FavoriteLoadingپسندیدہ کتابوں میں شامل کریں

 

 

 

زبان کی تباہ کاریاں

 

 

                ترجمہ : مبصر الرحمن قاسمی

 

 

 

 

زبان ایک عظیم نعمت ہے اور زبان سے ایمان کا اقرار کرنا ایمان کی بڑی علامت ہے۔

ہر بندہ مسلم کو اپنی زبان کے سلسلے میں توجہ دینا بے حد ضروری ہے، اور زبان کو شریعت کی لگام ڈالنا چاہیے، چونکہ زبان انسان کے اعضاء میں سے سب سے زیادہ نافرمان، سب سے زیادہ گناہ گار اور سب سے زیادہ باعث فساد ہے، یہی وجہ ہے کہ لوگوں کو ان کی زبانوں کی حرکتوں کے سبب جہنم میں ڈالا جائے گا۔

عربی کا مشہور شاعر جریر کا کہنا ہے:

وجرح السّیف تُدْملُہُ فیبرا***ویبقى الدّہر ما جرح اللسان!

(ترجمہ: تلوار کا زخم مٹ جاتا ہے، لیکن زبان کا زخم زمانہ بھر باقی رہتا ہے۔)

سفیان بن عبداللہ سے روایت ہے فرماتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول مجھے کوئی ایسی بات بتائیے جسے میں مضبوطی سے پکڑ لوں، فرمایا: ربی اللہ کہو، اور اس پر ثابت قدم رہو، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! وہ کونسی چیز ہےجس کا میرے سلسلے میں آپ کو سب سے زیادہ خوف ہے؟، تو آپ ﷺ نے اپنی زبان مبارک کو ہاتھ لگاتے ہوئے ارشاد فرمایا۔

جس طرح بندے کو اپنے زبان کی حفاظت کرنا ضروری ہے اسی طرح گناہوں کی باتوں سے اپنے کانوں کی حفاظت کی بھی اس پر ذمہ داری ہے۔چونکہ بُری باتوں کو سننا بھی کہنے والے کی طرح ہے لہٰذا اس سلسلے میں متنبہ رہنا ضروری ہے۔

بہت سے امور میں زبان کی حفاظت کے سلسلے میں لاپرواہی اور غفلت نفس انسانی اور خواہشات کو متاثر کرتی ہے،زبان جہاں ایک نعمتِ عظمی ہے وہیں یہ ایک آفت اور آزمائش بھی ہے، زبان کی بے شمار آفتیں ہیں جن میں سے چند ہم نے ذیل میں پیش کی ہیں:

اولاً: اللہ کے علاوہ کی قسم کھانا

ثانیاً: جھوٹی گواہی دینا

ثالثاً: لعن کرنا

رابعاً: جھوٹ بولنا

خامساً:غیبت کرنا

سادساً: چغلی کرنا

سابعاً: مذموم تعریف کرنا

ان کے علاوہ ہر وہ بُری بات جو زبان پر آتی ہے ، زبان کی آفتوں میں شامل ہیں۔

حضرت عطیہ بن عامر رضی اللہ عنہ نے جب نبی کریم ﷺ سے نجات کے بارے میں سوال کیا تو آپ ﷺ نے انہیں نصیحت فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا: اپنی زبان کو روکے رکھو، اللہ نے جو مقدر کیا ہے اس پر راضی ہو جاؤ اور اپنی خطا پر رویا کرو۔

مومنین کو زبان کی تباہ کاریوں سے بچنے میں کوتاہی اور غفلت سے کام نہیں لینا چاہیے، جو افراد غافل ہیں ان کے حق میں قرآن کریم مومنین کو یاد دہانی کرانے کا حکم دیتا ہے:  وَذَكِّرْ فَإِنَّ الذِّكْرَى تَنْفَعُ الْمُؤْمِنِینَ] الذّاریات: 55]. اور نصیحت کرتے رہو کہ نصیحت مومنوں کو نفع دیتی ہے۔

اور آپ کو یاد رکھنا چاہیے کہ زبان دو عظیم آفتوں کا سرچشمہ ہے، اگر انسان ایک سے بچتا ہے تو دوسری کا شکار ہو جاتا ہے، سوائے اُس شخص کے جسے اللہ بچائے، جس میں سے ایک زبان کو حرکت دینا ہے اور دوسری خاموشی ہے، کیونکہ حق کے سلسلے میں خاموشی اختیار کرنے والا گونگا شیطان اور باطل کا طرفدار ہے۔

ایک حکیم کا قول ہے:

چھ عادتوں سے جاہل کو پہچانا جاتا ہے:

۱۔ بے وجہ غصہ ہونے سے

۲۔ راز کا افشاء کرنے سے

۳۔لوگوں سے اختلاف رکھنے سے

۴۔بے موقع ہدیہ دینے سے

۵۔دشمن اور دوست کو نہ پہچاننے سے

۶۔بے فائدہ بات کرنے سے

علماء نے خاموشی کی سات طرح سے تعریف کی ہیں:

۱۔ خاموشی بغیر تھکن کی ایک عبادت ہے۔

۲۔ خاموشی بغیر زیور کی زینت ہے۔

۳۔ خاموشی سلطان و حاکم کے درجے پر نہ ہونے کے باوجود رعب کا باعث ہے۔

۴۔ اظہار معذرت سے بے نیازی کا ذریعہ ہے۔

۵۔ خاموشی بغیر دیوار کا ایک قلعہ ہے۔

۶۔ کراماً کاتبین کے لئے باعث راحت ہے۔

۷۔ متکلم یعنی بات کرنے والے کے  عیوب کا ستر ہے۔

لقمان حکیم کا قول ہے:

“خاموشی ایک حکمت ہے لیکن اس پر عمل کرنے والے بہت کم ہیں”۔

زبان کے استعمال کے لیے اطاعت باری تعالیٰ اور اُس کا ذکر و شکر ایک وسیع میدان ہے، نیز انسان کے بس میں ہے کہ وہ اپنی زبان کو معاصی اور نافرمانیوں میں استعمال کرنے کی بجائے اللہ تعالیٰ کے ذکر میں استعمال کرے اور زبان کے ذریعے اپنے درجات کو بلند کرنے کی کوشش کرے، قرآن کریم کی تلاوت کا اہتمام کرے، نیکی کا حکم دے اور برائی سے منع کرے۔

 

                زبان کی پہلی آفت ۔۔ غیبت

 

زبان کی پہلی آفت اور پہلا مرض زبان سے اپنے بھائی کے بارے میں ایسی بات کرنا ہے جو اُسے ناپسند ہو۔

 

غیبت کیا ہے؟

 

یہ ایک خطرناک آفت اور عظیم آزمائش ہے، نبی کریم ﷺ نے اپنے اس قول سے غیبت کا مطلب بیان فرمایا:

تم جانتے ہو غیبت کیا ہے؟ صحابہ نے کہا: اللہ اور اس کے رسول زیادہ جاننے والے ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: اپنے بھائی کے بارے میں وہ بات کرنا جو اسے ناپسند ہو، دریافت کیا گیا: آپ کیا فرماتے ہیں اُس قول کے بارے میں جو میرے بھائی میں موجود ہو، (اور اسے بیان کیا  جائے) آپ ﷺ نے فرمایا: جو بات تم کہہ رہے ہو وہ اس میں موجود ہو تو تم نے غیبت کی، اور اگر اُس میں وہ بات نہ ہو جو تم کہہ رہے ہو تو پھر تم نے اُس پر بہتان لگایا۔

 

غیبت کی مثالیں:

 

۱۔ انسان کے جسم کی بناوٹ  کے سلسلے میں بات کرنا، جیسے کسی بھائی کو نابینا، اندھا ، کالا اور ٹھگنا کہنا۔

۲۔ انسان کے حسب ونسب کے سلسلے میں بات کرنا جیسے غلام ،یا نچلی ذات  سے کسی کو یاد کرنا۔

۳۔ کسی کے پیشے کو حقیر جانتے ہوئے یاد کرنا جیسے فراش، حجام اور قصاب کہنا۔

۴۔ شرعی امور سے متعلق بات کرنا، جیسے کسی کو چور، جھوٹا اور شرابی وغیرہ کہنا۔

۵۔انسان کے ظاہری وضع قطع سے متعلق حقارت آمیز بات کہنا جیسے کسی کو لمبی آستین والا ، لمبے کپڑوں والا یا اس طرح کے الفاظ سے یاد کرنا۔

۶۔کسی کو کم ادب، باتونی، غافل، سست وغیرہ الفاظ سے یاد کرنا۔

مذکورہ تمام باتیں غیبت کے باب سے تعلق رکھتی ہیں، اس طرح کے الفاظ استعمال کرنے والا اپنے مرداربھائی کا گوشت کھانے والے کے مترادف  ہے۔

 

غیبت کی قسمیں:

 

غیبت زبان سے کسی ناپسندیدہ بات کے ادا کرنے سے ہی نہیں ہوتی بلکہ ہروہ حرکت، اشارہ یا نقل اور ہر وہ عمل جس سے کسی کی غائبانہ میں تقصیر  اور تحقیر مقصود ہو حرام عمل اور غیبت میں شامل ہے۔

 

غیبت میں شرکت:

 

غیبت کی باتیں سننا، غیبت کی مجالس میں موجود رہنا، غیبت کرنے والے کو اس کے عمل سے منع نہ کرنا یہ سب غیبت میں شرکت کرنے کے مترادف ہے۔

ارشاد نبوی ﷺ ہے: «من ردّ عن عرض أخیہ ردّ اللہ عن وجہہ النّار یوم القیامۃ [رواہ التّرمذی 1931 وصححہ الألبانی]

(جس نے اپنے بھائی کی (عدم موجودگی میں) اُس کی جانب سے دفاع کیا، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کے چہرے سے آگ یعنی جہنم کو ہٹائیں گے۔)

إنّ الصّدیق الصّدق من صدقك***ومن یضرُّ نفسہ لینفعك

ومن إذا ریبُ الزّمان ضعضعك***فرّق فیك شملہُ لیجمعك

(ترجمہ: دوست وہ ہے جو آپ کی تصدیق کرے، جو آپ کے فائدے کے لئے اپنے آپ کو نقصان میں ڈالے، جب آپ کو آزمائش زمانہ کمزور و بے بس کر دے تو دوست آپ کی تقویت کے لئے اپنی جماعت کو جدا کر دے۔)

 

غیبت کے اسباب:

 

۱۔ کراہیت اور نفرت

۲۔حسد جو صاحب غیبت کے دل کو کھا جاتا ہے۔

۳۔ فتنہ وفساد کا ارادہ رکھنا۔

۴۔ قابل احترام شخصیات کی تنقیص کرنا۔

۵۔ ہم نشینوں کی موافقت

 

غیبت کی جائز قسمیں:

 

۱۔ ظلم: مظلوم قاضی کے سامنے ظالم کے ظلم اور خائن کی خیانت کے بارے میں شکایت کرسکتا ہے۔

۲۔ کسی کی برائی کا اُس شخص کے سامنے ذکر کرنا جو اس کے اصلاح کی طاقت رکھتا ہو، اس ارادے سے کہ نافرمان راہ راست پر آ جائے۔

۳۔ مفتی کے سامنے فتوی معلوم کرنے کے لئے صورتحال بیان کرنا، مثال کے طور پر بیوی کا اپنے شوہر سے متعلق بات کرنا۔

۴۔ مسلمان کو کسی کے شر سے محفوظ رکھنے کے لئے۔

 

غیبت کا شرعی حکم اور اس کے دلائل:

 

کتاب وسنت اور اجماع امت سے غیبت کا حرام اور گناہ کبیرہ ہونا ثابت ہے، قرآن نے غیبت سے نفرت دلانے کے لئے صاحب غیبت کو اپنے مردار بھائی کا گوشت کھانے والے کے مترادف قرار دیا ہے۔

ارشاد باری تعالیٰ ہے:

}وَلا یَغْتَبْ بَعْضُكُمْ بَعْضًا أَیُحِبُّ أَحَدُكُمْ أَنْ یَأْكُلَ لَحْمَ أَخِیہِ مَیْتًا فَكَرِہْتُمُوہُ{ [الحجرات:12]

ترجمہ: اور نہ کوئی کسی کی غیبت کرے۔ کیا تم میں سے کوئی اس بات کو پسند کرے گا کہ اپنے مرے ہوئے بھائی کا گوشت کھائے؟تو تم ضرور نفرت کرو گے۔ (تو غیبت نہ کرو)

 

۱۔ اپنے نفس کے عیوب تلاش کرنا:

 

انبیاء اوررسولوں کے علاوہ کوئی بھی انسان نفس کے عیوب سے پاک نہیں ہوسکتا، انسانوں میں کوئی شخص بے شمار عیبوں والا ہوسکتا ہے اور کوئی بہت کم عیب والا، تاہم ہر فرد میں کچھ نہ کچھ عیوب ہوتے ہیں، لہٰذا بندے کو چاہیے کہ اپنے عیوب کو تلاش کرے اور ان کے اصلاح کی فکر کرے، یہ عمل اللہ تعالیٰ کے  نزدیک پسندیدہ اور بہتر ہے۔

 

۲۔ نقصاندہ تجارت:

 

صاحب غیبت اپنی نیکیوں اور حسنات کو برباد کرنے والا ہے، نیز وہ غیبت کے ذریعے اپنی نیکیوں کو جس کی غیبت کر رہا ہے ، اس کے کھاتے میں منتقل کرنے والا ہے، غیبت کرنے والے کا حال ایسا ہے کہ وہ بیک وقت گناہ بھی کرتا ہے اور اپنی نیکیوں کو ضائع کر کے اپنے محسود کا فائدہ بھی کرتا ہے۔

حضرت عبداللہ بن مبارک رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

”اگر میں کسی کی غیبت کرتا تو اپنے والد کی ہی غیبت کر لیتا”

 

۳۔ غیبت سے توبہ:

 

غیبت کرنے والا دوقسم کے جرائم کا مرتکب ہوتا ہے:

ایک جرم تو اللہ تعالیٰ کے حق میں کرتا ہے، جس کا کفارہ یہ ہے کہ اپنے جرم پر ندامت کا اظہار کرے، جبکہ دوسرا جرم بندے کے حق میں کرتا ہے ، جس کا کفارہ یہ ہے کہ جس کی غیبت کی ہے ،اگر اُس شخص کو غیبت کا علم ہوا ہو تو اس سے معذرت کا اظہار کرے، اور اگر اس کو غیبت کا علم نہ ہوا ہو تو اللہ تعالیٰ سے مغفرت کی دعا کرے اور اُس بندے کے حق میں نیک دعا کرے،نیز یہ یقین رکھے کہ اللہ تعالیٰ سن رہا ہے اور دیکھ رہا ہے اور اللہ کے فرشتے اس کے ایک ایک عمل کو قلمبند کر رہے ہیں۔

 

                 (۲)زبان کی دوسری عظیم آفت ۔۔ چغلی

 

زبان کی آفتوں میں سے ایک آفت چغلی بھی ہے ، چغلی وہ عمل ہے جس کے ذریعے دو افراد کے درمیان پھوٹ ،جدائی اور اختلاف پیدا کیے جاتے ہیں۔

ارشاد ربانی ہے: }وَلا تُطِعْ كُلَّ حَلافٍ مَہِینٍ (10) ہَمَّازٍ مَشَّاءٍ بِنَمِیمٍ]   { القلم: 10-11]

(ترجمہ: اور کسی ایسے شخص کے کہے میں نہ آ جانا جو بہت قسمیں کھانے والا ذلیل اوقات ہے۔طعن آمیز اشارتیں کرنے والا چغلیاں لئے پھرنے والا۔)

 

چغلی کے اسباب:

 

چغلی کے اسباب میں حسد، کراہیت و نفرت، اور مفاد کے حصول کی حرص شامل ہے۔

 

چغلی کا حکم اور شرعی دلائل:

 

۱۔ چغلی گناہ کبیرہ ہے، کتاب وسنت اور اجماع امت سے اس کی حرمت ثابت ہے، ارشاد ربانی ہے:

وَلا تُطِعْ كُلَّ حَلافٍ مَہِینٍ (10) ہَمَّازٍ مَشَّاءٍ بِنَمِیمٍ  [القلم: 10-11] (ترجمہ: اور کسی ایسے شخص کے کہے میں نہ آ جانا جو بہت قسمیں کھانے والا ذلیل اوقات ہے۔طعن آمیز اشارتیں کرنے والا چغلیاں لئے پھرنے والا۔)

۲۔قرآن کریم میں چغلی کو حطب یعنی لکڑی سے تعبیر کیا گیا ہے، چونکہ چغلی باعث عداوت اور فساد ہے، اللہ تعالیٰ نے ابولہب کی بیوی کو حمالۃ الحطب کے لقب سے بیان فرمایا۔

۳۔ چغلخور کو اللہ تعالیٰ نے فاسق قرار دیا ، ارشاد ربانی ہے:

یَا أَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا إِنْ جَاءَكُمْ فَاسِقٌ بِنَبَإٍ فَتَبَیَّنُوا أَنْ تُصِیبُوا قَوْمًا بِجَہَالَۃٍ فَتُصْبِحُوا عَلَى مَا فَعَلْتُمْ نَادِمِینَ ]    الحجرات: 6]

(ترجمہ: مومنو! اگر کوئی بدکردار تمہارے پاس کوئی خبر لے کر آئے تو خوب تحقیق کرلیا کرو (مبادا) کہ کسی قوم کو نادانی سے نقصان پہنچا دو۔ پھر تم کو اپنے کئے پر نادم ہونا پڑے۔)

نیز ارشاد ہے:

[وَیْلٌ لِكُلِّ ہُمَزَۃٍ لُمَزَۃٍ] [الہمزۃ: 1]،

(ترجمہ: ہر طعن آمیز اشارے کرنے والے چغل خور کی خرابی ہے۔)

چغلی کا عمل مومنین مرد اور عورتوں کے درمیان پھوٹ ڈالنے کا باعث ہے، جس سے مومنین کو تکلیف پہنچتی ہے، دین اسلام نے مومن بھائی کو کسی بھی قسم کی تکلیف دینا حرام قرار دیا۔

 

دو رخی آدمی:

 

چغلخور دورُخہ یا دوغلاپن اختیار کرنے والا ہوتا ہے، چونکہ اس کا کام ہر ایک کے سامنے اپنی الگ تصویر پیش کر کے آپس میں پھوٹ ڈالنا ہوتا ہے، دوغلاپن اختیار کرنے والا کل روز قیامت بدترین شخص ہو گا، بخاری ومسلم میں حضرت ابوہریرہ سے مروی ہے، نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا:

«إن شرّ النّاس ذو الوجہین الّذی یأتی ہؤلاء بوجہ وہؤلاء بوجہ [متفق علیہ].

(ترجمہ:”روز قیامت بدترین شخص وہ ہو گا جو دو رُخہ ہو گا کہ ایک کی باتیں دوسرے کو اور دوسرے کی پہلے کو پہنچاتا ہو”)

 

چغلخور کے تئیں ایک بندہ مسلم کا کیا  موقف ہو؟:

 

۱۔ چغلی کرنے والے کی تصدیق نہ کرے۔

۲۔چغلخور کو اس کی اس حرکت سے منع کرے۔

۳۔چغلخور سے اُس کے گناہ کی وجہ سے بغض رکھے۔

۴۔چغلخور کی بات پر اپنے غائب بھائی سے بدگمان نہ ہوں۔

۵۔چغلخور کی بات کے سبب، اُس بات کے سلسلے میں کھوج نہ کرے۔

۶۔جو شخص چغلخور کو راضی نہیں کرتا وہ اُس کے فتنے سے محفوظ ہو جاتا ہے۔

 

                (۳) زبان کی تیسری آفت:خلاف واقعہ کی خبر دینا

 

جھوٹ زبان کی خطرناک آفت اور ایک نفسیاتی مرض ہے، اگر انسان اس کا علاج نہ کرائے تو یہ مرض اسے جہنم تک پہنچا دیتا ہے۔

وَلَہُمْ عَذَابٌ أَلِیمٌ بِمَا كَانُوا یَكْذِبُونَ   [البقرۃ: 10]

.  (ترجمہ: اور ان کے جھوٹ بولنے کے سبب ان کو دکھ دینے والا عذاب ہو گا۔)

ایک بزرگ کا قول ہے:

“سب سے بڑی خطا چھوٹی زبان ہے”۔

 

جھوٹ کے اثرات:

 

جھوٹ کے تباہ کن اثرات سے جھوٹے لوگ اگر واقف ہو جائیں تو وہ جھوٹ سے ضرور توبہ کر لیں گے اور اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع ہو جائیں گے ، ذیل میں ہم چند تباہ کن اثرات کی جانب اشارہ کر رہے ہیں:

۱۔ لوگوں کے نزدیک جھوٹے شخص کے سلسلے میں شک و شبہات پیدا ہو جاتے ہیں۔

۲۔ جھوٹا شخص منافقین کی خصوصیات میں شامل ہو جاتا ہے جبکہ منافقین کل قیامت کے دن جہنم کے بالکل نچلے حصے میں ڈال دیئے جائیں گے۔

۳۔ بیع و شراء میں سے برکت اٹھا دی جاتی ہے، کیونکہ خرید و فروخت کے دوران شیطان جھوٹ بولنے پر زیادہ نفع اور کثیر فائدے کی لالچ بتاتا ہے، ایسے وقت میں بندۂ مومن اللہ تعالیٰ کو بھول کر شیطان کی اتباع کر کے اپنے تجارت کی برکت کو ختم کر دیتا ہے۔

۴۔ لوگوں کے درمیان سے جھوٹے شخص پر سے اعتماد اٹھ جاتا ہے۔

۵۔ حقائق بدل جاتے ہیں، چونکہ جھوٹ کے خراب اثرات کے نتیجے میں جھوٹا شخص حق کو باطل اور باطل کو حق نیز معروف کو منکر اور منکر کو معروف کی شکل دیتا ہے۔

۶۔جھوٹ کی وجہ سے اعضاء جسمانی پر دور رس اثرات مرتب ہوتے ہیں ، سب سے پہلے جھوٹ نفس سے زبان کی جانب سرایت کرتا ہے اور اسے خراب کرتا ہے پھر اعضاء میں سرایت کرتا ہے اور اعضاء کو بھی خراب کر دیتا ہے۔

درحقیقت جھوٹے شخص کی راہ و منزل جہنم ہوتی ہے، اللہ تعالیٰ مجھے اور آپ کو جہنم سے بچائے۔

وإنّ الكذب یہدی إلى الفجور، وإن الفجور یہدی إلى النّار، وإنّ الرجل لیكذب، حتى یكتب عند اللہ كذابًا»  [متفق علیہ]

(ترجمہ: جھوٹ فسق و فجور کی طرف لے جاتا ہے اور فسق و فجور جہنم کی جانب لے جاتے ہیں، آدمی جھوٹ بولتا ہے حتی  کہ اللہ تعالیٰ کے پا س اسے جھوٹا لکھ دیا جاتا ہے۔)

 

جھوٹ کی تباہ کن شکلیں:

 

جھوٹ سراسر قباحت اور برائی  ہے، نیز جھوٹا شخص جھوٹ کی قباحتوں کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ کی سخت وعیدوں کا بھی اہل ہو جاتا ہے۔جھوٹ کی شکلوں کا ہم ذکر کر رہے ہیں:

۱۔ سامان فروخت کرنے کے لئے جھوٹی قسم کھانا۔

۲۔ جھوٹی قسم کے ذریعے کسی مسلمان کے مال کو ہڑپ کرنا۔

۳۔ جھوٹا خواب بیان کرنا۔

۴۔ کسی واقعے کی غلط خبر دینا وغیرہ

 

جھوٹ سے بچنے کے طریقے:

 

۱۔ اللہ تعالیٰ کی عظمت و کبریائی کا استحضار کریں، اور اس کی ذات پر قوی اعتماد رکھیں، چونکہ انسان خیالی اشیاء کے خوف میں جھوٹ بولنے لگتا ہے اور شیطان اس کے دماغ میں جھوٹ کی شکلیں پیدا کرتا ہے۔

۲۔ قطعی یقین ہو کہ جو نوشتہ تقدیر میں لکھا ہے وہ ہو کر رہے گا۔

۳۔ ریاضت نفس یعنی نفس کو ایسے اعمال پر آمادہ کریں جو مطلوبہ اخلاق کی متقاضی ہو، چونکہ نفس کا حال بچے کی طرح ہے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ زبان دل کی ترجمان ہوتی ہے، اگر دل خیر سے معمور ہے تو زبان سے خیر اور بھلائی کے پتے جھڑنے لگتے ہیں اور اگر دل شرور وفساد کا منبع ہے تو پھر زبان سے خاردار پتیاں جھڑنے لگتی ہیں۔

إن الكلام لفی الفؤاد وإنّما***جُعِل اللسان على الفؤاد دلیلًا

(ترجمہ:گفتگو کا اصل مرکز دل ہے اور زبان کو دل کا ترجمان بنایا گیا ہے۔)

ہمارا حال اس طرح نہیں ہونا چاہیے:

إن یعلموا الخیر أخفوہ وإن علموا** شرًّا أذاعوا وإن لم یعلموا كذبوا

(ترجمہ: انہیں خیر کا علم ہو تو اسے چھپاتے ہیں اور اگر شر کی خبر ہو تواسے پھیلاتے ہیں، اور اگر کسی بات کا علم نہ  ہو تو جھوٹ بولنے لگتے ہیں)

حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

”عقلمند کی زبان اُس کے دل کے تابع ہوتی ہے، جب بات کرنے کا ارادہ ہوتا ہے تو پہلے سوچتا ہے، اگر فائدہ نظر آئے تو بات کرتا ہے ورنہ خاموش رہتا ہے”۔

حضرت لقمان نے اپنے فرزند کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا:

“اے بیٹے! جب لوگوں کو اپنے حُسن کلام پر فخر کرتے ہوئے دیکھو تو تم اپنے حُسن سکوت پر فخر کرو”۔

٭٭

 

اس موضوع سے متعلق مزید معلومات کے لئے مندرجہ ذیل کتابوں کا مطالعہ کریں:

  1. آفات اللسان /للشّیخ عبد اللہ الجار اللہ ، فہو ہامٌ جدًّا، وقد أفدتُّ منہ كثیرًا
  2. آ فات اللسان فی ضوء الكتاب والسّنّۃ/ للشّیخ سعید بن على بن وہف القحطانی
  3. حصائد الألسن.. / للعوایشۃ
  4. غثاء الألسن /للشّیخ الفاضل، والدّاعیۃ الموفق / إبراہیم الدّویش

٭٭٭

تشکر: مترجم جنہوں نے اس کی فائل فراہم کی

تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید