FavoriteLoadingپسندیدہ کتابوں میں شامل کریں

               ماخذ

۱۔اردو انسائکلو پیڈیا، کاؤنسل برائے فروغ اردو زبان، حکومتِ ہند

۲۔ویب پر ’اردو پیڈیا‘

               http://urdupedia.in

 

 

 

 

 

 

انگریزی زبان

انگریزی زبان انگریزی زبان کی درجہ بندی ایک ٹیوٹنی (Teutonic) زبان کی حیثیت سے کی جاتی ہے۔  اور اس کا تعلق ہند یورپین زبانوں کے اس خاندان سے ہے جس میں جرمن، ڈچ، فلیمش (Flemish) سوِڈِش اور ناروے کی زبانیں شامل ہیں۔  یہ تعلق زبان کی ساخت اور ذخیرہ الفاظ دونوں لحاظ سے ہے۔  ذخیرہ الفاظ کے اعتبار سے اس کا رشتہ یورپ کی ان زبانوں سے بھی ہے جو کسی نہ کسی طرح لاطینی سے ماخوذ ہیں۔  جیسے فرانسیسی، اطالوی، ہسپانوی اور پرتگالی زبانیں۔  انگلستان کی سرزمین پر نازل ہونے والوں میں سب سے اول اہل روما تھے۔  جولیس سیزر نے ۵۵ قبل مسیح میں ’’گال‘‘ (Gaul)قوم پر فتح حاصل کر چکنے کے بعد یہاں کے باشندوں کلٹس (Celts)کی طرف اس سبب سے توجہ کی۔  مبادا وہ اہل روما کے خلاف گال سے ساز باز نہ کر لیں۔  جولیس سیزر کو اپنے پہلے حملے میں زیادہ کامیابی نہیں ہوئی۔  ۴۳۵ بعد مسیح میں شہنشاہ کلاڈیس نے مقامی باشندوں کو پوری طرح زیر کر کے اپنے قدم یہاں جما لیے۔  انگلستان کے اصل رہنے والوں یعنی کلٹس نے ٹیوٹن نسل کے نو واردوں کے لیے سیکسنز (Saxons)کا لفظ استعمال کیا۔  اس طرح گو انفرادی طور پر ’’اینگلز‘‘ (Angles)کا لفظ بھی استعمال ہوتا رہا۔  لیکن اجتماعی حیثیت سے اس کا اطلاق بھی ’’ٹیوٹنز‘‘ (Teutons)ہی پر ہوا۔  بہ الفاظِ دیگر یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ شروع میں انگریزی ٹیوٹن زبان کے نچلے مغربی (Low-West) پرت ہی کی ایک شکل تھی۔  انگریز زبان کے نشو و ارتقا میں تین دور ممیز کیے جا سکتے ہیں۔  پہلا قدیم انگریزی کا دور جس کا زمانہ ۷۰۰ سے ۱۱۵۰ عیسوی تک پھیلا ہوا ہے۔  دوسرا درمیان انگریزی کا دور، جس کا زمانہ ۱۱۵۰ سے ۱۵۰۰ء تک شمار کیا جاتا ہے اور تیسرا جدید انگریزی کا دور جو ۱۵۰۰ء سے اب تک کا دور متصور کیا جاتا ہے۔  زبان کی عام طور سے دو قسمیں کی جاتی ہیں۔  یعنی مرکباتی (Synthetic)زبان اور تجزیاتی (Analytical)زبان قدیم انگریزی پہلی قسم کے ذیل میں آتی ہے اور جدید انگریزی دوسری قسم کے ضمن میں۔  اول الذکر میں جملے کے اجزائے ترکیبی بذات خود اتنے اہم نہیں ہیں۔  جتنا ان کا باہمی رشتہ۔  دراصل ان روابط میں سے ہر ایک کا مقام متعین اور مقرر ہوتا ہے۔  موخر الذکر یعنی تجزیاتی زبان میں حروف جار (Prepositions)اور امدادی افعال (Auxiliary Verbs)کا استعمال بکثرت کیا جاتا ہے اور جملے کے اجزاء کا آپس میں ربط و تعلق مرکباتی زبان کے برعکس ان کی اپنی شکلوں کے آخر میں حروف کا اضافہ کرنے سے مقرر نہیں کیا جاتا ہے بلکہ ان کے اپنے مقام سے۔  ان زائد حروف کو جو الفاظ کے آخر میں لائے جاتے تھے اور جن کے پیش نظر ہی جملے کے اجزائے ترکیبی کے ربط کی پہچان ممکن تھی، تصریف (Inflexions)کا نام دیا گیا ہے۔  ا س لحاظ سے قدیم انگریزی کے لیے مابہ الامتیاز وصف ان زائد حروف کا بھرپور استعمال ہے۔

درمیانی انگریزی کی خصوصیات ان میں تقصیر یا کمی اور جدید انگریز کی خاص علامت ان کا یکسر غائب ہو جانا ہے۔  قدیم انگریزی جو اینگلو سیکسن کہلاتی ہے ، بعض وجوہات کی بناء پر مختص ہے۔  اول یہ کہ اس کا دامن لاطینی اور فرانسیسی زبانوں سے ماخوذ الفاظ سے تقریباً خالی ہے۔  دوسرے اس میں الفاظ کے شروع یا آخر میں چند حروف کے اضافہ سے ، جنہیں سابقہ اور لاحقہ کہا جاتا ہے ، لاتعداد نئے الفاظ اختراع کیے جا سکتے ہیں۔  تیسرے اس میں اسم، قائم مقام اسم، فعل، صفت، تجنیس، تعداد اور حالت (Cases)کی نشاندہی آخری حروف کی روشنی میں کی جاتی ہے۔  چوتھے اس میں فعل اور صفت وغیرہ کی گردان کے ضابطے متعین ہیں۔  پانچویں یہ کہ اس میں قواعدی تجنیس کا استعمال ہوتا ہے جس کا انحصار کسی شے کی تذکیر و تانیث پر نہیں بلکہ لفظ یا معمول کی شکل پر ہوتا ہے۔  بعد میں اسے قدرتی تجنیس (Natural Gender)سے بدل دیا گیا اور چھٹے یہ کہ اس میں ’خ‘ کی آوازیں جرمن زبان کے زیر اثر پائی جاتی تھیں۔  بادشاہ الفریڈ کو قدیم انگریزی زبان کی تاریخ میں ایک نمایاں مقام حاصل ہے۔  ایک جلیل القدر فوجی افسر اور مدبر ہونے کے علاوہ اسے انگریزی نثر کا معمار اول تسلیم کیا گیا ہے۔  اس نے ’’ بیڈ‘‘ (Bede)کی کتاب The Ecclesiastical History of the English People۔  اور ’’بیتھیز‘‘ (Boethius)کی کتاب The Consolation of Philosophy کے تراجم انگریزی زبان میں کرائے۔  اس کے زمانے میں انگریزی تاریخ کے اہم واقعات یک جا کرائے گئے اور ’’ اینگلو سیکسن کرانیکل‘‘(Anglo Saxon Chronicle) ضبط تحریر میں آیا۔

انگریزی زبان کی تاریخ میں پہلا اہم موڑ ’’نارمن فتح‘‘ کو سمجھا جاتا ہے۔  ا س کے بعد دوسوسال تک الفاظ میں آخری حروف کی اہمیت کم ہوتی رہی۔  اور زبان نے مرکباتی سے تجزیاتی حیثیت کی طرف قدم آگے بڑھایا۔  بارہویں صدی کے وسط سے درمیانی انگریزی کا دور شروع ہوا اور اب زبان پر جرمن اور اسکیندی ببویائی زبانوں کے مقابلے میں لاطینی اور خاص طور سے فرانسیسی غلبہ شروع ہوا۔  باہمی روابط اور طور طریقوں سے واقفیت کی بنا پر جو انگریزی اور دوسری یورپین قوموں کے مابین ظہور پذیر ہوئی۔  سماجی زندگی کے مظاہر میں بہت سی تبدیلیاں سامنے آئیں اور ان تبدیلیوں کا لازمی اثر زبان کے ارتقا پر پڑا۔  بارہویں صدی کے آخر آخر میں ایک اہم نظم ’’اُلّو اور بُلبُل‘‘ (The Owl and Nightingale)(۱۱۹۵ء) لکھی گئی اور تیرہویں صدی کے آغاز میں مذہبی نثر کا ایک نمونہ۔  Ancrene Riwle۔  (۱۲۰۰ء) سامنے آیا۔  چاسر کے زمانے تک پہنچتے پہنچتے یعنی چودہویں صدی کے درمیانی برسوں اور اس صدی کے خاتمے تک انگریزی زبان کے خدوخال پوری طرح تشکیل پا چکے تھے اس کے بعد اس کے بنیادی کینڈے یعنی قواعد کی حد تک اس میں کوئی نمایاں تبدیلی نہیں ہوئی۔  البتہ ذخیرہ الفاظ میں رد و بدل ہوتا رہا۔  چودہویں صدی میں ہر شعبۂ زندگی میں فرانسیسی الفاظ براہِ راست بھی داخل ہوئے اور اپنے اصلی مخزن یعنی لاطینی کے واسطے سے بھی، اس سے زبان میں بے اندازہ وسعت پیدا ہوئی۔  دراصل اس عہد میں انگلستان سہ لسانی تھا۔  عوام کی زبان انگریزی تھی، مہذب اور اعلیٰ   cturesqum)(rience(ubmerge, Obe(Sophisticated) طبقے کی زبان فرانسیسی تھی اور علمی اور مذہبی امور کے سلسلے میں لاطینی کو تفوق حاصل تھا۔  چناں چہ یہ مشاہدہ کیا گیا کہ ایک ہی خیال عمل یا تجربے کے ابلاغ کے لیے الفاظ تین مختلف سطحوں پر بیک وقت پائے جاتے ہیں۔  خالص مقامی زبان کے الفاظ یعنی اینگلو سیکسن بنیاد رکھنے والے ، فرانسیسی سے مستعار الفاظ اور لاطینی الاصل الفاظ۔  اسی زمانے میں معیاری انگریزی کا وجود عمل میں آیا جس کی بنیاد مشرقی مڈلینڈ بولی پر رکھی گئی تھی۔  ا س کی ترویج و اشاعت میں اس پریس سے بڑی مدد ملی، جسے کیکسٹن (Caxton) نے ۱۴۷۶ء میں قائم کیا تھا۔  سوسالہ جنگ (The Hundred Years War) کو ان عناصر میں شمار کیا جا سکتا ہے ، جن کی وجہ سے فرانسیسی زبان کے استعمال میں کمی آنا شروع ہوئی۔  مجموعی طور پر ہنری پنجم (۱۴۱۳۔  ۱۴۳۲ء) کے دور کو انگریزی زبان کے استعمال میں ایک اہم نقطہ قرار دیا جا سکتا ہے۔

  اس دور کے بعد جسے انفرادی مصنفین کا دور کہا جاتا ہے۔  تاریخی اعتبار سے نشاۃ ثانیہ کا زمانہ بڑی اہمیت رکھتا ہے۔  اس کی نمایاں خصوصیات ہیں۔  تفتیش اور تجربے کی طرف میلان۔  نئی دنیا یعنی امریکا کی دریافت، کلیسا کی اصلاح، کوپرنیکس کا انقلابی سائنسی نظریہ اور زندگی کے مختلف میدانوں میں خیال کی جرأت اور جولانی۔  آکسفورڈ لغت کی بنیاد پر قیاس کیا گیا ہے کہ اس دور میں انگریزی زبان میں بارہ ہزار سے زیادہ الفاظ کا اضافہ ہوا۔  اور ان میں فوجی اصطلاحوں کو خاص امتیاز حاصل ہے۔  گو درمیانی انگریزی کے دور میں فرانسیسی زبان کو تہذیب اور ثقافت کی زبان سمجھا جاتا تھا۔  لیکن عوام کی زبان برابر انگریزی رہی۔  نشاۃ ثانیہ میں ہم ایک خاص ذہنی میلان اور تحریک سے دور چار ہوتے ہیں اور وہ یہ کہ قومی اور مقامی زبان کو ہر یورپین ملک میں اپنے طور پر عام استعمال کے قابل بنایا جائے اور اس طرح لاطینی کی بالادستی اور اجارہ داری کو ختم کیا جائے۔  چناں چہ اٹلی میں البرٹی (alberti)اسپیرونی (Speroni) اور کارڈینل بمبو۔  (Cadinal Bombo)فرانس میں دوبلے (Du Bellay)اور انگلستان میں ایلیاٹ، پٹن ہیم، ولسن، ایشم (Elyot, Putten ham, Wilson, Ascham)اور شاعر اسپنسر کے استاد رچرڈ مل کاسٹر Richard Mul Casterنے جو مرچنٹ ٹیلرز اسکول (Merchant Taylor’s School)کے ہیڈ ماسٹر تھے یہ تحریک اٹھائی کہ مقامی زبانوں کو وسیلہ اظہار کے قابل بنانے اور ان کی اندرونی توانائیوں کو بروئے کار لانے کے لیے ان کے برابر استعمال پر زور دیا جانا چاہئے۔  لیکن اس سے الفاظ کی درآمد کے سلسلے کو بند کرنا مقصود نہیں تھا۔  بلکہ مقامی زبانوں کو فروغ دینا تھا اور انہیں لاطینی اور دوسری کلاسیکی زبانوں کے مقابلے میں آراستہ کرنا ور ان کے دوش بدوش لا کھڑا کرنا۔  اسپنسر کی کوششیں اس سلسلے میں خاص طور پر قابل ذکر ہیں اور تنہا شیکسپیئر کا کارنامہ انتہائی حیرت انگیز ہے۔  جس نے انفرادی طور پر کسی بھی دوسرے انگریزی مصنف کی نسبت سب سے زیادہ الفاظ انتہائی معنویت کے ساتھ استعمال کیے ہیں اور زبان کے وقار، اس کی وسعت اور ثروت میں معتدبہ اضافہ کیا ہے۔  اس کے بعض اختراعات یہ ہیں : (Agile, Demonstrate, Critical, Catastrophe, Antipathy, Emphasis, Dire, Submerge, Obscene, Premed, Tate, Pedant, Prompture, Patheticalvast)وغیرہ وغیرہ۔  الربتھن دور میں لاطینیت (Latinizing)کی طرف واضح رجحان پایا جاتا ہے۔  سترہویں صدی میں بھی یہ میلان برقرار رہا اور جو الفاظ اور تراکیب اس دور کی انگریزی میں مستعار لی گئیں ، وہ زیادہ تر ادبی، ثقافتی اور کاروباری قسم کی تھیں۔  یہ صحیح ہے کہ زیادہ تر انگریزی زبان ہی کے توسط سے ہوتا رہا لیکن پھر بھی لاطینی سے مشتق الفاظ کے ذخیرے میں کافی اضافہ ہوا۔  اس سلسلے میں ملٹن، سرٹامس براؤن اور جیفرمی ٹائلر (Jefremy Tylor)کے نام قابل ذکر ہیں۔  براؤن نے خاص طور پر اپنی نثر میں لاطینی اور اینگلو سیکسن دونوں سرچشموں سے فیض حاصل کیا اور دونوں طرح کے الفاظ کو باہم دگر آمیز کرنے کی سعی کی۔  تیسرا اہم سنگ میل اٹھارہویں صدی کا دور ہے۔  جب انقلاب (Revolution)اور احیا (Restoration)کے زمانے کا تجربہ حاصل کر چکنے کے بعد شاعروں ، ادیبوں اور عالموں نے شدت کے ساتھ یہ ضرورت محسوس کی کہ زبان کے پھیلنے کا ایک معیار متعین کیا جائے۔  یہ وہ زمانہ تھا جب تعقل، فہم عامہ اور اعتدال و میانہ روی کی قدریں عام بھی تھیں اور زندگی کے تمام مظاہر میں ان کا انعکاس دیکھنے کی خواہش بھی پائی جاتی تھی۔  اس سلسلے میں ڈاکٹر جانسن کا کارنامہ خاص طور سے قابل ذکر ہے۔  اس نے انگریزی لغت کی تدوین کی اور اسے ۱۷۵۵ء میں شائع کیا۔  جانس اور دوسرے ادیبوں کی کوشش اس ضمن میں ان فرانسیسی مصنفین کی مساعی کے مشابہ ہیں۔  جنہوں نے فرانس میں اکادمی کی بنیاد ڈالی تھی اور ان کا منشا یہ تھا کہ ادبی مشاغل کی ترویج بھی ہوتی رہے اور ہر قسم کی بے راہ روی اور لامرکزیت کو ختم کر کے زبان کو ایک مستحکم اور تسلیم شدہ معیار تک بھی لے آیا جائے۔  یہی مقصد ڈاکٹر جانسن کے بھی پیش نظر تھا۔  اس دور میں مختلف زبانوں سے آئے ہوئے جو مستعار الفاظ انگریزی میں داخل ہوئے ان کی چند مثالیں یہ ہیں : امریکہ میں ریڈانڈین لوگوں سے ربط کی وجہ سے یہ الفاظ Skunk, Toten Hickory, Wigwamمیکسیکن الفاظ جیسے Tomato, Chocolate, Chili,کیوبا اور ویسٹ انڈیز سے یہ الفاظ جیسے۔  Tobacco, Potato, Maize, Canoe, Cannibal۔  پیرو(Peru)سے Alpaca, Jerkeyہندوستان سے Brahman, Bangle, Pundit, Coolie Banglowاور Verandahڈچ اور پُرتگال تاجروں سے Boorish, Chimpanzee, Bananaاور آسٹریلیا سے Boomerang,Kangarooجیسے الفاظ انگریز ی زبان کے جزو لاینفک بن گئے۔  انیسویں صدی کے آغاز میں بہت سی تبدیلیاں زندگی کے عام نقشے میں نمودار ہوئیں۔  نپولینی جنگوں کے دوران انگریزی بحری عظمت کی دھاک ہر طرف بیٹھ گئی۔  ٹرافالگر (Trafalgar)میں نیلسن کی مشہور بحری فتح ۱۸۰۵ء میں سامنے آئی۔  روس کے خلاف انگریزوں کی جنگ کریمیا (Crimea)۱۸۵۴ء اور ۱۸۵۷ء کے درمیان لڑی گئیں۔  اس سال ہنگامہ غدر کے بعد غیر منقسم ہندوستان پر انگریزوں کا تسلط مکمل طور پر قائم ہو گیا۔  بہت سے مصلحانہ اقدامات بھی اسی زمانے میں سامنے آئے۔  مثلاً پارلیمنٹ کی تنظیم نو سزا کے قانون پر نظر ثانی۔  غربت کے خلاف قانون کا اجراء۔  بچوں کی محنت مزدوری پر پابندیاں اور صنعتی اصلاحات وغیرہ۔  ان سب کے نتیجے کے طور پر سماج کی جمہوری بنیادیں پختہ ہوئیں۔  اس کے ساتھ ہی انگریزی زبان کا چلن انگلستان کے علاوہ امریکہ، کینیڈا، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ، جنوبی افریقہ، ہندوستان اور دوسری برطانوی نو آبادیات میں پھیل گیا۔  اس کے علاوہ انگریزی میں ایک حد تک مقامی زبانوں کے الفاظ بھی راہ پاگئے۔  بیسویں صدی کے شروع میں یعنی ۱۹۱۴ء میں پہلی جنگ عظیم اور ۱۹۳۹ء میں دوسری عالمگیر جنگ سے سابقہ پڑا اور اس طرح جنگ سے متعلق بہت سے نئے الفاظ خاص طو ر پر جرمن زبان سے اخذ کیے ہوئے الفاظ انگریزی زبان کا جزو بن گئے انیسویں اور بیسویں صدی میں سائنس اور ٹیکنالوجی کو زبردست فروغ نصیب ہوا اور صحافت بھی روز مرہ کی زندگی میں ایک زبردست قوت بن گئی۔  ان تینوں کی وجہ سے نئے نئے الفاظ اور تراکیب انگریزی زبان میں استعمال ہونا شروع ہو گئیں۔  جن کا وجود پہلے اس زبان نہیں تھا۔  پھر فلم، ریڈیو اور ٹیلی وژن کے زندگی میں غلبہ پانے سے بھی زبان کو فروغ حاصل ہوا۔  ذخیرہ الفاظ میں اضافے کے پہلو بہ پہلو مقامی طور پر تلفظ اور املا کا مسئلہ بھی خاصا اہم ہے۔  تلفظ کا فرق تو ہر اس جگہ، جہاں انگریزی بولی جاتی ہے لازمی طور پر پایا جاتا ہے۔  گو اس میں بحث کا پہلو یہ ضرور ہے کہ انگریزی زبان کی لکھاوٹ صوتی (Phonetic)اصول کے تابع نہیں ہے بلکہ Ideographicہے۔  امریکی انگریزی میں املا کا فرق محض ضمنی طور پر پایا جاتا ہے۔  البتہ بعض محاورے اور مرکبات ضرور انگلستانی انگریزی سے اس میں مختلف ہیں۔  آئندہ انگریزی زبان کیا نہج اختیار کرے گی اس کے متعلق کوئی پیش گوئی کرنا آسان نہیں ہے۔  کیوں کہ زبان کی کائنات میں بھی موت و حیات اور رد و قبول کا عمل انسانی دنیا کی طرح جاری و ساری رہتا ہے۔  زبان کے سانچے میں تو ایک مرتبہ اس کی تشکیل دیئے جانے کے بعد تبدیلی مشکل ہی سے ہوتی ہے۔  البتہ ذخیرہ الفاظ میں ترمیم و اضافہ برابر ہوتا رہتا ہے۔

 

 

انگریزی ادب

انگریزی ادب انگریزی ادب کا آغاز آٹھویں صدی عیسوی سے شمار کیا جاتا ہے انگریزی کے اولین ادب کو اینگلو سیکسن Anglosaxonادب کا نام دیا گیا ہے۔  یہ اصطلاح اس مخلوط قوم کے لیے استعمال میں آئی تھی۔  جو جرمنی سے آئے ہوئے حملہ آور قبیلوں Saxons, Anglesاور مقامی کلیٹز (Celts)سے مل کر بنی تھی۔  بعد میں یہی لوگ انگریز کہلانے لگے۔  قدیم ادب کسی طرح بھی ان گھڑ نہیں کہاجا سکتا۔  اس کے لہجہ میں بلند آہنگی اعلیٰ سنجیدگی اور با وقار حزن پایا جاتا ہے۔  شروع میں انگریزی زبان پر جرمن اور Scandinavian زبانوں کا گہرا اثر تھا۔  قدیم ادب میں Beowulfسب سے اعلیٰ کارنامہ مانا جاتا ہے۔  یہ پہلا رزمیہ ہے جو ضبطِ تحریر میں آیا۔  یہ ایک گراں ڈیل اژدہے کی کہانی ہے جسے اپنا حق حاصل کرنے پر اصرار ہے۔  یہ دراصل شر اور ظلمت کی ان قوتوں کا اشاریہ ہے جو انسانی زندگی کو اپنے نرغے میں لیے رہتی ہیں۔  اس نظم کے لسانی تجمل کے علاوہ اس کے پس منظر میں وہ مہیب قوتیں بھی اپنا حصہ رکھتی ہیں جو طوفانی سمندروں ، برف پوش پہاڑوں اور شمالی خطوں کی ہلاکت خیزی اور تہلکہ انگیزی سے عبارت ہیں۔  سمندر کے تغیرات حرکت کا احساس اور اس کے محاکات قدیم شاعری میں عموماً پائے جاتے ہیں۔  اس خاص پہلو سے دو اور نظمیں The Wandererاور The Seafarerبھی قابل ذکر ہیں۔  ایک اور معرکے کی نظم The Dream of the Roodہے جس میں صلیب کے سلسلے میں جذبات میں گداز اور اہتزاز کا اظہار ملتا ہے ، گو مجموعی طور پر اس دور کی شاعری میں مزاج اور نرمی دونوں کی کمی ہے۔  تین اور نظمیں وڈستھ ڈیور اور بیٹل آف میڈان۔  (Widsith Deor & The Battle of Maldon)بھی قابل ذکر ہیں۔  بادشاہ الفریڈ کی نگرانی میں جسے انگریزی نثر کا معمار اول تسلیم کیا جاتا ہے Anglo Saxon Chronicleوجود میں آیا۔  اس کے زمانے میں Bedeکی کتاب اور بوئے تھیس (Boethius)کی کتاب Consolation of Philosophyکے انگریزی تراجم بھی سامنے آئے۔  Alfredکے بعد Aelfricکا ذکر بھی ضروری ہے۔  جس سے ایک لاطینی قواعد کی تالیف منسوب ہے اور جس کے طرز نگارش میں Alfredکے بہ نسبت زیادہ صفائی برجستگی اور نکھار پایا جاتا ہے۔  درمیانی انگریزی کے پہلے دور میں ایک گمنام شاعر کی معرکۃ الآرا نظم Sir Gawain and the Green Knightہے جو Arthurian موضوع پر لکھی گئی ہے۔  اس میں لادینی (Pagan)زندگی کے پس منظر میں بنیادی انسانی محرکات اور مہم جوئی کے جذبے کو خاص دخل ہے اور Paganاور مسیحی رسموں اور معتقدات کی باہمی آویزش اور آمیزش کو انتہائی فن کارانہ انداز میں پیش کیا گیا ہے۔  یہاں کردار نگاری، واقعات، نفسیات اور فطری کائنات کی عکاسی بڑی خوبی سے پیش کی گئی ہے۔  اس شاعر کی تین اور نظمیں جن میں مجازیہ رنگ جھلکتا ہے Patience, Pearlاور Cleannessہیں دو اور معروف نظمیں جن کے مصنفین کا حال معلوم نہیں The Parliament of Agesاور Morter Aurtherہیں۔  موخر الذکر میل رائے (Malroy)کی مشہور نثری تصنیف کا ماخذ ہے ایک اور خوبصورت نظم جس میں مکالمے کا رخ اختیار کیا گیا ہے۔  (The Owl and the Nightingale)۱۱۹۰ء۔  ہے۔  اس دور میں شعری رومانوں کا ذکر بھی ضروری ہے۔  ان کے لیے مواد انگلستان، فرانس اور روم تینوں سے ملا۔  اصلاً یہ ایسی کہانیاں ہیں جن میں مہم جوئی مرکزی موضوع ہے اور اس میں چاشنی عشق و محبت کی پائی جاتی ہے۔  اس میں مواقع اور اس کے اجزائے ترکیبی بندھے ٹکے ہوتے ہیں۔  ان میں زیادہ مشہور Emare, Laupal, Ywain and Gawain, Sirorfeo Mavelock, King Horeہیں۔  اس زمانے کے ادب میں Lyricsکی بھی اپنی اہمیت ہے جن میں سچی نغمگی پائی جاتی ہے۔  ان پر فرانسیسی ادب کا اثر نمایاں ہے۔  اس زمانے میں ان عوامی گیتوں یعنی Balladsکا بھی پتہ چلتا ہے ، جو رزمیہ کی ضد ہیں ا ور جو غالباً گیارہویں سے تیرہویں صدی کے درمیان وجود میں آئیں۔  ان گیتوں کی اپنی ایک فنی اہمیت ہے۔  اور ان کے کئی کئی مرقع (Versions)ملتے ہیں۔  ان میں انسان کے بنیادی جذبات، محبت، رقابت، ہمدردی، ایثار، انتقام، نفرت، خوف اور غصہ سب کی عکاسی ملتی ہے۔  ان کے مصنفین کا کچھ حال معلوم نہیں۔  اس دور کے ادب کی یہ ایک نمایاں خصوصیت ہے۔  اور سبب یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس زمانے میں آرٹ کی تخلیق کو ایک اجتماعی ذمہ داری سمجھا جاتا تھا۔  یعنی ادیب اور شاعر نے ابھی ادب کو اظہارِ ذات کے لیے استعمال کرنا شروع نہیں کیا تھا۔  وہ سمجھتا تھا کہ اس کا وظیفہ معاشرے کے ایک فرد کی حیثیت سے انسانی جذبات اور ڈرامائی مواقع کی مُرقع کشی ہے۔  کمال یافتہ فنی کارنامہ دراصل سماج کی ملکیت ہے۔  اور اس لیے اسے اپنا نام ظاہر کرنے یا اسے اپنے آپ سے منسوب اور منسلک کر کے اس پر فخر کرنے کی ضرورت نہیں۔  ان میں سے چند ایک عنوانات یہ ہیں : Kempowyne, The Corbies, Clerk Saunders, Child Waters, Patric Spens, A Fair, Margaret and Sweet William etc.اور Robin Hoodسے متعلق گیت۔  نثر میں ایک ہی کارنامہ قابل ذکر ہے یعنی Ancrene Riwle جو ان خواتین کی روحانی اور اخلاقی اصلاح کے لیے لکھا گیا تھا۔  جو اپنے آپ کو راہبانہ زندگی کے لیے وقف کر دیں۔  چودہویں صدی کے شروع ہوتے ہی انگریزی شاعری کا ایک نیا رنگ روپ سامنے آیا۔  اس دور میں تین شاعر سرفہرست ہیں یعنی چاسر (Chaucer)لینگ لینڈ (Langland)اور گوور(Gower)چاسر (۱۳۴۰ء۔  ۱۴۰۰ء) کی ابتدائی نظموں The Book of Duchess, The House of Fameاور The Parliament of Fowls)میں مجازیہ (Allegoircal)رنگ جھلکتا ہے جسے اس نے جلد ہی ترک کر دیا ور اپنے مشہور کارنامے Canterbury Talesمیں اس نے بے جھجک مشاہدے اور حقیقت پسندی کا مظاہرہ کیا۔  جو اس کی طبیعت سے میل کھاتا تھا۔  اس نظم میں واقعاتی بیانیہ کے ساتھ جو کردار نگاری جھلکتی ہے ڈرامائی عنصر اور مزاح کی کارفرمائی خاص طور پر جاذب نظر ہیں۔  اس نظم کے ڈھانچے اور کرداروں کے لیے وہ ایک حد تک Puilastratoاور Boccacioکارہین منت تھا۔  گو اس کی نادر کاری بھی کچھ کم اہم نہیں ہے۔  اس کی طویل مرصع نظم Troilus کی بنیاد پر اسے پہلا ناول نگار بھی مانا گیا۔  لینگ لینڈ (۱۲۶۲ء۔  ۱۲۹۵ء) کی شہرۂ آفاق نظم Visions of Piers۔  The Plowman۔  جس میں چاسر کی اولین نظموں کی جیسی تکنیک استعمال کی گئی ہے۔  چاسر کی نظم سے زیادہ گہری طنز اور ایک عارف کی بصیرت کا آئینہ ہے۔  نظم کا اصل موضوع صداقت کی تلاش اور اس کا مرکزی کردار Piers ہے۔  صداقت کی اس تلاش کے دوران زندگی کے تین مدارج Do-Bet, Do Welاور Do Bestسے گزرنا یا انہیں برتنا ضروی ہے۔  ہم عصری معاشی سیاسی اور سماجی حالات کو اس نظم میں ہدف ملامت ضرور بنایا گیا ہے۔  گوور (Gower)کی انگریزی نظم Confessio Amantis۔  اس کی لاطینی اور فرانسیسی نظموں کے بعد لکھی گئی اور بے حد طویل ہے۔  اس میں نیکیوں اور گناہوں کی تعبیر کہانیوں کے ذریعے پیش کی گئی ہے۔  اس کے بعض حصوں میں سادگی اور قدرتی پن پایا جاتا ہے اور بعضے خاصے بے کیف اور سپاٹ ہیں گوور (Gower)نے کوئی قابلِ ذکر کردار تخلیق نہیں کیا لیکن بعض کیفیتوں کی کامیاب ترجمانی ضرور کی ہے۔  ڈرامے کی ابتدا بھی اسی زمانے میں ہوئی۔  یہ ڈرامے جنہیں Miracles, Mysteries, Moralitiesکے نام سے یاد کیا جاتا ہے یا تو حضرت مسیح کی زندگی سے متعلق ہوتے تھے۔  یا بائبل کے واقعات پر مبنی یا مجرد تصورات اور گناہوں اور نیکیوں کی تعبیر و تفسیر سے منسلک۔  ان کے مصنفین کے نام بھی ہمیں معلوم نہیں۔  کردار اپنے نام نہیں رکھتے نیز ان میں انفرادیت نمایاں ہے۔  اس سلسلے میں دو ڈرامے بہت معروف ہیں۔  Second Shepherd’s Play, Every Manآخر الذکر میں خود کلامی Soliloquyکی جھلکیاں ملتی ہیں۔  اس میں مکالمے بھی ہیں اور تناؤ یا کش مکش کا سراغ بھی مل جاتا ہے۔  جن ڈراموں کا ابھی ذکر کیا گیا وہ ایک چلتی پھرتی اسٹیج پر دکھائے جاتے تھے۔  جنہیں Wagonsکہتے تھے۔  ان کے اہتمام کرنے والوں میں کاریگروں کی ان انجمنوں کا تمام تر ہاتھ ہوتا تھا جنہیں (Worker’s Guilds)کا نام دیا گیا ہے۔  نثر کے سلسلے میں ایک ہی کارنامہ اہم ہے یعنی Maloryکی کتاب Morte D, Arthur۔  جو درمیانی دور کے انگریزی ادب کی اس عنوان پر نظم اور ایک فرانسیسی تصنیف کے ترجمے پر مبنی ہے۔  یہ ۱۴۷۰ء میں لکھی گئی اور اسے اس پریس نے شائع کیا جسے Caxtonنے ۱۴۷۶ء میں قایم کیا تھا۔  یہ ان مہمات پر مشتمل ہے جن سے ازمنۂ وسطیٰ کے بانکے گزرتے تھے۔  اور وہ صعوبتیں اپنی محبوباؤں کی رضا جوئی کی خاطر گوارا کیا کرتے تھے۔  ان داستانوں میں زندگی کے بہت سے رنگ سامنے آتے ہیں اور رومانوں کی اس فراوانی میں ہی زندگی کی گریز پائی اور بے حقیقتی اپنی جھلک دکھا جاتی ہے۔  میلرائے کی نثر کا انداز اپنے اندر ایک یاس انگیز کشش رکھتا ہے۔  ازمنۂ وسطیٰ کے خاتمے پر جب ہم الیزبیتھن دور میں قدم رکھتے ہیں تو یکایک ایک گہری تبدیلی کا احساس ہوتا ہے۔  اس دور میں جو ادب تخلیق کیا گیا گو اس کے پس منظر میں زمانہ ما قبل کی تہذیب و ثقافت کے بہت سے عناصر ذہنی ورثے کے طور پر موجود ہیں۔  لیکن چوں کہ یہ دور نشاۃ ثانیہ اور تجدید مذہب کی تحریکوں کے درمیان واقع تھا اس لیے اس دور اور دورِ ما قبل کی تخلیقات کے درمیان امتیاز کیا جا سکتا ہے۔  اس دور میں نثر کو خالص علمی اور مذہبی ’’تالیفات اور ترجموں کے لئے بھی استعمال کیا گیا ہے۔  ادبی نثر میں لہجے میں غیر آہنگی عبارت میں اہتمام و انصرام اور ساخت کے اعتبار سے پیچیدگی پائی جاتی ہے۔  انگریزی تاریخ کی یادداشتیں یعنی Chroniclesبھی اس دور کی یاد گار ہیں۔  Raphael Holinshedنے اس زمانہ میں وہ Chroniclesلکھے جن سے شیکسپیر نے استفادہ کیا اور جو ۱۵۷۷ء میں شائع ہوئیں۔  زیادہ باقاعدہ نثر کی مثال John Lylyکی Eupmues ہے جس کی تاریخ ۱۵۷۸ء ہے یہ نثر کی ایک خاص نوع کی نمائندگی کرتی ہے جس میں خاص تکلف اور شعوری درو بست پایا جاتا ہے۔  Sir PHilip Sidneyکی مشہور کتاب Arcadia۱۱۵۹ء میں شائع ہوئی۔  Bacon کے مضامین ۱۵۹۷ء میں اور اس کی۔  The Advancement of Learning۔  ۱۶۰۵ء میں سامنے آئی بیکن نے اس طریق فکر کی بنیاد ڈالنے میں مدد کی جسے سائنٹفک کہا جاتا ہے۔  Robert Burton کی Anatomy of Melancholy۱۶۲۱ء میں شائع ہوئی۔  نئی شاعری کی آواز کو متعین کرنے والوں میں سرفہرست Wyattاور Surreyکے نام لیے جا سکتے ہیں۔  دونوں ہنری ہشتم کے دور سے متعلق ہیں اور دونوں کی تخلیقات ایک مشہور شعری انتخاب ۱۵۵۷ء Totel’s Miscellanyمیں شامل ہیں۔  دونوں نے Sonnet کو ذریعہ اظہار بنایا۔  اس صنف کو فروغ دینے والوں میں معروف نام Sidney, Spenserاور Shakespeareہی کے ہیں۔  اس دور کی روح کو اسیر کرنے والوں میں نمایاں نام اسپنسر ہے۔  جس پر مجاز یہ شاعری کا تکملہ ہو جاتا ہے۔  وہ کئی اعتبار سے قابل ذکر ہے۔  اپنی مشہور نظم ’’۱۵۷۹ء۔  The Shepherd’s Calender‘‘کے ذریعہ جو بارہ Ecloguesکا مجموعہ ہے۔  اس نے Pastoralشاعری کی روایت کو تازہ کیا۔  ان نظموں میں اسپنسر نے روایتی پس منظر کے ساتھ چرواہوں کی زبان سے شاعری، مذہب اور محبت کے موضوعات پر اظہار رائے کیا۔  اس نے ساینٹ کی روایت کو ایک دوسرے مجموعے Amorettiمیں برتا۔  انگریزی زبان کی اندرونی توانائیوں کو بروئے کار لانے پر زور دیا۔  تاکہ وہ لاطینی کی بالادستی سے آزاد ہو جائے۔  اس نے اپنی شہرۂ آفاق نظم The Farrie Queeneمیں بہت وسیع کینوس پر رومانی رزمیہ کا تجربہ کیا جس کے لیے اسے تحریک اور حوصلہ کلاسیکی شاعروں خصوصاً اطالوی زبان کے دو بڑے شاعروں Ariostoاور Tassoسے ملتا تھا۔  اس کے مجازیہ کردار اپنی مہمات اور کشمکش میں تمام تر اسیر ہونے کے باوجود ایک اخلاقی عنایت کے پابند ہیں۔  اس کے ساتھ ہی اس نظم میں گہری حسیت اور نقش گری کے عناصر بھی ملتے ہیں۔  جو اسپنسر کے مزاج کے عین مطابق ہیں۔  نغمگی اس دور کی روح میں ایک طور سے حلول کر گئی تھی۔  مترنم بحروں کی مختلف اقسام مستعمل تھیں۔  غنائی شاعروں میں Hero and Leander کے شاعر بن جانسن (Ben Jonson)ڈرے ٹن (Drayton)اور ڈینیل (Daniel)کے نام بھی قابل ذکر ہیں۔  لیکن رفتہ رفتہ غنائی شاعری کا یہ وفور سادگی اور سرشاری ایک طرح کے تصنع میں بدلنے لگی۔  اور بارہویں صدی کی انگریزی اور فرانسیسی شاعری میں وہ محرکات جو درباری عشقیہ شاعری (Courtly Love Poetry)سے لیے گئے تھے ، میکانیکی انداز سے مستعمل ہونے لگے۔  ان سب کے خلاف شدید رد عمل کا اظہار ہمیں اس نئی شاعری میں ملتا ہے۔  جسے ما بعد  الطبیعاتی (Metaphysical) شاعری کہا جاتا ہے۔  اس میں زور جذبے سے زیادہ منطق اور عقل پسندی سے زیادہ اعصاب پر ہے۔  اس میں ایک طرح کی حقیقت پسندی اور برملا پن ہے۔  یہ شاعری اس دور میں ابھری جب سائنس نے حیرت انگیز طور پر ترقی کر لی تھی اور انسانی غم و عرفان کی حدود بہت وسیع ہو گئی تھیں۔  جن شاعروں نے Petrarchanشاعری کی رسمیات (Conventions)کے خلاف علم بغاوت بلند کیا ان میں John Donneکا نام سر فہرست ہے۔  جس کے عشقیہ سانیٹ ایک نئی آواز کا اعلان تھے۔  یہی شیوۂ گفتار اس کی مذہبی یا الٰہیاتی نظموں میں بھی ملتا ہے۔  اس گروہ کے دوسرے شاعروں میں۔  Andrew, Marvel, George Herbert, Vaughan Crashawوغیرہ شامل ہیں۔  ان سب کے یہاں جو فنی تدبر مشترک ہے وہ رمز بلیغ کا استعمال ہے۔  جو تشبیہ و استعارہ کی ایک توسیع یافتہ شکل ہے۔  جذبے اور تعقلی کے درمیان اشتراک اور ان کی آمیزش جو اس شاعری کی پہچان ہے پڑھنے والے سے سریع ردِ عمل اور انتقال ذہنی کا مطالبہ کرتی ہے۔  جس طرح مجازیہ ازمنۂ وسطیٰ کی غالب ادبی صنف ہے اسی طرح ڈرامے کی صنف سولہویں صدی یا الیزبیتھن دور سے مختص ہے۔  اس عہد میں طربیہ (Comedy)کے لئے نمونے لاطینی زبان میں Terence Plautus۔  سے ملے اور المیہ (Tragedy) کے لئے Senecaکے یہاں شیکسپیئر کے پیش روؤں میں ، John lyly, Robert Green, George۔  کا نام لینا ضروری ہے۔  کیونکہ اس نے ان سب سے اپنے ڈراموں کے لیے خام مواد حاصل کیا۔  مشہور المیہ کارنامہ Gurbuducجس کے مصنفین Thomas Sackvilleاور Thomas Nortonسمجھے جاتے ہیں۔  ۱۵۶۲ء میں سامنے آیا اور دوسرا معروف المیہ The Spanish Tragedy۱۵۹۴ء میں۔  اس سلسلے میں ایک اہم ڈرامہ نگار Christopher Marloweہے۔  جس کے مشہور ڈراموں میں Tamburlaineکے دو حصوں ، The Jew of Malta، ڈاکٹرفاسٹس اور ایڈورڈ دوئم کا ذکر ضروری ہے۔  مارلو نشاۃ ثانیہ کی روح کا نمائندہ ان معنوں میں ہے کہ اس کے کردار میں دولت، طاقت اور علم حاصل کرنے کی بے پایاں امنگ اور بیکراں ہو جانے کا جذبہ پایا جاتا ہے۔  وہ سب کسی نہ کسی حیثیت سے ابدیت کے طلب گار ہیں۔  مارلو کا اصل کارنامہ بلینک ورس (Blank Verse)کا استعمال ہے اور وہ اپنے منفرد مصرعوں کے لیے مشہور ہے۔  لیکن دراصل یہ دور شیکسپیئر کا دور ہے جس کی فطانت بے مثل ہے اور مظاہر فطرت کی طرح اپنی وسعت ایجاز اور ناقابل تسخیر توانائیوں کے اعتبار سے اس کا کوئی ثانی نہیں۔  انسانی فطرت کا وہ جیسا رمز شناس ہے۔  کردار نگاری کے جو نمونے اس نے پیش کیے ہیں ، اور انداز بیان کے جیسے شیوۂ صد ہزار اس کے یہاں ملتے ہیں وہ شاید ہی دنیا کی کسی اور زبان میں مل سکیں۔  اس نے اپنی زندگی کا آغاز معمولی حیثیت سے کیا لیکن ڈرامہ کمپنیوں سے اس کا ربط برابر رہا۔  اس نے اپنے ڈرامے عام دیکھنے والوں کے لیے لکھے۔  اور یہ اکثر Globe Theatreمیں اسٹیج کئے گئے۔  ابتدائی ڈراموں میں The Taming of the Shrew, The Comedy of Errors,The Two Gentlemen of Verona کے نام لیے جا سکتے ہیں ان میں سے بعض میں کہیں کوئی چونکا دینے والی بات ملتی ہے۔  اس کے بعد کے طربیہ ڈراموں میں خاص طور پر A Mid Summer Night’s Dreamمیں تبدیلی کا احساس ہوتا ہے یہاں زر خیزا ور وافر تخیل کی پرچھائیاں اور ڈرامائی مواقع میں بصیرت کا ثبوت ملتا ہے یہ احساس The Merchant of VeniceاورMuch Ado About Nothingمیں زیادہ گہرا ہو جاتا ہے۔  اول الذکر میں خاص طور پر یہودی تاجر Shylockکے کردار پر المیہ وجدان کا سایہ پڑا ہے۔  As You Like It(۱۵۹۹ء۔۱۶۰۰ء) اور خاص طور پر Twelfth Nightحیرت انگیز کارنامے ہیں۔  تاریخی ڈراموں میں رچرڈ سوم (۱۵۹۲ء۔۱۵۹۳ء) میں بظاہر ایک طرح کی ناپختگی کا احساس ہوتا ہے لیکن بعض اعتبار سے یہ ڈرامہ بہت اہم ہے۔  رچرڈ دویم (۱۵۹۵ء۔۱۵۹۶ء) ہنری چہارم اول و دوم (۱۵۹۷ء۔۱۵۹۸ء) اور ہنری پنجم (۱۵۹۸ء۔۱۵۹۹ء) کے ذریعے انگلستان کی تاریخ کا عطر امن و صلح اور لاقانونیت کے درمیان کش مکش اور خود فرد کے اندر متضاد عناصر کا تناؤ بڑی چابکدستی کے ساتھ سامنے لایا گیا ہے۔  ہنری چہارم کے دو حصوں میں Falstaff کا لافانی کردار ملتا ہے۔  رومن تاریخ سے جو ڈرامے ماخوذ ہیں ان میں Coriolanus, Antony And Cleopatra, Julius Ceasarکا ذکر ضروری ہے۔  فاسٹاف کی طرح کلیوپیٹرا کا کردار بھی ایک انوکھی تخلیق ہے۔  (Romeo and Juliet۱۵۰۴ء۔۱۵۰۵ء) میں المیہ کردار کی اولین جھلکیاں ملتی ہیں۔  جو ڈرامے مسائلی ڈراموں (Problem Plays)کے نام سے مشہور ہیں۔  ان میں Troilus and Cressida, All is Well That Ends Well Measure for measureبہت معروف ہیں۔  ان سب میں ایک طرح کا ابہام پایا جاتا ہے۔  یعنی کرداروں اور ڈرامائی عمل کے سلسلے میں پڑھنے والے کے تاثرات غیر متعین رہتے ہیں۔  ایک اور ڈرامہ ’’۱۶۰۶-۱۶۰۸ء۔  Trinor of Anthens‘‘ جس میں نفرت اور غصے کے تاثرات شدت کی انتہا تک پہنچ گئے ہیں ، سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔  شیکسپیئر کی شہرت کا دارومدار بڑی حد تک اس کے المیہ ڈراموں پر ہے۔  جن میں Hamletمیں تشکیک کی روح پوری طرح سرایت کیے ہوئے ہے پورا ڈرامہ دراصل ایک استفہامیہ ہے زندگی کی تعبیر و تفسیر کے سلسلہ میں اور اس کا مرکزی کردار شیکسپیئر کے چار لافانی کرداروں میں سے ایک ہے۔  اوتھیلو ایک طرح کا خانگی المیہ ہے۔  اس میں ایاگو کا کردار ایک ایسا اعجاز ہے جس کی خاطر خواہ تشریح اب تک نہیں کی جا سکی۔  اس کے عمل کے محرکات ایک معمہ ہیں۔  Macbethکی تعبیر محبت اور نفرت کے جذبات کے مرکب (Love-Hate Complex)ہوتی ہے اور لعنت (Damnation)اور سعادت (Grace)کی متضا د کیفیات سے ’’۱۶۰۵-۱۶۰۶ء۔  King Lear‘‘کی آفاقیت اور داخلی سوز و گداز کا احاطہ کرنا مشکل ہے۔  آخردور کے طربیہ ڈرامے چار ہیں یعنی ’’۱۶۰۸-۱۶۰۹ءPericles‘‘ ’’۱۶۰۹-۱۶۱۰ء۔  Winter’s Tales, The Cymbeline‘‘، The Tempest(۱۶۱۱-۱۶۱۲ء)ان سب میں بعض عناصر مشترک ہیں یعنی طوفان، جدائی، سوز و گداز اور خیر و شر کی کش مکش سے گزر چکنے کے بعد دریائے سعادت کا حصول۔  ان طربیہ ڈراموں کو Romancesکہنا خاصی غلط سی بات ہے۔  نہ انہیں المیہ و طربیہ (Tragi-Comedy)کا ایسا امتزاج کہا جا سکتا ہے جس کا تجربہ دو ڈرامہ نگاروں Beumontاور Flecherنے کیا تھا کیوں کہ ان سب کے قلب میں کچھ اخلاقی اقدار پیوست ہیں۔  خیر و شر کے درمیان ازلی اور ابدی کش مکش اور تناؤ کے باوجود انسان یہ کوشش کرتا ہے کہ ان پر قابو پا کر پرسکون اور ہموار زندگی کی طرف جادہ پیما ہوسکے۔  شیکسپیئرکے یہاں شدید المیہ احساس کے باوجود ایک گہری رومانی اور اخلاقی حس کا اظہار ملتا ہے۔  ایسی حِس جو زندگی کے ’’پیچ و خم‘‘ پستی اور بلندی اور خوب و زِشت کے اعتباروں کے درمیان نقطہ توازن کے حصول کے ہم سعی قرار دی جا سکتی ہے۔  یہاں ایک اور ڈرامہ نگار Ben Jonsonکا ذکر ضروری ہے۔  جسے شیکسپیئر کے رومانی مزاج کے برعکس کلاسیکی نقطۂ نظر کا علم بردار کہا جا سکتا ہے۔  اس کے بعض ڈراموں کے پس پشت جنہیں Comedy of Humoursکہا جاتا ہے۔  یہ مفروضہ پایا جاتا ہے کہ انسان کی شخصیت کا غالب رجحان اور اس سے ماخوذ عمل ان پر چار عناصر میں سے کسی ایک کے غلبہ پر منحصر ہے جس سے بنیادی طور پر اس کی تخلیق کی گئی ہے۔  اس کے دو ڈرامے Every Man In His Humourاور ’’۱۵۹۸ء۔Every Man out of His Humour‘‘اسی مفروضے پر مبنی ہیں۔  اس کے دوسرے معروف ڈرامے Volpone(۱۶۰۷ء) Alchemist, Brrtholemew Fair, The Silent Women(۱۶۱۲ء) ہیں۔  اس کے یہاں طنز اور حقیقت پسندی دونوں نمایاں ہیں۔  بین جانسن کے یہاں وہ تحیر آمیز فضا اور انسانی فطرت میں وہ بصیرت تو نہیں ملتی جو صرف شیکسپیئر کا حصہ ہے۔  لیکن اس کی نظر ان تمام لبادوں کو چیرتی ہوئی گزر جاتی ہے جو سماجی زندگی کی ہر سطح پر مختلف طبقوں کے نمائندوں نے اوڑھ رکھے ہیں۔  بین جانسن کے یہاں جو حقیقت پسندی کا عنصر ہے وہ تھامس ڈکر (Thomas Dekker)کے ڈرامے The Shoemaker’s Holidayمیں بھی نظر آتا ہے۔  اور ہے ووڈ (Heywood)کے ڈرامے۔  A Woman Killed with Kindness۔  میں بھی چیپ مین (Chapman)نے تین تاریخی المیے لکھے۔  یعنی ۱۶۰۴ میں Bussy D, Ambois,Duke of Byron, The revenge of Bussy D, Amboisان ڈرامہ نگاروں میں Websterکا نام بہت اہم ہے جس کے دو ڈرامے The White Devilاور The Duchess of Malfi۔  زندگی کے اضطراب بے رحمی اور اتھل پتھل کا آئینہ ہیں۔  یہاں موت کا گہرا سایہ زندگی کا تعاقب کرتا نظر آتا ہے۔  اور اس گہرے اور تند جذبے کی عکاسی ملتی ہے جو انسانی شخصیت کو اندر اندر گھلاتا رہتا ہے۔  Journerکے دو ڈرامے معروف ہیں یعنی The Revenger’s Tragedy(۱۶۰۷ء) اور The Atheists Tragedy(۱۶۱۱ء) مڈلٹن (Middleton) نے رومانی المیے لکھے جن میں دو قابل ذکر ہیں یعنی The Changling(۱۶۲۴ء) اور Woman Beware, Massinger Philip, کا ایک ہی ڈرامہ قابل ذکر ہے یعنی ’’۱۶۳۳۔  A New Way to pay Old Debts‘‘ البتہ John Fordنے کئی ڈرامے لکھے اور ان میں ایک نفیس اور کڑھے ہوئے جذبے کا انعکاس ملتا ہے۔  ان میں Tis Pity She’s a Whoreاور The Broken Heartجو ۱۶۳۳ء میں لکھے گئے۔  خاص طور سے پرکشش ہیں۔  ان میں سے اکثر ڈرامہ نگاروں کے یہاں رومن مفکر وں کے افکار کی چھاپ صاف نظر آتی ہے۔  اس دور کے آخر میں ہم ایک بڑے شاعر John Miltonسے دوچار ہوتے ہیں جس کا مطالعہ وسعی و عمیق اور جس کی نظر بڑی دو ررس تھی۔  اس کی ابتدائی نظموں ، II Penseroso, L’ Allegroاور On the Morning of Christs Nativityمیں جو ۱۶۳۵ء میں شائع ہوئیں نو فلاطونیت اور مسیحیت کے عناصر کا امتزاج ملتا ہے۔  اس کی نظم ’’۱۶۲۵۔  Coitus‘‘ پر الزبتھین دور کی لسانی فراوانی کا بھی اثر ہے اور اسپنسر کے مماثل شعری محرکات (Motifs)کا بھی اپنے دوست Edward Kingکے سانحہ ارتحال پر ملٹن کا مرثیہ Lycidasکے عنوان سے ایک پیچیدہ نظم ہے جو موت اور زندگی، شاعری اور شہرت جیسے موضوعات پر ایک اہم شعری تخلیق کا درجہ رکھتی ہے۔  اس کا سب سے بڑا کارنامہ ’’فردوس کم گشتہ‘‘ (Paradise lost)۱۶۶۷ء ہے جس میں خدا کے خلاف شیطان کی بغاوت اور آدم اور حوّا کے واقعہ اخراج کو رزمیہ انداز میں پیش کیا گیا ہے۔  شیطان جو بہ یک وقت جرأت مہم جوئی اور شر کی قوتوں کا اشاریہ ہے ایک عظیم تخلیق کا درجہ رکھتا ہے سقوط سے پہلے آدم و حوا کی زندگی کی وہ تصویریں۔  کچھ کم دلچسپ نہیں ہیں جو ہمیں انسانیت کے بچپن کے دور کی یاد دلاتی ہیں۔  یہ نظم ملٹن کے تبحر علمی اور طنزیاتی چبھن کے علاوہ خدا اور شیطان اور شیطان اور آدم کے درمیان ربط کے تصور نے ملٹن کی شخصیت میں جو شعوری اور غیر شعوری اثرات مرتب کئے ان کو سامنے لاتی ہے۔  اس میں روشنی اور تاریکی کے شعری پیکر، زماں و مکاں کی وسعتوں کا احساس باغ ارم سے وابستہ شجر زندگی اور شجر ممنوعہ کے تصورات کی اساطیری اہمیت اور معرکۂ خیر و شر کی نزاکتیں بڑی ہی صناعی اور دیدہ وری کے ساتھ متشکل کی گئی ہیں۔  ملٹن کی دوسری نظم Paradise Regainedاور اس کا ڈرامہ Samson Agonistesدونوں ۱۶۷۱ء میں سامنے آئے۔  فردوس گم گشتہ اور اس ڈرامے میں گناہ کی طرف ترغیب ایک مشترک محرک کے طور پر موجود ہے ملٹن کا تعلق نہ صرف Puritanismکی مذہبی تحریک سے تھا بلکہ اپنے سامنے کی سیاست سے بھی وہ بڑی حد تک جمہوری ہمدردیاں رکھتا تھا۔  اور اس لیے احیاء (Restoration)کے تاریخی واقعے کے بعد اسے عرصے تک قید و بند کی صعوبتیں بھی جھیلنا پڑیں اس طرح وہ پریس کی آزادی، عورتوں کے حقوق اور طلاق کے مسائل سے بھی دل چسپی رکھتا تھا۔  اور تعلیمی امور سے بھی اسے گہرا شغف تھا۔  انہی تمام سرگرمیوں کا اظہار ہمیں اس کی بلند آہنگ اور مرصع نثر میں بھی ملتا ہے جو اس کی شاعری کے پس منظر میں بڑی اہمیت رکھتی ہے۔  ۱۶۶۰ء انگریزی ادب کی تاریخ میں ایک اہم تاریخ ہے۔  اسی کی نسبت سے یعنی چارلس دویم کی واپسی کے واقعے سے ادب کے ایک نئے موڑ کا آغاز ہوتا ہے۔  پریس کی آزادی کے سلسلے میں ملٹن کا معرکہ آرا مقدمہ اس کی تصنیف Areopagitica ۱۶۴۴ء میں سامنے آ چکا تھا۔  اس دور میں ایک اہم نثر نگار Sir Thomas Browne ہے اس کے یہاں سترہویں صدی کی عقلیت اور قدیم توہمات میں یقین باہم دگر وابستہ نظر آتے ہیں۔  اور اس کی نثر میں ایک نیا دروبست جلال اور شکوہ ملتا ہے۔  اس کی مشہور تصانیف میں ’’۱۶۵۸ء۔  Urn-Burial اور ’’۱۶۶۰ء۔  Religio Medici‘‘ کا ذکر کیا جا سکتا ہے۔  اس کا مقصد معتقدات کو عقل اور سائنس کی روشنی میں قابل فہم بنانا تھا۔  اپنے نثری اسلوب میں براؤن نے لاطینی عنصر اور اینگلو سیکسن محاورے کو باہم تطبیق دینے کی کوشش کی ہے۔  جرمی ٹیلر (Jeremy Taylor)کے بیان بھی لاطینی مشتقات کے استعمال کے زیر اثر زبان میں گراں باری ثقالت اور جملوں کی ساخت میں غیر ضروری پیچیدگی ملتی ہے جس کے سبب ان کا مفہوم متعین کرنے کے لیے دور کی کوڑی لانے کی ضرورت ہوتی ہے ٹیلر کی دو کتابیں Holy Dyingاور Holy Livingقابل ذکر ہیں۔  اس دور میں Royal Societyکی بڑی اہمیت ہے اسی کے زیر اثر زبان میں سادگی صفائی اور استدلال کی طرف رجحان بڑھا John Drydenکو جدید انگریزی کا معمار کہا جا سکتا ہے۔  اس نے انگریزی زبان کو لاطینی کے غلبے سے آزاد کر کے اس میں لچک سبک روی اور قطعیت کے عناصر کو ابھارا۔  اس کی دو تصانیف کا ذکر ضروری ہے۔  یعنی ’’۱۶۶۸ء۔  Essay of Dramatic Poetry‘‘ اور ’’۱۷۰۰ء۔  Preface to Fables‘‘۔  ناول نگاروں میں ہماری ملاقات جان بنیان (John Bunyan)سے ہوتی ہے جس کی تین کتابیں The Grace Abounding، History of Mr Badmanاور ’’۱۶۸۳ء۔  Holy war‘‘ نسبتاً کم معروف ہیں۔  اس کا لازوال کارنامہ ’’۱۶۷۸’۔  ۱۶۸۴ء "The Pilgrim’s Progress”سمجھا جاتا ہے جو مجازیہ رنگ کی نمائندگی کرتا ہے۔  اس کے دو حصوں میں ایک عام مذہبی انسان کی تلاش حق کو افسانوی رنگ میں پیش کیا گیا ہے اور اس کے دوران ذہن اور روح کے مدو جزر کا نقشہ بڑی خوبی کے ساتھ کھینچا گیا ہے۔  اس کے ساتھ ہی دو ڈائری لکھنے والوں کا ذکر بھی دلچسپی سے خالی نہ ہو گا یعنی Samuel Pepysاور John Evelynاول الذکر نے انتہائی دلکش انداز میں اپنی نجی زندگی کے خاکے میں بڑی شوخ رنگوں کی گل کاری کی ہے اور موخر الذکر نے ایک پورے عہد کو بے نقاب کیا ہے۔  سترہویں صدی کے اواخر میں دو شاعر تذکر رہ کا مطالبہ کرتے ہیں۔  اول Samuel Butlerجس نے Hudibrasمیں Puritanismتحریک کی نارسائیوں کو اپنے طنز کا ہدف بنایا ہے۔  اور دوسرے ڈرائیڈن اس کی مشہور نظم ’’۱۶۶۷ء۔  annus Mirabi Lis‘‘ پر مقامی اثر غالب ہے۔  خالص ذاتی سطح پر استہزا کی ایک بہت دلکش اور پر علامت کوشش ’’۱۶۷۸ء "Mac Flecknoeمیں ملتی ہے ہم عصری سیاست پر بلیغ اور پر تاثیر کردار نگاری کے ذریعہ طنزیہ مرقعوں کی ایک وسیع کائنات ہے۔  ۱۶۸۱ء۔  ۱۶۸۲ء "Absolom and Achitophelدو حصوں میں ملتی ہے۔  مذہبی موضوع پر دو اور نظمیں یعنی ’’۱۶۸۲ئ”Religio Laiciاور The Hind and the Pantherاور اس دور کا ایک پر کشش غنائی کارنامہ Ode to st. Cecilias Day بھی قابل ذکر ہیں۔  ڈرائیڈن قدیم ہجو نگاروں میں Juvenalسے متاثر تھا۔  ڈرائیڈن پر فارسی شاعر فردو سی کایہ مصرع صادق آتا ہے۔  من و گرز و میدان و افراسیاب مگر گرز سے کام لینے کے با وصف ا س کے یہاں ایک طرح کا ٹھہراؤ، محکمی اور وقار پایا جاتا ہے جو اس کے قد آور ہونے کی دلیل ہے۔  احیا (Restoration)کے دور کے ڈرامے کو ایک خاص امتیاز حاصل ہے۔  اس دور کے طربیہ ڈراموں کو Comedy of Mannersکے نام سے پکارا جاتا ہے ان کے لکھنے والوں میں سرفہرست نام (Etherege)کا ہے اس کا ڈرامہ Man of Mode or Sir Fopling Flutter۱۶۷۶ء میں سامنے آیا۔  پھر Wycherleyہے جس کا ڈرامہ Plain Dealer۱۶۷۷ء میں لکھا گیا۔  سب سے زیادہ امتیاز کا نگریو (Congreve)کو حاصل ہواجس کا مشہور کارنامہ ’’۱۷۰۰ء۔  "The Way of the Worldشمار کیا جاتا ہے۔  اس کے بعد George Farquarاور John Van Brughکا نام بھی قابل ذکر ہے۔  اس سب کے یہاں اس اخلاقی انتشار اور بے راہ روی کا احساس ملتا ہے جو اس دور سے مخصوص ہے۔  لیکن شاید یہ کہنا صحیح نہ ہو گا کہ ان ڈرامہ نگاروں کا مقصد محض سطحی جذبات کی آسودگی کے لئے ایک راستہ دکھانا تھا۔  شاید ان کا مقصد اس کے خلاف رد عمل کو ابھارنا رہا ہو گا۔  جو تصویر کو اس کی ساری عریانیت کے ساتھ پیش کرنے کے ذریعہ ہی ممکن تھا۔  ڈرائیڈن نے ایک اور انداز کے ڈرامے لکھے جنہیں Heroic Playsکا نام دیا گیا ہے اور جن میں حمیت یا Honourکو ایک محرک (Motif)کی حیثیت حاصل ہے ان میں دو قابل ذکر ہیں یعنی ’’۱۶۷۵ء۔  Aurangzebe‘‘ اور ۱۶۷۸’ All for Love‘‘۔  احیا کے دور کی جھلکیاں ان مضامین میں بھی نظر آتی ہیں جو Steeleاور Addisonنے اپنے پرچوں اسپیکٹیٹر (Spectator)اور Tatlerمیں لکھے اور شائع کیے۔  ان دونوں کا مقصد ڈرامہ نگاروں کے برعکس اصلاحی تھا۔  ان کا دل اخلاقی اقدار کے انحطاط اور پامال کیے جانے پر کڑھتا تھا۔  اور وہ طنز و مزاح کے ذریعے پڑھنے والوں پر انکشاف حقیقت کے خواہاں تھے۔  ان مضامین کو Periodical Essaysکا نام دیا گیا ہے۔  اٹھارویں صدی کا دور جو ملکہ این (Queen Anne)کے نام سے منسوب ہے عام طور پر نثر کا دور کہلاتا ہے۔  نثر نگاروں میں سب سے اہم نام جانتھن سوئفٹ (Jonathan Swift)کا ہے۔  اس کے ابتدائی آثار میں سب سے اہم ۱۶۹۵ئA Tale of a Tub‘‘ ہے جس میں اس نے اٹھارہویں صدی کی علمیت، مذہبی عقائد بلکہ توہمات اور سائنسی اکتشافات کا بے باکی اور سفاکی کے ساتھ مذاق اڑایا ہے۔  دوسری معروف تصنیف ’’۱۷۰۴ The Battle of Books‘‘ ہے۔  اگر اس کے ’’۱۷۱۱ئJournal to Stella ‘‘ کا مشہور ’’۱۷۲۴’۔  Drapier’s Letter‘‘ سے مقابلہ کیا جائے تو اس کے انداز بیان کے تنوع کا اندازہ ہو سکے گا۔  سوئفٹ کا بے مثل کارنامہ ’’۱۷۳۶ء۔  Gulliver’s Travels ‘‘ ہے جس کے پہلے دو حصوں میں انگلستان کے سیاسی اور سماجی اداروں اور شخصیتوں اور انگریزی ثقافت، تیسرے میں سائنسی اقدامات اور چوتھے اور آخری حصے میں دو بنیادی انسانی محرکات یعنی خود پسندی اور پندار اور عقل کے فقدان یعنی Unreasonکو انتہائی فن کاری کے ساتھ بے محابا طنزیہ حملوں کا نشانہ بنایا گیا ہے۔  اچھی اور کھری نثر کے معماروں میں ڈرائیڈن کے ساتھ سوئفٹ کا نام لینا بھی ضروری ہے جس نے اول الذکر کی روایت کو آگے بڑھایا اور اسے چار چاند لگائے۔  Gibbonنے ’’۱۷۷۶ء۔  ۱۷۸۰ء The Decline and Fall of Roman Empireمیں نثر کا ایک نیا انداز پیش کیا۔  اس کے یہاں طنز اور خوش بیانی (Eloquence)کا مظاہرہ بیک وقت ملتا ہے Dr. Johnsonکے مضامین کا مجموعہ Ramblerکے نام سے ۱۷۵۰ء۔  ۱۷۵۲ء میں چھپا اور ایک فلسفیانہ ناول Rasselas۱۷۵۹ء میں منظر عام پر آیا۔  اس کا ایک کارنامہ انگریزی لغت کی تدوین تھی جو ۱۷۵۵ء میں شائع ہوئی۔  اس میں الفاظ کے مفہوم کی تشریح بڑے دلچسپ انداز میں کی گئی ہے۔  جانسن کا ایک اور اہم کارنامہ ’’۱۷۷۹ء۔  ۱۷۸۱ء۔  "The Lever of Poetsہے جس کے دو حصوں میں سوانح عمری اور تنقید نگاری دونوں کا حق ادا کیا گیا ہے۔  جانسن کی شخصیت ایک ادارے کی سی تھی۔  اس میں برجستہ جملہ بازی اور دلچسپ گفتگو کرنے کا ایک خاص ملکہ تھا۔  اس پہلو کو اس کے مرید جیمس باسول (James Boswell)نے جو اس کے ساتھ آسیب کی طرح چمٹا رہتا تھا ’’۱۷۹۱ء میں "Life of Dr. Samuel Johnsonلکھ کر بے نقاب کیا۔  برک (Burke)کی مشہور تصنیف Reflecions On Revolution in France۱۷۹۰ ء میں شائع ہوئی اور خالص ادبی لحاظ سے اس کا مضمون’’۱۷۵۷ء On Sublime and Beautifulبہت معروف ہے۔  Goldsmithبھی اس حلقے کا ایک فرد ہے۔  اس کے مضامین کا مجموعہCitizen of the World(۱۷۶۲ء) معروف ہے۔  اس کے طربیہ ’’۱۷۷۳ء "She Stoops to Conquerسے ہر ایک کے کان آشنا ہیں۔  اس کی مشہور نظمیں ’’۱۷۶۱ء "The Travellerاور ’’۱۷۷۰ء۔  "The Deserted Villageہیں۔  Cowperاور Grayاپنے خطوط کے لئے جو اتفاق سے محفوظ کیے جا سکے ہیں مشہور ہیں۔  اول الذکر کے یہاں حلاوت اور گرمی اور موخر الذکر کے یہاں احساس کی تازگی اور نیرنگی نمایاں ہیں۔  اسی طرح Horace Walpoleکے خطوط جو اٹھارہویں صدی کے مختلف پہلوؤں پر بھرپور روشنی ڈالتے ہیں۔  ماضی سے دلچسپی کا اظہار ایک کئی مجموعے یعنی Thomas Percyکے Riliques of Ancient English poetryسے بخوبی ہوتا ہے۔  اس صدی میں ہی ناول کا آغاز بھی باضابطہ طور پر ہوا۔  اس کی داغ بیل ڈالنے والوں میں سب سے پہلا نام Daniel Defoeکا ہے جس کا مشہور ترین ناول ’’۱۷۱۹ء Robinson Crusoeہے اس کے دو اور ناول ’’۱۷۳۲ء Moll Flandersاور Roxans۱۷۳۴ءکے ہیں۔  اس سے زیادہ اہم نام Richardsonاور Henry Feildingکے ہیں۔  اول الذکر کا ناول جو خطوط کی شکل میں ہے Claxissa Harloweہے۔  رچرڈ سن کو گوبیانیہ اور مواقع کو پیش کرنے پر قدرت نہیں ہے لیکن جذبے کی تہوں تک پہنچنے اور انہیں کھولنے کا اسے بڑا سلیقہ ہے۔  فیلڈنگ نے اپنی ادبی زندگی کا آغاز ڈرامہ نگار کی حیثیت سے کیا۔  لیکن اس نے جلد  ہی ناول نگاری کی طرف توجہ کی۔  اولین ناولوں میں Ameliaکا ذکر کیا جا سکتا ہے۔  ’’۱۷۴۱ء Joseph Andrews‘‘ میں اس نے رچرڈسن کا خاکہ اڑایا ہے۔  اس کا نمایاں کارنامہ Tom Jonesہے۔  Joseph Andrewsکا شمار نثر میں پیش کیے گئے ’’طربیہ رزمیہ‘‘ (Comic Epic)میں کیا جاتا ہے۔  اور Tom Jonesمیں اٹھارویں صدی کے انگلستان کی نمائندگی بھرپور انداز میں ملتی ہے۔  Smolettکے دو ناول ’’۱۷۲۸ئ”Roderick Randomاور ’’۱۷۵۱ء۔  "Peregrine Pickleقابل ذکر ہیں۔  Laurence Sterneکا نام اہمیت کا حامل ہے۔  اس کے مشہور ناول Life and Opinions Tristram Shandy (۶۷۔  ۱۷۶۲ء) میں پہلے پہل اس ’’طربیہ نراج‘‘ (Cosmic Indisciplineکے مظاہر ملتے ہیں جو خود زندگی کی سرشت میں داخل ہے۔  اس میں جس لامرکزیت اور غیر سلسلہ واری کو کردار نگاری اور واقعات کے پیش کرنے میں برتا گیا ہے اس میں بیسویں صدی میں ناول نگاری میں مستقل شعور کے بہاؤ (Stream of Consciousness)کی تکنیک کی اولین جھلکیاں دیکھی جا سکتی ہیں۔  یہاں ناول کی اس صنف کا ذکر بھی بے محل نہ ہو گا جس میں پر اسرار سراسیمگی (Horror)کے عناصر ملتے ہیں۔  اس کی مثال ہوریس وال پول (Horace Walpole)کا ناول The Castle of Otrantoہے۔  William Beckfordنے بھی ’’۱۷۸۶ء Vetheck‘‘ میں مشرقی داستان کے اس پہلو کو انتہائی مبالغے کے ساتھ پیش کیا۔  عام سطح پر اس مذاق کو پیش کرنے والوں میں Mrs. Ann Radcliffeبھی ہے اس کا ناول Mysteries of Udolpho۱۷۹۶ء میں شائع ہوا۔  شاعروں میں سب سے اہم نام Alexander Popeکا ہے۔  جس کے یہاں ڈرائیڈن کا وقار اور بھاری بھرکم پن بیحد شوخ اور تیکھے انداز میں بدل گیا ہے۔  Juvenalکے مقابلے میں جس سے ڈرائیڈن متاثر تھا، پوپ نے Horaceسے شعری فیضان قبول کیا۔  ڈرائیڈن کی ضربیں گرز اور بھالے کی ضربیں ہیں۔  پوپ کی تیر افگنی میں لطافت سبک پن اور اندرونی چبھن اور جلن بہت واضح ہیں اس نے اپنی شاعری کا آغاز ’’۱۶۰۹ء "Pastoralsاور Windsor Forestجیسی نظموں سے کیا۔  نیو کلاسیکی انداز میں ایک فلسفیانہ نظم Essay on Manلکھی۔  Essay on Criticismمیں تنقید کے ان اصولوں کو پیش کیا جو نیوکلاسیکیت کے ساتھ مخصوص تھے۔  لیکن اس کا اصل کارنامہ ’’۱۷۱۳ء "The Rape of the Lockہے۔  جس میں رزمیہ کی رسمیات کا خاکہ ایک معمولی سے واقعے پر منطبق کر کے اڑایا گیا ہے۔  پوپ کے یہاں جو صفائی ستھرائی اور روشن ضمیری ہے وہ دوسروں کے یہاں مشکل سے ملے گی اس نے Blank Verseکی جگہ ہم قافیہ مصرعوں (Rhymed Couplets)کا استعمال کیا اور اس میں بلاغت کی حدوں کو چھو لیا۔  اپنی بڑی گراں قدر نظم ’’۴۲۔  ۱۷۲۸ء۔  "The Dunciad میں جذبے کی انتہائی شدت کے ساتھ علمیت اور فنون لطیفہ کے پایان کارنیست و نابود ہو جانے کے اندیشے کا اظہار کیا۔  پوپ کے پہلو بہ پہلو ڈاکٹر جانسن کا نام بھی آتا ہے اس کی دو نظمیں ’’۱۷۳۸ء "Londonاور ’’۱۷۴۹ Vanity of Human Wishesقابل ذکر ہیں پوپ کا سروکار شاعری میں مدنی زندگی اور اس کے کوائف سے تھا۔  James Thomsonنے اپنی مشہور اور طویل نظم ’’۱۷۲۶ء "The Seasonsمیں فطرت کے ساز پر انگلیاں رکھیں۔  یہاں چند اور شاعروں کا ذکر بھی بے محل نہ ہو گا۔  اس میں Crabbeہے۔  جس میں نظم The Village میں بیان (Description)اور تامل Reflectionکو باہم آمیز کیا گیا ہے Cowperکی بے حد طویل نظم ’’۱۷۸۵ء "The Taskمیں زندگی کی بہت سی پرچھائیاں نظر کے سامنے سے گزرتی ہیں اور اس میں ایک طرح کی حلاوت اور گرمی پائی جاتی ہے۔  اس کی ایک مختصر اور مفید نظم The Receipt of My Mother’s Pictureسے کون واقف نہ ہو گا پھر اس کی مذہبی نظمیں ہیں جو Olney Hymnsکے عنوان سے معروف ہیں۔  اور جن میں جذبے کی کڑواہٹ اور صداقت واضح طور پر محسو س کی جا سکتی ہے تھامس گرے (Thomas Gray)کا مرثیہ (۱۷۵۱ء) ایک دیہاتی کلیسا کے احاطہ میں لکھا ہوا مرثیہ Elegy Written in a Country Church yardہردلعزیز ہے اس کی ایک اور نظم باڈر یا شاعر (Bard)بھی ہے کولنز (Collins)کا قصیدہ ’’۱۷۴۶ء Ode To Evening‘‘ شام کی شان میں اچھی شاعری کا ایک قابل قدر نمونہ سمجھا جاتا ہے۔  گرے اور کلنز نے خاص طور پر قصیدے (Ode)کی صنف کو رواج دیاا ور کامیابی کے ساتھ برتا کرسٹو فرشارٹ (Christopher Shart)کی ایک ہی نظم ۱۷۶۳ء ’’داؤد کی شان میں گیت ‘‘(Song to David)زیادہ معروف ہے۔  اٹھارہویں اور انیسویں صدی کے دوراہے پر ہم ایک عظیم شاعر ولیم بلیک (William Blake)سے متعارف ہوتے ہیں۔  وہ بیک وقت اپنے زمانے سے منسلک بھی ہے اور اس سے ماورا بھی۔  اس کے یہاں اس ذہنی آب و ہوا کی عکاسی بھی ملتی ہے جس کے خد و خال کو نیوٹن، بیکن اور لاک (Locke, Newton, Bacon)کے نظریات نے متعین کیا تھا۔  اور اس مزاج کی نمائندگی بھی جس کے خلاف اس نے بغاوت کی۔  اس کے اولین دور کی نظموں میں معروف ترین معصومیت کے گیت (Songs of Innocence۱۷۸۹ء) اور تجربے کے گیت (Songs of Experience ۱۷۸۴ء) ہیں ان میں اس زمانے کی سیاست اور معیشت پر اشارتی انداز میں زبردست تنقید بھی ملتی ہے اور اس کے اپنی مابعد الطبیعیات اساطیری نظام کے ہلکے سے نقوش بھی۔  اس کے بعد اس کے نثری کارنامے ’’ جنت اور جہنم کی شادی‘‘ (The Marriage of Heaven and Hell)میں اس کے باغی فلسفیانہ اور بت شکن مزاج کا برملا اظہار اور اعلان ملتا ہے۔  بعد کے کارناموں جیسے ’’یوریزن کی کتاب‘‘ (The Book of Urizen)’’لوس اہانیہ کی کتاب‘‘ (The Book of Los-Ahania)میں انقلاب فرانس، امریکہ، افریقہ اور یورپ وغیرہ میں سماجی اداروں پر گہری تنقید اور اس کے اپنے اساطیری نظام کا خاکہ ملتا ہے۔  اس کے تین بڑی نظموں یعنی The Four Zoasملٹن (Milton)اور یروشلم (Jerusalem)میں جنہیں پیش گوئیوں (Prophecies)کے نام سے پکارا جاتا ہے۔  یہ سب موضوعات انتہائی پیچیدہ اور ناقابل فہم انداز میں پیش کیے گئے ہیں۔  بلیک کی شاعری کی افہام و تفہیم کا کام زیادہ دشوار اس لیے ہو جاتا ہے کہ اس نے اپنا نظام علائم خود وضع کیا ہے۔  اس نے جن سرچشموں سے فیض حاصل کیا ان میں خاص طور پر سویڈن بورگ، بائبل، بوہیم، پارسیلس (Bible, Boheme Paracelsus, Sweden Borg)قابل ذکر ہیں۔  اس کے علاوہ اسے جہاں سے جو کچھ مفید مطلب نظر آیا اس کے کیمیاوی تخیل نے اس کی صورت گری اپنے طور پر کر لی۔  ڈرامے کے سلسلے میں دو نام یعنی گیرک (Garrick)اور مسز سڈنس (Mrs. Siddons)قابل ذکر ہیں جنہوں نے اسٹیج پر اداکاری کے فن میں بڑی شہرت حاصل کی۔  اسٹیل (Steels)نے جذباتی (Sentimental) ڈرامے لکھے۔  مشہور بیکا اوپیرا (The Becca Opera)۱۷۲۸ء میں سامنے آیا۔  گولڈ اسمتھ کا ڈرامہ ’’وہ تسخیر کرنے کے لئے جھکتی ہے ‘‘ (She Stoops to Conquer)بھی قابل ذکر اس لیے ہے کہ اس نے جذباتیت (Sentimentalism)کی تحریک کو اپنے تیر ملامت کا ہدف بنایا۔  اس سلسلے میں سب سے اہم نام Richard Shridanکا ہے جس کے تین ڈرامے بہت معروف ہیں یعنی ’’رقبا‘‘(The Rivals)(۱۷۷۵ء) اسکنڈل کااسکول )(The School for Scandal)(۱۷۷۷ء) اور ’’نقاد‘‘(The Critic)(۱۷۷۹ء) شیریڈن کے یہاں بذلہ سنجی بھی ہے اور تیکھا پن بھی اس نے معاشرے کے عیب اور سطحی پن کو بڑی بے رحم واقفیت کے ساتھ بے نقاب کرنے کی کوشش کی ہے۔  اٹھارہویں صدی کے اختتام پر یہ احساس ہوتا ہے کہ ادیبوں اور شاعروں کی دلچسپی تین موضوعات سے تھی اول گوتھک (Gothic)کی طرف رغبت دوسری ازمنۂ وسطے کی کشش اور تیسرے مظاہر فطرت کا حسن، انیسویں صدی میں جسے رومانیت (Romanticism) کی تحریک کی صدی کہا جاتا ہے۔  ہم ادب اور شاعری میں تخیل کی ایک نئی پرواز سے آشنا ہوتے ہیں۔  فلسفی روسو (Rousseau)کے نظریات اور انقلاب فرانس کا بھی گہرا اثر ادب پر پڑا۔  اولین دور کے شاعروں میں ورڈزورتھ (Wordsworth)اور کو لرج (Coleridge)کے نام سرفہرست ہیں۔  اول الذکر نے شاعری کی ابتدا اٹھارہویں صدی کے آخری دور کے روایتی انداز سے کی تھی لیکن انقلاب فرانس کے تہلکے کے زیر اثر جو شاعری معرض وجود میں آئی وہ صحیح معنوں میں اجتہاد کا درجہ رکھتی ہے۔  کیوں کہ اس میں مفہوم کی اکائیوں اور لسانی ترسیل کے درمیان بہت کم بُعد ملتا ہے۔  ۱۷۹۷ء میں ان دونوں شاعروں نے متفقہ طور پر ایک شعری منشور شائع کیا جس کے مطابق اول الذکر یعنی ورڈز ورتھ نے عام تجربے میں آنے والے واقعات اور اشیا کی روح پر سے پردہ اٹھانے اور ان کے غیر معمولی پہلو کو نمایاں کرنے کے کام کو اپنے لیے منتخب کیا اور کولرج نے مافوق الفطرت واقعات کے نفسیاتی پہلوؤں کو بے نقاب کرنے کا جتن کیا۔  ان سب کو جو بیک وقت شائع کی گئیں غنائیہ عوامی گیتوں (Lyrical Ballads)کا نام دیا گیا ہے۔  ان میں ورڈزورتھ کی تمام مختصر نظمیں جن میں زیادہ اہم Lucyسے متعلق نظمیں ہیں ’’جونک کا جویا‘‘ (Leech Gatherer)اور ’’میکائل (Michael)ہیں۔  اور کولرج کی ’’قدیم ملاح‘‘، کبلا خاں ‘‘(The Ancient Mariner), (kubla Khan)اور ’’کرسٹا بیل‘‘(Christabel)شامل ہیں۔  ورڈز ورتھ کاایک اور قابل ذکر بلکہ بہترین کارنامہ اس کی طویل نظم ’’۱۸۰۵ء The Prelude‘‘ ہے جس میں اس نے اپنی روح کے عمل ارتقا کو فنی چابکدستی کے ساتھ پیش کیا ہے۔  اور یہ پیش خیمہ ہے اس کی دوسری نظم The Excursionکا اس کے علاوہ اس کا شعری ڈرامہ The Borderersبھی قابل تذکر رہ ہے۔  شاعری کرنے کے علاوہ اس نے فن شعر سے متعلق بھی ایک سے زیادہ پیش لفظ میں اظہار خیال کیا۔  کولرج نے ادبی سوانح ۱۸۱۷ء (Biographia Literaria)کے نام سے ایک معرکہ آر تصنیف پیش کی جو فن تنقید میں ایک بنیادی کتاب سمجھی جاتی ہے۔  ا س میں اس نے Hartleyکی میکانکیت کے خلاف اور عضویت (Organicism)کے فلسفے کے حق میں آواز بلند کی۔  دوسرے دور کے شاعروں میں کیٹس، شیلی (Shelley, Keats)اور بائرن (Byron)کے نام آتے ہیں۔  کیٹس حسیات اور تفکر دونوں کا شاعر ہے۔  اس نے یونانی اساطیری نظام سے اپنی شاعری کے لئے قوت نمو اور قوت تحریک حاصل کی۔  اس کی ابتدائی نظموں میں Endymion, The Pot of Basilاور زیادہ پختہ دور کی شاعری میں اس کے چھ قصائد (Odes)اور ہائی پیرئین(Hyperion)کے دو روپ شامل ہیں۔  کیٹس کے نثری خطوط بھی جو اس نے اپنے دوستوں اور اپنی محبوبہ Fanny Brawneکے نام لکھے تھے خاصے کی چیز ہیں اور ان سے اس کی بعض نظموں کی وجہ تخلیق پر بھی بہت اچھی روشنی پرتی ہے۔  شیلے فضا کی وسعتوں اور تخیل کی ان تھک پرواز کا شاعر ہے۔  اس کی مشہور نظموں میں غنائی نظموں اور قصیدوں (Odes)کے علاوہ اس کی ابتدائی نظم ’’۱۸۱۳ء "Queen Mab، ’’اسلام کی بغاوت‘‘ The Revolt of Islamا س کا ڈرامہ سینسی (Cenci)کیٹس پر اس کا مرثیہ Adonaisشامل ہیں۔  اس کے شعری ڈرامے Prometheus Unbound(۱۸۲۰ء) میں جو اس کا بہترین کارنامہ سمجھا جاتا ہے۔  فکر تخیل اور حسیات کا بہترین امتزاج اعلی سطح پر نظر آتا ہے۔  بائرن کی شہرت زیادہ تر اس کی شخصیت کی دلکشی کی وجہ سے ہے۔  اس کے انقلابی جذبے کے سبب اور اس رومان کی بنا پر جو ہمیں اس کی طویل نظم (Child Harold’s Pilgrimage ۱۸۱۲ء۔  ۱۸۱۸ء) میں ملتا ہے دو اور نظمیں Beppo(۱۸۱۸ء اور Don Juan(۱۸۱۹ء۔  ۱۸۲۱ء) بھی قابل تذکر ہ ہیں۔  اس کی ایک اور نظم خصوصیت کے ساتھ قابل اعتنا ہے یعنی ’’وژن آف ججمینٹ‘‘ (The Vision of Judgment)اس میں کلاسیکی ضبط کی کارفرمائی اور طنز کی چبھن استادانہ انداز سے نظر آتی ہے اس سلسلے میں Thomas Moorکا ذکر بھی بے محل نہ ہو گا جس کی آئرش نغمات (Irish Melodies)اور ’’لالہ رخ‘‘(Lala Rookh)۱۸۱۷ء میں سامنے آئیں۔  نثر کی صنف بھی اس دور میں امتیازی حیثیت رکھتی ہے چارلس لیمب (Charles Lamb)کے ’’ایلیا کے انشائیے ‘‘(Essay of Elia)اور ’’آخری انشائیے ‘‘(Last Essays)کا ذکر ضروری ہے۔  لیمب کے انداز نگارش میں جملوں کی ساخت میں پیچیدگی کے با وصف ایک دلکشی ہے۔  اس کے مضامین میں ایک ذہنی اور جذباتی ترفع ملتا ہے۔  ان میں ماضی کی یادوں سے ایک حلاوت پیدا ہو گئی ہے۔  اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ نجی زندگی کے المیہ کے قلب ماہئیت کی خاطر اور اسے گوارا بنانے کے لیے مزاح کی چاشنی اور ذہن کی بیداری سے کام لیا گیا ہے۔  ڈی کوینسی(De Quincey)کی کتاب ’’ایک انگریز افیمچی کے اعترافات‘‘ (Confessions of An English Opium Eater)۱۸۲۲ء میں شائع ہوئی۔  ہیزلٹ(Hazlitt)کے مضامین بھی اپنی علمیت کے باوجود زندگی کے وسیع تجربات سے کام لینے اور نثر کی صلابت اور فنی پختگی کی وجہ سے خاصے کی چیز سمجھتے جاتے ہیں۔  اس کی ایک اور کتاب روح عصر (The Spirit of The age)ہے۔  اسی ضمن میں Savage Landorکی کتاب ’’خیالی گفتگو‘‘ (Imaginary Conversations)کی طرف بھی اشارہ ضروری ہے۔  لیمب، ہیزلٹ اور ڈیکوینسی نے ’’مضمون ‘‘ یا انشائیہ (Essay)کی صنف میں اہم اضافے کیے۔  ان تینوں اور کولرج نے شیکسپئر کے سلسلے میں بھی اہم تنقیدی خیالات کا اظہار کیا، اور اٹھارہویں صدی کے تنقیدی نقطۂ نظر کے برعکس ایک نئی فکر کا آغاز کیا۔  خاص طور پر کولرج نے تفصیل کے ساتھ نہ صرف انفرادی طور پر اس کے ڈراموں پر تنقید کی بلکہ شیکسپئر پر تنقید کے لئے بعض اصولی بنیادیں بھی فراہم کر دیں۔  عام تنقیدی فکر کی رفتار متعین کرنے کے سلسلہ میں تین رسالوں کا ذکر بھی ضروری ہے۔  یعنی ’’رسالۂ اشراف‘‘ (Gentleman’s Magazine) (۱۷۳۱ء۔  ۱۷۲۸) ایڈنبرا ریویو (Edinburgh Review) (۱۸۰۲ء۔  ۱۹۲۹ء) اور ’’سہ ماہی رسالہ‘‘ (The Quarterly) (۱۸۰۹ء)۔  دو ناول نگار خاص طور پر ہماری توجہ کو اپنی جانب کھینچتے ہیں۔  جین آسٹن(Jane Austin)نے اپنے ناول ناروینجرایبے (Northanger Abbye)۱۸۱۱ء میں گاتھک (Gothic)کی ناول کی روایت کو اپنے لطیف طنز کا ہدف بنایا۔  اس نے ایک مخصوص خطے اور سماج میں ایک اہم طبقے کی زندگی کی تصویر کشی کی ہے۔  اس کے دو بار بار پڑھے جانے والے ناولوں میں ’’شعور اور حس‘‘ (Sence And Sensibility)(۱۸۱۱ء) اور ’’غرور اور بدگمانی‘‘(Pride and Prejudice)(۱۸۱۳ء) ہیں۔  اس کا آرٹ صیقل شدہ ہے۔  اور وہ اپنے محدود کینوس پر ماہرانہ مینا کاری، ڈرامائی احساس کے پیش کرنے پر قدرت رکھتی ہے۔  یہ دونوں خصوصیات ’’مینس فیلڈ پارک‘‘ (Masnfield park)(۱۸۱۴ء) اور ’’پرسویشن‘‘ (Persuasion)(۱۸۱۸ء) میں بخوبی جھلکتی ہیں۔  سروالٹراسکاٹ (Sir Walter Scott)کو تاریخی ناول نگاری کا موجد کہا جاتا ہے۔  Waverleyناولوں کا آغاز ۱۸۱۴ء میں ہوا۔  آئی۔  ون۔  ہو (Ivonhoe)(۱۸۲۰ء) اور ’’کینل ورتھ‘‘(Kennil Worth)۱۸۲۱ء میں لکھے گئے۔  اس کا سب سے اچھا ناول The Heart of Midlothianسمجھا جاتا ہے۔  اسکاٹ کو کردار نگاری میں چاہے ژرف نگاہی حاصل نہ ہو لیک بیانیہ (Narrative)پر اسے جو قدرت ہے وہ ناقابل انکار ہے۔  انیسویں صدی کے تقریباً وسط میں ہم اس دور میں داخل ہوتے ہیں جسے ملکہ وکٹوریہ کا عہد کہا جاتا ہے۔  اس میں سب سے زیادہ اہم مظہر تشکیک ہے ، جو سائنس اور مذہب کے درمیان آویزش سے پیدا ہوئی مشہور سائنس داں چارلس ڈارون (Charles Darwin)نے ۱۸۵۹ء میں اور یجن آف اسپیسز(Origin of Species)اور ۱۸۷۱ء میں انسان کا ہبوط (The Descent of Man)شائع کیں اور اعداد و شمار اور انواع پر مبنی مصدقہ شواہد کی بنیاد پر یہ بات ثابت کر دی کہ صفحۂ ہستی پر زندگی کا آغاز نہایت معمولی قسم کے آبی مظاہر سے شروع ہو کر نباتات اور حیوانات کی منزلوں سے گزرتا ہوا انسان کی صورت میں مکمل ہوا۔  انسان نہ یکا یک پیدا کیا گیا اور نہ وہ اشرف المخلوقات ہے۔  اس سائنسی نتیجے نے مروجہ مفروضات پرکاری ضرب لگائی اور علم اور عقیدے کی دنیا میں ایک ہلچل بپا کر دی۔  وکٹورین عہد کاسب سے نمائندہ شاعر ٹینی سن (Tennyson)ہے۔  مجموعی طور پر اس کی فنی ہنر مندی فکر اور جذبے پر غالب ہے۔  ٹینی سن کی ابتدائی نظموں میں فطرت سے گہرے لگاؤ کا پتہ چلتا ہے۔  اس کے دو مجموعے ۱۸۳۰ء۔  ۱۸۳۳ء میں منظر عام پر آئے۔  اس کے یہاں یقین اور شک کے درمیان کشمکش اس کی ایک نظم The Two Voicesمیں بخوبی جھلکتی ہے۔  یہ اس کی شاہکار نظم ’’ان میموریم‘‘(In Memoriam ۱۸۵۰ء) میں اور نمایاں ہو گئی ہے۔  اس میں حد درجے کا حزن اور دل گرفتگی ملتی ہے لیکن پایان کار یقین شک پر غالب آ جاتا ہے۔  ۱۸۵۹ء۔  ۱۸۸۵ء اڈلس آف دی کنگ (The Idvlls of the King)میں اس نے بادشاہ آرتھر (King Arthur)کے سلسلے میں داستانوں کے مواد سے کام لیا ہے۔  دوسرا اہم شاعر رابرٹ براؤننگ(Robert Browning)ہے وہ رجائیت کا شاعر ہے۔  اور حیات مابعد کے تصور میں پختہ یقین رکھتا ہے۔  براؤننگ نے زیادہ تر اطالوی نشاۃ ثانیہ کے نمائندوں کو اپنی شاعری میں کرداروں کی حیثیت سے پیش کیا۔  ابتدائی نظموں میں سے سارڈیلو ۱۸۴۸ء (Sordello)پر مغلق ہونے کا الزام عائد کیا گیا۔  اس کی نظموں کا ایک اہم مجموعہ مرد اور عورتیں (Men and Women)کے عنوان سے ۱۸۵۵ء میں شائع ہوا۔  اس کا خاص شعری مقصد روح کے اندرونی نقطے کو اس وقت روشنی میں لانا ہے جب وہ کسی بحران سے دوچار ہوتا ہو۔  براوننگ نے بھرپور ڈرامے نہیں لکھے لیکن ایسی غنائیہ نظمیں جن میں ڈرامائی عنصر بطور خاص موجود ہے۔  اس کی طبیعت سے بڑا میل کھاتی تھیں۔  اس کی مشہور نظمیں ’’آخری بار ہمرکاب‘‘ (The Last Ride Together)، (The Last Dutchess)، (Rabbi Ben Azra)اور آندری دیل سارتو (Andrea Del Sarto) قابل ذکر ہیں۔  اپنی شاہکار نظم ’’خاتم اور کتاب‘‘(The Ring and The Book)(۱۸۶۸ء۔  ۱۸۶۹ء) میں اس نے یہ ثابت کر دیا کہ وہ شر کی پھیلی ہوئی قوتوں سے بخوبی باخبر ہے اور اس کی رجائیت محض اوپری سطح اور بآسانی ممکن الحصول نہیں ہے۔  اس کے یہاں کرداروں کا تنوع شیکسپئرکا ساہے۔  لیکن وہ معروضیت (Objectivity)اور آفاقیت (Universality)نہیں ہے۔  تیسرا اہم شاعر Mathew Arnoldہے۔  رومانیت کی جھلکیاں اس کی نظم ’’فارسکین مرمین‘‘ (Forsaken Merman)(۱۸۴۹ء) میں ملتی ہیں۔  اس کے یہاں ٹینی سن کی نسبت شک زیادہ گہرا اور اس کے ذہن اور روح پر زیادہ مرتسم ہے بلکہ یہ کہنا زیادہ صحیح ہو گا کہ آرنلڈ کے یہاں دو دنیاؤں کا آشوب ملتا ہے ایک وہ جو دم توڑ رہی ہے اور دوسری وہ جس نے ابھی جنم نہیں لیا ہے۔  وہ اپنے دور کی روح سے ناآسودہ ہے اور اس لیے ایک روحانی اضطراب اور بے چینی کا شکار ہے۔  اس کی تین نظمیں ڈوور بیچ (Dover Beach)تھرسس (Thyrsis)اور اسکالر جپسی (The Scholar Gipsy)خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔  ان تینوں میں وہ متحیر نظر آتا ہے۔  اور اس تلاش میں سرگرداں کہ اپنے دور کے اضمحلال اور انتشار کا کوئی حل تلاش کریں یہی ذہنی خلش اور جذباتی ناآسودگی ہمیں اس کے دوست کے ایچ کلا K.H.Cloughکی نظموں میں ملتی ہے۔  اسی سلسلے میں وہ شاعر بھی قابل ذکر ہیں جنہیں ماقبل رفیل (Pre-Rapailite)شاعروں کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔  یہ سب شاعری میں تفکر سے زیادہ حسیت (Sensuousness)اور جمالیاتی ذوق کو اہمیت دیتے ہیں اور شدید اور مرتعش جذبے کے شاعر ہیں۔  دانتے گیبریل روزیٹی (Dante Gabriel Rossetti)کے سانیٹوں کا مجموعہ خانۂ حیات (The House of Life)بھی بہت معروف ہے۔  ڈی۔  جی۔  روزیٹی کی بہن کرسچین روزیٹی (Christiana Rossetti)کا ذکر بھی اس سلسلے میں ناگزیر ہے۔  دو اور شاعر بھی اس حلقے سے منسلک ہیں۔  یعنی سوئن برن (Swinburne)اور ولیم مورس (William Morris)ان سب کے یہاں مبہم احساس، رنگ اور ترنم کا شعور اور جمالیاتی ذوق کی آسودگی نمایاں قدریں ہیں۔  وکیٹورین عہد کی شاعری میں تشکیک کا ذکر تو کیا جا چکا۔  لیکن اسی عہد میں بعض شاعر ایسے بھی ہیں جن کے یہاں مذہبی ایقان اور گہرے روحانی تجربات کو شاعری میں برتا گیا ہے۔  ان میں رومن کیتھولک (Roman Catholic)شاعر کوینٹری پیٹ مور(Coventory Patmore)کا نام لیا جا سکتا ہے جو اپنے قصائد کے مجموعے ’’نامعلوم ایروس‘‘ (The Unknown Eros)(۱۸۷۷ء) کے لئے مشہور ہے۔  اس دور کا سب سے اہم شاعر جو اپنے شعور کے شفاف پن کی وجہ سے بہت آگے دیکھتا ہے۔  ہاپکنس (Hopkins)ہے جس کا انتقال ۱۸۸۹ء میں ہوا۔  اس کے ترنم میں اینگلو سیکسن شعرا کی موسیقی کی جھنکار سنائی دیتی ہے۔  اس کی مشہور نظموں میں (The Wreck of Deutschland)کا نام لیا جا سکتا ہے۔  ہرچند ہاپکنس کے مصرعوں کی ترتیب اور ساخت بظاہر گنجلک ہے تاہم اس کی شاعری میں ایک کس بل، ذہنی چوکنا پن اور اندرونی اضطراب کے نقوش بہت واضح طور  پر نظر آتے ہیں۔  اس نے دور جدید کے بہت سے شاعروں کو متاثر کیا تھا مس ہارڈی (Thomas Hardy)نے البتہ اپنے شعری ڈرامے ’’ڈائی نسٹس (The Dynasts) (۱۹۰۴ء۔  ۱۹۰۸ء) میں اپنے قنوطی فلسفۂ زندگی کا انعکاس پیش کیا۔  یہاں تین اور شاعروں کی طرف اشارہ کرنا شاید بے محل نہ ہو یعنی لیونل جانسن (Lionel Jonson) (۱۸۷۶ء۔  ۱۹۰۲ء) ارنیسٹ ڈاؤسن (Ernest Dowson) (۱۸۶۷ء۔  ۱۹۰۰ء) اور جان ڈیوڈسن (John Davidson) (۱۸۵۷ء۔  ۱۹۰۹ء)جو قدیم و جدید فرانسیسی ادب سے کافی متاثر ہوئے اور اس کا اتباع کرنے کی کوشش میں لگے رہے۔  وکٹورین عہد نثر کے کارناموں سے بھی خالی نہیں ، میتھیو آزنلڈ کے تنقیدی مضامین کئی حصوں میں ہیں۔  اس کے یہاں یہ اہم خیال ملتا ہے کہ ادب زندگی کی عکاسی ہی نہیں کرتا بلکہ اس کی تنقید بھی پیش کرتا ہے۔  تہذیبی امور پر اس کے خیالات اس کی کتاب ’’کلچر اور انارکی‘‘ (Culture and Anarchy)میں ملتے ہیں۔  جس میں متوسط طبقے کی ذہنی پراگندگی کو نمایاں کیا گیا ہے۔  رسکن (Ruskin)نے اپنی منفرد نثر میں آرٹ کے بارے میں اظہار خیال کیا اور اپنے دور کی خرابیوں کا علاج معاشیات کے ایک حر کی تصور کی روشنی میں ’’انٹودس لاسٹ‘‘ (Unoto This Last)میں پیش کیا۔  میکالے (Macauly)نے گبن (Gibbonکا تتبع کیا۔  فلسفیوں میں جن کا تعلق افادیت پسندی (Utilitarians)کے حلقے سے ہے اور بینتھم (Benthem) اور جان اسٹوورٹ مل (John Stuart Mill)کا نام لیا جا سکتا ہے۔  آخرالذکر کی خود نوشتہ سوانح عمری ’’آٹوبایوگرافی‘‘ (Autobiography)(۱۸۴۴ء) قابل مطالعہ ہے۔  کارلائل (Carlyle)کی تحریر میں بلند آہنگی اور دیدہ زیبی (Picturesqueness)ملتی ہے۔  اس کی کتاب ’’ہیرو اور ہیرو ورشپ‘‘ (Hero and Hero Worship) کلاسیکی شان رکھتی ہے۔  پے ٹر (Pater)کو نشاۃ ثانیہ کے تصورات  کا مبلغ اور جمالیاتی تنقید کا بانی سمجھا جاتا ہے۔  اول الذکر موضوع پر اس کی کتاب نشاہ ثانیہ کی تاریخ کے مطالعہ (Studies in the History of Rennaissance) ۱۸۷۳ء میں شائع ہوئی۔  اس کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی اور مشہور کتاب ’’ایپری سی ایشنس (Appreciations) ہے۔  مذہبی نثر لکھنے والوں میں کارڈنل نیومین (Cardinal Newman)کا ذکر ضروری ہے جس کی کتاب ’’اپولوجیاپروئٹاسوا (Apologia Provita Sua)۱۸۶۴ء میں شائع ہوئی۔  اس دور میں ناول نگاری کے فن میں حیرت انگیز ترقی کے آثار پائے جاتے ہیں۔  سب سے اہم دو ناول نگار ہیں ڈکنس (Dickens) اور تھیکرے (Thackeray)ہیں۔  اول الذکر نے صنعتی انقلاب سے پیدا ہونے والے مسائل کو خام مواد کے طور پر استعمال کیا۔  اس کے کردار بظاہر معلوم ہوتے ہیں لیکن در اصل ان کی تخلیق میں کیمیا گری کو کام میں لایا گیا ہے۔  ڈکنس کے یہاں طوالت اور جذباتیت خاصی کھلی ہیں۔  ویسے وہ فطرت انسانی کا بڑا نباض تھا۔  اس کے ناولوں میں حقیقت پسندی اور مزاج کی چاشنی اہم عناصر ہیں۔  اس کے ناولوں میں خصوصیت کے ساتھ (David Copperfield, Hard Times, Great Expectations, A tale of Two Cities, Oliver Twist)توجہ کے مستحق ہیں۔  اس کے کردار یا تمام تر سیاہ ہیں یا تمام تر سفید اس کے بالمقابل تھیکرے کے یہاں زیادہ ٹھہراؤ ملتا ہے۔  گو اس کے یہاں ڈکنس جیسی آفاقیت کی کمی ہے مگر وہ اپنے سب سے مشہور ناول ’’وینٹی فئر‘‘ (Vanity Fair)(۱۷۰۴ء) ہے وہ ہمیں فیلڈنگ کی یاد دلاتا ہے۔  تاریخی ناول کی طرف کوشش اس کے یہاں ہینری ایسمنڈ (Henry Esmond)(۱۸۵۲ء) میں نظر آتی ہے۔  اس کے یہاں طنز کے چھینٹے جا بجا ملتے ہیں اور وہ ایسا ناول نگار ہے جو اکثر جگہ اور وقتاً فوقتاً ناول کی رفتار اور حرکت کو اپنی دخل اندازی کے ذریعہ اپنے قابو میں رکھتا ہے۔  ان دونوں کا اتباع کرنے والوں میں بلورلیٹن (Bulwer Lytton)کا نام لیا  جا سکتا ہے جس کا ناول ’’پومپیائی کے آخر شب و روز‘‘ (The Last Days of Pompeii)کافی مشہور ہے اور چاریس ریڈ (Charles Read)کا جس نے ’’اصلاح کا در کبھی بند نہیں ہوتا (It is Never Too Late To Mend)(۱۸۵۶ء) میں قید خانوں کی فضا کی عکاسی کی اور ، کلوایسٹر اور ہارتھ (The Cloister And The Hearth)(۱۸۶۱ء) میں ازمنۂ وسطیٰ کی جھلک دکھائی۔  ڈزریلی (Disraeli)نے ٹوری جمہوریت کے تصور کی عکاسی کی۔  ان کے تین ناول اس سلسلے میں قابل ذکر ہیں۔  یعنی کوننگسبی (Coningsby)(۱۸۴۴ء) سائبل (Sybil)(۱۸۴۵ء) اور Ward Tancred(۱۸۴۸ء)، مسز ہمفری وارڈ (Mrs. Humphrey Ward)نے رابرٹ ایلزمیر۔  (Robert Elsmere).(۱۹۶۶) میں ایقان کے تلف ہو جانے کا اظہار کیا (Anthony Trollope)کے ناول بھی اسی ضمن میں قابل ذکر ہیں۔  اس منزل پر تین برانتے  ہمشیرائیں (Bronte Sisters)کا نام لینا بھی نامناسب نہ ہو گا۔  یعنی ایمیلی (Emily)شارلٹ (Charlotte)این (Anne)اول الذکر کا حیرت انگیز کارنامہ ’’۱۸۴۷ء۔  Wuthering Heights‘‘ شدتِ تاثر کا نمونہ ہے۔  اس میں مرکزی کردار ہیتھ کِلف (Heathcliff)کا ہے اور اس میں دکھا گیا ہے کہ کس طرح غیر شعوری جبلی محرکات اپنی نکاسی کے لیے راستہ ڈھونڈتے رہتے ہیں۔  اس ناول میں بیرونی فضا اور پس منظر اور نفسیاتی تبدیلیوں کے درمیان ایک گہرے تعلق کا پتہ چلتا ہے۔  شارلٹ کا بہترین اور مشہور ناول ’’جین آیر‘‘ (Jane Eyre)(۱۸۴۷ء) ہے اور دوسرا ناول ’’ولیٹ‘‘ (Villette)(۱۸۵۳ء) ہے۔  ڈکنس ہی کی طرح بلکہ اس سے بھی زیادہ قد آور ناول نگاروں میں جارج ایلیٹ۔  George Eliot)کا شمار کیا جاتا ہے۔  ایف آڑ لیوس (F.R. Leavis)نے اسے ناول کی تاریخ کے روایت سازوں میں گنا ہے ’’آدم بیڈ‘‘ اور ’’میل آن دی فلاس‘‘ (Mill on the Floss) (۱۸۵۹ء۔۱۸۶۰ء) اس کی ابتدائی کوششوں میں ہیں اور ان کی تاریخی اہمیت ہے۔  لیکن اس کا شاہکار ’’مڈل مارچ‘‘ (Middle March)(۱۸۷۱ء۔۱۸۷۲ء) میں ناول کے تخلیقی فن میں جدید شعور کی جھلکیاں ملتی ہیں۔  اس میں ایک دہرا پلاٹ ہے۔  اور اس کے کرداروں میں نفسیاتی ارتقا ملتا ہے۔  مسز گیسکیل (Mrs. Gaskel)محنت کش کے سماجی حالات کی تصویر کشی ’’میری بارٹن(Mary Barton)(۱۸۴۸ء) میں پیش کی۔  اور ’’کرین فورڈ ‘‘(Cran Ford)(۱۸۵۲ء) میں طبقاتی زندگی کے مسائل سے بحث کی۔  جارج ایلیٹ کے ساتھ میریڈتھ (Meredith)کا نام بھی لیا جانا چاہئے۔  جس نے فلسفیانہ کردار نگاری کی طرف قدم بڑھایا۔  اس کا یہ ناول ’’آرڈیل آف فیوے ریل‘‘ (The Ordeal of Feveral)(۱۸۵۹ء) میں اور سب سے مشہور نال ’’ایگویسٹ‘‘ یا خود پسند (The Egoist)(۱۸۷۹ء) میں شائع ہوا اس دور کے لکھنے والوں میں اسٹی وینسن (Stevenson)کی بھی اپنی ایک جگہ ہے۔  اس کی شہر ت کا زیادہ مدار ’’ڈاکٹر جیکیل اور مسٹر ہائڈ‘‘ (Dr. Jykell And Mr. Hyde)پر ہے لیکن اس کا سب سے زیادہ متاثر کرنے والا ناول ’’ماسٹر آف بیلینٹر‘‘ (The Master of Ballantrae)ہے۔  کپلنگ(Kipling)کا شمار بھی دلچسپ ناول نگاروں میں کیا جاتا ہے۔  ’’جنگل‘‘(The Jungle)کے دونوں حصے لائق مطالعہ ہیں۔  ان سب سے بڑھ کر تھامس ہارڈی (Thomas Hardy)ہے۔  اس کے یہاں شروع سے ایک طرح کی گھلادینے والی قنوطیت ملتی ہے۔  اور تشکیک کی طرف میلان بھی۔  اس کا مشہور ناول ’’نیلگوں آنکھیں ‘‘(A Pair of Blue Eyes)اس کی اولین کوشش ہے۔  اس کے علاوہ ’’ٹرمپیٹ‘‘ یا نقارہ (The Trumpet)’’کاسٹر برج کامیئر‘‘ (The Mayor of Casterbridge) ’’فارفروم دی میڈنگ کراؤڈ‘‘ (Far From Madding Crowdاور Jude The Obscureقابل ذکر ہیں۔  اس کے سب سے مشہور ناول اور ایک لحاظ سے اس کا بہترین کارنامہ ’’ٹیس آف دی ڈربر ویلز‘‘(Tess of the D urberelles)سمجھا جاتا ہے۔  ہارڈی کی فکر پر ارتقا کے نظریات کا بھی اثر پڑا تھا۔  اور شوپنہاور (Schopenhauer)کے فسلفہ یاسیت یا ایک بے بصر عظیم قوت ارادی میں یقین کا۔  اس کے یہاں تقدیر اور اتفاق (Chance)کے درمیان گہرے تعلق پر کرداروں کی پوری حیات و کائنات کا انحصار ہے۔

آخر میں ہینری جیمس (Henry James) کا ذکر کرنا بھی ضروری ہے اس کا مختصر ناول ’’ٹرن آف دی اسکرو‘‘ (پیچ کی گردش) (The Turn of the Screw) بہت متاثر کن ہے۔  اس کے ناولوں میں ’’سفیر‘‘ (The Ambassadors) ’’سنہری پیالہ‘‘ (The Golden Bowl) اور ’’ایک خاتون کی تصویر‘‘ (The Portrait of A Lady) امتیازی حیثیت رکھتے ہیں۔  مؤخر الذکر میں یہ دکھانے کی کوشش کی گئی ہے کہ امریکہ اور یورپ دو مختلف تہذیبوں کے ناول کے مرکزی کردار کی شخصیت کے نشو و نما پر کیسے متضاد اثرات پڑے ہیں۔  اس ناول کے پسِ پشت جو فلسفیانہ تصور ہے وہ آزاد قوت ارادی اور حریت کے درمیان تصادم ہے۔  بیسویں صدی کے شاعروں میں کلاسیکی روایات کی نمائندگی کرنے والوں میں رابرٹ بریجس (Robert Bridges) اور اے ای ہاؤس مین (A.E. Houseman) کا نام لیا جا سکتا ہے۔  اول الذکر کی مشہور فلسفیانہ نظم ’’عہد نامہ جمال‘‘ (The Testament of Beauty) ۱۹۲۷ء۔ ۱۹۲۹ء میں لکھی گئی۔  والٹر ڈی لامیئر (Walter D’ la Mare) کے یہاں خواب ناکی اور رومانیت کی فضا پائی جاتی ہے۔  جان مینس فیلڈ (John Mans field) کو بیانیہ مہارت (Narrative Skill) کی بنا پر یاد رکھا جاتا ہے۔  روپرٹ بروک (Rupert Brook) کی شاعری میں وہ امیدیں جھلکتی ہیں۔  جو جنگ کے ابتدائی ایام میں باندھی جا رہی تھیں اور ماضی کی طرف حسرت سے دیکھنے کا جذبہ اور انگریزوں کی انگریزیت پر زور دینے کا رجحان ملتا ہے۔  ایڈورڈ تھامس (Edward Thomas) کی شاعری میں ایک طرح کا مبہم احساس، شعریت پیدا کرنے کی کوشش اور ڈھیلے پن کا تاثر ابھرتا ہے۔  ولفریڈ اووین آئزک روزین برگ (Wilfred Owen lssac Rosenberg) اور سیسون (Sassoon) تینوں کے یہاں جنگ سے پیدا ہونے والی تلخی اور اس سے اکتاہٹ اور اس کے خلاف جھلاہٹ کا احساس ہوتا ہے۔

جدید انگریزی شاعری کے معماروں میں دو نام سرفہرست ہیں یعنی ڈبلیو بی یٹس (W.B. Yeats اور ٹی ایس ایلیٹ (T.S. Eliot) ۔  یٹس کی اولین دور کی شاعری پر تخیل پرستی رومانیت اور ایک طرح کی نصب العینیت کی پرچھائیاں ملتی ہیں۔  عوامی گیتوں اور روایتوں سے بھی وہ بغایت متاثر تھا۔  ’’سلیگو‘‘ (Sligo) کا خوبصورت فطری ماحول اس کی شاعری کے پس منظر میں موجود ہے۔  ’’نیستاں میں نسیم‘‘ (The Wind Among The Reeds) کی نظمیں اولین دور کی شاعری کی عکاسی کرتی ہیں۔  رفتہ رفتہ یٹس ان کے اثر سے آزاد ہوا۔  اور زیادہ کس بل رکھنے والی شاعری کی طرف متوجہ ہوا۔  اس کا مجموعہ ’’ذمہ داریاں ‘‘ (Responsibilities) اس کی وضاحت کرتا ہے۔  زندگی کی ٹھوس اور تلخ حقیقتوں نے اسے آہستہ آہستہ رومان کی فضا سے نکال کر واقعاتی مسائل سے آنکھیں چار کرنے کی ترغیب دی۔  اپنے دور کی آئرستانی سیاست سے بھی وہ دست و گریباں رہا درمیان اور آخر دور کی بیشتر نظمیں اشاراتی ہیں۔  وہ سوفسطائی (Sophisticated) طبقے کا شاعر ہے۔  اس کا اپنا ایک اساطیری نظام ہے۔  جسے اس نے سائنٹفک اور مادّی زندگی کی معروضیت کے مقابلے میں تخلیق کیا۔  اس میں روحانیت جادو اور اعداد (Numbers) کی معنویت کو خاصا دخل ہے۔  اس کی بہترین شاعری کے نمائندہ اس کے دو مجموعے ، مینار، پر پیچ و خم زینہ، (The Tower, The Winding Stair) کہے جا سکتے ہیں۔  ایلیٹ شاعری کے اُفق پر ایک چمکدار ستارے کی طرح ابھرا۔  وہ تیرہویں صدی کے مابعد الطبیعاتی شاعروں ، فرانس کے اشاراتی شاعروں اور ایزرا پاؤنڈ (Ezra Pound) سے بے حد متاثر ہوا۔  موخر الذکر سے اس نے عالمی کلچر کو شاعری میں سمونے کا گر سیکھا اور انگریزی اور فرانسیسی شاعروں سے وحدت پسند ادراک کی اہمیت، علائم کا استعمال، اور شاعری میں ایسے ابلاغ کے خلاف بغاوت جو سلسلہ واری نظم و ضبط کا پابند ہو۔  اپنی پیکر نگاری کے وضع کرنے میں اس نے جن سرچشموں سے فیضان حاصل کیا وہ ہیں انجیل (Bible) دانتے اور موجودہ علم الانسان کے بارے میں نظریات۔

اس کے پہلے دور کی نظموں میں ’’الفریڈ پروفروک کا نغمۂ عشق (The Love Song of Alfred Prufrock ۱۹۱۷ء) ’’تمہیدات‘‘ (Preludes ۱۹۱۷ء) ’’گیڈون شی اَن‘‘ (Gedontian) ( ۱۹۲۰ء) ’’کھوکھلے انسان‘‘ (The Hollow Men ۱۹۲۵ء) بہت معروف ہیں۔  اس کا بہترین کارنامہ ’’ویرانہ‘‘ (The Waste Land ۱۹۲۲ء) کو قرار دیا گیا ہے جو نئے اندازِ شاعری کا بہترین مرقع اور یورپین تہذیب کی میکانکی روح پر گہرا طنز ہے۔  ایلیٹ کے فنی طریقہ کار میں کراس ریفرینس (Cross-Reference)  کی تکنیک کو ایک خاص اہمیت حاصل ہے۔  جس کی وجہ سے دھیمے لہجہ (Understatement) کے باوجود معنویت کے وسائل میں وسعت پیدا ہو جاتی ہے۔  ۱۹۲۳ء میں اس نے ایک اہم نظم ’’ایش وینس ڈے ‘‘ (Ash Wednesday) کے عنوان سے شائع کی۔  اس کا آخری شعری کارنامہ وہ چار نظمیں ہیں جن کے مجموعے کا نام چار کوارٹلس (Four Quartels ۱۹۳۶ء۔ ۱۹۴۲ء) ہے۔  یہاں انداز بیان زیادہ فلسفیانہ اور زیادہ سلجھا ہوا ہے۔  یعنی یہاں تلمیحاتی انداز (Allusiveness) گنجینۂ معنی ضرور ہے مگر چیستاں کی حد تک نہیں۔  پیکر نگاری اور ترنم کے اعتبار سے اس میں ایک گہرائی تہ داری اور معنوی زرخیزی پائی جاتی ہے۔  ایلیٹ اور ایزرا پاؤنڈ جو اپنے Cantosکے لیے مشہور ہیں۔  پیکر نگاری یا امیجری (Imagery) کی تحریک سے بہت متاثر تھے۔  جس کا منشور رسالہ ’’شاعری‘‘ ۱۹۱۲ء میں منظر عام پر آیا تھا۔  اور جس میں نئی شاعری کا طریقۂ کار اور خدوخال کی وضاحت کی گئی تھی۔

یٹس اور ایلیٹ کے ساتھ ہی ڈی ایچ لارینس رابرٹ گریوز (D.H. Lawrence, Robert Graves) اور ایڈتھ سِٹویل (Edith Sitwell) کا نام بھی لیا جا سکتا ہے۔  رابرٹ گریوز کے یہاں مابعد الطبیعاتی شاعروں کی نکتہ سنجی اور فرائڈ (Frued) کے زمانہ مابعد کا عدم حفظِ مراتب (Irreverence) ملتا ہے لارنس کے یہاں بحروں کے استعمال میں روانی اور آزادی اور تحت الشعوری کیفیات کی مصوری خاص طور سے اہم ہیں۔  اس کی دو مشہور نظمیں Snakeاور Bavarian Gentiansہیں۔  ایڈتھ سِٹ ویل کے یہاں مرصع کاری اور اپنے ارد گرد کی زندگی میں غم و اندوہ کا گہرا مرتعش احساس نظر آتا ہے۔  Edwin Muirکے یہاں گریوز کی نسبت زیادہ ٹھہراؤ اور سنجیدگی ہے۔  ایلیٹ سے ذرا بعد کے زمانے میں شاعروں کا جو گروہ ابھرا اور جنہیں ۱۹۳۰ء کے شاعر کہا جاتا ہے ان میں Macneice, Auden, Spenderاور C.D. Lewisقابل ذکر ہیں۔  ان سب کی اپنی انفرادی خصوصیات ہیں۔  آڈن کے یہاں شاعری کی بساط وسیع ہے۔  اس کے شعری کارناموں کے پس پشت نئی نفسیات معاشیات اور علم الانسان سے آگاہی کا ثبوت ملتا ہے۔  ان پر مستزاد حقیقت پسندی طرز و مزاح، بے رحم تصویر کشی، جرأت اور براہ راست انداز بیان ملتا ہے۔  اسپینڈر کے یہاں احساس کی نرمی، رومانیت اور دروں بینی (Introspection) خاص طور قابل لحاظ ہیں۔  وہ کسی پارٹی پروگرام کو قبول کرنے پر اپنے آپ کو آمادہ نہیں کرسکتا اس کے یہاں شدید قسم کی حسیت (Sensuousness) پائی جاتی ہے۔  لوئیس ہمیں ورڈزورتھ اور پوپ دونوں کی یاد دلاتا ہے۔  اس کے یہاں پیکر نگاری پر صنعتی دور کا اثر صاف نمایاں ہے۔  اور وہ فطرت کی کشش بھی محسوس کرتا ہے۔  میکینس کی تخلیقات تجربے پر غور و فکر کا پتہ دیتی ہیں اور ان میں شعری مراسلے (Verse Epistle) کا تاثر ملتا ہے۔  اس کے یہاں ایک طرح کی آزاد روی ہے۔

دو اور شاعر قابل ذکر ہیں جیمس ریوز (James Reeves) اور ولیم ایمپسن (William Empson) ان کے ساتھ ڈائی لین تھامس (Dylan Thomas) کا نام خصوصی سے لائقِ توجہ ہے۔  اس کے یہاں کس بل ہے اور ایک وجدانی (visionary) احساس اور نظموں کے درو بست میں علامت اور موسیقی کی ایسی آمیزش جسے تحلیل نہیں کیا جا سکتا وہ ہمیں بے اختیار وکٹورین دور کی شاعری ہاپکنس (Hopkins) کی یاد دلاتا ہے۔  جدید ترین دور رومانیت کے خلاف ایک احتجاج کر رہا ہے۔  ان شاعروں میں ایک اہم نام فِلپ لارکن (Phillip Larkin) کا ہے۔  جو مجموعی تجربے پر نظریں جماتا تھا۔  اعصاب پر اس کے اثرات کو متعین کرتا اور چابکدستی کیساتھ ان کی رہنمائی کرتا ہے۔  وہ بھی مشہور ناول نگار تھامس ہارڈی کی یاد دلاتا ہے۔  جان وین، ڈی جی این رائٹ (John Wain, D.G. Enright) کا ذکر بھی ضروری ہے۔

  ان کے علاوہ دو اور شاعر بھی توجہ کے مستحق ہیں۔  یعنی ٹیڈ ہیوز، ٹام گن (Ted Hughes, Tom Gunn) دونوں نے بہت خوبصورت نظمیں لکھی ہیں اور وہ دونوں جبلت (Instinct) کے عمل توانائی اور غیر شعوری محرکات پر زور دیتے ہیں۔  لارکن، ہیوز اور گن ان تینوں کے شعری مجموعے فیبر اینڈ فیبر (Faber and Faber) سے چھپ چکے ہیں۔  اس دور کے انگریزی ڈرامے کے معماروں میں سرفہرست نام برنارڈ شا (Bernard Shaw) کا ہے۔  تقریباً اسی زمانے میں جب شانے ڈرامہ نگاری کا آغاز کیا۔  آسکر وائلڈ (Oscar Wilde) نے ’’المیہ۔  طربیہ‘‘ ڈرامے لکھنے کی روایت کی تجدید کی تھی۔  اور اپنی تیزی، برجستگی اور ذکاوت سے لوگوں کی توجہ اپنی طرف جذب کر لی تھی۔  ان کے مشہور طربیہ ڈراموں میں ’’لیڈی ونڈمیئر کا پنکھا‘‘Lady Windmere’s Fan) ۱۸۹۲ء) ’’ایک عورت جس کی کوئی اہمیت ہی نہیں ‘‘ (A Woman of No Importance ۱۸۹۳ء) ’’ایک مثالی شوہر‘‘ (An Ideal Husband ۱۸۹۰ء) اور ’’سنجیدہ ہونے کی اہمیت‘‘ Importance of Being Earnest) ۱۸۹۵ء) شامل ہیں۔  شا، فن برائے فن کا قائل نہیں۔  اس خاص معاملے میں وہ ابسن سے متاثر ہوا۔  اور اس نے عصری مسائل کو اپنے ڈراموں میں مرکزِ توجہ بنایا۔  شادی طلاق، عصمت فروشی، رومانی محبت، جنگ، سرمایہ و محنت کے درمیان آویزش بھی سب اس کے ڈراموں کے لیے خام مواد فراہم کرتے ہیں۔  شیکسپیئر کے بارے میں اس کی رائے اور وں سے مختلف تھی۔  اس کا مقصد تھا ہر نوع کی رسمیات پر کاری ضرب لگانا اور ہر طرح کے رومانی اوہام کی شکست۔  وہ ایک بے رحم قسم کی معروضیت اور نشتر زنی سے کام لیتا ہے اس نے اپنے ڈراموں کے لیے بے حد طویل مقدمے لکھے۔  اس کے کردار اس لحاظ سے کمزور ہیں کہ ان کی اپنی کوئی زندگی نہیں ہے بلکہ وہ اپنے خالق کے ہاتھوں میں کٹھ پتلی نظر آتے ہیں۔  شاک یہاں کردار نگاری اتنی اہم نہیں جتنا نقطۂ نظر اور طنز و مزاح کے چھینٹے ، قول محال کی عجوبہ زائی اور برجستہ رواں دواں برق افگن جملے بازی۔  اس کے اہم ڈراموں میں ’’ہتھیار اور آدمی‘‘، ’’رنڈوے کا مکان‘‘ ’’مسز وارین کا پیشہ‘‘، ’’ڈاکٹر کی گتھی‘‘، ’’شیطان کا شاگرد‘‘، ’’سینٹ جون‘‘، ’’واپس میتھو سالے کی طرف‘‘، ’’ بشر اور فوق البشر‘‘، ’’اپیل کارٹ‘‘ (Arms And the Man, Widower’s House, Mrs. Warren’s Profession, The Doctor’s Dilemma, The Devil’s Disciple, St. Joan, Back to Methusaleb, Man and Superman, The Apples ‘S’ Cart) کے نام لیے جا سکتے ہیں۔  برنارڈ شاہی کی طرح گالزوردی (Galsworthy) بھی اپنے ڈراموں میں افراد سے زیادہ تہذیبی اور سماجی مسائل سے سروکار رکھتا ہے۔  اس کے یہاں شا جیسی شوخی اور برجستگی تو نہیں ہے۔  لیکن اجتماعی احساس گہرا ہے۔  اس کے ڈراموں میں ’’کش مکش‘‘ (Strife ۱۹۰۶ء) ’نقرئی صندوقچی‘‘ (The silver Box ۱۹۱۰ء) ’’انصاف‘‘ (Justice ۱۹۲۳ء) اور وفاداریاں (Loyalties) کافی مشہور ہیں۔  ان دونوں کے ڈرامے مسائلی ڈراموں۔  (Problem Plays) کے ذیل میں آتے ہیں۔

اسی ضمن میں جی ایم بیری (G.M. Berrie) کا ذکر بھی کیا جا سکتا ہے۔  اس کے مشہور ڈرامے ’’ قابل تحسین کرسچن‘‘ (The Admirable Crichton ۱۹۰۲ء) میں سماجی تنقید کی ایک لہر نظر آتی ہے۔  شعری ڈرامہ لکھنے والوں میں ڈبلیو بی ٹیس (W.B. Yeats) اور ٹی ایس ایلیٹ (T.S. Eliot) کا ذکر ضروری ہے۔  اول الذکر کے ڈرامے اشاراتی ہیں۔  ان میں زیادہ معروف ’’کاؤنٹلیس کیتھلین‘‘ (The Countless Cathleen ۱۸۹۲ء) ’’بادشاہ کی دہلیز‘‘ (The King’s Threshold) ’’کوشولین کی موت‘‘ (The Death of Cuchulain) ہیں۔  جاپان کے ’’نوہ ڈراموں ‘‘ (Noh Plays) سے متاثر ہو کر بھی یٹس نے بعض ڈرامے لکھے۔  شاعری اور ڈرامہ دونوں میں یٹس نے آئرلینڈ کے عوامی کہانیوں اور توہمات کو اپنے مقصد کے لیے استعمال کیا۔  اسی طرح سنج (Synge) نے جو آئرستانی ڈرامہ کی تحریک کا سب سے زیادہ با شعور نمائندہ ہے۔  اپنی توجہ دیہاتی زندگی (Rural Life) پر مرکوز کی۔  ا س کا المیہ ’’شہسواران بہ قلزم‘‘ (The Riders To The Sea ۱۹۰۴ء) اور اس کا طربیہ ’’مغربی دنیا کا رنگیلا‘‘ (The Play Boy of The Western World ۱۹۰۷ء) خصوصیت سے قابل ذکر ہیں۔  اوکیسی (O Casey) کا ڈرامہ ’’جو نو اور طاؤس‘‘ (Juno And The Peacock ۱۹۲۴ء) میں منظر عام پر آیا۔  اسی ضمن میں لیڈی گریگری (Lady Gregory) کا نام لینا بھی ضروری ہے جو اس تحریک کی روحِ رواں تھی۔  ڈبلیو بی یٹس سے اس کا گہرا ربط تھا۔  اس کے ڈرامے صاف ستھرے اور زندگی کی مسرتوں سے لبریز ہیں۔  سمرسیٹ مام (Somerset Maugham) نے ناولوں کے علاوہ ڈرامے بھی لکھے۔  ٹی ایس ایلیٹ نے ڈرامہ نگاری کا آغاز ’’کلیسا میں قتل‘‘ (Murder in The Cathedral ۱۹۳۵ء) سے کیاجس میں شہادت (Martyrdom) کے تصور کو بنیاد بنا کر ریاست اور گرجا (Church) کے درمیان کش مکش کو نمایاں کیا۔  اس نے ڈرامے میں یونانی ڈرامے کے کورس (Chorus) کی رسم کی تجدید کی۔  اس کے دوسرے مشہور ڈرامے ’’خاندان کا یکجا ہونا‘‘ (The Family Reunion ۱۹۳۹ء) ’’کاک ٹیل پارٹی ‘‘ (The Cocktail Party ۱۹۵۰ء) ’خفیہ بابو‘‘ (The Confidential Clerk) اور ’’بزرگ سیاست داں ‘‘ (The Elder Statesman ۱۹۰۸ء) ہیں۔  ان سب میں اس نے یہ کوشش کی کہ ادبی زبان اور بول چال کی زبان کے درمیان فرق کو کم سے کم کیا جائے۔  شعری ڈرامے کی بنیاد ڈالنے اور اسے رائج کرنے والوں میں ایلیٹ کا نام قابل ذکر ہے۔  ایلیٹ ہی کی طرح بیکٹ (Becket) نے بھی عصری ڈرامے کو بے حد متاثر کیا۔  اور اپنی توجہ زندگی کے لایعنی ہونے پر مرکوز کی۔  اس کا سب سے مشہور ڈرامہ ’’گوڈوٹ کے انتظار میں ‘‘ (Waiting for Godot) ہے کرسٹوفر فرائی (Christopher Fry) کے یہاں ایلیٹ کے برعکس زندگی کی فراوانی اور شور و شغب کا احساس ملتا ہے۔  اس کے یہاں الفاظ کے شان و شکوہ طمطراق اور رموز بہت اہمیت رکھتے ہیں۔  اس کے مشہور ڈراموں میں ’’زہرہ زیر نظر‘‘ (Venus Observed) اور ’’خاتون جلانے کے لیے ‘‘ نہیں ، (The Lady’s Not For Burning ۱۹۴۸ء) کے نام لیے جا سکتے ہیں۔  جان اوسبورن (John Osborne) کا ڈرامہ ’’غصہ سے مُڑ ر کر دیکھنا‘‘ (Look Back in Anger) ۱۹۵۶ء میں شائع ہوا۔  اور ہیرولڈ پِنٹر (Harold Pinter) کے دو ڈرامے قابل توجہ ہیں۔  ’’سالگرہ کی پارٹی‘‘ (The Birthday Party ۱۹۵۸ء) اور ’’زمام دار نگراں ‘‘ (The Care Taker ۱۹۶۰ء)

وکٹورین عہد کے ناول نگاروں کی سماجی تنقید کی روایت کو جن لوگوں نے بیسویں صدی کے اوائل میں زندہ رکھا ان میں سیمویل بٹلر (Samuel Butler) کے ناول The Way of Fleshکا ذکر کیا جا سکتا ہے۔  جو ۱۹۰۳ء میں شائع ہوا۔  اس سے پہلے ایچ جی ویلس (H.G. Wells) کا ناول ’’ٹائم مشین‘‘ (Time Machine) ۱۸۹۵ء میں شائع ہو چکا تھا۔  اور یہ سائنسی رومان ہونے کے علاوہ طبقاتی امتیازات کے ابھرنے کے بارے میں ایک طرح کی قیاس آرائی ہے۔

ممتاز ناول نگاروں میں جوزیف کانریڈ (Joseph Conrad) ہیں۔  اس کی طویل مختصر کہانی ’’تاریکی کا قلب‘‘ (Heart of Darkness) خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔  ابتدائی ناولوں میں ’’ال میئرس فولی‘‘ (Almayer’s Folly ۱۸۹۸ء) نیگر آف نارسی سس (The Niger of Nareissus) اور ’’لارڈ جم‘‘ (Lord Jim ۱۹۰۰ء) ہیں۔  سیاسی ناولوں میں ’’مغربی آنکھوں کے تلے ‘‘ (Under The Western Eyes ۱۹۱۱ء) ’’خفیہ کار پرداز‘‘ (The secret Agent) ہیں۔  اس کا شاہکار ’’نسٹروم‘‘ (Nostrom ۱۹۰۴ء) ہے۔  کانریڈ کے بیشتر ناولوں کا پس منظر بحری زندگی ہے۔  جہاں انسان قدرت کی سفاکی سے براہِ راست متصادم ہوتا ہے۔  اور مہم جوئی کے جذبے کی تشفی بھی ہوتی ہے۔  اور اس کی آزمائش بھی۔  کانریڈ کو اس زندگی کا براہ راست تجربہ تھا۔  اس کے ناولوں کی تکنیک کا نمایاں وصف یہ ہے کہ ان میں علت و معلول کی ترتیب و تسلسل ٹوٹتا ہوا نظر آتا ہے۔  اس کے یہاں کہانی کا آغاز عمل یعنی (Action) کے درمیان سے ہوتا ہے۔  اور آگے بڑھنے اور پیچھے لوٹ آنے اور پھر آگے بڑھنے کا سلسلہ برابر جاری رہتا ہے۔  کیوں کہ زندگی ایک خط مستقیم نہیں بلکہ پرپیچ راہوں سے عبارت ہے۔  گالزوردی (Galsworthy) کے عظیم الشان ناول ’’فورسائٹ ساگا‘‘ (The Forsyte Saga ۱۹۲۱ء) کی اولین جھلکیاں ’’صاحبِ جائیداد انسان‘‘ (Man of Property ۱۹۰۶ء) میں ملتی ہیں۔  ای ایم فارسٹر (E.M. Foster) کا تعلق دانشوروں کے اس حلقے سے تھا جسے ’’بلو مسبری گروپ‘‘ (Bloomsbury Group) کا نام دیا گیا ہے ان کی شہر ت کا دارومدار اس کے پانچ مختصر ناولوں پر ہے۔  ان میں زیادہ معروف ’’ہاورڈ کا خاتمہ‘‘ (Howard End ۱۹۱۰ء) اور ’’ہندوستان کی جانب سفر‘‘ (A Passage to India) ہیں۔  فنی اعتبار سے اول الذکر کو موخر الذکر پر ترجیح دی جا سکتی ہے۔  گو موخر الذکر اس لحاظ سے اہم ہے کہ اس میں ہندوستانی مزاج کے بارے میں فارسٹر کی بصیرت کا ثبوت ملتا ہے فارسٹر کے سارے ناولوں کی بنیاد ایک طرح کے تضاد پر ہے جو انگریزی تہذیب اور دوسری تہذیبوں کے درمیان پایا جاتا ہے۔  وہ زیادہ تر انسانی رشتوں اور وابستگیوں کا ناول نگار ہے۔  دراصل جدید انسان کی محرومی یہ ہے کہ وہ اشیا کے درمیان باہمی ربط نہیں قایم کرسکا ہے۔  ڈی ایچ لارنس (D.H. Lawrence) نے سلسلہ واری پلاٹ کے خلاف تو کوئی بغاوت نہیں کی۔  لیکن اس نے واقعات کے بیان کو تحت الشعور کی لہروں سے ہم آہنگ کرنے کی کوشش ضرور کی۔  اس نے عورت اور مرد کے درمیان آزاد جنسی تعلقات کو اپنا موضوع بنایا اور صنعتی زندگی سے پیدا ہونے والی میکانکیت کے خلاف جس نے بنیادی انسانی محرکات کو بری طرح مجروح کر دیا تھا، بہت شدید احتجاج کیا۔  اس کے نزدیک عقل اور منطق کے برعکس گوشت اور خون کے ذریعہ حقیقت کی تفہیم زیادہ آسان ہے اس کے یہاں علائم کی بڑی اہمیت ہے۔  اس کے اولین دور کے ناولوں میں سفید مور (The White Peacock ۱۹۱۳ء) ’’بیٹے اور عاشق‘‘ (Sons and Lovers) درمیانی دور میں ’’قوس قزح‘‘ (The Rainbow) ’’محبت میں گرفتار عورتیں ‘‘ (Women In love) اور آخری دور میں ’’پردار سانپ‘‘ (Plumed Serpent) ’’ایرون کا رسہ‘‘ (Aron’s Rod) اور ’’لیڈی چیٹر لے کا یار‘‘ (Lady Chatterley’s Lover ۱۹۲۸ء) قابل ذکر ہیں۔  اس کی طویل کہانیوں میں ’’ٹریس پاسر‘‘ (The Trespasser) کا ذکر بھی ضروری معلوم ہوتا ہے۔  آلڈوس ہکسلے (Aldous Huxley) نے اپنے دور کی روح کو گہرے طنز کا نشانہ بنایا ہے۔  ان کے اولین ناولوں میں ’’کروم یلو‘‘ (Chrome Yellow) ( ۱۹۲۱ء) اور ’’اینٹک ہے ‘‘ (Antic Hay ۱۹۲۳ء) ہیں۔  پوائنٹ کاؤنٹر پوائنٹ (Point Counter Point) اور ’’گازا میں بے بصر‘‘ (Eyeless in Gaza) بھی اہم ناول ہیں۔  دو اور ناول ’’نئی بہادر دنیا‘‘ (Brave New World) ’’لنگور اور اصل‘‘ (Ape And Essence) بالترتیب ۱۹۳۶ء اور ۱۹۴۹ء میں سامنے آئے۔  شعور کے بہاؤ (Stream of Consciousness) کی تکنیک کو رواج دینے والوں میں سرفہرست نام جیمس جوائس (James Joyce) کا ہے۔  جن کی کہانیوں کا مجموعہ ’’ڈبلن والے ‘‘ (Dubliners) ۱۹۱۴ء میں اور جس کا مشہور ناول ’’فنکار کی عالم نوجوانی کی تصویر‘‘ (A Portrait of the Artist As a Young Man ۱۹۱۶ء) میں شائع ہوا۔  اس کا سب سے مشہور ’’ناول یولیسیز‘‘ (Ulysses) اس طریقۂ کار کی ایک تھکا دینے والی مثال ہے۔  ڈورتھی رچرڈسن (Dorothy Richardson) کو اس تکنیک کا موجد سمجھا جاتا ہے۔  اس کے ناول ’’نوکیلی چھتیں ‘‘ (Pointed Roofs ۱۹۱۵ء) میں سامنے آ چکا تھا۔

ورجینیا وولف (Virginia Woolf) کا نام بھی اس سلسلہ میں بڑی اہمیت کا حامل ہے۔  ان سب نے ریاضیاتی تصور زماں کے خلاف بغاوت کی۔  اور ناول میں سلسلہ وار پلاٹ کی اہمیت کو یکسر نظر انداز کیا۔  دونوں کے یہاں زور خارجی واقعات پر نہیں بلکہ تحت الشعور کے مد و جزر اور حافظے کی نشاندہی پر ہے۔  ورجینیا وولف کے دو ناول ’’بحری سفر‘‘ (Voyage Out) ۱۹۱۵ء میں اور ’’شب و روز‘‘ (Night And Day) ۱۹ ۱۹ء میں شائع ہوئے پھر ’’یعقوب کا کمرہ‘‘ (Jacob’s Room) ۱۹۲۲ء میں شائع ہوا۔  اس سے زیادہ دو اور ناول اہم ہیں یعنی ’’مسز ڈیلووے ‘‘ Mrs. Dalloway ۱۹۳۵ء) اور ’’لائٹ ہاؤس کو‘‘ (To The Light House ۱۹۲۷ء) یہاں بیان سے کہیں زیادہ علائم کے بالمقابل رکھے جانے کی اہمیت ہے۔  آخری ناولوں میں ’’لیل و نہار‘‘ (The Years) ’’ارلینڈو لہریں ‘‘ (The Waves Orlando ۱۹۲۸ء) ہیں۔  جوائیس کیری (From Joyce Carey) کے رموز اور زندہ دلی کو دیکھ کر لوگوں کو شبہ ہوتا ہے کہ ان کا بیسویں صدی سے کیا تعلق ہوسکتا ہے۔  اس کے یہاں کرداروں کی بہتات ملتی ہے۔  اس کا سب سے مشہور ناول ’’گھوڑے کے منہ سے ‘‘ (From The Horse’s Mouth) ہے جس میں ایک مخصوص فنی مزاج کی عکاسی کی گئی ہے۔  گراہم گرین (Graham Greene) کی رومن کیتھولک مذہب (Roman Catholicism) کی طرف مراجعت اس کے ناولوں میں جھلکتی ہے۔  جن میں دو زیادہ مشہور ہیں یعنی ’’طاقت اور شان‘‘ (The Power and Glory) اور ’’بات کی تہ‘‘ (The Heart of the Matter) ، آئی وی کامپٹن برنٹ (Ivy Comptom Burnett) کی فنی مہارت قابل توجہ ہے۔  اس نے بول چال کی زبان اور کم سے کم بیانیہ کے استعمال کے ذریعہ کرداروں کو پیش کیا ہے۔  اے ویلن وا (Evelyn Waugh) کا تعلق بھی گراہم گرین کی طرح کیتھلک مذہب (Roman Catholicism) ہے۔  اس نے اوپری طبقوں کو بھرپور طنز کا نشانہ بنایا ہے۔  اس کے دو ناول ’’گھناؤنے بدن‘‘ (Vile Bodies) ۱۹۳۰ء میں اور ’’مٹھی بھر خاک‘‘ (A Handful of Dust) ۱۹۳۴ء میں شائع ہوئے۔  اس کا سب سے مشہور ناول (Brideshead Revisited) ہے۔  جان وین (John Wain) کا ناول ہری آن ڈاؤن (Hurry On Down) ۱۹۵۳ء میں ’’کنگ لے ایمس‘‘ (Kingley Amis) کا ناول ’’لکی جم‘‘ (Lucky Jim) ۱۹۵۴ء میں اور آنگس ولسن (Angus Wilson) کا ناول ’’اینگلو سیکسن رخ‘‘ (Anglo Saon Anttitudes) ۱۹۵۶ء میں شائع ہوا۔  اینتھونی پاویل (Anthony Powell) کے یہاں بیسویں صدی پر تنقید ذرا نیچے سروں میں ملتی ہے۔  اس کا مشہور ناول ’’وقت کا نغمہ‘‘ (The Music of Time) ہے اور آخر میں ’’گولڈنگ‘‘ (Golding) ہے جس کا مشہور ناول ’’مکھیوں کا پروردگار‘‘ (Lord of The flies) کافی مقبول ہو چکا ہے۔  بیسویں صدی کی نثر میں روایتی قسم کے ہلکے پھلکے اور ذاتی قسم کے مضامین (Essays) کا احیا نظر آتا ہے۔  ان لکھنے والوں میں ہیلیر بیلو، جی کے چیسٹر ٹن، ای وی لیوکاس، رابرٹ لینڈ (Hilaire Bello, G.K. Chesterton, E.V. Lucas, Robert Lynd) وغیرہ کے نام لیے جا سکتے ہیں۔  زیادہ وزنی قسم کے مضامین میں جارج اور ویل (George Orwell) کے مضامین کا ذکر کیا جا سکتا ہے۔  لیٹن اسٹریچی (Lytton Strachey) نے سوانح عمری لکھنے کے ایک نئے انداز کا آغاز کیا۔  جس میں ذکاوت اور طنز کے استعمال سے غیر رسمی طور پر مستحکم شہرتوں کے انہدام کا قصد کیا گیا تھا۔  لیکن یہ رجحان زیادہ فروغ نہیں پاسکا اور سوانح نگاری کے فن میں ہمدردی حزم و احتیاط اور رواداری کو زیادہ دخل دیا گیا۔  جدید تنقید میں سب سے منفرد آواز ایلیٹ کی تھی۔  وہ میتھو آرنلڈ کے مماثل اور اس سے متاثر تھا۔  شاعری کی تنقید میں بھی اس نے رومانیت کے حصار میں رخنے پیدا کیے۔  اس نے ماضی کی ماضیت پر زور دیا، روایت کی اہمیت واضح کی۔  فن کار کی شخصیت اور اس کے تخلیقی عمل کے درمیان امتیاز قایم کیا۔  اور فنی کارنامے کو شخصیت کے اظہار و انعکاس سے زیادہ اقدار (Values) کی ترسیل کا ذریعہ ٹھہرایا۔  مابعد الطبیعاتی شاعروں کی نئی تعبیر و تفسیر پیش کی سب سے بڑھ کر یہ کہ تنقید کی زبان کے لیے متعدد اصطلاحات وضع کیں۔  اس کے مضامین کلاسیکی حیثیت اختیار کر چکے ہیں۔  ڈبلیو بی یٹس (W.B. Yeats) نے شیکسپیئر پر اپنے خیالات کا اظہار کر کے اپنی تنقیدی صلاحیت کا ثبوت پیش کیا۔  آئی اے رچرڈس (I.A. Richards) نے عام زبان اور شاعری کی زبان کے فرق کو واضح کیا۔  اور عملی تنقید (Practical Criticism) کی بنیاد ڈالی۔  مڈلٹن مَرے (Middleton Murry) نے تنقید کو اپنے مابعد الطبیعاتی خیالات کے اظہار کا ذریعہ بنایا۔  ہربرٹ ریڈ (Herbert Read) نے نفسیاتی تنقید کے نمونے پیش کیے۔  بیٹسن (Bateson) نے یہ نیا تصور پیش کیا کہ دراصل ادب زبان میں تبدیلیوں کا آئینہ دار ہوتا ہے۔  اور زبان میں تبدیلیاں معاشرے کے ارتقا اور سماجی رشتوں کی عکاسی کرتی ہیں۔  تنقید میں ایف آر لیوس (F.R. Leavis) کا کارنامہ زبردست اہمیت کا حامل ہے۔  اس نے متنی (Textual) اور عملی تنقید کو انتہائی بلندیوں تک پہنچا دیا۔  مس سُپر سی آن، ولسن نائٹ (Miss Superceon, Wilson Knight) اور ٹرے و رسی (Traversi) نے پیکر نگاری کے عمل کا مطالعہ کر کے شیکسپیئر کی تنقید میں حیرت انگیز اضافے کیے ادبی تنقید میں سماجی محرکات پر زور دینے کے سلسلے میں ایل سی نائٹس (L.C. Knights) کا نام قابل ذکر ہے جن ادبی جرائد نے تنقیدی آب و ہوا کی سمت متعین کرنے میں اہم رول ادا کیا ان میں ٹی ایس ایلیٹ (T.S. Eliot) کا رسالہ کرائی ٹیرین (The Criterion) ۔  ایف آر لیوس (F.R. Leavis) کا رسالہ اسکروٹنی (Scrutiny) اور ایف ڈبلیو بیٹ سن (F.W. Bateson) کا رسالہ تبصرے اور مضامین (Essays on Criticism) خاص طور سے قابل ذکر ہیں۔

 

امریکی ادب

امریکی ادب امریکی ادبی اور ثقافتی میراث نے تین مختلف لیکن باہمی تعلق رکھنے والے عناصر سے ترکیب پائی ہے اول تو وہ لوگ تھے جو عیسائیت کے عالم دین اور مفسرین تھے جو امریکہ کی ’’نئی دنیا میں ‘‘ عیسائی تہذیب قایم کرنا چاہتے تھے۔  ان سب کا تعلق پروٹیسٹنٹ فرقے سے تھا جنہوں نے دینی مسائل کی تبلیغ اور اشاعت کے لیے اپنی زندگیاں وقف کر دی تھیں۔  کاٹن میتھر (Cotton Mathor) کی کتاب ’’نیوانگلینڈ کی کلیسائی تاریخ‘‘ (History of New England The Ecclesiastical) سترہویں صدی کے امریکہ کے بارے میں آج بھی معلومات کا مخزن سمجھی جاتی ہے۔  اٹھارہویں صدی کے عیسائیت کے ممتاز عالم جو ناتھن ایڈورڈس (Jonathan Edwards۱۷۰۳ء۔۱۷۵۸ء) ان کے خیال کے مطابق سچے دین کی روح عشق حقیقی ہے۔  ان کو خدا کے قادر مطلق ہونے اور انسان کی ازلی معصیت اور سیاہ کاری پر کامل یقین تھا۔  امریکی ادبی اور ثقافتی میراث کا دوسرا عنصر روشن خیالی اور عقلیت ہے جس کے مطابق رب کریم ہر انسان کو اس کی اجازت دیتا ہے کہ وہ اپنی فطرت کے مطابق زندگی کے مسائل کو سمجھنے کی کوشش کرے اور اپنی راہ متعین کرسکے۔  اس نقطۂ نظر کو ماننے والے یہ سمجھتے تھے کہ جو چیز کارگر اور کامیاب ہے وہ درست اور صحیح ہے کیوں کہ اس سے قانونِ قدرت کا مظاہرہ ہوتا ہے۔  ا س نقطۂ نظر کی ترجمانی بنجامن فرینکلن (Benjamin Franklin) نے کی۔  جو عہدِ عقل کے ستون مانے جاتے ہیں۔  ان کا خیال تھا کہ خدا کا مظہر انجیل نہیں بلکہ قدرت ہے۔  انسان تعلیم سے اپنی ذہنی و روحانی تکمیل کرسکتا ہے اور خدمتِ خلق خدا کی سب سے بڑی عبادت ہے۔  زندگی میں وہ کفایت شعاری جفا کشی اور ہر صورت حال میں سچائی اور راست گوئی کو مقدم سمجھتے تھے۔  فرینکلن کی خود نوشت سوانح حیات محض ایک فرد کی ذاتی سرگزشت نہیں ہے بلکہ امریکی قوم کے ایک نمائندے کی داستان ہے۔  جس سادگی سے اپنی کمزوریوں پر طنز کرتے ہیں وہ دراصل پوری امریکی قوم کا مزاج اور تہذیبی وِرثہ ہے۔

  امریکہ کی جنگ آزادی، برطانوی نوآبادیات اور برطانیہ کے درمیان لڑی گئی، جس میں دونوں حریف طاقتوں کی افواج کا سرچشمہ ایک ہی قوم تھی۔  اعلان آزادی سے بہت پہلے ’’مے فلاور معاہدہ‘‘ (۱۶۳۰ء) میں یہ اصول تسلیم کیا گیا تھا کہ حکومت میں محکوم کی رضا مندی شامل ہونی چاہئے۔  انسان کے قدرتی حقوق کا یہ بنیادی اصول تسلیم کر لیا گیا تھا کہ انسان کو آزادی کے ساتھ زندگی بسر کرنے ، جائیداد کے حصول و تصرف اور اپنی خوشی و تحفظ کا حق حاسل ہے۔  ا س کے برعکس ایک متضاد روایت ’’کالوینی دین‘‘ کی تھی جس میں خدا کے نام پر قایم کی گئی حکومت کسی دنیاوی اصول کی پابند نہیں تھی۔  اس طرح امریکی سیاست میں دائیں اور بائیں بازو کے نظریات کی ابتداء ہوئی۔  ٹامس جیفرسن (Thomas Jefferson) بائیں بازو کے سیاست دانوں میں تھے۔  ان کی تصنیف ’’اعلانِ آزادی‘‘ امریکی ذہن کے نشو نما میں سنگِ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔  یہ تحریر نہایت پر وقار اور بلند سطح پر عام آنسانی آزادی کے نظریات کا اظہار ہے جس کا مختصر خلاصہ یہ ہے : ان کا کہنا ہے کہ سب انسان برابر پیدا کیے گئے ہیں اور خدا کی طرف سے ان کو انتقال نا پذیر حقوق ودیعت ہوئے ہیں جن میں زندگی، آزادی اور حصولِ خوشی کے حقوق ہیں۔  جب کوئی حکومت ان مقاصد کی نفی کرے تو عوام کو اس کا حق ہے کہ اس کو تبدیل یا موقوف کر دے۔  شاہ انگلینڈ نے نا انصافیوں اور مظالم سے یہ ثابت کر دیا ہے کہ وہ امریکہ کے عوام پر حکومت کرنے کے نا اہل ہیں۔  اس لیے یہ ضروری ہے کہ امریکہ اپنی سیاسی آزادی کا اعلان کرے۔  جیفرسن کے خیالات کی اساس تھی ان کا فرد کی دیانت داری پر یقین، اس یقین کی بنیاد پر انہوں نے حکومت اور معاشرے کا ایسا ڈھانچہ تیار کیا تھا جس کا اصل مقصد فرد کی فلاح آزادی اور ترقی تھا نہ کہ اس کا استحصال۔  جیفرسن کے تصورات امریکی ثقافت کا تیسرا اہم عنصر ہے۔

امریکی ادبی اور ثقافتی میراث کے ان تینوں عناصر کی بازگشت تمام تر امریکی ادب میں سنائی پڑتی ہے۔  وہ امریکی معیار زندگی کا تہذیبی ڈھانچہ ہیں جن سے امریکی زندگی کی قدریں وابستہ ہیں۔  ایڈورڈس نے بدی اور گناہ کا جوسیر حاصل تجزیہ کیا ہے اس کا دوررس اور گہرا اثر امریکی ادب پر پڑا۔  ایڈگر ایلن پو، ہاتھورن، میلویل کی کہانیوں اور ناولوں میں گناہ اور شر کی فتنہ انگیزی کا سایہ منڈلاتا نظر آتا ہے۔  ولیم فاکنر کے ناولوں اور یوجین اونیل کے ڈراموں میں انسانی ارادے کی فصیلیں منہدم ہوتی نظر آتی ہیں اور بدی اور معصیت کے گرداب میں پھنسے ہوئے انسان اس سے بچ نکلنے کی ناکام اور المناک جدوجہد میں مصروف دکھائی دیتے ہیں۔  فرینکلن کا ترقی کرنے یا ترقی کے لیے جدوجہد کرنے کی صلاحیت پر اعتماد امریکی کردار کی نمایاں خصوصیت ہے۔  ان کی خوش بیانی اور زندہ دلی امریکی ادب کی روایت کا ج زبن چکی ہے۔

  مارک ٹوین کے طرز بیان کی شگفتگی، ولیم ڈین ہولس کی حقیقت نگاری اور تھیوڈور ڈرائرز کی جزئیات نگاری اسی روایت کی تجدید ہے جیفرسن کے اعلان آزادی میں نئے سماج کی تشکیل اور اس کا حوصلہ لافانی ہے۔  انیسویں اور بیسویں صدی کے ادبی شاہکاروں میں آزادی کی جستجو اور برادرانہ مساوات کی امنگ کا اظہار نت نئے زاویۂ نظر سے ہوا۔  (۲) اٹھارہویں صدی میں حصول آزادی کے بعد امریکی میں ایسے ادب کی تخلیق کا مطالبہ ہوا جو قومی ہو۔  مغربی تہذیب کی ابتدا سے انسان نے گم شدہ جنت کے خواب دیکھے تھے ، ایک ایسے سنہرے زمانے کے خواب جس میں فراوانی ہو اور جس میں آفات ارضی و سماوی کا گزر نہ ہو اور جہاں جنگ اور قحط کی دہشت ناک تباہی اور غارت گری نہ ہو۔  اس خواب کے پس پشت اس خیال کی بھی کارفرمائی تھی کہ انسان کے غم و تکلیف کی وجہ سماج کا غلط اور ناقص نظام ہے۔  امریکہ جب آزاد ہوا تو یہ احساس ناگزیر ہو گیا کہ یہی وہ گم شدہ جنت ہے جس کی صدیوں سے آرزو تھی اس خواب کی تائید ’’نئی دنیا‘‘ کے حالات سے بھی ہوتی تھی جہاں ایک نئے سماج کی تشکیل ممکن تھی۔  قومی ادب کے مطالبے میں ایک تضاد کا پہلو بھی تھا۔  یہ درست ہے کہ امریکہ ایسا ملک تھا جہاں فطرت شاداب و تر و تازہ تھی اور جہاں کے لوگ لہو و لعب میں ملوث نہیں تھے۔  ایسی فطرت حُسنِ بیان کو دعوت دیتی تھی اور ایسے اصلاح یافتہ ا نسان کے خیالات اظہار کے لیے بے تاب تھے۔  لیکن مشکل یہ تھی کہ قومی اور نئی ادبی ہئیت آسانی سے وضع نہیں کی جا سکتی تھی۔  امریکی ادیب کے لیے مروجہ برطانوی ادبی ہئیت سے مکمل انحراف ممکن نہیں تھا غالباً یہی وجہ تھی کہ آزادی کے بعد آنے والی پہلی پیڑھی کے ادیب خالص قومی ادب کی تخلیق میں ناکام رہے۔  اس پہلی پیڑھی کے شاعروں میں تین نام قابل ذکر ہیں۔  جون ٹرم بل بقیہ دونوں شاعروں کی طرح طنز نگار تھے۔  ان کی پہلی طنزیہ نظم’’ کند ذہنیت کا ارتقا‘‘ ایک کند ذہن دینیات کے طالب علم کی سرگزشت تھی جس کی آڑ میں اس زمانے کے نظامِ تعلیم پر طنز کیا گیا تھا۔  ان کی دوسری نظم ’’زمانۂ حال کا مرثیہ‘‘ برطانوی اقتصادی پالیسی کے خلاف تھی۔  ’’ایم فنگل‘‘ میں ہدفِ ملامت آزادی مخالف ٹوری پارٹی تھی دوسرے شاعر فلپ فرینو (Philip Freneau) کی ابتدائی شہرت طنز نگاری سے ہوئی۔  وہ برطانوی حکومت کے نہایت سخت نقاد تھے لیکن طنز نگاری سے زیادہ ان میں غنائی شاعری کی صلاحیت تھی۔  ان کی نظم ’’قوتِ تخیل‘‘ (The Power of fancy) ان کے نظریۂ شاعری کا اظہار ہے۔  ’’سانتا کروز کا حسن‘‘ بھی خوبصورت غنائی نظم ہے جو فطرت سے حاصل کردہ امیجری سے مملو ہے ’’جنگلی ہنی سکل‘‘ (To a wild Honeysuckle) میں عالم امکاں میں رونما ہونے والے تغیرات کا نہایت حسین بیان ہے۔

 تیسرے شاعر جو یل بارلو (Joel Barlow) نے ’’کولمبس کا خواب‘‘ یا کولمبیڈ (Columbiad) میں جمہوریت، امن اور امریکی قوم کی عظمت کا بیان نو حصوں میں کیا ہے۔  بقیہ دو نظمیں مزاحیہ ہیں۔  ایک بات جو ان تینوں شاعروں میں مشترک ہے وہ ان کی طنز نگاری ہے جس میں پوپ کی تقلید میں بلندیت یا ہیرویک کپلیٹ (Heroic Couplet) کا استعمال کیا گیا ہے۔  برطانیہ میں اٹھارہویں صدی کے آخری نصف میں تین قسم کے ناول رائج تھے۔  اول جذباتی (یا گھریلو) ناول ، دوسرے طنزیہ ناول اور تیسرے گاتھک (Gothic) ناول ، امریکہ میں پہلے جذباتی (یا گھریلو) ناول کو فروغ ملا۔  جس میں ترغیبِ گناہ اور اس کے المناک نتائج خصوصی موضوعات تھے۔  مثال کے طور پر ولیم ہل براؤن کے ناول ’’قوت ہمدردی‘‘، سوزان روسن کے ’’شارلیٹ ٹمپل‘‘ اور حنّا فاسٹر کے ’’عشوہ طراز‘‘ کو غیر معمولی مقبولیت حاصل ہوئی۔  کیوں کہ ان کے قصے یا ان کے کچھ حصے اغوا کے اصل واقعات پر مبنی تھے۔  طنزیہ ناول میں ہیوہنری بریکسن رچ کا ناول ’’جدید شجاعت‘‘ سروان ٹیز کے ناول ’’دان کیہوتے ‘‘ (Don Quixote) کا چربہ ہے جس میں امریکہ کی نئی جمہوریت کی کارکردگی پر طنز کیا گیا ہے۔  گاتھک ناول کے علم بردار چارلس براکڈن براؤن (Charles Brockden Brown) کے ناولوں کی اہم خصوصیت ان کے نئے پلاٹ اور بدیع کردار نگاری تھی وہ اپنے ناولوں میں ہولناک فضا پیدا کرنے کے لیے گاتھک ناول کی تمام فنی ترکیبیں استعمال کرتے تھے۔  ان کے ناول ’’ وائی لینڈ‘‘ کو غیر معمولی شہرت حاصل ہوئی جس میں انہوں نے ایک کٹّر اور تشدد پسند مذہبی آدمی کا چربہ پیش کیا ہے۔  ان کے ناول آرمنڈ میں فلسفیانہ انار کی، ’’آرتھر میرون‘‘ میں انسان دوستانہ اصلاح اور بقیہ چار ناولوں (الکوئن، کلاراہوورڈ، ایڈگر ہنٹلے اور جین ٹالباٹ) میں شادی کی اصلاح کو موضوع بنایا گیا ہے۔  سیاسی اور سماجی فلسفے میں براؤن ولیم گاڈونِ کے پیرو تھے۔  ان کے مداحوں میں برطانوی شاعر شیلے ، کیٹس اور ٹامس ہڈ بھی تھے۔

اٹھارہویں صدی میں ناول پر ڈرامے کے مقابلے میں نسبتاً کم پابندیاں تھیں اس زمانے کے اخلاقیات کے علم بردار تھیٹر کو ’’شیطان کا گھر‘‘ سمجھتے تھے اور قانون ساز اس کو عوام کے لیے انتہائی مضر تصور کرتے تھے۔  اس کے علاوہ جنگِ آزادی کی افراتفری، پیلے بخار کی تباہی اور حق اشاعت کی بے ضابطگی ڈرامے کے فروغ میں حائل ہوئیں۔  امریکی اسٹیج پر پیش کیا جانے والا پہلا ڈرامہ ٹامس گاڈ فرے کا پارتھیا کا شہزادہ تھا۔  ایلیز بیتھن طرز کا یہ المیہ ۱۷۶۵ء میں شائع ہوا۔  ٹامس گاڈ فرے کے طنزیہ ڈراموں کے مقابلے میں روائل ٹائلر کے طنزیہ تقابل کو نمایاں کامیابی حاصل ہوئی۔  اس میں ایک امریکی دہقان کا کردار نہایت خوبی سے پیش کیا گیا ہے اور امریکی طرز زندگی کا نہایت حقیقت پسندانہ خاکہ ملتا ہے۔  اس کے علاوہ بھی کچھ طربیہ لکھے گئے۔  جن میں نیلسن بار کر کے ’’آنسو اور مسکراہٹیں ‘‘، ’’انڈین شہزادی‘‘ اور ’’وہم‘‘ قابل ذکر ہیں لیکن ان تمام ڈراموں میں فنی ناپختگی اور مکالمے میں کچا پن ہے۔  (۳)

سیاسی آزادی کے ساتھ امریکی ادب میں رومانیت داخل ہوئی۔  یہ دور ایک طرف امریکی جنگ آزادی کی ولولہ انگیزی سے وابستہ ہے دوسری طرف اس نے جرمنی، فرانس اور انگلینڈ کی رومانیت کی تحریک سے فیض حاصل کیا۔  فرانسیسی انقلاب کا پرچم آزادی، مساوات اور انسانی برادری کے نعروں سے لہرایا تھا اور انہیں تصورات کے زیر اثر امریکہ نے آزادی حاصل کی تھی۔  اس کے علاوہ امریکہ نے بربری سمندری قزاقوں کے خاتمے میں دنیا کی رہنمائی کی تھی۔  برطانیہ کے خواب خرگوش کو ۱۸۱۲ء کی جنگ سے توڑا تھا۔  ’’منرو اصول‘‘ (Monroe Doctrine) نے دیا کے مغربی حصے میں امریکہ کی بالادستی قایم کر دی تھی۔  میکسیکن جنگ ( ۱۸۴۸ء) سے جنوب مغرب کا وسیع علاقہ فتح ہوا۔  یہ تمام واقعات ولولہ انگیز تھے۔  رومانی مزاج نے معلوم کے مفہوم کو پوری طرح سمجھنے کے لیے نامعلوم کی دریافت کی کوشش کی اور یہ تجسس اسے مافوق الفطرت اور ماورائی دنیا کی سمت لے گیا۔  زمانہ حال کو سمجھنے کے لیے عہد ماضی کی کرید کی گئی۔  ازمنہ وسطیٰ کی تاریخ ماضی کی رزمیہ شاعری، چاربیت، لوک گیت اور کتھائیں ، دیومالا اور اسطور سے دلچسپی کا اظہار کیا گیا۔

 رومانی تحریک کی ایک بہت توانا لہر انسان دوستی تھی۔  اس لیے عام انسان کی عظمت پر زور دیا گیا۔  فطرت کی خیر و برکت کے ساتھ انسان کی فطری اچھائی پر اعتماد کا اظہار ہوا رومانیت کی تحریک کی ان خصوصیات کو امریکہ کے انیسویں صدی کے ادیبوں نے کسی نہ کسی ادبی ہئیت میں ظاہر کرنے کی کوشش کی۔  ان ادیبوں میں واشنگٹن ارونگ، جیمس فنی مور کو پر اور ولیم کلن برائنٹ کا نام سرفہرست ہے۔  واشنگٹن ارونگ (Washington Irving) نے انیس سال کی عمر میں اپنے بھائی کے اخبار میں جونتھن اولڈ اسٹائیل کے خطوط ۱۸۰۲ء میں شائع کیے جو نیویارک کی سماجی زندگی اور ڈرامے کی تنقید تھی۔  ۱۸ ۱۹ء اور ۱۸۲۰ء میں ان کی کتاب ’’خاکے قسطوں میں ‘‘ پھر کتابی شکل میں لندن سے شائع ہوئی جس سے ان کو بین الاقوامی شہرت حاصل ہوئی ۱۸۲۳ء میں ’’بریس برح ہال‘‘ اور ۱۸۲۴ء میں ’’ایک مسافر کی کہانیاں ‘‘ کی اشاعت ہوئی ان کی کہانیوں اور خاکوں کا مجموعہ ’’الحمرا‘‘ ۱۸۳۲ء میں شائع ہوا۔  ہسپانیہ کے قیام کے زمانے میں انہوں نے ہسپانوی تاریخ میں تحقیق کی اور کرسٹفر کی زندگی اور بحری سفر کی تاریخ غرناطہ کی تاریخ اور کرئین مجموعۂ مضامین اسی زمانے کی یادگار تصانیف ہیں۔  ۱۸۴۰ء میں انہوں نے اولیور گولڈاسمتھ کی سوانح حیات اور ۱۸۵۰ء میں ’’ محمدؐ اور ان کی کامیابیاں ‘‘کے عوان سے ایک مختصر سوانح حیات لکھی جس سے نبی کریمؐ سے ان کی عقیدت کا اظہار ہوتا ہے۔

 جارج واشنگٹن کی حیات کی پانچویں اور آخری جلد ان کے انتقال سے کچھ پہلے ۱۸۵۹ء میں شائع ہوئی۔  ارونگ اپنی ابتدائی تخلیقات میں ایڈیسن اور گولڈ اسمتھ کی نثری طرز تحریر سے بہت متاثر تھے ، ان کے طنز، نقل اور استہزاسے اس مزاح نگاری کی ابتداء ہوئی جو مارک ٹوین کی تخلیقات میں اپنے نقطۂ عروج کو پہنچی اور جو رسالہ ’’نیویارکر‘‘ میں آج بھی موجود ہے۔  ان کے خاکے کی کتاب میں امریکی ادب کے جدید افسانہ کی ابتدا ہوئی اور ’’رپ وان ونکل‘‘ (Rip Van Winkle) کی کہانی اسطور سازی کی پہلی مثال ہے۔  ’’رپ وان ونکل‘‘ کی غالباً غیر شعوری اور غیر ارادی اشاریت اس کو بے حد معنی خیز بنا دیتی ہے۔  یہ بات دلچسپ ہے کہ ارونگ کی شہرت ان تخلیقات پر مبنی ہے جن کو وہ ادنیٰ خیال کرتے تھے۔  ان کے مداحوں میں بائرن کولرج اور اسکاٹ بھی تھے۔  امریکہ میں میلویل، ہاتھورن اور پو، ان کی شگفتہ طرز تحریر کے دل دادہ تھے۔

 جیمس فینی مور کوپر (James Fenimore Cooper) غیر معمولی تخلیقی قوت کے مالک تھے اور بسیار نویسی اور تاریخی رومان کو پروان چڑھانے میں وہ سروالٹر اسکاٹ کے امریکن حریف تھے۔  پہلے دو نالوں احتیاط اور جاسوس کی نا کامیابی سے کوپر پر یہ واضح ہو گیا کہ جذباتی اور گھریلو ناول ان کا صحیح میدان نہیں ہے۔  انہوں نے یہ فیصلہ کیا کہ وہ اپنے ملک کے ماضی قریب کے تاریخی واقعات پر ناول لکھیں گے۔  یہ فیصلہ ان کی ادبی زندگی کے لیے اہم تھا کیوں کہ اس سے ان کو تین موضوعات، امریکی انقلاب، سرحد (Frontier) اور بحری زندگی، مل گئے جن پر وہ تمام عمر لکھتے رہے۔  ان کی طرز تحریر اکثر ثقیل اور مکالمے مصنوعی ہیں۔  ان کے بہت سے کردار بے جان اور بے محل ہیں اور ان کے ناولوں میں مزاح اور خوش طبعی کا یکسر فقدان ہے۔  لیکن اپنے ناول ’’مہم جو‘‘ (The Pioneers) میں انہوں نے اس لافانی کردار ’’نیٹی بمپو‘‘ (Natty Bumppo) کی تخلیق کی جو ایک طرح سے امریکہ کی نئی جمہوریت کا آئڈیل انسان ہے۔  بیسویں صدی میں وہ چرمی موزے والی داستانیں ‘‘ (Leather Stocking Tales) کے لیے مقبول ہیں۔  کوپر کی اہمیت کی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے امریکی ناول کو قومی نصب العین سے قریب تر کر دیا۔  تاریخی ناول کے بہت سے گُر انہوں نے سروالٹر اسکاٹ سے سیکھے لیکن ان کے ناول کے کردار خالص امریکی ہیں۔

ولیم کلن برائنٹ۔  رومانی شعرا میں ممتاز حیثیت کے مالک ہیں۔  برائنٹ نے امریکہ کے دیہی علاقوں میں بکھرے ہوئے فطرت کے حسن کو اپنی شاعری کا موضوع بنایا۔  حالاں کہ انہوں نے شاعری کی ابتدا لارڈ بائرن کی تقلید میں طنز نگاری سے کی لیکن جلد ہی انہوں نے اپنے اصل موضوع کی دریافت کر لی۔  ان کے نانا جی کے فارم پر ان کا بچپن گزرا، سیاست میں وفاقیت اور مذہب میں کالوینی طبقے کے حمایتی تھے لیکن ان کے والد جمہوریت پسند اور توحید پرست (Unitarian) تھے برائنٹ نے ان دونوں متضاد عقائد کا اثر قبول کیا۔  ان کے نانا کے فارم سے ملا ہوا ہمپ شائر کے خوبصورت پہاڑ اور چراگاہیں تھیں جہاں وہ گھومتے پھرتے اور فطرت کے حسن کا مشاہدہ کرتے تھے۔  برائنٹ شاعری کی معنی آفرینی پر زور دیتے اور سمبل یا علامت کے استعمال کی حمایت کرتے تھے کیوں کہ اس سے پڑھنے والے کو بصیرت حاصل ہوتی ہے۔  شاعری اور فطرت کا جو تجزیہ برائنٹ نے اپنے مضامین میں کیا وہ انیسویں صدی کے امریکہ میں شاعری کا معیار بن گیا جس پر پورا اترنے کی کوشش لوویل اور لانگ فیلو کے علاوہ دوسرے شاعروں نے بھی کی۔  برائنٹ نے امریکی شاعری کو برطانوی شاعری کی پیروی سے آزاد کرانے میں اہم رول ادا کیا جس کے بغیر بدیع امریکی شاعری ممکن نہیں تھی۔

 امریکی موضوعیت (Transcendentalism) رومانیت کی توسیع ہی کی ایک شکل ہے۔  اس تحریک نے جوا ثرات قبول کیے ان میں برطانوی شاعر ورڈز ورتھ، کولرج اور کارلائل کی تخلیقات ہیں۔  فلسفے میں جرمن فلسفی ہیگل، کانٹ، نطشے اور شیلنگ اور جرمن ادیب گویٹے ، رشٹر اور ہرڈر وغیرہ کی تصانیف کا بھی گہرا ثر ہے۔  یونانی فلسفی افلاطون اور ہندو دھرم کے وید اور بھگوت گیتا سے بھی اس تحریک نے فیض حاصل کیا عیسائی تصرف اور توحید پرستی بھی اس پر اثر انداز ہوئی لیکن یہاں الوہیت کا تصور تثلیثی کی بجائے وجدانی تھا اور اس الوہیت کا نور ہرانسان میں موجود تھا۔  اس خیال کا بھی اظہار کیا گیا کہ حقیقت تک پہونچنے کے لیے عقل کی بجائے وجدان کی رہنمائی اہم ہے اور انسانی ذہن کی کائنات اصغر اور عالم اکبر میں مطابقت ہے۔  اس لیے انسان کی آزادی مسلم ہے اور اسے اپنے وجدانی علم پر عمل کرنے کا پورا اختیار ہے۔

موضوعیت کے علمبرداروں میں اسکاٹ، مارگریٹ فلر، چینگ اور براؤن سن بھی تھے لیکن اس تحریک کے اہم مفسرین رالف والڈو ایمرسن اور ہنری ڈیوڈ تھورو تھے ، ایمرسن کا نظریہ خود اعتمادی انسانی زندگی کی قدروں کا پیمانہ بن گیا۔  وجدانی اور فطری اصولوں کی مطابقت پر ایمرسن نے فطرت، امریکن اسکالر اور دینیات کے اسکول کا خطبہ لکھا اور اس طرح فلسفہ موضوعیت کے بنیادی مفروضوں کی تشریح کی۔  فطرت ایمرسن کا عہد نامہ ہے جس کے خیالات اور عقائد کے خاکے میں وہ اپنے مضامین اور نظموں سے رنگ آمیزی کرتے رہے۔  مضامین، نمائندہ انسان، برطانوی خصوصیات اور زندگی کا طرز عمل ان کے مضامین کے مجموعے ہیں جو ان کی تقاریر اور لیکچروں پر مبنی ہیں۔  وہ نظمیں بھی لکھتے تھے اور بالعموم یہ گمان ہوتا ہے کہ شاعری ان کی ضمنی تخلیق ہے۔  ان کی شاعری کو ان کے زمانے میں اہمیت نہیں دی گئی کیوں کہ مروجہ شاعری کے برعکس ایمرسن کی شاعری میں موسقیت نہیں تھی اور قافیے کے معاملے میں ان کی نظمیں ناہموار اور بے ضابطہ سمجھی جاتی تھیں۔  ان کی شاعری کے تین مجموعے نظمیں ، یوم مئی اور دوسری نظمیں اور منتخب نظمیں شائع ہوئے۔  وہ برطانوی شاعروں سے متاثر نہیں تھے اور شاعر کو حسن کا نمائندہ مانتے تھے۔  ان کا خیال تھا کہ ہر دو اپنے تجربات کے بیان کا مطالبہ کرتا ہے اور اسے شاعری ہی پورا کرسکتی ہے۔

ہنری ڈیوڈ تھورو (Henry David Thoreau) تحریک موضوعیت کے دوسرے اہم ترجمان تھے۔  ہارورڈ یونیورسٹی کی طالب علمی کے زمانے میں وہ اپنا روزنامچہ باقاعدگی کے ساتھ لکھتے تھے جو ان کی آئندہ تصنیفات کا مخزن ثابت ہوا۔  کینیڈا کی مختصر سیاحت کے علاوہ ان کو ملک سے باہر جانے کا موقع نہیں ملا۔  مزاج کے اعتبار سے وہ ایمرسن سے مختلف تھے لیکن دونوں کے خیالات میں غیر معمولی یکسانیت تھی۔  ورڈز ورتھ کی فطرت پرستی اور کارلائل کی نثری طرز تحریر کے وہ بہت دلدادہ تھے۔  ۱۸۴۵ء میں وہ والڈن جھیل کے کنارے ایک چھوٹے سے لکڑی کے مکان میں رہنے لگے جو انہوں نے خود بنایا تھا۔  ان کی کتاب ’’والڈن‘‘ فطرت کے حسن پر نثر میں لکھی ہوئی حمد ہے جس میں لازوال حسن سے حاصل کردہ روحانی مسرت اور شادمانی کا نہایت خوبصورت اظہار ہے۔  وہ اپنے زمانے کے سماجی مسائل سے بھی گہری دلچسپی رکھتے تھے۔  وہ غلامی کے سخت خلاف تھے اور نیگرو لوگوں پر کیے جانے والے مظالم کے مخالف تھے وہ سرکاری ٹیکس کے بھی خلاف تھے اور ٹیکس کی عدم ادائیگی کے جرم میں جیل بھی جا چکے تھے۔  والڈن جھیل کے تجربے کا ایک مقصد خودشناسی تھا جس کے بغیر خدا شناسی ممکن نہیں ہے۔  ان کا خیال تھا کہ انسان کو سادگی اور غربت میں زندگی گزارنی چاہیے۔  (۴)

انیسویں صدی کے امریکی ادب میں رومانیت کا ایک پہلو حزن و یاس بھی ہے جو رومانیت کے بحران سے پیدا ہوتا ہے۔  امریکی انقلاب سے جو امیدیں وابستہ تھیں وہ پوری نہ ہوسکیں اور ’’امریکی خواب‘‘ بکھرنے لگا۔  علاقے کی توسیع سے سماجی انتشار وجود میں آیا جو حساس دلوں میں مغموم تفکر بن کر اتر گیا۔  رجائیت اور موضوعیت کا کھوکھلا پن عیاں ہو گیا شبہات و تشکیک نے سر اٹھایا اور خود انسان کا وجود ایک سوالیہ نشان بن گیا اور اس کی حقیقت ذہن و روح کے ان خفیہ گوشوں میں ڈھونڈی جانے لگی جو انسانی کردار اور اخلاقی قدروں کا سرچشمہ ہیں۔

امریکی ادب میں اس تجسس اور تشکیک کا اظہار مختلف طریقوں سے ایڈگر ایلن پو، نتھائیل ہاتھورن اور ہرمان میلویل نے کی پو نے ایمرسن اور لانگ فیلو پر بے لاگ تنقید کی اور ان کی رجائیت اور خود اعتمادی کو کھوکھلا ثابت کیا وہ موضوعیت پسندوں کو تالابی مینڈک (Frog Pondian) کہتے تھے اس طنزیہ اصلاح کا ماخذ کنکارڈ کا وہ تالاب تھا جس کے کنارے تھورو تجربے کے طور پر رہے تھے۔  اس کا ایک مفہوم یہ بھی تھا کہ موضوعیت پسندوں کا نظریۂ زندگی سادہ اور سطحی تھا جو امریکی سماجی زندگی کے پیچیدہ مسائل کا حل نہیں تھا۔  ایڈگر ایلن پو (Edgar Allan Poe) نے رومانیت سے انحراف بھی کیا اور اس کی تصدیق بھی۔  انہوں نے موضوعیت کی نفی کی لیکن مافوق الفطرت اور ماورائی دنیا سے ان کی دلچسپی اور ان کی ذہنی نا آسودگی اور افسردگی رومانیت ہی کا اظہار ہیں۔  پو کی نظموں میں ’’الاعراف‘‘ اور ’’اسرافیل‘‘ نظموں کے عنوانات قرآن پا ک سے ماخوذ ہیں۔  ان میں غیر ارضی حسن کا غیر واضح بیان ہے۔  اپنی نظموں کے تیسرے اڈیشن میں پونے تمہید میں لکھا کہ شاعری کا مقصد حقیقت کی دریافت نہیں بلکہ حسن و انبساط ہے بعد میں انہوں نے شاعری کی تعریف میں کہا کہ وہ حسن کی غنائی تخلیق ہے۔  پو کے نزدیک شاعر کا سمبل اسرافیل ہیں جن کی صور کی موسیقی سے قیامت برپا ہو گی۔  ان کے نزدیک شاعری اور موسیقی میں گہرا تعلق تھا اور ان کی نظموں ’’یولالیوم‘‘ انابیل لی (Anable Lee) اور ریون سے ان کے دعوے کی تصدیق ہوتی ہے۔  پونے تنقید اور کہانیاں نہایت کامیابی سے لکھیں شاعری میں وہ اشاریت نگاری کے موجد ہیں۔  ان کی شاعری کے مطالعے سے فرانسیسی شاعر بودالیر نے حسن ادراک کا راز سمجھا جس کو رامبو نے ترقی دی۔  انسانی مقدر کو پونے ہی سب سے پہلے ایک شکستہ کشتی کے استعارے میں پیش کیا جو رامبو اور ملارمے نے بار بار استعمال کیا ہے۔  تنقید میں پو نے فنی تجزیہ رائج کیا اور تنقید کو نقاد کی رائے کی عمومیت سے آزاد کیا۔

 نتھانیل ہاتھورن (Nathaniel Hawthorne) نے تاریخی شعور کو بروئے کار لا کر اپنی اشاریت کا اظہار اس کش مکش سے کیا جو انسان اور اس کے عہد ماضی کے درمیان اخلاقی اور روحانی سطح پر ہوتی ہے اور معصیت کے ان مہلک اثرات کا تجزیہ کیا جو ذات کے انتشار کے محرک ہیں۔  لیکن گناہ کی طرف ہاتھورن کا رویہ خالص مذہبی نہیں ہے بلکہ ان کے یہاں اس کا نفسیاتی تجزیہ ہے جو اشاریت کے ذریعہ پیش کیا گیا ہے۔  ۱۸۵۰ء میں ان کا ناول ’’سرخ حرف‘‘ شائع ہوا جس سے ان کو شہرت حاصل ہوئی۔  اگلے تین سال میں ان کے دو ناول ’’سات چھجوں والا گھر‘‘ (House of the Seven Gables) اور ’’بلیدیڈیل کا رومان‘‘ (Blithedale Romance) ایک کہانیوں کا مجموعہ ’’اسنوامیج‘‘ (Snow Image) ’’دو بچوں کی کہانیوں کے مجموعے ‘‘ اور ’’دہرائی گئی داستانیں ‘‘ (Twice Told Tales) شائع ہوئیں۔  اٹلی کے پس منظر میں ایک ناول بھی تحریر کیا جو ’’ماربل فان‘‘ کے عنوان سے ۱۸۶۰ء میں شائع ہو۔  ہارتھورن نے اشاریت نگاری کی ابتدا اپنی کہانیوں سے ہی کر دی تھی۔  ان کا خیال تھا کہ گنہگار شخص کو انسانی برادری سے خارج نہیں کیا جا سکتا کیوں کہ گناہ اسے دنیا اور انسان کی مشترکہ اقدار سے وابستہ کرتا ہے۔  ان کو اس کی فکر نہیں تھی کہ حیات بعد از مرگ میں انسان پر کیا گزرے گی۔  اپنے ناول ’’سرخ حرف‘‘ میں انہیں خیالات کو پیش کیا ہے اس کا موضوع جرم زنا ہے جو ہسٹریرن آرتھوڈمس دیل سے سرزد ہوا تھا۔  اس قسم کے گنہگار کو ’’سرخ حرف‘‘ کو کفارے کے طور پہننا لازمی تھا لیکن ہسٹریرین مسلسل اعتراف گناہ سے پاکیزگی اور کردار میں پختگی حاصل کر لیتی ہے جو پیورٹین نقطۂ نظر کے منافی ہے۔  ساتھ چھجوں والا گھر کا موضوع ایک بددعا ہے جس کا اثر کئی پشتوں تک ظاہر ہوتا ہے۔  اس کا مرکزی کردار کوئی شخص نہیں ہے بلکہ ایک گھر ہے جس کے ذریعہ ہاتھورن سالیم کے ماضی کی تاریخ مرتب کرتے ہیں۔  سترہویں صدی میں ریڈ انڈین میتھو مالے نے کرنل پنجن کو بددعا دی تھی کہ تم خون پیو گے ، وہ بددعا انیسویں صدی میں ظاہر ہوتی ہے۔  ہاتھورن کے بقیہ دو ناولوں میں انسانی ضمیر کا تجزیہ ہے۔  بلیدیڈیل کا رومان ان کے بروک فارم کے تجربات پر مبنی ہے۔  ’’پتھر کا فان‘‘ کا موضوع بھی گناہ۔  اس کی پاداش اور نجات ہے۔  یہ کہنا کافی نہیں ہے کہ وہ پیورٹین عقائد کے نقاد تھے۔  ان کی نظر میں ایسی دنیا نہیں تھی جو گناہ سے یکسر خالی ہو بلکہ ایسی دنیا تھی جس میں احساس معصیت کی اذیت اور تلخی نہ ہو۔

  ہرمان میلویل (Herman Melville) نے بھی موضوعیت اور اس کی رجائیت سے انحراف کیا۔  ان کے تصور کائنات میں اگر کوئی چیز یقینی تھی تو وہ شر اور اس کی فتنہ سامانی تھی۔  ان کے لیے سب سے زیادہ پریشان کن خود شرکا وجود تھا۔  کائنات اصغر اور عالم اکبر کی تخلیق اس ذات پاک نے کی تھی جو مجسم خیر اور مجسم حسن و انصاف تھا۔  اس لیے انہوں نے اس مسئلے کو از سر نو اپنی فکر کا مرکز بنایا۔  ان کے دو ناول ’’ٹپّی‘‘ (Typee) ۱۸۴۶ء اور اومُو (Omoo) ۱۸۴۷ء میں شائع ہو چکے تھے۔  ۱۸۴۶ء سے ۱۸۵۲ء کے سات سال کے عرصے میں ان کے سات ناول شائع ہوئے ’’موبی ڈک‘‘ میلویل کا شاہکار ہے۔  معنویت کی پہلی سطح پر وہیل مچھلی کے شکاری جہاز کے کپتان اہاب اور ایک خوفناک سفید وہیل کے درمیان معرکۂ جنگ کا بیان ہے۔  ایک گذشتہ رزم آرائی میں اہاب کو شکست ہوئی تھی۔  انتقام کے جذبے سے مغلوب ہو کر وہ دوسرے معرکے میں مکمل فتح یاشکست چاہتا ہے۔  ا س میں اہاب ہمیشہ کے لیے تباہ و برباد ہو جاتا ہے صرف ایک اشمیل باقی بچتا ہے جو اس رزم کا راوی ہے۔  معنویت کی ثانوی سطح پر اہاب اس آزاد انسان نمائندہ ہے جو مجسم بدی موبی ڈک کے خلاف نبرد آزما ہے۔  یہ ہی بدی انسانی زندگی کے غم و اندوہ کا سرچشمہ ہے۔  اہاب اس جنگ میں خدا اور فطرت کے خلاف بھی بغاوت کرتا ہے کیوں کہ ان کی رضا کے بغیر بدی کا وجود ممکن نہیں ہے۔  معنویت کی اس دوسری سطح سے ہی ناول کا اصل موضوع بنتا ہے۔  ’’پییر اور بلی بڈ ‘‘ میں میلویل نے انسان کے اخلاقی معمے کو حل کرنے کی کوشش کی، میلویل کے ناولوں کو کامیابی حاصل نہیں ہوئی اور انہوں نے زندگی کے آخری ۳۵ سال گمنامی میں بسر کیے۔  بیسویں صدی کی تیسری دہائی میں ان کی عظمت کی دریافت ہوئی۔  (۵)

موضوعیت کے مخالفین کے باوجود اس بات سے انکار ممکن نہیں ہے کہ انیسویں صدی کے امریکی ذہن پر موضوعیت کا گہرا اثر تھا والٹ وہٹمین نے اس سے فیض حاصل کیا۔  جس زمانے میں وہ شاعری کی طرف رجوع ہوئے۔  اس وقت تک پوکا انتقال ہو چکا تھا اور ہاتھورن اور میلویل اپنے شاہکار لکھ چکے تھے۔  ان کی شاعری میں ایمرسن کے خیالات کی بازگشت سنائی دیتی ہے۔  انہوں نے موضوعیت کو فلسفے کے دوسرے رجحانات سے ملا کر ایک نئے اور ذاتی فلسفے کی تشکیل کی۔  ان کا خیال تھا کہ اگر انسان خدا کا مظہر ہے تو اسکی الوہیت کا اظہار اس کے جسم اور روح دونوں سے ہوتا ہے۔  ایسے سماج میں جہاں جمہوریت اور مساوات ہو حواس خمسہ کی ترویج اور ترقی در اصل روح کی ترقی ہے۔  اس خیال سے انہوں نے موضوعیت کی توسیع کی اور خداشناسی کے وجدانی علم کو اس کے منطقی نتیجے تک پہنچایا۔  بدیع خیالات اور فن میں جدت ان کا ثانوی مزاج تھا اور نظم معریٰ لکھنے میں انہوں نے نئی مثال قایم کی۔  انہوں نے شاعری کے ارتقا کو نئی راہیں دکھائی۔  وہ جیفرسن کے اعلان آزادی کے اصولوں کو اپنی شاعری اور ذاتی زندگی میں برتنے کی کوشش کرتے تھے۔  وہ جمہوریت کے دلدادہ اور انسان کے مساوی حقوق کے حامی تھے۔  ان تمام خصوصیات کی بنا پر امریکی شاعری میں ان کو منفرد مقام حاصل ہے ان کے ذہن میں ایک ایسی نظم تخلیق کرنے کا منصوبہ تھا جس میں امریکی جمہوریت کی عینیت کی وضاحت ہوسکے۔  بالآخر ان کی یہ تمنا پوری ہوئی اور ان کی نظموں کا مجموعہ برگ سبزہ (Leaves of Grass) ۱۸۵۵ء میں شائع ہوا۔  وہ جانتے تھے کہ ان کی شاعری میں جو صاف گوئی ہے اور طرز بیان میں جو جدت ہے اس کی وجہ سے ان کی شاعری کو عام مقبولیت حاصل نہیں ہوسکتی۔  لیکن صرف ایمرسن نے ان کو لکھا ’’میں آپ کی عظیم شاعرانہ زندگی پر آپ کا پر جوش خیر مقدم کرتا ہوں۔  وہٹمین نے اپنی نظم ’’نغمہ ذات‘‘ میں یہ اعلان کیا کہ ان کی آواز جمہوریت کی آواز ہے۔  صدر لنکن کے قتل پر انہوں نے اپنی مشہور نظم ’’جب صحن میں لالہ کے پھول کھلے ‘‘ لکھی کیوں کہ وہ آں جہانی صدر کو جمہوری مساوات و محبت کی تابندہ مثال سمجھتے تھے۔  وہ بدی اور شر کے وجود کے منکر نہیں تھے لیکن ان کی رجائیت اتنی توانا تھی کہ وہ اس کی حدود سے آگے نکل کر انسان کی عظمت کو دیکھ سکتی تھی۔  وہ عوام اور جمہوری نظام کے مغنی تھے اور عوام کی بالادستی کے متمنی تھے۔  اس اعتبار سے وہ جدید ذہن سے بہت قریب تھے۔

  ملک کی غیر معمولی توسیع کے رد عمل میں امریکہ کے کچھ ادیب یورپ کی ثقافت کی طرف رجوع ہوئے اور انہوں نے ایک رئیسانہ (Genteel) رجعت پسندی کی بنیاد ڈالی۔  ان رجعت پسندوں میں لانگ فیلو، لوویل، اور ہومس تھے جنہوں نے رومانی موضوعات اور ہئیت کا استعمال جاری رکھا لیکن ادب میں جن کا رویہ رسمی، تقلیدی اور رجعت پسندانہ تھا۔  یہ تینوں کیمبرج اور بوسٹن میں عمر بھر رہے اور ہارورڈ یونیورسٹی میں پروفیسر تھے۔  یہ لوگ بوسٹن کے ’’سنیچر کلب‘‘ (Saturday Club) کے ممبر تھے جس کوہومس مذاق میں ’’انجمن ستائش باہمی‘‘ کہتے تھے۔  ان کا تعلق نیو انگلینڈ کے پرانے اور امیر خاندانوں سے تھا اور ان کی زندگی پناہ یافتہ اور محفوظ تھی۔  غالباً یہی وجہ ہے کہ یہ لوگ اپنے ملک کے ثقافتی تصادم سے بے تعلق رہے۔  ملک کی خانہ جنگی بھی ان کو متاثر نہ کرکسی اور اپنے گوشہ عافیت میں بیٹھے یہ خیالی رومان کی تخلیق کرتے رہے۔  یہ سب منجھے ہوئے فن کار تھے اور نظم و نثر یکساں روانی کے ساتھ لکھتے تھے۔  ان کے نقطۂ نظر میں پرسکون رجائیت تھی۔  ان لوگوں کی وطن پرستی میں کوئی شبہ نہیں تھا لیکن یہ یورپ کی ثقافت کے دلدادہ تھے۔  عام فہم زبان استعمال کرنے سے ان کو غیر معمولی شہرت حاصل ہوئی۔

پہلے شاعر ہنری وڈزورتھ لانگ فیلو، اپنے زمانے کے مقبول ترین شاعر تھے۔  یوں تو وہ مضامین بھی لکھتے تھے اور انہوں نے ۱۸۳۹ء میں ایک رومان ’’ہائے پیرین‘‘ (Hyperian) بھی لکھا تھا لیکن ان کی اصل شہرت ان کی شاعری سے ہوئی۔  وہ ایک طرح سے شاعری کے تاجر تھے اور اچھی طرح جانتے تھے کہ پڑھنے والے کس قسم کی چیزیں پڑھنا پسند کرتے ہیں۔  ان کا بیان واضح اور عام فہم تھا۔  اپنی نظموں کی کامیابی کے پیش نظر وہ ۱۸۵۳ء میں پروفیسری سے سبکدوش ہو گئے اور تصنیف میں ہمہ تن مصروف ہو گئے لانگ فیلو کی نظموں کے مجموعوں کی فروخت کی تعداد تین لاکھ بتائی جاتی ہے جس سے ان کی غیر معمولی شہرت کا اندازہ ہوسکتا ہے۔  اولیو روینڈل ہومس معالج اور اناٹمی کے پروفیسر ہونے کے علاوہ مضمون نگار، شاعر اور ناول نگار بھی تھے۔  ان کی نظموں اور مضامین میں مزاح کی چاشنی ہے۔  اور انہوں نے ہلکے پھلکے طنزیہ انداز میں اپنے زمانے کے مختلف موضوعات پر طبع آزمائی کی ہے۔  ان کی نظموں میں The old Ironside, Grand Mother’s Storyاور Battleکافی مشہور ہیں۔  مزاحیہ نظموں میں Contentment of an InsectاورThe Deacon’s Master Pieceبے حد مقبول ہیں۔  انشائیہ میں بھی انہوں نے اپنا ہلکا پھلکا طنزیہ انداز قایم رکھا جس کی مثال Autocrat of the Breakfast Tableہے۔  ناول میں انہوں نے طب سے حاصل کی ہوئی معلومات اور نفسیات کا استعمال کیا جو اس زمانے میں نئی بات تھی۔  رئیسانہ گروپ کے تیسرے شاعر، نقاد اور نثر نگار جیمس رسل لوویل تھے ان کی نظموں کا پہلا مجموعہ’’ ایک سالہ زندگی‘‘ (A Year’s Life) ۱۸۴۱ء میں شائع ہوا۔  ۱۸۴۴ء میں دوسرا مجموعہ ’’نظمیں ‘‘ اور ۱۸۴۵ء میں ان کی تنقید کی پہلی کتاب چند پرانے شعرا پر گفتگو شائع ہوئی سرلان فال کا خواب بادشاہ آرتھر کے قصے کی جدید شکل ہے اور بگلو پیپرس میں علاقائی زبان کی شاعری میں دور حاضر کے امور پر تبصرہ ہے۔  رئیسانہ رجعت پسندی کی روایت کو قایم کرنے والے یہ تینوں شعرا امریکی ادب پر کوئی گہرا ا ثر نہ چھوڑ سکے۔  یہ لوگ ہر دل عزیز تھے۔  لیکن انہوں نے اپنی تخلیقات سے ادب کی کوئی نئی راہ نہیں کھولی۔  (۶)

انیسویں صدی کے آخری تیس سال پُر امن گزرنے۔  نئی صنعتیں قایم ہو رہی تھیں۔  معدنیات کی دریافت ہوئی۔  ریل بچھائی جا رہی تھی۔  بحری مال بردار جہاز تعمیر ہوئے۔  تجارت کے رابطے قایم ہو رہے تھے۔  ہر طرف تعمیر اور ترقی کی گہما گہمی تھی اور امریکہ صنعتی ترقی کے اس شاندار مستقبل کی طرف رواں دواں تھا۔  جس کی پیشن گوئی والٹ وہٹمین نے کی تھی۔  اس سے پہلے ملک کی داخلی اور  علاقائی زندگی کو نظر انداز کیا گیا تھا لیکن اب اسے ادب میں پیش کرنے کا وقت آ گیا تھا۔  اس لیے تخیل کاری اور عینیت کی جگہ حقیقت پسندی اور علاقائیت نے لے لی اور شاعری اور ڈرامہ کی بجائے ناول ذریعہ اظہار بنا۔  ۱۸۷۱ء میں ولیم ڈین ہوولس نے ’’اٹلانٹک‘‘ منتھلی کی ادارت سنبھالی اور اس میں شعوری ادبی پالیسی کے تحت علاقائی ادب کی اشاعت شروع ہوئی۔  چنانچہ انڈیانا، میزوری، کیلی فورنیا، مین اور نیو آرلینس کی خصوصی زندگی کی مرقع نگاری ناولوں اور کہانیوں میں ہونے لگی اور مقامی زندگی کی عکاسی کی گئی۔  ان لکھنے والوں میں ایڈورڈ ایگلٹسن، جون ہے ، برٹ ہاٹ، ہیریٹ بیچر اسٹو، سارہ ارنی جیوٹ، جویل چینڈلر ہیرس اور جارج کیبل وغیرہ تھے۔  لیکن ان ادیبوں کے رہنما ولیم ڈین ہوولس (William Dean Howells) تھے جنہوں نے علاقائی ناول لکھنے والوں کے علاوہ علاقائیت کا تنقیدی جواز بھی پیش کیا۔  انہوں نے شعوری طور پر ناول کے فن کو سنوارنے کا تاریخی کردار ادا کیا۔  ادب میں سچائی اور توازن پر زور دیا۔  ان کا خیال تھا کہ غیر معمولی واقعات کی بجائے روز مرہ کے معمولی حقائق اور کردار پر اکتفا کرنا چاہئے۔  ان کا خیال یہ بھی تھا کہ شر اور بدصورتی کے مقابلے میں حسن اور خیر و برکت زیادہ نمائندہ حقیقتیں ہیں اور ’’زندگی کی ہر شاداں و فرحاں متبسم حقیقت امریکی ہے۔  ‘‘ ہارپرس میگزین سے وابستہ ہونے کے بعد انہوں نے افسانوی ادب پر تنقیدی مضامین لکھے۔  وہ بہت زودنویس تھے۔  بیسویں صدی میں ان کی شہرت کی بنیاد چار سماجی ناولوں پر ہے جو ’’جدید مثال‘‘ ۱۸۸۱ء ’’سائلس لیپ ہم کا عروج‘‘ ۱۸۸۵ء ’’نئے مواقع کے خطرات‘‘ (A Hazard of New Fortunes) ۱۸۹۱ء اور ’’الٹروریا سے مسافر‘‘ ۱۸۹۴ء ہیں۔  ان ناولوں میں انہوں نے ہم عصر سماجی مسائل کا غیر جانب دارانہ تجزیہ کیا ہے اور اس طرح امریکی ناول کے لیے نیا میدان عمل ہموار کیا۔  ایک نئے علاقے کی آبادکاری میں جہاں اتنا بہت کام کرنے کو تھا۔

امریکہ میں لوگوں کو مغموم ہونے کی فرصت نہیں تھی۔  اس لیے نئی لوک کتھاؤں اور مہمل قصوں (Tall Tale) اور ان کے کھردرے اور ناہموار مزاح کا وجود ہوا۔  مہمل قصے لکھنے والوں میں ارٹیمس وارڈ، جی۔  ڈبلیو ہیرس اور مارک ٹوین (Mark Twain) تھے۔  اس قسم کے قصے اس زمانے کے مشہور رسالوں میں شائع ہو کر مقبول ہوئے۔  ان کا مہمل قصہ ’’کالاویراس کاؤنٹی‘‘ (Calaveras Country) ’’مشہور کودنے والا مینڈک‘‘ ۱۸۶۵ء میں شائع ہوا جس سے ان کی شہرت اور مقبولیت کی ابتدا ہوئی۔  یورپ کی سیاحت کے مشاہدات ’’معصوم پردیس میں ‘‘ (the Innocent Abroad) پوری مزاحیہ صلاحیتوں کے ساتھ بیان کیے گئے ہیں۔  اس کتاب سے ان کو غیر معمولی شہرت اور کامیابی حاصل ہوئی۔  ٹام سائر (Tom Sawyer) ۱۸۷۶ء اور ’’ہکلبری فن کی اولوالعزمی‘‘ (Huckleberry Finn) ۱۸۸۵ء دونوں ناول ان کی نوجوانی کی یادوں سے وابستہ ہیں۔  ان کے فن کی بنیاد سچائی پر ہے۔  جو سادگی اور ظریفانہ مبالغے کے ساتھ مارک ٹوین کی طرز تحریر کی خصوصیت ہے یہ امریکہ کی سماجی اور اخلاقی قدروں پر تنقید اور تبصرہ بھی ہے۔  اس تنقید کا سرچشمہ ایک لڑکے کا بیدار ذہن ہے۔  ہک فن مظالم سے بچ کر بھاگ نکلتا ہے لیکن نیگرو غلام جم کو غلامی سے نجات دلانے میں مدد کرتا ہے۔  اس کا شعور ایک آئینہ ہے جس پر ڈیوک اور شاہ کی ریاکاری اور گرینجر فورڈ کی خاندانی عداوت کا المیہ منعکس ہو کر الفاظ میں اظہار پاتا ہے۔  ان دونوں ناولوں کے بعد ٹوین نے نسبتاً کم ادبی قدر و قیمت والے کئی ناول لکھے جن میں ’’امریکی دعویدار‘‘ (American Claimant) ۱۸۹۲ء ’’دس لاکھ پونڈ کا نوٹ‘‘ ۱۸۹۳ء ’’پڈن ہیڈولسن کا المیہ‘‘ ۱۸۹۴ء (Tragedy of Head Wilson) قابل ذکر ہیں۔  اس طرح ’’خطہ استوا کے ساتھ ساتھ‘‘ (Following the Equator) ۱۸۹۷ء ان کا آخری سفر نامہ تھا جس میں آسٹریلیا اور ہندوستان میں ان کے لیکچری دورے کے تجربات کا بیان ہے۔  انہوں نے امریکی زندگی کے عیوب پر خصوصاً ریاکاری، حرص و طمع اور سیاسی پراگندگی کو اپنے طنز کا نشانہ بنایا ہے ، مارک ٹوین کے یہاں امریکی خواب اور اس کی تکمیل کے درمیانی فاصلے اور اس کے تضاد کا احساس تھا جواب بیسویں صدی کے امریکی ادب میں ملتا ہے۔

انیسویں صدی کے آخری تیس سال میں امریکی ادب میں ایک مکتب خیال وجود میں آیا جس کی تمام تر توجہ داخلی زندگی پر تھی اور اس نے انسانی فطرت اور شعور کا تجزیہ کیا اور اپنی ذہنی و روحانی کشمکش سے داخلی دنیا دریافت کی۔  اس مکتب خیال کی نمائندگی ہنری جیمس اور ایملی ڈکنسن سے ہوتی ہے حالاں کہ اس قسم کی ادھوری کوشش ان سے پہلے پو، ہارتھون اور لویل کر چکے تھے۔  ہنری جیمس بچپن ہی سے یورپ اور وہاں کی زبانوں سے واقف تھے۔  ان کو فرانسیسی زبان پر غیر معمولی عبور تھا۔  وہ امریکہ کو نارسیدہ روایت اور دولت کی وجہ سے ادب کی تخلیق کے لیے ناسازگار سمجھتے تھے۔  ان کے ناولوں میں امریکہ (نئی دنیا) کی ثقافت اور تہذیب کا تقابل مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔  اس ثقافتی تصادم کو وہ ’’عالمی صورت حال‘‘ کہتے تھے جو ان کے بیشتر ناولوں کا موضوع ہے جیمس اس نکتے پر بہت جلد پہنچ گئے کہ امریکی اخلاقی راست بازی اور یورپ کے جمالیاتی نقطہ نظر کا باہمی تصادم ناول کا بہت موثر موضوع بن سکتا ہے۔  ان کے چار ناولوں ، ’’روڈرک ہڈس‘‘ ۱۸۷۶ء ’’امریکن‘‘ ۱۸۷۷ء ’’ڈیوی مِلر‘‘ ۱۸۷۹ء اور ’’ایک خاتون کی قلمی تصویر‘‘ (The Portrait of a Lady) ۱۸۸۱ء میں امریکی لوگوں کے مرقعے پیش کیے گئے ہیں جو یورپ کی قدیم تہذیب کے فریب کا شکار ہو کر غمگین و دل شکستہ ہوتے ہیں۔  لیکن یورپ کی ثقافت کا یہ افسوسناک اثر سب ناولوں میں یکساں نہیں ہے۔  دوسرے دور میں جیمس نے ایسے ناول لکھے جن کاپس منظر اور کردار برطانوی تھے۔  آخری دور کے تین ضخیم ناولوں ، ’’فاختہ کے پر و بازو‘‘ (The Wings of the Dove) ۱۹۰۲ء ’’سفیران‘‘ ۱۹۰۳ء اور ’’سنہرا پیالہ‘‘ (The Golden Bowl) ۱۹۰۴ء میں انہوں نے پھر عالمی صورت حال کو موضوع بنایا لیکن ان کے نقطہ نظر میں کافی نرمی آ گئی تھی۔  ان ناولوں میں یورپ کی ثقافت کو موردِ الزام نہیں ٹھہرایا بلکہ امریکیوں کی مایوسی خود ان کے کردار کی خامیوں سے ظاہر کی جیمس نے فن کار کے شعور کو مرکز اور پیمانہ بنا کر حقیقت نگاری کو خارجی دنیا سے ہٹا کر داخلی دنیا پر مرکوز کیا اور اس طرح یہ ثابت کر دیا کہ انفرادی شعور اور داخلی زندگی کی دریافت اور تجزیے سے بھی حقیقت کا نہایت موثر اظہارہوسکتا ہے۔

 ایملی ڈکنسن نے ذات اور شعور کے تہ در تہ گوشوں کو اپنی شاعری کا مرکز بنایا اور تمام عمر ایسی نظمیں لکھتی رہیں ، جو اپنے موضوعات، طرز فکر اور شعری بندش میں ان کے معاصرین کی نظموں سے مختلف ہیں۔  انہوں نے کالوینی دین کو کبھی قبول نہیں کیا اور نہ کسی گرجا گھر کی باقاعدہ ممبر ہوئیں۔  لیکن ان کی پرورش پیورٹین روایت میں ہوئی تھی اس لیے اس کی قدروں سے منحرف نہیں ہوئیں۔  انہوں نے خدا، بائبل اور حیات ابدی پر نظمیں لکھیں جن میں بعض بہت بے باکانہ ہیں۔  ان کے دور حیات میں موضوعیت کا بڑا زور تھا لیکن انہوں نے ایمرسن کی رومانیت اور موضوعیت کے نظریات کو قبول نہیں کیا ایمرسن کی فطرت پرستی کو بھی مسترد کر دیا اور فطرت کو ایک مصور کی نظر سے دیکھا۔  ان کا خیال تھا کہ خدا کی طرح فطرت بھی ایک سربستہ راز ہے جس سے واقفیت کا دعویٰ احمقانہ جسارت کے مترادف ہے۔  موت کے بارے میں بھی ان کا رویہ نیا اور مختلف تھا۔  انیسویں صدی میں بیشتر مرثیے لکھے گئے۔  جن میں غم کی تفسیر ہے۔  ایملی ڈکنسن نے خود موت کے راز کو پانے کے لیے اس کا تجزیہ کیا موت کے بارے میں ان کی نظموں میں سب سے بدیع اور نئی بات موت کو کردار کی شکل میں پیش کرنا تھا۔  ایک ایسے زمانے میں جب خطابت اور لفاظی کی دھوم تھی انہوں نے اختصار اور جامع کلمہ کو اختیار کیا۔  وہ لفظ کی قوت سے واقف تھیں ا ور اس کو اشارتاً ’’تلوار‘‘ کہتی تھیں۔  الٰہیاتی شاعر جون ڈن کی طرح اکثر وہ لفظوں کے پے چیدہ اور نازک معنی کا شعوری استعمال کرتی تھیں۔  لفظوں کے میل سے انہوں نے حسی سانچے بنائے جو اپنی معنویت کے اعتبار سے منفرد ہیں۔  مرکزی خیال کو وہ قاری کے فہم و ادراک پر چھوڑ دیتی تھیں۔  اور محیط پر توجہ کرتی تھیں۔  ’’ میرا سروکار محیط سے ہے ‘‘۔  ان کا موسیقی کا شعور ایسا تھا کہ وہ ہم آہنگی اور غیر آہنگی کا یکساں طور سے فن کارانہ استعمال کرتی تھیں۔  انہوں نے نئے قسم کے قوافی ایجاد کیے اور حمد کے میٹر میں نئی تبدیلیاں کیں۔  وہ اپنے طرز خیال اور انداز فکر میں جدید شاعری کی پیش رو ہیں۔  (۷)

۱۸۹۲ء تک رومانیت اور موضوعیت کے علم بردار ایک ایک کر کے اس جہاں سے کوچ کر چکے تھے اور بیسویں صدی کی ابتداء میں امریکہ کی ادبی زندگی میں ایسا خلا پیدا ہو گیا تھا جس کو پُر کرنے کے لیے نیچریت (Naturalism) کی ادبی تحریک وجود میں آئی جس کی جڑیں علاقائیت اور حقیقت نگاری میں تھیں لیکن جس کی آبیاری، ارتقائی سائنس، ابتدائی علم نفسیات اور صنعتی نظام کے نظریات سے ہوئی۔  اس تحریک پر ہم عصر فرانسیسی، روسی اور جرمن ادب کا عمومی اثر پڑا۔  نیچریت کی تنقیدی اصطلاح کا اطلاق ان ادبی تخلیقات پر ہوتا ہے جن میں جبلی یا فطری انسان کو سائنسی معروضیت سے پیش کیا گیا ہو۔  حقیقت پسندی کے معاملے میں یہ زیادہ محتوی ہے اور فلسفے کے اعتبار سے عقیدۂ جبر سے وابستہ ہے۔  عقیدۂ جبر قنوطیت پسند ہے اور اس میں ایمان رکھنے والا ادیب قنوطی ہوتا ہے جو انسان کو حیوان سے بالا تر نہیں سمجھتا اور اس کے حوصلوں اور امنگوں کی اس کے نزدیک کوئی اہمیت نہیں ہے۔  ڈارون کے حیاتیاتی ارتقا اور مارکس کے فلسفہ اقتصادیات کا اس تحریک پر گہرا اثر پڑا۔  نیچریت انسان کا غیر رومانی تصور پیش کرتی ہے اور حقیقت کے کریہہ اور سنگدلانہ پہلو پر روشنی ڈال کرا نسان کی مجبوری اور شکست خوردگی پر زور دیتی ہے۔  نیچریت نے بالواسطہ سماجی اصلاح کو بھی فروغ دیا۔  کیوں کہ اس نے انسان کو رومانیت اور مصنوعیت کی کہر آلود فضا سے نکال کر حیاتیاتی، معاشی اور سماجی حدود میں اس طرح لا کھڑا کیا جیسا کہ وہ واقعتاً تھا۔

ہملن گارلینڈ (Hamlin Garland) نیچریت کے پہلے مفسر تھے۔  حالانکہ انہوں نے اپنی طرز تحریر کو کبھی نیچریت کا نام نہیں دیا بلکہ اس کو Veritism (راست گوئی) کہتے تھے۔  ۱۸۹۱ء میں انہوں نے ’’ خصوصی شاہراہیں ‘‘ (Main Travelled Roads) شائع کیا جس میں مغربی سرحد کے کسانوں کی سخت اور المناک زندگی کا نہایت دردناک چربہ پیش کیا گیا تھا۔  اسی موضوع کو انہوں نے ’’درمیانی سرحد کے بیٹے ‘‘ (A Son of Middle Border) میں دہرایا۔  اس کے ادبی مقصد کی وضاحت انہوں نے ’’شکستہ اصنام‘‘ میں کی تھی۔  اس طرح امریکی افسانوی ادب حقیقت نگاری کی ایسی سطح پر آ گیا جہاں ادب زندگی کا مطالعہ بھی تھا اور نئی ادبی طرز تحریر بھی۔

ان کے علاوہ تین ناول نگار اور تھے جن کی تخلیقات میں حقیقت نگاری اور نیچریت کی حدیں مل جاتی ہیں۔  ان کے نام فرینک نورس (Frank Norris) اسٹیفن کرین اور جیک لنڈن ہیں۔  یہ لوگ غیر معمولی ادبی صلاحیت کے مالک تھے اور انہوں نے نہایت کارگر اور فکر انگیز ناول اور کہانیاں لکھی ہیں۔  لیکن کم عمر میں انتقال ہو جانے کی وجہ سے نیچریت کو بہ طور فن یہ لوگ پوری طرح بروئے کار نہ لاسکے اور ان کو وہ کامیابی حاصل نہ ہوسکی جس کی ان کو توقع تھی۔  ’’امریکی خواب‘‘ میں انسان کی عظمت پر زور تھا اور بہت سی امیدیں وابستہ تھیں۔  یہ خواب آسانی سے ٹوٹنے والا نہ تھا۔  اس لیے نیچریت کو جس میں انسان اپنی حیاتیاتی اور معاشرتی حد بندیوں میں مقید تھا شبہ کی نظر سے دیکھا گیا اور اس کے ادب کے خلاف احتجاج کیا گیا۔  فرینک نورس ناول میں بڑے معرکوں کے قائل تھے اور اقتصادی جبریت نے ان کو ایسے ناولوں کا مواد فراہم کیا جس کے بیان میں رزمیہ جیسا انداز پیدا ہو گیا ہے۔  ان کے پہلے ناول ’’میکٹیگ‘‘ (Macteague) کی اشاعت کے بعد برہمی کی لہر ادبی حلقوں میں دوڑ گئی کیوں کہ اس میں انہوں نے گندی بستی کے حالات اور اس کے بدنما پہلو کی عکاسی کی تھی۔  نورس کا شاہکار ’’آکٹوپس‘‘ ہے جو ’’جو گندم کے رزمیہ‘‘ کا پہلا حصہ ہے اور جو گندم کی کاشت کرنے والوں اور جنوبی ریلوے کے مالکوں کی باہمی کش مکش کا المیہ ہے۔  گندم قوتِ نمو کی علامت ہے اور ریلوے غیر خلقی قوت کی نمائندہ ہے۔  جو قوت حیات کی تباہی پر تلی ہوئی ہے۔  دوسرا ناول ’’خندق‘‘ شکاگو کی گیہوں کی منڈی کے سٹہ باز اور اس کی حسین بیوی کی داستان ہے۔

اسٹیفن کرین کا پہلا ناول ’’میگی‘‘ (Maggie) ہے جس کی ہیروئن حالات سے مجبور ہو کر عصمت فروشی کرتی ہے اور دردناک موت مر جاتی ہے۔  لیکن دراصل یہ ناول سماجی حالات کا مطالعہ ہے جس کے ہاتھوں میں انسان کٹھ پتلی کی طرح بے بس ہے اور جن کی تاریک قوت کے سامنے انسان کا ارادہ کمزور اور غیر اہم ہے ’’تمغۂ احمرین‘‘ (Red Badge of Courage) اتحادی سپاہی کی جاں بازی اور اس کے تجربات و سانحات کا بیان ہے۔  واقعات کے سیدھے سادے بیان میں کرین کی اشاریت پوشیدہ ہے۔  ایک طرف جنگ کا سرخ آتش بار اور بے ترتیب ہنگامہ ہے اور دوسری طرف فطرت کا پرسکون حسن ہے جو رزم آرائی سے بے پروا الگ اپنا وجود رکھتا ہے۔  کرین تاثراتی مصوری (Impressionism) اور اس کے چمک دار رنگوں سے واقف تھے۔  ان کی لفظی مصوری بھی بہت حد تک تاثراتی ہے۔  ان کی مشہور کہانی ’’کھلی کشتی‘‘ (Open Boat) کا شمار کلاسیکی ادب میں ہوتا ہے جو خود اصل واقعہ پر مبنی ہے۔  یہ درست ہے کہ کرین نے گندی بستی، عصمت فروشی الکحلیت اور دیگر ناخوشگوار موضوعات پر لکھا۔  ان کے اسٹائل کی امیجری، اشاریت اور اسطوری خصوصیات آیندہ آنے والے امریکی افسانوی ادب کی پیشن گوئی کرتے ہیں۔  خصوصاً ہمینگوے پر ان کا گہرا اثر پڑا۔

  جیک لنڈن (Jack London) کا شمار نیچریت پسندوں میں ہوتا ہے۔  حالانکہ وہ خود کو نطشے کا پیر و مادہ پرست کہتے تھے۔  انہوں نے نطشے ، اسپنسر، (Spencer) برگساں اور مارکس کا مطالعہ کیا تھا۔  انہوں نے فطرت کے بے رحم اور مخاصمانہ پہلو کو تصوراتی نقطہ نظر سے پیش کیا۔  ان کے ناولوں اور کہانیوں کے پس منظر غیر معمولی اور اکثر عجیب و غریب ہیں۔  مارکس کے مطالعہ سے وہ سماجی اصلاح کی طرف متوجہ ہوئے اور اقتصادی جبریت کے قائل ہوئے نطشے اور مارکس کے نقطۂ ہائے نظر ایک دوسرے کی ضد ہیں لیکن لنڈن کی تخلیقات انہیں دونوں مخالف سروں کے گرد گھومتی نظر آتی ہیں۔  ان کا ناول ’’صحرا کی پکار‘‘ (Call of the wild) ۱۹۰۳ء میں شائع ہو کر بہت مقبول ہوا۔  اس کا ایک ہیروبک نام کا کتا ہے جس کا انسانی تہذیب سے کوئی تعلق نہیں اور جو اپنی فطری اور جبلی قوت کے سہارے زندہ رہتا ہے۔  وہ کئی مالکوں کے ہاتھ بکتا ہے۔  اپنے آخری مالک کو موت سے بچاتا ہے اور اس کے انتقال پر بالآخر جنگلی بھیڑیوں کے گروہ میں شامل ہو جاتا ہے۔  ان کا ناول بحری بھیڑیا (Seawolf) ۱۹۰۴ء میں ہمفرے وان ویڈن کے بحری سفر کی داستان ہے۔  ’’کھیل‘‘ (The Game) ۱۹۰۵ء میں ’’ایک مکے باز‘‘ اور ’’سفید زہریلے دانت‘‘ ۱۹۰۶ء میں ’’صحرا کی پکار‘‘ کی طرح کتے کی کہانی ہے۔ ’’مارٹن ایڈن‘‘ (Martin Eaden) خو نوشت سوانح نگارانہ ناول ہے۔  ان ناولوں پر نطشے کا گہرا اثر ہے۔  لنڈن نے اپنی اشتراکیت پسندی کا اظہار اپنے ناول ’’فولادی ایڑی‘‘ (The Iron Heel) ۱۹۰۷ء میں کیا ہے۔

  انیسویں صدی کی آخری دہائی اور بیسویں صد ی کی ابتدا کے شاعروں میں دو نام قابل ذکر ہیں۔  ولیم وان موڈی (William Vaughn Moody) نے انیسویں صدی کی شاعری کے مروجہ سانچوں کو توڑ نے میں مدد دی۔  ان کی نظم (Gloucester Moors) میں سماجی مسائل کا بیان ہے۔  ڈارون کے نظریات سے جو ذہنی الجھن پیدا ہوئی اس کو ہلکے مزاحیہ انداز میں انہوں نے اپنی مشہور نظم ’’منیجری (The Menagerie) میں بیان کیا ہے اور انہوں نے اپنی شاعری میں اسطور اور علم الانسان کا بھی استعمال کیا ہے جس کی مثال ان کی نظم Thammuzہے۔  An ode in time of Hesitation ان کی اعلی طنز نگاری کا نمونہ ہے۔  موڈی نے قدیم قہار خدا کے تصور کی مخالفت کی اور یہ بھی ثابت کیا کہ فطری معصیت کا نظریہ جدید انسان کی شخصیت اور علم سے میل نہیں کھاتا۔  ایڈوین ارلنگٹن رابنسن (Edwin Arlington Robinson) کی شاعری کا ’’ٹلبری ٹاون‘‘ ان کے لئے ایک چھوٹی سی کائنات تھا جہاں زندگی کے تجربات کا نچوڑ موجود تھا۔  ان کی مختصر نظموں میں ٹلبری قصبے کی ناکامیوں اور محرومیوں کو نہایت اختصار کے ساتھ ڈرامائی خود کلامی میں بیان کیا گیا ہے۔  ان کی نظموں کی حقیقت نگاری اور ان کا نقطۂ نظر سائنسی ہے۔  ان نظموں سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اس دنیا میں غم ایک ٹھوس حقیقت ہے اور خوشی محض ایک آرزو ہے۔  ان کی علاقائیت میں عالم گیر سچائیوں کا اظہار ہوا ہے جو جغرافیائی حدود سے بالا تر ہیں ان کے کرداروں کا تجزیہ ناز ک اور باریک بین ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اپنے دور کے مفسر ہی نہیں تھے بلکہ اپنے زمانے کے سائنسی طرز فکر کے ادا شناس بھی تھے۔  (۸)

نیچریت کی تحریک نے جس سائنسی انداز فکر اور طرز بیان کو رائج کیا وہ کم و بیش نصف بیسویں صدی کے ادب کی امتیازی خصوصیت ثابت ہوئی۔  گارلینڈ، کرین اور نورس وغیرہ نے ناول اور موڈی اور رابنسن نے امریکی شاعری کو نئی جہت سے آشنا کیا۔  ناول نگاروں میں ایک مکتب خیال ذاتی مسائل پر لکھنے والوں کا تھا۔  ان لوگوں نے ہنری جیمس کی تقلید کی پو اور ہاتھورن کے نفسیاتی افسانوی ادب کی روایات کو زندہ رکھا اور خارجی واقعات کی بجائے اپنے کرداروں کی داخلی دنیا اور اس کے ہیجان اور کش مکش کی عکاسی پر زور دیا۔  اس قسم کے ناول نگاروں میں تین خواتین ایڈتھ و ہارٹن، امین گلاسگو اور ولاکیتھر قابل ذکر ہیں۔  ایڈتھ و ہارٹن (Edith wharton) نے ہنری جیمس کی طرح جن کی وہ دوست اور مداح تھیں اپنی کہانیوں کی بنیاد فرد کی اخلاقی جرأت اور حوصلے پر رکھی خواہ وہ ’’شادمانی کا گھر‘‘ (house of Mirth) ( ۱۹۰۵ء) کی للی بارٹ ہوں جنہوں نے غیر رسمی طرز عمل سے زندگی میں خوشی کی تلاش کی یا عہد معصومیت The age of Innocence) ۱۹۲۰ء) کے نیولینڈ ارچر ہوں۔  عالمی جنگ کے بارے میں ان کے زمانے کا مقبول ناول ’’محاذ پر ایک بیٹا‘‘ (A Son At The Front) ہے۔  جس میں ملا جلا سیاسی اور سائنسی انداز فکر ہے۔

 ایلن گلاسگو (Ellen Glasgow) کے ناولوں کی واقعات کی بنیاد معاشرتی تبدیلیوں اور درمیانی طبقے کے لوگوں کی جدو جہد پر ہے۔  ان کے دو پسندیدہ موضوعات ہیں۔  امریکہ کی نئی عورت کا تصور اور تغیر پذیر ’’جنوب‘‘ جس میں شجر کاری کے اقتصادی زوال کے ساتھ امیرانہ طرز زندگی کا خاتمہ ہو گیا تھا۔  ان کے ناولوں کا ’’جنوب‘‘ بنجر اور اجاڑ علاقہ ہے۔  ان کے ناولوں میں قابل ذکر ’’اُجڑی دھرتی‘‘ (Barren Ground ۱۹۲۵ء) ’’ورجینیا‘‘ (۱۹۱۳ء) زندگی اور گبریلا ( ۱۹۱۶ء) ’’فولاد کی رگ (Vein of Iron) ‘‘ ( ۱۹۳۵ء) ہیں ولاکیتھر (Willa-Cather) کے ناولوں کے سربرآوردہ لوگ وہ مہاجر ہیں جو بیرون ملک سے آ کر نبراسکا کے گیا ہستان میں آباد ہوئے تھے۔  یہ لوگ یورپی ثقافت کی روایتیں اور ہنر و لیاقت ساتھ لائے تھے اور تعمیر ملک میں لگے ہوئے تھے۔  ایڈتھ وہارٹن کی طرح وہ بھی ہنری جیمس سے متاثر تھیں اور ان کی سی ہی نفاست اور شائستہ بیانی سے کام لیتی تھیں ، جیمس نے عالمی صورتحال کے ناولوں میں امریکی لوگوں کو یورپ کے پس منظر میں پیش کیا تھا۔  ولاکیتھر نے یورپ کے لوگوں کو امریکی سرحدی زندگی کی جد و جہد میں دکھایا ہے۔  اور یہ ہی ان کی فن کارانہ جدت ہے۔  ان کے تین ناول O Pioneers ( ۱۹۱۳ء) The Sons of the lark ( ۱۹۱۵ء) اور My Antonia ( ۱۹ ۱۸ء) نبراسکا کی سرحدی زندگی کے بارے میں ہیں۔  انہوں نے تاریخ کا بھی باقاعدہ استعمال تین ناولوں میں کیا ہے۔

 بیسویں صدی میں سماجی تبدیلیاں پیدا ہو رہی تھیں اور نئی سماجی الجھنیں اور نئے مسال پیدا ہو رہے تھے۔  جو حقیقت نگارانہ بیان چاہتے تھے۔  اس کمی کو پورا کرنے والے سنکلیرلیوس (Sinclair Lewis) تھے جنہوں نے نہایت سردمہری سے ہم عصر امریکی زندگی کو دیکھا اور اس کی ابتری کو طنز کا نشانہ بنایا۔  لیوس کی سماجی تنقید میں فن کارانہ خلوص اور سچائی ہے۔  انہوں نے ولا کیتھر کی طرح ماضی میں پناہ نہیں لی بلکہ اپنے زمانے کی ابتری سے اعلان جنگ کیا اور کسی قسم کی مفاہمت پر رضا مند نہیں ہوئے۔  انہوں نے اپنے طنز کا مرکز ریاکاری، مادیت، قصباتی زندگی کی یکسانیت، تعصب، عامیانہ پن اور تنگ نظری کو بنایا ہے۔  ۱۹۲۰ء میں مادیت (Babbitt) ، ۱۹۲۲ء میں قصباتی زندگی (Arrowsmith) ، ۱۹۲۵ء میں طبابت (Elmer Gantry) ، ۱۹۲۷ء میں مذہب Dodsworth ۱۹۲۹، میں تجارت، ۱۹۳۳ء میں سماجی، ۱۹۴۵ء میں شادی اور King Blood Royal ۱۹۴۷ء میں نیگرو مسائل ان کے اہم موضوعات ہیں۔  اسی طرح منظم انسان دوستی، تھیٹر اور It Can’t happen Here ۱۹۳۵ء میں فاشزم ان کے طنز کے موضوعات ہیں۔

بیسویں صدی کے ابتدائی برسوں میں نیچریت کی آب و تاب عارضی طور سے ماند پڑ گئی تھی لیکن اس تحریک میں بڑی جان تھی اور اسے دوبارہ زندہ ہونا تھا۔  اس ثقافتی ضرورت کو تھیوڈورڈرائزر (Theodore Dreiser) نے پورا کیا۔  ’’بہن کیری‘‘ (Sister Carrie ۱۹۰۰ء) ان کا پہلا ناول ہے۔  ڈرائزر  کا مرکزی موضوع امریکی سماج کے امیرو غریب سوفسطائی اور کمزور طبقوں کا فرق اور تضاد تھا۔  سماجی قوانین صرف ایک خاص طبقے کے مفاد میں تھے جو دوسرے طبقوں کا استحصال کر رہا تھا۔  ڈرائزر کے خیال کے مطابق اس استحصال کو اشتراکیت اور سماجی اصلاح کے ذریعہ ختم کیا جا سکتا تھا۔  ’’بہن کیری‘‘ کی طرح ان کا دوسرا ناول ’’جینی گرہارڈ‘‘ (۱۹۱۱ء) ان کی دو بہنوں کی زندگیوں کے واقعات پر مبنی ہے جنہوں نے خاندان کی حدود سے نکل کر قسمت آزمائی کی اور دونوں کو صدمات اٹھانے پڑے۔  ان کا نمائندہ ناول اور ان کا شاہکار ’’امریکن المیہ‘‘ (American Tragedy) ۱۹۲۵ء ہے۔  ’’امریکن المیہ‘‘ ایک امر واقعہ پر مبنی ہے جس کے مقدمے کی مفصل رپورٹ اخباروں میں شائع ہوئی تھی۔  ناول کا ہیرو کلائڈ پہلے رابرٹا سے جنسی تعلقات پیدا کرتا ہے۔  اسے حاملہ پاکر وہ اپنی شادی اور ترقی میں حائل سمجھتا ہے اور اسے ایک جھیل میں ڈبو کر مار ڈالتا ہے۔  اسے موت کی سزا سنائی جاتی ہے اور موت کا انتظار کرتے ہوئے اسے اپنے اخلاقی جرم کا احساس ہوتا ہے۔  اس ناول میں دوستووسکی کے ناول ’’جرم و سزا‘‘ کی طرح انسانی ذمہ داری کا مسئلہ پیش کیا گیا۔  مجرم کون ہے وہ فرد جو جبلی خواہشات کے ہاتھوں میں بے بس ہے یا وہ سماج جس کے سماجی ماحول سے ارتکاب جرم کی تحریک ہوتی ہے۔  اس تضاد کا المیہ پورے امریکی سماج کا المیہ بن جاتا ہے۔  جس کا بیان ڈرائزر نے اپنی پوری فن کارانہ صلاحیتوں کے ساتھ کیا ہے۔  (۹)

افسانوی ادب کی طرح شاعری کو بھی نیچریت کی تحریک نے متاثر کیا مصنوعی اور نفاست پسند شعری بندش کو ترک کر مقامی بولی، اس کے محاورے اور آہنگ کو بروئے کار لا کر علاقائی خصوصیت کی حقیقت پسندانہ ترجمانی کی گئی۔  اس قسم کی شاعری نئی شاعری قرار دی گئی اور اس کی نشر و اشاعت میں چھوٹے رسالوں خصوصاً ہیریٹ مزو کے قائم کردہ میگزین ’’پوئٹری‘‘ (Poetry) نے اہم رول ادا کیا اور ہر قسم کی تجرباتی شاعری کو اپنے صفحات میں جگہ دی۔

 ان شاعروں میں ویچل لنڈ سے (Vachel Lindsay) امریکہ کے مغرب اور جنوب مغرب میں اپنے گیت بیچتے پھرتے تھے اور ان کو گیت برائے روٹی کہا کرتے تھے۔  لوگ ان کے گیت کو گیتوں کی دھنوں میں گایا کرتے تھے۔  ان کے شعری مجموعے ’’کانگو اینڈ آرتھ پوئمس ‘‘ (The Congo & Orther Poems ۱۹۱۴ء) میں گیاہستانی آہنگ، شہروں کا شور و غل اور افریقی جنگلوں کی بازگشت سنائی پڑتی تھی جو وہ جاز Jazzموسیقی کے ساتھ سناتے تھے۔  ان کی شاعری کی بنیاد لوک کتھاؤں پر تھی۔  اور انکاسب سے اہم موضوع امریکہ تھا۔  ایڈگر لی ماسٹرس (Edgar Lee Masters) کی شہرت کا دارومدار ان کے مجموعۂ کلام (Spoon River Anthologyسپون ریور اینتھولوجی) ( ۱۹۱۵ء) پر ہے۔  یہ چھوٹی چھوٹی نظمیں طنزیہ انداز میں لکھی گئی ہیں جو اپنے نفس مضمون کے اعتبار سے نئی ہیں۔  ان میں قصباتی زندگی کی ریاکاری سطحی شرافت، جنسی بے راہ روی اور مایوسی کو بے نقاب کیا گیا ہے۔  کارل سنڈ برگ (Carl Sandburg) نے امریکی لوک کتھاؤں کی میراث کو اپنایا۔  ان کی شاعرانہ صلاحیتوں کا اعتراف ان کی نظموں کے مجموعے Chicago Poems ( ۱۹۱۶ء) سے ہوا جس پر انکو پولیٹزر انعام ملا لیکن اس کے خلاف مباحثے کا طوفان بھی اٹھ کھڑا ہوا۔  بعض لوگوں نے اس کو شاعر ماننے سے انکار کیا۔  اس مجموعے کی بیشتر نظمیں روایتی شاعری کے برعکس ہیں اور ان میں شکاگو شہر کی کھردری، بھدی اور بے رحم زندگی کی عکاسی کی گئی ہے۔  اس کے بعد انہوں نے گیاہستانی زندگی کے تجربات کو اپنی شاعری کے دامن میں سمیٹا اور Slabs of the sunburnt westکے عنوان سے ۱۹۲۲ء میں شائع کیا۔  انہوں نے ہر نسل کے لوگوں کے لوک گیت اور غنائیہ نظمیں Ballads جمع کیں اور انہیں شائع کیا۔  The Peopleان کا آخری شعری مجموعہ ہے جس میں انہوں نے امریکی جمہوریت کو شاندار خراج عقیدت پیش کیا ہے جس کا موضوع یہ ہے کہ امریکی عوام اپنی کوتاہیوں اور کمزوریوں کے باوجود زندہ اور پائندہ رہیں گے۔

یہ تینوں شعرا شکاگو شعرا کے نام سے مشہور ہیں۔  رابرٹ فراسٹ (Robert Frost) نے امریکی شاعری کی روایت میں رہ کر علاقائی موضوعات اور زبان و بیان میں نئے تجربے کیے اور امریکی شاعری کو نئی جہت سے آشنا کیا۔  فارم پر خود کام کرتے ہوئے انہوں نے نیو انگلینڈ کے کسانوں کی زندگی کا بغور مطالعہ کیا تھا۔  ان کی شاعری کی اپیل عالم گیر ہے کیوں کہ اس میں علاقائی جزئیات کی سطح کے نیچے لازوال سچائیاں ہیں۔  جو رنگ و نسل اور جغرافیہ کی حدود سے بالا تر ہیں۔  ان کا خیال تھا کہ شاعری مسرت سے شروع ہوتی ہے اور بصیرت پر ختم ہوتی ہے۔  فراسٹ کی ظاہری سادگی سے اکثر پڑھنے والے اس کی معنوی گہرائی کو نظر انداز کر جاتے ہیں۔  فراسٹ کی شاعری میں پیکر اور استعالے طنز کامحور ہیں جن کے ذریعہ وہ کائناتی اور انسانی حقوق کا ادراک و بیان کرتے ہیں۔  ان کی شاعرانہ توجہ کا مرکز انسان اور اس کے دل و دماغ یا اس کے ماحول میں چھپی ہوئی سچائیاں ہیں جن کا وہ انکشاف کرتے ہیں۔  چونکہ فراسٹ نے امریکی دیہات سے اپنی شاعری کا مواد حاصل کیا ہے۔  یا ان کا ادبی طرز عمل ہے جس سے وہ جدید انسان کی برگشتگی، بیگانگی اور تنہائی کا اظہار کرتے ہیں۔  مثال کے طور پر ان کی نظمیں An Old Man’s Winter Night, The Black Cottage Snow, A Servant to Servants وغیرہ انسانی صورت حال کی بنیادی تنہائی اور المناکی کا اظہار ہیں فطرت کی طرف فراسٹ کا رویہ غیر رومانی ہے اور وہ ان معنوں میں ورڈز ورتھ کی ضد ہیں۔  علاقائیت سے فراسٹ نے نیچریت کی تحریک کو فروغ دیا لیکن وہ جبریت کے قائل نہیں تھے۔  اس کے برعکس وہ انسان کی اولو العزمی اور خاموش شجاعت کا اظہار کرتے ہیں۔  ان کاکہنا تھا کہ دنیا سے ان کا جھگڑا عاشق و معشوق کا سا ہے اور اس دنیا سے بہتر نہ کوئی اور جگہ رہنے کی ہے اور نہ اس زندگی سے زیادہ خوشگوار کوئی زندگی ہے۔  بیسویں صدی میں کسی ایک ادبی تحریک کو مرکزی حیثیت نہیں دی جا سکتی ایک طرف ایسے شعرا تھے جنہوں نے پیکر نگاری اور فرانسیسی اشاریت کی تحریک سے استفادہ کیا اور اپنے عالمانہ تبحر سے ایسی دقیق شاعری کی تخلیق کی جس کو سمجھنے والے بہت کم لوگ تھے۔

اس قسم کے شاعر ایزرا پاؤنڈ (Ezra pound) اور ٹی۔  ایس۔  ایلیٹ (T.S. Eliot) تھے جو نقاد بھی تھے اور جن کی تنقید نے ادب پر گہرا اثر ڈالا۔  بہ حیثیت شاعر پاونڈ کا اولین کام انگریزی زبان کو عمومیت سے پاک کرنا تھا۔  اس کام میں اکثر انہوں نے اپنے متعلق اور دوراز کا ر تبحر علمی سے کام لیا ہے۔  ان کا کہنا تھا کہ ان کے کینٹورز (Cantos) کا موضوع ماضی سے متعلق زمانۂ حال ہے۔  Presentness of the Pastجس کا مطلب یہ تھا کہ شاعر کو ماضی کے ادب کی مدد سے نئی شاعری کی تخلیق کرنا چاہئے۔  دوسرے معاملات کی طرح، اس معاملے میں ان کے ممتاز ہم عصر شاعر ایلیٹ ان سے متفق تھے۔  پاونڈ کی شاعرانہ شہرت میں گھن لگنے کی وجہ ان کی سیاسی سرگرمی تھی جس کو ان کے ہم وطنوں نے معاف نہیں کیا۔  اکثر ان کو خبطی یا پاگل تصور کرتے تھے اور کینٹوز کی مشکل پسندی کو ان کی ذہنی الجھن سے منسوب کرتے تھے۔  اس میں یونانی، لاطینی، اطالوی، فرانسیسی، پراونسل، چینی اور جاپانی زبانوں کے حوالے اور اقتباسات ہیں جو عام قاری کے لئے ناقابل فہم ہیں۔  پاؤنڈ کی عدم مقبولیت کی دوسری وجہ سرمایہ داری کے خلاف ان کا جارحانہ رد عمل تھا۔  ان کے خیال کے مطابق سود (Usury) اور اس کے لوازم سرمایہ کاری بنک اور اقتصادیات سماج کی ابتری کی بنیاد ہیں۔  دنیا کی تاریخ شاہد ہے کہ تہذیب اور ثقافت پر زوال سود خور اقتصادیات سے آیا۔  ان کا یہ نظریہ امریکہ اور انگلینڈ میں نہایت ناپسندیدگی سے دیکھا گیا کیوں کہ ان ممالک کے سماج کی بنیاد سرمایہ داری پر ہے۔  لیکن یہ کہنا غلط ہو گا کہ پاؤنڈ کی شاعری فنی حسن سے یکسر خالی ہے۔  کینٹوز میں جوان کی سب سے دقیق نظم ہے ہمیں ایسے ٹکڑے ملتے ہیں جن میں غزلیہ شاعری کا لا زوال حسن اور لطافت ہے اور ایسے حصے بھی ہیں جن میں پاونڈ کی لطیف بذلہ سنجی نمایاں ہے۔

 ٹی۔  ایس۔  ایلیٹ کے پہلے مجموعے Prufrock & Ohter Observations میں ریاست اور مذہب کے انحطاط سے پیدا ہونے والے انسانی کردار کی کمزوری پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔  یہ خیال دوسرے مجموعے میں بھی دہرایا گیا ہے۔  مضامین کے پہلے مجموعے The Sacred Wood ۱۹۲۰ء میں ایلیٹ نے تنقیدی شعور کا بنیاد ی مسئلہ پیش کیا ہے کہ روایت اور انفرادی ذہنی استعداد میں کیا رشتہ ہے۔  حال کا ماضی اور ماضی کا حال اور مستقبل سے کیا رابطہ ہے۔  شاعر کا تخلیق سے پہلے اور اس کے بعد نظم سے کیا رشتہ ہے یہ مسائل تنقید کے علاوہ ان کی شاعری کے موضوعات بھی ہیں۔  ایلیٹ کو نظام کائنات میں حسن تربیت اور انضباط کی تلاش تھی انہوں نے اعلان کیا کہ سیاست میں وہ شاہ پرست، ادب میں کلاسیکیت پسند اور مذہب میں اینگلو کیتھولک ہیں کیونکہ ان تنیوں اداروں میں ان کو استحکام نظر آیا۔  ایلیٹ قدامت پسند اور رجعت پرست تھے حالاں کہ آخری زمانے میں ان کی قدامت پرستی میں سخت گیری باقی نہیں رہی۔  ایلیٹ کی شاعری کا مزاج اور طریقۂ کار فرانسیسی اشاریت پسند شعرا اور سترہویں صدی کے ما بعد الطبیعیاتی شعرا سے متاثر ہے۔  The Love Song of Prufrock کا مدعا (Motif) انسانی نا اہلیت اور بے بسی ہے جو دوسری نظموں میں بھی دہرایا گیا۔  ’’ویرانہ‘‘ (The Wasteland) میں مغربی تہذیب کی ناکامی اور اس کے بکھرے ہوئے شیرازے کا بیان ہے۔  نظم کی بنیاد میں چاروں عناصر خاک، باد، آتش اور آب ہیں اور پیش منظر زر خیزی اور افزائش کے اساطیر ہیں جو نظم کے مختلف حصوں میں باہمی رابطہ قائم کرتے ہیں اور واردات، محبت اور موت کے موضوعات کو دہراتے ہیں۔  Four Quartets ( ۱۹۴۳ء) میں عیسائی اعتقاد کی بنیادوں پر فلسفیانہ سطح پر بحث ہے۔  وقت کی نوعیت، تاریخ کا مفہوم و اہمیت، مذہبی نفسیات اور تجربات کی ماہیت اس کے موضوعات ہیں مذہبی عقائد کی وضاحت دوسری نظموں اور شعری ڈرامہ Murder in the Cathedralمیں بھی کی گئی ہے۔  ان کے دوسرے شعری ڈرامے تجرباتی ہیں۔  ایلیٹ کم از کم ذہنی طور پر قدامت پرست تھے اور جمہوریت کے خلاف تھے لیکن انہوں نے پہلی عالمی جنگ کے بعد کے بحران کی نمائندگی کی ہے اور اس مایوس اور کھوکھلے انسان کی ترجمانی کی ہے جو جنگ کے بعد زندگی کی تاریک شاہراہوں پر ہراساں اور تنہا کھڑا تھا۔

امریکی ادیبوں کی وہ نسل جو انیسویں صدی کی آخری دہائی میں پیدا ہوئی تھی ایسے زمانے میں جوان ہوئی جب امریکہ اپنی صنعتی ترقی اور وسائل کی بنا پر ایک عالم گیر قوت بن چکا تھا۔  جہاں ہر شخص کی مالی خوش حالی اور کامیابی یقینی سمجھی جاتی تھی۔  اس لیے جب پہلی عالمی جنگ شروع ہوئی تو اس نسل کے لوگ جمہوریت کی بقا کے لیے اس جنگ میں کود پڑے کیوں کہ وہ سمجھتے تھے کہ یہ جنگ انسانی آزادی کی جنگ ہے لیکن جنگ ختم ہونے کے بعد جب یہ واپس وطن پہنچے تو انہیں یہ دیکھ کر حیرت ہوئی کہ وہاں فی الواقعہ جنگ کی صعوبتیں نہیں تھیں بلکہ امریکہ نے جنگی صنعتوں سے بہت نفع کمایا تھا۔  اور جنگ ان کے لیے باعث برکت ثابت ہوئی تھی۔  انہوں نے محسوس کیا کہ انسانی آزادی کے تمام نعرے کھوکھلے تھے۔  اس لیے وہ اپنی میراث سے منحرف ہو گئے اور ان تمام قدروں کا شیرازہ بکھر گیا جن کے لیے انہوں نے جان کی بازی لگا دی تھی۔  یہ لوگ بغاوت پر آمادہ ہو گئے اور اس بغاوت کی ابتدا اخلاق اور فن میں راست گوئی سے ہوئی۔  یہ لوگ پیرس میں تارک وطن ہو کر دریائے سین کے بائیں کنارے پر سکونت پذیر ہوئے جہاں وہ اپنے مایوس جسم و ذہن کی تسکین کے لیے کثرت سے شراب پیتے تھے اور اکثر غیر روایتی اور بے قاعدہ زندگی گزارتے تھے۔  جس میں جنسی بے راہ روی بھی شامل تھی۔  گرٹروڈاسٹین Gertrude Steinنے اس نسل کو ہزیمت خوردہ یا مایوس نسل کا لقب دیا۔  وہ خود کو اس نسل میں شامل نہیں سمجھتی تھیں حالانکہ وہ بھی ایک طرح کی باغی تھیں انہوں نے افسانوی ادب کی مروجہ طرز تحریر سے بغاوت کی تھی۔  اس نسل کی بغاوت کی ابتدا حقیقتاً ایف اسکاف فٹزجیرالڈ (F. Scott Fitzgerald) کے ناول ’’جنت کے اس طرف‘‘ (This Side of Paradise) ( ۱۹۲۰ء) سے ہوئی جو نیم خود نوشت سوانح حیات ہے اور جو پرنسٹن یونیورسٹی کے ایک نوجوان طالب علم کی زندگی کا بیان ہے۔  محبت اور ادب کی کامرانیوں کے بعد وہ بھی عالمی جنگ سے دوچار ہوتا ہے اور تمام اخلاقی قدروں کی دیوار مسمار ہو جاتی ہے۔  ناول کے اختتام پر وہ اداس اور تنہا کھڑا نظر آتا ہے فٹزجیرالڈ نے اپنے دوسرے ناول ’’دی گریٹ گیٹسبی‘‘ (The great Gatsby) میں ایک شخص کی کہانی لکھی ہے جو دولت کمانے میں تو کامیاب رہتا ہے لیکن اس دولت سے اپنی کھوئی ہوئی محبت نہیں حاصل کر سکتا۔  زندگی میں خوشی اور اطمینان کا سرچشمہ دولت مندی نہیں ہے اور یہ موضوع ان کے ناول ’’ٹنڈرازدی نائٹ‘‘ اور ’’دی لاسٹ ٹائی کون‘‘ (The Last Tycoon) میں بھی دہرایا گیا ہے۔

جون ڈوس پیسوس (John Dos Passos) نے فرد کی مایوسی اور ہزیمت خوردگی کو امریکی سماج کی شکست بنا کر پیش کیا۔  اس سماج پر تباہی کے بادل منڈلا رہے تھے اور کسی وقت بھی اس کا تہذیبی ڈھانچہ ٹوٹ کر بکھر سکتا تھا۔  انہوں نے اپنے پہلے ناول تین سپاہی (Three Soldiers ۱۹۲۱ء) میں جنگ بہ حیثیت ایک منظم ادارے پر سخت تنقید کی اور اسے انسانیت کے خلاف جرم قرار دیا۔  ’’مین ہٹن ٹرانسفر ( ۱۹۲۵ء) میں نیویارک کی زندگی اور اس میں رہنے والے افراد کی بے دلی اور لامقصدیت کا اظہار ہوا ہے۔  اس طرح ان کا مشہور سہ المیہ ’’یو۔  ایس۔اے ‘‘ جدید صنعتی سماج کی ناکامی کی داستان ہے اور اخلاقی ابتری اور حرص کی عکاسی ہے۔  اس میں ہر شخص تباہی اور بربادی کا نشانہ بنتا ہے۔  ناول کے خاتمے پر ایک آوارہ گرد اور خانماں برباد شخص ایک ہوائی جہاز کو گزرتے ہوئے دیکھتا ہے جس میں دولت مند لوگ سوار ہیں اور اس خواب خرگوش میں مبتلا ہیں کہ وہ ایک عظیم ملک میں شاندار زندگی گزار رہے ہیں۔

ہزیمت خوردہ نسل کے سب سے اہم اور نمائندہ ناول نگار ارینسٹ ہمینگوے (Ernest Hemingway) ہیں جن کے افسانوی ادب میں اس نسل کے فنی اور سماجی تصورات اپنے انتہائی عروج کو پہنچے اور جن کامرکزی خیال، جنگ اور اس کے تشدد، خون ریزی اور موت سے حاصل کیا گیا ہے۔  انہوں نے زبان کے معاملے میں بھی انقلابی تبدیلی پیدا کی جس نے اگلی نسلوں کے طرز بیان اور مکالمہ نویسی کو متاثر کیا۔  ان کی کہانیوں اور خاکوں کا مجموعہ ’’ہمارے دور میں ‘‘ کا امریکی ایڈیشن ۱۹۲۵ء میں شائع ہوا جس کی تمام کہانیاں تشدد اور خون ریزی کے واقعات سے پر ہیں۔  ان کہانیوں کا مرکزی کردار نک ایڈمس جنگ میں زخمی ہو کر اس نتیجے پر پہنچتا ہے کہ سماج سے اس کا کوئی تعلق نہیں اور وہ علاحدہ امن کا نظریہ اپناتا ہے۔  یہ نظریہ ان کے دو ناولوں ’’سورج بھی نکلتا ہے ‘‘ (The Sun Also Rises) اور ’’ہتھیاروں کو الوداع ‘‘ (Farewell to Arms) میں دہرایا گیا ہے۔  ’’سورج بھی نکلتا ہے ‘‘ ایک عالمی تارک وطن حلقے کے بارے میں ہے ان کی زندگی میں کوئی مقصد نہیں اور یہ اپنا وقت مے نوشی، مچھلی کے شکار، سانڈوں کی لڑائی اور آزادانہ جنسی تعلقات میں گزارتے ہیں لیکن اس ازالۂ سحر کی منزل سے پہلے ان لوگوں نے ’’ہتھیاروں کو الوداع‘‘ کے ہیرو ہنری کی طرح جنگ کی ناقابل بیان اذیتیں جھیلی تھیں۔  ہنری کو جنگ سے فرار ہونا پڑتا ہے اور اس کی محبوبہ بچے کی ولادت میں مر جاتی ہے اور وہ ایک اجنبی ملک میں تنہا رہ جاتا ہے۔  جہاں لاشوں کے سوا کچھ اور نہیں ہے۔  ان دونوں ناولوں میں ہمینگوے کی نیچریت اور جبریت صاف نمایاں ہے۔  زندگی ایک اندھی جدو جہد ہے جس میں بالآخر شکست انسان کو ہوتی ہے۔  ان کے ناول ’’امیر و نادار‘‘ میں ہیری مارگن یہ سبق سیکھتا ہے کہ انسان اپنی بقا کو تنہا قائم نہیں رکھ سکتا۔  اس نقطۂ نظر کا مکمل اظہار ان کے مشہور ناول ’’گھنٹیاں کس کے لئے بجتی ہیں ‘‘ (For Whom the Bell Tolls ۱۹۴۰ء) میں ہوا ہے۔  منظم سماج انسانی بقا کے لئے ضروری ہے اور انفرادی طور پر ہر شخص کو اپنی سماجی ذمہ داری پورا کرنا ہے۔  اس لیے ناول کا ہیرو رابرٹ جورڈن سماج سے بے تعلق نہیں ہے اور ہسپانیہ کی خانہ جنگی میں جمہوریت پسند طاقتوں کے ساتھ ہے جو رجعت پسندی کے خلاف صف آرا ہیں ہیمنگوے کا شاہکار ناول ’’بوڑھا انسان اور سمندر‘‘ (The Old Man and the Sea) ہے جس کا ہیرو سنٹیاگو اپنی بقا کے لیے فطرت سے برسرپیکار ہے۔  اس جدو جہد میں اسے ان قوتوں پر فتح ہوتی ہے جن کی تسخیر ممکن ہے۔  لیکن کچھ قوتیں ایسی بھی ہیں جو ناقابل تسخیر ہیں۔  جن کے خلاف وہ ممکن حد تک لڑتا ہے۔  وہ کہتا ہے کہ انسان ہلاک ہو سکتا ہے لیکن شکست نہیں کھا سکتا۔  ہیمنگوے کا یہ نقطۂ نظر اس مایوسی اور ہزیمت خوردگی کے مقابلے میں صحت مند ہے جو انہوں نے پہلے دو ناولوں میں پیش کیا تھا۔  (۱۰)

بیسویں صدی کے تین ناول نگار ایسے ہیں جن کا شمار مایوس یا ہزیمت خوردہ نسل میں نہیں ہوتا اور جن میں سے دو کو نوبل انعام ملا۔  ان کے نام ولیم فاکنر (William Faulkner) ٹامس وولف (Thomas Wolfe) اور جون اسٹائن بیک (John Steinbeck) ہیں۔  در اصل یہ تینوں ناول نگار انفرادیت پسند ہیں اور نسلی حافظے کی مدد سے حقیقت کی پیش کش ایک خود ساختہ تخیلی دنیا میں کرتے ہیں۔  جو حقیقی دنیا سے مختلف ہے۔  فاکنر نے ایک ایسا ہی اسطوری علاقہ اپنے ناولوں کے لیے تخلیق کیا جس کا نام انہوں نے ’’یوکنا پٹافا (Yoknapatawpha) رکھا۔  اس علاقے میں غلاموں کی محنت سے امرا کی خوشحالی قائم تھی۔  اپنے ناولوں میں امرا کا نام فاکنر نے Sartorisاور Compsonخاندان رکھے۔  خانہ جنگی میں امرا کی شکست کے بعد ان کا زوال شروع ہوا ان کو مات دینے والے سفید فام تجارتی اور مادہ پرست لوگ تھے۔  ’’دی ساؤنڈ اینڈ دی فیوری‘‘ کے بعد لکھے گئے ناولوں میں اشاریت کی بھی آمیزش ہے اور ان کے طرز بیان میں شعور کی رو کی تکنیک کا استعمال ہوا ہے۔  ان کا ناول ’’دی فیبل‘‘ ایک تمثیل ہے۔  فاکنر کی توجہ واقعات سے زیادہ کرداروں کے پیچیدہ ذہنی رد عمل پر ہے اور و ہ نفسیاتی ناول کی بھی نمائندگی کرتے ہیں۔  ان کے مشہور ناول The Sound and the furyکا ایک اہم حصہ واقعتاً ایک فاتر العقل کا بیان کیا ہوا ہے جو بظاہر بے معنی ہے۔  یہ ناول اور ’’لائٹ ان آگسٹ‘‘ صرف ایک دن کے واقعات پر مبنی ہے۔  لیکن ماضی کے واقعات حافظے اور یادداشت سے بیان ہوتے ہیں۔  غلامی کے خلاف اپنی طویل کہانی The Bearمیں وہ جنوبی خطہ’’ساؤتھ‘‘ کے زوال کی وجہ غلامی بتاتے ہیں جس کا ان کے نزدیک اخلاقی اور اقتصادی دونوں اعتبار سے کوئی جواز نہیں تھا۔

ٹامس وولف نے بھی امریکہ کے ایک علاقے کو اپنے ناولوں کا پس منظر بنایا یہ علاقہ شمالی کیرولینا کا تھا جس کے ایک شہر میں وہ خود پیدا ہوئے تھے اپنے ناولوں میں انہوں نے اس کا نام اولڈ کٹا با رکھا۔  اس اعتبار سے وولف علاقائی ناول نگار ہیں۔  انہوں نے اپنے پانچ ناولوں میں جن میں سے تین بعد مرگ شائع ہوئے۔  اپنی زندگی کے تجربات کا نفسیاتی تجزیہ کیا ہے وہ بے پناہ تخلیقی قوت کے مالک تھے اور ان کے ناولوں میں الفاظ کا آبشار امڈتا ہے اور یہ خصوصیت ان کی خوبی ہے اور خامی بھی۔  خامی ان معنوں میں کہ ان کے ناول بہت طویل ہو گئے ہیں۔  اپنے ناولوں کے ہیرو وولف خود تھے۔  ان کی اصل زندگی کی طرح ان کے ناول Look Homeward Angelکا ہیرو یوجین ایک سنگ تراش کے گھر پیدا ہوتا ہے۔  یوجین پہلے تعلیم کی غرض سے باہر نکلتا ہے اور بالآخر مصنف بننے کی خواہش میں گھر کو خیر باد کہتا ہے سب ناولوں میں زندگی کی تلخیوں سے فرار کی کوشش اور ’’گھر ‘‘ لوٹنے کی خواہش کا اظہار بار بار ہوا ہے۔

جون اسٹائن بیک نے اپنی توجہ کا مرکز وسطی کیلی فورنیا کی وادی سینیلاس کو بنایا اور یہ وادی اتنی ہی ا ن کے تخیل کی پیداوار ہے جتنے فاکنر کا یوکنا پٹافا اور وولف کا اولڈ کباڑا ہیں۔  وادی سینیلاس میں آباد ہونے والے لوگ میکسیکو سے آئے ہوئے کسان اٹلی سے آئے ہوئے ماہی گیر، بوہیمیا سے آئے ہوئے کاریگر اور فن کار ہیں انہیں لوگوں کی زندگی کا المیہ ان کی نسلی خصوصیات، ان کی جدو جہد، ان کی ناکامیاں اور مایوسیاں ، اسٹائن بیک کے ناولوں اور کہانیوں کے موضوعات ہیں۔  اسٹائن بیک سادہ، زرعی اور قدیم تہذیب کی سادگی کے دل دادہ تھے جو ایک طرح سے امریکی شہری معاشرے کے خلاف رد عمل تھا۔  اس لیے ان کے ہیرو بالعموم غریب، ناکام اور سماج کے ناموزوں اور ستائے ہوئے لوگ ہیں۔  ان کے ناول ’’چوہے اور انسان‘‘ (Of Mice and Man ۱۹۳۷ء) کی اشاعت کے بعد ان کی شہرت مستحکم ہو گئی۔  وہ مارکس کے سیاسی نظریات سے متاثر سمجھے جاتے تھے حالانکہ ان کا نقطۂ نظر کمیونسٹ پارٹی کے لیے قابل قبول نہیں تھا۔  In Dubious Battle ( ۱۹۳۶ء) میں سیب توڑ نے والے عارضی مزدوروں کی ہڑتال کی عکاسی کی گئی ہے۔  اسی طرح The Grapes of Wrath ( ۱۹۳۹ء) اوکلا ہو ما کے کسانوں کی داستان ہے جو بڑھتی ہوئی صنعت سے اپنے علاقے سے بے گھر ہو کر کیلی فورنیا کام کی تلاش میں آتے ہیں۔  اس ناول کا آخری منظر مشہور ہے جس میں ’’روز‘‘ بھوک سے قریب المرگ ایک آدمی کو اپنا دودھ پلاتی ہے۔  ان کا آخری ناول ’’ایسٹ آف ایڈن‘‘ بائبل کے کین اور ایبل کی تمثیلی کہانی وادی سنییلا کے پس منظر میں دہرائی گئی ہے۔  اسی طرح تمثیلیں The pearl ( ۱۹۴۸ء) اور Burning Bright ( ۱۹۵۰ء) بھی ہیں۔

 شاعری اور افسانوی ادب کے مقابلے میں امریکی ڈرامے کی نشو نما اور ترقی بہت سست رفتار تھی اور وہ نسبتاً بہت دیر سے پختہ ہوا، بیسویں صدی میں یورپ میں متعدد نئے تجربات ڈرامے کی تکنیک میں کیے گئے اور ان کا اثر امریکی ڈرامے پر بھی پڑا لیکن ’’یوجین اونیل‘‘ (Eugen O’Nell) سے قبل امریکی ڈرامہ محض تفریح کے لیے لکھا جاتا تھا جس میں جذباتی اور میلو ڈرامائی عناصر نمایاں تھے ’’یوجین اونیل‘‘ سے جدید امریکی ڈرامے کی ابتدا ہوئی حالانکہ نئے اور ملکی امریکی ڈرامے کی تشکیل میں پلمررائس اور میکسویل انڈرسن کا ہاتھ بھی تھا۔  امریکہ میں جرمنی کی تقلید میں چھوٹے تھیٹر (Little Theatre) کی تحریک شروع ہوئی جس سے بالآخر تھیٹر گلڈ کی بنیاد پڑی جس نے یورپی ڈرامے کے ترجمے پیش کیے اور رائس اور اونیل کے ڈرامے اسٹیج پر پیش کئے۔

اونیل نے ڈرامے کی ایلیز بیتھین روایت سے بغاوت کی اور نفسیات خصوصاً شعور اور لا شعور کے محرکات کی بنیاد پر امریکی ڈرامے میں نئی جہت، گہرائی اور سنجیدگی پیدا کی۔  وہ براہ راست ادبی اثر اور تقلید سے آزاد تھے۔  ان کا ہر ڈرامہ منفرد ہے۔  اور کرداروں کی داخلی کش مکش اور نفسیاتی تناؤ سے تشکیل پاتا ہے۔  انہوں نے باطن نگاری (Expressionism) کا استعمال کیا ہے جس کی ابتدا انیسویں صدی کے مصوری میں ہوئی تھی اونیل ڈرامہ The Hairy Apeکے بیشتر مناظر خصوصاً آخری مسخ شدہ حقائق باطن نگاری کی عمدہ مثال ہیں۔  اونیل نے کئی طرز کے ڈرامے لکھے ہیں۔  ۱۹۲۴ء اور ۱۹۳۱ ء کے درمیان ان کے نو ڈرامے اسٹیج ہوئے جو سبھی المیے ہیں اور جن میں اختلاط نسل تزویج محرمات اور جرائم کو پیش کیا گیا ہے۔  ان ڈراموں میں All God’s Chillun Got Wings ( ۱۹۲۴ء) Desire Under the Elms ( ۱۹۲۴ء) The Greal God Brown ( ۱۹۲۶ء) اور Strange Interlude ( ۱۹۲۸ء) ہیں۔  ان کے ڈرامے۔  Becomes Electra Morning ( ۱۹۳۱ء) میں یونانی المیے کی کلیٹیمنسٹر اور اگامیمنن کہانی کو نیو انگلینڈ کے پس منظر میں پیش کیا گیا ہے۔  Thelceman Cometh ( ۱۹۳۶ء) ڈرامائی تمثیل ہے جس میں عام انسان موجودہ دور کی مایوسی اور معنویت سے بھاگ کر اپنے خواب میں پناہ لیتا ہے۔  ان کا آخری ڈرامہ Long Day’s Journey Into Night ( ۱۹۵۶ء) محبت، جنون اور موت کے ڈرامے کو پیش کرتا ہے جو والدین کھیلتے ہیں۔  یہ ڈرامہ اونیل کے والدین کے بارے میں ہے یہ ایک طرح کی خود نوشت سوانح حیات ہے۔  موضوعات کے تنوع اور تجربات کی بنا پر اونیل کا شمار امریکہ کے سب سے بڑے ڈرامہ نگاروں میں ہوتا ہے۔  (۱۱)

دوسری عالمی جنگ کے بعد دنیا مختلف کیمپوں میں بٹ گئی اور باہمی تناؤ نے سرد جنگ کی شکل اختیار کر لی جس سے دنیا میں امریکی سپاہی لڑ رہا تھا۔  حالانکہ اس کو معلوم نہیں تھا کہ وہ کس مقصد کے لیے لڑ رہا ہے۔  ایٹم اور ہائڈروجن بم نے انسانی تہذیب کا مستقبل غیر یقینی بنا دیا اور فرد کے وجود میں لا معنویت پید کر دی۔  یورپ کی طرح امریکہ میں بھی سیاسی اور معاشرتی بے اطمینانی پھیلی جس کا اظہار امریکی ادب میں ہو رہا ہے۔  انسانی تہذیب کی تباہی کے امکانات اور خوف نے حساس فرد کو مجبور کیا کہ وہ اپنے اندر اس ذات Selfکی دریافت کرے جو سماج سے برگشتہ اور تنہا تھی۔  منظم سماج بے معنی ہو چکا تھا اور اس سے ناوابستگی اور لا مقصدیت زندگی کا قابل فہم راستہ تھا۔  اس لیے ذات غیر ذات ہو گئی جس نے ایسی شاعری کی تخلیق کی جو غیر شاعری (Anti-Poetry) تھی یا ایسی کہانی لکھی جو غیر کہانی (Anti-Story) تھی اور جس کا ہیرو غیر ہیرو (Anti-Hero) تھا یا ایسا ڈرامہ اسٹیج کیا جو غیر ڈرامہ اور مہمل تھیٹر (Theatre of the Absurd) تھا۔  امریکی شاعری میں دو متضاد گروپ وجود میں آئے۔  پہلا گروپ اکیڈمک شعرا کا تھا جس کے دو حلقے درباری شعرا (Court poets) اور اقبالی شعرا (Confessional Poets) کے تھے۔

۱۹۵۰ء اور ۱۹۶۲ء کے درمیان جدید شاعری کے چار مجموعوں میں اس قسم کے شعرا کی تعداد اکتالیس ہے دوسرے گروپ کے شعرا کو بیٹ نکس (Beat Niks) اور غیر اکیڈمک شعرا کہا جاتا ہے۔  پہلے گروپ کی نمائندگی تھیوڈور رو تھے۔  رچرڈ ولبور، رابرٹ لوویل اور اسناڈ گر اس سے ہوتی ہے۔  دوسرے گروپ میں تین حلقے بیٹ نک، بلیک ماونٹین گروپ اور نیویارک گروپ ہیں اور ان کی نمائندگی کرنے والوں میں ایلن گنسبرگ، گریگرے کارسو، اور چارلس اوسلن ہیں۔  ان کے علاوہ بھی کئی ایک شاعر ہیں جن کا جدید شاعری کے نشو ونما میں نمایاں ہاتھ ہے جن میں پولیٹرز انعام یافتہ ایلیزبیتھ بشپ اور اسٹینلے کونٹر، میوریل روکیسر اور کارل شپیر و ہیں جنہوں نے جنگ اور نا انصافی کے خلاف آواز اٹھائی ہے۔  تھیوڈ ور رو تھکے اکثر مزاحیہ مہمل نظمیں لکھتے ہیں اور ایسی بی جن میں مزاح اور دہشت انگیزی کا ملا جلا تاثر ہے۔  اس کی عمدہ مثالیں ان کے شعری مجموعے I Am I say the Lamb ( ۱۹۶۱ء) میں ہیں۔  وہ انسانی نفس کے محرکات، ذہنی عمل اس کی سرخوشی اور تھکن کا تجزیہ اور بیان کرتے ہیں۔

رچرڈولبور کو درباری شاعر کہا جاتا ہے جس سے مراد ان کی شاعرانہ استادی کا اعتراف ہے۔  ان کا کہنا ہے کہ جس طرح جن بوتل کی قید سے طاقت حاصل کرتا ہے اسی طرح شاعر قواعد اور ضوابط سے فنی کمال حاصل کرتا ہے۔  انہوں نے شاعری میں پہیلیاں ، رباعیاں اور بیلڈیکساں مہارت سے لکھے ہیں۔  انہوں نے مشکل پسندی کبھی اختیار نہیں کی اور انسانی روح کے تاریک پہلوؤں سے گریز کیا ہے۔  Ceremony and Other Poems ( ۱۹۵۰ء) اور Things of This World ( ۱۹۵۶ء) میں عام چیزوں کے بارے میں شاعرانہ حسن کے ساتھ اظہار خیال کیا ہے۔  آخر الذکر مجموعے پر ان کو پولیٹزر اور بک اوارڈ کے دو انعامات ملے۔  Advice To A Prophet ( ۱۹۶۱ء) میں کلاسیکی ادب کی تلمیحات کا نہایت روانی اور سلاست سے استعمال کیا ہے۔

رابرٹ لوویل اور اسناڈ گراس اعترافی حلقے کے شاعر ہیں۔  لوویل جنگ کی پر زور مخالفت میں پانچ ماہ کی سزا بھی کاٹ چکے ہیں۔  وہ نہایت دلیری سے جدید کھوکھلی تہذیب پر تنقید کرتے ہیں جس میں اب تک جنگ ہوتی ہے اور امید کی جاتی ہے کہ جنگ سے امن قائم کیا جا سکتا ہے۔  وہ ایسی پابند اور عروضی نظمیں لکھتے ہیں جو فنی حدود میں رہ کر بیان میں آزاد ہیں۔  ان کے مجموعے Lord Wrary’s Castle ( ۱۹۴۶ء) پر ان کو پولٹزر انعام ملا۔  ان کے دو مجموعے Life Studiesاور Imitations ( ۱۹۶۰ء۔  ۱۹۶۱ء) میں شائع ہو چکے ہیں۔

  اسناڈ گر اس کے مجموعے Heart’s Needle ( ۱۹۶۰ء) میں اعترافی رویہ نمایاں ہے جس میں انہوں نے روایتی قدروں سے اعلانیہ بغاوت کی ہے۔  ان کا موضوع زندگی ہے جو اپنی اذیتوں کے ساتھ بالکل برہنہ ہے۔  اعترافی شعرا میں سلویاپلاتھ اور برادر انٹوئیس بھی ہیں۔  بیٹ نک تحریک کے علم بردار ایلن گنبرگ کی نظم ’ہاؤل‘ ۱۹۵۶ء میں شائع ہوئی اور ضبط کر لی گئی تھی۔  نظم اس مشہور مصرعے سے شروع ہوئی ہے۔  ’’میں نے دیکھا کہ میرے عہد کے بہترین ذہن جنون، بھوک اور ہسٹیریا سے تباہ ہو چکے ہیں۔  ‘‘ یہ مصرع ان کے خیالات میں کلیدی حیثیت رکھتا ہے کیونکہ ان کی شاعری انسانی تجربات کی شعلہ فشانی سے عبارت ہے جس میں وہ جدید دنیا کی دہشت انگیز حقیقتوں کا انکشاف کرتے ہیں اور اس کی تباہی کی آگاہی دیتے ہیں۔  وہ ہر مستحکم ادارے کے خلاف ہیں اور اپنی ذات کے ماسوا کسی اور کے وفادار نہیں ان کا دوسرا مجموعہ Kadpisbانسانی ادراک کو تجربات کی آخری حدود تک لے جاتا ہے۔  ان کے مصرعوں میں وہٹمین کے مصرعوں کا پھیلاؤ اور تناؤ ہے۔

یہ بات گریگرے کارسو کے متعلق بھی صحیح ہے جن کے تین مجموعے The vestal lady on Brattle Gasolineاور The Happy Birthday of Death شائع ہو چکے ہیں۔  اور جن کا موضوع بھی انسانی وجود کی برہنگی ہے۔  بیان منفر داور بغیر کسی مماثلت کے بدیع اور نیا ہے۔  چارلس اوسلن بلیک ماؤنٹین گروپ کے رکن ہیں۔  ان کا نظریہ Projective Verseبہت مشہور ہے جس کے مطابق ہیئت موضوع کی توسیع ہے۔  ان کے مجموعے In Thicket In Cold Hell ( ۱۹۵۳ء) میں ثقافتی اداروں کے ذریعہ جدید تہذیب کا مطالعہ پیش کیا گیا ہے۔  نیویارک گروپ کے رکن ڈینس طیور ٹولی روائے ، ٹیر جونس اور فرینک اور اوہاڑ وغیرہ یہ لوگ لطیفہ نما نظمیں لکھتے ہیں۔  جو Shock Poemsبھی ہوتی ہیں۔  بیٹ تحریک کے بیشتر شعرا نیگرو ہیں اور ان پر نسلی تعصب کا الزام لگایا جاتا ہے۔  جو غلط ہے۔  یہ لوگ انسانی وجود کے نقاد و مبصر ہیں۔  دوسری عالمی جنگ کے بعد متعدد طرز کے ناول لکھے گئے جن میں پکارو، گاتھی، مزاحیہ، اسطوری، سیاسی تمثیلیں اور وجودیت پسند ناول ہیں۔  اگر ان تمام اقسام کے ناولوں میں کوئی مرکزی خصوصیت مشترک ہے تو پکارو ناول کی رومانیت ہے جس کا ہیرو شریر آوارہ گرد ہے جو ایک طرح کا غیر ہیرو (Anti-Hero) ہے ان ناول نگاروں میں جیک کرویک، نارمن میلر، جے ڈی۔  سیلنجر، سال بیلو، جیمس پرڈی اور ریلف ایلیسن نمائندہ حیثیت رکھتے ہیں۔  جیک کرویک کے ناول ، سڑک سے (On The Road ۱۹۵۷ء) کے جو ان مرد اور عورتیں نیویارک سے سان فرانسسکو تک ہیجانی کیفیت و اضطراب میں سفر کرتے ہیں۔  شراب پیتے ہیں ان کا بجز اس کے کوئی مقصد نہیں کہ چلتے رہیں اور حرکت میں رہیں۔  کیونکہ یہی موجودہ عہد کا عمل ہے۔  اس کا راوی اپنے بلیغ انداز میں پوچھتا ہے۔  ’’رات میں اپنی چمکدار کار میں ‘‘ امریکہ تو کہاں جا رہا ہے۔  اپنے دوسرے ناولوں The subterraneans اور The Dharma Bums ( ۱۹۵۸ء) میں بھی وہ امریکی زندگی کی لامقصدیت پر طنز کرتے ہیں۔  نارمن میلر کا نقطۂ نظر ان کے اہم ناولوں The Naked And The Dead ( ۱۹۴۸ء) Barbary Shore ( ۱۹۵۱ء) Dear Park ( ۱۹۵۵ء) سے ظاہر ہے۔  ان کی خود نوشتہ سوانح حیات Advertisement For Myself ( ۱۹۵۹ء) میں یہی طرز موجود ہے۔

جے۔  ڈی۔  سیلنجر کے مشہور ناول The Catcher in the Ryeکا ہیرو بھی تین راتیں نیو یارک کے سفر میں گزارتا ہے اور مہم جویانہ واقعات سے دو چار ہوتا ہے۔  وہ عنفوان شباب کے محاوروں اور محاربانہ زبان کا استعمال کرتا ہے۔  وہ کہتا ہے کہ وہ چٹان کے ڈھلوان پر کھڑا ہے جہاں بہت سے بچے کھیل رہے ہیں اور ان کی نگہبانی کرنے والا کوئی نہیں ہے۔  وہ ان کو ڈھلوان پر پھسل کر گرنے سے بچائے گا۔  یہ بیان بہت بلیغ ہے اور یہ جذبہ ان کے مختصر ناولوں Franney & Zooey ( ۱۹۶۱ء) Raise High the Roof Beam Carpenterاور Seymour ( ۱۹۶۳ء) میں بھی موجود ہے۔  ان کے ناولوں کے طنز و مزاح اور زندگی کے سوقیانہ پن کے بیان میں وہ ہمہ گیر ہمدردی اور انسان دوستی شامل ہے جو جدید امریکی افسانوی ادب میں نایاب ہے۔

سال بیلو، جو ۱۹۷۶ء کے نوبل انعام یافتہ ہیں۔  امریکی ادبی روایت کے ساتھ یہودی لوک کتھاؤں کی آمیزش بھی کرتے ہیں۔  ان کے ناول Augie March ( ۱۹۵۳ء) کا ہیرو تمسخر آمیز مہم جوئی کا مزاحیہ شکار ہے۔  سب اسے فریب دیکر اس پر قابو حاصل کرنا چاہتے ہیں۔  لیکن وہ ہمیشہ بچ کر نکل جاتا ہے وہ ہر اعتبار سے غیر ہیرو ہے اور ناول کی کہانی غیر کہانی ہے۔  اس قسم کے ہیرو اور کہانی کو انہوں نے اپنے دوسرے مشہور

ناولوں Seize The Day ( ۱۹۵۶ء) Henderson The Rain King ۱۹۵۸ء Humboldt’s Gift (۱۹۷۳ء) وغیرہ میں بھی دہرایا ہے۔  اس سے مراد مغربی تہذیب کے اس کھوکھلے پن کو بھی ظاہر کرنا ہے جس میں کوئی سورمائی اور اولوالعزمی کا کارنامہ ممکن نہیں ہے۔

جیمس پر ڈی کے ناول Malcolm ( ۱۹۵۹ء) میں تمثیل بھی ہے اور اس کے کردار فن، دولت، مذہب، جنس، قسمت اور موت کے سمبل ہیں۔  اسی طرح ریلیف ایلیسن کے ناول Invisible Man ( ۱۹۵۲ء) میں راوی سیاسی جدوجہد سے سماجی اصلاح کی آرزو ترک کر کے ایک نسلی فساد میں سڑک کی بند نالی میں گھس جاتا ہے اور زیر زمین رہ کر اپنے اشتراکی عزائم کی مضحکہ خیز کوشش کرتا ہے۔  یہ ناول بھی تمثیلی ہے۔  ان تمام ناول واں کے کردار بے ہنگم زندگی کے تمسخر اور عجز کا بیان ضرورت کرتے ہیں لیکن وہ محض آوارہ گرد نہیں ہیں۔  بلکہ ایک طرح سے وہ زائر (Pilgrims) ہیں جو زندگی کی ابتری اور الجھن کے باوجود صحت مند عقیدے اور قدروں کی طرف بڑھتے ہوئے نظر آتے ہیں۔  ان کی شخصیت کا یہ مثبت پہلو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کیوں کہ بنیادی طور پر وہ انتہائی معصوم لوگ ہیں۔  یہ بات خصوصاً سیلنجر اور سال بیلو کے کرداروں کے متعلق صحیح ہے۔

  دوسری عالمی جنگ کے بعد امریکی ڈرامے نے سماجی یا سیاسی مسائل سے مکمل کنارہ کشی کی اور اس کی توجہ انسان کی ذات یا نفس اور اس کے پوشیدہ پہلوؤں کی عکاسی پر مرکوز ہو گئی۔  امریکی چھوٹے تھیٹر نے لورکا، بیکٹ، جینٹ اور اڈاموف کے ڈراموں سے روشناس کرایا۔  اسٹیج کی ساخت میں تجربے ہوئے اور دائرے یا نصف دائرے والے اسٹیج بنائے گئے جس میں ناظرین چاروں طرف بیٹھے ہوتے تھے۔  ’’ مہمل تھیٹر‘‘ Theater of the Absurd کی ایجاد ہوئی جس میں کوئی کہانی یا مرکزی کردار نہیں ہوتا ہے اور جس میں ناظرین بھی حصے لیتے ہیں۔  ان تمام تجربات میں فوکس انسان کے نفس پر ہوتا ہے۔  ان ڈرامہ نگاروں میں ٹینبی ولیمس آرتھر ملر، ایڈورڈ ڈالبی اور جیک کیلیسر نمائندہ حیثیت رکھتے ہیں۔  یوں تو ولیمس جنوبی علاقے (ساؤتھ) کے زمیندار طبقے کی جھلک پیش کرتے ہیں۔  لیکن ان کی توجہ کا مرکز انسانی ذات اور نفس ہے۔  ان کا ایک اہم موضوع درمیانی طبقے کی اخلاقی قدروں کی تردید بھی ہے۔  جس کی عمدہ مثال ان کا ڈرامہ The Glass Menagerie ( ۱۹۴۵ء) ہے۔  دوسرے ڈرامے A Street Car Named Desire ( ۱۹۴۷ء) کی ہیروئن اپنے بہنوئی کو ترغیب اور اشتعال سے زنا بالجبر کرنے پر اکساتی ہے اور خود ذہنی مریض ہو کر دماغی اسپتال کا رخ کرتی ہے۔  Twenty Seven Wagons Full of Cottonمیں سسلی سے آیا ہوا روئی کا تاجر’’ساؤتھ‘‘ کے ایک رئیس کو شکست دیتا ہے اور اس کی بیوی کو اپنا لیتا ہے۔  ان کے متعدد ڈراموں میں جنسی ہیجان اور پوشیدہ خواہشات کی صحت مند تکمیل نہ ہونے کی وجہ سے جو ذہنی بیماریاں ہوسکتی ہیں ان کی عکاسی کی گئی ہے۔  وہ قتل، جنسی بے راہ روی، آدم خوری اور زنا بالجر کو اس طرح اپنے ڈراموں میں پیش کرتے ہیں کہ دیکھنے والے میں دہشت اور نفرت کی لہر دوڑ جائے۔  آرتھر  مِلر مقابلتاً بہت حد تک قدامت پرست ہیں ا ور بنیادی طور پر حقیقت نگار ہیں۔  وہ امریکی زندگی کے نارمل واقعات اور کردار کے بارے میں لکھتے ہیں اور فصیح زبان استعمال کرتے ہیں۔  ان کے کردار مثالی امریکی کاروباری لوگ اور شوہر ہیں ا ور ان کا المیہ عام اور اوسط امریکی زندگی کا ہے۔  اس کی عمدہ مثالیں ان کے ڈرامے All My sons ۱۹۴۷ء اور Death of A Salesman ( ۱۹۴۹) ہیں۔  یہ دونوں ڈرامے باپ اور بیٹے کے تعلقات کے گرد لکھے گئے ہیں۔  View From The Bridge ( ۱۹۵۵ء) باپ اور سوتیلی بیٹی کے تعلقات کے تناؤ اور پیچیدگی پر مبنی ہے۔  یہ خاندان نارمل تو نہیں ہے لیکن مثالی ضرور ہے۔  دبائی گئی جنسی خواہش، غیر فطری امرد پرستی اور تزویج محرمات کا رجحان پیدا کرتی ہے جو اس کے ہیرو کو تباہ کر دیتا ہے۔

ولیمس اور ملر کی پیچیدہ حقیقت نگاری جس میں اشاریت اور واہمہ بھی شامل ہے۔  بیسویں صدی کے دوسرے ہونہار ڈرامہ نگاروں میں بھی موجود ہے۔  ایڈورڈ ڈایلبی نے The Zoo Story ( ۱۹۵۸ء) میں ایک اتفاقیہ ملاقات سے یہ دکھایا ہے کہ امید مایوسی کا دوسرا رخ ہے اور آزادی، پابندی کی دوسری شکل ہے The American Dream ( ۱۹۶۰ء) اولاد کی تلاش کا ایک بھیانک طربیہ ہے۔  ان ڈرامو میں ان کا انداز حقیقت نگارانہ ہے لیکن Who is Afraid of Virginia Woolfe ( ۱۹۶۲ء) کا گھریلو ماحول ایک طرح کا اذیت خانہ بن جاتا ہے جہاں کے درد و کرب کے بیان میں حقیقت اور واہمہ دونوں سے کام لیا گیا ہے۔  اسی طرح ایک اور نسبتاً کم عمر ڈرامہ نگار جیک کیلھر ہیں جنہوں نے The Connection ( ۱۹۵۹ء) میں نشہ کے عادی لوگوں کو پیش کیا ہے جو فراہم کار (یعنی وہ شخص جو نشہ اور چیزیں مہیا کراتا ہے ) کے انتظار میں بے قرار ہیں لیکن سماجی موضوع کے باوجود اس کی اشاریت اس ڈرامے کو عالم گیر سطح پر لے آتی ہے کیونکہ نجات کی تلاش میں ہر شخص کسی نہ کسی ذریعے یا Connectionکا منتظر ہے جس سے اس کی مراد پوری ہوسکتی ہے۔  ان ڈراموں سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ روایتی حقیقت نگاری کی دیواریں گر چکی ہیں یا گر رہی ہیں اور اس کی جگہ جو ڈرامہ ابھرا ہے یا ابھر رہا ہے اس میں فوکس انسان کی ذات یا نفس پر ہے اور انسان، مایوس، ہزیمت خوردہ اور تنہا ہے

٭٭٭

تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید