FavoriteLoadingپسندیدہ کتابوں میں شامل کریں

گرا ں قدر مفید تفاسیر

               مولانا سید محمد یوسف بنوری

 

مقدمۂ ہذا کے اختتام پر مناسب معلوم ہوتا ہے کہ طالبین علم و حق کے واسطے چند معتمد تفاسیر کے نام درج کر دیئے جائیں جن کا مطالعہ کافی حد تک دیگر تفاسیر سے مستغنی کر دیتا ہے ، لیکن بہرحال یہ حقیقت ذہن نشین رہنی چاہئے کہ ہرتفسیر کی اپنی ایک امتیازی خصوصیت ہوتی ہے جس میں کوئی دوسری تفسیر اس کا مقابلہ نہیں کرسکتی، اور دوسری تفسیر کے اہم گوشوں کا احصاء ایک ہی تفسیر میں ہونا کم ہی پایا گیا ہے ،اس لئے کہ ہلکی بارش کشادہ وادی میں کیونکر نفع مند ہوسکتی ہے اور گڑھے کا پانی لبا لب ٹھاٹھیں مارتے سمندر کا کیا مقابلہ کرسکتاہے اور پھوار کو گرجتی برستی بارش سے کیا نسبت؟ ہر تفسیر ایسی امتیازی خصوصیات کی حامل ہے جو خصوصیات دیگر کسی تفسیر میں نہیں پائی جاتیں، اسی لئے اگر چہ متأخر عالم، متقدم کی تفسیری ابحاث کو ہی کیوں نہ نقل کرے، بلکہ ایک ہی کتاب کی تلخیص و اختصار کرے، تب بھی اصل کتاب کی طرف مراجعت کے سوا چارہ کار نہ ہو گا، اس بات کی گواہی کے لئے ہمارے پاس قطعی تجربہ کافی ہے ،جب کہ ذوق سلیم بھی یہی کہتا ہے اور اس پر دلیل وبرہان بھی واضح ہے ،ہاں! سوائے چند کتابوں کے کہ ان میں فاضل مؤلفین نے وہ کمالات دکھلائے کہ اختصار وبسط اور اجمال و تفصیل میں چنداں فرق نظر نہیں آتا۔ ان تفاسیر میں تفاصیل و ابحاث کا اختلاف کیسے نہ ہو گا؟ جبکہ اختلافِ  آراء کا پایا جانا اور طبائع و مزاج کا آپس میں تباین و تناقض روزِ روشن سے زیادہ واضح ہے اور ہر شخص کی ضرورت دوسرے شخص سے مختلف ہوا کرتی ہے ، اسی طرح آراء و مزاج میں کلی طور پر اتفاق کم ہی ہوا کرتا ہے، کتنی چیزیں ہیں کوئی ان کا محتاج ہوتا ہے اور دوسرے اس سے مستغنی،بہت سے کلمات و الفاظ ایسے ہوتے ہیں جنہیں ایک مصنف ذکر کرتا ہے ،دوسرا ان کو لائق التفات ہی نہیں جانتا ،اس لئے جو شخص قرآنی علوم کی طرف اعتناء و رغبت رکھتا ہو اوراس میں بصیرت کاملہ اور حذاقت و مہارت کا خواہاں ہو اس کو ضروری ہے کہ جو تفسیر میسر ہو اس کا مطالعہ کرے ،اس لئے کہ بہرحال تفسیر کا موضوع تو عمدہ ترین موضوع ہے ،خاص طور پر وہ فوائد جو اسلاف محققین اور راسخ علمائے متقدمین نے تحریر فرمائے ہیں ،گو کہ وہ ایک سورت یا دو سوررتوں ہی کے متعلق ہوں، بلکہ ایک یا دو آیت ہی کے متعلق کیوں نہ ہوں اور اس کے لیے ان کی تفاسیر کے علاوہ دیگر علوم و فنون میں ان کی تحریر کردہ تصنیفات کا تتبع و تفحص کرے اور ان کو گم شدہ قابل قدر قیمتی شے کے مانند ہر جگہ تلاش کرے ،اس لئے کہ قرآن کریم کی کتنی ہی مشکل مباحث ایسی ہوتی ہیں جنہیں ایک محقق ،کتب تفسیر کے علاوہ دیگر کتب میں ان کا حل پا لیتا ہے اور جس جگہ امید بھی نہ ہو، وہاں ان مشکلات کو سمجھ لیتا ہے اوراس طرح کہ بکھرے ہوئے لعل و جواہر محققین اسلاف کی کئی کتب میں پائے جاتے ہیں ،جن میں درج ذیل نام سرفہرست ہیں:

۱- امام حجة الاسلام غزالی،ؒ متوفی ۵۰۵ ھ۔ ۲- حافظ ابن قیم،ؒ متوفی ۷۵۱ھ حافظ موصوف اس موضوع کے متعلق شہسوار ہیں، شاید ہی ان کی کوئی کتاب کسی آیت کی تفسیر سے خالی ہو۔ ۳- حافظ ابن تیمیہ الحرانیؒ ،متوفی ۷۲۷ھ یہ حافظ ابن قیمؒ کے استاذ اور بحر العلوم ہیں۔ ۴- شیخ ابو القاسم سید شریف مرتضیؒ صاحب کتاب ’’الامالی‘‘ متوفی ۴۳۶ھ۔ ۵- محقق ومدقق وزیر یمانی ؒ صاحب کتاب ’’ایثار الحق علی الحلق‘‘ ’’العواصم والقواصم‘‘ ’’الروض الباسم‘‘ موصوف ابن حجر عسقلانیؒ کے معاصر ہیں۔ ۶- شیخ بہاء الدین سبکی ابن تقی الدین، موصوف ابن تیمیہؒ کے معاصر بزرگ ہیں، ان کی کتاب ’’عروس الافراح‘‘ مختلف آیات کی تفسیری مباحث کے متعلق ہے۔ ۷- امیر یحییٰ بن حمزہ یمنیؒ نے  ’’الطراز‘‘ میں کئی فوائد تحریر فرمائے ہیں اور یہ نویں صدی ہجری کے علماء میں سے ہیں ،ان کے علاوہ دیگر کئی اکابرین امت و علمائے ملت جن کے گرد امت کی چکی گھومتی ہے (گویا وہ اس کے قطب اور پاٹ ہیں) انہوں نے تفسیری فوائد بکھرے انداز میں اپنی کئی کتب میں تحریر فرمائے ہیں۔ کچھ عرصہ سے میں سوچ رہا تھا کہ اگر خدائے پاک کی توفیق شامل حال ہوئی تو یہ بکھرے موتی مذکورہ اکابرین علماء کی کتب سے جمع کر کے ان کو ایک لڑی میں پرو دوں، اس کا اظہار میں نے اس لئے کر دیا، تاکہ توفیق والے اس اہم خدمت کے متعلق غور و فکر فرماویں، واللہ الموفق۔ چونکہ یہ موہوم زندگی بہت محدود ہے اور خواہشات لمبی ہیں، ہمتیں سست اور عزائم بوجھل ہیں ،خیالات و افکار کو خواہشات نے مختلف وادیوں میں بہادیا ہے اور کوششیں خاک ہو رہی ہیں ،میں چاہتا ہوں کہ عزیز طلباء کو ان مطبوعہ تفاسیر میں سے جو اہل علم حضرات کے ہاں مشہور اور رائج ہیں ،چند کے متعلق آگاہ کروں ،جو چاہے انہی پر قناعت کرے تو اس کو کافی ہو جائیں گی اور صرف انہی نہروں ا ور دریاؤں سے پی لے تو سیراب ہو جائے گا اور ان شاء اللہ ان تفاسیر سے خوب سیراب ہونے کے ساتھ ساتھ یہ اس کو دیگر تفاسیر سے مستغنی کر دیں گی، اور یہ تفاسیر میرے نزدیک چار ہیں:

۱- تفسیر ابن کثیر

یہ تفسیر حافظ عماد الدین ابن کثیر شافعی دمشقیؒ متوفی ۷۷۴ھ جو علامہ ابن تیمیہؒ کے اجل تلامذہ میں سے ہیں کی تحریر کردہ تفسیر ہے ،یہ ’’تفسیر ابن جریر‘‘ سے مستفاد اور گویا اس کا مصفی ایڈیشن ہے، محدثین کی تفاسیر میں روایت و درایت کے اعتبار سے کوئی اس تفسیر کے مقابل نہیں ، ہمارے حضرت شیخ امام العصر مولانا انور شاہ کشمیرینے فرمایا: اگر کوئی کتاب کسی دوسری کتاب سے مستغنی کرنے والی ہے تو وہ تفسیر ابن کثیر ہے جو تفسیر ابن جریر سے مستغنی کرنے والی ہے۔

0-         مفاتیح الغیب

جو ’’التفسیرالکبیر‘‘ کے نام سے معروف ہے، یہ امام محقق فخر الدین ابن خطیب الرازی شافعیؒ متوفی ۶۰۶ھ کی تفسیر ہے، ہمارے شیخ ؒ فرماتے تھے کہ: میں نے مشکلاتِ  قرآن میں سے کوئی مشکل ایسی نہ پائی مگر اس کا حل امام موصوف نے اس تفسیر میں فرما دیا ہے، اور یوں بھی کہا کرتے تھے کہ: امام موصوف حل مشکلات کے دریا میں غوطہ زنی کرتے ہیں اگرچہ بعض مشکلات کا وہ قابل اطمینان اور موجب قناعت حل پیش کرنے میں ظفر یاب نہیں بھی ہوتے ہیں ،اوراسی طرح شیخ یوں بھی کہا کرتے تھے کہ: جو اس تفسیر کے متعلق کہا گیا ہے کہ ’’فیہ کل شئ الا التفسیر‘‘ جیساکہ صاحب ’’الاتقان‘‘ امام سیوطیؒ نے نقل فرمایا ہے یہ اس تفسیر کی جلالت قدر اور علو منزلت کو گھٹانے کے واسطے ہے، شاید یہ قول اس شخص کا ہو جس کو لطائف و معارف قرآنی سے دلچسپی نہیں اور صرف من گھڑت اقوال کی بہتات کر دینا اس پر غالب ہے۔

۳- روح المعانی

یہ تفسیر تیرھویں صدی ہجری کی عظیم القدر شخصیت مفتیِ بغداد اور اپنے وقت کے بہت بڑے عالم سید محمود آلوسی حنفیؒ کی تحریر کردہ ہے ،اس کی گرانمایہ خصوصیات اور بلند پایہ محاسن دلوں کو اپنی جانب کھینچتے ہیں۔ میرے نزدیک مواد کی کثرت، واضح تعبیرات اور تحریر کی عمدگی میں مذکورہ تفسیر علامہ ابن حجرؒ کی ’’فتح الباری‘‘ کے مانند ہے، لیکن چونکہ فتح الباری کلامِ مخلوق کی تشریح و تفصیل ہے، اس لئے اس نے صحیح بخاری کی شرح کی گراں ذمہ داری سے امت مرحومہ کو آزاد کر دیا اور گویا صحیح بخاری کا حق ادا کر دیا، جب کہ خدائے کریم کا مبارک کلام اس بات سے بہت بالا و برتر ہے کہ کوئی بشر اس کے حق کو کامل طور پر ادا کرسکے، اگرچہ اپنی ممکنہ ہمت و عنایت کلام اللہ کی شرح وتفسیر میں گذار دے۔

۴- ارشاد العقل السلیم الی مزایا القرآن الکریم

یہ حضرت شیخ ابو السعودحنفیؒ، مفتیٴ سلطنت عثمانیہ، خطیب المفسرین، قاضی القضاة علامہ محمد بن محمد العمادی متوفی ۹۵۱ھ کی بلند پایہ تفسیر ہے جو نظم قرآنی کے اغراض و مقاصد کو بہترین پیرائے اور عجیب طرز تصویر سے نہایت خوش اسلوبی سے آشکارا کرتی ہے نیز امام زمخشریؒ کی ’’الکشاف‘‘ کی بہت سی خصوصیات سے مستغنی کرنے والی ہے۔ یہ چار کتب تفسیرہوئیں، جن میں دو شافعی المسلک علماء کی ،جب کہ دو حنفی علماء کی تحریر کردہ ہیں اور جس مفسر کو فرصت نہ ہو امید ہے کہ وہ ان چاروں تفاسیر سے استفادہ کرنے کے بعد دیگر سے مستغنی ہو جائے گا ۔ جو شخص جدید علوم و فنون کے متعلق معلومات کا شائق ہو اور قدرت کے تخلیقی کارناموں، تکوینی غرائبات اور کائنات کے پھیلے نظام کی باریکیوں کو جاننے کا خواہشمند ہو ،وہ ان مذکورہ تفاسیر کے ساتھ علامہ جوہری طنطاوی کی ’’جواہر القرآن الکریم‘‘ کو بھی زیر مطالعہ رکھے، لیکن یہ بات بھی درست ہے کہ نقد حدیث کے متعلق ان کی رائے پر اعتماد مناسب نہیں ہے ،اس لئے کہ و ہ محض اپنی رائے پر اعتماد رکھتے ہوئے شرائط نقد کو ملحوظ رکھے بغیر تنقید کرتے ہیں، یہ بات ہم نے اپنے شیخ حضرت شاہ انور شاہ کشمیریؒ سے سنی ہے۔ اور جو عصری اسلوب کے مطابق قرآنی اغراض و مقاصد کی راہنمائی کا خواہاں ہو ،وہ علامہ سید رشید رضا کی تفسیر ’’المنار‘‘ کو بھی مذکورہ تفاسیر میں ضم کر لے ،مگر یہاں یہ بھی مد نظر رہے کہ ان کے تمام مزعومات  و آراء پر اعتماد مناسب نہیں ہے اور بیشک یہ تفسیر بھی چند مقامات پر جہاں مؤلف مذکور کے شیخ یا خود ان کے قلم نے مسلک حق کے متعلق بے اعتدالیاں برتی ہیں، ان پر تنبیہات ذکر کی جاویں ۔ خلاصۂ بحث یہ ہے کہ ان دونوں تفاسیر ’’الجواہر‘‘ اور ’’المنار‘‘ کے قابل اعتراض مقامات کے علاوہ یہ دونوں تفاسیر اپنے فوائد کے بارے میں نفع سے خالی نہیں اور ان سے استفادہ کرنے والے کو اس وقت صاحب حماسہ ابو تمام کا یہ شعر پیش رکھنا بہت مفید ہو گا۔

ولایغرنک صفوانت شاربہ فربما کان بالتکدیر ممتزجاً

ترجمہ :۔’’تمہیں صاف پانی کا پینا دھوکہ میں غافل نہ کر دے بسااوقات یہ صاف پانی بھی گدلے پانی سے مخلوط ہوتا ہے۔‘‘ اسی طرح یہ شعر بھی لائق اعتناء ہے:

قدرلرجلک قبل الخطو موضعہا فمن علا زلقاً عن غرہ زلجا

ترجمہ :۔ ’’اپنے پیر پڑنے کی جگہ کو قدم رکھنے سے قبل خوب اچھی طرح جانچ لو اس لئے کہ جو غفلت میں پھسلن پر پڑ گیا تو پھسل جائے گا۔‘‘

جو مفسر ان مذکورہ تفاسیر سے بھی مختصر تفسیرچاہتا ہو تو وہ شیخ محقق نیسابوری کی ’’غرائب الفرقان‘‘ اور تفسیر ابو السعود (جس کا گذشتہ سطور میں ذکر ہوا )کو دیکھے ،اول الذکر تفسیرکبیر امام رازیؒ (جس کا ذکر کیا جاچکا ہے)کا بہترین خلاصہ ہے اور چند مزید فوائد کا اس میں اضافہ بھی کیا گیا ہے۔ عدیم الفرصت شخص کے لیے قرآنی مفاہیم کو سمجھنے میں یہ دونوں تفاسیر کافی ہو جائیں گی یا پھر تفسیر ابن کثیر اور الکشاف دیکھ لے اور جو شخص صرف ایک ہی تفسیر پر قناعت کرنا چاہے تو اگرچہ وہ کچھ شمار میں بھی نہ آوے گی اور گویا بہتی ہوئی نہر میں سے نہایت قلیل پانی ہے تو اگر وہ مبسوط تفسیر چاہتا ہے تو ’’روح المعانی‘‘ کا مطالعہ کرے ،کیونکہ علامہ آلوسی روایات کا خلاصہ و نچوڑ بیان کرتے ہیں اور ساتھ ساتھ بلاغت و درایت کے متعلق بھی ابحاث ذکر فرماتے ہیں اور اگر وہ اس ایک تفسیر سے بھی مختصر چاہتا ہے تو وہ شیخ عارف عبد الرحمن ثعلبی جزائر کی ’’الجواہر الحسان‘‘ کا مطالعہ کرے ،یہ تفسیر مختصر بھی ہے اور انتہائی نفع مند بھی، اور اس میں علامہ ؒ نے نہایت خوش اسلوبی سے ابن عطیہؒ کی تفسیر کی تلخیص فرمائی ہے اور مختلف علوم سے متعلق تقریباً سو سے زائد کتابوں سے حاصل فوائد کا اضافہ کیا ہے۔ یہ کل آٹھ تفاسیر ہوئیں، جو چاہے اس سے زائد کا بھی مطالعہ کر لے، اس لئے کہ یہ موضوع تو پورا ہی خیر سے بھر پور ہے اور جس کسی کو ہندی اردو زبان میں نظم قرآنی کی سمجھ حاصل کرنی ہو اور اردو بھی دلنشین اسلوب اور فصیح ترین تعبیرات سے مزین ہو تو وہ ہمارے حضرت شیخ المشائخ مولانا محمود حسن دیوبندیؒ متوفی ۱۳۳۹ھ (جو شیخ الہند کے نام سے مشہور ہیں)کا ترجمہ جس پر ہمارے حضرت شیخ محقق العصر مولانا شبیر احمد عثمانیؒ کے تحریر کردہ تفسیری فوائد ہیں کا مطالعہ کر لے ،اس لئے کہ ان دونوں حضرات نے نظم قرآنی کے مقاصد و اغراض کو عجیب پیرائے میں سمجھایا ہے کہ گویا سارے فوائد قیمتی لعل و جواہر اور قابل قدر و رفعت گرانمایہ موتی ہیں، اور کبھی کبھار ان ضخیم جلدوں اور اس بھرپور تفسیری موادسے بھی وہ مشکل گرہیں نہیں کھلتیں، جس کو آپ ان فوائد کی مختصر عبارات اور لطیف اشارائے میں واضح پائیں گے۔ اللہ کریم ان حضرات کو ان کی محنتوں کا صلہ عطا فرمائے،آمین۔ ان تفسیری فوائد سے فضلائے زمانہ تک مستغنی نہیں، چہ جائیکہ طلباء کرام اپنی طالب علمی کے دور میں اس سے روگردانی کریں، عربی تفاسیر میں سے بھی کوئی تفسیر ان فوائد کے قائم مقام یا ان کا مقابلہ نہیں کر سکتی ،میں یہ ہرگز نہیں کہتا کہ: بقیہ تفاسیر سے یہ تفسیری فوائد مستغنی کرتے ہیں ،بلکہ کہنے کا مقصد یہ ہے کہ جس طرح دیگر تفاسیر سے یہ فوائد مستغنی نہیں کرسکتے، اسی طرح دیگر تفاسیر بھی ان سے مستغنی نہیں کرسکتی۔

چند مطبوعہ تفاسیر کی خصوصیات و امتیازات

مفید تفاسیر کے موضوع سے متعلق ․․․․جن کا تذکرہ جاری تھا․․․․میں نے ایک محاظرہ پیش کیا تھا، جس کا خلاصہ یوں ہے کہ میں نے مطبوعہ کتب تفسیر کو چار اقسام پر تقسیم کیا ہے:

               ۱- علماء و ائمۂ عربیت کی تفاسیر

جیسا کہ ’’الکشاف‘‘ تفسیر ابی السعود ،اسی طرح کشاف سے اختصار کردہ ’’البیضاوی‘‘ اور ’’المدارک‘‘،امام ابوحیان کی تفسیر ’’البحر المحیط‘‘ ،؟؟؟’’ النہر المادمن البحر‘‘، الدر اللقیط من البحر المحیط۔تفسیر ’’الکشاف‘‘ کی خصوصیات کے متعلق میں نے اپنے محاظرے میں کافی بحث کی اور اس کے فوائد بھی بتلائے ،ساتھ ساتھ مسلک اعتزال سے علامہ زمخشریؒ کا تعصب ، اہل سنت پر طعن درازی، ان پر اجبار وحشو کے فتوے، ان کے متعلق سخت کلام ،یہاں تک کہ دشنام طراز ی ،سب و شتم اور باوجود اپنے زہد اور پرہیزگاری کے بعض علمی جوابات میں زبان درازی کے متعلق بھی میں نے خوب وضاحت کی ،اللہ کی قدرت بھی بڑی عجیب ہے کہ جس نے اس قسم کی طبائع تخلیق فرما کر تقسیم فرمائے اور میں نے یہ بھی کہا کہ: جو شخص بھی ان کے بعد آیا،وہ ان کے قائم مقام نہ بن سکا ،چاہے اس نے علامہ ہی کے کلام کو مختصر و ملخص کیوں نہ کیا ہو،یا چند الفاظ کا تغیر اور بعض تعبیرات کا اضافہ ہی کیوں نہ کیا ہو ۔ تفسیر کشاف کے بعد عمدہ ترین تفاسیر میں سرفہرست علامہ ابو سعودؒ کی تفسیر ’’ارشاد العقل السلیم الی مزایا القرآن الکریم‘‘ ہے ،اس لئے کہ کچھ فوائد ومسائل علامہؒ نے ایسے بیان فرمائے ہیں جو کشاف کے فوائد سے زیادہ ہے۔ بہرحال علمائے لغت اپنی تفاسیر میں علامہ زمخشریؒ کے مرہون منت ہیں، اور ان کی تفاسیر کا تانا بانا اسی سے بندھا ہے ۔ مذکورہ تفاسیر کے علاوہ شیخ عبد الرحمن جزائری ثعالبی کی تفسیر ’’الجواہر الحسان‘‘ کے متعلق بھی میں نے اپنا مدحی و تعریفی تأثر پیش کیا، اس لئے کہ اس میں ابن عطیہؒ کی تفسیر کا خلاصہ و نچوڑ پیش کیا گیا ہے ،اور سینکڑوں تفاسیر سے ابن عطیہؒ کی تفاسیر کی جانچ کی گئی ہے ؟؟خلاصہ و ما حصل یہ کہ مذکورہ تفاسیر علماء لغت کی بہترین تفاسیر شمار کی جاتی ہیں اور علماء و طلباء میں رائج ہیں۔

               ۲-محدثین کرام کی تفاسیر

۱:․․․تفسیر ابن جریر،۲:․․․ تفسیر ابن کثیر ،۳:․․․اور الدر المنثور فی التفسیر بالماثور یہ تین تفاسیر محدثین کرام کی بقیہ تفاسیر سے مستغنی کر دینے والی ہیں۔

               ۳-علمائے منطق وکلام کی تفاسیر

متکلمین کی نظیر میں سرفہرست تفسیر علامہ رازیؒ کی ’’مفاتیح الغیب‘‘ اور اس کا خلاصہ’’ غرائب الفرقان‘‘ جو علامہ نیسابوریؒ کی کاوش ہے، شمار کی جاتی ہیں اور اس موضوع کے متعلق قدیم ترین تفسیر علامہ ابو منصور ماتریدی کی ’’التاویلات‘‘ ہے، جس کی شرح شیخ ابوبکر سمرقندیؒ نے تحریر فرمائی ہے، اس کا بہترین نسخہ مکتبہ الحرم المکی سے چھپ کر شائع ہوا ہے، یہ انتہائی عمدہ تفسیر ہے اور علم کلام کی وسیع ابحاث سے بھر پور ہے۔

               ۴- وہ تفاسیر جن میں فقہی احکام اور مذاہب فقہیہ کی ابحاث کا خصوصی اہتمام کیا گیا ہے

ان میں سرفہرست علامہ قرطبیؒ کی ’’احکام القرآن‘‘ جس میں فقہی ابحاث سمیت لغوی ابحاث کا بھی قدرے اہتمام کیا گیا ہے ۔اسی طرح علامہ ابوبکر جصاص رازیؒ کی تفسیر بھی فقہی رنگ سے مزین ہے ،جس میں علامہ موصوفؒ نے مسائل فقہیہ کو بیان فرماکر ان کے دلائل کے متعلق خوب شرح وبسط فرمائی ہے اور’’ الفصول فی الاصول‘‘ گویا اپنی تفسیر کے لئے مقدمہ کے طور پر تصنیف فرمائی ہے ،اس کا بہترین نسخہ قاہرہ کے مکتبة الحکومة میں موجود ہے، اسی نسخہ کی ہم نے بھی نقل لی تھی ،اسی طرح ہندوستان کے صوبہ دکن کے شہر حیدر آباد کے احیاء المعارف النعمانیہ کا منقولہ نسخہ بھی بہت عمدہ ہے اور علامہ جصاصؒ تو علم اصول ، علم کلام، علم فقہ ، علم حدیث میں تحقیق و تفتیش کا اعلیٰ درجہ رکھتے تھے ،اور ان علوم میں حذاقت و مہارت کے ساتھ ساتھ خوب معلومات رکھتے تھے انہی فقہی تفاسیر میں قاضی ابوبکر بن العربی اور قاضی ثناء اللہ پانی پتیؒ کی تفاسیر بھی قابل ذکر ہیں ،قاضی ثناء اللہؒ نے اپنی تفسیر کا نام اپنے مرشد کریم عارف باللہ شیخ مظہر جانِ جاناںؒ نقشبندی کے نام پر ’’ التفسیر المظہری‘‘ رکھا، فقہی مذاہب کی تحقیق کے متعلق یہ تفسیر عمدہ ترین تفاسیر میں شمار کی جاتی ہے اور دس مجلدات میں طبع کی گئی ہے، علامہ احمد جونپوری ہندیؒ کی ’’التفسیرات الاحمدیة‘‘ جو احکام کی مشہور آیات کی ہی تفسیر ہے۔

۵-تفاسیر کی پانچویں قسم صوفیاء کرام کی تفاسیر ہیں

جیسے شیخ اکبرؒ اور امام غزالیؒ کی تفسیر،انہی کے مانند مہائمی ہندیؒ کی تفسیر ’’تبصیر الرحمن‘‘ بھی ہے، جس میں بڑی قابل قدر ابحاث ودیعت فرمائی گئی ہیں، عراق کے مفتی سید محمود آلوسیؒ نے اپنی تفسیر ’’روح المعانی‘‘ میں ان تمام پانچوں موضوعات کو اپنی مشہور تفسیر میں جمع کرنے کا ارادہ فرمایا ،چنانچہ یہ سب سے جامع ترین تفسیر ہے ،جو ان ممیزات و خصائص کو حافظ ابن حجر کی ’’فتح الباری‘‘ جیسی مضبوط عمدہ عبارات پر مشتمل ہے ،لیکن اس تفسیر پر بھی ادبی اور کلامی رنگ غالب ہے اور چونکہ علامہ موصوف متاخرین میں سے ہیں ،اس وجہ سے عصر حاضر کے مسائل و مشکلات کے متعلق بھی خوب بحث فرمائی ہے اور بعضے مواضع میں علامہ رازی کے پیش کردہ مسائل کے جوابات پر بھی کچھ نقد و نظر فرمایا ہے ،لیکن ان کے جوابات کے متعلق سکوت فرمایا ہے

               علماء ہند خاص طور پر علماء دیوبند کے قرآن کریم کے متعلق کارہائے نمایاں اور اہل باطل و اہل حق کی تفاسیر پر تنبیہات

اس مقام پر پہنچنے کے بعد مناسب معلوم ہوا کہ علماء ہند خاص طور پر علماء دیوبند کی قرآن و حدیث کے متعلق خدمات، شریعت اسلامی سے بدعات کی روک تھام ،برطانوی سامراج سے خلاصی اور آزادی وطن کی خاطر علمی و عملی جد و جہد، حمیت اسلامی اور دینی غیرت کی تخم ریزی ،ہند کے عوام و خواص کے قلوب میں اسلامی عروج وترقی اور حریت وطن کی روح پھونکنا ،اور انہیں پردیسی دھوکہ باز خائن حکومت کے شکنجے سے بچانے کے بارے میں ان علماء کی خدمات کو آشکارا کر دوں،یہ تمام خدمات ان علماء کرام کے بڑے احسانات ہیں ،جو روز روشن سے زیادہ نمایاں ہیں، جن کو مؤرخین ہرگز فراموش نہ کر سکیں گے ، عرب ممالک میں رہائشی باشندوں کی ان علماء کی خدمات سے متعلق عدم واقفیت اور بعض اہلِ قلم اور صحافیوں کی ان کے متعلق طعن زنی اور ان کی ان خدمات کے اخفاء کے ساتھ ساتھ انصاف اور دیانت سے قطع نظر حق جوار میں کوتاہی کرتے ہوئے ان پر اتہام طرازی نے مجھے برانگیختہ کیا کہ میں ان خدمات کی وضاحت کروں ۔ ہائے افسوس! کہاں ہے انصاف!! کدھر گئی دیانت!! انصاف و دیانت کو تو دور لے جانے والا عنقا لے اڑا ، اور دور افتاد بیابانوں تک لوگوں کی رسائی بھی کم ہے ۔ لیکن ان تمام خدمات کی تفصیلات اس مقام پر ممکن نہیں، لہٰذا چند خدمات کے متعلق ذیل میں ذکر ہو گا جو گویا بجلی اور چمک ہیں جو موسلادھار بھرے بادلوں کی طرف رہبری و رہنمائی کرے گی ۔ ۱-علمائے ہند کے ان کا رہائے نمایاں میں سے فارسی زبان میں تحریر کردہ تفسیر ’’البحر المواج‘‘ ہے ، جو آٹھویں صدی ہجری کے علامہ شمس الدین دولت آبادی ،الدہلوی کی ہے ،یہ قاضی عبد المقتدر شریحی کندی کے احباب ارادت میں سے ہیں ۔ ۲- شیخ علی بن احمد المہائمی متوفی ۸۳۵ھ کی عربی تفسیر ’’تبصیر الرحمن‘‘ ہے جو چار مجلدات پر حاوی ہے، مہائم بمبئی کے قریب ساحل سمندر پر واقع ایک شہر ہے ،مصر سے یہ تفسیر طبع کی گئی ہے ،یہ نہایت عمدہ اور نفیس تفسیر ہے ،جس میں ربط بین السور والآیات کے متعلق خصوصی فوائد ذکر کئے گئے ہیں اور دیگر کئی فوائد بھی اس تفسیر میں موجود ہیں۔ ۳- شیخ محدث محقق قاضی ثناء اللہؒ پانی پتی کی ’’تفسیر مظہری‘‘ ہے، یہ بھی عربی تفسیر ہے ‘‘قاضی صاحب حجة اللہ البالغة کے مصنف حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ کے تلامذہ میں سے ہیں ،یہ بھی نہایت عمدہ تفسیر ہے ،خاص کر احکام ومسائل اور مختلف فقہی مذاہب کے متعلق نفیس ابحاث پر مشتمل ہے ،حال ہی میں دس بڑی مجلدات پر یہ تفسیر طبع ہوئی ہے۔ ۴- ابو الفیض فیضی کی تفسیر ’’سواطع الالہام ‘‘ ہے جو آٹھویں صدی ہجری کے ہندوستانی بادشاہ جلال الدین اکبر کی سلطنت اکبریہ کے علماء میں سے ہیں ،ابو الفیض نے قرآن کریم کی یہ تفسیر غیر منقوط حروف سے لکھی ہے اور اس کے متعلق خوب تکلف سے کام لیا ،جس کی بناء پریہ تفسیر فی نفسہ بے فائدہ ہو گئی، لیکن اتنی سخت محنت و مشقت سے تحریر کردہ یہ تفسیر بہرحال قابل تعریف ہے ،جو مؤلف کی عربی زبان پر حذاقت و مہارت کی خبر دیتی ہے کہ اس غیر منقوط حروف کے استعمال کو اخیر تفسیر تک برقرار رکھا ہے۔ ۵-نواب صدیق حسن خان قنوجی کی تفسیر ’’فتح البیان‘‘ ہے ،جو کئی مجلدات پر مشتمل ہے ،ان تفاسیر کے علاوہ ،دیگر کئی تفاسیرعربی اور فارسی زبان میں ہندی علماء کے شاہکار ہیں ،جن کی تفصیلات بیان کرنا مشکل ہے ۔ علاوہ ازیں ہندوستان میں قرآن کریم کا فارسی میں سب سے پہلا ترجمہ کرنے والے اور امت میں قرآن کریم کے ترجمہ کا رواج ڈالنے والے شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ متوفی ۱۱۷۶ھ تھے جو ’’حجة اللہ البالغة‘‘ ’’البدور البازغة‘‘ ’’الخیر الکثیر‘‘ ’’التفہیمات الالہیة‘‘ ’’ازالة الخفاء عن خلافة الخلفاء‘‘ ’’المسوي‘‘ اور ’’المصفي‘‘ ․․․جو مؤطا کی دو لائق قدر شروحات ہیں․․․ کے علاوہ دیگر کئی قیمتی اور قابلِ قدر تصانیف کے مؤلف ہیں ،ترجمہ قرآن کے متعلق علامہ محترمؒ نے بڑی باریک بینی سے کام لیا ہے اور ان اسرار و معارف اور لطیف اشارات کی رعایت فرمائی ہے جو ہرکس وناکس کو سمجھ میں نہیں آسکتے ،جب تک کے وہ اس میدان کا شہسوار نہ ہو اور اس ترجمہ پر مزید تفسیری فوائد و نکات مختصر طور پر تحریر فرمائے ہیں ،اور اسرائیلیات کو یکسر ترک کیا ہے ،اس ترجمہ کا نام انہوں نے ’’فتح الرحمن‘‘ تجویز فرمایا، یہ ترجمہ تحریر فرما کر گویا انہوں نے امت مسلمہ میں وحدت کی بنیاد رکھی ہے ،اللہ کریم ان کو خوب رحم و کرم سے نوازے ،انہوں نے ہمیں قرآن کریم کے عربی زبان کے علاوہ ترجمہ کرنے کے متعلق بحث سے مستغنی فرما دیا ،جو مسئلہ کافی عرصہ تک علماء مصر کے درمیان زیر بحث رہا ۔اور ظاہرسی بات ہے کہ قرآن کریم کی معجز فصاحت کا غیر لغت میں ترجمہ کہاں مقابل ومساوی ہوسکتا ہے کہ ترجمہ کی عدم فصاحت و اعجاز کا قرآن کریم کے اعجاز پر اثر پڑے؟ بیشک قرآن کریم کا فہم تو اسی وقت حاصل ہوسکتا ہے، جب علوم عربیت کی تحصیل کے ذرائع عربی گرامر وغیرہ حاصل کیے جائیں اور جو علوم ذرائع فہم ہیں، وہ بے شک لائق تحسین ہیں ۔ قرآن کریم کے معانی کا فہم علومِ عربیت کی تحصیل ․․․عربی گرامر وغیرہ ․․․اور دیگر متعلقہ لازمی علوم کے ذریعہ بے شک لائقِ تحسین اور اولیٰ ہے ،لیکن جس شخص کو ان علوم کے حصول پر قدرت نہ ہو تو کیا اس کی قرآن کریم کی واقفیت سے محرومی بہتر ہے یا اپنی مادری زبان میں قرآن کا سمجھ لینا بہتر ہے؟ قیاسی اعتبار سے میں سمجھتا ہوں کہ دوسری شق اچھی ہے اور خداوند کریم نے قرآن کریم کو تمام لوگوں کے واسطے نازل فرمایا ہے انس ہوں یا جن عرب ہوں یا عجم سب کے فہم کے واسطے قرآن کریم نازل کیا گیا ہے۔ پھر یہ بات بھی شک و شبہ سے بالاتر ہے کہ قرآن کریم جن اصول و احکام کی رہنمائی کرتا ہے، ان کا جاننا اور سمجھنا ہر مکلف پر واجب ہے ،جب کہ عربی علوم گرامر وغیرہ کا حصول اس طرح واجب نہیں ہے ،چنانچہ اگر فہم قرآنی کے حصول کا معاملہ ان علوم پر موقوف کر دیا جائے ․․․جب کہ قرآن کے بعض حصے کا فہم واجب ہے ․․․تو یہ علوم بھی ہر مکلف پر واجب ہو جائیں گے، اس لئے کہ امر واجب تک پہچانے والا عمل بھی واجب ہوا کرتا ہے، جیساکہ یہ اصول اپنے مقام پر مسلم ہے۔ یہ بات تسلیم ہے کہ قرآن فہمی ترجمہ سے حاصل کرنا عزیمت نہیں ہے ،لیکن جہاں عزیمت کے رأساً وکلیةً فوت ہونے کا اندیشہ ہو ،وہاں رخصت پر عمل کر لینا ہی عزیمت ہوتا ہے ،اللہ تعالیٰ نے ہر شخص کو قرآنی اعجاز کی معرفت کے حصول کا اور قرآن کے ایجاز و اطناب کے باریک و لطیف نکات کے پہچاننے کا مکلف نہیں ٹھہرایا ہے، اس لئے کہ یہ ہر شخص کی قدرت سے بالا تر ہے ،کیونکہ کچھ کو اس طرح کا جہت فہم میسر ہو جاتا ہے اور کچھ محروم رہتے ہیں ،جبکہ قرآن پاک تمام لوگوں کے واسطے خدائے کریم کا پیام اور جہاں والوں کے لئے ہدایت نامہ ہے، اگر مختلف لغات میں اس کے تراجم کر کے اس کی نشر و اشاعت کی جائے تو تمام انسانوں پر خدا کی حجت تمام ہو جائے گی ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

’’ولقد یسرنا القرآن للذکر فہل من مدکر‘‘

یہ آسانی اور تیسیر کیونکر حاصل ہوسکے گی ،اگر عجمی زبانوں میں قرآن کا ترجمہ کرنا جائز ہی نہ ٹھہرے ؟حالانکہ آیت مذکورہ کے ذیل میں قرآن کریم کی یہ خاصیت آشکارا کی گئی ہے کہ ہر شخص اس قرآن سے مستفید ومستفیض ہوسکتا ہے ،عالم اپنے علم کے ذریعے اور عامی جب اس کے معنی و مفہوم کو حاصل کر لے اور اغراض و مقاصد کو سمجھ لے تو اپنے فہم سے اس قرآن سے بہرہ ور ہوسکتا ہے ،بیان کردہ یہ مقدمات غور و اعتبار کے قابل ہیں ،تاکہ مسئلہ مسجوثہ واضح ہو جائے جہاں تک قرآن کریم کی تفسیر کا معاملہ ہے تو کبار علماء میں سے بھی چند ایک افراد ہی اس بھاری ذمہ داری کے متحمل ہوسکتے ہیں ،چہ جائیکہ عام جہلاء و عوام کو اس کا اختیار دے دیا جائے۔ خلاصہ بحث یہ ہے کہ ہند و پاک کے علماء کا متفقہ فیصلہ ہے کہ فی زمانہ قرآن کریم کا ترجمہ مختلف لغات میں جائز ہے ،جب کہ مصری علماء اور مشائخِ ازہر شریف اب تک اس مسئلہ کے متعلق شش و پنج میں مبتلا ہیں ،اور علیحدہ رسائل صرف اسی مسئلہ کے متعلق تحریر فرمائے ہیں، لیکن مقام ہذا میں راقم ان تمام تر تفصیلات کے بیان سے قاصر ہے۔

واللہ الموفق

۲-حضرت شاہ ولی اللہؒ کے بعد اسی خانوادۂ ولی اللہی کے فرد حضرت شاہ ولی اللہ ؒمتوفیٰ:۱۲۳۰ھ کے بیٹے شاہ عبد القادر دہلویؒ اپنے والد بزرگوار کے نہج پر گامزن ہوئے اور ہندی اردو زبان میں قرآن کریم کا ترجمہ تحریر فرمایا، چنانچہ بہت بہترین اور عمدہ ترجمہ فرمایا۔ آج قرآن کے ترجمہ اور فہم میں ہندی باشندوں کا مدار اسی پر ہے ۔

موصوفؒ نے اس ترجمہ کو تنقیح و تہذیب میں، اس کے اسلوب کی عمدگی اور معنوی لطافت و دقت میں ایسے بلند و بالا مرتبہ پر پہنچا دیا کہ وہ سہل ممتنع بن گیا․․․․کہ ایسا آسان اسلوب بیان جس کی نظیر و نقل نہ لائی جاسکتی ہو۔

پھر اس ترجمہ کو مفید تفسیری فوائد تحریر فرما کر مزید نفع بخش بنا دیا،جنہوں نے قرآن کریم کی اغراض و مقاصد کے عمدہ موتیوں پر پڑے پردوں کو کھول دیا ،ان کے بعض لطائف و فوائد کی نظیر کتب تفاسیر کے موجودہ وافر و کثیر مادے میں ملنا مشکل ہے، چنانچہ ان تمام فوائد کے متعلق آپ کا کیا خیال ہے !!

شیخ کا ترجمہ اپنی بعض خصوصیات کے اعتبار سے حد اعجاز کے قریب ہے ،اور اگر بشری کلام بھی معجز ہوا کرتا تو بعض مواضع میں علامہ موصوفؒ کے ترجمہ کو معجز کہنا بالکل برمحل ہوتا ،لیکن خداوند تعالیٰ نے صفت اعجاز کے ساتھ فقط اپنے کلام کو مختص فرما دیا ہے، لیکن بہرحال یہ خصوصیت ایسی ہے کہ دیگر تراجم اس کے مقابل ومساوی نہیں ہوسکتے ہیں ۔

۳-اسی طرح حضرت شاہ ولی اللہؒ کے دوسرے بیٹے شاہ رفیع الدین دہلویؒ، متوفی: ۱۲۳۳ھ ․․․․جو شاہ عبد القادرؒ سے بڑے تھے․․․․نے بھی قرآن کا اردو ترجمہ فرمایا، جس میں کلمات قرآن کی ترتیب کے مطابق لغوی ترجمہ کی رعایت فرمائی ہے اور عوام کے لئے یہ ترجمہ حضرت شاہ عبد القادرؒ کے ترجمہ سے زیادہ بہتر و نفع بخش ہے۔

۴-اسی طرح حضرت شاہ ولی اللہؒ کے سب سے بڑے بیٹے الحجة ،عارف باللہ شاہ عبد العزیز دہلویؒ متوفی: ۱۲۳۹ھ نے اپنے بعض احباب کو قرآن کریم کے آخری دو پاروں کی تفسیر لکھوائی ،پھر پہلے پارے کی تفسیر لکھوائی اور دوسرے پارے کی تفسیر : ’’وان تصوموا خیراً لکم ‘‘ تک مکمل فرما سکے اور اس تفسیر کا نام ’’الفتح العزیز‘‘ رکھا ،اس میں ایسے بیش بہا علوم اور گراں ما یہ فوائد ہیں جو ان کے وسیع تبحر علمی ، ان کے محیر العقول استحضار، باکمال حافظے اور مضبوط و عمدہ تعبیرات کے متعلق قاری کو تعجب میں ڈال دیتے ہیں ۔یہ فوائد علامہ محترمؒ نے کتب تفاسیر کی مراجعت کے بغیر زبانی حافظہ کی مدد سے تحریر کروائے ہیں ،خدائے کریم کی قدرت بھی بڑی عجیب ہے، جس کو چاہے، جیسے کمالات چاہے ،نوازش فرما دے -سبحان اللہ- ہمارے شیخ امام العصرؒ فرمایا کرتے تھے کہ کاش!یہ تفسیر اسی طریق پر مکمل ہو جاتی تو مقدرت بشری کے اعتبار سے جو قرآن پاک کی تفسیری ذمہ داری ہم انسانوں پر عائد ہے، وہ پوری ہو جاتی۔

۵-بعد ازاں تقریباً نوے یا سو سال بعد قرآن کریم کا بہترین ترجمہ حضرت علامہ شاہ اشرف علی تھانوی دیوبندیؒ نے فرمایا:جو حضرت قطب عارف باللہ مولانا یعقوب نانوتویؒ ،متوفی: ۱۳۰۰ھ ․․․․جو اپنے زمانہ کے دار العلوم دیوبند کے مدیر و صدر تھے․․․․کے شاگرد رشید تھے ۔حضرت تھانوی کو شیخ الہندؒ ․․․․جن کا کچھ ذکر گذشتہ صفحات میں ہوا ہے․․․․سے بھی تلمذ حاصل تھا ،اس ترجمہ کے ساتھ حضرت تھانویؒ نے اردو میں چند مجلدات میں تفسیر بھی تحریر فرمائی ہے، جن میں بڑی مشقت اور خوب جد و جہد کے ساتھ دیگر تفاسیر کا مطالعہ فرمایا اور مفید امور کو اختصار کے ساتھ تحریر فرمایا اور مشکل مقامات کو نہایت عمدگی کے ساتھ حل فرمایا ہے ،اور طلبہ کرام کے لئے عربی میں فوائد تحریر فرماکراس کا نفع مزید بڑھا دیا۔ اس تفسیر کے لئے ’’بیان  القرآن‘‘ کا نام تجویز فرمایا ۔

۶-ان کے بعد حضرت مولانا عاشق الٰہی میرٹھی دیوبندی ؒ نے قرآن کریم کا ترجمہ فرمایا اور اس ترجمہ کے ساتھ تفسیری فوائد بھی رقم فرمائے۔

۷-پھر جب حضرت شیخ الہندؒ آزادی وطن کی تحریک کے سلسلے میں مالٹا میں اسیر ہوئے تو تمام تر مشغولیات سے فارغ ہو کر قرآن کریم کے مطالعہ میں ہمہ وقت مصروف ہوئے ،اس وقت حضرتؒ نے عصری رائج اردو کے اسلوب کے مطابق ترجمہ وتفسیر قرآن کی دینی ضرورت محسوس فرمائی ،چنانچہ ترجمہ تحریر فرمانا شروع کیا اور اسیری ہی کے زمانہ میں مکمل فرما کر اس ترجمہ کا حق ادا کر دیا ،اس ترجمہ کی بنیاد حضرت شیخ الہندؒ نے حضرت شاہ عبد القادر ؒ کے ترجمہ پر رکھی ،جو اس وسیع میدان کے سب سے پہلے شہسوار تھے، اس ترجمہ کے متعلق حضرت شیخ الہندؒ کا خیال تھا کہ: علم و کمال کے اعتبار سے اس پر غالب آنا اور اس سے آگے بڑھنا تقریباً محال ہے،لیکن چونکہ حضرت شیخ الہند بھی خوب باریک بین اور فکری لطافت کے حامل تھے اور ان کا سینہ اور دل نور ایمان سے ایسا معمور و منور  تھا کہ ان کی منزلت پر پہنچنا ان کے زمانہ میں ممکن نہیں تھا، بلکہ ان کی گرد پا تک پہنچنا بھی دشوار تھا ، انہوں نے بعض تعبیرات کو نہایت ہی نفاست اور خوش اسلوبی سے تبدیل کیا اور تمام ان خصوصیات کی رعایت ملحوظ رکھی جو شاہ عبدالقادر کے ترجمے میں تھی ،چنانچہ ترجمہ میں صفت ، بدل اور عطف بیان کے درمیان فرق کی رعایت کی اور جو مقام سب کا احتمال رکھتا ہو تو وہاں لطافت معنوی دیکھ کر جو ترجمہ مقام کے لائق ہو وہ ترجمہ فرما دیا ،علاوہ ازیں یہ ترجمہ دیگر کئی محاسن و خصوصیات کا حامل ہے جو دل بہا دینے والے ہیں اور جتنا غور و تدبر کیا جائے ،اس کے اچھے محاسن نمایاں ہوتے رہتے ہیں:

غراء مبسام کأن حدیثہا در تحدر نظمہا منثور

ترجمہ :’’محبوبہ کا تبسم بہت خوشنما ہے، گویا کہ اس کی باتیں ایسے موتی ہیں جن کا نظم  و شعر بھی نثر ہے ‘‘

اور جیساکہ ابو نواس کہتا ہے:

یزیدک وجہہ حسناً اذا ما زدتہ نظراً

ترجمہ :۔جتنا زیادہ اے مخاطب! تو محبوب کے چہرے کو دیکھے گا، اتنے محاسن اس کے تجھ پر نمایاں ہوں گے

اسی طرح ایک اور عرب شاعر کا جو عرب کے جھنڈے کا اٹھانے والا شمار کیا جاتا ہے ،کا شعر ہے کہ:

’’ورحنا یکاد الطرف یقصر دونہ متی ما ترقی العین فیہ تسہل‘‘

ترجمہ:۔’’ہم اتنا چلے کہ پھر بھی نظریں اس کی انتہاء کو نہ پہنچ سکیں۔جب بھی نگاہیں اس میں اوپر کو اٹھتی ہیں،تو نیچے کی طرف لوٹ آتی ہیں‘‘۔

بعد ازاں شیخ الہند نے اس ترجمہ پر تفسیری فوائد تعلیق فرمانا شروع کئے اور سورۂ نساء کے اخیر تک پہنچ گئے،اور اس میں نص قرآنی کے فہم کے لئے ایک عام شخص کو جتنی تشریحات کی احتیاج ہوتی ہے ،وہ تمام تر فوائد کے ذیل میں عجیب طریقے سے روشن تعبیرات کے ساتھ قرآن کریم کے اغراض و مقاصد کو واضح فرمایا ۔

اسیری اور قید و بند سے جب حضرت شیخ الہندؒ کو نجات ملی اور سرزمین ہند پہنچے تو ان پر مختلف امراض کا شدید حملہ ہوا ،بہرحال اجل مقدر نے ان کو مہلت نہ دی اور قضا کا وقت قریب ہوا،فضاء تنگ ہو گئی اور شیخ الہندؒ ۱۳۳۹ھ میں حضرت شاہ عبد العزیز دہلویؒ کی وفات کے پورے ایک سو سال بعد رفیق اعلیٰ کو واصل ہوئے

ناگاہ حوادث نے سورۂ آل عمران کے فوائد ضائع کر دیئے اور یہ تفسیر یوں ہی نامکمل رہی اور کوئی عبقری شخصیت ایسی نہ ہوئی جو حضرت شیخ الہندؒ کے ان تمام فوائد تفسیریہ کو ان کی منشاء کے مطابق پایۂ تکمیل تک پہنچا دے تا آں کہ یہ ازلی سعادت ان کے شاگرد رشید اور خصوصی رفیق محقق العصر حضرت مولانا شبیر احمد عثمانیؒ صاحب فتح المہلم کے حق میں ظاہر ہوئی،چنانچہ علامہ عثمانیؒ نے تین سال کی مدت میں تمام قرآن کریم کے فوائد شیخ الہندؒ کے اسلوب کی رعایت کرتے ہوئے مکمل فرمائے اور ایسے کلمات و تعبیرات سے فوائد کو مزین فرمایا جو سارے کے سارے گویا کہ لعل و جواہر ہیں ،ان تفسیری فوائد میں زمانہ کی ضرورت کے مطابق باطل فرقوں کے مردود ،بے کار اقوال کے بطلان کو واضح فرمایا، جیسے محمد علی قادیانی لاہوری ،جس نے اردو اور انگریزی میں ’’بیان القرآن‘‘ کے نام سے تفسیر لکھی اور اس کے مانند دیگر اہل بدعت ،ان فوائد کا کچھ تذکرہ گذشتہ صفحات میں بھی آ چکا ہے

فتذکرہ

یہ مذکورہ تراجم اہل حق علماء کے ہیں اور مستند تراجم ہیں، جن سے خداوند کریم نے امت کو بہت بہرہ ور فرمایا، اور اقلیم ہند کے تمام علاقوں میں ان تراجم پر قرآن فہمی کا مدار ٹھہرا اور دیگر علاقوں میں ان کی خوب نشر و اشاعت ہوئی، علماء و طلباء جو شعبۂ درس وتدریس سے متعلق تھے اور ہیں ،ان سے خوب نفع اٹھاتے رہے ہیں، خاص طور پر آخر الذکر ترجمۂ شیخ الہندؒ اور ان کے تفسیری فوائد خوب مقبول ہوئے ،اسی اثناء میں اور اس تفسیر کے بعد بھی قرآن کریم کے تراجم اور ان پر تفسیری فوائد تحریر کئے گئے ۔ جن میں بعض صحیح اہل حق کے تھے

۸-ان میں مولانا شیخ حسن علی پنجابیؒ کا ترجمہ قرآن بھی قابل ذکر ہے، مولانا موصوفؒ قطب زمان مولانا محدث ابومسعود رشید احمد گنگوہی دیوبندیؒ متوفی: ۱۳۲۳ھ کے شاگرد تھے ، بعد ازاں ان کے تحریر کردہ فوائد و امالی کو میں نے قابل مؤاخذہ و نقد پایا ،جن میں ان کا قلم سیدھی راہ سے زلت کا شکار ہوا ہے، لیکن یہ معلوم نہ ہو سکا کہ آیا یہ ضبط کرنے والی کی طرف سے ہے یا خود صاحب تعلیق کی رائے ہے ،بہرحال اس پر نظر ثانی کی گئی ہے چنانچہ بعض مواضع تفسیری تقصیر پر تنبیہ کے محتاج معلوم ہوتے ہیں، جن میں چند مواضع یہ ہیں:

۱- ذبح بقرہ والی آیت۔ ۲- فاتوا بسورة من مثلہ۔ ۳- لاتقولوا راعنا۔ ۴- تحویل قبلہ کے متعلق تفسیری فائدہ۔ ۵- ومن یکفر بالطاغوت۔ ۶- آیت الکرسی وغیرہ یہ مواضع لائق تنبیہ ہیں ۔

اور میں نے کچھ عرصہ قبل سنا کہ کسی ہندی عالم نے ان کی تفسیر و ترجمہ کے رد میں باقاعدہ ایک کتاب تالیف فرمائی ہے۔ فالی اللہ المشتکی

۹-اسی ترجمہ وتفسیر کی طرح حضرت مولانا احمد علی لاہورؒ کا ترجمہ قرآن وتفسیری فوائد بھی قابل تحسین ہیں۔

ہندوستان کے بعض مفسرین نے درست ونادرست کی آمیزش سے بھی تفسیر مرتب کی ہے ،جن میں ڈپٹی نذیر احمد دہلوی اور مرزا حیرت دہلوی کا ترجمہ سرفہرست ہے ،انہی ہندی مفسرین میں سے بعض نے قرآن کی مراد میں تحریف بھی کی ہے اور معنوی اعتبار سے گویا قرآن کو مسخ کر دیا ہے ،قرآن کو اپنی خواہشات کے قالب میں ڈھال کر اپنے واسطے جہنم کا ٹھکانہ تیار کیا ہے، جیسے محمد علی قادیانی جس کے متعلق گذشتہ سطور میں کچھ اشارہ کیا گیا، اس نے اپنی تفسیر میں سرسید احمد خان دہلویؒ ․․․․جو علیگڑ ھ یونیورسٹی کا بانی تھا․․․․کی تفسیر پر اعتماد کیا ، اسی طرح حکیم احمد حسن امروہی مرزائی قادیانی ہے ،جس کی تفسیر کا نام جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے ،غالباً ’’غایة البیان‘‘ تھا جس میں موصوف نے باطل اقاویل خوب ذکر کئے ہیں اور خوب لوگوں کو گمراہ کرنے کی سازش کی ہے۔

انگریزی کالج کے بانی سرسید احمد خان اور ان کی تفسیر

چونکہ سرسید احمد خان کی تفسیر کے متعلق تذکرہ چلا ،اس لئے اگر ان کی شخصیت اور ان کی تحریر کردہ تفسیر کے متعلق وضاحت نہ کی جائے تو یہ مذہبی مداہنت اور عملی نفاق ہو گا ،اس لئے کہ وہ بہت سے ایسے باطل پرست روشن خیال لوگوں کے رہبر و رہنما ہیں، جن کے لیے ملت اسلامیہ کی سیدھی اور ستھری راہ تاریک کر دی گئی ہے ، سرسید احمد خان زندیق اور ملحد شخص تھے یا پھر جاہل گمراہ، حق کی جانب راہ روی کے خواستگار تھے ،لیکن سیدھی راہ ان سے خطا ہو گئی ، انہوں نے شرعی معاملات اور شعائر ملت کے متعلق اپنی گمراہ اور ناکارہ عقل کو کسوٹی ٹھہرایا ،جس کی بنا پر خود بھی گمراہ ہوئے اور دوسروں کو بھی گمراہ کیا، ان کا طرز و طریقہ یہ تھا کہ اہل یورپ و مغرب ،ملت اسلامیہ پر جو بیکار اعتراضات کیا کرتے تھے ،موصوف ان کو قبول کرتے تھے ، پھر قرآن وسنت میں تاویلات کرتے تھے ،اور اسلام کو کفر کے قریب کر کے دونوں کو ایک ہی دین بتلاتے ،ایسا معلوم ہوتا ہے کہ موصوف یہ تمام تر تاویلات اس لئے کیا کرتے تھے کہ اس طرح وہ ان کافروں کے دربار میں جن کے ہاتھ میں ہندوستانی حکومت کی باگ ڈور تھی، تقرب اور شرف باریابی حاصل کر لیں۔

چنانچہ انہوں نے فرشتوں کا انکار کیا اور کہا کہ: ملائکہ خیر کے فطری ملکہ کا نام ہے جو انسانی فطرت و جبلت میں ودیعت ہے، یہ کوئی مستقل عالم سے عبارت نہیں جو وجود انسانی سے کوئی خارج شئ شمار کیا جائے، بلکہ یہ ان صفات میں سے ہے جو انسان کے اندر ہی موجود ہیں ۔

اسی طرح شیطان کا بھی انکار کیا اور کہا کہ: ’’شیطان اس شری ملکہ سے عبارت ہے جو فطرت انسانی کا حصہ ہے ،اسی طرح حشر اور معاد جسمانی کا انکار کیا ،بلکہ ملحد فلاسفہ کی طرح صرف معاد روحانی کا قائل و معتقد ہوا اور اسی طرح آسمانوں اور ارواح کے وجود کا بھی منکر ہوا۔

موصوف شرعی نبوت ․․․جو خدائی عطیہ و نوازش ہے ․․․․کے بھی منکر تھے ،جو نبوت حضرت خاتم النبیین اپر جا کر تمام ہوئی ،وہ یہ اعتقاد رکھتے تھے کہ: یہ نبوت کسبی ہوتی ہے،انہوں نے نبوت کی صفات و علامات میں تحریف وتبدیل سے کام لیا ، نبی اورکسی بھی امت کے عام مصلح کو برابر قرار دیا،چاہے وہ کوئی بھی کیوں نہ ہو، اسی طرح ان معجزات کا بھی انکار کیا جو انبیاء کرام کے ہاتھوں سے خداوند کریم و قدیر کی قدرت سے ظاہر ہوئے کہتے ہیں کہ: ’’خوارق کا ظہور خداوند کریم کے دست قدرت سے بالاتر ہے ،گویا کہ موصوف نے تکلیف وتشریع کی بنیاد ہی کو باطل قرار دیا، بلکہ تمام قطعی ضروریات دین اور صریح صحیح قطعی نصوص کی بھی تاویلات کیں، جن کی قطعیت دلالت و ثبوت کے اعتبار سے مسلم و متفق ہے ،حتی کہ میرٹھ کے ایک خطاب میں کہنے لگے کہ: دنیوی معاملات تو خود اسلام نے ہمارے سپرد کر رکھے ہیں کہ جس طرح چاہیں جیسے چاہیں ان کے متعلق تصرف کریں، اس لئے کہ نبی پاک ا نے فرما دیا ہے کہ: انتم اعلم بامور دیناکم منی‘‘ تم اپنے دنیوی معاملات کو مجھ سے بہتر جانتے ہو ، جہاں تک دینی معاملہ کا تعلق ہے تو اس میں خوب وسعت و کشائش رکھی گئی ہے، فرمایا گیا کہ :’’من قال: لا الہ الا اللہ دخل الجنة وان زنی وان سرق ،الحدیث‘‘ جس شخص نے کہا کہ: خدائے برحق کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ جنت میں گویا داخل ہو گیا ،اگرچہ زنا یا چوری کا مرتکب ہو۔

٭٭٭

ماخذ:

http://banuri.edu.pk/ur/node/109

تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید