FavoriteLoadingپسندیدہ کتابوں میں شامل کریں

 

فہرست مضامین

آئیے ! اپنا اِسلام سیکھیں

(بچوں کے لئے)

 

 

               مصنف: ہارون یحییٰ

               مترجم: پروفیسر خواجہ محمد اخلاق

 

 

 

مطالعہ نگار کے لیے

 

 

فاضل مصنف نے اپنی تمام کتابوں میں ایمان سے متعلق موضوعات کی قرآن پاک کی آیات کی روشنی میں وضاحت کی ہے۔ اور قارئین کو اللہ تعالیٰ کا کلام سمجھنے اور اس کے مطابق زندگی گزارنے کی دعوت دی ہے۔سارے مضامین کو اللہ تعالیٰ کی آیات کے تعلق کے حوالے سے اس طرح بیان کیا گیا ہے تا کہ قاری کے ذہن میں شک یا سوال کی کوئی گنجائش باقی نہ رہے۔

ان کتابوں کا پُر خلوص، سادہ اور رواں اسلوبِ بیان ہر عمر اور ہر طبقے کے قاری کو مضمون با آ سانی سمجھانے کی ضمانت دیتا ہے۔یہ پُر اثر اور رواں اندازِ بیان قارئین کو اس بات پر اکساتا ہے کہ وہ اس کا ایک ہی نشست میں مطالعہ کر لے۔ حتیٰ کہ وہ حضرات جو روحانیت کو سختی سے مسترد کرتے ہیں، وہ بھی اِن کتابوں میں بیان شدہ حقائق کی سچائی سے منہ نہیں موڑ سکتے۔

یہ کتاب اور ہارون یحیٰ کی دیگر تصانیف کا انفرادی طور پر مطالعہ کیا جا سکتا ہے یا ایک گروپ میں اس پر بحث کی جا سکتی ہے۔وہ قارئین جو ان کتب سے مستفید ہونا چاہتے ہیں، اُن کے لئے دوسروں سے گفتگو اور بات چیت بہت فائدہ مند ثابت ہو گی۔وہ اپنے خیالات اور تجربات میں دوسروں کو کر سکیں گے۔

مزید برآں، یہ دین کے ایک بہت بڑی خدمت ہو گی کہ یہ کتب کثرت سے زیر مطالعہ آئیں، کیونکہ یہ صرف اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کے لئے ہی لکھی گئی ہیں۔ فاضل مصنف کی تمام کتابیں انتہائی موثر ہیں، اس لئے اُن حضرات کے لئے جو مذہب(دین) کو دوسرے لوگوں تک پہنچانا چاہتے ہیں، کے لئے ایک کافی زیادہ موثر طریقہ یہ ہے کہ وہ اِن لوگوں کی اِن کتب کے پڑھنے کی حوصلہ افزائی کریں۔

٭٭٭

 

 

 

تعارف

 

 

پیارے بچو! اس کتاب میں ہم اہم مسائل کے بارے میں بحث کریں گے جن کے متعلق آپ کو ضرور سوچنا چاہیے۔

سکول میں سب سے پہلے آپ کے اساتذہ آپ کو حروفِ تہجی سکھاتے ہیں۔ اس کے بعد وہ آپ کو اعداد اور حساب کتاب کے اسباق پڑھاتے ہیں۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آپ سکول کیوں جاتے ہیں اور یہ سب کچھ کیوں سیکھتے ہیں؟ کیا آپ نے کبھی سوچا یا اس پر کبھی حیران ہوئے؟

آپ میں سے اکثر کا جواب یہی ہو گا کہ جب ہم جوان ہوں گے، تب ایک باوقار پیشہ اختیار کرنے کے لیے یہ چیزیں سیکھنا ضروری ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ آپ کو تقریباً اس بات کا یقین ہے کہ آپ ایک دن ضرور جوان ہوں گے۔ یہ حقیقت ہے ،ہو سکتا ہے کہ ایک دن آپ کے آس پاس بچے آپ کو چچی یا خالہ، دادا یا نانا، ابو ،ماموں یا چچا کہہ کر پکاریں۔ یہ بالکل اسی طرح ہے جس طرح آج آپ اپنی چچی یا خالہ، دادا یا نانا ابو، چچا یا ماموں سے مخاطب ہیں۔ دوسرے الفاظ میں اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ نے آپ کے مقدر میں لکھا ہے تو آپ ایک دن ضرور جوان ہوں گے۔

تاہم آپ ہمیشہ جوان نہیں رہیں گے۔ ہر کوئی آہستہ آہستہ بوڑھا ہو رہا ہے اور ایک دن ایسا آتا ہے جبکہ انہیں اس دنیا کو چھوڑ جانا ہے اور آخرت میں ایک نئی زندگی شروع کرنا ہے اور یہ سب کچھ آپ کے ساتھ بھی ہونا ہے اور یہی حقیقت ہے ۔ بچپن کے ان دنوں کے بعد ہو سکتا ہے کہ آپ ایک ہونہار اور تنو مند مرد یا عورت کی طرح جوان ہوں اور یہ بھی ممکن ہے کہ آپ اپنے دادا جان کی عمر تک پہنچ جائیں اور تب ایک وقت وہ بھی آئے گا کہ آپ آخرت کی زندگی بسر کر رہے ہوں۔

آپ سکول میں اپنا مستقبل بنانے کے لئے جاتے ہو، کیونکہ ہر فرد کے لئے ضروری ہے کہ وہ اپنے مستقبل کو بہتر بنانے کے لئے تیاری کرے۔ تاہم یہ تمام کوششیں صرف اس محدود زندگی کے لئے ہیں۔ آپ کا اُن چیزوں کے بارے میں کیا خیال ہے جو کہ دوسری زندگی میں کام آئیں گی یا ضروری ہیں؟ آپ کو ویسے ہی آخرت کی زندگی کی بھی تیاری کرنا ہے۔ کیا آپ نے اس کے بارے میں کبھی سوچا؟

جب آپ جوان ہوں گے تو آپ کو اپنی روزی کمانا ہو گی۔ اس کا مطلب ہوا کہ آپ کا کوئی نہ کوئی باوقار پیشہ ہونا چاہیے۔ اسی لئے آپ سکول جاتے ہیں۔ اسی طرح آخرت میں خوشحال اور پر مسرت زندگی کے لئے بھی آپ کو کچھ کام کرنا ہوں گے۔ ان میں سے سب سے اہم یہ ہے کہ ہمیں فوری طور پر اللہ تعالیٰ کے بارے میں جاننا چاہیے اور یہ بھی کہ اللہ تعالیٰ ہم سے کس طرح کے طرزِ عمل کا مطالبہ کرتا ہے۔

یہاں اس کتاب میں ہم اللہ تعالیٰ کی طاقت اور قوت کے بارے میں بات کریں گے جس نے آپ کی والدہ، والد، دوستوں اور باقی تمام لوگوں کو پیدا کیا۔ اسی نے حیوانات،نباتات اور تمام جاندار اشیاء بنائیں۔ اسی نے سورج .چاند، تارے اور تمام کائنات پیدا کی ۔

ہم اپنے رب کے مرتبہ اور جاہ و جلال کی بات کریں گے اور یہ بھی دیکھیں گے کہ اللہ تعالیٰ کی مرضی کیا ہے؟ ہم کون سے کام کریں اور کون سے کاموں سے باز رہیں؟ بھولیے گا نہیں ،یہ نہایت ہی اہم معاملات ہیں جو کہ آپ کے لئے بہت مفید ثابت ہوں گے۔

 

 

 

 

 

 

اللہ تعالیٰ نے ہم سب کو پیدا کیا

 

پیارے بچو! آپ نے لوگوں سے اللہ تعالیٰ کے بارے میں مختلف الفاظ سنے ہوں گے ۔ عام طور پر آپ نے اس قسم کے الفاظ اور فقرے تو ضرور سنے ہوں گے جیسے ’’اللہ آپ پر رحم کرے۔’‘ ’’اگر اللہ نے چاہا تو’‘ ،’’ان شاء اللہ، ‘‘’’ما شاء اللہ، ، اور’’ اللہ معاف کرے، ، وغیرہ۔

یہ وہ چند الفاظ یا فقرے ہیں جو ایک شخص اس وقت استعمال کرتا ہے جب وہ اللہ تعالیٰ کو یاد کرتا ہے ، یا دعا کرتا ہے یا اپنے رب کی شان بیان کرتا ہے ۔

مثال کے طور پر جب یہ بولتے ہیں کہ ’’فی امان اللہ’‘ تو اس وقت ہم اس حقیقت کو بیان کر رہے ہوتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کو آپ پر اور آپ کے ارد گرد جانداروں اور بے جان اشیاء سب پر قدرت حاصل ہے ۔ یہ اللہ تعالیٰ ہی کی ذات ہے جو کہ آپ کو، آپ کے والد،والدہ اور آپ کے دوستوں کو بُری چیزوں سے بچاتی ہے۔ اسی وجہ سے جب ہم کسی ناگہانی آفت یا نامساعد حالات کا سامنا کرتے ہیں تو ایک دوسرے کو دعا دیتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ آپ کو بچائے، اللہ تعالیٰ آپ کو اپنی حفظ و امان میں رکھے۔ تھوڑی دیر کے لئے سوچیے کہ اگر کوئی ناگہانی آفت یا قدرتی آفت آ جائے جیسے سیلاب یا زلزلہ تو اس صورت میں کیا آپ کی والدہ، والد یا کوئی اور شخص جسے آپ جانتے ہیں ،کیا آپ کو بچا سکتا ہے؟ ہر گز نہیں کیونکہ انسان کے ساتھ رونما ہونے والے واقعات صرف اللہ تعالیٰ کے حکم سے ہوتے ہیں اور صرف وہی ذات ان سے بچا سکتی ہے۔

لفظ ’’ان شاء اللہ’‘ کا مطلب ہے اگر اللہ تعالیٰ نے چاہا تو، لہٰذا جب بھی ہم کوئی کام کرنا چاہتے ہیں یا کسی کام سے باز رہنا چاہتے ہیں تو ہمارے لئے ضروری ہے کہ اس وقت ہم ’’ان شاء اللہ’‘ ضرور کہیں ۔یہ اس لیے ضروری ہے کہ صرف اللہ تعالیٰ ہی کو مستقبل کا علم ہے، وہ جو چاہتا ہے ، کرتا ہے، اس کی مرضی کے بغیر کچھ بھی نہیں ہو سکتا۔

 

مثال کے طور پر جب ہمارا ایک دوست یہ کہتا ہے کہ ’’میں کل یقیناً سکول جاؤں گا’‘ تو وہ غلطی کر رہا ہے کیونکہ ہم یہ نہیں جانتے کہ کل کیا ہو گا اور یہ بھی نہیں جانتے کہ اللہ تعالیٰ آپ کے دوست کے لئے کل کیا چاہے گا ؟ہو سکتا ہے کہ آپ کا دوست بیمار ہو جائے اور سکول نہ جا سکے اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ نہایت ناخوشگوار موسم کی وجہ سے سکول نہ کھل سکے اور آپ کی کلاس نہ ہو سکے۔

اسی لئے ہم ’’ان شاء اللہ’‘ کہتے ہیں جبکہ ہم مستقبل کے بارے میں اپنے ارادوں کو ظاہر کرتے ہیں اور اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہر شے کی خبر رکھتا ہے۔

اور یہ بھی کہ جو بھی واقعہ رونما ہوتا ہے، صرف اُسی کی مرضی سے ہوتا ہے اور ہم اپنے محدود علم کے باہر کچھ بھی خبر نہیں رکھتے۔ اس طریقے سے ہم اپنے رب کے رُتبے اور مرتبے کی قدر کرتے ہیں اور اسی کے سامنے سر تسلیمِ خم کرتے ہیں جو کہ تمام جہانوں کا مالک ہے اور بے پناہ طاقت و قدرت کا مالک ہے اور اسی کے پاس ہر شے کا لا محدود علم ہے۔

قرآن پاک کی ایک آیت میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ ہم ’’ان شاء اللہ’‘ کہیں (اگر اللہ تعالیٰ نے چاہا)

اور کسی کام کی نسبت نہ کہنا کہ میں اس کو کل کر دوں گا مگر انشاء اللہ کہہ کر یعنی اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو کر دوں گا، اور جب اللہ کا نام لینا بھول جا ؤ تو یاد آ نے پر لے لو اور کہہ دو کہ امید ہے کہ میرا پروردگار مجھے اس سے بھی زیادہ ہدایت کی باتیں بتائے۔

( سورۃ الکہف: ۲۳۔۲۴)

شاید آپ ان معاملات اور مسائل کے بارے میں اتنا نہ جانتے ہوں لیکن یہ اتنا ضروری نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ کی ذات کو جاننے کے لئے آپ کو چا ہیے کہ آپ اپنے ارد گرد کے حالات کا بغور مطالعہ کریں اور ان حالات میں مخفی حکمت اور دانائی کو جاننے کی کوشش کریں۔

ہر طرف پھیلی ہوئی خوبصورتی اور رنگینی ہمیں اللہ تعالیٰ کی صفات اور اس کی لا محدود طاقت و قوت کے بارے میں بتاتی ہے ۔ ایک خوبصورت اور پیارے سے سفید خرگوش کے بارے میں سوچیے، مسکراتی ہوئی ڈالفن مچھلی کے چہرے کو دیکھیے، تتلی کے پَروں پر بکھرے رنگوں کی ترتیب کو دیکھیے، وسیع و عریض سبز نیلے سمندر کو دیکھیے ،سر سبز جنگلات کو دیکھیے اور اپنے ارد گرد پھیلے ہوئے رنگا رنگ پھولوں کو دیکھیے اور اس کے علاوہ کائنات میں پھیلی ہوئی ان گنت چیزوں کی خوبصورتی میں غور کیجئے ’’تو بچو آپ کو نظر آئے گا اور آپ کا دل پکارے گا کہ یہ اللہ تعالیٰ ہی ہے جس نے یہ سب کچھ پیدا کیا ہے ۔ کائنات میں جو کچھ بھی آپ دیکھتے ہیں اور اس کائنات میں پھیلی مخلوقات سب کی سب اللہ تعالیٰ نے ہی پیدا کی ہیں اور ان سب کو عدم سے وجود میں لایا ہے ۔ لہٰذا پیارے بچو! اللہ تعالیٰ کی پیدا کر دہ خوبصورتی کو دیکھو آپ کو اس رب تعالیٰ کی لا محدود اور لازوال طاقت و قوت نظر آئے گی۔

حقیقت میں ہمارا وجود اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ اللہ تعالیٰ موجود ہے ۔ لہٰذا آئیے پہلے اپنے وجود کے بارے میں غور کریں اور دیکھیں کہ کیسے اللہ تعالیٰ نے ہمیں مکمل انسان بنایا۔

٭٭٭

 

 

انسان کا وجود

 

 

کیا آپ نے کبھی سوچا یا حیران ہوئے کہ انسان کیسے وجود میں آیا ؟شاید آپ کا جواب یہ ہو کہ ’’ہر شخص کا ایک ابو اور امی ہوتے ہیں لیکن یہ جواب نامکمل ہے کیونکہ یہ جو اب اس بات کو بیان نہیں کرتا کہ پہلی ماں یا باپ کیسے پیدا ہوئے یعنی کہ پہلا انسان کیسے پیدا ہوا۔ ہو سکتا ہے کہ آپ نے اس کے بارے میں سکول میں یا اپنے ارد گرد کے لوگوں سے چند قصے یا کہانیاں ضرور سنی ہوں لیکن سب سے مناسب اور موزوں جواب یہی ہے کہ آپ کو صرف اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا ہے۔ آئندہ ابواب میں اس مسئلے کے بارے میں تفصیل دیکھیں گے تاہم ہم سب کے لئے ضروری ہے کہ ہم یہ جانیں کہ اس زمین پر پہلا انسان جو وجود میں آیا، وہ حضرت آدم علیہ السلام تھے وہ اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے نبی تھے اور اللہ تعالیٰ کے مقرب بندے تھے۔ تمام انسانوں کا سلسلۂ نسب اُن سے ملتا ہے۔

حضرت آدم علیہ السلام عام انسانوں کی طرح تھے جو کہ چلتے پھرتے تھے، باتیں کرتے تھے، نماز پڑھتے یا دعائیں کرتے اور اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے پہلے اُن کو اور پھر اُن کی بیوی کو پیدا کیا اور اس کے بعد اُن کی اولاد ساری دنیا میں پھیل گئی۔

یہ مت بھولیے کہ اللہ تعالیٰ کو کسی شئے کے بنانے کے لئے صرف ایک حکم کی ضرورت ہوتی ہے۔ جب وہ کسی شئے کے بنانے کا ارادہ رکھتا ہے تو اُسے حکم دیتا ہے کہ ’’ کُن ‘‘یعنی ’’ہو جا’‘ تو وہ ہو جاتی ہے ۔ اور اس طرح وہ شئے وجود میں آ جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کے پاس کسی بھی کام کو کرنے کی طاقت ، قوت اور قدرت ہے۔ مثال کے طور پر اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم ؑ کو مٹی سے پیدا کیا۔ یہ اللہ تعالیٰ کے لیے نہایت ہی آسان ہے۔

تاہم یہ مت بھولیے کہ کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو کہ اللہ تعالیٰ کے وجود سے انکار کرتے ہیں۔ انسان دنیا میں کیسے آئے؟ ان لوگوں کے پاس عجیب و غریب قسم کے جوابات ہیں۔در حقیقت یہ لوگ حق کی تلاش نہیں کرتے۔

 

پیارے بچو!

آپ کارٹون تو دیکھتے ہیں۔ اگر ایک کارٹون یہ کہے کہ ’’جب سیاہی’‘ اچانک کاغذ پر بکھر گئی تو میں وجود میں آ گیا’‘ پینٹ یا رنگ بھی خود ہی چھلک پڑا اور اس سے خود بخود مختلف رنگ پیدا ہو گئے یعنی اگر وہ یہ کہے کہ مجھے اپنی تصویر یا شکل بنانے میں کسی کی ضرورت نہیں ،میں خود بخود “اچانک” وجود میں آ سکتا ہوں تو آپ اس کی بات کو اتنی اہمیت نہیں دیں گے ۔ آپ جانتے ہیں کہ کارٹون میں باقاعدہ لائنیں، رنگ اور حرکات بے قاعدگی سے یا نا دانستہ طور پر رنگ ادھر اُدھر چھلکنے سے کارٹون نہیں بن سکتے۔ بے ترتیب لائنوں سے ایک عمدہ اور خوبصورت تصویر نہیں بن سکتی۔ اسی طرح کسی شئے کو با معنی اور کسی با مقصد شئے کو وجود بخشنے کے لیے کسی کو سوچنا ہو گا، اس کا ڈیزائن تیار کرنا ہو گا اور اسے بنانا ہو گا۔

ان سب کو سمجھنے کے لئے آپ کو آرٹسٹ یا فنکار اور پینٹر کو دیکھنے کی ضرورت نہیں۔ آپ خود بخود ہی سمجھ جائیں گے کہ کارٹون بنانے والے نے کارٹون میں کچھ خصوصیات رکھی ہیں، جیسے اس کی جسامت، اس کے رنگ، اس کے بولنے کی صلاحیت، اسکے چلنے اور اچھلنے کی صلاحیت ۔اس مثال کے بعد مندرجہ ذیل کے بارے میں سنجیدہ ہو کر سوچیے: وہ شخص جو کہ اس حقیقت سے انکار کرتا ہے اور ماننے سے انکار کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اُسے پیدا کیا ہے، وہ بھی اس کارٹون کی طرح جھوٹ بول رہا ہے۔ اب آپ فرض کریں کہ وہ شخص آپ سے مخاطب ہے۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ وہ شخص کیسے بیان کرنے کی کو شش کرتا ہے کہ وہ اور باقی تمام چیزیں کیسے وجود میں آئیں۔

’’میں،میری ماں، میرا باپ اور اُن کے والدین اور سب سے پہلے والدین جو کہ اول وقت میں اس دنیا میں ہو گزرے ہیں، وہ اتفاقیہ طور پر وجود میں آئے۔ ایک اتفاقیہ حادثے نے ہمارے اجسام، آنکھیں، کان اور تمام اعضاء بنائے۔’‘

اس شخص کے الفاظ، جو کہ اس بات سے انکار کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے پیدا کیا ہے، بالکل کارٹون کے الفاظ کی طرح ہیں، دونوں میں فرق صرف اتنا ہے کہ کارٹون کا کر دار رنگوں اور لائنوں کی مدد سے کاغذ پر بنا ہے اور دوسری طرف جو شخص اپنی زبان سے اس طرح کے کلمات کہتا ہے وہ خلیوں سے بنا ہے ، کیا اس سے کوئی فرق سامنے آتا ہے ؟کیا وہ شخص جو کہ یہ کلمات پکارتا ہے، کارٹون کے کر دار کے مقابلے میں نہایت ہی پیچیدہ مادے سے نہیں بنا؟۔ کیا کارٹون کی نسبت اس شخص کے اعضاء تعداد میں زیادہ اور پیچیدہ نہیں ہیں؟ با الفاظ دیگر اگر ایک کارٹون کے کر دار کا وجود اچانک اور اتفاقیہ یا حادثاتی نہیں تو یہ اور بھی زیادہ ناممکن ہے کہ یہ انسان حادثاتی طور پر وجود میں آ گیا ہو۔پیارے بچو! آئیے اس شخص سے مندرجہ ذیل سوال پوچھیں ’’تمہارا نہایت ہی خوبصورت جسم ہے جو کہ بے عیب طریقے سے کام کرتا ہے، تمہارے ہاتھ اعلیٰ طریقے سے بنی ہوئی مشینوں کے مقابلے میں چیزوں کو نہایت ہی نفاست سے پکڑتے ہیں، تم اپنے پاؤں کے سہارے دوڑ سکتے ہو، تمہاری نظر نہایت ہی عمدہ ہے اور کامل ہے اعلیٰ قسم کے کیمرے سے بھی زیادہ تیز ۔تمہارے کان نفیس سے نفیس اور سرگوشی کی آواز کو بھی سن لیتے ہیں ۔کوئی بھی ہائی ۔فی( hi-fi) نفیس آواز نہیں نکال سکتا مگر تمہارے کان اسے سن لیتے ہیں۔ تمہارے بہت سے اعضاء جن کے بارے میں تم علم بھی نہیں رکھتے، تمہیں زندہ رکھنے کے لئے کام کر رہے ہیں۔ مثال کے طور پر اگر چہ تمہارا دل، گردوں اور جگر کے افعال پر کوئی کنٹرول نہیں، اس کے باوجود وہ بے عیب طریقے سے افعال سر انجام دے رہے ہیں۔ آج کل ہزاروں سائنسدان اور انجینئرز دن رات لگا تار ان اعضاء سے ملتی جلتی مشینیں ایجاد کرنے کے لئے سرگرداں ہیں تاہم اس کے باوجود وہ ان اعضاء کی پیچیدگیوں کو سمجھنے سے قاصر ہیں۔ کہنے کا مقصد یہ ہے کہ تم ایک بے عیب مخلوق ہو ۔ اس جیسی کوئی بھی شے انسان نہیں بنا سکتا۔ تم ان سب کی کیا توجیہہ پیش کرتے ہو؟’‘

وہ شخص جو کہ اس بات سے انکار کرتا ہے کہ یہ سب چیزیں اللہ تعالیٰ نے پیدا کیں، شاید اس کا جواب اس طرح ہو ‘’میں یہ بھی جانتا ہوں کہ ہمارا جسم اور اعضاء بے عیب اور کامل ہیں لیکن میں اس بات پر یقین رکھتا ہوں کہ بے جان اور بے خبر ایٹم اتفاقیہ یا حادثاتی طور پر ایک دوسرے کے قریب آ گئے اور اس طرح ہمارے اعضاء اور اجسام بن گئے۔’‘

آپ بغیر کسی شک کے یہ محسوس کریں گے کہ اس شخص کے الفاظ میں کوئی ربط نہیں ۔یہ بے ربط اور نامناسب و ناموزوں ہیں۔ اس شخص کی عمر کچھ بھی ہو یا وہ کسی بھی پیشے سے تعلق رکھتا ہو، جو اس قسم کے خیالات رکھتا ہے، وہ حقیقت کو سمجھنے سے قاصر ہے۔ اس کی سوچ غلط ہے، اس کے نظریات من گھڑت اور جھوٹے ہیں، یہ حیران کن ہے کہ ہمیں اکثر ایسے لوگوں سے ملاقات کا موقع ملتا ہے جو کہ اس طرح کے نامعقول ،بے دلیل، خلافِ عقل اور غیر منطقی نظریات رکھتے ہیں۔ لہٰذا یہ آسان سی بات ہے کہ ایک عام سی مشین کا ایک ڈیزائنر ہے تو پھر انسان کا پیچیدہ اعضاء کا نظام کس طرح سے حادثاتی یا اتفاقیہ طور پر وجود میں آ سکتا ہے ؟اس میں کوئی شک نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ہی انسان کو بنایا۔ اللہ تعالیٰ نے ہی اس پہلے شخص کے جسم میں مختلف نظام بنائے جیسے تولیدی نظام بنایا تاکہ آئندہ نسلیں جاری اور قائم رہ سکیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس بات کا پورا انتظام کیا اور انسانی جسم میں ایسا پروگرام بنایا تاکہ انسانی نسل باقی رہے ۔ ہم بھی اسی پروگرام کا حصہ ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ اُس نے ہمیں پیدا کیا اور ہم اس کی تقدیر اور پروگرام کے تحت بڑھ رہے ہیں اور جوان ہو رہے ہیں۔ ان اوراق میں آپ نے جو پڑھا یا پڑھیں گے، اس سے آپ اچھی طرح اللہ تعالیٰ کی حکمت و دانائی کا احاطہ کر سکیں گے ، اُس ذات کے بارے میں جسے اللہ کہتے ہیں جو کہ ہمارا خالق و مالک ہے اور وہ بے پناہ قوت اور زبردست حکمت والا ہے ۔

٭٭٭

 

 

 

انسانی جسم میں بے عیب پروگرام

 

 

گذشتہ صفحات میں ہم نے ایک مکمل اور بے عیب پروگرام کا ذکر کیا جو کہ اللہ تعالیٰ نے انسانی جسم میں رکھا ہے۔ اس پروگرام کی بدولت ہر انسان کی آنکھیں، کان، بازو اور دانت ہیں اور اس پروگرام کی بدولت ہی کچھ اختلاف کے باوجود تمام انسان تقریباً ایک جیسے اور مناسب معلوم ہوتے ہیں۔ ہمارے کچھ رشتہ دار ایک دوسرے کے مشابہ ہوتے ہیں اور اس پروگرام کی وجہ سے دوسرے افراد میں اپنی الگ الگ خصوصیات ہوتی ہیں۔ مثال کے طور پر چینی اور جاپانی لوگ عام طور پر ایک دوسرے کے مشابہ ہیں اور اسی طرح افریقہ کے لوگ اپنی مخصوص جلد کے رنگ، چہرے کے خدوخال اور منہ اور آنکھوں کی بناوٹ کی وجہ سے ایک دوسرے سے مشابہت رکھتے ہیں۔

آئیے! ایک مثال کی مدد سے یہ جاننے کی کوشش کریں کہ یہ پروگرام کس طرح کا ہے یا اس کی نوعیت کیسی ہے۔ آپ کو کمپیوٹر کے فنکشن کا تو پتہ ہو گا کہ یہ کس طرح کام کرتا ہے ۔ ایک ماہر کمپیوٹر کو تیار کرتا ہے۔ مخصوص کارخانوں میں کمپیوٹر کے ماہرین ترقی یافتہ ٹیکنالوجی کی مدد سے امدادی یا متلازم اشیاء مثلاً مائیکر پروسیسر، مونیٹرز، کی بورڈ، سی ڈی ،لوؤڈ سپیکر اور اسی طرح کی دوسری اشیاء بناتے ہیں۔ اس طرح آپ کے ٹیبل پر ایک مشین موجود ہے جو کہ نہایت ہی پیچیدہ قسم کے افعال سر انجام دیتی ہے۔ آپ اس پر مختلف قسم کی گیم کھیل سکتے ہیں اور اس کے علاوہ آپ جو چاہیں، اس میں لکھ سکتے ہیں لیکن یہ تمام افعال سر انجام دینے کے لئے آپ کو ایک چیز چاہیے جسے ’’سوفٹ ویئر’‘ یا پروگرام کہتے ہیں۔ان پروگرامز کے بغیر جو کہ ماہرین نے تیار کیے ہوتے ہیں، آپ کا کمپیوٹر کوئی بھی کام سر انجام نہیں دے سکتا۔ مزید برآں ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ ہر پروگرام ہر قسم کے کمپیوٹر کے لئے موافق یا موزوں نہیں ہوتا۔ لہٰذا کمپیوٹر کے ماہر کے لئے کمپیوٹر اور اس کے موافق یا اس کے لئے موزوں پروگرام کا جاننا ضروری ہے۔ جیسا کہ ہم نے دیکھا کہ کمپیوٹر کو چلانے کے لئے مشین اور اس سے موزونیت رکھنے والے پروگرام دونوں کی ضرورت ہوتی ہے، لیکن اس سے بھی نہایت اہم بات یہ ہے کہ اگر کوئی بھی شخص ان چیزوں کو ڈیزائن نہ کرے یا ان کو پیدا نہ کرے تو ایک مرتبہ پھر آپ کا کمپیوٹر کوئی بھی فعل سر انجام نہیں دے گا۔

انسانی جسم بھی ایک کمپیوٹر کی مانند ہے۔ جیسا کہ ہم پہلے بتا چکے ہیں کہ ہمارے جسم کے خلیوں میں ایک پروگرام ہے جس کی وجہ سے ہمارا وجود برقرار ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ کیسے ممکن ہوا کہ ایک پروگرام وجود میں آ گیا؟ اس کا جواب واضح ہے کہ قادرِ مطلق نے ہر انسان کو تخلیق کیا، یہ وہی ذات ہے جس نے ہمارا جسم بنایا اور اس کے ساتھ ساتھ اس میں پروگرام نصب کیا جو کہ اس جسم کے خدوخال کو کنٹرول کرتا ہے، لیکن آپ مجھے غلط نہ سمجھئے گا۔ایک اور نقطہ نظر کے مطابق یہ ناممکن ہے کہ کمپیوٹر کا انسانی جسم سے مقابلہ کیا جائے ،ہمارے اجسام آج کے دور کے نہایت ہی پیچیدہ کمپیوٹر کے مقابلے میں بہت اعلیٰ ہیں۔ صرف ہمارا دماغ ہی کمپیوٹر کے مقابلے میں کئی گنا پیچیدہ ہے۔ آئیے اب دیکھتے ہیں کہ ایک “بچہ ” اس دنیا میں کیسے آتا ہے ۔شروع شروع میں آپ کی والدہ کے رحم میں گوشت کے چھوٹے چھوٹے ذرات ہوتے ہیں، وقت کے ساتھ ساتھ یہ ذرات پھیلتے جاتے ہیں اور آخر کار اس سے اشکال بنتی ہیں۔

آپ کا قد، آپ کی آنکھوں کی رنگت، آپ کی بھنویں ،آپ کے ہاتھوں کی بناوٹ اور اس جیسی سینکڑوں دوسری خصوصیات آپ کے وجود میں ابتداء سے ہی متعین کر دی گئیں ہیں ۔یہ تمام معلومات اس ابتدائی پروگرام میں محفوظ کر دی گئی ہیں جو کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت سے خلیے میں رکھا ہے، یہ پروگرام اتنا کامل ، مفصل اور بے عیب ہے کہ موجود ہ دور کے سائنسدان ہی اس کا بغور مطالعہ کر پائے ہیں کہ یہ کیسے کا م کر رہا ہے۔

اس پروگرام کے تحت جو کہ اللہ تعالیٰ نے ہمارے اجسام میں رکھا ہے ،ہم اس کے تحت بتدریج بڑھتے ہیں یا جوان ہوتے ہیں۔ اسی وجہ سے ہمارے جسم کی بناوٹ اور اس میں اضافہ ہمیں عجیب نہیں لگتا۔ ہمیں جو ان ہونے میں کئی سال لگ جاتے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اگر یہ پروگرام تیزی سے کام کرتا تو ہم ضرور حیران ہوتے۔ ایک نوزائیدہ بچے کا پَل بھر میں اچانک بوڑھا ہونا نہایت ہی حیران کن ہوتا۔

٭٭٭

 

 

 

 

دوسری جاندار اشیاء کیسے وجود میں آئیں؟

 

روئے زمین پر صرف انسان ہی ایک ایسی مخلوق نہیں ہے جس کا وجود ہے بلکہ اس کے علاوہ ہزاروں دوسری جاندار چیزیں ہیں۔ ان میں سے کچھ کے بارے میں آپ کو علم ہے اور اکثر کے بارے میں آپ نہیں جانتے۔ ان میں سے کچھ آپ کے ارد گرد موجود ہیں۔ آپ اُن کو ہر طرف دیکھتے ہیں لیکن ان میں سے کچھ آپ سے دور دراز علاقوں میں پائی جاتی ہیں اور آپ نے اُن کو صرف کتابوں اور فلموں میں دیکھا ہو گا۔ ان تمام مخلوقات کا بغور مطالعہ کرنے سے ایک حقیقت کھل کر سامنے آتی ہے کہ ان سب میں ایک خاصیت مشترک ہے۔ کیا آپ اس کا اندازہ لگا سکتے ہیں؟ ہم اس کو ’’مطابقت’‘ کہتے ہیں۔ اب آئیے اس بات کا تجزیہ کریں کہ جاندار چیزیں کس سے مطابقت رکھتی ہیں ؟

* ماحول کے ساتھ جس میں وہ رہتی ہیں۔

* دوسری جاندار اشیاء کے ساتھ جو کہ ان کے ساتھ ساتھ وجود رکھتی ہیں۔

* اُن عناصر کے ساتھ جو قدرت میں توازن رکھتے ہیں۔

* اور انسان کو مفاد دینے والے عوامل کے ساتھ۔

ان پر مزید بحث کرنے سے پہلے آئیے ایک مثال کے ذریعے ’’مطابقت ‘‘کے معنی واضح کرنے کی کوشش کریں۔ اپنے گھر میں بجلی کے لئے لگے ساکٹ اور پلگ میں غور کیجیے۔ یہ دونوں ایک دوسرے سے مکمل مطابقت رکھتے ہیں لیکن یہ آپ کیسے بتا سکتے ہیں کہ یہ دونوں ایک دوسرے سے مکمل مطابقت رکھتے ہیں؟ کیونکہ ساکٹ میں دو سوراخ ہوتے ہیں جس میں پلگ کے دندان یا دو شاخے لگائے جاتے ہیں۔ کیا صرف یہی کافی ہے؟ پلگ میں دھات کے بنے ہوئے دو شاخوں یا دندان کی چوڑائی ساکٹ کے دو سوراخوں کی چوڑائی کے برابر ہوتی ہے۔ اگر اس طرح نہ ہو تو پلگ کبھی بھی ساکٹ میں پیوست نہ ہو۔ پلگ کے دندان اور ساکٹ کے سوراخوں کے درمیان فاصلہ برابر ہوتا ہے ،اگر دونوں میں فاصلہ برابر نہ ہو تب بھی پلگ ساکٹ میں پیوست نہ ہو۔

تاہم صرف یہی خاصیت پلگ اور ساکٹ کے درمیان مطابقت قائم کرنے کے لئے کافی نہیں ہے ۔اگر پلگ کے دندان بہت چھوٹے یا بہت لمبے ہوتے تب بھی ان دونوں میں مطابقت قائم نہ ہوتی۔ اگر پلگ کے دندان غیر دھاتی ہوتے تب بھی وہ ساکٹ سے بجلی لینے میں ناکام رہتے ۔ اگر پلگ پلاسٹک کے نہ بنے ہوتے تب ہر وقت جبکہ آپ ساکٹ میں پلگ لگاتے، آپ کو بجلی کا جھٹکا لگتا۔ جیسا کہ آپ نے دیکھا کہ ایک سادہ سے آلے میں عدم مطابقت کی وجہ سے وہ آلہ افعال سر انجام دینے سے قاصر ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ ایک ہی شخص نے ساکٹ اور پلگ بنایا ہے اور اس نے ان کا ڈیزائن کچھ اس طرح تیار کیا ہے کہ دونوں ایک دوسرے سے مطابقت رکھتے ہیں اور اس نے ان کو فعال بنایا۔ یہ ناممکن ہے کہ دھات اور پلاسٹک ایک حادثاتی طریقے سے ایک دوسرے کے نزدیک آئے اور دونوں کی آزادانہ اور الگ تھلگ منصوبہ بندی کی گئی تھی۔ اس صورت میں ہم ساکٹ اور پلگ کو ایک دوسرے کے موافق نہیں پا سکتے۔

ساکٹ اور پلگ کے درمیان مطابقت کے مقابلے میں جاندار اشیاء کے درمیان مطابقت زیادہ پیچیدہ ہے کیونکہ جاندار اشیاء میں ہزاروں نظام اور اعضاء ہوتے ہیں جو کہ بیک وقت موجود ہوتے ہیں اور باہمی مفاہمت اور بے عیب طریقے سے افعال سر انجام دیتے ہیں ۔ لہٰذا مندرجہ ذیل صفحات میں ہم مختصراً جاندار اشیاء میں بے عیب خصوصیات پر روشنی ڈالیں گے جو کہ اللہ تعالیٰ نے پیدا کی ہیں۔

٭٭٭

 

 

 

جاندار اشیاء اپنے ماحول سے مطابقت رکھتی ہیں

 

ہر جاندار شئے چاہے وہ زمین میں ہے یا ہوا میں یا پانی کے اندر، وہ اپنے ماحول سے مکمل طور پر مطابقت رکھتی ہے۔ ان کو اسی طرح بنایا گیا ہے۔ مختلف کامل نظام جانداروں کی خوراک، تحفظ اور تولید کے نظام کے لحاظ سے محفوظ ہیں۔یہ کہا جا سکتا ہے کہ ہر جاندار شئے اپنے ماحول کے لئے خاص طور پر ڈیزائن کی گئی ہے ۔جانداروں کے اعضاء اور رہنے سہنے کے طریقے ماحول کے حالات سے مطابقت رکھتے ہیں ۔ مثال کے طور پر پرندوں کو ہوا میں اُڑنے کے لئے مکمل پر عطا کیے گئے ہیں۔ مچھلی کو پانی میں سانس لینے کی غرض سے خاص طور گلپھڑے عطا کیے گئے ہیں۔ اگر ان کے ہماری طرح پھیپھڑے ہوتے تو وہ ڈوب جاتیں۔

 

جاندار اپنے ساتھ رہنے والے دوسرے جانداروں سے مطابقت رکھتے ہیں

 

کچھ پرندے اور حشرات پودوں کی تولید میں مدد کرتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگرچہ وہ اس سے بے خبر ہوتے ہیں لیکن وہ پودوں کے پھیلنے میں مدد دیتے ہیں۔ مثال کے طور پر ایک پھول سے دوسرے پھول پر جاتے ہوئے شہد کی مکھیاں اپنے ساتھ پولن لے کر جاتی ہیں۔اس طریقۂ کار کی بدو لت پودے اپنی نسل کو بڑھانے میں کامیاب ہوتے ہیں۔اسی طرح بعض اوقات جانور ایسے افعال سر انجام دیتے ہیں جو کہ دوسرے جانوروں کے لئے مفید ثابت ہوتے ہیں ۔ مثال کے طور پر بڑی مچھلی کی جلد کی صفائی سے چھوٹے چھوٹے جراثیم صاف ہوتے ہیں جس سے ان کی زندگی پر مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ یہ بھی مطابقت کی ایک اور قسم ہے۔

٭٭٭

جاندار قدرتی توازن کے عوامل سے مطابقت رکھتے ہیں

 

انسان کے علاوہ کوئی بھی جاندار ایسا نہیں جو کہ قدرتی توازن کو خراب کر ے یا بگاڑے ۔ مزید برآں جاندار اشیاء میں ایسی خصوصیات پیدا کی گئی ہیں جو کہ اس توازن کو برقرار رکھتے ہیں لیکن زمین کے توازن کو ہمیشہ انسان کے جاہلانہ رویے سے نقصان پہنچنے کا احتمال رہتا ہے۔ مثال کے طور پر اگر انسان کسی جاندار کی انواع کا مناسب حد سے زیادہ شکار کرتا ہے تو اس انواع کی نسل ختم یا نایاب ہو سکتی ہے۔ جس سے ایک وقت میں انسان اور قدرتی ماحول کو خطرہ ہو سکتا ہے۔ لہٰذا جانداروں کی تخلیق میں قدرتی طور پر توازن پایا جاتا ہے وہ مکمل طور پر قدرتی توازن سے مطابقت رکھتے ہیں لیکن یہ صرف انسان ہی ہے جو کہ اکیلے اس توازن کی تباہی کا ذمہ دار ہے۔

٭٭٭

 

 

جاندار انسانیت کے لئے مفید عوامل کے ساتھ بھی مطابقت رکھتے ہیں

 

مثال کے طور پر ذرا غور کیجئے کہ شہد آپ کے لئے کتنا مفید ہے۔ شہد کی مکھی کو کیسے پتہ ہے کہ آپ کو اس طرح کی صحت افزاء غذا کی ضرورت ہے اور وہ یہ کیسے بناتی ہے؟ کیا ایک مرغی، گائے یا بکری یہ جانتی ہے کہ انسان کی غذائی ضروریات کیا ہیں؟ اور وہ اس کی غذائی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے مکمل خوراک پیدا کرتی ہیں؟ ہر گز ایسا نہیں ہے۔

جانداروں میں حیران کن ہم آہنگی اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ صرف خالقِ مطلق کی تخلیق کی بدولت ممکن ہے کہ زمین پر یہ توازن قائم ہے۔

٭٭٭

 

 

 

 

کائنات کی تخلیق

 

 

ابھی تک ہم نے اللہ تعالیٰ کی جانداروں کی تخلیق کے بارے میں بحث کی۔ اب وقت ہے کہ ہم کائنات کا وسیع پیمانے پر تجزیہ کریں۔ اللہ تعالیٰ نے اس کائنات کو بھی پیدا کیا جس میں آپ رہتے ہیں ۔ یہ نظامِ شمسی،زمین، یہ سورج، یہ سیارے، یہ ستارے اور بڑی بڑی کہکشائیں اور ان کے علاوہ جس چیز کا بھی وجود ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ نے پیدا کی ہے۔ تاہم اُن لوگوں کے ساتھ ساتھ جو کہ اس بات سے انکار کرتے ہیں کہ جانداروں کو تخلیق کیا گیا ہے، کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو کہ اس حقیقت سے بھی انکار کرتے ہیں کہ کائنات کو پیدا کیا گیا ہے ۔یہ لوگ اس بات پر اصرار کرتے ہیں کہ یہ کائنات اچانک اور فوراً وجود میں آ گئی تاہم اُن کا یہ بھی خیال ہے کہ یہ ہمیشہ سے تھی تاہم وہ اپنے اس غیر معقول نظریہ کی وضاحت نہیں کرتے۔ اُن کا یہ دعویٰ مندرجہ ذیل مثال جیسا ہے ۔ تصور کریں کہ آپ ایک دن سفر کرتے ہوئے سمندر کے راستے ایک جزیرے کے ساحل تک پہنچ گئے ۔ آپ اس کے بارے میں کیا خیال کریں گے کہ اگر آپ وہاں ایک شہر پائیں جو کہ نہایت ہی ترقی یافتہ ہو، اس میں آسمان کو چھوتی ہوئی عمارتیں ہوں اور خوبصورت پارک اور ہر طرف سبزہ ہی سبز ہو؟ مزید برآں اس شہر میں آپ کو ہر طرف تھیٹر، ریسٹورانٹ اور ہر طرف ریلوے لائنیں نظر آئیں۔ شاید آپ یہ سوچیں کہ اس شہر کو بڑی منصوبہ بندی سے بنایا گیا ہے اور اس کو تعمیر کرنے والے نہایت ہی ذہین لوگ ہیں۔ کیا آپ ایسا نہیں سوچیں گے؟ یقیناً آپ کو ایسا ہی سوچنا چاہیے لیکن آپ اس شخص کے بارے میں کیا رائے رکھیں گے جو یہ کہے کہ” اس شہر کو کسی نے نہیں بنایا” یہ ہمیشہ سے موجود تھا اور ماضی میں ہم یہاں آئے اور یہاں آباد ہو گئے۔

یہاں ہمارے پاس زندگی کی تمام سہولتیں موجود ہیں اور یہ تمام چیزیں کیا اچانک اور حادثاتی طور پر وجود میں آ گئیں؟ آپ یہ خیال کریں گے کہ یہ شخص نہایت ہی نامعقول اور بے وقوف ہے۔یا پھر آپ یہ خیال کریں گے کہ یہ شخص ہوش و حواس میں نہیں ہے، اس لئے اس طرح کی باتیں کر رہا ہے۔ لیکن یہ مت بھولیے گا کہ جس کائنات میں ہم رہتے ہیں وہ اس خیالی شہر کے مقابلے میں بہت بڑی ہے۔ ہماری کائنات ان گنت سیاروں، تاروں اور اس طرح کے دوسرے اجسام پر مشتمل ہے۔ ایسا ہی ایک مسئلہ ہے اس شخص کے سوال کا جو یہ دعویٰ کرتا ہے کہ یہ بے عیب کائنات تخلیق نہیں کی گئی بلکہ پہلے سے موجود تھی۔ اس شخص کا سوال لاجواب نہیں رہنا چاہیے۔ کیا آپ اس سے اتفاق نہیں کریں گے ؟ مندرجہ ذیل حصہ پڑھنے کے بعد آپ خود ہی اس سوال کا صحیح جواب دینے کے قابل ہو جائیں گے۔ اب آئیے اس مضمون کو تھوڑا سا طول دیں اور آخر تک موقف پر قائم رہیں۔

٭٭٭

 

 

ہر شے کی ابتداء ’’بگ بینگ تھیوری’‘( بڑے زور دار دھماکے) سے ہوئی

 

اس دور میں جبکہ لوگوں کے پاس کائنات یا اجرامِ فلکی کا مشاہدہ کرنے کے لئے دوربینیں نہیں تھیں تو ان کے پاس کائنات کی وسعت کے بارے میں نامکمل اور ناقابلِ اعتبار معلومات ہوتی تھیں۔ اس طرح اُن کے کائنات کے بارے میں نظریات بھی مختلف تھے۔ ترقی یافتہ ٹیکنالوجی کی بدولت اب لوگوں نے خلا سے باہر کے بارے میں صحیح اور درست معلومات حاصل کر لی ہیں۔ بیسویں صدی کے وسط میں انہوں نے ایک نہایت ہی اہم بات دریافت کی۔ وہ یہ تھی کہ کائنات کی ابتداء موجود ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کائنات یہاں ازل سے موجود نہیں تھی۔ بالفاظِ دیگر یہ کائنات یعنی ستارے، سیارے اور کہکشائیں بننے کا بھی ایک خاص وقت موجود ہے۔

سائنسدانوں نے اس کائنات کی عمر تقریباً 15ارب سال معلوم کی ہے۔ 15ارب سال پہلے جب کچھ نہیں(عدم) تھا ،ہر شئے اچانک ایک نقطے سے بڑے زور دار دھماکے سے وجود میں آئی۔ سائنسدان کائنات کے اس لمحے کو جبکہ یہ وجود میں آئی ’’بگ بینگ’‘ کا نام دیتے ہیں۔ یعنی ’’زور دار دھماکہ’‘ مختصر یہ کہ کائنات اور مادہ جس کے بارے میں لوگوں کی رائے تھی کہ یہ ازل سے ہے اس کی بھی ایک ابتداء ہے۔

اس مرحلے پر اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ’’ان کو یہ کیسے سمجھ میں آیا کہ اس کی ابتداء ہے۔’‘ یہ بہت آسان تھا۔اس زور دار دھماکے کی وجہ سے مادے کے ذرات ایک دوسرے سے دور جا گرے اور دور دور تک پھیل گئے اور یہ ابھی تک ایک دوسرے سے دور ہٹ رہے ہیں۔ تھوڑی دیر کے لئے ذرا سوچئے ! اس وقت بھی کائنات مسلسل پھیل رہی ہے۔ اس کائنات کو ایک غبارے کی مانند تصور کریں۔ اگر ہم اس غبارے پر دو چھوٹے دھبے لگائیں تو جب ہم اس میں ہوا بھریں گے تو کیا ہو گا؟ جونہی غبارہ پھیلے گا اور اس کا حجم بڑھے گا، اس سے اس پر بنے دھبے ایک دوسرے سے دور ہٹ جائیں گے ۔ غبارے کی طرح اس کائنات کا حجم بھی بڑھ رہا ہے اور اس پر بنی ہر شئے باقی چیزوں سے تیزی سے دور ہو رہی ہے یعنی پھیل رہی ہے۔ بالفاظِ دیگر ستاروں ، کہکشاؤں ،ستاروں اور شہابِ ثاقب کے درمیان فاصلہ مسلسل بڑھ رہا ہے۔

تصور کیجئے !کہ آپ کائنات کے پھیلاؤ کے بارے میں ایک کارٹون فلم دیکھ رہے ہیں۔ یہ کائنات کیسی دکھائی دے اگر ہم فلم کو ابتداء کی طرف ریوائنڈ کریں؟ یہ چھوٹی ہو کر ایک نقطے تک محدود ہو جائے گی۔ کیا ایسا نہیں ہو گا؟ یہی وہ طریقہ ہے جو کہ سائنسدانوں نے اختیار کیا۔ اس طرح وہ اس بڑے دھماکے کی ابتداء(عدم) تک پہنچے اور انہوں نے محسوس کیا کہ ہمہ وقت تیزی سے پھیلتی ہوئی کائنات شروع میں ایک نقطہ تھی۔

اس زور دار دھماکے کو ’’بگ بینگ تھیوری’‘ کہتے ہیں ۔ یہ اس کائنات کا نقطۂ آغا ز تھا جبکہ اللہ تعالیٰ نے اس کائنات کو پیدا کیا۔ اس دھماکے سے اللہ تعالیٰ نے وہ ذرات بنائے جن سے یہ کائنات بنی اور اس طرح مادے کا ظہور ہوا۔ بعد میں یہ زبردست رفتار کے ساتھ پھیلتا گیا۔ اس دھماکے کے شروع کے لمحات میں یہ مادہ بیک سوپ کی مانند تھا جو کہ مختلف ذرات کا مجموعہ تھا لیکن وقت کے ساتھ ساتھ یہ منتشر شدہ ذرات بعد میں بالترتیب اشکال کی صورت بنی ۔ اللہ تعالیٰ نے ان ذرات سے ایٹم بنائے اور اس سے ستارے بنے، اللہ تعالیٰ نے تمام کائنات اور اس میں موجود اشیاء کو تخلیق کیا۔

آئیے ایک مثال سے یہ سب کچھ واضح کریں

ایک بہت بڑے خلا کا تصور کیجئے جو کہ لا محدود ہے۔ اب فرض کریں کہ وہاں پر صرف ایک پیالہ ہے جو کہ پینٹ یا رنگ سے بھرا ہوا ہے۔ اس کے علاوہ وہاں کسی اور شئے کا وجود نہیں ہے۔ اس پیالے میں ہر طرح کے پینٹ ملائے گئے ہیں اور ا س سے ایک غیر معمولی سے رنگ بن گیا ہے ۔ فرض کریں کہ اس پیالے میں ایک بم پھٹ جاتا ہے۔ اس کے نتیجے میں یہ رنگ چھوٹے چھوٹے دھبوں کی شکل کے ذرات میں بکھر جائے گا۔ یہ تصور کریں کہ لاکھوں کی تعداد میں رنگوں کے ذرات خلا میں ہر طرف حرکت کر رہے ہیں۔ اسی اثناء میں خلا میں سفر کے دوران ان چھوٹے چھوٹے ذرات سے غیر معمولی چیزیں بننا شروع ہو جائیں، منتشر اور بے ترتیب اور آخر کار غائب ہونے کی بجائے، وہ ایک ربط سے کوئی شئے بنانا شروع کریں جیسا کہ وہ کوئی ذہین مخلوق ہوں۔ وہ ننھی بوندیں جنہوں نے شروع میں مل کر رنگوں کا محلول بنایا تھا، اب وہ ایک دوسرے سے الگ ہو کر اپنے اپنے انفرادی رنگوں میں تقسیم ہونا شروع ہو جائیں۔

نیلے ،پیلے، سُرخ اور ایک جیسے رنگوں کی ننھی بوندیں آپس میں اکٹھی ہو جائیں اور اس طرح ایک دوسرے سے دور ہٹتی رہیں حتیٰ کہ اس سے بھی غیر معمولی چیزیں سامنے آنا شروع ہو جائیں۔ 500نیلے رنگ کی ننھی بوندیں آپس میں اکٹھی ہو جائیں اور اپنا سفر جاری رکھیں۔ اسی اثناء میں300سُرخ رنگوں کی ننھی بوندیں ایک کونے میں اکٹھی ہو جائیں اور اسی طرح200زرد رنگ کی ننھی بوندیں مل کر ایک بڑا قطرہ بنائیں اور اس طرح دور دور پھیل جائیں ۔ یہ الگ الگ رنگوں کے گروپ یا گروہ ایک دوسرے سے دور ہٹتے جائیں اور حسین و جمیل صورتیں یا اشکال بنائیں اور ایسا معلوم ہو کہ یہ تمام کام کسی کے حکم کے مطابق ہو رہا ہے۔ وہ ہی تو اللہ عز و جل ہے۔

کچھ ننھی بوندیں اکٹھی ہو جائیں اور اس طرح ستاروں کی شکل بن جائیں۔ دوسری مل کر سورج کی تصویر بنائیں اور جبکہ کچھ دوسری مل کر سورج کے گرد دوسرے سیارے بنا لیں، ان بوندوں کا ایک اور گروپ یا گروہ زمین کی تصویر بنائے، جبکہ ایک اور گروپ یا گروہ چاند بنا لے۔ اگر آپ اس طرح کی تصویر کبھی دیکھیں تو کیا آپ یہ سوچیں گے کہ ایک رنگوں کے پیالے میں زور دار دھماکہ کی بدولت اچانک یہ تصویر بن گئی؟ بلکہ سو چنے کی بات یہ ہے کہ دھماکہ کس نے کیا؟ تو اس کا جواب ہے کہ اللہ تعالیٰ نے لفظ کُن سے یعنی ہو جا اور وہ ہو گیا۔

٭٭٭

 

 

کوئی بھی شخص اس کو ممکن نہیں سمجھتا

 

جیسا کہ رنگوں کی بوندوں کی کہانی ظاہر کرتی ہے کہ مادہ ایک دوسرے کے قریب آیا اور ایک مکمل تصویر بن گئی جسے ہم تب دیکھتے ہیں، جب ہم آسمان کی طرف دیکھتے ہیں ۔دوسرے الفاظ میں ستارے، سورج اور دوسرے سیارے ،لیکن کیا یہ سب چیزیں اچانک اور خود بخود ہی بن گئی ہیں؟

یہ کیسے ممکن ہے کہ اچانک اور حادثاتی طور پر ایٹم گرانے سے دھماکے کی وجہ سے آسمان پر ستارے، سیارے، سورج ،چاند اور ہماری زمین وجود میں آ گئے؟ اس طرح آپ کا اپنے والد، والدہ، دوستوں یا پرندوں،بلیوں اور سٹرابیریز کے بارے میں کیا خیال ہے؟ کیوں نہیں ! ایسا ہونا ناممکن سا معلوم ہوتا ہے، کیونکہ یہ سو چنا کہ ایک گھر معماروں اور مزدوروں کے بغیر بن گیا ہے۔ کتنا احمقانہ اور بے وقوفانہ خیال ہے یا پھر یہ کہتا ہے کہ ٹائیل اور اینٹوں کی آزادانہ مرضی سے گھر تیار ہو گیا اور یہ بھی حادثاتی طور پر۔ ہم سب اس بات کا اس طرح احاطہ کر سکتے ہیں کہ بم دھماکے کی بدولت اینٹوں کے بکھرنے سے ایک جھونپڑی نہیں بن سکتی۔ اس قسم کے دھماکے سے اینٹیں ذرات اور ریت میں تبدیل ہو کر دوبارہ زمین یا مٹی میں مل سکتے ہیں مگر اپنی مرضی سے گھر نہیں بنا سکتے۔

لیکن یہاں پر ایک نقطہ ہماری توجہ چاہتا ہے ۔آپ جانتے ہیں کہ رنگوں کی بوندیں ذی عقل اور ذی جان نہیں۔ لہٰذا یہ ناممکن ہے کہ رنگوں کی بوندیں اچانک یا خود بخود ایک دوسرے کے پاس آئیں اور کوئی تصویر بنائیں۔ تاہم یہاں ہم ذی عقل اور جاندار چیزوں کی تخلیق کے بارے میں بات کر رہے ہیں۔ بالکل ناممکن ہے کہ انسان، پودے اور جانور ایک بے جان شئے کی عام ترتیب سے اچانک وجود میں آ گئے ہوں۔ اس کو سمجھنے کے لئے ہمیں اپنے اجسام میں غور کرنا ہو گا۔ ہمارے جسم چھوٹے چھوٹے نظر نہ آنے والے مالیکیولز سے مل کر بنے ہیں جیسا کہ پروٹین، چربی اور پانی وغیرہ۔ یہ سب مل کر خلیے بناتے ہیں اور یہ خلیے مل کر ہمارے اجسام بناتے ہیں۔ ہمارے جسم میں مکمل ربط ایک خاص ڈیزائن کا نتیجہ ہے ۔اللہ تعالیٰ نے ہماری آنکھیں بنائیں جن سے ہم دیکھتے ہیں، ہمارے ہاتھ بنائے جن سے ہم چیزوں کو پکڑتے ہیں اور ہماری ٹانگیں بنائیں جن سے ہم چلتے ہیں۔زبان بنائی جس سے ہم ذائقہ چکھتے ہیں، کان بنائے جن سے ہم سنتے ہیں اور اسی طرح دل اور دوسرے اعضاء بنائے۔

اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرتِ کاملہ سے ہماری تقدیر میں لکھ دیا ہے کہ ہم اپنی ’’ماں’‘ کے جسم میں کیسے تخلیق ہوں گے ؟ ہمارا قد کتنا ہو گا؟ اور یہ کہ ہماری آنکھوں کا رنگ کیسا ہو گا؟ وغیرہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

٭٭٭

 

 

اللہ تعالیٰ ہی ہر شئے کا خالق ہے

 

اگر آپ کو یاد ہو، ہم نے اس کتاب کی ابتداء میں ایک صحیح جواب معلوم کیا تھا تاکہ بے دین شخص کو جواب دیا جا سکے۔ اس کا جواب اب ہمارے پاس موجود ہے۔

دھماکوں کے باعث کوئی بھی باقاعدہ مورت یا صورت نہیں بنتی بلکہ پہلے والی بھی بگڑ جاتی ہے۔ دھماکے کے نتیجے میں معرضِ وجود میں آنے والی ترتیب کے مقابلہ میں کائنات میں زیادہ نظم و ترتیب ہے۔ اس مثال کے مقابلے میں جس کا ہم نے ذکر کیا۔ مثلاً ایک بڑا شہر یا پینٹ کا ایک پیالہ یہ تمام کسی حادثاتی واقعہ کا نتیجہ نہیں ہو سکتے۔

یہ کامل اور مربوط نظام اس قادرِ مطلق کے سوا کوئی نہیں بنا سکتا۔ اللہ تعالیٰ جب کسی شئے کی تخلیق کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو اسے کہتا ہے ’’کُن’‘ یعنی ہو جا تو وہ ’’ہو جاتی’‘ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس وسیع و عریض اور بے عیب کائنات میں ہمارے لئے دنیا بنائی اور اسی نے اس میں ہمارے لئے جانور اور پودے پیدا کیے۔ اسی نے سورج بنایا تاکہ اس سے توانائی خارج ہو اور ہمیں حرارت ملے۔ اللہ تعالیٰ نے ہی سورج اور زمین کے درمیان ایک مناسب فاصلے کا تعین کیا، اگر یہ زمین سے تھوڑا سا نزدیک ہوتا تو ہماری زمین زیادہ گرم ہوتی اور اگر سورج زمین سے تھوڑا سا دور ہوتا تو ہم سب کے سب منجمد ہو جاتے۔

جوں جوں وقت گزرنے کے ساتھ سائنسدان کائنات کے سربستہ رازوں سے آشنا ہوں گے، ہم قادرِ مطلق کی قدرت کو اچھی طرح سمجھنے کے قابل ہو جائیں گے۔ کیونکہ مادہ نہ تو خود بخود فیصلے کر سکتا ہے اور نہ ہی اُن پر عمل در آمد کروا سکتا ہے۔ اس سے واضح ہے کہ کوئی نہ کوئی خالق ضرور ہے جس نے اس کائنات کو ڈیزائن کیا اور اسے تخلیق کیا۔ ستارے، انسان، جانور، پودے اور ہر وہ شئے چاہے وہ جاندار ہے یا بے جان، وہ جس بھی مادے سے بنی ہے، اس کا مالک اللہ تعالیٰ ہے اور ہر شے اسی کے حکم کی پابند ہے۔

اسی لئے کائنات میں جو بھی شئے ہے، اس میں نظم و ترتیب ہے، ہر شئے قادرِ مطلق نے بنائی ہے جو خالق ہے اور اعلیٰ سے اعلیٰ صورتیں بنانے والا ہے۔

٭٭٭

 

 

ہر تخلیق کی ایک تقدیر ہے

 

اس کتاب کی ابتداء میں ہم نے حضرت آدم ؑ کا ذکر کیا تھا کہ کیسے اللہ تعالیٰ نے اُن کو تخلیق کیا۔ تمام انسانیت کا سلسلۂ نسب حضرت آدم ؑ سے جا ملتا ہے، اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو اس دنیا کی زندگی عطاکی ہے تاکہ وہ اُن کی آزمائش کرے اور اس طرح اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر بھیجے تاکہ انسان تک اُن کی ذمہ داریاں پہنچائی جائیں۔

اس دنیا میں لوگوں کی مختلف واقعات و تجربات کے ذریعے آزمائش کی جائے گی۔ با الفاظ دیگر ان حادثات و واقعات کے حوالے سے ہمارے ردِ عمل کے ذریعے ہماری آزمائش کی جائے گی۔ یعنی مشکلات میں ہمارے لبوں پر کیا کلمات ہوتے ہیں اور ہمارے صبر کی کیا کیفیت ہوتی ہے ؟مختصراً یہ کہ ہم اچھے طرزِ عمل کا مظاہرہ کر پاتے ہیں یا نہیں؟

اس آزمائش کے نتیجے میں ہماری آخرت کی زندگی کا فیصلہ ہو گا۔ اس دنیا کی آزمائش میں اہم حکمت مخفی ہے۔ اللہ تعالیٰ کی عنایت و رحم و کرم ہے کہ اس نے ہر شئے کی تقدیر لکھ دی ہے۔ تقدیر یہ ہے کہ وہ ہر قسم کے واقعات و حادثات جو کہ انسان کی زندگی میں رونما ہوتے ہیں، وہ تمام انسان کی پیدائش سے بہت پہلے اللہ تعالیٰ نے اپنے علم سے واضح کر دیے ہیں ۔ ہر شخص کے لئے اللہ تعالیٰ نے الگ تقدیر بنائی ہے۔ اس بات کو اچھی طرح سمجھنے کے لئے ہم ویڈیو ٹیپ کیسٹ پر ریکارڈ فلم کی مثال دے سکتے ہیں۔اس فلم کی ابتداء اور اختتام بنانے والے کو پہلے سے پتہ ہوتا ہے لیکن دیکھنے والے کو فلم دیکھنے کے ساتھ ساتھ اس کا پتہ چلتا ہے۔ تقدیر کی حقیقت بھی کچھ اسی طرح سے ہے۔ ایک شخص اپنی زندگی میں جو کرے گا، جس قسم کے واقعات و حادثات سے اس کا سامنا ہو گا، وہ کس سکول میں تعلیم حاصل کرے گا، وہ کس گھر میں رہے گا اور اس طرح اس کی موت کا وقت سب کے سب پہلے سے طے شدہ ہیں۔ایک شخص کی زندگی میں رونما ہونے والے واقعات چاہے وہ اچھے ہوں یا بُرے، چھوٹے ہوں یا بڑے ،اللہ تعالیٰ کے علم میں ہیں۔ہر شخص کی آزمائش اس کے لئے خاص طور پر لکھی گئی تقدیر کے اندر رہ کر کی جائے گی۔ کہنے کا مقصد یہ ہے کہ اس منظر نامے کے مطابق، انسان کو لگا تار مختلف واقعات سے گزرنا ہو گا اور ان واقعات میں اس کے عمل اور ردِ عمل اور طرزِ عمل اور اس کے ایمان کی آزمائش ہو گی اور اس طرح اس کی آخرت کی زندگی کا فیصلہ ہو گا۔

تقدیر کا علم اور اس پر یقین انسان کے لئے سکون و اطمینان کی بات ہے ۔یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے بہت بڑی نعمت ہے، اسی بناء پر انسان ایسے واقعات جن کے نتائج اچھے نہیں ہوتے، ان پر افسوس نہیں کرتا کیونکہ اسے معلوم ہے اور یقین ہے کہ یہی اللہ تعالیٰ کی رضا ہے۔ لہٰذا وہ ان ناموافق حالات کے سامنے ثابت قدم رہتا ہے اور یہ جانتا ہے کہ کوئی بھی شئے اللہ تعالیٰ کے حکم کے بغیر نہیں ہو سکتی ۔ اللہ تعالیٰ ان کے بدلے اُسے جنت کی خوشخبری دیتا ہے۔ اس سلسلے میں اللہ تعالیٰ کے انبیاء نے اعلیٰ مثالیں قائم کی ہیں۔ اللہ ایسے لوگوں کو جو اس کی رضا پر راضی رہتے ہیں اور اسی کے سامنے سر تسلیمِ خم کرتے ہیں اور اپنے مثالی ایمان کی وجہ سے اچھے طرزِ عمل کا مظاہرہ کرتے ہیں، جنت کے باغوں کی خوشخبری دیتا ہے۔

٭٭٭

 

 

 

انبیاءؑ اور الہامی کتابیں

 

 

گزشتہ ابواب میں ہم نے جو مثالیں اور ثبوت پیش کیے وہ ہمیں اللہ تعالیٰ کی قدرت اور جاہ و جلال پر غور و خوض اور تدبر کرنے میں مدد دیتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں غور و فکر اور تدبر کی صلاحیتیں اس لئے عطا کی ہیں تاکہ اس کی وجہ سے ہم اس کائنات میں بکھری نشانیاں دیکھ کر اللہ تعالیٰ کو پہچان سکیں۔ اللہ تعالیٰ کی کیا منشاء(چاہت،مرضی) ہے۔ اللہ تعالیٰ نے وہ سب الہامی کتابوں کے ذریعے انسان تک پہنچا دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انبیاء کا انتخاب کیا۔ ان پیغمبروں نے اپنے اخلاقِ حسنہ کے ذریعے لوگوں کے لئے مثالیں قائم کیں۔ پیغمبروں کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے انسانیت کی ہدایت کے لئے اپنا پیغام وحی کے ذریعے نازل کیا۔ اس بات کا اندازہ لگانا کافی مشکل ہے کہ دنیا میں اللہ تعالیٰ نے کتنے پیغمبر بھیجے ، لیکن اس کے بارے میں مختلف روایات ہیں۔ ایک روایت کے مطابق تین سو تیرہ پیغمبر بھیجے گئے۔ اسی طرح کچھ روایات کے مطابق ان کی تعداد ایک لاکھ چو بیس ہزار ہے۔ ہم صرف ان انبیاء کے نام جانتے ہیں جن کا ذکر قرآن کریم میں مذکور ہیں۔ قرآنِ کریم انسانوں کی ہدایت کے لئے آخری الہامی کتاب ہے۔ اس قرآن پاک کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس قابل بنایا تاکہ ہم انبیاء کی زندگیوں کے بارے میں جان سکیں اور ان مثالوں کو اپنی زندگیوں میں اپنا سکیں۔ وحی کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہ پیغام دیا ہے کہ زندگی گزارنے کا صحیح طریقہ کیا ہے اور یہ کہ ہمیں اس دنیا میں کسی قسم کا طرزِ عمل اختیار کرنا چاہیے۔ صرف وحی کے ذریعے ہی اللہ تعالیٰ کا پیغام ہم تک پہنچا اور ہمیں یہ پتہ چلا کہ کون سے اعمال اچھے ہیں اور کون سے بُرے اور یہ کہ قرآنی اخلاقیات و اقدار کیا ہیں۔ یہ وحی کا ہی علم ہے جس سے ہمیں یہ معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کی خوشنودی حاصل کرنے کا طریقہ کونسا ہے تاکہ ہم اللہ تعالیٰ کی بے شمار نعمتوں کے حقدار قرار پائیں اور اس کے ساتھ ساتھ ایسے اعمال کا بھی پتہ چلتا ہے جن کی وجہ سے انسان کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے سزا ملے گی۔

قرآن میں ہمیں بتایا گیا ہے کہ تاریخِ انسانیت میں اللہ تعالیٰ نے مختلف اقوام کی طرف پیغمبر مبعوث فرمائے۔ انہوں نے اپنی اپنی قوم کے لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی طرف مدعو(دعوت دی) کیا اور دعوت یہ تھی کہ ایک اللہ کو مانو اسی کی عبادت کرو اور اگر اللہ تعالیٰ کے احکام کو نہیں مانو گے تو پھر اس کی طرف سے عذاب کا انتظار کرو۔ ان انبیاء نے منکرین کو خبردار کیا اور اُن لوگوں کو بھی جو کہ مختلف اقسام کی برائیوں میں پھنسے ہوئے تھے،اس کے علاوہ قرآن پاک میں مومنین کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے انعام و اکرام اور مغفرت اور رحمت کی خوشخبری بھی دی۔ حضور صلی اللہ علیہ و سلم اللہ تعالیٰ کی طرف سے انسانیت کی ہدایت کے لئے آخری نبی ہیں اور اس طرح قرآن آخری الہامی کتاب ہے۔

گزشتہ الہامی کتابیں اپنی اصلیت کو برقرار نہ رکھ سکیں ۔ کیونکہ ایک تو یہ کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی حفاظت کا ذمہ نہیں لیا اور دوسرا یہ کہ کچھ جاہل اور بدنیت لوگوں نے ان کتابوں میں رد و بدل کر دیا اور ان میں ذاتی رائے شامل کر دی۔ یہی وجہ ہے کہ یہ کتابیں آج اپنی اصلی حالت میں نہیں ہیں جیسا کہ اصل میں نازل کی گئیں تھیں ۔ اللہ تعالیٰ نے ہماری طرف قرآن پاک نازل فرمایا اور پھر اس کی حفاظت کا ذمہ بھی لیا ۔اس لئے اسے بدلنا ناممکن ہے کیونکہ یہ قیامت تک کے انسانوں کے لئے ہدایت ہے۔

اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے حضور صلی اللہ علیہ و سلم کے ذریعے اور پھر بعد میں آنے والے مسلمانوں کے ذریعے قرآن پاک کی حفاظت کی۔ قرآن پاک اتنا واضح اور آسان ہے کہ ہر کوئی اس کو سمجھ سکتا ہے۔ جب ہم قرآن پاک کو پڑھتے ہیں تو ہمیں فوراً یہ اندازہ ہو جاتا ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کا کلام ہے۔ قرآن پاک وہ واحد کتاب ہے جو چودہ سو سال گزرنے کے باوجود اپنی اصلی حالت میں موجود ہے اور یہ براہ راست اللہ تعالیٰ کی حفاظت میں ہے اور یہ وہ واحد الہامی کتاب ہے جس پر عمل کرنے کی ذمہ داری قیامت تک آنے والے لوگوں پر ہے۔

آج تمام مسلمان چاہے وہ جہاں کہیں بھی بستے ہیں اسی قرآن کو پڑھتے ہیں۔ اس کے کسی زیر اور زبر میں بھی کمی بیشی نہیں ہوئی ۔ قرآن پاک حضور صلی اللہ علیہ و سلم پر نازل ہوا ،اس کو حضرت ابو بکرؓ نے ترتیب دیا۔ بعد میں اس کے نسخے حضرت عثمانؓ نے تیار کروائے۔ اُس وقت سے اب تک 1400سال گزر چکے لیکن آج بھی وہ قرآن پاک ویسا ہی ہے۔ قرآن پاک اللہ اور اس کے رسول کے درمیان پیغام ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ جس طرح قرآن روزِ اول میں نازل ہوا آج بھی اسی طرح حفاظت کے ساتھ موجود ہے۔ یہ اس وجہ سے ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بد لوگوں سے اس کی حفاظت کی ہے جو کہ اس میں تبدیلی کرنا چاہتے ہیں ایک آیت میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کی حفاظت کا ذمہ لیا ہوا ہے۔

’’ بے شک یہ کتابِ نصیحت ہم ہی نے اتاری ہے اور ہم ہی اس کے نگہبان ہیں’‘ (الحجر: ۹)

اس آیت میں لفظ ’’ہم’‘ اللہ تعالیٰ کی ذات کی طرف اشارہ ہے۔ اللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی الٰہ نہیں ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں۔وہی قادرِ مطلق ہے، ہر شئے کا خالق ہے۔ وہ اول سے ہے اور آخر تک رہے گا۔ہر وقت موجود ہے اور اس کا علم ہر شئے کا احاطہ کیے ہوے ہے۔ کئی آیات میں اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات کے لیے ’’میں’‘ کا لفظ استعمال کیا ہے اور بعض اوقات ’’ہم’‘ ۔عربی زبان جو کہ قرآن پاک کی زبان ہے، اس میں ہم کا لفظ بھی واحد کے لئے استعمال ہوتا ہے اور یہ اس وقت استعمال کیا جاتا ہے جبکہ استعمال کرنے والا بڑی طاقت کا مالک ہو۔ جاہ و جلال کا مالک ہو، بڑی قدرت والا ہو، بادشاہ ہو اور سننے والے پر اپنی یہ تمام خصوصیات ظاہر کرنا چاہتا ہو۔ یہ الفاظ انگریزی میں بھی استعمال ہوتے ہیں، جیسے ’’The Royal We’‘ ( بادشاہ یا ملکہ کے اپنے لئے استعمال کیے جانے والے الفاظ جیسے ہم یا ہمارا) اس کتاب کے باقی حصوں میں ہم قرآنِ پاک کی آیات اور سورتوں کا حوالہ دیں گے کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کا کلام ہے اور اللہ تعالیٰ کے کلام سے بہتر کلام کس کا کلام ہو سکتا ہے، یہ کلام اللہ تعالیٰ نے ہمارے لئے نازل فرمایا ہے جو کہ ہمیں ہم سے زیادہ بہتر جانتا ہے کیونکہ وہ خالق ہے اور ہم مخلوق وہ ذات لامحدود ہے اور ہم محدود ۔ محدود لا محدود کا احاطہ نہیں کر سکتی۔ اللہ تعالیٰ کی منشا ہے کہ انسان انبیاء ؑ کی زندگی کی مثالوں سے سبق حاصل کریں اور ان کی زندگیوں کو اپنائیں۔

ایک آیت میں اس طرح فرمایا :

’’ان کے قصے میں عقلمندوں کے لئے عبرت ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔’‘(یوسف: ۱۱۱)

اس آیت میں جن لوگوں کو مخاطب کیا گیا ہے وہ ایسے ہیں جو کہ جانتے ہیں کہ یہ اللہ تعالیٰ کا کلام ہے۔ جو غور و فکر کرتے ہیں،جو تدبر کرتے ہیں،جو سوجھ بوجھ رکھتے ہیں ،جو استدلال رکھتے ہیں اور قرآنی تعلیمات پر عمل کرنے کی ہر ممکن کوشش کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے جن اقوام کی طرف انبیاء ؑ مبعوث فرمائے اب ان اقوام کے لوگ اللہ تعالیٰ کے اس پیغام کے لیے ذمہ دار ہیں اور اس بات کے بھی ذمہ دار ہیں کہ اس پیغام پر عمل بھی کریں۔ واضح پیغام آنے کے بعد قیامت کے دن لوگ کسی قسم کے بہانے نہیں کر پائیں گے۔،کیونکہ انبیاء ؑ نے اللہ تعالیٰ کا پیغام بڑے احسن طریقے سے لوگوں تک پہنچا دیا اور یہ کہ لوگوں کو خالق و مالک کا تعارف بھی کروا دیا اور یہ بھی واضح کر دیا کہ مالک کی منشا (چاہت)کیا ہے۔ لہٰذا جس شخص کے پاس بھی یہ پیغام پہنچا وہ اس کا ذمہ دار ہے۔ یہ قرآن پاک کی مندرجہ ذیل آیات سے واضح ہے۔

’’سب پیغمبروں کو خدا نے خوشخبری سنانے والا اور ڈر سنانے والا بنا کر بھیجا تھا تا کہ پیغمبروں کے آنے کے بعد لوگوں کو خدا پر الزام کا موقع نہ رہے اور خدا غالب حکمت والا ہے ‘‘ (سورۃ النساء: ۱۶۵)

اللہ تعالیٰ نے اس روئے زمین پر لوگوں کے کئی گروہ پیدا کیے ۔ ان میں سے کچھ گروہوں نے اللہ تعالیٰ کے نازل کر دہ پیغام کو ماننے سے انکار کیا اور بعض نے پیغمبروں کو ماننے سے ہی انکار کیا۔ان لوگوں نے پیغمبروں کے لائے ہوئے پیغام پر لبیک نہیں کہا اور ان کو جھٹلایا اور اس طرح وہ سزا کے مرتکب پائے گئے ۔ اللہ تعالیٰ نے ان باغی لوگوں کو اس دنیا میں ذلت کی زندگی سے خبردار کیا۔ اس سب کے باوجود یہ لوگ مسلسل انبیاء کی توہین کرتے رہے۔ ان کا مذاق اڑایا۔ مزید برآں بعض اوقات ان لوگوں نے اپنی بغاوت کی انتہا کر دی اور حتیٰ کہ اپنے انبیاء ؑ کو قتل تک کیا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو سزا دی اور پھر اللہ تعالیٰ ان کی جگہ اور لوگوں کو لے آیا۔ ان گروہوں کے بارے میں قرآن پاک کی مندرجہ ذیل آیت میں کچھ اس طرح بیان کیا گیا ہے۔

’’کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ ہم نے ان سے پہلے کتنی امتوں کو ہلاک کر دیا۔ جن کے پاؤں ملک میں ایسے جما دیئے تھے کہ تمہارے پاؤں بھی ایسے نہیں جمائے اور ان پر آسمان سے لگا تار بارش برسائی اور نہریں بنا دیں جو ان کے مکانوں کے نیچے بہہ رہی تھیں۔ پھر ان کو ان کے گناہوں کے سبب ہلاک کر دیا اور ان کے بعد اور امتیں پیدا کر دیں’‘۔ (سورۃ الانعام: ۶)

بعد ازیں ابواب میں ہم انبیاء ؑ کے مثالی طرز عمل پر طول کلامی کریں گے، جنہوں نے اپنی ساری زندگی ان باغی امتوں کو راہِ راست پر لانے کے لئے صرف کی۔

 

 

 

پہلا انسان اور پہلا نبی:حضرت آدم علیہ اسلام

 

جیسا کہ آپ کو یاد ہو گا کہ جب ہم انسان کی تخلیق کے بارے میں بات کر رہے تھے تو ہم نے کہا تھا کہ زمین پر پہلے انسان حضرت آدم ؑ تھے اور حضرت آدم ؑ ہی پہلے نبی بھی تھے۔ اس کا مطلب ہے کہ اللہ تعالیٰ نے پہلی امت سے ہی انبیاء ؑ کا سلسلہ شروع کیا اور زمین پر جو پہلی امت بنائی اس کو بھی راستہ یعنی ان کا دین سکھایا اور یہ بھی سکھایا کہ اللہ تعالیٰ کے برگزیدہ بندے کیسے بنتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم ؑ کو مختلف چیزوں کے نام سکھائے، اس کے بارے میں قرآن پاک کی اس آیت میں بیان فرمایا گیا ہے۔

’’اور اس نے آدم ؑ کو سب چیزوں کے نام سکھائے۔۔۔۔۔۔’‘ (البقرہ: ۳۱)

یہ یقیناً نہایت اہم بات ہے کہ جانداروں میں صرف انسان ہی ہے کہ جس کو بولنے کی یعنی بیان کرنے کی صلاحیت سے نوازا گیا ہے۔بیان کی قوت اور خاصیت صرف انسانوں تک محدود ہے۔ اللہ تعالیٰ کا لاکھ لا کھ شکر اور کرم ہے کے اس نے حضرت آدم ؑ کو یہ صلاحیت عطا کی۔ اس طرح انسان اس قابل ہوا کہ وہ اپنے ارد گرد مختلف چیزوں کے نام جان سکے اور ان کے مختلف نام رکھ سکے۔

حضرت آدم ؑ کے بعد آنے والی نسلوں کے لوگ بھی بیان کی قوت کے مالک تھے۔ وہ بول سکتے تھے۔ ان کے بھی احساسات و جذبات تھے۔ وہ بھی افسوس کرتے یا خوش ہوتے یعنی غمی اور خوشی کا اظہار کرتے ۔ انہوں نے پہننے کے لئے لباس تیار کیا ۔مختلف اقسام کے آلات اور چیزیں بنائیں جنہیں وہ روز مرہ استعمال میں لاتے تھے۔ ان میں موسیقی اور آرٹ کے بارے میں شوق موجود تھا۔

قدیم انسانی تہذیبوں کے آثار سے پتہ چلتا ہے کہ وہ لوگ موسیقی کے آلات جیسے بانسری، اس کے علاوہ دیواروں پر ڈرائنگ اور دوسری چیزوں کو استعمال کرتے تھے۔ لہٰذا وہ لوگ بھی ہماری طرح کے ہی انسان تھے۔ با الفاظِ دیگر کچھ لوگوں کے دعوے کے برعکس پہلے انسان بھی جنگلی مخلوق نہ تھے جیسے کہ آدھے بندر اور آدھے انسان وغیرہ۔

آپ جانتے ہیں کہ بندر اور دوسری جاندار اشیاء میں انسان کی طرح الفاظ کو استعمال کرنے،بولنے اور بیان کرنے کی قوت نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ تمام خصوصیات صرف انسان کو ہی خاص طور پر بخشی ہیں (اس مضمون پر مزید معلومات کے لیے آپ ہارون یحیی کی کتاب ’’اللہ تعالیٰ کی مخلوق کے کرشمے ‘‘ سے رجوع کر سکتے ہیں)

کچھ لوگ اب بھی یہ نہیں مانتے کہ پہلے انسان حضرت آدم ؑ تھے اور اس سلسلے میں اپنے اپنے دعوے پیش کرتے ہیں۔ انہوں نے پہلے انسان کے بارے میں عجیب و غریب جھوٹی تصویر کشی کی ہوئی ہے۔ ان کے خیالیاتی نظر یے کے مطابق انسان اور بندر ایک ہی آباء و اجداد کی اولاد ہیں۔ یعنی ان کے آباء و اجداد مشترکہ ہیں اور انسان کی موجودہ حالت مختلف ارتقائی منازل طے کر کے یہاں تک آئی ہے۔ اگر آپ ان سے پوچھیں کہ یہ غیر معمولی سلسلہ کس طرح رونما ہوا تو وہ ایک ہی جواب دیتے ہیں ’’یہ اچانک ہوا ‘‘ اگر آپ ان سے یہ سب ثابت کرنے کے لئے کوئی ثبوت مانگیں تو وہ لاجواب ہو جاتے ہیں۔

لہٰذا ان کے پاس کوئی ایک بھی ثبوت نہیں ہے جس سے یہ ثابت ہو کہ انسان کسی دوسری مخلوق سے ارتقاء پذیر ہوا ہے ۔ اگر آپ ان سے سوال کریں کہ ’’ یہ ماضی کی باقیات کیا چیز ہیں؟’‘ تو اس کے لئے ان کا جواب تیار رہتا ہے۔ کچھ جاندار اشیاء جب مر جاتی ہیں تو یہ اپنے پیچھے نشانات چھوڑ جاتے ہیں ان کے یہ نشانات جنہیں ہم فوسلز کہتے ہیں، یہ ہزاروں بلکہ لاکھوں سال بغیر تبدیلی کے زمین کے اندر رہتے ہیں،تاہم یہ واقعہ رو نما ہو نے کے لئے جاندار اشیاء کو اچانک کسی آکسیجن کے بغیر ماحول میں داخل ہونا پڑتا ہے۔ مثال کے طور پر اگر ایک پرندہ لاکھوں سال تک ریت کے ڈھیر کے نیچے دب جائے اس طرح وہ موجودہ زمانے تک اپنا وجود برقرار رکھ سکتا ہے۔

اسی طرح درختوں سے خارج شدہ ایسے مادے ہیں جنہیں ریزش، نباتاتی گوند یا بعض اوقات اسے گندہ بہروزہ کہتے ہیں۔ بعض اوقات اس شہد کی طرح مادے نے کسی حشرات کو ڈھانپ لیا اور ایک سخت مادے کی شکل اختیار کر گیا جیسے کہرُبا (درختوں کا پتھرایا ہوا شفاف گوند) کہتے ہیں،جس نے ان مردہ حشرات کو لاکھوں سال تک محفوظ رکھا۔ یہ وہ طریقہ ہے جس کے ذریعے ہم زمانہ قدیم کی جاندار اشیاء کے بارے میں معلومات اکٹھی کرتے ہیں یہ باقیات ’’فوسلز’‘ کہلاتے ہیں۔ وہ حضرات جو اس نظریے کا دعویٰ کرتے ہیں کہ پہلا انسان بندر نما مخلوق سے وجود میں آیا وہ آج تک اپنے اس دعوے کا ثبوت پیش نہ کر سکے۔ با الفاظِ دیگر آج تک کسی کو ایسا فوسل نہیں ملا جو کہ اس غیر معمولی مخلوق یعنی آدھے انسان اور آدھے بندر سے ملتا جلتا ہو۔ لیکن ان لوگوں نے جھوٹے فوسل تیار کیے اور ان کی بے بنیاد تصاویر بنائی تا کہ وہ اپنے جھوٹ پر پردہ ڈال سکیں اور اس طرح انہوں نے یہ تصاویر سکولوں کی کتابوں میں بھی چھپوائیں۔

آہستہ آہستہ ارتقاء پسندوں کے جھوٹ اور فریب سے پردہ اٹھتا گیا اور یہ لوگوں میں سائنسی فریب کے نام سے مشہور ہو گے ۔ ان کو ’’نظریہ ارتقاء کی فریب کاریاں’‘ بھی کہتے ہیں۔ چونکہ یہ لوگ بے عقل اور ضدی تھے۔ اس لئے ان لوگوں کے لئے یہ قبول کرنا نہایت مشکل تھا کہ اللہ تعالیٰ کا کوئی وجود ہے یا اللہ تعالیٰ نے تمام مخلوق کو پیدا کیا ہے۔ اگرچہ ان لوگوں کی تعداد میں آہستہ آہستہ کمی واقع ہو رہی ہے لیکن ان میں سے آج بھی کچھ لوگ باقی ہیں جو کہ اپنے پُر نقص اور باطل نظریے کا پر چار سکولوں میں اور کتابوں ، رسالوں اور اخباروں کے ذریعے کر رہے ہیں۔ لوگوں کو اپنے ان پر عیب نظریات پر یقین دلانے کے لئے وہ مختلف قسم کی توجیہات پیش کرنے کی کوشش کرتے ہیں تا ہم اس سلسلے میں ہر ایک ریسرچ اور عقلمند سائنسدانوں کے سائنسی تجربات اور شواہد یہ ثابت کرتے ہیں کہ بندر کبھی بھی ارتقاء پذیر ہو کر انسانی شکل نہیں بن سکتا۔

حضرت آدم ؑ ہی وہ پہلے انسان ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے خاص طور پر بنایا وہ بالکل ویسے ہی تھے جیسا کہ دور حاضر کا انسان ۔ حضرت آدم ؑ کسی بھی صورت مختلف نہ تھے یہ وہ حقائق ہیں جو کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک کے ذریعے انسان کو بتائے ۔اللہ تعالیٰ نے ہمیں حضرت آدم ؑ کے بارے میں ایک اہم پہلو بھی بتایا یعنی حضرت آدم ؑ اور انسانوں کے دشمن شیطان کا قصہ ہے۔

٭٭٭

 

 

انسان کا عظیم دشمن :شیطان

 

ہو سکتا ہے کہ آپ نے پہلے ہی شیطان کے بارے میں سن رکھا ہو ۔ لیکن کیا بچو آپ یہ بھی جانتے ہیں کہ وہ بھی آپ کو جانتا ہے اور آپ کو نقصان پہنچانے کی ہر ممکن کوشش کرتا ہے؟آپ کو پتہ ہے کہ شیطان جو کہ آپ کا دوست بننے کی کوشش کرتا ہے وہ آپ کو دھوکہ دیتا ہے ۔ آئیے ابتداء سے کہانی شروع کریں کہ شیطان ہمارا دشمن کیوں ہے۔ اس مقصد کے لئے ہم اپنی توجہ قرآن پاک میں آدم ؑ اور شیطان کے قصے کی طرف کریں گئے۔

قرآن پاک کے مطابق ہر اس شئے کا نام شیطان ہے جو کہ قیامت تک انسان کو گمراہی کے راستے پر چلاتی رہے گی۔ ابلیس ہی وہ سب سے بڑا دشمن ہے کہ جس نے اس وقت اللہ تعالیٰ سے بغاوت کی جبکہ اللہ تعالیٰ نے دنیا کے پہلے انسان یعنی حضرت آدم ؑ کو پیدا کیا۔

قرآن پاک کی آیات کے مطابق جب اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم ؑ کو پیدا کیا تو سب فرشتوں کو حکم دیا کہ حضرت آدم ؑ کو سجدہ کرو۔ تمام فرشتوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کو مانتے ہوئے حضرت آدم ؑ کو سجدہ کیا لیکن ابلیس نے سجدہ کرنے سے انکار کر دیا۔اس نے سجدہ نہ کرنے کی توجہی یہ پیش کی کہ وہ حضرت آدم ؑ کے مقابلے میں اعلیٰ مخلوق ہے۔ حضرت آدم ؑ ادنیٰ مخلوق ہیں۔ اس کی اس نا فرمانی ، گستاخی اور بے ادبی کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ نے اسے اپنی رحمت سے دور کر دیا اور اسے مردود قرار دیا ۔ اللہ تعالیٰ کے دربار سے جانے سے پہلے اس نے اللہ تعالیٰ سے مہلت مانگی تا کہ وہ لوگوں کو گمراہ کر سکے اور حضرت آدم ؑ اور اس کی نسل سے اپنی بے عزتی کا بدلہ چکا سکے۔اس مہلت لینے میں ابلیس کا مقصد لوگوں کو گمراہ کرنا اور ان کو صراط مستقیم سے ہٹانا ہے وہ ہر ممکن کوشش کرے گا کہ لوگوں کو گمراہ کرے اور اپنی طرح کا بنا لے ۔ اللہ تعالیٰ نے اعلان کیا کہ وہ شیطان کو اور اس کے گروہ کو جہنم کی آگ میں ڈالے گا۔ یہ تمام واقعہ قرآن پاک میں مندرجہ ذیل الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔

’’اور ہم ہی نے تم کو ابتدا میں مٹی سے پیدا کیا پھر تمہاری شکل صورت بنائی پھر فرشتوں کو حکم دیا کہ آدم ؑ کے آگے سجدہ کرو تو سب نے سجدہ کیا ۔ لیکن ابلیس کہ وہ سجدہ کرنے میں شامل نہ ہوا اللہ نے فرمایا جب میں نے تجھ کو حکم دیا تو کس چیز نے تجھے سجدہ کرنے سے باز رکھا اس نے کہا کہ میں اس سے افضل ہوں مجھے تو نے آگ سے پیدا کیا ہے اور اسے مٹی سے بنایا ہے۔فرمایا تو بہشت سے اتر جا تجھے شایاں نہیں کہ یہاں غرور کرے پس نکل جا ۔ تو ذلیل ہے۔ اس نے کہا کہ مجھے اس دن تک مہلت عطا فرما جس دن لوگ قبروں سے اٹھائے جائیں گے فرمایا اچھا تجھ کو مہلت دی جاتی ہے۔ پھر شیطان نے کہا کہ مجھے تو تو نے ملعون کیا ہی ہے۔ میں تیرے سیدھے رستے پر ان کو گمراہ کرنے کے لئے بیٹھوں گا۔ پھر ان کو آگے سے اور پیچھے سے دائیں سے اور بائیں سے غرض ہر طرف سے آؤں گا اور ان کی راہ ماروں گا اور تو ان میں سے اکثر کو شکر گزار نہیں پائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا نکل جا یہاں سے پاجی مردود جو لوگ ان میں سے تیری پیروی کریں گے میں ان کو اور تجھ کو جہنم میں ڈال کر تم سب سے جہنم کو بھر دوں گا’‘ (سورۃ الاعراف: ۱۱ ۔ ۱۸)

اللہ تعالیٰ کی بارگاہ سے مردود اور ذلیل ہونے کے بعد شیطان قیامت تک انسانوں کو گمراہ کرنے کی کوشش میں لگا ہوا ہے ۔تب سے شیطان فریب کاری اور بڑی منصوبہ بندی سے انسانوں کو گمراہ کر رہا ہے اور اس سلسلے میں انوکھے طریقوں سے انسان کو صراط مستقیم سے بٹانے کی کوشش کرتا ہے۔ لہٰذا آپ کو اس کے مکر و فریب کی چالوں سے بچنے کے لیے ہوشیار رہنا ہو گا۔ یہ مت بولیئے کہ شیطان اس وقت بھی آپ کو گمراہ کرنے کے لئے گھات لگائے ہوئے ہے۔ وہ آپ کو اس کتاب کے پڑھنے سے روکے گا اور آپ کے خیال میں ڈالے گا کہ آپ کو کیا پڑھنا چاہیے ۔ وہ آپ کے اچھے اعمال کرنے میں رکاوٹ بنے گا اور کوشش کرے گا کہ آپ بڑوں کی عزت نہ کریں اور ان کی نافرمانی کریں اور وہ آپ کو اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنے سے بھی روکے گا اور اسی طرح آپ کو نماز سے اور ہمیشہ سچ بولنے سے بھی روکے گا۔

لہٰذا بچو ! اپنے آپ کو شیطان کے دھوکے سے بچائے رکھیں۔ وہ آپ کو اچھا انسان بننے سے روکے گا۔ لیکن آپ نے اسے رکاوٹ نہیں بننے دینا۔ وہ آپ کو آپ کے ضمیر کی آواز سننے سے بھی روکے گا۔ آپ کو ہمیشہ اللہ تعالیٰ کی پناہ میں رہنا چاہیے اور جب آپ کو کوئی بُرا خیال آئے یا آپ کا اچھے کام کو جی نہ چاہے تو پھر اللہ تعالیٰ سے مدد مانگنی چاہیے۔ یہ تمام شیطان کے مکر و فریب کی چالیں ہیں لیکن یاد رکھیں جو لوگ اللہ تعالیٰ پر کامل یقین رکھتے ہیں شیطان کا ان پر کوئی زور نہیں چلتا۔

٭٭٭

 

 

 

حضرت نوح ؑ :آدمِ ثانی

 

اللہ تعالیٰ کے نبی نوح ؑ نے دوسرے انبیاء کی طرح اپنی قوم کے لوگوں کو سراطِ مستقیم کی طرف دعوت دی۔ انہوں نے لوگوں سے کہا کہ اللہ تعالیٰ پر ایمان لے آئیں، کہ اللہ تعالیٰ ایک ہے اور وہ ہر شئے کا خالق و مالک ہے اور یہ بھی کہا کہ ان کو سوائے اللہ تعالیٰ کے کسی اور کی عبادت نہیں کرنا چاہیے اگر وہ ایسا نہیں کریں گے تو اُن کو سزا ملے گی اور اُن پر عذاب آئے گا۔یہ قرآن پاک میں کچھ اس طرح بیان کیا گیا ہے۔

’’اور ہم نے نوح ؑ کو اُن کی قوم کی طرف بھیجا تو انہوں نے اُن سے کہا کہ میں تم کو کھول کھول کر ڈر سنانے اور یہ پیغام پہنچانے آیا ہوں کہ خُدا کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو مجھے تمہاری نسبت عذاب الیم کا خوف ہے’‘ (سورۃ ہود: ۲۵۔۲۶)

خبردار کرنے کے باوجود صرف چند ہی لوگ ایمان لائے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے نوح ؑ کو حکم دیا کہ وہ ایک کشتی بنائیں۔ اللہ تعالیٰ نے اُن کو بتایا کہ اللہ تعالیٰ اہلِ ایمان کو اس کشتی کے ذریعہ بچا لے گا۔

جب حضرت نوح ؑ کشتی بنا رہے تھے وہاں آس پاس کوئی پانی یا سمندر نہیں تھا،تو لوگ حیران ہونے لگے اور انہوں نے حضرت نوح ؑ کا مذاق اڑایا اور یہ وہ لوگ تھے جو اللہ تعالیٰ پر ایمان نہیں لائے تھے۔ جو لوگ ایمان نہیں لائے تھے اُن کو اس بات کی خبر نہیں تھی کہ ان کے ساتھ کیا ہونے والا ہے مگر اللہ تعالیٰ جانتا تھا ۔جب حضرت نوح ؑ نے کشتی بنائی تو بارش شروع ہو گئی اور زمین پر ہر طرف پانی ہی پانی ہو گیا اور ہر طرف سیلاب آ گیا۔یہ تاریخی حادثہ سائنسدانوں نے ثابت کر دیا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ سے ملنے والے شواہد اور باقیات سے ثابت ہو گیا ہے کہ یہاں پائے جانے والے ٹیلوں پر کبھی پانی تھا ہو سکتا ہے کہ آپ نے ٹیلی ویژن پر مختلف علاقوں میں آنے والے سیلاب دیکھے ہوں ۔ اس قسم کے ناگہانی حالات میں لوگ اپنی جان بچانے کے لئے مکانوں کی چھتوں اور درختوں پر چڑھ جاتے ہیں اور امداد کا انتظار کرتے ہیں۔ اس صورتِ حال میں صرف کشتیوں اور ہیلی کاپٹر سے ہی لوگوں کو بچایا جا سکتا ہے۔ تا ہم نوح ؑ کے زمانے میں صرف ایک کشتی ہی تھی کہ لوگوں کو بچایا جا سکتا تھا۔ یہ ناگہانی آفت اور حادثہ اصل میں ’’ طوفانِ نوح ؑ ‘‘ کہلاتا ہے جو کہ اُن لوگوں کے لئے جو کہ اللہ تعالیٰ پر ایمان نہیں لاتے تھے ایک سزا اور ایک عذاب تھا۔کیونکہ وہ لوگ اللہ تعالیٰ کے علاوہ دوسری چیزوں کو اپنا مدد گار سمجھتے تھے۔ لہٰذا انہوں نے اللہ تعالیٰ پر بھروسہ نہیں کیا ور اپنی ضد پر اٹے رہے اور حضرت نوح ؑ کی کشتی پر انحصار نہیں کیا مگر دوسری چیزوں پر اعتبار کیا اور اُن کا کوئی مدد گار ثابت نہ ہوا۔

اگر اللہ تعالیٰ نہ چاہے تو کوئی بھی شئے ہماری حفاظت نہیں کر سکتی ۔ اس وقت جن لوگوں نے انکار کیا وہ اپنی جان بچانے کی خاطر اُونچے ٹیلوں اور پہاڑیوں پر چڑھ گے مگر اپنے آپ کو ڈوبنے سے نہ بچا سکے ۔ ان میں سے کچھ ہی لوگوں نے اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کیا ،اس طرح وہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے کشتی میں سوار ہوئے اور اپنے آپ کو بچا سکے۔ حتیٰ کہ حضرت نوح ؑ کا بیٹا بھی ایمان نہ لایا اور ایک پہاڑ کی چوٹی پر چڑھ گیا اور حضرت نوح ؑ اس کو آخری دم تک بلاتے رہے کہ بیٹا کشتی میں سوار ہو جاؤ لیکن اس نے ایک نہ سنی اور کہنے لگا کہ میں پہاڑ پر چڑھ جاؤ ں گا ،یہ مجھے بچا لے گا۔حضرت نوح ؑ نے کہا آج کوئی نہیں بچا سکتا سوائے اللہ تعالیٰ کے لہٰذا وہ بھی ڈوب گیا۔ حضرت نوح ؑ نے اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق کشتی میں ہرا نواع کے جانوروں کا ایک جوڑا بھی رکھ دیا۔ یہ تمام واقعہ قرآن کریم میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔

’’ان سے پہلے نوح ؑ کی قوم نے بھی تکذیب کی تھی تو انہوں نے ہمارے بندے کو جھٹلایا اور کہا کہ دیوانہ ہے اور انہیں ڈانٹا بھی تو انہوں نے اپنے پروردگار سے دعا کی کہ بارِ اِلہیٰ میں ان کے مقابلے میں کمزور ہوں تو ان سے بدلہ لے پس ہم نے زور کے مینہ سے آسمان کے دھانے کھول دیئے اور زمین میں چشمے جاری کر دئیے تو پانی ایک کام کے لئے جو مقدر ہو چکا تھا جمع ہو گیا اور ہم نے نوح ؑ کو ایک کشتی پر جو تختوں اور میخوں سے تیار کی گئی تھی سوار کر لیا وہ ہماری آنکھوں کے سامنے چلتی تھی۔ یہ سب کچھ اس شخص کے انتقام کے لئے کیا گیا جس کو کافر مانتے نہ تھے اور ہم نے اس کو ایک عبرت بنا چھوڑا تو کوئی ہے کہ سوچے سمجھے؟۔ سو دیکھ لو کہ میرا عذاب اور ڈرانا کیسا ہوا ؟’‘ (قمر: ۹۔ ۱۶)

وہ تمام انبیاء جو کہ اپنی اپنی قوم کی طرف بھیجے گئے اصل میں ان کی تعلیمات ایک ہی تھیں اور انہوں نے لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی عبادت کی طرف بلایا اور یہ بھی کہ پیغمبروں پر ایمان لائیں۔ انبیاء ان خدمات کے بدلے کوئی صلہ لوگوں سے نہیں مانگتے کیونکہ وہ سب اللہ تعالیٰ کی طرف سے لوگوں کی بہتری کے لئے بھیجے گئے ہیں۔تا کہ لوگ اچھے کام کریں اور بری باتوں سے رُک جائیں۔ وہ یہ خدمات اس لئے سرانجام دیتے تھے کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ سے ڈرتے تھے اور اس سے محبت کرتے تھے۔ اسی دوران انبیاء نے مختلف اقسام کی مصیبتیں بھی برداشت کیں ان کے لوگوں نے ان کا مذاق اڑایا ان کی تکذیب کی۔ ان کی تضحیک کی اور ان کے ساتھ بُرے طریقے سے پیش آئے۔ مزید برآں کچھ لوگوں نے انبیاء کو مارنے کی کوشش بھی کی اور کچھ نے انبیاء کو قتل کرنے کی جُرأت بھی کی۔ چونکہ انبیاء صرف اللہ تعالیٰ سے ڈرتے تھے اس کے علاوہ وہ کسی اور سے نہیں ڈرتے تھے۔ لہٰذا کسی بھی مشکل میں ان کا ایمان متزلزل نہیں ہوا۔ انہوں نے ہمیشہ اس بات کو یاد رکھا کہ اللہ تعالیٰ ان کو اس کا صلہ اس دنیا اور پھر آخرت میں بھی عطا کرے گا۔

٭٭٭

 

 

 

حضرت ابراہیم علیہ اسلام

 

اس حصےّ میں ہم ان انبیاء کی خصوصیات کے بارے میں طولِ کلام کریں گے جن کا اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں بڑے اہتمام کے ساتھ ذکر کیا ہے۔ ان میں سے ایک حضرت ابراہیم ؑ ہیں اس زمانے میں جبکہ حضرت ابراہیم ؑ ا بھی بچے تھے ان کے ارد گرد کوئی بھی شخص نہیں تھا جو ان کو یہ بتاتا کہ اللہ کا وجود ہے یا وہ ایک ہے ۔ وہ اکیلا مالک خالق ہے۔ تب حضرت ابراہیم ؑ خود ہی اپنے ارد گرد پھیلی ہوئی کائنات میں غور کرنے لگے انہوں نے وسیع پھیلے ہوے آسمان کا مشاہدہ کیا اور اس مشاہدے کے بدلے میں انہوں نے یہ بات پہچان لی کہ ہر شے اللہ تعالیٰ نے پیدا کی ہے یہ سب واقعہ قرآن کریم میں بیان کیا گیا ہے۔

’’اور ہم اس طرح حضرت ابراہیم ؑ کو آسمان اور زمین کے عجائبات دکھانے لگے تا کہ وہ خوب یقین کرنے والوں میں ہو جائیں۔یعنی جب رات نے ان کو پردہ تاریکی سے ڈھانپ لیا تو آسمان میں ایک ستارا نظر پڑا کہنے لگے یہ میرا پروردگار ہے۔ جب وہ غائب ہو گیا تو کہنے لگے کہ مجھے غائب ہو جانے والے تو پسند نہیں پھر جب چاند کو دیکھا کہ چمک رہا ہے تو کہنے لگے یہ میرا پروردگار ہے لیکن جب وہ بھی چھپ گیا تو بول اٹھے کہ اگر میرا پروردگار مجھے سیدھا رستہ نہیں دکھائے گا تو میں ان لوگوں میں ہو جاؤں گا جو بھٹک رہے ہیں۔ پھر جب سورج کو دیکھا کہ جگمگا رہا ہے تو کہنے لگے میرا پروردگار یہ ہے یہ سب سے بڑا ہے مگر جب وہ بھی غائب ہو گیا تو کہنے لگے لوگو جن چیزوں کو تم اللہ کا شریک بناتے ہو میں ان سے بیزار ہوں۔’‘(الانعام: ۷۶-۷۹)

تب حضرت ابراہیم ؑ نے اپنے لوگوں سے کہا کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی چیز کی عبادت نہ کرو۔

’’اور ان کو حضرت ابراہیم ؑ کا حال پڑھ کر سنا دو۔ جب انہوں نے اپنے باپ اور اپنی قوم کے لوگوں سے کہا کہ تم کس چیز کو پوجتے ہو؟ وہ کہنے لگے کہ ہم بتوں کو پوجتے ہیں اور ان کی پوجا پر قائم ہیں۔ حضرت ابراہیم ؑ نے کہا کہ جب تم انکو پکارتے ہو تو کیا وہ تمہاری آواز کو سنتے ہیں؟ انہوں نے کہا نہیں بلکہ ہم نے اپنے باپ دادا کو اسی طرح کرتے دیکھا ہے۔ حضرت ابراہیم ؑ نے کہا کیا تم نے دیکھا کہ جن کو تم پوجتے رہے ہو تم بھی اور تمہارے باپ دادا بھی وہ میرے دشمن ہیں۔ مگر اللہ ربُ العالمین میرا دوست ہے جس نے مجھے پیدا کیا اور وہی مجھے راستہ دکھاتا ہے اور وہ مجھے کھلاتا اور پلاتا ہے اور جب میں بیمار پڑتا ہوں تو مجھے شفا بخشتا ہے اور وہ مجھے مارے گا اور پھر زندہ کرے گا اور وہ جس سے میں امید رکھتا ہوں کہ قیامت کے دن میرے گناہ بخشے گا۔ (سورۃ الشعراء ۶۹: ۸۲)

جب حضرت ابراہیم ؑ نے اللہ تعالیٰ پر ایمان کی بات کی تو ان کے لوگوں نے ان کو مارنے کی بھر پور کوشش کی۔ وہاں کے بادشاہ اور اس کی قوم نے ایک بہت بڑی آگ جلائی اور اس میں حضرت ابراہیم ؑ کو ڈالا۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کی حفاظت کی اور ان کو آگ سے بچا لیا۔ یہ تمام ماجرہ قرآن کریم میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔

’’تو ان کی قوم کے لوگ جو اب میں بولے تو یہ بولے کہ اسے مار ڈالو یا جلا دو مگر اللہ نے ان کو آگ کی سوزش سے بچا لیا جو لوگ ایمان رکھتے ہیں ان کے لئے اس میں نشانیاں ہیں’‘(سورۃ العنکبوت: ۲۴)

’’ہم نے حکم دیا اے آگ سرد ہو جا اور ابراہیم ؑ پر موجب سلامتی بن جا’‘   (سورۃ الانبیاء: ۶۹)

یہ اللہ ہی ہے جو کہ ہر شئے پر قادر ہے اور ہر شئے کا خالق ہے ۔ اللہ تعالیٰ کی رضا سے آگ نے حضرت ابراہیم ؑ کو نہیں جلایا یہ اللہ تعالیٰ کا ایک معجزہ ہے یہ دراصل اللہ تعالیٰ کی طاقت و عظمت کا ظہور تھا۔ اللہ تعالیٰ کی مرضی کے بغیر اس سرزمین پر کچھ رونما نہیں ہو سکتا اس کی مرضی اور قدرت کے بغیر کچھ بھی نہیں ہو سکتا۔ اگر وہ نہ چاہے تو کوئی بھی کسی کو نقصان نہیں پہنچا سکتا یا مار نہیں سکتا ۔اللہ تعالیٰ قرآن پاک میں فرماتا ہے۔

’ اور کسی شخص میں طاقت نہیں کہ خدا کے حکم کے بغیر مر جائے اس نے موت کا وقت مقرر کر کے لکھ رکھا ہے۔۔۔۔۔۔”(آلِ عمران: ۱۴۵)

حضرت ابراہیم ؑ کو موت نہیں آئی نہ ہی ان کو کوئی نقصان پہنچا حالانکہ ان کو آگ میں ڈالا گیا۔ کیونکہ ان کی موت کا جو وقت مقرر تھا وہ ابھی نہیں آیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو آگ سے بچایا ایک اور آیت میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ :

’’بے شک ابراہیم ؑ بڑے تحمل والے ، نرم دل اور رجوع کرنے والے تھے’‘   (سورۃ ہود: ۷۵)

اللہ تعالیٰ ان لوگوں سے پیار کرتا ہے جو سچے دل سے اسے مانتے ہیں اور اس کے آگے سر تسلیم خم کرتے ہیں۔ جیسا کہ آیت سے واضح ہے کہ بغاوت نہ کرنے والے ، اچھے کر دار کے مالک، اللہ کی طرف رجوع کرنے والے اور اس کے راستے میں مصائب اور مصیبتوں کو برداشت کرنے والے ہی اللہ کی نظر میں برگزیدہ شمار ہوتے ہیں۔ یہی وہ لوگ ہیں کہ جن سے اللہ تعالیٰ راضی ہوتا ہے۔

٭٭٭

 

 

حضرت موسیٰ علیہ اسلام

 

 

حضرت موسیٰ ؑ وہ پیغمبر ہیں کہ جن کا قرآن پاک میں اکثر ذکر آیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے تورات حضرت موسیٰ ؑ کی طرف نازل کی۔ لیکن آج یہودیوں کی تورات اور عیسائیوں کی قدیم انجیلِ مقدس اپنی اصلی حالت میں باقی نہیں ہیں، کیونکہ ان میں انسان کی بنائی گئی تشریحات شامل کر دی گئی ہیں،لیکن آج یہودی اور عیسائی یہ سمجھتے ہوئے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی کر دہ اصل کتابیں ہیں ، رد و بدل کی گئی کتابیں پڑھتے ہیں ۔یہودی صراط مستقیم سے ہٹ چکے ہیں کیونکہ ان کے پاس حضرت موسیٰ ؑ کی طرف وحی کی گئی تورات اپنی اصل حالت میں موجود نہیں رہی۔

لیکن ہم قرآن کریم کے ذریعے سے حضرت موسیٰ ؑ کے اعلیٰ کر دار اور ان کی زندگی کے بارے میں جانتے ہیں۔ جیسا کہ قرآن میں فرمایا گیا ہے کہ مصر کے بادشاہ ’’فرعون ‘‘ کہلاتے تھے فرعونیوں کی اکثریت نہایت ہی خود سر اور ضدی تھی لہٰذا وہ اللہ تعالیٰ پر یقین نہیں رکھتے تھے بلکہ خود اپنے آپ کو خدا مانتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان حکمرانوں میں سے ایک ظالم حکمران کی طرف حضرت موسیٰ ؑ کو بھیجا۔

قرآن پاک کی آیات میں حضرت موسیٰ ؑ کی زندگی کے بارے معلومات حاصل کرتے وقت ایک نقطہ سامنے آیا ہے۔ وہ ’’تقدیر’‘ ہے مندرجہ ذیل واقعات حضرت موسیٰ ؑ کو فرعون کے محل تک لے آئے : جس دور میں حضرت موسیٰ ؑ پیدا ہوئے۔ اس وقت فرعون نے اپنے سپاہیوں کو حکم دے رکھا تھا کہ اس کی سر زمین میں جو بھی لڑکا پیدا ہو اسے قتل کر دیا جائے حضرت موسیٰ ؑ بھی ان بچوں میں سے ایک تھے جن کو مارے جانے کا خطرہ تھا۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ ؑ کی ماں کو وحی کی کہ وہ بچے کو ایک صندوق میں رکھ کر دریا میں ڈال دے اور ان کی ماں کو یقین دلایا کہ حضرت موسیٰ ؑ ایک دن پیغمبر کی صورت میں واپس لوٹیں گے۔ حضرت موسیٰ ؑ کی ماں نے ان کو صندوق میں رکھ کر دریا کے حوالے کر دیا۔صندوق پانی میں اِدھر اُدھر گھومتا ہوا آخر کار فرعون کے محل کے کنارے جا پہنچا جہاں فرعون کی بیوی نے صندوق دیکھا۔ اس نے بچے کو اٹھا لیا اور فیصلہ کیا کہ وہ بچے کی محل میں پرورش کرے گی۔ لہٰذا انجانے میں فرعون نے بچے کی پرورش کا ذمہ لینے کی اجازت دے دی۔ اس بچے نے بعد میں بڑے ہو کر فرعون کے سامنے اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچانا تھا اور فرعون کے پرُ عیب اور ملحدانہ نظریات کی مخالفت کرنا تھی۔اللہ تعالیٰ ہر شئے پر قدرت رکھتا ہے وہ قادر مطلق ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنی قدرت سے جانتا تھا کہ فرعون حضرت موسیٰ ؑ کو اپنے محل میں پالے گا اور اس کی پرورش کرے گا۔

جب حضرت موسیٰ ؑ پیدا ہوئے تھے اللہ تعالیٰ جانتا تھا کہ حضرت موسیٰ ؑ کو پانی کے حوالے کیا جائے گا اور اللہ تعالیٰ کو یہ بھی معلوم تھا کہ حضرت موسیٰ ؑ فرعون کے محل میں پہنچیں گے اور آخر کار پیغمبر بنیں گے یہ وہ تقدیر تھی جو کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ ؑ کے لئے لکھ رکھی تھی اور یہ سب کچھ حضرت موسیٰ ؑ کی والدہ کو بتا دیا تھا۔ اس مرحلہ پر ہمیں اس حقیقت پر غور کرنا چاہیے۔ وہ یہ ہے کہ حضرت موسیٰ ؑ کی زندگی کے تمام واقعات کی تفصیل اللہ تعالیٰ کی طرف سے پہلے سے طے شدہ تھی اسی کو تقدیر کہتے ہیں۔

جب حضرت موسیٰ ؑ جوان ہوئے تو حضرت موسیٰ ؑ کو حکم ہوا کہ مصر کو چھوڑ دیں بعد میں اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ ؑ کو رسول اور پیغمبر بنایا اور ان کی ان کے بھائی ہارون ؑ سے مدد کی۔

دونوں فرعون کے دربار میں حاضر ہوئے اور اسے اللہ تعالیٰ کا پیغام دیا۔ یہ نہایت ہی مشکل کام تھا لیکن انہوں نے بغیر کسی ڈر خوف کے فرعون سے کہا کہ وہ اللہ تعالیٰ پر ایمان لے آئے اور اسی کی بندگی کرے۔ حضرت موسیٰ ؑ کا یہ واقعہ قرآن پاک میں کچھ اس طرح بیان ہوا۔

’’پھر ان کے بعد ہم نے موسیٰ ؑ کو نشانیاں دیکر فرعون اور اس کے اعیان سلطنت کے پاس بھیجا۔ تو انہوں نے ان کے ساتھ کفر کیا۔ سو دیکھ لو کہ خرابی کرنے والوں کا انجام کیا ہوا اور موسیٰ ؑ نے کہا کہ اے فرعون میں رب العالمین کا پیغمبر ہوں۔ مجھ پر واجب ہے کہ خدا کی طرف سے جو کچھ کہوں سچ ہی کہوں میں تمہارے پاس تمہارے پروردگار کی طرف سے نشانی لے کر آیا ہوں سو بنی اسرائیل کو میرے ساتھ جانے کی رخصت دے دیجیے۔’‘   (سورۃ الاعراف: ۱۰۳ – ۱۰۵)

فرعون ایک ضدی خود سر اور متکبر شخص تھا۔ یہ سمجھتے ہوئے کہ ساری سلطنت اس کے ما تحت ہے اس نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ بغاوت کی۔ اللہ تعالیٰ نے فرعون کو دولت ، طاقت اور زمین کی بادشاہت دی ہوئی تھی لیکن اس کے باوجود وہ کم عقل نکلا اور اللہ تعالیٰ کی حکمت کو سمجھ نہ سکا۔ اس نے موسیٰ ؑ کی مخالفت کی۔ اللہ تعالیٰ پر ایمان نہ لایا اور جیسا کہ پہلے بتایا گیا ہے کہ وہ بہت ظالم شخص تھا۔ اس نے بنی اسرائیل کو اپنا غلام بنا رکھا تھا۔ جب فرعون کا ظلم حد سے بڑھ گیا اور یہ واضح ہو گیا کہ فرعون موسیٰ ؑ اور تمام ایمان والوں کو ختم کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ تب وہ موسیٰ ؑ کی قیادت میں مصر سے بھاگ نکلے۔ موسیٰ ؑ اور بنی اسرائیل سمندر اور فرعون کے سپائیوں جو کہ ان کا پیچھا کر رہے تھے کے درمیان پھنس گئے لیکن اس نامساعد حالات اور مایوسی کے عالم میں حضرت موسیٰ ؑ مایوس نہیں ہوے اور اللہ پر بھروسہ رکھا ۔اللہ تعالیٰ نے معجزانہ انداز سے سمندر کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا اور اس کے درمیان ایک راستہ بنا دیا ۔اس طرح حضرت موسیٰ ؑ بنی اسرائیل کے ساتھ سمندر عبور کر گئے یہ موسیٰ ؑ کی طرف اللہ تعالیٰ کا بڑا معجزہ تھا ۔جب موسیٰ ؑ اور بنی اسرائیل سمندر کی دوسری طرف چلے گئے تو سمندر کے دونوں حصے آپس میں ملنا شروع ہو گئے۔ اس طرح اللہ تعالیٰ نے فرعون اور اس کے سپاہیوں کو غرق کر دیا قرآن کریم میں یہ معجزاتی واقعہ ان الفاظ میں بیان ہوا ہے

’’جیسا حال فرعونیوں اور ان سے پہلے لوگوں کا ہوا تھا ویسا ہی ان کا ہوا۔ انہوں نے اپنے پروردگار کی آیتوں کو جھٹلا دیا تو ہم نے ان کو ان کے گناہوں کے سبب ہلاک کر ڈالا اور فرعون کو ڈبو دیا اور وہ سب ظالم تھے۔’‘ (سورۃ الانفال: ۵۴)

جب فرعون نے یہ محسوس کیا کہ وہ مرنے والا ہے تب اس نے کہا کہ وہ اللہ پر ایمان لاتا ہے۔ اس طرح اس نے اپنی جان بچانے کی کوشش کی۔ ہم یہ تو نہیں جانتے کہ آخری وقت میں افسوس کرنے سے اسے کوئی فائدہ ہوا۔لیکن اللہ تعالیٰ ہمیں صرف اسی صورت معاف کرتا ہے جبکہ ہم موت سے پہلے صدق دل سے توبہ کر لیں۔ اللہ تعالیٰ غفور و رحیم ہے مہربان ہے۔ اگر موت کے وقت انسان توبہ کرتا ہے اور اگر توبہ سچے دل سے نہیں کی تو ایسی توبہ اس شخص کو نہیں بچا سکتی ۔ ہو سکتا ہے کہ فرعون کے ساتھ بھی ایسا ہی معاملہ ہوا ہو۔ لیکن یہ صرف اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے۔اس قصے سے جو سبق ملتا ہے وہ یہ ہے کہ ہمیں اپنی ساری زندگی اللہ تعالیٰ کو راضی کرتے رہنا چاہیے اور فرعون کی طرح غلطی کبھی نہیں کرنا چاہیے اگر ہم زندگی میں اللہ تعالیٰ کو راضی کرنے میں ناکام رہے تو موت کے وقت توبہ کرنے کا ہمیں کوئی فائدہ نہیں ہو گا۔

٭٭٭

 

 

ٖ

حضرت یونس علیہ اسلام

 

 

حالات کتنے ہی نا مساعد اور مایوس کن کیوں نہ ہوں، انسان کو ہمیشہ اللہ تعالیٰ پر ہی بھروسہ رکھنا چاہیے اور اسی سے مدد طلب کرنا چاہیے، جیسا کہ ہم اوپر بیان کر چکے ہیں کہ جب موسیٰ ؑ بحیرہ احمر اور فرعون کے سپاہیوں کے درمیان پھنس گے تب بھی وہ اللہ تعالیٰ سے نا اُمید نہ ہوے۔ وہ بالکل مایوس نہ ہوئے بلکہ اُنہوں نے اللہ تعالیٰ کی ذات پر بھروسہ رکھا۔ حضرت یونس ؑ بھی کچھ اسی طرح کے کر دار کے مالک تھے۔

حالانکہ وہ بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے منتخب شدہ تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو خبردار کرنے کے لئے مبعوث فرمایا لیکن وہ اپنی قوم کو خبردار کیے بغیر ہی وہاں سے چلے گے اس پر اللہ تعالیٰ نے انہیں ایک آزمائش میں ڈالا سب سے پہلے وہ جس جہاز میں سوار تھے اس سے انہیں سمندر میں پھینکا گیا پھر ان کو ایک بڑی مچھلی نے نگل لیا اس طرح ان کو اپنے رویہ یا طرزِ عمل پر بہت ندامت ہوئی۔ تب انہوں نے فوراً توبہ کی اللہ تعالیٰ سے پناہ چاہی اور اللہ تعالیٰ سے دعا کی جسے قرآن پاک ان الفاظ میں بیان کرتا ہے۔

’’اور ذوالنون کو یاد کر جب وہ اپنی قوم سے ناراض ہو کر غصے کی حالت میں چل دئیے اور خیال کیا کہ ہم ان پر قابو نہیں پا سکیں گے ۔آخر اندھیرے میں اللہ کو پکارنے لگے کہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں تو پاک ہے اور بے شک میں قصور وار ہوں تو ہم نے ان کی دعا قبول کر لی اور ان کو غم سے نجات بخشی اور ایمان والوں کو ہم اسی طرح نجات دیا کرتے ہیں۔’‘  (سورۃ الانبیاء : ۸۷- ۸۸)

اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اگر حضرت یونس ؑ اپنی لغزش پر ندامت نہ کرتے اور اللہ پر بھروسہ اور اللہ تعالیٰ سے دعا نہ کرتے تو ان کے ساتھ کیا ہوتا۔

’’پھر اگر وہ اللہ تعالیٰ کی پاکی بیان نہ کرتے تو اس روز تک کہ لوگ دوبارہ زندہ کئے جائیں گے اسی کے پیٹ میں رہتے پھر ہم نے ان کو جبکہ وہ بیمار تھے فراخ میدان میں ڈال دیا اور ان پر کدو کا درخت اُگایا اور ان کو لاکھ یا اس سے زیادہ لوگوں کی طرف پیغمبر بنا کر بھیجا۔’‘   (سورۃ الصٰفٰت: ۱۴۳- ۱۴۷)

اللہ تعالیٰ نے حضرت یونس ؑ کو نہایت ہی مایوس کن حالت سے نجات بخشی۔ اس سے ایک بات ظاہر اور واضح ہے کہ انسان کو کبھی بھی اللہ تعالیٰ کی مدد سے مایوس نہیں ہونا چاہیے۔ حضرت یونس ؑ کے قصے میں ایمان والوں کے لئے سبق ہے۔ وہ سبق یہ ہے کہ حالات چاہیے کتنے ہی نامساعد کیوں نہ ہوں اور ایمان کا راستہ کتنا ہی دشوار گزار کیوں نہ ہو اور کیسی ہی مشکلات کا سامنا کیوں نہ ہو،ہمیں کبھی بھی دل نہیں چھوڑنا چاہیے۔ ہمیں کبھی بھی مایوس نہیں ہونا چاہیے اور ہمیشہ دعا کرنی چاہیے اور ہمیشہ اسی ذاتِ باری تعالیٰ سے مدد و مغفرت طلب کرنی چاہیے۔

٭٭٭

 

 

 

حضرت یوسف علیہ اسلام

 

قرآن پاک میں ہمیں حضرت یوسف ؑ کی زندگی کے بارے میں کافی تفصیل ملتی ہے لیکن یہاں ہم ان کی زندگی کا مختصر جائزہ لیں گے اور حضرت یوسف ؑ کے عمدہ اخلاق کا مطالعہ کریں گے۔حضرت یوسف ؑ حضرت یعقوب ؑ کے بیٹوں میں سے ایک تھے۔ جب وہ ابھی بچے ہی تھے تو ان کے بھائیوں نے ان کو کنویں میں پھینک دیا تھا ،کیونکہ وہ ان سے حسد کرتے تھے۔ ان کو کنویں میں پھینکنے کے بعد بھائیوں نے اپنے باپ کو بتایا کہ حضرت یوسف ؑ کو ایک بھیڑیے نے کھا لیا ہے۔مسافروں کے ایک کارواں نے ان کو کنویں میں پایا اور ان کو نکال کر مصر کے ایک نیک بندے کے ہاتھوں فروخت کر دیا بعد میں ان پر الزام لگا اور اس طرح ان کو جیل بھیج دیا گیا۔ وہاں وہ کئی سال تک قید رہے۔

آخر کار وہ بے گناہ ثابت ہوئے اور اس طرح ان کو رہائی ملی حضرت یوسف ؑ نہایت ہی عقلمند اور قابل اعتبار شخص تھے۔ وہ الزام میں بالکل بے گناہ ثابت ہوئے۔ لہٰذا مصر کے بادشاہ نے ان کو گوداموں اور خزانے کی ذمہ داری سونپی۔

آخر کار حضرت یوسف ؑ نے اپنے بھائیوں کو معاف کر دیا جنہوں نے حضرت یوسف ؑ کو ظلم کا نشانہ بنایا تھا۔ اس طرح انہوں نے اپنے بھائیوں، باپ اور ماں کو اپنے پاس بلوا لیا تاکہ وہ ان کے ساتھ رہ سکیں۔ حضرت یوسف ؑ اعلیٰ اخلاق کے مالک تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی مختلف طریقوں سے آزمائش کی۔ ان کو کنویں سے بچایا جہاں سے نجات حاصل کرنا بہت مشکل تھا۔ اسی طرح ان کو نہایت ہی نامساعد حالات سے جیل بھیج کر بچایا اور پھر ان کو جیل سے بھی رہائی بخشی اور ان کے نام کو بلند کیا یعنی ان کو عزت بخشی اور آخر میں ان کو بہت بڑا عہدہ دیا

ان مشکل اور کٹھن حالات میں حضرت یوسف ؑ نے اللہ تعالیٰ کی ذات پر مکمل بھروسہ رکھا اور اسی سے دعا کی اور مدد چاہی۔ اپنی بے گناہی کے باوجود وہ کئی سال تک قید میں رہے لیکن انہوں نے یہ یاد رکھا کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک آزمائش ہے۔ قید کی دوران بھی وہ اپنے اردگرد کے لوگوں سے اللہ تعالیٰ کی قدرت شان و شوکت اور جاہ و جلال کی باتیں کیا کرتے تھے۔ حضرت یوسف ؑ کا ان نامساعد حالات میں اللہ تعالیٰ کی ذات سے لگاؤ ،بھروسہ اور استقامت ہمارے لئے اعلیٰ نمونہ ہے۔

٭٭٭

 

 

حضرت ایوب علیہ اسلام

 

 

نامساعد حالات میں استقامت کا مظاہرہ کرنا مسلمانوں کے اوصاف میں سے بہت اہم ہے۔ حضرت ایوب ؑ کو خاندان ، انکی جائیداد اور تکلیف دہ بیماری کے ذریعے آزمایا گیا اور انہوں نے برداشت و استقامت کی مثال قائم کر دی۔ اس حالت میں حضرت ایوب ؑ نے صرف اللہ تعالیٰ کی ذات پر ہی بھروسہ کیا اور اسی ذات سے مدد مانگی اور اللہ تعالیٰ نے ان کی دعا قبول کی اور اس سے نجات کا راستہ بتایا ۔تاریخ میں ان کی یہ استقامت ’’ صبر ایوب ؑ ‘‘ کے نام سے مشہور ہے۔ حضرت ایوب ؑ کا مثالی طرزِ عمل اور ان کی دعا قرآن پاک میں ان الفاظ کے ساتھ بیان فرمائی گئی ہے۔

’’اور ہمارے بندے ایوب ؑ کو یاد کرو جب انہوں نے اپنے رب کو پکارا کہ بارِ الہیٰ شیطان نے مجھ کو تکلیف اور ایذا دے رکھی ہے۔ ہم نے کہا زمین پر لات مارو دیکھو یہ چشمہ نکل آیا نہانے کو ٹھنڈا اور پینے کو شیریں اور ہم نے ان کو اہل و عیال اور ان کے ساتھ ان کے برابر اور بخشے یہ ہماری طرف سے رحمت اور عقل والوں کے لئے نصیحت تھی۔ اور اپنے ہاتھ میں جھاڑو لو او راس سے مارو اور قسم نہ توڑو بے شک ہم نے ان کو ثابت قدم پایا بہت خوب بندے تھے۔ بے شک وہ رجوع کرنے والے تھے۔’‘ (سورۃ صؔ : ۴۱۔۴۴)

اکثر جب ہم میں سے کسی کو اگر کوئی بیماری لگتی ہے یا کوئی مشکل پیش آتی ہے یا کوئی ناگہانی آفت آتی ہے تو ہم فوراً مایوس ہو جاتے ہیں۔اور بعض لوگ تو ایسی حالت میں اللہ تعالیٰ سے بغاوت کر دیتے ہیں۔ تاہم اس طرح کا رویہ اللہ تعالیٰ کو سخت نا پسند ہے۔ جیسا کہ حضرت ایوب ؑ کی مثال سے ثابت ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی آزمائش کے لئے کسی بھی قسم کی مشکلات بھیج سکتا ہے، لیکن یہ ایذا اور تکلیف مومنین کے ایمان کو اور بھی مضبوط کرتی ہے اور ان کا اللہ تعالیٰ سے لگاؤ مزید گہرا ہوتا ہے۔ اس قسم کی تکالیف اور ایذا میں بندے کو صرف اللہ تعالیٰ سے ہی رجوع کرنا چاہیے کیونکہ ہم تو اللہ تعالیٰ ہی کا مال ہیں اور اسی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں۔ لہٰذا ایسے حالات و واقعات میں اسی سے مدد طلب کرنا چاہیے اور اسی پر بھروسہ رکھنا چاہیے۔ ہمیں حضرت ایوب ؑ کی طرح کا طرز عمل اختیار کرنا چاہیے اور صرف اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرنا چاہیے اور صبر و استقامت اور ثابت قدمی کے بدلے میں ہی اللہ تعالیٰ ہمیں اس دنیا میں اور آخرت میں صلہ عنایت فرمائے گا۔

٭٭٭

 

 

 

حضرت عیسیٰ علیہ اسلام

 

 

اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ ؑ کو خاص طریقے سے پیدا کیا۔ حضرت آدم ؑ کی مثال کی طرح اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ ؑ کو بغیر باپ کے پیدا کیا۔ یہ قرآن پاک میں مندرجہ ذیل الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔

’’حضرت عیسیٰ ؑ کا حال اللہ کے نزدیک آدم ؑ کا سا ہے کہ اس نے پہلے مٹی سے ان کا قالب بنایا پھر فرمایا کہ انسان ہو جا تو وہ انسان ہو گئے۔’‘(سورۃ اٰلِ عمران: ۵۹)

قرآن پاک میں حضرت عیسیٰ ؑ کو عیسیٰ ابنِ مریم کے نام سے پکارا گیا ہے۔ اس کا مطلب مریم کا بیٹا۔ مریم ؑ ایک نیک اور پاکدامن خاتون تھی جن کو اللہ تعالیٰ نے جہاں کی عورتوں پر فضیلت دی۔ وہ نہایت ہی پاکدامن خاتون تھی اور اللہ تعالیٰ پر کامل یقین رکھتی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت مریم ؑ کو معجزانہ طریقے سے حضرت جبرائیل کے ذریعے باپ کے بغیر بیٹے کی خوشخبری دی اور یہ بھی خوشخبری دی کہ ان کا بیٹا اللہ کا نبی بنے گا۔

اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ ؑ کو منتخب کیا اور ان کو نبی بنایا اور ان کی طرف انجیلِ مقدس وحی فرمائی۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے الہامی کتابوں میں سے ایک ہے (حضرت عیسیٰ ؑ کے واپس جانے کے بعد لوگوں نے انجیل مقدس میں تبدیلی کر دی لہٰذا آج ہمارے پاس یہ کتاب اپنی اصلی حالت میں موجود نہیں ہے۔ جن کتابوں اور حضرت عیسیٰ ؑ کی تنزیلات کو عیسائی مانتے ہیں وہ کو ئی خاص قابلِ اعتبار نہیں ہیں۔)

اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ ؑ سے فرمایا کہ اپنی قوم کو حق کی دعوت دیں۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ ؑ کو کئی معجزے بھی عنایت فرمائے ان کا ایک معجزہ یہ ہے کہ ابھی وہ پنگھوڑے میں تھے تو باتیں کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ کے بارے میں بتاتے تھے۔ وہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے مردوں کو زندہ ، اندھوں کو روشنی اور بیماروں کو شفا دیا کرتے تھے۔ انہوں نے حضور ﷺ کی تشریف لانے کی خوشخبری بھی سنائی۔ یہ واقعہ قرآن پاک میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔

’’اور وہ وقت بھی یاد کرو جب مریم کے بیٹے حضرت عیسیٰ ؑ نے کہا کہ اے بنی اسرائیل میں تمہارے پاس اللہ کا بھیجا ہو ا آیا ہوں اور جو کتاب مجھ سے پہلے آ چکی ہے یعنی تورات اس کی تصدیق کرتا ہوں اور ایک پیغمبر جو میرے بعد آئیں گے جن کا نام ’’احمد ‘‘ہو گا ان کی بشارت سناتا ہوں پھر جب وہ ان لوگوں کے پاس کھلی نشانیاں لے کر آئے تو کہنے لگے یہ تو صریح جادو ہے۔’‘ (سورۃ الصف: ۶)

حضرت عیسیٰ ؑ کے دور میں صرف چند ہی افراد تھے جنہوں نے ان پر ایمان لایا اور ان کی مدد کی۔ حضرت عیسیٰ ؑ کے دشمنوں نے ان کو قتل کرنے کی ترکیب اختیار کی وہ یہ خیال کرتے کہ انہوں نے حضرت عیسیٰ ؑ کو گرفتار کیا اور ان کو سولی پر لٹکایا لیکن اللہ تعالیٰ قرآن پاک میں بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے حضرت عیسیٰ ؑ کو ہر گز قتل نہیں کیا۔

’’اور یہ کہنے کے سبب کہ ہم نے مریم ؑ کے بیٹے حضرت عیسیٰ ؑ کو جو کہ خدا کے پیغمبر کہلاتے تھے قتل کر دیا ہے خدا نے ان کو ملعون کر دیا اور انہوں نے حضرت عیسیٰ ؑ کو قتل نہیں کیا اور نہ انہوں نے انہیں سولی پر چڑھایا بلکہ ان کو ان کی سی صورت معلوم ہوئی اور جو لوگ ان کے بارے میں اختلاف رکھتے ہیں وہ شک میں پڑے ہوئے ہیں اور پیروی ظن کے سوا ان کو اس کا مطلق علم نہیں اور انہوں نے حضرت عیسیٰ ؑ کو یقیناً قتل نہیں کیا۔’‘   (سورۃ النساء: ۱۵۷)

حضرت عیسیٰ ؑ کے جانے کے بعد ان کے دشمنوں نے ان کی لائی ہوئی وحی کو بدلنے کی کوشش کی۔ انہوں نے حضرت مریم ؑ اور ان کے بیٹے عیسیٰ مسیح کو ’’خداؤں’‘ کا درجہ دیا۔ آج بھی کچھ ایسے لوگ موجود ہیں جو کہ اس باطل نظریے کے قائل ہیں۔ اللہ تعالیٰ قرآن پاک میں حضرت عیسیٰ ؑ کے الفاظ میں ان کے باطل نظریات اور عقائد کے بارے میں ہمیں ان الفاظ میں بتاتے ہیں۔

’’اور اس وقت کو بھی یاد رکھو جب اللہ فرمائے گا کہ اے عیسیٰ ؑ ابن مریم ! کیا تم نے لوگوں سے کہا تھا کہ اللہ کے سوا مجھے اور میری والدہ کو معبود مقرر کرو؟ وہ کہیں گے کہ تو پاک ہے ۔ مجھے کب شایاں تھا کہ میں ایسی بات کہتا جس کا مجھے کچھ حق نہیں اگر میں نے ایسا کہا ہو گا تو تجھ کو معلوم ہو گا کیونکہ جو بات میرے دل میں ہے تو اسے جانتا ہے اور جو تیرے دل میں ہے اسے میں نہیں جانتا بے شک تو علام الغیوب ہے میں نے ان سے کچھ نہیں کہا بجز اس کے جس کا تو نے مجھے حکم دیا ہے۔ وہ یہ کہ تم خدا کی عبادت کرو جو میرا اور تمہارا سب کا پروردگار ہے اور جب تک میں ان میں رہا میں ان کے حالات کی خبر رکھتا رہا۔ جب تو نے مجھے دنیا سے اٹھا لیا تو تو ان کا نگران تھا اور تو ہر چیز سے خبردار ہے۔’‘ (سورۃ المائدہ: ۱۱۶۔۱۱۷)

ان کے واپس جانے کے بعد ان کو ماننے والوں کی تعداد میں کافی اضافہ ہوا لیکن آج وہ صحیح راستے پر نہیں ہیں کیونکہ انہوں نے انجیلِ مقدس میں بہت کمی بیشی کر دی ہے۔تو پھر آج ہمارے پاس کو نسا راستہ ہے آج ہمارے پاس صراط مستقیم ہے یہی دینِ حق ہے اور یہ قیامت تک رہے گا اور سب قرآن پاک میں موجود ہے اور محفوظ ہے یہ اللہ تعالیٰ کی آخری کتاب ہے اور اس کو تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔

٭٭٭

 

 

 

پیغمبرِ خدا: حضرت محمدﷺ

 

ہم حضور ﷺ کی ذات اقدس کے بارے میں کافی کچھ جانتے ہیں۔ آپ اللہ تعالیٰ کے آخری نبی ہیں۔ آپ چودہ سو( ۱۴۰۰) سال پہلے جزیرہ نما عرب میں مبعوث ہوئے۔ حضور صلی اللہ علیہ و سلم سے پہلے لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے وحی کر دہ یا الہامی مذاہب میں بہت زیادہ تبدیلیاں کر دیں تھیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ کتاب جو کہ قیامت تک باقی رہنی ہے اور جس کے لئے لوگ ذمہ دار ٹھیرائے جائیں گے، حضور صلی اللہ علیہ و سلم پر نازل ہوئی تاکہ ان تمام باطل عقائد کو درست کیا جا سکے جو کہ پرانے مذاہب میں شامل کر لئے گئے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی منشا قرآن پاک کے ذریعے بنی نوع انسان تک پہنچا دی ہے ۔ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو بھی اللہ تعالیٰ کا پیغام لوگوں تک پہنچاتے وقت مختلف مصائب سے دوچار ہونا پڑا۔

ان پر بھی مختلف اقسام کے بے بنیاد الزامات لگائے گئے۔ان سب کے باوجود وہ لوگوں سے حق کے بدلے میں کوئی صلہ نہیں مانگتے تھے اور یہ کہ ہمارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ و سلم کا کوئی دنیاوی مفاد بھی نہ تھا ان کو مجبوراً اپنے آبائی شہر مکہ سے ہجرت کرنا پڑی۔ شروع شروع میں ہونے والے مسلمانوں کو بھی مختلف قسم کی اذیتیں دی گئیں۔ کچھ کو بہت زیادہ ظلم و تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔لیکن اللہ تعالیٰ نے ان سب کے باوجود دینِ اسلام کو نقصان نہیں ہونے دیا اور ہمارا دین آج تک محفوظ ہے۔ اللہ تعالیٰ کے وعدے کے مطابق قرآن پاک لفظ بہ لفظ آج تک موجود ہے اور تا قیامت محفوظ رہے گا۔ اسی طرح حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی احادیثِ مبارکہ بھی آج تک محفوظ ہیں۔

اللہ تعالیٰ نے ہمیں حکم دیا ہے کہ ہم پیغمبر اسلام کے لائے ہوئے احکامات پر عمل کریں اور بعض آیات میں یہ واضح کیا گیا ہے کہ پیغمبرِ اسلام کی اطاعت اصل میں اللہ تعالیٰ ہی کی اطاعت ہے۔ اس لئے ہمارے دین اسلام کا اہم اُصول یہ ہے کہ ہم پیغمبر اسلام کی اتباع کریں۔ صدق دل سے اور پُر خلوص ہو کر پیغمبرِ اسلام کے احکامات کی پیروی کرنا ہی ہماری اللہ تعالیٰ سے بندگی کا ثبوت ہے۔ اللہ تعالیٰ قرآن پاک میں حضور صلی اللہ علیہ و سلم کے اوصافِ حمیدہ کا تعارف کرواتا ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ و سلم کے اسوہ حسنہ ہمارے لیے مثال ہیں۔ قرآن پاک کی کچھ آیات اس طرح سے ہیں۔

’’لوگو! تمہارے پاس تم ہی میں سے ایک پیغمبر آئے ہیں۔ تمہاری تکلیف ان کو گراں معلوم ہوتی ہے۔ اور تمہاری بھلائی کے بہت خواہشمند ہیں اور مومنوں پر نہایت شفقت کرنے والے اور مہربان ہیں۔ ‘‘ (سورۃ التوبۃ : ۱۲۸)

’’محمد ( ﷺ ) تمہارے مردوں میں سے کسی کے والد نہیں ہیں۔ بلکہ اللہ کے پیغمبر اور نبیوں کی نبوت کی مہر یعنی اس کو ختم کرنے دینے والے ہیں اور خدا ہر چیز سے واقف ہے۔ ‘‘ (سورۃ الاحزاب :۴۰)

’’اللہ نے مومنوں پر بڑا احسان کیا ہے کہ اُن میں اُنہی میں سے ایک پیغمبر بھیجا جو اُن کو اللہ کی آیتیں پڑھ پڑھ کر سناتے اور اُن کو پاک کرتے اور اللہ کی کتاب اور دانائی سکھاتے ہیں اور پہلے تو یہ لوگ صریح گمراہی میں تھے۔ ‘‘ (سورۃ آل عمران:۱۶۴)

وہ آیات جن کے شروع میں لفظ ’’کہو’‘ آتا ہے، اللہ تعالیٰ نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو حکم دیتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا پیغام کیسے لوگوں تک پہنچایا جائے۔ ان کے علاوہ باقی دوسری آیات کے ذریعے اللہ تعالیٰ کے پیغمبر صلی اللہ علیہ و سلم نے رب کا پیغام لوگوں تک پہنچایا۔ حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی بیوی حضرت عائشہؓ سے کسی نے سوال کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم کا اخلاق کیا ہے؟ تو انہوں نے فرمایا کہ ’’آپ کا اخلاق قرآن پاک ہے۔ ‘‘ اس کا مطلب یہ تھا کہ آپ قرآن پاک کا عملی نمونہ ہیں۔ ہمیں معلوم ہے کہ قرآن پاک پر عمل کیسے کیا جائے اس بات کا عملی ثبوت حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی سنت مبارکہ ہے۔ قرآن پاک کی ایک آیت میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ اگر بندے یہ چاہتے ہیں کہ اُن کو معاف کیا جائے تو اُن کو چاہیے کہ اللہ تعالیٰ سے ڈریں اور پیغمبرِ خدا کی اتباع کریں۔

ایک آیت میں اللہ تعالیٰ ان الفاظ میں بیان کرتا ہے۔

’’اے پیغمبر! لوگوں سے کہہ دو کہ اگر تم اللہ کو دوست رکھتے ہو تو میری پیروی کرو۔ اللہ بھی تمہیں دوست رکھے گا اور تمہارے گناہ معاف کر دے گا اور خدا بخشنے والا مہربان ہے۔ (سورۃ آل عمران: ۳۱)

جیسا کہ مندرجہ بالا آیت میں بیان کیا گیا ہے کہ اگر ہم چاہتے ہیں کہ اللہ ہم سے محبت کرے تو ہمیں چاہیے کہ ہم حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی سنت کی مکمل اتباع کریں۔

٭٭٭

 

 

 

قرآنِ پاک کے معجزے

 

 

پیارے بچو! جیسا کہ ہم پہلے ذکر کر چکے ہیں کہ حضور ﷺ کا سب سے بڑا معجزہ قرآن پاک ہے۔ قرآنِ پاک چودہ سو سال پہلے انسانیت کی ہدایت کے لئے نازل کیا گیا۔ اس قرآن پاک میں کچھ ایسے حقائق ہیں جن کے بارے میں سچائی حال ہی میں ظاہر ہوئی ہے۔ سیاروں سے لے کر ستاروں تک، انسانوں سے لے کر جانوروں تک اللہ تعالیٰ نے کائنات کی ہر ایک شئے تخلیق کی ہے۔ جن چیزوں کے بارے میں ابھی تک ہم نے دریافت نہیں کیا ،اللہ تعالیٰ کو وہ سب معلوم ہے اور اللہ تعالیٰ نے اُن چند ایک کے بارے میں قرآن کریم میں ذکر کیا ہے، ہم ان چیزوں کے بارے میں صرف اسی وقت جان یا سیکھ سکتے ہیں جبکہ اللہ تعالیٰ کی منشا ہوتی ہے،اور تب ہم محسوس کرتے ہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے معجزات ہیں۔

قرآن کریم میں بہت سے سائنسی معجزے موجود ہیں، یہاں ہم صرف قرآن پاک کے چند ایک سائنسی معجزات کے بارے میں بحث کریں گے (مزید معلومات کے لئے آپ ہارون یحییٰ کی کتاب ’’قرآنی معجزے’‘ دیکھ سکتے ہیں۔ )

 

کائنات کیسے وجود میں آئی؟

 

کائنات کی ابتداء کے بارے میں قرآن پاک کی مندرجہ ذیل آیت میں بیان کیا گیا ہے۔

’’وہی آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے والا ہے۔ ‘‘(سورۃ الانعام :۱۰۲)

اس کتاب کے پہلے حصے میں ہم نے تفصیل سے بیان کیا کہ 15ارب سال پہلے کائنات کس طرح وجود میں آئی؟ باالفاظ دیگر یہ کائنات لا وجود(عدم) سے اچانک وجود میں آئی۔

صرف بیسویں صدی میں سائنس کی بدولت ہم اس عظیم واقعہ کا سائنسی ثبوت حاصل کرنے کے قابل ہوئے ہیں، لہٰذا 1400سال پہلے سائنسی طور پر اسے ثابت کرنا ناممکن تھا لیکن جیسا کہ اوپر مذکور آیت میں بھی بیان کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس حقیقت کے بارے میں ہمیں اس وقت بتایا جب قرآن پاک پہلی مرتبہ وحی کیا گیا۔ یہ قرآن پاک کا معجزہ ہے اور اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ قرآن اللہ تعالیٰ کا کلام ہے۔

٭٭٭

 

 

مدار اور گھومتی ہوئی کائنات

 

جیسا کہ ہم میں سے اکثر جانتے ہیں کہ ہماری زمین اور دوسرے اجرامِ فلکی کے اپنے اپنے مدار ہیں ۔ اصل میں نہ صرف نظامِ شمسی کے مدار ہیں بلکہ کائنات کے تمام اجرامِ فلکی کے اپنے الگ الگ مدار ہیں۔ اور یہ سب ایک اعلیٰ ترتیب اور ایک توازن کے ساتھ محوِ سفر ہیں۔ یہ سائنسی سچائی جو کہ قرآن پاک میں چودہ سو سال پہلے بیان فرمائی گئی ، سائنسدان حال ہی میں اس کو منظرِ عام پر لائے۔

’’اور وہ اللہ ہی ہے جس نے رات اور دن بنائے اور سورج اور چاند کو پیدا کیا سب ایک ایک فلک میں تیر رہے ہیں۔’‘ (سورۃ الانبیاء :۳۳)

جیسا کہ اس آیت سے بھی ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس سائنسی حقیقت کے بارے میں ہمیں بتایا جو کہ حال ہی میں دریافت ہوئی۔ اللہ تعالیٰ نے یہ حقیقت بہت پہلے بیان فرمائی جبکہ لوگوں کو ان چیزوں کے بارے میں ذرا برابر بھی علم نہ تھا۔ جب قرآن پاک نازل ہوا،اس وقت لوگ نظامِ شمسی کی نوعیت و ہیئت کے بارے میں لا علم تھے بلکہ کچھ لوگ تو ان کی پوجا کیا کرتے تھے۔ اس وقت لوگوں کو ان اجرامِ فلکی کے مداروں کے بارے میں علم نہ تھا۔ لیکن اللہ تعالیٰ کے پاس ہر شئے کی خبر ہے اور وہ جب چاہتا ہے ان چیزوں کے بارے میں علم اور حقیقت اپنے بندوں پر آشکار کر دیتا ہے۔

٭٭٭

 

 

سمندر ایک دوسرے میں مدغم نہیں ہو رہے

 

سمندروں کے بارے میں ایک ایسی حقیقت جس کے بارے میں حال ہی میں دریافت ہوا ہے وہ یہ کہ دو الگ الگ پانی باہم اکٹھے ہوتے ہیں مگر ایک دوسرے میں مدغم نہیں ہوتے۔ سمندروں کی اس خصوصیت کے بارے میں مندرجہ ذیل آیت میں بیا ن کیا گیا ہے۔

’’دو سمندروں کو اس نے چھوڑ دیا کہ باہم مل جائیں پھر بھی ان کے درمیان ایک پردہ حائل ہے جس سے وہ تجاوز نہیں کرتے۔’‘(الرحمن:۱۹۔۲۰)

یہ کیسے ممکن ہے؟ عام طور پر تو توقع کی جاتی ہے کہ جب دو سمندروں کے پانی آپس میں ملتے ہیں تو ایک دوسرے میں مدغم ہو جاتے ہیں اور یہ کہ نمکیات کا تناسب اور ان میں سے ہر ایک کا درجۂ حرارت ایک توازن قائم رکھے گا مگر یہاں معاملہ اس کے برعکس ہے۔ مثال کے طور پر گو بحیرہ روم، بحیر اوقیانوس، بحر احمر اور بحر ہند طبعی حالت میں ایک دوسرے سے ملتے ہیں مگر ان کے پانی آپس میں مدغم نہیں ہوتے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ ان کے درمیان میں ایک پردہ حائل ہے یہ پردہ در اصل وہ قوت ہے جسے ’’سطحی تناؤ’‘(Surface tension)کہا جاتا ہے۔ان سمندروں کے پانیوں کی کثافت میں فرق ہے۔اس فرق کی وجہ سے سطحی تناؤ ان کو ایک دوسرے میں مد غم نہیں ہونے دیتا۔اس بات کا ایک دلچسپ پہلو یہ ہے کہ اس وقت جبکہ لوگوں کے پاس فزکس، سطحی تناؤ اور سمندروں کا علم نہیں تھا، اس وقت یہ حقیقت قرآن پاک میں بیان کی گئی۔

٭٭٭

 

 

زمین کی گولائی

 

چودہ سو سال پہلے جب قرآن پاک نازل ہوا، اس وقت لوگوں کا اجرامِ فلکی کے بارے میں علم ناقص تھا۔ اس وقت کچھ لوگوں کا خیال تھا کہ زمین چپٹی ہے جبکہ کچھ لوگوں کے نظریات ان سے مختلف تھے۔ یہ حقیقت ہے کہ زمین گول ہے، اس وقت اس نظریے کے بارے میں لوگوں کی کوئی رائے نہیں تھی ۔ قرآن پاک کے علم سے لی گئی معلومات سے واضح ہے کہ عملی طور پر زمین گول ہے مندرجہ ذیل آیت میں اس کے بارے میں درج ہے:

’’اُسی نے آسمانوں اور زمین کو تدبیر کے ساتھ پیدا کیا اور وہی رات کو دن پر لپیٹتا ہے اور وہی دن کو رات پر لپیٹتا ہے اور اسی نے سورج اور چاند کو بس میں کر رکھا ہے سب ایک وقت مقرر تک چلتے رہیں گے۔ دیکھو وہی غالب اور بخشنے والا ہے۔(سورۃ الزمر:۵)

مندرجہ بالا آیت میں لفظ ’’تکویر’‘ کا عربی میں ترجمہ ہے کہ لپیٹ لینا، انگریزی میں اس کا معنی ہے ایک شئے کا دوسرے کے اوپر ڈال دینا یا جو کپڑا فالتو ہو اسے دوہرا کر دینا۔ دن اور رات ایک دوسرے میں جب ہی لپیٹے جا سکتے ہیں کہ زمین گول ہو لیکن جیسا کہ ابھی بتایا گیا ہے کہ چودہ سو سال پہلے عربوں کا خیال تھا کہ زمین چپٹی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ زمین کے گولائی کے بارے میں ساتویں صدی عیسوی میں ہی بتا دیا گیا تھا۔

یہ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ انسان کو سچائی سے آشنا کرنا چاہتا ہے ۔ یہ حقیقت جو کہ چودہ سو سال پہلے بیان فرمائی گئی ۔ یہ سچائی کئی صدیوں بعد سائنسی ٹیکنالوجی کی بدولت ثابت ہوئی۔

چونکہ قرآن پاک اللہ تعالیٰ کا کلام ہے، کائنات کے بارے میں حقائق صحیح صحیح صرف اس کلام میں درج ہیں۔ لہٰذا یہ ناممکن ہے کہ یہ کلام کسی انسان کو ہو کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کائنات کی ہر شئے تخلیق کی ہے۔ لہٰذا وہی اس کے بارے میں صحیح معلومات رکھتا ہے ۔ اس لئے اللہ تعالیٰ جب چاہتا ہے ان حقائق کو اپنے بندوں کے لئے عام کر دیتا ہے، یعنی انسان کو وہ صلاحیت دیتا ہے کہ وہ ان حقائق سے پردہ ہٹا سکیں۔

٭٭٭

 

 

نشانِ انگشت:انگلیوں کے نشانات

 

قرآنِ پاک میں یہ بیان فرمایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے لیے یہ نہایت ہی آسان ہے کہ وہ انسان کو موت کے بعد دوبارہ زندہ کر دے۔ اللہ تعالیٰ انگلیوں کے نشانات کا ذکر کر کے اس بات کی طرف توجہ دلانا چاہتا ہے۔

 

’’کیا انسان یہ خیال کرتا ہے کہ ہم اس کی بکھری ہوئی ہڈیوں کو اکٹھا نہیں کریں گے؟ ضرور کریں گے اور ہم اس بات پر قادر ہیں کہ اس کی پور پور درست کر دیں۔’‘(سورۃ القیامہ:۳۔۴)

زمین میں مٹی کے اندر گلنے سڑنے کے بعد اور اس کی بکھری ہوئی ہڈیوں کو دوبارہ جوڑنا اور اسے دوبارہ زندگی عطا کرنا اللہ تعالیٰ کے لئے نہایت آسان ہے ۔ اب آپ اپنی انگلیوں کے سرے کو دیکھئے ۔ ان کے پور پور کو دیکھیں ہر شخص کی انگلیوں کے نشانات مخصوص ہیں۔ یہ نشانات کسی بھی دوسرے شخص سے نہیں ملتے۔ حتی کہ اگر جڑواں بہن بھائی بھی ہوں تب بھی، ہر وہ شخص جو کہ اس دنیا میں زندہ ہے، یا بہت پہلے زمانے میں گزر چکا اُن سب کی انگلیوں کے نشانات ایک دوسرے سے جُدا جُدا ہیں اور یہ کہ یہ اُسی طرح مختلف ہیں جیسے کہ دو انسانوں کی شخصیت۔ اور باریک بین ترتیب کے باوجود اللہ تعالیٰ ہمیں دوبارہ ویسے ہی تخلیق کر سکتا ہے۔

یہاں سب سے اہم بات یہ ہے کہ انسان کی انگلیوں میں مماثلت نہیں اور یہ نہایت اہم حقیقت ہے اور اس حقیقت کی اصلیت انیسویں صدی میں معلوم ہوئی جبکہ قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ نے یہ حقیقت چودہ سو سال پہلے بیان فرما دی تھی۔

اس کے علاوہ بھی قرآن پاک میں بہت سے سائنسی حقائق کے بارے میں بیان کیا گیا ہے۔ ہم نے یہاں صرف چند ایک کے بارے میں بیان کیا۔ اکیلے یہ واقعات اس بات کو ثابت کرنے کے لئے کافی ہیں کہ یہ کتاب اللہ تعالیٰ کا کلام ہے۔ (اس مضمون کے بارے میں مزید معلومات کے لئے آپ مصنف کی کتاب ’’قرآنی معجزے’‘ کا مطالعہ کر سکتے ہیں) اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک کے بارے میں بیان فرمایا کہ:

’’بھلا یہ قرآن میں غور کیوں نہیں کرتے۔ اگر یہ خدا کے سوا کسی اور کا کلام ہوتا تو اس میں بہت سا اختلاف پاتے۔ ‘‘(سورۃ النسآء:۸۲)

اس آیت سے یہ بھی واضح ہے کہ صرف قرآن پاک ہی صحیح معلومات کا منبع ہے ،سائنسی ترقی اور ٹیکنالوجی میں ترقی کی بدولت قرآنِ پاک کے بہت سے معجزے سامنے آتے جا رہے ہیں، قرآن پاک کی معجزاتی خاصیت یہ ظاہر کرتی ہے کہ قرآن پاک اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی کر دہ ہے۔

لہٰذا اب ہمیں یہ یقین کر لینا چاہیے کہ یہ کلامِ الٰہی ہے اور ہمیں اسی کلام سے ہدایت حاصل کرنی چاہیے اور اس میں اللہ تعالیٰ کے بیان کر دہ فرمودات کا باریک بینی سے مطالعہ کرنا چاہیے اور ان پر دلچسپی سے عمل کرنا چاہیے۔

اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک کی کئی ایک آیات میں بیان فرمایا ہے کہ ہمیں اس قرآن میں تدبر کرنا چاہیے غور و فکر کرنا چاہیے اور ان پر عمل کرنا چاہیے، ان میں سے کچھ آیات مندرجہ ذیل ہیں۔

’’اور اے کفر کرنے والو! یہ کتاب بھی ہم نے اُتاری ہے، برکت والی ، تو اس کی پیروی کرو، اور اللہ تعالیٰ سے ڈرو تاکہ تم پر مہربانی کی جائے۔’‘(سورۃ الانعام:۱۵۶)

’’دیکھو یہ قرآن نصیحت ہے، پس جو چاہے اسے یاد رکھے۔’‘ (سورۃ عبس : ۱۱۔۱۲)

٭٭٭

 

 

 

ہمارے اوصاف اور منشاء ایزدی

(اللہ تعالیٰ ہم سے کس قسم کے کر دار کی توقع کرتا ہے؟)

 

 

قرآن پاک جو کہ انسانیت کے لئے ہدایت ہے، اللہ تعالیٰ کا کلام ہے ۔ ہم اس قرآن کو پڑھ کر اور اس کی آیات پر عمل کر کے اُن اوصاف کو اپنا سکتے ہیں جن سے اللہ تعالیٰ کی خوشنودی حاصل ہوتی ہے۔ یہ بہت آسان ہے لیکن اس کے باوجود اکثر لوگ اُن اقدار اور اوصاف سے روگردانی کرتے ہیں، جن سے اللہ تعالیٰ خوش ہوتا ہے۔ اگر ایک دن ہمارے ارد گرد کے لوگ اللہ تعالیٰ کی منشاء کے مطابق عمل کریں اور اس ذاتِ باری تعالیٰ کے بتائے ہوئے اوصاف کو اپنا لیں تو یہ دنیا امن و سکوں کا گہوارہ بن جائے۔

آئیے! اب ہم اُن اوصاف کا مطالعہ کریں جو کہ اللہ تعالیٰ کو پسند ہیں، جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو پیدا کیا ہے، لہٰذا اللہ تعالیٰ ہی انسان کے بارے میں بہتر جانتا ہے کہ اس نے کونسی اچھی اور بُری خصوصیات اپنائی ہوئی ہیں، ہو سکتا ہے کہ ایک شخص کسی دوسرے کو دھوکہ دے دے، لیکن وہ اللہ تعالیٰ سے کچھ بھی چھپا نہیں سکتا۔ یہ اس لیے ہے کیونکہ ہمارے برعکس اللہ تعالیٰ انسان کے اندر پیدا ہونے والے خیالات کو بھی جانتا ہے، لہٰذا ایک انسان کو چاہیے کہ وہ صدق دل سے اللہ تعالیٰ کی ذات پر ایمان لائے ۔ ایک آیت میں کچھ اس طرح بیان ہوا ہے۔

’’اے پیغمبر لوگوں سے کہہ دو کہ کوئی بات تم اپنے دلوں میں مخفی رکھو یا اُسے ظاہر کرو اللہ اس کو جانتا ہے اور جو کچھ زمین میں ہے اُس کو سب کی خبر ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ ‘‘ (سورۃ آل عمران :۲۹)

’’جو کچھ آسمانوں میں اور جو کچھ زمین میں ہے، سب خدا ہی کا ہے۔ تم اپنے دلوں کی بات کو ظاہر کرو گے یا چھپاؤ گے تو اللہ تو تم سے اس کا حساب لے گا۔ پھر وہ جسے چاہے معاف کرے اور جسے چاہے عذاب دے اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔ ‘‘ (سورۃ البقرۃ :۲۸۴)

ایک شخص جو کہ اس بات سے باخبر ہے کہ وہ جو بھی بات کر رہا ہے جو بھی عمل وہ کر رہا ہے اور اس کے دماغ میں جو بھی خیالات پیدا ہو رہے ہیں وہ سب اللہ تعالیٰ کے علم میں ہیں، ایسا شخص کبھی بھی کوئی بُرا عمل نہیں کرے گا ،چاہے وہ عمل دوسرے لوگوں سے چھپ کر کر رہا ہو۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ اچھا بننے کے لئے ضروری ہے کہ لوگ اللہ کی ذات پر مکمل ایمان لے آئیں۔ اللہ تعالیٰ کے وجود کو تسلیم کریں اور یہ کہ اللہ تعالیٰ ایک ہے اس پر ایمان لائیں اور یہ بھی یقین رکھیں کہ اللہ تعالیٰ قادرِ مطلق ہے اور یہ کہ انسان کو اس بات پر یقین رکھنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات سب کچھ سنتی اور دیکھتی ہے ۔ یہی وہ منشاء ہے اور یہی وہ اوصاف ہیں جو کہ رب تعالیٰ اپنے بندوں سے چاہتا ہے۔

٭٭٭

 

 

اللہ تعالیٰ سے محبت اور اس پر بھروسہ

 

پیارے بچو! جب آپ کے امی ابو آپ سے پیار کرتے ہیں تو آپ کتنے خوش ہوتے ہیں ۔ کیوں ایسے ہی ہے نا؟ آپ بھی اُن سے محبت کرتے ہیں۔ آپ اُن کی بات مانتے ہیں ۔ آپ اُن کی بات نہ مانیں تو وہ آپ سے ناراض بھی ہو جاتے ہیں اور بعض اوقات پیارے بچو! وہ آپ کو سزا بھی دیتے ہیں لیکن اس کے باوجود وہ آپ سے پیار کرتے ہیں اور وہ آپ کی ضروریات کو پورا کرتے ہیں۔ آپ کی خواہشات کا خیال رکھتے ہیں۔ آپ کی حفاظت کرتے ہیں ۔ آپ اُن پر بھروسہ کرتے ہیں۔ جب بھی آپ کو کوئی مشکل پیش آتی ہے وہ ہمیشہ آپ کی مدد کے لئے تیار رہتے ہیں۔

لیکن بچو! کیا آپ نے کبھی سوچا کہ آپ اللہ تعالیٰ سے کتنی محبت کرتے ہیں اور اس پر کتنا بھروسہ رکھتے ہیں؟ اللہ تعالیٰ نے ہی آپ کے لئے پیار کرنے والے والدین پیدا کیے۔ اُسی نے آپ کے والدین کے دِل میں آپ کی محبت ڈالی۔ اللہ تعالیٰ نے جتنی بھی مخلوق پیدا کی ہے، اللہ تعالیٰ اُن سب کی ضروریات کا خیال رکھتا ہے، اسی کے رحم و کرم سے ہم اس دنیا میں زندہ ہیں اور امن و سکون سے زندگی بسر کرتے ہیں اور اس ذات کی ان گنت نعمتوں سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ نے سورج کو بنا یا تاکہ ہم اس زمین پر رہ سکیں۔ اللہ تعالیٰ نے ہی ہمارے لئے مختلف اقسام کی سبزیاں، پھل اور جانور پیدا کیے۔ ہم طرح طرح کے کھانے کھاتے ہیں۔ ہم ان جانوروں سے دودھ اور گوشت حاصل کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ ہم انواع و اقسام کی سبزیوں اور پھلوں کو استعمال کرتے ہیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے یہ سب کچھ ہمارے لیے پیدا کیا ہے۔

اللہ تعالیٰ نے بارش برسائی تاکہ ہم تازہ پانی پینے کے لئے استعمال کر سکیں۔ اللہ تعالیٰ نے ہی سمندروں کو پیدا کیا۔ بچو! آپ کوتو معلوم ہی ہے کہ زمین کے 71%رقبے پر پانی ہے اور یہ سمندروں کا پانی نمکین ہے یعنی کھارا ہے، کہنے کا مطلب یہ ہے کہ اگر بارشیں نہ ہوتیں تو نہ ہی سمندروں میں اور نہ ہی پینے کے لیے تازہ پانی میسر ہوتا۔ پانی زندگی کے لئے بہت اہم ہے۔ جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ انسان پانی کے بغیر چند ہی دن زندہ رہ سکتا ہے۔

اللہ تعالیٰ نے ہمارے جسم کے اندر مدافعت کا ایک نظام پیدا کیا ہے جو کہ ہمیں بیماری کے جراثیم سے تحفظ فراہم کرتا ہے۔ اس مدافعت کے نظام کی بدولت ہم عام زکام کے جراثیم سے محفوظ رہتے ہیں، اور ہم مرتے نہیں۔ اسی طرح ہم دیکھتے ہیں کہ ہمارا دل بغیر رکے ساری زندگی اپنے کام میں مصروف ہے۔ جیسا کہ گاڑی کے انجن کو بند کرنا پڑتا ہے، اگر اسی طرح دل بند ہو جائے تو ہم فوراً مر جائیں، لیکن اس کے برعکس انسانی دل کئی دہائیوں تک بغیر رکے چلتا ہے اور ہم زندہ رہتے ہیں۔ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کے حکم سے ہوتا ہے۔

اللہ تعالیٰ نے ہماری آنکھیں بنائیں جن سے ہم دیکھتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے آنکھ کی صفائی کا کیسا نظام بنایا اور یہ کہ آنکھ ہر وقت تر رہتی ہے۔ ہم اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو دیکھتے ہیں۔ اپنے والدین اور بہن بھائیوں کو دیکھتے ہیں۔ کائنات کی چیزوں کا مشاہدہ کرتے ہیں۔ اس آنکھ سے ہم ماضی میں گزرے ہوئے واقعات کو دماغ میں محفوظ کر لیتے ہیں اور کسی بھی وقت اُن کو فلم کی طرح دیکھ سکتے ہیں۔ مختصراً یہ کہ آنکھ آج کل کے بنائے گئے کسی بھی اعلیٰ ترین کیمرے کے مقابلہ میں بہت اعلیٰ ہے۔ یہ قدرت کا کرشمہ ہے۔ ہمیں اُس ذات کا شکر ادا کرنا چاہیے کہ اُس نے ہمیں آنکھ جیسی نعمت سے نوازا ورنہ ہماری زندگی میں اندھیرا ہی اندھیرا ہوتا۔

اللہ تعالیٰ نے ہمیں سننے کے لئے کان دیے، جن سے ہم مختلف اقسام کی آوازوں کو سن سکتے ہیں اور اُن کی انفرادیت کے بارے میں بتا بھی سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ ان کو محفوظ بھی کر لیتے ہیں۔ جدید ٹیکنالوجی کے حامل ریکارڈنگ سسٹم اس کان کی خصوصیات کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے ہمیں ناک عطا کی تاکہ ہم سونگھ سکیں اور اللہ تعالیٰ نے ہمیں زبان عطا کی جس سے ہم باتیں بھی کرتے ہیں اور کھانے پینے کی چیزوں کے ذائقوں میں تمیز بھی کر سکتے ہیں ۔

یہ اللہ تعالیٰ کی عطا کر دہ نعمتوں میں سے چند ایک ہیں جن کا ہم نے ذکر کیا۔ ہم اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا شمار نہیں کر سکتے۔ اللہ تعالیٰ کی نعمتیں بے شمار اور ان گنت ہیں کہ ہم اُن کا احاطہ نہیں کر سکتے۔ ایک آیت میں اللہ غفور و رحیم نے مندرجہ ذیل الفاظ میں بیان فرمایا ہے۔

’’اور جو کچھ تم نے مانگا سب میں سے تم کو عنایت کیا اور اگر اللہ کے احسان گننے لگو تو شمار نہ کر سکو مگر لوگ نعمتوں کا شکر نہیں کرتے کچھ شک نہیں کہ انسان بڑا بے انصاف اور ناشکرا ہے۔ (سورۃ ابراہیم :۳۴)

جیسا کہ آپ قرآن پاک کی مندرجہ بالا آیت سے بھی سمجھ گئے ہوں گے کہ اللہ تعالیٰ کی عطا کر دہ نعمتوں کی ناشکری کرنا، یہ بھول جانا کہ نعمتوں کا عطا کرنے والا اللہ تعالیٰ ہے اور اللہ تعالیٰ نے جو کچھ ہمارے لیے کیا اس کا شکر ادا نہ کرنا یہ تمام بُرے اعمال اور اوصاف ہیں کہ اللہ تعالیٰ کو پسند نہیں اور ان اوصاف کے اپنانے سے اللہ تعالیٰ کی ذات ناراض ہوتی ہے۔

اللہ تعالیٰ ناشکرے لوگوں سے محبت نہیں رکھتا۔ اپنی نعمتوں کے بدلے میں اللہ تعالیٰ ہم سے چاہتا ہے کہ ہم اُس کی ذات سے محبت کریں ۔ اس کے شکر گزار رہیں یعنی اُس کا شکر ادا کریں۔ اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان مندرجہ ذیل آیت سے واضح ہے۔

’’اور اللہ ہی نے تم کو تمہاری ماؤں کے شکم سے پیدا کیا کہ تم کچھ نہیں جانتے تھے، اور اس نے تم کو کان اور آنکھیں اور دل اور اُن کے علاوہ اور اعضاء بخشے تاکہ تم شکر کرو۔ ‘‘ (سورۃ النحل :۷۸)

’’پس اللہ نے جو تم کو حلال طیب رزق دیا ہے اُسے کھاؤ اور اللہ کی نعمتوں کا شکر کرو۔ اگر اسی کی عبادت کرتے ہو ۔ (سورۃ النحل : ۱۱۴)

’’اور وہی تو ہے جس نے تمہارے کان اور آنکھیں اور دل بنائے لیکن تم کم شکر گزری کرتے ہو۔ (سورۃ المؤمنون :۷۸)

ایک اور آیت میں فرمایا کہ جو مومن ہیں وہ اللہ تعالیٰ سے سب سے زیادہ محبت رکھتے ہیں۔

’’اور بعض لوگ ایسے ہیں جو غیر اللہ کو شریک اللہ بناتے ہیں اور اُن سے اللہ کی سی محبت کرتے ہیں۔ لیکن جو ایمان والے ہیں وہ تو اللہ ہی کےسب سے زیادہ دوست دار ہیں اور اے کاش ظالم لوگ جو بات عذاب کے وقت دیکھیں گے اب دیکھ لیتے کہ سب طرح کی طاقت خدا ہی کو ہے اور یہ کہ خُدا سخت عذاب کرنے والا ہے۔ ‘‘ (سورۃ البقرۃ :۱۶۵)

پیارے بچو! اللہ تعالیٰ آپ کے امی، ابو اور ہر کسی کی حفاظت کرتا ہے اور اُن کو روزی دیتا ہے۔ ہم سب کو اللہ تعالیٰ کی ضرورت ہے۔ ہم اس کے محتاج ہیں ۔ وہ کسی کا محتاج نہیں ۔جو کچھ اللہ تعالیٰ کی ذات کر سکتی ہے وہ نہ تو ہمارے والدین اور نہ ہی کوئی اور ہمارے لئے کر سکتا ہے۔ اسی لئے ہمیں محبت صرف اللہ تعالیٰ سے کرنی چاہیے اور اسی کی ذات پر بھروسہ کرنا چاہے۔

اللہ تعالیٰ سے دوسری تمام چیزوں سے زیادہ محبت کرنا، اس کی ذات پر بھروسہ رکھنا اور یہ کہ اس بات کا یقین کر لینا کہ اللہ تعالیٰ ہی نعمتوں کا عطا کرنے والا ہے یہی وہ اوصاف ہیں جو کہ اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کا باعث بنتے ہیں۔

٭٭٭

 

 

ہمارا دوسروں کے ساتھ رویہ کیسا ہونا چاہیے؟

 

اللہ تعالیٰ خود پسند، متکبر، جھُوٹ بولنے والے ،فخر کرنے والے اور اس کے علاوہ دوسرے لوگوں کا مذاق اُڑانے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ اللہ تعالیٰ نیک ،پرہیز گار اور ایماندار شخص کو پسند کرتا ہے۔ اِن خصوصیات کے حامل لوگوں کو اللہ تعالیٰ دوست رکھتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ان سے خوش ہوتا ہے۔

اکثر لوگ اپنے ارد گرد رہنے والے لوگوں کے زیرِ اثر رہتے ہیں اگر اُن کے دوست بُرے ہیں تو وہ ان کی زندگیوں پر منفی اثرات مرتب کریں گے لیکن ایک شخص جو کہ اللہ تعالیٰ کی ذات پر ایمان رکھتا ہے، اور اس بات کا بھی یقین رکھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر وقت اسے دیکھ رہا ہے وہ شخص انتہائی ناسازگار حالات کے باوجود بھی اچھائی کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑتا۔ وہ ان نامساعد حالات کے باوجود سیدھے راستے پر رہتا ہے اور اُن لوگوں کے لئے جو کہ بے ایمان ہوتے ہیں اور بُرائی کا راستہ اختیار کر لیتے ہیں وہ اُن کے لئے ایک روشن مثال ثابت ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ مستقل مزاج لوگوں کو پسند فرماتا ہے ۔ قرآن پاک میں ’’مستقل مزاجی’‘ کا مطلب یہ نہیں کہ انسان صرف نا مساعد حالات میں ہی مستقل مزاج رہے بلکہ زندگی کے ہر لمحے میں مستقل مزاجی کا ثبوت دے۔ ایک ایماندار شخص کی مستقل مزاجی لوگوں اور حالات کے بدلنے سے نہیں بدلتی۔ مثال کے طور پر ایک شخص جس کے دل میں اللہ تعالیٰ کا اتنا زیادہ خوف نہیں ہے ہو سکتا ہے کہ کسی ایسے شخص سے اچھا سلوک کرے جس سے اُس کو کوئی معمولی سا فائدہ حاصل ہوتا ہوا نظر آئے لیکن وہ اس طرح کا تعریفی رویہ ہمیشہ کے لئے اپنانے میں ناکام رہتا ہے، ہو سکتا ہے کہ جب اسے ایسا لگے کہ اس کے مفاد کو نقصان کا اندیشہ ہے اس کا رویہ اچانک تبدیل ہو جائے اور وہ توہین آمیز لہجہ استعمال کر دے لیکن ایک ایماندار شخص باوجود کسی خاص دلچسپی یا مفاد کے وہ کبھی بھی اپنا رویہ تبدیل نہیں کرتا۔ وہ لوگوں کے ساتھ ہمیشہ اچھا برتاؤ کرتا ہے ،چاہے حالات کتنے ہی نامساعد کیوں نہ ہوں یا پھر لوگوں کا رویہ کتنا ہی توہین آمیز کیوں نہ ہو، حتیٰ کہ اسے کتنا ہی غصہ دلایا جائے وہ اپنے اعصاب پر قابو رکھتا ہے اور ہمیشہ مستقبل مزاجی کا ثبوت دیتا ہے۔

قرآن پاک کی ایک اور آیت میں اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ ہمیشہ مستقل مزاجی میں ایک دوسرے سے آگے بڑھو۔

’’اے اہل ایمان کفار کے مقابلے میں ثابت قدم رہو اور استقامت رکھو اور مورچوں پر جمے رہو اور خدا سے ڈرو تاکہ مراد حاصل کرو۔ ‘‘   (سورۃ آل عمران:۲۰۰)

قرآن پاک میں مذکور انبیاء علیہم السلام کی استقامت اور ثابت قدمی ہمارے لیے بہترین مثال ہے۔ پیارے بچو! آپ نے صبرِ ایوب علیہ السلام کے بارے میں تو سن رکھا ہو گا۔ انہوں نے اللہ تعالیٰ کی طرف سے بیماری کے دوران طویل عرصہ تک صبر و تحمل اور استقامت سے کام لیا۔ اللہ تعالیٰ کے اس نیک بندے نے بیماری کے دوران ثابت قدمی کا مظاہرہ کیا اور اللہ تعالیٰ سے مدد مانگی ۔اللہ تعالیٰ سے دعا بھی کی اور اس طرح اللہ تعالیٰ نے اُن کی دعا کو قبول فرمایا اور اُن پر اپنی مہربانی فرمائی اور ان کو اس بیماری سے نجات بخشی۔

پیارے بچو! جب حضرت نوحؑ نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے کشتی بنائی تو اُن کے لوگوں نے اُن کا مذاق اُڑایا اور اس پر حضرت نوحؑ نے صبر کیا اور ثابت قدم رہے۔ اس دوران انہوں نے صبر و تحمل کا مظاہرہ کیا اور اس دوران وہ اُن کو سیدھے راستے پر آنے کا مشورہ دیتے رہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کے اُن برگزیدہ لوگوں کی استقامت کی غیر معمولی مثالیں ہیں جو کہ اللہ تعالیٰ کے یہ نیک بندے انتہائی نامساعد حالات میں ظاہر کرتے رہے۔

اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک کی کئی ایک آیات میں بیان فرمایا ہے کہ وہ ثابت قدم رہنے والوں کو دوست رکھتا ہے اور اُن سے محبت کرتا ہے۔

اس کے برعکس اللہ تعالیٰ خود پسند، سرکش، متکبر اور فخر کرنے والے انسان کو دوست نہیں رکھتا ۔ پیارے بچو! دنیا میں مادی اشیاء کے لحاظ سے سب انسان برابر نہیں ہوتے۔ کچھ لوگ ایسے ہیں جن کے پاس خوبصورت گھر اور کاریں ہیں جبکہ دوسرے لوگوں کے پاس کچھ بھی نہیں ہے۔ لیکن اہمیت ان مادی چیزوں کی نہیں ہے اصل یہ ہے کہ انسان کا رویہ، اَخلاق اور دوسروں کے ساتھ برتاؤ کیسا ہے؟ مثال کے طور پر آپ کا ایک دوست ہے اور اس کے پاس اچھے کپڑے ہیں اور وہ اس بات پر فخر کرتا ہے یہ ایک طرزِ عمل ہے جو کہ اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کا باعث بن سکتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کے ہاں سب انسان برابر ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے ہاں انسان کی قدر و منزلت اس شخص کے ایمان کی وجہ سے ہے ناکہ ظاہری نمود و نمائش سے ہے۔

اللہ تعالیٰ کے ہاں برتری کا معیار دولت اور طاقت نہیں ،خوبصورتی اور طاقت نہیں ۔ اللہ تعالیٰ کے ہاں برتری کا معیار تقویٰ اور پرہیزگاری ہے۔ بندوں کا اپنے رب سے کتنا پیار ہے۔ لوگ کتنے ایماندار ہیں اور لوگ قرآن پاک کے احکام کو کتنا مانتے اور اُن پر کتنا عمل کرتے ہیں۔ اس بنیاد پر برتری ہے۔ یہی وہ معیار یا پیمانے ہیں جن کی بنیاد پر اللہ تعالیٰ کے ہاں برتری اور فضیلت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں ایک شخص قارون کا قصہ بیان فرمایا ہے۔

قارون نہایت ہی دولت مند انسان تھا۔ اس کی دولت اور خزانے کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس کے خزانوں کی چابیاں ایک طاقت ور افراد کی جماعت اُٹھاتی تھی۔ قارون کے پاس رہنے والے جاہل افراد بھی قارون کی دولت سے حرص کرتے اور خواہش کرتے کہ کاش اُن کے پاس بھی قارون جیسی دولت ہوتی۔ لیکن، پیارے بچو! قارون ایک متکبر اور خود سر شخص تھا اور اس کے علاوہ وہ اللہ تعالیٰ کا نافرمان بھی تھا۔ وہ اس بات سے انکار کرتا تھا کہ یہ سب دولت اور خزانہ اسے اللہ تعالیٰ نے عطا کیا ہے۔ تب اللہ تعالیٰ نے ایک دن اس کو ایک خوفناک آفت کی گرفت میں لے لیا۔

پیارے بچو! ایک رات اس کی تمام دولت اور سارا خزانہ غائب ہو گیا ، اس کو زمین نگل گئی۔ اس ناگہانی آفت کو دیکھ کر وہ لوگ جو کہ خواہش کرتے تھے کہ کاش اُن کے پاس بھی ایسا ہی خزانہ ہوتا بہت خوش ہوئے کہ وہ اس کی جگہ نہیں تھے، اس طرح اُن تمام لوگوں کو یقین ہو گیا کہ یہ قارون کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے سزا ملی ہے۔

اللہ تعالیٰ نے قارون کو قرآن پاک میں ایک عبرت ناک مثال کے طور پر بیان فرمایا ہے

’’قارون موسیٰ کی قوم میں سے تھا اور اُن پر تعدی کرتا تھا۔ اور ہم نے اس کو اتنے خزانے دیے تھے کہ اُن کی کنجیاں ایک طاقت ور جماعت کو اُٹھانی مشکل ہوتیں جب اس سے اس کی قوم نے کہا کہ اترایئے مت کہ خدا اِترانے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ (سورۃ القصص: ۷۶)

وہ اپنی شان و شوکت کو ظاہر کرنے کے لئے اپنی قوم کے لوگوں میں گیا آگے قرآن فرماتا ہے۔

’’تو ایک روز قارون بڑی آرائش اور ٹھاٹھ سے اپنی قوم کے سامنے نکلا۔ جو لوگ دنیا کی زندگی کے طالب تھے کہنے لگے جیسا کہ مال و متاع قارون کو ملا ہے کاش ایسا ہی ہمیں بھی ملے۔ یہ تو بڑا ہی صاحبِ نصیب ہے اور جن لوگوں کو علم دیا گیا تھا وہ کہنے لگے کہ تم پر افسوس مومنوں اور نیکو کاروں کے لئے جو ثواب اللہ کے ہاں تیار ہے وہ کہیں بہتر ہے اور وہ صرف صبر کرنے والوں ہی کو ملے گا۔ پس قارون کو اور اس کے گھر کو زمین میں دھنسا دیا تو خدا کے سوا کوئی جماعت اس کی مددگار نہ ہو سکی اور نہ وہ بدلہ لے سکا اور وہ لوگ جو کل اُس کے رُتبے کی تمنا کرتے تھے صبح کو کہنے لگے ہائے شامت! اللہ ہی تو اپنے بندوں میں سے جس کے لیے چاہتا ہے رزق فراخ کر دیتا ہے اور جس کے لئے چاہتا ہے تنگ کر دیتا ہے اگر اللہ ہم پر احسان نہ کرتا تو ہمیں بھی دھنسا دیتا ہائے خرابی کافر نجات نہیں پا سکتے۔ ‘‘ (سورۃ القصص :۷۹۔۸۲ )

پیارے بچو! زمین میں دھنسنے کا مطلب آپ اچھی طرح سمجھتے ہوں گے اگر آپ کے ذہن میں دھنسنے کا مطلب واضح نہیں تو پاکستان کے علاقوں میں آنے والے حالیہ زلزلوں کے بارے میں تو آپ نے سن رکھا ہو گا کہ کیسے راولا کوٹ، باغ، مظفر آباد اور بالا کوٹ کی زمین دھنس گئی اور کئی بستیاں صفحۂ ہستی سے مٹ گئیں اللہ تعالیٰ اس طرح بستیوں کو زمین میں دھنسا دیتا ہے، عقل مندوں کے لئے اس میں بھی اشارہ ہے۔

قرآنِ پاک سے یہ بات بھی واضح ہوتی ہے کہ بے کار کی باتیں کرنا اور فضول گپ شپ میں مشغول رہنا، اس کے علاوہ کسی کی پیٹھ پیچھے بُرائی کرنا ایسے طرزِ عمل ہیں جو کہ اللہ تعالیٰ کو ناپسند ہیں۔ اس کے علاوہ کسی کی جاسوسی کرنا یا کسی کی مخبری کرنا اور کسی کو طنز کرنا، کسی کا مذاق اُڑانا اور کسی کا بُرا نام رکھنا یہ وہ طرزِ عمل ہیں کہ جن سے ایک شخص کو ہر حالت میں بچنا چاہیے۔ قرآن میں اللہ تعالیٰ بے کار یعنی فضول باتوں اور دوسروں کی پیٹھ پیچھے بُرائی سے منع کرتا ہے۔ اس سے متعلقہ آیت کچھ اس طرح سے ہے۔

’’اے اہل ایمان! بہت گمان کرنے سے احتراز کرو کہ بعض گمان گناہ ہیں اور ایک دوسرے کے حال کا تجسس نہ کیا کرو اور نہ کوئی کسی کی غیبت کرے ۔ کیا تم میں سے کوئی اس بات کو پسند کرے گا کہ اپنے مرے ہوئے بھائی کا گوشت کھائے؟ اس سے تو تم ضرور نفرت کرو گے ۔ تو غیبت نہ کرو اور اللہ کا ڈر رکھو بے شک اللہ توبہ قبول کرنے والا مہربان ہے۔ (سورۃ الحجرات :۱۲)

تو پیارے بچو! آپ نے دیکھا کہ اللہ تعالیٰ دوسروں کے بارے میں گمان کرنے ،دوسروں کے حال کا تجسس کرنے اور دوسروں کی غیبت کرنے کو کتنا ناپسند کرتا ہے۔ اس لئے ہمیں ان فضول عادتوں سے ہر ممکن بچنا چاہیے ۔ ورنہ اللہ تعالیٰ ناراض ہو گا ،اس کے علاوہ ہمیں گذشتہ کیے ہوئے گناہوں سے توبہ کرنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ غفور و رحیم ہے اور توبہ کرنے والوں کو پسند کرتا ہے اور اُن کی توبہ قبول کرنے والا ہے۔

٭٭٭

 

 

 

اللہ تعالیٰ کی عبادت کریں

 

 

پیارے بچو! اللہ تعالیٰ ہی ہمارا اور ہمارے ارد گرد کی تمام چیزوں کا خالق ہے اور وہ قادرِ مطلق ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں پیدا کیا اور ہمیں حکم دیا کہ ہم قرآنِ پاک میں بیان کر دہ صحیح طریقے سے اُس کی عبادت کریں۔ اللہ تعالیٰ کی اپنے بندوں سے کیا منشا ہے؟ اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ اُس کے بندے صرف اسی کی بندگی کریں۔ اسی کی عبادت کریں، اس کے لئے ہی روزہ رکھیں۔ اس کے لئے ہی نماز پڑھیں۔ اسی کے شکر گزار رہیں۔ استقامت رکھیں اور اسی طرح اچھے اعمال سر انجام دیں، اللہ تعالیٰ کی عبادت کے یہ چند ایک طریقے ہیں۔

لیکن بچو! لوگوں کی اکثریت اس حقیقت سے واقفیت کے باوجود کہ اُن کی ذمہ داریاں کیا ہیں وہ حقیقت کو تسلیم نہیں کرتے اور اس طرف دھیان نہیں دیتے کیونکہ وہ اپنے گناہوں اور خود سری کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کے فرمانبردار بندے بننے میں مشکل محسوس کرتے ہیں۔ حالانکہ اُن کو کلامِ الٰہی کی اہمیت کا اندازہ ہے لیکن اس کے باوجود وہ اس کلام کو سننے اور اس پر عمل کرنے سے قاصر ہیں۔ اور اکثر لوگ ایسے ہیں جو کہ اس بات سے بھی انکار کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اُن کو پیدا کیا وہ بغاوت کے مرتکب ہیں حالانکہ یہ وہی اللہ ہے جس نے اُن کو دل ،کان، آنکھیں اور ان کو صحت و تندرستی عطا کی۔ اس کے علاوہ اللہ تعالیٰ نے انسان کے لئے اور دوسری چیزیں پیدا کیں مگر اس کے باوجود یہ لوگ اللہ تعالیٰ کی ان نعمتوں کا شکر ادا نہیں کرتے۔

لیکن ایک دن یہ لوگ بہت افسوس کریں گے اُن کو پچھتاوا ہو گا ۔ ان کی اس ناشکری اور خود سری کی بدولت اُن کو اس دنیا میں بھی نقصان کا احتمال ہو سکتا ہے اور آخرت کی زندگی میں تو یقیناً وہ خسارہ پانے والوں میں سے ہیں۔ جو ناشکری اور کفر وہ اس دنیا میں کر رہے ہیں اس کی وجہ سے اُن کو آخرت میں جہنم سے دوچار ہونا پڑے گا۔

ہر وہ شخص جو یہ نہیں چاہتا کہ اُس کو آخرت میں گھاٹا یا خسارہ ہو اور یہ نہیں چاہتا کہ اسے آگ میں ڈالا جائے، اسے چاہیے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی بندگی کرے اور اس کی شکر گزاری کرے۔ اللہ تعالیٰ یہ چاہتا ہے کہ ہم اسی کی عبادت کریں اور اسی سے مدد مانگیں اور اسی کی اطاعت گزاری کریں اور یہ سب کچھ اس کی عطا کر دہ نعمتوں کے بدلے میں ہماری ذمہ داری ہے، ہم پر فرض ہے۔ اس لئے

پیارے بچو! جب بھی آپ رب تعالیٰ کی خوبصورت اور حسین و جمیل نعمتوں کو اپنے ارد گرد دیکھیں، تو اسی وقت اللہ تعالیٰ کو یاد کریں ۔ اس کی تسبیح کریں اور اس کا شکر ادا کریں کیونکہ اگر اللہ تعالیٰ نہ چاہتا تو یہ تمام چیزیں خود بخود پیدا ہو ہی نہیں سکتی تھیں اور ہمیں کوشش کرنا چاہیے کہ ہم اُن لوگوں میں سے نہ ہوں جو کہ ان نعمتوں کے پاس سے آنکھیں بند کر کے گزر جاتے ہیں اور ان میں غور و فکر اور تدبر نہیں کرتے۔

قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ ہمیں شکر گزاری کے علاوہ عبادت کے دوسری اقسام پر بھی عمل کرنا چاہیے۔ دن میں پانچ وقت نماز پڑھنا، رمضان کے روزے رکھنا، دولت پر زکوٰۃ ادا کرنا اور زندگی میں ایک بار استطاعت کے مطابق خانہ کعبہ کا حج کرنا یہ سب عبادات کی اقسام ہیں جو کہ ہم سب پر فرض ہیں ۔ اگر ہم یہ ادا نہیں کریں گے تو پھر اللہ تعالیٰ ہم سے ناراض ہو جائیں گے اور اگر اللہ تعالیٰ ناراض ہو جائیں تو پھر ہمارا اس دنیا اور آخرت میں انجام کیا ہو گا اس پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔

دن میں پانچ وقت نماز پڑھنے سے اور نماز کو اپنی زندگی میں قائم کرنے سے، اس کے علاوہ نماز کو اپنے خاندان اور بحیثیتِ قوم قائم کرنے سے ہمیں بہت بڑا فائدہ ہو گا۔ سب سے بڑا فائدہ یہ ہو گا کہ ہم اللہ تعالیٰ کی یاد سے غافل نہیں رہیں گے اور ہمیں اپنی غلطیوں اور کوتاہیوں کا احساس ہوتا رہے گا اور یہ بھی احساس ہو گا کہ ہمارا ایک رب ہے، ہمارا ایک مالک ہے اور ہمارا ایک خالق ہے، ہم اسی کے بندے اور غلام ہیں۔ ہم آزاد نہیں کہ ہم جو مرضی چاہیں کریں ۔ نماز مخصوص اوقات میں اللہ تعالیٰ کو یاد کرنے کا طریقہ ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ نماز قائم کرنے سے انسان بے حیائی اور ان بُرے کاموں سے بچ جاتا ہے جن بُرے کاموں سے اللہ تعالیٰ ناراض ہوتا ہے۔

روزہ بھی عبادت کا ایک طریقہ ہے۔ رمضان کے مہینے میں اللہ تعالیٰ ہم سے یہ چاہتا ہے کہ ہم اس کے حکم کے مطابق دن کو کچھ کھائیں نہ کچھ پئیں۔ روزہ سے ہم کافی دیر تک بغیر کھائے پیئے استقامت کو ظاہر کرتے ہیں۔

دوسری طرف زکوٰۃ کی ادائیگی سے مراد یہ ہے کہ ہم اپنی دولت کا کچھ حصہ غریبوں، ناداروں اور ضرورت مند کو ادا کریں ۔ اس عبادت سے ہم لالچ حرص سے بچ سکتے ہیں اور ہمارے اندر ایثار و قربانی کا جذبہ پیدا ہوتا ہے۔ یہ تمام وہ اوصاف ہیں جو کہ اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کا باعث بنتے ہیں۔ اس کے علاوہ زکوٰۃ کی ادائیگی سے باہمی پیار و محبت اور باہمی تعاون کا جذبہ پیدا ہوتا ہے اور اس سے انسانی روح میں روئیدگی حاصل ہوتی ہے اور رُوحانی سکون اور اطمینانِ قلب حاصل ہوتا ہے۔

٭٭٭

 

 

دعا میں عاجزی و انکساری سے اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل ہوتا ہے

 

اللہ تعالیٰ عاجزی کے ساتھ التجا کو بہت اہمیت دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ عاجزانہ التجا کو مندرجہ ذیل آیت سے ظاہر فرماتا ہیں۔

’’کہہ دو کہ اگر تم اللہ کو نہیں پُکارتے تو میرا پروردگار بھی تمہاری کچھ پروا نہیں کرتا۔۔ ‘‘ (سورۃ الفرقان :۷۷)

اس آیت سے ظاہر ہے کہ ایک شخص کی اللہ تعالیٰ کے ہاں قدر و منزلت اس کی دعا پر منحصر ہے کیونکہ ایک شخص جو کہ اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہے وہ در اصل اللہ تعالیٰ ہی سے اپنی ضروریات و حاجات کے لئے التجا کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہر شئے کا مالک ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہمارے لئے ضروریات کی تمام چیزیں پیدا کی ہیں۔ مثال کے طور پر کھانے ہی کو دیکھیں۔ کھانا جو کہ انسانی زندگی کے لئے نہایت اہم ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہمارے کھانے کے لیے مختلف انواع و اقسام کی سبزیاں اور پھل پیدا کیے۔ اسی طرح گوشت کھانے کے لئے مرغیاں، گائے، بھیڑ اور بکریاں پیدا کیں ۔ اس کے علاوہ لا تعداد اور بے شمار کھانے کی اشیاء ہیں جن کا ہم احاطہ بھی نہیں کر سکتے۔

پیارے بچو! اسی طرح اللہ تعالیٰ نے آپ کے والدین یعنی امی ابو کو پیدا کیا ۔ اس کے علاوہ اور دوسرے لوگوں کو بھی پیدا کیا جو کہ ہمارے آس پاس رہتے ہیں۔ قادرِ مطلق رب نے لوگوں کو خوبصورت بدن عطا کیے۔ اُن کو ذہانت عطا کی، ان کو علم عطا کیا۔ اُن کو طاقت دی، اور سب سے بڑھ کر یہ کہ صحت و تندرستی عطا کی اور اس کے علاوہ بے شمار نعمتیں عطا کیں جن کو انسان استعمال کر کے لطف اندوز ہوتا ہے۔

جیسا کہ پہلے بیان کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ تمام نعمتیں انسان کے لئے پیدا کی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں کھانے کی نعمت عطا کی، اور پھر ہمیں کھانا کھانے کی صلاحیت بھی عطا کی، ہم اس کے شکر گزار ہیں۔ اسی پر تھوڑی دیر کے لیے سوچئے !آپ دانتوں کے بغیر کھانے کو کیسے چباتے ؟ آپ معدے کے بغیر کھانے کو کیسے ہضم کرتے ؟ کیا کھانے کا وجود کوئی معنی رکھتا اگر ہمارا نظامِ ہضم نہ ہوتا؟

آپ اللہ تعالیٰ کی مرضی سے نشوونما پا رہے ہیں یعنی جوان ہو رہے ہیں کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ ہی ہے جو کہ ہمیں نعمتیں عطا کرتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ جب ہمیں کوئی چیز چاہیے یا ہماری کوئی حاجت ہو تو صرف اللہ تعالیٰ ہی کو پکاریں۔ بالفاظ دیگر ہمیں اپنی تمام حاجات اور التجائیں صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کے سامنے رکھنی چاہیں جو کہ ہمارا رب ہے اور مالک ہے۔

ایک مثال کے ذریعے آپ یہ سب کچھ سمجھنے کے قابل ہو جائیں گے

پیارے بچو! آپ لائیٹ جلانے کے لیے بٹن دباتے ہو تو کیا آپ یہ کہہ سکتے ہیں کہ بٹن لائیٹ پیدا کرتا ہے؟ ہر گز نہیں ایسا نہیں ہوتا۔ بٹن تو صرف ایک ذریعہ ہے جیسے کہ بجلی کی رو کی ترسیل کرتی ہو ئی تاریں۔ اس دنیا میں اللہ تعالیٰ کسی بات کے ہونے کے لئے اسباب پیدا کرتا ہے۔ اس نے پانی پیدا کیا۔ اس پانی کو انسان نے اللہ تعالیٰ کی عطا کی ہوئی عقل کے مطابق بہت بڑے ڈیم میں اکٹھا کیا۔ پھر اس پانی کو ڈیم میں بہت بڑی ٹربائن میں سے گزارا اور اس طرح بجلی پیدا ہوئی۔ دھاتی تاریں اس بجلی کی ترسیل کر کے مختلف جگہوں تک لے گئیں اور اس طرح بلب نے اس بجلی کو روشنی میں تبدیل کیا ۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ ہی ہے جو کہ روشنی کو پیدا کرتا ہے، اگر اللہ چاہتا تو وہ بجلی کو بغیر کسی سبب کے بھی پیدا کر سکتا تھا اور وہ اس پر قادر ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ کی منشاء یہ بھی ہے کہ انسان اس کی عطا کی ہوئی ذہانت کو استعمال کریں، اس کی بنائی گئی مخلوق میں غور و فکر کریں ،اس کی کائنات میں تدبر کریں تاکہ ہم یہ دیکھیں کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کے لئے کیا کیا نعمتیں پیدا کی ہیں اور اس طرح ہم رب تعالیٰ پر ایمان لے آئیں۔

پیارے بچو!جب آپ کو پانی کی ضرورت ہوتی ہے تو آپ نلکے کو گھماتے ہیں، لیکن کیا آپ یہ کہہ سکتے ہیں کہ یہ نالیاں اور نلکا ہے جو کہ پانی کو پیدا کرنے کا سبب ہے؟ بٹن کی مثال کی طرح نلکا بھی پانی کی آمد کا ذریعہ ہے ناکہ پانی پیدا ہونے کا سبب، یہی وہ ذہنی رویہ یا نقطۂ نظر ہے جسے ہمیں اپنانا چاہیے۔ یہ اس بات کو بھی ثابت کرتا ہے کہ ہمیں اللہ تعالیٰ سے دعا کیوں مانگنا چاہیے۔ وہ اس لئے بچو کہ اللہ تعالیٰ ہر شئے کا پیدا کرنے والا ہے۔ وہ ہر شئے پر قادر ہے، اگر ہم لکھنے اور لسٹ بنانے بیٹھ جائیں کہ ہمیں اللہ تعالیٰ کا شکر گزار کیوں رہنا چاہیے یا ہمیں رب تعالیٰ سے دعا کیوں مانگنا چاہیے،تو اس کے لئے کتابوں کی لاکھوں جلدیں بھر جائیں گی۔ اس لئے آپ کے ارد گرد وہ لوگ جو کہ ان باتوں کو اتنی اہمیت نہیں دیتے وہ آپ کو کبھی بھی آپ کے عقیدے سے باز نہیں رکھ سکتے۔ ان کا ذہانت کو استعمال نہ کرنا اور غور و فکر اور تدبر اختیار نہ کرنا اُن کو ایک خطرناک انجام کی طرف لے جا  رہا ہے اور وہ بہت بڑی اور صریح غلطی پر ہیں۔

اللہ تعالیٰ نے ہمیں ان لوگوں کے انجام کار سے خبردار کر دیا ہے۔ آخرت میں ہمارے انعام اور سزا یعنی جزا و سزا کا انحصار اس بات پر ہے کہ ہم اس دنیا میں اپنے ساتھ کس طرح کا رویہ اختیار کرتے ہیں اور آیا کہ ہم اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں یا نہیں۔ ہر شخص کو اس کے اعمال کے بدلے میں آخرت میں صلہ ملے گا۔

٭٭٭

 

 

ہم عاجزی و انکساری سے التجا کیسے کر سکتے ہیں؟

 

اللہ تعالیٰ کی قدرت اور شان و شوکت اور عظمت کے بارے میں سوچ کر ، اس کا جاہ و جلال دل میں رکھ کر اور عاجزی اور انکساری سے چپکے چپکے دعائیں کر کے ہم اس سے التجا کر سکتے ہیں۔ یہی دعا کے ضروری اجزاء ہیں۔ اللہ تعالیٰ قرآن پاک میں دعا کرنے کے طریقے بتاتا ہے۔

’’لوگو! اپنے پروردگار سے عاجزی اور چپکے چپکے دعائیں مانگا کرو۔ وہ حد سے بڑھنے والوں کو دوست نہیں رکھتا۔ ‘‘(سورۃ الاعراف :۵۵)

عاجزی اور انکساری سے دعا یا التجا کرنا مخصوص مقامات یا اوقات تک محدود نہیں۔ ہم کسی بھی وقت اللہ تعالیٰ کے وجود کے بارے میں سوچ کر اس سے دعا مانگ سکتے ہیں۔ اس سلسلے میں اللہ تعالیٰ کے احکامات کچھ اس طرح سے ہیں۔

’’جو کھڑے اور بیٹھے اور لیٹے ہر حال میں اللہ کو یاد کرتے اور آسمان اور زمین کی پیدائش میں غور کرتے اور کہتے ہیں کہ اے پروردگار تو نے اس مخلوق کو بے فائدہ نہیں پیدا کیا تو پاک ہے تو قیامت کے دن ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچائیو۔’‘ (سورۃ آل عمران :۱۹۱ )

’’سو تم مجھے یاد کیا کرو میں تمہیں یاد کیا کروں گا اور میرے احسان مانتے رہنا اور ناشکری نہ کرنا۔ اے ایمان والو! صبر اور نماز سے مدد لیا کرو۔ بے شک خدا صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔ ‘‘  (سورۃ البقرۃ :۱۵۲۔۱۵۳ )

اللہ تعالیٰ قرآن پاک میں ہمیں عاجزی و انکساری سے دعا کرنے کے طریقے بتاتا ہے۔ انبیاء اور مومنین کی چند دعائیں درج ذیل ہیں۔

’’نوحؑ نے کہا پروردگار میں تجھ سے پناہ مانگتا ہوں کہ ایسی چیز کا تجھ سے سوال کروں جس کی حقیقت مجھے معلوم نہیں اور اگر تُو مجھے نہیں بخشے گا اور مجھ پر رحم نہیں کرے گا تو میں تباہ ہو جاؤں گا۔ ‘‘ (سورۃ ہود :۴۷)

’’اور جب ابراہیم اور اسمٰعیل بیت اللہ کی بنیادیں اونچی کر رہے تھے تو دعا کیے جاتے تھے کہ اے ہمارے پروردگار ہم سے یہ خدمت قبول فرما۔ بے شک تو سننے والا اور جاننے والا ہے۔ اے پروردگار ہم کو اپنا فرمانبردار بنائے رکھیو اور ہماری اولاد میں سے بھی ایک گروہ کو اپنا مطیع بنائے رہیو اور پروردگار ہمیں ہمارے طریقِ عبادت بتا اور ہمارے حال پر رحم کے ساتھ توجہ فرما بے شک تو توجہ فرمانے والا مہربان ہے۔ اے پروردگار ان لوگوں میں سے ایک پیغمبر مبعوث کیجیو جو اُن کو تیری آیتیں پڑھ پڑھ کر سنایا کرے اور کتاب اور دانائی سکھایا کرے اور اُن کے دلوں کو پاک صاف کیا کرے۔ بے شک تو غالب اور صاحبِ حکمت ہے۔ (سورۃ البقرۃ :۱۲۷۔۱۲۹)

’’جب یہ سب باتیں ہو لیں تو یوسف نے اللہ سے دُعا کی کہ اے پروردگار تو نے مجھ کو حکومت سے بہر ہ دیا اور خوابوں کی تعبیر کا علم بخشا ، اے آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے والے تو ہی دنیا اور آخرت میں میرا کار ساز ہے تو مجھے دنیا سے اپنی اطاعت کی حالت میں اُٹھائیو اور آخرت میں اپنے نیک بندوں میں داخل کیجیو۔’‘  (سورۃ یوسف:۱۰۱)

’’تو وہ اس کی بات سے ہنس پڑے اور (سلیمانؑ ) کہنے لگے کہ اے پروردگار مجھے توفیق عنایت کر کہ جو احسان تو نے مجھ پر اور میرے ماں باپ پر کیے ہیں اُن کا شکر کروں اور ایسے نیک کام کروں کہ تو اُن سے خوش ہو جائے اور مجھے اپنی رحمت سے اپنے نیک بندوں میں داخل فرما۔ ‘‘ (سورۃ النمل:۱۹)

’’کہو کہ اے اللہ! اے بادشاہی کے مالک تو جس کو چاہے بادشاہی بخشے اور جس سے چاہے بادشاہی چھین لے اور جس کو چاہے عزت دے اور جسے چاہے ذلیل کرے۔ ہر طرح کی بھلائی تیرے ہی ہاتھ ہے اور بے شک تو ہر چیز پر قادر ہے۔ ‘‘ (سورۃ آل عمران :۲۶)

’’کہو میرے پروردگار اس کام کے لئے میرا سینہ کھول دے اور میرا کام آسان کر دے اور میری زبان کی گرہ کھول دے تاکہ وہ میری بات سمجھ لیں اور میرے گھر والوں میں سے ایک کو میرا وزیر یعنی مددگار مقرر فرما ۔ یعنی میرے بھائی ہارون کو۔ اس سے میری قوت کو مضبوط کر اور اُسے میرے کام میں شریک کر تاکہ ہم تیری بہت سی تسبیح کریں اور تجھے کثرت سے یاد کریں تو ہم کو ہر حال میں دیکھ رہا ہے۔ ‘‘ (سورۃ طہٰ :۲۵۔۳۵)

’’جو کھڑے اور بیٹھے اور لیٹے ہر حال میں اللہ کو یاد کرتے اور آسمان اور زمین کی پیدائش میں غور کرتے اور کہتے ہیں کہ اے پروردگار تو نے اس مخلوق کو بے فائدہ نہیں پیدا کیا تو پاک ہے تو قیامت کے دن ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچائیو۔ اے پروردگار جس کو تو نے دوزخ میں ڈالا۔ اُسے رُسوا کیا اور ظالموں کا کوئی مددگار نہیں۔ اے پروردگار ہم نے ایک ندا کرنے والے کو سُنا کہ ایمان کے لئے پکار رہا تھا۔ یعنی اپنے پروردگار پر ایمان لاؤ توہم ایمان لے آئے۔ اے پروردگار ہمارے گناہ معاف فرما اور ہماری برائیوں کو ہم سے محو کر اور ہم کو دنیا سے نیک بندوں کے ساتھ اُٹھا ۔ اے پروردگار تو نے جن جن چیزوں کے ہم سے اپنے پیغمبروں کے ذریعے سے وعدے کیے ہیں وہ ہمیں عطا فرما اور قیامت کے دن ہمیں رسوا نہ کیجیو کچھ شک نہیں کہ تو خلاف وعدہ نہیں کرتا ۔ تو اُن کے پروردگار نے اُن کی دعا قبول کر لی اور فرما کہ میں کسی عمل کرنے والے کے عمل کو مرد ہو یا عورت ضائع نہیں کرتا تم ایک دوسرے کی جنس ہو۔(سورۃ آل عمران:۱۹۱۔۱۹۵)

٭٭٭

 

 

موت و حیات بعد الموت

 

پیارے بچو ! کچھ لوگ موت کو قطعی خاتمہ تصور کرتے ہیں لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے ۔حقیقت یہ ہے کہ موت اس دنیا کی زندگی کا آخرت کی زندگی میں تبدیلی کا نام ہے۔ یا یوں سمجھ لیجئے کہ یہ موت ایک دروازہ ہے اور اس دروازے کے اس طرف اس دنیا کی زندگی ہے اور اس دروازے کی دوسری طرف آخرت کی زندگی ہے۔ اس دروازے کی دوسری طرف بھی آخرت کی زندگی میں یا تو جنت کے باغات ہیں یا جہنم کی آگ ہے۔ ہمیں کیا ملے گا اس بات کا انحصار اس پر ہے کہ ہمارا اللہ تعالیٰ پر ایمان کامل ہے یا نہیں۔ ہم اللہ تعالیٰ کی توحید کے قائل ہیں یا نہیں اور کیا اللہ تعالیٰ نے ہمارے اعمال قبول کیے ہیں یا نہیں، اور اس کے علاوہ اس عارضی دنیا میں ہمارے رویے اور طرزِ عمل پر بھی انحصار ہے کہ ہم اُن جنت کے باغوں کے مالک ہوں گے یا پھر ہم جہنم کے گڑھوں میں ڈالے جائیں گے۔

موت اس دنیا میں ایک وقت مقررہ کا خاتمہ ہے۔ اس کی مثال کمرہ امتحان میں امتحان کے خاتمے پر بجنے والی گھنٹی جیسی آواز ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے ہر شخص کی آزمائش کے لئے اس دنیا میں ایک وقت مقرر کیا ہے۔ کسی کے30سال ہیں تو کسی کو 100سال کا عرصہ دیا گیا ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ جس طرح آپ کی تاریخ پیدائش کا فیصلہ کرتا ہے جو کہ اصل میں اس دنیا میں امتحان کے شروع ہونے کا وقت ہے ، اسی طرح اللہ تعالیٰ اس کے خاتمے کے وقت کا بھی فیصلہ کرتا ہے۔ بالفاظ دیگر صرف اللہ تعالیٰ ہی آپ کی موت کا وقت جانتا ہے۔

٭٭٭

 

 

موت کا تصور

 

موت جو کہ اس دنیا کی آزمائش کی زندگی کا خاتمہ ہے یہ مومنین کے لئے خوشی اور خوشحالی کا ذریعہ ہے کیونکہ، پیارے بچو! کیا کوئی ایسا شخص بھی ہو گا جو کہ کامیاب ہونے والے کے لئے افسوس کرے گا ۔کیا کوئی کرے گا؟

کسی شخص کی موت پر افسوس کرنا مذاق اُڑانے کے مترادف ہے۔ مرنے والا ہو سکتا ہے کہ آپ کا کوئی قریبی رشتہ دار ہو یا کوئی قریبی دوست ،لیکن اللہ تعالیٰ پر کامل یقین رکھنے والا شخص موت کو یقیناً حتمی خاتمہ اور علیحدگی تصور نہیں کرتا، بلکہ اس کے نظریے کے مطابق مرنے والے نے صرف اس دنیا میں امتحان کا وقت ختم کیا ہے۔ وہ یہ جانتا ہے کہ اللہ تعالیٰ آخرت کی ابدی زندگی میں اُن مسلمانوں کو جو کہ اس کے احکامات کو اس زندگی میں مانتے رہے ہیں اُن کو وہاں جنت کے باغوں میں داخل کرے گا۔ اس نظریے کے تحت لوگ موت کے وقت افسوس کرنے کی بجائے مسرت کا اظہار کریں گے۔ اللہ تعالیٰ ہماری روحوں کو کسی بھی وقت واپس لے جا سکتا ہے۔ لہٰذا ہمیں اپنے اعمال و افعال کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی خوشنودی حاصل کرنا چاہیے۔

الغرض خلاصہ یہ ہے کہ موت خاتمہ نہیں ہے بلکہ ایک دہلیز ہے جس سے ہم آخرت کی زندگی میں داخل ہوتے ہیں۔ یہ ایک عارضی پردہ ہے۔ اس پردے کے اس طرف دنیاوی زندگی ہے اور پردے کے دوسری طرف آخرت کی ابدی زندگی ہے ۔ آخرت کی زندگی ہی حقیقت ہے۔ اور اصل ہے اور وہ ابدی ہے۔ ہمیشہ کے لیے ہے۔ لہٰذا ہمیں اس زندگی کی تیاری کرنا چاہیے۔ کیا آپ یہ خیال کرتے ہیں کہ ایک شخص جو کہ امتحان دیتا ہے وہ چاہتا ہے کہ اس کا امتحان ضائع ہو جائے؟ نہیں کبھی نہیں، ہر گز نہیں ،وہ صرف سوالوں کے درست جوابات دے کر کمرۂ امتحان کو چھوڑنا چاہتا ہے۔ اس دنیا میں بھی انسان کو چاہیے کہ وہ امتحان پاس کرے۔ اللہ تعالیٰ کی خوشنودی حاصل کرے اور اس کی جنت کا حقدار قرار پائے۔ اس دنیا کی عارضی زندگی میں انسان کا مقصد و منشاء اللہ تعالیٰ کی محبت اور اس کی خوشنودی ہونا چاہیے ۔یہ اس لئے کہ ہمارا رب ہمیں بہت پیار کرتا ہے وہ غفور و رحیم ہے اور وہ ہر لمحہ ہماری حفاظت کرتا ہے۔ قرآن کی ایک آیت میں انبیاء کے الفاظ کچھ اس طرح بیان ہوئے ہیں۔

’’۔۔۔۔۔۔میرا پروردگار تو ہر چیز پر نگہبان ہے۔ ‘‘ (سورۃ ہود: ۵۷)

٭٭٭

 

 

آخرت

 

اللہ تعالیٰ نے قرآنِ پاک کی کئی آیات میں اس دنیا کی بے ثباتی کا ذکر کیا ہے اور اس بات پر زور دیا ہے کہ انسان کا ابدی ٹھکانہ آخرت ہے۔ ایک شخص جس کا اس دنیا میں آزمائش کا وقت پورا ہو جاتا ہے، ایک دن اسے موت واقع ہو جاتی ہے اور موت کے بعد آخرت کی زندگی شروع ہو جاتی ہے۔ یہ زندگی ابدی ہو گی اس کا کوئی خاتمہ نہیں ہے ۔ آخرت کی ابدی زندگی میں ایک انسان کی روح اس سے غائب نہیں ہو گی۔ اللہ تعالیٰ نے اس دنیا میں ان گنت نعمتیں پیدا کی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس دنیا کی عارضی زندگی کو پیدا کیا تاکہ ہماری آزمائش کر سکے کہ ہم آخرت کی ابدی اور ہمیشہ کی زندگی کے بدلے اس عارضی دنیا میں کس طرح کا طرزِ عمل اختیار کرتے ہیں۔ جزا و سزا کے واسطے اللہ تعالیٰ نے آخرت میں جنت اور دوزخ کو بھی پیدا کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے خبردار کر دیا ہے کہ آخرت میں رب تعالیٰ کے سامنے انسان کو کیسے صلہ دیا جائے گا۔

’’جو کوئی خدا کے حضور نیکی لیکر آئے گا ۔ اس کو ویسی دس نیکیاں ملیں گی اور جو بُرائی لائے گا اُسے سزا ویسی ہی ملے گی اور اُن پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔ ‘‘ (سورۃ الانعام :۱۶۱ )

اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر بہت مہربانی کرنے والا ہے ۔ وہ غفور و رحیم ہے، وہ سخاوت کے ساتھ اپنے بندوں کو صلہ دیتا ہے لیکن جو سزا کے حق دار قرار پائیں گے اللہ تعالیٰ اُن کی بُرائی کے برابر بدلہ دے گا۔ اللہ تعالیٰ کسی پر ظلم نہیں کرتا۔ اس دنیا میں لوگ ایک دوسرے سے ناانصافی کرتے ہیں ایک دوسرے پر ظلم کرتے ہیں۔ اس دنیا میں ہو سکتا ہے کہ ایک مجرم دوسرے کو دھوکہ دے یا گمراہ کر دے۔ لیکن اگر وہ شخص اللہ تعالیٰ پر یقین نہیں رکھتا، اس کی توحید سے انکار کرتا ہے، تو اللہ آخرت میں ضرور اس کو سزا دے گا ۔لیکن اگر وہ مسلمان ہے تو اللہ چاہے تو اسے معاف کر دے یا اسے سزا دے۔ اللہ تعالیٰ ہر جگہ موجود ہے ہر ایک کو دیکھ رہا ہے اور ہر شئے سے باخبر ہے۔ لہٰذا وہ ہر ایک کو صلہ اس کے اعمال کے مطابق عطا کرے گا۔

٭٭٭

 

 

جنت اور دوزخ

 

جنت اور دوزخ دو الگ الگ مقامات ہیں جہاں لوگ موت کے بعد زندگی بسر کریں گے ایک مرتبہ پھر یہ قرآن پاک ہی ہے جو کہ اُن کے بارے میں صحیح معلومات فراہم کرتا ہے۔

پیارے بچو! آپ نے شاید فلموں میں حیرت انگیز مناظر یا پھر وسیع زمینی مناظر یا قدرتی نظارہ تو دیکھا ہو گا، یا یہ بھی ہو سکتا ہے کہ آپ نے کسی خوبصورت جگہ کے بارے میں سُن رکھا ہو اور آپ کا جی چاہتا ہو کہ کاش ہم اس جگہ کا نظارہ کر سکیں۔ لیکن بچو! جنت کا ان نظاروں سے کوئی مقابلہ نہیں ہے۔ جنت کے باغوں میں مومنین جن کھانوں سے لطف اندوز ہوں گے وہ کھانے اس عارضی دنیا کے کھانوں کے مقابلے میں کئی گنا ذائقہ دار ہوں گے۔

اللہ تعالیٰ جس نے اس دنیا کو حسین و جمیل پیدا کیا ، اس دنیا میں ندی نالے ، جھرنے، آبشاریں، نہریں، اور دریا،سمندر اور خوبصورت جزیرے اور بلند و بالا برف پوش پہاڑ،رنگ رنگ کے پھول، شرارے اڑاتی ہوئی آبشاریں، بل کھاتی ہوئی ندیاں اور شور مچاتے ہوئے نالے، اور بلند و بالا درخت، اور طرح طرح کے ذائقہ والے پھل اور ہواؤں میں اڑتے ہوئے خوبصورت پرندے اور وادیوں میں کھلے پھول اور بڑے بڑے جنگل ان جنگلوں میں انواع و اقسام کے درخت ان درختوں کے جدا جدا پتے، ان درختوں کے جدا جدا خواص،بہار کے موسم میں ان پر کھلے ہوئے رنگ رنگ کے پھول، ان جنگلوں میں جڑی بوٹیاں اور ان میں رکھے فائدے اور سمندروں کے پانی اور ہر سمندر کے پانی کے الگ الگ خواص اور ان کے درمیان توازن اور ان سمندروں میں تیرتی اور بل کھاتی ہوئی مچھلیاں اور ان کے اپنے اپنے رنگ اور خصوصیات الغرض ایسی پیاری پیاری خوبصورت چیزیں پیدا کرنے والے خوبصورت رب نے ہمیں بتایا ہے کہ اس رحمن و الرحیم نے اپنے فرمانبردار بندوں کے لئے جنت میں اس دنیا کی عارضی چیزوں کے مقابلے میں زیادہ خوبصورت چیزیں پیدا کی ہیں۔

پیارے بچو! اگر ہم اس عارضی دنیا کی خوبصورتی کو دیکھ کر محو حیرت ہوتے ہیں تو آخرت میں جس جنت کا تصور قرآن پاک میں بیان کیا گیا ہے اس خوبصورتی کی نوعیت کیا ہو گی؟ یہ انسان کے بیان سے باہر ہے۔

٭٭٭

 

 

دنیاوی مشکلات اور جنت کی شان و شوکت

 

ہم دنیا میں مختلف مشکلات کا سامنا کرتے ہیں ،ہم بیمار ہوتے ہیں، کسی کی ٹانگ ٹوٹ جاتی ہے یا پھر کسی کا بازو ٹوٹ جاتا ہے ۔ ہمیں سردی لگتی ہے یا پھر ہم گرمی محسوس کرتے ہیں۔ ہمارا معدہ خراب ہو جاتا ہے،ہماری جلد میں بیماری لگ سکتی ہے۔ اس پر داغ دھبے پڑ سکتے ہیں۔ اس سے چھلکے اُتر سکتے ہیں وغیرہ وغیرہ۔ اپنے والدین کی جوانی کی تصویر کو غور سے دیکھیں اور آج ان کے چہرے کے خدوخال کے بارے میں سوچئے ۔ آپ ان دونوں میں فرق محسوس کریں گے۔ اللہ تعالیٰ نے اس عارضی دنیا میں انسان کو مخصوص کمزوریاں کے ساتھ پیدا کیا ہے۔

لیکن ان میں سے کسی کا بھی آخرت میں وجود نہیں ہے۔ جب ہم اس عارضی دنیا کی کمزوریوں کا مشاہدہ کرتے ہیں تو پھر ہم اچھی طرح سے آخرت کی جنت کی نعمتوں کا تصور کر سکتے ہیں۔ جنت کی ابدی نعمتوں کو حاصل کرنے کے بعد اس دنیا کی مشکلات کا سایہ بھی ذہن میں نہیں رہے گا۔ اس دنیا میں جو بھی چیز آپ کو ناگوار گزرتی ہے اس کے بارے میں تصور کیجئے ۔ اس کا آخرت میں کوئی وجود نہیں ہو گا ۔جنت اللہ تعالیٰ کی طرف سے خاص طور پر آرائش کر دہ جگہ کا نام ہے۔ یہ دنیا میں کئے گئے اچھے کاموں کی جزا ہے جس سے مومنین لطف اندوز ہوں گے، ہم اس دنیا میں جو بھی اچھے سے اچھا کھاتے ہیں اور اچھے سے اچھا پہنتے ہیں ،جنت میں ان کے مقابلے میں بے نقص اور بے عیب اشیاء ان کا متبادل ہوں گی۔ جنت میں گرمی اور سردی کا احساس نہیں ہو گا۔ انسان کو وہاں کسی قسم کی بیماری نہیں ہو گی ۔ اسے کسی قسم کا ڈر، خوف اور غم نہیں ہو گا۔ وہ وہاں کبھی بھی بوڑھا نہیں ہو گا۔ آپ کو وہاں ایک بھی بُرا شخص نہیں ملے گا۔ کیونکہ جو لوگ بُرے تھے جو اللہ تعالیٰ پر ایمان نہیں لاتے تھے جو اس کی ذات کا انکار کرتے تھے وہ جہنم کی آگ میں ہوں گے اور وہ سب اس کے حق دار تھے ۔ جنت میں لوگ آسائش کی زندگی گزار رہے ہوں گے۔ ان کا کلام سلام سلام ہو گا۔ وہ ایک دوسرے سے بڑے پر تپاک اور دلنواز طریقے سے ملاقات کیا کریں گے وہ وہاں ایک دوسرے کو بُرے القاب سے نہیں پکاریں گے۔ ایک دوسرے سے غصے نہیں ہوں گے، چیخ و پکار نہیں کریں گے اور نہ ہی ایک دوسرے کو تکلیف دیں گے۔ اللہ تعالیٰ پر ایمان لانے والے، اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کا اقرار کرنے والے، اللہ تعالیٰ کو راضی کرنے والے، والدین کے مطیع و فرمانبردار الغرض اچھے اعمال کرنے والے اللہ تعالیٰ کی جنت میں ایک دوسرے کے ساتھ ہمیشہ کے لئے دوستانہ انداز میں رہیں گے۔

قرآن کریم کے مطالعہ سے ہمیں یہ پتہ چلتا ہے کہ جنت میں پرُ شکوہ چیزیں پائی جاتی ہیں ۔ عالیشان محلات، سائے دار درخت اور بہتی ہوئی نہریں اور نہریں بھی دودھ اور شہد کی ۔ جنتی لوگوں کی زندگی خوشیوں میں چار چاند لگا دے گی۔ مندرجہ بالا الفاظ میں ہم نے جس جنت کا نقشہ کھینچا ہے اصل میں ان الفاظ میں ہم جنت کی تصویر کشی نہیں کر سکتے۔ جنت کی خوبصورتی ہمارے خیالات سے بالاتر ہے ۔ قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جنت میں انسان اپنے خیالات سے بھی بڑھ کر رب تعالیٰ کی نعمتیں پائے گا ۔ آپ جس چیز کی خواہش رکھتے ہیں یا کسی خاص حسین و جمیل منظر کا نظارہ کرنے کے لئے سفر کرنا چاہتے ہیں ۔ جنت میں اللہ تعالیٰ کی رضا سے یہ سب کچھ آپ ایک لمحے میں پالیں گے۔

جنت کی خوبصورتی کے بارے میں چند آیات مندرجہ ذیل ہیں:

’’جنت جس کا پرہیزگاروں سے وعدہ کیا جاتا ہے۔ اس کی صفت یہ ہے کہ اس میں پانی کی نہریں ہیں جو بو نہیں کرے گا اور دودھ کی نہریں ہیں جس کا مزہ نہیں بدلے گا اور شراب کی نہریں ہیں جو پینے والوں کے لئے سرا سر لذت ہے اور شہد مصفا کی نہریں ہیں جو حلاوت ہی حلاوت ہے اور وہاں اُن کے لئے ہر قسم کے میوے ہیں۔ اور اُن کے پروردگار کی طرف سے مغفرت ہے۔ ‘‘(سورۃ محمد: ۱۵)

’’اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے ان کو ہم بہشت کے اونچے اونچے محلوں میں جگہ دیں گے جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں۔ ہمیشہ اُن میں رہیں گے نیک عمل کرنے والوں کا یہ خوب بدلہ ہے۔ ‘‘ (سورۃ العنکبوت :۵۸)

’’ان لوگوں کے لئے بہشت جاودانی ہیں جن میں وہ داخل ہوں گے وہاں اُن کو سونے کے کنگن اور موتی پہنائے جائیں گے اور ان کی پوشاک ریشمی ہو گی۔ ‘‘ (سورۃ الفاطر: ۳۳)

’’اہل جنت اس روز عیش و نشاط کے مشغلے میں ہوں گے وہ بھی اور ان کی بیویاں بھی سایوں میں تختوں پر تکیے لگائے بیٹھے ہوں گے وہاں اُن کے لئے میوے اور جو چاہیں گے موجود ہو گا۔ ‘‘ (سورۃ ےٰس:۵۵۔۵۷)

’’یعنی بے خار کی بیریوں اور تہہ بہ تہہ کیلوں اور لمبے لمبے سایوں اور پانی کے جھرنوں اور میو ہ ہائے کثیرہ کے باغوں میں جو نہ کبھی ختم ہوں اور نہ کوئی اُن سے روکے اور اونچے اونچے فرشوں میں۔ ‘‘ (سورۃ الواقعہ :۲۸۔۳۴)

اللہ تعالیٰ یہ بھی فرماتا ہے کہ جو لوگ جنت کے حق دار قرار پائیں گے وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔

’’اور جو لوگ ایمان لائے اور عمل نیک کرتے رہے اور ہم عملوں کے لئے کسی شخص کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف دیتے ہی نہیں ایسے لوگ ہی اہل بہشت ہیں کہ اس میں ہمیشہ رہیں گے ۔ ‘‘ (سورۃ الاعراف : ۴۲)

جنت میں مومنین اللہ تعالیٰ کی خوشنودی حاصل کر کے وہاں کی نعمتوں سے لطف اندوز ہوں گے وہاں اللہ تعالیٰ کی نعمتوں سے خاص لطف و کرم ہو گا جنت جیسی نعمتوں کے بارے میں انسان اس دنیا میں تصور بھی نہیں کر سکتا۔

٭٭٭

 

 

جہنم کی اذیت ہمیشہ کے لئے

 

وہ لوگ جنہوں نے بغاوت کی اور اللہ تعالیٰ کے وجود سے انکار کیا اور جنہوں نے اللہ تعالیٰ کی وحدانیت سے انکار کیا اُن کے اعمال کا صلہ بھی آخرت میں ملے گا کیونکہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کو قبول ہی نہیں کیا اور اس بات سے بھی انکار کیا کہ اللہ تعالیٰ نے کل کائنات کو پیدا کیا ہے، ان لوگوں نے خود سری اور تکبر اختیار کیا اور اس طرح وہ عبادت کے حقوق پورے نہ کر سکے اور انہوں نے اللہ تعالیٰ کی خوشنودی حاصل کرنے کی کوشش نہیں کی اور انہوں نے اس دنیا میں اللہ تعالیٰ سے بغاوت کی ان تمام اعمال کے بدلے اُن کو دوزخ میں ڈالا جائے گا۔

کچھ لوگ اس دنیا میں مختلف قسم کے جرم کرتے ہیں ہو سکتا ہے کہ جس جگہ اُنہوں نے کوئی گناہ کا کام کیا ہو وہاں کسی انسان نے اس کو نہ دیکھا ہو اس طرح وہ سزا سے بچ گیا ہو۔ لیکن یہ لوگ اللہ تعالیٰ کے علم کا احاطہ نہ کر سکے کہ اللہ تعالیٰ ہر وقت موجود ہے وہ دیکھتا اور سنتا ہے اور یہ کہ وہ دلوں کے بھید تک جانتا ہے۔

آخرت میں ہر شخص کو اس کے اچھے یا بُرے اعمال کے صلے میں بدلہ دیا جائے گا ۔اللہ تعالیٰ عادل ہے۔ عدل و انصاف کرنے والا ہے۔ یہاں تک کہ قرآن پاک کی آیات سے واضح ہے کہ کسی کے ذرہ برابر بھی اعمال کا بدلہ دیا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ غفور و رحیم ہے۔ معاف کرنے والا ہے اور اعلان کرتا ہے کہ اگر کوئی شخص اس دنیا میں بُرے اعمال سے توبہ کرے تو اللہ تعالیٰ اس کو معاف کر دے گا اور اس کو بھی اچھا بدلہ دیا جائے گا۔ اس کے باوجود اللہ تعالیٰ نے اُن لوگوں کو جو اللہ تعالیٰ کی ذات پر ایمان نہیں رکھتے، جو اس کے احکام کو نہیں مانتے اور جو یہ خیال کرتے ہیں کہ آخرت کی زندگی کا کوئی تصور نہیںٰ ہے یا بُرے عذاب کی زندگی کا کوئی تصور نہیں ہے بُرے عذاب کی خبر دیتا ہے۔

اللہ تعالیٰ کے باغیوں اور مجرموں کا بدلہ جہنم کی آگ ہے جو کہ نہایت ہی بُرا ٹھکانہ ہے ۔ اللہ تعالیٰ ان کی جہنم کی آگ میں حالت ان الفاظ میں بیان کیا ہے۔

’’جنہوں نے اپنے دین کو تماشا اور کھیل بنا رکھا تھا اور دنیا کی زندگی نے ان کو دھوکے میں ڈال رکھا تھا تو جس طرح یہ لوگ اُس دن کے آنے کو بھولے ہوئے اور ہماری آیتوں سے منکر ہو رہے تھے اس طرح آج ہم بھی اُن کو بھلا دیں گے۔ ‘‘ (سورۃ الاعراف: ۵۱)

جہنم کی آگ ایک دکھ دینے والی سزا ہے۔ اس سزا کی شدت کا ہم دنیا کے کسی دکھ و درد کے ساتھ مقابلہ نہیں کر سکتے اور یہ آگ اہل جہنم کا انتظار کر رہی ہے۔ جہنم کی آگ ایک ایسی جگہ ہے جہاں دکھ ،غم، ڈر اور خوف ،نا اُمیدی اور پریشانی کا ساتھ ہو گا ۔ یہ نہایت ہی بُرے دوست ہیں ان کا ساتھ بھی بہت برا ہے ۔ جہنم کی آگ میں جہنمی اللہ تعالیٰ سے آگ سے نجات کے لئے پکاریں گے ۔دعا کریں گے التجا کریں گے لیکن آج اُن کی چیخ و پکار اور التجا اُن کے کچھ بھی کام نہ آئے گی جیسا کہ مندرجہ بالا آیت میں بیان کیا گیا ہے۔

یہ بالکل اسی طرح ہو گا جیسا کہ فرعون کا آخری وقت میں توبہ کرنا اس کے کچھ کام نہیں آیا۔ اللہ تعالیٰ موت سے پہلے انسان کو معافی اور توبہ کے کئی مواقع فراہم کرتا ہے۔ لیکن موت کے بعد دوسری دنیا میں جا کر معافی، التجا اور توبہ کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔ اب یہ تمام بے کار و بے سود ہے۔

جہنمی لوگ جہنم میں جانوروں سے بھی بد تر زندگی گزار رہے ہوں گے۔ وہاں اُن کی خوراک کانٹے دار درخت اور خاص طور پر زقوم کا درخت ہو گا ۔اور پینے کے لئے پیپ اور کھولتا ہوا پانی ہو گا۔ وہاں اُن کی جلد اُتاری جائے گی اور بار بار اُتاری جائے گی اور گوشت جل رہا ہو گا اور ان کے جسم سے خون کے شرارے بہہ رہے ہوں گے اور وہ نہایت ہی ذلت کی زندگی میں ہوں گے ۔ ان کے ہاتھ اُن کے گردنوں کے پیچھے باندھے ہوں گے اور اُن کو آگ کے درمیان میں پھینکا جائے گا مزید برآں اُن کی یہ اذیت ہمیشہ کے لئے ہو گی۔

کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ آگ یا جہنم ایک عارضی جگہ ہے لوگوں کو اُن کے بُرے اعمال کی سزا دی جائے گی اور پھر اُن کو جنت میں داخل کیا جائے گا ۔ وہ دِن انصاف کا دن ہے اس دن کا مالک اللہ خود ہے۔ اللہ تعالیٰ قرآن میں کچھ اس طرح بیان فرماتا ہے۔

’’یہ لوگ اس آگ میں بند کر دیے جائیں گے۔ ‘‘ (سورۃ البلد :۲۰)

’’یہ اس لئے کہ یہ اس بات کے قائل ہیں کہ دوزخ کی آگ ہمیں چند روز کے سوا چھو ہی نہیں سکے گی اور جو کچھ یہ دین کے بارے میں بہتان باندھتے رہے ہیں اُس نے ان کو دھوکے میں ڈال رکھا تھا۔ ‘‘ (سورۃ آل عمران : ۲۴)

تاہم ایک مسلمان یہ جانتا ہے کہ اس نے کون سے گناہ اور بُرے اعمال کیے ہیں۔ اس کو چاہئے کہ وہ اس دنیا میں ہی اپنے رب سے معافی مانگ لے اور سچے دل سے توبہ کرے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر کوئی سچے دل سے توبہ کرے تو وہ اس کے گناہ معاف فرما دیتا ہے اس کے بارے میں مندرجہ ذیل آیت میں فرمایا گیا ہے۔

’’اے پیغمبر میری طرف سے لوگوں کو کہہ دو کہ اے میرے بندو! جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے۔ خدا کی رحمت سے نا اُمید نہ ہونا۔ خدا تو سب گناہوں کو بخش دیتا ہے اور وہ تو بخشنے والا مہربان ہے۔ ‘‘(سورۃ الزمر :۵۳)

لہٰذا ایک شخص کے لئے یہ ضروری ہے کہ وہ اپنے گناہوں اور کوتاہیوں اور لغزشوں کو یاد کرے اور اللہ تعالیٰ سے عاجزی اور انکساری سے دعا کرے تاکہ وہ آخرت میں عذاب سے بچ جائے اور اس ناقابلِ برداشت اذیت والی آگ سے خلاصی پا جائے۔

٭٭٭

 

 

خلاصہ

 

 

پیارے بچو! اس کتاب میں ہم نے اپنی زندگیوں کے اہم اور بنیادی حقائق کی طرف آپ کی توجہ دلائی۔ ہم نے اپنے آپ سے مندرجہ ذیل سوالات کیے۔ مثلاً یہ کہ ’’ہماری زندگیوں کا مقصد کیا ہے؟۔ ‘‘ ’’یعنی ہماری تخلیق کا کیا مقصد ہے؟’‘ ’’کیسے اللہ تعالیٰ جو کہ ہمارا اور ہمارے ارد گرد کی چیزوں کا خالق ہے، ہم سے کون سے اعمال کی توقع رکھتا ہے ؟ ‘‘ ’’ہماری ہمارے خالق کے بارے میں کیا ذمہ داریاں ہیں؟’‘ ’’آخرت کی زندگی کیا ہے؟ ‘‘ یا یہ کہ ہمیں جہنم کی آگ میں ڈالنے سے کیوں ڈرنا چاہیے؟’‘

پیارے بچو! ہمیں اُمید ہے کہ آپ ان سوالات کے بارے میں بڑی ہوش مندی کے ساتھ غور کریں گے ابھی آپ کافی چھوٹے ہیں لیکن یہ مت بھولیے گا کہ ایک دن آپ بھی ضرور بوڑھے مرد یا بوڑھی عورت بنیں گے۔

لیکن پیارے بچو! ہو سکتا ہے کہ آپ کے آس پاس یا نزدیک کچھ ایسے لوگ بھی ہوں جو کہ آپ سے کہیں کہ ابھی آپ بہت چھوٹے ہیں۔ آپ کو ابھی موت کے بارے میں نہیں سوچنا چاہیے۔ ابھی آپ کے تو کھیلنے کے دن ہیں۔ ابھی تو ان باتوں کے بارے میں سوچنے کے لئے عمر پڑی ہے

لیکن بچو! یہاں بڑی احتیاط کی ضرورت ہے یہ بڑا نازک مرحلہ ہے۔ بڑا نازک مسئلہ ہے۔ یہ بات ہمیشہ اپنے دماغ میں رکھنی ہے کہ کیا پتہ کہ کس کی موت کون سے وقت میں آ جائے کیا پتہ کس وقت ہم پردے کے اس پار کھڑے ہوں۔ کسی کو کیا خبر کہ زندگی کا یہ سفر کب ختم ہو جائے۔ کیا خبر کہ اس عارضی دنیا کی شام کب ڈھل جائے۔ کیا خبر زندگی کے کون سے سال میں ہم آخرت کی دہلیز پر قدم رکھ دیں۔ ہو سکتا ہے کہ ایک دن میں موت آ جائے یا دس سال بعد یا پھر سو سال بعد، اس کی خبر صرف اللہ تعالیٰ کو ہے۔

پیارے بچو! آپ نے آٹھ اکتوبر ۲۰۰۵ء کو پاکستان میں آنے والے زلزلے کے بارے میں تو سُن رکھا ہو گا۔ اس دن لاکھوں لوگ بے خبری کے عالم میں اس دنیا کی عارضی زندگی کو چھوڑ کر آخرت کی زندگی میں داخل ہو گئے۔ اس دن درجنوں بستیاں صفحۂ ہستی سے مٹ گئیں۔ تقریباً ۳۰ لاکھ افراد بے گھر ہو گئے۔ اسی طرح ۲۶ دسمبر ۲۰۰۴ء کے دن جنوبی ایشیا کے سمندر میں زلزلہ کی وجہ سے اٹھنے والی سونامی لہروں سے لاکھوں لوگ مارے گئے اور باقی جو نقصان ہوا اس کا اندازہ لگانا مشکل ہے۔

پیارے بچو! یہاں جو قابلِ ذکر بات ہے وہ یہ کہ ان دونوں حادثات میں ہزاروں بچوں کی اموات بھی ہوئیں کل کیا ہو گا ہمیں اس کی کوئی خبر نہیں ہے سوائے اللہ تعالیٰ کے کوئی نہیں جانتا، لہٰذا اگر ہمیں کل کے بارے میں خبر ہوتی تب آٹھ اکتوبر کو کوئی بھی بچہ سکول نہ جاتا۔ کوئی اپنے پیاروں سے نہ بچھڑتا لیکن یہ سب خبریں قادر مطلق کے پاس ہیں۔ جب آپ اپنے ارد گرد رونما ہونے والے حالات و واقعات کا بغور مطالعہ کرو گے تب آپ کو لگے گا کہ یہ دنیا فانی ہے۔ یہاں کل کی خبر نہیں اصل ٹھکانہ تو آخرت کا گھر ہے ۔ اس طرح ہم اپنا تھوڑا سا وقت بھی ضائع نہیں کریں گے بلکہ ہر وقت رب غفور و رحیم کو یاد کریں گے۔

پیارے بچو! آپ بھی مختلف اقسام کے بہانے بنا سکتے ہیں حتیٰ کہ آپ بھی دوسرے لوگوں کو متوجہ کر سکتے ہو لیکن بچو موت کے بعد جو زندگی آنے والی ہے اس میں ہم اپنے گناہوں اور بُرے اعمال کے لئے اللہ تعالیٰ کے سامنے بہانے سازی نہیں کر پائیں گے کیونکہ اللہ تعالیٰ ہر شئے کو دیکھتا ، سنتا اور جانتا ہے۔ لہٰذا پیارے بچو! ان وجوہات کی بنا پر ہمیں زندگی کے حقائق کے بارے میں غور و فکر کرنا چاہئے اور ذرا بھی وقت ضائع نہیں کرنا چاہیے اور ہمیشہ اللہ تعالیٰ کے پسندیدہ اور پیارے بندے بننے کی ہر ممکن کوشش کرنا چاہیے۔

’’۔۔۔۔۔۔۔تُو پاک ہے جتنا علم تُو نے ہمیں بخشا ہے ، اس کے سوا ہمیں کچھ معلوم نہیں، بے شک تو دانا اور حکمت والا ہے۔ ‘‘ (سورۃ البقرۃ :۳۲)

٭٭٭

ماخذ:

http://haroonyahya.org

تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید