی راوی بھی عطاء سے یعی بن امیہ کے واسطے سے روایت کرتے ہیں لیکن صحیح عمرو بن دینار اور ابن جریج کی ہی روایت ہے یہ دونوں عطاء سے وہ صفوان بن یعلی سے اور وہ اپنے والد سے مرفوعاً روایت کرتے ہیں

محرم کا کن جانوروں کو مارنا جائز ہے

محمد بن عبدالملک بن ابی شوارب، یزید بن زریع، معمر، زہری، عروہ، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا کہ احرام میں پانچ چیزوں کا مارنا جائز ہے چوہا بچھو کوا چیل اور کاٹنے والا کتا اس باب میں ابن مسعود رضی اللہ عنہ اور ابن عباس رضی اللہ عنہما اور ابن عمر رضی اللہ عنہما، ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ابو سعید رضی اللہ عنہ اور ابن عباس رضی اللہ عنہما اسے روایت ہے امام ابو عیسیٰ ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث حسن صحیح ہے

٭٭ احمد بن منیع، ہشیم، یزید بن ابی زیاد، ابن ابی نعم، حضرت ابو سعید سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا محرم کے لئے درندے کاٹنے والے کتے چوہے بچھو چیل اور کوے کو مارنا جائز ہے اما ابو عیسیٰ ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث حسن ہے اہل علم کا اسی پر عمل ہے وہ کہتے ہیں کہ درندے اور کاٹنے والے کتے کو قتل کرنے میں کوئی حرج نہیں سفیان ثوری اور امام شافعی کا یہی قول ہے امام شافعی فرماتے ہیں کہ جو درندہ انسان یا جانور پر حملہ آور ہوتا ہو تو محرم کے لئے اس کو مارنا بھی جائز ہے۔

محرم کے پچھنے لگانا

قتیبہ، سفیان بن عیینہ، عمرو بن دینار، طاؤس، عطاء، حضرت عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے احرام کی حالت میں پچھنے لگائے اس باب میں حضرت انس، عبداللہ بن بحینہ، اور جابر سے بھی روایت ہے امام ابو عیسیٰ ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث حسن صحیح ہے بعض اہل علم محرم کو پچھنے لگانے کی اجازت دیتے ہیں بشرطیکہ بال نہ مونڈھے امام مالک فرماتے ہیں کہ محرم بغیر ضرورت کے پچھنے نہ لگائے سفیان ثوری اور امام شافعی کہتے ہیں کہ اگر بال نہ اکھاڑے جائیں تو محرم کے لئے پچھنے لگانے میں کوئی حرج نہیں

احرام کی حالت میں نکاح کرنا مکروہ ہے

احمد بن منیع، اسماعیل بن علیہ، ایوب، نافع، نبیہ بن وہب سے روایت ہے کہ ابن معمر نے اپنے بیٹے کی شادی کا ارادہ کیا تو مجھے امیر حج ابان بن عثمان کے پاس بھیجا میں گیا اور کہا کہ آپ کا بھائی اپنے بیٹے کا نکاح کرنا چاہتا ہے اور وہ چاہتا ہے کہ آپ اس بات پر گواہ ہوں ابان بن عثمان نے فرمایا وہ گنوار اور بے عقل آدمی ہے ، محرم (احرام باندھنے والا) نہ خود نکاح کر سکتا ہے اور نہ کسی کا نکاح کروا سکتا ہے یا اسی طرح کچھ کہا پھر حضرت عثمان سے مرفوعاً اسی کے مثل روایت بیان کی اس باب میں حضرت ابو رافع اور میمونہ سے بھی روایت ہے امام ابو عیسیٰ ترمذی فرماتے ہیں کہ عثمان کی حدیث حسن صحیح ہے۔ بعض صحابہ کا اسی پر عمل ہے جن میں عمر بن خطا ب، علی، اور ابن عمر شامل ہیں پھر بعض فقہاء تابعین امام مالک شافعی، احمد اور اسحاق بھی احرام کی حالت میں نکاح کرنے کو نا جائز سمجھتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اگر نکاح کر لیا جائے تو وہ نکاح باطل ہے

٭٭ قتیبہ، حماد بن زید، مطر وراق، ربیعہ بن ابو عبدالرحمن، سلیمان بن یسار، حضرت ابو رافع فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے میمونہ کے ساتھ نکاح کیا تو آپ محرم نہیں تھے۔ پھر جب صحبت کی تب بھی آپ احرام سے نہیں تھے میں دونوں کے درمیان قاصد تھا۔ امام عیسیٰ ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث حسن ہے ہم نہیں جانتے کہ حماد بن زید کے علاوہ کسی نے اس کو مسند بیان کیا ہو۔ حماد بواسطہ مطر الوراق۔ ربیعہ سے روایت کرتے ہیں۔ مالک بن انس نے بواسطہ ربیعہ سلیمان بن یسار سے مرسلاً روایت کیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے حضرت میمونہ سے نکاح کیا تو آپ محرم نہ تھے سلیمان بن ہلال نے بھی ربیعہ سے مرسل روایت کی ہے امام ابو عیسیٰ ترمذی فرماتے ہیں کہ یزید بن اصم نے حضرت میمونہ سے روایت کیا وہ فرماتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے میمونہ سے نکاح کیا تو وہ حلال (یعنی احرام کی حالت میں نہیں تھے) امام ابو عیسیٰ ترمذی فرماتے ہیں کہ یزید بن اصم میمونہ کے بھانجے ہیں۔

محرم کو نکاح کی اجازت

حمید بن مسعدہ، سفیان بن حبیب، ہشام بن حسان، عکرمہ، حضرت ابن عباس سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے میمونہ سے نکاح کیا اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اس وقت محرم تھے اس باب میں حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا سے بھی روایت ہے ، امام ابو عیسیٰ ترمذی فرماتے ہیں کہ ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما کی حدیث حسن صحیح ہے بعض اہل علم کا اس پر عمل ہے سفیان ثوری اور اہل کوفہ بھی اسی کے قائل ہیں۔

٭٭ قتیبہ، حماد بن زید، ایوب، حضرت ایوب عکرمہ سے اور وہ ابن عباس سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے حضرت میمونہ سے نکاح کیا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اس وقت حالت احرام میں تھے

٭٭ قتیبہ، داؤد بن عبدالرحمن، عمرو بن دینار، ابن عباس ہم سے روایت کی قتیبہ نے ان سے داؤد بن عبدالرحمن عطار نے انہوں نے عمرو بن دینار سے کہا عمرو نے کہ میں نے سنا ابو شعثاء سے وہ روایت کرتے ہیں ابن عباس سے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے حضرت میمونہ سے حالت احرام میں نکاح کیا۔ امام ابو عیسیٰ ترمذی کہتے ہیں کہ یہ حدیث صحیح ہے ، ابو شعثاء کا نام جابر بن زید ہے اہل علم کا نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے میمونہ سے نکاح کے متعلق اختلاف ہے۔ اس لئے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ان سے مکہ کے راستے میں نکاح کیا تھا بعض اہل علم کہتے ہیں ہیں نکاح حلال ہوتے ہوئے ہوا لیکن لوگوں کو اس کا پتہ احرام باندھنے کی حالت میں چلا پھر دخول بھی حلال ہونے کی حالت میں ہی سرف (ایک مقام ہے) کے مقام پر مکہ میں ہوا۔ حضرت میمونہ کی وفات بھی سرف میں ہوئی اور آپ وہیں دفن ہوئیں۔

٭٭ اسحاق بن منصور، وہب بن جریر، ابافرازہ، یزید بن اصم، حضرت میمونہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے مجھ سے نکاح بھی اور مجامعت بھی حلال ہوتے ہوئے ہی فرمائی تھی (یعنی جب محرم نہیں تھے) راوی کہتے ہیں پھر میمونہ سرف کے مقام پر فوت ہوئیں اور ہم نے انہیں اسی اقامت گاہ میں دفن کیا جہاں آپ نے ان کے ساتھ پہلی رات گزاری تھے۔ امام ابو عیسیٰ ترمذی فرماتے ہیں کہ حدیث غریب ہے اور متعدد راویوں نے اسے حضرت یزید بن اصم سے مرسلاً روایت کیا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے حضرت میمونہ سے نکاح کیا اور اس وقت آپ حالت احرام میں نہیں تھے۔

 

محرم کو شکار کا گوشت کھا نا

قتیبہ، یعقوب بن عبدالرحمن، عمرو بن ابی عمر، حضرت جابر سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا ! حالت احرام میں خشکی کا شکار تمہارے لئے حلال ہے جب تک کہ تم خود شکار نہ کرو اور نہ ہی تمہارے حکم سے شکار کیا جائے اس باب میں حضرت عیسیٰ ترمذی فرماتے ہیں حدیث جابر مفسر ہے اور مطلب یہ کے جابر سے سماع کا ہمیں علم نہیں اہل علم کا اس پر عمل ہے وہ کہتے ہیں کہ محرم کے لئے شکار کا گوشت کھانے میں کوئی حرج نہیں بشرطیکہ اس نے خود یا صرف اسی کے لئے شکار نہ کیا گیا ہو۔ امام شافعی رحمة اللہ علیہ فرماتے ہیں ، یہ حدیث اس باب کی احسن اور قیاس کے سب سے زیادہ موافق حدیث ہے اور اسی پر عمل ہے۔ امام احمد اور اسحاق کا بھی یہی قول ہے۔

٭٭ قتیبہ، مالک بن انس، ابو نضر، نافع، حضرت ابو قتادہ فرماتے ہیں کہ میں اور صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے ساتھ مکہ جا رہے تھے جب مکہ کے قریب پہنچے تو میں اپنے کچھ ساتھیوں کے ساتھ پیچھے رہ گیا۔ صرف میں احرام میں نہیں تھا اور باقی سب احرام میں تھے پس ابو قتادہ نے ایک وحشی گدھے کو دیکھا تو اپنے گھوڑی پر چڑھ گئے اور ساتھیوں سے لاٹھی مانگی۔ انہوں نے انکار کر دیا پھر نیزہ مانگا انہوں نے اس سے بھی انکار کیا تو آپ نے خود ہی اٹھا لیا اور اس گدھے پر حملہ کر کے اسے قتل کر دیا۔ بعض صحابہ نے اس میں سے کھایا اور بعض نے انکار کر دیا جب وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے پاس پہنچے اور اس کے متعلق پوچھا تو آپ نے فرمایا وہ تو کھانا تھا جو اللہ تعالی نے تمہیں کھلایا۔

٭٭ قتیبہ، مالک، زید بن اسلم، عطاء بن یسار، ابو قتادہ ہم سے روایت کی قتیبہ نے انہوں نے مالک سے انہوں نے زید بن اسلم سے انہوں نے عطاء بن یسار سے انہوں نے ابو قتادہ سے وحشی گدھے کے متعلق ابو النضر کی حدیث کے مثل روایت کیا ہے لیکن اس میں یہ الفاظ زیادہ ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا تمہارے پاس اس کے گوشت میں سے کچھ باقی ہے ؟ امام عیسیٰ ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث حسن صحیح ہے۔

محرم کے لئے شکار کا گوشت کھانا مکروہ ہے

قتیبہ، لیث، ابن شہاب، عبید اللہ بن عبد اللہ، ابن عباس، صعب بن جثامہ نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم صعب کو ابو اء یا، ودان، (دونوں مقام مکہ اور مدینے کے درمیان میں) لے کر گئے تو صعب ایک وحشی گدھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے لئے ہدیہ لائے۔ آپ نے واپس لوٹا دیا۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ان کے چہرے پر کراہت کے آثار دیکھے تو آپ نے فرمایا کہ یہ میں نے اس لئے واپس کیا ہے کہ ہم احرام میں ہیں۔ امام ابو عیسیٰ ترمذی فرماتے ہیں کہ یہ حدیث صحیح ہے۔ بعض صحابہ کرام اور تابعین کا اس حدیث پر عمل ہے۔ انکے نزدیک محرم کو شکار کا گوشت کھانا مکروہ ہے۔ امام شافعی فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اسے اس لئے واپس کیا تھا کہ ان کے خیال میں صعب نے اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم ہی کیلئے شکار کیا تھا۔ اور آپ کا اسے ترک کرنا تنزیہا ہے۔ زہری کے بعض ساتھی بھی اسے زہری سے روایت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ صعب نے وحشی گدھے کا گوشت ہدیے میں پیش کیا تھا لیکن یہ غیر محفوظ ہے اس باب میں حضرت علی رضی اللہ عنہ اور زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے بھی روایت ہے۔

کہ محرم کے لئے سمندری جانوروں کا شکار حلال ہے

ابوکریب، وکیع، حماد بن سلمہ، ابو مہزم، حضرت ابو ہریرہ سے روایت کہ ہم حج یا عمرہ کے لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے ہمراہ نکلے تو ہمارے سامنے ٹڈی دل آ گیا پس ہم نے انہیں اپنی لاٹھیوں اور کوڑوں سے مارنا شروع کر دیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا اسے کھاؤ یہ دریا کا شکار ہے امام ابو عیسیٰ ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث کے علاوہ نہیں جانتے ابومہزم کا نام پزید بن سفیان ہے۔ شعبہ نے ان کے متعلق کلام کیا ہے۔ علماء کی ایک جماعت محرم کے لئے ٹڈی کو شکار کر کے کھانے کی اجازت دیتی ہے۔ بعض اہل علم کہتے ہیں کہ اگر محرم ٹڈی کو کھائے یا اس کا شکار کرے گا تو اس پر صدقہ واجب ہو جائے گا۔

 

محرم کے لئے بجو کے شکار کا حکم

احمد بن منیع، اسماعیل بن ابراہیم، ابن جریج، عبداللہ بن جریج، عبداللہ بن عبید بن عمیر، حضرت ابن ابی عمار سے روایت ہے کہ میں نے جابر بن عبداللہ سے پوچھا کیا بجو شکار ہے ؟ انہوں نے فرمایا ! ہاں میں نے پوچھا کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اسی بارے فرمایا ہے ؟ انہوں نے فرمایا ! ہاں ، امام ابو عیسیٰ ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ علی یحیی بن سعید کے حوالے سے کہتے ہیں کہ جریر بن حازم یہ حدیث روایت کرتے ہوئے بحوالہ جابر رضی اللہ تعالی عنہ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کرتے ہیں ، ابن جریج کی روایت اصح ہے اور امام احمد اور اسحاق کا یہی قول ہے اہل علم کا اسی حدیث پر عمل ہے کہ محرم اگر بجو کا شکار کرے تو اس پر جزاء ہے۔

مکہ داخل ہونے کے لئے غسل کرنا

یحیی بن موسی، ہارون بن صالح، عبدالرحمن بن زید بن اسلم، حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے مکہ مکرمہ میں داخل ہونے کے لئے فنح کے مقام پر غسل فرمایا۔ امام ابو عیسیٰ ترمذی فرماتے ہیں کہ یہ حدیث غیر محفوظ ہے ، اور صحیح وہی ہے جو نافع سے مروی ہے کہ ابن عمر مکہ میں جانے کے لئے غسل کرتے تھے۔ امام شافعی کا بھی یہی قول ہے کہ مکہ مکرمہ میں داخل ہونے کے لئے غسل کرنا مستحب ہے۔ عبدالرحمن بن زید بن اسلم حدیث میں ضعیف ہیں۔ امام احمد بن حنبل اور علی بن مدینی وغیرہ نے انہیں ضعیف کہا ہے۔ اور ہم اس حدیث کو صرف انہی کی روایت سے مرفوع جانتے ہیں۔

 

نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم مکہ میں بلندی کی طرف سے باہر نکلے

ابوموسی، محمد بن مثنی، سفیان بن عیینہ، ہشام بن عروہ، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے جب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم مکہ گئے تو بلندی کی طرف سے داخل ہوئے اور پستی کی طرف سے باہر نکلے۔ اس باب میں ابن عمر رضی اللہ عنہما سے بھی روایت ہے۔ امام ترمذی فرماتے ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث حسن صحیح ہے۔

آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم مکہ میں دن کے وقت داخل ہوئے

یوسف بن عیسی، وکیع، نافع، حضرت ابن عمر سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم مکہ میں دن کے وقت داخل ہوئے۔ امام ابو عیسیٰ ترمذی فرماتے ہیں کہ یہ حدیث حسن ہے۔

بیت اللہ کے دیکھنے کے وقت ہاتھ اٹھانا مکروہ ہے

یوسف بن عیسی، وکیع، شعبہ، ابی قزعہ، جابر بن عبد اللہ، مہاجر مکی سے روایت ہے کہ جابر بن عبداللہ سے پوچھا گیا کیا بیت اللہ دیکھ کر آدمی ہاتھ اٹھائے ؟ آپ نے فرمایا ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے ساتھ حج کیا تو کیا کہیں ہم ہاتھ اٹھاتے تھے (یعنی ہاتھ نہیں اٹھاتے تھے) امام ابو عیسیٰ ترمذی فرماتے ہیں کہ بیت اللہ کو دیکھنے پر ہاتھ اٹھانے کی کراہت کے متعلق ہم صرف شعبہ کی ابو قزعہ سے روایت سے جانتے ہیں۔ ابو قزعہ کا نام سوید بن حجر ہے۔

٭٭ محمود بن غیلان، یحیی بن آدم، سفیان، جعفر بن محمد، حضرت جابر سے روایت ہے کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم مکہ تشریف لائے تو مسجد حرام میں داخل ہوئے اور حجر اسود کو بوسہ دیا،۔ پھر داہنی طرف چل دیئے (یعنی طواف شروع کیا) تین چکر بازوؤں کو تیز تیز ہلاتے ہوئے پورے کئے اور چار چکروں میں (اپنی عادت کے مطابق) چلے پھر مقام ابراہیم کے پاس آئے اور آیت کریمہ (وَاتَّخِذُوْا مِنْ مَّقَامِ  اِبْرٰہٖمَ مُصَلًّی) 2۔ البقرۃ:125) مقام ابراہیم کو نماز کی جگہ بناؤ پڑھ کر دو رکعتیں پڑھیں اس وقت مقام ابراہیم آپ اور بیت اللہ کے درمیان تھا۔ پھر حجر اسود کی طرف آئے اور اسے بوسہ دیا۔ پھر صفا کی طرف چلے گئے ، راوی کہتے ہیں میرا خیال ہے کہ آپ نے یہ آیت پڑھی (اِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَاۗیِٕرِاللّٰہِ) 2۔ البقرۃ:158) یعنی صفا اور مروہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں اس باب میں حضرت ابن عمر سے بھی روایت ہے۔ امام عیسیٰ ترمذی فرماتے ہیں کہ حدیث جابر حسن صحیح ہے۔ اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔

حجر اسود سے رمل شروع کرنے اور اسی پر ختم کرنا

علی بن خشرم، عبداللہ بن وہب، مالک بن انس، جعفر بن محمد، حضرت جابر سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے مونڈھے ہلاتے ہوئے تیز تیز قدم چل کر حجر اسود سے حجر اسود تک تین چکر لگائے اور پھر چار چکر اپنی عادت کے مطابق چل کر پورے کئے۔ اس باب میں حضرت ابن عمر سے بھی روایت ہے امام ابو عیسیٰ ترمذی فرماتے ہیں کہ حدیث جابر رضی اللہ تعالی عنہ حسن صحیح ہے۔ اہل علم کا اسی پر عمل ہے ، امام شافعی فرماتے ہیں کہ اگر بھول کر رمل (تیزی سے چلنا) چھوڑ دے تو اس نے غلطی کی لیکن اس پر کوئی بدلہ نہیں اور اگر پہلے تین چکروں میں رمل نہیں کیا تو باقی چکروں میں بھی رمل نہ کرے۔ بعض اہل علم کہتے ہیں کہ اہل مکہ پر رمل واجب نہیں اور نہ ہی اس پر رمل واجب ہے جس نے مکہ سے احرام باندھا ہو۔

حجر اسود اور رکن یمانی کے علاوہ کسی چیز کو بوسہ نہ دے

محمود بن غیلان، عبدالرزاق، سفیان، معمر، ابن خیثم، حضرت ابو طفیل سے روایت ہے کہ ہم ابن عباس اور معاویہ کے ساتھ طواف کر رہے تھے ، معاویہ جس رکن سے گزرتے اسے چوم لیتے تھے ، اس پر ابن عباس نے فرمایا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم حجر اسود اور رکن یمانی کے علاوہ کسی چیز کو بوسہ نہیں دیتے تھے۔ حضرت معاویہ نے فرمایا بیت اللہ میں کوئی چیز بھی نہیں چھوڑنی چاہیے اس باب میں حضرت عمر سے بھی روایت ہے امام ابو عیسیٰ ترمذی فرماتے ہیں حدیث ابن عباس حسن صحیح ہے۔ اکثر اہل علم کا اسی پر علم ہے کہ حجر اسود اور رکن یمانی کے علاوہ کسی چیز کو بوسہ نہ دے

نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اضطباع کی حالت میں طواف کیا

محمود بن غیلان، قبیصہ، سفیان، ابن جریج، عبدالحمید، ابن ابی یعلی اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اضطباع کی حالت میں طواف کیا اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے بدن پر ایک چادر تھی۔ امام ابو عیسیٰ ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث ثوری ابن جریج سے مروی ہے ہم اسے ان کی روایت کے علاوہ نہیں جانتے۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے عبد الحمید، بن جبیر بن شیبہ ہیں ، اور ابن یعلی، یعلی بن امیہ ہیں۔

حجر اسود کو بوسہ دینا

ہناد، ابو معاویہ، اعمش، ابراہیم، عابس بن ربیعہ سے روایت ہے کہ میں نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو حجر اسود کو بوسہ دیتے ہوئے دیکھا اور وہ فرماتے تھے میں تجھے بوسہ دیتا ہوں اور میں جانتا ہوں کہ تو ایک پتھر ہے اگر میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو تجھے بوسہ دیتے ہوئے نہ دیکھا ہوتا میں کبھی تجھے بوسہ نہ دیتا۔ امام ابو عیسیٰ ترمذی فرماتے ہیں کہ حدیث عمر حسن صحیح ہے اور اس پر اہل علم کا عمل ہے کہ حجر اسود کا بوسہ لینا مستحب ہے ، اگر اس تک پہنچنا ممکن نہ ہو تو ہاتھ سے چھو کر ہاتھ کو چوم لے اور اگر ایسا بھی ممکن نہ ہو تو اس کے سامنے ہو کر تکبیر کہے ، امام شافعی کا یہی قول ہے۔

سعی صفا سے شروع کرنا چاہیے

ابن ابی عمر، سفیان بن عیینہ، جعفر بن محمد، حضرت جابر سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم جب مکہ تشریف لائے تو آپ نے بیت اللہ کا طواف کیا۔ پھر مقام ابراہیم پر آئے اور یہ آیت پڑھی “وَاتَّخِذُوا مِنْ مَقَامِ إِبْرَاہِیمَ مُصَلًّی” (اور مقام ابراہیم کو نماز کی جگہ بناؤ) پھر مقام ابراہیم کے پیچھے نماز پڑھنے کے بعد حجر اسود کی طرف آئے اور اسے بوسہ دیا پھر فرمایا ہم بھی اسی طرح شروع کرتے ہیں جس طرح اللہ نے شروع کیا اور صفا کی سعی شروع کرتے ہوئے یہ آیت پڑھی (إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّہِ) 2۔ البقرۃ:158) یعنی صفا اور مروہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں۔ امام ترمذی فرماتے ہیں کہ یہ حدیث حسن صحیح ہے اہل علم کا اسی پر عمل ہے کہ سعی میں صفا سے شروع کرے لہذا اگر مروہ سے شروع کرے گا تو وہ سعی نہیں ہو گی۔ علماء کا اس شخص کے بارے میں اختلاف ہے جو طواف کعبہ کر کے بغیر سعی کئے واپس آ جائے بعض اہل علم کہتے ہیں کہ اگر طواف کعبہ کیا اور سعی صفا و مروہ کئے بغیر مکہ سے نکل گیا تو اگر وہ قریب ہی ہو تو واپس آ جائے اور سعی کرے۔ اگر اپنے وطن پہنچنے تک یاد نہ آئے تو دم کے طور پر قربانی کرے۔ سفیان ثوری کا یہی قول ہے بعض علماء حج نہیں ہوا۔ امام شافعی فرماتے ہیں کہ صفا مر وہ کے درمیان سعی واجب ہے اس کے بغیر حج نہیں ہوتا

صفا اور مروہ کے درمیان سعی کرنا

قتیبہ، ابن عیینہ، عمرو بن دینار، طاؤس، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے بیت اللہ کا طواف اور صفا ومروہ کی سعی اس لئے کی تاکہ مشرکین کو اپنی قوت دکھائیں اس باب میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا ابن عمر رضی اللہ عنہما جابر سے بھی روایت ہے۔ امام ابو عیسیٰ ترمذی فرماتے ہیں حدیث ابن عباس رضی اللہ عنہ حسن صحیح ہے ، اہل علم کے نزدیک صفا اور مروہ کے درمیان دوڑ کر چلنا مستحب ہے لیکن آہستہ چلنا بھی جائز ہے۔

٭٭ یوسف بن عیسی، ابن فضیل، عطاء بن سائب، حضرت کثیر بن جمہان سے روایت ہے کہ میں نے ابن عمر کو صفا و مروہ کی سعی کے دوران آہستہ چلتے ہوئے دیکھا تو پوچھا؟ کیا آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم صفا و مروہ کے درمیان آہستہ چلتے ہیں ؟ فرمایا کہ اگر میں دوڑ کر چلوں تو میں نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو دوڑتے ہوئے دیکھا ہے اور اگر آہستہ چلوں چلتے ہوئے بھی دیکھا ہے اور میں بہت بوڑھا ہوں۔ امام ابو عیسیٰ ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ سعید بن جبیر نے بھی عبداللہ بن عمر سے ایسے ہی روایت کی ہے۔

 

سواری پر طواف کرنا

بشر بن ہلال، عبدالوارث، عبدالوہاب، خالد، عکرمہ، حضرت ابن عباس سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اپنی اونٹنی پر سوار ہو کر طواف کیا پس جب آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم حجر اسود کے سامنے پہنچے تو اس کی طرف اشارہ کر دیتے تھے۔ اس باب میں حضرت جابر ابو طفیل اور ام سلمہ سے بھی روایت ہے ، امام بو عیسیٰ ترمذی فرماتے ہیں حدیث ابن عباس حسن صحیح ہے بعض اہل علم صفا و مروہ کی سعی اور بیت اللہ کا طواف بغیر عذر کے سواری پر کرنا مکروہ سمجھتی ہیں امام شافعی کا بھی یہی قول ہے۔

طواف کی فضیلت کے بارے میں

سفیان بن وکیع، یحیی بن یمان، شریک، ابو اسحاق، عبداللہ بن سعید بن جبیر حضرت ابن عباس سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا جس نے پچاس مرتبہ بیت اللہ کا طواف کیا وہ گناہوں سے اس طرح پاک ہو گیا جیسے کہ اس کی ماں نے ابھی جنا ہے اس باب میں حضرت انس اور ابن عمر سے بھی روایت ہے امام ابو عیسیٰ ترمذی فرماتے ہیں حدیث ابن عباس غریب ہے میں نے امام بخاری سے اس حدیث کے متعلق سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کہ یہ ابن عباس سے موقوفاً مروی ہے۔

٭٭ ابن ابی عمر، سفیان بن عیینہ، ایوب، عبداللہ بن سعید بن جبیر، حضرت ایوب کہتے ہیں کہ محدثین عبداللہ سعید بن جبیر کو ان کے والد سے افضل سمجھتے تھے ان کا ایک بھائی عبدا لملک بن سعید بن جبیر بھی ہے ان سے بھی یہ حدیث مروی ہے

عصر اور فجر کے بعد طواف کے دو (نفل) پڑھنا

ابوعمار، علی بن خشرم، سفیان بن عیینہ، ابی زبیر، عبداللہ بن باباہ، حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ارشاد فرمایا اے بنو عبد مناف ! جو شخص اس گھر کا طواف کرے اور دن یا رات کے کسی حصے میں بھی نماز پڑھے تو اسے منع نہ کرو، اس میں حضرت ابن عباس اور ابو ذر سے بھی روایت ہے امام عیسیٰ ترمذی فرماتے ہیں حدیث جبیر بن مطعم حسن صحیح ہے عبداللہ بن ابی نجیح نے اسی عبداللہ بن باباہ بھی روایت کیا ہے اہل علم کا عصر اور فجر کے بعد مکہ مکرمہ میں نماز پڑھنے کے بارے میں اختلاف ہے بعض کے نزدیک عصر اور فجر کے بعد طواف کرنے یہی قول ہے بعض علماء کہتے ہیں کہ اگر عصر کے بعد طواف کرے تو غروب آفتاب تک نماز نہ پڑھے ان کی دلیل حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی حدیث ہے کہ انہوں نے فجر کے بعد طواف کیا اور نماز پڑھے بغیر مکہ مکرمہ سے باہر تشریف لے گئے۔ یہاں تک کہ مقام ذی طوی میں پہنچے اور طلوع آفتاب کے بعد طواف کے نوافل ادا کئے سفیان ثوری اور مالک بن انس رضی اللہ عنہ کا یہی قول ہے

طواف کی دو رکعتوں میں کیا پڑھا جائے

ابومصعب، عبدالعزیز بن عمران، جعفر بن محمد، جابر بن عبد اللہ، حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے طواف کی نماز کی ایک رکعت میں قُلْ یَا أَیُّہَا الْکَافِرُونَ اور دوسری رکعت میں قُلْ ہُوَ اللَّہُ أَحَدٌ پڑھی

٭٭ ہناد وکیع سے وہ سفیان سے وہ جعفر بن محمد سے اور وہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ وہ طواف کی دو رکعتوں میں قُلْ یَا أَیُّہَا الْکَافِرُونَ اور قُلْ ہُوَ اللَّہُ أَحَدٌ پڑھنا پسند کرتے تھے امام ابو عیسیٰ ترمذی فرماتے ہیں کہ یہ حدیث عبد العزیز بن عمران کی حدیث سے اصح ہے اور جعفر بن محمد کی اپنے والد سے مروی حدیث حضرت جابر سے مرفوعاً روایت ہے عبدالعزیز بن عمران حدیث میں ضعیف ہیں۔

ننگے ہو کر طواف کرنا حرام ہے

علی بن خشرم، سفیان بن عیینہ، ابی اسحاق، حضرت زید بن اشیع فرماتے ہیں کہ میں نے علی سے پوچھا کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی طرف سے کن چیزوں کا حکم دے کر بھیجے گئے تھے۔ انہوں نے فرمایا چار چیزوں کا ایک یہ کہ جنت میں صرف مسلمان وہی داخل ہو گا۔ دوسرا بیت اللہ شریف کا طواف برہنہ نہ کیا جائے تیسرا اس سال کے بعد مسلمان اور مشرک حج میں اکٹھے نہیں ہوں گے اور چوتھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا جس سے معاہدہ ہے وہ اپنی مقررہ مدت تک رہے گا اور اگر کوئی مدت مقررہ نہ ہو تو اس کو پہلے چار ماہ کی مہلت ہے اس باب میں حضرت ابو ہریرہ سے بھی روایت ہے امام ترمذی فرماتے ہیں کہ حدیث علی حسن ہے

٭٭ ابن ابی عمر، نصر بن علی، سفیان، ابو اسحاق سے اسی حدیث کی مثل روایت کی اور زید بن اثبع کی جگہ زید بن یثبع کیا اور یہ زیادہ صحیح ہے امام عیسیٰ ترمذی فرماتے ہیں کہ شعبہ سے اس میں خطا ہوئی اور انہوں نے زید بن اثیل کہا۔

خانہ کعبہ میں داخل ہونا

ابن ابی عمر، وکیع، اسماعیل بن عبدالملک، ابن ابی ملیکہ، حضرت عائشہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم میرے پاس سے نکلے تو آنکھیں ٹھنڈی اور مزاج خوش تھا لیکن جب واپس تشریف لائے تو غمگین تھے میں نے پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا میں کعبہ میں داخل ہوا کاش کہ میں کعبہ میں داخل نہ ہوا ہوتا مجھے ڈر ہے کہ میں نے اپنے بعد اپنی امت کو تکلیف میں ڈال دیا امام ابو عیسیٰ فرماتے ہیں کہ یہ حدیث صحیح ہے۔

 

کعبہ میں نماز پڑھنا

قتیبہ، حماد بن زید، عمرو بن دینار، ابن عمر، حضرت بلال سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے وسطہ کعبہ میں نماز پڑھی حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے نماز نہیں پڑھی بلکہ صرف تکبیر کہی اس باب میں حضرت اسامہ بن زید فضل بن عباسی عثمان بن طلحہ اور شیبہ بن عثمان سے بھی روایت ہے امام ابو عیسیٰ ترمذی فرماتے ہیں کہ حضرت بلال کی حدیث حسن صحیح ہے۔ اکثر اہل علم کا اسی پر عمل ہے کہ خانہ کعبہ میں نماز پڑھنے میں کوئی حرج نہیں امام مالک بن انس فرماتے ہیں کہ خانہ کعبہ میں نوافل پڑھنے میں بھی کوئی حرج نہیں البتہ فرض نماز پڑھنا مکروہ ہے ، امام شافعی فرماتے ہیں کہ نفل نماز ہو یا فرض نماز دونوں کے پڑھنے میں کوئی حرج نہیں اس لئے کہ طہارت اور قبلہ کا حکم فرض اور نفل دونوں کے لئے ایک جیسا ہے۔

خانہ کعبہ کو توڑ کر بنا نا

محمود بن غیلان، ابو داؤد، شعبہ، ابو اسحاق ، حضرت اسود بن یزید فرماتے ہیں کہ ابن زبیر نے ان سے کہا کہ مجھے وہ باتیں بتاؤ جو حضرت عائشہ تمہیں بتایا کرتی تھیں اسود نے کہا کہ وہ بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ان سے فرمایا اگر تمہاری قوم عہد جاہلیت کے قریب نہ ہوتی (یعنی جاہلیت چھوڑ کر نئے نئے مسلمان نہ ہوئے ہوتے) تو میں کعبہ کو توڑ کر اس میں دو دروازے بناتا پھر جب ابن زبیر مکہ کے حاکم مقرر ہوئے تو انہوں نے اسے توڑ کر دوبارہ بنایا اور اس کے دو دروازے کر دیے امام ابو عیسیٰ ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث حسن صحیح ہے۔

 

حطیم میں نماز پڑھنا

قتیبہ، عبدالعزیز، علقمہ بن ابی علقمہ، حضرت عائشہ سے روایت ہے کہ میں چاہتی تھی کہ کعبہ میں داخل ہو کر نماز پڑھوں پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے حطیم میں لے گئے پھر فرمایا حطیم میں نماز پڑھو، اگر تم بیت اللہ میں داخل ہونا چاہتی ہو تو یہ بھی اس کا ایک حصہ ہے لیکن تمہاری قوم نے کعبہ کی تعمیر کے وقت تعظیم کی اسے چھوڑ دیا اور اسے کعبہ سے نکال دیا، امام ترمذی مراد علقہ بن بلال ہیں۔

حجر اسود رکن یمانی اور مقام ابراہیم کی فضیلت

قتیبہ، جریر، عطاء بن سائب، سعید بن جبیر، حضرت ابن عباس سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا حجر اسود جب جنت سے اتارا گیا تو دودھ سے بھی زیادہ سفید تھا لیکن نبی آدم کے گناہوں نے اسی سیاہ کر دیا، اس باب میں عبداللہ بن عمرو اور ابو ہریرہ سے بھی روایت ہے امام ابو عیسیٰ ترمذی فرماتے ہیں کہ ابن عباس کی حدیث حسن صحیح ہے۔

٭٭ قتیبہ، یزید بن زریع، رجاء، مسائع حاجب نے عبداللہ بن عمرو کو روایت کرتے ہوئے سنا۔ وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا کن یمانی اور مقام ابراہیم جنت کے یاقوتوں میں سے دو یاقوت ہیں۔ اللہ تعالی نے ان کے نور کی روشنی بجھا دی اور اگر اللہ تعالی اسے نہ بجھاتا تو ان کی روشنی مشرق سے مغرب تک سب کچھ روشن کر دیتی، امام ابو عیسیٰ ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث عبداللہ بن عمرو کا اپنا قول (حدیث موقوف) مروی ہے۔ اور وہ غریب روایت ہے۔

 

منیٰ کی طرف جانا اور قیام کرنا

ابوسعید، عبداللہ بن اجلح، اسماعیل بن مسلم، عطاء، حضرت ابن عباس سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے منی میں ظہر۔ عصر۔ مغرب۔ عشاء اور فجر کی نمازیں پڑھائیں اور پھر صبح عرفات کی طرف تشریف لے گئے ، امام ابو عیسیٰ ترمذی فرماتے ہیں کہ اسماعیل بن مسلم کے بارے میں کلام کیا گیا ہے۔

٭٭ ابوسعید، عبداللہ بن اجلح، اعمش، حکم، مقسم، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے منی میں ظہر اور فجر کی نماز پڑھائی اور پھر عرفات کی طرف تشریف لے گئے اس باب میں حضرت عبداللہ بن زبیر سے بھی روایت ہے کہ امام ابو عیسیٰ ترمذی فرماتے ہیں کہ علی بن مد ینی یحیی کے حوالے سے اور وہ شعبہ حدیثیں سنی ہیں شعبہ نے ان حدیثوں کو شمار کرتے ہوئے اس حدیث کا ذکر نہیں کیا۔

منیٰ میں پہلے والا قیام کا زیادہ حقدار ہے

یوسف بن عیسی، محمد بن ابان، وکیع، اسرائیل، ابراہیم بن مہاجر، یوسف بن ماہک، حضرت عائشہ سے روایت ہے وہ کہ ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کیا ہم منی میں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے لئے ایک سایہ دار جگہ نہ بنا دیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا نہیں منی ان لوگوں کی جگہ ہے جو پہلے وہاں پہنچ جائیں ، امام ابو عیسیٰ ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث حسن ہے۔

 

منیٰ میں قصر نماز پڑھنا

قتیبہ، ابو احوص، ابو اسحاق، حضرت حارثہ بن وہب سے روایت ہے کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور بہت سے لوگوں کے ساتھ منی میں بے خوف و خطر دو رکعتیں قصر نماز پڑھی، اس باب میں حضرت ابن مسعود ابن عمر اور انس سے بھی روایت ہے امام ابو عیسیٰ ترمذی فرماتے ہیں کہ حارثہ بن وہب کی حدیث حسن صحیح ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ابو بکر، عمر اور عثمان کی خلافت کے ابتدائی دور میں ان حضرات کے ساتھ منی میں دو رکعتیں ہی پڑھیں (یعنی قصر نماز) اہل مکہ کے معنی میں قصر کرنے کے بارے میں اہل علم کا اختلاف ہے بعض علماء کہتے ہیں کہ منی میں صرف مسافر ہی قصر نماز پڑھ سکتا ہے اہل مکہ نہیں ابن جریج۔ سفیان، ثوری یحیی بن سعید قطان۔ شافعی، احمد اور اسحاق کا یہی قول ہے بعض اہل علم کہتے ہیں کہ اگر اہل مکہ منی میں قصر نماز پڑھیں تو اس میں کوئی حرج نہیں اوزاعی مالک سفیان بن عیینہ اور عبدالرحمن بن مہدی کا یہی قول ہے۔

عرفات میں ٹھہر نا اور دعا کرنا

قتیبہ، سفیان، عمرو بن دینار، عمرو بن عبداللہ بن صفوان، حضرت یزید بن شیبان سے روایت ہے کہ ہمارے پاس ابن مربع انصاری تشریف لائے انہوں نے فرمایا میں تمہاری طرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا قاصد ہوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم فرماتے ہیں کہ تم لوگ اپنی اپنی عبادت کی جگہ بیٹھے رہو کیونکہ تم لوگ ابراہیم علیہ السلام کے ترکہ میں سے ایک ترکہ پر ہو اس باب میں حضرت علی، عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا، جبیر بن مطعم رضی اللہ تعالی عنہ اور شرید بن سوید ثقفی سے بھی روایت ہے امام ابو عیسیٰ ترمذی فرماتے ہیں کہ ابن مربع کی حدیث حسن صحیح ہے اہم اسے صرف ابن عیینہ کی روایت سے جانتے ہیں وہ عمرو بن دینار سے روایت کرتے ہیں ابن مربع کا نام یزید بن مربع انصاری ہے ان سے بھی ایک حدیث مروی ہے۔

٭٭ محمد بن عبدالاعلی، محمد بن عبدالرحمن، ہشام بن عروہ، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا سے روایت ہے کہ قریش اور ان کے متبعین جنہیں حمس کہا جاتا ہے مزدلفہ میں ٹھہر جاتے (عرفات نہ جاتے) اور کہتے ہم بیت اللہ کے خادم اور مکہ کے رہنے والے ہیں جب کہ وہ سرے تمام لوگ عرفات میں جا کر ٹھہرتے اس پر اللہ تعالی نے یہ آیت نازل فرمائی (ثُمَّ اَفِیْضُوْا مِنْ حَیْثُ اَفَاضَ النَّاسُ) 2۔ البقرۃ:199) (پھر کہاں سے دوسرے لوگ واپس ہوتے ہیں تم بھی وہیں سے واپس ہو) امام ابو عیسیٰ ترمذی کہتے ہیں کہ یہ حدیث حسن صحیح ہے ، اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ اہل مکہ حرم سے باہر نہیں جاتے تھے جب کہ عرفات حرم سے باہر ہے وہ لوگ مزدلفہ میں ہی ٹھہر جاتے اور کہتے کہ ہم تو اللہ کے گھر کے قریب رہنے والے ہیں لیکن دوسرے لوگ عرفات میں جا کر ٹھہرتے اس پر اللہ تعالی نے یہ آیت نازل کی (پھر وہاں سے واپس لوٹو جہاں سے دوسرے لوگ لوٹتے ہیں) حمس سے مراد اہل حرم ہیں۔

تمام عرفات ٹھہر نے کی جگہ ہے

محمد بن بشار، ابو احمد، سفیان، عبدالرحمن بن حارث بن عیاش، ابی ربیعہ، زید بن علی، عبداللہ بن ابی رافع، حضرت علی سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم عرفات میں ٹھہرے اور فرمایا یہ عرفات ٹھہرنے کی جگہ ہے پھر غروب آفتاب کے وقت آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم واپس ہوئے اور اسامہ بن زید کو ساتھ بٹھا لیا اور اپنی عادت کے مطابق سکون و اطمینان کے ساتھ ہاتھ سے اشارے کرنے لگے لوگ دائیں بائیں اپنے اونٹوں کو چلانے کے لئے مار رہے تھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے لوگوں کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا اے لوگو اطمینان سے چلو پھر آپ مزدلفہ پہنچے اور مغرب و عشاء دو نمازیں اکٹھی پڑھیں صبح کے وقت قزح کے مقام پر آئے اور وہاں ٹھہرے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا یہ قزح ہے اور یہ ٹھہرنے کی جگہ ہے بلکہ مزدلفہ سارے کا سارا ٹھہرنے کی جگہ ہے پھر وہاں سے چل کر وادی محسر میں پہنچے تو اونٹنی کو ایک کوڑا مارا جس سے وہ دوڑنے لگی یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اس وادی سے نکل گئے پھر رکے اور فضل بن عباس کو اپنے ساتھ بٹھا کر جمرہ کے پاس آئے اور کنکریاں ماریں اس کے بعد قربانی کی جگہ پہنچے اور فرمایا یہ قربانی کی جگہ ہے اور منی پورے کا پورا قربان گاہ ہے۔ یہاں قبیلہ خثعم کی ایک لڑکی نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم پوچھا اس نے عرض کیا میرے والد بہت بوڑھے ہیں اور ان پر حج فرض ہے کیا میں انکی طرف سے حج کر سکتی ہوں ؟ فرمایا ہاں اپنے والد کی طرف سے حج کر لو پھر راوی کہتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فضل بن عباس کی گردن دوسری طرف موڑ دی اس پر حضرت عباس نے عرض کی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اپنے چچا زاد کی گردن کیوں پھیر دی۔ نے فرمایا میں نے نوجوان مرد اور نوجوان عورت کو دیکھا تو میں ان پر شیطان سے بے خوف نہیں ہوا، پھر ایک شخص حاضر ہوا اور عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم میں نے سر منڈانے سے پہلے کعبة اللہ کا طواف کر لیا ہے فرمایا کوئی حرج نہیں سر منڈ والے یا فرمایا بال کٹوا لے ، روای کہتے ہیں کہ پھر ایک شخص آیا اور عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم میں نے کنکریاں مارنے سے پہلے قربانی کر لی فرمایا کوئی حرج نہیں اب کنکریاں مار لو پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم بیت اللہ کے پاس آئے اس کا طواف کیا اور پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم زمزم پر تشریف لائے اور فرمایا اے عبد المطلب کی اولاد اگر مجھے یہ ڈر نہ ہوتا کہ لوگ تم پر غالب آ جائیں گے تو میں بھی زمزم کا پانی کھینچتا (نکالتا) یعنی میرے اس طرح نکالنے پر لوگ میری سنت کی اتباع میں تمہیں پانی نکالنے کی مہلت نہ دیں گے اس باب میں حضرت جابر سے بھی روایت ہے امام ابو عیسیٰ ترمذی فرماتے ہیں کہ حدیث علی حسن صحیح ہے ہم اسے حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کی حدیث سے صرف عبدالرحمن بن حارث بن عیاش کی روایت سے جانتے ہیں کئی راوی ثوری سے اسی کے مثل روایت ہیں اسی پر اہل علم کا عمل ہے کہ عرفات میں ظہر اور عصر کی نماز ظہر کے وقت میں جمع کی جائیں ، بعض اہل علم فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص اپنے خیمہ میں اکیلا نماز پڑھے اور امام کی جماعت میں شریک نہ ہو تو وہ بھی امام ہی کی طرح دونوں نمازیں جمع کر کے پڑھ سکتا ہے زید بن علی وہ زید بن علی بن حسین بن علی بن ابی طالب ہیں۔

عرفات سے واپسی

محمود بن غیلان، وکیع، بشر ابن سری، ابو نعیم، سفیان بن عیینہ، ابی زبیر، حضرت جابر سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم وادی محسر میں تیزی سے چلے ، بشر نے اس میں یہ اضافہ کیا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم جب مزدلفہ سے لوٹے تو اطمینان کے ساتھ اور صحابہ کا آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اسی کا حکم دیا، ابو نعیم نے یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے صحابہ کو ایسی کنکریاں مارنے کا حکم دیا جو دو انگلیوں میں پکڑی جا سکیں یعنی کھجور کی گٹھلی کے برابر پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا شاید میں اس سال کے بعد تم لوگوں کو نہ دیکھ سکوں اس باب میں حضرت اسامہ بن زید سے بھی روایت ہے۔ امام ابو عیسیٰ ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث حسن صحیح ہے۔

 

مزدلفہ میں مغرب اور عشاء کو جمع کرنا

محمد بن بشار، سعید، سفیان ثوری، ابو اسحاق ، عبداللہ بن مالک سے روایت ہے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے مزدلفہ میں دو نمازیں ایک ہی تکبیر سے پڑھیں اور فرمایا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو اسی جگہ اسی طرح کرتے ہوئے دیکھا ہے۔

٭٭ محمد بن بشار، یحیی بن سعید، اسماعیل بن ابی خالد، ابو اسحاق، سعید بن جبیر نے حضرت ابن عمر سے اسی کی مثل حدیث مرفوعاً روایت کی۔ محمد بن بشار، یحیی بن سعید کے حوالے سے کہتے ہیں کہ سفیان کی حدیث صحیح ہے اس باب میں حضرت علی ابو ایوب۔ عبداللہ بن مسعود، جابر اور اسامہ بن زید سے بھی روایت ہے۔ امام ابو عیسیٰ ترمذی فرماتے ہیں کہ ابن عمر کی حدیث بروایت سفیان اسماعیل بن خالد کی روایت سے اصح ہے اور حدیث سفیان حسن صحیح ہے اسرائیل بھی یہ حدیث ابو اسحاق سے وہ عبداللہ اور خالد (مالک کے بیٹے ہیں) سے اور وہ ابن عمر سے روایت کرتے ہیں۔ سعید بن جبیر کی ابن عمر سے مروی حدیث بھی حسن صحیح ہے اس حدیث کو سلمہ بن کہیل۔ سعید بن جبیر سے روایت کرتے ہیں کہ جب کہ ابو اسحاق عبداللہ اور خالد سے اور وہ دونوں ابن عمر سے روایت کرتے ہیں اہل علم کا اسی پر عمل ہے کہ مغرب کی نماز مزدلفہ سے پہلے نہ پڑھی جائے پس جب حاجی مزدلفہ پہنچیں تو مغرب اور عشاء دونوں نمازوں کو ایک ہی وقت میں ایک ہی تکبیر کے ساتھ پڑھیں اور ان کے درمیان کوئی نفل نماز نہ پڑھیں ، بعض اہل علم نے یہی مسلک اختیار کیا ہے جن میں سفیان ثوری بھی ہیں وہ فرماتے ہیں کہ اگر چاہے تو مغرب پڑھ کر کھانا کھائے کپڑے اتار دے اور پھر تکبیر کے ساتھ عشاء کی نماز پڑھے بعض علماء کہتے ہیں کہ مغرب اور عشاء کی نمازیں مزدلفہ میں ایک اذان اور دو تکبیروں کے ساتھ پڑھی جائیں یعنی مغرب کیلئے اذان اور اقامت کہے اور نماز پڑھے پھر اقامت کہے کر عشاء کی نماز پڑھے امام شافعی کا یہی قول ہے

امام کو مزدلفہ میں پا نے والے نے حج کو پا لیا

محمد بن بشار، یحیی بن سعید، عبدالرحمن بن مہدی، سفیان، بکیر بن عطاء، عبد الرحمن بن یعمر سے روایت ہے کہ اہل نجد کے کچھ آدمی نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوئے آپ اس وقت عرفات میں تھے ان لوگوں نے آپ سے حج کے متعلق پوچھا آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے منادی کو حکم دیا کہ لوگوں میں یہ اعلان کرے کہ حج عرفات میں وقوف کا نام ہے اور جو شخص مزدلفہ کی رات طلوع فجر سے پہلے عرفات میں پہنچ جائے تو اس نے حج کو پالیا۔ منی کا قیام تین دن ہے لیکن اگر کوئی جلدی کرتے ہوئے دو دنوں کے بعد واپس آ گیا تو اس پر کوئی گناہ نہیں اور جو ٹھہرا رہا اس پر بھی کوئی گناہ نہیں محمد کہتے ہیں کہ یحیی کی روایت میں یہ الفاظ زائد ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ایک آدمی کو اپنی سواری پر بٹھایا اور اس نے اعلان کیا۔

٭٭ ابن ابی عمر، سفیان بن عیینہ، سفیان ثوری، بکیر بن عطاء، عبدالرحمن سے وہ سفیان ثوری سے وہ بکیر بن عطاء سے وہ عبدالرحمن بن یعمر وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے اسی کے ہم معنی روایت کرتے ہیں امام ابو عیسیٰ ترمذی فرماتے ہیں ابن ابی عمر سفیان بن عیینہ کا قول نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا کہ سفیان ثوری کی روایت میں سے یہ روایت سب سے بہتر ہے ، امام ابو عیسیٰ ترمذی فرماتے ہیں کہ علماء صحابہ وغیرہ عبدالرحمن بن یعمر کی حدیث پر عمل کرتے ہیں کہ جو شخص طلوع فجر سے پہلے عرفات نہ پہنچا اس کا حج نہیں ہوا پس طلوع فجر کے بعد پہنچنے والے شخص کا حج فوت ہو گیا وہ اس مرتبہ عمرہ کرے اور آئندہ سال کا حج اس پر واجب ہے سفیان ثوری شافعی، احمد اور اسحاق کا یہی قول ہے شعبہ نے بھی بکیر بن عطاء سے ثوری کی حدیث کی مثل روایت کی ہے امام ابو عیسیٰ ترمذی فرماتے ہیں کہ میں نے جارود سے سنا وہ وکیع سے نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے یہ حدیث روایت کی اور کہا کہ یہ حدیث ام المناسک (یعنی مسائل حج کی اصل) ہے

٭٭ ابن ابی عمر، سفیان، داؤد، ابن ابی ہند، اسماعیل بن ابی خالد، زکریا، حضرت عروہ بن مضرس بن اوس بن حارثہ بن ام طائی سے روایت ہے کہ میں مزدلفہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوا آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نماز کے لئے نکل رہے تھے میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم میں طے کے دو پہاڑوں سے آیا ہوں میں نے اپنی اونٹنی کو بھی خوب تھکایا اور خود بھی بہت تھک گیا ہوں قسم ہے پروردگار کی میں نے کوئی پہاڑ نہیں چھوڑا جس پر نہ ٹھہرا ہوں کیا میرا حج ہو گیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا جس نے ہماری اس وقت کی نماز میں شرکت کی اور واپس جانے تک ہمارے پاس ٹھہرا اس سے پہلے ایک رات، دن عرفات میں ٹھہرا تو اس کا حج پورا ہو گیا اور اس کی میل کچیل دور ہو گئی امام ابو عیسیٰ ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث حسن صحیح ہے

ضعیف لوگوں کو مزدلفہ سے جلدی روانہ کرنا

قتیبہ، حماد بن زید، ایوب، عکرمہ، حضرت ابن عباس سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے مجھے سامان وغیرہ کے ساتھ رات ہی کو مزدلفہ سے بھیج دیا تھا اس باب میں حضرت عائشہ ام حبیبہ، اسماء رضی اللہ تعالی عنہن اور فضل سے بھی روایت ہے امام ابو عیسیٰ ترمذی فرماتے ہیں کہ ابن عباس کی یہ حدیث صحیح ہے او کئی طرق سے انہی (ابن عباس) سے مروی ہے۔ شعبہ یہ حدیث مشاش سے وہ عطاء سے اور وہ ابن عباس سے اور انہوں نے فضل بن عباس سے روایت کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے کمزوروں کو رات ہی کے وقت مزدلفہ سے روانہ کر دیا تھا، اس حدیث میں مشاش سے غلطی ہوئی ہے اور انہوں نے اس میں فضل بن عباس کا واسطہ زیادہ کیا ہے کیونکہ ابن جریج وغیرہ یہ حدیث عطاء سے اور وہ ابن عباس سے روایت کرتے ہیں انہوں نے اس میں فضل بن عباس کا ذکر نہیں کیا۔

٭٭ ابوکریب، وکیع، مسعودی، حکم، مقسم، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے گھر کے ضعفاء کو مزدلفہ پہلے روانہ کر دیا اور فرمایا طلوع آفتاب سے پہلے کنکریاں نہ مارنا، امام ابو عیسیٰ ترمذی فرماتے ہیں کہ حدیث ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما حسن صحیح ہے اہل علم کا اسی حدیث پر عمل ہے کہ کمزوروں کو مزدلفہ سے جلد منی بھیج دینے میں کوئی حرج نہیں ، اکثر اہل علم یہی کہتے ہیں کہ سورج نکلنے سے پہلے کنکریاں نہ ماریں ، بعض اہل علم رات کے وقت ہی کنکریاں مارنے کی اجازت دیتے ہیں لیکن عمل نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی حدیث پر ہی ہے سفیان ثوری اور امام شافعی کا یہی قول ہے

٭٭ علی بن خشرم، عیسیٰ بن یونس، ابن جریج، ابو زبیر، حضرت جابر سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم قربانی کے دن چاشت کے وقت کنکریاں مرتے تھے لیکن دوسرے دنوں میں زوال شمس کے بعد کنکریاں مارتے تھے ، امام ابو عیسیٰ ترمذی فرماتے ہیں کہ یہ حدیث حسن صحیح ہے اکثر اہل علم کا اس پر عمل ہے کہ قربانی کے دن زوال آفتاب کے بعد ہی کنکریاں ماری جائیں۔

مزدلفہ طلوع آفتاب سے پہلے نکلنا

قتیبہ، ابو خالد، احمر، اعمش، حکم، مقسم، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم مزدلفہ سے سورج طلوع ہونے سے پہلے واپس ہوئے اس باب میں حضرت عمر سے بھی روایت ہے امام ابو عیسیٰ ترمذی فرماتے ہیں کہ یہ حدیث حسن صحیح ہے زمانہ جاہلیت کے لوگ طلوع آفتاب کا انتظار کرتے اور اس کے بعد مزدلفہ سے نکلتے تھے۔

٭٭ محمود بن غیلان، ابو داؤد، شعبہ، ابو اسحاق، عمرو بن میمون سے نقل کرتے ہیں کہ ہم مزدلفہ میں تھے کہ حضرت خطاب نے فرمایا مشرکین سورج نکلنے سے پہلے مزدلفہ سے واپس نہیں ہوتے تھے اور کہتے تھے کہ ثبیر پہاڑ پر دھوپ پہنچ جائے تو تب نکلو لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ان کی مخالفت فرمائی پس حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ طلوع آفتاب سے پہلے وہاں سے چل پڑے۔ امام ابو عیسیٰ ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث صحیح ہے۔

چھوٹی چھوٹی کنکریاں مارنا

محمد بن بشار، یحیی بن سعید، ابن جریج، ابو زبیر، حضرت جابر سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو دیکھا آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم حذف (جو کنکریاں دو انگلیوں سے پھینکی جائیں یعنی چھوٹی کنکریاں) کے برابر کنکریاں مارتے تھے اس باب میں سلیمان بن عمرو بن احوص رضی اللہ تعالی عنہ بواسطہ ان کی والدہ ام جندب ازدیہ ابن عباس۔ فضل بن عباس عبدالرحمن بن عثمان تیمی اور عبدالرحمن بن معاد سے بھی روایت ہے امام ابو عیسیٰ ترمذی فرماتے ہیں کہ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ علماء اسی کو اختیار کرتے ہیں کہ جو کنکریاں ماری جائیں وہ ایسی ہوں جن کو دو انگلیوں سے پھینکا جا سکے یعنی چھوٹی کنکریاں ہوں۔

زوال آفتاب کے بعد کنکریاں مارنا

احمد بن عبدہ، ضبی، زیاد بن عبد اللہ، حکم، مقسم، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم زوال آفتاب کے بعد کنکریاں مارتے تھے ، امام ابو عیسیٰ ترمذی فرماتے ہیں کہ یہ حدیث حسن ہے۔

سوار ہو کر کنکریاں مارنا

احمد بن منیع، یحیی بن زکریا، ابن ابی زائدہ، حجاج، حکم، مقسم، حضرت ابن عباس سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے قربانی کے دن (دس ذوالحجہ کو) سوار ہو کر جمرہ عقبہ پر کنکریاں ماریں۔ اس باب میں حضرت جابر قدانہ بن عبد اللہ۔ اور ام سلیمان بن عمرو بن احوص سے بھی روایت ہے امام ابو عیسیٰ ترمذی فرماتے ہیں کہ ابن عباس کی حدیث حسن ہے۔ بعض اہل علم کا اسی حدیث پر عمل ہے ، بعض اہل علم کہتے ہیں کہ کنکریاں پیدل چل کر مارنی چاہییں ہمارے نزدیک حدیث کا مطلب یہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے بعض اوقات سوار ہو کر کنکریاں ماریں تاکہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے فعل کی پیروی کی جائے اہل علم کا دونوں حدیثوں پر عمل ہے۔

٭٭ یوسف بن عیسی، ابن نمیر، عبید اللہ، نافع، حضرت ابن عمر فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم جمروں پر کنکریاں مارنے کے لئے پیدل جاتے اور پیدل ہی واپس تشریف لاتے امام ابو عیسیٰ ترمذی فرماتے ہیں کہ یہ حدیث حسن صحیح ہے ، بعض راوی اسے عبید اللہ سے روایت کرتے ہوئے مرجوع نہیں کرتے اکثر اہل علم کا اسی حدیث پر عمل ہے۔ بعض اہل علم کہتے ہیں کہ قربانی والے دن (دس ذوالحجہ) کو سوار ہو کر اور باقی دنوں میں پیدل چل کر کنکریاں مارے امام ابو عیسیٰ ترمذی فرماتے ہیں جس نے یہ کہا گویا کہ اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی سنت کی پیروی کا خیال کیا کیونکہ نبی اکرم سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے قربانی کے دن (دس ذوالحجہ کو) جمرہ عقبہ پر سواری پر سوار ہو کر کنکریاں ماری تھیں اور اس دن صرف جمرہ عقبہ پر ہی کنکریاں ماری جاتی ہیں

باب کنکریاں کیسے ماری جائیں

یوسف بن عیسی، وکیع، جامع بن شداد، عبدالرحمن ابن یزید فرماتے ہیں کہ جب عبداللہ جمرہ عقبہ پر میدان کے درمیان میں پہنچے تو قبلہ رخ ہوئے اور اپنی داہنی جانب جمرے پر کنکریاں مارنے لگے پھر انہوں نے سات کنکریاں ماریں اور ہر کنکری کے ساتھ تکبیر پڑھتے رہے پھر فرمایا اللہ کی قسم جس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اس جگہ سے انہوں نے کنکریاں ماری تھیں جن پر سورة بقرہ نازل ہوئی تھی (یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم)

٭٭ ہناد، وکیع، مسعودی اسی سند سے اسی کے مثل روایت کرتے ہیں اس باب میں فضل بن عباس ابن عباس ابن عمر اور جابر سے بھی روایت ہے حسن صحیح ہے۔ امام ابو عیسیٰ ترمذی فرماتے ہیں کہ ابن مسعود کی حدیث حسن صحیح ہے اہل علم کا اس پر عمل ہے وہ پسند کرتے ہیں کہ کنکریاں مارنے والا میدان کے درمیان سے سات کنکریاں مارے اور ہر کنکری پر تکبیر کہے ، بعض اہل علم نے اجازت دی ہے کہ اگر وسطہ وادی سے کنکریاں مارنا ممکن نہ ہو تو جہاں سے کنکریاں مار سکے وہاں سے ہی مارے۔

٭٭ نصر بن علی، علی بن خشرم، عیسیٰ بن یونس، عبید اللہ بن ابی زیاد، قاسم بن محمد، حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا جمروں پر کنکریاں مارنا اور صفا و مروہ کے درمیان دوڑنا اللہ تعالی کی یاد کرنے کے لئے مقرر ہوا ہے ، امام ابو عیسیٰ ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث حسن صحیح ہے۔

رمی کے وقت لوگوں کو دھکیلنے کی کراہت

احمد بن منیع، مروان بن معاویہ، ایمن بن نابل، حضرت قد امہ بن عبداللہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو اونٹنی پر بیٹھے کنکریاں مارتے دیکھا نہ تو وہاں مرنا تھا نہ ادھر ادھر کرنا اور نہ یہ کہ ایک طرف ہو جاؤ۔ اس باب میں حضرت عبداللہ بن خظلہ سے بھی روایت ہے ، امام ابو عیسیٰ ترمذی فرماتے ہیں کہ حدیث قدامہ بن عبداللہ حسن صحیح ہے یہ حدیث صرف اسی سند سے معروف ہے اور یہ حدیث حسن صحیح ہے ،۔ ایمن بن نابل محدثین کے نزدیک ثقہ ہیں۔

اونٹ اور گائے میں شراکت

قتیبہ، مالک بن انس، ابو زبیر، جابر سے روایت ہے کہ ہم نے صلح حدیبیہ کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے ہمراہ سات آدمیوں کی طرف سے گائے اور سات ہی کی طرف سے اونٹ کی قربانی دی اس باب میں ابن عمر ابو ہریرہ عائشہ اور ابن عباس سے بھی روایت ہے۔ امام ابو عیسیٰ ترمذی فرماتے ہیں کہ جابر کی حدیث حسن صحیح ہے ، علماء صحابہ و تابعین کا اسی پر عمل ہے کہ قربانی میں گائے یا اونٹ سات آدمیوں کی طرف سے کافی ہے سفیان ثوری شافعی اور احمد کا یہی قول ہے ، حضرت ابن عباس سے مرفوعاً مروی ہے کہ قربانی میں گائے سات اور اونٹ دس آدمیوں کے لئے کافی ہے اسحاق کا یہی قول ہے وہ اسی حدیث سے استدلال کرتے ہیں ابن عباس رضی اللہ عنہما کی حدیث کو ہم صرف ایک ہی سند سے جانتے ہیں

٭٭ حسین بن حریث، فضل بن موسی، حسین بن واقد، علباء بن احمر، عکرمہ، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم ایک سفر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے ساتھ تھے کہ عید الاضحی آ گئی تو ہم لوگ گائے میں سات اور اونٹ میں دس افراد شریک ہوئے امام ابو عیسیٰ ترمذی فرماتے ہیں کہ حسین بن واقد کی حدیث غریب ہے۔

قربانی کے اونٹ کا اشعار

ابوکریب، وکیع، ہشام، قتادہ، ابو حسان، اعرج، حضرت عباس فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے قربانیوں کی اونٹنیوں کے گلوں میں جوتیوں کا ہار ڈالا (یعنی تقلید کیا) اور ہدی کو داہنی جانب سے زخمی کیا ذوالحلیفہ میں اور اس کا خون صاف کر دیا اس باب میں مسور بن مخرمہ سے بھی روایت ہے۔ امام ابو عیسیٰ ترمذی فرماتے ہیں کہ ابن عباس کی حدیث حسن صحیح ہے۔ ابو حسان اعرج کا نام مسلم ہے ،۔ علماء صحابہ اور دیگر اہل علم اسی حدیث پر عمل کرتے ہیں ،۔ وہ اشعار کو سنت سمجھتے ہیں اما ثوری شافعی احمد اور اسحاق کا یہی قول ہے امام ترمذی کہتے ہیں میں نے یوسف بن عیسیٰ کو یہ حدیث وکیع کے حوالے سے روایت کرتے ہوئے سنا، انہوں نے فرمایا کہ اس مسئلے میں اہل رائے کا قول نہ دیکھو (اہل رائے سے مراد امام عبدالرحمن تیمی مدنی ہیں جو امام مالک کے استاد ہیں) اس لئے کہ نشان لگانا (یعنی اشعار) سنت ہے۔ اہل رائے کہتے ہیں کہ یہ بدعت ہے ، امام ترمذی فرماتے ہیں کہ میں نے ابو سائب سے سنا وہ کہتے ہیں ہم وکیع کے پاس تھے کہ انہوں نے اہل رائے میں سے ایک شخص سے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اشعار کیا (یعنی نشان لگایا) اور امام ابو حنیفہ فرماتے ہیں کہ یہ مثلہ ہے ، اس پر وکیع غصے میں آ گئے اور فرمایا میں تم سے کہتا ہوں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا اور تم کہتے ہو کہ ابراہیم نخعی نے یوں کہا، تم اس قابل ہو کہ تمہیں قید کر دیا جائے یہاں تک کہ تم اپنے اس قول سے رجوع کر لو۔

٭٭ قتیبہ، ابو سعید، ابن یمان، سفیان، عبید اللہ بن نافع، حضرت ابن عمر سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے مقام قدید سے ہدی کا جانور خریدا، امام ابو عیسیٰ ترمذی فرماتے ہیں کہ یہ حدیث غریب ہے ہم اسے ثوری کی روایت سے یحیی بن یمان کی روایت کے علاوہ نہیں جانتے ، نافع سے مروی ہے کہ ابن عرم نے بھی مقام قدید سے ہی ہدی کا جانور خریدا امام ابو عیسیٰ ترمذی کہتے ہیں کہ یہ روایت صح ہے

مقیم کا ہدی کے گلے میں ہا ر ڈالنا

قتیبہ، لیث، عبدالرحمن بن قاسم، عائشہ سے روایت ہے کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی ہدی کے ہار کے لئے رسیاں بٹا کرتی تھی پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے نہ تو احرام باندھا اور نہ کپڑے ہی پہننا ترک کیے امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث صحیح ہے بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے کہ اگر کوئی شخص اپنے ہدی کے جانور کے گلے میں ہار ڈالتا ہے تو اس وقت اس پر سلے ہوئے کپڑے یا خوشبو حرام نہیں ہوتی جب تک کہ وہ احرام نہ باندھے بعض کہتے ہیں کہ ہدی کے گلے میں ہار ڈالنے (تقلید) کے ساتھ ہی اس پر وہ تمام چیزیں واجب ہو جاتی ہے جو محرم پر واجب ہوتی ہیں۔

 

بکریوں کی تقلید کے بارے میں

محمد بن بشار، عبدالرحمن بن مہدی، سفیان، منصور، ابراہیم، اسود، عائشہ سے روایت ہے کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی قربانی کی بکریوں گلے کے ہاروں کی رسیاں بٹا کرتی تھی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم احرام نہیں باندھتے تھے (یعنی اپنے اوپر کسی چیز کو حرام نہیں کرتے تھے) امام ابو عیسیٰ ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث حسن صحیح ہے اسی پر بعض صحابہ وغیرہ کا عمل ہے کہ بکریوں کے گلے میں ہار ڈالے جائیں۔

اگر ہدی کا جانور مرنے کے قریب ہو تو کیا کیا جائے

ہارون بن اسحاق، عبدہ بن سلیمان، ہشام بن عروہ، حضرت ناجیہ خزاعی سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ہدی مرنے کے قریب ہو تو کیا کروں ؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا اسے ذبح کرو پھر اس کے گلے کی جوتی کو اس کے خون میں ڈبو دو پھر اسے لوگوں کے کھانے کے لئے چھوڑ دو، اس باب میں حضرت ذویب، ابو قبیصہ خزاعی سے بھی روایت ہے امام ابو عیسیٰ ترمذی فرماتے ہیں کہ حدیث ناجیہ حسن صحیح ہے اہل علم کا اسی پر عمل ہے کہ اگر نفلی قربانی کا جانور مرنے کے قریب ہو تو وہ خود یا اس کے دوست اس کا گوشت نہ کھائیں بلکہ دوسرے لوگوں کو کھلا دیں اس طرح اس کی قربانی ہو جائے گی امام شافعی احمد اور اسحاق کا یہی قول ہے وہ کہتے ہیں کہ اگر اس میں سے کچھ کھا لیا تو جتنا کھایا ہے تو اتنا ہی تاوان ادا کرے بعض اہل علم کہتے ہیں اگر اس گوشت میں سے کچھ کھا لیا تو اتنی قیمت ادا کرے۔

قربانی کے اونٹ پر سوار ہونا

قتیبہ، ابو عوانہ، قتادہ، حضرت انس بن مالک سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ایک شخص کو دیکھا کہ ہدی کو ہانک کر لے جارہا ہے فرمایا اس پر سوار ہو جا۔ وہ عرض کرنے لگا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم یہ ہدی کا جانور ہے آپ نے تیسری یا چوتھی مرتبہ فرمایا تجھ پر افسوس ہے یا تیرے لئے ہلاکت ہے تو اس پر سوار ہو جا اس باب میں حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ ابو ہریرہ اور جابر سے بھی روایت ہے امام ترمذی فرماتے ہیں کہ حدیث انس صحیح حسن ہے صحابہ کرام اور تابعین کی ایک جماعت نے رخصت (اجازت) دی ہے امام شافعی۔ احمد اور اسحاق کا بھی یہی قول ہے بعض اہل علم فرماتے ہیں کہ اس وقت تک سوار نہ ہو جب تک مجبور نہ ہو۔

سر کے بال کس طرف سے منڈوانے شروع کئے جائیں

ابوعمار، سفیان بن عیینہ، ہشام بن حسان، ابن سیرین، انس بن مالک سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم جب جمرہ عقبہ پر کنکریاں مارنے سے فارغ ہوئے تو قربانی کے جانور ذبح کئے پھر حجام کو بلایا اور سر کی دائیں جانب اس کے سامنے کر دی اس نے اس طرف سے سر مونڈا آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے وہ بال ابو طلحہ کو دئیے پھر حجام کی طرف بائیں جانب کی تو اس نے اس طرف بھی سر مونڈا پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا یہ بال لوگوں میں تقسیم کر دو۔

٭٭ ابن ابی عمر سفیان بن عیینہ سے اور وہ ہشام سے اسی کے مثل روایت کرتے ہیں یہ حدیث حسن صحیح ہے۔

بال منڈوانا اور کتروانا

قتیبہ، لیث، نافع، حضرت ابن عمر سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور صحابہ کرام کی ایک جماعت نے سر کے بال منڈوائے فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ایک یا دو مرتبہ فرمایا اے اللہ سر کے بال مونڈہوانے والوں پر رحم فرما پھر فرمایا بال کتروانے والوں پر بھی (اللہ رحم فرمائے) اس باب میں حضرت ابن عباس ابن ام حصین مارب ابو سعید ابو مریم حبشی بن جنادہ اور ابو ہریرہ سے بھی روایت ہے کہ امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث حسن صحیح ہے اہل علم کا اسی حدیث پر عمل ہے کہ اگر آدمی سر کے بال منڈوائے تو بہتر ہے لیکن اگر سر کے بال کتروائے تو بھی جائز ہے سفیان ثوری شافعی احمد اور اسحاق کا یہی قول ہے۔

عورتوں کے لئے سر کے بال منڈوانا حرام ہے

محمد بن موسی، بصری، ابو داؤد، ہمام، قتادہ، خلاس، حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے عورت کو سر کے بال منڈوانے سے منع فرمایا۔

٭٭ محمد بن بشار، ابو داؤد، ہمام، خلاس اسی کے مثل روایت کرتے ہیں لیکن انہوں نے اس میں حضرت علی کا ذکر نہیں کیا امام ابو عیسیٰ ترمذی فرماتے سلمہ سے بھی قتادہ کے حوالے سے حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے عورت کو سر کے بال منڈوانے سے منع فرمایا اہل علم کا اسی پر عمل ہے کہ عورت سر کے بال نہ منڈوائے (یعنی حلق نہ کرے) بلکہ بال کتر والے۔

جو آدمی سر منڈ والے ذبح سے پہلے اور قربانی کر لے کنکریاں مار نے سے پہلے

سعید بن عبدالرحمن، ابن ابی عمر، سفیان بن عیینہ، زہری، عیسیٰ بن طلحہ، حضرت عبداللہ بن عمرو سے روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ سے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم میں نے قربانی سے پہلے سر منڈ والیا ہے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا کوئی حرج نہیں اب قربانی کر لو۔ دوسرے شخص نے سوال کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم میں نے کنکریاں مارنے سے پہلے قربانی کر لی آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا کوئی حرج نہیں اب کنکریاں مار لو اس باب میں حضرت علی جابر ابن عباس ابن عمر اور اسامہ بن شریک سے بھی روایت ہے امام ابو عیسیٰ ترمذی فرماتے ہیں کہ حدیث عبداللہ بن عمرو حسن صحیح ہے اکثر اہل علم کا اس پر عمل ہے امام احمد اور اسحاق کا بھی یہی قول ہے بعض اہل علم کہتے ہیں کہ افعال حج میں تقدیم و تاخیر سے جانور ذبح کرنا واجب ہے۔

احرام کھولنے کے بعد طواف زیارت سے پہلے خوشبو لگانا

احمد بن منیع، ہشیم، منصور ابن زاذان، عبدالرحمن بن قاسم، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو احرام باندھنے سے پہلے خوشبو لگائی، اور نحر کے دن دس ذوالحجہ کو طواف زیارت سے پہلے ایسی خوشبو لگائی جس میں مسک بھی تھا (یعنی مشک والی خوشبو) اس باب میں حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما سے بھی روایت ہے امام ابو عیسیٰ ترمذی فرماتے ہیں کہ حدیث عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا حسن صحیح ہے اکثر صحابہ و تابعین کا اسی حدیث پر عمل ہے کہ محرم کے لئے قربانی کے دن (یعنی دس ذوالحجہ کو) جمرہ عقبہ پر کنکریاں مارنے کے علاوہ تمام چیزیں حلال ہو جاتی ہیں امام شافعی احمد اور اسحاق کا یہی قول ہے حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ عورتوں اور خوشبو کے علاوہ اس کے لئے تمام چیزیں حلال ہو جاتی ہے بعض صحابہ کرام اور تابعین اور اہل کوفہ کا یہی قول ہے۔

حج میں لبیک کہنا ترک کیا جائے

محمد بن بشار، یحیی بن سعید، ابن جریج، عطاء، ابن عباس، حضرت فضل بن عباس سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے مزدلفہ سے منی تک مجھے اپنے ساتھ سواری پر بٹھا لیا تھا آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم جمرہ عقبہ کو کنکریاں مارنے تک لبیک کہتے رہے اس باب میں حضرت علی ابن مسعود اور ابن عباس سے بھی روایت ہے امام ابو عیسیٰ ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث حسن صحیح ہے اسی پر اہل علم صحابہ و تابعین کا عمل ہے وہ کہتے ہیں کہ حاجی کو تلبیہ پڑھنا اسی وقت چھوڑنا چاہیے جب جمرہ عقبہ کو کنکریاں مارے امام شافعی احمد اور اسحاق کا یہی قول ہے۔

عمرے میں تلبیہ پڑھنا کب ترک کرے

ہناد، ہشیم، ابن ابی لیلی، عطاء، حضرت ابن عباس سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم عمرے میں تلبیہ پڑھنا اس وقت چھوڑتے تھے جب حجر اسود کو بوسہ دیتے اس باب میں حضرت عبداللہ بن عمرو سے بھی روایت ہے کہ امام ابو عیسیٰ ترمذی فرماتے ہیں حدیث ابن عباس صحیح ہے اکثر اہل علم کا اسی پر عمل ہے کہ عمرے میں تلبیہ اس وقت تک ختم نہ کرے جب تک حجر اسود کو بوسہ نہ دے لے بعض اہل علم کہتے ہیں کہ جب مکہ کی آبادی میں پہنچ جائے تو تلبیہ ترک کر دے لیکن عمل رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی حدیث پر ہی ہے سفیان شافعی احمد اور اسحاق کا بھی یہی قول ہے۔

رات کو طواف زیارت کرنا

محمد بن بشار، عبدالرحمن، ابن مہدی، سفیان، ابو زبیر، حضرت ابن عباس اور حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے طواف زیارت میں رات تک تاخیر کی امام ابو عیسیٰ ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث حسن ہے بعض اہل علم نے اس حدیث پر عمل کرتے ہوئے طواف زیارت میں رات تک تاخیر کی اجازت دی ہے بعض اہل علم کہتے ہیں کہ نحر کے دن طواف زیارت کرنا مستحب ہے بعض علماء نے منی میں قیام کے آخر تک بھی طواف زیارت کی اجازت دی ہے

وادی ابطح میں اتر نا

اسحاق بن منصور، عبدالرزاق، عبید اللہ بن عمر، نافع، حضرت ابن عمر فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ابو بکر عمر رضی اللہ تعالی عنہ اور عثمان رضی اللہ تعالی عنہ وادی ابطح میں اترتے تھے اس باب میں حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا ابو رافع رضی اللہ تعالی عنہ اور ابن عباس سے بھی روایت ہے امام ابو عیسیٰ ترمذی فرماتے ہیں کہ یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے ہم اسے صرف عبدالرزاق کی عبید اللہ بن عمر سے روایت سے پہچانتے ہیں بعض اہل علم کے نزدیک وادی ابطح میں ٹھہرنا مستحب ہے واجب نہیں جو چاہے تو ٹھہرے ورنہ واجب نہیں امام شافعی فرماتے ہیں کہ وادی ابطح میں اترنا حج کے افعال میں سے نہیں ہے یہ ایک مقام ہے جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اترتے تھے۔

٭٭ ابن ابی عمر، سفیان، عمرو بن دینار، عطاء، حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ تحصیب کوئی (لا زمی) چیز نہیں وہ تو ایک منزل ہے جہاں حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اترتے تھے امام ابو عیسیٰ ترمذی فرماتے ہیں تحصیب کا مطلب وادی ابطح میں اترنا ہے امام ابو عیسیٰ ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث حسن صحیح ہے۔

٭٭ محمد بن عبدالاعلی، یزید بن زریع، ہشام بن عروہ، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم وادی ابطح میں اس لئے اترتے تھے کہ وہاں سے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا (مدینہ کی طرف) جانا آسان تھا امام ابو عیسیٰ ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث حسن صحیح ہے ابن ابی عمر نے بواسطہ سفیان۔ ہشام بن عروہ اس کے ہم معنی روایت کی ہے۔

بچے کا حج

محمد بن طریف، ابو معاویہ، محمد بن سوقہ، محمد بن منکدر، جابر بن عبداللہ سے روایت ہے کہ ایک عورت ایک بچے کو لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کیا اس کا بھی حج صحیح ہو گا؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا ہاں اور ثواب تجھے ملے گا، اس باب میں حضرت ابن عباس سے بھی روایت ہے کہ جابر کی حدیث غریب ہے۔

٭٭ قتیبہ، قزعہ بن سو ید باہلی سے وہ محمد بن منکدر سے اور وہ حضرت جابر رضی اللہ تعالی عنہ سے مرفوعاً اس کے مثل روایت کرتے ہیں جب کہ محمد بن منکدر سے مرسلاً ً بھی روایت ہے۔

٭٭ قتیبہ بن سعید، حاتم بن اسماعیل، محمد بن یوسف، سائب بن یزید فرماتے ہیں کہ والد نے حجة الوداع کے موقعہ پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے ساتھ حج کیا میں بھی انکے ساتھ تھا اس وقت میری عمر سات سال تھی، امام ابو عیسیٰ ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث حسن صحیح ہے اہل علم کا اسی پر اجماع ہے کہ نابالغ بچے کا حج کر لینے سے فرض ساقط نہیں ہوتا اسی طرح غلام کا بھی حالت غلامی میں کیا ہوا حج کافی نہیں اسے آزاد ہونے کے بعد دوسرا حج کرنا ہو گا۔ سفیان ثوری شافعی، احمد اور اسحاق کا بھی یہی قول ہے

٭٭ محمد بن اسماعیل، ابن نمیر، اشعث بن سوار، ابو زبیر، جابر سے روایت ہے کہ جب ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے ساتھ حج کرتے تو عورتوں کی طرف سے تلبیہ (لبیک) کہتے اور بچوں کی طرف سے کنکریاں مارتے تھے امام ابو عیسیٰ ترمذی فرماتے ہیں کہ یہ حدیث غریب ہے ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں اہل علم کا اسی پر اجماع ہے کہ عورت کی طرف سے کوئی دوسرا تلبیہ (لبیک) نہ کہے بلکہ وہ خود کہے لیکن اس کے لئے آواز بلند کرنا مکروہ ہے۔

بہت بوڑھے اور میت کی طرف سے حج کرنا

احمد بن منیع، روح بن عبادہ، ابن جریج، ابن شہاب، سلیمان بن یسار، عبداللہ بن عباس، حضرت فضل بن عباس فرماتے ہیں کہ قبیلہ خثعم کی ایک عورت نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم میرے والد پر حج فرض ہے اور وہ بہت بوڑھے ہیں اونٹ کی پیٹھ پر بیٹھ بھی نہیں سکتے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا تم ان کی طرف سے حج کر لو اس باب میں حضرت علی بریدہ حصین بن عوف ابو رزین عقیلی سودہ رضی اللہ تعالی عنہ اور ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما سے بھی روایت ہے۔ امام ابو عیسیٰ ترمذی فرماتے ہیں کہ فضل بن عباس رضی اللہ تعالی عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے یہ ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما سے بھی بواسطہ سنان بن عبداللہ جہنی ان کی پھوپھی سے مرفوعاً مروی ہے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما سے بھی یہ مرفوعاً مروی ہے امام ترمذی کہتے ہیں میں نے امام محمد بن اسماعیل بخاری سے ان روایات کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا کہ اس باب میں اصح روایت ابن عباس کی فضل بن عباس سے مرفوعاً روایت ہے ، امام بخاری فرماتے ہیں یہ بھی احتمال ہے کہ حضرت ابن عباس نے یہ حدیث فضل بن عباس وغیرہ کے واسطہ سے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے سن کر مرسلاً ً روایت کی ہو۔ امام ترمذی فرماتے ہیں کہ اس باب میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے مروی کئی احادیث صحیح ہیں اسی حدیث پر صحابہ و تابعین کا عمل ہے سفیان ثوری ابن مبارک شافعی۔ احمد اور اسحاق کا بھی یہی قول ہے کہ میت کی طرف سے حج کیا جا سکتا ہے۔ امام مالک فرماتے ہیں کہ اگر میت نے مرنے سے پہلے حج کرنے کی وصیت کی تھی تو اس کی طرف سے حج کیا جائے بعض علماء نے زندہ کی طرف سے بھی حج کرنے کی اجازت دی ہے جب کہ وہ بوڑھا ہو یا ایسی حالت میں ہو کہ حج نہ کر سکتا ہو ابن مبارک اور امام شافعی کا یہی قول ہے۔

٭٭ یوسف بن عیسی، وکیع، شعبہ، نعمان بن سالم، عمرو بن اوس، حضرت ابو رزین عقیلی رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم میرے والد بہت بوڑھے ہیں نہ حج کر سکتے ہیں نہ عمرہ اور نہ سواری پر بیٹھنے کے قابل ہیں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا تم اپنے باپ کی طرف سے حج اور عمرہ کر لو، امام ابو عیسیٰ ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث حسن صحیح ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی طرف سے عمرے کا ذکر صرف اسی حدیث میں ہے کہ کسی دوسرے کی طرف سے بھی کیا جا سکتا ہے ابورزین عقیلی کا نام لقیط بن عامر ہے۔

٭٭ محمد بن عبدالاعلی، عبدالرزاق، سفیان ثوری، عبداللہ بن عطاء، عبداللہ بن بریدہ اپنے والد سے نقل کرتے ہیں کہ ایک عورت نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا میری ماں فوت ہو چکی ہیں انہوں نے حج نہیں کیا۔ کیا میں ان کی طرف سے حج کر سکتی ہوں ؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا ہاں تم ان کی طرف سے حج کرو، امام بوعیسیٰ ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث حسن صحیح ہے۔

عمرہ واجب ہے یا نہیں

محمد بن عبدالاعلی، عمرو بن علی، حجاج، محمد بن منکدر، حضرت جابر سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے عمرے کے بارے میں پوچھا گیا کہ کیا عمرہ واجب ہے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا نہیں اگر تم عمرہ کرو تو بہتر ہے (یعنی افضل ہے) امام ابو عیسیٰ ترمذی کہتے ہیں یہ حدیث حسن صحیح ہے بعض علماء کا یہی قول ہے کہ عمرہ واجب نہیں اور کہا جاتا ہے کہ حج کی دو قسمیں ہیں حج اکبر جو قربانی کے دن یعنی دس ذوالحجہ کو ہوتا ہے اور دوسرا حج اصغر یعنی عمرہ امام شافعی فرماتے ہیں عمرہ سنت ہے کسی نے اس کے ترک کی اجازت نہیں دی اور نہ ہی اس کے نفل ہونے کے متعلق کوئی روایت ثابت ہے امام ترمذی کہتے ہیں کہ ایک روایت اسی طرح کی ہے لیکن ضعیف ہے اس سے استدلال نہیں کیا جا سکتا ہمیں معلوم ہوا ہے کہ حضرت ابن عباس اسے واجب کہتے تھے

٭٭ احمد بن عبدہ، ضبی، زیاد بن عبد اللہ، یزید بن ابی زیاد، مجاہد، حضرت ابن عباس سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا کہ عمرہ قیامت تک حج میں داخل ہو گیا اس باب میں حضرت سراقہ بن مالک بن جعشم اور جابر بن عبداللہ سے بھی روایت ہے امام ابو عیسیٰ ترمذی فرماتے ہیں حدیث ابن عباس حسن ہے اس کا معنی یہ ہے کہ حج کے مہینوں میں عمرہ کرنے میں کوئی حرج نہیں امام شافعی احمد۔ اور اسحاق کا یہی قول ہے اس حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ دور جاہلیت کے لوگ حج کے مہینوں میں عمرہ نہیں کرتے تھے جب اسلام آیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اس کی اجازت دی اور فرمایا قیامت تک عمرہ حج میں داخل ہو گیا یعنی حج کے مہینوں میں عمرہ کرنے میں کوئی حرج نہیں حج کے مہنے شوال، ذوالقعد اور ذوالحجہ کے دس دن ہیں حج کے لئے تلبیہ (لبیک کہنا) انہی چار مہینوں میں جائز ہے پھر حرام کے مہینے رجب ذوالقعد ہ، ذوالحج اور محرم ہیں کئی راوی علماء صحابہ وغیرہ سے اسی طرح روایت کرتے ہیں۔

عمرے کی فضیلت

ابوکریب، وکیع، سفیان، ابو صالح، ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا ایک عمرہ دوسرے عمرے تک کے گناہوں کا کفارہ اور حج مقبول کا بدل جنت ہی ہے۔ امام ابو عیسیٰ ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث حسن صحیح ہے

تنعیم سے عمرے کے لئے جانا

یحیی بن موسی، ابن ابی عمر، سفیان بن عیینہ، عمرو بن دینار، عمرو بن اوس، عبدالرحمن بن ابی بکر سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے حکم دیا کہ عائشہ کو تنعیم سے عمرے کے لئے احرام بندھوا لاؤ

جعرانہ سے عمرے کے لئے جانا

محمد بن بشار، یحیی بن سعید، ابن جریج، مزاحم بن ابی مریم، عبدالعزیز بن عبد اللہ، حضرت محرش کعبی سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم جعرانہ سے رات کے وقت عمرے کا احرام باندھ کر نکلے اور رات ہی کو مکہ میں داخل ہوئے اپنا عمرہ پورا کیا پھر اسی وقت مکہ سے واپس چل پڑے اور صبح تک جعرانہ میں پہنچے جیسے کوئی کسی کے ہاں رات رہتا ہے پھر زوال آفتاب کے وقت نکلے اور سرف میدان کی طرف تشریف لے گئے یہاں تک کہ مزدلفہ کے ساتھ ساتھ میدان سرف کے وسط میں پہنچ گئے اسی لئے لوگوں پر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا یہ عمرہ پوشیدہ رہا، امام ابو عیسیٰ ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث حسن غیر یب ہے ہم محرش کعبی کی نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے اس روایت کے علاوہ کوئی روایت نہیں جانتے۔

رجب میں عمرہ کرنا

ابوکریب، یحیی بن آدم، ابو بکر بن عیاش، حبیب بن ابی ثابت، حضرت عروہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ حضرت ابن عمر سے پوچھا گیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے کون سے مہینے میں عمرہ کیا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا رجب میں حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا فرماتی ہیں کہ ابن عمر نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے ہر عمرے میں ان کے ساتھ تھے لیکن آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے رجب میں کبھی عمرہ نہیں کیا امام بخاری سے سنا وہ فرماتے تھے کہ حبیب بن ابی ثابت نے عروہ بن زبیر سے جوئی حدیث نہیں سنی۔

٭٭ احمد بن منیع، حسن بن موسی، شیبان، منصور، مجاہد، حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے چار عمرے کیے ان میں سے ایک رجب کے مہینے میں تھا امام ابو عیسیٰ ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث غریب حسن صحیح ہے۔

ذیقعدہ میں عمرہ کرنا

عباس بن محمد، اسحاق بن منصور، اسرائیل، ابو اسحاق ، حضرت براء رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ذیقعدہ کے مہینے میں عمرہ کیا امام بو عیسیٰ ترمذی فرماتے ہیں کہ یہ حدیث حسن صحیح ہے اس باب میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے بھی روایت ہے۔

رمضان میں عمرہ کرنا

نصر بن علی، ابو احمد، ابو اسحاق ، اسود بن یزید، ابن ام معقل فرماتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا کہ رمضان میں عمرہ کرنے کا ثواب حج کے برابر ہے اس باب میں حضرت ابن عباس جابر ابو ہریرہ انس اور وہب بن حنبش سے بھی روایت ہے اما ابو عیسیٰ ترمذی فرماتے ہیں انہیں ہرم بن حنبش بھی کہا جاتا ہے بیان اور جابر نے شعبی سے وہب بن حنبش اور داؤد اودی ہرم بن حنبش نقل کیا لیکن وہب بن حنبش زیادہ صحیح ہے حدیث ام معقل اس سند سے حسن غریب ہے امام احمد اور اسحاق فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے ثابت ہے کہ رمضان میں عمرہ ایک حج کے برابر ہے امام اسحاق کہتے ہیں کہ اس حدیث کا مطلب اسی طرح ہے جیسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا کہ جس نے قُلْ ہُوَ اللَّہُ أَحَدٌ پڑھی اس نے قرآن کا ایک تہائی پڑھا۔

جو حج کے لئے لبیک پکارنے کے بعد زخمی یا معذور ہو جائے

اسحاق بن منصور، روح بن عبادہ، حجاج، یحیی بن ابی کثیر، حضرت عکرمہ سے روایت ہے کہ مجھے حجاج بن عمرو نے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا جس کا کوئی عضو ٹوٹ گیا یا لنگڑا ہو گیا تو وہ احرام سے نکل گیا اب اس پر دوسرے سال (یعنی آئندہ) حج واجب ہے حضرت عکرمہ فرماتے ہیں میں نے ابو ہریرہ اور ابن عباس سے اس کا ذکر کیا تو ان دونوں نے فرمایا اس (یعنی حجاج بن عمرو) نے سچ کہا۔

٭٭ اسحاق بن منصو ر، محمد بن عبداللہ انصاری سے اور وہ حجاج سے اسی کے مثل روایت کرتے ہیں وہ کہتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو فرماتے ہوئے سنا۔ امام ابو عیسیٰ ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث حسن ہے کئی راوی حجاج صواف سے اسی کی مثل روایت کرتے ہیں معمر اور معاویہ بن سلام یہ حدیث یحیی بن ابی کیثر سے وہ عکرمہ سے وہ عبداللہ بن رافع سے وہ حجاج بن عمرو سے اور وہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے یہی حدیث روایت کرتے ہیں حجاج صواف اپنی روایت میں عبداللہ بن رفع کا ذکر نہیں کرتے اور حجاج محدثین کے نزدیک ثقہ اور حافظ ہیں امام ترمذی کہتے ہیں کہ میں نے امام بخاری سے سنا وہ فرماتے ہیں کہ معمر اور معاویہ بن سلام کی روایت اصح ہے۔

٭٭ عبد بن حمید، عبدالرزاق سے وہ معمر سے وہ یحیی بن ابی کیثر سے وہ عکرمہ سے وہ عبداللہ بن رافع سے وہ حجاج بن عمرو سے اور وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے اسی کی مثل روایت کرتے ہیں۔

حج میں شرط لگانا

زیاد بن ایوب، عباد بن عوام، ہلال بن خباب، عکرمہ، حضرت ابن عباس سے روایت ہے کہ ضباعہ بنت زبیر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم میں حج کرنا چاہتی ہوں کیا میں شرط لگا سکتی ہوں ؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا ہاں وہ عرض کرنے لگیں کیا ! کہوں ؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا یہ کہو “لَبَّیْکَ اللَّہُمَّ لَبَّیْکَ لَبَّیْکَ مَحِلِّی مِنْ الْأَرْضِ حَیْثُ تَحْبِسُنِی ” (میں حاضر ہوں اے اللہ تیری بارگاہ میں حاضر ہوں اس زمین میں جہاں تو روکے احرام سے باہر آ جاؤں گی) اس باب میں حضرت جابر۔ اسماء اور عائشہ سے بھی روایت ہے امام ابو عیسیٰ ترمذی فرماتے ہیں کہ ابن عباس کی حدیث حسن صحیح ہے بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے کہ حج میں شرط لگانا جائز ہے (یعنی احرام کو مشروط کرنا) وہ فرماتے ہیں کہ اگر مشروط احرام کی نیت کی ہو اور پھر بیمار یا معذور ہو جائے تو اس کیلئے احرام کھولنا جائز ہے امام شافعی۔ احمد اور اسحاق کا یہی قول ہے بعض علماء کے نزدیک حج کو کسی شرط کے ساتھ مشروط کرنا جائز نہیں وہ فرماتے ہیں کہ اگر شرط کی تب بھی احرام کھولنا جائز نہیں ، گویا ان کے نزدیک شرط لگانا دونوں برابر ہیں۔

٭٭ احمد بن منیع، عبداللہ بن مبارک، معمر، زہری، سالم اپنے والد سے نقل کرتے ہیں کہ وہ حج میں شرط لگانے سے انکار کرتے تھے اور فرماتے کیا تمہارے لئے تمہارے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی سنت کافی نہیں امام ابو عیسیٰ ترمذی فرماتے ہیں کہ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔

طواف زیارت کے بعد کسی عورت کو حیض آ جانا

قتیبہ، لیث، عبدالرحمن بن قاسم، عائشہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے سامنے ذکر کیا گیا کہ صفیہ بنت حیی حائضہ ہو گئی یعنی منی میں قیام کے دنوں میں ، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا کیا وہ ہمیں روکنے والی ہیں۔ صحابہ نے عرض کیا انہوں نے طواف زیارت کر لیا ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا اب کوئی بات نہیں (یعنی رکنے کی ضرورت نہیں) اس باب میں حضرت ابن عمر اور ابن عباس سے بھی روایت ہے ، امام ابو عیسیٰ ترمذی فرماتے ہیں کہ حدیث عائشہ حسن صحیح ہے اس پر اہل علم کا عمل ہے کہ اگر کسی عورت کو طواف زیارت کے بعد حیض آ جائے تو وہ چلی آئے اس پر کوئی چیز واجب نہیں۔ سفیان ثوری شافعی اور اسحاق کا یہی قول ہے۔

٭٭ ابوعمار، عیسیٰ بن یونس، عبید اللہ، نافع، ابن عمر سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ جو شخص حج کرے اسے آخرت میں بیت اللہ کا طواف کر کے جانا چاہیے ہاں البتہ حائضہ کے لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے (طواف زیارت ترک کرنے کی) رخصت دی ہے ، امام ابو عیسیٰ ترمذی فرماتے ہیں حدیث ابن عمر حسن صحیح ہے۔ اسی پر اہل علم ہے۔

حائضہ کون کون سے افعال کر سکتی ہے

علی بن حجر، شریک، جابر، ابن یزید، عبدالرحمن بن اسود، عائشہ سے روایت ہے کہ میں حج کے موقع پر حائضہ ہو گئی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے مجھے خانہ کعبہ طواف کے علاوہ تمام مناسک حج ادا کرنے کا حکم دیا۔ امام ابو عیسیٰ ترمذی فرماتے ہیں کہ علماء کا اسی پر عمل ہے کہ حائضہ بیت اللہ کے طواف کے علاوہ تمام مناسک حج ادا کری۔ یہ حدیث حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا سے اور سند سے بھی مروی ہے۔

٭٭ زیاد بن ایوب، مروان بن شجاع، خصیف، عکرمہ، مجاہد، عطاء، حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما مرفوع حدیث بیان کرتے ہیں کہ نفاس اور حیض والی عورتیں غسل کر کے احرام باندھیں اور تمام مناسک حج ادا کریں سوائے بیت اللہ کے طواف کے یہاں تک کہ پاک ہو جائیں۔ یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے۔

جو شخص حج یا عمرہ کے لئے آئے اسے چاہیے کہ آخر میں بیت اللہ سے ہو کر واپس لو ٹے

نصر بن عبدالرحمن، محاربی، حجاج بن ارطاة، عبدالملک، ابن مغیرہ، عبدالرحمن بن بیلمانی، حضرت حارث بن عبداللہ بن اوس رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے سنا جو شخص اس گھر کا حج یا عمرہ کری وہ آخر میں بیت اللہ کا طواف کرنے کے بعد روانہ ہو، حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا افسوس ہے تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے یہ بات سنی اور ہمیں نہیں بتائی، اس باب میں حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما سے بھی روایت ہے ، امام ابو عیسیٰ ترمذی فرماتے ہیں حارث کی حدیث غریب ہے کئی راوی حجاج بن ارطاہ سے بھی اسی کی مثل روایت کرتے ہیں جب کہ بعض نے اس سند کے بیان کرنے میں حجاج سے اختلاف بھی کیا ہے۔

قارن صرف ایک طواف کرے

ابن ابی عمر، ابو معاویہ، حجاج، ابو زبیر، حضرت جابر رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے حج قران کیا۔ یعنی حج اور عمرہ ایک ساتھ کیا اور دونوں کے لئے صرف ایک طواف کیا۔ اس باب میں حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہ اور ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما کہ حضرت جابر رضی اللہ تعالی عنہ کی حدث حسن ہے اور اسی پر علماء صحابہ وغیرہ میں سے بعض کا عمل ہے کہ قارن (یعنی حج اور عمرہ ایک ساتھ کرنے والا) ایک ہی طواف کرے ، امام شافعی رضی اللہ تعالی عنہ۔ احمد اور اسحاق کا یہی قول ہے بعض صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ دو مرتبہ طواف اور دو مرتبہ سعی کرے (یعنی صفا و مروہ کے درمیان) ثوری اور اہل کوفہ کا بھی یہی قول ہے۔

 

موت کا بیان

مریض کے لیے تعوذ

بشر بن ہلال، عبدالوارث بن سعید، عبدالعزیز بن صہیب، ابی نضرہ، حضرت ابو سعید سے روایت ہے کہ حضرت جبرائیل نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے پاس آئے اور فرمایا اے محمد کیا آپ بیمار ہیں ؟ آپ نے فرمایا ہاں جبرائیل نے کہا (بِاسْمِ اللَّہِ أَرْقِیکَ مِنْ کُلِّ شَیْئٍ یُؤْذِیکَ مِنْ شَرِّ کُلِّ نَفْسٍ وَعَیْنِ حَاسِدٍ بِاسْمِ اللَّہِ أَرْقِیکَ وَاللَّہُ یَشْفِیکَ) میں اللہ کے نام سے آپ کو ہر تکلیف دینے والی چیز سے ہر خبیث نفس کی برائی سے اور ہر حسد کرنے والے کی نظر سے دم کرتا ہوں میں اللہ کے نام سے آپ کو دم کرتا ہوں اللہ آپ کو شفا عطا فرمائے۔

٭٭ قتیبہ، عبدالوارث، عبدالعزیز بن صہیب سے روایت ہے کہ میں اور ثابت بنانی حضرت انس بن مالک کی خدمت میں حاضر ہوئے ثابت نے کہا اے ابو حمزہ میں بیمار ہوں حضرت انس نے فرمایا کیا میں تمہیں رسول اللہ کی دعا سے نہ جھاڑوں۔ (یعنی دم نہ کروں) انہوں نے کہا کیوں نہیں۔ حضرت انس نے یہ پڑھا (اللَّہُمَّ رَبَّ النَّاسِ مُذْہِبَ الْبَاسِ اشْفِ أَنْتَ الشَّافِی لَا شَافِی إِلَّا أَنْتَ شِفَاءً لَا یُغَادِرُ سَقَمًا)۔ اے اللہ لوگوں کے پالنے والے اسے تکلیفوں کو دور کرنے والے شفاء عطا فرما۔ کیونکہ تیرے بغیر کوئی شفا دینے والا نہیں ایسی شفا عطا فرما کہ کوئی بیماری نہ رہے۔ اس باب میں حضرت انس اور عائشہ سے بھی روایت ہے امام ترمذی فرماتے ہیں کہ ابو سعید کی حدیث حسن صحیح ہے میں نے ابو زرعہ سے اس حدیث کے متعلق پوچھا کہ عبدالعزیز کی ابو نضرہ سے بحوالہ ابو سعید مروی ہے حدیث زیادہ صحیح ہے یا عبدالعزیز کی انس سے مروی حدیث؟ ابو زرعہ نے کہا دونوں صحیح ہیں ، عبدالصمد بن عبدالوارث اپنے والد سے وہ عبدالعزیز بن صہیب سے وہ ابو نضرہ سے اور وہ ابو سعید سے روایت کرتے ہیں۔ عبدالعزیز بن صہیب انس سے بھی روایت کرتے ہیں۔

وصیت کی ترغیب

اسحاق بن منصور، عبداللہ بن نمیر، عمرو، نافع، حضرت ابن عمر سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا کہ کسی مسلمان کو یہ حق نہیں کہ وہ دو راتیں بھی اس طرح گزارے کہ اس کی پاس کوئی ایسی چیز ہو جس کی وصیت کرنی چاہیے لیکن وہ وصیت کتابت کی صورت میں اس کے پاس موجود نہ ہو اس باب میں ابن ابی اوفی سے بھی روایت ہے امام عیسیٰ فرماتے ہیں کہ ابن عمر کی حدیث حسن صحیح ہے۔

تہائی اور چوتھائی مال کی وصیت

قتیبہ، جریر، عطاء بن سائب، عبدالرحمن، حضرت سعد بن مالک سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم میری بیماری پرسی کے لیے تشریف لائے اور میں بیمار تھا پس آپ نے فرمایا کیا تم نے وصیت کر دی ہے ؟ میں نے عرض کیا ہاں۔ فرمایا کتنے مال کی۔ میں نے اللہ کی راہ میں پورے مال کی۔ فرمایا اپنی اولاد کے لیے کیا چھوڑا۔ عرض کیا وہ سب مالدار ہیں۔ فرمایا اپنے مال کے دسویں حصے کی وصیت کرو حضرت سعد کہتے ہیں کہ میں متواتر کم سمجھتا رہا یہاں تک کہ آپ نے فرمایا تہائی مال کی وصیت کرو اور تہائی حصہ بھی بہت ہے۔ ابو عبدالرحمن کہتے ہیں کہ ہم مستحب جانتے ہیں کہ تہائی حصے سے بھی کچھ کم میں وصیت کریں۔ کیونکہ آپ نے فرمایا تہائی حصہ بھی بہت ہے۔ اس باب میں حضرت ابن عباس سے بھی روایت ہے امام عیسیٰ فرماتے ہیں کہ حدیث سعد، حسن صحیح ہے۔ اور یہ کئی طریقوں سے مروی ہے پھر کئی سندوں میں کبیر اور کئی سندوں میں کثیر کا لفظ آیا ہے۔ اہل علم کا اسی پر عمل ہے کہ کوئی شخص تہائی مال سے زیادہ کی وصیت نہ کرے۔ بلکہ تہائی مال سے بھی کم کی وصیت کرنا مستحب ہے سفیان ثوری کہتے ہیں کہ اہل علم مال کے پانچویں یا چوتھے حصے کی وصیت کو تہائی حصے کی وصیت مستحب سمجھتے تھے۔ جس نے تہائی حصے کی وصیت کی گویا کہ اس نے کچھ نہیں چھوڑا اور اس کی تہائی مال سے زیادہ کی وصیت کرنا جائز نہیں۔

 

حالت نزع میں مریض کو تلقین اور دعا کرنا

ابو سلمہ، یحیی بن خلف، بشر بن مفضل، عمارہ بن غزیہ، یحیی بن عمارہ، حضرت ابو سعید خدری فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا اپنے قریب الموت لوگوں کو لَا إِلَہَ إِلَّا اللَّہُ کی تلقین کیا کرو۔ اس باب میں حضرت ابو ہریرہ، ام سلمہ، عائشہ، جابر، سعد المریہ سے بھی روایت ہے سعدی مریہ، طلحہ بن عبید اللہ کی بیوی ہیں امام ترمذی فرماتے ہیں کہ حدیث ابو سعید غریب حسن صحیح ہے۔

٭٭ ہناد، ابو معاویہ، اعمش، شقیق، حضرت ام سلمہ سے روایت ہے کہ وہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ہمیں فرمایا جب تم مریض یا میت کے پاس جاؤ تو اچھی دعا کرو اس لیے کہ فرشتے تمہاری دعا پر آمین کہتے ہیں ام سلمہ فرماتی ہیں کہ جب ابو سلمہ کا انتقال ہوا تو میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا اے اللہ کے رسول ابو سلمہ کا انتقال ہو گیا آپ نے فرمایا یہ دعا پڑھو۔ (اللَّہُمَّ اغْفِرْ لِی وَلَہُ وَأَعْقِبْنِی مِنْہُ عُقْبَی حَسَنَةً)۔ اے اللہ مجھے بھی اور اس کو بھی بخش دے اور اس کے بدلے میں مجھے ان سے بہتر عطا فرما۔ حضرت ام سلمہ فرماتی ہیں کہ میں نے یہی دعا مانگی تو اللہ نے مجھے ان سے بہتر شوہر دیدیا۔ (یعنی رسول اللہ) امام ترمذی فرماتے ہیں کہ شقیق۔ شقیق بن سلمہ ابو وائل اسدی ہیں۔ امام ترمذی فرماتے ہیں کہ ام سلمہ کی حدیث حسن صحیح ہے موت کے وقت مریض کو لَا إِلَہَ إِلَّا اللَّہُ کی تلقین کرنا مستحب ہے۔ بعض اہل علم فرماتے ہیں کہ جب قریب المرگ آدمی ایک مرتبہ کلمہ طیبہ پڑھ کر خاموش ہو جائے تو بار بار اسے تلقین نہ کی جائے ابن مبارک سے مروی ہے کہ جب ان کی وفات کا وقت قریب آیا تو ایک شخص انہیں بار بار کلمہ طیبہ کی تلقین کرنے لگا۔ ابن مبارک نے فرمایا جب میں نے ایک مرتبہ یہ کلمہ پڑھ لیا جب تک دوسری بات نہ کروں اسی پر قائم ہوں عبداللہ بن مبارک کی یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی حدیث کے مطابق ہے کہ آپ نے فرمایا جس کی آخری بات لَا إِلَہَ إِلَّا اللَّہُ ہو وہ جنت میں داخل ہو گیا۔

 

موت کی سختی

قتیبہ، لیث، ابن ہاد، موسیٰ بن سرجس، قاسم بن محمد، حضرت عائشہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو وفات کے وقت دیکھا آپ کے پاس پانی کا ایک پیالہ رکھا ہوا تھا۔ آپ پیالے میں اپنا ہاتھ ڈالتے اور چہرہ اقدس پر ملتے پھر فرماتے (اللَّہُمَّ أَعِنِّی عَلَی غَمَرَاتِ الْمَوْتِ أَوْ سَکَرَاتِ الْمَوْتِ) اے اللہ موت کی سختیوں اور تکلیفوں پر میری مد د فرما۔ امام ترمذی فرماتے ہیں کہ یہ حدیث غریب ہے۔

٭٭ حسن بن صباح، مبشر بن اسماعیل، عبدالرحمن بن علاء، حضرت عائشہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی وفات کے موقع پر موت کی شدت دیکھنے کے بعد میں کسی کی آسانی سے موت کی تمنا نہیں کرتی۔ امام ترمذی فرماتے ہیں کہ میں نے ابو زرعہ سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا کہ عبدالرحمن بن علاء کو نہیں ؟ فرمانے لگے علاء بن الجلاج کے بیٹے ہیں۔ میں اس حدیث کو اس سند کے علاوہ نہیں جانتا۔

٭٭ ابن بشار، یحیی بن سعید، مثنی بن سعید، قتادہ، حضرت عبداللہ بن بریدہ اپنے والد سے نقل کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا مومن جب مرتا ہے تو اس کی پیشانی پر پسینہ آ جاتا ہے اس باب میں حضرت ابن مسعود سے بھی روایت ہے امام ترمذی فرماتے ہیں کہ یہ حدیث حسن ہے بعض محدثین فرماتے ہیں کہ قتادہ کے عبداللہ بن بریدہ سے سماع کا ہمیں معلوم نہیں۔

٭٭ عبد اللہ بن ابی زیاد، ہارون بن عبد اللہ، ابن حاتم، جعفر بن سلیمان، ثابت حضرت انس فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ایک جوان شخص کے پاس تشریف لے گئے وہ قریب الموت تھا آپ نے فرمایا کہ تم اپنے آپ کو کیسے پاتے ہیں ہو؟ اس نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اللہ کی قسم میں اللہ کی رحمت و مغفرت کا امیدوار ہوں اور اپنے گناہوں کی وجہ سے خوف میں مبتلا ہوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا اس موقع پر اگر مومن کے دل میں یہ دونوں چیزیں امید اور خوف جمع ہو جائیں تو اللہ سے اس کی امید کے مطابق عطا کرتا ہے اور اسے اس چیز سے دور کر دیتا ہے جس سے وہ ڈرتا ہے امام ترمذی فرماتے ہیں کہ یہ حدیث غریب ہے بعض راوی یہ حدیث ثابت سے مرسلاً روایت کرتے ہیں۔

کسی کی موت کی خبر کا اعلان کرنا مکروہ ہے

احمد بن منیع، عبدالقدوس بن بکر، خنیس، حبیب بن سلیم، عبسی، بلال بن یحیی، عبسی، حضرت حذیفہ سے روایت ہے کہ جب میں مرجاؤں تو کسی کو خبر نہ کرنا کیونکہ مجھے ڈر ہے کہ یہ نعی ہے میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے سنا آپ نے موت کی خبر کو مشہور کرنے سے منع فرمایا ہے یہ حدیث حسن ہے۔

٭٭محمد بن حمید، حکام بن سلم، ہارون بن مغیرہ، عنبسہ، ابو حمزہ، حضرت عبداللہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا کہ نعی سے بچو کیونکہ یہ جہالت کے کاموں میں سے ہے۔ حضرت عبداللہ کہتے ہیں کہ نعی کسی کی موت کا اعلان کرنا ہے۔ اس باب میں حضرت حذیفہ سے بھی روایت ہے۔

٭٭ سعید بن عبدالرحمن، عبداللہ بن ولید، سفیان ثوری، ابو حمزہ، ابراہیم، علقمہ، عبداللہ اسی کے مثل غیر مرفوع روایت کرتے ہیں لیکن اس روایت میں (وَالنَّعْی أَذَانٌ بِالْمَیِّتِ) کے الفاظ بیان نہیں کرتے۔ یہ حدیث عنبسہ کی ابو حمزہ سے مروی حدیث سے اصح ہے ابو حمزہ کا نام میمون اعور ہے یہ محدثین کے نزدیک قوی نہیں۔ امام ترمذی فرماتے ہیں کہ عبداللہ کی حدیث غریب ہے بعض علماء نعی کو مکروہ کہتے ہیں ان کے نزدیک نعی کا مطلب یہ ہے کہ کسی کی موت کا اعلان کیا جائے تاکہ لوگ اس کے جنازے میں شریک ہوں بعض اہل علم کہتے ہیں کہ اپنے رشتہ داروں اور بھائیوں کو اطلاع دینے میں کوئی حرج نہیں۔ ابراہیم بھی یہی کہتے ہیں کہ رشتہ داروں کو خبر دینے میں کوئی حرج نہیں۔

 

صبر وہی ہے جو صدمہ کے شروع میں ہو

قتیبہ، لیث، یزید بن ابی حبیب، سعد بن سنان، حضرت انس سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا صبر وہی ہے جو مصیبت کے شروع میں ہو۔ امام ترمذی فرماتے ہیں کہ یہ حدیث اس سند دے غریب ہے۔

٭٭ محمد بن بشار، محمد بن جعفر، شعبہ، ثابت بنانی حضرت انس سے نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا صبر وہی ہے جو صدمہ کے نازل ہوتے ہی ہو۔ امام ترمذی فرماتے ہیں کہ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔

میت کو بوسہ دینا

محمد بن بشار، عبدالرحمن بن مہدی، سفیان، عاصم بن عبد اللہ، قاسم بن محمد، حضرت عائشہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے حضرت عثمان بن مظعون کی میت کا بوسہ لیا۔ اس وقت آپ رو رہے تھے۔ یا فرمایا آپ کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے اس باب میں حضرت ابن عباس، جابر، اور عائشہ سے بھی روایت ہے یہ سب فرماتے ہیں کہ حضرت ابو بکر صدیق نے نبی کریم کی وفات کے بعد آپ کا بوسہ لیا۔ امام ترمذی فرماتے ہیں کہ حدیث عائشہ حسن صحیح ہے۔

میت کو غسل دینا

احمد بن منیع، ہشیم، خالد، منصور، ہشام، ہشام، محمد، حفصہ، منصور، محمد، حضرت ام عطیہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی صاحبزادی فوت ہوئیں تو آپ نے فرمایا اسے طاق مرتبہ، تین یا پانچ یا ضرورت سمجھے تو اس سے بھی زیادہ مرتبہ غسل دو اور غسل پانی اور بیری کے پتوں سے دو اور آخری مرتبہ اس میں کافور ڈال دو یا فرمایا تھوڑا کافور ڈال دو۔ پھر جب تم فارغ ہو جاؤ تو مجھے اطلاع کرنا۔ غسل سے فراغت کے بعد ہم نے آپ کو خبر دی تو آپ نے اپنا ازار بند ہماری طرف ڈال دیا فرمایا اسے اس کا شعار بناؤ (یعنی کفن سے نیچے رکھو) ہشیم کہتے ہیں کہ دوسری روایات جن میں مجھے معلوم نہیں شاید ہشام بھی انہی میں سے ہیں ام عطیہ فرماتی ہیں کہ ہم نے ان کے بالوں کی تین چوٹیاں بنائیں ہشیم کہتے ہیں کہ میرا خیال ہے کہ راوی نے مزید یہ کہا کہ ہم نے ان کی چوٹیاں پیچھے کی طرف ڈال دیں۔ ہشیم کہتے ہیں ہم سے خالد نے بواسطہ حفصہ اور محمد، ام عطیہ سے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ہمیں فرمایا کہ دائیں طرف سے اور اعضائے وضو سے شروع کریں۔ اس باب میں حضرت ام سلمہ سے بھی روایات ہے امام ترمذی فرماتے ہیں کہ ام عطیہ کی حدیث حسن صحیح ہے اور اسی پر علماء کا عمل ہے ابراہیم نخعی سے مروی ہے کہ غسل میت غسل جنابت ہی کی طرح ہے مالک بن انس فرماتے ہیں کہ میت کے غسل کی کوئی مقررہ حد اور نہ ہی اس کی کوئی خاص کیفیت ہے بلکہ مقصد یہی ہے کہ میت پاک ہو جائے امام شافعی کہتے ہیں کہ امام مالک کا قول مجمل ہے کہ میت کو نہلایا اور صاف کیا جائے خالص پانی یا کسی چیز کی ملاوٹ والے پانی سے میت کو صاف کیا جائے۔ تب بھی کافی ہے لیکن تین مرتبہ یا اس سے زائد غسل دینا میرے نزدیک مستحب ہے۔ تین سے کم نہ کیا جائے۔ کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا کہ انہیں تین یا پانچ بار غسل دو۔ اگر تین مرتبہ سے کم ہی میں صفائی ہو جائے تو بھی جائز ہے امام شافعی فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے اس حکم سے مراد پاک وصاف کرنا ہے خواہ تین بار سے ہو یا پانچ بار سے۔ کوئی تعداد مقرر نہیں ، فقہاء کرام نے یہی فرمایا اور وہ حدیث کوئی تعداد مقرر نہیں ، فقہاء کرام نے یہی فرمایا ہے اور وہ حدیث کے معانی کو سب سے زیادہ سمجھتے ہیں امام احمد اور اسحاق کا قول یہ ہے کہ میت کو پانی اور بیری کے پتوں سے غسل دیا جائے اور آخر میں کافور بھی ساتھ ملایا جائے۔

میت کو مشک لگانا

سفیان، شعبہ، خلید بن جعفر، ابو نضرہ، حضرت ابو سعید خدری سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے مشک کے استعمال کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا یہ تمہاری سب خوشبوؤں سے بہتر ہے۔

٭٭ محمود بن غیلان، ابو داؤد، شبابہ، شعبہ، خلید بن جعفر، ابو عیسیٰ روایت کی ہم سے محمود بن غیلان نے انہوں نے ابو داؤد اور شبابہ سے ان دونوں نے روایت کی شعبہ سے انہوں نے خلید بن جعفر سے اسی حدیث کے مثل۔ امام ترمذی فرماتے ہیں کہ امام احمد اور اسحاق کا بھی یہی قول ہے۔ بعض اہل علم کے نزدیک میت کو مشک لگانا مکروہ ہے اور روایت کی یہی حدیث مستمر بن ریان نے بھی انہوں نے بونضرہ سے انہوں نے ابو سعید سے انہوں نے نبی سے علی کہتے ہیں کہ یحیی بن سعد کے نزدیک مستمر بن ریان اور خلید بن جعفر (دونوں) ثقہ ہیں۔

میت کو غسل دے کر خود غسل کرنا

محمد بن عبدالملک، ابی شوارب، عبدالعزیز بن مختار، سہیل بن ابی صالح، حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا کہ میت کو غسل دینے والے کو غسل کرنا چاہیے اور میت کو اٹھانے والے کو وضو کرنا چاہیے اس باب میں حضرت علی اور عائشہ سے بھی روایت ہے امام ترمذی فرماتے ہیں کہ حدیث ابو ہریرہ حسن ہے اور ان سے موقوفاً بھی مروی ہے اہل علم کا اس مسئلہ میں اختلاف ہے بعض صحابہ کرام اور دوسرے علماء کے نزدیک میت کو غسل دینے کے بعد غسل کرنا لازم ہے اور بعض کے نزدیک وضو کر لینا کافی ہے امام مالک فرماتے ہیں کہ میت کو غسل دینے کے بعد غسل کرنا مستحب ہے واجب نہیں۔ امام شافعی بھی اس کے قائل ہیں امام احمد فرماتے ہیں کہ جو میت کو غسل دے میرے خیال میں اس پر غسل واجب نہیں۔ جب کہ وضو کی روایات بہت کم ہیں۔ اسحاق کہتے ہیں کہ وضو کرنا ضروری ہے عبداللہ بن مبارک سے مروی ہے غسل میت کے بعد نہانا یا غسل کرنا ضروری نہیں۔

کفن کس طرح دینا مستحب ہے

قتیبہ، بشر بن مفضل، عبد اللہ، سعید بن جبیر، حضرت ابن عباس سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا سفید کپڑے پہنا کرو کیونکہ یہ تمہارے کپڑوں میں سے بہترین ہے اور اسی میں اپنے مردوں کو کفن دیا کرو اس باب میں سمرہ، ابن عمر، عائشہ سے بھی روایت ہے امام ابو ترمذی فرماتے ہیں کہ ابن عباس کی حدیث حسن صحیح ہے۔ اہل علم کے نزدیک یہی مستحب ہے ابن مبارک کہتے ہیں کہ مجھے یہ بات پسند ہے کہ جن کپڑوں میں وہ (یعنی مرنے والا) نماز پڑھتا تھا اسی میں کفن دیا جائے امام احمد، اور اسحاق فرماتے ہیں کہ کفن میں سفید کپڑے کا ہونا مجھے پسند ہے اور اچھا کفن دینا مستحب ہے۔

٭٭ محمد بن بشار، عمرو بن یونس، عکرمہ بن عمار، ہشام بن حسان، محمد بن سیرین، حضرت ابو قتادہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی اپنے فتوحات ہو جانے والے بھائی کا ولی ہو تو اسے بہترین کفن دے۔ اس باب میں حضرت جابر سے بھی روایت ہے امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث حسن غریب ہے ابن مبارک فرماتے ہیں کہ سلام بن مطیع نے اس روایت کے بارے میں کہ تمہیں اپنے (مردہ) بھائی کو اچھا کفن دینا چاہیے وہ فرماتے ہیں کہ اس روایت کا مطلب یہ ہے کہ صاف اور سفید کپڑوں کا کفن دیا جائے نہ کہ قیمتی کپڑے کا۔

نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے کفن میں کتنے کپڑے تھے

قتیبہ، حفص بن غیاث، ہشام بن عروہ، حضرت عائشہ سے روایت ہے کہ وہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا کفن مبارک تین سفید یمنی کپڑوں پر مشتمل تھا ان میں قمیص اور پگڑی نہیں تھی۔ حضرت عائشہ سے ذکر کیا گیا کہ لوگ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے کفن میں دو کپڑے اور ایک حبری (بیل بوٹے والی چادر) تھی۔ حضرت عائشہ نے فرمایا چادر دلائی گئی تھی لیکن اسے واپس کر دیا گیا اور اس میں کفن نہیں دیا گیا۔ امام ترمذی فرماتے ہیں کہ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔

٭٭ ابن ابی عمر، بشر بن سری، زائدہ، عبداللہ بن محمد بن عقیل، جابر بن عبداللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے حمزہ بن عبدالمطلب کو ایک چادر یعنی ایک ہی کپڑے میں کفن دیا۔ اس باب میں حضرت علی ابن عباس، عبداللہ بن مغفل اور ابن عمر سے بھی روایت ہے امام ترمذی فرماتے ہیں کہ حضرت عائشہ کی حدیث حسن صحیح ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے کفن مبارک کے بارے میں مختلف روایات مذکور ہیں اور ان تمام روایات میں حضرت عائشہ کی روایت زیادہ صحیح ہے اکثر صحابہ کرام اور دیگر علماء کا اسی پر عمل ہے سفیان ثوری کہتے ہیں کہ مرد کو تین کپڑوں میں کفن دیا جائے ایک قمیص اور دو لفافے اگر چاہے تو تین لفافوں میں ہی کفن دے پھر اگر تین کپڑے نہ ہوں تو دو اور دو بھی نہ ہوں تو ایک سے بھی کفن دیا جا سکتا ہے۔ امام شافعی احمد، اسحاق کا یہی قول ہے یہ حضرات کہتے ہیں کہ عورت کو پانچ کپڑوں میں کفن دیا جائے۔

اہل میت کے لیے کھانا پکانا

احمد بن منیع، علی بن حجر، سفیان بن عیینہ، جعفر بن خالد، حضرت عبداللہ بن جعفر سے روایت ہے کہ جب حضرت جعفر کی شہادت کی خبر آئی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا جعفر کے گھر والوں کے لیے کھانا پکاؤ کیونکہ انہیں ایک آنے والے حادثہ نے (کھانا پکانے) سے روک رکھا ہے امام ترمذی فرماتے ہیں کہ یہ حدیث حسن صحیح ہے بعض اہل علم اسے مستحب گردانتے ہیں کہ میت کے گھر والوں کے پاس کوئی نہ کوئی چیز بھیجی جائے کیونکہ وہ مصیبت میں مشغول ہوتے ہیں امام شافعی کا بھی یہی قول ہے جعفر بن خالد سارہ کے بیٹے ہیں یہ ثقہ ہیں۔ ان سے ابن جریج روایت کرتے ہیں۔

مصیبت کے وقت چہرہ پیٹنا اور گریبان پھاڑنا منع ہے

محمد بن بشار، یحیی بن سعید، سفیان، ابراہیم، مسروق، حضرت عبداللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا جو شخص رخساروں کو پیٹے ، گریبان چاک کرے یا زمانہ جاہلیت کی پکار پکارے۔ اس کا ہم سے کوئی تعلق نہیں۔ امام ترمذی فرماتے ہیں کہ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔

نوحہ حرام ہے

احمد بن منیع، قران بن تمام، مروان بن معاویہ، یزید بن ہارون، سعید بن عبید طائی، حضرت علی بن ربیعہ اسدی سے روایت ہے کہ انصار میں سے ایک شخص قرظہ بن کعب فوت ہو گئے تو لوگ اس پر نوحہ کرنے لگے پس حضرت مغیرہ بن شعبہ تشریف لائے منبر پر چڑھے اور اللہ کی حمد و ثناء بیان کر کے فرمایا نوحہ کی اسلام میں کیا حیثیت ہے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے سنا کہ جس پر نوحہ کیا جاتا ہے اسے عذاب میں مبتلا کیا جاتا ہے اس باب میں حضرت عمر، علی، ابو موسی، قیس بن عاصم، جنادہ بن مالک، انس، ام عطیہ، سمرہ اور ابو مالک اشعری سے بھی روایت ہے امام ترمذی فرماتے ہیں کہ حدیث مغیرہ بن شعبہ غریب حسن صحیح ہے۔

٭٭ محمود بن غیلان، ابو داؤد، شعبہ، مسعودی، علقمہ بن مرثد، ابو ربیع، حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا زمانہ جاہلیت کی چار چیزیں ایسی ہیں جو میری امت کے چند لوگ نہیں چھوڑیں گے نوحہ کرنا نسب پر طعن کرنا چھوٹ یعنی یہ اعتقاد رکھنا کہ اونٹ خارش ہوئی تو سب کو ہی ہو گئی اگر ایسا ہی ہے تو پہلے اونٹ کو کس سے لگائی تھی اور یہ اعتقاد رکھنا کہ بارش ستاروں کی گردش سے ہوتی۔ امام ترمذی فرماتے ہیں کہ یہ حدیث حسن ہے۔

٭٭ عبد اللہ بن ابی زیاد، یعقوب بن ابراہیم بن سعد، ابو صالح، کیسان، زہری، حضرت سالم بن عبداللہ اپنے والد سے وہ حضرت عمر سے نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا میت کے گھر والوں کے بلند آواز سے رونے پر میت کو عذاب ہوتا ہے اس باب میں حضرت اور عمران بن حصین سے بھی روایت ہے۔ امام ترمذی فرماتے ہیں کہ حضرت عمر کی حدیث حسن صحیح ہے اہل علم میت پر زور سے رونے کو حرام کہتے ہیں کہ وہ کہتے ہیں کہ اگر میت کے گھر والے روئیں تو ان کے رونے سے میت پر عذاب ہوتا ہے یہ حضرات اسی حدیث پر عمل کرتے ہیں ابن مبارک فرماتے ہیں کہ اگر وہ خود اپنی زندگی میں انہیں اس سے روکتا رہا اور مرنے سے پہلے منع بھی کیا تو امید ہے کہ اس کو عذاب نہیں ہو گا۔

٭٭ علی بن حجر، محمد بن عمار، اسید بن ابی اسید، موسیٰ بن ابو موسیٰ اشعری اپنے والد سے نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا جب کوئی مرنے والا مرتا ہے اور اس پر رونے والے کھڑا ہو اور وہ کہے کہ اے میرے پہاڑ۔ اے میرے سردار یا اسی قسم کے کوئی اور الفاظ کہتا ہے تو میت پر دو فرشتے مقرر کیے جاتے ہیں جو اس کے سینے پر گھونسے مارتے ہیں اور پوچھتے ہیں کہ کیا تو ایسا ہی تھا امام ترمذی فرماتے ہیں کہ یہ حدیث حسن غریب ہے۔

میت پر چلائے بغیر رونا جائز ہے

قتیبہ، مالک، اسحاق، معن، مالک، عبداللہ بن ابی بکر، ابن محمد بن عمرو بن حزم، حضرت عمرہ، حضرت عائشہ سے روایت ہے کہ ان کے سامنے کسی نے ذکر کیا کہ ابن عمر کہتے ہیں کہ میت کو زندہ آدمی کے رونے کی وجہ سے عذاب دیا جاتا ہے۔ حضرت عائشہ نے فرمایا اللہ تعالی ابو عبدالرحمن کی مغفرت فرمائے انہوں نے یقیناً جھوٹ نہیں بولا لیکن یا تو وہ بھول گئے ہیں یا ان سے غلطی ہوئی ہے حقیقت یہ ہے کہ ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ایک یہودی عورت کی میت کے پاس سے گزرے۔ لوگ اس کی موت پر رو رہے تھے۔ آپ نے فرمایا یہ اس پر رو رہے ہیں اور اسے قبر میں عذاب ہو رہا ہے۔ امام ترمذی فرماتے ہیں کہ یہ حدیث صحیح ہے۔

٭٭ قتیبہ، عباد بن عباد، محمد بن عمر، یحیی بن عبدالرحمن، حضرت ابن عمر فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا میت پر اس کے رشتہ داروں کے رونے کی وجہ سے عذاب ہوتا ہے حضرت عائشہ نے فرمایا اللہ ان پر رحم فرمائے انہوں نے جھوٹ نہیں کہا بلکہ انہیں وہم ہو گیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم یہ بات ایک یہودی کے لیے فرمائی تھی کہ وہ مر گیا تھا پھر آپ نے فرمایا کہ میت پر عذاب ہو رہا ہے اور اس کے گھر والے اس پر رو رہے ہیں اس باب میں حضرت عباس، قرظہ بن کعب، ابو ہریرہ، ابن مسعود اور اسامہ بن زید سے بھی روایت ہے امام ترمذی فرماتے ہیں کہ یہ حدیث عائشہ حسن صحیح ہے اور یہ حدیث حضرت عائشہ ہی سے کئی سندوں سے مروی ہے۔ بعض اہل علم کا اس روایت پر عمل ہے اور انہوں نے قرآن کریم کی اس آیت کی تفسیر کی ہے کہ اللہ فرماتا ہے۔ (وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزْرَ اُخْرٰی) 25۔فاطر:18) کوئی شخص کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔ امام شافعی کا بھی یہی قول ہے۔

٭٭ علی بن خشرم، عیسیٰ بن یونس، ابن لیلی، عطاء، حضرت جابر بن عبداللہ سے روایت ہے کہ وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے عبدالرحمن بن عوف کا ہاتھ پکڑا اور انہیں اپنے صاحبزادے ابراہیم کے پاس لے گئے وہ اس وقت نزع کی حالت میں تھے۔ آپ نے انہیں اپنی گود میں لیا اور رونے لگے۔ عبدالرحمن نے عرض کیا آپ بھی روتے ہیں ؟ کیا آپ نے رونے سے منع نہیں کیا؟ آپ نے فرمایا نہیں بلکہ بیوقوفی اور نافرمانی کی دو آوازوں سے منع کیا ہے ایک تو مصیبت کے وقت کی آواز جب چہر نوچا جائے اور گریبان چاک کیا جائے دوسری شیطان کی طرف رونے کی آواز (یعنی نوحہ) امام عیسیٰ ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث حسن ہے۔

جنازہ کے آگے چلنا

قتیبہ بن سعید، احمد بن منیع، اسحاق بن منصور، محمود بن غیلان، سفیان بن عیینہ، زہری، حضرت سالم اپنے والد سے نقل کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم، ابو بکر، اور عمر کو جنازے کے آگے پیچھے چلتے ہوئے دیکھا۔

٭٭ حسن بن علی، عمرو بن عاصم، ہمام، منصور، زیاد، سفیان، ہم سے روایت کی حسن بن علی خلال نے انہوں نے عمرو بن عاصم سے انہوں نے ہمام سے انہوں نے منصور سے اور بکر کوفی اور زیاد سے اور سفیان سے یہ سب روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے زہری سے سنا انہوں نے سالم بن عبداللہ سے انہوں نے اپنے باپ سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ابو بکر، اور عمر کو دیکھا کہ وہ جنازے کے آگے چلتے تھے۔

٭٭ عبد بن حمید، عبدالرزاق، معمر، زہری سے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ابو بکر، اور عمر جنازے کے آگے چلتے تھے۔ زہری نے کہا کہ ہمیں سالم نے خبر دی کہ ان کے باپ جنازے کے آگے چلتے تھے اس باب میں حضرت انس سے بھی روایت ہے امام ترمذی فرماتے ہیں کہ حدیث ابن عمر کی مانند ابن جریج اور زیاد بن سعد اور کئی لوگوں نے روایت کی زہری سے انہوں نے سالم سے انہوں نے اپنے باپ سے حدیث ابن عیینہ کی طرح اور روایت کی معمر اور یونس بن یزید اور مالک وغیرہ حفاظ نے زہری سے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم جنازے کے آگے چلتے تھے تمام محدثین کا اتفاق ہے کہ اس باب میں مرسل حدیث زیادہ صحیح ہے امام ترمذی کہتے ہیں کہ یحیی بن موسیٰ نے عبدالرزاق سے ابن مبارک کے حوالے سنا کہ زہری کی مرسل حدیث ابن عیینہ کی حدیث سے زیادہ صحیح ہے۔ ابن مبارک کہتے ہیں کہ شاید بن جریج نے یہ روایت ابن عیینہ سے لی ہو۔ امام ترمذی کہتے ہیں کہ ہمام بن یحیی نے یہ حدیث زیاد بن سعد سے پھر منصور، ابو بکر، اور سفیان نے زہری سے انہوں نے سالم سے اور انہوں نے اپنے والد سے روایت کی ہے جب کہ ہمام سفیان بن عیینہ سے روایت کرتے ہیں اس مسئلے میں اہل علم کا اختلاف ہے بعض صحابہ کرام اور دوسرے علماء کے نزدیک جنازے کے آگے چلنا افضل ہے امام شافعی اور احمد کا یہی قول ہے۔

٭٭ محمد بن مثنی، محمد بن بکر، یونس بن یزید، زہری، حضرت انس بن مالک سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ابو بکر، عمر، عثمان، جنازے کے آگے چلتے تھے امام ابو عیسیٰ ترمذی فرماتے ہیں کہ میں نے امام بخاری سے اس حدیث کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ اس میں محمد بن بکر نے غلطی کی ہے اور یہ حدیث بواسطہ یونس، زہری سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ابو بکر اور عمر سب جنازے کے آگے چلتے تھے زہری فرماتے ہیں کہ مجھے سلام نے بتایا کہ ان کے والد حضرت عبداللہ بن عمر بھی جنازے کے آگے چلا کرتے تھے اور یہ اصح ہے۔

جنازے کے پیچھے چلنا

محمود بن غیلان، وہب بن جریر، شعبہ، امام بنی تیم اللہ، ابی ماجد، حضرت عبداللہ بن مسعود سے روایت کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے جنازے کے پیچھے چلنے کے بارے میں سوال کیا تو آپ نے فرمایا جلدی چلو اور اگر وہ نیک ہے تو اسے جلدی قبر میں پہنچا دو گے اور اگر وہ برا ہے تو اہل جہنم ہی کو دور کیا جاتا ہے۔ پس جنازے کے پیچھے چلنا چاہیے نہ کہ اس کو پیچھے چھوڑنا چاہیے اور جو اس سے آگے چلتا ہے۔ وہ ان کے ساتھ نہیں۔ امام عیسیٰ فرماتے ہیں کہ اس حدیث کو ہم اس سند سے صرف ابن مسعود ہی کی روایت سے جانتے ہیں میں نے امام بخاری سے سنا وہ ابو ماجد کی اس روایت کو ضعیف کہتے ہیں۔ امام بخاری نے بواسطہ حمید، ابن عیینہ سے نقل کیا ہے کہ یحیی سے ابو ماجد کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا کہ ایک مجہول الحال شخص ہیں وہ ہم سے روایت کرتے ہیں کہ بعض صحابہ کرام اور دیگر علماء کا یہی مسلک ہے جنازے کے پیچھے چلنا افضل ہے سفیان ثوری اور اسحاق کا یہی قول ہے کہ ابو ماجد مجہول ہیں اور ان کے واسطے سے ابن مسعود سے دو حدیثیں منقول ہیں یحیی امام نبی ثقہ ہیں۔ ان کی کنیت ابو حارث ہے انہیں جابر اور یحیی مجبر بھی کہا جاتا ہے یہ کوفی ہیں شعبہ، سفیان ثوری، ابو الاحوص اور سفیان بن عیینہ ان سے روایت کرتے ہیں۔

جنازہ کے پیچھے سوار ہو کر چلنا مکروہ ہے

علی بن حجر، عیسیٰ بن یونس، بکر بن ابی مریم، راشد بن سعید، حضرت ثوبان سے روایت ہے کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے ساتھ ایک جنازے میں گئے آپ نے کچھ لوگوں کو سواری پر چلتے ہوئے دیکھا تو فرمایا تمہیں شرم نہیں آتی اللہ کے فرشتے پیدل چل رہے ہیں اور تم سواریوں پر سوار ہو۔ اس باب میں مغیرہ بن شعبہ اور جابر بن سمرہ سے بھی روایت ہے امام ترمذی فرماتے ہیں کہ حدیث ثوبان، ہی سے موقوفاً مروی ہے۔

 

جنازے کے پیچھے سواری پر سوار ہو کر جانے کی اجازت

محمود بن غیلان، ابو داؤد، شعبہ، سماک، جابر بن سمرہ سے نقل کرتے ہیں کہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے ساتھ ابن وحداح کے جنازے میں گئے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اپنے گھوڑے پر سوار تھے۔ جو دوڑتا تھا ہم آپ کو ارد گرد تھے آپ اسے چھوٹے چھوٹے قدموں سے لیے جا رہے تھے۔

٭٭ عبد اللہ بن صباح، ابو قتیبہ، جرح، سماک، حضرت جابر بن سمرہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ابن وحداح کے جنازے میں پیدل گئے اور گھوڑے پر واپس تشریف لائے۔ امام عیسیٰ فرماتے ہیں کہ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔

جنازہ کو جلدی لے جانا

احمد بن میع، ابن عیینہ، زہری، سعید بن مسیب، حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا جنازہ جلدی لے جاؤ اس لیے کہ اگر وہ نیک ہے تو اسے جلد بہتر جگہ پہنچایا جائے اور اگر یہ برا ہے تو اپنی گردنوں سے جلد بوجھ اتارا جائے۔ اس باب میں حضرت ابو بکر سے بھی روایت ہے امام ترمذی فرماتے ہیں کہ یہ حدیث ابو ہریرہ حسن صحیح ہے۔

٭٭ قتیبہ، ابو صفوان، اسامہ بن زید، ابن شہاب، حضرت انس بن مالک سے روایت ہے کہ جنگ احد میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم حضرت حمزہ کی شہادت کے بعد ان کے پاس تشریف لائے تو دیکھا کہ ان کے ہاتھ پاؤں کاٹ دئیے گئے ہیں فرمایا اگر صفیہ کے دل پر گراں گزرنے کا اندیشہ نہ ہوتا تو میں انہیں اسی طرح چھوڑ دیتا یہاں تک کہ انہیں جانور کھا جاتے پھر قیامت کے دن انہیں جانوروں کے پیٹوں سے اٹھایا جاتا راوی کہتے ہیں پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے چادر منگوائی اور اس میں سے انہیں کفن دیا۔ وہ چادر بھی ایسی تھی کہ اگر سر پر ڈالی جاتی تو پاؤں ننگے رہ جاتے ہیں اور اگر پاؤں ڈھکے جاتے تو سر سے ہٹ جاتی۔ راوی کہتے ہیں کہ پھر شہید زیادہ ہو گئے اور کپڑے کم پڑ گئے پس ایک دو اور تین شہیدوں تک کو ایک ہی کپڑے میں کفن دیا گیا اور پھر ایک ہی قبر میں دفن کیا گیا اس دوران نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ان کے بارے میں پوچھتے تھے کہ کسے قرآن زیادہ یاد تھا۔ پس جس کو قرآن زیادہ یاد ہوتا آپ قبر میں قبلہ کی طرف سے آگے کرتے راوی کہتے ہیں کہ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے سب کو دفن کیا اور ان کی نماز جنازہ نہیں پڑھی امام عیسیٰ ترمذی فرماتے ہیں کہ حدیث انس رضی اللہ تعالی عنہ حسن غریب ہے ہم اس حدیث کو صرف اسی سند سے حضرت انس کی روایت سے جانتے ہیں۔

٭٭ علی بن حجر، علی بن مسہر، مسلم، حضرت انس بن مالک سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم مریض کی عیادت کرتے ، جنازے میں شریک ہوتے ، گدھے پر سوار ہوتے اور غلام کی دعوت قبول کرتے تھے۔ جنگ بنی قریظہ کے دن بھی آپ گدھے پر سوار تھے جس کی لگام کھجور کی چھال کی رسی سے بنی ہوئی تھی اور اس پر زین بھی کھجور کی چھال کا تھا۔ امام ترمذی فرماتے ہیں کہ ہم اس حدیث کو سرف مسلم کی روایت سے جانتے ہیں کہ مسلم، انس سے روایت کرتے ہیں مسلم اعور ضعیف ہیں اور کیسان ملائی کے بیٹے ہیں۔

٭٭ ابوکریب، ابو معاویہ، عبدالرحمن بن ابی بکر، ابن ابی ملیکہ، حضرت عائشہ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی وفات ہوئی تو صحابہ میں آپ کی تدفین کے متعلق اختلاف پیدا ہو گیا پس حضرت ابو بکر نے فرمایا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے ایک بات سنی اور کبھی نہیں بھولا کہ آپ نے فرمایا اللہ نبی کی روح اس جگہ قبض فرماتے ہیں کہ جس جگہ اس کی تدفین کو پسند فرماتے ہیں کہ اس پر آپ کو آپ کے بستر مبارک کی جگہ ہی دفن کیا گیا امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث غریب ہے عبدالرحمن بن ابو بکر ملیکی حافظے کی وجہ سے ضعیف ہیں اور یہ حدیث کئی سندوں سے مروی ہے حضرت ابن عباس نے یہ حدیث حضرت ابو بکر صدیق سے اور انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے روایت کی ہے۔

٭٭ ابوکریب، معاویہ بن ہشام، عمران بن انس، عطاء، حضرت ابن عمر فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا اپنے فوت ہو جانے والوں کو بھلائیاں دیا کیا کرو اور ان کی برائیوں کے ذکر سے رک جاؤ۔ امام ترمذی فرماتے ہیں کہ یہ حدیث غریب ہے میں نے امام بخاری سے سنا وہ فرماتے ہیں کہ عمران بن انس مکی منکر الحدیث ہیں بعض راوی عطاء سے بھی حضرت عائشہ کے حوالے سے روایت کرتے ہیں عمران بن انس مصری، عمران بن انس مکی سے زیادہ ثابت اور مقدم ہیں۔

جنازے رکھنے سے پہلے بیٹھنا

محمد بن بشار، صفوان بن عیسی، بشر بن رافع، عبداللہ بن سلیمان بن نجادہ، ابی امیہ، حضرت عبادہ بن صامت سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم جب کسی جنازہ میں تشریف لے جاتے تو اس قبر میں اتارنے تک بیٹھتے نہیں تھے پس یہودیوں کا ایک عالم آیا تو اس نے کہا کہ اے محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ہم بھی اسی طرح کرتے ہیں اس پر آپ بیٹھ گئے اور آپ نے فرمایا ان کی مخالفت کرو۔ امام عیسیٰ فرماتے ہیں کہ یہ حدیث غریب ہے اور بشر بن رافع حدیث میں قوی نہیں۔

مصیبت پر صبر کی فضیلت

سوید بن نصر، عبداللہ بن مبارک، حماد بن سلمہ، حضرت ابو سنان سے روایت ہے کہ میں نے اپنے بیٹے سنان کو دفن کیا تو ابو طلحہ خولانی قبر کے کنارے بیٹھے ہوئے تھے۔ میں جب باہر آنے لگا تو انہوں نے میرا ہاتھ پکڑلیا اور فرمایا اے ابو سنان کیا میں تمہیں خوشخبری نہ سناؤں میں نے کہا کیوں نہیں فرمایا ضحاک بن عبدالرحمن بن عرزب، ابو موسیٰ اشعری سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا جب کسی آدمی کا بچہ فوت ہو جاتا ہے تو اللہ تعالی فرشتوں سے فرماتا ہے کہ کیا تم نے میرے بندے کے بیٹے روح قبض کی؟ عرض کرتے ہیں ہاں اللہ فرماتا ہے کہ تم نے اس کے دل کا پھل (ٹکڑا) قبض کیا؟ وہ عرض کرتے ہیں جی ہاں۔ پھر اللہ تعالی پوچھتے ہیں میرے بندے نے کیا کہا فرشتے عرض کرتے ہیں اس نے تیری تعریف کی اور إِنَّا لِلّہِ وَإِنَّا إِلَیْہِ رَاجِعونَ پڑھا۔ اللہ تعالی ارشاد فرماتے ہیں کہ میرے بندے کے لیے جنت میں ایک گھر بناؤ اور اس کا نام بیت الحمد کا گھر (رکھو) امام ترمذی فرماتے ہیں کہ یہ حدیث حسن غریب ہے۔

تکبیرات جنازہ

احمد بن منیع، اسماعیل بن ابراہیم، معمر، زہری، سعید بن مسیب، حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے نجاشی کی نماز جنازہ پڑھی اور اس میں چار مرتبہ تکبیر کہی۔ اس باب میں حضرت ابن عباس، ابن ابی اوفی، جابر، انس، یزید بن ثابت سے بھی روایت ہے امام ترمذی فرماتے ہیں کہ یزید بن ثابت کے بڑے بھائی ہیں۔ اور یہ جنگ بدر میں شریک تھے جب کہ زید اس جنگ میں شریک نہیں ہوئے۔ امام ترمذی فرماتے ہیں کہ ابو ہریرہ کی حدیث حسن صحیح ہے اکثر علماء، صحابہ، اور دیگر علماء کا اس پر عمل ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ نماز جنازہ میں چار تکبیریں کہی جائیں۔ سفیان، ثوری، مالک بن انس، ابن مبارک، شافعی اور احمد اور اسحاق کا بھی یہی قول ہے۔

٭٭ محمد بن مثنی، محمد بن جعفر، شعبہ، عمرو بن مرہ، حضرت عبدالرحمن بن ابی لیلی سے روایت ہے کہ زید بن ارقم ہمارے جنازوں کی نماز میں چار تکبیریں کہتے تھے۔ ایک مرتبہ انہوں نے ایک جنازہ پڑھتے ہوئے پانچ تکبیریں کہیں تو ہم نے ان سے اس کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم بھی اسی طرح کرتے تھے۔ امام عیسیٰ فرماتے ہیں کہ حدیث زید بن ارقم حسن صحیح ہے بعض صحابہ اور دوسرے علماء کا یہی مسلک ہے کہ جنازہ کی پانچ تکبیریں ہیں امام احمد اور اسحاق فرماتے ہیں کہ اگر امام جنازہ پر پانچ تکبیریں کہے تو مقتدی بھی اس کی اتباع کریں۔

 

نماز جنازہ میں کیا پڑھا جائے

علی بن حجر، ہقل بن زیاد، یحیی بن ابی کثیر، ابو ابراہیم اشہلی سے اور وہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نماز جنازہ میں یہ دعا پڑھتے تھے۔ (اللَّہُمَّ اغْفِرْ لِحَیِّنَا وَمَیِّتِنَا وَشَاہِدِنَا وَغَائِبِنَا وَصَغِیرِنَا وَکَبِیرِنَا وَذَکَرِنَا وَأُنْثَانَا) اے اللہ ہمارے زندوں مردوں و حاضر، غائب، چھوٹوں ، بڑوں ، مردوں اور عورتوں کی بخشش فرما۔ یحیی بھی ابو سلمہ بن عبدالرحمن سے اور وہ ابو ہریرہ سے مرفوعاً اسی کی مانند روایت کرتے ہیں کہ یہ الفاظ زیادہ نقل کرتے ہیں۔ (اللَّہُمَّ مَنْ أَحْیَیْتَہُ مِنَّا فَأَحْیِہِ عَلَی الْإِسْلَامِ وَمَنْ تَوَفَّیْتَہُ مِنَّا فَتَوَفَّہُ عَلَی الْإِیمَانِ) اے اللہ ہم میں جسے زندہ رکھے اسے اسلام پر زندہ رکھ اور جسے موت دے اور اسے ایمان پر موت دے۔ اس باب میں عبدالرحمن بن عوف، ابو قتادہ، عائشہ، اور عوف بن مالک سے بھی روایت ہے امام عیسیٰ فرماتے ہیں کہ یہ حدیث صحیح ہے ہشام، ستوائی اور علی بن مبارک بھی یہ حدیث یحیی بن ابو کثیر سے اور وہ ابو سلمہ بن عبدالرحمن سے مرسلاً روایت کرتے ہیں عکرمہ بن عمار بھی یحیی بن کثیر سے وہ ابو سلمہ بن عبدالرحمن سے وہ حضرت عائشہ سے اور وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے روایت کرتی ہیں عکرمہ بن عمار کی حدیث غیر محفوظ ہے کیونکہ عکرمہ یحیی بن ابو کثیر کی حدیث میں وہم کرتے ہیں۔

٭٭ یحیی بن ابی کثیر، عبداللہ بن ابی قتادہ، اپنے والد اور وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے روایت کرتے ہیں کہ امام ترمذی فرماتے ہیں کہ میں نے امام بخاری سے سنا وہ فرماتے ہیں کہ ان تمام روایات میں سب سے زیادہ صحیح روایت یحیی بن ابو کثیر کی ہے جو ابراہیم اشہلی اپنے والد سے نقل کرتے ہیں امام ترمذی فرماتے ہیں کہ میں نے امام بخاری سے ابو ابراہیم اشہلی کا نام پوچھا تو انہیں معلوم نہیں تھا۔

٭٭ محمد بن بشار، عبدالرحمن بن مہدی، معاویہ بن صالح، عبدالرحمن بن جبیر، حضرت عوف بن مالک سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو نماز جنازہ میں دعا پڑھتے ہوئے سنا تو مجھے آپ کی یہ دعا سمجھ آئی۔ (اللَّہُمَّ اغْفِرْ لَہُ وَارْحَمْہُ وَاغْسِلْہُ بِالْبَرَدِ وَاغْسِلْہُ کَمَا یُغْسَلُ الثَّوْبُ) اے اللہ اس کی مغفرت فرما، اس پر رحم فرما اور اس کے گناہوں کو کے اولوں سے اس طرح دھو دے جس طرح کپڑا دھویا جاتا ہے۔ امام عیسیٰ فرماتے ہیں کہ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ محمد بن اسماعیل بخاری فرماتے ہیں کہ اس باب میں یہ حدیث سب سے زیادہ صحیح ہے۔

نماز جنازہ میں سورہ فاتحہ پڑھنا

احمد بن منیع، زید بن حباب، ابراہیم بن عثمان، مقسم، حضرت عباس سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے نماز جنازہ میں سورہ فاتحہ پڑھی۔ اس باب میں ام شریک سے بھی روایت ہے امام ترمذی فرماتے ہیں کہ حدیث ابن عباس کی سند قوی ہیں۔ ابراہیم بن عثمان، یعنی ابو شیبہ واسطی منکر الحدیث ہے اور صحیح ابن عباس سے یہی ہے کہ انہوں نے کہا یعنی ابن عباس نے کہ نماز جنازہ میں سورة فاتحہ پڑھنا سنت ہے۔

٭٭ محمد بن بشار، عبدالرحمن بن مہدی، سفیان، سعد بن ابراہیم، طلحہ، حضرت طلحہ بن عبداللہ بن عوف سے روایت ہے کہ ابن عباس نے ایک مرتبہ جنازے کی نماز پڑھی تو اس میں سورہ فاتحہ بھی پڑھی۔ میں نے ان سے اس کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا یہ سنت ہے یا فرمایا (مِنْ تَمَامِ السُّنَّةِ) تکمیل سنت سے ہے۔ امام ترمذی فرماتے ہیں کہ یہ حدیث حسن صحیح ہے اسی پر بعض علماء اور دوسرے علماء کا عمل ہے۔ وہ تکبیر اولیٰ کے بعد سورہ فاتحہ پڑھنا پسند کرتے ہیں امام شافعی اور احمد، اسحاق کا بھی یہی قول ہے بعض اہل علم فرماتے ہیں کہ نماز جنازہ میں سورة فاتحہ نہ پڑھے کیونکہ یہ اللہ کی ثناء، درود شریف اور میت کے لیے دعا پر مشتمل ہے۔ سفیان ثوری اور اہل کوفہ (احناف) کا یہی قول ہے۔

نماز جنازہ کی کیفیت اور میت کے لیے شفاعت کرنا

ابوکریب، عبداللہ بن مبارک، یونس، محمد بن اسحاق، یزید بن ابی حبیب، حضرت مرثد بن عبداللہ یزنی سے روایت ہے کہ مالک بن ہیبرہ جب نماز جنازہ پڑھتے اور لوگ کم ہوتے ہیں تو انہیں تین صفوں میں تقسیم کر دیتے۔ پھر فرماتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا جس میت پر تین صفوں نے نماز پڑھی اس کے لیے جنت واجب ہو گئی۔ اس باب میں حضرت عائشہ، ام حبیبہ، ابو ہریرہ، اور میمونہ سے بھی روایت ہے۔ امام عیسیٰ فرماتے ہیں کہ حدیث مالک بن ہبیرہ حسن صحیح ہے کئی راوی ابو اسحاق سے اسی طرح روایت کرتے ہیں کہ ابراہیم بن سعر بھی محمد بن اسحاق سے یہ حدیث روایت کرتے ہیں اور مرثد اور مالک بن ہبیرہ کے درمیان ایک اور آدمی کا ذکر کرتے ہیں ہمارے نزدیک پہلی روایت زیادہ صحیح ہے۔

٭٭ ابن ابی عمر، عبدالوہاب، ایوب، احمد بن منیع، علی بن حجر، اسماعیل بن ابراہیم، ایوب، ابو قلابہ، حضرت عائشہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا مسلمانوں میں سے کوئی شخص ایسا نہیں جس کی موت کے بعد نماز جنازہ میں مسلمانوں کی ایک جماعت جس کی تعداد سو تک ہو وہ سب اس کے لیے شفاعت کریں اور ان کی شفاعت قبول نہ کی جائے۔ علی اپنی نقل کردہ وہ حدیث میں کہتے ہیں کہ ان کی تعداد سویا اس سے زیادہ ہو امام عیسیٰ فرماتے ہیں کہ حدیث عائشہ حسن صحیح ہے بعض راوی اسے موقوفاً روایت کرتے ہیں۔

طلوع و غروب آفتاب کے وقت نماز جنازہ پڑھنا مکروہ ہے

ہناد، وکیع، موسیٰ بن علی، ابن رباح، حضرت عقبہ بن عامر جہنی سے روایت ہے کہ تین اوقات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ہمیں نماز جنازہ پڑھنے اور میت کو دفنانے سے منع فرمایا کرتے تھے۔ طلوع آفتاب کے وقت یہاں تک کہ سورج بلند ہو جائے۔ دوپہر کے وقت یہاں تک کہ سورج پوری طرح ڈوب نہ جائے۔ امام ترمذی فرماتے ہیں کہ یہ حدیث حسن صحیح ہے بعض صحابہ کرام اور دیگر علماء کا اسی پر عمل ہے کہ ان اوقات میں نماز جنازہ پڑھنا مکروہ ہے ابن مبارک فرماتے ہیں کہ مردوں کی تدفین سے ان اوقات میں منع کرنے کا مطلب یہی ہے کہ نماز جنازہ نہ پڑھی جائے۔ ان کے نزدیک ان اوقات میں نماز جنازہ پڑھنا مکروہ نہیں۔

بچوں کی نماز جنازہ

بشر بن آدم بن بنت ازہر، اسماعیل بن سعید بن عبید اللہ، زیاد بن جبیر بن حیہ، مغیرہ بن شعبہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا کہ سوار جنازہ کے پیچھے رہے اور پیدل چلنے والے جہاں جی چاہے وہاں چلے اور لڑکے پر بھی نماز جنازہ پڑھی جائے۔ امام ابو عیسیٰ ترمذی فرماتے ہیں کہ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ اسرائیل اور کئی راوی یہ حدیث سعید بن عبداللہ سے روایت کرتے ہیں بعض صحابہ کرام اور دیگر علماء اس حدیث پر عمل کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں کہ بچے پر نماز جنازہ پڑھی جائے اگرچہ وہ پیدا ہونے کے بعد رویا بھی نہ ہو صرف اس کی شکل ہی بنی ہو۔ امام احمد اور اسحاق کا بھی یہ قول ہے۔

اگر بچہ پیدا ہونے کے بعد نہ روئے تو اس کی نماز جنازہ نہ پڑھی جائے

ابوعمار، حسین بن حریث، محمد بن یزید، اسماعیل بن مسلم، ابی زبیر، حضرت جابر سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا بچہ جب تک پیدا ہونے کے بعد روئے نہیں اس کی نماز جنازہ نہ پڑھی جائے۔ اور نہ وہ کسی کا وارث ہے اور نہ ہی اس کا کوئی وارث ہے۔ امام ابو عیسیٰ ترمذی فرماتے ہیں کہ اس حدیث میں اضطراب ہے بعض راوی اس حدیث کو ابو زبیر سے وہ جابر سے اور وہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے موقوفاً روایت کرتے ہیں۔ اشعث بن سوار اور کئی راوی حضرت جابر سے موقوفاً انہی کا قول روایت کرتے ہیں اور یہ مرفوع حدیث کے مقابلے میں زیادہ صحیح ہے۔ بعض اہل علم کا یہی مسلک ہے کہ اگر بچہ پیدائش کے بعد روئے نہیں تو اس کی نماز جنازہ نہ پڑھی جائے۔ ثوری اور شافعی کا بھی یہی قول ہے۔

مسجد میں نماز جنازہ پڑھنا

علی بن حجر، عبدالعزیز بن محمد، عبدالواحد بن حمزہ، عباد بن عبداللہ بن زبیر، حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے سہیل بن بیضاء کی نماز جنازہ مسجد میں پڑھی۔ امام ابو عیسیٰ فرماتے ہیں کہ یہ حدیث حسن ہے بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے امام شافعی فرماتے ہیں کہ امام مالک نے فرمایا کہ مسجد میں نماز جنازہ نہ پڑھی جائے امام شافعی فرماتے ہیں کہ مسجد میں نماز جنازہ پڑھی جائے۔ امام شافعی نے اس حدیث سے استدلال کیا ہے

 

مرد اور عورت کی نماز جنازہ میں امام کہاں کھڑا ہو

عبد اللہ بن منیر، سعید بن عامر، ہمام، ابی غالب سے روایت ہے کہ میں نے انس بن مالک کے ساتھ ایک شخص کی نماز جنازہ پڑھی وہ اس کے سر کے مقابل کھڑے ہوئے پھر لوگ ایک قریشی عورت کا جنازہ لائے اور ان سے کہا گیا اے ابو حمزہ اس کی نماز جنازہ پڑھائیے۔ آپ چارپائی کے درمیان کے مقابل کھڑے ہوئے اس پر حضرت علاء بن زید نے ان سے پوچھا کہ کیا آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو مرد اور عورت کا نماز جنازہ پڑھاتے ہوئے اس جگہ کھڑے ہوتے ہوئے دیکھا ہے جہاں آپ کھڑے ہوئے فرمایا ہاں۔ پھر جب جنازہ سے فارغ ہوئے تو آپ نے فرمایا کہ اسے یاد رکھو۔ اس باب میں حضرت سمرہ سے بھی روایت ہے امام ابو عیسیٰ فرماتے ہیں کہ حدیث انس حسن ہے کئی راوی ہمام سے اسی کے مثل روایت کرتے ہیں۔ وکیع یہ حدیث ہمام سے روایت کرتے ہوئے وہم کرتے ہیں۔ وکیع اپنی روایت میں کہتے ہیں کہ غالب سے روایت ہے کہ جب کہ صحیح ابو غالب سے ہمام ہی کے مثل روایت کرتے ہیں ابو غالب کے نام میں اختلاف ہے بعض نافع اور بعض رافع کہتے ہیں بعض اہل علم کا اسی حدیث پر عمل ہے۔ امام احمد، اسحاق کا بھی یہی قول ہے۔

٭٭ علی بن حجر، ابن مبارک، فضل بن موسی، حسین، عبداللہ بن بریدہ، حضرت سمرہ بن جندب فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ایک عورت کی نماز جنازہ پڑھی تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم جنازہ کے وسط میں کھڑے ہوئے امام ابو عیسیٰ فرماتے ہیں کہ یہ حدیث حسن صحیح ہے شعبہ نے حسین معلم سے اسے روایت کیا ہے۔

شہید پر نماز جنازہ نہ پڑھنا

قتیبہ بن سعید لیث، ابن شہاب، عبدالرحمن بن کعب بن مالک سے روایت ہے کہ جابر بن عبداللہ نے مجھے بتایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم شہدائے احد میں سے دو دو آدمیوں کو ایک ہی کپڑے میں کفن دینے کے بعد پوچھتے کہ ان میں سے کون زیادہ قرآن کا حافظ ہے جب ان میں سے ایک کی طرف اشارہ کیا جاتا تو آپ اسے قبر میں آگے کرتے اور فرماتے میں قیامت کے دن ان سب پر گواہ ہوں گا۔ آپ نے ان سب کو ان کے خون سمیت دفن کرنے کا حکم دیا اور نہ تو اس کی نماز جنازہ پڑھی اور نہ ہی انہیں غسل دیا گیا اس باب میں حضرت انس بن مالک سے بھی روایت ہے امام ابو عیسیٰ ترمذی فرماتے ہیں کہ حضرت جابر کی حدیث حسن صحیح ہے اور زہری سے بحوالہ انس مرفوعاً مروی ہے زہری عبداللہ بن ثعلبہ بن ابو صغیر سے اور وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے روایت کرتے ہیں جب کہ کچھ راوی حضرت جابر سے بھی روایت کرتے ہیں۔ اہل علم کا شہید کی نماز جنازہ پڑھنے میں اختلاف ہے بعض اہل علم کہتے ہیں کہ شہداء کی نماز جنازہ نہ پڑھی جائے اہل علم مدینہ، امام شافعی، اور احمد کا یہی قول ہے۔ بعض اہل علم کہتے ہیں کہ شہید کی نماز جنازہ پڑھی جائے ان کی دلیل یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے حمزہ کی نماز جنازہ پڑھی۔ سفیان ثوری، اہل کوفہ اور اسحاق کا یہی قول ہے۔

قبر پر نماز جنازہ پڑھنا

احمد بن منیع، ہشیم، شیبانی، شعبی کہتے ہیں کہ مجھ سے اس آدمی نے بیان کیا جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو دیکھا اور اس نے ایک اکیلی قبر دیکھی جس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے صحابہ کرام کی صف بندی فرمائی اور نماز جنازہ پڑھائی، شعبی سے پوچھا گیا کہ وہ کون ہے جس نے آپ کو یہ واقعہ سنایا؟ انہوں نے فرمایا کہ حضرت ابن عباس۔ اس باب میں حضرت انس، بریدہ، یزید بن ثابت، ابو ہریرہ، عامر بن ربیعہ، ابو قتادہ، اور سہل بن حنیف سے بھی روایت ہے امام ترمذی فرماتے ہیں کہ ابن عباس کی حدیث حسن صحیح ہے۔ اکثر صحابہ کرام اور دیگر علماء کا اس پر عمل ہے امام شافعی، احمد، اور اسحاق کا یہ قول ہے۔ بعض اہل علم فرماتے ہیں کہ قبر پر نماز جنازہ نہ پڑھی جائے۔ امام مالک کا بھی ہی قول ہے ابن مبارک فرماتے ہیں کہ اگر میت کو نماز جنازہ پڑھے بغیر دفن کیا جائے تو قبر پر نماز جنازہ پڑھی جائے ابن مبارک کے نزدیک قبر پر ایک ماہ تک نماز جنازہ پرھنا جائز ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ ہم نے سعید بن مسیب سے کثر سنا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ام سعد بن عبادہ کی قبر پر ایک ماہ بعد نماز جنازہ پڑھی۔

٭٭ محمد بن بشار، یحیی بن سعید، سعید بن ابی عروبہ، قتادہ، سعید بن مسیب سے روایت ہے کہ ام سعد نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی غیر موجودگی میں فوت ہوئے پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم واپس تشریف لائے تو ان پر نماز جنازہ پڑھی جب کہ ان کی وفات کو ایک ماہ ہو گیا تھا۔

 

نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا نجاشی کی نماز جنازہ پڑھنا

ابو سلمہ بن یحیی بن خلف، حمید بن مسعدہ، بشر بن مفضل، یونس بن عبید، محمد بن سیرین، حضرت عمران بن حصین سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ہم سے فرمایا تمہارے بھائی نجاشی کا انتقال ہو گیا چلو اٹھو اور ان کی نماز جنازہ پڑھو، حضرت عمران کہتے ہیں کہ ہم کھڑے ہوئے اور اسی طرح صفیں بنائیں جس طرح نماز جنازہ میں صفیں بنائی جاتی ہیں اور نماز جنازہ پڑھی جس طرح میت پر پڑھی جاتی ہے اس باب میں حضرت ابو ہریرہ، جابر بن عبد اللہ، ابو سعید، حذیفہ بن اسید، اور جریر بن عبداللہ سے بھی روایت ہے۔ امام ترمذی فرماتے ہیں کہ یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے۔ ابو قلابہ بھی یہی حدیث اپنے چچا ابو مہلب سے اور وہ عمران بن حصین سے روایت کرتے ہیں ابو مہلب کا نام عبدالرحمن بن عمرو ہے انہیں معاویہ بن عمر بھی کہتے ہیں۔

نماز جنازہ کی فضیلت

ابوکریب، عبدہ بن سلیمان، محمد بن عمر، ابو سلمہ، حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا کہ جو شخص نماز جنازہ پڑھے اس کے لیے ایک قیراط ثواب اور جنازہ کے پیچھے چلے یہاں تک کہ دفن سے فارغ ہوا تو اس کے لئے دو قیراط۔ جن میں سے ایک یا فرمایا ان دونوں میں سے چھوٹا قیراط احد پہاڑ کے برابر ہے حضرت ابو ہریرہ کہتے ہیں کہ میں نے اس حدیث کا ابن عمر سے تذکرہ کیا تو انہوں نے حضرت عائشہ کے پاس بھیج دیا اسکے بارے میں دریافت کرنے کے لیے۔ حضرت عائشہ نے فرمایا کہ ابو ہریرہ نے سچ کہا ہے۔ حضرت ابن عمر نے فرمایا کہ ہم نے تو بہت سے قیراطوں کا نقصان کر دیا۔ اس باب میں حضرت براء، عبداللہ بن مغفل، عبداللہ بن مسعود، ابو سعید، ابی بن کعب، ابن عمر اور عثمان سے بھی روایت ہے۔ امام ترمذی فرماتے ہیں کہ یہ حدیث حسن صحیح ہے اور حضرت ابو ہریرہ ہی سے کئی سندوں سے مروی ہے۔

٭٭ محمد بن بشار، روح بن عبادہ، عباد بن منصور، ابو مہزم کہتے ہیں کہ دس سال تک ابو ہریرہ کی صحبت میں رہا میں نے ان سے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا جو جنازے کے ساتھ چلے اور اسے تین مرتبہ اٹھایا، اس نے اس کا حق ادا کر دیا۔ امام ترمذی فرماتے ہیں کہ یہ حدیث غریب ہے بعض راوی یہ حدیث اسی سند سے غیر مرفوع روایت کرتے ہیں ابو مہزم کا نام یزید بن سفیان ہے شعبہ انہیں ضعیف کہتے ہیں۔

جنازہ کے لیے کھڑا ہونا

قتیبہ، لیث، ابن شہاب، سالم بن عبد اللہ، حضرت عامر بن ربیعہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا جب تم جنازہ دیکھو تو کھڑے ہو جایا کرو یہاں تک کہ وہ گزر جائے یا رکھ دیا جائے اس باب میں حضرت ابو سعید، جابر، اور ابو ہریرہ سے روایت ہے۔ امام ترمذی فرماتے ہیں کہ عامر بن ربیعہ کی حدیث حسن صحیح ہے۔

٭٭ نصر بن علی، جہضمی، حسن بن علی، یحیی بن ابی کثیر، ابی سلمہ، حضرت ابو سعید خدری سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا کہ جب تم جنازہ دیکھو تو کھڑے ہو جایا کرو تم میں سے جو آدمی جنازے کے ساتھ ہو تو جب تک جنازہ رکھ نہ دیا جائے ہرگز نہ بیٹھے۔ امام ترمذی فرماتے ہیں کہ حدیث ابو سعید اس باب میں حسن صحیح ہے امام احمد، اور اسحاق کا یہی قول ہے جنازے کے ساتھ آنے والا شخص اس کے نیچے رکھے جانے تک نہ بیٹھے۔ بعض صحابہ کرام اور دیگر اہل علم سے مروی ہے کہ وہ جنازے کے آگے آگے چلتے تھے اور جنازہ پہنچتے سے پہلے بیٹھ جاتے۔ امام شافعی کا بھی یہی قول ہے۔

جنازہ کے لیے کھڑا نہ ہونا

قتیبہ، لیث بن سعد، یحیی بن سعید، واقد، ابن عمر، ابن سعد، ابن معاذ، نافع بن جبیر، مسعود بن حکم، حضرت علی بن ابی طالب سے منقول ہے کہ انہوں نے جنازہ کی آمد پر اس کے رکھے جانے تک کھڑے رہنے کا ذکر کیا گیا تو آپ نے فرمایا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم شروع میں کھڑے ہوئے تھے پھر بیٹھنے لگے۔ اس باب میں حسن بن علی اور ابن عباس سے بھی روایت ہے امام عیسیٰ ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث حسن صحیح ہے اور اس باب میں تابعین کرام سے چار روایتیں ہیں۔ جو ایک دوسرے سے روایت کرتے ہیں اس پر بعض اہل علم کا عمل ہے امام شافعی فرماتے ہیں یہ حدیث اس باب میں اصح ہے اور پہلی حدیث کو منسوخ کرتی ہے جس میں یہ فرمایا گیا کہ جنازہ دیکھ کر کھڑے ہو جاؤ۔ امام احمد فرماتے ہیں کہ اگر چاہے تو کھڑا ہو ورنہ نہ بیٹھا رہے ، کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم شروع میں کھڑے ہوا کرتے تھے لیکن بعد میں بیٹھے رہتے۔ اسحاق کا بھی یہی قول ہے حضرت علی کی حدیث کا مطلب یہی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم شروع شروع میں جنازہ کے لیے کھڑے ہو جاتے تھے لیکن بعد میں آپ نے کھڑا ہونا ترک کر دیا اور جب آپ جنازہ دیکھتے تو کھڑے نہ ہوتے۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا کہ لحد ہمارے لیے ہیں اور شق دوسروں کے لیے ہے

ابوکریب، نصر بن عبدالرحمن کوفی، یوسف بن موسی، حکام بن سلم، علی بن عبدالاعلی، سعید بن جبیر، حضرت ابن عباس سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا لحد ہمارے لیے ہے اور شق دوسرے لوگوں کے لیے اس باب میں جریر بن عبد اللہ، عائشہ، ابن عمر، جابر سے بھی روایت ہے امام ترمذی فرماتے ہیں حدیث ابن عباس اس سند سے غریب ہے۔

میت کو قبر میں اتارتے وقت کیا کہا جائے

ابوسعید، خالد، حجاج، نافع، حضرت ابن عمر سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم جب میت قبر میں رکھتے راوی کہتے ہیں کہ ابو خالد کی روایت میں یہ الفاظ ہیں جب میت لحد میں رکھی جاتی تو یہ دعا پڑھتے بِسْمِ اللَّہِ وَبِاللَّہِ وَعَلَی مِلَّةِ رَسُولِ اللَّہِ (ترجمہ) ہم اس میت کو اللہ کے نام کے ساتھ اور رسول اللہ کی شریعت پر قبر میں اتارتے ہیں۔ ابو خالد نے دوسری بار یہ دعا روایت کی بِسْمِ اللَّہِ وَبِاللَّہِ وَعَلَی سُنَّةِ رَسُولِ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ دونوں کا ایک ہی مطلب ہے۔ امام ابو عیسیٰ ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے اور اس کے علاوہ بھی کئی سندوں سے حضرت ابن عمر سے مروی ہے ابن عمر سے روایت کرتے ہیں ابو صدیق ناجی نے بھی یہ حدیث ابن عمر سے مرفوعاً روایت کی ہے اور ابو بکر ناجی کے واسطے سے بھی ابن عمر موقوفاً مروی ہے۔

قبر میں میت کے نیچے کپڑا بچھانا

زید بن اخزم طائی، عثمان بن فرقد، جعفر بن محمد اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے لیے ابو طلحہ نے لحد کھودی اور آنحضرت کے غلام شقران نے اس میں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے نیچے چادر بچھائی جعفر کہتے ہیں مجھے ابن ابی رافع نے بتایا کہ میں نے شقران کو یہ کہتے ہوئے سنا اللہ کی قسم میں نے ہی نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی قبر میں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے نیچے چادر بچھائی تھی اس باب میں حضرت ابن عباس سے روایت ہے امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث حسن غریب ہے علی بن مدینی نے بھی یہ حدیث عثمان بن مرقد سے روایت کی ہے۔

٭٭ محمد بن بشار، یحیی بن سعید، شعبہ، ابی حمزہ، ابن عباس سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی قبر مبارک میں سرخ چادر بچھائی گئی۔ امام ابو عیسیٰ ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث حسن صحیح ہے شعبہ نے اس حدیث کو ابو حمزہ قصاب سے روایت کیا ان کا نام عمران بن ابو عطاء ہے اور ابو حمزہ سے بھی روایت ہے ان کا نام نصر بن عمران ہے۔ یہ دونوں حضرت ابن عباس کے دوستوں میں سے ہیں حضرت ابن عباس سے یہ بھی مروی کہ میت کے نیچے قبر میں کچھ بچھانا مکروہ ہے بعض اہل علم کا یہی مذہب ہے۔

٭٭ محمد بن جعفر، یحیی، شعبہ، ابی جمرہ، ابن عباس ایک اور جگہ محمد بن بشار کہتے ہیں کہ ہم سے روایت کی محمد بن جعفر اور یحیی نے شعبہ سے انہوں نے ابو حمزہ سے انہوں نے ابن عباس سے اور یہ زیادہ صحیح ہے۔

 

قبروں کو زمین کے برابر کر دینا

محمد بن بشار، عبدالرحمن بن مہدی، سفیان، حبیب بن ابی ثابت ابی وائل سے روایت ہے کہ حضرت علی نے ابو ہیاج اسدی سے فرمایا میں تمہیں اس کام کے لیے بھیج رہا ہوں جس کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے مجھے بھیجا تھا کہ تم کسی اونچی قبر کو زمین کے برابر کیے بغیر نہ چھوڑو اور نہ کسی تصویر کو مٹائے بغیر چھوڑو۔ اس باب میں حضرت جابر سے بھی روایت ہے امام ابو عیسیٰ فرماتے ہیں کہ حضرت علی کی حدیث حسن ہے اور بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے کہ قبر کو زمین سے بلند کرنا حرام ہے امام شافعی فرماتے ہیں کہ قبر کو زمین سے اونچا کرنا حرام ہے البتہ اتنی اونچی کی جائے جس سے اس کا قبر ہونا معلوم ہو تاکہ لوگ اس پر چلیں یا بیٹھیں نہیں۔

قبروں پر چلنا اور بیٹھنا منع ہے

ہناد، ابن مبارک، عبدالرحمن بن یزید بن جابر، بسر بن عبید اللہ، ابی ادریس خولانی، واثلہ بن اسقع، حضرت ابو مرثد غنوی سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا کہ نہ تو قبروں پر بیٹھو اور نہ ان کی طرف نماز پڑھو اس باب میں حضرت ابو ہریرہ، عمرو بن حزم، بشیر بن خصاصیہ سے روایت ہے محمد بن بشار نے بواسطہ عبدالرحمن بن مہدی، عبداللہ بن مبارک سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مثل روایت کی ہے۔

٭٭ علی بن حجر، ابو عمار، والید بن مسلم، عبدالرحمن بن یزید بن جابر، بسر بن عبید اللہ نے بواسطہ واثلہ بن اسقع ابو مرشد غنوی سے اس کی مثل مرفوع حدیث روایت کی ہے اور اس میں ابو ادریس کا واسطہ مذکور نہیں اور یہی صحیح ہے۔ امام ترمذی فرماتے ہیں کہ امام بخاری نے فرمایا کہ ابن مبارک کی اس حدیث میں ان سے خطاء ہوئی انہوں نے اس میں ابو ادریس خولانی کا نام زیادہ ذکر کیا ہے حالانکہ بسر بن عبید اللہ بلاواسطہ واثلہ بن اسقع سے روایت کرتے ہیں کئی راوی عبدالرحمن بن جابر سے اسی طرح روایت کرتے ہیں اور وہ ابو ادریس خولانی کا نام ذکر نہیں کرتے۔ بسر بن عبداللہ نے واثلہ بن اسقع سے احادیث سنی ہیں۔

قبروں کو پختہ کرنا، ان کے اردگرد اوپر لکھنا حرام ہے

عبدالرحمن بن اسود، ابو عمر، بصری، محمد بن ربیعہ، ابن جریج، ابی زبیر، جابر سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے قبروں کو پختہ کرنے اور ان پر لکھنے ان پر تعمیر کرنے اور ان پر چلنے سے منع فرمایا ہے۔ امام ابو عیسیٰ ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث حسن صحیح ہے اور کئی سندوں سے حضرت جابر سے مروی ہے بعض اہل علم جن میں حسن بصری بھی شامل ہیں قبروں کو گارے سے لیپنے کی اجازت دیتے ہیں امام شافعی کے نزدیک بھی اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔

قبرستان جانے کی دعا

ابوکریب، محمد بن صلت، ابی کدینہ، قابوس، ابی ظبیان، حضرت ابن عباس سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم مدینہ طیبہ کے قبرستان سے گزرے تو قبروں کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا (السَّلَامُ عَلَیْکُمْ یَا أَہْلَ الْقُبُورِ یَغْفِرُ اللَّہُ لَنَا وَلَکُمْ أَنْتُمْ سَلَفُنَا وَنَحْنُ بِالْأَثَرِ) (ترجمہ) اے قبر والو تم پر سلام ہو اللہ تعالی ہماری اور تمہاری مغفرت فرمائے تم ہم سے پہلے پہنچتے ہو اور ہم بھی تمہارے پیچھے آنے والے ہیں۔ اس باب میں حضرت بریدہ اور عائشہ سے بھی روایت ہے یہ حدیث حسن غریب ہے ابو کدینہ کا نام یحیی بن مہلب ہے اور ابو ظبیان کا نام حصین بن جندب ہے۔

قبروں کی زیارت کی اجازت

محمد بن بشار، محمود بن غیلان، حسن بن علی، ابو عاصم، سفیان، علقمہ، حضرت سلیمان بن بریدہ اپنے والد سے نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا میں نے تمہیں قبروں کی زیارت سے منع کیا تھا بلاشبہ اب محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو اپنی والدہ کی قبر کی زیارت کی اجازت مل گئی پس تم بھی قبروں کی زیارت کیا کرو کیونکہ یہ آخرت کی یاد دلاتی ہے۔ اس باب میں حضرت ابو سعید، ابن مسعود، انس، ابو ہریرہ اور ام سلمہ سے بھی روایت ہے۔ امام ابو عیسیٰ ترمذی فرماتے ہیں حدیث بریدہ حسن صحیح ہے۔ اہل علم کا اسی حدیث پر عمل ہے کہ قبروں کی زیارت کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ ابن مبارک، شافعی، احمد، اور اسحاق، کا بھی یہی قول ہے۔

عورتوں کو قبروں کی زیارت کرنا ممنوع ہے

قتیبہ، ابو عوانہ، عمر بن ابی سلمہ، ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے قبروں کی زیارت کے لیے بکثرت جانے والی عورتوں پر لعنت فرمائی ہے اس باب میں حضرت ابن عباس اور حسان بن ثابت سے بھی روایت ہے۔ امام ترمذی فرماتے ہیں کہ یہ حدیث حسن صحیح ہے بعض اہل علم کے نزدیک یہ اس وقت تھا جب نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے زیارت قبور کی اجازت نہیں دی تھی۔ جب آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اجازت دیدی تو یہ اجازت مردوں اور عورتوں دونوں کو شامل ہے بعض حضرات کہتے ہیں کہ عورتوں کے لیے قبروں کی زیارت اس لیے حرام ہے کہ ان میں صبر کم اور رونا پیٹنا، چیخنا، چلانا زیادہ ہوتا ہے۔

عورتوں کا قبر کی زیارت کرنا

حسین بن حریث، عیسیٰ بن یونس، ابن جریج، عبداللہ بن ابی ملیکہ سے روایت ہے کہ عبدالرحمن بن ابو بکر حبشہ میں فوت ہو گئے تو ان کو مکہ مکرمہ لا کر دفن کیا گیا، پھر جب حضرت عائشہ عبدالرحمن کی قبر پر آئیں تو فرمایا ہم دونوں اس طرح تھے جس طرح بادشاہ جزیمہ کے دو ہم نشین جو ایک مدت تک اکھٹے رہے ہوں یہاں تک کہ کہا جانے لگا یہ کبھی جدا نہ ہوں گے لیکن جب ہم جدا ہوئے تو ایسا محسوس ہوا گویا کہ مدت دراز تک اکٹھا رہنے کے باوجود میں اور مالک نے ایک رات بھی اکٹھے نہیں گزاری پھر فرمایا اللہ کی قسم اگر میں وہاں ہوتی تو تمہیں تمہاری وفات کی جگہ ہی دفن کراتی اور اگر موت سے پہلے تمہیں دیکھ لیتی تو کبھی تمہاری قبر پر نہ آتی۔

رات کو دفن کرنا

ابوکریب، محمد بن عمر، سواق، یحیی بن یمان، منہال بن خلیفہ، حجاج بن ارطاة، عطاء، حضرت ابن عباس سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ایک قبر میں (تحقیق کے لیے) رات کے وقت اتری تو آپ کے لیے چراغ سے روشنی کی گئی آپ نے میت کو قلبے کی طرف سے پکڑا اور فرمایا کہ اللہ تعالی تم پر رحم کرے تم بہت نرم دل اور قرآن کی اکثریت سے تلاوت کرنے والے تھے آپ نے اس کے جنازہ پر چار تکبیریں پڑھی۔ اس باب میں حضرت جابر اور یزید بن ثابت سے بھی روایت ہے یزید، زید بن ثابت کے بڑے بھائی ہیں۔ امام ترمذی فرماتے ہیں حدیث ابن عباس حسن ہے بعض اہل علم کا اسی حدیث پر عمل ہے فرماتے ہیں کہ میت کو قبلے کی طرف سے قبر میں اتارا جائے۔ بعض حضرات فرماتے ہیں کہ سر کی طرف سے رکھ کر قبر میں کھینچ لیں اکثر اہل علم نے رات کو دفن کرنے کی اجازت نہیں دی ہے۔

میت کو اچھے الفاظ میں یاد کرنا

احمد بن منیع، یزید بن ہارون، حمید، حضرت انس بن مالک سے روایت ہے کہ وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے پاس سے ایک جنازہ گزرا صحابہ کرام نے اس کی اچھی تعریف کی تو آپ نے فرمایا کہ اس کے لیے جنت واجب ہو گئی پھر فرمایا تم زمین پر اللہ کے گواہ ہو۔ اس باب میں حضرت عمر، کعب بن عجرہ، اور ابو ہریرہ سے بھی روایت ہے امام ترمذی فرماتے ہیں کہ حدیث انس حسن صحیح ہے۔

٭٭ یحیی بن موسی، ہارون بن عبد اللہ، ابو داؤد طیالسی، عبداللہ بن بریدہ، حضرت ابو اسود دیلی فرماتے ہیں کہ میں مدینہ میں ایک روز حضرت عمر کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ ایک جنازہ گزرا لوگوں نے اس کی تعریف کی حضرت عمر نے فرمایا کہ واجب ہو گئی، میں نے کہا کیا واجب ہو گئی، آپ نے فرمایا میں نے اسی طرح کہا جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا جس مسلمان کے حق میں تین آدمی گواہی دے دیں اس کے لیے جنت واجب ہو گئی، ابو اسود فرماتے ہیں ہم نے عرض کیا اگر دو شخص گواہی دیں تب بھی آپ نے فرمایا ہاں دو بھی۔ راوی کہتے ہیں کہ ہم نے آپ سے ایک شخص کے بارے میں نہیں پوچھا۔ امام ترمذی فرماتے ہیں کہ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ ابو الاسود دیلی کا نام ظالم بن عمرو بن سفیان ہے۔

جس کا بیٹا فوت ہو جائے اس کا ثواب

قتیبہ، مالک بن انس، ابن شہاب، سعید بن مسیب، ابو ہریرہ، حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا مسلمانوں میں سے اگر کسی کے تین بیٹے فوت ہو جائیں تو اسے دوزخ کی آگ نہیں چھوئے گی مگر صرف قسم پوری کرنے کے بقدر، اس باب میں حضرت عمر، معاذ، کعب، عتبہ بن عبد، ام سلیم، جابر، انس، ابو ذر، ابن مسعود، ابو ثعلبہ، ابن عباس، عقبہ بن عامر اور ابو سعید، قرہ بن ایاس مزنی رضی اللہ عنہم اجمعین سے بھی روایت ہے اور ابو ثعلبہ کی نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے ایک ہی حدیث مروی ہے اور یہ ابو ثعلبہ خشنی نہیں ہیں امام ترمذی فرماتے ہیں کہ حدیث ابو ہریرہ حسن صحیح ہے۔

٭٭ نصر بن علی، اسحاق بن یوسف، عوام بن حوشب، ابی محمد، مولی عمر بن خطاب، ابی عبیدہ، حضرت عبداللہ بن مسعود سے روایت ہے کہ وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا جس کے تین بالغ بچے فوت ہوئے وہ اسے دوزخ سے بچانے کے لیے مضبوط قلعے کی مانند ہوں گے۔ ابو ذر نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم میں دو بھیج چکا ہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا دو بھی اسی طرح ہیں۔ سیدالقراء ابی بن کعب نے عرض کیا میرا بھی ایک بیٹا فوت ہوا ہے پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا ایک بھی لیکن یہ (ثواب) پہلے صدمہ کے وقت ہے۔ امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث غریب ہے ابو عبیدہ نے اپنے والد سے کوئی حدیث نہیں سنی۔

٭٭ نصر بن علی، ابو خطاب، زیاد بن یحیی بصری، حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے سنا کہ میری امت میں سے جس کے دو بیٹے فوت ہوئے اللہ تعالی اسے جنت میں داخل کرے گا حضرت عائشہ نے عرض کیا آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی امت میں جس کا ایک بیٹا فوت ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا ایک بھی کافی ہے اے نیک عورت پھر عرض کیا میں اپنی امت کا فرد ہوں میری امت کے لیے کیسی کی جدائی کی تکلیف میری جدائی کی تکلیف سے زیادہ نہیں۔ امام ترمذی فرماتے ہیں کہ یہ حدیث حسن غریب ہے ہم اسے صرف عبدربہ بن بارق کی روایت سے جانتے ہیں ان سے کئی ائمہ حدیث روایت کرتے ہیں۔

٭٭ احمد بن سعید، حبان بن ہلال ہم سے روایت کی احمد بن سعید مرابطی نے انہوں نے حباب بن ہلال سے انہوں نے عبدربہ بن بارق سے اسی کی مثل روایت کی ہے اور سماک بن ولید حنفی وہ ابو زمیل حنفی ہیں۔

شہداء کون ہیں ؟

انصاری، مالک، قتیبہ، مالک، سمی، ابی صالح، حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا شہید پانچ ہیں۔ طاعون سے مرنے والا، پیٹ کی بیماری سے مرنے والا، ڈوب کر مرنے والا، دیوار وغیرہ کے نیچے دب کر مرنے والا اور اللہ کے راستے میں شہید ہونے والا۔ اس باب میں حضرت انس، صفران بن امیہ، جابر، ابن عتیک، خالد بن عفطہ، سفیان بن صرد، ابو موسی، اور حضرت عائشہ سے بھی روایت ہے۔ امام ترمذی فرماتے ہیں حدیث ابو ہریرہ حسن صحیح ہے۔

٭٭ عبید بن اسباط بن محمد، ابو سنان، ابو اسحاق، سلیمان بن صرد سے روایت ہے کہ سلیمان بن صرف نے خالد بن عرفہ سے یا خالد نے سلیمان سے کہا کہ کیا تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے یہ حدیث سنی ہے کہ آپ نے فرمایا جو پیٹ کی بیماری کی وجہ سے مر گیا اسے عذاب قبر نہیں ہو گا۔ یہ سن کر دونوں میں سے ایک نے دوسرے سے کہا ہاں۔ میں نے سنا ہے۔ امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث اس باب میں حسن غریب ہے اور یہ حدیث دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

طاعون سے بھاگنا منع ہے

قتیبہ، حماد بن زید، عمر بن شینار، عامر بن سعد، حضرت اسامہ بن زید سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے طاعون کا ذکر کیا تو فرمایا یہ بنی اسرائیل کی ایک جماعت کی طرف بھیجے جانے والا عذاب کا بچا ہوا حصہ ہے پس اگر کسی جگہ میں یہ وبا پھیلی ہوئی ہو اور تم وہیں ہو تو وہاں سے فرار نہ اختیار کرو اگر تم اس جگہ نہیں ہو جہاں طاعون پھیلا تو وہاں نہ جاؤ۔ اس باب میں حضرت سعد، خزیمہ، ثابت، عبدالرحمن، جابر، اور حضرت عائشہ سے بھی روایت ہے امام ترمذی فرماتے ہیں حدیث اسامہ بن زید حسن صحیح ہے۔

جو اللہ کی ملاقات کو محبوب رکھے اللہ بھی اس سے ملنا پسند فرماتا ہے

احمد بن مقدام، ابو اشعث، معتمر بن سلیمان، قتادہ، حضرت عبادہ بن صامت سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا ! جو شخص اللہ تعالی سے ملاقات کو محبوب رکھتا ہے اللہ بھی اس سے ملنا پسند فرماتا ہے اور جو اللہ کی ملاقات کو ناپسند کرے اللہ بھی اس سے ملاقات کرنا پسند نہیں کرتے۔ اس باب میں حضرت ابو موسی، ابو ہریرہ، اور عائشہ سے بھی روایت ہے امام ابو عیسیٰ ترمذی فرماتے ہیں حدیث عبادہ بن صامت حسن صحیح ہے۔

٭٭ حمید بن سعدہ، خالد بن حارث، سعید بن ابی عروبہ، محمد بن بشار، محمد بن بکر، سعید بن ابی عروبہ، قتادہ، زرارہ، ابی اوفی، سعد بن ہشام، حضرت عائشہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا جو اللہ سے ملنا چاہتا ہے اللہ بھی اس سے ملنے کی چاہت رکھتے ہیں اور جو اللہ سے ملاقات کو ناپسند کرے اللہ بھی اسے ملنا پسند نہیں کرتا، حضرت عائشہ فرماتی ہیں میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ہم میں سے ہر آدمی موت کو ناپسند کرتا ہے فرمایا یہ بات نہیں بلکہ جب مومن کو اللہ کی رحمت، اس کی رضا، اور جنت کی بشارت دی جاتی ہے تو اس کے دل میں اللہ سے ملاقات کا اشتیاق پیدا ہوتا ہے پس اللہ بھی اس سے ملاقات کے مشتاق ہوتے ہیں لیکن جب کافر کو اللہ کے عذاب اور اس کے غصے کے بارے میں بتایا جاتا ہے تو وہ اللہ کی ملاقات سے گریز کرتا ہے پس اللہ بھی اس سے ملاقات کرنے کو ناپسند کرتا ہے امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث حسن صحیح ہے۔

خود کشی کرنے والے کی نماز جنازہ

یوسف بن عیسی، وکیع، اسرائیل، سماک بن حرب، حضرت جابر بن سمرہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے خود کشی کر لی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اس کی نماز جنازہ نہیں پڑھی، امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث حسن ہے اہل علم کا اس مسئلہ میں اختلاف ہے بعض علماء فرماتے ہیں کہ جس شخص نے بھی قبلہ رخ نماز پڑھی ہو اس کی نماز جنازہ پڑھی جائے خواہ اس نے خودکشی ہی کیوں نہ کی۔ سفیان ثوری، اور اسحاق کا یہی قول ہے۔ امام احمد فرماتے ہیں کہ خودکشی کرنے والے کی نماز جنازہ پڑھنا امام کے لیے جائز نہیں۔ باقی لوگ پڑھ لیں۔

قرض دار کی نماز جنازہ

محمود بن غیلان، ابو داؤد، شعبہ، عثمان بن عبداللہ بن موہب نے عبداللہ بن ابی قتادہ کو اپنے والد سے نقل کرتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے پاس ایک جنازہ لایا گیا تاکہ اس کی نماز جنازہ پڑھی جائے۔ آپ نے صحابہ کرام کو حکم دیا کہ اپنے ساتھی کی نماز جنازہ پڑھو۔ یہ مقروض تھا، ابو قتادہ نے عرض کیا وہ قرض میرے ذمہ ہے میں ہی اسے ادا کروں گا۔ آپ نے پوچھا پورا قرضہ؟ انہوں نے عرض کیا ہاں پورا۔ پس آپ نے اس کی نماز جنازہ پڑھی۔ اس باب میں حضرت جابر، سلمہ بن اکوع، اور اسماء بنت یزید سے بھی روایت ہے امام عیسیٰ ترمذی فرماتے ہیں حدیث ابو قتادہ حسن صحیح ہے۔

قرض دار کی نماز جنازہ

ابوفضل، مکتوم بن عبدا، عبداللہ بن صالح، لیث، عقیل، ابن شہاب، ابو سلمہ بن عبدالرحمن، حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے پاس کسی مقروض شخص کی میت نماز جنازہ کے لیے لائی جاتی تو آپ پوچھتے کیا اس نے اپنے قرض کی ادائیگی کے لیے کچھ چھوڑا ہے اگر کہا جاتا کہ چھوڑا ہے تو اس کی نماز جنازہ پڑھتے ورنہ مسلمانوں سے فرماتے اپنے ساتھی کی نماز پڑھ لو لیکن جب اللہ تعالی نے بہت سی فتوحات عنایت فرمائیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کھڑے ہوئے اور فرمایا میں مومنوں کے لیے اپنی ذات سے زیادہ بہتر ہوں لہذا جو مسلمان قرض چھوڑ کر مرجائے اس کی ادائیگی میرے ذمے ہے اور جو کچھ وہ وراثت میں چھوڑے گا وہ اس کے وارثوں کے لیے ہو گا۔ امام عیسیٰ ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث لیث بن سعد سے روایت کرتے ہیں۔

عذاب قبر

ابو سلمہ، یحیی بن خلف، بشر بن مفضل، عبدالرحمن بن اسحاق، سعید بن ابی سعید، حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا جب کسی میت یا فرمایا تم میں سے کسی ایک کو قبر میں رکھ دیا جاتا ہے تو اس کے پاس سیاہ رنگ کے نیلی آنکھوں والے دو فرشتے آتے ہیں ایک کو منکر دوسرے کو نکیر کہا جاتا ہے وہ دونوں اس میت سے پوچھتے ہیں تو اس شخص (یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم (کے بارے میں کیا کہتا ہے وہ شخص وہی جواب دیتا ہے جو دنیا میں کہتا تھا کہ وہ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد اللہ کے بندے اور رسول ہیں۔ پھر وہ فرشتے کہیں گے کہ ہم جانتے تھے تو یہی جواب دے گا پھر اس کی قبر ستر گز وسیع کر دی جاتی ہے اور اسے منور کر دیا جاتا ہے پھر اسے کہا جاتا ہے کہ سوجا۔ وہ کہتا ہے میں اپنے گھر والوں کے پاس جا کر ان کو بتا دوں وہ کہتے ہیں دلہن کی طرح سوجا جسے اس کے محبوب ترین شخص کے علاوہ کوئی نہیں جگاتا۔ اللہ اسے قیامت کے دن اس کی خواب گاہ سے اٹھائے گا اور اگر وہ منافق ہو تو یہ جواب دے گا میں لوگوں سے کچھ سنا کرتا تھا اور اسی طرح کہا کرتا تھا مجھے نہیں معلوم۔ فرشتے کہیں گے ہمیں معلوم تھا کہ تو یہی جواب دے گا پھر زمین کو حکم دیا جاتا ہے کہ اسے دبوچ لے۔ وہ اسے اس طرح دبوچتی ہے کہ اس کی پسلیاں ایک دوسرے میں گھس جاتی ہیں پھر اسے اسی طرح عذاب دیا جاتا ہے یہاں تک کہ قیامت کے دن اسے اسی جگہ سے اٹھایا جائے گا اس باب میں حضرت علی، زید بن ثابت، ابن عباس، براء بن عازب، ابو ایوب، انس، جابر، عائشہ، ابو سعید نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے عذاب قبر کے متعلق روایت کرتے ہیں امام ترمذی فرماتے ہیں حدیث ابو ہریرہ حسن غریب ہے۔

٭٭ ہناد، عبدہ، عبیدہ، نافع، حضرت ابن عمر سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا جب کوئی شخص مرتا ہے تو اسے اس کے رہنے کی جگہ دکھائی جاتی ہے اگر وہ جنت والوں میں سے ہوتا ہے تو جنت اور اگر وہ دوزخیوں میں سے ہوتا ہے تو دوزخ دکھائی جاتی ہے پھر اس سے کہا جاتا ہے یہ تیرا ٹھکانہ ہے یہاں تک کہ قیامت کے دن اللہ تجھے اٹھائے۔ امام ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث حسن صحیح ہے۔

مصیبت زدہ کو تسلی دینے پر اجر

یوسف بن عیسی، علی بن عاصم، محمد بن سوقد، ابراہیم، اسود، حضرت عبداللہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا جو شخص کسی مصیبت زدہ کو تسلی دیتا ہے اسے بھی اسی طرح ثواب ہوتا ہے امام عیسیٰ فرماتے ہیں کہ یہ حدیث غریب ہے ہم اس حدیث کو صرف علی بن عاصم کی روایت سے مرفوع جانتے ہیں بعض راوی اس حدیث کو محمد بن سوقہ سے بھی اس سند سے اسی کی مثل موقوفاً روایت کرتے ہیں کہا جاتا ہے کہ اکثر علی بن عاصم پر اسی حدیث کی وجہ سے طعن کا گیا۔

جمعہ کے دن مرنے والے کی فضیلت

محمد بن بشار، عبدالرحمن بن مہدی، ابو عامر، ہشام بن سعد، سعید بن ابی ہلال، ربیعہ بن سیف، حضرت عبداللہ بن عمر سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا جو شخص جمعہ کے دن یا جمعہ کی رات کو فوت ہوتا ہے تو اللہ تعالی اسے قبر کے فتنے سے محفوظ رکھتے ہیں۔ اما ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث غریب ہے۔ اس کی سند متصل نہیں کیونکہ ربیعہ بن سیف اسے عبدالرحمن حبلی سے عبداللہ بن عمر کے حوالے سے روایت کرتے ہیں۔ ہم نہیں جانتے کہ ربیعہ بن سیف نے عبداللہ بن عمر سے کوئی حدیث سنی ہو۔

جنازہ میں جلدی کرنا

قتیبہ، عبداللہ بن وہب، سعید بن عبد اللہ، محمد بن عمر بن علی بن ابی طالب سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا اے علی تین چیزوں میں دیر نہ کرو۔ نماز جب کہ اس کا وقت ہو جائے جنازہ جب کہ حاضر ہو اور بیوہ عورت جب کے لیے کفو (مناسب رشتہ) مل جائے۔ امام ترمذی فرماتے ہیں کہ یہ حدیث غریب ہے اور میں اس کی سند کو متصل نہیں سمجھنا۔

تعزیت کی فضیلت

محمد بن حاتم، یونس ابن محمد، ام الاسود، عبیدہ بن ابی برزہ، ابو برزہ، حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا جس نے کسی عورت سے اس کے بیٹے کے فوت ہو جانے پر تعزیت کی اسے جنت میں ایک چادر پہنائی جائے گی۔ امام ترمذی فرماتے ہیں کہ یہ حدیث غریب ہے اس کی سند قوی نہیں۔

نماز جنازہ میں ہاتھ اٹھانا

قاسم بن دینار، اسماعیل بن ابان، یحیی بن یعلی اسلمی، ابو فروہ، یزید بن سنان، زید بن ابی انسیة، زہری، سعید بن مسیب، ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے جنازہ پر تکبیر کہی اور صرف پہلی تکبیر میں ہاتھ اٹھائے اور دایاں ہاتھ بائیں ہاتھ پر رکھا۔ امام ترمذی فرماتے ہیں کہ یہ حدیث غریب ہے ہم اس حدیث کو صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔ اہل علم کا اس مسئلہ میں اختلاف ہے اکثر صحابہ کرام اور دوسرے علماء فرماتے ہیں کہ جنازہ کی تمام تکبیروں میں ہاتھ اٹھائے جائیں ابن مبارک، شافعی، احمد، اسحاق، کا یہی قول ہے۔ بعض علماء کہتے ہیں کہ صرف پہلی مرتبہ ہاتھ اٹھائے سفیان ثوری اور اہل کوفہ کا یہی قول ہے ابن مبارک سے مروی ہے کہ نماز جنازہ میں ہاتھ باندھنا ضروری ہے لیکن بعض اہل علم کے نزدیک نماز جنازہ میں بھی دوسری نمازوں کی طرح ہاتھ باندھنے چاہییں ، امام ترمذی فرماتے ہیں کہ مجھے ہاتھ باندھنا زیادہ پسند ہے۔

مومن کا جی قرض کی طرف لگا رہتا ہے جب تک کوئی اس کی طرف سے ادا نہ کر دے

محمود بن غیلان، ابو اسامہ، زکریا بن زائدہ، سعد بن ابراہیم، ابی سلمہ، حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا کہ مومن کا دل اس کے قرض ہی کی طرف لگا رہتا ہے جب تک کوئی اس کی طرف سے ادا نہ کر دے۔

٭٭ محمد بن بشار، عبدالرحمن بن مہدی، ابراہیم بن سعد، عمر ابن سلمہ، ابو ہریرہ ہم سے روایت کی محمد بن بشار نے انہوں نے عبدالرحمن بن مہدی سے انہوں نے ابراہیم بن سعد سے انہوں نے اپنے والد سے انہوں نے ابو ہریرہ سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا کہ مومن کا دل و جان لگا رہتا ہے اپنے قرض میں یہاں تک کہ اس کی طرف سے ادا نہ کر دیا جائے۔ امام عیسیٰ فرماتے ہیں کہ یہ حدیث حسن ہے اور پہلی حدیث سے اصح ہے۔

٭٭ عباس بن محمد دوری، عبداللہ بن یزید مقری، سعید بن ایوب، عمرو بن جابر حضرمی، حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ارشاد فرمایا مسلمانوں کے فقراء جنت میں اغنیاء سے چالیس سال پہلے داخل ہوں گے یہ حدیث حسن ہے

٭٭ ابو کریب، محاربی، محمد بن عمرو، ابو سلمۃ، حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ارشاد فرمایا فقراء مسلمان جنت میں اغنیاء سے نصف دن پہلے داخل ہوں گے اور وہ آدھا دن پانچ سو سال کا ہو گا یہ حدیث حسن صحیح ہے

رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور آپ کے گھر والوں کا رہن سہن

احمد بن منیع، عباد بن عباد مہلبی، مجالد، شعبی، حضرت مسروق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا انہوں نے میرے لئے کھانا منگوایا اور فرمایا میں جب سیر ہو کر کھانا کھاتی ہوں تو مجھے رونا آتا ہے مسروق کہتے ہیں میں نے پوچھا کیوں ام المومنین نے فرمایا مجھے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی دنیا سے رحلت یاد آ جاتی ہے اللہ کی قسم آپ کبھی ایک دن میں روٹی اور گوشت سے دو مرتبہ سیر نہ ہوئے یہ حدیث حسن ہے

باب

ابو کریب، محاربی، عمار بن سیف ضبی، ابو معان بصری، ابن سیرین، حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا غم کے کنویں سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگو صحابہ کرام نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم غم کا کنواں کیا ہے آپ نے فرمایا جہنم میں ایک وادی ہے جس سے جہنم بھی دن میں سو مرتبہ پناہ مانگتا ہے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اس میں کون داخل ہو گا آپ نے فرمایا ریاکاری سے قرآن پڑھنے والے یہ حدیث غریب ہے

باب

محمد بن مثنی، ابو داؤد، ابو سنان شیبانی، حبیب بن ابی ثابت، ابو صالح، حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایات ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ایک شخص نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اس شخص کے متعلق کیا حکم ہے جو اپنے کسی نیک عمل کو چھپاتا ہے لیکن جب وہ ظاہر ہو جاتا ہے تو بھی وہ اس کے ظاہر ہو جانے کو پسند کرتا ہے آپ نے فرمایا اس کے لئے دو اجر ہیں ایک چھپانے کا اور دوسرا ظاہر ہو جانے کا یہ حدیث غریب ہے اعمش نے حبیب بن ابی ثابت سے اور وہ ابو صالح سے یہ حدیث مرسلاً نقل کرتے ہیں بعض اہل علم اس حدیث کی تفسیر اس طرح کرتے ہیں کہ جب اس کی نیکی لوگوں پر ظاہر ہو جاتی ہے اور وہ اس کی تعریف کرتے ہیں تو وہ اس سے خوش ہوتا ہے اور اسے آخرت میں بہتر معاملے کی امید ہوتی ہے کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا تم لوگ اللہ کی زمین پر گواہ ہو لیکن اگر کوئی شخص لوگوں کے اس سے مطلع ہونے کو اس لئے پسند کرے کہ وہ اس کی تعظیم کریں گے تو یہ ریاکاری ہے جبکہ بعض علماء یہ بھی کہتے ہیں کہ لوگوں کے اس کے بھلائی سے مطلع ہونے پر خوشی کا مطلب یہ ہے کہ لوگ بھی اس نیک کام میں اس کی اتباع کریں گے اور اسے بھی اجر ملے گا تو یہ ایک مناسب بات ہے

 

آدمی اس کے ساتھ ہو گا جس کے ساتھ وہ صحبت رکھے گا

ابو ہشام رفاعی، حفص بن غیاث، اشعث، حسن، حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا آدمی اسی کے ساتھ ہو گا جسے وہ پسند کرے گا اور اسے اپنے کئے ہوئے عمل کا ہی اجر ملے گا اس باب میں حضرت علی عبداللہ بن مسعود صفوان بن عسال اور ابو موسی سے بھی احادیث منقول ہیں یہ حدیث حسن بصری بواسطہ انس کی روایت سے حسن غریب ہے

٭٭ علی بن حجر، اسماعیل بن جعفر، حمید، حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم قیامت کب آئے گی آپ نماز کے لئے کھڑے ہو گئے اور جب فارغ ہوئے تو پوچھا سوال کرنے والا کہاں ہے ایک شخص نے عرض کیا میں حاضر ہوں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم فرمایا تم نے قیامت کے لئے کیا تیاری کی ہے اس نے عرض کیا میں نے اس کی تیاری میں لمبی نمازیں اور بہت زیادہ روزے تو نہیں رکھے ہاں اتنا ضرور ہے کہ میں اللہ اور اس کے رسول سے محبت رکھتا ہوں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا ہر شخص اسی کے ساتھ ہو گا جس سے وہ محبت کرتا ہے اور تم بھی اسی کے ساتھ ہو گے جس سے محبت کرتے ہو راوی کہتے ہیں کہ میں مسلمانوں کو اسلام کے بعد اس بات سے زیادہ کسی چیز سے خوش ہوتے نہیں دیکھا یہ حدیث صحیح ہے

٭٭ محمود بن غیلان، یحیی بن آدم، سفیان، عاصم، زر بن حبیش، حضرت صفوان بن عسال سے روایت ہے کہ ایک بلند آواز والا دیہاتی آیا اور عرض کیا اے محمد اگر کوئی آدمی کسی قوم سے محبت کرتا ہو لیکن وہ ان سے مل نہیں سکا پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا قیامت کے دن آدمی کے ساتھ ہو گا جس سے وہ محبت کرتا ہے یہ حدیث صحیح ہے

٭٭ احمد بن عبدہ ضبی، حمادبن زید، عاصم زر، صفوان بن عسال انہوں نے حماد بن زید سے انہوں نے عاصم سے انہوں نے زر سے انہوں نے صفوان سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے محمود کی حدیث کی مانند روایت نقل کی ہے

اللہ تعالیٰ سے حسن ظن رکھنے کے متعلق

ابو کریب، وکیع، جعفر بن برقان، یزید بن اصم، حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میں اپنے بندے کے گمان کے پاس ہوتا ہوں اور میں اس کے ساتھ ہوں جب بھی وہ مجھے پکارے یہ حدیث حسن صحیح ہے

نیکی اور بدی کے بارے میں

موسی بن عبدالرحمن کندی کوفی، زید بن حباب، معاویہ بن صالح، عبدالرحمن بن جبیر بن نفیر حضرمی، ان کے والد، حضرت نواس بن سمعان فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے نیکی اور بدی کے بارے میں پوچھا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا نیکی عمدہ اخلاق ہے اور گناہ وہ ہے جو تمہارے دل میں کھٹکے اور تم لوگوں کا اس سے مطلع ہونا پسند نہ کرو

٭٭ محمد بن بشار، عبدالرحمن بن مہدی، معاویہ بن صالح عبدالرحمن ہم سے روایت کی بندار نے انہوں نے عبدالرحمن بن مہدی سے وہ معاویہ بن صالح سے اور وہ عبدالرحمن سے اسی کی مانند حدیث نقل کرتے ہیں البتہ انہوں نے فرمایا کہ میں نے خود نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے یہ بات پوچھی۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔

 

اللہ کے لئے محبت کرنا

احمد بن منیع، کثیر بن ہشام، جعفر بن برقان، حبیب بن ابی مرزوق، عطاء بن ابی رباح، ابو مسلم خولانی، حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے سنا آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میرے لئے آپس میں محبت کرنے والوں کے لئے نور کے منبر ہوں گے جن پر انبیاء اور شہدا بھی رشک کریں گے اس باب میں حضرت ابو ذر ابن مسعود عبادہ بن صامت ابو مالک اشعری اور ابو ہریرہ سے بھی احادیث منقول ہیں یہ حدیث صحیح ہے اور ابو مسلم خولانی کا نام عبداللہ بن ثوب ہے

٭٭ انصاری، معن، مالک، حبیب بن عبدالرحمن، حفص بن عاصم حضرت ابو ہریرہ یا حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا سات آدمی ایسے ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ کا سایہ نصیب ہو گا جس دن اس کے سائے کے سوا اور کوئی سایہ نہ ہو گا انصاف کرنے والا حکمران وہ نوجوان جس نے اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے ہوئے نشو و نما پائی ہو وہ شخص جو مسجد سے نکلتا ہے تو واپس مسجد جانے تک اس کا دل اسی میں لگا رہتا ہے ایسے دو شخص جو آپس میں اللہ کے لئے محبت کرتے ہیں اور اسی پر جدا ہوتے ہیں وہ شخص جو تنہائی میں اللہ کو یاد کرے اور اس کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے وہ شخص جسے حسین و جمیل اور حسب و نسب والی عورت زنا کے لئے بلائے اور وہ یہ کہہ کر انکار کر دے کہ میں اللہ سے ڈرتا ہوں ایسا شخص جس طرح صدقہ کرتا ہے کہ اس کے بائیں ہاتھ کو بھی خبر نہیں ہوتی کہ دائیں ہاتھ نے کیا خرچ کیا یہ حدیث حسن صحیح ہے اور مالک بن انس سے بھی کئی سندوں سے اسی طرح منقول ہے لیکن اس میں شک ہے کہ ابو ہریرہ راوی ہیں یا ابو سعید پھر عبید اللہ بن عمر بھی اسے خبیب بن عبدالرحمن سے وہ حفص بن عاصم سے وہ ابو ہریرہ سے اور وہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے نقل کرتے ہیں

٭٭ سواربن عبداللہ عنبری، محمد بن مثنی، یحیی بن سعید، عبید اللہ بن عمر، خبیب بن عبدالرحمن حفص بن عاصم ابو ہریرہ اور محمد بن مثنی نے دونوں نے کہا ہم سے روایت کی یحیی بن سعید نے انہوں نے عبید اللہ بن عمر سے انہوں نے خبیب بن عبدالرحمن سے انہوں نے حفص بن عاصم سے انہوں نے ابو ہریرہ سے انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے مالک بن انس کی حدیث کے ہم معنی روایت کی لیکن اس میں تیسرا شخص وہ ہے جس کا دل مسجد میں لگا رہتا ہے اور ذات و حسب کی جگہ ذات و منصب کے الفاظ ہیں یہ حدیث حسن صحیح ہے

محبت کی خبر دینے کے متعلق

بندار، یحیی بن سعید قطان، ثور بن یزید، حبیب بن عبید، حضرت مقدام بن معد یکرب سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا جب تم میں کوئی کسی بھائی سے محبت کرے تو اسے چاہئے کہ اسے بتا دے اس باب میں ابو ذر اور انس سے بھی احادیث منقول ہیں حضرت مقدام کی حدیث حسن صحیح غریب ہے

٭٭ ہناد و قتیبہ ، حاتم اسماعیل، عمران بن مسلم قصیری، سعید بن سلیمان، حضرت یزید بن نعامہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا تم میں سے کوئی کسی سے بھائی چارگی قائم کر لے تو اس سے اس کا نام اس کے والد کا نام اور اس کے خاندان کا نام پوچھے کیونکہ یہ بات محبت کو زیادہ قائم کرتی ہے یہ حدیث غریب ہے ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں یزید بن نعامہ کا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے سماع ہمیں معلوم نہیں حضرت ابن عمر سے بھی اس حدیث کی مثل مرفوع روایت منقول ہے لیکن اس کی سند صحیح نہیں

تعریف کر نے اور تعریف کرانے والوں کی برائی

محمد بن بشار، عبدالرحمن بن مہدی، سفیان، حبیب بن ابی ثابت، مجاہد، ابو معمر سے روایت ہے کہ ایک شخص کھڑا ہوا اور امراء میں سے ایک امیر کی تعریف کرنے لگا مقداد بن اسود نے اس کے منہ میں مٹی ڈالنا شروع کر دی اور فرمایا ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے حکم دیا ہے کہ ہم تعریف کرنے والوں کے منہ میں مٹی ڈالیں یہ حدیث حسن صحیح ہے اور اس باب میں حضرت ابو ہریرہ سے بھی حدیث منقول ہے زائدہ بھی یہ حدی یزید بن ابی زیاد سے وہ مجاہد سے اور وہ ابن عباس سے نقل کرتے ہیں مجاہد کی ابو معمر سے روایت اصح ہے ابو معمر کا نام عبداللہ بن سخبرہ ہے اور مقداد بن اسود سے مقداد بن عمر کندی مراد ہیں ان کی کنیت ابو معبد ہے یہ اسود بن عبد یغوث کی طرف منسوب ہیں کیونکہ انہوں نے بچپن میں انہیں متبنی بنایا تھا

٭٭ محمد بن عثمان کوفی، عبید اللہ بن موسیٰ سالم خیاط، حسن، حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ہمیں حکم دیا کہ ہم تعریف کرنے والوں کے منہ میں مٹی ڈالیں یہ حدیث حضرت ابو ہریرہ کی روایت سے غریب ہے

مومن کی محبت کے متعلق

سوید بن نصر، عبداللہ بن مبارک، حیوۃ بن شریح، سالم بن غیلان، ولید بن قیس تجیبی، حضرت ابو سعید کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا کہ صرف مومن ہی کی محبت اختیار کرو اور متقی آدمی ہی کو کھانا کھلاؤ اس حدیث مبارکہ کو ہم صرف اسی سند سے جانتے ہیں

مصیبت پر صبر کرنے کے بارے میں

 قتیبہ ، لیث، یزید بن ابی حبیب، سعد بن سنان، حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا اللہ جب اپنے کسی بندے سے بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے تو اس کے عذاب میں جلدی کرتا ہے اور دنیا ہی میں اس کا بدلہ دے دیتا ہے اور اگر کسی کے ساتھ شر کا ارادہ کرتا ہے تو اس کے گناہوں کی سزا قیامت تک مؤخر کر دیتا ہے اس سند سے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے یہ بھی منقول ہے کہ آپ نے فرمایا زیادہ ثواب بڑی آزمائش ہے انہیں آزمائش میں مبتلا کر دیتا ہے پس جو راضی ہو جائے اس کے لئے رضا اور جو ناراض ہو اس کے لئے ناراضگی مقدر ہو جاتا ہے یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے

٭٭ محمود بن غیلان، ابو داؤد، شعبۃ، اعمش کہتے ہیں میں نے اباوائل کو حدیث بیان کرتے ہوئے سنا وہ کہتے ہیں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے درد سے شدید کسی کا درد نہیں دیکھا یہ حدیث حسن صحیح ہے

٭٭ قتیبہ ، شریک، عاصم، مصعب بن سعد اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کون لوگ زیادہ آزمائش میں مبتلا کئے جاتے ہیں فرمایا انبیاء پھر ان کے مثل اور پھر ان کے مثل پھر انسان اپنے دین کے مطابق آزمائش میں مبتلا کیا جاتا ہے اگر دین پر سختی سے کاربند ہو تو سخت آزمائش ہوتی ہے اور اگر دین میں نرم ہو تو آزمائش بھی اس کے مطابق ہوتی ہے پھر وہ آزمائش اسے اس وقت تک نہیں چھوڑتی جب تک وہ گناہوں سے پاک نہیں ہو جاتا یہ حدیث حسن صحیح ہے

٭٭ محمد بن عبدالاعلی، یزید بن زریع، محمد بن عمرو، ابو سلمۃ، حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے مومن مرد و عورت پر ہمیشہ آزمائش رہتی ہے کبھی اس کی ذات میں کبھی اولاد میں اور کبھی مال میں یہاں تک کہ وہ جب اللہ تعالیٰ سے ملاقات کرتا ہے تو گناہوں سے پاک ہوتا ہے یہ حدیث حسن صحیح ہے اس باب میں حضرت ابو ہریرہ اور خذیفہ بن یمان کی بہن سے بھی حدیث منقول ہے

بینائی زائل ہونے کے متعلق

عبد اللہ بن معاویہ جمحی، عبدالعزیز بن مسلم، ابو ظلال، حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر میں نے کسی بندے سے دنیا میں اس کی آنکھیں سلب کر لیں تو اس کا بدلہ صرف اور صرف جنت ہے اس باب میں حضرت ابو ہریرہ اور زید بن ارقم سے بھی احادیث منقول ہیں یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے اور ابو ظلال کا نام ہلال ہے

٭٭ محمود بن غیلان، عبدالرزاق، سفیان، اعمش، ابو صالح، حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ مرفوع حدیث قدسی نقل کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں نے اگر کسی بندے کی بینائی زائل کر دی اور اس نے اس آزمائش پر صبر کیا اور مجھ سے ثواب کی امید رکھی تو میں اس کے لئے جنت سے کم بدلہ دینے پر کبھی راضی نہیں ہوں گا اس باب میں عرباض بن ساریہ سے بھی حدیث منقول ہے یہ حدیث حسن صحیح ہے

٭٭ محمد بن حمید رازی و یوسف بن موسیٰ قطان بغدادی، عبدالرحمن بن مغراء ابو زہیر، اعمش، ابو زبیر، حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ارشاد فرمایا قیامت کے دن جب آزمائش والوں کو ان مصبیتوں کا بدلہ دیا جائے گا اہل عافیت تمنا کریں گے کاش ان کی کھالیں دنیا میں قینچیوں سے کاٹ دی جاتیں تاکہ انہیں بھی اسی طرح اجر ملتا حدیث حسن غریب ہے ہم اس حدیث کو صرف اسی سند سے جانتے ہیں بعض حضرات اسے اعمش سے بھی نقل کرتے ہیں اعمش طلحہ بن مصرف سے اور وہ مسروق سے اس کے ہم معنی حدیث بیان کرتے ہیں

٭٭ سوید بن نصر، عبد اللہ، ان کے والد، حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا کوئی شخص ایسا نہیں جو موت کے بعد شرمندہ نہ ہو صحابہ کرام نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کس چیز پر ندامت ہو گی آپ نے فرمایا اگر تم نیک ہو تو نادم ہو گا کہ میں نے زیادہ عمل کیوں نہ کیا اور اگر گناہ گار ہے تو اس بات پر ندامت ہو گی کہ میں گناہ سے کیوں نہ بچا اس حدیث کو ہم صرف اسی سند سے جانتے ہیں شعبہ نے یحیی بن عبید اللہ کے بارے میں کلام کیا ہے

٭٭ سوید، ابن مبارک، یحیی بن عبید اللہ، عبید اللہ، حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا آخری زمانے میں کچھ لوگ ایسے ہوں گے جو دنیا کو دین سے حاصل کریں گے وہ دبنوح کی کھال کا لباس پہنیں گے اور ان کی زبانیں چینی سے زیادہ میٹھی ہوں گی جبکہ ان کے دل بھیڑیوں کے دلوں سے بدتر ہوں گے چنانچہ اللہ تعالیٰ فرمائیں گے کیا تم میرے سامنے غرور کرتے اور مجھ پر اتنی جرأت رکھتے ہو میں اپنی ذات کی قسم کھاتا ہوں کہ میں ان میں ایک ایسا فتنہ برپا کر دوں گا کہ انکا بردبار ترین شخص بھی حیران رہ جائے گا اس باب میں حضرت ابن عمر سے بھی حدیث منقول ہے

٭٭ احمد بن سعید دارمی، محمد بن عباد، حاتم بن اسماعیل، حمزۃ بن ابی محمد، عبداللہ بن دینار، حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے نقل کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں نے ایسے لوگ بھی پیدا کئے ہیں جن کی زبانیں شہد سے زیادہ میٹھی ہیں اور ان کے دل مصبر سے زیادہ کڑوے ہیں میں اپنی ذات کی قسم کھاتا ہوں کہ میں انہیں ایسے فتنے میں مبتلا کروں گا کہ ان میں سے عقل مند شخص بھی حیران رہ جائے گا کیا وہ لوگ میرے سامنے گھمنڈ کرتے ہیں یا میرے سامنے اتنی جرات کرتے ہیں یہ حدیث ابن عمر کی روایت ہے حسن غریب ہے ہم اس حدیث کو اسی سند سے جانتے ہیں

زبان کی حفاظت کرنے کے متعلق

صالح بن عبد اللہ، ابن مبارک، سوید بن نصر، عبداللہ بن مبارک، یحیی بن ایوب، عبید اللہ بن زحر، علی بن یزید، قاسم، ابو امامۃ، حضرت عقبہ بن عامر سے روایت ہے کہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نجات کیا ہے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ارشاد فرمایا اپنی زبان قابو میں رکھو اپنے گھر میں رہو اور اپنی غلطیوں پر رویا کرو یہ حدیث حسن ہے

٭٭ محمد بن موسیٰ بصری، حماد بن زید، ابو صہباء سعدی بن جبیر، حضرت ابو سعید خدری مرفوعاً نقل کرتے ہیں کہ جب صبح ہوتی ہے تو انسان کے تمام اعضاء اس کی زبان سے التجاء کرتے ہیں کہ اللہ سے ڈر ہم بھی تیرے ساتھ ہیں اگر تو سیدھی ہو گی تو ہم سے سیدھے ہوں گے اور اگر تو ٹیڑھی ہو گئی تو ہم سب بھی ٹیڑھے ہو جائیں گے

٭٭ ہناد ابو اسامہ، حماد بن زید بھی ابو اسامہ سے اور وہ حماد بن زید سے اسی حدیث کی طرح غیر مرفوع حدیث نقل کرتے ہیں اور یہ زیادہ ہے اس حدیث کو ہم صرف حماد کی روایت سے جانتے ہیں اور کئی راوی اسے حماد بن زید سے غیر مرفوع نقل کرتے ہیں

٭٭ محمد بن عبدالاعلی صنعانی، عمر بن علی مقدمی، ابو حازم، حضرت سہل بن سعد سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا جو شخص مجھے زبان اور شرم گاہ کی ضمانت دیتا ہے میں اسے جنت کی ضمانت دیتا ہوں اس باب میں حضرت ابو ہریرہ اور ابن عباس سے بھی احادیث منقول ہیں یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے

٭٭ ابو سعید اشج، ابو خالد احمر، ابن عجلان، ابو حازم حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا جس شخص کو اللہ تعالیٰ نے زبان اور شرمگاہ کے شر سے محفوظ کر دیا وہ جنت میں داخل ہو گیا۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے اور ابو حازم جو سہل بن سعد سے احادیث نقل کرتے ہیں وہ ابو حازم زاہد مدینی ہیں ان کا نام مسلم بن دینار ہے جبکہ ابو ہریرہ سے حدیث نقل کرنے والے کا نام سلمان بن اشجعی ہے اور وہ عزۃ الاشجعیہ کے مولی ہیں اور کوفہ کے رہنے والے ہیں۔

٭٭ سوید بن نصر، عبداللہ بن مبارک، معمر، زہری، عبدالرحمن بن ماعز، حضرت سفیان بن عبداللہ ثقفی کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم مجھے ایسے بات بتائے کہ میں اس کو مضبوطی سے عمل کروں آپ نے فرمایا کہو میرا رب اللہ ہے اور اسی پر قائم رہو میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم آپ میرے بارے میں سب سے زیادہ کس چیز سے ڈرتے ہیں آپ نے اپنی زبان مبارک پکڑ کر فرمایا اس سے یہ حدیث حسن صحیح ہے اور سفیان بن عبداللہ ثقفی ہی سے کئی سندوں سے منقول ہے

٭٭ ابو عبد اللہ محمد بن ابو ثلج، احمد بن حنبل کے ساتھی ابو عبد اللہ محمد بن ابی ثلج بغدادی، علی بن حفص، ابراہیم بن عبداللہ بن حاطب، عبداللہ بن دینار، حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا ذکر الہی کے علاوہ کثرت کلام سے پرہیز کرو کیونکہ اس سے دل سخت ہو جاتا ہے اور سخت دل والا اللہ تعالیٰ سے بہت دور رہتا ہے

٭٭ ابو بکر بن ابی نضر، ابو نضر، ابراہیم بن عبداللہ بن حاطب، عبداللہ دینار، ابن عمر بھی ابو نضر سے وہ ابراہیم سے وہ عبداللہ بن دینار سے وہ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے اور وہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے اسی کی مانند نقل کرتے ہیں یہ حدیث غریب ہے ہم اس حدیث کو صرف ابراہیم بن عبداللہ حاطب کی روایت سے جانتے ہیں

٭٭ محمد بن بشار، محمد بن یزید بن خنیس مکی، سعید بن حسان مخزومی، ام صالح، صفیہ بن شیبہ ، ام المومنین حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں کہ آپ نے فرمایا انسان کو اپنی گفتگو سے کوئی فائدہ نہیں جب تک کہ وہ نیکی کا حکم برائی سے مخالفت اور اللہ کے ذکر پر مشتمل نہ ہو یہ حدیث غریب ہے ہم اس حدیث کو صرف محمد بن یزید بن خنیس کی روایت سے جانتے ہیں

باب

محمد بن بشار، جعفر بن عون، ابو عمیس، حضرت عون بن ابی جحیفہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے سلمان کو ابو درداء کا بھائی بنایا تو ایک مرتبہ سلمان ابو درداء سے ملنے کے لئے آئے اور ام درداء کو میلی کچیلی حالت میں دیکھ کر اس کا سبب دریافت کیا انہوں نے کہا کہ تمہارے بھائی ابو درداء کو دنیا سے کوئی رغبت نہیں پھر ابو درداء آ گئے اور سلمان کے سامنے کھانا لگا دیا اور کہنے لگے کہ تم کھاؤ میں روزے سے ہوں سلمان نے کہا میں ہرگز اس وقت تک نہیں کھاؤں گا جب تک تم میرے ساتھ شریک نہیں ہو گے راوی کہتے ہیں کہ اس پر ابو درداء نے کھانا شروع کر دیا رات ہوئی تو ابو درداء عبادت کے لئے جانے لگے لیکن سلمان نے انہیں منع کر دیا اور کہا سو جاؤ چنانچہ وہ سو گئے تھوڑی دیر بعد دوبارہ جانے لگے تو اس مرتبہ بھی سلمان نے انہیں سلا دیا پھر جب صبح قریب ہوئی تو سلمان نے انہیں کہا کہ اب اٹھو چنانچہ دونوں اٹھے اور نماز پڑھی پھر سلمان نے فرمایا تمہارے نفس کا بھی تم پر حق ہے تمہارے رب کا بھی تم پر حق ہے تمہارے مہمان کا بھی تم پر حق ہے اور اسی طرح تمہاری بیوی کا بھی تم پر حق ہے لہذا ہر صاحب حق کو اس کا حق ادا کرو اس کے بعد وہ دونوں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور یہ قصہ بیان کیا آپ نے فرمایا سلمان نے ٹھیک کہا یہ حدیث صحیح ہے اور ابو عمیس کا نام عقبہ بن عبداللہ ہے یہ عبدالرحمن بن عبداللہ مسعودی کے بھائی ہیں

باب

سوید بن نصر، عبداللہ بن مبارک، حضرت عبدالوہاب بن ورد مدینہ کے ایک شخص سے نقل کرتے ہیں کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو لکھا کہ مجھے ایک خط لکھیے جس میں نصیحتیں ہوں لیکن زیادہ نہ ہوں راوی کہتے ہیں کہ حضرت عائشہ نے حضرت معاویہ کو لکھا (سَلَامٌ عَلَیْکَ أَمَّا بَعْدُ) میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے سنا ہے کہ جو شخص اللہ کی رضا کو لوگوں کے غصے میں تلاش کرے گا اللہ تعالیٰ اس سے لوگوں کی تکلیف دور کر دے گا اور جو شخص لوگوں کی رضامندی کو اللہ کے غصے میں تلاش کرے گا اللہ تعالیٰ اسے انہیں کے سپرد کر دے گا وَالسَّلَامُ عَلَیْکَ

باب

محمد بن یحیی، محمد بن یوسف، سفیان، ہشام بن عروہ، عائشہ سے وہ سفیان وہ ہشام بن عروہ سے وہ اپنے والد سے اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے حضرت امیر معاویہ کو لکھا اس کے بعد گزشتہ حدیث کے ہم معنی روایت موقوفاً منقول ہے

 

قیامت کا بیان

حساب و قصاص کے متعلق

ہناد، ابو معاویہ، اعمش، خیثمۃ، حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا تم میں سے کوئی شخص ایسا نہیں کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس سے بات نہ کریں اور اس دوران بندے اور رب کے درمیاں کوئی ترجمان نہ ہو گا پھر بندہ اپنی دائیں طرف دیکھے گا تو اسے اپنے اعمال نظر آئیں گے بائیں طرف نظر دوڑائے گا تو اس طرف بھی اس کے کیے ہوئے اعمال ہی ہوں گے پھر جب سامنے کی طرف دیکھے گا تو اسے دوزخ نظر آئے گی پس اگر کسی میں اتنی بھی استطاعت ہو کہ وہ خود کو کھجور کا ایک ٹکرا دے کر دوزخ کی آگ سے بچا سکے تو اسے چاہئے کہ ایسا ہی کرے ابو سائب سے روایات ہے کہ وکیع نے ایک دن یہ حدیث اعمش سے (روایت کرتے ہوئے ) ہم سے بیان کی جب وکیع بیان کر چکے گا فرمایا اگر کوئی خراسان کا باشندہ یہاں ہو تو وہ یہ حدیث اہل خراسان کو سنا کر ثواب حاصل کرے امام ابو عیسی ترمذی فرماتے ہیں یہ اس لئے کہ جہمیہ اس بات کے منکر ہیں یہ حدیث حسن صحیح ہے

٭٭ حمید بن مسعدۃ، حصین بن نمیر ابو محصن، حسین بن قیس رحبی، عطاء بن ابی رباح، ابن عمر، حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا قیامت کے دن کسی شخص کے قدم اللہ رب العزت کے پاس سے وقت تک نہیں ہٹ سکیں گے جب تک اس سے پانچ چیزوں میں صرف کی جوانی کہاں خرچ کی مال کہاں سے کمایا مال کہاں خرچ کیا جو کچھ سیکھا اس پر کتنا عمل کیا یہ حدیث غریب ہے ہم اسے حضرت ابن مسعود سے مرفوعاً صرف حسین بن قیس کی سند سے پہچانتے ہیں اور وہ ضعیف ہیں اس باب میں حضرت ابو برزہ اور ابو سعید سے بھی احادیث منقول ہیں

٭٭ عبد اللہ بن عبدالرحمن، اسود بن عامر، ابو بکربن عیاش، اعمش، سعید بن عبداللہ بن جریج، حضرت ابو برزہ اسلمی سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا کسی شخص کے قدم بارگاہ خداوندی سے ہٹ سکیں گے یہاں تک کہ اس سے اس کی عمر کے بارے میں سوال ہو گا کہ اس نے کس چیز میں اسے صرف کیا اپنے حاصل کردہ علم پر کتنا عمل کیا مال کہاں سے کمایا کہاں خرچ کیا اور اپنا جسم کس چیز میں متبلا کیا یہ حدیث حسن صحیح ہے اور سعید بن عبداللہ ابو برزہ اسلمی کے مولی ہیں ابو برزہ اسلمی کا نام نضلہ بن عبید ہے

٭٭ قتیبہ ، عبدالعزیز بن محمد، علاء بن عبدالرحمن، عبدالرحمن، حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا کہ تم لوگ جانتے ہو مفلس کون ہے صحابہ کرام نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ہم میں مفلس وہ ہے جس کے پاس مال و متاع نہ ہو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا میری امت میں سے مفلس وہ شخص ہے جو قیامت کے دن نماز روزہ اور زکوٰۃ  لے کے آئے گا لیکن اس نے کسی کو گالی دی ہو گی کسی پر بہتان لگایا ہو گا کسی کا مال غصب کیا ہو گا کسی کا خون بہایا ہو گا اور کسی کو مارا ہو گا لہذا ان برائیوں کے بدلے میں اس کی نیکیاں مظلوموں میں تقسیم کر دیں جائیں گی یہاں تک کہ اس کی نیکیاں ختم ہو جائیں گی لیکن اس کا ظلم ابھی باقی ہو گا چنانچہ مظلوموں کے گناہوں کا بوجھ اس پر لاد دیا جائے گا اور پھر جہنم میں دھکیل دیا جائے گا یہ حدیث حسن صحیح ہے

٭٭ ہناد و نصر بن عبدالرحمن کوفی، محاربی، ابو خالد، یزید بن عبدالرحمن، زید بن ابی انیسۃ، سعید مقبری، حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اللہ تعالیٰ ایسے شخص پر رحم کریں جس نے اپنے کسی بھائی کی عزت یا مال میں کوئی ظلم کیا ہو اور پھر وہ آخرت میں حساب و کتاب سے پہلے اس کے پاس آ کر اپنے ظلم کو معاف کرا لے کیونکہ اس دن نہ تو درہم ہو گا اور نہ دینار اگر ظالم کے پاس نیکیاں ہوں گی تو اس سے لے کر مظلوم کو دے دی جائیں گی اور اگر نیکیاں نہیں ہوں گی تو اس ظلم کے بدلے میں مظلوموں کی برائیاں اس پر ڈال دی جائیں گی یہ حدیث حسن صحیح ہے مالک بن انس بھی اسے سعید مقبری سے وہ ابو ہریرہ سے اور وہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے اسی کی مانند نقل کرتے ہیں

٭٭ قتیبہ ، عبدالعزیز بن محمد، علاء بن عبدالرحمن، عبدالرحمن، حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ارشاد فرمایا اہل حقوق کو ان کے حقوق پورے پورے ادا کرنا ہوں گے یہاں تک کہ بغیر سینگ کی بکری کا سینگ والی بکری سے بھی بدلہ لیا جائے گا اس باب میں حضرت ابو ذر اور عبداللہ بن انیس سے بھی احادیث منقول ہیں یہ حدیث حسن صحیح ہے

 

باب

سوید بن نصر، ابن مبارک، عبدالرحمن بن یزید بن جابر، سلیم بن عامر، حضرت مقداد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ قیامت کے دن سورج بندوں سے صرف ایک یا دو میل کے فاصلے پر رہ جائے گا سلیم بن عامر کہتے ہیں کہ میں نہیں جانتا کہ کون سا میل مراد لیا زمین کی مسافت یا وہ سلائی جس سے سرمہ لگایا جاتا ہے پھر فرمایا کہ سورج لوگوں کو پگھلانا شروع کر دے گا چنانچہ لوگ اپنے اپنے اعمال کے مطابق پسینے میں ڈوبے ہوئے ہوں گے کوئی ٹخنوں تک کوئی گھٹنوں تک کوئی کمر تک اور کوئی منہ تک ڈوبا ہو گا پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اپنے دست مبارک سے منہ کی طرف اشارہ کر کے فرمایا گویا کہ اسے لگام ڈال دی گئی ہو اس باب میں حضرت ابو سعید اور ابن عمر سے بھی احادیث منقول ہیں یہ حدیث حسن صحیح ہے

٭٭ ابو زکریا یحیی بن درست بصری، حماد بن زید، ایوب نافع، ابن عمر رضی اللہ عنہما سے وہ ایوب سے وہ نافع سے اور وہ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے یہی حدیث غیر مرفوع نقل کرتے ہیں حماد کہتے ہیں یہ حدیث اس آیت کی تفسیر ہے (یَّوْمَ یَقُوْمُ النَّاسُ لِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَ) 83۔ المطففین:6) یعنی جس دن لوگ رب العالمین کے سامنے کھڑے ہوں گے آپ نے فرمایا پسینہ ان کے آدھے کانوں تک ہو گا یہ حدیث حسن صحیح ہے

٭٭ ہناد، عیسیٰ بن یونس، ابن عون، نافع، ابن عمر بھی عیسیٰ سے وہ ابن عون سے وہ نافع سے وہ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے اور وہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے اسی کے مانند نقل کرتے ہیں

 

کیفیت حشر کے متعلق

محمود بن غیلان، ابو احمد زبیری، سفیان، مغیرۃ بن نعمان، سعید بن جبیر، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا لوگ قیامت کے دن ننگے پاؤں برہنہ جسم اور بغیر ختنہ کے اکٹھے کئے جائیں گے جس طرح کہ انہیں پیدا کیا گیا پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا (کَمَا بَدَأْنَا أَوَّلَ خَلْقٍ نُعِیدُہُ وَعْدًا عَلَیْنَا إِنَّا کُنَّا فَاعِلِینَ) پھر مخلوق میں سب سے پہلے ابراہیم کو کپڑے پہنائے جائیں گے پھر میرے صحابہ میں سے بعض کو دائیں اور بعض کو بائیں طرف سے لے جایا جائے گا میں عرض کروں گا اے میرے رب یہ میرے اصحاب ہیں کہا جائے گا کہ آپ نہیں جانتے کہ آپ کے بعد ان لوگوں نے کیا کیا نئی چیزیں نکالی تھیں جس دن سے آپ نے انہیں چھوڑا یہ اسی دن سے اپنی ایڑیوں پر پیچھے کی طرف لوٹ رہے ہیں پھر میں وہی بات کہوں گا جو اللہ تعالیٰ کے صالح بندے (وَإِنْ تَغْفِرْ لَہُمْ فَإِنَّکَ أَنْتَ الْعَزِیزُ الْحَکِیمُ) اگر تو ان کو عذاب دے تو تیرے بندے ہیں اور اگر انہیں بخش دے پس تو بے شک غالب حکمت والا ہے

٭٭ محمد بن بشار اور محمد بن مثنی بھی محمد بن جعفر سے وہ شعبہ سے اور وہ مغیرہ سے اسی کے مانند حدیث مبارکہ نقل کرتے ہیں

٭٭ احمد بن منیع، یزید بن ہارون، بہز بن حکیم اپنے والد وہ ان کے داد سے نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا تم قیامت کے دن پیادہ اور سوار اٹھائے جاؤ گے اور کچھ لوگ ایسے بھی ہوں گے جنہیں منہ کے بل گھسیٹا جائے گا اس باب میں حضرت ابو ہریرہ سے بھی روایت ہے یہ حدیث حسن ہے

 

باب آخرت میں لوگوں کی پیشی

ابو کریب، وکیع، علی بن علی، حسن، حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا قیامت کے دن لوگ تین مرتبہ پیش کئے جائیں گے۔ پہلی دو مرتبہ تو گفت و شنید اور عفو و درگزر ہو گی جبکہ تیسری مرتبہ نامہ اعمال ہاتھوں میں دئیے جائیں گے۔ چنانچہ کوئی دائیں ہاتھ میں اور کوئی بائیں ہاتھ میں لے گا۔ یہ حدیث صحیح نہیں اس لیے کہ حسن کا ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سماع ثابت نہیں۔ لہذا اس کی سند متصل نہیں۔ بعض اسے علی بن علی رفاعی سے وہ حسن سے وہ ابو موسی سے اور وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے نقل کرتے ہیں۔

٭٭ سوید، ابن مبارک، عثمان بن اسود، ابن ابی ملیکۃ، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا جس کا حساب کتاب سختی سے کیا گیا وہ ہلاک ہو گیا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ جسے نامہ اعمال دائیں ہاتھ میں دیا گیا اس سے آسان حساب لیا جائے گا آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا وہ تو اعمال کا سامنے کرنا ہے یہ حدیث حسن صحیح ہے ایوب نے بھی اسے ابن ابی ملیکہ سے روایت کیا ہے

٭٭ سوید، ابن مبارک، اسماعیل بن مسلم، حسن و قتادۃ، حضرت انس رضی اللہ عنہ سے نقل کرتے ہیں کہ قیامت کے دن انسان کو اس طرح لایا جائے گا گویا کہ وہ بھیر بچہ ہے اور اسے اللہ تعالیٰ کے سامنے کھڑا کیا جائے گا پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ میں نے تمہیں دولت غلام لونڈیاں اور بہت سے انعام و اکرام سے نوازا تھا تم نے اس کا کیا کیا وہ عرض کرے گا میں نے اسے جمع کیا اور اتنا بڑھایا کہ پہلے سے زیادہ ہو گیا اے اللہ تو مجھے واپس بھیج دے تاکہ میں وہ سب کچھ لے آؤں پس اگر اس بندے نے نیکی آگے نہ بھیجی ہو گی تو اسے دوزخ کی طرف لے جایا جائے گا امام ابو عیسی ترمذی فرماتے ہیں متعدد راویوں نے یہ حدیث حسن سے ان کے قول کے طور پر بیان کی مسند نہیں بیان کی اسماعیل بن مسلم حدیث میں ضعیف ہیں اس باب میں حضرت ابو ہریرہ اور ابو سعید خدری سے بھی روایت ہے

٭٭ عبد اللہ بن محمد زہری بصری، مالک بن سعیر، ابو محمد کوفی تمیمی، اعمش، ابو صالح، حضرت ابو ہریرہ اور ابو سعید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا قیامت کے دن بندہ (بارگاہ الہی) میں حاضر کیا جائے گا اللہ تعالیٰ فرمائے گا کیا میں نے تجھے سننے اور دیکھنے کی قوت نہ دی کیا میں نے تجھے مال اولاد نہ دئیے کیا میں نے تیرے لئے جانور اور کھیتیاں مسخر نہ کئے کیا میں نے تجھے اس حالت میں نہ چھوڑا کہ تو سردار بنایا گیا اور تو لوگوں سے چوتھائی مال لینے لگا کیا تیرا خیال تھا کہ آج کے دن تو مجھ سے ملاقات کرے گا اور کہے گا نہیں اے رب اللہ تعالیٰ فرمائے گا تو پھر میں بھی تجھے آج اسی طرح بھول جاتا ہوں جس طرح تو نے مجھے بھلا دیا تھا یہ حدیث صحیح غریب ہے اس قول کہ میں تجھے چھوڑ دوں گا جس طرح تو نے مجھے بھلا دیا کا مطلب یہ ہے کہ میں تجھے عذاب میں ڈالوں گا بعض علماء نے اس آیت (فَالْیَوْمَ نَنْسٰىہُمْ) 7۔ الاعراف:91) کا مطلب یہی بیان کیا ہے اہل علم فرماتے ہیں کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ آج ہم ان کو عذاب میں چھوڑ دیں گے

٭٭ سوید بن نصر، عبداللہ بن سعید بن ابی ایوب، یحیی بن ابی سلیمان، سعید مقبری، حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے یہ آیت پڑھی (یَوْمَئِذٍ تُحَدِّثُ أَخْبَارَہَا) اور فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ وہ کیا خبریں ہوں گی صحابہ کرام نے عرض کیا اللہ اور اس کا رسول زیادہ جانتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا قیامت کے دن یہ ہر غلام و باندی کے متعلق گواہی دے گی کہ اس نے اس پر کیا کیا اعمال کئے ہیں چنانچہ وہ کہے گی کہ اس نے فلاں دن مجھ پر یہ عمل کیا آپ نے فرمایا زمین کو اللہ تعالیٰ نے اسی کام کا حکم دیا ہے یہ حدیث حسن غریب ہے

صور کے متعلق

سوید، عبداللہ بن مبارک، سلیمان تیمی، اسلم عجلی، بشر بن شغاف، حضرت عبداللہ بن عمر بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ دیہاتی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور پوچھا کہ صور کیا ہے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا یہ ایک سینگ ہے جس میں قیامت کے دن پھونک ماری جائے گی یہ حدیث حسن صحیح ہے اور کئی راوی اسے سلیمان تیمی سے نقل کرتے ہیں ہم اسے صرف انہی کی روایت سے پہچانتے ہیں

٭٭ سوید، عبد اللہ، خالد ابو علاء، عطیۃ، حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا میں کس طرح آرام کروں جبکہ اسرافیل نے صور میں منہ لگایا ہوا ہے اور ان کے کان اللہ کے حکم کے منتظر ہیں کہ وہ کب پھونکنے کا حکم دیں اور وہ پھونکیں یہ بات صحابہ کرام کے دلوں پر گراں گزری تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا تم کہو اللہ تعالیٰ ہمیں کافی ہے اور بہتر کارساز ہے ہم اللہ ہی پر بھروسہ کرتے ہیں یہ حدیث حسن ہے اور کئی سندوں سے عطیہ سے بحوالہ ابو سعید مرفوعاً اسی طرح منقول ہے

پل صراط کے متعلق

علی بن حجر، علی بن مسہر، عبدالرحمن بن اسحاق، نعمان بن سعد، حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا مومنوں کا پل صراط پر یہ شعار ہو گا اے رب سلامت رکھ اے رب سلامت رکھ یہ حدیث غریب ہے ہم اسے صرف عبدالرحمن بن اسحاق کی روایت سے جانتے ہیں

٭٭ عبد اللہ بن الصباح ہاشمی، بدل بن محبر، حرب بن میمون انصاری ابو خطاب، نضر، حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے قیامت کے دن اپنی شفاعت کی درخواست کی آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا میں کروں گا میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم میں آپ کو کہاں تلاش کروں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا سب سے پہلے مجھے پل صراط پر ڈھونڈنا میں نے عرض کیا اگر میں آپ کو پل صراط پر نہ پاؤں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا پھر مجھے میزان کے پاس تلاش کرنا میں نے عرض کیا اگر وہاں بھی نہ ہوں تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے پھر حوض کوثر پر دیکھ لینا کیونکہ میں ان تین جگہوں کے علاوہ کہیں نہیں جاؤں گا یہ حدیث حسن غریب ہے ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں

 

شفاعت کے بارے میں

سوید، عبداللہ بن مبارک، ابو حیان تیمی، ابو زرعۃ بن عمرو، حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی خدمت میں دستی کا گوشت پیش کیا گیا تو آپ نے اسے کھایا چونکہ آپ سے پسند کرتے تھے لہذا آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اسے دانتوں سے نوچ نوچ کر کھایا پھر فرمایا قیامت کے دن تمام لوگوں کا سردار ہوں تم جانتے ہو کیوں اس طرح کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ تمام لوگوں کو ایک ہی میدان میں اس طرح اکٹھا کرے گا کہ انہیں ایک شخص اپنی آواز سنا سکے گا اور وہ انہیں دیکھ سکے سورج اس دن لوگوں سے قریب ہو گا لوگ اس قدر غم و کرب میں مبتلا ہوں گے کہ اس کے متحمل نہیں ہو سکیں گے چنانچہ آپس میں ایک دوسرے سے کہیں گے کیا تم لوگ دیکھتے نہیں کہ ہم لوگ کس قدر مصیبت میں گرفتار ہیں کیا تم لوگ کسی شفاعت کرنے والے کو تلاش نہیں کرتے اس پر کچھ لوگ کہیں گے کہ آدم کو تلاش کیا جائے چنانچہ ان سے کہا جائے گا کہ آپ ابو لبشر ہیں اللہ نے آپ کو اپنے ہاتھوں سے بنایا آپ میں اپنی روح پھونکی اور پھر فرشتوں کو حکم دیا اور انہوں نے آپ کو سجدہ کیا لہذا آج آپ اپنے رب سے ہماری شفاعت کیجئے کیا آپ ہماری حالت نہیں دیکھ رہے کیا آپ ہماری حالت نہیں دیکھ رہے کیا آپ ہماری مصیبت کا اندازہ نہیں کر رہے آدم فرمائیں گے کہ میرے رب نے آج ایسا غضب فرمایا جیسا اس سے پہلے کبھی نہیں فرمایا تھا اور نہ ہی اس کے بعد فرمائے گا مجھے اس نے درخت کے قریب جانے سے منع فرمایا پس مجھ سے عدولی ہو گئی لہذا میں شفاعت نہیں کر سکتا مجھے اپنی فکر ہے تین مرتبہ فرمایا تم لوگ کسی اور کی طرف جاؤ ہاں نوح کے پاس جاؤ پھر نوح کے پاس آئیں گے اور عرض کریں گے اے نوح آپ اہل زمین کی طرف پہلے رسول ہیں اللہ تعالیٰ نے آپ کا نام شکر گزار بندہ رکھا آپ اپنے رب کی بارگاہ میں ہماری سفارش فرمائیں آپ دیکھتے نہیں ہم کس قدر مصیبت میں گرفتار ہیں کیا آپ ہماری حالت اور مصیبت کا اندازہ نہیں کر رہے حضرت نوح فرمائیں گے کہ میرے رب نے آج وہ غضب فرمایا جو نہ اس سے پہلے فرمایا اور نہ ہی اس کے بعد فرمائے گا مجھے ایک دعا دی گئی تھی میں نے اپنی قوم کے لئے ہلاکت کی دعا مانگ کر اس موقع کو ضائع کر دیا مجھے اپنے نفس کی فکر ہے تم کسی اور کے پاس جاؤ پھر وہ ابراہیم کے پاس جائیں گے اور عرض کریں گے اے ابراہیم علیہ السلام آپ اللہ کے نبی اور زمین والوں میں سے آپ اللہ کے خلیل ہیں آپ اپنے رب کی بارگاہ میں ہماری سفارش فرمائیں آپ دیکھتے نہیں کہ ہم کس مصیبت میں مبتلا ہیں حضرت ابراہیم فرمائیں گے آج میرے رب نے وہ غضب فرمایا جو نہ اس سے پہلے فرمایا اور نہ اس کے بعد فرمائے گا میں نے تین مرتبہ ظاہری واقعہ کے خلاف بات کی میں تمہاری شفاعت نہیں کر سکتا مجھے اپنی فکر ہے تم لوگ کسی اور کو تلاش کرو موسیٰ کے پاس جاؤ وہ حضرت موسیٰ کے پاس جائیں گے اور کہیں گے اے موسیٰ آپ اللہ کے رسول ہیں اللہ تعالیٰ نے آپ کو رسالت اور ہم کلام ہونے کے شرف سے نوازا آج آپ ہماری شفاعت کیجئے کیا آپ نہیں دیکھ رہے کہ ہم کس تکلیف و کرب میں مبتلا ہیں موسیٰ فرمائیں گے میرے رب نے آج وہ غصہ فرمایا جیسا نہ تو اس سے پہلے فرمایا اور نہ ہی بعد میں فرمائے گا میں نے ایک نفس کو قتل کیا حالانکہ مجھے قتل کا حکم نہ تھا لہذا میں سفارش نہیں کر سکتا مجھے اپنی فکر ہے تم کسی اور کے پاس جاؤ تم لوگ عیسیٰ کے پاس جاؤ پس وہ عیسیٰ کے پاس آئیں گے اور عرض کریں گے اے عیسیٰ آپ اللہ کے رسول ہیں اور اس کے کلیم ہیں جسے اللہ تعالیٰ نے مریم تک پہنچایا تھا اور اللہ کی طرف سے ایک جان ہیں پھر آپ نے گود میں ہونے کے باوجود لوگوں سے بات کی ہماری مصیبت کا اندازہ کیجئے اور ہماری شفاعت کیجئے حضرت عیسیٰ علیہ السلام فرمائیں گے آج کے دن میرے رب نے ایسا غضب فرمایا جیسا نہ تو اس سے پہلے فرمایا اور نہ اس کے بعد فرمائے گا آپ اپنی کسی خطا کا ذکر نہیں کریں گے ہر ایک کو اپنی اپنی فکر ہے تم کسی اور کے پاس جاؤ تم حضرت محمد صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں جاؤ پس وہ حضور کی خدمت میں حاضر ہوں گے اور عرض کریں گے اے محمد آپ اللہ کے رسول ہیں آخری نبی ہیں آپ کے اگلے پچھلے تمام گناہ معاف کر دئیے گئے آپ اللہ رب العزت سے ہماری شفاعت کیجئے ہم بری مصیبت میں مبتلا ہیں چنانچہ میں چلوں گا اور عرش کے نیچے آ کر سجدہ ریز ہو جاؤں گا پھر اللہ تعالیٰ میرے زبان اور دل سے اپنی حمد و ثنا اور تعظیم عطا کیا جائے گا شفاعت کرو قبول کی جائے گی پھر میں اپنا سر اٹھاؤں گا اور عرض کروں گا اے رب میں اپنی امت کی نجات اور فلاح کا طلب گار ہوں اللہ تعالیٰ فرمائیں گے اے محمد آپ کی امت میں سے جن لوگوں پر حساب کتاب نہیں جنت کے دائیں جانب کے دروازے سے داخل کر دیجئے اور وہ لوگ دوسرے دروازوں سے بھی داخل ہونے کے مجاز ہوں گے پھر آپ نے فرمایا قسم ہے اس پروردگار کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے جنت کے دروازوں کا فاصلہ اتنا ہے جتنا مکہ مکرمہ اور ہجر تا مکہ مکرمہ اور بصری کے درمیان کا فاصلہ اس باب میں حضرت ابو بکر انس عقبہ بن عامر اور ابو سعید سے بھی احادیث منقول ہیں یہ حدیث حسن صحیح ہے

٭٭ عباس عنبری، عبدالرزاق، معمر، ثابت، حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا میری شفاعت امت کے ان افراد کے لئے ہے جنہوں نے کبیرہ گناہ کئے اس باب میں حضرت جابر سے بھی روایت منقول ہے یہ حدیث اس سند سے صحیح غریب ہے

٭٭ محمد بن بشار، ابو داؤد طیالسی، محمد بن ثابت بنانی، جعفر بن محمد، حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا میری شفاعت امت کے اہل کبائر کے لئے ہے محمد بن علی کہتے ہیں کہ مجھ سے جابر نے فرمایا اے محمد جو کبیرہ گناہوں والے ہوں گے ان سے شفاعت کا کیا تعلق یہ حدیث اس سند سے غریب ہے

٭٭ حسن بن عرفۃ، اسماعیل بن عیاش، محمد بن زیادالہانی، حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ اللہ نے مجھ سے وعدہ کیا ہے کہ وہ میری امت میں سے ستر ہزار آدمیوں کو بغیر حساب و کتاب وعذاب کے جنت میں داخل کر گا پھر ہر ہزار کے ساتھ ستر ہزار اور ہوں گے اور میرے رب کی مٹھیوں سی تین مٹھیاں یہ حدیث حسن غریب ہے

٭٭ ابو کریب، اسماعیل بن ابراہیم، خالد حذاء، حضرت عبداللہ بن شقیق رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں ایلیا کے مقام پر ایک جماعت کے ساتھ تھا کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا یہ قول بیان کیا آپ نے فرمایا میری امت میں سے ایک شخص کی شفاعت سے قبیلہ بنوتمیم کے لوگوں کی تعداد سے بھی زیادہ لوگ جنت میں داخل کئے جائیں گے عرض کیا گیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم آپ کے علاوہ آپ نے فرمایا ہاں پھر جب حدیث بیان کرنے والے کھڑے ہوئے تو میں نے پوچھا کہ یہ کون تو لوگوں نے کہا کہ یہ ابن ابی الجذعاء ہیں یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے ابن ابی جذعا کا نام عبداللہ ہے ان سے صرف یہی ایک حدیث معروف ہے

٭٭ حسین بن حریث، فضل بن موسی، زکریا بن ابی زائدہ، عطیۃ، حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا میری امت میں سے بعض لوگ ایک گروہ کی سفارش کریں گے بعض ایک قبیلہ کی بعض ایک جماعت کی اور کچھ لوگ ایک ایک آدمی کی سفارش کریں گے یہاں تک کہ وہ جنت میں داخل ہو جائیں گے یہ حدیث حسن ہے

٭٭ ہناد، عبدۃ، سعید، قتادۃ، ابو ملیح، حضرت عوف بن مالک اشجعی سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا میرے رب کی طرف سے ایک آنے والا میرے پاس آیا اور مجھے نصف امت جنت میں داخل کرنے اور شفاعت کے درمیان اختیار دیا تو میں نے شفاعت کو اختیار کیا اور یہ ہر اس شخص کے لئے ہے جو اس حال میں مرا کہ اس نے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرایا حدیث ابو ملیح نے ایک دوسرے صحابی کے واسطے سے روایت کی اور عوف بن مالک کا ذکر نہیں کیا

حوض کوثر کے بارے میں

محمد بن یحیی، بشربن شعیب بن ابی حمزۃ، ان کے والد، زہری، حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا میرے حوض میں آسمان کے ستاروں کے برابر صراحیاں ہیں یہ حدیث اسی سند سے حسن صحیح ہے

٭٭ احمد بن محمد بن نیزک بغدادی، محمد بن بکاردمشقی، سعید بن بشیر، قتادہ، حسن، سمرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا ہر نبی کا ایک حوض ہو گا اور وہ آپس میں ایک دوسرے پر اپنے حوض سے زیادہ پینے والوں پر فخر کریں گے مجھے امید ہے کہ میرے حوض پر آنے والوں کی تعداد زیادہ ہے یہ حدیث غریب ہے اشعث بن عبدالملک بھی اسے حسن سے اور وہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے مرسلاً نقل کرتے ہیں اس میں سمرہ کا ذکر نہیں اور یہ زیادہ صحیح ہے

حوض کوثر کے برتن کے متعلق

محمد بن اسماعیل، یحیی بن صالح، مہاجر، عباس، حضرت ابو سلام حبشی کہتے ہیں کہ عمر بن عبدالعزیز نے مجھے بلوایا چنانچہ میں خچر پر سوار ہو کر ان کے پاس پہنچا تو عرض کیا اے امیر المومنین مجھ پر خچر کی سواری شاق گزری ہے انہوں نے فرمایا اے ابو سلام میں آپ کو مشفق میں نہیں ڈالتا لیکن میں نے اس لئے تکلیف دی کہ میں نے سنا کہ آپ ثوبان کے واسطے سے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی ایک حدیث بیان کرتے ہیں میں چاہتا تھا کہ خود آپ سے سنو ابو سلام نے بیان کیا کہ ثوبان نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے نقل کیا کہ آپ نے فرمایا امیر حوض عدن شہد سے زیادہ میٹھا ہے اس کے کوزے آسمان کے ستاروں کے برابر ہیں جو اس پیئے گا اس کے بعد کبھی پیاسا نہ ہو گا اس پر سب سے پہلے جانے والے فقراء مہاجرین ہیں جن کے بال گرو آلود اور کپڑے میلے ہیں وہ ناز و نعمت میں پلی ہوئی عورتوں سے نکاح نہیں کرتے اور ان کے لئے بند دروازے کھولے نہیں جاتے حضرت عمر بن عبدالعزیز نے فرمایا لیکن میں نے تو ناز و نعمت میں پرورش پانے والیوں سے نکاح کیا اور میرے لئے بندے دروازے کھولے گئے میں نے فاطمہ بنت عبدالملک سے نکاح کیا یقیناً جب تک میرا سر گرد آلود نہ ہو جائے میں اسے نہیں دھوتا اور اسی طرح اپنے بدن پر لگے ہوئے کپڑے بھی میلے ہونے سے پہلے نہیں دھوتا یہ حدیث اس سند سے غریب ہے اور معدان بن ابی طلحہ سے بھی ثوبان کے حوالے سے مرفوعاً منقول ہے ابو سلام حبشی کا نام ممطور ہے

٭٭ محمد بشار، ابو عبدالصمد عمی عبدالعزیز بن عبدالصمد، ابو عمران جونی، عبداللہ بن صامت، حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم حوض کے برتن کس طرح کے ہوں گے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا اس ذات کی قسم کے جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے اس کے برتن آسمان کے ستاروں سے بھی زیادہ ہوں گے اور ستارے بھی ایسی اندھیری رات کے کہ جس میں بادل بالکل نہ ہوں پھر وہ برتن جنت کے برتنوں میں سے ہیں جس نے اس سے ایک مرتبہ پی لیا اسے پھر پیاس نہیں لگے گی اس کی چوڑائی بھی لمبائی ہی کی طرح ہو گی یعنی عمان سے ایلہ تک اور اس کا پانی دودھ سے زیادہ سفید اور شہد سے زیادہ میٹھا ہو گا یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے اس باب میں حضرت حذیفہ بن یمان عبداللہ بن عمر ابو برزہ اسلمی ابن عمر حارثہ بن وہب اور مستور بن شداد سے بھی احادیث منقول ہیں ابن عمر سے منقول ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا میرا حوض کوفہ سے حجر اسود تک ہے

باب

ابو حصین عبداللہ بن احمد بن یونس، عبشربن قاسم، حصین، سعید بن جبیر، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم معراج تشریف لے گئے تو آپ کا ایسے نبی یا نبیوں پر گزر ہوا کہ ان کے ساتھ ایک قوم تھی پھر کسی نبی یا نبیوں پر سے گزرے تو ان کے ساتھ ایک جماعت تھی پھر ایسے نبی یا انبیاء پر سے گزر ہوا کہ ان کے ساتھ ایک آدمی بھی نہیں تھا یہاں تک کہ ایک بڑے مجمع کے پاس سے گزرے تو پوچھا یہ کون ہیں کہا گیا کہ موسیٰ اور ان کی قسم آپ سر کو بلند کیجئے اور دیکھئے آپ نے فرمایا اچانک میں نے دیکھا کہ وہ ایک جم غفیر ہے جس نے آسمان کے دونوں جانب کو گھیر ہوا ہے پھر کہا گیا یہ آپ کی امت ہے اور ان کے علاوہ ستر ہزار آدمی اور ہیں جو بغیر حساب و کتاب جنت میں داخل ہوں گے اس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم گھر چلے گئے نہ لوگوں نے پوچھا کہ وہ کون لوگ ہیں اور نہ ہی آپ نے بتایا چنانچہ بعض حضرات کہنے لگے کہ شاید وہ ہم لوگ ہوں جبکہ بعض کا خیال تھا کہ وہ فطرت اسلام پر پیدا ہونے والے بچے ہیں اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم دوبارہ تشریف لائے اور فرمایا وہ لوگ ہیں جو نہ داغتے ہیں نہ جھاڑ پھونک کرتے ہیں اور نہ ہی بدفالی لیتے ہیں بلکہ اپنے رب پر بھر رکھتے ہیں اس پر عکاشہ بن محصن کھرے ہوئے اور عرض کیا میں ان میں سے ہوں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا ہاں پھر ایک اور صحابی کھڑے ہوئے اور پوچھا میں بھی انہی میں سے ہوں آپ نے فرمایا عکاشہ تم پر سبقت لے گئے اس باب میں حضرت ابن مسعود اور ابو ہریرہ سے بھی احادیث منقول ہیں یہ حدیث حسن صحیح ہے

باب

محمد بن عبداللہ بن بزیع بصری، زیاد بن ربیع، ابو عمران جونی، انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ مجھے کوئی ایسی چیز نظر نہیں آتی جس پر ہم عہد نبوی میں عمل پیرا تھے راوی نے عرض کیا نماز ویسی ہی نہیں آپ نے فرمایا کیا تم نے نماز میں وہ کام نہیں کئے کا تمہیں علم ہے یہ حدیث اس سند سے غریب ہے اور کئی سندوں سے انس سے منقول ہے

باب

محمد بن یحیی ازدی بصری، عبدالصمد بن عبدالوارث، ہاشم بن سعید کوفی، زید خثعمی کہتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا کتنا برا ہے وہ بندہ جس نے اپنے آپ کو اچھا سمجھا اور تکبر کیا اور بلند و بالا ذات کو بھول گیا وہ بندہ بھی بہت برا ہے جو لہو و لعب میں مشغول ہو کر قبروں اور قبر میں گل سڑ جانے والی ہڈیوں کو بھول گیا اور وہ بندہ بھی برا ہے جس نے سرکشی و نافرمانی کی اور اپنی ابتدائے خلقت اور انتہاء کو بھول گیا اسی طرح وہ بندہ بھی برا ہے جس نے دین کو دنیا کمانے کا ذریعہ بنایا وہ بندہ برا ہے جس نے حرص کو راہ نما بنا لیا اور وہ شخص بھی برا ہے جسے اس کی خواہشات گمراہ کر دیتی ہیں اور وہ بندہ جسے اس کی حرص ذلیل کر دیتی ہے ہم اس حدیث کو صرف اس سند سے جانتے ہیں اور یہ سند صحیح نہیں

باب

محمد بن حاتم مؤدب، عمار بن محمد بن اخت سفیان ثوری، ابو الجارود اعمی زیاد بن منذر ہمدانی، عطیۃ عوفی، حضرت ابو سعیدخدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا اگر کوئی مومن کسی دوسرے مومن کو بھوک کے وقت کھانا کھلائے گا اللہ تعالیٰ اسے قیامت کے دن جنت کے میوے کھلائیں گے اور جو مومن کسی پیاسے مومن کو پیاس کے وقت پانی پلائے گا اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسے مہر لگائی ہوئی خالص شراب پلائے گا اور جو مومن کسی برہنہ مومن کو لباس پہنائے گا اللہ تعالیٰ اسے جنت کا سبز لباس پہنائے گا یہ حدیث غریب ہے اور عطیہ سے بھی منقول ہے وہ اسے ابو سعید سے موقوفاً نقل کرتے ہیں یہ ہمارے نزدیک زیادہ صحیح اور اشبہ ہے

باب

ابو بکر بن ابی نضر، ابو نضر، ابو عقیل ثقفی، ابو فروہ یزید بن سنان تمیمی بکیر بن فیروز، حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا جو ڈرا وہ پہلی رات چلا اور جو پہلی رات چلا وہ منزل پر پہنچ گیا جان لو کہ اللہ تعالیٰ کا سامان بہت مہنگا ہے یہ بھی جان لو کہ وہ سامان جنت ہے یہ حدیث حسن غریب ہے ہم اسے صرف ابو نضر کی روایت سے جانتے ہیں

باب

ابو بکر بن ابی نضر، ابو النضر، ابو عقیل عبداللہ بن عقیل، عبداللہ بن یزید، ربیعہ بن یزید، عطیۃ بن قیس، حضرت عطیہ سعدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ارشاد فرمایا کوئی شخص اس وقت تک پرہیزگاروں میں شامل نہیں ہو سکتا جب تک وہ ضرر رساں اشیاء سے بچنے کے لئے بے ضرر چیزوں کو نہ چھوڑے یہ حدیث حسن غریب ہے اور ہم اسے صرف اسی سند سے پہچانتے ہیں

باب

عباس عنبری، ابو داؤد، عمران قطان، قتادۃ، یزید بن عبداللہ بن شخیر، حضرت حنظلہ اسیدی کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا اگر تم لوگوں کے دل اسی طرح رہیں جس طرح میرے پاس ہوتے ہیں تو فرشتے تم پر اپنے پروں سے سایہ کریں یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے اور اس کے علاوہ بھی کئی سندوں سے منقول ہے اور اس باب میں حضرت ابو ہریرہ سے بھی حدیث منقول ہے۔

باب

یوسف بن سلمان ابو عمرو بصری، حاتم بن اسماعیل، محمد بن عجلان، قعقاع، ابو صالح، حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا ہر چیز کی خوشی و شادمانی ہے اور ہر خوشی کے لئے ایک سست ہے پس جو شخص سیدھا رہا اور اس نے میانہ روی اختیار کی تو میں اس کی امید رکھتا ہوں اور اگر اس کی طرف انگلیاں اٹھیں تو تم اس کو شمار نہ کرو یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بھی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے نقل کرتے ہیں کہ آدمی کی برائی کے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ اس کے دین یا دنیا کے بارے میں انگلیاں اٹھیں مگر جس کو اللہ تعالیٰ بچائے

باب

محمد بن بشار، یحیی بن سعید، سفیان، ان کے والد، ابو یعلی، ربیع بن خثیم، حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ہمارے لئے ایک لکیر کھینچی اور اس سے مربع بنایا پھر اس کے درمیاں ایک لکیر کھینچی اور اسے اس چوکور خانے سے باہر تک لے گئے پھر درمیان والی لکیر کے اردگرد کئی لکیریں کھینچیں پھر درمیان والی لکیر کی طرف اشارہ کر کے فرمایا یہ ابن آدم ہے اور یہ اردگرد اس کی موت ہے جو اسے گھیرے ہوئے ہے اور یہ درمیان میں انسان ہے اور اس کے ارد گرد کھنچے ہوئے خطوط اس کی آفات اور مصیبتیں ہیں اگر وہ ان سے نجات پا جائے تو یہ خط اسے لے لیتا ہے اور یہ لمبی لکیر اس کی امید ہے یعنی جو مربع سے باہر ہے یہ حدیث صحیح ہے

باب

 قتیبہ ، ابو عوانۃ، قتادۃ، حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا انسان بوڑھا ہوتا ہے اور اس کی دو چیزیں جوان ہوتی ہیں مال اور طویل زندگی کی حرص یہ حدیث صحیح ہے

باب

ابو ہریرۃ محمد بن فراس بصری، ابو قتیبہ سلم بن قتیبہ ، ابو عوام عمران قطان، قتادۃ، مطرف بن عبداللہ بن شخیر، کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا انسان کی تخلیق اس صورت میں کی گئی کہ اس کے دونوں جانب ننانوے (99) موتیں ہیں اگر وہ ان سے بچ نکلے تو بڑھاپے میں گرفتار ہو جاتا ہے۔

باب

ہناد، قبیصۃ، سفیان، عبداللہ بن محمد بن عقیل، طفیل بن ابی بن کعب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب رات کا تہائی حصہ گزر جاتا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اٹھ کھڑے ہوتے اور فرماتے اے لوگو اللہ کو یاد کرو اللہ کی یاد میں مشغول ہو جاؤ صور کا وقت آ گیا ہے پھر اس کے بعد دوسری مرتبہ بھی پھونکا جائے گا پھر موت بھی اپنی سختیوں کے ساتھ آن پہنچی ہے ابی بن کعب کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم میں آپ پر بکثرت درود بھیجتا ہوں لہذا اس کے لئے کتنا وقت مقرر کروں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا جتنا چاہو میں نے عرض کیا اپنی عبادت کے وقت کا چوتھا حصہ مقرر کر لوں آپ نے فرمایا جتنا چاہو کر لو لیکن اگر اس سے زیادہ کرو تو بہتر ہے میں نے عرض کیا آدھا وقت آپ نے فرمایا جتنا چاہو لیکن اس سے بھی زیادہ بہتر ہے میں نے عرض کیا دو تہائی وقت آپ نے فرمایا جتنا چاہوں لیکن اگر اس سے بھی زیادہ کرو تو بہتر ہے میں نے عرض کیا تو پھر میں اپنے وظیفے کے پورے وقت میں آپ پر درود پڑھا کروں گا آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا پھر اس سے تمہاری تمام فکریں دور ہو جائیں گی اور تمہارے گناہ معاف کر دئیے جائیں گے یہ حدیث حسن ہے

باب

یحیی بن موسی، محمد بن عبید، ابان بن اسحاق، صباح بن محمد، مرۃ ہمدانی، حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ سے اتنی حیا کرو جتنا اس کا حق ہے ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اللہ کا شکر ہے کہ ہم اس سے حیا کرتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا ٹھیک ہے لیکن اس کا حق یہ ہے کہ تم اپنے سر اور جو کچھ اس میں ہے اس کی حفاظت کرو پھر پیٹ اور اس میں جو کچھ اپنے اندر جمع کیا ہوا ہے اس کی حفاظت کرو اور پھر موت اور ہڈیوں کے گل سٹر جانے کو یاد کیا کرو اور جو آخرت کی کامیابی چاہے گا وہ دنیا کی زینت کو ترک کر دے گا اور جس نے ایسا کیا اس نے اللہ سے حیا کرنے کا حق ادا کر دیا یہ حدیث غریب ہے ہم اسے اللہ سے حیا کرنے کا حق ادا کر دیا یہ حدیث غریب ہے ہم اسے صرف اسی سند یعنی بواسطہ اباب بن اسحاق صباح بن محمد کی روایت سے پہچانتے ہیں

باب

سفیان بن وکیع، عیسیٰ بن یونس، ابو بکر بن مریم، (دوسری سند) عبدللہ بن عبدالرحمن عمرو بن عون، ابن مبارک، ابو بکر بن ابی مریم، ضمرۃ بن حبیب، حضرت شداد بن اوس نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے نقل کرتے ہیں کہ عقلمند وہ ہے جو اپنے نفس کو عبادت میں لگائے اور موت کے بعد کی زندگی کے لئے عمل کرے جبکہ بے وقوف وہ ہے جو اپنے نفس کی پیروی کرے اور اللہ تعالیٰ سے امید رکھے یہ حدیث حسن ہے اور (مَنْ دَانَ نَفْسَہُ) کا مطلب حساب قیامت سے پہلے نفس کا محاسبہ کرنا ہے حضرت عمر بن خطاب سے منقول ہے کہ انہوں نے فرمایا اپنے نفسوں کا محاسبہ کرو اس سے قبل کہ تمہارا محاسبہ کیا جائے اور بری پیشی کے لئے تیار ہو جاؤ قیامت کے دن اس آدمی کا حساب آسان ہو گا جس نے دنیا ہی میں اپنا حساب کر لیا میمون بن مہران سے منقول ہے کہ انہوں نے فرمایا بندہ اس وقت تک پرہیزگار شمار نہں ہوتا جب تک اپنے نفس کا محاسبہ نہ کرے جس طرح اپنے شریک سے کرتا ہے کہ اس نے کہاں سے کھایا اور کہاں سے پہنا

باب

محمد بن احمد مدویۃ، قاسم بن حکم عرنی، عبید اللہ بن ولید وصافی، عطیۃ، حضرت ابو سعید سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اپنے مصلی پر تشریف لائے تو کچھ لوگوں کو ہنستے ہوئے دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا اگر تم لذتوں کو ختم کرنے والی چیز کو یاد کرتے تو تمہیں اس بات کی فرصت نہ ملتی جو میں دیکھ رہا ہوں لہذا لذتوں کو قطع کرنے والی موت کو زیادہ یاد کرو کوئی قبر ایسی نہیں جو روزانہ اس طرح نہ پکارتی ہو کہ غربت کا گھر ہوں میں تنہائی کا گھر ہوں میں مٹی کا گھر ہوں اور میں کیڑوں کا گھر ہوں پھر جب اس میں کوئی مومن بندہ دفن کیا جاتا ہے تو وہ اسے ( مَرْحَبًا وَأَہْلًا) کہہ کر خوش آمدید کہتی ہے پھر کہتی ہے کہ میری پیٹھ پر جو لوگ چلتے ہیں تو مجھ ان سب میں محبوب تھا اب تجھے میرے سپرد کر دیا گیا ہے تو اب تو میرے حسن سلوک دیکھے گا پھر وہ اس کے لئے حد نگاہ تک کشادہ ہو جاتی ہے اور اس کے لئے جنت کا دروازہ کھول دیا جاتا ہے اور جب گنہگار یا کافر آدمی دفن کیا جاتا ہے قبر اسے خوش آمدید نہیں کہتی بلکہ (لَا مَرْحَبًا وَلَا أَہْلًا) کہتی ہے پھر کہتی ہے کہ میری پیٹھ پر چلنے والوں میں تم سب سے زیادہ مبغوض شخص تھے آج جب تمہیں میرے سپرد کیا گیا ہے تو تم میری بدسلوکی بھی دیکھو گے پھر وہ اسے اس زور سے بھینچتی ہے کہ اس کی پسلیاں ایک دوسری میں گھس جاتی ہیں راوی کہتے ہیں کہ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اپنی انگلیاں ایک دوسری میں داخل کر کے دکھائیں پھر آپ نے فرمایا کہ اس کے بعد اس پر ستر اژدھے مقرر کر دئیے جاتے ہیں اگر ان میں سے ایک زمین پر ایک مرتبہ پھونک مار دے تو اس پر کبھی کوئی چیز نہ اگے پھر وہ اسے کاٹتے ہیں اور نوچتے رہتے ہیں یہاں تک کہ اسے حساب و کتاب کے لئے اٹھایا جائے گا پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا قبر جنت کے باغوں میں سے ایک باغ یا دوزخ کے گڑھوں میں سے ایک گڑھا ہے یہ حدیث غریب ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں

باب

عبد بن حمید، عبدالرزاق، معمر، زہری، عبید اللہ بن عبداللہ بن ابی ثور، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے پاس گیا تو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ایک چٹائی پر ٹیک لگائے ہوئے بیٹھے تھے میں نے آپ کے پہلو میں اس کے نشانات دیکھے اس حدیث میں ایک طویل قصہ ہے یہ حدیث صحیح ہے

باب

سوید، عبد اللہ، معمر و یونس، زہری، عروۃ بن زبیر، حضرت مسور بن مخرمہ کہتے ہیں کہ قبیلہ بنوعامر بن لوی کے حلیف عمرو بن عوف جہنوں نے جنگ بدر میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے ساتھ شرکت کی فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ابو عبیدہ بن جراح کو بحرین کا عامل بنا کر بھیجا تو بحرین سے کچھ مال لے کر لوٹے جب انصار نے ان کی آمد کا سنا تو فجر کی نماز آنحضرت کے ساتھ پڑھی آپ نے نماز سے فارغ ہونے کے بعد انہیں دیکھا تو مسکرائے پھر فرمایا میرا خیال ہے کہ ابو عبیدہ کی آمد کی خبر تم لوگوں تک پہنچ گئی ہے انہوں نے عرض کیا جی ہاں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم آپ نے فرمایا تمہیں خوشخبری ہو اور تم اس چیز کی امید رکھو جو تمہیں خوش رکھے اللہ کی قسم میں تم پر فقر سے نہیں ڈرتا بلکہ میں اس سے ڈرتا ہوں کہ دنیا تم لوگوں کے لئے بھی پہلے لوگوں کی طرح کشادہ کر دی جائے گی تم اس سے اسی طرح طمع و حرص کرنے لگو جس طرح وہ لوگ کرتے تھے پھر وہ تم لوگوں کو بھی ہلاک کر دے جیسے ان لوگوں کو ہلاک کیا تھا یہ حدیث صحیح ہے

باب

سوید، عبداللہ بن یونس، زہری، عروۃ بن زبیر بن مسیب، حضرت حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے کچھ مال مانگا اور آپ نے تینوں مرتبہ دیا پھر فرمایا اے حکیم یہ مال ہرا ہرا اور میٹھا میٹھا ہوتا ہے چنانچہ جو شخص اسے سخاوت نفس سے لیتا ہے اس کے لئے اس میں برکت ڈال دی جاتی ہے لیکن جو اسے اپنے نفس کو ذلیل کر کے حاصل کرتا ہے اس کے لئے برکت نہیں ڈالی جاتی ایسے شخص کی مثال اس شخص کی سی ہے جو کھائے لیکن اس کا پیٹ نہ بھرے اور جان لو کہ اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہوتا ہے حکیم نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے آپ کے بعد کبھی کسی سے سوال نہیں کروں گا چنانچہ حضرت ابو بکر صدیق حکیم کو کچھ دینے کے لئے بلاتے تو وہ انکار کر دیتے پھر حضرت عمر نے بھی بلوایا تو انہوں نے انکار کر دیا اس پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا اے مسلمانوں گواہ رہنا کہ میں حکیم کا مال فئی میں سے اس کا حق پیش کرتا ہوں تو یہ انکار کر دیتے ہیں پھر حکیم نے اپنی زندگی میں کبھی کسی سے سوال نہیں کیا یہاں تک کہ وفات پا گئے یہ حدیث صحیح ہے

باب

 قتیبہ ، ابو صفوان، یونس، زہری، حمید بن عبدالرحمن، حضرت عبدالرحمن بن عوف فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے ساتھ تنگدلی اور تکلیف کی آزمائش میں ڈالے گئے جس پر ہم نے صبر کیا پھر ہمیں وسعت اور خوشی دے کر آزمایا گیا تو ہم صبر نہ کر سکے یہ حدیث حسن ہے

باب

ہناد، وکیع، ربیع بن صبیح، یزید بن ابان رقاشی، حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا جسے آخرت کا فکر ہو اللہ تعالیٰ اس کا دل غنی کر دیتا ہے اور اس کے بکھرے ہوئے کاموں کو جمع کر دیتا ہے اور دنیا اس کے پاس ذلیل لونڈی بن کر آتی ہے اور جسے دنیا کی فکر ہو اللہ تعالیٰ محتاجی اس کی دونوں آنکھوں کے سامنے کر دیتا ہے اور اس کے مجتمع کاموں کو منتشر کر دیتا ہے اور دنیا بھی اسے اتنا ہی ملتا ہے جنتا اس کے لئے مقدر ہے

باب

علی بن خشرم، عیسیٰ بن یونس، عمران بن زائدہ بن نشیط، نشیط، ابو خالد والبی، حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے حدیث قدسی نقل کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا اے ابن آدم تم میری عبادت میں مشغول ہو جاؤ میں تمہارے دل کو بے نیاز کر دوں گا لیکن ایسا نہیں کرو گے تو تمہارے دونوں ہاتھ مشغول رہیں گے اور اس کے باوجود تمہارا فقر دور نہیں کروں گا یہ حدیث حسن غریب ہے اور ابا خالد والبی کا نام ہرمز ہے

باب

ہناد، ابو الاحوص، لیث، سہر بن حوشب، عبدالرحمن بن غنم، حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اے میرے بندو تم سب بھٹکے ہوئے ہو مگر جس کو میں ہدایت دوں لہذا مجھ سے ہدایت مانگا کرو تاکہ میں تمہیں دوں ، تم سب فقیر ہو مگر یہ کہ میں کسی کو غنی کر دوں لہذا تم لوگ مجھ سے رزق مانگا کرو تاکہ میں تمہیں عطاء کروں اسی طرح تم سب گناہ گار ہو مگر یہ کہ جسے میں محفوظ رکھوں۔ چنانچہ جو شخص جانتا ہے کہ میں مغفرت کی قدرت رکھتا ہوں اور مجھ سے مغفرت طلب کرتا ہے تو میں اسے معاف کر دیتا ہوں۔ مجھے اس کی کوئی پرواہ نہیں ہوتی۔ اور اگر تمہارے اگلے پچھلے زندہ، مردہ، خشک اور تازہ سب کے سب تقویٰ کی اعلی ترین قدروں پر پہنچ جائیں تو اس سے میری بادشاہت میں مچھر کے پر کے برابر بھی اضافہ نہیں ہو گا۔ اسی طرح اگر یہ تمام کے تمام شقی اور بدبخت ہو جائیں تو اس سے میری سلطنت و بادشاہت میں مچھر کے پر کے برابر بھی کمی نہیں آئے گی۔ نیز اگر تمہارے اگلے ، پچھلے ، جن، انس، زندہ، مردہ تر یا خشک سب کے سب ایک زمین پر جمع ہو جائیں اور پھر مجھ سے اپنی اپنی منتہائے آرزو کے متعلق سوال کریں پھر میں ہر سائل کو عطاء کر دوں تو بھی میری بادشاہت و سلطنت میں کوئی کمی نہیں آئے گی مگر یہ کہ تم میں سے کوئی سمندر پر سے گزرے تو اس میں سوئی ڈبو کر نکال لے یعنی اتنی کمی آئے جتنا اس سوئی کے ساتھ پانی لگ جائے گا۔ یہ سب اس لیے ہے کہ میں جواد ہوں۔ (جو نہ مانگنے پر خفا ہو جاتا اور بغیر مانگے عطاء کرتا ہے ) واجد (جو کبھی فقیر نہیں ہوتا) ہوں اور ماجد (جس کی شرف و عظمت کی کوئی انتہا نہیں ) ہوں۔ جو چاہتا ہوں کرتا ہوں۔ میری عطاء اور عذاب دونوں کلام ہیں اس لیے کہ اگر میں کچھ کرنا چاہتا ہوں تو کہہ دیتا ہوں کہ ہو جا، وہ ہو جاتا ہے۔ یہ حدیث حسن ہے۔

باب

عبید بن اسباط بن محمد قرشی، ان کے والد، اعمش، عبداللہ بن عبد اللہ، سعد مولی طلحۃ، حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو سات سے بھی زیادہ مرتبہ فرماتے ہوئے سنا کہ بنی اسرائیل کا کفل نامی ایک شخص کسی گناہ سے پرہیز نہیں کرتا تھا۔ اس کے پاس ایک عورت آئی تو اس نے اسے ساٹھ دینار دیئے تاکہ وہ اس سے جماع کر سکے۔ چنانچہ جب وہ شخص اس سے یہ فعل (یعنی جماع) کرنے لگا تو وہ رونے اور کانپنے لگی۔ اس نے کہا تم کیوں روتی ہو۔ کیا میں نے تمہارے ساتھ زبردستی کی ہے۔ اس عورت نے کہا نہیں بلکہ یہ ایک ایسا عمل ہے جو اس سے پہلے میں نے نہیں کیا لیکن ضرورت نے مجھے مجبور کیا۔ کفل نے کہا جو کام تم نے کبھی نہی کیا آج کر رہی ہو۔ جاؤ وہ دینار تمہارے ہیں۔ پھر اس شخص نے کہا اللہ کی قسم میں آج کے بعد کبھی اللہ کی نافرمانی نہیں کروں گا۔ پھر وہ اسی رات مر گیا تو صبح اس کے دروازے پر لکھا ہوا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے کفل کو معاف کر دیا۔ یہ حدیث حسن ہے۔ اور اسے شیبان اور کئی راوی اعمش سے غیر مرفوع نقل کرتے ہیں۔ جبکہ بعض اعمش سے مرفوعاً بھی نقل کرتے ہیں۔ ابو بکر بن عیاش یہی حدیث اعمش سے نقل کرتے ہوئے اس میں غلطی کرتے ہیں۔ اور کہا کہ عبداللہ بن عبداللہ نے بواسطہ سعید بن جبیر، حضرت ابن عمر سے روایت کی ہے اور یہ غیر محفوظ ہے۔ عبداللہ بن عبداللہ رازی کوفی ہے اور اس کی دادی حضرت علی بن ابی طالب کی لونڈی تھیں۔ عبداللہ بن عبداللہ رازی سے عبیدہ ضبی، حجاج بن ارطاہ اور دوسرے لوگوں نے روایت کی ہے۔

باب

ہناد، ابو معاویہ، اعمش، عمارہ بن عمیر، حارث بن سوید، عبداللہ کہتے ہیں کہ عبداللہ نے ہم سے دو حدیثیں بیان کیں ایک اپنی طرف سے اور دوسری نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے نقل کی۔ چنانچہ حضرت عبداللہ فرماتے ہیں مؤمن اپنے گناہ کو ایسے دیکھتا ہے جیسے وہ پہاڑ کے نیچے ہے اور اسے ڈر ہے کہ کہیں وہ اس پر گر پڑے گا اور بدکار اپنے گناہ کو ایسے دیکھتا ہے جیسے ناک پر مکھی بیٹھی ہوئی ہو، اس نے اشارہ کیا اور وہ اڑ گئی۔ (یہ عبداللہ کا قول تھا جبکہ دوسری حدیث یہ ہے کہ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا اللہ تم میں سے کسی ایک کی توبہ سے اس آدمی بھی سے بھی زیادہ خوش ہوتا ہے جو ایک خطرناک چٹیل میدان میں ہو، اس کے ساتھ اس کی سواری ہو جس پر اس کا سامان کھانا پانی اور ضرورت کی اشیاء رکھی ہوں پس وہ گم ہو جائے اور وہ شخص اس کی تلاش میں نکلے یہاں تک کہ اسے موت آنے لگے تو کہے میں اسی جگہ لوٹ جاتا ہوں جہاں سے میری سواری گم ہوئی تاکہ وہاں ہی مروں۔ جب وہ اپنے مقام پر لوٹ کر آئے تو اس پر نیند طاری ہو جائے۔ جب اسکی آنکھ کھلتی ہے تو اسکی اونٹنی اس کے سر پر کھڑی ہو اور کھانے پینے کا سارا سامان موجود ہو۔ امام ابو عیسی ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ اور اس باب میں حضرت ابو ہریرہ نعمان بن بشیر اور انس بن مالک سے بھی احادیث منقول ہیں۔

باب

احمد بن منیع، زید بن حباب، علی بن مسعدۃ باہلی، قتادۃ، حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا تمام ابن آدم انسان خطاکار ہیں اور ان میں سب سے بہترین توبہ کرنے والے ہیں۔ یہ حدیث غریب ہے۔

باب

سوید، عبداللہ بن مبارک، معمر، زہری، ابو سلمۃ، حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا جو شخص اللہ اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتا ہو اسے مہمان کی عزت کرنی چاہیے اور جو شخص اللہ تعالیٰ اور قیامت پر ایمان رکھتا ہو اسے چاہیے کہ اچھی بات کر یا خاموش رہے۔ یہ حدیث صحیح ہے۔ اس باب میں حضرت عائشہ، انس، شریح کعبی عدوی سے بھی روایات منقول ہیں۔ شریح کعبی عدوی کا نام خویلدبن عمرو ہے۔

باب

 قتیبہ ، ابن لہیعۃ، یزیدبن عمرو، ابو عبدالرحمن جبلی، حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا جو شخص خاموش رہا اس نے نجات پائی۔ اس حدیث کو ہم صرف ابن لہیعہ کی روایت سے جانتے ہیں۔

باب

ابراہیم بن سعید جوہری، ابو اسامۃ، برید بن عبد اللہ، ابو بردۃ، حضرت ابو موسی رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے پوچھا کہ مسلمانوں میں سب سے افضل کون ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا جس کی زبان اور ہاتھ سے مسلمان محفوظ رہیں۔ یہ حدیث ابو موسی رضی اللہ عنہ کی روایت سے صحیح غریب ہے۔

 

باب

احمد بن منیع، محمد بن حسن بن ابی یزید ہمدانی، ثوربن یزید، خالد بن معدان، حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا جس نے اپنے کسی (مسلمان) بھائی کو گناہ پر عیب لگایا تو وہ اس وقت تک نہیں مرے گا جب تک اس گناہ کا ارتکاب نہ کرے۔ امام احمد فرماتے ہیں کہ اس سے مراد وہ گناہ ہے جس سے وہ توبہ کر چکا ہو۔ یہ حدیث حسن غریب ہے اس کی سند متصل نہیں۔

باب

عمر بن اسماعیل بن مجالد بن سعید ہمدانی، حفض بن غیاث، (دوسری سند) سلمۃ بن شبیب، امیۃ بن قاسم، حفص بن غیاث، برد بن سنان، مکحول، حضرت واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا اپنے مسلمان بھائی کی مصیبت پر خوشی کا اظہار نہ کرو ورنہ اللہ تعالیٰ اس پر رحم کرے گا اور تمہیں اس میں مبتلا کرے گا۔ یہ حدیث غریب ہے مکحول نے واثلہ بن اسقع، انس بن مالک اور ابو ہند داری سے احادیث سنی ہیں بعض حضرات کا کہنا ہے کہ ان تین شخصوں کے علاوہ ان کا کسی صحابی سے سماع نہیں۔ مکحول شامی کی کنیت ابو عبد اللہ ہے وہ غلام تھے پھر انہیں آزاد کیا گیا۔ مکحول ازدی بصری نے عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے احادیث سنی ہیں اور عمارہ بن زاذان نے ان سے روایت کی ہے۔

باب

علی بن حجر، اسماعیل بن عیاش، تمیم، عطیہ ہم سے روایت کی علی بن حجر نے انہوں نے اسماعیل بن عیاش سے انہوں نے تمیم سے انہوں نے عطیہ سے نقل کیا کہ انہوں نے کہا میں نے کئی مرتبہ لوگوں کے مسئلہ پوچھنے پر جواب میں مکحول کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ مجھے علم نہیں۔

باب

ہناد ، وکیع ، سفیان ، علی بن اقمر ، ابو حذیفہ ، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا میں نہیں چاہتا کہ کسی کا عیب بیان کروں اگرچہ اس کے بدلے مجھے یہ یہ ملے یعنی دنیا کا مال۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔

باب

محمد بن بشار ، یحیی بن سعید ، عبدالرحمن ، سفیان ، علی بن اقمر ، ابو حذیفہ ، حضرت عائشہ سے روایت سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے سامنے ایک شخص کا ذکر کیا تو آپ نے فرمایا میں پسند نہیں کرتا کہ کسی کا تذکرہ کروں اگرچہ مجھے اس

باب

ابو موسی محمد بن مثنی، ابن ابی عدی، شعبۃ، سلیمان اعمش، یحیی بن وثاب ایک صحابی سے نقل کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا وہ مسلمان جو دوسرے مسلمانوں سے مل جل کر رہتا ہے اور ان کی تکالیف پر صبر کرتا ہے وہ اس مسلمان سے بہتر ہے جو الگ تھلگ رہتا ہے اور لوگوں کی تکالیف و مصائب پر صبر نہیں کرتا۔ ابن عدی فرماتے ہیں کہ شعبہ کے خیال میں اس حدیث کے راوی حضرت ابن عمر ہیں۔

 

باب

ابو یحیی محمد بن عبدالرحیم بغدادی، معلی بن منصور، عبداللہ بن جعفر مخزمی، مسوربن مخرمہ، عثمان بن محمداخنسی، سعید مقبری، حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا آپس کی عداوت سے بچو کیونکہ یہ تباہ کن چیز ہے۔ امام ابو عیسی ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث صحیح غریب ہے۔ اور سُوءَ ذَاتِ الْبَیْنِ کا مطلب بغض و عداوت ہے اور حَالِقَۃُ کے معنی دین کو مونڈنے والی کے ہیں۔

باب

ہناد، ابو معاویہ، اعمش، عمرو بن مرۃ، سالم بن ابی الجعد، ام الدرداء، حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا کیا میں تمہیں ایسی چیز نہ بتاؤں جو روزے نماز اور صدقے سے افضل ہے۔ صحابہ کرام نے عرض کیا کیوں نہیں ! آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا آپس میں محبت اور میل جول اس لیے کہ آپس کا بغض تباہی کی طرف لے جاتا ہے۔ یہ حدیث صحیح ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے منقول ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا آپس کی پھوٹ مونڈ دیتی ہے۔ میں یہ نہیں کہتا کہ سر کو مونڈ دیتی ہے بلکہ یہ تو دین کو مونڈ دیتی ہے۔ (یعنی انسان کو تباہی کی طرف لے جاتی ہے )

باب

سفیان بن وکیع، عبدالرحمن بن مہدی، حرب بن شداد، یحیی بن ابی کثیر، یعیش بن ولید، مولی زبیر، حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا تم لوگوں میں پہلی امتوں والا مرض گھس آیا ہے اور وہ حسد اور بغض ہے جو تباہی کی طرف لے جاتا ہے (مونڈ دیتا ہے ) میرا یہ مطلب نہیں کہ بالوں کو مونڈ دیتا ہے بلکہ وہ دین کو مونڈ دیتا ہے۔ اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے تم لوگ اس وقت تک جنت میں داخل نہیں ہو سکتے جب تک مومن نہ ہو جاؤ اور اس وقت تک جنت میں داخل نہیں ہو سکتے جب تک مومن نہ ہو جاؤ اور اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتے جب تک آپس میں محبت سے نہ رہو گے۔ کیا میں تمہیں ایسی چیز نہ بتاؤں جو تم لوگوں میں محبت کو دوام بخشے ؟ وہ یہ کہ تم آپس میں سلام کو رواج دو۔

باب

علی بن حجر، اسماعیل بن ابراہیم، عیینہ بن عبدالرحمن، عبدالرحمن، حضرت ابو بکرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا بغاوت اور قطع رحمی ایسے گناہ ہیں کہ کوئی گناہ دنیا اور آخرت دونوں میں ان سے زیادہ عذاب کے لائق نہیں۔ یہ حدیث صحیح ہے

باب

سوید، عبد اللہ، مثنی بن صباح، عمرو بن شعیب، حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا دو خصلتیں ایسی ہیں کہ جس شخص میں ہوں گی۔ اللہ تعالیٰ اسے صابر و شاکر لکھ دے گا اور جس میں نہیں ہوں گی اسے صابر شاکر نہیں لکھے گا۔ ایک یہ کہ دین کے معاملات میں اپنے سے بہتر کو دیکھے اور اس کی پیروی کرنے کی کوشش کرے دوسرے یہ کہ دنیاوی معاملات میں اپنے سے کمتر کی طرف دیکھے اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرے کہ اس نے اسے اس پر فضلیت دی ہے۔ ایسے شخص کو اللہ تعالیٰ شاکر اور صابر لکھ دیتے ہیں لیکن اگر کوئی شخص دینی معاملات میں اپنے سے کم تر کی طرف دیکھے اور دنیاوی معاملات میں اپنے سے بڑے لوگوں کی طرف دیکھے اور جو کچھ اسے نہیں ملا اس پر افسوس کرے تو اللہ تعالیٰ اسے شاکر اور صابر لوگوں میں نہیں لکھتے۔

باب

موسی بن حزام، علی بن اسحاق، عبد اللہ، مثنی بن صباح، عمرو بن شعیب سے وہ اپنے والد سے اور وہ انکے دادا سے اسی کی طرح مرفوع حدیث نقل کرتے ہیں۔ یہ حدیث غریب ہے۔ سوید نے اپنی روایت میں عمرو بن شعیب کے بعد ان کے والد کا ذکر نہیں کیا۔

باب

ابو کریب، ابو معاویہ ووکیع، اعمش، ابو صالح، حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا دنیاوی معاملات میں اپنے سے کمتر لوگوں کی طرف دیکھا کرو اور اپنے سے اوپر والوں کی طرف نہ دیکھو اس لیے کہ ایسا کرنے سے امید ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کی ان نعمتوں کو حقیر نہیں جانو گے جو تمہارے پاس ہیں۔ یہ حدیث صحیح ہے۔

باب

بشربن ہلال بصری، جعفر بن سلیمان، جریری، (دوسری سند) ہارون بن عبداللہ بزاز، سیار، جعفر بن سلیمان، سعید جریری، حضرت ابو عثمان، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے کاتب حنظلہ اسیدی سے نقل کرتے ہیں کہ وہ ابو بکر رضی اللہ عنہ کے پاس سے روتے ہوئے گزرے۔ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے پوچھا حنظلہ کیا ہوا؟ عرض کیا اے ابو بکر رضی اللہ عنہ ! حنظلہ منافق ہو گیا۔ اس لیے کہ جب ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی مجلس میں ہوتے ہیں اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ہمیں جنت و دوزخ کی یاد دلاتے ہیں تو ہم اس طرح ہوتے ہیں گویا کہ ہم اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہوں لیکن جب ہم آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی مجلس سے لوٹتے ہیں تو اپنی بیویوں اور سامان دنیا میں مشغول ہو کر اکثر باتیں بھول جاتے ہیں۔ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا اللہ کی قسم میرا بھی یہی حال ہے۔ چلو نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی خدمت میں چلتے ہیں۔ جب ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے پاس پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا اے حنظلہ تجھے کیا ہوا۔ عرض کیا۔ میں منافق ہو گیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کیونکہ جب ہم آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے پاس ہوتے ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم جنت و دوزخ کا تذکرہ کرتے ہیں تو گویا کہ ہم انہیں اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہوتے ہیں لیکن جب ہم اپنے گھر بار اور بیویوں میں مشغول ہو جاتے ہیں تو ان نصیحتوں کا اکثر حصہ بھول جاتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا اگر تم لوگ اس حال پر باقی رہو جس پر میرے پاس سے اٹھ کر جاتے ہو تو فرشتے تمہاری مجالس، تمہارے بستروں اور تمہاری راہوں میں تم لوگوں سے مصافحہ کرنے لگیں۔ لیکن حنظلہ کوئی گھڑی کیسی ہوتی ہے اور کوئی کیسی۔ امام ابو عیسی ترمذی فرماتے ہیں یہ حدیث حسن صحیح ہے۔

باب

سوید، عبد اللہ، شعبۃ، قتادۃ، حضرت انس رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے تقل کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا تم میں سے کوئی اس وقت تک کامل مومن نہیں ہو سکتا جب تک وہ اپنے بھائی کے لیے وہی چیز پسند نہ کرے جو اپنے لیے پسند کرتا ہے۔ یہ حدیث صحیح ہے۔

باب

احمد بن محمد بن موسی، عبداللہ بن مبارک، لیث بن سعد وابن لہیعۃ، قیس حجاج، (دوسری سند) عبداللہ بن عبدالرحمن، ابو ولید، لیث بن حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ میں ایک مرتبہ (سواری پر) نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے پیچھے بیٹھا ہوا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا اے لڑکے میں تمہیں چند باتیں سکھاتا ہوں وہ یہ کہ ہمیشہ اللہ کو یاد رکھ وہ تجھے محفوظ رکھے گا۔ اللہ تعالیٰ کو یاد رکھ اسے اپنے سامنے پائے گا۔ جب مانگے تو اللہ تعالیٰ سے مانگ اور اگر مد د طلب کرو تو صرف اسی سے مد د طلب کرو اور جان لو کہ اگر پوری امت اس بات پر متفق ہو جائے کہ تمہیں کسی چیز میں فائدہ پہنچائیں تو بھی وہ صرف اتنا ہی فائدہ پہنچا سکیں گے جتنا اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے لکھ دیا ہے اور اگر تمہیں نقصان پہنچانے پر اتفاق کر لیں تو ہرگز نقصان نہیں پہنچا سکتے مگر وہ جو اللہ تعالیٰ نے تیرے لیے لکھ دیا۔ اس لیے کہ قلم اٹھا دیئے گئے اور صحیفے خشک ہو چکے۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔

باب

عمرو بن علی، یحیی بن سعید قطان، مغیرۃ بن ابی قرۃ سدوسی، حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے پوچھا کہ کیا اونٹنی کو باندھ کر توکل کروں یا بغیر باندھے۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم فرمایا باندھو اور اللہ پر بھروسہ رکھ۔ عمرو بن علی کہتے ہیں یحیی بن سعید نے فرمایا میرے نزدیک یہ حدیث منکر ہے۔ امام ابو عیسی ترمذی فرماتے ہیں۔ یہ حدیث حضرت انس رضی اللہ عنہ کی روایت سے غریب ہے اور ہم اسے صرف اسی سند سے پہچانتے ہیں۔ عمرو بن امیہ ضمری سے بھی اس کے ہم معنی مرفوع حدیث مروی ہے۔

باب

ابو موسی انصاری، عبداللہ بن ادریس، شعبۃ، برید بن ابی مریم، ابو حوراء سعدی کہتے ہیں کہ میں نے حسن بن علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی کون سی حدیث یاد کی ہے ؟ انہوں نے فرمایا میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا یہ قول یاد رکھا ہے کہ ایسی چیز جو تمہیں شک میں مبتلا کرے اسے چھوڑ کر وہ چیز اختیار کر لو جو تمہیں شک میں نہ ڈالے ، اس لیے کہ سچ سکون ہے اور جھوٹ شک و شبہ ہے۔ اس حدیث میں ایک قصہ ہے۔ یہ حدیث صحیح ہے۔ ابو حوراء کا نام ربیعہ بن شیبان ہے۔ محمد بن بشار بھی محمد بن جعفر سے وہ شعبہ سے اور وہ بریدہ سے اسی کی مانند حدیث نقل کرتے ہیں۔

باب

زید بن اخزم طائی بصری، ابراہیم بن ابی الوزیر، عبداللہ بن جعفر مخرمی، محمد بن عبدالرحمن بن نبیہ، محمد بن منکدر، حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے سامنے ایک شخص کی کثرتِ عبادت اور ریاضت کا تذکرہ کیا گیا جبکہ دوسرے شخص کے شبہات سے بچنے کا تذکرہ کیا گیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا کوئی عبادت (اس دوسرے شخص کی) پرہیزگاری کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔ یہ حدیث غریب ہے ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔

باب

ہناد و ابو زرعۃ، قبیصۃ، اسرائیل، ہلال بن مقلاص صیرفی، ابو بشر، ابو وائل، حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا جس شخص نے حلال کھایا سنت پر عمل کیا اور لوگ اس کی شرارت سے محفوظ رہیں وہ جنت میں داخل ہو گیا۔ ایک شخص نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ! اس زمانے میں تو ایسے لوگ بہت ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا میرے بعد کے زمانوں میں بھی یہ بات ہو گی۔ یہ حدیث غریب ہے اور ہم اسے صرف اسی سند سے یعنی اسرائیل کی روایت سے جانتے ہیں۔

باب

عباس بن محمد، یحیی بن ابی بکیر، اسرائیل، ہلال بن مقلاص ہم سے روایت کی عباس بن محمد نے انہوں نے یحیی سے انہوں نے اسرائیل سے اور وہ ہلال بن مقلاص سے اسی کی مانند حدیث نقل کرتے ہیں۔

باب

عباس دوری، عبداللہ بن یزید، سعید بن ابی ایوب، ابو مرحوم عبدالرحیم بن میمون، حضرت سہل بن معاذ جہنی اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا جس نے اللہ تعالیٰ کے لیے کسی کو کچھ دیا، اللہ کیلئے کسی کو کچھ نہ دیا، اللہ ہی کے لیے محبت کی اور اللہ ہی کے لیے (کسی سے ) دشمنی کی۔ اللہ ہی کے لیے نکاح کیا، اس کا ایمان مکمل ہو گیا۔ یہ حدیث منکر ہے۔

 

جنت کی صفات کا بیان

جنت کے درختوں کی صفات کے متعلق

عباس بن محمد دوری، عبید اللہ بن موسی، شیبان، فراس، عطیۃ، حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے نقل کرتے ہیں کہ جنت میں ایسے درخت ہیں کہ کوئی سوار اگر اس کے سایہ میں سو سال تک بھی چلتا رہے تو بھی اس کا سایہ ختم نہ ہو گا (الظِّلُّ الْمَمْدُودُ) پھیلے ہوئے سائے سے یہی مراد ہے۔ (جو قرآن پاک میں مذکور ہے )

٭٭ قتیبہ بن سعید، لیث، سعید بن ابی سعید، ابو سعید، حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے نقل کرتے ہیں کہ جن میں ایک ایسا درخت ہے جس کے سائے میں ایک سوار سو سال تک چلتا رہے گال۔ اس باب میں حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ سے بھی روایات منقول ہیں۔ یہ حدیث صحیح ہے۔

٭٭ ابو سعید اشج، زیاد بن حسن بن فرات قزاز، حسن، فرات، ابو حازم، حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا کہ جنت کے ہر درخت کا تنا سونے کاہے۔ یہ حدیث غریب حسن ہے۔

جنت اور اس کی نعمتوں کے متعلق

ابو کریب، محمد بن فضیل، حمزۃ زیات، زیاد طائی، حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ! جب ہم آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی خدمت میں ہوتے ہیں تو ہمارے دل نرم اور دنیا سے بیزار ہوتے ہیں اور ہم آخرت والوں میں سے ہوتے ہیں لیکن جب آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے پاس سے چلے جاتے ہیں اور گھر والوں سے مانوس اور اولاد سے ملتے جلتے ہیں تو ہمارے دل بدل جاتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا اگر تم اسی حالت میں رہو جس طرح میرے پاس سے جاتے ہو تو فرشتے تمہارے گھروں میں تمہاری ملاقات کریں اور اگر تم گناہ نہ کرو تو اللہ تعالیٰ ضرور ایک نئی مخلوق لے آئے گا کہ وہ گناہ کریں پھر اللہ تعالیٰ انہیں بخش دے۔ حضرت ابو ہریرہ فرماتے ہیں میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ! مخلوق کو کس چیز سے پیدا کیا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا پانی سے۔ میں نے پوچھا جنت کس چیز سے بنی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا ایک اینٹ چاندی کی ہے اور ایک اینٹ سونے کی، اس کا گارا نہایت خوشبودار مشک ہے۔ اس کے کنکر موتی اور یاقوت (سے ) ہیں اور اس کی مٹی زعفران کی ہے۔ جو اس میں داخل ہو گا نعمتوں میں رہے گا اور کبھی مایوس نہ ہو گا۔ ہمیشہ اس میں رہے گا اسے کبھی موت نہیں آئے گی۔ پھر جنتیوں کے کپڑے کبھی پرانے نہیں ہوں گے اور ان کی جوانی کبھی ختم نہیں ہو گی پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا تین آدمیوں کی دعا ضرور قبول ہوتی ہے۔ عادل حاکم، روزہ دار جب افطار کرتا ہے اور مظلوم کی بد دعا۔ چنانچہ جب مظلوم دعا کرتا ہے تو اس کے لیے آسمانوں کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے مجھے میری عزت کی قسم میں ضرور تمہاری مد د کرونگا اگرچہ تھوڑی دیر بعد ہی کروں۔ اس حدیث کی سند قوی نہیں اور میرے نزدیک یہ غیر متصل ہے۔ ابو ہریرہ رضی اللہ سے یہی حدیث دوسری سند سے منقول ہے۔

جنت کے بالاخانوں سے متعلق

علی بن حجر، علی بن مسہر، عبدالرحمن بن اسحاق، نعمان بن سعد، حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا جنت میں ایسے کمرے ہوں گے جن کا اندرونی منظر باہر سے اور بیرونی منظر اندر سے نظر آئے گا۔ ایک دیہاتی کھڑا ہوا اور عرض کیا وہ کس کے لیے ہوں گے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ! آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا یہ اس کے لیے ہیں جس نے اچھی گفتگو کی، کھانا کھلایا ہمیشہ روزہ رکھا اور رات کے وقت جب لوگ سوئے ہوئے ہوں اللہ کے لیے نماز پڑھی۔ یہ حدیث غریب ہے۔ بعض محدثین عبدالرحمن اسحاق کے حافظے پر اعتراض کرتے ہیں۔ یہ کوفی جبکہ عبدالرحمن بن اسحاق قرشی مدنی ہیں اور وہ اثبت ہیں۔

٭٭ محمد بن بشار، عبدالعزیز بن عبدالصمد عمی، ابو عمران جونی، ابو بکر بن عبداللہ بن قیس، حضرت عبداللہ بن قیس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا جنت میں دو باغ ہی جن کے برتن اور جو کچھ اس میں ہے ، چاندی کے ہیں۔ دو باغ ایسے ہیں جن کے برتن اور جو کچھ اس میں ہے سونے کے ہیں۔ پھر اہل جنت اور رویت باری تعالیٰ میں ایک اس کی کبریائی کی چادر کے علاوہ کوئی چیز حائل نہیں ہو گی جو کہ جنت عدن میں اس کے چہرہ مبارک پر ہو گی۔ اسی سند سے یہ بھی منقول ہے کہ جنت میں ایک ایسا خیمہ بھی ہو گا جو ساٹھ میل چوڑے موتی سے تراشا ہوا ہو گا۔ اس کے ایک کونے والے دوسرے کونے والوں کو نہ دیکھ سکیں گے (اور) ان کے پاس ایمان والے آتے جاتے رہیں گے۔ یہ حدیث صحیح ہے۔ ابو عمران جونی کا نام عبدالملک بن حبیب ہے۔ ابو بکر بن ابی موسیٰ کے بارے میں امام احمد بن حنبل فرماتے ہیں کہ ان کا نام مشہور نہیں اور ابو موسی اشعری نام عبداللہ بن قیس ہے۔

جنت کے درجات کے متعلق

عباس عنبری، یزید بن ہارون، شریک، محمد بن جعادۃ، عطاء، حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا جنت میں سو درجے ہیں اور ہر درجے کے درمیان سو برس کا فاصلہ ہے۔ یہ حدیث حسن غریب ہے۔

٭٭ قتیبہ واحمد بن عبدۃ ضبی، عبدالعزیز بن محمد، زید بن اسلم، عطاء بن یسار، حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا جس نے رمضان کے روزے رکھے ، حج کیا، (راوی کہتے ہیں ) مجھے یاد نہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے زکوٰۃ  کا ذکر کیا یا نہیں تو اس کا اللہ تعالیٰ پر حق ہے کہ وہ اس کی مغفرت کرے خواہ وہ ہجرت کرے یا جہاں پیدا ہوا ہو وہیں رہے۔ معاذ نے عرض کیا کیا میں لوگوں کو یہ خوشخبری نہ سنا دوں ؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا لوگوں کو عمل کرنے کیلئے چھوڑ دو کیونکہ جنت میں سو درجے ہیں ، ہر دو درجوں کے درمیان اتنا فاصلہ ہے جتنا آسمان اور زمین کے درمیان اور جنت الفردوس جنتوں میں سب سے اعلی اور درمیان میں ہے۔ اس کے اوپر رحمن کا عرش ہے۔ جنت کی نہریں بھی اسی سے نکلتی ہیں۔ لہذا اگر تم اللہ سے مانگو تو جنت الفردوس مانگا کرو۔ یہ حدیث ہشام بن سعد سے بھی اسی طرح منقول ہے۔ ہشام بن سعد، زید بن اسلم سے وہ عطاء بن یسار سے اور وہ معاذ بن جبل سے اسی طرح نقل کرتے ہیں۔ میرے نزدیک یہ حدیث زیادہ صحیح ہے۔ عطاء کی معاذ بن جبل سے ملاقات نہیں ہوئی وہ ان سے کافی مدت پہلے انتقال کر گئے تھے ان کا انتقال خلافت عمر میں ہوا۔

٭٭ عبد اللہ بن عبدالرحمن، یزید بن ہارون، ہمام، زید بن اسلم، عطاء بن یسار، حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا جنت میں سو درجے ہیں اور ہر دو درجوں کے درمیان آسمان و زمین جتنا فاصلہ ہے۔ جنت الفردوس سب سے اوپر والا درجہ ہے۔ جنت کی چاروں نہریں اسی سے نکلتی ہیں اور اسکے اوپر عرش ہے۔ لہذا اگر تم اللہ سے جنت مانگو تو جنت الفردوس مانگا کرو۔ احمد بن منیع بھی یزید بن ہارون سے وہ ہمام سے اور زید بن اسلم سے اسی کی مانند نقل کرتے ہیں۔

٭٭ قتیبہ ، ابن لہیعۃ، دراج، ہیثم، حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے نقل کرتے ہیں کہ جنت میں سو درجے ہیں اگر ان میں سے ایک میں تمام جہان کے لوگ اکٹھے ہو جائیں تب بھی وہ وسیع ہو گا۔ یہ حدیث غریب ہے۔

جنت کی عورتوں کے متعلق

عبد اللہ بن عبدالرحمن، فروۃ بن ابی مغرار، عبیدۃ بن حمید، عطاء بن سائب، عمرو بن میمون، حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا اہل جنت کی عورتوں میں سے ہر عورت کی پنڈلی کی سفیدی ستر جوڑے میں سے بھی نظر آئے گی۔ یہاں تک کہ اس کی ہڈی کا گودا بھی دکھائی دے گا۔ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ کَأَنَّہُنَّ الْیَاقُوتُ وَالْمَرْجَانُ  (یعنی گویا کہ وہ یاقوت اور مرجان ہیں ) اور یاقوت ایک پتھر ہے اگر تم اس میں دھاگہ داخل کرو گے اور پتھر کر صاف کرو گے تو وہ دھاگا تمہیں اس کے اندر دکھائی دے گا۔ ہناد بھی عبیدہ سے وہ عطاء سے وہ عمرو بن میمون سے وہ عبداللہ بن مسعود سے اور وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے اسی کے مانند حدیث نقل کرتے ہیں۔

٭٭ ہناد، ابو الاحوص، عطاء بن سائب عمرو بن میمون، عبداللہ بن مسعود سے وہ عطاء بن سائب سے وہ عمرو بن میمون سے اور وہ عبداللہ بن مسعود سے اسی کے ہم معنی حدیث نقل کرتے ہیں لیکن یہ غیر مرفوع اور اس سے زیادہ صحیح ہے۔ جریر اور کئی راوی بھی اسے عطاء بن سائب سے غیر مرفوع ہی نقل کرتے ہیں۔

٭٭ سفیان بن وکیع، وکیع، فضیل بن مرزوق، عطیۃ، حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا قیامت کے دن جنت میں پہلے داخل ہونے والے گروہ کے چہرے چودھویں کے چاند کی طرح چمک رہے ہوں گے۔ جبکہ دوسرے گروہ کے چہروں کی چمک آسمان کے سب سے زیادہ چمکدار ستارے کی سی ہو گی۔ ان میں ہر ایک کی دو بیویاں ہوں گی اور ہر بیوی ستر جوڑے پہنے ہوئے ہو گی اور اس کی پنڈلی کا گودا ان جوڑوں میں سے بھی نظر آئے گا۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔

٭٭ عباس بن محمد، عبید اللہ بن موسی، شیبان، فراس، عطیۃ، حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے نقل کرتے ہیں کہ جنت میں داخل ہونے والے پہلے گروہ کی صورتیں چودھویں رات کے چاند کی سی ہوں گی جبکہ دوسرے گروہ کی آسمان کے بہترین ستارے کی سی (یعنی ان کی چمک ان کے مشابہ ہو گی) ان میں سے ہر ایک کے لیے دو بیویاں ہوں گی اور ہر عورت پر ستر جوڑے ہوں گے جن میں سے اس کی پنڈلی کی ہڈی کا گودا ان میں سے نظر آئے گا۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔

اہل جنت کے جماع کے بارے میں

محمد بن بشار، محمد بن غیلان، ابو داؤد طیالسی، عمران قطان قتادۃ، حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا مومن کو جنت میں جماع کی اتنی قوت دی جائے گی عرض کیا گیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ! کیا وہ اس کی طاقت رکھے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا اسے سو آدمیوں کی طاقت عطا کی جائے گی۔ اس باب میں حضرت زید بن ارقم سے بھی روایت ہے۔ یہ حدیث صحیح غریب ہے اور ہم اسے بواسطہ قتادہ حضرت انس سے صرف عمران قطان کی روایت سے پہچانتے ہیں۔

اہل جنت کی صفت کے متعلق

سوید بن نصر، ابن مبارک، معمر، ہمام بن منبہ، حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا جنت میں داخل ہونے والے گروہ کے چہرے چودہویں کے چاند کی مانند ہوں گے وہ لوگ نہ تھوکیں گے نہ ناک سنکیں گے اور نہ ہی انہیں حاجت کا تقاضا ہو گا۔ ان کے برتن سونے کے ہوں گے اور کنگھیاں سونے چاندی کی جبکہ انگیٹھیاں عود سے ہیں۔ ان کا پسینہ مشک ہو گا۔ اور پھر ہر شخص کے لیے دو بیویاں ہوں گی جو اتنی حسین ہوں گی کہ ان کی پنڈلیوں کا گودا تک گوشت کے اوپر سے نظر آئے گا۔ ان کے درمیان نہ کوئی اختلاف ہو گا اور نہ ان کے دلوں میں بغض۔ نیز ان کے دل ایک شخص کے دل کی طرح ہوں گے جو صبح و شام اللہ کی تسبیح کرتے رہیں گے۔ یہ حدیث صحیح ہے۔

٭٭ سوید بن نصر، عبداللہ بن مبارک، ابن لہیعۃ، یزید بن ابی حبیب، داؤد بن عامر بن حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے نقل کرتے ہیں کہ اگر جنت کی چیزوں میں سے ایک ناخن سے بھی کم مقدار دنیا میں ظاہر کر دی جائے تو آسمان و زمین کے کناروں تک ہر چیز روشن ہو جائے۔ اور اگر اہل جنت میں سے کوئی شخص دنیا میں جھانکے اور اس کے کنگن ظاہر ہو جائیں تو سورج کی روشنی اس طرح ماند پڑ جائے جس طرح ستاروں کی روشنی سورج کی روشنی سے ماند پڑ جاتی ہے۔ یہ حدیث غریب ہے۔ ہم اسے صرف ابن لہیعہ کی سند سے ہی جانتے ہیں۔ یحیی بن ایوب یہی حدیث یزید بن ابی حبیب سے نقل کرتے ہیں کہ حضرت عمر بن سعد بن ابی وقاص سے اسے مرفوعاً بیان کیا ہے۔

اہل جنت کے لباس کے متعلق

محمد بن بشار و ابو ہشام رفاع، معاذ بن ہشام، ہشام، عاصم احول، شہر بن حوشب، حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا کہ اہل جنت کے بدن اور چہرے پر بال نہیں ہوں گے ان کی آنکھیں سرمگیں ہوں گی، ان کی جوانی ختم نہ ہو گی اور ان کے کپڑے بھی کبھی بوسیدہ نہیں ہوں گے۔ یہ حدیث غریب ہے۔

٭٭ ابو کریب، رشدین بن سعد، عمرو بن حارث، دراج ابو سمح، ابو الہیثم، حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اللہ تعالیٰ کے قول و فرش مرفوعۃ کے بارے میں فرمایا انکی بلندی اتنی ہے جتنی زمین و آسمان کے درمیان مسافت ہے یعنی وہ پانچ سو برس کا راستہ ہے۔ یہ حدیث غریب ہے۔ ہم اس حدیث کو صرف رشدین بن سعد کی روایت سے پہچانتے ہیں۔ بعض علماء نے اس حدیث کی تشریح میں فرمایا کہ درجات (جنت کے فرش) کا فاصلہ اور دو درجوں کے درمیان کا فاصلہ زمین و آسمان کے درمیان جتنا ہے۔

جنت کے پھلوں کے متعلق

ابو کریب، یونس بن بکیر، محمد بن اسحاق، یحیی بن عباد بن عبداللہ بن زبیر، عباد، حضرت عائشہ، حضرت اسماء بن ابی بکر رضی اللہ عنہ کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے سنا آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے سدرۃ المنتہی کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا سوار اس کی شاخوں کے سائے میں سو سال چل سکتا ہے یا (فرمایا) اس کے سائے میں سو سوار آرام کر سکتے ہیں۔ یحیی کو شک ہے۔ اس کے پتے سونے کے اور پھل مٹکوں کے برابر ہوں گے۔ یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔

جنت کے پرندوں کے متعلق

عبد بن حمید، عبداللہ بن مسلمۃ، محمد بن عبداللہ بن مسلم، ان کے والد، حضرت انس بن مالک سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے پوچھا گیا کہ کوثر کیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا وہ ایک نہر ہے جو اللہ تعالیٰ نے مجھے جنت میں عطاء کی ہے۔ وہ دودھ سے زیادہ سفید اور شہد سے زیادہ میٹھی ہے۔ اس میں ایسے پرندے ہیں جن کی گردنیں اونٹوں کی طرح ہیں۔ حضرت عمر نے عرض کیا یہ تو بڑی نعمت میں ہوں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا انہیں کھانے والے ان سے بھی زیادہ نعمت میں ہوں گے۔ یہ حدیث حسن ہے اور محمد بن عبداللہ بن مسلم، ابن شہاب زہری کے بھتیجے ہیں۔

جنت کے گھوڑوں کے متعلق

عبد اللہ بن عبدالرحمن، عاصم بن علی، مسعودی، علقمۃ بن مرثد، حضرت سلیمان بن بریدہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ! کیا جنت میں گھوڑے بھی ہوں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا اگر اللہ تعالیٰ نے تمہیں جنت میں داخل کیا تو تم اس میں سرخ یاقوت کے جس گھوڑے پر سوار ہونا چاہو گے وہ تمہیں لے کر جنت میں جہاں چاہو گے اڑا کر لے جائے گا۔ راوی کہتے ہیں ایک دوسرے شخص نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ! کیا جنت میں اونٹ ہوں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اسے وہ جواب نہ دیا جو پہلے کو دیا تھا بلکہ فرمایا اگر اللہ تعالیٰ تمہیں جنت میں لے جائے تو جو کچھ تمہارا جی چاہے گا اور جس سے تمہاری آنکھیں محفوظ ہوں گی تمہیں وہی کچھ ملے گا۔

٭٭ سوید، عبداللہ بن مبارک، سفیان، علقمہ بن مرثد، عبدالرحمن بن سابط سے وہ سفیان سے وہ علقمہ بن مرثد سے وہ عبدالرحمن باسط سے اور وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے اسی کے ہم معنی حدیث نقل کرتے ہیں اور یہ مسعودی کی حدیث سے زیادہ صحیح ہے۔

٭٭ محمد بن اسماعیل بن سمرۃ احمسی، ابو معاویۃ، واصل بن سائب، ابو سورۃ، حضرت ابو ایوب فرماتے ہیں کہ ایک دیہاتی نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم مجھے گھوڑے بہت پسند ہیں کیا جنت میں بھی ہوں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا اگر تم جنت میں داخل ہو گئے تو تمہیں ایسا گھوڑا دیا جائے گا جو یاقوت کا ہو گا اور اس کے دو پر ہوں گے۔ تم اس پر سواری کرو گے اور جہاں چاہو گے گھومتے پھرو گے۔ اس حدیث کی سند قوی نہیں۔ ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔ ابو سورہ، ابو ا ایوب کے بھتیجے ہیں۔ انہیں یحیی بن معین نے ضعیف قرار دیا ہے جبکہ امام بخاری انہیں منکرالحدیث کہتے ہیں۔ یہ ابو ایوب سے منکر حدیثیں روایت کرتا ہے جن کا کوئی متابع نہیں۔

جنتیوں کی عمر کے متعلق

ابو ہریرۃ محمد بن فراس بصری، ابو داؤد، عمران ابو عوام، قتادۃ، شہر بن حوشب، عبدالرحمن بن غنم، حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ارشاد فرمایا جنتی اس حالت میں جنت میں داخل ہوں گے کہ ان کے جسم اور چہرے پر بال نہیں ہوں گے۔ ان کی آنکھیں سرمگیں ہوں گی اور ان کی عمر تیس یا تینتیس برس تک ہو گی۔ یہ حدیث حسن غریب ہے۔ بعض قتادہ کے ساتھی اسے قتادہ سے مرسل روایت کرتے ہیں۔

جنت کی کی کتنی صفیں ہوں گی؟

حسین بن یزیدطحان کوفی، محمد بن فضیل، ضرار بن مرۃ، محارب بن دثار، ابن بریدہ، حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ارشاد فرمایا اہل جنت کی ایک سو بیس صفیں ہوں گی جن میں سے اسی (80) اس امت اور چالیس باقی امتوں کی ہوں گی۔ یہ حدیث حسن ہے۔ اس حدیث مبارکہ کو علقمہ بن مرثد بھی سلیمان بن بریدہ سے اور وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے مرسلاً نقل کرتے ہیں۔ بعض محدثین (رحمہم اللہ) نے اسے متصل بیان کیا یعنی سلیمان بن بریدہ اپنے والد بریدہ سے روایت کرتے ہیں۔ ابن سنان کے واسطہ سے محارب بن دثار کی حدیث حسن ہے۔ ابو سنان کا نام ضرار بن مہرہ ہے۔ ابو سنان شیبانی کا نام سعید بن سنان ہے اور وہ قسملی ہیں۔

٭٭ محمود بن غیلان، ابو داؤد، شعبۃ، ابو اسحاق ، عمرو بن میمون، حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم تقریباً چالیس افراد ایک قصبہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے ہمراہ تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا کیا تم اہل جنت کا چوتھا حصہ ہونا پسند کرتے ہو عرض کیا ہاں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا کیا تم جنتیوں کا تیسرا حصہ ہونا پسند کرتے ہو اس لیے کہ جنت میں صرف مسلمان ہی داخل ہو سکیں گے اور تم لوگ تعداد میں مشرکین کی بہ نسبت اس طرح ہو جیسے کالے بیل کی کھال پر ایک سفید بال یا سرخ بیل کی کھل پر ایک کالا بال۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے اور اس باب میں عمران بن حصین اور ابو سعید خدری سے بھی روایت ہے۔

جنت کے دروازوں کے متعلق

فضل بن صباح بغدادی، معن بن عیسیٰ قزاز، خالد بن ابی بکر، حضرت سالم بن عبداللہ اپنے والد سے نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا جس دروازے سے میری امت جنت میں داخل ہو گی اس کی چوڑائی اتنی ہو گی کہ ایک تیز رفتار سوار اس میں تین روز تک چلتا رہے لیکن اس کے باوجود داخل ہوتے وقت دباؤ اتنا بڑھے گا کہ قریب ہو گا کہ ان کے بازو اتر جائیں۔ یہ حدیث غریب ہے۔ میں نے امام بخاری سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا میں اسے نہیں جانتا۔ خالد بن ابو بکر، سالم بن عبداللہ کے حوالے سے بہت سی منکر احادیث نقل کرتے ہیں۔

جنت کے بازار کے متعلق

محمد بن اسماعیل، ہشام بن عمار، عبدالحمید بن حبیب بن ابی عشرین، اوزاعی، حسان بن عطیۃ، حضرت سعید بن مسیب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے ملاقات کی۔ حضرت ابو ہریرہ نے فرمایا میں اللہ تعالیٰ سے سوال کرتا ہوں کہ وہ ہم دونوں کو جنت کے بازار میں اکٹھا کرے۔ حضرت سعید بن مسیب نے پوچھا کیا اس میں بازار ہوں گے۔ حضرت ابو ہریرہ نے فرمایا ہاں مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے بتایا کہ جنتی جب بازاروں میں داخل ہوں گے تو اپنے اعمال کی فضلیت کے مطابق اس میں اتریں گے پھر دنیاوی جمعہ کے دن کے برابر وقت میں آواز دی جائے تو یہ لوگ اپنے رب کی زیارت کریں گے۔ ان کے لیے اس کا عرش ظاہر ہو گا اور اللہ تعالیٰ باغات جنت میں سے کسی ایک باغ میں تجلی فرمائے گا۔ جنتیوں کے لیے منبر بچھائے جائیں گے جو نور، موتی، یاقوت، زمرد، سونے اور چاندی کے ہوں گے۔ اور ان میں سے ادنیٰ درجے کا جنتی (اگرچہ ان میں کوئی ادنیٰ نہیں ہو گا) بھی مشک اور کافور کے ٹیلوں پر ہو گا۔ وہ لوگ یہ نہیں دیکھ سکیں گے کہ کوئی ان سے اعلی منبروں پر بھی ہے (تاکہ وہ غمگین نہ ہوں )۔ حضرت ابو ہریرہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ! کیا ہم اللہ رب العزت کو دیکھیں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا ہاں کیا تم لوگوں کو سورج یا چودھویں رات کے چاند کو دیکھنے میں کوئی زحمت یا ترد د ہوتا ہے ؟ ہم نے کہا نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا اسی طرح تم لوگ اپنے رب کو دیکھنے میں زحمت و ترد د میں مبتلا نہیں ہوں گے۔ بلکہ اس مجلس میں کوئی شخص ایسا نہیں ہو گا جو بالمشافہ اللہ تعالیٰ سے گفتگو نہ کر سکے۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ ان میں سے کسی سے کہیں گے کہ اے فلاں بن فلاں تمہیں یاد ہے کہ تم فلاں دن اس طرح کہا تھا اور اسے اس کے بعض گناہ یاد دلائیں گے۔ وہ عرض کرے گا اے اللہ کیا آپ نے مجھے معاف نہیں کر دیا اللہ تعالیٰ فرمائے گا کیوں نہیں۔ میری مغفرت کی وسعت ہی کی وجہ سے تو تم اس منزل پر پہنچے ہو۔ اس دوران ان لوگوں کو ایک بدلی ڈھانپ لے گئی اور ان پر ایسی خوشبو کی بارش کرے گی کہ انہوں نے کبھی ویسی خوشبو نہیں سونگھی ہو گی۔ پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا اٹھو اور میری کرامتوں (انعامات) کی طرف جاؤ جو میں نے تمہارے لیے رکھے ہیں اور جو چاہو لے لو۔ پھر ہم لوگ اس بازار کی طرف جائیں گے۔ فرشتوں نے اس کا احاطہ کیا ہوا ہو گا۔ اور اس میں ایسی چیزیں ہوں گی جنہیں نہ کبھی کسی آنکھ نے دیکھا نہ کسی کان نے سنا اور نہ ہی کسی دل پر ان کا خیال گزرا۔ چنانچہ ہمیں ہر وہ چیز عطا کی جائے گی۔ جس کی ہم خواہش کریں گے۔ وہاں خرید و فروخت نہیں ہو گی۔ پھر وہاں جنتی ایک دوسرے سے ملاقات کریں گے۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا پھر ان میں ان سے اعلی مرتبے والے جنتی اپنے سے کم درجے والے سے ملاقات کرے گا۔ حالانکہ ان میں سے کوئی بھی کم درجے والا نہیں ہو گا تو اسے اس کا لباس پسند آئے گا۔ ابھی اس کی بات پوری بھی نہیں ہو گی کہ اس کے بدن پر اس سے بھی بہتر لباس ہو جائے گا۔ یہ اس لیے ہو گا کہ وہاں کسی کا غمگین ہونا جنت کی شان کے خلاف ہے۔ پھر ہم اپنے گھروں کی طرف روانہ ہو جائیں گے۔ وہاں جب ہماری اپنی بیویوں سے ملاقات ہو گی تو وہ کہیں گی۔ مَرْحَبًا وَأَہْلًا تم پہلے سے زیادہ خوبصورت ہو کر لوٹے ہو۔ ہم کہیں گے کہ آج ہم اپنے رب جبار کی مجلس میں بیٹھ کر آ رہے ہیں۔ لہذا اسی حسن و جمال کے مستحق ہیں۔ یہ حدیث غریب ہے اور ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔

٭٭ احمد بن منیع وہناد، ابو معاویہ، عبدالرحمن بن اسحاق، نعمان بن سعد، حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ارشاد فرمایا جنت میں ایک بازار ہو گا جس میں خرید و فروخت نہیں ہو گی البتہ اس میں عورتوں اور مردوں کی تصویریں ہوں گی جو جسے پسند کرے اسی کی طرح ہو جائے گا۔ یہ حدیث حسن غریب ہے۔

رویتِ باری تعالیٰ

ہناد، وکیع، اسماعیل بن ابی خالد، قیس بن ابی حازم، حضرت جریر بن عبداللہ بجلی فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے چاند کی طرف دیکھا جو کہ چودھویں رات کا تھا اور فرمایا تم لوگ اپنے پروردگار کے سامنے پیش کیے جاؤ گے اور اسے اسی طرح دیکھ سکو گے جیسے یہ چاند دیکھ رہے ہو یعنی اسے دیکھنے میں بالکل زحمت نہیں اٹھانی پڑے گی۔ لہذا اگر ہو سکے تو طلوع آفتاب اور غروب آفتاب سے پہلے کی نمازیں (یعنی فجر اور عصر) ضرور پڑھا کرو۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اس آیت کی تلاوت فرمائی ( وَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّکَ قَبْلَ طُلُوْعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ غُرُوْبِہَا) 20۔طہ:130) یعنی تم اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح کرو سورج طلوع ہونے سے پہلے بھی اور بعد میں بھی۔ یہ حدیث صحیح ہے۔

٭٭ محمد بن بشار، عبدالرحمن بن مہدی، حماد بن سلمۃ، ثابت بنانی، عبدالرحمن بن ابی لیلی، حضرت صہیب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اللہ تعالیٰ کے قول جن لوگوں نے نیکی کی ان کے لیے بھلائی ہے کے بارے میں فرمایا جب جنتی جنت میں داخل ہو جائیں گے تو ایک پکارنے والا پکارے گا تمہارے لئے اللہ تعالیٰ کے ہاں ایک وعدہ ہے وہ کہیں گے کیا اس نے ہمارے چہرے روشن نہ کیے ؟ اور ہمیں جہنم سے بچاقر جنت میں داخل نہ کیا؟ وہ (فرشتے ) کہیں گے ہاں کیوں نہیں پھر پردہ ہٹایا جائے گا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم فرماتے ہیں کہ اللہ کی قسم انہیں اس کی طرف دیکھنے سے بہتر کوئی چیز نہیں ملی۔ (یعنی دیدارِ الہی سے بہتر)۔ سلیمان بن مغیرہ اسے ثابت بنانی سے اور وہ عبدالرحمن بن ابی لیلی سے انہی کا قول نقل کرتے ہیں۔

٭٭ عبد بن حمید، شبابۃ بن سوار، اسرائیل، ثویر، حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا ادنیٰ درجے کا جنتی بھی اپنے باغوں ، بیویوں ، نعمتوں ، خدمت گاروں اور تختوں کو ایک ہزار برس کی مسافت تک دیکھے گا۔ ان میں سے سب سے زیادہ اکرام والا وہ ہو گا جو صبح و شام اللہ تعالیٰ کے چہرے کی طرف دیکھے گا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے یہ آیت پڑھی وُجُوْہٌ یَّوْمَىِٕذٍ نَّاضِرَۃٌ    22؀ۙ  اِلٰى رَبِّہَا نَاظِرَۃٌ  75۔ القیامۃ:22) (اس روز بہت سے چہرے بارونق ہوں گے اور اپنے رب کی طرف دیکھیں گے ) یہ حدیث کئی سندوں سے اسرائیل ہی سے منقول ہے۔ اسرائیل، ثویر سے اور وہ ابن عمر سے مرفوعاً نقل کرتے ہیں۔ پھر عبید اللہ، اشجعی، سفیان سے وہ ثویر سے وہ مجاہد سے اور وہ ابن عمر سے انہی کا قول نقل کرتے ہیں اور اسے مرفوع نہیں کرتے۔ ابو کریب، محمد بن علاء، عبید اللہ اشجعی سے وہ سفیان سے وہ ثویر سے وہ مجاہد سے اور وہ ابن عمر سے اسی کی مانند غیر مرفوع نقل کرتے ہیں۔

٭٭ محمد بن طریف کوفی، جابر بن نوح، اعمش، ابو صالح، حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ارشاد فرمایا کیا تم لوگوں کو چودھویں کا چاند یا سورج دیکھنے میں کوئی دشواری پیش آتی ہے ؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ارشاد فرمایا تم لوگ عنقریب اپنے رب کو اسی طرح دیکھ سکو گے جس طرح تم چودہویں کا چاند دیکھ سکتے ہو کہ اس کے دیکھنے میں کوئی شک و شبہ نہیں ہو گا۔ یہ حدیث حسن غریب ہے۔ یحیی بن عیسیٰ اور کئی راوی اسے اعمش سے وہ ابو صالح سے وہ ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے اسی طرح نقل کرتے ہیں۔ عبداللہ بن ادریس بھی اعمش سے وہ ابو سعید سے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے نقل کرتے ہیں حضرت ابو سعید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے یہ حدیث متعدد سندوں سے مرفوعاً مروی ہے اور وہ بھی صحیح حدیث ہے

 

باب

سوید، عبداللہ بن مبارک، مالک بن انس، زیدبن اسلم، عطاء بن یسار، حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا اللہ اہل جنت سے فرمائے گا اے جنت والو۔ وہ کہیں گے اے رب ہم تیری بارگاہ میں حاضر ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا کیا تم راضی ہوئے۔ وہ کہیں گے ہمیں کیا ہے کہ ہم راضی نہ ہوں حالانکہ تو نے ہمیں وہ کچھ دیا جو اس سے پہلے کسی مخلوق کو نہیں دیا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا میں تمہیں اس سے بھی افضل چیز دوں گا۔ وہ عرض کریں گے یا اللہ اس سے بہتر اور کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ میں تمہیں اپنی رضا مندی عطا کر دی۔ اب میں تم سے کبھی ناراض نہیں ہوں گا۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔

اس بارے میں کہ اہل جنت بالاخانوں سے ایک دوسرے کا نظارہ کریں گے

سوید بن نصر، عبد اللہ، فلیح بن سلیمان، ہلال بن علی، عطاء بن یسار، حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا کہ اہل جنت اپنے اپنے درجات کے مطابق بالاخانوں میں سے ایک دوسرے کو اس طرح دیکھیں گے جس طرح مشرقی ستارے کو یا مغرب میں غروب ہونے والے تارے کو یا طلوع ہونے والے تارے کو دیکھتے ہیں۔ صحابہ کرام نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کیا وہ انبیاء ہوں گے۔ فرمایا ہاں کیوں نہیں اور اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے وہ لوگ بھی ہوں گے جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول پر ایمان لائے اور انہوں نے تمام رسولوں کی تصدیق کی۔ یہ حدیث صحیح ہے۔

 

اس بارے میں کہ جنتی اور دوزخی ہمیشہ ہمیشہ وہیں رہیں گے

 قتیبہ ، عبدالعزیز بن محمد، علاء بن عبدالرحمن، عبدالرحمن، حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ قیامت کے دن تمام لوگوں کو ایک جگہ جمع کرے گا پھر ان کی طرف دیکھ کر فرمائے گا کہ ہر شخص اپنے معبود کے ساتھ کیوں نہیں آتا؟ چنانچہ صلیب والوں کے لیے صلیب کی صورت بن جائے گی، بت پرستوں کے لیے بتوں کی تصاویر اور آتش پرستوں کے لیے آگ کی شکل بن جائے گی۔ پھر وہ تمام لوگ اپنے معبودوں کے پیچھے چل پڑیں گے۔ پھر مسلمان باقی رہ جائیں گے تو ان کی طرف دیکھ کر اللہ تعالیٰ پوچھے گا کہ تم لوگ ان کے پیچھے کیوں نہیں گئے۔ وہ عرض کریں گے اے رب ہم تجھ ہی سے پناہ کے طلب گار ہیں۔ ہمارا رب تو اللہ ہے لہذا ہماری جگہ یہی ہے یہاں تک کہ ہم اپنے رب کو دیکھ لیں۔ پھر اللہ تعالیٰ انہیں حکم دیں گے۔ انہیں ثابت قدم کریں گے۔ صحابہ کرام نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ! کیا ہم اپنے رب کو دیکھیں گے ؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا کیا تم لوگ چودھویں کا چاند دیکھتے ہوئے شک میں مبتلا ہوئے ہو۔ انہوں نے عرض کیا نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا اسی طرح عنقریب تم لوگ اپنے رب کو (یقین کامل) کے ساتھ دیکھو گے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ دوبارہ چھپیں گے اور پھر ظاہر ہو کر انہیں اپنے متعلق بتائیں گے اور فرمائیں گے کہ میں تمہارا رب ہوں لہذا میرے ساتھ چلو۔ چنانچہ سب مسلمان کھڑے ہو جائیں گے اور پل صراط رکھ دیا جائے۔ پھر اس پر سے ایک گروہ عمدہ گھوڑوں اور ایک (گروہ) عمدہ اونٹ کی طرح گزر جائے گا۔ وہ لوگ اس موقع پر یہ کہیں گے۔ سلم سلم یعنی سلامت رکھ، سلامت رکھ۔ پھر دوزخی باقی رہ جائیں گے چنانچہ ایک فوج اس میں ڈالی جائے اور پوچھا جائے گا کیا تو بھر گئی۔ وہ عرض کرے گی۔ کچھ اور ہے ؟ پھر ایک اور فوج ڈال کر پوچھا جائے گا تو بھی اس کا یہی جواب ہو گا۔ یہاں تک کہ سب کے ڈالے جانے پر بھی یہی جواب دے گی۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ اس پر اپنا قدم رکھ دے گا جس سے وہ (یعنی جہنم) سمٹ جائے گی۔ پھر اللہ تعالیٰ پوچھیں گے کہ بس ! وہ کہے گی بس، بس۔ پھر جب جنتی جنت میں اور دوزخی دوزخ میں داخل کر دیے جائیں گے تو موت کو کھینچ کر لایا جائے گا اور دونوں کے درمیان کی دیوار پر کھڑا کر دیا جائے گا۔ پھر اہل جنت کو بلایا جائے گا تو وہ لوگ ڈرتے ہوئے دیکھیں گے اور دوزخیوں کو پکارا جائے تو وہ خوش ہو کر دیکھیں گے کہ شاید شفاعت ہو لیکن ان سب سے پوچھا جائے کہ کیا تم لوگ اسے جانتے ہو۔ وہ سب کہیں گے جی ہاں ! یہ موت ہے جو ہم پر مسلط تھی۔ چنانچہ اسے لٹایا جائے اور اسی دیوار پر ذبح کر دیا جائے گا۔ پھر کہا جائے گا اے جنت والو اب تم ہمیشہ جنت میں رہو گے اور تمہیں کبھی موت نہیں آئے گی اور اے دوزخ والو تم ہمیشہ جہنم میں رہو گے اور تمہیں کبھی موت نہیں آئے گی۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔

٭٭ سفیان بن وکیع، وکیع، فضیل بن مرزوق، عطیۃ، حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ قیامت کے دن موت کو سیاہ و سفید رنگ کے مینڈھے کی شکل میں لا کر جنت و دوزخ کے درمیان کھڑا کیا جائے گا۔ اور پھر ذبح کر دیا جائے گا۔ وہ سب اسے دیکھ رہے ہوں گے۔ چنانچہ اگر کوئی خوشی سے مرتا تو جنت والے مر جاتے اور اگر کوئی غم سے مرتا تو دوزخی مر جاتے۔ یہ حدیث حسن ہے اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے بہت سی احادیث منقول ہیں جن میں دیدار الہی کا ذکر ہے کہ لوگ اپنے پروردگار کو اس طرح دیکھیں گے۔ اللہ تعالیٰ کے قدم اور اس جیسی دوسری باتوں کے بارے میں سفیان ثوری، مالک بن انس، سفیان بن عیینہ، ابن مبارک اور وکیع وغیرہم کا مذہب یہ ہے کہ ان کا ذکر جائز ہے۔ وہ فرماتے ہیں ہم ان احادیث کو روایت کرتے ہیں اور ان پر ایمان لاتے ہیں۔ البتہ ان کی کیفیت کے بارے میں بات نہ کی جائے۔ محدثین نے بھی یہی مسلک اختیار کیا ہے کہ ہم ان سب چیزوں پر اسی طرح ایمان لاتے ہیں جس طرح یہ مذکور ہیں۔ ان کی تفسیر نہیں کی جاتی نہ ہی وہم کیا جاتا ہے اور اسی طرح ان کی کیفیت بھی نہیں پوچھی جاتی اور یہ بات کہ وہ ان کو پہچان کر آئے گا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ان پر اپنی تجلی ظاہر کرے گا۔

اس بارے میں کہ جنت شدائد سے جبکہ جہنم خواہشات سے پر ہے

عبد اللہ بن عبدالرحمن، عمرو بن عاصم، حماد بن سلمۃ، حمید وثابت، حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ارشاد فرمایا کہ جنت تکلیفوں اور مشقتوں کے ساتھ گھیری گئی ہے جبکہ دوزخ کا احاطہ شہوات نے کیا ہوا ہے۔ یہ حدیث اس سند سے حسن غریب اور صحیح ہے۔

٭٭ ابو کریب، عبدۃ بن سلیمان، محمد بن عمرو، ابو سلمۃ، حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا جب اللہ تعالیٰ نے جنت اور دوزخ بنائی تو جبرائیل علیہ السلام کو جنت اور اس میں موجود چیزیں دیکھنے کے لیے بھیجا۔ وہ گئے اور دیکھ کر واپس لوٹے اور عرض کیا اے اللہ تیری عزت کی قسم جو بھی اس کے متعلق سنے گا اس میں داخل ہو جائے گا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اسے تکلیفوں سے گھیرنے کا حکم دیا اور دوبارہ جبرائیل علیہ السلام کو دیکھنے کے لیے بھیجا۔ وہ دیکھ کر واپس آئے اور عرض کیا اے اللہ تیری عزت کی قسم مجھے اندیشہ ہے کہ اس میں کوئی بھی داخل نہ ہو سکے گا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے انہیں حکم دیا کہ اب دوزخ اور اس میں موجود عذاب کو دیکھو۔ انہوں نے دیکھا کہ اس کا ایک حصہ دوسرے حصے پر چڑھا ہوا ہے۔ چنانچہ واپس آئے اور عرض کیا اے اللہ تیری عزت کی قسم ! اس کا حال سننے کے بعد کوئی اس میں داخل نہیں ہو گا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اسے شہوات سے گھیرنے کا حکم دیا اور دوبارہ جبرائیل کو بھیجا۔ اس مرتبہ وہ لوٹے اور عرض کیا اے اللہ تیری عزت کی قسم مجھے اندیشہ ہے کہ اس سے کوئی شخص نجات نہ پا سکے گا اور اس (یعنی جہنم) میں داخل ہو جائے گا۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔

جنت اور دوزخ کے درمیان تکرار کے متعلق

ابو کریب، عبدۃ بن سلیمان، محمد بن عمرو، ابو سلمۃ، حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا جنت کی دوزخ سے تکرار ہوئی تو جنت نے کہا مجھ میں ضعفاء اور مساکین داخل ہوں گے۔ دوزخ نے کہا مجھ میں ظالم اور متکبر داخل ہوں گے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے دوزخ سے فرمایا تم میرا عذاب ہو میں جس سے انتقام لینا چاہتا ہوں تمہارے ذریعے سے لیتا ہوں۔ پھر جنت سے فرمایا تم میری رحمت ہو میں تمہارے ذریعے جس پر چاہتا ہوں رحم کرتا ہوں۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔

ادنیٰ درجے کے جنتی کے لیے انعامات کے متعلق

سوید بن نصر، ابن مبارک، رشدین بن سعد، عمرو بن حارث، دراج، ابو ہیثم، حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا ادنیٰ جنتی وہ ہے جس کے اسی ہزار خادم اور بہتّر بیویاں ہوں گی۔ اس کے لیے موتی، یاقوت اور زمرد سے اتنا بڑا خیمہ نصب کیا جائے گا جتنا کہ صنعاء اور جابیہ کے درمیان فاصلہ ہے۔ اسی سند سے یہ بھی منقول ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا اہل جنت میں سے ہر شخص کی عمر تیس سال کر دی جائے گی۔ خواہ موت کے وقت وہ اس سے زیادہ کا ہو یا کم ہو۔ یہی حال دوزخیوں کا بھی ہو گا۔ پھر اسی سند سے منقول ہے کہ ان کے (یعنی جنتیوں کے ) سروں پر ایسے تاج ہوں گے جن کا ادنیٰ سے ادنیٰ موتی بھی مشرق و مغرب کو روشن کر دے گا۔ یہ حدیث غریب ہے اسے صرف رشدین بن سعد کی روایت سے جانتے ہیں۔

٭٭ ابو بکرمحمد بن بشار، معاذ بن ہشام، ہشام، عامر احول، ابو صدیق ناجی، حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا اگر کوئی مؤمن جنت میں اولاد کی خواہش کرے گا تو صرف ایک گھڑی میں حمل، پیدائش اور اس کی عمر اس جنتی کی خواہش کے مطابق ہو جائے گی۔ یہ حدیث حسن غریب ہے۔ اہل علم کا اس مسئلے میں اختلاف ہے۔ بعض اہل علم کہتے ہیں کہ جنت میں صرف جماع ہو گا اولاد نہیں۔ طاؤس، مجاہد اور ابراہیم نخعی بھی اسی کے قائل ہیں۔ امام بخاری، اسحاق بن ابراہیم کے حوالے سے مرفوعاً نقل کرتے ہیں کہ اگر کوئی جنت میں اولاد کی خواہش کرے گا تو ایک گھڑی میں وہ جس طرح چاہے گا ہو جائے گا۔ لیکن وہ آرزو نہیں کرے گا۔ پھر امام بخاری فرماتے ہیں کہ ابو رزین بن عقیلی سے مروی ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا اہل جنت کے ہاں اولاد نہیں ہو گی۔ ابو صدیق ناجی کا نام بکر بن عمرو ہے۔ انہیں بکر بن قیس بھی کہا جاتا ہے۔

حوروں کی گفتگو کے متعلق

ہناد واحمد بن منیع، ابو معاویۃ، عبدالرحمن بن اسحاق، نعمان بن سعد، حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا کہ جنت میں حوریں جمع ہوتی ہیں اور اپنی ایسی آواز بلند کرتی ہیں کہ مخلوق نے کبھی ویسی آواز نہیں سنی اور وہ کہتی ہیں کہ ہم ہمیشہ رہنے والی ہیں جو کبھی فنا نہیں ہوں گی۔ ہم ناز و نعم میں رہنے والی ہیں کبھی کسی چیز کی محتاج نہیں ہوتیں۔ ہم اپنے شوہروں سے راضی رہنے والیاں ہیں کبھی ان سے ناراض نہیں ہوتیں۔ خوش بخت ہے وہ جو ہمارے لیے ہے اور ہم اس کے لیے ہیں۔ اس باب میں حضرت ابو ہریرہ، ابو سعید اور انس سے بھی روایت ہے۔ حدیث علی غریب ہے۔

جنت کی نہروں کے متعلق

محمد بن بشار، یزید بن ہارون، جریری، حکیم بن معاویۃ، حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے نقل کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا جنت میں پانی، شہد، دودھ اور شراب کے سمندر ہیں پھر ان میں سے نہریں نکل رہی ہیں۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے اور حکیم بن معاویہ بہز کے والد ہیں۔

٭٭ ہناد، ابو الاحوص، ابو اسحاق ، برید بن ابی مریم، حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا جس شخص نے تین مرتبہ اللہ تعالیٰ سے جنت مانگی۔ جنت اس کے لیے دعا کرنے لگتی ہے کہ اے اللہ اسے جنت میں داخل کر دے اور جو شخص تین مرتبہ دوزخ سے پناہ مانگے۔ دوزخ اس کے لیے دعا کرتی ہے کہ اے اللہ اسے دوزخ سے پناہ دے۔ یہ حدیث یونس نے بھی ابو اسحاق سے اسی طرح نقل کی ہے۔ وہ انس سے اور وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے روایت کرتے ہیں جبکہ ابو اسحاق سے برید بن ابی مریم کے حوالے سے حضرت انس ہی کا قول منقول ہے۔

٭٭ ابو کریب، وکیع، سفیان، ابو الیقظان، زاذان، حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا تین آدمی مشک کے ٹیلوں پر ہوں گے۔ (راوی کہتے ہیں میرا خیال ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے قیامت کے دن کا بھی تذکرہ کیا) ان پر پہلے اور بعد والے سب رشک کر رہے ہوں گے۔ (1) موذن جو پانچوں نمازوں کے لیے اذان دیتا ہے۔ (2) امام جس سے اس کے مقتدی راضی ہوں (3) ایسا غلام جو اللہ کا حق بھی ادا کرے اور اپنے مالکوں کا بھی۔ یہ حدیث حسن غریب ہے۔ ہم اسے صرف سفیان ثوری کی روایت سے جانتے ہیں۔ ابو یقظان کا نام عثمان بن عمیر ہے انہیں ابن قیس بھی کہا جاتا ہے۔

٭٭ ابو کریب، یحیی بن آدم، ابو بکر بن عیاش، اعمش، منصور، ربعی، حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ تین آدمیوں سے محبت رکھتا ہے۔ (1) جو شخص رات کو کھڑا ہو کر اللہ تعالیٰ کی کتاب پڑھے۔ (2) ایسا شخص جو اپنے دائیں ہاتھ سے چھپا کر صدقہ وخیرات کرتا ہے۔ راوی کہتے ہیں میرا خیال ہے (کہ یہ بھی فرمایا کہ) اور بائیں ہاتھ کو بھی خبر نہیں ہوتی۔ (3) وہ شخص جس نے اپنے لشکر کے ساتھیوں کے شکست کھانے کے بعد دشمن کا اکیلے مقابلہ کیا۔ یہ حدیث غریب ہے اور اس سند سے غیر محفوظ ہے۔ صحیح روایت وہ ہے جو شعبہ وغیرہ منصور سے وہ ربع بن خراش سے وہ زید بن ظبیان سے وہ ابو ذر سے اور وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے نقل کرتے ہیں۔ ابو بکر بن عیاش بہت غلطیاں کرتے ہیں۔

٭٭ ابو سعید اشج، عقبہ بن خالد، عبید اللہ بن عمر، خبیب بن عبدالرحمن، ان کے دادا حفص بن عاصم، حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ارشاد فرمایا عنقریب دریائے فرات ایک سونے کے خزانے کو منکشف کرے گا۔ تم میں سے جو اس وقت موجود ہو وہ اس میں سے کچھ نہ لے۔ یہ حدیث صحیح ہے۔

٭٭ ابو سعید اشج، عقبہ بن خالد، عبید اللہ بن عمر، ابی زناد، اعرج، ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے وہ عبید اللہ بن عمر سے وہ ابو زناد سے وہ اعرج سے وہ ابو ہریرہ سے اور وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے اسی کے مثل حدیث نقل کرتے ہیں۔ البتہ اس میں یہ ہے کہ عنقریب دریائے فرات سے ایک سونے کا پہاڑ ظاہر ہو گا۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔

٭٭ محمد بن بشار و محمد بن مثنی، محمد بن جعفر، شعبۃ، منصور بن معتمر، ربعی بن حراش، زید بن ظبیان، حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا قول نقل کرتے ہیں کہ تین شخصوں سے اللہ رب العزت محبت اور تین سے بغض رکھتے ہیں۔ جن سے محبت کرتے ہیں ان میں سے ایک شخص وہ ہے جو کسی قوم کے پاس آیا اور ان سے خدا کے لیے کچھ مانگتا ہے۔ نہ کہ قرابت داری کے لیے جو اس شخص اور اس قوم کے درمیان ہوتی ہے لیکن وہ لوگ اسے کچھ نہیں دیتے۔ پھر انہی میں سے کوئی شخص الگ جا کر اسے اس طریقے سے دیتا ہے کہ اللہ اور اس سائل کے علاوہ اسے کوئی شخص نہیں جانتا۔ وہ دینے والا شخص اللہ کے نزدیک محبوب ہے۔ دوسرا وہ شخص جو کسی جماعت کے ساتھ رات کو چلتا ہے یہاں تک کہ انہیں نیند کے مقابلے کی تمام چیزوں میں نیند پیاری ہو جاتی ہے اور وہ لوگ سر رکھ کر سوجاتے ہیں لیکن وہ شخص کھڑا ہو کر اللہ کے حضور گڑگڑاتا ہے اور اس کی کتاب (قرآن) کی آیات کی تلاوت کرنے لگتا ہے۔ تیسرا وہ شخص جو کسی لشکر میں ہوتا ہے اور اس لشکر کو دشمن کے مقابلے میں شکست ہو جاتی ہے لیکن وہ شخص سینہ سپر ہو کر دشمن کا مقابلہ کرتا ہے۔ تاکہ یا تو قتل ہو جائے یا پھر فتح کر کے لوٹے (یہ تھے تین جن سے اللہ محبت کرتا ہے ) اب ان تین کا تذکرہ آتا ہے جن سے اللہ نفرت کرتا ہے۔ جن سے اللہ نفرت کرتا ہے وہ یہ ہیں بوڑھا زانی، متکبر فقیر اور ظالم غنی۔ محمود بن غیلان، نضر بن شمیل سے اور وہ شعبہ سے اسی کی مانند حدیث نقل کرتے ہیں۔ شیبان بھی منصور سے اسی طرح نقل کرتے ہیں۔ یہ ابو بکر بن عیاش کی روایت سے زیادہ صحیح ہے۔

 

جہنم کا بیان

جہنم کے متعلق

عبد اللہ بن عبدالرحمن، عمربن حفص بن غیاث، ان کے والد، علاء بن خالد کاہلی، شقیق، حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا اس دن جہنم کو اس طرح لایا جائے کہ اس کی ستر ہزار لگا میں ہوں گی اور ہر لگام کے ساتھ ستر ہزار فرشتے ہوں گے جو اس کو کھینچ رہے ہوں گے۔ عبداللہ بن عبدالرحمن اور ثوری کہتے ہیں کہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ اسے مرفوع نہیں کرتے۔

٭٭ عبد بن حمید، عبدالملک بن عمرو ابو عامر عقدی، سفیان، علاء بن خالد سے وہ سفیان سے اور وہ علاء سے اسی سند سے اسی کی مانند نقل کرتے ہیں یہ بھی مرفوع نہیں۔

٭٭ عبد اللہ بن معاویہ جمحی، عبدالعزیز بن مسلم، اعمش، ابو صالح، حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا قیامت کے دن جہنم سے ایک گردن نکلے گی جس کی دو آنکھیں ہوں گی جن سے وہ دیکھے گی، دو کان ہوں گے جن سے وہ سنے گی اور زبان ہو گی جس سے وہ بات کرے گی۔ وہ کہے گی مجھے تین آدمیوں کو نگلنے کا حکم دیا گیا ہے۔ (1) سرکش ظالم (2) مشرک (3) تصویریں بنانے والا (مصور) یہ حدیث حسن غریب ہے۔

 

جہنم کی گہرائی کے متعلق

عبد بن حمید، حسین بن علی جعفی، فضیل بن عیاض، ہشام بن حسان، حضرت حسن رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ عتبہ بن غزوان نے ہمارے اس منبر یعنی بصرہ کے منبر پر آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی یہ حدیث بیان کی کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا اگر جہنم کے کنارے سے ایک بڑا پتھر پھینکا جائے اور ستر برس تک نیچے گرتا رہے تب بھی وہ اس کی گہرائی تک نہیں پہنچے گا۔ پھر عقبہ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا قول نقل کیا کہ جہنم کو بکثرت یاد کرو اس لیے کہ اس کی گرمی بہت شدید، اس کی گہرائی انتہائی بعید افور اس کے کوڑے حدید (لوہے ) کے ہیں۔ امام ترمذی فرماتے ہیں کہ ہمیں علم نہیں کہ حسن نے عتبہ بن غزوان سے کوئی حدیث سنی ہو کیونکہ وہ بصرہ، حضرت عمر کے زمانہ خلافت میں آئے تھے اور حسن، حضرت عمر کی خلافت ختم ہونے سے صرف دو سال پہلے پیدا ہوئے۔

٭٭ عبد بن حمید، حسن بن موسی، ابن لہیعۃ، دراج، ابو الہیثم، حضرت ابو سعید نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے نقل کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا جہنم میں ایک آگ کا پہاڑ ہے جس کا نام صعود ہے۔ کافر اس پر ستر سال میں چڑھے گا اور پھر اتنی ہی مدت میں گرتا رہے گا۔ اور ہمیشہ اسی عذاب میں رہے گا۔ یہ حدیث غریب ہے۔ ہم اسے صرف ابن لہیعہ کی روایت سے مرفوع جانتے ہیں۔

اس بارے میں کہ اہل جہنم کے اعضاء بڑے بڑے ہوں گے

علی بن حجر، محمد بن عمار، ان کے دادا، محمد بن عمار صالح مولی تو ائمۃ، حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا قیامت کے دن کافر کی داڑھ احد پہاڑ کی طرح، اس کی ران بیضاء پہاڑ کی طرح اور اس کے بیٹھنے کی جگہ تین دن تک کی مسافت ہو گی مثل الذبذۃ یعنی مدینہ اور ربذہ کے درمیان کے فاصلے کے برابر ہے جبکہ بیضاء ایک پہاڑ کا نام ہے۔ یہ حدیث حسن غریب ہے۔

٭٭ ابو کریب، مصعب بن مقدام، فضیل بن غزوان، ابو حازم حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا کافر کی داڑھ احد پہاڑ کے برابر ہو گی۔ یہ حدیث حسن ہے اور ابو حاز، اشجعی ہیں ان کا نام سلمان ہے اور یہ عزہ اشجعیہ کے مولی ہیں۔

٭٭ ہناد، علی بن مسہر، فضل بن یزید، ابو مخارق، حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا کافر اپنی زبان کو ایک یا دو فرسح تک گھسیٹے گا لوگ اسے (اپنے پاؤں تلے ) روندیں گے۔ اس حدیث کو ہم صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔ فضل بن یزید کوفی سے کئی ائمہ احادیث نقل کرتے ہیں اور ابو مخارق غیر مشہور ہیں۔

٭٭ عباس بن محمد دوری، عبید اللہ بن موسی، شیبان، اعمش، ابو صالح، حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ارشاد فرمایا کافر کی کھال کی موٹائی بیالیس گز ہے۔ اس کی داڑھ احد پہاڑ کے برابر اور اس کے بیٹھنے کی جگہ مکہ اور مدینہ کے درمیان فاصلے جتنی ہے۔ یہ حدیث اعمش کی روایت سے حسن صحیح غریب ہے۔

٭٭ ابو کریب، رشیدین ، سعد ، عمرو بن حارث ، دراج ، ابو الہیثم ، ابو سعید خدری سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ نے کالمھل کی تفسیر میں فرمایا کہ وہ تیل کی تلچھٹ کی طرح ہو گی اور جب دوزخی ( اسے پینے کے لئے ) منہ کے قریب لے جائے گا تو اس کے منہ کی کھال اس میں گر پڑے گی۔ اس حدیث کو ہم صرف رشدین بن سعد کی روایت سے جانتے ہیں اور ان کے حافظے پر اعتراض کیا گیا ہے۔

دوزخیوں کے مشروبات کے متعلق

سوید بن نصر، ابن مبارک، سعید بن یزید، ابو السمح، ابو حجیرۃ، حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا (کالمہل) گرم پانی ان (دوزخیوں ) کے سر پر ڈالا جائے گا تو وہ سرایت کرتے کرتے ان کے پیٹ تک پہنچ جائے گا اور یہی الصھر (گل جانا ہے ) اور پھر ویسے ہی ہو جائے گا جیسے پہلے تھا۔ ابن حجیرہ کا نام عبدالرحمن بن حجیرہ مصری ہے۔ یہ حدیث حسن غریب صحیح ہے۔

٭٭ سوید بن نصر، عبداللہ بن مبارک، صفوان بن عمرو، عبید اللہ بن بسر، حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اللہ تعالیٰ کے ارشاد وَیُسْقَی مِنْ مَاءٍ صَدِیدٍ یَتَجَرَّعُہُ  (ترجمہ۔ اسے پیپ کا پانی پلایا جائے گا جسے وہ (یعنی جہنمی) گھونٹ گھونٹ پیئے گا) کے بارے میں فرمایا جب اسے اس کے منہ کے نزدیک کیا جائے گا تو وہ اسے ناپسند کرے گا۔ جب اور قریب کیا جائے گا تو اس کا منہ اس سے بھن جائے اور اس کے سر کی کھال اس میں گر پڑے گی اور جب وہ اسے پئے گا تو اس کی آنتیں کٹ کر دبر سے نکل جائیں گی۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وسقوا۔۔ انہیں (یعنی جہنمیوں کو) گرم پانی پلایا جائے گا جو ان کی آنتیں کاٹ دے گا۔ پھر فرمایا ویقول وان یستغیثوا۔ یعنی اگر وہ لوگ فریاد کریں گے تو انہیں تیل کی تلچھٹ کی مانند پانی دیا جائے گا جو ان کے چہروں کو بھون دے گا۔ کتنی بری ہے یہ پینے کی چیز اور کتنی بری یہ رہنے کی جگہ ہے۔ یہ حدیث غریب ہے۔ امام بخاری بھی عبید اللہ بن بسر سے اسی طرح روایت کرتے ہیں اور عبید اللہ بن بسر صرف اسی حدیث کے ساتھ مشہور ہیں۔ صفوان بن عمرو نے عبداللہ بن بسر کے ایک بھائی اور ایک بہن کو بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے سماع حاصل ہے۔ اور عبید اللہ بن بسر جن سے صفوان بن عمرو نے ابو امامہ کی روایت بیان کی شاید وہ عبداللہ بسر کے بھائی ہیں۔

٭٭ سوید بن نصر، عبد اللہ، رشدین بن سعد، عمرو بن حارث، دراج، ابو الہیثم، حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے کالمھل کی تفسیر میں بیان فرمایا کہ یہ تیل کی تلچھٹ کی طرح ہے۔ جب وہ دوزخی کے قریب کی جائے گی تو اس کے چہرے کی کھال اس میں گر پڑے گی۔ اسی سند سے یہ بھی منقول ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا۔ لِسُرَادِقِ النَّارِ (دوزخ کی) چار دیواریں ہیں اور ہر دیوار کی موٹائی چالیس سال کی مسافت ہے۔ اسی سند سے منقول ہے کہ اگر جہنمیوں کی پیپ کا ایک ڈول دنیا میں بہایا جائے تو پورے اہل دنیا سڑ جائیں۔ اس حدیث کو ہم صرف رشدین بن سعد کی روایت سے جانتے ہیں اور وہ ضعیف ہیں َ

٭٭ محمود بن غیلان، ابو داؤد، شعبۃ، اعمش، مجاہد، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے یہ آیت پڑھی (ترجمہ) اللہ تعالیٰ سے ایسا ڈرو جیسا کہ ڈرنے کا حق ہے اور تمہیں حالت اسلام میں ہی موت آئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا اگر زقوم کا ایک قطرہ بھی دنیا میں ٹپکا دیا جائے تو دنیا والوں کے لیے ان کی زندگی برباد کر دے تو پھر ان لوگوں کا کیا حال ہو گا جن کی غذا ہی یہی ہو گی۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔

٭٭ عبد اللہ بن عبدالرحمن، عاصم بن یوسف، قطبۃ بن عبدالعزیز، اعمش، شمر بن عطیۃ، شہر بن حوشب، ام الدرداء، حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا دوزخیوں کو بھوک میں مبتلا کر دیا جائے گا یہاں تک کہ دوسرا عذاب اور بھوک برابر ہو جائیں گے۔ تو وہ لوگ فریاد کریں گے۔ چنانچہ انہیں ضریع (کانٹے دار نباتات) کھانے کے لیے دیا جائے گا جو نہ موٹا کرے گا اور نہ ہی بھوک کو ختم کرے گا۔ وہ دوبارہ کھانے کے لیے کچھ مانگیں گے تو انہیں ایسا کھانا دیا جائے جو گلے میں اٹکنے والا ہو گا۔ وہ لوگ یاد کریں گے کہ دنیا میں اٹکے ہوئے نوالے پر پانی پیا کرتے تھے اور پانی مانگیں گے تو لوہے کے کانٹوں کے ساتھ گرم پانی ان کی طرف پھینکا جائے گا۔ جب وہ ان کے منہ کے قریب کیا جائے گا تو وہ انہیں بھون دے گا اور جب پیٹ میں داخل ہو گا تو سب کچھ کاٹ کر رکھ دے گا۔ وہ کہیں گے کہ جہنم کے دربانوں کو بلاؤ۔ وہ جواب دیں گے کہ کیا تمہارے پاس رسول نشانیاں لے کر نہیں آئے تھے ؟ وہ کہیں گے کیوں نہیں ! دربان کہیں گے تو پھر پکارو اور کافروں کی پکار صرف گمراہی میں ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم فرماتے ہیں پھر وہ کہیں گے کہ مالک (داروغہ جہنم) کو پکارو۔ پھر وہ پکاریں گے اے مالک ! تمہارے رب کو چاہئے کہ ہمارا فیصلہ کر دے۔ مالک ان کو جواب دے گا کہ تمہارا فیصلہ ہو چکاہے۔ اعمش کہتے ہیں کہ مجھے خبر دی گئی کہ ان کی پکار اور مالک کے جواب کے درمیان ایک ہزار سال کی مدت ہو گی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا کہ پھر وہ لوگ کہیں گے کہ اپنے رب کو بلاؤ اس لیے کہ اس سے کوئی جہر نہیں۔ پس وہ کہیں گے اے ہمارے رب ہم پر ہماری بدقسمتی غالب آ گئی اور ہم گمراہ ہو گئے۔ اے ہمارے رب ہمیں اس سے نجات دے۔ اگر ہم دوبارہ ایسا کریں تو بے شک ظالم ہوں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ ان کو جواب دے گا دور ہو جاؤ اور اسی میں ذلت کے ساتھ رہو اور مجھ سے بات مت کرو۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم فرماتے ہیں کہ اس وقت وہ ہر بھلائی سے نا امید ہو جائیں گے۔ چیخیں گے اور حسرت و افسوس کریں گے عبداللہ بن عبدالرحمن کہتے ہیں کہ لوگوں نے اس حدیث کو مرفوع نہیں بیان کیا وہ فرماتے ہیں کہ یہ حدیث اعمش سے بواسطہ شمر بن عطیہ، شمر بن حوشب اور ام درداء و حضرت ابو درداء کا قول منقول ہے اور مرفوع نہیں ہے۔ قطبہ بن عبدالعزیز محدثین کے نزدیک ثقہ ہیں۔

٭٭ سوید بن نصر، ابن مبارک، سعید بن یزید ابو شجاع، ابو السمح، ابو الہیثم، حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا (وَہُمْ فِیہَا کَالِحُونَ) یعنی وہ اس میں بد شکل اور ترش رو ہوں گے کا مطلب یہ ہے کہ آگ ان کے چہروں کو بھون دے گی اور اوپر والا ہونٹ سکڑ کر سر کے درمیان تک پہنچ جائے گا اور نیچے والا ہونٹ لٹک کر ناف کے ساتھ لگنے لگے گا یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے اور ابو ہیث کا نام سلیمان بن عمرو بن عبدالعتواری ہے۔ یہ یتیم تھے ان کی پرورش ابو سعید نے کی۔

٭٭ سوید بن نصر، عبد اللہ، سعید بن یزید، ابو السمح، عیسیٰ بن ہلال صدفی، حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ایک کھوپڑی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا اگر اس جیسا سیسے کا گولہ آسمان سے زمین کی طرف پھینکا جائے اور یہ پانچ سو سال کی مسافت ہے تو وہ رات سے پہلے زمین پر پہنچ جائے گا لیکن اگر اسے زنجیر کے ایک سرے سے (لٹکا کر) چھوڑا جائے تو اس کی (یعنی جہنم کی) گہرائی اور تہہ تک پہنچنے تک چالیس سال چلتا رہے۔ اس حدیث کی سند حسن صحیح ہے۔

اس بارے میں کہ دنیا کی آگ دوزخ کی آگ کا سترواں حصہ ہے

سوید بن نصر، عبداللہ بن مبارک، معمر، ہمام بن منبہ، حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے نقل کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا تمہاری یہ آگ ہے جسے انسان جلاتے ہیں جہنم کی آگ کا ستّرواں حصہ ہے۔ صحابہ کرام نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ! جلانے کے لیے تو یہی آگ کافی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا وہ آگ اس سے انہتر درجے زیادہ گرم ہے اور ہر درجہ اس کی گرمی کے برابر ہے۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ ہمام بن منبہ، وہب بن منبہ کے بھائی ان سے وہب نے روایت کی ہے۔

٭٭ عباس بن محمد دوری، عبید اللہ بن موسی، شیبان، فراس، عطیۃ، حضرت ابو سعید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ارشاد فرمایا تمہاری یہ آگ دوزخ کی آگ کا سترواں (70) حصہ ہے اور ہر حصہ اتنا ہی گرم ہے جتنی تمہاری یہ آگ۔ یہ حدیث ابو سعید کی روایت سے حسن غریب ہے۔

٭٭ عباس بن محمد دوری بغدادی، یحیی بن ابی بکیر، شریک، عاصم، ابو صالح، حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ارشاد فرمایا دوزخ کی آگ ہزار سال بھڑکائی گئی یہاں تک کہ سرخ ہو گئی پھر ہزار سال بھڑکائی گئی یہاں تک کہ سیاہ ہو گئی پس اب وہ سیاہ و تاریک ہے۔

٭٭ سوید بن نضر، عبد اللہ، شریک، عاصم، ابی صالح، ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے وہ شریک سے وہ عاصم سے وہ ابو صالح یا کسی اور شخص سے اور وہ ابو ہریرہ سے اسی کی مانند حدیث نقل کرتے ہیں لیکن یہ موقوف ہے اور اس باب میں سب سے زیادہ صحیح ہے۔ ہمیں علم نہیں کہ یحیی بن بکیر کے علاوہ بھی کسی نے اسے مرفوع کیا ہو۔ وہ شریک سے روایت کرتے ہیں۔

دوزخ کے لیے دو سانس اور اہل توحید کا اس سے نکالے جانے کے متعلق

محمد بن عمر بن ولید کندی کوفی، مفضل بن صالح، اعمش، ابو صالح، حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا دوزخ نے اللہ تعالیٰ سے شکایت کی کہ میرے بعض اجزاء بعض کو کھا گئے ہیں۔ پس اللہ تعالیٰ نے اسے دو مرتبہ سانس لینے کی اجازت دے دی ایک مرتبہ سردیوں میں دوسری مرتبہ گرمی میں۔ چنانچہ سردی میں اس کا سانس سخت سردی کی شکل میں اور گرمی میں سخت لو کی شکل میں ظاہر ہوتا ہے۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے اور ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ سے کئی سندوں سے منقول ہے۔ مفضل بن صالح محدثین کے نزدیک قوی نہیں۔

٭٭ محمود بن غیلان، ابو داؤد، شعبۃ وہشام، قتادۃ، حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا ہشام (راوی) نے کہا آگ سے نکالا جائے گا اور شعبہ کی روایت میں ہے آگ سے نکالو اس شخص کو جس نے لَا إِلَہَ إِلَّا اللَّہُ کہا اور اس کے دل میں جو کے دانے کے برابر بھی ایمان ہے۔ اسے بھی جہنم سے نکال لَا إِلَہَ إِلَّا اللَّہُ کہا اور اس کے دل میں گندم کے دانے کے برابر ایمان ہے۔ اسے بھی جہنم سے نکالو جس نے لَا إِلَہَ إِلَّا اللَّہُ کہا اور اس کے دل میں ذرہ بھر بھی ایمان ہے۔ شعبہ نے کہا اس کو بھی جس کے دل میں جو کے برابر ایمان ہے۔ اس باب میں حضرت جابر اور عمران بن حصین سے بھی احادیث منقول ہیں۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔

٭٭ محمد بن رافع، ابو داؤد، مبارک بن فضالۃ، عبید اللہ بن ابی بکر بن حضرت انس رضی اللہ عنہ روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ فرمائے کہ ہر اس شخص کو دوزخ سے نکال دو جس نے مجھے ایک دن بھی یاد کیا ہو یا مجھ سے کسی مقام پر ڈرا ہو۔ یہ حدیث حسن غریب ہے۔

٭٭ ہناد، ابو معاویۃ، اعمش، ابراہیم، عبیدۃ سلمانی، حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا میں اس شخص کو جانتا ہوں جو سب سے آخر میں دوزخ سے نکلے گا۔ ایک آدمی سرینوں کے بل گھسٹتا ہوا نکلے گا اور عرض کرے گا اے رب ! لوگ اپنے اپنے مقام پر پہنچ گئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا اس سے کہا جائے گا جنت کی طرف جاؤ اور اس میں داخل ہو جاؤ۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا وہ جنت میں داخل ہونے جائے گا تو دیکھے گا کہ لوگوں نے اپنی اپنی جگہ پر قبضہ کر لیا ہے واپس آ کر کہے گا اے میرے پروردگار لوگ اپنے اپنے مقام پر قابض ہو چکے ہیں۔ اسے کہا جائے گا کیا تجھے وہ وقت یاد ہے جس میں تو تھا۔ وہ کہے گا ہاں تو اس سے کہا جائے کہ تجھے وہ بھی دیا جائے گا جس چیز کی تو نے تمنا کی ہے اور (اس کے ساتھ) دنیا کا دس گنا اور دیا جائے گا۔ وہ عرض کرے گا اے اللہ کیا تو مجھ سے مذاق کرتا ہے حالانکہ تو بادشاہ ہے راوی کہتے ہیں میں نے دیکھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ہنس پڑے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے نواجذ (آخری دانت) ظاہر ہو گئے۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔

٭٭ ہناد، ابو معاویۃ، اعمش، معرور بن سوید، حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا میں اس آدمی کو جانتا ہوں جو جہنم سے نکلنے اور جنت میں داخل ہونے والوں میں سب سے آخری ہو گا۔ ایک آدمی لایا جائے۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا اس کے بڑے گناہوں کو چھپا کر اس کے چھوٹے گناہوں کے متعلق پوچھو۔ اس سے کہا جائے گا کہ تم نے فلاں دن اس طرح کیا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا پھر اس سے کہا جائے گا کہ تمام گناہ نیکیوں سے بدل دئیے گئے۔ وہ کہے گا اے میرے پروردگار میں نے اور بھی بہت سے گناہ کیے تھے جو یہاں نہیں ہیں۔ راوی کہتے ہیں پھر میں آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ہنس رہے ہیں۔ یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے آخری دانت ظاہر ہو گئے۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔

ایمان جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے مروی ہیں

ہناد، ابو معاویۃ، اعمش، ابو صالح، حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے قتال کروں یہاں تک کہ وہ لَا إِلَہَ إِلَّا اللَّہُ کہیں اور اگر وہ لوگ اس کے قائل ہو گئے (یعنی کلمہ پڑھ لیا) تو ان لوگوں نے اپنی جان و مال کو میرے ہاتھوں سے بچا لیا یہ کہ وہ کوئی ایسا کام کریں جو ان کی ان چیزوں کو حلال کر دے۔ پھر ان کا حساب اللہ پر ہے۔ اس باب میں حضرت جابر، ابو سعید، اور ابن عمر سے بھی احادیث منقول ہیں۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔

٭٭ سلمۃ بن شبیب، عبدالرزاق، معمر، زید بن اسلم، عطاء بن یسار، حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا جس کے دل میں ذرہ برابر بھی ایمان ہو گا وہ دوزخ سے نکال دیا جائے گا۔ ابو سعید کہتے ہیں کہ جس کو شک ہو وہ یہ آیت پڑھے لَا یَظْلِمُ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ 4۔ النساء:40) (ترجمہ اللہ تعالیٰ ذرہ برابر بھی ظلم نہیں کرتا) یہ حدیث حسن صحیح ہے۔

٭٭ سوید بن نصر، ابن مبارک، رشدین بن سعد، ابن انعم، ابو عثمان، حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا دوزخیوں میں سے دو آدمی زور زور سے چلانے لگیں گے۔ اللہ تعالیٰ حکم دے گا کہ ان دونوں کو نکالو۔ انہیں نکالا جائے گا تو ان سے اللہ تعالیٰ پوچھے تم لوگ کیوں اتنا چیخ رہے تھے وہ کہیں گے کہ ہم نے یہ اس لیے کیا ہے تاکہ تو ہم پر رحم فرمائے۔ اللہ تعالیٰ فرمائے میری تم لوگوں پر رحمت یہی ہے کہ جاؤ اور دوبارہ خود کو دوزخ میں ڈال دو۔ وہ دونوں جائیں گے اور ایک اپنے آپ کو دوزخ میں ڈال دے گا۔ اللہ تعالیٰ اس پر آگ کو سرد اور سلامتی والی بنا دے گا۔ دوسرا وہیں کھڑا رہے گا اور اپنے آپ کو جہنم میں نہیں ڈالے گا۔ اللہ تعالیٰ اس سے فرمائے گا تجھے کس چیز نے روکا کہ تو بھی اپنے آپ کو اسی طرح ڈالتا جس طرح تیرے ساتھی نے ڈالا۔ وہ کہے اے رب مجھے امید ہے کہ ایک مرتبہ دوزخ سے نکالنے کے بعد دوبارہ نہیں لوٹائے گا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا۔ تیرے ساتھ تیری امید کے مطابق معاملہ ہو گا۔ پس دونوں اللہ تعالیٰ کی رحمت سے جنت میں داخل ہو جائیں گے۔ اس حدیث کی سند ضعیف ہے۔ اس لیے کہ یہ رشدین بن سعد سے مروی ہے اور رشدین بن سعد محدثین کے نزدیک ضعیف ہیں اور افریقی بھی محدثین کے نزدیک ضعیف ہیں۔

٭٭ محمد بن بشار، یحیی بن سعید، حسن بن ذکوان، ابو رجاء عطاردی، حضرت عمران بن حصین رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ارشاد فرمایا یقیناً میری شفاعت سے ایک قوم دوزخ سے نکلے گی۔ وہ جہنمی کہلاتے ہوں گے۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے اور ابو رجاء عطاردی کا نام عمران بن تیم ہے۔ انہیں ابن ملحان بھی کہا جاتا ہے۔

٭٭ سوید بن نصر، ابن مبارک، یحیی بن عبید اللہ، عبید اللہ، حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا میں نے جہنم کے مثل کوئی چیز نہیں دیکھی کہ اس سے بھاگنے والا سو جائے اور جنت کے برابر کوئی ایسی چیز نہیں دیکھی کہ اس کا طلب گار سو جائے۔ اس حدیث کو ہم صرف یحیی بن عبید اللہ کی روایت سے جانتے ہیں اور یحیی بن عبید اللہ محدثین کے نزدیک ضعیف ہیں۔ شعبہ نے ان پر اعتراض کیا ہے۔

٭٭ احمد بن منیع، اسماعیل بن ابراہیم، ایوب، ابو رجاء عطاردی، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا میں نے جنت میں جھانکا تو اس میں غریبوں کو زیادہ دیکھا اور جب دوزخ میں دیکھا تو عورتوں کی اکثریت تھی۔

٭٭ محمد بن بشار، ابن ابی عدی ومحمد بن جعفر وعبدالوہاب، عوف، ابو رجاء عطاردی، حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ارشاد فرمایا میں نے جہنم میں جھانک کر دیکھا تو وہاں عورتیں زیادہ تھیں اور جنت میں جھانکا، جنت میں فقراء کی اکثریت تھی۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ عوف بھی ابو رجاء سے وہ عمران بن حصین سے اور ایوب ابو رجاء سے بحوالہ ابن عباس رضی اللہ عنہما یہی حدیث نقل کرتے ہیں۔ یہ دونوں سندیں صحیح ہیں۔ ممکن ہے کہ ابو رجاء نے دونوں سے سنا ہو۔ عوف کے علاوہ اور راوی بھی یہ حدیث ابو رجاء کے واسطہ سے عمران بن حصین سے نقل کرتے ہیں۔

٭٭ محمود بن غیلان، وہب بن جریر، شعبۃ، ابو اسحاق ، حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا دوزخ میں کم تر عذاب یہ ہو گا کہ ایک شخص کے تلووں میں آگ کے دو انگارے ہوں گے جن سے اس کا دماغ کھولتا رہے گا۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ اس باب میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ، عباس بن عبدالمطلب اور ابو سعید رضی اللہ عنہ سے بھی روایت ہے۔

٭٭ محمود بن غیلان، ابو نعیم، سفیان، معبد بن خالد، حضرت حارثہ بن وہب خزاعی کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے سنا آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا کیا میں تمہیں اہل جنت کے متعلق نہ بتاؤں اہل جنت میں ہر ضعیف ہو گا جسے لوگ حقیر جانتے ہیں وہ اگر کسی چیز پر قسم کھا لے تو اللہ تعالیٰ ضرور اس کی قسم کو سچی کر دے گا۔ (پھر فرمایا) اور کیا میں تمہیں اہل دوزخ کے متعلق نہ بتاؤں ؟ اہل دوزخ میں ہر سرکش حرام خور اور متکبر شخص ہو گا۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔

٭٭ ہناد، ابو معاویۃ، اعمش، ابو سفیان، حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا اہل توحید میں سے کچھ لوگوں کو دوزخ میں عذاب دیا جائے گا۔ یہاں تک کہ وہ کوئلہ کی طرح ہو جائیں گے۔ پھر رحمت الہی ان کا تدارک کرے گی اور انہیں دوزخ سے نکال کر جنت کے دروازوں پر کھڑا کر دیا جائے گا۔ پھر جنت کے لوگ ان پر پانی چھڑکیں گے جس سے وہ اس طرح اگنے لگیں گے جیسے کوئی دانہ بہنے والے پانی کے کنارے اگتا ہے اور پھر جنت میں داخل ہوں گے۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے اور کئی سندوں سے حضرت جابر سے منقول ہے۔

٭٭٭

ماخذ:

http://www.esnips.com/web/hadeesbooks

ایم ایس ایکسل سے تبدیلی، پروف ریڈنگ اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید