FavoriteLoadingپسندیدہ کتابوں میں شامل کریں

فہرست مضامین

 

ادبی کتابی سلسلہ

 

عکاس انٹرنیشنل اسلام آباد

 (۲۳)

 

مرتّب: ارشد خالد

معاون مدیر: ڈاکٹر رضیہ اسماعیل (برمنگھم)

 

ناشر: مکتبہ عکاس

AKKAS PUBLICATIONS

House No 1164 Street No 2 Block C

National Police Foundation ,Sector O-9

Lohi Bhair, Islamabad, Pakistan

Tel.0300-5114739 0333-5515412

 

عکاس اب انٹرنیٹ پر بھی پڑھا جا سکتا ہے

http: //akkas-international.blogspot.de/

اور

http: //issuu.com/akkas

اور

http: //punjnud.com/BookList.aspx?

LanguageId=2&CategoryId=9&SubcategoryId=19

………………………………………………………….

E- Mail:

akkasurdu2@gmail.com

 

 

 

 

 

مکمل جریدہ ڈاؤن لوڈ کریں

 

ورڈ فائل

 

 ای پب فائل

 

کنڈل فائل

 

 

 

اپنی بات

 

عکاس کے اس شمارہ میں ڈاکٹر انورسدید کی وفات پر تین مضامین شائع کیے جا رہے ہیں۔ ارادہ تھا کہ اس تعزیتی سیکشن کو ضخیم بنایا جا سکے لیکن ایک تو بروقت مطلوبہ مواد میسر نہ آ سکا دوسرے یہ جان کر قدرے تسلی ہو گئی کہ لاہور اورسرگودھا کے دو مدیران اپنے رسالوں کے انور سدیدنمبر شائع کرنے جا رہے ہیں۔ ڈاکٹر انور سدید کی وفات پر ادارہ عکاس اور ہمارے سارے احباب غم زدہ ہیں۔

جوگندر پال کی وفات پر تعزیتی گوشہ کے لیے دنیا بھر سے دوستوں نے مواد کی فراہمی میں مدد کی۔ خاص طور پر دہلی سے پروفیسر سکریتا پال، پروفیسر مظہر مہدی، ڈاکٹر جہانگیر احمد، کینیڈا سے عبداللہ جاوید، امریکہ سے زکریا ورک اور کراچی سے نسیم انجم نے اس گوشہ کے لیے بڑی تقویت پہنچائی۔ ان سارے مہربانوں کا شکریہ ادا کرنا واجب ہے۔ حیدر قریشی کا تعاون ہمیشہ کی طرح شکریہ کی حدود سے آگے جا چکا ہے۔ سو ان کے لیے بھیگی ہوئی خاموشی کا نذرانہ۔

گلبرگہ یونیورسٹی کے شعبہ اردو نے اپریل کے مہینے میں ‘‘ اردو ادب اور الیکٹرانک میڈیا‘‘  کے موضوع پر ایک روزہ سیمینار منعقد کیا تھا۔ اس سیمینار کی روداد اور اس میں پڑھے گئے چند مضامین ایک گوشہ کی صورت میں پیش کر رہا ہوں۔ یہ ہندوستان میں ہونے والا سیمینار تھا اور خوشی کی بات یہ ہے کہ اس کا کلیدی خطبہ جرمنی سے حیدر قریشی نے اسکائپ کے ذریعے لائیو پیش کیا۔ اس سیمینار میں پڑھا جانے والا ایک مضمون ‘‘ جدید ادب‘‘  کے حوالے سے تھا اور ایک مضمون میرے انٹرنیٹ میگزین ‘‘ ادبی منظر‘‘  کے جائزہ پر مشتمل تھا۔ انڈیا کی یونیورسٹی کے سیمینار میں غیر حاضر (اور بڑی حد تک مجلسی دنیا کے غیر معروف) پاکستانیوں کا اتنا زیادہ اور اتنا محبت بھرا ذکر۔۔ ۔۔ ۔ اچھا لگا۔

گلبرگہ یونیورسٹی کے شعبہ اردو کا اور خاص طور پر پروفیسر ڈاکٹر عبد الرب استاد کا تہہ دل سے شکریہ۔

گزشتہ شمارہ میں فرحت نواز کے شعری مجموعہ ‘‘ استعارہ مِری ذات کا‘‘  کے حوالے سے ایک گوشہ شائع کیا گیا تھا۔ اس دوران فرحت نواز کے فن کی بعض اور جہات کا بھی سنجیدگی سے جائزہ لیا جانے لگا۔ فرحت نواز کے تھوڑے سے مگر بکھرے ہوئے کام کو سمیٹنے میں ایبٹ آباد کی نازیہ خلیل عباسی نے دن رات ایک کر دیا۔ ڈاکٹر نذر خلیق اور اویس الحسن نے اس میٹر کی بنیاد پرا پنے مضامین لکھے۔ اس شمارہ میں وہ دونوں مضامین شائع کیے جا رہے ہیں۔

ڈاکٹر رضیہ اسماعیل کی تین نئی کتابوں کی تقریب کی رپورٹ اورافسانوں کے مجموعے ‘‘ آدھی چادر‘‘  کا مطالعہ بھی پیش ہے۔۔ ۔۔ صوابی سے ایک دوست محمد ابراہیم خلیل نے بڑا دلچسپ خط لکھا ہے اور کنہیا لعل کپور کا ایک مضمون بھیجا ہے۔ یہ دونوں چیزیں ایک ساتھ شائع کی جا رہی ہیں۔

اتنا کچھ خاص ہونے کے ساتھ باقی سب کچھ حسبِ معمول ہے۔

ارشد خالد

٭٭٭

 

 

 

 

 

آہ! ڈاکٹر انورسدید

 

اِک اور چراغ بجھ گیا ۔۔۔ تنویر قیصر شاہد (لاہور)

 

لیجیے، ڈاکٹر انور سدید صاحب بھی اللہ کو پیارے ہو گئے۔ بے شک ہر انسان کو اپنے اللہ ہی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔ ہمارے ڈاکٹر انور سدید صاحب بھی ہمیشہ کے لیے واپسی کے راستے پر روانہ ہو گئے۔ وہ رخصت ہوئے ہیں تو ہماری ادبی دنیا اور تحقیق کا میدان بھی ویران ہو گیا ہے۔

لاریب ہم ادب و صحافت کی ایک بڑی شخصیت سے محروم ہو گئے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ جانے والے کی وجہ سے جو خلا پیدا ہوا ہے، وہ کبھی پر نہ ہو سکے گا۔ سائنسی اعتبار سے یہ فقرہ بنیادی طور پر غلط ہے کہ فطرت کائنات میں کسی بھی خالی جگہ کو برداشت ہی نہیں کرتی لیکن واقعہ یہ ہے کہ ہم تو اب سیاسی، علمی، مذہبی اور صحافتی میدانوں میں قابلِ فخر شخصیات سے تیزی کے ساتھ جس طرح محروم ہوتے جا رہے ہیں، یہ خلا نہیں بلیک ہول بن رہا ہے۔

یہ بلیک ہول بڑے بڑے انسانوں کو نگل تو رہا ہے لیکن اس کے بطن سے ہمارے لیے کوئی کارآمد شئے، کسی کارآمد وجود کی ولادت نہیں ہو رہی۔ ڈاکٹر صاحب کی رحلت نے ہمیں مزید مفلس، تہی دست اور بے سرمایہ بنا دیا ہے۔ ڈاکٹر انور سدید صاحب، جنہوں نے دنیائے ادب و نقد میں محنت و ریاضت سے اپنی ذات کا لوہا منوایا، نے اپنے عملِ مسلسل سے ثابت کیا کہ تعمیری اور کارآمد زندگی کیا اور کیسی ہوتی ہے۔

زندگی کے آخری ایام تک ہاتھ سے قلم چھوڑا نہ دماغی ریاضت سے دستکش ہوئے۔ کیا یہ تحیر خیز بات نہیں ہے کہ ایک شخص جو بائی پروفیشن انجینئر تھا لیکن اس نے ہماری ادبی دنیا میں ناقابلِ تردید بڑا نام کمایا، یوں کہ ان کی انجینئرنگ کی مہارت اور تعارف کہیں گم ہو گیا لیکن ان کی ادبی و صحافتی اور تصنیفی زندگی عالمی سطح پر چھا گئی اور اسے تسلیم بھی کیا گیا۔ ادبیات کے متنوع موضوعات پر درجنوں کتابیں تصنیف و تالیف کر کے ڈاکٹر صاحب نے بلا شبہ بلند مقام حاصل کیا۔ ڈاکٹر وزیر آغا کی قیادت میں انھوں نے اپنے ادبی حریفوں سے جس مجاہدانہ انداز میں چو مکھی لڑائیاں لڑیں، یہ ادبی محاربے ہماری علمی زندگی کے باب میں ہمیشہ تابندہ اور یادگار رہیں گے۔

یقیناً وہ ادب میں گروہ بندی کا حصہ تھے اور ممتاز ادیب و شاعر ڈاکٹر وزیر آغا کی سر کردگی میں رزم آرا بھی رہتے تھے۔ اس میدان کی طرف انھیں ان کے ادبی مخالفین نے دھکیلا جو یہ خیال کیے بیٹھے تھے اور مطالبہ کرتے تھے کہ ادب پر ان کی اجارہ داری تسلیم کی جائے۔ جب اس گروہ کی زیادتیاں اور منہ زوریاں حد سے تجاوز کر گئیں تو ڈاکٹر انور سدید صاحب نے آخر کار اس گروہ کو للکارا، چیلنج کیا اور دلائل و براہین سے خم ٹھونک کر میدان کارزار میں اترے۔ کبھی پسپا ہوئے نہ شکست تسلیم کی۔ وسیع مطالعہ، گہری فکر اور غور و تدبر ہی ان کے ہتھیار تھے۔ یہی ان کے تِیر و تفنگ تھے اور یہی ان کی ڈھال تھی۔

ان ہتھیاروں کو بروقت بروئے کار لانا بھی وہ خوب جانتے تھے۔ ان کی کمان سے نکلے تِیر ہمیشہ ہدف کو لگے ؛ چنانچہ اکثر میدانوں میں سرخرو ہوئے۔ ان کے غنیم کسمسائے بھی اور بلبلائے بھی۔ ا توار کو ٹی وی کی معرفت مجھے ڈاکٹر انور سدید صاحب کی فوتیدگی کی خبر ملی، اس وقت میں ڈاکٹر صاحب ہی کی لکھی گئی معرکہ خیز کتاب غلام الثقلین نقوی: شخصیت اور فن پڑھ رہا تھا۔ ہماری دیہی زندگی کے پس منظر میں پروفیسر غلام الثقلین نقوی صاحب کے لکھے گئے افسانے اور ناول ہمیشہ یاد رہیں گے۔

نقوی صاحب، ڈاکٹر صاحب کے قریبی دوست بھی تھے اور ادبی زندگی میں ہم نظر بھی۔ لاہور میں دونوں ایک ہی کالونی کے باسی بھی تھے۔ اکادمی ادبیات (اسلام آباد) کی نگرانی میں نقوی صاحب پر شایع ہونے والی ڈاکٹر انور سدید صاحب کی یہ کتاب 294 صفحات پر مشتمل ہے۔ نقوی صاحب چھ اپریل 2002 کو انتقال کر گئے تھے۔ ڈاکٹر صاحب نے ان سے دوستی کا حق یوں ادا کیا کہ اکادمی ادبیات کی درخواست پر یہ شاندار کتاب لکھ دی۔ انھوں نے مجھے یہ کتاب بھجوائی اور اس کے پہلے صفحے پر محبت کے یہ الفاظ تحریر فرمائے تھے: برادرِ عزیز تنویر قیصر شاہد کی خدمت میں خلوص کے ساتھ۔ نیچے ان کے وہی مشہور اردو کے دستخط، جنھیں میں دور ہی سے پہچان لیتا ہوں۔

ساتھ ہی دو جنوری 2012 کی تاریخ درج ہے۔ یہ کتاب انھوں نے اسی خواہش کے ساتھ ارسال فرمائی ہو گی کہ میں پڑھ کر اس پر تبصرہ بھی لکھوں گا لیکن میری بدقسمتی کہ نہ لکھ سکا۔ چند روز قبل اس پر نظر پڑی تو کتابوں کے ریک سے اسے فوراً نکالا۔ سوچا کہ غلام الثقلین نقوی صاحب کی اپریل کے پہلے ہفتے برسی آنے والی ہے، تبصرہ لکھوں گا تو موقع کی مناسبت سے ڈاکٹر صاحب خوش بھی ہو جائیں گے اور چار سال پرانا ادبی قرض بھی اتر جائے گا۔

ساری کتاب پڑھ لی تھی اور چند نوٹس بھی لے لیے تھے لیکن اس سے پہلے ہی ڈاکٹر صاحب داغِ مفارقت دے گئے۔ عمر بھر قلم کی مزدوری کرنے والے انور سدید صاحب ہم سے جدا ہوئے ہیں تو دل بجھ کر رہ گیا ہے۔ ان کی رخصتی پر سب دوست احباب گریہ ساماں ہیں۔

آہ! کیا آئے ریاضِ دہر میں ہم، کیا گئے !

زندگی کی شاخ سے پھوٹے، کھِلے، مرجھا گئے

کالم کا دامن اتنا کشادہ نہیں ہے کہ ڈاکٹر انور سدید سے وابستہ لاتعداد یادوں کو یکجا کر کے سمیٹا جا سکے۔ انھیں چند الفاظ اور چند آنسوؤں کی شکل ہی میں یاد کر کے خراجِ عقیدت و تحسین پیش کیا جا سکتا ہے۔ ہم دونوں جس ادارے سے وابستہ تھے۔ یہاں ایک ہفت روزہ اور ایک ماہنامہ شایع ہوتا تھا۔ جس محنت اور لگن سے ڈاکٹر صاحب کام کرتے تھے، دیکھ کر ہمیں حیرت ہوتی۔ دوپہر کو عین وقت پر وہ گھر سے لائے گئے ٹوسٹ کھاتے اور اکرم معاون سے دو کپ چائے لانے کا کہتے۔ دونوں کپ وہ خود نوشِ جاں کرتے تھے۔

میں نے ہمیشہ انھیں شلوار قمیض اور واسکٹ پہنے دیکھا۔ گرمی ہو یا سردی، ٹوپی ان کے سر سے نہ اترتی تھی۔ ہم مذاق کرتے تو کبھی برا نہ مناتے۔ ایک خاص قسم کا تبسم ان کے ہونٹوں پر سایہ کیے رہتا۔ انھیں کبھی ناراض ہوتے بھی نہ دیکھا۔ بہت لکھتے تھے اور بے پناہ لکھتے تھے۔ متنوع موضوعات پر۔ برادرم روف طاہر صاحب ان کی بسیار و سرعت نویسی پر لطیفہ گوئی کرتے تو ردِ عمل میں خاموش رہتے۔ میز کے نیچے ان کی ٹانگ ہمیشہ ہلتی رہتی۔ شاید یہ ان کے باطنی اضطراب کا اظہار ہوتا تھا۔ دفتر میں ہمیشہ سبھی ان کا احترام کرتے تھے۔ محکمہ انہار سے ریٹائر ہو کر انھوں نے خود کو ادبی و صحافتی زندگی میں بہت مصروف کر لیا تھا۔ نتیجے میں بہت سی کتابیں ہمارے سامنے آئیں۔ ہر کتاب ڈاکٹر انور سدید صاحب کی کمٹمنٹ اور خونِ جگر جلانے کا ثبوت ہے۔ بھارت میں بھی ان کی ادبی خدمات کا طوطی بولتا تھا۔ مجھے ایک بڑی افتاد اور آزمائش کا سامنا کرنا پڑا تو میری غیر حاضری میں میرے بارے میں ایک تفصیلی کالم لکھا۔ عیاں ہوا کہ وہ مجھ ایسے ہیچمداں اور کم علم ساتھی سے کس قدر محبت و شفقت کرتے تھے۔ ایک بار راقم نے ان کے ادبی حریف گروپ، جس سے ان کی شدید چپقلش اور نوک جھونک رہتی تھی، کے بارے میں تین قسطوں میں کالم لکھا تو بے انتہا خوش ہوئے۔

میر ایہ کالم نہ صرف ایک بڑے ادبی جریدے میں دوبارہ شایع کروایا بلکہ نصف صفحے کو محیط راقم کی صحافتی اور تحقیقی خدمات کی تعریف بھی کی۔ یہ تعریف و تحسین یقیناً میری اوقات سے بڑھ کر تھی۔ انھوں نے کئی ادبی جرائد میں لاتعداد مضامین لکھے اور وطنِ عزیز کے تین بڑے اخبارات میں کالم نگاری بھی کرتے رہے۔ اگر ان مضامین اور کالموں کو اکٹھا کیا جائے تو کئی کتابیں مرتب ہو سکتی ہیں۔ اس بے پناہ شخص کو موت نے ہم سے چھین لیا ہے۔ ہم سب کا بھی یہی مقدر ہے۔ عالمِ آب و خاک و باد میں پیغامِ اجل ہر کسی تک پہنچنے والا ہے۔

بادشاہوں کی بھی کشتِ عمر کا حاصل ہے گور

جادۂ عظمت کی گویا آخری منزل ہے گور

۔۔ ۔۔ ۔۔ ۔۔ ۔۔ ۔۔ ۔۔ ۔۔ ۔۔ ۔

روزنامہ ایکسپریس۔ ۲۸؍مارچ ۲۰۱۶ء

٭٭٭

 

 

 

 

ڈاکٹر انور سدید ۔۔۔ پروفیسر شفیع ہمدم (جھنگ)

 

اردو ادب کی وادی میں پوری طرح داخل ہونے سے پہلے ہی میں ڈاکٹر انور سدید کے نام اور کام سے واقف تھا۔ اٹھائیس انتیس سال پہلے مجھے لکھنے لکھانے کا شق تو نہیں تھا۔ البتہ ادبی رسائل اور کتب کے مطالعے سے ذوق کو تسکین ملتی تھی۔ ادبی رسائل و جرائد میں انور سدید کی تحریروں سے میرا نظری معانقہ اکثر ہوتا رہتا تھا۔ اس زمانے میں ابھی ادبی دنیا میں ان کا نام احترام سے لیا جاتا تھا۔ اس وقت مجھے یہ قطعاً معلوم نہ تھا کہ وہ پیشے کے لحاظ سے انجینئر ہیں۔ میں توا نہیں کسی کالج کا پروفیسر سمجھتا تھا۔ مطالعے کی محدودیت کے سبب ان کی تحریروں کے باطن میں چھپے ہوئے اسرار کے در پوری طرح کھولنے سے قاصر تھا۔ اس کے باوجود ان تحریروں کی کشش مجھے مقناطیسی انداز میں اپنی طرف کھینچ لیا کرتی تھی۔ بعض اوقات ان کے خالق کو دیکھنے کی خواہش دل میں شدت اختیار کر لیتی تھی۔ پھر یہ سوچ کر خاموش ہو جاتا تھا کہ اتنے بڑے آدمی سے سفارش یا کسی تقریب کے بغیر ملنا بہت مشکل ہے۔

کئی سال پہلے میں نے انور سدید کو پہلی مرتبہ لاہور کی ایک ادبی کانفرنس میں دیکھا تھا۔ کانفرنس کے اختتام پر ان سے مصافحہ کرنے کا شرف بھی حاصل ہوا تھا۔ اسے پہلی ملاقات تو نہیں کہی جا سکتی کہ ملاقات میں ہم نشینی اور گفتگو کا ہونا ضروری ہے تاکہ دونوں اشخاص ایک دوسرے سے متعارف ہو سکیں۔ مصافحہ کرنے کے چند سال بعد مجھے ان کے ساتھ بیٹھنے اور دیر تک گفتگو کرنے کا شرف حاصل ہوا۔ ایک دفعہ میں اکیلا ہی ان کے دفتر ملنے گیا تھا۔ اپنا وزیٹنگ کارڈ بھجوایا تو انہوں نے بلا تاخیر مجھے اندر بلوا لیا۔ جب میں نے ان کے آفس میں قدم رکھا تو ایک دراز قد کا خوش شکل کلین شیو ادھیڑ عمر آدمی سر جھکائے کسی پری وش (فائل )کی زلفوں کے پیچ و خم سنوارنے میں مصروف تھا۔ میں تو انہیں شکل سے پہچانتا تھا مگر انہوں نے مجھے وزیٹنگ کارڈ کی وجہ سے پہچانا تھا۔ چنانچہ انہوں نے کھڑے ہو کر بڑی گرم جوشی سے معانقہ کیا اور دیر تک مزاج پرسی کرتے رہے۔ وہ گفتگو بھی کر رہے تھا اور چائے اور بسکٹ سے تواضع بھی۔ دوران گفتگو انہوں نے کہ ادبی رسائل و جرائد کی وساطت سے تو اکثر آپ سے ملاقات ہوتی رہتی ہے مگر با المشافہ ملاقات آج ہوئی ہے۔ ‘‘ میں آپ سے چند سال پہلے بھی مل چکا ہوں ‘‘  ۔ میں نے کانفرنس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تو وہ سوچ میں پڑ گئے۔ پھر بولے ‘‘ مجھے تو کچھ یاد نہیں ہے۔ ‘‘  مگر مجھے تو آپ کے ہاتھوں کا لمس تک یاد ہے۔ میری بات سن کر وہ دھیرے سے مسکرا دیئے۔ اس روز ہم دیر تک ادبی گفتگو کرتے رہے۔ پہلی ملاقات کی خوشگوار بارش ہی بھیگا ہوا جب میں ان کے دفتر سے باہر آیا تو مجھے ایسے محسوس ہوا جیسے میرے اندر کی کثافتیں اس بارش نے دھو ڈالی ہوں اور میں سر سبز و شاداب ہو گیا ہوں۔

تقریباً دوسال بعد مجھے ان سے ملاقات کا پھر اتفاق ہوا۔ انہوں نے پہلے سے بھی زیادہ گر جوشی کا مظاہرہ کیا۔ گفتگو کے دوران میں جھنگ اور جھنگ کے ادباء کا ذکر ہوا۔ انہوں نے سب سیپہلے ناصر عباس نیر کی خیریت دریافت کی۔ میں نے انہیں نیر صاحب کی خیریت سے آگاہ کرتے ہوئے کہا ‘‘ ہم دونوں ایک ہی کالج میں پڑھاتے ہیں۔ اس لے ان سے طویل نشستوں کے مواقع مل جاتے ہیں۔ ان کا مطالعہ وسیع اور وہ دوسروں تک اپنے علم کی ترسیل کا ہنر بھی جانتے ہیں۔ ان کے ساتھ مکالمہ کر کے مجھے ایسے محسوس ہوتا ہے جیسے میرا ذہن پہلے کی نسبت زیادہ روشن ہو گیا ہے ‘‘ میری بات سن کر انور سدید بولے ‘‘ بے شک ناصر عباس نیر ایک ایسا نقاد ہے جس کا مطالعہ وسیع اور مشاہدہ تیز ہے۔ اس وجہ سے کم عمری میں اس کا شمار اردو کے صف اوّل کے نقادوں میں ہونے لگا ہے۔ ‘‘  بعد ازاں انہوں نے خیر الدین انصاری، معین تابش اور حنیف باوا کے بارے میں بھی دریافت کیا۔ میں نے انہیں بتایا کہ وہ تینوں آج کل شدید معاشی بحران کا شکار ہیں۔ خاص طور پر خیر الدین کی صرف مالی حالت ہی ابتر نہیں ہے۔ وہ جسمانی اور ذہنی طور پر بھی خستہ حالی کا شکار ہے۔ میری بات سن کروہ سامنے پڑی ہوئی میز کو تکتے رہے پھر بولے ‘‘ اچھا ان کے لیے کچھ کرتے ہیں۔ ‘‘  اس ملاقات کے تقریباً چھ ساتھ ماہ بعد ایک تقریب میں جھنگ کے ناظم حمید سلطان نے خیر الدین انصاری (جو اب اللہ کو پیارے ہو چکے ہیں )کو تیس ہزار روپے اور باقی دونوں کو پچیس پچیس ہزار کے چیک پیش کیے۔ (میں یہ بات بڑے دکھ سے لکھ رہا ہوں کہ معین تابش بھی دو روز پہلے ہمیں سوگوار چھوڑ گئے ہیں۔ )یہ چیک پنجاب حکومت کے رائٹرز ویلفیئر فنڈ کی طرف سے جاری ہوئے تھے۔ یہ سب انور سدید کی تگ و تاز کا نتیجہ تھا۔ انہوں نے ڈاکٹر وزیر آغا سے سفارش کر کے دلوائے تھے۔ اس سلسلے میں جھنگ سے ناصر عباس نیر نے بھی آغا صاحب سے برابر رابطہ رکھا تھا۔ انور سدید کے سینے میں ایک درد مند دل دھڑک رہا ہے جو مصیبت زدہ لوگوں کے لیے تڑپ اٹھتا ہے۔ جو انہیں افتاد سے نکالنے کے لیے صرف دوا ہی نہیں کرتا دعا بھی کرتا ہے۔ ان کا شخصیت کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ ان میں ایثار و قربانی کا مادہ وافر مقدار میں موجود ہے۔ جب ان کی ساس چھ بیٹیوں کے بعد اکلوتے بیٹے کو جنم دے کر اپنی جان ہار گئیں تو وہ اپنے خسر اور ان کے بچوں کی وجہ سے اپنی بیوی اور اکلوتے بیٹے سے اس وقت تک علیحدہ رہے جب تک کہ نومولود نے ہوش نہیں سنبھالا۔ ان کا یہ ایثار صرف اپنوں ہی سے مخصوص نہیں بلکہ غیروں کے ساتھ بھی وہ اسی حسن سلوک کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ ان کے محکمے کا ایک افسر ٹریفک کے ایک حادثے میں اپنی جان گنوا بیٹھا۔ مرحوم کی بیوہ اور چار بچوں کی کفالت کرنے والا کوئی نہ تھا۔ وہ مرحوم کی بیوہ کو اس کا حق دلانے کے لیے چار سال تک مقدمہ لڑتے رہے۔ ان کے مقابل صاحب اقتدار لوگ تھے۔ ان سے ٹکر لینا کوئی آسان کام نہ تھا۔ مگر انور سدید نہایت استقلال کے ساتھ ان کے مقابل ڈٹے رہے۔ بالآخر انہوں نے مقدمہ جیت لیا اور مرحوم کی بیوہ کو اس کا حق (نقدی کی صورت ) میں دلا کر دم لیا۔

ڈاکٹر صاحب کا اصل نام انور الدین اور قلمی نام انور سدید ہے۔ انور سدید اگر مطلع ادب پر جلوہ افرو زہے تو سماجی سطح پر انورالدین سرگرم عمل ہے جو رشتہ داروں اور واقف کاروں کی تقریباً سبھی تقاریب میں شریک ہوتا ہے اور اپنے رویے سے انہیں مطلق احساس نہیں ہونے دیتاکہ وہ آسمان ادب کی ایک روشن ستارہ ہے۔

انور سدید کو ایک مخصوص ادبی گروہ نے متنازع بنانے کی نا قابل رشک کوشش کی ہے مگر دوسری طرف ان کے قدر دانوں، مداحوں اور دوستوں کی ایک بہت بڑی تعداد بھی موجود ہے۔ اپنے خلاف مخالفین کے حملے کو تو وہ اتنی اہمیت نہیں دیتے مگر جب کوئی شخص ڈاکٹر وزیر آغا کی شخصیت پر حملہ آور ہوتا ہے تو ان کا راجپوتی کون جوش مارنے لگتا ہے اور حملہ آور کے ایسے لئے لیتے ہیں کہ اسے میدان چھوڑ کر بھاگنا پڑتا ہے۔ انہیں وزیر آغا سے بے پناہ عقیدت ہے۔ جب انہوں نے اعلیٰ تعلیم کے لیے دوبارہ تعلیمی سلسلہ شروع کیا تو مصروفیات کی وجہ سے وہ اپنے اندر کے ادیب کو تقریباً فراموش کر بیٹھے تھے۔ انہیں دوبارہ ادب کی طرف لانے والے ڈاکٹروزیر آغا تھے۔ ورنہ آج وہ ملازمت سے سبکدوش ہونے کے بعد دوسرے بہت سے ریٹائرڈ آفیسرز کی طرح گمنامی کی زندگی گزار رہے ہوتے۔ احباب کی محافل میں ان کے منہ سے پھول جھڑتے اور وہ زیر لب مسکراتے رہتے ہیں۔ مہانوں سے پر لطف باتیں کرتے ہیں اور ساتھ ساتھ خاطر تواضع کا سلسلہ بھی جاری رہتا ہے۔ آپ ان کی صحبت میں کچھ وقت گزار کر تو دیکھئے۔ تمام دنیوی تفکرات سے نجات حاصل کر کے تر و تازہ اور شاداب ہو کر اٹھیں گے۔

حلقہ یاراں میں بریشم کی طرح نرم انور سدید جب ادبی حریفوں سے معرکہ آرا ہوتے ہیں تو ان کی کا یا کلپ ہو جاتی ہے اور وہ سراپا فولاد بن جاتے ہیں۔ وہ محبتیں کرنے اور دوستیاں نبھانے میں نہایت کشادہ دل اور پر خلوص ہیں۔ دوستی اور محبت کے آمیزے میں دکھا وے یا ریا کاری کی آمیزش کے سخت خلاف ہیں۔ انہیں ایسے لوگوں سے سکت نفرت ہے جو دوستی جیسے پوتر رشتے کو اپنی ذاتی اغراض کی بھینٹ چڑھا دیتے ہیں۔ اپنے چہروں پر مصلحت اور خود غرضی کے نقاب چڑھائے ہوئے لوگ انہیں ایک آنکھ نہیں بھاتے۔ انور سدید ان کے چہروں پرچڑھے ہوئے نقاب اتارتے ہیں تو وہ بر انگیختہ ہو کر لفظوں کے تیر و تفنگ سے ان پر حملہ آور ہوتے ہیں مگر وہ بھی جب تک ان کی چیں نہ بول دیتے چین سے نہیں بیٹھتے۔

انور سدید جامع الکمال شخصیت کے مالک ہیں۔ وہ بیک وقت نقاد، محقق، مبصر، ادیب، شاعر، مزاح نگار، انشائیہ نویس، خاکہ نگار، دانشور، مورخ، کالم نگار اور مترجم ہیں۔ اتنی ڈھیر ساری اصناف پر معیاری کام کرنا آسان نہیں ہے مگر وہ ان تمام اصناف سے انصاف کر رہے ہیں۔ قدرت نے انہیں ایسی جسمانی اور ذہنی صلاحیتوں سے نوازا ہے کہ تھکاوٹ اور اکتاہٹ کے لفظوں سے وہ ابھی تک نا آشنا ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کا قلم کبھی تھکاوٹ کی زد میں نہیں آتا۔ انور سدید اب عمر کے اس حصے میں ہیں جہاں عام طور پر نقاہت اور تھکاوٹ استقبال کے لیے پہنچ جاتی ہیں اور انسان کی کار کردگی کا گراف گر جاتا ہے۔ میری نظریں ایسے بہت سے ادبی اور غیر ادبی لوگ ہیں ضعف عمر کے سامنے جنہوں نے گھٹنے ٹیک دیے ہیں۔ انور سدید ایک ایسے قلم کار ہیں جن کے قلم پر عمر رسیدگی کے اثرات نہیں پڑے اور ان کا رہوار قلم اب بھی پہلے جیسی رفتار سے جادۂ قرطاس پر دوڑ رہا ہے۔ ان کی مستعدی کی وجہ اس کے علاوہ کیا ہو سکتی ہے کہ انہوں نے بڑھتی ہوئی عمر کے عفریت کو اپنے اعصاب پر سوار نہیں ہونے دیا۔ ان کو تصنیف و تالیف کی گئی کتب کی تعداد تیندرجن کے لگ بھگ ہے اور ان میں اضافے کاسلسلہ جاری ہے۔ وہ اپنے ادبی کام کو توشۂ آخرت سمجھتے ہیں۔ ایک دفعہ انہوں نے میرزا ادیب سے گفتگو کے دوران میں کہا تھا۔

روز قیامت میرے اعمال کی پرسش ہو گی تو میں اپنی ساری کتابیں اللہ میاں کے حضور پیش کر دوں گا اور کہوں گا یہ میرا اعمال نامہ ہے۔ میرزا ادیب بولے۔ اگر اللہ میاں نے یہ اعمال نامہ قبول نہ کیا تو؟

نہیں میرزا صاحب اللہ میاں بد ذوق نہیں ہیں۔ وہ کوئی تعصب اور تنگ نظر نقاد بھی نہیں ہیں جنہیں صرف اپنوں کی تحریریں پسند آتی ہیں اور دوسروں میں سو سو کیڑے دکھائی دیتے ہیں وہ میری عبادت قبول کر کے مجھے داخل بہشت ہونے کی اجازت دے دیں گے۔

انور سدید کی نظر میں مال ومتاع اور جاہ و اقتدار کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔ وہ محکمہ آبپاشی میں ایگز یکٹو انجینئر رہے ہیں۔ جو بڑا منصب تھا مگر انہیں اس بات کا احساس تک نہ تھا کہ وہ ایک بڑے عہدے پر فائز ہیں۔ وہ تو اسے روزی روٹی کا ذریعہ سمجھتے تھے۔ ان کی اس درویشی کا سبب یہ ہے کہ ان کی تعلیم وتربیت ایسے لوگوں کے زیر سایہ ہوئی۔ جن کا کردار بلند اور سینے علم کی روشنی سے منور تھے۔ ان کی والدہ ایک پرہیز گار اور تہجد گزار خاتون تھیں۔ ان کے والد بھی ایک درویش منش انسان تھے۔ انہیں زیور تعلیم سے آراستہ کرنے والے اساتذہ بھی نہایت دیانت دار، محنتی اور با کردار اور با عمل لوگ تھے۔ جو بچوں کی شخصیت سازی پر پوری توجہ دیتے تھے اور انہیں محنت کے ذریعے زندگی میں آگے بڑھنے کا سبق سکھاتے تھے۔ ان بر گزیدہ لوگوں کے زیر سایہ پرورش پانے اور پروان چڑھنے کی وجہ سے انور سدید کی شخصیت میں ایسا نکھار پیدا ہو گیا تھا کہ وہ تمام عمر مایا کے جال میں گرفتار نہ ہو سکے۔ اگر آپ دنیا جہاں کی نعمتیں اور تعیش ان کے قدموں میں رکھ کر ان کے ہاتھ سے قلم لینا چاہیں تو وہ ہر گز تیار نہ ہوں گے۔ قلم ان کی طاقت ہے جس کا سودا کرنے کے بارے میں کبھی سوچ بھی نہیں سکتے۔ اگر میں یہ کہوں تو غلط نہ ہو گا کہ جس طرح اساطیری کہانیوں میں دیو کی جان طوطے میں ہوتی تھی۔ اسی طرح ان کی جان ان کے قلم میں ہے۔ اسی لیے تو ان کا قلم ہر دم رواں دواں اور سدا جواں رہتا ہے۔ ایک دفعہ میں نے ان کی بسیار نویسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا تھا۔ آپ اتنا کچھ کیسے لکھ لیتے ہیں ہندو وپاک کا کوئی بھی رسالہ اٹھاؤآپ کی تحریر ضرور ہوتی ہے۔ میرے خیال میں تو آپ نے کوئی جن قابو کر رکھا ہے جو لکھنے میں آپ کی مدد کرتا ہے۔ میری بات سن کر وہ مسکرا کر بولے میرا شوق ایک ایسا جن ہے جو مجھ سے بے تحاشہ لکھواتا ہے اور کبھی تھکن کا شکار نہیں ہونے دیتا۔ ہر ذی روح کو زندہ رہنے کے لیے ہوا، پانی اور خوراک کی ضرورت ہوتی ہے۔ میرے کھانے میں کتاب اور قلم کا مزید اضافہ کر لیجئیے۔

انور سدید کے والد کی یہ شدید خواہش تھی کہ وہ ایف ایس سی میں اعلیٰ نمبر حاصل کر کے انجینئر بنیں مگر وہ تو ادب کی دیوی کے زیر اثر آ چکے تھے۔ طالب علمی کے زمانے میں وہ اپنے والد سے چھپ چھپ کر ادبی کتابیں پڑھتے اور افسانے لکھے تھے۔ جب ان کے افسانے ادبی رسائل میں شائع ہو کر داد وصول کرنے لگے تو ان کی خوشبو ان کے والد تک پہنچ گئی۔ انہوں نے اپنے بیٹے کی راہ میں حائل ہونا مناسب نہ سمجھا۔ ادب نے انہیں شہرت تو دلوادی مگراس ناموری نے انہیں محکمہ آبپاشی میں افسر کی بجائے کلرک بنا دیا۔ پھر انہیں شدت سے احساس ہوا کہ اچھی زندگی گزارنے کے لیے شہرت کے ساتھ اعلیٰ تعلیم کا حصول بھی نا گزیر ہے۔ چناچہ وہ انجیئنرنگ سکول رسول میں داخل ہو گئے۔ اعزاز کے ساتھ امتحان پاس کر کے طلائی تمغہ حاصل کیا۔ بعد ازاں انجینئرنگ میں گریجوایشن کی۔ اس ڈگری نے ان پر ترقی کے دروا کرنے میں ‘‘ کھل جاسم سم ‘‘  کا کردار ادا کیا۔ وہ ایس ڈی او اور ایگزیکٹو انجینئر کے عہدے تک پہنچے۔ دوران تعلیم انہوں نے اپنے اندر کے ادیب کو خواب آور گولیاں دے کر سلائے رکھا مگر اس کے باوجود اردو ادب کے منظر نامے سے غائب نہ ہوئے۔ ان کے دوست انور گوئیندی نے اس عرصے میں ان کے پرانے مسودات تلاش کر کے اپنے رسالہ ‘‘  کامران‘‘  میں ان کی تحریریں شائع کرتے رہے۔ ڈاکٹروزیر آغا نے ان کے اندر کے ادیب کو خواب آور گولیوں کے اثر سے باہر نکالا اور ان کا پہلا مضمون ‘‘ اوراق‘‘  کی زینت بنا۔ اس کے بعد تنقیدی اور تحقیقی مضامین تواتر سے شائع ہونے لگے اور بطور نقاد بہت جل شہرت حاصل کر لی۔ اس کے بعد انہوں نے پرائیویٹ طور پر ایم اے کا امتحان دیا اور صوبے بھر میں اوّل رہے۔ پھر پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کر کے وہ انور سدید سے ڈاکٹر انور سدید بن گئے۔ ان کے مقالے کا موضوع تھا ‘‘ اردو ادب کی تحریکیں ‘‘  جس کے کئی ایڈیشن شائع ہو چکے ہیں۔ انور سدیدکا کلرک سے ایگزیکٹو انجینئر کا سفر اور پی ایچ ڈی کی ڈگری کا حصول اس بات کا درس دیتا ہے کہ اگر قدرت نے انسان کو ذہانت جیسی دولت سے نوازا ہے تو وہ ذہانت کے گھوڑے کو محنت کی مہمیز سے سرپٹ دوڑا کر زیرو پوائنٹ سے ہیرو پوائنٹ تک پہنچ سکتا ہ۔

انور سدید کی ادبی دنیا میں شہرت اور پذیرائی کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ جب ‘‘ روشنائی‘‘  کے مدیر اھمد زین الدین نے اپنے رسالہ میں ان کا گوشہ شائع کیا تو اہل قلم نے ان کے بارے میں اتنی تعداد میں مضامین ارسال کئے کہ رسالہ کے مدیر کو معذرت کرتے ہوئے یہ کہنا پڑا کہ انور سدید کے بارے میں ارسال کئے گئے مضامین کمپوز ہونے کے باوجود شامل اشاعت اس لیے نہ کئے جا سکے کہ اس سے پرچے کا توازن بگڑ جاتا۔ ہنوز مضامین کے آنے کا سلسلہ جاری ہے۔ احمد زین الدین کی معذرت کے آئینے میں انور سدید کی شہرت اور مقبولیت کا عکس اتنا واضح اور نمایاں ہے کہ ضعف بینائی میں مبتلا لوگوں کو بھی نظر کی عینک کے بغیر اس کے خدوخال آسانی سے نظر آ جائیں گے۔ اگر اس کے باوجود کسی شخص کو دکھائی نہ دیں تو وہ اپنی آنکھوں پر بندھی ہوئی تعصب کی پٹی اتار کر دیکھے تو اس پر بھی اس عکس جلی کے نقوش اجاگر ہو جائیں گے۔

٭٭٭

 

 

 

 

 

محسنِ اردو ادب۔۔ ۔ ڈاکٹر انور سدید ۔۔۔ ابنِ عاصی (جھنگ)

 

ان کا نام محمد انوار الدین تھاوہ 4 دسمبر1928کو سرگودھا کی تحصیل بھلوال کے قصبہ میانی میں پیدا ہوئے تھے اردو ادب کی اس باکمال شخصیت کے بارے میں بہت کم لوگوں کو معلوم ہے کہ در اصل وہ سول انجینئرنگ میں ڈپلومہ ہولڈر تھے مگر بعد ازاں انہوں نے ایم اے اردو کیا اور اس امتحان میں انہوں نے پنجاب یونیورسٹی سے گولڈ میڈل حاصل کیا اور اس کے بعد انہوں نے پی ایچ ڈی بھی اسی یونیورسٹی سے کی اور اس میں ان کے مقالہ کا عنوان، اردو ادب کی تحریکیں، تھاوہ محکمہ آبپاشی سے، ایگزیکٹو انجینئر، کی پوسٹ پر ملازمت پوری کرنے کے بعد ریٹائر ہوئے اور پھر کل وقتی ادیب بن گئے۔ انہوں نے اردو ادب کی ہر صنف کی طرف پوری دیانتداری سے توجہ کی اور اس بارے اپنے خیالات کی وجہ سے اہل ادب کو چونکانے میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔ مرحوم محمد انوارالدین جنہیں دنیا، ڈاکٹر انور سدید کے نام سے جانتی ہے نے تنقید، افسانہ، انشائیہ، شاعری، خاکہ، کالم نگاری، جائزہ نویسی، شخصیت نگاری، ادارت، ادبی صحافت غرض ہر میدان میں جھنڈے گاڑے اور اہلِ ادب سے داد پائی۔۔ ۔۔ ۔۔ ۔۔ ۔۔ ۔۔ ۔۔ 20مارچ2016کو وہ اپنے لاکھوں کروڑوں چاہنے والوں کو سوگوار چھوڑ کر خالقِ کائنات سے جا ملے۔۔ ۔۔ وحید احمد زمان نے شاید انور سدید ہی کے لئے کہا ہے کہ

جہانِ نو کی فضا میں اترنے والا ہوں

میں زندگی کے لئے پھر سے مرنے والا ہوں

میں اک جہاں کے لئے ڈوب جاؤں گا لیکن

میں اک جہاں کی نظر میں ابھرنے والا ہوں

اس نابغہ عصر انسان کے بارے میں کوئی کیا کہے۔۔ ؟خاکسار جب، روزنامہ خبریں لاہور، میں، سب ایڈیٹر، تھا تو انور سدید صاحب وہیں ہوتے تھے اور، خبریں، کے چیف ایڈیٹر جناب ضیا شاہد سمیت سب ہی لوگ ان کا بہت احترام کیا کرتے تھے مرحوم صرف اردو ہی نہیں انگلش کی بھی، ڈکشنری، کہلاتے تھے کوئی بھی مشکل سے مشکل لفظ ہوتا اس کا مطلب سیکنڈوں میں بتا دیتے تھے لیکن ان کی احمد ندیم قاسمی سے، دشمنی، کسی سے ڈھکی چھپی نہیں تھی ایک بار انہوں نے اپنی تحریر میں ایسا جملہ لکھ دیا جو خاصا متنازع سا تھا اور اس کی اشاعت سے احمد ندیم قاسمی کے چاہنے والے اور خود احمد ندیم قاسمی ناراض ہو سکتے تھے اس بات کی خبر جب، خبریں، کے میگزین ایڈیٹر ممتاز شفیع (جنہیں سب، میم شین، کہا کرتے تھے ) نے ضیا شاہد کو بتائی تو وہ غصے میں آ گئے اور کہا کہ۔۔ ۔۔ یہ قصہ ہی ختم کرو۔۔ ۔ بٹھاؤ قاسمی اور آغا کو آمنے سامنے اور۔۔ ۔۔ ۔۔ ۔۔ لیکن پھر بعد ازاں وہ جملے شائع نہ کیے گئے اور مجھے علم ہوا کہ پہلے بھی ایک بار جناب انور سدید کے کسی ایسے جملے پر تنازع سا پیدا ہو گیا تھا۔۔ ۔۔ خیرانورسدید وہ آ دمی ہیں جن کی ادبی خدمات کو سراہنے والوں میں جناب مشفق خواجہ، ڈاکٹر سید عبداللہ، ڈاکٹر وحید قریشی، ڈاکٹر سہیل بخاری‘‘ مرزا ادیب، غلام الثقلین نقوی، حنیف باوا، جوگند پال، بلراج کومل، ڈاکٹر سلیم اختر (جو علیل ہیں اور ان کے لئے بھی دعائے صحت کی گزارش ہے )، ڈاکٹر وزیر آغا، شمس الرحمن فاروقی، ڈاکٹر گوپی چند نارنگ، ڈاکٹر ناصر عباس نیر اور اس طرح کی بہت سی دوسری اہم ہستیاں شامل ہیں یہاں ڈاکٹر وزیر آغا کے جناب انور سدید کے بارے میں خیالات سنتے جائیں ذرا۔

‘‘  شرفا دو طرح کے ہوتے ہیں ایک وہ جن کی شرافت ان کی داخلی کمزوری یا بزدلی کا نتیجہ ہے۔ دوسرے وہ جو اپنی داخلی قوت اور کر گزرنے کی صلاحیت کے با وصف شائستگی کا مظاہرہ کرتے ہیں، انور سدید کی شائستگی موخر الذکر نوع سے تعلق رکھتی ہے۔ یہ شائستگی ایک طرف تو ان کی سنبھلی ہوئی شخصیت میں خود کو اجاگر کرتی ہے اور دوسری طرف ان کے شائستہ ادبی اسلوب میں۔ مگر ان کی داخلی توانائی اس شائستہ اسلوب کو ایک انوکھا تیقن، اعتماد، کاٹ اور چبھن عطا کرتی ہے جو ایک بالکل نئی بات ہے۔

آئیے اب آخر میں ان کی ادبی خدمات کا سرسری سا جائزہ لیتے ہیں

تنقیدی کتب:

فکر و خیال، اختلافات، کھردرے مضامین، نئے ادبی جائزے، شمع اردو کا سفر،

برسبیلِ تنقید، موضوعات، اردو افسانے کی کروٹیں، اردو نظم کے اربابِ اربعہ،

خطوط کے آئینے میں، مشفق خواجہ۔ ایک کتاب

اقبالیات:

اقبال کے کلاسیکی نقوش، اقبال شناسی اور ادبی دنیا، اقبال شناسی اور اوراق

تحقیق:

اردو افسانے میں دیہات کی پیش کش، اردو ادب میں انشائیہ، اردو ادب میں سفرنامہ

شخصیت نگاری:

مولانا صلاح الدین احمد۔ ایک مطالعہ (بہ اشتراک ڈاکٹر وزیر آغا)، مولانا صلاح الدین احمد۔ فن اور شخصیت،

وزیر آغا۔ ایک مطالعہ، شام کا سورج، پاکستان کا ایک بطلِ جلیل۔ حکیم عنایت اللہ نسیم سوہدری،

بانو قدسیہ۔ شخصیت اور فن، پروفیسر غلام جیلانی اصغر۔ شخصیت اور فن، فرخندہ لودھی۔ شخصیت اور فن

انشائیے:

ذکر اس پری وش کا، آسمان میں پتنگیں

کلاسیکی شعراء پر کتب:

میر انیس کی اقلیمِ سخن، غالب کا جہاں اور، میر انیس کی قلمرو

تاریخِ ادب کی کتب:

اردو ادب کی تحریکیں (مرحوم کی سب سے زیادہ پڑھی جانی والی کتاب۔ ہجرہ ایوارڈ یافتہ)،

اردو ادب کی مختصر تاریخ، پاکستان میں ادبی رسائل کی تاریخ

طنزو مزاح:

غالب کے نئے خطوط، (پیروڈی)، دلاور فگاریاں

خاکہ نگاری:

محترم چہرے، قلم کے لوگ، ادیبانِ رفتہ، زندہ لوگ

سفرنامہ:

اپنے وطن میں، دلی دور نہیں

تراجم:

زلفی بھٹو آف پاکستان، کشمیر سرد جہنم، شہزادی ڈیانا کی محبت، فریب کار،

مائی فیوڈل لارڈ، ایک بے عنوان کتاب، مون اسٹون

جائزے:

نئے ادبی جائزے، ادب کہانی، کچھ وقت کتابوں کے ساتھ، جائزہ اردو ادب

اردو کالم نگاری:

روزنامہ مشرق، لاہور، روزنامہ جسارت، لاہور، ہفت روزہ زندگی، لاہور،

روزنامہ حریت، کراچی، ماہنامہ قومی زبان، کراچی، روزنامہ خبریں، لاہور، روزنامہ نوائے وقت، لاہور

انگریزی کالم نگاری:

پاکستان ٹائمز، لاہور، دی اسٹیٹسمین، کراچی

تالیفات:

آخری نظمیں، راجہ مہدی علی خان، بہترین ادب، رادھے شیام کے نام، بہترین نظمیں، جدید اردو شاعری (بہ اشتراک ڈاکٹر وزیر آغا)، وزیر آغا کے خطوط (انور سدید کے نام)، مکالمات (انٹرویوز۔ ڈاکٹر وزیر آغا)، اردو افسانہ۔ عہد بہ عہد، سخن ہائے گسترانہ (مشفق خواجہ کے کالم)، سن تو سہی (مشفق خواجہ کے کالم بہ اشتراک خواجہ عبدالرحمان طارق)

کتابوں پر تبصرے:

نوائے وقت۔ سنڈے ایڈیشن میں

ادارت:

ماہنامہ قومی زبان، سرگودھا، ماہنامہ اوراق، لاہور،

ماہنامہ قومی ڈائجسٹ، لاہور، روزنامہ خبریں لاہور، روزنامہ نوائے وقت، لاہور

اور آج اس قدر اعلیٰ اور شاندار ادبی سرمایہ کا حامل ایک عظیم انسان ہم میں نہیں رہا ہے طاہر نظامی نے ڈاکٹر انور سدید بارے کیا خوب شعر کہا ہے ذرا دیکھئے تو

بانٹتے ہیں جو پیار لوگوں میں

مثلِ انور سدید ہوتے ہیں

ڈاکٹر انور سدید کی ایک حمد باری تعالیٰ کے چند اشعار پیشِ خدمت ہیں۔

اے خدا کربِ نا صبوری دے

درد بھی دے تو لا شعوری دے

رب کعبہ مری گزارش ہے

مجھ کو دیدارِ آنحضوریﷺ دے

مجھ کو کچھ خواہشِ دوام نہیں

زندگی دے مگر ادھوری دے

ہے یہ انور سدید کی عرضی

اس کو منظوری ضروری دے

 

اور اب آخر میں ڈاکٹر انور سدیدمرحوم کا ایک خوبصورت شعر

ڈھونڈ اپنا آشیانہ آسمانوں سے پرے

یہ زمیں تو ہو گئی نا مہرباں انور سدید

٭٭٭

 

 

 

جوگندر پال: اردوافسانے کی شان ۔۔۔ حیدر قریشی (جرمنی)

 

جوگندر پال سے میرا تعلق ادبی محبت کا تعلق ہے۔ اپنی ادبی زندگی کے اوائل میں ان کا سب سے پہلا افسانہ جو میں نے پڑھا اس کا نام تھا ‘‘ بھوک پریت‘‘  ۔ یہ افسانہ نقوش لاہور کے کسی خاص شمارے میں شامل تھا۔ ان سے پہلے انتظار حسین اورانورسجادکو تھوڑا بہت پڑھا تھا۔ انتظار حسین نسبتاً اچھے لگے تھے۔ لیکن جوگندر پال کی بات ہی کچھ اور تھی۔ میرے لیے وہ واقعتاً خود ایک دیومالائی کردار تھے۔ ان کی کہانیاں ان کے اندر گم تھیں اور وہ اپنی کہانیوں کے اندر گم تھے۔ بلراج کومل پہلی بار پاکستان آئے تو ان سے ملاقات کے دوران معلوم ہوا کہ وہ جوگندر پال کے سمدھی ہیں تو میری خوشی کا ٹھکانہ نہ رہا۔ میں ان سے صرف جوگندر پال کی باتیں کر رہا تھا اور انہیں کے بارے پوچھ رہا تھا۔ انہوں نے بعد میں اپنے پاکستان کے سفرکی روداد میں میرے اس والہانہ پن کا کچھ ذکر بھی کیا تھا۔ یہ روداد ‘‘ اوراق‘‘  لاہور میں شائع ہوئی تھی۔

پھر یوں ہوا کہ خود جوگندر پال پاکستان کی (اپنے آبائی علاقے کی)سیاحت نہیں بلکہ زیارت کرنے آ نکلے۔ میری تو لاٹری نکل آئی۔ ان کے لاہور پہنچنے کے ٹائم ٹیبل کے مطابق میں بھی لاہور پہنچ گیا۔ پھر دو دن ان کے ساتھ رہنے کا موقعہ ملا۔ جو ادبی تعلق قائم تھا، مزید مستحکم ہوا۔ ان کی شخصیت کی سادگی اور بے نیازی ان کی شان تھی اور ان دونوں خوبیوں کے ہوتے ہوئے بھی ان کی شخصیت میں ایک طلسماتی آن بان تھی۔ اردو افسانے کا ایک دور پریم چند سے شروع ہو کر راجندر سنگھ بیدی، کرشن چندر اور منٹو پر مکمل ہوتا ہے اور دوسرا دور انتظار حسین، انور سجاد اور رشید امجد سے شروع ہوتا ہے۔ جوگندر پال ان دونوں ادوار کے سنگم پر اپنے پورے تخلیقی وجود کے ساتھ سر بلند کھڑے دکھائی دیتے ہیں۔ وہ پریم، چند سے منٹو تک ترقی پسند اور حقیقت پسند افسانہ نگاروں کے ساتھ ان کے عہد کی تکمیل کرتے دکھائی دیتے ہیں تو وہیں نئے افسانے کے آغاز پر نئے افسانے کے پیش رو کے طور پراسے بڑھاوا دیتے دکھائی دیتے ہیں۔ ترقی پسند افسانے اور جدید افسانے دونوں کے ساتھ پورے ادبی وقار کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کراپنے پورے اور اونچے ادبی قد کے ساتھ کھڑا ہونے والا یہ تخلیق کار اردو کی ادبی تاریخ کا بے حد اہم کردار ہے۔ ایسا اہم کردار جسے ابھی اس کا عہد پوری طرح جان نہیں سکا۔ یہ زمانی سنگم کئی تخلیق کاروں نے دیکھا لیکن اس منفرد مقام کو جوگندر پال کے علاوہ کوئی نیا کہانی کار حاصل نہیں کر سکا۔ یہ رتبۂ بلند ملا جس کو مل گیا

میں نے اوپر جوگندر پال کی سادگی اور بے نیازی کا ذکر کیا ہے۔ ان کی بے نیازی دکھاوے کی نہیں تھی تھی، وہ اندر باہر سے واقعتاً بڑے ہی بے نیاز ادیب تھے۔ وہ نقاد جو سمجھتے ہیں کہ تخلیق کار ان کے در پر حاضری دیتا رہے تو وہ اس کی تعریف کریں گے، جوگندر پال نے ایسے بڑے نقادوں کو کبھی منہ نہیں لگایا۔ اپنی دانست میں ان بڑے نقادوں نے جوگندر پال کو بری طرح نظر انداز کیا لیکن جوگندر پال کو اپنے لکھے ہوئے پر جو اعتماد تھا وہ کبھی متزلزل نہیں ہوا۔ آج وہ نام نہاد نقاد خود ادبی موت کا شکار ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔

جوگندر پال سے میرا تعلق سراسر ادبی نیاز مندی کا تعلق تھا اور ہے۔ اسی لیے میں نے اور فرحت نواز نے ۱۹۸۵ء میں ‘‘ جدید ادب‘‘  کا جوگندر پال نمبر شائع کیا تھا جو تب تک انڈیا کے کسی زندہ ادیب کا پاکستان سے شائع ہونے والا پہلا نمبر تھا۔ اسے میں اپنے لیے ایک اعزاز سمجھتا ہوں۔ ہمارے ہاں بعض شاعروں /ادیبوں نے یہ وطیرہ اختیار کر رکھا ہے کہ کسی بڑے ادیب کی وفات پر اس کا ذکر اس انداز سے کیا جائے کہ تعزیتی رپورتاژ مرنے والے کی توصیف سے زیادہ نوحہ لکھنے والے کی عظمت کو اجاگر کرنے لگے۔ حقائق کی بنیاد پر ایسا کچھ لکھا جائے تو بھی کوئی حرج نہیں، لیکن تھوڑے سے سچ میں بہت ساراجھوٹ ملا کر اپنی عظمت جتانے والوں نے عظیم بننے کے لیے یہی طریقہ واردات اختیار کر رکھا ہے۔ قراۃ العین حیدر، امرتا پریتم، وزیر آغا، احمد فرازجیسے بڑے لکھنے والوں کی وفات پر ان سے زیادہ خود کو بڑا ظاہر کرنے والوں نے نام آوری کا روگ پال کر ادب کا ستیا ناس کر کے رکھ دیا ہے۔ ایسے ہی ایک ادبی وارداتیے نے جوگندر پال کے ایک مضمون کے ایک حصہ میں ایک ہی جنم میں چار جنموں کی بات پڑھ کر اپنی زندگی کا پی آر نامہ ایک جنم میں چار جنموں کا قصہ بنا لیا۔ لیکن بے ساختہ تخلیقی انداز اور گھڑی ہوئی عظمت کا فرق از خود ظاہر ہوا جاتا ہے۔

جوگندر پال کے ساتھ میرے ذاتی تعلق کے حوالے سے سچ مچ میں بہت کچھ موجود ہے لیکن میں صرف  اپنے ایک ایسے رپورتاژ کے اقتباس پر اکتفا کروں گاجو انڈیا اور پاکستان میں دونوں طرف جوگندر پال کی زندگی میں شائع ہوا اور جسے انہوں نے پڑھا بھی۔ یہ میرے لیے ایک بڑا اعزاز ہے۔

‘‘ جوگندر پال جی کے ہاں پہنچا تو وہ گھر کے دروازے کے باہر بیٹھے میرا انتظار کر رہے تھے۔ بڑی محبت کے ساتھ ملے۔ گھر کے اندر جا کر بیٹھے۔ بھابی کرشنا پال کچھ دیر کے لیے کسی کام سے گئی تھیں، کچھ دیر کے بعد وہ بھی آ گئیں۔ جوگندر پال جی کے ساتھ بہت ساری باتیں ہوئیں لیکن مجھے احساس ہوا کہ وہ بات کر کے بھول جاتے ہیں اور پھر اسی بات کو بتانے لگتے ہیں۔ ایک بات پوچھتے، جواب ملنے کے کچھ دیر بعد پھر وہی سوال پوچھنے لگتے۔ اس سے اندازہ ہوا کہ یادداشت کمزور ہوتی جا رہی ہے۔ لیکن ایک اور تجربہ ایسا ہوا کہ بہت اداس کرنے والا بھی تھا اور خوشی کا ایک رنگ بھی اس میں شامل تھا۔ میرے سامنے ایک دوست کا فون آیا۔ ان کا نام راجکمار ملک تھا، میں نے تھوڑی سی بات کر کے فون جوگندر پال جی کو دے دیا۔ ان سے کچھ دیر بات کرتے رہے۔ بات ختم کر کے فون واپس کیا تو بھابی کرشنا نے ریسیور لے لیا، انہیں ریسیور دیتے ہوئے کہنے لگے ‘‘ حیدر قریشی کا فون تھا‘‘  ۔ اس پر بھابی کرشنا نے بتایا کہ پہلے بھی کئی بار ایسا ہوا ہے کہ فون پر کسی اور سے بات کرتے رہتے ہیں اور جب بات ختم ہوتی ہے تو کہتے ہیں حیدر قریشی کا فون تھا۔ میں دہلی شہر میں جوگندر پال جی کو آج کے عہد کے ادبی تخلیقی سطح کے دلی کا دل سمجھتا ہوں، اور مجھے یہ دیکھ کر ایک لحاظ سے خوشی ہوئی کہ میں ادب کی دلی کے دل میں اس حد تک بستا ہوں۔ تاہم یہ دکھ کی بات بھی تھی کہ ایسا ذہین تخلیق کار عمر گزرنے کے ساتھ اپنی یادداشت کھو رہا تھا۔ در اصل بعض باتیں ان کے اندر کھب کر رہ گئی تھیں ورنہ باقی ساری باتیں معمول کے مطابق ہی کر رہے تھے۔ مثلاً ڈاکٹر وزیر آغا کی باتیں، اکبر حمیدی کی باتیں، رشید امجد اور منشا یاد کا ذکر، اور بھی بہت ساری باتیں معمول کے حساب سے کر رہے تھے، بس چند باتیں اور سوال ایسے تھے جنہیں وقفے کے بعد پھر بتانے یا پوچھنے لگتے تھے۔ دوپہر کا کھانا جوگندر پال جی کے ہاں کھایا۔ وہیں چند تصویریں بنائیں۔ جوگندر پال جی کے سٹڈی روم میں، ڈرائنگ روم میں اور ڈائننگ ٹیبل سے تھوڑا سا ہٹ کر۔۔ ۔۔ تصویریں بنائیں۔ بھابی کرشنا پال بہت زیادہ کمزور ہو گئی ہیں، تاہم ان کی یادداشت ذرا بھی کمزور نہیں ہوئی۔ اردو فکشن کے جدید تر اور اہم ترین فکشن رائٹر جوگندر پال جی سے زندگی میں ایک بار پھر ملنا میری خوش بختی تھی۔ یہ ایک یادگار ملاقات تھی، خوشی اور اداسی کی مختلف کیفیتوں سے بھیگی ہوئی ملاقات۔ چار بجے کے قریب ان کے گھر سے جانے کی اجازت طلب کی۔ وہ نہ صرف گھر سے باہر تک بلکہ گلی کی سڑک کے آخری سرے تک چھوڑنے آئے۔ انہیں خدا حافظ کہا اور میری گاڑی منداکنی انکلیو سے غالب انسٹی ٹیوٹ کی طرف روانہ ہو گئی۔ ‘‘  (رپورتاژ ‘‘ زندگی کا یادگار سفر‘‘  ۔ مشمولہ ‘‘ کھٹی میٹھی یادیں ‘‘  مطبوعہ ۲۰۱۳ء)

جوگندر پال کی وفات کی خبر ملتے ہی میں نے اردو رائٹرز ایٹ یا ہو گروپس ڈاٹ کام فورم سے اسے ریلیز کیا۔ میری خبر جن احباب تک پہنچی انہوں نے تعزیتی ای میلز بھیجیں۔ ۲۳اپریل کو جب جوگندر پال کی فیملی کے لوگ آخری رسومات ادا کر کے گھر پہنچے تو میں نے انہیں دوبارہ فون کیا اور سکریتا کے نام اپنی ای میلز کا بتایا جو میں انہیں بھیج چکا تھا۔ ان ای میلز میں امریکہ، آسٹریلیا اور ڈنمارک کی تین ویب سائٹس کے لنک تھے جہاں میری جاری کردہ خبر کو نمایاں کیا گیا تھا۔ اسی روز زاہدہ حنا کی جانب سے اسلام آباد کے ایک سیمینارمیں جوگندر پال کی وفات پر تعزیتی قرار داد پیش کی گئی اور ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی گئی۔ انڈیا سے نذیر فتح پوری مدیر اسباق پونہ کو یہ خبر میرے ذریعے معلوم ہوئی اور پھر انڈیا کے کئی ادیبوں کو نذیر فتح پوری نے اس افسوس ناک خبر سے آگاہ کیا۔ جو تب تک اس سے بے خبر تھے۔ انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کی برق رفتاری کے باوجود میری جاری کردہ خبر جس طرح ادبی دنیا تک پہنچی اور اس پر جس طرح ادیبوں کی طرف سے ردِ عمل آیا، اس سے اتنا احساس ضرور ہوا کہ جوگندر پال کو زندگی کے آخری سفرمیں ہم نے اچھے سے الوداع کہہ دیا ہے۔ اپنا یہ تعزیتی شذرہ جوگندر پال کے ایک افسانچے پر مکمل کرتا ہوں۔

‘‘ زندگی تو اٹوٹ ہے، اسے کوئی ایک جنم میں کیسے پورا کرے۔ ہاں، اسی لیے میرا کہنا ہے کہ میں ہی چیخوف ہوں، میں ہی پریم چند، میں ہی منٹو۔۔ ۔ اور وہ بھی کوئی، جسے ابھی پیدا ہونا ہے۔ ہاں بابو، میں اسی لیے بار بار جنم لیتا ہوں کہ اپنا کام پورا کر لوں مگر میرا کام ہر بار ادھورا رہ جاتا ہے۔ نہیں، اچھا ہی ہے کہ ادھورا رہ جاتا ہے، اسی لیے تو زندگی کو زوال نہیں، بابو۔ ‘‘

۔۔ ۔۔ ۔۔ ۔۔ ۔۔ ۔۔ ۔۔ ۔۔

اردو فکشن کی عظیم شخصیت معروف و منفرد افسانہ نگار، ناولٹ و ناول نگار، افسانچہ نگار جوگندر پال وفات پا گئے

 

اردو کے علمی و ادبی حلقوں میں یہ خبر نہایت رنج و غم کے ساتھ پڑھی جائے گی کہ اردو ادب کی ممتاز شخصیت اور اردو فکشن میں بالکل منفرد نوعیت کے افسانہ نگار، ناولٹ نگار اور ناول نگار جوگندر پال آج ۲۳اپریل ۲۰۱۶ء کو انڈیا کے وقت ساڑھے گیارہ بجے وفات پا گئے ہیں۔ خدا ان کی روح کو سکون عطا فرمائے۔ بھابی کرشنا پال، ان کے دونوں صاحبزادوں سدھیر اور سنیت اور صاحبزادی سکریتا اور دیگر پسماندگان کو صبر عطا فرمائے۔ آمین

جوگندر پال ۵ ستمبر ۱۹۲۵ء کو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔ قیام پاکستان کے بعد انہیں ہندوستان جانا پڑا۔ وہاں سے انہیں نیروبی جانا پڑا اور پھر وہ ہجرتوں کے دکھ سہتے چلے گئے۔ انہوں نے اپنی زندگی کی ساری ہجرتوں کو نئے جنم کی صورت میں بیان کیا تھا۔ اس سلسلہ میں ان کی ایک شاہکار تحریر ‘‘ خود وفاتیہ‘‘  کا ایک اقتباس یہاں درج کر دیتا ہوں۔

‘‘ یقین کیجئے کہ مجھے اپنے پچھلے چاروں جنم ہو بہو یاد ہیں۔ پہلے میں سیالکوٹ میں پیدا ہوا اور بائیس برس تک جیا۔ پھر انبالہ میں میری پیدائش ہوئی اور ابھی میں کوئی ڈیڑھ برس کا ہی تھا کہ میرا انتقال ہو گیا اور میں نے نیروبی میں آنکھ کھولی۔ اورنگ آباد میں میرے چوتھے جنم کے دوران میرے ایک دوست صفی الدین صدیقی نے مجھے بتایا کہ تمھارے پُرکھے ضرور کبھی نہ کبھی یہیں آبسے ہوں گے اور یہیں ڈھیر ہوئے ہوں گے ورنہ تم سمندر پار سے ایک یہیں کیوں آتے ؟۔۔ ۔۔ ۔۔ ۔۔ اجنتا ایلورا کی بعض تصویروں میں ڈھیروں عام لوگوں کے اجتماع بھی شامل ہیں۔ میں ان لوگوں میں سے ہر اک کے چہرے پر نظریں گاڑ کر سوچتا یہی میرا پہلا پُرکھ تو نہیں جو قدروں سے قطع نظر صرف پیٹ کی آگ بجھانے کے لئے بڑی معصومیت سے کرشن یا کنس کے ساتھیوں میں شامل ہو گیا تھا اور اب اپنے اس پانچویں جنم میں دلی آ پیدا ہوا۔ “

جوگندر پال کا تخلیقی کام اتنا زیادہ، اہم اور قابلِ قدر ہے کہ اس کی قدر و قیمت کا اندازہ لگانے کے لیے نئے سرے سے کام کرنے کی ضرورت ہے۔ جدید فکشن میں سب سے اہم اور بڑے فکشن رائٹر کا فیصلہ کرنے کے لیے سابقہ فیصلوں پر ایماندارانہ نظر ثانی کی ضرورت ہے۔۔ ۔ مجھے امید ہے کہ جوگندر پال کی وفات کے بعد ہمارے علمی و ادبی حلقوں میں اس کام کی اہمیت کا ادراک کرتے ہوئے محنت اور دیانت کے ساتھ ایسا کرنے کی کاوش کی جائے گی۔ سرِ دست یہاں جوگندر پال جی کو یاد کرتے ہوئے ان کے آخری ناول ‘‘ پار پرے ‘‘  پر اپنا مختصر سا مضمون اور ان کے ساتھ لی گئی اپنی چند یادگار تصویریں احباب کے ساتھ شئیر کر رہا ہوں۔

یہ خبرurdu_writers@yahoogroups.comسے ۲۳؍اپریل کو ریلیز کی گئی۔۔ حیدر قریشی (جرمنی سے )

انٹرنیٹ پر یہ خبر ریلیز ہوتے ہی اسی روز ان تین ویب سائٹس نے اس خبر کو شائع کر دیا۔ (ح۔ ق)

 

http: //www.urduhamasr.dk/dannews/index.php?mod=article&cat=Misc&article=1685

۔۔ ۔۔ ۔۔ ۔۔ ۔۔ ۔۔ ۔۔ ۔۔ ۔۔ ۔۔ ۔

http: //punjnud.com/Aarticles_detail.aspx?ArticleID=143&ArticleTitle=Joginder%20Paul%20Wafat%20Pa%20Gaey

۔۔ ۔۔ ۔۔ ۔۔ ۔۔ ۔۔ ۔۔ ۔۔ ۔۔ ۔۔ ۔

http: //punjnud.com/Aarticles_detail.aspx?ArticleID=144&ArticleTitle=Joginder%20Paul%20Ka%20Novle%20Paar%20Pary

۔۔ ۔۔ ۔۔ ۔۔ ۔۔ ۔۔ ۔۔ ۔۔ ۔۔ ۔۔ ۔

https: //themuslimtimes.info/2016/04/23/india-eminent-urdu-writer-joginder-paul-passed-away/

٭٭

 

 

بسم اللہ الرحمن الرحیم

انا للہ و انا الیہ راجعون

قطعۂ تاریخِ وفاتِ جوگندر پال (نامور ادیب)

 

(جرمنی سے جناب حیدر قریشی اور انگلینڈ سے جناب مقصود الٰہی شیخ کے ذریعے یہ افسوسناک خبر ملی کہ نامور ادیب جوگندر پال۲۳؍اپریل ۲۰۱۶ء کو بھارت کے شہر دہلی میں انتقال کر گئے۔ یہ خبر اردو کے علمی و ادبی حلقوں کے لیے نہایت رنج و غم کا باعث ہے۔ دعا ہے کہ ان کے لواحقین اس صدمے کو صبر کے ساتھ برداشت کر لیں، اُن کی روح کو سکون ملے اور اردو کو ان کا نعم البدل جلد میسر آئے۔ آمین)

قطعۂ تاریخِ وفات

ہوا رخصت جہاں سے، جاوداں ہے ہر ہنر اس کا

ادب کے آسماں پر نام اس کا ہے مثالِ مہ

فرازِ فن کے آگے پھولؔ! اجل نے ہار مانی ہے

‘‘ جوگندر پال کی عظمت دلوں میں آج زندہ‘‘  کہہ

(۲۰۱۶ عیسوی)

تنویر پھول (نیویارک)

۱؎ ضرورت شعری کے تحت ،  و ،  محذوف ہے۔

http: //www.urdubandhan.com/bazm/viewtopic.php?f=8&t=8390

تاثرات

 

زاہدہ حنا (کراچی)

اردو کا ایک بہت بڑا لکھنے والا اس جہان سے گزر گیا۔ مجھے خبر ملی تو میں نیشنل بک فاؤنڈیشن اسلام آباد کے لاسٹ سیشن کے منچ پر تھی۔ میں نے ایک کنڈولینس ریزولیوشن منظور کرایا۔ سینکڑوں پاکستانی ادیبوں نے ان کے غم میں ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی۔ (زاہدہ حنا کی ای میل حیدر قریشی کے نام۔ ۲۶اپریل ۲۰۱۶ء)

‘‘ اس مرتبہ بی این ایف کتاب میلے کا عنوان تھا ، کتاب سے ہے زندگی، ۔ سوچئے تو سہی کہ اگر کتاب ہماری زندگی سے نکل جائے تو ایک روکھی پھیکی اور قصے کہانیوں سے یکسر خالی زندگی سزا کے سوا کچھ نہیں ہو گی۔۔ ۔۔ ۔۔ ۔

اختتامی تقریب کی صدارت عرفان صدیقی صاحب نے کی۔ مسعود مفتی، مسعود اشعر، ڈاکٹر نذیر تبسم، منیر احمد بادینی اور میں اس اختتامی تقریب میں موجود تھے۔ میں نے اپنی بات کہنے سے پہلے لوگوں کو یہ بری خبر سنائی کہ اردو کے منفرد اور معتبر افسانہ نگار اور ناول نگار جناب جوگندر پال اب ہمارے درمیان نہیں رہے۔ یہ خبر کچھ دیر پہلے جرمنی سے حیدر قریشی نے مجھے دی تھی۔ ان کے بارے میں ایک مختصر تعزیتی قرار داد میں نے پیش کی جو متفقہ طور پر منظور کی گئی۔ اور اس کے بعد ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی گئی۔ ‘‘

زاہدہ حنا کے کالم ‘‘ سیاست نہیں، ادب کی باتیں ‘‘  سے اقتباس۔

روزنامہ ایکسپریس۔ یکم مئی ۲۰۱۶ء

٭٭

 

نسیم انجم (کراچی)

 

افسوس صد افسوس!آپ کی ہی میل سے معلوم ہوا۔ میں ان سے اور ان کی مسز کرشنا جی سے آج سے پندرہ سال قبل ملی تھی۔ صبا اکرام کے گھر میں تقریب ملاقات کے موقعہ پہ انہوں نے میرے سر پہ شفقت سے ہاتھ رکھا، پھر دعائیں دیں اور ناول و افسانے کا مجموعہ بھی بھیجا تھا۔ ڈاکٹر انورسدید بھی اس سال رخصت ہوئے۔ اللہ ہم سب کو صبر دے۔ آمین۔

(نسیم انجم کی ای میل بنام حیدر قریشی)

٭٭

 

مقصود الٰہی شیخ (بریڈ فورڈ)

جوگندر پال بھی چلے گئے۔ ایک شخص جو بہت اچھا قلم کار تھا وہ نہ رہا۔ اردو دنیا میں سوگواری طاری ہے۔

حال میں کئی نامور ادیب و شاعر چل بسے۔ خدا ہم پر رحم فرمائے۔ آمین۔

(ای میل بنام حیدر قریشی۔ 23.4.16 )

٭٭

 

ڈاکٹر انوار احمد (ملتان)

پیارے حیدر قریشی! ہم ملتان سے سہ ماہی ، پیلوں ،  (سرائیکی، پنجابی اور اردو میں )نکالتے ہیں۔ جون میں شمارہ ۱۶ آئے گا۔ اس میں ایک گوشہ جوگندر پال کا بنائیں گے۔ اس میں آپ کا ایک مضمون چاہیے۔

(ای میل25.4.16 )

٭٭

 

عبداللہ جاوید ؍ شہناز خانم عابدی (کینیڈا)

جناب حیدر قریشی صاحب السلام علیکم

جو گندر پال جی کے جانے کی خبر سن کر ہم دونوں کے دل لہو لہان ہو گئے۔ کچھ سمجھ میں نہیں آتا کہ ان کی وفات پر کن الفاظ میں اظہارِ الم کریں۔ ایسا لگتا ہے کہ ان کے جانے کا غم کسی طور بھی لفظوں میں بیان نہیں کیا جا سکتا ہے۔ ہم دونوں یقین کے ساتھ یہ کہہ سکتے ہیں کہ جوگندر پال جی جدید فکشن کے معمارِ اول ہیں۔ انہوں نے انتہائی صبر، تحمل اور خاموشی سے اردو ہندی فکشن کی آبیاری کی۔ آپ نے صحیح سوچا ہے کہ جو گندر پال جی پر خلوص اور دیا نت کے ساتھ کام کرنے کی ضرورت ہے۔ تاکہ اردو اور ہندی فکشن احسان فراموشی کے ارتکاب سے اپنا دامن بچا سکے،

سورگباشی جو گندر پال جی میں آپ سے بے حد شرمندہ ہوں کہ آپ کے بارہا بلانے کے با وجود میں آپ کی خدمت میں حاضر نہ ہو سکی اس کا مجھے ہمیشہ افسوس رہے گا۔

(۲۳ اپریل ۲۰۱۶ء)

٭٭

 

ان احباب کی طرف سے بھی فوری طور پر تعزیت کا اظہار کیا گیا

پروفیسر مظہر مہدی (دہلی)، نصر ملک (کوپن ہیگن)، پرویز مظفر (برمنگھم)، جان عالم (مانسہرہ)، نذیر فتح پوری (پونہ)، وقاص سعید (آسٹریلیا)، زکریا ورک (امریکہ)، فرحت نواز (رحیم یار خان)، عامر سہیل (ایبٹ آباد)، رضینہ خان (دہلی)، پروفیسر عبدالرب استاد (گلبرگہ)، مہر افروز (دھاڑ واڑ، انڈیا)، شہناز نبی (کولکتہ)، سلمیٰ بانو (بنگلور)، سعید شباب (خان پور)،

۔۔ ۔۔ ۔۔ ۔۔ ۔۔ ۔۔ ۔۔ ۔۔ ۔۔ ۔۔ ۔۔

مرتّبہ: سکریتا پال (دہلی، انڈیا)/ترجمہ: زکریا ورک ( کینیڈا)

٭٭٭

 

 

 

 

 

 

جو گندر پال

 

اردو کے معروف و ممتاز فکشن رائٹر جو گندر پال کی پیدائش سیالکوٹ پا کستان میں ہوئی تھی۔ تقسیم ہند کے بعد آپ ہندوستان ہجرت کر گئے۔ اس کے بعد ایک اور ہجرت کی اور کینیا (مشرقی افریقہ) چلے گئے اور یہاں ۱۵ سال قیام کیا۔ ان کی مادری زبان پنجابی تھی، لیکن تمام تعلیم اردو میں حاصل کی تھی۔ انگلش میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد ٹیچنگ کے پروفیشن کا انتخاب کیا اور لٹریچر کے پروفیسر رہے۔ مہاراشٹرا کے ایک پوسٹ گریجوایٹ کالج سے پرنسپل کے طور پر ریٹائر منٹ حاصل کی۔

جوگندر پال نے اردو میں لکھنا پسند کیا کیونکہ ان کے نزدیک اردو ایک زبان نہیں بلکہ کلچر ہے۔ اگرچہ وہ پرگریسو اردو رائٹرز مومنٹ میں فعال رہے لیکن ان کی تخلیقی تحریروں میں جدید حساسیت کا پرتو بھی ہے۔

جوگندر پال کے انیس فکشنل شہ پارے نہ صرف ہندوستان بلکہ پا کستان میں مقبول عام ہیں۔ اپنی تحریروں میں انہوں نے معاشرے کی برائیوں کو بڑے حساس طریق سے طشت از بام کیا ہے۔ ان کو متعدد لٹریری ایوارڈز سے نوازا گیا ہے بشمول SAARCکا لائف اچیو منٹ ایوارڈ، اقبال سمان ایوارڈ، غالب ایوارڈ اور کئی دوسرے۔ ان کی فکشن کی کتابوں کے متعدد زبانوں میں تراجم ہو چکے ہیں۔

ان کی تخلیقات میں سے چند ایک یہ ہیں: دھرتی کا کال، میں کیوں سوچوں، مٹی کا ادراک، کھودو بابا کا مقبرہ، پرندہ، بستیاں، آمد و رفت، بیانات، بے محاورہ، بے ارادہ، نادید، خواب رو۔

انگلش میں ان کی فکشن کی کتابیں پین گوئین، ہارپر کولن، نیشنل بک ٹرسٹ اور دیگر پبلشرز نے شائع کی ہیں۔

۔۔ ۔۔ ۔۔ ۔۔ ۔۔ ۔۔ ۔۔ ۔۔ ۔۔ ۔۔ ۔

شارٹ سٹوریز

دھرتی کا کال۔ (حالی پبلشنگ ہاؤس، دہلی ۱۹۶۱۔

میں کیوں سوچوں، ادبستان اردو امرتسر ۱۹۸۲ء۔ رسائی نصرت پبلشرز لکھنو ۱۹۶۸ء

مٹی کا ادراک۔ لج پت رائے اینڈ سنز دہلی ۱۹۷۰ء۔ لیکن اردو پبلشرز لکھنو ۱۹۷۷۔

بے محاورہ۔ کیلاش پبلی کیشنز اورنگ آباد ۱۹۷۸ء۔

بے ارادہ۔ زم زم ٹرسٹ دہلی ۱۹۸۱ء۔

جوگندر پال کے منتخب افسانے، سیمانت پرکاشن دہلی ۱۹۸۷، پاکستان ۱۹۸۹۔ ماڈرن پبلشنگ ہاؤس دہلی ۱۹۸۹ء۔

کھودو بابا کا مقبرہ۔ ماڈرن پبلشنگ ہاؤس دہلی ۱۹۹۴ء۔

جوگندر پال کے افسانوں کا انتخاب۔ تخلیق کار پبلشرز دہلی ۱۹۹۶ء۔

جوگندر پال کے شاہکار افسانے۔ بک چینل لاہور ۱۹۹۶ء۔ بستیاں اردو اکیڈیمی دہلی ۲۰۰۰ء۔

پچیس۔ اردو اکیڈیمی دہلی ۲۰۰۹ء۔

افسانچے

سلوٹیں۔ لج پت رائے اینڈ سنز دہلی ۱۹۷۵ء۔

کتھا نگر۔ رابطہ گروپ دہلی ۱۹۸۶ء۔

پرندے۔ تخلیق کار پبلشرز دہلی ۲۰۰۰ء۔

نہیں رحمن بابو۔ ایجو کیشنل پبلشنگ ہاؤس دہلی ۲۰۰۵ء۔

ناول /ناولٹ

ایک بوند لہو کی۔ مکتبہ افکار کراچی ۱۹۶۳ء انڈین ایڈیشن ۱۹۶۴ء۔

آمد و رفت۔ انڈین بک پبلی کیشنز اورنگ آباد۱۹۷۵ء۔

بیانات۔ انڈین بک پبلی کیشنز دہلی اورنگ آباد ۱۹۷۵ء۔

نادید۔ رابطہ گروپ دہلی ۱۹۸۳ء

خواب رو۔ ایجو کیشنل پبلشنگ ہاؤس دہلی ۱۹۹۱، پاکستان ایڈیشن ۱۹۹۰ئ۔

پار پرے۔ انشا پبلی کیشنز کولکتہ ۲۰۰۴ء

ایڈٹ شدہ کتابیں

عصری اردو کہانیاں۔ پین گوئین دہلی ۲۰۰۷ء۔

نئے دور کی اردو کہانیاں۔ پین گوئین دہلی ۲۰۰۸ء ہندی۔

نئے کلاسک۔ مرٹھواڑہ یو نیورسٹی اورنگ آباد ۱۹۷۳ء۔ نیو اردو فکشن کتھا دہلی ۲۰۰۴ء۔

تنقید

رابطہ۔ تخلیق کار پبلشرز دہلی ۱۹۹۷ء۔

بے اصطلاح۔ تخلیقات کار پبلشرز دہلی ۱۹۹۸۔

زندگی اور شخصیت

جو گندر پال شخصیت۔ ایجو کیشنل پبلشنگ ہاؤس دہلی ۲۰۱۰ء دہلی۔

جو گندر پال ذکر، فکر اور فن مرتب: ارتضیٰ کریم نئی دہلی ۱۹۹۹ء

ادبی رسالوں کے جو گندر پال کی حیات اور آرٹ پر خاص شمارے

سہ ماہی غبار خاطر جلد دوم نمبر ۴، اورنگ آباد۔

سہ ماہی توازن نمبر ۴ مالے گاؤں۔

ماہانہ شاعر ممبئی۔

ماہانہ انشا کولکتہ۔

سہ ماہی ارتقاء کراچی ۱۹۹۰ء۔

ماہانہ عصری آگہی جلد دوم نمبر ۶ دہلی۔

ماہانہ معلم اردو لکھنؤ۔

ماہانہ طلوع افکار کراچی۔

ماہانہ پرواز ادب ستمبر تا دسمبر ۱۹۹۴ء پٹیالہ۔

ہفت روزہ اورنگ آباد ٹائمز اپریل ۱۹۷۸ء اورنگ آباد مہا راشٹرا۔

جدید ادب۔ خان پور۔ ۱۹۸۵ء پا کستان۔

ماہانہ آج کل جنوری ۱۹۹۷ء پبلی کیشن ڈویژن گورنمنٹ آف انڈیا نئی دہلی۔

تراجم

آپ کی بہت ساری شارٹ سٹوریز کے تراجم ہندوستان اور دیگر ممالک کی زبانوں میں کئے جا چکے ہیں۔ یہ افسانے معروف ادبی رسالوں اور کتابوں میں شائع ہوئے ہیں۔

فکشن کے تراجم کا انتخاب

ہندی زبان میں:

کہاں، شارٹ سٹوریز کا مجموعہ کتاب نگر دہلی ۱۹۹۵ء۔

پرتی ندھی کہانیاں پیپر بیک راج کمال دہلی ۱۹۸۹ء

جوگندر پال کی چرچیت کہانیاں سمایاک دہلی ۱۹۹۷ء۔

نادید۔ پیپر بیک اور ہارڈ کور راج کمال دہلی ۱۹۸۶ء۔

خواب رو۔ راج کمال دہلی ۱۹۹۶ء۔ بیانات سرانش دہلی ۱۹۹۴ء۔

نہیں رحمن بابو۔ پین گوئین انڈیا ۲۰۰۵ء۔

پریم سنبھا دو کی کہانیاں۔ نامان پر اکشن دہلی ۲۰۰۹ء۔

پرندے۔ وانی پراکشن دہلی ۲۰۰۴ء۔

پار پرے۔ بھارتیا جنان پیتھ دہلی ۲۰۰۴ء۔

اجنبی۔ الیکھ پراکشن دہلی ۲۰۰۷ء۔

انگلش:

خواب رو۔ سلیپ واکرز کتھا نئی دہلی ۱۹۹۹، اور ۲۰۰۱ء۔

آمد و رفت۔ قلمکار پراکشک دہلی۔ بلیک واٹرز پین گوئین انڈیا ۲۰۰۷ء۔

دی سٹوری آف انڈیا۔ قلم کار پراکشک دہلی ۱۹۸۱ء۔

The Dying Sun ہارپر کولنز دہلی ۲۰۱۳ء۔

دیگر عالمی زبانوں میں تراجم

نادید۔ رشین ماس کو ۱۹۸۸ء۔

آمد و رفت۔ پنجابی، سیلکیٹڈ سٹوریز آف جو گندر پال کناڈا۔

سیلکیٹڈ سٹوریز آف جو گندر پال، اڑیا۔

افسانے جو مختلف کتابوں میں شائع ہوئے۔

ڈیرہ بابا نانک فیورٹ فکشن دی لٹل میگزین نئی دہلی ۲۰۰۵ء۔

The Spell ماڈرن انڈین شارٹ سٹوریز ایسٹ ویسٹ پریس نئی دہلی۱۹۹۲ء۔

SAARC,Back Lane, Voice of India رائٹرز اینڈ لٹریچردہلی ۲۰۰۲ء۔

Thirst of Rivers ٹرانسلینٹنگ پارٹیشن کتھا، نئی دہلی۲۰۰۱ء۔

تین افسانے Prerak Laghukathayein              گو تم بک سٹور دہلی۔

شارنستان امکان مہاراشٹرا راجیا اردو اکیڈیمی۔

ایوارڈ ز

بہار اردو اکیڈیمی ۲۰۱۶ء۔

SAARC لائف ٹائم لٹریری ایوارڈ ۲۰۱۱ء۔

انجمن فروغ اردو ورلڈ ایوارڈ ۲۰۰۰ء۔

اقبال سمّان ایوارڈ  مدھیہ پردیش گورنمنٹ،

آل انڈیا بہادر شاہ ظفر ایوارڈ ۱۹۹۶ء۔

شرو منی ساہیتیہ ایوارڈ پنجاب گورنمنٹ،

غالب ایوارڈ۔ غالب انسٹی ٹیوٹ دہلی ۱۹۸۳ء۔

اردو ادب ایوارڈ۔ ہندی اردو ایوارڈ کمیٹی یوپی۔ ہندوستان۔ ۱۹۸۳ء۔

٭٭٭

 

 

 

 

چار جنموں کا مسافر – جوگندر پالؔ ۔۔۔ علی احمد فاطمی (الہٰ آباد)

 

جوگیندر پالؔ نے اپنی عمرِ عزیز کے اسّی سال پورے کر لئے۔

ایک خیال کے مطابق ان کی پہلی کہانی ۴۵-۱۹۴۴ میں شائع ہوئی تھی۔ اس طویل مدّت میں انھوں نے اردو افسانوی ادب کو تقریباً دس افسانوی مجموعے، چھ ناول یا ناولٹ، اس کے علاوہ سفر نامے، آپ بیتی، مضامین، مکالمے اور نجانے کیا کیا۔ تقریباً ساٹھ سال کے پھیلے ہوئے سفر میں انھوں نے اتنا لکھا اور اس قدر لکھا کہ بقول جوگیندر پالؔ کہ وہ اپنے آپ میں بے شناخت ہو گئے جبکہ ان کی اپنی شناخت ہونی چاہئے لیکن ریاضت و عبادت کی ایک منزل گمشدگی کی بھی ہوا کرتی ہے۔ پال کے ساتھ یہی ہوا کہ وہ کہانیوں میں گم ہو گئے اور کہانی ان میں گم ہو گئی۔ ایک اسٹیج یہ آئی کہ ان کو کہنا پڑا— ‘‘ میں کہانی نہیں لکھتا۔ کہانی مجھے لکھتی ہے ‘‘  ۔ انھوں نے کہانی کے بارے میں۔ ادب کے بارے میں، زندگی کے بارے میں فکروفلسفہ کے ایسے ایسے نکتہ ہائے دور رس چھیڑے، ایسے ایسے رموز و نکات وا کئے، ایسی ایسی فلسفیانہ مو شگافیاں کیں کہ شاید ہی ان کے عہد کے کسی فنکار نے ایسا اور اس انداز سے سوچا اور لکھا ہو—اس لئے کہ جوگیندر پالؔ صرف سادے اور سپاٹ سے افسانہ نگار نہیں ہیں بلکہ وہ ایک مفکّر، دانشور اور اسکالر بھی ہیں۔ ان کے اندر کا فنکار ہمہ وقت ان اوصاف سے متصادم رہا ہے اور شکست و ریخت کا شکار بھی رہتا ہے۔ کبھی افسانہ فلسفہ پہ غالب اور کبھی فلسفہ افسانہ پر حاوی۔ جس سے یہ تو اندازہ ہوتا ہی ہے کہ انھوں نے صنفِ افسانہ کو محض تفنن طبع کی چیز نہیں سمجھا بلکہ فلسفۂ حیات کا موثر پیرایۂ اظہار جانا اور گردانا۔ کچھ یہ بھی کہ انھوں نے صرف عمر نہیں کاٹی بلکہ زندگی بسر کی ہے۔ در در کی ٹھوکریں کھائی ہیں۔ پاکستان سے پنجاب، پنجاب سے نیروبی، اورنگ آباد اور پھر آخر دہلی ان کا مسکن ٹھہرا — – ہجرتوں اور اذیتوں سے بھری یہ دربدری انھیں ٹھوکریں تو کھلاتی رہی لیکن ان کے عقل و خرد کے در کھولتی رہی۔ ان کی حسیت کے بال و پر وا کرتی رہی جس سے ایک جوگیندر پال مرتا رہا تو دوسرا پیدا ہوتا رہا۔ فکر و خیال کے در بھی کھلتے اور بند ہوتے رہے۔ آپ اتفاق کریں یا اختلاف لیکن ان کی سنجیدگی و سپردگی، بلاغت و بصیرت سے انکار نہیں کر سکتے۔ ان کا مفکرانہ ذہن، ان کی دانشورانہ بصیرت اور ان سب پر حاوی ان کی خلاقانہ صلاحیت نے معاملاتِ قلب و جگر یا وارداتِ جنّ و بشر کو چلتے پھرتے انداز سے نہیں لیا۔ اس میں فکروفلسفہ کی ایک دنیا تلاش کی۔ تحیر و تجسس کے ہیولے تیار کئے اور اردو کے افسانوی ادب کو ایسے ایسے افسانے اور ناول دئیے جن کا جوگیندر پالؔ سے قبل تصور کر پانا مشکل تھا۔ ان کے مجموعوں کے عنوان ہی دیکھئے۔ میں کیوں سوچوں، مٹی کا ادراک، لیکن، بے محاورہ، بے ارادہ، کھلا وغیرہ۔ یہ تو نہیں کہا جا سکتا کہ جوگیندر پالؔ سے قبل اردو کہانی میں فلسفہ نہ تھا۔ پریمؔچند جیسے سادہ سمجھے جانے والے افسانہ نگار کے یہاں بھی زندگی کے فلسفے رچے بسے تھے لیکن وہ کہانیاں پہلے تھیں فلسفہ بعد میں۔ ترقی پسند افسانہ نگاروں نے بھی زندگی کی بے رحم و برہنہ حقیقتوں کو فلسفہ بنانے کی کوشش کی لیکن جوگیندر پالؔ کی دنیا ان سب سے الگ ہے۔ الگ اس لئے کہ ان کاسفرِ حیات بھی خاصا مختلف ہے اور ان کا دورِ حیات بھی– اس لئے کہ جوگیندر پالؔ نے جب ہوش و حواس کی آنکھیں کھولیں ترقی پسند افسانہ رو بہ زوال تھا اور جدیدیت کا دور دورہ تھا۔ سب کچھ نیا نیا اور عجیب و غریب تھا۔ دیکھنا یہ ہے کہ یہ نیا پن جوگیندر پالؔ کا اپنا ہے یا جدیدیت سے مستعار۔ یہ سوال اس لئے بھی جنم لیتا ہے کہ جس فنکار کا پہلا مجموعہ دھرتی کا کال (۱۶۹۱ء) اور اب تک کا آخری مجموعہ کھودو بابا کا مقبرہ (۴۹۹۱ء) ان کے عنوانات میں ایک معنوی ربط ہے۔ لیکن درمیان کا سفر بے محاورہ ہے اور اس میں خاص قسم کی بے ارادگی لیکن اس بے ارادگی میں ارادہ کا سراسر دخل۔ کبھی فلسفی فنکار کے یہاں بے ارادگی میں ارادہ اور ارادہ میں بے راہ روی جھلکتی ہے جو اکثر سیدھے سادے قارئین و ناقدین کو گمراہ بھی کر دیتی ہے۔ اس لئے جوگیندر پالؔ جیسے سنجیدہ گہرے فنکارانہ انتشار یا انتشاری فکر و فن میں غرق افسانہ نگار کو صراطِ مستقیم میں سمجھ نہیں جا سکتا۔ اس کے لیے ان کے افسانوں سے قبل ان کی تحریروں کو سمجھنا ہو گا جو انھوں نے اپنے اور اپنے افسانوی سفر یا نقطۂ نظر کے بارے میں رقم کی ہیں۔ اکثر ان حوالوں سے فن اور فنکار کے مابین کنفیوژن بھی پیدا ہوتا ہے تاہم یہ تو سمجھا ہی جا سکتا ہے کہ ان تحریروں میں ایک فن کار، افسانہ نگار، افسانہ اور افسانۂ حیات کو کس قدر اور کن صورتوں میں سمجھتا اور پیش کرتا ہے۔

جوگیندر پالؔ کی اچھی یا بری بات یہ ہے کہ وہ زیادہ لکھتے ہیں اور زیادہ لکھتا بھی وہی ہے جو زیادہ سوچتا ہے۔ یہ تو سچ ہے کہ سوچ اور فکر ہی انسان کا سرمایۂ افتخار ہے اور سرمایۂ اظہار بھی، بالخصوص ایک فنکار اور افسانہ نگار کیلئے، لیکن سوچ میں ترتیب و توازن، خیال و استدلال کی بھی ایک منزل ہوتی ہے جو بڑی مشکل سے آتی ہے۔ جس کے لئے صرف علم کافی نہیں بلکہ عمل اور عملی سروکار بھی نا گزیر ہوا کرتے ہیں۔ کسی فنکار کے یہاں اس کی ضرورت سے زیادہ تلاش بے سود سی معلوم ہوتی ہے کہ فنکار بہرحال پہلے فنکار ہے مفکر و دانشور بعد میں۔ یہ الگ بات ہے کہ اکثر فنکار میں مفکر اور انسان، علم اور گیان دھیان کچھ اس طرح مدغم ہو جاتے ہیں کہ قارئین تو کیا خود مصنف کو بھی دونوں کو الگ الگ کر پانا مشکل ہوا کرتا ہے۔ جوگیندر پالؔ کی خوبی یا خرابی یہی ہے لیکن اس کا کیا کیجئے کہ یہی ان کی اصل شناخت ہے جسے وہ بے شناخت کہتے ہیں ذرا ان کی یہ تحریر ملاحظہ کیجئے:

‘‘ بحیثیت ادیب میں اپنی ذات میں بے شناخت ہوں یا میری شناخت کے نقوش کائنات کے سبھی مظاہر میں مُضمر ہیں۔ میں جو کچھ دیکھتا ہوں وہی بن جاتا ہوں۔ یہی میری شناخت ہے۔ ‘‘

ایسے فلسفیانہ خیالات بلکہ ارتعاشات ان کی ابتدائی تحریروں میں کم بعد کی تحریروں میں زیادہ دکھائی دیتے ہیں چنانچہ بعد کے دور کی تحریروں کو زیادہ غور سے سمجھنے کی ضرورت ہے۔ تضادات و تصادمات کو تلاش کرنے کی ضرورت ہے جو ایک مفکرو دانشور فنکار کے یہاں فکری، فطری انداز سے مدغم ہو جایا کرتے ہیں۔ انھیں اختلاف کی رو سے کم، اور امتزاج و اشتراک کے حوالے سے ہمدردی سے پڑھے اور سمجھے جانے کی ضرورت ہے۔

جوگیندر پالؔ کا ایک مضمون ہے خودو فاتیہ (Self Obituary)عجیب و غریب مضمون جو، جوگیندر پالؔ ہی لکھ سکتے ہیں جس کے پہلے حصّہ میں زندگی کا جغرافیائی سفر ہے، پڑاؤ ہے۔ انبالہ، سیالکوٹ، نیروبی، اورنگ آباد اور پھر دہلی–یہ سارے پڑاؤ بلکہ چار جنم—جیسا کہ وہ خود لکھتے ہیں:

‘‘ یقین کیجئے کہ مجھے اپنے پچھلے چاروں جنم ہو بہو یاد ہیں۔ پہلے میں سیالکوٹ میں پیدا ہوا اور بائیس برس تک جیا۔ پھر انبالہ میں میری پیدائش ہوئی اور ابھی میں کوئی ڈیڑھ برس کا ہی تھا کہ میرا انتقال ہو گیا اور میں نے نیروبی میں آنکھ کھولی۔ اورنگ آباد میں میرے چوتھے جنم کے دوران میرے ایک دوست صفی الدین صدیقی نے مجھے بتایا کہ تمھارے پُرکھے ضرور کبھی نہ کبھی یہیں آبسے ہوں گے اور یہیں ڈھیر ہوئے ہوں گے ورنہ تم سمندر پار سے ایک یہیں کیوں آتے ؟۔۔ ۔ اجنتا ایلورا کی بعض تصویروں میں ڈھیروں عام لوگوں کے اجتماع بھی شامل ہیں۔ میں ان لوگوں میں سے ہر اک کے چہرے پر نظریں گاڑ کر سوچتا یہی میرا پہلا پُرکھ تو نہیں جو قدروں سے قطع نظر صرف پیٹ کی آگ بجھانے کے لئے بڑی معصومیت سے کرشن یا کنس کے ساتھیوں میں شامل ہو گیا تھا اور اب اپنے اس پانچویں جنم میں دلی آ پیدا ہوا۔ “

کتنے سفر، کتنے پڑاؤ اور کتنے مقاماتِ آہ و ففاں، جد د جہدِ حیات، پہلے افکارِ حیات اور پھر اس کے بعد فلسفۂ حیات میں تبدیل ہوتے رہے، اس لئے کہ جو گندر پال ایک عام آدمی نہ تھے ایک فنکار اور افسانہ نگار ہونے کے ناتے حقیقت افسانہ اور افسانہ حقیقت میں تبدیل ہوتے رہے۔ وہ کبھی تنہا نہیں رہے۔ کہانی ہمیشہ ان کے ساتھ رہی اپنی تمام تر اذیتوں و ہجرتوں کے ساتھ، گیان اور دھیان کے ساتھ۔ اذیتوں و ہجرتوں سے نئی نئی سچائیوں کے باب روشن ہوتے ہیں۔ جب وہ اورنگ آباد میں تھے تو ان کی فکر یہ تھی:

”نئے امکانات کی ٹوہ میں اپنی سرگرمی میں کہانی کو وقوعے کے کھلے میں پاؤں پاؤں نہتے جا لینے کے بجائے ہم راستے میں علوم کی بکتر بند گاڑیوں میں جا براجمان ہوئے —-“

یا یہ جملہ دیکھئے: ”ایک فنکار ہونے کے ناتے بھی مجھے سدا الفاظ کی خارجی خلل اندازی سے چڑسی رہی ہے۔ فن اور زندگی ہر دو میں بات بنے تو تب ہی بنتی ہے —-“

یہ وہ دور تھا جب جدیدیت کے دھند لے بادل ادب کی فضا میں منڈلا رہے تھے اور اس کی یا اورنگ آباد کی سرد و گرم فضا میں جوگیندر پال بھی بہہ رہے تھے یا یوں کہئے کہ ان کی دانشورانہ افتادِ طبیعت جدیدیت کو راس آ رہی تھی کہ سب کچھ کھُلا کھُلا سا نہ ہو کہ زندگی بذات خود جتنی کھلی ہے اتنی ہی بند بھی ہے اور اس کے معاملات —- ‘‘ اک معّمہ ہے سمجھنے کا نہ سمجھنے کا‘‘  —-لیکن کہانی کے تعلق سے اس کی کچھ اپنی بھی حقیقتیں ہوا کرتی ہیں جن کا علم و عرفان ذرا دیر سے ہی ہوا کرتا ہے تو پھر اسی قلم سے ایسے جملوں کا برآمد ہونا فطری ہوتا ہے:

” اعلیٰ سے اعلیٰ علم جب گھٹنا میں گھٹ کر پیش نہیں ہوتا اس وقت تک بے سیاق اور غیر آباد ہونے کے باعث با معنی نہیں ہوتا—-“

اور وہ جلد ہی ‘‘ میں ‘‘  یا ‘‘ میں بھی‘‘  کے حصار سے نکل آتے ہیں یعنی کھل جاتے ہیں اور بے ارادہ، بے محاورہ لکھی جانے والی کہانیوں میں عرفان و آگہی کا در کھلتا ہے اور پھر اپنے ایک اہم مجموعہ کا نام ہی ‘‘  کھلا ‘‘  رکھتے ہیں اور لکھتے ہیں:

‘‘ ساری عمر بیت جانے پر کہیں کھلے میں سانس لینا نصیب ہو تو ہو اور ایسا ہو پائے تو ڈھلتی عمر زندگی بھر کی تگ و دو کا انعام معلوم ہوتی ہے۔ اپنی یہ نئی کہانیاں مجھ پر اس طرح بیتی ہیں کہ اپنے ان کرداروں پر مجھے اپنے آپ کا بھی گمان ہوا ہے اور مجھے محسوس ہوا ہے کہ میں نہیں رہوں گا تو کیا؟یہ سارے کردار تو رہ جائیں گے۔ زندگی کا جو ہر تو وہی ایک ہے۔ اپنی تخلیق میں مستقل ہو جانے کی جہد، ازل سے انسان کی اس چاہ سے عبادت رہی ہے کہ وہ اپنی عدم موجودگی میں بھی آئندہ کی برتر کی زندگی میں برابر شریک رہے۔ میں بھی عین فطری طور پر پہلے بہ تامل اور رفتہ رفتہ بے تامل اسی کھلے میں اُترتا چلا گیا کہ اپنے وجود سے باہر اوروں میں بھی جی پانے کی خواہش پوری کر سکوں “

اس بے تامل کھلے پن نے ایک نئے اور اہم جوگیندر پال کو جنم دیا۔ زندگی سے تو وہ پہلے بھی ورستیہ تھے لیکن انفرادی انداز میں، اپنی ذات کے حوالے سے، لیکن اس وسعتِ نظرسے انھیں اپنے وجود سے باہر اوروں میں بھی جی پانے کی خواہش ہونے لگی، ایسا نہ تھا کہ سب کچھ ان کی اپنی ذات ہی تھی کائنات نہ تھی لیکن اس کا حوالہ محدود مشروط ضرور تھا لیکن وسعتِ نظر نے زاویۂ نظر کو تبدیل کا اور وہ ترقی پسند فکر جس سے وہ دور دور تھے قریب آنے لگے۔ دلّی جیسے بڑے شہر کے تقاضے بھی اورنگ آباد سے بہت مختلف تھے۔ یہ شہر صرف ایک شہر نہ تھا بلکہ ایک تاریخ و تہذیب، ایک زندگی تھا، جگمگاتے ہوئے اس شہر کو کھلی آنکھوں سے دیکھا تو کمبخت نابینا لگا اور انھوں نے نادیدؔ جیسا اہم ناول لکھ ڈالا جو اورنگ آباد جیسے شہر میں نہیں لکھا جا سکتا تھا۔ دلی کے بارے میں وہ خود لکھتے ہیں:

‘‘ دلّی آ کر مجھے یہ سہولت فراہم ہو گئی کہ کہانیوں سے ساتھ پڑے پڑے ایک پورا یُگ بِتا دوں۔ یہی وجہ ہے کہ میرا یہ تمام عرصہ گھر سے باہر ہی گزرا اور میری خیریت کی اطلاع دوستوں کو میرے کرداروں کے ذریعہ ہی بہم پہنچتی رہی۔ ان دوستوں میں جو نقاد تھے وہ کبھی اتفاقی ملاقات پر چھوٹتے ہی میرے کرداروں کے اَن ہونے پن کی شکایت کرنے لگتے۔ اب میں کیا کہتا۔ نقاد حضرات کا ذکر اس اصطلاح کے جامد معنی میں کرتے ہیں۔ سچائی یہ ہے کہ ہر کہانی کا کوئی وقوعہ یا کردار بذاتِ خود قابلِ یقین ہوتا نہ نا قابلِ یقیں۔ بلکہ جیسا بھی ہوتا ہے کہانی کے حوالے سے ہوتا ہے۔ جسے ہم یا ہمیں جو کچھ بھی پیش آتا ہے ہماری مخصوص زندگی کے حوالے سے۔ اگر کسی کہانی کا کردار کہانی میں واقعی بس جائے تو بظاہر ان ہونا معلوم ہونے کے باوجود سچ مچ ہوتا ہے اور کہانی اسی کی طبع زاد منطق کے مطابق ناگزیر انجام پاتی ہے۔ ‘‘

زمیں بدلی، فلک بدلا، نظامِ زندگی بدلا تو زندگی کا اندازِ نظر بھی بدل گیا۔ ایک اچھی بات یہ ہوئی کہ وہ دماغ سے زیادہ دل کی طرف مڑ گئے — ‘‘ میں ؟ مجھے کیا پتہ تھا۔ بھیڑ میں کہیں کچھ کھویا ہوا تھا لہٰذا موقع پاتے ہی اپنی تلاش میں دل کی طرف منہ موڑ لیا۔ ‘‘

جوگیندر پالؔ انجمن ترقی پسند مصنفین کے صدر ہو گئے۔ ایک سوچ اور نظریہ کے ساتھ۔ کئی سال صدر رہنے کی وجہ سے انھوں نے نجانے کتنی کانفرنسیں، سیمینار مذاکرے وغیرہ میں شرکت کی۔ اب ان کا مکالمہ اپنی ذات سے کم اپنے عہد سے زیادہ ہونے لگا۔ پندرہ بیس سال کے اس سفر میں اگرچہ ان کے دوہی مجموعے آئے ، کھلا،  اور ، کھودو بابا کا مقبرہ،  لیکن اس عہد کے افسانوں میں ان کا نظریہ، وژن اور کھلا پن واضح طور پر سامنے آیا اور اسی دور میں انھوں نے عفریت، گرین ہاؤس، فاختائیں، کھودو بابا کا مقبرہ جیسے عمدہ اور اہم افسانے بھی خلق کئے اور مشہور ہوئے۔ کھودو بابا کا، اور گنگا رام، رحمن بابا، جیسے عوامی کردار بھی ان کی کہانیوں میں مرکزی حیثیت اختیار کرنے لگے اور وہ زندگی کی کھلی شاہراہ پر آ کر زندگی کی عام سی صورتوں سے آنکھیں چار کرنے لگے۔

نیا سفر میں مطبوعہ ان کا تازہ مضمون،  مکالمہ اپنے عہد سے ،  میں اگرچہ اکثر خیالات نئے نہیں ہیں تاہم اس میں مہک نئی نئی سی ہے۔ محفلوں کی گہما گہمی دوستوں کی بے تکلفی، شراب نوشی وغیرہ کا ذکر تو ہے ہی لیکن اسی سرور میں یہ سچی بات بھی ہے:

‘‘ اورنگ آباد پہنچ کر کہانی میں میری دلچسپی اتنی بڑھ گئی تھی کہ سارا دن کالج کے بعد میں ساری رات لکھنے پڑھنے میں بتا دیتا اور اس سے بھی خوشگوار بات یہ ہوئی کہ میں کہانی کی سیدھی راہ سے بھٹک گیا اور متعین اور محفوظ مقام پر جا لینے کے بجائے بھٹک بھٹک کر بعض نئے مقامات کی ٹوہیں محسوس کرنے لگا۔ جن کی واضح تر شناخت سے میں ابھی جوں کاتوں قاصر تھا۔ ‘‘

دن رات کی عبادت صراطِ مستقیم پر لا کھڑا کرتی ہے لیکن ادب کی منزلیں نرالی ہوتی ہیں وہ صرف عبادتوں سے طے نہیں ہوتیں اس کے لئے گمرہی اور بھٹکاؤ ضروری ہے۔ جوگیندر پالؔ جو بھٹکاؤ کو ضروری عمل مانتے ہیں اور یہ صحیح ہے کہ جب تک ٹھوکریں نہ ہو دنیا ٹھوکر میں نہیں آتی۔ زندگی کا تیکھا و سچا عرفان بھی نہ ہو گا۔ نئے نئے امکانات اور مقامات تک رسائی بھی ممکن نہیں ہوتی اس لئے کہ بڑی فنکاری، عظیم دانشوری، راستی میں گمرہی اور گمرہی میں راستی تلاش کرتی رہتی ہے اور نامکمل پن کا اضطراب اسے در در پھراتا رہتا ہے۔ جو لوگ کہانی کو صرف ایک ادبی و تخلیقی عمل سمجھتے ہیں وہ ان رموز و نکات کو سمجھنے سے قاصر رہتے ہیں، جو کہانی میں زندگی کی حقیقت اور حقیقت میں نروان کی راہ تلاش کرتے ہیں وہ ہمہ وقت واضح نشانات اور امکانات سے قاصر و محروم ہی محسوس کرتے ہیں۔ جوگیندر پالؔ کے اس تفکرانہ و مجاہدانہ عمل نے جہاں سہل پسند قارئین و ناقدین کے سامنے مشکلیں کھڑی کیں۔ ان کے بارے میں بڑے بڑوں کی ایک مخصوس رائے قائم ہونے لگی۔ وزیر آغا نے لکھا:

‘‘  جوگیندر پالؔ ان ادیبوں میں سے ایک ہیں جن کی تحریروں میں سوچ کا عنصر روشنی کی درخشندہ گزر گاہوں کی طرح صاف نظر آتا ہے۔ ادب میں سوچ کے عنصر کی آمیزش ایک نہایت نازک کام ہے کیونکہ ذراسی کو تا ہی بھی تحریر کو ادب کی سطح سے نیچے اتار کر صحافت کی سطح پر لا سکتی ہے۔“

پر وفیسروہاب اشرفیؔ نے بھی کہا:

”جوگیندر پالؔ کا افسانوی ماحول سطحی نظر میں افسانوی نہیں معلوم ہوتا۔ مجھے احساس ہے کہ وہ حضرات جو افسانے کو کومل نازک سیدھا سپاٹ فن سمجھتے آئے ہیں انھیں جوگیندر پالؔ کو پڑھ کر سخت مایوسی ہو گی۔ “

مثالیں اور بھی ہیں جن میں ان کی شکل پسندی پر اتفاق ہی کیا گیا ہے۔ ایک نئے ناقد ارتضیٰ کریم جنھوں نے جوگیندر پالؔ کے فکر و فن پر وقیع کام کیا ہے۔ وہ بھی کہتے ہیں:

”در اصل جوگیندر پالؔ گہرے فکر کے آدمی ہیں چنانچہ ان کے افسانوں کی قرأت اگر عام افسانوں کی مانند کی جائے تو پھر یہ افسانے ،  افسانہ کے زمرے سے ہی باہر نظر آئیں گے۔ چونکہ اس میں بظاہر نہ تو کہانی پن کا گمان ہو گا نہ ہی آغاز، انتہا اور نہ کوئی نقطہ عروج۔ کہا جا سکتا ہے کہ جوگیندر پالؔ کے فکشن کی اپنی بوطیقا ہے۔ “

غور کرنے کی بات یہی ہے کہ یہ بوطیقا کیا ہے اور اس بوطیقا کا بوجھ افسانے کا فن اُٹھا سکنے کے لائق ہے یا نہیں ؟جیسا کہ ارتضیٰ کریم نے بھی سوال قائم کیا:

”اگر جوگیندر پالؔ کے فن کی شناخت استفہام اور فلسفہ میں پوشیدہ ہے تو کیا کہانی کا فن، فلسفہ کی پیچیدگی اور خشکی کا بار اُٹھانے کا متحمل ہے نیز کیا جوگیندر پالؔفلسفہ کو کہانی میں یا کہانی میں فلسفہ کو پیش کرتے ہوئے کہانی کے بنیادی تقاضے یعنی کہانی پن یا دلچسپی کو پورا کرتے ہیں —-“

عام قاری، سطحی نظر، صحافت یا کہانی پن سے متعلق جوگیندر پالؔ کی کہانیوں کے حوالے سے بہت سارے سوالات قائم ہوتے ہیں اور ہونے بھی چاہیے کہ ایک بڑے فنکار کی عظمت اور معنویت ان سوالوں میں بھی پوشیدہ ہوا کرتی ہے۔ ڈی۔ ایچ۔ لارِنس نے بھی کہا تھا کہ بڑے فکشن کا نقطہ عروج یہ ہوتا ہے کہ وہ فلسفہ ہو جائے۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ادب میں فلسفہ کی منزل ہمیشہ بعد میں ہی آتی ہے۔ ادب پہلے ادب، فکشن پہلے فکشن ہوتا ہے۔ بڑا فن ہمیشہ آسانی سے مشکل کی طرف جاتا ہے اور وہ عظیم بھی اسی لئے ہوتا ہے کہ خاص قاری سے لے کر عام قاری تک کا آئینہ بن جاتا ہے۔ جس میں ہر سطح کا قاری اپنے عکسِ جمیل کا نظارہ کر لیتا ہے۔ بڑا ادب، بڑا افسانہ زندگی کے مختلف شیڈ، مختلف رنگوں سے مل کر تشکیل پاتا ہے۔ اسی لئے پال ہمیشہ زندگی کی ہی بات کرتے ہیں یہ ضرور ہے کہ وہ پہلے رمزیہ اسلوب اپناتے ہیں بعد میں کھلے انداز کو اختیار کرتے ہیں۔ ان کے افسانوں میں بھی یہی عمل کارفرما ہے کہ وہ شروع ہوتا ہے بوجھل انداز میں لیکن جیسے جیسے آگے بڑھیئے اس کی پرتیں کھلتی ہیں اور پھر کھلتی ہی چلی جاتی ہیں کہ اس میں زندگی کے وسیع تجربات و امکانات پوشیدہ رہتے ہیں۔ فنکار حساس ہو اور اس پر مفکرو دانشور بھی تو پھر دلّی جیسے شہر سے بھی چین و سکون کہا۔ اسے تو سارتر کا یہ فلسفہ ہی راس آتا ہے کہ احساسِ غم ہی اعلیٰ ترین تحریروں کا زاویہ اور راستہ ہوا کرتا ہے تبھی تو کسی شاعر نے بھی کہا تھا ؎غم گیا ساری کائنات گئی، لیکن موجودہ دور میں ادیب غم اور نقصان کا کوئی کھیل کھیلنے کو تیار نہیں۔ زندگی کے تمام غموں کے ساتھ پال کو یہ بھی غم ہے۔ کیا بلیغ بات کہی ہے:

‘‘ زندگی کتنی دشوار ہے اور مشرق میں ہم اس ڈائلما کے عناصر سے ہی دو چار رہتے ہیں۔ ہماری مشکل شاید یہ ہے کہ ان عناصر کے تاکیدی ادراک کی پہلی اور آخری شرط عبادتی انہماک ہے جسے ہم بیشتر لکھنے والے اپنے اپنے روٹین سے خارج رکھتے ہیں اور یوں اپنے آپ کو تلاش و انکشاف کی واردات سے محروم کر دیتے ہیں اور اپنے نام کی ہجّے لکھ لکھ کر ہی سمجھ لیتے ہیں کہ ہم نے اپنی تخلیقی مہم سر کر لی۔ ‘‘

پال کی دانشورانہ شخصیت اور خلاقانہ فنکاریت کا سب سے بڑا وصف یہی عبادتی انہماک ہے جس نے ان کو ادب کا پجاری، افسانے کا صوفی اور گیان دھیان کا مسافر بنا دیا ہے۔ افسانوی ادب میں تاریخ، فلسفہ، اشتراک، جمال وغیرہ سب کچھ ہے لیکن گیان دھیان اور فلسفہ کے ایسے عناصر کم کم ہیں جو تصوف اور بھگتی کی راہوں پر پہلے بھٹکے پھر سنبھلے یا سنبھلے پھر بھٹکے۔ ایسی مبہم صورت میں افسانہ کو افسانہ بنے رہنا، روایت کا روایت بنے رہنا، قرأت کا قرأت بنے رہنا مشکل تو ہے۔ افسانے کی مشکل تو ہم سب سمجھنے کو تیار ہیں لیکن زندگی کی وہ مشکل جو پال کے قلب و جگر میں فلسفہ بن کر پیوست ہو گئی ہے وہ کون سمجھے اور کیسے سمجھے۔ زندگی بھر کا علم، تجربہ، فلسفہ بھی چھوٹا لگنے لگے اور یہ دنیا بھی:

‘‘ زندگی کے ان آخری دنوں میں مجھے ساری دنیا چھوٹی سی معلوم ہونے لگتی ہے اور مرنا اس لیے واجب لگتا ہے کہ ایساہوپانے پر میرا بے انت سے بھی مکالمہ ہو گا—کیسے ؟—کس زبان میں ؟—عربی میں ؟ — – سنسکرت میں ؟—کس زبان میں ؟—اورکس میں ؟ اپنی تخلیقی زبان میں !—تو آئیے، اُس تخلیقی زبان کی تہذیب کے قابل ہو پانے کی تدبیر کریں۔ ‘‘

زندگی کے نروان کا راستہ نکل آئے تو ادب اور فکشن کا راستہ تو خود بخود نکل آئے گا۔ لیکن یہ بھی ہے کہ ادب ہویا فکشن یا دوسری اصناف، زندگی کے عرفان اور نروان کے ہی ذرائع ووسائل ہیں۔ ان دونوں کے درمیان ہوتا ہے فنکار و فلسفی، جو مشکل راستوں کو آسان بنانے کی جد و جہد کرتا ہے۔ ہر چند کہ اس جد و جہد میں اکثر یہ خطرہ بھی بنا رہتا ہے کہ اس کی شدتِ عبادت اس کی ذات کو تو نروان کی منزل پر پہنچا دیتی ہے لیکن اپنے پڑھنے والوں کے لئے، آنے والی نسلوں کے لئے بصیرت، بلاغت اور حکمت کے ایسے ایسے مراحل و منازل چھوڑ جاتا ہے کہ جن پر روشنی کم پڑتی ہے، سر مغزی زیادہ ہو جاتی ہے۔ یہ عمل شعبۂ فلسفہ کے لئے تو قابلِ قبول ہوتا ہے لیکن شعبۂ ادب کے تقاضے کچھ اور ہوتے ہیں۔

جوگیندر پالؔ نے جد و جہد، تگ و دو، مطالعہ و مشاہدہ سے بہت کچھ سیکھا اور بہت کچھ دیا۔ بے پناہ سنگھرش، بے لوث عبادت اور بے غرض خدمت میں معصومانہ و مفکرانہ انداز سے کچھ ایسا غرق ہوئے کہ انجانے میں یہ فلسفہ ہاتھ سے نکل گیا کہ ادب کی تکمیلیت و دائمیت میں جتنا دخل فکرو فلسفہ کا ہوتا ہے اتنا ہی اس کی پیش کش میں سادگی اور سہل انگاری کا۔ جتنا خواص کا اتنا ہی عوام کا۔ یہاں مشکل میں آسانی ہے اور آسانی میں مشکل۔ یہی وجہ ہے کہ کوری مشکل پسندی اور پیچیدگی عظیم ادب کا مقبول حوالہ کبھی نہیں بن پاتی۔ عوامی سطح پر اس کی مقبولیت، مقبولیت کی نفی کر جاتی ہے۔ ادب کی اُفتادِ طبع اور اس کا فطری مذاق بالخصوص کہانی کا مقبول ترین ان امور کا متحمل نہیں۔ زندگی کے تقاضے کچھ اور ہوتے ہیں ادب کے کچھ اور—اور کہانی کے تو بالکل ہی کچھ اور—یہ تو کہنے سننے کے عمل میں ہی سب کچھ کہہ جایا کرتی ہے اس لئے بیانیہ ناگزیر ہے۔ مشکل بات کو اگر مزید مشکل انداز سے کہا جائے تو کیا فن کا حق ادا ہو سکے گا۔ لطف تو یہ ہے کہ بڑی سے بڑی پیچیدہ اور گھمبیر بات کو آسان بنا کر پیش کیا جائے۔ دنیا کا بڑا ادب، بڑا فکشن انھیں بنیادوں پہ کھڑا ہے اسی لئے وہ خواص و عوام دونوں میں یکساں مقبول ہے۔

٭٭٭

 

 

 

 

جوگندر پال : ہمارے دور کا ایک اہم کہانی کار ۔۔۔ عبداللہ جاوید (کینیڈا)

 

جوگندر پال ہمارے دور کا وہ افسانہ نگار ہے جو قد آور لگتا نہیں کہ بلا جھجھک عظیم کہلایا جا سکے لیکن اُس کا قلم تھامنے والا ہاتھ شاید ساری دنیا کو اپنے احاطۂ تحریر میں سمیٹے ہوئے ہے اور اپنے مالک کو نہ صرف عظیم بلکہ لمحہ بہ لمحہ عظیم سے عظیم تر بنانے میں مصروف ہے۔ آج کے دور میں جب مشرق کے شعر و ادب پر مغرب کے شعر و ادب کی نئی نئی سچّی جھوٹی ، کھری کھوٹی تحاریک کی یلغار جاری ہے جوگندر پال ان معدودے چند افسانہ نگاروں میں سے ایک ہے جو اس یلغار سے انتہائی کامیاب اور مثبت انداز میں عہدہ بر أ ہو رہے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے قدرتی حقِ انتخاب سے کسی صورت دست بردار نہیں ہوئے۔ بیرونی اثرات میں سے صرف اُن کو قبول کیا جو دیس کی مٹی کے ہم طینت اور ہم مزاج محسوس ہوئے اور ان کو نظر انداز کر دیا جو بالکل اجنبی اور بے جوڑ لگے۔ مثال کے طور پر علامت پال کے افسانوں میں ہے بھی اور نہیں بھی۔ ہے، ان معنوں میں کہ اس کے کردار ہوتے ہوئے بھی گوشت پوست کے جیتے جاگتے آدمی ہوتے ہیں۔ نہیں ہے۔۔، ان معنوں میں کہ اس کا علامتی افسانہ یعنی وہ افسانہ جس کو نقادوں نے علامتی افسانہ تسلیم کیا ہے علامتی ہونے کے باوجود افسانہ ہونے سے باز نہیں رہتا۔ اُس کا استعاراتی پہلو اپنی طوالت اور وسعت کے باوجود واقعیت کا خاتمہ نہیں کرتا۔ نتیجے کے طور پر افسانے میں کہانی کا وجود برقرار رہتا ہے۔ ہمارے اردو+ہندی یا ہندی+ اردو ادب میں آج کے افسانے پر جو کڑا وقت آیا ہے اس کا بڑا سبب ہمارا احساس کمتری ہے جس کو مغربی ادب کے مقابلے میں ہم میں سے بیشتر لکھنے والے اور ادب کے پارکھ یعنے تنقید نگار اپنے آپ پر مسلط کئے رہتے ہیں۔ احساس کمتری ہم کو نقالی کے راستے پر لگا دیتا ہے۔ نقالی کے راستے پر چل کر ہم یہ بھی فراموش کر بیٹھتے ہیں کہ ہم کون ہیں ؟ہماری اصلیت کیا ہے ؟ہماری جڑیں کہاں ہیں ؟جبکہ مغرب کا ادب نئے نئے رجحانات،  تجربات اور میلانات کی زد میں ہونے کے باوجود اور نئی نئی ادبی تحاریک کی آپسی کش مکش کے سائے میں بار بار پلٹ پلٹ کر اپنی گراس روٹس کی جانب مراجعت کرتا رہتا ہے۔ اس ضمن میں امریکی شعر و ادب کو ایک مثال کے طور پر پیش کیا جا سکتا ہے۔

ایک جانب امریکہ جدید ترین ادبی میلانات، رجحانات اور تحاریک کی سب سے بڑی منڈی ہے اور امریکی نقاد اور ادیب ان کے عالمی آڑھتی تو دوسری جانب امریکہ کا شعر و ادب قدیمی نخلِ ثقافت سے وابستہ و پیوستہ رہتا ہے۔ اس نکتے کی وضاحت کے لیے مَیں لارافرمینLAURA FURMANکے ایک تبصرے سے دو فقروں کا حوالہ دینا چاہتا ہوں۔ سوزان فوم برگ شائفر کے مشہور افسانے ‘‘ بھیڑئیے ‘‘  پر بات کرتے ہوئے وہ کہتی ہے:          ‘‘ اس کی کہانی ، بھیڑئیے ، قاری کو اس جرأت سے آشنا کرتی ہے جو شائفر سے مخصوص ہے اور ساتھ ہی استعارے پر اس کے عبور سے ، اس کی تخیلاتی پرواز اور بحفاظت زمین پر اُتر آنے کی صلاحیت سے۔ کہانی قاری سے واقعیت کی سطح پر ابلاغ کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے طول دئیے ہوئے استعارے کی سطح پر بھی باتیں کرتی ہے۔ لمبی ازدواجی زندگی اور بڑھتی عمر کی دہشت سے لبریز ‘‘  ۔ آج کے امریکی ادب نے کہانی کی واقعیت کو بَلی چڑھا کر علامتی افسانے کو پروان چڑھانا گوارا نہیں کیا اور نہ ہی اس کی قدر افزائی کی۔ لارا فرمین کا ذکر چھڑ گیا ہے تو یہ بھی ملاحظہ کریں کہ مشہور امریکی افسانہ نگارالائیس منرو کے بارے میں وہ کہتی ہے: ‘‘ یوں لگتا ہے کہ منرو افسانے کے فارم کو پیچیدہ سے پیچیدہ بنانے میں لطف لیتی ہے لیکن اُس کو ٹوٹنے نہیں دیتی۔ ‘‘

آپ نے ایک مرتبہ پھر ملاحظہ کیا کہ آج کے امریکی ادب میں جدت کو روایت کی شکستگی کے بغیر قبول کرنے کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ آج کا امریکی افسانہ کسی طور بھی بے جڑا نہیں کہلایا جا سکتا۔ اسی طرح جوگندر پال بھی جدید بلکہ جدید ترافسانہ نگار ہے لیکن بے جڑا نہیں۔ اس کا قلم اُسی زمین سے اُگا ہے جس زمین سے منشی پریم چند کا قلم اُگا تھا۔ جس کی زبان بھی پریم چند کی زبان کی مانند عوام کی زبان ہے۔ اس زبان کا تانا،بانا کھڑی بولی اور ہلکی سی پنجابی بولی سے تیار ہوا۔ سچی بات تو یہ ہے کہ اس کی بولی میں لچر پن نہیں ملتا۔ وہ بازار کی زبان میں لکھتا ہے لیکن اُس کی زبان بازاری نہیں۔ اس کی زبان یوں بھی اس کی اپنی نہیں۔

مَیں یقین سے تو نہیں کہہ سکتا لیکن میرا قیاس یہی کہتا ہے کہ وہ گھر میں پنجابی بو لتا ہو گا۔ باہر پنجابی آمیز ہندی+اردو جبکہ ساری عمراُس نے انگریزی پڑھائی۔ اس کے افسانوں کی زبان اُس کے کرداروں کی زبان ہے اس کے کرداروں کی اکثریت نچلے اور درمیانی طبقے سے تعلق رکھتی ہے۔ اس کا قلم اونچے طبقے پر نہیں چلا۔ اُس کے افسانوں میں اونچا طبقہ بالراست داخل نہیں ہوتا۔ وہ ایک سچا قلم کار ہے۔ وہ اپنے چاروں طرف بکھرے ہوئے افسانوں کو اپنے مشاہدے سے پا بہ زنجیر کر کے اپنے سوچنے والے ذہن اور محسوس کرنے والے دل سے گزار کر فطری اور انتہائی بے ساختہ انداز میں کاغذ پر منتقل کر دیتا ہے۔ اس کی افسانہ نگاری کا کمال یہ ہے کہ اس کی ٹکنیک، اُس کی فن کاری ، اُس کی محنت اور وہ خود کبھی ظاہر نہیں ہوتے۔ وہ پڑھنے والے کو اپنے افسانے کے اندر داخل کر لیتا ہے۔ پڑھنے والا افسانے کو واقع ہوتے ہوئے نہ صرف دیکھتا ہے بلکہ کرداروں کے اندر اُتر کر اُن کو محسوس بھی کرتا ہے۔ پڑھنے والا افسانے کے اندر سے اور افسانہ پڑھنے والے کے اندر سے ہو کر گزرتا ہے۔ یہاں مَیں افسانہ ، کردار اور قاری کی بات کر رہا ہوں کہانی کار کی بات نہیں کر رہا۔ وہ تو اِن سب میں ہے لیکن سب سے الگ اپنی موجودگی کا مکمل اِخفا کیے ہوئے۔ یہ معاملہ تو ہے ہی کہ فن کا اِخفا ہی فن ہے لیکن یہ فن کار کا اخفا ہمارے نقادانِ فن کی نظروں سے کس طرح اوجھل رہا؟

جوگندر پال کے کرداروں پر بات کرتے ہوئے مَیں اس نکتے پر زور دینا پسند کروں گا کہ اس کے کردار بظاہر سیدھے سادھے ہوتے ہیں لیکن ہوتے بے حد پیچیدہ (complex)ہیں۔ پیاز کی مانند وہ پرت پرت کھولنے پر کھلتے ہی چلے جاتے ہیں۔ ہر پرت گنجینہ معنیٰ کا طلسم ثابت ہوتا ہے اور پڑھنے والے کو ایک نئی معنویت سے یا معنوی اشاریت سے آشنا کرتا ہے۔ اس معنویت یا معنوی اشاریت کا ابلاغ کرداروں کی خارجی سطح پر بھی ہوتا ہے اور داخلی سطح پر بھی۔ کرداروں اور پلاٹ کا باہمی رشتہ ایسا نہیں کہ اس سے صرفِ نظر کیا جا سکے۔ جوگندر پال کا افسانہ کرداروں کے اعمال اور افعال سے تشکیل ہوتا نظر آتا ہے۔ یہ کردار اپنے قول اور فعل میں آزاد دکھائی دیتے ہیں۔ یوں لگتا ہے کہ ہر کردار زندہ اور منفرد ہے۔ اگر تابع ہے تو اپنی انفرادی سوچ کا پابند ہے تو اُس ماحول کا جس میں وہ سانس لے رہا ہے۔ اس کے علامتی کردار،  نمائندہ کردار بھی زندہ ، منفرد اور با اختیار افراد ہونے کے حق سے دست بردار ہوتے نظر نہیں آتے۔ افسانے کی مرکزیت اگر ان کو باندھے رکھتی ہے تو وہ ڈور نظر نہیں آتی جس سے وہ بندھے ہوئے ہیں۔ سب سے بڑی بات ایسی کسی ڈور کو حرکت دینے والی انگلیاں بھی دکھائی نہیں دیتیں جن سے لکھنے والے ہاتھ تک رسائی ہو۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پلاٹ جیسی کوئی چیز جوگندر پال کے افسانوں میں ہوتی بھی ہے یا نہیں ہوتی؟اس کا جواب یہ ہے کہ پال کے افسانوں میں پلاٹ ہوتا ہے اپنے سارے لوازمات کے ساتھ۔ وہی کہانی کو اپنے سفر پر لے جاتا ہے اور سفر کو اختتام پذیر کرتا ہے۔ یہ اور بات کہ وہ اپنے ہونے کا اعلان نہیں کرتا۔ لطف کی بات یہ ہے کہ جوگندر پال اپنے کردار اور پلاٹ کے ساتھ کیا کرتا ہے اس کے بارے میں کوئی واضح فیصلہ کرنا آسان نہیں ہے۔ اگر میں ایسا کرنے بیٹھ جاؤں تو اپنے آپ کو  ، اُوور سمپلی فائی،  کئے بغیر نہ رہ سکوں گا۔ میرے خیال میں وہ کردار اور پلاٹ کو ساتھ لے کر چلتا ہے۔ اس کے ذہن کے تخلیقی نہاں خانے میں افسانہ پورا کا پورا تخلیق پاتا ہے اور کاغذ پر اتارے جانے سے پہلے کچھ وقت رہتا ہے۔ اس دوران افسانے کے جملہ عناصر ایک دوسرے سے شیرو شکر ہوتے ہیں۔ ایک دوسرے کی تخلیق و تشکیل ، تعمیر و تخریب اور تکمیل کرتے ہیں۔ افسانہ نگار کو یہ سہولت حاصل ہے جب کہ ناول نگار اس سے محروم ہے۔ افسانہ نگار ڈیوڈمینس David Meansنے کیا خوب کہا ہے: ‘‘ مجھے کہانیاں لکھنا زیادہ پسند ہے۔ مجھے یہ اچھا لگتا ہے کہ ایک پوری چیز کو اپنے سر میں رکھوں اور اس کو دیر تک گھماتا رہوں۔ ‘‘

جوگندر پال کرتا کیا ہے ؟کہانیاں لکھتا ہے۔ لڑکے لڑکیوں کو پڑھاتا رہا ہے۔ کوئی تعجب نہیں آج بھی کسی کو پڑھاتا ہو۔ کہتے ہیں استاد آخری سانسوں تک استاد رہتا ہے۔ پڑھانے لکھانے کی عادت کبھی نہیں چھوٹتی۔ پڑھانے لکھانے کے ساتھ ساتھ وہ پڑھتا لکھتا بھی ہے۔ یہ پڑھنا لکھنا بھی ساری عمر کا سودا ہے، سودائے عشق کی طرح۔ پال اس معاملے میں بھی پیچھے نہیں اگرچہ عمر ڈھل چکی۔ اگر یقین نہ آئے تو اُن کتاب ‘‘ کھلا‘‘  کا انتساب دیکھ لیجئے۔ ایک جانب لکھا ہے ‘‘ تیرا ہی تیرا‘‘  اور دوسری جانب تحریر ہے ‘‘ کرشنا کے لیے ‘‘  ۔        جوگندر پال کتابیں پڑھنے کے ساتھ آدمیوں کو بھی پڑھتا ہے۔ آدمیوں کو چھوڑئیے وہ جانوروں کو بھی پڑھتا ہے۔ اللہ کی جملہ مخلوقات کو پڑھتا ہے۔ جاندار اور بے جان۔ پڑھنے کے ساتھ وہ جانتا بھی ہے۔ وہ ہونے کو اور نہ ہونے کو جانتا اور سمجھتا ہے۔ اس کی کہانیوں میں مغرب کی وجودیت بھی ہے اور مشرق کی بھی۔ کبھی تو کبھی وہ نی ہیلسٹ Nihilist بھی لگنے لگتا ہے۔ یوں لگتا ہے کہ وہ بس جاننے میں لگا ہوا ہے اور اپنے پڑھنے والوں کو بھی اس پر مائل کرنا چاہتا ہے۔ اپنی کہانیوں میں خود تو کچھ نہیں کہتا البتہ اس کی کہانیاں بہت کچھ کہتی ہیں اس کی کہانی کا قاری کہانی پڑھنے کے بعد وہ نہیں رہتا جو وہ پڑھنے سے پہلے تھا۔ اس نے ایسی کہانیاں بھی لکھی ہیں جو اینٹی سٹوریز (کہانیاں )بھی کہلائی جا سکتی ہیں لیکن پڑھنے والا شاید یہ محسوس نہیں کر سکتا۔ اس کو ایسا ہی لگتا ہے کہ اس نے جو کچھ پڑھا وہ کہانی ہی تھی۔ ایک بھلی یا شاید بُری بات پال میں یہ ہے کہ وہ اپنے آپ کو دہراتا ہے۔ بعض اوقات وہ پلاٹ کو دہراتا ہے اور کبھی کردار کو۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اس کو کوئی موضوع ، کوئی مرکزی خیال Theme، کوئی کردار ہانٹ کرتا ہے تو اس کو نئے انداز میں ٹریٹ کرنے کے لیے دہرانے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ بہرحال اس مرحلے پر اس کے چند ایک افسانوں کا حوالہ ناگزیر ہو گیا ہے۔ میرا خیال ہے سب سے پہلے اس کے افسانے ‘‘ عفریت ‘‘  کو پڑھا جائے۔ اس کے بنیادی کردار ہیں مَیں ، بچہ اور۔۔ ۔۔ راون۔ راون جس کو ہر سال جلایا جاتا ہے لیکن وہ ہر سال بچ نکلنے میں کامیاب ہو جاتا ہے۔ نہ صرف بچ نکلنے میں کامیاب ہو جاتا ہے بلکہ ہر نئے سال وہ اونچے سے اونچا ہوتا جاتا ہے۔

، بچہ،  جو ، میں ، کا بچہ ہے۔ شاید ، میں ،  کی بیوی کے عاشق کا ، بچہ ، ہے۔ میں ، اس حقیقت سے واقف ہوتے ہوئے بھی بچے سے اس قدر وابستہ ہو چکا ہے کہ اس سے دستبردار ہونے پر راضی نہیں۔ بچے کی ماں کا یہ مسئلہ تھا کہ وہ کسی شادی شدہ آدمی پر عاشق تھی۔ چونکہ وہ حاملہ ہو چکی تھی تو مجبوراً ، میں ، سے شادی کی اور جب عاشق کی بیوی پر اسرار حالات میں چل بسی تو اس نے ، میں ، سے طلاق لے کر عاشق سے شادی کر لی اس کہانی میں مرد کردار چار ہیں۔ پہلا مرد تو راون ہے جس نے دس سروں کا مالک ہونے کے باوجود رام کی بیوی اور لکشمن کی بھابی کو ہرنے کی حماقت کی۔ دوسرامرد ، میں ، ہے جس کی بیوی کو ایک اور مرد یا ایک راون اپنی سیتاکو ٹھکانے لگا کر ہر لیتا ہے لیکن یہ ، میں ، رام کہلانے کا مستحق نہیں ہے ایک تو اس کا لکشمن جیسا کوئی بھائی نہیں ہے دوسرے وہ خود بھی ایک ، راون،  ہے  یعنے تیسرا راون جس نے ایک غریب آدمی کی بیوی کو ہر لیا ہے جو اس کے گھر نوکرانی بن کر آئی ہے لیکن ، میں ، کی عورت اور ، میں ، کے حرامی بچے کی ماں بن کر رہنے پر مجبور ہے جب کہ اس کا اپنا شوہر بیوی سے اور بچہ ماں سے محروم ہو گیا ہے۔ دونوں مردوں نے دو مردوں سے ان کی بیویاں اور بچے سے اس کی ماں ہر لی ہیں اور راون کے پتلے کا قد سال بہ سال دراز سے دراز تر ہوتا جاتا ہے۔ کہانی کا ایک اور رخ۔ مَیں ہوٹل کے کاروبار کی آڑ میں افیون اور کوکین کے عوض مغربی ممالک سے ہتھیار سمگل کر رہا ہے۔ مغرب اپنی طاقت سے اتنا خوفزدہ ہے کہ ہوش و حواس کھو کر جینا چاہتا ہے اور مشرق لڑتا بھڑتا نہ رہے تو اسے اپنی آزادی کا یقین نہیں ہوتا۔ ، میں ، دونوں کی ضروریات پوری کرنے میں جُٹاہوا ہے۔ چنانچہ کہانی میں دسہرے کی رسومات کا اختتام تخریب کاروں کی شوٹنگ پر ہوتا ہے۔ مَیں اپنے آپ کو حق بجانب گردانتے ہوئے سوچتا ہے ‘‘ لوگ مرتے ہیں تو میرا کیا دوش؟مُردے گننا بے کار لوگوں کا شغل ہے۔ میں تو سیدھے سیدھے اپنے کام سے کام رکھتا ہوں۔ جیسے بھی ایک کے دس بن جائیں۔ ‘‘

‘‘ عفریت‘‘  کو آپ نے دیکھا کہ انسانی زندگی پر کس طرح محیط ہے۔ یہ عفریت ہمہ جہتی ہے۔ بین الاقوامی عفریت جو اپنی عسکری طاقت کو سنبھالنے میں ناکام ہو کر بَولا ہو گیا ہے۔ جنس کا عفریت جس کا قد سال بہ سال دراز تر ہوتا جاتا ہے۔ معاشی بدحالی کا عفریت جو بچوں کو ماؤں سے اور بیویوں کو شوہروں سے محروم بنا رہا ہے اور تخریب کاری اور دہشت گردی کا عفریت انسانی خون سے ہولی کھیلنے میں مصروف ہے۔ اس کا علاوہ ڈرگ ایڈکشن کا جو ساری انسانیت کو اپنی لپیٹ میں لیتا جا رہا ہے۔ ، عفریت ، جیسے افسانے کو پڑھ کر ہم ایک اس سے مختلف افسانے کو پڑھتے ہیں جو مکالمہ ہے یا شاید خود کلامی اس کا فیصلہ قاری پر چھوڑ دیا گیا ہے۔ اس کا عنوان ہے ، گلزار، ۔ یہ افسانہ مشتمل ہے دو کرداروں مرشد اور مرید پر اور دو مقامات ویرانہ اور گلزار پر۔ چونکہ یہ فقرات کے تانے بانے سے تشکیل پاتا ہے اس سبب سے چند ایک فقرے ہم بھی اٹھا لیتے ہیں۔

‘‘ آنکھ کھلنے پر نظر چھن جاتی ہے ‘‘

‘‘ ہماری نجات صرف اسی مقام پر ممکن ہے جہاں ہمارے اعزأ ہمیں یکا و تنہا چھوڑ کر اپنی راہ ہولیتے ہیں ‘‘

‘‘ ہاں مرشد۔ مجھے اپنا ہونا تو بہرحال محسوس ہوتا ہے ‘‘

‘‘ نہیں پسرم۔ ہونا در اصل نہ ہونا ہے ‘‘

‘‘ تمہاری باتیں میرے سر کے اوپر سے گزر جاتی ہیں۔ مرشد‘‘

‘‘ تمہارے سر ہو تو اس پر سے بھی گزریں مگر تمہارے تو سر ہے نہ دھڑ۔ تم ہو ہی کیا جو کچھ ہوتے۔ ‘‘

‘‘ بلیک مَین‘‘  عفریت کی طرح جوگندر پال کی ایک قابل ذکر کہانی ہے۔ ظاہر میں توایک ایسے آدمی کی کہانی جو ایک عقبی گلی میں رکھے ہوئے ڈرموں کے کوڑے سے کباڑئیے کے مطلب کی چیزیں بٹور کر پیٹ پالتا ہے جس کی اپنی ایک کہانی ہے لیکن ڈرموں سے متعلقہ کوٹھیوں کی کہانیاں بھی اس آدمی کی کہانی سے جُڑی ہوئی ہیں۔ جوگندر پال کے اندر پریم چند اور منٹو اور کبھی کبھی بیدی جھلکنے لگتا ہے۔ اس افسانہ نگار کو کسی عصر یا کسی مکتبہ فکر تک محدود کرنا بڑی زیادتی ہو گی۔ وہ حد بندیوں میں آنے والا فن کار نہیں ہے اسی میں اس کی بڑائی ہے۔ منٹو کا ذکر آ گیا ہے تو یہ بھی کہنا پڑ رہ ہے کہ منٹو کی کہانیوں کی مانند جوگندر پال کی کہانیاں بھی غیر متوقع انجام سے دوچار ہوتی ہیں۔ یہ اور بات کہ پال کی کہانی میں یہ ٹوئیسٹTwistاکثر و بیشتر فکر کی سطح پر ہوتا ہے۔ یہاں اس کا بھی ذکر کرنے میں کوئی حرج محسوس نہیں کرتا کہ منٹو کے بارے میں یہ بھی کہا گیا (یہ سچ بھی ہو سکتا ہے )کہ اس نے یہ ٹکنیک مشہور امریکی افسانہ نگار او۔ ہنری سے لی تھی جس کا اصل نام ولیم سڈنی پورٹر تھا۔ غیر متوقع انجام والی کہانیوں کی جوگندر پال کے ہاں بہتات ہے کیوں کہ یہی اس کا فن ٹھہرا ہے لیکن جن کہانیوں کا موضوع جنس ہے اور وہ غیر متوقع انجام سے بھی دو چار ہوتی ہیں کچھ کم نہیں، بغیر تلاش کے مل جاتی ہیں۔

‘‘ ہری کیرتن‘‘  کے بڑے بابو بِگڑے بابو تھے کسی اوباش عورت کی زلف میں الجھے ہوئے۔ بڑے بابو کی سورگباشی ماں نے ان کی پتنی کو اس ٹارگٹ پر لگا رکھا تھا کہ صبر کے ساتھ اپنے میاں کو راہ راست پر لے آئے۔ ایک مدت کے بعد حالات کے کسی دھچکے نے اُن کو اس عورت سے چھڑایا اور اِن کی راتوں کو گھر اور بیوی کا راستہ دکھایا۔ ساتھ ہی انہوں نے دفتر سے چھٹی لے کر پتا کی خدمت شروع کر دی۔ ان کو دوائیاں بھی باقاعدگی سے دینے لگے۔ پتا بہت جلد سدھار گئے۔ ایک دن جب ان کی پتنی کسی مذہبی عورت کے انداز میں ہری کیرتن کی باتیں کر رہی ہوتی ہے تو بڑے بابو اس پر یہ راز افشاک ر تے ہیں کہ انہوں نے ایک دن پتنی اور سسر کو منہ سے منہ ملائے دیکھ لیا تب ہی چھٹی لے کر پتا کی خدمت شروع کی لیکن ایسی خدمت کہ دوائی جگہ سادی گولیاں دیتے رہے تا آنکہ وہ مر گئے۔ ، جادو،  کی نوکرانی بھابو جو ، عفریت ، کی نوکرانی کی مانند جوان نہیں ہے۔ اس کی سب سے بڑی خوبی جو گھر کی مالکن کو پسند آئی اس کا تنخواہ کے لیے بارے تنگ نہ کرنا۔ البتہ اس کے بارے میں یہ سنا تھا کہ اس نے جہاں پہلے کام کرتی تھی اس کے بچے پر جادو کر دیا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ مالکن نے اپنے بچے کو اس سے دور رکھا جب کہ بھابو بچے کو دیکھ کر بہت خوش ہوتی تھی۔ بھابو کا اپنا ایک بچہ تھا اس کے ساتھ کسی کے بلاد کار (Rape)کی نشانی۔ وہ مَسیں بھیگنے سے پہلے ہی گھر سے بھاگ گیا تھا۔ وہ ایک آس لگائے رکھتی شاید وہ اس کے پاس لوٹ آئے ساتھ ہی وہ یہ سوچنے لگتی کہ وہ کیسے آئے گا وہ تو کسی عورت کے ساتھ مزے سے رہتا ہو گا۔ وہ بے جان اشیاسے بھی باتیں کرتی تھی جیسے وہ زندہ افراد ہوں۔ ان سے وہ اپنے لڑکے کا ذکر بھی کرتی تھی۔

گھر کی مالکن نے اپنے بچے کو بھابو سے محفوظ رکھا کیوں کہ اس نے یہی سنا تھا کہ وہ بچوں پر جادو کرتی ہے۔ اس کہانی کا انجام مالکن کی توقع کے برخلاف ہوتا ہے۔ ملاحظہ کیجئے:

‘‘ میں پتھر کا پتھر دیوار سے جڑا ہوا تھا اور پھوٹ پھوٹ کر دیکھے جا رہا تھا کہ اپنی جان چھڑک چھڑک کر بھابو نے ایک ایک بے جان شے میں جان ڈال دی ہے۔ مجھ میں بھی!‘‘

آپ جان گئے ہوں گے کہ یہاں ، مَیں ، گھر کا مالک ہے۔ مالکن کا شوہر۔

افسانہ ‘‘ پھول‘‘  کا خاص کردار دریائے گنگا ہے جس کو لوگ گنگا میّا پکارتے ہیں۔ گنگا میّا گزر بھی جائے تو عین میں وہیں ہوتی ہے جہاں سے گزر گئی ہو۔ گنگا میّا سے مرادیں مانگنے کے لیے لوگ دور دور سے آتے ہیں۔ عقیدہ یہ بھی ہے کہ جو کوئی گنگا میں اشنان کر لے اس کے گناہ دھُل جاتے ہیں۔ یہ بھی عقیدہ ہے کہ جب تک مرنے والے کی ہڈیاں جن کو پھول بھی کہا جا تا ہے گنگا میں نہ بہا ئی جائیں اس کا کریا کرم پورا نہیں ہوتا۔ افسانے کا اسلوب مکالماتی ہے۔ غیر متوقع انجام دیکھنے کے لیے ان مکالموں سے گزرئیے:

‘‘ تمہارا کوئی بیٹا نہیں کہ تمہارے پھول گنگا کے سپرد کرے ؟‘‘

‘‘ تمہارا کوئی پوتا نہیں کہ تمہارے پھول۔۔ ۔۔ ‘‘

‘‘ جب بیٹا نہیں تو پوتا کیسے ہو؟‘‘

‘‘ ارے تم تو آ بھی گئے ہو‘‘

‘‘ ہاں !آ تو گیا ہوں لیکن پھر شاید جانا نہ ہو۔ ‘‘

‘‘ کیوں۔۔ ۔ ؟گنگا نے تم سے کیا کہا۔۔ ؟تم نے اس سے اپنے لیے بیٹا مانگا؟‘‘

‘‘ ہاں۔ ‘‘

‘‘ تو پھر گنگا نے تم سے کیا کہا؟‘‘

‘‘ گنگا نے میری ساری بات سن کر صرف یہ کہا۔ اپنی ہڈیاں آپ ہی لے کر آ گئے ہو تو اب آپ ہی انہیں یہاں ڈال دو!‘‘

جوگندر پال کے افسانوں میں انڈر کرنٹ کے طور پر جو فکری قدر ملتی ہے وہ اس کے افسانوں کو اٹھا کر کہاں سے کہاں پہنچا دیتی ہے وہ اپنی ذات میں ایک چھوٹا موٹا فلسفی ہے اور اپنے قاری کو ایسی سوچوں میں الجھا لیتا ہے جو انجام کار اس کی ماہئیت قلبی پر منتج ہوتی ہیں۔

٭٭٭

 

‘‘ ایک اعلیٰ تخلیق کار یہی کمال ہے کہ وہ حقیقت کی کنہ میں جھانکنے پر قادر ہوتا ہے۔ ایک دنیا کے غروب اور دوسری دنیا کے طلوع ہونے کے عین درمیان ‘‘ ہونے اور نہ ہونے ‘‘  کا جو عالم ایک عام شخص کی گرفت میں آنے سے گریزاں ہوتا ہے، جوگندر پال نے فاصلے پر ہونے کے باوجود اسے اتنے قریب سے دیکھ لیا ہے کہ حیرت ہوتی ہے۔ یہ ایک گتھی ہوئی کہانی ہے جس کی بنت میں جوگندر پال نے اپنی ہنر مندی کا بھر پور احساس دلایا ہے۔ ہجرت کے بارے میں لکھی گئی اکثر اردو کہانیاں اور ناول بند گلی کا سا منظر پیش کرتے ہیں جس میں ہر شے رکی ہوئی نظر آتی ہے۔ مگر جوگندر پال کہانی کی طرفوں کو کھلا رکھنا جانتے ہیں۔ ‘‘ خواب رو‘‘  کے دیوانے مولوی صاحب کی جنت جب حقیقت سے ٹکرا کر پاش پاش ہوتی ہے تو وہ اس جنت کو بڑے پیار سے اٹھا کر اپنے خوابوں کی دھرتی پر سجا لیتے ہیں۔ گویا وہ رُکتے نہیں ہیں بلکہ ہمہ وقت بننے اور بگڑنے کے عالم میں رہتے ہیں۔ ‘‘  ڈاکٹر وزیر آغا

اقتباس از مضمون ‘‘ خواب رو‘‘  بحوالہ کتاب جوگندر پال، ذکر، فکر، فن مرتب ڈاکٹر ارتضیٰ کریم

٭٭٭

 

 

 

جوگندر پال کا ناول ‘‘ پار پرے ‘‘   ۔۔۔ حیدر قریشی (جرمنی)

 

جوگندر پال تخلیقی ذہن رکھنے والے اردو کے انتہائی زرخیز فکشن رائٹر ہیں۔ افسانہ، افسانچہ، ناولٹ اور ناول تک ان کی تخلیقات بجائے خود اردو فکشن کی کہکشاں سی بنا چکی ہیں۔ پار پرے ان کا تازہ ناول ہے۔ یہ ناول جوگندر پال کی تخلیقی فعالیت کا حیران کن مظہر ہے۔ عمر کے اس حصے میں جہاں ہمارے بیشتر لکھنے والے یا تو لکھنے سے توبہ تائب ہو جاتے ہیں یا خود کو دہراتے چلے جاتے ہیں، جوگندر پال ایک انوکھے موضوع کے ساتھ اپنا ناول پار پرے لے کر آئے ہیں۔

دس ابو اب اور ایک پس لفظ پر مشتمل یہ ناول بنیادی طور پر بابا لالو کی داستان ہے۔ لیکن اس داستان میں اور بھی کئی کرداروں کی کہانیاں آتی چلی گئی ہیں۔ جالم سنگھ جیسے رحم دل سنگھ سردار کی کہانی، مولوی منظور احمد کی کہانی، انڈیمان کے جاروائی قبیلے کی کہانی، شبو چور کی کہانی، بھائی شری رام کی کہانی، اور بہت ساری کہانیاں۔ گوراں چاچی کی کہانی تو خود بابا لالو کی کہانی سے مل کر اگلی کہانیوں کو جنم دیتی ہے۔ یہ ساری کہانیاں جزائر انڈیمان کے معروف اور عبرتناک مقام کالے پانی سے ابھرتی ڈوبتی ہیں۔ متحدہ ہندوستان میں خطرناک مجرموں کو سزا کے طور پر کالے پانی کی سزا دی جاتی تھی۔ حکمرانوں نے جن خطرناک مجرموں کو سزا کے طور پر وہاں بھیجا تھا ان میں سے اکثر نہ صرف خطرناک نہیں تھے بلکہ اتنے معصوم تھے کہ زندگی بھر اپنے معاشرے کے معززین کے استحصال کا نشانہ بنتے رہے۔ اور اسی کے نتیجہ میں یہاں پھینکوا دئیے گئے۔

بابا لالو کو اپنے آگا پیچھے کا کچھ پتہ نہیں ہے۔ وہ بے سہارا تھا اور ماسٹر اللہ دتہ اسے ترس کھا کر اپنے گھر لے گئے۔ وہاں انہوں نے اسے بیوی کی طرح رکھا اور باپ کی طرح پالا۔ اسکول ٹیچر کی وفات ہوئی تو اسکول منیجر ستیہ وتی اسے ترس کھا کر اپنے ہاں لے گئی اور وہ ماسٹر اللہ دتہ سے بھی دو ہاتھ آگے نکلی۔ پھر ایک بار ستیہ وتی نے اپنے بوڑھے شوہر کے ساتھ جھگڑے کے دوران اسے گولی مار دی۔ الزام بابا لالوکے سر لگا دیا گیا۔ اور جب معاملہ عدالت میں پہنچا تو بقول بابا لالو:

‘‘ ستیہ وتی کے وکیل کی بحثیں سن کر مجھے بھی یقین آ گیا تھا کہ خونی میں ہی ہوں ‘‘  ۔

بابا لالو کا یہ ایک جملہ تیسری دنیا اور بالخصوص جنوبی ایشیا کے ممالک کے نظامِ عدل پر اور معاشرے کی اصلیت پر ایک کاری ضرب ہے۔ یوں بابا لالو اندھے انصاف کی بھینٹ چڑھ کر قاتل کا گناہ اپنے ذمہ لے کر کالے پانی کی سزا کے لئے بھیج دیا گیا۔ یہاں اس کی ملاقات ایک طوائف گوراں چاچی سے ہوتی ہے۔ گوراں چاچی کو ایک گاہک نے کام کے بعد معاوضہ نہیں دیا تو اس نے اسے دھکا دیا اور وہ اوپری منزل سے نیچے گر کر ہلاک ہو گیا اور گوراں چاچی قتل کے الزام میں سزا پا کر کالے پانی بھیج دی گئی۔ بہر حال دونوں کے درمیان بات بڑھتی ہے تو دونوں شادی کر لیتے ہیں۔ قید سے رہائی کے بعد کالے پانی کے بیشتر سزا یافتہ لوگ وہیں بس جاتے ہیں۔ یوں پورٹ بلیئر ایک شہر بن کر پھیل چکا ہے۔

کالے پانی کے سزا یافتہ ان لوگوں کی بڑی تعداد اپنے رہن سہن سے رام راج یا ست یگ کی یاد دلاتی ہے۔ پیار، محبت، ایک دوسرے کے دکھ درد میں شریک۔۔ دینی غیرتوں اور تہذیبی بے غیرتیوں سے پاک صاف۔

مسلمان، ہندو، سکھ، مسیحی، اور مقامی جاروائی لوگ، سب تعصبات سے پاک اچھے انسانوں کی طرح جی رہے ہیں۔ لالو اور گوراں کے ہاں دو بیٹے پیدا ہوتے ہیں۔ اپنے دوست جالم سنگھ کے کہنے پر وہ پہلا بیٹا واہگورو کو دے دیتا ہے۔ اس کا نام بیکل سنگھ رکھا گیا۔ دوسرا بیٹا ہوا تو اسے مسلمانوں کے حوالے کرنے کا سوچتا ہے اور اس کا نام علی رکھ دیا جاتا ہے۔ میاں بیوی دونوں ہندو۔ بیکل سنگھ بڑا ہو کر اچھا کاروباری ثابت ہوتا ہے۔ باپ کی کریانے کی چھوٹی سی دوکان کو بڑھا کر پرویژن سٹور میں بدل دیتا ہے۔ چھوٹا بیٹا پڑھائی کی طرف توجہ دیتا ہے اور گریجوایشن کر کے اسکول ٹیچر بن جاتا ہے۔ ذہنی طور پر وہ غور و فکر میں مبتلا رہتا ہے۔ اس کا انگریز پرنسپل بھی اس کی ذہنی صلاحیتوں کی قدر کرتا ہے۔ بیکل سنگھ کی شادی ایک لڑکی سے ہو جاتی ہے۔ علی ایک مقامی لڑکی سو کو پسند کر چکا ہے۔

اسی دوران ہندوستان سے بعض ہندو رہنما پورٹ بلیئر آتے ہیں اور وہاں کے ہندوؤں کو بتاتے ہیں کہ ماضی میں مسلمان حکمرانوں نے ان کے آباء و اجداد پر کیا کیا مظالم ڈھائے تھے۔ سنگین مقدمات میں سزا یافتہ لوگوں سے بسا ہوا شہر پورٹ بلیئر سزایافتہ لوگوں کا گڑھ ہونے کے باوجود امن و سکون کا گہوارہ تھا اور مذہبی نفرت کے زہر سے ابھی تک پاک تھا۔ لیکن ہندوستان سے آنے والے ہندو رہنماؤں نے پہلی ہی اشتعال انگیز تقریب میں زہر پھیلایا تو اسی تقریب میں بابا لالو اور گوراں کا بیٹا علی کھڑا ہو گیا۔ اس نے مقرر کو مخاطب کر کے کہا:

‘‘ کیا آپ اس وقت تاریخ کے پَنوں میں سانس لے رہے ہیں یا بیسویں صدی کے خاتمے پر یہاں پورٹ بلیئر میں ؟آپ آخر چاہتے کیا ہیں ؟۔۔ ۔ فرقہ وارانہ فساد؟۔۔ مارا پیٹی؟۔۔ ۔ وحشیانہ قوت؟۔۔ کیا؟۔۔ ۔ کیا چاہتے ہیں آپ؟۔۔ ۔ ہماری جانیں ؟‘‘

علی کی اس بے ادبی پر ہنگامہ ہو گیا۔ پولیس نے فائرنگ کر کے فساد پر قابو پا لیا۔ لیکن اس فائرنگ سے انتہا پسندوں کا ایک ساتھی مارا گیا۔ پولیس انسپکٹر نے خود کو بچانے کے لئے اس کے قتل کا الزام علی پر لگوا دیا۔ مقدمہ چلا۔ علی کا کہنا تھا کہ وہ نفرت پھیلانے والے مذہبی لوگوں سے نفرت کرتا ہے لیکن اس نے کوئی قتل نہیں کیا۔ لیکن اس کی نفرت کا اعتراف اور جائے وقوعہ کے دوسرے شواہد کی بنا پر ہی اسے عمر قید سنا دی گئی۔ کالے پانی میں رچے بسے ہوئے خاندان کے نوجوان کو نئے کالے پانی کی سزا سنا ئی گئی۔ اسے بال ٹھاکرے جی کے شہر بمبئی کی جیل میں بھیج دیا گیا۔

بابا لالو جو خود قتل کے جھوٹے الزام میں کالے پانی کی سزا بھگت چکا تھا، اب اپنے پڑھے لکھے اور ذہین بیٹے کو قتل کے جھوٹے الزام میں سزا کے لئے جاتے ہوئے دیکھ رہا ہے۔ علی کے ساری بہی خواہ، سارے عزیزاس نا انصافی پر اس ظلم پر گھلنے کے سوا کچھ نہیں کر سکتے۔ بابا لالو، علی کے پرنسپل سے شاید من ہی من میں باتیں کر رہا ہے:

‘‘ میری کہانی تو پوری ہو لی ہے۔ پر کہاں پوری ہو ئی ہے۔ پِٹ سن صاحب؟وہ تو بمبئی جیل میں جا کھوئی ہے، اور اس کی پرچھائیاں مجھے یہاں گھیرے رکھتی ہیں۔۔ ۔۔ خدارا میری مدد کیجئے۔۔ ۔ پِٹ سن صاحب، جو ابھی ہونا ہے وہ سارے کا سارا ایکدم ہو جانے دیجئے۔

ہاں، آپ کیا کر سکتے ہیں ؟۔۔ ۔۔ ہاں، پِٹ سن صاحب کوئی پوری کہانی بھلا کہیں پوری ہوتی ہے ؟‘‘

بابا لالو کی اسی خود کلامی پر ناول کا اختتام ہو جاتا ہے اور باقی کہانی ہم سب اپنے اپنے ذہنوں سے سوچتے ہوئے علی کی، بابا لالو کی، گوراں کی، جالم سنگھ کی، فادر ڈینیئل بخش کی، اور مقامی جاروا لڑکی سُو کی، اور کئی دوسرے کرداروں کی کتنی ہی کہانیاں بنا سکتے ہیں۔

جوگندر پال اپنے مخصوص ڈکشن کے ساتھ اس ناول میں خوشیوں اور دکھوں کے کتنے ہی پھول سجائے ہوئے ہیں۔ آئیے ان کے چند جملوں کے پھولوں کو کسی حوالے کے بغیر دیکھتے ہیں۔

٭٭ ‘‘ اتنا نیک تھا، معلوم نہیں اتنا دکھی کیوں تھا۔۔ ۔۔ ‘‘

‘‘ بابا۔۔ کسی نے اسے ٹوکا۔۔ جب اتنا نیک تھا تو دکھی تو ہو گا ہی‘‘

٭٭بیرکوں کی قید اور کام سے چھٹی پا کر بابا لالو کو سب سے پہلے یہ مسئلہ لاحق تھا کہ اب رہیں گے کہاں،

‘‘ اس میں کیا مشکل ہے ‘‘  گوراں چاچی نے اُس سے کہا ‘‘ تم میرے دل میں رہو گے اور میں تمہارے دل میں ‘‘

‘‘ اس طرح تو ہم کبھی مل ہی نہ پائیں گے۔ ‘‘

٭٭ ‘‘ رب کے ان نیک بندوں کو اپنی سجا بھگتنا بھی نئیں آتا بھابھی۔ ہماری تراں چور ڈاکو ہوں تو جیل کو بھی سسرال بنا لیں ‘‘

٭٭مولوی کو بھُنے ہوئے چنے بہت مرغوب تھے۔۔ ۔ جالم سنگھ نے اُس کے سامنے اپنی ہتھیلی کھول دی۔ ‘‘ موجھے تو  ایوائی پھکر کھائی رکھ دی ہے مولویا، کے جنت میں تو سِرپھ دودھ اور شہد کی ندیاں بہتی ہیں، تجھے اوتھے بھنے ہوئے چنے کیسے ملیں گے ‘‘

٭٭ ‘‘ تم ایک نہاتی بہت ہو بی بی‘‘

‘‘ تم جو نہیں نہاتے، بابا۔ تمہارا نہانا بھی نہ نہا لیا کروں تو تمہارے قریب کھڑا ہوکے سانس لینا بھی دشوار ہو جائے ‘‘

٭٭فادر ڈینیل بخش نے لاکھ زور لگایا کہ بِلّو اور بیکل کی سادی عیسائی ریتی رواج کے مطابق چرچ میں انجام پائے، پر جالم سنگھ اڑ گیا کہ وہ اپنے بیکل کا بیاہ خود آپ گرنتھ صاحب کے روبرو گوردوارے میں کرائے گا۔

‘‘ اوئے میرے پیارے فادر، میری بات کان دھر کے سن‘‘  جالم سنگھ فادر کو سمجھاتا رہا ‘‘ تمہارا یسوع، واہگورو کا ہی پتر ہے نا۔۔ بول، ہے کہ نئیں ؟۔۔ ہے !۔۔ ۔ تو پھر اسے بھی اپنے واہگوروکے سامنے بیٹھ کے بیاہ کا نجارہ کرنے سے کیوں رو کدیے ہو؟۔۔ کیسے پھادر ہو پھادر؟باپ بیٹے کو مل بیٹھنے کا موکا مل ریا ہے تو انہوں کو مل بیٹھنے دو، کیاؤں ان کی ملاخات میں روڑا اٹکاتے ہو؟‘‘  ۔۔ ۔ یہ اچھا ہوا جالم کی بات آخر فادر کی سمجھ میں آ گئی۔

٭٭جب ہم آپ یادداشت کھو بیٹھیں تو ہماری یادداشت بھی ہماری تلاش میں نکلی ہوتی ہے۔

٭٭ ‘‘ اس کی سمجھ میں نہیں آ رہا ہے کہ گاندھی نے بات بات میں ہندو، مسلم، سکھ اور عیسائی کے بھائی بھائی ہونے پر اتنا زور کیوں دیا۔ جو ہوں ہی بھائی بھائی، اُنہیں کیا ایک دوسرے کو ہمہ وقت بھائی بھائی کہے بغیر اپنا رشتہ یاد نہیں رہے گا؟

وہ جی ہی جی میں یہ دیکھ کر ہنس رہا ہے کہ ہمارا علی اپنی بامنی ماں کو یقین دلا رہا ہے، ماں، ہم بھائی بھائی ہیں۔ ‘‘

اس ناول کا ایک کمال تو یہ ہے کہ اس میں کالے پانی کے سزایافتہ لوگوں کی جوگندر پال نے ایسی خوبصورت تصویر کھینچی ہے کہ دل ان کی محبت سے بھرنے لگتا ہے۔ یہ ناول ہمارے معاشرے کی منافقتوں کو بالواسطہ طور پر بے نقاب کرتا ہے۔ بے قصوروں یا معمولی قصورواروں کو بڑا مجرم بنانے کے باوجود ہمارے معاشرے سے گندگی ختم نہیں ہوتی لیکن وہی لوگ جنہیں گندہ قرار دے کر پورٹ بلیئر میں بسا دیا گیا تھا وہ وہیں اپنی جنتِ ارضی بسا لیتے ہیں۔ اور پھر اس جنت ارضی میں بھی انسان کو بہکانے والے پہنچ جاتے ہیں۔

ناول کے سرورق پر چار تصاویر سلیقے سے سجائی گئی ہیں۔ ۱۔ ایبرڈین بازار پورٹ بلیئر کے سیلولر جیل کے بیرونی دروازے کی تصویر۔ ۲۔ جیل کے طویل برآمدے کی تصویر۔ ۳۔ جیل کی باہر سے اور فضاسے لی گئی تصویراور۴۔ بیلوں کی جگہ قیدیوں کے کولہو چلانے اور تیل نکالنے والے مقام کی تصویر۔ اسی مقام کو بطور خاص کالے پانی سے تعبیر کیا جاتا ہے۔

پورٹ بلیئر شہر کو اور کالے پانی کے مکینوں کی نفسیات کو جوگندر پال نے اتنی خوبصورتی اور مہارت کے ساتھ بیان کیا ہے کہ ان کی اس مہارت پر رشک آتا ہے۔ قاری نہ صرف خود پورٹ بلیئر جا پہنچتا ہے بلکہ سچ مچ وہاں جا کر کالے پانی کے صاف دل، میٹھے لوگوں سے ملنے کی خواہش کرنے لگتا ہے۔ کم از کم میرا تو بہت جی کرنے لگا ہے کہ خود کو سزا کے طور پر نہیں بلکہ جزا کے طور ایک بار کالے پانی لے جاؤں اور وہاں کے ان سارے اندر، باہرسے ٹوٹے ہوئے کرداروں سے ملوں، جو ایک دوسرے سے ٹوٹ کر پیار کرتے ہیں، جنہیں جوگندر پال نے امر کر دیا ہے۔

٭٭٭

 

 

 

 

جوگندر پال کا ناولٹ: آمدو رفت ۔۔۔ ڈاکٹرجہانگیر احمد (دہلی)

 

، آمدو رفت،  بھی جوگندر پال کا ایک خوبصورت ناولٹ ہے۔ اس کو بھی انہوں نے اپنے قیام اورنگ آباد کے دوران لکھا تھا۔ 1971میں پہلی بار یہ ناولٹ ، شاعر،  کے ناولٹ نمبر میں شائع ہوا تھا۔ 1975میں اس کو انڈین بکس پبلیکیشنز، اورنگ آباد نے کتابی شکل میں پیش کیا۔ یہ ناولٹ 48صفحات پر مشتمل ہے۔ اس میں جوگندر پال نے مارگن اور شیلا کے کر داروں کے ذریعے بڑے طنزیہ انداز میں ہندستان کی تصویر کشی کی ہے اور یہاں کی معاشرتی تضادات، رجعت پسندانہ روایات، غربت و جہالت، فرقہ وارانہ فسادات، خشک سالی اور سیلاب وغیرہ مسائل کو بڑے طنزیہ و مزاحیہ انداز میں تخلیقی صورت دی ہے۔ اس میں مرکزی کردار مارگن اور شیلا ہیں۔ مارگن کی ماں انگریز ہے اور باپ ہندستانی، لیکن اپنے باپ کی شفقت اسے کبھی نہیں مل سکی کیونکہ اس کی ولادت سے قبل ہی اس کی ماں نے اس کے ہندستانی باپ کو چھوڑ دیا تھا اور انگلینڈ واپس جا کر دوسری شادی کر لی تھی نیز اس نے اپنے انگریز شوہرکو یہ باور کرا دیا تھا کہ یہ بچہ اسی کا ہے۔ مارگن کو بھی اس کا علم اس کی ماں کے انتقال کے وقت تب ہوا جبا س کی ماں نے اپنے اعتراف نامے میں اس کا تذکرہ کیا۔ شیلا ایک ہندستانی نژاد، عیسائی لڑکی ہے جو ہندستان پر ریسرچ کرنا چاہتی ہے اور اپنے اس ریسرچ میں مارگن کو اپنا سوپروائزر بنانا چاہتی ہے۔ مارگن اس کا سوپروائزر بننا منظور کر لیتا ہے۔ پھر دونوں کے تعلقات میں گہرائی آتی ہے اور دونوں شادی کے بندھن میں بندھ جاتے ہیں اور یہ طے کر تے ہیں کہ اپنا ہنی مون ہندستان میں منائیں گے۔ اسی سفر کے حوالے سے ہندستان کے حالات کو باریک بینی کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔ اس ناولٹ میں ہندستانی معاشرے کے احوال وآثار بڑی صفائی سے منعکس ہوئے ہیں۔ اس میں حقیقتوں کا گہرا ادراک بھی ہے اور احساس کی تیز لہریں بھی۔ اس میں ہندستانی زندگی کی پیچیدگیوں اور الجھنوں کو پیش کرنے کا جو خوبصورت اسلوب اختیار کیا گیا ہے یہ جوگندر پال کا خاصہ ہے۔ جو گندر پال کے دوسرے ناولٹ کے برعکس اس میں فلسفیانہ موشگافیاں نہیں ملتیں بلکہ سیدھے سادے، سلیس انداز میں کرداروں کے افکارو احساسات کے ذریعہ کہانی کو آگے بڑھایا گیا ہے۔ ناولٹ کی پوری کہانی مارگن کے کردار کے توسط سے ہندستانی حالات کو محیط ہے۔ مارگن کو لاشعوری طور پر ہندستان سے گہری دلچسپی ہے۔ اس نے اپنی پہلی اور دوسری پی ایچ۔ ڈی کے مقالے بھی ہندستانی موضوعات پر ہی لکھے۔ انگلینڈ اوراقوام متحدہ کے با اثر حلقوں میں ہندستانی امور پر اس کی رائےا تھارٹی مانی جاتی ہے۔ مارگن انگلینڈ کے سب سے اہم اسکول آف انڈین اسٹڈیز کا ڈائرکٹرہے۔ مارگن کی ماں نے اپنے ہندستانی شوہر سے طلاق کے بعد انگلینڈ لوٹ کر اس کی کوئی چٹھی، فوٹو یاکوئی بھی نشانی باقی نہ رہنے دی۔ اس لئے مارگن کو اپنے باپ کی شکل و شباہت کے بارے میں کچھ بھی معلوم نہیں۔ اسے یہ بھی معلوم نہیں ہے کہ اس کا حقیقی باپ ابھی زندہ ہے یا مرکھپ کر مٹی میں مل چکا ہے۔ لیکن اس کا اندازہ ہے کہ اس کا باپ کب کا مرکھپ گیا ہو گا کیونکہ اس کے خیال میں ہندستانیوں کی اوسط عمر تیس پنتیس برس ہو تی ہے یا پھر بہت زیادہ تو پچاس پچپن برس۔ مارگن سوچتا ہے کہ اس کی ماں کی طرح اس کے باپ نے بھی دوسری شادی کر لی ہو گی اور اس کے کم از کم ایک درجن بہن بھائی تو ضرور ہوں گے۔ لیکن چونکہ وہ ان کے بارے میں کچھ بھی نہیں جانتا، کسی کو بھی نہیں پہچانتا، اس لئے وہ پورے پچاس کروڑ ہندستانیوں کو اپنا نصف بہن بھائی مانتا ہے اور اگر ایسا کوئی مارگن آج کے زمانہ میں ہو تو پورے ایک ارب بیس کروڑبہن بھائی۔ مارگن کو اپنے باپ کی شکل کچھ اس طرح نظر آتی ہے:

‘‘ میرے لئے میراباپ اپنا بھوت سا ہے جس کی پوری شکل مجھے دکھائی نہیں دیتی اب بڑی بڑی مونچھیں ہلتی ہوئی دکھائی دے رہی ہے۔ اب کٹے ہوے ہاتھ ہوا میں لہرا رہے ہیں۔ اب صرف ناک ابھرآئی ہے۔ میرا پو را باپ مجھے آدھا بھی دکھائی نہیں دیتا ہے آدھا باپ کم از کم دیکھنے میں تو پورا تھا۔ ‘‘

مارگن کے اس جملے سے ، میرا پورا باپ مجھے آدھا بھی دکھائی نہیں دیتا، آدھا باپ کم از کم دیکھنے میں تو پورا تھا،  اس کا کرب جھلکتا ہے۔ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ کسی شخص نے اپنی عمر کے چالیس برسوں تک جسے اپنا باپ سمجھا ہو، اس کے بارے میں اچانک یہ معلوم ہو جائے کہ یہ اس کا باپ نہیں ہے بلکہ اس کا باپ کوئی اور شخص ہے جس کی کوئی بھی نشانی موجود نہیں ہے، تو اس کی ذہنی و نفسیاتی کیفیت کیا ہو گی۔ کہانی آگے بڑھتی ہے مارگن کے نام ایک ہندستانی مداح کے خط کے ذریعہ۔ یہ مداح مارگن کے کسی مضمون سے بہت زیادہ متأثر ہو گیا ہے جس میں مارگن نے ہندستان کے مسائل کو موضوع بنایا ہے۔ اس مداح کا اپنا ادراک یہ ہے کہ برٹش مصنفین جب ہندستان پر لکھتے ہیں تو یا تو وہ بڑے بھائی کا شفیق لہجہ اختیار کر لیتے ہیں یا انگلش پبلک اسکول کے کسی اولڈ ٹیچر کے مانند اپنی ہر سطر میں موٹی موٹی ججمنٹ اور وارننگ دینے کو بیتاب رہتے ہیں یا پھر انڈیا کے اولڈ برٹش سول سرونٹس کی طرح ہندستانیوں کو سرے سے انسانی برادری میں شامل ہی نہیں کر تے۔ مگر مارگن کا انداز مخلصانہ ہے۔ لیکن چونکہ مارگن نے خود ہندستان دیکھا نہیں ہے اس لئے یہاں کے صحیح حالات کا اسے اندازہ نہیں ہے اور ہندستان کے بارے میں اس کا مطالعہ اور ادراک اکادمی ہے۔ ترقی یافتہ ممالک کے لوگ ہندستانیوں کو متمدن نہیں سمجھتے، مگر اس ہندستانی مداح کا تہذیب و تمدن کے بارے میں یہ ماننا ہے:

‘‘ ہماری مشکل یہ ہے کہ ابھی تک دنیا کے نمائندوں کے نزدیک تمدن کی پہچان بھی وہی ایک نہیں۔ کوئی تمدن کو کھانے اور اوڑھنے کی شئے سمجھتا ہے اور کوئی اسے سجا کر رکھنے کی۔ در اصل ہر شئے کی پہچان کے تعین کا انحصار لوگوں کی اپنی اپنی فوری ضرورت پر رہتا ہے۔ ‘‘

اس چیز کی وضاحت عصری حالات میں ، دہشت گردی،  کی اصطلاح سے بہت اچھی طرح ہو جاتی ہے کہ دنیا کے بڑے ممالک اپنی اپنی فوری ضرورتوں کے تحت اس اصطلاح کے معنی و مفاہیم متعین کر لیتے ہیں۔ امریکہ، برطانیہ، جاپان، کنیڈا، روس اور انڈیا نیو کلیائی ہتھیار بنائیں تو کو ئی دہشت گردی، کوئی جرم نہیں لیکن ایران بنانے کی کوشش بھی کرے تووہ دہشت گرد ہے۔ امریکہ دنیا کے کسی بھی ملک، کسی بھی خطے پر حملہ کرے تو کوئی دہشت گردی نہیں، لیکن فلسطینی اپنی دفاع کے لئے احتجاج بھی کریں تو وہ دہشت گردہیں۔ مارگن نے اپنے مضمون میں تاریخی شعورکو بڑی اہمیت دی ہے لیکن اس مداح کوہندستانیوں کے تاریخی شعور پر اعتبار نہیں ہے۔ وہ ہندستانیوں کے تاریخی شعور کا مذاق اس طرح اڑاتا ہے:

‘‘ میرا ایک چچیرا بھائی ہے جو ہمارے ملک کی ایک بہت بڑی یونیورسٹی میں تاریخ کے شعبہ کا صدر ہے۔ اس کی اسپیشل اسٹڈی ، پراچین بھارت میں ہندو راجیہ ،  ہے۔ اور میرا چچا یعنی اس کا باپ سنسکرت بھاشا کا مانا ہوا ودوان ہے۔ مجھے اپنے تاریخی شعور کے بیان سے بے اختیار اپنے چچیرے بھائی کا خیال آ گیا ہے جو نئے ہندستان کے مسائل کا حل پراچین ہندو راجیہ کے سیاق میں ڈھونڈھنے کا حامی ہے۔ ‘‘

جب ہندستان کی ایک بڑی یونیورسٹی کے تاریخ کے شعبہ کے صدر کے تاریخی شعور کا یہ عالم ہے تو عام ہندستانیوں کا عالم کیا ہو گا اور ان کے تاریخی شعور پر اعتبار و انحصار کہاں تک جائز ہو گا۔ جو گندر پال نے یہ تنقید اسّی کی دہائی کے ہندستان کے حوالے سے کی ہے۔ مگر آج اکیسویں صدی میں بھی ہمارے یہاں کچھ پولیٹکل پارٹیاں ایسی ہیں جو عصری ہندستان کے مسائل کا حل پراچین ہندو راجیہ کے سیاق میں ڈھونڈھنے کی حامی ہیں۔ مارگن کے اس ہندستانی مداح کا ماننا ہے کہ ہمارا تاریخی شعور ہمارے معاصرانہ اقدام کی نفی کرتا ہے۔ کیونکہ ہم جن آقاؤں کی پیروی کرتے ہیں ان کی صورتحال یہ ہے:

‘‘ ہمارے آقاؤں کے پیٹوں نے ان کے آباء و اجداد کے تہذیبی ترکے کی گیسوں سے پھول پھول کر انہیں اپنی ہمت سے دو قدم چلنے کا بھی اہل نہیں رہنے دیا۔ اور ہم جن کے عمل کا انحصار انہی کی حکمت عملی پر ہے، ان کے پیچھے پیچھے چلنے کے لئے قدم قدم پر کئی کئی سال اس انتظار میں رکے رہتے ہیں کہ وہ اٹھیں اور ہماری رہبری کریں۔ ‘‘

مگر نہ وہ اٹھ سکیں گے اور نہ ہی ہماری رہبری کر سکیں گے۔ اس لئے مسٹر مارگن اگر آپ کو ہمارے قدیم ذہن کی ضرورت ہو تو لے لیجئے، بلکہ لے ہی لیجئے کہ اس سے آپ کے عجائب گھر کی توقیر بڑھ جائے گی۔ ہاں بدلے میں آپ ہمیں ہمارے روزمرہ کی چھوٹی چھوٹی ضرورتیں پوری کرنے کے لئے اپنی حاضر دماغی دے دیجئے۔ یہ مداح مارگن کو ہندستان کی آبادی کے بارے میں لکھتے ہوئے بتاتا ہے کہ یہاں چاروں طرف روز افزوں آبادی کی بھیڑ دیکھ کر لگتا ہے کہ ہم اجنتا کے غاروں میں گھوم رہے ہیں۔ یہاں ہر لمحہ ان گنت بچے پیدا ہو رہے ہیں اور مزید ان گنت بچے پیدا ہونے کے لئے کیو میں لٹکے ہوئے ہیں۔ مداح مارگن کو بتاتا ہے کہ ہمارے یہاں جب کوئی دلہن بیاہ کر لائی جاتی ہے تو بزرگ اسے اس طرح دعا دیتے ہیں:

‘‘ تیرے آنگن میں اتنے بچے جمع ہو جائیں کہ تمہارے باہر جانے کا راستہ رک جائے تو وہ دھرم کرم کی ناری شردھا سے اس کے پاؤں چھونے کے لئے جھک جاتی ہے۔ ‘‘

مداح نے مارگن کو ہمارے مذہبی رہنماؤں کے بارے میں بھی تفصیل سے بتایا ہے کہ کیسے یہ خاص سمجھدار لوگ اس جیون میں بھی خوب سکھ لیتے ہیں اور بعد از مرگ تحفظ اور آرام کا سامان بھی یہیں سے بک کرا لیتے ہیں۔ ان کی عیاری و مکاری کے سبب بھگوان کے دیش کا ایکسچینج کنٹرول بھی ان کی راہ میں حائل نہیں ہوتا ہے۔ مداح ڈاکٹر مارگن کوب تاتا ہے کہ ہندستان مکمل طور پر ایک راز ہے۔ اس لئے آپ ہندستان آیئے اور دیکھئے کہ یہ کتنا عجیب و غریب ملک ہے۔ اب کہانی میں شیلا کی انٹری ہوتی ہے، شیلا پی ایچ۔ ڈی کی اسٹوڈنٹ ہے اور اس کے مقالے کا عنوان ہے ، دی ریلے ونس آف دا پریزنٹ انڈیا ٹو دا فیوچر آف دا ورلڈ سوسائٹی،  (The Relevance of the Present India to The Future of The World Society) جس میں ڈاکٹر مارگن کو وہ اپنا گائڈ منتخب کرتی ہے۔ ظاہر ہے کہ ہندستانی مسئلے کے موضوع پر ڈاکٹر مارگن سے بہتر گائڈنس کون دے سکتا ہے۔ جب شیلا پہلی بار ڈاکٹر مارگن سے ملنے جاتی ہے تو اس کی سوچ اس طرح کی ہوتی ہے:

‘‘ اگرچہ میں نے سوچا تھا کہ ڈاکٹر مارگن کوئی حواس باختہ بوڑھا کھوسٹ ہو گا تاہم میری خواہش تھی کہ وہ کوئی خوش باش جوان آدمی ہو۔ عورت پہلی بار جب اپنے آپ کو کسی اجنبی مرد سے۔۔ ۔۔ خواہ وہ مرد اس کے باپ کا کوئی ہم عمر دوست ہو۔۔ ۔ ملنے پر آمادہ کرتی ہے تو اس کی یہی خواہش ہوتی ہے کہ وہ کچھ اور ہو نہ ہو۔۔ دیکھنے میں پورا مرد ضرور ہو، کہ اسے دیکھ کر ہی طبیعت خوش ہو جائے۔ ‘‘

مارگن شیلا کی خواہش کے عین مطابق نکلا ہے وہ اتنا خوبصورت ہے کہ شیلا فوراً اس کے طرف مائل ہو جاتی ہے، مارگن کی دلچسپی بھی شیلا میں بڑھتی ہے اور چند ہی ملاقاتوں میں وہ دونوں ایک دوسرے کے بالکل قریب آ جاتے ہیں، مارگن شیلا سے پوچھتا ہے کہ کیا تمہاری یہ خواہش نہیں کہ اپنے باپ دادا کے دیش کو جا کے دیکھو؟ وہ کہتا ہے کہ تم چاہو تو ہم اپنا ہنی مون ہندستان میں ہی منائیں گے۔ شیلا ہندستان جانے کے لئے تیار ہو جاتی ہے۔ مارگن اور شیلا کے سفر ہندستان کے ذریعہ ہی کہانی اپنی ارتقائی منزل تک پہنچتی ہے۔ اخبار کے ایک خبر کے مطابق مارگن اور شیلا ہندستان میں ایک سال تک رہیں گے اور یہاں کے سارے اہم مقامات کے علاوہ وہ ہندستانی طرز زندگی کا مطالعہ بھی کریں گے۔ خبر سے یہ بھی معلوم ہوا کہ مارگن اور شیلا کی خواہش ہے کہ ان کا پہلا بچہ ہندستان میں ہی پیدا ہو۔ ایئر پورٹ کے باہر مارگن اور شیلا کا خیر مقدم کرنے والوں میں اسکول آف اورینٹل اسٹڈیز کے لیکچرر ڈاکٹر رامجس بھی ہیں۔ رسمی بات چیت کے بعد مارگن سے وہ اپنی ایک خواہش کا اظہار کرتے ہیں:

‘‘ میری ایک اور خواہش ہے ڈاکٹر: آپ ہمیں ہمارے ہندستان پرکم سے کم ون سیریز آف لیکچر ضرور دیجئے۔

لیکن میں تو اس لئے یہاں آیا ہوں کہ انڈین ایکسپرٹ ہندستان کے بارے میں میرے علم میں اضافہ کریں۔

ہم ناچیز کیا اضافہ کر سکتے ہیں ڈاکٹر مارگن؟ اپنے ملک کے تعلق سے ہمارا علم تو صرف نصاب و درس تک محدود ہے۔ ؟!۔

آپ کا متعجب ہونا غلط نہیں۔ ہم ہندستان میں رہ ضرور رہے ہیں مگر ہندستان پر کوئی معقول ریسرچ کرنے کے لئے ہمیں انگلینڈ کے ماحول کی ضرورت ہے ڈاکٹر مارگن۔

تو پھر ریسرچ چھوڑ دیجئے اور اپنی روزمرہ کی انڈین لائف کا سیدھا سادہ مشاہدہ کر کے اپنے نتائج اخذ کیجئے۔

ہاں ڈاکٹر، یہ آپ نے بڑے پتے کی بات کہی ہے۔ ‘‘

ڈاکٹر مارگن کی گفتگو سے حقیقت پسندی جھلکتی ہے۔ تو ڈاکٹر رامجس کی گفتگو سے فرسٹریشن اور مایوسی۔ رامجس کی گفتگو کے ذریعہ جوگندر پال نے ہندستانی اسکالرس میں خود اعتمادی کی کمی اور اپنے علم و آگہی کو ہیچ سمجھنے کا جو رجحان پایا جاتا ہے اسے بڑی خوبصورتی سے پیش کیا ہے۔ ہمارے اندر دوسری اقوام سے مرعوب ہونے کی جو خو ہے وہ انتہائی مہلک ہے۔ ہمیں اپنے علم و آگہی پر پہلے خود اعتماد کرنا ہو گا تب ہی دنیا اسے قابل اعتنا سمجھے گی۔

آج ہندستان میں صوبائی عصبیت بہت زیادہ بڑھ گئی ہے اور صوبائی سیاسی پارٹیاں اس آگ کو اور بھی ہوا دے رہی ہیں۔ ہندستان ایک جمہوری ملک ہے اور یہاں وفاقی حکومت قائم ہے۔ ہندستان کے کسی بھی شہری کو کسی بھی صوبے میں جانے، روزگار حاصل کرنے اور رہنے سہنے کا بنیادی حق حاصل ہے۔ لیکن 2008 میں مہاراشٹر میں یوپی اور بہار کے لوگوں کے ساتھ مہاراشٹر کے لوگوں نے وہاں کی کچھ سیاسی پارٹیوں کے بہکاوے میں جو سلوک روا رکھا اور حکومت کی اس پوری صورت حال پر سرد مہری کے ساتھ موک درشک بنے رہنے کے حوالے سے یا پھر 2008میں ہی آسام میں بہار کے لوگوں کے ساتھ جو بربریت ہوئی اس حوالے سے جوگندر پال کا یہ خوبصورت طنز دیکھئے:

‘‘ کتنی بھیڑ ہے شیلی!

ہاں معلوم ہوتا ہے، سارا ہندستان ریلوے اسٹیشن پر جمع ہو گیا ہے۔ تم ٹھیک کہتی ہو، آج سارا ہندستان یہاں ریلوے اسٹیشن پر جمع ہے اور کہیں جانے کا انتظار کر رہا ہے۔

کہاں جانے کا؟ یہ گاڑیاں تو جہاں بھی جائیں گی اسے کہیں اس کے اندر ہی لے جا کر ڈال دیں گی۔ ہندستان سے باہر تو نہ جائیں گی۔

ہاں، نادان لوگ ہیں، انہیں پتہ نہیں کہ یہاں سے وہاں تک سارا سفر طے کر کے ہندستان سے ہندستان ہی پہونچیں گے۔۔ ۔۔ مگر نہیں ٹھہرو! ہندستان میں ہندستان ہے کہاں ؟ ہندستان میں پنجاب ہے، مہاراشٹر ہے، آندھرا، تامل ناڈو یا بنگال ہے۔ ان سب گاڑیوں کو وہیں کہیں جانا ہے۔ انہیں ہندستان نہیں جانا ہے۔ ہندستان کہاں ہے ؟بتاؤ، ابھی تک کہیں نظر آیا۔ ‘‘

یہ صورتحال اسّی کے دہائی کی ہے۔ آج حالات اور خراب ہو چکے ہیں اور صوبائی عصبیت اپنی انتہا کو پہنچ چکی ہے Communal accommodation اور Tolerance spirit جو ہندستان کی امتیازی خصوصیت تھی اب اس کا فقدان ہو چکا ہے۔ اب Regional languageآدمی کے استحقاق اورا س کے امتیاز کی علامت بن گئی ہے۔ آبادی جتنی تیزی کے ساتھ بڑھ رہی ہے اسی تناسب سے بے روزگاری، مفلسی، ناداری اور بیماری بھی بڑھ رہی ہے۔ چور اچکوں اور جیب کتروں کی یہاں بہتات ہے:

‘‘ ارے ! میں تمہیں ایک بات بتانا بھول گیا شیلی، جب ہم پلیٹ فارم نمبر تین پر کھڑے تھے تو ایک آدمی، میری پتلون کی جیب میں ہاتھ ڈال رہا تھا، میں نے اس کا ہاتھ پکڑ کر چھوڑ دیا، یہ سوچ کر کہ اتنی بھیڑ میں اس قدر جڑ کر کھڑے ہوں تو کیا پتہ چلتا ہے کہ اپنی پتلون کی جیب ہے یا کسی اور کی؟۔۔ ۔۔ میں نے اس کی طرف آنکھ اٹھا کے بھی نہیں دیکھا۔ بے چارہ شرمندہ ہو کر رہ جاتا۔۔ ارے میرا بٹوہ۔ شیلی وہ آدمی سچ مچ میرا بٹوہ اڑا لے گیا۔ ‘‘

ہندستان میں کسی بھی بھیڑ بھاڑ والے علاقے میں، ریلوے اسٹیشن پر، بسوں میں اور کسی بھی پر ہجوم جگہ پر ایسا ہو نا بالکل عام بات ہے۔ جب کسی غیر ملکی زائر کے ساتھ ایساہوتا ہے تو ہماری پہلے سے ہی خراب شبیہ ان کی نظر میں اور بگڑ جاتی ہے۔ جوگندر پال نے ہندستان کے اور بھی کئی مسائل کو فنی پیرائے میں بڑی خوبی سے پیش کیا ہے اور ان مسائل سے بے توجہی پر طنز کیا ہے۔ مثلاً ہندستان میں ناخواندگی اور بچہ مزدوری کا مسئلہ، فرقہ وارانہ فسادات کا مسئلہ، یہاں کے لوگوں کی ماضی پرستی اور گھسی پٹی رسم و رواج میں ہی مگن رہنے کا مسئلہ۔ ان تمام چیزوں کو پیش کر کے جوگندر پال نے یہاں کے سیاسی رہنماؤں اور پالیسی میکرس کو جھنجھوڑنے کا کام کیا ہے۔ لیکن ان کی بے حسی اور غنو دگی اتنی گہری ہے کہ ٹوٹنے کا نام ہی نہیں لیتی۔ فسادات کے پس منظر میں یہ اقتباس دیکھئے:

‘‘ رانچی کے پاگل خانے میں۔۔ ۔

وہ بوڑھا کون ہے ڈاکٹر؟۔۔ وہ جو سب سے الگ تھلگ بیٹھا ہے ؟

ایک مسلمان ہے بیچارہ، پچھلے سال ہندو مسلم فساد ہوا ڈاکٹر مارگن، تو اس کے گھر کے سبھی لوگ مارے گئے۔ اپنے ہاتھوں سے انہیں قبروں میں لٹا کر گھر پہنچتے پہنچتے پاگل ہو گیا۔ ‘‘

2002میں ہندستان کے صوبہ گجرات میں ہوئے فرقہ وارانہ فسادات میں مسلمانوں کو چن چن کر نشانہ بنایا گیا۔ ان کے کاروبار کو پوری طرح سے تباہ و برباد کیا گیا۔ ان کی ماں، بہنوں، بیویوں کی آبروریزی کی گئی اور بالآخر انہیں جلا دیا گیا یا مار دیا گیا۔ ان تباہ حال لوگوں میں جو کچھ بچ گئے ان میں کتنے آپ کو ایسے مل جائیں گے جو غم کی وجہ سے پاگل ہو گئے۔ ایک فنکار کی نگاہ حال کے ساتھ ساتھ مستقبل میں وقوع پذیر ہونے والی چیزوں کو بھی اپنی بصیرت سے دیکھ لیتی ہے۔ جوگندر پال گو یا ان چیزوں کو دیکھ رہے تھے۔ لیکن یہاں کے حکمرانوں کی بے حسی کا یہ عالم ہے کہ ان ظلم و زیادتی کرنے والوں سے آج تک مواخذہ نہیں کیا گیا۔ وہ آج بھی کھلے عام گھوم رہے ہیں اور اپنی بربریت دکھانے کا شاید کو ئی اور موقع ڈھونڈھ رہے ہوں۔ ان جنونی لوگوں کا رشتہ کسی مذہب و ملت سے نہیں ہوتا، یہ محض بربریت کے پجاری ہو تے ہیں۔ لیکن:

‘‘ کو ئی بھی خون کرے، انسان ہی خونی ہے۔ میں ہی خونی ہوں، مجھے سزا دو، سولی پر چڑھا دو اس وقت تک سولی پر چڑھائے رکھو، جب تک میرا ضمیر نہ جی اٹھے۔۔ ۔ مگر مجھے کو ئی سزا نہیں دیتا۔ میں آپ کے پاؤں پڑتا ہوں۔ مجھے سزادو۔ مجھے اپنے آپ سے ڈر لگتا ہے۔ مجھے سخت سے سخت سزادیجئے۔ ‘‘

دنیا بھر میں ہندستان کی رسوائی کا سبب بننے والے گجرات فسادات کے دوران نریندر مودی گجرات کے وزیر اعلی تھے اور ان پر الزام ہے کہ انہوں نے نہ صرف بے قصور مسلمانوں کے قتل عام سے چشم پوشی کی تھی بلکہ انسانیت کے خلاف بھیانک جرائم کے مرتکب ہونے والے ہندو انتہا پسندوں کی پشت پناہی بھی کی۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق گجرات فسادات کے دوران 1180لوگ ہلاک ہوئے تھے جبکہ غیر سرکاری ذرائع کے مطابق جاں بحق ہونے والوں کی تعداد 3000سے زیادہ ہے۔ پاگل خانے کا بوڑھا خان بابا ایک فرقہ وارانہ فساد میں ہی اپنے عزیزوں کے مارے جانے کے غم سے پاگل ہو گیا ہے اور سمجھتا ہے کہ وہ مر کر جنت میں پہنچ گیا ہے۔ شیلا کی طرح اس کی بھی ایک نوجوان بیٹی تھی جس کو فسادیوں نے قتل کر دیا تھا۔ وہ شیلا کو ہی اپنی بیٹی سمجھ لیتا ہے اور کہتا ہے:

‘‘ آؤ بیٹی آؤ میرے گلے لگ جاؤ۔۔ ۔ تمہاری ماں کہاں ہے ؟ محمود کہاں ہے ؟ وہ سب لوگ کہاں چھوڑ آئی ہو؟۔۔ بولو۔۔ مریں تو انہیں بھی کیوں نہ ساتھ لے آئیں۔۔ ۔ ان سے کہتیں وہ آنکھ جھپکنے میں تم سب کو بیک وقت ڈھیر کر کے رکھ دیتے۔ ان جنگجوؤں کے سامنے یہ کون سا بڑا کام تھا۔ بس یہ اب جی رہے ہو اور یہ اب مر گئے۔۔ شکر ہے اللہ کا مر گئے ہو ورنہ مجھے فکر لاحق تھی کہ کیسے جیو گے۔۔ ۔ چلو چھٹی ہوئی۔ خدا نے ہماری سن لی۔۔ ۔ بیٹی اس جنت میں یہ جو ڈاکٹر ہے نا۔۔ ہندو ہے۔ ہاں ہندو ہی ہے۔۔ ڈرو نہیں، اتنا شریف آدمی ہے کہ خدا نے اسے جنت کا ڈاکٹر بنا دیا ہے۔ ڈرو نہیں بڑا شریف آدمی ہے۔ اک ذرا نماز نہیں پڑھتا، ورنہ اس سے تمہاری شادی کر دیتا۔ ‘‘

جو گندر پال نے شعوری طور پر ہندو ڈاکٹر کے کردار کے ذریعہ یہ بتایا ہے کہ انتہاپسندی، ظلم اور بربریت کا تعلق کسی مذہب سے نہیں ہے۔ یہ تو انسانی ذہن کی کج روی ہے جو انسان کو ایسے کاموں پر آمادہ کر دیتی ہے جس سے پوری انسانیت سرمشار ہو جاتی ہے۔ ہندستانی زندگی میں اور بھی بہت سے تضادات ہیں مثلاً ڈاکٹر مارگن اور شیلا کلکتہ کی ایک شاہراہ پر ایک سردرات چہل قدمی کرتے ہوے مشاہدہ کرتے ہیں کہ ایک بہت بڑی فرنشنگ کی دوکان کی ونڈو کے شیشے کے پیچھے ایک بڑا آرام دہ، بیڈ نما صوفہ بچھا ہوا ہے۔ صوفے پر ایک خوبصورت لڑکی کا بت نرم و گرم پلش کے کمبل میں لپیٹ کر اس طرح لٹایا گیا ہے کہ معلوم ہوتا ہے کہ وہ مٹی کا بت ونڈو کے شیشے کے اندر حیات آفریں حدت سے جی اٹھا ہے۔ جبکہ ونڈو کے نیچے فٹ پاتھ پر ایک ننگا دھڑنگا، میلا کچیلا نوجوان لمبا ہوا پڑا ہے۔ اس کی بے سانس شکل پر کسی اچھے برے سپنے کا سایہ نہیں، بس بت کا بت ہے۔ جس بے جان مٹی کے بت پر سردی کا کوئی اثر نہیں ہے۔ دولت کی یہ غیر مساوی تقسیم ہی مسائل کو بڑھاتی ہے۔ ایک سروے کے مطابق ہندستان میں 45فیصد لوگوں کے پاس اتنی دولت ہے کہ وہ باقی 55فیصد لوگوں کو زندگی بھر بٹھا کر کھلاسکتے ہیں۔ لیکن ناداروں اور مفلسوں پر کوئی رحم نہیں کھاتا اس کے برعکس ہر کوئی انہیں کا خون چوس کر اپنی دولت بڑھانے میں لگا ہوا ہے۔ جو گندر پال نے ہو ٹل مہاراجہ کے لاؤنج میں اسپیشل انڈین نائٹس کی شاندار پارٹی میں غیر ملکیوں کی اکثریت کے ذریعہ یہ طنز کیا ہے کہ آج بھی ہم ذہنی طور پر غلام ہیں اور گوری انگریز قوم آج بھی ہمارے آقا و حکمراں ہیں۔ ناولٹ کے آخری حصے کا عنوان ، مارگن،  ہے۔ ہندستان کے متعلق مارگن کے احساسات کے نشیب و فراز کی عکاسی ہی ناولٹ کو مرحلہ انجام تک پہنچاتی ہے۔ مارگن کے احساسات کے بدلتے ہوئے نقوش، ہندستان سے متعلق اس کے تصورات کے کئی رنگوں کی ترجمانی کر تے ہیں:

‘‘ نامعلوم میں کہاں بیٹھا ہوا ہوں، باہر یا کہیں اندر؟۔۔ ۔۔ اور مجھے اپنے سامنے ایک بوڑھا اجنبی نظر آ رہا ہے۔ اور نہ میں اس اجنبی سے باتیں کر رہا ہوں، نہ وہ اجنبی مجھ سے مگر اس وقت میرے ذہن میں اس کے سوا اور کچھ نہیں ہے۔ میری آنکھیں اس کے سر پر ٹکی ہوئی ہیں۔ یہ سارے کا سارا کرہ ارض، جسے میں گو یا اپنے راکٹ سے جھانک کر دیکھے جا رہا ہوں اور میرا راکٹ بڑی تیزی سے خلاؤں کو پار کر کے کرہ ارض کی جانب چلا آ رہا ہے۔ ابھی ابھی یہاں دھند ہی دھند تھی۔ کچھ بھی دکھائی نہ دے رہا تھا۔ اب پانی اور خشکی جدا جدا دکھائی دینے لگے ہیں۔ کتنا زیادہ پانی ہے۔۔ ۔۔ ۔ پانی ہی پانی۔۔ ۔ موت کی اجنبی وسعتیں اور گہرائیاں، جنہوں نے زندگی کو گھیر رکھا ہے مگر زندگی کا باعث بھی ہیں۔ ہماری زمین غرقاب کے اس منظر میں بھر پور زندہ معلوم ہو تی ہے۔ بڑے بڑے پہاڑوں اور وادیوں اور میدانوں کی سانسوں سے آس پاس کا خلا بھی ذی جان سالگ رہا ہے۔۔ میں نے کرہ ارض کو چھو لیا ہے۔ ‘‘

جوگندرپال نے مارگن کی سوچ کے اس مونتاژ کے ذریعہ کئی مسائل کو بڑی خوبصورتی کے ساتھ پیش کیا ہے۔ مارگن بے خیالی اور بے خودی کے عالم میں بھی اپنے حقیقی باپ کے حصار سے باہر نہیں نکل پا رہا ہے۔ ہر وقت ایک نامانوس چہرہ اس کے سامنے آ جاتا ہے جس پر مارگن کو اپنے باپ کا چہرہ ہونے کا گمان ہوتا ہے۔ لیکن وہ اجنبی چہرہ مارگن سے اپنی شناسائی کا اظہار نہیں کرتا کہ مارگن کے بے قرار و بے چین دل کو قرار آ جائے۔ عناصر اربعہ سے تشکیل شدہ انسان ان عناصر کے حصار سے باہر نہیں نکل پاتا ہے اور دھر تی سے کوسوں میل دور خلا میں بھی وہ پانی کے بارے میں سوچتا ہے کہ زمین کے تین چوتھائی حصہ پر پھیلے اس پانی پر ہی انسانی و جود منحصر ہے۔ لیکن پانی جہاں انسانی وجود کو قائم رکھنے میں اہم کردار ادا کر تا ہے وہیں پانی انسانی وجود کے لئے تباہی و بربادی کا ذریعہ بھی ہے۔ سونامی، کٹرینا، ایلا، ہدہد اور نیلوفر جیسی نہ جانے کتنی تباہیاں پانی کی وجہ سے آ چکی ہیں۔ اللہ نے دھرتی بنائی تو انسانی قدم سے اسے زینت بخشا لیکن یہی انسان اس کی تباہی و بربادی کا باعث بھی ہے۔ یہ انسان امن و سکون سے رہے تو دھرتی جنت نشاں بن جاتی ہے اور جنگ و جدال پر اتر ائے تو یہی دھرتی جہنم بن جاتی ہے۔ دوسری عالمی جنگ کے اختتام پر امریکہ نے اپنی برتری ثابت کرنے کے لئے ناگاساکی اور ہیروشیما پر جو ایٹم بم برسائے تھے اس سے زمین اتنی زہر آلود ہو گئی تھی کہ آج پچھتر سال گزر جانے کے بعد بھی وہاں بچے لولے، لنگڑے پیدا ہوتے ہیں۔ مارگن نے کرہ ارض کو چھو کر امن اور خاکساری کا پیغام دیا ہے۔ ہندستانیوں اور تمام پسماندہ ممالک کو یہ بھی پیغام دیا ہے کہ اپنی مٹی اور اپنے خمیر سے مایوس مت ہو۔ بقول علامہ اقبال:

نہیں ہے نا امید اقبال اپنی کشت ویراں سے

ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زر خیر ہے ساقی

مارگن کا یہ پیغام استعاراتی انداز میں اس طرح اپنے اختتام کو پہنچتا ہے:

‘‘ مارگی!۔۔ ما۔۔ ر۔۔ ۔ !

مجھے بہت دور سے سنائی دیا ہے اور اپنے وجود سے باہر نکل کر میں نے دیکھا ہے کہ شیلی میرے سامنے کھڑی مسکرا رہی ہے اور بڑی اچھی لگ رہی ہے اور میں نے اس کے گلے میں باہیں ڈال کر اسے اپنے پاس بٹھا لیا ہے اور زرخیز دھر تی سونگھ سونگھ کر مجھے بے اختیار خواہش ہونے لگی ہے کہ ہل چلانا شروع کر دوں۔ اور دھر تی نے شرما کر اپنا سر جھکا لیا ہے اور اپنے خیال ہی خیال میں دیکھ رہی ہے کہ اس کے خوبصورت چہرے پر نئی زندگی کا بور پھوٹ رہا ہے۔ ‘‘

یہ رجائیت ہی جوگندر پال کی شخصیت کا وہ خاص وصف ہے جسے وہ اپنے قارئین تک منتقل کرنا چاہتے ہیں۔ صبر و استقلال کے ساتھ جہد پیہم اور عمل مسلسل ہی تمام مسائل کا حل ہے۔ آج ہم اکیسویں صدی کی دوسری دہائی میں داخل ہو چکے ہیں اور دیکھ رہے ہیں کہ ہندستان نے اقوام عالم میں اپنا ایک وقار حاصل کر لیا ہے۔ دنیا کے بہت سے ممالک ہندستان کی جانب رشک کی نگاہ سے دیکھ رہے ہیں اور اس کی معاشی و سیاسی پالیسیوں کو اپنے لئے نمونہ عمل تصور کر رہے ہیں۔ یہ ایک خوش آئند مستقبل کا واضح اشارہ ہے۔ جو گندر پال کے اس ناولٹ کی فنی ندرت اس کے پلاٹ میں ہے۔ ہندستان کی اس کہانی کو پیش کرنے کے لئے انہوں نے بڑی فن کاری کے ساتھ پلاٹ کا تانا بانا بنا ہے۔ سید مہدی احمد رضوی اس کے پلاٹ کے حوالے سے لکھتے ہیں:

‘‘ آمد آمد،  کے پلاٹ کی تشکیل میں فنی شعور کی ندرتیں سامنے آتی ہیں۔ اس ناولٹ کی سب سے اہم خصوصیت اس کی تکنیکی شادابی اور اسلوبی ندرت ہے۔ جوگندر پال نے ناولٹ کے پلاٹ کو شعور کی رو تکنیک کے جزوی استعمال کا پابند رکھا ہے۔ مارگن کے خیالات اور اس کے احساسات کی لہریں ہی ناولٹ کے پلاٹ کی تشکیل کرتی ہے۔ ناولٹ نگار کے اپنے بیانات کہیں نہیں ملتے۔ پلاٹ سے وابستہ واقعات کے بہاؤ کا وسیلہ بھی خیال اور احساس کی رو ہے۔ ان واقعوں میں سرگرمئی عمل نہیں ہے، سر گرمیِ احساس اور سرگرمئی خیال ہے۔ ‘‘  (12)

یہ ناولٹ 1971میں ماہنامہ شاعر کے ناولٹ نمبر میں ، آمد آمد ،  کے عنوان سے شائع ہوا تھا لیکن 1975میں جب اس کو کتابی شکل دی گئی تو اس کا نام ، آمدو رفت،  کر دیا گیا۔ سید مہدی احمد رضوی نے ، آمدورفت،  کو ، بیانات،  کے مقابلے میں زیادہ اچھا ناولٹ قرار دیا ہے لیکن میرے نزدیک ، بیانات،  اس سے بہتر ناولٹ ہے۔ ، بیانات،  پورے طور پر علامتی ناولٹ ہے جو استعاراتی انداز میں لکھا گیا ہے جبکہ ، آمدورفت،  سیدھے سادے انداز میں لکھا گیا ناولٹ ہے اس میں مسائل کو کھلے لفظوں میں پیش کیا گیا ہے اور کہیں کسی طرح کی پیچیدگی اور الجھاؤ نہیں ہے۔ لیکن اس کی تکنیک ، بیانات،  کے مقابلے میں کمزور ہے۔ حالانکہ دونوں ہی ناولٹ میں شعور کی رو کا جزوی استعمال ہوا ہے لیکن ، بیانات،  میں ، داخلی خود کلامی،  کی جو تکنیک استعمال کی گئی ہے وہ اسے ممتاز کر تی ہے۔

٭٭

 

‘‘ وہ ساہو کو رام کرنے کے لئے اس سے کہتا ہے:

‘‘ ساہو، سیما تمہارے آرٹ کو تم سے بھی زیادہ سمجھتی ہے۔ اگر تمہاری شخصیت تمہارے آرٹ سے مختلف نہیں تو سیما کی بدولت تمہارے سارے کا سارا اپنا آپ تمہاری سمجھ میں آ جائے گا۔‘‘

ساہو یہ جانتا ہے کہ سیما سے مکمل ارتباط و اختلاط کے بغیر ہستی کی معنویت تک رسائی نہیں ہو سکتی، وہ محسوس کرتا ہے:

‘‘ ہاں، عورت وہی اپنی ہو تی ہے جسے گلے لگا کر ہماری ذات کے سارے بھید ہم پر واہو جائیں اور جینا کسی پرائمری ٹیکسٹ بک کے مانند سرل معلوم ہونے لگے۔ سیما کے سینے سے سینہ جوڑ کر بڑی بڑی باتیں میرے لئے عام فہم ہو جائیں گی، میری کہانیاں ازخودسطحوں پر آ جائیں گی اور پہنچے ہوئے درویشوں کی طرح میرا باہر باہر بھی باطن میں ڈوبا ڈوبا معلوم ہو گا۔ ‘‘

مگر ساہومیں عمل کا حوصلہ نہیں ہے۔ وہ کچھ کرنا نہیں چاہتا ہے اس کے برعکس وہ چاہتا ہے کہ سیما یعنی زندگی خود آ کر اس سے بے اختیار لپٹ جائے اور اس کے منع کرنے کے باوجود اس سے کہے ،  میں تمہارے بغیر نہیں رہ سکتی۔ ‘‘

(ڈاکٹر جہانگیر احمد کے تحقیقی مقالہ ‘‘ جوگندر پال کی ناولٹ نگاری‘‘  کے باب ‘‘ بیانات‘‘  سے اقتباس)

٭٭٭

 

 

 

 

جوگندر پال کا ناولٹ ، خواب رو،  ۔۔۔ ڈاکٹر جہانگیر احمد (دہلی)

 

جوگندر پال کے ناولٹ نگاری کی اگلی کڑی ، خواب رو ،  ہے۔ اس ناولٹ کو 1991میں ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس، دہلی نے شائع کیا۔ یہ ناولٹ 107 صفحات پر مشتمل ہے۔ جوگندر پال کا یہ خوبصورت ناولٹ تقسیم ہند کے نتیجے میں ہونے والی ہجرت، نئی زمین پر مہاجرین کے مسائل اور دو تہذیبوں اور ثقافتوں کے مابین آمیزش اور ٹکراؤ کے بنیادی موضوع کو تخلیقی گرفت میں لیتا ہے۔ ، خواب رو،  ایک پختہ سن نواب مرزا کمال الدین کی کہانی ہے جو تقسیم ہند کے بعد فسادات کے سانحے سے دوچار ہو کر ہندستان کے لکھنؤ سے پاکستان ہجرت کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ لیکن اپنی مٹی اور تہذیبی جڑوں سے بچھڑ نے کا غم انہیں حال کے شعور سے پوری طرح محروم کر دیتا ہے اور وہ ایک قسم کے دیوانے پن کا شکار ہو جاتے ہیں۔ پاکستان کے کراچی میں رہنے کے باوجود انہیں یہ لگتا ہے کہ بدستور لکھنؤ میں رہ رہے ہیں۔ ماضی کی یاد یں ان کے ذہن پر اس طرح اثر انداز ہو چکی ہیں کہ سب کچھ بدل جانے کے باوجود انہیں لگتا ہے کہ کچھ بھی نہیں بدلا ہے۔ ہر علاقے اور جغرافیائی خطے میں کو ئی نہ کوئی تہذیبی نظام جاری رہتا ہے جس میں معاشی، لسانی اور اقتصادی پہلو قدر مشترک کی حیثیت رکھتی ہے اور اس مخصوص علاقے کے رسو مات اور اخلاقی اقدار وغیرہ اس تہذیبی نظام کی عکاسی کرتے ہیں۔ ان علاقوں میں بسنے والا انسان وہاں کے تہذیبی نظام کو پو ری طرح اپنے اندر جذب کر لیتا ہے اور اس کو اپنا قیمتی اثاثہ اور سرمایہ مانتا ہے جس سے وہ کسی طرح الگ نہیں ہو نا چاہتا۔ لیکن جب کسی بڑے سیاسی واقعے، جنگ یا قدرتی آفات کے سبب انسان کو نقل مکانی پر مجبور ہو نا پڑتا ہے تو اس سے اس کا یہ تہذیبی سرمایہ چھن جاتا ہے ایسی صورت میں انسان بکھر جاتا ہے اور اپنے گرد ایک قسم کا خود ساختہ حصار بنا لیتا ہے جس سے وہ باہر نہیں نکلنا چاہتا۔ نواب مرزا کمال الدین بھی تقسیم اور ہجرت کے کربناک حادثہ سے گزر نے کے بعد ایک قسم کے دیوانے پن میں مبتلا ہو جاتے ہیں اور لکھنؤسے ہجرت کر کے کراچی میں آباد ہو جانے کے باوجود اپنے خود ساختہ حصار کے سبب انہیں کراچی بھی لکھنؤ ہی معلوم ہونے لگتا ہے۔ جوگندر پال نے نواب مرزا کمال الدین کی صورت میں ان ہزاروں لاکھوں معصوم انسانوں کی زندگی اور ان کی ذہنی و جذباتی کیفیات اور صورت حال کی عکاسی کی ہے جنہیں تقسیم کے بھیانک نتائج کا احساس نہ تھا اور نہ یہ اندیشہ تھا کہ اپنے آبائی گھر بار کو خیر آباد کہنے کے بعد کی صورت حال کتنی غیر متوقع ہو گی۔ طبقاتی آویزش، لسانی امتیاز، احساس برتری و کمتری، سرمایہ داری و غریبی اور غلط فہمی و خوش گمانی کا سامنا ہندستان سے ہجرت کر کے پاکستان جا کر بسنے والوں کو کرنا پڑا اور وہاں حصول اقتدار کی کوششوں نے دونوں طرف کے لوگوں کے مابین رشتے کو سازگار بنانے کی بجائے اس کو اور زیادہ پیچیدہ بنا دیاجس سے ٹکراؤ کی صورت پیدا ہو گئی اور مقامی اور غیر مقامی کا سوال اٹھ کھڑا ہوا۔ ناولٹ کا مرکزی کردار نواب مرزا کمال الدین ہیں جن کو ان کی بیوی، اچھی بیگم، دیوانے مولوی صاحب کہہ کر پکارتی ہیں اور وہ اپنے اس نام کے اتنے عادی ہو گئے ہیں کہ اگر کوئی انہیں مرزا نواب کمال الدین کہہ کر پکا رے تو ان کو لگتا ہے کہ بیچارے کو ان کی شناخت میں غلط فہمی ہوئی ہے۔ ہندستان سے ہجرت کر کے کراچی پہنچنے والوں کے ساتھ جب دیوانے مولوی صاحب بھی اپنے خاندان سمیت کراچی پہنچے تو دوسرے ہی دن انہوں نے لکھنؤ واپس ہونے کی ضد شروع کر دی کیونکہ وہ جس شان و شوکت کے پروردہ تھے ان کو یہاں میسر نہ تھا۔ لیکن مہاجرین نے قلیل عرصے میں ہی کراچی میں ایک ایسا لکھنؤ آباد کر لیا کہ جس پر دیوانے مولوی صاحب کو وہی پرانا لکھنؤ ہونے کا یقین ہو گیا اور وہ ایک طرح کے سپنے اور خواب میں جینے لگے۔ دیوانے مولوی کے بڑے بیٹے نواب مرزا نے اپنے والد کی دیوانگی کا علاج کروانا چاہا تو اچھی بیگم نے اپنے بیٹے کو سختی سے منع کر دیا، کیونکہ وہ نہیں چاہتی تھی کہ دیوانے مولوی صاحب حقیقی دنیا کی تلخیوں کا سامنا کریں۔ ناولٹ کے آخر میں دیوانے مولوی صاحب کی دیوانگی کا سلسلہ اس وقت ٹوٹتا ہے جب ان کی حویلی میں ایک بھیانک دھماکہ ہوتا ہے جس میں اچھی بیگم، نواب مرزا، نواب مرزا کی بیوی چاند بی بی اور اس کی پیاری بیٹی ثریا دب کر زندہ دفن ہو جاتے ہیں۔ دیوانے مولوی صاحب کو یہاں معلوم ہوتا ہے کہ وہ اپنے لکھنؤ میں نہیں بلکہ پاکستان کے کراچی میں ہیں۔ لیکن کہانی کے اس مقام پر ان پر ایک دوسری قسم کی دیوانگی طاری ہو جاتی ہے اور وہ سوچنے لگتے ہیں کہ وہ اپنے پوتے سلیم اور پوتی دلنواز کے ساتھ یہاں چند دنوں کے لئے اپنے چھوٹے بیٹے اسحاق مرزا اور ان کی بیوی بچوں سے ملنے آئے ہیں اور وہ پھر جلد سے جلد لکھنؤ لوٹ جانے کی ضد کرنے لگتے ہیں۔ گو یا کہ دیوانے مولوی صاحب ایک خواب سے آزاد ہو کر دوسرے خواب میں گرفتار ہو جاتے ہیں۔ تقسیم کے بعد اردو کے بہت سے ناولوں اور افسانوں میں وسیع پیمانے پر ہونے والی ہجرتوں اور ان کے گو نا گوں مسائل کو پیش کیا گیا ہے۔ جوگندر پال نے بھی ، خواب رو ،  میں اسی مسئلے کو پیش کیا ہے۔ جوگندر پال کو ، خواب رو،  لکھنے کی تحریک کہاں سے ملی اس بارے میں ، خواب رو،  پر لکھے اپنے ایک انگریزی مضمون On writing Sleepwalkers میں وہ خود لکھتے ہیں:

"Once, well past midnight, Ali and I happened to visit a restaurant in the Lucknow of mohajirs. The restaurant was as astir with activity then as it must be in its peak hours. My friend remarked that "Lucknavis” were in the habits of walking out of their dreams at night to come straight to the Chowk. He assured me that these sleepwalkers would keep popping in till the small hours. ‘Khwabrau’ was thus born in my mind. And, months later, when it became ripe for delivery, I prepared myself for what I knew would be a hassle-free labour” (13)

جوگندر پال نے ، خواب رو،  میں ہندستان کے لکھنؤ سے مہاجرت کر کے کراچی میں جا کر بسنے والے مہاجروں کے ذہنی رویوں، ثقافتی قدروں اور تہذیبی المیوں کو بڑے فنکارانہ انداز میں پیش کیا ہے۔ ہندستان سے ہجرت کر کے پاکستان جانے والوں میں صرف لکھنؤ کے لوگ نہیں تھے بلکہ ہندستان کے تقریباً تمام حصوں سے ہجرت کر کے لوگ پاکستان گئے تھے لیکن جو گندر پال نے صرف لکھنؤ کے مہاجروں کو نظر میں رکھ کر اپنا یہ تخلیق پیش کیا اس کی وجہ یہ ہے کہ جوگندر پال نے لکھنؤ کے مہاجرین کو محض ایکsymbolاور استعارے کے طور پر پیش کیا ہے ورنہ تو صورت حال یہ ہے کہ لوگ دنیا کے کسی بھی خطے سے ہجرت کر کے کسی بھی خطے میں جا کر بسیں انہیں یہی ساری مصیبتیں جھیلنی پڑتی ہیں اور انہیں کربوں سے گزرنا پڑ تا ہے۔ جوگندر پال ، خواب رو،  کی ابتدا اس طرح کر تے ہیں:

‘‘ یہ لکھنؤ ہے

ملک کی تقسیم پر جب لکھنؤ کے مہا جرین کراچی چلے آئے تو ذرا سنبھلتے ہی انہوں نے یہاں بھی وہی امین آباد کا چوک کھڑا کر لیا۔ ویسے ہی یہاں بھی چھ سات راستے ٹوپیاں ٹیڑھی کئے ادھر ادھر سے بیک وقت آ داخل ہوتے ہیں اور معلوم ہوتا ہے کہ ساری دنیا ادھر ہی چلی آ رہی ہے۔ امین آباد میں تل دھرنے کو جگہ نہ رہی اور مہاجرین امین آباد کے گرد و پیش پاؤں جمانے لگے، اور اس طرح ہو تے ہوتے پو را لکھنؤ آباد ہو گیا۔ صرف پر انا شہر ہی نہیں، پرانے شہر کے بطن سے پیدا ہو کر نیا نویلا شہر بھی نواح میں اپنی کھلواڑ کا سماں باندھنے لگا۔ ‘‘

اپنی مٹی اور اپنی جڑوں سے بچھڑ نے کا درد آسانی سے پیچھا نہیں چھوڑتا۔ لہذا مہاجرین نے کراچی میں سب سے پہلے اپنی چھوڑی ہوئی یا چھٹی ہوئی بستیاں آباد کیں۔ انہوں نے اپنی بستیاں اس طرح آباد کیں کہ لکھنوی تہذیب، زبان، طرز زندگی اور طرز معاشرت کی ہو بہو عکس ان میں نظر آنے لگا۔ مہاجرین کے ساتھ ایک بڑا مسئلہIdentity اور شناخت کا ہوتا ہے اس لئے ان کے لئے ہجرت کے بعد چھوڑی ہوئی تہذیب، گھر بار اور آب و ہوا کی بازیافت نفسیاتی اور سماجی ضرورت بن جاتی ہے۔ لہذا یہاں بھی مہاجرین نے اپنے ماضی کی بازیافت اس طرح کی:

‘‘ کہتے ہیں کہ لوگ آتے جاتے رہتے ہیں مگر مقامات ہمیشہ وہیں مقام کئے رہتے ہیں، مگر یہاں تو مہاجرین دل ہی دل میں شہر کا شہر اٹھا لائے، کوئی اپنے گھر کی اینٹیں، کوئی جوں کاتوں پو را گھر، کوئی ساری گلی، کوئی گلی سے باہر تیز تیز چلتی ہوئی سڑک۔ جو بھی جس کے دل میں سماپایا، اور جب کراچی پہنچ کران کی سانس میں سانس آئی تو انہوں نے دلوں سے اینٹ اینٹ سارا شہر بر آمد کر لیا۔ خدا جانے جہاں یہ شہر واقع تھا وہاں اب کیا رہ گیا ہو گا۔ یہاں تو اس کی پھبن کا یہ عالم ہے کہ کوئی کراچی کی سیر کو آئے تواس سے بار بار پوچھا جاتا ہے، کراچی میں لکھنؤ دیکھا۔ ‘‘

جوگندر پال نے ، خواب رو،  میں بنیادی طور پر کراچی کا منظر نامہ پیش کیا ہے اور ہندستان سے ہجرت کر کے کراچی میں آباد ہونے والے مہاجرین کی تمناؤں اور امنگوں کے پھلنے پھولنے اور تاراج ہونے کی کہانی پیش کی ہے۔ مہاجرین نے کراچی میں صرف لکھنؤ ہی نہیں بسایا بلکہ اس کے اطراف میں ملیح آباد، میرٹھ، مرادآباد، اعظم گڑھ اور الہ آباد بھی آباد کر لئے۔ لیکن ان سب کے باوجود انہیں یہاں اجنبیت اور غیریت کا احساس ہوتا ہے اور انہیں لگتا ہے کہ یہاں کی مٹی، آب و ہوا اور فضا و ماحول انہیں پہچانتے نہیں اور ان سے کٹے کٹے سے رہتے ہیں۔ اس صورت حال کو دیکھ کر دیوانے مولوی صاحب سارے لکھنؤ کو دیوانہ قرار دیتے ہوئے کہتے ہیں:

‘‘ ارے میاں ‘‘  وہ دورو نزد کے گھروں میں باری باری سمجھانے جاتے ہیں۔ ‘‘ اللہ سے رجوع کرو اور پانچوں نمازیں دل لگا کے پڑھا کرو۔ اس سے بڑھ کے کیا عذاب ہو گا کہ اپنے ہی گھر میں ہمہ وقت محسوس ہوتا رہے ہم کہیں اور بیٹھے ہیں۔ ‘‘

لیکن اس کیفیت کے باوجود مہاجرین نے خوب ترقی کی اور معاشی طور پر تو وہ بعض اعتبار سے نہ صرف سندھیوں بلکہ دوسرے مقامی باشندوں سے بھی بازی لے گئے اور محنت اور حکمت عملی سے صوبائی اور قومی سطح پر تجارت، کارخانہ داری، سرمایہ کاری اور نوکر شاہی میں برابر حاوی ہوتے چلے گئے اور اتنے حاوی ہو گئے کہ طاقت کا توازن بگڑنے کے سبب مقامی اور غیر مقامی کا اختلاف و نزاع اٹھ کھڑا ہوا۔ بر صغیر کی آزادی اور تقسیم کی ہڑبونگ میں تو یہ شور دبا رہا، تاہم اس ہمہ گیر ہڑبونگ کے بعد جب پہرے اور پولیس کے ضوابط کا انعقاد ہونے لگا اور مہاجرین کے پاؤں جمنے لگے تو اس شور و شغب کے علاوہ اور کچھ سنائی نہیں دینے لگا۔ تہذیبی و معاشرتی طور پر بھی ان میں نزاع اور اختلاف شروع ہو گیا کیونکہ ہندستان سے پاکستان ہجرت کرنے والوں کا تعلق گنگا جمنی مشترکہ تہذیب سے تھا جبکہ کراچی کی تہذیب گنگا جمنی مشترکہ تہذیب سے خاصی مختلف تھی۔ مہاجر تہذیب اگر فاتح کی حیثیت سے کسی علاقے میں داخل ہوتی ہے تو صورت حال کچھ اور ہو تی ہے لیکن اگر رفیوجی، جلاوطن اور مہاجروں کے ہمراہ وارد ہو تو حالات مختلف ہو جاتے ہیں۔ ایسی صورت میں اتفاق و ہم آہنگی کے لئے ضروری ہو جاتا ہے کہ مہاجر تہذیب مقامی تہذیب سے اخذ و ماخوذ کا سلسلہ قائم کرے گو کہ مہاجر تہذیب مقامی تہذیب سے زیادہ ترقی یافتہ ہی کیوں نہ ہو۔ لیکن کراچی میں ایسا نہ ہوا اور ہوا بھی تو کافی سست رفتاری سے جس کے نتیجے میں ٹکراؤ اور اختلاف بڑھتا ہی چلا گیا۔ اس نفرت کے سناٹے میں کچھ لوگ ایسے بھی پیدا ہوئے جنہوں نے حالات کے تقاضے کو سمجھا اور نفرت کی اس خلیج کو محبت سے پاٹنے کی کوشش کی۔ ان میں سر فہرست نظر آتے ہیں دیوانے مولوی صاحب کے چھوٹے بیٹے اسحاق مرزا۔ اسحاق مرزا کو موجودہ تمام نا ہم آہنگیوں کا گہرا شعور ہے اور انہیں نا ہم آہنگیوں کو کم کرنے کے لئے، وہ تمام مخالفتوں کے باوجود ایک سندھی لڑکی سے شادی کر لیتا ہے، یہی نہیں بلکہ سندھیوں کے محلے میں جا کر بس بھی جاتا ہے۔ وہ اپنے اس رشتۂ ازدواج سے پوری طرح مطمئن بھی ہے۔ اسی طرح اسحاق مرزا کا ماموں زاد بھائی ہاشم علی بھی ترقی پسند واقع ہوا ہے اور مقامی لوگوں سے تعلقات استوار کرنے کا قائل ہے جبھی وہ اپنی بڑی بیٹی شہزادی کے ایک سندھی سے شادی رچا لینے پر احتجاج نہیں کرتا بلکہ ان کو خوش آمدید کہتا ہے اور احتجاج کرنے پر اپنے والد کو جواب دیتا ہے:

‘‘ نہیں، ابا حضور، اپنی گریجویٹ لڑکی کو کیا میں کسی قلم گھسیٹ چھٹ بھیے کے گلے باندھ دوں ؟ نہیں جو ہوا، سو ٹھیک ہوا۔ ‘‘

حقیقت پسندی کا تقاضا بھی یہی ہے کہ آدمی حالات کے مطابق کام کرے اور اختلاف و انتشار کو کم کر کے محبت و یگانگت کی فضا ہموار کرے۔ غریب طبقے میں بھی کچھ لوگا س کوشش میں لگے ہوئے ہیں جیسے کہ عزیزو، جو کہ مہاجر ہے مگر اس کی بیوی کا تعلق بھی ایک سندھی خاندان سے ہے۔ بقائے باہم اور Co-existence کے اصول پر عمل در آوری کے ذریعہ ہی ایک پر سکون معاشرہ تشکیل دیا جا سکتا ہے۔ خوشحالی اور ترقی کے لئے بھی امن و سکون کے ساتھ ایک دوسرے پر بھروسہ اور اعتماد ضروری ہے۔ اگر بھروسہ اور اعتماد نہ کیا جائے اور ایک ہی سماج کے لوگ مقامیوں اور غیر مقامیوں میں بٹ کر رہ جائیں تو فرقہ واریت ایک مستقل عذاب کی صورت کھڑی کئے رہتی ہے۔ مثلاً غیر مقامی جب مقامی ہو جاتے ہیں تو مقامیوں کے غیر مقامی ہونے کی باری آ جاتی ہے۔ اس لئے ضروری ہے:

‘‘ اگر ہمیں کھلے کھلے سانس لینا ہے تو اس کے سوا کو ئی تدبیر نہیں کہ اپنے ہر نئے مقام پر ہم فوری طور پر مقامی ہو جائیں، اتنے کہ ہم سے نفرت کرتے ہوے مقامیوں کو محسوس ہو کہ وہ اپنے آپ سے ہی نفرت کر رہے ہیں۔ ‘‘

یہ خیالات اسحاق مرز اکے ہیں۔ لیکن اسحاق مرزا جیسے افراد مہاجروں کے درمیان معدودے چند ہیں۔ مہاجروں اور مقامی لوگوں کے درمیان دوری کئی سارے معاشرتی اور اقتصادی مسائل کھڑی کرتی ہے لیکن اس کا احساس نہ تو عوام کو ہے اور نہ ہی سیاست دانوں کو۔ تقسیم ہند کے سانحے کے نتیجے میں پاکستان کا قیام تو عمل میں آ گیا اور ایک الگ ملک حاصل کر کے مسلمانوں نے اطمینان و سکون کی سانس بھی لی، لیکن یہ اطمینان و سکون کی مدت بے حد مختصر تھی کیونکہ مقامی اور غیر مقامی کی تفریق نے لوگوں کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا اور اس طرح بدامنی اور انتشار کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ کہانی آگے بڑھتی ہے دیوانے مولوی صاحب کی حویلی ، نواب محل،  میں ایک سندھی باورچی سائیں بابا کے داخلے سے۔ سندھیوں اور مہاجروں کے اختلافات نے آپس کے اعتماد وبھروسے کو اتنا کمزور کر دیا ہے کہ وہ ایک دوسرے پر بالکل اعتبار نہیں کرتے۔ اسی لئے اچھی بیگم اور ان کی بڑی بہو چاند بی بی کو سائیں بابا کو نو کری پر رکھنے میں تردد ہے۔ لیکن باورچی کی اشد ضرورت کے سبب، پس و پیش کے باوجود وہ سائیں بابا کو نو کری پر رکھ لیتی ہیں۔ اندرون ملک مہاجروں اور سندھیوں میں ناچاقی کی وجہ شک و شبہ تو ہے ہی، ہندستان و پاکستان کے درمیان نا اتفاقی کی وجہ بھی شک و شبہ ہی ہے:

‘‘ ہمارے دونوں ملکوں کے ساجھے مرض کی ایک نمایاں علامت شک و شبہ ہے جو ہم ایک دوسرے سے بے سبب برتنے سے بھی گریز نہیں کر تے ؟ آئندہ نسلوں کا چھٹکا رہ یوں ہی ہو سکتا ہے کہ دونوں جوانب کے نو عمر اکثر ملا کریں اور لڑنا بھی ہو تو قومی لڑائیاں لڑ نے کی بجائے صرف نجی طور پر لڑیں جھگڑیں، خوب لڑیں جھگڑیں، پیار سے یا غصے سے مگر ملتے رہیں۔۔ ۔۔ ہماری سرکاروں کی اولین ذمہ داریوں میں یہ بھی شامل ہو نا چاہئے ہاشم کہ اپنے اپنے ہنگامی مفادات کو بالائے طاق رکھ کر دونوں طرف داخلے میں ڈھیل چھوڑ دیں، ورنہ خوفزدہ عوام کی فطری صلاحیتیں پنپیں گی تو کیا، سلب ہو کر رہ جائیں گی۔ ‘‘

لیکن تقسیم کے پینسٹھ سال بعد بھی آج حالات بدستور ویسے ہی ہیں۔ دونوں طرف کی حکومتیں وقتاً فوقتا اپنے سیاسی مفادات کی حصولیابی کے لئے اختلافات کو اور بھی ہوا دیتی رہتی ہیں۔ گو کہ اب دونوں طرف کی عوام با شعور ہو گئی ہے اور وہ حکومتوں کی چالوں کو سمجھنے لگے ہیں لیکن عوامی سطح پر کچھ بھی کر پانے سے قاصر ہیں۔ بم کی تباہ کاریاں موجودہ عہد کی ایک تلخ حقیقت ہے۔ دیوانے مولوی صاحب نواب محل سے کوئی ڈیڑھ فرلانگ کی دوری پر حکیم معز الدین کے مطب میں بیٹھے ان سے گپ شپ کر رہے ہیں کہ نواب محل کے اطراف سے ایک فلک شگاف دھماکہ سنائی دیتا ہے۔ دھماکہ کی آواز سن کر دیوانے مولوی صاحب حواس باختہ ہو جاتے ہیں۔ در اصل انہیں واہمہ ہو جاتا ہے کہ دھماکہ کہیں نواب محل میں ہی نہ ہوا ہو۔ وہ متوحش اور بے تحا شہ پن سے آگے پیچھے قدم اٹھاتے ہوے نواب محل کا رخ کر تے ہیں۔ انہوں نے دور سے جو کچھ دیکھا ہے اس پر یقین نہ آنے پر آنکھوں پر بار بار زور ڈالا ہے:

‘‘ نواب محل کے پائیں باغ میں پھٹنے والا بم اتنا طاقتور تھا کہ کوئی کہہ رہا تھا یہاں امین آباد میں پھٹا ہے، کوئی نذیر آباد اور کوئی ماموں کی قبر میں۔ سبھی لکھنؤ والوں کو لگا کہ انہی کے گرد و نواح میں کہیں دھماکا ہوا ہے۔ شہر بھرمیں کہرام سامچ گیا۔ ‘‘

دیوانے مولوی صاحب کا بھرا پرا خاندان دیکھتے ہی دیکھتے موت کی آغوش میں چلا جاتا ہے اور کچھ لوگوں کو چھوڑ کر بیشتر لوگ اس سانحے کا شکار ہو کر لقمۂ اجل بن جاتے ہیں۔ پورے گھر سے نواب مرزا کا ایک لڑکا اور ایک لڑکی بچ جاتے ہیں۔ اتفاق تھا کہ وہ دونوں اس وقت پائیں باغ سے کا فی فاصلے پر لکن چھپن کھیلنے میں مگن تھے:

‘‘ دیوانے مولوی صاحب جب حکیم معز الدین کے مطب سے لوٹ کر نواب محل کے اردگرد کی بھیڑ کو چیرتے ہوئے محل میں داخل ہوئے تھے تو ان کے غم کا انسداد کرنے والے ان کے غم کا اسباب کر کے پرلوک سدھار چکے تھے۔ ان کی اچھی بیگم اور نواب بیٹا اور چاند بہو اور چہیتی ثریا ملبے کی قبر میں دفن تھے اور ان اپنوں کی بجائے ایک غیر شخص، ان کا باورچی، جس کے ہم ذاتوں کے باعث یہ بلا نازل ہوئی تھی انہیں سہارا دینے کے لئے ان کی طرف بڑھ رہا تھا۔ جب اور کو ئی نہ ہو اور دشمن ہی سہارا دینے کے لئے بڑھ آئے تو محبوب سا لگتا ہے اور اسی کی بغلوں میں سر دے کر پھوٹ پھوٹ کے رو دینے سے چین آ جاتا ہے، سو دیوانے مولوی صاحب بھی بے اختیار سائیں با با کے سینے سے آ لگے اور اتنا روئے کہ ان کے ہوش و حواس بحال ہونے لگے۔ ‘‘

سچ کہتے ہیں کہ مصیبت میں ڈھارس بندھانے والا دشمن بھی محبوب لگنے لگتا ہے۔ ایک طرف دیوانے مولوی صاحب اپنے سندھی باورچی کے سینے سے آ لگے ہیں تو دوسری طرف ان کی سندھی بہو، ان کے بچے کچے خاندان کو سنبھال لیتی ہے۔ اسحاق مرزا سندھی کالونی سے نواب محل میں اٹھ آیا ہے اور اس کی سندھی بیوی سلمی بیگم نے دونوں یتیم بچوں کو اپنی نگرانی میں لے کر اتنا پیار دیا ہے کہ سلیم اور دلنواز اپنے آپ ہی اسے امی کہہ کر پکارنے لگے ہیں اور سلمی بیگم ان کے اس معصوم جذبے کو تقویت پہچانے کے ذرائع کو وسیع کئے جانے کی سوچتی رہتی ہے۔ لیکن دیوانے مولوی صاحب کے ذہن پر اس سانحے کا اثر یوں ہوا ہے کہ وہ سوچنے لگے ہیں کہ وہ کراچی چند دنوں کے لئے ملنے ملانے کے لئے آئے ہیں اور وہ جلد از جلد لکھنؤ لوٹ جانا چاہتے ہیں۔ ان کو لگتا ہے کہ لکھنؤ میں اچھی بیگم، نواب مرزا، چاند بی بی اور ثریا بے چینی سے ان کا انتظار کر رہے ہیں جبکہ حقیقت یہ ہے کہ اس سانحے میں انہوں نے ان لوگوں کو سداکے لئے کھو دیا ہے۔ دیوانے مولوی صاحب کی یہ عجیب و غریب ذہنیت اور زندگی کے تئیں ان کا یہ رد عمل ذہنی اذیتوں کی ایک ایسی داستان ہے جو حساس ذہنوں کا مقدر بن چکا ہے۔ ناولٹ اس طرح اپنے اختتام کو پہنچتا ہے:

‘‘ تیار ہو جاؤ بیٹے، آج ہم جا رہے ہیں۔

کہاں، بڑے ابو ؟

لکھنؤ، بیٹے، ہمارا لکھنؤ۔

سلیم کی سمجھ میں نہیں آ رہا ہے کہ اس کے ابو کس لکھنؤ کا ذکر کر رہے ہیں۔ وہ کھڑے کھڑے گیند سے کھیلنے لگا ہے جو اچانک کمرے سے باہر اچھل گئی ہے اور وہ یہ جواب دے کر گیند کے پیچھے بھاگ گیا ہے۔

لکھنؤ یہیں تو ہے بڑے ابو !۔ ‘‘

ناولٹ کی یہ آخری سطریں پڑھ کر قاری کی آنکھوں میں آنسو امنڈ آتے ہیں اور ہمیں دیوانے مولوی صاحب سے یک گونہ ہمدردی محسوس ہونے لگتی ہے کہ ان کی زندگی کا بیشتر حصہ خواب ہی میں گزر جاتا ہے۔ وہ اپنے خواب میں سلیم اور دلنواز کو بھی شامل کرنا چاہتے ہیں۔ اس حوالے سے وزیر آغا لکھتے ہیں:

‘‘ دیوانے مولوی صاحب لکھنؤ سے اکھڑے تو انہوں نے کراچی کو لکھنؤ بنا لیا۔ کراچی کا یہ لکھنؤ پاش پاش ہوا تو انہوں نے اسے اپنے خوابوں میں بسالیا اور ایک نئے سفر کی تیاری کرنے لگے مگر وہ اس سفر میں سلیم اور دلنواز کو بھی شامل کرنا چاہتے ہیں جو در حقیقت مستقبل کے چراغ ہیں۔ امکان اس بات کا ہے کہ وہ انہیں تاریک راہوں میں زیادہ دیر تک بھٹکنے نہیں دیں گے بلکہ خواب کی جنت سے نکال کر ہمہ وقت تبدیل ہوتی اس دنیا میں واپس لے آئیں گے جس کے اپنے خواب ہیں۔ ‘‘  (14)

جو گندر پال کے اس خوبصورت ناولٹ میں دنیا کے کسی بھی خطے میں بسنے والے حساس مہاجر کو اپنی ہی داستان نظر آتی ہے اور اسے محسوس ہوتا ہے کہ اپنی مٹی اور اپنی تہذیبی جڑوں سے اکھڑ کر وہ بھی ایک خواب کی سی کیفیت میں جی رہا ہے۔ جوگندر پال کے اس ناولٹ کو پڑھ کر برلن میں رہنے والی ایک مہاجر عورت کا تأثر کیا ہوتا ہے اسے بیان کر تے ہوے جوگندر پال اپنے انگریزی مضمون On writing Sleepwalkers میں لکھتے ہیں:

"A German Indologist visited me with her husband about the time I had just completed the novella. Reading a few pages of the manuscript while I had been busy talking to her husband, she suddenly let out what sounded like a sob.

"Why….?” Alarmed, I asked her in my most persuasive voice. "But this is my story” the tear-stricken lady controlled herself to speak. "This is the story of all of us living on the either side of the Berlin Wall. Let me tell you what happened to our family….”

I knew for certain that she was not feigning interest. She had indeed gone through the same terrible experience in different circumstances. So, shall I say, it is not always the same events but the same emotional impact of the events that accounts for literary authenticity.” (15)

سچ ہے کہ واقعات ہر جگہ چاہے ایک جیسے پیش نہ آتے ہوں لیکن ان کا ذہنی و جذباتی تأثر ہمیشہ ایک جیسا ہی ہوتا ہے اور مہاجرت و جلا وطنی کی زندگی گزارنے والا انسان ٹوٹ ٹوٹ کر بکھر تا رہتا ہے۔ وہ انسان اپنے بکھراؤ کو کبھی خوابوں کے ذریعے سمیٹنے کی کوشش کرتا ہے اور کبھی حقیقت کے ذریعے۔ جس میں اسے سنگلاخ گزر گاہوں سے گزرنا پڑ تا ہے اور بسا اوقات ٹھو کریں بھی کھانی پڑتی ہیں۔ لیکن یہ زندگی کی کشش ہی ہے کہ انسان ان تمام مصیبتوں سے گزر کر بھی کہتا ہوا نظر آتا ہے:

کچھ بات ہے کہ ہستی مٹتی نہیں ہماری

صدیوں رہا ہے دشمن دورِ زماں ہمارا

، خواب رو،  پر فنی لحاظ سے بات کر یں تو اس میں جوگندر پال نے بیانیہ اسلوب اختیار کیا ہے۔ وہ قصے کے راوی کی حیثیت سے ساری وضاحتیں بیانہ کی تکنیک میں بیان کر تے ہیں لیکن کہانی بیان کرنے کے دوران جو گندر پال موقع و محل کی ضرورت کے مطابق بیانیہ سے اچانک مکالمے کی جانب مراجعت بھی کر جاتے ہیں جس سے قصے کا راوی اور کہانی کے کرداروں کے درمیان کو ئی حد فاصل قائم نہیں ہوتا بلکہ کرداروں کے مکالموں کے ذریعہ سے اس میں ایک فطری بہاؤ آ جاتا ہے۔ جو گندر پال نے اس میں مکاتیب کے اسلوب کو بھی برتا ہے اور تجسیم کی گنجائش بھی نکالی ہے۔ دیوانے مولوی صاحب باغ کے پھولوں سے گفتگو کر تے ہیں اور گلہری سے ہم کلام ہو تے ہیں۔ ، خواب رو،  کے اسلوب کے بارے میں شفیق احمد شفیق لکھتے ہیں:

‘‘ پوری کتاب میں مصنف کا بیانیہ اتنا مضبوط، منظم اور مبسوط ہے کہ صفحات کے صفحات پڑھتے چلے جائیں، اظہار میں ذرا بھی جھول کا گمان نہیں ہو تا، ہر لفظ اپنی جگہ فطری اور ضروری محسوس ہونے لگتا ہے۔ اس کتاب میں جمالیاتی انسلاکات کا مظاہرہ ان معنوں میں نظر نہیں آتا کہ انہوں نے زلف و رخ، قد و قامت، قرب و وصال کی لذت اور تالابوں یا جھیلوں میں اشنان کرتی ہوئی گوپیوں کا قصہ رقم نہیں کیا اور نہ اس سے لذت اندوزی کی کو ئی سبیل نکالی ہے۔ بات اصل میں یہ ہے کہ ان کے یہاں جمالیاتی اہتمام کسی نمائشی جذبے کے تحت موجود نہیں۔ ان کا احساس جمال اتنا توانا اور فطری ہے کہ جب وہ کچھ لکھتے ہیں تو جملوں اور عبارتوں کی تنظیم کے دوران از خود ان کی تخلیقات کا جزء لاینفک بن جاتا ہے، جو لکھنے سے زیادہ محسوس کرنے کی چیز ہے۔ ‘‘  (16)

جوگندر پال کے اس قول ، بہ حیثیت ادیب میں اپنی ذات میں بے شناخت ہوں یا میری شناخت کے نقوش کائنات کے سب ہی مظاہر میں مضمر ہیں، میں جو کچھ بھی دیکھتا ہوں وہی بن جاتا ہوں یہی میری شناخت ہے۔ ،  کی مکمل تعبیر ہے ان کا یہ ناولٹ۔ کبھی دیوانے مولوی صاحب میں جوگندر پال کی جھلک دکھتی ہے تو کبھی اسحاق مرزا میں۔ وہ اپنی کہانیوں کے کر داروں میں اپنی ذات کو گم کر دیتے ہیں اور پھر ہمیں ہر کر دار میں ان کی جھلک نظر آتی ہے۔ وہ خود اس بارے میں لکھتے ہیں:

"I do believe I am no other than Deewane Maulvi Sahab of Khwabrau and, living here in India, I did experience every detail of his life in Pakistan.” (17)

جو گندر پال پاکستان کے سیالکوٹ میں پیدا ہوئے اور عین نوجوانی کے عالم میں ہجرت کر کے ان کو ہندستان آنا پڑا اور پھر کچھ ہی دنوں بعد انہیں کینیا جانا پڑ گیا جہاں انہوں نے اپنی عمر عزیز کے چودہ برس ذہنی جلاوطنی کے عالم میں گزارے۔ اپنی جڑوں سے کٹنے کا درد جوگندر پال سے بہتر کون محسوس کر سکتا ہے۔ اس لئے ان کا یہ ناولٹ ان کی آپ بیتی بھی ہے اور جگ بیتی بھی۔ اس خوبصورت ناولٹ کا انگریزی ترجمہ سنیل تریویدی اور سکریتا پال کمار نے کیا ہے، جس کو ، کتھاسوسائٹی ،  نے مارچ1998/میں کتابی شکل میں شائع کیا۔ اس ناولٹ میں جوگندر پال نے ہجرت کرنے والے افراد کے نفسیا تی و ذہنی کرب کو نہ صرف محسوس کیا ہے بلکہ اس سے نجات پانے کا طریقہ بھی بتانے کی کامیاب کوشش کی ہے۔ اس میں روزمرہ کی روانی وسلاست موجود ہے اور ہندی و انگریزی الفاظ کا استعمال اتنی خوبصورتی سے کیا گیا ہے کہ کسی طرح کی کوئی گرانی محسوس نہیں ہو تی ہے۔

٭٭

 

، بیانات،  جوگندر پال کا ایک خوبصورت ناولٹ ہے، اس میں جوگندر پال نے سائنس، فکشن اور زندگی کے باہمی رشتے اور تعلق کو علامتی انداز میں فنکارانہ طریقے سے پیش کیا ہے۔ یہ ناولٹ جوگندر پال نے اپنے قیام اورنگ آباد کے دوران 1971 میں لکھا تھا۔ پہلی بار یہ 1971 میں ہی ، شب خون ، میں چھپا تھا۔ کتابی شکل میں یہ ناولٹ 1975 میں شائع ہواجس کا ناشر انڈین بکس پبلیکیشنز، دلال واڑی، تلک روڑ، اورنگ آباد دکن ہے۔ 92 صفحات پر مشتمل یہ ناولٹ سائنس، فکشن اور زندگی کے باہمی رشتے کو جس طور پر تخلیقی گرفت میں لیتا ہے اس کی کوئی نظیر اردو میں نہیں ملتی۔ مختصر کینوس اور معدودے چند کرداروں کے ذریعہ جوگندر پال نے جس طرح اس ناولٹ کے پلاٹ کو بنا ہے وہ صرف انہیں کا خاصہ ہے۔ اردو میں عام طور پر اس طرح کے موضوعات کو کم برتا جاتا ہے۔ لیکن جوگندر پال نے اپنے ناولوں، ناولٹ، افسانوں اور افسانچوں میں گہرے سوچ و فکر والے موضوعات کو ہی اپنی فنی جولانیوں کی آماجگاہ بنایا ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اس کی اشاعت کے فوراً بعد قارئین و ناقدین نے اس ناولٹ پر بہت زیادہ توجہ نہیں دی۔ یہی وجہ ہے کہ اس پر تنقیدی مضامین بالکل نظر نہیں آتے۔ جب کہ اس زمانے میں سائنس میں نت نئی ایجادات اور ہماری زندگی کے تمام شعبوں میں تیزی سے ان کے حاوی ہونے کے سبب سائنس، فکشن اور زندگی میں توازن بہت تیزی کے ساتھ بگڑ رہا تھا اور پہلے سے بنا بنایا ڈھانچہ بکھر رہا تھا۔ جوگندر پال بڑی گہری سوچ و فکر کے مالک تخلیق کار ہیں۔ ان کی دوربین نگاہیں ان چیزوں تک جاتی ہیں اور ان باریکیوں کو دیکھ لیتی ہیں جن تک عام لوگوں کی نظر بڑی مشکل سے پہنچ پاتی ہے۔ انہوں نے اس بگڑتے توازن کو اپنے اندر جذب کیا اور پھر اسے تخلیقی صورت میں دنیا کے سامنے پیش کر دیا۔

(جوگندر پال کے ناولٹ ‘‘ بیانات‘‘  پر جہانگیر احمد کے باب کا ابتدائی حصہ)

٭٭٭

 

 

 

 

ایک ستارہ اور ٹوٹا  ۔۔۔ نسیم انجم (کراچی)

 

اردو فکشن کے حوالے سے ایک بڑا نام جو گندر پال کا ہے، جواَب ہم میں نہیں رہے۔ وہ جس وقت اور جس دن دنیائے ادب کے کوچوں کو ویران و اداس کر کے رخصت ہوئے وہ ہفتہ کا دن اور ہندستان کے وقت کے مطابق ساڑھے گیارہ بجے تھے اور تاریخ ۲۳اپریل ۲۰۱۶ تھی جب اردو ادب کا چمکتا سورج غروب ہو گیا۔

جوگندر پال کا سنِ پیدایش ۵ ستمبر ۱۹۲۵ ہے۔ وہ پنجاب کے شہر سیالکوٹ میں پیدا ہوئے، ان کے والد کا نام شری لعل چند سیٹھی تھا۔ ان کی مادری زبان پنجابی تھی۔ ذریعۂ تعلیم اردو تھا انہوں نے مرے کالج، سیالکوٹ سے ۱۹۴۵میں گریجویشن کی تعلیم مکمل کی اور ۱۹۵۵ میں جبکہ وہ استاد کی حیثیت سے کینیا میں ملازمت کر رہے تھے، انھوں نے انگریزی ادب میں ایم اے کیا۔ تقسیمِ ہند کے خونی واقعہ نے انہیں ہجرت کرنے پر مجبور کیا اور وہ اپنے خاندان کے ساتھ سیالکوٹ سے دہلی آ گئے ۱۹۴۸میں مشرقی افریقہ میں مقیم ہندوستان کی لڑکی کرشنا سے ان کی شادی ہو گئی اور پھر کینیا چلے گئے۔ کینیا میں تقریباً ۸ سال معلمی کے فرائض انجام دے کر سرکاری ملازمت سے سبکدوشی اختیار کر لی اور ہندستان لوٹ آئے کہ اپنا ملک، اپنا ہی ہوتا ہے، ہر لحاظ سے، وطن کی محبت بیکل کرتی ہے تب واپسی کی راہوں کو ہموار کرنا ضروری ہو جاتا ہے، سو ایسا ہی ہوا۔

جوگندر پال کی ۱۹۶۴ میں اورنگ آباد میں انگریزی کے استاد کی حیثیت سے تقرری ہوئی، ان کی نیکی و خلوص، علمیت و قابلیت نے بہت جلد یعنی ۱۹۶۵میں کالج کے پرنسپل کے عہدے پر فائز کر دیا۔ چودہ سال تک اسی کالج میں رہے اور پھر بے قرار طبیعت نے کچھ اور تقاضا کر دیا، لہذا کالج کو اپنی مرضی سے خیرباد کہا اور دہلی کو اپنا مسکن بنا لیا اور تا حیات یہاں کے ہی ہو رہے۔

پال صاحب نے جو پہلی کہانی لکھی اس کا نام ‘‘ تیاگ سے پہلے ‘‘  اور غالباً ۱۹۴۵ میں ماہنامہ ‘‘ ساقی‘‘  دہلی میں شائع ہوئی اور ناقدین کی توجہ کا مرکز بن گئی۔ اس طرح ان کے پہلے افسانوں کے مجموعے کا نام ‘‘ دھرتی کا کال‘‘  تھا۔ جس کی سنِ اشاعت ۱۹۶۱ تھی۔ اس کے بعد ان کے کئی افسانوں کے مجموعے شامل ہوئے جن میں ‘‘ پرندے ‘‘  ‘‘ ، بستیاں ‘‘  ‘‘ ، جوگندر پال کی کہانیاں ‘‘  اور تین ناول اور دو  ناولٹ بھی اشاعت کے مرحلے سے گزر چکے ہیں بعنوانات (ناول) ‘‘  نا دید‘‘  ‘‘ ،  خواب رو‘‘  اور ‘‘ پار پرے ‘‘  ، (ناولٹ) ‘‘ بیانات‘‘  اور ‘‘ آمدورفت‘‘  تنقید نگاروں سے داد و تحسین وصول کر چکے ہیں۔

ان کے تنقیدی مضامین کے دو مجموعے رابطہ ۱۹۹۷ اور بے اصطلاح ۱۹۹۸میں شائع ہوئے۔ جوگندر پال کی تحریروں کا بہت سی زبانوں میں ترجمہ ہو چکا ہے اور تقریباً پوری دنیا میں وہ افسانہ و ناول نویسی کے حوالے سے اپنی علیحدہ شناخت رکھتے ہیں۔

پال جی کے افسانے معاشرے کے حقائق اور سماجی مسائل کے گرد گھومتے ہیں۔ وہ بہترین افسانہ نگار ہیں، انہوں نے لوگوں کا اور لوگوں کی نفسیات کا جائزہ اپنی ناقدانہ نگاہ سے لیا ہے۔ وہ کردار کے باطن میں جا کر اس کی زندگی کے بارے میں کھوج لگا لیتے ہیں۔ ان کے افسانوں کی بنت، اسلوبِ بیان، کردار نگاری اور فنیّ محاسن اور باریک بینی اور مشاہدات کی آ نچ سے حرارت پاتے ہیں۔ اور اپنے افسانوں کو تجربے کی دھیمی آنچ پر پکنے کے لیے رکھ دیتے ہیں۔ پھر دلوں کو گرمانے والے افسانے وجود میں آ جاتے ہیں۔ زندگی کی روشنی اور توانائی سے بھرپور افسانے ان کی تخلیق ہیں۔ ایسے ہی افسانوں میں ‘‘  ہری کیرتنّ‘‘  ‘‘ ،  بسے ہوے لوگ‘‘  ‘‘ ، خود وفاتیہ‘‘  ‘‘ ‘‘ ‘‘  گھات‘‘  اور متعدد دیگر شامل ہیں۔ جوگندر پال کا اندازِ تحریر دلنشیں اور تجسس کی فضا کو پروان چڑھاتا ہے۔

جوگندر پال بڑے ادیب ہی نہیں بلکہ بڑے انسان بھی تھے اس کا ثبوت ان کی پاکستان آمد اور ان کے اعزاز میں تقریبات کا انعقاد، ترقی پسند شاعر و نقاد جناب صبا اکرام کو یہ فوقیت حاصل ہے کہ دیار غیر سے آنے والے قلمکاروں کے لیے اپنی رہائش گاہ پر یادگار اور شاندار محافل کا انعقاد کرتے ہیں۔ ایسی ہی ایک تقریب میں جو فکشن کی اہم شخصیت جوگندر پال اور ان کی مسز کرشنا پال سے ملاقات کا اہتمام کیا گیا تھا۔

جب ان معز زین کی یادوں کے دیئے روشن کرتی ہوں تو گزرے ماہ و سال یاد آ جاتے ہیں شام کی رخصتی کا منظر کچھ اس طرح نمایاں تھا کہ ملگجا اندھیرا آگے بڑھ رہا تھا اور سورج اپنے آشیانے کی سمت سرخ و نارنجی کے گولے کی شکل میں دوڑتا جا رہا تھا۔ اور رات دبے پاؤں بڑھ رہی تھی اور ہندوستان سے آئے ہوے مہمانوں کو خوش آمدید کہنے کے لئے بے قرار تھی۔ اہلِ قلم اپنی اپنی کرسیوں پر براجمان تھے۔ صدرِ مجلس اور مہمانانِ خصوصی اپنی اپنی مسندوں پر تشریف فرما تھے، جوگندر پال سے باتیں کرنا چاہتے تھے، انہیں سننا چاہتے تھے۔ کراچی کے اہم نقاد، ادیب و شاعر ایک جگہ جمع تھے اور وہ سوالات کے کے ذریعے پال صاحب کی زندگی اور ادب کے بارے میں جاننا چاہتے تھے۔ سب نے سوالات کئے، انہوں نے دھیمے لہجے میں ان کے جوابات دئے۔ میرا سوال ان کے ناول‘‘ ، نادید‘‘  کے حوالے سے تھا، ان دنوں ‘‘ نادید‘‘  کا بہت چرچا تھا۔ میں نے اپنا تعارف کرایا۔ اس سے قبل جناب علی حیدرملک یہ فریضہ انجام دے چکے تھے۔ جوگندر پال کےا چھے اخلاق اور انکساری کے باعث مجھے یوں محسوس ہو رہا تھاجیسے میں انہیں برسوں سے جانتی ہوں اور وہ بھی مجھ سے عرصہ دراز سے واقف ہیں۔ انہوں نے کھڑے ہو کر میرے سر پر ہاتھ پھیرا اور دعا دی۔ میرا سوال تھا کہ آپ کا ناول ‘‘ نادید‘‘  نا بینا حضرات کے حوالے سے ہے، اور جسے آپ نے ہر لحاظ سے بے حد اچھا لکھا ہے، آپ کا یہ ناول کامیاب ناولوں کی صف میں شامل ہے اور آپ ماشا اللہ بینا ہیں، آپ نے نا بینا لوگوں کی زندگیوں کے بارے میں کس طرح لکھا، کردار نگاری، نیت، ماحول سازی الفاظ کا انتخاب اور ان کا آپس میں گفتگو کا طریقہ، چیزوں کو چھو کر محسوس کرنے کا اندازاس بات کو ظاہر کر رہا تھا کہ اس ناول کے کردار بینائی سے محروم ہیں۔ یقیناً یہ بڑا منفرد ناول ہے آپ نے ایسا مشکل کام کس طرح انجام دیا۔ وہ میرے سوال کے جواب میں مسکرائے، بتایا کہ ناول لکھنے سے پہلے انہوں نے بہت سارا وقت ان لوگوں کے ساتھ گزارا۔ ان کے بولنے، چلنے، رہنے، بسنے کے انداز کو سمجھا۔ تب یہ کام پایۂ تکمیل کو پہنچا۔

تقریب کے اختتام کے بعد وہ بہت دیر تک باتیں کرتے رہے میری افسا نہ نگاری اور مصروفیات کے بارے میں پوچھتے رہے، اس دوران کرشنا بھابھی نے مسکرانے پر اکتفا کیا۔ بہت کم بولیں، لیکن ضروری سوالوں کے جوابات بے حد خلوص و محبت کے ساتھ دیے۔ یہ میری جوگندر پال صاحب سے پہلی اور آخری ملاقات تھی۔ پھر جب وہ ہندوستان لوٹے تو انہوں نے افسانوں کا مجموعہ ‘‘ جوگندر پال کی کہانیاں ‘‘  اور ناول ‘‘ نادید‘‘  بذریعہ ڈاک ارسال کیا۔ جس کی مجھے بے حد خوشی تھی اور میں نے اپنے خط میں اپنی خوشی کا اظہار کیا تھا۔ مصروفیات کی وجہ سے زیادہ عرصہ خط و کتابت نہیں ہو سکی، ۲۰۰۷ میں میں نے اپنا ناول ‘‘ نرک‘‘  بذریعۂ ڈاک ان کی خدمت میں پیش کیا تھا لیکن نا معلوم انہوں نے رسید کیوں نہیں دی۔ شاید ڈاک کے ناقص نظام کے باعث کتاب ان تک نہ پہنچی ہو۔ جوگندر پال اس دنیا سے رخصت ہو گئے لیکن وہ علم و ادب کا ایک بہت بڑا خزانہ اپنے پیچھے چھوڑ گئے جس سے ادب کا قاری استفادہ کرے گا۔

٭٭

 

‘‘  میں نے سر اٹھا کر اپنے دوست کی ساتھی کی طرف دیکھا تو میرے ذہن میں گویا کئی خوش رو، خوش پوش کہانیاں کھیلتی کھیلتی بے خیالی میں آ گئیں اور انہیں دیکھ دیکھ کر مجھے یہ بھی نہ سوجھی کہ انہیں   مقید کر لوں۔۔ میں آزاد کہانیوں کو چپکے سے مقید کر لیتا ہوں اور پھر جب وہ باہر آنے کے لئے میرے   ذہن کا دروازہ پیٹ پیٹ کر چلانا شروع کر دیتی ہیں تو انہیں حرف حرف آزاد کئے دیتا ہوں۔۔ مگر سیما سے ملتے ہوئے میں ان کھلنڈری کہانیوں کو دیکھتا رہ گیا یعنی ان کی جانب ایک ٹک دیکھتے چلے جانے پر  بھی ان کی طرف میرا دھیان نہ گیا، اور وہ کھیلتی کھیلتی میرے ذہن میں داخل ہو کر میرے ذہن سے نکل  بھی گئیں۔ ‘‘

(جوگندر پال کے ناولٹ ‘‘ بیانات ‘‘  سے اقتباس)

٭٭٭

 

 

 

 

تخلیق کار جوگندر پال کا تنقیدی رجحان ۔۔۔ ممتاز عالم (دہلی)

 

ہر تخلیق کار کے باطن میں ایک نقاد پوشیدہ ہوتا ہے۔ یہ نقاد جیسے جیسے بڑا اور با شعور ہوتا جاتا ہے۔ تخلیق کار کا تخلیقی سفر بھی اپنی ارتقائی منزلوں کی طرف بڑھتا جاتا ہے۔ اردو ادب میں تخلیق کار کے تنقیدی رجحان کی ایک لمبی روایت ملتی ہے۔ میرؔ، غالبؔ، حالیؔ، شبلیؔ، سرسید، محمد حسینؔآزاد، پریم چندؔ، مجنوں گورکھپوری، ؔفراقؔ، اقبالؔ، سجاد ظہیر، کرشن چندر، منٹو، عصمت چغتائی، اور علی سردار جعفری کے علاوہ بھی کئی اور نام اس روایت میں شامل کئے جا سکتے ہیں۔ اس روایت میں ایک نام جوگندر پال کے روپ میں جوڑنے کی جسارت کر رہا ہوں۔

تخلیق کار تنقید کو تخلیقی پیکر میں ڈھال کر آسان زبان اور سادہ بیانی کے ساتھ قارئین کو اپنی جانب متوجہ کرتا ہے۔ اس آسان زبان اور سادہ بیانی میں زبردست تہہ داری، گہرائی اور گیرائی ہوتی ہے۔ جوگندر پال نے ایک لمبا تخلیقی سفر طے کیا ہے۔ آج وہ اردو کے افسانوی ادب میں ممتاز حیثیت رکھتے ہیں۔

جوگندر پال ایک ایسا تخلیق کار ہے جس نے ایک طرف تو ترقی پسند تحریک کو ٹوٹتے بکھرتے اور زوال پذیر ہوتے دیکھا تو دوسری طرف جدیدیت کو نمودار ہوتے، بڑھتے اور پھر ختم ہوتے دیکھا۔ بیس برس گزر جانے کے بعد پھر اس نے ما بعد جدیدیت کی آواز سنی۔ لیکن اس کا دھیان اس اٹھنے والی آواز کی طرف بالکل نہ گیا۔ جس عہد میں جوگندر پال نے اپنا تخلیقی سفر شروع کیا تھا اس عہد میں کرشن چندر، راجیندر سنگھ بیدی، عصمت چغتائی، منٹو اور قرۃ العین حیدر وغیرہ افسانوی ادب پر چھائے ہوئے تھے۔ گویا معلوم ہوتا تھا انہیں حضرات پر افسانوی ادب ختم ہو جائے گا۔ لیکن ایسا نہیں ہوا۔ 1950ء کے بعد ایک اور نئی نسل ابھر کر سامنے آئی۔ اس میں ایک نام جوگندر پال کا ہے۔ ان پچاس برسوں میں ہندوستان کی، بدلتی، بگڑتی، سنورتی، بکھرتی، ہنستی اور روتی تصویر کا اگر جائزہ لینا ہے تو جوگندر پال کے تخلیقی سفر کا مطالعہ ناگزیر ہو جاتا ہے۔ میں اس مضمون میں تخلیق کار جوگندر پال نہیں نقاد جوگندر پال کی طرف آپ کی توجہ کا طالب ہوں۔ جوگندر پال کا مطالعہ بتاتا ہے کہ وہ چھُپے ہوئے نہیں، چھَپے ہوئے نقاد ہیں۔

جوگندر پال نے اپنے تنقیدی مضامین، اردو افسانے کا منظر نامہ، فکشن کی تنقید، نیا اردو افسانہ زبان و بیان کے مسائل، نئے افسانے کا تار و پود، کہانی کا آگا پیچھا، کہانی کار کے شخصی رویے جیسے اہم مضامین لکھ کر اپنے تنقیدی رجحان کو پیش کر دیا ہے۔ انہوں نے اردو افسانے کی ابتدا سے لے کر آج تک کے افسانوی سفر کا بڑی گہرائی سے مطالعہ کیا ہے۔ اور اس مطالعہ کو پیش کرنے میں بھی وہ پوری طرح کامیاب نظر آتے ہیں۔ انہوں نے جو عنوانات اپنے مضامین کے لئے قائم کئے ہیں۔ ان کے ساتھ پوری طرح سے انصاف کیا ہے۔

پریم چند اور افسانے کے ارتقاء پر اب تک کافی کچھ لکھا جا چکا ہے۔ ہرکسی نے اس سفر کا اپنے اپنے طور پر ذکر کیا ہے۔ پال صاحب نے بھی اسے اپنے طور پر بیان کیا ہے۔ وہ پریم چند کے تخلیقی سفر ‘‘ سوز وطن‘‘  سے گفتگو شروع کر کے ‘‘  کفن‘‘  پر ختم کرتے ہیں۔ پریم چند کے تخلیقی سفر کو انہوں نے بڑے خوبصورت لب و لہجہ میں بیان کیا ہے۔ یہاں ان کی زبان تنقیدی نہیں بلکہ تخلیقی پیکر میں ڈھل کر منظر پر آتی ہے۔ کہانی کار پریم چند خود ایک افسانے کا کردار معلوم ہونے لگتا ہے۔

‘‘ آدرش وادی دھنپت رائے نے کہانی کے سنگ اپنی گھر گرہستی تو بسالی، تاہم اپنی بیاہتا کی ٹوہوں میں شریک ہو کر جب اسے دھیرے دھیرے ادر اک ہونے لگا کہ آدرشوں میں کیونکر حالات کے جبر سے ناگزیر طور پر ترمیم واقع ہونے لگتی ہے۔ تو اس نے کسی قاضی کی طرح کرداروں کے سزانا مے لکھنے سے ہاتھ کھینچ لیا۔ اور فنکار کی طرح درد مندانہ فہم سے ان تک رسائی حاصل کرنے لگا۔ ‘‘ سوزوطن‘‘  سے شروع ہو کر ‘‘ کفن‘‘  تک آتے آتے پریم چند نے اپنے سینکڑوں افسانوں اور ناولوں میں اسی ہمدردانہ سوجھ سے اپنی یاترا پوری کی۔ اور جہاں سے اس کی یاترا پوری ہوئی وہاں سے نئے لکھنے والوں کو آگے کے راستوں کا بھی سراغ بہم پہنچنے لگا۔ پریم چند کے افسانوں، خاص طور پر اواخر کے افسانوں کی بدولت اردو افسانہ پہلی بار صحیح افسانوی زبان سے روشناس ہوا اور انسانی آدرشوں کو ان کے واقعاتی سیاق میں سینے پرونے پر حاوی ہونے لگا۔ ‘‘

پریم چند کے دور میں ہی افسانوی ادب میں ایک زبردست تبدیلی رونما ہوئی۔ جس کا اثر خود پریم چند پر ہوا۔ 1932ء میں ، انگارے ،  کی اشاعت نے ادب میں ایک انقلاب برپا کر دیا۔ ان افسانوں میں ہم عصر مسائل بڑی بے باکی سے پیش کئے گئے تھے۔ بے باکی کا یہ انداز پریم چند سے کافی مختلف تھا۔ پہلی بار افسانہ ، انگارے ،  کے ذریعہ اپنی محدود چہار دیواری سے نکل کر باہر آیا۔ اور لوگوں کو شدت کے ساتھ اپنی جانب متوجہ کیا۔ ، انگارے ،  کا موضوعی مطالعہ کرتے ہوئے پال صاحب لکھتے ہیں۔

‘‘ اگرچہ پریم چند کا موضوعی تنوع بھی ہمیں فوری طور پر متوجہ کرتا ہے۔ مگر ، انگارے ،  کی اشاعت 1932ء ہم عصر ہندوستانی زندگی کے وسیع تر موضوعات و مسائل پر محیط ہے ، انگارے ،  کے افسانہ نگاروں سے فنی مسائل پر جھگڑا کیا جا سکتا ہے۔ لیکن اس سے انکار نہیں کہ ان دنوں ہندوستانی معاشرے کی اتھل پتھل بے دھڑک ، انگارے ،  کی ہر کہانی میں اتر آئی ہے۔ جس دھکّے میں اردو کہانی گھر کی محفوظ چار دیواری سے باہر نکل آتی ہے۔ ‘‘

، انگارے ،  کے افسانہ نگاروں سے فنی مسائل پر جھگڑا کیا جا سکتا ہے اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ یہ افسانے فنی اعتبار سے ذرا کمزور ہیں۔ لیکن ظاہر ہے کہ وہ صرف ان افسانوں کی فنی خامیوں تک ہی محدود نہیں رہتے بلکہ وہ ان افسانوں کی بدلتی ہوئی شکل کو بھی پیش کرتے ہیں۔ گویا چند جملوں میں انہوں نے اردو افسانے کے ارتقاء میں ، انگارے ،  کی حقیقت متعین کر دی۔

اردو افسانوی ادب میں یقیناً ، انگارے ،  نے ایک نئی روایت اور بغاوت کو جنم دیا۔ جس کا اثر آنے والی نئی نسل پر ہوا۔ 1934ء میں ترقی پسند تحریک وجود میں آئی۔ اس تحریک کے زیرِ اثر جو قلم کار ابھر کر سامنے آئے اور اپنی منفرد پہچان قائم کی ان میں کرشن چندر، راجیندر سنگھ بیدی، منٹو، عصمت چغتائی، احمد ندیم قاسمی اور حیات اللہ انصاری پیش پیش ہیں۔ ان اہم قلم کاروں پر پال صاحب کی بڑی گہری نظر ہے۔ وہ ان افسانہ نگاروں کا فنی اور موضوعی دونوں اعتبار سے مطالعہ کرتے ہیں۔ وہ نہ صرف یہ کہ ان افسانہ نگاروں کا مطالعہ کرتے ہیں بلکہ ان کے تنقیدی رجحان پر بھی روشنی ڈالتے ہیں۔ جس سے ان اہم قلم کاروں کے تنقیدی رجحانات ابھر کر سامنے آتے ہیں۔ ان قلم کاروں کے تنقیدی رجحان کی کل خواہ کوئی اہمیت نہ رہی ہو لیکن آج ان کی اہمیت ہے اور ان کے رجحانات کا مطالعہ ناگزیر ہے۔

منٹو پر تنقید کرتے وقت جو ناقدین ان کے چندافسانوں کا ذکر کرتے ہیں اور ان میں خامیاں تلاش کر لیتے ہیں ان پر پال صاحب کا تنقیدی رویہ ذرا سخت معلوم ہوتا ہے۔ کیونکہ ایسے نقاد یقیناً قارئین کو گمراہ کرتے ہیں۔ اور پھر منٹو کی فنی خوبیوں کا ذکر کرتے ہیں۔ منٹو پر بے باکی سے کیا گیا مطالعہ نہ صرف یہ کہ منٹو کے فن اور شخصیت کو اجاگر کرتا ہے بلکہ اس سے خود پال کے فن اور شخصیت کا اندازہ ہو جاتا ہے۔ ان کے فکری چشمے سامنے آ جاتے ہیں۔ اسی طرح انہوں نے دوسرے اہم قلم کاروں پر خاصی گفتگو کی ہے۔

پال صاحب حلقہ ارباب ذوق کا مطالعہ پیش کرتے ہیں تو ان کا تنقیدی رویہ بہت ہی سائنٹی فک ہوتا ہے۔ وہ کسی ایک خاص نظریہ کی پیروی کرنے والوں کی طرح گفتگو نہیں کرتے بلکہ حالات و ماحول، اسباب و علل کا جائزہ لیتے ہوئے اپنی رائے کا اظہار کرتے ہیں۔ حلقہ ارباب ذوق کیوں وجود میں آیا؟ جب اس پر پال صاحب نظر ڈالتے ہیں تو انہیں سب سے بڑی وجہ ترقی پسند تحریک پر کمیونسٹ پارٹی کی غیر ضروری مداخلت نظر آتی ہے۔ پارٹی کی مداخلت کا اثر یہ ہوا کہ ادب میں فنی خامیاں پیدا ہوتی گئیں۔ جب ادب، ادب نہ رہ کر اشتہاراتی ادب میں تبدیل ہونے لگا یا کیا جانے لگا تو کچھ لوگ جو ادب میں ہیئت کو کم اور معنی کو زیادہ اہمیت دیتے تھے اس کے مخالف ہو گئے۔ اس طرح چند قلم کاروں کا ایک گروپ تیار ہوا۔ پال صاحب کی نگاہ میں آج اس حلقہ ارباب ذوق کی کوئی اہمیت نہیں ہے لیکن جب یہ رجحان وجود میں آیا تھا تو ضرور اس نے ادب کو فائدہ پہنچایا تھا اور ادب کو فن کی طرف لانے میں اہم رول ادا کیا تھا۔ وہ لکھتے ہیں۔

‘‘ اگرچہ آج ان دنوں کے حلقہ ارباب ذوق کی کتابیت اور ضابطہ پرستی مضحکہ خیز معلوم ہوتی ہیں پھر بھی اس امر سے انکار نہیں کہ ترقی پسندوں کے روز افزوں اشتہار اور اسراف کی روک تھام میں حلقہ کا کام قابلِ قدر رہا ہے۔ ‘‘

پال صاحب جب ترقی پسند قلم کاروں کا مطالعہ کرتے ہیں تو صاف طور پر وہ کہتے ہیں کہ اس وقت حالات کچھ یوں ہو رہے تھے کہ بڑے بڑے ترقی پسند قلم کار بھی حلقۂ ارباب ذوق کی خوشنودی حاصل کرنا چاہتے تھے۔ انہوں نے کرشن چندر،  بیدی اور اوپیندر ناتھ رشک کے نام بطور خاص لئے ہیں۔ وہ لکھتے ہیں۔

‘‘ یہی وجہ ہے کہ کرشن چندر، بیدی اور اوپیندر ناتھ اشک جہاں کہلوانا تو ترقی پسند چاہتے تھے وہاں ان کی دلی خواہش سدا یہی رہی تھی کہ ان کی کہانیوں کو ارباب حلقہ کی جمالیاتی منظوری بھی حاصل ہو۔ ‘‘

پال صاحب کے مندرجہ بالا اقتباس سے نا اتفاقی بھی ظاہر کی جا سکتی ہے اور ان جملوں کو نظر انداز بھی کیا جا سکتا ہے۔ لیکن ادب کے لئے ان دونوں باتوں سے بہتر اور صحت مند بات یہ ہو گی کہ ہم ان جملوں کی روشنی میں اس عہد کے حالات کا ایمانداری سے بہ غور مطالعہ کریں۔ عنقریب آزادی اور آ زادی کے فوراً بعد جو ترقی پسند ادب کا معیار قائم کیا گیا تھا اور ادب کو جدھر لے جانے کی کوشش کی جا رہی تھی۔ ظاہر ہے کہ اس سے ایک صحت مند اور روشن خیال ادیب ضرور بچنے کی کوشش کرے گا۔ آزادی کا دور ایک ہنگامی دور تھا۔ اس لئے ترقی پسند تحریک میں شامل ادیبوں کی توجہ اس طرف نہ ہو سکتی تھی کہ جس کی طرف حلقہ ارباب ذوق نے توجہ دلائی تھی۔ یہ بات حلقہ ارباب ذوق کی حمایت میں نہیں کہی جا رہی ہے بلکہ یہ ایک سچائی کا اعتراف ہے۔ پال صاحب اس ادبی ہنگامی دور میں تحریک کی کیا صورتِ حال تھی کچھ اس طرح بیان کرتے ہیں۔

‘‘ در اصل ملک کی آزادی اور تقسیم سے پہلے ہی ترقی پسند تحریک میں غیر ادبی عناصر کی پیدا کردہ نظریاتی اور کساد بازاری اور عملی سیاست سے ادیبوں کی زمین تنگ ہونی شروع ہو چکی تھی۔ اور تحریک کے بعض رہنماؤں کے یہاں اچھی کہانیوں کا یہ معیار تسلیم کیا جانے لگا تھا کہ وہ کہاں تک کمیونسٹ پارٹی کے مینوفسٹو پر پورا اترتی ہیں۔ ‘‘

پر بڑا تخلیق کار اس لئے بڑا ہوتا ہے کہ وہ آزاد ہوتا ہے۔ وہ تخلیقی کام کے لئے آزادی کو اولیت دیتا ہے۔ کیونکہ بندھے ہوئے اصولوں کی جکڑ بندیوں میں کوئی تخلیق بڑی اور اعلیٰ درجہ کی نہیں ہو سکتی اور یہی وجہ ہے کہ بڑا تخلیق کار اپنے آپ سے بھی تخلیق کو دور رکھتا ہے۔ اس لحاظ سے پال صاحب کا یہ خیال بالکل درست ہے کہ کوئی اچھی یا بلند پایہ کی کہانی اس لئے نہیں ہوتی ہے کہ وہ کسی نظریہ کی پابند ہو کر لکھی گئی ہے۔ بلکہ وہ اس لئے بڑی ہوتی ہے کہ وہ اپنے سیاق کے مخصوص تقاضے کو نبھاتی ہے یعنی وہ تخلیق کی منطق کے سبب بڑی ہوتی ہے۔ ‘‘

جدیدیت کے دور میں علامتی اور تجریدی افسانہ نگاری کو افسانہ کا معیار تصور کیا گیا۔ پال صاحب ان افسانہ نگاروں پر سخت تنقید کرتے ہیں جو افسانہ نگاری کے لئے نہیں بلکہ علامت اور تجرید کو ہی پیش کرنے کے لئے اس فن کا سہارا لیتے ہیں۔ جدیدیت کے اس رجحان نے تھوڑی دیر کے لئے افسانہ نگاروں کو اپنی جانب متوجہ کیا اور علامتی اور تجریدی اظہار کے لئے ان افسانہ نگاروں سے افسانے تخلیق کروائے۔ ایسی افسانہ نگاری اور افسانہ نگاروں کی جن نقادوں نے حمایت کی اور اس رجحان کو بڑھاوا دیا ان کی بھی پال صاحب مذمت کرتے ہوئے ان کے اس رویہ کی تردید کرتے نظر آتے ہیں۔ ‘‘ گذشتہ دنوں غالب ناقدانہ رائے کے زیرِ اثر بہت سے نئے لکھنے والے یہ سمجھ بیٹھے کہ نئی کہانی اظہار کے بعض نئے پیرایوں سے ہی منسوب ہے۔ سوادھر کہانیوں میں علامت اور تجرید کی اتنی لیپا پوتی کی گئی کہ کوئی علامتی یا تجریدی کہانی نہ ہو، علامتی یا تجریدی ہو۔ ‘‘

جدیدیت کی زندگی عام طور پر 1960ء تا 1970ء گردانی جاتی ہے۔ لیکن میرے نزدیک جدیدیت کی یہ عمر صرف شاعری کے لئے ہو سکتی ہے افسانوی ادب کے لئے نہیں۔ افسانوی ادب نے بہت جلد اپنے کو اس رجحان سے آزاد کر لیا تھا۔ اور نئے لکھنے والوں کو ایک نئی راہ دکھائی تھی۔ 1965ء کے آس پاس سے ہی ایک نیا رجحان افسانہ نگاروں میں نظر آنے لگتا ہے۔ اس رجحان نے آزاد قلم کاروں کی نمائندگی کی۔ یہ نئے افسانہ نگار نہ تو ترقی پسند تحریک کا اشتہاراتی آہنگ اور پارٹی کے مینوفیسٹو کو قبول کرتے ہیں اور نہ جدیدیت کے علامتی اور تجریدی دام کا شکار ہوتے ہیں بلکہ وہ کہانی کی مشرقی روایت کا لحاظ رکھتے ہوئے ایک بار پھر افسانے کو بیانیہ اور قصہ پن سے جوڑتے ہیں۔ افسانوی ادب سے دور بھاگنے والے قارئین کو ان نئے لکھنے والوں نے ایک بار پھر اپنی جانب متوجہ کیا۔ یہ ضرور ہوا کہ جدیدیت کی ہنگامی اور گرما گرم بحثوں کی وجہ سے ابتدا میں ان افسانہ نگاروں کی طرف قارئین کی نگاہ نہ جا سکی تھی۔ پال صاحب نے ان نئی لکھنے والوں کا بڑی سنجیدگی اور گہرائی کے ساتھ مطالعہ پیش کیا ہے۔ 1980ء کے بعد ایک اور نئی نسل ابھر کر سامنے آتی ہے اور ہر اعتبار سے قارئین کو اپنی جانب متوجہ کرتی ہے۔ ان کا بھی پال صاف اچھا مطالعہ پیش کرتے ہیں۔

جوگندر پال خواہ اپنے کو ترقی پسند تصور نہ کرتے ہوں تا ہم وہ ادب اور زندگی کے بھر پور حامی نظر آتے ہیں۔ وہ ادب کے بدلتے ہوئے لہجہ کو زندگی اور سماج اور اس کے عہد و ماحول سے جوڑ کر دیکھتے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ ہر افسانے کے دو تخلیق کار ہوتے ہیں۔ ایک افسانہ نگار اور دوسرا افسانہ نگار کا زمانہ، افسانہ نگار کی ذاتی صلاحیت میں اس کے دور کی نمائندہ صلاحیت بھی کام کرتی ہے۔ پال صاحب ان لوگوں کو سچا اور حقیقی افسانہ نگار نہیں مانتے کہ جو ذات اور کائنات کو الگ کر کے افسانہ کی تخلیق کرتے ہیں۔

پال صاحب جو ہم عصر فکشن کی تنقید کا جائزہ لیتے ہیں تو ان کا مشرقی رجحان واضح طور پر نظر آنے لگتا ہے۔ وہ ان نقادوں پر سخت تنقید کرتے ہیں کہ جو مغربی نظریہ کی عینک لگا کر مشرقی ادب کو پرکھنے کا ڈھونگ رچتے ہیں۔ وہ مغربی پہچان پر بنائے گئے تنقیدی اصولوں کو مشرقی ادب کے لئے استعمال کرنا غیر صحت مند رویہ قرار دیتے ہیں۔ پال صاحب کا یہ خیال بالکل درست معلوم ہوتا ہے کہ اس طرح کے نقادوں نے اس لئے اس طرح کی تنقید کرنی شروع کی کہ انہیں مغرب سے بنے بنائے اصول بہ آسانی فراہم ہو گئے۔ جس سے خود انہیں کوئی محنت نہ کرنی پڑی۔ گویا ہم عصر نقاد یا تو خود کوئی اصول وضع کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے اور اگر صلاحیت رکھتے بھی ہیں تو وہ محنت نہیں کرتا چاہتے۔ ورنہ یہ مغربی نظریہ کو، ان کے بنائے گئے افسانوی اصولوں کو من و عن نہ قبول کرتے۔

1970ء کے بعد جب نئے لکھنے والے ابھر کر سامنے آئے تو ان کی زبان، ان کا لب و لہجہ اور انداز بیان ذرا مختلف تھا۔ لہٰذا ان نئے لکھنے والوں پر انگلیاں اٹھنے لگیں۔ سب سے زیادہ ان نقادوں نے اعتراض کیا کہ جو جدیدیت کی حمایت اور علامتی اور تجریدی افسانے کی زبان کو پسند کرتے تھے۔ لیکن جوگندر پال جیسے تخلیق کار اور دوسرے روشن خیال نقادوں نے اس کا استقبال کیا کہ بدلتے ہوئے ماحول، اور بدلتے ہوئے حالات میں اس طرح کی تبدیلی فطری ہے لہٰذا اس پر کسی طرح کی پابندی مناسب نہیں ہے۔ ایسا بھی نہیں ہے کہ جو گندر پال جیسے نقادوں نے ان نئے قلم کاروں کو پوری آزادی دے دی ہے۔ بلکہ یہ کہ انہیں اپنے تخلیق کاروں پر بھروسہ ہے۔ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ کبھی بھی کوئی تخلیق کار ایسی زبان کا استعمال نہ کرے گا کہ جس سے اس کے فنی ارتقاء میں کسی طرح کی رکاوٹ پیدا ہو اور قارئین اس سے دور ہو جائیں۔ پال صاحب نے نئے افسانے کی زبان و بیان اور ہیئت و معنی کو لے کر کافی اچھی اور سلجھی باتیں کی ہیں۔ وہ الفاظ کی کسی بھی صورت تخلیقی ادب پر حکمرانی سے اختلاف کرتے ہیں۔ وہ صرف اچھی زبان کو فن کا معیار تصور نہیں کرتے۔ وہ لکھتے ہیں:

‘‘ اچھی زبان بھی اس وقت بری لگتی ہے جب بلاوجہ اپنی طرف متوجہ کر کے ہمیں ڈسٹرب کئے جانے پر اتر آئے۔ کسی بت کو دیکھ کر اگر بار بار اس کے پتھر کی بہتر کوالٹی کی طرف دھیان جائے تو ہم کیونکر باور کر پائیں گے کہ وہ ذی جان ہے۔ ‘‘

پال صاحب زبان و بیان کی آزادی کے حامی نظر آتے ہیں۔ کیونکہ وہ اس میں افسانوی ادب کا روشن مستقبل دیکھ رہے ہیں۔ وہ لکھتے ہیں:

‘‘ افسانہ نگار کو اگر ہر دور کے مفاہیم کو گرفت میں لائے جانا ہے اور نئے نئے قارئین کو اپنے تخلیقی سفر میں شریک رکھنا ہے تو اس زبان و بیان کی آزادی بہر صورت بنی رہنی چاہئے۔ ‘‘

جس طرح علامت و تجرید اور استعارہ وغیرہ افسانوی ادب میں ثانوی حیثیت رکھتے ہیں اسی طرح حقیقت نگاری بھی افسانوں ادب میں اپنی ثانوی حیثیت رکھتی ہے۔ کیونکہ تجرید و علامت کی طرح صرف حقیقت نگاری بھی فنی افسانہ کی دلیل نہیں ہو سکتی۔ ان سب کا استعمال افسانہ کو بیان سے بیانیہ تک لے جاتا ہے۔ اور کسی واقعہ کو قصہ میں تبدیل کر دینا ہے۔

پال صاحب بیانیہ کو مرکزی حیثیت کی نظروں سے دیکھتے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ حقیقت پسندی ایک اچھی عادت تو ہے لیکن اس کی حیثیت ادب میں ثانوی ہے اور اسی لئے وہ ہم عصر زندگی میں سائنس سے پیدا شدہ حقائق کو قبول کرنے کی ضرورت کو محسوس کرتے ہیں۔ کیونکہ اگر ایسا نہ ہوا تو فن بے وقعت ہوتا چلا جائے گا۔ وہ لکھتے ہیں کہ زندگی محض اس لئے افسانہ نہیں لگتی کہ وہ آزاد روہے۔ فن کی معراج کا تصور بھی در اصل زندگی کے مانند آزادہ روی سے وابستہ ہے۔ جو کہانی کار اپنی کہانیوں میں واقعات کو قابلِ یقین بنانے پر اڑے ہوتے ہیں وہ اپنے اس کاز کی نفی کرتے ہیں جن پر وہ بہ ظاہر اڑے ہوتے ہیں۔

تخلیق کاروں یا کہانی کاروں کے شخصی رویے پر اگر کوئی بہتر طریقہ سے روشنی ڈال سکتا ہے اور اپنی باتوں سے قارئین کو مطمئن کر سکتا ہے تو وہ خود ایک تخلیق کار ہو سکتا ہے۔ تخلیق کار جوگندر پال جب کہانی کاروں کے شخصی رویے کو قلم بند کرتے ہیں تو قارئین شدت کے ساتھ ان کی جانب متوجہ ہوتے ہیں۔ ایک کہانی کار اگر یہ لکھے کہ کہانی کار کو اپنی ہنر مندی کی نمائش نہیں کرنی ہوتی بلکہ اپنی کہانی کو ویسے ہی جینا بھوگنا ہوتا ہے جیسے وہ زندگی کو جینے اور بھوگنے کا خوگر ہو۔ اگر وہ یہ کہے کہ آج ہماری کہانی کو سب سے زیادہ خطرہ در اصل اپنے لکھنے والوں سے ہی لاحق ہے تو ہم اس کی اس بات کو کسی بھی صورت میں نظر انداز نہیں کر سکتے۔

آخر میں تخلیق کار جوگندر پال کے تنقیدی رجحان کے سلسلے میں صرف اتنا ہی عرض کروں گا کہ ان کا یہ تنقیدی رجحان ایک سائنٹفک رجحان ہے۔ یہ رجحان افسانوی ادب کے مستقبل کے لئے ضرور مشعل راہ ثابت ہو گا۔

٭٭

 

‘‘ کیا تم دلیپ چندر پتر گیان چندر ہمیشہ کے لئے اپنا سارے کا سارا سیما پتری امیس رائے کے حوالے کر تے ہو؟

یہ کیونکر ممکن ہے کہ میں سداکے لئے اپنے آپ کو ایک ہی سیما کے حوالے کر دوں ؟ اس سیما کے پار ان گنت سیمائیں ہیں اور ان کے پار اور ان گنت سیمائیں، مگر میرے لمحاتی جذبے سے میری آنکھیں کھلی رہ گئیں ہیں اور میری اندھی اندھی گویائی نے بڑی معصومیت سے اقرار کر لیا ہے کہ مجھے یہی سیما سدا کے لئے قبول ہے۔ پر ایک ساعت کی بات سدا کی بات نہیں ہو تی، سدا کی بات تو ساعت ساعت بے ساعت ہو جاتی ہے میں چاہوں تو بھی ایک پل کی کیفیت کو ہمیشہ کے لئے اپنے اوپر کیونکر طاری کئے رکھوں ؟ میرے سارے وعدے منھ سے نکلتے ہی اسی پل نبھ جاتے ہیں اور نہ بھی نبھیں تو میں ذمہ دار نہیں، کیونکہ ایک آدمی سدا وہی ایک نہیں ہو تا۔ بس اسی ایک پل وہی ایک ہوتا ہے، اپنا کو ئی وعدہ نبھانے کا جتن کئے جانا خواہ مخواہ کسی مر کھپ گئے شخص کے وعدہ کو اپنے اوپر لادے چلے جانا ہے۔ وعدہ کرنا شاید غیر فطری نہیں پر وعدہ نبھانا بڑا غیر فطری ہے۔ میں اپنے ایک ساعت کے جذبے کے لئے ساری عمر کیوں قربان کروں۔ ایک ہی سیما اتنی بڑی زندگی کو کیسے سمیٹ سکتی ہے۔ ‘‘

(جوگندر پال کے ناولٹ ‘‘ بیانات‘‘  سے اقتباس)

٭٭٭

 

 

 

 

افسانچے  ۔۔۔ جوگندر پال (دہلی)

 

 (اردو افسانچہ اپنے تخلیقی کمال پر)

 

 ارے ہاں

 

اس نے اپنی تلاش میں گھر بار تیاگ دیا اور چار کھونٹ گھومتا پھرا، اور تلاش کرتے کرتے بھول گیا کہ وہ کیا تلاش کئے جا رہا ہے۔ مگر ایک دن اچانک اپنے آپ کو پھر اپنے گھر کی چوکھٹ پر پا کر مسرت سے اس کی گھگی بندھ گئی، کہ وہ گھر ہی تو بھولے ہوئے تھا، اور یہیں لوٹ کر عین میں وہیں پہنچ گیا ہے جس مقام کو ڈھونڈنے یہیں سے نکل کھڑا ہوا تھا۔۔ ۔۔ ۔۔ ۔۔ ۔۔

 

آج کے لوگ

 

ہاں، بھئی، ہاں میری موت واقع ہو لی تھی، مگر دیکھ لو، میرا دل کیسے دھائیں دھائیں دھڑکے جا رہا ہے۔

ہاں اور کیا؟پورے کا پورا مر چکا تھا مگر تم خود ہی دیکھ لو، جوں کاتوں زندہ ہوں۔

کیسے کیا؟جیسے ہے، ویسے !۔۔ جیتے جی جب میرے دل کی دھڑکن میں خلل واقع ہوا تو ڈاکٹروں نے میرے سینے میں ایک پیس میکر (Pace Maker) فٹ کر دیا اور دعویٰ کیا کہ اب دَم نکل جانے پر بھی میرا دل جوں کاتوں دھڑکتا رہے گا۔ سو جو ہے سو ہے۔۔ مر کھپ کر بھی۔۔ ۔ کیا؟۔۔ ۔ مرا کب؟۔۔ ۔ کتنے احمق ہو بھئی! جو مرگیا اسے کیا پتہ، وہ کب مرا؟۔۔ ہاں، بھئی، اب خدا کا ڈر کا ہے کو؟مر کر خدا کے پاس تھوڑا ہی جانا ہے۔۔ ہاں اور کیا؟اب تو سدا اپنے ہی پاس رہنا ہے۔۔ ۔ ہیہ ہیہ ہا! ٹھیک کہتے ہو اب تو صرف اسی نیک کام سے نجات وابستہ ہے کہ اپنی مشین بگڑنے نہ دو۔۔ ۔۔ ۔۔ ۔۔ ۔۔

 

اپنا اپنا

 

ایک دفعہ سائبیریا کا ایک باشندہ ہمیں بتا رہا تھا۔ ‘‘ پھر کیا ہوا کہ میرے دیکھتے ہی دیکھتے ایک عجیب و غریب اُڑن کھٹولا زمین پر اُتر آیا۔ اس اُڑن کھٹولے سے دو شکلیں باہر نکلیں۔ بڑی مختلف النوع مخلوق تھی۔ الٹا سیدھا لباس پہن رکھا تھا اور چہروں پر کوئی آلے جما رکھے تھے۔ ‘‘

‘‘ کیا انہوں نے بھی آپ کو دیکھا؟‘‘

‘‘ نہیں، میں پاس ہی جھاڑی میں چھپ گیا تھا۔۔ تھوڑی دیر میں دو میں سے ایک کا آلہ اس کے منہ سے گر کر سینے پر لٹکنے لگا۔ اتنا عجیب چہرہ تھا کہ میرے بیان سے باہر ہے۔ کچھ دیر وہ آپس میں باتیں کرتے رہے۔ ‘‘

‘‘ کیا باتیں کرتے رہے ؟‘‘

‘‘ مجھے ان کی زبان تو نہیں آتی مگر جب ایک نے دوسرے کی طرف دیکھ کر چونکی چونکی آواز میں ایک جملہ بولا تو مجھے لگا، اس نے کہا ہے، بے وقوف اپنا آلہ جلدی سے منہ پر چڑھا لو، ورنہ آکسیجن کے زہر سے دَم توڑ دو گے۔ ‘‘

۔۔ ۔۔ ۔۔ ۔۔ ۔

 

محض

 

میں اپنے پیروں کے ٹکاؤ، ہاتھوں کی پینگ اور سر کی چھتری پر ہی اپنی ذات کو محمول کرنے لگا اور میری اصلی ذات سالہا سال بڑے صبر و سکون سے دو سرے عالم میں میرا انتظار کرتی رہی اور ہنستی رہی کہ میں اپنے آپ کو محض جوگندر پال سمجھ بیٹھا ہوں۔۔ ۔۔ ۔۔ ۔۔ ۔۔

 

 گمشدہ

 

اُس کی ابھی آنکھ بھی نہ کھلی تھی کہ اُس نے ایک دم چیخ مار کر اپنی بیوی کو بلایا۔ وہ بیچاری سراسیمگی میں دوڑی دوڑی آئی۔ ‘‘ کیا ہوا؟‘‘

‘‘ اب کیا ہو گا؟‘‘  اس کا پاگل پتی اُسے پھٹی پھٹی آنکھوں سے دیکھنے لگا

‘‘ اپنا آپ تو میں اپنے خواب میں ہی چھوڑ آیا ہوں۔ ‘‘

۔۔ ۔۔ ۔۔ ۔۔ ۔

 

کچّا پَن

 

‘‘ بابا، تم بڑے میٹھے ہو۔ ‘‘

‘‘ یہی تو میری مشکل ہے بیٹا۔ ابھی ذرا کچا اور کھٹا ہوتا تو جھاڑ سے جڑا رہتا۔ ‘‘

۔۔ ۔۔ ۔۔ ۔۔ ۔

 

جیون کھیل تماشہ

 

‘‘ میں سپنوں میں بہتر دِکھتا ہوں۔ ‘‘

‘‘ مگر اس وقت تو آپ ہو بہو میرے سامنے موجود ہیں۔ ‘‘

‘‘ کیا سپنے میں بھی سب کچھ ہو بہو نہیں ہوتا؟‘‘

‘‘ مگر پھر آنکھ کھلتے ہی سب کچھ ایک دَم مٹی کیسے ہو جاتا ہے ؟‘‘

‘‘ ہاں بابا، جیسے آنکھ لگتے ہی ہم۔۔ ۔ ‘‘

۔۔ ۔۔ ۔۔ ۔۔ ۔

 

بسے ہوئے لوگ

 

میرے ناول کے ہیرو اور ہیروئن دونوں مجھ سے ناراض تھے، کیونکہ جب ان کی شادی کے اسباب آپ ہی آپ عین فطری طور پر انجام پار ہے تھے تو میں نے ان کا بنا بنایا کھیل چوپٹ کر دیا اور اپنی ترجیحوں کو ناول پر لاد کر انہیں آخری صفحے تک ایک دوسرے سے جدا کرنے پر اڑا رہا۔

نہیں، میں ان دونوں کو بے حد عزیز رکھتا ہوں، مگر مشکل یہ ہے کہ اگر انہیں ایک دوسرے کے لیے جینے کا موقع فراہم کر دیتا ہے تو میری اپنی زندگی کے نشانے دھرے رہ جاتے۔ وہ بہر حال میرے کردار تھے اور جو اور جیسے تھے، میری ہی بدولت تھے اور انہیں یہی ایک چارہ تھا کہ میری زندگی کا اسباب کرتے رہیں۔

مگر وہ دونوں تو موقع کی تاک میں تھے۔ ایک دن نظریں بچا کر اچانک غائب ہو گئے۔ میں نے ناول کے مسودے کی ایک ایک سطر چھان ماری اور مقام پر انہیں اپنے ناموں کی اوٹ میں ڈھونڈتا رہا، مگر وہ وہاں ہوتے تو ملتے۔

مجھے بڑا پچھتاوا محسوس ہونے لگا۔

اگر وہ مجھے کہیں مل جاتے تو میں فوراً ان کا نکاح پڑھوا دیتا۔ مگر اب کیا ہو سکتا تھا؟ میں منھ سر لپیٹ کر پڑ گیا۔

آپ حیران ہوں گے کہ کئی سال بعد ایک دن وہ دونوں بہ اتفاق مجھے اپنے ہی شہر میں مل گئے۔

نہیں، وہ مجھے بڑے تپاک سے ملے اور اپنے گھر لے گئے۔

میرے ناول کے پنوں سے نکلتے ہی انھوں نے اپنی شادی کی تدبیر کر لی تھی اور اتنے سال بعد اب تین پھول جیسے بچوں کے ماں باپ تھے اور ان کا گھر بار خوب آباد تھا۔

نہیں، انہیں اپنے سنسار میں اس قدر پھلتے پھولتے پا کر مجھے حوصلہ ہی نہ ہوا کہ انہیں ناول میں لوٹ آنے کو کہتا۔

٭٭٭

 

 

 

 

 افسانچوں کے مجموعہ ‘‘ نہیں رحمن بابو‘‘  سے انتخاب

 

 

میرے کلینک میں آج ایک رو بو آ نکلا، رحمن بابو، چیک اپ کے بعد میں نے اسے سوالیہ نظروں سے دیکھا تو وہ بتانے لگا، میں تھکا تھکا رہنے لگا ہوں، ڈاکٹر۔

اور اس کی شکایت سن کر مجھے یہ فکر لا حق ہونے لگی کہ کہیں اس میں جان تو نہیں پڑ گئی۔

۔۔ ۔۔ ۔۔ ۔۔ ۔۔

 

نہیں، رحمن بابو، میں پاگل نہیں ہوں۔۔ ۔

کیا؟۔۔ ۔

اپنے آپ سے باتیں کیوں کرتا رہتا ہوں ؟

تم ہی بتاؤ رحمن بابو، گم شدگان تک اور کیسے پہنچا جا سکتا ہے ؟

۔۔ ۔۔ ۔۔ ۔۔ ۔

 

ہم سب ہم مذہب ہیں رحمن بابو،

مگر اس کا کیا کیا جائے کہ ہر کسی کو اپنی اپنی بساط کا ہی خدا ملتا ہے۔

۔۔ ۔۔ ۔۔ ۔۔ ۔

 

تمہاری رائے سے مجھے اتفاق ہے رحمن بابو۔

تم کہتے ہو، دشمن سے ہمیشہ دوستی سے پیش آؤ۔ میں نے ساری زندگی یہی کیا ہے۔ میرا خیال ہے کہ دشمن سے سدا دوستی سے ہی پیش آتے رہو تو وہ جیتے جی مر جاتا ہے۔۔ ۔ کیسے ؟

ایسے بابو کہ میں بھی اپنے قابو میں کہاں تھا۔ مجھے یقین ہو گیا تھا کہ اپنا سب سے بڑا دشمن میں خود آپ ہوں۔ پھر بھی میں اپنے آپ سے دوستی سے پیش آتا رہا۔ حتیٰ کہ میری روح میرا جسم چھوڑ کر آسمان کو پرواز کر گئی۔

نہیں بابو، اب کیا ہو سکتا ہے ؟ مرے ہوئے کو بھی کوئی زندہ کر سکتا ہے ؟

۔۔ ۔۔ ۔۔ ۔۔ ۔

 

کیا سمجھنا چاہتے ہو رحمن بابو؟

ساری عمر سمجھ بوجھ سے ہی کام لے لے کر تو کنارے پر آ لگے ہو۔ اب آگے کی خبر لینا چاہتے ہو تو بے خبر ہو جاؤ۔

۔۔ ۔۔ ۔۔ ۔۔ ۔

 

‘‘ پہلے بھی لوگ جھوٹ بولا کرتے تھے رحمن بابو، مگر تھے بڑے ایمان پرست۔ اسی لیے عدالتوں نے فیصلہ کر لیا کہ ہر مقدمے سے پہلے اُنہیں خدا اور ایمان کی قسم کھانے کو کہا جائے۔۔ ۔ ہاں، یوں ہر مجرم مقدمہ شروع ہونے سے پہلے ہی دھر لیا جاتا۔ ہاں اُسی وقت سے عدالتیں خدا کی قسم سے ہی ہر کیس کی چھان بین شروع کرتی آ رہی ہیں

بجا کہتے ہو، بابو۔ اب تو خدا کی گواہی کا موقعہ پا کر مجرم اتنا کارگر جھوٹ بولتے ہیں کہ بے گناہ فوراً اپنے جرم کا اقبال کر کے عدالتی رحم کے لیے ہاتھ پھیلا دیتے ہیں۔ ‘‘

۔۔ ۔۔ ۔۔ ۔۔ ۔۔

 

‘‘ ہاں، رحمن بابو، اُس غریب ماشکی کو یہ ڈیوٹی سونپی گئی ہے کہ ہفتے میں ایک بار ہمارے سیاسی نیتا کے بُت کو دھو کر صاف کر دیا جائے، تاکہ منہ کالا نہ پڑ جائے۔ کیا؟۔۔ ہاں، نیتا لوگ خود آپ بھی تو بُت کے بُت ہوتے ہیں۔۔ ہاں، بابو، کچھ کرتے دھرتے تو ہیں نہیں، پھر بھی اُن کی تعریف کے نعرے سُن سُن کر کان پکنے لگتے ہیں۔

نہیں، بابو، غریب لوگ بے چارے کیا کریں ؟بُت اپنے منہ آپ تھوڑا ہی دھو سکتے ہیں، ماشکی نہ دھوئیں تو ہاتھ اُٹھا کر منہ کی کالک بھی نہ چھُپا سکیں۔ ‘‘

۔۔ ۔۔ ۔۔ ۔۔ ۔۔

 

‘‘ نہیں مجھے ان سیدھے سادے قیدیوں کی کوئی فکر نہیں۔ یہ بے چارے تو دو یا دس سال کھلے کھلے اپنے کیے کی سزا بھگت کر مکت ہو جائیں گے، قابلِ رحم تو وہ سیاہ بخت ہیں جو تنگ و تاریک نظریوں کی کال کوٹھڑی میں اپنے نہ کیے کی سزا جھیل رہے ہیں۔ آؤ بابو، ان سیاہ بختوں کے حق میں دعا مانگیں۔ ‘‘

۔۔ ۔۔ ۔۔ ۔۔ ۔۔

 

٭٭ ‘‘ میری ماں کو مَرے پندرہ برس ہو لیے ہیں رحمن بابو، آج میں نے اس کی تصویر دیکھی تو رنجیدہ ہو کر سوچنے لگا، تصویریں ہی اصل ہوتی ہیں جو رہ جاتی۔ ماں تو محض گمان تھی جو گزر گئی‘‘

 

‘‘ ہاں، مجھے بھی معلوم ہے رحمن بابو۔ کوئی درجن بھر لوگوں سے اس کی بیوی کے غیر اخلاقی جنسی تعلقات رہے ہیں۔۔ نہیں وہ چُپ کہاں بیٹھا رہا بابو؟اُسی دم گھر بار کو خیرباد کہہ دیا اور بھرے بازار اپنی بیوی کے عاشقوں کی قطار میں جا کھڑا ہوا۔ ‘‘

 

‘‘ میں نے ایک عمر اندھے پن میں ہی کاٹ دی رحمن بابو، لیکن جب ایک برٹش آئی بنک سے حاصل کی ہوئی آنکھیں میرے ساکٹس میں فِٹ کر دی گئیں تو مجھے دکھائی دینے لگا۔ اور میں سوچنے لگا، غیروں کا نقطۂ نظر اپنا لینے سے بھی اندھا پن دور ہو جاتا ہے ‘‘

 

‘‘ رحمن بابو، آج صبح ہجڑوں کا ایک پورا ٹولہ تالیاں پیٹ پیٹ کر بخشش کی خاطراس عالیشان گھر کے سامنے آ بیٹھا۔ کسی نے انہیں وہاں سے اُٹھ جانے کو کہا۔ تمہیں معلوم نہیں کہ مالک مکان کا پورے کا پورا کنبہ ایک کار حادثے میں کام آ چکا ہے ؟بے چارے کے آگے پیچھے کوئی نہیں رہا۔

مگر ہجڑے آئی پر آ جائیں بابو، تو ٹلتے تھوڑا ہی ہیں۔ ایک کو جو سوجھی تو اس نے جھوٹ موٹ کی آہ و زاری شروع کر دی اور پھر اس کے ساتھی بھی اس کے سُر میں سُر ملانے لگے۔ تعجب کی بات ہے بابو، ہجڑے شروع تو ہنسی مذاق میں رونے سے ہوئے پر سُر بندھتے ہی سب کے سب سچ مچ رونے لگے اور انجانے میں زار و قطار روتے چلے گئے۔ بھلا سوچو، بابو، کیوں۔ ‘‘

 

‘‘ نہیں، رحمن بابو، ایلورہ کے گپھاؤں میں تو پراچین کال کی مورتیاں چلتی پھرتی نظر آتی ہیں۔

نہیں، پہلے گُپھا میں ہی مَیں حیرت سے کھڑے کا کھڑا رہ گیا۔ اَن گنت اپسرائیں اور دیوتا باہم ناچ رہے تھے۔۔ نہیں بابو، سچ مچ ناچ رہے تھے اور ناچ ناچ کر بے سُدھ ہو رہے تھے۔

ہاں مجھے یہی لگا کہ وہ سب لوگ زندہ ہیں اور صرف ایک مَیں، مُورت کا مُورت!‘‘

 

‘‘ دیکھو، بابو، تمہارا بچہ آپ ہی آپ بے اختیار ہنسے جا رہا ہے۔۔ ہاں، ہر نو زائیدہ بچہ یہی کرتا ہے۔ لیٹے لیٹے آپ ہی آپ ہنسنے لگتا ہے۔۔ ہاں، رونے بھی لگتا ہے۔۔ کیوں ؟۔۔ کیونکہ وہ اپنے نئے جنم پر ابھی پچھلا جنم ہی جئے جا رہا ہوتا ہے۔۔ نہیں، اپنے بچے کو ہلا ہلا کر ڈسٹرب مت کرو۔ اِس وقت شاید وہ اپنے پوتے کو گود میں لئے کھلکھلا رہا ہو۔۔ ۔ ‘‘

 

‘‘ بات صرف مذہب کی نہیں۔ بات توفیق کی بھی ہے۔ ہر کسی کو اپنی توفیق کا ہی خدا ملتا ہے۔ ‘‘

 

‘‘ ہمارے منے کو تعجب ہے کہ دادا بیٹری کے بغیر ہی کیوں کر اتنا تیز چلتا اور اتنے زور سے ہنہناتا ہے ‘‘

 

‘‘ خوش تو وہ ہوتا ہے بابو جو ہنستے کھیلتے اک ذرا جی بھر آنے پر کھلے کھلے رو دے !‘‘

 

‘‘ آنکھوں کے سامنے بیٹھے ہوئے لوگ بھی گمان میں نہ ہوں تو ہمیں کہاں نظر آتے ہیں ؟‘‘

 

‘‘ میری واپسی کے دن آن پہنچے ہیں اور مجھے سرے سے علم ہی نہیں کہ مجھے کہاں واپس جانا ہے۔ ‘‘

 

‘‘ چوٹیوں پر سینہ پھُلا کر اچھل کود کی گنجائش نہیں ہوتی‘‘

 

‘‘ کیا کلجگ آ گیا ہے !۔۔ انسانوں کو جانور ہوتے تو دیکھا اور سنا تھا، مگر جانوروں کو انسانوں کی طرح لوٹ مچاتے پہلی بار دیکھا‘‘

 

‘‘ چلتے آؤ۔ ہم صرف چلتے چلے جانے کے لیے پیدا ہوتے ہیں اور پہنچ جانے پر مر جاتے ہیں ‘‘

 

‘‘ زندگی تو اٹوٹ ہے، اسے کوئی ایک جنم میں کیسے پورا کرے۔ ہاں، اسی لیے میرا کہنا ہے کہ میں ہی چیخوف ہوں، میں ہی پریم چند، میں ہی منٹو۔۔ ۔ اور وہ بھی کوئی، جسے ابھی پیدا ہونا ہے۔ ہاں بابو، میں اسی لیے بار بار جنم لیتا ہوں کہ اپنا کام پورا کر لوں مگر میرا کام ہر بار ادھورا رہ جاتا ہے۔ نہیں، اچھا ہی ہے کہ ادھورا رہ جاتا ہے، اسی لیے تو زندگی کو زوال نہیں، بابو۔ ‘‘

٭٭٭

 

مکمل جریدہ ڈاؤن لوڈ کریں

 

 

ورڈ فائل

 

 ای پب فائل

 

کنڈل فائل