FavoriteLoadingپسندیدہ کتابوں میں شامل کریں

 

ترجمہ دعوت القرآن

 

 

 

                   شمس پیر زادہ

 

۳۔ سورۂ شعراء تا  سورۂ ق

 

 

 

 

 

 

 

(۲۶) سورۂ الشعراء

 

اللہ رحمٰن و رحیم کے نام سے

 

۱–طا۔ سین۔ میم

۲–یہ آیتیں ہیں روشن کتاب کی

۳–(اے پیغمبر !) شاید تم اپنے کو ہلاک کردہ گے اس (سوز غم) میں کہ یہ لوگ ایمان نہیں لاتے !

۴–اگر ہم چاہیں گو آسمان سے ان پر ایسی نشانی اتار دیں کہ ان کی گردنیں ا سکے آگے جھکی رہ جائیں

۵–ان کے پاس رحمن کی طرف سے جو تازہ یاد دہانی بھی آتی ہے یہ اس سے رخ پھیر تے ہیں۔

۶–چنانچہ انہوں نے جھٹلا دیا جس چیز کا یہ مذاق اڑاتے ہیں اس کی حقیقت عنقریب ان کے سامنے آئے گی۔

۷–کیا انہوں نے زمین پر نگاہ نہیں ڈالی کہ ہم نے اس میں کتنی کثرت سے ہر قسم کی عمدہ چیزیں اگائی ہیں۔

۸–یقیناً اس میں بڑ ی نشانی ہے مگر ان میں سے اکثر ایمان لانے والے نہیں ہیں۔

۹–اور بے شک تمہارا رب غالب بھی ہے اور رحیم بھی۔

۱۰–اور جب تمہارے رب نے موسیٰ کو پکارا کہ ظالم قوم کے پاس جاؤ۔

۱۱–فرعون کی قوم کے پاس۔ کیا وہ ڈرتے نہیں ؟

۱۲–اس نے کہا اے میرے رب مجھے اندیشہ ہے وہ کہ مجھے جھٹلا دیں گے۔

۱۳–میرا سینہ تنگ ہو تا ہے اور میرے زبان نہیں چلتی۔ تو ہارون کی طرف رسالت بھیج۔

۱۴–اور مجھ پر ان کے نزدیک ایک جرم کا بار بھی ہے اس لئے مجھے اندیشہ ہے کہ وہ مجھے قتل کر دیں گے۔

۱۵–فرما یا۔ ہر گز نہیں۔ تم دونوں ہماری نشانیوں کے ساتھ جاؤ۔

ہم تمھارے ساتھ سنتے رہیں گے۔

۱۶–فرعون کے پاس جاؤ اور کہو کہ ہم رب العالمین کے رسول ہیں۔

۱۷–(اور اس حکم کے ساتھ بھیجے گئے ہیں ) کہ تو بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ جانے دے۔

۱۸–اس نے کیا کہا ہم نے تم کو اپنے یہاں بچپن میں پالا نہیں تھا ؟

اور تم نے اپنی عمر کے کئی سال ہمارے ہاں نہیں گزارے ؟

۱۹–اس کے بعد تم نے وہ حرکت کی جو کی اور تم ناشکر ے ہو۔ !

۲۰–موسیٰ نے جواب دیا میں یہ اس وقت کیا جب کہ میں نابلد تھا۔

۲۱–پھر میں تم لوگوں کے خوف سے بھاگ گیا۔ پھر میرے رب نے مجھے حکم عطا ء کیا اور رسولوں میں شامل کر لیا۔

۲۲–اور یہ تیرا احسان ہے جو تو مجھ پر جتا رہا ہے کہ تو نے بنی اسرائیل کو غلام بنا رکھا ہے۔

۲۳–فرعون نے کہا رب العالمین کیا ہے ؟

۲۴–اس نے جواب دیا آسمانوں اور زمین اور ان کے درمیان کی موجودات کا رب اگر تم یقین کرنے والے ہو

۲۵– اس نے اپنے ارد گرد کے لو گوں سے کہا سنیے نہیں ہو؟

۲۶–موسٰی نے کہا تمہارے گزرے ہوئے آباء واجد اد کا بہی رب۔

۲۷–فرعون نے کہا تمہارا یہ رسول جو تمہاری طرف بھیجا گیا ہے دیوانہ ہے۔

۲۸–موسٰی نے کہا مشرق و مغرب اور ان کے درمیان کی ساری موجودات کا رب اگر تم لوگ عقل رکھتے ہو۔

۲۹–فرعون کہا اگر تم نے میرے سوا کسی اور کو معبود (الٰہ) بنایا تو میں تمہی قید کر کے رہوں گا۔

۳۰–موسیٰ نے کہا اس صورت میں بہی جب کہ میں تمہارے پاس ایک واضح چیز لے کر آیا ہو ں ؟

۳۱–فر عون نے تو پیش کرو اگر تم سچّے ہو۔

۳۲–موسٰی نے اپنا عصا ڈال دیا اور یکایک وہ صریح ا ژ د ہا بن گیا۔

۳۳–اور اس نے اپنا ہا تھ کھینچا تو وہ دیکھنے والوں کے لئے روشن ہو گیا۔

۳۴–فرعون نے اپنے سرداروں سے جو اس کے ارد گرد تھے کہا یہ شخص یقیناً ایک ما ہر جادوگر ہے۔

۳۵–یہ چاہتا ہے کہ جادو کے زور سے تم کو تمہارے ملک سے نکال دے تو تم لوگ کیا مشورہ دیتے ہو؟

۳۶–انہوں نے کہا اس کو اور ا س کے بھائی کو ابھی مہلت دیجیے اور (پارہ۱۹) شہروں میں نقیب بھیج دیجیے۔

۳۷–کہ تمام ماہر جادوگروں کو آپ کے پاس لے آئیں۔

۳۸–چنانچہ جادو گر ایک مقررہ دن وقت معین پر جمع کر دئے گئے۔

۳۹–اور لوگوں سے کہا گیا تم مجتمع ہو گے ؟

۴۰–تاکہ ہم جادو گروں کے پیچھے چلیں اگر وہ غالب آ گئے۔

۴۱–جب جادو گر آئے تو انہوں نے فرعون سے کہا ہمیں انعام تو ملے گانا اگر ہم غالب آ گئے !

۴۲–اس نے کہا ہاں ضرور اور تم مقر بین میں شامل ہو جاؤ گے۔

۴۳–موسیٰ نے کہا ڈال دو کچھ تمھیں ڈالنا ہے۔

۴۴–انہوں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں ڈال دیں اور بولے فرعون کی عزت کی ہم غالب رہیں گے۔

۴۵–پھر موسیٰ نے اپنا عصا ڈالا تو یکایک وہ ان کے طلسم کو ہڑ پ کر نے لگا۔

۴۶–اس پر جادو گر بے اختیار سجدے میں گر پڑ ے۔

۴۷–اور بول اٹھے ہم ایمان لائے رب العالمین پر۔

۴۸–موسیٰ اور ہارون کے رب پر۔

۴۹–فرعون نے کہا تم نے اس کو مان لیا قبل اس کے کہ میں تم کو اس کی اجازت دیتا۔ یہ تمھارا بڑا ہے جس نے تم کو جادو سکھا یا ہے۔ تو ابھی تمھیں معلوم ہوا جا تا ہے۔ میں تمہارے ہاتھ اور پاؤں مخالف سمتوں سے کاٹ دوں گا اور تم سب کو سولی پر چڑھاؤں گا۔

۵۰–انہوں نے جواب دیا کوئی حرج نہیں۔ ہم اپنے رب ہی کی طرف لوٹنے والے ہیں۔

۵۱–ہم امید رکھتے ہیں کہ ہمارے رب ہماری خطائیں معاف کر دے گا کہ ہم سب سے پہلے ایمان لائے۔

۵۲–اور ہم نے موسیٰ پر وحی کی کہ میرے بندوں کو لیکر رات میں نکل جاؤ۔ تمہارا پیچھا کیا جائے گا۔

۵۳–اس پر فرعون نے شہروں میں نقیب بھیجے۔

۵۴–کہ یہ مٹھی بھر لوگ ہیں۔

۵۵–اور ہمیں غصہ دلا رہے ہیں۔

۵۶–اور ہم ایک چوکنا رہنے والی جمعیت ہیں۔

۵۷–بالآخر ہم نے ان کو باغوں اور چشموں سے نکالا۔

۵۸–اور خزانوں اور بہترین مقام سے۔

۵۹–(ان کے ساتھ) اسی طرح کیا اور بنی اسرائیل کو ہم نے ان (نعمتوں ) کا وارث بنا دیا۔

۶۰–انہوں نے صبح ہوتے ہی ان کا (بنی اسرائل کا) تعاقب کیا۔

۶۱–جب دونوں گروہ آمنے سامنے ہو گئے تو موسیٰ کے ساتھی پکار اٹھے ہم تو پکڑ ے گئے !

۶۲–موسیٰ نے کہا ہر گز نہیں میرے ساتھ میرا رب ہے وہ مجھے راہ دکھائے گا

۶۳–اس وقت ہم نے موسیٰ پر وحی کہ اپنا عصا سمندر پر مارو چنانچہ سمندر پھٹ گیا اور ہر حصہ عظیم پہاڑ کی طرح بن گیا۔

۶۴–وہاں ہم دوسے گروہ کو بھی قریب لائے۔

۶۵–اور موسیٰ اور ان سب کو جو ان کے ساتھ تھے ہم نے بچا لیا

۶۶–پھر دوسروں کو غرق کر دیا۔

۶۷–یقیناً اس میں بہت بڑ ی نشانی ہے۔ مگر ان لوگوں میں سے اکثر ایمان لانے والے نہیں۔

۶۸–اور بے شک تمہارے رب غالب بھی ہے اور رحیم بھی۔

۶۹–اور ان کو ابراہیم کا واقعہ سناؤ۔

۷۰–جب اس نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے کہا کہ یہ تم کن چیزوں کی پرستش کر تے ہو !

۷۱–انہوں نے کہا ہم بتوں کی ہو جا کر تے ہیں اور انہی کی ہو جا پر ہم جمے رہیں گے۔

۷۲–اس نے پوچھا کیا یہ تمہاری سنتے ہیں جب تم انہیں پکار تے رہو۔ ؟

۷۳–یا تمھیں نفع یا نقصان پہونچا تے ہیں ؟

۷۴–انہوں نے جواب دیا نہیں بلکہ ہم نے اپنے باپ دادا کو ایسا ہی کرتے پایا ہے

۷۵–اس نے کہا تم نے ان (بتوں ) کو دیکھا جن کو تم ہو جتے رہے ہو۔

۷۶–تم اور تمہارے پچھلے باپ دادا۔

۷۷–میرے تو یہ سب دشمن ہیں سوائے رب العالمین کے

۷۸–جس نے مجھے پیدا کیا اور وہ میری رہنمائی فرماتا ہے۔

۷۹–جو مجھے کھلا تا اور پلاتا ہے۔

۸۰–اور جب میں بیمار ہو جاتا ہوں تو وہ مجھے شفاء دیتا ہے۔

۸۱–جو مجھے موت دے گا اور پھر زندہ کرے گا۔

۸۲–اور جس سے میں امید رکھتا ہوں کہ جزا کے دن وہ میرے خطائیں معاف فرمائے گا

۸۳–اے میرے رب مجھے حکمت عطا فرما اور مجھے صالح لوگوں میں شامل کر۔

۸۴–اور بعد والوں میں میرے لئے سچائی کا بول رکھ دے۔

۸۵–اور مجھے جنت نعیم کے وارثوں میں شامل فرما۔

۸۶–اور میرے باپ کو معاف کر دے کہ وہ گمراہوں میں سے ہے۔

۸۷–اور مجھے اس دن رسوا نہ کر جس دن لوگ اٹھائے جائیں گے۔

۸۸–جس دن نہ مال فائدہ دے گا اور نہ اولاد۔

۸۹–صرف وہی لوگ (کامیاب ہوں گے ) جو قلب سلیم لے کر اللہ کے حضور حاضر ہوں گے۔

۹۰–اور جنت مت قیوں کے لئے قریب لائی جائے گی۔

۹۱–اور جہنم گمراہوں کیلے بے نقاب کر دی جائے گی۔

۹۲–اور ان سے کہا جائے گا کہ کہاں ہیں وہ جن کی تم پر ستش کر تے تھے۔

۹۳–اللہ کو چھوڑ کر۔ کیا وہ تمہاری مدد کر سکتے ہیں یا اپنا بچاؤ کریں گے ؟۔

۹۴–پھر وہ اور تمام گمراہ لوگ اس میں اوندھے جھونک دئے جائیں گے۔

۹۵–اور ابلیس کے سارے لشکر بھی۔

۹۶–وہ وہاں آپس میں جھگڑ تے ہوئے کہیں گے۔

۹۷–اللہ کی قسم ! ہم صریح گمراہی میں تھے۔

۹۸–جب کہ تم کو رب العالمین کے برابر ی کا ٹھرا تے تھے۔

۹۹–اور مجرموں ہی نے ہم کو گمراہ کیا تھا۔

۱۰۰–اب ہمارا کوئی سفارشی نہیں۔

۱۰۱–اور نہ کوئی دوست ہے۔

۱۰۲–اگر ہمیں ایک مرتبہ اور لوٹنے کا موقعہ مل جائے تو ہم مومن ہوں۔

۱۰۳–یقیناً اس میں بڑ ی نشانی ہے۔ مگر ان میں سے اکثر ایمان لانے والے نہیں۔

۱۰۴–اور بے شک تمہارا رب غالب بھی ہے۔ اور رحیم بھی۔

۱۰۵–نوح کی قوم نے رسولوں کو جھٹلایا۔

۱۰۶–جب کہ ان کے بھائی نوح نے ان سے کہا ڈرتے نہیں ہو۔

۱۰۷–میں تمہارے لئے ایک امانتدار رسول ہوں۔

۱۰۸–تو اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔

۱۰۹–میں اس پر تم سے کوئی اجر نہیں مانگتا۔ میرا اجر رب العالمین کے ذمہ ہے۔

۱۱۰–تو اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔

۱۱۱–انہوں نے کہا کیا ہم تمھیں مان لیں جب کہ تمھاری پیروی رزیل ترین لوگوں نے اختیار کی ہے۔

۱۱۲–اس نے کہا مجھے کیا معلوم وہ کیا کرتے رہے ہیں۔

۱۱۳–ان کا احسان تو میرے رب کے ذمہ ہے۔ کاش کہ تم سمجھو۔

۱۱۴–اور میں ان لوگوں کو دھتکارنے والا نہیں جو ایمان لائے ہیں۔

۱۱۵–میں تو بس کھلا خبر دار کرنے والا ہوں۔

۱۱۶–انہوں نے کہا اے نوح ! اگر تم باز نہ آئے تو ضرور سنگسار کیے جاؤ گے۔

۱۱۷–اس نے دعا کی اے میرے رب ! میری قوم نے مجھے جھٹلا دیا۔

۱۱۸–اب تو میرے اور ان درمیان واضح فیصلہ کر دے اور مجھے اورع جو اہل ایمان میرے ساتھ ہیں ان کو نجات دے۔

۱۱۹–بالآخر ہم نے اس کو اور ان کو جو اس ساتھ تھے بھری ہوئی کشتی میں نجات دی۔

۱۲۰–اس کے بعد باقی لوگوں کو غرق کر دیا۔۔

۱۲۱–یقیناً اس میں بڑ ی نشانی ہے مگر ان میں سے اکثر ایمان لانے والے نہیں۔

۱۲۲–اور تمہارا رب غالب بھی ہے اور رحیم بھی۔

۱۲۳–عاد رسولوں کو جھٹلایا۔

۱۲۴–جب کہ ان کے بھائی ہود نے ان سے کہا کہ تم ڈرتے نہیں ؟۔

۱۲۵ میں تمہارے لئے ایک امانت دار رسول ہوں۔

۱۲۶–تو اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کر و۔

۱۲۷–میں اس پر تم سے کوئی اجر نہیں کرتا۔ میرا اجر تو رب العالمین کے ذمہ ہے۔

۱۲۸–یہ کیا بات ہے کہ تم ہر اونچے مقام پر فضول یاد گار تعمیر کر تے ہو ؟

۱۲۹–اور بڑ ے بڑ ے محل بنا تے ہو گو یا تمھیں ہمیشہ (یہیں ) رہنا ہے۔

۱۳۰–اور جب تم (کسی کو) گرفت میں لیتے ہو تو جبار بن کر گرفت میں لیتے ہو۔

۱۳۱–تو اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔

۱۳۲–ڈرو اس سے جس نے تمہاری مدد کی ان چیزوں سے جن کو تم (اچھی طرح) جانتے ہو۔

۱۳۳–اس نے تمہاری مدد کی چو پایوں اور اولاد سے۔

۱۳۴–اور باغوں اور چشموں سے۔

۱۳۵–مجھے اندیشہ ہے تم پر ایک ایسے دن کا عذاب کا جو بڑا سخت ہو گا۔

۱۳۶–انہوں نے کہا ہمارے یکساں ہے تم نصیحت کر و یا نہ کرو۔

۱۳۷–یہ بات تو اگلوں سے چلی آ رہی ہے۔

۱۳۸–اور ہم کو عذاب نہیں دیا جائے گا۔

۱۳۹–غرضیکہ انہوں نے اس کو جھٹلا یا تو ہم نے ان کو ہلاک کر دیا۔ یقیناً اس میں بڑ ی نشانی ہے۔ مگر ان میں سے اکثر ایمان لانے والے نہیں۔

۱۴۰–اور بے شک تمہارا رب غالب بھی ہے اور رحیم بھی۔

۱۴۱–ثمود رسولوں کو جھٹلا دیا۔

۱۴۲–جب ان بھائی صالح نے ان سے کہا کیا تم ڈر تے نہیں ؟

۱۴۳–میں تمہارے لئے ایک امانت دار رسول ہوں۔

۱۴۴–تو اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔

۱۴۵–میں اس پر تم سے کوئی اجر نہیں مانگتا۔ میرا اجر تو رب العالمین کے ذمہ ہے۔

۱۴۶–کیا تم ان (نعمتوں ) میں یہاں چین کی حالت میں چھوڑ دئے جاؤ گے ؟

۱۴۷–باغوں اور چشموں میں۔

۱۴۸–کھیتوں اور کھجور کے باغوں میں جن کے خوشے بڑ ے لطیف ہوتے ہیں۔

۱۴۹–اور پہاڑوں کو تراش کر تم عمارتیں بناتے رہو گے تاکہ اپنے کمال فن پر فخر کرو۔

۱۵۰–تو اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔

۱۵۱–اور حد سے گزر نے والوں کی اطاعت نہ کرو۔

۱۵۲–جو زمین میں فساد بر پا کر تے ہیں اور اصلاح نہیں کر تے۔

۱۵۳–انہوں نے کہا تم پر جادو کا اثر ہوا ہے۔

۱۵۴–اور تم ہمارے ہی جیسے بشر ہو اگر (اپنے دعوۂ رسالت میں ) سچے ہو تو لاؤ کوئی نشانی۔

۱۵۵–اس نے کہا یہ اونٹنی ہے۔ ایک دن پانی پینے کی باری اس کی ہے اور ایک مقررہ دن پانی کی باری تمہارے لئے ہے۔

۱۵۶–اس کو تکلیف پہنچاؤ ورنہ ایک سخت دن کا عذاب تمھیں آلے گا۔

۱۵۷–مگر انہوں نے اس کی کونجیں کاٹ دی اور پھر پچھتاتے رہ گئے۔

۱۵۸–آخر کار انہیں عذاب نے آ لیا۔ یقیناً اس میں بڑ ی نشانی ہے۔

۱۵۹–اور بے شک تمہارا رب غالب بھی ہے اور رحیم بھی۔

۱۶۰–لوط کی قوم نے رسولوں کی جھٹلایا۔

۱۶۱–جب ان کے بھائی لوط نے ان سے کہا کیا تم ڈرتے نہیں۔ ؟

۱۶۲–میں تمہارے لئے ایک امانت دار رسول ہوں۔

۱۶۳–تو اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔

۱۶۴–میں اس پر تم سے کوئی اجر طلب نہیں کر تا۔ میرا اجر تو رب العالمین کے ذمہ ہے۔

۱۶۵–کیا دنیا کے لوگوں میں تم ایسے ہو نہ شہوت پوری کرنے کے لئے لڑکوں کے پاس جاتے ہو۔

۱۶۶–اور تمہارے رب نے تمہارے لئے جو بیویاں پیدا کی ہیں ان کو چھوڑ دیتے ہو ؟ حقیقت یہ ہے کہ تم حد سے گزر جانے والے لوگ ہو۔

۱۶۷–انہوں نے کہا میں اے لوط اگر تم باز نہ آئے تو لازماً تمھیں یہاں سے نکال دیا جائے گا۔

۱۶۸–اس نے کہا میں تمہارے عمل سے سخت بیزار ہوں۔

۱۶۹–اے رب ! مجھے اور میرے گھر والوں کو ان کے عمل سے نجات دے۔

۱۷۰–تو ہم نے اس کو اور اس کے سارے گھر والوں کو نجات دی۔

۱۷۱–سواے ایک بڑھیا کہ جو پیچھے رہ جانے والوں میں تھی۔

۱۷۲–پھر ہم نے دوسروں کو ہلاک کر دیا۔

۱۷۳–اور ان پر ایک خاص قسم کی برسات برسائی۔ تو کیا ہی بری بارش تھی جو خبردار کیے جانے والوں پر بر سائی گئی۔

۱۷۴–یقیناً اس میں بڑ ی نشانی۔ مگر ان میں سے اکثر ایمان لانے والے نہیں۔

۱۷۵–اور بے شک تمہارے رب غالب بھی ہے اور رحیم بھی۔

۱۷۶–ایکہ والوں نے رسولوں کی جھٹلا دیا۔

۱۷۷–جب شعیب نے ان سے کہا کیا تم ڈر تے نہیں ؟

۱۷۸–میں تمھارے لئے ایک امانتدار رسول ہوں۔

۱۷۹–تو اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔

۱۸۰–میں اس پر تم سے کوئی اجر طلب نہیں کرتا۔ میر اجر تو رب العالمین کے ذمہ ہے۔

۱۸۱–ناپ پورا پورا بھر و اور گھاٹا نہ دو۔

۱۸۲–صحیح ترازو سے تولو۔

۱۸۳–اور لوگوں کو ان کی چیزیں کم نہ دو اور زمین میں فساد پھیلائے نہ پھر و۔

۱۸۴–ڈرو اس سے جس نے تم کو بھی پیدا کیا اور گزری ہوئی خلقت کو بھی۔

۱۸۵–انہوں نے کہا تم پر جادو کا اثر ہوا ہے۔

۱۸۶–اور تم بس ہمارے ہی جیسے بشر ہو اور ہم تو تمھیں بالکل جھوٹا سمجھتے ہیں۔

۱۸۷–اگر تم سچے ہو تو ہم پر آسمان کا ٹکڑا گرا دو۔

۱۸۸–اس نے کہا میرا رب جانتا ہے جو کچھ تم کر رہے ہو۔

۱۸۹–مگر انہوں نے اسے جھٹلایا۔ آخر کار ان کو سائبان والے دن کے عذاب نے پکڑ لیا۔

۱۹۰–یقیناً اس میں بڑ ی نشانی ہے مگر ان میں سے اکثر ایمان لانے والے نہیں۔

۱۹۱–اور بیشک تمہارا رب غالب بھی سے اور رحیم بھی۔

۱۹۲–اور یہ (قرآن) یقیناً رب العالمین کا نازل کیا ہوا ہے۔

۱۹۳–اس کو لے کر روح الامین نازل ہوا ہے۔

۱۹۴–تمہارے قلب ۱۵۸) پر تاکہ تم (لوگوں کو خبردار کرنے والے بنو۔

۱۹۵ –واضح عربی زبان میں

۱۹۶–اور یہ گزرے ہوئے لوگوں کے صحیفوں میں بھی موجود ہے۔

۱۹۷–کیا ان لوگوں کیلے یہ نشانی نہیں ہے کہ اسے بنی اسرائیل کے علماء جانتے ہیں۔

۱۹۸–اور اگر ہم اسے کسی عجمی پر نازل کرتے۔

۱۹۹–اور وہ ان کو پڑھ کر سناتا تو یہ اس پر ایمان لانے والے نہ تھے۔

۲۰۰–اس طرح ہم نے یہ بات مجرموں کے دلوں میں داخل کر دی۔

۲۰۱–وہ اس پر ایمان نہیں لائیں گے جب تک درد ناک عذاب نہ دیکھ لیں۔

۲۰۲–وہ ان پر اچانک آئے گا اور اس سے وہ بے خبر ہوں گے۔

۲۰۳–اس وقت کہیں گے کیا ہمیں کچھ مہلت ملے گی۔

۲۰۴–پھر کیا یہ لوگ ہمارے عذاب کے لئے جلدی مچا رہے ہیں ؟

۲۰۵–تم سوچا اگر ہم انہیں چند سال اور سامان زندگی دے دیں۔

۲۰۶–پھر ان پر وہ (عذاب) آ جائے جس سے ان کو ڈرایا جا رہا ہے۔

۲۰۷–تو وہ سامان زندگی جس سے وہ فائدہ اٹھاتے رہے ان کے کسی کام آئے گا۔

۲۰۸–اور ہم نے کسی آبادی کو بھی ہلاک نہیں کیا مگر یہ کہ اس کے لئے خبر دار کرنے والے رہے ہیں۔

۲۰۹–یاد دہانی کے لئے اور ہم ظالم نہیں ہیں۔

۲۱۰–اس (قرآن) کو شیاطین لے کر نہیں اتر ے ہیں۔

۲۱۱–نہ یہ ان سے کوئی مناسبت رکھتا ہے اور نہ وہ ایسا کر ہی سکتے ہیں۔

۲۱۲–وہ تو اس کے سننے سے بھی دور ر کھے گئے ہیں۔

۲۱۳–تو اللہ کے ساتھ کسی اور معبود کو نہ پکارو ورنہ تم بھی سزا پا نے والوں میں شامل ہو جاؤ گے

۲۱۴–اور اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈراؤ۔

۲۱۵–اور جو ایمان لانے والے تمہاری پیروی کریں ان کے لئے اپنے بازو جھکا دو۔

۲۱۶–اور اگر وہ تمھاری نافر مانی کریں تو ان سے کہو جو کچھ تم کر رہے ہو میں اس سے بری ہوں۔

۲۱۷–اور توکل کرو اس پر جو غالب اور رحیم ہے۔

۲۱۸–جو تمھیں دیکھ رہا ہوتا ہے جب تم نماز میں کھڑ ے ہوتے ہو۔

۲۱۹–اور سجدہ ریز ہونے والوں کے درمیان تمہاری آمد و رفت کو بھی۔

۲۲۰–بے شک و ہ سب کچھ سننے کچھ سننے والا جاننے والا ہے۔

۲۲۱–کیا میں تم لوگوں کو بتاؤں کہ شیاطین کس پر اتر تے ہیں۔

۲۲۲–وہ ہر جھوٹی بات بنانے والے بد کا ر پر اتر تے ہیں۔

۲۲۳–جو (شیطان کی طرف) کان لگاتے ہیں۔ اور ان میں سے اکثر جھوٹے ہوتے ہیں۔

۲۲۴–اور شاعروں کی پیروی تو گمراہ لوگ کرتے ہیں۔

۲۲۵–کیا تم دیکھتے نہیں کہ وہ ہر وادی میں بھٹکتے پھرتے ہیں۔

۲۲۶–اور ایسی باتیں کہتے ہیں جو کرتے نہیں۔

۲۲۷–سوائے ان کے جو ایمان لائے، جنہوں نے نیک عمل کیے، اللہ کو بہ کثرت یاد کیا اور اس صورت میں بدلہ لیا جب کہ ان پر ظلم ہوا تھا اور جو ظلم کر رہے ہیں وہ عنقریب جان لیں گے کہ کس انجام کو ہو پہنچتے ہیں۔

٭٭٭

 

 

(۲۷)سورۂ النمل

 

 

اللہ رحمن و رحیم کے نام سے

 

۱–طا۔ سین۔ یہ آیتیں ہیں قرآن اور روشن کتاب کی۔

۲–یہ ہدایت و بشارت ہے مومنوں کے لئے۔

۳–جو نماز (صلوۃ) قائم کرتے ہیں، زکوٰۃ دیتے ہیں اور یہی ہیں جو آخرت پر یقین رکھتے ہیں۔

۴–جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ہم نے ان کے کام ان کے لیے خوشنما بنا دیئے ہیں لہذا وہ بھٹکتے پھر تے ہیں۔

۵–ایسے لوگوں کے لیے دینا میں بھی برا عذاب ہے۔ اور آخرت میں بھی وہ بری طرح تباہ ہوں گے۔

۶–اور بلا شبہ یہ قرآن تم خدائے ) علیم و حکیم کے حضور سے پار ہے ہو۔

۷–جب موسیٰ نے اپنے گھر والوں سے کہا میں نے ایک آگ دیکھی ہے۔ میں وہاں سے کوئی خبر لیکر آتا ہوں یا آگ کا شعلہ لا تا ہوں تاکہ تم لوگ گرمی حاصل کر سکو۔۔

۸–جب وہ اس کے پاس پہونچا تو ندا آئی مبارک ہے وہ جو اس آگ میں ہے اور وہ جو اس کے ارد گرد ہیں۔ اور پاک ہے اللہ رب العالمین۔

۹–اے موسیٰ میں ہو اللہ غلبہ والا حکمت والا۔

۱۰–اور تم اپنا عصا ڈال دو۔ جب اس نے دیکھا کہ وہ سانپ کی طرح حرکت کر رہا ہے تو وہ پیٹھ پھر کر بھاگا اور پلٹ کر بھی نہ دیکھا۔ اے موسیٰ ! ڈرو نہیں۔ میرے حضور پیغمبر ڈرا نہیں کر تے۔

۱۱–مگر جو گناہ کا مرتکب ہوا ہو۔ پھر (اگر اس نے) برائی کو نیکی سے بدل دیا ہو تو میں بخشنے والا رحم کرنے والا ہوں۔

۱۲–اور تم اپنا ہاتھ اپنے گریبان میں ڈالو وہ کسی عیب کے بغیر روشن ہو کر نکلے گا۔ یہ نو نشانیوں میں سے ہیں۔ جن کے ساتھ تم اور اس کی قوم کے پاس جاؤ۔ وہ بڑے فاسق لوگ ہیں۔

۱۳–مگر جب ان کے سامنے ہماری کھلی نشانیاں آئیں تو انہوں نے کہا یہ تو کھلا جادو ہے۔

۱۴–انہوں نے ظلم اور غرور کی وجہ سے ان کا انکار کیا حالانکہ ان کو اپنے دل میں یقین ہو چکا تھا۔ تو دیکھو مفسدوں کا انجام کیسا ہوا۔

۱۵–ہم نے داؤد اور سلیمان کو علم عطا کیا۔ اور انہوں نے کہا شکر ہے اللہ کا جس نے ہمیں اپنے بہت سے مومن بندوں پر فضیلت عطا فرمائی۔

۱۶–اور داؤد کا وارث سلیمان ہوا۔ اس نے کہا لوگو! ہمیں پرندوں کو بولی سکھائی گئی ہے اور ہمیں سب کچھ عطا کیا گیا ہے۔ بے شک یہ نمایاں فضل ہے۔

۱۷–اور سلیمان کے لئے اس کے لشکر جو جنوں، انسانوں اور پرندوں میں سے تھے جمع کئے گئے تھے اور ان کی صف بندی کی جاتی تھی۔

۱۸–یہاں تک کہ جب وہ چونٹیوں کی وادی میں پہونچے تو ایک چیونٹی نے کہا اے چونٹیوں ! اپنے بلوں میں گھس جاؤ۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ سلیمان اور اس کا لشکر ہمیں کچل ڈالے اور انہیں خبر بھی نہ ہو۔

۱۹–سلیمان اس بات پر ہنس پڑا اور دعا کی اے میرے مجھے توفیق عطا فرما کہ میں تیرے اس احسان کا شکر کروں جو تو نے مجھ پر اور میرے والدین پر کیا ہے اور نیک عمل کروں جس سے تو خوش ہو۔ اور اپنی رحمت سے مجھے اپنے صالح بندوں میں شامل فرما۔

۲۰–اور اس نے پرندوں کا جائزہ لیا تو کہا کیا بات ہے میں ہدہد کو نہیں دیکھ رہا ہوں کیا وہ غائب ہو ا ہے ؟

۲۱–میں اسے سخت سزادوں گا یا ذبح کر ڈالوں گا یا پھر وہ میرے سامنے واضح حجت پیش کرے۔۔

۲۲–کچھ زیادہ دیر نہیں ہوئی کہ اس نے آ کر کہا میں نے وہ باتیں معلوم کی ہیں جس سے آپ پوری طرح باخبر نہیں ہیں۔ میں سبا سے یقینی خبر لے کر آیا ہوں۔

۲۳–میں نے دیکھا ایک عورت ان پر حکو مت کر رہی ہے۔ اس کو سب کچھ بخشا گیا ہے اور اس کا تخت عظیم الشان ہے۔

۲۴–میں دیکھا کہ وہ اور اس کی قوم اللہ کو چھوڑ کر سورج کو سجدہ کر تی ہے۔ شیطان نے ان کے اعمال ان کے لیے خوشنما بنا دیئے ہیں اور ان کو راہ راست سے روک دیا ہے اس لئے وہ راہ یاب نہیں ہو رہے ہیں

۲۵–کیوں نہیں وہ اللہ کو سجدہ کرتے۔ جو آسمانوں اور زمین کی پوشیدہ چیزوں کو نکالتا ہے اور وہ جانتا ہے جو تم چھپا تے ہو اور جو ظاہر کرتے ہو۔

۲۶–اللہ کہ اس کے سوا کوئی لائق پرستش نہیں عرش عظیم کا مالک ہے۔

۲۷–اس نے (سلیمان نے) کہا ہم دیکھ لیتے ہیں تو نے سچ کہا ہے یا جھوٹ بولنے والوں میں سے ہے۔

۲۸–یہ میرا خط لے جا اور ان کے پاس ڈال دے۔ پھر ہٹ کر دیکھ کہ وہ کیا رد عمل ظاہر کرتے ہیں۔

۲۹–اس (ملکہ) نے کہا اے اہل دربار ! میری پاس ایک نامۂ گرامی ڈال دیا گیا ہے۔

۳۰–وہ سلیمان کی طرف سے ہے اور وہ ہے کہ بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ اللہ رحمن و رحیم کے نام سے۔

۳ ۱–میرے مقابلہ میں سر کشی نہ کرو اور مسلم ہو کر میرے پاس حاضر ہو جاؤ۔

۳۲–اس نے کہا اے اہل دربار !اس معاملہ میں مجھے رائے دو۔ میں کسی معاملے کا فیصلہ نہیہں کرتی جب تک کہ تم لوگ موجود نہ ہوں۔

۳۳–انہوں نے کہا ہم طاقت ور سخت جنگ آور ہیں۔ مگر فیصلہ آپ کے اختیار میں ہے۔ دیکھے آپ کیا حکم دینا چاہتی ہیں۔

۳۴–اس (ملکہ) نے کہا بادشاہ جب کسی آبادی میں داخل ہوتے ہیں تو اس کو درہم برہم کر دیتے ہیں اور اس کے معزز لوگوں کو ذلیل کر دیتے ہیں۔ وہ ایسا ہی کیا کرتے ہیں۔

۳۵–میں ان کے پاس ہدیہ بھیجتی ہوں پھر دیکھتی ہوں کہ قاصد کیا جواب لے کر آتے ہیں۔

۳۶–جب وہ (سفیر) سلیمان کے پاس پہنچا تو اس نے کہا کیا تم لوگ مال سے میری مدد کرنا چاہتے ہو ؟ مجھے اللہ نے جو کچھ دیا ہے وہ اس سے کہیں بہتر ہے جو تم لوگوں کی دیا ہے مگر تم لوگ ہو کہ اپنے ہدیہ پر نازاں ہو۔

۳۷–واپس جاؤ ان کے پاس۔ ہم ان پر ایسے لشکر لے کر آئیں گے کہ وہ مقابلہ نہ کر سکیں گے اور ہم ان کو وہاں سے اس طرح ذلت کے ساتھ نکالیں گے کہ وہ پست ہو کر رہ جائیں گے۔

۳۸–سیلمان نے کہا اے اہل دربار! تم میں سے کون اس کا تخت میرے پا س لاتا ہے قبل اس کے کہ وہ میرے پاس مسلم ہو کر حاضر ہوں۔

۳۹–جنوں میں سے ایک عفریت نے کہا میں اسے قبل اس کے کہ آپ اپنی جگہ سے اٹھیں حاضر کر دو ں گا۔ میں اس کی طاقت رکھتا ہوں اور امانت دار ہوں۔

۴۰–جس کے پاس کتاب کا علم تھا اس نے کہا میں اس کو آپ کی پلک جھپکنے سے پہلے حاضر کئے دیتا ہوں۔ جب سلیمان نے دیکھا کہ وہ اس کے سامنے رکھا ہوا تو پکار اٹھا یہ میرے رب کا فضل ہے تاکہ وہ مجھے آزمائے کہ میں شکر کرتا ہوں یا ناشکری۔ اور جو شکر کرتا ہے تو اس کا شکر کرنا اسی کیلے مفید ہے اور جو ناشکری کرے تو میرا رب بے نیاز اور کریم ہے۔

۴۱–سلیمان نے حکم دیا ملکہ کے لیے اس کے تخت کی شکل بدل دو دیکھیں کہ ہدایت پاتی ہے یا ان لوگوں میں سے ہے جو ہدایت نہیں پا تے۔

۴۲–جب وہ حاضر ہوئی تو اس کہا گیا کیا تمہارا تخت ایسا ہی ہے ؟ اس نے کہا گویا کہ وہی ہے۔ اور ہم کو اس پہلے ہی علم حاصل ہو گیا تھا اور ہم مسلم تھے

۴۳–اور اس کو روک رکھا تھا غیر اللہ کی پرستش نے جو وہ کیا کرتی تھی۔ وہ ایک کافر قوم میں سے تھی۔

۴۴–اس سے کہا گیا محل میں داخل ہو جاؤ۔ اس نے جب دیکھا تو سمجھی کہ گہرا پانی ہے اور اپنی پنڈلیاں کھول دیں۔ سلیمان نے کہا یہ محل شیشوں سے جڑا ہوا۔ وہ پکار اٹھی اے میرے رب ! میں اپنے نفس پر ظلم کر تی رہی اور اب میں نے سلیمان کے ساتھ اپنے کو اللہ رب العالمین کے حوالہ کر دیا۔

۴۵–اور ہم نے ثمود کی طرف ان کے بھائی صالح کو یہ پیغام دے کرّ بھیجا کہ اللہ کی عبادت کرو تو یکایک وہ دو فریق بن کر جھگڑنے لگے۔

۴۶–اس نے کہا اے میری قوم کے لوگو! بھلائی سے پہلے برائی کے لئے کیوں جلدی مچاتے ہو؟ اللہ سے مغفرت کیوں نہیں طلب کرتے کہ تم پر رحم کیا جائے۔

۴۷–انہوں نے کہا ہم تم کو اور تمہارے ساتھیوں کو باعث نحوست خیال کرتے ہیں۔ اس نے جواب دیا تمہارا شگون اللہ کے پاس ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ تمہاری آزمائش ہو رہی ہے

۴۸–اور شہر میں بوجھتے تھے جو زمین میں فساد بر پا کرتے اور اصلاح کا کوئی کام نہ کرتے۔

۴۹–انہوں نے (آپس میں) کہا اللہ کی قسم کھا کر عہد کر لو کہ ہم اس پر (صالح پر) اور اس کے گھر والوں پر شب خون ماریں گے پھر اس کے وارث سے کہہ دیں گے کہ ہم اس کے خاندان کی ہلاکت کے وقت موجود نہ تھے اور ہم (اپنے بیان میں) بالکل سچے ہیں۔

۵۰–انہوں نے ایک چال چلی اور ہم نے بھی ایک تدبیر کی ایسی کہا انہیں خبر بھی نہ ہوئی۔

۵۱–تو دیکھو ان کی چال کا کیا انجام ہوا۔ ہم نے ان کو اور ان کو پوری قوم کو تباہ کر دیا۔

۵۲–یہ ان کے گھر ہیں جو ویران پڑے ہیں اس ظلم کی پاداش میں جو وہ کرتے رہے۔ اس میں بڑی نشانی ہے ان لوگوں کے لیے جو علم رکھتے ہیں۔

۵۳–اور ہم نے ان لوگوں کو نجات دی جو ایمان لائے تھے اور (اللہ سے) ڈرتے تھے۔

۵۴–اور ہم نے لوط کو رسول بنا کر بھیجا۔ جب اس نے اپنی قوم سے کہا۔ کیا تم آنکھوں دیکھے بد کاری کرتے ہو۔

۵۵–کیا تم عورتوں کی چھوڑ کر مردوں کے پاس شہوت رانی کے لئے جاتے ہو؟ حقیقت یہ ہے کہ تم لوگ بڑے جاہل ہو۔

۵۶–مگر اس کی قوم کا جواب اس کے سوا کچھ نہ تھا کہ آپس میں کہنے لگے لوط کے گھر والوں کو اپنی بستی سے نکال دو یہ لوگ بڑے پار سا بنتے ہیں۔

۵۷–بالآخر ہم نے اس کو اور اس کے گھر والوں کو نجات دی بجز اس کی بیوی کے کہ ہم نے طے کر دیا تھا کہ وہ پچھے رہ جانے والوں میں سے ہو گی۔

۵۸–اور ہم نے ان پر ایک خاص طرح کی بارش برسائی۔ تو کیا ہی بری بارش ہوئی ان لوگوں پر جنہیں خبردار کیا جا چکا تھا۔

۵۹–کہو حمد ہے اللہ کے لیےاور سلام ہے اس کے ان بندوں پر جن کو اس نے چن لیا۔ (ان سے پوچھو) اللہ بہتر ہے زیادہ جن کو یہ اللہ شریک ٹھرا تے ہیں۔

۶۰–(معبود یہ ہیں) یا وہ جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور تمھارے لئے آسمان سے پانی برسا یا اور اس کے ذریعہ پر رونق باغ اگا ئے جن کے درختوں کو اگا نہ تمہارے لئے ممکن نہ تھا کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور خدا بھی ہے ؟ نہیں بلکہ لوگ (حق سے) انحراف کر رہے ہیں۔

۶۱–وہ جس نے زمین کو جائے قرار بنایا اور اس کے درمیان دریا جاری کئے اور اس میں پہاڑ کھڑے کر دئے اور دو سمندروں کے درمیان پردہ حائل کر دیا۔ کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور خدا بھی ہے ؟ نہیں بلکہ ان میں سے اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں۔

۶۲–وہ جو بے قرار کی فریاد کرتا ہے اور تمھیں زمین میں با اختیار بنا تا ہے۔ کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور خدا بھی ہے ؟ تم لوگ کم ہی یا دہانی حاصل کرتے ہو۔

۶۳–وہ جو خشکی اور سمندر کی تاریکیوں میں تمہاری رہنمائی کرتا ہے۔ اور جو اپنی رحمت کے آگے ہواؤں کو خوش خبری لیے ہوئے بھیجتا ہے۔ کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور خدا بھی ہے ؟ بہت بر تر ہے اللہ اس شریک سے جو یہ لوگ کرتے ہیں۔

۶۴–وہ جو پیدائش کی ابتدا کرتا ہے پھر اس کا اعادہ کرے گا اور جو تم کو آسمان اور زمین سے رزق دیتا ہے۔ کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور خدا بھی ؟ کہو اپنی دلیل لاؤ اگر تم سچے ہو۔

۶۵–(ان سے) کہو آسمانوں اور زمین میں کوئی بھی ایسا نہیں جو غیب کا علم رکھتا ہو۔ سوائے اللہ کے۔ اور وہ نہیں جانتے کہ کب اٹھائے جائیں۔

۶۶–بلکہ آخرت کے بارے میں ان کا علم گڈ مڈ ہو گیا بلکہ یہ لوگ اس کے بارے میں شک میں پڑے ہوئے ہیں۔ بلکہ یہ اس سے اندھے ہیں۔

۶۷–اور یہ کافر کہتے ہیں کہ جب ہم اور ہمارے باپ دادا مٹی ہو چکے ہوں گے تو کیا ہمیں (قبروں سے) نکالا جائے گا ؟

۶۸–اس کی دھمکی ہم کو بھی دی گئی ہے اور ہمارے باپ دادا کو بھی دی جاتی رہی ہے مگر یہ محض اگلے لوگوں کے افسانے ہیں۔

۶۹–کہو زمین میں چل پھر کر دیکھ لو کہ مجرموں کا کیا انجام ہوا۔

۷۰–(اے پیغمبر) تم ان (کے حال) پر غم نہ کرو اور نہ ان کی چالوں پر جو وہ چل رہے ہیں دل تنگ ہو۔

۷۱–وہ کہتے ہیں یہ دھمکی کب وقوع میں آئے گی اگر تم سچے ہو۔

۷۲–کہو کیا عجب کہ جس چیز کے لئے تم جلدی مچا رہے ہو اس کا ایک حصہ تمہارے پیچھے ہی لگا ہوا ہو۔

۷۳–در حقیقت تمہارا رب لوگوں پر بڑا فضل فرمانے والا ہے مگر اکثر لوگ شکر نہیں کرتے۔

۷۴–بلا شبہ تمہارا رب خوب جانتا ہے جو کچھ ان کے سینے چھپائے ہوئے ہیں اور جو کچھ وہ ظاہر کرتے ہیں

۷۵–اور آسمان و زمین میں کوئی پوشیدہ چیز نہیں جو ایک واضح کتاب میں درج نہ ہو۔

۷۶–بلاشبہ یہ قرآن اسرائیل پر ان بہت سی باتوں کی حقیقت واضح کر رہا ہے جن میں وہ اختلاف کر رہے ہیں۔

۷۷–اور یہ ہدایت و رحمت ہے ایمان لانے والوں کے لئے۔

۷۸–یقیناً تمہارا رب اپنے حکم سے ان کے درمیان فیصلہ کر دے گا۔

وہ غالب اور علم والا ہے۔

۷۹–تو(اے پیغمبر) اللہ پر بھروسہ ر کھو۔ یقیناً تم صریح حق پر ہو۔

۸۰–تم مردوں کو نہیں سنا سکتے۔ اور نہ بہروں کو اپنی پکار سنا سکتے ہو جب کہ وہ پیٹھ پھیر کر بھاگے جا رہے ہوں۔

۸۱–اور نہ تم اندھوں کو ان کی گمراہی سے ہٹا کر راہ پر لا سکتے ہو۔

تم تو ان ہی کو سنا سکتے ہو جو ہماری آیات پر ایمان لاتے ہیں اور فرمانبردار بن جاتے ہیں۔

۸۲–اور جب ان پر ہمارا فرمان لاگو ہو گا تو ہم ان کے لئے زمین سے ایک جانور نکال کھڑا کریں گے جو ان سے بات کرے گا کہ لوگ ہماری آیتوں پر یقین نہیں رکھتے تھے۔

۸۳–اور وہ دن کہ ہم ہر امت میں سے ان لوگوں کی ایک فوج اکٹھا کریں گے جو ہماری آیتوں کو جھٹلا یا کر تے تھے پھر ان کی درجہ بندی کی جائے گی۔

۸۴–یہاں تک کہ جب وہ سب حاضر ہو جائیں گے تو (اللہ) پوچھے گا کہ کیا تم نے میری آیتوں کا جھٹلا یا تھا اور ان کو اپنے دائرہ عمل میں نہیں لایا۔ یا پھر تم کیا کرتے رہے ؟

۸۵–اور ان کے ظلم کی وجہ سے ہمارا فرمان ان پر لاگو ہو گا اور وہ کچھ بول سکیں گے۔

۸۶–کیا وہ دیکھتے نہیں کہ ہم نے رات کو اس لئے بنایا سکون حاصل کریں اور دن کو روشن بنایا۔ یقیناً اس میں نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لئے جو ایمان لاتے ہیں۔

۸۷–اور جس دن صور پھونکا جائے گا تو وہ سب جو آسمانوں اور زمین میں ہیں گھبرا اٹھیں گے سوائے ان کے جن کو اللہ (اس سے محفوظ رکھنا) چاہے گا۔ اور سب اس کے حضور عاجز ین کر حاضر ہوں گے۔

۸۸–تم پہاڑوں کو دیکھتے ہو اور خیال کرتے ہو کہ وہ جمے ہوئے ہیں مگر وہ بادلوں کی طرح اڑ رہے ہوں گے۔ یہ اللہ کی کاریگری ہو گی جس نے ہر چیز کو مضبوط بنایا۔ تم جو کچھ کر رہے ہو اس وہ باخبر ہے۔

۸۹–جو شخص نیکی لے کر آئے گا اس کو سے بہتر اجر ملے گا اور ایسے لوگ اس دن کی گھبراہٹ سے محفوظ رہیں گے۔

۹۰–اور جو برائی لے کر آئے گا تو ایسے لوگ اوندھے منہ جہنم میں جھونک دئے جائیں گے۔ تم کو بدلہ میں وہی کچھ دیا جا رہا ہے جو تم کر تے رہے ہو۔

۹۱–(کہو) مجھے یہی حکم دیا گیا ہے کہ اس شہر کے رب کی عبادت کروں جس نے اسے حرمت والا بنا یا ہے اور جو ہر چیز کا مالک ہے۔ مجھے حکم دیا گیا ہے کہ مسلم بن کر رہوں۔

۹۲–اور کہ قرآن پڑھ کر سناؤں۔ جو ہدایت اختیار کرے گا وہ اپنی ہی بھلائی کے لئے اختیار کرے گا اور جو گمراہ ہو تو کھ دو میں تو بس خبردار کرنے والا ہوں۔

۹۳–کہو تعریف اللہ کے لئے ہے۔ وہ تمھیں اپنی نشانیاں دکھائے گا اور تم ا نہیں پہچان لو گے تم لوگ جو کچھ کر رہے ہو اس سے تمہارا رب بے خبر نہیں ہے۔

٭٭٭

 

 

(۲۸) سورہ القصص

 

 

اللہ رحمٰن و رحیم کے نام سے

 

۱– طا۔ سین۔ میم

۲– یہ روشن کتاب کی آیتیں ہیں۔

۳– ہم تہیں موسیٰ اور فرعون کے کچھ واقعات پوری صحت کے ساتھ سنا تے ہیں ان لوگوں کے لیئے جو ایمان لائیں۔

۴– واقعہ یہ ہے کہ فرعون زمین میں سر کش ہو گیا تھا اور اس نے ملک کے باشندوں کو فرقوں میں تقسیم کر دیا تھا۔ ان میں سے ایک گروہ کو اس نے کمزور بنا رکھا تھا۔ ان کے لڑکوں کو ذبح کر تا اور ان کی لڑکیوں کو زندہ رہنے دیتا۔ بلاشبہ وہ بڑا مفسد تھا۔

۵– اور ہم چاہتے تھے کہ ان لوگوں پر اپنا فضل کریں جو ملک میں کمزور بنا کر رکھے گئے تھے اور ان کو پیشوا بنائیں اور ان کو وارث بنائیں۔

۶– اور زمین میں ان کو اقتدار بخشیں اور فرعون اور ہامان اور ان کے لشکروں کو ان کے ذریعہ وہ دکھائیں جس کا انہیں اندیشہ تھا۔

۷– اور ہم نے موسیٰ کی ماں کو وحی کی کہ اس کو دودھ پلاؤ پھر جب تمھیں اس کے بارے میں اندیشہ ہو تو اسے دریا میں ڈال دو اور خوف اور غم نہ کرو۔ ہم اس کو تمہارے پاس واپس لائیں گے اور ہم اس کو رسول بنانے والے ہیں ۔

۸– چنانچہ اس کو فرعون کے گھر والوں نے اٹھا لیا کہ وہ ان کے لیئے دشمن اور باعث غم بنے۔ در حقیقت فرعون، ہامان اور ان کے لشکر سب بڑے خطا کار تھے۔

۹– اور فرعون کی بیوی نے (فرعون سے) کہا یہ میرے اور تمہارے لیئے آنکھوں کی ٹھنڈک ہے اسے قتل نہ کرو۔ کیا عجب کہ یہ ہمارے لیئے مفید ہو یا ہم اسے بیٹا بنا لیں اور وہ (انجام) سے بے خبر تھے۔

۱۰– اور موسیٰ کی ماں کا دل بے قرار ہو گیا۔ قریب تھا کہ وہ اس راز کو ظاہر کر دیتی اگر ہم اس کا دل مضبوط نہ کرتے۔ یہ اس لیئے کیا تاکہ وہ مومن بن کر رہے۔

۱۱– اس نے اس (بچہ) کی بہن سے کہا تو اس کے پیچھے پیچھے جا چنانچہ وہ اس کو دور سے دیکھتی رہی اور ان لوگوں کو اس کی خبر بھی نہ ہوئی (۔

۱۲– اور ہم نے اس (بچہ) پر پہلے ہی سے دودھ پلانے والیوں کو حرام کر رکھا تھا۔ اس کی (بہن) نے کہا کیا میں تمھیں اپنے گھر والوں کا پتہ بتاؤں جو تمہارے لیئے اس کی پرورش کریں گے اور اس کے خیر خواہ ہوں گے۔

۱۳– اس طرح ہم نے اس کو اس کی ماں کے پاس لوٹا دیا تاکہ اس کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں اور وہ غم نہ کرے اور تاکہ وہ جان لے کہ اللہ کا وعدہ سچا تھا مگر اکثر لوگ جانتے نہیں۔

۱۴– اور جب وہ اپنی جوانی کو پہنچ گیا اور اس میں متانت آ گئی تو ہم نے اس کو حکمت اور علم عطا فرما یا ہم نیک لوگوں کو اسی طرح جزا دیتے ہیں۔

۱۵– اور (ایک دن) وہ شہر میں ایسے وقت داخل ہوا جب کہ لوگ بے خبر تھے۔ وہاں اس نے دیکھا کہ دو آدمی لڑ رہے ہیں۔ ایک اس کے اپنے گروہ کا تھا اور دوسرا اس کے دشمن کے گروہ کا۔ جو اس کے گروہ کا تھا اس نے اس شخص کے مقابلہ میں جو دشمن کے گروہ سے تعلق رکھتا تھا اس کو مدد کے لیئے پکار ا۔ موسیٰؑ نے اس کو گھونسا مارا اور اس کا کام تمام کر دیا۔ (جب یہ غلطی سر زد ہو گئی تو) اس نے کہا یہ شیطان کی حرکت ہے۔ بلا شبہ وہ دشمن ہے کھلا گمراہ کرنے والا۔

۱۶– اس نے دعا کی اے میرے رب !میں نے اپنے نفس پر ظلم کیا تو مجھے بخش دے چنانچہ اللہ نے اسے بخش دیا۔ یقیناً وہ بڑا بخشنے والا رحم فرمانے والا ہے۔

۱۷– (پھر) اس نے کہا اے میرے رب ! تیرے اس احسان کے بعد جو تو نے مجھ پر فرما یا میں کبھی مجرموں کا مدد گار نہیں بنو ں گا۔

۱۸– پھر (دوسرے دن) وہ صبح کے وقت ڈرتے ڈرتے اور چوکنا رہتے ہوئے شہر میں داخل ہوا۔ کیا دیکھتا ہے کہ وہی شخص جس نے کل مدد کے لیئے اسے پکارا تھا آج پھر اسے پکار ر ہا ہے۔ موسیٰ نے کہا تم صریح نامعقول ہو۔۔

۱۹– پھر جب اس نے اس شخص کو جو دونوں کا دشمن تھا پکڑنے کا ارادہ کیا تو پکارا اٹھا اے موسیٰ کیا تم مجھے اسی طرح قتل کرنا چاہتے ہو جس طرح کل تم نے ایک شخص کو قتل کر دیا تھا ؟

تم ملک میں جبار بن کر رہنا چاہتے ہو اصلاح کرنے والے بننا نہیں چاہتے۔

۲۰– اور شہر کے آخری حصہ ایک شخص دوڑ ہوا آیا اور کہا موسیٰ ! حکومت کے ذمہ دار تمھیں قتل کر نے کے لیئے مشورہ کر رہے ہیں لہذا تم یہاں سے نکل جاؤ۔ میں تمہارے خیر خواہوں میں سے ہوں۔

۲۱– یہ سن کر وہ ڈرتا ہوا ہوشیاری کے ساتھ وہاں سے نکل گیا اور اس نے دیا کی کہ اے میرے رب !مجھے ظالم قوم سے نجات دے۔

۲۲– جب اس نے مدین کی طرف رخ کیا تو کہا امید ہے کہ میرا رب مجھے سیدھا راستہ کھائے گا۔

۲۳– اور جب وہ مدین کے پانی (کنویں) پر پہنچا تو اس نے دیکھا کہ لوگوں کی ایک تعداد (اپنے) جانوروں کی پانی پلا رہی ہے۔ اور دیکھا کہ ان سے الگ دو عورتیں اپنے مویشیوں کو روکے کھڑی ہیں۔ اس نے ان سے پوچھا تمہارا کیا معاملہ ہے۔ ؟

انہوں نے کہا ہم اس وقت تک پانی نہیں پلا سکتیں جب تک چرواہے اپنے جانور ہٹا نہ لیں اور ہمارے ابا بہت بوڑھے ہیں۔

۲۴– یہ سن کر اس نے ان کے جانوروں کو پانی پلا یا پھر ایک سایہ کی طرف چلا گیا اور دیا کی اے میرے رب ! جو خیر بھی تو مجھ پر نازل کرے میں اس کا محتاج ہوں

۲۵– پھر ان دو عورتوں میں سے ایک اس کے پاس شرماتی ہوئی آئی اور کہا میرے والد آپ کو بلا رہے ہیں تا کہ آپ نے ہماری خاطر جانوروں کو جو پانی پلا یا ہے اس کا صلہ آپ کو دیں موسیٰ جب اس کے پاس پہنچا اور اسے سارا قصہ سنا یا تو اس نے کہا خوف نہ کرو ظالم قوم سے تہیں نجات مل گئی۔

۲۶– ان دو عورتوں میں سے ایک نے کہا ابا جان ان کو اجرت پر رکھ لیجیئے۔ بہترین جس کو آپ اجرت پر رکھیں وہی ہو سکتا ہے جو طاقت ور اور امانت دار ہو۔

۲۷– اس (کے باپ) نے (موسی) سے کہا میں چاہتا ہوں کہ اپنی ان دو بیٹیوں میں سے ایک کا نکاح تمہارے ساتھ اس شرط پر کر دوں کہ تم آٹھ سال تک میرے ہاں خدمت کرو۔ اور اگر دس سال پورے کرو تو یہ تمہاری مرضی سے ہو گا میں تم کو مشقت میں ڈالنا نہیں چاہتا۔ انشاءاللہ تم مجھے کر دار میں اچھا پاؤ گے۔

۲۸– موسیٰ نے کہا یہ بات میرے اور آپ کے درمیان طے ہو گئی۔ ان دونوں میں سے جو مدت بھی میں پوری کر دوں مجھ پر کوئی زیادتی نہ ہو گی اور جو قول و قرار ہم کر رہے ہیں اس پر اللہ نگہبان ہے۔

۲۹– جب موسیٰ نے مدت پوری کر دی اور اپنے گھر والوں کو لے کر چلا تو طور کی جانب سے ایک آگ دکھائی دی۔ اس نے اپنے گھر والوں سے کہا ٹھرو۔ مجھے نظر آئی ہے شاید میں وہاں سے کوئی خبر لے آؤں۔ یا آگ کا کوئی انگار ا لاؤں تاکہ تم تاپ سکو۔

۳۰– جب وہ اس کے پاس پہنچا تو خطۂ مبارکہ میں وادی کی داہنی جانب کے درخت سے ندا آئی اے موسیٰ ! میں ہوں اللہ رب العالمین۔

۳۱– اور یہ کہ تم اپنی لاٹھی ڈال دو۔ جب اس نے دیکھا کہ وہ سانپ کی طرح حرکت کر رہی ہے تو پیٹھ پھیر کر بھاگا اور مڑ کر بھی نہ دیکھا۔ اے موسیٰ ! آگے آؤ اور ڈرو نہیں۔ تم بالکل محفوظ ہو۔

۳۲– اپنا ہاتھ اپنے گریبان میں ڈالو۔ وہ روشن ہو کر نکلے گا بغیر کسی عیب کے۔ اور خوف کو دور کرنے کے لیئے بازو سیکڑ لو یہ تمہارے رب کی طرف سے دو نشانیاں ہیں فرعون اور ا سکے دربار والوں کے سامنے پیش کرنے کے لیئے۔ وہ بڑے فاسق لوگ ہیں۔

۳۳– اس نے عرض کیا اے میرے رب ! میں نے ان کے ایک آدمی کو قتل کیا تھا اس لیئے مجھے اندیشہ ہے کہ وہ مجھے قتل کریں گے

۳۴– میرا بھائی ہارون بولنے میں مجھ سے زیادہ فصیح ہے تو ا سکو میرے ساتھ مدد گار بنا کر بھیج تاکہ وہ میری تصدیق کرے۔ مجھے اندیشہ ہے کہ وہ لوگ مجھے جھٹلائیں گے۔

۳۵– فرما یا ہم تمہارے بھائی کے ذریعہ تمہارا بازو مضبوط کریں گے اور تم دونوں کو ایسی حجت قاہرہ عطا کریں گے کہ وہ تم پر دست درازی نہ کر سکیں گے۔ ہماری نشانیوں کے ساتھ (جاؤ)۔ تم دونوں اور جو تمہاری پیروی کریں گے غالب رہیں گے۔

۳۶– پھر جب موسیٰ ان کے پاس واضح نشانیاں لے کر پہنچا تو انہوں نے کہا یہ تو محض بناؤ ٹی جادو ہے اور یہ بات ہم نے اپنے اگلے باپ دادا سے کبھی نہیں سنی۔

۳۷– موسیٰ نے کہا میرا رب خوب جانتا ہے اس شخص کو جو اس کی طرف سے ہدایت لے کر آیا ہے اور جس کے لیئے آخرت کا بہتر انجام ہے۔ بلا شبہ ظالم کبھی فلاح نہیں پائیں گے۔

۳۸– فرعون نے کہا اے اہل دربار ! میں تو اپنے سوا تمہارے لیئے کسی خدا کو نہیں جانتا۔ اے ہامان ! تم مٹی (اینٹیں) پکوا کر میرے لیئے ایک اونچا محل تعمیر کرو تاکہ میں جھانک کر موسیٰ کے خدا کو لوں میں تو اسے جھوٹا سمجھتا ہوں۔

۳۹– اس نے اور اس کے لشکروں نے ناحق زمین میں گھمنڈ کیا اور سمجھے کہ انہیں ہماری طرف لوٹنا نہیں ہے۔

۴۰– تو ہم نے اس کو اس کے لشکروں کو پکڑ ا اور ان سب کو سمندر میں پھینک دیا تو دیکھ لو ظالموں کا کیا انجام ہوا!

۴۱– ہم نے ان کو جہنم کی طرف دعوت دینے والے پیشوا بنا یا اور قیامت کے دن ان کی کوئی مدد نہیں کی جائے گی۔

۴۲– ہم نے اس دینا میں ان کے پیچھے لعنت لگا دی۔ اور قیامت کے دن وہ بہت بری حالت میں ہوں گے۔

۴۳– ہم نے اگلی قوموں کو ہلاک کرنے کے بعد موسیٰ کو کتاب عطا کی جو لوگوں کے لیئے سامان بصیرت اور ہدایت و رحمت تھی تاکہ وہ یاد دہانی حاصل کریں۔

۴۴– اور تم (اے پیغمبر) اس وقت (طور کے) مغربی جانب موجود نہ تھے جب ہم نے موسیٰ کے لیئے فرمان صادر کیا اور نہ تم اس کے گواہوں میں سے تھے۔

۴۵– مگر ہم نے بہت سی نسلیں اٹھائیں اور ان پر ایک طویل زمانہ گزر گیا۔ اور تم اہل مدین کے درمیان بھی موجود نہ تھے کہ ہماری آیتیں ان کو سنا رہے ہو لیکن ہم تم کو رسول بنانے والے تھے۔

۴۶– اور نہ ہی تم طور کی جانب موجود تھے جب ہم نے (موسیٰ کو) پکارا تھا لیکن یہ (وحی) تمہارے رب کی رحمت ہے تا کہ تم ایک ایسی قوم کو خبر دار کرو جس کے پاس تم سے پہلے کوئی خبر دار کرنے والا نہیں آیا تاکہ وہ یاد دہانی حاصل کریں۔

۴۷– اور کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ اپنے کر تو توں کی وجہ سے مصیبت میں پڑیں تو کہیں اے ہمارے رب ! تو نے کیوں نہ ہماری طرف کوئی رسول بھیجا کہ ہم تیری آیتوں کی پیروی کرتے اور ایمان لانے والوں میں سے ہو جاتے۔

۴۸– مگر جب ہماری طرف سے حق ان کے پاس آ گیا تو کہنے لگے کیوں نہ دی گئی۔ اس کو چیز جسی موسیٰ کو دی گئی تھی ؟۔ کیا ان لوگوں نے اس چیز کا انکار نہیں کیا جو اس سے پہلے موسیٰ کو دی گئی تھی۔ ؟

۴۹– ان سے کہو اگر تم سچے ہو تو لاؤ اللہ کی طرف سے ایسی کتاب جو ان دونوں سے زیادہ ہدایت بخشنے والی ہو میں اس کی پیروی کروں گا۔

۵۰– اگر وہ تمہارے اس مطالبہ کو پورا نہیں کرتے تو جان لو کہ یہ اپنی خواہشات کے پیروی ہیں۔ اور اس شخص سے بڑھ کر کون گمراہ ہو گا جو اللہ کی ہدایت کو چھوڑ کر اپنی خواہشات کی پیروی کرے ؟ اللہ ایسے ظالموں پر ہر راہ نہیں کھولتا۔

۵۱– اور ہم نے ان کو مسلسل اپنا کلام پہچا یا تاکہ وہ یاد دہانی حاصل کریں۔

۵۲– جن لوگوں کو ہم نے اس سے پہلے کتاب عطا کی تھی وہ اس پر ایمان لاتے ہیں۔

۵۳– اور جب یہ (قرآن) ان کو سنا یا جاتا ہے تو کہتے ہیں ہم اس پر ایمان لائے۔ بلاشبہ یہ ہمارے رب کی طرف سے حق ہے۔ ہم پہلے ہی سے مسلم ہیں۔

۵۴– یہ وہ لوگ ہیں جن کو ان کا اجر دو بار دیا جائے گا اس وجہ سے کہ وہ ثابت قدم رہے وہ برائی کو بھلائی سے دور کرتے ہیں اور جو رزق ہم نے ان کو دیا ہے اس میں سے وہ خرچ کرتے ہیں۔

۵۵– اور جب وہ کوئی لغو بات سنتے ہیں تو اس سے کنارہ کشی اختیار کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہمارے لے لیئے ہمارے اعمال ہیں اور تمہارے لیئے تمہارے اعمال۔ تم کو سلام۔ ہم جاہلوں سے الجھنا نہیں چاہتے۔

۵۶– (اے پیغمبر!) تم جس کو چاہو ہدایت نہیں دے سکتے بلکہ اللہ جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے اور وہ خوب جانتا ہے ہدایت قبول کرنے والوں کو۔

۵۷– وہ کہتے ہیں اگر ہم تمہارے ساتھ اس ہدایت کی پیروی کرنے لگیں تو اپنی زمین (ملک) سے اچک لیئے جائیں گے۔ کیا ہم نے امن والے حرم میں انہیں جگہ نہیں دی جس کی طرف ہر قسم کے پھل کھینچے چلے آر ہے ہیں ہماری طرف سے رزق کے طور پر۔ لیکن ان میں سے اکثر جانتے نہیں ہیں۔

۵۸– اور کتنی ہی آباد یوں کو ہم ہلاک کر چکے ہیں جو اپنے عیش پر اترا گئی تھیں۔ تو یہ ہیں ان سے مسکن (گھر) جو ان کے بعد کم آباد ہوئے۔

اور ہم ہی ان کے وارث ہوئے۔

۵۹– اور تمہارا رب بستیوں کو ہلاک کرنے والا نہ تھا جب تک کہ ان کی مرکزی بستی میں ایک رسول نہ بھیج دیتا جو ان کو ہماری آیتیں سنا تا۔

اور ہم بستیوں کو اسی صورت میں ہلاک کرتے ہیں جب کہ ان کے رہنے والے ظالم ہوں۔

۶۰– تم لوگوں کو جو کچھ دیا گیا ہے وہ بس دنیوی زندگی کا سامان اور ا سکی زینت ہے۔ اور کو کچھ اللہ کے پاس ہے وہ بہتر اور باقی رہنے والا ہے۔ کیا تم سمجھتے نہیں ؟۔

۶۱– کیا وہ شخص جس سے ہم نے اچھا وعدہ کر رکھا ہے اور جس کو وہ لازماً پائے گا اس شخص کی طرح ہو سکتا ہے جس کو ہم نے دنیوی زندگی کا سامان دیا ہے پھر وہ قیامت کے دن (سزا کے لیئے) حاضر کیا جانے والا ہے۔

۶۲– اور جس دن وہ ان کو پکارے گا اور پوچھے گا کہ کہاں ہیں میرے وہ شریک جن کا تم کو دعوی تھا۔ ؟

۶۳– جن پر ہمارا فرمان لاگو ہو گا وہ کہیں گے اے رب ! یہی لوگ ہیں جن کو ہم نے گمراہ کیا تھا۔ ہم نے ان کو اسی طرح گمراہ کیا جس طرح ہم گمراہ ہوئے۔ ہم تیرے حضور (ان سے) برات کا اظہار کرتے ہیں۔ یہ ہماری پر ستش نہیں کرتے تھے۔

۶۴– اور ان سے کہا جائے گا کہ (اب) پکار و اپنے ٹھہرائے ہوئے شریکوں کو۔ یہ ان کو پکاریں گے لیکن وہ ان کو کوئی جواب نہ دیں گے۔ اور یہ لوگ عذاب دیکھ لیں گے۔ کاش انہوں نے ہدایت اختیار کی ہوتی۔

۶۵– اور جس دن وہ انہیں پکارے گا اور پوچھے گا کہ تم نے رسولوں کو کیا جواب دیا ؟۔

۶۶– اور جس دن ان سے کوئی جواب نہ بن پڑے گا اور پوچھے ہی سکیں گے۔

۶۷– تو جس نے توبہ کی، ایمان لایا اور نیک عمل کیا وہ امید ہے کامیاب ہونے والوں میں سے ہو گا

۶۸– اور تمہارا رب پیدا کرتا ہے جو چاہتا ہے اور پسند کرتا ہے جو چاہتا ہے۔ ان کو کوئی اختیار نہیں۔

۶۹– تمہارا رب جانتا ہے جو کچھ یہ اپنے دلوں میں چھپائے ہوئے ہیں اور جو یہ ظاہر کرتے ہیں۔

۷۰– وہی اللہ ہے جس کے سوا کوئی بھی خدا نہیں۔ اسی کے لیئے حمد ہے دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔ حکم اسی کا ہے اور اسی کی طرف تم لوٹا ئے جاؤ گے۔

۷۱– ان سے کہو کیا تم نے اس بات پر غور کیا کہ اگر اللہ قیامت تک تم پر ہمیشہ کے لیئے رات طاری کر دے تو اللہ کے سوا وہ کون سا خدا ہے جو تمہارے لیئے روشنی لائے ؟ کیا تم سنتے نہیں ؟

۷۲– ان سے کہو کیا تم نے یہ بھی سوچا کہ اگر اللہ قیامت تک تم پر ہمیشہ کے لیے دن طاری کر دے تو اللہ کے سوا کون سا خدا ہے جو تمہارے لیئے رات کو لائے کہ تم اس میں سکون حاصل کر سکو؟ کیا تم دیکھتے نہیں ؟۔

۷۳– اور یہ اسی کی رحمت ہے کہ اس نے تمہارے لیئے رات اور دن بنائے تاکہ تم اس میں سکون حاصل کرو اور اس کا فضل تلاش کرو اور تاکہ تم سکر گزار بنو۔۔

۷۴– اور وہ دن جب وہ انہیں پکارے گا اور کہے گا کہاں ہیں میرے وہ شریک جو تم نے ٹھرا ے تھے ؟

۷۵– اور ہم ہر امت میں سے ایک گواہ نکال لائیں گے اور لوگوں سے کہیں گے کہ اپنی دلیل پیش کرو۔ اس وقت انہیں معلوم ہو جائے گا کہ حق اللہ ہی کے لیئے ہے۔ اور جو جھوٹ وہ گھرتے رہے ہیں وہ سب گم ہو جائے گا۔

۷۶– قارون موسیٰ کی قوم میں سے تھا لیکن وہ ان کے خلاف زیادتی پر اتر آیا۔۔ اور ہم نے اس کو اتنے خزانے دے ر کھے تھے کہ ان کی کنجیاں ایک طاقت ور گروہ مشکل سے اٹھا سکتا تھا۔

۷۷– اللہ نے جو مال تہیں دے رکھا ہے اس کے ذریعہ آخرت کا گھر طلب کرو اور دنیا میں سے اپنا حصہ نہ بھولو۔ احسان کرو جس طرح اللہ نے تمہارے ساتھ احسان کیا ہے اور زمین میں فساد کے درپے نہ ہو جاؤ۔ اللہ فساد بر پا کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔

۷۸– اس نے کہا یہ سب کچھ مجھے اپنے ذاتی علم کی بنا پر ملا ہے ہے۔ کیا اس کو یہ معلوم نہ تھا کہ اللہ اس سے پہلے کتنی ہی قوموں کو ہلاک کر چکا ہے جو قوت میں اس سے زیادہ اور جمعیت میں اس سے بڑھ کر تھیں۔ اور مجرموں سے ان کے گناہوں کے بارے میں پوچھا نہیں جاتا۔

۷۹– پھر وہ اپنی پوی شان و شوکت کے ساتھ اپنی قوم کے سامنے نکلا جو لوگ دنیوی زندگی کے طالب تھے وہ کہنے لگے کاش ہمیں بھی وہی کچھ ملتا جو قارون کو ملا ہے۔ یہ تو بڑا قسمت والا ہے۔

۸۰– مر جن کو علم عطا ہوا تھا انہوں نے کہا افسوس تم پر ! اللہ کی بخشش (صلہ) بہتر ہے اس کے لیئے جو ایمان لائے اور نیک عمل کرے۔ اور یہ دولت صبر کرنے والوں ہی کو ملتی ہے۔

۸۱– آخر کار ہم نے اسے اور اس کے گھر کو زمین میں دھنسا دیا پھر کوئی گروہ ایسا نہ ہوا جو خدا کے مقابل میں اس کی مدد کرتا اور نہ وہ خود اپنی مدافعت کر سکا۔

۸۲– اور وہی لوگ جو کل اس کے مقام کی تمنا کر رہے تھے کہنے لگے ہائے غضب ! اللہ اپنے بندوں میں سے جس کے لیئے چاہتا ہے رزق کشادہ کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے نپا تلا دیتا ہے۔ اگر اللہ نے ہم پر احسان نہ کیا ہوتا تو ہمیں بھی دھنسا دیتا۔ ہائے غضب !کافر فلاح نہیں پا تے۔

۸۳– یہ آخرت کا گھر ہم ان لوگوں کے لیئے خاص کر دیں گے جو زمین میں بڑائی نہیں چاہتے اور نہ فساد کرنا چاہتے ہیں۔ اور انجام کار کی بھلائی مت قیوں ہی کے لیئے ہے۔

۸۴– جو شخص بھلائی لے کر آئے گا اس کے لیئے اس سے بہتر بھلائی ہے اور جو برائی لے کر آئے گا تو برائیاں کرنے والوں کو بدلہ میں وہی کچھ ملے گا جو وہ کرتے رہے ہیں۔

۸۵– یقیناً جس نے تم پر قرآن فرض کیا ہے وہ تمھیں ایک بہترین انجام کو پہنچائے گا۔ کہو میرا رب خوب جانتا ہے کہ کون ہدایت لے کر آیا اور کون کھلی گمراہی میں پڑا ہے۔

۸۶۔۔– تم اس بات کی امید نہ رکھتے تھے کہ کہ کتاب تم پر نازل کی جائے گی، مگر یہ تمہارے رب کی رحمت ہے۔ لہذا تم کافروں کے حامی نہ بنو۔

۸۷– اور یہ لوگ تمھیں اللہ کی آیات سے روکنے نہ پائیں بعد اس کے کہ وہ تم پر نازل کی جاچکی ہیں۔ تم اپنے رب کی دعوت دو اور ہر گز مشرکوں میں شامل نہ ہو۔

۸۸– اور اللہ کے ساتھ کسی اور معبود کو نہ پکارو۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ ہر چیز ہلاک ہونے والی ہے سوائے ا سکی ذات کے فیصلہ کا اختیار اسی کو ہے اور تم سب اسی کی طرف لوٹا ئے جاؤ گے۔

٭٭٭

 

 

(۲۹)سورۂ العنکبوت

 

 

اللہ رحمٰن و رحیم کے نام سے

 

۱ — الف، لام۔ میم

۲ — کیا لوگوں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ وہ یہ کہہ دینے پر چھوڑ دیے جائیں گے کہ ہم ایمان لائے اور ان کو آزمایا نہ جائے گا ؟

۳ — حالانکہ جو لوگ ان سے پہلے گزرے ہیں ان کی ہم آزمائش کر چکے ہیں۔ تو اللہ ان لوگوں کو ضرور جان کر رہے گا جو سچے ہیں اور ان لوگوں کو بھی جو جھوٹے ہیں۔

۴ — کیا ان لوگوں نے جو برائیوں کا ارتکاب کر رہے ہیں یہ خیال کر رکھا ہے کہ وہ ہمارے قابو سے نکل جائیں گے ؟ بہت بڑا فیصلہ ہے جو وہ کر رہے ہیں

۵ — جو کوئی اللہ سے ملاقات کی امید رکھتا ہو تو (اسے جان لینا چاہیے کہ( اللہ کا مقرر کیا ہوا وقت ضرور آنے والا ہے۔ اور وہ سب کچھ سننے اور جاننے والا ہے۔

۶ — اور جو ( اللہ کی راہ میں( جدو جہد کرتا ہے وہ اپنے ہی فائدہ کے لیے جدوجہد کرتا ہے۔ اللہ دنیا والوں سے بے نیاز ہے

۷ — جو لوگ ایمان لائے اور جنہوں نے نیک عمل کیے ان کی برائیاں ہم ان سے دور کر دیں گے اور ان کو ان کے اعمال کی بہترین جزا دیں گے۔

۸ — ہم نے انسان کو تاکید کی ہے کہ اپنے والدین کے ساتھ نیک سلوک کرے۔ لیکن اگر وہ تجھ پر دباؤ ڈالیں کہ تو مریے ساتھ کسی کو شریک ٹھیرا جس کے شریک ہونے کا تجھے کوئی علم نہیں ہے  تو ان کی اطاعت نہ کرو میری ہی طرف تک سب کو پلٹنا ہے پھر میں تمہیں بتاؤں گا کہ تم کیا کرتے رہے ہو۔

۹ — اور جو لوگ ایمان لائے اور جنہوں نے نیک عمل کیے ان کو ہم ضرور صالحین میں داخل کریں گے

۱۰ — لوگوں میں ایسے بھی ہیں جو کہتے ہیں ہم ایمان لائے لیکن جب اللہ کی راہ میں ستائے جاتے ہیں تو لوگوں کی طرف سے پہنچنے والی تکلیف کو اللہ کے عذاب کی طرح سمجھنے لگتے ہیں۔ اور اگر تم سارے رب کی طرف سے مدد آ گئی تو یہی لوگ کہیں گے کہ ہم تو آپ لوگوں کے ساتھ تھے۔ کیا اللہ لوگوں کے دلوں کے حال سے بخوبی واقف نہیں ہے ؟۔

۱۱ — اور اللہ ضرور جان کر رہے گا کہ کون لوگ ایمان والے ہیں اور کون منافق ہیں۔

۱۲ — اور کافر ایمان لانے والوں سے کہتے ہیں کہ تم ہمارے طریقہ پر چلو ہم تمہارے گناہ اپنے اوپر لے لیں گے حالانکہ وہ ان کے گنا ہوں میں سے کچھ بھی اپنے اوپر لینے والے نہیں ہیں۔ وہ بالکل جھوٹے ہیں۔

۱۳ — اور (ایسا ضرور ہو گا کہ( وہ اپنے بوجھ بھی اٹھائیں گے اور اپنے بوجھ کے ساتھ کچھ دوسرے بوجھ بھی اور جو جھوٹ وہ گھڑتے رہے اس کے بارے میں قیامت کے دن ان سے ضرور باز پرس ہو گی۔

۱۴ — ہم نے نوح کو اس کی قوم کی طرف بھیجا اور وہ ان کے درمیان پچاس سال کم ایک ہزار سال رہا۔ پھر ان کو طوفان نے گرفت میں لے لیا اس حال میں کہ وہ ظالم تھے

۱۵ — مگر ہم نے اس کو اور کشتی والوں کو نجات دی اور اسے دنیا والوں کے لیے ایک بڑی نشانی بنایا

۱۶ — اور ابراہیم کو بھیجا جب کہ اس نے اپنی قوم سے کہا اللہ کی عبادت کرو اور اس سے ڈرو۔ یہ تمہارے لیے بہتر ہے اگر تم جانو

۱۷ — تم اللہ کو چھوڑ کر بتوں کی پرستش کرتے ہو۔ اور تم جھوٹ گھڑتے ہو تم اللہ کے سوا جن کی پرستش کرتے ہو وہ تمہیں رزق دینے کا اختیار نہیں رکھتے۔ بس اللہ ہی سے رزق طلب کرو اور اسی کی عبادت کرو اور اس کے شکر گزار بنو۔ تم اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے

۱۸ — اور اگر جھٹلاتے ہو تو تم سے پہلے کتنی ہی قومیں جھٹلا چکی ہیں اور رسول پر واضح طور سے پہنچا دینے کے سوا کوئی ذمہ داری نہیں ہے۔

۱۹ — کیا انہوں نے دیکھا نہیں کہ اللہ کس طرح پیدائش کی ابتداء کرتا ہے پھر اس کا اعادہ کرے گا۔ بے شک یہ اللہ کے لیے نہایت آسان ہے

۲۰ — ان سے کہو زمین میں چل پھر کر دیکھ لو کہ اللہ نے کس طرح پیدائش کی ابتداء کی پھر اللہ دوبارہ اٹھا کھڑا کرے گا۔ بلاشبہ اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔

۲۱ — جس کو چاہے عذاب دے اور جس پر چاہے رحم فرمائے اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے۔

۲۲ — تم نہ زمین میں اس کے قابو سے باہر نکل سکتے ہو اور نہ آسمان میں اور تمہارے لیے اللہ کے سوا نہ کوئی کار ساز ہے اور نہ مدد گار۔

۲۳ — اور جن لگوں نے اللہ کی آیتوں اور اس کی ملاقات کا انکار کیا وہی ہیں جو میری رحمت سے مایوس ہو گئے اور وہی ہیں جن کے لیے درد ناک عذاب ہے۔

۲۴ — اس کی قوم کا جواب اس کے سوا کچھ نہ تھا کہ انہوں نے کہا اس کو قتل کرو یا جلا ڈالو۔ مگر اللہ نے اس کو آگ سے بچا لیا۔ یقیناً اس میں نشانیاں ہی ان لوگوں کے جو ایمان لائیں۔

۲۵ — اس نے کہا تم نے دنیا کی زندگی میں تو اللہ کو چھوڑ کر بتوں کو آپس کی محبت کا ذریعہ بنا لیا ہے۔ پھر قیامت کے دن تم ایک دوسرے سے بے تعلقی کا اظہار کرو گے اور ایک دوسرے پر لعنت بھجو گے۔ تمہارا ٹھکانہ آتش (جہنم) ہو گا۔ اور تمہارا کوئی مدد گار نہ ہو گا۔

۲۶ — تو لوط نے اس کی تصدیق کی۔ اور ابراہیم نے کہا میں اپنے رب کی طرف ہجرت کرتا ہوں۔ وہ غالب ہے حکمت والا۔

۲۷ — اور ہم نے اس کو اسحاق اور یعقوب عطا کیے۔ اور اس کی نسل میں نبوت اور کتاب رکھ دی۔ اور ہم نے اس کا صلہ اس کو دنیا میں بھی دیا اور آخرت میں وہ یقیناً صالحین میں سے ہو گا۔

۲۸ — اور ہم نے لوط کو بھیجا۔ جب اس نے اپنی قوم سے کہا تم لوگ بے حیائی کا وہ کام کرتے ہو جو تم سے پہلے دنیا والوں میں سے کسی نے نہیں کیا۔

۲۹ — کیا تم مردوں سے شہوت پوری کرتے ہو اور رہزنی کرتے ہو اور اپنی مجلسوں میں برے کام کرتے ہو۔ تو اس قوم کے پاس اس کے سوا کوئی جواب نہ تھا کہ انہوں نے کہا لے آؤ اللہ کا عذاب اگر تم سچے ہو

۳۰ — اس نے دعا کی اے میرے رب !ان مفسد لوگوں کے مقابلہ میں میری مدد فرما

۳۱ — اور جب ہمارے فرستادے ابراہیم کے پاس خوش خبری لے کر پہنچے تو انہوں نے کہا ہم اس بستی کے لوگوں کو ہلاک کرنے والے ہیں۔ اس کے رہنے والے بڑے غلط کار لوگ ہیں۔

۳۲ — اس نے کہا وہاں تو لوط بھی ہے۔ انہوں نے کہا وہاں جو بھی ہیں ہم ان کو خوب جانتے ہیں۔ ہم اس کو اور اس کے گھر والوں کو بچا لیں گے، بجز اس کی بیوی کے۔ وہ پیچھے رہ جانے والوں میں سے ہے۔

۳۳ — پھر جب ہمارے فرستادے لوط کے پاس پہنچے تو وہ سخت تشویش میں پڑ گیا اور دل تنگ ہوا۔ انہوں نے کہ نہ ڈرو اور نہ غم کرو۔ ہم تمہیں اور تمہارے گھر والوں کو بچا لیں گے بجز تمہاری بیوی کے۔ وہ پیچھے رہ جانے والوں میں سے ہے۔

۳۴ — ہم اس بستی کے لوگوں پر ان کی نافر مانیوں کی وجہ سے آسمان سے عذاب نازل کرنے والے ہیں۔

۳۵ — اور ہم نے اس کی ایک واضح نشانی چھوڑی ہے ان لوگوں کے لیے جو عقل سے کام لیں۔

۳۶ — اور ہم نے مدین کی طرف ان کے بھائی شعیب کو بھیجا۔ اس نے کہا اے میری قوم کے لوگو! اللہ کی عبادت کرو اور روز آخرت کے امیدوار رہو اور زمین میں فساد بر پا کرتے نہ پھرو۔

۳۷ — مگر انہوں نے اسے جھٹلا دیا تو ان کو لرزا دینے والی آفت نے آ لیا اور وہ اپنے گھروں اوندھے پڑے رہ گئے۔

۳۸ — اور عاد اور ثمود کو بھی ہم نے ہلاک کیا اور تم پر ان کی بستیوں کے آثار واضح ہیں شیطان نے ان کے اعمال ان کے لیے کوش نما بنا دیے اور ان کو راہ راست سے روک دیا حالانکہ وہ بڑے ہوشیار لوگ تھے۔

۳۹ — اور قارون اور فرعون اور ہامان کو بھی ہم نے ہلاک کر دیا۔ موسیٰ ان کے پاس کھلی نشانیاں لے کر آیا تھا مگر انہوں نے زمین میں تکبر کیا حالانکہ وہ زمین میں ہمارے قابو سے نکل جانے والے نہ تھے۔

۴۰ — تو (دیکھو) ہر ایک کو ہم نے اس کے گناہ کی وجہ سے پکڑا۔ کسی پر ہم نے سنگ باری کرنے والی آندھی بھیجی اور کسی کو ہولناک آواز نے آ لیا اور کسی کو ہم نے زمین میں دھنسا دیا اور کسی کو غرق کر دیا۔ اللہ ان پر ظلم کرنے والا نہ تھا بلکہ وہ خود اپنے اوپر ظلم کرتے رہے۔

۴۱ — جن لوگوں نے اللہ کو چھوڑ کر دوسرے کارساز بنا لیے ہیں ان کی مثال مکڑی کی سی ہے جس نے ایک گھر بنا لیا اور تمام گھروں میں سب سے بودا گھر مکڑی ہی کا ہوتا ہے۔ کاش وہ اس (حقیقت) کو جانتے !۔

۴۲ — بے شک اللہ ان چیزوں کو جانتا ہے جن کو یہ اس کو چھوڑ کر پکارتے ہیں اور وہ غالب ہے حکمت والا۔

۴۳ — اور یہ مثالیں ہم لوگوں ( کی فہمائش) کے لیے بیان کرتے ہیں مگر ان کو وہی لوگ سمجھتے ہیں جو علم رکھنے والے ہیں۔

۴۴ — اللہ نے آسمانوں اور زمین کو حق کے ساتھ پیدا کیا ہے۔ یقیناً ا س میں بہت بڑی نشانی ہے۔ ایمان لانے والوں کے لیے۔

۴۵ — تلاوت کرو اس کتاب کی جو تمہاری طرف وحی کی گئی ہے اور نماز قائم کرو۔ بے شک نماز بے حیائی سے اور برے کاموں سے روکتی ہے۔ اور اللہ کا ذ کر بہت بڑی چیز ہے۔  اللہ جانتا ہے جو کچھ تم لوگ کرتے ہو۔

۴۶ — اور اہل کتاب سے بحث نہ کر مگر بہتر طریقہ سے بجز ان کے جو ان میں سے ظالم ہیں اور کہو ہم ایمان لائے ہیں اس چیز پر بھی جو ہماری طرف بھیجی گئی تھی۔ ہمارا اور تمہارا خدا ایک ہی ہے اور اہم اسی کے مسلم (فرمانبردار) ہیں۔

۴۷ — ہم نے اسی طرح تمہاری طرف کتاب نازل کی ہے۔ تو جن کو ہم نے (پہلے) کتاب عطا کی تھی وہ اس پر ایمان لاتے ہیں۔ اور ان لوگوں میں سے بھی بعض اور پر ایمان لا رہے ہیں۔ اور ہماری آیتوں کا انکار تو وہی لوگ کرتے ہیں جو کافر ہیں۔

۴۸ — (اے نبی!) تم اس سے پہلے نہ کوئی کتاب پڑھتے تھے اور نہ اس کو اپنے دہنے ہاتھ سے لکھتے تھے اگر ایسا ہوتا تو باطل پرست شک کرتے۔

۴۹ — در حقیقت یہ کھلی آیات ہیں جن لوگوں کے سینوں (دلوں) میں جن کو علم عطا ہوا ہے۔ اور ہماری آیتوں کا انکار تو ظالم ہی کرتے ہیں۔

۵۰ — یہ لوگ کہتے ہیں اس پر اس کے رب کی طرف سے نشانیاں کیوں نہیں اتاری گئیں !۔ کہو نشانیاں تو اللہ ہی کے پاس ہیں اور میں تو بس کھلا خبر دار کرنے والا ہوں۔

۵۱ — کیا ان لوگوں کے لیے یہ نشان کافی نہیں ہے کہ ہم نے تم پر کتاب نازل کی جو ان کو پڑھ کر سنائی جاتی ہے۔ بلا شبہ اس کے اندر رحمت اور نصیحت ہے ان لوگوں کے لیے جو ایمان لائیں۔

۵۲ — (اے پیغمبر !) کہو اللہ میرے اور تمہارے درمیان گواہی کے لیے کافی ہے۔ وہ جانتا ہے جو کچھ آٓسمانوں اور زمین میں ہے۔ جو لوگ باطل پر اعتقاد رکھتے ہیں اور اللہ سے کفر کرتے ہیں وہی تباہ ہونے والے ہیں۔

۵۳ — یہ لوگ تم سے جلد عذاب کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ اگر ایک وقت مقرر نہ کیا گیا ہوتا تو ان پر عذاب آ چکا ہوتا۔ اور یقیناً وہ ان پر اچانک آ جائے گا اس حال میں کہ انہیں خبر بھی نہ ہو گی۔

۵۴ — یہ تم سے جلد عذاب کا مطالبہ کر رہے ہیں حالانکہ جہنم کافروں کو گھیرے ہوئے ہے۔

۵۵ — وہ دن کہ عذاب ان کو اوپر سے بھی ڈھانک لے گا اور ان کے پاؤں کے نیچے سے بھی اور وہ فرمائے گا کہ چکھو مزا اپنے کر تو توں کا جو تم کرتے رہے۔

۵۶ — اے میرے بندو جو ایمان لائے ہو میری زمین وسیع ہے تو میری ہی عبادت کرو۔

۵۷ — ہر نفس کو موت کا مزا چکھنا ہے پھر تم ہماری ہی طرف لوٹائے جاؤ گے۔

۵۸ — جو لوگ ایمان لائے اور جنہوں نے نیک عمل کیے ان کو ہم جنت کی بلند منزلوں میں جگہ دین گے جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی وہاں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ کیا ہی خوب اجر ہے عمل کرنے والوں کے لیے !

۵۹ — جنہوں نے صبر کیا اور اپنے رب پر بھروسہ رکھا

۶۰ — اور کتنے ہی جانور ہیں جو اپنا رزق اٹھائے نہیں پھرتے۔ اللہ ان کو رزق دیتا ہے اور تم کو بھی۔ وہ سب کچھ سننے والا جاننے والا ہے۔

۶۱ — اگر تم ان سے پوچھو کہ کس نے آسمان و زمین پیدا کیے اور کس نے سورج اور چاند کومسخر کر رکھا ہے تو وہ کہیں گے اللہ نے۔ پھر وہکس طرح (حق سے) پھیرے جاتے ہیں ؟

۶۲ — اللہ ہی اپنے بندوں میں سے جس کے لیے چاہتا ہے رزق کشادہ کرتا ہے اور جس کے لیے چاہتا ہے تنگ کر دیتا ہے۔ بلا شبہ اللہ ہر چیز کا جاننے والا ہے۔

۶۳ — اور اگر تم ان سے پوچھو کہ کس نے آسمان سے پانی بر سایا اور اس سے زمین کو جب کہ وہ کردہ ہو چکی تھی زندہ کیا تو وہ کہیں گے اللہ نے۔ کہو حمد ہے اللہ کے لیے مگر اکثر لوگ عقل سے کام نہیں لیتے۔

۶۴ — اور یہ دنیا کی زندگی کچھ نہیں ہے مگر لہو و لعب۔ اور آخرت کا گھر ہی اصل زندگی (کی جگہ) ہے کاش یہ لوگ جان لیتے !

۶۵ — جب یہ لوگ کشتی میں سوار ہوتے ہیں تو اللہ کو پکارتے ہیں دین (عاجزی و بندگی) کو اس کے لیے خالص کرتے ہوئے پھر جب وہ انہیں بچا کر خشکی کی طرف لے آتا ہے تو یکایک یہ شرک کرنے لگتے ہیں۔

۶۶ — تاکہ ہم نے ان پر جو مہربانی کی اس کی وہ نا شکری کریں اور (دنیا کی زندگی ہے) مزے اڑائیں۔ تو عنقریب انہیں معلوم ہو جائے گا۔

۶۷ — کیا یہ دیکھتے نہیں ہیں کہ ہم نے ایک امن والا حرم بنایا ہے اور حال یہ ہے کہ لوگ ان کے گرد و پیش سے اچک لیے جاتے ہیں۔ پھر کیا وہ باطل کو مانتے ہیں ا ور اللہ کی نعمت کی نا شکری کرتے ہیں

۶۸ — اور اس سے بڑھ کر ظالم کون ہو گا جو اللہ پر جھوٹ باندھے یا حق کو جھٹلائے جب کہ وہ اس کے پاس آ چکا ہو۔ کیا ایسے کافروں کا ٹھکانہ جہنم میں نہیں ہو گا؟

۶۹ — اور جو لوگ ہماری راہ میں جدو جہد کریں گے ہم ضرور ان پر اپنی راہیں کھول دیں گے اور یقیناً اللہ نیکو کاروں کے ساتھ ہے۔

٭٭٭

 

 

(۳۰) سورہ الروم

 

اللہ رحمٰن و رحیم کے نام سے

 

۱– الف۔ لام۔ میم

۲– رومی مغلوب ہو گئے

۳– قریب کے علاقہ میں۔ اور وہ اپنی مغلوبیت کے بعد غالب آ جائیں گے

۴– چند سال کے اندر۔ اللہ ہی کا اختیار ہے پہلے بھی اور بعد میں بھی اور اس دن اہل ایمان خوش ہوں گے

۵– اللہ کی نصرت سے۔ وہ جسے چاہتا ہے نصرت عطاء فرماتا ہے۔ وہ غالب ہے رحمت والا۔

۶– یہ اللہ کا وعدہ ہے۔ اللہ وعدہ خلافی نہیں کرتا لیکن اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں۔

۷– وہ دنیا کی زندگی کے صرف ظاہر کو جانتے ہیں اور آخرت سے وہ غافل ہیں۔

۸– کیا انہوں نے اپنے نفس میں غور نہیں کیا؟ اللہ نے آسمانوں اور زمین کو اور ان کے درمیان کی تمام موجودات کو (مقصد) حق کے ساتھ اور ایک مدت مقرر کے لیے پیدا کیا ہے۔ مگر بہت سے لوگ اپنے رب کی ملاقات کے منکر ہیں۔

۹– کیا یہ لوگ زمین میں چلے پھرے نہیں کہ دیکھ لیتے ان لوگوں کا انجام کیا ہوا جو ان سے پہلے گزر چکے ہیں۔ وہ ان سے زیادہ طاقتور تھے۔ انہوں ے زمین کو زیادہ بویا جوتا تھا اور ان سے زیادہ اسے آباد کیا تھا۔ ان کے پاس ان کے رسول روشن نشانیاں لے کر آئے تھے۔ پھر اللہ ان پر ظلم کرنے والا نہ تھا بلکہ وہ خود اپنے اوپر ظلم کر رہے تھے۔

۱۰– تو ان لوگوں کا انجام جنہوں نے برائی کی تھی برا ہوا۔ اس لیے کہ انہوں ے اللہ کی آیتوں کو جھٹلایا تھا اور ان کا مذاق اڑاتے رہے۔

۱۱– اللہ ہی پیدائش کا آغاز کرتا ہے پھر وہ اس کا اعادہ کرے گا پھر تم اسی طرف لوٹائے جاؤ گے۔

۱۲– اور جس دن قیامت قائم ہو گی مجرم مایوس ہو کر ہکا بکا رہ جائیں گے۔

۱۳– ان کے ٹھہرائے ہوئے شریکوں میں سے کوئی ان کا سفارشی نہ ہو گا اور وہ اپنے شریکوں کا انکار کریں گے۔

۱۴– جس دن وہ گھڑی قائم ہو گی اس دن لوگ الگ الگ ہو جائیں گے۔

۱۵– تو جو لوگ ایمان لائے ہوں گے اور جنہوں نے نیک عمل کیے ہوں گے وہ ایک باغ میں خوش و خرم رکھے جائیں گے۔

۱۶– اور جنہوں نے کفر کیا ہو گا اور ہماری آیتوں کو اور آخرت کی ملاقات کو جھٹلایا ہو گا۔ وہ عذاب میں حاضر کیے جائیں گے۔

۱۷– تو اللہ کی تسبیح کرو شام کے وقت بھی اور صبح کے وقت بھی۔

۱۸– اور اسی کے لیے حمد ہے آسمانوں اور زمین میں اور (اس کی تسبیح کرو) دن کے آخری حصہ میں بھی اور اس وقت بھی جب ظہر ہو۔

۱۹– وہ زندہ کو مردہ سے نکالتا ہے اور مردہ کو زندہ سے اور زمین کو اس کے مردہ ہونے کے بعد زندہ کرتا ہے۔ اسی طرح تم بھی نکالے جاؤ گے۔

۲۰– اس کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ اس نے تم کو مٹی سے پیدا کیا پھر یکایک تم بشر بن کر پھیلنے لگے۔

۲۱– اور اس کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ اس نے تمہارے لیے تم ہی میں سے بیویاں پیدا کیں۔ تاکہ تم ان سے سکون حاصل کرو۔ اور تمہارے درمیان محبت اور رحمت پیدا کیں۔ یقیناً اس کے اندر نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو غور و فکر کرتے ہیں۔

۲۲– اور اس کی نشانیوں میں سے آسمانوں اور زمین کی خلقت اور تمہاری زبانوں اور تمہارے رنگوں کا اختلاف ہے۔ یقیناً اس میں نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو علم رکھتے ہیں۔

۲۳– اور اس کی نشانیوں میں سے رات اور دن میں تمہارا سونا۔ اور اس کے فضل کو تلاش کرنا ہے۔ یقیناً اس میں نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو سنتے ہیں۔

۲۴– اور اس کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ وہ تم کو بجلی کی چمک دکھاتا ہے جو خوف بھی پیدا کرتی ہے اور امید بھی اور آسمان سے پانی برساتا ہے اور زمین کو اس کے مردہ ہو جانے کے بعد زندگی بخشتا ہے یقیناً اس میں نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو عقل سے کام لیتے ہیں۔

۲۵– اور اس کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ آسمان و زمین اس کے حکم سے قائم ہیں۔ پھر جب وہ تم کو زمین سے پکارے گا تم اچانک نکل پڑو گے۔

۲۶– آسمانوں اور زمین میں جو بھی ہیں اسی کے مملوک ہیں۔ سب اسی کے تابع اور فرمان ہیں۔

۲۷– وہی تخلیق کا آغاز کرتا ہے اور وہی اس کا اعادہ کرے گا (لوٹائے گا) اور یہ اس کے لیے زیادہ آسان ہے۔ آسمان اور زمین میں اس کی شان اعلیٰ ہے۔ اور وہ غالب ہے حکمت والا۔

۲۸– وہ تمہارے لیے تمہاری اپنی ذات سے متعلق مثال بیان فرماتا ہے، کیا تمہارے مملوکوں (غلاموں) میں سے ایسے بھی ہیں جو ہمارے دیے ہوئے مال میں تمہارے شریک ہوں کہ تم اور وہ اس میں برابر قرار پائیں۔ اور تم ان سے اسی طرح ڈرتے ہو جس طرح اپنوں سے ڈرتے ہو۔ اس طرح ہم اپنی آیتوں کو کھول کر بیان کرتے ہیں ان لوگوں کے لیے جو عقل سے کام لیتے ہیں۔

۲۹– مگر یہ ظالم بے جانے بوجھے اپنی خواہشات کے پیچھے چل رہے ہیں۔ تو جن کو اللہ نے گمراہ کر دیا ہو ان کو کون راستہ دکھا سکتا ہے ؟ ایسے لوگوں کا کوئی مدد گار نہ ہو گا۔

۳۰– پس تم اپنا رخ اس دین کی طرف کر لو یکسو ہو کر۔ وہ فطری دین جس پر اللہ نے انسانوں کو پیدا کیا۔ اللہ کی بنائی ہوئی ساخت میں کوئی تبدیلی نہیں۔ یہی صحیح دین ہے لیکن اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں۔

۳۱– (اپنا رخ اس دین کی طرف کر لو) اس کی طرف رجوع کرتے ہوئے اور اس سے ڈرو اور نماز قائم کرو اور مشرکین میں سے نہ ہو جاؤ۔

۳۲– جنہوں نے اپنے دین میں تفرقہ ڈالا اور گروہوں میں بٹ گئے۔ ہر گروہ کے پاس جو کچھ ہے وہ اس میں مگن ہے۔

۳۳– جب لوگوں کو تکلیف پہنچتی ہے تو اپنے رب کو پکارتے ہیں اس کی طرف رجوع ہو کر پھر جب وہ اپنی رحمت کا ذائقہ چکھاتا ہے تو ان میں سے ایک گروہ اپنے رب کا شریک ٹھہرانے لگتا ہے۔

۳۴– تاکہ جو کچھ ہم نے انہیں عطا کیا اس کی ناشکری کریں۔ تو مزے کر لو عنقریب تمہیں معلوم ہو جائے گا۔

۳۵– کیا ہم نے کوئی سند ان پر نازل کی ہے جو ان کے ٹھہرائے ہوئے شریکوں پر ناطق ہے۔

۳۶– جب ہم لوگوں کو رحمت کا ذائقہ چکھاتے ہیں تو وہ اترانے لگتے ہیں اور جبان کے کرتوتوں کی وجہ سے ان پر کوئی مصیبت آتی ہے تو وہ فوراً مایوس ہو جاتے ہیں۔

۳۷– کیا یہ دیکھتے ہیں کہ اللہ ہی رزق کشادہ کرتا ہے جس کے لیے چاہتا ہے اور نپا تلا کر دیتا ہے جس کے لیے چاہتا ہے۔ یقیناً اس میں نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو ایمان لاتے ہیں۔

۳۸– تو قرابت دار کو اس کا حق دو اور مسکین اور مسافر کو اس کا حق۔ یہ بہتر ہے ان لوگوں کے لیے جو اللہ کی خوشنودی چاہتے ہیں۔ اور وہی فلاح پانے والے ہیں۔

۳۹– اور جو سود تم دیتے ہو تاکہ لوگوں کے مال میں اضافہ ہو تو وہ اللہ کے نزدیک نہیں بڑھتا اور زکوٰۃ تم اللہ کی رضا جوئی کے لیے دیتے ہو تو یہی لوگ ہیں (اپنے مال کو) بڑھانے والے۔

۴۰– اللہ ہی ہے جس نے تم کو پیدا کیا پھر تمہیں رزق دیا پھر تم کو موت دیتا ہے پھر تم کو زندہ کرے گا۔ کیا تمہارے ٹھہرائے ہوئے شریکوں میں سے کوئی ایسا ہے جو ان میں سے کوئی کام بھی کرتا ہو؟ پاک اور برتر ہے وہ اس شرک سے جو یہ لوگ کرتے ہیں۔

۴۱– خشکی اور تری میں فساد برپا ہو گیا ہے لوگوں کے اپنے کرتوتوں کی وجہ سے تاکہ وہ انہیں ان کے بعض اعمال کا مزا چکھائے تاکہ وہ رجوع کریں۔

۴۲– کہو زمین میں چل پھر کر دیکھ لو کہ ان لوگوں کا کیا انجام ہوا جو پہلے گزر چکے ہیں۔ ان میں سے اکثر مشرک تھے۔

۴۳– تو تم اپنا رخ اس دین قیم (صحیح دین) کی طرف کیے رہو قبل اس کے کہ اللہ کی طرف سے وہ دن آئے جو ٹل نہیں سکتا۔ اس دن وہ الگ الگ ہو جائیں گے۔

۴۴– جس نے کفر کیا اس کا کفر اسی پر پڑے گا اور جنہوں نے نیک عمل کیا وہ اپنے ہی لیے (کامیابی کی) راہ ہموار کر رہے ہیں۔

۴۵– تاکہ وہ اپنے فضل سے ان لوگوں کو جزا دے جو ایمان لائے اور جنہوں نے نیک عمل کیے۔ یقیناً وہ کافروں کو پسند نہیں کرتا۔

۴۶– اس کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ وہ ہواؤں کو بھیجتا ہے جو خوش خبری دیتی ہیں۔ تاکہ وہ تمہیں اپنی رحمت کا ذائقہ چکھائے۔ اور تاکہ کشتیاں اس کے حکم سے چلیں اور تاکہ تم اس کا فضل تلاش کرو اور تاکہ تم اس کے شکر گزار بنو۔

۴۷– ہم نے تم سے پہلے بھی رسول ان کی قوموں کی طرف بھیجے تھے اور وہ ان کے پاس واضح نشانیاں لے کر آئے تھے۔ پھر ہم نے ان لوگوں کو سزا دی جنہوں نے جرم کیا اور ہم پر لازم تھی مؤمنوں کی نصرت۔

۴۸– اللہ ہی ہے جو ہواؤں کو بھیجتا ہے اور وہ بادل اٹھاتی ہیں پھر وہ جس طرح چاہتا ہے ان کو آسمان میں پھیلاتا ہے اور ان کے ٹکڑے کر دیتا ہے۔ پھر تم ان کے اندر سے بارش کو نکلتے ہوئے دیکھتے ہو۔ پھر جب وہ اپنے بندوں میں سے جن پر چاہتا ہے برساتا ہے تو وہ یکایک خوش ہو جاتے ہیں۔

۴۹– حالانکہ اس سے قبل وہ اس کے برسائے جانے سے پہلے مایوس تھے۔

۵۰– تو دیکھو اللہ کی رحمت کے آثار کہ کس طرح وہ زمین کو اس کے مردہ ہونے کے بعد زندہ کرتا ہے۔ یقیناً وہ مردوں کو زندہ کرنے والا ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔

۵۱– اور اگر ہم باد (نا موافق) بھیج دیں اور وہ اس کو (اپنی کھیتی کو) زرد پڑی ہوئی پائیں تو اس کے بعد وہ کفر کرتے رہ جائیں گے۔

۵۲– تو تم مردوں کو نہیں سنا سکتے اور نہ بہروں کو اپنی پکار سنا سکتے ہو جب کہ وہ پیٹھ پھیرے چلے جا رہے ہوں۔

۵۳– اور نہ تم اندھوں کو ان کی گمراہی سے نکال کر راہ پر لا سکتے ہو۔ تم تو ان ہی کو سنا سکتے ہو جو ہماری آیتوں پر ایمان لاتے ہیں اور اطاعت قبول کرتے ہیں۔

۵۴– اللہ ہی ہے جس نے تم کو کمزور حالت میں پیدا کیا پھر اس کمزوری کے بعد تمہیں قوت بخشی پھر اس قوت کے بعد تم پر ضعف اور بڑھاپا طاری کر دیا۔ وہ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے۔ اور وہ سب کچھ سننے والا اور بڑی قدرت رکھنے والا ہے۔

۵۵– اور جس دن قیامت قائم ہو گی مجرم قسمیں کھا کھا کر کہیں گے کہ وہ ایک گھڑی سے زیادہ نہیں رہے اس طرح وہ دھوکا کھاتے رہے ہیں ؟۔

۵۶– اور جن کو علم اور ایمان عطا ہوا تھا وہ کہیں گے کہ اللہ کے نوشتہ (ریکارڈ) میں تم اٹھائے جانے کے دن (روز حشر) تک رہے ہو۔ تو یہ اٹھائے جانے کا دن ہے لیکن تم جانتے نہ تھے۔

۵۷– اس دن ظالموں کے لیے ان کی معذرت بے سود ہو گی اور ان سے توبہ کا مطالبہ نہیں کیا جائے گا۔

۵۸– ہم نے اس قرآن میں لوگوں (کی فہمائش) کے لیے ہر طرح کے مضامین بیان کر دیے ہیں اور (اے نبی !) خواہ تم کوئی نشانی لے آؤ جنہوں نے کفر کا رویہ اختیار کر رکھا ہے وہ یہی کہیں گے کہ تم بالکل جھوٹے ہو۔

۵۹– اس طرح اللہ مہر لگا دیتا ہے ان لوگوں کے دلوں پر جو علم سے بے بہرہ رہتے ہیں۔

۶۰– تو صبر کرو۔ یقیناً اللہ کا وعدہ سچا ہے اور تمہیں ہر گز نے وزن نہ پائیں وہ لوگ جو یقین نہیں رکھتے۔

٭٭٭

 

 

(۳۱) سورۂ لقمان

 

اللہ رحمٰن و رحیم کے نام سے

 

۱– الف۔ لام۔ میم۔

۲– یہ حکمت بھری کتاب کی آیتیں ہیں۔

۳– ہدایت اور رحمت نیکو کاروں کے لیئے

۴– جو نماز قائم کرتے ہیں، زکوٰۃ دیتے ہیں اور آخرت پر یقین رکھتے ہیں۔

۵– یہی لوگ اپنے رب کی طرف سے ہدایت پر ہیں اور یہی ہیں کامیاب ہونے والے۔

۶– لوگوں میں ایسے بھی ہیں جو غافل کر دینے والا کلام خریدتے ہیں تاکہ بغیر علم کے اللہ کی راہ سے (لوگوں کو) گمراہ کریں اور ان کا (آیات کا) مذاق اڑائیں۔ ایسے لوگوں کے لیئے رسوا کن عذاب ہے۔

۷– ایسے شخص کو جب ہماری آیتیں سنائی جاتی ہیں تو وہ تکبر کے ساتھ اس طرح رخ پھیر لیتا ہے گو یا کہ اس نے ان کو سنا ہی نہیں۔ گویا کہ اس کے کانوں میں گرانی ہے۔ تو اسے درد ناک عذاب کی خوش خبری دے دو۔

۸– البتہ جو لوگ ایمان لائے اور جنہوں نے نیک عمل کی ئے ان کے لیئے نعمت بھرے باغ ہوں گے۔

۹– جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ یہ اللہ کا حتمی وعدہ ہے اور وہ غالب ہے حکمت والا۔

۱۰– اس نے آسمانوں کو بغیر ستونوں کے پیدا کیا جیسا کہ تم دیکھتے ہو اس نے زمین میں پہاڑ گاڑ دیئے تاکہ وہ تم کو لے کر لڑھک نہ جائے اور اس میں ہر طرح کے جانور پھیلا دیئے۔ اور آسمان سے پانی بر سایا اور زمین میں ہر قسم کی عمدہ چیزیں اگھائیں۔

۱۱– یہ ہے اللہ کی تخلیق۔ اب مجھے دکھاؤ کہ انہوں نے کیا پیدا کیا ہے جو اس کے سوا (معبود بنا لئے گئے) ہیں ؟ در اصل یہ ظالم صریح گمراہی میں مبتلا ہیں۔

۱۲– ہم نے لقمان کو حکمت عطاء کی تھی کہ اللہ کا شکر کرو اور جو شکر رکتا ہے اس کا شکر کرنا اس کے اپنے ہی لیئے مفید ہے اور جو ناشکری کرتا ہے تو اللہ بے نیاز (بے محتاج) ہے خوبیوں والا۔

۱۳– جب لقمان نے اپنے بیٹے کو نصیحت کرتے ہوئے کہا اے میرے بیٹے۔ اللہ کا شریک نہ ٹھرا۔ بے شک شرک بہت بڑا ظلم ہے۔

۱۴– اور ہم نے انسان کو اس کے والدین کے معاملہ میں ہدایت کی۔ اس کی ماں نے تکلیف پر تکلیف اٹھا کر اسے اپنے پیٹ میں رکھا اور دو سال اس کے دودھ چھڑانے میں لگے۔ کہ میرا شکر کر اور اپنے والدین کا۔ بالآخر پلٹنا میری ہی طرف ہے۔

۱۵– لیکن اگر وہ تجھ پر دباؤ ڈالیں کہ تو کسی کو میرا شریک ٹھہرا جس کا تجھے کوئی علم نہیں ہے تو ان کی بات نہ مان اور دنیا میں ان کے ساتھ اچھا سلوک کر اور پیروی ان کے راستہ کی کر جنہوں نے میری طرف رجوع کیا۔ پھر میری ہی طرف تم کو لوٹنا ہے۔ اس وقت میں تمھیں بتاؤں گا کہ تم کیا کرتے رہے ہو۔

۱۶– (اور لقمان نے کہا) اے میرے بیٹے ! کوئی چیز رائی کے دانے کے برابر بھی ہو اور اگر وہ کسی چٹان یا آسمانوں یا زمین میں کہیں چھپی ہو تو اللہ اس کو نکال لائے گا۔ وہ نہایت باریک بین اور باخبر ہے۔

۱۷– اے میرے بیٹے ! نماز قائم کر، بھلائی کا حکم دے، برائی سے منع کر اور جو مصیبت پہنچے اس پر صبر کر۔ یہ عزیمت (حوصلہ) کے کام ہیں۔

۱۸– اور لوگوں سے بے رخی نہ کر اور نہ زمین پر اکڑ کر چل اللہ کسی خود پسند اور فخر کرنے والے کو پسند نہیں کرتا۔

۱۹– اپنی چال میں اعتدال اختیار کر اور اپنی آواز ذرا پست رکھ سب سے زیادہ بری آواز گدھے کی آواز ہے۔

۲۰– تم دیکھتے نہیں کہ اللہ نے ان تمام چیزوں کو جو آسمانوں میں اور جو زمین میں ہیں تمہارے لیئے مسخر کر رکھا ہے اور اپنی طاہری اور باطنی نعمتیں تم پر پوری کر دی ہیں پھر بھی انسانوں میں ایسے لوگ ہیں جو اللہ کے بارے میں کسی علم، کسی ہدایت اور کسی روشن کتاب کے بغیر جھگڑتے ہیں۔

۲۱– اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ اس چیز کی پیروی کرو جو اللہ نے نازل کی ہے تو کہتے ہیں ہم تو اس طریقہ کی پیروی کریں گے جس پر ہم نے اپنے دادا کو پا یا ہے۔ کیا اس صورت میں بھی (یہ ان کی پیروی کریں گے) جب کہ شیطان انہیں بھڑکتی ہوئی آگ کی طرف بلا رہا ہو ؟

۲۲– اور جو شخص اپنے کو اللہ کے حوالے کر دے اور وہ نیکو کار بھی ہو تو اس نے یقیناً مضبوط سہارا تھام لیا۔ اور تمام معاملات کا سر انجام اللہ ہی کی طرف ہے۔

۲۳– جس نے کفر کیا اس کا کفر تمہارے لیئے باعث غم نہ ہو۔ انہیں پلٹ کر ہماری ہی طرف آنا ہے۔ پھر ہم انہیں بتائیں گے کہ انہوں نے کیا کچھ کیا تھا۔ یقیناً اللہ سینوں کے راز تک جانتا ہے۔

۲۴– ہم تھوڑے دن انہیں سامان زندگی دیں گے پھر ان کو ایک اگر تم ان سے پوچھو کہ آسمانوں اور زمین کو کسی نے پیدا کیا ہے تو ضرور کہیں گے اللہ نے کہو حمد اللہ ہی کے لیئے ہے مگر ان میں سے اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں۔

۲۶– آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے اللہ ہی کا ہے۔ بیشک اللہ بے نیاز ہے حمد کا مستحق۔

۲۷– اگر زمین کے تمام درخت قلم بن جائیں اور سمندر روشنائی بن جائے جس کو مزید سات سمندر روشنی بہم پہنچائیں تب بھی اللہ کی باتیں ختم نہ ہوں گی۔ بے شک اللہ غالب اور حکیم ہے۔

۲۸– تم سب کو پیدا کرنا پھر زندہ اٹھانا ایسا ہی ہے جیسے ایک شخص کو پیدا کرنا اور پھر زندہ اٹھانا۔ بے شک اللہ سب کچھ سننے اور دیکھنے والا ہے

۲۹– کیا تم دیکھتے نہیں کہ اللہ رات کو دن میں داخل کرتا ہے اور دن کو رات میں اور سورج اور چاند کو مسخر کر رکھا ہے۔ ہر ایک وقت مقرر تک چلا جا رہا ہے۔ اللہ جو کچھ تم کرتے ہو اس سے باخبر ہے۔

۳۰– یہ اس وجہ سے ہے کہ اللہ ہی حق ہے اور اس کو چھوڑ کر جن دوسری چیزوں کو یہ پکارتے ہیں وہ باطل ہیں اور یہ کہ اللہ بلند/اعلیٰ) و بر تر (کبیر) ہے۔

۳۱– کیا تم دیکھتے نہیں کہ کشتی سمندر میں اللہ کے فضل سے چلتی ہے تاکہ وہ تمھیں اپنی کچھ نشانیاں دکھائے۔ یقیناً اس میں نشانیاں ہیں ہر اس شخص کے لیئے جو صبر اور شکر کرنے والا ہو۔

۳۲– اور جب موجیں سائبانوں کی طرح ان پر چھا جاتی ہیں تو وہ اللہ کا پکارتے ہیں دین (عاجز ی و بندگی) کو اس کے لیئے خالص کرتے ہوئے پھر جب وہ انہیں بچا کر خشکی کی طرف لے آتا ہے تو ان میں سے کچھ ہی لوگ اعتدال پر رہتے ہیں اور ہماری آیتوں کا انکار وہی لوگ کرتے ہیں جو غدار اور ناشکرے ہیں۔

۳۳– لوگو! بچو اپنے رب کی نافر مانی سے اور ڈرو اس دن سے جب نہ کوئی باپ اپنی اولاد کے کام آئے گا اور نہ کوئی اولاد اپنے باپ کے کام آئے گی۔ یقیناً اللہ کا وعدہ سچا ہے تو دنیا کی زندگی تمھیں دھوکہ میں نہ ڈالے اور نہ فریب کا ر اللہ کے معاملہ میں تمھیں دھوکہ میں رکھے۔

۳۴– قیامت کی گھڑی کا علم اللہ ہی کے پاس ہے، وہی بارش برساتا ہے، وہی جانتا ہے کہ رحموں (ماؤں کے شکم) میں کیا ہے، کوئی شخص نہیں جانتا کہ کل وہ کیا کمائی کرے گا اور نہ کوئی شخص یہ جانتا ہے کہ وہ کس سر زمین میں مرے گا۔ اللہ ہی سب کچھ جاننے والا اور باخبر ہے۔

٭٭٭

 

 

(۳۲) سورۂ السجدہ

 

اللہ رحمن و رحیم کے نام سے

 

۱–الف۔ لام۔ میم۔

۲–یہ کتاب اس میں شک نہیں کہ رب العالمین کی طرف سے نازل ہوئی ہے۔

۳–کیا یہ کہتے ہیں کہ اسے اس شخص نے خود گھڑ لیا ہے۔ نہیں بلکہ یہ حق ہے تمہارے رب کی طرف سے تاکہ تم خبر دار کرو ایک ایسی قوم کو جس کے پاس تم سے پہلے کوئی خبر دار کرنے والا نہیں آیا تا کہ وہ ہدایت پائیں۔

۴–اللہ ہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین اور ان کے درمیان کی چیزیں کو چھ دونوں میں پیدا کیا پھر وہ عرش پر بلند ہوا۔ اس کے سوا نہ تمہارا کوئی کا ر ساز ہے اور نہ (اس کے حضور) کوئی سفارشی۔ پھر کیا تم لوگ سمجھتے نہیں۔ !

۵–وہ آسمان سے زمین تک تدبیر امر کر تا ہے پھر یہ امر چڑھتا (لوٹتا) ہے اس کے حضور ایک ایسے دن میں جس کی تعداد تمہارے شمار سے ایک ہزار سال ہے۔

۶–وہ غیب اور حاضر کا جاننے والا اور غالب و رحیم ہے۔

۷–اس نے جو چیز بھی بنائی خوب بنائی اور انسان کی تخلیق کا آغاز مٹی سے کیا۔

۸–پھر اس کی نسل حقیر پانی کے ست سے چلائی۔

۹–پھر اس کو درست کیا اور اس میں اپنی روح پھونک دی اور تمہارے لیئے کان، آنکھیں اور دل بنائے۔ تم لوگ شکر کرتے ہو۔

۱۰–یہ لوگ کہتے ہیں جب ہم زمین میں رل مل چکے ہوں گے تو کیا ہم پھر نئے سے پیدا کیے جائیں گے ؟ در حقیقت لوگ اپنے رب کی ملاقات ہی کے منکر ہیں۔

۱۱–کہو تم کو وفات دیتا ہے موت کا وہ فرشتہ جو تم پر مامور ہے پھر تم اپنے رب کی طرف لوٹا ئے جاؤ گے۔

۱۲–اور اگر تم ان (کی اس وقت کی حالت)کو دیکھ لیتے جب یہ مجرم اپنے رب کے حضور سر جھکائے ہوں گے۔ اے ہمارے رب ! ہم نے دیکھ لیا اور سن لیا۔ ہمیں واپس بھیج دے ہم نیک عمل کریں گے۔ ہم یقین رکھنے والے ہیں۔

۱۳–اگر ہم چاہتے تو ہر نفس کو اس کی ہدایت دے دیتے لیکن میری وہ بات پوری ہو گئی کہ میں جہنم کو جنوں اور انسانوں سب سے بھر دوں گا۔

۱۴–تو اب چھکو مزا اس بات کا کہ تم نے اس دن کی پیشی کو بھلا دیا تھا۔ ہم نے بھی تمھیں بھلا دیا ہے۔ اب تم اپنے کر تو توں کے بدلہ ہمیشگی کے عذاب کا مزا چکھو۔

۱۵–ہماری آیتوں پر تو وہی لوگ ایمان لاتے ہیں جنہیں ان کے ذریعہ جب یاد دہانی کی جاتی ہے تو وہ سجدے میں گر پڑے ہیں اور اپنے رب کی حمد کی ساتھ تسبیح کرتے ہیں اور تکبیر نہیں کرتے۔

۱۶–ان کے پہلو بستروں سے الگ رہتے ہیں۔ اپنے رب کو خوف اور امید کے ساتھ پکار تے ہیں اور جو کچھ ہم نے اپنے کو خوف اور امید کے ساتھ پکار تے ہیں اور جو کچھ ہم نے انہیں بخشا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں۔

۱۷–اور کوئی شخص نہیں جانتا کہ ان کے اعمال کی جزا میں ان کے آنکھوں کی ٹھنڈک کا کیا سامان ان سے پوشیدہ رکھا گیا ہے۔

۱۸–پھر کیا وہ شخص جو مومن سے اس شخص کی طرح ہو جائے گا جو فاسق ہے۔ دونوں ہر گز برابر نہیں ہو سکتے۔

۱۹–جو لوگ ایمان لائے اور جنہوں نے نیک عمل کئے عمل کیے ان کے لیئے رہائشی باغ ہیں۔ ضیافت کے طور پر ان کے اعمال کے صلہ میں۔

۲۰–اور جنہوں نے نافرمانی کی ان کا ٹھکانہ آتش (جہنم) ہے جب کبھی وہ اس سے نکلنا چاہیں گے اس میں دھکیل دے جائیں گے اور ان سے کہا جائے گا چکھو اب اس آگ کے عذاب کا مزا جس کو تم جھٹلاتے رہے ہو۔

۲۱–اور ہم انہیں اس بڑے عذاب سے پہلے دنیوی عذاب کا مزا چکھائیں گے تاکہ یہ رجوع کریں۔

۲۲–اور اس بڑا ظالم کون ہو گا جس کو اس کے رب کی آیتوں کے ذریعہ یاد دہانی کی جائے اور وہ اس سے منہ پھیر ے ایسے مجرموں کو ہم ضرور سزا دیں گے۔

۲۳–ہم نے موسیٰ کو کتاب عطا کی تھی لہذا تم اس کے ملنے کے بارے میں شک میں نہ پڑو اور ہم نے اس کو بنی اسرائیل کے لیئے ہدایت بنا یا تھا۔

۲۴–اور ہم نے ان میں پیشوا پیدا کیئے جو ہمارے حکم سے رہنمائی کرتے تھے جب کہ انہوں نے صبر کیا اور ہماری آیتوں پر یقین رکھتے تھے۔

۲۵–یقیناً تمہارا رب ہی قیامت کے دن ان باتوں کا فیصلہ کرے گا جن میں یہ اختلاف کرتے رہے ہیں۔

۲۶–کیا ان کے لیئے یہ چیز باعث ہدایت نہ ہوئی کہ ان سے پہلے ہم کتنی ہی قوموں کو ہلاک کر چکے ہیں جن کی بستیوں میں یہ چلتے پھرتے ہیں۔ یقیناً اس میں بڑی نشانیاں ہیں۔ پھر کیا یہ لوگ سنتے نہیں ؟

۲۷–کیا وہ دیکھتے نہیں کہ ہم پانی کو چٹیل زمین کی طرف لے جاتے ہیں پھر اس سے کھیتی اگا تے ہیں زمین جن سے ان کے مویشی بھی غذا کھاتے ہیں اور وہ خود بھی۔ پھر کیا ان کی آنکھیں نہیں کھلتیں ؟

۲۸–یہ لوگ کہتے ہیں یہ فیصلہ کب ہو گا اگر تم سچے ہو؟

۲۹–کہو فیصلہ کے دن ایمان لانا ان لوگوں کے لیئے کچھ بھی مفید نہ ہو گا جنہوں نے کفر کیا ہے۔ اور نہ ان کو مہلت دی جائے گی۔

۳۰–تو ان سے اعراض کرو اور انتظار کرو۔ یہ بھی انتظار کر رہے ہیں۔

٭٭٭

 

 

(۳۳) سورۂ الاحزاب

 

اللہ رحمٰن و رحیم کے نام سے

 

۱– اے نبی ! اللہ سے ڈرو۔ اور کافروں اور منافقوں کی بات نہ مانو۔ بے شک اللہ علم والا حکمت والا ہے۔

۲– پیروی کرو اس وحی کی جو تمہارے ر کی طرف سے تم پر کی جار ہی ہے تم لوگ جو کچھ کرتے ہو اس سے اللہ باخبر ہے۔

۳– اور اللہ پر توکل کرو۔ وہ کار سازی کے لیئے کافی ہے۔

۴– اللہ نے کسی شخص کے سینہ میں دو دل نہیں رکھے۔ اور نہ اس نے تمہاری ان بیویوں کی جن سے تم ظہار کرتے ہو (یعنی یہ کہتے ہو کہ وہ تمہارے لیئے ماں کی پیٹھ ہیں) تمہاری مائیں بنا یا ہے۔اور نہ ہی اس نے تمہارے منہ بولے بیٹوں کو تمہارے بیٹے بنا دیا ہے۔ یہ تمہارے اپنے منہ کی باتیں ہیں۔ مگر اللہ حق بات کہتا ہے اور وہی صحیح راہ کی طرف رہنمائی کرتا ہے۔

۵– ان کو ان کے باپوں کی نسبت سے پکارو۔ یہ اللہ کے نزدیک منصفانہ بات ہے۔ اور اگر تم کو معلوم نہ ہو کہ ان کے باپ کون ہیں تو وہ تمہارے دینی بھائی اور رفیق ہیں اس بارے میں جو غلطی تم سے سر زد ہوئی اس کے لیئے مت پر کوئی گرفت نہیں البتہ اس بات پر ضرور گرفت ہو گی جس کا قصد تم نے دل سے کیا۔ اللہ معاف کرنے والا رحم فرمانے والا ہے۔

۶– نبی مو منوں کے لیئے ان کی پانی جان سے زیادہ کا حق دار ہے اور اس کی ازواج ان کی مائیں ہیں۔ اور اللہ کے قانون میں رحمی (خون کے) رشتہ دار عام مومنین وا مہاجرین کے مقابلہ میں ایک دوسرے کے زیادہ حقدار ہیں۔ یہ اور بات ہے کہ تم اپنے رفیقیوں کے ساتھ کوئی بھلائی کرو۔ یہ حکم کتاب الہی میں لکھا ہوا ہے۔

۷– اور (یاد کرو) جب ہم نے نبیوں سے عہد لیا تھا۔ (اے نبی) تم سے بھی اور نوح، ابراہیم، موسی، اور عیسیٰ ابن مریم سے بھی۔ سب سے ہم نے پختہ عہد لیا تھا۔

۸– تاکہ وہ سچے لوگوں سے ان کی سچائی کے بارے میں پوچھے اور کافروں کے لیئے تو اس نے درد ناک عذاب تیار کر رکھا ہے۔

۹– اے ایمان والو ! اللہ کے اس احسان کو یاد کرو جو اس نے تم پر کیا ہے جب لشکر تم پر چڑھ آئے تو ہم نے ان پر آندھی بھیجی اور ایسی فوجیں جو تم کو دکھائی نہیں دیتی تھیں۔ اور اللہ تم جو کچھ کر رہے تھے اس کو دیکھ رہا تھا۔

۱۰– جب وہ تم پر اوپر کی طرف سے بھی چڑھ آئے اور تمہارے نشیب کی طرف سے بھی جب نگاہیں پھر گئیں اور کلیجے منہ کو آ لگے اور تم لوگ اللہ کے بارے میں طرح طرح کے گمان کرنے لگے۔

۱۱– اس وقت اہل ایمان آزمائیش میں ڈال دیئے گئے اور سخت ہلا مارے گئے۔

۱۲– جب منافقین اور وہ لوگ جن کے دلوں میں روگ ہے کہ رہے تھے کہ اللہ اور اس کے رسول نے جو وعدے ہم سے کئے تھے وہ محض فریب تھے۔

۱۳– جب ان میں سے ایک گروہ نے کہا اے اہل یثرب !تمہارے لیئے ٹھر نے کا کوئی موقع نہیں ہے لہذا لوٹ جاؤ اور ان میں سے ایک گروہ یہ کہ کر بنی سے اجازت طلب کر رہا تھا کہ ہمارے گھر غیر محفوظ ہیں حالانکہ وہ غیر محفوظ نہ تھے بلکہ یہ بھاگنا چاہتے تھے۔

۱۴– اگر شہر کے اطراف سے ان پر چڑھائی ہوتی اور اس وقت ان سے فتنہ میں پڑنے کے لیئے کہا جاتا تو وہ اس میں جا پڑ تے اور انہیں شکل ہی سے کوئی تامل ہوتا۔

۱۵– حالانکہ یہ لوگ اس پہلے اللہ سے عہد کر چکے تھے کہ پیٹھ نہ پھیریں گے۔ اور اللہ سے کیے ہوئے عہد کے بارے میں ضرور باز پرس ہو گی۔

۱۶– کہو اگر تم موت یا قتل سے بھاگو تو یہ بھاگنا تمہارے لیئے کچھ بھی مفید نہ ہو گا۔ اور اس کے بعد تم سامان زندگی سے تھوڑا ہی فائدہ اٹھا سکو گے۔

۱۷– کہو کون ہے جو تم کو اللہ سے بچا سکے اگر وہ تمھیں کو ئی نقصان پہنچانا چاہے یا اس کی رحمت کو روک سکے اگر وہ تم پر مہر بانی کرنا چاہے۔ اللہ کے مقابلہ میں وہ اپنے لیئے نہ کوئی کار ساز پائیں گے اور نہ مدد گار۔

۱۸–اللہ تم میں سے ان لوگوں کو جانتا ہے جو (جنگ کے کاموں میں) رکاوٹیں ڈال رہے تھے اور اپنے بھائیوں سے یہ کہ رہے تھے کہ ہمارے پاس آؤ۔ اور وہ جنگ میں بہت کم حصّہ لیتے رہے ہیں۔

۱۹ –وہ تمہارا ساتھ دینے میں تنگ دل ہیں۔ جب خطرہ پیش آ جا تا ہے تو تم دیکھتے ہو کہ وہ تمہاری طرف اس طرح آنکھوں کو پھرا پھرا کر دیکھتے ہیں جیسے کسی شخص پر موت کی غشی طاری ہو گئی ہو۔ پھر جب خطرہ دور ہو جاتا ہے تو مال حریص بن کر تیز زبانی سے تم سے باتیں کرتے ہیں۔ یہ لوگ ایمان نہیں لائے اس لیئے اللہ نے ان کے اعمال ضائع کر دیئے۔ اور یہ اللہ کیے بہت آسان ہے۔

۲۰– یہ لوگ سمجھ رہے ہیں کہ حملہ آور گروہ ابھی گئے نہیں ہیں اور اگر حملہ آور پھر آ جائیں تو یہ چائیں گے کہ وہ دیہات میں بدوؤں کے درمیان ہوں اور وہاں سے تمہاری خبریں معلوم کرتے رہیں۔ اور اگر یہ تمہارے درمیان رہے بھی تو جنگ میں کم ہی حصہ لیں گے۔

۲۱– تمہارے لیئے اللہ کے رسول میں بہترین نمونہ ہے۔ ان کے لیئے جو اللہ اور آخرت کے امیدوار ہوں اور اللہ کو بہ کثرت یاد کریں۔

۲۲– جب اہل ایمان نے حملہ آوروں گرہوں کو دیکھا تو پکار اٹھے یہ تو وہی ہے جس کا اللہ اور اس کے رسول نے ہم سے وعدہ کیا تھا۔ اللہ اور اس کے رسول نے بالکل سچ فرمایا ہے اور اس چیز نے ان کے ایمان و اطاعت میں اور اضافہ کر دیا۔

۲۳– ایمان لانے والوں میں سے ایسے لوگ بھی ہیں جنہوں نے اللہ سے کئے ہوئے عہد کو سچا کر دیکھا یا۔ ان میں سے بعض تو اپنی نذر پوری کر چکے اور بعض منتظر ہیں۔ انہوں نے (اس میں) کوئی تبدیلی نہیں کی۔

۲۴– (یہ امتحان اس لیئے پیش آیا) تاکہ اللہ سچوں کو ان کی سچائی کی جزا دے اور منافقوں کو چاہے تو سزا دے یا ان کی تو بہ قبول کر لے۔ بلاشبہ اللہ معاف کرنے والا رحم فرمانے والا ہے۔

۲۵– اور اللہ نے کافروں کو اس حال میں لوٹا دیا کہ وہ غیظ و غضب میں بھرے ہوئے تھے اور کوئی فائدہ حاصل نہ کر سکے۔ اورع مومنوں کی طرف سے لڑنے کے لیئے اللہ کافی ہو گیا۔ اللہ بڑی قوت والا اور غالب ہے۔

۲۶– اور اہل کتاب میں جن لوگوں نے ان (حملہ آور گروہوں ) کی مدد کی تھی اللہ نے ان کے قلعوں سے ان کو اتار دیا اور ان کے دلوں میں ایسا رعب ڈال دیا کہ ایک گروہ کو تم قتل کرتے رہے اور دوسرے گروہ کو تم نے قید کر لیا۔

۲۷– اور تم کو ان کی زمین، ان کے گھروں اور ان کے مال کا وارث بنا دیا۔ اور ایسی زمین کا بھی جس پر ابھی تم نے قدم نہیں ر کھے۔ اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔

۲۸– اے نبی ! اپنی بیویوں سے کہ دہ۔ اگر تم دنیا کی زندگی اور اس کی زینت چاہتی ہو تو آؤ میں تمھیں کچھ دے دلا کر خوبصورتی کے ساتھ رخصت کر دوں۔

۲۹– اور اگر تم اللہ اور اس کے رسول اور دار آخرت کے طالب ہو تو لیئے اللہ نے بہت بڑا اجر تیار کر رکھا ہے۔

۳۰– اے نبی کی بیویو ! تم میں سے جو کسی صریح بے حیائی ی مرتکب ہو گی اسے دوہرا عذاب دیا جائے گا۔ اللہ کے لیئے یہ بات آسان ہے۔

۳۱– اور تم میں سے جو اللہ اور اس کے رسول کی فرمانبردار بن کر رہے گی اور نیک عمل کرے گی ہم اس کو دوہرا اجر دیں گے اور ہم نے اس کے لیئے با عزت رزق تیار رکھا ہے۔

۳۲– اے نبی کی بیویو ! تم دوسری عورتوں کی طرح نہیں ہو۔ اگر تم پرہیز گار ہو تو لوچ کے ساتھ بات نہ کرو کہ جس کے دل میں روگ ہے وہ طمع کرنے لگے، اور بھلی بات کہو۔

۳۳–اپنے گھروں میں ٹھہری رہو اور سابقہ جاہلیت کی سی نمائش نہ کرو۔ نماز قائم کرو، زکوٰۃ دو۔ اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو۔ اللہ تو چاہتا ہے کہ تم اہل بیت سے گندگی کو دور کرے اور تمھیں بالکل پاک کر دے۔

۳۴– یاد رکھو اللہ کی آیات اور حکمت کی ان باتوں کو جو تمہارے گھروں میں سنائی جاتی ہیں بے شک اللہ نہایت باریک بیں اور باخبر ہے۔

۳۵– یقیناً مسلم مرد اور مسلم عورتیں، مومن مرد اور مومن عورتیں، فرمانبردار مرد اور فرمانبردار عورتیں، راست باز مرد اور راست باز عورتیں، صبر کرنے والے مرد اور صبر کرنے والی عورتیں، (اللہ کے حضور) عاجزی کرنے والے مرد اور عاجز ی کرنے والی عورتیں روزہ، صدقہ کرنے والے مرد اور صدقہ کرنے والی عورتیں روزہ رکھنے والے مرد اور روزہ رکھنے والی عورتیں، اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرنے والے مرد اور حفاظت کرنے والی عورتیں اور اللہ کو کثرت سے یاد کرنے والے مرد اور کثرت سے یاد کرنے والی عورتیں۔۔ اللہ نے ان کے لیئے مغفرت اور اجر عظیم تیار کر رکھا ہے۔

۳۶– کسی مومن مرد اور کسی مومن عورت کو یہ حق نہیں ہے کہ جب اللہ اور اس کا رسول کسی معاملہ کا فیصلہ کر دے تو ان کے لیئے اپنے معاملہ میں کوئی اختیار باقی رہے۔ اور جو کوئی اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے تو وہ صریح گمراہی میں پڑ گیا۔

۳۷– (اے نبی) جب تم اس شخص سے کہ رہے تھے جس پر اللہ نے احسان کیا ہے اور تم نے بھی کہ اپنی بیوی کو اپنے پاس (یعنی طلاق نہ دو) اور اللہ سے ڈرو اور اپنے دل میں وہ بات چھپا رہے تھے جس کو اللہ ظاہر کرے والا تھا۔ تم لوگوں سے ڈر رہے تھے حالانکہ اللہ اس بات کا زیادہ حق دار ہے کہ اس سے ڈرو۔ پھر جب زید اس سے اپنی غرض پوری کر چکا تو ہم نے اس کو تمہاری زوجیت میں دے دیا تاکہ مومنوں پر ان کے منہ بولے بیٹوں کی بیویوں کے معاملہ میں جب کہ وہ ان سے اپنی غرض پوری کر چکے ہوں کوئی تنگی نہ رہے۔ اور اللہ کے حکم کو عمل میں آنا ہی تھا۔

۳۸– نبی پر ایسے کام میں کوئی تنگی نہیں جو اس کے لیئے اللہ مقرر کر دیا ہو۔ اللہ کی یہی سنت ان (انبیاء)کے معاملہ میں رہی ہے جو پہلے گزر چکے ہیں اور اللہ کا حکم ایک طے شدہ فیصلہ ہوتا ہے۔

۳۹۔ وہ اللہ کے پیغامات کو پہنچاتے ہیں اور اسی سے ڈرتے ہیں۔ اور اللہ کے سوا کسی سے نہیں ڈرتے اور حساب لینے کے لئے اللہ کافی ہے۔،

۴۰– محمد تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں بلکہ وہ اللہ کے رسول اور خاتم النبیین ہیں اور اللہ ہر چیز کا علم رکھنے والا ہے۔

۴۱– اے ایمان والو ! اللہ کو بہ کثرت یاد کرو۔

۴۲– اور صبح و شام اس کی تسبیح کرو۔

۴۳– وہی ہے جو تم پر رحمت بھیجتا ہے اور اس کے فرشتے بھی تاکہ وہ تمھیں تاریکیوں سے نکال کر روشنی میں لے آئے۔ وہ مومنوں پر بہت مہربان ہے۔

۴۴– جس دن وہ اس سے ملیں گے ان کا خیر مقدم سلام سے ہو گا۔ اور ان کے لیئے اس نے با عزت اجر تیار کر رکھا ہے۔

۴۵– اے نبی ! ہم ے تمھیں شاہد (گواہی دینے والا) مبشر (خوش خبری دینے والا) اور نذیر (خبر دار کرنے والا) بنا کر بھیجا ہے۔

۴۶– اور اللہ کی طرف اس کے اذن سے دعوت دینے والا، اور روشن چراغ بنا کر۔

۴۷– مومنوں کو خوش خبری دو کہ ان کے لیئے اللہ کی طرف سے بہت بڑا فضل ہے۔

۴۸– اور کافروں اور منافقوں کی بات نہ مانو، ان کی ایذا رسانی کی پروا نہ کرو اور اللہ پر توکل کرو۔ اللہ اس بات کے لیئے کافی ہے کہ اس پر توکل کیا جائے۔

۴۹– اے ایمان لانے والو! جب تم مومن عورتوں سے نکاح کرو اور پھر انہیں ہاتھ لگانے سے پہلے طلاق دے دو تو تمھارے لیئے ان پر کوئی عدت واجب نہیں جس کو تم شمار کرو۔ مگر انہیں متاع (کچھ مال) دو اور خوب صورتی کے ساتھ رخصت کرو۔

۵۰– اے نبی ہم نے تمہارے لیئے تمہاری ان بیویوں کی جائز کر دیا جن کے مہر تم ادا کر چکے ہو اور ان عورتوں کو بھی جو اللہ کے عطا ر کردہ مال غنیمت میں سے تمہاری ملکیت میں آئیں۔ اور تمہارے چچا، تمہاری پھوپھیوں، تمہارے ماموں اور تمہاری خالاؤں کی ان بیٹیوں کو بھی جنہوں نے تمہارے ساتھ ہجرت کی ہے۔ اور اس مومن عورت کو بھی جس نے اپنے آپ کو نبی کے لیئے ہبہ کر دیا ہو بہ شرط یہ کہ نبی اس کو اپنے نکاح میں لانا چاہے۔ یہ دوسرے مومنوں کو چھوڑ کو خاص طور سے تمہارے لیئے ہے ہم کو معلوم ہے کہ ہم نے ان کی بیویوں اور ان کی مملوک عورتوں کے بارے میں ان پر کیا فرض کیا ہے تاکہ تم پر کوئی تنگی نہ رہے۔ اور اللہ معاف کرنے والا رحم فرمانے والا ہے۔

۵۱– ان میں سے مت جن کو چاہو دور رکھو اور جن کو چاہو اپنے پاس رکھو اور جن کو تم نے الگ رکھا ان میں سے کسی کو تم طلب کرو تو اس میں بھی تمہارے لیئے کوئی مضائقہ نہیں۔ اس سے اس بات کی زیادہ توقع کی جا سکتی ہے کہ کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں اور وہ رنجیدہ نہ ہوں اور جو کچھ بھی تم تم ان کو دو، اس پر وہ سب راضی ہوں گی۔ اللہ جانتا ہے جو کچھ تم لوگوں کے دلوں میں ہے اور اللہ علم رکنے والا بر دبار ہے۔

۵۲– اس کے بعد تمہارے لیئے دوسری عورتیں جائز نہیں ہیں اور نہ یہ جائز ہے کہ ان کی جگہ دوسری بیویاں کر لو خواہ ان کا حسن تمھیں کتنا ہی پسند ہو۔ سوائے ان کے جو تمہاری ملکیت میں ہوں۔ (یعنی کنیز ہوں ) اور اللہ ہر چیز پر نگراں ہے۔

۵۳– اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! نبی کے گھروں میں داخل نہ ہو مگر اس وقت جب تمھیں اجازت دی جائے۔ (اجازت ملنے پر) کھانے کی تیاری کے انتظار میں (بیٹھے ) نہ رہو البتہ جب تم کو ( کھانے کے لیئے) بلا یا جائے تو داخل ہو اور جب کھانا کھا چکو تو منتشر ہو جاؤ۔۔ اور باتیں کرنے میں نہ لگ جاؤ۔ یہ باتیں نبی کے لیئے تکلیف دہ ہیں مگر وہ تم سے کچھ کہتے ہوئے لحاظ کرتے ہیں اور اللہ حق بات کہنے میں لحاظ نہیں کرتا۔ اور جب تمھیں نبی کی بیویوں سے کوئی چیز مانگنا ہو تو پر دہ کے پیچھے سے مانگو۔ ہ طریقہ تمہارے دلوں کے لیئے بھی زیادہ پاکیزہ ہے اور ان کے دلوں کے لیئے بھی۔ اور تمہارے لیے ہر گزر روا نہیں کہ اللہ کے رسول کو اذیت دو اور نہ یہ جائز ہے کہ اس کے بعد بھی کبھی تم ان کی بیویوں سے نکاح کرو۔ اللہ کے نزدیک یہ بڑی سنگین بات ہے۔

۵۴– تم کوئی بات ظاہر کرد یا چھپاؤ۔ اللہ کو ہر بات کا علم ہے۔

۵۵– ان پر کوئی گناہ نہیں ہے ان کے بیٹوں ان کے بھائیوں، ان کے بھیجوں، ان کے بھانجوں، ان کی اپنی عورتوں اور ان کے مملوک کے بارے میں۔ اللہ سے ڈرو، شک اللہ ہر چیز پر گواہ ہے۔

۵۶– اللہ اورع اس کے فرشتے نبی پر رحمت بھجتے ہیں اے لوگو جو ایمان لائے ہو تم بھی ان پر رحمت (درود) و سلام بھیجو۔۔

۵۷– جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کو اذیت دیتے ہیں ان پر اللہ نے دنیا و آخرت میں لعنت کی ہے اور ان کے لیئے رسوا کن عذاب تیار کر رکھا ہے۔

۵۸– اور جو لوگ مومن مردوں اور عورتوں کو ان باتوں پر اذیت دیتے ہیں جن کا ارتکاب انہوں نے نہیں کیا وہ اپنے سر ایک بہتان اور صریح گناہ کا بار لیتے ہیں۔

۵۹– اے نبی ! اپنی بیویوں، اپنی بیٹیوں اور اہل ایمان کی عورتوں سے کھ دہ کہ اپنے اوپر اپنی چادریں ڈال لیا کریں یہ اس لحاظ سے زیادہ مناسب ہے کہ ان کی شناخت ہو جائے اور ستائی نہ جائیں۔ اور اللہ معاف کرنے والا رحم فرمانے والا ہے۔

۶۰– منافقین اور وہ لوگ جن کے دلوں میں روگ ہے اور جو مدینہ میں جھوٹی افواہوں پھیلاتے ہیں اگر باز نہ آئے تو ہم تمھیں ان کے خلاف اٹھا کھڑا کریں گے پھر وہ اس (شہر) میں تمہارے ساتھ کم ہی رہ سکیں گے ۱۔

۶۱– ان پر لعنت ہو گی اور جہاں کہیں پائے جائیں گے پکڑے جائیں گے اور بری طرح قتل کیے جائیں گے۔

۶۲۔ یہ اللہ کی سنت (قاعدہ) رہی ہے ان لوگوں کے معاملہ میں جو پہلے گزر چکے اور تم اللہ کی سنت میں کوئی تبدیلی نہ پاؤ گے۔

۶۳۔ لوگ تم سے قیامت کی گھڑی کے بارے میں پوچھتے ہیں کہو اس کا علم اللہ ہی کے پاس ہے۔ اور تمہیں کیا خبر شیاد وہ گھڑی قریب آ لگی ہو۔

۶۴۔ یقیناً اللہ نے کافروں پر لعنت کی ہے اور ان کے لیے بھڑکتی آگ تیار کر رکھی ہے۔

۶۵۔ جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ انہیں نہ کوئی دوست ملے گا اور نہ مدد گار۔

۶۶۔ جس دن ان کے ہرے آگ میں الٹ لٹ کر دیئے جائیں گے اس وقت وہ کہیں گے کاش ہم نے اطاعت کی ہوتی اللہ کی اور اطاعت کی ہوتی رسول کی۔

۶۷۔ اور کہیں گے اے ہمارے رب! ہم نے اپنے سرداروں اور بڑوں کی اطاعت کی اور انہوں نے ہمیں راہ سے گمراہ کر دیا۔

۶۸۔ اے ہمارے رب! ان کو دوہرا عذاب دے اور ان پر بہت بڑی لعنت کر۔

۶۹۔ اے لوگو جو ایمان لائے ہو! ان لوگوں کی طرح نہ ہو جاؤ جنہوں نے موسیٰ کو اذیت دی مگر اللہ نے اس کو ان کی اذیت دہ باتوں سے بَری کر دیا اور وہ اللہ کے نزدیک با وقار تھا۔

۷۰۔ اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اللہ سے ڈرو اور درست بات کہو۔

۷۱۔ وہ تمہارے اعمال درست کرے گا اور تمہارے گناہوں کو بخش دے گا اور جو اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے گا اس نے بہت بڑی کامیابی حاصل کی۔

۷۲۔ ہم نے (اپنی) امانت کو آسمانوں اور زمین اور پہاڑوں کے سامنے پیش کیا تو انہوں نے اس کے اٹھانے سے انکار کیا اور اس سے ڈر گئے۔ مگر انسان نے اسے اٹھا لیا۔ بلاشبہ وہ بڑا ظالم اور جاہل واقع ہوا ہے

۷۳۔ تاکہ اللہ منافق مردوں اور عورتوں کو اور مشرف مردوں اور مشرک عورتوں کو سزا دے اور مومن مردوں اور مومن عورتوں کی توبہ قبول فرمائے۔ اللہ معاف کرنے والا رحم فرمانے والا ہے۔

٭٭٭

 

 

(۳۴) سورۂ سبا

 

اللہ رحمٰن و رحیم کے نام سے

 

۱–حمد اللہ ہی کے لیے ہے جو آسمانوں اور زمین کی تمام چیزوں کا مالک ہے اور آخرت میں بھی اسی کے لیے حمد ہے وہ حکمت والا اور باخبر ہے۔

۲– وہ جانتا ہے جو کچھ زمین میں داخل ہوتا ہے اور جو کچھ اس سے نکلتا ہے اور جو کچھ آسمان سے اترتا ہے اور جو کچھ اس میں چڑھتا ہے وہ رحم فرمانے والا بخشنے والا ہے۔

۳– انکار کرنے والے کہتے ہیں کہ ہم پر قیامت نہیں آئے گی کہو کیسے نہیں آئے گی ؟ میرے رب عالم الغیب کی قسم۔ وہ تم پر آ کر رہے گی اس سے ذرہ برار کوئی چیز نہ آسمانوں میں چھپی ہوئی ہے اور نہ زمین میں۔ نہ اس سے چھوٹی اور نہ اس سے بڑی مگر یہ کہ وہ ایک واضح کتاب میں درج ہے

۴– قیامت اس لیے آئے گی تاکہ وہ صلہ دے ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے۔ ان کے لیے مغفرت اور با عزت رزق ہے۔

۵– اور جو لوگ ہماری آیات کو بے اثر کرنے کے لیے سرگرم ہیں ان کے لیے بدترین قسم کا درد ناک عذاب ہے۔

۶–اور جن کو علم عطا ہوا ہے وہ سمجھتے ہیں کہ جو کچھ تمہارے رب کی طرف سے نازل کیا گیا ہے وہ بالکل حق ہے اور اس (ذات) کا راستہ دکھاتا ہے جو غالب اور خوبیوں والا ہے۔

۷–جن لوگوں نے کفر کیا وہ کہتے ہیں کہ کیا ہم تمہیں ایسا شخص بتائیں جو تم کو یہ خبر دیتا ہے کہ جب تم بالکل ریزہ ریزہ ہو چکے ہو گے اس وقت تم نئے سرے سے پیدا کئے جاؤ گے۔

۸–“اس نے اللہ کے نام سے جھوٹ گھڑا ہے یا اس کو جنون ہو گیا ہے ؟” نہیں بلکہ جو لوگ آخرت کو نہیں مانتے وہی عذاب اور ور کی گمراہی میں پڑے ہوئے ہیں۔

۹–کیسا انہوں نے اپنے آگے اور پیچھے آسمان و زمین کو نہیں دیکھا۔ ہم چاہیں تو انہیں زمین میں دھنسا دیں یا آسمان کے کچھ ٹکڑے ان پر گرا دیں۔ بلاشبہ اس میں بہت بڑی نشانی ہے ہر اس بندے کے لیے جو رجوع ہونے والا ہو۔

۱۰– ہم نے داؤد کو اپنے پاس سے فضل عطا کیا تھا۔ اے پہاڑو، تم بھی اس کے ساتھ تسبیح میں ہم نوا ہو جاؤ اور یہی حکم ہم نے پرندوں کو دیا تھا اور ہم نے اس کے لیے لوہے کو نرم کر دیا تھا۔

۱۱– کہ مکمل ر ہیں بناؤ اور ان کے حلقے ٹھیک اندازے سے رکھو اور تم سب نیک عمل کرو جو کچھ تم لوگ کرتے ہو اس کو میں دیکھ رہا ہوں۔

۱۲– اور ہم نے سلیمان کے لیے ہوا کومسخر کر دیا۔ اس کا صبح کے وقت چلنا بھی مہینہ بھر (کی مسافت) کا ہوتا اور اس کا شام کے وقت چلنا بھی مہینہ بھر (کی مسافت) کا ہوتا اور ہم نے اس کے لیے تانبے کا چشمہ بہا دیا اور ایسے جن اس کے لیے مسخر کر دیئے جو اپنے رب کے حکم سے اس کے آگے کام کرتے ان میں سے جو ہمارے حکم سے سرتابی کرتا ہم اس کو بھڑتی آگ کا مزا چکھاتے۔

۱۳– وہ اس کے لیے بناتے تھے جو کچھ وہ چاہتا، عمارتیں تصویریں لگن ایسے جیسے بڑے بڑے حوض اور اپنی جگہ جمی رہنے والی بھاری دیگیں اے آلِ داؤد عمل کرو شکر کے ساتھ اور میرے بندوں میں شکر گزار کم ہی ہیں

۱۴– پھر جب ہم نے اس کی موت کا حکم نافذ کیا تو ان کو اس کی موت سے آگاہ کرنے والی چیز صرف زمین کا کیڑا تھا جواس کے عصا کو کھا رہا تھا۔ جب سلیمان گر پڑا تو جنوں پر یہ بات واضح ہوئی کہ اگر وہ غیب جانتے ہوتے تو اس ذلت کی مصیبت میں پڑے نہ رہتے۔

۱۵– سبا کے لیے ان کے مسکن ہی میں ایک بڑی نشانی موجود تھی۔ دو باغ دائیں اور بائیں جانب کھاؤ اپنے رب کا بخشا ہوا رزق اور شکر کرو اس کا۔ اچھی سرزمین اور بخشنے والا رب۔

۱۶– مگر انہوں نے منہ موڑا تو ہم نے ان پر بند کا سیلاب بھیج دیا اور ان کے باغوں کو دو ایسے باغوں میں بدل دیا جن میں بد مزہ پھل، جھاؤ اور قدرے قلیل بیریاں تھیں۔

۱۷– یہ تھا ان کی ناشکری کا بدلہ جو ہم نے ان کو دیا اور ایسا بدلہ ہم ناشکرے لوگوں ہی کو دیا کرتے ہیں۔

۱۸– اور ہم نے ان کے اور ان بستیوں کے درمیان جن میں ہم نے برکتیں رکھی ہیں کھلی بستیاں بھی آباد کی تھیں اور ان کے درمیان سفر کی منزلیں بھی مقرر کر دی تھیں سفر کرو ان میں رات دن امن کے ساتھ

۱۹– مگر انہوں نے کہا اے ہمارے رب ہمارے سفر کی مسافتوں میں دوری پیدا کر دے اور انہوں نے اپنے اوپر ظلم کیا کیا تو ہم نے ان کو افسانہ بنا کر رکھ دیا اور ان کو بالکل تتر بتر کر د ڈالا یقیناً اس میں نشانیاں ہیں ہر اس شخص کے لیے جو صبر کرنے والا شکر کرنے والا ہو

۲۰– اور ابلیس نے ان پر اپنا گمان سچ کر دکھایا۔ چنانچہ انہوں نے اس کی پیروی کی بجز ایک گروہ کے جو مومن تھا

۲۱– س کا ان پر کوئی زور نہ تھا مگر ہم یہ دیکھنا چاہتے تھے کہ کون آخرت پر ایمان لاتا ہے اور کون اس کے بارے میں شک میں پڑا ہوا ہے۔ اور تمہارا رب ہر چیز پر نگراں ہے۔

۲۲– کہو پکار ان کو جن کو تم نے اللہ کے سوا معبود گمان کر رکھا ہے۔ وہ نہ آسمانوں میں ذرا برابر اختیار رکھتے ہیں اور نہ زمین میں اور نہ ان دونوں میں ان کا کوئی ساجھا ہے اور نہ ہی ان میں سے کوئی اس کا مدد گار ہے۔

۲۳– اس کے حضور کوئی شفاعت کام نہیں آ سکتی مگر جن کے لیے وہ اجازت دے یہاں تک کہ جب ان کے دلوں سے گھبراہٹ دور ہو گی تو وہ پوچھیں گے تمہارے رب نے کیا فرمایا؟ وہ کہیں گے بالکل حق فرمایا ہے اور وہ بلند و برتر ہے۔

۲۴– ان سے پوچھو کون تمہیں آسمانوں اور زمین سے رزق دیتا ہے ؟ کہو اللہ اور ہم اور تم دونوں میں سے ایک ہدایت پر ے اور دوسرا کھلی گمراہی میں

۲۵– کہو تم سے ہمارے جرم کی باز پرس نہ ہو گی اور جو کچھ تم کر رہے ہو اس کے بارے میں ہم سے نہیں پوچھا جائے گا۔

۲۶–کہو ہمارا رب ہم سب کو جمع کرے گا پھر ہمارے درمیان حق کے ساتھ فیصلہ فرمائے گا اور وہی فیصلہ کرنے والا علم والا ہے

۲۷– کہو ذرا مجھے دکھاؤ تو وہ کون ہیں جن کو تم نے اس کے ساتھ شریک جوڑ رکھا ہے ہر گز نہیں۔ غلبہ والا اور حکمت والا تو اللہ ہی ہے۔

۲۸– اور (اے نبی!) ہم نے تم کو تمام لوگوں کے لیے بشارت دینے والا اور خبر دار کرنے والا بنا کر بھیجا ہے۔لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے

۲۹– یہ لوگ تم سے کہتے ہیں کہ یہ وعدہ کب پورا ہو گا اگر تم سچے ہو؟

۳۰– کہو تمہارے لیے ایک ایسے دن کی میعاد مقرر ہے جس سے تم ایک گھڑی نہ پیچھے ہٹ سکت ہو اور نہ آگے بڑھ سکتے ہو

۳۱–کافر کہتے ہیں ہم اس قرآن پر ہرگز ایمان نہیں لائیں گے اور نہ اس سے پہلے کی کسی کتاب پر اور اگر تم (ان کی اس حالت کو) دیکھ لیتے جب یہ ظالم اپنے رب کے حضور کھڑے کر دیئے جائیں گے ! وہ ایک دوسرے کو ملامت کریں گے۔ جو لوگ کمزور تھے وہ ان لوگوں سے جو بڑے بن کر رہے تھے کہیں گے اگر تم نہ ہوتے تو ہم ضرور مومن ہوتے

۳۲– بڑے بن کر رہنے والے ان کمزور لوگوں کو جواب دیں گے کہ کیا ہم نے تم کو ہدایت سے روکا تھا جب کہ وہ تمہارے پاس آ چکی تھی؟ نہیں بلکہ تم خود مجرم تھے۔

۳۳– کمزور لوگ بڑے بن کر رہنے والوں سے کہیں گے نہیں بلکہ تمہاری رات دن کی مکاری تھی جب تم ہم سے کہتے تھے کہ اللہ سے کفر کریں اور اس کے ہمسر ٹھہرائیں اور جب وہ عذاب کو دیکھ لیں گے تو دل میں پشیمان ہوں گے اور ہم کافروں کی گردنوں میں طوق ڈال دیں گے۔ وہ بدلہ میں وہی پائیں گے جو وہ کرتے رہے ہیں

۳۴– ہم نے جس بستی میں بھی کوئی خبردار کرنے والا بھیجا تو اس کے خوشحال لوگوں نے یہی کہا کہ جو پیغام دے کر تم بھیجے گئے ہو ہم اس کے منکر (انکار کرنے والے) ہیں

۳۵– اور انہوں نے کہا ہم تم سے زیادہ مال اور اولاد رکھتے ہیں اور ہم کو ہر گز عذاب نہیں دیا جائے گا۔

۳۶– کہو میرا رب جس کے لیے چاہتا ہے رزق کشادہ کر دیتا ہے اور جس کے لیے چاہتا ہے تنگ کر دیتا ہے۔ لیکن اکثر لوگ جانتے نہیں

۳۷– تمہارے مال اور تمہاری اولاد وہ چیز نہیں ہے جو تمہیں ہمارا مقرب بناتی ہو البتہ جو ایمان لائے اور جنہوں نے نیک عمل کیا تو ان کے لیے ان کے اعمال کی دوہری جزا ہے اور وہ (جنت کے) بالا خانوں میں چین سے رہیں گے۔

۳۸– اور جو لوگ ہماری آیتوں کو بے اثر کرنے کے لیے دوڑ دوپ کرتے ہیں وہ عذاب میں گرفتار کر لئے جائیں گے

۳۹– کہو میرا رب اپنے بندوں میں سے جس کے لیے چاہتا ہے رزق کشادہ کر دیتا ہے اور جس کے لیے چاہتا ہے تنگ کر دیتا ہے اور جو کچھ تم خرچ کرتے ہو اس کی جگہ وہ تم کو اور دیتا ہے اور وہ بہترین رازق ہے۔

۴۰–اور وہ دن کہ ان سب کو وہ جمع کرے گا پھر فرشتوں سے پوچھے گا کیا یہ لوگ تمہاری عبادت کیا کرتے تھے ؟

۴۱– وہ عرض کریں گے۔ پاک ہے تو۔ ہمارا دوست تو ہے نہ کہ یہ لوگ دراصل یہ جنوں کی عبادت کرتے رہے ہیں۔ ان میں سے اکثر ان ہی پر اعتقاد رکھتے تھے۔

۴۲– تو آج کے دن تم میں سے کوئی ایک دوسرے کو نہ فائدہ پہنچا سکتا ہے اور نہ نقصان اور ظالموں سے ہم کہیں گے چکھو اب آگ کے عذاب کا مزہ جس کو تم جھٹلاتے تھے۔

۴۳– ان لوگوں کو جب ہماری روشن آیتیں سنائی جاتی ہیں تو یہ کہتے ہیں کہ یہ تو بس ایک آدمی ہے جو چاہتا ہے کہ تم کو ان چیزوں سے روک دے جن کی پرستش تمہارے باپ دادا کرتے آئے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ (قرآن) محض من گھڑت جھوٹ ہے اور ان کافروں کے سامنے جب حق آیا تو انہوں نے کہا یہ تو کھلا جادو ہ۔

۴۴– ہم نے ان کو کتابیں نہیں دی تھیں جن کو وہ پڑھتے ہوں اور نہ تم سے پہلے ان کی طرف کوئی خبردار کرنے والا بھیجا تھا۔

۴۵– ان سے پہلے گزرے ہوئے لوگوں نے بھی جھٹلایا تھا۔ جو کچھ ہم نے ان کو دیا تھا اس کے عشر عشیر کو بھی یہ نہیں پہنے انہوں نے میرے رسولوں کو جھٹلایا تو دیکھو کیسی رہی میری سزا!

۴۶– کہو میں تمہیں ایک بات کی نصیحت کرتا ہوں۔ وہ یہ کہ اللہ کے لیے تم دو دو مل کر اٹھو اور اکیلے اکیلے بھی اور سوچو تمہارے ساتھی کو کوئی جنون نہیں ہے وہ تو ایک سخت عذاب سے پہلے تمہیں خبر دار کرنے والا ہے۔

۴۷– کہو اگر میں نے تم سے کوئی اجر مانگا ہے تو وہ تمہارے ہی لیے ہے میرا اجر تو اللہ ہی کے ذمے ہے اور وہ ہر چیز پر گواہ ہے۔

۴۸– کہو میرا رب حق کا القا کرتا ہے وہ غیب کی تمام باتوں کا جاننے والا ہے

۴۹–کہو حق آ گیا اور باطل نہ پہلی مرتبہ پیدا کرتا ہے اور نہ دوسری مرتبہ پیدا کرے گا؟

۵۰– کہو اگر میں گمراہ ہو گیا ہوں تو میری گمراہی کا وبال مجھ پر ہے اور اگر میں ہدایت پر ہوں تو یہ اس وحی کی بنا پر ہے جو میرا رب میری طرف نازل کرتا ہے وہ سب کچھ سننے ولا اور نہایت قریب ہے

۵۱– اور اگر تم انہیں دیکھ لیتے جب یہ گھبرائے ہوئے ہوں گے اور بھاگ نہ سکیں گے اور قریب ہی سے پکڑ لئے جائیں گے

۵۲– (اس وقت) یہ کہیں گے کہ ہم اس پر ایمان لائے اور اتنی دور سے یہ اس کو کہاں پا سکتے ہیں !

۵۳–اس سے پہلے انہوں نے اس کا انکار کیا تھا اور دور سے اٹکل کے تیر چلاتے رہے

۵۴– (اس روز) ان کے اور ان کی (اس) خواہش کے درمیان رکاوٹ کھڑی کر دی جائے گی جس طرح ان کے پیشرو ہم مشربوں کے ساتھ معاملہ کیا جا چکا ہو گا۔ وہ بھی ایسے شک میں پڑے ہوئے تھے جس نے ان کو الجھن میں ڈال دیا تھا

٭٭٭

 

 

(۳۵)سورۂ فَاطِرْ

 

اللہ رحمٰن و رحیم کے نام سے

 

۱–حمد اللہ ہی کے لیے ہے جو آسمانوں اور زمین کا خالق اور فرشتوں کو پیغام رسانی بنانے والا ہے جن کو دو دو اور تین تین اور چار چار پَر ہیں وہ تخلیق میں جس طرح چاہتا ہے اضافہ کرتا ہے یقیناً اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔

۲–اللہ لوگوں کے لیے جس رحمت ( دروازہ) کھول دے اسے کوئی روکنے والا نہیں اور جس کو روک لے تو اس کے بعد کوئی اس کو کھولنے ولا نہیں وہ غالب ہے حکمت والا۔

۳–لوگو! تم پر اللہ کے جو احسانات ہیں انہیں یاد کرو۔ کیا اللہ کے سوا کوئی اور خالق ہے جو تمہیں آسمان و زمین سے رزق دیتا ہو؟ اس کے سوا کوئی معبود نہیں پھر تم کو کہاں پھیرا جا رہا ہے ؟

۴–اگر یہ لوگ (اے نبی!) تم کو جھٹلاتے ہیں تو تم سے پہلے بھی کتنے ہی رسول جھٹلائے جا چکے ہیں اور سارے امور بالآخر اللہ ہی کے حضور پیش ہوں گے۔

۵–لوگو! اللہ کا وعدہ سچا ہے لہذا دنیا کی زندگی تمہیں دھوکہ میں نہ ڈالے اور نہ وہ بڑا فریب کار تم کو اللہ کے بارے میں فریب میں رکھے۔

۶–بلاشبہ شیطان تمہارا دشمن ہے لہذا اس کو دشمن ہی سمجھو وہ اپنے گروہ کو (اپنی طرف) اس لیے بلاتا ہے تاکہ وہ دوزخ والوں میں شامل ہو جائیں۔

۷–جنہوں نے کفر کیا ان کے لیے سخت عذاب ہے اور جو ایمان لائے اور نیک عمل کیا ان کے لیے مغفرت اور بڑا اجر ہے۔

۸–کیا وہ جس کا برا عمل اس کے لیے خوشنما بنا دیا گیا ہو اور وہ اسے اچھا خیال کرتا ہو (ہدایت پا سکتا ہے ! ) حقیقت یہ ہے کہ اللہ جس کو چاہتا ہے گمراہ کرتا ہے اور جس کو چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے تو (اے نبی!) تمہاری جان ان کے غم میں نہ گھلے جو کھ یہ کر رہے ہیں اس کو اللہ اچھی طرح جانتا ہے۔

۹–وہ اللہ ہی ہے جو ہواؤں کو بھیجتا ہے اور وہ بادلوں کو اٹھاتی ہیں پھر ہم اس کو مردہ خطہ کی طرف لے جاتے ہیں اور اس کے ذریعہ زمین کو جو مردہ ہو چکی تھی زندہ کر دیتے ہیں (قیامت کے دن) مردوں کا جی اٹھنا اسی طرح ہو گا۔

۱۰–جو عزت چاہتا ہو اسے جان لینا چاہئے کہ عزت ساری کی ساری اللہ ہی کے اختیار میں ہے اس کی طرف پاکیزہ کلمہ چڑھتا ہے اور عملِ صالح کو وہ رفعت بخشتا ہے اور جو لوگ بری چالیں چل رہے ہیں ان کے لیے سخت عذاب ہے اور ان کی چالیں تباہ ہو کر رہیں گی۔

۱۱–اللہ نے تم کو مٹی سے پیدا کیا پھر نطفہ سے، پھر تمہارے جوڑے بنا دیئے اور کوئی عورت نہ حاملہ ہوتی ہے ا ور نہ جنتی ہے مگر اس کے علم سے۔ کوئی عمر والا لمبی عمر نہیں پاتا اور نہ اس ی عمر میں کمی ہوتی ہے مگر یہ سب ایک کتاب میں درج ہے۔ یہ اللہ کے لیے بہت آسان ہے۔

۱۲–اور دونوں دریا یکساں نہیں ہیں۔ ایک شیریں،پیاس بجھانے والا اور پینے میں خوشگوار ہے اور دوسرا کھاری کڑوا۔ اور تم دونوں سے تازہ گوشت (نکال کر) کھاتے ہو اور زینت کی چیزیں نکالتے ہو جن کو تم پہنتے ہو اور تم دیکھتے ہو کہ کشتیاں اس کو چیری ہوئی چلی جاتی ہیں تاکہ تم ا س کا فضل تلاش کرو اور تم اس کے شکر گزار بنو۔

۱۳–وہ دن کو رات میں داخل کرتا ہے اور رات کودن میں اس نے سورج اور چاند کو مسخر کر رکھا ہے۔ ہر ایک ایک وقتِ مقررہ تک کے لیے رواں ہے وہی اللہ تمہارا رب ہے۔ اسی کی بادشاہی ہے اس کو چھوڑ کر تم جن کو پکارتے ہو وہ ایک قطمیر جتنا بھی اختیار نہیں رکھتے۔

۱۴–اگر تم ان کو پکارو تو وہ تمہاری پکار سن نہیں سکتے اور اگر سن بھی لیں تو اس کے جواب میں تمہارے لیے کھ کر نہیں سکتے اور قیامت کے دن تمہارے رک کا انکار کریں گے اور اس باخبر کی طرح تمھیں (اصل حقیقت) کوئی نہیں بتلا سکتا

۱۵–لوگو! تم ہی اللہ کے محتاج ہو۔ اللہ تو بے نیاز (بے محتاج) اور خوبیوں والا ہے حمد کا مستحق۔

۱۶–وہ چاہے تو تمہیں ختم کر دے اور ایک نئی مخلوق لا کھڑی کر دے

۱۷–ایسا کرنا اللہ کے لیے کچھ بھی مشکل نہیں۔

۱۸–کوئی بوجھ اٹھانے والاکسی دوسرے کا بوجھ نہ اٹھائے گا اور اگر کوئی بوجھ سے لدا ہوا شخص اپنا بوجھ اٹھانے کے لیے کسی کو پکارے گا تو کوئی بھی اس کے بوجھ کا کوئی حصہ اپنے سر نہ لے گا خواہ وہ اس کا قرابت دار ہی کیوں نہ ہو۔ (اے نبیؐ!) تم ان ہی لوگوں کو خبر دار کرسکتے ہو جو بے دیکھے اپنے رب سے ڈرتے ہیں اور نماز قائم کرتے ہیں اور جو پاکیزگی اختیار کرتا ہے وہ اپنے ہی فائدہ کے لیے کرتا ہے اور پہنچنا سب کو اللہ ہی کے حضور ہے۔

۱۹–اندھا اور بینا دونوں یکساں نہیں ہیں۔

۲۰–نہ تاریکیاں اور روشنی یکساں ہے۔

۲۱–نہ چھاؤں اور دھوپ یکساں ہے۔

۲۲–اور نہ زندہ اور مردے یکساں ہیں اللہ جن کو چاہتا ہے سنواتا ہے اور تم ان کو سنا نہیں سکتے جو قبروں کے اندر ہیں

۲۳–تم تو بس خبردار کرنے والے ہو۔

۲۴–ہم نے تم کو اے پیغمبر! حق کے ساتھ بھیجا ہے خوشخبری دینے والا اور خبردار کرنے والا بنا کر اور کوئی امت ایسی نہیں جس میں کوئی خبردار کرنے والا نہ آیا ہو

۲۵–اگر یہ لوگ تمہیں جھٹلاتے ہیں تو ان سے پہلے گزرے ہوئے لوگ بھیرسولوں کو جھٹلا کے ہیں۔ ان کے پا ان کے رسول واضح دلائل، صحیفے اور روشن کتاب لے کر آئے تھے۔

۲۶–پھر جن لوگوں نے کفر کیا ان کو میں نے پکڑ لیا تو دیکھ لو کیسی تھی میرا سزا۔

۲۷–کیا تم دیکھتے نہیں کہ اللہ آسمان سے پانی برساتا ہے ور اس کے ذریعے پھل پیدا کرتا ہے جن کے رنگ مختلف ہوتے ہیں اور پہاڑوں میں بھی سفید اور سرخ مختلف رنگوں کے خطے ہیں اور گہرے سیاہ بھی۔

۲۸–اسی طرح انسانوں، جانوروں اور چوپایوں کے رنگ بھی مختلف ہیں حقیقت یہ ہے کہ اللہ سے اس کے وہی بندے ڈرتے ہیں جو علم رکھنے والے ہیں بلاشبہ اللہ غالب معاف کرنے والا ہے

۲۹–جو لوگ اللہ کی کتاب کی تلاوت کرتے ہیں اور نماز قائم کرتے ہیں اور جو کچھ رزق ہم نے ان کو دیا ہے اس میں سے پوشیدہ اور علانیہ خرچ کرتے ہیں وہ ایک ایسی تجارت کی امید رکھتے ہیں جس میں ہر گز خسارہ نہ ہو گا۔

۳۰–تاکہ وہ ان کو ان کا پورا پورا اجر دے اور اپنے فضل سے مزید عطا کرے۔ یقیناً وہ مغفرت فرمانے والا اور قدر داں ہے

۳۱—اور اے نبی! ہم نے جو کتاب تمہاری طرف وحی کی ہے وہی حق ہے ان کتابوں کی تصدیق کرنے والی جو اس سے پہلے آ چکی ہیں یقیناً اللہ اپنے بندوں کی خبر رکھنے والا اور دیکھنے والا ہے۔

۳۲–پھر ہم نے کتاب کا وارث بنایا ان کو جن کو ہم نے اپنے بندوں میں سے منتخب کیا۔ تو کوئی ان میں سے اپنے نفس پر ظلم کرنے والا ہے تو کوئی میانہ روہے اور کوئی اللہ کی توفیق سے نیکیوں میں سبقت کرنے والا ہے یہ بہت بڑا فضل ہے۔

۳۳–ہمیشگی کے باغ ہیں جن میں یہ داخل ہوں گے وہاں انہیں سونے کے کنگن اور موتی پہنائے جائیں گے اور ان میں ان کا لباس ریشم ہو گا

۳۴– وہ کہیں گے شکر ہے اللہ کاجس نے ہم سے غم دور کر دیا ہمارا رب بڑا بخشنے والا ہے قدر فرمانے والا ہے

۳۵–جس نے ہمیں اپنے فضل سے اس اقامت کے گھر میں ٹھہرایا۔ یہاں نہ ہمیں کوئی مشقت پیش آتی ہے اور نہ تکان لاحق ہوتی ہے۔

۳۶–اور جنہوں نے کفر کیا ان کے لیے جہنم کی آگ ہے۔ نہ ان کو قضا آئے گی کہ مر جائیں اور نہ ان سے اس کا عذاب ہلکا کر دیا جائے گا۔ اس طرح ہم بدلہ دیں گے ہر ناشکرے کو

۳۷–اور وہ اس میں چیخ یخ کر کہیں گے اے ہمارے رب ! ہمیں یہاں سے نکال۔ اب ہم اچھا عمل کریں گے۔ ان اعمال سے مختلف جو ہم کرتے رہے کیا ہم نے تم کو اتنی عمر نہیں دی تھی کہ کوئی یاد دہانی حاصل کرنا چاہتا تو یاد دہانی حاصل کرسکتا تھا۔ اور تمہارے پاس خبردار کرنے والا بھی آیا تھا۔ اب مزا چکھو۔ ظالموں کا کوئی مدد گار نہیں۔

۳۸–اللہ آسمانوں اور زمین کے غیب کو جاننے والا ہے، وہ سینوں میں چھپی ہوئی باتوں کو بھی جانتا ہے۔

۳۹–اسی نے تم کو زمین میں خلیفہ (با اختیار) بنایا ہے۔ تو جو کفر کرے گا اس کے کفر کا وبال اسی پر پڑے گا۔ اور کافروں کے لیے ان کا کفر ان کے رب کے نزدیک اس کے غضب ہی کو بھڑکانے والا ہو گا اور کافروں کے لیے ان کا کفر ان کے خسارہ ہی میں اضافہ کرے گا۔

۴۰–کہو کیا تم نے دیکھا اپنے ان شریکوں کو جن کو تم اللہ کو چھوڑ کر پکارتے ہو! مجھے بتاؤ انہوں نے زمین میں سے کوئی چیز پیدا کی ہے ؟ یا آسمانوں میں ان کی کوئی حصہ داری ہے ؟ ہم نے ان کو کوئی کتاب دی ہے تو وہ اس کی کسی واضح حجت پر ہیں ؟ نہیں بلکہ یہ ظالم ایک دوسرے سے محض فریب کے وعدے کر رہے ہیں۔

۴۱–بلاشبہ اللہ ہی ہے جو آسمانوں اور زمین کو تھامے ہوئے ہے کہ وہ ٹل نہ جائیں۔ بلا شبہ وہ بڑا حلیم اور غفور ہے۔

۴۲–یہ لوگ اللہ کی پکی قسمیں کھا کر کہا کرتے تھے کہ اگر ان کے پاس کوئی خبردار کرنے والا آیا تو وہ ہر ایک امت سے زیادہ ہدایت اختیار کرنے والے بنیں گے۔ مگر جب خبردار کرنے والا ان کے پاس آ گیا تو ان کی دوری ہی میں اضافہ ہو گا۔

۴۳–یہ زمین میں تکبر کرنے لگے اور بری چالیں چلنے لگے۔ حالانکہ بری چالیں ان ہی کو گرفت میں لیتی ہیں جو یہ چالیں چلتے ہیں اب کیا یہ لوگ اس بات کا انتظار کر رہے ہیں کہ ان کے ساتھ بھی وہی معاملہ کیا جائے جو پچھلی قوموں کے ساتھ کیا گیا تھا ایسا ہے تو تم اللہ کے قاعدے میں کوئی تبدیلی نہ پاؤ گے اور نہ اللہ کے قاعدے کو ٹلتا ہوا دیکھو گے

۴۴–کیا یہ لوگ زمین میں چلے پھرے نہیں کہ دیکھ لیتے ان لوگوں کا کیا انجام ہوا جو ان سے پہلے گزر چکے ہیں۔ وہ ان سے کہیں زیادہ طاقتور تھے اور آسمان اور زمین میں کوئی چیز بھی ایسی نہیں جو اللہ کو عاجز کرنے والی ہو۔ وہ سب کھ جاننے والا اور بڑی قدرت والا ہے۔

۴۵–اگر وہ لوگوں کو ان کے عمل کی پاداش میں پکڑتا تو زمین پر ایک جاندار کو بھی نہیں چھوڑتا۔ مگر وہ انہیں ایک وقتِ مقررہ تک کے لیے مہلت دیتا ہے۔ پھر جب ان کا وقت مقرر آ جائے گا تو اللہ اپنے بندوں کو دیکھ لے گا۔

٭٭٭

 

 

(۳۶) سورہ یٰسین

 

اللہ رحمٰن و رحیم کے نام سے

 

۱– یا۔ سین

۲– قسم ہے حکمت سے بھرے قرآن کی۔

۳– تم یقیناً رسولوں میں سے ہو۔

۴– سیدھے راستہ پر

۵– یہ نازل کیا ہوا ہے اس کا جو غالب اور رحیم ہے

۶– تاکہ تم ایک ایسی قوم کو خبردار کرو جس کے آباء و اجداد کو خبردار نہیں کیا گیا تھا اسلیے وہ غفلت میں پڑے ہوئے ہیں۔

۷– ان میں سے اکثر لوگوں پر ہمارا قول صادق آ چکا ہے اس لیے وہ ایمان نہیں لاتے۔

۸– ہم نے ان کی گردنوں میں طوق ڈال دیئے ہیں جو ان کی ٹھوڑیوں تک ہیں اس لیے ان کے سر اوپر کو اٹھ رہ گئے ہیں۔

۹– ہم نے ان کے آگے بھی ایک دیوار کھڑی کر دی ہے اور ان کے پیچھے بھی ایک دیوار اور ہم نے ان کو ڈھانک دیا ہے۔ لہذا انہیں کچھ سجھائی نہیں دیتا۔

۱۰– ان کے لیے یکساں ہے تم انہیں خبردار کرو یا نہ کرو۔ وہ ایمان لانے والے نہیں

۱۱– تم اسی کو خبردار کرسکتے ہو جو نصیحت کی پیروی کرے اور رحمن سے بے دیکھے ڈرے ایسے شخص کو مغفرت اور با عزت اجر کی خوشخبری دو۔

۱۲– ہم یقیناً مردوں کو زندہ کریں گے اور ہم لکھ رہے ہیں جو کچھ انہوں نے آگے بھیجا اور جو آثار (نقوش) انہوں نے پیچھے چھوڑے۔ ہم نے ہر چیز کو ایک کھلی کتاب میں درج کر رکھا ہے۔

۱۳– ان کو مثال کے طور پر بستی والوں کا واقعہ سناؤ جب کہ ان کے پاس رسول آئے۔

۱۴– جب ہم نے ان کے پاس دو رسول بھیجے تو انہوں نے ان کو جھٹلایا۔ پھر ہم نے تیسرا رسول بھیج کر (ان رسولوں کی) تائید کی۔ ان سب نے کہا ہم تمہاری طرف رسول بنا کر بھیجے گئے ہیں۔

۱۵– ان لوگوں نے جواب دیا تم تو ہمارے ہی جیسے بشر ہو اور رحمن نے کوئی چیز بھی نازل نہیں کی ہے تم بالکل جھوٹ بولتے ہو۔

۱۶– انہوں نے کہا ہمارا رب جانتا ہے کہ ہم تمہاری طرف رسول بنا کر بھیجے گئے ہیں۔

۱۷– اور ہماری ذمے داری اس کے سوا کچھ نہیں کہ صاف ساف پیغام پہنچا دیں۔

۱۸– ان لوگوں نے کہا ہم تو تمہیں منحوس سمجھتے ہیں اگر تم باز نہ آئے تو ہم تم کو سنگسار کر دیں گے۔ اور تم ہمارے ہاتھوں دردناک سزاپاؤگے۔

۱۹– انہوں نے (رسولوں نے) جواب دیا تمہاری نحوستتمہارے ساتھ لگی ہوئی ہے کیا یہ (سزا) اس بنا پر (دو گے) کہ تمہیں نصیحت کی گئی واقعہ یہ ہے کہ تم حد سے گزرے ہوئے لوگ ہو

۲۰– اور شہر کے آخری کنارے سے ایک شخص دوڑتا ہا آیا اس نے کہا میری قوم کے لوگو! رسولوں کی پیروی کرو۔

۲۱– پیروی کرو ان لوگوں کی جو تم سے کوئی صلہ نہیں مانگتے اور راہِ راست پر ہیں۔

۲۲– اور میں کیوں نہ عبادت کروں اس کی جس نے مجھے پیدا کیا ہے اور جس کی طرف تم سب لوٹائے جاؤ گے

۲۳– کیا میں اس کو چھوڑ کر اور معبود بنا لوں ؟ اگر رحمن مجھے تکلیف پہنانا چاہے تو نہ ان کی سفارش میرے کام آ سکتی ہے اور نہ وہ مجھے چھڑا سکتے ہیں۔

۲۴– اگر میں ایسا کروں تو میں کھلی گمراہی میں ہوں گا۔

۲۵– میں تو تمہارے رب پر ایمان لے آیا تو میری بات سنو

۲۶– ارشاد ہوا جنت میں داخل وہاج۔ اس نے کہا کاش میری قوم جان لیتی۔

۲۷– کہ میرے رب نے میری مغفرت فرمائی اور مجھے با عزت لوگوں میں شامل کیا۔

۲۸– اس کے بعد ہم نے اس کی قوم پر آسمان سے کوئی لشکر نہیں اتارا اور نہ ہم لشکر اتارا کرتے ہیں۔

۲۹– بس ایک ہولناک آواز تھی کہ سب بجھ کر رہ گئے۔

۳۰– افسوس بندوں کے حال پر ! جو رسول بھی ان کے پاس آیا اس کا وہ مذاق ہی اڑاتے رہے

۳۱– کیا انہوں نے دیکھا نہیں کہ ان سے پہلے کتنی ہی قوموں کو ہم ہلاک کر چکے ہیں اور وہ لوگ ان کے پاس واپس آنے والے نہیں

۳۲– اور یقیناً سب ہی ہمارے حضور حاضر کئے جائیں گے۔

۳۳– اور ایک بڑی نشانی ان کے لیے مردہ زمین ہے۔ ہم نے اس کو زندہ کیا اور اس سے غلہ نکالا جسے وہ کھاتے ہیں۔

۳۴– ہم نے اس میں کھجوروں اور انگوروں کے باغ پیدا کئے ہیں۔ اس میں چشمے جاری کر دیئے۔

۳۵– تاکہ وہ اس کے پھل کھائیں۔ یہ ان کے ہاتھ کا کام نہیں ہے۔ پھر کیا وہ شکر نہیں کریں گے

۳۶– پاک ہے وہ جس نے ہر قسم کے جوڑے پیدا کئے۔ زمین کی نباتات میں بھی ان کے اپنے اندر سے بھی اور ان چیزوں کے اندر سے بھی جن کو وہ نہیں جانتے۔

۳۷– ان کے لیے ایک نشانی رات ہے۔ ہم اس سے دن کھینچ لیتے ہیں تو وہ اندھیرے میں رہ جاتے ہیں۔

۳۸– اور سورج اپنی جائے قرار کی طرف چلا جا رہا ہے یہ اس ہستی کی منصوبہ بندی ہے جو غالب اور علم والا ہے

۳۹– اور چاند کہ ہم نے اس کی منزلیں مقرر کر دی ہیں یہاں تک کہ وہ کھجور کی پرانی شاخ کی طرح رہ جاتا ہے

۴۰– نہ سورج کے بس میں ہے کہ چاند کو جا پکڑے اور نہ رات دن سے پہلے آ سکتی ہے۔ سب ایک ایک دائرہ میں حرکت کر رہے ہیں۔

۴۱– اور ان کے لیے ایک بڑی نشانی یہ ہے کہ ہم نے ان کی نسل کو بھری ہوئی کشتی میں سوار کیا۔

۴۲– اور ان کے لیے اسی کی مانند اور (کشتیاں) پیدا کیں جن پر وہ سوار ہوتے ہیں

۴۳– اگر ہم چاہیں تو انہیں غرق کر دیں پھر نہ ان کا کوئی فریاد رس ہو گا اور نہ وہ بچائے جا سکیں گے۔

۴۴– مگر یہ ہماری رحمت ہے اور ایک وقت تک کے لیے فائدہ اٹھانے کا سامان ہے۔

۴۵– اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ ڈرو اس چیز سے جو تمہارے آگے اور پیچھے ہے تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔ (تو وہ منہ موڑ لیتے ہیں)۔

۴۶– اور ان کے رب کی نشانیوں میں سے جو نشانی بھی ان کے پاس آتی ہے وہ اس سے منہ پھیر لیتے ہیں۔

۴۷– اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ اللہ نے جو رزق تمہیں بخشا ہے اس میں سے (محتاجوں پر) خرچ کرو تو یہ کافر ایمان لانے والوں سے کہتے ہیں کیا ہم ان لوگوں کو کھلائیں جن کو اگر اللہ چاہتا تو کھلا دیتا تم لوگ صریح گمراہی میں پڑ گئے ہو۔

۴۸– اور کہتے ہیں یہ (قیامت کا) وعدہ کب پورا ہو گا۔ اگر تم سچے ہو (تو بتاؤ)۔

۴۹– یہ لوگ بس ایک ہولناک آواز کے منتظر ہیں جو انہیں اس حال میں کہ باہم جھگڑ رہے ہوں گے آ پکڑے گی۔

۵۰– پھر نہ تو وصیت کرسکیں گے اور نہ اپنے گھر والوں کے پاس لوٹ ہی سکیں گے۔

۵۱– اور صور پھونکا جائے گا تو یکایک وہ اپنی قبروں سے نکل کر اپنے رب کی طرف دوڑ پڑیں گے۔

۵۲– کہیں گے افسوس ہم پر ! کس نے ہم کو ہماری خواب گاہوں سے اٹھایا؟ یہ وہی ہے جس کا رحمن نے وعدہ کیا تھا اور رسولوں نے کہا تھا۔

۵۳– بس ایک ہولناک آواز ہو گی اور دفعتہً وہ سب کے سب ہمارے حضور حاضر کر دیئے جائیں گے

۵۴– آج کسی پر کوئی ظلم نہ ہو گا اور تمہیں وہی کچھ بدلہ میں ملے گا جو تم کرتے رہے ہو

۵۵– آج جنت والے اپنے مشغلوں میں شاداں و فرحان ہوں گے۔

۵۶– وہ اور ان کی بیویاں سایوں میں تختوں پر تکیہ لگائے ہوئے ہوں گے۔

۵۷– اس میں ان کے لیے میوے ہوں گے اور جو کچھ وہ طلب کریں گے وہ انہیں ملے گا۔

۵۸– ان کو سلام کہلایا جائے گا ربِ رحیم کی طرف سے۔

۵۹– اور اے مجرمو! آج تم الگ ہو جاؤ۔

۶۰– اے اولاد، آدم ! کیا میں نے تمہیں ہدایت نہیں کی تھی کہ شیطان کی عبادت نہ کرو۔ وہ تمہارا کھلا دشمن ہے

۶۱– اور یہ کہ میری ہی عبادت کرو۔ یہ سیدھا راستہ ہے

۶۲– پھر بھی اس نے تم میں سے بڑی خلقت کو گمراہ کر لیا تو کیا تم عقل نہیں رکھتے تھے؟

۶۳– یہ ہے وہ جہنم جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا رہا۔

۶۴– اب داخل ہو جاؤ اس میں اس کفر کی پاداش میں جو تم کرتے رہے۔

۶۵– آج ہم ان کے منہ پر مہر لگا دیں گے اور ان کے ہاتھ ہم سے بات کریں گے اور ان کے پاؤں گواہی دیں گے کہ وہ کیا کرتے رہے ہیں۔

۶۶– اگر ہم چاہیں تو ان کی آنکھیں مٹا دیں پھر وہ راستہ کی طرف بڑھیں۔ انہیں کہاں سے دکھائی دے گا۔

۶۷– اور اگر ہم چاہیں تو انہیں ان کی جگہ ہی پر مسخ کر دیں پھر نہ وہ آگے بڑھ سکیں اور نہ پیچھے لوٹ سکیں۔

۶۸– اور جس کو ہم لمبی عمر دیتے ہیں اس کو ہم خلقت میں اوندھا کر دیتے ہیں۔ پھر کیا وہ عقل سے کام نہیں لیتے؟

۶۹– ہم نے اس (نبی) کو شعر کہنا نہیں سکھا یا اور نہ یہ اس کے شایانِ شان ہے۔ یہ تو ایک یاددہانی اور واضح قرآن ہے۔

۷۰– تاکہ وہ ان لوگوں کو خبردار کر دے جو زندہ ہیں اور کافروں پر حجت قائم ہو جائے۔

۷۱– کیا وہ غور نہیں کرتے کہ ہم نے اپنے ہاتھوں کی بنائی ہوئی چیزوں میں سے ان کے لیے چوپائے پیدا کئے تو وہ ان کے مالک ہیں۔

۷۲– اور ہم نے ان کو ان کے ماتحت کر دیا تو ان میں سے کوئی ان کی سواری کے کام آتا ہے اور کسی کا وہ گوشت کھاتے ہیں۔

۷۳– اور ان کے لیے ان میں دوسری منفعتیں اور مشروبات بھی ہیں پھر کیا وہ شکر نہیں کریں گے؟

۷۴– مگر انہوں نے اللہ کے سوا اور معبود بنا لیے ہیں اس امید پر کہ ان کی مدد کی جائے گی۔

۷۵– وہ ان کی مدد نہیں کرسکتے بلکہ یہ ان کے لشکر کی حیثیت سے حاضر کر دیئے جائیں گے۔

۷۶– تو ان کی باتیں تمہارے لے باعثِ رنج نہ ہوں ہم ان کی ان باتوں کو بھی جانتے ہیں جو یہ چھپاتے ہیں اور ان کو بھی جو یہ ظاہر کرتے ہیں۔

۷۷– کیا انسان نے غور نہیں کیا کہ ہم نے اس کو نطفہ سے پیدا کیا۔ پھر وہ کھلا جھگڑالو بنکر اٹھ کھڑا ہوا!

۷۸– وہ ہمارے لیے مثالیں بیان کرتا ہے اور اپنی پیدائش کو بھول جاتا ہے کہتا ہے ہڈیوں کو کون زندہ کرسکتا ہے جب کہ وہ بوسیدہ ہو چکی ہوں گی۔

۷۹– کہو ان کو وہی زندہ کرے گا جس نے ان کو پہلی مرتبہ پیدا کیا اور وہ ہر مخلوق کو جانتا ہے۔

۸۰– وہی ہے جس نے تمہارے لیے سبز درخت سے آگ پیدا کر دی اور تم اس سے آگ جلاتے ہو۔

۸۱– کیا وہ جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیااس بات پر قادر نہیں کہ ان جیسوں کو پیدا کرے کیوں نہیں ؟ وہ بڑا پیدا کرنے والا علم والا ہے

۸۲– وہ جب کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے تو اسے حکم دیتا ہے کہ “ہو جا” اور وہ ہو جاتی ہے۔

۸۳– تو پاک ہے وہ جس کے ہاتھ میں ہر چیز کا اقتدار ہے اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے۔

٭٭٭

 

 

(۳۷) سورۂ اَلصَّافَّاتٍ

 

اللہ رحمٰن و رحیم کے نام سے

 

۱– صف بہ صف کھڑے ہونے والے (فرشتوں) کی قسم۔

۲– اور ڈانٹنے دھتکارنے والوں کی۔

۳– اور ذکر (الٰہی) کی تلاوت کرنے والوں کی

۴– تمہارا معبود ایک ہی ہے۔

۵– وہ جو آسمانوں اور زمین اور ان کے درمیان کی موجودات کا رب ہے۔ اور تمام مشرقوں کا رب

۶– ہم نے آسمان دنیا کو ستارو ں کی زینت سے آراستہ کیا ہے۔

۷– اور ہر سرکش شیطان سے اس کو محفوظ کر دیا ہے،

۸– وہ ملاء اعلیٰ کی باتیں نہیں سن سکتے اور ہر طرف سے ان پر مار پڑتی۔

۹– وہ دھتکارے جاتے ہیں اور ان کے لیے دائمی عذاب ہے۔

۱۰– اگر کوئی کچھ اچک لے تو ایک چمکتا شعلہ اس کا پیچھا کر تا ہے۔

۱۱– ان سے پوچھو کیا ان کو پیدا کرنا مشکل ہے یا جن کو ہم پیدا کر چکے ہیں ان کو پیدا کرنا مشکل تھا ؟۔ ہم نے ان کو لیسدار مٹی سے پیدا کیا ہے

۱۲– تم تعجب کرتے ہو اور یہ مذاق اڑاتے ہیں۔

۱۳– اور جب ان کو نصیحت کی جاتی تو وہ نصیحت قبول نہیں کرتے۔

۱۴– اور جب کوئی نشانی دیکھتے ہیں تو اس کا مذاق اڑاتے ہیں۔

۱۵– اور کہتے ہیں یہ تو صریح جادو ہے

۱۶– کیا جب ہم مر جائیں گے اور مٹی اور ہڈیاں بن کر رہ جائیں گے تو ہمیں اٹھا کھڑا کیا جائے گا ؟

۱۷– اور کیا ہمارے اگلے باپ دادا کو بھی ؟

۱۸– کہو ہاں اور تم ذلیل بھی ہو گے

۱۹– وہ تو ایک ہیں ڈانٹ ہو گی اور دفعۃً وہ (قیامت کا منظر) دیکھنے لگیں گے

۲۰– کہیں گے ہم پر افسوس ! یہ بدلہ کا دن ہے

۲۱– یہ وہی فیصلہ کا دن ہے جسے تم جھٹلاتے تھے

۲۲– جمع کرو ظالموں کو اور ان کے ساتھیوں کو اور ان کو بھی جن کی یہ پرستش کیا کرتے تھے۔

۲۳– اللہ کو چھوڑ کر (جن کی یہ پرستش کیا کرتے تھے)۔ پھر ان سب کو جہنم کا راستہ دکھاؤ۔

۲۴– اور انہیں (ذرا) ٹھہراؤ۔ ان سے کچھ پوچھنا ہے

۲۵– کیا بات ہے اب تم ایک دوسرے کی مدد نہیں کرتے ؟۔

۲۶– بلکہ یہ تو آج بڑے فرمانبردار بنے ہوئے ہیں۔

۲۷– اور وہ ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہو کر باہم رد و کد کریں گے

۲۸– کہیں گے۔ تم ہی ہمارے پاس دہنی طرف سے آتے تھے

۲۹– وہ جواب دیں گے نہیں بلکہ تم خود ایمان لانے والے نہ تھے۔

۳۰– اور ہمارا تم پر کوئی زور نہ تھا۔ تم خود ہی سرکش لوگ تھے

۳۱– بالآخر ہم پر ہمارے رب کا فرمان پورا ہو کر رہا۔ ہم کو (عذاب کا) مزا چکھنا ہی ہو گا۔

۳۲– تو ہم نے تم کو بہکایا۔ ہم خود بہکے ہوئے تھے

۳۳– اس طرح اس دن وہ سب عذاب میں شریک ہوں گے

۳۴– ہم مجرموں کے ساتھ ایسا ہی کریں گے

۳۵– یہ وہ لوگ تھے کہ جب ان سے کہا جاتا اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں تو تکبر کرتے۔

۳۶– اور کہتے ہم ایک دیوانہ شاعر کے کہنے پر اپنے معبودوں کو چھوڑ دیں

۳۷– حالانکہ وہ حق لے کر آیا تھا اور اس نے رسولوں کی تصدیق کی تھی۔

۳۸– اب تم کو درد ناک عذاب کا مزا چکھنا ہے۔

۳۹– اور تم کو اسی کا بدلہ دیا جائے گا جو تم کرتے رہے ہو۔

۴۰– مگر اللہ کے مخصوص بندے اس سے محفوظ ہوں گے

۴۱– ان کے لیے مقرر رزق ہو گا۔

۴۲– میوے ہوں گے اور انہیں عزت سے سرفراز کیا جائے گا

۴۳– نعمت بھری جنتوں میں۔

۴۴– تختوں پر آمنے سامنے بیٹھے ہوں گے

۴۵– بہتی ہوئی شراب کے جام ان کے درمیان گردش میں ہوں گے۔

۴۶– صاف شفاف۔ پینے والوں کے لیے لذت ہی لذت۔

۴۷– نہ اس میں کوئی ضرر ہو گا اور نہ اس سے ان کی عقل جاتی رہے گی۔

۴۸– اور ان کے پاس نیچی نگاہیں رکھنے والی اور حسین آنکھوں والی عورتیں ہوں گی۔

۴۹– گویا وہ انڈے ہیں چھپائے ہوئے۔

۵۰– پھر وہ ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہو کر حال دریافت کریں گے۔

۵۱– ان میں سے ایک شخص کہے گا میرا ایک ساتھی تھا۔

۵۲– جو کہا کرتا تھا کیا تم بھی تصدیق کرنے والوں میں سے ہو ؟

۵۳– کیا جب ہم مر جائیں گے اور مٹی اور ہڈیاں بن کر رہ جائیں گے تو ہمیں (اٹھا کر) بدلہ دیا جائے گا؟

۵۴– ارشاد ہو گا کیا تم اسے جھانک کر دیکھنا چاہتے ہو ؟

۵۵– وہ جھانک لے گا تو دیکھے گا کہ وہ جہنم کے بیچ میں ہے۔

۵۶– وہ کہے گا اللہ کی قسم تو تو مجھے تباہ ہی کر دینے والا تھا۔

۵۷– اگر مریے رب کا فضل نہ ہوتا تو میں بھی ان لوگوں میں سے ہوتا جو پکڑ کر لائے گئے ہیں۔

۵۸– کیا یہ بات نہیں ہے کہ اب ہم مرنے والے نہیں ہیں ؟

۵۹– بس پہلی موت تھی جو آ چکی اور نہ ہمیں کوئی عذاب دیا جائے گا۔

۶۰– یقیناً یہی بڑی کامیابی ہے۔

۶۱– ایسی ہی کامیابی کے لیے عمل کرنے والوں کو عمل کرنا چاہیے۔

۶۲– یہ ضیافت بہتر ہے یا زقوم کا درخت؟

۶۳– ہم نے اس کو ظالموں کے لیے فتنہ بنایا ہے۔

۶۴– وہ ایسا درخت ہے جو جہنم کی تہہ سے نکلتا ہے

۶۵– اس کے خوشے ایسے ہیں جیسے شیطانوں کے سر۔

۶۶– وہ اس کو کھائیں گے اور اس سے پیٹ بھریں گے۔

۶۷– پھر اس پر ان کی پینے کے لیے گرم پانی دیا جائے گا۔

۶۸– پھر ان کی واپسی آتش جہنم کی طرف ہو گی۔

۶۹– انہوں نے اپنے باپ دادا کو گمراہ پایا۔

۷۰– اور یہ ان ہی کے نقش قدم پر دوڑ رہے ہیں۔

۷۱– ان سے پہلے گزرے ہوئے لوگوں میں بھی اکثر لوگ گمراہ ہوئے تھے

۷۲– اور ہم نے ان میں خبر دار کرنے والے رسول بھیجے تھے۔

۷۳– تو دیکھ لو ان لوگوں کا کیا انجام ہوا جنہیں خبردار کر دیا گیا تھا۔

۷۴– اس انجام سے اللہ کے مخصوص بندے ہی محفوظ رہے۔

۷۵– اور نوح نے ہمیں پکارا تھا تو کیا ہی خوب ہیں ہم پکار کا جواب دینے والے

۷۶– ہم نے اس کو اور اس کے متعلقین کو سخت تکلیف سے نجات دی۔

۷۷– اور اسی کی نسل کو باقی رکھا۔

۷۸– اور بعد والوں میں اس کے لیے ذکر جمیل باقی رکھا

۷۹– سلام ہے نوح پر دنیا والوں میں۔

۸۰– ہم نیکو کاروں کو اسی طرح جزا دیا کرتے ہیں۔

۸۱– بے شک وہ ہمارے مومن بندوں میں سے تھا۔

۸۲– پھر دوسروں کو ہم نے غرق کر دیا۔

۸۳– اور اسی کی جماعت میں سے ابراہیم تھا۔

۸۴– جب کہ وہ اپنے رب کے حضور قلب سلیم لے کر آیا۔

۸۵– جب اس نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے کہا کہ یہ تم کس چیز کی پرستش کرتے ہو ؟

۸۶– کیا اللہ کو چھوڑ کر من گھڑت معبود چاہتے ہو؟

۸۷– اور رب العالمین کے بارے میں تمہارا کیا گمان ہے ؟

۸۸– پھر اس نے ایک نظر تاروں پر ڈالی۔

۸۹– اور کہا میری طبیعت ناساز ہے۔

۹۰– تو وہ لوگ اس کو چھوڑ کر چلے گئے۔

۹۱– پھر وہ چپکے سے ان کے معبودوں کے پاس گیا اور کہا تم لوگ کھاتے نہیں !

۹۲– کیا بات ہے بولتے بھی نہیں !

۹۳– پھر ان پر ٹوٹ پڑا اور سیدھے ہاتھ سے ان پر ضربیں لگائیں۔

۹۴– لوگ اس کے پاس دوڑتے ہوئے آئے۔

۹۵– اس نے کہا کیا تم لوگ اپنی ہی تراشی ہوئی چیزوں کو پو جتے ہو!

۹۶– حالانکہ اللہ ہی نے پیدا کیا ہے تم کو بھی اور ان چیزوں کو بھی جن کو تم بناتے ہو۔

۹۷– انہوں نے (آپس میں) کہا اس کے لیے ایک آتش کدہ بناؤ اور اس کو دہکتی آگ میں جھونک دو۔

۹۸– انہوں نے اس کے ساتھ ایک چال چلنی چاہی مگر ہم نے ان ہی کو نیچا دکھایا۔

۹۹– اور اس نے کہا میں اپنے رب کی طرف جاتا ہوں وہ میری رہنمائی کرے گا۔

۱۰۰– اے مرے رب ! مجھے صالح اولاد عطاء فرما۔

۱۰۱– تو ہم نے اس کو ایک برد بار لڑکے کی بشارت دی۔

۱۰۲– اور جب وہ لڑکا اس کے ساتھ دوڑ دھوپ کرنے کی عمر کو پہنچ گیا تو اس نے کہا اے میرے بیٹھے ! میں خواب میں دیکھتا ہوں کہ تمہیں ذبح کر رہا ہوں تو تمہاری کیا رائے ہے اس نے کہا ابا جان! کر گزریے جس کا حکم آپ کو دیا جا رہا ہے۔ آپ انشاء اللہ مجھے صابر پائیں گے۔

۱۰۳– پھر جب دونوں نے اپنے کو (اپنے رب کے) حوالہ کر دیا اور ابراہیم نے اس کو پیشانی کے بل گرا دیا

۱۰۴– تو ہم نے اس کو آواز دی اے ابراہیم!

۱۰۵– تم نے خواب سچ کر دکھایا۔ ہم نیکو کاروں کو اسی طرح جزا دیا کرتے ہیں۔

۱۰۶– بے شک یہ ایک کھلی آزمائش تھی۔

۱۰۷– اور ہم نے اس (لڑکے) کی جان بچا لی ایک عظیم قربانی کے عوض

۱۰۸– اور ہم نے بعد والوں میں اس کا ذکر جمیل باقی رکھا۔

۱۰۹– سلام ہے ابراہیم پر۔

۱۱۰– اسی طرح ہم نیکو کاروں کو جزا دیتے ہیں۔

۱۱۱– یقیناً وہ ہمارے مومن بندوں میں سے تھا۔

۱۱۲– اور ہم نے اس کو اسحاق کی خوش خبری دی۔ ایک نبی ہو گا صالحین میں سے۔

۱۱۳– اور ہم نے اس پر اور اسحاق پر بر کتیں نازل کیں۔ اور ان دونوں کی نسل میں سے نیکو کار بھی ہیں اور اپنی جانوں پر صریح ظلم کرنے والے بھی۔

۱۱۴– اور ہم نے موسیٰ اور ہارون پر فضل کیا۔

۱۱۵– ان کو اور ان کی قوم کو بہت بڑی مصیبت سے نجات دی

۱۱۶– اور ان کی مدد کی تو وہی غالب رہے۔

۱۱۷– ان کو روشن کتاب عطا کی۔

۱۱۸– اور انہیں سیدھے راستہ کی ہدایت بخشی۔

۱۱۹– اور بعد والوں میں ان کا ذکر جمیل باقی رکھا۔

۱۲۰– سلام ہے موسیٰ اور ہارون پر

۱۲۱– اسی طرح ہم نیکو کاروں کو جزا دیتے ہیں۔

۱۲۲– بے شک وہ ہمارے مومن بندوں میں سے تھے۔

۱۲۳– اور یقیناً الیاس بھی پیغمبروں میں سے تھا۔

۱۲۴– جب اس نے اپنی قوم سے کہا تم لوگ (اللہ سے) ڈرتے نہیں ہو؟ ۱۰۸ّ

۱۲۵– کیا تم بعل کو پکارتے ہو اور بہترین خالق کو چھوڑ دیتے ہو!

۱۲۶– اللہ کو جو تمہارا رب بھی ہے اور تمہارے اگلے باپ دادا کا بھی

۱۲۷– مگر انہوں نے اسے جھٹلایا تو یقیناً انہیں گرفتار کر کے پیش کیا جائے گا

۱۲۸– البتہ اللہ کے خاص بندے اس سے محفوظ ہوں گے۔

۱۲۹– اور بعد والوں میں ہم نے اس کا ذکر جمیل باقی رکھا۔

۱۳۰– سلام ہے اِلیاسین پر۔

۱۳۱– ہم نیک عمل لوگوں کو اسی طرح جزا دیتے ہیں۔

۱۳۲– بے شک وہ ہمارے مومن بندوں میں سے تھا۔

۱۳۳– اور لوط بھی رسولوں میں سے تھا۔

۱۳۴– جب ہم نے اس کو اور اس کے تمام متعلقین کو نجات دی

۱۳۵– سوائے ایک بڑھیا کے جو پیچھے رہ جانے والوں میں سے تھی

۱۳۶– پھر باقی سب کو ہم نے ہلاک کر ڈالا۔

۱۳۷– اور تم ان کی (اجڑی ہوئی) بستیوں پر سے گزرتے ہو صبح کو بھی۔

۱۳۸– اور رات بھی۔ پھر کیا تم عقل سے کام نہیں لیتے !

۱۳۹– اور بے شک یونس بھی رسولوں میں سے تھا۔

۱۴۰– جب وہ بھاگ کر ایک بھری ہوئی کشتی میں جا پہنچا۔

۱۴۱– پھر (کشتی والوں نے) قرعہ ڈالا تو وہ اس میں مغلوب ہو گیا۔

۱۴۲– پھر مچھلی نے اسے نگل لیا اس حال میں کہ وہ (اپنے ہی کو) ملامت کر رہا تھا

۱۴۳– اگر وہ تسبیح کرنے والوں میں سے نہ ہوتا

۱۴۴– تو لوگوں کے اٹھائے جانے کے دن تک وہ اس کے پیٹ میں رہتا

۱۴۵– پھر ہم نے اس کو ایک چَٹیل زمین پر ڈال دیا اس حال میں کہ وہ نڈھال تھا۔

۱۴۶– اور ہم نے اس پر ایک بیل دار درخت لگایا۔

۱۴۷– اور اس کو بھیجا ایک لاکھ سے بھی زیادہ لوگوں کی طرف۔

۱۴۸– وہ ایمان لائے لہٰذا ہم نے ایک وقت ک انہیں سامان زندگی دیا

۱۴۹– ان سے پوچھو کیا تمہارے رب کے لیے بیٹیاں ہیں اور ان کے لیے بیٹے !

۱۵۰– کیا ہم نے فرشتوں کو عورتیں بنایا ہے اور یہ اس کے شاہد ہیں ؟

۱۵۱– سنو، یہ لوگ محض من گھڑت طور پر یہ بات کہہ رہے ہیں۔

۱۵۲– کہ اللہ کے اولاد ہے اور یہ بالکل جھوٹے ہیں۔

۱۵۳– کیا اس نے بیٹوں کے بجائے بیٹیاں پسند کر لیں ؟

۱۵۴– تمہیں کیا ہو گیا ہے کیسا فیصلہ کرتے ہو!

۱۵۵ –کیا تم سوچتے سمجھتے نہیں !

۱۵۶– یا پھر تمہارے پاس واضح حجت ہے۔

۱۵۷– تو پیش کرو اپنی کتاب اگر تم سچے ہو۔

۱۵۸– انہوں نے اللہ اور جنوں کے درمیان بھی نسب کا رشتہ جوڑ رکھا ہے۔ اور جنوں کو معلوم ہے کہ وہ گرفتار کر کے پیش کیے جانے والے ہیں۔

۱۵۹– اللہ پاک ہے ان باتوں سے جو یہ بیان کرتے ہیں۔

۱۶۰– بجز اللہ کے خاص بندوں کے۔

۱۶۱– پس تم اور وہ جن کی تم پرستش کرتے ہو۔

۱۶۲– اس سے کسی کو برگشتہ نہیں کر سکتے۔

۱۶۳– مگر انہیں کو جو جہنم میں جانے والے ہیں

۱۶۴– اور ہم میں سے ہر ایک کا مقام مقرر ہے۔

۱۶۵– اور ہم صف بستہ رہنے والے ہیں۔

۱۶۶– اور ہم تسبیح کرنے والے ہیں۔

۱۶۷– یہ لوگ کہا کرتے تھے۔

۱۶۸– اگر ہمارے پاس اگلے لوگوں کی تعلیم ہوتی

۱۶۹– تو ہم اللہ کے خاص بندے ہوتے۔

۱۷۰– مگر انہوں نے اس کا انکار کر دیا تو وہ عنقریب جان لیں گے۔

۱۷۱– اور ہمارا فرمان ہمارے بھیجے ہوئے بندوں کے لیے پہلے ہی صادر ہو چکا ہے

۱۷۲– کہ یقیناً ان کی مدد کی جائے گی۔

۱۷۳– اور ہمارا لشکر ہی غالب ہو کر رہے گا۔

۱۷۴– تو ان کی طرف سے اپنی توجہ ہٹا لو ایک وقت تک کے لیے۔

۱۷۵– اور دیکھتے رہو۔ وہ بھی عنقریب دیکھ لیں گے۔

۱۷۶– کیا وہ ہمارے عذاب کے لیے جلدی مچا رہے ہیں ؟

۱۷۷– جب وہ ان کے صحن میں اترے گا تو بہت بری ہو گی ان لوگوں کی صبح جن کو اس سے خبر دار کیا جا چکا ہے

۱۷۸– تو ان کی طرف سے توجہ ہٹا لو ایک وقت تک کے لیے۔

۱۷۹– اور دیکھتے رہو وہ بھی عنقریب دیکھ لیں گے۔

۱۸۰– پاک ہے تمہارا رب، رب العزۃ ان باتوں سے جو یہ لوگ بیان کرتے ہیں

۱۸۱– اور سلام ہے پیغمبروں پر

۱۸۲– اور حمد ہے اللہ رب العالمین کے لیے۔

٭٭٭

 

 

(۳۸) سورۂ صٓ

 

اللہ رحمٰن و رحیم کے نام سے

 

۱– صاد یاد دہانی سے بھرے قرآن کی قسم (یہ اللہ کا نازل کیا ہوا ہے)۔

۲– مگر انکار کرنے والے تکبر اور ہٹ دھرمی میں مبتلا ہیں۔

۳– ان سے پہلے ہم کتنی ہی قوموں کو ہلاک رک چکے ہیں۔ وہ اس وقت چیخ اٹھے جب بچنے کی کوئی صورت باقی نہیں رہی تھی۔

۴– ان لوگوں کو اس بات پر تعجب ہوا کہ ان کے پاس ان ہی میں سے ایک خبردار کرنے والا آ گیا۔ اور کافروں نے کہا یہ جادو گر ہے جھوٹا۔

۵– کیا اس نے تمام معبودوں کی جگہ ایک معبود بنا ڈالا؟ یہ تو بڑی عجیب بات ہے

۶– ان کے سردار نکل کھڑے ہوئے کہ چلو اور اپنے معبودوں پر جمے رہو۔ اس بات سے (جو یہ شخص کہہ رہا ہے) مطلوب کچھ اور ہی ہے

۷– یہ بات ہم نے گزرے ہوئے مذہب والوں میں نہیں سنی۔ یہ محض ایک من گھڑت بات ہے۔

۸– کیا ہمارے درمیان اسی شخص پر یاد دہانی نازل کی گئی! اصل بات یہ ہے کہ یہ لوگ میری یاد دہانی کے برے میں شک میں مبتلا ہیں۔ انہوں نے ابھی میرے عذاب کا مزا نہیں چکھا۔

۹– کیا تمہارے غلام اور فیاض رب کی رحمت کے خزانے ان کے پاس ہیں ؟

۱۰– یا یہ آسمانوں اور زمین اور ان کے درمیان کی موجودات پر اقتدار رکھتے ہیں ؟ ایسا ہے تو وہ آسمانوں میں چڑھ جائیں۔

۱۱– یہ (کافر)گروہوں میں سے ایک لشکر ہے جو اسی جگہ شکست کھائے گا۔

۱۲– ان سے پہلے قوم نوح اور عاد اور لشکروں والے فرعون نے جھٹلایا تھا۔

۱۳– اور ثمود اور قوم لوط اور “ایکہ” والوں نے بھی یہ وہ گروہ تھے۔

۱۴– جن میں سے ہر ایک نے رسولوں کو جھٹلایا تو میرا عذاب ان پر واقع ہو گیا۔

۱۵– یہ لوگ ایک ہولناک آواز کے منتظر ہیں جس کے بعد ذرا بھی وقفہ ہو گا

۱۶– اور یہ لوگ کہتے ہیں اے ہمارے رب! روز حساب سے پہلے ہی ہمارا حصہ ہمیں جلد ہمیں جلد دیدے۔

۱۷– اے نبی! ان کی باتوں پر صبر کرو اور ہمارے بندے داؤد کا حال بیان کرو جو قوت والا تھا۔ وہ اللہ کی طرف بڑا ہی رجوع کرنے والا تھا۔

۱۸– ہم نے پہاڑوں کو مسخر کر دیا تھا کہ اس کے ساتھ وہ شام کو اور صبح کو تسبیح کرتے۔

۱۹– اور پرندے بھی جمع ہو کر۔ سب اللہ کی طرف رجوع کرنے والے تھے۔

۲۰– ہم نے اس کی سلطنت مضبوط کر دی تھی۔ اور اس کو حکمت اور قول فیصل عطا کیا تھا۔

۲۱– کیا تمہیں مقدمہ والوں [L:۸] کی خبر پہنچی ہے ؟ جو دیوار پر چڑھ کر خلوت گاہ میں گھس آئے تھے۔

۲۲– جب وہ داؤد کے پاس پہنچے تو وہ انہیں دیکھ کر گھبرا گیا۔ انہوں نے کہا ڈرو نہیں ہم دو فریق مقدمہ ہیں۔ ایک نے دوسرے پر زیادتی کی ہے۔ آپ ہمارے درمیان حق کے ساتھ فیصلہ کر دیجئے اور نا انصافی نہ کیجئے اور ہمیں سیدھی راہ دکھائیے۔

۲۳– یہ میرا بھائی ہے۔ اس کے پاس ننانوے دنبیاں ہیں اور میرے پاس ایک ہی دنبی ہے۔ اس نے کہا یہ بھی میرے حوالے کر دے اور بحث میں اس نے مجھے دبا لیا

۲۴– داؤد نے کہ اس نے تمہاری دنبی کو اپنی دنبیوں کے ساتھ ملانے کا مطالبہ کر کے یقیناً تم پر ظلم کیا اور اکثر شرکا ایک دوسرے پر زیادتی کرتے ہیں۔ بس وہی لوگ اس سے بچے ہوئے ہیں جو ایمان رکھتے اور نیک عمل کرتے ہیں۔

اور ایسے لوگ بہت تھوڑے ہیں اور داؤد سمجھ گیا کہ ہم نے اس کی آزمائش کی ہے اور (یہ خیال آتے ہی) اس نے اپنے رب سے استغفار کیا اور اس کے آگے جھک پڑا اور رجوع کیا۔

۲۵– تو ہم نے اس کا قصور معاف کر دیا۔ اور یقیناً اس کے لیے ہمارے پاس تقریب کا مقام اور بہترین ٹھکانا ہے۔

۲۶– اے داؤد ! ہم نے تمہیں زمین پر خلیفہ بنایا ہے لہٰذا لوگوں کے درمیان حق کے ساتھ فیصلہ کرو اور خواہش نفس کی پیروی نہ کرو کہ وہ تمہیں اللہ کی راہ سے بھٹکا دے۔ جو لوگ اللہ کی راہ سے بھٹکتے ہیں ان کے لیے سخت سزا ہے۔ اس وجہ سے کہ انہوں نے روز حساب کو بھلا دیا۔

۲۷– ہم نے آسمان و زمین اور ان کے درمیان کی موجودات کو بے مقصد نہیں پیدا کیا ہے۔ یہ ان لوگوں کا گمان ہے جنہوں نے کفر کیا۔ تو ایسے کاروں کے لیے آگ کی تباہی ہے۔

۲۸– کیا ہم ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور نیک کام کیے ان لوگوں کی طرح کر دیں گے جو زمین میں فساد برپا کرتے ہیں۔ کیا ہم متقیوں کو فاجروں جیسا کر دیں گے ؟۔

۲۹– یہ بڑی مبارک کتاب ہے جو ہم نے (اے پیغمبر !) تمہاری طرف نازل کی ہے تاکہ وہ اس کی آیتوں میں تدبر (غور) کریں اور عقل رکھنے والے اس سے یاد دہانی حاصل کریں۔

۳۰– اور ہم نے داؤد کو سلیمان عطاء کیا، بہترین بندہ، (اللہ کی طرف) بہت رجوع کرنے والا تھا۔

۳۱– جب اس کے سامنے شام کے تربیت یافتہ تیز رو گھوڑے پیش کیے گئے۔

۳۲– تو اس نے کہا مجھے اس مال سے محبت اللہ کی یاد کی وجہ سے ہے۔ یہاں تک کہ وہ اوٹ میں چھپ گئے۔

۳۳– (اس نے حکم دیا) انہیں میرے پاس واپس لاؤ۔ پھر وہ ان کی پنڈلیوں اور گردنوں پر ہاتھ پھیرنے لگا۔

۳۴– اور ہم نے سلیمان کی آزمائش کی اور اس کی کرسی پر ایک دھڑ ڈال دیا۔ پھر اس نے رجوع کیا۔

۳۵– اس نے دعا کی میرے رب ! مجھے معاف فرما دے اور مجھے ایسی سلطنت عطا کر جو میرے بعد کسی کے لیے سزا وار نہ ہو۔ بے شک تو بڑا بخشنے والا ہے۔

۳۶– تو ہم نے ہوا کو اس کے تابع کر دیا جو اس کے حکم سے نرمی کے ساتھ چلتی جدھر کا وہ قصد کرتا۔

۳۷– اور شیاطین کو اس کے تابع کر دیا۔ ہر قسم کے معمار اور غوطہ خور۔

۳۸– اور دوسرے جو زنجیروں میں جکڑے ہوئے تھے۔

۳۹– یہ ہماری بخشش ہے بے حساب۔ تو احسان کرو یا روک لو۔

۴۰– اور اس کے لیے ہمارے پاس تقرب کا مقام اور بہترین ٹھکانا ہے۔

۴۱– اور ہمارے بندے ایوب کو یاد کرو۔ جب اس نے اپنے رب کو پکارا کہ شیطان نے مجھے سخت دکھ اور تکلیف میں مبتلا کیا ہے۔

۴۲– (ہم نے اس سے کہا) اپنا پاؤں زمین پر مارو۔ یہ ٹھنڈا پانی ہے نہانے کے لیے بھی اور پینے کے لیے بھی۔

۴۳– ہم نے اس کو اس کے اہل و عیال عطا کیے اور ان کے ساتھ اتنے اور بھی۔ اپنی رحمت کے طور پر اور دانشمندوں کے لیے یاد دہانی کے طور پر۔

۴۴– اور (ہم نے اس کو ہدایت کی کہ) تنکوں کا ایک مٹھا (گچھا) اپنے ہاتھ میں لے لو اور اس سے مارو اور اپنی قسم نہ توڑو۔ ہم نے اسے صابر پایا۔ بڑا اچھا بندہ۔ اپنے رب کی طرف بڑا ہی رجوع کرنے والا تھا۔

۴۵– اور ہمارے بندوں ابراہیم، اسحاق اور یعقوب کو یاد کرو جو قوت عمل اور بینائی رکھنے والے تھے۔

۴۶– ہم نے ان کو خالص کر لیا تھا اس گھر کی یاد دہانی کے لیے۔

۴۷– یقیناً وہ ہمارے ہاں چنے ہوئے نیک بندوں میں سے ہیں۔

۴۸– اور اسمٰعیل، اَلیَسعَ، اور ذو الکفل کو یاد کرو۔ یہ سب نیک بندوں میں سے تھے۔

۴۹– یہ یاد دہانی ہے۔ اور یقیناً متقیوں کے لیے بہترین ٹھکانا ہے۔

۵۰– ہمیشگی کی جنتیں جن کے دروازے ان کے لیے کھلے ہوں گے۔

۵۱– ان میں وہ تکئے لگائے بیٹھے ہوں گے۔ بہت سے میوے اور مشروبات طلب کر رہے ہوں گے۔

۵۲– اور ان کے پاس نیچی نگاہوں والی ہم سن عورتیں ہوں گی۔

۵۳– یہ ہے وہ چیز جس کا تم سے حساب کے دن کے لیے وعدہ کیا جا رہا تھا۔

۵۴– یہ ہمارا رزق ہے جو کبھی ختم ہونے والا نہیں۔

۵۵– یہ ہے (متقیوں کا انجام) اور سرکشوں کے لیے بہت برا ٹھکانا ہے۔

۵۶– جہنم جس میں وہ داخل ہوں گے تو کیا ہی بری جگہ ہے وہ !

۵۷– یہ ہے ان کے لیے۔ تو وہ اس کا مزا چکھیں یعنی کھولتے ہوئے پانی اور پیپ کا۔

۵۸– اور اسی قسم کی دوسری چیزوں کا۔

۵۹– یہ لشکر ہے جو تمہارے ساتھ (جہنم میں) گرنے والا ہے۔ ان لوگوں کے لیے خوش آمدید نہیں۔ یہ آگ میں داخل ہونے والے ہیں۔

۶۰– وہ جواب دیں گے بلکہ تمہارے لیے خوش آمدید نہیں۔ تم ہی نے ہمیں اس انجام کو پہنچایا۔ تو بہت برا ہے یہ ٹھکانا۔

۶۱– وہ کہیں گے اے ہمارے رب ! جن لوگوں نے ہمیں اس انجام کو پہنچایا ان کو دوزخ میں دوہرا عذاب دے۔

۶۲– اور وہ کہیں گے کیا بات ہے ہم ان لوگوں کو (یہاں) نہیں دیکھ رہے ہیں جنہیں ہم اشرار میں شمار کرتے تھے۔

۶۳– ہم نے ان کو مذاق بنا لیا تھا یا نگاہیں ان سے چوک رہی ہیں۔

۶۴– بے شک دوزخیوں کی یہ باہمی تکرار ایک امر واقعہ ہے۔

۶۵– کہو میں تو خبر دار کر دینے والا ہوں۔ اور اللہ واحد و قہار کے سوا کوئی معبود نہیں۔

۶۶– آسمانوں ور زمین اور ان کے درمیان کی ساری موجو دات کا مال۔ غالب اور بخشنے والا۔

۶۷– کہو یہ بہت بڑی خبر ہے۔

۶۸– جس سے تم بے توجہی برت رہے ہو۔

۶۹– مجھے ملاء اعلیٰ (عالم بالا والوں) کی کوئی خبر نہ تھی جب وہ جھگڑ رہے تھے۔

۷۰– میری طرف وحی صرف اس لیے کی جاتی ہے کہ میں کھلا خبر دار کرنے والا ہوں۔

۷۱– جب تمہارے رب نے فرشتوں سے کہا میں مٹی سے ایک بشر پیدا کرنے والا ہوں۔

۷۲– تو جب میں اس کو ٹھیک ٹھیک بنا لوں اور اس میں اپنی روح پھونک دوں تو تم اس کے آگے سجدہ میں گر جانا۔

۷۳– چنانچہ تمام فرشتوں نے سجدہ کیا۔

۷۴– سوائے ابلیس کے۔ اس نے گھمنڈ کیا اور کافروں میں سے ہو گیا۔۔

۷۵– فرمایا اے ابلیس ! تجھے کس چیز نے اس کو سجدہ کرنے سے روکا جسے میں نے اپنے دونوں ہاتھوں سے پیدا کیا ہے ؟ تو نے گھمنڈ کیا یا تو سرکش ہو گیا ہے۔

۷۶– اس نے کہا میں اس سے بہتر ہوں۔ تو نے مجھے آگ سے پیدا کیا اور اس کو مٹی سے۔

۷۷– فرمایا یہاں سے نکل جا۔ تو مردود ہے۔

۷۸– اور تجھ پر میری لعنت ہے روز جزا تک۔

۷۹– اس نے کہا اے میرے رب! مجھے اس دن تک کے لیے مہلت دے جب لوگ اٹھائے جائیں گے۔

۸۰– فرمایا تجھے مہلت دی گئی

۸۱– اس دن تک کے لیے جس کا وقت مقرر ہے۔

۸۲– اس نے کہا تیری عزت کی قسم۔ میں ان سب کو بہکا کر رہوں گا۔

۸۳– بجز تیرے ان بندوں کے جن کو تو نے خالص کر لیا ہو۔

۸۴– فرمایا تو حق یہ ہے اور میں حق ہی کہتا ہوں۔

۸۵– کہ میں جہنم کو تجھ سے اور ان سب سے بھر دوں گا جوان میں سے تیری پیروی کریں گے۔

۸۶– کہو میں اس پر تم سے کوئی معاوضہ نہیں مانگتا اور نہ میں بناوٹ کرنے والوں میں سے ہوں۔

۸۷– یہ تو ایک یاد دہانی ہے تمام دنیا والوں کے لیے۔

۸۸– اور تھوڑی ہی مدت بعد تم اس کی (دی ہوئی) خبر معلوم ہو جائے گی۔

٭٭٭

 

 

(۳۹) سورۂ الزُّمر

 

اللہ رحمن و رحیم کے نام سے

 

۱–اس کتاب کا اتارا جانا اللہ کی طرف سے ہے جو غالب اور حکمت والا ہے۔

۲–یہ کتاب ہم نے تمہاری طرف (مقصدِ) حق کے ساتھ اتاری ہے۔ لہٰذا تم اللہ ہی کی عبادت کرو دین (عاجزی و بندگی) کو اس کے لیے خالص کرتے ہوئے۔

۳–سنو! خالص دین (بندگی) اللہ ہی کے لیے ہے۔ اور جن لوگوں نے دوسرے کار ساز بنا رکھے ہیں (اور کہتے ہیں) ہم ان کی عبادت صرف اس لیے کرتے ہیں کہ وہ ہمیں اللہ سے قریب کر دیں۔ اللہ یقیناً ان لوگوں کے درمیان اس بات کا فیصلہ کر دے گا جس میں وہ اختلاف کر رہے ہیں۔ اللہ کسی ایسے شخص کو راہیاب نہیں کرتا جو جھوٹا اور نا شکرا ہو۔

۴–اگر اللہ بیٹا بنانا چاہتا تو اپنی مخلوق میں سے جس کو چاہتا چن لیتا۔ وہ پاک ہے (اس سے کہ اس کا بیٹا ہو)۔ وہ اللہ ایک ہے سب پر مضبوط گرفت رکھنے والا۔

۵–اس نے آسمانوں اور زمین کو با مقصد پیدا کیا ہے۔ وہ رات کو دن پر اور دن کو رات پر لپیٹتا ہے اور اسی نے سورج اور چاند کو مسخر کر رکھا ہے کہ ہر ایک وقت مقرر تک چلا جا رہا ہے۔ سنو! وہ غالب ہے معاف کرنے والا۔

۶–اس نے تم کو ایک جان سے پیدا کیا پھر اس سے اس کا جوڑا بنایا۔ اور اس نے تمہارے لیے مویشیوں کی آٹھ قسمیں (نر و مادہ) پیدا کیں۔ وہ تمہیں تمہارے ماؤں کے پیٹ میں تین تاریکیوں کے درمیان پیدا کرتا ہے ایک خلقت کے بعد دوسری خلقت میں۔ وہی اللہ تمہارا رب ہے۔ اسی کی فرمانروا ئی ہے۔ اس کے سوا کوئی خدا نہیں پھر تم کو کہاں پھیرا جا رہا ہے ؟

۷–اگر تم ناشکری کرو تو اللہ تم سے بے نیاز ہے (تمہارا محتاج نہیں) اور اپنے بندوں کے لیے ناشکری کو پسند نہیں کرتا۔ اور اگر تم شکر کرو تو وہ اسے تمہارے لیے پسند کرتا ہے۔ کوئی بوجھ اٹھانے والا کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔ پھر تمہاری واپسی تمہارے رب ہی کی طرف ہے وہ تمہیں بتائے گا کہ تم کیا کرتے رہے ہو۔ وہ دلوں کا حال جانتا ہے۔

۸–انسان کو جب کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو وہ اپنے رب کی طرف رجوع ہو کر اسے پکارتا ہے۔ پھر جب وہ اسے اپنی نعمت عطا فرماتا ہے تو وہ اس چیز کو بھول جاتا ہے جس کے لیے وہ پہلے پکار رہا تھا۔ اور اللہ کے ہمسر (برابری کے) ٹھہرانے لگتا ہے تاکہ (لوگوں کو) اس کی راہ سے بھٹکا دے۔ (ایسے شخص سے) کہو اپنے کفر سے تھوڑے دن فائدہ اٹھا لے۔ تو یقیناً دوزخ والو ں میں سے ہے۔

۹–کیا وہ شخص جو رات کی گھڑیوں میں سجدہ اور قیام کی حالت میں عبادت میں سرگرم رہتا ہے، آخرت کا اندیشہ رکھتا ہے اور اپنے رب کی رحمت کا امیدوار ہے اور وہ جو کافر ہے دونوں برابر ہو سکتے ہیں ان سے پوچھو کیا وہ جو علم رکھتے ہیں اور جو علم نہیں رکھتے دونوں یکساں ہو سکتے ہیں ؟ یاد دہانی تو اہلِ دانش ہی حاصل کرتے ہیں۔

۱۰–کہو۔ (اللہ فرماتا ہے) اے میرے بندو جو ایمان لائے ہو اپنے رب سے ڈرو۔ جو لوگ اس دنیا میں نیک بن کر رہے ان کے لیے نیک بدلہ ہے۔ اور اللہ کی زمین کشادہ ہے صبر کرنے والوں کو تو ان کا اجر بے حساب دیا جائے گا۔

۱۱–کہو۔ مجھے حکم دیا گیا ہے میں اللہ ہی کی عبادت کروں دین (طاعت و بندگی) کو اس کے لیے خالص کر کے۔

۱۲–اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں سب سے پہلے مسلم بنوں۔

۱۳–کہو اگر میں اپنے رب کی نا فرمانی کروں تو مجھے ایک سخت دن دن کے عذاب کا ڈر ہے۔

۱۴–کہو میں تو اللہ ہی کی عبادت کرتا ہوں دین (خضوع و بندگی) کو اس کے لیے خالص کر کے۔

۱۵–تم اس کے سوا جس کی چاہو عبادت کرو۔ کہو حقیقی خسارہ میں رہنے والے وہی لوگ ہیں جنہوں نے قیامت کے دن اپنے کو اور اپنے اہل و عیال کو خسارہ میں ڈالا۔ سنو یہی کھلا خسارہ ہے۔

۱۶–ان کے لیے آگ کی تہیں ہوں گی اوپر سے بھی اور نیچے سے بھی۔ یہ ہے وہ چیز جس سے اللہ اپنے بندوں کو ڈراتا ہے۔ اے میرے بندو! میرا تقویٰ اختیار کرو۔

۱۷–اور جن لوگوں نے طاغوت کی عبادت سے اجتناب کیا اور اللہ کی طرف رجوع کر لیا ان کے لیے خوشخبری ہے۔ تو میرے ان بندوں کو خوشخبری دے دو۔

۱۸–جو کلام کو توجہ سے سنتے ہیں اور بہترین معنی کی پیروی کرتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کو اللہ نے ہدایت بخشی ہے اور یہی دانشمند ہیں۔

۱۹–کیا جس پر عذاب کا فرمان لاگو ہو گیا ہو (اسے کوئی بچا سکتا ہے ؟) کیا تم اسے بچا سکتے ہو جو دوزخ میں جانے والا ہو؟

۲۰–البتہ جو لوگ اپنے رب سے ڈرتے رہے ان کے لیے (ایسی بلند عمارتیں ہوں گی جن میں) بالا خانوں پر بالا خانے بنے ہوئے ہوں گے۔ ان کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی۔ یہ اللہ کا وعدہ ہے۔ اللہ اپنے وعدہ کی خلاف ورزی نہیں کرتا۔

۲۱–کیا تم نہیں دیکھتے کہ اللہ آسمان سے پانی برساتا ہے پھر اس کو زمین کے اندر چشموں کی شکل میں جاری کر دیتا ہے پھر اس سے مختلف قسم کی کھیتیاں پیدا کر دیتا ہے۔ پھر وہ سوکھ جاتی ہیں اور تم دیکھتے ہو کہ وہ زرد پڑ گئی ہیں۔ پھر وہ ان کو ریزہ ریزہ کر دیتا ہے۔ یقیناً اس میں یاد دہانی ہے۔ عقل رکھنے والوں کے لیے۔

۲۲–کیا وہ شخص جس کا سینہ اللہ نے اسلام کے لیے کھول دیا ہے اور وہ اپنے رب کی طرف سے روشنی پر ہے (اس شخص کی طرح ہو سکتا ہے جو تاریکیوں میں بھٹک رہا ہو ؟ تو تباہی ہے ان کے لیے جن کے دل اللہ کے ذکر کی طرف سے سخت ہو گئے ہیں۔ یہ لوگ کھلی گمراہی میں پڑے ہوئے ہیں۔

۲۳–اللہ نے بہترین کلام نازل فرمایا ہے۔ ایک ایسی کتاب جس کی آیتیں ایک دوسرے سے ملتی جلتی ہیں اور اس قابل ہیں کہ بار بار دہرائی جائیں اس سے ان لوگوں کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں۔ پھر ان کے بدن اور ان کے دل نرم ہو کر اللہ کے ذکر کی طرف راغب ہو جاتے ہیں۔ یہ اللہ کی ہدایت ہے ہے جس کے ذریعے وہ راہیاب کرتا ہے جسے چاہتا ہے۔ اور جس پر اللہ راہ گم کر دے اس کو کوئی ہدایت دینے والا نہیں۔

۲۴–پھر کیا وہ شخص جو قیامت کے دن برے عذاب سے بچنے کے لیے اپنے چہرہ کو سپر بنائے گا۔ (اور وہ شخص جو عذاب سے محفوظ ہو گا دونوں یکساں ہوں گے ؟) اور ظالموں سے کہا جائے گا جو کمائی تم کرتے رہے ہو اس کا مزا چکھو۔

۲۵–ان سے پہلے کے لوگ جھٹلا چکے ہیں تو ان پر ایسے رُخ سے عذاب آیا جس کا وہ گمان بھی نہیں کر سکتے تھے۔

۲۶–تو اللہ نے ان کو دنیا کی زندگی میں بھی رسوائی کا مزا چکھایا اور آخرت کا عذاب تو بہت بڑا ہے۔ کاش یہ لوگ جانتے !

۲۷–اور ہم نے اس قرآن میں لوگوں کے لیے ہر طرح کی مثالیں بیان کر دی ہیں۔ تاکہ وہ یاد دہانی حاصل کریں۔

۲۸–عربی قرآن جس میں کوئی ٹیڑھ نہیں تاکہ وہ (عذاب سے) بچیں۔

۲۹–اللہ مثال بیان فرماتا ہے ایک شخص (غلام) کی جس کی ملکیت میں نزاع کرنے والے کئی آقا شریک ہیں اور دوسرا شخص جو پورا کا پورا ایک ہی آقا کا غلام ہے۔ کیا ان دونوں کا حال یکساں ہو سکتا ہے ؟ اللہ کے لیے حمد ہے مگر اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں۔

۳۰–(اے نبی!) تم کو بھی مرنا ہے اور ان لوگوں کو بھی مرنا ہے۔

(۳۱–پھر قیامت کے دن تم لوگ اپنے رب کے حضور اپنا مقدمہ پیش کرو گے۔

۳۲–پھر اس سے بڑھ کر ظالم اور کون ہو گا جس نے اللہ پر جھوٹ باندھا اور سچائی جب اس کے پاس آئی تو اسے جھٹلایا۔ کیا ایسے کافروں کا ٹھکانہ جہنم میں نہیں ہے ؟

۳۳–اور جو سچائی لے کر آیا اور جس نے اس کو سچ مانا ایسے ہی لوگ متقی ہیں۔

۳۴–ان کے لیے ان کے رب کے پاس وہ سب کچھ ہو گا جو وہ چاہیں گے یہ جزا ہے نیکو کاروں کی۔

۳۵–تاکہ اللہ دور کر دے ان کے بُرے سے بُرے عمل کو اور جو بہترین اعمال وہ کرتے رہے ان کی انہیں جزا دے۔

۳۶–کیا اللہ اپنے بندہ کے لیے کافی نہیں ہے ؟ یہ لوگ تمہیں ان (معبودوں) سے ڈراتے ہیں جو انہوں نے اس کو چھوڑ کر بنا رکھے ہیں اور جس کو اللہ گمراہ کر دے اس کو ہدایت دینے والا کوئی نہیں۔

۳۷–اور جس کو اللہ ہدایت دے اسے کوئی گمراہ نہیں کر سکتا۔ کیا اللہ غالب اور سزا دینے والا نہیں ہے ؟

۳۸–اگر تم ان سے پوچھو آسمانوں اور زمین کو کس نے پیدا کیا ہے تو وہ کہیں گے اللہ نے کہو پھر تم نے یہ بھی سوچا کہ جن کو تم ہو جتے ہو وہ کیا اس تکلیف کو جو اللہ مجھے پہنچانا چاہے دور کر سکتے ہیں ؟ یا اگر وہ مجھ پر مہربانی کرنا چاہے تو کیا یہ اس کی رحمت کو روک سکتے ہیں ؟ کہو میرے لیے اللہ کافی ہے اور بھروسہ کرنے والے اسی پر بھروسہ کرتے ہیں۔

۳۹–کہو اے میری قوم کے لوگو! تم اپنی جگہ کام کرو میں اپنی جگہ کام کرتا رہوں گا۔ عنقریب تمہیں معلوم ہو جائے گا۔

۴۰–کہ کس پر وہ عذاب آتا ہے جو اسے رسوا کر کے رکھ دے گا اور وہ عذاب نازل ہوتا ہے جو اس پر قائم رہنے والا ہو گا۔

۴۱–اور ہم نے لوگوں کے لیے یہ کتاب تم پر حق کے ساتھ اتاری ہے۔ تو جو ہدایت حاصل کرے گا وہ اپنے ہی لیے کرے گا اور جو گمراہ ہو گا تو اس کی گمراہی کا وبال اسی پر پڑے گا۔ اور (اے پیغمبر!) تم ان پر ذمہ دار نہیں مقرر کئے گئے ہو۔

۴۲–اللہ ہی جانوں (روحوں) کو قبض کرتا ہے ان کی موت کے وقت اور ان (جانوں) کو بھی جن کو موت نہیں آئی نیند کی حالت میں۔ پھر جن کی موت کا فیصلہ وہ کر چکا ہوتا ہے ان کو وہ روک لیتا ہے۔ اور دوسری جانوں (روحوں) کو ایک مقررہ وقت کے لیے واپس بھیج دیتا ہے۔ اس میں نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو غور و فکر کرتے ہیں۔

۴۳–کیا انہوں نے اللہ کو چھوڑ کر دوسروں کو (اس کے حضور) سفارشی بنا رکھا ہے کہو کیا وہ اس صورت میں بھی سفارش کریں گے جبکہ وہ نہ کوئی اختیار رکھتے ہوں اور نہ سمجھتے ہوں ؟

۴۴–کہو شفاعت ساری کی ساری اللہ کے اختیار میں ہے۔ آسمانوں اور زمین کی فرمانروائی اللہ ہی کے لیے ہے۔ پھر تم اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔

۴۵–جب صرف اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے تو آخرت پر ایمان نہ رکھنے والوں کے دل کڑھنے لگتے ہیں اور جب اس کے سوا دوسروں کا ذکر ہوتا ہے تو وہ خوش ہو جاتے ہیں۔

۴۶–کہو اے اللہ ! آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے والے، غائب اور حاضر کے جاننے والے، تو اپنے بندوں کے درمیان ان باتوں کا فیصلہ کرے گا جن کے بارے میں وہ اختلاف کر رہے ہیں۔

۴۷–اور اگر اِن ظالموں کے پاس وہ سب کچھ ہو جو زمین میں ہے اور اسی کے بقدر اور بھی ہو تو یہ قیامت کے دن بُرے عذاب سے بچنے کے لیے سب کچھ فدیہ میں دینے کے لیے تیار ہو جائیں گے۔ اور اللہ کی طرف سے وہ کچھ ان کے سامنے آئے گا جس کا ان کو گمان بھی نہیں تھا۔

۴۸–ان کی کمائی کے بُرے نتائج ان کے سامنے آئیں گے اور جس چیز کا وہ مذاق اڑاتے رہے ہیں وہ ا ن کو گھیر لے گی۔

۴۹–جب انسان کو کوئی دکھ پہنچتا ہے تو ہمیں پکارتا ہے پھر جب ہم اسے اپنی طرف سے نعمت عنایت کرتے ہیں تو کہتا ہے کہ یہ تو مجھے (اپنے) علم کی بنا پر ملی ہے۔ نہیں بلکہ یہ ایک آزمائش ہے لیکن اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں۔

۵۰–یہی بات ان سے پہلے کے لوگوں نے بھی کہی تھی مگر انہوں نے جو کچھ کمایا تھا وہ ان کے کچھ کام نہ آیا۔

۵۱–اور اپنی کمائی کے برے نتائج ان کو بھگتنا پڑے۔ اور ان لوگوں میں سے بھی جو ظالم میں وہ اپنی کمائی کے بُرے نتائج سے عنقریب دوچار ہوں گے۔ وہ ہمارے قابو سے نکل جانے والے نہیں ہیں۔

۵۲–کیا انہیں نہیں معلوم کہ اللہ جس کے لیے چاہتا ہے رزق کشادہ کر دیتا ہے اور جس کے لیے چاہتا ہے نپا تلا کر دیتا ہے۔ یقیناً اس میں نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو ایمان لاتے ہیں۔

۵۳–(اے نبی!) کہہ دو کہ (اللہ فرماتا ہے) اے میرے بندو جنہوں نے اپنے نفس پر زیادتی کی ہے اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہوں۔ اللہ سارے گناہ بخش دے گا۔ وہ بڑا معاف کرنے والا رحم فرمانے والا ہے۔

۵۴–اور رجوع کرو اپنے رب کی طرف اور اس کے فرمانبردار بنو قبل اس کے کہ تم پر عذاب آئے پھر تم کو کوئی مدد مل نہ سکے گی۔

۵۵–اور تمہارے رب کی طرف سے جو بہترین چیز تمہاری طرف نازل ہوئی ہے اس کی پیروی کرو قبل اس کے کہ تم پر اچانک عذاب آئے اور تم کو اس کی خبر بھی نہ ہو۔

۵۶–کہیں ایسا نہ ہو کہ کوئی شخص کہنے لگے افسوس میری اس کوتاہی پر جو میں اللہ کے معاملہ میں کرتا رہا اور میں مذاق اڑانے والوں میں سے تھا۔

۵۷–یا کہنے لگے اگر اللہ نے مجھے ہدایت دی ہوتی تو میں بھی متقیوں میں سے ہوتا۔

۵۸–یا جب عذاب کو دیکھ لے تو کہنے لگے اگر مجھے (دنیا میں) لوٹنے کا ایک اور موقع مل جائے تو میں نیک عمل کرنے والوں میں سے بن جاؤں۔

۵۹–کیوں نہیں، میری آیتیں تیرے پاس آئی تھیں لیکن تو نے ان کو جھٹلایا اور تکبر کیا اور تو کافروں میں سے تھا۔

۶۰–اور جن لوگوں نے اللہ پر جھوٹ باندھا ہے قیامت کے دن تم دیکھو گے کہ ان کے چہرے سیاہ ہیں۔ کیا ان تکبر کرنے والوں کا ٹھکانہ جہنم نہیں ہیں ؟

۶۱–اور اللہ ان لوگوں کو نجات دے گا جو متقی بنے رہے ان کے کامیاب ہونے کی بنا پر۔ ان کو نہ کوئی تکلیف پہنچے گی اور نہ و ہ غمگین ہوں گے۔

۶۲–اللہ ہر چیز کا خالق ہے اور ہر وہ چیز پر نگہبان ہے۔

۶۳–آسمانوں اور زمین کی کنجیاں اسی کے پاس ہیں اور جنہوں نے اللہ کی آیتوں کا انکار کیا وہی لوگ گھاٹے میں رہنے والے ہیں۔

۶۴–کہو اے جاہلو! کیا تم مجھے اللہ کے سوا کسی اور کی عبادت کرنے کا حکم دیتے ہو؟

۶۵–حالانکہ تمہاری طرف بھی اور تم سے پہلے گزرے ہوئے (انبیاء) کی طرف بھی یہ وحی بھیجی جاچکی ہے کہ تم نے شرک کیا تو تمہارا عمل ضائع ہو جائے گا اور تم گھاٹے میں رہو گے۔

۶۶–(لہٰذا غیر اللہ کی عبادت نہ کرو) بلکہ اللہ ہی کی عبادت کرو اور اس کے شکر گزار بنو۔

۶۷–ان لوگوں نے اللہ کی قدر نہیں کی جیسا کہ اس کی قدر کرنے کا حق ہے۔ قیامت کے دن پوری زمین اس کی مٹھی میں ہو گی اور آسمان اس کے دہنے ہاتھ میں لپٹے ہوئے ہوں گے۔ پاک اور برتر ہے وہ اس شرک سے جو یہ کرتے ہیں۔

۶۸–اور صور پھونکا جائے گا تو جو بھی آسمانوں اور زمین میں ہیں سب بیہوش ہو کر گر پڑیں گے سوائے ان کے جن کو اللہ چاہے (کہ بے ہوش نہ ہوں) پھر دوسرا صور پھونکا جائے گا تو یکایک لوگ اٹھ کھڑے ہوں گے اور دیکھنے لگیں گے۔

۶۹–زمین اپنے رب کے نور سے چمک اٹھے گی، اعمال کا ریکارڈ رکھ دیا جائے گا، انبیاء اور گواہ حاضر کر دیئے جائیں گے اور لوگوں کے درمیان حق کے ساتھ فیصلہ کر دیا جائے گا اور ان کے ساتھ کوئی نا انصافی نہیں کی جائے گی۔

۷۰–ہر شخص کو اس کے عمل کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا۔ لوگ جو کچھ کرتے ہیں اس کو وہ خوب جانتا ہے۔

۷۱–اور کافروں کی طرف گروہ در گروہ ہنکاتے ہوئے لے جایا جائے گا۔ یہاں تک کہ جب وہ اس کے پاس پہنچیں گے تو اس کے دروازے کھول دئے جائیں گے اور اس کے نگراں ان سے پوچھیں گے کیا تمہارے پاس تم ہی میں سے رسول نہیں آئے تھے جنہوں نے تمہارے رب کی آیتیں تمہیں سنائی ہوں اور تمہارے اس دن کے پیش آنے سے تمہیں ڈرایا ہو؟ وہ کہیں گے ضرور آئے تھے لیکن کافروں پر عذاب کا فرمان پورا ہو کر رہا۔

۷۲–کہا جائے گا داخل ہو جاؤ جہنم کے دروازوں میں۔ اس میں ہمیشہ رہو گے۔ تو کیا ہی برا ٹھکانہ ہے متکبروں کا !

۷۳–اور جو لوگ اللہ سے ڈرتے رہے انہیں گروہ در گروہ جنت کی طرف لے جایا جائے گا یہاں تک کہ جب وہ اس کے پاس پہنچیں گے اور اس کے دروازے کھول دیئے گئے ہوں گے تو اس کے پاسبان ان سے کہیں گے سلام ہو تم پر، اچھے ہو تم، داخل ہو جاؤ اس میں ہمیشہ کے لیے۔

۷۴–وہ کہیں گے شکر ہے اللہ کا جس نے ہمارے حق میں اپنا وعدہ سچا کر دکھایا اور ہم کو زمین کا وارث بنایا کہ ہم جنت میں جہاں چاہیں رہیں۔ تو کیا خوب اجر ہے (نیک) عمل کرنے والوں کا!

۷۵–اور تم دیکھو گے کہ فرشتے عرش کے گرد حلقہ بنائے اپنے رب کی حمد و تسبیح کر رہے ہیں اور لوگوں کے درمیان حق کے ساتھ فیصلہ کر دیا جائے گا اور کہا جائے گا کہ حمد ہے اللہ رب العالمین کے لیے

٭٭٭

 

 

(۴۰) سورۂ المُؤمِنون

 

اللہ رحمن و رحیم کے نام سے

 

۱– حا۔ میم

۲– اس کتاب کا اتارا جانا اللہ کی طرف سے ہے جو غالب اور علم والا ہے۔

۳– گناہ بخشنے والا، توبہ قبول کرنے والا، سخت سزا دینے والا اور بڑے فضل والا ہے۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ اسی کی طرف لوٹنا ہے۔

۴– اللہ کی آیتوں میں وہی لوگ بحثیں کھڑی کرتے ہیں جو کافر ہیں۔ بڑے بڑے شہروں میں ان کی آمد و رفت تمہیں دھوکہ میں نہ ڈالے۔

۵– اس سے پہلے نوح کی قوم بھی جھٹلا چکی ہے اور ان کے بعد دوسری قومیں بھی۔ ہر قوم نے اپنے رسول کو اپنی گرفت میں لینا چاہا۔ باطل کا سہارا لے کر وہ بحثیں کرتے رہے تاکہ اس کے ذریعہ حق کو شکست دیں۔ مگر میں نے ان کو پکڑ لیا۔ تو دیکھو کیسا رہا میرا عذاب !

۶– اسی طرح تمہارے رب کا فرمان ان لوگوں پر لاگو ہو گیا ہے جنہوں نے کفر کیا ہے کہ وہ جہنمی ہیں۔

۷–(وہ فرشتے ) جو عرش کو اٹھائے ہوئے ہیں ۹ اور جو اس کے ارد گرد ہیں وہ اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح کرتے ہیں ! اور اس پر ایمان رکھتے ہیں۔ اور جو ایمان لائے ہیں ان کے لیے وہ مغفرت کی دعا کرتے ہیں کہ اے ہمارے رب ! تو اپنی رحمت اور اپنے علم سے ہر چیز کا احاطہ کئے ہوئے ہے تو ان لوگوں کو معاف کر دے جنہوں نے توبہ کی اور تیرے راستے پر چلے اور انہیں عذاب جہنم سے بچا۔

۸–اے ہمارے رب! ان کو ہمیشگی کی جنتوں میں داخل کر جن کا تو نے ان سے وعدہ کیا ہے۔ اور ان کو بھی جو ان کے والدین، ان کی بیویوں اور ان کی اولاد میں سے صالح ہوں۔ بیشک تو غالب اور حکمت والا ہے۔

۹– اور انہیں برے نتائج سے بچا۔اور جن کو تو نے اس دن برے نتائج سے بچایا ان پر تو نے یقیناً رحم فرمایا۔ یہی بڑی کامیابی ہے۔

۱۰– جن لوگوں نے کفر کیا ہے ان کو پکار کر کہا جائے گا تم اپنے سے جس قدر بیزار ہو اس سے کہیں زیادہ بیزار تم سے اللہ تھا جب کہ تم کو ایمان لانے کی دعوت دی جاتی تھی اور تم کفر کرتے تھے۔

۱۱– وہ کہیں گے اے ہمارے رب! تو نے ہمیں دو مرتبہ موت دی اور دو مرتبہ زندگی دی۔ اب ہم اپنے گناہوں کا اعتراف کرتے ہیں۔ تو کیا یہاں سے نکلنے کی بھی کوئی سبیل ہے ؟

۱۲– تم اس انجام کو اس لیے پہنچے کہ جب اللہ وحدہٗ کی طرف بلایا جاتا تھا تو تم انکار کرتے تھے اور جب اس کے شریک ٹھہرائے جاتے تو تم مانتے تھے۔ اب حکم(فیصلہ) اللہ بلند و برتر ہی کا ہے۔

۱۲– وہی ہے جو تمہیں اپنی نشانیاں دکھاتا ہے اور آسمان سے تمہارے لیے رزق نازل کرتا ہے۔ مگر یاد دہانی وہی حاصل کرتا ہے جو(اللہ کی طرف)۔ رجوع کرنے والا ہو۔

۱۴– تو اللہ ہی کو پکارو دین(بندگی) کو اس کے لیے خالص کر کے۔ خواہ کافروں کو کتنا ہی ناگوار ہو۔

۱۵– وہ بلند درجوں والا،مالکِ عرش ہے۔ اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے اپنے حکم سے روح(وحی) نازل کرتا ہے تاکہ وہ پیشی کے دن سے خبردار کرے۔

۱۶– و دن کہ لوگ نکل پڑیں گے۔ ان کی کوئی بات اللہ سے مخفی نہیں ہو گی۔ آج بادشاہی کس کی ہے ؟ اللہ واحد قہار کی۔

۱۷– آج ہر نفس کو اس کی کمائی کا بدلہ دیا جائے گا۔ آج کوئی ظلم نہ ہو گا۔ بیشک اللہ حساب چکانے میں تیز ہے۔

۱۸– اور ڈراؤ ان کو اس دن سے جو قریب آ لگا ہے۔ جب کلیجے منہ کو آ لگیں گے اور وہ غم سے گھٹ رہے ہوں گے۔ ظالموں کا نہ کوئی دوست ہو گا اور نہ سفارشی جس کی بات مانی جائے۔

۱۹– وہ نگاہوں کی خیانت بھی جانتا ہے۔ اور وہ باتیں بھی جو سینوں نے چھپا رکھی ہیں۔ کسی چیز کا بھی فیصلہ کرنے والے نہیں۔ بلا شبہ اللہ ہی سب کچھ سننے والا دیکھنے والا ہے۔

۲۱– کیا یہ لوگ زمین میں چلے پھرے نہیں کہ دیکھ لیتے ان لوگوں کا انجام کیا ہوا جو ان سے پہلے گزر چکے ہیں۔ وہ قوت میں بھی ان سے کہیں بڑھ کر تھے اور زمین پر آثار چھوڑنے کے اعتبار سے بھی۔ مگر اللہ نے ان کو ان کے گناہوں کی وجہ سے پکڑ لیا اور کوئی نہ تھا جو ان کو اللہ(کی پکڑ) سے بچاتا۔

۲۲– یہ اس لیے ہوا کہ ان کے پاس ان کے رسول واضح نشانیاں لے کر آئے تھے مگر انہوں نے انکار کیا تو اللہ نے ان کو پکڑ لیا۔ یقیناً وہ بڑی قوت والا اور سخت سزا دینے والا ہے

۲۲– ہم نے موسیٰ کو اپنی نشانیوں اور واضح حجت کے ساتھ بھیجا

۲۴– فرعون، ہامان ۳۷ اور قارون کی طرف تو انہوں نے کہا یہ جادوگر ہے جھوٹا۔

۲۵– اور جب وہ ہمارے پاس سے حق لے کر ان کے پاس آیا تو انہوں نے کہا قتل کرو ان لوگوں کے بیٹوں کا جو اس کے ساتھ ایمان لائے ہیں اور ان کی لڑکیوں کو زندہ رہنے دو۔ مگر ان کافروں کی چال اکارت گئی۔

۲۶– اور فرعون نے کہا مجھے چھوڑ دو کہ میں موسیٰ کو قتل کروں اور وہ اپنے رب کو پکارے۔ مجھے اندیشہ ہے کہ وہ کہیں تمہارا دین نہ بدل ڈالے۔ یا زمین میں فساد نہ برپا کرے۔

۲۷– موسیٰ نے کہا میں نے ہر متکبر(کے شر) سے جو روزِ حساب پر ایمان نہیں رکھتا اپنے اور تمہارے رب کی پناہ لی۔

۲۸– اور ایک مرد مومن جو آلِ فرعون میں سے تھا اور اپنے ایمان کو چھپائے ہوئے تھا۔ بول اٹھا کیا تم ایک شخص کو اس بنا پر قتل کرو گے کہ وہ کہتا ہے میرا رب اللہ ہے حالانکہ وہ تمہارے رب کی طرف سے واضح نشانیاں لے کر آیا ہے۔ اگر وہ جھوٹا ہوا تو اس کے جھوٹ کا وبال اسی پر پڑے گا۔ اور اگر وہ سچا ہوا تو جس عذاب سے وہ تمہیں ڈرا رہا ہے وہ کسی نہ کسی حد تک ضرور تم کو پہنچ کر رہے گا۔ اللہ اس شخص کو ہدایت نہیں دیتا جو حد سے گزرنے والا اور جھوٹا ہو۔

۲۹– اے میری قوم کے لوگو! آج تمہیں حکومت حاصل ہے اور تم اس سرزمین میں غالب ہو لیکن اگر اللہ کا عذاب ہم پر ا گیا تو کون ہے جو ہماری مدد کرے گا؟ فرعون نے کہا میں تم کو وہی بات بتاتا ہوں جو میری رائے میں درست ہے اور تمہاری رہنمائی اسی راہ کی طرف کرتا ہوں جو بالکل صحیح ہے۔

۲۰– اور اس شخص نے جو ایمان لایا تھا کہا ۵۰ اے میری قوم کے لوگو! مجھے اندیشہ ہے کہ تم پر کہیں وہ دن نہ آ جائے جو(گزری ہوئی قوموں) پر آیا تھا۔

۲۱– ایسا انجام جو قومِ نوح، عاد، ثمود اور ان کے بعد والی قوموں کا ہوا اور اللہ اپنے بندوں پر کوئی ظلم کرنا نہیں چاہتا۔

۲۲– اے میری قوم کے لوگو! مجھے تمہارے بارے میں پکا ر کے دن کا ڈر ہے۔

۲۲– جس دن تم پیٹھ پھیر کر بھاگو گے اور تم کو اللہ سے بچانے والا کوئی نہ ہو گا۔ اور جس کو اللہ گمراہ کر دے اس کو ہدایت دینے والا کوئی نہیں ہو سکتا۔

۲۴– اس سے پہلے یوسف واضح نشانیوں کے ساتھ آئے تھے لیکن تم ان کی لائی ہوئی تعلیمات کے بارے میں شک ہی میں رہے یہاں تک کہ جب ان کا انتقال ہو گیا تو تم کہنے لگے اب ان کے بعد اللہ کوئی رسول ہرگز نہیں بھیجے گا۔ اس طرح اللہ ان لوگوں کو گمراہ کر دیتا ہے جو حد سے گزرنے والا اور شک میں پڑنے والے ہوتے ہیں۔

۲۵– جو اللہ کی آیتوں میں جھگڑتے ہیں بغیر کسی دلیل کے جو ان کے پاس آئی ہو۔ یہ بات اللہ اور اہل ایمان کے نزدیک سخت مبغوض ہے۔ اسی طرح اللہ ہر متکبر و جبار کے دل پر مہر لگا دیتا ہے۔

۲۶– فرعون نے کہا اے ہامان! میرے لیے ایک بلند عمارت بنا تا کہ میں ان راہوں پر پہنچ جاؤں۔

۲۷– جو آسمانوں کی راہیں ہیں۔ اور موسیٰ کے رب کو جھانک کر دیکھوں میں تو سمجھتا ہوں یہ بالکل جھوٹا ہے۔ اس طرح فرعون کی نگاہ میں اس کا برا عمل خوشنما بنا دیا گیا اور اسے راہِ راست سے روک دیا گیا۔ ۵۹ اور فرعون کی چال تباہی میں پڑ گئی۔

۲۸– اور اس شخص نے جو ایمان لایا تھا کہا اے میری قوم کے لوگو ! میری بات مانو میں تمہیں ہدایت کی راہ بتا رہا ہوں۔

۲۹– اے میری قوم کے لوگو یہ دنیا کی زندگی تو بس تھوڑے فائدے کا سامان ہے اور آخرت ہی مستقل گھر ہے۔

۴۰– جو برائی کرے گا وہ اسی کے بقدر بدلہ پائے گا اور جو نیک عمل کرے گا خواہ وہ مرد ہو یا عورت بشرطیکہ وہ مومن ہو تو ایسے لوگ جنت میں داخل ہوں گے جہاں وہ بے حساب رزق پائیں گے۔

۴۱– اے میری قوم کے لوگو! یہ کیا بات ہے کہ میں تمہیں نجات کی طرف بلاتا ہوں اور تم مجھے آگ کی طرف بلاتے ہو۔

۴۲– تم مجھے دعوت دیتے ہو کہ میں اللہ سے کفر کروں اور اس کے شریک ٹھہراؤں جن کو میں نہیں جانتا(کہ وہ اللہ کے شریک ہیں) اور میں تمہیں اس ہستی کی طرف دعوت دے رہا ہوں جو سب پر غالب اور مغفرت فرمانے والی ہے

۴۲–یہ اٹل حقیقت ہے کہ جن(معبودوں کی طرف تم مجھے بلا رہے ہو وہ نہ دنیا میں اس بات کے مستحق ہیں کہ انہیں پکارا جائے اور نہ آخرت میں۔ ہم سب کی واپسی اللہ ہی کی طرف ہے اور جو حد سے گزرنے والے ہیں وہ جہنم میں جانے والے ہیں۔

۴۴– تو عنقریب تم یاد کرو گے ان باتوں کو جو میں تم سے کہہ رہا ہوں۔  اور میں اپنا معاملہ اللہ کے سپرد کرتا ہوں۔ وہ اپنے بندوں کو دیکھ رہا ہے۔

۴۵– تو اللہ نے اس کو ان کی بری چالوں سے بچا لیا اور فرعون والوں کو برے عذاب نے اپنی لپیٹ میں لے لیا۔

۴۶– وہ آگ ہے جس پر وہ صبح و شام پیش کئے جاتے ہیں اور جس دن قیامت قائم ہو گئی حکم ہو گا کہ فرعون والوں کو شدید تر عذاب میں داخل کرو۔

۴۷– اور جب وہ جہنم میں ایک دوسرے سے جھگڑ رہے ہوں گے تو جو لوگ کمزور تھے وہ ان لوگوں سے جو بڑے بن کر رہے تھے کہیں گے ہم تمہارے تابع تھے تو کیا تم جہنم کے عذاب کا ایک حصہ ہم سے دور کرو گے ؟

۴۸– جو بڑے بن کر رہے تھے کہیں گے ہم سب ہی اس میں ہیں اور اللہ اپنے بندوں کے درمیان فیصلہ کر چکا ہے۔

۴۹– اور آگ میں پڑے ہوئے لوگ جہنم کی نگرانی کرنے والوں سے کہیں گے اپنے رب سے دعا کرو کہ ہمارے عذاب میں ایک دن کی تخفیف کر دے۔

۵۰– وہ کہیں گے کیا تمہارے پاس تمہارے رسول واضح دلیلیں لیکر نہیں آتے رہے ؟ وہ جواب دیں گے۔ ضرور آتے رہے۔ وہ کہیں گے تو اب تم ہی دعا کرو۔ اور کافروں کی دعا بالکل اکارت جائے گی۔

۵۱– ہم اپنے رسولوں کی اور ایمان لانے والوں کی دنیا کی زندگی میں بھی مدد کرتے ہیں اور اس روز بھی کریں گے جب گواہ کھڑے ہوں گے۔

۵۲– جس دن ظالموں کے لیے ان کی معذرت بے سود ہو گی، ان پر لعنت ہو گی اور ان کے لیے برا ٹھکانا ہو گا۔

۵۲– ہم نے موسیٰ کو ہدایت عطا فرمائی اور بنی اسرائیل کو کتاب کا وارث بنایا۔

۵۴– جو رہنمائی اور یاد دہانی تھی دانشمندوں کے لیے۔

۵۵– تو صبر کرو۔ اللہ کا وعدہ برحق ہے اور اپنے قصوروں کے لیے استغفار کرو ۷۹(معافی چاہو) اور صبح و شام تسبیح کرو اپنے رب کی حمد کے ساتھ۔

۵۶– جو لوگ اللہ کی آیتوں میں کسی سند کے بغیر جو ان کے پاس آئی ہو بحثیں کھڑی کرتے ہیں ان کے دلوں میں کِبرْ بھرا ہوا ہے مگر وہ اس بڑائی کو پہنچنے والے نہیں ہیں۔ تو تم اللہ کی پناہ مانگو۔ یقیناً وہ سب کچھ دیکھنے والا اور سننے والا ہے۔

۵۷– آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنا انسانوں کے پیدا کرنے سے زیادہ بڑا کام ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔

۵۸– اندھا اور بینا یکساں نہیں ہو سکتے۔ اور نہ وہ لوگ جو ایمان لائے اور نیک عمل کیا بد عمل لوگوں کے برابر ہو سکتے ہیں۔ مگر تم لوگ کم ہی سمجھتے ہو۔

۵۹– قیامت کی گھڑی یقیناً آنے والی ہے اس میں کوئی شک نہیں لیکن اکثر لوگ ایمان نہیں لاتے۔

۶۰– تمہارا رب فرماتا ہے مجھے پکارو میں تمہاری دعائیں قبول کروں گا۔ جو لوگ میری عبادت ۸۴ سے سرکشی کرتے ہیں وہ ضرور ذلیل ہو کر جہنم میں داخل ہوں گے۔

۶۱– وہ اللہ ہی ہے جس نے تمہارے لیے رات بنائی تاکہ تم اس میں سکون حاصل کرو۔ اور دن کو روشن بنایا۔ ۸۵ اللہ لوگوں پر بڑا مہربان ہے مگر اکثر لوگ شکر نہیں کرتے۔

۶۲– وہی اللہ تمہارا رب ہے۔ ہر چیز کا خالق۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔پھر تم کدھر بہکائے جاتے ہو۔

۶۲–اسی طرح وہ لوگ بھی بہکائے جاتے رہے ہیں جو اللہ کی آیتوں کا انکار کرتے تھے۔

۶۴– وہ اللہ ہی ہے جس نے زمین کو تمہارے لیے جائے قرار اور آسمانوں کو چھت بنایا۔ اور تمہاری صورت گری کی تو اچھی صورتیں بنائیں اور تمہیں پاکیزہ چیزوں کا رزق دیا۔ وہی اللہ تمہارا رب ہے۔ تو بڑا بابرکت ہے اللہ رب العالمین۔

۶۵– وہی زندہ ہے۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں لہٰذا اسی کو پکارو بندگی کو اس کے لیے خالص کرتے ہوئے۔ حمد اللہ رب العالمین ہی کے لیے ہے۔

۶۶– کہو مجھے اس بات سے منع کر دیا گیا ہے کہ میں ان کی عبادت کروں جن کو تم اللہ کو چھوڑ کر پکارتے ہو جب کہ میرے پاس میرے رب کی طرف سے واضح دلائل آ چکے ہیں۔ مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں اپنے کو رب العالمین کے حوالہ کر دوں۔

۶۷– وہی ہے جس نے تم کو مٹی سے پیدا کیا، پھر نطفہ سے، پھر جمے ہوئے خون سے، پھر وہ تمہیں بچہ کی شکل میں باہر لاتا ہے، پھر وہ تمہیں پروان چڑھاتا ہے تاکہ تم اپنے شباب کو پہنچو، پھر تمہیں عمر دیتا ہے کہ تم بڑھاپے کو پہنچو اور تم میں سے بعض کو اس سے پہلے ہی وفات دی جاتی ہے اور یہ اس لیے ہوتا ہے کہ تم وقتِ مقرر کو پہنچ جاؤ۔ اور اس لیے کہ تم سمجھو۔

۶۸– وہی زندگی بخشتا ہے اور وہی موت دیتا ہے۔ جب وہ کسی کام کا فیصلہ کر لیتا ہے تو بس حکم دیتا ہے کہ ہو جا اور وہ ہو جاتی ہے۔

۶۹– تم نے ان لوگوں کو دیکھا جو اللہ کی آیتوں میں جھگڑتے ہیں۔ انہیں کہاں پھیرا جا رہا ہے ؟

۷۰– انہوں نے اس کتاب کو جھٹلایا اور ان چیزوں کو بھی جو ہم نے اپنے رسولوں کے ساتھ بھیجی تھیں۔ عنقریب وہ جان لیں گے۔

۷۱– جب طوق اُن کی گردنوں میں ہوں گے اور زنجیریں بھی۔(جن سے) ان کو گھسیٹا جائے گا۔

۷۲– کھولتے ہوئے پانی میں پھر آگ میں جھونک دئے جائیں گے۔

۷۳– پھر ان سے پوچھا جائے گا کہاں ہیں وہ جن کو تم شریک ٹھہراتے تھے۔

۷۴– اللہ کو چھوڑ کر۔ وہ کہیں گے کھوئے گئے وہ ہم سے بلکہ ہم اس سے پہلے کسی چیز کو بھی نہیں پکارتے تھے۔ اس طرح اللہ کافروں پر راہ گم کر دے گا۔

۷۵– یہ اس لیے کہ تم زمین میں ناحق اتراتے اور اکڑتے رہے۔

۷۶– داخل ہو جاؤ جہنم کے دروازوں میں اس میں ہمیشہ رہنے کے لیے۔ کیا ہی برا ٹھکانا ہے تکبر کرنے والوں کا!

۷۷– تو(اے نبی) صبر کرو۔ اللہ کا وعدہ سچا ہے۔ یا تو ہم تمہیں اس(عذاب) کا کچھ حصہ جس کا وعدہ ہم ان سے کر رہے ہیں دکھا دیں یا تمہیں وفات دیں ان کی واپسی تو ہماری ہی طرف ہے۔

۷۸–(اے نبی) ہم نے تم سے پہلے رسول بھیجے تھے جن میں سے بعض کے حالات ہم تمہیں سناچکے ہیں اور بعض کے حالات نہیں سنائے۔ کسی رسول کے بھی بس کی یہ بات نہ تھی کہ وہ اللہ کے اذن کے بغیر کوئی نشانی(معجزہ) لے آتا۔ جب اللہ کا حکم ۱۱۵ آ جائے گا تو حق کے ساتھ فیصلہ کر دیا جائے گا اور اس وقت باطل پرست تباہی میں پڑیں گے۔

۷۹– اللہ ہی نے تمہارے لیے چوپائے پیدا کئے کہ تم بعض کو سواری کے کام میں لاؤ اور بعض تمہاری غذا کے کام آتے ہیں۔

۸۰– ان میں تمہارے لیے دوسرے فائدے بھی ہیں اور(پیدا اس لیے کئے گئے ہیں) تاکہ تم ان کے ذریعہ اس غرض کو پورا کرو جو تمہارے دل میں ہو۔ تمہیں ان پر اور کشتیوں پر اٹھایا جاتا ہے۔

۸۱– وہ اپنی نشانیاں تمہیں دکھا رہا ہے۔ تو تم اللہ کی کن کن نشانیوں کا انکار کرو گے۔

۸۲– کیا یہ لوگ زمین میں چلے پھرے نہیں کہ دیکھ لیتے ان لوگوں کا کیا انجام ہوا جو ان سے پہلے گزرے ہیں۔ وہ ان سے تعداد میں زیادہ تھے اور قوت میں اور زمین پر آثار چھوڑنے کے اعتبار سے بڑھ کر تھے مگر ان کی یہ کمائی ان کے کچھ کام نہ آئی۔

۸۳– جب ان کے رسول ان کے پاس واضح دلیلیں لے کر آئے تو وہ اس علم پر نازاں رہے جو ان کے پاس تھا اور اس عذاب نے ان کو گھیر لیا جس کا وہ مذاق اڑاتے تھے۔

۸۴– جب انہوں نے ہمارا عذاب دیکھ لیا تو بول اٹھے ہم اللہ واحد پر ایمان لائے اور ان کا انکار کرتے ہیں جن کو ہم اس کا شریک ٹھہراتے تھے۔

۸۵– مگر ان کا ایمان لانا ان کے لیے کچھ بھی مفید نہیں ہو سکتا تھا جب کہ انہوں نے ہمارے عذاب کو دیکھ لیا۔ یہی اللہ کی سنت(قاعدہ) ہے جو اس کے بندوں میں جاری رہی ہے۔ اور اس وقت کا فر تباہ ہو کر رہے۔

٭٭٭

 

 

(۴۱) سورۂ حٰم السجدۃ

 

اللہ رحمن و رحیم کے نام سے

 

۱– حا۔ میم

۲– یہ رحمن و رحیم کی طرف سے نازل ہوئی ہے۔

۳– ایک ایسی کتاب جس کی آیتیں کھول کر بیان کی گئی ہیں۔ عربی قرآن۔ ان لوگوں کے لیے جو علم رکھتے ہیں۔

۴– خوشخبری دینے والی اور آگاہ کرنے والی۔ مگر ان میں سے اکثر لوگوں نے منہ پھیرا اور وہ اس کو سنتے ہی نہیں۔

۵–کہتے ہیں جس چیز کی طرف تم ہمیں بلا رہے ہو ہمارے دل اس کی طرف سے پردہ میں ہیں اور ہمارے کان بہرے ہیں اور ہمارے اور تمہارے درمیان ایک حجاب حائل ہے۔ تو تم اپنا کام کرو ہم اپنا کام کرتے رہیں گے۔

۶– کہو میں تو تمہاری ہی طرح ایک بشر ہوں۔ میری طرف وحی کی جاتی ہے کہ تمہارا اِلٰہ معبود۔ ایک ہی اِلٰہ ہے۔ تو تم سیدھے اسی کا رخ کرو اور اس سے معافی چاہو۔ تباہی ہے مشرکین کے لیے۔

۷– جو زکوٰۃ نہیں دیتے اور آخرت کا انکار کرتے ہیں۔

۸– البتہ جو ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے ان کے لیے ایسا اجر ہے جو کبھی ختم ہونے والا نہیں۔

۹– کہو کیا تم اس ہستی کا انکار کرتے ہو اور اس کے ہمسر ٹھہراتے ہو جس نے دو دن میں زمین بنائی؟ وہی تو رب العالمین ہے۔

۱۰– اس نے زمین میں اوپر سے پہاڑ گاڑ دئے اور اس میں برکتیں رکھیں اور غذائی سامان رکھا۔ یہ چار دنوں میں ہوا۔ (یہ نعمتیں) یکساں ہیں تمام طلب کرنے والوں کے لیے۔

۱۱– پھر اس نے آسمان کی طرف توجہ فرمائی جو دھوئیں کی شکل میں تھا۔ اس نے اس سے اور زمین سے فرمایا حکم کی تعمیل کرو رضامندی سے یا بغیر رضامندی کے۔ انہوں نے کہا ہم نے تعمیل کی رضامندی سے۔

۱۲– تو اس نے سا ت آسمان بنا دئے دو دنوں میں اور ہر آسمان میں اس کے احکام وحی کر دیئے۔ ہم نے آسمانِ دنیا کو چراغوں سے زینت بخشی اور اس کو محفوظ کر دیا۔ یہ اس ہستی کی منصوبہ بندی ہے جو غالب اور نہایت علم والا ہے۔

۱۳– اب اگر یہ بے رخی برتتے ہیں تو ان سے کہو میں تمہیں اسی طرح کے عذاب سے ڈراتا ہوں جس طرح کا عذاب عاد اور ثمود پر ٹوٹ پڑا تھا۔

۱۴– جب ان کے رسول ان کے آگے اور پیچھے سے آئے کہ اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو تو انہوں نے کہا ہمارا رب چاہتا تو فرشتے نازل کرتا۔ لہٰذا ہم اس پیغام کو نہیں مانتے جس کے ساتھ تم بھیجے گئے ہو۔

۱۵– عاد کا واقعہ یہ ہے کہ انہوں نے زمین میں گھمنڈ کیا جس کا انہیں کوئی حق نہیں تھا اور کہنے لگے کون ہے ہم سے زیادہ زور آور؟انہوں نے یہ نہ سوچا کہ جس نے ان کو پیدا کیا ہے وہ ان سے زیادہ زور آور ہے۔ وہ ہماری آیتوں کا انکار ہی کرتے رہے۔

۱۶– بالآخر ہم نے ان پر منحوس دنوں میں تند ہوا بھیجی تاکہ انہیں دنیا کی زندگی میں ذلت کے عذاب کا مزا چکھائیں اور آخرت کا عذاب تو اس سے بھی زیادہ رسوا کن ہو گا اور وہ کوئی مدد نہ پا سکیں گے۔

۱۷–رہے ثمود تو ہم نے ان کو راہ دکھائی لیکن انہوں نے ہدایت کے مقابلہ میں اندھے پن کو پسند کیا۔ تو ان کے کرتوتوں کی وجہ سے ان کو ذلت کے تباہ کن عذاب نے پکڑ لیا۔

۱۸– اور ہم نے ان لوگوں کو بچا لیا جو ایمان لائے تھے اور اللہ سے ڈرتے تھے۔

۱۹– وہ دن کہ جب اللہ کے دشمنوں کو جہنم کی طرف لے جانے کے لیے اکٹھا کیا جائے گا اور ان کی درجہ بندی کی جائے گی۔

۲۰– یہاں تک کہ جب وہ وہاں پہنچ جائیں گے تو ان کے کان، ا ن کی آنکھیں اور ان کی جلدیں ان کے خلاف گواہی دیں گی کہ وہ کیا کچھ کرتے رہے ہیں۔

۲۱– وہ اپنی جلدوں سے کہیں گے کہ تم نے ہمارے خلاف کیوں گواہی دی؟ وہ کہیں گی ہمیں اسی اللہ نے گویا کر دیا جس نے ہر چیز کو گویا کیا ___ اسی نے توم کو پہلی مرتبہ پیدا کیا اور اب تم اسی کی طرف لوٹائے جا رہے ہو۔

۲۲– اور تم یہ اندیشہ رکھتے نہ تھے کہ تمہارے کان، تمہاری آنکھیں اور تمہاری جلدیں تمہارے خلاف گواہی دیں گی بلکہ تم نے تو یہ گمان کیا تھا کہ اللہ بھی ان بہت سی باتوں کو نہیں جانتا جو تم کرتے ہو۔

۲۳– اپنے رب کے بارے میں تمہارا یہی گمان تھا جس نے تم کو ہلاکت میں ڈالا اور تم خسارہ میں پڑ گئے۔

۲۴– اب اگر وہ صبر کریں تو جہنم ہی ان کا ٹھکانا ہے اور اگر وہ معافی مانگیں تو تو انہیں معاف نہیں کیا جائے گا۔

۲۵–اور ہم نے ان پر ایسے ساتھی مسلط کر دئیے تھے جو ان کے آگے اور پیچھے کی ہر چیز ان کو خوشنما بنا کر دکھاتے تھے۔ ۳۸ الف بالآخر ان پر بھی میرا وہ فرمان پورا ہو کر رہا جو ان سے پہلے گزرے ہوئے جنوں اور انسانوں کے گروہوں پر پورا ہوا تھا۔ وہ تباہ ہو کر رہے۔

۲۶– جن لوگوں نے کفر کیا وہ کہتے ہیں اس قرآن کو نہ سنو اور اس (کی تلاوت) میں شور و غل مچاؤ تاکہ تم غالب رہو۔

۲۷– ان کافروں کو ہم سخت عذاب کا مزا چکھائیں گے اور جو بدترین کام وہ کرتے رہے ہیں ان کا بدلہ ضرور انہیں دیں گے۔

۲۸– یہ اللہ کے دشمنوں کا بدلہ ہے یعنی جہنم۔ اسی میں ان کے لیے ہمیشگی کا گھر ہو گا۔ یہ سزا ہے اس بات کی کہ وہ ہماری آیتوں کا انکار کرتے رہے۔

۲۹– اور کافر کہیں گے کہ اے ہمارے رب! ہمیں ان جنوں اور انسانوں کو دکھا دے۔ جنہوں نے ہمیں گمراہ کیا تھا۔ ہم ان کو اپنے پاؤں کے نیچے روند ڈالیں گے تاکہ وہ نچلے بن کر رہیں۔

۳۰– جن لوگوں ۴۳نے کہا اللہ ہمارا رب ہے پھر اس پر استقامت اختیار کی یقیناً ان پر فرشتے نازل ہوتے ہیں کہ نہ ڈرو اور نہ غم کرو اور خوش ہو جاؤ جنت کی بشارت سے جس کا تم سے وعدہ کیا جا رہا تھا۔

۳۱– ہم دنیا کی زندگی میں بھی تمہارے دوست تھے اور آخرت میں بھی ہیں۔ اس میں تمہارا دل جو چاہے گا وہ تمہیں ملے گا اور جو چیز بھی تم طلب کرو گے تمہیں ملے گی۔

۳۲– یہ سامانِ ضیافت ہے اس (ہستی) کی طرف سے جو غفور اور رحیم ہے۔

۳۳– اور اس شخص سے بہتر بات کس کی ہو سکتی ہے جو اللہ کی طرف بلائے، نیک عمل کرے اور کہے کہ میں مسلمین میں سے ہوں۔

۳۴– بھلائی اور برائی یکساں نہیں ہو سکتی۔ تم برائی کو اس طریقہ سے دور کرو جو سب سے بہتر ہو۔ اس صورت میں تم دیکھو گے کہ تمہارے اور جس شخص کے درمیان عداوت تھی وہ گویا گہرا دوست بن گیا ہے۔

۳۵– مگر اس کی توفیق ان ہی لوگوں کو ملتی ہے جو صبر کرتے ہیں اور یہ (فہم) ان ہی کو حاصل ہوتا ہے جو بڑی قسمت والے ہوتے ہیں۔

۳۶– اور اگر شیطان کی طرف سے تمہارے دل میں کوئی اکساہٹ پیدا ہو تو اللہ کی پناہ مانگو۔ وہ سب کچھ سننے والا جاننے والا ہے۔

۳۷–اس کی نشانیوں میں سے رات اور دن اور سورج اور چاند ہیں۔ نہ سورج کو سجدہ کرو اور نہ چاند کو بلکہ اللہ ہی کو سجدہ کرو جس نے ان سب چیزوں کو پیدا کیا ہے۔ اگر تم اسی کی عبادت کرنے والے ہو۔

۳۸– لیکن اگر یہ تکبر کرتے ہیں تو۔ (ان پر واضح رہے کہ) جو فرشتے اس کے حضور ہیں وہ رات دن اس کی تسبیح کرتے ہیں اور کبھی نہیں تھکتے۔

۳۹– اور اس کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ تم دیکھتے ہو زمین خشک پڑی ہے پھر جب ہم اس پر پانی برساتے ہیں تو وہ حرکت میں آ جاتی ہے اور پھول جاتی ہے۔بلاشبہ جس نے اس کو زندہ کیا وہ مُردوں کو بھی زندہ کرنے والا ہے۔ یقیناً وہ ہر چیز پر قادر ہے۔

۴۰– جو لوگ ہماری آیتوں میں ٹیڑھ نکالتے ہیں وہ ہم سے چھپے ہوئے نہیں ہیں۔ کیا وہ شخص بہتر ہے جو آگ میں ڈالا جائے گا یا وہ جو قیامت کے دن امن کی حالت میں آئے گا؟ جو چاہو کرو۔ تم جو کچھ کرتے ہو اسے وہ دیکھ رہا ہے۔

۴۱– جن لوگوں نے یاد دہانی کا انکار کیا جب کہ ان کے پاس آئی وہ اس حقیقت سے بے خبر ہیں کہ یہ ایک زبردست کتاب ہے۔

۴۲– باطل اس میں نہ اس کے سامنے سے داخل ہو سکتا ہے اور نہ اس کے پیچھے سے۔ یہ اس ہستی کی طرف سے نازل ہوئی ہے جو حکمت والی اور خوبیوں والی ہے۔

۴۳– (اے نبی!) تم سے وہی باتیں کہی جا رہی ہیں جو تم سے پہلے گزرے ہوئے رسولوں سے کہی جاچکی ہیں۔ بے شک تمہارا رب بڑا معاف کرنے والا بھی ہے اور درد ناک سزا دینے والا بھی۔

۴۴– اگر ہم اس کو عجمی قرآن بنا کر اتارتے تو یہ لوگ کہتے کیوں نہ اس کی آیتیں کھول کر بیان کی گئیں ؟ کلام عجمی اور مخاطب عربی ! کہو یہ ایمان لانے والوں کے لیے تو ہدایت اور شفاء ہے۔ اور جو لوگ ایمان نہیں لاتے ان کے کانوں میں بہرا پن ہے اور وہ (قرآن) ان کی آنکھوں کے لیے حجاب ہے۔ (گویا) ان لوگوں کو دور کی جگہ سے پکارا جا رہا ہے۔

۴۵– ہم نے موسیٰ کو کتاب عطا کی تھی تو اس میں اختلاف کیا گیا۔ اگر تمہارے رب کی طرف سے ایک بات پہلے سے طے نہ ہو چکی ہوتی تو ان کے درمیان فیصلہ چکا دیا گیا ہوتا۔ اور یہ لوگ اس کی طرف سے شک میں پڑے ہوئے ہیں جس نے انہیں الجھن میں ڈال دیا ہے۔

۴۶– جو نیک عمل کرے گا تو اپنے ہی لیے کرے گا اور جو برائی کرے گا تو اس کا وبال بھی اسی پر پڑے گا۔ تمہارا رب بندوں پر ہرگز ظلم کرنے والا نہیں ہے۔

۴۷– قیامت کی گھڑی کا علم اسی کی طرف لوٹتا ہے۔ کوئی پھل اپنے غلاف (شگوفہ) سے باہر نہیں نکلتا اور نہ کوئی عورت حاملہ ہوتی اور جنتی ہے مگر اس کے علم میں ہوتا ہے۔ اور جس دن وہ ان کو پکارے گا کہ کہاں ہیں میرے شریک ؟ وہ کہیں گے ہم عرض کر چکے ہیں۔ ہم میں سے کوئی بھی اس کی گواہی دینے والا نہیں ہے۔

۴۸– وہ اس سے پہلے جن کو پکارتے رہے ہیں وہ سب ان سے گم ہو جائیں گے اور وہ جان لیں گے کہ ان کے لیے اب کوئی پناہ کی جگہ نہیں ہے۔

۴۹– انسان بھلائی کی دعا مانگنے سے نہیں تھکتا اور اگر اس کو کوئی تکلیف پہنچ جاتی ہے تو مایوس و دل شکستہ ہو جاتا ہے۔

۵۰– اور اگر اس تکلیف کے بعد جو اسے پہنچتی ہے ہم اسے اپنی رحمت کا مزا چکھاتے ہیں تو کہتا ہے میں تو اسی کا مستحق ہوں اور میں نہیں سمجھتا کہ قیامت قائم ہو گی اور اگر میں اپنے رب کی طرف لوٹا یا ہی گیا تو میرے لیے اس کے پاس بھی خوشحالی ہی ہے۔ تو ہم ان کافروں کو ضرور بتائیں گے کہ انہوں نے کیا اعمال کئے ہیں اور انہیں ہم لازماً سخت عذاب کا مزہ چکھائیں گے۔

۵۱– انسان کو جب ہم نعمت سے نوازتے ہیں تو وہ منہ پھیر لیتا ہے اور پہلو بچا کر چلتا ہے۔ اور جب تکلیف پہنچتی ہے تو لمبی چوڑی دعائیں کرنے لگتا ہے۔

۵۲– کہو تم نے یہ بھی سوچا کہ اگر یہ اللہ کی طرف سے ہوا اور تم نے اس کا انکار کیا تو اس شخص سے بڑھ کر گمراہ اور کون ہو گا جو مخالفت میں دور تک نکل گیا ہو۔

۵۳– عنقریب ہم ان کو اپنی نشانیاں آفاق اطرافِ عالم میں بھی دکھائیں گے اور ان کے اپنے نفس ذات میں بھی یہاں تک کہ ان پر یہ بات کھل جائے گی کہ یہ حق ہے۔ کیا یہ بات کافی نہیں ہے کہ تمہارا رب ہر چیز کا شاہد ہے۔

۵۴– سنو! یہ لوگ اپنے رب کے حضور پیشی کے بارے میں شک میں ہیں۔ سن لو! وہ ہر چیز کا احاطہ کئے ہوئے ہے۔

٭٭٭

 

 

(۴۲)سورۂ الشوریٰ

 

اللہ رحمٰن و رحیم کے نام سے

 

۱–حا۔ میم

۲–عین۔ سین۔ قاف

۳–اسی طرح اللہ غالب و حکیم تمہاری طرف وحی کرتا ہے اور تم سے پہلے جو (رسول) گزرے ہیں ان کی طرف بھی وحی کرتا رہا ہے۔

۴–جو کچھ بھی آسمانوں میں ہیں اور جو کچھ بھی زمین میں ہے سب اسی کا ہے۔ وہ نہایت بلند اور عظیم ہے۔

۵–قریب ہے کہ آسمان اپنے اوپر سے پھٹ پڑیں۔ فرشتے اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح کرتے ہیں اور زمین والوں کے لیے معافی کی دعا کرتے رہتے ہیں۔ سنو! اللہ ہی بخشنے والا رحم فرمانے والا ہے۔

۶–جن لوگوں نے اس کو چھوڑ کر دوسرے کارساز بنا رکھے ہیں اللہ ان پر نگاہ رکھے ہوئے ہے۔ اور تم کو ان پر ذمہ دار مقرر نہیں کیا گیا ہے۔

۷–اور (اے نبی!) اس طرح ہم نے تم پر عربی قرآن وحی کیا ہے تاکہ تم ام القریٰ (مکہ) اور اس کے گرد و پیش رہنے والوں کو خبردار کرو۔ اور جمع ہونے کے دن سے ڈراؤ جس کے آنے میں کوئی شک نہیں۔ ایک گروہ جنت میں جائے گا اور دوسرا گروہ دوزخ (بھڑکتی آگ) میں۔ ۱۴

۸–اگر اللہ چاہتا تو سب کو ایک ہی امت بنا دیتا لیکن وہ جسے چاہتا ہے اپنی رحمت میں داخل کرتا ہے ۱۶ اور ظالموں کا نہ کوئی کارساز ہے اور نہ مددگار۔

۹–کیا انہوں نے اس کو چھوڑ کر دوسرے کارساز بنا رکھے ہیں۔ ۱۷ کارساز تو اللہ ہی ہے اور وہ مُردوں کو زندہ کرے گا۔ وہ ہر چیز پر قادر ہے۔

۱۰–جس چیز میں بھی تم لوگوں نے اختلاف کیا ہے اس کا فیصلہ اللہ کے سپرد ہے۔ وہی اللہ میرا رب ہے۔ اسی پر میں نے بھروسہ کیا ہے اور اسی کی طرف میں رجوع کرتا ہوں۔

۱۱– آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے والا جس نے تم ہی میں سے تمہارے جوڑے بنائے اور مویشیوں کے بھی جوڑے پیدا کئے۔ وہ تمہاری نسلیں اس میں پھیلاتا ہے۔ اس کے مثل کوئی چیز نہیں۔ وہ سب کچھ سننے اور دیکھنے والا ہے۔

۱۲–آسمانوں اور زمین کی کنجیاں اسی کے قبضہ میں ہیں وہ جسے چاہتا ہے کشادہ رزق دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے نپا تلا دیتا ہے۔ وہ ہر چیز کا علم رکھنے والا ہے۔

۱۳–اس نے تمہارے لیے وہی دین مقرر کیا ہے جس کی ہدایت اس نے نوح کو کی تھی اور جس کی وحی (اے نبی!) ہم نے تمہاری طرف کی ہے اور جس کی ہدایت ہم نے ابراہیم اور موسیٰ اور عیسیٰ کو کی تھی کہ اس دین کو قائم رکھو اور اس معاملہ میں تفرقہ میں نہ پڑو۔ مشرکین پر وہ چیز شاق ہے جس کی طرف تم انہیں دعوت دے رہے ہو۔ اللہ جسے چاہتا ہے اپنی راہ کے لیے چن لیتا ہے اور اپنی طرف رہنمائی اسی کی کرتا ہے جو اس کی طرف رجوع کرے۔

۱۴–اور لوگ جو تفرقہ میں پڑے تو اس کے بعد پڑے کہ ان کے پاس علم آ چکا تھا محض آپس کی ضد کی بنا پر۔ اور اگر تمہارے رب کا فرمان ایک مدتِ مقرر کے لیے صادر نہ ہو چکا ہوتا تو ان کے درمیان فیصلہ چکا دیا گیا ہوتا۔ اور ان (گزرے ہوئے) لوگوں کے بعد جو لوگ کتاب کے وارث بنائے گئے وہ اس کی طرف سے شک میں پڑے ہوئے ہیں جس نے انہیں الجھن میں ڈال دیا ہے۔

۱۵–لہٰذا تم اسی دین کی دعوت دو اور اس پر قائم رہو جیسا کہ تمہیں حکم دیا گیا ہے۔ اور ان لوگوں کی خواہشات کے پیچھے نہ چلو۔ اور کہو اللہ نے جو کتاب اتاری ہے اس پر میں ایمان لایا مجھے حکم دیا گیا ہے کہ تمہارے درمیان عدل کروں۔ اللہ ہمارا رب بھی ہے۔ اور تمہارا رب بھی۔ ہمارے اعمال ہمارے لیے ہیں اور تمہارے اعمال تمہارے لیے۔ ہمارے اور تمہارے درمیان کوئی بحث نہیں۔ اللہ ہم سب کو جمع کرے گا اور اسی کی طرف سب کو جانا ہے۔

۱۶–جو لوگ اللہ کے بارے میں جھگڑتے ہیں بعد اس کے کہ اس کی پکار پر لبیک کہا جا چکا ہے ان کی حجت ان کے رب کے نزدیک باطل ہے۔ اور ان پر غضب ہے اور ان کے لیے سخت عذاب ہے۔

۱۷–اللہ ہی ہے جس نے کتاب حق کے ساتھ اتاری ہے اور میزان بھی۔ اور تمہیں کیا خبر شاید قیامت کی گھڑی قریب آ لگی ہو۔

۱۸–اس کے لیے جلدی وہی لوگ مچاتے ہیں جو اس پر ایمان نہیں رکھتے۔ ایمان رکھنے والے تو اس سے ڈرتے ہیں اور جانتے ہیں کہ وہ ایک حقیقت ہے۔ سنو! جو لوگ اس گھڑی کے بارے میں بحث میں الجھ رہے ہیں وہ گمراہی میں دور جا پڑے ہیں۔

۱۹–اللہ اپنے بندوں پر بڑا مہربان ہے۔ وہ جسے چاہتا ہے رزق دیتا ہے۔ اور وہ بڑی قوت والا اور غالب ہے۔

۲۰–جو کوئی آخرت کی کھیتی کا طالب ہوتا ہے ہم اس کی کھیتی کو بڑھاتے ہیں اور جو دنیا کی کھیتی کا طالب ہوتا ہے ہم اس کو اسی میں سے دیتے ہیں مگر آخرت میں اس کا کوئی حصہ نہیں۔

۲۱–کیا ان کے کچھ ایسے شریک ہیں جنہوں نے ان کے لیے مذہبی طریقے ایجاد کئے ہیں جس کی اللہ نے اجازت نہیں دی۔ اگر فیصلہ کی بات (کہ وقتِ مقرر پر کیا جائے گا) طے نہ پا چکی ہوتی تو ان کا فیصلہ چکا دیا گیا ہوتا۔ یقیناً ان ظالموں کے لیے دردناک عذاب ہے۔

۲۲–تم دیکھو گے کہ ظالم اپنی کمائی کے وبال سے ڈر رہے ہوں گے اور وہ ان پر ا کر رہے گا۔ البتہ جو لوگ ایمان لائے اور جنہوں نے نیک عمل کئے وہ جنتوں کے باغیچوں میں ہوں گے۔ وہ جو کچھ چاہیں گے ان کو ان کے رب کے پاس ملے گا۔ یہی ہے بہت بڑا فضل۔

۲۳–یہی وہ چیز ہے جس کی خوشخبری دیتا ہے اللہ اپنے ان بندوں کو جو ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے۔ (اے نبی! ان سے) کہو میں اس پر کوئی اجر نہیں مانگتا مگر قرابت کی محبت ہے (جس کا تقاضا پورا کر رہا ہوں۔ ) جو کوئی نیکی کرے گا ہم اس کے لیے اس کی نیکی میں خوبی کا اضافہ کریں گے۔ اللہ بڑا بخشنے والا اور بڑا قدر داں ہے۔

۲۴–کیا یہ لوگ کہتے ہیں کہ اس شخص نے اللہ پر جھوٹ باندھا ہے۔ اگر اللہ چاہے تو (اے نبی) تمہارے دل پر مہر لگا دے۔ وہ باطل کو مٹاتا ہے اور حق کو اپنے کلمات سے حق ثابت کر دکھاتا ہے۔ یقیناً وہ دلوں کے بھید جانتا ہے۔

۲۵–وہی ہے جو اپنے بندوں کی توبہ قبول کرتا ہے اور برائیوں سے درگزر فرماتا ہے اور جانتا ہے جو کچھ تم کرتے ہو۔

۲۶–وہ ان لوگوں کی دعا قبول کرتا ہے جو ایمان لائے اور جنہوں نے نیک عمل کئے اور اپنے فضل سے انہیں مزید عطا کرتا ہے۔ رہے کافر تو ان کے لیے سخت عذاب ہے۔

۲۷–اگر اللہ اپنے بندوں کو فراخی کے ساتھ رزق دے دیتا تو وہ زمین میں زیادتی پر اتر آتے مگر وہ ایک خاص مقدار میں جس طرح چاہتا ہے اتارتا ہے۔ وہ اپنے بندوں سے باخبر ہے اور انہیں دیکھ رہا ہے۔

۲۸–وہی ہے جو لوگوں کے مایوس ہو جانے کے بعد بارش بھیجتا ہے اور اپنی رحمت پھیلا دیتا ہے۔ وہی کارساز ہے لائقِ حمد۔

۲۹–اور اس کی نشانیوں میں سے ہے آسمانوں اور زمین کی پیدائش اور جاندار جو اس نے ان میں پھیلائے ہیں۔ ۵۹– اور وہ ان کو جب چاہے اکٹھا کرنے پر قادر ہے۔

۳۰–جو مصیبت بھی تم کو پہنچتی ہے تمہارے اپنے کرتوتوں کی وجہ سے پہنچتی ہے۔ اور بہت سی برائیوں سے وہ درگزر بھی فرماتا ہے۔

۳۱–تم زمین میں اس کے قابو سے نہیں نکل سکتے اور نہ اللہ کے مقابل میں تمہارا کوئی کارساز و مددگار ہے۔

۳۲–اس کی نشانیوں میں سے سمندر میں چلنے والے جہاز ہیں گویا پہاڑ۔

۳۳–اگر وہ چاہے تو ہوا کو ساکن کر دے تو وہ اس کی سطح پر ٹھہرے ہی رہ جائیں۔ یقیناً اس میں نشانیاں ہیں ہر اس شخص کے لیے جو صبر اور شکر کرنے والا ہو۔

۳۴–یا (وہ چاہے) تو ان کے کرتوتوں کی پاداش میں ان جہازوں کو تباہ کر دے۔ اور (چاہے تو) بہت سی باتوں سے درگزر فرمائے۔

۳۵–اور (اگر تباہ کر دے تو اس لیے تاکہ) وہ لوگ جو ہماری آیتوں میں جھگڑتے ہیں جان لیں کہ ان کے لیے کوئی مفر (بھاگنے کی جگہ) نہیں ہے۔

۳۶–تمہیں جو کچھ بھی دیا گیا ہے وہ محض دنیوی زندگی کا سامان ہے اور جو کچھ اللہ کے ہاں ہے وہ کہیں بہتر اور پائیدار ہے۔ ۶۵ ان لوگوں کے لیے جو ایمان لائے اور اپنے رب پر بھروسہ رکھتے ہیں۔

۳۷–جو بڑے گناہوں اور بے حیائی کے کاموں سے بچتے ہیں اور جب غصہ آ جاتا ہے تو معاف کرتے ہیں۔

۳۸–جو اپنے رب کی پکار پر لبیک کہتے ہیں اور نماز قائم کرتے ہیں اور اپنے معاملات آپس کے مشورہ سے چلاتے ہیں اور جو ہمارے دیئے ہوئے رزق میں سے خرچ کرتے ہیں۔

۳۹–اور جب ان پر ظلم ہوتا ہے تو وہ اپنی مدافعت کرتے ہیں۔

۴۰–اور برائی کا بدلہ ویسی ہی برائی ہے پھر جو کوئی در گزر کرے اور اصلاح کرے تو اس کا اجر اللہ کے ذمہ ہے۔ ۷۶– اللہ ظالموں کو پسند نہیں کرتا۔

۴۱–اور جنہوں نے اپنے اوپر ظلم ہونے کے بعد بدلہ لیا ان پر کوئی الزام نہیں۔

۴۲–الزام تو ان لوگوں پر ہے جو لوگوں پر ظلم کرتے ہیں اور زمین میں ناحق سرکشی کرتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے لیے دردناک عذاب ہے۔

۴۳–البتہ جس نے صبر کیا اور معاف کیا تو یہ بڑی عزیمت کا کام ہے۔

۴۴–جس کو اللہ گمراہ کر دے تو اس کے بعد اس کا کوئی کارساز نہیں۔ تم ظالموں کو دیکھو گے کہ جب وہ عذاب کو دیکھ لیں گے تو کہیں گے۔ ہے کوئی واپسی کی راہ !

۴۵–اور تم دیکھو گے کہ وہ جہنم کے سامنے اس طرح پیش کئے جائیں گے۔ اس وقت اہل ایمان کہیں گے کہ اصل خسارہ میں رہنے والے وہی ہیں جنہوں نے قیامت کے دن اپنے آپ کو اور اپنے متعلقین کو خسارہ میں ڈالا۔ خبردار ! یہ ظالم قائم رہنے والے عذاب میں ہوں گے۔

۴۶–اور ان کے کوئی دوست نہ ہوں گے جو اللہ کے مقابل ان کی مدد کر سکیں۔ اور جسے اللہ گمراہ کر دے اس کے لیے کوئی راہ نہیں۔

۴۷–اپنے رب کی دعوت قبول کر لو قبل اس کے کہ اللہ کی طرف سے ایک ایسا دن آئے جس کو ٹالا نہ جا سکے گا۔ اس دن تمہارے لیے کوئی جائے پناہ نہ ہو گی اور نہ تم (عذاب کو) دفع کر سکو گے۔

۴۸–لیکن اگر یہ منہ پھیر لیتے ہیں تو (اے نبی!) ہم نے تمہیں ان پر نگہبان بنا کر نہیں بھیجا ہے۔ تم پر صرف پہنچانے کی ذمہ داری ہے۔ اور انسان کو جب ہم اپنی رحمت کا ذائقہ چکھاتے ہیں تو اس پر اترانے لگتا ہے اور اگر اس کے کرتوتوں کی وجہ سے کوئی مصیبت اس پر آتی ہے تو ہ ناشکرا بن جاتا ہے۔

۴۹–آسمانوں اور زمین کی بادشاہی اللہ ہی کے لیے ہے۔ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے۔ جس کو چاہتا ہے لڑکیاں دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے لڑکے دیتا ہے۔

۵۰–یا ان کو لڑکے اور لڑکیاں دونوں عطا فرماتا ہے اور جس کو چاہتا ہے بے اولاد رکھتا ہے۔ وہ جاننے والا قدرت والا ہے۔

۵۱–کسی بشر کی یہ شان نہیں کہ اللہ اس سے کلام کرے مگر وحی کی صورت میں یا پردہ کے پیچھے سے یا یہ کہ کسی فرشتہ کو بھیج دے جو اس کے حکم سے وحی کرے جو وہ چاہے۔ وہ بلند مرتبہ اور حکمت والا ہے۔

۵۲–اور اسی طرح (اے نبی!) ہم نے تمہاری طرف ایک روح اپنے فرمان سے وحی کی ہے۔ تم نہیں جانتے تھے کہ کتاب کیا ہے اور ایمان کیا مگر ہم نے اس کو ایک نور بنا دیا جس کے ذریعہ ہم ہدایت دیتے ہیں اپنے بندوں میں سے جسے چاہتے ہیں۔ اور یقیناً تم سیدھے راستے کی طرف رہنمائی کر رہے ہو۔

۵۳–اللہ کے راستے کی طرف جو آسمانوں اور زمین کی ساری چیزوں کا مالک ہے۔ خبردار ہو جاؤ! سارے معاملات اللہ ہی کی طرف لوٹتے ہیں۔

٭٭٭

 

 

(۴۳) سورۂ الزُّخْرُفْ

 

اللہ رحمٰن و رحیم کے نام سے

 

۱–حا۔ میم

۲–قسم ہے روشن کتاب کی

۳–ہم نے اس کو عربی قرآن بنایا ہے تاکہ تم لوگ اسے سمجھو۔

۴–اور در حقیقت یہ ام الکتاب میں ہمارے پاس ہے بلند مرتبہ اور حکمت سے لبریز۔

۵–کیا ہم تمہاری یاد دہانی سے اس لیے صرفِ نظر کریں کہ تم حد سے تجاوز کرنے والے لوگ ہو؟

۶–ہم نے گزرے ہوئے لوگوں میں بھی کتنے ہی نبی بھیجے تھے۔

۷–جو نبی بھی ان کے پاس آتا وہ اس کا مذاق اڑاتے۔

۸–تو ہم نے ان لوگوں کو ہلاک کر دیا جو ان سے زیادہ زور آور تھے۔ اور سابق قوموں کی مثالیں گزر چکی ہیں۔

۹–اگر تم ان سے پوچھو کہ آسمانوں اور زمین کو کس نے پیدا کیا ہے تو وہ یہی کہیں گے کہ ان کو اسی ہستی نے پیدا کیا ہے جو غالب اور علیم ہے۔

۱۰–وہی جس نے زمین کو تمہارے لیے گہوارہ بنایا اور اس میں تمہارے لیے راستے بنا دئے تاکہ تم راہ پا سکو۔

۱۱–اور جس نے آسمان سے ایک خاص مقدار میں پانی اتار اور اس سے مردہ زمین کو جِلا اٹھایا۔ اسی طرح تم (قبروں سے) نکالے جاؤ گے۔

۱۲–جس نے ہر قسم کے جوڑے پیدا کئے اور تمہارے لیے کشتیوں اور چو پایوں کو سواری بنایا۔

۱۳–تاکہ تم ان کی پشت پر سوار ہو اور جب تم ان پر سوار ہو تو اپنے رب کی نعمت کو یاد کرو اور کہو “پاک ہے وہ ذات جس نے ان چیزوں کو ہمارے لیے مسخر کر دیا ورنہ ہمارے بس میں نہ تھا کہ ان کو قابو میں کر لیتے۔ ”

۱۴–اور ہم اپنے رب ہی کی طرف لوٹنے والے ہیں۔

۱۵–ان لوگوں نے اس کے بعض بندوں کو اس کا جزء بنا دیا بلا شبہ انسان کھلا نا شکرا ہے۔

۱۶–کیا اس نے (اللہ نے) اپنی مخلوق میں سے اپنے لیے بیٹیاں رکھ لیں اور تمہارے لیے بیٹے خاص کر دئے ؟

۱۷–اور جب ان میں سے کسی کو اس چیز کی خوشخبری دی جاتی ہے جو رحمن کے لیے وہ تجویز کرتا ہے تو اس کا چہرہ سیاہ پڑجاتا ہے اور وہ غم سے گھٹنے لگتا ہے۔

۱۸–کیا وہ (صنف) جو زیوروں میں پلتی ہے اور بحث و نزاع میں واضح بات نہیں کر پاتی!

۱۹–انہوں نے فرشتوں کو جو رحمن کے بندے ہیں لڑکیاں بنا دیا ہے۔ کیا وہ ان کی پیدائش کے وقت موجود تھے ؟ ان کی گواہی لکھ لی جائے گی اور ان سے باز پرس ہو گی۔

۲۰–کہتے ہیں اگر رحمن چاہتا تو ہم ان کی عبادت نہ کرتے۔ اِن کو اس کا کوئی علم نہیں۔ یہ محض اٹکل کی باتیں کرتے ہیں۔

۲۱–کیا ہم نے اس سے پہلے ان کو کوئی کتاب دی تھی جس کی سند وہ پکڑ رہے ہوں ؟

۲۲–نہیں بلکہ وہ کہتے ہیں ہم نے اپنے باپ دادا کو ایک طریقہ پر پایا ہے اور ہم ان ہی کے نقشِ قدم پر چل کر ٹھیک راہ پر جارہے ہیں۔

۲۳–اسی طرح تم سے پہلے جس بستی میں بھی ہم نے کوئی خبردار کرنے والا بھیجا اس کے خوشحال لوگوں نے یہی کہا کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو ایک طریقہ پر پایا ہے اور ہم ان کے نقشِ قدم کی پیروی کر رہے ہیں۔

۲۴–اس خبردار کرنے والے نے کہا اگر میں اس طریقہ کے مقابلے میں جس پر تم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے۔ بہترین ہدایت لے کر تمہارے پاس آیا ہوں تو کیا اس صورت میں بھی تم ان ہی کے نقشِ قدم پر چلو گے ؟ انہوں نے جواب دیا تم جو پیغام دے کر بھیجے گئے ہو ہم اس کے منکر ہیں۔

۲۵–آخر کار ہم نے ان کو سزا دی تو دیکھو کیسا انجام ہوا جھٹلانے والوں کا !

۲۶–اور جب ابراہیمؑ  نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے کہا تھا میں ان چیزوں سے بالکل بے تعلق ہوں جن کی تم پرستش کرتے ہو۔

۲۷–میں صرف اسی کی پرستش کرتا ہوں جس نے مجھے پیدا کیا ہے۔ وہی میری رہنمائی فرمائے گا۔

۲۸–اور اس نے اس کو باقی رہنے والے کلمہ کی حیثیت سے اپنی اولاد میں چھوڑا تاکہ وہ اس کی طرف رجوع کریں۔

۲۹–واقعہ یہ ہے کہ میں نے ان کو اور ان کے باپ دادا کو سامانِ زندگی دیا یہاں تک کہ ان کے پاس حق اور ایک آشکارا رسول ا گیا۔

۳۰–اور جب حق ان کے پاس ا گیا تو انہوں نے کہا یہ نو جادو ہے اور ہم اس کے کافر ہیں۔

۳۱–اور انہوں نے کہا یہ قرآن ان دو شہروں کے بڑے آدمی پر کیوں نہیں نازل کیا گیا؟

۳۲–کیا تمہارے رب کی رحمت کو یہ لوگ تقسیم کرتے ہیں ؟ دنیا کی زندگی میں ان کی معیشت کا سامان ہم نے ان کے درمیان تقسیم کر دیا ہے اور ان میں سے بعض کے درجے بعض پر بلند کر دئے ہیں تاکہ وہ ایک دوسرے سے خدمت لیں اور تمہارے رب کی رحمت اس (دولت) سے بدرجہا بہتر ہے جو یہ لوگ جمع کر رہے ہیں

۳۳–اور اگر اس کا امکان نہ ہوتا کہ لوگ ایک ہی طریقہ پر چل پڑیں تے تو ہم رحمن سے کفر کرنے والوں کے گھروں کی چھتیں اور زینے جن پر وہ چڑھتے ہیں چاندی کے بنا دیتے۔

۳۴–نیز ان کے گھروں کے دروازے اور ان کے تخت بھی جن پر وہ تکئے لگا کر بیٹھتے ہیں۔

۳۵–اور سونے سے بھی انہیں مالا مال کرتے۔ یہ سب دنیا کی زندگی ہی کا سامان ہے۔ اور آخرت تمہارے رب کے ہاں صرف متقیوں کے لیے ہے۔

۳۶–اور جو رحمن کے ذکر سے بے پرواہ ہو جاتا ہے ہم اس پر ایک شیطان مسلط کر دیتے ہیں اور وہ اس کا ساتھی بن جاتا ہے۔

۳۷–وہ (شیاطین) ان کو اللہ کی راہ سے روکتے ہیں اور یہ لوگ سمجھتے ہیں کہ ہم راہِ راست پر ہیں۔

۳۸–یہاں تک کہ جب ایسا شخص ہمارے پاس پہنچے گا تو (اپنے شیطان سے) کہے گا کاش میرے اور تیرے درمیان مشرق و مغرب کی دوری ہوتی۔ تو کیا ہی برا ساتھی ہوا۔

۳۹–اور جب تم ظلم کر چکے ہو تو یہ بات تمہارے لیے کچھ بھی مفید نہ ہو گی کہ تم عذاب میں ایک دوسرے کے شریک ہو۔

۴۰–(اے نبی) کیا تم بہروں کو سناؤ گے یا اندھوں اور صریح گمراہی میں پڑے ہوئے لوگوں کو راہ دکھاؤ گے۔

۴۱–اگر ہم تمہیں اٹھا لیتے ہیں تو (اس کے بعد) انہیں سزا ضرور دیں گے۔

۴۲–یا یہ ہو گا کہ تم کو ان کا انجام دکھا دیں گے جس کا ہم نے ان سے وعدہ کیا ہے۔ ایسا کرنے پر ہم پوری طرح قادر ہیں۔

۴۳–تو جو وحی تمہاری طرف کی گئی ہے اس کو مضبوطی کے ساتھ تھام لو۔ یقیناً تم سیدھی راہ پر ہو۔

۴۴–اور بے شک یہ تمہارے لیے اور تمہاری قوم کے لیے نصیحت ہے۔ عنقریب تم سے باز پرس ہو گی۔

۴۵–تم سے پہلے ہم نے جو رسول بھیجے تھے ان سے پوچھ دیکھو کیا ہم نے رحمن کے سوا دوسرے معبود مقرر کئے تھے کہ ان کی پرستش کی جائے ؟

۴۶–ہم نے موسیٰ کو اپنی نشانیوں کے ساتھ فرعون اور اس کے امراء کے پاس بھیجا تو اس نے کہا میں رب العالمین کا رسول ہوں۔

۴۷–اور جب وہ ان کے پاس ہماری نشانیوں کے ساتھ آیا تو وہ ان کامذاق اڑانے لگے۔

۴۸–ہم ان کو ایک سے بڑھ کر ایک نشانی دکھاتے رہے۔ اور ہم نے ان کو عذاب کی گرفت میں لے لیا تاکہ وہ رجوع کریں۔

۴۹–مگر وہ کہتے اے جادوگر! اپنے رب سے اس عہد کی بنا پر جو اس نے تم سے کر رکھا ہے ہمارے لیے دعا کرو۔ ہم ضرور ہدایت قبول کریں گے۔

۵۰–اور جب ہم ان پر سے عذاب ہٹا دیتے تو وہ اپنا عہد توڑ دیتے۔

۵۱–اور فرعون نے اپنی قوم کو پکار کر کہا اے میری قوم کے لوگو ! کیا مصر کی بادشاہی میری نہیں ہے ؟ اور کیا یہ نہریں میرے نیچے نہیں بہ رہی ہیں۔ کیا تم لوگ دیکھتے نہیں ہو!

۵۲–تو میں بہتر ہوں یا یہ شخص جو حقیر ہے اور اپنی بات کھل کر کہہ بھی نہیں سکتا؟

۵۳–کیوں نہ اس پر سونے کے کنگن اتارے گئے یا فرشتے اس کے ساتھ پرے باندھے ہوئے آئے !

۵۴–اس نے اپنی قوم کو بے وقوف بنایا اور انہوں نے اس کی اطاعت کی۔ وہ تھے ہی نافرمان لوگ۔

۵۵–جب انہوں نے ہمارے غضب کو دعوت دی تو ہم نے ان کو سزا دی اور ان سب کو غرق کر دیا۔

۵۶–اور ان کو ایسا بنا دیا کہ وہ گئے گزرے ہو گئے اور بعد والوں کے لیے نمونہ عبرت بن کر رہ گئے۔

۵۷–اور جب ابن مریم کا حال بیان کیا جاتا ہے تو تمہاری قوم کے لوگ شور مچانے لگتے ہیں۔

۵۸–اور کہتے ہیں ہمارے معبود اچھے ہیں یا وہ؟ یہ بات محض کٹ حجتی کے لیے وہ پیش کرتے ہیں۔ در حقیقت یہ لوگ ہیں ہی جھگڑالو۔

۵۹–وہ تو بس ہمارا ایک بندہ تھا جس کو ہم نے انعام سے نوازا اور بنی اسرائیل کے لیے ایک مثال بنایا۔

۶۰–ہم چاہیں تو تمہارے اندر سے فرشتے بنائیں جو زمین میں خلیفہ ہوں۔

۶۱–اور وہ یقیناً قیامت کی بہت بڑی دلیل ہے۔ لہٰذا اس میں شک نہ کرو اور میری پیروی کرو یہی سیدھی راہ ہے۔

۶۲–شیطان تمہیں اس سے روکنے نہ پائے۔ بلا شہ وہ تمہارا کھلا دشمن ہے۔

۶۳–اور جب عیسیٰؑ  واضح نشانیوں کے ساتھ آیا تھا تو اس نے کہا تھا کہ میں تم لوگوں کے پاس حکمت لے کر آیا ہوں اور اس لیے آیا ہوں تاکہ تم پر بعض وہ باتیں واضح کر دوں جن کے بارے میں تم اختلاف میں پڑ گئے ہو۔ لہٰذا تم اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔

۶۴–اللہ ہی میرا رب بھی ہے اور تمہارا رب بھی لہٰذا اسی کی عبادت کرو۔ یہی سیدھی راہ ہے۔

۶۵–مگر ان کے مختلف گروہوں نے اختلاف برپا کیا۔ تو تباہی ہے ان لوگوں کے لیے جنہوں نے ظلم کیا ایک دردناک دن کے عذاب سے۔

۶۶–کیا یہ لوگ اس بات کے منتظر ہیں کہ ان پر قیامت آ جائے اور انہیں اس کی خبر بھی نہ ہو؟ ۶۶

۶۷–اس دن دوست ایک دوسرے کے دشمن ہو جائیں گے سوائے متقیوں کے۔

۶۸–اے میرے بندو! آج تمہارے لیے نہ کوئی خوف ہے اور نہ تم غمگین ہو گے۔

۶۹–جو ہماری آیتوں پر ایمان لائے تھے اور مسلم (فرمانبردار) بن کر رہے تھے۔

۷۰–داخل ہو جاؤ جنت میں تم اور تمہاری بیویاں۔ تمہیں خوش و خر ّم رکھا جائے گا۔

۷۱–ان کے آگے سونے کے طشتریاں اور ساغر گردش کریں گے۔ اور اس میں وہ کچھ ہو گا جو دل کو پسند اور آنکھوں کے لیے لذّت بخش ہو گا۔ اور تم اس میں ہمیشہ رہو گے۔

۷۲–یہ وہ جنت ہے جس کے وارث تم اپنے اعمال کے صلہ میں بنائے گئے ہو۔

۷۳–تمہارے لیے اس میں بہ کثرت میوے ہوں گے جن کو تم کھاؤ گے۔

۷۴–بلا شبہ مجرم ہمیشہ جہنم کے عذاب میں رہیں گے۔

۷۵–ان کے عذاب میں کمی نہ ہو گی اور وہ اس میں مایوس پڑے رہیں گے۔

۷۶–ہم نے ان پر ظلم نہیں کیا بلکہ وہ خود ہی اپنے اوپر ظلم کرتے رہے۔

۷۷–وہ پکاریں گے اے خازن! تمہارا رب ہمارا خاتمہ ہی کر دے وہ جواب دیں گے تم کو اسی حال میں رہنا ہے۔

۷۸–ہم نے تمہارے سامنے حق پیش کیا تھا مگر تم میں سے اکثر لوگوں کو حق ناگوار تھا

۷۹–کیا ان لوگو ں نے قطعی فیصلہ کر لیا ہے (ایسا ہے) تو ہم بھی قطعی فیصلہ کر لیں گے۔

۸۰–کیا انہوں نے یہ گمان کر رکھا ہے کہ ہم ان کی راز کی باتوں اور ان کی سرگوشیوں کو سنتے نہیں ہیں؟ ہم ضرور سن رہے ہیں اور ہمارے فرستادے ان کے پاس ہی لکھ رہے ہیں

۸۱–کہوا گر رحمن کے کوئی اولاد ہوتی تو سب سے پہلا عبادت کرنے والا میں ہوں۔

۸۲–پاک ہے آسمانوں اور زمینوں کا رب، عرش کا مالک ان باتوں سے جو یہ بیان کرتے ہیں۔

۸۳–تو ان کو چھوڑ دو کہ بحث میں الجھے رہیں اور کھیل میں مشغول رہیں یہاں تک کہ اس دن کو دیکھ لیں جس سے ان کو ڈرایا جا رہا ہے۔

۸۴–وہی آسمان میں بھی اِلٰہ (خدا) ہے اور زمین میں بھی اِلٰہ اور وہی حکمت والا علم والا ہے۔

۸۵–بڑا بابرکت ہے وہ جس کے قبضہ میں آسمانوں اور زمین اور ان کے درمیان کی تمام چیزوں کی بادشاہی ہے۔ اسی کے پاس قیامت کی گھڑی کا علم ہے اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے۔

۸۶–اس کو چھوڑ کر یہ لوگ جن کو پکارتے ہیں وہ شفاعت کا اختیار نہیں رکھتے مگر وہ جو علم کی بنا پر حق کی گواہی دیں گے۔

۸۷–اگر تم ان سے پوچھو انہیں کس نے پیدا کیا ہے تو کہیں گے اللہ نے۔ پھر یہ کس طرح فریب میں آتے ہیں۔

۸۸–اور اس کی (یعنی رسول کی) یہ فریاد کہ اے میرے رب! یہ وہ لوگ ہیں جو ایمان نہیں لاتے۔

۸۹–تو ان سے درگزر کرو اور کہو سلام۔ عنقریب انہیں معلوم ہو جائے گا۔

٭٭٭

 

 

(۴۴) سورۂ الدُّخَانْ

 

اللہ رحمٰن و رحیم کے نام سے

 

۱– حا۔ میم

۲– قسم ہے روشن کتاب کی

۳– ہم نے اسے ایک مبارک شب میں نازل کیا۔ یقیناً ہم لوگوں کو خبردار کرنے والے تھے۔

۴– اس شب میں ہر قسم کے حکیمانہ امور طے کئے جا رہے تھے۔

۵– ہماری طرف سے ایک فرمان کی حیثیت سے۔ یقیناً ہم رسول بھیجنے والے تھے۔

۶– تمہارے رب کی رحمت کے طور پر۔ بلا شبہ وہ سننے والا جاننے والا ہے۔

۷– آسمانوں اور زمین کا نیز ان کے درمیان کی تمام موجودات کا رب۔ اگر تم کو یقین کرنا ہے۔

۸– اس کے سوا کوئی الٰہ (معبود) نہیں۔ وہی زندہ کرتا اور موت دیتا ہے۔ تمہارا رب اور تمہارے گزرے ہوئے آبا ء و اجداد کا رب۔

۹– مگر یہ شک میں پڑے ہوئے کھیل رہے ہیں۔

۱۰ — تو انتظار کرو اس دن کا جب آسمان سے کھلا ہوا دھواں نمودار ہو گا۔

۱۱ — جو لوگوں پر چھا جائے گا۔ یہ ہے درد ناک عذاب۔

۱۲ — اے ہمارے رب! ہم سے عذاب دور کر دے ہم ایمان لاتے ہیں۔

۱۳ — اب ان کے لیے نصیحت حاصل کرنے کا کیا موقع رہا جب کہ ان کے پاس رسول آشکارا طور پر ا گیا تھا۔

۱۴ — لیکن انہوں نے اس سے رو گردانی کی تھی اور کہا تھا یہ تو ایک سکھایا پڑھایا خطبی ہے۔

۱۵ — ہم کچھ دیر کے لیے عذاب کو دور کر بھی دیں تو تم وہی کرو گے جو پہلے کر رہے تھے۔

۱۶ — جس دن ہم بڑی پکڑ میں لیں گے اس دن ہم سزا دے کر رہیں گے۔

۱۷ — ہم نے اس سے پہلے قوم فرعون کو آزمائش میں ڈالا تھا۔ ان کے پاس ایک معزز رسول آیا۔

۱۸ — کہ اللہ کے بندوں کو میرے حوالہ کرو۔ میں تمہارے لیے ایک امانتدار رسول ہوں۔

۱۹ — اور اللہ کے مقابلہ میں سرکشی نہ کرو۔ میں تمہارے سامنے کھلی حجت پیش کرتا ہوں۔

۲۰ — اور میں نے اپنے اور تمہارے رب کی پناہ مانگی اس سے کہ تم مجھے سنگسار کرو۔

۲۱ — اگر تم میری بات نہیں مانتے تو مجھے چھوڑ دو۔

۲۲ — بالآخر اس نے اپنے رب سے دعا کی کہ یہ لوگ مجرم ہیں۔

۲۳ — (حکم ہوا– میرے بندوں کو لے کر راتوں رات نکل جاؤ۔ تم لوگوں کا پیچھا کیا جائے گا۔

۲۴ — اور سمندر کو ساکن چھوڑ دو۔ یہ لوگ ڈوب جانے والا لشکر ہیں۔

۲۵ — انہوں نے کتنے ہی باغ اور چشمے چھوڑے۔

۲۶ — اور کھیت اور عمدہ ٹھکانے۔

۲۷ — اور سامانِ عیش جس میں وہ مزے کر رہے تھے۔

۲۸ — اس طرح ہم نے ان کے ساتھ معاملہ کیا اور ان چیزوں کا وارث ہم نے دوسروں کو بنایا۔

۲۹ — تو نہ آسمان ان پر رویا اور نہ زمین اور نہ ان کو کوئی مہلت دی گئی۔

۳۰ — اور ہم نے بنی اسرائیل کو رسوا کن عذاب سے نجات دی۔

۳۱ — فرعون سے جو حد سے گزر جانے والے لوگوں میں سے تھا اور بڑا ہی سرکش تھا۔

۳۲ — اور ہم نے ان کو (یعنی بنی اسرائیل کو) جانتے ہوئے دنیا والوں پر ترجیح دی۔

۳۳ — اور انہیں ایسی نشانیاں عطا کیں جن میں کھلی آزمائش تھی۔

۳۴ — یہ لوگ بڑے وثوق سے کہتے ہیں۔

۳۵ — کہ بس یہ ہماری پہلی موت ہے اور اس کے بعد ہم اٹھائے جانے والے نہیں ہیں۔

۳۶ — اگر تم سچے ہو تو لے آؤ ہمارے باپ دادا کو۔

۳۷ — (قوت و شوکت میں) یہ لوگ بہتر ہیں یا قوم تبع اور وہ قومیں جو ان سے پہلے گزریں۔ ہم نے ان کو ہلاک کر دیا۔ وہ بڑے مجرم تھے۔

۳۸ — ہم نے آسمان و زمین اور ان کے درمیان کی چیزوں کو کھیل کے طور پر نہیں بنایا ہے۔

۳۹ — ہم نے ان کو (مقصدِ)حق کے ساتھ پیدا کیا ہے مگر اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں۔

۴۰ — فیصلہ کا دن ان سب کے لیے وقتِ مقرر ہے۔

۴۱ — جس دن کوئی قریبی عزیز کسی قریبی عزیز کے کام نہ آئے گا اور نہ ان کی کوئی مدد کی جائے گی۔

۴۲ — سوائے اس کے کہ اللہ ہی کسی پر رحم کرے۔ یقیناً وہ بڑا زبردست رحم فرمانے والا۔

۴۳ — بلا شبہ زقوم کا درخت۔

۴۴ — گنہگاروں کا کھانا ہو گا۔

۴۵ — گویا پگھلی ہوئی دھات۔ وہ پیٹ میں گھولے گا۔

۴۶ — جیسے گرم پانی کھولتا ہے۔

۴۷ — پکڑو اس کو اور گھسیٹتے ہوئے جہنم کے بیچوں بیچ لے جاؤ۔

۴۸ — پھر اس کے سر پر کھولتے پانی کا عذاب انڈیل دو۔

۴۹ — چکھ اس کا مزہ۔ تو بڑا زبردست اور عزت والا آدمی ہے۔

۵۰ — یہ وہی چیز ہے جس کے بارے میں تم شک میں پڑے ہوئے تھے۔

۵۱ — البتہ اللہ سے ڈرنے والے پر امن مقام میں ہوں گے۔

۵۲ — باغوں اور چشموں میں۔

۵۳ — باریک اور دبیز ریشم کے لباس پہنے آمنے سامنے بیٹھے ہوں گے۔

۵۴ — اس طرح وہ سرفراز کئے جائیں گے۔ اور حسین چشم حوروں سے ہم ان کا بیاہ کر دیں گے۔

۵۵ — وہاں وہ اطمینان سے ہر قسم کے میوے طلب کریں گے۔

۵۶ — پہلی موت کے بعد وہ کسی موت کا مزہ نہیں چکھیں گے۔

۵۷ — یہ تمہارے رب کے فضل سے ہو گا۔ یہی ہے بڑی کامیابی۔

۵۸ — ہم نے (اے پیغمبر!) تمہاری زبان میں اسے آسان بنا دیا ہے تاکہ لوگ نصیحت حاصل کریں۔

۵۹ — اب تم بھی انتظار کرو۔ وہ بھی انتظار کرتے ہیں۔

٭٭٭

 

 

(۴۵) سورۂ الجاثیہ

 

اللہ رحمٰن و رحیم کے نام سے

 

۱–حا۔ میم

۲–اس کتاب کا نزول اللہ کی طرف سے ہے۔ جو زبردست اور حکمت والا ہے۔

۳–آسمانوں اور زمین میں بڑی نشانیاں ہیں ایمان لانے والوں کے لیے۔

۴–اور تمہاری خلقت میں اور ان حیوانات میں جو اس نے پھیلا رکھے ہیں نشانیاں ہیں یقین کرنے والوں کے لیے۔

۵–اور رات اور دن کی آمد و رفت میں اور اس رزق میں جسے اللہ آسمان سے اتارتا ہے پھر اس سے زمین کو اس کے مردہ ہو جانے کے بعد زندہ کر دیتا ہے اور ہواؤں کی گردش میں نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو عقل سے کام لیں۔

۶–یہ اللہ کی آیتیں ہیں جو ہم تمہیں حق کے ساتھ سنا رہے ہیں۔ اب اللہ اور اس کی آیتوں کے بعد وہ کون سی بات ہے جس پر یہ لوگ ایمان لائیں گے۔

۷–تباہی ہے ہر جھوٹے گنہگار شخص کے لیے۔

۸–جو الہ کی آیتوں کو جو اس کے سامنے پڑھی جاتی ہیں سنتا ہے پھر تکبر کے ساتھ (اپنے کفر پر) اصرار کرتا ہے گویا اس نے ان کو سنا ہی نہیں تو ایسے شخص کو درد ناک عذاب کی خوشخبری دے دو۔

۹–ہماری آیتوں میں سے کوئی بات اس کے علم میں آتی ہے تو وہ اس کو مذاق بنا لیتا ہے۔ ایسے لوگوں کے لیے ذلت کا عذاب ہے۔

۱۰–ان کے آگے جہنم ہے۔ جو کچھ انہوں نے کمایا ہے وہ ان کے کچھ بھی کام آنے والا نہیں۔ اور نہ وہ ان کے کام آئیں گے جن کو انہوں نے اللہ کو چھوڑ کر کارساز بنا رکھا ہے۔ ان کے لیے بہت بڑا عذاب ہے۔

۱۱–یہ سراسر ہدایت ہے۔ اور جن لوگوں نے اپنے رب کی آیتوں کا انکار کیا ان کے لیے شدت کا درد ناک عذاب ہے۔

۱۲–اللہ ہی ہے جس نے تمہارے لیے سمندر کو مسخر کر دیا۔ تاکہ اس کے حکم سے اس میں کشتیاں چلیں اور تم اس کا فضل تلاش کرو۔ اور تاکہ تم اس کے شکر گزار رہو۔

۱۳–اور اس نے آسمانوں اور زمین کی تمام چیزوں کو اپنی طرف سے تمہاری خدمت میں لگا رکھا ہے۔ اس میں یقیناً نشانیاں ہیں۔ ان لوگوں کے لیے جو غور و فکر کریں۔

۱۴–ایمان لانے والوں سے کہو کہ وہ ان لوگوں سے درگزر کریں جو الہ کی طرف سے ظاہر ہونے والے عبرتناک دنوں کا اندیشہ نہیں رکھتے تاکہ اللہ ایک گروہ کو اس کی کمائی کا جو وہ کرتی رہی ہے بدلہ دے۔

۱۵–جو کوئی نیک عمل کرے گا وہ اپنے ہی لیے کرے گا اور جو برائی کرے گا اس کا وبال اسی پر ہو گا۔ پھر تم اپنے رب ہی کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔

۱۶–ہم نے بنی اسرائیل کو کتاب اور حکمت اور نبوت عطا کی تھی۔ ان کو ہم نے پاکیزہ رزق بخشا تھا۔ اور دنیا والوں پر فضیلت عطا کی تھی۔

۱۷–انہیں دین کے معاملہ میں واضح احکام ہوئے۔ تو انہوں نے جو اختلاف کیا وہ علم آ جانے کے بعد کیا محض آپس میں ایک دوسرے کے خلاف زیادتی کی بناء پر بے شک تمہارا رب قیامت کے دن ان کے درمیان ان باتوں کا فیصلہ کر دے گا جن میں وہ اختلاف کرتے رہے ہیں۔

۱۸–پھر ہم نے تم کو ایک واضح شریعت پر قائم کیا لہٰذا تم اس کی پیروی کرو اور ان لوگوں کی خواہشات کے پیچھے نہ چلو جو علم نہیں رکھتے۔

۱۹–یہ لوگ اللہ کے مقابلہ میں تمہارے کچھ بھی کام آنے والے نہیں ہیں۔ یہ ظالم ایک دوسرے کے رفیق ہیں اور اللہ متقیوں کا رفیق ہے۔

۲۰–یہ لوگوں کے لیے بصیرت کی باتیں ہیں۔ اور ہدایت اور رحمت ہے ان لوگوں کے لیے جو یقین کریں۔

۲۱–کیا وہ لوگ جنہوں نے برائیوں کا ارتکاب کیا ہے یہ سمجھتے ہیں کہ ہم انہیں ان لوگوں کی مانند کر دیں گے جو ایمان لائے اور جنہوں نے نیک عمل کئے کہ ان کا جینا اور مرنا یکساں ہو جائے ؟ بہت بُرا فیصلہ ہے جو وہ کر رہے ہیں !

۲۲–اللہ نے آسمانوں اور زمین کو (مقصد) حق کے ساتھ پیدا کیا ہے۔ اور اس لیے پیدا کیا ہے تاکہ ہر شخص کو اس کی کمائی کا بدلہ دیا جائے۔ اور ان کے ساتھ نا انصافی ہرگز نہیں کی جائے گی۔

۲۳–کیا تم نے اس شخص کو دیکھا جس نے اپنی خواہش کو اپنا معبود بنا لیا ہے ؟ اور اللہ نے اسے جانتے ہوئے گمراہ کر دیا۔ اور اس کے کان اور دل پر مہر لگا دی اور اس کی آنکھوں پر پردہ ڈال دیا۔ اب کون ہے جو اللہ کے بعد اسے ہدایت دے ؟ پھر کیا تم لوگ ہوش میں نہیں آتے ؟

۲۴–یہ لوگ کہتے ہیں ہماری زندگی تو بس دنیا کی زندگی ہے۔ یہیں ہمیں مرنا اور جینا ہے اور ہمیں بس زمانہ کی گردش ہلاک کرتی ہے۔ (در حقیقت) ان کو اس بارے میں کوئی علم نہیں۔ یہ محض اٹکل پچو باتیں کرتے ہیں۔

۲۵–اور جب ان کو ہماری روشن آیتیں سنائی جاتی ہیں تو ان کی حجت بس یہ ہوتی ہے کہ لاؤ ہمارے باپ دادا کو اگر تم سچے ہو۔

۲۶–ان سے کہو اللہ ہی تمہیں زندگی بخشا ہے پھر تمہیں موت دیتا ہے پھر وہی تم کو قیامت کے دن جمع کرے گا جس کے آنے میں کوئی شبہ نہیں مگر اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں۔

۲۷–آسمانوں اور زمین کی بادشاہی اللہ ہی کی ہے اور جس دن قیامت قائم ہو گی اس دن باطل پرست خسارہ میں پڑیں گے۔

۲۸–اور تم ہر گروہ کو گھٹنوں کے بل گرا ہوا دیکھو گے۔ ہر گروہ کو اس کے نامۂ اعمال کی طرف بلایا جائے گا۔ جو تم کرتے رہے اس کا آج تمہیں بدلہ دیا جائے گا۔

۲۹–یہ ہمارا دفتر ہے جو تمہارے بارے میں ٹھیک ٹھیک بول رہا ہے۔ جو کچھ تم کرتے تھے ہم اسے لکھواتے جاتے تھے۔

۳۰–تو جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے ان کو ان کا رب اپنی رحمت میں داخل کرے گا۔ یہ صریح کامیابی ہے۔

۳۱–اور جن لوگوں نے کفر کیا ان سے کہا جائے گا کیا میری آیتیں تم کو پڑ ھ کر سنائی نہیں جاتی تھیں ؟ مگر تم نے تکبر کیا اور تم مجرم لوگ تھے۔

۳۲–اور جب کہا جاتا تھا کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے اور قیامت کے بارے میں کوئی شک نہیں تو تم کہتے تھے ہم نہیں جانتے قیامت کیا ہے۔ ہم تو ایک گمان رکھتے ہیں اور ہم اس کا یقین کرنے والے نہیں ہیں۔

۳۳–اور ان پر ان کے عمل کی برائیاں واضح ہو جائیں گی اور جس چیز کا وہ مذاق اڑاتے رہے ہیں وہ ان کو گھیر لے گی۔

۳۴–اور ان سے کہا جائے گا آج ہم تمہیں بھلائے دیتے ہیں۔ جس طرح تم نے اپنی پیشی کے اس دن کو بھلا دیا تھا۔ تمہارا ٹھکانہ دوزخ ہے اور کوئی تمہارا مددگار نہیں ہے۔

۳۵–یہ اس لیے کہ تم نے اللہ کی آیتوں کو مذاق بنا لیا تھا اور تمہیں دنیا کی زندگی نے دھوکہ میں ڈال دیا تھا۔ تو آج ان کو نہ اس سے نکالا جائے گا اور نہ توبہ کا موقع دیا جائے گا۔

۳۶–پس حمد اللہ ہی کے لیے ہے۔ جو آسمانوں کا بھی رب ہے اور زمین کا بھی رب، سارے جہاں کا رب۔

۳۷–اور اسی کے لیے ہے بڑائی آسمانوں اور زمین میں اور وہ غالب ہے حکمت والا۔

٭٭٭

 

 

(۴۶) سورۂ الاحقاف

 

اللہ رحمٰن و رحیم کے نام سے

 

۱– حا۔ میم۔

۲– یہ کتاب اللہ کی طرف سے نازل ہوئی ہے جو غالب اور حکمت والا ہے۔

۳– ہم نے آسمانوں اور زمین کو اور ان کے درمیان کی چیزوں کو (مقصدِ) حق کے ساتھ اور ایک معین مدت کے لیے ہی پیدا کیا ہے۔ مگر یہ کافر اس چیز سے رخ پھیرے ہوئے ہیں جس سے انہیں خبردار کیا گیا ہے۔

۴– کہو تم نے ان پر غور کیا جن کو تم اللہ کو چھوڑ کر پکارتے ہو؟ بتاؤ زمین کی کون سی چیز انہوں نے پیدا کی ہے یا آسمانوں کی تخلیق میں ان کا کیسا حصہ ہے ؟ اس سے پہلے کی کوئی کتاب یا کوئی علمی ثبوت (جو اس کی تائید میں ہو) میرے پاس لے آؤ اگر تم سچے ہو۔

۵– اور ان سے بڑھ کر گمراہ اور کون ہو سکتے ہیں جو اللہ کو چھوڑ کر ان کو پکاریں جو قیامت تک ان کو جو اب نہیں دے سکتے اور وہ ان کی پکار سے بے خبر ہیں۔

۶– اور جب تمام لوگ جمع کئے جائیں گے تو وہ ان کے دشمن ہوں گے اور ان کی عبادت کا انکار کریں گے۔

۷– ان لوگوں کو جب ہماری روشن آیتیں سنائی جاتی ہیں تو یہ کافر حق کے بارے میں جو ان کے پاس آ گیا ہے کہتے ہیں کہ یہ صریح جادو ہے۔

۸– کیا یہ لوگ کہتے ہیں کہ اس شخص نے اس کو گھڑ لیا ہے ؟ کہو اگر میں نے گھڑ لیا ہے تو تم لوگ مجھے اللہ سے ذرا بھی نہ بچا سکو گے اور تم جو باتیں بناتے ہو ان کو خوب جانتا ہے۔ میرے اور تمہارے درمیان وہ گواہی کے لیے کافی ہے۔ وہ بڑا معاف کرنے والا رحم فرمانے والا ہے۔

۹– کہو میں کوئی نرالا رسول تو نہیں ہوں اور میں نہیں جانتا کہ میرے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے گا اور تمہارے ساتھ کیا معاملہ۔ میں تو صرف اس وحی کی پیروی کرتا ہوں جو میری طرف بھیجی جاتی ہے۔ اور میں تو بس کھلا خبردار کرنے والا ہوں۔

۱۰– کہو تم نے یہ بھی سوچا کہ اگر یہ اللہ کی طرف سے ہوا اور تم نے اس کا انکار کیا جبکہ بنی اسرائیل کے ایک گواہ نے اس جیسی کتاب پر گواہی دی ہے چنانچہ وہ ایمان لے آیا اور تم نے تکبر کیا۔ (تو یہ کتنا بڑا جرم ہو گا؟) اللہ ایسے ظالم لوگوں کو راہ پر نہیں لگاتا۔

۱۱– کافر ایمان لانے والوں کے بارے میں کہتے ہیں کہ اگر یہ (قرآن) خیر ہوتا تو یہ لوگ ہم سے پہلے اس کو نہ پا لیتے۔ اور چونکہ انہوں نے اس سے ہدایت نہیں پائی اس لیے کہیں گے کہ یہ پرانا جھوٹ ہے۔

۱۲– حالانکہ اس سے پہلے موسیٰ کی کتاب رہنما اور رحمت بن کر آ چکی ہے۔ اور یہ کتاب اس کی تصدیق کرنے والی ہے۔ عربی زبان میں تاکہ ظلم کرنے والوں (غلط) کار لوگوں، کو خبردار کر دے اور یہ بشارت ہے نیکو کاروں کے لیے۔

۱۳– جن لوگوں نے کہا اللہ ہمارا رب ہے پھر اس پر جمے رہے ان کے لیے نہ کوئی خوف ہے اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔

۱۴– یہ جنت والے ہیں جہاں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ یہ جزا ہو گی ان اعمال کی جو وہ کرتے رہے۔

۱۵– ہم نے انسان کو ہدایت کی کہ اپنے والدین کے ساتھ نیک سلوک کرے۔ اس کی ماں نے تکلیف کے ساتھ اس کو پیٹ میں رکھا اور تکلیف کے ساتھ اس کو جنا۔ اس کے حمل اور دودھ چھڑانے میں تیس مہینے لگ گئے یہاں تک کہ جب وہ اپنے شباب کو پہنچا اور پہنچا چالیس سال کی عمر کو تو اس نے دعا کی اے میرے رب! مجھے توفیق عطا فرما کہ میں تیرے اس احسان کا شکر ادا کروں جو تو نے مجھ پر اور میرے والدین پر فرمایا۔ اور وہ نیک عمل کروں جو تجھے پسند ہے۔ اور میری اولاد کو بھی میرے لیے نیک بنا دے۔ میں نے تیری طرف رجوع کیا اور میں مسلمین (تیرے فرماں برداروں) میں سے ہوں۔

۱۶– ایسے لوگوں کے بہترین اعمال کو ہم قبول کریں گے۔ اور ان کی برائیوں سے درگزر کریں گے۔ وہ جنت والوں میں شامل ہوں گے۔ سچا وعدہ جو ان سے کیا جاتا رہا ہے۔

۱۷– اور جس شخص نے اپنے والدین سے کہا تم پر اُف ہے ! کیا تم مجھے اس سے ڈراتے ہو کہ میں قبر سے نکالا جاؤ ں گا حالانکہ مجھ سے پہلے کتنی ہی قومیں گزر چکی ہیں۔ اور وہ دونوں اللہ سے فریاد کرتے ہوئے اس سے کہتے ہیں کہ افسوس تجھ پر! ایمان لا۔ اللہ کا وعدہ سچا ہے۔ مگر وہ کہتا ہے کہ یہ گزرے ہوئے لوگوں کے فسانے ہیں۔

۱۸– یہ وہ لوگ ہیں جن پر اللہ (کے عذاب) کا فرمان لاگو ہوا ان گروہوں میں جو جنوں اور انسانوں میں سے ان سے پہلے گزرے۔ یقیناً یہ تباہ ہونے والے ہیں۔

۱۹– اور ہر ایک کے لیے ان کے اعمال کے لحاظ سے درجے ہوں گے۔ اور یہ (یہ اس لیے ہو گا کہ) وہ ان کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دے۔ اور ان پر ظلم ہرگز نہ کیا جائے گا۔

۲۰– اور جس دن کافر آگ کے سامنے پیش کئے جائیں گے (تو ان سے کہا جائے گا) تم اپنے حصہ کی اچھی چیزیں دنیا کی زندگی میں لے چکے اور ان سے فائدہ اٹھایا۔ تو آج تمہیں ذلت کا عذاب دیا جائے گا۔ اس بات کی پاداش میں کہ تم زمین میں بغیر کسی حق کے تکبر کرتے رہے اور اس لیے کہ تم نافرمانی کرتے رہے۔

۲۱– یاد کرو عاد کے بھائی کو جب اس نے احقاف میں اپنی قوم کو خبردار کیا ہے __ اور خبردار کرنے والے اس کے آگے بھی آئے تھے اور اس کے پیچھے بھی آئے۔ __ کہ اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو۔ مجھے تم پر ایک ہولناک دن کے عذاب کا اندیشہ ہے۔

۲۲– انہوں نے کہا تم اس لیے آئے ہو کہ ہمیں ہمارے معبودوں سے برگشتہ کر دو۔ اگر تم سچے ہو تو لے آؤ وہ عذاب جس سے ہمیں ڈرا رہے ہو۔

۲۳– اس نے کہا اس کا علم تو اللہ ہی کو ہے۔ میں تو وہ پیغام تمہیں پہنچا رہا ہوں جس کے ساتھ مجھے بھیجا گیا ہے لیکن میں دیکھ رہا ہوں کہ تم لوگ جہالت برت رہے ہو۔

۲۴– پھر جب انہوں نے اس کو بادل کی شکل میں اپنی وادیوں کی طرف آتے دیکھا تو کہنے لگے یہ بادل ہے جو ہم پر بارش برسائے گا۔ نہیں بلکہ یہ وہ چیز ہے جس کے لیے تم نے جلدی مچا رکھی تھی۔ یہ ہوا (کا طوفان) ہے جس میں دردناک عذاب ہے۔

۲۵– یہ ہر چیز کو تباہ کر دے گی اپنے رب کے حکم سے۔ چنانچہ ان کا حال یہ ہوا کہ ان کے گھروں کے سوا کچھ نظر نہ آتا تھا۔ ہم مجرموں کو اسی طرح سزا دیا کرتے ہیں۔

۲۶– ہم نے ان کو وہ اقتدار بخشا تھا جو تم کو نہیں بخشا۔ ہم نے ان کو کان، آنکھیں اور دل دئے تھے مگر نہ ان کے کان ان کے کچھ کام آئے، نہ ان کی آنکھیں اور نہ ان کے دل۔ اس بنا پر کہ وہ اللہ کی آیتوں کا انکار کرتے تھے۔ اور ان کو گھیر لیا اس چیز نے جس کا وہ مذاق اڑاتے تھے۔

۲۷– ہم تمہارے گردو پیش کی بستیوں کو ہلاک کر چکے ہیں۔ ہم نے اپنی آیتیں گوناگوں طریقہ پر پیش کی تھیں تاکہ وہ رجوع کریں۔

۲۸– تو کیوں نہ ان کی مدد کی ان ہستیوں نے جن کو انہوں نے اللہ کو چھوڑ کر تقرب کے لیے معبود بنا رکھا تھا۔ بلکہ وہ سب ان سے کھوئے گئے۔ یہ ان کا جھوٹ اور ان کی گھڑی ہوئی باتیں تھیں۔

۲۹– اور جب ہم نے جنوں کے ایک گروہ کو تمہارے طرف پھیر دیا تاکہ وہ قرآن سنیں۔ جب وہ وہاں پہنچے تو انہوں نے (آپس میں) کہا خاموش ہو جاؤ (اور سنو)۔ جب اس کی تلاوت پوری ہو گئی تو وہ اپنی قوم کی طرف خبردار کرنے والے بن کر لوٹے۔

۳۰– انہوں نے کہا اے ہماری قوم کے لوگو ! ہم نے ایک ایسی کتاب سنی ہے جو موسیٰ کے بعد نازل کی گئی ہے۔ تصدیق کرتی ہے اس کتاب کی جو پہلے آ چکی ہے۔ یہ حق اور سیدھی راہ کی طرف رہنمائی کرتی ہے۔

۳۱– اے ہماری قوم کے لوگو ! اللہ کے داعی کی دعوت قبول کرو اور اس پر ایمان لے آؤ۔ اللہ تمہارے گناہ بخش دے گا اور تمہیں درد ناک عذاب سے بچائے گا۔

۳۲– اور جو اللہ کے داعی کی دعوت قبول نہیں کرے گا تو اس کے بس میں نہیں ہے کہ زمین میں اللہ کے قابو سے نکل جائے اور نہ اللہ کے مقابل اس کا کوئی مددگار ہو گا۔ یہ لوگ کھلی گمراہی میں پڑے ہوئے ہیں۔

۳۳– کیا انہوں نے اس بات پر غور نہیں کیا کہ اللہ جس نے آسمان و زمین پیدا کئے اور جن کے پیدا کرنے سے وہ تھکا نہیں وہ مردوں کو زندہ کرنے پر قادر ہے۔ کیوں نہیں وہ ہر چیز کی قدرت رکھتا ہے۔

۳۴– جس دن کافر جہنم کی آگ پر پیش کئے جائیں گے۔ (ان سے پوچھا جائے گا) کیا یہ حق نہیں ہے ؟ وہ کہیں گے ہاں ہمارے رب کی قسم۔ (یہ یقیناً حق ہے) فرمائے گا تو چکھو عذاب کا مزہ اپنے کفر کی پاداش ہیں۔

۳۵– پس (اے نبی!) صبر کرو جس طرح عزم و ہمت والے رسولوں نے صبر کیا اور ان کے لیے جلدی نہ کرو۔ جس دن یہ لوگ اس چیز کو دیکھ لیں گے جس کا ان سے وعدہ کیا جا رہا ہے تو وہ محسوس کریں گے کہ گویا (وہ دنیا میں) دن کی ایک گھڑی سے زیادہ نہیں رہے تھے۔ یہ پیغام ہے۔ تو نافرمان لوگوں کے سوا اور کون تباہ ہو گا؟

٭٭٭

 

 

(۴۷) سورۂ محمَّد

 

اللہ رحمٰن و رحیم کے نام سے

 

۱– جن لوگوں نے کفر کیا اور اللہ کے راستہ سے روکا ان کے اعمال اس نے ضائع کر دئے۔

۲– اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کئے اور اس ( ہدایت) پر ایمان لائے جو محمد پر نازل کی گئی ہے۔ اور وہ حق ہے ان کے رب کی طرف سے اللہ نے ان کی برائیاں ان سے دور کر دیں اور ان کا حال درست کر دیا۔

۳– یہ اس لیے کہ جن لوگوں نے کفر کیا انہوں نے باطل کی پیروی کی اور جو ایمان لائے انہوں نے اپنے رب کی طرف سے آئے ہوئے حق کی پیروی کی۔ اس طرح اللہ لوگوں کے لیے ان کا حال بیان فرماتا ہے۔

۴– لہٰذا جب تمہارا مقابلہ کافروں سے ہو تو ان کی گردنیں اُڑا دو یہاں تک کہ جب خوب قتل کر چکو تو ان کو مضبوط باندھ لو۔ اس کے بعد یا تو احسان کرنا ہے یا فدیہ کا معاملہ کرنا ہے یہاں تک کہ لڑائی اپنے ہتھیار ڈال دے۔ یہ ہے تمہاری ذمہ داری اور اگر اللہ چاہتا تو خود ہی ان کو سزا دیتا لیکن اس نے یہ ہدایت اس لیے دی تاکہ تمہیں ایک دوسرے کے ذریعہ آزمائے اور جو لوگ اللہ کی راہ میں قتل ہوئے ان کے اعمال وہ ہرگز ضائع نہ کرے گا۔

۵– وہ ان کو راہیاب کرے گا اور ان کی حالت سنوارے گا۔

۶– اور ان کو جنت میں داخل کرے گا جس کی پہچان ان کو کرا دی گئی ہے۔

۷– اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اگر تم اللہ کی مدد کرو گے تو وہ تمہاری مدد کرے گا اور تمہارے قدم جما دے گا۔

۸– جن لوگوں نے کفر کیا ان کے لیے ہلاکت ہے اور اس نے ( اللہ نے ) ان کے اعمال ضائع کر دئے۔

۹–یہ اس لیے کہ انہوں نے اس ( ہدایت ) کو ناپسند کیا جو اللہ نے نازل کی ہے لہٰذا اس نے ان کے اعمال اکارت کر دیئے۔

۱۰– کیا یہ لوگ زمین میں چلے پھرے نہیں کہ دیکھتے کیا انجام ہوا ان لوگوں کا جو ان سے پہلے گزر چکے ہیں۔ اللہ نے ان کو تباہ کر کے رکھ دیا اور کافروں کے لیے ایسی ہی سزائیں ہیں۔

۱۱– یہ اس لیے کہ اللہ ایمان لانے والوں کا کارساز( کرتا دھرتا) ہے اور کافروں کا کارساز کوئی نہیں۔

۱۲– بلاشبہ اللہ ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور نیک اعمال کئے جنتوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہ رہی ہوں گی۔ اور جن لوگوں نے کفر کیا وہ( دنیا کا) لطف اٹھا رہے ہیں اور اس طرح کھا رہے ہیں جس طرح جانور کھاتے ہیں۔ ان کا ٹھکانا جہنم ہے۔

۱۳– اور کتنی ہی بستیاں ہیں جو قوت میں تمہاری اس بستی سے بڑھ کر تھیں جس نے تم کو ( اے نبی!) نکالا ہے۔ ہم نے ان کو ہلاک کر دیا تو کوئی ان کو بچانے والا نہ ہوا۔

۱۴– کیا وہ لوگ جو اپنے رب کی طرف سے روشن دلیل پر ہیں ان لوگوں کی طرح ہو جائیں گے جن کا برا عمل ان کی نظروں میں خوشنما بنا دیا گیا ہے اور وہ اپنی خواہشات کے پیچھے چل رہے ہیں ؟

۱۵– اس جنت کی خصوصیت جس کا متقیوں سے وعدہ کیا گیا ہے یہ ہے کہ اس میں ایسے پانی کی نہریں بہہ رہی ہوں گی جس میں کوئی تغیر نہ ہو گا۔ اور نہریں دودھ کی جس کا ذائقہ نہیں بدلے گا اور نہریں ایسی شراب کی جو پینے والوں کے لیے نہایت لذیذ ہو گی۔ اور نہریں صاف شفاف شہد کی وہاں ان کے لیے ہر قسم کے پھل ہوں گے اور ان کے رب کی طرف سے مغفرت۔ کیا ایسے لوگ ان لوگوں کی طرح ہوں گے جو ہمیشہ جہنم میں رہنے والے ہیں اور جن کو ایسا گرم پانی پلایا جائے گا جو ان کی آنتیں کاٹ کر رکھ دے گا۔

۱۶– ان میں کچھ لوگ ایسے ہیں جو تمہاری طرف کان لگاتے ہیں لیکن جب تمہارے پاس سے نکلتے ہیں تو ان لوگوں سے جنہیں علم عطا ہوا ہے پوچھتے ہیں کہ ( رسول نے ) ابھی ابھی کیا فرمایا؟ یہ وہ لوگ ہیں جن کے دلوں پر اللہ نے مہر لگا دی ہے اور یہ اپنی خواہشات کے پیچھے چل رہے ہیں۔

۱۷– اور جن لوگوں نے ہدایت کی راہ اختیار کی اللہ نے ان کی ہدایت میں اضافہ کر دیا اور انہیں ان کے حصہ کا تقویٰ عطا فرمایا۔

۱۸– اب کیا یہ لوگ قیامت کے منتظر ہیں کہ ان پر اچانک آ جائے ؟ اس کی علامتیں تو ظاہر ہو چکی ہیں۔ جب وہ آ جائے گی تو ان کے لیے نصیحت حاصل کرنے کا موقع کہاں باقی رہ جائے گا۔

۱۹– تو جان لو کہ اللہ کے سوا کوئی اِلٰہ( معبود) نہیں۔ اور اپنی خطاؤں کے لیے معافی مانگو۔ اور مومن مردوں اور عورتوں کے لیے بھی۔ اللہ تمہارے چلنے پھرنے کو جانتا ہے اور تمہارے ٹھکانے کو بھی۔

۲۰– ایمان لانے والے کہہ رہے تھے کہ ایک سورہ( جس میں جہاد کا حکم دیا گیا ہو) کیوں نہیں نازل کی جاتی؟ مگر جب ایک قطعی حکم والی سورہ نازل کی گئی جس میں قِتال( جنگ) کا ذکر ہے تو تم نے دیکھا کہ جن کے دلوں میں رو گ ہے وہ تمہاری طرف اس طرح دیکھ رہے ہیں جیسے کسی پر موت کی غشی طاری ہو۔ تو افسوس ہے ان پر۔

۲۱– ( ان کے لیے صحیح طرزِ عمل) اطاعت کرنا اور اچھی بات کہنا تھا۔ اور جب قطعی حکم دیا گیا تو اگر وہ اللہ سے صداقت شعاری کا ثبوت دیتے تو ان ہی کے حق میں بہتر ہوتا۔

۲۲–اور اگر تم منہ پھیرتے ہو تو اس کے سوا تم سے کیا توقع کی جا سکتی ہے کہ زمین میں فساد برپا کرو گے اور رحمی رشتوں کو کاٹ ڈالو گے۔

۲۳– یہی لوگ ہیں جن پر اللہ نے لعنت کی اور ان کو بہرا اور ان کی آنکھوں کو اندھی کر دیا۔

۲۴– کیا یہ لوگ قرآن پر غور نہیں کرتے یا دلوں پر ان کے تالے پڑے ہوئے ہیں۔

۲۵– جو لوگ ہدایت واضح ہو جانے کے بعد پھر گئے شیطان نے ان کو پٹی پڑھائی اور ان کے لیے امیدوں کا سلسلہ دراز کر دیا۔

۲۶– یہ اس لیے ہوا کہ انہوں نے اللہ کی نازل کی ہوئی ہدایت کو نا پسند کرنے والوں سے کہا کہ بعض معاملات میں ہم تمہاری بات مانیں گے۔ اللہ ان کی راز داری کو جانتا ہے۔

۲۷– تو اس وقت ان کا کیا حال ہو گا جب فرشتے ان کے چہروں اور ان کی پیٹھوں پر مارتے ہوئے ان کی جانیں قبض کریں گے۔

۲۸– یہ اس لیے کہ انہوں نے اس طریقہ کی پیروی کی جو اللہ کو غصہ دلانے والا تھا اور اس کی خوشنودی کو نا پسند کیا۔ لہٰذا اس نے ان کے اعمال ضائع کر دئے۔

۲۹– کیا ان لوگوں نے جن کے دلوں میں روگ ہے یہ خیال کر رکھا ہے کہ اللہ ان کا کینہ ظاہر نہیں کرے گا؟

۳۰– (اے نبی!) اگر ہم چاہتے تو تمہیں ان کو دکھا دیتے اور تم ان کی علامتوں پہچان ہی لو گے۔ اللہ تم لوگوں کے اعمال کو جانتا ہے۔

۳۱– ہم ضرور تمہاری آزمائش کریں گے تاکہ دیکھ لیں کہ تم میں کون جہاد کرنے اور صبر کرنے والے ہیں اور تمہارے حالات کی جانچ کر لیں۔

۳۲– جن لوگوں نے کفر کیا اور اللہ کی راہ سے روکا اور رسولوں کی مخالفت کی بعد اس کے کہ ان پر ہدایت واضح ہو چکی تھی وہ اللہ کو کچھ بھی نقصان پہنچانے والے نہیں اور اللہ ان کے سارے اعمال ڈھا دے گا۔

۳۳– اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کی اطاعت کرو اور اپنے اعمال ضائع نہ کرو۔

۳۴– جن لوگوں نے کفر کیا اور اللہ کی راہ سے روکا پھر حالتِ کفر ہی میں مر گئے اللہ انہیں کبھی نہیں بخشے گا۔

۳۵– تو تم کمزور نہ پڑو اور صلح کی دعوت نہ دو۔ تم ہی غالب رہو گے۔ اللہ تمہارے ساتھ ہے اور وہ تمہارے اعمال کو ضائع نہ کرے گا۔

۳۶– دنیا کی زندگی تو بس کھیل تماشہ ہے۔ اور اگر تم ایمان لاؤ گے اور تقویٰ اختیار کرو گے تو وہ تمہیں تمہارے اجر دے گا اور تم سے تمہارا مال طلب نہ کرے گا۔

۳۷– اگر وہ تم سے مال مانگے اور سب مال طلب کرے تو تم بخل کرو گے اور وہ تمہارا کھوٹ ظاہر کرے گا۔

۳۸– یہ تم لوگ ہو کہ اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کی تمہیں دعوت دی جا رہی ہے تو تم میں ایسے لوگ بھی ہیں جو بخل کرتے ہیں۔ حالانکہ جو بخل کرتا ہے وہ اپنے ساتھ ہی بخل کرتا ہے۔ اللہ غنی ہے اور تم محتاج ہو۔ اور اگر تم رخ پھیر لو گے تو اللہ تمہاری جگہ دوسرے لوگوں کو لے آئے گا اور وہ تمہاری طرح نہ ہوں گے۔

٭٭٭

 

 

(۴۸) سورۂ الفتح

 

اللہ رحمٰن و رحیم کے نام سے

 

۱۔ (اے نبی!) ہم نے تم کو یقیناً کھلی فتح عطا کی۔

۲۔ تاکہ اللہ تمہارے اگلے پچھلے قصوروں کو معاف کر دے اور تم پر اپنی نعمت پوری کرے اور تم کو سیدھی راہ چلائے۔

۳ — اور زبردست نصرت سے اللہ تمہاری مدد فرمائے۔

۴ — اسی نے مومنوں کے دلوں میں سکینت نازل فرمائی تاکہ اپنے ایمان کے ساتھ انہیں مزید ایمان حاصل ہو۔ آسمانوں اور زمین کے تمام لشکروں کا مالک اللہ ہی ہے۔ اور اللہ صاحبِ علم اور صاحبِ حکمت ہے۔

۵ — (اس نے یہ فتح اس لیے عطا فرمائی) تاکہ وہ مومن مردوں اور مومن عورتوں کو جنتوں میں داخل کرے جن کے نیچے نہریں رواں ہوں گی۔ وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے۔ اور تاکہ ان سے ان کی برائیاں دور کر دے۔ اللہ کے نزدیک یہی بڑی کامیابی ہے۔

۶ — اور منافق مردو ں اور منافق عورتوں اور مشرک مردوں اور مشرک عورتوں کو سزا دے جو اللہ کے بارے میں برا گمان رکھتے ہیں۔ برائی کی گردش ان ہی پر ہے۔ اللہ کا ان پر غضب ہوا اور اس نے ان پر لعنت کی۔ ان کے لیے اس نے جہنم تیار کر رکھی ہے اور وہ بہت بُرا ٹھکانا ہے۔

۷ — آسمانوں اور زمین کے لشکر اللہ ہی کے قبضہ میں ہیں اور وہ غلبہ والا حکمت والا ہے۔

۸ — (اے نبی!) ہم نے تم کو گواہی دینے والا، خوشخبری دینے والا اور خبردار کرنے والا بنا کر بھیجا ہے۔

۹ — تاکہ تم لوگ اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لے آؤ، اس کی حمایت کرو اور اس کی تعظیم کرو اور اللہ کی تسبیح کرو صبح و شام۔

۱۰ — (اے بنی!) جو لوگ تم سے بیعت کر رہے تھے وہ در حقیقت اللہ سے بیعت کر رہے تھے۔ ان کے ہاتھ پر اللہ کا ہاتھ تھا تو جو شخص عہد توڑے گا وہ اپنی عہد شکنی کا وبا اپنے ہی اوپر لے گا اور جو اس عہد کو پورا کرے گا جو اس نے اللہ سے کیا ہے اس کو اجر عظیم عطا فرمائے گا۔

۱۱ — بدوی عربوں میں سے جو لوگ پیچھے چھوڑ دئے گئے تھے وہ تم سے ضرور کہیں گے کہ ہم کو اپنے مال اور بال بچوں نے مشغول کر رکھا تھا۔ لہٰذا آپ ہمارے لیے مغفرت کی دعا فرمائیں۔ یہ اپنی زبان سے وہ باتیں کہتے ہیں جو ان کے دلو ں میں نہیں ہیں۔ کہو کون ہے جو اللہ کے مقابل تمہارے لیے کچھ اختیار رکھتا ہو اگر وہ تمہیں کوئی نقصان یا نفع پہنچانا چاہے ؟ اور یہ حقیقت ہے کہ اللہ تمہارے اعمال سے باخبر ہے۔

۱۲ — مگر تم نے یہ گمان کیا کہ رسول اور اہلِ ایمان اب کبھی اپنے گھر والوں میں پلٹ کر نہ آ سکیں گے۔ اور یہ بات تمہارے دلوں کو خوشنما معلوم ہوئی اور تم نے برے گمان کئے اور تم ہلاک ہونے والے بنے۔

۱۳ — اور جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان نہیں لایا تو ایسے کافروں کے لیے ہم نے بھڑکتی آگ تیار کر رکھی ہے۔

۱۴ — آسمانوں اور زمین کی بادشاہی اللہ ہی کی ہے۔ وہ جسے چاہے معاف کرے اور جسے چاہے سزا دے۔ وہ مغفرت فرمانے والا رحم فرمانے والا ہے۔

۱۵ — جب تم غنیمتیں حاصل کرنے کے لیے جانے لگو گے تو یہ لوگ جو پیچھے چھوڑ دئے گئے ہیں ضرور کہیں گے کہ ہمیں بھی ساتھ چلنے دو یہ چاہتے ہیں کہ اللہ کے قول کو بدل دیں۔ (ان سے) کہو تم ہرگز ہمارے ساتھ نہیں چل سکتے۔ یہ بات اللہ پہلے ہی فرما چکا ہے۔ یہ کہیں گے نہیں بلکہ تم لوگ ہم پر حسد کرتے ہو۔ لیکن واقعہ یہ ہے کہ لوگ کم ہی سمجھتے ہیں۔

۱۶ — ان بدووں سے جو پیچھے چھوڑ دئے گئے ہیں کہہ دو کہ عنقریب تمہیں ایک سخت زور آور قوم سے مقابلہ کے لیے بلایا جائے گا۔ تم کو ان سے جنگ کرنا ہو گی یا وہ اسلام میں آ جائیں گے۔ اگر تم نے منہ موڑا جیسا کہ تم پہلے منہ موڑ چکے ہو تو وہ تم کو درد ناک سزا دے گا۔

۱۷ — نابینا (کے جہاد کے لیے نہ نکلنے) پر کوئی حرج نہیں اور نہ لنگڑے اور مریض پر کوئی حرج ہے۔ اور جو اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے گا اسے وہ ایسے باغوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی۔ اور جو روگردانی کرے گا اسے وہ درد ناک عذاب دے گا۔

۱۸ — اللہ راضی ہوا مومنوں سے جب وہ درخت کے نیچے تم سے بیعت کر رہے تھے۔ اس نے جان لیا ان کے دلوں کا حال۔ اس لیے اس نے ان پر سکینت نازل کی اور ان کو ایک قریبی فتح عطا کی۔

۱۹ — اور غنیمت کے بہت سے مال جن کو وہ حاصل کریں گے۔ اللہ غالب ہے حکمت والا۔

۲۰ — اللہ نے تم سے بہ کثرت اموالِ غنیمت کا وعدہ کیا ہے جن کو تم حاصل کرو گے اور فوری طور پر تم کو یہ (نُصرت) عطا فرائی اور لوگوں کے ہاتھ تم سے روک دیئے۔ اور اس لیے ایسا کیا تاکہ مومنوں کے لیے ایک نشانی ہو اور تمہیں سیدھی راہ پر چلائے۔

۲۱ — اور دوسرے اموالِ غنیمت بھی جن پر تم ابھی قادر نہیں ہوئے لیکن اللہ نے ان کو احاطہ کر رکھا ہے اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔

۲۲ — اگر یہ کافر تم سے جنگ کرتے تو یقیناً پیٹھ پھیر جاتے پھر نہ کوئی کارساز پاتے اور نہ مدد گار۔

۲۳ — یہ اللہ کی سنت (قاعدہ) ہے جو پہلے سے چلی آ رہی ہے اور اللہ کی سنت میں تم ہرگز کوئی تبدیلی نہ پاؤ گے۔

۲۴ — وہی ہے جس نے مکہ کی وادی میں ان کے ہاتھ تم سے اور تمہارے ہاتھ ان سے روک دئے بعد اس کے کہ ان پر تمہیں غلبہ عطا کر چکا تھا۔ اور جو کچھ تم کر رہے تھے اسے اللہ دیکھ رہا تھا۔

۲۵ — وہی لوگ ہیں جنہوں نے کفر کیا اور تمہیں مسجدِ حرام سے روکا اور قربانی کے جانوروں کو بھی روکے رکھا کہ وہ اپنی جگہ (یعنی قربان گاہ) پہنچنے نہ پائیں۔ اور اگر ایسے مومن مرد اور مومن عورتیں (مکہ میں) موجود نہ ہوتیں جنہیں تم نہیں جانتے اور جن کے بارے میں یہ اندیشہ نہ ہوتا کہ تم انہیں نادانستگی میں کچل دو گے اور ان کے تعلق سے تم پر الزام آئے گا (تو جنگ رو کی نہ جاتی۔ روکی اس لیے گئی) تاکہ اللہ اپنی رحمت میں جس کو چاہے داخل کرے۔ اگر وہ الگ ہو گئے ہوتے تو ہم ان (مکہ والوں) میں سے جنہوں نے کفر کیا درد ناک سزا دیتے۔

۲۶ — جب کافروں نے اپنے دلوں میں حمیت پیدا کی۔۔ جاہلیت کی حمیت۔ تو اللہ نے اپنے رسول اور مومنوں پر اپنی سکینت نازل فرمائی اور ان کو تقویٰ کی بات کا پابند رکھا اور وہ اس کے حق دار اور اہل تھے۔ اور اللہ ہر چیز کو جاننے والا ہے۔

۲۷ — اللہ نے اپنے رسول کو سچی رؤیا (خواب) دکھائی تھی جو حق پر مبنی تھی۔ انشاء اللہ تم ضرور مسجدِ حرام میں امن کے ساتھ داخل ہو گے۔ اپنے سر منڈاتے اور کتراتے ہوئے۔ تمہیں کوئی ڈر نہ ہو گا۔ تو اس نے جانی و ہ بات جو تم نے نہیں جانی۔ لہٰذا اس نے اس سے پہلے تم کو ایک قریبی فتح عطا کی۔

۲۸ — وہی ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دینِ حق کے ساتھ بھیجا تاکہ تمام ادیان پر اس کو غالب کر دے۔ اور (اس پر) اللہ کا گواہ ہونا کافی ہے۔

۲۹ — محمد اللہ کے رسول ہیں اور جو لوگ ان کے ساتھ ہیں وہ کافروں پر سخت اور آپس میں رحم دل ہیں۔ تم انہیں رکوع اور سجدے کی حالت میں پاؤ گے۔ (اور دیکھو گے کہ) وہ اللہ کے فضل اور اس کی خوشنودی کی طلب میں سرگرم ہیں۔ ان کی علامت ان کے چہروں پر سجدوں کا نشان ہے۔ ان کی یہ صفت تورات میں بیان ہوئی ہے۔ اور انجیل میں ان کی مثال اس طرح بیان ہوئی ہے جیسے کھیتی جس نے اپنی کونپل نکالی پھر اس کو تقویت دی پھر وہ موٹی ہوئی پھر اپنے تنہ پر کھڑی ہو گئی۔ وہ کاشت کاروں کو خوش کرتی ہے تاکہ کفار ان سے جلیں۔ اللہ نے ان لوگوں سے جو ان میں سے ایمان لائے اور جنہوں نے نیک عمل کئے مغفرت اور اجرِ عظیم کا وعدہ کر رکھا ہے۔

٭٭٭

 

 

(۴۹) سورۂ الحجرات

 

اللہ رحمٰن و رحیم کے نام سے

 

۱– اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اللہ اور اس کے رسول سے آگے نہ بڑھو اور اللہ سے ڈرو۔ اللہ سب کچھ سننے والا جاننے والا ہے۔

۲– اے ایمان لانے والو! اپنی آواز بنی کی آواز سے بلند نہ کرو اور نہ اس سے اس طرح اونچی آواز سے بولو جس طرح آپس میں ایک دوسرے سے بولتے ہو۔ کہیں ایسا ہو کہ تمہارے اعمال ضائع ہو جائیں اور تمہیں خبر بھی نہ ہو۔

۳– جو لوگ اللہ کے رسول کے آگے اپنی آواز پست رکھتے ہیں وہی ہیں جن کے دلوں کو اللہ نے تقویٰ کے لیے خالص کر لیا ہے۔ ان کے لیے مغفرت اور بہت بڑا اجر ہے۔

۴– (اے نبی!) جو لوگ تمہیں حجروں کے باہر سے پکارتے ہیں ان میں سے اکثر بے عقل ہیں۔

۵– اگر وہ صبر کرتے یہاں تک کہ تم ان کے پاس آ جاتے تو ان کے لیے بہتر تھا۔ اور اللہ معاف کرنے والا رحم فرمانے والا ہے۔

۶– اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لائے تو تحقیق کر لیا کرو۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ تم کسی گروہ کے خلاف نادانستہ کوئی کارروائی کر بیٹھو اور پھر اپنے کئے پر پچھتانے لگو۔

۷– جان رکھو کہ اللہ کا رسول تمہارے درمیان موجود ہے اگر بہت سے معاملات میں وہ تمہاری بات مان لیا کرے تو تم تکلیف میں پڑ جاؤ۔ لیکن اللہ نے تمہارے لیے ایمان کو محبوب بنایا اور اس کو تمہارے دلوں میں کُھبا دیا اور کفر اورفسق اور نا فرمانی کو تمہارے لیے باعثِ نفرت بنایا۔ یہی لوگ راست رو ہیں۔

۸– اللہ کے فضل اور احسان سے اور اللہ علم والا حکمت والا ہے۔

۹– اور اگر مومنوں کے دو گروہ آپس میں لڑ پڑیں تو ان کے درمیان صلح کراؤ۔ پھر اگر ان میں سے ایک گروہ دوسرے پر زیادتی کرے تو زیادتی کرنے والے گروہ سے لڑو۔ یہاں تک کہ وہ اللہ کے حکم کی طرف رجوع کرے۔ اگر وہ رجوع کرے تو ان کے درمیان عدل کے ساتھ صلح کراؤ اور انصاف کرو۔ اللہ انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔

۱۰– مومن تو آپس میں بھائی بھائی ہیں۔ تو اپنے بھائیوں کے درمیان مصالحت کراؤ۔ اور اللہ سے ڈرو تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔

۱۱– اے لوگو جو ایمان لائے ہو! نہ مرد دوسرے مردوں کا مذاق اڑائیں۔ ہوسکتا ہے وہ ان سے بہتر ہوں۔ اور نہ عورتیں دوسری عورتوں کا مذاق اڑائیں۔ ہوسکتا ہے وہ ان سے بہتر ہوں۔ اور نہ آپس میں طعن کرو۔ اور نہ ایک دوسرے کو برے القاب سے پکارو۔ ایمان کے بعد فسق بہت بُرا نام ہے۔ اور جو لوگ توبہ نہ کریں وہی ظالم ہیں۔

۱۲– اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! بہت سے گمانوں سے بچو کیونکہ بعض گمان گناہ ہوتے ہیں۔ اور ٹوہ میں نہ لگو۔ اور نہ تم میں سے کوئی کسی کی غیبت کرے۔ کیا تم میں سے کوئی شخص اس بات کو پسند کرتا ہے کہ اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھائے۔ تمہیں تو اس سے گھِن ہی آئے گی۔ اللہ سے ڈرو۔ بلا شبہ اللہ توبہ قبول کرنے والا رحم فرمانے والا ہے۔

۱۳– لوگو! ہم نے تم کو ایک ہی مرد اور عورت سے پیدا کیا پھر تمہاری قومیں اور قبیلے بنائے تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچانو۔ اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو تم میں سب سے زیادہ متقی ہے۔ بلا شبہ اللہ جاننے والا اور باخبر ہے۔

۱۴– بدو کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے۔ ان سے کہو تم ایمان نہیں لائے بلکہ کہو کہ ہم نے اسلام (اطاعت) قبول کر لیا۔ ایمان ابھی تمہارے دلوں کے اندر داخل نہیں ہوا ہے۔ اگر تم اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو گے تو وہ تمہارے اعمال ذرا بھی نہیں گھٹائے گا۔ یقیناً اللہ بخشنے والا رحم فرمانے والا ہے۔

۱۵– مومن حقیقت میں وہی ہیں جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لائے پھر شک میں نہیں پڑے اور اپنے مال اور اپنی جانوں سے اللہ کی راہ میں جہاد کیا۔ یہی لوگ سچے ہیں۔

۱۶– کہو کیا تم اپنا دین اللہ کو جتلاتے ہو؟ حالانکہ اللہ جانتا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے اور اللہ کو ہر چیز کا علم ہے۔

۱۷– یہ لوگ تم پر احسان جتاتے ہیں کہ انہوں نے اسلام قبول کر لیا۔ کہو مجھ پر اپنے اسلام کااحسان نہ رکھو بلکہ یہ اللہ کا تم پر احسان ہے کہ اس نے تم کو ایما ن کی راہ دکھائی اگر تم سچے ہو۔

۱۸– اللہ آسمانوں اور زمین کی تمام پوشیدہ باتوں کو جانتا ہے اور جو کچھ تم کرتے ہو اس کو اللہ دیکھ رہا ہے۔

٭٭٭

 

(۵۰) سورۂ ق

اللہ رحمٰن و رحیم کے نام سے

 

۱– قاف۔ قسم ہے قرآنِ مجید کی۔

۲– مگر ان لوگوں کو تعجب ہوا کہ ان کے پاس ان ہی میں سے ایک خبردار کرنے والا آیا چنانچہ کافروں نے کہا یہ تو عجیب بات ہے۔

۳– کیا جب ہم مر جائیں گے اور مٹی ہو جائیں گے تو دوبارہ پیدا کئے جائیں گے ؟ یہ لوٹایا جانا تو(عقل سے) بعید ہے۔

۴– ہم جانتے ہیں زمین ان کے جسم میں سے جو کچھ گھٹاتی ہے اور ہمارے پاس ایک کتاب ہے جو تمام باتوں کو محفوظ رکھتی ہے۔

۵– مگر ان لوگوں نے حق کو جھٹلایا جب ان کے پاس آ گیا۔ اس لیے وہ الجھن میں پڑے ہوئے ہیں۔

۶– تو کیا انہوں نے اپنے اوپر آسمان کو نہیں دیکھا کہ کس طرح ہم نے اس کو بنایا اور آراستہ کیا اور اس میں کوئی رخنہ نہیں ہے۔

۷– اور زمین کو ہم نے بچھایا اور اس میں پہاڑ ڈال دئے اور اس میں ہر قسم کی خوش منظر نباتات اگا دیں۔

۸– ہر اس بندہ کی بصیرت اور یاد دہانی کے لیے جو(اپنے رب کی طرف) رجوع کرنے والا ہو۔

۹– اور ہم نے آسمان سے برکت والا پانی اتارا اور اس سے باغ اگائے اور فصل کے غلے بھی جو کاٹی جاتی ہے۔

۱۰– اور کھجور کے بلند درخت بھی جن کے شگوفے تہ بہ تہ ہوتے ہیں۔

۱۱– بندوں کے رزق کے لیے۔ اور اس(پانی) سے ہم نے مردہ زمین کو زندہ کر دیا۔ اسی طرح مرنے کے بعد زمین سے نکلنا ہو گا۔

۱۲– اس سے پہلے قومِ نوح، اصحاب الرس اور ثمود جھٹلا چکے ہیں۔

۱۳– اور عاد اور فرعون اور لوط کے بھائی بھی۔

۱۴– اور اَیکہ والے۔ اور تُبع کی قوم بھی۔ ان سب نے رسولوں کو جھٹلایا تو میری وعید ان پر واقع ہو کر رہی۔

۱۵– کیا ہم پہلی بار پیدا کر کے تھک گئے ؟(نہیں) بلکہ یہ لوگ نئی تخلیق کے بارے میں شک میں پڑے ہوئے ہیں۔

۱۶– ہم نے انسان کو پیدا کیا اور اس کے دل میں گزرنے والے وسوسوں کو ہم جانتے ہیں۔ اور ہم اس کی رگِ جاں سے بھی زیادہ اس سے قریب ہیں۔

۱۷– جب دو اخذ کرنے والے دائیں اور بائیں بیٹھے اخذ (ریکارڈ) کر رہے ہوتے ہیں۔

۱۸– وہ کوئی لفظ بھی زبان سے نہیں نکالتا مگر اس کے پاس ایک مستعد نگراں موجود ہوتا ہے۔

۱۹– اور موت کی بے ہوشی حق لے کر آ پہنچی۔ یہ ہے وہ چیز جس سے تو کتراتا تھا۔

۲۰– اور صور پھونکا گیا۔ یہ ہے وہ دن جس سے ڈرایا گیا تھا۔

۲۱– اور ہر شخص اس حال میں حاضر ہوا کہ اس کے ساتھ ایک ہانکنے والا اور ایک گواہ ہے۔

۲۲– اس چیز کی طرف سے تو غفلت میں رہا۔ ہم نے وہ پردہ ہٹا دیا جو تجھ پر پڑا تھا۔ اس لیے آج تیری نگاہ بہت تیز ہے۔

۲۳– اس کے ساتھی نے کہا یہ جو میرے پاس تھا حاضر ہے۔

۲۴–(حکم ہوا) ڈال دو جہنم میں ہر کافر دشمنِ حق کو۔

۲۵– خیر سے روکنے والے، حد سے تجاوز کرنے والے، شک میں ڈالنے والے کو۔

۲۶– جس نے اللہ کے ساتھ دوسرے معبود ٹھہرائے تھے۔ تو اس کو سخت عذاب میں ڈال دو۔

۲۷– اس کے ساتھی نے کہا اے ہمارے رب میں نے اس کو سرکش نہیں بنایا بلکہ یہ خود دور کی گمراہی میں پڑ گیا تھا۔

۲۸– ارشاد ہوا میرے پاس جھگڑا نہ کرو۔ میں نے تمہیں پہلے ہی اپنے عذاب سے خبردار کر دیا تھا۔

۲۹– میرے ہاں بات بدلی نہیں جاتی۔ اور میں بندوں پر ہرگز ظلم کرنے والا نہیں ہوں۔

۳۰– وہ دن جبکہ ہم جہنم سے پوچھیں گے کیا تو بھر گئی؟ اور وہ کہے گی کچھ اور بھی ہے ؟

۳۱– ور جنت متقیوں کے قریب لائی جائے گی، کچھ بھی دور نہ ہو گی۔

۳۲– یہ ہے وہ چیز جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا۔ ہر اس شخص کے لیے جو رجوع کرنے والا اور حفاظت کرنے والا تھا۔

۳۳– جو رحمن سے بے دیکھے ڈرتا رہا۔ اور جو انابت (رجوع) والے دل کے ساتھ حاضر ہوا ہے۔

۳۴– داخل ہو جاؤ جنت میں سلامتی کے ساتھ۔ یہ ہمیشگی کا دن ہے۔

۳۵– وہاں ان کے لیے وہ سب کچھ ہو گا جو وہ چاہیں گے۔ اور ہمارے پاس مزید بھی ہے۔

۳۶– ان سے پہلے ہم کتنی ہی قوموں کو ہلاک کر چکے ہیں جو ان سے کہیں زیادہ طاقتور تھیں۔ انہوں نے دنیا کے ملکوں میں نفوذ کیا تھا تو کیا انہیں کہیں جائے پناہ ملی۔

۳۷– یقیناً اس میں سبق ہے ہر اس شخص کے لیے جو دلِ رکھتا ہو یا توجہ کے ساتھ بات سے۔

۳۸– ہم نے آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان کے درمیان ہے سب کو چھ دنوں میں پیدا کیا۔ اور ہمیں کوئی تکان لاحق نہیں ہوئی۔

۳۹– تو صبر کرو ان کی باتوں پر اور تسبیح کرو اپنے رب کی حمد کے ساتھ۔ سورج کے طلوع ہونے اور اس کے غروب ہونے سے پہلے۔

۴۰– اور رات کے کچھ حصہ میں بھی اس کی تسبیح کرو۔ اور سجدوں(نمازوں ) کے بعد بھی۔

۴۱– اور سنو جس دن پکارنے والا قریب کی جگہ ہی سے پکارے گا۔

۴۲– جس دن یہ اس ہولناک آواز کو حق کے ساتھ سنیں گے۔ وہ نکل کھڑے ہونے کا دن ہو گا۔

۴۳– بلا شبہ ہم ہی زندہ کرتے ہیں اور ہم ہی موت دیتے ہیں اور ہماری ہی طرف لوٹنا ہے۔

۴۴– جس دن زمین ان کے اوپر سے پھٹ جائے گی اور وہ تیزی سے نکل رہے ہوں گے۔ یہ حشر ہمارے لیے نہایت آسان ہے۔

۴۵– ہم اچھی طرح جانتے ہیں جو کچھ یہ لوگ کہتے ہیں اور تم (اے نبیؐ!) ان پر جبر کرنے والے نہیں ہو۔ تو اس قرآن کے ذریعہ سے تذکیر کرو ان لوگوں کو جو میری وعید (عذاب کی آگاہی) سے ڈریں۔

٭٭٭

٭٭٭

ٹائپنگ: عبد الحمید، افضال احمد، مخدوم محی الدین، کلیم محی الدین، فیصل محمود، اعجاز عبید

تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید